1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

انوار العلوم ۔ مجموعہ کتب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ ۔ جلد 22

'حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 22, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    انوار العلوم ۔ مجموعہ کتب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ ۔ جلد 22




    عورتیں آئندہ نسلوں کو دیندار بنا سکتی ہیں




    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    عورتیں آئندہ نسلوں کو دیندار بنا سکتی ہیں
    (فرمودہ ۱۷ ؍ستمبر ۱۹۵۰ء بمقام احمدیہ ہال کراچی)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔
    ’’مجھے افسوس ہے کہ آج پچھلے دوہفتوں کے متواتر بولنے کی وجہ سے میرا گلا بہت ہی زیادہ بیٹھا ہؤا ہے کھانسی بہت شدت کی اٹھ رہی ہے اورمیں آج اچھی طرح اپنے خیالات ظاہر نہیں کرسکتا ۔میں سمجھتا ہوں کہ مردوں کو جس قدر مواقع ملتے رہے ہیں اسی نسبت سے عورتوں کیلئے زیادہ سے زیادہ مواقع نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ دین کی ضروریات سے واقف ہوں اوراپنے فرائض سے آگاہ ہوں لیکن عورتوں کا پروگرام میرے یہاں کے قیام کے آخری دنوں میں اتفاقاً آپڑا کیونکہ جب پہلے دن میری تقریر رکھی گئی تھی تواس دن مجھے نقرس کا ایسا شدید دَورہ ہؤاکہ میں چل پھر بھی نہیں سکتاتھا۔ مگر بعد میں پروگرام رکھنے کی وجہ سے میرا گلا اتنا مائوف ہوچکاہے کہ اب میرے لئے بولنا مشکل ہے۔ خصوصاً اِس لئے بھی کہ آج ہی میری ایک تقریر مردوں میں بھی ہوچکی ہے حالانکہ سب کو معلوم تھا کہ میں شدید نزلہ اورکھانسی میں مبتلا ہوں اوربعض دفعہ تو دودو گھنٹہ تک ایک ہی اُچھو اُٹھتا چلاجاتاہے اور رات اوردن دوائیاں کھاکھاکر افاقہ ہوتاہے۔ پس آج کے دن کوئی اَورتقریر نہیں رکھنی چاہئے تھی اورایسے حالات میںسے مجھے نہیں گزارنا چاہئے تھا کہ میں عورتوں میں بولنے کے قابل نہ رہتا۔ مگر یہ آپ کا اور آپ کے خاوندوںیا باپوں کا معاملہ ہے آپ گھر میں نبٹ لیجئے ۔بہرحال آج کے مردوں کے پروگرام نے مجھے بالکل بے بس کردیاہے اور گلا اِس قدر زخمی ہے کہ معمولی آواز سے بھی میں بول نہیں سکتا۔ پھر سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ علاوہ گلے کے مائوف ہونے کے آواز کے جو پردے ہیں وہ نزلہ کے اثر کے نیچے اِس قدر مائوف ہوچکے ہیں کہ میری آواز صاف بھی نہیں اور ایسی طرح نہیں نکلتی کہ میرے الفاظ اچھی طرح سمجھے جاسکتے ہوں۔
    انسانی پیدائش کی غرض
    قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ انسان کی پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے فرماتاہے


    ۱؎ یہ آیت بنی نوع انسان کی پیدائش کے واقعات کو اور اُس کی پیدائش کی غرض کو نہایت مختصر الفاظ میں بیان کررہی ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے اے لوگو! تقویٰ کرواپنے ربّ کا۔ ناس عربی زبان میں اسی کو کہتے ہیں جس کو اُردو یا فارسی زبان میں آدمی کہتے ہیں ۔بد قسمتی سے ہمارے ملک میں جہاں عورتوں میں یہ بیداری پیداہوگئی ہے کہ وہ اِس بات کا مطالبہ کرتی ہیں کہ ان کو بھی قومی اور دینی خدمت کرنے کا موقع دیا جائے وہاں وہ ابھی تک اس بات کو نہیں سمجھ سکیں کہ وہ بھی آدمی ہیں ۔ذراکسی عورت سے کہو کہ تم آدمی ہو تو وہ کہے گی میں کیوں آدمی ہونے لگی آد می ہوتے ہیں مرد۔ حالانکہ آدمی کے معنی ہیں آدم کی اولاد اورجوآدمی کے معنی ہیں وہی ناس کے ہیں۔ عربی زبان میں جب ناسکا لفظ استعمال کرتے ہیں تواس میں مرد بھی شامل ہوتے ہیں اورعورتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ اسی طرح اردو میں جب آدمی کا لفظ استعمال کیا جاتاہے تواس میں مرد بھی شامل ہوتے ہیںاورعورتیں بھی شامل ہوتی ہیں ۔جب ہم کہتے ہیں آدمی پر یہ فرائض عائد ہیں تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ مردوں پربھی یہ فرائض عائد ہیں اورعورتوں پر بھی یہ فرائض عائدہیں ۔اسی طرح عربی میں جب ہم کہتے ہیں ناس کا یہ حال ہے تو اِس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ مردوں کابھی یہی حال ہے اورعورتوںکا بھی یہی حال ہے ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے ۲؎ کہو میں پناہ مانگتا ہوں ناس کے ربّ کی، ناس کے بادشاہ کی، ناس کے معبود کی۔ اب اِس کے یہ معنی نہیں کہ مردوں کے ربّ کی، مردوں کے بادشاہ کی اور مردوں کے معبود کی بلکہ اِس کے یہ معنی ہیں کہ میں پناہ مانگتاہوں مردوںاورعورتوں کے ربّ کی ۔میں پناہ مانگتاہوں مردوں اورعورتوںکے بادشاہ کی اورمیں پناہ مانگتاہوں مردوں اور عورتوں کے معبود کی۔ پس ناس عربی میں اورآدمی فارسی میں اور اُردومیں ایک ہی معنی رکھتے ہیں۔ آدمی کا لفظ عربی زبان کا ہی لفظ ہے مگر عام طورپر یہ استعمال نہیں کیا جاتا۔ زیادہ تر ناس کا لفظ ہی استعمال کرتے ہیں لیکن فارسی اوراُردومیں آدمی کا لفظ استعمال کیا جاتاہے۔
    غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ اے مردو اور عورتو! تم پناہ اورڈھال کے طورپر بنالو اپنے ربّ کو۔ وہ جس نے تم کو پیدا کیا۔ ایک ہی قسم کی طاقتوں کے ساتھ، ایک ہی قسم کے جذبات کے ساتھ۔ ایک ہی قسم کے ارادوں کے ساتھ ،ایک ہی قسم کی فکروں کے ساتھ، ایک ہی قسم کی اُمنگوں کے ساتھ ۔گویا اِس آیت میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ مردوعورت جہاںتک نفس کا تعلق ہے برابر ہیں اورایک ہی اصل پر چل رہے ہیں۔ جس قسم کی باتیں مرد کو غصہ دلاسکتی ہیں ویسی ہی باتیں ایک عورت کو بھی غصہ دلاسکتی ہیں، جس قسم کے سلوک کو ایک مرد ناپسند کرتاہے ویسے ہی سلوک کو ایک عورت بھی ناپسند کرتی ہے اور جس قسم کے جذبات ایک مرد میں پائے جاتے ہیں ویسے ہی جذبات ایک عورت میں بھی پائے جاتے ہیں۔پس جہاں تک نفسِ انسانی کا تعلق ہے وہی نفس مرد میں پایا جاتاہے اور وہی نفس عورت میں پایا جاتاہے۔ عام طورپر لوگ اِس کے یہ معنی کیا کرتے ہیںکہ اے انسانو! تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تم کو ایک آدمی سے پیدا کیامگر یہ معنی غلط ہیں۔نفس کے معنی عربی زبان میں آدمی کے ہرگز نہیں۔ نفس کے معنی جان کے ہیں۳؎ اورجان کا لفظ عورت کے لئے بھی بولا جاتاہے اورمرد کے لئے بھی بولاجاتاہے۔ نفس کے معنی ہیںسانس لینے والی چیز اور سانس مردبھی لیتاہے اورعورت بھی لیتی ہے ۔عربی کاایک لفظ ہے تنفّس یعنی سانس اپنے اندر کھینچنا ۔۴؎ اُردو میںبھی کہاجاتاہے میرے تنفّس میں خرابی پیداہوگئی ہے ۔مثلاًنزلہ کھانسی یادمہ کی وجہ سے یادمہ کوضیق النفس بھی کہتے ہیں یعنی سانس کی تنگی ۔تو نفس کے معنی اصل میں سانس کے ہوتے ہیں لیکن پھر نفس کے معنی سانس لینے والی چیز کے بھی بن گئے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے انسانو! مردواورعورتو! اپنے خدا کو اپنے لئے ڈھال بنالو اور تمام خرابیوں اورفتنوں سے بچنے کے لئے اس کی پناہ لیا کروجس نے تم کو ایک سانس لینے والے وجود سے یعنی ایک ہی قسم کی ہستی سے پیداکیاہے۔ اب یہاں کسی مرد کا ذکر نہیں ،کسی عورت کاذکر نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ تمام مرد اورتمام عورتیں ایک ہی قسم کی قوتیں اپنے اندر رکھتے ہیں کوئی علیحدہ علیحدہ چیز نہیں ہے۔ اور پھر اِس قسم کے اُس نے بہت سے جوڑے پیدا کئے ہیں۔ کے معنی ہیں ۔اس قسم کے جوڑے پیداکئے ہیں۔یعنی ایک انسانی وجود شروع ہؤا جس میں مرد بھی شامل تھا اور عورت بھی اور ان کے جذبات اور خواہش اور اُمنگیں ایک ہی قسم کی تھیں۔پھر آگے ان کی نئی نسل سے جو ہزاروں ہزاروں افرادپھیلے وہ بھی کوئی علیحدہ قسم کے نہیں تھے ۔یہ نہیں کہ آدم کے وقت تووہ ایک قسم کے تھے اوربعد کی نسلوں میں فرق پڑ گیا ۔بعد کی نسلوں میں فرق نہیں پڑا بلکہ ان کے مرد اور عورتیں دونوں ایک ہی قسم کے جذبات رکھتے تھے ۔ ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان جوڑوں میں سے مردو عورتیں بہت سی پھیلائیں۔ یعنی مرداپنی ماں اوراپنے باپ کا وارث تھا اورعورت اپنی ماں اوراپنے باپ کی وارث تھی۔جس طرح مرد نے اپنے باپ کے علاوہ ماں کے جذبات کا حصہ لیا اسی طرح عورت نے اپنی ماں کے علاوہ باپ کے جذبات کا حصہ لیا ۔
    قرآن کریم کی امتیازی تعلیم
    یہ ایک اصول بات قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے جس میں اسلام کو باقی تمام مذاہب پر فوقیت
    حاصل ہے ۔دنیامیں کوئی مذہب ایسا نہیں جس نے یہ بیان کیا ہوکہ عورت اورمرد کے جذبات اوراحساسات اوراُمنگیں ایک ہی قسم کی ہیں۔ یہ خیال کرلینا کہ مرد اورقسم کے ہیں اورعورتیں اَورقسم کی ہیں غلط ہے ۔جیسے ایک عمارت میں اگرکچھ لوگ رہتے ہیں اور اُن کے ہمسایہ میں بعض اَورلوگ ٹھہرے ہوئے ہوں تویہ نہیں کہا جاتاکہ یہ اَورقسم کے مردہیں اوروہ اَورقسم کے مرد ہیں بلکہ باوجود الگ الگ محلّوں، الگ الگ مکانوں اورالگ الگ شہروں میں رہنے کے ہرشخص سمجھتاہے کہ تمام لوگ ایک جیسی طاقتیں رکھتے ہیں ۔اسی طرح بے شک عورت اورمردکے جسم الگ الگ ہیں مگر طاقتیں ایک جیسی ہیں اور اُن کے جسموں کا الگ الگ ہونا ایسا ہی ہے جیسے الگ الگ مکان میںمختلف لوگ رہ رہے ہوں ۔اگر عورت کے جسم میں روح آجائے تووہ کوئی الگ چیز نہیں بن جاتی بلکہ اُس کے اندر وہی روح ہے جومرد کے اندر ہے صرف اُس کے جسم کی بناوٹ مرد سے علیحدہ ہے ۔ورنہ اُ س کے اندروہی روح پائی جاتی ہے جو مرد وںکے اندر پائی جاتی ہے۔ اب اس بات کو پھیلاکر دیکھوتو معلوم ہوگا کہ یہ ایک بہت بڑی سچائی ہے جو قرآن کریم نے بیان کی ہے۔ تمام چیزیں جو مردپر اثر کرتی ہیں وہی عورت پر بھی اثر کرتی ہیں۔ مثلاًبچہ پیداہوتاہے تویہ نہیں ہوتا کہ مرد ہنسنے لگیں اور عورت رونا شروع کردے یا بھوک پر عورت روٹی کھانے لگے اورمرد فاقہ شروع کردیں۔ یا باپ مرے توبیٹے رونے لگ جائیں اوربیٹیاں ہنسنے لگ جائیں ۔ایسا کبھی نہیں ہؤا بلکہ باپ کی وفات کا جواثر بیٹوں پر ہوتاہے وہی اثر بیٹیوں پر بھی ہوتاہے۔ اِسی طرح خاوند کی وفات پر جواثر بیوی پرہوتاہے ویسا ہی اثر بیوی کی وفات کا خاوند پر ہوتاہے۔ آخر وہ کونسی چیز ہے جو ان کو الگ کرتی ہے۔ جہاں تک مکا ن کاتعلق ہے اِس کافرق کوئی فرق نہیں ۔فرض کروایک شخص ایک انگریزی طرز کی کوٹھی میں رہتا ہے اورایک پرانے طرز کے محل میں رہتاہے توکیا ان دونوں میں فرق ہوگا؟ اِس میں رہنے والے بھی مرد ہیں اور اُس میں رہنے والے بھی مرد ہیں۔ اِسی طرح جسم ایک مکان ہے خواہ جسم مرد کی شکل میں بنا دیا جائے اورخواہ عورت کی شکل میں بنادیاجائے۔ اس میں رہنے والی بھی روح ہے۔ یہ مضمون ہے جو قرآن کریم بیان فرماتا ہے۔ اورجو دنیا کی کسی اور کتاب میں بیان نہیں کیا گیا۔ اِس سے اللہ تعالیٰ یہ سبق دیتا ہے کہ
    خداکواپنی ڈھال بنائو
    فرماتا ہے۔
    اے مردواورعورتو ! اُس خداکواپنی ڈھال بنالو جس کا نام لے کر دُنیا میں اپنی اغراض پوری کرتے ہو اورجس کے نام کے ساتھ تم لوگوں سے رحم اورانصاف کی اپیل کرتے ہو اورکہتے ہو خدا کے واسطے یہ معاملہ یوں کرو، خدا کے واسطے یہ معاملہ یوں کرو۔ فرماتا ہے جب تم لوگ یہ کہتے ہو کہ خدا کے واسطے ہمارے ساتھ یوں معاملہ کرو توتم ہماری طاقت اورقوت کا اقرار کرتے ہو۔ لیکن ہم تمہیں یہ کہتے ہیں کہ تم جب انسانوں سے خدا کے نام پر اپیل کرتے ہو توتم کیوں اُسی خدا کے پاس نہیں جاتے اور اُس سے براہ راست اپنا تعلق پیدا نہیں کرتے جو تمام تکلیفوں کو دور کرنے والا ہے ۔کیونکہ بہرحال انسانوں میں سے بھی بعض ایسے ہوتے ہیں جس کے سامنے اگر خداتعالیٰ کانام بھی لیاجائے تو اُن پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔مثلاًدہریہ ہیں ۔اگر ان کے سامنے خداتعالیٰ کا نا م لیا جائے تووہ ہنستے ہیں۔ اسی طرح بعض سنگدل ڈاکو جب ڈاکہ ڈالتے ہیں یا دشمن کی فوجیں چڑھائی کرتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کانام لے کر اگر ان کے سامنے فریادکی جائے توکیا وہ چھوڑ دیتے ہیں؟کیا کبھی ایسا ہؤا ہے کہ کہیں ڈاکہ پڑا ہو اور لوگوں نے یہ کہا ہو کہ خداکے واسطے ہمیں چھوڑ دو اور اُنہوں نے چھوڑ دیا ہو؟ـیا مثلاً جرمنوں اورانگریزوں کی لڑائی ہوچکی ہے۔اس لڑائی میں کیا وہ گولیاں چلاتے تھے یاخداکا نام سن کراپنے دشمن کو چھوڑ دیتے تھے؟ ان کے سامنے اگر ہزار دفعہ بھی خداکانام لیا جاتا تو وہ چھوڑتے نہیں تھے ۔ پس بیشک انسان خداتعالیٰ کا نام لیتا ہے مگر جس طرح اِس نام کا وہ استعمال کرتاہے وہ غلط ہے ۔صحیح طریق یہ ہے کہ انسان خداتعالیٰ کے آگے جھکے اور بجائے انسان سے یہ کہے کہ تو خداکے واسطے مجھے چھوڑدے وہ خداتعالیٰ سے ہی کہے کہ اے خدا !تواپنی صفاتِ حسنہ سے کام لے کر اوراپنی صفات رحمانیت اوررحیمیت سے کام لیکر مجھ پر رحم کراورمیری مشکلات کو دور فرمادے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کے نام لینے کاغلط طریق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر انسانوں سے اپیل کرتاہے۔ حالانکہ جس سے وہ اپیل کررہا ہوتاہے وہ بعض دفعہ دہریہ ہوتاہے ،بے دین ہوتاہے، سنگدل ہوتاہے اوروہ اللہ تعالیٰ کے نام کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔پس اصل طریق یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے جائے اوراُس کے سامنے اپنی مشکلات پیش کرے۔
    دیکھو اس میں مرد وعورت کا یکساں حق تسلیم کیا گیا ہے یہ نہیں کہا گیا کہ مردوں کی دُعا سُنی جاتی ہے لیکن عورتوں کی نہیں بلکہ فرماتاہے اے مرداوراے عورتو! تم میرے نام کو اپنی ڈھال بنائو اور اپنی ضرورتوں کے وقت مجھے اپنی مدد کے لئے بلائو۔ فرماتاہے ۔دنیا میں بہت سے جھگڑے رقابتوں پر چلتے ہیں ۔عجیب بات یہ ہے کہ محبت کا سب سے گہرا تعلق میاں بیوی کا ہوتاہے اِدھر مرد کی ساری زندگی گزر جاتی ہے عورتوں اوربچوں کی پرورش میں اور اُدھر عورت کی ساری زندگی گزرجاتی ہے مرد کو آرام پہنچانے اور اُس کے کھانے پینے کا خیال رکھنے میں۔ مگر باوجود اِس کے وہ ایک دوسرے کے رقیب ہوتے ہیں ۔ذرا بات ہوتو عورت کہے گی مرد ایسے ہوتے ہیں اورذرا عورت سے کوئی اختلاف ہوتو مرد کہے گا کہ عورتیں ایسی ہوتی ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مثال کے طورپربیان فرمایا کہ مرد عورت کے لئے ساری عمر قربانی کرتا رہتاہے، ساری عمر اُس کی ضروریا ت کو پورا کرتا رہتاہے مگر کسی دن اُس کی مرضی کے خلاف بات ہوجائے تووہ کہے گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی جب بھی تونے سلوک کیا بُراہی کیا ۔۵؎ مردوں میں بھی ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں ۔کئی مرد بھی ایسے ہوتے ہیںجو عورت کی تمام قربانیوں کے بعد کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے توتجھ میں کبھی کوئی خوبی دیکھی ہی نہیں۔ آخر اِس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ ہے کہ عورت اورمرد میں مقابلہ کے جذبات پیدا کئے گئے ہیں ۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ہمیں یہ نظارہ نظر آتاہے ۔چونکہ قرآن کریم کی یہ تعلیم کہ مرد اور عورت میں یکساں قوتیں رکھی گئی ہیں ابھی دنیا میں نازل نہیں ہوئی تھی اِس لئے عورت مرد کے خلاف کھڑی ہوجاتی اور مرد عورت کے خلاف کھڑا ہو جاتا اِن دونوں میں خوب مقابلہ ہوتا۔ بیشک جہاں تک محبت کا تعلق ہے ہزاروں لاکھوں گھرانے محبت وپیار سے رہتے تھے اوروہ ایک دوسرے کے لئے قربانی بھی کرتے تھے لیکن جہاں تک زبان کا تعلق تھا ،جہاں تک تقریروں کا تعلق تھا، جہاںتک تحریروں کا تعلق تھا ،مرد کہتے کہ ان عورتوں نے یوں کیا اور عورتیں کہتیں کہ اِن مردوں نے یوں کیا۔ اللہ تعالیٰ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے کہ اے مرد اورعورتو! یاد رکھو تم ایک دوسرے کے رقیب بنے ہوئے ہوحالانکہ اصل رقیب خداہے اور وہ دیکھتاہے کہ ہم نے جو طاقتیں رکھی ہیں تم اُن کا کس طرح استعمال کرتے ہو۔ ہم نے یہ طاقتیں اِس لئے رکھی ہیں تاکہ تم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور محبت اور پیار سے زندگی بسر کرو۔اگر تم آپس میں ہی لڑتے جھگڑتے رہتے ہوتو تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ تم دونہیں بلکہ ایک تیسرا وجود بھی تمہیں دیکھ رہا ہے جو خدا ہے ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں۔ جہاں دوہوتے ہیں وہاں ایک تیسرا وجود خدا بھی ہوتا ہے۔۶؎ پس یہ نہ سمجھو کہ صرف تم ہی ہو بلکہ ہم بھی ہیں ۔اگر تم ہمارے قواعد کوپورا نہیں کروگے توہم بھی تمہارا فیصلہ کرنے کیلئے موجود ہیں۔
    عورتوں اور مردوں کی ذمہ داریوں میں فرق
    اِس آیت میں جہاں تک قوتوں کا سوال ہے،
    جہاںتک جذبات کا سوال ہے، جہاں تک افکار کا سوال ہے مردوں اور عورتوں کو برابر قرار دیا گیاہے ۔اورجب وہ برابرہیں اورجب ان کی طاقتیں بھی برابر ہیں تولازماً ان کی خدمتیں بھی برا بر ہوں گی گوان کی نوعیت بدل جائے گی ۔ بعض لوگ کہتے ہیںکہ اگر مردوں اورعورتوں کی طاقتیں برا بر ہیں توان کو کام بھی ایک جیسا ہی کرنا چاہئے ۔مگریہ غلط ہے ۔دنیا میں ایک کالج سے ہی تین نوجوان بی ۔اے کی تعلیم حاصل کرکے فارغ ہوتے ہیں لیکن اس کے بعد ایک انجینئرنگ کی طرف چلا جاتاہے، ایک وکیل بن جاتاہے اور ایک اچھا ایڈمنسٹریٹر بن جاتاہے۔ اب جہاں تک تعلیم کا سوال ہے تینوں کوتعلیم یا فتہ قراردیا جائے گا لیکن ان کی ذمہ داریوں میں فرق ہے۔ اسی طرح عورت اور مرد میں ایک سے جذبات پیدا کئے گئے ہیں مگر ان کی ذمہ داری الگ الگ ہے۔ عورت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دے اور اُنہیں اچھا شہری بنائے۔ اِسی طرح جو فوجی کا م ایسے ہیں جن میں عورت زیادہ بہتر طور پر اپنے فرائض اداکرسکتی ہے اُن میں حصہ لے ۔مثلاً نرسنگ ہے یہ کام عورت زیادہ بہتر کرسکتی ہے۔
    ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ پر تشریف لے جانے لگے تو ایک صحابیہؓ آئیں اور انہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! میں بھی جنگ پر جا نا چاہتی ہوں ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہاں عورت کیا کرے گی ؟اس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! میں نرسنگ نہیں کرسکتی ۔میں زخمیوں اوربیماروں کی تیمارداری اوران کی مرہم پٹی کروں گی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا چلو۔۷؎ چونکہ عربوںمیں یہ رواج تھا کہ وہ مرد کو ہی سپاہی سمجھتے تھے اس لئے جب مال غنیمت تقسیم ہونے لگا توعورت کا سوال آگیا۔ اُس زمانے میں سپاہیوں کو تنخواہیں نہیں ملتی تھیں اور انہیں اپنے کھانے پینے کے تما م اخراجات اپنی گرہ سے اداکرنے پڑتے تھے بلکہ ہتھیار بھی وہ اپنے پاس سے خرید کر استعمال کیا کرتے تھے لیکن اِس زمانہ میں سپاہی کو تنخواہ بھی ملتی ہے اور اسے راشن بھی دیا جاتاہے اورپھر ہتھیار بھی گورنمنٹ مہیا کرتی ہے۔ غرض اُس زمانہ میں چونکہ سارا خرچ وہ خود کرتے تھے اِس لئے دشمن کی طرف سے جو مال ملتاتھا وہ بعد میں سپاہیوں میں تقسیم کردیاجاتاتھا ۔چنانچہ جب اموالِ غنیمت تقسیم ہونے لگے تو صحابہؓ نے کہا یَارَسُوْل اللّٰہِ! ایک عورت بھی آئی تھی کیا اُس کا بھی حصہ نکالا جائے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ تو عورت نے جو خدمت کی تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے تسلیم کیا اور اس کاحصہ نکالا۔ سو اصل کاموں کو قائم رکھتے ہوئے جو بچوں کی پرورش اور ان کی نگرانی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جو زائد کام عورت کرسکتی ہو شریعت نے اِس کی اجازت دی ہے ۔مثلاً تعلیم کو ہی لے لو۔ حضرت عائشہ ؓ نے اِس میں اتنی ترقی کرلی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہؓ سے فرمایا کہ آدھا دین تم عائشہؓ سے سیکھ سکتے ہو۔۸؎ آدھے دین کے یہ معنی نہیں کہ ان کو نماز روزہ کے احکام کا زیادہ علم تھا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کامقصد یہ تھا کہ عورتوں کے متعلق جو شریعت کے احکام ہیں وہ حضرت عائشہؓ کو خوب معلوم ہیں۔ چنانچہ جن لوگوں کو عورتوں کے متعلق کوئی مسئلہ پوچھنے کی ضرورت ہوتی تو وہ حضرت عائشہ ؓ سے پوچھ لیتے تھے اوراُن کی مشکل حل ہوجاتی تھی۔ غرض عورتوں کے حقوق اور اُن کے فرائض اورکاموں کے متعلق جومعلومات حضرت عائشہؓ کو تھیں وہ مردوں کو بھی نہیں تھیں اِسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حصہ عائشہؓ سے سیکھو کیونکہ عائشہ ؓ اپنی خلقت اوربناوٹ کی وجہ سے یہ حصہ زیادہ یاد رکھ سکتی تھیں۔ چنانچہ عورتوں کے متعلق جتنے مسائل ہوتے تھے وہ صحابہؓ حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر پوچھتے تھے اور دریافت کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے بارہ میں کیا مسلک تھا۔ توتعلیم میں بھی عورتیں ہمیشہ حصہ لیتی رہی ہیں لیکن سب سے بڑا کام جو عورت کے ذمہ لگایا گیا ہے وہ تربیت صحیح ہے ۔یعنی اولاد کو صحیح اور سچا مسلمان بنانا۔ بہت سی عورتیں یہ سمجھتی ہیں کہ یہ کوئی کام نہیںحالانکہ اگرہم غور کریں تو دنیا میں جتنی تباہی آئی ہے آئندہ نسل کی صحیح تربیت نہ کرنے کی وجہ سے ہی آئی ہے ۔ اورجب بھی کسی قوم نے ترقی کی ہے آئندہ نسل کے اچھا ہونے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اوراس کا اگلا قدم تباہی کی طرف اُسی وقت اُٹھا ہے جب اس کی آئندہ نسل خراب ہو گئی ہے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو ہی دیکھ لو۔تیس سال تک اسلام نے کیسی ترقی کی تھی مگر پھر جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمایاتھاکہ میں نے دیکھا میرے منبر پر سؤر اور کُتّے ناچ رہے ہیں۔۹؎ تیس چالیس برس کے بعد ایسے جوان پیدا ہوگئے جن کی ماؤں نے ان کی صحیح تربیت نہیں کی تھی اور وہ ایسے خرا ب ثابت ہوئے کہ بادشاہ بھی بنے، وزرا ء بھی بنے،گونر بھی بنے،علاقوں کے حکمران بھی بنے مگر اسلام سے ان کو اتنی دوری تھی کہ خدا نے ان کوسؤروں اور کُتّوں سے مشابہت دیدی۔وہ اُس منبر پر بیٹھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا مگر انہوں نے باتیں وہ کیں جو کُتّوں اور سؤروںوالی تھیں اور جو اتنی بھیانک اور خوفناک تھیں کہ خود اُن کی اولادوں نے ان کے خلاف نفرت اور حقارت کا اظہار کیا۔یزید کے مرنے کے بعد جب اس کے بیٹے کو بادشاہ بنایا گیاتو اس نے تقریر کرتے ہوئے کہا۔اے لوگو!اِس وقت تم میں ایسے لڑکے موجود ہیںجو مجھ سے زیادہ اچھے ہیںاور ایسے لڑکے موجود ہیںجن کے باپ میرے باپ سے زیادہ اچھے ہیںپس اِن لڑکو ں کی موجودگی میںجو مجھ سے زیادہ اچھے ہیںاور اِن لڑکوں کی موجودگی میں جن کے باپ میرے باپ سے زیادہ اچھے ہیںمیرا تخت شاہی پر بیٹھنا مناسب نہیںچنانچہ میں اِس بادشاہت کو چھوڑتا ہوں۔یہ مسلمانوںکا حق ہے وہ جسے چاہیںدیدیںمیں بادشاہت کے لئے تیار نہیںہوں۔میرے نزدیک ہمارے باپ دادانے بھی ظلم کیا تھا اور میں ان ظلموں میں شریک ہونے کیلئے تیار نہیں ہوں۔۱۰؎ اُس کی ماں نے جب یہ تقریر سُنی تو اُس نے زور سے اپنے سینے پر ہاتھ مارااور کہانالائق تو نے اپنے باپ داداکی ناک کاٹ دی۔اس نے کہاامّاں! میں نے اپنے باپ داداکی ناک نہیںکاٹی بلکہ جوڑی ہے۔اِس کے بعد اُس نے اپنے کمرے میں داخل ہوکر دروازے بند کر لئے اور چند روز کے بعد ہی فوت ہوگیا۔یہ اس کی طبعی فطرت کا اظہار تھا ورنہ ماں نے اسے ضرور خراب کرنے کی کوشش کی ہوگی اور اُس نے ہی تحریک کی ہو گی کہ تو ظلم کو جاری رکھ اور حکومت پر قبضہ کرلے جس پر تیرے باپ نے ظالمانہ طور پر قبضہ کیا ہؤا تھا۔
    تو ماں کی تربیت ایک نہا یت اہم چیز ہے۔مرد کا کام موجودہ زمانہ کی اصلاح کرنا ہے عورت کا کام آئندہ زمانہ کی اصلاح کرنا ہے۔یہ صا ف ظاہر ہے کہ اِن دونوں میں کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دی جاسکتی۔بے شک موجودہ کام مرد کرتے ہیںلیکن آئندہ دَور کی تعمیر عورتیں کرتی ہیں ۔اگرعورتوںنے آئندہ نسل کی صحیح تربیت نہیں کی ہو گی اور ایسے قائمقام پید انہیںکئے ہو نگے جو دین اور تقویٰ سے متاثر ہوںتو مردوں کی تمام کوششیں اکارت چلی جائیں گی۔پس عورت کی ذمہ داری مرد سے کم نہیں۔ اگر وہ اپنے فرائض کو بھول کر ان کامو ں میں حصہ لینا شروع کردیتی ہے جو مرد کے سپرد کئے گئے ہیں تواس کا یہ فعل ایسا ہی ہو گاجیسا کسی کو جج بنایا جائے اور وہ ایک سپاہی کو دیکھے کہ وہ دائیں طرف ہاتھ کرتا ہے تواُس طرف کی کاریں کھڑی ہو جاتی ہیںاور بائیں طرف ہاتھ کرتا ہے تو اُس طرف کی کاریں کھڑی ہوجاتی ہیں تو وہ اِس نظارے سے ایسا متأثر ہو کہ ججی کا کا م چھوڑ کر سپاہی کا کام اختیا ر کرے حالانکہ سپاہی کا کام بہت ادنیٰ ہے ۔بیشک اُس کی شان بڑی نظر آتی ہے کہ وہ اکڑا ہؤ اکھڑا ہوتاہے او ر سامنے سے کسی رئیس یا جج یا فوج کے اعلیٰ افسر کی کا ر آتی ہے تووہ اُس کے ایک اشارہ پر کھڑی ہو جاتی ہے لیکن حقیقتاًجو جج کی اہمیت ہے وہ سپاہی کی نہیں۔اسی طرح عورت کو اللہ تعالیٰ نے اگلی نسل کا معلّم بنا یا ہے اور یہ ایک بہت بڑا کام ہے جو ا س کے سپرد کیا گیا ہے۔
    یوں سمجھ لو کہ جیسے فوج میں ایک لڑنے والے ہوتے ہیںاور ایک سیپرمائنر (Sappers and Miners)ہوتے ہیں جو سڑکیں بناتے ہیں،جھاڑیاں کاٹتے ہیں، پہاڑیاں اُڑاتے ہیں، ریلیں بچھاتے ہیں اور فوج کیلئے راستہ صاف کرتے ہیں۔ دنیا کی کسی فوج میں سیپرمائینر کم نہیں سمجھے جاتے ۔ان میں بھی کپتان ہوتے ہیں۔ان میں بھی میجر ہوتے ہیں ، ان میں بھی کرنیل ہوتے ہیں اور یہ سمجھا جاتاہے کہ اگر سیپر مائینرنہیں ہوں گے تو فوج لڑ نہیں سکے گی ۔اسی طرح اگر عورتیں اپنی ذمہ داری نہ سمجھیں توآئندہ نسل کی صحیح تربیت نہیں ہوسکتی۔اور جب تک آئندہ نسل کی صحیح تربیت نہ ہو اُس وقت تک قومی ترقی نہیںہو سکتی۔اگر تابعین کی نسل کی صحیح طور پر نگرانی کی جاتی تو یزید کہاں سے پیدا ہوتا۔یزید اِسی وجہ سے پیدا ہؤ اکہ عورتوں نے کہاکہ ہمارا کام ختم ہو گیا ہے۔جب اُنہوں نے تربیت کی تو صحابہؓ جیسے نیک لوگ پید ا ہوئے جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو بے انتہا فائدہ پہنچایا اور جب اُنہوں نے توجہ ہٹالی تو وہ لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو بے انتہا نقصان پہنچایا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو آپ ؐ کی قوتِ قدسیہ سے اللہ تعالیٰ نے ابوبکرؓاور عمرؓاورعثمانؓ اور علیؓ اور طلحہؓاور زبیرؓاور لاکھوں نیک لوگ پید ا کئے لیکن دوسرے ابوبکرؓپید اکرنا عورت کاکام تھاکیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر انسان تھے اور انہوں نے ایک دن فوت ہوجانا تھا۔
    پس پہلا ابوبکرؓمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیا لیکن دوسرا ابوبکرؓایک عورت ہی پید اکر سکتی تھی۔پہلا عمرؓمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پید اکیا لیکن دوسرا عمرؓایک عور ت ہی پید اکر سکتی تھی۔پہلا عثمانؓ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیا لیکن دوسرا عثمان ؓ ایک عورت ہی پیدا کر سکتی تھی۔پہلا علیؓ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیالیکن دوسرا علیؓ تو ایک عورت ہی پید ا کر سکتی تھی۔اور جب انہوں نے پیدا نہ کیا تو نتیجہ یہ ہؤاکہ تباہی آ گئی۔عدل جاتا رہا،انصاف قائم نہ رہااور چاروں طرف ظلم ہی ظلم ہونے لگا۔آخر مسلمانوں کی اگلی نسل کیوں بگڑی؟کیا ان کے بگاڑنے کیلئے جہنم سے شیطان آئے تھے؟ وہ اس لئے بگڑے کہ عورتوں نے اپنی ذمہ داری نہ سمجھی اور انہوں نے اپنی اولاد کو ایسی تعلیم نہ دی جس کے ماتحت وہ اپنے والدین کے نقشِ قدم پر چلنے والے ہوتے۔
    ایک عجیب مثال
    ایک عجیب مثال مجھے ہمیشہ ایک واقعہ یاد رہتا ہے جس کا میرے دل پر نہایت گہرا اثر ہے اور جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح
    بعض جاہل عورتوں کو بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ اُن کی اولاد صحیح راستہ سے منحرف نہ ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میںایک میراثن تھی جسکااٹھارہ بیس سال کا ایک نوجوان لڑکا عیسائی ہو گیا ۔وہ احمدی نہیں تھی لیکن اُس نے کسی سے سُنا کہ قادیان میں ایک مرز ا صاحب ہیں جو عیسائیوں کا بڑامقابلہ کرتے ہیں۔وہ لڑکا بڑا پکّا عیسائی تھا مگر وہ اُسے ساتھ لے کر قادیان پہنچی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہو گئی۔اس کے لڑکے کوسِل کا مرض تھا آپ نے اسے قادیان میں رکھا اور حضرت خلیفہ اوّل سے علاج کروایا اور میراثن روزانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام کے پاس آتی اور منتیں کرتی کہ آپ دعاکریں اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کو ہدایت دے دے۔آ پ اُسے بلاتے اور سمجھاتے مگر وہ اتنا پکا عیسائی تھا کہ ہر قسم کے دلائل کے باوجود اُس نے عیسائیت ترک کرنے کا نام نہ لیا۔آخر ایک دن وہ اپنی ماں کو سوتا دیکھ کر رات کے وقت سِل کی حالت میں گیارہ بارہ بجے اُٹھ کر بھاگاتاکہ وہ بٹالہ میں عیسائیوں کے پاس چلا جائے۔آدھ گھنٹہ کے بعد اُس کی ماں کی آنکھ کھلی اور جب اُس نے دیکھا کہ اس کا لڑکا بستر پر نہیں تو فوراً اُسے خیا ل آیا کہ وہ بھاگ گیا ہے۔ چنانچہ وہ اُسی وقت دَوڑی اور آدھی رات کے وقت جنگل میں سات آٹھ میل تک دَوڑتی چلی گئی اور بٹالہ کے قریب پہنچ کر اُس نے لڑکے کو پکڑ لیااور راتوں رات پھر اسے قادیان واپس لائی۔اِس واقعہ کا کہ اب تک اُس کے لڑکے کی اصلاح نہیں ہوئی اُسے اتنا صدمہ ہؤاکہ وہ دوسرے دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس آئی اور رو رو کر التجا کی کہ میر ا ایک ہی بیٹا ہے خاوند میرا مرچکا ہے میں آپ سے صرف یہ درخواست کرتی ہوں کہ آپ کوشش کریں کہ یہ کلمہ پڑھ کر مرجائے۔مجھے اِس کی زندگی کی خواہش نہیں ،اِس کی صحت کی خواہش نہیں مجھے صرف اتنی خواہش ہے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں نہ مرے۔جس کرب و اضطراب سے اُس نے یہ باتیں کیںاِس کا اثر ہؤا۔ خدا تعالیٰ نے اُس کی دعا سُنی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی دعا فرمائی اور سات آٹھ دن کے بعد اُس کا لڑکا مسلما ن ہو گیااور مسلمان ہونے کے تین چار دن بعدمر گیا۔
    اب دیکھو! وہ ایک جاہل عورت تھی مگر اُس کے دل میں یہ درد تھاکہ میں اپنے بعد محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لینے والی اولاد چھوڑوں ۔اگر معاویہ کی بیوی کے دل میں بھی یہی درد ہوتا کہ میں ایسی اولاد چھوڑوں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر عمل کرنے والی ہو تو یزید پیدا نہ ہوتا بلکہ سعید پیدا ہوتا۔مگر اس نے اپنی ذمہ داری نہ سمجھی اور یہ چاہا کہ صرف ایک لڑکا ہو جو میر انام قائم رکھنے والا ہو اور اُس نے سمجھا کہ گھر کے کام کے علاوہ مجھ پر اور کوئی ذمہ داری نہیں۔
    پس عورتیں اگر چاہیں تو وہ دنیا کو مستقل طور پر دین بخش سکتی ہیں ، عورتیں اگر چاہیں تو وہ دنیا کو مستقل طور پر ایمان بخش سکتی ہیں اور یہ کا م اتنا بڑا ہے کہ نپولین کی فتح یا تیمور کی فتح یا ملکہ الز بتھ کی فتح یا اور بادشاہوں کی فتوحات اس کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہو کر رہ جاتی ہیں۔قرآن کہتا ہے کہ تم ہمیشہ کیلئے دین قائم کرو مگر یہ کس طرح ہو سکتا ہے جب ہمیشہ کیلئے عورت دین کو قائم کرنے کی جدو جہد نہ کرے۔اگر عورت فیصلہ کر لے کہ میں نے آئندہ نسل کو پہلوںسے زیادہ دین دار بنانا ہے تو شیطان اس پر کس طرح قبضہ کر سکتا ہے۔ مردوں نے شیطان کا مقابلہ کیااور ہمیشہ ناکام رہے۔زیادہ سے زیادہ وہ صرف ایک نسل کو دین کو دین پر قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔صرف عورت ہی ہے جو شیطان کا ہمیشہ کے لیے مقابلہ کرسکتی ہے۔اگر عورتیں فیصلہ کرلیںکہ ہم نے آئندہ نسلوں کو خادمِ دین بنانا ہے تو شیطان کس کو بگاڑے گا۔آئندہ نسل پر شیطان کا اثر نہیںہوتابلکہ ماں کا اثر ہوتا ہے۔لیکن ماں اپنی غلطی سے اُسے چھوڑ دیتی ہے او ر وہ شیطان کا شکار ہو جاتا ہے۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو۔یہ کہنا کہ مرد اگر تبلیغ کیلئے امریکہ گئے ہیں تو ہم بھی جائیں، ایک ادنیٰ خواہش ہے ۔سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو ایسے راستہ پر چلاؤ جس پر چل کر وہ پہلوں سے زیادہ دیندار ہوں،پہلوں سے زیادہ قربانی کرنے والے ہوں، پہلوں سے زیادہ ایثا رسے کام لینے والے ہوں۔ اگر تم ایسا کرو اور اگلی نسل کی عورتیں اگلی نسل کو بچائیں تو اِس طرح قیامت تک خدااور محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم ہو سکتی ہے۔گویا جس کام کوتیرہ سَو سال میں امام ابوحنیفہؒ نہیں کرسکے ،امام شافعیؒ نہیں کرسکے ،سید عبدلقادر صاحب جیلانی ؒنہیں کر سکے، حضرت معین الدین صاحب چشتی ؒ نہیں کر سکے ،شہاب الدین صاحب سہروردی ؒ نہیں کرسکے عورت اس کو کر سکتی ہے کیونکہ عورت کے ہاتھ میں بچہ ہوتا ہے ۔بچہ بولنا سیکھتا ہے تو اپنی ماں کی گود میں۔ جذبات سیکھتا ہے تو اپنی ماں کے ذریعہ سے۔ فکر کا مادہ اس میں پیدا ہوتا ہے تو ماں کی وجہ سے۔ غرض وہ تمام باتیں عورت سے ہی سیکھتا ہے ۔اگر عورت اِس عزم کے ساتھ کھڑی ہوجائے کہ میں اپنی آئندہ نسل کی اصلاح کروں گی تو جو کام بزرگوں سے نہیں ہؤا وہ ہمیشہ ہمیش کیلئے ہو سکتا ہے اور خدا کی بادشاہت اس دنیا میں قائم ہو سکتی ہے جس طرح وہ آسمان پر ہے ۔حضرت مسیح نے نہایت درد سے کہا تھاکہ اے خدا! جس طرح تیری بادشاہت آسما ن پر ہے ویسی ہی زمین پر بھی قائم ہو۔ہر مومن کے دل میں ایسا ہی جذبہ ہونا چاہئے۔مگر سچ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت آسمان پر تو فرشتوں کے ذریعہ قائم ہے لیکن زمین پر وہ اِسی طرح آ سکتی ہے جب عورتیں اُس کو قائم کرنے کا تہیہ کرلیں۔مرد صرف اپنے زمانہ کی اصلاح کر سکتے ہیں لیکن عورتیں آئندہ نسل کو دین پر قائم کرسکتی ہیں۔
    اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اپنے فرائض کے سمجھنے کی توفیق دے تا کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت کو آپ ہمیشہ ہمیش کیلئے دنیا میں قائم کر دیں۔اور آپ کے بعد آپ کی بیٹیاں اور پھر بیٹیوں کے بعد اُن کی بیٹیاں قرآن کریم کی تعلیم کو جاری کرنے والی اور اپنے نیک نمونہ کے ساتھ اسلام کو دائمی زندگی بخشنے والی ہوں۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ
    (الا ظہار لزوات الخمارصفحہ ۸۷ تا ۱۰۰)
    ۱؎ النسائ: ۲ ۲؎ الناس: ۲ تا ۴
    ۳؎ اقرب الموارد جلد۲ صفحہ ۱۳۲۸ مطبوعہ بیروت ۱۸۸۹ء
    ۴؎ المنجد عربی اُردو صفحہ۱۰۳۵ مطبوعہ کراچی ۱۹۹۴ء
    ۵؎ بخاری کتاب الایمان باب کفران العشیر (الخ)
    ۶؎ بخاری کتاب فضائل اصحاب النبیﷺ باب مناقب المہاجرین وفضلھم
    ۷؎ ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی المرأۃ والعبد یحذیان من الغنیمۃ
    ۸؎ موضوعات کبیر ملا علی قاری صفحہ۳۷ مطبوعہ دہلی ۱۳۴۶ھ
    ۹؎ کنز العمال جز ۱۱ صفحہ ۱۱۷ کتاب الفتن والاھواء باب فی الفتن و الھرج مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ الطبعۃ الخامسۃ ۱۹۸۱ء میں بندروں کا ذکر ہے۔
    ۱۰؎ تاریخ ابن اثیر جلد۴ صفحہ۱۳۰ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء



    اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلو





    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلو
    (فرمودہ ۱۴؍جون ۱۹۵۱ء برموقع افتتاح جامعہ نصرت ربوہ)
    تشہّد ، تعوّذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: -
    زمانہ کے حالات بدلتے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ انسان بھی بدلتا چلا جاتا ہے یہ ایک عام قانون ہے جو دُنیا میں جاری ہے۔ دریا چلتے ہیں اور پہاڑوں اور میدانوں کے نشیب و فراز کی وجہ سے ان کے بعض حصوں پر دبائو پڑتا ہے اوراس کے نتیجہ میں کچھ دور جاکر دریا کا رُخ بدل جاتا ہے۔ بعض دفعہ دس دس ،پندرہ پندرہ ، بیس بیس، تیس تیس میل تک دریا رُخ بدلتے چلے جاتے ہیں۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان بدلتے ہیں اور ان کے ساتھ زمانہ بدل جاتا ہے۔ یہ دونوں قسم کے نظارے ہمیں دُنیا میں نظر آتے ہیں۔ کبھی زمانہ کے بدلنے سے انسان بدلتے ہیں اور کبھی انسانوں کے بدلنے سے زمانہ بدلتا ہے۔
    انسان کمزور ہوتا ہے تو زمانہ کے بدلنے سے وہ بدل جاتا ہے اور جب طاقتور ہوتا ہے تو اُس کے بدلنے سے زمانہ بدل جاتا ہے۔ کمزور قومیں اپنی حاصل شدہ عظمت اور طاقت کو زمانہ کے حالات کے مطابق بدلتی چلی جاتی ہیں۔ وہ اپنے ہمسایوں سے بد رسوم کو لیتی ہیں، اپنے ہمسایوں سے بد اخلاق کو لیتی ہیں، اپنے ہمسایوں سے سُستی اور جہالت کو لیتی ہیں، اپنے ہمسایوں سے جھوٹ اور فریب کو لیتی ہیں، اپنے ہمسایوں سے ظلم اور تعدی کولیتی ہیں اور وہی قوم جو کسی وقت آسمان پر چاند اور ستاروں کی طرح چمک رہی ہوتی ہے نہایت ذلیل اور حقیر ہو کر رہ جاتی ہے۔ تم اپنے ہی اسلاف کو دیکھو اگر تمہیں اپنے بنائو اور سنگار سے فُرصت ہو کہ تمہارے اسلاف کیا تھے اور اب تم کیا ہو ۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ کالج کی طالبات نے جب مضمونوں کا انتخاب کیا تو ان میں سے اکثر نے تاریخ سے بچنے کی کوشش کی۔ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے ہم کسی بچہ سے کہیں کہ آئو ہم تمہیں تمہارے ماں باپ کانام بتائیں اور وہ بھاگے۔
    تاریخ کیا ہے؟ تاریخ تمہیں بتاتی ہے کہ تمہار باپ کون تھا، تمہارا دادا کون تھا، تمہاری ماں کون تھی، تمہاری نانی کون تھی۔ تاریخ تمہیں بتاتی ہے کہ تمہارے آبائو اجداد کیا تھے اور اب تم کیا ہو۔ تاریخ سے کسی شخص کا بھاگنا یا اِس مضمون کو بوجھل سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے آبائو اجداد کی بات سننے کے لئے تیار نہ ہو۔ حالانکہ اگر دُنیوی لحاظ سے کوئی مضمون ایسا ہے جس کے حصول کے لئے ہمیں لڑنا چاہئے تو وہ تاریخ ہی ہے۔ تاریخ سے بھاگنے کے معنی ہوتے ہیں طبیعت میں مُردہ دلی ہے۔ جیسے کمزور آدمی کو زخم لگ جاتا ہے تو وہ کہتا ہے مجھے نہ دکھائو مَیں نہیں دیکھتامیرا دل ڈرتا ہے۔ تاریخ سے بھاگنے والی قوم وہی ہوتی ہے جو ڈرپوک ہو تی ہے اور ڈرتی ہے کہ اگر میرے ماں باپ کی تاریخ میرے سامنے آئی اور اس میں میرا بھیانک چہرہ مجھے نظر آیا اور مجھے پتہ لگا کہ مَیں کون ہوں تو میرا دل برداشت نہیںکرے ۔گا چونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس آئینہ میں میری شکل مجھے نظر آئے گی اس لئے وہ اپنی شکل کے خیال سے اور تصور سے کہ وہ کتنی بدصورت ہو گی اسے دیکھنے سے اجتناب کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ بات فطرت انسانی میں داخل ہے کہ وہ اپنے آبائو واجداد اور اپنی اولاد اور اپنے رشتہ داروں کو اپنی شکل کا دیکھنا چاہتا ہے۔ کئی ماں باپ جن کے ہاں کسی حادثہ یا بیماری کی وجہ سے بدصورت بچے پیدا ہو جاتے ہیں اُن سے اُن کی مائیں بھی نفرت کرنے لگتی ہیں اور وہ بدصورت بچے اپنے دوسرے بھائیوں سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں اِس خیال سے کہ یہ ہم سے اچھے ہیں۔ اِسی طرح جب تاریخ میں انسان اپنے آباء کو دیکھتا ہے کہ اُنہوں نے یہ یہ کارنامے سر انجام دیئے ہیں اور اُن کی یہ شان تھی اور اس کے مقابلہ میں وہ یہ دیکھتا ہے کہ ہم کیا ہیں او رپھر وہ اس چلن اور طریق کو دیکھتا ہے جو اُس نے اور اُس کے ساتھیوں نے اختیار کیا ہؤا ہے تو دیانتداری کے ساتھ وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہوتا ہے کہ میری غفلت اور میری سحر انگاری اور میری اپنے فرائض سے کوتاہی اور میری عیش و آرام کی زندگی مجھ کو مجرم بنانے کے لئے کافی ہے۔ اسے تاریخ کے اس آئینے میں اپنا گھناؤنا چہرہ نظر آجاتا ہے اوروہ خیال کرتا ہے کہ جب مَیں پُرانے حالات پڑھوں گا اور دیکھوں گا کہ وہ لوگ جو میرے آباء تھے ان کاموں سے نفرت کیا کرتے تھے تو مجھے اپنے اندر تغیر پیدا کرنا پڑے گا۔ پس وہ اپنے بدصورت چہرہ کو ان کے خوبصورت چہرہ سے ملانے سے گھبراتا ہے اور اس لئے تاریخ سے دُور بھاگتا ہے۔ جب آج کل کا مسلمان تاریخ کے آئینہ میں یہ دیکھتا ہے کہ اس کے ماں اور باپ ہمالیہ سے بھی اونچے قدوں والے تھے، آسمان بھی ان کے دبد بہ سے کانپتا تھا اور اس کے مقابلہ میں وہ اپنی تصویر کا خیال کرتا ہے کہ بالکل ایک بالشتیہ نظر آتا ہے اور اس کی مثال ایک کارک جتنی بھی نہیں جو دریا میں بہتا چلا جاتا ہے۔ سمندر کی لہریں اُٹھتی ہیں اور اُس کے آبائو اجداد کی مضبوط چٹان سے ٹکراتی ہیں اور وہ بلند و بالا ہو نے والی لہریں جن کو دیکھ کر بسا اوقات انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ دُنیا کو بہا کر لے جائیں گی وہ اُس کے آبائواجداد کی چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتی ہیں ان کاپانی جھاگ بن کر رہ جاتا ہے اور اس چٹان کے قدموں میں وہ جھاگ پھیل رہی ہوتی ہے، ہوا میں بلبلے پھٹ پھٹ کر غائب ہوتے چلے جاتے ہیں اور اس کو نظر آتا ہے کہ اس کے آبائو اجداد کی کیا شان تھی۔ پھر وہ اپنی طرف دیکھتا ہے کہ ایک چھوٹی سی ندی جس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ایک کارک کی طرح اِدھر اُدھر پھر رہا ہے کبھی وہ کسی چٹان سے ٹکراتا ہے اور کبھی کسی سے وہ دائیں طرف چلا جاتا ہے اور کبھی بائیں طرف، کبھی وہ خش و خاشاک کے ڈھیروں میں چھپ جاتا ہے اور کبھی گندی جھاگ میںاور ہر شخص اس کی لرزتی اور کپکپاتی ہوئی حالت کو دیکھ کر اس سے اپنا مُنہ پھیر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کیا ہی ذلیل چیز ہے۔ تاریخ سے بھاگنے والا بُزدل ہوتا ہے جس میں یہ جرأت نہیں ہوتی کہ وہ حقائق کے آئینہ میں اپنے باپ دادا کی شکل کے سامنے اپنی شکل رکھ سکے۔ بہادر اور ہمت والا انسان خود جاتا ہے اور اس آئینہ کو اُٹھاتا ہے وہ اس آئینہ میں اپنی شکل کو دیکھ کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے اور کہتا ہے ہاں میرے آباء اجداد اگر چٹان تھے تومَیں بھی چٹان بن کر رہوں گا وہ اگر طوفان تھے تو مَیں ان سے بھی اونچا طوفان بنوں گا۔ وہ اگر سمند ر کی لہروں کی طرح اُٹھتے تھے تو مَیں ان سے بھی اونچا اٹھوں گا۔ تم جا نتی ہو کہ وہ لڑکی جس کے نمبر کلاس میں زیادہ ہوتے ہیں وہ اپنے نمبروںکو چھُپاتی نہیں بلکہ ہر ایک کو بتاتی ہے۔ نمبروں کا بتانا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے انسان کا اپنا مُنہ دکھانا ۔ وہ اپنا اندرونہ دکھلاتی ہے اورجس کے نمبر کم ہوتے ہیں وہ ان کو چھپایا کرتی ہے ۔ پس تاریخ کے پڑھنے سے گریز درحقیقت بُزدلی کی علامت ہے۔ درحقیقت یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس شخص کو اپنے مکروہ چہرے کا پتہ ہے اور اس شخص کو اپنے آباء و اجداد کے حسین چہرے کا بھی پتہ ہے مگر ان دونوں باتوں کے معلوم ہونے کے بعد وہ یہ جرات نہیں رکھتا کہ ایک آئینہ میں دونوں کی اکھٹی شکل دیکھ سکے۔
    یہاں تک تو مَیں نے صرف عام پیرایہ میں اِس مضمون کی اہمیت بیان کی ہے اگر مذہبی پہلو لے لو تو تاریخ ہی ایک مسلمان کو بتا سکتی ہے کہ کس طرح ایک ریگستان سے ایک انسان اُٹھا اور اس نے اپنی مقناطیسی قوت سے اپنے اِردگِرد کے فولادی ذروں کو جمع کرنا شروع کیا۔ پھر تھوڑے ہی عرصہ میں وہ ایک علاقہ میں پھیل گیا پھر مُلک میں پھیل گیا پھر زمین کے تمام گوشوں میں چَپے چَپے پر اُس کی جماعت پھیل گئی۔ قرآن کریم میں مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ ان کا نام بَرَرَہ ۱؎ اور سَفَرَۃ ۲؎ رکھا ہے۔ یعنی ان کے قدم گھر میں ٹکتے ہی نہیں تھے دُنیا کے گوشوں گوشوں میں پھیلتے جاتے تھے اور جہاں جاتے تھے اپنی خوش اخلاقی اور اعلیٰ درجہ کے چلن کی خوشبو پھیلاتے جاتے تھے۔ لیکن کُجاوہ پھیلنے والا مسلمان اور کُجا آج کا سمٹنے والا مسلمان، کُجا وہ زمانہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں فرمایا کہ مردم شماری کرو اور دیکھو کہ اب کتنے مسلمان ہو چکے ہیں۔ مردم شماری کی گئی اور گنتی کی گئی اور مسلمان مردوں عورتوں اور بچوںکی تعداد سات سَو نکلی۔ تم جانتی ہو کہ ربوہ کی آبادی اِس وقت اڑھائی ہزار کے قریب ہے گویا وہ تمہاری ربوہ کی آبادی کا ۴/۱ حصّہ تھے۔ اور یہ وہ مردم شماری تھی جو ساری دُنیا کے مسلمانوں کی تھی کیونکہ اُس وقت مدینہ سے باہر مسلمان بہت تھوڑے تھے سوائے حبشہ کے کہ وہاں کوئی پچاس کے قریب مسلمان ہوں گے یا مکّہ میں کچھ مسلمان تھے جو ڈر کے مارے اپنے ایمان کا اظہار نہیں کرتے تھے اور کھلے بندوں اسلام میں شامل نہیں تھے ۔ غرض مردم شماری کی گئی اور سات سَو کی آبادی نکلی۔ وہ صحابہ جن کے سپرد یہ کام تھا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا یَا رَسُوْلَ اللہ! مسلمانوں کی آبادی سات سَو نکلی ہے پھر انہوں نے کہا یَارَسُوْلَ اللہ!آپ نے مردم شماری کا حکم کیوں دیا تھا؟ کیا آپ کو یہ خیال آیا کہ مسلمان تھوڑے ہیں؟ یَا رَسُوْلَ اللہ!اب تو ہم سات سَو ہو گئے ہیںاب ہمیں دُنیا سے کون مٹا سکتا ہے ۔ ۳؎
    آج کہا جاتا ہے کہ مسلمان ساٹھ کروڑ ہیں لیکن ان ساٹھ کروڑ کا دل اتنا مضبوط نہیں جتنا اُن سات سَو کا دل مضبوط تھا ۔ آخر یہ تفاوت جو دلوں کے اندر ہے تمہیں اس کا کس طرح پتہ لگ سکتاہے بغیر تاریخ کے مطالعہ کے۔ ایک ایک مسلمان نکلتا تھا اور دُنیا کی طاقتیں اُس کے سامنے جھک جاتی تھی۔ وہ نقّال نہیں تھا بلکہ خود اپنی ذات میں اپنے آپ کو آدم سمجھتا تھا۔ وہ یقین رکھتا تھا کہ دُنیا میری نقل کرے گی میرا کام نہیں کہ مَیں اس کی نقل کروں ۔ تم اگر تاریخ پڑھو تو تمہیں پتہ لگے گا آج تم ہر بات میں یورپ کی نقل کررہی ہو۔ تم بعض دفعہ کہہ دیتی ہو فلاں تصویر میں مَیں نے ایسے باغ دیکھے تھے اُف جب تک مَیں بھی ایسے بال نہ بنا لوں مجھے چین نہیں آئے گا۔ فلاں پائوڈر نکلا ہے جب تک اُسے خرید نہ لوں مجھے قرار نہیں آئے گا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تم سمجھتی ہو کہ تمہارا دُشمن بڑا ہے اور تم چھوٹی ہو۔ اگر تم بڑی ہو تو اُس کا کام ہے کہ وہ تمہاری نقل کرے اور اگر وہ بڑا ہے تو پھر تمہارا کام ہے کہ تم اُس کی نقل کرو۔
    حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اسلامی لشکر ایران کے ساتھ ٹکر لے رہا تھا کہ بادشاہ کو خیال آیا کہ یہ عرب ایک غریب مُلک کے رہنے والے بھوکے ننگے لوگ ہیں اگر ان کو انعام کے طور پر کچھ روپیہ دے دیا جائے تو ممکن ہے کہ یہ لوگ واپس چلے جائیں اور لڑائی کا خیال ترک کر دیں چنانچہ اُس نے مسلمانوں کے کمانڈر انچیف کو کہلا بھیجا کہ اپنے چند آدمی میرے پاس بھجوا دیئے جائیں مَیں اُن سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں ۔ جب وہ ملنے کے لئے آئے تو اُس وقت بادشاہ بھی اپنے دار الخلافہ سے نکل کر کچھ دُور آگے آیا ہؤا تھا اور عیش اور تنعم کا ہر قسم کا سامان اس کے ساتھ تھا ،نہایت قیمتی قالین بچھے ہوئے تھے، نہایت اعلیٰ درجے کے کائوچ اور کُرسیاں بچھی ہوئی تھیں اور بادشاہ تخت پر بیٹھا تھا کہ مسلمان سپاہی آ پہنچے۔ سپاہیوں کے پائوں میں آدھے چھلے ہوئے چمڑے کی جوتیاں تھیں جو مٹی سے اَٹی ہوئی تھیں اور ان کے ہاتھوں میں نیزے تھے۔ جس وقت وہ دروازے پر پہنچے چوبدار نے آواز دی کہ بادشاہ سلامت کی حضوری میں تم حاضر ہوتے ہو اپنے آپ کو ٹھیک کرو۔ پھر اس نے مسلمان افسر سے کہا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ کس قسم کے قیمتی قالین بچھے ہوئے ہیں تم نے اپنے ہاتھوں میں نیزے اُٹھائے ہوئے ہیں اِن نیزوں سمیت قالینوں پر سے گزرو گے تو ان کو نقصان پہنچے گا۔ اُس مسلمان افسر نے کہا تمہارے بادشاہ نے ہم کو بُلایا ہے ہم اپنی مرضی سے اس سے ملنے کے لئے نہیں آئے ہیں۔ اگر ملنے کی احتیاج ہے تو اُس کو ہے ہمیں نہیں۔ اسے اگر اپنے قالینوں کا خیال ہے تو اسے کہہ دو کہ وہ اپنے قالین اُٹھا لے۔ ہم جُوتیاں اُتارنے یا نیزے اپنے ہاتھ سے رکھنے کے لئے تیار نہیں۔ اس نے بہتیرا پروٹسٹ کیا اور کہا کہ اندر نہایت قیمتی فرش ہے جُوتیاں اُتار دو اور نیزے رکھ دو مگر انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا۔ اس نے ہمیں بُلایا ہے ہم اپنی مرضی سے اس سے ملنے نہیں آئے۔ غرض اِسی حالت میں وہ اندر پہنچے۔ وہاں تو بڑے سے بڑا جرنیل اور وزیر بھی زمین بوس ہوتا اور بادشاہ کے سامنے سجدہ کرتا تھا مگر یہ تنی ہوئی چھاتیوں اور اُٹھی ہوئی گردنوں کے ساتھ وہاں پہنچے۔ بادشاہ کو سلام کیا اور پھر اُس سے پوچھا کہ بادشاہ تم نے ہمیں کیوں بلایا ہے؟ بادشاہ نے کہا کہ تمہارا مُلک نہایت جاہل پَست، درماندہ اور مالی تنگی کا شکار ہے اور پھر عرب وہ قوم ہے کہ جو گوہ تک (ایک ادنیٰ جانور ہے) کھاتی ہے وہ عمدہ کھانوں سے نا آشنا ہے، عمدہ لباس سے ناآشنا ہے اور بھُوک اور افلاس نے اسے پریشان کر رکھا ہے۔ معلوم ہوتا ہے اس تنگی اور قحط کی وجہ سے تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہؤا ہے کہ ہم دوسرے مُلکوں میں جائیں اور ان کو لَوٹیں۔ مَیں تمہارے سامنے تمہاری اس تکلیف کو دیکھتے ہوئے یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ تمہارا جتنا لشکر ہے اِس میں سے ہر سپاہی کو میں ایک ایک اشرفی اور ہر افسر کو دو دو اشرفیاں دے دوں گا۔ تم یہ روپیہ لو اور اپنے مُلک میں واپس چلے جائو۔ مسلمان کمانڈر نے کہا اے بادشاہ! یہ جو تم کہتے ہو کہ ہماری قوم گوہ تک کھانے والی تھی اور ہم غربت اور ناداری میں اپنے ایام بسر کر رہے تھے یہ بالکل درست ہے۔ ایسا ہی تھا مگر اب وہ زمانہ نہیں رہا۔ خدا تعالیٰ نے ہم میں اپنا ایک رسول بھیجا اور اُس نے ہم کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور ہم نے اُسے قبول کر لیا۔ تمہارا یہ خیال ہے کہ ہم روپوئوں کے لئے نکلے ہیں؟ مگر ہم روپوئوں کے لئے نہیں نکلے تمہاری قوم نے ہم سے جنگ شروع کی ہے اور اب ہماری تلواریں تبھی نیام میں جائیں گی جب یا تو کلمۂ شہادت پڑھ کر مسلمان ہوجائو گے اوریا پھر مسلمانوں کے باجگزار ہو جائوگے اور ہمیں جزیہ ادا کروگے۔ ایران کا بادشاہ جو اپنے آپ کو نصف دُنیا کا بادشاہ سمجھتا تھا وہ اس جواب کو برداشت نہ کر سکا اُسے غصہ آیا اُس نے چوبدار سے کہا جائو اور ایک بورے میں مٹی ڈال کر لے آئو۔ وہ بوری میں مٹی ڈال کر لے آیا تواس نے کہا کہ یہ بوری اِس مسلمان سردار کے سر پر رکھ دو اور اسے کہہ دو کہ مَیں تمہارے سروں پر خاک ڈالتا ہوں اور سوائے اِس مٹی کے تمہیں کچھ اَور دینے کے لئے تیار نہیں۔ وہ مسلمان افسر جس کی گردن ایران کے بادشاہ کے سامنے نہیں جھکی تھی اِس موقع پر اُس نے فوراً اپنی گردن جُھکا دی، پیٹھ پر بوری رکھی اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آجائو۔ بادشاہ نے خود ایران کی زمین ہمارے سپرد کر دی ہے ۔ مشرک تو وہمی ہوتا ہے بادشاہ نے یہ سُنا تو اس کے پائوں تلے سے زمین نکل گئی اور اُس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ان لوگوں کو جلدی پکڑو مگر وہ اُس وقت تک دُور نکل چکے تھے۔۴؎ اُنہوں نے کہا اب یہ پکڑی جانے والی مخلوق نہیں ہے۔ پھر وہی بادشاہ جس نے یہ کہا تھا کہ مَیں تمہارے سروں پر خاک ڈالتا ہوں وہ میدان چھوڑ کر بھاگا ، پھر مُلک چھوڑ کر بھاگا اور شمالی پہاڑوں میں جا کر پناہ گزین ہو گیا اور اس کے قلعے اور محلات اور خزانے سارے کے سارے مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے۔
    ابو ہریرہ ؓ وہ غریب ابو ہریرہؓ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ساراد ن بیٹھے رہنے کے خیال سے کوئی گزارہ کی صورت پیدا نہیں کرتا تھا اور جسے بعض دفعہ کئی کئی دن کے فاقے ہو جایا کرتے تھے۔ ایک دن وہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ انہیں کھانسی اُٹھی انہوں نے اپنی جیب میں سے رومال نکالا اور اُس میں بلغم تُھوکا اور پھر کہا بخ بخ ابو ہریرہؓ! یعنی واہ واہ ابو ہریرہؓ! کبھی تُو فاقوں سے بے ہوش ہو جایا کرتا تھا اور آج تُو کسریٰ کے اس رومال میں تھوک رہا ہے جسے بادشاہ تخت پر بیٹھتے وقت اپنی شان دکھانے کے لئے خاص طور پر اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا ۔ لوگوں نے کہا یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا مَیں آخری زمانہ میں مسلمان ہؤا تھا مَیں نے اس خیال سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں لوگوں نے بہت کچھ سُن لی ہیں اور اب میرے لئے بہت تھوڑا زمانہ باقی ہے یہ عہد کر لیا کہ مَیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ سے نہیں ہِلوں گا سارا دن مسجد میں ہی رہوں گا تا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی باہر تشریف لائیں میں آپ کی باتیں سُن سکوں۔ کچھ دن تو میرا بھائی مجھے روٹی پہنچاتا رہا آخر اُس نے روٹی پہنچانی چھوڑ دی اور مجھے فاقے آنے لگے اور بعض دفعہ سات سات وقت کا فاقہ ہو جاتا تھا اور بھُوک کی شدت کی وجہ سے مَیں بے ہوش ہو کر گر جاتا تھا لوگ یہ سمجھتے کہ مجھے مرگی کا دَورہ ہو گیا ہے اور عربوں میں یہ رواج تھا کہ جب کسی کو مرگی کا دَورہ ہوتا تو اُس کے سر پر جُوتیاں مارا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ مرگی کا علاج ہے۔ جب مَیں بے ہوش ہوتا تو میرے سر پر بھی وہ جُوتیاں مارنا شروع کر دیتے حالانکہ مَیں بھوک کی شدت کی وجہ سے بے ہوش ہوتا تھا ۔ اب کُجا وہ حالت اور کُجا یہ حالت کہ ایران کا خزانہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا اور اموال تقسیم ہوئے تووہ رومال جو شاہِ ایران تخت پر بیٹھتے وقت اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا وہ میرے حصّہ میں آیا۔ مگر ایران کا بادشاہ تو آرائش کے لئے اِس رومال کو اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا اور میرے نزدیک اِس رومال کی صرف اتنی قیمت ہے کہ مَیں اس میں اپنا بلغم تُھوک رہا ہوں۔۵؎
    سوائے تاریخ کے کون سی چیز ہے جو تمہیں اپنے آباء کے ان حالات سے واقف کر سکتی ہے اور تمہیں بتا سکتی ہے کہ تم کیا تھے اور اب کیا ہو۔ کسی مُلک میں مسلمان عورت نکل جاتی تھی تو لوگوں کی مجال تک نہیں ہوتی تھی کہ وہ اُس کی طرف اپنی آنکھ اُٹھا سکیں۔ آجکل ربوہ کی گلیوں میں احمدی عورتیں پھرتی ہیں تو ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ باہر کا کوئی اوباش آدمی یہاں آیا ہؤا ہو اور وہ کوئی شرارت کر جائے۔ لیکن ایک وہ زمانہ گزرا ہے کہ مسلمان عورتیں دُنیا کے گوشے گوشے میں جاتیں، اکیلے اور تن تنہا جاتیں اور کسی کو جرأت نہیں ہوتی تھی کہ وہ ان کی طرف ترچھی نگاہ سے دیکھ سکے اور اگر کبھی کوئی ایسی غلطی کر بیٹھتا تو وہ اُس کا ایسا خمیازہ بھُگتتا کہ نسلوںنسل تک اُس کی اولاد ناک رگڑتی چلی جاتی۔ مسلمان اپنے ابتدائی دَور میں ہی دُنیا میں پھیل گئے تھے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ابھی اسّی نوّے سال ہی گزرے تھے کہ وہ چین اور ملایا اور سیلون اور ہندوستان کے مختلف گوشوں میں پھیل گئے ادھر وہ افریقہ کے مغربی ساحلوں تک چلے گئے تھے اور ان کی لہریں یورپ کے پہاڑوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ اس ابتدائی دَور میں مسلمانوں کا ایک قافلہ جس کو سیلون کے بدھ بادشاہ نے خلیفۂ وقت کے لئے کچھ تحائف بھی دیئے تھے سیلون سے روانہ ہؤا اور اسے سندھ میں لوٹ لیا گیا ۔ سندھ میں اُن دنوں راجہ داہر کی حکومت تھی جب اس قافلہ کے لُوٹے جانے کی خبر مشہور ہوئی تو گورنر عراق کا والیٔ مکران کو حکم پہنچا کہ ہمارے پاس یہ خبر پہنچی ہے کہ مسلمانوں کا ایک قافلہ جو سیلون سے چلا تھا وہ سندھ میں لُوٹا گیا ہے اور مسلمان مرد اور عورتیں قید ہیں تم اس واقعہ کی تحقیق کر کے ہمیں اطلاع دو۔ والیٔ مکران نے راجہ داہر سے دریافت کیا تو اُس نے اِس واقعہ کا انکار کر دیا ۔ مسلمان چونکہ خود راست باز تھے اِس لئے وہ سمجھتے تھے کہ دوسرے لوگ بھی سچ بولتے ہیںجب راجہ داہر نے انکار کر دیا تو انہوںنے بھی مان لیا کہ یہ بات سچ ہوگی۔ کچھ عرصہ کے بعد ایک اور قافلہ انہوں نے اسی طرح لُوٹا اور ان میں سے بھی کچھ عورتیں انہوں نے قید کیں۔ ان عورتوں میں سے ایک عورت نے کسی طرح ایک مسلمان کو جو قید نہیں ہؤا تھا یاقید ہونے کے بعد کسی طرح رہا ہو گیا تھا کہا کہ میرا پیغام مسلمان قوم کو پہنچا دو کہ ہم یہاں قید ہیں اور مسلمان حکومت کا فرض ہے کہ وہ ہم کو بچائے۔ اُس وقت خلیفہ بنو امیہ افریقہ پر چڑھائی کی تجویزیں کر رہا تھا اور سپین فتح کرنے کی سکیم بن رہی تھی اور تمام علاقوں میں یہ احکام جاری ہو چکے تھے کہ جتنی فوج میسر آسکے وہ افریقہ کے لئے بھجوا دی جائے۔ اُس وقت وہ پیغامبر پہنچا اور اُس نے عراق کے گورنر کو جو حجاج نامی تھا اور جو سخت بدنام تھا یہ پیغام پہنچایا۔ اِس میں بدنامی کی بھی باتیں ہوں گی مگر اس جیسا نڈر، بہادر اور اسلام کے لئے قربانی کرنے والا آدمی بھی اُس زمانہ میں ہمیں شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے ۔ آنے والے نے حجاج سے کہا کہ مَیں سندھ سے آیا ہوں۔ وہاں یکے بعد دیگرے دومسلمان قافلے لُوٹے گئے ہیںاورکئی مسلمان قید ہیں۔ راجہ داہر نے گورنر مکران سے کہا یہ بالکل جھوٹ کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہؤا۔ حجاج نے کہا کہ مَیں کس طرح مان لوں کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو درست کہہ رہے ہو۔ ہر بات کی دلیل ہونی چاہئے بغیر کسی دلیل کے مَیں تمہاری بات نہیں مان سکتا۔ اُس نے کہا کہ آپ مانیں یا نہ مانیں واقعہ یہی ہے کہ وہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔ حجاج نے کہا کہ اوّل تو تمہاری بات پر یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیںہم نے گورنر مکران کو لکھا اور اُس نے جو جواب دیا وہ تمہارے اس بیان کے خلاف ہے دوسرے تمہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے۔ خلیفۂ وقت کا حکم ہے کہ جتنی فوج میسر ہو افریقہ بھیج دو پس اِس وقت ہم اپنی فوجوںکو کسی اور طرف نہیں بھیج سکتے۔ غرض اس نے ہر طرح سمجھایا مگر حجاج پر کوئی اثر نہیں ہؤا اور اُس نے کہا کہ میرے حالات اِس قسم کے نہیں کہ مَیں اِس طرف توجہ کر سکوں۔ جب وہ ہر طرح دلائل دے کر تھک گیا تو اُس نے کہا میرے پاس آپ کے لئے اور خلیفۂ وقت کے لئے ایک پیغام بھی ہے۔ حجاج نے کہا کے وہ کیا ہے؟ اُس نے کہا کہ جب مَیں چلا ہوں تو ایک مسلمان عورت جو قید ہونے کے خطرہ میں تھی اور اِس وقت تک قید ہو چکی ہوگی اُس نے مجھے یہ پیغام دیا تھا کہ اسلامی خلیفہ اور عراق کے گورنر کو ہماری طرف سے یہ پیغام دے دیں کہ مسلمان عورتیں ظالم ہندوئوں کے ہاتھ میں قید ہیں اور ان کی عزت اور ان کا ناموس محفوظ نہیں ہے ہم مسلمان قوم سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ اپنے فرض کو ادا کرے اور ہمیں یہاں سے بچانے کی کوشش کرے۔ کوئی مُلک نہیں، کوئی قوم نہیں دو یا تین عورتیں ہیں اور بیس یا پچیس مرد ہیں جن کے بچانے کے لئے بعض دفعہ ضلع کا ڈپٹی کمشنر بھی یہ کہہ دیتا ہے کہ میرے پاس سپاہی موجود نہیں یہ ایک معمولی واقعہ ہے اس کا حجاج پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہی حجاج جو یہ کہہ رہاتھا کہ ہمارے پاس فوج نہیں ہم یورپ پر حملہ کی تیاری کر رہے ہیں وہ اِس پیغام کو سُن کر گھبرا کر کھڑا ہوگیا اور جب اُس آنے والے آدمی نے پوچھا کہ اب آپ مجھے کیا جواب دیتے ہیں؟ تو حجاج نے کہا کہ اب کہنے اور سُننے کا کوئی وقت نہیں اب میرے لئے کوئی اَور فیصلہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اب اِس کا جواب ہندوستان کی فوج کو ہی دیا جائے گا۔ چنانچہ اُس نے بادشاہ کو لکھا اُس نے بھی یہی کہا کہ ٹھیک فیصلہ ہے اب ہمارے پاس غور کرنے کا کوئی موقع باقی نہیں۔اور اس فیصلے کے مطابق مسلمان فوج سندھ کے لئے روانہ کر دی گئی۔ درمیان میں کوئی ہزار میل کا فاصلہ ہے یا اِس سے بھی زیادہ اور اِس زمانے میں موٹروں کے ساتھ بھی اِس فاصلے کو آسانی سے طے نہیں کیا جا سکتا لیکن بادشاہ نے حکم دیا کہ اب مسلمانوںکی عزت اور ناموس کا سوال ہے بغیر کسی التوا کے جلد سے جلد منزلِ مقصود پر مسلمانوں کا پہنچنا ضروی ہے چنانچہ مسلمان درمیان میں کہیں ٹھہرے نہیں اُنہوں نے اونٹوں اور گھوڑوں پر رات دن سفر کیا اور بارھویں دن اس فاصلے کو جو آج ریلوں اور موٹروں کے ذریعہ بھی اتنے قلیل عرصہ میں طے نہیںکیا جا سکتا اپنی اَن تھک محنت اور کوشش کے ساتھ طے کرتے ہوئے وہ ہندوستان کی سرحد پر پہنچ گئے۔ اب تو تمہاراا پنا وجود ہی بتا رہا ہے کہ اِس مُہم کا نتیجہ کیا ہؤا۔ نتیجہ یہ ہؤا کہ وہ آٹھ ہزار سپاہی جو بصرہ سے چلا تھا ۔ اس آٹھ ہزار سپاہی نے دو مہینہ کے اندر اندر سندھ، ملتان اور اس کے گرد و نواح تک کو فتح کر لیا اور وہ قیدی بچائے گئے، عورتیں بچائی گئیں اور سندھ کا مُلک جس میں راجہ داہر کی حکومت تھی اِسے سارا کا سارا فتح کر لیا گیا اور پھر مسلمانوں کا لشکر ملتان کی طرف بڑھا مگر بدقسمتی سے بادشاہ کی وفات کے بعد اُس کا بھائی تخت نشین ہؤا اُسے اِن لڑائیوں میں بادشاہ سے بھی اختلاف تھا اور افسروں سے بھی اختلاف تھا ۔ جب وہ اپنے بھائی کی وفات کے بعد حکومت کے تخت پر بیٹھا تو اُس نے محمد بن قاسم کو جو ایک فاتح جرنیل تھا اور جو ارادہ رکھتا تھا کہ حملہ کر کے بنگال تک چلا جائے معزول کر کے واپس آنے کا حکم دے دیا اور جب وہ واپس آیا تو اسے قتل کروا دیا ورنہ ہندوستان کا نقشہ آج بالکل اَور ہوتا۔ آج صرف یہاں پاکستان نہ ہوتا بلکہ سارا ہندوستان ہی پاکستان ہوتا۔
    جن مُلکوںکو عربوں نے فتح کیا ہے اُن میں اسلام اس طرح داخل ہؤا ہے کہ کوئی شخص اسے قبول کرنے سے بچا نہیں۔ غیر قومیں جو ہندوستان میں آئی ہیں ان کے اندر تبلیغی جوش نہیں تھا اس لئے انہوں نے چند علاقوںکو فتح کیا ہے۔ وہاں کے رہنے والوں میں اسلام کی دُشمنی بھی تھی، اسلامی تعلیم سے منافرت بھی تھی اور پھر ان فاتح اقوام کا سلوک بھی اچھا نہیں تھا لیکن عرب تو اِس طرح بِچھ جاتا تھا کہ وہ جس مُلک میں جاتا اپنے آپ کو حاکم نہیں سمجھتا تھا بلکہ لوگوں کا خادم سمجھتا تھا نتیجہ یہ ہوتا کہ تھوڑے عرصہ میں ہی سارے کا سارا مُلک مسلمان ہو جاتا۔ پس اگر اُس زمانہ میں ہندوستان کو فتح کر لیا جاتا تو یقینا آج ہندوستان ،ایران اورمصر کی طرح ایک مسلمان مُلک ہوتا کیونکہ وہ لوگ عربوںکا نمونہ دیکھتے تھے۔ اُن کی خدمت اور حسن سلوک کو دیکھتے تھے، اُن کی دیانت اور راست بازی کو دیکھتے تھے اور ان اخلاق سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے۔ ان کے سامنے عرب یا غیر عرب کا سوال نہیں ہوتا تھا بلکہ صرف سچّائی کا سوال ہوتا تھا جس کے بعد بُغض اورکینے آپ ہی آپ مٹ جاتے ہیں۔ تمہارے باپ دادا کے یہ حالات سوائے تاریخ کے تمہیں اور کس ذریعہ سے معلوم ہو سکتے ہیں۔ یہی چیز ہے جو تمہیں فائدہ پہنچا سکتی ہے ورنہ محض دو دونے چار سے یعنی دو کو دو سے ضرب دی جائے توچار حاصل ہوتے ہیں تمہیں کیا نفع حاصل ہو سکتا ہے ۔ لیکن اگر تم تاریخ پڑھو اور تم ذرا بھی عقل رکھتی ہو ذرا بھی جستجو کا مادہ اپنے اندر رکھتی ہو تو تمہاری زندگی ضائع نہیں ہو سکتی۔
    مضمون تو مَیں نے اَور شروع کیا تھا مگر مَیں رَو میں بہہ کر کہیں کا کہیں چلا گیا اور مَیں کہہ یہ رہا تھا کہ کبھی زمانہ بدلتا ہے اور لوگ اس کے ساتھ بدلتے چلے جاتے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ساتھ زمانوں کو بدل دیتے ہیں۔ مسلمان وہ قوم تھی جو زمانے کے ساتھ نہیں بدلی بلکہ زمانے کو اِس نے اپنے ساتھ بدل دیا اور وہ جہاں جہاں گئے انہوں نے لوگوں کو اپنے اخلاق کی نقل پر مجبور کر دیا۔ اپنے لباس کی نقل پر مجبور کر دیا، اپنے تمدن کی نقل پر مجبور کر دیا اور وہ دُنیا کے اُستاد اور راہنما تسلیم کئے گئے۔ آج مسلمان عورت یورپ کی بے پردگی کی نقل کر رہی ہے حالانکہ کبھی وہ زمانہ تھا کہ مسلمان عورتوں کے پردہ کو دیکھ کر یورپ کی عورتوں نے پردہ کیا۔ چنانچہ ننوں(NUNS) کو دیکھ لو۔ یورپ ایک بے پرد مُلک تھا اور بے پردگی اِن میں فیشن سمجھا جاتا تھا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان عورت پردہ کرتی ہے تو بہت حد تک انہوں نے بھی پردہ لے لیا۔ چنانچہ ننز (NUNS)میں گو پورا پردہ نہ ہو لیکن ان کی نقاب بھی ہوتی ہے ،ان کی پیشانی بھی ڈھکی ہوئی ہوتی ہے اور ان کے جسم پرکوٹ بھی ہوتا ہے جس سے ان کے تمام اعضاء ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں اور گو ہم اسے پورا اسلامی پردہ نہ کہہ سکیں مگر نوے فیصدی پردہ ان میں ضرور پایا جاتا ہے ۔ حالانکہ یہ وہ عورت تھی جو اسلام کے یورپ میں جانے سے پہلے ننگی پھرتی تھی اور جیسے بندریا کو ایک گھگھری پہنا دی جاتی ہے اِسی طرح انہوں نے ایک گھگھری پہنی ہوئی ہوتی تھی چنانچہ یورپ کی پُرانی تصویریں دیکھ لو عورتوں کے بازو ٹانگیں اور سینہ وغیرہ سب ننگا ہوتا تھا مگر جب مسلمان عورتوں کو انہوں نے پردہ کرتے ہوئے دیکھا تو انہوںنے بھی پردہ کے بہت سے حصوںکو لے لیا۔ مگر اب یورپ پھر اُسی پہلے زمانہ کی طرف جا رہا ہے اور مسلمان عورت بھی پردہ اُتار کر خوش ہوتی ہے کہ وہ یورپ کی نقل کر رہی ہے۔ آج کی مسلمان عورت یہ کہتی ہے کہ ہم زمانہ کے ساتھ چلیں اور پرانی مسلمان عورت یہ کہتی تھی کہ زمانہ میرے ساتھ ہے۔ یہ اپنی غلامی کا اقرار کرتی ہے اور وہ اپنی بادشاہی کا اعلان کرتی تھی کہ مجھے کیا ضرورت ہے کہ مَیں دوسروں کی نقل کروں لوگوں کا کام ہے کہ وہ میری نقل کریں۔ غرض مَیں کہہ یہ رہا تھا کہ ایک زمانہ تھا کہ ہمارے لئے تعلیم میں مشکلات تھیں۔
    ایک عیسائی قوم ہم پر حاکم تھی اور مغربی تعلیم دلوانے میں ہمارے لئے مشکلات تھیں۔ پس مَیں اس بات پر زور دیتا تھا کہ ہماری لڑکیاں دینیات کلاس میں پڑھیں اور اپنا سارا زور مذہبی اور دینی تعلیم کے حصول میں صَرف کریں اور شاید جماعت میںمَیں اکیلا ہی تھا جو اِس بات پر زور دیتا تھا ورنہ جماعت کے افسر کیا اور افراد کیا اِن سب کی مختلف وقتوں میں یہی کوشش رہی کہ ہائی سکول کے ساتھ ایک بورڈنگ بنانے کی اجازت دے دی جائے تا کہ بیرون جات سے لڑکیاں آئیں اور وہ قادیان میں رہ کر انگریزی تعلیم حاصل کریں ۔ اِسی طرح اِس بات پر بھی زور دیا جاتا رہا کہ لڑکیوں کے لئے کالج کھولنے کی اجازت دی جائے۔ مگر مَیں نے ہمیشہ اِس کی مخالفت کی لیکن آج مَیں ہی زنانہ کالج کا افتتاح کر رہا ہوں۔ یہ تیسری قسم کی چیز ہے نہ مَیںزمانہ کے ساتھ بدلا نہ زمانہ میرے ساتھ بدلا بلکہ خدا تعالیٰ نے زمانہ میں ایسی خوشگوار تبدیلی پیدا کر دی کہ اب تعلیم کو اسلامی طریق کے ماتحت ہم کالج میں رائج کر سکتے ہیں۔ یہ کہ اس تعلیم کی آئندہ کیا تفصیلات ہوں گی اِس کو جانے دو لیکن یہ کتنا خوش گوار احساس ہے کہ پاکستان بننے کے بعد یونیورسٹی کے مضامین میں ایک مضمون اسلامیات کا بھی رکھا گیا ہے جس میں اسلامی تاریخ پر خاص طور پر زور دیا جائے گا۔ پس ہم زمانہ کے ساتھ نہیں بدلے۔ زمانہ بھی ہمارے ساتھ نہیں بدلا کیونکہ جو زور ہمارے نزدیک اسلامی تعلیم پر ہونا چاہئے وہ ابھی نہیں ہے لیکن خدا تعالیٰ نے زمانہ کو سمو دیا ہے اور اِسے کچھ ہمارے مطابق کر دیا ہے اور کچھ ابھی ہمارے مطابق نہیں۔ پس اِن بدلے ہوئے حالات کے مطابق جبکہ ہم سہولت کے ساتھ کالج میں بھی دینیات کی تعلیم دے سکتے ہیں مَیں نے فیصلہ کیا کہ دینیات کلاسز کو اُڑا دیا جائے اور اسی کالج میں لڑکیوںکو زائد دینی تعلیم دی جائے تا کہ وہ کالج کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی لحاظ سے بھی اعلیٰ درجہ کی معلومات حاصل کر لیں اور اسلام پر اِن کی نظر وسیع ہو جائے۔ عیسائی حکومت جو تعلیم میں پہلے دخل دیا کرتی تھی وہ اب باقی نہیں رہی۔ پس مَیں نے فیصلہ کیا کہ اب ہمیں کالج قائم کر دینا چاہئے تا کہ ہماری لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے پاکستان میں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ عورتیں ہیں اُن کی برابری کر سکیں اور ایک مقام پر ان کے ساتھ بیٹھ سکیں۔ گو ہونا تو یہ چاہئے کہ اِس تعلیم کو حاصل کرنے کے بعد تمہاری دماغی کیفیت اور تمہاری قلبی کیفیت اور تمہاری ذہانت دوسروں سے بہت بالا اور بلند ہو اور جب بھی تم اُن کے پاس بیٹھو وہ محسوس کریںکہ تمارا علم اَور ہے اور اُن کا علم اَور۔ تمہارا علم آسمانی ہے اور اُن کا زمینی۔ اور اگر تم قرآن کریم کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اس پر غور کرنے کی عادت ڈالو تو یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ تم انڑنس پاس ہو لیکن مَیں انٹرنس میں فیل ہؤا تھا بلکہ واقعہ تو یہ ہے کہ مَیں مڈل پاس بھی نہیں کیونکہ مَیں مڈل میں بھی فیل ہؤا تھا۔ درحقیقت قانون کے مطابق میری تعلیم پرائمری تک ختم ہو جانی چاہئے تھی کیونکہ جہاں تک مجھے یاد ہے مَیں نے پرائمری کا امتحان بھی پاس نہ کیا تھا مگر چونکہ گھر کا سکول تھا اِس لئے اساتذہ مجھے اگلی کلاسوں میں بٹھاتے چلے گئے۔ پس مَیں پرائمری پاس بھی نہیں اور تم تو میڑک کا امتحان پاس کر چکی ہو۔ پھر ایف اے بنو گی اِس کے بعد بی اے بنو گی اور پھر اِنْشَائَ اﷲُ ایم اے کی کلاسز کھل جائیں گی اور تم ایم اے ہو جائو گی۔ اگر تم یہ سمجھو کہ قرآن کریم کے علوم کے مقابلہ میں دُنیا کے علوم بالکل ہیچ ہیں تو یقینا تم تلاش کرو گی کہ قرآن کریم میں وہ علوم کیوں پائے جاتے ہیں۔ پہلے ہمیشہ ایمان پیدا ہوتا ہے اور پھر عمل پیدا ہوتا ہے اگر تمہیں یقین ہو کہ قرآن کریم میں وہ علم بھرا ہؤا ہے جو دُنیا میں نہیں تو یقینا تم تلاش کرو گی کہ وہ ہے کہاں؟اور جب تم تلاش کرو گی تووہ تمہیں مل جائے گا۔
    قرآن کریم خود بتاتا ہے کہ وہ ایک بند خزانہ ہے اِس کے الفاظ ہر ایک کے لئے کُھلے ہیں، اس کی سورتیں ہر ایک کے لئے کھلی ہیں مگر اُس کے لئے کھلی ہیں جو پہلے ایمان لاتا ہے وہ فرماتا ہے۶؎ وہ لوگ جو ہماری برکت اور رحمت سے ممسوح کئے جاتے ہیں وہی سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن کریم میں کیا کچھ بیان ہؤا ہے۔ باقی عربی کتابیں عربی جاننے سے سمجھی جا سکتی ہیں لیکن قرآن ایمان سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر تمہیں کامل ایمان حاصل ہو اور پھر تم اس کو دیکھو تو اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ دُنیا کی کسی مجلس میں، دُنیا کی کسی یونیورسٹی کی ڈگری یافتہ عورت سے تم نیچی نہیں ہو سکتی۔ وہ تمہیں اِس طرح دیکھیں گی جس طرح شاگرد اپنے اساتذہ اور معلّمین کو دیکھتے ہیں کیونکہ تمہارے پاس وہ چیز ہو گی جو اُن کے پاس نہیںہوگی۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ احمدی نوجوان بھی ابھی اِس بات پرتو ایمان لے آیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنا مأمور بھیجا وہ اِس بات پربھی ایمان لے آیا ہے کہ احمدیت سچی ہے مگر ابھی اِس بات پر اُسے پختہ ایمان حاصل نہیںہؤا کہ قرآن کریم میں ہر چیز موجود ہے۔ اگر یہ بات حاصل ہو جاتی تو آج ہماری جماعت کہیں سے کہیں پہنچ جاتی۔ اگر تمہاری جیب میں روپیہ موجود ہو تو کیا ضروت ہے کہ تم صندوق کھولنے جاتی ہو تم اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتی ہو اور روپیہ نکال لیتی ہو۔ اگر واقعہ میں ایک احمدی مرد اور عورت کے دل میں یہ ایمان ہو کہ قرآن کریم میں ہر چیز موجود ہے تو وہ کسی اَور طرف جائے گا کیوں؟ وہ قرآن پر غور کرے گا اور اُسے وہ کچھ ملے گا جو اُسے دوسری کتابوں میںمل سکتا ہی نہیں۔ تب اُس کی زندگی دوسروں سے زیادہ اعلیٰ ہو گی اور وہ ان میں ایک ممتاز حیثیت کا حامل ہو گا۔ بے شک بعض مجبوریوںکی وجہ سے اسے بھی یونیورسٹیوں میں پڑھنا پڑے گا مگر اس کو آخری ڈگری دینے والا کوئی چانسلر نہیں ہوگا ،کوئی گورنر نہیں ہو گا، کوئی وزیر نہیں ہوگا بلکہ اسے آخری ڈگری دینے والا خدا ہوگا۔ اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی ڈگری کے مقابلہ میں انسانوں کی ڈگری کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔
    غرض یہ کالج مَیں نے اِس لئے کھولا ہے کہ اب دین اوردُنیا کی تعلیم چونکہ مشترک ہو سکتی ہے اس لئے اسے مشترک کر دیا جائے۔ اِس کالج میں پڑھنے والی دو قسم کی لڑکیاں ہوسکتی ہیں۔ کچھ تو وہ ہوں گی جن کامقصد یہ ہو گا کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دُنیاوی کام کریں اور کچھ وہ ہوں گی جن کامقصدیہ ہو گا کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دین کی خدمت کریں۔ مَیں دونوں سے کہتا ہوں کہ دینی خدمت بھی دُنیا سے الگ نہیں ہو سکتی اور دُنیا کے کام بھی دین سے الگ نہیں ہو سکتے۔ اسلام نام ہے خدا تعالیٰ کی محبت اور بنی نوع انسان کی خدمت کا۔ اور بنی نوع انسان کی خدمت ایک دُنیوی چیز ہے جس طرح خداتعالیٰ کی محبت ایک دینی چیز ہے۔ پس جب اسلام دونوں چیزوں کا نام ہے اور جب وہ لڑکی جو اِس لئے پڑھتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دُنیا کا کام کرے اور وہ لڑکی جو اِس لئے پڑھتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دین کا کام کرے اور دونوں اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہیں تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ جو لڑکی اس لئے پڑھتی ہے کہ وہ دُنیا کا کام کرے اُسے معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنا بھی دین کا حصّہ ہے اور جو لڑکی اس لئے پڑھتی ہے کہ وہ دین کا کام کرے اُسے معلوم ہے کہ بنی نوع انسان کی خدمت کرنا بھی دین کا حصّہ ہے پس دونوں کا مقصد مشترک ہو گیا۔ جو دینی خدمت کی طرف جانے والی ہیں اُنہیں یاد رکھنا چاہئے کہ بنی نوع انسان کی خدمت کرنا بھی دین کا حصّہ ہے۔ دین کے معنی صرف سُبْحَانَ اﷲِ، سُبْحَانَ اﷲِ کرنے کے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کرنے اور ان کے دُکھ درد کو دور کرنے میں حصّہ لینے کے بھی ہیں۔ اور جو لڑکیاں دُنیا کا کام کرنا چاہتی ہیں انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام نے خداتعالیٰ کی محبت پر بھی زور دیا ہے پس اُنہیں دُنیوی کاموں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی محبت کو کبھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہمیشہ اس کی محبت اپنے دلوں میں زیادہ سے زیادہ پیدا کرتے چلے جانا چاہئے۔ اور چونکہ دونوں قسم کی لڑکیاں درحقیقت ایک ہی مقصد اپنے سامنے رکھتی ہیں اِس لئے جو اختلاف تمہیں اپنے اندر نظر آسکتا تھا وہ نہ رہا اور تم سب کا ایک ہی مقصد اور ایک ہی مدّعا ہو گیا۔ پس یہ مقصد ہے جو تمہارے سامنے ہوگا اور اِس مقصد کے لئے تمہیں دینی روح بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے اور بنی نوع انسان کی خدمت کا جذبہ بھی اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے تا کہ وہ مقصد پورا ہو جس کے لئے تم اس کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئی ہو۔ دوسرے کالجوں میں پڑھنے والی لڑکیاں ہو سکتا ہے کہ خداتعالیٰ کو بھلا کر دُنیوی کاموں میں ہی منہمک ہو جائیں مگر چونکہ یہ کالج احمدیہ کالج ہے اِس لئے تمہارا فرض ہے کہ تم دونوں دامنوںکو مضبوطی سے پکڑے رہو۔ اگر ایک دامن بھی تمہارے ہاتھ سے چُھوٹ جاتا ہے تو تم اُس مقصد کو پورا نہیں کر سکتیں جو تمہارے سامنے رکھا گیا ہے اور جس کے پورا کرنے کا تم نے اقرار کیا ہے۔ پس اِن ہدایات کے ساتھ مَیں احمدیہ زنانہ کالج کے افتتاح کا اعلان کرتاہوں اور امید کرتا ہوں کہ جو اِس کالج میں پڑھانے والی ہوں گی وہ بھی اِس بات کو مدنظر رکھ کر پڑھائیں گی کہ طالبات کے اندر ایسی آگ پیدا کی جائے کہ ان کو پارہ کی طرح ہر وقت بے قرار اور مضطرب رکھے۔ جس طرح پارہ ایک جگہ پر نہیں ٹِکتا بلکہ وہ ہر آن اپنے اندر ایک اضطرابی کیفیت رکھتا ہے اِسی طرح تمہارے اندر وہ سیماب کی طرح تڑپنے والا دل ہونا چاہئے جو اُس وقت تک تمہیں چین نہ لینے دے جب تک تم احمدیت اور اسلام کو اور احمدیت اور اسلام کی حقیقی روح کو دُنیا میں قائم نہ کر دو۔ اِسی طرح پروفیسروں کے اندر بھی یہ جذبہ ہونا چاہئے کہ وہ صحیح طور پر تعلیم دیں، اخلاق فاضلہ سکھائیں اور سچائی کی اہمیت تم پر روشن کریں۔
    تمہیں بُرا تو لگے گا مگر واقعہ یہی ہے کہ عورت سچ بہت کم بولتی ہے اِس کے نزدیک اپنے خاوند کو خوش کرنے کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے اور سچائی کی کم۔ جب اسے پتہ لگتا ہے کہ فلاں بات کے معلوم ہونے پر میرا خاوند ناراض ہو گا تو بھی اس معاملہ میں جھوٹ ہی بولتی ہے سچائی سے کام نہیں لیتی کیونکہ وہ ڈرتی ہے کہ اگر مَیں نے سچ بولا تو میرا خاوند ناراض ہو گا۔ وہ ایک طرف تو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ مَیں محکوم نہیں مجھے مرد کے برابر حقوق حاصل ہیں اور دوسری طرف وہ مرد سے ڈرتی ہے۔ اگر اس کا مرد سے ڈرنا ٹھیک ہے تو پھر وہ محکوم ہے اسے دُنیا کے کسی فلسفہ اور قانون نے آزاد نہیں کیا۔ اور اگروہ مرد کے برابر قویٰ رکھتی ہے تو کوئی وجہ نہیںکہ وہ جھوٹ بولے اور اسی طرح صداقت پر قائم نہ رہے جس طرح آزاد مرد صداقت پر قائم رہتے ہیں۔ یہ ایک چھوٹا مسئلہ ہے لیکن تمہاری اصلاح کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتا ہے۔ تمہیں اپنے دل میں یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ تم آزاد ہو یا نہیں۔ اگر تم آزاد نہیں ہو تو کہو کہ خدا نے ہمیں غلام بنا دیا ہے اور چھوڑو اس بات کو کہ تمہیں مردوں کے برابر حقوق حاصل ہونے چاہئیں اور اگر تم آزاد ہو تو خاوند کے ڈر کے مارے جھوٹ بولنا اور راستی کو چھپانا ایک لغو بات ہے۔
    اِسی طرح مَیں دیکھتا ہوں کہ ہمارے مُلک کی عورت میں کام کرنے کی عادت بہت کم ہے ۔ لجنہ بنی ہوئی ہے اور کئی دفعہ مَیں اِسے اِس طرف توجہ بھی دلا چُکا ہوں مگر ہنوز روزِ اوّل والا معاملہ ہے۔ تمہیں اپنے کالج کے زمانہ میں اِس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ عورت کی زندگی زیادہ سے زیادہ کس طرح مفید بنائی جا سکتی ہے۔ یہ پرانا دستور جو ہمیشہ سے چلا آیا ہے اور اب بھی ہے کہ کھانا پکانا عورت کے ذمہ ہے اِس میں اب تبدیلی کی ضروت ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں عورت صرف کھانے پینے کے کام کے لئے ہی رہ گئی ہے اس کے پاس کوئی وقت ہی نہیں بچتا جس میں وہ دینی یا مذہبی یا قومی کام کر سکے۔ یورپ کے مدبرین نے مل کر اس کاکچھ حل سوچاہے اور اِس وجہ سے اُن کی عورتوں کو بہت سا وقت بچ جاتاہے مثلاً یورپ نے ایک قسم کی روٹی ایجاد کر لی ہے جسے ہمارے ہاں ڈبل روٹی کہتے ہیں۔ یہ روٹی عورتیں گھر میں نہیں پکاتیں بلکہ بازار سے آتی ہے اور مرد عورتیں اور بچے سب اسے استعمال کرتے ہیں۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ بادشاہ کے ہاں کیا دستور ہے کہ آیا اُس کی روٹی بازار سے آتی ہے یا نہیںلیکن یورپ میں ایک لاکھ میں سے ننانوے ہزار نو سَو ننانوے یقینا بازار کی روٹی ہی کھاتے ہیں اور اِس طرح وہ اپنا بہت سا وقت بچا لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اِس قسم کے کھانا پکانے کے برتن (Cooker) نکالے ہوئے ہیں جن سے بہت کم وقت میں سبزی اور گوشت وغیرہ تیار ہو جاتا ہے۔ پھر انہوںنے اپنی زندگیاں اِس طرح ڈھال لی ہیں کہ عام طور پر وہ ہوٹلوں میں کھانا کھاتے ہیں۔ یورپ میں بِالعموم چار کھانے ہوتے ہیں صبح کا ناشتہ، دوپہر کا کھانا، شام کا ناشتہ اور رات کا کھانا۔ عام طور پر درمیانے طبقہ کے لوگ صبح کی چائے گھر پر تیار کر لیتے ہیں۔ باقی دوپہر کے کھانے اور شام کی چائے وہ ہوٹل میں کھا لیتے ہیں اور شام کا کھانا گھر پر کھاتے ہیں۔ پھر سر د مُلک ہونے کی وجہ سے ایک وقت کا کھانا کئی کئی وقت چلا جاتا ہے اور پھر کھانے انہوں نے اس قسم کے ایجاد کر لئے ہیں جن کا ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً کولڈ میٹ (Cold meat) ہے۔ روٹی بازار سے منگوا لی اور کولڈ میٹ کے ٹکڑے کاٹ کر اس سے روٹی کھا لی لیکن ہمارے ہاں ہر وقت چولہا جلتا رہتا ہے۔ جب تم کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتی ہو تو تمہیں یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ تم اپنی زندگی کس طرح گزارو گی ۔ اگر چولہے کا کام تمہارے ساتھ رہا تو پھر پڑھائی بالکل بے کار چلی جائے گی۔ تمہیں غور کر کے اپنے مُلک میں ایسے تغیرات پیدا کرنے پڑیں گے کہ چولہے جھونکنے کا شغل بہت کم ہو جائے۔ اگر یہ شغل جاری رہا تو پڑھائی سب خواب و خیال ہو کر رہ جائے گی۔ یہی چولہا پُھونکنے کا شغل اگر کم سے کم وقت میں محدود کر دیا جائے مثلاً اس کے لئے ایک گھنٹہ صبح اور ایک گھنٹہ شام رکھ لیا جائے تب بھی اَور کاموں کے لئے تمہارے پاس بہت سا وقت بچ سکتا ہے۔ یہ مت خیال کرو کہ تم نوکر رکھ لوگی نوکر رکھنے کا زمانہ اب جارہا ہے اب ہر شخص نوکر نہیں رکھ سکے گا بلکہ بہت بڑے بڑے لوگ ہی نوکر رکھ سکیں گے۔ کیونکہ نوکروں کی تنخواہیں بڑھ رہی ہیں اور ان تنخواہوں کے ادا کرنے کی متوسط طبقہ کے لوگوں میں بھی استطاعت نہیں ہوسکتی۔
    جب مَیں یورپ میں گیا ہوں تو اُس وقت ابھی نوکروں کی تنخواہیں اتنی زیادہ نہیں ہوتی تھیں تب بھی ہم نے جو عورت رکھی ہوئی تھی اُسے ہم ۲۱ شلنگ ہفتہ وار یا ساٹھ روپے ماہوار دیا کرتے تھے اور ساتھ ہی کھانا بھی دیتے تھے پھر ان کی یہ شرط ہؤا کرتی تھی کہ ہفتہ میں ایک دن کی پوری اور ایک دن کی آدھی چھُٹی ہو گی۔ ڈیڑھ دن تو اس طرح نکل گیا جس میں گھر والوں کو خود کام کرنا پڑتا تھا۔ آقا بہتیری شور مچاتی رہے کہ کام بہت ہے وہ کہے گی کہ مَیں نہیں آ سکتی کیوںکہ میری چھُٹی کا دن ہے۔ پھر جتنا وقت مقرر ہو اس سے زیادہ وہ کام نہیںکرے گی کتنا بھی کام پڑا ہو وہ فوراً چھوڑ کر چلی جائے گی اور کہے گی کہ وقت ہو چُکا ہے۔ دراصل اِس میں ان کا کوئی قصور نہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ان کے اختیار میں ہی نہیں ہوتا کہ زیادہ کام کریں کیونکہ وہاں ہر طبقہ کے لوگوں کی الگ الگ انجمنیں بنی ہوئی ہیں۔ کوئی گھر کے نوکروںکی انجمن ہے، کوئی قلیوں کی انجمن ہے، کوئی انجنوں میں کوئلہ ڈالنے والوں کی انجمن ہے، کوئی اُستادوںکی انجمن ہے ان انجمنوں کی سفارش کے بغیر کسی کو نوکری نہیں ملتی۔ اگر وہ زائد کام کریں تو انجمن کی ممبری سے ان کا نام کٹ جاتا ہے اور پھر انہیں کہیں ملازمت نہیں ملتی۔ ہمیں وہاں مضمون لکھنے کے لئے ایک ٹائپسٹ کی ضرورت تھی۔ دفترنے ایک عورت اس غرض سے رکھی جو زیکو سلواکیہ کی رہنے والی تھی اُسے ہمارے مضامین پڑھنے کے بعد سلسلہ سے دلچسپی ہو گئی مگر مشکل یہ تھی کہ اُس کا وقت ختم ہو جاتا اور ہمارا کام ابھی پڑا ہؤا ہوتا۔ بعض دفعہ ہمیں دوسرے ہی دن مضمون کی ضرورت ہوتی اور وہ کہتی کہ اب مَیں جارہی ہوںکیونکہ وقت ہو گیا ہے۔ مگر چونکہ اسے ہمارے سلسلہ میں دلچسپی ہو گئی تھی اِس لئے وہ کہتی کہ مَیں ز ائد وقت کی ملازمت تو نہیں کر سکتی لیکن مَیں یہ کرسکتی ہوں کہ مضمون ساتھ لے جائوں اور گھر پر اسے ٹائپ کروں۔ انجمن والے مجھے گھر کے کام سے نہیں روک سکتے اُس وقت میرا اختیار ہے کہ مَیں جو چاہوں کروں آپ مجھے اس وقت کی تنخواہ نہ دیں مَیں آپ کا کام مُفت کردوں گی۔ اگر آپ مجھے کچھ دینا چاہیں تو بعد میں انعام کے طور پر دے دیںاِس طرح وہ مشن کا کام کیا کرتی تھی۔ کیونکہ وہ ڈرتی تھی کہ اگر انہیں پتہ لگا کہ مَیں چھ گھنٹہ سے زیادہ کہیں کام کرتی ہوں تو وہ مجھے نکال دیں گے اور پھر مجھے کہیں بھی نوکری نہیں ملے گی۔ یہ چیزیں ابھی ہمارے مُلک میں نہیں آئیں لیکن جب آئیں تو پھر لوگوں کے لئے بہت کچھ مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ اب تو وہ پانچ سات روپے میں نوکر رکھ سکتے ہیں لیکن جس دن نوکر کی پچاس روپیہ تنخواہ ہو گئی اور سو روپیہ تمہیں ملا تو تم نوکر کہاں رکھو گی۔ آجکل یورپ میں نوکر کی تنخواہ تین پونڈ ہفتہ وار ہے جس کے معنی آجکل کے پاکستانی روپیہ کی قیمت کے لحاظ سے ۱۲۰ روپیہ ماہوار کے ہیں اور کھانا بھی الگ ہی دینا پڑتا ہے اِس زمانہ میں اوپر کے طبقہ کی تنخواہیں گر رہی ہیں اور نچلے طبقہ کی تنخواہیں بڑھتی جا رہی ہیں اِس کے معنی یہ ہیں جو شخص سات آٹھ سَو روپے ماہوار لیتا ہے وہ بھی ملازم نہیں رکھ سکتا صر ف ہزاروں روپیہ ماہوار کمانے والا ملازم رکھ سکتا ہے ایسی صورت میں یہی ہو سکتا ہے کہ ایک وقت کا کھانا دو تین وقتوں میں کھالیا یا ایک وقت ہوٹل میں جاکر کھا لیا اور دوسرے وقت کے کھانے میں کولڈمیٹ استعمال کر لیا اِس طرح بہت سا وقت اَور کاموں کے لئے بھی بچ سکتا ہے۔
    پھر ہمارے ہاں ایک یہ بھی نقص ہے کہ بچوں کو کام کرنے کی عادت نہیں ڈالی جاتی۔ بچے دستر خوان پر بیٹھتے ہیں اور شور مچاتے ہیں کہ امّی نوکر پانی نہیں لاتی کہ ہم ہاتھ دھوئیں، اَمّی نوکر نے برتن صاف نہیں کئے۔ امریکہ میں ہر بچہ اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ وہ اپنے کھانے کے برتن کو خود دھو کر رکھے اور اگر نہ دھوئے تو اسے سزا ملتی ہے کیونکہ ماں اکیلی تمام کام نہیں کر سکتی۔ اگر وہ کرے تو اس کے پاس کوئی وقت ہی نہ بچے وہ اسی طرح کرتی ہے کہ کچھ کام خود کرتی ہے اور کچھ کاموں میں بچوں سے مدد لیتی ہے۔
    غرض یورپ میں اوّل تو روٹی بازار سے منگوائی جاتی ہے پھر انہوں نے کولڈ میٹ اور اِسی قسم کی چیزیں ایسی بنائی ہیں جن کا ذخیرہ کیا جا سکتا ہے اور بجائے اس کے کہ ہر وقت گرم کھانا کھایا جائے وہ اِسی سے روٹی کھا لیتے ہیں پھر ایک وقت کا پکا ہؤا کھانا دو وقتوں میں کھا لیتے ہیں اور پھر کام میں بچوںکو بھی شامل کیا جاتا ہے اور اس طرح بہت سا وقت بچا لیا جاتا ہے۔ تھوڑے ہی دن ہوئے مَیں نے ایک لطیفہ پڑھا جو امریکہ کے مشہور رسالہ میں شائع ہؤا تھا اور جس سے ان لوگوں کے کریکٹر پر خاص طور پر روشنی پڑتی ہے ۔ ایک باپ کہتا ہے کہ میری سمجھ میں یہ بات کبھی نہیں آئی کہ میرے بچوںکو کبھی کبھی یہ تو بھُول جاتا ہے کہ آج ہم نے سکول جانا ہے ،کبھی یہ بھی بھُول جاتا ہے کہ ہم نے اپنے کپڑے بدلنے ہیں، کبھی یہ بھی بھُول جاتا ہے کہ ہم نے اتنے بجے سونا ہے لیکن اگر کبھی ہنسی میں مَیں نے اپنے بچوں سے کوئی وعدہ کیا ہؤا ہوتا ہے اور اُس پر پانچ سال بھی گزر چکے ہوں تو وہ ان کو نہیں بھُولتا۔ اِس مثال سے اُن کے کریکٹر کا پتہ لگتا ہے کہ وقت پر سونا، وقت پر سکول جانا، وقت پر کپڑے بدلنا اور کھانے کے برتن دھونا یہ سب بچوںکو سکھایا جاتا ہے اوریہ باتیں ان کے فرائض میں شامل کی جاتی ہیں۔ اِس رنگ میں انہوں نے ایسا انتظام کیا ہؤا ہے کہ ان کا بہت سا وقت بچ جاتا ہے۔
    پھر بچوںکے پالنے کا کام ایسا ہے جس میںبہت کچھ تبدیلی کی ضروت ہے ۔ یورپ میں تو عورتیں بچے کو پنگھوڑے میں ڈالتی ہیں چُوسنی تیار کر کے اُس کے پاس رکھ دیتی ہیں اور مکان کو تالا لگا کر دفتر میں چلی جاتی ہیں۔ جب بچے کو بھُوک لگتی ہے تووہ خود چُوسنی اُٹھا کر مُنہ میں لگا لیتا ہے لیکن ہمارے ہاں اگر ماں دو منٹ کے لئے بھی بچے سے الگ ہو تو وہ اتنا شور مچاتا ہے کہ آسمان سر پر اُٹھا لیتا ہے۔ اِس کی وجہ یہی ہے کہ ماں بچے کو الگ نہیں کرتی اسے ہر وقت اپنے ساتھ چمٹائے پھرتی ہے۔ بچہ پیدا ہؤا اور اسے گود میں ڈال لیا اور پھر تین چار سال تک اسے گود میں اُٹھائے پھرتی ہے بلکہ ہمارے مُلک میں تو پانچ پانچ سال تک لاڈلے بچوں کو اُٹھائے پھرتی ہیں۔ یہ سارے رواج اِس قابل ہیں کہ ان کو بدلا جائے۔ جب تم ہمت کر کے اِن رسوم کو بدلو گی تو آہستہ آہستہ باقی عورتوںمیں بھی تمہارے پیچھے چلنے کا شوق پیدا ہو جائے گا۔
    مَیں نے بتایا ہے کہ سب سے پہلے روٹی پکانے کے طریق میں تبدیلی کی ضروت ہے عربوں میں بھی بازار سے روٹی منگوانے کا طریق ہے مگر وہان تنور کی خمیری روٹی ہوتی ہے۔ انگریزی روٹی کا رواج نہیں۔ جتنے مُلکوں میں بازار سے روٹی منگوانے کا طریق رائج ہے اُن سب میں خمیری روٹی کھائی جاتی ہے۔ خمیری روٹی ہمیشہ تازہ ہی پکا کر کھانی پڑتی ہے۔ بہر حال بغیر اس کے روٹی کا سوال حل ہو ہماری عورتیں فارغ نہیں ہو سکتیں اور بغیر اس کے کہ بچہ پالنے کے طریق میں تبدیلی ہو ہماری عورتیں فارغ نہیں ہو سکتیں۔ جب تک بچہ گود میں رہے گاماں بے کار رہنے پر مجبور ہو گی یا بیٹی مجبور رہے گی۔ کام کے لئے اُسے فراغت اُسی وقت ہو سکتی ہے جب بچہ کو پیدا ہوتے ہی پنگھوڑے میں ڈال دیا جائے اور پھر وقت پر اسے دودھ پلادیا جائے گود میںاسے نہ اُٹھایا جائے۔ غرض جب تک یہ سوال حل نہیں ہوتا ماں کی زندگی بیکار رہے گی۔ اور جب تک کھانے کا سوال حل نہیں ہوتا عورت کی زندگی بیکار رہے گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روزانہ چار وقت کے کھانے کی بجائے صرف دو وقت کا کھانا رکھ لیا جائے اور ناشتے کا کوئی سادہ دستور نکالا جائے اور کھانے ایسے تیار کئے جائیں جو کئی کئی وقت کام آسکیں اور روٹی بازار سے منگوا لی جائے لیکن اگر صبح شام کھانا پکانے اور برتن مانجنے کا کام اگر عورت کے ہی سپرد رہے گا تو وہ بالکل بے کار ہو کر رہ جائے گی اور کسی کام کے لئے وقت صَرف نہیں کرے گی۔ پس جہاں دینی مسائل کو مدنظر رکھنا ہمارے لئے ضروری ہے وہاں اِن عائلی مشکلات کو حل کرنا تمہارے لئے ضروری ہے۔
    ہندوستان میں مسلمانوں کے تنزّل اور ان کے انحطاط کی بڑی وجہ یہی ہوئی کہ جب ان کے پاس دولت آ گئی تو انہوں نے اس قسم کے مشاغل۔ بے کاری کو اختیار کرلیا۔ گھروں میں مرد بیٹھے چھالیہ کاٹ رہے ہیں، گلوریاں بنا رہے ہیں اور عورت بھی کھانے پکانے میں مصروف ہے کبھی یہ چیز تلی جا رہی ہے، کبھی وہ چیز تلی جارہی ہے، کبھی کہتی ہے اب مَیں چٹنی بنا لوں، کبھی کہتی ہے اب مَیں میٹھا بنا رہی ہوں۔ نتیجہ یہ ہؤا کہ وہ تو کھانے تیار کرنے میں مشغول ہو گئے اور حکومت انگریزوں نے سنبھال لی۔ یہ مصیبت جتنی ہندوستان میں ہے باہر نہیں۔ عرب میں جا کر دیکھ لو سارا عرب بازار سے روٹی منگواتا ہے ۔ مصر میں جا کر دیکھ لو سارا مصر بازار سے روٹی منگواتا ہے اور سالن بھی وہ گھر تیار نہیں کرتے بازار سے ہی منگوا لیتے ہیں۔ وہاں لوبیا کی پھلیاں بڑی کثرت سے ہوتی ہیں صبح کے وقت مکّہ میں چلے جائو، قاہرہ میں چلے جائو بازاروں میں لوبیا کی دیگیں تیار ہوں گی اور ہرشخص اپنا برتن لے جائے گا اور تندور کی روٹیاں اور لوبیا کی پھلیاں لے آئے گا۔ غریب اسے یونہی کھا لیتے ہیں اور امیر آدمی گھی کا تڑکہ لگا لیتے ہیں۔ اِسی طرح دوپہر کے وقت روٹی بازار سے آتی ہے اور سالن کے طور پر وہ کوئی بھی سَستی سی چیز لے لیتے ہیں اور گزارہ کر لیتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں یہ حالت ہے کہ لوگ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم وہ ماما رکھنا چاہتے ہیں جو ایک سیر آٹے میں ۸۰ پُھلکے پکا سکتی ہو۔ بازار والوں نے اپنے کام کو اِس طرح ہلکا کر لیا کہ سیر آٹے میں چھ روٹیاں تیار کر لیں اور انگریزوں نے سیر میں چار اور بعض دفعہ دو اور انہوں نے اپنے کام کو اس طرح بوجھل بنا لیا کہ ۸۰،۸۰پُھلکیبنانے لگے۔ یہ سب شغل بے کاری ہیں۔ جن کو دُور کرنا پڑے گا اور جن کو دُور کر کے ہم اپنا وقت بچا سکتے ہیں۔ آخر علم کے استعمال کے لئے تمہارے پاس وقت چاہئے۔ اگر تم نے اپنے آپ کو ایسا بنا لیا کہ تمہارے پاس کچھ بھی وقت نہ بچا تو تم نے کرنا کیا ہے۔
    پس پہلا سوال وقت کا ہے تم کو اپنی زندگی ایسی بنانی پڑے گی کہ تم ان کاموں کے لئے اپنے اوقات کو فارغ کر سکو پھر تمہارے لئے آسانی ہی آسانی ہے اور تم اِس وقت سے فائدہ اُٹھا کر بیسیوں ایسے کام کر سکتی ہو جو تمہاری ترقی کے لئے ضروری ہیں۔ پس یہ مسئلہ بھی تمہیں ہی حل کرنا پڑے گا پس اگر تم یہ مسئلہ حل کر لو توتمہاری مائیں آپ ہی آپ تمہاری نقل کرنے پر مجبور ہوں گی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ لڑکی پرائمری پاس ہوتی ہے تو جاہل مائیں اپنی لڑکی کے آگے پیچھے پھرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہماری یہ بیٹی پرائمری پاس ہے بڑی عقل مند اور ہوشیار ہے۔ اگر مائیں اپنی پرائمری پاس لڑکیوں کی بات رد نہیں کر سکتیں تو تم تو بی ۔اے ہو گی تمہاری بات وہ کیوں ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں گی۔ یہ کام جو مَیں نے بتایا ہے اِسے معمولی نہ سمجھو یہی وہ چیز ہے جس نے ہمارے مُلک کی عورت کو بے کار بنا دیا ہے ۔ دوسری قوموں نے تو اس مسئلہ کو حل کر لیا اور چھ سات گھنٹے بچا لئے لیکن تمہیں کھانے پکانے کے دھندوں سے ہی فُرصت نہیں ملتی اگر تم بھی چھ سات گھنٹے بچا لو تو یقینا تم ان اقوام سے بہت زیادہ ترقی کر سکتی ہو۔ کیونکہ وہ اگر چھ گھنٹے بچاتی ہیں تو دو گھنٹے قومی کاموں میں صَرف کرتی ہیں اور چار گھنٹے ناچ گانے میں صَرف کرتی ہیں۔ لیکن تم اپنا سارا وقت قومی اور مذہبی کاموں میں صَرف کر دو گی۔ اِس لئے یورپ کی عورت کے مقابلے میں تمہیں اپنے کاموں کے لئے تین گُنا وقت مل جائے گا اورجب وہ چھ گھنٹوں میں سے چار گھنٹے ناچ گانے میں صَرف کریں گی اور تمہارا تمام وقت خالص دینی کاموں میںصَرف ہوگا اور اس طرح تم ان سے تین گُنا کرو گی تو تمہاری فتح یقینی ہے کیونکہ وقت کے لحاظ سے یورپ کی تین تین عورتوں کے مقابلے میں تمہاری ایک ایک عورت ہو گی۔ اِس وقت تمہاری سَو عورت بھی یورپ کی ایک عورت کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی کیونکہ تمہارا علم بھی کم ہے اور تمہارے پاس اپنے قومی کاموں کے لئے وقت بھی نہیں بچتا۔ لیکن جب تم علم حاصل کرلو گی اور قومی کاموں کے لئے وقت بھی ان سے زیادہ صَرف کرو گی تو تمہاری ایک عورت کے مقابلے میں یورپ کی سَو عورت بھی کوئی حقیقت نہیں رکھے گی۔ جب تک یورپ کا ماحول ایسا ہے اور اس کا طریقِ عمل ایسا ہے کہ اس کی ایک عورت تمہاری سَو عورت کے برابر ہو گی اُس کا جیتنا یقینی ہے۔ لیکن جب تم اپنے آپ کو ایسی بنا لوگی کہ تمہاری ایک عورت اُن کی سَو عورت کے برابر ہو گی تو پھر تمہارا جیتنا یقینی ہے۔ ان ریمارکس اور نیتوں کے ساتھ میں اپنے خطبہ کو ختم کر تا ہؤا کالج کا افتتاح کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے زنانہ کالج کی چھوٹی سی بنیاد کو اپنی عظیم الشان برکتوں سے نوازے اور یہ چھوٹا سا ادارہ دُنیا کے تمام علمی اداروں پر چھا جائے۔
    (الفضل ربوہ ۱۵؍جولائی ۱۹۵۱ئ)
    ۱؎ عبس : ۱۷ ۲؎ عبس: ۱۶
    ۳؎ مسلم کتاب الایمان باب جواز الا ستسرار بالایمان(الخ)
    ۴؎ تاریخ طبری جلد ۴ صفحہ ۳۲۲ تا ۳۲۵ دارالفکر بیروت ۱۹۸۷ء
    ۵؎ بخاری کتاب الاعتصام باب مَاذَکر النَّبِیُّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَ حَضَّ
    عَلٰی اِتِّفَاقِ اَھْلِ الْعِلْمِ (الخ)
    ۶؎ الواقعۃ:۸۰



    ہر احمدی تحریک جدید میں
    بڑھ چڑھ کر حصّہ لے



    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لے
    (فرمودہ ۲؍ستمبر ۱۹۵۱ء بر موقع جلسہ یوم تحریک جدید بمقام بیت مبارک ربوہ)
    تشہّد ،تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا پیغام حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم تک ایک ہی رہا ہے۔ بے شک اس میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں، اس میں ترقی ہوتی رہی ہے لیکن مغز اور جڑ ایک ہی رہی ہے ۔مثلاً مذہب کی جڑ ہے خدا تعالیٰ پر ایمان لانا اور پھر خدائے واحد پر ایمان لانا۔ زمانے کی ضرورتوں اور لوگوں کی عقل کے معیار کے مطابق توحید کی شرح پہلے موٹی تھی پھر درمیانے درجہ کی ہوئی اور پھر فلسفی اور باریک رنگ کی ہو گئی۔ لیکن کہا ہر نبی نے یہی ہے کہ خدا ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تک ہر نبی نے یہی کہا ہے کہ ہمیشہ ایک خدا کی عبادت کرنی چاہئے۔ ہاں عبادت میں آگے فرق ہو گیا ہے۔ زمانہ کے حالات، لوگوں کی عقل کے معیار اور اُن کے کام کاج اور اخلاص کے معیار کے مطابق کسی مذہب میں ہفتہ میں ایک نماز فرض کر دی گئی اور باقی کو نفل قرار دے دیا گیا۔ کسی مذہب میں صبح و شام دو نمازوں کو فرض قرار دے دیا گیا اور باقی نمازوں کو نفل قرار دیا گیا اور اسلام میں آکر خدا تعالیٰ نے پانچ نمازیں ایک دن رات میں فرض قرار دے دیں اور باقی نمازوں کو نفل قرار دے دیا لیکن عبادت در حقیقت ایک ہی رہی ہاں اس کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں۔
    پھر روزے ہیں۔ ہر مذہب میں روزے کی تعلیم پائی جاتی ہے۔ روزوں کی شکل میں فرق ہے۔ ہندو ؤں میں اُس زمانہ کے حالات اور مشکلات کو دیکھ کر یہ روزہ قرار دیا گیا کہ چولھے کی پکی ہوئی چیز نہیں کھانی ، کوئی مادی اور ٹھوس چیز نہیں کھانی۔ ہاں اگر کوئی ہلکی پھُلکی چیز ہو اور وہ کھا لی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ اُس زمانہ میں لوگ جنگلات میں رہتے تھے اور غیر محفوظ تھے۔ دُشمن اور جانوروں کے اچانک حملہ کا اِنہیں مقابلہ کرنا پڑتا تھا اِس لئے روزوں میں کھانا بالکل بند نہ کیا گیا تاکہ ان کی طاقت بحال رہے اور انسان کمزور نہ ہونے پائے۔ اُس وقت شہر نہیں تھے اور نہ ہی مقرر شُدہ راستے تھے۔ دُشمن چوری چوری حملہ آور ہوتا تھا۔ مہذب مُلکوں میں تو راستے مقرر ہوتے ہیں اور خواہ دُشمن ہوں یا دوست اُن ہی راستوں کے ذریعہ آتے جاتے ہیں اِس لئے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے میں سہولتیں پیدا ہو گئی ہیں لیکن پہلے زمانہ میں یہ سہولتیں نہیں تھیں۔ جس طرح جنگل میں ایک شکاری اچانک بندوق ہاتھ میں لے کر جانور کے سر پر پہنچ جاتا ہے اِسی طرح لوگ جنگلوں میں رہتے تھے تو دُشمن اُن پر اچانک حملہ آور ہو جاتا تھا اِس لئے روزوں میں یہ رعایت دی گئی کہ وہ ہلکی پھُلکی چیزیں کھا سکتے ہیں۔ گویا روزہ اُس وقت بھی موجود تھا ہاں اِس کی شکل بدلی ہوئی تھی۔ البتہ ہندوؤں میں کچھ روزے ایسے بھی تھے جن میں ہماری طرح کھانا پینا بالکل منع ہوتا تھا۔
    پھر عیسائیوں میں بھی روزے پائے جاتے ہیں۔ کچھ روزے ایسے ہیں جن میں آدھے دن کا فاقہ ہوتا ہے یاویسے بعض پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ گوشت نہیں کھانا۔ اِسی طرح دوسرے مذاہب میں روزے پائے جاتے ہیں۔ اسلام نے ان روزوں کی شکل بدل دی ہے ورنہ روزہ اپنی ذات میں وہی ہے جو پہلے زمانوں میں تھا۔
    پھر زکوٰۃ اور صدقہ ہے۔ یہ بھی ہر مذہب میں پایا جاتا ہے۔ زمانہ کے حالات کے لحاظ سے بعض پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں لیکن اصول ایک ہی رہے ہیں۔ عیسائیوں ، زرتشتیوں، یہودیوں، ہندوؤں اور دیگر سب مذاہب میں صدقہ اور زکوٰۃ پائے جاتے ہیں ہاں شکل اور تفصیل میں فرق آگیا ہے۔
    پھر حج ہے یہ بھی قریباً ہر مذہب میں پایا جاتا ہے۔ عرب میں حج کرنے کا رواج تھا یہودی بھی بیت المقدس جاتے تھے۔ زرتشتی بھی ایسے مقدس مقامات پر جمع ہوتے تھے۔ ہندو بھی گنگا جمنا اور ہر دوار جاتے تھے۔ گویا حج ہر مذہب میں تھا لیکن اس کی شکل مختلف تھی۔
    غرض توحید ہر زمانہ میں ایک تھی ۔ عبادت بھی وہی تھی صرف تفصیل میں کچھ فرق نظر آتا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تک کسی نہ کسی رنگ میں اِس کا وجود پایا جاتا تھا۔ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت میں یہ موٹے رنگ میں تھی اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اِس میں باریکی اور فلسفہ پیدا کر دیا۔
    پھر چوری ہے۔ یہ بھی ہر مذہب میں بُری سمجھی جاتی ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر محمدرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تک سب نبیوں نے اس سے روکا ہے۔ پھر ہر نبی نے جھوٹ سے منع کیا ہے ہر نبی نے یہ کہا ہے کہ قتل مت کرو۔ قرآن کریم میں ہابیل اور قابیل کا قصّہ موجود ہے۔ اِن میں سے ایک نے دوسرے کو کہا کہ تم مجھے قتل نہ کرو کہ اِس سے اﷲ تعالیٰ ناراض ہو گا۔
    غرض محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی یہی تعلیم پیش کی ہے۔ گویا اخلاقی تعلیم بھی اصولی لحاظ سے ہر زمانہ میں ایک سی تھی۔ پھر لین دین میں انصاف کے متعلق ہر نبی نے تعلیم دی ہے۔ پھر اسلام میں یا اسلام کے بعد جدید کیا چیز ہے کہ اس کا نام جدید رکھا جائے۔ جہاں تک اصول کا تعلق ہے وہ ایک ہی ہیں۔ اسلام نے کوئی نیا اصل پیش نہیں کیا بلکہ بعض لوگوں نے یہاں تک دھوکا کھایا ہے کہ اسلام محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے بھی موجود تھا۔ حالانکہ اِس کا صرف یہ مطلب ہے کہ پہلے زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کا حکم تھا۔ اِس لئے وہ مذہب اسلام کہلانے کے مستحق تھے لیکن اسلام کے عقائد اور مسائل کی تفصیل پہلے نہیں پائی جاتی تھی۔ یوں اصولی لحاظ سے اسلام نے بھی کوئی نئی چیز پیش نہیں کی۔ جدید چیز جو ہے وہ درحقیقت کام کی روح ہوتی ہے۔ اس کی شکل ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد لوگ تعلیم کو بھُول جاتے ہیں اور اُن ذمہ داریوں سے جو اُن پر عائد ہوتی ہیں فاضل ہو جاتے ہیں۔ ان ذمہ داریوں کی طرف لوگوں کو توجہ پھرانے کے لئے خدا تعالیٰ کے برگزیدہ لوگ تحریکیں کرتے ہیں۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم دُنیا میں تشریف لائے تو آپ نے فرمایا خدائے واحد سے محبت کے تعلقات پیدا کرو اور اس سے ملنے کی کوشش کرو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام دُنیا میں آئے تو اُنہوں نے بھی یہی کہا کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرو اور اُس سے ملنے کی کوشش کرو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے تو اُنہوں نے بھی یہی کہا کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرو اور اُس سے ملنے کی کوشش کرو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم میں کوئی جِدّت نہیں پائی جاتی۔ جِدّت صرف یہ تھی کہ یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لائی ہوئی تعلیم کو بھُول چُکے تھے۔ گویا موسوی تعلیم ان کے قلوب سے مٹ چُکی تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا چلو ہم کوئی نئی بات کریں تا لوگ اس طرف متوجہ ہوں۔ کُلُّ جَدِیْدٍ لَذِیْذً کے مطابق لوگ نئی آواز کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں اس لئے یہودیوں میں پھر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا ہو گئی۔ اُنہوں نے اپنے اندر محبتِ الٰہی کو پیدا کیا۔ خدا تعالیٰ کی عزت کو دوبارہ قائم کیا اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لائی ہوئی تعلیم پر دوبارہ عمل پیرا ہوئے۔ لیکن جب عیسائی بھی خدا تعالیٰ کی محبت کو بھُول گئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم کو اُنہوں نے پسِ پُشت ڈال دیا تو خدا تعالیٰ نے محمدرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ آپ نے محبتِ الٰہی کو دوبارہ قائم کیا لیکن مسلمان بھی چند صدیوں کے بعد رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے لائے ہوئے پیغام کو بھُول گئے اور اُنہوں نے خدا تعالیٰ سے تعلقات منقطع کر لئے۔ اِس پر خدا تعالیٰ نے ان کی سُستی دُور کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کھڑا کر دیا۔ گویا خداتعالیٰ کے لحاظ سے تو مذہب ایک ہی ہے لیکن بندوں کے لحاظ سے اس کی شکل بدلتی رہتی ہے کیونکہ وہ کچھ عرصہ کے بعد اس کو بھُول جاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے بھی یہی کہا تھا کہ جاؤ اور میرے بندوں کو میری طرف لاؤ۔ حضرت نوح علیہ السلام کو بھی یہی کہا تھا کہ جاؤ اور میرے بندو کو میری طرف لاؤ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی یہی کہا تھا کہ جاؤ اور میرے بندوں کو میری طرف لاؤ۔ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی یہی کہا تھا کہ جاؤ اور میرے بندوں کو میری طرف لاؤ۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم بھی یہی کہا تھا کہ جاؤ اورمیری بندوں کو میری طرف لاؤ اور اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی یہی کہا ہے کہ جاؤ اورمیرے بندوں کو میری طرف لاؤ۔ درحقیقت بات ایک ہی تھی لیکن وہ نئی تھی اُن لوگوں کے لئے جو خدا تعالیٰ سے غافل ہو گئے تھے اور اُس کی تعلیم کو بھُول گئے تھے۔ جیسے کسی نے اگر کوئی شہر بچپن میں دیکھا ہو پھر وہ بڑھاپے کے وقت اُس میں دوبارہ جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہر پہلے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا اور وہ اُسے بالکل نیا معلوم ہوتا ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو ایک خاص غرض کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ غرض قیامت تک مقدم رہے گی اور باقی ہر چیز اس سے مؤخر رہے گی۔ جو لوگ اِس غرض کو بھُول جاتے ہیں وہ اِس دُنیا میں بھی ذلیل ہوتے ہیں اور اگلی زندگی میں بھی ذلیل ہوتے ہیں۔ اِس دُنیا میں انسانوں کے دو گروہ ہوتے ہیں۔ ایک گروہ وہ ہوتا ہے جو خداتعالیٰ کے برگزیدہ کو نہیں مانتا اور ایک وہ گروہ ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کے برگزیدہ کو مانتا ہے۔ اب جو شخص اپنی غرضِ پیدائش کو بھُول جاتا ہے وہ دُنیا میں اس طبقہ کے لوگوں میں ذلیل ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کے برگزیدہ کو مانتے ہیں اور جو نہیں مانتے ان میں ان کی ایک حد تک قدر ہوتی ہے لیکن اگلی زندگی میں وہ سب لوگوں کے سامنے ذلیل ہوتا ہے۔ اِسی طرح خداتعالیٰ اور اس کے فرشتوں کے سامنے بھی وہ ذلیل ہوتا ہے۔ بسا اوقات دُنیا میں خداتعالیٰ کے برگزیدہ کو نہ ماننے والے زیادہ ہوتے ہیں اِس لئے خدا تعالیٰ کے برگزیدہ کامخالف یہ سمجھتا ہے کہ اس کی عزت زیادہ ہو گئی ہے کیونکہ اسے اکثریت کی تائید حاصل ہوتی ہے۔
    مولوی ثناء اﷲ صاحب ایک دفعہ قادیان آئے اور ایک بڑے جلسہ میں نعرہائے تکبیر میں اُنہوں نے کہا مَیں ایک نکتہ بیان کرتا ہوں۔ مرزا صاحب اور میرے درمیان آسان طریقِ فیصلہ یہ ہے کہ مرزا صاحب میرے ساتھ کلکتہ تک ٹرین میں چلیں۔ کلکتہ تک سینکڑوں اسٹیشن ہیں ہم دیکھیں گے کہ راستہ میں اُنہیں پتھر پڑتے ہیں یا مجھے، اور پھول مُجھ پر برسائے جاتے ہیں یا اُن پر ۔ کلکتہ تک جاتے ہوئے اِس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ مسلمان کس کی تائید میں ہیں۔ جماعت کے دوست گھبرائے ہوئے میرے پاس آئے اور اُنہوں نے کہا لوگوں پر بڑا اثر ہؤا ہے اور وہ اُس وقت سخت جوش میں ہیں۔ شام کو میری تقریر تھی۔ مَیں نے کہا مولوی ثناء اﷲ صاحب نے خود فیصلہ کر دیا ہے کہ سچا کون ہے صرف فرق یہ ہے کہ اُنہوں نے نتیجہ از خود نکال لیا ہے۔ اگر نتیجہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا نکلا ہؤا ہے تو اچھا ہے۔ مَیں نے کہا مولوی ثناء اﷲ صاحب نے کہا ہے کہ مرزا محمود احمد میرے ساتھ کلکتہ چلیں ہم دیکھیں گے کہ راستہ میں پھُول کس پر برستے ہیں اور پتھر کس پر پھینکے جاتے ہیں۔ مَیں نے کہا مولوی صاحب نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ جس پر پھُول پڑیں گے وہ سچا ہو گا۔ حالانکہ نتیجہ نکالنا اِن کا کام نہیں تھا۔ ہم سے پہلے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور ابو جہل گزر چکے ہیں۔ مولوی صاحب خود بتادیں کہ مکّہ میں پتھر رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو پڑا کرتے تھے یا ابو جہل کو؟ اور پھُول ابو جہل کو پڑا کرتے تھے یا رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو؟ اور اگر پتھر رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو پڑا کرتے تھے اور پھُول ابو جہل پر برسائے جاتے تھے تو نتیجہ ظاہر ہے کہ جس پر پتھر پڑیں گے وہ سچا ہے اور جس پر پھُول برسائے جائیں گے وہ جھوٹا ہے۔ غرض کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ گندی حالت کی وجہ سے اکثریت اُن لوگوں کی ہو جاتی ہے جو دین سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔بد اخلاقی اور بے دینی کی ایک رَو چل پڑتی ہے۔ جس طرح اِس زمانہ میں احراری ہیں۔ اِنہیں ہزاروں آدمی میسّر ہیں جن میں وہ کھڑے ہو کر نعرے لگاتے ہیں، جلوس نکالنے کے لئے انہیں ہزاروں لوگ مل جاتے ہیں۔ ہماری طرف سے اگر کوئی دھتکارا جاتا ہے تو وہ اسے سٹیج پر کھڑا کرکے زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی عزت اِسی جھوٹ میں ہی ہے اور بظاہر وہ معزز نظر آتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک عزت اُس کو ملتی ہے جو صداقت شعار ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی تعلیم کا پیرو ہوتا ہے اور راستبازوں کے نزدیک بھی وہی سچا ہوتا ہے لیکن اِس دُنیا میں بظاہر جھوٹ بولنے والے مؤیّدین کی اکثریت کی وجہ سے اپنے آپ کو معزز سمجھتے ہیں۔
    ایک دفعہ میرے پاس دیو بند کے دو طالب علم آئے۔ اُنہوں نے کہیں سے یہ سُن لیا تھا کہ مَیں نے کسی مدرسہ میں تعلیم حاصل نہیں کی۔ میرے پاس کچھ اَور دوست بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ دونوں طالب علم بھی آکر بیٹھ گئے اور ان میں سے ایک جو زیادہ تیز معلوم ہوتا تھا اُس نے کہا آپ کہاں تک پڑھے ہوئے ہیں؟ مَیں سمجھ گیا کہ وہ گستاخ ہے۔ مَیں نے کہا مَیں نے کچھ نہیں پڑھا۔ اُس نے کہا پھر بھی آپ کِس مدرسے میں پڑھے ہیں؟ مَیں نے کہا اگر مَیں پڑھا ہوتا تو مَیں پہلے ہی بتا دیتا۔ وہ کہنے لگا کیا آپ ہندوستان یا پنجاب کے کسی سکول کے فارغ التحصیل نہیں ہیں؟ مَیں نے کہا مَیں نے ایک دفعہ واضح کر دیا ہے کہ جس چیز کو آپ پڑھائی خیال کرتے ہیں وہ مَیں نے کہیں سے بھی حاصل نہیں کی۔ جس وقت مَیں نے یہ کہا تو اس کے دوسرے ساتھی نے جو ذرا ہوشیار معلوم ہوتا تھا اُس کے گھٹنے کو چھُوکر چُپ کرانے کی کوشش کی لیکن چونکہ وہ جوش میں تھا چُپ نہ ہؤا۔ اُس نے کہا اِس کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ بالکل اَن پڑھ ہیں۔ مَیں نے کہا آپ کی گفتگو کی بنیاد اِس بات پر تھی کہ مَیں کس مدرسہ میں پڑھا ہوں اور کس نصاب کو مَیں نے پاس کیا ہے؟ سو مَیں نے کوئی سکول یا نصاب پاس نہیں کیا۔ مَیں نے وہی تعلیم حاصل کی ہے جو رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے حاصل کی تھی اور آگے اپنے متبعین کو دی اور وہ قرآن ہے۔ اب آپ فیصلہ کر لیں کہ کیا رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم (نعوذ باﷲ) جاہل تھے یا عالم۔ بے شک جو درجہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو حاصل ہے وہ بہت بلند ہے۔ ہم دونوں ایک ہی کتاب پڑھنے والے ہیں۔ چنانچہ میرے اِس جواب پر وہ خاموش ہو گیا۔ غرض بعض دفعہ انسان جھوٹی خوشی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کے نزدیک جب تک کسی نے سُلْم، الشَمس البازغہ، شروح کافیہ و شروح شافیہ اور سیبویہ اور ہدایہ اور شافی وغیرہ کتب نہ پڑھی ہوں وہ عالم نہیں کہلا سکتا۔ علماء سب تفاسیر تو نہیں پڑھے ہوتے ہاں اُنہوں نے بیضاوی کے چند سیپارے پڑھے ہوتے ہیں اور اِس کا نام وہ علم رکھتے ہیں۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلم کے زمانہ میں نہ منطق تھی نہ فلسفہ صرف قرآن ہی قرآن تھا۔ پھر آپ ؐ نے کیا پڑھا تھا؟ صرف قرآن کریم اور قرآن کریم اخلاق، علم النفس ، فلسفہ اور منطق سب کچھ پیش کرتا ہے لیکن لوگ چاہتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ سے ہٹ کر بندوں کی طرف مائل ہو جائیں۔ اگر یہ کہیں کہ مَیں فلاں کتاب پڑھا ہوں جو مصنفہ خدا تعالیٰ ہے تو یہ بات اُنہیں تسلی نہیں دیتی۔ اُنہیں یہ بات تسلی دیتی ہے کہ کس نے وہ کتاب جو مصنفہ بیضادی ہے پڑھی ہو مصنفہ خدا تعالیٰ ان کے نزدیک کوئی چیز نہیں۔ اور جب انہیں ایسی باتوں کا پتہ لگتا ہے یعنی انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم بیضادی پڑھے ہوئے ہیں اور فلاں نے بیضادی نہیں پڑھی تو بہت خوش ہوتے ہیں۔ عیسائی بھی یہ شور مچاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم بائیبل اور عبرانی نہیں جانتے تھے اِس لئے جو قصّے جھوٹے تھے وہ اُنہوں نے قرآن کریم میں درج کر دیئے ہیں سچّے قصّے اُنہوں نے درج نہیں کئے۔ حالانکہ ہمارے نزدیک جو قصّے قرآن میں بیان نہیں ہوئے وہ اِس قابل نہیں تھے کہ قرآن کریم میں بیان ہوتے۔ لیکن بعد میں آنے والے مسلمانوں نے ان قصّوں کو بھی نہ چھوڑا جن کو قرآن کریم نے چھوڑ دیا تھا اور اُنہوں نے وہ سب قصّے تفسیروں میں بھر دیئے اور لکھ دیا کہ فلاں روایت یوں آتی ہے اور فلاں روایت یوں آتی ہے۔ یہ باتیں بالکل ایسی ہی ہیں جیسے کوئی نجاست پھینکے تو دوسرا شخص اُسے قبول کرے۔ غرض یہ چیزیں کمزوروں کے لئے تو کچھ اثر رکھتی ہیں لیکن طاقتور کے لئے یہ کوئی چیز نہیں۔ ہماری جماعت میں بھی جو کمزور تھے اُن کے دِل خائف تھے۔ جب ہم قادیان سے نکلے تو اُنہوںنے خیال کر لیا کہ اب سلسلہ کمزور ہو جائے گا لیکن ہمارے دل میں قادیان سے نکلنے کے بعد اَور زیادہ ایمان پیدا ہؤا اور اگر ہمیں خدانخواستہ یہاں سے بھی نکلنا پڑے تو اِس سے ہمارے ایمان میں اَور بھی زیادتی ہو گی کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم جتنا نیچے گریں گے اُنتا ہی زیادہ اُبھریں گے اور اگر ہمیں دُشمن مٹا ڈالے گا تو پھر خدا تعالیٰ کوئی بہت بڑا معجزہ دکھائے گا اور ہمیں اس کے نتیجہ میں پہلے سے زیادہ طاقت عطا کرے گا۔ غرض یہ ابتلاء اور مصائب ایماندار کے لئے کوئی چیز نہیں۔ ہاں کمزور اس سے خائف ہو جاتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ دُشمن سے لڑائی کی کبھی خواہش نہ کرو جس کے معنے یہ ہیں کہ ابتلاؤں اور مصائب کی دُعا نہ کرو۔ہمیشہ دُعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں ان سے محفوظ رکھے لیکن باوجود اس کے مومن کا حوصلہ اتنا بلند ہونا چاہئے کہ ساری دُنیا بھی مقابلہ پر آئے تو جسم میں لرزہ پیدا نہ ہو۔ جب تک یہ چیز انسان اپنے اندر پیدا نہیں کر لیتا اُس کا یہ خیال کر لینا کہ وہ مأمور کی جماعت میں داخل ہے اُسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ ہمارے رستہ میں کانٹے ہی کانٹے اور قربانیاں ہی قربانیاں ہیں۔ اگر ہم یہ خیال کر لیں کہ ہم پر کوئی مصیبت اور ابتلاء نہیں آئے گا تو یہ ہماری کمزوری ہو گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے میری جماعت میں شامل ہونا پھُولوں کی سیج پر چلنا نہیں بلکہ کانٹوں پر چلنا ہے۔ اگر تم نازک بدن ہو اور کانٹوں پر چلنا برداشت نہیں کر سکتے تو کہیں اَور چلے جاؤ۔ ہم احراریوں سے جو ہمیں ہر وقت مارنے کے لئے تدابیر کرتے رہتے ہیں نہیں ڈرتے۔ ہم تم سے ڈرتے ہیں۔ ہم اُس شخص سے ڈرتے ہیں جو ہمارے ساتھ چل پڑتا ہے اور پھر تلواروں سے ڈرتا ہے۔ ایسا شخص ہمیں کمزور کر سکتا ہے۔ احراریوں کے مقابلہ میں تو ہمارا ایک ایک احمدی ان کے دس دس ہزار آدمی سے زیادہ طاقتور ہے۔
    غرض منافقت سب سے زیادہ خطرناک چیز ہے مگر لوگوں کو یہ غلطی لگی ہوئی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ منافق خود بھی اپنے آپ کو منافق سمجھتا ہے حالانکہ یہ درست نہیں۔ منافق اپنے آپ کو مومن ہی سمجھتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آیا اُس کے کام بھی مومنوں والے ہیں یا نہیں؟ صرف اپنے آپ کو مومن کہہ دینا مومن بننے کے لئے کافی نہیں مومن قربانی میں ہمیشہ آگے بڑھتا ہے اور پھر افسوس کرتا ہے مَیں نے اِس قدر قربانی نہیں کی جس قدر کرنی چاہئے تھی۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں نِیَّۃُ الْمُؤْ مِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہٖ۔ ۱؎ شرّاحِ حدیث نے تو اس کی عجیب و غریب تفسیر کی ہے لیکن اس کی سیدھی سادھی تفسیر یہی ہے کہ مومن کا نیک کام کرنے کا ارادہ اُس کے عمل سے ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ وہ اگر چھ نمازیں یعنی پانچ فرض اور چھٹی تہجد کی نماز پڑھتا ہے تو ساتھ ہی یہ ارادہ کرتا ہے کہ مَیں ان سے زیادہ نمازیں پڑھوں۔ وہ جس قدر نیک عمل کرتا ہے اُس سے بڑھ کر نیک عمل کرنے کی نیّت کرتا ہے۔ وہ اگر ایک روپیہ چندہ دیتا ہے اور خواہش یہ رکھتا ہے کہ ہو سکے تو وہ دو روپیہ چندہ دے اور اگر دو روپیہ چندہ دیتا ہے تو وہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ اڑھائی روپے چندہ دے۔ غرض مومن کی نیّت اُس کے عمل سے زیادہ ہوتی ہے لیکن تم میں سے بعض کی یہ حالت ہے کہ وہ قربانی کرتے وقت سوچنے لگ جاتے ہیں کہ ہم نے یہ قربانی کی تو فلاں خرچ کہاں سے پورا کریں گے۔ جب تمہارا بچہ بیمار ہو جاتا ہے اُسے ٹائیفائڈ یا ہیضہ ہو جاتا ہے تو کیا تمہاری اُس وقت کی قربانی اور دین پر حملہ کے وقت کی تمہاری قربانیاں ایک سی ہیں؟ اگردونوں مواقع پر تمہاری قربانیاں ایک سی ہیں تب تو کوئی بات ہے لیکن تم اگر اپنے بچہ کی بیماری کے وقت تو اپنا لحاف اور پگڑی بھی بیچنے پر تیار ہو جاتے ہو اور اُس سے علاج کے اخراجات پورے کرتے ہو اور جب دین کی خاطر قربانی کرنے کا وقت آتا ہے تو تم بہانے بنانے لگ جاتے ہو تو تم کیسے مومن ہو۔ تمہارا یہ کہہ دینا کہ تم مومن ہو تمہیں مومن نہیں بنا سکتا اور تمہاری یہ دلیل درست نہیں ہو سکتی کہ تم اپنے آپ کو منافق خیال نہیں کرتے بلکہ مومن خیال کرتے ہو۔ تم مومن ہو یا منافق اِس کا فیصلہ خدا تعالیٰ نے کرنا ہے۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے کہیں نہیں فرمایا کہ منافق یہ کہتا ہے کہ مَیں منافق ہوں مومن نہیں ہوں۔ وہ کہتا یہی ہے کہ مَیں مومن ہوں۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ منافق کی یہ علامت ہے کہ وہ موقع پر جھوٹ بولتا ہے۔ غصّہ آئے تو گالیاں دینے لگ جاتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے جھوٹا کرتا ہے اور جب اُس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اُس میں خیانت کرتا ہے۔۲؎ اب دیکھ لو ان میں رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ کہیں نہیں کہا کہ منافق اپنے آپ کو منافق سمجھتا ہے وہ اپنے آپ کو مومن سمجھتا ہے لیکن موقع پر جھوٹ بولتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو مومن سمجھتا ہے لیکن غصّہ آنے پر گالیاں دینے لگ جاتا ہے۔ اور وعدہ کرتا ہے تو پورا نہیں کرتا (جیسے کہ کمزور وعدہ کرنے والے تحریک کے دفتر سے معاملہ کر رہے ہیں) اور جب اُس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو اُس میں خیانت کرتا ہے۔ یہ وہ فیصلہ ہے جو رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے منافق کے متعلق فرمایا ہے اب جو شخص اِس کے خلاف منافق کی تعریف یہ کرتا ہے کہ منافق وہ ہے جو اپنے آپ کو منافق کہتا ہے یا سمجھتا ہے اُس کی مثال درحقیقت اُس پٹھان کی سی ہے جس نے فقہ کی کتاب ’’قدوری‘‘ یا ’’کنز‘‘ پڑھی (پٹھان فقہ بہت پڑھتے ہیں) اور فقہ میں پڑھا کہ حرکتِ قلیلہ بھی نماز کو توڑ دیتی ہے۔ پھر اُس نے ایک دن حدیث میں پڑھا کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے روتے ہوئے بچہ کو گود میں اُٹھا لیا تو کہنے لگا۔ خو! محمد ؐ صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔ کسی دوسرے شخص نے کہا نماز تمہیں محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بتائی ہے پھر تم کون ہو یہ کہنے والے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اس حرکت سے نماز ٹوٹ گئی۔ پس فیصلہ تو خدا اور اُس کے رسول نے کرنا ہے تم خود اپنے آپ کو مومن سمجھ لو تو یہ درست نہیں ہو سکتا۔ مومن اور منافق میں یہ فرق ہے کہ مومن ہر ضرورت کے وقت قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور اُس کی نیت عمل سے بڑھتی جاتی ہے۔ یعنی وہ قربانی کرتا ہے لیکن اُس کا نفس کہتا ہے کہ یہ قربانی تھوڑی ہے مَیں اور قربانی کروں۔ اور پھر وہ ان بوجھوں کو برداشت کرتا ہے جو اس کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ جو وعدہ کرتا ہے اسے ضرور پورا کرتا ہے۔
    مَیں نے کئی دفعہ سُنایا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد منشی اروڑے خان صاحب ایک دفعہ قادیان آئے۔ آپ پہلے منشی تھے بعد میں ترقی کر کے تحصیلدار ہو گئے تھے۔ اُس زمانہ میں منشی کی تنخواہ سات آٹھ روپیہ ہوتی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت کی وجہ سے وہ ہر اتوار قادیان آتے۔ منشی صاحب کپورتھلے کے تھے اور اُن کا گاؤں قادیان سے پچیس چھبیس میل کے فاصلے پر تھا۔ وہ پیدل چل پڑتے اور رستہ میں کہیں دو پیسے یا آنہ دے کر تانگہ پر بیٹھ جاتے اور پھر پیدل چل پڑتے۔ آٹھ دس روپے تنخواہ کے لحاظ سے جو وہ جمع کر سکتے جمع کرتے اور جب قادیان آتے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بطور نذرانہ پیش کر دیتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات سے کچھ دیر قبل یا وفات کے کچھ دیر بعد وہ تحصیلدار ہو گئے اور اُن کی تنخواہ بھی بڑھ گئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے چھ سات ماہ بعد وہ قادیان تشریف لائے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل سے کہنے لگے مجھے ایک رُقعہ لکھ دیں مَیں نے میاں صاحب سے ملنا ہے۔ اُس وقت خلیفہ تو آپ ہی تھے لیکن آپ نے پھر بھی ایک رُقعہ بطور سفارش مجھے لکھ دیا اور وہ رُقعہ اُنہوں نے اندر بھیجا اور مَیں باہر آگیا۔ اُنہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور مصافحہ تک اُنہوں نے اپنے جذبات پر قابو رکھا۔ اُن کے ہاتھ میں کچھ نقدی تھی۔ اُنہوں نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیا اور رونے لگ گئے۔ اُن کی حالت ایسی تھی جس طرح کسی بکرے کو ذبح کیا جاتا ہے۔ میری عمر چھوٹی تھی اور مَیں حیران تھا کہ انہیں کیا ہو گیا ہے کہ یہ رو رہے ہیں۔ آٹھ دس منٹ کے بعد اُنہوں نے بولنا شروع کیا لیکن پھر بھی وہ متواتر نہیں بول سکتے تھے۔ آدھا فقرہ کہتے اور رونے لگ جاتے۔ پھر ایسا کرتے۔ آٹھ دس منٹ میں جو فقرہ اُنہوں نے مکمل کیا وہ یہ تھا کہ مَیں ہمیشہ خیال کرتا تھا کہ کتنی دیر کے بعد خدا تعالیٰ نے اُمت کی التجاؤں کو سُنا ہے اور اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا ہے۔ مَیں دیکھتا تھا کہ لوگ اپنے پِیروں کو سونا پیش کرتے ہیں اور آپ ؑ کی شان تو اُن سے بہت زیادہ ہے۔ میری خواہش تھی کہ مَیں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں سونا پیش کروں لیکن زیادہ دیر انتظار نہیں کیا جاسکتاتھا۔ جو رقم جمع ہوتی مَیں وہ یہاں آکر پیش کر جاتا۔ آخر وہ وقت بھی آگیا کہ خدا تعالیٰ نے میری تنخواہ بڑھا دی اور اُس نے توفیق دی کہ سونا جمع کر کے میں اپنی خواہش کو پورا کر سکوں لیکن جب یہ وقت آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فوت ہو گئے۔ یہ فقرہ کہا ہی تھا کہ ان کی چیخ نکل گئی۔ پھر وہ کچھ سنبھلے اور کہا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس دُنیا میں تھے تو مجھے سونا میسّر نہیں تھا اور جب سونا میسّر آیا تو آپ اس دُنیا سے رُخصت ہو گئے۔ اُن کے ہاتھ میں اُس وقت پانچ یا سات اشرفیاں تھیں وہ اُنہوں نے مجھے دیں اور کہا یہ اب حضرت (خلیفۃ المسیح) کو دے دی جائیں۔
    وہ لوگ بھی انسان تھے جنّات نہیں تھے وہ بھی تمہارے جیسے مرد تھے فرشتے نہیں تھے، اُن کو بھی کھانے پینے کی ضرورت تھی، اُن کے ساتھ بھی دُنیاوی حوائج لگی ہوئی تھیں لیکن ان کے اندر ایمان کا شعلہ بھڑک رہا تھا اور وہ قربانی کو ہر چیز پر مقدم رکھتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ خواہ ہم ننگے رہیں لیکن خدا تعالیٰ کا بلند کیا ہؤا جھنڈا اُونچا رہے لیکن تم ان سے کئی گُنا زیادہ ہو چکے ہو۔ تم احمدیت سے جو لذّت حاصل کر رہے ہو یہ لذّت وہ حاصل نہیں کرتے تھے۔ اُس وقت احمدیوں کی تعریف کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ اُس وقت ابھی مرکز کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔ جیسے مکڑی اپنا جالا بُنتی ہے لیکن یہ کہ وہ دُور دُور ممالک میں نکل جائیں، تبلیغ کریں اور عیسائیوں اور ادنیٰ اقوام کو مسلمان بنائیں اور اِس طرح اسلام کا جھنڈا بلند کریں یہ چیز انہیں حاصل نہیں تھی۔ یہ چیز اب تمہیں نصیب ہوئی ہے۔ اِس لئے کہ تم نے تحریک جدید میں دو دو، چار چار، سَوسَو، دو دو سَو روپے دیئے ہیں اور اس خرچ سے باہر مبلّغ بھیجے جاتے ہیں اور وہ دوسری اقوام میں تبلیغ کرتے ہیں۔ جب تمہیں احراری یا اس قسم کے دوسرے لوگ گالیاں دے رہے ہوتے ہیں تو اُن میں سے ایک آدمی کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے چاہے تم انہیں گالیاں دو لیکن اسلام کی صحیح خدمت یہی لوگ کر رہے ہیں۔
    پس چاہئے تو یہ تھا کہ ہر احمدی اس تحریک میں شامل ہوتا اور پھر ہر سال آگے نکلنے کی کوشش کرتا اور اپنے وعدہ کو پورا کرتا لیکن حالت یہ ہے کہ بجٹ وہی ہے۔ بجٹ میں جو ۱۲ لاکھ روپیہ کی رقم دکھائی گئی ہے اِس میں بیرونی مُمالک کی رقوم بھی شامل ہیں جو پہلے بجٹ میں شامل نہیں کی جاتی تھیں۔ اِس میں کوئی شُبہ نہیں کہ اصلی بجٹ بھی پہلے سے ۵۰،۶۰ ہزار زیادہ ہے لیکن ہر سال پانچ سات ہزار کا خرچ بڑھ جانا معمولی چیز ہے۔ اعتراض تب تھا جب مقامی اخراجات زیادہ بڑھ جاتے لیکن صورت یہ ہے کہ بجٹ بڑھا نہیں لیکن باوجود اس کے کہ بجٹ وہی ہے ساری آمد پہلے تین ماہ میں خرچ ہو جاتی ہے۔ یہ اس لئے نہیں کہ اخراجات کا بجٹ زیادہ ہو گیا ہے بلکہ یہ اس لئے ہے کہ جماعت میں سے ایک حصّہ سُست ہو گیا ہے۔ پچھلے سال بھی مجھے بار بار توجہ دلانی پڑی اور میرے بار بار توجہ دلانے پر جماعت سنبھل گئی لیکن یہ سال پچھلے سال سے بھی بدتر ہے۔ پچھلے سال اِس وقت تک ایک لاکھ اٹھارہ ہزار روپیہ وصول ہو چُکا تھا اور وہ سال اتنا خراب تھا کہ کئی دن بغیر کسی آمد کے گزر جاتے تھے۔ اس سال باوجود اِس کے کہ احباب نے وعدہ کیا تھا کہ وہ وقت پر وعدہ ادا کریں گے اور قربانی پیش کریں گے صرف ایک لاکھ ۱۲ ہزار پانسو روپیہ کی آمد ہوئی ہے۔ گویا تحریک جدید کے لحاظ سے جو سال تاریک اور بُرا تھا ، یہ سال اُس سے بھی زیادہ تاریک اور بُرا ہے۔ اِن حالات میں جو لوگ وعدہ پورا کرنے میں سُستی کر رہے ہیں اُن کا کیا حق ہے کہ وہ کہیں کہ ہم وہ جماعت ہیں جس نے اسلام کو تمام دُنیا پر غالب کرنا ہے۔ اگر وعدے نہ کرتے تو اِس سے بہتر تھا کہ وہ وعدے کر کے انہیں پورا نہیں کر رہے۔ اصل بات تو یہی تھی کہ وہ بھی وعدے کرتے اور دوسرے احمدی بھی وعدے کرتے اور پھر ان کو جلد سے جلد ادا کرتے۔ تحریک جدید کے قواعد کے ماتحت اپنے ماحول کو اور اپنے اخراجات کو ایسا بناتے کہ وہ قربانی کر سکتے۔ مگر اِس سے اُتر کر یہ مقام تھا کہ وہ کہہ دیتے کہ ہم اِس بوجھ کو نہیں اُٹھا سکتے۔ تم ہنستے ہو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم پر کہ اُنہوں نے وقت پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہہ دیا۳؎کہ جاؤ تُو اور تیرا ربّ لڑتے پِھرو ہم یہاں بیٹھے ہیں ۔ مگر وہ لوگ ان سے اچھے تھے جنہوں نے تحریک کے وعدے کر دیئے اور وقت پر پورا کرنے کی کوشش نہ کی کیونکہ اُنہوں نے اپنے نبی سے سچ سچ کہہ دیا کہ ہم تمہارے ساتھ مل کر دُشمن سے نہیں لڑسکتے۔ اُنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دھوکا نہیں دیا ۔ اگر پچاس ساٹھ ہزار آدمی اُن کے ساتھ مل جاتا اور پھر دُشمن کے مقابل پر آکر بھاگ جاتا تو یہ زیادہ خطرناک تھا۔ مَیں اگر اکیلا باہر نکلوں گا تو مَیں اپنی طاقت کے مطابق سکیم تیار کروں گا لیکن اگر پچاس ساٹھ آدمی کا جتھا میرے ساتھ دُشمن کے ساتھ لڑنے کے لئے نکل کھڑا ہو اور جب دُشمن سامنے آجائے تو وہ بھاگ کھڑا ہو تو اِس سے وہ کام جس کے لئے ہم باہر نکلے تھے پورا نہیں ہو سکتا بلکہ خود امام کی جان خطرہ میں پڑ جاتی ہے۔ پس اگر اِن لوگوں میں روحانیت ہوتی، اگر ان میں ایمان ہوتا، اگر شرافت ہوتی تو وہ اپنے وعدوں کو جلد ادا کر دیتے۔ اِس سال سے پہلے دو لاکھ اسّی ہزار تک بھی وعدے ہوتے رہے ہیں اور وہ پورے ہوتے رہے ہیں لیکن اِس سال دو لاکھ سینتالیس ہزار روپے میں سے صرف ایک لاکھ بارہ ہزار پانچ صد روپے وصول ہوئے ہیں۔ یہ کیا کمال ہے جس کا دعویٰ کرتے ہوئے تم میں سے بعض کے مُنہ سے جھاگ آنے لگتی ہے۔ ان لوگوں نے اپنے اندر کافروں والی دلیری ہی کیوں پیدا نہ کر لی کہ یہ کہہ دیتے کہ جاؤ ہم تمہارے ساتھ مل کر کام نہیں کرتے جس سے کم سے کم یہ پتہ تو لگ سکتا کہ میرے ساتھ کتنے آدمی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اِس سے سویں حصّہ سے کام لے لیا تھا۔ اگر پہلے دن ہی یہ معلوم ہو جاتا کہ ہمارے ساتھ کام کرنے والے تھوڑے ہیں تو ہم کام کی نوعیت بدل دیتے اور بجائے مرکز قائم کرنے کے ہم خود ہی باہر نکل جاتے اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے رہتے۔ لیکن اب شروع سال میں تو اُنہوں نے وعدے کئے کہ ہم قربانی کریں گے پیچھے نہیں ہٹیں گے مگر موقع پر آکر دھوکا دے دیا۔ اوّل تو وعدے بھی بعض کے اپنی شان سے کم ہوتے ہیں اور بعد میں عین وقت پر ایسے لوگ بھاگ جاتے ہیں۔ اگر وعدہ پورا نہیں کرنا تھا تو پھر وعدہ ہی کیوں کیا تھا۔ اُنہوں نے کیوں اپنا ایسا ماحول پیدا نہ کر لیا کہ جس سے وعدہ ادا کرنے میں سہولت ہوتی۔
    آج سے پندرہ سال پہلے جب تحریک جدید شروع ہوئی تو اس وقت کے لوگ زیادہ چُستی کے ساتھ ادائیگی کرتے تھے۔ اُس وقت ایک چپڑاسی کی تنخواہ ۱۲،۱۳ روپے تھی اور اب چالیس روپے کے قریب ہے۔ اگر آج سے ۱۰،۱۵ سال قبل وہ ۱۳ روپے میں سے پانچ روپے سالانہ دے سکتا تھا تو وہ آج کیوں پانچ روپے نہیں دے سکتا۔ یہ صرف اِس لئے ہے کہ آج سے دس پندرہ سال پہلے تحریک جدید میں حصّہ لینے والا یہ سمجھتا تھا کہ ان پانچ روپوں پر میری آئندہ روحانی زندگی کا دارومدار ہے اور وہ شروع سال سے ہی ان کی ادائیگی کی فکر کر لیتا تھا۔ اب چالیس روپے تنخواہ والا آدمی بیٹھا رہتا ہے اور خیال کر لیتا ہے کہ پانچ روپے میں کونسی جلدی ہے جلد ادا کر لوں گا۔
    مَیں نے پہلے بھی کئی دفعہ ذکر کیا ہے جب رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم جنگ تبوک کے لئے باہر تشریف لے گئے اُس وقت تین صحابہ ؓ سے سُستی ہو گئی تھی اور وہ اس جنگ میں شریک نہیںہو سکے تھے۔ اُنہوں نے خیال کر لیا تھا کہ ہمیں کونسی جلدی ہے۔ روپیہ پاس ہے جب چاہیں گے تیاری کر لیں گے اور رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ مل جائیں گے۔ وہ اِسی طرح کرتے رہے حتّٰی کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم بہت دُور نکل گئے اور وہ صحابہ ؓ آپ کے ساتھ نہ مل سکے۔ اگر تم پہلے دن سے اپنے وعدے کی ادائیگی کی فکر کرتے تو اپریل مئی تک اپنے وعدے ادا کر لیتے۔ جو قربانی تم نے اب کمزور بن کر کرنی ہے تو تم نے اعلیٰ مومن بن کر ہی کیوں نہ کر لی۔ اب تم قربانی بھی کروگے اور کمزور کے کمزور بھی رہو گے لیکن اس سے پہلے یہی قربانی کرتے تو تم اعلیٰ مومن کہلاتے اور پھر وہ قربانی موجودہ قربانی سے کم ہوتی۔ قربانی کا اصل وقت وعدہ کے بعد کے پہلے چھ ماہ ہوتے ہیں۔ اگر تم اُس وقت وعدہ پورا کر لیتے تو اب چھاتی تان کر پھرتے کہ ہم نے تبلیغ کے لئے جس رقم کاوعدہ کیا تھا وہ ہم ادا کر چکے ہیں۔ اب سردیوں کا موسم آنے والا ہے کسی نے لحاف بنانا ہے، کسی نے سردیوں کے لئے کپڑوں کی مرمت کروانی ہے، جس پر کافی خرچ آئے گا اور پھر بچوں کے لئے اور اپنے لئے گرم کپڑے بنوانے ہیں۔ گرمیوں میں بستروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بستروں اور زیادہ کپڑوں کے بغیر بھی کام چل سکتا ہے۔ مَیں اس دفعہ بعض وجوہات کی بنا پر کسی پہاڑ پر نہیں جاسکا۔ ساری گرمیاں یہیں رہا ہوں۔ مَیں نے مہینہ بھر قمیض نہیں پہنی۔ رات کو صرف تہہ بند باندھ کر سوتا رہا ہوں۔ کیونکہ سر سے پیر تک گرمی کے دانوں کی وجہ سے زخم پڑے ہوئے تھے۔ کھانا کھانا چاہتا تھا تو بھُوک محسوس نہیں ہوتی تھی لیکن سردیوں میں زیادہ کپڑوں کی ضرورت ہوتی ہے اور کھایا پیا اچھا جاتا ہے۔ پس اِس وقت تو آپ لوگوں کے سامنے سردیوں کے اخراجات آ چکے ہیں جو عام طور پر نومبر دسمبر تک ہوتے ہیں اِس کے بعد اِنسان اس بوجھ سے فارغ ہو جاتا ہے۔
    پس قربانی کا بہترین وقت جنوری سے لے کر جون جولائی تک ہوتا ہے۔ خرچ کم ہوتا ہے اور زمینداروں کی دونوں فصلوں کی آمد اِس عرصہ میں آجاتی ہے اور پھر تازہ وعدہ کی وجہ سے دلوں میں جوش ہوتا ہے۔ جو اِس وقت کو گزار دیتا ہے وہ اپنے آپ کو وعدہ خلافی کے خطرہ میںڈال لیتا ہے۔ مَیں اِس بات کا اقرار کروں گا کہ یہ پہلا سال ہے جس میں میرا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہؤا تھا لیکن اِس کی وجہ صرف یہ تھی کہ مَیں سمجھتا تھا کہ مَیں وعدہ پورا کر چُکا ہوں۔ قریباً ایک ماہ ہؤا کہ دفتر والوں نے مجھے یاددہانی کرائی۔ اِس پر مَیں نے انہیں کہا کہ تم نے اِس سے پہلے مجھے کیوں یاد نہ کرایا لیکن میں نے دفتر میں چیک دے دیا ہے کہ وہ تحریک جدید کو ادا کر دیں۔ معلوم نہیں کہ اُنہوں نے وہ چیک دے دیا ہے یا نہیں (بعد میں معلوم ہؤا کہ یہ چیک خزانہ میں پہنچ چُکا ہے) میری ہمیشہ ہی یہ کوشش رہی ہے کہ مَیں مارچ اپریل تک اپنا وعدہ ادا کر دوں۔ مارچ اپریل میں وعدہ کا پورا کرنا آسان ہوتا ہے اور انسان فارغ ہو کر اگلے سال کے متعلق سوچ بچار کرتا ہے اور اس کے لئے سکیمیں بنانا شروع کر دیتا ہے۔ اگر نئے سال کے وعدہ تک بوجھ سر پر رہے تو وقت آنے پرانسان بُزدل ہو جاتا ہے۔ ایک طرف بھُوک نہ لگنے کی وجہ سے طبیعت پریشان ہوتی ہے تو دوسری طرف شدّتِ گرمی اور تپ وغیرہ کے ساتھ جان نکل رہی ہوتی ہے۔ پھر سردی کے اخراجات کا فکر شروع ہو جاتا ہے اس طرح نئے وعدے تک انسان کی جان نکل جاتی ہے اور اُس کے لئے وعدے میں اضافہ کرنا مُشکل ہو جاتا ہے۔ اگر جنوری سے اگست تک وعدہ ادا کیا جاتا تو نئے وعدہ سے دس ماہ قبل وہ اَکڑ کر چلتااور نیا وعدہ بڑھ چڑھ کر کرتا۔ پہلے وعدہ ادا کرنے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ایک لمباعرصہ بوجھ سے فارغ رہنے کی وجہ سے قربانی میں بڑھنے کا موقع ملتا ہے۔
    پس تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔ جماعت کے پاس روپیہ ہے۔ ہم نے تقسیمِ مُلک سے قبل جماعت کی ماہوار آمد کا اندازہ لگایا تھا تو وہ ۱۳لاکھ روپیہ کی تھی اور ابھی کئی وعدے وصول نہیں ہوئے تھے۔ اندازہ تھا کہ پندرہ سولہ لاکھ روپیہ ماہوار جماعت کی آمد ہے۔ اگر پندرہ سولہ لاکھ جماعت کی ایک ماہ کی آمد ہے تو اس کا اگر ۳۳ فیصد بھی دیا جائے تو ہمیں چھ لاکھ روپیہ مل سکتا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ وصولی بہت کم ہے۔ تین لاکھ پچاس ہزار روپیہ کے کُل وعدے ہیں لیکن وصولی صرف ایک لاکھ بارہ ہزار کی دفتر اوّل میں ہوئی ہے اور دفتر دوم میں صرف ۳۰،۴۰ ہزار روپیہ وصول ہؤا ہے۔ اِس کی کام سے کوئی نسبت ہی نہیں۔
    تمام دُنیا میں تبلیغ کرنا کوئی معمولی کام نہیں۔ تم پہاڑ کو خلالوں سے کھود نہیں سکتے۔ تم پھونکوں سے ہنڈیا پکا نہیں سکتے۔ تم تنکے پر بیٹھ کر دریا پار نہیں کر سکتے۔ تم نے جو کام کرنا ہے وہ نہایت عظیم الشان ہے۔ اتنے قریب وقت میں اتنے وسیع پیمانہ پر دُنیا کی کسی اور قوم نے کام نہیں کیا۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں معلومہ دُنیا شام، فلسطین، عراق، مصر اور عرب تک محدود تھی۔ اب ہمارے مخاطب لوگوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ تمام دُنیا معلوم ہو چکی ہے اور سائنس کی ترقی کی وجہ سے ذرائع آمد ورفت میں سہولت پیدا ہو گئی ہے۔ پہلی قوموں کے اگر دس پندرہ لاکھ انسان مخاطب ہوتے تھے تو ہمارے اڑھائی ارب انسان مخاطب ہوتے تھے تو ہمارے اڑھائی ارب انسان مخاطب ہیں۔ اب تمہیں پہلوں سے بہت بڑھ کر قربانی کرنا پڑے گی لیکن واقعہ یہ ہے کہ ہم پہلوں والی قربانی بھی نہیں کرتے۔ جب تک تم اپنی روح کو بدلو گے نہیں، جب تک تم اس طرح غسل نہیں لے لیتے جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام نے جاری کیا تھا۔ آپ نے بپتسمہ جاری کیا۔ آپ جسم پر پانی کا چھینٹا دیتے اور کہتے ’’لو اب تُو پاک ہو گیا ہے‘‘ بپتسمہ کا مطلب یہی تھا کہ جس طرح تمہیں ظاہری غسل دیا گیا ہے اور اِس سے تم پاک ہو گئے ہو اِسی طرح تم اپنی روح کو بھی غسل دو اور اُسے صاف کرو۔
    پس جب تک تم اپنی روح میں تبدیلی پیدا نہیں کرتے تم اس بوجھ کو اُٹھا نہیں سکتے۔ اگر تم نے وعدہ کر کے اُسے ادا نہیں کرنا تو تم پہلے سے ہی کیوں نہیں کہہ دیتے کہ ہم یہ کام نہیں کر سکتے۔ تم اس کا م میں شامل ہو کر اور وعدوں کی عدم ادائیگی سے جماعت کو نقصان پہنچا رہے ہو۔ آج سے سترہ سال قبل بھی تو کام ہو رہا تھا۔ اگرچہ وہ محدود تھا لیکن اُس وقت جماعت کا چندہ کہاں تھا۔ ہر زمانے کے مطابق انسان اپنی سکیم بناتا اور اس کے مطابق کام کرتا ہے لیکن اب سکیم بعض وعدہ کرنے والوں کے جھوٹے وعدوں کے مطابق بنائی جاتی ہے اِس لئے درمیان میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔ کل ہی ایک مبلّغ کی شکایت آئی ہے کہ مجھے چھ ماہ تک کوئی خرچ نہیں ملا۔ وہ مبلّغ جھوٹ نہیں بولتا۔ محکمہ بہانے بنائے گا گو واقعہ کا انکار نہیں کرے گا لیکن حقیقت یہی نکلے گی کہ روپیہ نہیں تھا۔ ویسے وہ بہانے بنائے گا اور دوسرے محکمہ کو لکھے گا کہ رپورٹ کرو۔ اِس پر دس پندرہ دن لگ جائیں گے۔ پھر تیسرے محکمہ کو لکھا جائے گا کہ ایسا کیوں ہؤا؟ اور اس کی رپورٹ آنے تک دس بارہ دن اور گزر جائیں گے۔ پھر اوپر کے محکمہ کو لکھا جائے گا کہ اب کیا کریں لیکن مبلغ وہاں اکیلا بیٹھا ذلیل اور رُسوا ہو رہا ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ اُس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں کپڑے دُھلانے کے لئے پیسے نہیں، سفر کے لئے اس کے پاس پیسے نہیں اور اُس کا دل بیٹھا جاتا ہے۔ پس تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو اور اگر تم نے اپنے اندر تبدیلی پیدا نہیں کرنی تو صاف کہہ دو کہ ہم کام نہیں کریں گے تاکہ ہم اس کے مطابق اپنی سکیم بدل دیں۔ خدا تعالیٰ نے انسان پر اتنی ذمہ داریاں ہی ڈالی ہیں۔ جتنے سامان اُسے مہیا کئے گئے ہیں۔ خدا تعالیٰ جو سامان مہیا کردیگا اُس کے مطابق ہم کام کرتے جائیں گے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ مخلصین کی جماعت اُس وقت آگے نکل آئے گی۔ مَیں نے اِس تحریک کا آغاز کرتے ہوئے ہی بتا دیا تھا کہ اس تحریک کی بنیاد روپے پر نہیں۔ اِس کی بنیاد قربانی پر ہے۔ اُس وقت کئی لوگ ہزاروں میل پیدل یا جہاز کے ڈیک پر یا ریل کا تھرڈ کا ٹکٹ لے کے باہر نکل گئے تھے۔
    میرے نزدیک اس سُستی کی ذمہ داری صرف جماعت پر نہیں دفتر پر بھی ہے۔ نوجوان دفتروں میں آگئے ہیں اور اُنہیں ہوئی جہاز کے سفر کے سِوا کوئی بات سُوجھتی ہی نہیں۔ اِس کا بجٹ پر اثر پڑتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ جو کام اِس سے پہلے ایک وکیل اپنے ہاتھ سے کرتا تھا اُس کے لئے اب وہ ایک ایک دو دو کلرک مانگتا ہے۔ اِن چیزوں سے نقصان ہوتا ہے۔ دس بارہ سال تک جب تک کام میرے سپرد رہا اگر کوئی وکیل کہتا کہ مجھے ایک آدمی کی ضرورت ہے تو مَیں کہتا کہ تم بھی آدمی ہو، تم خود کام کرو۔ پہلے صرف دو آدمی تھے جن کے سپرد تحریک جدید کا کام تھا۔ مولوی عبدالرحمن صاحب انور عام کاموں کے سیکرٹری تھے اور چوہدری برکت علی خاں صاحب مال کے سیکرٹری تھے۔ پھر قریشی عبدالرشید صاحب آگئے اور یہ تینوں کام چلاتے رہے۔ اگرچہ بعد میں انہوں نے ایک ایک دو دو کلرک لے لئے تھے لیکن کام بہت سادہ تھا لیکن اب وہی محکمہ صدر انجمن احمدیہ کو چیلنج کر رہا ہے حالانکہ صدر انجمن احمدیہ کی آمد تحریک جدید کی آمد سے پانچ گُنے زیادہ ہے۔ نوجوان آئے اور اُنہوں نے مرکز کی اِس روح کو بدل ڈالا۔ عملہ بڑھایا جا رہا ہے پھر بھی کام میں دیر ہو جاتی ہے۔ پہلے سیدھے سادھے طور پر وہ کاغذات میرے پاس لاتے تھے۔ اب ہر جگہ شکایت ہے کہ کام کو لمبا کیا جاتا ہے۔ کئی دفعہ خود مجھے تین تین چارچار دفعہ کاغذ بھجوانے پڑتے ہیں پھر کہیں جواب آتا ہے۔ پہلی دفعہ کاغذ بھیجتا ہوں۔ چند دن کے بعد وہ سمجھتے ہیں شاید مَیں بھُول گیا ہوں گا۔ آخر مَیں بھی انسان ہوں۔ بعض دفعہ میں بھی بھُول جاتا ہوں۔ پھر دوبارہ کاغذ بھیجتا ہوں اور وہ کہتے ہیں ہم اس کا جواب بھیجتے ہیں۔ پہلے سُستی ہو گئی تھی اب نہیں ہو گی لیکن وہ کاغذ بھی پاس رکھ لیتے ہیں اور چند دن کے بعد یہ سمجھ کر کہ مَیں بھُول گیا ہوں گا بے فکر ہو جاتے ہیں۔ غرض مرکز میں بھی اب نقص پیدا ہو رہا ہے۔ وکلاء اُس معیار پر قائم نہیں جس معیار پر انہیں قائم ہونا چاہئے تھا۔ وہ ذاتی طور پر بہت کم کام کرتے ہیں اور دوسروں سے کام لینے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ساری عمر ہم نے خود کام کیا اور دفتر سے پتہ کیا جاسکتا ہے کہ میرے ہاتھ کا لکھا ہؤا روزانہ کتنا ہوتا ہے۔ بے شک اب نقرس کی وجہ سے مجھ سے لکھا کم جاتا ہے اور اکثر اوقات مَیں کسی دوسرے شخص سے لکھواتا ہوں لیکن یہ بیماری کی وجہ سے ہے۔ پہلے میں کتابیں بھی تصنیف کرتا تھا اور اپنے ہاتھ سے لکھتا تھا۔ ڈاک پر نوٹ بھی میں خود لکھتا تھا۔ مِسلوں پر نوٹ بھی مَیں خود لکھتا تھا اور یہ کبھی نہیں ہؤا تھا کہ مَیں نے اِس کام کے لئے کوئی آدمی رکھا ہو۔ اب بھی شوق ہے کہ مَیں اُنگلیوں کو کام کی عادت ڈالوں اور پھر خود کام کرنا شروع کر دوں لیکن نقرس کی وجہ سے اُنگلیاں چلتی نہیں پھر بھی ہر ناظر اور وکیل سے زیادہ تحریر میری ہوتی ہے۔ بہرحال دفتر میں یہ نقص بھی ہے کہ وکلاء خود کام کم کرتے ہیں اورعملہ کو بڑھاتے جارہے ہیں لیکن اِس کا تعلق آمد سے نہیں صرف تحریک کی روح کی خلاف ورزی ہے۔ آمد سے تعلق تب ہوتا اگر وعدوں سے بجٹ کو بڑھا کر پیش کیا جاتا۔ مگر ایسا نہیں۔ خرچ کے بجٹ میں زیادتی ہوتی تو مرکزی انجمن ذمہ دار تھی لیکن واقعہ یہ ہے کہ آمد کم ہورہی ہے۔ چھ ماہ میں جہاں تین لاکھ روپیہ وصول ہو جاتا تھا وہاں اب ۹ ماہ میں صرف ڈیڑھ لاکھ روپیہ وصول ہؤا ہے۔ حالانکہ مُلک میں آمدنیں بڑھ رہی ہیں۔ جب سے پاکستان بنا ہے مُلک آزاد ہو جانے کی وجہ سے تجارت اور صنعت بڑھ گئی ہے جس کا ماہوار آمدنوں پر اثر پڑا ہے۔ سنٹرل گورنمنٹ نے اب جو گریڈ بنائے ہیں اُس پر دو کروڑ روپیہ زائد خرچ آئے گا اور جن لوگوں کے گریڈ بڑھے ہیں اُن میں احمدی بھی ہیں۔ پھر صوبائی حکومت نے بھی تنخواہوں میں زیادتی کی ہے اور مُلکی آزادی کی وجہ سے لوگوں کی آمدنیں بڑھ گئی ہیں۔ اِس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ چندے بڑھ جائیں۔وصیت کا محکمہ ہے وہاں یہ اجازت ہے کہ جب کوئی چاہے اپنی وصیت منسوخ کرا دے لیکن پھر بھی لوگ وصیت منسوخ نہیں کراتے اور چندہ بھی نہیں دیتے۔ جب اخراج از جماعت کی سزا ہوتی ہے تو چندہ ادا کرتے ہیں۔ حالانکہ سیدھا سادھا طریق یہ تھا کہ آمد کم ہو گئی ہے تو وصیت منسوخ کر الو اور جب حالات درست ہو جائیں تو پھر وصیت کر دو لیکن جماعت کے دوست اس اصول پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ وہ ناجائز طریق اختیار کرتے ہیں۔ مَیں جماعت سے کہوں گا کہ جو لوگ کام کرنا نہیں چاہتے بہتر ہے کہ وہ الگ ہو جائیں۔ جن لوگوں کا اس تحریک میں حصّہ لینے کو جی نہیں چاہتا ہم ان کو بُرا سمجھتے ہیں لیکن وہ لوگ ان لوگوں سے اچھے ہیں جنہوں نے وعدہ کیا اور پورا نہ کیا۔ کم سے کم وقت پر اُنہوں نے ہمیں ہوشیار تو کر دیا۔
    یہودیوں نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْھِمَا السلام ہوشیار ہو گئے اور انہوں نے ایک سکیم بنالی۔ اگر یہودی ان کے ساتھ ہو جاتے لیکن وقت پر بھاگ جاتے تو بوجہ نبی ہونے کے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام بھاگ تو نہیں سکتے تھے لازمی بات تھی کہ وہ کم سے کم مارے جانے کے خطرہ میں پڑ جاتے لیکن جب یہودیوں نے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ نہیں جائیں گے تو اُنہوں نے ایک نئی سکیم بنا لی جس سے اُن کی جانیں بھی بچ گئیں اور کام بھی ہو گیا۔ لیکن اگر قوم انہیں عین وقت پر دھوکا دیتی تو اُن کی جانیں خطرہ میں پڑ جاتیں۔ مسلمان جنگِ حنین میں اپنی غلطی کی وجہ سے بھاگے اور ایک وقت ایسا آیا کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس صرف ایک شخص رہ گیا یہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل تھا جس نے مدد کی اور آپ کو دُشمن کے نرغہ سے بچالیا لیکن جہاں تک ظاہری تدبیر کا سوال ہے اُس وقت جو صورت پیدا ہو گئی تھی اُس میں رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی شہادت یقینی تھی۔ خدا تعالیٰ نے ہی معجزہ دِکھلایا ورنہ بھاگنے والوں نے تو آپ کو دُشمن کے سپرد کر دیا تھا۔ اگر وہ ساتھ نہ جاتے تو خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو کوئی اَور تدبیر بتا دیتا جس سے آپ کی جان محفوظ رہتی اور طائف بھی فتح ہو جاتا۔آخر مدینہ بھی تو بغیر لشکروں کے فتح ہؤا تھا۔
    پس تمہارے سامنے دونوں طریق موجود ہیں۔ زیادہ صحیح یہی ہے کہ ہر احمدی تحریک جدید میں حصّہ لے اور بڑھ چڑھ کر حصّہ لے۔ زندگی کو اتنا سادہ بنا لے کہ اس پر یہ قربانی دُوبھر نہ ہو اور تمام وعدے پہلے تین چار ماہ میں ہی ادا ہو جائیں۔ دوسرا مقام یہ ہے کہ تم بالکل انکار کر دو کہ ہم اس میں حصّہ نہیں لیں گے لیکن یہ سب سے خطرناک ہے کہ تم وعدہ کرو اور اُسے وقت کے اندر پورا نہ کرو۔ تم پہلے یہ چیز پوری طرح سمجھ لو اور پھر کام کرو۔ چاہئے کہ تم سب اِس میں شامل ہو جاؤ۔ اپنی زندگی کو سادہ بناؤ اور وعدے کو وقت کے اندر پورا کرو یا تم میں سے ایک حصّہ یہ کہہ دے کہ ہم آپ کے ساتھ اسلام کی جنگ میں شریک نہیں ہو سکتے لیکن اگر تم وعدہ کرو اور پورا نہ کرو تو یہ منافق کا کام ہے تم اِس صورت میں خدا تعالیٰ کے سامنے کبھی بھی اپنی براء ت نہیں کر سکتے۔ تم خود سمجھ لو کہ اِن تینوں فریقوں میں سے تم کون سے فریق میں شامل ہو۔ جب تم وعدہ لکھاتے ہو تو کہتے ہو کہ خداتعالیٰ کے فضل سے ہم نے وعدہ لکھوا دیا ہے لیکن دل میں یہ کہتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے غضب کے ماتحت ہم نے اس وعدہ کو پورا نہیں کرنا۔ یہ کتنی خطرناک چیز ہے کہ ایک دوست کے سامنے جس کا تم پر کوئی تصرف نہیں وہ تمہیں اگلی زندگی میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ تم خوش ہونا چاہتے ہو لیکن خدا تعالیٰ کے سامنے تم اپنا مُنہ کالا کرتے ہو جس سے تمہارا ہر وقت کا واسطہ ہے۔ اِس سے بہتر تھا کہ تم ادنیٰ درجہ کے مومن بن جاتے اور منافقوں میں تمہارا شُمار نہ ہوتا۔ (الفضل ربوہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۵۱ئ)
    ۱؎ المعجم الکبیر جلد ۶ صفحہ ۲۲۸ مطبوعہ عراق ۱۹۷۹ئ
    ۲؎ بخاری کتاب الایمان باب علامات المنافق
    ۳؎ المائدہ: ۲۵



    خدام ہر جگہ مجالس قائم کریں
    اور چندہ کو منظّم کریں



    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    خدام ہر جگہ مجالس قائم کریں
    اور چندہ کو منظّم کریں
    (فرمودہ ۱۳؍اکتوبر ۱۹۵۱ء برموقع اجتماع خدام الاحمدیہ بوقت سوا سات بجے شام بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’چونکہ اِس سال گرمی زیادہ پڑی ہے اور میری طبیعت کمزور ی کی وجہ سے گرمی برداشت نہیں کر سکتی اِس لئے مَیں خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں گزشتہ سال جتنا حصّہ نہیں لے سکا اس لئے مَیں نے چاہا کہ رات کے وقت ایک مختصر سی تقریر کردوں تا آخری تقریر کو ساتھ ملا کر تین تقاریر ہو جائیں۔ درحقیقت یہ وقت علمی مقابلوں کا ہے اور مَیں نے پروگرام پر غور کر کے سمجھا کہ مَیں اِس وقت میں سے کچھ وقت تقریر کے لئے لے سکتا ہوں کیونکہ علم کے ساتھ تربیت اور ہدایات کا تعلق ہے اِس لئے علمی مقابلوں کے وقت سے تقریر کے لئے کچھ وقت بچانا درست ہو سکتا ہے چنانچہ مَیں نے کہلا بھیجا کہ مَیں سات بجے آؤں گا اور تقریر بھی کروں گا۔
    میرے نزدیک کل جو شوریٰ ہونے والی ہے اُس میں اِس امر پر بھی غور کر لیا جائے کہ آئندہ سالانہ اجتماع کِن دنوں میں ہؤا کرے۔ کل جب مَیں تقریر کر رہا تھا تو مَیں نے دیکھا کہ تین چار نوجوان بیہوش ہو گئے اور اُنہیں اُس جگہ پہنچایا گیا جہاں طبّی امداد کا انتظام ہے۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ اِس سال اتنی گرمی پڑ رہی ہے کہ اس میں کھڑا ہونا مشکل ہوتا ہے اور ہر نوجوان اس کی برداشت نہیں کر سکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جو قومیں اپنے وطن اور اس کے حالات کو یاد رکھتی ہیں وہ اپنے آپ کو اُس کے مطابق بنانے کی کوشش کرتی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم گرم مُلک والے ٹھنڈے مُلک والے حاکموں کے ماتحت ایک لمبا عرصہ گزار چکے ہیں اور اُن کو آسائش اور آرام کے لئے جو سامان کرتے ہم نے دیکھا اور اُس میں ہمیں بعض فوائد نظر آئے ہم نے اُن کی نقل شروع کر دی۔ اب ہم واقعات سے اتنے مجبور ہو گئے ہیں کہ خواہ ان سے بچنے کی کتنی کوشش کریں ان سے بچ نہیں سکتے۔ ورنہ عرب اور افریقہ کے لوگ جن کے مُلک میں اتنی گرمی پڑتی ہے کہ ہمارے مُلک کی گرمی اُس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں وہ دھوپ میں بہت اچھی طرح چلتے پھرتے ہیں اور گرمی کا انہیں احساس بھی نہیں ہوتا۔ اِس کی وجہ یہی ہے کہ اُنہوں نے اپنے مُلک کے حالات کو دیکھا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ جب اُنہوں نے عرب اور افریقہ جیسے گرم ممالک میں بودوباش اختیار کی ہے تو اُنہوں نے اپنی روزی بھی وہیں سے تلاش کرنی ہے اِس لئے اُنہوں نے بچپن سے ہی ایسی عادات پیدا کر لی ہیں کہ وہ گرمی برداشت کر لیتے ہیں لیکن ہمارے مُلک کے لوگوں نے مُلکی حالات کے مطابق اپنے حالات نہیں بنائے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے مُلک پر جو لوگ حاکم تھے اُنہوں نے جب اپنے آرام کے لئے پنکھوں کا انتظام کیا تو یہ خیال کیا کہ اگر اُنہوں نے اپنے ماتحت کلرکوں کے لئے ایسا انتظام نہ کیا اور اُن کے کمروں میں بجلی کے پنکھے نہ لگوائے تو کام پوری طرح نہیں ہو گا اِس لئے اگرچہ اُنہوں نے بجلیاں اپنے کام کے لئے چلائیں لیکن بجلی کے پنکھے اُنہوں نے کلرکوں کے کمروں میں بھی لگا دیئے حالانکہ پٹھانوں ، مغلوں اور دوسرے راجوں مہاراجوں کے زمانہ میں یہاں بجلیاں نہیں تھیں وہ اِنہی مُلکوں میں رہتے تھے۔ یہاں گرمی پڑتی تھی اور وہ لوگ اس میں رہنے کی مشق کرتے تھے، اِس وجہ سے اُنہیں گرمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ آہستہ آہستہ جب ہم اپنے مُلک کے حالات کو سُدھاریں گے یا ہمارا مُلک سُدھرجائے گا تو یہ دونوںباتیں ممکنات میں سے ہو جائیں گی۔ یا تو انگریزوں کے جانے کے بعد لوگ آرام و آسائش کے خیال کو چھوڑ دیں گے اور وہ افریقہ اور عرب جیسے ٹروپیکل کنٹریز (Tropical Countries) کی طرح گرمی کو اپنالیں گے اور اسے برداشت کرنے کی مشق کریں گے اور یا سائنس میں ترقی کر کے مُلک کے حالات کو اپنے مطابق بنالیں گے۔ جیسے یورپ نے ترقی کر کے کمروں کو گرم کرنے کا طریق نکال لیا ہے اور ایسی ایجادیں کر لی ہیں جن سے اُن کی زندگی آرام اور آسائش والی ہو گئی ہے اسی طرح ہمارے مُلک کے لوگ ترقی کر کے ایسی ایجادیں کر لیں گے جن سے فضا ٹھنڈی ہو جائے گی اور تمام لوگ اس مُلک میں اُسی طرح رہیں گے جس طرح وہ ایک درمیانی گرمی والے مُلک میں رہتے ہیں یا جس طرح لوگ پہاڑوں پر رہتے ہیں۔ غرض جب مُلک ترقی کرے گا تو ہمارے مُلک کے لوگ اپنے حالات کو گرمی کے مطابق بنا لیں گے یا ہمارے عالم اور سائنسدان گرمی کو ہمارے حالات کے مطابق بنا دیں گے۔ بہرحال کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا کیونکہ جب کوئی قوم ترقی کرتی ہے تو وہ ماحول کو اپنے مطابق بنا لیتی ہے یا اپنے آپ کو ماحول کے مطابق بنا لیا کرتی ہے لیکن جب تک یہ زمانہ نہیں آتا ہمیں یہ احتیاط کرنی چاہئے کہ ہم اپنے اجتماع کو ٹھنڈے موسم میں کریں۔
    ہمارے مُلک میں بدقسمتی سے یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ جو چیز انگریز نے پیدا کی ہے وہ تم نہ کرو اور یہ انگریزوں سے نفرت اور اُن کی بد سلوکیوں کی وجہ سے ہے۔ انگریز اپنے ایک خاص دن کی یاد میں دسمبر کے مہینہ میں سات آٹھ دن کی چھُٹیاں دیا کرتا تھا۔ اب ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک نے وہ چھُٹیاں منسوخ کر دی ہیں حالانکہ ہر قوم کو اجتماع کی کوئی نہ کوئی صورت پیدا کرنی چاہئے اور اس کے لئے بہترین دن سردی کے ہیں۔ محرم نے تو چکر کھانا ہے اِس سال اکتوبر میں آیا ہے تو دوسرے سال اِس کے کچھ دن ستمبر میں آجائیں گے۔ تیسرے سال محرم ستمبر کے درمیان آجائے گا، چوتھے سال ستمبر کے شروع میں آجائے گا اور پانچویں سال اس کے کچھ دن اگست میں آجائیں گے، اِس طرح ۱۶،۱۷ سال برابر بدلتا جائے گا۔ گویا ۱۷ سال تک ہماری قوم کو ایسے معتدل دن نہیں ملیں گے جن میں لوگ اجتماع کر سکیں یا وہ مل کر باتیں کر سکیں۔ انگریز کے زمانہ میں ہماری ساری ضروریات دسمبر کے مہینہ میں پوری ہو جاتی تھیں خواہ نام ان کا کرسمس رکھ لیں لیکن بہرحال وہ دن ایسے تھے کہ ہمارے اجتماع آرام سے گزر جاتے تھے۔ اب اگر انگریز چلے گئے ہیں تو اِن دنوں کا نام کرسمس نہ رکھو نیشنل ہالیڈیز(National Holidays) رکھ لو تا قوم کو اجتماع وغیرہ کا موقع مل سکے۔ انگریزوں نے اپنے رواج کے مطابق سال میں بعض ایسے دن رکھ لئے تھے جن میں وہ اکٹھے ہوتے تھے اور باتیں کرتے تھے۔ اُن کے جانے کے بعد اب کوئی بھی قومی تہوار کے دن نہیں جن میں اجتماع وغیرہ ہو سکے۔ یورپ میں کرسمس اور ایسٹر کے نام سے سال میں بعض چھُٹیاں آجاتی ہیں اِسی طرح سال میں اور دن بھی مقرر ہیں جن میں قوم کے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور اپنے معاملات پر غور کرتے ہیں۔ ہمیں بھی ایسے دن بنانے پڑیں گے اور جب ہمیں ایسے دن بنانے پڑیں گے تو کیوں نہ ہم ابھی سے ایسے دن بنا لیں۔ اگر محرم دس دن قبل ہؤا تو یہ اجتماع نہیں ہوسکے گا۔ اِس سال حج میں جو آج سے کچھ دن قبل ہؤا تو کسی وجہ سے سات ہزار حاجی مر گیا ہے اگر ہم ابھی سے کوئی تجویز نہیں کریں گے تو ہم قومی جانیں ضائع کرنے کا موجب ہوں گے۔ جب آئندہ ایسے دن نظر آرہے ہیں تو کیوں نہ ہم ابھی فیصلہ کر لیں۔ آخر ہم میں سے کتنے لوگ ملازم ہیں جو چھُٹیوں کے نہ ہونے کی وجہ سے اجتماع سے رہ جائیں گے۔ کراچی میں کوئی پچاس ہزار ملازم ہیں جن میں قریباً … ملازمین احمدی ہوں گے اور ان میں سے اجتماع کے موقع پر ربوہ آنے والے چھ سات ہوں گے ۔ کیا ان چھ سات افراد کو اجتماع کے لئے چھُٹیاں نہیں مل سکیں گی؟ سال میں ۲۰ دن کی چھُٹیوں کا گورنمنٹ نے بھی حق دیا ہؤا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے چھ سات افراد چھُٹی حاصل کرنا چاہیں اور اُنہیں چھٹی نہ ملے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ ضرورت کے وقت حکومت چھُٹیاں روک لے لیکن یہ دقّت اُس وقت ہو گی جب لوگ کثرت سے یہاں آئیں گے۔ اور جب لوگ کثرت سے آئیں گے نہیں تو حکومت کا دوچار پانچ دس افراد کو رُخصت دینے میں کیا حرج ہے۔ پھر تمہارا بیس دن کی چھُٹی کا حق بھی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم اجتماع کے لئے کوئی دن مقرر کر لیں اور اِن دنوں میں چھُٹیاں حاصل کر کے لوگ یہاں آجایا کریں۔ اِسی طرح اور جگہوں کو دیکھ لو۔ پچھلے سال کوئٹہ سے کوئی بھی نہیں آیا تھا۔ اب پتہ لگا ہے کہ اس سال دو نمائندے کوئٹہ سے آئے ہیں۔ اب کیا کوئٹہ شہر سے دو آدمیوں کو رخصت نہیں مل سکتی۔ آخر اِن کی رخصت میں حکومت کیوں روک ڈالے گی۔ یہی حال لاہور کا ہے۔ لاہور کی دس لاکھ کی آبادی ہے اور ان میں سے پچاس ہزار کے قریب ملازم ہوں گے جن میں سے بہت تھوڑی تعداد ہماری ہے۔ اب اگر لاہور سے آٹھ دس آدمی اجتماع پر آجائیں تو کیا وجہ ہے کہ اُن کی رخصت کا انتظام نہ ہو۔ اگر یہاں آنے والوں میں ملازمین کی کثرت ہوتی یا ہم سب ملازموں کو یہاں بُلاتے تو حکومت کے لئے مُشکل پیدا ہو سکتی تھی لیکن جب یہاں آنے والوں میں ملازمین کی کثرت بھی نہیں اور نہ ہم سب ملازمین کو یہاں بُلاتے ہیں صرف چند نمائندے یہاں آتے ہیں اور اُن کی نسبت اتنی بھی نہیں ہوتی جتنی آٹے میں نمک کی ہوتی ہے تو اس سے کیا فرق پڑ سکتا ہے۔ پھر کیوں نہ خدام اس موقع پر چھُٹیاں لے کر آئیں۔ یہ کیا بات ہے کہ چھُٹیاں ملیں گی تو ہم آئیں گے ورنہ نہیں آئیں گے۔ قوم کو سال میں دو تین دن کی ضرورت ہو اور وہ بھی لوگ پیش نہ کر سکیں۔ میرے اپنے خیال میں چونکہ دسمبر میں جلسہ سالانہ بھی ہوتا ہے اِس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سالانہ اجتماع نومبر کے پہلے ہفتہ میں ہو۔ لاکھوں کی جماعت ہے جن میں سے اِس اجتماع پر صرف ۵۵۵ دوست باہر سے آئے ہیں اور اِن میں سے اکثر ایسے ہوں گے جو جلسہ پر بھی آجائیں گے اس لئے اگر نومبر کے پہلے ہفتہ میں اجتماع رکھ لیا جائے تو اِس کا جلسہ سالانہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ خدا تعالیٰ انہیں توفیق دے گا تو وہ دوبارہ بھی آجائیں گے۔ جو لوگ دُور سے آئے ہیں وہ کوئی چالیس پچاس ہوں گے اور اِن میں سے دس بارہ ایسے افراد ہوں گے جو دوبارہ جلسہ سالانہ پر نہ آسکتے ہوں اِس لئے ساری جماعت کے فائدہ کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔ کل شوریٰ میں اس کے متعلق فیصلہ کر لیا جائے آئندہ یہ اجتماع محرم کے دنوں میں نہیں ہو سکے گا کیونکہ محرم آئندہ اٹھارہ سال گرمی کے موسم میں آئے گا اور گرمی برداشت نہیں ہو سکے گی۔
    مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اِس سال اجتماع میں نمائندگان کی حاضری بہت کمزور ہے۔ گزشتہ سالوں میں رپورٹ میں مقابلہ کیا جاتا تھا کہ پچھلے سال اتنے خدام حاضر ہوئے تھے اور اب اتنے خدام آئے ہیں لیکن اِس سال یہ حوالہ نہیں دیا گیا اور جب حوالہ نہ دیا گیا تو مجھے شک پڑا اس لئے مَیں نے کہا پچھلے حوالے لاؤ۔ جب وہ حوالے لائے گئے تو معلوم ہؤا کہ پچھلے سال بیرون جات سے ۵۹۰ خدام آئے تھے اور اِس سال ۵۵۵ خدام آئے ہیں۔ پچھلے سال بیرونی جماعتوں کی نمائندگی ۷۳ تھی لیکن اِس سال صرف ۵۴ مجالس کے نمائندے آئے ہیں۔ گویا اس سال ۴-۱ کی کمی آگئی بلکہ ۴-۱ سے کچھ زیادہ کی کمی ہے۔ یہ حالت تسلی بخش نہیں۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ چند نمائندے زیادہ آتے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر واقعہ میں اپنے فرائض کو ادا کیا جاتا اور خدام اپنے وعدے پورے کرتے تو اِس سال سینکڑوں نئی جگہوں میں جماعتیں قائم ہو جاتیں۔ اور اگر ان نئی جماعتوں میں سے دس فی صدی جماعتوں کے نمائندے بھی یہاں آتے تو پچھلے سال مجالس کی نمائندگی جو ۷۳ تھی اب ۱۰۰ ہو جاتی۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدام نے صحیح طور پر اپنے فرائض کو ادا نہیں کیا۔
    ایک اور چیز جس کا رپورٹ میں ذکر نہیں کیاگیا وہ یہ ہے کہ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اِس سال کتنی نئی مجالس قائم ہوئی ہیں اور ان نئی مجالس میں سے کتنی مجالس کے نمائندے یہاں آئے ہیں۔ پچھلے سال مَیں نے کہا تھا کہ ہر گاؤں اور ہر شہر میں مجالس قائم کرو اِس لئے چاہئے تھا کہ مجلسِ عاملہ مجھے بتاتی کہ پچھلے سال کُل تعداد مجالس کیا تھی اور اب کیا ہے ۔ مجھے ابھی بتایا گیا ہے کہ اِس سال ۲۹ نئی مجالس قائم ہوئی ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو پچھلے سال ۲۹ مجالس کم تھیں لیکن ۷۳ مجالس کے نمائندے اجتماع پر آئے تھے اب ۲۹ مجالس زیادہ بھی ہو گئی ہیں لیکن صرف ۵۴ مجالس کے نمائندے یہاں آئے ہیں۔ اگر اِن مجالس میں سے پانچ سات مجالس بھی ایسی ہیں جو اِس سال نئی قائم ہوئی ہیں تو اِس کے معنے یہ ہیں کہ پُرانی مجالس میں سے ۴۵ یا ۴۶ مجالس کے نمائندے آئے۔ اِس طرح حاضری میں کوئی ۴۰فیصد کی کمی آگئی اور یہ بات نہایت افسوسناک ہے۔ اِس طرف توجہ کرنی چاہئے۔ یہ کام مجلسِ عاملہ کا ہے اُسے اِس طرف خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے۔
    اِس سال سوائے لڑائی اور شکایتوں کے مجلسِ عاملہ نے کوئی کام نہیںکیا۔ آپس کے جھگڑوں پر اِس نے وقت ضائع کیا ہے اصل کا م کی طرف توجہ نہیں کی۔ لیکن جہاں یہ بات افسوسناک ہے کہ مجلس عاملہ نے کوئی کام نہیں کیا وہاں مجھے یہ دیکھ کر خوشی بھی ہوئی ہے کہ ہماری تنظیم میں ترقی ہوئی ہے۔ ایک تو ۲۹ نئی مجالس قائم ہوئی ہیں۔ اگرچہ یہ تعداد تسلی بخش نہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ ہمارا قدم پیچھے نہیں ہٹا بلکہ کچھ آگے ہی بڑھا ہے مگر یہ کہ جتنا قدم آگے بڑھنا چاہئے تھا اُتنا نہیں بڑھا۔ دوسری خوشی کی بات یہ ہے کہ ہمارا چندہ منظم ہو رہا ہے۔ پچھلے سال کے چار ہزار روپیہ چندہ کے مقابلہ میں اِس سال کا چندہ آٹھ ہزار روپیہ سے کچھ زائد ہے اور یہ چیز بتاتی ہے کہ مجالس اپنے فرائض کو سمجھ رہی ہیں۔ اگر ہر جگہ مجالس قائم ہو جائیں اور چندہ منظم ہو جائے تو چالیس پچاس ہزار روپیہ چندہ اکٹھا ہونا کوئی مشکل امر نہیں۔ ابھی ہم نے مرکز بنانا ہے۔ لجنہ اماء اﷲ اپنا مرکز بنا چُکی ہے۔ لنگر کے سامنے شمال کی طرف یہ عمارت بنی ہے خدام اسے دیکھ لیں۔ پچھلے سال کسی نے کہا تھا کہ عورتیں آخر ہم سے ہی چندہ لیتی ہیں اور مَیں نے کہا تھا کہ عورتیں پھر بھی تم سے زیادہ ہمت والی ہیں کہ تمہاری جیب سے لے کر چندہ دے دیتی ہیں لیکن تم خود چندہ نہیں دے سکتے۔ دیکھو اُنہوں نے کارکنات کے لئے الگ مکانات بھی بنالئے ہیں۔ مَیں جب وہاں سے گزرتا ہوں تو سمجھتا ہوں کہ اِن مکانات میں رہنے سے اُنہیں زیادہ آرام مل سکتا ہے لیکن تم نے یہ کام ابھی کرنا ہے۔ مَیں نے خدام کو ۱۲ کنال زمین اس لئے دی ہے کہ وہ اس میں اپنا مرکزی دفتر تعمیر کریں۔ پس اپنے چندہ کو بڑھاؤ اور ہر جگہ خدام الاحمدیہ کی مجالس قائم کرو۔ اگر سب جگہ مجالس قائم ہو جائیں اور ہمارا چندہ منظم ہو جائے تو مَیں سمجھتا ہوں یہ کام کچھ مشکل نہیں۔ پندرہ بیس ہزار روپیہ قرض بھی لیا جاسکتا ہے جو اگلے سال آسانی سے اُتر سکتا ہے۔‘‘ (الفضل ربوہ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۶۲ئ)



    رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا
    بلند کردار اور اعلیٰ صفات
    قرآن مجید سے معلوم ہوتی ہیں


    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا بلند کردار اور
    اعلیٰ صفات قرآن مجید سے معلوم ہوتی ہیں
    (خطاب فرمودہ ۱۸؍نومبر ۱۹۵۱ء بر موقع جلسہ سیرۃ النبی ؐبمقام بیت مبارک ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’مَیں آج محض اِس غرض کے لئے جلسہ میں آگیا ہوں کہ مجھے عرصہ سے سیرت النبی ؐ کے جلسوں میں بولنے کا موقع نہیں ملا، ورنہ میری صحت اِس امر کی اجازت نہیں دیتی تھی کہ مَیں جلسہ میں آؤںاور تقریر کروں۔ میرا گلہ بیٹھا ہؤا ہے اور کھانسی کی شکایت ہے۔ کل بخار بھی رہا ہے اور اس سے پہلے بھی بخار آتا رہا ہے اِس لئے میرے لئے کھڑا ہونا مُشکل ہے۔ پس میری یہاں آنے کی اصل غرض یہ نہیں کہ مَیں کوئی تقریر کروں۔ تقریریں لوگ کرتے ہی ہیں بلکہ میری یہاں آنے کی غرض حصولِ برکت تھی جو اِس قسم کے جلسوں میں شمولیت کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ مَیں جب یہاں پہنچا تو اِس بات کو دیکھ کر مجھے سخت افسوس ہؤا کہ اکثر لوگوں نے اس بارہ میں بے توجہی سے کام لیا ہے۔ جو لوگ جلسہ میں حاضر ہیں وہ ربوہ کی آبادی کے تیسرے حصّہ سے بھی کم ہیں۔ جس کے یہ معنے ہیں کہ ہم باہر تو تحریک کرتے ہیں کہ احمدی اور غیر احمدی تو کیا، غیر مسلم بھی اس قسم کے جلسوں میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہوں لیکن خود ہماری دلچسپی کا یہ حال ہے کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے حالات سُننے کے لئے سال میں ہم ایک دن بھی نہیں نکال سکتے۔ اِس سال جلسہ کی حاضری دیکھ کر مَیں یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہوں کہ گزشتہ سالوں میں بھی ویسی ہی بے توجہی برتی گئی ہو گی اور کارکنوں نے اس پر کوئی نوٹس نہیں لیا ہو گا اور جماعت کے افراد کو ان کے فرائض کی طرف توجہ نہیں دلائی ہو گی۔ جس کا نتیجہ یہ ہؤا کہ وہ آہستہ آہستہ اپنے مقام سے گرتے چلے گئے اور آخر وہ دن آگیا جب اکثریت اپنے فرائض سے غافل ہو گئی اور صرف اقلّیت فرائض کو پہچاننے والی رہ گئی۔ پس بہرحال یہاں آنے کے نتیجہ میں مجھے ایک برکت تو حاصل ہو گئی۔ مجھے یہ معلوم ہو گیا کہ کارکن اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا نہیں کر رہے اور اس کے نتیجہ میں جماعت کی توجہ اس اہم کام کی طرف کم ہو گئی ہے۔
    دُنیا میں ہر چیز خواہ وہ بیماری ہو یا تندرستی، وہ دوسروں پر اثر ڈالتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مجلس میں اگر ایک شخص کھانستا ہے تو اس کے ساتھ دس افراد اور کھانسنے لگ جاتے ہیں حالانکہ وہ اس سے پہلے کھانس نہیں رہے تھے اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص کی کھانسنے کی آواز کان میں پڑتے ہی ساتھ والے افراد کے اعصاب بھی اسی قسم کی حرکت کرنے لگتے ہیں جس قسم کی حرکات کے نتیجہ میں کھانسی پیدا ہوتی ہے۔ مجلس میں ایک شخص اُباسی لیتا ہے تو جھٹ دس پندرہ اور افراد بھی اُباسی لینے لگ جاتے ہیں کیونکہ وہ اُسے اُباسی لیتے ہوئے وہی حالات اور کیفیات محسوس کرنے لگ جاتے ہیں جن حالات اور کیفیات کے نتیجہ میں اُباسی پیدا ہوتی ہے۔ ایک آدمی دَوڑتا ہؤا نظر آتا ہے تو دوسرے کئی لوگ بھی دَوڑنے لگ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کوئی حادثہ ہو گیا ہے یا کوئی تماشہ ہے جس کی طرف لوگ بھاگے جارہے ہیں۔ اِسی طرح دوسرے کاموں میں بھی خواہ وہ دینی ہوں یا دُنیوی لوگ ایک دوسرے کی نقل کرتے ہیں۔ اِسی طرح یہاں بھی ہؤا ہے جب دس پندرہ افراد نے سُستی کی اور کارکنوں نے اس طرف توجہ نہیں کی تو دوسری دفعہ پچاس، ساٹھ افراد نے سُستی سے کام لیا اور جب ان پر بھی کارکنوں نے کوئی ایکشن نہ لیا تو تیسری دفعہ سَو، دو سَو افراد نے سُستی سے کام لیا اور جب پھر بھی کارکنوں نے اس طرف توجہ نہ کی تو چار پانچ سَو افراد نے سُستی کی اور جب کارکنوں کو اتنی کمی نظر آئی تو اُنہوں نے سمجھ لیا کہ رسّہ ہاتھ سے نکل چُکا ہے اب اس کی اصلاح کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر جماعت کو اِنہی حالات میں سے گزرنے دیا گیا تو دس پندرہ سال کے بعد یہ حالت ہوجائے گی کہ دس بارہ سیکرٹری جمع ہو جایا کریں گے اور شاید اخبار میںیہ شائع کر دیا جایا کرے گا کہ نہایت شاندار جلسہ ہؤا، دُھواں دھار تقریریں ہوئیں، زور دار لیکچر دیئے گئے۔ اِس طرح یہ چیز الفضل کا ریزولیوشن بن کر رہ جائے گی، اس میں حقیقت نہیں ہو گی۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت کا نظارہ نہیں ہو گا بلکہ تمسخر ہو گا۔
    اب مَیں ہدایت دیتا ہوں کہ جلسہ میں آنے والوں کی لِسٹیں تیار کرو تاکہ نہ آنے والوں کی نگرانی کی جاسکے۔ پھر ان سے پوچھو کہ وہ جلسہ میں کیوں نہیں آئے؟ حقیقت یہ ہے کہ ان جلسوں کو چھٹی لینے کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔ یوم التبلیغ کو لے لو۔ اُس دن سب اداروں میں چھٹی ہوتی ہے لیکن کارکن تبلیغ کے لئے باہر نہیں جاتے اور جب کارکن تبلیغ کے لئے باہر نہیں جاتے تو اُنہیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی سُستی کرتے ہیں لیکن مجھے نظارت کی طرف سے چٹھی آجاتی ہے کہ ایک دن کی چھٹی منظور کی جائے، ہم نے تبلیغ کے لئے جانا ہے لیکن چھٹی ہو جانے کے باوجود نہ ناظر باہر جاتے ہیں نہ وکلاء باہر جاتے ہیں اور نہ دوسرے کارکن باہر جاتے ہیں۔ مَیں اِس چیز کو دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ آخر یہ غفلت کب دُور ہو گی؟ لیکن رپورٹیں آجاتی ہیں کہ سب لوگ تبلیغ کے لئے باہر گئے ہوئے تھے حالانکہ باہر جانیوالے صرف اُستاد، طالب علم اور کچھ مخلصین ہوتے ہیں۔ کارکنوں میں سے ایک چوتھائی حصّہ بھی باہر نہیں جاتا۔ تمام ناظر اور وکلاء گھروں میں جابیٹھتے ہیں اور اُس دن چھُٹی مناتے ہیں حالانکہ چھُٹی دی ہی اس لئے جاتی ہے کہ لوگ باہر جائیں اور تبلیغ کریں۔ اِس نقص کو دیکھ کر مَیں نے قادیان میں یہ حُکم دیا تھا کہ جو تبلیغ کے لئے باہر جائیں صرف انہیں چھُٹی دی جائے، باقی کارکن دفاتر میں کام کریں لیکن اس حُکم کے باوجود اس دن کو چھُٹی کا دن بنا لیا جاتا ہے۔ گویا یومُ التبلیغ کیا ہے قادیان کا قدموں کا میلہ ہے یا لاہور کا چراغاں کا میلہ ہے اور یا لائلپور کی طرح کی جانوروں کی منڈیاں ہیں۔ صحیح روح پیدا نہیں کی گئی۔
    پس مَیں سمجھتا ہوں کہ میرے یہاں آنے کے نتیجہ میں ایک فائدہ یہ بھی ہؤا ہے کہ مجھے پتہ لگ گیا ہے کہ کارکن اپنے فرائض کی طرف توجہ نہیں دے رہے۔ باوجود اِس کے کہ مجھے جلسہ میں آنے کی طاقت نہیں تھی، میری طبیعت خراب تھی لیکن کل خدا تعالیٰ نے میرے ذہن میں ڈال دیا کہ مَیں جلسہ میں ضرور جاؤں۔ مَیں ایک دو سال سے سُن رہا تھا کہ لوگ اس طرف پوری توجہ نہیں دیتے اور ان میں وہ جوش اور ولولہ نہیں ہوتا جو عاشق کو اپنے معشوق کی ملاقات کے وقت ہوتا ہے سو آج یہاں آنے سے اس کی تصدیق ہوگئی۔
    رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے حالات کوئی ایسی چیز نہیں ہیں کہ جنہیں کوئی انسان ایک بیٹھک میں یا ایک تصنیف میں بیان کر سکے۔ آپ کے اعمال، آپ کے اقوال اور آپ کے جذبات اتنے متنوّع تھے اور اتنی اقسام پر مشتمل تھے کہ انہیں ایک وقت میں یا ایک بیٹھک میں محسوب کر لینا، گِن لینا اورشُمار کر لینا انسانی طاقت سے بالا ہے۔ درحقیقت جس طرح رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے صفاتِ الٰہیہ کو بیان کیا ہے اور ایسے رنگ میں بیان کیا ہے کہ اور کوئی شخص اس طرح صفاتِ الٰہیہ کو بیان نہیں کر سکا اِسی طرح رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے حالات کو جس طرح قرآن کریم نے بیان کیا ہے یا خدا تعالیٰ نے ان کا احاطہ کیا ہے اُس طرح اور کوئی انسان ان کو بیان نہیں کر سکتا اور نہ ان کا احاطہ کرسکتا ہے۔
    احادیث کی کُتب میں حضرت عائشہ ؓ سے ایک قول مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا کَانَ خُلُقُہٗ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ ۱؎ اس کے ایک معنے تو یہ ہیں جو ہمیشہ کئے جاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی تمام صفات اور تمام خوبیاں قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں۔ یعنی قرآن کریم میں جن اخلاق کو سکھایا گیا ہے اُن سب پر رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے عمل کیا ہے۔ لیکن اس کے ایک دوسرے معنے بھی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اگر تم رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے اخلاق اور خوبیوں کو جمع کرنا چاہو اور اُن کا احاطہ کرنا چاہو تو وہ سب کی سب قرآن کریم میں مل سکتی ہیں۔ وہ سب کی سب کسی انسانی تصنیف میں نہیں مل سکتیں۔ انسان اگر رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے احکام، اعمال اور خوبیوں کو گِنے گا تو ان میں بہت سی کوتاہی رہ جائے گی اور جب تم اس کتاب کو دیکھو گے تو کہو گے اوہو! وہ فلاں خوبی بیان کرنا تو بھُول گیا لیکن قرآن کریم لکھنے والا بھُولتا نہیں۔ اس لئے جب تم قرآن کریم میں رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خوبیاں آپ کے اعمال و اقوال اور اخلاق دیکھو گے تو تم یہ نہیں کہو گے کہ اوہو! فلاں چیز رہ گئی ہے بلکہ تم یہ کہو گے کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم میں یہ خوبی بھی تھی لیکن مَیں نے اِس کا خیال نہیں کیا تھا۔ پس اگر کسی انسان نے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خوبیوں ، اخلاق اور اعمال و اقوال کا احاطہ کرنا ہو تو اِس کا ذریعہ یہ ہے کہ قرآن کریم کو دیکھا جائے اور معلوم کیا جائے کہ آپؐ کے کیا اعمال ہیں اور آپؐ کے کیا اقوال ہیں۔
    اِس میں کوئی شُبہ نہیں کہ قرآن کریم رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعریف ، سیرت اور سوانح پرمشتمل نہیں لیکن اِس میں یہ خوبی ہے کہ جب وہ کوئی مضمون لیتا ہے تو اس کے تمام متعلقہ مضامین کو اُس کے نیچے تہہ بہ تہہ جمع کر دیتا ہے۔ بالکل اُسی طرح جس طرح زمین کے طبقات ہوتے ہیں۔ اوپر کے طبقہ میں اور قسم کی مٹی ہوتی ہے، دوسرے طبقہ میں اور قسم کی مٹی ہوتی ہے، تیسرے طبقہ میں اور قسم کی مٹی ہوتی ہے۔ اور جب ہم کسی زمین کو دیکھتے ہیں تو اندازہ لگاتے ہیں کہ یہ زمین اچھی پیداوار دینے والی ہے یا بُری پیداوار دینے والی ہے۔ یہ کنکریلی زمین ہے یا اس میں عمدہ لیسدار مٹی پائی جاتی ہے اور اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس میں فصل اچھی ہو گی یا خراب ہو گی۔ مکان اچھے تعمیر ہوں گے یا خراب تعمیر ہوں گے، بنیادیں گہری کھودنی پڑیں گی یا تھوڑی، عمارت کئی منزلوں کی بن سکے گی یا وہ زمین زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکے گی لیکن ایک ماہر فن اس زمین کوکھودے گا تو کہدے گا کہ اتنے گز زمین کھودنے کے بعد پتہ لگتا ہے کہ اتنے ہزار سال پہلے اس جگہ میں پانی ہوتا تھا اور وہ اپنے اندر فلاں قسم کے جانور اور حیوانات رکھتا تھا۔ پھر وہ چند گز اور مٹی کھودے گا اور اس زمین سے جس کو سرسری طور پر دیکھ کر ہم نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ اس میں فصل زیادہ ہو گی یا کم، عمارت کئی منزلوں والی بن سکے گی یا نہیں، وہ ماہرِ فن یہ نتیجہ نکالے گا کہ فلاں فلاں وقت میں اس زمین میں یہ یہ تبدیلیاں اندرونی آگ یا گرمی کی وجہ سے پیدا ہوئیں یا دھاتوں نے پِگھل پِگھل کر اِس کے اندر یہ یہ تغیرات پیدا کر دیئے۔ اِسی طرح وہ نیچے چلتا جائے گا اور تاریخ کے مختلف زمانے بیان کرتا جائے گا۔ وہ محض اس زمین کو دیکھ کر دو دو تین تین ہزار سال تک کے واقعات بیان کرے گا اور یہ سب چیزیں زمین کے اندر مخفی ہوں گی۔ یہی حال قرآن کریم کا ہے۔ اس کے مطالب بھی الفاظ کی تہوں کے نیچے چھپے ہوتے ہیں۔ اگر زمین کی سب چیزوں کو باہر نکال کر پھیلا دیا جائے تو انسان کا زمین پر چلنا پھرنا مُشکل ہو جائے گا لیکن چونکہ وہ سب چیزیں زمین کے اندر تہہ بہ تہہ رکھی ہوئی ہیں اس لئے ہم اس کے اُوپر چلتے پھرتے ہیں لیکن جب اسے کھودتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مثلاً اِس کے اندر چونے کی چٹانیں ہیں۔ اگر وہ چُونے کی چٹانیں باہر نکال کر سطح پر پھیلا دی جائیں تو کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ یہاں ربوہ آباد ہو سکتا تھا؟ یہ جگہ بجائے آدمیوں کے چٹانوں سے بھری ہوئی ہوتی۔ اِس طرح وہ سب مطالب جو قرآنی الفاظ کی تہوں میں چھپے ہوئے ہیں باہر نکال لئے جاتے اور ظاہری الفاظ میں انہیں بیان کیا جاتا تو جیسے اس زمین کی اندر کی چیزیں اگر باہر آجائیں تو ربوہ آباد نہیں ہو سکتا تھا وہ چیزیں پھیل کر سینکڑوں میل کا علاقہ رُک جاتا اِسی طرح قرآن کریم کو بھی انسان نہیں پڑھ سکتا تھا۔ وہ اتنی بڑی کتاب ہو جاتی کہ کتاب نہ رہتی ایک عظیم الشان لائبریری ہو جاتی اور اس میں ہزاروں کُتب رکھی ہوئی ہوتیں۔ ایک نسلِ انسانی کہہ دیتی کہ ہم نے اس کے پانچ سَو صفحات پڑھے ہیں، دوسری کہتی کہ ہم نے اس کے ایک ہزار صفحات پڑھے ہیں۔ اب قرآن کریم ایک چھوٹی سی کتاب ہے لیکن زمین کی طرح اِس کی ایک تہہ کے نیچے ایک مضمون ہے دوسری تہہ کے نیچے دوسرا مضمون ہے تیسری تہہ کے نیچے تیسرا مضمون ہے اور اس طرح تھوڑے سے الفاظ میں ہزاروں مضامین بیان کر دیئے گئے ہیں۔ حفظ کرنے والے اِسے آسانی سے حفظ کر سکتے ہیں اور پڑھنے والے اِسے جلدی پڑھ لیتے ہیں۔
    رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے حالات اور سوانح بھی قرآن کریم میں تہہ بہ تہہ بیان کئے گئے ہیں۔ ظاہر الفاظ میں مضمون اَور ہوتا ہے لیکن ان کے نیچے اَور مضامین بھی ہوتے ہیں۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم جب مبعوث ہوئے تو پہلا مقام جہاں آپ پر کلامِ الٰہی نازل ہؤا وہ غار حرا تھی۔ دُنیا کے لیڈر جب کوئی اُمنگ رکھتے ہیں یا اپنے اندر کوئی خوبی دیکھتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو باہر لاتے ہیں اور اپنی خوبیوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کی توجہ اُن کی طرف پِھرتی ہے اور وہ اپنے اِرد گِرد ایک جماعت اکٹھی کر لیتے ہیں لیکن اِس کے بر خلاف رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم دُنیا سے الگ ہو گئے تھے۔ آپ غارِ حرا میں چلے جاتے تھے اور کئی کئی دن تک آپ وہاں عبادت کرتے تھے۔ غارِ ثور تک تو میں جا نہیں سکا میرے دل کو اُن دنوں تکلیف تھی اور غارِ ثور پہاڑ پر ایک ننگی جگہ واقع ہے اور اس کے نیچے کھڈ آتی ہے۔ عین اُس جگہ پہنچ کر کہ جہاں سے غارِ ثور قریباً سَو گز رہ گئی تھی مَیں بیٹھ گیا اور اپنے ایک ساتھی کو وہاں بھیجا کہ وہ غار دیکھ آئے۔ غارِ حرا میں مَیں خود گیا ہوں اور قریباً ایک گھنٹہ تک مَیں نے وہاں نماز پڑھی ہے اور دُعائیں کی ہیں۔
    غارِ حرا استعارہ کے طور پر غار کہلاتی ہے لیکن دراصل وہ غار نہیں بلکہ حرا پہاڑی پر چڑھ جائیں تو جو رستہ معروف ہے وَاﷲُ اَعْلَمُکہ یہی رستہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا بہرحال جو اِس وقت معروف رستہ ہے اس کے ذریعہ اگر پہاڑی کی چوٹی تک چلے جائیں تو اس کی چوٹی تک کوئی غار نہیں آتی۔ غارِحرا میں جانے کے لئے چوٹی سے نیچے اُترنا پڑتا ہے اور چند گز نیچے جاکر ایک جگہ آتی ہے جسے غارِ حرا کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ کسی زمانہ میں یہاں زلزلہ آیا جس کے نتیجہ میں چوٹی سے ایک پتھر گرا جو نیچے جاکر ایک پتھر پر ٹک گیا اور ایک پہلو پر ایک اَور پتھر آٹکا اس طرح وہ جگہ ایک کمرہ کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی جگہ ہے جس کا رقبہ سات آٹھ فٹ ہو گا کیونکہ مَیں نے جب وہاں نماز پڑھی ہے تو وہاں کوئی ایسی زائد جگہ نظر نہیں آتی تھی کہ دو تین آدمی وہاں بیٹھ جائیں لیکن یہ جگہ اُونچی ہے اور انسان کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے سیر کے دوران میں اِس جگہ کو دیکھا اور اِسے عبادت کے لئے چُن لیا۔ غار اُسے کہتے ہیں جو زمین کے اندر گھسی ہوئی ہو لیکن غارحرا زمین کے اندر گھسی ہوئی نہیں بلکہ وہ تین چار پتھرہیں جو ایک دوسرے کے سہارے کھڑے ہیں اور اِس طرح ایک کمرہ بن گیا ہے۔
    رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم غارِ حرا میں تشریف لے جاتے تھے اور وہاں عبادت کیا کرتے تھے وہ علیحدگی معمولی علیحدگی نہیں تھی۔ حرا مکّہ سے چار پانچ میل کے فاصلہ پر ایک ویران جگہ میں واقع ہے اس کے قریب کوئی آبادی نہیں۔ اِتنی دُور جاکر بیٹھنا بڑی ہمت کا کام ہے اور یہ کام انسان اُسی وقت کر سکتا ہے جب وہ دُنیا سے بیزار ہو جائے اور اس سے بالکل علیحدگی اختیار کرلے۔آپ نے اس جگہ عبادت کی اور اس سے آپ کا یہ مطلب تھا کہ مَیں نے دُنیا بالکل چھوڑ دی ہے جیسے ہندوؤں کے سادھو پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں اور اس طرح لوگوں سے علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت آپؐ کو یہ خیال آیا کہ یہ دُنیا رہنے کے قابل نہیں اصل ذات اﷲتعالیٰ کی ہے جس سے دل لگانا چاہئے۔ اس وجہ سے مکّہ سے دُور جاکر عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کھانے پینے کا سامان ساتھ لے جاتے ۔ اُس زمانہ کے لحاظ سے یہ سامان ستُّو، کھجوریں اور چھاگل پانی کی قسم کا ہؤا کرتا تھا اور عرب میں اتنی غذا کو کافی سمجھا جاتا تھا۔ شوربہ چاول تو دو چار دن تک کام نہیں دے سکتے۔ زیادہ دیر تک یہی خشک چیزیں کام دیتی ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ آپ کھانے پینے کا سامان ساتھ لے جاتے اور کئی کئی دن تک غار حرا میں عبادت کرتے۔ جب کھانے پینے کا سامان ختم ہو جاتا تو گھر واپس آتے اور مزید سامان لے کر واپس غارِ حرا چلے جاتے۔۲؎ اِس عرصہ میں آپ پر خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہؤا۔ ایک فرشتہ آیا اور اُس نے کہا ۳؎یہ پہلا کلام ہے جو آپ پر نازل ہؤا اور غارِ حرا میں نازل ہؤا۔ اِس کا ایک پہلو تو تعلیمی ہے اس کو مَیں اِس وقت نظر انداز کرتا ہوں۔ مَیں یہ کہتا ہوں کہ جب کسی سے کلام کیا جاتا ہے تو پہلا مخاطب وہی ہوتا ہے اور کلام میں اس کا لحاظ کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کے پہلے مخاطب عرب لوگ تھے اِس لئے اِس میں جو واقعات بیان کئے گئے ہیں وہ وہی ہیں جنہیں عرب لوگ جانتے تھے۔ قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے، حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے یا عرب کے بعض نبیوں اور قوموں کا ذکر ہے۔ جیسے ثمود اور عاد کا ذکر ہے جو عرب میں یا عرب کے کناروں میں گزری ہیں اور عرب لوگ ان سے واقف تھے لیکن قرآن کریم میں حضرت کرشن اور حضرت رام چندر علیہما السلام کا ذکر نہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کو قرآن کریم خدا تعالیٰ کا نبی نہیں مانتا۔ قرآن کریم نے ۴؎کہہ کر ان کی نبوت کو تسلیم کیا ہے۔ اِس کا ایک طرف یہ کہنا کہ ہر قوم میں نبی گزرا ہے اور دوسری طرف ان سب کا ذکر نہ کرنا بلکہ صرف اُن کا ذکر کرنا جو عرب کے علاقہ میں گزرے ہیں یا اُس کے اِرد گِرد گزرے ہیں یہ بتاتا ہے کہ قرآن کریم میں صرف اُن انبیاء اور قوموں کا ذکر ہے جو عرب کے ساتھ ساتھ تھیں اور عرب لوگ اُنہیں جانتے تھے کیونکہ جو شخص پیغام کو صحیح طور پر سمجھ نہ سکے وہ صحیح طور پر پیغام نہیں پہنچا سکتا۔ صحیح پیغام پُہنچانے کے لئے ضروری تھا کہ جن کو وہ پیغام دیا گیا ہے وہ اُسے سمجھ سکتے اِس لئے قرآن کریم میں صرف اُن انبیاء ؑ اور قوموں کا ذکر آتا ہے جن کو عرب لوگ جانتے تھے تا وہ ان واقعات سے نتیجہ اخذ کر سکیں اور اس کے بعد غیر معروف نبیوں کا صرف اصولی طور پر ذکر کر دیا گیا ہے۔ پس جب بھی کسی سے کلام کیا جاتا ہے تو کلام میں مخاطب کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ اب ایک فقرہ ہے جس میں بظاہر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پڑھ اپنے رب کا نام لے کر جس نے تجھے پیدا کیا ہے اور رب کے معنے ہیں وہ ذات جس نے انسان کو پیدا کیا اور پھر ایسے ذرائع مہیا کئے جن پر عمل کر کے وہ دُنیا میں ترقی کر سکتا ہے اور پھر بڑھاتے بڑھاتے انسان کو کمال تک پہنچا دیا۔ پس جہاں تک انسان کی پیدائش کا سوال ہے وہ لفظ رب میں آجاتا تھا اور یہ کہنا کافی تھا کہ پڑھ اُسی رب کا نام لے کر جس نے دُنیا کو پیدا کیا ہے لیکن اِس جگہ ’’اپنے رب‘‘ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور ان الفاظ سے بنی نوع انسان کی پیدائش اور ان کی ربوبیت کے مضمون سے ترقی کر کے خود اُس فردِ مخاطب کی پیدائش اور ربوبیت کی طرف توجہ پھیری گئی ہے جو قرآن کریم کا سب سے پہلا مخاطب ہے یعنی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم۔
    اِس آیت سے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی فطرت کا پتہ لگتا ہے۔ بہت سے انسان سوچ سمجھ کر کام نہیں کرتے بلکہ عادتاً یا رسم و رواج کی نقل میں کام کرتے ہیں۔ کسی کو اگر فرشتہ نظر آجاتا ہے تو یہ ایک شاندار حادثہ ہے اِس کے لئے اس شخص کو کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب انسان کوئی ایسی چیز دیکھتا ہے جو عام حالات میں سامنے نہیں آتی تو دوسرا بے شک یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ وہم ہے۔ لیکن جس شخص پر یہ بات گزرتی ہے وہ اسے وہم نہیں سمجھتا وہ اسے حقیقت سمجھتا ہے۔ مثلاً ایک شخص خواب میں سانپ دیکھتا ہے وہ روتا ہے، چیختا ہے اور دوڑتا ہے۔ اب دوسروں کے لئے تو یہ ایک خواب ہے لیکن جس نے یہ نظارہ دیکھا ہے اُس پر وہ تمام کیفیات طاری ہو جاتی ہیں جو فیِ الْواقعہ سانپ دیکھنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔ اِسی طرح فرض کرو کہ ایک شخص فرشتہ دیکھتا ہے لیکن دراصل وہ فرشتہ نہیں ہوتا بلکہ محض وہم ہوتا ہے تو بھی دیکھنے والے کے لئے وہ نظارہ نہایت ڈراؤنا اور ہیبت ناک ہوتا ہے۔ وہ ڈرتا ہے اور اُس کا دل مرعوب ہو جاتا ہے۔ اگر تمہیں محض ایک فرشتہ نظر آتا اور وہ کہتا اُٹھو اور فلاں کام کرو تو تم فوراً وہ کام کرنے لگ جاتے لیکن رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرشتہ نظر آتا ہے جنگل میں جہاں آپ اکیلے تھے۔ ایک ہیبت ناک چیز کا سامنے آجانا جو پہاڑوں کی پرواہ بھی نہیں کرتی اور اُنہیں طے کر کے آجاتی ہے کوئی کم ہیبت ناک نظارہ نہیں تھا مگر جب وہ فرشتہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے مخاطب ہوتا ہے اور کہتا ہے تو عالم الغیب خدا جانتا تھا کہ محمد رسول اﷲ صرف فرشتہ کے کہنے کی وجہ سے پڑھنے نہیں لگ جائیں گے وہ دلیل چاہیں گے۔ اِس لئے اُس نے اس پیغام میں جو آپ کو دیا گیا ساتھ دلیل بھی رکھ دی اورہی نہیں کہا بلکہ سے آپ کو مخاطب کیا گیا تا آپ کہہ سکیں کہ آپ کو کیوں پڑھنا چاہئے اور آپ کے پڑھنے میں کوئی فائدہ بھی ہو گا یا نہیں۔ اگر خالی کہا جاتا تو آپ خیال کر سکتے تھے کہ مَیں اپنی قوم کو اور اپنے شہر کو چھوڑ کر یہاں آگیا ہوں۔ میری قوم کو جو رُتبہ حاصل تھا مَیں نے اُس کی بھی پرواہ نہیں کی اس لئے کہ وہ جو کچھ کرتی تھی بِلادلیل کرتی تھی اب مَیں اس کی بات کیوں مانوں۔ پس آپ کے اخلاق کا پہلا حصّہ اِس آیت میں نظر آجاتا ہے اِس لئے کہ جب فرشتہ نے کہا تُو پڑھ تو اس نے اسی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ ساتھ ہی یہ بھی کہا تُو اپنے رب کا نام لے کر پڑھ جس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ یعنی جو خدا تیرا خالق و مالک ہے وہ اپنے خالق و مالک ہونے کی وجہ سے تجھے حُکم دیتا ہے بِلاوجہ حُکم نہیں دیتا۔ اِس سے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی فطرتِ صحیحہ کا اظہار ہوتا ہے کہ آپ کوئی کام بِلا وجہ اور بِلا دلیل نہیں کرتے تھے۔ جب کوئی انسان اس حکمت کے ماتحت کام کرنے لگ جائے تو خواہ اسے الہام کی روشنی نصیب نہ ہو ، وہ شاندار کام کر جاتا ہے۔ چنانچہ بعض جرنیلوں نے باوجود اسباب کی کمی کے نہایت شاندار کام کیا ہے اِس لئے کہ وہ فطرت کے مطابق چلتے تھے۔ خالد ؓ، سعد بن وقاص ؓ ، عمروبن عاص نے صحابہ ؓ میں سے اور موسیٰ ،طارق، محمد بن قاسم نے قرونِ اُولیٰ کے مسلمانوں میں سے اور چنگیز خان، قبلائی خاں اور باتو خاں اور تیمور نے ایشیائی مسلمانوں اور غیر مسلموں میں سے حیرت انگیز کام کئے ہیں۔
    چند دن ہوئے مَیں ’’باتو خاں‘‘ کے متعلق کچھ باتیں معلوم کرنے کے لئے انسائیکلوپیڈیا دیکھ رہا تھا تو مَیں نے اُس میں پڑھا کہ اُس کے زمانہ میں لاریاں نہیں تھیں، گاڑیاں نہیں تھیں اور نہ دوسرے موجودہ زمانہ کے نقل و حرکت کے سامان میسر تھے۔ باجود اِس کے وہ ایک لشکرِ جرار کے ساتھ آیا۔ یورپ کی تمام قومیں اور حکومتیںاس کے مقابلہ کے لئے اکٹھی ہو گئیں۔ وہ چکر کھا کر پولینڈ کی طرف چلا گیا، یورپین قومیں خوشیاں منانے لگیں کہ ہم باتو خاں سے بچ گئی ہیں لیکن ابھی وہ لوگ خوشی کا جشن ہی منا رہے تھے کہ وہ بجلی کی سی رفتار سے پولینڈ کو فتح کرتے ہوئے ہنگری کے اُن میدانوں میں اُترآیا جہاں یورپ کی فوجیں جمع تھیں۔ غرض باوجود سامانِ نقل و حرکت کے نہ ہونے کے یہ لوگ اس طرح سفر کرتے تھے جس طرح آندھیاں چلتی ہیں اور یہ محض ہوشیاری اور ذہانت کی وجہ سے تھا۔ وہ لوگ بے سوچے سمجھے کام نہیں کرتے تھے بلکہ عقل سے کام لیتے تھے۔ اِسی طرح تیمور تھا، نپولین تھا، یا اِس زمانہ میں ہٹلر تھا۔ چاہے وہ ناکام ہو گیا لیکن ایک عرصہ تک لوگ حیران تھے کہ وہ کیا کرتا ہے۔
    پس فطرتِ صحیحہ سے کام لینے والا شاندار کام کر جاتا ہے اور جب اس فطرت کے ساتھ نور مل جائے تو پھر نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ ہو جاتا ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ آپ کو ایسی فطرت عطا ہوئی تھی کہ اگر آگ نہ بھی ہوتی تب بھی وہ جل اُٹھتی۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ نور نے آکر فطرتِ صحیحہ کو نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍکر دیا تھا لیکن فطرتِ صحیحہ آپ کو پہلے سے عطا کی جاچکی تھی۔ خدا تعالیٰ کا پہلا کلام رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم پر کتنے ڈراؤنے اور حیران کُن حالات میں نازل ہوتا ہے۔ ایک شخص تنہائی میں شہر سے کئی میل دُور عبادت کر رہا تھا کہ ایک فرشتہ آتا ہے اور جن حالات میں وہ فرشتہ آتا ہے وہ کوئی کم ہیبت ناک نہیں۔ وہ حیران ہوتا ہے کہ یہ کیسا وجود ہے کہ جس طرح چاہتا ہے آتا ہے۔ جنگل اور پہاڑیاں بھی اسے روک نہیں سکتیں۔ اِس رُعب کی موجودگی میں اور اِس ہیبت ناک نظارہ کی موجودگی میں بھی خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ اگر کوئی بات رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے کہی جائے گی تو آپ کہیں گے، مَیں یہ کام کیوں کروں پہلے میری تسلی کرو۔ اِس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا تُو اپنے اس رب کے نام سے پڑھ جس نے تجھے پیدا کیا ہے یعنی ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دے دی۔ ’’‘‘ کہہ کر بتایا کہ تیرے پیدا کرنے والے کا تُجھ پر حق ہے تُو اِس حق کو پورا کرنے کے لئے یہ کام کر۔ مگر ابھی یہ سوال رہ جاتا تھا کہ کیا جن کی طرف پیغام بھیجا جا رہا ہے اُن پر بھی پیغام بھجوانے والے کا کوئی حق ہے؟ سو کہہ کر بتایا کہ وہ تیرا رب ہی نہیں سب مخلوق کو اس نے پیدا کیا ہے۔ پس اس کا حق ہے کہ ان سے بھی اپنی فرمانبرداری کا مطالبہ کرے۔ پس تجھے کسی ایسے کام کے لئے نہیں بھجوایا جاتا جس کا تجھے حق نہیں بلکہ تجھے بھجوانے والے کا اُن پر بھی حق ہے۔ اس آیت میں کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کی حد بندی نہیں کی گئی اس سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی صفت وسیع ہے اور اس کی مخلوقات کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ گویا قائم مقام ہے خَلَقَ کُلَّ الْمَخْلُوْقَاتِ کا۔ گویا اﷲ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ تُومیرا پیغام پہنچانے کے لئے تیار ہو جا اِس لئے کہ مَیں پیغام دینے والا تیرا پیدا کرنے والا اور تربیت کرنے والا ہوں اور جن لوگوں کی طرف بھجوا رہا ہوں وہ بھی میرے ہی پیدا کئے ہوئے ہیں۔ ان کے بارہ میں رَبِّھِمْ کا لفظ استعمال نہیں کیا کیونکہ وہ قرآنی پیغام سے پہلے خدا تعالیٰ کی کامل ربوبیت تلے نہیں آئے تھے بلکہ صرف کی صفت کے نیچے آتے تھے۔ اگر خالی یہ کہا جاتا کہتو اس سے شُبہ ہو سکتا تھا کہ شاید لوگوں پر جبر کیا جارہا ہے۔ آخر خدا تعالیٰ کو انہیں حُکم دینے کا کیا حق ہے۔ پس کے الفاظ زائد کر کے بتا دیا گیا کہ اﷲ تعالیٰ کا محمد رسول اﷲ ؐ پر اگر خالق و رب ہونے کا حق ہے تو دوسرے لوگوں پر خالق ہونے کا حق تو واضح ہے۔ گو رب ہونے کا حق ابھی مخفی ہے۔ جب تم خدا کے پیغامبر ہو کر ان تک خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا دو گے تو خداتعالیٰ کی ربوبیت کامل طور پر ان کی طرف بھی منتقل ہو جائے گی۔ گویا محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی فطرت کا اِن الفاظ میں نقشہ پیش کر دیا گیا ہے کہ آپ بِلا دلیل بات کو سُننے کے لئے کسی حالت میں تیار نہ تھے۔
    اِس مرحلہ کے بعد اب ایک اَور مرحلہ پیش آتا ہے۔ بے دلیل بات نہ کرنے کے علاوہ فطرتِ صحیحہ یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ کوئی بے نتیجہ کام اُس سے نہ کروایا جائے۔ مانا کہ خدا تعالیٰ کا حق ہے کہ وہ انسان کو حُکم دے مگر کیا اس کے حُکم کو ماننے کا کوئی امکان ہے؟ اگر اس کے ماننے کا کوئی امکان ہی نہیں تو یہ بے نتیجہ کام کیوں کیا جائے۔ اگلی آیت اس شُبہ کا ازالہ کرتی ہے۔ اس میںفرمایا گیا ہے کہ ۔ انسان کے اندر تعلق بِاﷲ کا مادہ رکھا گیا ہے اِس لئے خواہ تیرے مخاطب کتنے ہی تقویٰ اور خوفِ خدا سے دُور پڑے ہوئے ہوں فطرتاً ان کے اندر یہ صلاحیت موجود ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف لَوٹیں اور اُس سے محبت کریں۔ پس ظاہری حالات کے لحاظ سے یہ پیغام کتنا ہی کامیابی سے دُور نظر آتا ہے حقیقتاً ناممکن نہیں بلکہ اس کے کامیاب ہونے کے مخفی اور فطری سامان موجود ہیں۔
    بظاہر تو اِس دلیل میں انسانی فطرت کی پاکیزگی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے مگر باطناً اِس میں رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی فطرت کے اِس پہلو کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ آپ کوئی فضول اور بے نتیجہ کام کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ آپ وہی کام کرتے تھے جس کا کوئی فائدہ ہو۔ خواہ مادی خواہ قانونی یااخلاقی۔ اور یہ ایک بہت زبردست پاکیزہ فطرت پر دلالت کرنے والی بات ہے۔
    قرآن کریم ایک دوسری جگہ فرماتا ہے ہم نے انسان کو نُطفہ سے پیدا کیا ہے،نُطفہ سے ہم نے علقہ پیدا کیا اور علقہ سے مُضغہ بنایا۔ مُضغہ سے ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پرگوشت چڑھایا اور اس کے بعد اس کے اندر ایک اہم تغیر کر کے روح پیدا کی۵؎ لیکن اس آیت کے ایک تحت السطح معنے بھی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ عربی محاورہ میں خُلِقَ مِنْ شَیْئٍکے یہ معنے بھی ہوتے ہیں کہ اس کی فطرت میں یہ چیز رکھی گئی ہے مثلاً وَلَقَدْخَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلَالَۃِ مِّنْ طِیْنٍ۶؎ کے معنے ہوں گے کہ ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے لیکن جب ’’مِنْ عَجَلٍ‘‘ ۷؎ آجائے تو اِس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ ہم نے انسان کو جلدی سے پیدا کیا ہے۔ جلدی کوئی مادہ تو نہیں کہ اسے گھولا اور انسان پیدا کر دیا بلکہ اِس کے یہ معنے ہیں کہ انسان کی فطرت میں عُجلت رکھی گئی ہے۔ پس جہاں علق کے ایک معنے یہ تھے کہ ہم نے انسان کو اس حالت سے پیدا کیا ہے کہ وہ رحم سے چمٹا ہؤا تھا وہاں اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ ہم نے انسان کی فطرت میں محبت اور علاقہ کا مادہ رکھا ہے۔ جیسے ’’من عجل‘‘ کے عربی محاورہ کے رو سے یہ معنے ہیں کہ انسان کے اندر عجلت رکھی گئی ہے۔ پس کے ایک معنے یہ ہیں کہ انسان کی فطرت میں یہ مادہ رکھا گیا ہے کہ وہ کسی کا ہورہے۔ شعراء اور صوفیا کا خیال بھی یہی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پنجابی کا ایک مصرعہ سُنایا کرتے تھے جو اِس وقت مجھے یاد نہیں رہا لیکن اُس کا مطلب یہ تھا کہ یا تو تُو کسی کا ہو جا یا کوئی تمہارا ہو جائے۔ پسکے یہ معنے بھی ہیں کہ ہم نے انسانی فطرت میں محبت اور علاقہ کا مادہ رکھا ہے۔ ہم نے اسے اسی حالت پر پیدا کیا ہے کہ وہ کسی کا ہو رہے۔ اِس لئے اے رسول! تُو دوسرے لوگوں کے پاس جا اور اِس بات کا خیال نہ کر کہ بظاہر حالات وہ تیرے پیغام کو نہیں سُنیں گے کیونکہ ہم نے انسان کی فطرت میں یہ چیز رکھ دی ہے کہ وہ خداتعالیٰ کا ہو کر رہنا چاہتا ہے۔ بے شک جب تک اسے اصل چیز نہیں ملتی اس وقت تک کبھی وہ بیوی کا ہو رہتا ہے، کبھی بہن بھائی کا ہو رہتا ہے، کبھی وہ ماں باپ کا ہو رہتا ہے، کبھی وہ دوستوں کا ہو رہتا ہے، وہ درمیان میں بُھولتا پھرتا ہے مگر جب خدا تعالیٰ کے ملنے کا راستہ اُس پر کھل جاتا ہے تو پھر وہ خدا تعالیٰ ہی کا ہوکر رہتا ہے۔
    رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے جنگ بدر کے موقع پر دیکھا کہ ایک عورت کا بچہ گم ہو گیا ہے اور وہ میدانِ جنگ میں اپنے بچہ کو تلاش کرنے کے لئے ماری ماری پھر رہی ہے۔ اسے جہاں کوئی بچہ ملتا وہ اسے پیار کرتی اور گلے لگاتی لیکن جب دیکھتی کہ وہ اُس کا اپنا بچہ نہیں تو اسے چھوڑ دیتی اور آگے چلی جاتی یہاں تک کہ اُسے اپنا بچہ مل گیا۔ اُس نے اُسے پیار کیا، گلے لگایا اور ایک جگہ آرام سے بیٹھ گئی۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ آپ نے صحابہ ؓکو مخاطب کر کے فرمایا۔ یہی حالت خدا تعالیٰ کی ہوتی ہے۔ جس طرح یہ عورت جب اِسے کوئی بچہ ملتا ہے تو اُس سے پیار کرتی ہے، گلے لگاتی ہے اور جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ میرا بچہ نہیں تو اُسے چھوڑ کر آگے چلی جاتی ہے حتّٰی کہ اسے اپنا بچہ مل جاتا ہے اور وہ سکون سے ایک جگہ پر بیٹھ جاتی ہے۔ اِسی طرح اﷲ تعالیٰ اپنے بندہ کے لئے ہر وقت بیتاب رہتا ہے ۔ جب بندہ صحیح رنگ میں توبہ کر کے اُسے مل جاتا ہے تو وہ ویسا ہی سکون محسوس کرتا ہے جس طرح کا سکون اس ماں نے محسوس کیا ہے۔ ۸؎ پسکے معنے یہ ہیں کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس میں تعلق اور محبت پیدا کرنے کا مادہ رکھ دیا ہے اور اس میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اے رسول! تُو ان سے مایوس نہ ہو۔ ہم نے ان میں ایسا مادہ ودیعت کر رکھا ہے کہ وہ تجھے مانیں گے۔
    غرض میں بظاہر ایک پیغام دیا گیا ہے لیکن بباطن اس پیغام کے الفاظ میں محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اخلاق پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بِلا دلیل کسی کام کو کرنے کے لئے تیار نہ تھے نہ بِلا حق کسی سے کوئی کام کروانے کے لئے تیار تھے اور نہ کسی بے نتیجہ کام کو کرنے کے لئے تیار تھے۔ اِن تین اعلیٰ اخلاق کو پیش کر کے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اخلاقی مثال بھی دُنیا کے سامنے پیش کر دی گئی ہے۔
    اِس وقت میری صحت اِس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ مَیں کوئی لمبا مضمون بیان کروں۔ میری غرض اِس وقت آنے کی یہ تھی کہ تمہیں بتاؤں کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی فطرت کا نقشہ آپ کے پہلے الہام میں کس طرح بیان کیا گیا ہے۔ایک بااخلاق انسان کو جب کوئی کام دیا جاتا ہے تو پہلے وہ پوچھتا ہے کہ مجھے بتاؤ کہ مَیں تمہاری بات کیوں مانوں؟ مَیں ڈر سے کوئی بات ماننے کو تیار نہیں۔ جب اُس پر حق ثابت کیا جاتا ہے تو اعلیٰ اخلاق والا انسان یہ کہتا ہے کہ مَیں مانتا ہوں کہ آپ کا مجھ پر حق ہے لیکن اس کام کا تعلق دوسرے لوگوں سے ہے اِس لئے پہلے یہ بتاؤ کہ کیا تمہارا ان پر بھی حق ہے؟ اگر تمہارا ان پر بھی حق ہے تو پھر مَیں جاؤں گا اور یہ کام کروں گا۔ پھر جب یہ سوال حل ہو جاتا ہے تو اخلاقِ فاضلہ والا انسان یہ پوچھتا ہے کہ مخاطبین پر تمہارا حق سہی مگر کیا اِس پیغامبری کا مادی یا اخلاقی فائدہ ہے اور اس پیغام کے پہنچانے میں کوئی حکمت کار فرما ہے؟ اگر ایسا ہو تو مَیں یہ کام کر سکتا ہوں ورنہ نہیں کیونکہ اِس کے بغیر کام کرنے کے یہ معنی ہوں گے کہ گومَیں ایک فرض بجا لاتا ہوں، گو مَیں لوگوں کو اُن کے فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں مگر ایک بے فائدہ اور بے نتیجہ کام کرتا ہوں۔ چنانچہ فطرتِ صحیحہ کے اِس مظاہرہ کا بھی جواب اِس آیت میں دیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ کام بظاہر بے فائدہ نظر آتا ہے مگر حقیقتاً بے فائدہ نہیں نتیجہ خیز ہے اور مفید ہے۔
    غرض اِن آیات میں بتایا گیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر حق ہے کیونکہ اس نے آپ کو پیدا کیا ہے اور تربیت کر کے کمال تک پہنچایا ہے۔ پھر مخلوقات پر بھی اُس کا حق ہے کیونکہ وہ ان کا بھی خالق و مالک ہے۔ پھر انسان کی فطرت میں خدائی محبت رکھی گئی ہے اِس لئے یہ کہنا کہ آپ اس میں کامیاب نہیں ہوں گے غلط ہے۔ آج احمدی بھی کہتے ہیں کہ غیر احمدی کس طرح مانیں گے؟ تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو سے پیدا کیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں محبت کا مادہ رکھ دیا ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ تم نے اسے ننگا نہیں کیا۔ اِس پر جو پردے پڑے ہیں اِن پردوں کو تم نے اُٹھایا نہیں۔ اگر تم ان پردوں کو اُٹھاؤ گے تو تمہیں خدا تعالیٰ کا وجود نظر آجائے گا۔
    مَیں اب ضُعف محسوس کررہا ہوں اِس لئے اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں۔ مجھے افسوس ہے کہ جتنی آیات مَیں نے پڑھی تھیں مَیں ان سب کی تفسیر بیان نہیں کر سکا لیکن مَیں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ یہ جلسہ نہایت اہم ہے۔ یہ جلسہ اُس عظیم الشان انسان کے حالات اور سوانح بیان کرنے کے لئے ہے جو نہ صرف خود ایک عظیم الشان انسان تھا بلکہ اُس نے ہمیں بھی عظیم الشان بنا دیا ہے۔ اِس جلسہ میں چھوٹے بچوں کو گھسیٹ کر لانا چاہئے تاکہ معلوم ہو کہ تمہیں رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم سے والہانہ محبت ہے۔ محض خیالی محبت نہیں۔ (الفضل ۲۵؍مارچ ۱۹۵۲ئ)
    ۱؎ مسند احمد بن حنبل جلد ۶ صفحہ ۹۱ مطبوعہ بیروت ۱۲۱۳ ھ میں’’ کَانَ خُلُقُہُ الْقُراٰنُ‘‘
    کے الفاظ ہیں۔
    ۲؎ بخاری کتاب بدء الوحی باب کَیْفَ کَانَ بدء الوحی اِلٰی رَسُوْل اﷲ (الخ)
    ۳؎ العلق: ۲ تا ۶ ۴؎ فاطر: ۲۵ ۵؎ المؤمنون: ۱۴ ، ۱۵
    ۶؎ المؤمنون: ۱۳ ۷؎ الانبیاء : ۲۸
    ۸؎ بخاری کتاب الادب باب رحمۃ االولد و تقبیلہٖ و معانقتہٖ



    ہجرت





    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    ہجرت
    (رقم فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی )
    ’’آج سے قریباً ساڑھے تیرہ سَو سال پہلے بنی نوع انسان کے سردار، آخری شریعت کے حامل، مالکِ ارض و سما کے محبوب، اپنے اہلِ وطن کے ظلم و ستم سے ستائے جاکر، اپنے محبوب وطن کے چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔ مکّہ سے نکل کر آپ ؐ تین دن غارِ ثور میں چھُپے رہے۔ جب وہاں سے آپؐ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو آپؐ نے مکّہ کی طرف مُنہ کیا اور کچھ دیر تک محبت سے لبریز نگاہوں سے دیکھنے کے بعد کہا اے مکّہ! تُو مجھے دُنیا کی ساری جگہوں سے زیادہ پیارا ہے لیکن تیرے شہریوں نے مجھے یہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ۱؎
    یہ وہ آخری فقرہ تھا جو مکّہ کو وداع کہتے وقت میرے آقا نے کہا۔ اإس فقرہ کا ایک ایک لفظ اس غم اور رنج کی ترجمانی کر رہا ہے جو مکّہ کے چھوڑنے پر رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے دل میں پیدا ہو رہا تھا۔ آج ساڑھے تیرہ سَو سال کے بعد بھی ہمارے دل اِس فقرہ کو پڑھ کر ہاتھوں سے نکلنے لگتے ہیں تو قیاس کرو اُن لوگوں کا کیا حال ہو گا جنہوں نے وہ الفاظ عین موقع پر اپنے کانوں سے سُنے ۔ حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ اُس وقت آپؐ کے ساتھ تھے یہ الفاظ سُنتے ہی اُن کا دل بے قابو ہو گیا اور بے اختیار بو ل اُٹھے مکّہ نے اپنے نبی کو نکال دیا، اب یہ شہر اپنی تباہی کا انتظار کرے۔ مگر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا فقرہ کہنے کے بعد اس غم اور صدمہ کو جو مکّہ کے چھوڑنے پر آپؐ کے دل میں پیدا ہؤا تھا یکسر بھُلا دیا۔ وہ کامل وقار اور سکون کے ساتھ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ مکّہ آپؐ کو پیارا تھا مگر خدا تعالیٰ آپؐ کو اس سے بھی زیادہ پیارا تھا۔ خدا تعالیٰ نے ایک کام آپؐ کے سپرد کیا تھا وہ کام آپؐ کی ساری توجہ چاہتا تھا۔ مکّہ سے زیادہ مکّہ اور اُس کے گِردونواح کے دلوں کی فتح آپؐ کے مدّنظر تھی۔ مکّہ کا گردو نواح ہی نہیں بلکہ سارا عرب اور ساری دُنیا چِلّا چِلّا کر محمد ؐ عربی کو پُکار رہی تھی کہ ہمیں شیطان کے پنجہ سے چھُڑائیے اور اس کی دست بردسے نجات دِلوائیے۔ دُنیا کے نجات دہندہ نے اپنے غموں کو دُنیا کے غموں کے لئے قربان کر دیا۔ بے شک آپؐ کو آپؐ کے اہلِ وطن نے دھتکار دیا تھا لیکن آپؐ باوفا تھے، آپؐ اُن کو دھتکارنے کے لئے تیار نہ تھے۔ آپؐ نے مکّہ کو پیچھے چھوڑا مگر اِس عزمِ صمیم کے ساتھ کہ پھر مکّہ کو فتح کریں گے۔ مکّہ کی فتح کی خاطر نہیں مکّہ والوں کے دلوں کی فتح کی خاطر۔ اِس لئے نہیں کہ پھر اپنا وطن اپنے لئے حاصل کریں بلکہ اس لئے کہ جنت سے نکالے ہوئے اور دھتکارے ہوئے مکّہ والوں کو پھر اُن کے وطن جنت میں واپس لے جاکر داخل کریں۔ مدینہ جو آپؐ کا دارِہجرت تھا وہ موسمی بخار کا گھر تھا۔ جب آپؐ وہاں پہنچے تو طبعاً مہاجرین، جن کے وطن میں یہ بخار کم ہوتا تھا، مدینہ والوں سے بھی زیادہ اس کے شکار ہونے شروع ہوئے۔ بعض نے بخار کے حملہ میں رونا اور چِلّانا شروع کیا اور مکّہ کی یاد میں شعر گُنگنانے لگے۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے سُنا تو اِس پر خفگی کا اظہارفرمایا اور فرمایا کہ خدا کی تقدیر پر خوش ہونااور اُس کے مقررہ فرائض کو انجام تک پہنچانے میں لگ جانا ہی مومن کا کام ہے۔ اُس دن کے بعد حبشہ، یمن اور یونان سے آکر بسے ہوئے مکّہ کے عارضی باشندے تو کبھی کبھار مکّہ کی یاد میں آہیں بھرلیتے تھے مگر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جن کی نسل بنائے مکّہ سے لے کر اُس وقت تک مکّہ میں بس رہی تھی وہ مکّہ کو بھُلا چکے تھے۔ ان کے سامنے صرف دُنیا کو نجات دلانے کا کام تھا اور وہ اِسی کام میں لگ گئے اور اُس وقت تک صبر نہ کیا جب تک کہ دُنیا کو شیطان کے پنجہ سے چھڑانہ لیا۔ آپ نے یہ نہیں دیکھا کہ مکّہ والوں نے مجھے مکّہ سے نکال دیا ہے بلکہ اِس بات پر غور فرمایا کہ مکّہ نے مجھے کیوں نکالا؟ ایک پُر امن شہری اور خیر خواہِ خلائق فرد کو اپنے وطن سے نکال دینے والا کسی بڑی اور گہری اخلاقی اور رُوحانی بیماری میں مُبتلا ہوتا ہے۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو جو ہمدردی اور جو پیار بنی نوع انسان سے تھا اُس کو دیکھتے ہوئے کوئی شریف مکّہ والا آپؐ کو مکّہ سے نکلنے پر مجبور نہیں کر سکتا تھا۔ آپؐ کے لئے تو یہ بات حد درجہ بعید از قیاس تھی۔
    جب پہلی وحی ٔ نبوّت آپؐ پر نازل ہوئی، آپؐ کی رفیقۂ حیات حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا آپؐ کو ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس جو اُن کے رشتہ دار تھے، مگر عیسائی ہو چکے تھے، مشورہ کے لئے گئیں۔ ورقہ بن نوفل نے سارے حالات سُن کر کہا کہ ’’آپؐ پر وحی لانے والا فرشتہ وہی ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی لایا تھا۔ اور پھر کہا کاش! مَیں اُس وقت تک زندہ رہوں جب تمہاری قوم تمہیں اپنے وطن سے نکال دے گی تاکہ مَیں اس وقت پورے طور پر تمہاری مدد کر سکوں۔ اِس فقرہ کو سُن کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے محبت اور اُس ہمدردی پر نظر کرتے ہوئے جو آپ ؐ کے دل میں مکّہ والوں کے لئے تھی حیرت سے ورقہ کے مُنہ کو دیکھا اور کہا۔ کیا کہتے ہو؟کیا مکّہ والے مجھے نکال دیں گے؟ورقہ نے کہا۔ ہاں! ہاں! وہ ضرور تمہیں نکال دیں گے۔ لوگ نبیوں سے ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔۲؎ غرض مکّہ والوں کے متعلق یہ وہم بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ وہ ایسے خیر خواہ شخص کو اپنے وطن سے نکال دیں گے مگر اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔ اور یہ اِس بات کا ثبوت تھا کہ ان کے دل انسانی دل نہیں رہے تھے اور شیطان نے اُن پر قبضہ پالیا تھا۔ مگر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مکّہ میں جانا چاہتے تھے اور ایسا کرنے کا پُختہ ارادہ رکھتے تھے اِس لئے نہیں کہ آپؐ ان سے بدلہ لیں جنہوں نے آپؐ کو نکال دیا تھا بلکہ اِس لئے کہ اُن کو شیطان کے پنجہ سے چھُڑائیں اور شیطان کی جگہ خدا تعالیٰ کی حکومت پھر دوبارہ مکّہ میں قائم کر دیں۔
    آج بھی مشرقی پنجاب سے لاکھوں مسلمان اپنے گھروں سے نکالے گئے ہیں۔ اُنہیں یقینا اپنے وطن پیارے ہوں گے اور اپنی جائیدادوں کے جاتے رہنے کا غم ہو گا۔ ان کے دل ان لوگوں کے خلاف غصّہ اور رنج سے بھرے ہوئے ہوں گے جنہوں نے اُنہیں ان کے گھروں سے نکالا۔ ان جائیدادوں پر قبضہ کر لیا اور ان کی عزّت و ناموس پر حملہ کیا۔ مگر مَیں ان سے پوچھتا ہوں کہ ایسا کرنے والوں نے ایسا کیوں کیا؟ کیا اِن مہاجرین نے اپنی جائیدادیں ان سے چھین کر حاصل کی تھیں؟ کیا یہ مہاجرین غیر مُلکی لُٹیرے تھے جو مشرقی پنجاب میں زبردستی آگھسے تھے؟ کیا یہ مہاجرین مشرقی پنجاب کے ہندوؤں اور سکھوں کے ہمسائے نہ تھے ان کی خوشیوں اور غمیوں میں اُن کے شریک نہ تھے؟ اُن کے جتھوں اور اُن کی دھڑا بازیوں میں شامل نہ تھے؟ کیا یہ آپس میں ایسے ملے ہوئے نہ تھے؟ کیا یہ عدالتی مقدمات میں سکّھوں اور ہندوؤں کی گواہی میں بیسیوں مسلمان اُن کی طرف سے گواہ نہیں گزرتے تھے؟ پھر ان پُرانے ساتھیوں، دوستوں اور ہمسایوں نے اپنے ہی جسم کے کاٹنے کے لئے کیوں تلوار اُٹھائی؟ اپنی ہی عزّت و ناموس کو برباد کرنے کے لئے کیوں کھڑے ہو گئے؟ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنا مُلک کیوں اُجاڑا؟ یقینا کوئی گہری اور پوشیدہ اخلاقی بیماری ان کی رُوحوں کو لگی ہوئی تھی۔ ان خدا کے بندوں کو شیطان چھین کر لے گیا تھا۔
    پس مَیں مشرقی پنجاب سے آنے والے سب لوگوں سے کہتا ہوں آؤ ہم بھی اپنے آقا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اتباع میں تہیہ کر لیں کہ اپنے آبائی وطن کو لَوٹیں گے اور ضرور لَوٹیں گے لیکن بُغض اور کینہ اور انتقام کے جذبہ کے ساتھ نہیں بلکہ انسانیت اور رُوحانیت کے تقاضوں کے جواب میں اور ہمدردی اور محبت کے جذبات لئے ہوئے۔ اِن واقعات نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں، اِن واقعات نے ہمیں بتا دیا ہے کہ انسان کی ظاہری شکل تو وہی ہے جو پہلے تھی مگر اس کا باطن بدل چُکا ہے۔ انسان کے جسم میں وحشی درندوں کی رُوحیں داخل ہو گئی ہیں۔ آؤ! ہم بھی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرح عزم کر لیں کہ ہم اِن وحشی اور درندہ رُوحوں کو اپنے بھائیوں کے جسم سے نکال دیں گے۔ ہم ضرور اپنے وطنوں کو جائیں گے۔ اِس لئے نہیں کہ اپنی حکومت وہاں قائم کریں بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی حکومت وہاں قائم کریں۔ جس طرح ہمارے آقا محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کیا۔ جب تک خدا تعالیٰ کی حکومت مشرقی پنجاب کیا ساری دُنیا میں قائم نہ ہو گی، بہار، نواکھلی، امرتسر، گورداسپور، لدھیانہ، جالندھر، پٹیالہ، کپورتھلہ کے واقعات ہر جگہ پر اور بار بار ہوتے رہیں گے۔ جنگل کے درندے ابتدائے آفرینش سے آج تک لڑتے ہی چلے آئے ہیں۔ انسانوں میں سے سچّا انسان ہی صرف امن اور صلح سے رہنا جانتا ہے۔ وہ بھی لڑنے پر مجبور ہوتا ہے مگر اِس لئے کہ امن قائم کرے۔
    پس اگر ہم امن چاہتے ہیں تو خواہ صلح سے یا جنگ سے جس طرح بھی ہو ہمیں خداتعالیٰ کی بادشاہت دُنیا میں قائم کرنی ہو گی۔ اگر اس کے لئے ہمیں جنگ بھی کرنی پڑے تو وہ جنگ جنگ نہیں ہو گی، وہ صلح کا پیغام ہو گا۔ وہ امن کی آواز ہو گی۔ مرضیں اُبھر پڑی ہیں۔ بیماریاں ظاہر ہو گئی ہیں اور مرض کا ظاہر ہو جانا خوش قسمتی کی علامت ہے۔ اے دُنیا کے سب سے بڑے طبیبِ روحانی سے منسوب ہونے والے لوگو! اُٹھو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور سب دوسرے کاموں کو ثانوی حیثیت دیتے ہوئے ، اپنے مقصد اوّل کی طرف توجہ کرو۔ دُنیا کا ہسپتال بیماروں سے پُر ہے۔ دُنیا کا طبیبِ اعظم ہسپتال کے عملہ کو اپنی امداد کے لئے بُلارہا ہے۔ کیا تم اس کی آواز پر لبیک نہیں کہو گے؟ ‘‘
    (مکتبہ سلطان القلم ربوہ)
    ۱؎ السیرۃ الحلبیۃجلد ۲ صفحہ ۳۱ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ئ
    ۲؎ بخاری کتاب بدء الوحی باب کَیف کَانَ بدء الوحی اِلٰی رَسُوْلِ اﷲ
    صلی اﷲ علیہ وسلم(الخ)



    افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۵۱ء




    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۵۱ء
    (فرمودہ ۲۶؍دسمبر ۱۹۵۱ء برموقع افتتاح جلسہ سالانہ بمقام ربوہ)
    تشہّد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:
    ’’مَیں بعض حالات کی وجہ سے افتتاح جلسہ سے پہلے دو نکاحوں کا اعلان کرنا چاہتا ہوں۔ مَیں نے اِس بات کو ظاہر نہیں ہونے دیا کیونکہ ایسے موقع پر دوسرے احباب اپنے کاغذات دے دیتے اور اتنا وقت لے لیتے ہیں کہ جس سے جلسہ کے پروگرام پر بھی اثر پڑ جاتا ہے۔ یہ دو نکاح جن کا اعلان کرنا چاہتا ہوں ایک تو میرے لڑکے مرزا وسیم احمد کا ہے جوکہ شروع ایّامِ ہجرت سے قادیان میں بیٹھا ہؤا ہے۔ یہ نکاح امۃ القدوس بیگم جو ہمارے ماموں مرحوم و مغفور میر محمد اسمٰعیل صاحب کی بیٹی ہیں اُن سے ایک ہزار روپیہ مہر پر قرار پایا ہے۔ لڑکی کی طرف سے اُس کے چچا زاد بھائی سیّد داؤد احمد وکیل ہیں اور لڑکے کی طرف سے قبولیت کا اختیار میرے نام آیا ہؤا ہے۔
    (اس کے بعد حضور نے سیّد داؤد احمد صاحب سے دریافت فرمایا کہ):
    ’’ سیّد داؤد احمد تمہیں امۃ القدوس کے حقیقی ولیوں کی طرف سے اور امۃ القدوس بیگم کی طرف سے اُن کا نکاح ایک ہزار وروپیہ مہر پر مرزا وسیم احمد ولد مرزا محمود احمد سے منظورہے؟‘‘
    (اِس پر سیّد داؤد احمد صاحب نے اپنی منظوری کا اعلان کیا۔ اِس کے بعد حضور نے فرمایا:)
    ’’اب مَیں مرزا وسیم احمد کی طرف سے اعلان کرتا ہوں کہ اُن کو ایک ہزار روپیہ مہر پر امۃ القدوس بیگم بنت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب مرحوم سے اپنا نکاح منظور ہے۔‘‘
    دوسرا نکاح امۃ النصیر بیگم جو میری لڑکی اور سارہ بیگم مرحومہ کے بطن سے ہے اس کا ایک ہزار روپیہ مہر پر پِیر معین الدین ولد پیر اکبر علی صاحب مرحوم سے قرار پایا ہے۔ احباب کو معلوم ہو گا کہ مَیں اپنی لڑکیوں کا نکاح صرف واقفینِ زندگی سے کر رہا ہوں اور اِس رشتہ میں بھی میرے لئے یہی کشش تھی کہ لڑکا واقفِ زندگی ہے۔ مَیں اپنی طرف سے اور امۃ النصیر بیگم کی طرف سے پیر معین الدین صاحب ولد پیر اکبر علی صاحب مرحوم سے ایک ہزار روپیہ مہر پر اِن کے نکاح کی قبولیت کا اعلان کرتا ہوں۔
    پیر معین الدین ولد پیر اکبر علی صاحب مرحوم کیا آپ کو ایک ہزار روپیہ مہر پر امۃ النصیر بیگم بنت مرزا محمود احمد سے اپنا نکاح منظور ہے؟‘‘
    (اِن کی منظوری کے بعد حضور نے فرمایا:)
    ’’دوست اب دُعا کر لیں۔ اِس کے بعد جلسہ کا افتتاح ہو گا۔‘‘
    (دُعا سے فارغ ہونے کے بعد حضور نے تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی:)
    ’’آج ہم پھر کسی انسان کے حُکم سے نہیں، کسی ذاتی خواہش کے مطابق نہیں، کسی دُنیوی نفع حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ محض خدا تعالیٰ کے نام کی عزت کے لئے اور اس کے دین کی خدمت کے مواقع تلاش کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ ہم اپنے مخالفوں کی نظر میں ایک حقیر کیڑے سے بھی بدتر ہیں لیکن اِس حقارت اور اِس عداوت کو دیکھ کر ہمارے دل نہ مایوس ہوتے ہیں نہ افسردہ ہوتے ہیں اِس لئے کہ ہماری نظر میں یہ سلوک بہترین انعام ہے جو خدا تعالیٰ کے ساتھ وابستہ ہونے والی جماعتوں کو ملا کرتا ہے۔ ایک چھوٹا بچہ جب اکیلا گلی میں سے گزر رہا ہوتا ہے اور گلی کے اوباش اور شریر لڑکے اُس کو دِق کرنے کے لئے اس پر حملہ کرتے ہیں اور اُس کی آواز سُن کر اُس کی ماں بے تاب ہو کر اپنے گھر سے باہر نکل آتی ہے تو وہ اس لڑکے کی افسردگی کا وقت نہیں ہوتا بلکہ وہ اِس پر ناز کرتا ہے کہ میری ماں نے میرے لئے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔ آخر سیدھی بات ہے کہ ہمارا دُشمن ہمارا دُشمن ہی ہے اور ہمارا خدا ہمارا خدا ہی ہے۔ کتنا نادان ہے وہ انسان ، کیسا بے وقوف اور کیسا احمق ہے جو خدا کی محبت کو انسانی دُشمن کی عداوت سے حقیر سمجھتا ہو۔ خداتعالیٰ کی محبت اور اس کا پیار تو اتنی قیمتی چیز ہے کہ انسان اس کے مقابلہ میں اگر وہ انسانی عداوت سے حاصل ہوتا ہو تو نہ صرف یہ کہ اس کو ناپسند نہ کرے گا بلکہ تمنا کرے گا کہ وہ عداوت مجھے حاصل ہو تاکہ میرے خدا کی محبت میرے لئے اور زیادہ جوش مارے۔
    رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیںلَا تَتَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ ۱؎ دُشمن کے حملہ کی تمنّا نہ کیا کرو۔ آخر سوچنا چاہئے کہ اس فقرہ کے معنے کیا ہیں؟ کون دُشمن کے حملہ کی تمنا کیا کرتا ہے اور اِس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ ظاہر ہے کہ جہاں تک لڑائی کا تعلق ہے، جہاں تک مرنے کا تعلق ہے، جہاں تک تکالیف کا تعلق ہے کوئی شخص بھی دُشمن کے حملہ کی تمنّا نہیں کر سکتا مگر مسلمان ایسی حالت میں تھے کہ ان کے دل اِسی نکتہ کے ماتحت جو مَیں نے بیان کیا ہے بعض دفعہ خواہش کر سکتے تھے کہ کاش! ہمارا دُشمن ہم پر حملہ کرے تاکہ ہمارا خدا بھی ہماری مدد کے لئے آجائے۔ تو صرف اور صرف یہی وجہ ہو سکتی تھی کہ جس کے لئے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ فقرہ فرمایا یعنی اے مسلمانو! جب دُشمن تم پر حملہ کرتا ہے تو خدا تمہارے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے اور یہ بات تمہیں اِتنی لذیذ معلوم ہوتی ہے اور تمہیں اِس میں اتنا مزا آتا ہے کہ جب دُشمن حملہ چھوڑ دیتا ہے تو تم کہتے ہو کاش! ہمارا دُشمن ہم پر پھر حملہ کرے تا ہمارا خدا پھر ہمارے پاس آجائے۔ یہ خواہشِ عشق تو ٹھیک ہے لیکن الٰہی حکمتوں اور الٰہی منشاء کے خلاف ہے اس لئے لَا تَتَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ فرما کر بتایا کہ یہ ہے تو بڑی زبردست خواہش اور ہے تو عاشقانہ مطالبہ لیکن خدا تعالیٰ کی مدد کی خاطر اُس کے ادب کے لحاظ سے ایسی خواہش مت کیا کرو۔
    پس ہمارے لئے دُنیا میں کوئی ایسا حملہ، کوئی ایسی تحقیر، کوئی ایسی تذلیل نہیں ہے جو کہ ہمیں اپنے کام سے پِھرا سکے اور جو ہمیں مایوس کر سکے۔ پس ہمارے احباب کو یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ درحقیقت سب سے محفوظ مقام، سب سے عزت والا مقام ، سب سے مزے والا مقام اِس وقت دُنیا میں اگر کسی کو حاصل ہے تو وہ آپ لوگوں کو ہی حاصل ہے۔ دُنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہ ، دُنیا کے بڑے سے بڑے حاکم، دُنیا کے بڑے سے بڑے حکمران، دُنیا کے بڑے سے بڑے لیڈر انسانی امداد پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ان کی تکلیفوں کے وقت کچھ انسان آگے آتے ہیں مگر تمہاری تکلیفوں کے وقت خدائے واحد خود آسمان سے اُتر آتا ہے۔
    پس یہ ایّام بہترین ایّام ہیں جو کسی قوم اور کسی فرد کو کبھی حاصل ہوئے ہوں۔ یہی وہ انعام ہے جو کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی جماعت کو حاصل ہؤا، یہی وہ انعام ہے جو حضرت عیسیٰ ؑ کی جماعت کو حاصل ہؤا، یہی وہ انعام ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کی جماعت کو حاصل ہؤا اور یہی وہ انعام ہے جس کے لئے خدانے ہمیں یہ دُعا سکھائی ہے کہ ۔ ۲؎ پس یہ چیز جو کہ بہترین انعاموں میں سے ہے اور وہ خلعت جو ہمیشہ ہی اﷲ تعالیٰ کے خاص لوگوں کو پہنایا جاتا ہے وہ آج آپ لوگوں کو پہنایا گیا ہے۔ اور درحقیقت ہم اس لئے بھی یہاں جمع ہوئے ہیں تاکہ اپنے رب کے حضور میں اپنا اظہارِ شکریہ کریں اور اُس کی خدمت میں عرض کریں کہ ہم اِس انعام کی قدر کرتے ہیں جو آپ کی طرف سے ہم پر نازل کیا گیا ہے۔ پس اپنے اِن ایّام کو شُکر گزاروں اور قدر دانوں کے ایّام کی طرح گزارو۔ لغو باتوں، فضول باتوں اور بیکار باتوں میں اپنے اوقات صَرف مت کرو۔ کبھی نہ کبھی انسانوں پر ایسا وقت بھی آتا ہے خواہ وہ کتنے ہی مشغول ہوں اور کتنے ہی اعلیٰ مقام پر ہوں جبکہ وہ ایک مزاح کے رنگ میں ہوتے ہیں اور ایک خوشی کی حالت میں ہوتے ہیں۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی نسبت بھی آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک بچہ آپؐ کے پاس آیا تو آپؐ نے اُس کو مذاقیہ کہا کہ وہ چِڑیا اُڑ گئی۔ اِسی طرح وضو فرماتے ہوئے آپؐ نے مُنہ سے اپنی کُلّی کا پانی اُس پرپھینکا۔ یہ وقت بھی بے شک آتے ہیں مگر ہر کام کا ایک موقع اور ہر نکتے کا ایک الگ مقام ہوتا ہے۔
    یہ دن ہمارے لئے ایسے دن ہیں کہ ان میں بہت زیادہ ہمیں عبادت کرنی چاہئے، بہت زیادہ ہمیں اپنے اوقات دین کی خدمت میں خرچ کرنے چاہئیں اور بہت زیادہ ہمیں اپنے اوقات مفید کاموں اور سلسلہ کے کاموں اور اسلام کے کاموں میں صرف کرنے چاہئیں۔
    جیسا کہ آپ لوگوں نے محسوس کیا ہو گا میری آواز بیٹھی ہوئی ہے۔ مجھے یکدم چھ سات دن سے نزلہ کی شکایت پیدا ہوئی اور اتنا شدید نزلہ ہؤا کہ تین دن تک مَیں دائیں اور بائیں رات کو کروٹ بدلتے ہوئے (بلکہ اوّل تو بہت سا وقت نیند ہی نہیں آتی تھی) ناک کے نیچے رومال رکھ کر لیٹتا تھا کیونکہ پانی پر نالے کی طرح چلتا چلا جاتا تھا اور مجھے یہی احتمال تھا کہ مَیں شاید اِس جلسہ پر کوئی تقریر نہیں کر سکوں گا مگر پرسوں سے کسی قدر افاقہ شروع ہؤا ہے۔ مگر ایسا نہیں کہ نزلہ بالکل بند ہو گیا ہو نہ ایسا کہ میری آواز کھلی ہو اِس لئے مَیں آہستہ ہی بول سکتا ہوں۔ یہ نہیں جانتا کہ کل تک کیا ہو۔ ممکن ہے اﷲ تعالیٰ اِس بات کی توفیق عطا کر دے کہ مَیں اچھی طرح بول سکوں مگر موجودہ حالت یہی ہے کہ معمولی سی بات کرنے سے بھی سینہ میں خراش شروع ہو جاتی ہے اور اِس طرح ناک بہنے کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور چھینکیں شروع ہو جاتی ہیں گو پہلے سے بہت افاقہ ہے اس لئے مَیں احباب سے یہ بھی خواہش کرتا ہوں کہ جیسا کہ انہوں نے گزشتہ سال نہایت ہی ہمت کے ساتھ اور عقل سے کام لے کر بہت حد تک گَرداُڑانے سے پرہیز کیا تھا جلسہ کے وقت میں بھی اور ملاقاتوں کے وقت میں بھی اس دفعہ اُس سے بھی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ اُن دنوں عملاً میری بیماری رفع ہو چکی تھی کمزوری باقی تھی لیکن اِن دنوں میں عملاً مجھ پر بیماری کا حملہ ہے اور ذرا سی گرد اُڑنے سے بھی نزلہ کی شکایت عَود کر آتی ہے۔ ملاقات کے وقت بعض دوست ذرا پیر زیادہ زور سے مارنے کے عادی ہوتے ہیں۔ مَیں اِس کو بُرا تو نہیں کہتا آخر کام کرنے والی اور اُمنگوں والی جماعتوں میں کچھ بہادرانہ رنگ بھی پایا جانا چاہئے مگر وقت وقت کے لحاظ سے بعض دفعہ احتیاط بھی کی جاسکتی ہے۔ سو دوست جب ملاقات کے لئے آئیں اُس وقت آہستہ سے قدم رکھیں تاکہ گَرد نہ اُڑے۔ اِسی طرح بعض لوگ اپنا کپڑا ساتھ سمیٹتے آتے ہیں۔ خصوصاً گاؤں کے لوگ اور ان کے کپڑے کے سمیٹنے سے اُسی طرح گرد اڑتی ہے جس طرح جھاڑوسے۔ وہ تو تندرست ہوتے ہیں اُن کو وہ گرد محسوس نہیں ہوتی مگر میرے لئے وہ گرد بہت زیادہ تکلیف کے بڑھانے کا موجب ہوجاتی ہے۔ اِسی طرح بعض دفعہ دوست گاڑی کے ساتھ بھاگنا شروع کر دیتے ہیں یا ایسی طرز پر اِردگِرد کھڑے ہوتے ہیں کہ اس سے گَرد پڑتی ہے۔چونکہ آگے میرے دو بلکہ تین دن کام کے لحاظ سے نہایت بھاری ہیں۔ گھنٹوں مجھے ملاقات بھی کرنی پڑے گی اور پھر مجھے اگر خدا نے توفیق دی تو گھنٹوں ہی تقریر بھی کرنی پڑے گی اِن حالات کے لحاظ سے میرا بھی اور ان کا اپنا فائدہ بھی اِسی میں ہے کہ وہ گزشتہ سال کی طرح اِس سال بھی احتیاط سے کام لیں تاکہ اﷲ تعالیٰ آرام اور سہولت سے یہ دن ہمارے گزار دے اور ہمیں اپنے فرائض کے ادا کرنے میں کسی قسم کی کوئی روک پیدا نہ ہو۔
    اس کے بعد مَیں دُعا کردیتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ ہمارے اس اجتماع کو مبارک کرے اور ہمیں اپنے فضلوں کا وارث بنائے اور ہمارے دلوں میں ایسا نور پیدا کرے جو کہ دُنیا کو روشن کر دے اور ہماری زبانوں میں وہ تأثیر بخشے جو لوگوں کے لئے اطمینان پیدا کرنے کا موجب ہو اور ہماری غفلتوں اور سُستیوں اور مناقشانہ طبیعت اور بدظنی کی طبیعت کو بدل کر سچے اور محنتی اور عقلمند کارکنوں والی طبیعت ہم کو عطا فرمائے تاکہ ہم نہ صرف یہ کہ آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہیں بلکہ بیرونی دُنیا کے فتنوں اور فسادوں کو دور کر کے ساری دُنیا میں ایک ایسا امن قائم کر دیں، ایک ایسا نظام قائم کر دیں جس کے ذریعہ سے دُنیا اُن آرام کے دنوں کو پھر دیکھ لے جن کے لئے وہ صدیوں سے ترس رہی ہے اور جن حالات کی وجہ سے بنی نوع انسان کا امن بالکل برباد ہو چُکا ہے اور انسان اپنے خدا سے بدظن ہوگیا ہے۔
    پس آؤ اُس خدا سے دُعا کریں جس کے ہاتھ میں ساری طاقتیں ہیں اور جو ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے، مایوسیوں کو اُمیدوں سے بدل دیتا ہے، شکوک کو یقین سے تبدیل کر دیتا ہے۔
    (الفضل لاہور یکم جنوری ۱۹۵۲ئ)
    ۱؎ کنز العمال جلد ۴ صفحہ ۳۶۱ مطبوعہ حلب ۱۹۷۰ئ
    ۲؎ الفاتحہ: ۶ ،۷



    چشمہ ٔ ہدایت




    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    چشمہ ہدایت
    ’’حالات خواہ اچھے ہوں یا بُرے
    احمدیت کی گاڑی بہرحال چلتی جائے گی‘‘
    (فرمودہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۵۱ء بر موقع جلسہ سالانہ بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:-
    ’’ بعض دوست توجہ دلانے کے باوجود جلسے کے مبارک ایّام ذکرِ الٰہی اور دُعاؤں میں گزارنے کی بجائے اِدھر اُدھر پھرنے میں ضائع کر دیتے ہیں۔ جب مَیں نے دوستوں کو اِدھر اُدھر پھرتے دیکھا تو دل میں کہا کہ جو لوگ توجہ دلانے کے باوجود ایسا کرتے ہیں اُن کے دلوں کو بدلنا اُسی کے اختیار میں ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے ۔ پس جب مَیں نماز میں خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہؤا تو مَیں نے اُس سے عرض کیا کہ الٰہی!! تُو نے ان کو اپنے دین کی خدمت کے لئے کھڑا کیا ہے پس اب تُو ہی اِن کے دلوں میں دین کی عزت ، ذکرِ الٰہی کا احترام اور عبادت کی محبت عطا فرما کہ یہ کام میرے بس میںنہیں ہے۔ آمین
    آج کے دن میری عورتوں میں بھی تقریر ہؤا کرتی ہے لیکن اِس سال عورتوں نے خود ہی اپنے حق کو چھوڑ دیا بعض وجوہات سے۔ کیونکہ عورتوں میں چونکہ وہ برقع پہنے ہوئے ہوتی ہیں اِس لئے پورے طور پر یہ نگرانی نہیں کی جاسکتی کہ ممکن ہے کوئی مرد ہی آجائے یا کوئی عورت ہی بدارادہ سے آئی ہوئی ہو تو اُس کی نگرانی نہیں کی جاسکتی اِس لئے اُنہوں نے کہا ہم اپنا حق آپ چھوڑتی ہیں۔ چونکہ میرا بھی گلا بیٹھا ہؤا تھا اور مجھے نزلہ کی شکایت بھی تھی مَیں نے اِس کو ایک الٰہی تحریک سمجھا اور بڑی خوشی سے اِس کو قبول کیا کہ بہت اچھا اگر تم اپنا حق آپ چھوڑتی ہو تو پھر مجھے کیا عُذر ہو سکتا ہے۔ مگر اُنہوں نے یہ بھی ساتھ خواہش کی کہ مردوں کی تقریر میں کچھ ہمارے متعلق بھی کہا جائے تاکہ ہم وہیں سے لاؤڈسپیکر کے ذریعہ سے سُن سکیں۔ حسبِ وعدہ مَیں دو چار منٹ یہ تقریر عورتوں کی طرف خطاب کر کے کرتا ہوں۔
    تبلیغ کی طرف توجہ کی ضرورت
    سب سے پہلے تو مَیں اُن کو اپنی گزشتہ سال کی تقریر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ مَیں نے
    اُنہیں اب دین میں زیادہ حصّہ لینے اور تبلیغ کی طرف توجہ کرنے کی تحریک کی تھی لیکن وہی منتظمات جنہوں نے مجھے تحریک کی ہے کہ مَیں عورتوں کو مخاطب کروں، مردوں کی سٹیج سے مَیں اُنہی کو کہتا ہوں کہ سب سے پہلے اُنہوں نے ہی اپنی فرض شناسی سے گریز کیا ہے۔ مَیں نے یہ تجویز کی تھی کہ عورتیں آزادی کی رَو میں بَہہ رہی ہیں اور نئی نئی اُمنگیں ان کے دلوں میں پیدا ہو رہی ہیں اِس لئے تبلیغ کا میدان ان میں اِس وقت زیادہ وسیع ہے بہ نسبت مردوں کے کیونکہ وہ اِس وقت حکومت کے نشہ میں چُور ہو رہے ہیں اور مذہب سے بہت ہی دُور ہو رہے ہیں۔ چنانچہ میری اس تحریک کے ماتحت مختلف اضلاع میں عورتوں کی پارٹیاں ربوہ سے بھیجی گئیں اور عورتوں کی مجالس جمع کی گئیں اور ان میں یہاں کی عورتوں نے جاکر لٹریچر بھی تقسیم کیا اور تقریریں بھی کیں۔ اب چاہئے یہ تھا کہ ۱۹۵۱ء میں اس سلسلہ کو وسیع کیا جاتا مگر جہاں تک میرا علم ہے اُن ضلعوں میں بھی دَورہ نہیں کیا گیا جن میں پہلے کیا گیا تھا اور نئے ضلع تو بالکل ہی اِس سوال سے باہر ہیں۔پس سب سے پہلے مَیں انہیں کہتا ہوں کہ تم نے جو مجھ سے حق مانگا ہے سٹیج پر سے تقریر کا اسی کے مطابق مَیں تمہیں کہتا ہوں کہ اپنے فرائض کی طرف توجہ کرو اور اِس سُستی اور غفلت کو چھوڑ دو۔
    تعمیر دفتر لجنہ اماء اﷲ
    یہ بات تو مَیں نے اپنی طرف سے کہی ہے جس بات کی اُنہوں نے مجھ سے خواہش کی ہے وہ یہ ہے کہ مَیں عورتوں
    میں تحریک کروں کہ لجنہ اماء اﷲ کا دفتر بن گیا ہے وہ اس کے چندہ کی طرف زیادہ توجہ کریں۔ اِس میں تو مَیں سمجھتا ہوں کہ عورتوں نے پھر ہم پر بازی لے لی ہے۔ مردوں کے دفتر ابھی بنیادوں سے ہی نیچے پڑے ہوئے ہیں اور سال سال، دو دو سال سے رقمیں بھی منظور ہو چُکی ہیں، سامان بھی آچکے ہیں اور افسر بھی مقرر ہو چُکے ہیں اور انجینئر بھی ہیں لیکن وہ ابھی تک ابتدائی مراحل سے بھی نہیں گزر سکے مگر عورتوں کا دفتر خدا تعالیٰ کے فضل سے مکمل ہو چُکا ہے۔ صرف پردہ بنانے میں افسر نے کسی قدر سُستی کی ہے۔ اگر وہ پردہ بنا ہؤا ہوتا تو اُن کا سارا کام اِس جگہ پر بڑی اچھی طرح چل سکتا تھا۔
    پھر یہ بھی ہے کہ عورت اپنی نظر سے بہت فائدہ اُٹھاتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اُس کے اندر کچھ ایسی صفت رکھی ہے کہ جو چیز دکھاوے والی ہو اُس پر وہ فریفتہ ہوتی ہے۔ سونا ہے، زیور ہے، اِس زیور کے اُوپر وہ جان دیتی ہے۔ اُسے آپ نظر نہیں آرہا ہوتا کہ میرے گلے میں ہار کیسا پڑا ہؤا ہے اُس کا سارا لُطف تو یہ ہوتا ہے کہ لوگ دیکھ رہے ہیں میرے گلے کا ہار۔تو مَیں نے لجنہ سے کہا تھا کہ میری کسی تحریک کی ضرورت ہی نہیں۔ جس وقت مستورات اپنا دفتر بنا ہؤا دیکھیں گی بس کہیں گی سُبْحَانَ اﷲِ فوراً لو چندہ اور اس کو مکمل کرو۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بار ہا مَیں نے یہ لطیفہ سُنا ہؤا ہے کہ آپ فرماتے تھے کوئی عورت تھی اِسی طرح کی اُسے عادت تھی مگر تھی وہ غریب۔ اُس نے ایک اچھی سی انگوٹھی بڑے شوق سے بنوائی اور خیال کیا کہ عورتیں اس کی تعریف کریں گی اور کہیں گی۔ بی بی! تم نے یہ کہاں سے بنوائی ہے؟ کتنی قیمت میں بنی ہے؟ نمونہ کیسا اچھا ہے! ہم تو چاہتی ہیں ایسی انگوٹھی ہم بھی بنوائیں مگر اتفاق کی بات ہے لوگوں کی اُس پر نظر نہ پڑی اور اُنہوں نے اُس سے کچھ پوچھا نہیں۔ آخر اُس نے باتیں کرنی شروع کر دیں کہ فلاں بات یُوں ہے، فلاں بات یُوں ہے اور بات کے ساتھ ساتھ انگوٹھی بھی سامنے کر دیتی لیکن پھر بھی کسی نے نہ پوچھا۔ آخر تنگ آکر اُس نے اپنے گھر کو آگ لگا دی۔ سارے اِرد گِرد کے لوگ اکٹھے ہو گئے، عورتیں بھی آگئیں اور اُس سے ہمدردی کرنے لگیں کہ کیا ہؤا؟ کچھ بچا بھی؟ اُس نے کہا کچھ نہیں بچا صرف یہ انگوٹھی بچی ہے۔ آخر کسی عورت نے پوچھا کہ بہن! یہ انگوٹھی تم نے کب بنوائی تھی؟ وہ رو کر کہنے لگی کہ تُو پہلے پوچھ لیتی تو میرا گھر ہی کیوں جلتا۔ تو بار ہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ لطیفہ سُنایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ عورت کی فطرت میں کچھ نمائش اﷲ تعالیٰ نے رکھی ہے۔ پس میرے زیادہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میرے خیال میں جو سامنے دفتر لجنہ اماء اﷲ کا بنا ہؤا ہے وہ اپنی شان سے اور اپنی عظمت سے اور اپنے اس نظارہ سے کہ مرد چُپ کر کے بیٹھے ہیں اور ہم نے اپنا دفتر بنا لیا ہے عورتوں کو سب وعظوں سے زیادہ کام پر تیار کر دے گا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ بڑے شوق سے جاتے ہی روپے جمع کرنا شروع کر دیں گی اور جو باقی رقم ہے اُس کو غالباً چنددنوں کے اندر ہی پورا کر دیں گی۔
    مسجد ہالینڈ کے لئے چندہ کی تحریک
    مجھے زیادہ فکر عورتوں کے ذمہ جو مسجدہالینڈ لگائی گئی ہے اُس کا ہے اس
    میں ابھی بہت سی کمی باقی ہے۔ مَیں نے جیسا کہ پہلے بیان کیا ہے مسجد ہالینڈ کا چندہ عورتوں نے مردوں سے زیادہ دیا ہے۔ مردوں کے ذمّہ واشنگٹن کی مسجد لگائی گئی ہے اور اُس کا خرچ مسجد بنا کر قریباً اڑھائی پونے تین لاکھ ہوتا ہے اور جو عورتوں کے ذمّہ کام لگایا تھا مسجد ہالینڈ کا اُس کی ساری رقم زمین وغیرہ ملا کر کوئی اسّی ہزار یا لاکھ کے قریب بنتی ہے۔ اُنہوں نے اپنے اسّی ہزار میں سے چھیالیس ہزار روپیہ ادا کر دیا ہے یعنی پچاس فیصدی سے زیادہ اور مردوں نے اپنے اڑھائی پونے تین لاکھ میں سے اب تک چھتیس ہزار روپیہ دیا ہے اور زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس مکان کو اِس وقت تک ایک احمدی کے پاس گِروہی سمجھئے۔ یوں تو اُنہوں نے قرض دیا ہؤا ہے لیکن بہرحال اس مکان کے لئے دیا ہؤا ہے اِس لئے اُسے گِرو ہی سمجھو۔ اِس کے ساتھ وہاں کے مبلّغ کی طرف سے اصرار ہو رہا ہے کہ پچھلا قرضہ ادا کرو اور آگے کے لئے مسجد کی تیاری کرو۔ پس ممکن ہے یہ مکان گِروہی رکھنا پڑے لیکن مسجد ہالینڈ کی طرف مَیں سمجھتا ہوں کہ عورتوں کو توجہ دلانے کی اِتنی ضرورت نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ میری اِس مختصر تحریک سے ہی اپنے فرض کو سمجھنے لگ جائیں گی اور اِس نیک کام کی تکمیل تک پہنچا دیں گی۔
    مَیں عورتوں سے کہتا ہوں تمہاری قربانی مردوں سے اس وقت بڑھی ہوئی ہے۔ اپنی اِس شان کو قائم رکھتے ہوئے اپنے دفتر کے قرضہ کو بھی ادا کرو اور اس کے ساتھ مسجد ہالینڈ کو بھی نہ بھُولنا۔ اِس کے لئے ابھی کوئی پچاس ہزار روپیہ کے قریب ضرورت ہے۔ ہمارا پہلا اندازہ مکان اور مسجد کی تعمیر کا تیس ہزار کے قریب تھا لیکن اب وہ کہتے ہیں کہ ساٹھ ہزار سے کم میں وہ جگہ نہیں بن سکتی کیونکہ اِس جگہ پر گورنمنٹ کی طرف سے کچھ قیود ہیں اور وہ ایک خاص قسم کی اور خاص شان کی عمارت بنانے کی وہاں اجازت دیتے ہیں اِس سے کم نہیں دیتے۔ پس زمین کی قیمت مِل کر ۹۰ہزار سے ایک لاکھ تک کا خرچ ہو گا جس میں سے وہ بفضلہ چھیالیس ہزار تک اِس وقت تک ادا کر چُکی ہیں۔
    یہ باتیں تو مَیں نے عورتوں سے مخاطب ہو کے کی ہیں اب جو باقی باتیں ہیں چونکہ اسلام مردوں کا بھی ہے اور عورتوں کا بھی اِس لئے اِس میں مرد بھی شریک ہوں گے اور عورتیں بھی شریک ہوں گی۔(الاظہار لذوات الخمار صفحہ ۱۳۱ تا ۱۳۳، الفضل ۲؍جنوری ۱۹۵۲ئ)
    ’’قادیان سے ایک اخبار ’’بدر‘‘ کے نام سے نکلنا شروع ہؤا ہے۔ گو مَیں سمجھتا ہوں کہ ہمارے مُلک کی ضروریات اس سے کچھ زیادہ پوری نہ ہو سکیں گی لیکن دوستوں کو یہ امر ملحوظ رکھنا چاہئے کہ اِس وقت یہاں کے دوست نسبتاً زیادہ اچھی حالت میں ہیں اِس لئے وہ اخبار کی زیادہ مدد کر سکتے ہیں اور ان کی یہ مدد اِس اخبار کی مالی حالت کو مضبوط کرنے کے علاوہ ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ میں بھی بڑی مُمِد ثابت ہو گی۔ پس یہ ایک ثواب کا فعل ہے دوستوں کو ضرور اِس اخبار کی مدد کرنا چاہئے۔
    ’’الفضل‘‘ کے خریداروں کی تعداد میں ایک عرصہ سے کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہو رہا۔ حالانکہ جماعت کافی بڑھ رہی ہے۔ اخبارات ضروریاتِ زندگی میں سے ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی اکثر مجھے اخبار پڑھنے کی تحریک فرمایا کرتے تھے اور ایک روزنامہ اخبار تو بڑی بھاری تربیت گاہ کا رنگ رکھتا ہے۔ اِس کی طرف سے لاپرواہی اور عدمِ توجّہی اپنے علم کو زنگ لگانے کے مترادف ہے۔ پس احباب کو الفضل کی خریداری بڑھانے کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔
    رسالہ ریویو آف ریلیجنز (انگریزی) اب دوبارہ شائع ہونا شروع ہو گیا ہے اور تبلیغ کی غرض سے مختلف ممالک کی لائبریریوں وغیرہ میں بھی بھجوایا جارہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اِسے دس ہزار کی تعداد میں شائع کرنے کی خواہش فرمائی تھی اور ہماری موجودہ طاقت اور تبلیغی ضرورت کے لحاظ سے تو دس ہزار کہتے ہوئے بھی ہمیں شرم آنی چاہئے کیونکہ اب تو اِس سے بہت زیادہ اشاعت کی ضرورت ہے۔ احباب دو طرح سے اِس کی اشاعت میں حصّہ لے سکتے ہیں ایک تو اِس کے خریداربن کر اور دوسرے اسے موزوں غیر مسلم اصحاب یا لائبریریوں میں پہنچانے کے لئے چندہ دے کر۔
    ایک بات میں دوستوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر سال جو دُنیا میں آتا ہے وہ اپنے ساتھ کچھ نئی مُشکلات لاتا ہے اور کچھ نئی آسانیاں بھی لاتا ہے۔ جو قوم یا جو فرد بھی یہ خیال کر لیتا ہے کہ بس ہمارے اُوپر پچھلے پانچ یا سات سال سے جو کچھ گزرا تھا وہی گزرتا چلا جائے اُس سے زیادہ نادان اور غافل کوئی نہیں ہو سکتا۔ یقینا ساری دُنیا بدلتی ہے، بدلتی چلی جائے گی اور جب دُنیا بدلتی ہے تو کونسا انسان ایسا ہو سکتا ہے جو ایک جگہ پر کھڑا رہے اور اُس کے لئے حالات نہ بدلیں۔ ہر گھر میں دیکھ لو ہر سال میں کوئی مرجاتا ہے اور کوئی پیدا ہو جاتا ہے۔ گویا ایک صورت ترقی کی ہو جاتی ہے اور ایک تنزل کی ہو جاتی ہے اور اِس طرح لوگ بالعموم سموئے جاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ دُنیا کا قدم آگے نکلتا چلا جاتا ہے اور بعضوں کا آہستہ آہستہ نیچے گِرنا شروع ہو جاتا ہے لیکن یہ دونوں باتیں ایک وقت میں لگی ضرور رہتی ہیں مگر جماعت کے دوستوں کو مَیں نے دیکھا ہے کہ قومی لحاظ سے انہیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس حالت سے ہم گزررہے ہیں اُسی حالت میں ہم گزرتے چلے جائیں اور یہ ناممکن بات ہے۔ اگر اِسی حالت میں ہم گزرتے چلے جائیں تو یقینا ہم پر ایک موت طاری ہو جائے گی۔ درحقیقت انسان موت سے بچتا ہے حرکت کے ساتھ۔ تمام قرآن کریم اِسی سے بھرا ہؤا ہے کہ کام کرنا اور عمل کرنا بس یہی انسان کی زندگی کا موجب ہوتا ہے۔ اوراب تو دیکھ لو جو نیا اضافی فلسفہ نکلا ہے اور آئن سٹائن نے نکالا ہے اِس میں اُس نے اصول ہی یہ رکھا ہے کہ ایک خاص حد تک تیز رفتار میں موت سے انسان بچ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہلاکت اور تباہی اِس تیزی سے نیچے نیچے ہے۔ جب کوئی چیز سورج کی روشنی کے برابر رفتار میں تیز ہو جائے گی وہ موت سے بچ جائے گی۔ تو تیز رفتار انسان کو ہلاکت سے بچاتی ہے۔ کھڑے رہنے کی خواہش کرنا یا آہستہ چلنے کی خواہش کرنا قوم کو تباہ کر دیتا ہے اور اﷲ تعالیٰ ضرور نئی نئی مُشکلات لاتا ہے تاکہ لوگوں کے اندر بیداری پیدا ہو۔ اگر اﷲ تعالیٰ نئی نئی مُشکلات نہ لائے تو آہستہ آہستہ لوگ سُست ہوتے چلے جائیں۔ قرآن کی طرف رغبت کم ہو جائے، دین کی طرف رغبت کم ہو جائے، قربانیوں کی طرف رغبت کم ہو جائے اور پھر وہ ایک قسم کے جانور بن کر رہ جائیں انسان نہ رہیں۔ اور اب تو ایک اَور دلچسپی کی چیز ہمارے لئے پیدا ہو گئی ہے جو ہمارے لئے خدا نے پیدا کی ہے کیونکہ اِس کے فوائد اگر اسلام کو پہنچیں گے تو اسلام ہمارا ہے ہم اس کے دعویدار ہیں اور وہ پاکستان ہے۔ ہمارے لئے بھی کچھ نہ کچھ نئی مُشکلات پیدا ہو جاتی ہیں اور پاکستان کے لئے بھی اور باقی عالَمِ اسلام کے لئے بھی۔ کمزور انسان اِن باتوں کو دیکھ کر گھبراتا ہے وہ کہتا ہے یہ مصیبت آگئی وہ مصیبت آگئی لیکن عقل مند انسان سمجھتا ہے کہ اِن مصیبتوں کے بغیر میری قوتِ عملیہ کبھی بھی اپنے پورے زور میں نہیں آئے گی اور بغیر اِس کے کہ قوتِ عملیہ اپنے پورے زور پر آئے مسلمان ترقی نہیں کر سکتے۔
    ہماری ذاتی مُشکلات میں سے سب سے پہلے احرار کی مخالفت ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ جہاں تک اِن کی مخالفت کا سوال ہے اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو تو اِس کا یہ ہے کہ لوگوں کے اندر مخالفت ہوتی ہے اور وہ مخالفت کی وجہ سے ہماری باتوں کے سُننے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ اُن کے دلوں میں غصّہ پیدا ہوتا ہے یہ چیز تو ہمارے لئے بُری ہوتی ہے۔ مگر ایک صورت یہ بھی ہؤا کرتی ہے کہ جب کوئی شخص مخالفت کی باتیں سُنتا ہے تو وہ پھر کریدتا ہے کہ اچھا! یہ ایسے گندے لوگ ہیں۔ ذرا مَیں بھی تو جاکے دیکھوں۔ اور جب وہ دیکھتا ہے تو حیران ہو جاتا ہے کہ جو باتیں مجھے اُنہوں نے بتائی تھیں وہ تو بالکل اور تھیں اور یہ باتیں جو کہتے ہیں بالکل اور ہیں اَور وہ ہدایت کو تسلیم کر لیتا ہے۔
    مجھے خوب یاد ہے مَیں چھوٹا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں تشریف رکھتے تھے، مجلس لگی ہوئی تھی کہ ایک صاحب رام پور سے تشریف لائے ۔ وہ رہنے والے تو لکھنؤ یا اُس کے پاس کے کسی مقام کے تھے، چھوٹا سا قد تھا، دُبلے پتلے آدمی تھے۔ ادیب تھے، شاعر تھے اور اُن کو محاوراتِ اُردو کی لُغت لکھنے پر نواب صاحب رامپور نے مقرر کیا ہؤا تھا، وہ آکے مجلس میں بیٹھے اور اُنہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ میں رام پور سے آیا ہوں اور نواب صاحب کادرباری ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پوچھا کہ آپ کو یہاں آنے کی تحریک کس طرح ہوئی؟ اُنہوں نے کہا مَیں بیعت میں شامل ہونے کے لئے آیا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمانے لگے۔ اِس طرف تو ہماری جماعت کا آدمی بہت کم پایا جاتا ہے، تبلیغ بھی بہت کم ہے، آپ کو اس طرف آنے کی تحریک کس نے کی؟ تو یہ لفظ میرے کانوں میں آج تک گونج رہے ہیں اور مَیں آج تک اِس کو بھُول نہیں سکا حالانکہ میری عمر اُس وقت سولہ سال کی تھی کہ اِس کے جواب میں اُنہوں نے بے ساختہ طور پر کہا کہ یہاں آنے کی تحریک مجھے مولوی ثناء اﷲ صاحب نے کی۔ مَیں تو شاید اپنی عمر کے لحاظ سے نہ ہی سمجھا ہوں گا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اِس پر ہنس پڑے اور فرمایا ۔ کس طرح؟ اُنہوں نے کہا مولوی ثناء اﷲ صاحب کی کتابیں دربار میں آئیں۔ نواب صاحب بھی پڑھتے تھے اور مجھے بھی پڑھنے کے لئے کہا گیا تو مَیں نے کہا جو جو حوالے یہ لکھتے ہیں مَیں ذرا مرزا صاحب کی کتابیں بھی نکال کر دیکھ لوں کہ وہ حوالے کیا ہیں۔ خیال تو مَیں نے یہ کیا کہ مَیں اِس طرح احمدیت کے خلاف اچھا مواد جمع کر لوں گا لیکن جب مَیں نے حوالے نکال کر پڑھنے شروع کئے تو ان کا مضمون ہی اَور تھا۔ اِس سے مجھے اور دلچسپی پیدا ہوئی اور مَیں نے کہا کہ چند اور صفحے بھی اگلے پچھلے پڑھ لوں۔ جب مَیں نے وہ پڑھے تو مجھے معلوم ہؤا کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی عزت اور آپ کی شان اور آپ کی عظمت جو مرزا صاحب بیان کرتے ہیں وہ تو اِن لوگوں کے دلوں میں ہے ہی نہیں۔ پھر کہنے لگے مجھے فارسی کا شوق تھا۔ اِتفاقاً مجھے درثمین فارسی مل گئی اور مَیں نے وہ پڑھنی شروع کی تو اِس کے بعد میرا دل بالکل صاف ہو گیا اور مَیں نے کہا کہ جاکر بیعت کر لوں۔
    تو مخالفت ایک رنگ میں مفید بھی ہؤا کرتی ہے اور ایک رنگ میں مُضر بھی ہؤا کرتی ہے۔ یعنی لوگ جوش میں آجاتے ہیں اور بعض دفعہ فساد کرنے لگ جاتے ہیں اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ سلسلہ کی باتیں سُننے سے آئندہ محروم رہ جاتے ہیں۔ پس اِن دونوں نقطۂ نگاہ سے ہمیں اپنے نظریئے تبدیل کرنے پڑتے ہیں۔ جو مخالفت کا نقطۂ نگاہ ہے اس سے ہم کو اپنا یہ نقطہ نگاہ تبدیل کرنا پڑتا ہے کہ ہم جس چُستی کے ساتھ اپنا لٹریچر لکھ رہے تھے ، جس طرز سے ہم اپنا لٹریچر لکھ رہے تھے، جس طرح ہم اِس کی اشاعت کر رہے تھے، جس طرح ہم تبلیغ کر رہے تھے ہم کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ ہم پُرانے ڈگر پر چل سکیں اور اپنے پُرانے طریق پر لوگوں تک پہنچ سکیں کیونکہ اب لوگوں کے دل ہماری نسبت انقباض محسوس کر رہے ہیں اور اب ہمیں ان تک پہنچنے کے لئے نئے طریقے اور نئی طرزیں ایجاد کرنی پڑیں گی۔ اور جہاں تک لوگوں کو توجہ ہوتی ہے اس کے لحاظ سے ہمارے لئے سہولت پیدا ہو جاتی ہے کہ لوگ خود ہمارے گھروں تک پہنچتے ہیں۔ مَیں نے دیکھا ہے اِس زمانہ میں بھی مخالفت کے باوجود کئی لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور وہ یہی بتاتے ہیں کہ ہم نے مخالفوں کی باتیں سُنیں اور اِس کی وجہ سے سلسلہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔
    دوسرا امر جو اِس سال ہمارے لئے وجہِ تشویش بنا رہا ہے یہ ہے کہ ہندوستان کے بعض علاقوں میں بسنے والی احمدی جماعتوں کے لئے بعض وجوہ کی بناء پر نئی نئی مُشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔
    تحریک جدید اِس وقت ایک نازک دَور میں سے گزر رہی ہے۔ ہمارے جو مبلغین سالہاسال سے مختلف ممالک میں متعیّن ہیں اُن کے تبادلے کی وجہ سے ہمارا خرچ بہت بڑھ گیا ہے لیکن آمد میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہؤا۔ گو اِس سال دوستوں نے وعدوں میں بھی اور وصولی میں بھی گزشتہ سال کی نسبت اچھا نمونہ دکھایا ہے لیکن ابھی اِس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے تاکہ تحریک پر قرض کا جو بار آپڑا ہے اُسے اُتارا جاسکے۔ دوست زیادہ سے زیادہ وعدے لکھائیں اور پھر نہ صرف اِس سال کے بلکہ گزشتہ سال کے وعدوں کی وصولی کے لئے بھی خاص کوشش کریں۔
    اِس سال ہمارے علاوہ عام مسلمانوں کے لئے بھی کافی مُشکلات رہی ہیں۔ مثلاً کشمیر کا مسئلہ ہے جو حل ہونے میں ہی نہیں آتا۔ میرے نزدیک اس مسئلہ کو یوں غیر معیّن عرصہ کے لئے مُلتوی کرنا قرینِ مصلحت نہیں ہے۔ ایک لمبے عرصہ تک باشندگانِ کشمیر کو ایک غیر مُلکی حکومت کے ماتحت رہنے دینا اور پھر یہ اُمید کرنا کہ وہ ہمیں ووٹ دیں گے کوئی ایسی تشفّی کی بات نہیں ہے۔ پھر ہمارے مُلک میں اِسی سال نوابزادہ لیاقت علی صاحب کا قتل بھی ایک افسوسناک واقعہ ہے جو نتیجہ ہے مولویوں کے اُس پروپیگنڈا کا کہ جس سے اختلافِ رائے ہو بے شک اُسے قتل کر دیا کرو۔
    مسئلہ فلسطین بھی کشمیر کے مسئلہ سے کم اہم نہیں ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا مُلک ہے اور وہاں لاکھوں مہاجرین کو آباد کرنے کا سوال درپیش ہے۔ پاکستان کو یہ سہولت تھی کہ یہ ایک وسیع مُلک ہے جہاں مہاجرین کافی تعداد میں بسائے جاسکتے تھے لیکن وہاں یہ حالت نہیں ہے۔ مہاجرین کی آبادکاری کے سوال کے علاوہ اِس مسئلہ کا ایک نازک اوراہم پہلو یہ ہے کہ ہمارے آقا محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کے جوار میں دُشمنِ اسلام کو بسا دیا گیا ہے۔ مَیں نے تو ابتداء میں ہی اِس خدشہ کا اظہار کیا تھا لیکن اب تو یہودی علانیہ اپنی کتابوں میں مدینہ منورہ اور مکّہ معظمہ پر قابض ہونے کے ناپاک عزائم کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ علاوہ ازیں ایران میں تیل کا مسئلہ، مصر کا برطانیہ سے تنازعہ، سوڈان کی بے چینی اور شام کے فسادات یہ سب ایسے امور ہیں جو مسلمانوں کے لئے تکلیف دِہ ہیں۔ہم تعداد میں بہت کم ہیں اِس لئے ان مُشکلات کے ازالہ کے لئے عملاً زیادہ حصّہ نہیں لے سکتے لیکن کم از کم دُعا کا ہتھیار تو ہمارے پاس ہے۔ پس آؤ ہم دُعا کریں کہ اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کی اِن مُشکلات کو اپنے خاص فضل سے دُور کرے اور نقصان کی بجائے ان مُشکلات کو اسلام کی ترقی کا ذریعہ بنائے۔ آمین
    احمدیت بہرحال ترقی کرے گی
    اِس سال اﷲ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے تبلیغی مشنوں میں اضافہ ہؤا ہے جس
    کے نتیجہ میں ہماری تبلیغ میں وسعت پیداہوئی ہے اور جماعت نے ترقی کی ہے۔ جس مقام پر ہم آج ہیں یقینا گزشتہ سال وہ مقام ہمیں حاصل نہ تھا اور جس قسم کے تغیرات اِس وقت رونما ہو رہے ہیں اِن سے پتہ چلتا ہے کہ جس مقام پر ہم آج ہیں آئندہ سال انشاء اﷲ ہم اِس سے یقینا آگے ہوں گے۔ یہ تغیرات نہ تمہارے اختیار میں ہیں نہ میرے یہ خدا تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں۔ بس انسانی تدابیر کو نہ دیکھو بلکہ خدائی تقدیر کی اُنگلی کو دیکھو جو یہ بتا رہی ہے کہ حالات خواہ اچھے ہوں یا بُرے احمدیت کی گاڑی بہرحال چلتی چلی جائے گی۔انشاء اﷲ (نعرہ ہائے تکبیر)
    ہم نے ربوہ کی زمین خرید کر یہاں مہاجرین کو آباد کرنے کے لئے مختلف قواعد بنائے تھے یقینا ان قواعد کی رو سے ہم سَو فیصدی سب کو خوش نہیں کر سکتے تھے چنانچہ جن دوستوں کو اِس سے کچھ نقصان پہنچا ہے اُنہوں نے اِس سلسلے میں بے چینی اور بے اطمینانی کا اظہار کیا ہے۔ یہ بے چینی دُنیوی روح پر دلالت کرتی ہے گو ساتھ ہی زیر کی اور دانائی کی بھی علامت ہے لیکن محض دُنیوی زیرکی اور دانائی کی۔ مَیں اِن دوستوں سے کہتا ہوں کہ تمہاری یہ بے چینی درست ہوتی بشرطیکہ تمہیں غیب کا علم ہوتا۔ جب تمہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک کون ہمسایہ تمہارے لئے اچھا ہو گا اور کون سی جگہ تمہارے اور تمہارے اہل و عیال کی صحت کے لئے اچھی ہو گی تو پھر اِس بے چینی کا کیا مطلب؟ تمہارے لئے تو ایک ہی محفوظ طریق ہے اور وہ یہ کہ جہاں تک ظاہری حالت کا تعلق ہے بے شک ایک حد تک انہیں مد نظر رکھو لیکن اگر دوسرے بھائی سے اختلاف اور رنجش کی صورت ہوگئی ہے تو پھر استخارہ کرو اور معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔ آخر تمہیں کیا پتہ کہ کونسا قطعہ تمہارے لئے اچھا ثابت ہو گا۔ پس کیوں نہیں تم خدا تعالیٰ پر معاملہ چھوڑ دیتے تاکہ اس کی مشیٔت میں جو تمہارے لئے بہتر ہے وہی ہو جائے۔
    ایک اور بات جس کا مَیں ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مَیں نے گزشتہ سالوں میں ایک سکیم تیار کی تھی اور اِس بات کی خواہش کی تھی کہ سلسلہ کی طرف سے کچھ لٹریچر شائع کیا جائے۔ کچھ بچوں کے لئے ہو، کچھ درمیانی عمر والوں کے لئے ہو اور کچھ بڑے لوگوں کے لئے ہو۔ مجھے افسوس ہے کہ ہمارے مصنفین اور علماء نے اِس کی طرف پوری توجہ نہیں کی اِس لئے اب مَیں نے اِس کو خود اپنی نگرانی میں لے کر آدمی مقرر کر دیئے ہیں کہ تم یہ کام کرو۔ پہلے ہم نے بچوں کا حصّہ لیا ہے اور کچھ کتابیں مختلف لوگوں کے ذمّہ لگا دی ہیں کہ یہ تم نے چند مہینوں کے اندر پوری کر کے دینی ہیں چنانچہ یہ کتابیں فِی الْحال مَیں نے لوگوں کے سپرد کر دی ہیں۔ (۱) ہستی باری تعالیٰ پر ایسا سادہ مضمون جس کو بچے سمجھ سکیں۔ (۲)معیار و شناخت نبوت۔ (۳) دُعا۔(۴) قضاء و قدر۔ (۵) بعث بعد الموت۔ (۶)بہشت و دوزخ ۔ (۷) معجزات۔ (۸) فرشتے۔ (۹) صفاتِ الٰہیہ ۔ (۱۰)ضرورتِ نبوت و شریعت اور اس کا ارتقائ۔ (۱۱) عبادت اور اس کی ضرورت۔ (۱۲) نماز ۔ (۱۳) ذکرِ الٰہی۔ (۱۴) روزہ۔ (۱۵) حج۔ (۱۶) زکوٰۃ۔ (۱۷) معاملات۔ اچھے شہری کے فرائض، ورثہ، تعلیم، تربیتِ افراد میں قوم کا فرض اور اس کی ذمّہ داریاں۔ (۱۸) اخلاق اور ان کی ضرورت، ملّت شخص پر مقدم ہے، فرد پر خاندان مقدم ہوتا ہے۔ حکومت قوم پر مقدم ہوتی ہے، ظاہر و باطن دونوں کی ضرورت اور اہمیت۔ (۱۹) ماں باپ پر بچوں کے متعلق فرائض اور بچوں پر ماں باپ کے متعلق فرائض۔ (۲۰) حفظانِ صحتِ جسمانی بحیثیت ماحول اور حفظان صحتِ جسمانی بحیثیت فرد۔ (۲۱) محنت کی عادت اور وقت کی پابندی، ایفائے عہد، مظلوم کی امداد، سچ، جھوٹ سے پرہیز۔ (۲۲) چندہ اور اس کی اہمیت، تبلیغ اور اس کی اہمیت، زندگی وقف کرنے کی اہمیت۔ (۲۳) احمدیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہندوستان اور پاکستان کی اہمیت۔ (۲۴)حکومتِ اسلامی ، حکومت اور رعایا کے تعلقات، جہاد۔ ان میں سے بعض مضامین پر تو مستقل رسالہ ہو گا اور بعض تین تین، چار چار عنوانوں پر ایک ایک رسالہ ہو گا۔ یہ انشاء اﷲ دو تین مہینے میں اُمید ہے کہ کتابیں تیار ہوجائیں گی اور پھر ان کو اگلے سال یعنی ۱۹۵۲ء میں انشاء اﷲ چھپوار دیا جائے گا۔ اِس طرح بچوں کی تربیت اور تعلیم میں بہت کچھ مدد مل جائے گی۔
    دوسرا طریق مَیں نے بڑے مضامین کے متعلق سوچا۔ مَیں نے پچھلے سال تحریک کی کہ ہمارے جو جامعہ کے لڑکے ہیں اُن کو ڈگری نہ دی جائے جب تک یہ کسی نہ کسی مضمون کے متعلق کتاب نہ لکھ دیں۔ اِس کے ذریعہ بھی بڑا مفید لٹریچر جمع ہو جائے گا۔ عنوان ہم مقرر کریں گے اور کام ان سے لیں گے۔ اِس طرح وہ مستقل کتابیں پیدا ہو جائیں گی جن کے ذریعہ ہماری جماعت بھی فائدہ اُٹھائے گی اور دوسرے لوگ بھی فائدہ اُٹھا سکیں گے۔ اِس سال چونکہ یہ بے وقت کارروائی شروع ہوئی اِس لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ بجائے لمبی کتاب دینے کے پچہتّرصفحوں کی کتاب مقرر کر دی جائے اور ایسے عنوان مقرر کئے جائیں جن کو وہ زیادہ آسانی کے ساتھ لکھ سکیں۔ چنانچہ یہ کتابیں اِس سال انشاء اﷲ وہ تھیسس کے طور پر لکھیں گے اور پھر اِن کو سلسلہ کی طرف سے (جو اِن میں سے مفید ہوں گی) شائع کر دیا جاہے گا۔
    (۱) احکامُ الصلوٰۃ اور ان کی اصولی حکمتیں۔
    (۲) اجرائے نبوت فِی الْامۃ (حدیث کی روشنی میں جو کچھ اس مسئلہ پر علمائے سلسلہ لکھتے آئے ہیں ان کا خلاصہ اور نئی تحقیق)
    (۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصانیف کی وجہ سے غیر احمدی مصنفین پر کیا اثر پڑا ہے۔ (مسائل کے لحاظ سے)
    (۴) اشتراکیت اور مذہب
    (۵) الامام المہدی (اسلامی لٹریچر میں پہلے اِس کی کیا اہمیت رہی ہے اور اب مسلمان اِس حقیقت کو کس طرح فراموش کرتے جارہے ہیں)
    (۶) ہمارے مشن(یعنی اب تک جس جس جگہ ہمارے مشن قائم ہوئے ان کا ذکر نیز ان ممالک کے مختصر ضروری جغرافیائی اور تاریخی احوال اور مذہبی تحریکیں نیز مشن کے قیام کی تاریخ، کام کی نوعیت اور نتیجہ)
    (۷) ہجرت از قادیان اور پیشگوئی دربارہ واپسی۔
    (۸) مودودی تحریک پر تبصرہ۔
    (۹) حضرت مسیح ناصری ؑ کی سیرت قرآن مجید کی روشنی میں۔
    (۱۰) تاریخِ اسلام بعہد حضرت عمر ؓ۔
    (۱۱) تاریخِ اسلام بعہد حضرت ابو بکر ؓ۔
    (۱۲) سُود کے متعلق ہمارا نقطۂ نظر۔
    (۱۳) علوم متعلقہ حدیث۔
    (۱۴) جہاد۔
    (۱۵) انڈیکس کتاب تذکرہ۔
    (۱۶) احکام صَوم اور اس کی اصولی حکمتیں۔
    (۱۷) اسلامی قانون وراثت۔
    یہ گویا ۱۷کتابیں انشاء اﷲ تعالیٰ مارچ تک تیار ہو جائیں گی اورخدا تعالیٰ نے چاہا تو ان میں سے بہت سی ۱۹۵۲ء میں شائع کر دی جائیں گی۔ آئندہ کے لئے اس سے زیادہ وسیع مضامین دینے کا ارادہ ہے۔ چونکہ اِس دفعہ لڑکوں کو صرف تین تین مہینے کی مُہلت دی گئی ہے۔ طریقِ کار یہ اختیار کیا گیا ہے کہ وہ ہیڈنگ جو رکھے گئے ہیں اِن کے متعلق کہا گیا کہ وہ ان کے ضمنی عنوان لکھ کر لائیں کہ ان کے کون کون سے پہلوؤں پر وہ روشنی ڈالیں گے پھر ان کا پروفیسر جس کے ذمہ وہ مضمون لگایا گیا ہے پرنسپل اور وکیل التعلیم اور وہ طالبعلم باری باری میرے پاس آئے اور میری مجلس میں ان پر غور کر کے اس کی اصلاح کی گئی جو غیر ضروری مضمون تھے وہ کاٹے گئے اور جو ضروری حصّے رہ گئے تھے اُن کو داخل کر کے پھر وہ مضمون ان کو دیا گیا کہ اس پر وہ کتاب لکھ کر لائیں۔ آئندہ کے لئے ارادہ ہے زیادہ مستقل کتابیں ہوں جن کے اوپر وہ ایک لمبا عرصہ غور کرنے کے بعد مضمون لکھ سکیں۔
    اس کے علاوہ کچھ لٹریچر ہندوؤں اور سکھوں کے لئے بھی تیار ہو رہاہے۔ جماعت کو اس کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ کتابیں اگر لکھ کر الماریوں میں پڑی رہیں تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ دوستوں کو کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہئے اور کتابیں پڑھوانے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ دُنیا میں سب سے اچھا جلیس کتاب ہوتی ہے کیونکہ انسان کسی جگہ پر بھی جائے وہ جلیس ساتھ جاسکتا ہے۔ تمہارا گہرے سے گہرا دوست جب تم گھر میں جاتے ہو تو وہ باہر رہ جاتا ہے۔ تمہارا گہرے سے گہرا دوست اپنے بیوی بچوں کی ضرورتوں کے لئے رات کو تمہیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے لیکن تمہاری کتاب ہر وقت ساتھ رہ سکتی ہے۔ رات کو تم سوتے ہو، بیوی تمہارے ساتھ ہے، دروازے بند کئے ہوئے ہو، پردہ کئے ہوئے ہو، اُس نے بھی کتاب اُٹھائی ہوئی ہے اور تم نے بھی ایک کتاب اُٹھائی ہوئی ہے دونوں پڑھتے چلے جاتے ہیں۔ علم بڑھتا چلا جاتا ہے۔ کوئی خاص مسئلہ تمہیں پسند آتا ہے تو تم اس سے مخاطب ہو جاتے ہو۔ کوئی خاص مسئلہ اُسے پسند آتا ہے تو وہ تم سے مخاطب ہو جاتی ہے۔ اِس طرح دونوں اپنے تبادلۂ خیالات سے اپنے گھر کا علم بھی بڑھاتے جاتے ہیں، اپنے خاندان کا علم بھی بڑھاتے جاتے ہیں اور پھر اپنے ہمسایہ اور اپنی قوم کا علم بھی بڑھاتے جاتے ہیں۔
    تو سب سے پہلی ذمّہ داری جماعت پر یہ ہے کہ وہ اس لٹریچر کو خریدے۔ دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ پھر وہ اپنی عورتوں اور بچوں کو پڑھوائیں اور تیسری ذمہ داری جو مَیں سمجھتا ہوں کہ اس کے بغیر علم وسیع نہیں ہو سکتا یہ ہے کہ ہر جماعت میں لائبریریاں کھولی جائیں۔ اگر ہم ہر جماعت میں لائبریریاں کھول دیں تو مَیں سمجھتا ہوں ہماری تبلیغ کئی گُنا وسیع ہو سکتی ہے ۔ لائبریری کے لئے کوئی دوست کچھ وقت دے دیا کریں۔ آخر جو چندہ جمع کرتا ہے اُس کو بھی گھر بیٹھے چندہ نہیں آجاتا دن میں سے گھنٹہ دو گھنٹے وہ وقف کرتا ہے تبھی چندہ آتا ہے۔ بعض دفعہ شام کے وقت جب وہ سمجھتا ہے کہ مجھے فُرصت ہے تو اِس کام کے لئے نکل کھڑا ہوتا ہے بلکہ بڑے شہر والوں نے تو بتایا کہ اُنہیں دو دو تین تین گھنٹے روزانہ وقت دینا پڑتا ہے۔ اِسی طرح کوئی شخص لائبریری کے لئے بھی وقت دے سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ شام کو پانچ بجے سے سات بجے تک یا چھ سے آٹھ بجے تک یا سات سے نَو بجے تک لائبریری کھلے گی اور لوگوں کو کتابیں دی جائیں گی۔ کچھ اخبار بھی منگوا کر رکھے جاسکتے ہیں۔ چھوٹی جماعتوں کے لئے تو کتابیں تقسیم کرنے والی لائبریری زیادہ اچھی رہتی ہے اُن سے اِتنا خرچ برداشت نہیں ہو سکتا کہ میزیں ہوں اور کُرسیاں ہوں لیکن بڑے شہر مثلاً لاہور ہے، کراچی ہے، ملتان ہے، پشاور ہے، راولپنڈی ہے، لائل پور ہے۔ اِسی طرح مَیں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں بنگال کو ملا کر کوئی بیس پچیس ایسے شہر ہیں جن میں باقاعدہ احمدی لائبریریاں ہونی چاہئیں اور باقی جگہ ایسی لائبریریاں ہونی چاہئیں جو کتابیں تقسیم کرنے والی ہوتی ہیں۔ گھر کی ایک الماری میں کتابیں رکھی ہوئی ہوں اور ایک صفحہ پر کتابوں کی لِسٹ چھپوا کر لوگوں میں تقسیم کر دی جائے کہ یہ ہماری لسٹ ہے جس نے کوئی کتاب پڑھنی ہو وہ بتا دے ہم اُس کے گھر پر پہنچا دیں گے اور جب وہ کتاب پڑھ کر واپس کر دے تو پھر دوسروں کو دے دی جائے۔
    پردہ بِل اور اسلام
    حال ہی میں پنجاب اسمبلی کے ایک رُکن عبدالستارصاحب نیازی نے اسمبلی میں پردہ بل پیش کرنے کی کوشش کی تھی جو کامیاب
    نہ ہو سکی۔ اِس بِل کی غرض یہ تھی کہ جو عورتیں پردہ کی پابندی نہیں کرتیں اُنہیں قانوناً مجرم سمجھا جائے اور سزا دی جائے۔
    (حضور نے اِس بِل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:)
    اِس بِل پر بہت لے دے ہوئی ہے۔ ایک طبقہ کا یہ خیال ہے کہ جب اسلام نے پردہ کا حُکم دیا ہے تو اِس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ضرور سزا ملنی چاہئے لیکن دوسرے طبقہ نے یہ کہا ہے کہ جب قرآن مجید نے بے پردگی کے لئے کوئی سزا تجویز نہیں کی تو ہماری طرف سے سزا تجویز کرنا شریعت میں دخل اندازی کے مترادف ہو گا۔ دراصل اِس مسئلہ کو ایک عجیب گورکھ دھندا بنا دیا گیا ہے۔ اگر یہ سمجھا جائے کہ چونکہ پردہ ایک اسلامی حُکم ہے اِس لئے اِس کی خلاف ورزی پر ضرور سزا ملنی چاہئے تو سوال یہ ہے کہ کیا دیگر اسلامی احکام کی خلاف ورزی پر سزا ملتی ہے؟ قرآن مجید نے سُود سے منع کیا ہے لیکن پاکستان کے سارے محکمے سُود لیتے ہیں۔ اسلام مساوات کی تعلیم دیتا ہے لیکن یہ مساوات پاکستان میں کہاں نظر آتی ہے اور اگر یہ دلیل مان لی جائے کہ جس معاملہ میں قرآن مجید نے کوئی سزا تجویز نہ کی ہو اُس میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے تو سوال یہ ہے کہ آج پاکستان میں جو تعزیرات نافذ ہیں کیا ان سب کا قرآن مجید نے ذکر کیا ہے؟ اس دلیل کی رو سے تو پاکستان کی تعزیرات میں سے نصف کے قریب فوراً منسوخ کرنی پڑیں گی کیونکہ ان کا قرآن مجید میں کوئی ذکر نہیں ہے۔
    درحقیقت اِس قسم کے بل پیش کرنے اور پھر اِن کو مسترد کرنے کے لئے اِس قسم کی دلیلیں دینے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آج مسلمان کس قدر پراگندہ خیال ہو چکے ہیں۔ وہ بالکل متضاد چیزیں پیش کرتے ہیں اور پھر اُنہیں اسلام کا نام دے دیتے ہیں۔ مثلاً اگر پاکستان میں یہ قانون پاس ہو جاتا تو یہاں پردے کی خلاف ورزی کرنے پر سزا ملتی۔ لیکن اس کے برعکس ٹرکی میں یہ قانون جاری ہے کہ جو پردہ کرے اُسے سزا دی جائے۔ اور کئی دیگر اسلامی مُمالک میں یہ قانون رائج ہے کہ نہ پردے کی پابندی پر سزا ملتی ہے اور نہ اسے چھوڑنے پر۔ گویا تینوں متضاد صورتیں اسلامی ممالک میں رائج ہیں لیکن تینوں صورتوں کو اسلام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ پراگندہ خیالی ہے جسے دور کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ نے یہی بتایا ہے کہ جب تک مسلمان اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہوئے ایک ہاتھ پر جمع نہ ہوں گے تا ساری اسلامی دُنیا میں ایک ہی قانون اور فتویٰ جاری ہو اُس وقت تک وہ کبھی بھی موجودہ انتشار اور پراگندگی سے بچ نہیں سکتے نہ مذہبی طور پر نہ سیاسی طور پر۔
    گو ہماری ہر جگہ مخالفت کی جاتی ہے لیکن ذرا غور کرو احمدیت کی ضرورت کتنی واضح ہو جاتی ہے۔ اِس تمسخر کو دیکھ کر جو آج خود مسلمان اسلام سے کر رہے ہیں ہر طبقہ اور ہر فرقہ اپنے خیال اور اپنی خواہش کو اسلام کی طرف اور قرآن کی طرف منسوب کر دیتا ہے اور اپنی اکثریت کے زعم میں دوسروں سے جبراً اپنے مسلک کو منوانے کی کوشش کر تا ہے۔ ایسا کرنے میں آج وہ اخبار بھی شامل ہے جس نے حال ہی میں حکومت کو میرے خلاف کارروائی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ مَیں ایسے اخبار نویسوں کو کہتا ہوں کہ تمہاری یہ دھمکیاں اِس لئے ہیں ناکہ تم زیادہ ہو اور ہم تھوڑے ہیں ورنہ کیا وجہ ہے کہ تم اس قسم کی باتیں انگریزوں اور ہندوؤں کے متعلق نہیں کہتے؟ یہ محض اکثریت میں ہونے کا نتیجہ ہے کہ تم ایسی باتیں کر رہے ہو لیکن غور کرو کیا ابو جہل کی بھی یہی دلیل نہیں تھی کہ محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کو کوئی حق نہیں کہ وہ ہمارے مُلک کی ننانوے فیصدی آبادی کے خیالات کے خلاف کوئی بات کہے۔ آخر آج جو دلیل تم دیتے ہو کیا وہی دلائل ابو جہل نہیں دیا کرتا تھا؟ تمہارے کہنے پر حکومت بے شک مجھے پکڑ سکتی ہے، قید کر سکتی ہے، مار سکتی ہے لیکن میرے عقیدہ کو وہ دبا نہیں سکتی۔ اِس لئے کہ میرا عقیدہ جیتنے والا عقیدہ ہے وہ یقینا ایک دن جیتے گا تب ایسا تکبر کرنے والے لوگ پشیمان ہونے کی حالت میں آئیں گے اور اُنہیں کہا جائے گا بتاؤ کیا تمہارا فتویٰ اب تم پر عاید کیا جائے؟ جب محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مکّہ فتح کیا اور اکثریت کا گھمنڈ کرنے والے لوگ آپؐ کے سامنے پیش ہوئے تو آپؐ نے اُنہیں فرمایا بتاؤ اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ آپ کا مقصد یہ کہنے سے یہی تھا کہ وہ اپنی اکثریت کے زعم میں جو کچھ کہا کرتے تھے وہ اُنہیں یاد دلایا جائے۔ کفار نے کہا بے شک ہم نے بہت ظلم کئے لیکن ہم آپؐ سے یوسف ؑ والے سلوک ہی کی اُمید کرتے ہیں۔مَیں بھی کہتا ہوں کہ اُس دن جب تمہارا اکثریت میں ہونے کا غرور ٹُوٹ جائے گا تو خواہ اُس وقت میں ہوں یا میرا قائمقام تم سے بھی بہر حال یوسف ؑ والا سلوک ہی کیا جائے گا۔ (انشاء اﷲ)
    اصل دیکھنے والی چیز ہمارے لئے یہ ہے کہ ہم سوچیں اور غور کریں کہ کیا واقعی ہم نے اپنے خدا کو خوش کر لیا ہے؟ کیا ہمیں وہ چیز مل گئی ہے جس کی خاطر ہم نے دُنیا جہاں کی مخالفتیں مُول لی ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر واقعی ہمیں دُنیا کی کسی طاقت کی پرواہ نہیں لیکن اگر یہ چیز نہیں ملی تو خواہ دُنیا کہے یا نہ کہے ہم مر چکے اور ہمارا دل ہی ہماری حالت پر نوحہ کناں ہو گا ۔ پس پورا زور لگاؤ کہ وہ چیز ہمیں حاصل ہو جائے جس کی خاطر ہم یہ سب تکلیفیں اُٹھا رہے ہیں۔ لیکن وہ چیز کیا ہے؟ وہ چیز ہے ایمان بِاﷲ جسے قرآن مجید نے مومنوں کے سامنے ایک بہترین تحفہ کے طور پر پیش کیا ہے۔ اگر ایمان بِاﷲ مل جائے اور اگر اس کے سارے پہلو اُسی طرح محفوظ ہوں جس طرح قرآن مجید کہتا ہے تو پھر سمجھ لو کہ تم نے سب کچھ پالیا۔‘‘(الفضل ۳؍جنوری ۱۹۵۲ء لاہور)
    حضور نے تقریر کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:-
    چشمۂ ہدایت
    ’’اﷲ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے
    ۱؎یعنی دنیا پر نظر کر کے اور تاریخ عالَم پر غور کر کے تمہیں دکھائی دے سکتا ہے کہ ہر طرف گھاٹا ہی گھاٹا اور تباہی ہی تباہی اور جھگڑے ہی جھگڑے پائے جاتے ہیں۔صرف ایک ہی چیز ہے جو اِن تما م بد اثرات سے پاک نظر آسکتی ہے اور وہ مومن انسان ہے جو عمل صالح کرتا ہے اورکرتا ہے اورکرتا ہے۔ گویا یہ چار چیزیں ایسی ہیں جو ساری دنیا کے فسادات کا علاج ہیں۔جن میں سے پہلی اور سب سے اہم چیز ایمان ہے۔ یہ سیدھی بات ہے کہ اگر ایمانِ کامل کسی کو نصیب ہو جائے تو پھر دنیا کی مشکلات اوردنیا کی تکالیف اس کی نگاہ میں بالکل بے حقیقت ہو جاتی ہیں۔ احادیث میں ایک واقعہ بیان ہؤ اہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ ایمان کی کیاکیفیت ہوتی ہے اور جب وہ کسی شخص کو سچے طور پر حاصل ہو جائے تو اُس کی نگاہ میں دنیا کتنی بے حقیقت ہوجاتی ہے۔
    احد کی جنگ میں ایک واقعہ ایسا پیش آیا جس کے نتیجہ میں لوگوں میں یہ مشہور ہو گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔ تمام مدینہ میں کُہرام مچ گیا اور عورتیں اور بچے بلبلاتے اور چیختے ہوئے میدانِ جنگ کی طرف دَوڑ پڑے۔ شہر سے نکلنے والی عورتوں میں ایک ستّر سالہ بڑ ھیا بھی تھی اس کی بینائی بہت کمزور ہو چکی تھی اور اسے نہایت قریب سے ہی کوئی چیز نظر آتی تھی دُور کی چیز کووہ نہیں دیکھ سکتی تھی زیادہ تر دوسرے کو آواز سے پہچانتی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُس وقت میدانِ جنگ سے بخیریت واپس تشریف لارہے تھے اور آپ کی خاص طور پر حفاظت کرنے کے لئے ایک انصاری صحابیؓ آپ کے ساتھ ساتھ چلے آرہے تھے اور وہ اِس فخر میں آپ کے اونٹ کی نکیل پکڑے ہوئے تھے کہ ہم خدا کے رسول کو میدانِ جنگ سے زندہ سلامت لے آئے ہیں ۔ان کے دوسرے بھائی اِسی جنگ میں شہید ہو چکے تھے ۔جب مدینہ سے عورتوں اور بچوں کا ایک ریلا روتا اور بلبلاتا ہؤا نکل رہا تھا تو اِس صحابی ؓ نے دیکھا کہ ان کی ستّر سالہ بڑھیا ماں بھی بے تابی کے ساتھ چلی آرہی ہے۔ اس نابینا بڑھیا کے قدم لڑکھڑا رہے تھے۔ اُسے رستہ نظر نہیں آتا تھا اور وہ پریشانی کے عالم میں اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔ جب اس صحابی ؓ نے اپنی ماں کو دیکھا تو انہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللہ! میری ماں!،یَا رَسُوْلَ اللہ! میری ماں! مطلب یہ تھا کہ اس کا جوان بیٹا بڑھاپے کی عمر اور کمزوری میں مارا گیا ہے آپ اس کی طرف توجہ فرمائیں تاکہ اس کے دل کو تسکین حاصل ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی اِس بات کو سمجھ گئے۔ وہ بڑھیا قریب آئی تو آپ نے فرمایا میری اونٹنی کو کھڑا کرو۔ پھر آپ ؐ نے اس عورت کو مخاطب کیا اور فرمایا اے خاتون! مَیں تمہارے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے تمہارے بیٹے کو شہادت کا رُتبہ دیا وہ تمھیں صبر دے اور تمہارے اِس غم کو دُور کرے ۔نظر کی کمزوری کی وجہ سے وہ عورت اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی کہ یہ آواز مجھے کہاں سے آرہی ہے؟ وہ تو یہی سمجھتی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم شہید ہو گئے ہیں اور آواز تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی۔ دیکھتے دیکھتے آپ کے چہرہ پر اس کی نظر پڑ گئی اور اس نے دیکھ لیا کہ آپ ہی ہیں اور آپ ہی بول رہے ہیں۔ اِس پرتِنک کر جیسے عورت خفگی میں بولتی ہے کہنے لگی یَا رَسُوْلَ اللہ! آپ بھی کیسی باتیں کرتے ہیں۔ یَا رَسُوْلَ اللہ!میرے بیٹے کا یہاں کیا ذکر ہے سوال تو آپ کی زندگی کا تھا سو آپ خیریت سے آگئے بیٹے مرتے پِھریں ان کا کیا سوال ہے۔۲؎
    تو حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم کو خدا مل جائے اور اگر ہر قسم کے خطرات کو مُول لینے کے بعد خدا کا دامن ہمارے ہا تھ میں آجائے تو ہم تو یہی کہیں گے کہ قوم کیا ہوتی ہے قومیں رہیں یا جائیں خدا ہمارا مدد گار ہے۔ پس ہمیں ایمان کی فکر کرنی چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ آیا ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ خدا کے منشاء کے مطابق ہے یا وہ اُس معیار تک پہنچتا ہے جس معیار تک پہنچنے کے بعد انسان ہر قسم کے روحانی خطرات سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
    پہلی چیز ایمان ہے۔ دوسری چیز عملِ صالح ہے ۔تیسری چیز وصیت بِا لحق۔ اور چوتھی چیز وصیت بِالصبر ہے۔اِن میں سے پہلی چیز کو لیتا ہوںیعنی ایمان۔ ہم مُنہ سے کہہ دیتے ہیں کہ ایمان۔ایمان۔یا ایمان کا کیا ہے۔ اللہ کا فضل ہے ہمیں ایمان نصیب ہے لیکن ہم کبھی یہ نہیں سمجھتے کہ ایمان ہو تا کیا ہے۔آیا ایمان صرف پانچ حرفوں کے جمع ہونے کا نام ہے؟ آخر ہر چیز کی کوئی حقیقت ہوتی ہے ،خربوزہ کی کوئی حقیقت ہے،آم کی کوئی حقیقت ہوتی ہے، ہم کپڑے کا لفظ بولتے ہیں تو اس کی بھی کوئی حقیقت ہوتی ہے۔ کپڑا کھدّر بھی ہے، کپڑا کمخواب بھی ہے، کپڑا زربفت بھی ہے۔
    پس ہمیں سوچنا چاہئے کہ آخر یہ جو لفظ ایمان ہے اس کا کیا مفہوم ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ جب ہمارے دماغ میں کوئی عقیدہ راسخ ہوگیا اور ہم نے سمجھ لیا کہ فلاں چیز سچی ہے اور ہم نے مُنہ سے کہہ دیا کہ یہ چیز سچی ہے تو گویا ہم کو ایمان نصیب ہو گیاحالانکہ اسلام یہ معنے نہیں کرتا۔ ایمان کا لفظ امن سے نکلاہے اور امن تو آپ لوگ جانتے ہی ہیں روزانہ بحث ہوتی ہے کہ دُنیا میں امن ہونا چاہئے، امن ہونا چاہئے گو ساتھ ہی یہ بحث بھی ہوتی ہے کہ جہاں احمدی جلسہ ہو اُس میں سر پھٹول ہونی چاہئے اور ان کے جلسہ کو برخاست کر دینا چاہئے۔بہر حال ایمان کے معنے ہیں امن دینا۔ سو اَب ایمان کے معنے خالی عقیدہ کے مان لینے کے نہ ہوئے ایمان تو اُس چیز کو کہیں گے کہ کسی عقیدہ کو ایسا مان لینا جو امن دے دے۔ اگر اس کے ساتھ اسے امن مل گیا ہے تو وہ ایمان ہے اور اگر امن نہیں تو نام ہے ایمان نہیں۔اب ایک امن تو وہ ہے جو ہمارے دیکھنے میں نہیں آتامثلاً لوگ کہتے ہیں ہم دوزخ سے بچ جائیں گے اور جنت میں چلے جائیں گے۔ سو دوزخ کو کس نے دیکھا اور جنت کو کس نے دیکھا۔ہندو بھی یہی کہتا ہے کہ میں دوزخ سے بچ گیا اور جنت میں چلا گیا ۔کُتّا،سُور،بلی بن گئے تو دوزخ ہو گئی،آدمی بن گئے تو جنت ہو گئی ۔پس وہ بھی یہی کہتا ہے ،بدھ بھی یہی کہتا ہے کہ بُرے اعمال ہوں گے تو جُونیں بھگتوں گا۔بُرے اعمال نہ ہوئے تو نہیں بھگتوں گا۔عیسائی بھی یہی کہتا ہے کہ جس کے بُرے اعمال ہوں گے وہ ہمیشہ ہمیش کی دوزخ میں جائے گا اور آگ اور پتھر اور گندھک اور کیا کیا بلائوں میں وہ جلایا جائے گا اور اگر عیسائیت پر پکا ہؤا ایمان ہؤ ا اور مسیح پر پختہ ایمان ہؤا تو اگلے جہان میں نہایت ہی خوشحال قلب کے ساتھ رہے گا تو کیا فرق ہے ہمارئے ایمان کا لفظ کہنے میں اور ان کے ایمان کے کہنے میں،وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمیں ایمان حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کوئی ایسی چیز بھی ہو جس کو ہم دیکھ سکیں تو ہم اس سے ایمان کی حقیقت پہچانیں گے۔اگلے جہان کی جو جنت ہے وہ عقل سے پہچانی نہیں جا سکتی اور نہ رؤیت میں آتی ہے صرف عقیدہ پر اس کی بنیاد ہے ۔قرآن کہتا ہے تو ہم مانتے ہیں، انجیل کہتی ہے تو عیسائی مانتے ہیں،وید اور اپنشد کہتے ہیں تو ہندو مانتے ہیں،بدھ مذہب کی کتابیں کہتی ہیں تو بدھ مانتے ہیں،زرتشتی کتابیں کہتی ہیں تو وہ مانتے ہیں۔نہ کسی نے دیکھانہ کوئی عقلی دلیل ایسی ہے جس کے ذریعہ اس کے وجود کو سامنے لا سکیں۔ اب اگر کوئی ایسی دلیل ہم کو مل جائے جسے دوسرے کے سامنے ہم ثابت کر سکیں اور کہہ سکیں کہ لو یہ معیار ہے اور اسے ماننا پڑے کہ یہ ٹھیک ہے تو پھر بے شک ہم کہیں گے کہ چونکہ ایمان کے پہچاننے کی دلیل صرف ہمارے پاس ہے تمہارے پاس نہیں اِس لئے ایمان صرف ہمارے پاس ہی ہے۔
    اب ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے ایمان کی کیا تعریف کی ہے اس طرح آہستہ آہستہ اس کے معنے ہم پر کھلتے جائیں گے ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایمان کا چھوٹے سے چھوٹا مزہ جو انسان کو حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مَنْ کَانَ اَنْ یُّلْقٰی فِی النَّار اَحَبُّ اِلَیْہِ مِنْ اَنْ یَّرْجِعَ فِی الْکُفْرِبَعْدَ اَنْ اَنْقَذَہُ اﷲ۔ ۳؎ یعنی ایمان لانے کے بعد اگر اُس کو آگ میں ڈال کر جلا دیا جائے تو وہ اِس کو نہایت ہی پسند کرے گا بہ نسبت اِس کے کہ وہ اپنے اس عقیدہ کو چھوڑ دے اور کُفر کی طرف لَوٹ جائے بعد اِس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اُس کو کفر سے بچالیا ہے ۔
    ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ پُرانے زمانہ کی اُمتوں میں سے جن کو ایمان نصیب ہوتا تھا لوگ اُن کے سروں پر آرے رکھ کر اُنہیں چِیر دیتے تھے اور وہ کٹ کر دو ٹکڑے ہو جاتے تھے لیکن اپنی بات پر قائم رہتے تھے ۔۴؎ صحابہؓ میں اِس کی نظیریں بڑی کثرت سے پائی جاتی ہیں ۔حضرت بلال ؓکو بھُوکا رکھا جاتا تھا،چوبیس گھنٹے ان کی خوراک کو بند رکھتے۔ اِس کے بعد ان کو تپتی ہوئی ریت پر لٹاتے، بڑا سا گرم پتھر اُن کے سینہ پر رکھتے اور پھر ایک آدمی اُن کے سینہ پر چڑھ جاتا اور کُودتا۔ پھر کہتے تھے کہو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم جھوٹے ہیں اور خدا تعالیٰ کے اَور بھی شریک ہیں۔ یہ لات منات او ر عُزٰی جو ہیں یہ سب خدا کے شریک ہیں۔زبان اُن کی اٹک جاتی تھی، گلا اُن کا خشک ہو جاتا تھا۔ جشیوں کے مُنہ سے یوں بھی ش نہیں نکلتا ۔جس وقت ان کو بہت پیٹتے تو وہ کہتے تھے اَسْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ اور جب بالکل ہی بے دم ہو جاتے تو وہ فرماتے اَحَدٌ اَحَدٌ یعنی خدا ایک ہی ہے۔۵؎
    غرض اس کا نمونہ مسلمانوں میں موجود ہے کہ کس کس طرح اُنہیں تکلیفیں دی گئیں مگر پھر بھی وہ اپنے عقیدہ پر قائم رہے۔ اِس کے مقابلہ میں وہ بھی مسلمان کہلانے والے لوگ ہوتے ہیں جو معمولی لالچ کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔
    حضرت خلیفہ اوّل سُنایا کرتے تھے کہ کوئی مولوی صاحب میرے دوست تھے اور مجھے ان پر بڑی حُسنِ ظنی تھی ،بظاہر بڑے نیک اور نمازی نظر آتے تھے ایک دن کسی نے مجھے آکر کہا کہ آپ فلاں مولوی صاحب کی بڑی قدر کرتے ہیں۔ وہ بڑا ذلیل قسم کا آدمی ہے میں نے کہا نہیں بڑا اچھا آدمی ہے کہنے لگا فلاں لڑکی جو شادی شدہ تھی اُس کی اس نے دوسری جگہ شادی کر دی ہے۔ میں نے کہا تم الزام لگاتے ہو ایک دو دن کے بعد مولوی صاحب جو مجھے ملنے کے لئے آئے تو میں نے کہا مولوی صاحب! میں تو نہیں مانتا لیکن کسی شخص نے یہ بات بتائی ہے اور میرا فرض ہے کہ آپ کو وہ بات پہنچادوں اُس نے کہا ہے کہ آپ نے ایک شادی شُدہ عورت کا دوسری جگہ پر نکاح پڑھ دیا ہے۔ کہنے لگا شادی شدہ عورت کا دوسری جگہ پر نکاح۔ مولوی صاحب! آدمی کو چاہئے کہ پہلے تحقیقات کرے اور پھر دیکھے کہ کیا بات ہے یونہی کسی پر الزام نہیں لگانا چاہئے۔ میں نے کہا یہی تو میری غرض تھی اور میں خوش ہو گیا کہ معلوم ہوتا ہے بات جھوٹی ہے اور یہی میرا مطلب تھا لیکن اس کے بعد کہنے لگا مولوی صاحب! یہ بتائیے’’نمبر دار نے چڑی جِڈّا روپیہ جے کڈھ کے میرے سامنے رکھ دتّا تے میں کی کردا‘‘۔
    آپ فرماتے تھے میں نے سمجھا تھا کہ خبر نہیں مارا ہو گا، پیٹا ہو گا، گھر سے نکال دیا ہوگااَور کیا کیا زمینداروں نے ظلم کیا ہو گا ۔آخر کہلوا لیا ہو گا مولوی تھا ڈر گیا۔مگر ظلم کیا نکلا؟ مجبوری کیا نکلی؟ مجبوری یہ نکلی کہ’’چِڑی جِڈّا روپیہ کڈھ کے اَگّے رکھ دتا تے میں کی کردا‘‘یہ آجکل کے مسلمانوں کی حالت ہے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ آرے سے تم کو چِیر دیا جائے، آگ میں تم کو جلا دیا جائے مگر تمہارے دل میں جو یقین اور وثوق پیدا ہو چُکا ہو وہ نہ نکلے اور تم اپنی بات پر قائم رہو اور یہ بھی ادنیٰ درجہ کا ایمان ہے۔ اس کے اوپر ایمان بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اب ہم ایمان کے سمجھنے میں ایک قدم قریب ہو گئے لیکن یہ بھی بات ہے کہ ہر شخص کو آرے سے تو چِیرانہیں جاتا، ہر شخص کو تو آگ میں نہیں ڈالا جاتا، ہر شخص کو تو پہاڑ سے گِرایا نہیں جاتا۔ جس کو گرائیں گے اُس کو تو پتہ لگ جائے گا کہ ایمان اسے نصیب ہے یا نہیں ہمیں کس طرح پتہ لگے گا؟اُس کو تو پتہ لگ گیا کہ ایمان کی کیا طاقت ہے ہمیں کس طرح پتہ لگے گا؟ یہ معیار اگر مل جائے تو پھر بے شک ہم مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ہمیں ایمان حاصل ہے۔
    اِس کے پہچاننے کے لئے ہم کو یہ مسئلہ یوں سمجھنا چاہئے کہ ایمان کے معنے بیان کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ایمان اُس عقیدہ کا نام ہے جو غیرمتزلزل ہو یعنی و ہ کسی صورت میں بھی متزلزل نہ ہو سکے۔ اب ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہدایت لے کر خدائی قانون کی طرف جاتے ہیں کہ غیر متزلزل کونسی چیز ہؤا کرتی ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ کسی چیز کو عام حالات میں کیا بات متزلزل کر دیا کرتی ہے؟ یُوں تو ایک پاگل ہوتا ہے وہ ہر بات کے متعلق قیاس کر لیتا ہے سوال یہ ہے کہ ایک انسان جو معمولی عقل کا انسان ہے اور مشترک عقل اُس میں پائی جاتی ہے وہ کیوںمتذبذب ہؤا کرتا ہے؟
    اگر تم غور کر و گے تو تمہیں معلوم ہو گا کہ تین چیز یں ہیں جن کی وجہ سے انسان متزلزل ہؤا کرتا ہے۔ ایک متزلزل کرنے والی چیز ہوتی ہے عقیدہ اور نقل۔ ایک شخص کو یقین ہے کہ قرآن سچا ہے اُس کو اگر آ کر کوئی کہے کہ قرآن میں یہ لکھا ہؤ ا ہے تو چاہے اس کا کوئی عقیدہ ہو اگر وہ قرآن کو سچا سمجھتا ہو گا تو فوراً کہہ دے گا کہ میری غلطی ہے قطع نظر اِس کے کہ وہ بات ٹھیک ہے یا نہیںیہ جانے دو۔ لیکن جس کو کسی چیز پر عقیدت ہو جس کو نقل کہتے ہیںیعنی حوالہ کہ تمہارے مذہب میں یا فلاں کتاب میں یوں لکھا ہؤا ہے اُس کی وجہ سے انسان اپنے عقیدہ پر پکّا ہوتا ہے۔جب اس سے ہٹا دو کہ یُوں نہیں تو وہ ہِل جاتا ہے۔
    میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سُنایا ہے کہ مولوی نظام الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک پُرانے دوست ہؤا کرتے تھے۔ مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی کے بھی وہ دوست تھے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دعویٔ مسیحیت کیا اور انہوں نے مخالفت کی اور کفر کے فتوے لگائے تو مولوی نظام الدین صاحب اُس وقت حج کے لئے گئے ہوئے تھے، اُنہیں حج کا بڑا شوق تھا، ۱۲ حج اُنہوں نے کئے تھے، جب حج سے واپس آئے اور انہوں نے سُنا کہ اس طرح جھگڑا ہو گیا ہے تو اُنہیں بڑا افسوس ہؤا اور قادیان پہنچے۔ حضرت صاحب بیٹھے تھے کہنے لگے میں نے حج سے واپس آکر کچھ باتیں سُنی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے فرمایا آپ نے کیا سُنا ہے؟ انہوں نے کہا میں نے سُنا ہے آپ کہتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں آپ نے فرمایا میاں صاحب! بات تو ٹھیک ہے۔ وہ کہنے لگے قرآن میں تو اِس کے خلاف لکھا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے فرمایا اگر قرآن میں اس کے خلاف لکھا ہوتا تو ہم فوراً چھوڑ دیتے۔یہی تو سوال ہے ہم کہتے ہیں قرآن میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیںاوروہ کہتے ہیں نہیں لکھا۔وہ کہنے لگے قرآن میں تو بیسیوں آیتیں ہیں۔ آپ نے فرمایا بیسیوں نہیں آپ ایک ہی لے آئیے۔انہوں نے تو اپنے مولویوں سے سُنا ہؤا تھا کہ قرآن میں لکھا ہے حضرت عیسٰی علیہ السلام زند ہ ہیں، وہ تھے اَن پڑھ مگر دیندار بہت تھے کہنے لگے اچھا اگر میں سَو آیت لے آئوں تو کیا آپ مان جائیں گے؟ آپ نے فرمایا سَو کا سوال نہیں ایک ہی لے آئیں۔ اِس پر اُنہیں شُبہ پڑا کہ شاید سَو آیتیں نہ ہوں کہنے لگے اچھا اگر میں پچاس آیتیں لے آئوں تو کیا آپ مان جائیں گے؟حضرت صاحب نے فرمایا میاں صاحب! ہم نے کہہ جو دیا ہے کہ ایک آیت ہی لے آئیں تو ہم اپنا عقیدہ چھوڑنے کے لئے تیار ہیں۔ اس سے پھر ان کو اَور شُبہ پڑا اور آخردس پر آ گئے۔ چونکہ ہر روز وعظ سُنتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اِس لئے انہوں نے سمجھا کہ کم سے کم دس آیتیں تو ضرور ہوں گی اس سے کم تو نہیں ہو سکتیں۔ پھر کہنے لگے اچھا اقرار رہا مگر شرط یہ ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی میرا بھی دوست ہے اور آپ کا بھی دوست ہے آپ جانتے ہیں اس کے دل میں بدظنی ہو گی وہ آپ کے اقرار کو یوں نہیں مانے گا ۔لاہور میں جامع مسجد میں جا کر اعلان کرنا پڑے گا کہ میری غلطی ہے۔ آپ نے فرمایا ضرور ۔ اُن دِنوں حضرت خلیفہ اوّل جموں سے چھُٹی لے کر لاہور آئے ہوئے تھے اور مولوی محمد حسین صاحب نے آپ سے بحث شروع کر دی تھی کہ میرے ساتھ وفاتِ مسیح ؑ پر مباحثہ کر لو اور معیار کیا ہو گا حضرت خلیفہ اوّل فرماتے تھے قرآن اور وہ کہتے تھے حدیث۔ آخر بڑے جھگڑوں اور اشتہار بازیوں کے بعد اور پیغام رسانیوں کے بعد حضرت خلیفہ اوّل نے مان لیا کہ اچھا تم بخاری کو اَصَحُّ الْکُتُبِ بَعْدَ کِتَابِ اﷲِ کہتے ہو جو کچھ قرآن اور بخاری میں لکھا ہو گا وہ میں مان لوں گا۔ چینیاں والی مسجد میں مولوی محمد حسین صاحب بیٹھے ہوئے تھے اُن کے اِردگِرد اُن کے معتقد تھے اور وہ بڑے زور شور سے کہہ رہے تھے تعلّی کی اُن کو عادت تھی کہ دیکھو نور الدین ؓ اتنا بڑا عالم بنا پھرتا ہے سارے ہندوستان میں مشہور ہے میں نے اُس کو یہ دلیل دی اور اُس نے وہ دلیل دی۔اُس نے یوں کہا اور میں نے اُسے یوں کہا۔ او ر میں نے اُسے یُوں پٹخنی دی اور آخر اُسے منوا لیا کہ حدیث بھی پیش ہو سکے گی۔اِتنے میں بد قسمتی سے مولوی نظام الدین صاحب وہاں پہنچ گئے اور کہنے لگے مولوی صاحب ’’چھڈّو بھی تہانوں عادت ہے اینویں لمبے جھگڑے کرن دی‘‘ ۔میں مرزاصاحب کو منوا آیا ہوں آپ قرآن سے دس آیتیں لکھ دیں،میں ابھی مرزا صاحب کو شاہی مسجد میں لا کر سب کے سامنے ان سے توبہ کرائوں گا۔اب عین موقع پر جو آکر انہوں نے یہ کہا دوسرے موقع پر بات ہوتی تو شاید وہ برداشت بھی کر جاتے تعلّی تو اُن کی ساری یہی تھی کہ نور الدین قرآن کہتا تھا اور میں نے حدیث منوالی۔اِس موقع پر جو نظام الدین صاحب نے یہ بات کہی تو مولوی محمد حسین صاحب غصہ میں آ گئے اور کہنے لگے میں مہینہ بھر توں حدیث ول لیا رہیا،تُوں پھر قرآن وَل لے گیا ہاں‘‘۔میاں نظام الدین صاحب نیک آدمی تھے،جب اُنہوں نے یہ بات سُنی تو اُن پر سکتہ سا آگیا اور بہت ہی افسردہ شکل بنا کر مجلس سے اُٹھے اور کہنے لگے’’ چنگا مولوی صاحب! جے ایہہ گل ہے تو پھر جِدھر قرآن اُدھر میں‘‘۔
    اور یہ کہہ کر وہ قادیان آئے اور اُنہوں نے بیعت کر لی۔ تو حقیقت یہ ہے کہ جب کسی شخص کو یقین ہوتا ہے نقل پر تو اُس کو اگر حوالہ دیا جائے تو وہ متزلزل ہو جاتا ہے۔
    دوسری چیز متزلزل کرنے والی عقل ہوتی ہے ۔عقل کا مادہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں پیدا کیا ہے اور عقل سے انسان روزانہ فیصلے کرتا ہے۔ اگر کسی شخص کی سمجھ میں آ جائے کہ عقل یوں کہتی ہے تو وہ بھی متزلزل ہو جاتا ہے۔
    تیسری چیز انسان کو متزلزل کرنے والی جذباتِ صحیحہ ہوتے ہیں۔ بے شک عقل بھی کام دیتی ہے اور نقل بھی کام دیتی ہے۔ لیکن اگر فطرت کوئی بات کہتی ہو تو جس کو نہ قرآ ن کا پتہ ہو نہ حدیث کا پتہ ہو، پہاڑوں میں رہنے والا ہو وہ بھی کہہ دے گا کہ بات درست ہے۔ مثلاً بچے کی محبت یا بچہ کے لئے قربانی کیا کسی آیت کے تحت ہے یا حدیث کے ماتحت ہے؟ یہ محض فطرت کے ماتحت کی جاتی ہے۔ اگر کسی کے جذبات انگیخت میں آجائیں اور اسے کہا جائے کہ یہ فطرت کے خلاف ہے۔ کسی ماں کو کہا جائے کہ یہ بات تیرے ماں ہونے کے خلاف ہے ۔کسی باپ کو یہ کہا جائے کہ یہ تیرے باپ ہونے کی حیثیت کے خلاف ہے تو وہ فوراً پُرانے خیالات کو چھوڑ دے گا اور سمجھے گا کہ مَیں با پ ہوںجو چیز میرے باپ ہونے کے خلاف ہے اُس کو میں اختیار نہیں کر سکتا۔ تو تین چیزیں ہیں جن سے کوئی چیز متزلزل ہو سکتی ہے۔نقل، عقل اور جذباتِ صحیحہ ۔جس چیز کی تائید میں نقل، عقل اور جذباتِ صحیحہ ہوں اُس میں تزلزل کبھی نہیں آسکتا کیونکہ اِنہی تین چیزوں سے انسان بدلا جاتا ہے۔ اگر یہ تینوں چیزیں اس کی تائید میں ہو جائیں تو پھر اسے متزلزل کرنے والی اور کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔
    اب ہمارئے پاس دلیل آ گئی جس سے بغیر آگ میں ڈالے جانے کے، بغیر آرے سے چیرے جانے کے ہم پتہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے اندر ایمان موجودہے ۔اگر ہمارے عقیدے عقل کے مطابق ہیں، نقل کے مطابق ہیں، جذباتِ صحیحہ کے مطابق ہیں تو سیدھی بات ہے کہ جب تک ہمارے ہوش قائم ہیں ،جب تک ہم پاگل نہیں ہو جاتے ہم اُنہیں بھی نہیں چھوڑ سکتے ۔ لالچ سے انسان چھوڑ سکتا ہے لیکن دل سے وہ کبھی الگ نہیں ہو سکتا۔ یہی ایمان کے پرکھنے کا ذریعہ ہے۔ اور وہی قوم ایماندار ہو سکتی ہے جس میں یہ تینوں باتیں پائی جائیں۔ یوں تو ہر قوم کہتی ہے کہ ہم ایماندار ہیں عیسائی بھی کہتے ہیں کہ ہم ایماندار ہیں اور ہندو بھی کہتے ہیں کہ ہم ایماندار ہیں،سکھ بھی کہتے ہیں کہ ہم ایماندار ہیں، زرتشی بھی کہتے ہیں کہ ہم ایماندار ہیں ،مسلمانوں میں سے حنفی، شافعی، حنبلی سب کہتے ہیں کہ ہم ایماندار ہیںمگر سوال یہ ہے کہ جو کچھ ان کے عقیدے ہیں اگر وہ نقل ،عقل اور جذباتِ صحیحہ کے مطابق ہیں تو پھر وہ غیر متزلزل ہیں کیونکہ ایمان کی تعریف میں شامل ہیں اور اگر ان کے عقیدے اور ان کے خیالات متزلزل ہو سکتے ہیں کسی جگہ عقل کے خلاف ہیں، کسی جگہ نقل کے خلاف ہیں، کسی جگہ جذباتِ صحیحہ کے خلاف ہیں تو سمجھ لو کہ چاہے وہ کتنا ہی یقین ظاہر کرتے ہوںقسمیں کھاتے ہوں، روتے ہوں،چلّاتے ہوں ،جس دن بھی ان کے کان کھلے اور عقل اندر آئی،جس دن بھی ان کے کان کھلے اور نقل اندر آئی، جذباتِ صحیحہ اندر آئے اُسی دن اُن کا ایمان متزلزل ہو جائے گا۔یہی وہ ایمان ہوتا ہے جس کے متعلق کہتے ہیں کہ
    ’’ کیا ایک چلّو پانی سے ایمان بہہ گیا‘‘
    چنانچہ دیکھو یہ ایک ایسا مسئلہ تھا کہ اِس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غیر لوگ بھی سمجھ گئے تھے ۔وہ ایمان نہیں لائے تھے مگر سمجھ گئے تھے ۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کو جو تبلیغی خط لکھے تو ایک خط ہر قل کے نام بھی تھا۔ جب اس کے پاس خط پہنچا تو اس نے کہا کہ عرب کا کوئی آدمی لائو جس سے میں پوچھوں کہ حقیقت کیا ہے؟اتفاق کی بات ہے کہ ابوسفیان جو اُس وقت مکّہ کے سردار تھے اور اِسی طرح مکّہ کے چند اَور آدمی تجارت کے لئے وہاں گئے ہوئے تھے،سپاہی اُنہیں پکڑ کر لے آئے۔ اُس نے ابوسفیان کے پیچھے اس کے ساتھیوں کو کھڑا کر دیا اور کہا کہ میں اس سے چند سوال کر ونگا اگر یہ سچ بولے تو چُپ رہنا اور اگر کسی بات میں اس نے جھوٹ بولا تو تم پکڑ لینا چنانچہ ابوسفیان کھڑے ہو گئے۔
    بعد میں جب وہ اسلام لائے تواُنہوں نے بتایا کہ کئی جگہ میرا دل چاہتا تھا کہ میں جھوٹ بولوںلیکن پھر مَیں رُک جاتا تھا اِس خیال سے کہ میرے ساتھی ہی مجھے جھُٹلادیں گے۔ اُس نے جو سوال کئے اُن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ یَرْتَدُّ اَحَدٌ مِّنْھُمْ سُخْطَۃً لِدِیْنِہٖ کہ کیا کوئی اس کے دین سے اِس طرح بھی مرتد ہوتا ہے کہ خود اس کے دین سے اُس کو نفرت ہو؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اُسے نفرت ہو جائے، صحابیوں سے نفرت ہوجائے، روپیہ پر جھگڑا ہو جائے،زمین پر جھگڑا ہو جائے اور وہ مرتد ہو جائے تو یہ اَور بات ہے۔میرا مطلب یہ ہے کہ جو عقیدہ یہ شخص پیش کرتا ہے ۔مثلاًکہتا ہے خدا ایک ہے تو کیا کوئی ایسا شخص بھی ہے جو مرتد ہونے کے بعد یہ کہنا شروع کر دے کہ مجھ پر اب ثابت ہو گیا ہے کہ خدا ایک نہیں دو ہیں کیا ایسا بھی کبھی ہو تا ہے؟ ابو سفیان نے کہا نہیں۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرتد تو ہوئے ہیں۔ کئی مرتد ین کا تاریخ میں ذکر آتا ہے لیکن دیکھو اُس نے یہ نہیں پوچھا کہ مرتد ہوتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مرتد تو لوگ ہوتے ہی ہیں۔شیطان خدا سے مرتد ہؤا۔ پس مرتد ہونا کوئی بات نہیں سُخْطَۃً لِدِیْنِہٖاِس کے عقیدہ کو غلط سمجھ کر الگ ہونا اصل چیز ہے۔ جب اُس نے کہا نہیں تو اُس نے کہا بس میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے نبیوں کی یہ علامت ہؤا کرتی ہے۔ ان سے لڑائیاں بھی ہو سکتی ہیں، لالچوں کے مارے بھی لوگ اُن سے الگ ہو سکتے ہیں ،لیکن وہ ایسی سچائی پیش کرتے ہیں کہ انسان اُس سچائی سے نفرت نہیں کر سکتا،جس نے ایک دفعہ مانا وہ جہاں جائے اُس عقیدہ کو وہ چھوڑ نہیں سکتا۔۶؎
    ہر قل کا یہ سوال بتاتا ہے کہ وہ جانتا تھا کہ سچے نبی کے ساتھ یہ تین چیزیں ہوتی ہیں۔نقلِ صحیح ،عقلِ صحیح اور جذباتِ صحیحہ ۔جب یہ تین چیزیں ہوں تو ایمان میں تزلزل نہیں آ سکتا اس لئے وہ جب بھی مرتد ہو گا عقیدہ سے نہیں ہو گا۔یہی چیز ہے جس کو قرآن کریم میں بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتا ہے کہ ان کافروں سے کہو کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم میںسے لوگ ہم میں آرہے ہیں اور گو کوئی کوئی ہمارا بھی تم میں چلا جاتا ہے لیکن تم یہ تو سوچو کہ ۷؎ فرق یہ ہے کہ کوئی شخص میرے عقیدہ کو جھوٹا سمجھ کر تم میں نہیں جاتا۔ لالچ سے جاتا ہے ،ڈر سے جاتا ہے، مصیبتوں سے خوف کھا کر جاتا ہے، قوم کی خوشنودی کے لئے جاتا ہے۔ اور جو میرے پاس آتا ہے وہ کسی لالچ سے نہیں آتا، کسی فریب سے نہیں آتا بلکہ میرے عقیدہ کو سچا سمجھ کر میرے پاس آتا ہے یہ فرق ہے جو پایا جاتا ہے۔
    اب دیکھو یہ کتنا سیدھا سادہ اور واضح اصول مقرر ہو گیا۔ ہم ایک عیسائی کے سامنے بھی اسے ثابت کر سکتے ہیں، ایک ہندو کے سامنے بھی اُسے ثابت کر سکتے ہیں۔ایک یہودی کے سامنے بھی اسے ثابت کر سکتے ہیں آخر کوئی بتائے کہ عقلِ صحیح اور نقلِ صحیح اور جذباتِ صحیحہ کے سو ااور کونسی چیز ہے جو انسان کو متزلزل کرنے والی ہے اور یہ چیز یں جس کی تائید میں ہوں کیا اس کو کوئی متزلزل کر سکتا ہے؟یہی حال اب دیکھو کہ کوئی شخص احمدیت سے اس کے عقیدہ کی وجہ سے مرتد نہیں ہو تا ،کوئی شخص تم نے نہیں دیکھا ہو گا جو یہ کہے کہ میری سمجھ میں آگیا کہ انسان مرا نہیں کرتے لیکن تم سارے کے سارے اس لئے احمدی ہو کہ تم کہتے ہو سب لوگ مرا کرتے ہیں۔ اِسی طرح ہمیں کوئی شخص ایسا نظر نہیں آتا جو احمدیت سے مرتد ہؤا ہو اور اس نے یہ کہنا شروع کر دیا ہو کہ حضرت صاحب نے کہہ دیا تھا کہ قرآن میں کوئی آیت منسوخ نہیں یہ کتنا ظلم تھا میں تو قرآ ن میں بیسیوں آیتیں منسوخ دکھا سکتا ہوں ۔یُوں بیسیوں احمدی ایسے نکل آئیں گے جو کہیں گے کہ میرا مقدمہ تھا خلیفہ صاحب نے غلط فیصلہ کر دیا، میری جائیدادلُوٹ لی، میری فلاں رقم کھا لی یا میری بیوی کوخلع دلا دیا اور پھر وہ چلا جاتا ہے سَو دفعہ چلا جائے مگر وہ اس لئے نہیں جائے گا کہ اب مجھے پتہ لگ گیا ہے کہ قرآن میں کچھ آیتیں منسوخ بھی ہیں۔ یاہم کہتے ہیں قرآن میں ترتیب ہے اور وہ کہنا شروع کر دے کہ قرآن بے ترتیب ہے۔ تو سُخْطَۃً لِدِیْنِہٖ کوئی شخص احمدیت سے مرتد نہیں ہوتا لیکن سُخْطَۃً لِدِیْنِہٖ تم سارے کے سارے غیر احمدیت سے آئے ہو، تم سارے غیر احمدیت سے اس لئے آئے ہو کہ تمہیںوہ عقائد عقل کے خلاف نظر آئے ،نقل کے خلاف نظر آئے، جذباتِ صحیحہ کے خلاف نظر آئے۔ بہت کم تعداد میں ہمارے ہاں مرتد ہوئے ہیں لیکن ان سب مرتدوں میں سے ہم نے کسی کو بھی نہیں دیکھا جس نے احمدیت کے عقائد کو ترک کر دیا ہو۔ ہم نے دیکھا ہے بیسیوں سال کے مرتد بھی ملیں اور اُن سے پوچھا جائے کہ وفاتِ مسیح ؑکے متعلق کیا خیال ہے؟ تو وہ کہتے ہیں وہ تو مرزا صاحب نے سچ ہی کہا ہے عیسیٰ ؑ تو مرا ہی ہؤ ا ہے۔
    غرض میں تمہیں بتا تا ہوں کہ تمہارے لئے حصولِ ایمان کے مواقع موجود ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تم میں سے ہر شحص کے اندر ایمان موجود ہے، میں یہ بھی نہیں کہتا کہ تم میں سے ہر شخص کے اندر ایمان موجود ہونا ضروری ہے ۔میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تمہارے لئے ایسے مواقع ضرور موجود ہیں کہ بغیر اِس کے کہ تم کو تلوار سے کاٹا جائے ،بغیر اِس کے کہ تم کو آگ میں ڈالا جائے، بغیر اِس کے کہ تم کو پہاڑ سے گرایا جائے تم کہہ سکتے ہو کہ ہم میں ایمان موجود ہے۔ تم اپنے عقیدوں کو نمبروار لکھ لو اور پھر دیکھو کہ عقل اُن کی تائید کرتی ہے یا نہیں؟ نقل اُن کی تائید کرتی ہے یا نہیں؟جذباتِ صحیحہ اُن کی تائید کرتے ہیں یا نہیں؟تم زبان پر میٹھا رکھو تو تمہاری زبان چاہے دس کروڑ بادشاہ تم کو کہے کہ کہو یہ چیز کڑوی ہے وہ کبھی اُسے کڑوا نہیں کہے گی ،لیکن لالچ میں آجائو تو پانچ روپے لے کر کونین کے متعلق بھی تم کہہ سکتے ہوکہ وہ کڑوی نہیں۔ پس لالچ اور چیز ہے ورنہ جس شخص کے ساتھ یہ تینوں باتیں مل جائیں گی وہ یقین اور وثوق کے ساتھ آپ ہی آپ فیصلہ کر سکتا ہے۔ جو انی میں فیصلہ کر سکتا ہے،بچپن میں فیصلہ کر سکتا ہے کہ میں اس مقام پر اب کھڑا ہو گیا ہوں کہ اب میرے لئے ایسے مواقع موجود ہیں کہ میرے ایمان کو کوئی اور ورغلا نہیں سکتا ۔نہ بادشاہتیں مجھے ہِلا سکتی ہیں، نہ حکومتیں ہِلا سکتی ہیں نہ کوئی اَور طاقت ہِلا سکتی ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے احمدیت کے جو اصول دنیا کے سامنے پیش فرمائے ہیں وہ اگرچہ بہت سے ہیں مگر میں اِس وقت صرف دس موٹے موٹے اُصول پیش کرتا ہوں جن سے پتہ لگ سکتا ہے کہ اس وقت حقیقی ایمان ہمارے پاس ہے یا ہمارے غیر کے پاس ۔آپ نے بتایا کہ:-
    ۱-
    تمام انسان جو اَب تک پیدا ہوئے اپنا کام ختم کر کے فوت ہو چُکے ہیں ،خواہ وہ بڑے
    ہوں خواہ چھوٹے ،خواہ روحانی بزرگ ہوں یا مادی۔
    ۲-
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اِن معنوں میں خاتم النبیین تھے کہ تمام سابقہ نبیوں کی نبوت آپ کی تصدیق کے بغیر ثابت نہیں ہو سکتی اور آئندہ آنے والے مأمورین بھی آپ کی مُہر سے ہی کسی درجہ کو پہنچ سکتے ہیں۔ محض آخری ہونا کوئی فخر کی بات نہیں۔
    ۳-
    اسلام کا روحانی غلبہ تمام دنیا پر ہو گا۔
    ۴-
    الہامِ الہٰی کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے۔
    ۵-
    قرآن کریم ایک زندہ نا قابلِ منسوخ اور ایک غیر محدود مطالب والی کتاب ہے۔
    ۶-
    خدا تعالیٰ ہمیشہ اپنی قدرتوں کے ذریعہ سے اپنے آپ کو ظاہر کرتا رہتا ہے۔
    ۷-
    مذہب کی بنیا د اخلاق پر ہے۔
    ۸-
    قانونِ شریعت اور قانونِ قدرت کا متشارک اور متشابہہ ہونا ضروری ہے۔
    ۹-
    اسلام کے تمام احکام حکمت پر مبنی ہیں اور اِسی وجہ سے قرآن کریم کے مطالب میں ترتیب پائی جاتی ہے۔
    ۱۰-
    خدا تعالیٰ ہمیشہ ایسے آدمی پیدا کرتا ہے جو تزکیۂ نفس کریں۔
    اب ہم نمبروار ایک ایک عقیدہ کو لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ عقائد جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام نے پیش فرمائے آیا نقل ان کی تائید کرتی ہے، عقل ان کی تائید کرتی ہے یا جذباتِ صحیحہ ان کی تائید کرتے ہیں؟ اگر یہ تینوں چیزیں ان عقائد کو درست تسلیم کرتی ہوں تو یہ لازمی بات ہے کہ وہی عقائد آخر دنیا میں قائم ہو ں گے اور ہر وہ شخص جو مذہب پر ایمان رکھتا ہو گا، ہر وہ شخص جس کے دماغ میں عقل کا مادہ ہو گا اور ہر وہ شخص جس کی فطرت میں جذباتِ صحیحہ پائے جاتے ہوں گے وہ ان عقائد کو تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔
    پہلی چیز جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے پیش فرمائی وہ یہ ہے کہ ہر انسان خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا،خواہ نبی ہو یا غیر نبی اپنا وقت ختم کر کے اور اُس طبعی عمر کو پا کر جو سنت اللہ میں پائی جاتی ہے آخر فوت ہو جاتا ہے۔ یہ عقیدہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش فرمایا لیکن غیر احمدی علماء سُنی کیا اور شیعہ کیا اور حنفی کیا اور شافعی کیا اور حنبلی کیا اور مالکی کیا سب یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک آسمان پر زندہ موجود ہیں وہ فوت نہیں ہوئے اور یہ کہ آخری زمانہ میں وہی دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور اُمتِ محمدیہ کی اصلاح کریں گے۔
    اب اِس مسئلہ میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آیا نقل اِن کی تائید کرتی ہے؟پہلی چیز قرآن مجید ہے قرآن کریم سے وہ صرف یہ آیت پیش کرتے ہیں کہ۸؎ اور وہ اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام زندہ ہیں حالانکہ ایک بچہ بھی ان کے اس استد لال کو سُن کر ہنس پڑے گا ۔مثلاً وہی لوگ جو اِس آیت کو پیش کرتے ہیں ان سے پوچھا جائے کہ کیا آپ کے پردادا کو قتل کیا گیا تھا یا اُن کو صلیب دیا گیا تھا؟ او ر جب وہ کہیں نہیں تو پوچھا جائے کہ پھر کیا وہ زندہ ہیں؟ تو وہ کہیں گے نہیں وہ تو فوت ہوگئے۔ یہ کونسی دلیل ہے کہ جسے قتل نہ کیا جائے یا صلیب پر نہ لٹکایا جائے تو وہ زندہ ہو تا ہے سب ہنس پڑیں گے کہ کیسا بیوقوفی کا سوال ہے۔وہ اگر قتل نہیں ہوئے یا صلیب نہیں دیئے گئے تو زندہ کس طرح ہو گئے۔مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہی الفاظ آگئے تو لوگوں نے نتیجہ نکال لیا کہ چونکہ وہ قتل نہیں ہوئے اور چونکہ وہ صلیب نہیں دیئے گئے اِس لئے ثابت ہؤاکہ وہ زندہ ہیں ۔گویا جسے نہ قتل کیا جائے نہ صلیب دیا جائے وہ زندہ ہوتا ہے ۔ان لوگوں کی مثال بالکل ویسی ہی ہے ،جیسے کہتے ہیں کہ کسی شخص کو بگولے نے اڑایا اور ایک باغ میں لا کر گرا دیا۔اتفاقاً وہاں انگور کی کچھ بیلیں تھیں ۔اُس کے اِدھر اُدھر ہاتھ مارنے سے بہت سے انگور گرے اور جمع ہو گئے اُسے لالچ آئی اور اُس نے ٹوکرا بھرا اور سر پر رکھ کر گھر کی طرف چل پڑا ۔راستہ میں مالک نے دیکھ لیا او اُس نے پوچھا کہ یہ انگور کہاں لئے جا رہے ہو؟کہنے لگا پہلے ساری بات سُن لو پھر خفا ہونا۔بات یہ ہے کہ مجھے بگولے نے اُڑا کر تمہارے باغ میں پہنچا دیا۔جہاں گِرا وہاں انگور کی بیلیں تھیں ،ہاتھ اِدھر اُدھر مارے تو انگور گر کر پاس ہی ٹوکرا پڑا ہؤا تھاسب اس میں جمع ہو گئے اب فرمائیے اِس میں میرا کیا قصور ہے؟ اُس نے کہا اتنا تو درست ہے لیکن تمہیں یہ کس نے کہا تھاکہ انگور کا ٹوکرا اُٹھا کر سر پر رکھ کر گھر کی طرف چل پڑو؟کہنے لگا بس یہی میں بھی سوچتا چلا آرہا تھا کہ یہ بات کیا ہوئی۔یہی حال اِن کا ہے کہ مسیح ؑ کو قتل نہیں کیا گیا،مسیح ؑ کو صیلب نہیں دیا گیا اِس سے ثابت ہؤا کہ مسیح ؑ آسمان پر اُٹھا لیا گیا ہے او ر اب وہ سوچ رہے ہیں کہ یہ بات کیا ہوئی؟ کیا جسے قتل نہ کیا جائے یا جسے صلیب نہ دیا جائے وہ آسمان پر چلا جاتا ہے۔اِس کے مقابلہ میں ہم بیسیوں آیات پیش کرتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں ۔پھر صحابہ ؓ کا اجماع بھی اِسی پر ہؤا کہ تمام رسول فوت ہو چکے ہیں اور یہ پہلا اجماع تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ہؤا۔اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جاتے تو حضرت عمر ؓکی تو جان ہی نکل جاتی۔غرض نقلی طور پر کوئی چیز بھی نہیں جو ہمیں اس عقیدہ سے متزلزل کر سکے۔
    باقی رہی عقل۔ سو عقلی طور پر دلیلِ استقرائی ہمارئے حق میں ہے ہم دیکھتے ہیں کہ جو بھی پیدا ہوتا ہے وہ مرتا ہے۔اِستثنا ء یہ لوگ بتاتے ہیں کہ عیسٰی ؑ پیدا ہؤا اور وہ مرا نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آم کے درخت کو ہمیشہ آم ہی لگیں گے لیکن یہ لوگ ہم سے یہ منوانا چاہتے ہیں کہ اِستثنائی طور پر کیکر کو بھی آم لگ جاتا ہے ہم کہیں گے عقل اِس کو نہیں مانتی۔عقل یہی کہتی ہے کہ کیکر کو آم نہیں لگ سکتا ہمیشہ آم کے درخت کو ہی آم لگے گا ۔اِسی طرح جو شخص بھی پیدا ہؤا وہ مرا اور جو شخص بھی پیدا ہو گا وہ مرے گا ۔پھر عیسیٰ کا استثنائکیسا؟ابھی ہمارے اخبار میں ایک مضمون چھپا ہے کسی غیر احمدی نے نظم کہتے ہوئے ایک شعر کہہ دیا کہ:-
    جناب موسیٰ عیسٰی کے بعد دنیا سے
    ہوئے رسولِ معظّم بھی سوئے خلد رحیل
    اب شعر سے صاف ثابت ہوتا تھا کہ موسیٰ ؑ عیسٰی ؑ سب فوت ہو چکے ہیں،لیکن جب اُس سے کہا گیا کہ دیکھو تم نے خود اقرار کر لیا ہے کہ عیسٰی ؑ فوت ہو چُکا ہے تو اب اِس ڈر سے کہ لوگ مجھے کیا کہیں گے اُس نے یہ لکھنا شروع کر دیا کہ اس کے یہ معنے تھوڑے ہی ہیں کہ عیسٰی ؑ فوت ہو چُکا ہے یہ تو اپنی طرف سے معنے کر لئے گئے ہیں۔ اب بات کیا ہے؟ بات یہ ہے کہ سچی بات مُنہ سے نکل جایا کرتی ہے۔ کہتے ہیں کہیں چوری ہو گئی مگر پولیس کو چورکا پتہ نہیں لگتا تھا ۔جس نے چوری کی تھی وہ کوئی نیا نیا چور بنا تھا ۔اُسے خوف پیدا ہؤ ا کہ کہیں میں پکڑا نہ جائوں وہ پولیس کے ساتھ ساتھ رہنے لگا اور جب اُنہوں نے تفتیش شروع کی تو وہ اپنی عقلمندی جتانے کے لئے جتانے لگا کہ معلوم ہوتا ہے پہلے چور یہاں آیا پھر آگے بڑھاپھر اندر داخل ہؤا اور آخر اُس نے اسباب اُٹھا کر گٹھڑی میں باندھ لیا،اِس کے بعد وہ دیوار پھاند کر نکلنے لگا توگٹھڑی اور مَیں باہر۔پولیس والوں نے جھٹ اُسے گرفتا ر کر لیا اور کہا کہ اب آپ بھی باہر نہیں رہ سکتے۔ تو بات یہ ہے کہ دماغ میں تو یہی گھسا ہؤا ہے کہ ہر شخص مرتا ہے اور عقل اِسی کی تائید کرتی ہے چنانچہ جہاں بے ساختہ شعر کہنا پڑے وہاں اُن کی زبان سے یہی نکل جاتا ہے کہ موسیٰ ؑکہاں اور عیسیٰ ؑ کہاں سب فوت ہو چکے ہیں۔
    جذباتِ صحیحہ کولے لو تو کوئی مسلمان بھی یہ برداشت نہیں کرے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو فوت ہو جائیں اور حضرت عیسٰی ؑ کو سنبھال کر رکھ لیا جائے۔ آخر تم کونسی چیز سنبھال کر رکھا کرتے ہو اچھی چیز یا بُری چیز؟ہمیشہ اچھی چیز سنبھال کر رکھی جاتی ہے ،مثلاََ گھر میں کباب پکتے ہیں تو ایک دو شامی کباب تم سنبھال کر رکھ لیتے ہو کہ بچہ صبح ناشتہ کرلے گا۔لیکن کبھی ایسا نہیں ہؤا کہ دال خراب ہو گئی اور تم نے اُسے سنبھال کر رکھ لیا ہو کہ صبح بچے کو کھلائیں گے یا اچھا کوٹ تو تم سنبھال کر نہ رکھو اور پھٹا ہؤا کو ٹ سنبھال لو کہ اگلے سال عید کے موقع پر پہنیں گے ۔اگر خدا نے کسی نبی کو سنبھال کر ہی رکھنا تھا تو تم میں تو عقل ہے کہ تم شامی کباب سنبھال کر رکھو ،سڑی ہوئی دال نہ رکھو لیکن خدا نے سنبھالنا چاہا تو محمدرسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کو نہ سنبھالا عیسٰی ؑ کو سنبھالا ۔
    دوسری چیز مسئلہ نبوت ہے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ وسلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبییّن ہونے کے یہ معنے بیان فرمائے ہیں کہ آپ اپنے درجہ اور روحانی کمالات میں تمام انبیائے سابقین سے افضل واعلیٰ ہیں اور کسی نبی کی نبوت بھی آپ کی تصدیق کے بغیر ثابت نہیں ہو سکتی آپ تصدیق کرتے ہیں تو اُس کو نبی تسلیم کیا جاتا ہے اگر آپ تسلیم نہ کریں اور آپ کی مُہر تصدیق اُس کی نبوت پر نہ لگے تو وہ کبھی نبی تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔اب دیکھ لو جہاں تک نقل کا سوال ہے سارا قرآن اِس مضمون کی تصدیق کرتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم وضاحتاََ بتاتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نازل ہونے والی کُتب کی تصدیق کرتے ہیں یعنی جب تک آپ کی تصدیق نہ ہو اور جب تک آپ کی طرف سے اعلان نہ ہو کہ فلاں کتاب خدائی تھی اور فلاںنبی خداتعالیٰ کی طرف سے تھا اُس وقت تک نہ اُس کتاب کا منجانبِ اللہ ہونا تسلیم کیا جا سکتا ہے اور نہ اُس نبی کی نبوت تسلیم کی جا سکتی ہے۔ عقلاً دیکھ لو کہ کیا کوئی نبی بھی دنیا میں ایسا پایا جاتا ہے جس کے حالات کو پڑھ کر ہم خود یہ فیصلہ کر سکیں کہ فلاں شخص نبی تھا ۔ہم اگر کسی کو نبی تسلیم کرتے ہیں تو محض اِس لئے کہ قرآن نے کہا کہ وہ نبی تھا۔ یا قرآن نے ہمیں نبیوں کی شناحت کے اُصول بتائے ہیں کہ فلاں فلاں اُمور کا نبیوں میں پایا جانا ضروری ہے ورنہ اُن کے حالات جو بیان کئے جاتے ہیں اُن کواگر مد نظر رکھا جائے تو پھر تو کسی نبی کی نبوت کو بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً مسیح کو ہی لے لیا جائے۔انجیل میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح لوگوں کے جِنّ بھُوت نکالتے تھے،اور پھر سؤروں کے گلوں پر اُن کو ڈال دیتے تھے اور وہ جھیل میں ڈوب کر مر جاتے تھے۔انجیل کہتی ہے کہ شیطان حضرت مسیح ؑ کے پاس آیا اور وہ اُنہیں ایک پہاڑی پر لے گیا اور کہا کہ تُو مجھے سجدہ کرے تو میں ساری دنیا کی دولت اور ساری دنیا کے خزانے تجھے دے دوں گا ۔انجیل کہتی ہے کہ حضرت مسیح اُن مجالس میں شریک ہؤا کرتے تھے،جن میں شراب پی پی کر لوگ مدہوش ہو جاتے تھے بلکہ ایک مجلس میں شراب ختم ہو گئی تو اُنہوں نے کھڑے ہو کر یہ معجزہ دکھایا کہ جن مٹکو ں میں پانی بھرا ہؤا تھا وہ سب کے سب شراب سے بھر گئے۔ ہمارے شاعر تو صرف تفنن طبع کے لئے یہ کہہ د یا کرتے ہیں کہ ساقیا ہمیں اور پِلا مگر انجیل کے بیان کے مطابق تو حضرت عیسٰی علیہ السلام معجزے دکھا دکھا کر شرابیں پِلایا کرتے تھے۔ اِسی طرح اور بیسیوں باتیں ہیں جو انجیل میں درج ہیںاِن باتوں کے دیکھتے ہوئے کیا کوئی عقل مان سکتی ہے کہ اِس قسم کے انسان کو خدا رسیدہ کہا جا سکے۔صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ نعوذباللہ کوئی ہتھکنڈے باز آدمی تھا۔گلّاڈرکے بھاگاتو کہہ دیا میرے پاس جِنّ بھُوت تھے جو میں نے ان پر ڈال دیئے تھے ۔شراب میں مدہوش لوگوں کو پانی پلادیااور کہہ دیا کہ یہ پانی نہیں تھا شراب تھی۔ مگر جس وقت ہم قرآن کو دیکھتے ہیں،جس وقت ہم قرآن کی پاکیزگی اوراس کی طہارت کو دیکھتے ہیں اور پھر قرآن کو ہی یہ کہتے ہوئے سُنتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ خدا تعالیٰ کا رسول تھا تو ہم سر جھکا دیتے ہیں اورکہتے ہیںیہ عیسیٰ جو قرآن نے پیش کیا ہے وہ اَور ہے اور وہ عیسیٰ ؑجو انجیل پیش کرتی ہے و ہ اَور ہے۔ قرآن کا عیسیٰ ؑ نبی ہے انجیل کا عیسیٰ ؑنبی نہیں ۔گویا ہماری مثال ویسی ہی ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں کہ پنجابی شاعر پر کسی شخص نے جس کا نام محمد تھا،سخت ظلم کئے۔ وہ کہنے لگا بہت اچھا تم ظلم کر لو میں بھی شعر کہہ کر تمہاری خوب خبر لوں گا ۔اُس نے کہا تم نے شعر کہے تو میں تم پر کفر کا فتویٰ لگوادونگاکیونکہ میرانام محمدہے۔ مگر وہ بھی ہوشیار تھااُس نے نظم کہی اور اس کی خوب خبر لی مگر دو چار شعروں کے بعد وہ یہ شعر ضرور لکھ دیتا ہے کہ:-
    جس دا اسیں کلمہ پڑھ دے
    اوہ محمد ہور ہے ایہہ محمد چور ہے
    یہی ہماری حالت ہے۔ انجیل والے عیسٰیؑ کا ذکر آئے تو ہم کہتے ہیں دفع بھی کرو وہ کوئی آدمی تھا! لیکن قرآن کے مسیحؑ کا ذکر آئے تو ہم کہتے ہیں ٹھیک ہے یہ عیسی ؑخدا کا نبی تھاکیونکہ اِس کی نبوت پر محمد رسول اللہ کی مُہر لگ گئی۔ اب خواہ ساری دنیا حضرت مسیح ؑ کی بُرائیاں کرے، ساری دنیا ان کی طرف عیوب منسوب کر ے ہم کہیں گے سب جھوٹ ہے عیسی ؑسچ مچ خدا کا نبی تھا۔
    اِسی طرح موسی ؑکے حالات جو تورات میں بیا ن ہوئے ہیں وہ ایسے تکلیف دہ ہیں کہ کوئی شخص اُن حالات کودیکھ کر اُنہیں نبی نہیں کہہ سکتا۔ یہی حال حضرت دائود کا ہے۔ قرآن کے حالات پڑھ کر یوںمعلوم ہوتا ہے کہ دائود ایک فرشتہ تھا ۔مگر بائیبل میں جو حالات لکھے ہیں اُن کو پڑھ کر تو شرم آجاتی ہے کہ کیا یہ شخص خدا کا نبی کہلا سکتا ہے؟ بائببل بتاتی ہے کہ دائود کو فتح حاصل ہوئی تو اِس خوشی میں وہ ننگے ہو کر لشکر کے آگے آگے ناچنے اور کُودنے لگے اور اِسی حالت میں وہ شہر میں داخل ہوئے بادشاہ کی بیٹی سے اُن کی شادی ہو چکی تھی وہ اپنے جھروکے میں بیٹھی لشکر کی واپسی کا انتظار کر رہی تھی ۔اُس نے جو دیکھا کہ دائود لشکر کے آگے ناچتے کُو دتے چلے آرہے ہیں تو اسے اتنی شرم آئی کہ اُن کے گھر میں داخل ہوتے ہی اُس نے کہا کہ آج آپ نے بڑی قابلِ شرم حرکت کی ہے۔لیکن اِدھر ہم قرآن والا دائود دیکھتے ہیں تو چونکہ اِس کی نبوت پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مُہر لگ گئی اِس لئے دائود کا ناچنا اور تھرکنااور کُودنا اوراِن کا ننگا ہونا سب ہماری نگاہ سے غائب ہو جاتا ہے اور ہم کہتے ہیں تم جھوٹ کہتے ہو دائود خدا کا نبی تھا۔
    اِسی طرح نوحؑ اور لوط کے واقعات پڑھ کر دیکھو لو ،بائیبل بتاتی ہے کہ وہ شراب پی کر ننگے ہوئے اور اُنہوں نے اپنی بیٹیوں سے زنا کیا۔اگر قرآن کی تصدیق ہمیں نظر نہ آتی،اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مُہر ان نبیوں کی نبوت پر نہ لگتی تو ہم کہتے یہ سب جھوٹے انسان تھے لیکن اب ہم نہیں کہہ سکتے۔ اب ہم کہتے ہیں کہ یہ لوگ خدا کے مقدس اور راستباز انسان تھے اور جو کچھ کہنے والے ان کے متعلق کہتے ہیں وہ سب غلط اور بیہودہ باتیں ہیں۔
    اِسی طرح حضرت کرشن اور رام چندر کو لے لو۔قران نے یہ اصول بتایا کہ ۹؎ اِس اصول کے مطابق ہم سمجھتے ہیں کہ ہندوستان میں بھی نبی آئے اور کرشن ؑ اور رام چندر ؑ دونوں نبی تھے۔ مگر اُن کے حالات جو ہندو تاریخ بتاتی ہے وہ اتنے گھنائونے ہیں کہ کوئی سلیمُ الْفطرت انسان اُن واقعات کی بنا ء پر اِن لوگوں کے تقدس کا قائل نہیں رہ سکتا۔سیتا کے ساتھ جو ظلم کیا گیا او ر اسے سالہا سال تک جس طرح جنگل میں نکال دیا گیا وہ ایسے واقعات ہیں جو طبیعت پر سخت گراں گزرتے ہیں۔لیکن جب محمدر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہُر اِن پر لگ جاتی ہے تو سارے واقعات ایک ایک کر کے ہماری نگاہ میں بے حقیقت ہو جاتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ یہ سب مخالفین کی افتراء پردازیوں کا نتیجہ ہے ورنہ وہ لوگ نبی تھے، خدا تعالیٰ کے راستباز اور مقدس انسان تھے۔
    اب دیکھو یہ معنے جو خاتم النّبییّن کے ہم کرتے ہیں یہ ایسے ہیں جن کی بناء پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی یہ ثابت کیا جا سکتا تھا کہ آپ ؐ خاتم النّبییّن ہیں۔آپ کی زندگی میں بھی مسلمان کہہ سکتے تھے کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النّبییّن ہونے کا ہی نتیجہ ہے کہ نوح ؑاور لوط ؑ اور دائود ؑ اور موسیٰ ؑ اور عیسٰی ؑ وغیرہ کو ہم نبی تسلیم کرتے ہیں ورنہ اُن کی اپنی کتابوں کے واقعات اُن کی نبوت کے خلاف ہیں۔ مگر جن معنوں میں غیر احمدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النّبییّن قرار دیتے ہیں اُن معنوں میں تو قیامت کے دن تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النّبییّن ہونا ثابت ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ کسی کو کیا پتہ کہ کل کوئی نبی آ جائے۔یہ تو محض ایک خیال ہے کہ کوئی نبی نہیں آسکتا ۔کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ تمہیں کیا پتہ کہ کوئی آئے گا یا نہیںممکن ہے کہ کل ہی کوئی نبی آجائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النّبییّن نہ رہیں ۔پس یہ معنے ایسے نہیں جن کو دنیا پر ثابت کیا جا سکے۔اِن معنوں کے لحاظ سے تو جب کوئی شخص مرنے لگے اُس وقت بھی وہ یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ ولیہ وسلم خاتم النّبییّن ہیں کیونکہ وہ کہہ سکتا ہے کہ ممکن ہے میرے مرنے کے بعد ہی کوئی نبی دنیا میں آ جائے۔غرض جب تک صُورِ اسرافیل نہ پھُونکا جائے یہ معنے دنیا پر ثابت نہیں کئے جا سکتے کیونکہ قیامت کے دن تک ہر شخص کو یہ شُبہ ہے کہ ممکن ہے کوئی نبی آ جائے اور یہ معنے غلط ہو جائیں ۔پس غیر احمدی جو خاتم النّبییّن کے معنے کرتے ہیں ان کے رو سے قیامت کے آنے سے پہلے آپ کا خاتم النّبییّن ہونا ثابت نہیں ہو سکتا لیکن ہمارے معنوں کے رو سے محمد رسو ل اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم اُس دن بھی خاتم النّبییّن تھے جس دن آپ نے دعویٰ فرمایا کیونکہ اُس دن بھی بائیبل موسیٰ ؑاور عیسیٰ ؑ اور دائود ؑ اور دوسرے نبیوں کے وہی حالات پیش کرتی تھی جو آج پیش کرتی ہے لیکن جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اِن نبیوں پر مُہر لگ گئی، جب آپ نے ان کی نبوت کی تصدیق فرمادی تو ہم اِن واقعات کو بھی پڑھتے ہیں مگر ہم پورے یقین اور وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ سب باتیں غلط ہیں ۔یہ لوگ یقینا نبی تھے، یقینا راست باز اور مقدس انسان تھے۔
    اب دیکھو کتنا زمین وآسمان کا فرق ہے جو ہمارے معنوں میں اور انکے معنوں میں پایا جاتا ہے۔ ایک معنوں کے رُو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت اُسی دن ثابت تھی جس دن آپ نے خاتم النّبییّن ہونے کا دعویٰ فرمایا ،اور ایک معنوں کے رُو سے قیامت کا دن آنے سے پہلے پہلے آپ خاتم النّبییّن ثابت نہیں ہو سکتے جب تک اسرافیل اپنا صُور نہ پھُونکے۔ جب تک عزرائیل دنیا سے آخر ی آدمی کی بھی جان نہ نکال لے اُس وقت تک یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ لیکن اگر تمام انسان ختم ہو جائیں، ہر انسان موت کا شکار ہو جائے، دنیا پر ایک متنفس بھی باقی نہ رہے اور اُس وقت تک کوئی نبی نہ آئے تو پھر بے شک کہا جا سکے گا کہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب تک کوئی نبی نہیں آیا۔ لیکن ہمیں تو آج بھی پتہ ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم النّبییّن ہیں۔ ہمارے تو آبائو اجداد کو بھی یقین تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النّبییّن ہیں بلکہ آج سے تیرہ سَو سال پہلے صحابہ ؓکو بھی یقین تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النّبییّن ہیں کیونکہ ہمارے بزرگ اِس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کے بغیر نہ عیسیٰ کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے نہ موسیٰ ؑ کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے نہ کسی اورنبی کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔
    پھراِن کے علماء نے خود اِن کے خلاف لکھا ہے چنانچہ مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی نے اپنی کتاب تحذیر الناس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ بھلا یہ کوئی عقل کی بات ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ کہا جائے کہ چونکہ وہ سب سے آخر میں آئے ہیں اِس لئے سب سے بڑے نبی ہیں؟آخر میں آنا بھی کوئی بڑائی کی بات ہوتی ہے؟یہ عقل کے خلاف ہے۔ اب آیت کو دیکھ لو تو وہ بھی صاف طور پر ہمارے معنوں کی ہی تائید کرتی ہے۔قرآن کریم میں یہ آیت اِس طرح آتی ہے کہ ۱۰؎ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النّبییّن ہیں ۔اب اگر وہ معنے کرو جو غیر احمدی کرتے ہیں تو اِس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ جو شخص کسی کا باپ نہ ہو وہ رسولُ اللہ ہوتا ہے اور جو رسولُ اللہ ہو وہ خاتم النّبییّن ہوتا ہے۔
    جس طرح وہ لطیفہ تھا کہ چونکہ مسیح ؑ قتل نہیں ہوئے اور صلیب نہیں دئیے گئے اِس لئے معلوم ہؤا کہ چوتھے آسمان پر چلے گئے۔اِسی طرح یہ لطیفہ ہے کیونکہ فقرہ یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن آگے مضمون یہ بیان کیا جاتا ہے کہ چونکہ و ہ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں اِس لئے وہ رسولُ اللہ ہیں اور چونکہ وہ رسولُ اللہ ہیں اِس لئے خاتم النّبییّن ہیں۔ گویا معنے یہ بنے کہ جو کسی کا باپ نہ ہو وہ رسولُ اللہ ہوتا ہے اور جو رسول اللہ ہو وہ خاتم النّبییّن ہوتا ہے۔کیا اِن میں کوئی بھی جوڑ اور مطابقت ہے؟ یا کوئی بھی مطلب ہے جو اِن معنوں کو تسلیم کرنے سے نکل سکتا ہے؟
    بے شک بعض جاہل لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس لئے اولاد نہیں ہوئی کہ آپ آخری رسول تھے ۔چونکہ نبی کی اولاد بہر حال نبی ہؤا کرتی ہے اور رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا تھا اِس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو کوئی زندہ رہنے والی اولاد نہیں دی۔ لیکن واقعات کا علم رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ یہ بات غلط ہے ۔نبی کی اولاد کا نبی ہونا ضروری نہیں۔ چنانچہ نوحؑ کی اولاد ہوئی مگر وہ نبی نہیں ہوئی ۔اِسی طرح قرآن کریم میں اشارتاً اور بائیبل میں وضاحتاً ذکر آتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا ایک بیٹا ہؤا جو ناخلف تھا۔پس یہ غلط ہے کہ نبی کی اولاد ضرور نبی بنتی ہے اور یہ بھی غلط ہے کہ جس کی اولاد نہ ہو وہ رسولُ اللہ ہوتا ہے اور جو رسولُ اللہ ہو وہ خاتم النّبییّن ہوتا ہے۔پس جو معنے غیر احمدی بیان کرتے ہیں وہ عقل کے بھی خلاف ہیں کیونکہ محض آخری ہو نا عقلاً کوئی بڑائی کی علامت نہیں ہؤا کرتی اور پھر نقل کے بھی مطابق نہیں کیونکہ اگر قرآن کریم کی اس آیت کا وہ مفہوم لیا جائے تو آیت بالکل بے معنی بن جاتی ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خاتم النّبییّن کا مفہوم بیان کرتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ خاتم النّبییّن ایک نہایت ہی بلند اور ارفع و اعلیٰ مقام ہے جو نبوت ورسالت سے بالا ہے اور اِس کے معنے یہ ہیں کہ اب جو بھی فیضانِ الٰہی آئے گا وہ آپؐ کے توسّط سے آئے گا اور وہی شخص اللہ تعالیٰ کے قُرب کو حاصل کر سکے گاجس پر اس خاتم النّبییّن کی مُہر ہو گی۔گویا الٰہی دربار میں رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے ایک رجسٹرار کی ہوتی ہے،بغیر آپ کے واسطہ کے اور بغیر آپ کی تصدیق اور آپ کی مُہر کے الٰہی دربار میں کسی کو مقبولیت حاصل نہیں ہو سکتی ۔چنانچہ پچھلے نبی بھی آپ ؐکی تصدیق کے ساتھ ہی نبی ثابت ہوتے ہیں اور آئندہ بھی آپ کے فیضان سے ہی اللہ تعالیٰ کے قُرب کے مدارج حاصل ہؤا کریں گے ۔اِسی مقام کی وضاحت ایک دوسرے مقام پر ان الفاظ میں کی گئی تھی کہ۱۱؎ اے محمد! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرا دُشمن لَاوَلَد رہے گا اور تیرے بیٹے ہوں گے۔ یہ دعویٰ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اور بتایا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے اولاد نہیں رہیں گے بلکہ ان کا دُشمن بے اولاد رہے گا ۔اب جب خدا نے یہ کہا کہ تو دُشمن کو اعتراض کا موقع مل سکتا تھا کہ دیکھا کہتے تھے کہ میری اولاد ہو گی اور دُشمن کی نہیں ہو گی مگر اب آپ ہی مان لیا کہ میں بے اولاد ہوں گا۔اللہ تعالیٰ اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں تو اس سے ان کا چھوٹا ہوتا ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ تم نے جو کے معنے سمجھے تھے وہ غلط تھے۔ باوجود اس کے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولاد نہیں ہو گی ۔پھر بھی سورہ کوثر میں جو بتایا گیا تھا کہ اس کے دُشمن ابتر رہیں گے وہ بالکل درست ہے،کس طرح؟ اُنہوں نے یہ سمجھا تھا کہ اس جگہ جسمانی اولاد مراد ہے حالانکہ ہماری مراد یہاں جسمانی اولاد نہیں بلکہ روحانی اولاد تھی۔ ہمارا منشاء یہ تھا کہ آج دُشمن اپنی اکثریت کے گھمنڈ میں اکٹر رہا ہے لیکن ایک دن آنے والا ہے جبکہ وہ بے اولاد ہو جائے گا اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اولاد والے ہو جائیں گے یعنی ان دُشمنوں کی اولاد یں اپنے ماں باپ کو چھوڑچھوڑ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں شامل ہوتی چلی جائیں گی اور اِس طرح دُشمن گھٹتے جائیں گے اور آپ بڑھتے جائیں گے۔ یہ مفہوم تھا جو سورۃ کوثر کی آیت کا تھا ۔اب یہ سیدھی بات ہے کہ جس کی جماعت دنیا میں قائم ہو جائے گی، جو ساری دنیا پر غالب آجائے گا،جس کے دُشمن مٹ جائیں گے، جواپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائے گا وہ یقینا رسولُ اللہ ہو گا ۔یہ نہیں کہ کسی کا بیٹا نہ ہو اور اُس کے متعلق کہا جائے کہ وہ رسولُ اللہ بن گیا۔
    آگے فرماتا ہے خالی یہی نہیں کہ یہ اللہ کا رسول ہے بلکہ رسولوں کی مُہر ہے۔تم اِس کو جھوٹا سمجھتے ہو اور خیال کرتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشگوئی کی تھی کہ میرا دُشمن ابتر رہے گا۔وہ غلط نکلی۔ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ وہ پیشگوئی پوری ہو گی اور اِس کی اولاد دنیا میں ہمیشہ کے لئے قائم رکھی جائے گی۔ یعنی اِس کا فیضان کبھی ختم نہ ہو گا اور قیامت تک اِسی کی برکت سے اور اِسی کی غلامی میں وہ لوگ کھڑے ہوں گے جو اِس کے لائے ہوئے دین کی دنیا میں اشاعت کریں گے اور اس کے نام کو کونہ کونہ میں پھیلائیں گے۔
    اب دیکھو یہ معنے جو ہم کرتے ہیں یہ نقلی طور پر بھی صحیح ہیں اور عقلی طورپر بھی صحیح ہیں اور جذباتی طورپر بھی صحیح ہیں کونکہ جذباتِ صحیحہ کسی کی یہ بڑائی تسلیم نہیں کر سکتے کہ وہ اس لئے بڑا ہے کہ سب کے آخر میں آیا۔ وہ بادشاہ جو کسی خاندان یا قوم کا آخری بادشاہ ہو اور اس کے بعد اس خاندان اور قوم میں سے بادشاہت مٹ جائے اُسے کوئی بھی بڑا نہیں کہا کرتا۔غرض ہمارا عقیدہ وہ ہے جس کی تقل بھی تائید کرتی ہے جس کی عقل بھی تائید کرتی ہے اور جس کی جذباتِ صحیحہ بھی تائید کرتے ہیں لیکن غیر احمدیوںکے معنے نقل کے لحاظ سے بھی باطل ہیں اور عقل کے لحاظ سے بھی باطل ہیں اور جذبات صحیحہ کے لحاظ سے بھی باطل ہیں ،پس جو شخص بھی اس عقیدہ کو سمجھ کرمانے گاوہ کبھی بھی اِس عقیدہ کو نہیں چھوڑ سکتا۔ اور جو بھی تم میں سے غور کرے وہ خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ ختمِ نبوت کے کون سے معنے ہیں جن سے نقل تسلی پاتی ہے، کون سے معنے ہیں جن سے عقل تسلی پاتی ہے اور کون سے معنے ہیں جن سے جذباتِ صحیحہ تسلی پاتے ہیں ۔میں یقینا کہتا ہوں کہ اِس عقیدہ کو سمجھ لینے کے بعد ایک آرا کیا اگر دس ہزار آرا بھی کسی کے سر پر رکھ دیا جائے تو وہ کہے گا کہ بات تو یہی ٹھیک ہے تمہارا دل جتنا چاہے مجھے مارلو میں اِس عقیدہ کو نہیں چھوڑ سکتا۔
    تیسرا اصل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ پیش فرمایا کہ اسلام کا روحانی غلبہ تمام دنیا پر ہو گا۔ یہ اصل بھی نہایت اہم ہے اور مسلمان بغیر اِس مطمح نظر کے دنیا میں کبھی بھی حقیقی سر بلند ی حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ عجیب بات ہے کہ مسلمان پہلے تو اس اصل کو کسی نہ کسی شکل میں تسلیم کرتا تھا مگر اب ہماری مخالفت میں اُس نے اس اصل کو بھی چھوڑ دیا ہے۔پہلے کہتا تھا کہ مسیح اور مہدی دنیا میں آئیں گے تو سب کفار کو مسلمان بنا لیں گے اور گو وہ کہتا یہی تھا کہ تلوار کے زور سے مسلمان بنائیں گے مگر یہ سیدھی بات ہے کہ جب مسیح اور مہدی نے آنا تھا تو کچھ نہ کچھ اس کے ذریعہ روحانیت نے بھی غلبہ پانا تھا مگر اب جُوں جُوں ہماری تبلیغ وسیع ہوتی جارہی ہے اور جُوں جُوں وہ مسیح اور مہدی کی آمد سے مایوس ہوتا جا رہا ہے تعلیم یافتہ طبقہ نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ قرآن کے ہوتے ہوئے کسی عیسیٰ اور مہدی کی ضرورت ہی کیا ہے۔گویا تھوڑا بہت جو وہ سچائی کے قریب تھے وہ بھی ختم ہو گیا۔اب دنیا میں صرف ہماری ہی جماعت ہے جو اِس مسئلہ کو پیش کرتی ہے کہ اسلام روحانی طور پر ساری دنیا پر غالب آئے گا۔مسلمان اِس بات کو ردّ کرتا ہے اور وہ کہتا ہے ہمیں اِس روحانی غلبہ کی ضرورت نہیں ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی طور پر ایران آزاد ہو جائے،شام آزاد ہو جائے، فلسطین آزاد ہو جائے،لبنان آزاد ہو جائے، سعودی عرب آزاد ہو جائے، مصر سے انگریزی فوجیں نکل جائیں،پاکستان کی حکومت مضبوط ہو جائے، سوڈان کو آزادی حاصل ہو جائے۔اگر یہ ممالک سیاسی رنگ میں مکمل آزادی حاصل کر لیں تو مسلمان سمجھتے ہیں کہ وہ کامیاب ہو گئے۔ مگر میں پوچھتا ہوں اگر یہ ساری باتیں ہم کو حاصل ہو جائیں،اگر پاکستان ایک مضبوط اسلامی مُلک بن جائے اور تھوڑی بہت اِس کی طاقت میں جو کمی ہے وہ دُور ہو جائے،اگر ایران کے تیل کے چشموں کا سوال حل ہو جائے اور پھر اس کی مالی حیثیت بھی اتنی مضبوط ہو جائے کہ اس کا خزانہ ہر قسم کا مالی بوجھ اُٹھانے کے لئے تیار ہو جائے،اگر سعودی عرب بھی آزاد ہو جائے اور اس کے تیل کے چشمے اُسی کے قبضہ میں آ جائیں اور وہ موجودہ آمد سے دس بیس گُنا آمد اِسے دینے لگیں، اگر مصر میں سے بھی انگریزی فوجیں نکل جائیں،اگر شام کے جھگڑے بھی ختم ہو جائیں اور آئے دن جو وہاں قتل کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں اور کبھی کوئی کمانڈر اِنچیف مارا جاتا ہے اور کبھی کوئی وزیر یہ سب باتیں ختم ہو جائیں،اگر پاکستان میں اندرونی طور پر جو جھگڑے پائے جاتے ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں اور دُشمنوں کی سازشیں اور ریشہ دوانیاںجاتی رہیں تب بھی تم غور کرکے دیکھ لو کہ اِس موجودہ دنیا کے نقشہ پر روس اور امریکہ اور انگلینڈ اور فرانس کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا اِن ممالک کی آزادی اور ان کی طاقت ہمارے لئے کوئی بھی فخر کی چیز ہو گی؟یہ ساری حکومتیں آزاد بھی ہو جائیں تو دنیا کی پالیٹکس میں اِن کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے۔ روس اور امریکہ اور انگلینڈ اور فرانس کے مقابلہ میں ان کا کیا درجہ تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایک بادشاہ کے گھر کے پاس کسی غریب آدمی کا مکان ہو اور فرض کر لو کہ اس کے پاس کسی وقت لاکھ دو لاکھ روپیہ بھی آجائے تب بھی بادشاہ کے مقابلہ میں اس کی کیا حیثیت تسلیم کی جاسکتی ہے۔جس دن اُ س کا روپیہ ختم ہو جائے گااُسی دن اس کی ساری حیثیت جاتی رہے گی اور وہ پھر دنیا میں ایک بے حقیقت چیز بن کر رہ جائیگا۔ پس سوال یہ ہے کہ اگر وہ سب کچھ ہو جائے جو مسلمان چاہتے ہیں تب بھی دنیا میں مسلمان کی کیا حیثیت ہو گی؟ کیا اِس کا پھیلائو، کیا اِس کا روپیہ،کیا اِس کی فوج ،کیا اِس کی تعداد اور کیا اِس کی طاقت اِس قابل سمجھی جا سکتی ہے کہ دنیا کی پالیٹکس پر کوئی غیر معمولی اثر پیدا کر سکے؟ اگر نہیں تو بتائو اِس مطمح نظر سے اسلام کو کیا فائدہ؟ اور مسلمان نوجوانوں کے اندر اس مطمح نظر سے وہ کونسا انقلاب پیدا ہو سکتا ہے کہ ہر مسلمان کا دل اُچھلنے لگے کہ میں بھی اس مطمح نظر کے حصول کے لئے کچھ کوشش کروں شاید کہ میرا نام بھی تاریخ میں محفوظ ہو جائے۔ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو پولیٹیکل دنیا میں ایک تیسرے درجہ کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے اور تیسرے درجہ کی حیثیت کوئی ایسی چیز نہیں جو اِنتہائی مقصود قرار دیا جا سکے۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ مسلمان ممالک کی آزادی ٖضروری چیز ہے۔کون چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ غلام بنا رہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مطمح نظر ایسا ہو سکتا ہے جس سے مسلمان نوجوانوں کی رگوں میں نیا خون دَوڑ نے لگے اور کیا اِس کے ذریعہ سے اسلام کو کوئی اہم پوزیشن دنیا میں حاصل ہوجاتی ہے؟
    پس سوال یہ نہیں کہ اسلامی ممالک کی آزادی اچھی چیز ہے یا نہیں؟ سوال یہ ہے کہ اگر وہ آزادی ان کو حاصل ہو جائے تو پھر ہم کیا بن جاتے ہیں؟ ایک غریب آدمی جس کے گھر میں آٹا بھی نہیں ہم یہ نہیں کہتے کہ اسے آٹا نہ ملے،مگر آٹا مل جانے سے کیا اس کی دنیا میں کوئی پوزیشن قائم ہو سکتی ہے؟اگر سیر بھر آٹے کا اس کے لئے انتظام بھی ہو جائے تب بھی وہ جن کے پاس کئی کئی کروڑ روپیہ ہے ان کے مقابلہ میں اُس کی کوئی حیثیت نہیں ہو سکتی۔ پس ہم یہ نہیں کہتے کہ مسلمان حکومتوں کو آزادی حاصل نہ ہو۔ہم چاہتے ہیں مسلمان ممالک آزاد ہوں ،ہم چاہتے ہیں کہ مسلمان حکومتیں طاقتور ہوںلیکن جو سوال ہمارے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ اِس آزادی کے بعد دنیا میں ہماری پوزیشن کیا بنتی ہے؟مسلمان اِس بات کا مدعی ہے کہ وہ ساٹھ کروڑہے۔عیسائیوں نے جو تازہ جغرافیہ لکھا ہے اِس میں اُنہوں نے مسلمانوں کی تعداد اڑتالیس کروڑ بیس لاکھ مان لی ہے لیکن دنیا کی آباد ی دو ارب چالیس کروڑ ہے دو ارب چالیس کروڑ ہی میں اڑتالیس کروڑ بیس لاکھ تمام آبادی کا چوتھا حصّہ بنتے ہیں ۔گویا اگر سارے مسلمان آزاد ہو جائیں،اگر ہر اسلامی مُلک میں اُتنی ہی دولت ہو جتنی امریکہ میں پائی جاتی ہے ،اُتنا ہی اسلحہ ہو جتنا امریکہ میں پایا جاتا ہے،اُتنی ہی تجارت ہو جتنی امریکہ میں پائی جاتی ہے پھر بھی روپیہ میں سے چونی انہیں حاصل ہو گی۔اب تم خود ہی بتائو کہ ۱۲ آنے بڑے ہوتے ہیں یا چونی بڑی ہوتی ہے؟چونی بہر حال چھوٹی ہوتی ہے اور ۱۲ آنے بڑے ہوتے ہیں۔وہ ہندو جس کو ہمارے آدمی تحقیر کے طور پر کراڑ کراڑ کہا کرتے تھے وہ بھی آزادی کے بعد بتیس کروڑ آبادی کا مالک بن چُکا ہے۔ پھر چین کو دیکھ لو اس کی آبادی اور رقبہ کو لے لواِس کی آبادی پچاس کروڑ ہے ۔اگر مسلمان اڑتالیس کروڑ ہی ہوں تو خالی چین کے لوگوں کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ ہے۔پس سوال یہ ہے کہ اگر ایسا بھی ہو جائے تو یہ کونسا مقصد ہے جو ہر مسلمان کے سامنے رہنا چاہئے؟
    مَیں نے بتایا ہے کہ اگر کوئی آدمی مر رہا ہو تو ہماری خواہش ہو گی کہ خدا کرے وہ بچ جائے لیکن کیا جو شخص مرنے سے بچ جائے وہ بادشاہ ہو جایا کرتا ہے؟ یا کوئی بڑا عالم ہو جایا کرتا ہے؟مسلمانوں کی آزادی کے لئے جدوجہد کے معنے صرف اتنے ہیں کہ مسلم باڈی پالیٹکس میں مرض پیدا ہو چُکا ہے اور وہ اس مرض کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ہماری خواہش ہو گی کہ وہ مرض دُور ہو جائے بلکہ ہماری دعا ہو گی کہ وہ مرض دُور ہو جائے لیکن اگر یہ مرض دُور ہو جائے تب بھی دنیا کی قوموں میں بیٹھتے وقت ایک مسلمان کی کیا پوزیشن ہو گی؟اگر ایران بھی آزاد ہو جائے،اگر مصر کے مسائل بھی حل ہو جائیں،اگر فلسطین اور شام اور لبنان بھی آزاد ہو جائیں، اگر سوڈان بھی آزاد ہو جائے، اگر تمام اسلامی ممالک ے جھگڑے ختم ہو جائیں،اُن کی طاقت بڑھ جائے، اُن کا روپیہ زیادہ ہو جائے،اُن کی عظمت ترقی کر جائے،دولت اُن کے ہاتھ میں آجائے،تمام تجارت جو اِس وقت امریکہ کے پاس ہے اِن پر اُن کا قبضہ ہو جائے پھر بھی ۱۲ آنے کے مقابلہ میں وہ چار آنے کے مالک رہتے ہیں اور جب ان کی حالت یہ ہو گی کہ چونی ان کے پاس ہو گی اور ۱۲ آنے غیر کے پاس ہوں گے تو اسلام کسی طرح غالب آیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کسی طرح قائم ہوئی ۔
    غرض جو شخص بھی اِس مسئلہ پر اِس رنگ میں غور کرے گا اور عقل سے کام لے گا وہ بعثتِ محمدیہ کی یہ غرض قرار دیتا کہ سیاسی لحاظ سے ایران آزاد ہو جائے، مصر آزاد ہو جائے، شام اور فلسطین آزاد ہو جائیں، لبنان آزاد ہو جائے، سوڈان آزاد ہو جائے، پاکستان مضبوط ہو جائے اپنی انتہائی پَست خیالی تصور کرے گا وہ شرمائے گا کہ میں یہ کیا کہہ رہا ہوں اور کونسا مقصد ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی طرف منسوب کر رہا ہوں۔ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے آئے تھے کہ یہ چھوٹے چھوٹے علاقے آزاد ہوجائیں؟ کیا محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لئے آئے تھے کہ مسلمان دنیا میں ایک چونی کی حیثیت حاصل کر لیں۔مَیں تو سمجھتا ہوں اگر میرے واہمہ اور خیال میں بھی ایسا نظر یہ آئے تو میرا ہارٹ فیل ہو جائے کہ میں کتنا پَست نظر یہ اُس عظیم الشان اور مقدس انسان کی بعثت کے متعلق رکھ رہا ہوں جسے خدا نے اوّلین و آخرین کا سردار بنایا۔ مَیں تو سمجھوں گا میرے جیسا جھوٹا انسان دنیا میں اور کوئی نہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عظیم الشان رسول کی طرف اِتنا چھوٹا،اِتنا معمولی اور اِتنا ادنیٰ درجہ کا خیال منسوب کررہا ہو کہ اتنا بڑا رسول اس لئے آیا تھا کہ ایران کے تیل کے چشمے آزاد ہو جائیں، اِس لئے آیا تھا کہ مصر آزاد ہو جائے،اِس لئے آیا تھا کہ فلسطین اور شام اور لبنان کے جھگڑے دُور ہو جائیں۔میں جانتا ہوں کہ مخالف یہ کہیں گے کہ دیکھا! ہم نہیں کہتے تھے یہ لوگ مسلمانوں کے دُشمن ہیںاِنہیں اسلامی ممالک کی آزادی سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن مَیں ان کے اعتراضات کی پرواہ نہیں کرتا ۔میں جانتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آ پ کی شان کیا ہے۔میں جانتا ہوں کہ اِس عظمت اور شان کے مقابلہ میں اِس ادنیٰ ترین مقصد پر آکر ٹھہر جانا قطعی طور پر اپنی نابینا ئی کا اظہار کرنا ہے ۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ایران کے تیل کے چشموں کے آزاد ہونے سے قائم ہوتی ہے، اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت مصر سے انگریزی فوجوں کے نکل جانے سے قائم ہوتی ہے تو پھر جب انگریزوں نے ایک ایک مُلک سے مسلمانوں کو کان پکڑ کر نکال دیا تھا تو تمہیں کہنا چاہئے تھا کہ عیسیٰ ؑکی عظمت ظاہر ہو گئی بلکہ عیسائیت کی موجودہ طاقت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمہیں اب بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ عیسائیت اسلام پر بازی لے گئی لیکن ہر باشعور انسان جو حقیقت کو جانتا ہے او ر سمجھ سکتا ہے کہ مُلکوں کی آزادی بالکل اَور چیز ہے اور مذہب کا غلبہ ایک دوسری چیز ہے ۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا میں آکر یہ اصو ل پیش فرمایا کہ تمہارا یہ مطمح نظر نہایت ادنیٰ ہے تمہیں اپنے افکار کو بلند کرنا چاہئے۔تمہیں سمجھنا چاہئے کہ تمہارا کیا منصب ہے اور کونسا کام جو خدا تعالیٰ نے تمہارے سپرد کیا ہے۔بے شک سیاست کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کی اصلاح ضروری ہے۔بے شک دولت کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کو ترقی کی ضرورت ہے،بے شک تمدن کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کو اپنے اندر تغیر پیدا کرنے کی ضرورت ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض یہ بھی تھی کہ اسلام کو روحانی طور پر دنیا میں غالب کیا جائے۔ اب اِس کی تشریح کرو تو اِس عظیم الشان مقصد کے یہ معنے بن جاتے ہیں کہ اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے دلائل اِتنی طاقت پکڑ جائیں کہ مسلمانوں کے ساتھ باتیں کرتے وقت وہ کنّی کترانے لگیں۔ آج یورپ میں جو بھی لٹریچر شائع ہوتاہے اس میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ اسلام میں فلاں نقص ہے اور اسلام میں فلاں خرابی ہے،لیکن کل اسلام کو ایسا غلبہ حاصل ہو کہ یورپ کے رہنے والے اپنی کتابوں میں یہ لکھیں کہ اسلام میں فلاں بات بہت اعلیٰ ہے مگر عیسائیت بھی اس سے بالکل خالی نہیں۔مسیح ؑ کی فلاں بات سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے بھی دنیا کے سامنے یہی بات پیش کی تھی ،آج کا یورپ زدہ مسلمان یورپ کی ڈیماکریسی کو دیکھ کر کہتا ہے کہ قرآن سے بھی کچھ کچھ ایسے ہی اصول ثابت ہوتے ہیں اور یہ خوبی ہمارے اندر بھی پائی جاتی ہے۔ یہ اپالوجی (Apology)ہے جو آج کا مسلمان پیش کر رہا ہے اور یہ اسلام کے لئے فخر کا دن نہیں ۔اسلام کے لئے فخر کا دن وہ ہو گا،جب یورپ اور امریکہ میں یہ کہا جائے گا کہ یہ اسلامی پردہ جو مسلمان پیش کرتے ہیں اس کی کچھ کچھ انجیل سے بھی تائید ہوتی ہے اور ہمارے مسیح ؑ نے بھی جو فلاں بات کہی ہے،اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس قسم کا پردہ ہونا چاہئے ۔اسلام کے لئے فخر کا دن وہ ہو گا جب یورپ اور امریکہ کا عیسائی اپنی تقریروں میں یہ کہے گا کہ کثرتِ ازدواج کا مسئلہ جو مسلمان پیش کرتے ہیں بے شک یہ بڑا اچھا مسئلہ ہے اور عیسائیوں نے کسی زمانہ میں اس کے مخالف بھی کہا لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے پوری طرح غور نہیں کیا تھا۔
    اصل بات یہ ہے کہ عیسائیت کے وہ بزرگ جو پہلی صدی میں گزرے ہیں انہوں نے بھی دو دو تین تین شادیاں کی ہیں ،پس کثرتِ از دواج کی خوبی صرف اسلام میں ہی نہیں بلکہ عیسائیت میں بھی پائی جاتی ہے۔جس دن یورپ اور امریکہ کے گرجوں میں کھڑے ہو کر ایک پادری اپنے مذہب کی اس رنگ میں خوبیاں بیان کرے گا وہ دن ہوگا،جب ہم کہیں گے کہ آج اسلام دنیا پر غالب آگیا۔اب ہمیں اپالوجی (Apology) کی ضرورت نہیں۔ اب دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ یہ خوبیاں ان کے اندر بھی پائی جاتی ہیں یہ ہو گا اسلام کا غلبہ اور یہ ہو گا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا دن۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا وہ دن ہو گا جب دو ارب چالیس کروڑ کی دنیا میں چالیس کروڑ مسلمان نہیں ہو گا بلکہ دو ارب مسلمان ہو گا اور چالیس کروڑ غیر مذاہب کا پیرو ہوگا۔مگر یہ نظریہ کس نے پیش کیا؟ یہ صرف حضرت مرزا صاحب نے پیش کیا اور یہی وہ چیز ہے جس پر آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا اور کہا گیا کہ اسلام کے غلبہ کا یہ کونسا طریق ہے۔ اسلام تو اس طرح غالب آ سکتا ہے کہ تلوار ہاتھ میں لی جائے اور کفار کو تہہِ تیغ کر دیا جائے۔ مگر غور کر کے دیکھ لو کہ کونسا نظریہ ہے جو اسلام کی عظمت کو قائم کرنے والا ہے اور کونسا مطمح نظر ہے جس پر ایک سچا مسلمان تسلی پاسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ مطمح نظر پیش کیا ہے کہ اسلام کو روحانی غلبہ سب دنیا پر حاصل ہو گا اور روحانی غلبہ کے معنے یہ ہیں کہ دنیا کے سیاسی اور اخلاقی اور مذہبی معیاروں کو بدل دیا جائے گا ۔آج یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام قابلِ اعتراض نہیں کیونکہ یورپین تہذیب کی فلاں فلاں بات کی وہ تائید کرتا ہے یا وہ ڈیما کرسی جو آ ج یورپ پیش کرتا ہے بڑی اچھی چیز ہے مگر اسلام نے بھی اس ڈیما کرسی کی تائید کی ہے۔ یہ طریق جو آج مسلمانوں نے اختیار کر رکھا ہے یہ ہر گز اسلام کے لئے کسی عزت کی بات نہیں ۔ہم تو اُس دن کے منتظر ہیں جب امریکہ کے منبروں پر کھڑے ہو کر عیسائی پادری یہ کہا کریں گے کہ وہ اسلامی حُریت اور آزادی جس کو قرآن پیش کرتا ہے ہماری قوم بھی اس سے بالکل خالی نہیں اور ہم اس کی تائیدمیں اپنی کتابوں کے حوالے پیش کرتے ہیں یا وہ اخلاقی، مذہبی اور سیاسی معیار جو اسلام پیش کرتا ہے اُسی سے ملتے جُلتے معیار ہماری کتابوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔
    غرض آجکل کا مسلمان آزادی کا تو دعویٰ کرتا ہے مگر ذہنی غلامی اختیار کرتے ہوئے وہ چاہتا ہے کہ وہ بھی مغربی تہذیب کے اچھے نقالوں میں سے بن جائے وہ انہی کے نام پر اُن کی نقل کرنے میں عزت محسوس کرتا ہے او راگر وہ آزادی ظاہر کرتا ہے تو صرف اتنی کہ کسی میں مغربی تہذیب کا نقّال بننا چاہتا ہے اور کسی میں کمیونسٹ نظریہ کا نقّال بننا چاہتا ہے اور نقل خواہ دس متفرق آدمیوں کی کی جائے بہر حال نقل ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا کے سامنے یہ مطمح نظر رکھا کہ کسی دن یورپ بھی میرا نقّال ہو گا اور امریکہ بھی میرا نقّال ہو گا۔ اب دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام نے جو بات کہی کہ دنیا کا سیاسی اور اخلاقی اور مذہبی نقطہ نظر بدل کر اُن کو مسلمان بنا لینا اور پھر اسلام کے مطابق اُن کے اعمال کو ڈھال دینا یہ مطمح نظر ہے جو تمہیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ اِس کا قرآن کریم سے بھی ثبوت ملتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۱۲؎ خداہی ہے جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں بھیجا ہے ہدایت دے کر اور دین حق دے کر ۔تلوار دے کر اور ڈنڈا دے کر نہیں تاکہ وہ سارے دینوں پر اُسے غالب کرے۔ سارے مُلکوں پر نہیں کیونکہ مُلکوں پر قبضہ کر لینا کرئی بڑی بات نہیں،بڑی بات یہی ہے کہ دلوں پر قبضہ ہو ۔
    اب دیکھو اِس آیت میں دہی چیز بیان کی گئی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیش فرمائی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا یہ مقصد نہیں کہ ایران کے تیل کے چشمے آزاد ہو جائیں، مصر سے انگریزی فوجیں نکل جائیں،شام اور فلسطین آزاد ہو جائیں یہ باتیں ہو ں گی اور ضرور ہوں گی مگر بہر حال یہ ابتدائی چیزیں ہیں مسلمان اس کے لئے جدوجہد کر رہا ہے اور وہ ایک دن اپنی غلامی کا جامہ چاک چاک کر کے پھینک دے گالیکن یہ آزادی اُس کا مقصد نہیں ۔جب کسی کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوتاہے تو وہ اُس کا ناک بھی پُونچھتا ہے مگر اُس کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ بچہ پیدا ہو تو میں اُس کا ناک پُونچھا کروں گا۔مقصد اُس کا یہی ہوتا ہے کہ وہ بڑا عالم فاضل ہو عقل بھی یہی کہتی ہے کہ چند ریاستوں پر کسی کا قبضہ کر لینا کوئی بڑی بات نہیں۔دلوں کو بدل دینا اور اُن کو فتح کر لینا بڑی بات ہے۔
    فرض کرو پاکستان کسی وقت اِتنی طاقت پکڑ جائے کہ وہ حملہ کرے اور سارے امریکہ کو فتح کرلے اور امریکہ کے لوگ ہمیں ٹیکس دینے لگ جائیں لیکن امریکہ کا آدمی اسلام اور قرآن پر لعنتیں ڈالتا ہو تو یہ بڑی فتح ہو گی یا امریکہ آزاد رہے لیکن امریکہ کے ہر گھر میں رات کو محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج کر سونے والے لوگ پیدا ہوجائیں تو یہ بڑی بات ہو گی؟پس عقل بھی یہی کہتی ہے کہ یہی مقصد سب سے بالا ہے۔ یا مثلاً پاکستان کی ہندوستان سے کسی وقت لڑائی ہو جائے اور پاکستان ہندوستان کو فتح کرلے تو پھر بھی یہ کونسی فتح ہے۔پہلے بھی یہی کہا گیا تھا ہندوستان کو فتح کر لیا گیا لیکن پھر وہ فتح کس طرح بے حقیقت بن کر رہ گئی اور کس طرح مسلمان سخت ذلّت کے ساتھ وہاں سے نکلے کہ ہر شخص بزبانِ حال یہ کہہ رہا تھا کہ :-
    بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچہ سے ہم نکلے
    لیکن اگر پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بتائے ہوئے مقصد کواپنے سامنے رکھتے ہوئے مسلمان کھڑا ہو اور وہ پھر ہندوستان میں داخل ہو تلوار کے زور سے نہیں بلکہ قرآن کے زور سے، بندوق کے زور سے نہیں بلکہ سچائی کے زور سے۔شام لال ہندو عبد اللہ بن جائے،سندر داس ہندو عبد الرحمن بن جائے، ویدوں کی جگہ قرآن پڑھا جانے لگے تو آج تو تم اِس طرح نکلے ہو کہ وہ تمھیں نکال کر خوش ہوئے ہیںلیکن اگر تم یہ فتححاصل کر لو اور تم کسی دن اُن سے یہ کہو کہ اب ہمارا کام ہندوستان میں ختم ہو چُکا ہے اب ہم چین کو جاتے ہیں تو تم دیکھو گے کہ اُس دن سارے ہندوستان میں کُہرام مچ جائے گا اور ہر شخص رونے لگ جائے گا اور کہے گا خدا کے لئے ہمیں چھوڑ کر نہ جائو تم ہمارے لئے خیر اور برکت کا مؤجب ہو۔یہ چیز ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیش فرمائی اور اِسی کی قرآن بھی تائید کرتا ہے اور عقل بھی تائید کرتی ہے اور جذباتِ صحیحہ بھی تائید کرتے ہیں کیونکہ جذباتِ صحیحہ اِس بات کو کبھی تسلم نہیں کرتے کہ کسی کو مُکّا مارکر اُس سے یہ کہا جائے کہ تو مجھے پیار کر لیکن محبت اور پیار کے ساتھ اسے اپنا غلام بنا لو تو پھر تم اُسے کہو بھی کہ خدمت نہ کر و تو وہ کہے گا مجھے ثواب لینے دیں اپنی خدمت سے محروم کیوں کرتے ہیں۔
    میں نے کئی دفعہ دیکھا ہے کہ سندھ میں جب مجھے گھوڑے پر سورا ہو کر کہیں جانا پڑتا ہے تو ساتھ ساتھ کوئی مخلص احمدی بعض دفعہ عمر کے لحاظ سے بڑھاپے میں قدم رکھ رہا ہوتا ہے وہ دَوڑتا چلا جاتا ہے۔ اُسے منع بھی کرو تو وہ رکتا نہیں اور سا تھ ساتھ دَوڑتا چلا جاتا ہے اور جب میں گھوڑے سے اترتا ہوں تو وہ پیر دبانے لگ جاتا ہے کہ آپ تھک گئے ہوں گے۔ اسے بہتیرا کہا جاتا ہے کہ میاں! مَیں گھوڑے پر سوار رہا اور تم پیدل چلتے آئے تھکامیں ہوں یا تم؟ مگر وہ یہی کہتا چلا جاتا ہے کہ نہیں آپ تھک گئے ہوں گے مجھے پیر دبانے دیں۔ یہ غلامی ہے جو محبت کی غلامی ہے اور جس میں انسان اپنی عزت محسوس کرتا ہے۔ لیکن اس کی بجائے اگر کسی بڈھے کو مار مار کر ہم کہیں کہ آئو اور ہمارے پیر دبا ئو تو سب لوگ کہنے لگ جائیں گے کہ دیکھو! یہ مذہبی لیڈر بنے پھرتے ہیں اور حالت یہ ہے کہ ایک بڈھے کو مار رہے ہیں لیکن اب سوار ہم ہوتے ہیں اور پیدل وہ چلا آتا ہے لیکن گھوڑے سے اُترتے ہی وہ ہمارے پیر دبانے لگ جاتا ہے دیکھنے والا دیکھتا ہے اور حیران ہوتا ہے بلکہ اسے منع بھی کرو تو وہ کہتا ہے تم مجھے منع کرنے والے کون ہو میں تو ثواب حاصل کر رہا ہوں۔
    چوتھا اصول حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ پیش فرمایا کہ الہامِ الٰہی کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے اِس کے مقابلہ میں غیر احمدیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ الہامِ الٰہی کا دروازہ بند ہو چُکا ہے۔ اب دیکھ لو حضرت مرزا صاحب نے جو کچھ کہا نقل اس کے مطابق ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۱۳؎ یعنی وہ لوگ جو سچے دل سے اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور پھر مخالفتوں کے باوجود اپنے اِس ایمان پر قائم رہتے ہیں اور صبر اور استقامت سے کام لیتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان پر اُترتے ہیں اور وہ اُنہیں خوشخبری دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم اپنے گزشتہ مصائب پر کسی قسم کا خوف مت کھائو اور نہ آئندہ کے لئے کوئی غم کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور تمہاری مدد کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں ۔پھر اِسی دنیا کا سوال نہیں بلکہ ہم تم کو یہ بھی خبر دیتے ہیں کہ اگر اِن کشمکش اور تکلیف کے دنوں میںتمہیں موت آگئی تو تمہاری موت بھی بڑی خوشی کا موجب ہو گی اور تم جنت میں داخل کئے جائوگے۔
    اب دیکھو قرآن مجید نے صاف طور پر یہ بیان فرمایا ہے کہ مومنوں پر فرشتے نازل ہوتے ہیںجو مصائب میں اُنہیںتسلی دیتے ہیں اور مشکلات میں اُن کی ڈھارس بند ھاتے ہیں اور آئندہ کے لئے انہیں بشارتیں دیتے ہیں اوراِسی چیز کو وحی اور الہام کہا جاتا ہے۔ پُرانے بزرگوں نے اس پیغام کو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے وحی کی بجائے الہام کہنا شروع کر دیا تھا اور حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اُن کا لحاظ کرتے ہوئے اِسے الہام ہی قرار دیا ورنہ وحی اور الہام میں کوئی فرق نہیں۔ بہر حال نام کچھ رکھ لو واقعہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے ہمکلام ہوتاہے اور ان پر اپنی مرضی کو ظاہر فرماتا ہے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو دعویٰ فرمایا وہ بے ثبوت نہیں بلکہ نقل اِس کی تائید میں ہے۔ پھر حدثیوں سے بھی یہی ثابت ہوتاہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہلَمْ یَبْقَ مِنَ النُّبُوَّۃِ اِلَّا الْمُبَشِّرَات۔۱۴؎ یعنی اب صرف مبشرات باقی رہ گئی ہیں اور مبشرات اِسی کو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو بشارت دے اور اُن سے ہمکلام ہو ۔پھر عقل بھی یہی کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے الہام کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے جاری رہنا چاہئے کیونکہ بولنا اور کلام کرنا اُس کی صفت ہے اور جب خداتعالیٰ کی اَور تمام صفات کام کر رہی ہیں تو کلام کرنے کی صفت اُس کی کیوں باطل ہوگئی۔ جب لوگوں سے پوچھا جائے کہ کیوں جی اللہ تعالیٰ دعائیں سنتا ہے؟ تو کہیں گے جی ہاں کیوںنہیں سنتا وہ سمیعُ الدعاء ہے۔ پوچھا جائے کیا خدا دیکھتا ہے؟کہیں گے کیوں نہیں خدابصیر ہے ۔پوچھا جائے کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے؟ کہیں گے کیوں نہیں ۱۵؎ اﷲ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے۔پھر پوچھا جائے کیا خدا بات کرتا ہے؟ کہیں گے نہیں جی کسی پُرانے زمانہ میں وہ بات کیا کرتا تھا اب تو نہیں کرتا۔ گویا اللہ تعالیٰ کی ننانوے صفات جو بیان کی جاتی ہیں اُن میں سے تو سب صفات سلامت ہیں ایک بولنے والی صفات میں کچھ خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ گویا اُس کی زبان کے نروز(Nerves) نعوذباللہ مفلوج ہو گئے ہیں اور اب وہ اپنے بندوںسے کلام نہیں کر سکتا۔ دنیا میں تو گو نگا بھی اشارے کر لیتا ہے مگر اِس زمانہ میں لوگ جس خدا کو پیش کرتے ہیں وہ اشارے بھی نہیں کرسکتا۔
    پھر جذباتِ صحیحہ کو لو تو وہ بھی اِس کی تائید کرتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے ساتھ انسان کو جو تعلق ہے اس کی بنیاد محض محبت پر ہے اور جذباتِ محبت پر ہے اور جذباتِ محبت بغیر معشوق سے ملنے کے کبھی تسلی نہیں پاسکتے ۔اگر تم اپنے کسی محبوب کے پاس جائو اور اس کے پاس گھنٹوں بیٹھے رہو مگر وہ تم سے بات تک نہ کرے اور تمہاری طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھے تو اپنے ایمان سے کہو کہ تم وہاں سے روتے ہوئے آئو گے یا ہنستے ہوئے آئو گے؟ وہ تم سے بولتا ہے تو تمہارا دل خوش ہوتا ہے اور اگر بات نہیں کرتا تو تم پر موت آجاتی ہے۔ پس جذباتِ صحیحہ بھی اسی اصول کی تائید کرتے ہیں وہ شخص جو یہ عقیدہ پیش کرتا ہے کہ خدا نہیں بولتا وہ اگر یہ کہتا ہے کہ میں خدا سے محبت کرتا ہوں تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔ ایک گونگے سے انسان پھر بھی محبت کر سکتا ہے کیونکہ سمجھتا ہے کہ اس کی زبان نہیں لیکن اگر زبان ہو اور پھر بھی کوئی شخص نہ بولے تو اس سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔
    پانچویں بات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیش کی وہ یہ ہے کہ قرآن کریم ایک زندہ کتاب ہے مگر غیر احمدیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن میں جو کچھ لکھا ہؤا ہے وہ ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے مگر اس کی بہت سی آیتیں منسوخ ہیں یعنی وہ قرآن میں تو لکھی ہوئی ہیں مگر واجبُ العمل نہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں اس کے مطالب بہت محدود ہیں۔ امام رازی تک تو اس کے علوم کا انکشاف ہوتا رہا مگر اس کے بعد اس کے روحانی معارف کا انکشاف لوگوں پر بند ہو گیا۔گویا قرآن اس چشمہ کی مانند ہے جو خشک ہو چُکا ہے یا نعوذباللہ وہ ایک اندھا کنواں ہے جو لوگوں کی تشنگی کو فرو کرنے کے لئے اپنے اندر پانی کا ذخیر ہ نہیں رکھتا کسی زمانہ میں تو لوگ اس قرآنی چشمہ سے سیرا ب ہوتے تھے اور اس آسمانی کنوئیں سے اپنی پیاس بجھاتے تھے لیکن اب وہ اس قرآن سے نئے معارف اور نئے حقائق اور نئے علوم حاصل نہیں کرسکتے۔ یہ سلسلہ انکشاف صرف امام رازی تک جاری رہا ہے اس کے بعد یہ کان ختم ہو گئی اور اب اس میں سے کوئی نئی دولت حاصل نہیں کی جاسکتی۔
    پھر وہ کہتے ہیں قرآن ہے تو خدا کی کتاب مگر یہ خدا سے مِلا نہیں سکتی۔ تعلق بِاللہ پیدا کرنا جو ہر الٰہی کتاب کا خاصہ ہؤ اکرتا ہے وہ کام اب قرآن سے نہیں لیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ اگر یہ کتاب تعلق باللہ والا کام نہیں کرتی تو اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ قیامت تک کے لوگو ں کے لئے ہدایت نامہ نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب اسی لئے آتی ہے کہ وہ لوگوں کو خدا سے ملائے جو کتاب بندوں کو خدا سے نہیں ملاتی اُس کتاب کو لے کر ہم نے کرنا کیا ہے اور اگر وہ نہیں ملاتی تو اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ وہ الہٰی کتاب نہیں۔ اب اگر وہ دنیا میں رہے تب بھی بیکار ہے اور اگر نہ رہے تب بھی حرج نہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ بِالکل غلط عقیدہ ہے قرآن وہ کتاب ہے جو انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی خشیت پیدا کر کے اُس کو خدا کی طرف لے جاتی ہے اور انسان کی جتنی طبعی اور روحانی ضرورتیں ہیں اُن کو پورا کرتی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۱۶؎ ہم نے اس قرآن میں پھیر پھیر کر اور چکر دے دے کر اور نئے نئے اُسلوب سے اور نئی نئی طرزوں سے نئی نئی فطرتوں کے لئے مضامین بیان کئے ہیں اور پھر ہر قسم کے مضامین بیان کئے ہیں۔
    دو ہی چیزیں ہوتی ہیں جو کسی تعلیم کی برتری کو ثابت کرتی ہیں۔ ایک یہ کہ ہر قسم کے مضامین اُس میں بیان ہوں اور دوسرے یہ کہ مختلف طبقات میں سے ہر طبقہ کے لیے اُس میں مضامین بیان ہوں اور یہ دونوں خصوصیتیں قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں۔ گویا کوئی انسان نہیں رہا جو قرآن کا مخاطب نہ ہو اور کوئی بات نہیں رہی جو قرآن نے بیان نہ کی ہو۔ جب ہر بات اِس میں بیان کر دی گئی ہے اور ہر قسم کے لوگوں کی فطرت کو ملحوظ رکھ کر اُس میں تعلیم نازل کی گئی ہے تو پھر بنی نوع انسان کو اپنے خدا کی محبت اور اس کا پیار کیوں حاصل نہ ہو ۔بے شک پُرانے زمانہ میں موسٰی ؑ اور عیسٰی ؑ اور دوسرے نبیوں کو خدا ملا اور ہم اِس پر ایمان رکھتے ہیںلیکن ہمارا دل اس سے تسلی نہیں پاتا۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں بھی خدا کی محبت حاصل ہو۔ اور زندہ کتاب وہی کہلاسکتی ہے جو زندہ خدا سے ہمارا تعلق پیدا کر دے ۔اگر وہ ہمیں اپنے خدا سے نہیں ملاتی تو اِس کتاب کا وجود اور عدم ہمارے لئے برابر ہے ۔قرآن کہتا ہے کہ ہم نے ہر انسان کی روحانی ضرورتوں کے پورا کرنے کے سامان اس کتاب میں رکھ دیئے ہیں جو بھی سچے دل سے اس پر عمل کرے گا وہ اپنے خدا کو پالے گا۔ اسی طرح فرماتا ہے۱۷؎ دیکھو قرآن میری طرف اِس لئے وحی کیا گیا ہے کہ مَیں اِس کے ذریعہ تمہیں بھی فائدہ پہنچائوں اور وہ تمام لوگ جن کے کانوں تک اس کتاب کی آواز پہنچے اُن کو بھی فائدہ پہنچائوں اور وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں ۔غرض ایک طرف قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس میں ہر قسم کے مضامین بیان کئے گئے ہیں اور ہر قسم کے لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور دوسری طرف اِس نے یہ کہا ہے کہ جس کے ہاتھ میں بھی قرآن ہو گا اُس کو فائدہ پہنچے گاکیونکہ یہ اِسی لئے نازل کیا گیا ہے کہ وہ سب لوگ جن کے کانوں تک اس کی آواز پہنچے اُن کو فائدہ پہنچائے ۔پس جب قرآن قیامت تک کے لئے ہے اور جب قرآن سب دنیا کو فائدہ پہنچانے کے لئے نازل کیا گیا ہے تو یہ کہنا کہ اب نئے معارف اس کتاب میں سے نہیں نکل سکتے یا خدا سے انسان مل نہیں سکتا دونوں غلط عقیدے ثابت ہوئے۔
    اِسی طرح مَیں نے بتایا ہے کہ مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی کئی آیتیں منسوخ ہیں لیکن جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس میں یہ آیت نظر آتی ہے کہ ۱۸؎ محکمات اور متشابہات کے کیا معنے ہیں؟میں اِس وقت اس بحث میں نہیں پڑتا اِن کے معنے خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھ پر حل کر دیئے ہیں،میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وضاحتاً یہ بات بیان فرمائی ہے کہ قرآن کریم میں صرف دو قسم کی آیات ہیں کچھ آیات محکم ہیں اور کچھ متشابہہ ۔اب کوئی بھی مفسّر ایسا نہیں جو متشابہہ کے معنے منسوخ کے کرتا ہو وہ متشابہہ کے کوئی نہ کوئی معنے کرتا ہے ،مگریہ نہیں کرتا کہ اس کے معنے منسوخ آیات کے ہیں۔ اور جب قرآن کہتا ہے کہ میرے اندر صرف دو ہی قسم کی آیات ہیں یا محکم ہیں یا متشابہہ اور متشابہہ کے معنے منسوخ کے نہیں تو منسوخ آیات کہاں سے آگئیں؟یا تو قرآن ہی کہتا کہ میرے اندر بعض آیات منسوخ بھی ہیں مگر وہ تو کہتا ہے کہ اِس کتاب میں صرف دو ہی قسم کی آیات ہیں محکمات یا متشابہات اور متشابہات کے معنے منسوخ کے نہیں پھر یہ تیسری قسم کی آیات کہاں سے آگئیں جن کو منسوخ کہا جاتا ہے۔
    عقل بھی یہی کہتی ہے کہ جو کتاب آخر زمانہ تک کے لئے ہو وہ لازماً کامل ہونی چاہئے اور جب کوئی کتاب کامل ہو گی تو لازماً وہ زندہ بھی رہے گی۔ یہ کسی طرح ہو سکتا ہے کہ کامل کتاب نازل ہو اور پھر اُس کی برکات کا سلسلہ معدوم ہو جائے اور اُس کے پاکیزہ اثرات جاتے رہیں ۔اِسی طرح جو کتاب شِفَائٌ لِّلنَّاسِ ہو گی وہ منسوخ ہونے کے شُبہ سے کُلّیتہً پاک ہو گی۔ میں تو سمجھتا ہوں قرآن کریم کو شِفَائٌ لِّلنَّاسِ اسی لئے کہا گیا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں یہ غلط عقیدہ پیدا ہونے والا تھا کہ قرآن کریم کی کئی آیات منسوخ ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسے شفاء قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اِس میں کسی منسوخ آیت کے ہونے کا احتمال ہی نہیںہو سکتا یہ کتاب تو علاج کے لئے نازل کی گئی ہے اور دوا میں اگر کسی قسم کی بھی غلط آمیزش کا شُبہ ہو تو اُسے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ دیکھ لو وہی شخص جو کہتا ہے کہ قرآن میں کچھ آیتیں منسوخ ہیں اُسی سے پوچھو کہ کیا کسی جو شاندہ میں اگر تھوڑا سا سنکھیا ملا ہؤا ہو تو تم اسے استعمال کر لوگے؟ وہ کبھی ایسے جوشاندہ کو نہیں پئے گا کیونکہ ڈر ے گا کہ اگر اس میں سنکھیا ہؤ ا تو میں مر جائوںگا۔ اِسی طرح اگر قرآن میں کچھ منسوخ آیات بھی ہیں تو کسی نے عمل کیوں کرنا ہے وہ تو کہے گا معلوم نہیں یہ آیت منسوخ ہے یا وہ آیت منسوخ ہے پس شِفَائٌ لِّلنَّاسِ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ انسان سب سے زیادہ دوا کی حفاظت کرتا ہے کیونکہ وہ ڈرتا ہے کہ اگر میں نے احتیاط نہ کی تو علاج کرتے کرتے مر جائوں گا۔پھر جب تم اپنے متعلق یہ احتیاط کرتے ہو کہ تمہاری دوا میں کوئی زہر نہ ملی ہوئی ہو تو جس کتاب کو خدا تعالیٰ نے لوگوں کی امراضِ روحانیہ کا نُسخہ قرار دیا ہے اُس کے متعلق تم یہ عقیدہ کسی طرح رکھ سکتے ہو کہ اِس میں غیر اجزاء بھی پڑے ہوئے ہیں اور پھر یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ سنکھیا ہے یا بیش ہے یا پارہ ہے یا کیا چیز ہے گویا بالکل ویسی ہی بات ہے جیسے کسی جو شاندہ میں کوئی زہر ملا دیا گیا ہو ایسی صورت میں قرآن کا کیا اعتبار رہا ۔
    پھرجس کتاب کے متعلق یہ کہا گیا تھا کہ وہ قیامت کے لئے ہے اُس کے متعلق مسلمانوں نے یہ عقیدہ رکھ لیا کہ رازی تک جس قدر نکتے کھل سکتے تھے کھل گئے اب تمام نکات اور معارف کا سلسلہ ختم ہو چُکا ہے اب کوئی نیا نکتہ اس کتاب میں سے نہیں نکل سکتا اور جب اس کتاب میں سے نہیں نکل سکتا جب اس کتاب کے متعلق یہ عقیدہ رکھ لیا جائے تو پھر کسی کو کیا ضرورت ہے کہ وہ قرآن شریف پڑھا کرے وہ تو پھر رازی کی کتاب ہی پڑھا کرے گا۔جیسے لوگ بڑے شوق سے انگور کھاتے ہیں لیکن انہی انگوروں کا اگر شربت بنا لیا جائے تو پھر لوگ شربت کی بوتل رکھ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب انگورلے کر ہم نے کیا کرنا ہے۔ اسی طرح جب امام رازی تک قرآن کا نچوڑ تمام تفسیروںمیں آگیا تو مسلمانوں کو کوئی ضرورت نہ رہی کہ وہ قرآن پڑھا کریں اسی لئے قرآن جاننے والے مسلمان بہت کم پائے جاتے ہیں لیکن تفسیریں پڑھے ہوئے مسلمان کافی تعداد میں مل جاتے ہیں،صرف مولوی عبید اللہ صاحب سندھی نے مسلمانوں میں درسِ قرآن کا کچھ رواج ڈالا ہے اور وہ بھی ہم سے سیکھ کر کیونکہ وہ حضرت خلیفہ اوّل کے زمانہ میں قادیان آتے رہے ہیں ورنہ صدیوں تک مسلمان جلالین اور دوسری تفسیریں ہی پڑھتے رہے ہیں ۔قرآن کی طرف اُنہوں نے توجہ نہیں کی کیونکہ جب اُنہوں نے یہ سمجھ لیا کہ افشردۂ انگور۱۹؎ہم نے لے لیا ہے تو پھر باقی جو کچھ رہ گیا وہ ان کی نگاہ میں صرف چھلکے کی حیثیت ہی رکھ سکتا تھا،اس کو لے کر انہوں نے کیا کرنا تھا۔
    چھٹی بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام نے یہ پیش فرمائی کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ اپنی قدرتوں کو ظاہر کرتا رہتا ہے۔غیر احمدی کہتے ہیں کہ اب خدا تعالیٰ معجزات ظاہر نہیں کرتا گو اُنہی میں سے ایک طبقہ اس بارہ میں اُن سے اختلاف بھی رکھتا ہے اور وہ معجزات کا قائل ہے مگر جو معجزات ماننے والے ہیں وہ ایسے ایسے معجزات مانتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایک شخص نے ہمارئے خلاف ایک دفعہ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مرزا صاحب اپنا بڑا معجزہ یہ بیان کرتے ہیں کہ لیکھرام اُنکی پیشگوئی کے مطابق مارا گیایا فلاں کے ہاں بیٹا پیدا ہو گیا۔بھلا یہ بھی کوئی معجزہ ہے۔ معجزہ تو یہ ہوتا ہے کہ سید عبد القادر صاحب جیلانی کے پاس ایک دفعہ ان کا ایک مرید آیا اور اس نے پوچھا کہ حضور کبھی مُردے بھی زندہ ہوتے ہیں یا نہیں؟کہنے لگے کیوں نہیں،میںابھی دکھا دیتا ہوں وہ اُس وقت مرغا کھا رہے تھے۔پہلے تو خوب مزے لے لے کر اس کی بوٹیاں کھائیں جب کھا کر فارغ ہوئے تو کہنے لگے،ارے! اِس کی ہڈیاں جمع کر کے لانا۔ہڈیاں جمع کرکے لائی گئیں تو انہوں نے اوپر ہاتھ رکھا اور اُسی وقت کُڑ کُڑ کُڑ کُڑ کرتا ہؤا مُرغ نکل آیا۔ وہ کہنے لگا یہ ہوتا ہے معجزہ۔ بھلا یہ کیا معجزہ ہے کہ فلاں آدمی مر جائے گا اور فلاں کے ہاں بیٹا پیدا ہو جائے گا۔پس یا تو وہ یہ کہیں گے کہ معجزہ ہوتا ہی نہیں اور یا پھر کُڑ کُڑ کُڑ کُڑ کرتا ہؤا معجزہ مانگیں گے درمیان میں کوئی مقام ہی نہیں ہوتا جہاں وہ ٹھہر سکیں۔لیکن دیکھو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۲۰؎ تمہارا خدا وہ ہے جو ہر وقت ایک نئی قدرت دکھاتا ہے۔یہ کہنا کہ کسی وقت اُس کی قدرت ظاہر نہیں ہو سکتی درست نہیں بلکہ ہر وقت ہی اللہ تعالیٰ اپنی نئی قدرت اور نیا جلوہ دکھاتا ہے۔دیکھی ہو ئی چیز کو دوبارہ دیکھنا لُطف نہیں دیتا انسانی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے جدّت کا مادہ رکھا ہؤا ہے۔چنانچہ جب ریل گاڑی جاری ہوئی تو شروع شروع میں لوگ اُسے عجوبہ سمجھتے ہوئے اس پر پھولوں کے ہار ڈالتے تھے لیکن آہستہ آہستہ ان کا جوش ختم ہو گیا۔پھر ہوائی جہاز اور دوسری سواریاں نکلیں تو اُن کی طرف متوجہ ہوگئے ۔غرض فطرتِ انسانی کو ہمیشہ نئی چیزوں سے لُطف آتا ہے اور وہ نئی نئی چیزوں سے تسلی پاتی ہے۔مجھے قرآن پڑھ کر بڑا مزہ آتا ہے لیکن جب کبھی رات کو خدا میرے کان میں کوئی بات کہتا ہے تو کچھ نہ پوچھو کہ اس کا کیا مزہ ہوتا ہے کیونکہ وہ ایک نئی چیز ہوتی ہے ۔غرض قرآن یہ کہتا ہے کہ خدا ہر گھڑی ایک نئی قدرت دکھاتا ہے ۔مگر مسلمان اس کا انکار کرتے ہیں۔
    عقل بھی یہی کہتی ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدرتیں دکھائے کیونکہ جب خدا دیکھتا ہے اوراس کے دیکھنے کی صفت معطل نہیں، جب وہ سُنتا ہے او ر اُس کے سُننے کی صفت معطّل نہیں۔ جب وہ پیدا کرتا ہے اور اس کے پیدا کرنے کی صفت معطل نہیں تو اُس کی قدرت کی صفت کیوں ظاہر نہیں ہو سکتی۔جس طرح وہ سمیع ہے اور بصیر ہے اور خالق ہے اور یہ صفات ہمیشہ ظاہر ہوتی ہیں اِسی طرح ضروری ہے کہ اُس کی قدرت کی صفت بھی ہمیشہ ظاہر ہو۔
    جذباتِ صحیحہ بھی یہی کہتے ہیں کیونکہ جذباتِ صحیحہ ایک مفید تغیر کی ہمیشہ خواہش رکھتے ہیں اور یہ بات انسانی فطرت میں پائی جاتی ہے ۔چنانچہ اِسی فطرت کے تقاضا کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسم بدلتے ہیں اور نئے نئے پھل پیدا ہوتے ہیں اور انسان بھی کبھی اپنے لباس میں تغیر کرتا ہے اور کبھی مکان میں اور کبھی نئے نئے کھانے تیار کرتا ہے کیونکہ نئی چیز سے فطرت تسکین پاتی اور ایک لطیف حظ محسوس کرتی ہے۔ تم تو شاید اِسے بچوں والی بات کہو گے لیکن عاشق ہر بات کو اپنے عشق کے نقطۂ نگاہ سے دیکھتا ہے، حدیثوں میں آتا ہے جب بادل آتا،بوندیں برسنے لگتیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر صحن میں نکلتے اور اپنی زبان پر بارش کا قطرہ لیتے اور فرماتے یہ میرے رب کی تازہ نعمت کا مزہ ہے۔۲۱؎ تمہارے لئے تین دن برابر بارش برستی رہے تب بھی تمہارے دل میں کوئی احساس پیدا نہیں ہوتا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کے ایک تازہ قطرہ کو بھی دیکھتے تو اُسے اپنی زبان پر لیتے گویا قطرہ کیا آیا خدا تعالیٰ کی طرف سے پانی کا ایک ٹھنڈا اور شیریں گلاس آگیا۔یہ ہے سچا عشق اور اِسی کی ہر مومن سے امید کی جاتی ہے۔وہ شخص عاشق ہی کسی طرح کہلا سکتا ہے جس میں یہ جذبہ نہ ہو کہ میرا خدا میرے لئے نئی نئی قدرتیں ظاہر کرے۔
    ساتویں بات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیش فرمائی وہ یہ ہے کہ مذہب کی بنیاد اخلاق پر ہے۔ اِسی زمانہ کے علمائے سُوء غیر مسلموں سے بد سلو کی جائز سمجھتے ہیں،وہ قتل مرتد کو ضروری سمجھتے ہیں، امن پسند غیر مسلم سے لڑنے کو ثواب سمجھتے ہیں،جو مسلمان کو غلام نہ بنائے اُسے بھی غلام بنانا جائز سمجھتے ہیں، جو اختلاف رکھتا ہو اُسے تنگ کرنا جائز سمجھتے ہیں اور دوسرے مذاہب کے بزرگوں کی تحقیر جائز سمجھتے ہیں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آکر یہ اصول پیش کیا کہ مذہب پر افراد سے زیادہ اخلاق کی پابندی ضروری ہے اس لئے غیر مسلموں سے بد سلوکی مت کرو۔ اور آپ نے فرمایا جہاد کے معنے یہ ہیں کہ جب دُشمن اسلام کو مٹانے کے لئے حملہ کرے تو اُس کے حملہ کا جواب دو ۔اگر وہ تمہارے آدمیوں کو جنگ میں پکڑ کر غلام بناتا ہو تو تم بھی اُس کے آدمیوںکو پکڑ کر غلام بنانے کے حقدار ہو لیکن بغیر جنگ کے وہ غلام بناتا ہو تب تم اُس کی نقل نہ کرو کہ بغیر جنگ کے غلام بنالو کیونکہ جنگ کی ذمہ داری قوم پر ہوتی ہے۔اس لئے اگر جنگ کے نتیجہ میں کوئی فعل خراب نکلتا ہے تو قوم جواب دِہ ہے،لیکن اگر فرد کے کسی فعل کے نتیجہ میں کام خراب ہوتا ہے تو قوم جواب دہ نہیں ہو سکتی۔ پس اگر جنگ کے نتیجہ میں وہ تمہارے آدمیوں کو پکڑکر غلام بنالیتے ہیں تو تم بھی بنالو،لیکن اگر فرد تمہارے آدمی کو پکڑ کر لے جاتا ہے تو تمہارا کوئی حق نہیں کہ تم اُس کے آدمی پکڑ کر لے آئو کیونکہ وہ ایک فرد کا فعل ہے۔اختلافِ مذاہب یا عقیدہ پر چِڑنادرست نہیں کہ حُریت انسان کا پیدائشی حق ہے۔سمجھانا اور تبلیغ کرنا تمہارا کام ہے لڑنا اور فساد کرنا تمہارا کام نہیں ۔اِسی طرح فرمایا غیرقوموں کے بزرگوں کو گالیاں دینا تمہارا کام نہیں تمہارا فرض ہے کہ اُن کا ادب اور احترام کرو ۔چنانچہ قرآن کریم میں یہ آیتیں موجود ہیں:-
    (۱) ۲۲؎ یعنی کافر عورتوں کے ننگ و ناموس کو اپنے قبضہ میں نہ رکھو۔
    اس میں یہ اصو ل بتایا گیا ہے کہ غیر قوم کا حق مارنا جائز نہیں۔بے شک وہ کافر ہوں گی۔لیکن بوجہ کافر ہونے کے انہیں قتل نہیں کرنا بلکہ آرام سے اُنہیں اپنے کافرماں باپ کے پاس ان کے گھر پُہنچادینا۔
    (۲) پھر فرماتا ہے۔۲۳؎ دین میں کو ئی جبر نہیں چاہے تمہارے خلاف ہی کوئی شخص عقیدہ رکھنا چاہے تو وہ رکھ سکتاہے۔
    (۳) پھر فرمایا ہے ۔۲۴؎ جن کے ساتھ لڑائی کی جاتی ہے اُن کو اجازت ہے کہ وہ لڑیں۔دوسرے جن کے ساتھ لڑائی نہیں کی جاتی اُن کو اجازت نہیں۔
    ۴- پھر فرمایا ہے۔۲۵؎ بغیر خطر ناک جنگ کے غلام بنانا جائز نہیں ،جنگ ہو اور سخت جنگ ہو اِس کے بعد غلام بنانا جائز ہے ورنہ بغیر جنگ کے ناجائز۔
    (۵) پھر فرمایا ہے۔۲۶؎ جن لوگوں کو یہ خدا کے سِوا معبود بناتے ہیں وہ خواہ اُن کو خدا بنا دیتے ہیں تب بھی تم ان کو گالیاں مت دو ورنہ وہ تمہارے خدا کو بُرا بھلا کہنے لگ جائیں گے ۔یہ اصول جو قرآن کریم نے بیان کئے ہیں انسانی فطرت کے مطابق ہیں۔
    عقل بھی یہی کہتی ہے کہ کسی کا عقیدہ جھوٹ ہو یا سچ اکثریت اپنے نزدیک اسے ویسا ہی سچا سمجھتی ہے جیسے اسلام کی اکثریت اپنے مذہب کو سچا سمجھتی ہے۔ عیسائیت جھوٹی ہے مگر سوال یہ ہے کہ دنیا کا اکثر عیسائی، عیسائیت کو کیا سمجھتا ہے؟ سچا سمجھتا ہے ۔ہندو مذہب جھوٹا ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ دنیا کا اکثر ہندواپنے مذہب کو کیا سمجھتا ہے؟ سچا سمجھتا ہے۔ یہودی مذہب یقینا جھوٹا ہے۔ مَیں جھوٹے کا لفظ بولتا ہوں تو اِس کا یہ مطلب ہے کہ اِس زمانہ میں وہ مذہب ختم ہو چُکا ہے ورنہ ابتداء کے لحاظ سے نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہودیوں کا اکثر حصّہ یہودیت کو کیا سمجھتا ہے؟سچا سمجھتا ہے۔اگر اِس بات پر کسی کو قتل کرنا جائز ہے،اِس بات پر کسی کو لوٹ لینا جائز ہے،اس بات پر کسی کو مار دینا جائز ہے کہ میں سمجھتا ہوں میرا مذہب سچا ہے تو پھر عیسائیت کو کیوں یہ حق حاصل نہیں۔چھ سَو سال تک عیسائیت نے دنیا پر غلبہ حاصل کیا ہے اب بھی اُس کو غلبہ حاصل ہے ۔اگر عیسائیت انسانیت کو چھوڑدے، اگر روس کا کانٹا اُس کے اند ر سے نکل جائے تو آج بھی عیسائی مسلمان مُلکوں کو تباہ کر سکتا ہے لیکن وہ نہیں کرتا۔اِس لئے کہ اُس نے اپنے جھوٹے مذہب میں بھی اس اصول کوتسلیم کیا ہے کہ مذہب کی خاطر کسی کو نہیں مارنا۔ پہلے کرتے رہے ہیںسارا فلپائن مسلمان تھا ۔اِسے عیسائی کر لیا گیا گو ان کو انہوں نے عیسائی بنا لیالیکن اب وہ نہیں کرتے ۔پس اگر یہ عقیدہ درست ہو کہ جب ایک قوم کی اکثریت ہو اور اکثریت کو کسی اقلیت سے اختلاف ہو تو اُس کا حق ہے کہ وہ زبردستی دوسروں سے اُن کا مذہب بدلوائے،اُنہیں مارے پیٹے تو پھر عیسائی کو یہ کیوں حق حاصل نہیں؟ہندؤوں کو کیوںیہ حق حاصل نہیں کہ ہندوستان میں مسلمان کو ہندو بنا لیں۔چین میں کنفیوشس مذہب کے پیرئووں کو کیوں یہ حق نہیں کہ وہ لوگوں کو اپنے مذہب میں شامل کر لیں۔فلپائن میں جہاں اب بھی پندر ہ بیس ہزار مسلمان پڑا ہے عیسائیوں کو کیوں حق حاصل نہیں کہ وہ جبراً مسلمانوں کو عیسائی بنا لیں ۔امریکہ کو کیوں حق حاصل نہیں کہ وہ جبراً اُن مسلمانوں کو جو اُس کے مُلک میں رہتے ہیں عیسائی بنا لے۔روس کو کیوں حق حاصل نہیں کہ وہ جبراً سب کو عیسائی بنا لے یا جبراً سب کو کمیونسٹ بنا لے۔
    اگر تمہارا حق ہے اور تم دوسروں کو جبراً اپنے عقیدہ پر لا سکتے ہو تو ویسا ہی عقلاً دوسروں کو بھی حق حاصل ہے لیکن اِس حق کو جاری کر کے دنیا میں کبھی امن قائم رہ سکتا ہے،اِس حق کو جاری کر کے کیا تم اپنے بیٹے کو بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ مسئلہ ٹھیک ہے؟ بیوی کو بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ مسئلہ ٹھیک ہے کہ عیسائیوں کا حق ہے کہ وہ مسلمانوں کو زبردستی عیسائی بنا لیں؟ مسلمانوں کا حق ہے کہ وہ عیسائیوں کو زبردستی مسلمان بنا لیں؟ احمدیوں کی حکومت ہو تو اس کا حق ہے کہ وہ غیر احمدیوں کو احمدی بنا لے؟ ایران والوں کا حق ہے کہ وہ سب حنفیوں کو زبردستی شیعہ بنا لیں؟اگر ایسا ہو تو کیا سارا پاکستان بڑی خوشی سے کہے گا کہ اَلْحَمْدُ ِﷲِ جَزَاکَ اﷲُکیا اچھا کام کیا ہے؟غرض یہ ایسی عقل کے خلاف بات ہے کہ کوئی عقل بھی اِس کو تسلیم نہیں کرتی۔
    جذباتِ صحیحہ بھی اِس کے خلاف ہیں کیونکہ ہر ایسے شخص کو جو دیانت داری سے اختلاف رکھتا ہے سزا دینا انسانی فطرت پسند نہیں کرتی۔واقعات کو بھی دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ کرتے تھے کیونکہ آپ ؐ کا عقیدہ تھا۔مکّہ والے آپ کو جھوٹا سمجھتے تھے مگر وہ کہتے تھے کہ ہم ڈنڈے سے سیدھا کریں گے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دُکھ دیتے تھے ۔
    ایک دفعہ خانہ کعبہ سے باہر ایک پتھر کی چٹان پر صفا میں آپ بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ سوچ رہے تھے۔ چہرہ پر آپ نے ہاتھ رکھا ہؤا تھا اور سہارا لے کر سوچ رہے تھے کہ ابوجہل نے دیکھا اور اُس نے آپ کو گالیاں دینی شروع کر دیں ۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اُسی طرح بیٹھے رہے۔پھر اُس کمبخت نے زور سے آپ کو تھپڑ مارا کہ ہمارے بزرگوں کی ہتک کرتا ہے؟رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِس پر صرف آنکھ اُٹھائی اور کہا کہ آخر تم لوگ مجھے کیوں دکھ دیتے ہو اور کیوں میرے ساتھ دُشمنی کرتے ہو؟ میرا سوائے اِس کے کیا قصور ہے کہ میں کہتا ہوں کہ تمہارا خدا جو تمہیں پیدا کرنے والا ہے اُس کو مان لو ۔ابوجہل اس فقرہ کو سُن کر چلا گیا۔پاس ہی حضرت حمزہ ؓ کا مکان تھا ۔حمزہ ؓ اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔اُن کی ایک لونڈی اُس وقت دروازہ پر کھڑی یہ نظارہ دیکھ رہی تھی۔غلام غلام ہی ہوتا ہے لیکن دیر تک رہنے کی وجہ سے وہ بھی خاندان کا جُزدہو جاتا ہے۔یہ دیکھ کر اُس کا دل برداشت نہ کرسکا اور وہ سارا دن کُڑھتی رہی۔حمزہ ؓ اپنی عادت کے مطابق شکار کو گئے ہوئے تھے شام کے وقت ترکش گردن میں ڈالی ہوئی اور کمان پکڑی ہوئی بڑے اکڑتے ہوئے جیسے شکاری ہوتے ہیں غرورسے گھر میں داخل ہوئے۔اُن کو اِس حالت میں دیکھتے ہی اِس لونڈی کو غصہ آ گیا،وہ تھی لَونڈی مگر پُرانی تھی اور اپنا حق سمجھتی تھی دیکھ کر کہنے لگی بڑا اوپچیبنا پھرتاہے تُو اور کمان لگائی ہوئی ہے آخر یہ کس بات کے لئے ہے؟آج میں نے دیکھا کہ تیرا بھتیجا باہر پتھر پر بیٹھا ہؤ ا تھا مَیں دروازہ پر کھڑی تھی خدا کی قسم! میں نے یہ سُنا اس نے کچھ بھی نہیں کہا تھا۔اور پھر ابوجہل نے آکر اُس کو تھپڑ مارا۔یہ فقرہ حمزہؓ نے سُنا وہ حمزہ ؓ جو روز قرآن سنتا تھامگر اسلام لانے کی جرأت نہیں کرتا تھاجب اُس کے سامنے ننگے طور پر یہ بات پیش کی گئی کہ ایک شخص عقیدہ پیش کرتا ہے اور ایک ظالم اُٹھ کر اُسے مارتا ہے تو حمزہؓ سے برداشت نہ ہو سکا۔وہ اُسی وقت گھر سے نکلے خانہ کعبہ میں ابوجہل اور اُس کے ساتھی رئووسا بیٹھے ہوئے تھے اور مجلس میں گپّیں لگ رہی تھیں۔حمزہؓ نے پہنچتے ہی اپنی کمان اُٹھا کر اُ س کے مُنہ پر ماری اور کہا محمد تیرے آگے جواب نہیں دیتااس لئے تُو دلیر بنتا ہے۔اب میں نے تیرے مُنہ پر کمان ماری ہے اور سارے مکّہ والوں کے سامنے تیری ہتک کی ہے اُٹھ! اگر تیرے اندر طاقت ہے تو جواب دے۔وہ امراء جو اُس کے ساتھ بیٹھے تھے کھڑے ہوگئے اور اُنہوں نے چاہا کہ بدلہ لیںلیکن حق کا رُعب ہوتا ہے۔ ابوجہل نے سمجھا اِس وقت مار لیا تو آدھا مکّہ اِس کی طرف سے کھڑا ہو جائے گااس لئے اُس نے کہا آج مجھ سے ہی کچھ غلطی ہو گئی تھی میں نے بلا وجہ آج محمد کو مارا تھا اور اُس نے اپنے ساتھیوں کو ٹھنڈا کر دیا لیکن آگ سُلگ چکی تھی۔ حمزہؓ وہاں گئے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھا کرتے تھے اور عرض کیا ! یَارَسُوْلَ اﷲ! میں مسلمان ہونے کے لئے آیا ہوں اور اسلام لے آئے۔۲۷؎ یہ تھی حق کی مظلومیت۔
    مظلومیت خود اپنے اندر طاقت رکھتی ہے تم ظلم کرتے چلے جائو سعید فطرتیں ہمیشہ اس کے خلاف مقابلہ میں پروٹسٹ کریں گی، ہمیشہ اس کے خلاف احتجاج کریں گی مجھے اپنی زندگی کا ایک واقعہ یاد ہے۔سیالکوٹ میں مَیں نے لیکچر دیا،کشمیر موومنٹ کے سلسلہ میں جلسہ تھا۔مخالفین نے حملہ کر دیا۔چنانچہ بیس ہزار آدمی ہجوم کرتے ہوئے اُس جگہ جو قلعہ کہلاتا ہے جمع ہو گئے اُنہوں نے پہلے سے منصوبہ کیا ہؤا تھا،پتھر اُن کی جھولیوں میں بھرے تھے اور وہ برابر ایک گھنٹہ اور پانچ منٹ تک پتھر برساتے گئے ۔لوگ مجھ سے بہتیری خواہش کرتے کہ لیکچر بند کیجئے مگر میں نے کہا نہیںلیکچر بند نہیں ہو سکتا ۔چنانچہ وہ برابر پتھر مارتے رہے۔آخر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور وہ بھاگ گئے۔میں نے غیر احمدیوں سے کہا کہ آپ لوگوں کے لئے یہ پتھر نہیں مار رہے ہمارے لئے مار رہے ہیں یہ ہمارا تحفہ ہے پاس ہی کوٹھی تھی میں نے کہا آپ اِس میں چلے جائیں، گھر جانا ہے تو گھر چلے جائیں۔کچھ لوگ اُٹھے مگر باقی بد ستور بیٹھے رہے اور انہوںنے کہا کہ یہ آپ پر جو پتھر پڑ رہا ہے ناجائز پڑ رہا ہے اور ہم بھی اس میں آپ کے شریک ہیں۔احمدیوں سے میں نے کہا کہ کروٹ نہیں بدلنا ۔جس وقت کوئی ڈھیر ہو جائے اُس وقت دوسرے لوگ اُسے اُٹھا کر لے جائیں۔چنانچہ پچیس آدمی ہمارے زخمی ہوئے اور ایک کا تو ہاتھ ہی مارا گیا مگر کوئی احمدی ہِلا نہیں۔
    پیغامیوں کے ایک مبلّغ ہوتے تھے جو ہمارے شدید مخالف تھے اب وہ فوت ہو چکے ہیں اِس لئے نام بتانے میں کوئی حرج نہیں یعنی مولوی عصمت اللہ صاحب۔ وہ ہمارے سخت مخالف تھے لیکن رات کے ایک بجے وہ اُس کوٹھی پر پہنچے جہاں میں ٹھہرا ہؤا تھا۔لوگوں نے بتایا کہ عصمت اللہ صاحب آئے ہیں اوروہ کہتے ہیں کہ خواہ ایک منٹ ہی ملاقات کا موقع دیا جائے میں ضرور ملنا چاہتا ہوں۔جب وہ آئے تو میں نے کہا فرمائیے اِس وقت کیوں آئے؟کہنے لگے میں اس وقت جلسہ گاہ سے آ رہا ہوں۔ہمارے اور آپ کے درمیان اختلاف ہے،سب کچھ ہے لیکن خدا کی قسم! آج میرا دل گواہی دیتاہے کہ یا محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے زمانہ میں یہ نظارہ نظر آیا تھا اور یا آج یہ نظارہ نظر آیا ہے۔پس بیشک ظلم ہوتے ہیںلیکن سوال یہ ہے کہ جذباتِ صحیحہ ہمارئے ساتھ ہیں ۔
    دیکھو ہر شخص جانتا ہے کہ ایمان کے بغیر نجات نہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایمان اس کو کہتے ہیں جو غیر متزلزل ہو۔اور غیر متزلزل یقین ہو ہی نہیں سکتاجب تک کہ نقلِ صحیح اور عقلِ صحیح اور جذباتِ صحیحہ اس کے ساتھ نہ ہوں۔ اور میں نے بتایا ہے کہ ہمارے سارے کے سارے مسائل میں نقل صحیح ہمارے ساتھ ہے،عقلِ صحیح ہمارے ساتھ ہے اور جذباتِ صحیحہ ہمارے ساتھ ہیں اس لئے جہاں تک عقل کا سوال ہے کوئی احمدی متزلزل نہیں ہو سکتا۔لالچ میں آسکتا ہے ،ڈر سکتا ہے اور جہاں تک واقعات کا اور عقل کا سوال ہے دنیا کا کوئی انسان بھی ہم سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
    بعض لوگ کانوں میں اُنگلیاں ڈال ڈال کر ہم سے بچنا چاہتے ہیںاسی لئے وہ کہتے ہیں کہ احمدیوں کی مجلسوں میں نہ جائو ان کے جلسوں کو نہ سنو،تقریریں ہوں تو شور مچائو۔ قرآن میں بھی یہی لکھا ہے کہ مخالف کہتے ہیں کہ قرآن نہ سنو کہیں اِس کی آواز تمہارے کان میں نہ پڑ جائے ۲۸؎ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کسی جگہ بھی عقل داخل ہوئی تو ہم مر گئے، کسی جگہ نقل داخل ہوئی تو ہم تباہ ہو گئے،کسی جگہ جذباتِ صحیحہ داخل ہوئے تو ہم گئے۔اِسی لئے وہ اپنے کانوں میں رُوئیاں ٹھونستے ہیں۔مگر تم وہ ہو جن کو ہم کہتے ہیں کہ ہر مجلس میں جائو اور کان کھول کر جائو،تمہیں کوئی ڈر نہیں۔اور تمہارا مخالف تمہاری مجلس میں آنے سے پہلے اپنے کانوں میں رُوئی ڈالتا ہے تاکہ اُس کا ایمان بچ جائے مگر آخرکب تک وہ رُوئی ڈالے گا۔کسی دن اُس کی رُوئی گِرے گی،کسی دن تمہاری آواز اُس کے کان میں پڑے گی اور وہ متأثر ہو کر تمہارے ساتھ شامل ہو جائے گا۔‘‘ وَاٰخِرُدَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ ِﷲِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ ( الفضل ۲۱؍مارچ ۱۹۶۲ئ)
    ۱؎ العصر: ۲ تا ۴
    ۲؎ سیرت ابن ہشام جلد۳ صفحہ ۱۰۵ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء
    ۳؎ مسلم کتاب الایمان باب بیان خصال من اتَّصف بِھِنَّ (الخ)
    ۴؎ بخاری کتاب الاکراہ باب مَنْ اِخْتَارَ الضَّرْبَ (الخ)
    ۵؎ سیرت ابن ہشام جلد ۱ صفحہ ۳۳۹،۳۴۰ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء
    ۶؎ بخاری کتاب بدء الوحی باب کَیْفَ کَانَ بدء الوحی اِلٰی رَسُوْلِ اﷲ
    صلی اﷲ علیہ وسلم(الخ)
    ۷؎ یوسف: ۱۰۸ ۸؎ النسائ: ۱۵۸ ۹؎ فاطر: ۲۵
    ۱۰؎ الاحزاب: ۴۱ ۱۱؎ الکوثر: ۲ تا آخر ۱۲؎ الصف: ۱۰
    ۱۳؎ حٰمٓ السجدۃ:۳۱
    ۱۴؎ بخاری کتاب التعبیرباب المبشرات
    ۱۵؎ البقرہ: ۱۱۰ ۱۶؎ بنی اسرائیل: ۹۰ ۱۷؎ الانعام: ۲۰
    ۱۸؎ اٰل عمران: ۸
    ۱۹؎ افشردۂ انگور: انگور کا شربت
    ۲۰؎ الرحمٰن: ۳۰،۳۱
    ۲۱؎ ابوداؤد کتاب الادب باب فی المطر
    ۲۲؎ الممتحنۃ: ۱۱ ۲۳؎ البقرۃ:۲۵۷ ۲۴؎ الحج:۴۰
    ۲۵؎ الانفال:۶۸ ۲۶؎ الانعام:۱۰۹
    ۲۷؎ سیرت ابن ہشام جلد ۱ صفحہ ۳۱۱، ۳۱۲۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء
    ۲۸؎ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَالْقُرْاٰنِ۔ (حٰمٓ السجدۃ:۲۷)



    سیر روحانی (۶)




    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    سیر روحانی (۶)
    (تقریر فرمودہ مؤرخہ ۲۸ دسمبر۱۹۵۱ء بر موقع جلسہ سالانہ ربوہ)
    عالَمِ روحانی کا دیوانِ خاص
    تشہّد،تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:-
    ’’مَیں نے گزشتہ سال اسلام کے دیوانِ عام کے متعلق تقریر کی تھی اور بتایا تھا کہ دلّی کی سیر میں ہم نے دیوانِ عام دیکھے جو آج اُجڑے ہوئے نظر آتے تھے۔ جہاں انگریزوں کے چپڑاسی تو بڑی شان سے پھرتے تھے اور مُغلوں کی نسلیں چُھپتی پِھرتی اور نظریں بچاتی پِھرتی تھیں اور مَیں نے بیان کیا تھا کہ قرآن کریم میں ایک دیوانِ عام کا ذکرآتا ہے جو کبھی غیر آباد نہیںہوتا،جو کبھی دشمن کے قبضہ میں نہیں جاتا اور جس کو دیکھ کر مؤمنوں کے دلوں میں کبھی بھی حسرت پیدا نہیں ہوتی۔ آج میں اس مضمون کے تسلسل میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام نے دیوانِ عام ہی نہیں بلکہ ایک دیوانِ خاص بھی پیش کیا ہے اور اسلام کے دیوانِ خاص کے مقابلہ میں ان بادشاہوں کے بنائے ہوئے دیوانِ خاص اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتے جتنی ایک زندہ ہاتھی کے مقابلہ میں اُن مٹّی کے بنے ہوئے ہاتھیوں کی حیثیت ہوتی ہے جنہیںکھلونوں کے طور پر خانہ بدوش عورتیں بیچتی پھرتی ہیں۔
    دیوانِ خاص کی اغراض
    دیوانِ خاص کیا چیز تھی؟ دیوانِ خاص شاہی قلعوں میںایک نہایت اعلیٰ درجہ کی عمارت یا
    وسیع ہال ہؤا کرتا تھا جوگویا خاص ملاقات کا کمر ہ ہوتا تھا اس میں بادشاہ بیٹھتے تھے، شہزادے بیٹھتے تھے اور وہ وزرائ، امراء جن سے امورِ مملکت کے متعلق مشورے لئے جاتے تھے بیٹھتے تھے عام لوگوں کو وہاں آنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ اِسی طرح بادشاہ اگر کسی کو گورنر مقرر کرتے یا کمانڈر اِنچیف مقرر کرتے یا اَور کسی بڑے عُہدہ پر مقرر کرتے تو ان کو وہاںبُلوایا جاتا تھا اور بادشاہ کی طرف سے وزراء اور امراء کے سامنے اعلان کیا جاتا تھا کہ ہم فلاں شخص کو گورنر مقرر کرتے ہیں یا کمانڈر اِنچیف مقرر کرتے ہیں یا جرنیل مقرر کرتے ہیں یا فلاں بڑے عُہدہ پر مقرر کرتے ہیں۔یا اگر کوئی خادمِ قوم یا خادمِ مُلک کوئی بڑی بھاری خدمت بجالاتا تو اُس کو بلایا جاتا اور اِن سب وزراء اورا مراء کے سامنے اُس کا اعزاز واِکرام کیا جاتا اور کہا جاتا کہ اس کو یہ خلعت دی جاتی ہے یا اس کی عزت افزائی میں اسے یہ انعام دیا جاتا ہے ۔ یا اہم ملکی مسائل پیش ہوتے اور بادشاہ ضروری سمجھتا کہ وزراء سے مشورہ لینا چاہئے تو اس مجلس میں جو لوگ مقر رہ اوقات پر جمع ہوتے تھے اُن کے سامنے ان امور کو پیش کیا جاتا اور درباری اپنی اپنی رائے اور مشورہ دیتے یا جس جس سے پوچھا جاتا وہ رائے دیتا اور اس کے بعد بادشاہ کی طرف سے ایک فیصلہ صادر ہو جاتا ۔
    گویا’’دیوانِ خاص کے قیام کی چار اہم اغراض ہؤا کرتی تھیں۔
    اوّل بادشاہ کااپنے وزراء کو اپنے قُرب میںجگہ دینا اور ان کا اعزاز کرنا یا مختلف مناصب پر اُن کا تقرر کرنا یا انہیں برطرف کرنا۔
    دوم بادشاہ کا ان سے خاص امور کے بارہ میں مشورہ لینا اور خاص امور کے بارہ میں مشورہ دینا جن سے وہ اپنے فرائض کو عمدگی سے ادا کر سکیں۔
    سوم اپنی مشکلات میںان سے مدد لینا اور اُن کی مشکلات میں اُن کو مدد دینے کے وعدے کرنا۔
    چہارم ان کے اچھے کاموں پر انعام واکرام دینا اور بُرے کامو ں پر سرزنش کرنا۔ یہ وہ چار اغراض ہیں جن کے ماتحت ’’دیوان خاص‘‘ قائم کئے جاتے ہیں۔
    دُنیوی بادشاہوں میں حقیقی محبت کا فُقدان
    مگر مَیں نے دیکھا کہ بادشاہ جب اپنے
    درباریوں کو کوئی اعزاز دیتے تھے تو ان کا اعزاز محض قانونی ہوتا تھا۔ چنانچہ پہلی بات تو یہی ہے کہ بادشاہ اپنی محبت کا اور اپنے تعلقات کا اور اپنے اخلاص کا تو اظہار کرتا تھا لیکن بادشاہ کو ان لوگوں سے حقیقی محبت نہیںہوتی تھی اس کی اصل محبت اپنے بیوی بچوں سے ہوتی تھی۔ یہ کبھی بھی نہیں ہوتا تھا کہ کسی شخص نے بڑی قربانی کی ہو اور اس نے اپنا تخت اُس کے سپرد کر دیا ہو یا اپنے اختیارات جو نیابت کے ہیں اُس کے سپرد کر دئیے ہوں۔ اس کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی تھی کہ میں اپنی اولاد کی طاقت کو مضبوط کروں اور اُن کے لئے راستہ صاف کروں گویا یہ خدمت کرنے والے لوگ ایک قسم کے اجیر ہوتے تھے۔
    نمائشی انعامات اور خطابات
    (۲) پھر بسا اوقات جو انعام ملتے تھے محض نمائشی ہوتے تھے اور خدمت کے مقابلہ
    میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی تھی۔مثلاً اپنے زمانہ کو ہی لے لو۔ ابھی انگریزوں کی یاد تازہ ہے وہ کہتے تھے کہ فلاں کو خطاب دیا جاتا ہے اب وہ ’’خان صاحب ‘‘ ہو گئے ہیں اور فلاں ’’خان بہادر ‘‘ ہو گئے ہیں ا ور حقیقت یہ ہوتی تھی کہ بسا اوقات خان بہادر صاحب کی چارپائی کے نیچے چُوہا بھی ہلے تو اُن کی جان نکل جاتی تھی لیکن وہ خان بھی تھے اور بہادر بھی تھے۔ گویا بادشاہ اُن کو ’’خان بہادر‘‘ تو بنا دیتا تھا لیکن حقیقتاً نہ وہ خان بنتے تھے اور نہ بہادر ہوتے تھے۔ یا مثلاً آجکل پٹھان بھی خان کہلاتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے زمانہء حکومت میں انہوں نے بڑے بڑے کام کئے تھے جن سے دنیا میں اُن کا شُہرہ ہؤا اور اُنہیں خطابِ عزّت کے طورپر خان صاحب کا نام دے دیاگیا۔چنانچہ اُس زمانہ میں جو بادشاہ ہوتے تھے یا نواب اور امراء ہوتے تھے اُن کی عظمت کی وجہ سے انہیں خان ہی کہا جاتاتھا۔ مغل بھی اپنے ابتدائی زمانہ میںخان کہلاتے تھے بلکہ بچپن میں جب مَیں اپنے شجرئہ نسب کو سُنتا تو میں حیران ہوتا تھا کہ پہلے کہا جاتا ہے فلاں خان، فلاں خان، فلاںخان۔ اور پھر شروع ہو جاتا ہے فلاں بیگ، فلاں بیگ، فلاں بیگ۔ مَیں حیران ہوتا تھا کہ یہ خان کہاں سے آ گیا۔ بعد میں معلوم ہؤا کہ خان ایک اعزاز کا لفظ تھا مگر آہستہ آہستہ اتنی کثرت سے قوم میں بڑے لوگ پیدا ہو ئے کہ اُن کی کثرت کی وجہ سے ساری قوم ہی خان کہلانے لگ گئی اور اب تک کہلاتی ہے۔ہر پٹھان جب تمہیں نظر آئے گا تم کہو گے خان صاحب! بیٹھئے، خان صاحب! تشریف لائیے، خان صاحب! آپ کس طرح تشریف لائے ہیں؟ غرض وہ خان کہلاتا ہے مگر وہ تو محض ایک تسلسل کے طور پر خان بن گیا ہے درحقیقت خوداُس نے کوئی بڑا کام نہیں کیا، نہ اُس نے ذاتی طور پر کوئی ایسی قابلیت حاصل کی ہے جس کی وجہ سے اُسے کوئی خاص مقامِ عزّت حاصل ہوتا لیکن انگریز کا بنایا ہؤا’’خان صاحب‘‘ بسا اوقات کسی جولاہے کی بیٹی مانگتا تو وہ کہتا تھا نہیں، ہم کُذاتوں کو نہیں دے سکتے۔ انگریز اُسے خان صاحب کہتا تھا اور ہمارے ملک کا جولاہا اسے کُذات کہتا تھا۔ یا اگر کوئی خان صاحب سید یا مغل یا پٹھان ہوتے تو وہ خان صاحب یا خان بہادر سمجھ کر اسے عزت نہیں دیتا تھا بلکہ سیدیا مغل یا پٹھان ہونے کی وجہ سے عزت دیتا تھا۔ گویا لوگ اس نسل کی وجہ سے یا اس رشتہ داری کی وجہ سے توعزت کرتے تھے جو اسے اپنے باپ دادا کی وجہ سے حاصل ہوتی تھی لیکن اس عزت کی وجہ سے جو اسے گورنرجنرل کی طرف سے ملتی تھی اسے اپنے خاندان کا حصہ بنانے کے لئے تیار نہیں تھے۔
    انگریزی خطابات حاصل کرنے والوں کی کیفیت
    پھر بعض کو اُس زمانہ میں ’’سر‘‘ کا خطاب دیا جاتا تھا اب’’سر‘‘کے معنے جناب کے ہیں لیکن حقیقتاً بعض ’’سر‘‘ایسے ذلیل ہوتے تھے اور ایسی
    پاجیانہ حرکتیں کرتے تھے کہ لوگ انہیںگالیاں دیتے تھے۔ پھر انگریز کے زمانہ میں خطاب ہوتے تھے سٹار آف انڈیا (Star of India) یا گرینڈ کراس آف انڈین ایمپائر (Grand Cross of Indian Empire) یعنی بڑی صلیب دیدی گئی لیکن بڑی صلیب لینے والے جو لوگ تھے ان میں سے کئی صلیب کے شدید دشمن ہوتے تھے۔کئی مسلمان جن کے دلوں میں غیرت ہوتی تھی اُن کا جی چاہتا تھا کہ موقع ملے تو صلیب کو توڑ ڈالیں۔ کہلاتے تھے وہ بڑی صلیب کے حامل لیکن ان کے دل میں یہ ہوتا تھا کہ ہم چھوٹی صلیب کے بھی حامل نہیں ۔ یہ خطاب کیا ہؤا کہ جس کو خطاب دیا جاتا ہے وہ اس کو ذلیل سمجھتا ہے، وہ اس کو حقیر سمجھتا ہے، وہ اس کو ناقابلِ اعتناء سمجھتا ہے، وہ اس کو قابلِ ہلاکت سمجھتا ہے۔ مغلوں کے زمانہ میں اعتمادُ الدولہ اورنظامُ الملک کے خطاب ملتے تھے لیکن وہی اعتمادُ الدولہ اور نظامُ الملک دوسرے دن فوج لے کر بادشاہ کے خلاف لڑنے کے لئے آ جاتے تھے۔ نہ دولت کا ان پرکوئی اعتماد ہوتا تھا نہ ملک کے نظام کے ساتھ ان کی کوئی وابستگی ہوتی تھی۔ دیکھ لو نظام حیدر آباد کو نظامُ الملک کا خطاب حاصل تھا لیکن اورنگ زیب کے بعد اس نے ملک کی آزادی کا اعلان کر دیا اور بعد میں انگریزوں کے ساتھ مل گیا۔ اب بھی موجودہ نظام نے شروع میں ہندوئوں سے لڑنے کے لئے اپنی قوم کو اُبھارا اور اُکسایا جب قوم لڑنے کے لئے کھڑی ہو گئی تو اُس نے حکومت کو چٹھّی لکھ دی کہ بندہ تو حضور کا غلام ہے یہ لوگ باغی ہو کر لڑائی کر رہے ہیں جس طرح ارشاد ہو کیا جائے گا۔
    شہزادوں کی غدّاری
    اِسی طرح ان بادشاہوں کی اولاد بسا اوقات خوداپنے باپ کی وفات کی متمنی ہوتی تھی۔ باپ صاحب بیٹھے
    ہوئے اپنے وزیروں سے کہتے تھے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ لوگ ہمارے خاندان کے وفادار ثابت ہوں گے اور ہماری اور ہماری نسل کی بہی خواہی کریں گے۔ اور بیٹا پاس بیٹھا ہؤا اِس امید میں ہوتا تھا کہ رات کو موقع ملے تو کسی کی معرفت یا خود اُسے قتل کر کے تخت پر بیٹھ جائے۔
    درباریوں کی سازشیں
    پھر اِسی دربار میں جہاں بادشاہ کی طرف سے اعزازمل رہا ہوتا تھا بسا اوقات جس کو اعزاز مل رہا
    ہوتا تھا وہ کسی بیگم یا شہزادہ یا شہزادی سے مل کر بادشاہ کے خلاف منصوبہ کر رہا ہوتا تھا۔اِدھر اعزاز مل رہا ہوتاتھا اور اُدھر ساز باز جاری ہوتی تھی کہ اِس کو مٹا دیا جائے۔
    ایک ہندو اخبار تھا اُس کایہ طریق تھا کہ وہ بڑے بڑے لوگوں کے راز معلوم کر کے پھر کہانی کے طور پراُن کو شائع کیا کرتا تھا اور اِس سلسلہ کا نام اُس نے ’’چُوں چُوں کا مربہ‘‘ رکھا ہؤا تھا۔ یہ سلسلہ مضامین اخبارِ عام میں بھی چھپتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس یہ اخبار آیا کرتا تھا۔ اس میں ایک ریاست کا واقعہ لکھا تھا اُس وقت تو مجھے معلوم نہیں تھا بعد میں پتہ چلا کہ یہ کپور تھلہ کی ریاست کا واقعہ تھا۔کپور تھلہ کا راجہ جو پارٹیشن کے وقت تک زندہ تھا اب سُنا ہے فوت ہو چکاہے کہا جاتا ہے کہ وہ راجہ کی اولاد میں سے نہیں تھا بلکہ اُس کا باپ ایک جج تھا جس کو مَیں نے بھی دیکھا ہے (اصل راز کو اللہ بہتر جانتا ہے)۔ میںایک دفعہ کپور تھلہ گیا تو دوستوں نے مجھے دکھایا تھا وہ اُس وقت کسی کام کیلئے پیلس میںآیا ہؤا تھادوستوں نے بتایا کہ یہ شخص جو پِھر رہا ہے راجہ کا باپ ہے۔ مَیں نے پوچھا کہ باپ جب دربار میں آتا ہے تو راجہ کی کیا حالت ہوتی ہے؟کہنے لگے وہ ہمیشہ کتراتا ہے اور جب بھی کوئی ایسا موقع آئے وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا لیتا ہے اور ملنے میں شرم اور ذلّت محسوس کرتا ہے۔
    بہرحال اِس اخبارمیں یہ واقعہ لکھا تھا کہ پہلے زمانہ میں کپور تھلہ کے راجہ کی دو رانیاں تھیں اور دونوں کے اولاد نہیںتھی وہ دونوں ایک دوسری سے رقابت رکھتی تھیں۔ کچھ درباری ایک طرف تھے اور کچھ دوسری طرف ۔ جس نے ایک کی غیبت کرنی ہو وہ دوسری کے پاس چلا جاتا اور جس نے دوسری کی غیبت کرنی ہو وہ اس کے پاس آ جاتا۔ یہ جھگڑے بڑھ گئے تو آخر ایک پارٹی کے لوگوں نے سوچا کہ کب تک راجہ اور کب تک رانیاں، یہ مرا تو خبر نہیں انگریز کس کو لا کر بٹھا دیں، اس لئے کوئی ایسی تدبیر کرنی چاہئے کہ مستقل طور پر ہمارا دبدبہ قائم رہے۔ یہ سوچ کر اُنہوں نے ایک رانی کو اپنے ساتھ ملایا اور اُسے سکھایا کہ وہ مشہور کر دے کہ مجھے حمل ہے۔ چنانچہ وہ اِس بات پر راضی ہو گئی اور تجویز یہ ہوئی کہ نویں مہینہ مشہور کر دیا جائے گا کہ بچہ پیدا ہو گیا ہے ادھر دو تین جگہ سے جن کے ہاں اُنہی دنوں میں بچے پیدا ہونے والے تھے وعدے لے لئے گئے کہ جس کے ہاں لڑکا پیدا ہؤا وہ اپنا لڑکا دے دیگا۔ انہوں نے انتظام یہ کیا ہؤا تھا کہ جس دن بچہ پیدا ہو رانی فوراًبیمار بن کر بیٹھ جائے گی اور اُس کی گود میں بچہ ڈال کر سب کو دکھا دیاجائے گا کہ رانی کے ہاں بچہ پیدا ہؤا ہے۔اتفاقاً اُسی شخص کا جو اُس وقت سرِشتہ دار تھا اور بعد میں ہائی کورٹ کا جج بن گیا بچہ پیدا ہؤ ا جو راجہ کا بیٹا قرار دیدیا گیا۔ انہوں نے یہ منصوبہ کر کے تمام شہرمیں مشہور کر دیا کہ رانی حاملہ ہے۔ راجہ محسوس کرتا تھا کہ یہ بات غلط ہے اس کی بڑی عمر ہو چکی تھی اور وہ سمجھتا تھا کہ میرے ہاں اولاد نہیں ہو سکتی۔ اُس کے دل میںشُبہ پیدا ہؤا اور اُس نے ناراضگی کا اظہار شروع کر دیا کہ یہ بڑی غیر معقول بات ہے یہ دھوکا اور فریب ہے جو مجھ سے کیا جا رہا ہے۔اس سے دوسری رانی کوموقع مل گیا اور اس نے کہا یہ دھوکا فلاںفلاں وزیر کر رہا ہے۔ راجہ نے ان کے خلاف باتیں کرنی شروع کر دیں اور ادھر گورنمنٹ کو لکھ دیا کہ کہا جاتا ہے کہ رانی حاملہ ہے حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے، رانی ہرگز حاملہ نہیں۔ مگر جہاں حکومت کا ایک بڑا حصہ سازش میںشریک ہو وہاں کسی لیڈی ڈاکٹر کا خریدلینا کونسی مشکل بات تھی۔ چنانچہ معائنہ کرایا گیا اور لیڈی ڈاکٹر نے کہہ دیا کہ رانی حاملہ ہے۔ جب یہ جھگڑا بڑھا توگورنمنٹ کے پاس رپورٹ کی گئی۔ اُس وقت راجے وائسرائے کے ماتحت نہیںہوتے تھے بلکہ پنجاب کے، پنجاب کے گورنر کے ماتحت اور یو، پی کے یو،پی کے گورنر کے ماتحت ہوتے تھے اور پھر آگے ان کا براہِ راست تعلق کمشنر کے ساتھ ہوتا تھا۔ جب رپورٹ کی گئی تو پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر نے کمشنر کو لکھا کہ تحقیقات کر کے فیصلہ کروجھگڑا لمبا ہو رہا ہے۔ ادھر سے اُس پارٹی کے افراد نے رپورٹ کرنی شروع کر دی کہ راجہ پاگل ہو گیا ہے تا کہ راجہ کی باتوں کا ازالہ ہو آخر دونوں طرف کی رپورٹوں پر کمشنر ایک دن سِول سرجن کو ساتھ لے کر چلا۔ چونکہ دوسرے فریق نے خود اس بات کو مشہور کیا تھا اِس لئے اسے بھی خیال تھا کہ کمشنر آ جائے گا۔ انہوںنے پہلے سے ایسا انتظام کیا ہؤا تھا کہ دفتر سے پتہ لگ جائے کہ کمشنر کب چلا ہے۔ چنانچہ انہیں پتہ لگ گیا کہ کمشنر فلاں دن آ رہا ہے انہوں نے آدمی مقرر کر دئیے کہ جب اس کی سواری قریب پہنچے تو اشارہ کر دیا جائے کہ کمشنر آ رہا ہے اور پھر اندر بھی انہوں نے انتظام کیا ہؤا تھا۔ راجہ تخت پر بیٹھا ہؤا اپنے دبدبہ اور شان کا اظہار کر رہا تھا کہ میں تم لوگوں کو سیدھا کر وں گا اورتمیں یوں سزادوں گا۔ اور اُدھر انہوں نے اُس چپڑاسی کو جو چَوری ۱؎ جھل رہا تھا اپنے ساتھ ملایا ہؤ اتھا اور اُس کو سکھایا ہؤا تھا کہ جونہی ہم اشارہ کریں تو کان میں جُھک کر راجہ کو ایک بڑی گندی گالی دے دینا۔ بس اِدھر اُنہوں نے اشارہ کیا کہ کمشنر صاحب آ رہے ہیں اور اُدھر اُس چَوری بردار نے جُھک کر ایک بڑی گندی گالی راجہ کے کان میں دے دی۔ تم سمجھ لو کہ ایک چپڑاسی چَوری بردار ایسی حرکت کر ے تو راجہ کی کیا حالت ہو گی وہ واقعہ میں پاگل ہوجا ئے گا چنانچہ وہ بے تحاشا اُٹھا اور اُس نے ہاتھ اور پائوں سے اُسے مارنا شروع کردیا۔دوسرے لوگ توچاہتے تھے کہ اس نظارہ کو وسیع کریں چنانچہ دوسری پارٹی میںجو لوگ شامل تھے وہ آگے بڑھے اور انہوں نے کہا حضور! اِس کا کوئی قصور نہیں، حضور! اس پر ایسی سختی نہیںکرنی چاہئے۔اُسے اَور غصہ آیا اور اُس نے اُن کو بھی مارنا شروع کر دیا۔ اتنے میں کمشنر اور سِول سرجن اندر داخل ہوئے اور سارے درباری ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے کہ حضور! رو ز ہمارے ساتھ یہی سلوک ہوتا ہے، چنانچہ رپورٹ ہو گئی کہ راجہ پاگل ہو گیا ہے اور اُس کا بیٹا قبول کرلیا گیا جو بڑا ہو کر ریاست کا حکمران بنا غرض یہ یہ کارروائیاں دربارِ خاص میں ہوتی تھیں۔
    بیگمات کے جوڑ توڑ
    پھر دُنیوی بادشاہوں کے دربارِ خاص میںجوڑتوڑ کے جونتائج پیدا ہوتے تھے وہ زیادہ تر شہزادوں اور بیگمات
    کی وجہ سے پیدا ہوتیتھے کیونکہ اُس زمانہ کے لحاظ سے شہزادے اور بیگمات حکومت کے حق دار سمجھے جاتے تھے بلکہ بہت سے مُلکوں میں تو بیگمات کو اب بھی حکومت میں حصہ دار سمجھا جاتا ہے۔ آج تک انگلستان میں ملکہ تخت نشینی کے وقت بادشاہ کے ساتھ بیٹھتی ہے اور اُس کو ملک کا حصہ دار سمجھا جاتا ہے اور شہزادوں میںسے ہر شہزادہ خود بادشاہت حاصل کرنے کا خواہشمند ہوتا تھا۔ ایک کہتا تھا کہ میرا بڑا بھائی جو اتفاقاً مجھ سے بارہ مہینے پہلے پیدا ہؤا ہے بادشاہ بن جائے گا۔ اگر بارہ (۱۲)مہینے پہلے مَیں پیدا ہو تا تو مَیں بادشاہ بن جاتا ، چنانچہ وہ کہتا ہے اس کومارو میں بادشاہ ہو جاتا ہوں۔ اگلا کہتا ہے اس کو مارو میں ہو جاتا ہوں۔ شاہجہان کے زمانہ میںاِس کی زندگی میں ہی بیٹوں نے کہا کہ یہ تو نہ معلوم کب مرے پہلے اپنے لئے میدان تیار کرو۔ چنانچہ داراؔ اور مرادؔ اور شجاعؔ اور اورنگ زیبؔ نے لڑ لڑا کر اپنے باپ کی حکومت کو ختم کر دیا۔ بادشاہ کی تخت نشینی کی جو ساری مدت بتائی جاتی ہے اس میںسے پچاس فیصدی زمانہ ایسا ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ بادشاہ سلامت اتنا عرصہ قید رہے۔
    قرآنی دربارِ خاص کی نرالی شان
    ان دُنیوی بادشاہوں کے دربارِخاص کے مقابلہ میں مَیں نے قرآنی دربارِ خاص
    کو دیکھا تو مجھے اِس کی شان ہی اور نظر آئی۔ مَیں نے دیکھا کہ یہ بادشاہ جوقرآنی دربارِ خاص کا مالک تھا اولاد اور بیویوں سے بالکل آزاد تھا اس لئے یہاں اِس قسم کے جوڑتوڑ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ نہ اِس بات کا کوئی سوال تھا کہ درباریوں کی محبت اور درباریوں کے اخلاص کو بانٹنے والے لوگ دنیا میں موجود ہیں اور نہ اس بات کا کوئی سوال تھا کہ وہ بیٹھا ہؤا مخاطب ہم سے ہے اور غرض یہ ہے کہ ہم سے کام لے کر اپنے بیٹے کی عزّت بڑھائے۔ اِس دربار میں وہ جو بھی عزّت دیتا تھا وہ ہمارے لئے ہی ہوتی تھی کوئی اور اُس کو نہیں چھین سکتا تھا۔ چنانچہ قرآن کریم اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ؎۲
    خداتعالیٰ کی وحدانیت
    اور حمد کاگہرا تعلق
    دیکھو شِرک ایک بڑی اہم چیز ہے اور تمام اسلام کی بنیاد اِس کے ردّپر ہے، تمام مذاہب کی بنیاد اس کے ردّپر ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ شرک کی تردید
    کے ساتھ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کا کیا تعلق ہے؟ الْحَمَدُ لِلّٰہِ تو انسان اسی صورت میں کہہ سکتا ہے جب اس کا نتیجہ ہمارے ساتھ تعلق رکھتا ہو۔ اگر ایک خدا ہونے سے ہمیں کوئی خاص فائدہ پہنچتا ہے تو پھر بے شک ہم کہیں گے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ خدا ایک ہے ورنہ جہاں تک خدا کے ایک ہونے کا سوال ہے یہ ایک صداقت ہے جسے ماننا پڑتا ہے مثلاً سورج ایک ہے کہنا پڑتا ہے کہ ایک ہے۔ سامنے پہاڑ ہو ماننا پڑے گا کہ پہاڑ ہے مگر یہ تو نہیں کہیں گے کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ یہ پہاڑ ہے کیونکہ ہمارے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں لیکن اگر ہمیں گرمی لگ رہی ہو اور اُس وقت ٹھنڈی ہوا چل پڑے تو ہم کہیں گے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ ہم خالی ہوا کے چلنے پر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہہ رہے ہیں بلکہ ہم ہوا کے اُس اثرپر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہتے ہیں جو ہم پر پڑتا ہے۔ اِسی طرح یہاں فرماتا ہے۔ ۔ شکر ہے کہ خدا کا جس کا نہ کوئی بیٹا ہے نہ بیوی، نہیں تو ہمارے دربارِ خاص کا بھی وہی حال ہوتا جو دُنیوی درباروں کا ہوتا ہے کہ قربانیاں ہم کرتے اور بادشاہ کہتا کہ بیٹے صاحب کو تخت دے دیا جائے یا بیوی صاحبہ کی خوشامد کرنی پڑتی جیسے کسی شاعر نے کہا ہے ۔ ؎
    تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں
    مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا
    بادشاہوں کے لئے اپنی جانیں
    قربان کرنیوالوں کا حسرت ناک انجام
    دربایوں کو ہر وقت یہی مصیبت رہتی تھی کہ اِدھر بیویوں کو خوش کرو اور اُدھر شہزادوں کو خوش کرو گویا
    قربانیاں کرنے والے اَور، مرنے والے اَور ، جہاد کرنے والے اَور، اپنے مال اور جائدادیں لُٹانے والے اَور، اور بادشاہت کرنے والے شہزادے اور بیگمات۔ تو فرماتا ہے دنیا میں قاعدہ یہ ہے کہ جو بادشاہ ہوتے ہیں ان کی اولادیں اور ان کی بیویاں سارا حق لے جاتی ہیں اور قربانیاں کرنے والے ہمیشہ وفادار غلام کہلاتے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو کہہ دے میں اُس بادشاہ کا غلام ہوں کہ جس کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اُس کا کوئی بیٹا ہے۔ اس لئے نہ تو اس کی محبت مجھ میں اور ان میں تقسیم ہے، نہ مجھے دو مالکوں کے خوش کرنے کی ضرورت ہے ایک ہی خدا ہے جس سے میرا واسطہ ہے اور اُس کی محبت کسی اور کے ساتھ بٹی ہوئی نہیں خالص میرے لئے ہے۔ پھر درباریوں میںسے بعض لوگ بڑی بڑی عزتیں پاجاتے ہیں اور وہ دربار میں خاص عزّت پا جانے کی وجہ سے بادشاہ پر ایسے حاوی ہو جاتے ہیں کہ بادشاہ سمجھتا ہے کہ بغیر ان کی مدد کے میرا کام نہیں چل سکتا لیکن ہمارا بادشاہ اِس قسم کانہیں اس کے دربار میں کوئی شخص ایسا نہیں کہ ہمارا خدا اس بات کی احتیاج رکھتا ہو کہ وہ اس کی مدد کرے اِسی لئے فرماتا ہے اب تُو نڈر ہو کر خدائے واحد کی تکبیر کر کیونکہ اور کوئی شریک نہیں جو تجھ سے مطالبہ کر ے کہ تھوڑی سی تکبیر میری بھی کرلیا کر۔ اس کا نہ کوئی بیٹا ہے نہ بیٹی اور نہ کوئی شریک ہے۔ وہاں تو ڈرتے ہیں کہ بادشاہ کی تعریف کی تو ولیعہد ناراض ہو جائے گا ولیعہد کی تعریف کی تو چھوٹا شہزاد ہ ناراض ہو جائے گا یہ ایک ہی دربار ہے جو اِن سارے جھگڑوں سے آزاد ہے۔
    خوشامد، جھوٹ اور مداہنت کے اڈّے
    حقیقت یہ ہے کہ دُنیوی بادشاہوں کے دیوانِ خاص میں
    یہ تین لہریں ہی پسِ پردہ چلتی ہیں، بیٹے اپنا رُسوخ چاہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ بِلااستحقاق حکومت ان کی ہو اور قربانی دوسروں کی۔ بیویاں علاوہ اپنے نفوذ کے اپنی اپنی اولاد کی تائیدمیں امراء کو کرنا چاہتی ہیں۔ ایک کہتی ہے امراء میرے بیٹے کی طرف ہوجائیں اور دوسری کہتی ہے کہ میرے بیٹے کی طرف ہو جائیں۔ غدر کا سارا جھگڑا اِسی وجہ سے ہؤا کہ بعض بیگمات کہتی تھیں ہمارا بیٹا تخت نشین ہو جائے اور دوسری کہتی تھیں ہمارا ہوجائے۔ ظاہر میں بادشاہ کی خدمت کادعویٰ ہوتا تھا لیکن باطن میںکسی خاص شہزادہ یاملکہ کی امداد کا دم بھر رہے ہوتے تھے اور پھر ایک دوسرے کے خلاف بادشاہ کے کان بھرتے تھے۔ قربانی اور اخلاص کی قدر نہیں ہوتی تھی خوشامد اور جھوٹ کی قدر ہوتی تھی۔ یابعض دفعہ کوئی جابر امیر بادشاہ پر حاوی ہو جاتا تھا اور درباریوں کو اُسے خوش کرنے کی فکر رہتی۔ لیکن قرآن کے دربارِ خاص میں یہ باتیں نہیں۔ وہاں نہ کوئی بیٹا ہے نہ بیوی، نہ کوئی جابر حاکم ہے بلکہ خالص خدا ہے جس کی نہ چُغلی کی جا سکتی ہے نہ غیبت کی جا سکتی ہے نہ کسی اَور کو خوش کرنے کے لئے اس سے مداہنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
    ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والا بادشاہ
    پھر دُنیوی بادشاہوں کی اولاد ان کی موت کی متمنی ہو تی تھی
    اور چاہتی تھی کہ یہ مریں تو ہم بادشاہ ہو جائیں اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ بادشاہ ایک شخص کو کوئی عُہدہ دیتا تھا لیکن دوسرے دن بادشاہ فوت ہو جاتا۔ اس کے بعد ا س کا بیٹاتخت نشین ہوتا اور وہ اسے ذلیل کر دیتا، لیکن ہمارے دربارِ خاص میں بیٹھنے والا بادشاہ فرماتا ہے۔ ۳؎ تمہارا بادشاہ وہ ہے جو زندہ ہے کبھی مرنے والا نہیں اس لئے تم کو ڈرنا نہیں چاہئے اس کی طرف سے جو رُتبہ تمہیں ملے گا اُسے کوئی چھینے گا نہیں۔
    دُنیوی خطابات کا انجام
    دیکھو انگریزوں نے لوگوں کو خطابات دیئے تھے مگر اب ہندوستان اور پاکستان میں روزانہ اعلان
    ہوتے ہیں کہ ہم ان خطابات کو چھوڑتے ہیں۔ صرف چند ڈھیٹ ابھی تک ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی ایسے ہیں جو اِن خطابوں سے چمٹے بیٹھے ہیں ورنہ باقی سب اپنی اپنی قوم کو خوش کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں کہ مَیں نے ’’خان بہادر ‘‘ کا خطاب چھوڑا، مَیں نے فلاں خطاب چھوڑا،میں نے ’’جی۔سی۔آئی۔ای‘‘ کاخطاب چھوڑا، مَیں نے فلاں خطاب چھوڑا یہ سب *** چیزیں ہیں۔پہلے اِنہی خطابوں کے لئے خوشامدیں کرتے پِھرتے تھے اور اب *** چیزیں بن گئیں کیونکہ بادشاہت بدل گئی یا بادشاہ کی جگہ اُس کا بیٹا آ گیا تو پھر بیٹے کی پارٹی برسرِ اقتدار آ جاتی ہے اور باپ کی پارٹی رہ جاتی ہے۔لیکن کہنے والا فرماتا ہے تمہیں گھبراہٹ کیوںہو، تمہیں خطرہ کیوں گزرے ، تمہارا دل کیوں دھڑکے، تمہارا جس بادشاہ سے تعلق ہے وہ جو خطاب بھی تمہیں دے گا وہ چلتا چلا جائے گا اس کو کوئی دوسرا بادشاہ بدلنے والا نہیں کیونکہ کوئی نئی حکومت نہیں آئے گی۔
    بادشاہوں کے خلاف
    دربارِ خاص میں منصوبے
    پھر درباروں میںسازشوں کی وجہ سے یہ بھی ہوتاتھا کہ لوگ چوری چُھپے باتیں کرتے رہتے تھے یعنی بادشاہ کے سامنے تو قصیدے پڑھے
    جارہے ہوتے تھے اور گھروں میں یا مجلسوں میں یہ کہا جاتا تھا کہ دیکھو! بادشاہ نے فلاں بات کی ہے اور ہمارے حقوق اس نے تلف کر دئیے ہیں اب اِس اِس طرح ہم کو فریب کرنا چاہئے، یہ یہ چالاکیاں کرنی چاہئیں یہ دُنیوی بادشاہوں کے دربارِ خاص کے نقائص ہؤا کرتے تھے۔ اس دربارِ خاص کو میں نے دیکھا تو اس کے متعلق لکھا تھا ۴؎ فرماتا ہے اِس قرآنی دربارِ خاص کابادشاہ عالم الغیب ہے۔ اس کا دیا ہؤا انعام راستہ میںکہیں غائب نہیں ہو سکتا۔ یہاں تو یہ تھا کہ بادشاہ نے خلعت پہنایا اور گھر پہنچنے سے پہلے پہلے راستہ میں کسی نے خنجر ما ر دیا گویا انعام تو ملا مگر انعام سے وہ فائدہ نہ اُٹھا سکا مگر یہ وہ بادشاہ ہے کہ چونکہ یہ عالم الغیب ہے اِس لئے جس شخص کو یہ انعام دیتا ہے اُس کی نگرانی بھی کرتا ہے کہ انعام اُس کو پہنچ جائے اور خواہ کوئی کتنا زور لگالے، کتنی ہی طاقت خرچ کر لے وہ اس خطاب سے محروم نہیں ہو سکتاوہ خدا کی دی ہوئی چیز ہے اُس کو کون لے سکتا ہے مگر دُنیوی بادشاہوں کی دی ہوئی چیز تو بسا اوقات ضائع ہو جاتی ہے بلکہ بعض دفعہ وہ آپ بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر دوسروں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔
    ایک مشہور تاریخی واقعہ
    ایک مشہور تاریخی واقعہ ہے شبلیؒ ایک بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں یہ امیر گھرانے کے تھے اور
    بغداد کے بادشاہ کے گورنر تھے۔ وہ کسی کام کے متعلق بادشاہ سے مشورہ کرنے کے لئے اپنے صوبہ سے دارالحکومت میںآئے۔ اُنہی دنوں ایک کمانڈر اِنچیف ایران کی طرف سے ایک ایسے دشمن کے مقابلہ میں بھیجا گیا تھا جس سے کئی فوجیں پہلے شکست کھا چکی تھیں اُس نے دشمن کو شکست دی اور ملک کو دوبارہ مملکت میں شامل کیا۔ جب وہ واپس آیا تو بغداد میں اس کا بڑا بھاری استقبال کیا گیا اور بادشاہ نے بھی ایک دربارِ خاص منعقد کیا تاکہ اُسے انعام دیا جائے اور اُس کے لئے ایک خلعت تجویز کیا جو اُس کے کارناموں کے بدلہ میں اُسے دیا جانا تھا مگر بدقسمتی سے سفر سے آتے ہوئے اُسے نزلہ ہو گیا دوسری بدقسمتی یہ ہوئی کہ گھر سے آتے ہوئے وہ رومال لانا بھُول گیا ۔ جب اُس کو خلعت دیا گیا تو دستور کے مطابق اس کے بعد اُس نے تقریر کرنی تھی کہ مَیں آپ کا بڑا ممنون ہوں آپ نے مجھ پر بڑا احسان کیا ہے اور میری تو اولاد دراولاد اس چار گز کپڑے کے بدلے میں آپ کی غلام رہے گی۔ مگر جب وہ تقریر کے لئے آمادہ ہو رہا تھا تو یکدم اُسے چھینک آئی اور ناک سے بلغم ٹپک پڑا۔ بلغم کے ساتھ اگر وہ تقریر کرتا تو شاید قتل ہی کر دیا جاتا اُس نے گھبراہٹ میںاِدھر اُدھر ہاتھ مارا جب دیکھا کہ رومال نہیں ملا تو نظر بچا کر اُسی جُبہّ سے اُس نے ناک پونچھ لی۔ بادشاہ نے اسے دیکھ لیا وہ کہنے لگا اُتار لو اِس خبیث کا خلعت۔ یہ ہماری خلعت کی ہتک کرتا ہے اور ہمارے دئیے ہوئے تحفہ سے ناک پُونچھتا ہے۔ اس نے یہ کہا اور شبلیؒ نے اپنی کُرسی پر چیخ ماری اور رونا شروع کر دیا چونکہ دل میںنیکی تھی اور تقویٰ تھا، خد نے اُن کی ہدایت کے لئے ایک موقع رکھا ہؤا تھا انہوں نے چیخ ماری تو بادشاہ نے کہا خفا ہم اِس پر ہوئے ہیں تم کیوں روتے ہو؟ وہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا بادشاہ میں اَپنا استعفاء پیش کرتا ہوں ۔ بادشاہ نے کہایہ کیا بے وقت کی راگنی ہے کیا ہؤا تم کو اور کیو ں تم استعفاء پیش کرتے ہو؟ انہوں نے کہا بادشاہ میں یہ کا م نہیں کرسکتا۔ اس نے کہا آخر ہؤا کیا؟ انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ یہ شخص آج سے دو سال پہلے اس جگہ سے نکلا تھا اور ایک ایسی مُہم پر بھیجا گیا تھا جس میں ملک کے بڑے بڑے بہادر جرنیل شکست کھا کر آئے تھے اور ایک ایسے علاقہ کی طرف بھیجا گیاتھا جس کا دوبارہ فتح کرنا بالکل ناممکن سمجھا جاتا تھا یہ دو سال باہر رہا۔ یہ جنگلوں میں گیا، یہ پہاڑوں میںگیا اور اِس نے دشمن سے متواتر لڑائیاں کیں، یہ ہر روز مرتا تھا، ہر صبح مرتاتھا، اور ہر شام مرتا تھا، ہرشام اِس کی بیوی سوچتی تھی کہ صبح میں بیوہ ہو کر اُٹھوں گی اور ہر صبح جب وہ اُٹھتی تھی تو خیال کرتی تھی کہ شام مجھ پر بیوگی کی حالت میں آئے گی، ہر شام اس کے بچے سوتے تھے تو سمجھتے تھے کہ صبح ہم یتیم ہوں گے اور ہر صبح اس کے بچے اُٹھتے تھے تو وہ خیال کرتے تھے کہ شام کو ہم یتیم ہوں گے،ایک متواتر قربانی کے بعد اس نے اتنا بڑا ملک فتح کیا اور آپ کی مملکت میں لا کر شامل کیا اس کے بدلہ میںآپ نے اس کو چند گز کپڑادیا جس کی حیثیت ہی کیا تھی مگر محض اس لئے کہ اس نے مجبوراً اس خلعت سے ناک پونچھ لیا آپ اس پر اتنا خفا ہوئے۔ پھر میں کیا جواب دوں گا اُس خدا کے سامنے جس نے مجھے یہ جسم ایسا دیا ہے جس کو کوئی بادشاہ بھی نہیں بنا سکتا، جس نے مجھے یہ خلعت دی ہے اور میں اس کو تیری خاطر گندہ کر رہا ہوں مَیں اس کے متعلق اپنے خدا کو کیا جواب دونگا؟ یہ کہہ کر وہ دربار سے نکل گئے مگر وہ اتنے ظالم اور جابر تھے کہ جب مسجد میں گئے اور انہوں نے کہا کہ میں تو بہ کرنا چاہتا ہوں تو ہر ایک نے یہی کہا کہ کم بخت! کیا شیطانوں کی توبہ بھی کہیں قبول ہو سکتی ہے نکل جا یہاں سے۔
    توبہ کی قبولیت
    انہوں نے ہر جگہ پھرنا شروع کیامگر کسی کو یہ جرأت نہیں ہوتی تھی کہ ان کی توبہ قبول کرے۔ آخر وہ جنید بغدادیؒ کے پاس پہنچے کہ
    اِس اِس طر ح مجھ سے قصور ہوئے ہیںاور اب میں توبہ کرنا چاہتا ہوں کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں قبول ہو سکتی ہے مگر ایک شرط پر۔ پہلے اسے مانو۔ شبلی نے کہا مجھے وہ شرط بتائیں میں ہر شرط ماننے کے لئے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا اُس شہر میںجائو جہاں تم گورنر رہے ہو اور ہر گھر پر دستک دے کر کہو کہ میں تم سے معافی مانگتا ہوںاور جو جو ظلم تم نے کئے تھے ان کی لوگوں سے معافی لو۔ انہوں نے کہا منظور ہے۔ چنانچہ وہ گئے اور انہوں نے ہر دروازہ پر دستک دینی شروع کر دی جب لوگ نکلتے وہ کہتے کہ مَیں شبلی ہوں جو یہاں کا گورنر تھا مَیں قصور کرتا رہا ہوں، خطائیں کرتا رہا ہوں اور تم لوگوں پر ظلم کرتا رہا ہوں اب میںاس کی معافی طلب کرتا ہوں۔ لوگ کہہ دیتے کہ اچھا ہم نے معاف کر دیالیکن نیکی کا بیج ہمیشہ بڑھتا اور رنگ لاتا ہے دس بیس گھروں سے گزرے تو سارے شہرمیں آگ کی طرح یہ بات پھیل گئی کہ وہ گورنر جوکَل تک اتنا ظالم مشہور تھا وہ آج ہر دروازہ پر جا جا کر معافیاں مانگ رہا ہے اور لوگوں کے دلوںمیں روحانیت کا چشمہ پُھوٹا اور انہوں نے کہا ہمارا خدا کتنا زبردست ہے کہ ایسے ایسے ظالموں کو بھی نیکی اور توبہ کی توفیق عطا فرمادیتا ہے۔ چنانچہ پھر تو یہ ہؤا کہ شبلیؒ جنیدؒ کے کہنے کے ماتحت ننگے پائوں ہر دروازہ پر جا کر دستک دیتے تھے لیکن بجائے اس کے کہ دروازہ کُھل کر شکوہ اور شکایت کا دروازہ کُھلتا اندر سے روتے ہوئے لوگ نکلتے اور کہتے تھے کہ آپ ہمیں شرمندہ نہ کریں آپ تو ہمارے لئے قابلِ قدر وجود ہیں اور ہمارے روحانی بزرگ ہیں آپ ہمیں اس طرح شرمندہ نہ کریں۔ غرض سارے شہر سے انہوں نے معافی لی اور پھر وہ جنیدؒ کے پاس آئے اور انہوں نے توبہ قبول کی اور انہیں اپنے شاگردوں میں شامل کیا اور اب وہ مسلمانوں کے بڑے بڑے اولیاء میںسے سمجھے جاتے ہیں۔
    خداتعالیٰ کے عطیہ کی بے حُرمتی
    تو دیکھو! شبلی کو کس بات سے ہدایت ملی؟ اس بات سے کہ خدا نے ہم کو کیا
    کچھ دیا ہے جس کو ہم گندہ اور ناپاک کر رہے ہیں مگر بادشاہ اس دربارِ خاص میں چند گزریشم کاٹکڑا چند سنہری تاگے لگے ہوئے یا چند موتی اور ہیرے جڑے ہوئے دیتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ لوگ خود چاہیں تو اس سے بہتر خلعت بنا سکتے ہیں مگر اس لئے کہ ان کی ہتک ہو گئی وہ انہیں ذلیل کر دیتا ہے۔ غرض ان خدمات کے بدلہ میں جو کچھ ملتا تھا وہ اتنا حقیر ہوتا تھا کہ اس کا خیال کر کے بھی انسان حیران ہو جاتا ہے کہ کیا انسان اتنا بھی ذلیل ہو جاتا ہے کہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کے پیچھے دَوڑتا پھرے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انعامات ملتے ہیں ان میں یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ کبھی واپس نہیں ہو سکتے اور جس کو انعام ملتا ہے اس کی طاقت نہیںہوتی کہ وہ اس کی ہتک کرے بلکہ وہ ہمیشہ اس کی عزت کرتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ کے غیر متبدّل انعامات
    دنیا میںکوئی ایک لاکھ بیس ہزار نبی جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
    سے مروی ہے گزرا ہے ۵؎ اور معلوم نہیںکتنی دنیائیں ہیں اور کتنے اور نبی ہوں گے۔درجنوں پیغمبروں کے حالات تو ہمیں بھی معلوم ہیں مگر کیا تم نے کبھی سُنا کہ فلاں وقت میںفلاں پیغمبر صاحب کے مستعفی ہونے کا وقت آ گیا اور انہیں کہا گیا کہ آپ اب استعفاء دیدیں؟ یا کبھی تم نے سُنا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی پر خفا ہو کر کہاکہ اُتار لو اس کا خلعتِ پیغمبری اور اُس نے اسے چھوڑ دیا ہو؟ اس دربار میں سے جس کو ملتا ہے ہمیشہ کے لئے ملتا ہے اور جس کو ملتا ہے اس کے دل میںاپنے اس عُہدہ کو اتنی عظمت ہوتی ہے اور اتنی قدر ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اس کی قدر کرنے میں اس کی اس طرح مددکرتا ہے کہ وہ اس عُہدہ کو کبھی نہیں چھوڑتا اور نہ اس کی ہتک کرتا ہے۔
    الٰہی دربار میں کسی چھوٹے سے چھوٹے
    درباری کی ہتک بھی برداشت نہیں کی جا سکتی
    پھر مَیں نے دیکھا کہ دُنیوی بادشاہوں کے دیوانِ خاص میں جو امراء ہوتے ہیں
    ان میں باہم رقابتیں اوربُغض اور کینے پائے جاتے ہیںاور وہ ایک دوسرے کوگِرانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس الٰہی دربار میںاگر کوئی بڑا ہے تو بڑے نے چھوٹے پرکیا حسد کرنا ہے وہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ کسی چھوٹے کی ہتک ہو جائے یا اس کی کسی رنگ میں تنقیص کی جائے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان جن کے مقابلہ میں موسیٰ ؑ کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے تھے، جن کے مقابلہ میں ابراہیم ؑ کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے تھے، جن کے مقابلہ میں نوحؑ کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے، ان موسیٰ ؑ اور ابراہیم ؑ اور نوحؑ سے کم درجہ رکھنے والوں اور موسیٰ ؑکے ماتحت نبیوں میںسے ایک یونس ؑ نبی ہیں کوئی یہودی کسی جھگڑے میں کہہ دیتا ہے کہ یونس ؑ بڑا آدمی تھامسلمان آگے سے کہہ دیتا ہے محمد رسول اللہ کے مقابلہ میں یونس ؑ کی کیاحقیقت ہے۔ اب بجائے اس کے کہ دربارِ خاص کا آدمی خوش ہو کہ میری عزت کی گئی ہے جب اس کو خبر پہنچتی ہے تو اس کا چہرہ سُرخ ہو جاتا ہے اور وہ کہتا ہے لَاتُفَضِّلُوْنِیْ عَلٰی یُوْنُسَ ابْنِ مَتّٰی۶؎ یونس ابن متّٰی پرمجھے فضیلت نہ دیا کرو۔ حالانکہ فضیلت ہے لیکن کسی درباری کی وہ ہتک برداشت نہیں کرتا وہ کہتا ہے چاہے وہ چھوٹا ہی سہی پر تم نے کیوں اس کو چھوٹا کہا؟ تمہارا کام یہی ہے کہ اس کی عزّت کرو کیونکہ وہ خدا کے درباریوں میںسے ہے۔
    ابو البشر آدم کی پیدائش پر
    دربارِ خاص کا انعقاد
    اب میں ایک دربارِخاص کا ذکر کرتا ہوں جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
    ۷؎ فرمایا دربارِ شاہی لگا اور ملائکہ جمع ہوئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص مقام ایک شخص کو عطا کیا تھا جس کی توثیق کی جانی تھی اور جس کے متعلق اس دربار میں آخری اعلان کرنا تھا۔ وہ مقام ابوالبشر آدم کے لئے تجویز کیا گیا تھا جسے عالَمِ انسانی میںجلوئہ الٰہی کی ایک نئی تجلی کے ظاہر کرنے کے لئے مقررکیا گیا تھا۔ ملائکہ نے اس بات کی ابتدائی خبر سن کر کہا کہ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ اس انسان کی ضرورت کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم تمہیں اس کی ضرورت عملی طور پر دکھا دینگے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وہ تمام تجلیات جن کو وہ نئی شکل میں دکھانا چاہتا تھا آدم کے اندر ودیعت کر دیں اور پھر آدم کو ان کے سامنے بُلایا اور وہ تجلیات اس میںسے ظاہر ہوئیں۔ جس طرح فلم چلتی اور اس میں سے تصویریں نکلتی ہیں اسی طرح آدم کے وجود سے ان تجلّیات کا ظہور شروع ہؤا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ملائکہ سے فرمایا کہ اگر تمہارا دعویٰ صحیح تھا تو تم مجھے بتائو کہ کیا تم ان تجلّیات کی پوری کیفیت بیان کر سکتے ہو؟ انہوں نے کہا اے خدا! تُو پاک ہے ہمیں تو اتنا ہی آتا ہے جتنا تُو نے ہمارے اندر رکھا ہے تُو سب کچھ جانتا ہے اور تیرے سارے کام حکمت پر مبنی ہیں جس کے سپرد تو کوئی کام کرتا ہے اُس کی طاقتیں بھی اس کے اندر ودیعت کر دیتا ہے۔ پھر فرمایا اے آدم! ہم نے جو علم تیرے اندر رکھے ہیں اور جو تجلیات تم سے ظاہر ہونے والی ہیں اُن کو ظاہر کرو۔ چنانچہ آدم نے ان تجلیاتِ مخفیہ کو اور ان صفاتِ انسانیہ کو جو اس کے لئے مخصوص تھیں ظاہر کیا پھر فرمایا میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ مجھے زمین وآسمان کی وہ باریک باتیں معلوم ہیں جو تم معلوم نہیں کر سکتے اور ایک ایسے نئے وجود کی ضرورت ہے جو میرے ان علوم کو ظاہر کر سکے جو تم پر ظاہر نہیں ہو سکتے۔
    آدم کی اہلیت کا اعلان
    یہ ایک دربار ہے جو اللہ تعالیٰ نے لگایا اس دربار کی غرض آدم کو مقامِ انسانیت پرفائز کرنا یعنی
    اسے ابوالبشر بنانا تھا گویا یہ نہایت ہی اعلیٰ درباروں میںسے ایک دربار ہے گورنر کا تقرر ہو رہا ہے، بادشاہ بیٹھا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ اس پریہ یہ ذمہ داریاں عائدکی گئی ہیں اور پھر بتایا جا رہا ہے کہ یہ ان ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے قابل ہے۔ دنیا کے درباروں میں تو جب کوئی کمانڈر مقرر کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ہمیں تمہاری وفاداری سے امید ہے کہ تم ہماری خواہشوں کوپورا کروگے لیکن یہاں کہا جاتا ہے ہم نے اس کو مقر رکیا ہے اور ہم نے اس کا انتخاب غلط نہیں کیا جو کام ہم نے اس کے سپرد کیا ہے اس کا یہ اہل ہے اور یہ اسے کر کے دکھا دیگا۔
    ظرفِ صحیح کے انتخاب کی اہمیّت
    گویا خلاصہ اس دربا ر کا یہ تھا کہ ایک نیا گورنر مقرر ہو رہا تھا
    دوسرے درباری اس انتخاب کی وجہ سمجھنا چاہتے تھے اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ سب علم ہماری طرف سے آتا ہے مگر اسے حاصل ہر شخص اپنے ظرف کے مطابق کرتا ہے اور اگر ایک چوکونہ برتن ہو گا تو اس کے اندر جو پانی ہو گا وہ چوکونہ ہو گا، اگر ایک گو ل برتن ہو گا تو اس کے اندر پڑا ہؤا پانی بھی گول ہو جائے گا، اگر ہم پانی کو چوکونہ شکل میں دیکھنا چاہتے ہیںتو گول شکلوں والے کتنے بھی برتن ہمارے پاس لائے جائیں ہم کہیں گے یہ اس قابل نہیں کیونکہ ہم نے اس کو چوکونہ شکل دینی ہے۔ یا اگر فرض کرو کسی ایسی شکل میںہم اس کو دیکھنا چاہتے ہیں جیسے تکون ہوتی ہے تو بے شک چار گوشیہ برتن لائے جائیں اور کہا جائے کہ ان میں پانی پڑ سکتا ہے ہم کہیں گے پڑ سکتا ہے مگر ہم نے اس کو دیکھنا سہ گوشہ ہے۔ یا اگر ہماری غرض یہ ہے کہ جیسے ایک سینگ ہوتا ہے اسی طرح سینگ کی شکل میں پانی کو دیکھیںتو ا س غرض کے لئے ہم اسی قسم کے برتن کو پسند کریں گے جو سینگ کی شکل کا ہو گا۔یا اگر قُلفی جمانی ہو تو اب قُلفی کی شکل چاہے قُلفی کی ہو چاہے جُوتی کی مزہ ایک جیسا ہی رہے گا مگر ہمارے ملک میںقُلفی کی شکل کا رواج ہے اب اگر قُلفی بنانی ہو اور کوئی کہے کہ ٹِفن کیرئیر میںقُلفی جما لوتو دوسرا شخص کبھی نہیں بنائے گا وہ کہے گا قلفی لائو۔ مَیں اس بحث میںنہیں پڑتا کہ اس کی کیا حکمت ہے؟ بہرحال جس نے کام کرنا ہو وہ جس شکل کو پسند کرتا ہے اس قسم کا ظَرف لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ یہاں سوال ظرف کا ہے ہم جن صفات کو دُنیا میں ظاہر کرنا چاہتے ہیں وہ ظرف فرشتوں کا نہیں بلکہ آدم کا ہے۔
    پھر انسان چیز بھی اپنے ظرف کے مطابق حاصل کرتا ہے اگر دو سیر والا ظرف ہو گا تو دو سیر چیز آئے گی، اگر چھ چھٹانک والا ظرف ہو گا تو چھ چھٹانک آئے گی، اگر ایک تولہ والا ظرف ہو گا تو ایک تولہ آئے گی۔ اِس نقطہ نگاہ سے بھی فرمایا کہ جس علم اور قانون کی اِس وقت ضرورت ہے اس کا ظرفِ صحیح یہی آدم ہے چنانچہ دیکھو! اس شخص کو ہم نے سکھایا اور سیکھ گیا یہی ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ شخص قابل تھا اور فرشتے اِس جواب کو سن کر فوراً سر تسلیم خم کر دیتے ہیں اور سب کی تسلی ہو جاتی ہے۔ پھر انہیں حُکم دیا جاتا ہے کہ اب گورنر کے احکامات کو رائج کرو چنانچہ فَسَجَدُوْا ؎۸ سارے کے سارے تعمیلِ حکم میںلگ گئے اور سب نے اس حکم پر لَبَّیْکَ کہا اور فرمانبرداری اور امداد شروع کر دی۔
    ایک اعتراض کا جواب
    بعض لوگ فرشتوں کے ہمدرد بن کر اس آیت پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیںکہ خداتعالیٰ نے آدم کو
    سکھایا تو وہ سیکھ گیا فرشتوں کو نہ سکھایا وہ نہ سیکھے اس میںفرشتوں کا قصور کیا ہؤا ؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ اصل سوال یہ تھا کہ خداتعالیٰ کی مختلف تجلّیات کے لئے مختلف آئینوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک تجلی کا آئینہ آدم ہے۔ فرشتے معلوم کرنا چاہتے تھے کہ وہ نئی تجلی کیا ہو گی جو کہ آدم کے ذریعہ ہی ظاہر ہوسکتی ہے؟ خداتعالیٰ نے وہ تجلی آدم پر ڈالی اور اس نے اسے صحیح طو ر پر اخذ کرلیا اور پھر اس کو اپنے جسم سے ظاہر کردیا فرشتے خاموش ہو گئے اور کہا کہ ہم سمجھ گئے ۔اصل مضمون نہیں بلکہ یہ سمجھ گئے ہیں کہ اس تجلی کا حامل آدم ہی ہو سکتا تھا ہم نہیں ہو سکتے تھے۔
    آدم کا کام اَور ہے اور
    فرشتوں کا کام اَور
    اصل حقیقت تو وہ اب بھی نہیں سمجھے جس دن اصل حقیقت سمجھنے لگ جائیں گے، اس دن وہ آدمی بن جائیں گے آج بھی فرشتہ اصل حقیقت کو نہیں سمجھا مگر
    فرشتہ اتنا سمجھ گیا ہے کہ آدم کا کام اَور ہے اور میرا کام اَور ۔اگر فرشتے اسے نئی تجلی نہ سمجھتے تھے اور اگر وہ یہی سمجھتے تھے کہ آدم کو سکھایا تو وہ سیکھ گیا تو مَیں ان دانائوں سے جو فرشتوں کے وکیل بنتے ہیں پوچھتا ہوں کہ ا ن کی عقل کیوں ماری گئی۔اگر سوال یہی تھا کہ اس کو سکھایا وہ سیکھ گیا تو فرشتے کیوںنہ بولے وہ چُپ کیوں ہو گئے؟ ان کو کہنا چاہئے تھا کہ اس کو سکھایا یہ سیکھ گیا ہمیں سکھاتے تو ہم سیکھ جاتے مگر ان کی تو تسلی ہو گئی اور اس معترض کی ابھی تک تسلی نہیںہوئی اور پچاس ساٹھ ہزار سال سے جوا سے شبہ پیدا ہؤا ہے وہ ابھی دُور نہیں ہؤا ۔
    آدم سے مختلف تجلّیات کا ظہور
    اصل سوال کرنے والوں کا بیان ہے کہ ان کے لئے یہ سوال حل ہو گیا
    کیونکہ وہ آگے سے نہیں بولے اور اسی لئے نہیں بولے کہ درحقیقت وہ احمق ہے جو سمجھتا ہے کہ یہاں انسانیت کے سمجھنے کا سوال تھا۔ انسانیت کے سمجھنے کا سوال نہیںتھا بلکہ فرشتوں کا سوال یہ تھا کہ وہ تجلّی جو آپ ظاہر کرنا چاہتے ہیں آیا ہم اس کے حامل نہیں ہو سکتے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں ہم تمہیں عملاً تجلّی کر کے دکھادیتے ہیں اس تجلّی کے بعد تم خود فیصلہ کر لینا کہ تم اسے ظاہر کر سکتے ہو یا نہیں۔ چنانچہ آدم سے مختلف تجلّیات کا ظہور ہؤا مثلاً ایک تجلی تو یہی ظاہر ہوئی کہ انسان دوزخ میںڈالا گیا فرشتہ دوزخ میں جا ہی نہیں سکتا۔آخر ابوجہل وغیرہ دوزخ میں گئے ہیں یا نہیں فرشتہ اس تجلی کو برداشت ہی نہیں کر سکتا یہ قہری تجلّی تھی جس کو برداشت کرنے کی صرف آدم میں طاقت رکھی گئی فرشتہ اس تجلی کا حامل ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ملائکہ سے تعلق رکھنے والی تجلیات اَور رنگ کی ہیں ان تجلیات کو ہم نہیں اُٹھا سکتے وہ فرشتوں کے لئے مخصوص ہیںاور ہمارے لئے انسان کی تجلیات مخصوص ہیں۔
    پس فرشتوں کا یہ سوال ہی نہیں تھا کہ وہ کونسی تجلّی ہے جس کے اظہار کے لئے آدم پیداکیا گیا ہے بلکہ ان کا سوال یہ تھا کہ ایسی کونسی تجلّی ہے جو آدم ہی اُٹھا سکتا ہے ہم نہیںاُٹھا سکتے؟ جب آدم نے مختلف قسم کے افعال کا ارتکاب شروع کیا کسی نے خدا کو گالیاں دینی شروع کیں، کسی نے اس سے کھیل اور تمسخر شروع کیا، کسی نے نماز کا انکار کیا، کسی نے روزہ کاانکار کیا،کسی نے حج کا انکار کیا، کسی نے زکوٰۃ کا انکار کیا، کسی نے چوری کی، کسی نے ڈاکہ ڈالا تو فرشتوں نے کانوں پرہاتھ رکھے اور کہا کہ اس کے لئے یہ آدم ہی موزوں ہے ہم اس کے اہل نہیں اسی لئے قرآن کریم میںانسان کے متعلق ہی ۹؎کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، فرشتوں نے کہا ہم نہیں بن سکتے یہ آدمی ہی کی ہمّت ہے وہ بیشک بنتا پھرے۔
    پس سوال یہ نہیںتھا کہ وہ نئی تجلی کیا ہے جس کا آدم کے ساتھ تعلق ہے بلکہ سوال یہ تھا کہ آیا انسان ہی اس تجلّی کا حامل ہو سکتا ہے؟ فرشتے نہیں ہو سکتے؟ خدا تعالیٰ نے عملاً تجلّی ظاہر کر کے دکھادی اور فرشتوں نے مان لیا کہ ہم میںاس کی اہلیت نہیں لیکن آج ہزاروں سال کے بعد ایک انسان اُٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ فرشتے بیوقوف تھے اُن بیوقوفوں کو سوال کرنا آیا تھا جو اب سمجھنا نہیں آیا حالانکہ فرشتوں کا چُپ ہو جانابتاتا ہے کہ فرشتوں کایہ سوال تھا ہی نہیں کہ آپ ہمیں سکھاتے تو ہم بھی سیکھ جاتے بلکہ فرشتوں کا سوال یہ تھا کہ وہ کونسی تجلّی ہے جس کا حامل انسان ہو سکتا تھا ہم نہیں ہو سکتے تھے۔ خدا کے بتانے یا نہ بتانے کا ذکر نہیں تھا بلکہ اس تجلی کے قابل وجود کا ذکر تھا۔
    روحانی دربارِ خاص کی
    بعض مخصوص کیفیات
    اب میں اس دربار کی بعض مخصوص کیفیات کا ذکر کرتا ہوں۔
    اوّل اس دربار میں بھی بادشاہ کے گِرد کچھ درباری یعنی ملائکہ نظر آتے ہیں۔
    دوم وہ درباری کُلی طور پر بادشاہ کے کمالِ علم کے قائل ہیں دُنیوی دربارِ خاص میں تو بسااوقات کمانڈر سمجھتا ہے کہ بادشاہ اگر چھوٹی سے چھوٹی لڑائی کے لئے بھی جائے گا توہار جائیگا مگر اس دربار میں ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ بادشاہ جانتا ہے وہ میں نہیں جانتا۔
    سوم وہ اس سے زیادتی علم کے لئے بھی سوال کرتے رہتے ہیں گویا وہ صرف یہی نہیں جانتے کہ یہ ہر بات جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے بلکہ ان کے دل میں تڑپ ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرتے جائیں اور اپنے اپنے ظرف کے مطابق اپنے آپ کو مقامِ تکمیل تک پہنچائیں۔ فرشتہ اپنی ملکیت کے لحاظ سے کامل ہونا چاہتا ہے اور انسان اپنی انسانیت کے لحاظ سے کامل ہونا چاہتا ہے مگر ترقی بہرحال موجود ہے کیونکہ استاد موجود ہے جب تک استاد موجود رہے گا شاگرد اس سے نئی نئی چیزیںسیکھتا رہے گا۔
    چہارم باد شاہ ڈنڈے سے ان کو سیدھا نہیں کرتا جیسے دنیا میںکیا جاتا ہے بلکہ ان پر حقیقت کو واضح کرتا ہے اور ان کے سینوں کو روشنی بخشتا ہے۔
    پنجم جب کسی نئے کام پر کسی کو مقرر کیا جاتا ہے تو تمام سامان اسے مہیا کر کے دئیے جاتے ہیں۔ دنیا میں تو یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ بادشاہ کی طرف سے کسی کو مقرر کیا جاتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ اب فوج بھرتی کرو یا لڑائی کے لئے سامان مہیاکرو مگر وہاں ساری چیزیںوہ خود مہیا کرکے دیتا ہے۔
    ششم اس دربار کے درباری ایسے ہیں کہ بجائے رقابت میں مبتلاء ہونے کے وہ افسر مقررہ کی پوری طرح اعانت کرتے ہیںاور اس سے مخلصانہ تعاون کرتے ہیں چنانچہ فرشتوں کے متعلق فرماتا ہے کہ فَسَجَدْوْا جب انہیں تعاون کے لئے کہا گیا تو انہوں نے تعاون کرنا شروع کر دیا اور جس نے تعاون نہ کیا اُس کو خود بادشاہ نے سزادی اور اُس کی شرارت کو بے ضرر کر دیا۔
    قرآن کریم میںایک
    اور دربارِ خاص کا ذکر
    اب میں ایک اور روحانی دربارِ خاص کا ذکر کرتا ہوں اللہ تعالیٰ فرماتاہے:-
    ۱۰؎
    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
    بعثتِ عظمیٰ کا دربارِ خاص میں اعلان
    اس جگہ پھر ایک آدم کی پیدائش کا ذکرکیا گیا ہے مگر جیسا کہ سیاق وسباق سے ظاہر ہے یہ آیات قطعی طور پر
    ثابت کرتی ہیں کہ یہاں وہ آدم مراد نہیں جس سے نسلِ بشر کا آغاز ہؤا بلکہ اس جگہ آدم سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے چنانچہ دیکھو ان آیات کی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے کہ۔تُو ان سے کہہ دے کہ مَیں خدا کی طرف سے ایک تنبیہہ کرنے والے کی حیثیت سے آیا ہوں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ واحد اور قہّار ہے۔ اس کے بعد فرماتا ہے وہ آسمان اور زمین کا ربّ ہے اور ان کے درمیان جو کچھ ہے ان کا بھی ربّ ہے اور وہ بڑا غالب اور بخشنے والا ہے۔ تُو کہہ دے کہ یہ ایک عظیم الشان چیز ہے جس سے تم اِعراض کر رہے ہو اور مجھے کیا خبر ہے کہ فرشتے آسمان پر کس کے تقرر کے بارہ میں بحثیں کر رہے تھے مجھے آسمان سے وحی آ گئی اور پتہ لگ گیا کہ مَیں خدا کی طرف سے نذیر ہوں۔ دیکھو! جب خدا نے فرشتوں کو بُلایا اور ان سے کہاکہ میں ایک بہت بڑے انسان کو مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں جب میں اس کو پیدا کر لوں اور وہ اپنی جوانی کی عمر کو پہنچ جائے اور کلامِ الٰہی اس پر نازل ہو جائے تو تم فوراً اُس کی مدد کرنے لگ جائو۔
    اب دیکھو یہاں کسی پہلے آدم کا یا پیدائشِ عام کا ذکر نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ان کی بعثت کا ذکر ہے اور پھر جہاں یہ ذکر ختم ہوتا ہے وہاں بھی ان باتوں کو بیان کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یعنی خدا نے کہا اور میں مقرر ہو گیا۔مَیں تم سے کسی اجر کا طالب نہیں۔ اگر ابوالبشر آدم کا یہاں ذکر ہوتا تو آدم کو کہنا چاہئے تھا کہ خدا نے مجھے خلیفہ بنایا ہے مگر بنایا آدم کو اور کہہ رہے ہیںمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اِن دونوں کا آپس میں جوڑ کیا ہؤا۔ اِس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں آدم سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
    قرآنی اصطلاح میںآدم سے مراد
    درحقیقت قرآن کریم میںآدم کا جو لفظ استعمال ہؤا ہے وہ
    خالی ایک نام نہیں بلکہ آدم ایک عُہدہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض کیا جاتا ہے۔ اِس عُہدہ کے لحاظ سے جو آدمی بھی اِس پر مقرر ہو جائے وہ آدم کہلاتا ہے اور قرآن کریم کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عُہدہ اُس شخص کو دیا جاتا ہے جس سے کسی چیز کی ابتداء ہو۔ جب کوئی ایسا سلسلہ قائم کیا جائے کہ جس نے قیامت تک جاری رہنا ہو اور اس سے متواتر تنوّع پیدا ہونا ہو اور نئی نسلیں پیدا ہونی ہوںتو اُس کا نام آدم رکھا جاتا ہے۔
    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    بھی ایک عظیم الشان آدم ہیں
    آدمِ اوّل دورِ بشری کا آدم تھا جس سے نسلِ انسانی چلی اور کروڑوں کروڑ آدمی اِس دنیا میںپھیل گئے۔ اِس طرح محمد رسول اللہ
    صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک آدمؑ تھے جن سے ایک روحانی نسل کا آغاز ہؤا۔ جس طرح آدمؑ کے پیدا ہونے کے بعد جِنّ اور بُھوت وغیرہ سب غائب ہو گئے اور انسانی نسل چل پڑی اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے کے بعد پہلے سارے نبیوں کی نسلیں ختم ہو گئیں اور وہ بے اولاد ہو گئے گویا بعینہٖ اِسی طرح ہؤا جس طرح وہاں ہؤا تھا۔ جس طرح وہاں صرف آدم کی نسل چلی اسی طرح یہاں صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی نسل چلی اور باقی نسلیں منقطع ہو گئیں۔ ممکن ہے کوئی کہے کہ یہ کس طرح درست ہو سکتا ہے آدمی تو دنیا میں کروڑوں کروڑ پھرتے ہیں ، ان کی نسلیں منقطع کس طرح ہوئیں؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ آدمی وہ ہوتے ہیں جو زندہ ہوں۔ جن کے اندر روحانیت نہیں، جن کے اندر خدا کا خوف نہیں، جن کا خداتعالیٰ سے تعلق نہیں، جن کو خداتعالیٰ کا قُرب حاصل نہیں حالانکہ یہی باتیں انسان کی پیدائش کامقصد ہیںوہ آدمی کہاں ہیں۔ اب آدمی وہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے کیونکہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میںسے ہے، باقی صرف جانوروں کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ خدا سے دُور ہیں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السّلام
    کو آدم قرار دینے میں حکمت
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی جو آدم کانام دیا گیا ہے وہ بھی اسی لئے ہے کہ آپ کو خداتعالیٰ کی طرف سے خَاتَمُ الخلفاء
    قرار دیا گیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اب جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکپہنچنا چاہے اُس کے لئے آپ کی غلامی اختیارکرنا ضروری ہے۔ جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص خدا تک پہنچنا چاہے تو وہ نہیںپہنچ سکتا جب تک وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے کیونکہ اب وہی نسل سمجھی جاتی ہے باقیوں کے متعلق سمجھاجاتا ہے کہ وہ ہیں ہی نہیں اِسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد وہی محمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سچے متبع سمجھے جائیں گے جو مسیح موعود کو مانتے ہیں اسی لئے آپ کا نام بھی آدم رکھا گیا۔
    بہرحال ان آیات میںبتایا گیا ہے کہ مَیں خدا کا رسول ہوں اورمیرے ساتھ بہت بڑے واقعات وابستہ ہیں۔ مَیں عالَمِ روحانی کی مکمل سکیم کے ماتحت پیدا کیا گیا ہوں اور جب دربارِ خاص میں فرشتے بحث کر رہے تھے تو میں اُس وقت موجود نہ تھا۔ اس دربار میںمجھے چُنا گیا اور آسمانی بادشاہت کے دشمنوں کے خلاف مجھے نذیر یعنی کمانڈر اِنچیف مقرر کیا گیا۔
    مَلَأِاعلیٰ کے فرائض
    اِن آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ سعید روحوںکے اثرات آسمان پر جمع ہونے شروع ہوتے ہیں اور الٰہی احکام کے
    نازل ہونے سے پہلے ملائکہ بھی فطرتاً ایک معیّن وجود کی طرف مائل ہونے شروع ہو جاتے ہیںاور خداتعالیٰ سے دعا کرنے لگ جاتے ہیں کہ ہمارے ہدایت کے کام کو آسان کرنے کے لئے اِس وجود کو مقرر فرما۔گویا ملائکہ کے جہاں اَور کام ہیںوہاں جیسے فون میں تم نے دیکھا ہو گا کہ جب کسی کو فون کیا جاتا ہے تو درمیان میں کنٹیکٹ (CONTACT) کرنے والے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں اور وہ کنکشن کو فون کرنے والے کے ریسیور (RECEIVER) سے ملا دیتے ہیں جس سے دونوں کا آپس میں تعلق قائم ہو جاتا ہے اِسی طرح قرآن کریم کی اِن آیتوں سے پتہ لگتا ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک واسطہ ہے اور اِس کنکشن بورڈ (CONNECTION BOARD) کانام مَلَأِاعلیٰ ہے۔ خداتعالیٰ جب کوئی بات بندوں تک پہنچانا چاہتا ہے تو بخاری میں آتا ہے کہ خداتعالیٰ پہلے وہ بات جبرئیل کو بتاتا ہے پھر وہ نچلے فرشتوں کو بتاتا ہے ، پھر وہ اس سے نچلے فرشتوں کو بتاتے ہیں یہاں تک کہ وہ زمین تک پہنچ جاتی ہے گویا خدا جب کوئی بات دنیا میں پھیلاناچاہتا ہے تو پہلے وہ مَلَأِاعلیٰ کو بتاتا ہے۔ اِسی طرح زمین سے آسمان پر جب کوئی بات جاتی ہے تو پہلے وہ مَلَأِ اعلیٰ میںجاتی ہے اور پھر وہ خدا کے سامنے پیش ہو کر آخری فیصلہ ہوتا ہے۔
    خداتعالیٰ کا انتخاب ہمیشہ
    قابلیّت کی بناء پرہوتا ہے
    اِسی نُکتہ سے ہم کو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ جو لوگ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ یونہی اندھا دُھند نبی بنا دیتا ہے یہ بات غلط ہے۔ بعض لوگ کہتے ہی کہ
    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نَعُوْذُ بِاللّٰہِ خدا عاشق ہو گیا تھا۔ پنجابی شعرپڑھو تو ان میں یہی مضمون ہوتا ہے کہ ’’او کملی والیا تیرے تے رب عاشق ہو گیا‘‘۔ حالانکہ قرآن یہ بتاتا ہے کہ دنیا میں جب خرابی پیدا ہوتی ہے تو فرشتے انسانی روحوں کے ساتھ چھُونا شروع کرتے ہیں اور چُھو کر محسوس کرتے ہیں کہ کس روح میں کیا قابلیت ہے؟ پھر وہ مختلف اثرات لے کر ریکارڈروم میںجمع ہوتے ہیں اور اس میںان کی توجہ ایک روح کی طرف مرکوز ہو تی چلی جاتی ہے اور آخر تمام روحوں میں سے جو مکمل روح انہیں نظر آتی ہے اُس کے چُنے جانے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور ایک وجود پر ان کا اتحاد ہو جاتا ہے کہ یہ روح ہے جس سے ہماری روحیں ملتی جُلتی ہیں۔ جب وہ یہ فیصلہ کر لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خدمت کے لئے مقرر کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو عالمُ الغیب ہے اسے ضرورت نہیں کہ وہ ایسا کرے لیکن چونکہ اُس نے فرشتوں سے خدمت لینی ہوتی ہے اِس لئے ان کے اندر بشاشت پیدا کرنے اور محبت پیدا کرنے اور ہمدردی پیداکرنے کے لئے اُس نے یہ طریق رکھا ہے کہ وہ پہلے فرشتوں کو غور کرنے کا موقع دیتا ہے تا کہ و ہ سجھیں کہ ان کا بھی انتخاب میںحصہ ہے اس کے بعد حکم نازل ہوتا ہے اور وہ چونکہ ان کے منشاء کے ماتحت ہوتا ہے اس لئے ان کی تسلی ہو جاتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ثُمَّ یُوْضَعُ لَہُ الْقُبُوْلُ فِی اْلاَرْضِ۱۱؎ پِھر ایسے انسان کی قبولیت دنیامیں پھیلا دی جاتی ہے اور لوگ اس کو ماننے لگ جاتے ہیں۔اِ س سے پتہ لگ گیا کہ درحقیقت وہ قابلیت کی بناء پر ہی نبی ہوتا ہے اگر قابلیت کی بناء پر نہ ہوتا تومَلَأِاعلیٰ کے دنیا سے معلومات حاصل کرنے کے کیا معنے؟ پھر تو خدا آسمان پر بیٹھا ہؤا کہہ دیتا فلاں نبی بن جائے اور وہ بن جاتا۔
    بہرحال ان آیات سے ظاہر ہے کہ یہ واقعہ پیدائشِ انسانی کے بعد کاتھا اور سلسلۂ نبوت کے جاری ہونے کے بعد کا تھاکیونکہ اِس آیت میںفرشتوں کا جوسوال تھا اس کا ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ جہاں آدم اوّل کی پیدائش کا ذکر ہے وہاں اس سوال کا بھی ذکر ہے کہ آپ کیوںپیدا کرنا چاہتے ہیں مگر یہاں یہ وہ سوال نہیںکرتے کیونکہ وہ سوال ایک دفعہ ہو چکااورحل ہو چکااب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے موقع پر کوئی وجہ نہیں تھی کہ پھر دوبارہ وہی سوال کیا جاتا کیونکہ ملائکہ کا رُجحان خود وجودِ محمدؐی کی طرف آپ کی بعثت سے پہلے ہو چکا تھا۔ اب خدا نے بتا دیا کہ ہم اِس شخص کو نبی بنانے لگے ہیںجب ہم نبی بنائیں اور یہ اُس عمر کوپہنچ جائے کہ خدا کی وحی اس پر نازل ہونے لگے تو فوراً اس کے کام میں مدد دینے کے لئے کھڑے ہوجانا اوروہ کہتے ہیں اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا۔
    ملائکہ کا شیطانی عنصر سے اختصام
    یہاںیہ سوال رہ جاتا ہے کہ فرشتوں کے متعلق یَخْتَصِمُوْنَ کا لفظ کیوں آتا ہے۔
    کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ کیا جھگڑا کرتے تھے؟ صوفیاء نے اس پر بحث کی ہے کہ اختصام کیا تھامگر وہ اس مضمون کو اس طرح بیان نہیں کرتے جس طرح میں نے بیان کیا ہے ورنہ شاہ ولی اللہ صاحب نے بھی اس مضمون کو لیا ہے اور پُرانے صوفیاء نے بھی ۔ وہ کہتے ہیں کہ فرشتوں میںیہ سوال اُٹھتا ہے تو و ہ یہ بحثیںکرتے ہیں کہ کون مستحق ہے اور کون نہیں ؟ مگر میرے نزدیک یہ غلط ہے جھگڑا تب ہوتا جب اختلاف ہوتا یا ووٹنگ والا سسٹم ہوتا مگر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں فرشتے تأثرات کو قبول کرتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ ان کی توجہ ایک روح پر مرکوز ہو جاتی ہے اور چونکہ الٰہی منشاء بھی وہی ہوتا ہے اس لئے الٰہی حکم صادر ہو جاتا ہے اور وہ دنیا میں نافذ ہو جاتا ہے مگر پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یَخْتَصِمُوْنَ کا لفظ کیوں آیا ہے؟
    سو یا د رکھنا چاہئے کہ میرے نزدیک یہاں یَخْتَصِمُوْنَ کا ذکر اس رسول کے متعلق نہیں یعنی یہ نہیں کہ فرشتے اس رسول کے متعلق جھگڑ رہے تھے کہ یہ رسول بنے یا وہ بنے بلکہ وہ اس شیطانی عنصر کے سا تھ جھگڑر ہے تھے جس نے اس رسول کی مخالفت کرنی تھی گویا فرشتوں نے جب وجودِ محمدؐ ی میں نورِا لٰہی دیکھنا شروع کیا تو فوراً شیطانی طاقتیں جو راستہ میں حائل ہونے کے لئے جمع ہو رہی تھیں ان سے انہوں نے جھگڑنا شروع کر دیا پس یَخْتَصِمُوْنَ کا لفظ رسالت کے متعلق نہیں بلکہ یہ اختصام شیطانوں کے متعلق ہے اور انہی کے ساتھ ان کا سارا جھگڑا ہے۔
    پس یَخْتَصِمُوْنَ کے معنے یہ ہیں کہ جُوں جُوں اُنہیں پتہ لگتا چلا جاتا ہے کہ فلاں شخص اس عُہدہ کے قابل ہے شیطانی طاقتیں جو مقابل میں کھڑی ہوتی ہیں ان سے لڑائی شرو ع کر دیتی ہیں یہاں تک کہ خداتعالیٰ کے حکم کے ماتحت آخری جنگ میںشیطانی طاقتیں شکست کھا جاتی ہیںاور خداتعالیٰ کی حکومت دنیامیںقائم ہو جاتی ہے۔
    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    کا الٰہی دربار میں شاندار اعزاز
    اب ہم اس دربارِ خاص کا ذکر کرتے ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعزاز کے لئے منعقد ہؤا اور جس میں اللہ تعالیٰ نے
    آپ کے انتہائی قُرب کے مقام کو ظاہر کیا اور بتایا کہ آپ کو دوسرے درباریوں پرکیا فضیلت حاصل ہے۔ پہلے اُس دربار کا ذکر کیا گیا تھا جس میں آپ کا انتخاب عمل میں لایا جائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ہم آپ کو اس منصب پر مقرر کر رہے ہیںاب اسی دربار کے دوسرے حصہ میں یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کا کتنا بڑا اعزاز کیا گیا۔
    محبت اور اتحاد کا کمال
    اللہ تعالیٰ سورہ نجم میں فرماتا ہے
    ۱۲؎ یعنی بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھا اور پھر وہ درباری اس کے قریب ہؤا جس کے بعد بادشاہ اپنے عرش سے اُتر کر اُ س کے پاس آ گیا اور اتنا اُس کے قریب ہو گیا کہ یوں نظر آتا تھا جیسے دو قَوسیں آپس میں ملا کر کھڑی کر دی گئی ہیں۔گویا دربار لگا بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھا اور اُس نے اپنے اس درباری کو بلایا جس کے لئے دربارِ خاص منعقد کیا گیا تھا اور حکم بھیجا کہ ہمارے دربار میںحاضر ہو جائو ہم تمہارا اعزاز کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں تک تو باقی بادشاہوں سے بات ملتی ہے لیکن دنیا کے درباروں میںکبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس کو کسی عُہدے پرمقرر کیا جاتا ہے وہ کھِسک جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مَیں اس کا اہل نہیں۔
    لیکن اِس دربار کے متعلق فرماتا ہے کہ خدائی حکم کے ملتے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خداتعالیٰ کے قریب ہو گئے اور دوسرے درباروں کے خلاف جن میں بادشاہ اپنی جگہ سے کھِسکتا نہیں خداتعالیٰ عرشِ عظیم سے اُتر کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا اور اتنا قریب ہؤا کہ یوں نظر آتا تھا گویا دو قَوسیں آپس میںملا کر کھڑی کر دی گئی ہیں۔
    دوسری جگہ عام انسانوں کے متعلق بھی خداتعالیٰ کا یہ فعل موجود ہے چنانچہ فرماتا ہے ۱۳؎ اَبصَار خدا تک نہیں پہنچتیںکیونکہ وہ ناکام رہ جاتی ہیں مگر خدا خود لوگوں کی آنکھوں تک پہنچ جاتا ہے۔
    قَابَ قَوْسَیْنِِ کا نظارہ
    غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا گیا اور آپؐ اس کی خدمت میںحاضر ہونے کے لئے
    چلے مگر جب چلے تو اللہ تعالیٰ اپنی محبت کے جذبہ میںاپنی جگہ پر نہ ـٹھہرا بلکہ آپ نیچے اُتر آیا۔ اور اُس نے اُتر کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم تجھے اپنا گورنر بنانا چاہتے ہیں مگر ہماری گورنری ایسی نہیں ہوتی جیسی دنیا کی گورنریاں ہوتی ہیں ہم تجھے گورنر بھی بنانا چاہتے ہیں اور اپنا دوست بھی بنانا چاہتے ہیں۔ اب ہم دونوں کی قَوسیں ایک ہو گئی ہیں۔ اے محمد! (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کچھ تیرے بھی دشمن ہوں گے اور کچھ میرے بھی دشمن ہونگے آخر ہرایک کے دشمن ہوتے ہیں کچھ میرے بھی دشمن ہیں یعنی توحید کے منکر اور کچھ تیرے بھی دشمن ہیں یعنی انسانیت اور اخلاق اورشرافت کے دشمن ۔ تجھے بھی ضرورت ہے ان پر تیر چلانے کی اور مجھے بھی ضرورت ہے اپنے دشمنوں پرتِیر چلانے کی۔ پس آ! ہم دوست بنتے ہیں اب ہم دونوں اپنی کمانیں جوڑ لیتے ہیں اور ان دونوں کمانوں کاایک ہی وتر ہوگا یعنی وہ تار جو کمان میں ہوتی ہے ایک ہو گی اور پھر تیرا تیر بھی اور میرا تیر بھی اکٹھا ایک ہی طرف چلے گا، یہ کتنی دوستی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اظہار فرمایا۔
    مقام محمدؐیت کی بلندی
    پھر فرماتا ہے ۔ عربی زبان میں یا کے معنے بھی دیتا ہے اور ترقی کے
    معنی بھی دیتا ہے گویا پہلے توتیرا تیر بھی اورمیرا تیر بھی ایک طرف چلتا تھا مگرپھر اس سے بھی ترقی ہوئی اور وہ ترقی یہ ہے کہ پہلے تو دوقَوسیں تھیں اور دشمن بھی دو ہی تھے یعنی محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کادشمن اور خدا کا دشمن۔ بیشک تیراکٹھا چلتا تھا مگر دشمن دو تھے پھر وہ دونوں ایک ہو گئے یعنی قَوسیں بھی ایک بن گئیں اور ہاتھ بھی ایک بن گیاتیر بھی ایک بن گیا اور دشمن بھی ایک بن گیا۔
    اِسی کی طرف دوسری جگہ قرآن کریم میںاس طرح اشارہ کیا گیا ہے کہ ۱۴؎ یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم اورتُو دونوں اس طرح اکٹھے ہو چکے ہیں کہ تُو نے جو بدر کی جنگ میںپتھر پھینکے تھے وہ تُو نے نہیں پھینکے بلکہ ہمارا ہاتھ تھا جو ان کو پھینک رہا تھا۔ گو یا پہلا اتحاد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خدا کے درمیان یہ ہؤا کہ دو قَوسوں سے ایک تیرچلنا شروع ہؤا اور پھر آخری اتحاد قوسوں کا آپس میں مدغم ہو جانا اور پھر ہاتھوں کا بھی آپس میں مدغم ہو جانا تھا گویاہاتھ بھی ایک ہو گئے، قَوس بھی ایک ہو گئی، دشمن بھی ایک ہو گیا اور تیر بھی ایک ہو گیا۔
    عجیب دربار
    یہ کیسا عجیب دربار ہے کہ ابھی کام شروع بھی نہیں کیا اور پہلے ہی دوستانہ تعلق اور پیار ہو گیاکیوں؟ اس لئے کہ دُنیوی بادشاہ جب کسی
    کو جرنیل مقرر کرتے ہیںتو کہتے ہیں معلوم نہیں وہ شکست کھا کر آتا ہے یا فتح حاصل کر کے؟ پہلے پتہ تو کر لینے دو۔ مگر یہ دربار ایسا ہے جس میں بادشاہ کو پہلے ہی پتہ ہوتا ہے کہ میرا جرنیل جیت کر آئے گا اس لئے اگر اسے پہلے سے ہی انعام دے دیں تو اس میںکوئی حرج نہیں، بہرحال اِسی نے جیتنا ہے۔
    بادشاہوں کے خلاف
    درباریوں کی سرگوشیاں
    پھر ہم دُنیوی بادشاہوں کے دربار میں جا کر دیکھتے ہیں تو وہاں بعض دفعہ عجیب تماشہ نظر آتا ہے۔بادشاہ بیٹھا ہؤا ہوتا ہے اور دُورکناروں پر لوگ آپس میں
    کُھسر پُھسر کر رہے ہوتے ہیں کہ فلاں جس کو بادشاہ نے مُنہ چڑھایا ہؤا ہے بڑا خبیث آدمی ہے۔ دیکھنا کسی دن بادشاہسے دھوکا کر کے رہے گا۔ یہ فلاں شہزادہ کا دشمن ہے، فلاں بیوی پر اِس کو بدظنی ہے خبر نہیں کیا کرے گا غرض اِدھر دربار لگا ہؤا ہوتا ہے اور اُدھر سرگوشیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دربار لگا ہؤا ہے بادشاہ آیا اور اُس نے کسی کو خلعت دیا جب اسے خلعت دے کر رُخصت کیا تو کسی درباری نے کہا حضور! اگر یہ طاقت پکڑ گیا تو آپ کے خلاف کھڑا ہو جائے گا اور آپ کونقصان پہنچائے گا۔ بادشاہ جواب دیتا ہے مَیں خوب جانتا ہوں لیکن موقع دیکھ رہا ہوں موقع پر گردن پکڑلونگا۔
    آسمانی دربار کی ایک سیر
    ہم اس آسمانی دربار کو بھی جا کر دیکھتے ہیں کہ کیا یہاں بھی وہی کچھ ہے کہ اِدھر گورنری دی جا رہی ہے اور
    اُدھر سازشیں اور شکایتیں ہو رہی ہیں اور گورنروں کے خلاف باتیں ہو رہی ہیں؟ سو قرآن کریم کی اجازت سے میں تم کو اس دربارِ خاص میں لے جاتا ہوں ورنہ اس دربار میں ہر ایک کو جانے کی اجازت نہیں۔ ہم اس دربار میںجاتے ہیں،دروازہ کھولتے ہیں اور اندر سَر ڈال کر دیکھتے ہیں کہ کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ کیا گورنروں کے خلاف باتیں ہو رہی ہیں، ان پر جرح وقدح ہو رہی ہے یا ان کے نقائص بیان کئے جا رہے ہیں یا تعریفیں ہو رہی ہیں؟ ہم جب اندر سر ڈالتے ہیںاور دیکھتے ہیںکہ کیا ہو رہا ہے تو ہمارے سر ڈالتے ہی ہمارے کان میں ایک آواز آتی ہے کہ آ جائو بے شک آئو کوئی حرج نہیں ہم جو کام کر رہے ہیںوہ تم کو بھی بتاتے ہیں تم بھی وہی کام کرو۔۱۵؎
    اس دربار میں بجائے گورنر کی شکائتیں ہونے کے، بجائے اس پر الزام قائم کرنے کے بجائے، اس کے متعلق شبہات پیدا کرنے کے ہم جو دیکھتے ہیں تو بادشاہ بھی اُس پر برکات نازل کرنے میںلگا ہؤا ہے اور درباری بھی اس کے لئے دعائیں کر رہے ہیں اور ہم جو چوری چھُپے دیکھنے جاتے ہیں تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ تم بھی درود پڑھو اور سلام بھیجو۔
    اخلاص اور محبت کے نظارے
    کیا اخلاص اور کیسی سچی محبت اورکیسے سچے تعلق کا دربا ر ہے کہ جس پرہر شخص
    اعتبار کر سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ یہاں نہ میرے ساتھ غداری کی جائے گی ، نہ میرے دوستوں کے ساتھ غداری کی جائے گی، نہ میرے ساتھیوں کے ساتھ غداری کی جائے گی، اس دربار میں خالص سکّہ ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کی محبت کام کر رہی ہے۔ دوسرا حصہ درباریوں کی برطرفی کا ہوتا ہے وہ مَیں بتا چکا ہوںکہ برطرفی اِس دربار میں ہوتی ہی نہیں۔ درباری ختم بھی ہو گیا مر گیا نوحؑ کسی زمانہ میں پیدا ہؤ ا اور ختم ہو گیا، اس کی نسل کا بھی پتہ نہیں، اس کی حکومت کوئی نہیں ، مذہب کوئی نہیں، تعلیم کوئی نہیں لیکن مجال ہے جو نوحؑ کو کوئی گالی دے سکے، جھٹ خدا کے فرشتے اُس کی گردن پکڑ لیتے ہیں کہ خدا کے گورنر کو گالی دی جا رہی ہے!!
    دربارِ خاص کی دوسری غرض
    دوسری غرض دربارِ خاص کی یہ ہوتی ہے کہ بادشاہ اپنے وزراء اور امراء کو خاص امور کے بار ہ میں
    مشورہ دے اور بتائے کہ انہوں نے اِن اِن ہدایتوں کے ماتحت کام کرنا ہے تا کہ وہ اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا کر سکیں۔ چنانچہ اب اس دربار کاذکر کیا جاتا ہے جس میں عُہدئہ رسالت کی تفویض کے احکام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دئیے گئے اور بتایا گیا کہ آپ نے دنیا میںکیا کرنا ہے اور کس طرح اپنے فرائض کو سرانجام دینا ہے۔
    دُنیوی بادشاہوں کے مشوروں کی حقیقت
    ہم دیکھتے ہیں کہ دُنیوی درباروں میں اوّل تو بادشاہ خود
    مشورہ کا محتاج ہوتا ہے اور پھر جو وہ مشورے دیتا ہے بِالعموم غلط بھی ہوتے ہیں اور بعض اوقات اُن مشوروں سے وزراء کو اتفاق نہیں ہوتا اور بعض دفعہ وہ اُن پر عمل ہی نہیں کر سکتے اور سب کا م خراب ہو جاتا ہے مگر یہ ایسا دربار ہے جس کا بادشاہ کسی کے مشورہ کا محتاج نہیں۔
    کامیابی کے متعلق تذبذب کی کیفیت
    پھر دُنیوی دربارِ خاص میں بادشاہ ایک افسر کو بلاتا ہے تو اس سے کہتا
    ہے کہ ہم تمہاری وفاداری پر یقین کرکے تم کو فلاں عُہدہ پر مقرر کرتے ہیں امید ہے تم ہمارے اعتبار کے اہل ثابت ہو گے تم فلاں فلاں کام دیانتداری سے کرو اور اگر تم اس میںکامیاب ہو جائو گے تو ہم تم سے بہت خوش ہونگے۔ مَیں پہلے بتا چکا ہوں کہ وہ خوشی کتنی حقیر ہوتی ہے مگر بہرحال یہی سہی لیکن ان کلمات میں بھی کتنی کمزوری پائی جاتی ہے۔ اوّل بادشاہ کہتا ہے ہم تم کو چُنتے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ تم کامیاب ہو گے گویا بادشاہ اُس کو ایک تخمین(یعنی اندازہ) سے چُنتا ہے اور پھر اس شک میں رہتا ہے کہ معلوم نہیں وہ کامیاب بھی ہو گا یا نہیں۔ لیکن اِس الٰہی دربار میں کوئی شک نہیں ہر شخص کو یقین کے ساتھ چُنا جاتا ہے اور یقین کیا جاتا ہے کہ وہ کامیاب ہو گا اور یقین کے ساتھ کہاجاتا ہے کہ وہ کیوں کامیاب نہیں ہو گا جب کہ ہم اس کے ساتھ ہیں۔
    بڑے بڑے جرنیلوں کی ناکامی
    دنیا میں بسا اوقات بڑے بڑے جرنیل بڑے نکمّے ثابت ہوتے ہیں چنانچہ دیکھ لو
    پچھلی جنگِ عظیم میں کس طرح جرنیل بدلے گئے۔ پہلی جنگ عظیم میںتین جرنیل یکے بعد دیگرے بدلے گئے تھے دوسری جنگ عظیم میں بھی ایسا ہی ہؤا۔ ابھی تازہ واقعہ دیکھ لو میکارؔتھر نے کوریا کی جنگ میں کتنا بڑا شُہر ہ حاصل کیا تھا لیکن ٹرومین سے اس کا اختلاف ہو گیااور لوگوں نے اس کے کان بھرنے شروع کر دئیے کہ اگلی پریذیڈنٹی کے لئے یہ کھڑا ہو نا چاہتا ہے اور آپ کا مدِّمقابل بننا چاہتا ہے چنانچہ جھٹ فساد کی تاریں چھُوٹنی شروع ہوئیں ا ور اُسے نکال کر باہر پھینک دیا اب اُسے کوئی پوچھتا بھی نہیں۔
    دوسرے دنیا میںجب کسی جرنیل پر بھروسہ کیا جاتا ہے تو وہ بھروسہ خیالی اور شکّی ہوتا ہے جو آگے چل کر غلط ہو جاتا ہے اور بعض جگہ وہ شکست کھا جاتا ہے یا بعض جگہ وہ کامیاب ہو جاتا ہے لیکن اتنا نتیجہ نہیںنکلتا جتنے نتیجہ کی امید کی جاتی ہے۔ اور بعض دفعہ وہ کامیاب ہو جاتا ہے تو خود بادشاہ کے خلاف لڑنا شرو ع کر دیتا ہے۔دوسری قوموں کو جانے دو مسٹر چرچل کو ہی دیکھ لو۔ اس نے گزشتہ جنگ میںکتنی بڑی قربانی کی مگر چندمہینوں کے اندر اندر اس کے ملک نے اسے ایسی خطرناک شکست دی کہ پارلیمنٹ میںاس کی اور اس کے ساتھیوں کی پارٹی نہایت ہی قلیل رہ گئی۔ پھر ہندوستان میں گاندھی جی نے کہا کہ مجھے اندر سے آواز آتی ہے اور لگے نبیوں کے سے دعوے کرنے آخر انہی کے ایک چیلے نے اُٹھ کر انہیں پستول مار دیا۔
    قرآنی دربارِ خاص میں
    گورنر جنرل کی ہدایات
    لیکن اب قرآنی دربار کی سُن لو یہاں ایک بڑے بھاری جرنیل کا تقرر ہو تا ہے اسے دربارِ خاص میںبُلایا جاتا ہے اور اعلان پڑھا جاتا ہے کہ
    ہم نے آپ کو مقرر کیا اب ہم آپ کو ہدائتیں دیتے ہیں کہ آپ نے کیا کرنا ہے کس طرح کرنا ہے اور کس کس طریق سے اِس کام کو سرانجام دینا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے ۱۶؎
    میلاد النبیؐ کے وعظ
    یہ آیات تو قرآن کریم میںتیرہ سَوسال سے موجود ہیں اور علماء نے اِن آیات کی تفسیریں بھی لکھی ہیں لیکن آجکل
    کل کے مولویوں کے وعظ خصوصاً میلادالنبی ؐ کے تم نے سنے ہی ہوں گے ، جب وہ ان آیات کی تفسیر شروع کرتے ہیں تو کہتے ہیں۔
    ؎ او کملی والیا! اے زُلفاں والیا !اے کملی والیا!
    ایک ہندو وکیل سے گفتگو
    مَیں ایک دفعہ فیروز پور گیاوہاں ایک ہندو وکیل جو اچھا ہوشیار اور آریہ سماج کا سیکرٹری تھامجھ سے ملنے
    کے لئے آیا اور کہنے لگا آپ کہتے ہیں ہندو مسلمان لڑتے رہتے ہیں مگر کیا آپ نے کبھی بتایا بھی کہ اسلام کیا چیز ہے؟ مَیں نے کہا تمہیں کیا بتائیں؟ کہنے لگے، میلادالنبیؐ کا جلسہ ہوتا ہے تو ہم بھی جاتے ہیں کہ وہاں چل کر پتہ لگائیں گے کہ اسلام کیا ہوتا ہے مگروہاںہمیں یہ سنایا جاتا ہے کہ اے کملی والیا! اے زُلفاں والیا! کہنے لگا ہم زُلفیں دیکھنا نہیںچاہتے ہم کملی دیکھنا نہیں چاہتے ہم تو تعلیم سُننا چاہتے ہیں مگر بجائے یہ بتانے کے کہ رسول اللہ کی تعلیم کیا تھی، آپ ؐ کے کیا کام تھے اورآپ کی کیا خدمات تھیں ہمیں بتایا یہ جاتا ہے کہ آپ کی زُلفیں ایسی تھیں اور آپ کی کملی ایسی تھی ہم عشقِ مجازی تو نہیں کرنا چاہتے کہ ہمیں یہ باتیں بتائی جاتی ہیں۔ شرمندگی تو بہت ہوئی مگر خیر مَیں نے کہا لوگ غلطی کرتے ہیں ہمارا نقطہ نگاہ بھی آپ کبھی سُن لیں۔ کہنے لگا میں نے آپ کی ایک تقریر سُنی ہے اور اس سے مَیں سمجھتا ہوں کہ آپ کاطرز اَور ہے مگر میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے ساتھ یہ سلوک ہوتا ہے اس کے بعد یہ خواہش کرنا کہ ہم مسلمان ہو جائیں اور ہم سے اس کی امید رکھنا کس طرح درست ہو سکتا ہے کیا کملی دیکھ کر کوئی مسلمان ہو سکتا ہے یا زُلفیں دیکھ کر کوئی مسلمان ہو سکتا ہے؟
    دربارِ خاص کا نقشہ دوسرے مسلمانوں کے نقطہ نگاہ سے
    پس غیر احمدی بھی اس دربار کا نقشہ کھینچتے ہیںلیکن ان کا نقشہ میںپہلے سُنا دیتا ہوں کہ کیا ہوتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں دربارِ خاص لگاہؤا ہے ،
    بادشاہِ خلق وکون کی آمد آمد ہے، چھوٹے چھوٹے درباروں کے اہلکار تو ایسے موقع پر ہمہ تن مصروفِ عمل ہوتے ہیں،بھاگ دَوڑ ہو رہی ہوتی ہے، افسر قرینہ سے کھڑے ہوتے ہیںاورمنتظر ہوتے ہیں کہ بادشاہ آئے تو فوراً اس کا استقبال کریںاور اس کا اعزاز کریں اور اس کی تعریف کریں۔لیکن ہمارے بادشاہ کے دربار کا یہ حال بتایا جاتا ہے کہ بادشاہ سلامت تشریف لاتے ہیں، تمام دربار میں خاموشی طاری ہو جاتی ہے اور جس کی خاطر دربارِ خاص لگایا گیا تھا وہ ایک کمبل اوڑھ کر ایک گوشے میںسویا پڑا ہے اب بادشاہ اس کے پاس پہنچتا ہے ، اُس نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے ہیں، گُھٹنے گُھٹنے تک اس کے جسم پر میل چڑھی ہوئی ہے، بادشاہ سلامت آ کر اُسے جگاتے ہیں کہ اُٹھ میاں! یہ سونے کا وقت ہے۔ تجھے کام پر بھیجنا تھا تیری خاطر دربار خاص لگایا تھا اور تُو کمبل لے کر سو رہا ہے، اُٹھ! اُٹھ کے کمبل اُتار، کپڑے دھو، غسل کر ،شرک چھوڑ دے، سُود خوری نہ کر اور مصیبتیں برداشت کر۔ یہ دربار ہے جس کانقشہ ہمارے سامنے کھینچا جاتا ہے۔ بھلا جو معمولی معمولی ریاستیں ہیں مثلاً شملہ کی ریاستیں جو پانچ پانچ سات سات ہزار آبادی کی ہیں کیا تم نے کبھی وہاں بھی ایسا دربار دیکھا کہ راجہ نے کسی کو بُلایا ہو اور جس کے اعزاز میں دربار منعقد کیا گیا ہو اُس کی یہ حالت ہو کہ وہ کمبل میں سو رہا ہے اور اتنی میل چڑھی ہوئی ہے کہ حدنہیں۔ کپڑوں سے بدبُو آ رہی ہے، پاجامے سے بد بُو آ رہی ہے، راجہ آکر جگا تا ہے اور جگانے کے بعد کچھ ملامت کرتا ہے اور ملامت کر کے کہتا ہے تیرے سپرد فلاں کام کیا جاتا ہے مگر ایسے گند میں باہر جانا بھی ٹھیک نہیں پہلے کپڑے دھولے، غسل کر لے اور پھر جا کر یہ کام کر۔ یہ دربار ہے جو غیراحمدی پیش کرتے ہیں۔
    حقیقی دربار کی جھلک
    اب میں وہ دربار پیش کرتا ہوں جو حقیقتاً قرآن کا دربار ہے اور جو خداتعالیٰ نے قرآن کریم سے ہمیں سمجھایا ہے۔
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دِثَار کے ایک معنی عربی زبان میں اُس کپڑے کے ہوتے ہیں جو سوتے وقت اوپر لیا جاتا ہے۱۷؎ مثلاً کمبل ، لوئی یا لحاف وغیرہ اور لوگوں نے یہاں یہی معنے مراد لئے ہیں۔مگر جب مدّثّر کہا جائے گا تولغت کے لحاظ سے اس کے یہ معنی ہونگے کہ وہ کمبل یا لوئی اوڑھ کر بھی سو رہا ہے۔ کئی لوگ لوئیاں لے کر تو یہاں بھی بیٹھے ہیںمگر وہ جاگ رہے ہیں۔ مدّثّر تب کہا جائیگا جب کوئی لوئی لے کر سو رہا ہو۔ لیکن آجکل کے مولوی کی یہ حالت ہے کہ اِدھر تو ہمیںکفر کا فتویٰ دینے کے لئے ہروقت تیار رہتا ہے اور اُدھر قرآن میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی لفظ استعمال ہو تو یہ ہمیشہ اس کے بُرے معنے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لیتا ہے اور عیسیٰ ؑکی نسبت وہی لفظ آجائے تو خیر۔ معلوم نہیں عیسیٰ ؑاس کا کیا لگتا ہے کہ وہ ہمیشہ اس کے اچھے معنے کرتا ہے اور پھر بھی وہ مولوی کہلاتا ہے۔
    مُدَّثِّرکے معنی
    یہ درست ہے کہ مدثرؔ کے ایک معنی کمبل اوڑھ کر سونے والے کے بھی ہیں مگر مدّثّر کے ایک اور معنی بھی ہیں جو اچھے ہیںاور اس کو
    محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق وہ نہیں سُوجھتے اور وہ معنے ہیں:کپڑے پہن کر تیار ہو جانے والا اور گھوڑے کے پاس کھڑا ہونے والا کہ حکم ملتے ہی فوراً چھلانگ مار کر اس پر سوار ہو جائے۔۱۸؎ یہ بھی لغت میںلکھے ہوئے ہیں۔چنانچہ دِثَار کے متعلق لکھا ہے کہ اس کے معنے ہیں اَلثَّوْبُ الَّذِیْ فَوْقَ الشّعَارِ ۱۹؎ یعنی دِثَار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو کُرتا وغیرہ کے اوپر پہنا جائے۔جب انسان نے باہر جانا ہوتا ہے تو وہ خالی کُرتا نہیںپہنتا بلکہ کوٹ پہنتا ہے۔ یا فوج والے لڑنے کے لئے جاتے ہیں تو وردی پہن لیتے ہیں، پس اس کے معنے یہ ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم نے وردی پہنی ہوئی ہے۔
    ان مُفسّرین کو یہ تو نظر آتا ہے کہ مدّثّر کے معنے کمبل اوڑھ کر سونے والے کے ہیں مگر یہ نظر نہیں آتا کہ اس کے ایک یہ معنے بھی ہیں کہ اے وردی پہن کر کھڑے ہونے والے انسان! ۔اِسی طرح اس کے دوسرے معنے گھوڑے پر چھلانگ لگا کر چڑھنے والے کے ہیں۲۰؎ گویا وہ اس بات کے انتظار میں کھڑا ہے کہ حکم ملے تو گھوڑے پر چھلانگ لگا کر سوار ہوجائوں اور کام کے لئے دوڑ پڑوں۔
    اب ان معنوں کو دیکھو اور کمبل اوڑھ کر سو رہنے والے معنوں کو دیکھو کیا اِن دونوںمیں کوئی بھی نسبت ہے؟ کیا وہ دربار معلوم ہوتا ہے اور دربار بھی وہ جو محمدرسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کے تقرر کے لئے منعقد ہؤ ا۔ پیچھے مایوسی ہو جائے تو اور بات ہے لیکن یہاں تو ابتداء میں ہی نَعُوْذُ بِاللّٰہِ گالیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ اوسونے والے! تیری کام کی طرف توجہ ہی نہیں، میل سے بھرا ہؤا ہے اُٹھ! اور تیار ہو اور اپنے کام کی طرف جا اور ہر قسم کے سُستی اور شرک وغیرہ کو چھوڑ۔
    قُمْ فَاَنْذِرْکی تشریح
    آگے آتا ہے اِ س کے معنے وہ یہ کرتے ہیں کہ کھڑا ہو جا اور اِنذار کر۔حالانکہ جو کمبل لے کر سویا
    پڑا ہے اُس کے سپرد کوئی عقلمند کام ہی کیوں کرے گا۔ وہ تو کہے گا کہ اگر وہ سویا ہؤا ہے تو سویا ہی رہے کے الفاظ تو بتا رہے ہیں کہ جس کے سپرد کام کیا جاتا ہے وہ اپنے اندر کوئی شان رکھتا ہے، وہ اپنے اندر کوئی عزم رکھتا ہے، وہ اپنے اندر کوئی پختہ ارادہ رکھتا ہے۔ وہ کا لفظ لے لیتے ہیںاور سمجھتے ہیں کہ اس کے معنے کھڑے ہو جانے کے ہیں حالانکہ جس طرح مدّثّر کے دو معنے ہیں اِسی طرح عربی زبان میں کے بھی دو معنے ہیں۔ کے معنے کھڑے ہونے کے بھی ہیں اور ْکے معنے کسی بات پر ہمیشہ کے لئے قائم ہوجانے کے بھی ہیں۔ انہوں نے پہلے کمبل کے معنے کئے پھر کہا اوسونے والے! کھڑا ہو جا۔ ہم نے یہ معنے کئے ہیں کہ اے وہ شخص جو عُہدہ کے مطابق وردی پہنے تیار کھڑا ہے کہ حکم ملتے ہی گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے کام پر چلا جائوں قُمْ ہمیشہ کے لئے اپنے کام پر لگ جا اور کبھی بھی اپنے کام میں سُستی مت دکھائیو اور کبھی بھی اپنے کام سے غفلت مت کیجیؤ۔ اب ہمیشہ ہمیش کے لئے اِنذار کا مقام اور نبوت کا کام تیرے سپرد کر دیا گیا ہے اب کوئی پنشن نہیں،کوئی چھُٹی نہیں، ساری عمر کے لئے یہ کام تیرے سپرد کر دیا گیا ہے۔
    رَبََّکَ فَکَبِّرْ کا
    پہلی آیات سے تعلق
    تیسری آیت ہے اور اپنے رب کی بڑائی کا دنیا میں ڈھنڈوراپیٹ۔ اب اس آیت کو ذرا پہلی آیت سے ملائو کہ ارے سوئے ہوئے! ارے کمبل اوڑھ کر لیٹے
    ہوئے! ارے نیند کے ماتے اُٹھ! ڈھنڈوراپیٹ ۔ بھلا نیند والے نے کیا ڈھنڈوراپیٹنا ہے محض بے جوڑ معنے ہیں جن کا پہلی آیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ لیکن مَیں نے جو معنے کئے ہیں وہ یہ ہیں کہ اے وردی پہن کر کھڑے ہونے والے! اے حُکم ملتے ہی گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہو کر دنیا میں دَوڑ جانیوالے! اب ہمیشہ ہمیش کے لئے خدا کا پیغام پہنچانا تیرے سپرد کیا گیا ہے تُو دنیا کو بتا کہ اگر مانو گے تو بچو گے نہیں مانو گے تو تباہ ہو جائو گے۔
    ثِیَا بَکَ فَطَھِّرْ
    کی مضحکہ خیز تفسیر
    چوتھی آیت ہے وَثِیَا بَکَ فَطَھِّرْ۔مولوی اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ اپنے کپڑے پاک کر۔ وہ کہتے ہیں نماز جو پڑھنی تھی کپڑے پاک کرنا ضروری تھا گویا صرف نماز
    کے لئے کپڑے صاف کئے جاتے ہیں۔ انگریزوں نے کبھی کپڑے پاک نہیں رکھے، امریکنوں نے کبھی کپڑے پاک نہیں رکھے جب سے نما ز شروع ہوئی ہے اُس وقت سے کپڑے پاک رکھے جانے شروع ہوئے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ ان کے نزدیک پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صفائی کی طرف کوئی رغبت نہیں تھی نماز کا حکم آیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کپڑے صاف رکھو۔
    پھر سوچو کہ ان آیات کا آپس میں جوڑ کیا ہؤا ؟ پہلے معنے کئے اوسونے والے اُٹھ! پھر کہا اُٹھ اور دنیا میں جا کر اِنذار کر۔ پھر ساتھ ہی کہہ دیا جااور کپڑے دھو۔ اب وہ کپڑے دھوئے کہ اِنذار کرے۔ دونوں میں جوڑ کیا ہؤا؟ اب یہ مولوی فیصلہ کر لیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے ؟کپڑے دھونے لگتے تھے یا باہر جا کر تبلیغ کرتے تھے؟ غرض ایسی بے جوڑ باتیں کرتے ہیںاور اس قسم کی ہتک آمیز باتیں کرتے ہیں کہ درحقیقت اگر وہ غور کریںتو ان کو معلوم ہو کہ اسلام کے ساتھ ان باتوں کا کوئی تعلق ہی نہیں۔ایسی ایسی غیر معقول باتیں کرتے ہیں کہ ہر بُری بات محمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ بھلا کوئی سمجھائے کہ کا اِس جگہ جوڑ کیا بنتا ہے۔ اگر پہلی آیت کے یہ معنے ہیں کہ اے کمبل لے کر سونے والے! تو یہ اگلے معنے نہیں لگتے کہ اُٹھ اور دنیا میں شور مچا دے۔ کمبل لے کر سونے والے نے شور کیا مچانا ہے وہ تو پھر سو جائے گا۔ مگر تھوڑی دیر کے لئے یہ بھی مان لیا کہ اُسے ہِلایا، پانی کے چھینٹے دئیے اور وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا مگر جب وہ تبلیغ کرنے کے لئے نکلا تو ہم نے کہا ٹھہر جا ٹھہر جاکپڑے دھولے تیرے کپڑے بہت میلے ہیں۔لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہِ۔تبلیغ بھی رہ گئی۔ گویا محمد رسول اللہ علیہ وسلم جیسا پاکیزہ نفس انسان جن کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وجود ایسا ہے کہ اگر اس پر خدائی نور نہ بھی گرتا تب بھی یہ روشن نظر آتا یعنی محمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم قرآن کے بغیر بھی پاکیزہ تھے اس مقدس انسان کے متعلق یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ جیسے کوئی پہاڑی گڈریا ہوتا ہے کہ مہینوں اُس کو کپڑے دھونے کی توفیق نہیں ملتی محمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کی شکل بھی نَعُوْذُبِاللّٰہِ ویسی ہی تھی۔ پہلے تبلیغ کا حکم دیا پھر خیال آیا کہ بڑی شرمندگی ہو گی لوگوں کو خیال آئے گا کہ کیسے آدمی کو بھیج دیا اس لئے کہہ دیا کہ کپڑے دھولے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے رشتہ داروں
    اور دوستوں کو تبلیغ کرنے کا ارشاد
    اب ہم بتاتے ہیں کہ اس کے کیا معنے ہیں۔ لیکن میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں
    کہ یہ خالص میرے معنے نہیں بلکہ بعض پہلے صوفیاء نے بھی اس حصہکے یہ معنے لکھے ہیں پہلے نہیں لکھے لیکن یہ معنے لکھے ہیں ثِیَاب عربی زبان میں لُغۃً تو کپڑوں اور دل کو کہتے ہیں۔۲۱؎ لیکن محاورہ میں ثیاب اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی کہتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعہ سے انسان کی حفاظت ہوتی ہے، اس کے عیب چھُپتے ہیں اور وہ اس کے گرد لِپٹے ہوئے ہوتے ہیں جیسے کپڑا لِپٹتا ہے ۔ پس استعارہ اور مجاز کے طور پر جیسے لوگ کہتے ہیں فلاں سکندر ہے، حاتم ہے مجازاً اور استعارۃً ثیاب کے معنے ،دوست، رشتہ دار اور قریبی لوگوں کے ہوتے ہیں اور لُغۃً اس کے معنے کپڑے اور دل کے ہیں۔ دل کے معنے مَیں اِس جگہ نہیں لگاتا لیکن مَیں کہتا ہوں کہ جو معنے بھی لگائو سیاق وسباق کو مدنظر رکھو۔
    میرے نزدیک سیاق وسباق کو مدّنظر رکھتے ہوئے اِس کے جو معنے بنتے ہیں وہ یہ ہیں کہ اے محمد رسول اللہ! تُو پہلے اپنے بیوی بچوں اور رشتہ داروں کو سمجھا، پھر اپنے قریبی دوستوں کو سمجھا، پھر اپنی قوم والوں کو سمجھا اور ان کو دین اسلام کی تعلیم کی طرف لا ۔اب دیکھو یہ معنے یہاں چسپاں ہو جاتے ہیںاور آیات کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ اے تقررِ گورنری کی خبر سنتے ہی وردی پہن کر کھڑے ہونے والے! اور اس بات کی امید رکھنے والے کہ حکم ملتے ہی مَیں گھوڑے پر چڑھ جائوں تیار ہو اور ہمیشہ کے لئے اس کام میں مشغول ہو جا جو ہم نے تیرے سپردکیا ہے اور سب سے پہلے یہ اِنذار اپنے گھر سے ، اپنی بیوی سے اور اپنے رشتہ داروں اور بچوں سے شروع کر۔
    اب دیکھ لو یہاں کپڑے دھونے اور اِنذار کرنے میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ یہ کپڑے دھونا اِنذار کی تشریح ہے اور سے اِنذار ختم نہیں ہوتا بلکہ جاری رہتا ہے صابن کے کُھت کُھت کرنے سے تو اِنذار ختم ہوجاتا ہے لیکن اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو تبلیغ کرنے سے اِنذار ہوتاہے ختم نہیں ہوتا۔ پس یہ تضاد نہیں بلکہ عین وہی چیز ہے۔
    قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
    کے عمل سے ثیاب کے معنوں کی تصدیق
    ۔ تُو اُٹھ اور جا کر اپنی قوم کو سمجھا اپنے رشتہ داروں کو سمجھا، اپنے
    دوستوں اور عزیزوں کو سمجھا، چنانچہ ہم قرآن کریم میں اس کی تصدیق دیکھتے ہیں مثلاً بیویوں کے متعلق قرآن کریم میںآتا ہے ۔۲۲؎ عورتیں تمہارا لباس ہیں۔ اب دیکھ لو ان کو ثِیَاب بتایا گیا ہے پھر اِسی آیت میں طَھِّرْ کا لفظ آتا ہے اور قرآن محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے متعلق یہی لفظ استعمال کرتا ہے، فرماتا ہے ۲۳؎
    ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائے نبوت سے کہہ دیا تھا کہ جا اور اپنے خاندان کو پاک کر۔ اب ہم تجھ کو کہتے ہیں کہ وہ جو ہم نے حکم دیا تھا اس کا ہم بھی پکّا ارادہ کر چکے ہیںاور تیر ے اہل وعیال کو پاکیزگی کے اعلیٰ مقام پر پہنچا کر چھوڑیں گے۔ گویا وہ خبر اِس جگہ آ کر بیان ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ ہم نے کہا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا لیکن ہم اسے خود پورا کرینگے کیونکہ ہم نبی کو جو کچھ کہا کرتے ہیں اس کی ذمہ داری ہم پر ہوتی ہے اسی طرح سورہ شعراء میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا گیا کہ ۲۴؎ یعنی اے محمد رسول اللہ !تُو اپنے قبیلہ میں سے قریبی رشتہ داروں کو جا کر ہوشیار کر۔پس ثیاب سے مراد اِس جگہ وہی لوگ ہیںجو کپڑوں کی طرح ساتھ لپٹے ہوئے ہوتے ہیں اور سورۃ شعراء میں اِسی لفظ کو دوسرے رنگ میں ادا کر کے اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کے مجازاً ہونے کی تشریح کر دی اور بتا دیا کہ ہماری اس سے یہی مراد ہے کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو اِنذارِ قرآن پہنچا دے۔
    پِھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پر غور کرنے سے بھی انہی معنوں کی تصدیق ہوتی ہے چنانچہ بخاری کو نکال لو دوسری حدیثوں کونکا ل لو، جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلا الہام نازل ہؤا تو سب سے پہلے آپ اپنے گھر گئے اور حضرت خدیجہؓ کو خبردی کیونکہ ثِیَابَکَ فَطَھِّرْ کا حکم تھا کہ پہلے اسلام کی تعلیم اپنی بیوی اور رشتہ داروں کو دو پھر حضرت علی کو بتایا۔ چنانچہ تاریخِ صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والی اور سب سے پہلے طہارت کوقبول کرنے والی عورتوں میں سے حضرت خدیجہؓ تھیں۔ نابالغ جوانوں میں سے حضرت علیؓ تھے اور بالغ جوانوں میں سے حضرت زیدؓ تھے وہ بھی لوگوں میں آپ کے بیٹے کے طور پر مشہور تھے اِسی طرح بڑی عمر کے لوگوں میں سے ابوبکرؓ تھے جو آپ کے جانی اور جوانی کی عمر کے دوست تھے۔ گویا جس طرح ثِیَابَکَ فَطَھِّرْ کہا گیا تھا عملاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل اُسی طرح کیا ۔لیکن کوئی حدیث نکال کر دکھا دو، ضعیف سے ضعیف نکال کر دکھا دو، منافقوں کی بیان کردہ حدیث نکال کر دکھا دو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس الہام کے بعد فوراً بازار گئے ہوں اور ریٹھے خریدنے شروع کر دئیے ہوں اور پھر کپڑوں کو ریٹھے اور صابن مَل مَل کر کُوٹنے لگ گئے ہوں لیکن ہمارے پاس ثبوت موجود ہے، حدیث موجود ہے جو بتاتی ہے کہ آپ نے پہلے حضرت خدیجہؓ کو خداتعالیٰ کی بات بتائی ، پھر زیدؓ کو بتائی، پھر علیؓ کو بتائی، پھر ابوبکرؓ کو بتائی غرض جس طرح آپ نے عمل کیا وہ حدیثوں میں موجود ہے۔ پس ہمیں دیکھنا چاہئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریٹھے لے کر اور پھٹہ لے کر کپڑے کُوٹنے شروع کر دئیے تھے یا خدیجہؓ اور علیؓ اور زیدؓ اور ابوبکرؓ کو مسلمان بنانے لگ گئے تھے؟ اور اگر آپ اپنے قریبیوں کو مسلمان بنانے لگ گئے تھے تو یہ اِس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ کے یہی معنے ہیں کہ تُو اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو قرآن کی تعلیم دے اور ان کو اسلام کی طرف لا۔
    وَالرُّجْزَ فَاھْجُرْکی غلط تفسیر
    کپڑوں کی گندگی توخیر کچھ برداشت بھی ہو جاتی ہے آگے آتا ہے وَالرُّجْزَ
    فَاھْجُرْ اس کے مولوی یہ معنے کرتے ہیں کہ تُو گندگی ٔ جسمانی کو دُور کر۔ گویا کپڑے ہی غلیظ نہیں تھے بلکہ آپ خود بھی (نَعُوْذَبِاللّٰہِ) میلے تھے اب یہ اور بھی لمبا کام ہو گیا۔ انذار بیچارہ تو انتظار ہی کرتا رہے گا پہلے کپڑے دھوئے جائیں گے، حمام میں غسل کئے جائیں گے، میلیں اُتاری جائیں گی اور خبر نہیں کتنی دیر میں یہ کام پورا ہو اِنذار تو ختم ہو گیا لیکن ہم جو معنے کرتے ہیںاس کے لحاظ سے کوئی دقّت ہی پیش نہیں آتی کیونکہ رُجْز کے ایک معنے نہیں بلکہ کئی ہیں اور فَاھْجُرْ کے بھی ایک معنے نہیں بلکہ کئی ہیں ہمیں سارے معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ دیکھنا چاہئے کہ پچھلی آیتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کونسے معنے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے لحاظ سے تسلیم کئے جا سکتے ہیں۔ یہاں آپ کو گورنری پر مقرر کیا جا رہا ہے کوئی قیدی مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں ہو رہا جس کو جھاڑ پلائی جا رہی ہوبلکہ اعلیٰ درجہ کے عہدہ اور خاتم النّبییّن کے منصب پر ایک شخص مقررہو رہا ہے اور بات اس طرح شروع کی جاتی ہے جس طرح کوئی تھرڈ کلاس مجسٹریٹ مجرم کو جھاڑ رہا ہے۔
    رُجْز اور ھَجْرکے متعدد معانی
    بیشک رُجز کے معنے عربی زبان میں غلاظت اور میل کچیل کے بھی
    ہیں۲۵؎ لیکن اس کے ایک معنیاَلْعَذَابُکے ہیں۲۶؎ اور ایک معنی عِبَادَۃُ الْاَوْثَانِ۲۷؎ یعنی بُتوں کی پرستش کے ہیں۔ اسی طرح ھَجْرٌ کے بھی کئی معنی ہیں ھَجْرٌ کے ایک معنی ہیں چھوڑ دینا اور اعراض کرنا۲۸؎، دوسرے معنی ہیں کسی چیز کو پوری طرح کاٹ دینا۲۹؎ اور تیسرے معنی ہیں اونٹ کے پیر میںرسّی باندھ کر وہی رسّی اس کی گردن سے باندھ دینا تاکہ پھندا پڑ جائے اور وہ نکلنا بھی چاہے تو نکل نہ سکے اور اس کی حرکت زیادہ سے زیادہ محدود رہ جائے۔۳۰؎ پس وہ تو یہ معنی کرتے ہیں کہ اپنے جسم کی گندگی دُور کر یعنی کپڑے بھی دھو اور جسم کی گندگی بھی دُو ر کر، لیکن ہم کہتے ہیں کہ ان معنوں کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
    ایک شبہ کا ازالہ
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کے متعلق یہ تسلیم شُدہ بات ہے کہ بعض دفعہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا جاتا
    ہے اور مراد اُمت ہوتی ہے۔ اس طرح ہم رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بچائو کر سکتے ہیںاور کہہ سکتے ہیں کہ گندگی اور غلاظت دُور کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد آپ کی اُمت ہے لیکن اس جگہ یہ معنے نہیں ہو سکتے اس لئے کہ یہ تو گورنر کے تقرر کا اعلان ہے جب اُس کی اُمت کوئی تھی ہی نہیں، جب اُمت تھی ہی نہیں اور آپ کو خاتم النّبییّن کے عُہدہ پر قائم کیا جا رہا تھا تو اُس وقت اِس کاکیا ذکر تھا کہ تیرے مرید کپڑے بھی دھوئیں اور جسم کی غلاظت بھی دُور کریں اُس وقت بہرحال کلام مخصوص تھا محمدرسول اللہ ؐسے۔ اُس وقت میںدوسرے لوگوں کی شرکت کا کوئی سوال نہیں تھا۔ پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے اِن معنوں کا سیاق وسباق سے بھی کوئی جوڑ نہیں۔ پہلے کہا جاتا ہے ساری دنیا کو تبلیغ کر۔ پھر کہتا ہے ٹھہر جا پہلے کپڑے دھولے۔ پھر کہتا ہے کپڑے بھی ابھی رہنے دے پہلے نہالے۔ غرض بالکل غیر متعلق باتیں ہیں اور کسی اعلیٰ درجہ کے کلام میںان کی کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔
    اب میں بتاتا ہوں کہ اس آیت کے اصل معنے کیا ہیں اور ہر معنی کے لحاظ سے اس آیت سے کتنے بڑے معارف نکلتے ہیں۔ مَیں نے بتایا کہ رُجْزٌ کے تین معنے ہیں گندگی ، عذاب اور شرک۔ اور ھَجْرٌ کے معنے چھوڑنے کے بھی ہیں، کاٹنے کے بھی ہیں اور گلے اور پیر میں رسّہ باندھ کر حرکت کو محدود کرنے کے ہیں۔ اِن معنوں کے لحاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مطابق جو معنے بنتے ہیں وہ یہ ہیں۔
    دنیا میں غلاظت اور
    گندگی مٹادینے کا حکم
    اوّلؔ ، اے رسول! گندگی کو مٹادے ، گندگی کو چھوڑ دے نہیں! چھوڑنے کے یہ معنے ہیں کہ گندہ ہے اور مٹانے کے یہ معنے ہیں کہ لوگ گندے ہیںتو ان
    کی گندگی کو دُور کر ۔ اور ان دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے جب ھَجْرٌکے معنے کاٹ دینے کے بھی پائے جاتے ہیں، جب ھَجْرٌ کے معنے مٹا دینے کے بھی پائے جاتے ہیں، جب ھَجْرٌکے معنے توڑ دینے کے بھی پائے جاتے ہیںتو تم محمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کوغلاظت میںکیوں پھنسانا چاہتے ہو۔ حقیقت تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنے عزیزوں اور دوستوں کے عیبوںپر پردہ ڈالتے ہیں، لوگ کہتے ہیں یہ ہمارا دوست ہے یہ ہمارے عیبوں کو چھُپاتا ہے مگر یہ مولوی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی بنے پھرتے ہیں اور پھر جھوٹے عیب آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ جب ھَجْرٌکے معنے کاٹ دینے کے بھی ہیںتو وہ کیوں ایسے معنے نہیں لیتے جو محمد رسول اللہ ؐکی شان کے مطابق ہیں کہ اے محمد رسول اللہؐ! تُو گندگی کو کاٹ ڈال یعنی دنیا سے اس کا نام ونشان مٹا دے اور یہ بالکل ٹھیک ہے ساری دنیا گندی تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیاگیا کہ اِس گندگی کو مٹا دے اور تاریخ اِس بات پر شاہد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس پر کس طرح عمل کیا۔ جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے تاریخ میں یہ کہیں ذکر نہیں آتا کہ آپ نے حضرت خدیجہؓ سے یہ کہا ہو کہ صابن لایا جائے اور آپ نے صابن مَل مَل کر میل اُتارنی شروع کر دی ہو اور پھر حدیثوں میںاِس کی تفصیل آتی ہو مگر جوکچھ میںکہتا ہوں وہ کتبِ اسلام میں لفظاً لفظاً موجود ہے۔
    رِجْزٌ کے معنے ہوتے ہیں گندگی۔ لیکن گندگی سے مراد صرف میل نہیں بلکہ رِجْز کے معنے ہیں اشیائے ماحول کی گندگی، جسم کی گندگی ، دماغ کی گندگی، دل کی گندگی، خیالات کی گندگی، زبان کی گندگی ، یہ ساری باتیں رِجْزٌ کے اندر شامل ہیں اب یہ کتنا شاندار کام ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کیا گیا ہے اگر محمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کی نسبت یہ ثابت ہو جائے کہ انہوں نے یہ کام کیا ہے تو آپ کی کتنی شان بلند ہو جاتی ہے، کوئی نبی ہے ہی نہیں جس نے یہ کام کیا ہو، انجیل لائو، توریت لائو، صُحفِ انبیاء لائو، آپ کے مقابلہ میں کوئی نبی ٹھہر ہی نہیں سکتا۔
    اسلام سے پہلے گندگی کو
    بزرگی کی علامت سمجھا جاتا تھا
    اسلام سے پہلے دین کے یہ معنے سمجھے جاتے تھے کہ گندے رہو۔ عیسائی تاریخوں کونکال کر دیکھ لو مَیں نے پڑھا ہے بعض پادری بڑے بزرگ
    سمجھے جاتے تھے اور ان کی بزرگی کی علامت یہ سمجھی جاتی تھی کہ چالیس سال سے انہوں نے غسل نہیں کیا اور ناخن اتنے بڑھے کہ کئی کئی انچ لمبے ناخن ہو گئے، گویا ان کے ہاں بزرگوں کا نشان یہی سمجھا جاتا تھا۔ مسلمانوں نے بھی کچھ کمی نہیں کی، انہوں نے ایک زیارت گاہ بنائی ہوئی ہے کہتے ہیں کہ ایک بزرگ وہاں بیٹھے تھے چالیس سال تک انہوں نے سر نہیں اُٹھایا اور دیوار میں بیٹھے بیٹھے گڑھا پڑ گیا گویا پیشاب اور پاخانہ بھی پاجامہ میںہی کرتے رہے۔ اس میںعزّت کیا ہے؟ آخر سوچنا چاہئے کہ جو شخص بیٹھا رہا اور ہِلانہیں اور وہیں اس کے جسم کا نشان پڑ گیا اس کے معنے یہ ہیں کہ اس نے نہ نماز پڑھی، نہ روزہ رکھا، نہ دین کا کوئی کام کیا، نہ کھانا کھایا، نہ نہایا، نہ پیشاب کیا، نہ پاخانہ کیا، مگر وہ تو ضروری ہے پھر یہی صورت ہو سکتی ہے کہ وہ پیشاب ، پاخانہ پاجامہ میں ہی کر ڈالتے ہونگے اور ان کا نام انہوں نے زیارت گاہ رکھا ہؤا ہے۔
    ہندوئوں میں دیکھ لو ان میں بھی بزرگی کے یہی معنے سمجھے جاتے ہیں کہ فلاں شخص ایسا بزرگ ہے کہ کوئی اس کو پرواہ ہی نہیں۔ جب سے پیدا ہؤا ہے نہایا نہیں۔ بُدھ جی کے متعلق بتاتے ہیں کہ وہ اتنے بزرگ تھے کہ انہوں نے دیوار کے پاس بیٹھ کر عبادت کرنی شروع کی نیچے سے بانس کادرخت نکلا اور ان کے پیٹ میںسے ہوتے ہوئے سَر میں سے پار نکل گیا مگر وہ ہِلے ہی نہیں۔
    غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت دنیامیں آئے جب کہ ساری دنیا غلاظت کا پوٹلا بنی ہوئی تھی جب کہ مذہب اور روحانیت کے معنے یہ سمجھے جاتے تھے کہ انسان غلیظ اور گندہ ہو۔ اِس دنیامیںمحمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وجود پیدا ہوتا ہے اور ایسے خلافِ ماحول میں اس کو خداتعالیٰ کی طرف سے حکم ملتا ہے کہ اے محمد رسول اللہ! یہ جو تجھے اِردگرد نظر آتا ہے کہ گندگی کانام مذہب اور غلاظت کانام نیکی رکھا جا رہا ہے یہ سب جھوٹ ہے اِن خیالات کو دنیا سے نیست ونابود کر دے۔
    جسم کی صفائی کے متعلق رسول کریم
    صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات
    چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جمعہ کو آئو تو غسل کر کے آئو ، مسجد میں آئو تو پیاز کھا کر یا لہسن کھا کر
    نہ آئو تا کہ تمہارے مُنہ سے بدبُو نہ آئے۔ عطر لگا کر آئو۔ پھر انسان کے ساتھ شہوت لگی ہوئی ہے اسلام نے حکم دیا ہے کہ اس کے بعد غسل کیا جائے لوگ پوچھتے ہیں کہ غسلِ جنابت کا فائدہ کیا ہے؟ وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ غسلِ جنابت ہی ہے جو تمہیں پاکیزہ رکھتا ہے۔ اب تم مجبور ہو جاتے ہو کہ غسل کرو اور اگر غسلِ جنابت نہیں کرتے تو بے دین سمجھے جاتے ہو۔
    غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر دنیا کی کایاپلٹ دی، مذہب کا نام غلاظت سمجھا جاتا تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذہب کا نام صفائی رکھ دیا۔ اِسی طرح لباس کی صفائی کے متعلق آپ نے احکام دئیے کہ جمعہ کے دن نئے کپڑے یا دُھلے ہوئے کپڑے پہن کر آئو، عیدوں پر تمہارے کپڑے دُھلے ہوئے ہوں، غرض جسمانی صفائی پرآپ نے اتنازور دیا کہ دنیا میںروحانیت کاجو نقشہ تھا اُس کو بالکل بدل دیا۔پہلے گندے اور غلیظ آدمی کے متعلق کہتے تھے کہ یہ نیک ہے اب صاف اور پاکیزہ آدمی کونیک کہتے ہیں کتنا بڑا تغیر ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیا۔
    حضرت خلیفہ اوّل کا ایک واقعہ
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو چونکہ سر میں چکر آنے کی مرض تھی آپ
    بادام روغن اور مشک کا استعمال فرمایا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اول سناتے تھے کہ ایک دفعہ مَیںدرس دے کر واپس آ رہا تھا کہ ایک ہندو جس کے مکانات میں بعد میں صدرانجمن احمدیہ کے دفتر بن گئے(کیونکہ ہم نے وہ مکان خریدلیا تھا) اور جو ریٹائرڈ ڈپٹی تھا اپنے صحن میں بیٹھا ہؤا تھا مجھے دیکھتے ہی کھڑا ہو گیااور کہنے لگا حکیم صاحب! ایک بات پوچھنی ہے آپ خفا تو نہیں ہونگے؟ سنا ہے کہ مرزا صاحب پلائو اور بادام روغن کھا لیتے ہیں؟ مَیں نے کہا ٹھیک ہے کھا لیتے ہیں۔ حیران ہو کر کہنے لگا کیا یہ ٹھیک بات ہے؟ مَیں نے کہا ڈپٹی صاحب! ہمارے مذہب میں پلائو اور بادام روغن جائز ہے۔ کہنے لگا کیا فقراء کے لئے بھی جائز ہے؟ میں نے کہا ہاں ہمارے مذہب میں فقراء کو بھی پاک چیزیں کھانے کا حکم ہے۔ اس پر وہ ’’اچّھا‘‘!کہہ کر واپس چلا گیا گویا جو طیّب چیزیںکھائے وہ ان کی نگاہ میں بزرگ نہیں ہو سکتا تھا۔
    یہ تو حضرت خلیفہ اوّل کا واقعہ ہے جو تہذیب سے بات کرتے تھے ہمارے ایک اور دوست تیز زبان تھے اور مذاقیہ طبیعت کے تھے امرتسر کے رہنے والے تھے ان کے جواب ہمیشہ اِسی طرز کے ہؤا کرتے تھے۔ ان کو کوئی ہندو مجسٹریٹ مل گیا اور کہنے لگا کیا ہے تمہارا مرزا تم کہتے ہو وہ خدا کامأ مور ہے اور یہ ہے اور وہ ہے ہم نے سنا ہے کہ وہ بادام اور پستہ اور مُرغ سب چیزیں کھا لیتا ہے۔ وہ کہنے لگے آپ مرزا صاحب کوچِڑانے کے لئے پاخانہ کھا یا کریں مجھے اِس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔غرض اس نے اپنے رنگ میں جیسے اس کا اپنا مذاق اور علم تھا جواب دیدیا تو بات یہ ہے کہ دنیا میں بزرگی کانقشہ یہی کچھ رہ گیا تھا کہ انسان غلیظ اورگندہ ہو۔
    مکان کی صفائی کے متعلق ارشادات
    اسی طرح مکان کی صفائی بھی کوئی ضروری نہیں سمجھی جاتی تھی۔ رسول کریم
    صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان کی صفائی کا بھی حکم دیا۳۱؎ چنانچہ آپ نے مسجد کی صفائی کے متعلق کئی احکام دئیے (اصل مکان جو آپ کے قبضہ میںتھا وہ وہی تھا) آپ نے فرمایا مسجد کو صاف رکھو، اس میں جھاڑو دیا کرو، اس میں خوشبو ئیںجلایا کرو تا کہ وہ صاف رہے۔۳۲؎
    راستوں کی صفائی کا حکم
    اسی طرح راستوں کی صفائی کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا آپ نے فرمایا اس شخص کو ثواب
    ملتا ہے جو راستہ میں سے پتھر وغیرہ اُٹھا دے۔۳۳؎ پاخانہ کے متعلق فرمایا کہ جو شخص راستہ میں پاخانہ پھرتا ہے اس پر خداتعالیٰ کی *** ہے،۳۴؎ جو شخص کھڑے پانی میںپیشاب کرتا ہے اس پر خداتعالیٰ کی *** ہے۔ جو شخص راستہ سے پتھر یاکانٹوں کو ہٹا دیتا ہے یا گندی چیزوں کو ہٹا دیتا ہے اسے ثواب ملتا ہے۔ اگر کوئی مسجد میں تھُوک بیٹھے تو فرمایا وہ اسے وہاں سے اُٹھا کر مٹی میں دفن کر دے۔۳۵؎ غرض اتنے احکام ہیںصفائی کے کہ اس تہذیب یافتہ زمانہ میں بھی ہمارا ملک کم سے کم ان پر عمل نہیں کر رہا۔ یہ طہارت اور نظافت کے احکام ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں قائم ہوئے۔
    افکار کی صفائی کے متعلق ہدایات
    پھر آپ نے کہا کہ افکار کی صفائی بھی ضروری ہے گویا آپ نے ہر ایک چیز کی
    صفائی کا حکم دیا ہے صرف جسم کو مل مل کر دھونے کا حکم نہیں مثلاً فکر ہے اس کی صفائی کا بھی آپ نے حکم دیا فرمایا بدظنی نہیںکرنی،۳۶؎ بُغض اور کینہ دل میں نہیں رکھنا۳۷؎ گویا دماغ اور خیالات کی پاکیزگی بھی آپ نے قائم کی اور حکم دیا کہ کسی قسم کے بدخیالات اور بدارادے تم نے نہیں رکھنے۔
    قلب کی صفائی کا حکم
    پھرقلب کی صفائی کو مدّنظر رکھتے ہوئے آپ نے محبت خالص کا حکم دیا، نِفاق سے روکا، سچے تعلقات اور وفاداری
    پر زور دیا۔۳۸؎
    زبان کی صفائی کا حکم
    پھر زبان کی صفائی کا حکم دیا فرمایا گالی گلوچ نہیں کرنی ، سخت الفاظ نہیں بولنے، دوسرے سے محبت کے ساتھ
    پیش آنا ہے۔۳۹؎
    مُنہ کی صفائی کا حکم
    پھر مُنہ کی صفائی ہے مُنہ کی صفائی کے لئے مسواک کا حکم دیا بلکہ یہاں تک فرمایا کہ فرشتے نے مُنہ کی صفائی کے متعلق اتنازور
    دیا کہ میں نے سمجھا شاید فرض ہو جائے۔ پھر فرمایا میں ہر نماز کے لئے مسواک اس لئے ضروری قرار نہیں دیتا کہ کہیں میرے حکم کے بعد خدا اس کو فرض قرار نہ دیدے۔۴۰؎
    عظیم الشان تغیر
    یہ کتنا عظیم الشان تغیر ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہؤا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلی دنیا دیکھو،
    پہلی تاریخیں پڑھو، ہندوئوں کی تاریخیں پڑھو، عیسائیوں کی تاریخیں پڑھو، یہودیوں کی تاریخیں پڑھووہ غلاظت کا ٹوکرا معلوم ہوتی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو دیکھو یہاں بڑا بزرگ تو الگ رہا جو چھوٹے سے چھوٹا بزرگ تھا وہ بھی پاکیزہ اور صاف سُتھرا اور نہایا دھویا ہؤا نظر آتا ہے۔
    گندگی اور غلاظت کے ساتھ خدا نہیں ملتا
    اب ان معنوں کے لحاظ سے وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ وَالرُّجْزَ
    فَاھْجُرْ کے یہ معنے بنتے ہیں کہ اے ہمارے گورنر! جو یہ پتہ لگتے ہی کہ ہم اس کو ایک اہم کام سپرد کرنے لگے ہیں وردی پہن کر گھوڑے کے پاس تیار کھڑا ہو گیا ہے کہ چھلانگ لگا کر سوار ہو جائوں دائمی طور پر اپنے کام میں لگ جا اور دنیا کو ہوشیار کر اور پہلے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی اصلاح کر ، پھر باقی دنیا کی اصلاح کا فرض سرا نجام دے اور ہر قسم کی صفائی دنیامیںقائم کر اور لوگوں کو بتا کہ گندگی اور غلاظت کے ساتھ خدا نہیں ملتا بلکہ انسان کا ذہن کُند ہو جاتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے دُور ہو جاتا ہے۔
    رُجْز کے دو سرے معنوں
    کے لحاظ سے آیت کی تشریح
    اب ہم اس آیت کو دوسرے معنوں کے لحاظ سے لیتے ہیں۔ دوسرے معنے رُجْز کے عذاب کے تھے اس کے لحاظ سے آیت کے یہ معنے بن
    جائیں گے کہ تُو عذاب کو دنیا سے مٹا دے۔ ان معنوں کے رو سے مندرجہ ذیل مطالب اس آیت کے نکلتے ہیں۔
    تعذیبِ نفس کی ممانعت
    اوّل اسلام سے پہلے مختلف ادیان میںتعذیبِ نفس کو روحانیت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا مثلاً کہتے تھے کہ
    بیٹے کی قربانی خدا کے قریب کر دیتی ہے۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ شادی نہ کرنا، رہبانیت اختیار کرنا اور اپنے نفس کا بیکار کر دینا یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی چیز ہے۔ ہتھیار کے ساتھ اپنے آپ کو ہیجڑا بنالینا یہ بڑی نیکی ہے۔ اپنے آپ کو اُلٹا لٹکائے رکھنا یعنی سر نیچے اور ٹانگیں اوپر کر لینا، یہ بڑی نیکی ہے۔ ٹھنڈے موسم میںدریا میں بیٹھے رہنا یہ بڑی نیکی ہے، گرمی کے موسم میں دھوپ میں بیٹھ رہنا یہ بڑی نیکی ہے ، جسم پر کوڑے لگانا یہ بڑی نیکی ہے۔ اچھی اور پاکیزہ چیزیں نہ کھانا یہ بڑی نیکی ہے۔
    پس فرماتا ہے ہم نے ان تمام باتوں کی تیرے ذریعہ سے اصلاح کر دی ہے اور ہم تجھے حکم دیتے ہیں کہ وہ تمام احکام جن کو دین کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، جن کو روحانیت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، جن میں انسان کے دل کو یا جسم کو یا دماغ کو عذاب دیا جاتا تھا وہ ساری کی ساری چیزیں منسوخ کی جاتی ہیں۔ خدا سے ملنے کے لئے اس کی کوئی ضرورت نہیںکہ کسی کا ناک کاٹا جائے یا کسی کو اُلٹا لٹکایا جائے۔ خدا کے ملنے کے لئے روحانی ذرائع ہیں یہ غلط طریق تھے جو دنیا نے جاری کئے ہوئے تھے۔ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جا اور ان کو منسوخ کر اور دنیا کو بتا دے کہ یہ غلط طریق تھے جو اس نے اختیار کرلئے تھے۔
    عورتوں کو مُعَلَّقہ چھوڑنے اور
    آگ کا عذاب دینے کی ممانعت
    اِسی طرح عورتوں کو مُعَلَّقَہ چھوڑا جاتا تھا یہ بھی تہذیب تھی، آگ کا عذاب دیا جاتا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
    نے فرمایا تمہیں کسی کو آگ کاعذاب دینے کی اجازت نہیں یہ خدا کا حق ہے کہ وہ جہنّم میں ڈالتا ہے تمہیں حق نہیںکہ ایسا کرو۔
    غلامی کی ممانعت
    اِسی طرح دنیا میںغلامی کا رواج تھا انسان کی آزادی کو چھین لیا جاتا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ
    نے حکم دیا کہ یہ عذاب بند کیا جاتا ہے اب کوئی غلامی نہیں۔۴۱؎
    جانوروں کو دُکھ دینے کی ممانعت
    جانوروں کے مُنہ پر لوگ ٹھپّے لگاتے تھے اور اس طرح جانوروں کی مختلف
    قِسمیں بناتے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح جانور کو تکلیف ہوتی ہے اگر تم نے نشان ہی لگانا ہو تو جانوروں کی پیٹھ پر لگائو تا کہ انہیں کم سے کم تکلیف ہو۔۴۲؎ جانوروں کے متعلق لوگ سمجھتے تھے کہ وہ حقیر اور ذلیل چیز ہیںاور ان کے احساسات کا خیال رکھنے کی ضرورت نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت کو محض اس لئے عذاب دیا گیا کہ اُس نے بلّی کو باندھ رکھا اور اُسے کھانے پینے کو کچھ نہ دیا نتیجہ یہ ہؤا کہ وہ مر گئی پس اُسے دوزخ میں داخل کیا گیا۔۴۳؎ اور فرمایا ایک عورت کو اس لئے جنت میں داخل کیا گیا کہ اس نے ایک کُتّے کو جو پیاسا تھا وہ اپنا جُوتا لے کے کنویں میںاُتری اور اس میں پانی بھر کر اُسے پلایا اِس وجہ سے خدا نے اسے جنت میں داخل کر دیا۔ ۴۴؎
    ہر حصّۂ زندگی سے تعذیب کا اخراج
    یہ تعلیم بتا رہی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا
    سے کس طرح عذاب کو مٹایا گیااور عذاب دینے کو بُرا اور ناپسند قرار دیا گیا حالانکہ اس سے پہلے یہ باتیں ضروری سمجھی جاتی تھیں۔وہاں روحانیت کی ترقی کے لئے لوگ اپنے جسم پر کوڑے مارتے تھے اور یہاں ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر آئے توآپ نے دیکھا کہ ایک رسّی لٹکی ہوئی ہے آپ نے اپنی بیوی سے پوچھا یہ رسّی کس لئے لٹکائی ہے؟ اس نے کہا یَا رَسُوْ لَ اللہ! جب میں عبادت کرتے کرتے تھک جاتی ہوں تو رسّی پکڑ لیتی ہوں تا کہ مجھے نیند نہ آئے۔ آپ نے فرمایا خدا کو تمہارے نفس کوتکلیف میںڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں جب تک تمہارا نفس برداشت کر سکتا ہو عباد ت کرو اور جب نہ کرے نہ کرو۴۵؎ تو دیکھو تعذیب کو کس طرح ہر حصّہ و زندگی سے مٹا دیا گیا ہے۔ پس فرماتا ہے وَالرُّجْزَ فَاھْجُرْ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!دنیا میںروحانیت کی ترقی کے لئے غلط معیار قائم ہو گئے ہیں لوگ کہتے ہیں روحانیت کی ترقی اور نفوس کی اصلاح کے لئے ہیجڑے بن جائو، پلائو کے اندر مٹی ملائو یا اس میںتیل ملائو یا سردیوں میں اُلٹے لٹک جائو، گرمیوں میں آگ کے سامنے بیٹھو یہ سب لغو باتیں ہیں ہم ان کو منسوخ کرتے ہیں خدا کو ان غلاظتوں اور تکلیفوں سے کوئی تعلق نہیں۔ خدا تو تم کو آرام پہنچانا چاہتا ہے خدا تم کو عذاب میںنہیںڈالنا چاہتا۔ خدا نے اپنے تک پہنچنے کے راستے اور قسم کے بنائے ہیں جن سے بغیر نفس کی ذلّت کے ، بغیر کسی نفس کو توڑ دینے کے ، بغیر جذبات کو مار دینے کے خدا تک انسان پہنچ سکتا ہے خدا کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ ان باتوں کو رائج کرے۔
    رُجْزکے تیسرے معنے
    تیسرے معنے اَلْرُّجْز کے شرک کے ہیں۴۶؎ اس لحاظ سے وَالرُّجْزَ فَاھْجُرْ کے یہ معنے ہوں گے کہ تُو
    شرک مٹا دے۔ دیکھو شرک کو چھوڑ دے اور شرک کو مٹا دے میں فرق ہے۔ مولویوں نے اس کے یہ معنے کئے ہیں کہ تُوشرک چھوڑ دے حالانکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک پہلے ہی چھوڑا ہؤا تھا ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ مَیں نے کبھی شرک نہیںکیا۔۴۷؎ پس یہ معنے کرنا کہ ’’شرک چھوڑ دے‘‘ محمد رسول اللہؐ کی ہتک ہے اور یہ معنے کرنا کہ’’شرک کو مٹا دے‘‘ یہ رسول اللہ ؐکا اصل کام ہے۔ خدا فرماتا ہے تو شرک کو توڑ دے کیونکہ ھَجْرٌ کے معنے تو ڑ دینے اور مٹا دینے کے بھی ہیں۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی اتنی اعلیٰ تعلیم دی کہ شرک کی جڑاُکھیڑ کر رکھ دی۔
    انسانیت کی تذلیل کا ایک بھیانک نظارہ
    جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں مبعوث ہوئے تھے
    بھلا سو چو تو سہی کہ اُس وقت کیسا بھیانک نظارہ نظر آتا تھا کہ ابوجہل جیسا انسان جو باتیں کرتا تھا تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کے بڑے بڑے عقلمندوں میںسے ہے۔ ابوسفیان جس کا اسلام لانے کے بعد بھی عرب پر سکّہ جما ہؤا تھا اور لوگ اُس کی عزّت کرتے تھے اُن کی یہ حالت تھی کہ اپنے سامنے مٹی کا بنا ہؤا بُت رکھتے ہیںاور اُس کے آگے گِر جاتے ہیں اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنی ذلّت تک انسانی دماغ پہنچا ہؤا تھا۔
    بُتوں کی بے بسی
    ایک صحابیؓ کہتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تعلیم دینی شروع کی تو میری سمجھ میںیہ بات نہیں آتی
    تھی کیونکہ ماںباپ سے سُناہؤا تھا کہ بُتوں میںطاقت ہوتی ہے ہماری عادت تھی کہ جب ہم باہر کسی کام کے لئے جاتے تو ایک چھوٹا سا پتھر کا بنا ہؤا بُت اپنے ساتھ لے جاتے تا کہ اُس کی برکت سے ہم مصیبتوں سے بچے رہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ مَیںسفر پر گیا اور بُت کو اپنے ساتھ لے لیا ایک جگہ پہنچ کر مجھے ایک ضروری کام پیش آیا مَیں نے اسباب رکھا اور بُت کو پاس بٹھا کر کہا حضور والا! آپ ذرا میرے اسباب کا خیا ل رکھئیے مَیں ایک ضروری کام کے لئے جا رہا ہوں یہ کہہ کر مَیں چلا گیا۔ وہ کہنے لگے کام کر کے جب میں واپس آ رہا تھا تو مَیں نے دیکھا کہ گیدڑ نے اُس کے سر پر پیر رکھا ہؤا ہے اور پیشاب کر رہا ہے۔ گیدڑ اور کُتّے کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ٹانگ اُٹھا کر اور کوئی سہارا ہو تو اُس پر رکھ کر پیشاب کرتا ہے میں نے آتے ہی اُسے اُٹھا کر پرے پھینک دیا اور مَیں نے کہا اپنے آپ کو تو پیشاب سے بچا نہیں سکتا میرے سامان کو تُو نے کیابچانا ہے اور میں آ کر مسلمان ہو گیا۴۸؎ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو تعلیم شرک کے خلاف پیش کی وہ ایسی نفسوں میں گڑ گئی کہ جو بھی سنتا تھا وہ اس پر فریفتہ ہو جاتا تھا اس سے باہر نکلنے کی اس میں جرأت ہی نہیںتھی۔
    ہندہ کا اعترافِ توحید
    ہندہ کا واقعہ مشہور ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو مسلمانوں کو جولوگ دُکھ دینے والے
    تھے، جنہوں نے مسلمانوں پر بعض دفعہ انسانیت سوز مظالم کئے تھے یعنی ان کے ناک کان وغیرہ کاٹے تھے ان میں ہندہ بھی تھی۔ ایسے لوگوں کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا کہ ان کو معافی نہیںہو گی بلکہ ان کو پکڑ کر سزا دی جائے گی ہندہ کے متعلق بھی یہی احکام تھے مگر ہندہ بڑی ہوشیار عورت تھی چُھپ گئی اُسے تلاش کیا گیا مگر نہ ملی مسلمانوں نے سمجھا کہ کہیں بھاگ گئی ہے۔ درمیانی طرز کے لوگ جو غور کر رہے تھے اور اس لڑائی کا انجام دیکھنا چاہتے تھے جب مکہ فتح ہو گیا تو انہوں نے سمجھا کہ اسلام سچا ہے ان کے لئے آپ نے بیعت کا اعلان کر دیا۔ عورتوں کے لئے بھی اعلان ہؤا چنانچہ سینکڑوں عورتیں بیعت کے لئے آئیں اور ان میں ہندہ بھی چُھپ کر آ گئی۔ بیعت کے وقت جو الفاظ دُہرائے جاتے تھے ان میںیہ الفاظ بھی آتے تھے کہ ہم شرک نہیں کریں گی، باقی الفاظ تو وہ دُہراتی چلی گئی جب آپ ان الفاظ پر پہنچے کہ کہو ہم شرک نہیں کریں گی تو چونکہ ہندہ کی طبیعت بڑی تیز تھی فوراً مجلس میں بول اُٹھی کہ کیا اب بھی ہم شرک کریں گی؟ تم اکیلے تھے اور ہم سارے تم کو مارنے کے لئے اکٹھے ہوئے، تم کمزور تھے اور ہم طاقتور تھے، ہم نے ساری قوم کا زور صَرف کیا مگر تمہارا خدا جیتا اور ہم ہارے کیا اب بھی ہم شرک کریں گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،ہندہ ہے؟ جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہارے لئے تو سزا تجویز ہے، اُس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! اب آپ کو مجھ پر کوئی اختیار نہیں ، اب مَیں مسلمان ہو چکی ہوں۔۴۹؎ تو دیکھو یہ توحید کی تعلیم تھی جس نے دلوں کو اس طرح صاف کر دیا کہ دیکھنے والا سمجھتا تھا کہ سب لغو اور عبث باتیں ہیں بھلا شرک کوئی مان سکتا ہے۔
    مشرکانہ عقائد کے پَیرو بھی
    آج توحید کو ہی درست سمجھتے ہیں
    پھر جُوں جُوں تعلیم پھیلی شرک مِٹتا گیا۔ یورپ میںاب بھی ایسے گرجے موجود ہیں جن میں حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ
    کی تصویر لٹکی ہوئی ہوتی ہے اور جن کے آگے وہ سجدے کیا کرتے تھے۔ ہندوئوں میںبھی لاکھوں دیوتا تسلیم کئے جاتے تھے مگر اب دیکھو ہندوئوں میں جتنے نئے فرقے نکلے ہیں سب توحید پیش کرتے ہیں آخر ہزاروں لاکھوں بُت جو ایجاد ہوئے ہیں تو ہر زمانہ میںایجاد ہوتے رہے ہیں مگر اب کوئی نئی موومنٹ بتا دو جس میں کوئی نیا بُت ایجاد کیا گیا ہو۔ اب آریہ سماجی نکلے، بنگال کی برہموسماج نکلی،اِسی طرح بنگال کی دیویکانند۵۰؎ کی سوسائٹی ہے۔ ٹیگور۵۱؎ تھا، غرض جتنے نکلے سب نے توحید پیش کی اور کہا کہ ہمارے مذہب میں بُت ہیں ہی نہیں۔ یہ سب باتیں ہیں یہ نتیجہ تھا اسلام کی تعلیم کا۔ ادھر عیسائیت جو مسیح اور مریم کی خدائی کو پیش کیا کرتی تھی اب جس عیسائی سے پوچھو وہ کہتا ہے یہ تو ظہور ہیں۔ ایک ظہور کا نام باپ رکھ دیا، ایک ظہور کا نام بیٹا رکھ دیا، ایک ظہور کا نام روح القدس رکھ دیا، ورنہ خدا تو ایک ہی ہے اس سے کون انکار کر سکتا ہے۔
    غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خداتعالیٰ نے فرمایا کہ جا اور شرک کو دنیا سے اُکھیڑ کر پھینک دے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کر دکھایا۔ کہاں ہیں ہُبل اور لات اور عُزّیٰ؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھوڑے سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ دلوں سے شرک کو نکال پھینکا اور وَالرُّجْزَ فَاھْجُر ْکے حکم کو ایسے طور پر پورا کیا کہ آج کسی شریف آدمی کو مجلس میںیہ کہنے کی جرأت نہیں کہ خدا کے سِوا کوئی اور بھی اُس کاشریک ہے۔
    یہ کتنا عظیم الشان تغیرہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیا اور جس کی مثال دنیا کے کسی نبی کی زندگی میں بھی نہیں ملتی۔ پس مبارک ہے وہ جس نے اپنے گورنر جنرل کے لئے یہ پروگرام تجویز کیا اور مبارک ہے خداتعالیٰ کا یہ گورنر جنرل جس نے اس پروگرام کواس طرح پورا کیا کہ جس طرح اسے پورا کرنے کا حق تھا۔
    شرک کو باندھ رکھنے کا حکم
    چوتھے معنے اس کے یہ بنتے ہیں کہ تُو شرک کو باندھ دے یعنی باوجود اس کے کہ تُو توحید کی تعلیم
    د ے گا لوگ مسلمان ہونگے اور شرک چھوڑتیچلے جائیں گے پھر بھی شرک دنیامیں قائم رہے گاکیونکہ شرک نفس کو عیاشی پرقائم رکھنے کی درمیانی سٹیج ہے۔ جب تک انسانی نفس کے اندر کمزوری رہے گی وہ جھوٹے یا سچے طور پر شرک کا قائل رہے گا۔
    نفسِ گنہگار کی تسلّی کے لئے
    شرک ایک ضروری چیز ہے
    مسلمان یُوں تو اللہ اللہ کرتے ہیں لیکن جب ان کا دل چاہتا ہے کہ اسلامی احکام کو توڑ دیں توتوڑ دیتے ہیں مگر ساتھ ہی اُن کا دل پھر
    یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ جنت میں بھی جائیں اِس لئے کہتے ہیں فلاں بزرگ کی قبر پر چڑھاوا چڑھا دیا تو جنت میںچلے گئے، فلاں کی بیعت کر لی تو چلو جنت مل گئی۔ پس شرک نفسِ گنہگار کو تسلّی دینے کاایک ذریعہ لوگوں نے بنایا ہؤا ہے جب تک نفسِ گنہگار باقی رہے گا شرک کسی نہ کسی شکل میں باقی رہے گا۔ حضرت خلیفہ اوّل سنایا کرتے تھے کہ ہماری ایک بہن تھیںجو کسی پِیر صاحب کی مرید تھیں ایک دفعہ قادیان مجھے ملنے کے لئے آئیں تو مَیں نے کہا بہن! تم احمدی نہیں ہوتیں اس کی وجہ کیا ہے؟ کہنے لگیں ہم نے پِیر پکڑ لیا ہے اور پِیر صاحب کی بیعت کر لی ہے اب ہمیں کسی اَور کی ضرورت نہیں۔ مَیں نے کہا پِیر صاحب کی بیعت نے تمہیں فائدہ کیا دیا ہے کہنے لگی فائدہ یہ دیا ہے کہ وہ کہتے ہیں اب تم نے ہماری بیعت کر لی ہے اس لئے اب تمہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں جو تمہاری مرضی ہو کرو تمہارے گناہ ہم نے اُٹھا لئے ہیں اور اب تمہارے سب گناہوں کے ہم جوابدہ ہیں۔ مَیں نے کہا اچھا بہن اب جائو گی تو اُن سے پوچھنا کہ ایک ایک گنا ہ کے بدلہ میں جو لوگوں کو اتنی جُوتیاں قیامت کے دن پڑنی ہیں جن کی حد نہیں تو جب آپ نے ہم سب کے گناہ اُٹھا لئے ہیں تو آپ کو کتنی جُوتیاں پڑیں گی؟ چنانچہ وہ گئی اور پھر واپس آئی تو مَیں نے کہا پوچھا تھا؟ کہنے لگی ہاں پوچھا تھامگر وہ سوال تو پِیر صاحب نے حل کر دیا۔ میں نے کہا کس طرح؟ کہنے لگی پِیرصاحب نے کہا دیکھو جب تم پُل صراط پر جائو گی اور فرشتے پوچھیں گے کہ تمہارے یہ یہ گناہ ہیں تو تم کہہ دینا ہمیں کچھ پتہ نہیں یہ پِیر صاحب کھڑے ہیں اِن سے پُوچھو۔ جیسے ریلوے سفر میںایک ایک کے پاس ٹکٹ ہوتے ہیں اور ریل والے پوچھتے ہیں کہ ٹکٹ کہاں ہے تو اُن سے کہا جاتا ہے کہ فلاں سے لے لو اسی طرح وہاں ہوگا۔ کہنے لگی اچھا پیر صاحب! جب وہ آپ سے پوچھیں گے تو آپ کیا کہیں گے؟کہنے لگے جب فرشتوں نے ہم سے پوچھا تو ہم آنکھیں سُرخ کر کے کہیں گے شرم نہیں آتی کربلا میں ہمارے دادا نے جو قربانی دی تھی کیا اِس کے بعد ہم سے پوچھنے کی کوئی ضرورت رہ گئی ہے؟ اور فرشتے شرمندہ ہو کر ایک طرف ہو جائیں گے اور ہم دگڑ دگڑ کر کے جنت میں پہلے جائیں گے۔تودرحقیقت شرک جہاں ایک گندی چیز ہے، شرک جہاں ایک ناپاک چیز ہے وہاں وہ نفسِ گنہگار کے لئے ایک ضروری چیز بھی ہے جس کے بغیر اس کا گزارہ نہیں ہو سکتا۔ جس طرح مسلمان گنہگار کا شفاعت کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا، اسی طرح غیر مسلمان کا شرک کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا مسلمان بھی یہی کہتا ہے ۔
    ؎ مستحق شفاعت گنہگار انم
    چلو چھُٹّی ہو گئی۔ شفاعت کے ہوتے ہوئے اب کسی عمل کی کیا ضرورت ہے ؟ پس اِس قسم کی شفاعت اور اِس قسم کا کفارہ دنیا سے مٹے گا نہیں، تھوڑا بہت قیامت تک ضرور رہے گاورنہ گنہگار کا ہارٹ نہ فیل ہو جائے ۔ اس کے دل کو تسلّی دلانے اور اُس کی زندگی کوقائم رکھنے کے لئے یہ لازمی چیز ہے کہ کوئی نہ کوئی سہارا ہو۔ جس طرح انسان بیہوش ہونے لگے تو پتھر پر سہارا لے لیتا ہے اِسی طرح مسلمان شفاعت کے پتھر پر ہاتھ رکھ کر سہارالے لیتا ہے اور عیسائی کفارہ کے پتھر پر سہارا لے لیتا ہے۔
    شرک کی مضرّتوں سے
    دنیاکو محفوظ رکھنے کا حکم
    پس چوتھے معنے اس کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے توشرک کو مٹائے گا اور وہ بہت کچھ مٹے گا لیکن پھر بھی کسی نہ کسی شکل میں وہ دنیا میں قائم رہے گا
    کیونکہ شرک ایک لازمی چیز ہے پھر اس کے لئے کیا کرنا چاہئے۔ اس کے لئے فرماتا ہے تو شرک کو باندھ دے یعنی جب ایک ضررنے موجود رہنا ہے اور خداتعالیٰ نے دنیا کوایسی شکل میں پیدا کیا ہے کہ گنہگار کے ساتھ شرک نے قائم رہنا ہے تو پھر مؤمنوں کو اُس کے ضرر سے کس طرح بچایا جائے۔ اس کا طریق یہی ہے کہ جس چیز نے قائم رہنا ہو اس کے ضررکوکم کر دیا جاتا ہے مثلاً بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کے متعلق ڈاکٹر کہتے ہیں انہوں نے ہٹنا نہیں۔ ایسی بیماریوں کا علاج یہ ہوتا ہے کہ انہیں کسی دوا سے دبا دیا جاتا ہے مثلاً کھانسی آتی ہے تو اوپیم دے دی بلغم دبا رہا۔ شرک کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شرک بیشک مٹے گا مگر جو باقی رہے گا اسے اس طرح باندھ دو کہ وہ دَوڑ کُود کر دنیا میں پھیل نہ سکے اور اس کی مضرّت باقی نہ رہے۔
    ایک داعی اِلَی الْخیر جماعت
    اس کا طریق یہ بتایا کہ مؤمنوں کی جماعت اسلام میںقائم رہے جو شرک کے خلاف لوگوں
    کو کہتی رہے اوردلائل دیتی رہے تاکہ لوگجب شرک کی طرف مائل ہونے لگیں تو اِنذار وتخویف اور حقیقت کے بیان کے ساتھ اور وعظ اور نصیحت کے ساتھ نیک طبیعتیں رُک جائیں جس طرح جانور کے پَیر کو گردن سے باندھتے ہیں تو وہ دَوڑ نہیں سکتا اسی طرح شرک دَوڑنے کے قابل نہ رہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۵۲؎ یعنی چاہئے کہ تم میںسے ایک جماعت ایسی ہو جو نیکی اور تقویٰ اور اسلام کی طرف لوگوں کو بُلائے اور انہیں نیک باتوں کا حکم دے اور بُری باتوں سے روکے اور جس قوم میں یہ بات پائی جاتی ہے وہ ضرور کامیاب ہوتی ہے کیونکہ وہ شرارت کو دبائے رکھتی ہے بڑھنے نہیں دیتی۔ جیسے جنگل میں کہیںگندہ بیج پڑ جائے تو وہ مٹتا نہیںبلکہ پھیل جاتا ہے لیکن اگر کوئی اعلیٰ درجہ کی کھیتی ہو تو زمیندار جانتا ہے کہ ا س میںبھی بعض دفعہ دب گھاس نکل آئے گی، بعض دفعہ تھوہریں نکل آئیں گی، بعض دفعہ بکولیاں پیدا ہو جائیں گی، بعض دفعہ آک نکل آئے گا۔ اُس وقت ضرر سے بچنے کا کیا طریق ہوتا ہے؟ یہی ہوتا ہے کہ زمیندار ہل چلاتے ہیں بیشک وہ پھر بھی نکلتی ہیں لیکن کمزور ہو جاتی ہیںاور کھیت کو نقصان نہیںپہنچا سکتیں۔
    پس تم ایسے مبلّغ مقرر کرتے رہو اور مسلمانوں میںسے ایک ایسی جماعت کو مخصوص کرو جو دین کی خدمت میںلگی رہے جس کی وجہ سے اس قسم کے شرر آمیز اور نقصان دہ مادوں کا ہَل کے ساتھ قلع قمع ہوتا رہے بیشک شرّکا بیج پھر بھی موجود رہے گا لیکن وہ کمزور ہوجائے گا اور اصل فصل کونقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
    مسلمانوں کا تبلیغِ اسلام سے تغافل
    مسلمانوں نے اِس پر ایک زمانہ میں عمل کیا لیکن افسوس ہے کہ بعد میں
    مسلمان اپنے اس فرض کو بُھول گئے اب صرف احمدی جماعت ہی ہے جو ہَل چلا چلا کر دب، گھاسوں اور جڑی بُوٹیوں کو دُور کر رہی ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہ لوگ جن کے فائدہ کے لئے یہ کام ہو رہا ہے وہ اِسی کا نام انکارِ جہاد رکھتے ہیں، اصل جہاد احمدی کر رہے ہیں اور مولوی کہتا ہے کہ چھوڑ دو یہ ہَل چلانے آک نکلنے دو، تھوہریں نکلنے دو، بکولیاں پیدا ہونے دو، کھیتوں کو برباد ہونے دو، مسلمانوں کو بھُوکا مرنے دو، تم تو بے ایمان ہو گئے ہو جو مسلمانوں کے لئے روٹی مہیّا کر رہے ہو۔
    وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُکی تشریح
    آگے فرماتا ہے وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ غیر احمدی مولوی اس کے یہ معنے کرتا
    ہے کہ لوگوں پراس نیت سے احسان نہ کر کہ تجھے اس کے بدلہ میں کچھ زیادہ ملے۔ اِسی کا ترجمہ میں نے پہلے یہ کر دیا تھا کہ سُود خوری نہ کر۔ لوگوں کو اس لئے پیسے نہ دیا کر کہ اس کے بدلے میںتجھے زیادہ ملے لیکن دوسری شکل ہمارے ملک میںایک اور بھی ہوتی ہے جسے ڈھویادینا کہتے ہیں اور اُردو میںڈالی دینا کہتے ہیں۔ بعض باغبان گلدستے بنا لیتے ہیں کچھ پھُول لے لئے،کچھ تریں لے لیں، کچھ ترکاری لے لی اور کسی امیر آدمی کے گھر لے گئے کہ مَیں ڈالی لایا ہوں آگے اُس کی طرف سے جو بدلہ ملتا تھا وہ قیمت میںنہیںہوتا تھا۔ مثلاً یہ نہیں ہوتا تھا کہ دوآنے کی چیز ہوئی تو اس نے دو آنے ہی دے دئیے بلکہ کبھی دس کبھی بیس کبھی پچاس اور کبھی سَو روپے دے دیتا تھا۔
    بنو اُمیّہ کے ایک بادشاہ کا لطیفہ
    عربوں میں اس کا بڑا رواج تھا خصوصاً بنو امیّہ کے خلفاء کے پاس بڑے بڑے تحفے آتے
    تھے۔ لطیفہ مشہور ہے کہ بنو امیّہ کا ایک بادشاہ ایک دفعہ شکار کے لئے گیا اور جنگل میںاکیلا رہ گیا اُسے ایک شخص ملا جو گدھا ہانک رہا تھا اور اُس پر اُس نے کھیرے رکھے ہوئے تھے۔بادشاہ نے کہا میاں! کہا ں جا رہے ہو؟ اس نے کہا دمشق جا رہا ہوں۔ کہنے لگا کہ کس لئے ؟اس نے اِسی بادشاہ کا نام لیا کہ اس کے حضور میں پیش کرنے کے لئے یہ لے چلا ہوں۔ کہنے لگا کیوں؟ اس نے کہا اس لئے کہ وہ مجھے انعام دیگا۔ اس نے کہا ان چیزوں کا بھلا کیا انعام ہو سکتا ہے یہ تو بہت معمولی چیزیں ہیں اچھا تم کیا امید رکھتے ہو؟ اس نے کہا میں تو امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے تین سَو اشرفی انعام دیگا۔ اُس نے کہا تین سَو اشرفی! یہ تو ایک اشرفی کی بھی چیز نہیں تمہیں تین سَو اشرفی کون دیگا؟ کہنے لگا تین سَو نہ سہی اڑھائی سَو لے لونگا۔ اُس نے کہا اڑھائی سَو بھی بہت زیادہ ہے۔ کہنے لگا تو پھر دو سَو سہی۔ اس نے کہا دو سَو بھی بہت زیادہ ہے۔ کہنے لگا نہ مانے گا تو ڈیڑھ سَو سہی اس نے ڈیڑھ سَو کو زیادہ بتایا تو کہنے لگا سَو سہی۔اُس نے کہا کون بے وقوف ہے جو تمہیں سَو اشرفی دے دیگا۔ وہ بیچارا مایوس ہو کر اِسی طرح قیمت گراتا چلا گیا اور آخر کہنے لگا کہ میں دس اشرفی تو ضرور لوں گا۔ اُس نے کہا یہ تو دس اشرفی کی بھی چیز نہیں۔ کہنے لگا اگر اس نے دس سے بھی کم دیںتو میں گدھا اُس کی ڈیوڑھی میں باندھ دونگا اور آپ چلا آئونگا۔ اُس نے کہا اچھا!اِس گفتگو کے بعد وہ گھوڑے پر سوار ہو کر واپس آ گیا اور اُس نے سپاہیوں کو حکم دیدیا کہ اگر اس اس طرح کا کوئی آدمی آئے تو خیال رکھنا اور اسے میرے پاس بھیج دینا۔ اس نے پتہ نہ لگنے دیا کہ مَیں بادشاہ ہوں۔جب وہ آیا تو سپاہیوں نے اسے اندر بھجوادیا۔ وہاں بادشاہی جلال تھا اور تمام درباری ادب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کی شکل پہچانی نہیںجاتی تھی کیونکہ جنگل میں وہ سادہ لباس میں گھوڑے پراکیلا سوار تھا اُس جنگلی کو دیکھ کربادشاہ کہنے لگا کس طرح آنا ہؤا؟ اُس نے کہا حضور! آپ کے لئے ایک نیا تحفہ لایا ہوں کہنے لگا کیا چیز ہے؟ اس نے کہا تریں اور کھیرے ہیں۔ کہنے لگا کیا بے قیمت چیز ہے، اس نے کہا حضور نئی چیز ہے کسی نے اب تک کھائی نہیں اُس نے پوچھا اچھا تو پھر تم مجھ سے کیا امید رکھتے ہو؟ کہنے لگا تین سَو اشرفی۔ اُس نے کہا کیا تم مجھے پاگل سمجھتے ہو کہ اِن کھیروں اور تروں کے بدلہ میں تمہیں تین سَو اشرفی دیددں گا۔ اُس نے کہا تین سَو نہیں تواڑھائی سَو دے دیجئے۔ کہنے لگا اڑھائی سَو بھی کون دے سکتا ہے۔ اس نے کہا اڑھائی سَو نہیں تو دوسَو دے دیجئے ۔ کہنے لگا د وسَو بھی زیادہ ہے۔ اس نے کہا تو پھر سَو اشرفی لایئے۔ وہ کہنے لگا سَو بھی بہت زیادہ ہے غرض اسی طرح وہ قیمت گھٹاتا چلا گیا جب دس پر پہنچا تو بادشاہ نے کہا دس اشرفی بھی بہت زیادہ ہے۔ اس پر وہ بے اختیار کہنے لگا وہ کم بخت منحوس جو مجھے راستہ میں ملا تھا جس طرح اُس نے کہا تھا ویسا ہی ہؤا ہے اور یہ کہہ کر وہ لَوٹا۔ بادشاہ ہنس پڑا اور اس نے اسے واپس بُلایا اور کہا گھبرائو نہیںاور پھر اس نے حکم دیا کہ جتنی رقمیں ہوئی ہیں وہ سب جمع کر کے اسے دیدی جائیں یعنی ۳۰۰+۲۵۰+۲۰۰+۱۵۰+۱۰۰+۹۰ اس طرح کئی سَو روپے بن گئے جو اُسے دے کر اس نے رخصت کیا۔
    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک
    یہ ڈھوئے اور ڈالی کا طریق ہؤا کرتا تھا چونکہ یہ سُود خوری سے کم ہے
    اس لئے وہ اس کے معنے یہ کرتے ہیں کہ اے محمد رَسُوْل اللہؐ! تُو ڈھوئے لے کر لوگوں کے پاس نہ جایا کر اے محمد رَسُوْل اللہ! تُو ڈالیاں لے لیکر ڈپٹی کمشنر کے پاس نہ جایا کر۔ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ۔خدا کا گورنر جنرل اور اُس کا جرنیل آیا ہے اس کو ڈھوئے اور ڈالیوں کی ضرورت ہی کیا ہے؟ خدا تو اس سے یہ کہتا ہے کہ ہم تجھے اپنے پاس سے رزق دینگے اور بے حساب دینگے خدا تو اسے یہ کہتا ہے کہ لَوْلَاکَ لَمَاخَلَقْتُ الْاَ فْلَاکَ۵۳؎ اے محمد رسول اللہ! اگر تو دنیامیں نہ آیا ہوتا تو یہ سونے اورچاندیاں اور لوہے اورپیتل اور زمرّد اور ہیرے اور دریا اور پہاڑ غرض کچھ بھی نہ ہوتا یہ سب کچھ تیری خاطر پیدا کئے گئے ہیں۔ وہ شخص جس کی جُوتیوں کی خاک ہیںیہ چیزیں بلکہ جس کی جُوتیوں کی خاک سے ادنیٰ ہیں اس کے متعلق مولوی یہ کہتے ہیں کہ وہ زیادہ لینے کے لئے لوگوں کوڈھوئے دیتا پھرتا تھا کہ میں دس روپے کی چیز دیتا ہوں وہ مجھے پندرہ دے دے۔ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ یہ بھی اسی طرح ان کی غلطی ہے جس طرح کہ پہلی غلطیاں تھیں اور یہاں بھی وہی نادانی کام کر رہی ہے کہ ہر بُرے معنے محمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف اور ہر اچھے معنے اپنے عیسٰی ؑ کی طرف منسوب کئے جائیں۔
    لُغت کے لحاظ سے وَلَا
    تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ کے صحیح معنے
    اب ہم دیکھتے ہیں کہ آیت کے صحیح معنے کیاہیں؟اس غرض کے لئے ہم پھر لغت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مَنّ کبھی
    صلہ کے ساتھ آتا ہے اور کبھی بغیر صلہ کے۔ جب یہ صلہ کے ساتھ آئے تو اس کا صلہ علیٰ ہوتا ہے چنانچہ مَنَّ عَلَیْہِ کے معنے ہوتے ہیںاس پر احسان کیا یا اس پر احسان جتایا ۵۴؎ ا ور بغیر صلہ کے مَنّ آئے تو اس کے معنے ہوتے ہیں کسی کو روکنا یا کاٹنا۵۵؎ اور اِسْتَکْثَرَ کے معنے ہوتے ہیں زیادہ لینا۔۵۶؎ اس میں روپیہ کی شرط نہیں جو چیز بھی ہم زیادہ لیںاس کے معنے اِسْتِکْثَار کے ہو جائیں گے۔
    پہلے دو معنوں کے متعلق مَیں بتا چکا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں او رآپ کی شان کے بِالکل خلاف ہیں اور پھر سیاق وسباق کے ساتھ بھی ان کا کوئی جوڑ نہیں۔ذکر ہو رہا ہے اِنذار کا اور کہا جا رہا ہے کپڑے دھو، ریٹھے لا، صابن خرید، حمام میں جا اور پھرسُو د خوری نہ کر۔ ان گندے معنوں کے ساتھ بھی اس کاکوئی جوڑ نہیں بنتا لیکن ہم جو معنے بتاتے ہیں وہ سارے کے سارے ان آیتوں پرچسپاں ہو جاتے ہیں۔
    مشرکوں کو قتل کرنے یا ان کی آزادی
    پر پابندیاں عائد کرنے کی ممانعت
    اب ہمارے نقطہ نگاہ سے اس کے یہ معنے بن جائیں گے کہ اے محمد رسول اللہ! ہم نے تجھے شرک کے مٹانے کا حکم
    دیا ہے پہلے حکم آچکا ہے کہ وَالرُّجْزَفَاھْجُرْ شرک کو مٹادیے۔پس ہم نے شرک کے مٹانے کا حکم دیا ہے لیکن اس سے ایک غلط فہمی بھی ہو سکتی ہے ہم اس غلط فہمی کی تشریح کر دیتے ہیں کہ کہیں تم یا تمہارے مُرید اس حکم کے یہ معنے نہ کرلو کہ مشرکوں کو مارو اور اُن کی آزادی پر پابندی عائد کرو اور اس طرح اسلام کو ترقی دو۔ کیونکہ مٹانے کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ جس طرح وہ کہتے ہیں کہ جو مسلمان ہیںان کو خوب مارو، ان پر خوب سختی کرو، انہیںخوب ذلیل کرو اِسی طرح جو لوگ تم سے اختلاف عقیدہ رکھتے ہیں تم بھی ان سے یہی سلوک کرنے لگ جائو۔ خداتعالیٰ نے سمجھایا کہ مسلمانوں کے دماغ بھی کبھی خراب ہو سکتے ہیں اور ایسا ہو سکتا ہے کہ مسلمان بھی غیر مسلموں پر سختی کرنے لگ جائیں اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ہم نے یہ حکم دیا ہے کہ شرک کو مٹا دے تو ہمارا یہ مطلب نہیںکہ تم مشرکوں پر پابندیاں عائد کرو یا مشرکوں کو قتل کرو یہ اسلام میںمنع ہے پس اِس جگہ مَنّ کے معنے روکنے اور کاٹنے کے ہیں فَلا تَمْنُنْ پس مت کاٹ وہ شرک جس کے متعلق ہم نے کہا ہے کہ اسے مٹادے اس کا یہ مطلب نہیں کہ تو مشرکوں کو مارنے لگ جائے اور اس طرح تَسْتَکْثِرُ مسلمانوں کی جمعیت اور ان کی شوکت کو بڑھادے۔ پس اس جگہ آدمی بڑھانے کا ذکر ہے روپیہ بڑھانے کا ذکر نہیں یعنی مشرکوں کو مت کاٹ، مشرکوں پر قیود مت لگا اس طرح سے کہ مسلمانوں کی طاقت بڑھے اور مسلمان زیادہ ہوجائیں۔ ہم نے اسلام کی ترقی کا ذریعہ تبلیغ رکھی ہے، ہم نے اسلام کی ترقی کا ذریعہ روحانی تعلیمات رکھی ہیں، ہم نے اسلام کی ترقی کاذریعہ اعلیٰ درجہ کے اخلاق رکھے ہیں ان ذرائع سے اسلام کو بڑھا ئو، مشرکوں پر پابندیاں لگا کر یا ان کو مار کر یا ان پر قیدیں لگالگا کر اسلام بڑھانے کا حکم نہیں دیا۔ اب دیکھو یہ معنے کتنے اعلیٰ اور اسلام کی خوبی ثابت کرنے والے ہیں۔
    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    کے مقام صبر کی عظمت
    پھر فرما تا ہے َولِرَبِّک فَاصْبِرْ یعنی اگر مشکلا ت آئیں تو ان پر صبرکیجیؤ مگر وَلِرَبِّکَ۔ صبر دو طرح کا ہوتا ہے ایک
    ہوتاہے صبرِ مجبوری۔ ،بڑے آدمی کا بیٹا ہو تا ہے وہ کسی کو مارتا ہے تو لو گ کہتے ہیں کہ کیا کریں بو ل نہیں سکتے ۔ہم نے کئی دفعہ دیکھا ہے بڑا آدمی ظلم کر رہا ہو تو غریب آدمی کی ماں اُلٹا اپنے بچے کو ما رتی ہے۔ یا اگر اُس نے کسی عورت کے خا وند کو ما را ہو تو وہ الگ بیٹھ کر روتے ہیں سامنے روبھی نہیں سکتے۔ یہ بیچارگی کا صبر ہے مگر فرما تا ہے اے محمد رسول اللہ! ہم تیرے جیسے بزرگ شان والے انسان سے یہ امید نہیں کر تے کہ تو بزدلی والا صبر کر یگا بلکہ وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ تُو وہا ں صبر کرجہا ں تجھے نظر آتا ہو کہ میرا یہاں صبر کرنا خدا تعالیٰ کی خو شنودی کا موجب ہو گایہ نہیں کہ اس لئے صبر کرو کہ اگر میَں نے صبر نہ کیا تو ظا لم ظلم میں بڑھ جا ئے گا یا میَں اس کا مقا بلہ کس طرح کر سکتا ہوںوہ طاقتور ہے اور میں کمزور ہوں تُو صبر کر یگا ہماری خوشنودی کے لئے اور ہمیں راضی کر نے کے لئے۔
    دوسرے معنے صبر کے ایک کام پرلگ جا نے کے ہیں۵۷؎ پس اس کے معنے یہ ہو نگے کہ آج سے دوسرے سب کام چھوڑ کر تُوصرف اپنے رب کی خدمت میں لگ جا۔
    اب دیکھو یہ دربار کیسا شاندار ہے گورنر جنرل کے تقرر پر دربارِ خاص لگتا ہے، گورنرجنرل پیش ہو تا ہے اور اسے کہا جا تا ہے کہ سب سے پہلے ہم خوشی کا اظہا ر کرتے ہیںکہ تقررِعُہدہ کے وقت سے (جو سورئہ اقراء میں ہے) تم وردی پہن کر اور گھوڑالے کر کھڑے ہو کہ حکم ملتے ہی تم کام کے لئے نکل کھڑے ہو گے اب ہم ہمیشہ کے لئے یہ عُہدہ تمہا رے سُپرد کر تے ہیں ، کوئی ماں کابچہ ایسا نہیں جو تم کو اِس عُہدہ سے الگ کر سکے ہمیشہ ہمیش کے لئے یہ عُہدہ تمہارے سُپرد کیا جا تا ہے۔ خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانا تمہارا فرض ہوگا کمزور کو بیدا ر کرنا تمہارے ذمہ ہو گا اور اپنے رب کی سچّی شان کو قائم کرنا تمہارا کام ہو گا اور سب سے پہلے یہ کام اپنے اہل وعیا ل اور اپنے دوستوں اور اپنی قوم کے لو گوں سے شروع کر۔ پھر دائرہ وسیع کرتا چلا جا اور لباس اور جسم اور دماغ اور دل اور مکا ن اور ملک کی صفائی کو قائم کر اور ہر قسم کے گند کو مٹا دے اور آئندہ کے لئے تعذیبِ نفس اور تعذیبِ انسان اور تعذیبِ اَفکار کو دنیا سے ختم کر دے کہ خدا تعالیٰ کو اپنا قُرب دینے کے لئے ان طریقوں کی ضرورت نہیں اور شرک کا قلع قمع کردے اور ایسے سامان کر کہ مشرک شرک کو دنیا میں پھیلا نہ سکیں، موحّدین دنیا میں غالب ہوجائیں مگر یہ غلبہ مشرکوں پر پابندیاں لگا کر یا انہیں قتل کر کے حاصل نہ کیا جا ئے بلکہ تبلیغ اور قربانی اور ایثار سے ایسا کیا جائے اور آفات و مصائب میں برداشت کے ذریعہ سے یہ بات حاصل کی جائے مگر بُزدلانہ صبر نہیں بلکہ دلیر انہ صبر کہ جس میں باوجود طاقت کے برداشت اور عفو سے کام لیا جائے اور صرف خدا کو خوش کرنے کے لئے یہ کام کیا جائے اوراپنے اعلان کے آخر میں ہم پھر کہتے ہیں کہ یہ کام تیرے سپرد چند دن کے لئے نہیں کیا جا تا، چند سال کے لئے نہیں کیا جا تااب تُو ہی ہمارا ہو کر رہے گا اور ہمیشہ کیلئے اس عُہدہ پر قائم رکھا جائے گا۔
    دیوانِ خاص کی تیسری غرض
    (۳) دیو انِ خاص کی تیسری غرض یہ ہو تی ہے کہ با دشاہ اپنے درباریوں کے کام میں سہولت
    پیدا کرنے کے لئے مختلف قسم کی تدابیر اختیا ر کرتا اور اُن کی مشکلات کے بارہ میں علاج تجویز کرتا ہے اور پھر انہیں مدد دینے کے وعدے کرتا ہے جس سے ان کے اندر کا م کرنے کی ایک نئی روح پیدا ہو جاتی ہے۔
    دُنیوی بادشاہوں کاطریقِ کار
    میں نے دیکھا کہ دُنیوی بادشاہ ایسا کرتے ہیں مگر اوّل تو وہ ہمیشہ ہی صحیح
    علاج بتانے میں کا میا ب نہیں ہو تے۔ دوسرے کئی دفعہ بادشاہ علاج بتانے کی جگہ خود اپنے درباریوں سے علاج پو چھتے ہیں اور اُن کی مشکلا ت میں مدد دینا تو الگ رہا خود اپنی مشکلات میں اُن سے مدد لینے کے محتاج ہوتے ہیں اور پھر جو وعدے کرتے ہیں ان کو بھی بسا اوقات وہ پورا نہیں کرتے۔
    قرآنی دیوانِ خاص کا نرالا طریق
    مگر اس ’’دیوانِ خاص ‘‘میں میَں نے اس بارہ میں بھی نرالا طریق دیکھا۔ میَں نے
    دیکھا کہ بادشاہ خود ہی سب علاج بتاتا ہے اور خود ہی سب کچھ مہیّا کرنے کا وعدہ کرتا ہے اور پھر ہر وعدہ کووہ پورا بھی کرتا ہے۔ چنانچہ میَں نے قرآنی دربارِخاص کا مطا لعہ کیا تو مجھے عجیب حُسن نظر آیا۔
    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    کی حفاظتِ خاص کا وعدہ
    میَں نے دیکھا کہ بادشاہ جب وزراء اور افسرمقرر کرتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ وہ بادشاہ اور اس کے خاندان کی حفاظت
    کرینگے مگر میں نے اس دربارِ خاص کا یہ طریق دیکھا کہ جب اس دربار میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گورنر جنرل مقرر کیا گیا تو ساتھ ہی کہدیا گیا کہ ۵۸؎ یعنی اے ہما رے رسول! ہم نے تیری طرف جو کچھ نا زل کیا ہے تُو اسے لو گوں تک پہنچا دے اور اگر توُ ایسا نہیں کریگا تو تیری رسالت کا کا م نا تمام رہے گا بیشک اس کا م میں تجھے مشکلات پیش آئیں گی، اپنے اور بیگا نے تیری مخالفت میں کھڑے ہو جا ئینگے اور وہ کوشش کرینگے کہ تجھے کُچل کر رکھ دیں اور تیرے نام کو صفحہء ہستی سے معدوم کر دیں مگر خدا اُن کو ناکام کریگا اور وہ تجھے لوگوں کے تمام حملوں سے محفوظ رکھے گا۔ یہ کیسا ’’دیوانِ خاص ‘‘ ہے کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات الگ بھی کی جا تی ہے اور پھر دیوانِ عام میں سُنانے کا حکم دیا جا تا ہے اور پھر ساتھ ہی یہ بھی کہا جا تا ہے کہ اس اعلان کی وجہ سے کوئی نقصان پہنچے تو ہم ذمہ دار ہیں۔
    دشمنوں کی عبرت ناک نا کا می کا مرقّع
    دنیا نے اس اعلان کو سُنا تو وہ حقارت کے ساتھ ہنسی اوراُس نے سمجھا کہ
    وہ اپنی کوششوں سے اس گورنر جنر ل کے غلبہ اور اقتدار کو روک سکے گی اور اسے تباہ وبرباد کر دیگی مگر واقعات بتاتے ہیں کہ دشمنوں کی ہر تدبیر نا کام ہو ئی اور خدا تعالیٰ کی حفاظت ہمیشہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاملِ حال رہی۔
    حضرت عمر ؓ کاارادئہ قتل
    چنانچہ دیکھ لو جب مکہ میں اسلا م نے ترقی کرنی شروع کی اور کفار کی تمام تدابیر کے باوجود مسلمانوں
    کی تعداد میں زیا دتی ہوتی چلی گئی تو حضرت عمرؓ جو ابھی اسلا م نہیں لا ئے تھے انہوں نے جوش میں آکر ایک دن تلوار ہاتھ میں لی او ر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور جا تے ہوئے کہہ گئے کہ اچھامیَں خود ہی اِس روز روز کے جھگڑے کو ختم کئے دیتا ہوں ۔ابھی وہ گھر سے تھوڑی دُور ہی گئے تھے کہ انہیں راستہ میں اپنا ایک دوست ملا اُس نے پو چھا عمر! اتنے جو ش میں تلوار ننگی لٹکا ئے کہا ں جا رہے ہو؟ عمر نے کہا آج میَں نے ارادہ کیا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا سرلے کر ہی واپس لَو ٹوں گا تاکہ یہ روز روز کے جھگڑے ختم ہو جا ئیں ۔اُس دوست نے کہا عمر! تم محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مارنے جا رہے ہو پہلے اپنے گھر کی توخبر لو۔ عمر نے کہا میرے گھر میں کیا ہؤا ہے؟ دوست نے کہا تمہاری بہن اور تمہارابہنوئی محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کے دین میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ سُن کر حضرت عمرؓ نے بڑے غصّہ میں اپنی بہن کے گھر کا راستہ لیا جب گھر کے قریب پہنچے تو انہیں قرآن کریم کی تلاوت کی آواز سُنائی دی۔ قرآن کریم پڑھنے کی آواز سُن کر انہیں اَور بھی جو ش آیا اور جھٹ دروازہ کے اندر داخل ہو گئے۔ ان کی آہٹ پاکر حضرت خبابؓ جو ایک حبشی غلام تھے اور وہی اس وقت عمر ؓ کی بہن اور بہنوئی کو قرآن پڑھا رہے تھے کہیں چُھپ گئے اور اُن کی بہن نے قرآن کریم کے اَوراق اِدھر اُدھر چُھپا دئیے۔
    بہنوئی پر حملہ
    حضرت عمر ؓ نے اندر آتے ہی نہا یت جو ش اور غصّہ کے ساتھ کہا میَں نے سُنا ہے تم دونوںاپنے دین سے پھر گئے ہو اور تم نے
    محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی اختیار کر لی ہے!! یہ کہتے ہی وہ اپنے بہنوئی پر جھپٹ پڑے اورانہیں مارنا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر اُن کی بہن اپنے خاوند کو بچانے کے لئے آگے بڑھی مگر حضرت عمر ؓ کاہا تھ جو اُٹھ چکا تھا اُسے روکنا مشکل تھا چنانچہ ایک مُکّہ ان کی بہن کو بھی جا لگا اور اُن کے جسم میں سے خون بہنے لگا۔
    بہن کو زخمی دیکھ کر حضرت عمر ؓ
    کی ندامت و شرمندگی
    یوں تو عرب لو گ اپنی بیویوں کو مارنا کو ئی عیب نہ سمجھتے تھے مگر کسی دوسری عورت پر ہاتھ اُ ٹھا نا وہ اپنی مردانگی کے خلا ف خیا ل
    کرتے تھے حضرت عمرؓ کااپنی بہن کو زخمی کرنا بِالارادہ نہ تھا چونکہ وہ اپنا ہا تھا اُٹھا چکے تھے اس لئے اب اُس کا رُکنا مشکل ہو گیا تھا جب انہوں نے اپنی بہن کو زخمی اور خون میں تربتر دیکھا تواُن کے دل میں ندامت اور شرمندگی پیدا ہوئی اور انہیں گھبراہٹ کے عالَم میں اور کچھ نہ سُوجھا اپنی بہن سے کہنے لگے اچھا ان باتوں کو جانے دو یہ بتائو کہ تم لوگ کیا پڑھ رہے تھے؟ یہ سُن کر بہن کو بھی سخت غصّہ آیا، کہنے لگی میں تمہیں ہر گز وہ اوراق نہیں دکھائونگی کیو نکہ مجھے خطرہ ہے کہ تم اُن کو ضائع کر دوگے۔ حضرت عمرؓ نے کہا میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایسا نہیں کرونگا بلکہ دیکھ کر تمہیں واپس دیدونگا۔ بہن نے کہا تم جب تک غسل نہ کرلو تم ان اَوراق کو ہا تھ نہیں لگا سکتے چنانچہ حضرت عمرؓ غسل کرنے کے لئے چلے گئے جب غسل سے فارغ ہوئے تو بہن نے قرآن کریم کے وہ اَوراق نکال کر ان کے سامنے رکھ دیئے۔
    حضرت عمرؓ پر قرآن کریم کا معجزانہ اثر
    حضرت عمرؓ کے دل میں بہن کے زخمی کرنے سے اتنی ندامت
    پیدا ہو چکی تھی کہ ضد اور تعصّب اور عداوت کا وہ پردہ جس کی وجہ سے وہ قرآن کریم کو سُننا تک گوارانہ کرسکتے تھے اب ہٹ چکا تھا۔ جب بہن نے قرآن کریم کے اَوراق ان کے سامنے رکھے تو انہوں نے انہیں پڑھنا شروع کیا وہ آیا ت سورہ طٰہٰ کی تھیں جُو ںجُو ں وہ ان آیا ت کو پڑھتے جا تے ایک ایک لفظ ان کے سینے میں نقش ہو تا چلا جا تا۔ پڑھتے پڑھتے حضرت عمرؓ کی حا لت بِالکل بد ل گئی ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور قرآن کریم کی آیا ت نے اُن کی فطری سعادت کو بیدار کر دیا قرآن کریم کا ایک ایک لفظ ان کے سینے کی گہرائیوں میں جا گزیں ہو گیا۔ اب عمر ؓ وہ عمر نہیں رہا تھا جو مسلمانوں کو ان کے اسلام کی وجہ سے دُکھ دیا کرتا تھا، اب عمرؓ وہ عمر نہیں رہا تھا جو اپنی لونڈی کو اسلام لا نے کی وجہ سے ہمیشہ زدوکوب کیا کرتا تھا، اب عمرؓوہ عمر نہیں رہا تھا جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہ عہد کر کے نکلا تھا کہ آج مَیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے ہی واپس لَو ٹو نگا، اب عمرؓ اپنی اس اصل حالت پر آچکا تھا جو اُس کے لئے ازل سے مقدر تھی، اب عمرؓاس رنگ میں رنگین ہو چکا تھا جس میں خدا تعالیٰ اُسے رنگنا چاہتا تھا، اب عمرؓ کی سنگدلی کی جگہ ایمانِ کا مل نے لے لی تھی حضرت عمرؓ نے جب یہ آیت پڑھی۔ ۵۹؎ تو وہ بے اختیا ر ہو کر بولے یہ کیسا عجیب اور پا ک کلام ہے۔ یہ سُنکر حضرت خباب ؓ جو ان سے ڈر کر چُھپے بیٹھے تھے باہر نکل آئے۔
    حضرت عمر ؓ کی دارِارقم کو روانگی
    حضرت عمرؓ نے جنہیں اب ایمان نے بیقرار کر دیا تھا بیتابی کے ساتھ خبابؓ سے پو چھا
    مجھے جلد بتائو محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کہاں ہیں ؟میں اُن سے ملنا چا ہتا ہوں۔ خباب ؓ نے بتا دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم فلاں جگہ ہیں مگر چونکہ حضرت عمرؓ نے ابھی تک اپنی تلوار اسی طرح کھینچ رکھی تھی جس سے یہ خطرہ محسوس ہو تا تھا کہ ان کے ارادے نیک نہیں اس لئے ان کی بہن اس خیا ل سے کہ خدانخواستہ ان کی نیت خراب ہی نہ ہو آگے بڑھی اور ان کے گلے میں ہا تھ ڈال کر کہنے لگی خدا کی قسم! میں تمہیں ہر گز محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں جانے دوں گی جب تک تم مجھ سے اقرار نہ کر و کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی دُکھ نہیں پہنچائو گے۔ حضرت عمرؓ نے کہا نہیں نہیں بہن! ایسا نہیں ہو سکتا مجھ پر اسلام کا گہرااثر ہو چکا ہے۔ یہ سنکر بہن نے انہیں چھوڑدیا اور حضرت عمرؓ دارِارقم کی طرف روانہ ہو گئے جہا ں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن دنوں مقیم تھے۔
    حضرت عمرؓ کا رسول کریم صلی اللہ
    علیہ وسلم کی غلا می میں داخل ہو نا
    حضرت عمر ؓ نے دروازے پر پہنچ کر دستک دی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت صحابہؓ کو قرآن کریم کی تعلیم دے رہے
    تھے۔ صحابہ ؓ نے جب دروازے کی دراڑ میں سے دیکھا کہ عمر ننگی تلوار لئے دروازے میںکھڑے ہیں تو انہوں نے سمجھا آج عمر کے ارادے نیک نہیں ہیں اس لئے انہوں نے درواز ہ کھولنے میں تأمّل کیا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دروازہ کھول دو۔ حضرت حمزہؓ جو ابھی نئے ایمان لائے تھے جو ش کے ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے دروازہ کھو ل دواگر تو عمرکسی نیک ارادہ کے ساتھ آیا ہے تو بہتر ورنہ کیا عمرؓ کو تلوار چلا نی آتی ہے ہمیں تلوار چلانی نہیں آتی۔ صحابہ ؓ نے دروازہ کھولا اور حضرت عمرؓ اُسی طرح ننگی تلوار لئے اندر داخل ہو ئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھتے ہی فرمایا عمر!تم کس ارادے سے آئے ہو؟ حضرت عمرؓ نے عرض کیا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میں تو آپ کے خادموں میں داخل ہونے کے لئے حاضر ہؤاہوں۔
    نعرہ ہا ئے تکبیر
    یہ سُنکر آپؐ نے خوشی کے جوش میں اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا اور ساتھ ہی صحابہؓ نے بڑے زور کے ساتھ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کا نعرہ لگایا یہاں
    تک کہ مکّہ کی پہاڑیاں بھی گونج اُٹھیں۔۶۰؎
    خدا ئی حفاظت کا غیر معمولی نشان
    اب دیکھو عمرؓ تو اس ارادہ کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے تھے کہ آج میں
    محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو ما ر کر ہی واپس لَو ٹوں گا اُس وقت جبکہ عمر ؓاپنی تلوار سونت کر گھر سے نکلے ہو نگے مکہ والے کتنے خوش ہو نگے کہ آج عمرؓ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کئے بغیر واپس نہ آئیگا، مکہ کے لو گ بیتابی کے ساتھ انتظار کر رہے ہو نگے کہ کب انہیں خوشخبری ملتی ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا ہے، وہ لوگ ایڑیا ں اُٹھا اُٹھا کر حضرت عمرؓ کی راہ تک رہے ہو نگے کہ کب وہ پہنچ کر اپنی کامیابی کی اطلاع دیتے ہیں، وہ لوگ خوش ہونگے کہ آج عمرؓ اِس جھگڑے کو ختم کر کے ہی واپس آئے گا۔ عمرؓ اپنی جگہ خوش تھے او رگھر سے تلوار سَونت کر نکلتے وقت کہہ رہے ہو نگے کہ میرے جیسا بہا در بھلا فیصلہ کئے بغیر لَوٹ سکتا ہے؟غرض حضرت عمر ؓ اپنی جگہ خوش تھے اور مکّہ والے اپنی جگہ پر خوش تھے اِس بات پر کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ضرور قتل ہو جائینگے مگر خدا تعالیٰ عرش پر بیٹھا ہؤا اُن کی نادانی پر ہنس رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا ہم نے تجھ سے یہ نہیں کہا کہ ۶۱؎ خداتعالیٰ تجھے خودلو گو ں کے حملہ سے بچائے گا چنا نچہ اُس نے حضرت عمر ؓکواِس طرح پکڑا کہ کوئی انسان اس طرح پکڑ نہیں سکتا۔ انسان کی گرفت زیا دہ سے زیادہ یہ ہو سکتی تھی کہ کوئی مسلمان حضرت عمرؓ کے مقابلہ میں کھڑا ہوجا تا اور اُن کو ما ر دیتا، انسان کی گرفت زیا دہ سے زیادہ یہ ہو سکتی تھی کہ حضرت عمر ؓ کی بہن یا ان کا بہنوئی اور ان کا حبشی غلام انہیں راستہ میں پکڑ لیتے اور انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہ جا نے دیتے، انسان کی گرفت یہ ہو سکتی تھی کہ حضرت حمزہؓ یا کوئی اور صحابی حضرت عمر ؓ کے مقابلہ پر کھڑے ہو جا تے اور انہیں قتل کر دیتے مگرخداتعالیٰ نے حضرت عمرؓ کو اِس طرح پکڑا کہ وہی عمر جو آپ کو قتل کرنے کے ارادہ سے نکلا تھا آپ کے پاس پہنچ کر خود قتل ہو گیا۔ جسم کی موت بھلا کیا حقیقت رکھتی ہے اصل موت تو وہ ہو تی ہے جب کوئی شخص کسی کی غلامی میں داخل ہو جا تا ہے۔ حضرت عمرؓ گئے تو اِس نیت کے ساتھ تھے کہ وہ آپؐ کو ما ردینگے لیکن اِسی عمر ؓکو خدا نے ایسا مارا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر تلوار لے کر کھڑ ا ہو گیا اور اُس نے کہا کہ اگر کسی نے یہ کہا کہ محمد رسول اللہؐ فوت ہو گئے ہیں تو میَں اُس کی گردن کاٹ دونگا۔۶۲؎
    واقعہ ء ہجرت
    پھر واقعہء ہجرت پر غور کر و اور دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیسی معجزانہ رنگ میں حفاظت فرمائی۔ مکّہ کے
    صنا د ید آپس میں مشورہ کرکے فیصلہکرتے ہیں کہ مختلف قبائل کے مسلّح نوجوان رات کو آپؐ کے مکان کے اِردگِرد گھیرا ڈال لیں او ر جب آپ باہر تشریف لائیں تو سب مل کر آپؐ کو قتل کریں تا کہ یہ خون قریش کے متفرق قبائل پر تقسیم ہو جائے اور بنو ہا شم انتقام لینے کی جرأت نہ کر سکیں۔ اِدھر انہوں نے یہ فیصلہ کیا اور اُدھراُ سی خدا نے جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہؤا تھا محمد رسول اللہ علیہ وسلم کو کفار کے اس بدارادہ کی اطلاع د ے دی اور آپؐ کو مکہ سے ہجرت کا حکم دے دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنے گھر سے ایسی حالت میں نکلتے ہیں جب قریش کے مسلّح نوجوان آپ کے قتل کے ارادہ سے آپ کے مکان کے اِرد گِرد گھیراڈالے ہوئے ہیں مگر آپ کے دل میں کوئی گھبراہٹ پید انہیں، آپ کے بدن میں کوئی ارتعاش پیدا نہیں ہو تا، آپ کے جسم پر کپکپی طاری نہیں ہو تی، آپ کے حواس پراگندہ نہیں ہوتے، آپ بڑے اطمینان کے ساتھ اُن سفّاک اور خونخوار بھیڑیوں کے درمیان سے خراماں خراماں نکل جا تے ہیں اور کوئی آنکھ آپ کو بد اِرادہ سے نہیں دیکھ سکتی، کوئی ہا تھ آپؐ پر وار کرنے کے لئے نہیں اُٹھ سکتا، کوئی تلوار اپنی میان سے باہر نہیں آسکتی، زمین وآسمان کے خدا نے اُن کی آنکھوں کو اندھا کردیا، اُن کے ہا تھوں کو شل کر دیا او رمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بحفا ظت وہا ں سے نکا ل لیا کیونکہ خدا نے یہ فرمایا تھا کہ ۔
    غارِ ثور تک پہنچ کر بھی دشمن رسول کریم صلی اللہ
    علیہ وسلم کی گرفتاری میں کامیا ب نہ ہو سکا
    جب دشمن نے دیکھا کہ اس کا یہ تیر بھی خالی چلا گیا تو اپنی ندامت اور شرمندگی
    مٹانے کے لئے اُس نے مکّہ کے ہو شیا ر او ر فنکا ر کھوجیوں کی مدد سے آپؐ کے پا ئوں کے نشانات دیکھتے ہوئے غارِ ثور تک آپ کا تعاقب کیا اور دشمن اِس قدر قریب پہنچ گیا کہ حضرت ابوبکر ؓ جو اس ہجرت میں آپ کے ساتھ شامل تھے گھبرا اُٹھے اور انہوں نے کہا یَارَسُوْلَ اللہ! دشمن اِس قدر قریب پہنچ چکا ہے کہ اگر وہ ذرا آگے بڑھ کر غار کے اندر جھا نکے تو ہمیں پکڑ نے میں کامیا ب ہو سکتا ہے۔ مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے اطمینان سے فرماتے ہیں کہ اے ابوبکر! گھبراتے کیوں ہو خدا ہما رے ساتھ ہے۔۶۳؎ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ ہمیں پکڑ نے میں کا میاب ہو سکیں۔ چنا نچہ مکہ کے صنا د ید جس طرح رات کی تاریکی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑنے میں نا کام ونا مراد رہے ہیں اِسی طرح وہ دن کی روشنی میں بھی آپ کی گرفتاری میں کامیا ب نہ ہو سکے اور خدا نے بتا دیا کہ میَں رات اور دن اس انسان کے ساتھ ہوں۔ ممکن ہے اُن مکّہ کے نوجوانوں میں بعض یہ خیال کرتے ہوں کہ چونکہ رات تھی اِس لئے محمد رسول اللہ نکلنے میں کا میا ب ہو گئے، خدا اُن کو دن کے وقت غارِثور کے منہ پر لا یا اور پھر اُن کی آنکھوں میں نابینائی پیدا کر کے بتادیا کہ اس کا اصل باعث یہ نہیں کہ محمد رسول اللہ رات کی تاریکی میں نکل آئے تھے بلکہ اس کا اصل باعث یہ ہے کہ میَں اس کا محا فظ ہو ں ورنہ دن کی روشنی میں اپنے کھو جیوں کی نشان دہی کے باوجود تم اسے پکڑ نے میں کیو ں کا میا ب نہ ہو سکے۔
    سُراقہ کا تعاقب
    پھر جب آپ مدینہ جا رہے تھے ایک دشمن آپ کے سر پر پہنچ گیا مگر الٰہی تصرف کے ماتحت اُ س کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی او ر
    وہ گُھٹنوں تک زمین میں دھنس گیا۔ وہ پھر آگے بڑھا تو دوبارہ اُس کے گھو ڑے نے ٹھو کر کھا ئی او روہ پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ اِس پر وہ گھبرا اُٹھا اور اُس نے سمجھا کہ یہ بِلاوجہ نہیں ہو سکتا چنا نچہ یا تو وہ آپ کی گرفتاری کے ارادہ سے باہر نکلا تھا یا عجز اور انکسار کے ساتھ وہ آپ سے معافی کا طالب ہؤا اور اُس نے کہا کہ آپ خداتعالیٰ کے سچے نبی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آ پ ایک دن ضرور غالب آکر رہیں گے۔ ۶۴؎
    اِس واقعہ پر غور کر و اور دیکھو کہ کس طرح قدم قدم پر خدا تعالیٰ نے آپ کی معجزانہ رنگ میں حفا ظت فرمائی اور دشمن کو اپنے نا پاک عزائم میں ناکام رکھا۔
    الٰہی تصرّف کے ما تحت دشمن
    کے ہا تھ سے تلوار گِر جا نا
    اِسی طرح غزوہ غطفان سے واپسی کے موقع پر جبکہ آپ ایک درخت کے نیچے سو رہے تھے ایک دشمن آپؐ کو قتل کرنے کے ارادہ سے آپ
    کے پاس جا پہنچااو راُس نے آپ کی ہی تلوار سونت کر آپ کو جگا یا اور پوچھا کہ اب آپ کو کو ن بچا سکتا ہے؟ آپؐ نے لیٹے لیٹے نہایت اطمینان کے ساتھ فرمایا کہ اَللّٰہُ۔اِن الفا ظ کا اُس پر ایسا ہیبت ناک اثر ہؤا کہ اُس کے ہاتھ کا نپ گئے اور تلوار اس کے ہا تھ سے گر گئی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً وہ تلوار اپنے ہا تھ میں پکڑی اور اُس سے پو چھا کہ بتااب تجھے مجھ سے کون بچاسکتا ہے؟ اُس نے کہا آپ ہی رحم کریںتو کریں ورنہ میری نجا ت کا اور کو ئی ذریعہ نہیں۔۶۵؎
    جنگِ اُحد میں ـخدائی تصرّف
    پھر جنگ اُحد میں ایک وقت ایسا آیا جب بعض صحابہؓ کی غلطی کی وجہ سے اسلامی لشکر تِتّر بِتّر
    ہو گیااو ر آپؐ کے اِرد گِرد صرف چند صحابہؓ رہ گئے اور ایک وقت تو ایسا آیا کہ آپ اکیلے نرغہء اعداء میں گھِر گئے۔ ایسے خطر نا ک مو قع پر اگر خدا کی حفا ظت آپ کے شاملِ حال نہ ہو تی تو دشمن کے لئے آپؐ کو جا نی نقصان پہنچانا کوئی بڑی بات نہ تھی۔ ہزاروں مسلّح سپاہیوں کے سامنے کسی ایک شخص کی کیا حیثیت ہو تی ہے مگر ان نا زک گھڑیوں میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کے سامنے میدانِ جنگ میں ڈٹے رہے اور ایک لمحہ کے لئے بھی وہا ں سے ہٹ جا نے یا خود حفا ظتی کے لئے کسی پتھر کے پیچھے چُھپ جا نے کا خیا ل بھی آ پ کے دل میں پیدا نہیں ہؤا۔ دشمن آگے بڑھا اور اُس نے آپ پر شدید حملہ کر دیا یہاں تک کہ آپؐ کے دندانِ مبارک بھی شہید ہو گئے اور آپ بیہوش ہو کر گڑھے میں گِر گئے۔ دشمن نے سمجھا کہ وہ آپ کو مارنے میں کامیاب ہو گیا ہے مگر جب جنگ کے بادل پھٹے انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ میں سورج کی طرح دمکتے دیکھا اور یہ خبر اُن پر بجلی بن کر گِری کہ آج بھی وہ ہزاروں کا لشکر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے میں کا میا ب نہیں ہو سکا۶۶؎ اور کیوں ایسا نہ ہو تا جبکہ اِس گورنر جنر ل کے متعلق دربارِ خاص میں یہ اعلان کردیا گیا تھا کہ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! خداتجھے لو گوں کے حملوں سے بچائے گا۔
    جنگِ حنین میں محمد رسول اللہ صلی اللہ
    علیہ وسلم کا دشمن کی طرف بڑھتے چلے جا نا
    اِسی طرح حنین کی جنگ میں جب صرف بارہ(۱۲) آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد رہ
    گئے تھے او ر دشمن کے چار ہزار تیر انداز تیروں کی بارش برسا رہے تھے بعض صحابہؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہا اور کہا کہ یَارَسُوْلَ اللّٰہ! اِس وقت آگے بڑھنا ہلاکت کے منہ میں جا نا ہے مگر آپ نے بڑے جوش سے فرمایا میرے گھوڑے کی باگ چھوڑدومَیں پیچھے نہیں ہٹ سکتااور خوددشمن کی طرف یہ کہتے ہوئے آپ نے بڑھنا شروع کردیاکہ:۔
    اَنَا النَّبِیُّ لَاکَذِبْ
    اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ۶۷؎
    مَیں خداتعالیٰ کا سچا نبی ہوں اُس کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کررہا لیکن میری اس وقت کی کیفیت کو دیکھ کر تم یہ خیا ل نہ کر لینا کہ میرے اندر کو ئی خدائی طاقت پا ئی جا تی ہے میں ایک انسان ہوں اور عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ غرض اُن نازک گھڑیوں میں بھی جب اسلام کے جا نباز سپاہی جو سارے عرب کوشکست دے چکے تھے بارہ(۱۲) ہزار کی تعداد میں ہوتے ہوئے ایک غیر متوقع حملہ کی تاب نہ لا کر اپنے پائے ثبات میںجُنبش محسوس کررہے تھے اور اُن کی سواریاں میدانِ جنگ سے بھا گ رہی تھیں،جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرد گِرد صرف چند آدمی رہ گئے تھے، جب ہر طرف سے دشمن بارش کی طرح تیر برسا رہے تھے آپ آگے ہی آگے بڑھتے چلے گئے کیونکہ آپؐ کو یقین تھا میرا خدا میرے ساتھ ہے اور وہ مجھے خود دشمن کے حملہ سے بچائے گا۔
    ایک حیرت انگیز واقعہ
    پھر اِسی جنگ کا ایک اور حیرت انگیز واقعہ یہ ہے کہ مکّہ کا ایک شخص جس کا نام شیبہ تھا اِس جنگ میںصرف
    اِس نیت اور ارادہ کے ساتھ شامل ہؤا کہ مو قع ملنے پر مَیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دونگا۔ جب لڑا ئی تیز ہوئی تو وہ خود کہتا ہے کہ میں نے تلو ار سونت لی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے ارادہ سے میَں نے آپؐ کے قریب ہو نا شروع کیا۔ اُس وقت مجھے یو ں معلوم ہؤا کہ میرے اور آپؐ کے درمیان آگ کا ایک شُعلہ اُٹھ رہا ہے جو قریب ہے کہ مجھے جلا کر بھسم کر دے مگر پھر بھی میں آگے بڑھتا چلا گیا اُس وقت اچانک مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنائی دی کہ شیبہ! میرے پاس آئو جب میں آ پ کے قریب پہنچا تو آپؐ نے میرے سینہ پر اپنا ہا تھ پھیرا اور فرما یا اے خدا! شیبہ کو شیطانی خیالات سے نجا ت دے۔ شیبہ کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا تھاکہ یکدم میری تمام دشمنی دُور ہو گئی اور میرا دل آپ کی محبت اور پیا ر کے جذبات سے اِس قدر لبریز ہو گیا کہ اُس وقت میرے دل میں سوائے اِس کے اور کوئی خواہش نہ رہی کہ میَں اپنی جان آپ کے لئے قربان کردوں۔۶۸؎
    شاہِ ایران کا محمد رسول اللہ صلی اللہ
    علیہ وسلم کی گرفتاری کا حُکم دینا
    پھر کسریٰ شاہِ ایران جو آدھی دنیا کا ما لک تھا اُس نے یہود کے اشتعال دلانے پر اپنے گورنرِ یمن کو لکھا کہ عرب کے اس
    مدعیٔ نبوت کو گرفتار کر کے میرے پا س بھجوا دیا جا ئے یہ شخص اپنے دعووں میں بہت بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ گورنر یمن نے اس حکم کے ملتے ہی ایک فوجی افسر کو اِس ڈیو ٹی پر مقرر کیا اور وہ ایک سپا ہی کو اپنے ساتھ لیکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے مدینہ منورہ میں پہنچا اور اُس نے آپ سے کہا کہ کسریٰ نے گورنرِ یمن کو حکم بھجوایا ہے کہ آ پ کو گرفتار کرکے اُس کی خدمت میں حا ضر کیا جا ئے اور ہم اس غرض کے لئے یہاں آئے ہیں آپ ہما رے ساتھ چلیں ورنہ کسریٰ کو زیادہ غصّہ آیا تو وہ آپ کو بھی ہلا ک کر دیگا اور آپ کی قوم اور ملک کو بھی برباد کر دے گا۔
    شاہ ِ ایران کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم آج رات ٹھہرو
    کل میں تمہیں اس کا جواب دونگا۔ رات کو آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دُعا کی تو خداتعالیٰ کی طرف سے آپؐ کو بتایا گیا کہ کسریٰ کی اِس گستاخی کی سزا میں آج رات ہم نے اس کے بیٹے کو اس پر مسلّط کر دیا ہے اور اُس نے اپنے باپ کو قتل کر دیا ہے۔ جب صبح ہو ئی اور گورنرِ یمن کے ایلچی دوبارہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ضر ہو ئے تو آپ نے فرمایا جا ئو اور اپنے گورنر سے جا کر کہہ دو کہ آج رات میرے خدا نے تمہا رے خداوندکو ما ر دیا ہے ۔
    گورنرِ یمن کا استعجا ب
    جب گورنرِ یمن کو یہ اطلا ع پہنچی تو اس نے کہا اگر یہ شخص واقعہ میں خداتعالیٰ کی طرف سے ہے تو ایسا
    ہی ہؤا ہو گا لیکن اگر یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تو پھر کسریٰ اسے بھی تباہ کر دیگا اور اس کے ملک کو بھی برباد کر دے گا بہر حال اُس نے حیرت اور استعجاب کے ساتھ اس خبر کو سُنا اور اُس نے ایران سے آنے والی اطلا عات کا انتظار کرنا شروع کیا ۔
    گورنرِیمن کا اقرار کہ مدینہ
    کے نبی نے سچ کہا تھا
    تھو ڑے ہی دن گزرے تھے کہ یمن کی بند رگاہ پر ایران کا ایک جہا ز لنگر انداز ہؤا اور اس میں ایک شاہی ایلچی نے گورنرِ یمن کو بادشاہ کا ایک خط دیا۔
    اُس پر چونکہ ایک نئے بادشاہ کی مُہر تھی اس لئے خط کو دیکھتے ہی گورنر یمن کہہ اُٹھا کہ مدینہ کے نبی نے سچ کہاتھا۔ پھر اُس نے خط کھو لا تو اُس میں کسریٰ کے بیٹے (شیرویہ) نے لکھا ہؤا تھا کہ میَں نے اپنے باپ کو اس کے مظالم کی وجہ سے قتل کر دیا ہے اور اب میَں اُس کی جگہ تختِ حکومت پر متمکن ہوں تم تما م افسروں سے میری اطاعت کا اقرار لو اور یہ بھی یا د رکھو کہ میرے باپ نے عرب کے ایک نبی کی گرفتاری کا جو حکم بھیجا تھا اُس کو مَیں منسوخ کرتا ہوں کیو نکہ وہ نہایت ظالمانہ حکم تھا۔ گورنر یمن اس خط کو پڑھ کر اِس قدر متأثر ہؤا کہ وہ اوراُس کے کئی ساتھی اُسی وقت اسلام میں داخل ہو گئے انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسلام میں داخل ہونے کی اطلاع بھجوادی۔۶۹؎
    اِس واقعہ پر غو ر کرو اور دیکھو کہ کس طرح قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی معجزانہ تائیداو ر اُس کی نصرت آپؐ کے شاملِ حال رہی۔ دشمن نے آپ کو قتل کرنے کے لئے کئی منصوبے کئے مگر اللہ تعالیٰ نے ہر دفعہ اس کو اپنے منصوبوں میں نا کام رکھا ۔
    یہود کی متواتر نا کامی
    مدینہ منو رہ میں اسلام اور مسلمانو ں کے سب سے بڑے دشمن یہو د تھے جو مخالفت کا کوئی موقع اپنے ہا تھ سے نہیں
    جانے دیتے تھے۔ ایک دفعہانہی کے ایک قبیلہ بنو نضیر نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض امور پر گفتگو کرنے کے لئے بُلوایا۔ لیکن در پردہ سازش کی کہ ایک شخص چپکے سے چھت پر چڑھ کر ایک بڑا وزنی پتھر آپ پر گِرادے جس سے آپ ہلا ک ہو جائیں او ر بعد میں یہ مشہو ر کر دیا جائے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ ہو گیا ہے۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت اِس کی خبر دیدی اور آپ وہا ں سے اُٹھ کر واپس آگئے۔۷۰؎
    اِسی طرح غزوئہ خیبر میں ایک یہودی عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی اور کھانے میں زہر ملادیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا لُقمہ ہی اُٹھا یا تھا کہ آپ کو اس کا علم ہو گیا کہ کھا نے میں زہر ملایا گیا ہے او ر آپ اسے چھو ڑ کر کھڑے ہوگئے۔۷۱؎
    غرض اس دربار میں خدائی گورنر جنرل کے متعلق جو کچھ کہا گیا تھا تاریخی واقعات اِس بات پر گواہ ہیں کہ وہ وعدہ بڑی شان کے ساتھ پوار ہؤا۔
    اچھے ہتھیا روںاور اچھے
    معاونوں کی ضرورت
    پھر ایک افسر تبھی کا میا ب ہو تاہے جب اسے اچھے ہتھیا ر اور اچھے معاون ملیں۔دُنیوی بادشاہ افسر مقرر کر کے یہ چاہتے ہیں کہ اب وہ اچھے ہتھیا ر
    اور اچھے معاون خود تلاش کریں مگراس دربار میں میَں نے یہ عجیب بات معلوم کی کہ گورنرجنر ل کے مقرر ہوتے ہی یہ اعلان کیا جا تا ہے کہ اسے بہترین ہتھیا ر اور بہترین معاون ہم خود دینگے اسے تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی چنا نچہ اس خدائی گورنر جنر ل کے متعلق یہ اعلان کیا گیا کہ ۷۲؎
    قرآنی اسلحہ
    اے لو گو سنو!ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کا روحانی حاکم مقرر فرما دیا ہے اور اسے ایک ایسے ہتھیا ر کے ساتھ مسلّح کیا ہے جس کی
    بڑی خوبی یہ ہیکہ وہ جسموں کو نہیں بلکہ دلوں اور دماغوں کو فتح کرتا ہے۔ پھر یہ ہتھیا ر ایسا نہیں جس کی چوٹ کھا کر لو گ زخموں سے تڑپنے اور تلملانے لگ جا ئیں بلکہ لو گ اس ہتھیا ر کی چوٹ کھانے او ر اس کا شکا ر ہو نے میں ایک لذت اور سرور محسوس کرتے ہیں۔ یہ روحانی ہتھیار میں ہے یعنی پہلی الہا می کتب کی تما م اعلیٰ درجہ کی اخلا قی اور روحانی تعلیموں کو اس میں جمع کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے لوگ اسے اپنے سروں پر اُٹھا ئے پِھریں گے اور کو ئی نقص اس میں نہیں پائیں گے۔
    حاملینِ قرآن کی عظمت
    یہ ہتھیا ر ہو گا یعنی ایسے سپاہیوں کے ہا تھوں میں دیا جا ئیگا جو مسافر بھی ہونگے اور لکھنے
    والے بھی ہونگے یعنی ایک طرف وہ اپنے زمانہ کے لو گوں کے دلوں کو فتح کر نے کے لئے دُور دُور کا سفر کرینگے جیسے صحابہؓ قرآن کریم کو اپنے ہا تھ میں لے کر ہندوستانؔ، ایر انؔ، عراقؔ، مصرؔ ، بربرؔاور رومؔ وغیر ہ تک چلے گئے اور دوسری طرف آئندہ زمانہ کے لوگوں کے دل فتح کرنے کے لئے وہ اِس کتاب کو لکھ لکھ کر پھیلا دینگے تاکہ ہر زمانہ کے لو گ اِس سے فا ئدہ اُٹھا ئیں۔ وہ دنیا کو اِس ہتھیا ر سے فتح کرنے کی وجہ سے ہو جا ئیں گے لیکن معزّز ہو نے کی وجہ سے وہ مغرور نہ ہو نگے بلکہ ہوں گے یعنی دوسروں پر احسان کرنے والے اور اُن کے غمخوار اور اپنی ترقی کو ذاتی بڑائی کا موجب نہیں بنائیںگے بلکہ اُسے محتاجوں کی تکلیفیں اور غرباء کی مشکلات دُور کرنے کا موجب بنائیںگے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور
    آپؐ کے صحابہؓ کی غرباء پر وری
    چنا نچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے صحابہ کی زندگی کے حا لات پر نگا ہ ڈالی جائے تو ہر شخص کو یہ اقرار کرنے پر مجبور
    ہونا پڑیگاکہ ان میں یہ خوبی نہا یت نمایاں طور پر پائی جا تی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو بڑی شان عطا فرمائی مگر ہر قسم کی طاقت اور شوکت رکھنے کے باوجود انہوں نے غرباء اور مساکین کے ساتھ اپنا تعلق قائم رکھا اور اُنکی تکا لیف کو دُور کرنے کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا ۔
    حلف الفضول میں شمولیت
    رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مبعوث نہیں ہوئے تھے کہ مکّہ کے بعض شرفاء نے ایک سوسائٹی
    بنائی جس کا کام یہ تھا کہ جو لو گ مظلوم ہوں اُن کی امداد کی جا ئے اِس سوسائٹی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہوئے اور چونکہ اِس کے بانیوں میں سے اکثر کے نام میں فضل آتاتھا اِس لئے اِس کا نام حلف الفضول رکھا گیا۔ اِس واقعہ پر سالہا سال گزرنے کے بعد ایک دفعہ صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریا فت کیا کہ یَارَسُوْلَ اللّٰہ! یہ کیسی سوسائٹی تھی جس میں آپ بھی شریک ہو ئے تھے؟ غا لباً صحابہ کا منشاء یہ تھا کہ آپ تو نبی ہو نے والے تھے آپ ایک انجمن کے ممبر کس طرح ہو گئے جس میں دوسروں کے ماتحت ہو کر کام کرنا پڑتا تھا۔ آپ نے فرمایا یہ تحریک مجھے ایسی پیا ری تھی کہ اگر آج بھی مجھے کوئی اس کی طرف بُلائے تومیں اس میں شامل ہونے کے لئے تیا رہوں۔۷۳؎ گویا غرباء کی امداد کے لئے آپکو دوسروں کی ماتحتی میں بھی کوئی عار نہیں تھی۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مظلوم
    شخص کے متعلق ابو جہل سے مطالبہ
    پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک ثبوت بھی انہی دنوں بہم پہنچا دیا۔ مکّہ کے قریب کا ایک
    شخص تھا جس کا ابوجہل کے ذمہ کچھ قرض تھا اُس نے ابوجہل سے اپنے روپے کا مطالبہ شروع کردیا مگر ابوجہل اس کی ادائیگی میں لیت ولعل کرتا رہا۔ آخر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ابوجہل نے میرا اتنا روپیہ مارا ہؤا ہے آپ مجھے میرا حق دلادیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ابو جہل آپ کے قتل کا فتویٰ دے چکا تھا اور مکّہ کا ہر شخص آپ کا جانی دشمن تھا۔جب آپ باہر نکلتے تو لوگ آپ پر پتھر اور مٹی پھینکتے، بیہودہ آوازے کستے اور ہنسی اور تمسخر کرتے مگر آپ نے ان باتوں کی کوئی پر وا ہ نہ کی اور فوراً اُس آدمی کو ساتھ لے کر ابوجہل کے مکا ن پر پہنچے اور دروازہ پر دستک دی۔ ابوجہل نے دروازہ کھو لا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ شحص جس کا میں اِس قدر دشمن ہوں آج میرے مکان پر چل کر آگیا ہے۔ اُس نے پوچھا آپ کس طرح آئے ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس شخص کا کوئی روپیہ دینا ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر دے دو۔ ابوجہل خاموشی سے اندر گیا اور روپیہ لا کر اس کے حوالے کردیا ۔۷۴؎
    قدرت کا ایک عجیب نشان
    جب یہ خبر مکّہ میں مشہور ہو ئی تو لو گوں نے ابوجہل کا مذاق اُڑانا شروع کردیا کہ تم تو کہتے تھے کہ
    محمد (صلے اللہ علیہ وسلم ) کو جتنا دُکھ دیا جا ئے اتنا ہی اچھا ہے او ر خود اُن سے اتنا ڈر گئے کہ اُن کے کہتے ہی چُپ کر کے روپیہ لا کر دیدیا۔ ابو جہل کہنے لگا تم نہیں جا نتے جب میں نے دروازہ کھو لا تو مجھے ایسا معلوم ہؤاکہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کے دائیں اور بائیں دو دیوانے اونٹ کھڑے ہیں اور اگر مَیں نے ذرا بھی انکار کیا تووہ مجھے نوچ کر کھا جائینگے۔۷۵؎ غرض ایک غریب کا حق دلوانے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے سے بھی دریغ نہ کیا اور اس طرح اپنے عمل سے بتا دیا کہ انسان کے اندر غرباء کی امداد کا کس قدر احساس ہو نا چاہئے۔
    صدقہ کا ایک دینا ر تقسیم نہ ہو نے پر
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گھبراہٹ
    اِسی طرح ایک دفعہ صدقات کا کچھ روپیہ آیا تو اُن کو تقسیم کرتے ہوئے ایک دینار کسی کونے میں گِر گیا اور
    آپ کو اُٹھا نے کا خیال نہ رہا۔ نماز پڑھا نے کے بعد آپ کو یاد آیا تو لوگوں کے اوپر سے پھا ندتے ہوئے آپ جلدی سے اندر تشریف لے گئے۔ صحابہؓ حیران ہوئے کہ آج کیا بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی گھبراہٹ میں گھر تشریف لے گئے ہیں۔ جب آپ واپس آئے تو آپ نے فرمایا صدقہ کا ایک دینا ر گھر میں رہ گیا تھا میں نے چاہا کہ جس قدر جلدی ممکن ہو اِسے غرباء میں تقسیم کردوں۔۷۶؎
    حضرت عائشہ ؓ کی سخاوت
    اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا گو خود نہیں کماتی تھیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت
    اور آپ کے تعلق کی وجہ سے صحابہ آپ کی خدمت میںاکثر ھدایا بھجواتے رہتے تھے لیکن وہ بھی اپنا اکثر روپیہ غرباء اور مساکین میں تقسیم فرما دیا کرتی تھیں۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ بعض دفعہ ایک ایک دن میں ہزار ہا روپیہ آپ کے پاس آیا مگر آپ نے وہ سب کا سب شام تک تقسیم کر دیا اور ایک پائی بھی اپنے پاس نہ رکھی۔ اِس پر ایک سہیلی نے کہا آپ روزہ سے تھیں افطاری کے لئے چار آنے تو رکھ لیتیں آپ نے فرمایا تم نے پہلے کیو ں نہ یاد دلایا۔۷۷؎
    حضرت عائشہ کی اپنے
    بھا نجے سے نا راضگی
    ان کی عادت کو دیکھ کر ایک دفعہ ان کے بھا نجے نے جس نے اُن کے مال کا وارث ہو نا تھاکہیں کہہ دیا کہ حضرت عائشہ تو اپنا سارا مال لُٹا دیتی ہیں۔ یہ خبر جب
    حضرت عائشہ کو پہنچی تو آپ نے اپنے گھر میں اُس کا آنا جا نا بند کر دیا اور قسم کھا ئی کہ اگر میَں نے اسے اپنے گھر میں آنے کی اجا زت دی تو مَیں اس کا کفارہ اداکروںگی۔کچھ عرصہ کے بعد صحابہؓ نے درخواست کی کہ آپ اس کا قصور معاف فرمادیں۔ چنانچہ اُن کے زور دینے پر حضرت عائشہ ؓنے اسے معاف کر دیا مگر فرمایا کہ چونکہ مَیں نے یہ عہد کیا تھا کہ اگرمیں اسے معاف کروں گی تو کفارہ ادا کروںگی اس لئے میں اس کا کفارہ یہ قراردیتی ہوں کہ آئندہ میرے پاس جو دولت بھی آئیگی وہ مَیں سب کی سب غرباء اور یتامیٰ ومساکین کی بہبودی کے لئے تقسیم کردیا کر ونگی۔۷۸؎
    حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کی
    کثرتِ ما ل کے باوجود انتہا ئی سادہ زندگی
    اِسی طرح صحابہؓ میں سے حضرت عبدالرحمن بن عوف لا کھو ں روپیہ کی جا ئداد کے مالک تھے
    چنا نچہ جب آپ فوت ہوئے تو اڑھا ئی لا کھ دینا ر اُن کے گھر سے نکلا۷۹؎ مگر اتنی دولت رکھنے کے باوجود تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ نہا یت سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے اموال کا اکثر حصّہ غرباء کی ترقی کے لئے خرچ دیاکرتے تھے۔۸۰؎ غرض صحابہ نے مال و دولت کو کبھی ذاتی بڑائی کے حصول کاذریعہ نہیں بنایا بلکہ ہمیشہ اُسے بنی نوع انسان کی بہبودی کے لئے خرچ کیا ہے۔
    ایک صحابی کا اپنے تما م قرض معاف کر دینا
    یہ خوبی صحابہ میںاس قدر نمایا ں پائی جا تی تھی کہ
    اسلامی تاریخ میں ایک مشہور صحابی حضرت قیس کے متعلق جنہیں فتح مکّہ کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کا کمانڈر مقرر فرمایا تھاروایت آتی ہے کہ جب وہ مرضُ الْموت میں مبتلاء ہوئے تو ایک دن انہوں نے اپنے بعض دوستوں سے پو چھا کہ میری بیماری کی خبر تو سب لو گو ں میں مشہور ہو چکی ہے مگر میری عیا دت کو بہت کم لوگ آئے ہیں اِس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا بات دراصل یہ ہے کہ آپ بڑے مخیر آدمی ہیںآپ نے سینکڑوں لو گو ں کو قرض دیا ہؤا ہے اب وہ آ پ کے پاس آتے ہوئے شرماتے ہیں کہ مبادا آپ روپیہ کا تقاضانہ کردیں۔ آپ نے فرمایا! اوہو میرے دوستوں کو بڑی تکلیف ہوئی جا ئو اور سارے شہر میں منا دی کردو کہ ہر شخص جس کے ذمہ قیس کا کو ئی قرض ہے وہ اُسے معاف کر دیا گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ اِس اعلان پراِس قدر لوگ ان کی عیا دت کے لئے آئے کہ ان کی سیڑھیا ں ٹُوٹ گئیں۔۸۱؎ یہ وہ تھے جو محمد رسول اللہ علیہ وسلم کے فیضِ صُحبت سے تیا ر ہوئے جنہوں نے اپنی جا نوں اور اپنے اموال کو ایک حقیر چیز کی طرح محض اِس لئے لُٹا دیا کہ بنی نوع انسان کو ترقی حا صل ہو۔
    تمام مشکلات کو دُور کرنے کا وعدہ
    پھر دنیا میں حکومتوں پر جب مشکلا ت کے اوقات آتے ہیں تو بادشاہ اُن کا
    حوالہ دیکر کہتے ہیں کہ ہم امید کرتے ہیں کہ تم ثابت قدم رہو گے اور ہماری حکومت کے ہواخواہ ثابت ہو گے او ر ہمارے درجہ کی بلندی کا موجب ثابت ہو گے مگر اِس دربار میں میَں نے یہ عجیب بات دیکھی کہ تمام مشکلا ت کے حل کرنے کا بادشاہ خود وعدہ کرتا ہے۔
    ترکِ وطن کے صدمہ پر
    مکّہ میں واپسی کی بشارت
    مثلاً سب سے بڑا صدمہ اس روحانی گورنر جنرل کو اپنے آبائی وطن کے چھو ڑنے کا پیش آنے والا تھا سو اِس کی اُس نے پہلے خبر دے دی کہ
    عارضی طور پر ہماری مصلحت کے ما تحت تمہارے دشمن تم پر غالب آئیں گے اور تم کو اپنا وطن چھوڑنا پڑیگا لیکن ہم تجھے پھر اپنے وطن میں واپس لائیں گے چنا نچہ فرماتا ہے۔۸۲؎ ہم جس نے تجھ پر قرآن کی حکومت قائم کی ہے اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ جب دشمن تجھے تیرے وطن سے نکا ل دیگا جس کی طرف دنیا حج او ر عمرہ کے لئے باربار آتی ہے تو ہم پھر تجھے واپس تیرے وطن میں لے آئیں گے۔غور کر و اور دیکھو کہ کتنی بڑی تشفی ہے۔
    اوّل مصیبت کے آنے کی خبر دی۔
    دوم اس مصیبت کے وقت میں پیشگوئی پورا ہو نے کی خوشی پہنچائی۔
    سوم واپس آنے کی خوشخبری دی اور
    چہارم عملاً واپس لا کر دل کو تیسری خوشی پہنچائی۔ کیا دنیا کاکوئی دربارِ خاص اس روحانی دربار کا مقابلہ کر سکتا ہے؟
    دربارِ خاص میںمحمد رسول اللہ صلی اللہ
    علیہ وسلم کی دائمی حکومت کا اعلان
    پھر سب حکومتیں ایک عرصہ کے بعد کمزور ہو کر مٹ جا تی ہیں کوئی حکومت دائمی نہیں ہوتی۔ انگریزوں
    ہی کو دیکھ لو اُن کی حکومت اب ہندوستان میں کہا ں ہے؟ سیلون میں کہاں ہے؟ برما میں کہاں ہے؟ پرانی زبردست حکومتیں کہا ں ہیں؟ نہ بادشاہ باقی رہے نہ اُن کے اُمراء اور وزراء باقی رہے، نہ مشکلات میں مشورے دینے والے کا م آئے نہ دوسروں کی مشکلات میں مدد دینے کا وعدہ کرنیوالے اپنے وعدوں کا ایفاء کرسکے مگر میَں نے اس دربارِخاص میں دیکھا کہ گورنر جنرل کو یہ بتایا جا رہاتھاکہ تم کو ہمیشہ کی حکومت دنیا پر دی جا تی ہے چنا نچہ فرمایا۔ ۸۳؎ اے ہمارے رسول! ہم نے تجھے کسی ایک قوم یا ایک ملک کی طرف نہیں بھیجا، کسی ایک صدی یا ایک زمانہ کے لوگوںکی طرف مبعوث نہیں کیا بلکہ دنیا کی ہر قوم اور قیامت تک آنے والا ہر زمانہ تیرا مخاطب ہے اور ہر فرد کے لئے تیری غلا می لا زمی ہے گویا تیری حکومت دُنیوی بادشاہوں کی طرح عارضی اور فانی نہیں بلکہ دائمی حکومت تجھے عطاکی جا تی ہے اور ہمیشہ کی سرفرازی تجھ کو بخشی جا تی ہے اب کوئی ماں ایسا بچہ نہیں جَن سکتی جو تیرے مقابل میں کھڑاہو سکے۔ یہ کیسا شاندارمقام ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا اور کیسا عظیم الشان دربار ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعزاز کے لئے منعقد ہؤا۔
    دیوانِ خاص کی چوتھی غرض
    (۴)چوتھی غرض دیوانِ خاص کی یہ ہو تی ہے کہ بادشاہ اپنے درباریوں کو اُن کے اچھے کاموں
    پر خطاب دیتا اور انعام بخشتا ہے مگر دنیا کے درباروں میں میَں نے دیکھا کہ خطاب ہے تو بے معنی او ر انعام ہے تو فانی، حکومتیں ’’خان بہا در‘‘ اور ’’خان صاحب‘‘ کا خطاب دیتی ہیں مگر حقیقتاً نہ وہ خان ہو تے ہیں نہ بہادر۔ پھر انعام دیتی ہیں تو بسا اوقات وہ انعام عارضی ثابت ہوتے ہیں اور دوسری حکومت چھِین لیتی ہے۔ کبھی انعام ملنے سے پہلے ہی وہ صاحب ختم ہو جا تے اور کبھی اُن سے فا ئدہ اُٹھانے کی توفیق ہی نہیں ملتی۔ کھا نا ملتا ہے تو معدہ خراب ہو جا تا ہے، کپڑا ملتا ہے تو جسم پر خارش یا کوڑھ ہو جا تا ہے اور انسان نہ اس کھانے سے فائدہ اُٹھاسکتا ہے نہ کپڑے سے۔ کبھی انعام لینے والے خود حکومت کے دشمن ہو جا تے ہیں جیسے بعض انگریز کے خوشامدی او ر اس سے انعام واکرام لینے والے آج ہم سے اِس لئے نا خوش ہیں کہ یہ انگریز کی اطاعت کرتے تھے اُس وقت ان کی تعریف سے ان کے لب خشک ہو تے تھے اور بڑی بڑی کوششوں اور اِلتجا ئوں کے بعد انعام لیتے تھے اور اب ہم پر جنھوں نے کبھی کچھ نہیں لیا آنکھیں نکالتے ہیں کہ تم نے اُن کے اچھے کاموںکی تعریف کیوں کی۔ غرض دُنیوی درباروں کا نہ خطاب حقیقت کے مطابق ہوتا ہے نہ انعام مستقل اورپائدار ہو تا ہے اور نہ انعام لینے والے حکومت کے سچے وفادار ہوتے ہیں۔
    صحابہ کرامؓ کو رَضِیَ ا للّٰہُ عَنْھُمْ
    وَرَضُوْاعَنْہُکا خطاب
    مگر میَں نے دیکھا کہ اِس دربار کا خطاب بالکل سچا او رانعام ہمیشہ کے لئے رہنے والا ہے چنا نچہ دیکھ لو صحابہ ؓکواللہ تعالیٰ خطاب
    دیتیہوئے فرما تا ہے کہ ۸۴؎ یعنی مہا جرین اورانصار میںسے وہ لوگ جو سابق بِالایمان ہیں اور اِسی طرح وہ لوگ جنھوں نے نیکی اور تقویٰ میں ان کے نمونہ کی اتباع کی اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اُس سے راضی ہو گئے یہ وہ عظیم الشان خطاب ہے جو صحابہ کرام ؓ کو ملا اور عَلٰی رُؤُوْسِ الْاَشْہَادِ اِس کا اعلان کیا گیا۔ دنیا میں ہزاروں انقلابات آئے، حکومتیں بدلیں، حوادث رونما ہوئے مگر اس الٰہی دربار سے کا جو خطاب صحابہ کرام ؓ کو ملا تھا وہ بدل نہ سکا۔ آج بھی جب صحابہ ؓ کا کو ئی ذکر کرتا ہے تو ایک مخلص کا دِل محبت اور پیا ر کے جذبات سے لبریز ہوجا تا ہے اور وہکہے بغیر نہیں رہتااور قیامت تک ایسا ہی ہوتا چلا جائے گا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں دنیا میں لوگ نہایت چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں اور پھر اُن قربانیوں کے بعد جو بدلہ اُنہیں ملتا ہے وہ نہا یت ہی ذلیل اور ادنیٰ قسم کا ہو تا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے انعاما ت اتنے اہم ہو تے ہیں اور اُن کا دائرہ اتنا وسیع ہو تا ہے کہ اُن کے مقابلہ میں دنیا کی بادشاہتیں بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتیں مثلاً یہی بات دیکھ لو تیرہ سَو سال کا زما نہ گزر نے کے باوجود آج بھی صحابہؓ کا ذکرآئے تو ہمکہے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اب یہ بھی ایک خطاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا ایسا ہی جیسے خاںؔصاحب یا خاںؔ بہا در یا سرؔیا ڈیوکؔ یاما رکوئس ؔیا ارلؔ وغیر ہ ہیں مگر سوچو تو سہی کتنے خان بہا دؔر یا سر ؔیا ڈیوک ؔ یا مارکوئس ؔیا ارلؔ ہیں جن کا نام دنیا جا نتی ہے یا کتنے بادشاہ ہیں جن کا نام دنیا خطاب سمیت لیتی ہے؟ بڑے بڑے بادشاہ دنیا میں گزرے ہیں مگر آج لوگ اُن کا نام نہا یت بے پر وائی سے لیتے ہیں ۔
    سکندر،دارا،اورتیمور کا انجام
    سکندر کتنا بڑابادشاہ تھا یو نان سے وہ چلتا ہے اور ہندوستان تک فتح کرتا چلا آتا ہے اور
    بڑی بڑی زبر دست حکومتوں کو راستہ میں شکست دیتا ہے مگر آج ایک غریب اور معمولی مزدور بھی سکندر کا نام نہا یت بے پروائی سے لیتا ہے۔ بچے بھی سکندر سکندر کہتے پِھرتے ہیں اور کوئی ادب کا لفظ اُس کے لئے استعمال نہیں کرتا۔
    داراؔ بھی ایک عظیم الشان بادشاہ تھا اور گو اسے سکندر کے مقابلہ میں شکست ہوئی مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ بھی زبردست سلطنت کا مالک تھا اور چین تک اس کی حکومت پھیلی ہوئی تھی مگر آج لو گ اسے داراؔ داراؔ کہتے پھر تے ہیں بادشاہ کا لفظ بھی اُس کے متعلق استعمال نہیں کرتے۔
    تیمور جو ایک زمانہ میں دنیا کے لئے قیا مت بن گیا تھا آج اسے ساری دنیا تیمور لنگ یعنی لنگڑا تیمور کہتی ہے حا لانکہ اپنے زمانہ میں اُس کی اتنی ہیبت تھی کہ جب وہ حملہ کرتا تو کُشتوں کے پُشتے لگا دیتا اور بعض جگہ تو لو گوں کوما ر مار کر اُن کی لا شوں کو جمع کرتا اور مینا ر کھڑا کر دیتا۔ بعض مؤرخ کہتے ہیں کہ اُس نے کئی لا کھ آدمی قتل کیا ہے مگر اب ایک ذلیل سے ذلیل انسان بھی جب تیمور کا ذکر کرتا ہے تو کہتا ہے ’’لنگڑا تیمور‘‘ حا لانکہ اُس کے زمانہ میںکسی کو یہ جرأت نہیں تھی کہ وہ اسے لنگڑا تیمور کہے وہ شہنشاہ کہلاتا تھا اور بڑے بڑے حکمران اُس کے خوف سے کا نپتے تھے۔
    صحابہ ؓ کی بے مثال عظمت
    غرض وہ بادشاہ جن کی اپنے زمانہ میں بڑی ہیبت تھی جن کا نام سُنکر ہزاروں میل پر لوگ کا نپ اُٹھتے
    اُن کا نا م آج انتہا ئی لا پر وائی کے ساتھ ایک معمولی اور بے حیثیت آدمی بھی لے لیتا ہے اور کئی تو ایسے ہیں جن کا نام بھی آج کوئی نہیںجا نتا مگر وہ غریب بکریا ں اور اونٹ چرانے والے صحابہؓ جنہوں نے غربت میں اپنی عمر یں گزاردیںآج ان کا نام آتا ہے تو کہے بغیر ایک مسلما ن کا دل مطمئن ہی نہیں ہوتا۔
    حضرت ابوہریرہؓ کی فاقہ کشی
    حضرت ابو ہریرہ ؓکو ہی دیکھ لو وہ اپنے متعلق کہتے ہیں کہ مجھے سات سات وقت کا فاقہ ہو
    جاتا تھا اور جب میں شدتِ ضُعف سے بیہوش ہو جاتا تھا تو لوگ میرے سر پر جُوتے مارتے اور سمجھتے کہ مجھے مرگی کا دَورہ ہو گیا ہے پِھر حضرت ابوہریرہؓ کسی اعلیٰ خاندان میںسے نہ تھے کوئی نا مور لیڈر یا مشہور ادیب نہ تھے، کو ئی فوجی ما ہر یا سیا سی نفوذ رکھنے والے انسان نہ تھے مگر آج بھی ہماری یہ کیفیت ہے کہ ابوہریرہ کا نام آتا ہے تو کہے بغیر دل کو چَین ہی نہیں آتا۔
    حضرت ابو بکر کا بلند مقام
    اسی طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جو حالت تھی
    وہ خود ان کے باپ کی شہادت سے ظاہر ہیحضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے باپ کا نام ابوقحافہ تھا جب حضرت ابو بکر ؓ خلیفہ ہوئے تو اُس وقت ابو قحافہ مکہ میں تھے کسی شخص نے وہاں جا کر ذکر کیا کہ ابو بکر ؓ عرب کا بادشاہ ہو گیا ہے۔ ابو قحافہ مجلس میں بیٹھے تھے کہنے لگے کونسا ابوبکر؟ اُس نے کہا وہی ابو بکر قریشی۔ کہنے لگے کونسا قریشی؟ اُس نے کہا وہی جو تمہارا بیٹا ہے اور کون۔ وہ کہنے لگے واہ! ابو قحافہ کے بیٹے کو عرب اپنا بادشاہ مان لیں یہ کیسے ہوسکتا ہے توُ بھی عجیب باتیں کرتا ہے۔ غرض ابوقحافہ کی یہ حالت تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے متعلق یہ مان ہی نہیں سکتے تھے کہ سارا عرب اُنہیں بادشاہ تسلیم کرلے گا مگر اسلام کی خدمت اور دین کے لئے قربانیاں کرنے کی وجہ سے آج حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جو عظمت حا صل ہے وہ دنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہوں کو بھی حاصل نہیں آج دنیا کے بادشاہوں میں سے کوئی ایک بھی نہیں جسے اتنی عظمت حاصل ہو جتنی حضرت ابو بکر ؓکو حاصل ہے بلکہ حضرت ابوبکر ؓ تو الگ رہے کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو اتنی عظمت حا صل نہیں جتنی مسلمانوں کے نزدیک ابو بکر ؓ کے نو کروں کو حاصل ہے اس لئے کہ اُس نے ہمارے ربّ کے دروازہ پر سجدہ کیا اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دَر کا غلام ہو گیا اب یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص اِس عظمت کو ہمارے دلوں سے محو کر سکے اور اُس خطاب کو چھین سکے جو اس نے اپنے دربار میں صحابہ کرام ؓکو دیا۔ آج صحابہ کے زمانہ پر تیرہ سَوسال سے زیا دہ عرصہ گزر چکا ہے مگر آج بھی وہ خطاب جو خدا نے اُن کو دیا تھا قائم ہے اور رہتی دنیا تک قائم رہیگا۔
    رقابت اور عِناد سے پاک دربار
    پھر دُنیوی بادشاہوں کے ’’دیوانِ خاص‘‘ میں بار یا ب ہونے والوں کو خطا بات
    ملتے ہیں تو باہم رقابت اور دشمنی اور لڑا ئی شروع ہو جا تی ہے لیکن اس دیوانِ خاص میںشریک ہونے والوں کے دلوں میں کو ئی رقابت، کو ئی دشمنی اور کو ئی لڑائی نہیں ہوتی بلکہ ان کے دل ایک دوسرے کی محبت اور پیا ر کے جذبات سے لبریز ہو تے ہیں فرما تا ہے۔ ۸۵؎ یعنی بعد میں آنے والے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ئیں کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ! تُو ہمیں بھی بخش اور ہمارے اُن بھا ئیوں کو بھی بخش جو ہم سے ایمان لانے میں سبقت اختیار کرچکے ہیں اور ہما رے دلوں کو اُن کے متعلق ہر قسم کے کینہ اور بُغض سے صاف کر دے۔ اے ہما رے ربّ! تُو بڑا مہر بان اور بڑا رحم کرنیوالا ہے۔
    تعلقات کی خرابی کی تین وجوہ
    دنیا میں تعلقات کی تمام تر خرابی حسدؔ، رقابتؔ اور آئندہ کے خطرات کے نتیجہ میں
    پیدا ہوتی ہے۔ حسد پہلوں سے ہو تا ہے رقابت ہمعصروں سے ہو تی ہے اور خطرہ بعد میں آنے والوں سے ہو تا ہے لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکہہ کر ایک سچا مؤمن اِن تینوں نقائص سے اپنا دل صاف رکھنے کی خواہش کر تا ہے گویا اس کا دل ایسا پا کیزہ ہو تاہے کہ اس میں نہ پہلوں کا حسد ہو تاہے نہ ہمعصروں کی رقابت ہو تی ہے اور نہ بعد میں آنے والوں کے متعلق کو ئی بد ظنی ہو تی ہے۔
    ہر قسم کے بُغض اور کینہ سے مبرا وجود
    اسی طرح اللہ تعالیٰ اس ’’دیوانِ خاص‘‘ والے دربایوں کی نسبت فرما تا ہے کہ
    ۸۶؎ یعنی متقی لو گ با غا ت اور چشموں والے مقاما ت میں ہو نگے اور انہیں کہا جا ئیگا کہ تم سلامتی کے ساتھ ان میں داخل ہو جا ئو اور ان کے سینوں کو ہر قسم کے بُغض اور کینہ اور حسد سے پاک کر دیا جا ئیگا اور وہ بھائی بھائی بن کر جنت میں رہیں گے۔
    الٰہی خطابات کو چھیننے کی
    کوئی شخص طاقت نہیں رکھتا
    غرض اس دربار میں خطابات تقسیم ہوتے ہیں تو باہم چپقلش اوررقابت شروع نہیں ہو جا تی او ر پھر خطابات ملتے ہیں تو وہ نہ صرف حقیقت کے
    مطابق ہو تے ہیں بلکہ دنیا لا کھ کو شش کرے وہ اُن کو چھیننے کی طاقت نہیں رکھتی۔ اِس دربار سے اگر کسی کو نبی کا خطاب دیا گیا تو وہ نبی فوت ہو چکا اور ہزار ہا برس اُس کی وفات پرگزر گئے مگر نبی کا خطاب موجود ہے او راگر اس سے کوئی منکر ہو تا ہے تو فوراً باغیوں میں شریک ہو جا تا ہے۔ حکومت بدل گئی،گورنر کے بعد گورنرتبدیل ہوئے مگرمجال ہے کہ پُرانے گورنر کی کوئی ہتک کر سکے اور اُس کے درجہ کو کم کر سکے!
    غرض یہ وہ دربار ہے جس میں درباری کو جو خطاب دیا جا تا ہے اُس کے چھیننے کی کسی میں طاقت نہیں ہو تی اور پھر جو خطاب دیا جا تا ہے وہ بالکل سچّا اور حقیقت کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کسی کو بہا در کہتا ہے تو وہ بہا در ہی ہوتا ہے یہ نہیں ہو تا کہ حکومت اسے ’’خان بہادر‘‘ کہے اور وہ ایک چُوہے سے بھی ڈرتا رہے۔
    محمد رسو ل اللہ اور صحابہ کرام ؓ کو ایک اور عظیم الشّان خطاب
    پھر ہم نے دیکھا کہ اِسی قسم کا ایک اَور اعلان بھی اس دربار سے ہو رہا تھا اور دربارِخاص کا مالک اپنے گورنر جنرل کے متعلق کہہ رہا تھا کہ
    ۸۷؎ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور وہ لوگ جو اُن پر ایمان لا کر ان کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں کفار کے لئے بڑے سخت واقع ہو ئے ہیں مگر ان کا آپس میں سلوک انتہا ئی رحم اور شفقت پر مبنی ہے۔ توُ انہیں دیکھے گا کہ وہ رات اور دن خدا تعالیٰ کے حضور رکوع وسجود میں بسر کرتے اور اُس کا فضل تلا ش کر تے ہیں اور اُس کی رضا کے حصول کے لئے ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں اور اُنکی اِس پا کیزہ زندگی کا نشان خود ان کے چہروں سے عیا ں ہو گیا ہے۔
    قوتِ مؤثرہ اور قوتِ متأثرہ کے کرشمے
    حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسا بنا یا ہے کہ وہ ایک
    طرف تو اپنے گِردوپیش کے اثرات کو قبول کرنے کے لئے بڑی شدت سے مائل رہتا ہے اور دوسری طرف اس میں یہ بھی طاقت ہے کہ اگر چاہے تووہ ایسے اثرات کو قبول کرنے سے انکا ر کردے۔ گویا ایک طرف تو وہ ایک مضبوط چٹان ہے کہ جس سے سمندر کی تیز لہریں ٹکراکر واپس لَو ٹ جاتی ہیں اور اُس پر ذرا بھی نشان پیدا کرنے کے قابل نہیں ہو تیں اور دوسری طرف وہ ایک اسفنج کے ٹکڑے کی طرح یا نرم موم کی طرح ہے کہ اُس پر ہا تھ ڈالتے ہی ایسا معلوم ہو تا ہے کہ اس میں طاقتِ مقابلہ ہے ہی نہیں اور یہی دونوں چیزیں انسان کے تمام اعما ل کی جڑ ہیں یعنی کسی جگہ پر اثر قبول کرنا اور کسی جگہ پر اُس کو ردّ کر دینا ۔
    اچھے اثرات کو قبول کرنے اور
    بُرے اثرات کو ردّ کرنے کی خوبی
    اس جگہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے اتباع کے متعلق یہ بیا ن کیا گیا ہے کہ وہ اور
    ہیں یعنی یہ نہیں کہ وہ ہر اثر کو قبول کرنے والے ہیں کیو نکہ اگر ایسا ہو تا تو وہ شیطان کا اثر بھی قبول کر لیتے۔ اور یہ بھی نہیں کہ کسی کا اثر قبول نہ کریں کیونکہ اس صورت میں وہ فرشتوں کے اثر کو بھی ردّ کردیتے بلکہ اُن کے اندر یہ دونوں باتیں پائی جاتی ہیں۔ان میں یہ بھی طاقت ہے کہ خواہ کتنے ہی تکلیف دِہ نتائج ہوں پھر بھی وہ کسی غلط اثر کو قبول نہیں کرتے اور یہ بھی طاقت ہے کہ خواہ حالات کتنے مخالف ہو ں وہ اچھی چیز کے اثر کو ردّ نہیں کرتے۔ جب کسی ایسی چیز کا سوال ہو جو مذہب اور دین کے خلاف ہو تو وہ ایک ایسے پہاڑ کی مانند بن جاتے ہیں جس پر کو ئی چیز اثر نہیں کر سکتی لیکن جہا ں تقویٰ اور باہمی اخوت اور برادرانہ تعلّقات کا سوال ہو وہا ں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ تصویر لینے کا ایک شیشہ ہیں اور فوراً اس کے عکس کو قبول کر لیتے ہیں۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
    اور آپ کے صحابہؓ کا نمونہ
    چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کی زندگی میں یہ دونوں باتیں نہایت نمایا ں طور پر پائی جاتی تھیں یعنی ایک طرف
    تو غیرت میں اِس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ دین کے خلا ف کو ئی بات سُننا تک برداشت نہیں کر سکتے تھے اور دوسری طرف وہ محبت میں اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ اپنے بھا ئیوں کا کوئی قصور اُنہیں نظر ہی نہیں آتا تھا۔ چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دشمنوں نے کئی مواقع پر چاہا کہ آپ ان کے بارہ میں نرمی سے کام لیں اور اُن کے بُتوں کی تنقیص نہ کریں مگر آپ نے کسی مرحلہ پر بھی اُن کے آگے سر نہیںجُھکا یا حالانکہ آپ جا نتے تھے کہ اس انکار کے نتیجہ میں ان لو گوں کی آتشِ غضب اَور بھی بھڑک اُٹھے گی اور یہ پہلے سے زیا دہ جوش اور انتقامی قوت کے ساتھ اسلام کو مٹانے کے لئے کمر بستہ ہو جائینگے مگر آپ نے اپنی یا اپنے عزیزوں اور ساتھیوں کی مشکلا ت کی کوئی پرواہ نہ کی اور ہمیشہ انہیں یہی کہا کہ خدا نے جس پیغام کے پہنچانے کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی ہے میں اس کے پہنچانے میں اپنے آخری سانس تک کوشش کرتا چلا جائوں گااور کبھی اس میں غفلت اور کوتاہی سے کام نہ لو نگا۔
    عمائدِ قریش کے آنے پر رسول کریم
    صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے چچا کو جواب
    جب مکّہ میں اسلام نے پھیلنا شروع کیا اور قریش کو نظر آنے لگا کہ ان کی کوششیں ناکامی کا رنگ اختیار کرتی
    جا رہی ہیں تو انہوں نے اپنا ایک وفد ابو طالب کے پاس بھیجا جس میں ابوجہل، ابوسفیان اور عتبہ وغیر ہ قریش کے بڑے بڑے رئوساء شامل تھے۔ انہوں نے ابوطالب کے پا س آکر کہا کہ آپ ہما ری قوم میں معزز ہیں اس لئے ہم آپ سے یہ درخواست کرنے آئے ہیں کہ اب بات حد سے بڑھ چکی ہے ہم نے آج تک بہت صبر کیا ہے مگر اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے آپ اپنے بھتیجے کو سمجھائیں کہ وہ ہمارے بُتوں کو بُرا بھلا کہنا چھوڑ دے اور اگر وہ نہ مانے تو اس کی حمایت سے دستبردار ہو جا ئیں ہم خود اس سے نپٹ لینگے۔ او ر اگر آپ اپنے بھتیجے کو بھی نہ سمجھائیں اور اس کی حمایت سے بھی دستبردا ر نہ ہوں تو ہم آپ کا بھی مقابلہ کرینگے اور آپ کو اپنی لیڈری سے الگ کردینگے۔ ابوطالب کے لئے یہ ایک نہایت ہی نازک موقع تھا انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بُلا یا اور کہا اے میرے بھتیجے! آج تیری قوم کے معزّزین کا ایک وفد میرے پاس آیا تھا وہ تیری باتوں سے سخت مشتعل ہو چکے ہیں اور قریب ہے کہ وہ لوگ کوئی سخت قدم اُٹھا ئیں اور مجھے بھی تکلیف پہنچائیں۔ میں محض تیری خیر خواہی کے لئے کہتا ہوں کہ اِن باتوں کو چھوڑ دے ورنہ میں اکیلا ساری قوم کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔میں سمجھتا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی افسردگی کی گھڑیوں میں سے یہ سخت ترین گھڑی تھی۔ ایک طرف وہ شخص تھا جس نے نہایت محبت سے آپ کو پالا تھا اور جس کے پائوں میں کا نٹا چُبھنابھی آپ گوارہ نہ کر سکتے تھے اُسے ساری قوم دُکھ دینے اورنقصان پہنچانے کی دھمکی دے رہی تھی اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کی صداقت کا اظہا رتھا۔ آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور آپ نے کہا۔ اے میرے چچا! آپ بیشک میر ا ساتھ چھوڑ دیں اور اپنی قوم کے ساتھا مل جائیں۔ خدا کی قسم! اَگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لا کر کھڑا کر دیں تب بھی میں خدائے واحد کی توحید کے اعلان سے نہیں رُک سکتا۸۸؎ کیو نکہ یہی وہ کا م ہے جس کے لئے میں اِس دنیا میں بھیجا گیا ہوں۔ آپ ؐکا انتہا ئی مشکلا ت اور مصائب کے اوقات میں جبکہ ابوطالب کے قدم بھی لڑکھڑاگئے تھے یہ دلیرانہ جواب اِس لئے تھا کہ آپ کی صفت کے حامل تھے اور دین کے لئے اتنی غیرت رکھتے تھے کہ کفر کی ہر طاقت کے مقابلہ میں ایک مضبوط چٹان کی طرح ڈٹ جاتے تھے اور کسی بڑی سے بڑی مصیبت کی بھی پرواہ نہیں کرتے تھے۔
    مسیلمہ کذّاب کی ناکام واپسی
    اِسی طرح ایک دفعہ مسیلمہ کذّاب آپ کے پا س آیا اور اُس نے کہا اگر آپ مجھے اپنے
    بعد خلیفہ مقرر کر دیں تو میری ساری قوم آپ پر ایمان لانے کے لئے تیا ر ہے۔ اُس وقت اُس کی قوم کا ایک لا کھ سپاہی اُس کی پُشت پر تھا اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اتنا چاہتا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد اُسے حکومت دیدی جا ئے مگر محمّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنہیں خدانے کی صفت کا حامل بنایا تھا انہوں نے جب اس بات کو سُنا تو آپ نے کھجور کی شاخ کے ایک تنکے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو اُس وقت آپؐ کے ہاتھ میں تھی فرمایاتم تو خلا فت کہتے ہو میں تو تمہیں یہ تنکہ بھی دینے کے لئے تیا ر نہیں۔ یہ جواب ایساتھا جس پر وہ غصہ اور نا راضگی کی حالت میں واپس چلا گیا۸۹؎ اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تووہ اپنے ایک لاکھ سپاہیوں کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ آور ہؤا او ر اُس نے ایسا شدید حملہ کیا جس کی مثال کسی پہلے حملہ میں نہیں ملتی مگر باوجو د اس کے کہ مسیلمہ اوراس کی قوم کی طرف سے حقیقی خطرہ کا امکا ن تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مطالبہ کو ردّ کر دیا اور اِس بات کی ذرہ بھی پرواہ نہ کی کہ اِس کے نتیجہ میں کیا مشکلات آسکتی ہیں۔
    ایک صحابی کی درخواست پر رسول کریم
    صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے اپنی چادر دے دینا
    مگر جہا ں رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے مقابلہ میں ایک ایسے پہاڑ کی حیثیت رکھتے تھے
    جس سے ٹکڑا کر انسان کا سر پاش پاش ہو جا تا ہے مگر پہاڑ اپنی جگہ سے نہیں ہِل سکتا وہاں اپنے ماننے والوں کے متعلق آپ کے دل میں اِس قدر محبت اور پیا ر کے جذبات پائے جاتے تھے کہ احادیث میں لکھا ہے ایک دفعہ ایک مخلص عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خو بصورت چادر پیش کی جو اس نے اپنے ہا تھ سے بُنی تھی او ر اس خواہش کا اظہا ر کیا کہ آپؐ اسے اپنی ذات کے لئے استعمال فرمائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ چادر پہن کر باہر تشریف لائے تو ایک شخص آگے بڑھا اور ا ُس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! یہ چادر مجھے دے دیجئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس چادر کی خود ضرورت تھی مگر آپ نے اُس کے سوال کو ردّ کرنا منا سب نہ سمجھا اور فوراً واپس آکر اُسے چادر بھجوادی۔ لو گوں نے اسے ملامت کی کہ تم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ چادر کیوں مانگ لی؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اس کی خود ضرورت تھی۔ اُس نے کہا میَں نے یہ چادر اپنے کفن کے لئے لی ہے چنا نچہ راوی کہتا ہے کہ بعد میں وہی چادر اُس کا کفن بنی۔۹۰؎
    غرباء کی دلداری
    اِسی طرح ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میںتشریف لے جا رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک غریب
    صحابی جو اتفاقی طور پر بدصورت بھی تھے سخت گرمی کے موسم میں اسباب اُٹھا رہے ہیں اور اُن کا تمام جسم پسینہ اور گردوغبار سے اَٹا ہؤا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی سے ان کے پیچھے چلے گئے اور جس طرح بچے کھیل میں چوری چُھپے دوسرے کی آنکھو ں پر ہا تھ رکھ کر کہتے ہیں اور پھر چاہتے ہیں کہ وہ اندازہ سے بتائے کہ کس نے اُس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھاہے اِسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی سے اُس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے۔ اُس نے آپ کے ملا ئم ہاتھوں کو ٹٹول کر سمجھ لیاکہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو محبت کے جوش میں اُس نے اپنا پسینہ سے بھر ا ہؤا جسم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کے ساتھ مَلنا شروع کردیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے اور آخر آپ نے فرمایا میرے پا س ایک غلام ہے کیا اِس کا کوئی خریدار ہے؟ اُس نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! میر ا ٰخریدار دنیا میں کون ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ایسا مت کہو خدا کے حضور تمہا ری بڑی قیمت ہے۔۹۱؎
    عورتوں کی تکلیف کا احساس
    ایک دفعہ آپ نے فرمایا جب میں نماز پڑھاتاہوں تو بعض دفعہ میرا جی چاہتا ہے کہ
    میَں نماز کو لمبا کروں مگر اچانک میرے کا نو ں میں کسی بچہ کے رونے کی آواز آجا تی ہے اِس پر میَں جلدی جلدی نماز پڑھا دیتا ہوں تاکہ اس کی ماں کو تکلیف نہ ہو۔۹۲؎ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ہمیں دونوں قسم کے نظارے نظر آتے ہیں۔ وہ نظارے بھی جن میں آپ دشمن کے سامنے ایک ننگی تلوار کی طرح کھڑے ہوگئے اور نہ اس کی دھمکیوں سے مرعوب ہوئے نہ اس کی خوشامد سے متأ ثر ہوئے۔ اور وہ نظارے بھی جن میںآپ نے اپنے ماننے والوں سے ایسی شفقت اور محبت کا سلوک کیا کہ کوئی ماں بھی اپنے بچوں سے اس شفقت کا اظہا ر نہیں کرتی۔
    جنگِ بدرمیں صحابہؓ کا دشمن کیلئے
    پیغام موت بن کر ظاہر ہونا
    پھرہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے متبعین میں بھی یہ دونوں اوصاف پیدا فرما دیئے تھے اور وہ بھی اگر ایک طرف
    کی صفت کے حامل تھے تودوسری طرف ماننے والوں کے لئے مجسمہء رحم واُلفت تھے۔ چنا نچہ تاریخ سے معلوم ہو تاہے کہ جب بدر کی جنگ ہوئی تو اس جنگ میں صرف ۳۱۳ آدمی مسلمانوں کی طرف سے شریک ہوئے اور وہ بھی بالکل بے سروسامان اور نا تجربہ کا ر تھے لیکن دشمن کا ایک ہزار سپاہی تھا اور پھر وہ سارے کا سارا تجربہ کا ر آدمیوں پر مشتمل تھا اور اسلحہ کی بھی بڑی بھا ری مقدار اُن کے پاس موجود تھی ابھی جنگ شروع نہیں ہو ئی تھی کہ ابو جہل نے ایک عرب سردار سے کہا کہ تم جا ئو او ر یہ اندازہ کرکے آئو کہ مسلمانوںکی کتنی تعداد ہے؟ جب وہ اسلامی لشکر کا جا ئزہ لینے کے بعد واپس گیا تو اُس نے کہا میرا اندازہ یہ ہے کہ مسلمان تین سَو او رسَواتین سَو کے درمیان ہیں۔ ابو جہل اس پر بہت خوش ہؤااور کہنے لگا کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہم نے میدان مارلیا۔ اُس نے کہااے میری! قوم بیشک مسلمان تھوڑے ہیں لیکن میرامشورہ یہی ہے کہ مسلمانوں سے لڑائی نہ کرو۔ انہوںنے کہا توُ بڑابزدل ہے آج ہی یہ لو گ قابو آئے ہیں اور آج ہی تُو ہمیں ایسا بُزدلانہ مشورہ دے رہا ہے۔ اُس نے کہا یہ درست ہے مگر پھر بھی میں تمہیں یہی مشورہ دُونگا کہ جنگ نہ کروکیونکہ اے میری قوم! میَں نے اُونٹوں پر آدمی نہیں بلکہ موتیں سوار دیکھی ہیں۹۳؎ یعنی میَں نے جس شخص کو بھی دیکھااُس کا چہرہ بتارہا تھا کہ وہ اس نیت اور ارادہ کے ساتھ میدانِ جنگ میں آیا ہے کہ آج مر جاناہے یا مار دینا ہے اس کے سِوا اور کوئی جذبہ اُن کے دلوں میں نہیں پایا جا تا تھا۔ یہ فدائیت کا بے مثال جذبہ مسلمانوںمیں اسی لئے پیدا ہؤا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں صفت کا حامل بنایا تھا اور وہ تھوڑی تعداد میں ہوتے ہوئے بھی بڑے بھاری تجربہ کا ر اور مسلّح لشکر کے مقابلہ میں پیغامِ موت بن کر نمودار ہوتے تھے۔
    اہلِ عرب کے ارتداد پر حضرت
    ابوبکرؓ کی حیرت انگیز جرأت
    اس طرح جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو سارا عرب مرتد ہو گیا اور حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ جیسے بہادر انسان
    بھی اِس فتنہ کو دیکھ کر گھبراگئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے قریب ایک لشکر رومی علا قہ پر حملہ کرنے کے لئے تیا ر کیا تھا اور حضرت اسامہؓ کو اس کا افسر مقرر کیا تھا۔ یہ لشکر ابھی روانہ نہیں ہؤا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور آپ کی وفات پر جب عرب مرتد ہوگیا تو صحابہؓ نے سوچا کہ اگر ایسی بغاوت کے وقت اسامہؓ کا لشکر ابھی رومی علاقہ پر حملہ کرنے کے لئے بھیج دیا گیا تو پیچھے صرف بوڑھے مرد او ر بچے اور عورتیں رہ جا ئیں گی اور مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں رہے گا چنانچہ انہوں نے تجویز کی کہ اکابر صحابہ ؓ کا ایک وفد حضرت ابو بکر ؓ کی خدمت میں جا ئے اوراُن سے درخواست کرے کہ وہ اس لشکر کو بغاوت کے فرو ہونے تک روک لیں۔ چنانچہ حضرت عمرؓ اور دوسرے بڑے بڑے صحابہؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے یہ درخواست پیش کی۔ حضرت ابوبکرؓ نے جب یہ بات سُنی تو انہوں نے نہایت غصّہ سے اس وفد کو یہ جواب دیا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ابوقحافہ کا بیٹا سب سے پہلا کا م یہ کرے کہ جس لشکر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کرنے کا حکم دیا تھا اُسے روک لے؟ پھر آپ نے فرمایا خداکی قسم! اگر دشمن کی فوجیں مدینہ میں گھس آئیں او رکُتّے مسلمان عورتوں کی لا شیں گھسیٹتے پِھریں تب بھی میَں اس لشکر کو نہیں روکوں گا جس کو روانہ کرنے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا۹۴؎ یہ جرأت اور دلیری حضرت ابو بکرؓ میں اِسی وجہ سے پیدا ہو ئی کہ خدا نے یہ فرمایا کہ ۔جس طرح بجلی کے ساتھ معمولی تار بھی مل جا ئے تو اس میں عظیم الشان طاقت پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق کے نتیجہ میں آپؐ کے ماننے والے بھی کے مصداق بن گئے۔
    حضرت ابو بکر ؓ کی اسلام کیلئے
    غیرت اور جذ بہء فدائیت
    اِسی طرح ایک دفعہ باتو ں باتوں میں حضرت ابوبکرؓ کے ایک بیٹے نے جو بعد میں مسلمان ہوئے تھے کہا اباجان! فلاں جنگ میں جب
    آپ بدرؔ مقام سے گزرے تھے تو اُس وقت میَں ایک پتھر کے پیچھے چُھپا ہؤا تھا میَں اگر چاہتا تو آپ کو قتل کر سکتا تھا مگر میَں نے کہا باپ کو مارنا درست نہیں۔حضرت ابوبکر ؓ نے جواب دیا خدا نے تجھے ایمان نصیب کرنا تھا اِس لئے تُو بچ گیا ورنہ خداکی قسم! اگر میَں تجھے دیکھ لیتا تو ضرور مار ڈالتا۔۹۵؎
    عبداللہ بن اُبی بن سلول
    کے بیٹے کا اخلاص
    ایک جنگ کے مواقع پر انصار اور مہاجرین میں جھگڑا پیدا ہو گیا۔ اُس وقت عبداللہ بن اُبی بن سلول جو ایک دیر ینہ منافق تھا اُس نے سمجھا کہ یہ انصار کو بھڑکا نے
    کا اچھا موقع ہے وہ آگے بڑھا اور اُس نے کہا اے انصار! یہ تمہاری غلطیوں کا نتیجہ ہے کہ تم نے مہا جرین کو سر چڑھا لیا اب مجھے مدینہ پہنچ لینے دو پھر دیکھو گے کہ مدینہ کا سب سے زیادہ معزز شخص یعنی نَعُوْذُبِاللّٰہِ وہ خود مدینہ کے سب سے ذلیل آدمی یعنی نَعُوْذبِاللّٰہِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کووہاں سے نکال دیگا۔ عبداللہ کا بیٹا ایک سچا مسلمان تھا جب اُس نے اپنے باپ کی یہ بات سُنی تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہؤا او ر اُس نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! میرے باپ نے جو با ت کہی ہے اُس کی سزا سوائے قتل کے اور کوئی نہیں ہو سکتی اورمیں یقین رکھتا ہوں کہ آپ اسے یہی سزا دینگے لیکن اگر آپ نے کسی اَور مسلمان کو کہا اور اُس نے میرے باپ کوقتل کردیا تو ممکن ہے اُس کو دیکھ کر میرے دل میں کبھی خیا ل آجائے کہ یہ میرے باپ کا قاتل ہے اور میَں جوش میںآکر اُس پر حملہ کر بیٹھوں اِس لئے یَا رَسُوْ لَ اللّٰہ! آپ مجھے حکم دیجئے کہ میں اپنے باپ کو اپنے ہا تھوں سے قتل کروں تاکہ کسی مسلمان کا بُغض میرے دل میں پیدا نہ ہو۔۹۶؎ یہ واقعہ کس طرح اُن دونوں اوصاف کو ظاہر کر رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے صحابہء کرام میں ودیعت کردئیے تھے یعنی ایک طرف وہ کفر کے لئے ایک ننگی تلوار تھے اور دوسری طرف اپنے بھائیوں کے جذبات کا انہیں اتنا احساس تھا کہ عبداللہ کے بیٹے نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر درخواست کی کہ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! اگر آپ میرے باپ کے متعلق قتل کا حکم صادر فرمائیں تو پھر یہ کام میرے سپرد کیا جا ئے تاکہ کسی اور مسلمان کا بُغض میرے دل میں پیدا نہ ہو۔
    ایک معمولی شکر رنجی کے موقع پر
    حضرت ابوبکر ؓ کے پا کیزہ جذبات
    اِسی طرح ایک دفعہ حضرت ابو بکر ؓاور حضرت عمر ؓ میں کسی بات پر شکر رنجی ہو گئی۔ غلطی حضرت عمرؓ کی تھی مگر جب
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر ؓ پر نا راض ہونے لگے تو حضرت ابوبکر ؓ آگے بڑھے اور کہنے لگے یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میر اقصور تھا عمرؓ کا کوئی قصور نہیں تھا۔۹۷ ؎ گویا جس طرح ایک ماں اپنے بچے کے متعلق اُستاد سے شکا یت کرتی ہے لیکن جب وہ ڈانٹتا ہے تو سب سے زیا دہ دُکھ بھی ماں کو ہی ہو تا ہے یہی حال صحابہ کا تھا اُن کے دلوں میں اپنے بھا ئیوں کی اتنی محبت پائی جا تی تھی کہ وہ ان کی معمولی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔
    حضرت عمرؓ کا ایک بدوی عورت
    کے بچوں کے فاقہ پر تِلملا اُٹھنا
    حضرت عمرؓ کو دیکھ لو اُن کے رُعب اور دبدبہ سے ایک طرف دنیا کے بڑے بڑے بادشا ہ کا نپتے تھے، قیصر وکسریٰ
    کی حکومتیں تک لرزہ براندام رہتی تھیں مگر دوسری طرف اندھیری رات میں ایک بدوی عورت کے بچوں کو بھُوکا دیکھ کر عمرؓ جیسا عظیمُ الْمرتبت انسان تِلملا اُٹھا او روہ اپنی پیٹھ پر آٹے کی بوری لا دکر اور گھی کا ڈبہ اپنے ہاتھ میں اُٹھا کر اُن کے پاس پہنچا اور اُس وقت تک واپس نہیں لَوٹا جب تک کہ اُس نے اپنے ہاتھ سے کھانا پکا کر اُن بچوں کو نہ کھِلا لیا اور وہ اطمینان سے سو نہ گئے۔۹۸؎
    عبادتِ الٰہی میں رسول کریم
    صلی اللہ علیہ وسلم کا استغراق
    عبادت الٰہی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استغراق صرف اور ہی نہیں بلکہ کے بھی
    مصداق ہیں چنا نچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ خوبی بھی اُن میں نمایا ں طور پر پا ئی جا تی تھی ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث سے ثابت ہے کہ آپ رات کو اللہ تعالیٰ کے حضور اتنی اتنی دیر عبادت میں کھڑے رہتے تھے کہ آپؐ کے پائوں سُوج جاتے۔۹۹؎
    ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! آپ اِس قدر عبادت کیوںکرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مغفرت کا وعدہ فرمایا ہؤا ہے۔ آپ نے فرمایا اے عائشہ! کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟۱۰۰؎
    میدانِ جنگ میں بھی
    نمازوں کی بِالالتزام ادائیگی
    اسی طرح صحابہؓ کی یہ حالت تھی کہ میدانِ جنگ میں بھی وہ نمازوں کی ادائیگی کا التزام رکھتے تھے اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور
    سربسجود رہتے اور دعائوں اور ذکرالٰہی میں اپنا وقت گزارتے۔
    غرض دُنیوی درباروں میں بادشاہوں کی طرف سے جو خطابات دیئے جا تے ہیں وہ بسااوقات حقیقت کے بر عکس ہوتے ہیں مگر یہ عجیب دربار ہے کہ اس میں بادشاہ کی طرف سے جو خطاب دیا جا تا ہے وہ حقیقت کے عین مطابق ہو تا ہے اور پھر وہ خطاب چلتا چلا جاتا ہے دنیا لاکھ کوشش کرے زمانہ میں ہزاروں انقلاب آئیں اُس خطاب کو کوئی طاقت بدل نہیں سکتی ۔
    دربارِ خاص میں انعامات کا اعلان
    اب میں اُ ن بعض انعامات کا ذکر کرتا ہوں جو اس الٰہی دربار میں خدا تعالیٰ
    نے اپنے گورنر جنرل کو عطا کئے اور جن کی نظیر دنیا کے درباروں میں اور کہیں نظر نہیں آسکتی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے ’’دربارِ خاص‘‘ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بُلایا اور اُن کے لئے اپنے خاص انعامات کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ ۱۰۱؎
    یعنی اے ہمارے گورنر جنرل! ہم نے تجھے کوثر عطاکیا ہے پس تُو اِس نعمتِ عظیمہ کی شکر گزاری کے طور پر اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہو جا اور قربانیوں پر زور دے یقینا تیرا دشمن ہی ابتر رہے گا۔
    کوثر کے معنے
    کوثر کے معنے عربی زبان میں ہر قسم کی خیر اور برکت اور بھلا ئی کی کثرت کے ہوتے ہیں۱۰۲؎ گویا کوئی خیر نہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ
    علیہ وسلم کو حاصل نہیں ہوئی اور کوئی برکت نہیں جو آپ کو نہیں ملے گی اور پھر وہ خیر اور برکت اتنی کثرت کے ساتھ ملے گی کہ اس کثرت میں بھی دنیا کا کوئی انسان آپ کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔
    سورئہ کوثر کے نزول کے وقت رسول اللہ
    صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ ؓ کی حالت
    جس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس انعام کا اعلان کیا گیا
    آپؐ کی اور آپ کے ساتھیوں کی یہ حالت تھی کہ باہر نکل کر نماز بھی ادا نہیں کر سکتے تھے اور آپ کے پیغام کو ماننے والے صرف چند افراد تھے جو اُنگلیوں پر گِنے جا سکتے تھے۔ تاریخوں سے معلوم ہو تا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اُس وقت تک مکہ کے کُل بیاسی آدمی آپ پر ایمان لائے تھے۱۰۳؎ مگر یہ تو آخری دنوں کی بات ہے اس سے پہلے یہ حالت تھی کہ صرف چند آدمی جن کی تعداد دس پندرہ سے زیا دہ نہیں تھی آپ پر ایمان لائے۔ مکہ کی آبادی اُس وقت آٹھ دس ہزار کی تھی اور آٹھ دس ہزار کی آبادی میںسے ایک دودرجن کے قریب آدمیوں کاساتھ ہونا اور سارے شہر کے لو گوں کا مخالف ہونا اور ایسا مخالف ہو نا کہ ہر وقت ان کامسلمانوں کی جان لینے کی فکر میں رہنا بتاتاہے کہ مسلمانوںکی اُس وقت کیسی نازک حالت تھی۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
    کا گلا گھونٹنے کی کوشش
    خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت تھی کہ گو آپکو خانہ کعبہ میں جا کر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں تھی مگر کبھی کبھی آپ محبتِ الٰہی
    کے جوش میںوہاں چلے جا تے اور نماز ادافرماتے۔ ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ شہر کے غُنڈے اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے آپ کو پیٹنا شروع کر دیا اور پھر آپ کے گلے میں پٹکا ڈال کر اُسے گھونٹنے لگے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اِس کی اطلا ع ملی تو آپ دَوڑے دَوڑے وہاں آئے اور انہیں ہٹانا شروع کیا۔ اُس وقت وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خون پُو نچھتے جا تے تھے اور یہ کہتے جا تے تھے کہ اے میری قوم! تم کو کیا ہو گیا کہ تم ایک ایسے شخص کو مارتے ہو جس کا قصور سوائے اِس کے اور کوئی نہیں کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے۔۱۰۴؎ اِسی طرح آپ پر ایمان لانے والوں کو طرح طرح کے دُکھ دیئے جاتے۔
    حضرت عثمان بن مظعون ؓ کا واقعہ
    حضرت عثمان بن مظعونؓ ایک بہت بڑے رئیس کی اولاد میں سے تھے۔
    ہجرتِ اولیٰ کے وقت وہ ایبے سینیا کی طرف چلے گئے تھے مگر بعد میں کفار نے یہ خبر اُڑادی کہ مکہ کے تما م لوگ مسلمان ہو گئے ہیں اس پر بعض لوگ حبشہ سے واپس آگئے جن میں حضرت عثما ن بن مظعونؓ بھی شامل تھے۔جب انہیں معلوم ہؤا کہ یہ خبر جھوٹی تھی تو انہوں نے دوبارہ ایبے سینیا جانے کا ارادہ کیا۔ اس پر مکہ کا ایک رئیس جو اُن کے باپ کا گہرا دوست تھا اُن سے ملا اور اُس نے کہا تم واپس نہ جا ئو میں تمہیں اپنی پنا ہ میں لے لیتا ہوں۔ چنا نچہ مروّجہ دستور کے مطابق وہ اُنہیں خانہ کعبہ میں لے گیا اور وہاں اُس نے اعلان کر دیاکہ عثمان بن مظعون ؓ میری حفاظت میں ہے اب کوئی شخص اسے تکلیف نہ پہنچائے۔ اس اعلان کے نتیجہ میں عثمان بن مظعونؓ کُھلے بندوں مکہ میں پھر نے لگے مگر جب انہوں نے دیکھا کہ لو گ دوسرے مسلمانوں کو مارتے پیٹتے ہیں تو اُن کی غیرت جوش میں آئی اور وہ اُس رئیس کے پاس آکر کہنے لگے کہ میں آپ کی پنا ہ میں نہیں رہنا چاہتا کیونکہ مجھ سے یہ برداشت نہیں ہو سکتا کہ میں توآرام سے پِھروں اور دوسرے مسلمان تکلیفیں اُٹھا ئیں۔ اُس نے بہت سمجھایا مگر وہ نہ مانے اور آخر اُس نے اپنی پناہ کے واپس لینے کا اعلان کر دیا۔
    ایک دن عرب کے مشہور شاعر لبیدؔ جو بعد میں اسلام بھی لے آئے تھے مکہ میں آئے اور انہوں نے رئوساء کی محفل میں اپنے اشعار سنانے شروع کردیئے۔ سناتے سناتے انہوں نے یہ مصرعہ پڑھا کہ:
    اَلا کُلُّ شَیْئٍ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِلٗ
    اے لو گو سنو کہ خد اکے سوا ہر چیز فنا ہو نے والی ہے۔ حضرت عثمان بن مظعون ؓ یہ مصرعہ سنتے ہی بول اُٹھے کہ خوب کہا تم نے بڑی سچّی بات کہی ہے۔ اب گوانہوں نے لبید کے مصرعہ کی داددی تھی مگر لبید ایک نوجوان کی تعریف بھی برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے اسے تعریض سمجھتے ہوئے شعر پڑھنے بند کر دیئے اور کہا اے مکہ والو! کیا تم میں اب کوئی شریف آدمی نہیں رہا کہ یہ کل کا بچہ مجھے داد دیتا ہے۔ اِس پر لو گو ں نے معذرت کی اور حضرت عثمان بن مظعون کو ڈانٹا کہ خاموش رہو۔ اِس کے بعد لبید نے دوسرا مصرعہ پڑھا جو یہ تھا کہ:
    وَکُلُّ نَعِیْمٍ لَامُحَالَۃَزَائِلٗ
    یعنی ہر نعمت آخر تباہ ہونے والی ہے۔ حضرت عثمان ؓ پھر بول اُٹھے کہ یہ بِالکل غلط ہے جنت کی نعمتیں کبھی تباہ نہیں ہو نگی۔ ان کا یہ کہناتھا کہ لبید غصّہ میں آگیا او رانہوں نے کہامیری ہتک کی گئی ہے ا ب میں اپنا کلا م نہیں سنائو ںگا۔ یہ دیکھ کر ایک شخص اُٹھا اور اُس نے اِس زور سے اُن کی آنکھ پر مُکّہ ما ر اکہ ان کا ایک ڈیلا باہر نکل آیا۔ یہ دیکھ کر مکّہ کا وہی رئیس جس نے انہیں پناہ دی تھی حسرت کے ساتھ آگے بڑھا اور کہنے لگا کیا میَں نہیں کہتا تھا کہ میری پنا ہ نہ چھوڑ!! وہ کہنے لگے تم تو یہ کہتے ہو خدا کی قسم! میری تو دوسری آنکھ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں نکلنے کے لئے تیا ر ہے۔۱۰۵؎
    نرینہ اولاد نہ ہونے پر دشمن کی طعنہ زنی
    غرض یہ و ہ حالت تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
    اور آپ کے صحابہ پر گزر رہی تھی اور چونکہ آپ کے ہا ں کوئی نرینہ اولاد بھی نہیں تھی اِس لئے دشمن اپنی نا بینائی کی وجہ سے کہتا کہ یہ نَعُوْذُبِاللّٰہِ ’’ اونترانکھترا‘‘(پنجا بی ) یعنی بے نسل ہے نہ روحانی لحاظ سے اس کی کوئی جمعیت ہے اور نہ جسمانی لحاظ سے اِس کی کو ئی نرینہ اولاد ہے۔ ایسے حالات میں خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آئی اور اُس نے کہا اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم تجھے خیر کثیر عطا کرنے والے ہیں اور تیرے ان مخالفوں کو جو آج تجھے مٹانے پر کمر بستہ ہیں ابتر بنانے والے ہیں ۔
    محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو
    زیادہ سے زیادہ خیرِ کثیر ملتی چلی گئی
    چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس کلام پر جُوں جُوں دن گزرتے چلے گئے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو
    زیادہ سے زیا دہ خیر اور برکت ملتی چلی گئی اور آپؐ کے مخالفوں کے حصہ میں زیادہ سے زیادہ ناکامی اور نا مرادی آتی گئی اور آخر و ہ دن آیا کہ وہی شخص جسے اندھیری رات میں مکّہ سے نکل جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا، جس کے قتل کے منصوبے کئے گئے تھے، جس کو مٹانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا گیا تھا، دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہؤا اور اُس نے تمام مکّہ کے لو گو ں کو ایک میدان میںجمع کرکے پوچھا کہ بتائو اب تمہا رے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ انہوں نے کہا ہم آپ سے اسی سلوک کی امید رکھتے ہیں جو یوسف نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا۔ آپ نے فرمایا جا ئو میَں نے تم سب کو معاف کردیا۔۱۰۶؎
    ابو سفیان کا اقرار کہ محمد رسول اللہ صلی اﷲ
    علیہ وسلم دنیا کا سب سے بڑا بادشاہ ہو گیا ہے
    مکّہ کے لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اکیلا شخص کب تک اپنے مشن کو قائم رکھ سکتا ہے یہ آج
    نہیں تو کل تباہ ہو جا ئیگا مگر خدا اسے کو ثر دینے کا وعدہ فرما چکا تھا۔ اُس نے آپؐ کے ماننے والوں میں اتنی کثرت پیدا کی کہ ابو سفیان نے جب فتح مکہ کے مو قع پر اسلا می لشکر کو دیکھا تو بے اختیار وہ حضرت عباسؓ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا عباس! تمہارے بھائی کا بیٹا آج دنیا کا سب سے بڑا بادشاہ ہو گیا ہے۔۱۰۷؎
    کفار کے بیٹے محمد رسول اللہ صلی اللہ
    علیہ وسلم کی غلا می میں آگئے
    پھر ان لو گو ں کو اپنے بیٹوں پر بڑا نا ز تھا، مگر خدائی نشان دیکھ کر وہی عاص بن وائل جو بڑے تکبّر سے اپنا تہہ بند لٹکا ئے پِھر تا
    اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہا کرتا تھااُس کا اپنا بیٹا مسلمان ہو گیا، وہی ولید جو رات اور دن اسلام کے مٹانے پر کمر بستہ رہتا تھا اُس کا اپنا بیٹا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل ہو گیا، وہی ابوجہل جو تما م کفا ر کا لیڈر تھا اور جس کی زندگی کی ایک ایک گھڑی اسلام کی مخالفت میں گزری اُس کا اپنا بیٹا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد میں شامل ہو گیا۔ یہ ایک خطرناک قسم کی آگ تھی جو خدا نے اُن کے دلوں میںپیدا کردی اور جس کے شُعلے اُنہیں ہر وقت جلا کر خا کستر بنا تے رہتے تھے اور اُنہیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اِس آگ کے بجھا نے کا کیا انتظام کریں۔ وہ خود اسلام کے دشمن تھے مگر اُن کی اولا دوں نے اپنے آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈالنا شروع کر دیا اور وہ اپنے باپوں اور بھا ئیوں کے خلاف تلواریں چلا نے لگ گئے۔ یہ ایک بہت بڑا عذاب تھا جس میں وہ رات اور دن مبتلاء رہتے تھے کہ جس مذہب کو مِٹانے کے لئے اُنہوں نے اپنی عمریں صَرف کر دیں وہی مذہب اُ ن کے گھروں میں داخل ہو گیا اور اُس نے اُنہی کے بیٹوں کو اُس کا شکا ر بنا لیا۔
    کون ابتر ثابت ہؤا؟
    جب محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکّہ میں فا تحانہ طور پر داخل ہو ئے تو اُس
    وقت گو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اُنہیں کچھ نہیںکہہ رہی تھی مگر مکّہ کی گلیوں کی وہ زمین جس پر اُن قدوسیوں کے قدم پڑرہے تھے اُن دشمنوں کو مخا طب کر کے کہہ رہی تھی کہ اے ابو جہل! عتبہ، شیبہ اور ولید کہا ں ہے؟ وہ تمہا ری اولا د جس پر تم فخر کرتے ہوئے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہا کرتے تھے وہ ابتر ہے یا آج تم ابتر ثابت ہو رہے ہو؟ تمہا ری اولا د وں نے جن پر تمہیں ناز تھا تمہیں چھو ڑدیا اور وہ تمہاری آنکھو ں کے سامنے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلا می میں چلی گئیں۔
    محمدؐ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کی آج بھی دنیا میں روحانی اولا د موجو د ہے
    اسی طرح آج تیرہ سَو برس گزر گئے مگر دنیامیں کوئی نہیں جو یہ کہہ سکے کہ میں ابوجہل کا بیٹا ہو ں یا عتبہ اور شیبہ کا
    بیٹا ہوں مگر آج لا کھو ں مسلمان یہ کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ہیں کیو نکہ خدا نے یہ کہا تھا کہ اے محمدؐ رسول اللہ! ہم تجھے کو ثر عطاکریں گے او ر تیر ے دشمن کو ابتر رکھیں گے۔
    تمام الہا می کتب سے افضل الہامی کتا ب
    محمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دی گئی
    پھر آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس رنگ میںبھی کو ثر عطا کیا کہ آپ کو وہ کتا ب ملی جس کی
    خیر اور برکت کا مقابلہ دنیا کی کوئی کتا ب نہیں کرسکتی۔ وہ تمام الہامی کتابوں میں سے ایک زندہ الہامی کتاب ہے۔ وہ علوم اور معارف میں ایک نا پیدا کِنا ر سمندر ہے۔ وہ دنیا کی تمام اخلا قی اور روحانی ضرورتوں کو پورا کر نے والی کتا ب ہے۔ دنیا کے علوم خواہ کتنے بھی ترقی کر جا ئیں، زمانہ خواہ کتنی کروٹیں بدل لے یہ کتا ب قیا مت تک اُن کے لئے ایک کا مل راہنما کا کام دیتی چلی جا ئے گی۔
    محمد رسو ل اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کا
    مقامِ خاتم النّبیّین اور آپ کی عالمگیر بعثت
    پھر آپ کو درجہ ملا تو خاتم النّبییّن کا جس میںکوئی نبی بھی آپ کا شریک نہیں۔ پھر سب انبیاء ایک
    ایک قوم کی طرف مبعوث ہو تے رہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْنَ بنا کر بھیجا گیا اور آپ کی برکا ت کا دائرہ اتنا وسیع کر دیا گیا کہ دنیا کی کو ئی قوم آپ کی غلامی سے باہر نہ رہی۔ کرشن اور رام چندر کی تعلیم صرف ہندوستان کے لئے تھی، زرتشت کی تعلیم صرف ایران کے لئے تھی، حضرت موسیٰ سے لے کر حضرت مسیحؑ تک تمام انبیا ء کی تعلیم بنی اسرائیل کے لئے تھی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعا لیٰ نے ہر أَسْوَد وأَحْمَر کی طرف مبعوث فرمایا اور آپ نے یہ اعلان کیا کہ بُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ کَا فَّۃً الْاَحْمَرَ وَالْاَسْوَدَ۔۱۰۸؎ وَمَآاَرْسَلْنکَ اِلَّا کَا فَّۃً لِّلنَّاسِ۔یعنی خداتعالیٰ نے مجھے تمام عالَمِ انسانی کی طرف مبعوث فرمایا اور ہر أَسْوَد وأَحْمَر میرا مخاطب ہے۔ اب خواہ ایشیا کے رہنے والے ہوں یا افریقہ کے، یورپ کے رہنے والے ہوں یا جزائر کے، پہا ڑوں میں رہنے والے ہوں یا میدانوں میں، گائوںمیں رہنے والے ہوں یا شہروں میں، سب پر آپ کی اطاعت فرض ہے اور کوئی شخص بھی آپ کی غلامی کا جُؤا اُٹھائے بغیر روحانی عمارت کی اینٹ نہیں بن سکتا۔
    ہر قسم کے خدّام کا عطا کیا جا نا
    پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اِس لحاظ سے بھی خیرِکثیر عطا کیا کہ اس نے ہر قسم کے انسان آپ
    کو عطا کئے۔ اگر جرنیلوں کی ضرورت تھی تو اس نے آپ کو ایسے جرنیل عطا کئے جن کے تدبّر کا آج یورپ تک معترف ہے، اگر مبلّغوں کی ضرورت تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے مبلّغ عطا فرمائے جو قرآن ہا تھ میں لے کر ساری دنیا میں نکل گئے اور انہوں نے ہز اروں لو گوں کو اسلام میں داخل کیا، اگر جا ں نثار اور فدا کا ر غلا موں کی ضرورت تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے مخلص جاں نثار عطا فرمائے جنہوں نے بھیڑ بکریوں کی طرح خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے سر کٹا دیئے، اگر کسی جگہ عورتوں کی فدائیت کی ضرورت پیش آئی تو عورتیں آگے آگئیں، اگر کسی جگہ نو جو انوں کا خون قوم کو درکار تھا تو نوجو ان آگے نکل آئے، اگر قوم کی ترقی کے لئے عابد و زاہد لو گو ں کی ضرورت تھی تواللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑے بڑے شب بیدار اور عابد وزاہد نفوس عطافرمائے غرض کونسی ضرورت تھی جو خدا تعالیٰ نے پوری نہ کی۔
    اخلاص اور فدائیت میں
    صحابہؓ کی امتیا زی شان
    پھر اخلاص اور فدائیت کولو تو اِس میں بھی جو برکت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو ملی وہ کسی اور نبی کے متبعین کو نہیں ملی۔ موسیٰ کے ساتھیوں
    نے ایک نہایت ہی نازک موقع پر یہ کہہ دیا کہ ۱۰۹؎ اے موسیٰ تُو اورتیرا رب جاکر لڑتے پھرو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں مگر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وہ جا ں نثار عطا فرمائے جنہوں نے بڑی دلیری سے کہا کہ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لا شوں کو رَوندتا ہؤا نہ گزرے۔۱۱۰؎
    غرض اللہ تعالیٰ نے آپ کوہر خیر اور برکت کی کثرت عطاکی۔ اُس نے روحانی لحاظ سے ایک طرف سے آپ کو وہ شریعت عطافرمائی جو قیامت تک منسوخ نہیں ہو سکتی او ر دوسری طرف آپ کو وہ بلند مقام بخشا کہ اب قیامت تک کوئی شخص خدا تعالیٰ کا قُرب حاصل نہیں کرسکتا جب تک وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں شامل نہ ہو۔ اور جسمانی لحاظ سے اُس نے آپ کو خدام کی اِتنی کثرت بخشی کہ سارا مکہ آپ کی زندگی میں آپ کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہو گیا۔
    مال ودولت اور رُعب ودبدبہ
    اِسی طرح مال ودولت کے لحاظ سے اِس قدر کثرت بخشی کہ قیصر وکسریٰ کے خزائن
    مسلمانوں میں تقسیم ہوئے، رُعب او ر دبدبہ اِس قدر عطافرمایا کہ محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سُنکر گھر بیٹھے دشمن کا دل لرز جا تا اور اُس کا کلیجہ منہ کو آنے لگتا تھا۔ غرض ہر خیر اور برکت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی اور اِس کثرت کے ساتھ دی گئی کہ اس کی مثال نہ موسٰی ؑ کی زندگی میںمل سکتی ہے نہ عیسیٰ کی زندگی میں مل سکتی ہے نہ دائود ؑ اور سلیمان ؑ کی زندگی میں مل سکتی ہے اَور نہ کسی اور نبی کی زندگی میں مل سکتی ہے۔
    محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    کی بعثت کی چار اغراض
    پھر تفصیلی طور پر دیکھا جائے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی چار اغراض بتلائی گئی تھیں تلا وت ِآیا ت، تعلیمِ کتاب، تعلیمِ حکمت
    اور تزکیہء نفوس چنا نچہ اللہ تعالیٰ فرما تا ہے ۱۱۱؎یعنی اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں پر یہ بڑا بھا ری احسان کیا کہ اُس نے اُن میں ایک ایسا رسو ل مبعوث فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی آیا ت سے انہیں روشنا س کرتا ہے اُن کا تزکیہء نفس کرتا ہے اور انہیں کتا ب اور حکمت سکھاتا ہے او ر یقینا وہ اس سے پہلے ایک کُھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔
    ہر کما ل میں محمد رسو ل اللہ
    صلی اﷲ علیہ وسلم کا منفردہونا
    اس آیت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چار کا م بتلائے گئے ہیں اور درحقیقت ہر نبی انہی چاروں امور کی سر انجا م دہی کے لئے آیا
    کرتا ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فضیلت حا صل ہے کہ آپ نے دنیا کے ہر نبی سے تلاوتِ آیا ت بھی زیا دہ کی، تعلیمِ کتاب بھی زیا دہ دی، تعلیمِ حکمت بھی زیا دہ پیش کی اور تزکیہء نفوس بھی زیا دہ کیا۔ گویا ہر کمال میں آپ کو کو ثر عطاکیا گیا اور ہر خوبی میںآپ کو منفرد رکھا گیا ۔
    امورِغیبیہ کے متعلق محمد رسول اللہ
    صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی
    عربی زبان میں اٰیَۃ کے جہا ں اَور بہت سے معنی ہیں وہاں اِس کے ایک معنی اس چیز کے بھی ہو تے ہیں جو کسی دوسری چیز کی
    طرف راہنمائی کرے چنا نچہ قرآن کریم میں نازل شُدہ فقرات کو بھی اسی لئے آیا ت کہا جاتا ہے کہ اس کا ہر فقرہ دوسرے فقرہ کے معانی کے لئے بطور دلیل ہو تا ہے جس کو مدِّ نظر رکھنے کے بغیر اس کا مفہوم پوری طرح واضح نہیںہو تا ۔پس میںیہ بتایا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی نوع انسان کی ایسے امور کی طرف راہنمائی کرتے ہیں جن کو وہ خود اپنی عقل کے زو ر سے معلوم کرنے سے قاصر تھے اور چونکہ امورِغیبیہ ہی ایک ایسی چیز ہیں جن کو کوئی انسان اپنی عقل اور فکر کے ساتھ معلوم نہیں کر سکتا اس لئے تلا وتِ آیا ت کا کا م اِسی صورت میںمکمل ہو سکتا تھا جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کو ایسی باتیں بتاتے جو اُن کے لئے امورِغیبیہ پر ایمان لانے کی محرک ہوتیں اور انہیں آپ کی راہنمائی میں وہ روحانی دولت ملتی جو اس سے پہلے ان کے پاس نہیں تھی۔
    ہستی باری تعالیٰ
    اِس نقطئہ نگاہ سے اگر غور کیا جا ئے تو معلوم ہو گا کہ امو رِ غیبیہ میں سب سے پہلی اوراہم خیر خدا تعالیٰ کا وجود ہے کیونکہ وراء الورٰی ہستی
    ہے اور کوئی انسان اپنے علم اور اِدراک کے زور سے اُس تک نہیں پہنچ سکتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے وجود کو بنی نوع انسان کے سامنے اس طرح پیش کیا کہ اس وراء الورٰی ہستی کی عظمت اور اس کی جبروت کا تصوّر بھی قائم رہا اور بنی نوع انسان کے قلوب میں یہ یقین بھی پیدا ہو گیا کہ ہمارا خدا اپنی مخلوق کو اعلیٰ درجہ کے مقامات پر پہنچانے کی خواہش رکھتا ہے اور وہ انہیں ہر وقت اپنے قُرب میں جگہ دینے کے لئے تیا ر ہے۔اِس غرض کے لئے سب سے پہلی اور اہم خبر صفاتِ الٰہیہ ہیں کیو نکہ غیر محدود ہو نے کی وجہ سے و ہ صرف اپنی صفات کے ذریعہ ہی پہچانا جا سکتا ہے۔ بیشک صفاتِ الٰہیہ پر اور مذاہب نے بھی روشنی ڈالی ہے مگر اوّل تو جس تفصیل کے ساتھ اسلام نے ان صفات کو بیان کیا ہے اس تفصیل کے ساتھ دنیا کے اور کسی مذہب نے صفاتِ الٰہیہ پر روشنی نہیں ڈالی یہاں تک کہ یہودیت بھی جو اسلام سے پہلے آنے والے مذاہب میں سے ایک بہت بڑا مذہب تھا اور جسے تورات جیسی کتا ب دی گئی تھی اُس میں بھی بہت کم صفاتِ الٰہیہ کا بیا ن ہؤا ہے۔
    بائیبل میں خدا تعالیٰ کی صفات کی تنقیص
    اور پھر ان مذاہب نے خدا تعالیٰ کی طرف کئی ایسے نقائص اور
    عیوب بھی منسوب کر رکھے ہیں جن کی وجہ سے اُس کی صفا ت کی تنقیص ہو تی ہے مثلاً بائیبل میں ہی لکھا ہے کہ:
    ’’چھ دن میں خداوند نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا او ر ساتویں دن آرام کیا او ر تازہ دم ہؤا۔‘‘۱۱۲؎
    گویا خدا تعالیٰ چھ دن کام کرنے کی وجہ سے نَعُوْذُبِاللّٰہِ تھک گیا اور اُسے ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ آرام کر ے اور تازہ دم ہوجا ئے، مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ خداتعالیٰ کے متعلق یہ تصور بالکل غلط ہے اس لئے کہ وہ کوئی مادی وجود نہیں جو کام کا بوجھ برداشت نہ کرسکے او ر تھکا ن او رکوفت محسوس کرے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۱۱۳؎ یعنی زمین وآسمان کی پیدائش سے ہمیں کوئی تھکا ن محسوس نہیں ہوئی ۔پس یہ بات بالکل غلط ہے کہ خدا تعالیٰ زمین وآسمان کی پیدائش سے تھک گیااور ساتویں دن اُس نے آرام کی احتیاج محسوس کی۔
    اِسی طرح مسیحیت نے خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر حملہ کیا اور مسیحؑ اور روح القدس کو بھی اُس کی الوہیت میں شریک قرار دے دیا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خداتعالیٰ کو تمام مادی قیدوں اور ظہو روں سے پاک قرار دیا۔ اور پھر آپ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ انسان اگر خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پید اکرنے کی کوشش کرے تو وہ خدا تعالیٰ کی محبت کو حا صل کر سکتا اوراس کے قُرب میں بڑھ سکتا ہے۔ چنا نچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میَں نے جِنّ واِنس کو صرف اس لئے پیدا کیا کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفات کا نقش اپنے دل پر پیداکریں۔۱۱۴؎
    اِسی طرح وہ ایک دوسری جگہ فرماتا ہے ۔اے انسانو!اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تم کو اِس دنیا میں اپنا نمائندہ بنا کر کھڑاکیا ہے اگر تم میں سے کوئی شخص اس مقام کا انکا ر کرے گا تو اُس کا نتیجہ اُس کو بھُگتنا پڑے گا۱۱۵؎ یعنی اس عزت کے مقام کو چھوڑ کر وہ خود ہی نقصان اُٹھائے گا خداتعالیٰ کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
    اسی طرح ایک اور جگہ اس نے فرمایا ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں ہم یقینا انہیں اپنی بارگاہ تک پہنچنے کے راستے بتادیتے ہیں۔۱۱۶؎
    پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کی عظمت اور اُس کے جا ہ وجلا ل کو بھی قائم کیا اور بنی نوع انسان کو بھی اِس امر کا یقین دلایا کہ وہ خداتعالیٰ کے مقرب بن سکتے ہیں ۔
    ملائکۃ اللہ
    اسی طرح ملائکہ بھی ایک مخفی وجود ہیں جن کی حقیقت کا علم بغیر کسی ایسے انسان کی راہنمائی کے حاصل نہیں ہو سکتا جسے خدا خود اپنے
    غیب سے حصّہ د ے او ربتائے کہ ملا ئکہ کی کیا حقیقت ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد چونکہ اللہ تعالیٰ نے تلا وتِ آیا ت کا کا م کیا تھا اس لئے آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم کے ماتحت ان کے متعلق بھی بنی نوع انسان کی صحیح راہنمائی فرمائی اور بتایا کہ ملا ئکہ نظامِ عالَم کے روحانی اور جسمانی سلسلہ کی اُسی طرح ایک اہم کڑی ہیں جس طرح دوسرے نظر آنے والے اسباب مادی دنیا میں مختلف کاموں کی کڑیا ں ہیں۔ وہ صرف خدائی دربار کی رونق کا سامان نہیں بلکہ خداتعالیٰ کے تکوینی احکام کی پہلی کڑی ہیں اور ان کے بغیر اس کا ئنات کا وجودادھورا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ اِسی حقیقت کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کچھ تو وہ ملائکہ ہیں جو عرش کو اُٹھا ئے ہو ئے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو عرش کے اِردگِرد رہتے ہیں۱۱۷؎ یعنی ایک تو وہ فرشتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرنے والے ہیں اور جن کے ذریعہ دنیا میں احکامِ الٰہیہ کا اجراء ہو تا ہے اور ایک وہ ہیں جو اُن احکام کو نچلے طبقہ تک لے جا نے والے ہیں پس ملا ئکہ کا وجود اس عالَم کا ایک اہم ضروری حصّہ ہے۔
    رسالت اور کلام الٰہی کی ضرورت
    آپؐ نے رسالت اور کلا مِ الٰہی کی ضرورت کو بھی واضح کیا اور بتا یا کہ
    جس طرح مادی دنیا میں خدا تعا لیٰ نے صرف آنکھ پیدا نہیں کی بلکہ لا کھو ں میل کے فاصلہ پر ایک سورج بھی پیداکر دیا ہے تاکہ آنکھ اس کی روشنی سے فائدہ اُٹھا ئے اِسی طرح روحانی عالَم میں بھی خدا تعالیٰ نے سورج اور چاند اور ستارے بنا ئے ہیں۔ جو شخص روحانی دنیا کے سورج یا روحانی دنیا کے چاند یا روحانی دنیا کے ستاروں کی ضرورت کا انکا ر کرتا ہے وہ قانونِ قدرت سے اپنی آنکھیں بند کرتا اور حقائق سے رُوگردانی اختیا ر کر تا ہے چنانچہ اسلام نے اِسی حقیقت کی طرف توجہ دلا تے ہوئے فرمایا ہے۔کہ ہم تمہا رے سامنے اس آسمان کو شہا دت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو مختلف بروج والا ہے۱۱۸؎ یعنی جس طرح تمہیں اِس مادی دنیا کے آسمان میں سورج اور چاند اور ستارے دکھا ئی دیتے ہیں اِسی طرح خدا تعالیٰ نے روحانی عالَم میں بھی ظلمتوں کو دُور کرنے کے لئے سورج اور چاند اور ستارے بنا ئے ہیں جو لوگوں کو اپنے نو ر سے منور کرتے رہتے ہیں۔
    بعث بعد الْمَوت
    آپ نے اسی سلسلہ میں بعث بعد الْمَوت پر بھی روشنی ڈالی کیونکہ اس کے متعلق بھی کوئی انسان اپنی ذاتی کدّوکا وش سے معلومات
    حاصل نہیں کرسکتا تھاآپ نے ایک طرف تو جزاء وسزا کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور دوسری طرف یہ بتایا کہ اس جزاء کا مخفی رکھا جانا بھی ضروری ہے ورنہ انسانی اعمال غیر اختیا ری ہوجا ئیں اور جزاء ایک بے معنی لفظ بن کر رہ جائے چنا نچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص نہیں جا نتا کہ اُس کے لئے عالَمِ آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک کاکیا کیا سامان مخفی رکھا گیا ہے کیونکہ یہ انعام تمہا رے اعمال کی جزاء میں ملنے والا ہے۱۱۹؎ اگر اس کو ظاہر کر دیا جائے تو حقیقت کے منکشف ہونے پر ایمان لا نا کوئی خوبی نہ رہے اور انسان کسی جزاء کا مستحق نہ ہو ۔
    آپؐ نے اس امر کی تصریح فرمائی کہ عالَمِ آخرت درحقیقت اِسی دنیا کا ایک تسلسل ہے جس میں اپنے اپنے اعمال کے مطابق مادیت کے بوجھ سے آزاد ہو کر انسا نی روح اُس راستہ پر گامزن ہو جا تی ہے جو اُس نے خود اپنی دُنیوی زندگی میںاختیا ر کیا ہو تا ہے چنانچہ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص اِس دنیا میں روحانی لحاظ سے نا بینا ئی رکھتا ہو گا وہ عالَمِ آخرت میں بھی اس نابینائی کو لے کر اُٹھے گا او ر خدا ئی قُرب کے دروازے اُس پر نہیں کھلیں گے۔۱۲۰؎ غرض ہر وہ مخفی مسئلہ جس پر مذہب اور روحانیت کی بنیا د تھی محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کھول کر بیا ن کیا کہ انسانی عقول تسلّی پا گئیں اور ان کا رسمی ایمان مشاہدہ اور بصیرت کا رنگ اختیا ر کر گیا ۔
    شریعت *** نہیں بلکہ خدا تعالیٰ
    کا بڑا بھاری فضل ہے
    آپؐ کا دوسرا اہم کا م تعلیم کتا ب تھا اس کا م کو بھی آپ نے ایسے رنگ میں پورا کیاکہ اس کی مثال اور کسی وجود میں نہیں ملتی
    آپؐ کی بعثت سے پہلے دنیا میں بعض ایسے مذاہب تھے جو اپنی نا دانی سے شریعت کو *** قرار دیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ ایک ایسا بوجھ ہے جو انسان کی کمر کو توڑ دینے والا ہے آپؐ نے بتایا کہ یہ نظر یہ صحیح نہیں، شریعت اللہ تعالیٰ کا ایک بڑابھاری فضل ہے کیونکہ انسان جب اس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرے تووہ اپنی عقل سے خدا تعالیٰ کی مرضی کو کس طرح معلوم کر سکتا ہے۔ یہ مرحلہ تو اسی صورت میں طے ہو سکتا ہے جب خدا تعالیٰ خود بتائے کہ میری رضا کس امر میں ہے اور شریعت اِس چیز کا نام ہے کہ خداتعالیٰ کی رضا مندی کی راہوں کو خدا تعالیٰ کی زبان سے ہی معلوم کیا جائے۔ پس شریعت خدا تعالیٰ کی ایک بڑی بھاری رحمت ہے اس وجہ سے قرآن کریم کو مختلف مقامات میں رحمت قرار دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ قرآن بنی نوع انسان کو تکلیف میں ڈالنے کے لئے نہیں بلکہ آسانیاںپیداکرنے کے لئے آیا ہے۔۱۲۱؎
    شریعت کا فائدہ
    پھر آپ نے اِس امر کی بھی وضاحت فرمائی کہ شریعت اس لئے نازل نہیں ہوتی کہ اُس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی شان
    بڑھتی ہے بلکہ اِس لئے نا زل کی جا تی ہیکہ بنی نوع انسان اُس کے احکام پر عمل کرکے ترقی کریں کیونکہ اس کا ہر حکم انفرادی او ر قومی ترقی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، خدا تعالیٰ کواُن احکام پر عمل کرنے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ چنا نچہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو اسی نکتہ کی طرف توجہ دلا تے ہو ئے فرماتا ہے کہ تم میں سے جو شخص نیکی کرے گا وہ اپنے نفس کے لئے کریگا اور جو شخص بدی کا ارتکا ب کرے گا اُس کا وبا ل بھی اس کی جان پر پڑے گا، خداتعالیٰ اپنے بندوں پر کوئی ظلم نہیں کرتا۔۱۲۲؎
    قرآن کریم کی کامل تعلیم
    پھر تعلیم کتا ب کے لحاظ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تعلیم پیش کی جو اپنے ہر پہلو کے لحاظ سے
    کامل ہے آپ نے بتایا کہ انسان پر اُس کے ماں باپ کے کیا حقوق ہیں؟ بھائی بہنوں کے کیا حقوق ہیں؟ بیوی کے خاوند پر اور خاوند کے بیوی پر کیا حقوق ہیں؟ ہمسائیوں کے کیا حقوق ہیں؟ یتامیٰ ومساکین کے کیا حقوق ہیں ؟بیوائوں کے کیا حقوق ہیں؟ دوستوں کے کیا حقوق ہیں؟ اِسی طرح آپ نے سیا ستِ مُلکی پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ سرحدوں کی حفاظت کیا کرو، لڑائیوں کے متعلق متعدد احکام دیئے، معاہدات کی پابندی کی تلقین کی، اقوامِ عالَم کے جھگڑوں کے تصفیہ کے قواعد بیا ن کئے غرض انفرادی مسائل یا قومی زندگی میں جن مشکلا ت کا سامنا ہو سکتا تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر روشنی ڈالی اور ان کاکامیاب حل بتایا۔ پھر اس کیساتھ ہی آپ نے اس امر کی صراحت فرمادی کہ گو اس کتا ب میں وہ تمام ضروری امور بیان کردیئے گئے ہیں جن کا مذہبی یا روحانی یا اخلاقی ترقی کیساتھ تعلق ہے مگر انسانی دماغ کی ترقی کے لئے اجتہا د او ر غور اور فکر کا بھی سلسلہ جاری رکھا گیا ہے تاکہ انسانی دماغ کُند ہو کر نہ رہ جائے او ر وہ اندھی تقلید کا شکا ر نہ ہوجائے۔
    تعلیم حکمت
    محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تیسرا عظیم الشان کام تعلیمِ حکمت تھا اِس لحاظ سے آپ نے ایک بے مثا ل معلّم کے فرائض سر انجام دیئے۔
    پہلی تمام کتب کو دیکھ لو وہ صرف اتنا کہتی ہیں کہ ایسا کرو اور ایسا نہ کرو، مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتا یا کہ ایسا کیو ں کرو اور کیو ں نہ کرو۔ وہ شراب اور جُوئے سے روکتا ہے تو اس کی حکمت بھی بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ ان چیزوں کے نقصا نا ت ان کے فوائد سے زیادہ ہیں۱۲۳؎ وہ نماز اور روزے کا حکم دیتا ہے تو ان کے فوائد بھی بیا ن کرتا ہے او ربتاتا ہے کہ نماز تما م فحش او ر نا پسند یدہ کا موں سے انسان کو بچاتی ہے۱۲۴؎ اور روزوں کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔۱۲۵؎
    غرض اسلام احکام کے ساتھ حکمتیں بھی بیان کر تا ہے او ر یہ اسلام کی اتنی بڑی فضیلت ہے جس کا مقابلہ دنیا کا اور کوئی مذہب نہیں کر سکتا۔آپؐ نے بتایا کہ خدا تعالیٰ حکیم بھی ہے وہ کوئی حکم بغیر کسی حکمت کے نہیں دیتا پس خدائی تعلیم کے یہ معنے نہیں کہ اُس کے احکام حکمتوں سے خالی ہو ں اور محض جبر کے طور پر کچھ باتیں منوانے کی کو شش کی گئی ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف کسی بات کا منسوب ہو نا تقاضا کر تا ہے کہ وہ بات لا زمی طور پر مختلف قسم کی حکمتوں سے پُر ہو، تاکہ انسانی دل انقباض محسوس نہ کر ے بلکہ وہ خوش ہو کہ جس حکم پر میں عمل کر رہا ہوں اُس میں میر ا بھی فائدہ ہے اور دوسرے بنی نوع انسان کا بھی فائدہ ہے۔
    تزکیہ ٔ نفوس
    چوتھا اور اہم کام جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کیا گیا تھا وہ تزکیۂ نفوس ہے یعنی لو گوں کے دلوں میں ایسی پا کیزگی پیدا کرنا
    کہ وہ خداتعالیٰ کے قریب ہو جائیں اور اُس کی قدرتوں کا جلوہ گاہ بن جائیں، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام کو بھی ایسے احسن طریق سے پورا کیا ہے کہ دوست ہی نہیں دشمن بھی اس بات کے معترف ہیں کہ آپ نے دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر دیا ۔
    آپؐ جس زمانہ میں مبعوث ہوئے ہیں اُس زمانہ میں مذہب ہی نہیں انسانیت بھی مرچکی تھی اور شرافت دنیا سے مفقود ہو چکی تھی۔ ہر قسم کا فسق وفجور لو گوں میں پا یا جا تا تھا اورہر قسم کی نیکی عنقاتھی یہاں تک کہ بدی کا احساس بھی لو گوں کے قلوب سے مٹ چکا تھا اور وہ ندامت اور شرمندگی محسوس کرنے کی بجا ئے بدیوں کے ارتکاب پر فخر محسوس کرتے تھے۔ ایسے خطرناک زمانہ میں آپ نے تزکیۂ نفوس کاکا م شروع کیا اور ہر قسم کی روکوں اور انتہائی مظالم کے باوجود اس کام کو جا ری رکھا یہاں تک کہ وہ دن آگیا کہ صدیوں کے مُردوں نے اپنے اندر زندگی کی روح محسوس کی، قبروں میں دبے پڑے لوگ باہر نکل آئے، اندھوں نے بینائی حاصل کی، لُولے اور لنگڑے چلنے لگے، کمزوروں نے اپنے اندر طاقت کی ایک لہردَوڑتی ہوئی پائی، بیماروں نے صحت کے آثار محسوس کئے اور جہا لت کی جگہ علم نے، جمود کی جگہ سعیِ عمل نے، شیطنت کی جگہ روحا نیت نے اور بدی کی جگہ نیکی نے لے لی۔ برسوں کے مسخ شدہ انسان آپ کے فیضِ صُحبت سے ایسے پاک ہوئے کہ اُن کی کایا پلٹ گئی، وہ خدا ئے واحد کے آستانہ کی طرف کھینچے گئے اور دنیا کی ہدایت کے لئے ایک ایسا مینار بن گئے کہ آج بھی اُن کی روشنی نیند کے ماتوں کو بیدار کرنے اور انہیں چاق و چوبند بنانے کے کام آرہی ہے۔
    غرض اِس روحانی گورنر جنر ل کوخدائے واحد کی طرف سے جس انعام کا وعدہ دیاگیا تھا وہ وعدہ بڑی شان کے ساتھ پورا ہؤا۔ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے کَوْثَرْ عطا کیا اور ہر رنگ میں اتنی برکا ت اور انعامات کے ساتھ نوازا کہ انسان کے لئے اُن کا شمار کرنا بھی مشکل ہے۔
    ایک کثیر الخیر روحانی فرزند
    کے پیدا ہونے کی پیشگوئی
    پھر کَوْثَرْ کے ایک معنیاَلرَّجُلُ کَثِیْرُالْعَطَائِ وَالْخَیْرِ۱۲۶؎ کے بھی ہیں یعنی ایساانسان جو بڑا سخی ہو اور دنیا میں کثرت سے نیکی پھیلانے
    والا ہو۔ اِس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں یہ بیان فرمایا تھا کہ اے محمدؐ رسول اللہ! ہم اب بھی تجھے ہر قسم کی نعمتوں کی کثرت دینگے اور آئندہ زمانہ میںبھی تجھے ایک بہت بڑا روحانی فرزند عطا کریں گے جو کثیرالخیر ہو گا اور کثرت سے قرآن کریم کے علوم اور اس کے معارف دنیا میں پھیلائے گا خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مفہوم میں یہ پیشگوئی فرمائی کہ یُفِیْضُ الْمَالَ۔۱۲۷؎ یعنی آنے والا مسیح کثرت کے ساتھ لوگوںمیں روحانی دولت تقسیم کریگا مگر اس کے ساتھ ہی قرآن کریم نے میں اِس طرف بھی اشارہ فرما دیا ہے کہ آنے والا مسیح اُمتِ محمدیہ کا ایک فرد ہو گا کیو نکہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ مسیح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جا ئے گا اور اس کا وجود ثابت کر دیگا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتر نہیں، پس وہ آپؐ کا ہی روحانی بیٹا ہو گا، باہر کا کوئی آدمی نہیں ہو گا۔
    تمام مخالف اقوام ابتر ہو کر رہ گئیں
    اِس جگہ پہلے معنوں کے لحا ظ سے دشمنوں سے مراد ابو جہل، عتبہ او رشیبہ
    وغیرہ ہیں، مگر دوسرے معنوں کے لحاظ سے سے وہ تمام قومیں مراد ہیں جو آج اسلام پر حملہ کر رہی ہیں چنانچہ دیکھ لو جب اسلام ضعیف ہو گیا، مسلمانوںکی طاقتیں کمزور ہوگئیں اور عیسائی مصنّفوں نے یہ لکھنا شروع کر دیا کہ اب اسلام ترقی نہیں کر سکتا اور خود مسلمان مصنّفین نے بھی دشمن کے مقابلہ میں معذرتیں شروع کردیں، اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور آپؐ نے دنیا کو چیلنج کیا کہ مَیں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی بیٹا ہوں اور مَیں اس بات کا ایک زندہ ثبوت ہوں کہ آج محمدی چشمہ کے سِوا باقی تمام چشمے سُوکھ گئے ہیں اور میَں اس چشمہ کا پانی پی کرزندہ ہؤا ہوں۔ اگر تم سمجھتے ہو کہ تم بھی کسی زندہ مذہب کے پیرو ہو تو تم میرے سامنے وہ زندہ شخص پیش کرو جس پر خدا تعالیٰ کا تازہ کلام اُترتا ہو۔ مگر واقعات بتارہے ہیں کہ اس چیلنج کے مقابلہ میں دنیا کی ساری قومیں ابتر ہوکر رہ گئیں او روہ اسلام کے پہلوان کے مقابلہ میں اپنا کوئی پہلوان پیش نہ کرسکیں۔ ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ گزرچکا ہے مگر نہ ہندو کوئی روحانی بیٹا پیش کر سکے ہیں نہ عیسائی کوئی روحانی بیٹا پیش کر سکے ہیں نہ یہودی کوئی روحانی بیٹا پیش کر سکے ہیں، نہ بدھ یا کنفیوشس مذہب کے پیرو کوئی روحانی بیٹا پیش کر سکے ہیں، نہ یو رپ کا فلسفہ کوئی بیٹا پیش کرسکا ہے۔ ساٹھ سال سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی بیٹے کا چیلنج موجو د ہے کہ اگر تمہارے اندر کو ئی نور اور صداقت ہے توتم میرے مقابلہ میں وہ شخص پیش کر و جس نے تمہارے مذہب پر چل کر خدا تعالیٰ کے مکالمات کا شرف حاصل کیا ہو اور اس کی تازہ وحی اور نشانات کا مورد ہؤا ہو مگر کوئی مذہب اپنا روحانی بیٹا پیش نہیں کرسکا۔
    پس جس طرح آج سے تیرہ سَوسال پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس انعام کو پورا کیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کی نعماء سے حصّہ عطافرمایا اِسی طرح اُس نے تیرہ سَوسال کے بعد ایک بار پھر دنیا پر یہ ثابت کردیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی صاحبِ اولاد ہیں اور آپؐکے دشمن ہی ابتر ہیں۔
    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    کو مقام محمود کی بشارت
    پھر اسی دربار خاص میں ایک اور عظیم الشان انعام بھی اس خدائی گورنر جنر ل کو عطا کیاگیااور کہا گیا کہ
    ۱۲۸؎ یعنی اے محمد رسول اللہ! عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ ہر دوست اور دشمن تیری تعریف میں رطبُ الّلسان ہو گا اور ہر مقام پر تیرے بلند اخلاق اور اعلیٰ درجہ کے کردار کا چرچا ہو گا۔ اِس انعام کا اعلان بھی ایسی حالت میں کیا گیا جب دنیا اپنی نابینا ئی کی وجہ سے اس خدائی گورنر جنرل کا حُسن دیکھنے سے عاری تھی اور وہ اپنی مخالفت کے جو ش میں اسے محمد کہنے کی بجائے مذمّم کہہ کر پُکا را کرتی تھی مگر ابھی ایسی مخالفت پر کچھ زیادہ عرصہ گزرنے نہیں پایا تھا کہ اُس کا روحانی حُسن ظاہر ہو نا شروع ہؤا اور لو گوں کو محسوس ہؤا کہ انہوں نے سونے کو پیتل اور ہیرے کو کوئلہ قرار دیکر ہمالیہ سے بھی بڑی غلطی کا ارتکا ب کیا ہے۔
    ہر وصف میں یکتا اور بے نظیر نبی
    انہوں نے تعصّب کی پٹی اپنی آنکھو ں سے اُتا ر کر اس کے اخلاقِ فاضلہ کو دیکھا تو
    انہیں بے مثال پایا اور اس کے زندگی بخش کلام کو سُنا تو اُسے تمام کلاموں سے افضل پایا، اس کے علم کو دیکھا تو دنیا کے بڑے بڑے عالموں کو ا س کے سامنے جا ہل پایا، اس کی معرفت کو دیکھا تو بڑے بڑے عارفین کو اُس کے آگے زانوئے تلمّذتہہ کرتے دیکھا، اس کی محبت اور تعلق بِاللہ کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ کا ویسا عاشق اور سچاعبادت گزار انہیں ساری دنیا میں نظر نہ آیا، انہوں نے اس کے دلائل وبیّنات کا جا ئزہ لیا تو اُنکا ردّ کرنے کی دُنیا کے کسی مذہب میں طاقت نہ پائی، اس کی دعائوں کی قبولیت کو دیکھا تو انہیں بے نظیر پایا، اس کے فیوض وبرکات اور اس کی تعلیمات کامشاہد ہ کیا تو دنیا میں اُن کاکوئی ثانی نہ دیکھا، اس کی پیشگوئیوں پر انہوں نے نظر دَوڑائی تو انہیں آپ کی صداقت اور راستبازی کا ایک بڑا نشان دیکھا۔ غرض جس پہلو سے بھی انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، اُسے مجسمہء حُسن واحسان پایا اور وہ آپ کے ایسے والہ وشیدا ہو ئے کہ تمام دُنیوی علائق کو توڑ کر وہ آپ سے ایسے وابستہ ہو گئے اور اس عہدِوفا کو انہوں نے مرتے دم تک اس خوبی سے نباہا کہ پہلی امتیں اس کی مثا ل پیش کرنے سے قاصر ہیں۔
    زبانوں پر حمد کے ترانے
    یہی وہ چیزتھی جس کی خد ا تعالیٰ کی طرف سے ان الفاظ میں خبر دی گئی تھی کہ
    یعنی اے محمدؐ رسو ل اللہ! آج لو گ تیرا حُسن دیکھنے سے قاصر ہیں وہ تجھے ایسی گٹھلی سمجھتے ہیں جو پا ئوں تلے رَوندی جا ئیگی، ایک ایسا بیج خیا ل کرتے ہیں جسے پرندے اُچک کر لے جا ئیں گے مگر ہم نے تیرے اندر ایسی خوبیا ں ودیعت کردی ہیں کہ جُوں جُوں اُن خوبیوں کا ظہور ہو تا جائے گا تیری حمد کے ترانے لو گو ں کی زبا نوں پر جا ری ہوتے جائیں گئے اورمذمّم کہنے والے تجھ پر درود اور سلام بھیجیں گے چنانچہ ہم دیکھتے ہیںکہ اسلام کے وہ تمام مسائل جن پر یو رپ کے مد بّر ین اور بڑے بڑے فلا سفر بھی اعتراض کیا کرتے تھے آج دنیا اُن کی معقولیت کی قائل ہو رہی ہے اوروہ تسلیم کرتی ہے کہ دنیا کی مشکلا ت کا صحیح حل صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کر دہ تعلیم میں ہی ہے۔
    اسلامی تعلیم کی برتری کا اعتراف
    ایک زمانہ ایسا گزرا ہے جب توحید کے اعلان پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    اور آپ کے ساتھیوں کو انتہا ئی مصائب کا نشانہ بنایا گیا مگر آج ساری دنیا خدائے واحد کے آستانہ پر سر جُھکائے ہوئے ہے بلکہ وہ لوگ جو مذہباً تثلیث کے قائل ہیں یا مذہباً سینکڑوںدیو تائوں کو تسلیم کرتے ہیں وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ خدا تو ایک ہی ہے باقی سب اُس کے ظہو ر ہیں۔ پھر شراب کو اچھا سمجھا جا تا تھا، اسلام کے مسئلہ طلاق پر اعتراض کیاجاتا تھا، تعدد ازدواج کو عورتوں کے لئے شدید ظلم قرار دیا جا تا تھا، سُودکو تجارت کا ایک لازمی جُزو سمجھتے ہوئے بڑا مفید خیا ل کیا جا تا تھا، پردہ کو بُرا قرار دیاجا تا تھا، ورثہ کے مسائل کو درست نہیں سمجھاجا تا تھا مگر آج دنیا ٹھو کریں کھاکر اس تعلیم کی طرف آرہی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کی کیونکہ خدا نے یہ اعلان فرمایا تھا کہ وہ آپ کو مقامِ محمود عطا کریگا اور دنیا آپؐ کے اخلاق اور آپ کی تعلیم کی برتری کی وجہ سے اپنے دل کی گہرائیوں سے آپ کی تعریف کریگی۔
    دشمنوں کے منہ سے محمد رسول اللہ
    صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف
    حقیقت یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام فضائلِ حَسنہ سے اس طرح متّصف کر کے مبعوث فرمایا
    ہے کہ کو ئی خوبی نہیں جو آپؐ میں نہ پائی جا تی ہو اور کوئی کما ل نہیں جو آپ کے اندر نہ دکھائی دیتا ہو اور پھر ہر کما ل اپنے اپنے دائرہ میں ایسی امتیازی شان کے ساتھ آپؐکے اندر پا یا جا تا ہے کہ دوست تو الگ رہے، دشمن بھی آپؐ کی تعریف کرنے پر مجبور ہیں اور وہ آپؐ کے اخلا ق کی بلندی اور آپؐ کے کردار کی پا کیزگی کے معترف ہیں۔
    سرولیم میور کا اقرار کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ
    علیہ وسلمنے ایک نئی دنیا پیدا کی ہے
    سر ولیم میور اسلام کا ایک شدید ترین دشمن ہے مگر اس نے بھی جب اُس انقلاب پر نگاہ دَوڑائی جو محمد
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کی سرزمین میں پیدا کیاتو وہ بھی یہ الفاظ لکھنے پر مجبور ہو گیا کہ:
    ’’یہ کہنا کہ اسلام کی صورت عرب کے حالات کا ایک لا زمی نتیجہ تھی ایسا ہی ہے جیسا کہ یہ کہنا کہ ریشم کے باریک تاگوں میں سے آپ ہی ایک عالیشان کپڑا تیا ر ہو گیا ہے یایہ کہنا کہ جنگل کی بے تراشی لکڑیوں سے ایک شاندار جہا ز تیا ر ہو گیا ہے یا پھر یہ کہنا کہ کُھردری چٹان کے پتھروں میں سے ایک خوبصورت محل تیا ر ہو گیا ہے اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے ابتدائی عقائد پر پختہ رہتے ہوئے عیسائیت اور یہودیت کی سچائی کی راہنمائی کو قبول کرتے چلے جا تے اور اپنے متبعین کو اِن دونوں مذاہب کی سادہ تعلیم پر کا ربند رہنے کا حکم دیتے تو دنیا میں شاید ایک ولی محمد یا ممکن ہے کہ ایک شہید محمد پیدا ہو جا تا جو عرب کے گرجا کی بنیاد رکھنے والا قرار پاتا، لیکن جہا ں تک انسانی عقل کا م دیتی ہے کہا جا سکتا ہے کہ اس صورت میں آپ کی تعلیم عرب کے دل کی گہرائیوں میں تلا طم پیدا نہ کر سکتی اور سارا عرب تو الگ رہا اس کا کو ئی معقول حصّہ بھی آپ کے دین میں داخل نہ ہوتا، لیکن باوجودان تمام باتوں کے آپؐ نے اپنے انتہا ئی کما ل کے ساتھ ایک ایسی کَل ایجا د کی کہ جسکی موقع کے منا سب ڈھل جا نیوالی قوت کے ساتھ آپ نے آہستہ آہستہ عرب قوم کی پر اگندہ اور شکستہ چٹانوں کو ایک متناسب محل کی شکل میںبدل دیا اور ایک ایسی قوم بنا دیا جس کے خون میں زندگی اور طاقت کی لہریں دوڑ رہی تھیں۔ ایک عیسائی کو وہ عیسائی نظر آتے تھے، ایک یہودی کی نگاہ میں وہ ایک یہودی تھے، ایک مکّہ کے بُت پرست کی آنکھ میں وہ کعبہ کے اصلاح یا فتہ عبادت گزار تھے اور اس طرح ایک لاثانی ہنراور ایک بے مثال دماغی قابلیّت کے ساتھ انہوں نے سارے عرب کو خواہ کو ئی بُت پر ست تھا، یہودی تھا کہ عیسائی تھا مجبورکر دیا کہ وہ ان کے قدموں کے پیچھے ایک سچے مطیع کے طور پر جس کے دل سے ہر قسم کی مخالفت کا خیال نکل چکا ہو چل پڑے۔ یہ فعل اُس صنّاع کا ہو تا ہے جو اپنا مصالح آپ تیا ر کر تا ہے او ر یہاں اس مصالح کی مثا ل چسپاں نہیں ہو تی جوکہ آپ ہی آپ بن جا تا ہے اور اس مصالح کے ساتھ تو اس کو بالکل ہی کوئی مشابہت نہیں جو اپنے صنّاع کو خود تیا ر کرتا ہے یہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذات تھی جس نے اسلام بنایا یہ اسلام نہیں تھا اور نہ کوئی اور پہلے سے موجود اسلا می روح تھی جس نے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو بنا یا ۔‘‘۱۲۹؎
    سر ولیم میو ر چونکہ اسلام کا شدید مخالف تھا اس لئے گو اُس نے یہ کہا کہ اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تیا ر کر دہ ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس صداقت کا بھی اُس نے کھلے بندوں اقرار کیا کہ دنیا نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا نہیں کیا بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نئی دنیا پیدا کی ہے اور یہ کا م یقینا خدا تعالیٰ کے فرستادوں کے سوا اور کوئی نہیں کرسکتا۔
    پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خد ا تعالیٰ نے وہ مقامِ محمود عطاکیا کہ آپؐ کا حُسن کبھی دشمن کی آنکھوں میں بھی عرفان کی ایک جھلک پیدا کر دیتا ہے اور وہ بھی آپ کی ستائش کرنے پر مجبور ہو جا تاہے۔
    اخلاقِ فاضلہ کے لحاظ سے محمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کا بلند مقام
    پھر اخلاقِ فاضلہ کو لو تو کوئی خُلق نہیں جس میں آپ نے دنیا کے لئے ایک بے مثال نمونہ نہ چھوڑا ہو
    اور ہر شخص آپ کے اُن اخلا ق کو دیکھ کر آپ کی تعریف کرنے پر مجبور نہ ہو۔ مثال کے طور پر بہا دری کو لے لو، استقلال کو لے لو، سخاوت کو لے لو، حیا کو لے لو، انصاف کو لے لو، رحم کو لے لو، دوستوں اور دشمنوں سے آپؐ کے معاملات کو دیکھ لو، جنگ میں آپ کی ہوشیاری کو دیکھ لو، عورتوں اور بچوں سے معاملات کو لے لو، آپؐ کے تنظیمی کا رناموں پر نظر ڈالو، آپ کی جرنیلی شان کو ملا حظہ کر و، تمہیں دکھا ئی دیگاکہ ہر پہلو کے لحاظ سے آپ کو مقامِ محمود حاصل ہے اور ہر معاملہ میں دنیا آپؐ کی اقتداء کرنے پر مجبور ہے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہادری
    آپ کی بہا دری کی یہ کیفیت تھی کہ مدینہ میںایک دفعہ باہر جنگل
    کی طرف سے شور کی آواز آئی، اُن دنو ں یہ خبریں مشہور ہو رہی تھیں کہ روما کی حکومت مدینہ پر حملہ کرنیوالی ہے، اس شور کی آواز پر تمام مسلمانوں میں گھبراہٹ پیدا ہو گئی اور وہ اس ارادہ کے ساتھ مسجد میںجمع ہوئے کہ مشورہ کے بعد کچھ لوگوں کو باہر بھجوا دیا جائے جو دیکھیں کہ یہ کیسا شور ہے مگر ابھی وہ جمع ہی ہو رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر بیٹھے ہوئے باہر سے تشریف لا رہے ہیں، آپ نے آتے ہی فرمایا میَں شور کی آواز سنکر فوراً باہر چلا گیا تھا اور میَں نے چکر لگا کر دیکھ لیا ہے خطرہ کی کوئی بات نہیں، اطمینا ن سے اپنے اپنے گھروں کو چلے جائو۔۱۳۰؎
    صبرواستقلال
    صبرواستقلال آپ کے اندر اِس قدر پا یا جا تا تھا کہ مکّی زندگی میںکفار کی طرف سے آپ کو سخت سے سخت تکا لیف دی گئیں،
    آپ کو بُرا بھلا کہاگیا،آپؐ کو شعبِ ابی طالب میں ایک لمبے عرصہ تک محصور رکھا گیا،آپؐ کا مقاطعہ کیا گیا، آپؐکے گلے میں پٹکا ڈال کر اِسقدر گھونٹا گیا کہ آپؐ کی آنکھیں باہر نکل آئیں، آپ پر پتھروں کی اسقدر بوچھاڑ کی گئی کہ طائف سے آتے وقت آپؐ سر سے پاؤں تک لہو لہا ن ہو گئے۱۳۱؎ مگر ان تمام تکالیف کے باوجود آپؐ جس پیغام کو لیکر کھڑے ہوئے تھے اُسے اُٹھتے بیٹھتے، سوتے اورجا گتے آپؐ نے لو گوں تک پہنچایا اور ایک لمحہ کے لئے بھی آپؐ کے پائے ثبات میں جُنبش نہیں آئی۔
    سخاوت
    سخاوت آپؐ کے اندر اس قدر پائی جا تی تھی کہ اگر آپؐسے کو ئی چیز مانگی جاتی اور وہ آپ ؐ کے پاس موجود ہو تی تو آپؐاس کے دینے میں کبھی دریغ
    نہ فرماتے اور یہ سخاوت عمر بھر آپؐ کا معمول رہی مگر صحابہؓ کہتے ہیں کہ رمضان المبارک کے ایام آتے تو اُن دنوں آپؐ کی سخاوت کا دائرہ غیر معمولی طور پر وسعت اختیار کرلیتا،۱۳۲؎ اِسی سخاوت کا یہ نتیجہ تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو آپؐ کے گھر میں کوئی درہم اور دینار موجود نہیں تھا حالانکہ آپؐ اُس وقت عرب کے بادشاہ بن چکے تھے۔
    رحم دلی
    حیا آپؐ کے اندر اسقدر پایا جا تا تھاکہ صحابہؓ کہتے ہیں آپؐ ایک کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیا دار تھے۔۱۳۳؎ رحم آپؐ کے اندر اس قدر پایا جاتا تھا کہ
    آپؐ اکثر فرمایاکرتے تھے کہ جو شخص رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی اُس پر رحم نہیں کیا جا تا۱۳۴؎ آپؐ کا ایک نواسہ ایک دفعہ بیمار ہؤا اور اُس کی حالت نازک ہو گئی۔ آپؐ کی بیٹی نے آپؐ کی طرف پیغام بھیجا، آپؐ تشریف لا ئے اور بچے کو دیکھا توآپؐ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ ایک صحابی کہنے لگے یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! آپؐ بھی روتے ہیں آپؐ نے فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے سخت دل نہیںبنایا۔۱۳۵؎
    عدل و انصاف
    انصاف آپؐ کے اندر اس قدر پا یا جا تا تھا کہ ایک دفعہ کسی بڑے خاندان کی عورت نے چوری کی او روہ پکڑی گئی اس پر بعض لوگوں
    نے چاہا کہ اسکے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میںدرخواست کی جائے کہ اسے کوئی سزا نہ دی جائے کیونکہ یہ بڑے خاندان کی عورت ہے اس غرض کے لئے انہوں نے حضرت اسامہؓ کو تیا ر کیا۔ اسامہؓ نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق سفارش کی توآپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا خدا کی قسم! اگر میری بیٹی فا طمہ بھی اس قسم کا جُرم کرے تو میں اُسکے بھی ہا تھ کا ٹ دوں۔ ۱۳۶؎
    بدر کی جنگ میںجن کفارکو مسلمانوںنے قید کرلیاتھااُن میں حضرت عباس بھی شامل تھے اور چونکہ وہ نازونعمت میں پلے ہو ئے تھے اس لئے جب انہیں رسیوں سے جکڑا گیا تو انہوں نے شدّتِ تکلیف کی وجہ سے کراہنا شروع کردیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں ان کے کراہنے کی آواز پہنچتی تو آپ بے چینی میں باربارکروٹیںبدلتے مگرزبان سے کچھ نہیں فرماتے تھے۔ صحابہؓ نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت دیکھی تو وہ سمجھ گئے کہ اِس کی وجہ حضرت عباس کا کراہنا ہے وہ چُپکے سے اُٹھے اور انہوں نے حضرت عباس کی رسیاں ڈھیلی کر دیں اور اُن کے کراہنے کی آوازبندہو گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب آپ کے کا نوں میں حضرت عباس کے کراہنے کی آواز نہ آئی توآپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا عباس کے کراہنے کی آواز کیوں نہیں آرہی؟ انہوں نے کہا یَارَسُوْلَ اللہ! ہم نے آپؐ کی تکلیف کے خیال سے اُن کی رسیاں ڈھیلی کردی ہیں آپؐ نے فرمایا یہ انصاف کے خلاف ہے کہ باقی قیدیوں کو سختی سے جکڑا جا ئے او رعباس کی رسیاں ڈھیلی کردی جا ئیں۔ جائو اور یا تو عباس کی رسیاں بھی کَس دواور یا پھرباقی قیدیوں کی رسیاں بھی ڈھیلی کردو۔ ۱۳۷؎
    قیصرِ روما کے دربار میں
    ابوسفیان کا اقرار
    غرض جس پہلوکے لحاظ سے بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جا ئے آپ ؐ تعریف ہی تعریف کے قابل دکھائی دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب قیصرِ روما
    نے ابو سفیان سے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مختلف سوالات کئے تو ہر سوال کے جواب میں اُسے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبی اور آپ کے کما ل کا اعتراف کرنا پڑا۔ جب اس نے پوچھا کہ اس شخص کا خاندان کیسا ہے؟ تو ابوسفیان نے کہا کہ وہ ایک نہا یت معزز خاندان میں سے ہے۔ جب اُس نے پوچھا کہ کیا دعویٰ سے پہلے تم نے کبھی اسے کسی بُرائی میں مبتلاء دیکھا؟ تواُس نے کہا ہر گز نہیں۔ جب اُس نے پوچھا کہ اس کی عقل اور اصابتِ رائے کاکیا حال ہے؟ تو ابوسفیان کو یہی کہنا پڑا کہ ہم نے اُس کی عقل اور رائے میں کبھی کوئی عیب نہیں دیکھا۔ جب اُس نے پوچھا کہ کیا اُس نے کبھی بدعہدی بھی کی ہے؟ تو ابوسفیان نے کہا کہ اس نے آج تک کوئی بدعہدی نہیںکی۔ جب اُس نے پوچھاکہ وہ تمہیںکِن باتوں کی تعلیم دیتا ہے۔ تو ابوسفیان نے کہا کہ ہمیں یہی کہتا ہے کہ ہم سچ بولا کریں، خدائے واحد کی عبادت کیاکریں، وفائے عہد سے کام لیں، امانت اور دیانت کا مادہ اپنے اندر پیدا کریں اور ہر قسم کے ناپاک او ر گندے کاموں سے بچیں۔۱۳۸؎ غرض باوجود مخالفت کے اُسے ہر سوال کے جواب میں آپؐ کی طہا رت اورپاکیزگی کا اقرار کرنا پڑااور قیصرروما کے بھرے دربار میں اُسے آپؐ کے مناقب کا ترانہ گانا پڑا کیونکہ خدا نے کہا تھا کہ ہم تجھے مقامِ محمود عطاکرنے والے ہیں۔ آج مکہ والے تجھے بیشک مذمّم کہہ لیں، بیشک ہر قسم کا جھوٹ بول کر تجھے بُرا بھلا کہتے پھریں مگر ہم یہ فیصلہ کر چکے ہیںکہ تیری تعریف قائم کی جا ئے اور زبانوں اور دلوں پر تیری حمد جاری کی جا ئے چنا نچہ خداتعالیٰ کی تقدیر ابوسفیان کو قیصر روماکے دربار میں کھینچ کر لے گئی اور شاہی دربار میں اُسے اقرار کرنا پڑ اکہ مکہ کے لوگ جھوٹ بولتے ہیںمحمدرسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم حقیقتاً تعریف کے قابل ہیں اور کوئی عیب اُن میں نہیں پایا جا تا۔
    موجودہ زمانہ میں
    مقام محمود کی تجلّیات
    پھر اللہ تعالیٰ نے اِسی مقامِ محمود کی تجلّیا ت کو اور زیادہ روشن اور نمایا ں کرنے کے لئے اِس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اور آپ کے بعد مجھے پیدا کیا اور
    ہم سے اُس نے آپ کے حُسن کی وہ تعریف کروائی کہ آج اپنے تو الگ رہے بیگانے بھی آپ کی تعریف کررہے ہیں اور یورپ اور امریکہ میں بھی ایسے لو گ پیدا ہو رہے ہیں جو محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور سلام بھیجتے ہیںمگر یہ تغیر کیوں ہؤا؟ اسی لئے کہ اس روحانی دربارِخاص کا بادشاہ جس انعام کا اعلان کرتا ہے وہ انعام چلتا چلاجا تا ہے او ر کوئی انسان اس کو چھیننے کی طاقت نہیں رکھتا۔ جب اُس نے اپنے دربار میں یہ اعلان کیا کہ اے ہمارے گورنرجنرل! ہم تجھے ایسے مقام پر پہنچانے والے ہیں کہ دنیا تیری تعریف کر نے پرمجبور ہو گی تو کون شخص تھا جو خداتعالیٰ کے اس پر وگرام میں حائل ہو سکتا۔ اس نے محمدی انوار کی تجلّیا ت کو روشن کرنا شروع کیا او ر اُس کے حُسن کو اتنا بڑھایا کہ دنیا کی تما م خوبصورتیاں اس حسین چہرہ کے سامنے ماند پڑگئیں او ردوست اور دشمن سب کے سب یک زبان ہو کر پکار اُٹھے کہ محمّدؐ حقیقتاً محمدؐ اور قابلِ تعریف ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔
    عظیم الشان دربار
    غرض یہ کیسا عظیم دربار ہے کہ اس میں بادشاہ کی طرف سے اپنے درباری کو جو انعام دیاگیا وہ دنیا کی شدید مخالفت کے
    باوجود قائم رہا، قائم ہے اور قائم رہے گا۔ حکومتیں اس روحانی گورنر جنرل کے مقابلہ میںکھڑی ہوئیںتو وہ مٹادی گئیں، سلطنتوں نے اس کو تِرچھی نگاہ سے دیکھا تو وہ تہہ وبالا کردی گئیں، بڑے بڑے جا بر بادشاہوں نے اس کا مقابلہ کیا تو وہ مچھر کی طرح مَسل دیئے گئے کیونکہ اس دربارِخاص کا بادشاہ یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ اُس کے مقررکردہ گورنر جنرل کی کوئی ہتک کرے یا اس کے پہنائے ہوئے جُبّہ کو کوئی اُتارنے کی کوشش کرے۔ وہ اپنے درباریوں کے لئے بڑاغیور ہے اورسب سے بڑھ کر وہ اِس درباری کے لئے غیرت مندہے جس کا مبارک نام محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے خداتعالیٰ کی اس پر لاکھوں برکتیں اور کروڑوں سلام ہوں۔ اٰمِیْنَ یَارَبَّ الْعٰلَمِیْنَ۔
    ۱؎ چَوری: سراگائیں جن کی دُم کی چَوریاں بادشاہوں اور امیروں کے سر پر ہلاتے ہیں، ایک پنکھا نقرئی
    ۲؎ بنی اسرائیل:۱۱۲ ۳؎ البقرۃ:۲۵۶ ۴؎ سبا:۴
    ۵؎ مسند احمدبن حنبل جلد۵ صفحہ۲۶۶۔المکتب الاسلامی بیروت
    ۶؎ الشفا۔القاضی ابی الفضل عیاض الجزء الاول صفحہ۷۷ مطبوعہ ملتان
    ۷؎ البقرۃ:۳۲ تا۳۴ ۸؎ الاعراف:۱۲ ۹؎ الاحزاب:۷۳
    ۱۰؎ ص:۶۶تا۷۹
    ۱۱؎ مسلم کتاب البروالصلۃ باب اذااحب اﷲ عبدا احبہٗ لعبادہ
    ۱۲؎ النجم:۸تا۱۰ ۱۳؎ الانعام:۱۰۴ ۱۴؎ الانفال:۱۸
    ۱۵؎ الاحزاب:۵۷ ۱۶؎ المدثر:۲تا۸
    ۱۷؎ المنجدعربی اُردو صفحہ۱۱ ۳مطبوعہ کراچی۱۹۷۵ء
    ۱۸تا۲۰ اقرب الموارد الجزء الاول صفحہ۳۱۹ مطبوعہ بیروت ۱۸۸۹ء
    ۲۱؎ تاج العروس الجزء الاول صفحہ۱۸۲ مطبوعہ مصر۱۲۸۵ھ
    ۲۲؎ البقرۃ:۱۸۸ ۲۳؎ الاحزاب:۳۴ ۲۴؎ الشعرائ:۲۱۵
    ۲۵؎تا۲۷؎ لسان العرب المجلد الخامس صفحہ۱۴۶مطبوعہ بیروت۱۹۸۸ء
    ۲۸؎تا۳۰؎ لسان العرب جلد۱۵۔ صفحہ۳۱تا۳۳ مطبوعہ بیروت۱۹۸۸ء
    ۳۱؎ ترمذی کتاب الادب باب ماجاء فی النّظّافَۃ
    ۳۲؎ ابوداؤد کتاب الصلٰوۃ باب اتّخاذالمساجد فی الدُّوَرِ
    ۳۳؎ بخاری کتاب الطھارۃ باب فَضْلِ التَّھْجِیْراِلٰی الظُّھْرِ
    ۳۴؎ مسلم کتاب الطھارۃ باب النھی عنِ التخلی فی الطریق
    ۳۵؎ بخاری کتاب الصلٰوۃ باب کفَّارَۃ البزاق فی المسجد
    ۳۶،۳۷ بخاری کتاب الادب باب مَایُنھٰی عَنِ التَّحَاسُد
    ۳۸ ؎ بخاری کتاب الادب باب رحمۃ الناس و البھائم
    ۳۹؎ بخاری کتاب الادب باب لایسبّ الرجُّلُ وَالدَیْہِ ،بخاری کتاب الادب باب ماینھی
    من السباب واللعن
    ۴۰؎ بخاری کتاب الجمعۃ باب السّوَاک یومَ الجمعۃ
    ۴۱؎ بخاری کتاب العتق باب فی العتقِ وفضلہٖ
    ۴۲؎
    ۴۳؎ بخاری کتاب المساقاۃ۔ باب فضل سقی المائ
    ۴۴؎ بخاری کتاب الانبیاء باب حدیث الغار
    ۴۵؎ بخاری کتاب الایمان باب اَحَبُّ الدِّیْنِ اِلٰی اللّٰہ اَدْوَمہٗ
    ۴۶؎ لسان العرب جلد۵ صفحہ۱۴۶۔ مطبوعہ بیروت۱۹۸۸ء
    ۴۷؎ السیرۃ الحلبیۃ جلد۱ صفحہ۱۴۶،۱۴۷ مطبوعہ مطبع ازھریہ مصر ۱۹۳۲ئ۔
    ۴۸؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ کتاب الدعوات باب الاستعاذۃ
    ۴۹؎ تفسیر کبیر فخر الدین رازی جلد ۲۹ صفحہ ۳۰۷ مطبوعہ طہران ۱۳۲۸ ھ
    ۵۰؎ ویویکانند: ویویکانند اوائلِ عمر میں برہمو سماج کا رکن بنا۔ وہ ہمالیہ میںکئی برس تک ریاضت کرنے کے بعد جدید دنیا میں پہلا ہندو مبلّغ بننے کے لئے روانہ ہؤا۔ ویویکانند نے طویل سفر کئے اورویدانت ہندومت کے فضائل پر لیکچر دئیے۔ اس نے ۱۸۹۳ء میں بمقام شکاگو ۔ ’’مذاہب کی پارلیمنٹ‘‘ میں ہندومت کی ترجمانی کرتے ہوئے ایک زبردست تأثر قائم کیا۔ خدا کی وحدانیت کا یہ ترجمان جہاں بھی گیا سامعین کے ذہن پر چھا گیا اور اپنے پیروکار بنائے۔(مذاہبِ عالَم کا انسا ئیکلوپیڈیا صفحہ۱۹۹۔ لیوس مور مطبوعہ لاہور ۲۰۰۲ئ)
    ۵۱؎ ٹیگور: اس کا پورا نام دیوندر ناتھ ٹیگور تھا۔ ٹیگور نے ۱۸۴۲ء میں برہمو سماج میں شامل ہو کر ہندوازم کی تجدید کی اور جماعت کی قیادت سنبھالی۔ انہوں نے اس تحریک کی خدمت کے لئے ایک مطبع اور رسالہ جاری کیا اس کی پرورش فرقہ وارانہ ماحول میں نہیں ہوئی اس لئے یہ تنگ نظر نہیں تھا۔(مذا ہبِ عالَم کا تقابلی مطالعہ مؤلفہ غلام رسول مہر صفحہ ۲۱۴۔ مطبوعہ لاہور جنوری ۱۹۸۳ئ)
    ۵۲؎ اٰل عمران:۱۰۵
    ۵۳؎ موضوعات ملاعلی قاری صفحہ۵۹ مطبع مجتبائی دھلی۱۳۴۶ھ
    ۵۴۔۵۵؎ لسان العرب جلد۱۳صفحہ۱۹۷۔بیروت۱۹۸۸ء
    ۵۶؎ اقرب الموارد جلد ۲ صفحہ ۱۰۶۸ مطبوعہ بیروت ۱۸۸۹ء
    ۵۷؎
    ۵۸؎ المائدۃ:۶۸ ۵۹؎ طٰہٰ:۱۵،۱۶
    ۶۰؎ السیرۃ الحلبیۃ۔الجزء الاول صفحہ۳۶۸۔مطبوعہ مصر۱۹۳۲ء
    ۶۱؎ المائدۃ:۶۸
    ۶۲؎ اسد الغابۃ جلد ۳ صفحہ ۲۲۱ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۶ ھ
    ۶۳؎ بخاری کتاب فضائل اصحاب النّبیِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم باب مناقب المھاجرین و فضلھم
    ۶۴؎ سیرت ابن ھشام جلد۲صفحہ ۱۳۴ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء
    ۶۵؎ بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ ذات الرقاع ،شرح مواھب اللّدنیہ جلد۲
    صفحہ۵۳۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت۱۹۹۶ء
    ۶۶؎ سیرت ابن ہشام جلد۲ صفحہ۸۴ مطبوعہ ۱۲۹۵ ھ مصر
    ۶۷؎ مسلم کتاب الجھاد و السیرباب غزوۃ حنین
    ۶۸؎ تاریخ طبری جلد دوم حصّہ اوّل اُردو صفحہ ۳۵۴ ناشر دار الاشاعت کراچی ۲۰۰۳ء
    ۶۹؎ تاریخ طبری الجزء الثالث صفحہ۲۴۷تا۲۴۹۔ دارالفکربیروت۱۹۸۷ء
    ۷۰؎ سیرت ابن ہشام جلد۲ صفحہ۱۲۸،۱۲۹ مطبوعہ مصر۱۲۹۵ھ
    ۷۱؎ سیرت ابن ہشام جلد۲صفحہ۱۸۹ مطبوعہ مصر۱۲۹۵ھ
    ۷۲؎ عبس:۱۲تا۱۷
    ۷۳؎ سیرت ابن ہشام جلد۱صفحہ۴۶۔ مطبوعہ مصر۱۲۹۵ھ
    ۷۴،۷۵؎ سیرت ابن ہشام۔ الجزء الاول صفحہ۱۳۵،۱۳۶۔مطبوعہ مصر۱۲۹۵ھ
    ۷۶؎ بخاری کتاب الزّکوٰۃ باب من احب تعجیل الصدقۃ من یومھا
    ۷۷؎ مستدرک حاکم جلد ۴ صفحہ ۱۳ مطبوعہ بیروت ۱۹۷۸ء
    ۷۸؎ بخاری کتاب المناقب باب مناقب قریش
    ۷۹۔۸۰؎ اسد الغابۃ جلد۳ صفحہ۳۱۳تا۳۱۷۔مطبوعہ ریاض۱۲۸۶ھ
    ۸۱؎
    ۸۲؎ القصص:۸۶ ۸۳؎ سبا:۲۹ ۸۴؎ التوبۃ:۱۰۰
    ۸۵؎ الحشر:۱۱ ۸۶؎ الحجر:۴۶تا۴۸ ۸۷؎ الفتح:۳۰
    ۸۸؎ سیرت ابن ہشام الجزء الاول صفحہ۲۸۴ مطبوعہ مصر۱۹۳۶ء
    ۸۹؎ بخاری کتاب المغازی باب قصّہ الاسود العنسی
    ۹۰؎ بخاری کتاب الجنائز باب من استعد الکفن فی زمن النبی صلی اللہ علیہ وسلم
    ۹۱؎ شمائل الترمذی باب ماجاء فی صفۃ مزاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    ۹۲؎ بخاری کتاب الاذان باب انتظار الناس۔ قیام الامام العالم
    ۹۳؎ سیرت ابن ہشام الجزء الثانی صفحہ۱۶ مطبوعہ مصر۱۲۹۵ھ
    ۹۴؎ تاریخ الخلفاء للسیوطی صفحہ۵۱۔مطبوعہ لاہور۱۸۹۲ء
    ۹۵؎ کنز العمال جلد ۱۰ صفحہ ۱۹۳ کتاب الغزوات باب غزوۃ احد الطبعۃ الاولیٰ ۱۹۹۸ء مطبع
    دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان
    ۹۶؎ سیرت ابن ہشام الجزء الثانی صفحہ ۱۶۹ مطبوعہ مصر۱۲۹۵ھ
    ۹۷؎ بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم باب قول النبی صلی اﷲ
    علیہ وسلم لَوْکُنت مُتَّخِذًا خَلِیْلًا
    ۹۸؎
    ۹۹،۱۰۰؎ بخاری کتاب التفسیر۔ تفسیر سورۃ الفتح باب قولہٖ لِیَغْفِرَلَکَ اللّٰہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ
    ۱۰۱؎ الکوثر:۲تا۴
    ۱۰۲؎ لسان العرب جلد۱۲ صفحہ۳۷۔مطبوعہ بیروت۱۹۸۸ء
    ۱۰۳؎
    ۱۰۴؎ بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اﷲ علیہ وسلم باب قول النبی صلی اﷲ
    علیہ وسلّم لوکنت متخذًا خلیلًا
    ۱۰۵؎ اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جلد۳ صفحہ۳۸۵،۳۸۶مطبوعہ بیروت۱۲۸۶ھ
    ۱۰۶؎ سیرت ابن ہشام جلد۲ صفحہ ۲۱۹مطبوعہ مصر۱۲۹۵ھ
    ۱۰۷؎ سیرت ابن ہشام جلد۲ صفحہ۲۱۵ مطبوعہ مصر۱۲۹۵ھ
    ۱۰۸؎ مسند احمد بن حنبل جلد۳ صفحہ۳۰۴ بیروت۱۹۲۸ء
    ۱۰۹؎ المائدۃ:۲۵
    ۱۱۰؎ بخاری کتاب المغازی باب قصۃ غزوۃ بدر
    ۱۱۱؎ اٰل عمران:۱۶۵
    ۱۱۲؎ خروج باب۳۱ آیت۱۷برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لنڈن ۱۸۸۷ء (مفہوماً)
    ۱۱۳؎ ق:۳۹
    ۱۱۴؎ وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَاْلِانْسَ اِلّالِیَعْبُدُوْنِ (الذّٰریٰت:۵۷)
    ۱۱۵؎ ھُوَالَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰئِفَ فِی الْاَرْضِ فَمَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہٗ(فاطر:۴۰)
    ۱۱۶؎ وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَالَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا(العنکبوت:۷۰)
    ۱۱۷؎ اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗ(المؤمن:۸)
    ۱۱۸؎ وَالسَّمَائِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ (البروج:۲)
    ۱۱۹؎ فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَائً بِمَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(السجدۃ:۱۸)
    ۱۲۰؎ وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی وَاَضَلُّ سَبِیْلا (بنی اسرائیل:۷۳)
    ۱۲۱؎ مَآاَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰی۔اِلَّا تَذْکِرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی(طٰہٰ:۳،۴)
    ۱۲۲؎ مَنْ عَمِلَ صَالِحًافَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَائَ فَعَلَیْھَا وَمَارَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ(حٰم السجدۃ:۴۷)
    ۱۲۳؎ اِثْمُھُمَآاَکْبَرُمِنْ نَّفْعِھِمَا(البقرۃ:۲۲۰)
    ۱۲۴؎ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ(العنکبوت:۴۶)
    ۱۲۵؎ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرۃ:۱۸۴)
    ۱۲۶؎ لسان العرب جلد۱۲ صفحہ۳۷ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۸ء
    ۱۲۷؎ بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب نزول عیْسٰی ابْنِ مریم
    ۱۲۸؎ بنی اسرائیل:۸۰
    ۱۲۹؎
    ۱۳۰؎ بخاری کتاب الجہاد باب السرعۃ والرکض فی الفزع
    ۱۳۱؎ السیرۃ الحلبیۃ جلد ۱ صفحہ ۳۹۲ مطبوعہ مصر ۱۹۳۲ء
    ۱۳۲؎ بخاری کتاب الصوم باب۔ اَجْوَدُمَاکان النَّبیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یَکُوْنَ فِی رمضان
    ۱۳۳؎ بخاری کتاب الادب باب الحیائ
    ۱۳۴؎ بخاری کتاب الادب باب رحمۃ الولدو تقبیلہٖ ومعانقتہٖ
    ۱۳۵؎ بخاری کتاب الجنائز باب قول النَّبی صلی اللہ علیہ وسلم یُعَذّبُ المیت ببعض بکاء اھلہٖ
    ۱۳۶؎ بخاری کتاب الحدود باب کراہیۃ الشفاعۃ فی الحد
    ۱۳۷؎ اسد الغابۃ جلد ۳ صفحہ ۱۰۹ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۶ء
    ۱۳۸؎ بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی اِلٰی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    اتحاد المسلمین





    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    اتحاد المسلمین
    (فرمودہ ۲۵؍مارچ ۱۹۵۲ء بمقام حیدر آباد سندھ)
    تشہّد ، تعوّذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’میری آج کی تقریر کا موضوع ’’اتحاد المسلمین‘‘ ہے جس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ اس کے ایک معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ مسلمانوں کا اتحاد کن بنیادوں پر قائم ہے اور اس کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ مسلمانوں کا اتحاد کن بنیادوں پر قائم کرنا چاہئے یعنی ایک صورت میں اس عنوان کا یہ مفہوم لیا جائے گا کہ تقریر کرنے والا تسلیم کرتا ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد پایا جاتا ہے اور وہ صرف اس اتحاد کی کیفیت بیان کرنا چاہتا ہے اور دوسرے معنوں کے لحاظ سے اس عنوان کا یہ مفہوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں میں اتحاد کی کمی ہے اور ہم نے اسے پیدا کرنا ہے لیکن اسے پیدا کرنے کے لئے وہ کون سے ذرائع ہیں جنہیں اختیار کیا جائے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ ہر شخص جس نے اسلامی دُنیا کا مطالعہ کیا ہے یا ہر گروہ جس نے مسلمانوں کے حالات کو سوچا ہے، دیکھا ہے اور جانچا ہے وہ یقینا اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ مسلمانوں میں کسی نہ کسی قسم کے اتحاد کی ضرورت ہے کیونکہ مسلمان موجودہ زمانہ میں اتحاد کی ان بنیادوں سے دور جا پڑے ہیں جو مستحکم عمارت کے لئے ضروری ہیں۔ آخر مسلمان کے گھر میں پیدا ہونے والا اور مسلمانوں سے رشتہ جوڑنے والا شخص اگر اسلام کے اصولوں سے تھوڑی بہت محبت رکھتا ہے تو وہ یہ ضرور دیکھتا ہے کہ اس کے آبائُ اجداد کون تھے، اسلام کہاں سے آیا، اسلام کن بنیادوں سے اُٹھا اور کس طرح دُنیا میں پھیلا۔ یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نہ سندھ میں پیدا ہوئے اور نہ سندھ میں تشریف لائے۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نہ ہندوستان میں پیدا ہوئے اور نہ ہندوستان تشریف لائے، اسی طرح رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے اَتْباع اور صحابہ بھی نہ سندھ میں پیدا ہوئے اور نہ یہاں تشریف لائے۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ بعض صحابہ کے متعلق پتہ لگتا ہے کہ وہ یہاں آئے اور یہیں فوت ہوئے لیکن یہ تاریخی بات نہیں بہرحال اگر ایک یا دو صحابہ کا یہاں آجانا ثابت بھی ہو تو یہ ایک استثنائی امر ہے۔ پھر یہ بات بھی ثابت نہیں کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں سندھ کے لوگ مکّہ یا مدینہ گئے ہوں، آپ کی مجلس میں بیٹھے ہوں اور اُنہوں نے آپ کے ارشادات سے استفادہ کیا ہو لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں اسلام آیا اور اکثریت نے اسے قبول کیا۔ یہ چیز بتاتی ہے کہ اسلام پر کبھی روشن زمانہ بھی آیا ہے، اس پر فتوحات کا زمانہ بھی آیا ہے، وہ عزت سے یہاں آیا اور پھر سندھ سے نکل کر یو پی، سی پی، بہار اور بنگال تک پھیل گیا اور پھر آگے چین تک نکل گیا۔ پھر شمالی سرحدوں سے نکل کر بخارا اور چینی ترکستان اور کاکیشیا سے نکل کر پولینڈ تک چلا گیا، پولینڈ میں آج تک مسلمانوں کے آثار پائے جاتے ہیں۔ غرض اسلام جو دُنیا کے گوشہ گوشہ میں پھیلا ہے اس کی عظمت کا ہر شخص کو علم ہے مگر آج اس عظمت کے آثارکہاں پائے جاتے ہیں؟ خدا خدا کر کے یہ ہؤا کہ بعض اسلامی علاقوں نے آزادی کا سانس لیا ہے لیکن یہ آزادی سیاسی طور پر ہے ورنہ جہاں تک عظمت کا سوال ہے ابھی تمام اسلامی علاقے اس سے بہت دُور ہیں۔ مثلاً بڑائی اور طاقت کے یہ معنے ہیں کہ اگر کوئی مُلک کسی علاقہ پر حملہ کرے تو اُس علاقہ کے رہنے والے یہ یقین اور وثوق رکھیں کہ کیا بلحاظ ظاہری سامان کے اور کیا بلحاظ اخلاقی طاقت کے وہ اس قابل ہیں کہ دُشمن کا مُنہ توڑ جواب دے سکیں اور نہ صرف دُشمن کو اپنی سرحدات سے باہر نکال دیں بلکہ خود اس کی سرحدوں میں جاکر اسے مزا چکھا سکیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ ابھی تک کوئی ایسا اسلامی مُلک نہیں جو دُشمن کی سرحدوں میں جاکر اُسے مزا چکھانا تو الگ رہا کسی دوسرے مُلک کی مدد کے بغیر اپنا دفاع بھی کرسکے۔ ہر اسلامی مُلک سہارے کے لئے امریکہ، برطانیہ یا کسی اور یورپین طاقت سے مدد مانگنے پر مجبور ہوتا ہے۔
    ایک بھی تو اسلامی مُلک ایسا نہیں جس نے جنگی سامان پیدا کیا ہو۔ جنگی سامان سے یہ مراد نہیں کہ اس نے رائفلیں مرمت کر لی ہوں یا رائفلیں بنا لی ہوں۔ رائفل کو اِس زمانہ میں کوئی حیثیت حاصل نہیں۔ جنگی سامان بڑی بڑی توپیں ہیں، اینٹی ایر کرافٹ گنیں ہیں، ڈسٹرائر ہیں، آبدوز کشتیاں ہیں، ہوائی جہاز ہیں، کروزر ہیں یہ جنگی سامان کسی اسلامی مُلک میں بھی تیار نہیں کیا جاتا بلکہ اگر جھگڑا ہؤا ہے تو اسی بات پر کہ امریکہ اور برطانیہ ہمیں جنگی سامان نہیں دیتے۔ اس کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ ہم جنگ کے لئے تیار نہیں۔ ہاں اگر تم ہماری مدد کرو تو ہم اپنی حفاظت کر سکتے ہیں۔ بہرحال اب تک جو کچھ ملا ہے اس پر ہم خدا تعالیٰ کا جتنا شُکر ادا کریں کم ہے ۔ خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ ۱؎ اگر تم میرا شُکر ادا کرو گے تو مَیں تم پر اور احسان کروں گا۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہمیں جو کچھ ملا ہے اس پر خدا تعالیٰ کا شُکر ادا کریں اور پھر یہ بھی ہمارا فرض ہے کہ ہم محسوس کریں کہ ہم نے ابھی اس مقصد کو حاصل نہیں کیا جس کے حصول کے بغیر ہم نہ تو جرأت اور دلیری کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور نہ کسی مُلک کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ مثلاً اس زمانہ میں روس کی طاقت ہے، امریکہ کی طاقت ہے، برطانیہ کی طاقت ہے، پھر ان سے اُتر کر فرانس، اٹلی اور جرمنی کی طاقتیں ہیں۔ نو آبادیات کے لحاظ سے آسٹریلیا اور کینیڈا کی طاقتیں ہیں۔ جاپان بھی سر اُٹھا رہا ہے مگر کیا روپیہ جنگی سامان، تجارت اور صنعت وغیرہ کے لحاظ سے کوئی اسلامی مُلک یا اسلامی ممالک کا جتّھہ ہے جسے ہم ان طاقتوں کے مقابلہ میں پیش کر سکیں۔ کیا کوئی ایسا اسلامی مُلک ہے جو یہ کہہ سکے کہ اگر ان مُمالک کے پاس اتنی توپیں ہیں تو میرے پاس بھی اتنی توپیں ہیں، اگر ان کے پاس گولہ بارود ہے تو میرے پاس بھی گولہ بارود ہے، اگر ان کے پاس جنگی سامان ہے تو میرے پاس بھی جنگی سامان ہے، اگر ان کے پاس کارخانے ہیں تو میرے پاس بھی کارخانے ہیں، اگر ان کی تجارت وسیع ہے تو میری تجارت بھی وسیع ہے۔ مسلمانوں کی طاقت ان مُمالک کے مقابلہ میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ پس یہ تو صاف بات ہے کہ اتحاد المسلمین کے موضوع پر تقریر کرنے کے لئے اس بات کے متعلق سوچنے کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد کیسے پیدا کیا جاسکتا ہے تاکہ وہ طاقتور بن جائیں اور عزت کی نگاہ سے دیکھے جائیں۔ اتحاد عربی لفظ ہے اور وحدت سے نکلا ہے جس کے معنے ہیں یکجہتی اختیار کر لینا۔ یہ لفظ بتاتا ہے کہ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ بہت سی چیزیں ہیں اور اُنہوں نے ارادہ کیا ہے کہ وہ اپنی انفرادیت کو کھو کر اجتماعیت اختیار کریں گی۔ عربی زبان کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ مطالب کو اس طرح بیان کرتی ہے کہ ایک لفظ کے اندر سارا فلسفہ بیان کر دیا جاتا ہے۔ اتحاد نے اُردو زبان میں آکر اپنے معنے کھو دئے ہیں لیکن عربی زبان میں جب یہ لفظ بولا جاتا ہے تو اس کے فلسفہ کو جاننے والا فوراً سمجھ جاتا ہے کہ بولنے والا کئی باتیں تسلیم کرتا ہے۔ وہ تسلیم کرتا ہے کہ اسلام میں کئی گروہ ہیں اور وہ الگ الگ ہیں۔ پھر وہ گروہ ارادہ اور عزم کے ساتھ بعض مقاصد کے لئے ایک ہو جاتے ہیں۔ پس جب ایک شخص یہ کہے گا کہ مسلمانوں میں اتحاد ہو تو وہ تسلیم کرے گا کہ مسلمانوں کے حکومتوں اور افراد کے لحاظ سے مختلف اجزاء ہیں اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اِن اجزاء اور افراد کو اکٹھا کریں گے۔ گویا اتحاد کے معنی ہیں تمدّن کی بنیاد رکھنا۔ یہی معنے مدنیت کے ہیں۔ مدنیت کے معنے ہیں ایک جگہ رہنا اور بعض قیود اور پابندیوں کو اپنے اُوپر عائد کر لینا۔ اگر ہم کہیں انسان مدنی الطبع ہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ کُتوں، سُؤروں اور بلیّوں میں یہ طاقت نہیں کہ وہ اپنے انفرادی حقوق کو چھوڑ کر قومی حقوق کو ترجیح دیں لیکن انسان کے اندر یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ وہ بعض اوقات قومی حقوق کی خاطر انفرادی حقوق کو نظر انداز کر دیتا ہے اور یہی چیز اتحاد ہوتی ہے۔ اتحاد ساری باتوں میں ناممکن ہے۔ اتحاد صرف بعض باتوں میں ہو سکتا ہے اور بعض باتوں میں نہیں ہو سکتا۔ نہ ہر بات میں اتحاد ہو سکتا ہے اور نہ ہر بات میں اتحاد ہونا مفید ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں مَیں یہ سوال پیش کرتا ہوں کہ کیا ہر جہت سے ایک ہو جانا مُمکن ہے؟ کیا تمام اختلافات مٹائے جاسکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب دینے کے بعد ہی ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہم دعویٰ کریں کہ ہم آپس میں اتحاد پیدا کر سکتے ہیں۔ پھر اگر ہم اتحاد پیدا کر سکتے ہیں تو کن اصول کے لحاظ سے پیدا کر سکتے ہیں اور کن اصول کے لحاظ سے نہیں کر سکتے۔
    سب سے پہلے ہمیں اختلافات کو دیکھنا پڑے گا جن کی وجہ سے انسان مختلف کہلاتا ہے اور اگر ہم کُلّی طور پر اتحاد کر لیں تو ہمیں یہ بات بھی دیکھنی پڑے گی کہ کن کن طاقتوں کو ہمیں مٹانا پڑے گا اور ان طاقتوں کو مٹا کر ہمیں کیا طاقت حاصل ہو گی۔
    کسی قوم کے قدرتی موٹے موٹے اختلاف یہ ہیں ۔ اوّل ۔ مرد و عورت کا اختلاف۔ یہ اختلاف ہر جگہ ہوتا ہے۔ مرد کا کام اور ہے اور عورت کا کام اور ہے۔ مرد کی خصوصیات اور ہیں اور عورت کی خصوصیات اور ہیں۔ عورت کے ذمہ بچہ جننا لگایا گیا ہے اور مرد کے سپرد ضروریات زندگی کو مہیّا کرنا ہے۔ عورت کے ذمہ بچہ پالنے کا کام ہے اور مرد کے ذمہ باہر کی نگرانی ہے۔ غرض عورت اور مرد کے قویٰ اور طاقتیں مختلف ہیں اور ان میں اتحاد نہیں ہو سکتا اور اگر یہ بات ممکن بھی ہوتی کہ اس اختلاف کو مٹا دیا جاتا تو انسان اسے کبھی پسند نہ کرتا۔ اس اختلاف کو مٹانا خود کشی کے مترادف ہے۔ مرد اورعورت کے درمیان جو اختلاف ہے وہ بہرحال قائم رہے گا۔ خدا تعالیٰ قرآن کریم میںفرماتا ہے کہ ہم نے تم پر یہ احسان کیا ہے کہ ہم نے مرد اور عورت کو پیدا کیا اور ان دونوں سے ہم نے نسل چلائی تاکہ انسان نیکی اور تقویٰ کا مظاہرہ کرے اور پھر ہم نے ان کے اندر اپنی صفات پیدا کی ہیں۔ پھر قدوقامت کا فرق ہے۔ بعض مُلکوں میں لوگ بڑے قدکے ہوتے ہیں اور بعض مُلکوں میں چھوٹے قد و قامت کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ پھر جسامت کا فرق ہے۔ بعض لوگ دُبلے ہوتے ہیں اور بعض موٹے ہوتے ہیں۔ پھر رنگ و روغن میں فرق ہے۔ بعض لوگ بھُورے رنگ کے ہوتے ہیں، بعض سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔ بعض زرد رنگ کے ہوتے ہیں اور بعض سُرخ رنگ کے ہوتے ہیں۔ حبشیوں میں چلے جاؤ تو وہاں کالے رنگ کے لوگ ملیں گے۔ ہندوستان میں رہنے والے گندمی رنگ کے ہوتے ہیں۔ چین میں زرد رنگ کے لوگ ہوتے ہیں اور عرب میں شُتر مرغ کے انڈے والے رنگ کے لوگ پائے جاتے ہیں اور یورپ میں سفید رنگ والے لوگ پائے جاتے ہیں۔ پھر نقش و نگار میں بھی فرق ہے۔ کسی کی ٹھوڑی لٹکی ہوئی ہوتی ہے، کسی کی اُبھری ہوئی ہوتی ہے، کسی کی ایک ذقن ہوتی ہے اور کسی کی دو ذقن ہوتی ہیں۔ پھر کوئی بڑا مضبوط جوان ہوتا ہے اور کوئی دُبلا پتلا ہوتا ہے۔ پھر طاقت میں بھی فرق ہوتا ہے۔ کوئی زیادہ طاقتور ہوتا ہے اور کوئی کمزور ہوتا ہے۔ پھر خوبصورتی اور بد صورتی میں بھی فرق ہوتا ہے۔ عقل اور دانش میں بھی فرق ہوتا ہے۔ کسی میں عقل و دانش زیادہ ہوتی ہے اور کسی میں کم۔ کسی کا حافظہ زیادہ اچھا ہوتا ہے اور کسی کا کم۔ پھر حواس خمسہ کا فرق ہے۔ ظاہری نظر کے لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر عینک لگاتے ہیں تو کسی کو ایک نمبر کی عینک لگاتے ہیں اور کسی کو دو نمبر کی عینک لگاتے ہیں اور کسی کو دور نظر کی عینک لگاتے ہیں اور کسی کو قریب سے دیکھنے کی عینک لگاتے ہیں۔ پھر ذائقہ میں بھی فرق ہوتا ہے۔ بعض لوگ باریک سے باریک ذائقہ کا بھی پتہ لگا لیتے ہیں۔ انگریزوں میں یہ چیز کثرت سے پائی جاتی ہے۔ وہاں ذائقہ کی مشق کی جاتی ہے۔ شراب کا وہاں عام رواج ہے اور وہ ایسے شخص کو جو یہ بتا دے کہ یہ شراب کس سنۂ کے انگوروں سے بنی ہے پانچ پانچ ہزار روپے انعام دے دیتے ہیں۔ اسلام میں چونکہ اعتدال کا حُکم دیا گیا ہے اس لئے مسلمانوں میں اتنا غلو نہیں ہوتا کہ وہ کھانے پینے کی چیزوں کے لئے پانچ پانچ ہزار روپے کے انعام دے دیں لیکن یورپ میں کھانے پینے کی چیزوں کے لئے ہزاروں روپے کے انعام دے دیئے جاتے ہیں۔ اسی طرح ناک کے ذریعہ مختلف خوشبوؤں میں امتیاز کرنے کے لحاظ سے بھی فرق ہے۔ پھر آواز میں فرق ہے۔ کوئی شخص گلے میں بولتا ہے تو کوئی ناک میں بولتا ہے۔ کوئی شخص اتنی موٹی آواز میں بولتا ہے کہ کسی جگہ لوچ نظر نہیں آتا۔ تو کوئی اتنی باریک آواز میں بولتا ہے کہ اس میں ترنم اور سوز پایا جاتا ہے۔ پھر بوجھ اُٹھانے اور جانچنے کی طاقت میں فرق ہے۔ کوئی من بوجھ اُٹھا سکتا ہے تو کوئی دو من بوجھ اُٹھا سکتا ہے۔ پھر وزن اور فاصلہ کا اندازہ لگانے میں فرق ہے۔ ایک سپاہی آنکھ سے دیکھ کر بتا سکتا ہے کہ یہ فاصلہ ایک فٹ کا ہے یا دو فٹ کا۔ پیمانے تو اب نکلے ہیں۔ پہلے افسروں کو فاصلہ جانچنے کی مشق کرائی جاتی تھی اور صرف آنکھ کے اندازے سے فوج کام کرتی تھی۔ افسر آنکھ سے اندازہ لگا کر بتا تا تھا کہ اب کتنے فاصلہ پر گولہ پھینکنے کی ضرورت ہے اور توپیں کتنے فاصلہ سے گولہ پھینکتی تھیں۔ پہلے زمانہ میں بڑی بڑی جنگیں محض آنکھ کے ذریعہ فاصلہ کا اندازہ لگا لینے کے تجربہ سے فتح ہوئی ہیں لیکن بعض لوگوں کو اس کا کچھ پتہ بھی نہیں ہوتا کہ آنکھ کے ذریعہ کس طرح اندازہ لگایا جاتا ہے۔ یونہی اُوٹ پٹانگ بتا دیتے ہیں۔
    ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک راجہ سے کوئی گناہ ہو گیا۔ پنڈتوں نے کہا کہ یہ گناہ مٹ نہیں سکتا۔ ہاں فلاں قسم کے برہمن کو اتنا دان دیں تو اس کا اثر دور ہو سکتا ہے۔ راجہ بڑا پریشان تھا لیکن جس قسم کے برہمن کی تلاش تھی اس قسم کا برہمن اس علاقہ میں نہیں تھا۔ بادشاہ نے وزیروں کو حُکم دیا کہ وہ اس قسم کے برہمن کو تلاش کریں چنانچہ ایک وزیر نے کہا اگر آپ اجازت دیں تو میں اس قسم کے برہمن کی تلاش کروں۔ بادشاہ نے اسے اجازت دے دی چنانچہ وہ سڑک پر کھڑا ہو گیا ، تا آنے جانے والوں کو جانچ کر پتہ لگا سکے کہ ان میں سے کون برہمن ہے۔ جب رعایا کو پتہ لگا کہ راجہ کو ایک برہمن کی تلاش ہے لیکن وہ مل نہیں رہا تو اُنہوں نے جھوٹ بولنا شروع کر دیا اور اپنے آپ کو برہمن ظاہر کرنا شروع کر دیا۔ کوئی شودر ہوتا لیکن وہ اپنے آپ کو برہمن ظاہر کرتا۔ کوئی کھتری ہوتا، ویش ہوتا یا کسی اور گوت کا ہوتا تو وہ بھی اپنے آپ کو برہمن ظاہر کرتا تاکہ کسی طرح اس کو دان مل سکے۔ وہ وزیر سڑک پر کھڑے ہو کر آنے جانے والوں کی جانچ کر رہا تھا کہ دو آدمی گزرے۔ اس نے خیال کیا کہ شاید ان میں سے ایک برہمن ہو۔ چنانچہ اس نے انہیں بُلا کر دریافت کیا کہ آیا ان میں سے کوئی برہمن ہے؟ ان میں سے ایک شخص جو بنیا تھا کہنے لگا کہ مَیں برہمن ہوں اور دوسرے شخص نے بھی جو درحقیقت برہمن تھا کہا مَیں برہمن ہوں۔ وزیر نے حُکم دیا کہ ان دونوں کو میرے پاس لایا جائے اور ان سے بیان لئے جائیں۔ اس نے بنیئے سے دریافت کیا کہ درخت کتنا اُونچا ہوتا ہے۔ اس نے کہا درخت ۴۴،۴۵ فٹ اُونچا ہوتا ہے۔ پھر اس نے برہمن سے مخاطب ہو کر کہا تم بتاؤ درخت کتنا اُونچا ہوتا ہے۔ اس نے کہا درخت چار پانچ فٹ اُونچا ہوتا ہے۔ اس پر وزیر نے کہا یہی برہمن ہے۔ چونکہ یہ لوگ مفت خور ہوتے ہیں اور بے کار رہتے ہیں اس لئے یہ لوگ خود غور کرتے نہیں محض سُنی سُنائی بات پر یقین کر لیتے ہیں۔ بہرحال وزیر نے اس شخص کی بیوقوفی سے اسے پہچان لیا اور کہا یہی شخص برہمن ہے اسے دان دے دو۔
    پس بعض لوگ غلط اندازہ لگانے والے ہوتے ہیں اور بعض لوگ اندازہ لگانے میں بڑے ماہر ہوتے ہیں۔ پھر بعض لوگ کان کے ذریعہ فاصلہ کا اندازہ لگالیتے ہیں۔ امریکہ میں ریڈانڈین لوگ پائے جاتے ہیں ۔ وہ زمین پر کان رکھ کر اس کے اندر سے آواز سُن کر یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ دُشمن اتنے میل کے فاصلہ پر ہے اور وہ فلاں جہت سے آرہا ہے۔ کوئی گھوڑا آرہا ہوتا ہے تو وہ زمین پر کان رکھ کر معلوم کر لیتے ہیں کہ کوئی سوار آرہا ہے۔ جنگوں میں وہ اسی طرح اپنی حفاظت کر لیتے ہیں۔ جب کوئی خطرہ ہو وہ کان زمین پر رکھتے ہیں اور بتا دیتے ہیں کہ اتنے فاصلہ پر سوار آرہے ہیں اورپھر وہ فلاں جہت سے آرہے ہیں، پھر تیل کے چشمے ہیں۔ کئی لوگ ایسے ہیں جو ناک سے مٹی سونگھ کر یہ بتا دیتے ہیں کہ اس جگہ تیل پایا جاتا ہے۔ پاکستان نے بھی اس قسم کا ایک آدمی رکھا تھا جو ناک سے سونگھ کر بتا دیتا تھا کہ اس جگہ تیل پایا جاتا ہے۔ اس فن کے ماہر لوگوں نے شکایت کی تھی کہ اس میں ہماری ہتک ہے لیکن حکومت نے یہی کہا تھا کہ اسے تجربہ ہے۔ میرے پاس کوئٹہ میں کچھ ماہرین آئے اور اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے ایسا شخص جس نے اس فن کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی ملازم رکھ کر ہماری ہتک کی ہے تو مَیں نے انہیں یہی کہا تھا کہ تم لوگ تھیوری جانتے ہو لیکن وہ فن جانتا ہے۔ حکومت کیا کرے۔ حکومت کے پاس ایکسپرٹ جاتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص اس فن کا ماہر ہے اس لئے وہ اس کو ملازم رکھنے پر مجبور ہے۔ مَیں نے کہا کہ آپ لوگوں کا یہ کہنا کہ اس میں ہماری ہتک ہے۔ حماقت ہے۔ کیونکہ دُنیا میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کے اندازے غیر معمولی طور پر صحیح ہوتے ہیں۔
    پھر جذبات کا فرق ہے۔ ایک شخص میں غصّہ پایا جاتا ہے تو دوسرے میں محبت کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے۔ کسی میں وقار کم ہوتا ہے تو کسی میں زیادہ۔ کسی میں قربانی کا مادہ زیادہ ہوتا ہے تو کسی میں کم۔ کسی میں ایثار کا جذبہ زیادہ پایا جاتا ہے تو کسی میں کم۔ کسی میں رحم کا جذبہ زیادہ پایا جاتا ہے تو کسی میں کم۔ کسی میں حقانیت پائی جاتی ہے ،کسی میں دیانت پائی جاتی ہے، ایک شخص کو ہزاروں روپے دئے جاتے ہیں اور وہ پورے کے پورے واپس کر دیتا ہے لیکن دوسرے کو دو پیسے بھی دئے جائیں تو وہ اُن میں خیانت کر جاتا ہے۔ کسی کو آدھی روٹی دے دی جائے تو وہ گزارہ کر لیتا ہے، کسی کو چار روٹیاں دی جاتی ہیں لیکن وہ پھر بھی کھانا کم ملنے کی شکایت کرتا ہے۔ کوئی دال اور معمولی سالن پر گزارہ کر لیتا ہے تو کوئی زردہ اور پلاؤ کی خواہش کرتا ہے۔ پھر میلان کا فرق ہے۔ اپنے بچوں کو پوچھ کر دیکھ لو۔ کوئی وکالت کا پیشہ پسند کرتا ہے تو کوئی سپاہ گری کو پسند کرتا ہے۔ کوئی کہتا ہے میں کلرکی کروں گا تو کوئی کسی اور کام کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اگر زور دے کر انہیں کوئی خاص پیشہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے تو بغاوت ہو جاتی ہے اور کئی بچے اسی لئے بھاگ جاتے ہیں کہ وہ کسی پیشہ کی طرف مائل ہوتے ہیں لیکن ماں باپ انہیں کسی اور پیشے کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ میرے اپنے عزیزوں سے ایک بڑے افسر ہیں۔ وہ ڈاکٹری کی طرف مائل تھے لیکن ان کے ماں باپ انہیں انجینئر بنانا چاہتے تھے۔ اب گو وہ بڑے افسر ہیں لیکن اس وقت وہ صرف اس اختلاف کی وجہ سے گھر سے بھاگ گئے تھے وہ یہی کہتے تھے کہ مَیں ڈاکٹر بنوں گا۔ یہ مثالیں مَیں نے ایسی چیزوں کی دی ہیں جو قدرتی اور طبعی ہوتی ہیں لیکن بعض چیزیں اکتسابی بھی ہیں مثلاً علم کی کمی اور زیادتی ہے۔ کوئی بڑا عالم ہوتا ہے تو کوئی معمولی لکھا پڑھا ہوتا ہے۔ کوئی عربی میں بولتا ہے تو کوئی ترکی میں کلام کرتا ہے ، کوئی فارسی میں بولتا ہے تو کوئی پشتومیں بولتا ہے۔ کوئی ہندی میں بولتا ہے تو کوئی چینی میں بولتا ہے۔ پھر جائے رہائش کا فرق ہے۔ کوئی ٹھنڈے مُلک کا رہنے والا ہوتا ہے ، کوئی گرم مُلک کا رہنے والا ہوتا ہے اور کوئی درمیانی آب و ہوا والے مُلک کا رہنے والا ہوتا ہے۔ کوئی ایسے مُلک کا رہنے والا ہوتا ہے جہاں ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں کوئی لُو والے مُلک کا رہنے والا ہوتا ہے۔ پھر سامان معیشت کا فرق ہے، خوراک کا فرق ہے۔ کوئی چاول کھاتا ہے، کوئی گندم کھاتا ہے اور کوئی باجرا کھاتا ہے۔ یہاں ہمارے مُلک میں ہی اتنا اختلاف پایا جاتا ہے کہ حیرت آتی ہے حالانکہ مُلک ایک ہے۔ مَیں جب شروع شروع میں یہاں آیا تو مجھے زمینداروں نے بتایا کہ ہم نے مزارعین کے لئے باجرہ کی بجائے گندم رکھی تو وہ ناراض ہو گئے لیکن ہمارے ہاں انہیں باجرا دو تو وہ ناراض ہوتے ہیں۔ بنگال کے رہنے والے چاول کھاتے ہیں۔ انہیں روٹی دو تو وہ بیمار ہو جاتے ہیں۔ ربوہ میںسندھ کے بعض طالب علم بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان میں سے ایک طالب علم کو جوگریجویٹ ہے پیچش ہو گئی۔ مَیں نے کہا تمہیں پیچش کیوں ہوئی ہے؟ اس نے بتایا کہ ہمارے علاقہ کی خوراک اور اس علاقہ کی خوراک میں فرق ہے۔ اس لئے مجھے پیچش ہو گئی ہے۔ پھر لباس کا اختلاف ہے۔ ہمارے ہاں تو کھچڑی سی پکی ہوئی ہے لیکن دوسرے مُلکوں میں جاؤ تو اُن کا ایک لباس ہوتا ہے۔ ایک انگریز ایک امریکن کو دیکھ کر کہہ سکتا ہے کہ وہ امریکن ہے اسی طرح ایک امریکن ایک انگریز کو دیکھ کر کہہ سکتا ہے کہ وہ انگریز ہے۔ چین کا لباس اور ہے، عرب کا لباس اور ہے۔ پھر پیشوں کا اختلاف ہے۔ کوئی ڈاکٹر ہے ، کوئی وکیل ہے، کوئی انجینئر ہے، کوئی لوہار ہے، کوئی دھوبی ہے، کوئی ترکھان ہے ہر ایک شخص اپنے اپنے مذاق کے مطابق کوئی نہ کوئی پیشہ اختیار کر لیتا ہے۔ پھر اعمال کا فرق ہے کوئی محنت کرتا ہے اور کوئی سُست ہوتا ہے، کوئی ہاتھ سے کام کرنا پسند کرتا ہے تو کوئی دماغ سے کام کرنا پسند کرتا ہے۔ پھر عقائد کا اختلاف ہے۔ مسلمانوں کو ہی دیکھ لو باوجود اس کے کہ وہ سب ایک خدا اور ایک رسول کو مانتے ہیں لیکن پھر بھی ان میں کئی فرقے پائے جاتے ہیں اور ان کے عقائد میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ پھر سیاست کا اختلاف ہے۔ پاکستان میں بھی ہم اکثر سُنتے ہیں کہ حزب مخالف کے بغیر کوئی حکومت مُلک کے لئے مفید نہیں ہو سکتی۔ بہرحال سیاست میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہ کتنے اختلاف ہیں جو پائے جاتے ہیں انہیں دیکھ کر ہم سمجھ سکتے ہیں کہ بعض اختلاف ایسے ہیں جن کا مٹانا ناممکن ہے۔ ان میں اتحاد ہو ہی نہیں سکتا۔ مثلاً گورے اور کالے کے فرق کو کون مٹا سکتا ہے، پھر زرد اور بھُورے کو کون مٹا سکتا ہے، لمبے اور چھوٹے قد کو کون مٹا سکتا ہے، موٹے اور دُبلے کو کون مٹا سکتا ہے اِسی طرح اور اختلافات ہیں اگر انہیں مٹانے کی کوشش کی جائے تو بغاوت ہو جائے۔ یہ سب اختلافات تقدیر الٰہی کے مطابق ہیں جو خدا تعالیٰ نے نازل کر دی ہے ہم انہیں مٹا نہیں سکتے۔ پھر بعض اختلافات انسانی زندگی کا ایک ضروری حصّہ ہیں اگر انہیں مٹا دیا جائے تو زندگی بے کیف بن جاتی ہے۔ مثلاً عورت اور مرد کا اختلاف ہے یہ ایسا اختلاف ہے کہ اسے مٹایا نہیں جاسکتا۔ فرض کرو خدا تعالیٰ مرد کو طاقت دے دے اور کہے تم جو چاہو کرو تو وہ سکون اور آرام نہیں رہے گا جس سے دُنیا چل رہی ہے۔ اگر تم اختلاف کو دُور کر دو تو انسانی زندگی بے کیف اور بے لذت ہو جائے اور دُنیا میں رہنا مُشکل ہو جائے۔ کسی شاعر نے کہا ہے ؎
    ہر گُلے را رنگ و بوئے دیگر است
    یعنی ہر رنگ اور ہر بومفید ہے اور اس کے بغیر کوئی لذت اور راحت نہیں۔
    پھر بعض اختلافات ایسے ہیں جو نہایت ضروری ہیں۔ اگر انہیں مٹا دیا جائے تو دُنیا پر تباہی آجائے مثلاً ایک بچہ چوری کرتا ہے۔ باپ کہتا ہے تم نے چوری کیوں کی؟ اب اگر کوئی کہے کہ تم اسے کچھ نہ کہو اور آپس میں اتحاد کر لو تو دُنیا پر تباہی آجائے یا بچہ نماز نہیں پڑھتا۔ باپ کہتا ہے تم نماز پڑھو۔ یہ بھی ایک اختلاف ہے جو نہایت ضروری ہے۔ اب اگر تم کہو کہ آپس میں اتحاد ضروری ہے اس لئے تم اسے نماز کے لئے نہ کہو تو دُنیا پر تباہی آجائے۔ اسی طرح شرارت سے منع کرنا، جھوٹ سے منع کرنا، غرض ہزاروں اختلافات ایسے ہیں جن کا مٹانا دُنیا کے لئے تباہی کا موجب ہے اور ان کا اظہار کرنا ضروری ہے۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر تم کوئی بُری چیز دیکھو اور تم میں اس کو دُور کرنے کی طاقت ہو تو تم اسے ہاتھ سے دُور کر دو اور اگر تمہیں ہاتھ سے دُور کرنے کی طاقت حاصل نہیں لیکن تم زبان سے اُسے بُرا کہہ سکتے ہو تو اُسے زبان سے بُرا کہو۔ پھر فرمایا اگر تم میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ تم کوئی بُری چیز دیکھ کر اُسے زبان سے بُرا کہو مثلاً دوسرا حاکم ہے اور یہ غریب آدمی ہے اگر یہ زبان سے اُسے کچھ کہے گا تو وہ شاید اسے کچھ تکلیف دے اس لئے فرمایا کہ تم کم از کم دل میں بُرا مناؤ۔ ۲؎ اب دیکھ لو خود رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اختلاف کو جائز قرار دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اگر تم میں طاقت ہے اور تمہیں اختیار حاصل ہے تو تم جو بُری چیز دیکھو اُسے ہاتھ سے دُور کر دو اور اگر تم میں طاقت نہیں یا تمہیں اختیار حاصل نہیں لیکن تم زبان سے اُسے بُرا کہہ سکتے ہو تو اسے زبان سے بُرا کہو اور اگر تم زبان سے بھی بُرا نہیں کہہ سکتے تو دل میں اُسے بُرا مناؤ۔
    ایک بزرگ کا قصّہ مشہور ہے کہ وہ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو سارنگی بجا رہا تھا۔ آپ نے اس کی سارنگی لی اور اُسے توڑ دیا۔ وہ بادشاہ کا درباری تھا۔ اس نے بادشاہ کے پاس شکایت کی کہ فلاں بزرگ نے میری سارنگی توڑ دی ہے اور اس طرح اُنہوں نے میری ہتک کی ہے۔ بادشاہ نے اس بزرگ کو دربار میں بُلایا۔ جب وہ دربار میں آئے تو بادشاہ خود سارنگی بجانے لگا وہ بزرگ بیٹھ گئے اور بادشاہ کی طرف دیکھتے رہے اور وہ سارنگی بجاتا رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد بادشاہ اس بزرگ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کیا تم فلاں دن فلاں جگہ سے گزرے تھے؟ اُنہوں نے کہا ہاں۔ پھر کہا کیا تم نے فلاں درباری کی سارنگی توڑ دی تھی؟ اُنہوں نے کہا ہاں۔ بادشاہ نے کہا تم نے وہ سارنگی کیوں توڑی تھی؟ اس بزرگ نے کہا۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر تو کوئی بُری بات دیکھو اور تم میں طاقت ہو اور تمہیں اختیار حاصل ہو تو اسے ہاتھ سے دُور کر دو چنانچہ مَیں نے اسے سارنگی بجاتے دیکھا تو مجھے یہ بات بُری لگی مَیں سمجھتا تھا کہ اگر مَیں سارنگی توڑ دوں تو یہ مجھے کچھ نہیں کہے گا اس لئے مَیں نے سارنگی توڑ دی۔ بادشاہ نے کہا پھر تم نے میری سارنگی کیوں نہیں توڑی؟ اس بزرگ نے کہا رسول کریم صلی اﷲ علیہہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر تمہیں اختیار حاصل نہ ہو تو تم زبان سے منع کرو۔ بادشاہ نے کہا آپ نے تو زبان سے بھی بُرا نہیں منایا۔ اُنہوں نے کہا رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر تم زبان سے بھی بُرا نہ منا سکو تو دل میں ہی بُرا مانو اور خدا کی قسم جب سے مَیں دربار میں آیا ہوں مَیں اسے بُرا منا رہا ہوں۔۳؎ پس یہ بھی ایک اختلاف ہے جو قائم رہا۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم حُکم دیتے ہیں کہ میرا اختلاف قائم رہنا چاہئے۔ قرآن کریم بھی اختلاف کو تسلیم کرتا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے ۴؎ فرمایا! دیکھو خدا تعالیٰ کس کس رنگ میں اپنے جلوہ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ اب کیا یہ ایک چیز کا نام ہیں۔ آسمانوں کو دیکھ لو وہاں تمہیں کچھ سیارے نظر آئیں گے، کچھ ستارے ہوں گے۔ پھر ان میں کوئی اپنے محور کے گرد گھوم رہا ہو گا اور بعض ایک دوسرے کے ارد گرد گھوم رہے ہوں گے۔ پھر زمین کی طرف دیکھو وہاں باغ، درخت، بُوٹیاں اور جانور نظر آتے ہیں ایک ہی پانی ہو گا لیکن کوئی پھل کھٹا ہوتا ہے کوئی میٹھا ہوتا ہے اور کوئی کڑوا ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک اختلاف ہے اور یہ اختلاف ہر جگہ نظر آرہا ہے۔ پھر بولیاں دیکھ لو بھانت بھانت کی بولی بولی جاتی ہے۔ پھر رنگوں کا اختلاف ہے کوئی زرد نظر آتا ہے تو کوئی سُرخ نظر آتا ہے ، کوئی کالا نظر آتا ہے تو کوئی سفید نظر آتا ہے۔ فرمایا یہ سب نشانات ہیں اگر تم ان پر غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہو گا کہ اس کا جلوہ ذرّہ ذرّہ میں ظاہر ہو رہا ہے۔ پھر کئی اختلاف بہت باریک ہوتے ہیں۔ انہیں پہچانا نہیں جاتا۔ دو بھائی ہوتے ہیں آپ کہتے ہیں کہ ایک بھائی کا نام غلام قادر ہے اور دوسرے کا نام غلام رسول ہے لیکن اگر آپ کا امتحان لیا جائے کہ بتاؤ ان دونوں میں کیا فرق ہے تو تم اسے بیان نہیں کر سکو گے۔ ان دونوں کے درمیان جو فرق ہے اسے آنکھ محسوس کرتی ہے زبان سے اسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔
    پھر آواز کا فرق ہے۔ کان آواز سُن کر پہچان لیتا ہے کہ یہ فلاں کی آواز ہے۔ ہال میں کتنے آدمی بیٹھے ہیں۔ اب ہال کے باہر کوئی آدمی کھڑا ہو اور ہال کے اندر کوئی دو آدمی آپس میں بات کریں تو وہ کہہ دے گا کہ یہ آواز دوسری آواز سے مختلف ہے۔ غرض بعض اختلاف ایسے ہیں جنہیں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ کان ، ناک اور آنکھ اس اختلاف کو ظاہر کر سکتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قد و قامت ، رنگوں ، بوٹیوں ، درختوں ، پہاڑوں اور دریاؤں وغیرہ میں جو فرق ہے یہ اﷲ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا نشان ہے۔ رنگوں کو لے لو ایک ایک رنگ کئی قسم کا ہوتا ہے۔ عورتیں بازار میں جاتی ہیں اور بزّاز انہیں سُرخ رنگ کا کوئی تھان دکھاتا ہے تو وہ کہتی ہیں یہ سُرخ نہیں ذرا گہرا سُرخ رنگ والا کپڑا دو۔ پھر وہ ایک اور کپڑا جس کا رنگ سُرخ ہوتا ہے دکھاتا ہے تو وہ کہتی ہیں یہ نہیں اس سے ذرا ہلکے رنگ کا کپڑا ہمیں چاہئے۔ گویا ایک ایک رنگ سے آگے بیسیوں قسمیں نکل آتی ہیں۔ پھر سبز رنگ ہے، زرد رنگ ہے، ان سب کی بیسیوں اقسام ہیں۔ غرض دُنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں جو ممتاز نہیں۔ فرمایا یہ اختلاف اور امتیاز نشان ہے جاننے اور سمجھنے والوں کے لئے۔ ایک شخص جنگل میں جاتا ہے تو کہتا ہے درخت ہیں اور کیا ہے لیکن ایک فاریسٹ آفیسر جنگل میں جاتا ہے تو وہ کہے گا وہاں اتنی قسم کی بوٹیاں ہیں، فلاں میں کیمیکل اتنا ہے اور فلاں میں اتنا ہے۔ پھر اتنی قسم کے درخت ہیں جو فلاں فلاں کام آسکتے ہیں لیکن ایک عام آدمی جنگل میں سے گزرے تو وہ سوائے اس کے کہ بتائے یہ جنگل ہے اور کچھ نہیں بتا سکے گا۔ ایک ماہی گیر دریا پر جائے تو وہ کہے گا اس دریا میں اتنی مچھلی ہے اور فلاں فلاں قسم کی مچھلی ہے وہ یہ بھی بتائے گا کہ فلاں فلاں قسم کی مچھلی میں کانٹا ہے، فلاں مچھلی کے پکوڑے اچھے تَلے جاسکتے ہیں اور فلاں قسم کی مچھلی پکانے میں مزیدار ہوتی ہے۔ ہمارے نزدیک تو وہ محض ایک دریا ہوتا ہے لیکن ایک ماہی گیر اسی دریا کے متعلق بیسیوں باتیں بتا دے گا۔ غرض ہر فن کا واقف جب کوئی چیز دیکھے گا تو وہ اپنے فن کے مطابق اس میں اتنے اختلاف بیان کرے گا کہ دوسرا آدمی ایسا نہیں کر سکتا۔
    اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے یہ اختلاف ایک جاہل شخص کو نظر نہیں آتے لیکن عالموں کو لاؤ ، ماہرین کو لاؤ، رنگوں کے ماہرین کو لاؤ، ڈاکٹروں کو لاؤ، فارسٹ افسروں کو لاؤ، نباتات کے ماہرین کو لاؤ پھر میری مخلوق کو ان کے سامنے پیش کرو تو وہ اس کی بیسیوں قسمیں بتائیں گے اور تمہیں ہر چیز میں اختلاف ماننا پڑے گا اور یہ اس خدا نے پیدا کیا ہے جس نے متنوّع اور رنگ دار زندگی کو پیدا کیا ہے۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے قدرتی اور ضروری اختلافات کی مثالیں بیان کر دی ہیں اگر ان اختلافات کو مٹایا جائے تو زندگی بے کیف ہو جاتی ہے۔ پھر مَیں نے بتایا ہے کہ بعض اختلافات ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو مٹانا تباہی کا موجب ہوتا ہے ۔ قرآن کریم میں آتا ہے: ۵؎ بعض جگہ اختلاف ایسے لوگوں کا ہوتا ہے جو جھوٹ کی طرف لے جاتے ہیں یا سچائی کی طرف لے جاتے ہیں خدا تعالیٰ ان لوگوں کو کامیابی کا رستہ دکھاتا ہے جو اختلاف کرتے ہیں گویا یہ بات اتنی اچھی ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا کرنے والے کو کامیابی بخشتا ہے۔ اس لئے نہیں کہ اس نے اتحاد کر لیا بلکہ اس لئے کہ اس نے اختلاف کیا۔ پھر فرمایا اس نے حق کی خاطر اختلاف کیا۔ پھر اپنی مرضی سے اختلاف نہیں خدا کے حُکم کے مطابق اس نے اختلاف کیا ہے۔ گویا اﷲ تعالیٰ نے اختلاف کے باوجود ایک شخص کو عزت اور رُتبہ دیا ہے لیکن دوسرا شخص ویسا ہی کام کر رہا ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے عذاب میں مُبتلا کر دیتا ہے اس لئے کہ وہ حق کی خاطر اختلاف نہیں کر رہا ہوتا بلکہ باطل کی خاطر اختلاف کر رہا ہوتا ہے۔ کفّار کی طرف سے بھی یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہمیں آپس میں متحد رہنا چاہئے لیکن قرآن کریم نے فرمایا ہے یہ اتحاد اچھا نہیں۔ کفّار اعتراض کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے آکر اختلاف پیدا کر دیا ہے۔ ہم سب اپنے آباؤ اجداد کے مذہب پر چل رہے تھے آپ نے ایک علیحدہ مذہب پیش کر کے ہمیں اختلاف کی دعوت دی ہے گویا کفّار اتحاد کا واسطہ دیتے تھے لیکن خدا تعالیٰ اختلاف کو جائز قرار دیتا ہے۔ قرآن کریم میں آتا ہے: ۶؎ یعنی جب انہیں کہا جاتا ہے کہ یہ پُرانی چیزیں ہیں تم اُنہیں ترک کر دو اور جو خدا تعالیٰ نے نازل کیا ہے اسے مان لو تو وہ کہتے ہیں یہ نہیں ہو سکتا ہم اپنے آباؤ اجداد کے مذہب پر چلیں گے کیونکہ اس میں اتحادپایا جاتا ہے تمہاری خاطر ہم اس مذہب کو کیسے چھوڑ دیں۔ خداتعالیٰ فرماتا ہے یہ کیا بودی دلیل ہے کہ ہم اپنے آباؤاجداد کے مذہب پر چلیں گے۔ تمہاری بات مان کر ہم ان سے اختلاف نہیں کریں گے لیکن اگر وہ بے عقل بھی تھے تب بھی یہ لوگ ان کے پیچھے چلیں گے۔ اگر وہ بے علم تھے اور انہیں ہدایت نہیں ملی تھی تب بھی یہ لوگ ان کے پیچھے چلیں گے اتحاد تو ان چیزوں میں ہوتا ہے جن کے ساتھ علم ہو ، ہدایت ہو، عقل ہو، اگر ان کے ساتھ علم نہیں، ہدایت نہیں، عقل نہیں تو اتحاد کیسا۔ تمہارا ان کے ساتھ رہنا تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا مثلاً یہ اتحاد ہے کہ دو آدمی غرق ہونے لگے ہوں اور انہیں ایک شہتیر مل جائے اور وہ دونوں اسے پکڑ لیں لیکن یہ اتحاد نہیں کہ ایک بل میں سانپ ہو اور زید اس میں ہاتھ ڈال دے تو بکر بھی اس میں ہاتھ ڈال دے ۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو یہ اتحاد اس کے لئے مُہلک ہو گا۔ گویا ہر اتحاد اچھا نہیں ایک موقع پر اتحاد اچھا ہے اور اختلاف بُرا ہے اور ایک موقع پر اختلاف بُرا ہے اور اتحاد اچھا ہے۔
    اب سوال یہ ہے کہ جب بعض اختلافات قدرتی ہیں اور بعض انسانی زندگی کے لئے ضروری تو کیا اسلام میں انفرادیت سکھائی گئی ہے اجتماعیت نہیں سکھائی گئی؟ یہ تو انفرادیت ہے کہ اپنے ذاتی فائدہ کی چیزیں قبول کر لو اور باقی ترک کر دو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ درست ہے کہ اسلام انفرادیت کی بھی تعلیم دیتا ہے لیکن اجتماعیت اور ملّت کا جو احساس اسلام نے پیدا کیاہے وہ کسی اور مذہب نے پیدانہیں کیا۔ صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے اپنے ماننے والوں کو اجتماعیت کی طرف توجہ دلائی ہے مثلاً اسلام میں ایک کلمہ ہے جو ہر مسلمان کے لئے ماننا ضروری ہے۔ بے شک اسلامی فرقوں میں اختلاف پایا جاتا ہے مثلاً ہماری جماعت کو بھی دوسرے فرقوں سے اختلاف ہے لیکن کوئی احمدی ایسا نہیں ملے گا جو یہ کہے کہ مَیں کلمہ طیبہ نہیں مانتا۔ پھر شیعوں کو سُنّیوں سے اختلاف ہے اور سنّیوں کو شیعوں سے اختلاف ہے لیکن سُنّی یا شیعہ کو یہ جرأت نہیں کہ کلمہ سے انکار کر دے۔ تم کسی اسلامی فرقہ میں چلے جاؤ اور ان سے پوچھ لو وہ کلمہ سے باہر نہیں جائیں گے۔ ہر ایک مسلمان یہ کہے گا کہ ہمارا ایک کلمہ ہے اور وہ لَااِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ ہے۔ ہر شخص جو مسلمان ہو گا وہ اس بارہ میں دوسرے مسلمانوں سے متحد ہو گا۔ شیعہ سُنّیوں سے اختلاف رکھیں گے لیکن کلمہ کے بارے میں ان میں کوئی اختلاف نہیں ہو گا۔ سُنّی شیعہ سے اختلاف رکھیں گے لیکن کلمہ میں دونوں متحد ہوں گے اور یہ کلمہ صرف مسلمانوں میں ہے اور کسی مذہب میں نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک عیسائی کو لَااِلٰہَ اِلَّا اﷲُ کہنا نہیں آتا۔ ایک عیسائی بھی لَااِلٰہَ اِلَّا اﷲُ کہہ سکتا ہے لیکن ان کا اپنا کوئی ایسا کلمہ نہیں جس میں بتایا گیا ہو کہ خدا تین ہیں تم کسی مشن میں چلے جاؤ اور عیسائیوں سے پوچھو کہ کیا تمہارا بھی کوئی کلمہ ہے تو وہ یہی جواب دیں گے کہ ہمارا کوئی کلمہ نہیں۔ وہ یہ کہہ ہی نہیں سکتے کہ ہمارا کوئی کلمہ ہے کیونکہ ان کے ہاں مذہب کا ضروری حصّہ وہ لوگ بھی ہیں جو تین خدا مانتے ہیں اور ساتھ ہی ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو باوجود عیسائی ہونے کے ایک خدا کے قائل ہیں لیکن ہمارا ہر شخص لَااِلٰہَ اِلَّا اﷲُ میں دوسرے مسلمانوں سے اتحاد رکھتا ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی شخص لَااِلٰہَ اِلَّا اﷲُ کے خلاف کسی تعلیم کو مانتا ہو اور وہ اسلام میں بھی رہے۔ پھر عیسائیوں میں وہ لوگ بھی ہیں جو حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا مانتے ہیں اور وہ لوگ بھی ہیں جو انہیں ایک بزرگ اور نبی خیال کرتے ہیں۔ پس وہ ایک کلمہ بنا ہی نہیں سکتے۔ پھر ہندو مذہب کو لے لو۔ ہندو بھی اپنے مذہب کے متعلق بہت غیرت رکھتے ہیں اور وہ اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ ان کا مذہب بہت پرانا ہے لیکن ان سے پوچھو کہ کیا ہندوؤں کے پاس کوئی کلمہ ہے جسے ہم ہندو مذہب کا خلاصہ کہہ سکیں تو وہ اس کا کوئی جواب نہیں دے سکیں گے۔ وٹ از ہندو ازم (What is Hinduism) ایک کتاب چھپی ہے۔ اس میں بڑے بڑے ہندو لیڈروں گوکھلےؔ، مالویہؔ، اور تملک وغیرہ کے مضامین ہیں لیکن سارے مضامین کا یہی خلاصہ ہے کہ ہندو مذہب کوئی چیز نہیں۔ وہ ہندو مذہب کی کوئی تشریح نہیں کر سکتے۔ بعض کے نزدیک ہندو وہ ہے جو وید مانتا ہے لیکن جو ہندو وید نہیں مانتا لیکن ہندو کہلاتا ہے کیا وہ ہندو نہیں؟ مثلاً مدراسی لوگ وید نہیں مانتے۔ پھر بعض کہتے ہیں جو شخص پران مانتا ہے وہ ہندو ہے لیکن آریہ لوگ پران نہیں مانتے۔ پھر بعض نے یہ کہا ہے کہ جو بت پرستی کرے وہ ہندو ہے لیکن ودیکانند والے بتوں کی پوجا نہیں کرتے۔ پھر بعض کہتے ہیں کہ ہندو وہ ہوتے ہیں جو گائے نہیں کھاتے لیکن ساتھ ہی دوسرا مضمون نگار یہ لکھتا ہے کہ بمبئی میں ایسے ہندو پائے جاتے ہیں جو گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ پھر بعض نے کہا ہے کہ اصل میں ہندو وہ ہے جو ہندوستان میں پیدا ہؤا ہو لیکن اس کے یہ تو معنے بنتے ہیں کہ جو مسلمان ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں وہ بھی ہندو ہیں۔ ہندو کہتے ہیں ہمارا مذہب سب سے پُرانا ہے لیکن وہ ابھی اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ ہمارا کلمہ کیا ہے لیکن ہمارے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ۱۳۷۰ سال قبل فرما دیا تھا کہ ہمارا کلمہ لَااِلٰہَ اِلَّا اﷲُ ہے اور اس میں اسلام کا خلاصہ آگیا ہے۔ باقی لوگ ابھی ٹکریں مار رہے ہیں کہ ہمارا کلمہ کیا ہے۔ اب یہ اتحاد کی کتنی بڑی صورت ہے مسلمانوں کے سوا دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں۔
    پھر اسلام میں ایک قبلہ پایا جاتا ہے لیکن اسلام کے سوا کسی مذہب میں قبلہ نہیں پایا جاتا۔ بے شک ہندوؤں کے پاس سومناتھ کا مندر موجود ہے لیکن یہ ایسی چیز نہیں جس پر سارے ہندو جمع ہو جائیں۔ عیسائیوں اور یہودیوں میں بھی کوئی قبلہ نہیں۔ وہ یروشلم کی مسجد کو بطور قبلہ پیش کرتے ہیں لیکن یہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پانچ سَو سال بعد حضرت داؤد علیہ السلام نے بنائی تھی۔۷؎ حضرت داؤد علیہ السلام سے پانچ سَو سال قبل یہودیوں کے پاس کون سا قبلہ تھا؟ ہمارے پاس پہلے سے قبلہ ہے۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم جب ظاہر ہوئے تو آپ نے بتادیا کہ ہمارا فلاں قبلہ ہے اور اس طرح مسلمانوں پر کوئی دن ایسا نہیں آیا جب اُن کے پاس کوئی قبلہ نہ ہو۔ یہ نہیں کہ ایک سال دو سال یا دس سال کے بعد قبلے کا حُکم ہؤا ہو بلکہ پہلے دن سے بتا دیا گیا ہے کہ ہمارا فلاں قبلہ ہے۔ اب یہ اتحاد کی کتنی بڑی صورت ہے جو دوسرے مذہب والوں کو حاصل نہیں۔
    پھر نماز باجماعت ہے۔ اسلامی نماز بھی انفرادی نماز نہیں بلکہ ایک قومی نماز ہے۔ پہلے صفوں میں سیدھے کھڑے ہو جاؤ، قبلہ رُخ ہو ، اقامت ہو، پھر ایک امام ہو، امام کھڑا ہو تو مقتدی کھڑا ہو، امام سجدہ میں جائے تو مقتدی بھی سجدہ میں چلا جائے۔ یہ خصوصیت صرف اسلام میں پائی جاتی ہے اور مذاہب میں نہیں۔ نہ عیسائیوں میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے اور نہ یہودیوں میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے۔ عیسائی اور یہودی اکٹھے تو ہو جاتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے لئے اکٹھا ہونے کا کہاں حُکم ہے۔ ساری تورات میں اکٹھے ہو کر عبادت کرنے کا حُکم نہیں ملتا۔ تورات میں یہی آتا ہے کہ کامل عبادت یہی ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے لئے قربانی پیش کرو۔ باقی یہ کہ عبادت کے لئے تم اکٹھے ہو جاؤ ایسا کوئی حُکم نہ پُرانوں اور ویدوں میں موجود ہے اور نہ ایسا حُکم تورات اور انجیل میں پایا جاتا ہے۔ صرف اسلام ہی ایسا مذہب ہے جو کہتا ہے پہلے اذان دو، پھر اس طرح مسجد میں آؤ، سیدھی صفوں میں کھڑے ہو جاؤ، پھر قبلہ کی طرف مُنہ کرو، سامنے ایک امام ہو جو حرکت امام کرے وہی حرکت مقتدی بھی کرے، امام سجدہ میں جائے تو مقتدی بھی سجدہ میں چلے جائیں، امام کھڑا ہو تو مقتدی بھی کھڑے ہو جائیں، اس طرح ساری قوم امام کے تابع ہو جاتی ہے اور یہ طاقت ہٹلر میں بھی نہیں تھی کہ اس کے اشارے سے سارے لوگ جھُک جائیں لیکن یہاں یہ بات پائی جاتی ہے کہ امام رکوع میں جاتا ہے تو سارے مقتدی رکوع میں چلے جاتے ہیں۔ امام سجدہ میں جاتا ہے تو سارے لوگ سجدہ میں چلے جاتے ہیں۔ گویا خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ طاقت بخشی ہے جس نے اجتماعیت کی ایسی مستحکم روح قائم کر دی ہے جس کی مثال اور کسی مذہب میں نہیں ملتی۔
    پھر حج ہے۔ یہ خصوصیت بھی صرف اسلام میں ہے۔ بیشک ہندو لوگ یاترا کے لئے جاتے ہیں لیکن یاترائیں بیسیوں ہیں ۔ کوئی شخصی یاترا نہیں اور نہ ایسی تعلیم ہے کہ جس شخص کے پاس سرمایہ ہو پھر امن ہو، اس کے لئے کوئی روک نہ ہو ایسا شخص اگر حج نہیں کرتا تو وہ گنہگار ہے۔ یہ اجتماعیت صرف اسلام میں پائی جاتی ہے۔ باقی لوگ یاترا گئے تب بھی بزرگ ہیں اور اگر یاترا کو نہ گئے تب بھی بزرگ ہیں۔
    پھر زکوٰۃ ہے۔ اسلام میں جیسی زکوٰۃ پائی جاتی ہے۔ وہ کسی اور مذہب میں نہیں پائی جاتی۔ بیشک یہودیوں میں بھی زکوٰۃ پائی جاتی ہے لیکن اس میں اتنی باریکیاں نہیں پائی جاتیں جتنی باریکیاں اسلامی زکوٰۃ میں پائی جاتی ہیں۔ اسلامی زکوٰۃ کے اخراجات کو نہایت وسیع طور پر بیان کیا گیا ہے اور اس میں قومی ترقی کی ہر چیز آجاتی ہے۔ اس میں کلّیت کا رنگ پایا جاتا ہے اور یہ بات یہودی زکوٰۃ میں نہیں پائی جاتی۔ اسلامی زکوٰۃ میں ہر قسم کے غرباء کا حق مقررکر دیا گیا ہے مثلاً ایک شخص کے پاس تجارت کے لئے سرمایہ نہیں تو اسلام کہتا ہے اسے کچھ سرمایہ دے دو۔ ایک درزی ہے وہ درزی کا کام جانتا ہے لیکن اس کے پاس کوئی مشین نہیں تو اسلام کہتا ہے کہ زکوٰۃ میں سے کچھ اسے بھی دے دو۔ ایک شخص کو یکّہ چلانا آتا ہے لیکن اس کے پاس روپیہ نہیں تو اسلام کہتا ہے کہ زکوٰۃ میں اسے بھی کچھ دے دو۔ اسی طرح ایک مسافر آتا ہے وہ مالدار ہوتا ہے لیکن وہ شہر میں جاتا ہے اور اس کا مال چوری ہو جاتا ہے اور وہ گھر سے بھی روپیہ منگوا نہیں سکتا تو اسلام کہتا ہے کہ زکوٰۃ میں سے اسے بھی کچھ دے دو۔ ایک غریب آدمی قید ہو جاتا ہے اس کے بچوں کے پاس کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں ہوتا تو اسلام کہتا ہے زکوٰۃ میں سے اسے بھی کچھ دے دو۔ گویا اسلام نے زکوٰۃ کے نظام کو اس قدر وسیع کیا ہے اور اتنا نرم رکھا ہے کہ ہر قوم اور ہر گروہ کے لوگ اس سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں کہ کسی کا سر بھی نیچا نہ ہو کیونکہ بڑی زکوٰۃ حکومت خود دے گی مثلاً زمین ہے۔ زمین کی زکوٰۃ مَیں ذاتی طور پر نہیں دے سکتا بلکہ یہ زکوٰۃ گورنمنٹ کے پاس جمع کرائی جائے گی اور وہ آگے مستحقین میں تقسیم کرے گی۔ اگر حکومت اس رقم میں سے کچھ میرے ہمسایہ کو دیتی ہے تو اگرچہ وہ میری رقم ہو گی لیکن میرا ہمسایہ اسے گورنمنٹ سے حاصل کرے گا اس طرح وہ میرا ممنون نہیں ہو گا اور میرے سامنے نظریں نیچی نہیں کرے گا۔ گویا زکوٰۃ لینے کے نتیجہ میں جو تحقیر پیدا ہوتی ہے وہ پیدا نہیں ہو گی۔ غرض اسلامی زکوٰۃ میں اس امر کو مد نظر رکھا گیا ہے کہ غریب کی نظر نیچی نہ ہو اور باوجود مدد لینے کے وہ امیر ہمسایہ کو کہہ سکے کہ میں نے تجھ سے مدد نہیں لی۔
    پھر قضاء ہے۔ یہ بھی اسلام کی ہی ایک خصوصیت ہے اور یہ خصوصیت بھی اس بات کی ایک دلیل ہے کہ اسلام اجتماعیت کی تعلیم دیتا ہے۔ ایک فرد اگر کسی کو ڈنڈا مارے تو قضاء اسے کہے گی کہ تم قاضی کے پاس جاؤ وہ اسے ڈنڈا مارے گا۔ یہاں تک کہ اسلام میں بدکاری کی سزا سخت ہے لیکن اس کے لئے بھی اسلام نے یہی تعلیم دی ہے کہ تم سزا کو اپنے ہاتھ میں نہ لو بلکہ معاملہ قاضی کے پاس لے جاؤ۔ وہ سزا دے گا۔
    ایک شخص رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آیا اس وقت یہودی سزا پر عمل کیا جاتا تھا۔ اس شخص نے عرض کیا یا رسول اﷲ اگر خاوند دیکھے کہ اس کی بیوی بدکاری کر رہی ہے تو کیا اُسے حق ہے کہ وہ اپنی بیوی کو مار ڈالے۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اسے خود سزا دینے کا حق نہیں۔ موسوی شریعت میں زنا کی سزا قتل تھی۸؎ اور اس وقت تک اس بارہ میں موسوی شریعت کے مطابق ہی عمل کیا جاتا تھا۔ اس شخص نے عرض کیا جب زنا کی سزا قتل ہے تو خاوند جب اپنی آنکھوں سے اپنی بیوی کو بدکاری کرتے دیکھے تو کیوں نہ اسے قتل کر دے۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اسے سزا دینے کا حق نہیں۔ سزا دینے کا حق قاضی کو ہے۔ اگر وہ اپنی بیوی کو بدکاری کرتے دیکھتا ہے اور اسے قتل کر دیتا ہے تو اسے قاتل سمجھ کر موت کی سزا دی جائے گی۔۹؎ اب دیکھو اسلام اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ اسلام یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کہیں بدلہ لینے میں جلد بازی سے کام تو نہیں لیا گیا۔ کیا جرم کی تحقیق کے سامان پوری طرح مہیا کئے گئے ہیں اور یہ باتیں قاضی دیکھ سکتا ہے۔ دوسرا نہیں۔ اگرچہ یہ انفرادی حق ہے لیکن کسی شخص کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے لے۔ مجرم کو سزا صرف حکومت کے ذریعہ ہی دلائی جاسکتی ہے۔
    پھر فرضیت جہاد ہے۔ جہاد بھی اکیلا شخص نہیں کر سکتا بلکہ جب جہاد فرض ہو گا تو ساری قوم لڑے گی۔ پس جہاد بھی ایک اجتماعی چیز ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ جب امام کہے کہ اب جہاد کا موقع ہے تو ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس فریضہ کو پورا کرے اور اگر کوئی مسلمان اس فرض کو پورا نہیں کرتا تو وہ شریعت اور قانون کا مجرم ہے۔ یہ ایک اجتماعی حُکم ہے پس جو شخص یہ کہتا ہے کہ اسلام انفرادی مذہب ہے وہ غلطی پر ہے۔ اسلام انفرادی مذہب نہیں بلکہ اجتماعی مذہب ہے۔
    اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام ایک طرف تو انفرادیت کی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے اور نہ صرف تسلیم کرتا بلکہ اسے ضروری قرار دیتا ہے اور دوسری طرف وہ اجتماعیت کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں اکٹھی کیسے ہو سکتی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں بظاہر متضاد نظر آتی ہیں لیکن دراصل یہ متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی مدد گار ہیں۔ ان دونوں کو جمع کئے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی۔ جس مذہب نے صرف انفرادیت کی تعلیم دی ہے وہ بھی تباہ ہؤا ہے۔ کوئی مذہب اور کوئی حکومت اپنے لئے ترقی کا راستہ نہیں کھول سکتی جب تک کہ وہ ان دونوں چیزوں پر بیک وقت عمل نہ کر رہی ہو۔ اگلے زمانہ میں خدا تعالیٰ سے تعلق محض انفرادیت کے طور پر ہوتا تھا لیکن صحیح راستہ انفرادیت اور اجتماعیت کے درمیان ہے جیسے اگلے جہاں میں ایک پل صراط ہو گی۔ یہ اس دُنیا کی پُل صراط ہے۔ اسلام دونوں چیزوں کو ایک وقت میں بیان کرتا ہے۔ ایک طرف وہ انسان کو اتنا بلند کرتا ہے کہ اسے عرش پر پہنچا دیتا ہے اور اس کے درمیان اور خدا تعالیٰ کے درمیان کوئی واسطہ باقی نہیں رہتا اور دوسری طرف جس طرح یونانی جب لڑتے ہیں تو وہ آپس میں ایک کو دوسرے کے ساتھ باندھ دیتے ہیں تا اگر وہ مریں تو اکٹھے مریں۔ اسی طرح اسلام بھی ایک انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ باندھ دیتا ہے۔ پس حقیقت یہی ہے کہ اتحاد موجودہ حالات اور افراد سے اتحاد کا نام ہے۔ اتحاد اس بات کا نام ہے کہ موجودہ حالات اور افراد سے کام لیا جائے اور ترقی کے معنے یہ ہیں کہ موجودہ حالات اور افراد میں اختلاف پیدا کیا جائے۔ جب تک تجربہ اور تھیوری سے اختلاف نہیں کیا جاتا اس وقت تک ترقی نہیں ہو سکتی۔ غرض انفرادیت کے بغیر ترقی مُشکل ہے اور اتحاد کے بغیر امن قائم رکھنا مشکل ہے۔ قرآن کریم نے ان دونوں کو تسلیم کیا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۱۰؎ اے مسلمانو! تم آپس میں اختلاف نہ کرو۔ اگر تم آپس میں اختلاف کرو گے تو کمزور ہو جاؤ گے اور دُشمن سے شکست کھا جاؤ گے۔ تم ہمیشہ اکٹھے رہنا اور ایک دوسرے کے مدد گار رہنا اور چونکہ اکٹھے رہنے میں تمہیں کئی مُشکلات پیش آئیں گی اس لئے تمہیں صبر سے کام لینا ہو گا۔ جب تم اجتماعیت کی طرف آؤگے تو کئی جھگڑے پیدا ہوں گے۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی شکوہ پیدا ہو جایا کرتاتھا۔ ایک دفعہ آپ مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے ایک شخص نے کہا۔ اس تقسیم میں انصاف سے کام نہیں لیا جارہا۔ اس پر رسول کریم صلی اﷲعلیہ وسلم نے فرمایا۔ اے شخص اگر مَیں انصاف نہیں کروں گا تو اور کون کرے گا؟ حضرت عمر ؓ بھی وہاں موجود تھے۔ آپ نے تلوار نکال لی اور عرض کیا یَا رَسُوْلَ اﷲ! آپ اجازت دیں تو مَیں اس کی گردن کاٹ دوں۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا جانے دو۔ اس شخص نے بے شک غلطی کی ہے لیکن اگر اس کی گردن کاٹ دی گئی تو لوگ کہیں گے محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کر دیتا ہے۔۱۱؎ پس اگر اُس زمانہ کے لوگ بھی شکوہ کر دیتے تھے اور اختلاف کا اظہار کر دیتے تھے تو پاکستان اور شام اور عراق اور اُردن کے لوگ کیوں نہیں کر سکتے؟ غلطیاں ہو جاتی ہیں اور لوگ شکوہ بھی کرتے ہیں پھر تم کیا کرو۔ فرمایا۔ واصبروا۔ تم صبر کرو اور مجھ پر اُمید رکھو۔ مَیں خود اس کا بدلہ دوں گا۔ پھر فرماتا ہے ۱۲؎ اے مسلمانو! تم سارے مل کر اﷲ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ کرو۔ اگر تم نے تفرقہ کیا تو اس کے نتیجہ میں تمہاری طاقت زائل ہو جائے گی۔ یہ اجتماعی اتحاد کی دعوت ہے لیکن دوسری طرف یہ بھی فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کے مذہب کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں وہ بے دین ہیں۔ گویا قرآن کریم اختلاف اور اتحاد دونوں کو تسلیم کرتا ہے۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے کلام میں بھی اختلاف اور اتحاد دونوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں اِخْتِلَافُ اُمَّتِیْ رَحْمَۃٌ۔ ۱۳؎میری اُمت کا اختلاف رحمت ہے۔ اب دیکھو رسول کریم صلی اﷲعلیہ وسلم اختلاف کو بجائے عذاب کے رحمت قرار دیتے ہیں اور اختلاف کرنے والے دونوں فریق کو اپنی اُمت قرار دیتے ہیں لیکن دوسری طرف آپ ؐ فرماتے ہیں۔ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ شِبْراً فَلَیْسَ مِنَّا۱۴؎ جو شخص جماعت سے بالشت بھر بھی الگ ہؤا وہ ہم میں سے نہیں۔ گویا آپ نے ایک طرف یہ کہا کہ اختلاف رحمت ہے اور دوسری طرف یہ کہا کہ جو شخص جماعت سے بالشت بھر بھی الگ ہو گا وہ ہم میں سے نہیں۔ یعنی وہ مسلمان نہیں رہے گا۔ ایک صحابی رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا ۔ یَا رَسَوْلَ اﷲ! جب تفرقہ ہو گا تو مَیں کیا کروں۔ کیا مَیں تلوار لوں اور لوگوں کا مقابلہ کروں۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ اُس صحابی نے عرض کیا۔ یَا رَسَوْلَ اﷲ! پھر مَیں کیا کروں؟ تو آپ نے فرمایا۔ عَلَیْکَ بِالْجَمَاعَۃِ۔۱۵؎ جس طرف جماعت ہو اسی طرف تم چلے جاؤ۔ گویا آپ نے ایک طرف انفرادیت پر اس قدر زور دیا ہے کہ اختلافِ اُمت کو رحمت قرار دے دیا اور دوسری طرف یہ شدت ہے کہ اگر تم پر ظلم بھی کیا جائے تب بھی تم اختلاف نہ کرو بلکہ جماعت کا ساتھ دو۔ غرض رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اور قرآن کریم دونوں نے اختلاف اور اتحاد دونوں کو تسلیم کیا ہے۔
    اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سے اصول ہیں جنہیں اختیار کر کے ہم اتحاد اور انفرادیت کو قائم رکھ سکتے ہیں۔ ہم قرآن کریم میں دیکھتے ہیں تو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۱۶؎ اﷲ تعالیٰ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے کہتا ہے۔ اے میرے رسول! تم عیسائیوں اور یہودیوں سے کہہ دو کہ ہم میں اور تم میں جو نقطۂ مرکزی ہے مَیں اس پر تمہیں متحد ہو جانے کی دعوت دیتا ہوں۔ وہ نقطۂ مرکزی کیا ہے؟ وہ نقطۂ مرکزی یہ ہے کہ تم بھی کہتے ہو خدا ایک ہے اور ہم بھی کہتے ہیں خدا ایک ہے۔ آؤ ہم اسی بات پر اکٹھے ہو جائیں۔ بے شک تم بیت المقدس کی طرف مُنہ کر کے نماز پڑھو اور مَیں قبلہ کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھوں گا لیکن یہ نقطہ ہم دونو میں مشترک ہے۔ آؤ ہم اس پر اکٹھے ہو جائیں اور عہد کر لیں کہ ہم خدا کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کریں گے۔ تم بے شک صرف سجدہ کرو اور ہم رکوع اور سجدہ کریں۔ تم ہفتہ میں ایک دن عبادت کرو اور ہم ساتوں دن عبادت کریں۔ ہم جمعہ کو اکٹھے ہوں اور تم اتوار کو اکٹھے ہو جاؤ لیکن ہم اس بات پر اتحاد کر لیں کہ ہم صرف خدا تعالیٰ کا نام لیں گے اور کسی کو اس کا شریک قرار نہیں دیں گے۔ اب دیکھو یہودیت اور عیسائیت الگ مذاہب ہیں لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ ان دونوں میں ایک نقطۂ مرکزی ہے اور وہ توحید ہے۔ آؤ ہم اس پر اکٹھے ہو جائیں اور باقی اختلافات کو رہنے دیں۔ گویا پہلا گُر اتحاد کا یہ معلوم ہؤا کہ اگر تم صحیح طور پر اتحاد چاہتے ہو تو پہلے اختلاف کو تسلیم کرو۔ جو شخص یہ کہے گا کہ مَیں اختلافات مٹا کر اتحاد کروں گا وہ کامیاب نہیں ہو گا۔ وہی شخص کامیاب ہو گا جو جزوی اختلافات کو چھوڑ دے۔ لائڈ جارج کا ایک مشہور مقولہ ہے جب برطانیہ کو فرانس اور جرمنی سے خطرہ پیدا ہؤا تو لائڈجارج فرانس گئے اور اُنہوں نے حکومت فرانس سے بات چیت کی۔ جب واپس آئے تو لوگوں نے کہا۔ کیا تمہیں کامیابی حاصل ہو گئی ہے اور کیا برطانیہ اور فرانس کا اتحاد ہو گیا ہے؟ لائڈ جارج نے کہا ہم نے اس بات پر اتحاد کر لیا ہے کہ آپس میں اختلاف کو قائم رکھیں۔۱۷؎ اس اتحاد کی وجہ سے وہ محفوظ ہو گئے۔ اُنہوں نے اس بات پر اتحاد کیا تھا کہ ہم آپس کے اختلاف کو تسلیم کرتے ہیں لیکن باوجود اس اختلاف کے ہم اکٹھے رہیں گے اور دُشمن کا مل کر مقابلہ کریں گے۔ لائڈ جارج نے تو یہ بات آج کہی ہے لیکن اسلام نے ساڑھے سترہ سَو سال قبل یہ بات کہی تھی کہ اے عیسائیو اور یہودیو! تم ہم سے کیوں جھگڑتے ہو کیا تم میں اور ہم میں اتحاد کا کوئی پوائنٹ موجود ہے یا نہیں؟ اور اگر اتحاد کا کوئی پوائنٹ موجود ہے تو آؤ پہلے اسی کو لے لو اور اس پر متحد ہو جاؤ۔ پس اتحاد المسلمین کے لئے ضروری ہے کہ باہمی اختلافات کو چھوڑدیا جائے اور اتحاد کے جو ممکن پہلو ہوں انہیں لے لیا جائے۔ اگر کوئی کہے کہ اگر تم صرف اتحاد کے پہلو لے لو تو اختلاف والی باتوں میں کیا کرو گے تو اس کا حل بھی قرآن کریم نے بتا دیا ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے جن باتوں میں تمہارا اختلاف ہے ان میں تم اپنی اپنی کتاب اور تعلیم کے مطابق چلو اور اس کے مطابق اپنے جھگڑوں کا فیصلہ کرو۔ فرمایا یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس انجیل اور تورات ہے وہ ان پر عمل کر سکتے ہیں جیسے فرمایا ۱۸؎ پس ایک طرف تو یہ کہا کہ یہودی اور عیسائی اپنی اپنی تعلیم پر چلیں اگر وہ اپنی تعلیم پر نہیں چلیں گے تو وہ خائن ہوں گے اور دوسری طرف یہ کہا کہ تم اکٹھے ہو جاؤ یعنی دونوں پوائنٹ کو لیا ہے کہ اختلاف قائم کرو اور اتحاد کے پوائنٹ کو لے کر جو تم دونوں کے درمیان مشترک ہو اکٹھے ہو جاؤ۔
    پھر یہ قدرتی بات ہے کہ اگر ہم اکٹھے ہو کر بیٹھ جائیں گے تو آہستہ آہستہ اتحاد کی کئی صورتیں نکل آئیں گی۔ فلاں مردہ باد اور فلاں زندہ باد کے نعروں سے کچھ نہیں بنتا۔ اگر کوئی نقطۂ مرکزی ایسا ہے جس پر اتحاد ہو سکتا ہے تو اس کو لے لو کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ اختلافات قائم رکھو بلکہ بعض دفعہ یہاں تک کہتا ہے کہ ہم اختلافات رکھنے میں تمہاری مدد کریں گے۔ پھر یہ بیوقوفی کی بات ہے کہ ہم ان اختلافات کی وجہ سے اتحاد کو چھوڑ دیں۔ مَیں نے عملی طور پر بھی اس کا تجربہ کیا ہے۔
    جب تحریکِ خلافت کا جھگڑا شروع ہؤا اور مولانا محمد علی اور شوکت علی نے یہ تحریک شروع کی کہ انگریزوں کو کہا جائے کہ وہ سلطان ترکی کو جسے ہم مسلمان خلیفہ تسلیم کرتے ہیں کچھ نہ کہیں ورنہ ہم سب مسلمان مِل کر ان کا مقابلہ کریں گے تو اُنہوں نے باقی مسلمانوں کو بھی دعوت دی کہ وہ اس تحریک میں ان کے ساتھ شامل ہوں۔ اور اس کے تعلق میں لکھنؤ میں ایک جلسہ کیا گیا۔ مَیں نے جب اس بات پر غور کیا تو مَیں نے دیکھا کہ شیعہ اور اہل حدیث سلطان ترکی کو اپنا خلیفہ تسلیم نہیں کرتے اور نہ خوارج اسے خلیفہ تسلیم کرتے ہیں اور پھر ہم احمدی بھی اس بات کے خلاف ہیں۔ ہمارا ہیڈ خود خلیفہ ہوتا ہے۔ مَیں نے خیال کیا کہ یہ سارے لوگ یہ بات کیوں کہیں گے کہ ہم سب مسلمان سلطان ترکی کو اپنا خلیفہ مانتے ہیں اس لئے اگر تم نے اس پر ہاتھ ڈالا تو ہم سب متحد ہو کر اس کی امداد کریں گے۔ مَیں نے جلسہ میں شرکت کے لئے ایک وفد لکھنؤ بھیجا اور انہیں تحریری پیغام بھجوایا کہ اگر تم اس صورت میں انگریزوں کے پاس جاؤ گے تو وہ کہیں گے کہ خوارج، اہل حدیث اور شیعہ مسلمان عبدالحمید کو اپنا خلیفہ نہیں مانتے تم کیسے کہتے ہو کہ وہ سب مسلمانوں کا خلیفہ ہے۔ مَیں نے کہا تم یوں کہو کہ سلطان ترکی جسے مسلمانوں کی اکثریت خلیفہ تسلیم کرتی ہے اور باقی مسلمان بھی ان کا احترام کرتے ہیں اگر تم نے اسے کچھ کہا تو ہم سب مسلمان مِل کر تمہارا مقابلہ کریں گے اگر تم یوں کہو گے تو کام بن جائے گا۔ کسی احمدی، شیعہ یا اہل حدیث کو یہ جرأت نہیں ہو سکے گی کہ وہ کہے سلطان عبدالحمید کو مار دو۔ وہ دل میں بے شک کہے لیکن اس کا زبان سے اظہار نہیں کرے گا۔ مولانا شوکت علی کی طبیعت جوشیلی تھی۔ جب وفد میرا خط لے کر گیا تو اُنہوں نے کہا یہ تفرقہ کی بات ہے۔
    پندرہ دن کے بعد اہلِ حدیث کی طرف سے اعلان شائع ہؤا کہ ہم سلطان ترکی کو اپنا خلیفہ تسلیم نہیں کرتے، شیعوں کی طرف سے بھی اس قسم کا اعلان شائع ہؤا اور پھر سر پھٹول شروع ہو گئی۔ خوارج اس مُلک میں موجود نہیں تھے ورنہ وہ بھی اس قسم کا اعلان کر دیتے اور پھر سال ڈیڑھ سال کے بعد خود تُرکوں نے بھی اُسے جواب دے دیا تین چار سال کے بعد شملہ میں ہم سب ملے تو مولانا محمد علی نے کہا کتنا اچھا کام تھا لیکن آخر ہم اس میں ناکام ہو گئے مسلمانوں میں تفرقہ ہو گیا اور ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ مَیں نے کہا مولانا مَیں نے مشورہ دے دیا تھا کہ یہ نہ لکھا جائے کہ ہم سب مسلمان سلطان ترکی کو خلیفہ مانتے ہیں کیونکہ اہلِ حدیث ، خوارج ، شیعہ اور ہم احمدی اسے خلیفہ تسلیم نہیں کرتے بلکہ یہ کہا جائے کہ سلطان ترکی جس کو مسلمانوں میں سے اکثریت خلیفہ مانتی ہے اور جو خلیفہ نہیں مانتے وہ بھی ان کا احترام کرتے ہیں، اگر میری بات مان لی جاتی تو یہ ناکامی نہ ہوتی۔ اُنہوں نے کہا آپ نے یہ مشورہ ہمیں دیا ہی نہیں۔ مَیں نے کہا آپ کے بڑے بھائی مولانا شوکت علی کو دیا تھا مگر اُنہوں نے کوئی توجہ نہ کی۔ مَیں نے کہا اگر آپ میرا مشورہ مان لیتے تو اہلِ حدیث ، خوارج اور شیعہ کو شکایت پیدا نہ ہوتی۔ آپ یہ لکھتے کہ اکثریت مسلمانوں کی سلطان ترکی کو خلیفہ مانتی ہے اور اقلّیت اسے اپنے اقتدار کا نشان مانتی ہے۔ وہ افسوس کرنے لگے کہ مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔ پس شیعہ سُنّی اور حنفی وہابی اور احمدی غیر احمدی کے اختلافات کو چھوڑ دیا جائے اور ان کی اتحاد کی باتوں کو لے لیا جائے۔ یہی اتحاد کا اصول ہے۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے عیسائیوں اور یہودیوں کو اس بات کی دعوت دی تھی۔
    پھر دوسرا اصول اتحاد کا یہ ہے کہ چھوٹی چیز کو بڑی چیز پر قربان کر دیا جائے۔ اگر تم دیکھتے ہو کہ ہر بات میں اتحاد نہیں ہو سکتا تو تم چھوٹی باتوں کو چھوڑ دو اور بڑی باتوں کو لے لو۔ دیکھو قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ جہاں توحید کا ذکر کرتا ہے وہاں ماں باپ کا بھی ذکر کرتا ہے اور ان کی اطاعت اور فرمانبرداری پر زور دیتا ہے لیکن جب انبیاء دُنیا میں آئے اور ان کی قوم نے یہ کہا کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کے مذہب کو نہیں چھوڑ سکتے تو خدا تعالیٰ نے یہاں تک کہہ دیا کہ کیا تم جاہلوں کی بات مانتے ہو۔ باپ دادے کی عزت بے شک بڑی ہے لیکن جب ان کا مقابلہ خدا تعالیٰ سے ہو جائے تو انہیں چھوڑ دو۔پس اتحاد کا دوسرا گُر یہ ہے کہ تم چھوٹی باتوں کو بڑی باتوں پر قربان کرنے کی روح پیدا کرو۔ سچائی کو ہر گز نہ چھوڑو وہاں قومی رسم و رواج کو چھوڑنا پڑے تو کوئی بات نہیں۔
    پس ان دونوں باتوں پر عمل کیا جائے تو اتحاد ہو سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان ، لبنان، عراق، اُردن، شام، مصر، لیبیا، ایران، افغانستان، انڈونیشیا اور سعودی عرب یہ گیارہ مُسلم مُمالک ہیں جو آزاد ہیں اور ان سب میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اگر انہوں نے آپس میں اتحاد کرنا ہے تو پھر اختلافات کو برقرار رکھتے ہوئے ان کا فرض ہے کہ وہ سوچیں اور غور کریں کہ کیا کوئی ایسا پوائنٹ بھی ہے جس پر وہ متحد ہو سکتے ہیں اور اگر کوئی ایسا پوائنٹ مل جائے تو وہ اس پر اکٹھے ہو جائیں اور کہیں کہ ہم یہ بات نہیں ہونے دیں گے۔ مثلاً یہ سب مُمالک اس بات پر اتحاد کر لیں کہ ہم کسی مُسلم مُلک کو غلام نہیں رہنے دیں گے اور بجائے اس کے کہ اس بات کا انتظار کریں کہ پہلے ہمارے آپس کے اختلافات دُور ہو جائیں وہ سب مِل کر اس بات پر اتحاد کرلیں کہ وہ کسی مُلک کو غلام نہیں رہنے دیں گے اور سب مِل کر اس کی آزادی کی جدوجہد کریں گے جس طرح رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہودیوں اور عیسائیوں کو دعوت دی تھی کہ آؤ ہم توحید پر جو ہم سب میں مشترک ہے متحد ہو جائیں اسی طرح ہم سب مسلمان اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ ہم کسی کو غلام نہیں رہنے دیں گے۔ اختلافات بعد میں دیکھے جائیں گے۔ اسی طرح پاکستان کے مسلمانوں کے آپس کے جھگڑے ہیں اور ان میں کئی اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن ان سب ممالک میں کوئی چیز مشترک بھی ہے وہ اس پر متحد ہو سکتے ہیں مثلاً یہی بات لے لو کہ ہم نے پاکستان کو ہندوؤں سے بچانا ہے یا کشمیر حاصل کرنا ہے تم ان چیزوں کو لے لو اور بجائے آپس میں اختلاف کرنے کے ان چیزوں پر متحد ہو جاؤ بعد میں ملنے ملانے سے دوسرے اختلافات بھی دُور ہو جائیں گے۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ اختلاف کو لے لیا جاتا ہے اور اتحاد کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہر فرقہ دوسرے فرقہ کو جس سے اُسے اختلاف ہو واجبُ الْقتل قرار دے دیتا ہے حالانکہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔ کیا یہ لوگ حضرت رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے زیادہ مومن ہیں۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم تو عیسائیوں اور یہودیوں کو بھی کہتے ہیں کہ آؤ ہم توحید پر جو ہم سب میں مشترک ہے اکٹھے ہو جائیں لیکن تم ایسا نہیں کرتے اور وِینَس کے تاجر کی طرح جب تک تم دوسرے کا گوشت نہ کاٹ لو اپنی جگہ سے نہیں ہٹتے۔ عالم اسلامی کا اتحاد بھی اسی طرح ہو گا ۔ اگر مسلم ممالک آپس میں اتحاد کرنا چاہتے ہیں تو وہ اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ اختلاف کے باوجود ہم دُشمن سے اکٹھے ہو کر لڑیں گے۔ آؤ ہم بھی اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ باہمی اختلافات کے باوجود ہم ایک دوسرے سے لڑیں گے نہیں۔
    میری طبیعت خراب تھی اور خیال تھا کہ مَیں تھوڑی دیر تقریر کر سکوں گا لیکن خدا تعالیٰ نے توفیق دے دی اور مَیں اتنی دیر بول سکا ہوں۔ اب اذان ہو رہی ہے اس لئے مَیں تقریر کوختم کرتا ہوں۔
    اسلام پر ایک نازک زمانہ آرہا ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی آنکھیں کھولیں اور خطرات کو دیکھیں اور کم از کم اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ خواہ کچھ بھی ہو ہم رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر مٹنے نہیں دیں گے۔‘‘ (الفضل ربوہ ۱۲، ۱۹؍دسمبر ۱۹۶۲ئ)
    ۱؎ ابراہیم: ۸
    ۲؎ مسلم کتاب الایمان باب بیان کون النہی عن المنکرمن الایمان (الخ)
    ۳؎
    ۴؎ الروم: ۲۳ ۵؎ البقرۃ: ۱۴ ۶؎ البقرۃ:۱۷۱
    ۷؎ اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ۲ صفحہ ۱۵۵۰ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء
    ۸؎ استثناء باب ۲۲ آیت ۲۲ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لنڈن ۱۸۸۷ء
    ۹؎
    ۱۰؎ الانفال: ۴۷
    ۱۱؎ بخاری کتاب الامناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام
    ۱۲؎ اٰل عمران: ۱۰۴
    ۱۳؎ موضوعات مُلّا علی قاری صفحہ ۱۷ مطبوعہ دہلی ۱۳۴۶ ھ
    ۱۴؎ مسلم کتاب الامارۃ باب الامر بلزوم الجماعۃ عند ظہورالفِتَنِمیں
    ’’مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِیْتَۃٌ جَاھِلِیَّۃٌ‘‘ کے الفاظ ہیں۔
    ۱۵؎ ابن ماجہ کتاب الفتن باب الْعُزْلَۃُ (مفہوماً)
    ۱۶؎ اٰل عمران: ۶۵
    ۱۷؎
    ۱۸؎ المائدۃ: ۴۵



    سچا ایمان، پیہم عمل اور راستبازی کی عادت پیدا کرو




    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    سچا ایمان، پیہم عمل اور راستبازی کی عادت پیدا کرو
    (فرمودہ ۲۱؍اکتوبر۱۹۵۰ء برموقع افتتاح سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ بمقام ربوہ)
    تشہّد،تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :-
    ’’دنیا میں جب بھی کوئی اجتماع ہوتا ہے تو ہمیشہ اُسے ایک مناسب صورت دی جاتی ہے اوراسلام نے بھی اِس کو ملحوظ رکھا ہے۔ مثلاً ہماراروزانہ کا اجتماع نماز ہے ۔نماز کو ہمارے خدانے شروع ہی سے ایک ایسی شکل دی ہے جوسارے مسلمانوں میں یکساں نظر آتی ہے۔ یعنی سب مسلمانوںکا ایک طرف منہ کرنا ،پھر ایک خاص وقت میں خاص قسم کی حرکات کرنا یعنی نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اوپر اُٹھانا، پھر سینہ پر ہاتھ باندھنا،منہ قبلہ رُخ کرنا، رکوع کرتے وقت سب کا گھٹنوں پرہاتھ رکھ کر جھک جانا، سجدہ میں منہ اورناک زمین پر لگانا اوراسی طرح کی اَور مختلف حرکات کرنا اور اِن سب باتوں کاایک ہی وقت میں تمام کے تمام مسلمانوں میں جاری ہونا اس میں اس طرف اشارہ کیا گیاہے کہ وحدتِ کامل وحدتِ صوری کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ لیکن میں دیکھتاہوں کہ خدام میں وہ وحدتِ صوری پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ۔کچھ خدام تو ہاتھ باندھے کھڑے ہیں اورکچھ ہاتھ لٹکائے کھڑے ہیں۔کچھ خدام ایک طرف دیکھ رہے ہیں توکچھ دوسری طرف دیکھ رہے ہیں گویا اِس تھوڑے سے وقت میں بھی خدام اِس تنظیم کو جو درحقیقت اسلام نے ہی قائم کی ہے لیکن مسلمانوں نے اِسے بھُلا دیا ہے قائم نہیں رکھ سکے۔ دوسرے صفیں ٹیڑھی ہیں ۔کوئی خادم آگے کھڑا ہے تو کوئی پیچھے کھڑا ہے ۔بیشک خیمے لگے ہوئے ہیںاور خدام ان کے آگے کھڑے ہیں لیکن جہاں خیمے ترتیب کے ساتھ ایک لائن میں لگائے گئے ہیں وہاں چاہئے تھاکہ صفیں بھی ترتیب کیساتھ لگائی جاتیں۔
    پس میری پہلی ہدایت تویہ ہے کہ آئندہ اگر خیمے لگائے جائیں تو وہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک ہی لائن اورایک ہی صف میں ہوں ۔
    دوسرے چونکہ خدام نے ایک خاص وقت میں صف میں کھڑا ہوناہوتاہے اِس لئے خیموں کے آگے ایک لائن لگا دی جائے جس پر تمام خدام ایڑیاں رکھ کرکھڑے ہوں۔ صف بندی ہمیشہ ایڑیوں کے ساتھ ہوتی ہے اُنگلیوں کے ساتھ نہیں ہوتی ۔اگر صف بندی اُنگلیوں کے لحاظ سے کی جائے گی تو کسی کا پاؤں چھوٹا ہوتا ہے اور کسی کا بڑا اِس لئے کسی کا پائوں آگے ہوجائے گا اورکسی کا پیچھے ۔پس صرف ایڑی ہی ایسی چیز ہے جس پر صف بندی کی بنیاد رکھی جاتی ہے اِس لئے آئندہ کے لئے یہ بات نوٹ کرلی جائے کہ ہرخیمے کے آگے ایک لائن کھینچ دی جایا کرے تا اُس پر خدام سیدھی ایڑیاں رکھ کر کھڑے ہوجایا کریں۔ اِس کے علاوہ صف بندی کی خاص طورپر مشق کرانی چاہئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نمازمیں جس کی صف سیدھی نہیں اُس کادل ٹیڑھا ہے۔۱؎ ہمیں جب عید کے موقع پر یا کسی جنازہ کے لئے کھلے میدان میں صفیں بندھوانی پڑتی ہیں۔ توباوجود پوری کوشش کے وہ ہمیشہ خراب رہتی ہیںکیونکہ مسجدوں میں دیواروں اورصفوں کی وجہ سے صفیں سیدھی باندھی جاسکتی ہیں لیکن کھلے میدان میں ایسا مشکل ہوتاہے۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ جوانی میں صف سیدھی رکھنے کی عادت نہیں ڈالی جاتی۔ پس خدام کو ہدایت دینی چاہئے کہ وہ صف بندی کی مشق کریں اور پھر اپنی اپنی جگہوں پرجاکر باقی خدام کو صف بندی کی مشق کرائیں۔
    فوجیوں کودیکھ لو ان کی صفیں ہمیشہ سیدھی ہوتی ہیں۔ ہمارے لوگ صف سیدھی کرنے کے لئے نیچے جھک کر دیکھتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔ فوجیوں میں صف سیدھی کرنے کا طریق یہ ہے کہ وہ سیدھے چھاتی نکال کر کھڑے ہوجاتے ہیں اورکندھے کے ساتھ کندھا ملا لیتے ہیں۔ پھر آنکھ کو دائیں پھیر کر دیکھتے ہیں کہ کہیں صف ٹیڑھی تونہیں۔ اگر صف ٹیڑھی معلوم ہوتو وہ فوراً سیدھی کرلیتے ہیں۔ پس جہاں سالانہ اجتماع کے موقع پر مختلف قسم کی مشقیں کرائی جائیں وہاں خدام کو صف بندی کی بھی عادت ڈالی جائے اوریہ کام اِسی اجلاس سے شروع کردینا چاہئے۔ قائد اورزعماء جو یہاں موجودہیں، اِنہیں صف بندی کے اصول بتا ئے جائیں جب آخری دن آئے گا یعنی پرسوں صبح تو کوئی وقت نکال کر میںآپ کو اکٹھا کروںگا اور کھڑاکرکے دیکھوں گا کہ آیا آپ صحیح طورپر اپنی صفیں سیدھی کرسکتے ہیںاور آیا قائدین اورزعماء کووہ طریق یاد ہوگیا ہے جسے ملحوظ رکھ کرخدام کوصفیں سیدھی رکھنے کی مشق کرائی جائے گی۔
    تیسری بات مَیں یہ بتانا چاہتاہوں کہ جب ایسے کام کئے جائیں تو صحیح طریق یہ ہوتاہے کہ خدام سیدھے کھڑے ہوجائیں اوراپنی نظریں سامنے رکھیں ۔اورخواہ کتنی ہی اہم بات کیوں پیدانہ ہو وہ اپنی نظریں سامنے سے نہ ہٹائیں ۔یہ چیز بھی اسلام میں جاری کی گئی ہے ۔نماز میں یہ حکم ہے کہ نمازی اپنی نظر اپنی سجدہ گاہ پررکھے ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ نماز میں جو شخص دائیں یا بائیں دیکھتاہے یا اس کی نظر نیچے اور اوپر پھرتی ہے قریب ہے کہ خداتعالیٰ اُس کی بینائی کواُچک لے ۔اب دیکھ لو یہ کتنا خطرناک وعید ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا کرنیوالے کو اندھا کردے گا ۔غرض وہ سارے احکام جو اَب تنظیم کے لئے مقرر کئے گئے ہیں اسلام میں پہلے سے موجود ہیں۔ ہمیں یہ سبق سکھایا گیا ہے کہ صرف نماز میں ہی نہیں بلکہ تنظیم کے جو مواقع بھی پیش آئیں اُن میں ہمیں اِنہی اصولوں پر کاربند رہنا چاہئے۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تمام خدام جو کھڑے ہیں ان میں سے کچھ دائیں طرف دیکھ رہے ہیں تو کچھ بائیں۔ کچھ اوپر دیکھ رہے ہیں اور کچھ نیچے حالانکہ اسلامی اصول کے مطابق چاہئے تھا کہ آپ سب سامنے دیکھتے۔ میرا خطیب ہونے کے لحاظ سے یہ کام ہے کہ چاروں طرف دیکھوں میں دیکھتا ہوں کہ اِس وقت جب میں سامنے دیکھنے کی نصیحت کررہاہوں اِس وقت بھی خدام دائیں اور بائیں اور اوپر اورنیچے دیکھ رہے ہیں۔ انسان کو کم از کم نصیحت کے وقت تواِس پر عمل کرلینا چاہئے۔ بدقسمت ہے وہ شخص جو تنظیم کے وقت اپنا کام بھول جاتاہے لیکن کم از کم وہ کمزوری جو ناقابلِ معافی ہے اور حیرت انگیز ہے وہ یہ ہے کہ انسان اُسی وقت جبکہ نصیحت ہورہی ہو اُس کی خلاف ورزی کرے۔
    اِس کے بعد مَیں آپ لوگوں کو بتانا چاہتاہوں، اخبارات پڑھنے والے جانتے ہیں اور جن جماعتوں میں میں گیا ہوں وہ بھی جانتی ہیں کہ میں اڑھائی ماہ سے شدید کھانسی میں مبتلا ہوں اور میرا گلا بیٹھا ہؤا ہے یہاں آکر کچھ آرام آگیا تھا لیکن خطبہ سے دوبارہ تکلیف شروع ہوگئی ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں گرد اُڑتی ہے اور گرد کھانسی کے لئے مُہلک ہوتی ہے اس لئے باوجود اس خواہش کے کہ میں اکثر وقت یہاں گزاروں مَیں ایسا نہیں کرسکوں گا ۔نائب صدر میری جگہ پر کام کریں گے سوائے اُن وقتوں کے جن میں مَیں یہاں ٹھہرنے کا فیصلہ کروں یا میری صحت مجھے ٹھہرنے کی اجازت دے اِس لئے میں خدام کو یہ نصیحت کرتاہوں کہ جب وہ کوئی کام کررہے ہوں اور وہ مجھے یہاں آتا دیکھیں وہ اپنی آنکھیں اُسی طرح بند کرلیں گے کہ گویا اُنہوں نے مجھے دیکھاہی نہیں۔ اگروہ مجھے دیکھ کر میری طرف بھاگیں گے تواِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ گرداُڑے گی اورمیں بیمار ہوجائوں گا اور آئندہ اجتماع میں شریک نہ ہوسکوں گا ۔سوائے دو تین اشخاص کے جو میرے ساتھ آنے اور جانے کے لئے مقرر ہیں ۔دوسرے خدام کو میرے ساتھ نہیں چلنا چاہئے۔ بلکہ اگر مخصوص عملہ کے سوا کوئی اَورشخص میرے ساتھ آرہاہو تواُنہیں چاہئے کہ وہ اُسے الگ کرکے سمجھا دیں کہ اُس کا اِس طرح میرے ساتھ جانامنع ہے۔ اور پرائیویٹ سیکریٹری کو چاہئے کہ وہ میرے ساتھ آنے والے مخصوص عملہ پر مخصوص لیبل لگا دیں تاکہ ان کے علاوہ اگر کوئی اَورشخص میرے ساتھ آرہاہو تو کارکن اُس کو ہٹاسکیں۔
    اس کے بعد مَیں خدام الاحمدیہ کو ان کے ان مستقل فرائض کی طرف توجہ دلانا چاہتاہوں جو اسلام کی ابتداء سے ان پر عائد ہوتے ہیں بلکہ دنیا کی پیدائش سے ان پر عائد ہوتے ہیں لیکن مختلف وقتوں میں لوگ اُنہیں بھول جاتے رہے ہیں اور اُنہیں یاد کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے انبیاء دنیا میں مبعوث ہوتے رہے ہیں ۔نمازوں کے طریق بدلتے رہے ہیں، اعمال کی تفصیلات بدلتی رہی ہیں۔ روزوں کے طریق بدلتے رہے ہیں، حج کی جگہیں بھی بدلتی رہی ہیں ، حج کی کیفیتیں بھی بدلتی رہی ہیں، زکوٰۃ کے طریق بھی بدلتے رہے ہیںاور زکوٰۃ کے نصاب بھی بدلتے رہے ہیں لیکن بعض ایمانی، اعتقادی اورعملی اصول ایسے ہیں جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر ابھی تک ایک ہی رہے ہیں اورقیامت تک ایک ہی رہیں گے۔ نہ حضرت آدم علیہ الس