1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

انوار العلوم ۔ مجموعہ کتب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ ۔ جلد 15

'حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 22, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    انوار العلوم ۔ مجموعہ کتب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ ۔ جلد 15

    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    تعارف کتب
    یہ انوارالعلوم کی پندرہویں جلد ہے جو سیدنا حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی کی ۲۸؍دسمبر۱۹۳۷ء سے جولائی ۱۹۴۰ء تک کی ۲۴ مختلف تقاریر و تحریرات پر مشتمل ہے۔
    (۱) انقلاب حقیقی
    حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی نے ۲۸ دسمبر ۱۹۳۷ء کو جلسہ سالانہ قادیان میں یہ معرکۃ الآراء خطاب فرمایا جو بعد میں انقلاب حقیقی کے نام سے شائع ہؤا۔
    حضور نے اصل موضوع کی طرف آنے سے پیشتر تمہیداً قومی زندگی کے لئے دو بنیادی اصولوں کا ذکر فرمایا جن کے بغیر قومی زندگی خواہ وہ دینی ہو یا دُنیوی قائم نہیں رہ سکتی۔ان میں سے پہلا اصول یہ ہے کہ:۔
    ’’کوئی تحریک دنیا میں حقیقی طور پر کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اُس میں کوئی نیا پیغام نہ ہو‘‘۔
    دوسرا اصول یہ بیان فرمایاکہ:۔
    ’’ اصلاح کے ہمیشہ دو ذرائع ہوتے ہیں یا صلح یا جنگ یعنی یا تو صلح کے ساتھ وہ پیغام پھیلتا ہے یا جنگ اور لڑائی کے ساتھ پھیلتا ہے‘‘۔
    اس کے بعد حضور نے انقلاب حقیقی کے معنی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ دُنیاوی لحاظ سے انقلاب حقیقی کے معنی ہیں رائج الوقت نظام کو مکمل طور پر ختم کر کے اُس کی جگہ کوئی نیا نظام قائم کرنا۔ دینی اصطلاح میں انقلاب حقیقی کو مختلف الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ جیسے اَلْقَیَاَمَۃُ، اَلسَّاعَۃُ۔ اور کبھی نئی زمین اور نئے آسمان کے پیدا کئے جانے کے الفاظ سے اس کی حقیقت کو ظاہر کیا گیا ہے۔
    اس کے بعد حضور نے تاریخ عالَم میں کامیاب ہونے والی درج ذیل پانچ عالمگیر اور مہتم با لشان مادی تحریکوں کا تفصیل سے ذکر فرمایا اور ثابت کیا کہ ان کی کامیابی مذکورہ دو اصولوں کے تابع تھی۔
    ۱۔ آرین تحریک ۔۲۔ رومن تحریک۔۳۔ ایرانی تحریک۔۴۔بابلی تحریک۔ ۵۔ مغربی تحریک
    مذکورہ بالاپانچ مادی تحریکات کی ضروری تفاصیل اور ان کی کامیابی کا راز بیان کرنے کے بعد مذہبی تحریکات کے سات بڑے بڑے اَدوار کا تفصیل سے ذکر فرمایا جو درج ذیل ہیں۔
    ۱۔دورِ آدم۔۲۔دورِ نوح۔۳۔ دورِابراہیم۔۴۔ دورِ موسیٰ۔۵۔ دورِ عیسیٰ۔۶۔ دورِ محمدی۔ ۷۔ دور ِمسیح محمد۔
    حضور نے دورِ مسیح محمدی کے انقلاب کو درحقیقت احیا ئے تعلیم مصطفوی کو ہی قرار دیا ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے ذریعہ پیدا ہونے والے انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے تحریک جدید کے مقاصد کو بیا ن فرمایا اور عملی انقلاب کو تحریک جدید کے مطالبات کے ساتھ وابستہ قرار دیا ۔ نیز جماعت احمدیہ کی ذمہ داریوں کو بیان فرمایا۔
    اِس تقریر میں حضور نے تمدن کے متعلق اسلامی تعلیم بیا ن کرتے ہوئے درجِ ذیل امور کی طرف توجہ دلائی۔
    ۱۔اخلاقِ حسنہ۔۲۔معاملات ۔۳۔خدمت قومی۔۴۔ رزقِ حلال۔۵۔ چستی اور محنت۔ ۶۔بنی نوع انسان کی خیر خواہی۔۷۔ صفائی ۔۸۔صداقت۔۹۔ کسب۔۱۰۔ جائداد کی حفاظت کا حکم۔
    آخر پر تمدنِ اسلام کے قیام کے ذرائع پر روشنی ڈالی نیز اِس سلسلہ میں پیش آمدہ مشکلات کا بھی ذکر فرمایا۔ حضور نے اپنے اِس عظیم الشان اور پُرمعارف خطاب کا اختتام احباب جماعت کو بعض نصائح کرتے ہوئے اِن دعائیہ کلمات پر فرمایا۔
    ’’ پس آؤ کہ ہم خدا سے ہی دعا کریںکہ اے خدا تو ہم کو سچا بنا تو ہمیں جھوٹ سے بچا۔ تو ہمیں بُرائی سے بچا۔ تو ہمیں غفلت سے بچا۔ تو ہمیں نافرمانی سے بچا۔ اے خدا! ہمیں اپنے فضل سے قرآن پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمارے چھوٹوں کو اور ہمارے بڑوں کو، ہمارے مردوں کو اور ہماری عورتوں کو، ہمارے بچوں کو اورہمارے بوڑھوں کو سب کو یہ توفیق دے کہ وہ تیرے کامل مُتّبع بنیںاور اُن تما م لغزشو ں اور گناہوں سے محفوظ رہیں جو انسان کا قدم صراطِ مستقیم سے منحرف کر دیتے ہیں۔ اے ہمارے رب! ہمارے دلوں میں اپنی محبت پیدا فرما۔ اے ہمارے رب! اپنی تعلیم، اپنی سیاست، اپنے اقتصاد ، اپنی معاشرت اور اپنے مذہب کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال، ان کی عظمت ہمارے اندر پیدا کر یہاں تک کہ ہمارے دلوں میں اُس تعلیم سے زیادہ اور کوئی پیاری تعلیم نہ ہو جو تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہمیں دی۔ اے خدا جو تیری طرف منسوب ہو اور تیرا پیاراہو وہ ہمارا پیارا ہو اور جو تجھ سے دُورہو اُس سے ہم دُور ہوں۔ لیکن سب دنیا کی ہمدردی اور اصلاح کا خیال ہمارے دلوں پر غالب ہو اور ہم اس انقلابِ عظیم کے پیدا کرنے میں کامیاب ہوں جو تو اپنے مسیح موعودعلیہ السلام کے ذریعہ سے قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کر چکا ہے! اٰمِیْنَ۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ‘‘
    (۲) فیصلہ ہائیکورٹ بمقدمہ میاں عزیز احمد اور
    جماعت احمدیہ
    میاںفخرالدین ملتانی نے جماعت احمدیہ سے انحراف اختیار کرنے کے بعد حضرت مصلح موعود کے خلاف سخت بد زبانی کی اور آپ پر متعدد بے بنیاد الزامات لگائے جن کا حضرت مصلح موعود نے اپنی بعض تقاریر میں ردّ کرتے ہوئے اپنی بریت کا اظہار فرمایا۔ فخرالدین ملتانی کی بدزبانی اور الزام تراشی پر ایک احمدی دوست میاں عزیز احمد صاحب اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور اس سے لڑائی کے نتیجہ میں وہ شخص ہلاک ہوگیا۔ اِس مقدمۂ قتل کا ہائیکورٹ نے جو فیصلہ لکھا اُس میں بعض کلمات یا فقرات ایسے تھے جن سے یہ تأثرلیا جاسکتا تھا کہ یہ قتل امام جماعت احمدیہ کی تقاریر سے اشتعال پیدا ہونے کے نتیجہ میں ہؤا ہے لہذا علماء و عمائدین کو ایسی تقاریر نہیں کرنی چاہئیں جن کے نتیجہ میں اشتعال پیدا ہو۔ چنانچہ فیصلہ کے ایسے فقرات سے مخالف مولویوں اور مخالف اخبارات نے یہ نتیجہ نکالا کہ گویا یہ قتل مرزا محمود احمد صاحب کے ایماء پر ہؤا ہے اور اس کا خوب پروپیگنڈا کیا۔ اس صورتحال سے احبابِ جماعت کو بہت پریشانی ہوئی جس کے پیش نظر حضرت مصلح موعود نے مؤرخہ ۱۱؍ جنوری ۱۹۳۸ء کے روزنامہ الفضل میں یہ مضمون تحریر فرمایا۔ جس میں احباب جماعت کو ایسے حالات میں صبروتحملکا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی گئی نیز میاں عزیز احمد صاحب کی اِس غلطی کے نتیجہ میں خلافت کا جو مقام اور جماعت کی جو ساکھ متأثر ہوئی اس کے کفارہ کے طور پر کثرت سے استغفار کرنے، دعائیں کرنے ، روزے رکھنے اور تہجد وغیرہ ادا کرنے کی تحریک فرمائی۔
    (۳) جماعت احمدیہ سے قربانی کا مطالبہ
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا یہ مضمون روزنامہ الفضل قادیان میں مؤرخہ ۲۱؍مئی۱۹۳۸ء کو شائع ہؤا جس میں حضور نے احباب جماعت سے قربانیوں کا مطالبہ کیاہے۔ اِس مطالبہ کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اُن دنوںگورداسپو کی انتظامیہ کا جماعت احمدیہ سے رویہ نہایت افسوسناک تھا اور حالات کی نزاکت کے پیشِ نظر حفظِ ماتقدم کے طور پر احباب جماعت کو ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرنا مقصود تھا۔
    اِس مضمون میں حضور نے قربانی کی حقیقت اور جماعت احمدیہ کی ذمہ داری پر روشنی ڈالی ہے اور قربانی کے فلسفہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جماعت کو صرف جانی قربانی کی ضرورت نہیں بلکہ ہر میدان میں قربانیوں کی ضرورت ہے۔ نیز آپ نے یہ بھی وضاحت فرمائی کہ احمدیت کے جانی قربانی کے مطالبہ سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ کسی محاذ پر جا کر جنگ کرتے ہوئے جان قربان کرنا، بلکہ احمدیت کے لئے قربانی دینے کا مطلب امام کی آواز پر لَبَّیْکَ کہنا ہے۔
    حضور نے اپنے اِس مضمون میں جس قربانی کا مطالبہ کیا ہے وہ ہر حال میں سچائی اور راستی کو اختیار کرنا ہے جس کی خاطر خواہ جان کی قربانی دینی پڑے، خواہ جذبات کی قربانی دینی پڑے اور خواہ اپنے تمام حقوق سے محروم ہونا پڑے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔
    ’’ یاد رکھو کہ جن قربانیوں کا مَیں پہلی قسط کے طور پر مطالبہ کر رہا ہوں معمولی قربانیاں نہیں ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نفس کو مارنا دشمن کو مارنے سے بہت زیادہ مشکل کام ہے۔ اگر جماعت صداقت کے اِس معیار کو قائم کر دے جسے سلسلہ احمدیہ پیش کرتا ہے تو یقینا اُسے کوئی دشمن نقصان نہیں پہنچا سکتا۔کمزوری ہماری ہی طرف سے ہوتی ہے ورنہ ہمارا خدا وفادار ہے وہ خود ہمیں نہیں چھوڑتا ……اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام جماعت کو اِس وقت کی ضرورت کو سمجھنے کی توفیق دے اور جوش اور اظہارِ غضب کے بجائے سچی قربانی کے پیش کرنے اور اس پر مستقل رہنے کی توفیق دے ۔کیونکہ قربانی وہ نہیں جو ہم پیش کرتے ہیں، قربانی وہ ہے جس کا زمانہ کی ضرورت کے مطابق ہمارا رب ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔ ہمارے دشمنوں کو ہم نے نہیں بلکہ ہمارے خدا نے شکست دینی ہے۔ سچی قربانی کرو اور دعائیں کرو اور کبر اور خود پسندی کو چھوڑ دو اور بڑے ہو کر منکسر المزاج بنو اور طاقت کے ہوتے ہوئے عفو کو اختیار کروتا اللہ تعالیٰ تمہارا مدد گار ہو‘‘۔
    (۴) کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے یہ مضمون ۱۷؍مئی ۱۹۳۸ء کو تحریرفرمایا جو روزنامہ الفضل قادیان میں مؤرخہ ۲۲؍ مئی ۱۹۳۸ء کو شائع ہؤا۔ اس مضمون کے ذریعہ چند اہم وفات یافتگان کا ذکرِخیر کرنا مقصود تھا جس میں سے سب سے اہم وفات حضرت چوہدری سر محمد ظفراللہ خان صاحب کی والدہ محترمہ کی تھی۔درحقیقت یہی وفات اِس مضمون کو تحریر کرنے کا باعث بنی۔ دیگر وفات یافتگان میں مکرم حافظ بشیراحمد صاحب واقف زندگی، مکرم چوہدری عبدالقادر صاحب ایڈووکیٹ اور مکرم خان صاحب فقیر محمد خان صاحب شامل ہیں۔ اس مضمون میںحضور نے تمام وفات یافتگان کا ذکرِ خیر کیا ہے اور خاص طور پر حضرت چوہدری سر محمد ظفراللہ خان صاحب کی والدہ ماجدہ کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے ان کے اوصافِ حمیدہ اور خوبیوں پر روشنی ڈالی ہے اور آخر پر دعا کرتے ہوئے فرمایا کہ:-
    ’’ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحومہ کو اپنے قرب میں جگہ دے اور ان کے خاندان کو اِن کی دعاؤں کی برکات سے محروم نہ کرے اور وہ ان کی وفات کے بعد بھی ان کے حق میں پوری ہوتی رہیں‘‘۔ (اٰمِیْنَ)
    (۵) کشمیر ایجی ٹیشن ۱۹۳۸ء کے متعلق چند خیالات
    حضرت مصلح موعود کے بارہ میں ’’پیشگوئی مصلح موعود‘‘ میں آپ کی ایک یہ صفت بھی بیان کی گئی تھی کہ وہ’’ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا‘‘ علاوہ دیگر بے شمار شہادتوں کے اِس مضمون نے پیشگوئی کے ان الہامی الفاظ پر مُہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔
    اِس مضمون میں حضور نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے ایک طبقہ کے درمیان جو غیر فطری اورنا عاقبت اندیشانہ اتحاد پر مبنی معاہدہ ہؤا اُس پر اپنے خیالات کا اظہار فرمایا ہے جس میں اہلِ کشمیر اور حکومت کو دونوں کی فلاح وبہبود پر مبنی بے حد مفید اور ضروری مشورے دیئے۔
    اِس معاہدہ کی بنیادی خامی کی وجہ بیان کرتے ہوئے اور لاکھوں اہلِ کشمیر کے حقوق کو پامالی سے بچانے کی غرض سے فرمایا کہ:۔
    ’’جہاںتک میں سمجھتا ہوں کوئی سمجھوتہ مسلمانوں کے لئے مفید نہیںہو سکتا جب تک وہ لاکھوں مسلمانوں کی بد حالی اور بے کاری کاعلاج تجویز نہ کرتا ہو… جو سمجھوتہ اِس امر کو مدنظر نہیں رکھتا وہ نہ کامیاب ہو سکتا ہے اور نہ امن پیدا کر سکتا ہے ‘‘۔
    اِسی طرح فرمایاکہ:۔
    ’’ پس میرے نزدیک بغیرایک ایسے فیصلہ کے جسے پبلک پر ظاہر کر دیا جائے ایسا سمجھوتہ مفید نہیں ہوسکتا کیونکہ نفع یا نقصان تو پبلک کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ ممکن ہے غیرمسلم لیڈر مسلمانوں کو بعض حق دینے کے لئے تیار ہو جائیں لیکن اُن کی قومیں تسلیم نہ کریں پھر ایسے سمجھوتے سے کیا فائدہ؟‘‘
    (۶) اگر تم تحریک جدید کے مطالبات پر عمل کرو گے
    تو اپنے خدا کو راضی کر لو گے
    حضرت مصلح موعود نے یہ تقریر ۳۱؍جولائی۱۹۳۸ء کو قادیان میں تحریک جدید کے مطالبات کے سلسلہ میں ارشاد فرمائی جو بعد میں ۱۶؍جون ۱۹۵۹ء کو پہلی دفعہ روزنامہ الفضل قادیان میں شائع ہوئی۔
    حضور نے اِس تقریر میں نہایت لطیف پیرایہ میں احبابِ جماعت کو اِس عظیم تحریک میں حصہ لینے کی طرف توجہ دلائی۔ آپ نے فرمایا کہ تحریک جدید وہی قدیم تحریک ہے جو آج سے ساڑھے تیرہ سَو سال پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جاری کی گئی تھی اور اس کے وہی اغراض و مقاصد ہیں جن کے پیش نظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہؤا اور قرآن کریم کا نزول ہؤا اور پھر اِس زمانہ میں تجدید دین کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے اور جماعت احمدیہ قائم ہوئی لہذا اِس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے میں احمدیت کی ترقی اور خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوسکتی ہے۔ اِس خطاب کے آخر پر آپ نے احبابِ جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔
    ’’ میں کہتا ہوں کہ اگر تم نے دیانتداری سے احمدیت کو قبول کیا ہے، اگر تم یقین رکھتے ہو کہ سلسلہ احمدیہ سچا ہے، اگر تم سمجھتے ہو کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں خدا تعالیٰ کی پیروی ہے اور مسیح موعود کی پیروی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہے تو اے مردو اور عورتو! تم تحریک جدید کے اغراض اور مقاصد میں میرے ساتھ تعاون کرو اورانصار اللہ بن جاؤ۔ مجھے تم سے کوئی غرض نہیں۔ اگر تم میرے اِن مطالبات پر عمل کرو گے تو اپنے خدا کو اپنے اوپرراضی کر لو گے اور اگر تم اِن مطالبات پر عمل نہیں کرو گے تو اپنے خدا کو اپنے اوپر ناراض کر لو گے‘‘۔
    (۷) احباب جماعت اور اپنی اولاد سے ایک اہم خطاب
    ۱۱؍ نومبر ۱۹۳۸ء کو جامعہ احمدیہ، مدرسہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام ہائی سکول کے اساتذہ اور طلباء کی طرف سے مدرسہ احمدیہ کے صحن میں حضرت مولوی شیر علی صاحب، حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد، محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب، محترم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب اور محترم صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کی ولایت سے کامیاب مراجعت کی خوشی میں ایک دعوتِ چائے کا اہتمام کیا گیا جس میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے بھی شمولیت فرمائی۔ اس موقع پر حضور نے اپنے خطاب میں مبلغین کی عظیم قربانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے احباب جماعت کو مبلغین کی عزت واحترم کرنے کے حوالے سے ان کے فرائض کی طرف انہیں توجہ دلائی۔ اس کے بعد حضور نے اپنی اولاد اور خاندانِ مسیح موعود کے افراد کو بعض زرّیں نصائح فرمائیںاور اُن پر واضح کیا کہ محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے تعلق کوئی بڑائی یا بزرگی کی بات نہیں بلکہ اصل بزرگی تقویٰ میں ہے۔ آپ فرماتے ہیںکہ:۔
    ’’ پس عزت کا جو چوغہ تم پہنو وہ دوسروں سے مانگا ہؤا نہ ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان میں سے ہونا یا میرا بیٹا ہونا یہ تو مانگا ہؤا چوغہ ہے۔ تمہارا فرض ہے کہ تم خود اپنے لئے لباس مہیا کرو۔ وہ لباس جسے قرآن مجید نے پیش کیا ہے یعنی لِبَاسُ التَّقْوٰی ذَالِکَ خَیْرٌ تقویٰ کا لباس سب لباسوں سے بہتر ہے۔ غرض تم احمدیت کے خادم بنو پھر اللہ تعالیٰ کی نظروں میں بھی تم معزز ہوگے اور دنیا بھی تمہیں عزت کی نگاہ سے دیکھے گی… تم اپنے اندر ذاتی جوہر پیدا کرو، جماعت احمدیہ کے ہر فرد کا خیال رکھو، خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرد ہونے کی وجہ سے تمہیں کوئی امتیاز نہیں، امتیاز خدمت کرنے میں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خدمت کی اللہ تعالیٰ نے آپ پر فضل نازل فرمایا۔ تم بھی اگر خدمت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر بھی اپنا فضل نازل کر ے گا۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
    منہ از بہر ما کُرسی کہ ماموریم خدمت را
    ’’یعنی میرے لئے کُرسی مت رکھو کہ میں دنیا میں خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہوں۔ اسی طرح تم بھی کرسیوں پر بیٹھے کے متمنی نہ بنو بلکہ ہر مسکین اور غریب سے ملو اور اگر تمہیں کسی غریب آدمی کے پاؤں سے زمین پر بیٹھ کر کانٹا بھی نکالنا پڑے تو تم اسے اپنے لئے فخر سمجھو۔ خود تقویٰ حاصل کرو اور جماعت کے دوستوںسے مل کر اُن کو فائدہ پہنچاؤاور جو علم تم نے سیکھا ہے وہ اُن کو بھی سیکھاؤ‘‘ ۔
    (۸) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور امنِ عالَم
    سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۱۱ ؍دسمبر ۱۹۳۸ء کو قادیان میں جلسہ سیرۃ النبی ﷺ کے مبارک موقع پر’’ آنحضرت ﷺ اور امنِ عالَم‘‘ کے موضوع پر یہ لطیف تقریر ارشاد فرمائی جس میں آپ نے قرآن کریم کی رو سے نیز عقلی اور نقلی دلائل سے ثابت کیا کہ امنِ عالَم میں جو کردار آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمنے ادا کیا اِس کی مذہبی و دُنیوی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس لئے توحیدِ باری تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد اِس ضابطہ ء حیات پر عمل کرنا ضروری ہے جوآنحضرت ﷺ کی وساطت سے قرآن کریم کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اِس ساری تقریر کا خلاصہ اور لُبِّ لباب یہ بنتا ہے کہ :۔
    ۱۔ توحیدِ باری تعالیٰ پر کامل ایمان جس کے عملی اظہار کے لئے بیت اللہ جسے امنِ عالَم کے لئے درسگاہ قرار دیا ہے کے ساتھ وابستگی۔
    ۲۔ قرآنی تعلیمات جو امنِ عالَم کے لئے کورس کی حیثیت رکھتی ہیں پر عمل درآمد ۔
    ۳۔ آنحضرت ﷺجو امنِ عالَم کے سب سے بڑے داعی اورمدرّس ہیں کے اُسوہ حسنہ کی تقلید امنِ عالَم کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
    اِس تقریر میں حضور نے امنِ عالَم کے تعلق میں درج ذیل دو سوالات کے مختلف پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
    ۱۔ حقیقی امن سے مراد کیا ہے؟
    ۲۔ حقیقی امن کے حصول کے ذرائع کیا ہیں؟
    (۹)جماعت احمدیہ کی زندگی کا مقصد
    جماعت احمدیہ کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت زمین میں بھی قائم ہو۔یہ مختصر تقریر حضور نے مؤرخہ۲۶؍ دسمبر ۱۹۳۸ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر جلسہ کا افتتاح کرتے ہوئے ارشاد فرمائی جس میں جماعت احمدیہ کے قیام کی غرض و غایت بیان فرمائی ہے اور احباب جماعت کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ:۔
    ’’ہمارے سامنے ایک ہی بات ہونی چاہئے اور وہ یہ کہ ہم اس ذمہ داری کو پوری طرح ادا کریں جوخدا تعالیٰ نے ہم پر رکھی ہے اور ہم اپنی زندگی کے ہر لمحہ کو اپنی طاقتوں اور سامانوں کو کُلّی طور پر اِس لئے صَرف کریں کہ خداتعالیٰ کی بادشاہت جس طرح آسمان پر ہے زمین پر بھی قائم ہو‘‘۔
    (۱۰) تربیتِ اولاد کے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے یہ تربیتی تقریر مؤرخہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۳۸ء کو جلسہ سالانہ قادیان میں مستورات کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمائی جس میں احمدی خواتین کو تربیتِ اولاد کے حوالے سے ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ آپ نے اپنی اِس تقریر میں تربیتِ اولاد کی اصل ذمہ دار عورتوں کو ٹھہرایا ہے چنانچہ اِس تعلق میں آپ نے فرمایا کہ:۔
    ’’ اصل ذمہ داری عورتوں پر بچوں کی تعلیم وتربیت کی ہے اور یہ ذمہ داری جہاد کی ذمہ داری سے کچھ کم نہیں۔ اگر بچوں کی تربیت اچھی ہو تو قوم کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے اور قوم ترقی کرتی ہے۔ اگر ان کی تربیت اچھی نہ ہو تو قوم ضرور ایک نہ ایک دن تباہ ہو جاتی ہے پس کسی قوم کی ترقی اور تباہی کا دارومدار اُس قوم کی عورتوں پر ہی ہے‘‘۔
    حضور نے اپنی اِس تقریر میں مردوں کو بھی ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ خاص طور پر عورتوں کے جذبات کا خیال رکھنے اور اُن کے رشتے داروں سے حُسنِ سلوک کی تلقین فرمائی ہے۔ اِس سلسلہ میں آپ نے بڑی ہی پُر حکمت بات فرمائی کہ عورتوں کے جذبات کا خیال نہ رکھنے سے وہ کئی قسم کی بیماریوں میں مبتلاء ہو جاتی ہیں اِس لئے مرد کو اپنی بیوی کے جذبات کا خیال رکھنا چاہئے۔ اِس تقریر کے آخرپر حضور نے تحریک جدید اور عورتوں کی ذمہ داریوں پر بھی مختصراً روشنی ڈالی ہے اور تحریک جدید کے سادہ زندگی کے مطالبہ کا عورتوں کے ساتھ گہرا تعلق بیان کرتے ہوئے عورتوں کو نصیحت فرمائی کہ:۔
    ’’پس تحریک جدید میں عورتوں کا بہت بڑا دخل ہے۔ تم اقتصادی طور پر اپنے خاوندوں کی مدد کرو، سادہ خوراک اور سادہ کھانے کی عادت ڈالو، جو عورت زیور سے خوش ہوجاتی ہے وہ بڑے کام نہیں کر سکتی۔ پس سادہ کھانا کھاؤ، سادہ کپڑے پہنو اور مساوات قائم کرو ورنہ خدا تعالیٰ خود تمہارے اندر مساوات قائم کر دے گا‘‘ ۔
    (۱۱)بانی سلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۲۷؍ دسمبر ۱۹۳۸ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر یہ تقریر ارشاد فرمائی تھی جس میںروز نامہ الفضل اور سلسلہ کے دیگر اخبارات و رسائل کی خریداری بڑھانے کی طرف احباب جماعت کو توجہ دلائی اور اِس ضمن میں عملہ الفضل کو بھی حضور نے اپنی قیمتی ہدایات سے نوازا۔ نیز جماعت احمدیہ کی غرض وغایت اور جماعت کے بعض مخصوص عقائد پر نہایت دلچسپ اور عام فہم رنگ میں روشنی ڈالی اور عقلی ونقلی دلائل سے ثابت کیا کہ جماعت احمدیہ کا مَسلک ہی صحیح اسلامی مَسلک ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور کا مقصد صرف اسلام اور قرآن کی خدمت کرنا تھا۔ روزنامہ الفضل کی اشاعت کے متعلق آپ نے فرمایاکہ:۔
    ’’ اتنی وسیع جماعت میں الفضل کی اشاعت کم ازکم پانچ سات ہزار ہونی چاہئے ایک علمی اور مذہبی جماعت میں ’’الفضل’‘‘ کی اِس قدر کم خریداری بہت ہی افسوسناک ہے…مَیںدوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ سلسلہ کے اخبارات خریدیں اور کوشش کریں کہ ان کا مذاق علمی ہو جائے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جو لوگ سلسلہ کے اخبارات نہیں خریدتے اُن کے بچے احمدیت کی تعلیم سے بالکل ناواقف ہوتے ہیں پس دوستوں کو چاہئے کہ وہ اخبارات اور رسالے ضرور خریدیںبلکہ جو اَن پڑھ ہیں وہ بھی لیںاور کسی پڑھے لکھے سے روزانہ تھوڑا تھوڑا سنتے رہا کریں تاکہ ان کی علمی ترقی ہو اور سلسلہ کے حالات سے وہ باخبر رہیں‘‘۔
    (۱۲) سیرِ روحانی(۱)
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے جو معرکۃ الآراء اور روح پرور تقریر مؤرخہ ۲۸؍ دسمبر۱۹۳۸ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر ارشاد فرمائی وہ بعد میں اپنے روح پرور مضمون کے اعتبار سے ’’سیرروحانی‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ پیشگوئی مصلح موعود میں آپ سے متعلق یہ جو صفات بیان کی گئی تھیں کہ وہ:۔
    ’’ علوم ظاہر ی وباطنی سے پُر کیا جائے گا‘‘
    نیز یہ کہ:۔
    ’’ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے‘‘
    یہ عظیم الشان تقریر اِن دونوں صفات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حضرت مصلح موعود نے اکتوبر۱۹۳۸ء کو حیدرآباد دکن کادورہ کیا اور بعض تاریخی مقامات کی سیر کی۔ علاوہ ازیں آپ نے دہلی ،آگرہ اور بمبئی وغیرہ کے بہت سارے تاریخی مقامات کی سیر کی اور آثار قدیمہ دیکھے جن میں نمایاں طور پر جامع مسجد دہلی، قطب صاحب کی لاٹ ، دیوانِ عام، جنترمنتر، مقبرے ، حوضِ خاص، آگرہ کا تاج محل، قلعے ،دیوانِ عام اور دیوانِ خاص وغیرہ شامل ہیں۔اِن مقامات کی سیرکے دَوران حضور پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوئی اور ایک عظیم انکشاف ہؤا۔ اِس کیفیت کا ذکر حضور نے اپنے اِن الفاظ میں بیان فرمایا:۔
    ’’ سب عجائبات جو سفر میں مَیں نے دیکھے میری آنکھوں کے سامنے سے گزر گئے… آخر وہ سب ایک اَور نظارہ کی طرف اشارہ کر کے خود غائب ہوگئے۔ مَیں اِس محویت کے عالَم میں کھڑا رہا، کھڑا رہا اور کھڑا رہا۔ اور میرے ساتھی حیران تھے کہ اِس کو کیا ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ مجھے اپنے پیچھے سے اپنی لڑکی کی آواز آئی… مَیں اُس آواز کو سن کر پھر واپس اِس مادی دنیا میں آگیا۔ مگر میرا دل اُس وقت رقت آمیز جذبات سے پُر تھا وہ خون ہو رہا تھا اور خون کے قطرے اس سے ٹپک رہے تھے… میں نے افسوس سے اِس دنیا کو دیکھا اور کہا ’’میں نے پالیا۔ میں نے پالیا‘‘۔
    آپ پر یہ امر منکشف ہؤا کہ ان دُنیوی اور مادی نظاروں اور مقامات کے مقابل پر روحانی نظارے، روحانی مقامات مثلاً روحانی مساجد، روحانی سمندر، روحانی جنتر منتر، قلعے، مقبرے، باغات اور روحانی بلند مینار، دیوان عام، دیوان خاص اور روحانی نہریں موجود ہیں جو اپنی شان وشوکت، عظمتِ روحانی اور جلال وجمال، خوبصورتی اور پائیداری میں کہیں بڑھ کر ہیں مگر دنیا اِن سے بے خبر ہے چنانچہ اِس انکشاف کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔
    ’’ یہ امور تفصیلاً یا اِجمالاً اُس وقت میرے ذہن میں آئے اور پھر میرے دل نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا یہ تیری زندگی کا بہترین تجربہ ہے؟ کیا ان سے بڑھ کر ایسی ہی چیزیں تو نے نہیں دیکھیں؟ …اِس سوال کے پیدا ہوتے ہی وہ تمام نظارے جو میری آنکھوں کے سامنے تھے غائب ہو گئے اور ایک اَور نظارہ میری آنکھوں کے سامنے آگیا اور ایک نئی دنیا میری آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگ گئی۔ میں اس نئی دنیا کے آثارِقدیمہ کو دیکھنے میں مشغول ہؤا تو مَیں نے ایسے عظیم الشان آثارِقدیمہ دیکھے جو اِن آثارِ قدیمہ سے بہت زیادہ شاندار تھے جن کے خیال میں میرا دل محو تھا… ایک بڑا جنتر منتر جس کا اندازہ لگانا بھی انسانی طاقت سے باہر ہے میری آنکھوں کے سامنے پیدا ہؤا۔ بڑی بڑی غیر معمولی خوبصورتیوں والے باغات، عدیم المثال نہریں، بے کنار سمندر، عالیشان قصر، ان کے لنگر خانے، دیوانِ عام، دیوانِ خاص، بازار، لنگر خانے، کتب خانے، بے انتہابُلند مینار اور غیر محدود وسعت والی مسجد، دلوں کو ہِلادینے والے مقبرے ایک ایک کر کے میری نگاہوں کے آگے پِھرنی شروع ہوئیں اور میں نے کہا اُف! میں کہاں آگیا۔ یہ چیزیں میرے پاس ہی موجود تھیں۔ تمام دنیا کے پاس موجود تھیں لیکن دنیا اِن کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتی۔ میرا دل خون ہوگیااپنی بے بسی پر کہ مَیں یہ چیزیں دنیا کو دکھانے سے قاصر ہوں۔ میرا دل خون ہوگیا دنیا کی بے توجہی پر مگر میرا دل مسرور بھی تھا اِس خزانے کے پانے پر کہ ایک دن میں یا خدا کا کوئی اور بندہ یہ مخفی خزانے دنیا کو دکھانے میں کامیاب ہو جائے گا۔‘‘
    چنانچہ اِن تاریخی مقامات اور عجائباتِ قدرت کو ایک ایک کر کے آپ نے اپنی جلسہ سالانہ کی تقریروں میں روحانی رنگ میں قرآن وحدیث کی روشنی میں ایسے پُر اثر اور روح پرور نظاروں کی شکل میں پیش فرمایا ہے کہ روح وجد میں آجاتی ہے۔
    (۱۳) روس اور موجودہ جنگ
    جنگ عظیم دوئم کے دَوران جب روس پولینڈ میں داخل ہؤا تو اُس وقت حضرت مصلح موعود نے یہ مضمون تحریر فرمایا جو ۲۱؍ ستمبر ۱۹۳۹ء کے روزنامہ الفضل قادیان میں شائع ہؤا۔
    حضور نے اِس مضمون میں روس کے پولینڈ میں داخلہ کی وجوہات اور مقاصد کا تجزیہ کرتے ہوئے تبصرہ فرمایا کہ روس پولینڈ کو تقسیم کرنا چاہتا ہے اس کی نیت ٹھیک نہیں لگتی۔ اس نے جرمنی کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا ہے اور اپنی فوجیں پولینڈ بھیجنے پرمُصِرّاس لئے ہے کہ جرمنی کے لئے پولینڈ پر قبضہ کے لئے سہولت پیدا کر دے اور بغیر خونریزی کے پولینڈ کی حکومت ختم ہو جائے۔ اگر اس طرح کامیابی نہ ہو تو اِس معاہدہ کے ذریعہ جرمنی پولینڈ پر حملہ کر دے۔ اگر دوسری اقوام دخل نہ دیں تو ٹھیک ورنہ جرمنی پولینڈ کو کُچل دے اور دونوں ممالک اِس کو تقسیم کر لیں۔نیز اِس مضمون میں حضور نے اِس جنگ کے بعد کے حالات پر روشنی ڈالی ہے اور اپنی بصیرت اور فراست سے اتحادیوں کو مفید مشورے دیئے ہیں۔
    (۱۴) خدام سے خطاب
    حضرت مصلح موعود نے یہ خطاب مؤرخہ ۲۵؍ دسمبر ۱۹۳۹ء کو برموقع سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ ارشاد فرمایا۔ اِس خطاب کے آغاز میں حضور انور نے بعض انتظامی غلطیوں کی نشاندہی فرمائی اور انتظامی اُمور سے متعلق بعض مفید مشورے عطا فرمائے۔
    یہ اجتماع جلسہ سالانہ سے ایک روز قبل منعقد کیا گیا جس سے جلسہ سالانہ کے انتظامات میں دقتیں پیش آئیں اس لئے فرمایا کہ آئندہ ایسے اجتماع جلسہ سالانہ کے ساتھ نہ رکھے جائیں۔
    اِس اجتماع پر پہلی دفعہ اوّل آنے والی مجلس کو علمِ انعامی دینے کا فیصلہ ہؤا مگر چونکہ جماعت کے جھنڈے کی ابھی قانونی طور پر منظوری نہیں ہوئی تھی اِس لئے اِس موقع پر حضور نے جماعت کے جھنڈے کی منظوری دیتے ہوئے اعلان فرمایا کہ یہ علمِ انعامی آج کی بجائے جلسہ کے آخری روز دیا جائے گا جب جماعت کا جھنڈا لہرایا جائے گا۔ اِس موقع پر آپ نے خدام کو نصائح کرتے ہوئے فرمایاکہ:۔
    ’’ پس آج میں یہ دو باتیں خاص طور پر خدام الاحمدیہ سے کہنا چاہتا ہوں اوّل یہ کہ واقعات کی دنیا میں قیاس سے کام نہ لو اور جو کام تمہارے سپرد کیا جائے اُس کے متعلق اُس وقت تک مطمئن نہ ہو جاؤ جب تک وہ ہو نہ جائے اور دوسرے یہ کہ کام اختیار کرتے وقت پوری احتیاط سے کام لو۔ وہ کام اپنے یا دوسروں کے ذمہ نہ لگاؤ جو تم جانتے ہو کہ نہیں کر سکتے اور جب اِس امر کا اطمینان کر لو کہ اچھا کام ہے اور تم کر سکتے ہو تو پھر خود اُسے کرنے سے مت جھجھکو۔ پھر جب یہ دیکھو کہ کام ضروری ہے مگر تمہارا نفس کہتا ہے کہ تم اسے کرنہیں سکتے تو اپنے نفس سے کہو کہ تو جھوٹا ہے اور غلط کہتا ہے یہ کام اللہتعالیٰ ضرور کردے گا اور پھر اُسے شروع کردو‘‘ ۔
    اِن نصائح کے بعد حضور نے بطور نمونہ اپنی زندگی کے بعض ایمان افروز واقعات بیان فرمائے۔
    (۱۵) احمدیت زندہ ہے زندہ رہے گی اور دنیا کی کوئی طاقت اسے مٹا نہیں سکے گی
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے یہ مختصر خطاب مؤرخہ ۲۶؍دسمبر ۱۹۳۹ء کو جلسہ سالانہ قادیان کا افتتاح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
    اِس روح پروراور ایمان افروز خطاب کے آغاز میں حضور انور نے غیر مبائعین میں سے بعض کے اِس قسم کے دعووں کا ذکر فرمایا جن میں احمدیت کے چند سال کے اندر اندر نیست ونابود ہو جانے اور عیسائیت کا غلبہ ہو جانے کی پیشگوئیاں کی گئی تھیں اور فرمایا کہ یہ دعوے کرنے والے خود بھی گزر گئے اور اُن کے ساتھی بھی گزر گئے مگر احمدیت خدا کے فضل سے دن دُگنی اور رات چوگنی ترقی کی طرف گامزن ہے۔ ۲۶ سال قبل یہاں چند سَو آدمی جمع ہوتے تھے مگر آج خدا کے فضل سے ہزاروں افراد جمع ہیں۔ آپ نے فرمایاکہ:۔
    ’’ یہاں عیسائیت کا قبضہ بتانے والا مرگیا اور اُس کے ساتھی بھی مر گئے اُن کا واسطہ خدا تعالیٰ سے جا پڑا مگر احمدیت زندہ رہی، زندہ ہے اور زندہ رہے گی۔ دنیا کی کوئی طاقت اِسے مٹا نہ سکی اور نہ مٹا سکے گی۔ عیسائیت کی کیا طاقت ہے کہ یہاں قبضہ جمائے، عیسائیت تو ہمارا شکارہے‘‘۔
    اِس کے بعد حضور انور نے پوری دنیا میں احمدیت کی غیر معمولی ترقیات کا ذکر کرتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی کہ سیرالیون میں ہر قسم کی مخالفت کے باوجود وہاں کے ۲ رئیس پانچ صد افراد کے ہمراہ احمدیت میں داخل ہو گئے ہیں اور اس طرح یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا کے نظارے دیکھنے میں آرہے ہیں۔
    آخر پر حضور انور نے بعض دعاؤں کی تحریک فرمائی خاص طور پر یہ دُعا کی کہ :۔
    ’’اللہ تعالیٰ ہمیں اِس کی توفیق نہ دے کہ جب ہم میں طاقت اور غلبہ آئے تو ہم ظالم بن جائیں یا سُست اور عیش پرست ہو جائیں بلکہ پہلے سے زیادہ متواضع، پہلے سے زیادہ رحم دل اور پہلے سے زیادہ اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کے لئے خرچ کرنے والے ہوں‘‘۔ (اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ)
    (۱۶) مستورات سے خطاب
    جلسہ خلافت جوبلی کی مبارک تقریب کے موقع پر مؤرخہ۲۷؍دسمبر۱۹۳۹ء کو لجنہ اماء اللہ قادیان نے حضورِ انور کی خدمت میں ایک ایڈریس پیش کیا ۔ یہ ایڈریس حضرت سیدہ اُمِّ طاہر صاحبہ جنرل سیکرٹری لجنہ اماء اللہ قادیان نے پیش کیا۔ اِس ایڈریس کے جواب میں حضور نے لجنہ اماء اللہ کو بعض زرّیں نصائح ارشاد فرمائیں۔
    اِسی طرح اس موقع پر ایک انگریز نو مسلم خاتون نے بھی لجنہ اماء اللہ انگلستان کی نمائندگی کرتے ہوئے حضور کی خدمت میں انگریزی زبان میں ایک ایڈریس پیش کیا جس کا حضور نے بھی انگریزی میں جواب دیا۔
    اِس خطاب میں حضور نے لجنہ کو جو نصائح فرمائیں اُن کا خلاصہ یہ ہے کہ دین کی تعلیم پر عمل کرنے کے لئے کوئی عورت باپ، بھائی یا خاوند کی پابند نہیں ہے بلکہ قرآن کریم پرعمل میاں بیوی اور مرد و عورت دونوں پر فرض ہے آپ نے فرمایا کہ:۔
    ’’ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں اور مرد سب کے سب ایک ہی مقصد کیلئے پیدا کئے گئے ہیں اور وہ مقصد خدا تعالیٰ کے قرب کا حصول ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ سب مرد اور عورتیں مل کر اُس کے حضور پاک دل اور نیک ارادہ لے کر آئیں اور خدا تعالیٰ کے قرب میں وہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجے حاصل کریں۔ سارا قرآن اِسی سے بھرا پڑا ہے…… یہ بالکل غلط ہے کہ خاوند کو یا بھائی کو یاباپ کو مذہب کے معاملہ میں عورت پر کسی قسم کا تصرف حاصل ہے ۔ ہر عورت کو حق ہے کہ جب دین کی کوئی بات سمجھ میں آجائے تو اُس پر عمل کرے خواہ سب اُس کے مخالف ہوں‘‘۔
    (۱۷) اہم اور ضروری امور
    حضرت فضل عمر نے مؤرخہ ۲۷ ؍دسمبر ۱۹۳۹ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر بعض متفرق انتظامی اور تربیتی امور سے متعلق یہ اہم خطاب فرمایا جو ۳؍ جنوری ۱۹۴۰ء کے روز نامہ الفضل قادیان اور ۳؍اکتوبر ۱۹۵۹ء کے روزنامہ الفضل ربوہ میں شائع ہؤا اور اَب پہلی دفعہ کتابی صورت میں شائع ہورہا ہے۔
    اِس خطاب میں حضور نے سب سے پہلے شیخ عبدالرحمن مصری اور ان کے ساتھیوں کی ایک اشتعال انگیز حرکت کا ذکر فرمایا۔ جس کے بعد سلسلہ کے اخبارات کے بارہ میں بعض ہدایات فرمائیں۔ نیز تعلیم و تربیت، اچھوتوں میںتبلیغ اورمغربی کھیلوں کی بجائے دیسی کھیلوں کو رائج کرنے کے بارہ میں ارشادات فرمائے ۔ اِسی طرح تحریک جدید کے ماتحت ۵ ہزار مبلغ تیار کرنے، ہجری شمسی کیلنڈر کے بارہ میں ارشادات اور ہدایات نیز سال میں ہر احمدی کو ایک بیعت کروانے، لڑکیوں کو ورثہ دینے جیسی تحریکات اِس خطاب میں شامل ہیں ۔
    اِس خطاب کے آخرپر حضور نے اصلاحِ اعمال کا ایک لطیف گُر بیان کرتے ہوئے آنحضرتﷺ کی اِس نصیحت کی طرف توجہ دلائی جو آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمائی کہ ہر مسلمان کی جان، اُس کا مال اور اُس کی عزت خدا کے حضور وہی مقام رکھتی ہے جو حج کا دن رکھتا ہے، جو ذوالحجہ رکھتا ہے اور جو مکہ ومکرمہ رکھتاہے اور اِس سلسلہ میں آنحضرت ﷺنے تحریک فرمائی کہ:۔
    ’’ جو یہ حدیث سُنے اُسے دوسروں تک پہنچا دے‘‘۔
    اِس وصیت کے بارہ میں فرمایا کہ یہ وصیت قومی تربیت و اتحاد اور اعلیٰ اخلاق کے حصول کا ایک سنہری و نایاب گُر ہے۔ وہ نصیحت یا وصیت یہ ہے کہ اے مسلمانو! خانہ کعبہ، ایامِ حج اور ماہِ حج کی جو عزت و حُرمت تمہارے دلوں میں ہے وہی عزت تمہیں ادنیٰ سے ادنیٰ مومن کے جان ومال اور عزت کی کرنی چاہئے ۔
    اپنے اِس اہم خطاب کے آخر میں آپ نے فرمایا:۔
    ’’ اگر مسلمان یہ حدیث ایک دوسرے کو پہنچاتے رہتے تو اِن کے دلوں میں ایسی نرمی، محبت، دیانت اور تقویٰ پیدا ہو جاتا کہ وہ اپنے کسی بھائی کو نہ ستاتے۔ نہ اس کی جان پر حملہ کرتے نہ اُس کے مال پر حملہ کرتے، نہ اُس کی آبرو پر حملہ کرتے۔ اور اگر کوئی منہ پھٹ کبھی حملہ کر بیٹھتا تو دوسرا اُسے یاد دلا دیتا کہ میاں! کیا کرنے لگے ہو۔ تم خانہ کعبہ پر حملہ کرتے ہو، تم ذوالحجہ پرحملہ کرتے ہو،تم حج کے دن پر حملہ کرتے ہو۔ کیا اتنے مقدس مقامات پر حملہ کرتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی؟ اور یقینا اس کے بعد وہ شرمندہ ہوتا اور اپنے اِس ناروا فعل پر ندامت کا اظہار کرتا پس اِس سبق کو اچھی طرح یاد رکھو اور دوسروں تک پہنچادو اگر تم اِس تحریک پر عمل کرو گے تو جماعت میں آہستہ آہستہ صحیح تقویٰ پیدا ہو جائے گا اور سِوائے ازلی شقیوں کے جن کا کوئی علاج خدانے مقر ر نہیں کیا باقی سب اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں گے۔ اور جماعتی اتحاد کو کسی طرح ضُعف نہیں پہنچے گا کیونکہ گویہ ایک چھوٹا سا نکتہ ہے مگر اِسی پرقومی زندگی کی بنیاد ہے‘‘۔
    (۱۸) تقریر بجواب ایڈریس ہائے جماعتہائے احمدیہ
    حضرت مصلح موعود کی خلافت کے ۲۵سال پورے ہونے پر ۱۹۳۹ء میں ’’خلافت جوبلی‘‘ کی تقریب منعقد کی گئی۔ اِس موقع پر مؤرخہ ۲۸؍ دسمبر ۱۹۳۹ء کو ہندوستان اور بیرونی ممالک کی جماعتوں کی طرف سے حضور کی خدمت میں ایڈریس پیش کئے گئے۔ یہ تقریر حضور نے ان تمام ایڈریسز کے جواب میں ارشاد فرمائی۔اِس تقریر میں حضور نے فرمایا کہ :۔
    ’’جب سے یہ خلافت جوبلی کی تحریک شروع ہوئی ہے میری طبیعت میں ہمیشہ ایک پہلو سے انقباض سا رہتا آیا ہے اور میں سوچتا رہا ہوں کہ جب ہم خود یہ تقریب منائیں تو پھر جو لوگ برتھ ڈے یا ایسی یہ دیگر تقاریب مناتے ہیں اُنہیں کس طرح روک سکیں گے۔…اس کے متعلق سب سے پہلے انشراحِ صدر مجھے مولوی جلال الدین صاحب شمس کا ایک مضمون الفضل میں پڑھ کر ہوئا جس میں لکھا تھا کہ اِس وقت گویا ایک اَور تقریب بھی ہے اور وہ یہ کہ سلسلہ کی عمر پچاس سال پوری ہوتی ہے۔ تب میں نے سمجھا کہ یہ تقریب کسی انسان کے بجائے سلسلہ سے منسوب ہو سکتی ہے اور اِس وجہ سے مجھے خود بھی اِس خوشی میں شریک ہونا چاہئے۔ دوسرا انشراح مجھے اِس وقت پیدا ہوء ا جب دُرثمین سے وہ نظم پڑھی گئی جو آمین کہلاتی ہے۔ اِس کو سُن کر مجھے خیال آیا کہ یہ تقریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پیشگوئی کو بھی پورا کرنے کا ذریعہ ہے جو اِس میں بیان کی گئی ہے اور اِس کا منانا اِس لحاظ سے نہیں کہ یہ میری پچیس سالہ خلافت کے شکریہ کا اظہار ہے بلکہ اِس لئے کہ خداتعالیٰ کی بات کے پورا ہونے کا ذریعہ ہے نامناسب نہیں اور اِس خوشی میں مَیں بھی شریک ہو سکتا ہوں ‘‘۔
    اِس کے بعد حضور نے اپنی علمی قابلیت اور اپنی تحصیل علم کی روئیداد سنائی جو پیشگوئی مصلح موعود کے اِن الفاظ کو پورا کرنے والی ہے کہ:۔
    ’’وہ سخت ذہین وفہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علومِ ظاہری وباطنی سے پُر کیا جائے گا‘‘۔
    (۱۹) خلافت راشدہ
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۱۹۳۹ء میں خلافت جوبلی کی تقریب سعید کے موقع پر ’’خلافت راشدہ‘‘ کے موضوع پر ایک زبردست تقریر ارشاد فرمائی جو ۲۸،۲۹؍ دسمبر دو دن جاری رہی یہمعرکۃ الآراء تقریر ۱۹۶۱ء میں کتابی صورت میں پہلی بار شائع ہوئی۔ یہ کتاب خدا کے فضل سے علمی دنیا میں ایک نہایت بُلند پایہ تصنیف ہے جس میںنظامِ خلافت کی ضرورت واہمیت اور دیگر تمام پہلوؤں پر قرآن کریم، احادیث اور سنت صحابہ کی رو سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ نیز آنحضرتﷺ کے بعد خلافت راشدہ کی مختصر تاریخ اور حالات و واقعات بیان کئے گئے ہیں اِس کے بعد خلافت احمدیہ کے قیام بِالخصوص خلافت ثانیہ کے انتخاب کے موقع پر پیدا ہونے والے حالات و واقعات اور مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ہم خیال احباب کی طرف سے نظامِ خلافت کے خلاف سازشوں اور پروپیگنڈوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔
    اِس تقریر میں حضور نے نظامِ خلافت اور خلیفۂ وقت کے مقام اور اختیارات پر بھی تفصیل سے بحث فرمائی ہے نیز اِس سلسلہ میں اُٹھنے والے بعض اعتراضات اور سوالات کے قرآن وحدیث کی روشنی میں بڑے مدلّل اورمُسکت عقلی و نقلی دلائل بیان فرمائے ہیں۔
    نظامِ خلافت کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی بنیاد آیتِ استخلاف پر رکھتے ہوئے اِس آیت کے مضامین پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اور آیتِ استخلاف پر اُٹھنے والے اعتراضات کے جوابات دیئے گئے ہیں۔اس تقریر کے آخر پر حضور نے جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایاکہ:۔
    ’’ پس اے مومنوں کی جماعت اور اے عمل صالح کرنے والو! میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ خلافت خداتعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اِس کی قدر کرو جب تک تم لوگوں کی اکثریت ایمان اور عمل صالح پر قائم رہے گی خدا اِس نعمت کو نازل کرتا چلا جائے گا۔ لیکن اگر تمہاری اکثریت ایمان اور عملِ صالح سے محروم ہوگئی تو پھر یہ امر اُس کی مرضی پر موقوف ہے کہ وہ چاہے تو اِس انعام کو جاری رکھے اور چاہے تو بند کردے… پس ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعاؤں میں مشغول رہو اور اِس امر کو اچھی طرح یاد رکھو کہ جب تک تم میں خلافت رہے گی دنیا کی کوئی قوم تم پر غالب نہیں آسکے گی اور ہر میدان میں تم مظفرو منصور رہو گے کیونکہ یہ خدا کا وعدہ ہے‘‘۔
    (۲۰) کارکنانِ جلسہ خلافت جوبلی ۱۹۳۹ء سے خطاب
    حضرت مصلح موعود نے مؤرخہ ۶؍ جنوری ۱۹۴۰ء کو جلسہ خلافت جوبلی کے انتظامات بخیروخوبی اختتام پذیر ہونے پر مدرسہ احمدیہ قادیان کے صحن میں جلسہ کے کارکنان سے جو خطاب فرمایا اُس کا خلاصہ مؤرخہ ۹؍ جنوری ۱۹۴۰ء کے روز نامہ الفضل قادیان میں شائع ہؤا۔
    حضور نے اِس موقع پر قادیان کے جلسہ کو تعداد کے لحاظ سے ہندوستان کا دوسرے نمبر کا جلسہ قرار دیا اور کھانے ورہائش کے انتظامات کے لحاظ سے دنیا بھر میں پہلے نمبر کا جلسہ قرار دیا۔ حضورِانور نے اِس موقع پر فرمایاکہ:۔
    ’’ ممکن ہے کہ جب ہماری جماعت بڑھ جائے اور یہاں قادیان میں ایسے جلسے کرنا مشکل ہو جائیں تو پھر ہم اجازت دے دیں کہ ہر مُلک میں الگ جلسے سالانہ ہؤا کریں‘‘۔
    اِس تقریر میں حضور نے موقع کی مناسبت سے انتظامی امور سے متعلق متعلقہ شعبوں کو ہدایات فرمائیں ۔نیز مہمان نوازی کی اہمیت اور برکات پر روشنی ڈالی اور اپنے خطاب کے آخر میں فرمایاکہ:۔
    ’’ اب میں دُعا کرتا ہوں آپ لوگ بھی دُعاکریں کہ خداتعالیٰ ہماری اِس حقیر خدمت کو قبول فرمائے۔ اور ہماری غلطیوں ، سُستیوں اور کمزوریوں سے در گزر کرے تاایسا نہ ہو کہ غلطیاں ہماری نیکیوں کو کھا جانے والی ہوں اور ہم آئندہ سال اِس سے بھی بڑھ کر خدمت خلق کر کے اپنے خدا کوراضی کر سکیں‘‘۔
    (۲۱) مَیں اسلام کو کیوں مانتا ہوں؟
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے یہ معرکۃ الآراء تقریر مؤرخہ ۱۹؍ فروری ۱۹۴۰ء کو بوقت ساڑھے آٹھ بجے رات بمبئی ریڈیو پر ارشاد فرمائی جو بعد میں کتابی صورت میں شائع ہوئی۔
    حضور نے اپنی اِس مختصر مگر جامع و مانع تقریر کے آغاز میں ہی اِس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ:۔
    ’’ اِسی دلیل سے جس کی بناء پر کسی اور چیز کو مانتا ہوں یعنی اس لئے کہ وہ سچا ہے… اور کسی چیز کا سچا ہونا اس پر ایمان لانے کی کافی دلیل ہے‘‘ ۔
    اِس اجمال کی قدرے وضاحت کرتے ہوئے حضور نے اسلام کی درج ذیل پانچ بنیادی خوبیاں بیان فرمائی ہیں:۔
    ۱ اسلام ہر وہ امر جس کو ماننا ضروری قرار دیتا ہے اُس پر ایمان لانے کیلئے دلیل بھی دیتا ہے۔
    ۲ اسلام صِرف قصوں پر اپنے دعویٰ کی بنیاد نہیں رکھتا بلکہ ہر شخص کو تجربہ کی دعوت دیتا ہے۔
    ۳ اسلام یہ سبق دیتا ہے کہ خداتعالیٰ کے کلام اور کام میں اختلاف نہیں ہوتا۔
    ۴ اسلام کسی کے جذبات کو کُچلتا نہیں بلکہ اُن کی صحیح راہنمائی کرتا ہے۔
    ۵ اسلام نہ صرف اپنے ماننے والوں سے بلکہ سب دنیا سے انصاف بلکہ محبت کرنے کی تعلیم دیتاہے۔
    (۲۲) موجودہ جنگ میں برطانیہ کی کامیابی کیلئے دعا کی تحریک
    جنگ عظیم دوئم کے دَوران حکومتِ برطانیہ کی طرف سے مؤرخہ ۲۶؍ مئی بروزاتور۱۹۴۰ء کے دن اِس جنگ میں کامیابی کے لئے خصوصی دعا کرنے کی تحریک پر مبنی ایک اعلان کیا گیا۔
    چنانچہ اُولِی الْاَمْرِ کے حُکم کے تحت حکومت وقت کے ساتھ ہمدردی اور اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے قادیان میں بھی اُس روز خصوصی دعا کرنے کا اعلان ہؤا اور یہ تقریب بیت اقصیٰ میں منعقد ہوئی۔ اِس دُعائیہ کی تقریب میں حضرت مصلح موعود بھی بنفس نفیس شامل ہوئے اور دعا سے قبل موقع کی مناسبت سے ایک تقریر بھی ارشاد فرمائی جس میں فرمایا کہ چونکہ عیسائیت میں اتوار کا دن مذہبی تہوار کی حیثیت رکھتے ہوئے مقدس سمجھا جاتا ہے اِس لئے حکومتِ برطانیہ نے خصوصی دُعا کے لئے اتوار کے دن کو مقرر کیا ہے۔ ہم حکومتِ وقت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے آج یہاں اِس مقصد کیلئے جمع ہوئے ہیں لیکن چونکہ ہمارے مذہب میں ’’ جمعہ‘‘ کے دن کو قبولیت دعا کے ساتھ خاص مناسبت اور حیثیت حاصل ہے لہٰذا ہم دوبارہ جمعہ کے روز بھی حکومتِ برطانیہ کی فتح کے لئے دُعا کرنے کی غرض سے اکٹھے ہوںگے‘‘۔
    اِس تقریر میں حضور نے جنگ عظیم دوئم کی صورتِ حال پر تجزیاتی لحاظ سے روشنی ڈالی اور ماہرانہ تبصرہ فرمایا اور حکومتِ برطانیہ کو اپنی کوتاہیوں کی طرف توجہ دلائی اور حکومتِ برطانیہ کی فتح کو احمدیت اور اُمتِ مُسلمہ کے لئے مفید قرار دیتے ہوئے اِس کی فتح کے لئے نیک خواہشات کا اظہار فرمایا اور خصوصی دُعا کروائی۔
    حضور کا یہ خطاب ۴ ؍جون ۱۹۴۰ء کو روز نامہ الفضل قادیان میں شائع ہؤا جو پہلی بار کتابی صورت میں شائع ہو رہا ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکَ
    (۲۳) امۃ الودود میری بچی
    حضرت مصلح موعود کا یہ مضمون محترمہ امۃ الودود صاحبہ بنت حضرت مرزاشریف احمد صاحب کے ذکرِ خیر پر مبنی ہے جو حضور نے ان کی وفات پر تحریر فرمایا اور مؤرخہ ۲۳؍جون ۱۹۴۰ء کے روزنامہ الفضل قادیان میں شائع ہؤا۔
    اِس مضمون میں حضور نے ان کی بیماری، وفات، تعلیمی قابلیت کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں نیز ان کے اعلیٰ اخلاق اور اپنے ساتھ پیار و محبت کے تعلق پر روشنی ڈالی ہے۔ حضور ان کی خوبیوں سے اِس قدر متأثر تھے کہ اپنے صاحبزادے مرزا خلیل احمد صاحب کیلئے ان کے رشتہ کی خواہش رکھتے تھے مگر رشتہ کا پیغام بھجوانے سے پہلے ہی ان کی اچانک وفات سے حضور کی خواہش پوری نہ ہو سکی۔ حضور کو اِن سے کس قدر پیاراور محبت کاتعلق تھا اِس کا اندازہ حضور کے اِن کلمات سے لگایا جاسکتا ہے فرمایا:۔
    ’’ دُودی میری بھتیجی توتھی مگر زمانہ کے قرب اور تعلق نے اُسے میرے دل کے خاص گوشوں میں جگہ دے رکھی تھی… میرے اپنے بچوں میں سے کم ہی ہیں جو مجھے اس کے برابر پیارے تھے‘‘۔
    مضمون کے آخر میں اپنے اضطراب اور درد کو دُعائیہ الفاظ میں ڈھالتے ہوئے اپنے رب سے یوں عرض کرتے ہیںکہ:۔
    ’’اے اللہ تعالیٰ! یہ نا تجربہ کار رُوح تیرے حضور میں آئی ہے تیرے فرشتے اِس کے استقبال کو آئیں کہ اسے تنہائی محسوس نہ ہو۔ اِس کے دادا کی رُوح اِسے اپنی گود میں اُٹھالے کہ یہ اپنے آپ کو اجنبیوںمیں محسوس نہ کرے۔محمدرسول اللہﷺ کا ہاتھ اِس کے سر پر ہو کہ وہ بھی اِس کے رُوحانی دادا ہیں اور تیری آنکھوں کے سامنے تیری جنت میں یہ بڑھے یہاں تک کہ تیری بخشش کی چادر اوڑھے ہوئے ہم بھی وہاں آئیں اور اِس کے خوش چہرہ کو دیکھ کر مسرور ہوں اِسی دُعا کے ساتھ مَیں بھی اب تجھے رُخصت کرتا ہوں جا !میری بچی تیرا اللہ حافظ ہو ۔ اللہ حافظ ہو‘‘
    (۲۴)چاند ۔ میرا چاند
    حضرت مصلح موعود ۱۹۴۰ء میں اپنے بعض اہل خانہ کے ہمراہ کراچی تشریف لے گئے اور ایک رات سمند پر سیر کرنے گئے۔ اُس رات چاند خوب چمک رہا تھا اور زبر دست چاندنی رات تھی۔ اِس دلکش نظارہ کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر یاد آگیا اور پچاس سال پہلے کی ایک رات کانظارہ آپ کی آنکھوں کے سامنے پھر گیا ۔
    چاند کو کَل دیکھ کر میں سخت بیکل ہوگیا
    کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اُس میں جمالِ یار کا
    پہلے تو حضور نے اِس شعر کو گنگنانا شروع کیا۔ پھر حضور نے چاند کو مخاطب کر کے اسی جمالِ یار والے محبوب کی یاد میں کچھ شعر ارشاد فرمائے جن کا پہلا شعر کچھ اِس طرح پرہے۔
    یوں اندھیری رات میں اے چاند تو چمکا نہ کر
    حشر اک سیمیں بدن کی یاد میں برپا نہ کر
    حضور نے واپس آکر روزنامہ الفضل قادیان میں ایک مضمون تحریر فرمایاجو مؤرخہ۶؍جولائی ۱۹۴۰ء کو شائع ہؤا۔ حضور نے اِس مضمون میں اِس نظم کا پسِ منظر اور ساتھ ساتھ تشریح بھی تحریر فرمائی۔آخری دو اشعار کی تشریح میں اپنی بھتیجی محترمہ امۃ الودود مرحومہ بنت حضرت مرزا شریف احمد صاحب کا ذکرِ خیر بھی فرمایا ہے۔ جس میں محترمہ کی غیر معمولی اطاعت اور فرمانبرداری پر روشنی پڑتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی آپ پر ہزاروں رحمتیں ہوں اور اللہ تعالیٰ ان کی خوشی کے سامان ہمیشہ پیدا کرتا رہے۔ اٰمِیْنَ



    بانی ئسلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے




    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

    بانی ئسلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے
    (تقریر فرمودہ ۲۷؍ دسمبر ۱۹۳۸ء برموقع جلسہ سالانہ قادیان)
    تشہّد، تعوّذاور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    آج سب سے پہلے میں دوستوں کو سلسلہ کے ساتھ تعلق رکھنے والے بعض اخبارات اور رسائل کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ سلسلہ احمدیہ کی طرف سے شائع ہونے والے اخبارات میں سے سب سے مقدم الفضل ہے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ ہماری جماعت اخبارات اور لٹریچر کی اشاعت کی طرف اتنی متوجہ نہیں جتنا متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ اتنی وسیع جماعت میں جو سارے ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہے اور جس کی سینکڑوں انجمنیں ہیں صرف دو ہزار کے قریب الفضل کی خریداری ہے حالانکہ اتنی وسیع جماعت میں الفضل کی اشاعت کم از کم پانچ سات ہزار ہونی چاہئے۔ ایک علمی اور مذہبی جماعت میں ’’الفضل‘‘ کی اس قدر کم خریداری بہت ہی افسوسناک ہے یورپ میں لوگوں کو اخبارات پڑھنے کی اتنی عادت ہوتی ہے کہ ایک آدمی دو دو تین تین اخبارات ضرور خریدتا ہے حتیّٰ کہ غریب مزدور کے ہاتھ میں بھی ایک دو اخبار تو ضرور ہونگے مگر ہمارے آدمی اس وقت تک اخبار خریدنے کیلئے تیار نہیں ہوتے جب تک اس کا ہر مضمون ان کی دلچسپی کا موجب نہ ہو اور اگر کوئی خریدتا بھی ہے تو وہ پڑھ کر کہہ دیتا ہے کہ ایک دو مضمون ہی اچھے ہیں باقی اخبار میں تو کوئی کام کی بات ہی نہیں گویا ان کے نزدیک اخبار شروع سے لیکر آخر تک ان کی مرضی کے مطابق ہونا چاہئے۔ حالانکہ ولایت میں مَیں نے دیکھا ہے، لوگ اخبار خریدیں گے اور اس میں سے کوئی ایک خبر اپنے مذاق کی پڑھ لیں گے، مثلاً فلاں جگہ گھوڑ دَوڑ ہے‘ لوگوں کو اتنے بجے پہنچ جانا چاہئے اور پھریہ خبر پڑھتے ہی اخبار پھینک دیں گے۔ اسی طرح جاتے جاتے ریل میں یا ٹرام میں ہر شخص اخبار خریدے گا اور پھر گھوڑ دَوڑ یا کرکٹ کے میچ کی خبر پڑھ کر یا گھوڑ دَوڑ اور کرکٹ کے میچ کے نتیجہ پر نظر ڈال کر اخبار چھوڑ دیں گے۔ یہی عورتوں کا حال ہے وہ بھی اخبار خریدتی ہیں اور سوسائٹی میں گَپ شَپ کیلئے کسی پارٹی کی خبر ہوئی تو وہ پڑھ لیتی ہیں یا کوئی شادی کی خبر ہوئی تو وہ دیکھ لیتی ہیں اسی طرح موت کی خبر پڑھ لیتی ہیں اور باقی اخبار کو دیکھتی بھی نہیں۔ اس کے مقابلہ میں جو سیاسی آدمی ہیں وہ صرف سیاسی خبریں پڑھتے ہیں اور باقی اخبار چھوڑ دیتے ہیں اور اگر کوئی ایسا شخص ہو جسے اور کوئی ضروری کام نہ ہو تو وہ مضمون پڑھنے لگ جاتا ہے لیکن ہمارے لوگ اس بات کے عادی ہیں کہ ایک آنہ میں سے جب تک وہ پانچ پیسے کی خبریں نہ نکال لیں ان کی تسلی ہی نہیں ہوتی۔
    ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ہمارے ہاں ایک جاہل شخص ہوء ا کرتا تھا۔ حضرت خلیفہ اوّل اس کے بہت پیچھے پڑے رہتے تھے کہ تو نمازیں پڑھا کر اور آپ چاہتے تھے کہ اسے کچھ نہ کچھ دین کی واقفیت ہو جائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک بہت پرانا خادم تھا اس کا وہ بھتیجا تھا۔ ایک دفعہ وہ بازار سے آٹھ آنے کا گھی لایا جو بِلّا کھا گیا اسے پتہ لگا تو اس پر جنون سوار ہو گیا اور وہ لٹھ لیکر بِلّے کے پیچھے پیچھے بھاگا یہاں تک کہ اس لٹھ سے اس نے بِلّے کو مارا اور چُھری سے پیٹ چاک کر کے اس کی انتڑیوں سے گھی نچوڑ کر رکھ لیا۔ کسی نے پوچھا کہ سناؤ گھی مل گیا وہ کہنے لگا۔ آدھ سیر کی بجائے دس چھٹانک گھی نکلا ہے۔ ہمارے یہ دوست بھی اخبارات سے دس چھٹانک گھی ہی نکالنا چاہتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ایک آنہ خرچ کر کے انہیں پانچ پیسے کی خبریں مل جایا کریں۔ حالانکہ اگر کسی کو علم کی ایک بات بھی اخبار سے مل جاتی ہے تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس کی قیمت اسے وصول ہو گئی بلکہ ایک بات کیا اگر کام کی اسے ایک سطر بھی مل جاتی ہے تو اسے سمجھنا چاہئے کہ ایک آنہ کی اس کے مقابلہ میں حیثیت ہی کیا ہے۔
    پھر ریویو آف ریلیجنز وہ رسالہ ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ خواہش ظاہر فرمائی تھی کہ اس کے دس ہزار خریدار ہوں۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم ایک دفعہ بھی اب تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس خواہش کو پورا نہیں کر سکے۔ ہمارے جلسہ سالانہ پر ہی بیس ہزار آدمی آ جاتے ہیں اور اگر سب دوست اس کی خریداری کی طرف توجہ کریں تو دس ہزار خریدار ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں مگر افسوس ہے کہ ہماری جماعت کو ابھی تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس خواہش کو پورا کرنے کی توفیق نہیں ملی۔ میں سمجھتا ہوں اگر غیراحمدیوں میں اس رسالہ کی کثرت سے اشاعت کی جائے تو دس ہزار خریدار یقینا میسر آسکتا ہے کیونکہ اس رسالہ میں ایسے علمی مضامین شائع ہوتے ہیں جو عام طور پر دوسرے رسالوں کو میسر نہیں آتے۔
    انگریزی دان طبقہ کیلئے تو یہ ضروری ہے کہ وہ اس رسالہ کو کثرت سے خریدے لیکن وہ دوست جو انگریزی نہیں جانتے وہ بھی اگر شادی بیاہ کے موقع پر ریویو آف ریلیجنزکی امداد کے لئے کچھ دے دیا کریں تو ان پر کچھ زیادہ بار نہیں ہو سکتا۔ لوگ شادیوں کے موقع پر صدقہ و خیرات کیا کرتے ہیں اور جو لوگ صدقہ و خیرات نہیں کرتے وہ بھی اور ڈوموں میں جب وہ مبارکباد دینے کیلئے آتے ہیں تو کئی روپے تقسیم کر دیتے ہیں۔
    ایسے موقعوں پر اگر بجائے اور ڈوموں کو روپیہ دینے کے تین چارانگریزوں یاعلم دوست غیر احمدیوں کے نام سال یا چھ چھ ماہ کیلئے رسالہ جاری کرا دیا جائے تو جتنے عرصہ تک رسالہ جاری رہے گا اتنا عرصہ تک وہ ثواب حاصل کرتے رہیں گے۔ اگر کسی کو زیادہ توفیق نہ ہو تو وہ تین ماہ کیلئے ہی رسالہ جاری کرا دے۔ اگر اس کے تین چار روپوں سے تین چار مہینے مسلسل اسلام کی تعلیم لوگوں کے کانوں تک پہنچتی رہے تو وہ خود ہی سمجھ سکتا ہے کہ یہ روپیہ خرچ کرنا اس کیلئے کیسا مفید اور بابرکت ہو گا۔ ڈوموں اور میراثیوں کی مدد کرنا تو اخلاقاً اور شرعاً کوئی پسندیدہ بات نہیں کیونکہ ایسا شخص اپنے روپے سے گانے اور ناچنے کو قائم رکھتا ہے لیکن ایسے رسالہ کی مدد کرنا جو ممالکِ غیر میں تبلیغِ اسلام کا کام دے رہا ہو بہت بڑے ثواب کی بات ہے کیونکہ اس طرح خداتعالیٰ کے دین کو مدد ملتی ہے۔
    اسی طرح ’’البشرٰی‘‘ ایک نہایت ہی اہم رسالہ ہے اور وہ اس علاقہ سے نکلتا ہے جس کے ہم پر اس قدر عظیم الشان احسانات ہیں کہ اگر ہماری کھال اُدھیڑ کر بھی اس کے کپڑے بنا دیئے جائیں تب بھی ان کے احسانات کا بدلہ ہم نہیں اتار سکتے۔ یہ عربوں کی قربانی ہی تھی کہ جس نے ہمیں اسلام سے روشناس کرایا۔ پس اگر ہم عرب کے لوگوں تک احمدیت پہنچا دیں تو یہ ہمارا اُن پر کوئی احسان نہیں ہو گا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اگر ہم اپنی تمام جائدادیں عربوں کیلئے وقف کر دیں اور اپنے اموال ان کی خاطر قربان کر دیں تب بھی ان کا احسان نہیں اتر سکتا کیونکہ انہوں نے روحانی انعام سے ہمیں مالا مال کیا اور ہم جو کچھ دیں گے وہ جسمانی ہو گا لیکن اب خدا نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم ان کو اسی طرح روحانی انعامات سے بہرہ یاب کریں جس طرح انہوں نے ہمیں روحانی انعامات دیئے۔ ان کے باپ دادوں نے ہم کو اسلام دیا تھا اب ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں احمدیت سکھائیں اور اس طرح اس احسان کا بدلہ دیں جو انہوں نے اسلام کی اشاعت کی صورت میں ہم پر کیا۔
    پس خدا نے ہمیں احمدیت دیکر وہ ذریعہ عطا فرمایا ہے جو کسی اور قوم کو حاصل نہیں اور ہمارا فرض ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان میں اشاعتِ احمدیت پر زور دیں اور کم از کم اس رسالہ کی اشاعت کو بکثرت بڑھائیں جو عرب ممالک میں احمدیت کی آواز پہنچانے کیلئے ہماری جماعت کی طرف سے شائع کیا جاتا ہے۔
    اب مَیں تفصیلی طور پر اخبارات کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اخبار ’’الفضل‘‘ کو چلانے میں عملہ پر بہت بڑی ذمہ واری عائد ہوتی ہے اور چونکہ وہ صدرانجمن احمدیہ کے ماتحت ہے اس لئے صدرانجمن احمدیہ پر بھی بہت بڑی ذمہ واری عائد ہوتی ہے۔ میںنے متواتر توجہ دلائی ہے کہ آج کل تجارتی زمانہ ہے اور اخبار کو تجارتی لائنوں پر چلانا چاہئے۔ مگر باوجود اس کے کہ میں نے بار بار توجہ دلائی ہے اخبار چلانے کیلئے تجارتی رنگ اختیار نہیں کیا جاتا اور میں یقینا سمجھتا ہوں کہ جب تک تجارتی لائن اختیار نہیں کی جائے گی اس وقت تک اخبار والوں کو کامیابی نہیںہو گی۔ میں نے یورپ کے اخبار نویسوں کو دیکھا ہے۔ ان کو خبریں جمع کرنے کی اتنی حرص ہوتی ہے کہ بسااوقات جن کا معاملہ ہوتا ہے انہیں اتنی خبر نہیں ہوتی جتنی اخبار والوں کو ہوتی ہے۔ وہ بے شک بعض دفعہ جب ان کی قوم کا فائدہ ہو تو جھوٹ بھی بول لیتے ہیں مگر بِالعموم سچائی سے کام لیتے ہیں اور خبریں جمع کرنے کیلئے انتہائی جدوجہد کرتے ہیں۔
    مَیں جب ولایت گیا تو باوجودیکہ ہماری جماعت ایک مذہبی جماعت ہے پھر بھی ہر اخبار کا نمائندہ ہمارے پاس آتا اور کُرید کُرید کر ہم سے حالات پوچھتا ہم گئے تو اس اخبار کے نمائندے ہمارے ساتھ تھے۔ پیرس گئے تو وہاں موجود تھے۔ غرض دن رات ان اخبارات کے ایڈیٹر ہمارے حالات معلوم کرنے کیلئے پھرتے رہتے اور وہ کوئی معمولی آدمی نہیں ہوتے بلکہ وہ ہمارے اخبار کے ایڈیٹروں سے دس دس بیس بیس گنا زیادہ تنخواہ لینے والے ہوتے ہیں۔
    اسی طرح الفضل کا بھی کام ہے کہ وہ سلسلہ کی خبریں مہیا کرنے میں زیادہ مستعدی سے کام لے۔ پھر مَیں جو خطبے پڑھتا ہوں اگر ان خطبوں کو ذہانت سے پڑھا جاتا ہو تو ہر شخص جانتا ہو گا کہ ہمیشہ میرا ایک خطبہ لمبا ہوتا ہے اور ایک چھوٹا ہوتا ہے۔ جس طرح باری کا بخار ایک روز زیادہ زور سے چڑھتا ہے اور ایک روز کم ہو جاتا ہے اسی طرح ہمیشہ میرا ایک خطبہ لمبا ہوگااور ایک چھوٹا۔ اگر پہلے کسی کے ذہن میں یہ بات نہیں آئی تو وہ اب جا کر ’’الفضل‘‘ کا فائل کھول کر دیکھ لے۔ ہمیشہ اسے یہی دکھائی دے گا کہ میرا ایک خطبہ لمبا ہے اور ایک چھوٹا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک زودنویس تو میرا خطبہ صحیح طور پر لکھتا ہے اور ایک زود نویس ایسا ہے جو میرے الفاظ چھوڑتا چلا جاتا ہے اور کبھی مکمل خطبہ نہیں لکھتا۔ دوست اگر چاہیں تو اب واپسی پر اپنے گھروں میں جا کر مقابلہ کر لیں ہمیشہ دو خطبوں میں انہیں نمایاں فرق نظر آئے گا اور باقاعدہ ایک خطبہ لمبا ہوگا اور ایک چھوٹا بلکہ بعض دفعہ میںنے دیکھا ہے جس خطبہ پر میں نے دس منٹ کم خرچ کئے ہوتے ہیں وہ لمبا ہوتا ہے اور جس خطبہ پر میں نے زیادہ وقت صرف کیا ہوتا ہے وہ چھوٹا ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ایک خطبہ نویس ایسا ہے جسے لکھنے کی قابلیت نہیں۔ ہر شخص زود نویس نہیں ہو سکتا ممکن ہے وہ ایڈیٹر ہو مگر زود نویس نہ ہو۔ مگر باوجود یکہ میں سالہا سال سے اس طرف توجہ دلا رہا ہوں کوئی توجہ نہیں کی جاتی اور ہر پانچویں چھٹے خطبہ پر مجھے اس قسم کے نوٹ لکھنے پڑتے ہیں کہ خطبہ یہاں سے حذف ہو گیا ہے، یا یہ بات اپنے پاس سے لکھ دی گئی ہے۔ یہ باتیںایسی ہیں کہ لازمی طور پر ان کا خریداری پر اثر پڑتا ہے۔ میں نے اپنا تجربہ اس وقت دوستوں کو بتا دیا ہے ممکن ہے باہر کی جماعتوں کو اس کا علم نہ ہو لیکن اگر وہ چاہیں تو اب گزشتہ خطبے نکال کر دیکھ سکتے ہیں۔ بغیر کسی فرق کے برابر ایک خطبہ لمبا ہوگا اور ایک چھوٹا۔ ممکن ہے کوئی ایک خطبہ ایسا بھی نکل آئے جو اس مختصر نویسی کے زمانہ میں مَیں نے خاص طور پر بہت زیادہ لمبا دیا ہو اور وہ چھوٹا دکھائی نہ دے لیکن عام طور پر باقاعدہ میرا ایک خطبہ بڑا ہوتا ہے اور ایک چھوٹا۔ یہی بے توجہی باقی کاموں میں بھی ہے حالانکہ روزانہ اخبار تبھی چل سکتے ہیں جب وہ روزانہ ضرورتوںکو مہیا کریں۔ اسی طرح مضامین کے متعلق میں نے متواتر توجہ دلائی ہے کہ ان میں ہونا چاہئے اور سارا اخبار ہی دینی مضامین سے نہیں بھرنا چاہئے مگر اس طرف بھی کوئی توجہ نہیںکی جاتی۔ اگر ہم سارا دن نمازیں نہیں پڑھتے رہتے بلکہ اور بھی بیسیوں کام کرتے ہیں تو سارے اخبار میں دینی مضامین ہی اگر ہوں تو وہ کب لوگوں کیلئے دلچسپی کا موجب بن سکتے ہیں۔ قرآن کریم کو بھی دیکھ لو اس میں صرف خدا اور اس کے رسولوں کا ہی ذکر نہیں بلکہ کہیں پانیوں کا ذکر ہے، کہیں بادلوں کا ذکر ہے، کہیں ہوائوں کا ذکر ہے، کہیں زمین کی حرکتوں کا ذکر ہے، کہیں حیوانات کا ذکر ہے، کہیں لڑائیوں کا ذکر ہے، کہیں سیاسیات کا ذکر ہے غرض مختلف قسم کے اذکار اس میں پائے جاتے ہیں مگر کیا الفضل قرآن سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے کہ اگر وہ علمی اور تاریخی اور اقتصادی اور صنعتی مضامین لکھے تو اس کی زبان صاف نہیں رہے گی۔ میں نے بارہا توجہ دلائی ہے کہ مضامین میں تنوع پیدا کرو۔ علمی اور تاریخی مضامین لکھو، مختلف عنوانات پر مختصر نوٹ لکھو اس طرح تعلیمی، صنعتی، مذہبی اور اقتصادی مضامین لکھو، مختلف اقوام میں جو رسوم پائی جاتی ہیں ان پر وقتاً فوقتاً روشنی ڈالو، غیر مذاہب کے حالات لکھو، دلچسپ خبریں شائع کرو اور ان کے دَوران میں مذہبی مضامین بھی لکھو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری کونین شکر میں لپٹی ہوئی ہوگی اور ہر کوئی شوق سے اسے کھانے کیلئے تیار رہے گا۔ مگر باوجود اس کے کہ میں نے ایک دو دفعہ نہیں بارہا اس طرف توجہ دلائی ہے اور متواتر توجہ دلائی ہے کبھی میرے توجہ دلانے کے مطابق عمل نہیں ہوتا۔ میں نے یہ توجہ براہِ راست عملہ کو بھی دلائی ہے اور بڑوں کو بھی اس طرف متوجہ کیا ہے مگر ہمیشہ ’’مرغ کی ایک ٹانگ والا‘‘ معاملہ رہتا ہے۔ کوئی ہُشت ہی نہیں کرتا کہ اس مرغ کی دوسری ٹانگ نکلے۔ میں تو سمجھا ہی سکتا تھا سو میں نے چھوٹوں کو بھی سمجھا دیا اور بڑوں کو بھی سمجھا دیا۔ میں نے افسروں کو بھی کہا کہ اگر ان تجاویز پر عمل نہیں ہوگا تو ہُشت ہی کر دو۔ مگر افسر ہیں کہ انہیں ہُشت کرنا بھی نہیں آتا حالانکہ یہ اخبار یقینا ایسا دلچسپ بنایا جا سکتا ہے کہ باوجود روزانہ ہونے کے اور باوجود دینی ضرورتوں کو پورا کرنے کے ہماری دنیوی ضرورتوں کو بھی پورا کر سکتا ہے بلکہ میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ اگر الفضل والے ہمت کریں تو روزانہ خبریں بھی مہیا کر سکتے ہیںمگر اس کے لئے پوری محنت کی ضرورت ہے۔
    درحقیقت روزانہ اخبار کا کام بہت بڑا کام ہوتا ہے اور اسے وہی شخص برداشت کر سکتا ہے جو زندگی کی تمام لذتوں کو چھوڑنے کیلئے تیار ہو جائے۔ یورپ کے اخبار والوں کو تو کام کی اتنی کثرت ہوتی ہے کہ انہیں دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے گویا وہ پاگل ہیں۔ میں جب ولایت گیا تو میں نے چاہا کہ ایک مشہور اخبار نویس سے ملوں۔ میں نے اپنے اس ارادہ کا ایک دوست سے ذکر کیا تو انہوںنے کہا کہ مسٹر میکڈانلڈ ۱؎وزیر اعظم برطانیہ کے ساتھ آپ آسانی سے ملاقات کر سکتے ہیں لیکن اس اخبار نویس سے آپ کا ملاقات کرنا مشکل ہے کیونکہ بعض دفعہ کئی کئی مہینے لوگ اس کی شکل نہیں دیکھتے۔ وہ جسے ہماری پنجابی میں مارنا کہتے ہیںوہ اخبار نویس کی حالت ہوتی ہے اور اس کے لئے بہت بڑی محنت اور بہت بڑی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُسے کسی خبر کے سنتے ہی منٹوں میں یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے اور اس کی نظر کو ایک ایک خبر پر یوں تیرتے چلے جانا چاہئے جیسے بحری جانور سمندر کی لہروں پر اپنا سر اٹھاتے چلے جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پچھلے دو تین سال سے الفضل کے مضامین میں کچھ تنوع پایا جاتا ہے مگر اس میں زیادہ تر کچھ مجلس انصارِ سلطان القلم کا دخل ہے جو میاں بشیر احمد صاحب نے بنائی تھی اور کچھ اس میں میر محمد اسماعیل صاحب کے مضامین کا حصہ ہے۔ چنانچہ چند دن ہوئے مجھے ایک شدید عالم کا خط آیا ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ اب ایک دو سال سے یہ اخبار دلچسپ ہو گیا ہے اور اس کے مضامین میں کسی حد تک تنوع پیدا ہو گیا ہے۔ مگر پھر بھی جس حد تک اسے بڑھایا جا سکتا اور اس کے ذریعہ اپنی جماعت کو دوسرے اخبارات سے مستغنی کیا جا سکتا ہے وہ بات ابھی اس میں پیدا نہیں ہوئی۔ اشتہارات کے متعلق بھی میں دیکھتا ہوں کہ پوری توجہ نہیں کی جاتی حالانکہ اس سے بھی اخبار کو بہت کچھ مدد ملتی ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ صحیح ذریعہ اختیار نہیں کیا جاتا۔ دنیا کی ہر اخبار کو اچھے اشتہار مل جاتے ہیں مگر ہمارے الفضل میں سوائے مخصوص امراض کی دوائیوں کے اور کوئی اشتہار ہی نہیں ہوتا گویا تمام لوگ دنیا میں اب انہی بیماریوں کے ہی مریض ہیں۔ میں تو اس سے اتنا تنگ آ گیا ہوں کہ اب میں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ آئندہ ایسا کوئی اشتہار اخبار میں چَھپنے نہیں دوں گا۔ چنانچہ آج میں اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ کیلئے ہمارے اخبار میں اس قسم کا کوئی اشتہار نہیں نکلنا چاہئے۔ دنیا میں بیماریوں کی کمی نہیں، کئی ایسی بیماریاں ہیں جو نہایت خطرناک ہوتی ہیں اگر ان بیماریوں کے متعلق اپنی مجرب دوائی لوگوں کے سامنے پیش کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اگر اس قسم کی مخصوص بیماریوں کے متعلق ہی کوئی اشتہار دینا ہو تو یہ لکھا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں ہر قسم کی دوائیں تیار ہیں ضرورت مند فہرست منگوا کر دیکھ لیں۔ یورپین اخبارات میں بھی یہی طریق ہوتا ہے۔ وہ صرف اتنا لکھ دیتے ہیں کہ ہمارے ہاں بعض چیزیں دایہ گری وغیرہ کے متعلق ہیں جو لوگ تفصیل معلوم کرنا چاہیں وہ خط لکھ کر ہم سے فہرست منگوا لیں۔ پھر جب انہیں کوئی خط لکھتا ہے تو وہ فہرست بھیج دیتے ہیں۔ اسی رنگ میں ہمارے اخبار میں بھی اس قسم کے اشتہارات شائع ہونے چاہئیں اور انہیں صرف یہ لکھ دینا چاہئے کہ ہمارے ہاں ہر قسم کی ادویات موجود ہیں دوستوں کو چاہئے کہ وہ ہم سے فہرست منگوا لیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ایسی دوائیاں ہمیشہ ہسٹیریا والے منگوایا کرتے ہیں اور ان کے لئے کسی لمبے چوڑے اشتہار کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صرف اتنا لکھنا ہی ان کیلئے کافی ہوتا ہے کہ ایک مسیحا پیدا ہو گیا ہے اس سے دوائی منگوا کر تجربہ کرو۔ ایسے لوگوں کو سچے مسیح کا ماننا تو مشکل نظر آتا ہے لیکن اگر انہیں کہہ دیا جائے کہ فلاں مسیحائے وقت ہے جس کی دوائیں بڑی زود اثر ہیں تو وہ فوراً اس کی طرف خط لکھ دیں گے۔ پس اس قسم کا مزاج رکھنے والوںکیلئے کسی اشتہار کی ضرورت نہیں ایک اشارہ ہی کافی ہے وہ فوراً فہرست منگوالیں گے اور مشتہرین کی ادویات بِک جائیں گی لیکن میں نہیں سمجھتا دنیا میں یہی ایک مرض رہ گیا ہے جس کے علاج کی لوگوں کو ضرورت ہے۔ بہتیرے ایسے امراض ہیں جن میں اکثر لوگ مبتلا رہتے ہیں اور جن کے صحیح علاج کے وہ واقعی محتاج ہوتے ہیں مگر صحیح علاج انہیں میسر نہیں آتا۔ ہمارے ملک میں کھانسی کی عام شکایت پائی جاتی ہے، اسی طرح سِل دِق ایک عام مرض ہے جو ہندوستان میں پایا جاتا ہے، اسی طرح انتڑیوں کے کئی امراض ہیں جن میں لوگ مبتلا رہتے ہیں، بواسیر ایک ایسا مرض ہے جس کے کثرت سے مریض ہمارے ملک میں پائے جاتے ہیں بلکہ میں نے ڈاکٹروں سے سنا ہے وہ کہتے ہیں ہندوستان میں ساٹھ فیصدی بواسیر کے مریض ہیں۔ اسی طرح کثرت سے مرض پیچش کے مریض ہمارے ہاں نظر آتے ہیں۔ چونکہ گھی لوگوں کو کم ملتا ہے اس لئے ان کی انتڑیوں میں چکنائی نہیں رہتی جس کی وجہ سے انتڑیوں میں مستقل طور پر خراش پیدا ہو جاتی ہے اور پیچش کا مرض مزمن صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اسی طرح بعض دفعہ کام کی کثرت کی وجہ سے امراض مزمن ہو جاتی ہیں اور بعض دفعہ سُستی اور غفلت کی وجہ سے یعنی یا تو ایسا ہوتا ہے کہ بیماری محسوس بھی ہوتی ہے مگر چونکہ کام کی کثرت ہوتی ہے اس لئے انسان بیماری کی طرف توجہ نہیں کرتا جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بیماری جڑ پکڑ جاتی ہے اور یا پھر سُستی کی وجہ سے انسان مرض کو بڑھا لیتا ہے۔ تیمار دار سرہانے بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے دوائی پی لو مگر مریض ہے کہ دوائی پینے کا نام ہی نہیں لیتا بہرحال کسی نہ کسی وجہ سے امراض مزمن ہو جاتی ہیں۔ اگر ایسی امراض کے علاج دنیا کو بتلائے جائیں تو یقینا اس میں لوگوں کا فائدہ ہے۔ اسی طرح دانتوںکی کئی بیماریاں ہیں، جگر کی کئی بیماریاں ہیں، طحال کی کئی بیماریاں ہیں ان امراض کے اگر نسخے شائع کئے جائیں اور کسی مفید دوائی کا اشتہار بھی دے دیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہوتا۔ اسی طرح صنعت و حرفت کی کئی چیزیں ہیں جن کے اشتہارات الفضل میں شائع ہو سکتے ہیں مگر وہ چیزیں جن کا اشتہار لوگوں کیلئے مفید ہو سکتا ہے اس طرف تو توجہ نہیں کی جاتی اور مخصوص امراض کی دوائیوں کے اشتہارات دھڑا دھڑ شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اسی طرح عدالتوں کے اشتہارات بھی مل سکتے ہیں بشرطیکہ یہ لوگ وہ طریق اختیار کریں جو اخبار نویس اختیار کیا کرتے ہیں۔
    ہمارامقابلہ اس وقت کسی ایک قوم یا ایک مُلک سے نہیں بلکہ ساری دنیا سے ہے اس لئے ہمیں ہمیشہ یہ دیکھتے رہنا چاہئے کہ عیسائی کیا کر رہے ہیں، یہودی کیا کر رہے ہیں اور کس رنگ میں وہ اسلام اور مسلمانوں کے مقابلہ کی تیاری کر رہے ہیں تا جماعت ان مفاسد کی اصلاح کرتی رہے جو ان کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ مگر اس کے لئے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ روزانہ اخبارات کا مطالعہ کیا جائے اور ان میں سے ایسی خبریں نکال کر جلد سے جلد جماعت کے سامنے رکھی جائیں تا جماعت کو اپنے فرائض کا احساس رہے۔ اگر الفضل والے ان ہدایات کے مطابق کام کریںاور محنت اور توجہ سے کام لیں تو نہ صرف اخبار دلچسپ ہو جائے گا بلکہ جماعت کے دوستوں میں بھی مسابقت کی روح پیدا ہو جائے اور وہ کوشش کرتے رہیں کہ دوسری قوموں سے بڑھ کر رہیں۔ پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ سلسلہ کے اخبارات خریدیں اور کوشش کریں کہ ان کا مذاق علمی ہو جائے۔ میں نے دیکھا ہے جو لوگ سلسلہ کے اخبارات نہیں خریدتے ان کے بچے احمدیت کی تعلیم سے بالکل ناواقف رہتے ہیں۔ پس دوستوں کو چاہئے کہ وہ اخبارات اور رسالے ضرور خریدیں بلکہ جو اَن پڑھ ہیں وہ بھی لیں اور کسی پڑھے لکھے سے روزانہ تھوڑا تھوڑا سنتے رہا کریں تا کہ ان کی علمی ترقی ہو اور سلسلہ کے حالات سے وہ باخبر رہیں۔ (الفضل ۱۶؍ نومبر ۱۹۶۰ء)
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب دنیا میں آئے اور آپ نے دعویٰ کیا کہ میں مسیح موعود ہوں تو درحقیقت آپ کوئی نئی چیز نہیں لائے تھے۔ یعنی جماعت احمدیہ کے جو بانی ہیں ان کا یہ دعویٰ نہیں کہ وہ کوئی نیا مذہب لائے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگ قرآن کو بھول چکے تھے اور قرآن بھولنے کی وجہ سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے دلوں میں سرد ہو چکی تھی، اسلام کی خدمت کا ان کے دلوں میں کوئی جوش باقی نہیں رہا تھا اور ان کی حالتیں اتنی بدل گئی تھیں کہ وہ دین پر عمل کرنے سے گریز کرتے تھے۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان کے ان روحانی امراض کا علاج کرنے کیلئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقوں اور فرمانبرداروں میں سے ایک شخص کو چنا اور اسے کہا کہ ہم تمہیں اسلام کی خدمت کیلئے کھڑا کرتے ہیں تم جائو اور لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل کرو۔ یہ دعویٰ تھا جو آپ نے کیا اور یہ کام تھا جس کے لئے آپ مبعوث ہوئے۔ جب آپ نے لوگوں کے سامنے یہ دعویٰ پیش کیا اور کہا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کیلئے بھیجا ہے اور میرا نام خدا تعالیٰ نے مسیح موعود رکھا ہے تو لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ مسیح تو آسمان پر بیٹھا ہے اور وہی دوبارہ دنیا کی اصلاح کے لئے آئے گا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ مسلمانوں میں ابن مریم نازل ہوگا اور وہ ہوگا اور اس ابن مریم سے وہی ابن مریم مراد ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے چھ سَو سال پہلے دنیا میں آیا ہے۔ پس جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسیح ابن مریم نے ہی آسمان سے نازل ہونا اور اسی نے اصلاحِ خَلق کا کام کرنا ہے تو تم جو پنجاب میں رہتے ہو اور پنجاب کی ایک بستی قادیان میں پیدا ہوئے ہو کس طرح مسیح موعود ہو سکتے ہو اور جب تم کہتے ہو کہ تم مسیح موعود ہو تو دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہے۔ یا تو تم پاگل ہو اور یا لوگوں کو جان بوجھ کر دھوکا اور فریب دیتے ہو۔ یہ اعتراض تھا جو لوگوں نے آپ کے دعویٰ پر کیا۔ آپ نے اس کا یہ جواب دیا کہ اگر مسیح ابن مریم زندہ ہوتا تو بے شک تمہارے دلوں میں یہ وسوسہ اُٹھ سکتا تھا کہ جب اس نے دنیا میں ابھی آنا ہے تو اس کی جگہ کوئی اور شخص کس طرح کھڑا ہو گیا ہے یا اگر مسیح ابن مریم کے آنے میں رسول کریم ﷺ کی عزت ہوتی اور مسیح کی بھی عزت ہوتی تو کہا جا سکتا تھا کہ خدا نے اور رسولوں کی عزت دنیا پر ظاہر کرنے کیلئے مسیح ابن مریم کو ہی دوبارہ بھیج دیا۔ مگر حق بات یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بات بھی صحیح نہیں۔
    چنانچہ حضرت مرزا صاحب نے بتایا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکے ہیں اور ان کی وفات قرآن کریم سے ثابت ہے۔ پس ان کے وفات پا جانے کی وجہ سے اب ان کا دنیا سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ دوبارہ اس دنیا میں آ سکتے ہیں۔ چنانچہ آپ نے اس کی ایک موٹی دلیل یہ دی کہ سورہ مائدہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن مَیں مسیح ابن مریم سے دریافت کروں گا کہ تجھ کو اور تیری ماں کو جو دنیا میں خدا بنایا گیا ہے تو کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا مانو اور ہماری پرستش کرو۔ آپ لوگوں کو معلوم ہو گا کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کہتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بعض ایسے فرقے بھی تھے جو حضرت مریم صدیقہ کی خدائی کے قائل تھے اور عملاً تو رومن کیتھو لک والے اب بھی حضرت مریم کی تصویر کے آگے سجدہ کرتے اور ان سے دعائیں کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم قیامت کے دن پوچھیں گے کہ کیا تم نے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بناؤ۔ اس کا حضرت مسیح علیہ السلام یہ جواب دیں گے کہ الہٰی یہ بات بالکل غلط ہے۔ جب تک میں ان لوگوں کے درمیان زندہ رہا اس وقت تک تو وہ توحید کے ہی قائل رہے تھے اور انہوں نے ہرگز شرک کا عقیدہ اختیار نہیں کیا تھا مگر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر میرا لوگوں سے کیا واسطہ رہا پھر تو ہی ان کا نگران تھا‘ مجھے تو کچھ علم نہیں کہ انہوں نے میرے بعد کیا کیا۔ یہ جواب ہے جو قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام خداتعالیٰ کو دیں گے اور قرآن مجید میں لکھا ہوئا ہے حضرت مرزا صاحب نے اس سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو قیامت کے دن حضرت مسیح جو یہ جواب دیں گے تو یہ سچا جواب ہو گا یا جھوٹا۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا نبی کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا لیکن تمہارے عقیدہ کے مطابق اگر وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں اور دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو لازماً وہ اپنی قوم کے حالات سے بھی واقف ہو جائیں گے کیونکہ تمہارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح آ کر صلیبوںکو توڑیں گے، خنزیروں کو قتل کریں گے اور عیسائیوں کو مجبور کر کے مسلمان بنائیں گے جس سے ظاہر ہے کہ انہیں معلوم ہو جائے گا کہ عیسائی ان کی خدائی کے قائل ہیں اب کس طرح ممکن ہے کہ دنیا میں تو آ کر وہ تمام حالات اپنی آنکھوں سے دیکھ جائیں اور ان کی اصلاح بھی کریں مگر خدا کو یہ جواب دیدیں کہ خدایا مجھے توکچھ معلوم نہیں کہ لوگ کیا کرتے رہے ہیں۔ کیا خدا انہیں نہیں کہے گا کہ بندۂ خدا تُو تو چالیس سال دوبارہ دنیا میں رہا۔ تو نے خنزیر قتل کئے، تو نے صلیبیں توڑیں‘ تو نے زبردستی ان لوگوں کو مسلمان بنایا مگر آج کہہ رہا ہے کہ مجھے کچھ علم نہیں کہ لوگ میرے بعد کیا کرتے رہے۔ اور اگر وہ دوبارہ دنیا میں آ کر رہیں اور خدا ان سے وہی سوال کرے جو قرآن میں مذکور ہے تو بجائے وہ جواب دینے کے جس کا قرآن کریم میں ذکر آتا ہے وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ خدایا! یہ سوال عجیب ہے آپ نے تو خود مجھے دنیا میں بھیجا۔ میں نے وہاں جا کر سؤر مارے، صلیبیں توڑیں، شرک اور کفر کا استیصال کیا مگر آج بجائے اس کے کہ آپ مجھے انعام دیتے اُلٹا ناراض ہو رہے ہیں۔ گویا وہی مثال ہوتی کہ ’’نیکی برباد گناہ لازم‘‘
    میں نے تو دنیا میں اتنی مصیبت اُٹھائی کہ دن رات ایک کر کے سؤر مارتا رہا‘ صلیبیں توڑتا رہا‘ عیسائیوں کو مسلمان بناتا رہا اور آج بجائے کوئی انعام دینے کے مجھے ڈانٹا جا رہا ہے کہ کیا تو نے یہ شرک کی تعلیم دی تھی؟ مگر وہ ان جوابوں میں سے کوئی جواب بھی نہیں دیتے۔ وہ اگر کہتے ہیں تو یہ کہ مجھے ان کے گمراہ ہونے کا کوئی پتہ نہیں۔ وہ اگر گمراہ ہوئے ہیں تو میرے بعد ہوئے ہیں‘ میری موجودگی میں نہیں ہوئے۔ چنانچہ قرآن کریم میں صاف الفاظ آتے ہیں کہ میرے مرنے کے بعد جو کچھ ہوئا ہے ہوئا ہے میری زندگی میں نہیں ہوئا ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا عیسائی حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا مانتے ہیں یا نہیں؟ یہ ایک ایسی موٹی بات ہے کہ کوئی اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ ہر عیسائی سے پوچھ کر معلوم کیا جا سکتا ہے وہ یہی کہے گا کہ حضرت مسیح خدا تھے۔ اب اگر قرآن شریف خدا تعالیٰ کی کتاب ہے، اگر سورۃ مائدہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہی رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی تھی تو وہ تو یہ کہہ رہی ہے کہ قیامت کے دن حضرت مسیح یہ کہیں گے کہ جو کچھ ہوئا میر ی موت کے بعد ہوئا زندگی میں نہیں ہوئا ۔ اب دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہے۔ یا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک نہیں مرے اور نہ عیسائی بگڑے ہیں اور یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام واقعہ میں فوت ہو چکے ہیں اور عیسائیوں کے عقائد میں بگاڑ ان کی وفات کے بعد ہوئا ہے۔ حضرت مرزا صاحب نے اس بات کو لوگوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ ان دو باتوں میں سے ایک بات کا فیصلہ کرو۔ تم یہ بتاؤ کہ عیسائی بگڑے ہیں یا نہیں اگر عیسائی نہیں بگڑے اور وہ حق پر ہیں تو تمہارا بھی فرض ہے کہ تم عیسائی ہو جاؤ کیونکہ وہ تو بقول تمہارے راہِ راست پر قائم ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی صورت میں زندہ ہو سکتے ہیں جب عیسائی بگڑے نہ ہوں۔ پس مسلمان اب فیصلہ کر لیں کہ عیسائی بگڑے ہوئے ہیں یا نہیں اگر وہ بگڑے ہوئے نہیں تو مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ خود بھی عیسائی ہو جائیں اور اگر وہ بگڑے ہوئے ہیں اور اگر یہ دکھائی دے رہا ہے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا اور خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں تو لازماً یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں کیونکہ قرآن یہی کہتا ہے کہ عیسائیوں میں یہ خیال کہ حضرت مسیح اور مریم صدیقہ خدا ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد پیدا ہوئا ان کی زندگی میں پیدا نہیں ہوئا ۔ گویا وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ کو زندہ سمجھتے ہیں‘ انہیں ماننا پڑے گا کہ عیسائی حق پر ہیں اور انہیں اسلام سے مرتد ہونا پڑے گا پس ایک مسلمان کیلئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ یا تو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وفات شدہ مانے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دے اور عیسائی ہو جائے کیونکہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو عیسائی بگڑ ہی نہیں سکتے ان کا بگڑنا حضرت مسیح کی موت کے بعد مقدر ہے۔ یہ ایسی موٹی بات ہے کہ اس میں کسی لمبے چوڑے جھگڑے کی ضرورت ہی نہیں۔ سیدھی سادی بات ہے کہ حضرت مسیح کہتے ہیں اے خدا! جب تو نے مجھے وفات دے دی تو اس کے بعد عیسائی بگڑے ہیں پہلے نہیں۔ اب اگر عیسائی بگڑ چکے ہیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ اور اگر عیسائی نہیں بگڑے تو بے شک کہا جا سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں مگر اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کے پسندیدہ بندے مسلمان نہیں بلکہ عیسائی ہیں۔
    پھریہ جو بات تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واپس آنے میں رسول کریم ﷺ کی عزت ہے یا ذلّت۔ اس نقطہ نگاہ سے بھی اگر غور کیا جائے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہے بلکہ رسول کریم ﷺ کی عزت کا سوال ہی نہیں اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے سے خدا تعالیٰ کی عزت ہو تب بھی ہم ان کے دوبارہ آنے کو تسلیم کر سکتے ہیں کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ خدا کی عزت دنیا میں قائم ہو لیکن اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کاعقیدہ تسلیم کرنے میں نہ صرف رسول کریم ﷺ کی اہانت ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی بھی ذلت ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس عقیدہ سے بڑھ کر خطرناک اور کوئی عقیدہ نہیں ہو سکتا۔ اگر خدا تعالیٰ کی عزت کا سوال لو تو سیدھی بات ہے کہ اس عقیدہ کی رُو سے یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ ۱۹سَو سال سے خدا تعالیٰ نے ایک شخص کو سنبھال کر رکھا ہوئا ہے کہ کہیں وہ ضائع نہ ہو جائے اور اصلاحِ خَلق کا کام رُک نہ جائے گویا جس طرح غریب آدمی اپنی چیزوں کو سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے اسی طرح خدا نے بھی اپنی اس چیز کو خوب حفاظت سے رکھا ہوئا ہے۔ آخر امیر اور غریب میں کیا فرق ہوتا ہے یہی فرق ہوتا ہے کہ غریب آدمی اگر صبح کی دال بچ جائے تو بیوی سے کہتا ہے اسے سنبھال کر رکھ دینا رات کو کام آئے گی۔ یا سردیوں میں اگر اسے کوئی گرم کپڑا ملتا ہے تو سردیاں ختم ہونے پر نہایت حفاظت سے گٹھڑی باندھ کر رکھ دیتا ہے یا صندوقوں میں حفاظت سے اسے بند کرتا ہے کہ اگلی سردیوں میں وہ کپڑے کام آئیں۔ روٹیاں بچ جاتی ہیں تو وہ رکھ لیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں امیر آدمی کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ چند دن کپڑا پہنتا ہے اور پھر یہ خیال کرکے کہ خدا نے چند دن نیا کپڑا پہننے کی توفیق دے دی ہے اب غریبوں کا بھی کچھ حق ہے وہ اس کپڑے کو اٹھاتا اور کسی غریب کو دیدیتا ہے۔ کھانا پکتا ہے تو جتنا کھانا آسانی سے کھایا جا سکے وہ کھا لیتا ہے اور باقی نوکروں کو دیدیتا ہے۔ یا ان کی بیگمات اِردگِرد کے غریبوں میں تقسیم کر دیتی ہیں۔ وہ ان کپڑوں یا اس کھانے کو سنبھال کر نہیں رکھتے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جب ضرورت ہو گی ہم نئی چیز تیار کر لیں گے مگر اللہ تعالیٰ جو قادر ہے اور جس کی قدرت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جب بھی دین کیلئے کسی نئی چیز کی ضرورت ہو وہ اپنی قدرت سے اس نئی چیز کو مہیا کر دے۔ اس کے متعلق مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس نے انیس سَو سال سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سنبھال کر آسمان پر زندہ رکھا ہوئا ہے محض اس لئے کہ امتِ محمدیہ کو جب آخری زمانہ میں دینی لحاظ سے نقصان پہنچا تو میں اس کے ازالہ کیلئے اسے آسمان سے نازل کروں گا۔ گویا وہی کنگالوں والی بات ہوئی جو صبح کی دال بچا کر شام کے لئے رکھ لیتے ہیں۔ آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی زندگی میں کون سے کارنامے سرانجام دیئے تھے کہ آخری زمانہ میں بھی انہی کا بھیجا جانا خدا کو پسند آیا۔ انہوں نے دنیا میں یہی کام کیا کہ چند روز لوگوں کو تبلیغ کی اور جب یہود نے صلیب پر لٹکانا چاہا تو آسمان پر چلے گئے۔ اس میں انہوں نے کونسی ایسی کامیابی حاصل کی تھی کہ آخری زمانہ میں بھی ان کا نزول ضروری تھا۔ جو شخص آسمان پر چلا گیا اس نے بالفاظِ دیگر دنیا کو پیٹھ دکھا دی۔ اب وہ شخص جو دنیا کو پیٹھ دکھا چکا ہے اور جس نے اپنے زمانہ کا کام بھی پورا نہیں کیا وہ رسول کریم ﷺ کی امت کا کیا کام کرے گا اور کس کامیابی کی اس سے توقع رکھی جا سکتی ہے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی شدید ہتک ہے اور اس عقیدہ کو تسلیم کرنے سے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر بہت بڑا حرف آتا ہے اورکہنا پڑتا ہے کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ خدا قادر نہیں اور ضرورت پر وہ امتِ محمدیہ میں سے کسی نئے آدمی کو تیار نہیں کر سکتا۔
    پھر نہ صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت پر اس سے حرف آتا ہے بلکہ اس کے علم پر بھی حرف آتا ہے کہ وہ شخص جو میدانِ مقابلہ میں بالکل کام ہی نہ کر سکا اسی کے سپرد امتِ محمدیہ کی اصلاح کا کام اس نے کر دیا۔ مگر تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تو اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک ہو اور ادھر رسول کریم ﷺ سے یہ سلوک ہو کہ آپ پر خطرناک سے خطرناک مواقع آئے مگر ایک دفعہ بھی خدا تعالیٰ نے آپؐ کو آسمان پر نہ اُٹھایا۔
    حنین کی جنگ میں جبکہ چار ہزار مشاق تیر انداز آپ پر تیروںکی بارش برسا رہا تھا اور رسول کریم ﷺ کے گرد صرف بارہ آدمی رہ گئے تھے اس وقت صحابہؓ آپ کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں یار سول اللہ! یہاں کھڑے رہنے کا موقع نہیں، آپ کی زندگی کے ساتھ اسلام کی زندگی وابستہ ہے، آپ کسی محفوظ مقام میں چلیں جب دشمن کے حملہ کا زور ٹوٹ جائے گا تو ہم پھر اسلامی لشکر کو جمع کر کے اس پر حملہ کر دیں گے۔ چنانچہ بعض صحابہؓ اسی جوش میں آپ کے گھوڑے کی باگ پکڑ لیتے ہیں مگر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں چھوڑ دو میرے گھوڑے کی باگ کو اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِب۲؎ میں نبی ہوں جھوٹا نہیں ہوں۔ خدا اس نبی کو تو موت دے دے اور اسے وفات دے کر مٹی میں دفن ہونے دے مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی صلیب پر بھی نہ چڑھے ہوں کہ خدا آپ کو بچانے کیلئے آسمان پر اٹھا لے۔ اس عقیدہ کو کوئی با غیرت مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی نبی زندہ رکھنے کے قابل تھا تو وہ حضرت رسول کریم ﷺ ہی تھے مگر ان کو تو خداتعالیٰ بچاتا نہیں اور وہ جان دینے کیلئے بھی تیار ہو جاتے ہیں لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جَھٹ بچا لیتا اور آسمان پر اٹھا لیتا ہے۔ پھر یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ابتلا ء کیا آیا اور اگر آیا تھا تو انہیں چاہئے تھا کہ اسے برداشت کرتے مگر بجائے اس کے کہ وہ خوشی کے ساتھ اس ابتلاء کو برداشت کرتے جَھٹ دعا کرنے لگ گئے۔ حتّٰی کہ بائیبل میں لکھا ہے انہوں نے ساری رات دعا کرنے میں گذار دی اور وہ بار بار اپنے حواریوں کو جگاتے اور کہتے کہ دعا کیوں نہیں کرتے کہ یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے۔ پس وہ جس نے کہا تھا کہ یہ موت کا پیالہ مجھ سے ٹل جائے اسے تو خدا آسمان پر اُٹھا لیتا ہے مگر وہ جس نے کہا تھا کہ مجھے چھوڑ دو میں اکیلا دشمن کا مقابلہ کروں گا‘ اسے خدا نے وفات دے دی۔ گویا جس نے مردانہ وار کام کیا تھا اسے تو پنشن دیدی۔اور جو میدانِ جنگ سے پیٹھ موڑ کر گھر آ گیا تھا اسے ایکس ٹینشن(EXTENSION) دے دی۔
    اب دیکھ لو کہ اس عقیدہ کو تسلیم کرنے میں نہ خدا کی عزت ہے اور نہ رسول کریم ﷺ کی عزت۔ پھر یہ عقیدہ رکھنے میں حضرت مسیح کی بھی تو کوئی عزت نہیں۔ہمارے نزدیک تو حضرت مسیح علیہ السلام صلیب سے بچ گئے تھے مگر دوسرے مسلمانوں کے نردیک آسمان پر بھاگ گئے تھے۔ اور یہی ایک نبی کی سب سے بڑی توہین ہے کہ جو کام اس کے سپرد تھا وہ تو اُس نے نہ کیا اور آسمان پر جا بیٹھا۔ پھر خدا نے تو حضرت مسیح کو نبی قرار دیا ہے مگر مسلمان یہ کہتے ہیں کہ آخری زمانہ میں جب وہ نازل ہوں گے تو نبی نہیں ہوں گے بلکہ اُمتی ہوں گے گویا جسے خدا نے مستقل نبی قرار دیا تھا اسے وہ تابع نبی بنا دیتے ہیں اور اس طرح اس کی ہتک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اگر تو یہ کہا جاتا کہ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام میدان چھوڑ کر چلے گئے تھے اس لئے اس کی سزا میں انہیں امتی بنا دیا جائے گا تو گو پھر بھی ایک نبی کی تذلیل ہوتی مگر یہ بات کسی حد تک معقول قرار دی جا سکتی تھی۔ لیکن بغیر کوئی قصور بتائے مولویوں کی طرف سے یہ مسئلہ پیش کیا جاتا ہے کہ خدا انہیں مستقل نبی کی بجائے تابع بنی بنا دے گا اور اس طرح وہ اپنے عمل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی ہتک کرتے ہیں۔ پھر یہ لوگ اتنا نہیں سوچتے کہ جو شخص بنی اسرائیل میں ایک چھوٹے سے فتنہ کا مقابلہ نہ کر سکا وہ امتِ محمدیہ میں آ کر اس دجالی فتنے کا کس طرح مقابلہ کر سکتا ہے جس فتنہ سے بڑافتنہ آج تک دنیا میں کوئی ہوئا ہی نہیں۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر سمجھا جائے تو اس میں خدا کی بھی ہتک ہے‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی ہتک ہے اور رسول کریم ﷺ کی بھی ہتک ہے۔ میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی کے گھر کا دیا بجھ جائے تو وہ کسی اور کے گھر سے دیا سلائی مانگنے جاتا ہے تا کہ اپنے لیمپ کو روشن کرے۔ وہ امیر لوگ جن کے گھروں میں بجلی کے لیمپ ہوتے ہیں وہ شاید اس امر کو نہ سمجھ سکیں لیکن غرباء اس کو خوب سمجھ سکتے ہیں کہ جب ان کے گھر کا لیمپ بُجھ جاتا ہے اور دیا سلائی ان کے پاس نہیں ہوتی تووہ اپنے کسی ہمسائے یا قریبی کے ہاں جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ذرا دیا سلائی دینا میں اپنا لیمپ جلا لوں۔ یا ان کے گھر میں لیمپ جَل رہا ہو تو اس کی بتّی سے اپنے لیمپ کی بتی کو روشن کر لیتے ہیں۔ اس مثال کو اپنے سامنے رکھو اور پھر دیکھو کہ مسلمانوں کے اس عقیدہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایک زمانہ میں اسلام کا چراغ بُجھ جائے گا اور اس بات کی ضرورت ہو گی کہ اس کو روشن کیا جائے۔ محمد رسول اللہ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں گے مگر مسلمانوں میں انہیں کہیں روشنی نظر نہیں آئے گی صرف یہودیوں کے گھر میں ایک لیمپ چل رہا ہو گا جسے دیکھ کر محمد رسول اللہ ﷺ ان یہودیوں کے گھر جائیں گے اور اس لیمپ سے اسلام کے بجھے ہوئے چراغ کو روشن کریں گے۔بتاؤ کیا اس میں رسول کریم ﷺ کی ہتک ہے یا آپؐ کی عزت؟
    غرض حیاتِ مسیح کا عقیدہ ایسا خطرناک ہے کہ خدا کی اس میں عزت نہیں، رسول کریم کی اس میں عزت نہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس میں عزت نہیں صرف مولویوں کی عزت ہے مگر خدا اور اس کے رسولوں کے مقابلہ میں ان مولویوں کی عزت کی کیا حقیقت ہے کہ کوئی باغیرت مسلمان اس کا خیال رکھ سکے۔ مگر ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی قوم کی اصلاح کر لی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی اور اب اُمتِ محمدیہ کی اصلاح کیلئے انہیں ہی اُمتی بنا کر نہیں بھیجا جائے گا بلکہ اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺکے متبعین میں سے ایک شخص کو اصلاحِ خَلق کیلئے کھڑا کر دے گا ،وہ آپ کے نور میں سے نور لے گا اور آپ کی معرفت میں سے معرفت اور اس طرح وہ آپ کا غلام اور خادم بن کر لوگوں کو پھر اسلام پر قائم کرے گا اور آپ کسی موسوی نبی کے شرمندہ احسان نہیں ہوں گا۔ یہ چند موٹی موٹی باتیں ہیں جن سے یہ مسئلہ آسانی کے ساتھ حل ہو جاتا ہے۔ باقی رہا نبوت کا مسئلہ سو اِس کے متعلق بھی مخالف علماء لوگوں کو سخت مغالطہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شرک فی النبوۃ ہے۔ ان کا مفہوم اس اصطلاح سے یہ ہوتا ہے کہ گویا ہم نے حضرت مرزا صاحب کو نبوت میں رسول کریم ﷺ کا شریک بنا لیا ہے حالانکہ یہ بھی درست نہیں کیونکہ نبوت کو جس رنگ میں وہ پیش کرتے ہیں اس رنگ میں ہم اسے مانتے ہی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایسی نبوت کے مدّعی ہیں جس سے رسول کریم ﷺ کی ہتک ہوتی ہے اس لئے وہ آپ کی نبوت کو شرک فی النبوۃ قرار دیتے ہیں اور چونکہ شرک کا لفظ ایک مسلمان کیلئے ایسا ہی ہوتا ہے جیسے بیل کیلئے سُرخ چیتھڑا، اس لئے شرک فی النبوۃ کے الفاظ سنتے ہی مسلمان کہنے لگ جاتے ہیں کہ دیکھو کتنا بڑا اندھیرا ہے کہ احمدی شرک فی النبوۃ کرتے ہیں۔ حالانکہ جو لوگ اسے شرک قرار دیتے ہیں وہ شرک کی حقیقت سے بالکل ناواقف ہوتے ہیں۔ شرک ایک تو ظاہری رنگ میں ہوتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی انسان کو یا کسی اور چیز کو سجدہ کر دینا یہ تو ہر صورت میں منع ہے لیکن باطنی شرک ہمیشہ نسبتی ہوتا ہے ۔ اگر جتنی محبت تم خدا سے کرتے ہو اتنی ہی محبت تم کسی نبی سے کرتے ہو تو تم مشرک ہو۔ لیکن اگر محبتوں کے نمبر ہوں۔ کوئی روپیہ جتنی محبت ہو، کوئی اَٹھنی جتنی محبت ہو، کوئی چونی جتنی محبت ہو، کوئی دونی جتنی محبت ہو اور کوئی کوڑی جتنی محبت ہو تو اس صورت میں شرک کی تعریف بالکل بدل جائے گی۔ اگر خداکی محبت تمہارے دل میں دو آنے کے برابر ہے اور تم دو یا اڑھائی آنہ محبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یا کسی اور نبی سے کرتے ہو تو یہ شرک ہو گا لیکن اگریہ محبت ڈیڑھ آنہ کے برابر ہے تو یہ شرک نہیں ہو گا۔ اس کے مقابلہ میں اگر کسی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اڑھائی آنے کے برابر محبت ہے اور خدا سے اسے ایک روپیہ کے برابر محبت ہے تو باوجود اس کے کہ یہ محبت پہلے شخص کی محبت سے زیادہ ہو گی پھر بھی یہ شرک نہیں کہلائے گی۔ کیونکہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی محبت اس کے دل میں پہلے شخص سے زیادہ ہے تو خدا کی محبت اس سے بھی زیادہ ہے۔ شرک تب ہوتا جب دونوں محبتیں ایک مقام پر ہوتیں۔ مگر جب دونوں ایک مقام پر نہیں تو شرک کس طرح ہو گیا۔ اب یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمان رسول کریم ﷺ سے جو محبت رکھتے ہیں اس کی کسی اور نبی کے ماننے والوں میں نظیر نہیں مل سکتی۔ اور جو سچے مؤمن ہوں ان کا دل تو اللہ تعالیٰ اتنا وسیع بنا دیتا ہے کہ ان کی محبت زمین و آسمان پر حاوی ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ایک موٹی بات دیکھ لو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر جب ایک ابتلاء کا وقت آیا تو ان کے تمام حواری بھاگ گئے بلکہ ایک نے تو آپ پر *** ڈالی اور کہا کہ میں نہیں جانتا مسیح کون ہے۔ مگر رسول کریم ﷺ پر کوئی تکلیف کا وقت نہیں آیا جب کہ صحابہؓ نے اپنے خون نہ بہا دیئے ہوں۔ بدر کی جنگ کا جب وقت آیا تو رسول کریم ﷺ نے تمام مہاجرین اور انصار کو اکٹھا کیا اور فرمایا اے لوگو! مجھے مشورہ دو کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ اس کی ضرورت یہ پیش آئی کہ جب رسول کریم ﷺمدینہ میں تشریف لائے تو انصار نے آپ سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ اگر مدینہ میں آ کر کوئی دشمن حملہ کرے گا تو ہم آپ کی مدد کریں گے لیکن اگر باہر جا کر کسی دشمن سے مقابلہ کرنا پڑا تو ہم اس بات کے پابند نہیں ہوں گے کہ آپ کی ضرور مدد کریں۔ اس موقع پر چونکہ ایک ایسی جنگ تھی جس میں مدینہ سے باہر دشمن کا مقابلہ ہونا تھا اس لئے آپ نے سمجھا کہ ممکن ہے انصار کا اس موقع پر اس معاہدہ کی طرف خیال چلا جائے۔ پس آپ نے ان کا ارادہ معلوم کرنے کیلئے فرمایا اے لوگو! مجھے مشورہ دو اس پر مہاجرین ایک ایک کر کے کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مشورہ کیا ؟آپ چلیں اور جنگ کریں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ مگر جب بھی کوئی مہاجر بیٹھ جاتا رسول کریم ﷺ پھر فرماتے۔ اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔ انصار اس وقت تک خاموش تھے کیونکہ وہ خیال کرتے تھے کہ اگر ہم نے کہہ دیا کہ ضرور لڑنا چاہئے تو مہاجرین کہیں یہ خیال نہ کریں کہ یہ لوگ ہمارے بھائیوں اور رشتے داروں کو مروانا چاہتے ہیں۔ پس وہ اس وقت تک خاموش رہے مگر جب رسول کریم ﷺ نے بار بار فرمایا کہ لوگو مشورہ دو تو ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! شاید آپؐ کی مراد ہم سے ہے آپ نے فرمایا ہاں۔ انہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ شاید آپ کی مراد معاہدہ سے ہے جو ہم نے آپؐ کی مدینہ کی تشریف آوری کے متعلق کیا تھا آپ نے فرمایا ہاں۔ انہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! جس وقت یہ معاہدہ ہوئا تھا اس وقت ہم نے آپؐ کی شان کو پورے طور پر پہچانا نہیں تھا اور غلطی سے یہ معاہدہ کر لیا مگر اس کے بعد جب آپؐ ہم میں رہے تو ہمیں معلوم ہوئا کہ آپؐ کی کیا شان ہے۔
    پس اب اس معاہدے کا کوئی سوال ہی نہیں، سامنے سمندر تھا انہوں نے اس سمندر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اگر آپؐ حکم دیں کہ اس سمندر میں کُود جاؤ تو ہم اپنے گھوڑے اس سمندر میں ڈالنے کیلئے تیار ہیں اور یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! آپ جنگ کا کیا پوچھتے ہیں۔ خدا کی قسم ہم آپؐ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپؐ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوئا نہ گزرے۔۳؎
    پھر ان کی محبت کا یہ حال تھا کہ جب بدر کے میدان میں پہنچے تو صحابہ نے ایک اونچی جگہ بنا کر رسول کریم ﷺ کو وہاں بٹھا دیا اور پھر انہوں نے ایک دوسرے سے مشورہ کر کے دریافت کیا کہ سب سے زیادہ تیز رفتار اُوٹنی کس کے پاس ہے۔ چنانچہ سب سے زیادہ تیز رفتار اونٹنی لیکر انہوں نے رسول کریم ﷺ کے قریب باندھ دی۔ رسول کریم ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہم تھوڑے ہیں اور دشمن بہت زیادہ ہے ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں ہم تمام کے تمام اس جگہ شہید نہ ہو جائیں، ہمیں اپنی موت کا تو کوئی غم نہیں یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہمیں آپؐ کا خیال ہے کہ آپ کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ ہم اگر مر گئے تو اسلام کو کچھ نقصان نہیں ہو گا لیکن آپ کے ساتھ اسلام کی زندگی وابستہ ہے پس ضروری ہے کہ ہم آپؐ کی حفاظت کا سامان کر دیں۔ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حضرت ابوبکرؓ کو ہم نے آپؐ کی حفاظت کیلئے مقرر کر دیا ہے اور یہ ایک نہایت تیز رفتار اونٹنی آپ کے قریب باندھ دی ہے۔ اگرخدانخواستہ ایسا وقت آئے کہ ہم ایک ایک کر کے یہاں ڈھیر ہو جائیں تو یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! یہ اونٹنی موجود ہے اس پر سوار ہو جایئے اور مدینہ پہنچ جائیے۔ وہاں ہمارے کچھ اور بھائی موجود ہیں انہیں معلوم نہ تھا کہ جنگ ہونے والی ہے اگر معلوم ہوتا تو وہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہوتے۔ آپؐ ان کے پاس پہنچ جایئے وہ آپؐ کی حفاظت کریں گے اور دشمن کے شر سے آپؐ محفوظ رہیں گے۔۴؎ یہ کتنی شاندار قربانی ہے جو صحابہؓ نے پیش کی۔ اس کے مقابلہ میں کیا نمونہ ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے پیش کیا اور کون کہہ سکتا ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کے صحابہؓ کی محبت کی گرد کو بھی پہنچے تھے۔
    پس یقینا صحابہؓ رسول کریم ﷺ سے بہت زیادہ محبت رکھتے تھے مگر وہ مشرک نہیں ہو گئے تھے کیونکہ خدا کی وہ محبت جو رسول کریم ﷺ نے ان کے دلوں میں قائم کی تھی وہ اس سے بھی بہت اونچی اور بہت بلند تھی۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں جتنی محبت خدا سے کی جاتی تھی اتنی ہی محبت رسول کریم ﷺ سے کی جائے تو بھی یہ شرک نہیں ہو سکتا کیونکہ رسول کریمﷺ نے خدا تعالیٰ کی محبت کا معیار اور زیادہ بلند کر دیا اور اس کو اتنا اونچا کر دیا کہ آپ کی محبت بھی اس کے مقابلہ میں ہیچ ہو جاتی ہے۔ پس آج رسول کریم ﷺ سے اتنی محبت کرنا جتنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں خدا سے کی جاتی تھی شرک نہیں۔ کیونکہ خدا کی محبت آج اور زیادہ بلند ہو چکی ہے لیکن اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں کوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اتنی محبت کرتا جتنی وہ خدا سے کرتا تھا تو یہ شرک ہوتا۔ جیسے آج کوئی رسول کریم ﷺ سے اتنی محبت کرے جتنی وہ خدا سے کرتا ہے تو یہ شرک ہے، یہی حال نبوت کا ہے۔
    ہمارا عقیدہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کا درجہ ہر روز بڑھتا ہے اور کوئی دن آپ پر ایسا نہیں آتا جب آپؐ پہلے مقام سے اور زیادہ آگے نہیں نکل جاتے۔ چنانچہ میں نے جس وقت یہ تقریر شروع کی تھی اس وقت رسول کریم ﷺ جس مقامِ قُرب پر فائز تھے میں یقین رکھتا ہوں کہ اِس وقت وہ اس مقام سے بہت زیادہ آگے نکل چکے ہیں۔ کوئی لمحہ ایسا نہیں جس میں رسول کریم ﷺ کے درجہ میں ترقی نہیں ہوتی اور کوئی وقت ایسا نہیں جب آپ کے مدارج بلند نہیں ہوتے مگر ہمارے مخالف کنویں کے مینڈک کی طرح یہ خیال کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ تیرہ سَو سال سے ایک مقام پر بیٹھے ہوئے ہیں حالانکہ آپ روز بروز درجہ میں بڑھ رہے ہیں اور جب ہر لمحہ آپؐ کے درجات میں ترقی ہو رہی ہے تو لازماً آپ کا پَیرو بھی درجات میں ترقی کرتا جائے گا۔ اور آپ کے نقش قدم پر چلتا ہوئا اِن مقامات سے گزرتا جائے گا جن مقامات سے آپ گزر چکے ہیں لیکن آپ کا پیرو اورنقش قدم پر چلنے کا دعویٰ کرتے ہوئے وہ کبھی آپ کے برابر نہیں ہو سکتا اور نہ آپ سے آگے بڑھ سکتا ہے کیونکہ آپؐ کے درجات میں ہر لمحہ ترقی ہو رہی ہے اور آپ کا متبع اورپَیرو جتنا بھی آگے بڑھے گا وہ بہرحال آپ کے پیچھے ہی رہے گا اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام باوجود نبوت کے مقام پر فائز ہونے کے کبھی آپ کے برابر نہیں ہو سکتے کیونکہ آپ نے یہ مقام آپؐ کی کامل پیروی سے حاصل کیا ہے۔ یہی مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس شعر میں بیان فرمایا:-
    ہم ہوئے خیرِاُمم تجھ سے ہی اے خیرِ رُسلؐ
    تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے
    یعنی اے محمد رسول اللہ ﷺ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو نبی کس طرح ہو گیا میں تو نبی اس لئے ہوئا کہ تو خیرِرُسُل ہے تو جتنا جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا اتنا میں بھی بڑھتا چلا جاتا ہوں۔ پس تو آگے ہے اور میں پیچھے۔ مگر مولوی کہتے ہیں کہ یہ شرک فی النبوۃ ہو گیا۔ حالانکہ یہ شرک کس طرح ہو گیا۔ جب کہ تیرے مقام کو میں حاصل ہی نہیں کر سکتا اور جبکہ میری ترقی تیری ترقی پر منحصر ہے۔ پس رسول کریم ﷺ تو ہر روز بلکہ ہر لمحہ انپے درجہ میں بڑھ رہے ہیں مگر یہ مخالف وہیں ہاتھ مار رہے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی اندھا کسی دعوت میں شریک ہوئا ، اس کے ساتھ ایک سوجا کھا بیٹھ گیا اندھے نے خیال کیا کہ یہ تو سوجاکھا ہے اور میں اندھا یہ ضرور زیادہ کھا جائے گا۔ چنانچہ اس نے بھی جلدی جلدی لقمے لینے شروع کر لئے تھوڑ ی دیر کے بعد اس نے خیال کیا کہ میری یہ حرکت تو اس نے دیکھ لی ہو گی اور ضرور اس نے بھی اس کا کوئی علاج تجویز کر لیا ہو گا چنانچہ یہ خیال آنے پر اس نے ایک ہاتھ سے کھانا شروع کر دیا اور دوسرے ہاتھ سے چاول اُٹھا اُٹھا کر اپنی جھولی میں ڈالنے شروع کر دئیے اب دوسرا شخص اس اندھے کی یہ حرکت دیکھ کر دل ہی دل میں ہنس رہا تھا اور بجائے کچھ کھانے کے وہ اس اندھے کی حرکات کو دیکھ رہا تھا۔ مگر اس اندھے نے سمجھا کہ اس نے ضرور اب کوئی اور تجویز زیادہ کھانے کی سوچ لی ہو گی۔ یہ خیال آتے ہی اس نے تھالی پر ہاتھ مار کر اسے اٹھا لیا اور کہنے لگا بس اب میرا ہی حصہ ہے۔
    یہی ان لوگوں کی حالت ہے نہ حقیقت کو سوچتے ہیں نہ اصلیت کو مدنظر رکھتے ہیں۔ رسول کریم ﷺ تو کہیں پہنچ گئے اور یہ بیٹھے کہہ رہے ہیں کہ شرک فی النبوۃ ہو گیا، شرک فی النبوۃ ہو گیا حالانکہ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے بادشاہ چلتا ہے تو ساتھ ہی پہریدار بھی چلنے لگ جاتا ہے جب بادشاہ ٹھہرتا ہے تو پہرہ دار بھی رُک جاتا ہے اب اگر کوئی کہے کہ یہ پہرہ دار کیسا گستاخ ہے ابھی تھوڑی دیر ہوئی جہاں بادشاہ کھڑا تھا وہاں اب یہ بھی کھڑا ہے تو وہ جاہل اور احمق ہی کہلائے گا۔ اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ تو ہر گھڑی آگے بڑھ رہے ہیں اور آپ کے آگے بڑھنے کی وجہ سے ہی آپ کے اُمتیوں کو ترقی ہوتی ہے مگر یہ شور مچاتے چلے جاتے ہیںکہ حضرت مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت سے شرک فی النبوۃ ہو گیا۔ تو ختم نبوت کا مسئلہ کوئی ایسا مشکل نہیں مگر لوگوں نے خواہ مخواہ اس میں اُلجھن ڈال رکھی ہے۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ اتنا بلند ہے کہ کوئی انسان وہاں تک نہیں پہنچ سکتا ہاں آپ کی فرمانبرداری، آپ کی غلامی اور آپ کی کامل اِتباع میں اگر کوئی شخص نبوت کا مقام حاصل کر لے تو اس میں آپ کی ہتک نہیں کیونکہ وہ بہرحال رسول کریم ﷺ کا غلام ہو گا۔ پس یہ مسائل ایسے نہیں کہ جن میں کوئی پیچیدگی ہو۔ سیدھی سادی باتیں ہیں لیکن اگر یہ باتیں بھی کسی کی سمجھ میں نہ آئیں تو وہ ایک موٹی بات دیکھ لے کہ اس وقت دنیا میں اسلام کو عزت اور شان و شوکت حاصل ہے یا وہ کسمپرسی کی حالت میں ہے۔ اگر اسلام اس وقت اسی شان اور اسی شوکت کے ساتھ قائم ہے جس شان اور شوکت کے ساتھ وہ آج سے تیرہ سَو برس پہلے قائم تھا تو بیشک علاج کی کوئی ضرورت نہیں لیکن اگریہ دکھائی دے رہا ہو کہ مسلمان قرآن سے بے بہرہ ہیں، اس کی تعلیم سے غافل ہیں، بادشاہتیں مسلمانوں کے ہاتھ سے جاتی رہیں، حکومتیں ضائع ہو گئیں تو ہر شخص اپنے دل میں خود ہی سوچے اور غور کرے کہ خدا نے اس وقت رسول کریم ﷺ کی عزت کو بلند کرنے کا کیا سامان کیا ہے۔ وہ اسلام جو رسول کریم ﷺ کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھا اس پر حملے پر حملے ہو رہے ہیں مگر مسلمان کہتے ہیں کہ اس کے علاج کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ خدا اگر کہے کہ میں کسی کو اصلاح کیلئے بھیجتا ہوں تو یہ مولوی کہنے لگ جاتے ہیں کہ نہ نہ ہمیں کسی مصلح کی ضرورت نہیں۔ پس اگر اسلام اچھی حالت میں ہے تو بے شک کہہ دو کہ حضرت مرزا صاحب نَعُوْذُ بِاللّٰہِ جھوٹے تھے لیکن اگر قرآن کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹ چکی ہے۔ اسلام سے وہ غافل ہو گئے ہیں اور عملی حالتوں میں وہ بالکل سُست ہو گئے۔ تو پھر ماننا پڑے گا کہ آپ سچے تھے اور آپ نے عین وقت پر آ کر اسلام کو دشمنوں کے نرغہ سے بچایا۔ ورنہ اگر اس زمانہ میں بھی اسلام کی مدد کیلئے خداتعالیٰ نے توجہ نہیں کی تو وہ کب کرے گا۔ آج خود مسلمان کہلانے والے اسلامی تعلیموں پر عمل چھوڑ چکے ہیں اور وہ خدا کا محبوب جو اوّلین و آخرین کا سردار ہے اس پر عیسائی ہیں تو وہ حملے کر رہے ہیں، ہندو ہیں تو وہ حملے کر رہے ہیں۔ سکھ ہیں تو وہ حملے کر رہے ہیں، وہ خدا کا رسول جو سارے انسانوں میں سے مقدس ترین انسان ہے جو سید ولد آدم ہے اور جس کی بلند شان تک نہ کوئی پہنچا اور نہ کوئی آئندہ پہنچ سکتا ہے اس کی عزت کو اس طرح پارہ پارہ کیا جا رہا ہے کہ گویا اس کی کوئی قیمت ہی نہیں یہی وہ حالات تھے جن کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کی غیرت بھڑکی اور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہر اس ہاتھ کو توڑ دیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اُٹھا، ہر اس زبان کو کاٹ دیا جس نے محمد رسول اللہ ﷺ کے خلاف بدزبانی اور بدگوئی کا ارادہ کیا اور آئندہ بھی ہر وہ ہاتھ توڑ دیا جائے گا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اُٹھے گا اور ہم جانتے ہیں کہ جس شخص کے دل میں رسول کریم کی ایک ذرہ بھر بھی محبت ہے وہ آج نہیں تو کل ہمارے پاس آئے گا ہم سپاہی ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کے سامنے آپ کی حفاظت کے لئے کھڑے ہیں جس طرح انصار نے کہاتھا کہ یَارَ سُوْلَ اللّٰہِ! ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہؤا نہ گزرے اسی طرح ہم آپ کے آگے بھی لڑ رہے ہیں اور آپ کے پیچھے بھی لڑ رہے ہیں، آپؐ کے دائیں بھی لڑ رہے ہیں اور آپؐ کے بائیں بھی لڑ رہے ہیں۔ ہمارے آدمی دنیا کے ہر ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اور اس لئے پھیلے ہوئے ہیں کہ تا محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت دنیا میں قائم کریں۔ پس وہ لوگ جو ہم پر تیر چلاتے ہیں ہم انہیں کہتے ہیں کہ وہ بے شک تیر چلاتے چلے جائیں ہم ان کے تیروں سے ڈرنے والے نہیں۔ بیشک وہ اس وقت زیادہ ہیں اور ہم تھوڑے مگر ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہر وہ شخص جس کے دل میں رسول کریم ﷺ کی ذرہ بھر بھی محبت ہے وہ آج نہیں تو کل ہم سے ضرور آ ملے گا اور جو ہم سے نہیں ملتا وہ رسول کریم ﷺ کا سچا عاشق نہیں کہلا سکتا۔ اس کا دل مُردہ ہے اور مُردہ کو لیکر ہم نے کیا کرنا ہے۔
    (الفضل ۲۸؍ مارچ ۱۹۵۸ء)
    ۱؎ میکڈانلڈ جیمز ریمزی MACDONALD JAMES RAMSI
    (۱۸۶۶ء تا ۱۹۳۷ء) برطانیہ کی لیبر پارٹی کا سیاستدان۔ ۱۹۰۰ء میں لیبر پارٹی کا پہلا سیکرٹری بنا۔ ۱۹۰۶ء میں پارلیمنٹ کا رُکن بنا۔ ۲۲؍جنوری ۱۹۲۴ء کو وزیراعظم بنا۔ وہ برطانیہ کا پہلا سوشلسٹ وزیراعظم تھا۔ ۹ ماہ تک وزیراعظم رہا۔ ۱۹۲۹ء میں دو بارہ وزیراعظم بنا۔ وہ برطانیہ کا پہلا وزیراعظم تھا جس نے سرکاری فرائض کی انجام دہی کیلئے ہوائی جہاز استعمال کیا۔ اس کے عہد میں برصغیر پاک و ہند کا سیاسی مسئلہ حل کرنے کے سلسلہ میں لندن میں تین گول میز کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ ایک سمندری سفر کے دَوران اس کا انتقال ہؤا۔
    (اُردو جامع انسا ئیکلوپیڈیا جلد۲ صفحہ۱۶۷۳ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء)
    ۲؎ مسلم کتاب الجھاد باب غزوۃ حنین
    ۳؎ سیرت ابن ہشام جلد۲ صفحہ۱۲،۱۳ مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ
    ۴؎ سیرت ابن ہشام جلد۲ صفحہ۱۵۔ مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ


    سیر روحانی (۱)



    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ اْلکَرِیْمِ
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھُوَالنَّاصِرُ
    سیر روحانی (۱)
    (تقریر فرمودہ ۲۸ دسمبر۱۹۳۸ء برموقع جلسہ سالانہ قادیان)
    مَیں نے پالیا۔ مَیں نے پالیا
    تشہّد،تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:-
    ایک اہم تاریخی سفر
    میرا آج کا مضمون میرے اُس سفر سے تعلق رکھتا ہے جو اس سال اکتوبر کے مہینہ میںمجھے پیش آیا۔ میںپہلے کام کے لئے قادیان سے
    سندھ کی طرف گیا اور وہاں کچھ دن ٹھہر کرسمندرکی ہوا کھانے کے لئے کراچی چلا گیا کیونکہ میرے گلے میںمزمن خراش کی تکلیف ہے جس کی وجہ سے مجھے سالہاسال تک کاسٹک لگوانا پڑتا رہا ہے۔کچھ عرصہ ہؤا مجھے ڈاکٹروں نے کہا کہ اب آپ کاسٹک لگانا چھوڑ دیں ور نہ گلے کا گوشت بِالکل جل جائے گا۔ چنانچہ میں نے اُس وقت سے کاسٹک لگوانا تو ترک کر دیا ہے مگر اور علاج ہمیشہ جاری رکھنے پڑتے ہیں ورنہ گلے اور سر میں درد ہوجاتی ہے ۔چونکہ ڈاکٹروں کی رائے میں اِس مرض کیلئے سمندر کا سفر خاص طور پر مفید ہے اس لئے گزشتہ دو سال میںمَیں نے کراچی سے بمبئی کا سفر جہاز میںکیا۔ پہلے سفر میںاوّل تو تکلیف بڑھ گئی مگر بعد میںنمایاں فائدہ ہؤا اور روزانہ دوائیں لگانے کی جو ضرورت محسوس ہوتی تھی اُس میں بہت کمی آگئی اس لئے اس سال میں نے پھر موقع نکالا ۔اِ س سفر میںمجھے یہ بھی خیال آیا کہ حیدر آباد دَکن کے دوست مجھے ہمیشہ کہتے رہتے ہیں کہ میں کبھی وہاں بھی آئوں سو اِس دفعہ حیدرآباد کے دوستوں کی اگر یہ خواہش پوری ہو سکے تو مَیں اسے بھی پورا کردوں ۔ چنانچہ مَیںسندھ سے کراچی گیا،کراچی سے بمبئی ، بمبئی سے حیدرآباد، حیدرآباد سے آگرہ ، آگرہ سے دہلی اور دہلی سے قادیان آ گیا۔
    حیدرآباد کاتاریخی گولکنڈہ کا قلعہ
    حیدرآباد میں مَیں نے بعض نہایت اہم تاریخی یادگاریں دیکھیں جن میں سے ایک گولکنڈہ کاقلعہ
    بھی ہے۔ یہ قلعہ ایک پہاڑ کی نہایت اونچی چوٹی پر بنا ہؤا ہے اور اس کے گِرد عالمگیر کی لشکر کشی کے آثار اور اہم قابلِ دید اشیاء ہیں۔ یہاں کسی زمانہ میںقطب شاہی حکومت ہؤا کرتی تھی اور اس کا دارالخلافہ گولکنڈہ تھا۔ یہ قلعہ حیدرآباد سے میل ڈیڑھ میل کے فاصلہ پر واقع ہے ایک نہایت اونچی چوٹی پر بڑا وسیع قلعہ بنا ہؤا ہے یہ قلعہ اتنی بلند چوٹی پر واقع ہے کہ جب ہم اس کو دیکھنے کے لئے آگے بڑھتے چلے گئے تو حیدرآباد کے وہ دوست جو ہمیں قلعہ دکھانے کیلئے اپنے ہمراہ لائے تھے اور جو گورنمنٹ کی طرف سے ایسے محکموں کے افسر اور ہمارے ایک احمدی بھائی کے عزیز ہیں انہوں نے کہا کہ اب آپ نے اسے کافی دیکھ لیا ہے آگے نہ جائیے اگر آپ گئے تو آپ کو تکلیف ہو گی۔ چنانچہ خود انہوںنے شریفے لئے اور وہیںکھانے بیٹھ گئے مگر ہم اس قلعہ کی چوٹی پر پہنچ گئے، جب میں واپس آیا تو مَیں نے دریافت کیا کہ مستورات کہاںہیں؟ انہوںنے کہا کہ وہ بھی اوپر گئی ہیں۔خیر تھوڑی دیر کے بعد وہ واپس آ گئیں، مَیں نے اُن سے کہا کہ تم کیوں گئی تھیں؟ وہ کہنے لگیں اِنہوں نے ہمیں روکا تو تھا اورکہا تھا کہ اوپرمت جائو اور حیدر آبادی زبان میں کوئی ایسا لفظ بھی استعمال کیا تھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ اوپر گئے تو بڑی تکلیف ہوگی، مگر ہمیںتو کوئی تکلیف نہیںہوئی شاید حیدرآبادی دوستوں کو تکلیف ہوتی ہو۔ تو خیر ہم وہاں سے پِھر پِھرا کر واپس آگئے۔ یہ قلعہ نہایت اونچی جگہ پرہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نہایت شاندار اور اسلامی شان وشوکت کا ایک پُرشوکت نشان ہے۔ اِس قلعہ کی چوٹی پر مَیں نے ایک عجیب بات دیکھی اور وہ یہ کہ وہاںہزاروں چھوٹی چھوٹی مسجدیں بنی ہوئی ہیں ان میں سے ایک ایک مسجد اِس سٹیج کے چوتھے یا پانچویں حصّہ کے برابر تھی، پہلے تو مَیں سمجھا کہ یہ مقبرے ہیں مگر جب مَیں نے کسی سے پوچھا تو اُس نے بتایا کہ یہ سب مسجدیں ہیں اور اُس نے کہا کہ جب عالمگیر نے اس جگہ حملہ کیا ہے تو اسے ریاست کو فتح کرنے کیلئے کئی سال لگ گئے اور مسلسل کئی سال تک لشکر کو یہاں قیام کرنا پڑا اِس وجہ سے اُس نے نمازیوںکے لئے تھوڑے تھوڑے فاصلہ پرہزاروں مسجدیںبنا دیں، مجھے جب یہ معلوم ہؤا تو میرا دل بہت ہی متأثرہؤا اورمَیں نے سوچا کہ اُس وقت کے مسلمان کس قدر باجماعت نمازادا کرنے کے پابند تھے کہ وہ ایک ریاست پر حملہ کرنے کیلئے آتے ہیں مگر جہاں ٹھہرتے ہیں وہاں ہزاروں مسجدیں بنا دیتے ہیں تا کہ نماز باجماعت کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔ اسی طرح آگرہ اسلامی دنیا کے عظیم الشان آثار کا مقام ہے۔ وہاں کا تاج محل دُنیا کے سات عجائبات میںسے ایک عجوبہ سمجھا جاتا ہے، وہاں کا قلعہ فتح پورسیکری اور سلیم چشتی صاحب جو خواجہ فرید الدین صاحب گنج شکر پاکپٹن کی اولاد میںسے تھے ان کا مقبرہ عالمِ ماضی کی کیف انگیز یادگاریں ہیں۔
    مَیں نے ان میںسے ایک ایک چیز دیکھی اور جہاں ہمیں یہ دیکھ کر مسرّت ہوئی کہ اسلامی بادشاہ نہایت شوکت اور عظمت کے ساتھ دنیا پرحکومت کرتے رہے ہیں وہاں یہ دیکھ کر رنج اور افسوس بھی ہؤا کہ آج مسلمان ذلیل ہو رہے ہیں اور کوئی ان کا پُرسانِ حال نہیں، فتح پور سیکری کا قلعہ درحقیقت مُغلیہ خاندان کے عروج کی ایک حیرت انگیز مثال ہے۔چند سال کے اندر اندر اکبر کا اِس قدر زبردست قلعہ اور شہر تیار کردینا جس کے آثار کو اب تک امتدادِ زمانہ نہیں مٹا سکا بہت بڑی طاقت اور سامانوں کی فراوانی پر دلالت کرتا ہے۔ یہ اتنا وسیع قلعہ ہے کہ دُوربین سے ہی اس کی حدوںکودیکھا جا سکتا ہے خالی نظر سے انسان اس کی حدوں کو اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا اور اب تک اس کے بعض حصّے بڑے محفوظ اور عمدگی سے قائم ہیں۔ یہ باتیں بتاتی ہیں کہ مسلمانوںکوبہت بڑی طاقت اور سامانوں کی فراوانی حاصل تھی ورنہ چند سالوں کے اندر اندر اکبر اِس قدر وسیع شہر اور اتنا وسیع قلعہ ہرگز نہ بنا سکتا۔ مُغلیہ خاندان کے جو قلعے مَیں نے دیکھے ہیں ان میںسے درحقیقت یہی قلعہ کہلانے کا مستحق ہے ورنہ آگرہ کا قلعہ اور دہلی کا قلعہ صرف محل ہیں قلعہ کا نام انہیں اعزازی طور پردیا گیا ہے۔ قلعہ کی اغراض کو دَکن کے قلعے زیادہ پورا کرتے ہیں اور یا پھر فتح پور سیکری کے قلعہ میںجنگی ضرورتوں کو مدِّنظررکھا گیا ہے۔ دہلی میں مَیں نے جامع مسجد دیکھی، دہلی کا قلعہ دیکھا ، خواجہ نظام الدین صاحب اولیاء کامقام دیکھا، منصور اور ہمایوں کے مقابر دیکھے،قطب صاحب کی لاٹ دیکھی ،حوضِ خاص دیکھا، پُرانا قلعہ دیکھا، جنتر منتر دیکھا، تغلق آباد اور اوکھلا بند دیکھا۔ ہم نے ان سب چیزوں کو دیکھا اور عبرت حاصل کی، اچھے کاموں کی تعریف کی اور لغو کاموں پر افسوس کا اظہار کیا۔ مسلمانوں کی ترقی کا خیال کر کے دل میں ولولہ پیدا ہوتا تھا اور ان کی تباہی دیکھ کر رنج اور افسوس پیدا ہوتا تھا۔ جن لوگوں نے ہمت سے کام لیا ان کیلئے دل سے آفرین نکلتی تھی اور جنہوں نے آثارِ قدیمہ کی تحقیق کی بعض گڑی ہوئی عمارتوں کو کھودا، پُرانے سکّوں کو نکالا اور جو آثار ملے انہیںمحفوظ کر دیا ان کے کاموں کی ہم تعریف کرتے تھے۔
    ان میں سے بعض مقامات میرے پہلے بھی دیکھے ہوئے تھے جیسے دہلی اور آگرہ کے تاریخی مقامات ہیں مگر بعض اس دفعہ نئے دیکھے اور ہر ایک مقام سے اپنے اپنے ظرف کے مطابق ہم نے لُطف اُٹھایا۔ مَیں نے اپنے ظرف کے مطابق، میرے ساتھیوں نے اپنے ظرف کے مطابق اور مستورات نے اپنے ظرف کے مطابق۔
    عبرتناک نظارہ
    یوں تو ہر جگہ میری طبیعت ان نشانات کو دیکھ دیکھ کر ماضی میں گُم ہو جاتی تھی۔ مَیں مسلمانوں کے ماضی کودیکھتا اور حیران رہ جاتا تھا کہ انہوں
    نے کتنے بڑے بڑے قلعے بنائے اور وہ کس طرح ان قلعوں پر کھڑے ہو کر دنیا کو چیلنج کیا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو ہمارا مقابلہ کر سکے۔ مگر آج مسلمانوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ پھر میں ان کے حال کو دیکھتا اور افسردہ ہو جاتا تھا، لیکن تغلق آباد کے قلعہ کودیکھ کر جو کیفیت میرے قلب کی ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔ یہ قلعہ غیاث الدین تغلق کا بنایا ہؤا ہے اور اس کے پاس ہی غیاث الدین تغلق کا مقبرہ بھی ہے۔یہ قلعہ ایک بلند جگہ پر واقع ہے، خاصّہ اوپرچڑھ کر اس میںداخل ہونا پڑتا ہے جہاں تک ٹوٹے پھوٹے آثار سے مَیں سمجھ سکا ہوں اس کی تین فصیلیں ہیں اور ہر فصیل کے بعد زمین اور اُونچی ہو جاتی ہے جب ہم اس پر چڑھے تو میرے ساتھ میری بڑی ہمشیرہ بھی تھیں جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا الہام ہے کہ ’’نواب مبارکہ بیگم ۱؎ ‘‘ اسی طرح میری چھوٹی بیوی اور امۃ الحئ مرحومہ کے بطن سے جومیری بڑی لڑکی ہے وہ بھی میرے ہمراہ تھیں ہمشیرہ تو تھک کر پیچھے رہ گئیں، مگر مَیں، میری ہمراہی بیوی اور لڑکی ہم تینوں اوپرچڑھے اور آخرایک عمارت کی زمین پر پہنچے جو ایک بلند ٹیکرے پر بنی ہوئی تھی۔ یہاں سے ساری دہلی نظر آتی تھی، اس کا قُطب اس کا پُرانا قلعہ، نئی اور پُرانی دہلی اور ہزاروں عمارات اور کھنڈر چاروں طرف سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھ رہے تھے اور قلعہ ان کی طرف گُھوررہا تھا۔مَیں اس جگہ پہنچ کر کھڑ ا ہوگیا اور پہلے تو اس عبرتناک نظارہ پر غور کرتارہا کہ یہ بلند ترین عمارت جو تمام دہلی پربطور پہرہ دار کھڑی ہے اس کے بنانے والے کہاںچلے گئے، وہ کس قدر اولوالعزم ، کس قدر باہمت اور کس قدر طاقت وقوت رکھنے والے بادشاہ تھے جنہوںنے ایسی عظیم الشان یادگاریں قائم کیں، وہ کس شان کے ساتھ ہندوستان میںآئے اور کس شان کے ساتھ یہاں مرے ، مگر آج ان کی اولادوں کاکیا حال ہے، کوئی ان میں سے بڑھئی ہے، کوئی لوہار ہے، کوئی معمار ہے، کوئی موچی ہے اور کوئی میراثی ہے۔
    مَیں انہی خیالات میںتھا کہ میرے خیالات میرے قابو سے باہر نکل گئے اور مَیںکہیں کاکہیں جا پہنچا، سب عجائبات جو سفر میں مَیں نے دیکھے تھے میری آنکھوں کے سامنے سے گزر گئے، دہلی کا یہ وسیع نظارہ جو میری آنکھوں کے سامنے تھا میری آنکھوں کے سامنے سے غائب ہو گیا اور آگرہ اور حیدر آباد اور سمندر کے نظارے ایک ایک کر کے سامنے سے گزرنے لگے، آخر وہ سب ایک اَور نظارہ کی طرف اشارہ کر کے خود غائب ہو گئے ۔ میں اس محویت کے عالَم میںکھڑا رہا ، کھڑا رہا اور کھڑا رہا اور میرے ساتھی حیران تھے کہ اِس کوکیا ہو گیا؟ یہاں تک کہ مجھے اپنے پیچھے سے اپنی لڑکی کی آواز آئی کہ ابّاجان!دیرہوگئی ہے میںاس آواز کو سن کر پھرواپس اِسی مادی دنیا میں آگیا، مگر میرا دل اُس وقت رقت انگیز جذبات سے پُر تھا ، نہیں وہ خون ہورہا تھا اور خون کے قطرے اُس سے ٹپک رہے تھے مگر اس زخم میںایک لذّت بھی تھی اور وہ غم سرور سے ملاہؤا تھا۔ مَیں نے افسوس سے اِس دنیا کو دیکھا اور کہا کہ ’’مَیں نے پالیا۔ مَیںنے پا لیا۔‘‘ جب مَیںنے کہا ’’مَیں نے پالیا۔ مَیں نے پالیا‘‘ تواُس وقت میری وہی کیفیت تھی جس طرح آج سے دوہزار سال پہلے گِیاؔ کے پاس ایک بانس کے درخت کے نیچے گوتم بُدھ کی تھی جب کہ وہ خداتعالیٰ کا قُرب اور اُس کا وِصال حاصل کرنے کے لئے بیٹھا اور وہ بیٹھا رہا اور بیٹھا رہا یہاں تک کہ بُدھ مذہب کی روایات میں لکھا ہے کہ بانس کا درخت اُس کے نیچے سے نکلا اور اُس کے سر کے پار ہو گیا،مگر محویت کی وجہ سے اُس کو اِس کا کچھ پتہ نہ چلا، یہ تو ایک قصہ ہے جو بعد میں لوگوں نے بنا لیا۔ اصل بات یہ ہے کہ بُدھ ایک بانس کے درخت کے نیچے بیٹھا اور وہ دنیا کے راز کو سوچنے لگا یہاں تک کہ خدا نے اُس پر یہ راز کھول دیا۔ تب گوتم بُدھ نے یکدم اپنی آنکھیں کھولیں اور کہا ’’مَیںنے پا لیا۔ مَیں نے پالیا۔‘‘ میری کیفیت بھی اُس وقت یہی تھی۔ جب میں اس مادی دنیا کی طرف واپس لَوٹا تو بے اختیار مَیں نے کہا ’’مَیں نے پالیا۔ میں نے پالیا۔‘‘
    اُس وقت میرے پیچھے میری لڑکی امۃ القیو م بیگم چلی آرہی تھی اُس نے کہا، ابّاجان! آپ نے کیا پالیا؟ میںنے کہا، میں نے بہت کچھ پالیا مگر مَیںاِس وقت تم کو نہیں بتا سکتا، اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو مَیں جلسہ سالانہ پربتائوں گا کہ مَیں نے کیا پایا؟ اُس وقت تم بھی سُن لینا، سو آج میں آپ لوگوں کو بتاتا ہوں کہ مَیںنے وہاں کیا پایا اور وہ کیا تھا جسے میری اندرونی آنکھ نے دیکھا۔
    میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ جو کچھ مَیں نے اُس وقت وہاں دیکھا وہ وہی تھا جو میں آج بیان کرونگا اُس وقت میری آنکھوں کے سامنے سے جو نظارے گزرے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو راز مجھ پر کھولا گیا گو وہ تفصیل کے لحاظ سے بہت بڑی چیز ہے اور کئی گھنٹوں میںبھی بیان نہیں ہو سکتی مگر چونکہ فکر میںانسان جلدی سفر طے کر لیتا ہے اس لئے اُس وقت تو اِس پرچندمنٹ شاید دس یا پندرہ ہی خرچ ہوئے تھے پس جو انکشاف اُس وقت ہؤا وہ بطور بیج کے تھا اور جو کچھ مَیںبیان کروں گا وہ اپنے الفاظ میںاُس کی ترجمانی ہوگی اور اُس کی شاخیں اور اُس کے پتے اور اُس کے پھل بھی اپنی اپنی جگہ پرپیش کئے جائیں گے۔ـ
    اس سفر میں مَیں نے کیا کچھ دیکھا
    اب مَیں قدم بقدم آپ کو بھی اپنے اُس وقت کے خیالات کے ساتھ ساتھ لے جانے کی کوشش
    کرتا ہوں اور آپ کو بھی اپنی اس سیر میںشامل کرتا ہوں۔ جب میں اُس وسیع نظارہ کودیکھ رہا تھا اور سَلف کے کارنامے میر ے سامنے تھے، میرے دل نے کہا مَیں کیا دیکھتا ہوں اور کِن گزشتہ دیکھی ہوئی چیزوں کی یاد میرے دل میںتازہ ہو رہی ہے کہ نہ صرف وہ نظارے بلکہ ابتدائی حصہ سفر کے نظارے بھی میری آنکھوں کے سامنے آگئے، اُس وقت مجھ پر ایک ربودگی کی حالت طاری تھی، مجھے کراچی کے نظارے بھی یادآ رہے تھے، مجھے حیدرآباد کے نظارے بھی یاد آ رہے تھے، مجھے آگرہ کے نظارے بھی یاد آ رہے تھے اور دہلی کے نظارے بھی میری آنکھوں کے سامنے تھے یہ تمام نظارے ایک ایک کرکے میری آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگ گئے اور مجھے یوں معلوم ہؤا کہ گویا مَیں کہُرمیں کھڑا ہوں اور ہر چیز دُھند لی ہو کر میری آنکھوں کے سامنے سے گزر رہی ہے۔ غرض میر ے دل نے کہا کہ مَیں کیا دیکھتا ہوں اور کِن گزشتہ نظاروں کی یاد میرے دل میں تازہ ہو رہی ہے جب یہ سوال میرے دل میںپیدا ہؤا تو میرے دل نے جواب دیا کہ:-
    ۱۔ میں نے قلعے دیکھے ہیں جن کے دو اَثر میرے دل پر پڑے ہیں۔ ایک یہ کہ ان قلعوں کے ذریعہ کیسے کیسے حفاظت کے سامان مسلمان بادشاہوں کی طرف سے پیدا کئے گئے تھے دوسرے یہ کہ کس طرح یہ حفاظت کے سامان خود مِٹ گئے اور ان کو دوبارہ بنانے والا کوئی نہیں کیونکہ ان حکومتوں کا نام لیوا اَب کوئی نہیں۔
    ۲ ۔ پھر مَیں نے کہا دوسری چیزجو مَیں نے دیکھی ہے مُردہ بادشاہوں کے مقابر ہیں ، اُن بادشاہوں کے جو فوت ہو چکے ہیں مگر اُن کے مقبرے اُن کی یاد دلا رہے ہیں اور اُن کی شوکت کوہماری آنکھوں کے سامنے لا رہے ہیں۔
    ۳۔ تیسرے مَیں نے مساجد دیکھی ہیں ، نہایت خوبصورت مساجد، چھوٹی بھی اور بڑی بھی جو ہزاروں آدمیوں کو خداتعالیٰ کے ذکر کے لئے جمع کرنے کے لئے کہیں سُرخ اور کہیں سفید پتھر سے تیار کی گئی ہیں۔
    ۴۔ چوتھے میں نے ایک وسیع اور بلند مینار دیکھا ہے، آسمان سے باتیں کرتا ہؤا جس کی بلندی کو دیکھ کر انسانی نظر مرعوب ہو جاتی ہے۔
    ۵۔ پانچویں مَیں نے نوبت خانے دیکھے ہیں جہاںموسیقی سے لوگوں کے جذبات کو اُبھارا جاتا تھا، جہاں طبل او رنفیریاں بجتیں اور سپاہیوں کے دل اُچھلنے لگتے اور وہ جنگ کو جنگ نہیں بلکہ بچوں کا کھیل سمجھتے، اُن کے گھوڑے ہنہنانے لگتے اور اُن کا خون گرم ہو کرجسم میںدَوڑنے لگتا اور جہاں سے بادشاہ کے اعلان کو گرجتے ہوئے بادلوں کی طرح نوبتوں کے ذریعہ دنیا کو سُنایا جاتا تھا۔
    ۶۔ چَھٹے مَیں نے باغات دیکھے ہیں جو کسی وقت اپنی سرسبزی وشادابی کی وجہ سے جنت نگاہ تھے اورآنکھوں کو سرور اور دلوں کولذّت بخشا کرتے تھے۔
    ۷۔ ساتویںمَیں نے کہا۔ مَیں نے دیوانِ عام دیکھے ہیں جہاںبادشاہ اپنے انصاف اورعدل سے اپنی رعایا کی تکلیفوں کو دُور کیا کرتے تھے اور آتے ہی اعلان کر دیاکرتے تھے کہ جس شخص پر کوئی ظلم ہؤا ہو وہ ہمارے پاس فوراً شکایت کر ے جس پر امیر وغریب حتّٰی کہ بھنگی اور چمار بھی آتا اور بادشاہ کے سامنے فریاد کرتا۔
    ۸۔ آٹھویں مَیںنے دیوانِ خاص دیکھے ہیں جہاںبادشاہ اپنے خاص درباریوں سے راز ونیاز کی باتیں کیا کرتے تھے۔
    ۹۔ نویںمیں نے نہریں دیکھی ہیں جو اِدھر سے اُدھر پانی پہنچایا کرتی تھیں اور پیاسے درختوں کونئی زندگی بخشتی تھیں اور جن سے سیراب ہو کر درخت لہرا لہرا کر اپنی بہار دکھایا کرتے تھے۔
    ۱۰۔ دسویں مَیں نے لنگرخانے دیکھے ہیںجن سے بادشاہوں کے ہم مذہبوں اور اُس کے مذہبی مخالفوں کو بھی الگ الگ کھانے تقسیم ہؤا کرتے تھے۔ مسلمانوں کے الگ لنگرخانے ہؤا کرتے تھے اور غیر مذاہب والوں کے الگ۔مسلمانوں کے لنگرخانوں میںمسلمان تقسیم کرنے والے ہوتے اورغیر مذاہب کے لنگرخانوں میں غیرمُسلم تقسیم کرنے پر مقرر ہوتے۔
    ۱۱۔ گیارہویں میں نے دفتر دیکھے ہیںجہاں تمام ریکارڈ رکھے جاتے تھے اورہر ضروری امر کو محفوظ رکھا جاتا تھا۔
    ۱۲۔ بارھویں مَیں نے کتب خانے دیکھے ہیںجہاں پُرانی کتب کے تراجم ہوتے تھے اور پُرانے علوم کو محفوظ کیاجاتا تھا۔
    ۱۳۔ تیرھویں مَیں نے بازار دیکھے ہیں جہاں ہر چیز جس کی انسان کو ضرورت ہو فروخت ہوتی تھی۔
    ۱۴۔ چودھویں مَیں نے جنتر منتر دیکھا ہے جو ستاروں کی گردشیں معلوم کرتا تھا اور حسابِ سِنین کو بتاتا تھا یا آئندہ کے تغیّرپرروشنی ڈالتا تھا۔
    ۱۵۔ پندرھویں مَیں نے ایک وسیع سمندر بھی دیکھا ہے جس کاکنارہ تو ہے مگر اُس کا اندازہ لگانا انسانی فطرت کی طاقت سے بالا ہے اور جہاز میںبیٹھنے والا اُسے بے کِنار ہی سمجھتا ہے جس کے راز دریافت کرنے اور اُس سے فائدہ اُٹھانے کے لئے ہزاروں بڑے بڑے جہاز جوبعض دفعہ ایک ایک گائوں کے برابر ہوتے ہیں اور دودو ہزار آدمی اس میںبیک وقت بیٹھ جاتے ہیں ہر وقت اُس میںچلتے رہتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک وسیع شہر میں ایک چیونٹی پِھر رہی ہے۔
    ۱۶۔ سولہویں مَیں نے آثارِ قدیمہ کے محکموں کے وہ کمرے دیکھے ہیں جہاں قدیم چیزیں انہوں نے جمع کر رکھی ہیں،کہیں زمین کھود کرانہوں نے سِکّے نکالے ، کہیں زمین کھود کر انہوں نے پُرانے کاغذات دستیاب کئے اور کہیں زمین کھود کر انہوں نے پُرانے برتن نکالے اور اس طرح پُرانے زمانہ کے تمدّن اور تہذیب کا نقشہ انہوں نے ان چیزوں کے ذریعہ ہمارے سامنے رکھا، یہ تمام چیزیں ایک ترتیب کے ساتھ رکھی تھیں۔ پس مَیں نے آثارِ قدیمہ کی ان محنتوں کو بھی دیکھا اور پُرانے آثار کو نکال کردنیا کے سامنے پیش کرنے پرمیرے دل نے ان کے کام پرآفرین کہی۔
    ایک نئی دنیا جو میری آنکھوں کے سامنے آئی
    یہ امور تفصیلاً یااجمالاً اُس وقت میرے ذہن میں آئے اور پھر
    میر ے دل نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا یہ تیری زندگی کا بہترین تجربہ ہے، کیا ان سے بڑھ کر ایسی ہی چیزیں تو نے نہیں دیکھیں، کیا ان سے بڑھ کر مفیدکام تو نے نہیںدیکھے اور کیا ان سے بڑھ کر عبرت کے نظارے تو نے نہیں دیکھے؟ اور اس سوال کے پیدا ہوتے ہی وہ تمام نظارے جو میری آنکھوں کے سامنے تھے غائب ہو گئے اور ایک اور نظارہ میری آنکھوں کے سامنے آ گیا اور ایک نئی دنیا میری آنکھوں کے سامنے آہستہ آہستہ گزرنے لگ گئی۔ مَیں اس نئی دنیا کے آثارِ قدیمہ کو دیکھنے میں مشغول ہؤا تو مَیں نے ایسے ایسے عظیم الشان آثارِ قدیمہ دیکھے جو اُن آثارِ قدیمہ سے بہت زیادہ شاندار تھے جن کے خیال میں میرا دل محو تھا بلکہ ایک فوق العادت کارنامہ آثارِ قدیمہ کی دریافت کا میرے سامنے آ گیا، ایک بڑا جنتر منتر جس کا اندازہ لگانا بھی انسانی طاقت سے بالا ہے میری آنکھوں کے سامنے پیدا ہؤا، بڑے بڑے غیرمعمولی خوبصورتیوں والے باغات، عدیم المثال نہریں ،بے کِنار سمندر، عالیشان قصر، ان کے لنگرخانے ، دیوانِ عام ، دیوانِ خاص، بازار،لنگرخانے،کتب خانے، دفتر، بے انتہاء بلند مینار اور غیرمحدود وُسعت والی مسجد، دلوں کو دہلادینے والے مقبرے اور مِسمار شُدہ یادگاریں ایک ایک کر کے میری نگاہوں کے آگے پھرنی شروع ہو ئیں اور مَیں نے کہا اُف مَیں کہاں آ گیا۔ یہ چیزیں میرے پاس ہی موجود تھیں، تمام دنیا کے پاس موجود ہیں،لیکن دنیا ان کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیںدیکھتی اور بچوں کی طرح کھلونوں کے پیچھے بھاگتی پھرتی ہے۔ میرا دل خون ہو گیا اپنی بے بسی پرکہ مَیں یہ چیزیں دنیاکو دکھانے سے قاصر ہوں، میرا دل خون ہو گیا دنیا کی بے توجّہی پر، مگر میرا دل مسرور بھی تھا اُس خزانے کے پانے پر، اُن امکانات پر کہ ایک دن مَیں یا خدا کاکوئی اور بندہ یہ مخفی خزانے دنیاکو دکھانے میںکامیاب ہو جائے گا اورمَیں نے جب ان چیزوں کو دیکھا تو بے اختیار یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہوئے کہ ’’مَیں نے پالیا۔ مَیں نے پالیا‘‘۔ ہا ںہاںیہ یقینی بات ہے کہ تغلق کے قلعہ میں مَیں نے ایک اَور دنیا کو پالیا، ایک بالا دنیا ، ایک بالاطاقت کے نشانات اور مَیں پہلے اس دنیا میں کھویا گیا، پھر مَیں نے ایک اور دنیا کو جو اِس سے کہیں زیادہ شاندار ،کہیں زیادہ وسیع،کہیں زیادہ پائیدار اور پھر ایک لحاظ سے بوسیدہ کھنڈر اور تباہ حال تھی، اُسے دیکھااُسے پایا۔ اس خستہ حالی پر میرا دل رویا اس کی شان اور پائیداری سے میر ا دل مسرور ہؤا۔ اب آئو مَیں اس کے کچھ حصّہ کی آپ کوسیر کراتا ہوں۔
    ۱۔آثار ِ قدیمہ
    پہلے مَیں آثارِ قدیمہ کو لیتا ہوں مگر چونکہ ہماری جماعت کے بہت سے زمیندار اصحاب آثارِقدیمہ کا مفہوم نہیں سمجھتے ہوں گے اس لئے اُن کی واقفیت کے لئے مَیںیہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ لفظ عربی زبان کا ہے۔ اثر کے معنے نشان کے ہوتے ہیں، اُردو میںبھی کہتے ہیں کہ فلاں چیز کا کوئی اثر باقی نہیں رہا، آثار اس کی جمع ہے اور اس کے معنے ہیںبہت سے نشانات ،قدیمہ کے معنی پُرانے کے ہیں۔ پس آثارِ قدیمہ کے معنی ہوئے پُرانی چیزوں کے نشانات ، وہ عمارتیں جو زمین میں دب کر نظروں سے غائب ہو جاتی ہیں یاپُرانے سکوں ،پُرانے کپڑوں ، پُرانے برتنوں اور پُرانے کاغذوں کومہیا کرنے کے لئے یہ محکمہ گورنمنٹ نے بنایا ہؤا ہے اور اس کاکام ہے کہ خواہ اسے زمین میں دبی ہوئی عمارتیں مل جائیں یا کاغذات مل جائیں یا سکّے مل جائیں انہیں محفوظ کر دے۔ پس یہ محکمہ پُرانی یادگاروں کو تلاش کر کے ان سے پُرانے تمدّن ،پُرانے حالات اور پُرانی ترقیات پرروشنی ڈالتا ہے اور ان کو دنیا میں قائم اور زندہ رکھتا ہے۔ایسے آثارِ قدیمہ کے کمروں میں بعض بوسیدہ کپڑے رکھے ہوئے ہوتے ہیں جن کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ یہ فلاںزمانہ کے ہیں اور ان کو دیکھ کر لوگ اندازہ لگاتے ہیں کہ اُس وقت کے لوگ کس قسم کے کپڑے بُنا کرتے تھے،صنّاعی کیسی تھی، یاکچھ پُرانے سکّے رکھے ہوئے ہوتے ہیں، کچھ پُرانے ہتھیار رکھے ہوئے ہوتے ہیں، کچھ پُرانے کاغذات رکھے ہوئے ہوتے ہیں، کچھ پُرانے ٹُوٹے ہوئے گھڑے اور برتن رکھے ہوئے ہوتے ہیں، کچھ ٹُوٹی ہوئی چپلیاں ہوتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کپڑا دو ہزار سال پہلے کا ہے، یہ سکہ آج سے تین ہزار سال پہلے استعمال ہوتا تھا ۔غرض ان سب چیزوں کو اکٹھا کر کے ایک عجائب خانہ بنا دیتے ہیں۔امریکہ تک سے لوگ آتے ہیں اور ان چیزوں کو دیکھ دیکھ کر تعریف کرتے ہیں اور جس کسی نے کوئی پُرانا چیتھڑا یا کوئی دونی اٹھنّی تلاش کر کے دی ہوتی ہے اُس کی بڑی تعریف ہوتی ہے۔ کہتے ہیں فلاں تو علّامہ ہیں ان کا کیا کہنا ہے، انہوں نے آج سے دو ہزار سال پہلے کی استعمال ہونے والی اٹھنّی بڑی تلاش سے دستیاب کی ہے اور فلاں عجائب خانہ میںپڑی ہے۔ غرض چند ٹوٹی ہوئی عمارتیں جو زمین میںدب کر نظروں سے غائب ہو گئی تھیں ، چند ٹوٹے ہوئے کتبے، کچھ بوسیدہ کپڑے، کچھ گھسے ہوئے سکّے،مٹّی اور پتھر کے برتن، پھَٹے ہوئے بوسیدہ کاغذات اور دستاویزات محکمہ آثارِ قدیمہ کی کُل کائنات ہوتے ہیں،جن کو جوڑ جاڑکر زمانۂ سلف کے حالات کو یہ محکمہ اخذ کرتا اور دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے اور عالِم وجاہل اس کی محنت کی داد دیتے اور اس کے کارناموںکو عزّت سے بیان کرتے ہیں۔مَیں بھی ان سے متأثر ہؤا، مگر تغلق کے قلعہ میںجو آثارِ قدیمہ مَیں نے دیکھے انہوں نے ان آثارِقدیمہ کو میری نگاہ میں بالکل بے حقیقت بنا دیاکیونکہ وہ ان سے بہت پُرانے، بہت وسیع، بہت متنوّع اور بہت ہی مفید تھے۔
    اب میںاس آثارِ قدیمہ کے دفتر میں آپ کو بھی لے جاتا ہوں اور اس کی ایک دریافت اور تحقیق کو کسی قدر بسط سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور بعض کو اختصار سے پیش کرتا ہوں۔
    یہ امر ظاہر ہے کہ انسانی آثار میں سے سب سے پُرانے آثار وہی ہیں جو انسان کی ابتدائی پیدائش اور اس کے ابتدائی کاموں سے تعلق رکھتے ہیں اس کے علاوہ کوئی بھی آثار ہوں خواہ وہ ہزاروں سال کے ہوں بہرحال بعد ہی کے ہوں گے اور آثارِ قدیمہ کے نقطہ نگاہ سے گھٹیا قسم کے۔پس میںاس محکمہ کی ایسی ہی تحقیقات کو آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔
    اِس محکمہ آثارِ قدیمہ کا نام ہے قرآن اور ا س کے انچارج کانام ہے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ اِس محکمہ میں جو آثارِ قدیمہ مَیں نے سب سے پہلے زمانے کے دیکھے اور جن کی گرد کو بھی موجودہ آثارِ قدیمہ نہیں پہنچتے، ان کی ایک مثال ذیل میں مَیں پیش کرتا ہوں۔
    دُنیا کس طرح پیدا ہوئی؟
    لوگ حیران ہیںکہ دُنیا کس طرح پیداہوئی؟ پہلا انسان کون تھا؟ وہ کس تمدّن پر عمل پیرا تھا؟ وہ کس طرح اس دنیا
    میں پیدا ہؤا؟ اور اُس نے کس طرح اِس دنیا کو چلایا؟ مَیں نے قرآن کریم کا درس دیتے وقت ہمیشہ دیکھا ہے ، مشکل سے مشکل آیت کا مَیں مفہوم بیان کر رہا ہوتا ہوں تو لوگ بڑے مزے سے اُسے سُنتے رہتے ہیں، مگر جہاں آدم اورشیطان کا قصّہ آیا سوالات کی مجھ پریوں بھرمار شروع ہو جاتی ہے کہ میںخیال کرتا ہوں آدم کے بچے مجھے نوچ نوچ کر کھا جائیں گے اور ان کی خواہش یہ ہے کہ جلد سے جلد انہیں ان کے اباجان کی گود میں بٹھاآئوں تولوگوں کے دلوں میں آدم والے واقعہ کے متعلق بے انتہاء جستجو پائی جاتی ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا کیا کھاتے تھے، کیا پہنتے تھے، کہاں رہتے تھے؟ اور یہ صرف مسلمانوں میںہی نہیں بلکہ تمام مذاہب کے لوگوں میںجستجو پائی جاتی ہے۔
    ہندوئوں کا نظریہ انسانی پیدائش کے متعلق
    ہندوئوں کی تو ساری میتھالوجی اور ان کی ساری بحثیں ہی دنیا کی پیدائش پر
    ہیں کہیںلکھا ہے کہ برہما جی نہانے گئے تو اُن کی جٹا میں سے جو قطرے گِرے اُس سے گنگابہہ نکلی، کہیں دنیا کی پیدائش کا ذکر آتا ہے تو اِس رنگ میں کہ فلاں دیوتا کی فلاں سے لڑائی ہوئی، دوسرا دیوتا جب مارا گیا تو اُس کی ٹانگوں سے زمین اور اُس کے ہاتھوں سے چاند وغیرہ بن گئے، گویا ہر شخص کے دل میں یہ خواہش پائی جاتی ہے کہ وہ معلوم کرے یہ دنیا کس طرح پیدا ہوئی ؟ پہلا انسان کو ن تھا؟ وہ کس طرح اس دنیا میںپیدا ہؤا ؟ اور کس طرح اُس نے اِس دنیا کو چلایا؟
    تورات کا نظریہ انسانی پیدائش کے متعلق
    تورات نے اس بارے میں جو نظریہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، مَیں سب
    سے پہلے وہی آپ لوگوں کوسناتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ تورات دنیا کی پیدائش کس طرح بتاتی ہے۔
    تورات میں لکھا ہے:-
    ’’زمین ویران اور سُنسان تھی اور گہرائو کے اُوپر اندھیرا تھا اور خدا کی روح پانیوں پر جنبش کرتی تھی اور خدا نے کہا کہ اُجالا ہو اور اُجالا ہو گیا اور خدا نے اُجالے کو دیکھا کہ اچھا ہے اور خدا نے اُجالے کو اندھیرے سے جُدا کیا اور خدا نے اُجالے کو دن کہا اور اندھیرے کو رات کہا، سو شام اور صبح پہلا دن ہؤا۔ اور خدا نے کہا کہ پانیوں کے بیچ فضا ہووے اور پانیوں کو پانیوں سے جُدا کرے۔ تب خدا نے فضا کو بنایا اور فضا کے نیچے کے پانیوں کو فضا کے اوپر کے پانیوں سے جُدا کیا اور ایسا ہی ہو گیا اور خدا نے فضا کوآسمان کہا سوشام اور صبح دوسرا دن ہؤا۔ اور خدا نے کہا کہ آسمان کے نیچے کے پانی ایک جگہ جمع ہوویں کہ خشکی نظر آوے اور ایسا ہی ہو گیا اور خدا نے خشکی کو زمین کہا اور جمع ہوئے پانیوں کو سمندر کہا اور خدا نے دیکھا کہ اچھا ہے اور خدا نے کہا کہ زمین گھاس اور نباتات کو جو بیج رکھتیں اور میوہ دار درختوں کو جو اپنی اپنی جنس کے موافق پھلتے جو زمین پر آپ میںبیج رکھتے ہیں اُگاوے اور ایسا ہی ہو گیا۔ تب زمین نے گھاس اور نباتات کو جو اپنی اپنی جنس کے موافق بیج رکھتیں اور درختوں کو جو پھل لاتے ہیں جن کے بیج اُن کی جنس کے موافق اُن میں ہیں اُگایا اور خدا نے دیکھا کہ اچھا ہے سوشام اور صبح تیسرا دن ہؤا۔ اور خدا نے کہا کہ آسمان کی فضا میں نیّر ہوں کہ دن اور رات میںفرق کریں اور وے نشانوں اور زمانوں اور دِنوں اور برسوں کے باعث ہوں اور وے آسمان کی فضا میں انوار کیلئے ہوویں کہ زمین پرروشنی بخشیں اور ایسا ہی ہو گیا، سو خدا نے دو بڑے نور بنائے، ایک نیّر اعظمجو دن پرحکومت کرے اور ایک نیّراصغرجو رات پرحکومت کرے اور ستاروں کو بھی بنایا اور خدا نے ان کوآسمان کی فضا میں رکھا کہ زمین پرروشنی بخشیں اور دن پر اور رات پر حکومت کریںاور اُجالے کو اندھیرے سے جُدا کریںاور خدا نے دیکھا کہ اچھا ہے سو شام اور صبح چوتھا دن ہؤ ا‘‘۔ ۲؎ (گویا تورات کے بیان کے مطابق رات دن پہلے بنے ہیں مگر سورج چاند بعد میںبنے ہیں، اسی طرح گھاس، نباتات اور درخت پہلے اُگے ہیں مگر سورج وغیرہ جن کی شُعاعوں کی مدد سے یہ چیزیں اُگتی ہیں بعد میں بنائے گئے ہیں، کیونکہ لکھا ہے کہ جب گھاس اُگ چُکا، میوہ دار درخت تیار ہو چکے ، نباتات ظاہر ہو گئی رات دن بن گئے تو اس کے بعد خدا نے دو بڑے نور بنائے۔ ایک نیّراعظم جو دن پرحکومت کرے اور ایک نیّراصغر جو رات پر حکومت کرے)
    تب خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت اور اپنی مانند بناویں کہ وے سمندر کی مچھلیوں پراور آسمان کے پرندوں پراور مویشیوں پر اور تمام زمین پر اور سب کیڑے مکوڑوں پر جو زمین پر رینگتے ہیں سرداری کریںاور خدا نے انسان کو اپنی صورت پرپیدا کیا۔ خدا کی صورت پر اس کو پیداکیا،نر وناری ان کو پیدا کیا اور خدا نے ان کو برکت دی اور خدا نے انہیںکہا کہ پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمور کرو اور اس کو محکوم کرو اور سمندر کی مچھلیوں پر اور آسمان کے پرندوں پر اور سب چرندوں پرجو زمین پر چلتے ہیں سرداری کرو ۳؎
    اور خداوند خدا نے عدن میںپورب کی طرف ایک باغ لگایا اور آدم کو جسے اُس نے بنایا تھا وہاں رکھا۴؎
    اور خداوندخدا نے آدم کو حکم دے کر کہا کہ تو باغ کے ہر درخت کا پھل کھایا کر، لیکن نیک وبد کی پہچان کے درخت سے نہ کھانا کیونکہ جس دن تو اس سے کھائے گا تو ضرور مرے گا اور خداوند خدا نے کہا کہ اچھا نہیں کہ آدم اکیلا رہے میں اس کے لئے ایک ساتھی اس کی مانند بنائوں گا اور خداوند خدا نے میدان کے ہر ایک جانور اور آسمان کے پرندوں کو زمین سے بنا کر آدم کے پاس پہنچایا تا کہ دیکھے کہ وہ ان کے کیا نام رکھے سو جو آدم نے ہر ایک جانور کو کہا وہی اُس کا نام ٹھہرا اور آدم نے سب مویشیوں اور آسمان کے پرندوں اور ہر ایک جنگلی جانور کا نام رکھا۔ پرآدم کو اس کی مانند کوئی ساتھی نہ ملا اور خداوند خدا نے آدم پر بھاری نیند بھیجی کہ وہ سو گیا اور اُس نے اُس کی پسلیوں میںسے ایک پسلی نکالی اور اس کے بدلے گوشت بھر دیا اور خداوند خدا نے اُس پسلی سے جو اُ س نے آدم سے نکالی تھی ایک عورت بنا کے آدم کے پاس لایا اور آدم نے کہا کہ اب یہ میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور میرے گوشت میںسے گوشت ہے اس سبب سے وہ ناری کہلاوے گی کیونکہ وہ نر سے نکالی گئی ‘‘۔ ۵؎
    یہ تورات کا نظریہ ہے جو اس نے پیدائش عالَم کے متعلق دنیا کے سامنے پیش کیا۔
    ڈارون۶؎ کی تھیوری انسانی پیدائش کے متعلق
    اُنیسویں صدی عیسوی میںجب اِس مسئلہ پرزیادہ غور کیاگیا اور
    علومِ جدیدہ کے ذریعہ نئی نئی تحقیقاتیں ہوئیں تو سب سے پہلے ایک انگریز نے جس کا نام ڈارون تھا انسانی پیدائش کے متعلق ایک نئی تھیوری پیش کی، اُس کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ:-
    (۱) انسان ارتقائی قانون کے مطابق بنا ہے یکدم اپنی موجودہ حالت کو نہیں پہنچا اور یہ خیال جو بائبل میں پیش کیا گیا ہے کہ یکدم اللہ تعالیٰ نے انسان کی صورت میںایک شخص کو بنا کر کھڑا کر دیا یہ درست نہیں بلکہ آہستہ آہستہ لاکھوں بلکہ کروڑوں سالوں میںانسان تیار ہؤا ہے۔
    (۲) دوسرے اُس نے یہ مسئلہ نکالا کہ انسان نے جو ترقی کی ہے یہ جانوروں سے کی ہے پہلے دنیا میںچھوٹے جانور بنے ، پھر اس سے بڑے جانور بنے، پھر اس سے بڑے جانور بنے اور پھر ان جانوروں میں سے کسی جانور سے ترقی کر کے انسان بنا،مگر جس جانور سے ترقی کر کے انسان بنا ہے وہ اَب نہیں ملتا کیونکہ یہ کڑی غائب ہے ہاں اتنا پتہ چلتا ہے کہ اِسی جانور کی ایک اعلیٰ قسم بندر ہے۔ گویا ڈارون نے دوسرا نظریہ یہ پیش کیا کہ انسان گو اِرتقائی قانون کے مطابق بنا ہے مگر اس کایہ ارتقاء بندروں کی قسم کے ایک جانور سے ہؤا ہے جس کی آخری کڑی اب مفقود ہے جس میں سے بعض خاص قسم کے بندر اورانسان نکلے۔
    پہلے امر کی دلیل کہ انسان یکدم اپنی موجودہ حالت کو نہیں پہنچا بلکہ ہزاروں لاکھوں سالوں میںتیار ہؤا ہے وہ یہ دیتا ہے کہ مختلف زمانوں کے انسانوں کی جو کھوپڑیاں اور جسم وغیرہ ملے ہیں ان کے دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کھوپڑیوں اور جسموں کا آپس میں بہت بڑا فرق ہے پس یہ خیال کرنا کہ آج سے لاکھوں سال پہلے بھی انسان اسی طرح تھا جس طرح آج ہے غلط ہے اگر یہ بات صحیح ہوتی تو جسموں، ہڈیوں اور کھوپڑیوں وغیرہ میں کوئی فرق نہ ہوتا، مگر انسانی جسم کی جو بہت پُرانی ہڈیاں نکلی ہیں ان ہڈیوں کے دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان اور موجودہ انسانی جسم کی ہڈیوں میںبہت بڑا فرق ہے۔ اسی طرح موجودہ انسانی دماغ اور پُرانے انسانی دماغ میںبھی بہت بڑا فرق نظر آتا ہے پس مختلف زمانوں کے انسانوں کی کھوپڑیوں اور جسم کی ہڈیوں کا اختلاف اِس امر کا یقینی اور قطعی ثبوت ہے کہ انسان ارتقائی قانون کے ماتحت بنا ہے یکدم اپنی موجودہ حالت کو نہیں پہنچا۔ دوسری دلیل اِس فلسفہ کے معتقد اِس ارتقاء کی یہ دیتے ہیں کہ ماں کے پیٹ میںجب جنین کی ترقی کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اِس جنینکو اپنی ابتدائی حالتوں میںمختلف قسم کے جانوروں سے مشابہت ہوتی ہے۔ کبھی وہ جنین خرگوش سے مشابہہ ہوتا ہے ۔کبھی مچھلی سے مشابہہ ہوتا ہے اور کبھی کسی اور جانور سے۔ یہ رحمِ مادر میں بچے کی پیدائش کی مختلف کیفیات دراصل ابتدائے خَلق کی ہی کیفیات ہیں۔یعنی پچھلے زمانہ میں جن جن جانوروں کی شکل میں سے انسان گزرا ہے، ان ساری شکلوں میں سے ایک بچے کو رحمِ مادر میں سے گزرنا پڑتا ہے۔تیسری دلیل اِس ارتقاء کی یہ دی جاتی ہے کہ انسان اور دوسرے جانوروں میںایسی کئی مشابہتیں پائی جاتی ہیں جو اِس امر کو ثابت کرتی ہیں کہ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور انسان کو جسم اپنی منفردانہ حیثیت میںنہیں ملا بلکہ جانوروں کے جسم سے ترقی کر کے اُسے ایک اور جسم حاصل ہؤا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اِس امر کے ثبوت کے لئے گوریلا وغیرہ قسم کے بندروں کو دیکھ لیا جائے اُن کی انسان سے اتنی شدید مشابہت ہے کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ الگ بنے ہیں اور یہ الگ ،گویا ارتقاء کی تیسری دلیل وہ مشابہتیں دیتے ہیں جو انسان کو بعض دوسرے جانوروں سے اور دوسرے جانوروں کو آپس میں یا اپنے سے نیچے کے جانوروں سے ہیں۔
    دوسرا دعویٰ ڈارون نے یہ کیا تھا کہ انسان اور بندر کا ارتقاء ایک جانور سے ہؤا ہے جو اَب مفقود ہے۔ اس کے ثبوت میںوہ یہ امر پیش کرتا ہے کہ بندروں کی بعض اقسام کو انسان سے انتہائی مشابہت ہے مگر وہ کہتا ہے کہ درمیان میں ایک کڑی غائب ہو گئی ہے اور اِس مفقود کڑی کا ثبوت وہ فاصلہ ہے جو طبعی طور پر بندروں کی موجودہ قسم اور انسان میں،اور بندروں اور ان سے ادنیٰ قسم کے جانوروں میں نہ پایا جانا چاہئے تھا مگر چونکہ ہمیں ایک طرف بندروں اور انسان میںانتہائی مشابہت نظر آتی ہے اور دوسری طرف بندروں اور ان سے نچلے درجہ کے جانوروں میںایک فاصلہ نظر آتا ہے جو طبعی طور پر نہیں پایا جانا چاہئے تھا اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ درمیان میں سے کوئی کڑی غائب ہو گئی ہے جس سے انسان اور بندر نے ترقی کر کے اپنی موجودہ شکل کو اختیار کیا، تبھی یہ زنجیر مکمل نہیں بنتی۔
    ہیکل کا نظریہ انسانی پیدائش کے متعلق
    ہیکل۷؎ ایک اور مفکّر ہے وہ ڈارون کے اِس فلسفہ پرغور کرنے کے بعد اِس نتیجہ پر
    پہنچا ہے کہ وہ جانور جو ہمیں نہیں ملتا اُس کانام لیپوٹائیلو (LIPOTYLU) ہے۔ یہ جانور درمیان میں سے غائب ہو گیا ہے اگر یہ مل جائے تو وہ کڑی جو درمیان سے ٹوٹتی ہے مکمل ہو جائے اور انسانی ارتقاء کے مسئلہ میںکوئی بات مبہم نہ رہے۔ اِس قسم کے اکثر مفکّر گوریلا اور چِمپنزی (CHIMPANZEE) قِسم کے بندروں کے آباء کو انسانی نسل کے آباء قرار دیتے ہیں۔
    جب ڈارون نے انسانی پیدائش کے متعلق یہ فلسفہ پیش کیا تو انگریزوں میں سے ہی بعض نے اِس فلسفہ پراعتراض کیا اور کہا کہ انسان اور گوریلا میںاس قدر اختلاف ہے کہ اس کی موجودگی میں کسی صورت میںبھی یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ گوریلا وغیرہ اقسام کے بندروں کے آباء ہی انسانی نسل کے آباء تھے اِس پر ہکسلے۸؎ نے انہی اختلافات کو جو انسان اور گوریلا میںہیں اور جو پہلے ارتقاء کے خلاف پیش کئے جاتے تھے ارتقاء کے ثبوت میںپیش کر دیا اس طرح کہ اُس نے کہا کہ جو اختلاف انسان اور گوریلا میں ہے اِس سے بہت زیادہ اختلاف گوریلا اور بعض دوسری قسم کے بندروں میںہے، اب بتائو کہ اِس اختلاف کے باوجود تم ان سب کو بندر مانتے ہو یا نہیں؟ جب مانتے ہو تو اگر ارتقاء میںبعض بندر بعض دوسرے بندروں سے اِس قدر دُور جا سکتے ہیں توکیوں انسان گوریلا سے دُور نہیں جا سکتا۔ پس یہ اختلاف ارتقاء کے خلاف نہیں بلکہ اس کا ایک ثبوت ہے۔
    موجودہ زمانہ کی تحقیق
    موجودہ تحقیق جو قریب زمانہ میں ہوئی ہے اور جس کے مؤیّد ایک تو پروفیسر جونز ہیں اور ایک ڈاکٹر آسبرن، وہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ
    گوانسان نے ارتقائی قانون کے ماتحت ہی ترقی کی ہے مگر وہ حیوانات کی نسل سے بہت پہلے سے جُدا ہو چکا تھا اور اُس وقت سے آزادانہ ترقی کر رہا تھا۔ گویا انسان کی جانوروں سے جُدائی اُس بندر سے نہیں ہوئی جس بندر سے جُدائی ڈارون پیش کرتا ہے بلکہ اس سے بہت پہلے ہو چکی تھی مگر بہرحال انسانی ترقی ارتقاء کے ماتحت ہوئی ہے یکدم نہیں ہوئی۔
    انسانی تہذیب کے تین بڑے دَور
    اِس کے ساتھ ہی آثارِ قدیمہ والوں نے یہ دریافت کیا ہے کہ انسانی تہذیب پرتین دَور
    آئے ہیں۔
    (۱) ایک دَور تو پتھروں کے استعمال کرنے کا تھا یعنی ابتداء میںجب انسان نے تہذیب وتمدّن کے دَور میں اپنا پہلا قدم رکھا ہے تو اُس وقت چونکہ یہ جانوروں سے ہی ترقی کر کے انسان بنا تھا اور اس کے پنجے نہیں تھے جن سے دوسرے جانور کام لے لیا کرتے ہیں اور نہ ان کی طرح اس کے تیز دانت تھے اس لئے اس نے اپنی حفاظت کیلئے پتھروں کا استعمال شروع کر دیا۔ پس پہلا دَور انسانی تہذیب پر پتھروں کے استعمال کا آیا ہے ۔
    (۲) پھر پیتل کے استعمال کا دَور آیا ۔یعنی جب انسان نے اور زیادہ ترقی کی تو اس نے اپنی حفاظت کے لئے ڈھالیں وغیرہ بنالیں۔
    (۳) اور تیسرا دَور لوہے کے استعمال کرنے کا تھا جب کہ انسان نے اپنی حفاظت کے لئے نیزے اور تلواریں وغیرہ ایجاد کیں۔
    آثارِ قدیمہ والوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ پُرانی عمارتوں کے کھودنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انسان قدیم زمانہ سے کسی نہ کسی تہذیب کا حامل ضرور رہا ہے۔
    پیدائشِ انسانی کے متعلق قرآنی نظریہ
    اب مَیں اُن آثارِ قدیمہ کوپیش کرتا ہوں جنہیںقرآن کریم نے انسان کی پیدائش
    اور اس کی تہذیب کے بارہ میں پیش کیا۔
    پہلا حوالہ اس بارہ میں سورۃ نوح کا ہے جہاں آثار ِ قدیمہ کی کچھ مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔
    ۹؎
    موجودہ زمانہ میںجو تحقیق انسانی پیدائش کے متعلق کی گئی ہے اس کے مقابلہ میں قرآن کریم کی جو تحقیق ہے اس کا کچھ ذکر اِن آیات میں ہے جو ابھی مَیں نے پڑھی ہیں۔ اِن آیات میں اللہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام کی زبان سے یہ کہلواتا ہے کہ اے انسانو! تمہیں کیا ہو گیا کہ تم یہ خیال نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ بے حکمت کام نہیں کیا کرتا اور جب بھی وہ کوئی کام کرتا ہے حکمت سے کرتا ہے تم اپنے متعلق تو یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی شخص تمہیں یہ کہے کہ تم نے فلاں کام بیوقوفی کا کیا اور اگر کوئی کہے تو اِس پر بُرا مناتے ہو مگر تم خدا کے متعلق یہ کہتے رہتے ہو کہ اُس نے انسان کو بغیر کسی غرض کے پیدا کر دیا۔ تمہیں کیا ہو گیا کہ تم اتنی موٹی بات کو بھی نہیں سمجھتے کہ اُس نے تمہیں یکدم پید ا نہیں کیا بلکہ قدم بقدم کئی دَوروں میں سے گزارتے ہوئے بنایا ہے۔
    کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کو ایک دوسرے کی مطابقت میںرہنے والا بنایا ہے اسی طرح اُس نے چاندبنایا اُس نے سورج بنایا۔ـ
    اور اِن ہی دَوروں میںسے جن میں خداتعالیٰ نے تمہیں گزارا، ایک دَور یہ بھی تھا کہ خدا نے تمہیں زمین میںسے نکالا اورآہستہ آہستہ تمہیںاپنے موجودہ کمال تک پہنچایا۔
    پیدائشِ انسانی کے مختلف دَور
    یہ ابتدائی پیدائش کا نقشہ ہے جوقرآن کریم نے کھینچا ۔ اس سے ظاہر ہے کہ ارتقاء کا وہ مسئلہ جسے یورپ والے
    آج پیش کر رہے ہیں قرآن کریم نے آج سے تیرہ سَو سال پہلے ظاہر کر دیاتھا اور بتا دیا تھا کہ یہ صحیح نہیں کہ انسان یکدم پیدا ہو گیا یا خُدا نے یوں کیا ہوکہ مٹّی گوندھی اور اُس سے ایک انسانی بُت بنا کر اُس میں پھونک ماردی اور وہ چلتا پھرتا انسان بن گیا بلکہ اُس نے کئی دَوروں میںسے گزارتے ہوئے تمہیں یہاں تک پہنچایا ہے۔ ۔ اوریہ جو درجہ بدرجہ ترقی ہوئی ہے اِس میں انسان کی پیدائش دراصل زمین سے شروع ہوتی ہے۔ پھر ہم اسے بڑھاتے بڑھاتے کہیں کا کہیں لے گئے ہیں۔ گویا اسلام نے صاف طور پر آج سے تیرہ سَو سال پہلے بتادیا تھا کہ انسان یکدم نہیں بنابلکہ وہ کے مطابق کئی دَوروں میںتیار ہؤا ہے اور کے مطابق سب سے پہلے وہ زمین سے تیار ہؤا ہے مگر کیا ہی عجیب بات ہے کہ قرآن کریم نے تو یہ دو باتیں پیش کی تھیں کہ انسان آہستہ آہستہ تیارہؤا ہے اور دوسرے یہ کہ وہ زمین میں سے پیدا ہؤا ہے مگر مسلمانوں نے اِن دونوں باتوں کو ردّ کر دیا اور ایک طرف تو انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے یکدم بنادیا تھا اور دوسری طرف اس امر کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ یہ کہہ رہا ہے کہ ہم نے انسان کو زمین میں سے تیارکیا ہے یہ کہنا شروع کر دیا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے پہلے جنت سماوی میںپید ا کیا پھر زمین پر پھینک دیا اور تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک روحوں کی تھیلی ہے وہ جس شخص کو زمین پر بھیجنا چاہتا ہے اُس کی روح چھوڑ دیتا ہے گویا جس طرح بٹیرے پکڑنے والے اپنی تھیلیوں میںسے ایک ایک بٹیرہ نکالتے جاتے ہیں، اسی طرح خدا پہلے ایک رُوح چھوڑتا ہے پھر دوسری پھر تیسری گویا اِس زمانہ کے علماء نے یہ ٹھیکہ لے لیا ہے کہ قرآن کریم میں جو بات لکھی ہو گی اس کے وہ ضرور خلاف کریں گے۔
    اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تسلیم کیا ہے کہ انسانی پیدائش آہستگی سے ہوئی ہے اور فرمایا ہے کہ اِس میں حکمت تھی۔ اگر پیدائش اِس رنگ میںنہ ہوتی تو بہت سے نقائص رہ جاتے مگر آجکل کے علماء اِس بارہ میں جو کچھ عقیدہ رکھتے ہیں اس کا پتہ اس سے لگ جاتا ہے کہ مولوی سیّد سرور شاہ صاحب سنایا کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ان کے ایک اُستاد نے لڑکوں کو بتایا کہ دنیا میںجو ہمیں بہت بڑا تفاوت نظر آتا ہے ، کوئی خوبصورت ہے کوئی بدصورت اور کوئی درمیانی صورت رکھتا ہے اِس کی وجہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پید اکرنا چاہا تو اُس نے کہا کہ آئو مَیں انسان بنانے کا کسی کوٹھیکہ دے دُوں۔ چنانچہ خداتعالیٰ نے فرشتوں کو ٹھیکہ دے دیا اور اُن سے کہا کہ مَیں شام تک تم سے اتنے آدمی لے لُوں گا ۔خیر پہلے تو وہ شوق اور محنت سے کام کرتے رہے اور انہوں نے بڑی محنت سے مٹّی گوندھی پھر نہایت احتیاط سے لوگوں کے ناک، کان، آنکھ، منہ اور دوسرے اعضاء بنائے اور اِس طرح دوپہر تک بڑی سرگرمی سے مشغول رہے، اِس دَوران میںجو آدمی ان کے ذریعہ تیار ہو گئے وہ نہایت حسین اور خوبصورت بنے مگر جب دوپہر ہو گئی اور انہوں نے دیکھا کہ ابھی کام بہت رہتا ہے اور وقت تھوڑا رہ گیا ہے تو انہوں نے جلدی جلدی کام شروع کر دیا اور کچھ زیادہ احتیاط اور توجہ سے کام نہ لیا اور اس طرح عصر تک کام کرتے رہے اِس دَوران میں جو لوگ تیار ہوئے وہ درمیانی شکلوں کے تھے مگر جب انہوں نے دیکھا کہ عصر ہو گئی ہے اور اب سورج غروب ہی ہونے والا ہے اور ٹھیکہ کے مطابق تعداد تیارنہیں ہوئی تو انہوں نے یوں کرنا شروع کردیا کہ مٹّی کا گولہ اُٹھائیںاور اُسے دو تھپکیاں دے کر بُت بنا کر مُنہ کی جگہ ایک اُنگلی مار دیں اور آنکھوں کی جگہ دو اُنگلیاں اور اس طرح جلدی جلدی آدمی بناتے جائیں یہ آدمی بدصورت بنے جو بدصورت قوموں کے آباء ہو گئے۔
    اب یہ ہے تو دین سے تمسخر او ر اِستہزاء مگر حقیقت یہ ہے کہ عام طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں میں پیدائشِ انسانی کے متعلق ایسے ہی خیالات رائج ہو چکے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اسی طرح بنایا ہے کہ مٹّی کو گوندھا اور انسانی بُت بنا کر اس کے سوراخ بنا دئیے اور پھر ایک پھونک ماری اور وہ جیتا جاگتا انسان بن گیا ، مگر اسلام یہ نہیں کہتا۔ وہ کہتا ہے کہ ہم نے تم کو کئی دَوروں سے گزارا ہے اور خاص حکمت کو مدّنظر رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ بنایا ہے یہ نہیں کہ تمہیںیکدم بنا دیا ہو ۔
    انسانی پیدائش کا دَورِ اوّل عدم سے شروع ہؤا
    دوسری بات قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ انسانی پیدائش کا
    دَورِ اوّل عدم تھا۔ یہ اختلاف دنیا میںہمیشہ سے چلا آیا ہے کہ دنیا کی ابتداء کس طرح ہوئی؟ آریہ کہتے ہیں کہ مادہ جس سے تمام دنیا کی تخلیق ہوئی یہ ازلی ہے۔ خدا نے صرف اتنا کیا ہے کہ مادہ اور رُوح کو جوڑ جاڑ دیا اور اس طرح انسان بن گیا، مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ عقیدہ غلط ہے مادہ ازلی نہیں بلکہ اسے خدا نے پیدا کیا ہے اور یہ کہ پہلے کچھ نہ تھا پھر خدا نے انسان کو پیدا کیا۔چنانچہ فرماتا ہے۔۱۰؎ کہ کیا انسان کو یہ بات معلوم نہیں کہ ہم نے جب اُسے پیدا کیا تو وہ اُس وقت کوئی شَے بھی نہیں تھی۔ آجکل کی پیدائش اور قِسم کی ہے آجکل نُطفہ سے انسان پیدا ہوتا ہے اِس آیت میں جس خَلق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ موجودہ دَور سے بہت پہلے کی ہے۔ گویا ابتدائی حالت انسان کی عدم تھی۔ پھر خدا اسے عالمِ وجود میں لایا مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام یہ نہیں کہتا کہ عدم سے وجود پیداہؤا بلکہ وہ کہتا ہے کہ پہلے عدم تھا پھر وجود ہؤا ۔ یہ دھوکا زیادہ تر ’’سے‘‘ کے لفظ سے لگتا ہے کیونکہ ’’سے ‘‘ کا لفظ اُردو زبان میں مادہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے۔ کہتے ہیں لکڑی سے کھلونا بنایا یا لوہے سے زنجیر بنائی ۔ جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ پہلے لکڑی اور لوہاموجود تھا جس سے اَور چیزیں بنائی گئیں۔ اس لئے جب مسلمانوں کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو عدم سے بنایا تو غیرمذاہب والے اعتراض کرتے اور یہ کہتے ہیں کہ جب کچھ بھی نہیں تھا تو اس سے خدا نے انسان کو بنایا کس طرح؟ پس یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام یہ نہیں کہتا کہ عدم سے انسان بنا ہے بلکہ وہ کہتا ہے کہ پہلے عدم تھا پھر اس کا وجود ہؤا۔ پس خدا نے عدم سے انسان کو نہیں بنایا بلکہ اپنے حُکم کے ماتحت بنایا ہے مگر یہ کہ اُسے کس طرح بنایا ہے اِس کا ذکر خداتعالیٰ نے چھوڑ دیا ہے کیونکہ اس کے سمجھنے کی انسان میں قابلیت نہیں۔ اگر انسان اس کو سمجھ سکتا تو وہ بھی انسا ن بنانے پر قادر ہوتا۔
    وجودِ انسانی کے دَورِ ثانی کی کیفیت
    انسان کا دَورِ ثانی قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک زمانہ میں انسانی وجود تو تھا مگر
    بِلادماغ کے۔ گویا انسانی وجود تو تھا مگر انسان نہ تھا اور نہ اس کی حالت کو سوچنے والا کوئی دماغ تھا، گویا دماغی ارتقاء سے پہلے کی حالت میںتھا۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اُس وقت جمادی رنگ میںتھا یا نباتی رنگ میں۔مگر بہرحال خواہ وہ اُس وقت جمادی رنگ میں ہو خواہ نباتی رنگ میں، حیوانی رنگ میں نہیں تھا اور اس کا پتہ بھی قرآن کریم سے لگتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۱۱؎ کہ کیا انسان کو یہ معلوم ہے یا نہیں کہ انسان پریقینا ایک ایسا زمانہ گزر چکا ہے جب کہ وجودِ اِنسانی تو موجود تھا مگر مذکور نہیں تھا وہ یاد نہیں کیا جاتا تھا۔گویا حِسِّشناخت جو انسان میںموجود ہے وہ اُس وقت نہیں تھی۔ایک وجود موجود تھا مگر بغیر عقل اور بغیر شعور کے،ایک دوسرے کے متعلق اسے کوئی واقفیت نہ تھی۔ اسے کوئی علم نہ تھا کیونکہ یہ باتیں دماغ سے تعلق رکھتی ہیں اور دماغ دَورِ ثانی میںنہیںتھا۔
    انسانی پیدائش کا تیسرادَور
    تیسرا دَور قرآن کریم سے انسانی پیدائش کے متعلق وہ معلوم ہوتا ہے جب کہ وہ ایسی شکل میں آیا کہ اس کی
    پیدائش نُطفہ سے ہونے لگی یعنی مرد وعورت کے تعلق سے اور اُس وقت سے اس کے مزاج میںتنوّع پیدا ہؤا۔ حیوانوں میں سے بھی بعض حیوان نرو مادہ نہیں ہوتے، مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر انسان پر وہ دَور آیا جب کہ اُسے نر ومادہ میں تقسیم کر دیا گیایعنی حیوان بنا اور حیوان سے ترقی کر کے اُس حالت کو پہنچا کہ جب تناسل نُطفہ سے شروع ہو جاتی ہے جو بات کہ اعلیٰ درجہ کے حیوانوں میں پائی جاتی ہے اور پھر اس سے ترقی کر کے وہ ایسا حیوان بنا جو نُطفۂ اَمشاج سے بنتا ہے یعنی اس کے اندر مختلف قویٰ پیدا کئے گئے۔ اللہ تعالیٰ اس امر کاذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ ۱۲؎ کہ ہم نے انسان کو نُطفہ سے پیدا کیا جو مرکّب تھا اور جس کے اندر بہت سے اجزاء مِلائے گئے تھے کیونکہ ہم نے اس سے مرکّب قسم کا کام لینا تھا۔ پس چونکہ ہم نے اس سے مرکّب کا م لینا تھا اس لئے ہم نے نُطفہ میںبھی مرکّب طاقتیں رکھ دیںیہ تیسرا دَور ہے جو انسانی پیدائش پر آیا۔
    انسانی پیدائش کا چوتھا دَور
    چوتھا دَور انسانی پیدائش پر وہ آیا جب کہ انسانی دماغ کامل ہو گیا اور اس میںسمجھ اور ترقی کا مادہ پیدا ہو گیا گویا اب
    دماغی ارتقاء اور دماغی قوتوں کے ظہور کا زمانہ آ گیا اور وہ سامع اور باصر وجود سے سمیع اور بصیروجود بنا، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۱۳؎ اس دَور میںجب کہ انسانی پیدائش نُطفہ سے ہونے لگ گئی تھی اور وہ ذَکَر واُنْثٰی بن گئے تھے ابھی ان میںانسانیت نہیں آئی تھی بلکہ حیوانیت ہی تھی کیونکہ گو نر ومادہ کی تمیز پیدا ہو گئی تھی مگر یہ تمیز حیوانوں میںبھی پائی جاتی ہے اس طرح گواُس دَور میں انسان باصر اور سامع تھا جیسا کہ حیوان بھی باصر اور سامع ہوتا ہے حیوان بھی دوسروں کو دیکھتا اور حیوان بھی آہٹ کو سُن لیتا ہے پس اس دَور میںوہ ایک حیوان تھا مگر اس کے بعد دَورِ رابع اس پروہ آیا جب کہ دماغی اور ذہنی ارتقاء کی وجہ سے تحقیق اور تجسُّسکا مادہ اس میںپیدا ہو گیا اور وہ بصیر اور سمیع بن گیا۔دیکھتا تو ایک جانور بھی ہے مگر وہ باصر ہوتا ہے بصیر نہیں ہوتا ۔ بصیر وہ ہوتا ہے جو عقل سے کام لے اور کُرید، تحقیق اور ایجاد کامادہ اس میںموجود ہو اور یہ انسانی صفات ہی ہیں حیوانی نہیں۔ پس چوتھا دَور انسان پر وہ آیا جب کہ وہ سامع اور باصر وجود سے سمیع وبصیر بنا یعنی کُرید، تحقیق، ایجاد اور ترقی کا مادہ اس میں پیدا ہو گیا اور وہ حیوانی حالت سے ترقی کر کے حیوانِ ناطق بن گیا۔
    یہ سب دَوروں کی ابتدائی کڑیاں ہیں، درمیانی زمانوں کا ذکر خداتعالیٰ نے چھوڑ دیا ہے کیونکہ قرآن کوئی سائنس کی کتاب نہیں وہ ضروری باتوں کا ذکر کر دیتا او رباقی امور کی دریافت کو انسانی عقل پر چھوڑ دیتا ہے پس اِن چار دَوروں کا یہ مطلب نہیں کہ انسان پر یہی چار دَور آئے بلکہ یہ چار دَوروں کی ابتدائی کڑیاں ہیںان کے درمیان اور بھی بہت سی کڑیاں ہیں چنانچہ بعض درمیانی کڑیوں کا حال بھی قرآن کریم کی بعض اور آیات سے معلوم ہوتا ہے مثلاً فرماتا ہے۔ ۱۴؎ پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ کہ خدا نے تمہیں زمین میںسے نکالا ہے اور یہاںیہ فرمایا ہے کہ خدا نے تمہیں خشک مٹی میںسے پیدا کیا پھر نُطفہ سے پیدا کیا یہاں پھر درمیانی دَوروں اور درمیانی دَوروں کی مختلف کڑیوں کاذکر چھوڑ دیا ہے۔ چنانچہ مَیں آگے چل کر ثابت کرونگا کہ اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واقعہ میں بعض دَور چھوڑ دیئے ہیں۔غرض فرماتا ہے پھر ہم نے نُطفہ بنایا اور تم نرو مادہ سے پیدا ہونے لگ گئے۔ پھر ہم نے تم کو انسانِ کامل بنایا ، ایک ایساانسان جو تمدّنی صورت اختیار کر گیا اور باقاعدہ نظام میںمُنسلک ہو گیا۔
    لفظِ ازواج کی تشریح
    یہاں ازواج کے معنے مردعورت کے نہیںکیونکہ پہلے نُطفے کاذکر کیا ہے اور اس کے بعد فرمایا ہے کہ اس نے
    تم کو اَزواج بنایا اگر اَزواج کے معنے مرد عورت کے ہی ہوں تو ان الفاظ کے الگ لانے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ نُطفہ کے ذکر میں ہی یہ بات آ سکتی تھی کیونکہ نطفہ سے اسی وقت پیدائش ہوتی ہے جب مردعورت دونوںموجود ہوں مگر اللہ تعالیٰ نے پہلے نطفہ کا ذکر کیا ہے اور اس کے بعد فرمایا ہے کہ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ اَزواج سے مراد مردو عورت نہیں بلکہ کچھ اور مراد ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ یہاں سے مراد اقسام ہیں نہ کہ مرد وعورت ، ورنہ نطفہ تو ہوتا ہی زوج کے وقت سے ہے اور اِس کی تصدیق اِس امر سے بھی ہوتی ہے کہ زوج کے معنے عربی زبان میں صنف کے بھی ہوتے ہیں اور یہی معنے اس جگہ مراد ہیں ، پس سے مراد اَصْنَافًا ہیں نہ کہ مرد وعورت اور مطلب یہ ہے کہ جب تمہاری دماغی ترقی ہوئی تو تم میںمختلف قسم کے گروہ پیدا ہو گئے اور پارٹیاں بننی شروع ہو گئیں غرض اِس آیت میںاللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ پہلے انسان تُرابی حالت میں تھا یعنی جمادی حالت میں پھر اِس پر ایک زمانہ آیا (درمیانی زمانہ کاذکراِس جگہ چھوڑ دیا ہے) کہ وہ حیوانی صورت اختیار کر گیا اور مردوعورت سے اس کی پیدائش ہونے لگی(پھر درمیانی زمانہ کا ذکر چھوڑ دیا ہے) پھر وہ زمانہ آیا کہ وہ ترقی کر کے تمدّنی صورت اختیار کر گیا اور باقاعدہ ایک نظام میں مُنسلک ہو گیا۔
    اسی طرح درمیانی کڑیوں میںسے ایک کڑی طینی حالت بھی ہے جب کہ تُراب سے پانی ملا، چنانچہ حیاتِ انسانی کا مادہ پانی ہونے کے متعلق فرماتا ہے۱۵؎ کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندگی بخشی ہے اگر پانی نہ ہوتا تو حیاتِ انسانی کا مادہ بھی پیدا نہ ہوتا، پھر یہ کڑی کہ پانی مٹی سے ملا اور اس سے پیدائش ہوئی اِس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۱۶؎ کہ خد ا نے انسان کو طین سے پیدا کیا۔ گویا پانی اور مٹی باہم ملائے گئے اور اِن دونوں کے ملانے سے جو حالت پیدا ہوئی اِس کے نتیجہ میں زندگی کا ذرّہ پیدا ہؤا اور ترقی کرتے کرتے انسان اپنے معراجِ کمال کو پہنچ گیا۔
    اِس بات کا ثبوت کہ کڑیاں درمیان سے حذف بھی کر دی جاتی ہیں اس بات سے ملتا ہے کہ اوپر کی آیت میںبتایا ہے کہ انسان کی پیدائش اوّل طین سے ہوئی اس کے بعد فرماتا ہے۔۱۷؎ کہ پیدائش ثانی طین سے نہیں بلکہ یعنی نُطفہ سے ہوئی ہے اور ہم نے بجائے مٹی اور پانی کے نسلِ انسانی کے لئے نُطفہ کا سلسلہ جاری کر دیا ۔ جیسا کہ ایک اور موقع پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۱۸؎ یعنی کیا ہم نے تم کو ایک کمزور او رحقیر پانی کی بوند سے پیدا نہیں کیا اور پھر اس کمزور اور حقیر بوند کو ایک قراروثبات کی جگہ میں ایک زمانہ تک رکھ کر پیدا نہیں کیا؟ پس صاف معلوم ہو گیا کہ مٹی کی حالت ایک وقت کی تھی پھر وہ وقت آیا جب کہ مٹی اور پانی ملایا گیا ، مگر نسلِ انسانی جو پیدا ہوئی ہے یہ مٹی سے نہیں بلکہ نُطفہ سے ہوئی ہے پس مٹی والا زمانہ اَور ہے پانی والا زمانہ اَور ہے اَور نُطفے والا زمانہ اَور ہے۔
    پیدائشِ انسانی کے متعلق عام قرآنی اُصول
    پھر عام اصول پیدائش کا قرآن کریم نے یہ بتایا کہ

    ۱۹؎ کہ دیکھو تمہاری ابتداء خدا سے ہوئی اور تمہاری انتہاء بھی خدا تک جاتی ہے تمہاری حالت ایسی ہی ہے جیسے قوس کے درمیان وتر ہوتا ہے جس طرح کمان کو خم دیدیا جائے تو اس کے دونوں اطراف آپس میں مل جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر تم اپنی پیدائش کی طرف چلتے چلے جائو اور دیکھو کہ تم کس طرح پیدا ہوئے تو تمہیں ایک خدا اِس تمام خَلق کے پیچھے نظر آئے گا۔ اور اگر تم دیکھو کہ مرنے کے بعد انسان کہاں جاتا ہے تو وہاں بھی تمہیں خدا ہی دکھائی دے گا، گویا انسان کی پیدائش بھی خداتعالیٰ سے شروع ہوتی ہے اور اس کی انتہاء بھی خداتعالیٰ پر ہے اور باریک در باریک ہوتے ہوئے آخر خداتعالیٰ پر سببِ اُولیٰ ختم ہو جاتا ہے۔
    یہ اوپر کی آیات جو مَیں نے پڑھی ہیں ان سے یہ نتائج نکلتے ہیں کہ:-
    (۱) انسان مادۂ ازلی نہیں ہے بلکہ وہ خداتعالیٰ کے ہاتھوں سے پیداکیا گیا ہے۔
    (۲) دوسرے یہ کہ انسان کی پیدائش ارتقاء سے ہوئی ہے یہ نہیں ہؤا کہ وہ یکدم پیدا ہو گیا۔
    (۳) تیسرے یہ کہ انسان، انسان کی حیثیت سے ہی پیدا کیا گیا ہے۔ یہ خیال صحیح نہیں کہ بندروں کی کسی قسم سے ترقی کر کے انسان بنا جیسا کہ ڈارون کہتا ہے۔
    (۴) چوتھے یہ کہ پہلے وہ جمادی دَور سے گزرا ہے یعنی ایسی حالت سے جو جمادات والی حالت تھی۔
    (۵) پانچویں یہ کہ اس کے بعد وہ حیوانی حالت میںآیا جب کہ اس میںزندگی پیدا ہو گئی تھی ، لیکن ابھی اس میں عقل پیدا نہ ہوئی تھی۔ وہ جانوروں کی طرح چلتا پھرتا اور کھاتا پیتا تھا۔
    (۶) اس کے بعد اس میں عقل پیدا ہوئی اور وہ حیوانِ ناطق ہو گیا مگر ابھی چونکہ اس میںکچھ کسر باقی تھی اس لئے پھر
    (۷) اُس نے اور زیادہ ترقی کی اور وہ اس حالت سے بڑھ کر متمدّن انسان ہو گیا جس کا اشارہ اللہ تعالیٰ نے۲۰؎ میں کیا ہے یعنی انفرادی ترقی کی جگہ نظام اور قانون کی ترقی نے لے لی اور پارٹی سِسٹم شروع ہو گیا اور اب بجائے اس کے کہ ہر انسان الگ الگ کام کرتا جیسے بندر اور سؤر اور کُتّے وغیرہ کرتے ہیں ۔ انسان نے مل کر کام کرنا شروع کر دیا اور نظام اور قانون کی ترقی شروع ہوئی۔
    یہ چار بڑے بڑے دَور ہیں جو قرآن کریم سے معلوم ہوتے ہیں یعنی:-
    (۱) جمادی دَور (۲) حیوانی دَور (۳) عقل کا دَور اور (۴) متمدّن انسان کا دَور ۔
    ان کے درمیان اور بھی کڑیاں ہیں لیکن وہ حذف کر دی گئی ہیں۔
    اس تمہید کے بعد مَیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ انسانی دَور دراصل وہی کہلا سکتا ہے جب کہ بشر نے عقل حاصل کی۔ جب تک اسے عقل حاصل نہیںتھی وہ ایک حیوان تھا گو خدا کے مدّنظر یہی تھا کہ وہ اسے ایک باشعور اور متمدّن انسان بنائے مگر بہرحال جب تک اس میں عقل نہیں تھی وہ انسان نہیںکہلا سکتا تھا اُس وقت اس کی ایسی ہی حالت تھی جیسے ماں کے پیٹ میںبچہ ہوتا ہے۔ اب ماں کے پیٹ میںجب بچہ ہوتا ہے تو وہ انسانی بچہ ہی ہوتا ہے کُتّا نہیں ہوتا مگر چونکہ اس میں ابھی بہت کچھ کمزوری ہوتی ہے اس لئے وہ کامل انسان بھی نہیں ہوتا۔ اسی طرح انہیں انسانی شکل تو حاصل تھی مگر انسانیت کے کمالات انہوں نے حاصل نہیں کئے تھے اور نہ ابھی تک ان میںعقل پیدا ہوئی تھی۔انسان کہلانے کا وہ اُسی وقت مستحق تھا جب کہ اس نے عقل حاصل کی، لیکن اس دَور کو بھی حقیقی معنوں میں دَور ِ انسانیت نہیں کہاجا سکتاکیونکہ انسان کی کامل خصوصیّت عقل نہیں بلکہ نظام اور قانون کے ماتحت زندگی بسر کرنا ہے اور یہی انسانی پیدائش کا مقصود ہے اسی لئے میںاصطلاحاً عقل والے دَور کوبشری دَورِ اوّل کہوںگا اور نظام والے دَور کو انسانی دَور کہوں گا۔یعنی پہلے دَور میں وہ صرف بشر تھا اور دوسرے دَور میں بشروانسان دونوں اُس کے نام تھے۔
    آدمؑ سب سے پہلا کامل انسان تھا
    اِس وقت تک جو مضمون بیان ہؤا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا عقلی دَور دو حصوں
    میں منقسم تھا ایک حصّہ تو وہ تھا کہ اس میںعقل تو تھی مگر انفرادی حیثیت رکھتی تھی تمدّنی ّ حِس نے ترقی نہ کی تھی اور وہ اکیلے اکیلے یا جوڑوں کی صورت میںزندگی بسر کرتا تھا ۔د وسرا دَور وہ آیا جبکہ تمدّنی حِس ترقی کر گئی تھی اور وہ ایک قانون کے تابع ہونے کا اہل ہو گیا یعنی وہ اس بات کیلئے تیار ہو گیا کہ ایک قانون کے ماتحت رہے جب قانون یہ فیصلہ کر دے کہ کسی پرحملہ نہیںکرنا تو ہر ایک کا فرض ہوکہ کسی پر حملہ نہ کرے، جب قانون یہ فیصلہ کردے کہ فلاں کو یہ سزا ملنی چاہئے تو اس کا فرض ہو کہ وہ اس سزا کوبخوشی برداشت کرے، جب یہ ّحِس اس میں ترقی کر گئی اور وہ قانون کے تابع ہونے کا اہل ہو گیا تو اُس وقت انسانِ کامل بنا اور قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ جب انسانوں کے اندر یہ مادہ پیدا ہو گیا کہ وہ نظام اور قانون کی پابندی کریںاور انسانی دماغ اپنی تکمیل کو پہنچ گیا تو اُس وقت سب سے پہلا شخص جس کا دماغ نہایت اعلیٰ طور پر مکمل ہؤا اُس کانام آدم ؑ تھا۔ گویا آدم جو خلیفۃ اللہ بنا وہ نہیں جس کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ خداتعالیٰ نے اسے مٹی سے گوندھا اور پھر اُس میں پھونک مار کر اُسے یکدم چلتا پھرتا انسان بنا دیا بلکہ جب انسانوں میں تمدّنی روح پیدا ہو گئی تو اُس وقت جو شخص سب سے پہلے اس مقام کو پہنچا اور جس کے دماغی قوٰی کی تکمیل سب سے اعلیٰ اور اَرفع طور پر ہوئی اُس کا نام خدا تعالیٰ نے آدمؔ رکھا، مگر جب دیر سے ایک طریق چلا آرہا ہو اُ س میںتبدیلی لوگ آسانی کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتے اسی لئے جب کامل انسانیت کی ابتداء ہوئی ناقص انسانوں کا بقیہ اس کے ساتھ تعاون کرنے سے قاصر تھاکیونکہ گو اُن میں عقل تھی مگر مادۂ تعاون وتمدّن ان میں مکمل نہ تھا۔ پس یقینا اُس وقت بہت بڑا فساد ہؤا ہو گا جیسے اگر ایک سِدھا ہؤا گھوڑا بے سِدھے گھوڑے کے ساتھ جوت دیا جائے تو دونوں مل کر کام نہیں کر سکتے۔ بے سِدھا گھوڑا لاتیں مارے گا، اُچھلے گا،کُودے گا اور وہ کوشش کر ے گا کہ نکل کر بھاگ جائے اسی طرح اُس وقت بعض لوگ متمدّن ہو چکے تھے اور بعض کہتے تھے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم اکٹھے رہیںاور قانون کی پابندی کریں۔
    لفظِ آدم میں حکمت
    قرآن کریم نے جوپہلے کامل انسان کا نام آدم رکھا تو اس میں بھی ایک حکمت ہے عربی زبان میں آدم کا لفظ دو مادوں سے نکلا ہے ،
    ایک مادہ اس کا ادیم ہے اور ادیم کے معنے سطح زمین کے ہیںاور دوسرا مادہ اُدْمَہْ ہے اور اُدْمَہْ کے معنے گندمی رنگ کے ہیں۔ پس آدم کے معنے سطح زمین پر رہنے والے یا گندمی رنگ والے کے ہیں اور دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے کیونکہ کُھلی ہَوا اور زمین پررہنے کی وجہ سے دھوپ کے اثر سے اس کے رنگ پر اثر پڑا۔
    حقیقت یہ ہے کہ جب آدم کے ذریعہ خداتعالیٰ نے تمدّن کی بنیاد رکھی تو اُس وقت آدم اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگوں نے یہ فیصلہ کیاکہ بجائے زمین کی غاروں میں رہنے کے ہمیںسطح زمین کے اوپر رہنا چاہئے اور پندرہ پندرہ بیس بیس گھروں کاایک گائوں بنا کر اس میںآباد ہو جانا چاہئے اس سے پہلے تمام انسان غاروں میں رہتے تھے اور چونکہ سطح زمین پر اکیلے اکیلے رہنے میں خطرہ ہو سکتا تھا کہ کوئی شیر یا چیتا حملہ کر ے اور انسانوں کو پھاڑ دے اس لئے وہ آسانی کے ساتھ سطح زمین پر رہنے کو برداشت نہیں کر سکتے تھے وہ تبھی سطح زمین پر رہنا برداشت کر سکتے تھے جب کہ بہت سے آدمی ایک جگہ اکٹھے ہوں اور وہ متحدہ طاقت سے خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں مگر یہ صورت اُسی وقت ہو سکتی تھی جب انسانوں میںاکٹھا رہنے کی عادت ہو اور وہ ایک قانون اور نظام کے پابند ہوں ۔ جب تک وہ ایک نظام کے عادی نہ ہوں، اُس وقت تک اکٹھے کس طرح رہ سکتے تھے۔ پس اُس وقت آدم اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم آئندہ غاروں میں نہیں رہیں گے بلکہ کُھلے مکانوں میں رہیں گے اور چونکہ انہوں نے باہر سطح زمین پر رہنے کا فیصلہ کیا اِس لئے ان کا نام آدم ہؤا یعنے سطح زمین پررہنے والے۔ اور کُھلی ہَوا میں رہنے کا یہ لازمی نتیجہ ہؤا کہ ان کا رنگ گندمی ہو گیا۔
    پس آدم اس کا نام اس لئے رکھا گیا کہ وہ کُھلی زمین میں مکان بنا کر رہنے لگا اور کُھلی زمین پر رہنے کے سبب سے اس کا جسم گندمی رنگ کا ہو گیا جیساکہ سورج کی شُعاعیں پڑنے سے ہو جاتا ہے اور ادیم اور اُدْمَہْ جو لفظِ آدم کے مادے ہیں ان دونوں کا مفہوم بھی ایک ہی ہے یعنی کُھلی ہَوا اور زمین پررہنے کی وجہ سے اس کے رنگ پر اثر پڑا۔
    زمانۂ آدم کی تمدّنی حالت
    اس آدم کے زمانہ میںلازماً بشری دَور اوّل کے زمانہ کے بھی کچھ لوگ تھے جو تمدنی قوانین کی برداشت نہیں کر سکتے
    تھے اورلازماً وہ سطحِ زمین پر سہولت سے نہیں رہ سکتے تھے کیونکہ جوطاقت مجموعی طاقت سے مل سکتی ہے اور جو انسان کو کھلے میدانوں میں رہنے میں مدد دیتی ہے وہ انہیں حاصل نہ تھی پس وہ غاروں میںرہتے تھے جیسا کہ جانور وغیرہ رہتے ہیں اور چونکہ ان میںتمدّن نہ تھا ان کے لئے کوئی قانون بھی نہ تھا ،حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ میں جب یہ فیصلہ کیا گیا کہ لوگ سطح زمین پر رہیں اور غاروں میں رہنا چھوڑ دیں ، تو وہ لوگ جو سطح زمین پر نہیں رہنا چاہتے تھے انہوں نے آپ کی مخالفت کی جیسے افریقہ کے حبشی پہلے ننگے رہا کرتے تھے۔ شروع شروع میں جب انگریز آئے ہیں تو انہوں نے کوشش کی کہ حبشیوں کو کپڑے پہنائے جائیں ۔چنانچہ انہوںنے شہر کے دروازوں پرآدمی مقرر کر دئیے اور انہیں کپڑے دے کر حُکم دیدیا کہ جب کوئی حبشی شہر کے اندر داخل ہو نا چاہے تو اُسے کہاجائے کہ وہ ننگا شہر میںداخل نہ ہو بلکہ تہہ بند باندھ کر اندر جائے، چونکہ وہ ہمیشہ ننگے رہتے چلے آئے تھے اور کپڑے پہننے کی انہیںعادت نہ تھی اس لئے وہ بڑے لڑتے اور کہتے کہ ہم سے یہ بے حیائی برداشت نہیں ہو سکتی کہ ہم کپڑے پہن کر شہر میںداخل ہوں ، ہمارے بھائی بنداور دوست ہمیں دیکھیں گے تو کیا کہیں گے۔مگر انہیںکہا جاتا کہ ننگے جانے کی اجازت نہیں،کپڑے پہن لو اور چلے جائو، چنانچہ مجبوراً وہ کپڑے پہنتے مگر جب شہر میں سے گزرتے تو اِدھر اُدھر کنکھیوں سے دیکھتے بھی جاتے کہ کہیں ان کا کوئی دوست انہیں اِس بے حیائی کی حالت میں دیکھ تو نہیں رہا، چنانچہ بڑی مشکل سے وہ شہر میں کچھ وقت گزار تے اور جب شہر سے باہر نکلنے لگتے توا بھی پچاس ساٹھ قدم کے فاصلہ پر ہی ہوتے تو تہہ بند اُتار کر زور سے پھینک دیتے اور ننگے بھاگتے ہوئے چلے جاتے۔ تو جس چیز کی انسان کو عادت نہیں ہوتی اُس سے وہ گھبراتا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ میں بھی چونکہ ایسے لوگ تھے جو قانون کی پابندی نہیں کر سکتے تھے اس لئے انہوں نے سطح زمین پررہنا پسند نہ کیا اور وہ بدستور غاروں میں رہتے رہے۔ جنس ایک ہی تھی، لیکن اس کا ایک حصہ تو سطح زمین پر آ گیا دوسرا سطح زمین پر نہ آیا اِس کا لازمی نتیجہ یہ ہؤا کہ جس طرح انسانِ کامل باہر رہنے کی وجہ سے آدم نام پانے کا مستحق بنا اسی طرح انسانِ ناقص غاروں میں رہنے کی وجہ سے ’’جن‘‘ نام پانے کا مستحق ہؤا کیونکہ جن کے معنی پوشیدہ رہنے والے کے ہیں۔ پس اُس وقت نسلِ انسانی کے دو نام ہو گئے ایک وہ جوآدم کہلاتے تھے اور دوسرے وہ جو جن کہلاتے تھے۔آدم کے ساتھ تعلق رکھنے والے جو لوگ تھے اُنہوں نے میدان میںجھونپڑیاں بنائیں، مکانات بنائے اور مِل جُل کر رہنے لگ گئے۔ پس سطح زمین پر رہنے اور سورج کی شعاعوں اور کُھلی ہَوا میں رہنے سے گندم گُوںہو جانے کی وجہ سے وہ آدم کہلائے، اسی طرح وہ انسان بھی کہلائے کیونکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے اُنس کرتے اور متمدّن اور مہذّب انسانوں کی طرح زمین پر مِل جُل کر رہتے اور ایک دوسرے سے تعاون کرتے۔ اس کے مقابلہ میںدوسرے لوگ جو گو اِسی جنس میںسے تھے مگر چونکہ وہ قربانی کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے اور غاروں میں چُھپ کر رہے اس لئے وہ جن کہلاتے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ عربی زبان میں بعد میںبھی بڑے آدمی جو اندر چُھپ کر رہتے ہیں انہیں جن کہا جانے لگا کیونکہ ان کی ڈیوڑھیوں پر دربان ہوتے ہیں اور ہر شخص آسانی سے اندر نہیں جا سکتا۔ اسی طرح غیر اقوام کے افراد کو بھی ’’جن‘‘ کہا جاتا ہے چنانچہ قرآن کریم میںصاف الفاظ میں غیر قوموں کے افراد کے لئے بھی جن کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر چونکہ یہ تفصیل کاوقت نہیں ہے اس لئے میں وہ آیات بیان نہیں کر سکتا، ورنہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مَیں نے قرآن کریم سے ایسے قطعی اور یقینی ثبوت نکال لئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں جن کا لفظ انسانوں کے لئے استعمال ہؤا ہے۔مَیں نے اُن آدمیوں کا بھی پتہ لے لیا ہے جنہیں قرآن کریم میں ’’جن‘‘ کہا گیا۔اُن شہروں کابھی پتہ لے لیا ہے جن میں وہ جن رہتے تھے اور تاریخی گواہیاں بھی ا س امر کے ثبوت کے لئے مہیا کرلی ہیں کہ وہ ’’جن‘‘ انسان ہی تھے کوئی غیر مرئی مخلوق نہ تھی۔
    اب میں آیاتِ قرآنیہ سے اُن مسائل کے دلائل بیان کرتاہوں جن کا اِس وقت مَیں نے ذکر کیا ہے۔
    آدم پہلا بشر نہیں
    میرا پہلا دعویٰ یہ تھا کہ قرآن کریم سے یہ امر ثابت ہے کہ آدم پہلا بشر نہیں یعنی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے یکدم پیدا کردیا ہو او رپھر اس
    سے نسلِ انسانی کا آغاز ہؤا ہو، بلکہ اس سے پہلے بھی انسان موجود تھے، چنانچہ اس کا ثبوت قرآن کریم سے ملتا ہے اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ میں آدم کے ذکر میں فرماتا ہے کہ اس نے فرشتوں سے کہا۔ ۲۱؎ میں زمین میںایک شخص کو اپنا خلیفہ بنانے والا ہوںاگر آدم پہلا شخص تھا جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو اسے فرشتوں سے یوں کہناچاہئے تھا کہ میں زمین میں ایک شخص کو پیدا کرنے والا ہوں مگر اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ میں پیدا کرنے والا ہوں بلکہ یہ کہا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اَور لوگ پہلے سے زمین میںموجود تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان میں سے آدم کو اپنا خلیفہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ پس یہ پہلی آیت ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق آتی ہے او ریہاں پیدائش کا کوئی ذکر ہی نہیں۔
    دوسری آیت جس سے اس بات کا قطعی اور یقینی ثبوت ملتا ہے کہ حضرت آدم ؑسے پہلے بھی آدمی موجود تھے سورہ اعراف کی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۲۲؎ یعنی ہم نے بہت سے انسانوں کو پیدا کیا، پھر ان کو مکمل کیا پھر ان کے دماغوں کی تکمیل کی اور انہیں عقل والا انسان بنایا اور پھر ہم نے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ یہ نہیں کہا کہ میں نے آدم کو پیدا کیا اورفرشتوں کو حُکم دیا کہ اسے سجدہ کریں۔ بلکہ یہ فرماتاہے کہ اے نسلِ انسانی! مَیں نے تم کو پیدا کیا اور صرف پیدا ہی نہیںکیا بلکہ مَیں نے تمہیں ترقی دی ،تمہارے دماغی قوٰی کوپایۂ تکمیل تک پہنچایا اور جب ہر لحاظ سے تمہاری ترقی مکمل ہو گئی تو مَیں نے ایک آدمی کھڑا کر دیا اور اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے سجدہ کرو۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلے کئی انسان پیدا ہو چکے تھے کیونکہ اور پہلے ہؤا ہے اور آدم کا واقعہ بعد میں ہؤا ہے حالانکہ اگر وہی خیال صحیح ہوتا جو لوگوں میں پایا جاتا ہے تو خداتعالیٰ یوں کہتا کہ میں نے پہلے آدم کو پیدا کیا اور فرشتوں کو اُسے سجدہ کرنے کا حُکم دیا۔ پھر میں نے تم کو اس سے پیدا کیا۔ مگر خداتعالیٰ یہ نہیں فرماتا بلکہ وہ یہ فرماتا ہے کہ میں نے پہلے انسانوں کو پیدا کیا، ان کی صورتوں کی تکمیل کی اور پھر ان میںسے آدم کے متعلق ملائکہ کو حُکم دیا کہ اسے سجدہ کریں۔ پس یہ آیت اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ پہلے کئی انسان پیدا ہو چکے تھے۔
    آدم اور ابلیس دونوں نسلِ انسانی میں سے تھے
    میرا دوسرا دعویٰ یہ تھا کہ آدم اور ابلیس درحقیقت نسلِ انسانی میں
    سے ہی تھے اِس بات کا ثبوت بھی قران کریم سے ملتا ہے۔
    (۱) اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ میںجہاں اس نے آدم کی پیدائش کا ذکر کیا ہے فرماتا ہے۔ ۲۳؎ کہ آدم اور اُس کی بیوی دونوں کوشیطان نے ورغلادیا اور دھوکا دیا، نتیجہ یہ ہؤا کہ ہماری ناراضگی ہوئی اور ہم نے کہا کہ تم اے شیطان کے لوگو اور اے آدم کے ساتھیو! سارے کے سارے یہاں سے چلے جائو۔ جمع کا صیغہ ہے جو خداتعالیٰ نے استعمال کیا۔ اگر اس سے مراد صرف آدم اور حوا ہوتے تو وہ تو دو ہی تھے ان کے لئے جمع کا صیغہ کیوں استعمال کیا جاتا۔انہیں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاتا کہ تم دونوں چلے جائو مگر اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا بلکہ فرماتا ہے ساری کی ساری جماعت یہاں سے چلی جائے۔ آدم، حوا اور ان کے ساتھیوں کو بھی یہ حُکم دیتا ہے اور ابلیس اور اس کے ساتھیوں کو بھی یہ حُکم دیتا ہے اور سب سے کہتا ہے کہ اِس علاقہ سے چلے جائو کیونکہ اب تمہاری آپس میں عداوت ہو چکی ہے ۔ یہ آیت اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ آدم اور ابلیس دونوں نسلِ انسانی میں سے ہی تھے۔
    ایک شُبہ کا ازالہ
    اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ قرآن کریم میںایک اور مقام پر کی بجائے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر وہاں بھی قرآن کریم نے اس
    مشکل کو آپ ہی حل کر دیا ہے اللہ تعالیٰ سورۃ طٰہٰ میں فرماتا ہے۔
    ۲۴؎ کہ ہم نے کہا دونوں یہاں سے چلے جائو تم دونوں ایک دوسرے کے دشمن رہو گے۔ اب اگر دونوں سے مرادآدم اور حوا لئے جائیں تو اِس آیت کا مطلب یہ بنتا ہے کہ آدم اور حوا آپس میں دشمن رہیں گے حالانکہ یہ معنے بِالبداہت غلط ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس جگہ دونوں سے مراد دونوں گروہ ہیں نہ کہ آدم اور حوا۔ اور اللہ تعالیٰ نے کہہ کر یہ حکم دیا ہے کہ اے آدم کے گروہ اور اے شیطان کے گروہ! تم دونوں اِس جگہ سے چلے جائو ۔ اب تم دونوں گروہ آپس میں ہمیشہ دشمن رہو گے ،پھر اس بات کا ایک اور ثبوت کہ اِن دو سے مراد دو گروہ ہیں نہ کہ آدم اور حوا یہ بھی ہے کہ کے ساتھ کا لفظ بھی آتا ہے ، حالانکہ دو کے لئے عربی زبان میں کبھی نہیں آسکتا۔ پس چونکہ آدم کے بھی کئی ساتھی تھے اور شیطان کے بھی کئی ساتھی تھے اس لئے دونوں کے لئے کے الفاظ استعمال کئے گئے۔ا سی طرح جہاں دشمنی کا ذکر ہے وہاں کے الفاظ ہیں اور کُمْ کے لفظ نے بھی جو تین یا تین سے زیادہ کے لئے بولا جاتا ہے بتادیا ہے کہ جن کو نکلنے کا حُکم دیا ہے وہ ایک جماعت تھی نہ کہ دو شخص۔
    پھر اس آیت سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ آدم کی نسل اور شیطان کی نسل دونوں نے ایک جگہ اکٹھا رہنا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے شیطان کے ساتھیو اور اے آدم کے ساتھیو! تم دونوں نے دنیا میں اکٹھا رہنا ہے پس ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ تم دونوں ایک دوسرے کی دشمنی سے بچتے رہنا اور اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔ پھر اس سے بھی بڑھ کر ایک اور بات ان آیات سے نکلتی ہے اور وہ یہ کہ یہ دونوں کوئی الگ الگ جنس نہیں تھے بلکہ ایک ہی جنس میں سے تھے چنانچہ سورۃ بقرہ میںہی اللہ تعالیٰ شیطان کے ساتھیوں اور آدم کے ساتھیوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے۔۲۵؎ کہ اے آدم کے ساتھیو اور اے ابلیس کے ساتھیو! تم سب یہاں سے چلے جائو، مگر یاد رکھوکہ کبھی کبھی تمہارے پا س میرے نبی بھی آیا کریں گے جولوگ ان انبیاء کو مان لیں گے وہ ہر قسم کے روحانی خطرات سے محفوظ رہیں گے مگر وہ لوگ جو اُن کو نہیں مانیں گے وہ میری ناراضگی کے مورد ہونگے۔ اس آیت سے یہ معلوم ہؤا کہ آدم کی اولاد کبھی شیطان کی ساتھی بن جایا کریگی اور کبھی شیطان کی اولاد آدم کی اولاد بن جایا کر یگی کیونکہ اِس آیت سے یہ امر مستنبط ہوتا ہے کہ ابلیس اور نسلِ ابلیس کے لئے بھی ایمان لانا ممکن تھا اور جب کہ نسلِ ابلیس کے لئے بھی ایمان لانا ممکن تھا اور یہ بھی امکان تھا کہ کبھی آدم کی اولاد کسی نبی کا انکار کر دے تو صاف معلوم ہؤا کہ یہ دونوں نسلیںآپس میںتبادلہ کرتی رہیں گی۔ کبھی شیطان کی نسل آدم کی نسل ہو جائے گی اور کبھی آدم کی نسل شیطان کی نسل ہو جائے گی کیونکہ ابلیس اور نسلِ ابلیس کے لئے اس آیت سے ایمان لانا ممکن ثابت ہوتا ہے کیونکہ اگر ان کا ایمان لانا ممکن ہی نہ ہوتا تو ان کی طرف ہدایت کے آنے کے کوئی معنے نہ تھے۔
    پھر سورہ اعراف میںاس مضمون کے بعد یہاں تک بیان فرمایا ہے کہ اے آدم کی نسل اور اے ابلیس کی نسل! ۲۶؎ تم دونوں اسی زمین کے اندر زندہ رہوگے، یہیںمروگے اور اسی زمین سے تمہارا حشر ہو گا یعنی بنوآدم کے ساتھ ابلیس اور اس کے ساتھی نہ صرف رہیں گے بلکہ بنوآدم کی طرح زمین پرزندگی بسر کریں گے، انہی کی طرح مریں گے اور زمین میں دفن ہونگے اور پھر انہی کی طرح ان کا قبور سے حشر ہو گا پس معلوم ہؤا کہ یہ جن کسی اور جنس کے لوگ نہیں بلکہ نسلاً یہ لوگ وہی ہیں جو بنو آدم ہیں کیونکہ ان آیات میںاللہ تعالیٰ نے یہ صاف بتا دیا ہے کہ جس طرح آدم کی نسل زمین میںزندہ رہے گی اسی طرح ابلیس اور اس کی نسل زمین میں زندہ رہے گی، جس طرح آدم کی نسل کھائے پئے گی اسی طرح ابلیس کی نسل کھائے پئے گی۔ جس طرح آدم کی نسل مرے گی اور زمین میںدفن ہوگی اسی طرح ابلیس کی نسل مرے گی اور زمین میںدفن ہو گی۔ اور پھر یہ بھی بتادیا کہ جب ہمارے انبیاء آئیں گے تو وہ اِن دونوں کو مخاطب کرینگے ،پھر جو لوگ انہیں مان لیںگے وہ آدم کی حقیقی اولاد کہلائیں گے اور جو لوگ نہیں مانیں گے وہ ابلیس بن جائیںگے پس معلوم ہؤا کہ آدم کے مقابلہ میں جو لوگ تھے خواہ انہیں ابلیس اور نسلِ ابلیس کہہ لو اور خواہ جن کہہ لو بہرحال جنس کے لحاظ سے وہ بشر ہی تھے۔فرق صرف اخلاق، تمدّن، اور شریعت کا تھا جس کی وجہ سے ان دونوں میں آپس میں امتیاز کر دیا گیا۔
    آدم اور جن کی بجائے انہیں مؤمن او رکافر کیوں نہ کہا گیا
    اب ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ
    نے ان ناموں سے انہیں یادکیوں کیا؟ کیوں سیدھے سادھے الفاظ میںانہیں کافر اور مؤمن نہیں کہہ دیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ لوگوں کے لئے سیدھا سادہ لفظ کافر اور مؤمن ہے اور ان کے لئے سیدھا سادہ لفظ آدم اور ابلیس یا اِنس اور جن تھا۔ آج انسان کا دماغ اس قدر ترقی کر چکا ہے کہ وہ شریعت کے باریک در باریک مسائل کو سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہے، مگر آدم کے زمانہ میں جو شریعت آئی اس کا تعلق صرف تمدّن اور رہائشِ انسانی کے ساتھ تھا اور اُس وقت کے لوگوں کے لئے باریک مسائل کا سمجھنا بالکل ناممکن تھا وہ اگر سمجھ سکتے تھے تو صرف موٹی موٹی باتیں سمجھ سکتے تھے۔ پس کافر ومؤمن کی جگہ جن اور اِنس دو نام ان کے رکھے گئے تا کہ اُس وقت کے تمدّن اور بنائے اختلاف کو بھی ظاہر کر دیاجائے اور اس وقت کے لوگوں کی سمجھ میں بھی یہ بات آجائے۔ آج چونکہ انسانی دماغ بہت ترقی کر چکا ہے اس لئے جب کسی کو مؤمن یاکافر کہا جاتا ہے تو وہ سمجھ جاتا ہے کہ ان الفاظ کا کیا مفہوم ہے مگر اُس زمانہ میںاگر انہیں کافر کہا جاتا اور بتایا جاتا کہ تم اس لئے کافر ہو کہ تم آدم کی بات کو نہیں مانتے تو وہ اس بات کو سمجھ ہی نہ سکتے کہ آدم کی بات کو نہ ماننے کی وجہ سے ہم کافر کس طرح ہو گئے ۔ پس اُس وقت اُن لوگوں کا نام جنہوں نے آدم کو مانا اور تمدّن کی زندگی کو قبول کر لیا اِنس رکھا گیا اور اُن لوگوں کا نام جنہوں نے آدم کی بات کو نہ مانا اور غاروں میں ہی چُھپے رہنے کا فیصلہ کرلیا جن رکھا گیا اور یہ ایسی بات تھی جسے وہ آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ واقع میں ان میںسے کچھ لوگ زمین پر رہتے ہیں اور کچھ زمین کے اندر غاروں میں رہتے ہیں۔ پس جب انہیں جن کہا جاتا تو وہ کہتے ٹھیک ہے ہم واقع میں غاروں سے نہیں نکلنا چاہتے اور جب دوسروں کو جو سطح زمین پر رہتے ہیں اِنس کہا جاتا تو یہ بات بھی ان کی سمجھ میں آ جاتی اور وہ کہتے کہ واقع میںوہ سطح زمین پر رہتے ہیںاور اس وجہ سے جن نہیں کہلا سکتے ۔پس جس طرح موجودہ زمانہ میں کافر اور مؤمن دو ناموں سے انسانوں کو یاد کیا جاتا ہے اسی طرح اُس زمانہ میں جن اور اِنس دوناموں سے انسانوں کو یاد کیا جاتا تھا کیونکہ اُس زمانہ میں اختلاف کی بنیاد تمدّن تھی۔ پس مؤمن وکافر کی جگہ اِنس وجن دو نام ان کے رکھے گئے تاکہ اُس وقت کے تمدّن اور بنائے اختلاف کو بھی ظاہر کردیا جائے اور بتایا جائے کہ اِنس وہ تھے جنہوں نے الٰہی حُکم کے مطابق باہمی اُنس اختیار کر کے متمدّن زندگی کی بنیاد رکھی اور جن وہ تھے جنہوں نے اس سے انکار کر کے اطاعت سے باہر رہنے اور تمدّنی زندگی اختیار نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پس وہ جنہوں نے تمدّنی زندگی اختیار کرلی اور سطح زمین پر رہنے لگ گئے وہ اِنس کہلائے اور جنہوں نے سطح زمین پررہنے اور تمدّنی زندگی اختیار کرنے سے انکار کر دیا اور یہ فیصلہ کرلیا کہ وہ غاروں میں ہی رہیں گے وہ جن کہلائے۔
    آج یورپ کے ماہرینِ آثارِقدیمہ اِس بات سے پُھولے نہیں سماتے کہ انہوں نے انیسویں صدی میں ہزار تحقیق وتجسّس کے بعد یہ راز دریافت کرلیا ہے کہ ابتداء میں انسان غاروں میںرہا کرتے تھے مگر ہمارے قرآن نے آج سے تیرہ سَو سال پہلے ایسے لوگوں کا نام جن رکھ کر بتا دیا کہ وہ غاروں میں رہا کرتے تھے۔
    آثارِ قدیمہ سے قرآنی نظریہ کی تصدیق
    آج پُرانے سے پُرانے آثارِ قدیمہ کو زمینوں میں سے کھود کھو د کر اِس بات کا
    اعلان کیا جا رہا ہے کہ ابتدائی انسان غار میں رہا کرتا تھا۔ پھر بعد میں وہ سطح زمین پر رہنے لگا، مگر ہمارے قرآن نے آج سے تیرہ سَو سال پہلے یہ بتا دیا تھا کہ انسان پہلے جنّ بنا اور بعد میں انسان بنا۔ پہلے وہ غاروں میںرہا مگر بعد میں سطح زمین پر آ کر بسا۔ جب تک وہ غاروں میں رہا وہ جنّ نام کا مستحق تھا مگر جب وہ سطح زمین پر آکر بسا تو وہ آدم اور انسان کہلانے لگ گیا۔
    لوگ سر دُھنتے ہیں اُن کتابوں کو پڑھ کر جوآج سے صرف سَو سال پہلے لکھی گئی ہیں اور وہ نہیں دیکھتے اُس کتاب کو جو آج سے تیرہ سَو سال پہلے سے یہ مسئلہ پیش کر رہی ہے پس جن کا لفظ تیرہ سَو سال پہلے سے اس ’’کیومین‘‘ (Caveman) کی خبر دیتا ہے جسے یورپ نے بارہ سَوسال بعد دریافت کیا ہے۔ ہمارے قرآن نے اس ’’کیومین‘‘ کا ذکر ’’جن‘‘ کے نام سے جس کے قریباً لفظی معنے ’’کیومین‘‘ کے ہی ہیں آج سے صدیوں پہلے کردیا تھا۔ پس وہ جس کا نام لوگوں نے ’’کیومین‘‘ رکھا ہے اُس کا نام قرآن نے ’’جن‘‘ رکھا ہے یعنی غاروں کے اندر چُھپ کر رہنے والا۔ جب اس نے سطح زمین پر رہنا شروع کیا تو اس کا نام آدم ہؤا اور آدم کے لفظی معنے یہی ہیں کہ سطح زمین پر رہنے والا۔
    اگر کہا جائے کہ ابلیس تو کہتا ہے کہ ۲۷؎ میں آدم سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا ہے اور آدم کو پانی ملی ہوئی مٹی سے ، تو جب ان کی پیدائش مختلف اشیاء سے ہے تو وہ ایک کس طرح ہو گئے؟ تو اِس کا جواب یہ ہے کہ جب قرآن سے یہ بات ثابت ہے کہ دونوں ایک جگہ رہیں گے، ایک ہی جگہ مریں گے ، ایک ہی زمین میںدفن ہو نگے اوردونوں کی طرف خداتعالیٰ کے انبیاء آئیں گے جن کو قبول کر کے بعض دفعہ شیطان کی اولاد آدم کی اولاد بن جائے گی اور انکار کر کے آدم کی اولاد شیطان کی اولاد بن جائے گی تو پھر وہی معنے اس آیت کے درست ہونگے جو دوسری آیات کے مطابق ہوں۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ ان معنوں کو ترک کر تے ہوئے جو عام لوگ اس آیت کے سمجھتے ہیں ایک اور معنے بھی بن سکتے ہیں جن سے یہ آیت باقی تمام آیات کے مطابق ہو جاتی ہے اور قرآن کریم کی کسی آیت میں اختلاف نہیںرہتا۔
    عربی زبان کا ایک محاورہ
    عربی زبان کا ایک محاورہ ہے جوقرآن کریم میں بھی استعمال ہؤا ہے کہاِس سے یہ مراد نہیںہوتاکہ فلاں شخص فلاں مادہ
    سے بنا ہے بلکہ اس سے یہ مراد ہوتا ہے کہ یہ امر اُس کی طبیعت میں داخل ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میںیہ محاورہ سورۃ انبیاء میںاستعمال ہؤا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
    ۲۸؎ کہ انسان جلدی سے پیداکیا گیا۔ اب جلدی کوئی مادہ نہیںہے جسے کُوٹ کُوٹ کراللہ تعالیٰ نے انسان بنا دیا ہو، بلکہ یہ ایک محاورہ ہے جواستعمال ہؤا اور اس کامطلب یہ ہے کہ انسان بہت جلدباز ہے اور اس کی فطرت میںجلد بازی کا مادہ رکھا گیا ہے۔جب پیشگوئیاں ہوتی ہیں تو کئی لوگ اِس گھبراہٹ میں کہ نہ معلوم یہ پیشگوئیاں پوری ہوں یا نہ ہوں، مخالفت کرنے لگ جاتے ہیں اور کہنے لگ جاتے ہیں کہ یہ جھوٹا ہے یہ جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی امر کا اس جگہ ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے تم ہمارے انبیاء کی پیشگوئیاں سنتے ہی اُسے جھوٹا جھوٹا کیوںکہنے لگ جاتے ہو؟ تم جلدی مت کرو ہماری پیشگوئیاںبہرحال پوری ہو کر رہیںگی۔ اسی طرح قرآن کریم میں ایک اور جگہ بھی یہ محاورہ استعمال کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۲۹؎ کہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ضُعف سے پیداکیا۔ اب بتائو کہ کیا ضُعف کوئی مادہ ہے؟ اس کامطلب صرف یہ ہے کہ انسان کی طبیعت میںکمزوری ہوتی ہے چنانچہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے فطری طور پر سخت کمزور ہوتا ہے ۔پھر ہم بچے کو جوان بناکر اس کے قویٰ کومضبوط کرتے ہیں ، پھر اور بڑھا کر اُسے بُڈھا کر دیتے ہیں پس یہاں سے مرادبچے کے قویٰ کی کمزوری اور اُس کی دماغی طاقتوں کا ضُعف ہے اور اُس سے مراد یہ ہے کہ اس کی طبیعت میںکمزوری ہوتی ہے نہ یہ کہ کمزوری کوئی مادہ ہے جس سے وہ پیدا ہوتا ہے۔اِن دونوں آیتوں سے کے معنے بالکل واضح ہوجاتے ہیںاور انہی معنوں میںابلیس اللہ تعالیٰ کو خطاب کر کے کہتا ہے کہ ۔۳۰؎ اے اللہ! تو نے میری طبیعت میں تو آگ کا مادہ رکھا ہے اور اُس میں طین کا۔ یعنی تونے میری طبیعت تو ناری بنائی ہے اور آدم کی طینی، یہ تو غلامِ فطرت ہے اور یہ تو ممکن ہے دوسرے کی بات مان لے لیکن مَیں جو ناری طبیعت رکھتا ہوں دوسرے کی غلامی کس طرح کر سکتا ہوں۔ کا مطلب یہ ہے میں تو حُرّ ہوںدوسرے کی غلامی نہیں کر سکتا یہی کا دعویٰ ہے جو آجکل انارکسٹ وغیرہ کرتے رہتے اور کہتے ہیں ہم سے دوسرے کی غلامی برداشت نہیںہو سکتی ہم تو بغاوت کریںگے اور دوسرے کی غلامی کو کبھی برداشت نہیں کریں گے۔ دنیا پر نگاہ دَوڑا کر دیکھ لو آج بھی تمام دنیا میں کے نعرے لگ رہے ہیں۔ انہی معنوں میں ابلیس اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ اے اللہ ! تو نے مجھے ناری طبیعت بنایا ہے اور آدم کی طبیعت طینی ہے۔ مجھے تو کوئی بات کہے تو آگ لگ جاتی ہے مَیں توآدم کی طرح دوسرے کی بات کبھی مان نہیں سکتا۔
    اُردو میںبھی یہ محاورہ استعمال ہوتا ہے کہتے ہیں فلاں شخص تو آگ ہے۔اب اس کے یہ معنے تو نہیں ہوتے کہ اس کے اندر کوئی دِیا جل رہا ہوتا ہے یاآگ کے شُعلے اُس کے منہ سے نکل رہے ہوتے ہیں؟ مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کی بات مان نہیں سکتا۔ اُسے کوئی نصیحت کی جائے تو آگ لگ جاتی ہے۔انگریزی میں بھی کہتے ہیں کہ فلاں شخص ’’فائربرینڈ‘‘ (FIREBRAND) ہے مطلب یہ کہ وہ شرارتی آدمی ہے حالانکہ اس کے لفظی معنے یہ ہیں کہ جو چیز جل رہی ہو۔ مگر مفہوم یہ ہے کہ فلاں شخص ایسا شرارتی ہے کہ ہر جگہ آگ لگا دیتا ہے۔ یہی معنے اس آیت کے بھی ہیں اور ابلیس کہتا ہے کہ خدایا! میری طبیعت اطاعت کو برداشت نہیں کر سکتی۔ دنیا میں بھی روزانہ ایسے واقعات دیکھنے میںآتے ہیں ۔ایک شخص کی دوسرے سے لڑائی ہو جاتی ہے تو بعض لوگ چاہتے ہیں اِن کی آپس میں صلح ہو جائے ۔ اب ایک شخص تو صلح کے لئے تیار ہوتا ہے مگر دوسرے کو جب صلح کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے میں اس سے صلح کرنا کسی صورت میںبرداشت نہیںکر سکتا۔ میں تو ایک لفظ بھی سننا نہیںچاہتا ۔وہ ناری طبیعت ہوتا ہے اور اسی طبیعت کے اقتضاء کے ماتحت اس قسم کے الفاظ اپنی زبان پرلاتا ہے لیکن دوسراجس کی طینی طبیعت ہوتی ہے وہ کہتاہے کہ میں تو ہر وقت صلح کے لئے تیار ہوں ۔ گویا جس طرح گِیلی مٹی کو جس سانچے میںچاہو ڈھال لو اسی طرح اس سے جوکا م چاہو لے سکتے ہو تو کے یہ معنے ہیں کہ میں کسی کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب انسانی نسل ترقی کرتے کرتے ایک ایسے مقام پرپہنچی کہ اس میں مادۂ تعاون وتمدّن پیداہو گیا اور اس میں یہ طاقت پیدا ہو گئی کہ وہ دوسرے کی اطاعت کا جوا اپنی گردن پر اُٹھائے تو خداتعالیٰ نے ان میںسے ایک بہترین آدمی کا انتخاب کر کے اُس پر اپنا الہام نازل کیا اور اُسے کہا کہ اب نظام اور تمدّن کی ترقی ہونی چاہئے اور انسانوں کو غاروں میں سے نکل کر سطح زمین پر مِل جُل کر رہنا چاہئے۔
    آدم کی مخالفت
    جس وقت آدم کی طرف سے یہ اعلان کیا گیاہو گا کہ غاروں کو چھوڑو اورباہر نکلو تو ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ اُس وقت کس قدر عظیم الشان شور برپا
    ہؤا ہو گا۔ لو گ کہتے ہیں یہ پاگل ہو گیا ہے، سٹھیاگیا ہے، اِس کی عقل جاتی رہی ہے یہ ہمیں غاروں سے نکال کر سطح زمین پربسانا چاہتاہے اور اِس کا منشاء یہ ہے کہ ہمیں شیرکھا جائیں ، چیتے پھاڑ جائیںاور ہم اپنی زندگی کو تباہ کرلیں اور اپنے جیسے دوسرے آدمیوں کے غلام بن کر رہیں۔مگر بہرحال کچھ لوگ آدم کے ساتھ ہو گئے اور کچھ مخالف رہے۔ جوآدم کے ساتھ ہو گئے وہ طینی طبیعت کے تھے ا ور جنہوں نے مخالفت کی وہ ناری طبیعت کے تھے۔طین کے معنے ہیںجو دوسری شَے کے نقش کو قبول کر لے۔ پس آدم کی طبیعت طین والی ہوگئی تھی یعنی وہ نظام کے ماتحت دوسرے کی بات مان سکتا تھا جوفریق اس اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے تیار نہ تھا اس نے اس کی فرمانبرداری سے انکار کیا اور کہا کہ ہم اعلیٰ ہیں ہم ایسی غلطی نہیں کر سکتے، یہ تو غلامی کی ایک راہ نکالتا ہے۔ یہ وہی جھگڑا ہے جو آج تک چلا آ رہا ہے۔
    موجودہ زمانہ کے ناری طبیعت انسان
    آج دنیا متمدّن ہے، آج دنیا مہذّب ہے، آج دنیا مِل جُل کر رہتی ہے مگر آج بھی
    ناری طبیعت کے لوگ پائے جاتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم دوسرے کی کیوں اطاعت کریں ۔یہی ناری طبیعت والے پیغامی تھے جو حضرت خلیفہ اوّل کی ہمیشہ مخالفت کرتے رہے اور یہی ناری طبیعت والے پیغامی تھے جنہوں نے کہا کہ ہم ایک بچہ کی بیعت نہیں کر سکتے۔ کَل کا بچہ ہو اور ہم پرحکومت کرے یہ ہم سے کبھی برداشت نہیںہو سکتا ۔وہ جنہوں نے مخالفت کی وہ ناری طبیعت کے تھے مگرآپ لوگ طینی طبیعت کے تھے۔آپ نے کہا ہم آدم کے زمانہ سے خدا تعالیٰ کے حُکم کے ماتحت دوسروں کی اطاعت کرتے چلے آ ئے ہیں اب خلیفۂ وقت کی اطاعت سے کیوں منہ موڑیں۔ مصری صاحب نے بھی اسی ناری طبیعت کی وجہ سے میری مخالفت کی اور انہوں نے کہا کہ میں موجودہ خلیفہ کی اطاعت نہیں کر سکتا اسے معزول کر دینا چاہئے تو آج تک یہ دونوں فطرتیں چل رہی ہیں۔ناری مزاج والے ہمیشہ نظام سے بغاوت کرتے ہیںاور اپنے آپ کو حُرّکہتے ہیںمگر طینی مزاج والے نظام کے ماتحت چلتے اور اپنے آپ کو کامل انسان کہتے ہیں دونوں اصولوں کاجھگڑا آج تک چلا جا رہا ہے،حالانکہ دونوں اِسی زمین میں رہتے، اِسی میںمرتے اور اِسی میںدفن ہوتے ہیں اور دونوں ہی کی طرف نبی آتے اور ان سے خطاب کرتے ہیں مگر قاعدہ ہے کہ پہلے تو انبیاء کی تعلیم کی مخالفت کی جاتی ہے لیکن آہستہ آہستہ جب وہ تعلیم دنیا کی اور تعلیموں پرغالب آجاتی ہے تو مُنکر بھی اسے قبول کرلیتے ہیں۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب ایک خدا کی تعلیم دینی شروع کی تو عیسائی اِس تعلیم پر بڑا ہنستے اور کہتے کہ ایک خدا کس طرح ہو گیا؟ زرتشتی بھی ہنستے ،مشرکینِ مکہ بھی ہنستے، مگر آہستہ آہستہ جب اس تعلیم نے دلوں پرقبضہ جمانا شروع کیا تو نتیجہ یہ نکلا کہ آج کوئی قوم بھی نہیں جو خداتعالیٰ کی وحدانیت کی قائل نہ ہو۔ حتّٰی کہ عیسائی بھی تثلیث کا عقیدہ رکھنے کے باوجود اِس بات کے قائل ہیںکہ خدا ایک ہی ہے تو طینی اور ناری مزاج والوںکا جھگڑا آج تک چلا آ رہا ہے اور ہمیشہ سے یہ نظر آتا ہے کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نئی تعلیم آتی ہے تو کچھ لوگ فرمانبرداری کرتے ہیںاور کچھ غصّہ سے آگ بگولا ہو جاتے ہیںاور وہ مخالفت کرنی شروع کر دیتے ہیں۔ قرآن کریم میں یہ آگ کامحاورہ بھی استعمال ہؤا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ایک چچا کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۳۱؎ کہ آگ کے شُعلوں کا باپ ہلاک ہو گیا۔ اب خدا نے اُس کانام ہی آگ کے شُعلوں کا باپ رکھ دیا مگر اِس کے یہ معنے تو نہیں کہ اُس سے آگ نکلتی تھی،بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ شیطانی قسم کے لوگوں کاسردار تھا (بعض مُفسّر اس نام کو ُکنیت بھی قرار دیتے ہیں اور بعض سفید رنگ کی طرف اشارہ مرادلیتے ہیں) پس یا ۳۲؎ وغیرہ الفاظ سے اشارہ انسان کی اس حالت کی طرف ہے جب کہ وہ ابھی متمدّن نہیں ہؤا تھا اور شریعت کا حامل نہیں ہو سکتا تھا۔
    حضرت آدم کے متعلق ایک اور زبردست انکشاف
    ایک اور زبردست انکشاف قرآن کریم آدمِ انسانیت
    کی نسبت یہ کرتا ہے کہ جنت میں لائے جانے سے پہلے ہی اُس کے پاس اُ س کی بیوی تھی، چنانچہ قرآن کریم میںآدم کی بیوی کی پیدائش کاکوئی ذکر ہی نہیں،بلکہ عبارت ظاہر کرتی ہے کہ بیوی عام طریق پر اس کے ساتھ تھی جیسے مردوعورت ہوتے ہیں۔ چنانچہ:-
    (۱) سورۃ بقرہ میںجہاں آدم اور اس کی بیوی کا ذکر آتا ہے وہاں آدم کی بیوی پیدا کرنے کا کوئی ذکر ہی نہیں۔ محض یہ حکم ہے ۳۳؎ ا ے آدم !جا تو اور تیری بیوی تم دونوںجنت میںرہو۔ یہ نہیں کہا کہ آدم اکیلا تھا اور اُس کی پسلی سے حوا کو پیدا کیا گیا بلکہ آیت کا جو اُسلوبِ بیان ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ میاں بیوی پہلے سے موجود تھے۔ اُنہیں صرف یہ حُکم دیدیا گیا کہ تم فلاں جگہ رہو۔
    (۲) سورۃاعراف میں بھی صرف یہ ذکر ہے کہ۳۴؎
    (۳) تیسری جگہ جہاں آدم کی بیوی کاذکر ہے وہ سورۃ ٰطہٰ ہے مگر اس میںبھی صرف یہ ذکر ہے کہ ۳۵؎ یہ ذکر نہیں کہ آدم کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُس کی بیوی کو بھی پیدا کیا ہو۔
    اِن تینوں جگہوں میںجہاںآدم کی پیدائش کاذکر کیا گیا ہے اس کی بیوی کا ذکر محض ایک عام بات کے طور پر کیا گیا ہے حالانکہ اگر آدم اکیلا ہوتا اور حوا کو اُس کی پسلی سے پیداکیا گیا ہوتا تو اس کی بیوی کا ذکرخاص اہمیت رکھتا تھا اور یہ بتایا جانا چاہئے تھا کہ آدم کی ایک پسلی نکال کر اسے عورت بنادیا گیا بیشک ایک حدیث میں ایسا ذکر آتا ہے کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے مگراس کا مطلب میرے کسی مضمون میں آگے چل کر بیان ہوگا۔ ہاں سورۃ نساء رکوع ۱، سورۃ اعراف رکوع۲۴سورۃ الزمر رکوع۱ میں ایک بیوی کی پیدائش کا ذکر ہے ایک جگہ لکھا ہے اور دوجگہ لکھا ہے اور ان الفاظ سے یہ شُبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ شاید عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے مگر اِن تینوں جگہ کے الفاظ آتے ہیں آدم کا نام نہیں ہے کہ یہ شُبہ کیا جا سکے کہ اِن آیات میںآدم اور حوا کی پیدائش کا ذکر ہے چنانچہ ان میں سے ایک حوالہ سورہ نساء کا ہے اس میںاللہ تعالیٰ نے یہ فرمایاہے کہ۔ ۳۶؎ کہ اے انسانو! اپنے اُس رب کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تم کو ایک جان سے پیداکیااور اُس سے اُس کی بیوی کو بنایا۔ ان الفاظ میںآدم اور اس کی بیوی کا کوئی ذکر ہی نہیں صرف کے الفاظ آتے ہیں مگر ان کامفہوم بھی جیسا کہ مَیںآگے چل کر بتائوں گا اَور ہے ، بہرحال آدم اور حوا کایہاں کوئی ذکر نہیں۔ یہی حال سورہ اعراف اور سورہ زمر کی آیات کاہے ان میں بھی کے الفاظ ہیں۔آدم کے الفاظ نہیں، مگر ان تینوںآیات میںسے جو ہم معنی ہیں سورۃ اعراف کا حوالہ اِس بات کو وضاحت سے ثابت کرتا ہے کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نہ کہ آدم ،کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۳۷؎ فرماتا ہے۔ و ہ خدا ہی ہے جس نے تمہیںایک جان سے پیداکیا اور اُس سے اُس کی بیوی کو پیدا کیا تاکہ اُس سے تعلق رکھ کر وہ اطمینان اور سکون حاصل کر ے، جب اُس نفسِ واحد نے اپنی بیوی سے صحبت کی تو اُسے ہلکاسا حمل ہو گیا مگر جب اس کا پیٹ بھاری ہو گیا اور دونوں کو معلوم ہو گیا کہ حمل قرار پکڑ گیا ہے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دُعا کی الٰہی! اگر تونے ہمیں تندرست اور خوبصورت بچہ عطا کیا تو ہم تیرے ہمیشہ شکر گزار رہیںگے مگر جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اچھا اور تندرست بچہ دیدیا تو وہ اللہ تعالیٰ کو بھول گئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کا بعض اور لوگوں کوشریک بنالیا اور اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دُور تر چلے گئے۔
    اب بتائو کیا اِن الفاظ میں آدم اور حوا کا ذکر ہے یا عام انسانوں کا۔ کیاآدم اور حوا نے پہلے یہ دعا کی تھی کہ ہمیں ایک صالح لڑکا عطا فرمانا اور جب وہ پیدا ہو گیا تو انہوں نے مشرکانہ خیالات کا اظہار کیا اور وہ بعض ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینے لگ گئے؟ انہوں نے ہرگز ایسا نہیں کیا اور آدم جو اللہ تعالیٰ کے نبی تھے ایسا کرہی نہیں سکتے تھے۔ پس صاف پتہ لگتا ہے کہ یہاںآدم کاذکر نہیں بلکہ آدمی کا ذکر ہے اور انسانوں کے متعلق ایک قاعدہ کا ذکر ہے کسی خاص آدمی کا بھی ذکر نہیں اور چونکہ سب آیات کے الفاظ ایک سے ہیں اس لئے معلوم ہؤا کہ سب جگہ ایک ہی معنے ہیں۔
    نفسِ واحدہ سے پیدائش کی حقیقت
    حقیقت یہ ہے کہ سے مراد صرف یہ ہے کہ ایک ایک
    انسان سے قبائل وخاندان چلتے ہیںاور بیوی اسی میں سے ہونے کے معنے اسی کی جنس میں سے ہونے کے ہیںاور بتایا ہے کہ ایک ایک آدمی سے بعض دفعہ خاندان کے خاندان چلتے ہیں اگر ماں باپ مُشرک ہوں تو قبیلے کے قبیلے گندے ہو جاتے ہیں اور اگر وہ نیک ہوں تو نسلاً بعد نسلٍ ان کے خاندان میںنیکی چلتیجاتی ہے۔ پس اور اسی طرح کے دوسرے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ اے مرد و! جب تم شادی کرو تو احتیاط سے کام کیا کرو ، اور جب میاں بیوی آپس میں ملیں تو اُس وقت بھی وہ احتیاط سے کام لیا کریں، اگر وہ خود مُشرک اور بدکار ہونگے تو نسلوں کی نسلیں شرک اور بدکاری میں گرفتار ہو جائیں گی اور اگر وہ خود موحّد اور نیکی وتقویٰ میںزندگی بسر کرنے والے ہونگے تو نسلوں کی نسلیں نیک اور پارسا بن جائیں گی۔
    اِن معنوں کے بعد اگر آدم پر بھی ان آیات کو چسپاں کیا جائے تو بھی یہی معنے ہونگے کہ آدم کی بیوی اسی کی جنس میںسے تھی۔یعنی طینی طبیعت کی تھی ناری طبیعت کی نہ تھی اور ممکن ہے اِس صورت میںاِدھر بھی اشارہ ہو کہ آدم کو حکم تھا کہ صرف مؤمنوں سے شادی کریں غیروں سے نہیں۔
    جب یہ ثابت ہو گیا کہ آدم کے وقت میںاَور مرد وعورت بھی تھے اور آدم کی بیوی انہی میں سے تھی یعنی وہ آدم کی ہم مذہب تھی تو وہ سوال کہ آدم کی اولادشادیاں کس طرح کرتی ہو گی؟ آپ ہی آپ دُور ہو گیا۔ جب مرد بھی تھے عورتیں بھی تھیں توشادیوں کی دِقّت نہیں ہو سکتی تھی، ہاں اگر اس سے پہلے کا سوال ہو توآدم سے پہلے بشر تو شریعت کے تابع ہی نہ تھے، نہ وہ شادی کے پابند تھے نہ کسی اور امر کے۔کیونکہ وہ تو نظام سے آزاد تھے اور جب وہ نظام سے آزاد تھے تو ان کے متعلق کوئی بحث کرنی فضول ہے۔بحث تو صرف اس شخص کے متعلق ہو سکتی ہے جو شریعت کا حامل ہو اور عقلِ مدنی اُس میں پیدا ہو چکی ہو، اور ایسا پہلا وجو د ابوالبشر آدم کا تھا اور ان کے بعد ان کے اَتباع کا وجود تھا ان کے لئے اخلاق وشریعت کی پابندی لازمی تھی۔ ان سے پہلے انسان نیم حیوان تھا اور ہر اعتراض سے بالا اور ہر شریعت سے آزاد ۔
    عورت کے پسلی سے پیدا ہونے کا مفہوم
    اب میں اُس حدیث کو لیتا ہوں جس میںیہ ذکر آتا ہے کہ عورت پسلی سے پیدا
    کی گئی ہے۔حدیث کے اصل الفاظ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مروی ہیں یہ ہیں کہ خُلِقْنَ مِنْ ضِلْعٍ۳۸؎ یہ الفاظ نہیں ہیں کہ خُلِقَتْ حَوَّاء مِنْ ضِلْعٍ جس طرح قرآن کریم کی اُن آیات میں جن میں خَلَقَ مِنْھَازَوْجَھَا کے الفاظ آتے ہیں ہر عورت کا ذکر ہے حوا کا ذکر نہیں اسی طرح حدیث میں بھی حوا کا کہیں نام نہیں بلکہ تمام عورتوں کے متعلق یہ الفاظ آتے ہیں کہ خُلِقْنَ مِنْ ضِلْعٍ اگر یہ الفاظ ہوتے کہ خُلِقَتْ زَوْجَۃُ اٰدَمَ مِنْ ضِلْعٍ تب تو یہ کہا جا سکتا کہ حوا جو آدم کی بیوی تھیںوہ پسلی سے پیدا ہوئیں مگر جب کسی حدیث میںبھی ا س قسم کے الفاظ نہیں آتے بلکہ تمام عورتوں کے متعلق یہ ذکر آتا ہے کہ وہ پسلی سے پیدا ہوئیں تو محض حوا کوپسلی سے پیدا شدہ قرار دینا اور باقی عورتوں کے متعلق تاویل سے کام لینا کس طرح درست ہو سکتا ہے اسی طرح ایک اور حدیث میںیہ الفاظ آتے ہیں کہ اَلنِّسَائُ خُلِقْنَ مِنْ ضِلْعٍ۳۹؎ کہ ساری عورتیں پسلی سے پیدا ہوئی ہیں۔ پس جس طرح قرآنی آیات میں تمام عورتوں کاذکر ہے اسی طرح احادیث میں بھی تمام عورتوں کاذکر ہے اور ہر ایک کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ وہ پسلی سے پیدا ہوئی۔ اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ پسلی سے پیدا ہونے کے کیا معنے ہیں؟کیونکہ واقعہ یہ ہے کہ کوئی عورت پسلی سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ جس طرح مرد پیدا ہوتے ہیں اسی طرح عورتیں پیدا ہوتی ہیں پس جب کہ عورتیں بھی مردوں کی طرح پیدا ہوتی ہیں تو سوال یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ کیوں فرمایا کہ عورتیں پسلی سے پیدا ہوئی ہیں سو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ بھی اسی محاورہ کے مطابق ہے جس کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے اور اس محاورہ سے صرف یہ مراد لی جاتی ہے کہ یہ امر فلاں شخص کی طبیعت میں داخل ہے پس خُلِقْنَ مِنْ ضِلْعٍٍ سے صرف یہ مراد ہے کہ عورت کو کسی قدر مرد سے رقابت ہوتی ہے اور وہ اس کے مخالف چلنے کی طبعاً خواہشمند ہوتی ہے، چنانچہ علمائے احادیث نے بھی یہ معنے کئے ہیں اور مجمع البحار جلد دوم میںجو لغتِ حدیث کی نہایت مشہور کتاب ہے ضِلْعٍٍکے نیچے لکھا ہے۔ خُلِقْنَ مِنْ ضِلْعٍ اِسْتِعَارَۃٌ لِلْمُعَوَّجِ اَیْ خُلِقْنَ خَلْقاً فِیْھَا ا لْاِعْوِجَاجُ… خُلِقْنَ مِنْ ضِلْعٍ۴۰؎ ایک محاورہ ہے جو کجی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ عورتوں کی طبیعت میںایک قسم کی کجی ہوتی ہے یہ مطلب نہیںکہ عورتوں میں بے ایمانی ہوتی ہے بلکہ یہ ہے کہ عورت کو خاوند کی بات سے کسی قدر ضروررقابت ہوتی ہے۔مرد کہے یوںکرنا چاہئے تو وہ کہے گی یوں نہیںاسی طرح ہونا چاہئے اور خاوند کی بات پر ضرور اعتراض کرے گی اور جب وہ کوئی بات مانے گی بھی تو تھوڑی سی بحث کرکے اور یہ اس کی ایک ناز کی حالت ہوتی ہے اور اس میںوہ اپنی حکومت کا راز مستور پاتی ہے۔
    تمدّنی ترقی کاایک عظیم الشان گُر
    غرض خُلِقْنَ مِنْ ضِلْعٍ کے یہی معنے ہیںکہ عورت مرد پر اعتراض ضرور کرتی رہے گی، ان
    میںمحبت بھی ہو گی، پیار بھی ہو گا ، تعاون بھی ہو گا،قربانی کی روح بھی ہو گی ، مگر روزمرہ کی زندگی میںان میںآپس میں نوک جھوک ضرور ہوتی رہے گی اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو اگر سیدھا کرو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی،یعنی اگر تم چاہو کہ وہ تمہاری بات کی تردید نہ کرے تو اُس کا دل ٹوٹ جائیگا، اُسے اعتراض کرنے دیا کرو کیونکہ عورت کی فطرت میںیہ بات پائی جاتی ہے کہ اگر تم بالکل ہی اُس کی زبان بندی کر دو گے تو وہ جانور بن جائے گی اور عقل اور فکر کا مادہ اُس میںسے نکل جائے گا۔ یہ تمدّن کا ایک عظیم الشان نکتہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بیان فرمایا۔آپؐ کا اپنا عمل بھی اس کے مطابق تھا، چنانچہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی بیویوں سے کسی بات پر ناراض ہو کر گھر سے باہر چلے گئے اور آپؐ نے باہر ہی رہائش اختیار کر لی۔ حضرت عمرؓ کی لڑکی چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیاہی ہوئی تھیں اس لئے انہیں بھی یہ اطلاع پہنچ گئی۔ حضرت عمرؓ کا طریق یہ تھا کہ آپ مدینہ میں نہیں رہتے تھے بلکہ مدینہ کے پاس ایک گائوںتھا وہاں آپ رہتے اور تجارت وغیرہ کرتے رہتے، اُنہوں نے ایک انصاری سے بھائی چارہ ڈالا ہؤا تھا اور آپس میںانہوں نے یہ طے کیا ہؤا تھا کہ وہ انصاری مدینہ میں آجاتا اور مدینہ کی اہم خبریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی باتیں سُن کر حضرت عمرؓ کو جا کر سُناد یتا اور کبھی حضرت عمرؓ مدینہ آ جاتے اور وہ انصاری پیچھے رہتا اور آپ اُس کو باتیںبتا دیتے، غرض جو بھی آتا وہ تمام باتیں معلوم کر کے جاتا اور دوسرے کو بتاتا کہ آج رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یہ الہام ہؤا ہے۔ آج آپ نے مسلمانوں کو یہ وعظ فرمایا ہے غرض اس طرح ان کی دینی تعلیم بھی مکمل ہو جاتی اور ان کی تجارت بھی چلتی رہتی۔ ایک دن وہ انصاری مدینہ میںآیا ہؤا تھا اور حضرت عمرؓ پیچھے تھے کہ عشاء کے قریب اُس انصاری نے واپس جا کر زور سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیااور کہا کہ ابن خطاب ہے؟ ابن خطاب ہے؟ حضرت عمرؓ کہتے ہیں، میں نے جب اُس کی گھبرائی ہوئی آواز سُنی اور اُس نے زور سے میرا نام لے کر دروازہ کھٹکھٹایا تو میںنے سمجھا کہ مدینہ میں ضرور کوئی حادثہ ہو گیا ہے۔ اُن دنوں یہ افواہ زوروں پرتھی کہ ایک عیسائی بادشاہ مدینہ پر حملہ کرنے والا ہے، حضرت عمرؓ کہتے ہیں مَیں نے سمجھا اس بادشاہ نے حملہ کر دیا ہے چنانچہ میں فوراً اپنا کپڑا سنبھالتا ہؤا باہرنکلا اور میںنے اُس سے پوچھا کیا ہؤا؟ وہ کہنے لگا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی بیویوں کو چھوڑ دیا ہے۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں مَیںگھبرا کر مدینہ کی طرف چل دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں پہنچا ا ور آپؐ سے عرض کیا یَارَسُوْلَاللّٰہِ! آپؐ اپنے گھر سے باہر آ گئے ہیں آپؐ نے فرمایا ہاں۔ مَیں نے عرض کیا یَارَسُوْلَاللّٰہِ! لوگ کہتے ہیںآپؐ نے اپنی بیویوں کو طلاق دیدی ہے۔ آپؐ نے فرمایا نہیں میں نے کسی کو طلاق نہیںدی۔ مَیں نے کہا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔ پھر مَیں نے عرض کیا یَارَسُوْلَاللّٰہِ! آپؐ کو میں ایک بات سنائوں؟ آپ نے فرمایا ہاں سنائو، مَیں نے کہا، یَارَسُوْلَاللّٰہِ! ہم لوگ مکہ میں اپنے سامنے عورت کو بات نہیں کرنے دیتے تھے، لیکن جب سے میری بیوی مدینہ میںآئی ہے وہ بات بات میں مجھے مشورہ دینے لگ گئی ہے ایک دفعہ میں نے اُسے ڈانٹا کہ یہ کیا حرکت ہے اگر پھر کبھی تو نے ایسی حرکت کی تو میں تُجھے سیدھا کر دونگا تو وہ مجھے کہنے لگی، تو بڑا آدمی بنا پھرتا ہے مَیں نے تو دیکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیویاں آپ کومشورہ دے لیتی ہیں، پھر کیا تو ان سے بھی بڑا ہے کہ مجھے بولنے نہیںدیتا اور ڈانٹتا ہے۔مَیں نے کہا ہیں! ایسا ہوتا ہے؟ وہ کہنے لگی ہاں واقعہ میںایسا ہوتا ہے ۔ میں نے کہا تب میری بیٹی کی خیر نہیں۔ یہ بات سُن کر مَیںاپنی بیٹی کے پاس گیا اور اُسے کہا دیکھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے کوئی بات نہیں کرنی۔ اگر تو نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ سوال جواب کیا تو وہ کسی دن تُجھے طلاق دیدیں گے۔حضرت عائشہ ؓپاس ہی تھیں وہ میری بات سن کر بولیں تو کون ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے گھر کے معاملات میںدخل دینے والا، چلویہاں سے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ بات سُن کر ہنس پڑے اور آپ کا غصہ جاتا رہا ۴۱؎ اورحضرت عمرؓ کی بھی اِس واقعہ کے سنانے سے یہی غرض تھی کہ کسی طرح آپ ہنس پڑیں اور آپ کی ناراضگی جاتی رہے۔
    تو بعض قوموں میںیہ رواج ہے کہ وہ سمجھتی ہیں عورت کا یہ حق نہیںکہ وہ مرد کے مقابلہ میںبولے مگر عورت ہے کہ وہ بولے بغیر رہ نہیں سکتی۔ اسے کوئی بات کہو وہ اس میںاپنا مشورہ ضرور پیش کر دے گی کہ یوں نہیں یوں کرنا چاہئے، پھر خواہ تھوڑی دیر کے بعد وہ مرد کی بات ہی مان لے مگر اپنا پہلو کچھ نہ کچھ اونچا ہی رکھنا چاہتی ہے اور مرد کے مشورہ پر اپنی طرف سے پالش ضرور کرنا چاہتی ہے۔
    عورتوں کے حقوق
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اسی لئے لوگوں کو نصیحت کی ہے کہ تم عورت کی روح کو کُچلنے کی کوشش نہ کیا کرو۔ اس کے اندر یہ ایک
    فطرتی مادہ ہے کہ وہ مرد سے کسی قدر رقابت رکھتی اور طبعاً ایک حد تک اس کے مخالف رائے دینے کی خواہشمند ہوتی ہے پس اگر اس کی بحث غلط بھی معلوم ہؤا کرے تو اس کی برداشت کیا کرو کیونکہ اگر تم اسے چُپ کرادوگے تو یہ اس کی فطرت پر گراں گزرے گا اور وہ بیمار ہو جائے گی۔ کیسی اعلیٰ درجہ کی اخلاقی تعلیم ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دی مگر لوگوں نے اس حدیث کے یہ معنی کر لئے کہ عورت پسلی سے پیدا ہوئی ہے۔
    پہلے دَورِ انسانی کا نظامِ قانون
    قرآنی آثارِ قدیمہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس نظام والی ابتدائی حکومت کا قانون کیا تھااور معلوم
    ہوتا ہے کہ پہلا دَورِ انسانی صرف تمدنی ترقی تک محدود تھا۔ا س طرح کہ:-
    (۱) لوگوں میں خداتعالیٰ کا اجمالی ایمان پیداہو گیا تھا اور انسان کو الہام ہونا شروع ہو گیا تھا جیسا کہوغیرہ الفاظ سے ظاہر ہے۔
    (۲) انسانوںمیں عائلی زندگی پیدا کرنے کا حُکم دیا گیا تھا وہ زندگی جو قبیلوں والی زندگی ہوتی ہے اور انہیں کہا گیا تھا کہ ایک مقام پررہو اور اکٹھے رہو چنانچہ یہ امرکے الفاظ سے ظاہر ہے۔
    (۳) آدم پر اور لوگ بھی ایمان لائے اور ایک جماعت تیار ہو گئی تھی جو نظام کے مطابق رہنے کیلئے تیار تھی۔اِس کا ثبوت سورۃ ٰطہٰ کی آیت ہے کا لفظ بتاتا ہے کہ اس سے مراد دونوں گروہ ہیں نہ کہ آدم اور اُس کی بیوی۔ اور کا لفظ بتاتا ہے کہ وہ ایک جماعت تھی۔
    (۴) اور کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت کی معظم غذا پھل وغیرہ تھے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت تک سبزیوں، ترکاریوں کے اُگائے جانے کا کام ابھی شروع نہیں ہؤا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کہیں میوہ دار درختوں کے جُھنڈ پیداکر دئیے اور انہیں حُکم دیا کہ تم وہاں جا کر رہو۔ شاید بعض لوگ کہیں کہ اتنے بڑے جُھنڈ کہاں ہو سکتے ہیں جس پرسینکڑوں لوگ گزارہ کر سکیں؟ سو ایسے لوگ اگر جنوبی ہند کے بعض علاقے دیکھیں تو اُن پر کے لفظ کی حقیقت واضح ہو جائے ۔وہاں بعض بیس بیس مِیل تک شریفے کے درخت چلے جاتے ہیں اور وہاں کے لوگ جن دنوں شریفہ پکتا ہے روٹی کھانی بِالکل چھوڑ دیتے ہیںاور صبح شام شریفے ہی کھاتے رہتے ہیں۔ اب تو گورنمنٹ انہیں نیلام کر دیتی ہے پہلے حکومت بھی ان کو نیلام نہ کیا کرتی تھی اور لوگ مُفت پھل کھاتے تھے۔اِسی طرح افریقہ میں آموں کے جنگل کے جنگل پائے جاتے ہیں، کیلے بھی بڑی کثرت سے ہوتے ہیں، اِسی طرح ناریل وغیرہ بھی بہت پایا جاتا ہے، اسی طرح بعض علاقوں میںسیب، خوبانی وغیرہ خودرَوکثرت سے پائے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے کسی ایسے ہی مقام کو حضرت آدم علیہ السلام کے لئے منتخب فرمایا اور انہیں حُکم دے دیا کہ وہاں جا کر ڈیرے لگا دو اور خوب کھائو پیو۔ خلاصہ یہ کہَ وغیرہ الفاظ سے جو قرآن کریم میںاستعمال ہوئے ہیں، یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت عام طور پر لوگوں کی غذا پھل تھے۔
    (۵) پانچویںبات قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ اُس وقت ابھی کپڑے کی ایجاد نہیں ہوئی تھی اور اِس پر آیت ۴۲؎ شاہد ہے وہ چٹائیوں کی طرح بھوج پترّ وغیرہ لپیٹ لیتے تھے اور رہائش کے لئے انہی کے خیمے بنا لیتے تھے۔ اِس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابھی شکار کرنے کے طریق بھی ایجاد نہ ہوئے تھے اور کھالوں کا استعمال بھی شروع نہ ہؤا تھا بلکہ چٹائیاں بطور لباس اور شاید بطورمکان کے استعمال ہوتی تھیں، اگر شکار کرنے کے طریق ایجاد ہو چکے ہوتے تو وہ کھالوں کا لباس پہنتے۔
    (۶) اُن میںتمدّنی حکومت قائم کی گئی تھی اور تمدّنی حکومت کی غرض یہ بتائی گئی تھی کہ ایک دوسرے کی (۱) کھانے کے معاملہ میں مدد کریں(۲) پینے کے معاملہ میں مدد کریں(۳) عُریانی کو دُور کرنے کے معاملہ میں مدد کریںاور(۴) رہائش کے معاملہ میں مدد کریں۔ چنانچہ فرمایا۔۴۳؎ کہ تمہارے لئے ا س بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ تم جنت میںرہنے کی وجہ سے بھوکے نہیں رہوگے،پیاسے نہیںرہو گے، ننگے نہیںرہو گے اور دُھوپ میں نہیں پھرو گے گویا کھانا، پانی ، کپڑا اور مکان یہ چار چیزیں تمہیں اس تعاونی حکومت میںحاصل ہونگی ان الفاظ سے جیسا کہ بعض لوگ غلطی سے سمجھتے ہیں یہ مراد نہیں کہ انہیں بھوک ہی نہیںلگتی تھی کیونکہ اگر انہیں بھوک نہیں لگتی تھی تو ۴۴؎ کے کیا معنے ہوئے، جب خدا نے اُن کی بھوک ہی بند کر لی تھی تو اس کے بعد انہیں یہ کہنا کہ اب خوب کھائو پیو بالکل بے معنی تھا۔ پسکے لفظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بھوک لگتی تھی مگر ساتھ ہی انہیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔ انہیں کہا گیاتھا کہ باغ ساری کمیونٹی کی ملکیت ہے مگر دیکھو! قاعدہ کے مطابق کھائو پیو۔ اگر کسی کو زیادہ ضرورت ہے تووہ زیادہ لے لے اور اگر کسی کو کم ضرورت ہے تو وہ کم لے لے۔ پس اُس نئے نظام کی تفصیل ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ قائم کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ ا گر اِس نئے نظام کے ماتحت رہو گے تو تمہیں یہ یہ سہولتیں حاصل ہونگی۔
    (۷) قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت الہامی طور پر بعض بوٹیوں کے خواص وغیرہ بتائے گئے تھے اور بعض اخلاقی احکام بھی دئیے گئے تھے چنانچہ آیت ۴۵؎ اس پر دال ہے مگر یہاں کُل کے معنے ضرورت کے مطابق ہیں، جیسا ہُد ہُد ملکہ سبا کے متعلق کہتا ہے ۴۶؎ کہ ملکہ سبا کے پاس سب کچھ موجود ہے حالانکہ جب اُ س نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس تحفہ بھیجا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اُس وقت کہا تھا کہ میرے پاس تو اِس سے بھی بڑھ کر چیزیں ہیں مَیں ان تحفوں سے کیونکر متأثر ہوسکتا ہوں۔پس جب حضرت سلیمان علیہ السلام کہتے ہیں کہ میرے پاس ملکہ سبا سے بڑھ کر مال ودولت اور سامان موجود ہے ا ور اس کے باوجود ہُد ہُد کہتا ہے کہملکہ سبا کو ہر چیز میسّر تھی تو یہ اِس بات کی واضح دلیل ہے کہ سے یہ مراد نہیں تھی کہ ملکہ سبا کو ہر نعمت میسّر تھی بلکہ یہ مراد تھی کہ اس کی مملکت کے لحاظ سے جس قدر چیزوں کی ضرورت ہوسکتی تھی وہ تمام چیزیں اُ سے حاصل تھیں اسی طرح سے یہ مراد ہے کہ اُس وقت جس قدر علوم کی ضرورت تھی وہ تمام آدم کو سکھادئیے گئے مثلاً یہ بتا دیا گیا کہ فلاں فلاں زہریلی بوٹیاں ہیں ان کو کوئی شخص استعمال نہ کرے، یا فلاں زہریلی چیز اگر کوئی غلطی سے کھا لے تو فلاں بوٹی اس کی تریاق ہو سکتی ہے یا ممکن ہے اسی طرح طاقت کی بعض دوائیں الہامی طور پر بتا دی گئی ہوں۔اسی طرح بعض اخلاقی احکام بھی حضرت آدم علیہ السلام کو الہاماً بتائے گئے ہوں۔
    (۸) آٹھویں انہیں ایک واجب الاطاعت امیر ماننے کا بھی حکم تھا، جیسا کہ۴۷؎ کے الفاظ سے ظاہر ہے۔
    (۹) یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانہ میںبعض ایسے احکام بھی نازل ہوئے تھے جن میں یہ ذکر تھا کہ تمہیںبعض جرائم کی سزا بھی دینی چاہئے جیسے قتل وغیرہ ہیں۔ اس امر کا استنباط۴۸؎ کے الفاظ سے ہوتا ہے۔ یعنی فرشتے اللہ تعالیٰ سے کہتے ہیں کہ اب دنیا میںایک عجیب سلسلہ شروع ہو جائے گا کہ بعض آدمیوں کو قانونی طور پر یہ اختیار دے دیا جائے گا کہ وہ دوسروں کو مارڈالیں، جیسے ہر گورنمنٹ آجکل قاتلوںکو پھانسی دیتی ہے مگر گورنمنٹ کے پھانسی دینے کو بُرا نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کی تعریف کی جاتی ہے لیکن اگر کوئی اور قتل کر دیتا ہے تو اُسے سخت مُجرم سمجھا جاتا ہے۔فرشتوں کے لئے یہی بات حیرت کا موجب ہوئی اور انہوں نے کہا، ہماری سمجھ میں یہ بات نہیںآئی کہ پہلے تو قتل کو ناجائز سمجھا جاتا تھا مگر اب آدم جب کسی کو قتل کی سزا میں قتل کر دے گا تو اس کایہ فعل اچھا سمجھا جائے گا۔کوئی اور گھر سے نکال دے تو وہ مُجرم سمجھا جاتا ہے ، لیکن اگر آدم کسی کو جلا وطنی کی سزا دے گا تو یہ جائز سمجھا جائے گا۔ا ِس زمانہ میںروزانہ ایسا ہی ہوتا ہے گورنمنٹ مجرموں کو پھانسی پر لٹکاتی ہے مگر کوئی اُسے ظالم نہیں کہتا، وہ لوگوں کو جلاوطنی کی سز ا دیتی ہے مگر کوئی نہیں کہتا کہ گورنمنٹ نے بُرا کیا لیکن اُس زمانہ میں یہ ایک نیا قانون تھا اور فرشتوں کیلئے قابلِ حیرت۔ پس فرشتے بطور سوال اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہیںاور کہتے ہیں ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ پہلے تو قتل کو ناجائز سمجھا جاتا تھا مگر اب قتل کی ایک جائز صورت بھی پیدا کرلی گئی ہے یا پہلے تو دوسروں کو اپنے گھروں سے نکالنا جُرم سمجھا جاتا تھا لیکن اب اس کی ایک جائز صورت بھی نکل آئی ہے اور آدم جب یہی فعل کرے گا تو اس کا فعل جائز اور مستحسن سمجھا جائے گا۔اللہ تعالیٰ اگلی آیت میںاُ ن کے اسی سوال کا جواب دیتا اور فرماتا ہے کہ تمہیں علم نہیں ، دنیا میںنظام کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ مجرموں کو سزائیں دی جائیں اگر ان کو سزائیں نہ دی جائیں تو کارخانۂ عالَم بالکل درہم برہم ہو جائے تو کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ اُس وقت جرائم کی سزا بھی مقرر ہو چکی تھی۔
    (۱۰) یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت شادی کے احکام بھی نازل ہو چکے تھے کیونکہ آدم کی بیوی کا ذکر کیا گیا ہے، گویا مرد وعورت کے تعلقات کو ایک قانون کے ماتحت کر دیا گیا تھا۔
    پیدائشِ انسانی کے متعلق قرآنی آثارِ قدیمہ کا خلاصہ
    خلاصہ یہ کہ قرآنی آثارِ قدیمہ نے ابتدائے خَلق کا ذکر یوں
    کیا ہے کہ مخلوق خالق کے حُکم سے بنی ہے۔ پہلے باریک ذرّات تیار ہوئے، پھر پانی نے الگ شکل اختیار کی پھر وہ خشک ذرّات سے مرکّب ہؤا، اور ایک قوتِ نامیہ پیدا ہوئی۔ اس سے مختلف تغیّرات کے بعد حیوان پیدا ہؤا، حیوان آخر نُطفہ سے پیدا ہونے والا وجود بنا یعنی نر ،مادہ کا امتیاز پیدا ہؤا، ا ِس کے بعد ایک خاص حیوان نے ترقی کی اور عقلی حیوان بنا۔مگر عقل تھی مگر تھاناری، تمدّن کے قبول کرنے کی طاقت اس میںنہ تھی ،غاروں میں رہتا تھا۔ اس کے بعد ایساانسان بنا جو تمدّن کا اہل تھا اسے الہام ہونا شروع ہؤا اور وہ پہلا تمدّن صرف اتنا تھا کہ (۱) نکاح کرو (۲) قتل نہ کرو(۳) فساد نہ کرو(۴) ننگے نہ رہو(۵) ایک دوسرے کی کھانے، پینے، پہننے اور رہائش کے معاملہ میں مدد کرو (۶) اللہ تعالیٰ سے دعا کر لیا کرو (۷) ایک شخص کو اپنا حاکم تسلیم کر لو اور اُس کے ہر حکم کی اطاعت کرو اور اگر تم اس کے کسی حکم کو توڑو تو تم سزا برداشت کرنے کے لئے تیار رہو۔
    یہ اُس وقت کی گورنمنٹ تھی اور یہی اس گورنمنٹ کا قانون تھا اور یہ علم جو میں نے قرآن کریم سے اَخذ کر کے بیان کیا ہے ایسا واضح ہے کہ موجودہ تحقیق اِس سے بڑھ کر کوئی بات بیان نہیں کر سکتی، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آدم کے متعلق کوئی تاریخ ایسا علم مہیا نہیں کر تی جیسا علم کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے۔ڈارون تھیوری پر اہل یورپ کو بہت کچھ ناز ہے مگر سچ بات یہ ہے کہ ڈارون تھیوری بھی ا س کے مقابلہ میںنہیں ٹھہر سکتی۔ وہ نہایت ہی بیوقوفی کی تھیوری ہے جو اہلِ مغرب کی طرف سے پیش کی جاتی ہے، میں ہمیشہ اس تھیوری کے پیش کرنے والوں سے کہا کرتا ہوں کہ اچھا جس چیز سے انسان پہلے بنا تھا اُس چیز سے اب کیوں نہیں بن سکتا؟ میںنے دیکھا ہے جب بھی میں یہ سوال کروں وہ عجیب انداز میںسرہِلا کر گویا کہ میں اس تھیوری سے بالکل ناواقف ہوں کہہ دیتے ہیں کہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ تغیّر لاکھوں بلکہ کروڑوں سال میں ہؤا ہے۔ میں انہیں یہ کہا کرتا ہوں کہ اس زمانہ میںجو جانور موجود ہیں ان پر بھی لاکھوں کروڑوں سال گزر چکے ہیں پھر وہ تغیّر کیوںبند ہو گیا ہے؟ اس میںشک نہیں کہ آدم سے لے کر اِس وقت تک لاکھوں کروڑوں نہیںہزاروں سال گزرے ہیں، لیکن حیوانات آدم کے زمانہ سے تو شروع نہیں ہوئے وہ تو لاکھوں کروڑوں سال ہی سے موجود ہیں اور آدم کے بعد کے زمانہ نے اس میں کسی قدر زیادتی ہی کی ہے، پس لاکھوں کروڑوں سالوں کے بعد جو تغیّر ہونا ضروری تھا وہ آج بھی اسی طرح ہونا چاہئے جس طرح کہ ہزاروں سال پہلے ہؤا تھا،کیونکہ زمانہ اس کے بعد ممتد ہو رہا ہے ُسکڑ نہیں رہا۔بلکہ حق یہ ہے کہ لاکھوں کروڑوں سال کے بعد جو تغیّر حیوانات میںہؤا تھا وہ پہلی دفعہ کے بعد جاری ہی رہنا چاہئے تھا کیونکہ لاکھوں کروڑوں سالوں بعد جن تغیّراتسے بشر کا مورثِ اعلیٰ جانور پیدا ہؤا تھا اگلی صدی میںاور اس سے اگلی صدی میںاور بعد کی بیسیوں اور صدیوں میں بقیہ جانوروں پر اس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے جس قدر کہ پہلے تغیّر کے وقت گزرا تھا ۔پس اگر اس قسم کا تغیر ہؤ ا تھا جس کا ذکر ڈارون کے فلسفہ کے قائل کرتے ہیںتو بعد میں وہ تغیر بند نہیں ہونا چاہئے تھا بلکہ جاری رہنا چاہئے تھا سوائے اس صورت کے کہ سابق کے تغیّراتایک بِالا رادہ ہستی نے ایک خاص غرض اور مقصد کے ماتحت پیدا کئے ہوں اور ان اغراض ومقاصد کے پورا ہونے پر اسی سلسلہ کو بند کر دیا ہو اور یہی ہمارا عقیدہ ہے۔
    شجرہ ٔآدم کیا چیز ہے؟
    اب میں اِس سوال کو لیتا ہوں کہ شجرۂ آدم کیا چیز ہے؟ میں نے دیکھا ہے بعض لوگوں کو ہمیشہ یہ خیال رہتا ہے کہ وہ شجرہ کیا چیز تھی
    جس کے قریب جانے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو روکا ، مگر میں کہتا ہوں اس بارے میںسب سے بہتر طریق تو یہ ہے کہ جس بات کو قرآن کریم نے چُھپا یا ہے اُس کو معلوم کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔حضرت آدم علیہ السلام سے کوئی غلطی ہوئی مگر خدا نے نہ چاہا کہ اپنے ایک پیارے بندے کی غلطی دنیا پر ظاہر کرے اور اُس نے اُس غلطی کو چُھپا دیا۔اب جبکہ خدا نے خود اُسے چُھپا دیا ہے تو اور کون ہے جو اس راز کو معلوم کر سکے، جسے خدا چُھپائے اُسے کوئی ظاہر کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ یہ بالکل ویسی ہی مثال ہے جیسے اللہ تعالیٰ سورہ تحریم میںفرماتا ہے۔ ۴۹؎ یعنی اُس وقت کو یا دکرو جب ہمارے نبی نے مخفی طور پر ایک بات اپنی ایک بیوی سے کہی جب اُس بیوی نے وہ بات کسی اور سے کہہ دی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ خبر دیدی کہ تمہاری بیوی نے وہ بات فلاں شخص سے کہہ دی ہے اِس پر ہمارے نبی نے اپنی بیوی کوکچھ بات بتا دی اور کچھ نہ بتائی جب ہمارے نبی نے وہ بات اپنی بیوی سے کہی تو اُس نے کہا کہ آپ کو یہ بات کس نے کہہ دی؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے یہ بات اُسی نے بتائی ہے جو زمین وآسمان کا خدا ہے اور جو دلوں کے بھیدوں سے واقف اور تمام باتوں کو جاننے والا ہے۔ اب یہاں اِس بات کا ذکر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی ایک بیوی سے کہی تھی محض ضمیروں میں کیا گیا ہے اور صرف یہ کہا گیا ہے کہ ایک بات تھی جو ہمارے نبی نے اپنی ایک بیوی کو بتائی ، وہ بات اُس بیوی نے کسی اَور کو بتا دی ۔ اِس پر خدا نے الہام نازل کیا اور اپنے رسول کو بتایا کہ وہ بات جو تو نے اپنی بیوی سے کہی تھی وہ اُس نے کسی اور سے کہہ دی ہے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اِس بات کا اپنی بیوی سے ذکر کر دیا بیوی کہنے لگی یہ بات آپ کو کس نے بتائی؟ آپ نے فرمایا مجھے علیم اور خبیر خدا نے یہ بات بتائی ہے۔یہ ساری ضمیریں ہیں جن میں اِس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے مگر بات کا کہیں ذکر نہیں، لیکن ہمارے مفسرین ہیں کہ وہ اپنی تفسیروں میںیہ بحث لے بیٹھے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی بیوی سے کیا بات کہی تھی۔ پھر کوئی مفسّر کوئی بات پیش کرتا ہے اور کوئی مفسّر کوئی بات پیش کرتا ہے حالانکہ اِس جھگڑے میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا تھی، جب خدا نے ایک بات کو چھپایا ہے اور یہ پسند نہیں کیا کہ اُسے ظاہرکرے تو کسی مفسّر کاکیا حق ہے کہ وہ اس بات کو معلوم کرنے کی کوشش میں لگ جائے اور اگر وہ کوئی بات بیان بھی کر دے تو کون کہہ سکتا ہے کہ وہ بات درست ہوگی، یقینا جس بات کو خدا چُھپائے اُسے کوئی ظاہر نہیں کر سکتا اور اگر کوئی قیاس دَوڑائے گا بھی تو وہ کوئی پختہ اور یقینی بات نہیں ہوگی محض ایک ظن ہو گا یہی حال شجرۂ آدم کا ہے جب خدا نے یہ ظاہر نہیںکیا کہ وہ شجرہ کیا تھا تو ہم کون ہیں جو اُس شجرہ کو معلوم کر سکیں۔ تم کسی چیز کا نام شجرہ رکھ لو، مختصر طور پر اتنا سمجھ لو کہ خدا نے یہ کہا تھا کہ اُس کے قریب نہ جانا مگر حضرت آدم علیہ السلام کو شیطان نے دھوکا دے دیا اور وہ اُس کے قریب چلے گئے جس پر اُنہیں بعد میںبہت کچھ تکلیف اُٹھانی پڑی۔ بہرحال بہتریہی ہے کہ جس بات کو خدا نے چُھپایا ہے اُس کی جستجو نہ کی جائے اور بِلاوجہ یہ نہ کہا جائے کہ شجرہ سے فلاں چیز مراد ہے ، لیکن اگر کسی کی اِس جواب سے تسلی نہیں ہوتی تو پھر وہ یوں سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے کہا تھا کہ دیکھنا شیطان کے پاس نہ جانا وہ تمہارا سخت دشمن ہے اگر اس کی باتوں میں آگئے تو وہ ضرور کسی وقت تمہیں دھوکا دے دیگا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا مگر شیطان نے جب دیکھا کہ یہ میرے دائو میںنہیں آتے تو اُس نے کہا کہ صُلح سے بڑھ کر اور کیا چیز ہو سکتی ہے۔بہتر یہی ہے کہ ہم اور تم آپس میں صُلح کر لیں اور اِن روز روز کے جھگڑوں کو نپٹا دیں جیساکہ یورپ والے بھی آجکل بظاہر ’’پِیس پِیس‘‘ (PEACE PEACE) کا شور مچا رہے ہوتے ہیں اور اندر بڑے زور سے جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں۔اٹلی کی جب ٹرکی سے لڑائی ہوئی تو اِس لڑائی سے تین دن پہلے اٹلی کے وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ تُرکوں سے ہماری اتنی صلح ہے اور اِس قدر اِس سے مضبوط اور اچھے تعلقات ہیںکہ پچھلی صدی میںاس کی کہیں نظیر نہیں مل سکتی ، مگر اس اعلان پر ابھی تین دن نہیں گزرے تھے کہ اٹلی نے ٹرکی پر حملہ کر دیا۔یہی حال باقی یوروپین اقوام کاہے وہ شور مچاتے رہتے ہیں کہ صلح بڑی اچھی چیز ہے، امن سے بڑھ کر اور کوئی قیمتی شَے نہیں ،مگر اندر ہی اندر سامانِ جنگ تیار کر رہے ہوتے ہیں۔ گویا وہ صلح صلح اور امن امن کے نعرے اس لئے نہیں لگاتے کہ انہیں صلح اور امن سے محبت ہوتی ہے بلکہ اس لئے نعرے لگاتے ہیں کہ انہوں نے ابھی پوری طرح جنگ کی تیاری نہیںکی ہوتی اور وہ چاہتے ہیں کہ صلح اور امن کا شور مچا کر دوسروں کوجس حد تک غافل رکھا جا سکے اُس حد تک غافل رکھا جائے اور پھر یکدم حملہ کر دیا جائے۔یہی حال حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ میںبھی ہؤا۔خداتعالیٰ نے آدم کو کہا دیکھنا شجرہ ٔشیطانی کے قریب نہ جانا بلکہ ہمیشہ اس کے خلاف لڑائی جاری رکھنا کیونکہ شیطان کے ساتھ جب بھی صلح ہو گی اس میں مؤمنوں کی شکست اور شیطان کی فتح ہو گی اور اس صلح کے نتیجہ میںتمہارے لئے بہت زیادہ مشکلات بڑھ جائیں گی۔حضرت آدم علیہ السلام نے اِس حُکم کے نتیجہ میں شیطان سے لڑائی شروع کر دی۔ جب شیطان نے دیکھا کہ اس طرح کام نہیںبنے گا تو اس نے صلح صلح کاشور مچادیا او رکہا کہ بھلا لڑائی سے بھی کبھی امن قائم ہو سکتا ہے امن تو صلح سے ہو سکتا ہے پس بہتر ہے کہ ہم آپس میں صلح کر لیں ۔حضرت آدم علیہ السلام سے غلطی ہوئی اور انہوں نے شیطان سے صلح کر لی۔نتیجہ یہ ہؤا کہ وہ بھی اسی جنت کے اندر آ گیا جہاں حضرت آدم علیہ السلام اور آپ کے ساتھی رہتے تھے اور اس طرح اندر رہ کر اس نے قوم میںفتنہ وفساد پیدا کر دیا اور وہ مقصد جس کوباہر رہ کر وہ حاصل نہیں کر سکا تھا وہ اُس نے اندر آ کر حاصل کر لیا اور بہت بڑا فساد پیدا ہو گیا ۔تب اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اب ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ یہاں سے چلے جائو اور زمین میں پھیل جائو ۔پس اگر اس کے کوئی معنے ہو سکتے ہیں تو یہی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ خاندانِ ابلیس سے دُور رہو، ابلیس نے صلح کی دعوت دی اور کہا کہ اس سے بڑی ترقی ہو گی، حضرت آدم اس دھوکا میں آگئے اور شیطان سے صلح کر کے انہوں نے بہت کچھ تکلیف اُٹھائی نتیجہ یہ ہؤا کہ خداتعالیٰ نے کہا کہ تم یہاں سے چلے جائو اور زمین میںپھیل جائو او ریاد رکھو کہ تم دونوں گروہوں میں ہمیشہ جنگ رہے گی یہ معنے بھی ہیں جو اِن آیات کے ہو سکتے ہیں، لیکن بہتر یہی ہے کہ جسے خدا نے چُھپایا ہے اُس کی جستجو میںہم اپنے وقت کو ضائع نہ کریں اور جس سبق کے سکھانے کے لئے اس واقعہ کو بیان کیاگیا ہے وہ سبق حاصل کر لیں۔
    پیدائشِ انسانی میں ارتقاء کا ایک اور ثبوت
    پیدائش انسانی میںارتقاء کا ایک اور ثبوت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے
    الہام میںبھی ارتقاء رکھا ہے۔ کامل اور مکمل شریعت پہلے ہی روز نہیں آ گئی بلکہ آہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ الہام میں ترقی ہوئی ہے۔ چنانچہ جب بھی غیر مذاہب والوں کی طرف سے اسلام پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگرقرآن میں کامل شریعت تھی تو ابتدائے عالَم میں ہی اللہ تعالیٰ نے اسے کیوں نازل نہ کر دیا؟ تو اِس کا جواب ہماری طرف سے یہی دیا جاتا ہے کہ اگر اُس وقت قرآن نازل کر دیا جاتا تو کسی انسان کی سمجھ میں نہ آسکتاکیونکہ ابھی عقلی ترقی اِس حد تک نہیں ہوئی تھی کہ وہ قرآنی شریعت کے اسرار اور غوامض سمجھ سکے تو الہامِ الٰہی کا فلسفہ جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے اس سے صریح طور پریہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان کی ترقی بھی ارتقاء کے ماتحت ہوئی ہے۔دیکھ لو پہلے حضرت آدمؑ آئے، پھر حضرت نوحؑ آئے، پھر حضرت ابراہیم ؑ آئے، پھر حضرت موسیٰ ؑ آئے، پھر حضرت عیسیٰ ؑ آئے، مگر باوجود یکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ تک ہزاروں برس گزر چکے تھے آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ:-
    ’’مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنی ہیں مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روحِ حق آئیگا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا‘‘ ۵۰؎
    اس سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ تک بھی ابھی لوگوں کی حالت ایسی نہیں ہوئی تھی کہ وہ کامل شریعت کو سمجھ سکتے اور اس بات کی ضرورت تھی کہ اُن کے لئے نسبتاً نامکمل انکشاف ہو۔ یہ ارتقاء جو الہام اور شریعت میںہؤا ہے اس بات کایقینی اور قطعی ثبوت ہے کہ انسان کی جسمانی ترقی بھی ارتقائی تھی اگر یکدم ترقی کر کے انسان کامل بن گیا ہوتا تو پہلے ہی دن اس کے لئے کامل شریعت کانزول ہو جاتا ۔
    یہ عجیب بات ہے کہ آجکل آرین خیالات کے لوگ اسلام پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اسلام ارتقاء کا قائل نہیں اور یہ کہ مسلمانوں نے مسئلہ ارتقاء کا ردّ کیا ہے حالانکہ اسلام ہی ہے جو جسمانی اور روحانی دونوں قسم کے ارتقاء کا قائل ہے اس کے مقابلہ میں آرین خیالات الہام کے متعلق قطعاً غیر ارتقائی ہیں۔ چنانچہ آریہ مذہب کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابتدائے عالَم میں ہی ایک مکمل الہامی کتاب بنی نوع انسان کی راہنمائی کے لئے نازل فرما دی۔ یہ عقیدہ بتاتا ہے کہ آریہ مذہب نہ صرف روحانی ارتقاء کا قائل نہیں بلکہ جسمانی ارتقاء کا بھی قائل نہیںکیونکہ اگر ابتداء میں انسان عقلی لحاظ سے کمزور تھا تو کامل الہامی کتاب کا نزول اس کے لئے بے فائدہ تھا اور اگر پہلے روز وہ اُسی طرح کامل انسان تھا جس طرح آج ہے تو معلوم ہؤا کہ آرین عقائد کے رُو سے انسان کی پیدائش جسمانی ارتقاء کے ماتحت نہیںہوئی۔ غرض آرین خیالات اس بارہ میں قطعاً غیر ارتقائی ہیں اور وہ اسلام پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔ اس کے مقابلہ میں سمیٹک(SEMITIC) یعنی سامی نسلیں روحانی ارتقاء کی قائل ہیں اور یہ عقیدہ رکھتی ہیں کہ پہلے حضرت آدم ؑ آئے، پھر حضرت نوحؑ آئے جنہوں نے کئی روحانی انکشافات کئے پھر حضرت ابراہیم ؑ آئے، پھر حضرت موسیٰ ؑ آئے اور ان سب نے کئی روحانی انکشاف کئے ۔ پس سامی نسلیں ہی ہیں جو ارتقاء کو تسلیم کرتی چلی آئی ہیں ، مگر عجیب بات یہ ہے کہ سامی نسلوں پرہی یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ ارتقاء کی قائل نہیں اور جو اعتراض کرنیوالے ہیںان کی اپنی حالت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سے ارتقاء کا انکار کرتے چلے آئے ہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے فرانسیسی درسی کتب میں قصہ لکھتے ہیںکہ ایک فرانسیسی لڑکا اپنے کسی دوست سے ملنے گیا۔ اس کے پاس ایک لٹّو تھا اُ س نے شوق سے اپنے دوست کو وہ لٹّو دیکھنے کو دیا جس نے لٹّو دیکھ کر اپنی جیب میںڈال لیا اور سلام کہہ کرچل پڑا۔ جب لٹّو والے لڑکے نے لٹّو واپس مانگا تو اُ س نے کہا کہ لٹّو تو میرا ہے۔ یہی ان کا حال ہے ہماری چیز لے کر اس پر اپنا قبضہ جما لیتے ہیں اور پھر بڑ ے زور سے قہقہہ لگا کرکہتے ہیں کہ مسلمانوں کو تو کچھ پتہ ہی نہیں۔
    ا ِس جگہ اس امر کا ذکر کرد ینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ گو سمیٹک نسلیں ارتقائی ترقی کی قائل ہیں لیکن قرآن کریم کے سِوا دوسری سمیٹک تعلیم بھی اس بارہ میں ایک دھوکا کھا گئی ہے اور وہ یہ کہ اس نے جسمانی ارتقاء کا انکار کر دیا ہے حالانکہ روحانی ارتقاء بذاتِ خود اِس بات پر دال ہے کہ جسمانی ارتقاء بھی ہؤا ۔بہرحال صرف قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس نے اپنے دونوں پہلوئوں کے لحاظ سے اس مسئلہ کو بیان کیا ہے اور یہ اس کی برتری اورفوقیت کا ایک بڑا ثبوت ہے ۔ اگر کوئی کہے کہ جب آخر میں ایک جگہ آ کر شریعت کو تم نے بھی بند تسلیم کر لیا ہے تو پھر شروع میں ہی ایسا کیوں نہ کیا گیا اور کیوں شروع میں تو ارتقاء کا سلسلہ جاری رہا مگر اب وہ ارتقائی سلسلہ بند ہو گیا۔
    شریعت میںارتقاء ختم ہو جانے کی وجہ
    ا ِس کا جواب یہ ہے کہ اس میںبھی روحانی عالَم ظاہری عالَم کے مشابہہ ہے اور شریعت میں ارتقاء
    آج اُسی طرح ختم ہو چکا ہے جس طرح انسانی جسم میںارتقاء ختم ہو چکا ہے۔آخر انسانی جسم کے جس قدر حصے ہیں اب ان میں کونسا بنیادی فرق ہوتا ہے جس طرح آج ایک شخص پیدا ہوتا ہے، اسی طرح آج سے ہزار سا ل پہلے پیدا ہؤا تھا اور جس طرح آج اس کے ہاتھ، پائوں، ناک، کان اور منہ ہوتے ہیں اسی طرح آج سے ہزار سال پہلے ا س کے اعضاء ہوتے تھے پس جس طرح جسمِ انسانی میںبنیادی ارتقاء ختم ہو چکا ہے اسی طرح شریعت میںبھی پہلے جو ارتقاء کا سلسلہ جاری تھا وہ ختم ہو گیا ہے۔ہاں ایک بات اور ہے اور وہ یہ کہ اب گو جسمانی ترقی بند ہو چکی ہے مگر دماغی ترقی بدستور جاری ہے اور اب وہ ارتقاء جو پہلے جسم میںہؤا کرتا تھا دماغ کی طرف منتقل ہو گیا ہے اور انسان کی دماغی قابلیتوں میںہر روز نیا سے نیا اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح گو اَب شریعت کا نزول بند ہو چکا ہے مگر اب وہی ارتقاء اس شریعت کے معارف کی طرف منتقل ہو گیا ہے اور نئے سے نئے قرآنی اسرار دنیا پرمُنکشف ہوتے جارہے ہیں۔ پس اس ارتقاء میں بھی روحانی عالَم ظاہری عالَم کے مشابہہ ہے۔وہاں بھی پہلے جسمانی بناوٹ میں ارتقاء ہؤا پھر خالص دماغی ارتقاء رہ گیا۔اسی طرح شریعت میںبھی پہلے ظاہری وباطنی احکام میںارتقاء ہؤا لیکن آخر میں ظاہری شریعت حدِکمال کو پہنچ گئی اور اب صرف باطنی ارتقاء باقی ہے جس کا دروازہ قیامت تککھلا ہے۔پس ہم دونوں طرف سے ارتقاء کے قائل ہیںجسمانی طرف سے بھی اور روحانی طرف سے بھی۔ اور ہم گو یہ ایمان رکھتے ہیںکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ذریعہ شریعت اپنی تکمیل کو پہنچ گئی مگر ہم اِس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن کریم کے اندر غیر محدود معارف وحقائق کے خزانے ہیں اور قرآن کریم کے معارف کا یہ باطنی ارتقاء بند نہیں ہؤا بلکہ قیامت تک جاری ہے چنانچہ ہم اس کا نمونہ اپنی ذات میںدیکھ رہے ہیں کہ جو معارفِ قرآنیہ ہم پر کھلے ہیں وہ پہلے مفسّروں پر نہیںکھلے۔
    خلاصہ یہ کہ اسلام نے آدم ؑکے آثارِ قدیمہ اِس رنگ میں ظاہر کئے ہیں کہ ان کی مثال کسی اَور جگہ نہیں پائی جاتی۔اسی طرح حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیہما السلام کے بارہ میں زبردست انکشاف اس نے کئے ہیں ، مگر سرِدست مَیں اس مضمون کو چھوڑ کر بعض دیگر انکشافات کو لیتا ہوں جو مختلف انبیاء کے بارہ میںقرآن کریم نے کئے ہیں۔
    حضرت ہارون علیہ السلام کے متعلق قرآنی انکشاف
    میںقرآنی آثارِ قدیمہ کے اُس کمرہ کو دیکھنے کے
    بعد عَالَمِ تخیّل میںالٰہی آثارِ قدیمہ کے ایک اور کمرہ میںچلا گیا اور وہاں مَیںنے ایک اور عجیب نشان دیکھا۔مجھے دکھائی دیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ ہے اور آپ کے بھائی ہارون علیہ السلام کہ وہ خود بھی نبی تھے اپنی قوم کو مخاطب ہوتے ہوئے کہہ رہے ہیں۔۵۱؎ اے میری قوم! تم ایک ابتلاء میںڈالے گئے ہو تم میری پیروی کرو اور جو کچھ میںکہتا ہوں اُس کی اطاعت کرو۔مَیں نے سمجھا کہ کوئی فتنہ ہے جو اُس زمانہ میں پیدا ہؤا ۔ پھر مَیں نے اپنے دل میںکہاآئو مَیںمعلوم تو کروں اُ س وقت کیا فتنہ اُٹھا تھا۔مگرمیں نے فیصلہ کیا کہ پہلے میں اُس کتاب کو دیکھوں جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کے زمانہ سے چلی آتی ہے اور اُسے پڑھ کر معلوم کروں کہ اُ س میں کیا لکھا ہے۔چنانچہ مَیںنے تورات اُٹھائی اور اُسے پڑھنا شروع کیا تو اس میںلکھا تھا:-
    ’’اور جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ پہاڑسے اُترنے میںدیری کرتا ہے تو وے ہارون کے پاس جمع ہوئے اور اُسے کہا کہ اُٹھ ہمارے لئے معبود بناکہ ہمارے آگے چلیں۔ کیونکہ یہ مرد موسیٰ جو ہمیں مصر کے مُلک سے نکال لایا ہم نہیں جانتے کہ اُسے کیا ہؤا، ہارون نے انہیں کہا کہ زیور سونے کے جوتمہاری جوروئوں اور تمہارے بیٹوں اور تمہاری بیٹیوں کے کانوں میںہیں توڑ توڑ کے مجھ پاس لائو ، چنانچہ سب لوگ سونے کے زیور جو اُن کے کانوں میںتھے توڑ توڑ کے ہارون کے پاس لائے اور اُس نے اُ ن کے ہاتھوں سے لیا اور ایک بچھڑا ڈھال کر اُس کی صورت حکّاکی کے ہتھیار سے درست کی اور انہوں نے کہا کہ اے اسرائیل! یہ تمہارا معبود ہے جو تمہیںمصر کے ملک سے نکال لایا‘‘ ۵۲؎
    گویا تورات یہ کہتی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پہاڑ پرجانے کے بعد جب فتنہ پیدا ہؤا تو لوگوں نے حضرت ہارون علیہ السلام پر زور دینا شروع کیا کہ ہمیں ایک بُت بنا دو جس کی ہم پرستش کریں۔ حضرت ہارو ن علیہ السلام نے کہا اپنے اپنے گھر سے زیور لے آئو۔ چنانچہ وہ زیور لائے اور انہوں نے اُن زیورات کو ڈھال کر ایک بُت بنا دیا اور کہا کہ یہی وہ تمہارا معبود ہے جو تمہیں مصر کی زمین سے نکال لایا۔یہودی کہتے ہیں کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا الہام ہے مگر محقّقین کہتے ہیں کہ یہ الہام نہیں بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دو تین سَو سال کے بعد اُس وقت کے حالات ہیں جو مؤرّخین نے لکھے۔بہرحال کم سے کم یہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہماالسلام کے قریب زمانہ کی لکھی ہوئی تاریخ ہے لیکن حضرت موسیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ساڑھے اُنیس سَوسال کا فاصلہ ہے اور یہ کتاب جس میں حضرت ہارون علیہ السلام پر بُت گری کا الزام لگایا گیا قریباً سترہ اٹھارہ سَو سال پہلے کی لکھی ہوئی ہے پس وہ کتاب جو قرآن مجید سے سترہ اٹھارہ سَو سال پہلے لکھی گئی ، اُس میںتو یہ لکھا ہے کہ حضرت ہارون نے زیورات کو ڈھال کر خود ایک بچھڑا بنایا اور لوگوں سے کہا کہ یہی وہ تمہارا خدا ہے جو تمہیں مصر کے مُلک سے نکال لایا، مگر جب ہم قرآنی آثارِ قدیمہ کو دیکھتے ہیں تو وہاں یہ لکھا ہؤا پاتے ہیں کہ ۵۳؎ کہ موسیٰ کے جانے کے بعد جب لوگوں نے ایک بچھڑا ڈھال کر اُسے اپنا معبود بنا لیا تو ہارون نے اُن سے کہا کہ اے لوگو! بدمعاشوں نے تمہیں دھوکا میںڈال دیا ہے تمہارا رب تو وہ ہے جو رحمن ہے جو زمین وآسمان کا پیدا کرنے والا ہے پس تم میری اِتباع کرو اُن بدمعاشوں کی اِتّباع نہ کرو جنہوں نے تم کو غلط راستہ پرڈال دیا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو مجھے قرآنی آثارِ قدیمہ میں سے ملی ۔ اس کے بعد مَیں نے بائبل کو بھی دیکھا کہ اس کی چوری کہیں سے پکڑی بھی جاتی ہے یا نہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر حضرت ہارون علیہ السلام سے یہ مشرکانہ فعل سرزد ہؤا ہوتا تو نبوت تو کیا انہیں ایمان سے بھی چھٹی مل جاتی اور کوئی شخص انہیںمؤمن سمجھنے کے لئے بھی تیار نہ ہوتا کُجا یہ کہ اُنہیں نبی مانتا۔مگر جب ہم بائبل کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہاڑ سے واپس آکر جب دیکھا کہ لوگوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کر دی ہے تو انہوں نے لوگوں کو سخت ڈانٹا۔بچھڑے کو آگ سے جلا دیا اور قریباً تین ہزار آدمیوں کو قتل کی سزا دی۔۵۴؎ اِس فتنہ کو فرو کرنے کے بعد وہ پھر پہاڑ پر گئے اور جب وہاں سے واپس آئے تو حضرت ہارون علیہ السلام کے لئے خداتعالیٰ کا یہ حکم لائے کہ:-
    ’’ہارون کو مقدس لباس پہنا اور اُس کو چُپڑ۔ اور اُسے مقدس کر تا کہ کاہن کا کام میری خدمت میںکرے اور اُ س کے بیٹوں کو نزدیک لا اور اُ ن کو کُرتے پہنا اور اُن کو چُپڑ۔ جیسے اُ ن کے باپ کو چُپڑاہے تا کہ وہ کاہن کا کام میری خدمت میں کریں اور یہ مساحت اُ ن کے لئے اور اُن کے قرنوں کیلئے ہمیشہ کی کہانت کا باعث ہو گی اور موسیٰ نے ایسا کیا سب جو خداوند نے اس کو حکم کیا تھا عمل میںلایا‘‘۔۵۵؎
    گویا اس مشرکانہ فعل کے بعد جو بروئے بائبل حضرت ہارون علیہ السلام سے سرزد ہؤا تھا خداتعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام پر بجائے کسی ناراضگی کا اظہار کرنے کے فیصلہ یہ کیا کہ ہارون کو مقدس لباس پہنایا جائے اور نہ صرف اس کی عزّت افزائی کی جائے بلکہ اس کی تمام اولاد کی عزت کرنا بھی بنی اسرائیل پر فرض قرار دیا جائے اور عبادت گاہوں اور مساجد کی ذمہ داری ان کے سپرد کی جائے۔ کیا ایک مشرکانہ فعل کایہی نتیجہ ہؤا کرتا ہے؟اور کیا اگر حضرت ہارون علیہ السلام سے یہ فعل سرزد ہؤا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان سے یہی سلوک کیا جاتا؟ بائبل کی یہ اندرونی گواہی صاف طورپر بتا رہی ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے شرک کی تائید نہیںکی تھی بلکہ شرک کی مخالفت کی تھی اور چونکہ انہوںنے خداتعالیٰ کی توحید کی تائید کی اس لئے خدا بھی اُن پر خوش ہؤا اور اُس نے کہا کہ چونکہ ہارون نے میری عبادت دنیامیں قائم کی ہے اس لئے آئندہ تمام عبادت گاہوں کا انتظام ہارون اور اس کی اولاد کے سپرد کیا جائے۔ پس بائبل کی یہ اندرونی گواہی اس الزام کی تردید کر رہی ہے جو اُس نے اسی کتاب میں حضرت ہارون علیہ السلام پر لگایا ہے اور قرآن کریم کے بیان کی جو اس کے نزول کے ساڑھے اُنیس سَوسال بعد یا اس کی تحریر کے سترہ اٹھارہ سَو برس بعد نازل ہؤا ہے تصدیق کرتی ہے۔
    ہر قوم کی طرف خدا تعالیٰ نے رحمت کا ہاتھ بڑھایا ہے
    ـپھرمَیں نے آثارِ قدیمہ کا تیسر اکمرہ دیکھا تو مجھے نظر
    آیا کہ تمام قوموں میںیہ احساس پایا جاتا ہے کہ اُن کے سِواصداقت سے کوئی آشنا نہیں۔ ہر قوم دوسری قوم کے متعلق یہ خیال کرتی ہے کہ اُس میں جھوٹ، فریب اور دغابازی کے سِوا اور کچھ نہیں۔میں نے ہندوئوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ خداتعالیٰ نے سب معرفت اور ہدایت ہمارے بزرگوں کی معرفت دنیاکو دیدی ہے، اب اس کے بعد کسی اور الہام کی ضرورت ہی کیا ہے کہ کسی اور قوم میں کوئی رِشی آتا ۔ مَیں نے زرتشتیوں کی طرف دیکھا تو اُنہیں بھی یہ کہتے سنُا کہ زرتشتیوں کے سِوا اور کوئی مذہب سچا نہیں۔ مَیں نے یہودیوں کو دیکھا تو اُنہیں بھی یہ کہتے پایا کہ قریباً تمام انبیاء خدا نے بنی اسرائیل میں ہی بھیجے ہیں، دوسری اقوام کو اللہ تعالیٰ نے اس فضل سے محروم ہی رکھا ہے اور مَیں نے مسیحیوں کی طرف نگاہ کی تو اُن کا عقیدہ بھی مجھے ایساہی نظر آیا۔غرض ہر قوم کو مَیں نے یہ کہتے سنا کہ روحانی تہذیب کا نشان اس کے سِوا اور کہیں نظر نہیں آ سکتا، مگر جب مَیںنے قرآنی آثارِقدیمہ کے محکمہ کو دیکھا تو مَیں نے اس کے ایک کمرہ میں یہ لکھا ہؤا پایاکہ ۵۶؎ کہ دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جس میںخداتعالیٰ کے انبیاء مبعوث نہ ہوئے ہوں، نہ ہندو بغیرنبی کے رہے نہ ایرانی بغیر نبی کے رہے، نہ یہود بغیر نبی کے رہے اور نہ یورپین لوگ بغیر نبی کے رہے، غرض قرآن کے آثارِ قدیمہ کے محکمہ نے بتایا کہ خدا نے ہر جگہ روشنی کے مینار کھڑے کئے تھے۔ یہ اور بات ہے کہ بعد میں انہوں نے اس روشنی سے فائدہ اُٹھانا چھوڑ دیا مگر بہرحال خدا کی طرف سے انہیں ہدایت سے محروم نہیں کیا گیا ۔ان میں جو خرابیاں پید اہوئی ہیں وہ بعد میں ہوئی ہیں جن کی ذمہ داری خود اُن پر ہے ورنہ خدا نے سب سے یکساں سلوک کیا ہے او رہر ایک کی طرف اپنی رحمت کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ مَیں نے جب یہ دیکھا تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی ، مگر مَیں نے کہا آئو اب میںان عظیم الشان ہسیتوں کے کچھ نشانات بھی دیکھ لوں۔بیشک اُنہوںنے عظیم الشان کام کیا اور دنیامیں ایک تغیر عظیم پیدا کر دیا مگر مَیں دیکھوں تو سہی کہ انہوں نے اپنے پیچھے کیا چھوڑا ہے۔مَیں اِس جستجو اور تلاش میںسابقہ کتب کے محکمہ آثارِ قدیمہ میں داخل ہو گیا مگر یہ دیکھ کر میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ ان عظیم الشان ہسیتوں کے کپڑوں پر جو اُن کے اَتباع کے پاس موجود تھے نہایت گندے اور گھنائونے داغ تھے کسی کے جُبہ پر چور لکھا تھا اور کسی کے جُبہ پر بٹمار اور کسی کے جُبہ پر ظالم اور دوسروں کا مال کھانے والا اور کسی کے جُبہ پر فاسق وفاجر۔کسی کے جُبہ پر جھوٹا اور کسی کے جبہ پر غاصب ،یہاں تک کہ بعض کے جبوں پر مشرک کے الفاظ تحریر تھے اور یہ سب اُن کے اَتباع کے ہاتھوں میںتھے غیروں کے دست بُرد کا اس میں دخل نہ تھا۔ مَیں نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اتنے گندے لباس ان عظیم الشان ہستیوں کے ہوں جن کے احسانات کے بارِگراں کے نیچے دنیا دبی ہوئی ہے۔ میں نے اُن کے اِس لباس کودیکھ کر نفرت کا اظہار کیا اور مَیں نے کہا میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ اُن کے لباس نہیں ہو سکتے ۔اِسی حیرت اور استعجاب کے عالَم میں قرآنی آثارِ قدیمہ کے ایک کمرہ میں داخل ہو گیا اور وہاں جو مَیں نے اُن کا لباس دیکھا، اُس کی چمک اور خوبصورتی دیکھ کر میری آنکھیں خیرہ رہ گئیں،چنانچہ مَیں نے انعام رکوع ۱۰ میں قرآنی آثارِ قدیمہ کا ایک کمرہ دیکھا جس میںلکھا تھا۔



    ۵۷؎ کہ یہ ہمارے دلائل اور نشانات تھے جو ہم نے ابراہیم کو اُ س کی قوم کے خلاف بخشے اور ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کر دیتے ہیں۔تیرا رب بڑی حکمت سے کام کرنے والا اور تمام باتوں کو بخوبی جاننے والا ہے۔ ہم نے ابراہیم کو اسحق اور یعقوب دیئے اور اُن کو ہدایت دی اسی طرح اس سے قبل نوح کو بھی ہم نے ہدایت دی۔ پھر ابراہیم کی ذرّیت میں سے دائود،سلیمان ، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون ہوئے اور ہم اسی طرح نیک لوگوں کو جزاء دیا کرتے ہیں، اسی طرح زکریاؑ،یحییٰ ؑ، عیسیٰ ؑ اور الیاسؑ یہ سارے نیک لوگ تھے اور اسمعٰیلؑ ،الیسعؑ،یونسؑ اور لوط ؑان سب کو ہم نے دنیا پر عزت اور بزرگی بخشی اور اُن کے باپ دادوں میں سے اُن کی ذرّیت اور اُن کے بھائیوں میں سے بھی ہم نے کئی لوگوں کو چنا اور انہیں سیدھا راستہ دکھایا۔ یہ ہدایت ہے اللہ تعالیٰ کی جس کے ذریعہ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اگر یہ لوگ مشرک ہوتے یا خراب ہوتے تو یقینا یہ اپنے مقصد میںناکام رہتے ۔یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے کتاب دی اور حُکم بخشااو رنبوت عطا فرمائی۔ اگر ان لوگوں کے بعض منکر ہیںتو یقینا ہم نے ایسے لوگ بھی بنادئیے ہیں جواِن کی قدر وعظمت کو سمجھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی۔ پس اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! جو کچھ یہ لوگ کرتے رہے ہیں تو بیشک وہی کام کر۔ کیونکہ انہوں نے کوئی کام ہدایت کے خلاف نہیں کیا اور لوگوں سے کہدے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، یہ قرآن تو دنیا کے لئے نصیحت اور ہدایت کا ذریعہ ہے۔ا گر لوگ ان باتوں کومان لیں گے تو اس میں اُ ن کا اپنا فائدہ ہے اور اگر انکار کریں گے تو اس کانقصان بھی اُنہیں ہی برداشت کرنا پڑیگا۔
    اب قرآن تو یہ کہتا ہے کہ یہ سب لوگ نیک اور راستباز تھے، مگر جب مَیں نے غیر مذاہب کی تعلیموں کو دیکھا تو مجھے ان میں نظر آیا کہ کوئی کہہ رہا ہے ابراہیم نے جھوٹ بولامَیں نے ایک نظر اس الزام پر ڈال کر جب قرآن کو دیکھا تو مجھے معلوم ہؤا کہ قرآن اس کی تردید کر رہا ہے، اسی طرح پُرانے آثار میںاسحاق ؑاور یعقوب ؑکے متعلق عجیب عجیب قصّے پائے جاتے ہیں، اسحاقؑ کے متعلق بھی کہا جاتا ہے کہ اُس نے جھوٹ بولا اور یعقوب ؑکے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے فریب سے نبوّت حاصل کی، مگر یہاں آ کر دیکھا تو مجھے معلوم ہؤاکہ اسحاق ؑاور یعقوب ؑمیںکوئی نقص نہ تھا۔ اسی طرح نوح ؑکے متعلق جب مَیں نے بائبل کے مطابق اس کے آثار کو دیکھا تو وہاںمجھے یہ نظر آیا کہ نوح ؑ شراب پِیا کرتا تھا ، دائود ؑکے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ وہ قاتل اور خونریز تھا، مگر قرآنی آثارِ قدیمہ میں مجھے ان میںسے کوئی بات دکھائی نہ دی، بلکہ اس کے برعکس یہ لکھا ہؤا پایا کہ یہ لوگ معصوم تھے انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ اسی طرح سلیمان ؑ کے متعلق کہاجاتا ہے کہ انہوںنے کُفر کیا، ایوب ؑ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بے صبری دکھائی، یوسف ؑ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ چور تھا۔ اسی طرح موسیٰ ؑکے متعلق کئی قسم کے اعتراض کئے جاتے ہیں اور ہارون ؑ کے متعلق تو کھلے طور پر کہا جاتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل کے سامنے بچھڑا بنا کر رکھ دیا اور انہیں کہا کہ یہی تمہارا خدا ہے یہی حال زکریاؑ، یحییٰ ؑ،عیسیٰ ؑ،الیاس ؑ، اسمعٰیل ؑ، الیسعؑ،یونس ؑ او ر لوطؑ وغیرہ کا ہے اور کرشن، رامچندر اور زرتشت کے اپنے قومی آثارِ قدیمہ بھی اُن کے متعلق ایسی ہی روشنی ڈالتے ہیں جو اُن کو اچھی شکل میںپیش نہیں کرتے اور مَیں نے دیکھا کہ ان کے لباس جو لوگ بتاتے ہیں وہ نہایت پَھٹے پُرانے اور میل و ُکچیل سے بھرے ہوئے تھے مگر جب قرآن کریم کے آثارِ قدیمہ کے کمروں کو مَیں نے دیکھا تو ان میں ہر نبی کا لباس نہایت صاف سُتھرا اور پاکیزہ دکھائی دیا ۔ پھر مَیں نے اپنی نظر اُوپر اُٹھائی توا س کمرہ کے دروازہ پر ایک بورڈ لگا ہؤا تھا اور اس پر لکھا تھا۔ یہ لوگ بڑے صاف ستھرے اور پاکیزہ تھے۔اُنہوں نے کوئی بات ہمارے حکم کے خلاف نہیں کی۔ پس جس بات کے متعلق بھی تمہیں یقینی طور پر پتہ لگ جائے کہ وہ ان انبیاء میں سے کسی نے کی ہے اُس پر بغیر کسی خدشہ کے فوراً عمل کرلیاکرو کیونکہ وہ ضرور اچھی ہو گی۔
    (۲) جنتر منتر
    دوسری سَیر مَیںنے جنتر منتر کی کی۔ جنتر منتر ایک رصد گاہ کا نام ہے جہاں اجرامِ فلکی کے نقشے بنے ہوئے ہیں۔اسی طرح بعض بلند جگہیں بنی ہوئی ہیں جہاں سے ستاروں اور اُن کی گردشوں کااچھی طرح معائنہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ رصد گاہیں تین کام دیتی تھیں۔
    اوّلؔ: علمِ ہیئت اور حسابِ اوقات کی صحیح معلومات حاصل کرنا۔ـ
    دومؔ: اپنے خیال کے مطابق علمِ غیب دریافت کرنا۔
    سومؔ: ستاروں کے بد اثرات سے بچنے کی کوشش کرنا۔
    یہ نہایت خوشنما جگہ ہے اور لوگ اسے ایک پُرانے زمانہ کی یادگار سمجھ کر دیکھنے کے لئے آتے رہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ محمد شاہ بادشاہ کے وقت میںمہاراجہ جے پور نے اسے تعمیر کرایا تھا۔ مَیں نے کہا اس چھوٹے سے نقشہ کی تو لوگ قدر کرتے ہیں اور اس کے بنانے والے کو عزّت واحترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن کبھی بھی وہ اُس حقیقی جنتر منتر کی طرف نگاہ نہیں اُٹھاتے جس کا یہ نقشہ ہے اور نہ اس کے بنانے والے کی صنعت کی عظمت کا اقرار کرتے ہیں۔مٹی اور پتھر کی اگر کوئی دو اینٹیں لگا دے تو کہہ اُٹھتے ہیںواہ واہ! اُس نے کسقدر عظیم الشان کارنامہ سرانجام دیا لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ وہ کتنی عظیم الشان طاقتوں کا مالک خدا ہے جس نے اس جنتر منتر سے کروڑوں درجے بڑا ایک اورجنتر منتر بنایا اور نہ صرف اس نے اتنا بڑا نقشہ بنایا بلکہ اس نقشہ کا دیکھنا بھی ممکن کر دیا کیونکہ قرآن کریم میں اصل نقشہ کی سیر کا بھی امکان پیداکیاگیا ہے مَیں نے اس غرض کے لئے سورہ انعام کو دیکھا تو وہاں یہ لکھا ہؤاپایا۔۵۸؎ کہ اسی طرح ہم نے ابراہیم کو زمین و آسمان کے اسرار کھول کر دکھائے تا کہ وہ علم میںترقی کرے اور ہماری قدرتوں پریقین لائے ۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ امر کھول کر بیان کر دیا ہے کہ مَیں نے ابراہیم کو اصل جنتر منتر کی سیر کرا دی اور زمین وآسمان کا نقشہ اسے دکھادیا۔ پھر یہیں پر بس نہیںبلکہ قرآن کریم کی امداد کے ذریعہ ان جنتروں منتروں پر انسان کُلّیۃًحاوی ہو جاتا ہے اور کوئی چیز اس کے احاطۂ اقتدار سے باہر نہیں رہتی چنانچہ فرماتا ہے ۵۹؎ کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کوخداتعالیٰ نے اپنی طرف اُٹھایا اور سورج، چاند، ستاروں سب کی سیر کراتا ہؤا آپؐ کو اتنا قریب لے گیا کہ کوئی فاصلہ درمیان میں رہا ہی نہ۔ پس مَیں نے دیکھا کہ وہ باتیں جن کی تلاش میںلوگ سالوں سرگردان رہتے ہیں اور پھر بھی ناکام و نامراد رہتے ہیں وہ قرآن کریم کی اِتباع میںایسی آسانی سے حاصل ہو جاتی ہیں کہ نہ صرف اپنی خواہشات کو انسان پورا ہوتا دیکھ لیتا ہے بلکہ اور بھی ہزاروں قسم کے علوم اُسے حاصل ہو جاتے ہیں مگر آہ! لوگ معمولی اینٹوں کے بنائے ہوئے جنتر منتر کی تو قدر کرتے ہیں مگر وہ اس جنترمنتر کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتے جو ان کو ہزاروں فوائد سے متمتع کر سکتا ہے۔
    قرآنی رصدگاہ میںستاروں کے بداثرات سے بچنے کا علاج
    پھر مَیں نے کہا لوگ
    رصدگاہیں اس لئے بناتے ہیں کہ وہ ستاروں کے بداثرات کا علم حاصل کر کے ان سے بچ سکیں مگر قرآنی رصدگاہ میں بھی ستاروں کے بداثرات سے بچنے کا کوئی علاج ہے یا نہیں۔ مَیں نے جب دیکھا تو قرآن میںمجھے اس کا بھی علاج نظر آ گیا، آخر لوگ ستاروں کے بداثرات سے بچنے کی کیوں کوشش کرتے ہیں؟ اسی لئے کہ کہیں ان پر کوئی تباہی نہ آ جائے۔ اب آئو ہم دیکھیں کہ کیا تباہیوں سے بچنے کا قرآن کریم نے بھی کوئی علاج بتایا ہے یا نہیں؟ اس مقصد کیلئے جب ہم قرآن کریم پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ گُر بھی قرآن کریم میں بیان ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۶۰؎ مَیں نے دہلی میں دیکھا کہ بالکل لغو اور فضول جنتر منتر ہیں جن کا مصائب کے دور کرنے پر کوئی اثر نہیںہو سکتا مگر اس کے مقابلہ میںقرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ دُکھوں او رتکلیفوں سے بچنے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ خدا کے دوست بن جائو پھر جس ستارے کا بھی بدا ثر تم پرہو سکتا ہو اُس کو خدا خود دُور کردیگا، تمہیں گھبرانے اور فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے ، تمام جنتر منتر اُس کے قبضہ میںہے اگر وہ دیکھے گا کہ سورج کے کسی اثر کی وجہ سے تمہیںنقصان پہنچنے والا ہے تو وہ اس کے بداثر سے تمہیں بچالے گا، اگر دیکھے گا کہ چاند کی کسی گردش سے تم پر تباہی آنیوالی ہے تو وہ خود اس تباہی سے تمہیںمحفوظ رکھے گا، تم ماش اور جو پر پڑ ھ پڑھ کر کیا پھونکتے ہو؟ تم اللہ تعالیٰ سے دوستی لگائو جب تمہاری اس سے دوستی ہو جائے گی تو مجال ہے کہ اُ س کے کُتیّ تمہیں کچھ کہہ سکیں۔ پس مَیں نے جب قرآنی رصدگاہ میںسے اس علاج کو دیکھا تو میرے دل نے کہا واقعہ میں وہ بالکل فضول طریق ہیں جو لوگوں نے ایجاد کر رکھے ہیں کیوں نہ اِس رصدگاہ کا جو اصل مالک ہے اور جو زندہ اور طاقتور خدا ہے اس سے دوستی لگائی جائے۔ اگر مریخ کی کسی چال کا ہمیںنقصان پہنچ سکتا ہو گا تو خدا خود اس کا علاج کرے گا۔ہم میں ذاتی طور پر یہ کہاں طاقت ہے کہ ہم تمام ستاروں کے بداثرات سے بچ سکیں۔ اگر بِالفرض ایک ستارے کے بداثر سے ہم نکل بھی گئے تو ہمیں کیا پتہ کہ کوئی اور ستارہ ہمیں اپنی گردش میں لے آئے۔پس یہ بالکل غلط طریق ہے کہ انسان ایک ایک ستارہ کے بداثر سے بچنے کی کوشش کرے اصل طریق وہی ہے جو قرآن کریم نے بتایا کہ انسان ان ستاروں کے مالک اور خالق سے دوستی لگالے پھر کسی ستارے کی مجال نہیں کہ وہ انسان پر بداثر ڈال سکے۔
    ایک بزرگ کا قصّہ
    قصّہ مشہور ہے کہ کوئی بزرگ تھے ان کے پاس ایک دفعہ ایک طالبعلم آیا جو دینی علوم سیکھتا رہا، کچھ عرصہ پڑھنے کے بعد جب وہ اپنے وطن
    واپس جانے لگا تو وہ بزرگ اس سے کہنے لگے میاں! ایک بات بتاتے جائو۔ وہ کہنے لگا دریافت کیجئے میں بتانے کے لئے تیار ہوں۔ وہ کہنے لگے اچھا یہ تو بتائو کہ تمہارے ہاںشیطان بھی ہوتا ہے؟ وہ کہنے لگا حضور! شیطان کہاں نہیں ہوتا شیطان تو ہر جگہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا اچھا جب تم نے خداتعالیٰ سے دوستی لگانی چاہی اور شیطان نے تمہیں ورغلادیا تو تم کیا کرو گے؟ اُس نے کہا میںشیطان کا مقابلہ کروں گا۔ کہنے لگے فرض کرو تم نے شیطان کا مقابلہ کیا اور وہ بھاگ گیا، لیکن پھر تم نے اللہ تعالیٰ کے قُرب کے حصول کے لئے جدوجہد کی اور پھر تمہیں شیطان نے روک لیا تو کیا کرو گے؟ اس نے کہا مَیں پھر مقابلہ کرونگا۔ وہ کہنے لگے اچھا مان لیا تم نے دوسری دفعہ بھی اُسے بھگا دیا لیکن اگر تیسری دفعہ وہ پھر تم پر حملہ آور ہو گیا اور اس نے تمہیں اللہ تعالیٰ کے قُرب کی طرف بڑھنے نہ دیا تو کیا کرو گے؟ وہ کچھ حیران سا ہو گیا مگر کہنے لگا میرے پاس سوائے اس کے کیا علاج ہے کہ میں پھر اُس کا مقابلہ کروں۔ وہ کہنے لگے اگر ساری عمر تم شیطان سے مقابلہ ہی کرتے رہو گے تو خدا تک کب پہنچو گے۔ وہ لاجواب ہو کر خاموش ہو گیا۔ اس پر اُس بزرگ نے کہا کہ اچھا یہ توبتائو اگر تم اپنے کسی دوست سے ملنے جائو اور اُس نے ایک کُتّا بطور پہرہ دار رکھا ہؤا ہو، اور جب تم اس کے دروازہ پر پہنچنے لگو تو وہ تمہاری ایڑی پکڑ لے تو تم کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا کُتّے کو مارونگا اور کیا کرونگا۔ وہ کہنے لگے فرض کرو تم نے اُسے مارا اور وہ ہٹ گیا، لیکن اگر دوبارہ تم نے اُس دوست سے ملنے کیلئے اپنا قدم آگے بڑھایا اور پھر اُس نے تمہیں آپکڑا تو کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا میںپھر ڈنڈا اُٹھائونگا اور اُسے ماروں گا انہوں نے کہا اچھا تیسری بار پھر وہ تم پر حملہ آور ہو گیا تو تم کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا اگر وہ کسی طرح باز نہ آیا تو مَیں اپنے دوست کو آواز دونگا کہ ذرا باہر نکلنایہ تمہارا کُتّا مجھے آگے بڑھنے نہیں دیتا اسے سنبھال لو۔ وہ کہنے لگے بس یہی گُر شیطان کے مقابلہ میں بھی اختیار کرنا اور جب تم اس کی تدابیر سے بچ نہ سکو تو خدا سے یہی کہنا کہ وہ اپنے کُتّے کو روکے اور تمہیں اپنے قُرب میںبڑھنے دے یہی نسخہ اللہ تعالیٰ نے اس جگہ بیان کیا ہے وہ فرماتا ہے۔ ۔
    اے بڑی بڑی رصدگاہیں اور جنتر منتر بنانے والو! تم ستاروں کی گردش سے ڈر کر جنتر منتر کی پناہ کیوں ڈھونڈتے ہو، تم اُس کاہاتھ کیوں نہیںپکڑ لیتے جس کے قبضۂ قدرت میں یہ تمام چیزیں ہیں۔ اگر تم اُس سے دوستی لگا لو تو تمہیںاِن چیزوں کا کوئی خطرہ نہ رہے اور ہر تباہی اور مصیبت سے بچے رہو۔ یہ علاج ہے جو قرآن کریم نے بتایا ہے۔ رصدگاہوں اور جنتر منتر کا علاج تو بالکل ظنّی ہے مگر یہ وہ علاج ہے جو قطعی اور یقینی ہے۔
    قرآنی رصدگاہ سے علم غیب کی دریافت
    دوسری بات جس کی وجہ سے لوگ ستاروں کی طرف توجہ کرتے ہیں علمِ غیب
    کی دریافت ہے سو یہ بات بھی حقیقی طور پر قرآنی رصدگاہ سے ہی حاصل ہوتی ہے باقی سب ڈھکوسلے ہیں، چنانچہ مَیں نے دیکھا کہ اس رصدگاہ کے قوانین میںلکھا ہؤا تھا۔ ۶۱؎ فرماتا ہے زمین وآسمان میںسوائے خدا کے اور کوئی غیب نہیںجانتا۔یعنی مصفّٰی علمِ غیب صرف خداتعالیٰ کو ہے اور یہ لوگ جو ستاروں کے پرستار ہیںاور انہیں دیکھ کر غیب کی خبریں بتانے کے دعویدار ہیں یہ تو اپنی ترقی کا زمانہ بھی نہیں بتا سکتے اوراتنی بات بھی نہیںجانتے کہ ان کی قوم کب ترقی کریگی۔ یہ برابر تباہ ہوتے جا رہے ہیں مگر نہیں جانتے کہ ان کی تباہی کب دُور ہو گی۔ اس کے مقابلہ میںمحمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جو پہلے اکیلا تھا آج بہتوں کا سردار بنا ہؤا ہے اگر انہیں ستاروں سے علم غیب حاصل ہو سکتا ہے تو کیوں یہ اپنی ترقی کا زمانہ نہیں بتا سکتے اور کیوں محمد ﷺکی ترقی کوجو ستاروں سے علمِ غیب حاصل کرنے کا قائل نہیں روک نہیں دیتے؟ جب یہ اپنی ترقی کا زمانہ بھی نہیںبتا سکتے تو انہوں نے اور کونسی غیب کی خبر بتانی ہے۔پھر فرمایا یہ تو دنیا کی بات ہے ۔بَعْدَ الْمَوْت کی حالت کے متعلق یہ علم سے بالکل خالی ہیںاور حق بات تو یہ ہے کہ یہ اندھوں کی طرح تخمینے کرتے ہیں جو کبھی غلطی کرتا اور کبھی ٹھیک راستہ پر چلتا ہے ۔ جس طرح اندھے کے ہاتھ کبھی لکڑی آجاتی ہے اور کبھی سانپ، اِسی طرح اِن کو بھی کبھی کوئی ایک آدھ بات درست معلوم ہو جاتی ہے اور کبھی حق سے دُور باتوں کو سچ سمجھ کر یہ پکڑ لیتے ہیں۔
    جب مجھے یہ آیت معلو م ہوئی تو مَیں نے کہا کہ اگر مصفّٰی علمِ غیب صرف خداتعالیٰ کے پاس ہی ہے تو ہمیںاس کاکیا فائدہ ہؤا؟ اٹکل پچو والے کو تو پھر بھی کبھی لکڑی مل جاتی ہے مگر ہم تو اس طرح اٹکل پچو والے فائدہ سے بھی محروم ہو گئے۔ اس پر مَیں نے دیکھا کہ قرآن نے میرے اس شُبہ کا بھی جواب دے دیا اور اس نے فرمایا۔ ۶۲؎ کہ ہم نے یہ علمِ غیب صرف اپنے پاس ہی نہیں رکھا بلکہ ہم کبھی اپنے بندوں کو اس غیب سے مطلع بھی کر دیا کرتے ہیں مگر اُنہی کوجن کو ہم چُن لیتے ہیں ، ہر کس وناکس کوغیب کی خبریں نہیں بتاتے۔
    پھر مَیں نے کہا کہ غلبہ غیب کا بیشک نبیوںکو ہی حاصل ہو مگر عام انسانوں کوبھی توکبھی علمِ غیب کی ضرورت ہوتی ہے کیا ان کیلئے بھی کوئی راہ ہے؟ اس پرمجھے جواب ملا کہ ہاں۔۶۳؎ وہ لوگ جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر انہوںنے لوگوں کی مخالفت کی پروانہ کی بلکہ اِستقامت سے سچے مذہب پر قائم رہے اُن پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے نازل ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ کہ ڈرو نہیں اور نہ غم کرو۔ہم فرشتے تمہاری حفاظت ِکیا کریں گے ، تمہاری پچھلی خطائیں معاف ہو چکیں اورآئندہ کے لئے تمہارے ساتھ خدا کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تمہیں جنت میں داخل کریگا، ہم تمہارے دوست ہیں اِس دنیا میںبھی اور آخرت میں بھی۔ وہاں جس چیز کے متعلق بھی تمہارا جی چاہے گا وہ تمہیں مل جائیگی اور جو کچھ مانگو گے وہ تمہیںدیا جائے گا،یہ تمہاری مہمان نوازی ہے جو بخشنے والے مہربان رب کی طرف سے ہے۔اس نے تمہارا ماضی بھی درست کر دیااور اس نے تمہارے مستقبل کو بھی ہر قسم کے خطرہ سے آزاد کر دیا۔ـ
    منجّموںکی خبروں اور الہام الٰہی میںفرق
    اِس میںیہ جواب بھی آ گیا کہ ستاروں کی خبریں صرف خبریں ہوتی ہیں اور یہ
    تقدیر ہوتی ہے یعنی وہ لوگ جو ستاروں کی گردشیں دیکھ کر دوسروں کو خبریں بتایا کرتے ہیں وہ صرف خبر بتاتے ہیں مثلاً یہ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں شخص مرجائے گا۔اب یہ صرف ایک خبر ہے اس میں یہ ذکر نہیں کہ وہ کسی طریق پر عمل کر کے موت سے بچ بھی سکتا ہے لیکن الہا مِ الٰہی میںجہاں اِنذار ہوتا ہے وہاں تبشیر بھی ہوتی ہے ۔ اگر ایک طرف یہ ذکر ہوتا ہے کہ تمہیں ترقی ملے گی تو دوسری طرف یہ ذکر بھی ہوتا ہے کہ تمہارے دشمن ہلاک کئے جائیںگے اور پھر اُن دشمنوں کو بھی بتایاجاتا ہے کہ اگر ہمارے نبی پر ایمان لے آئو تو تم ان آنے والی مصیبتوں سے بچ جائو گے لیکن اگر مخالفت اور دشمنی پر مُصِرّ رہے تو پھر تمہاری ہلاکت یقینی ہے۔ گویا ایک تقدیر اور قدرت ہے جو الہامِ الٰہی میںپائی جاتی ہے مگر کسی رصدگاہ سے جو لوگ کوئی خبر معلوم کرتے ہیں اس میں کوئی قدرت اور جلال کاپہلو نہیں ہوتا۔بسا اوقات رصدگاہ والا خود اپنے متعلق جب کوئی بات معلوم کرنا چاہتا ہے تو اُسے یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ تیرا بیٹا مر جائے گا اب وہ ہزار کوشش کرے کہ کسی طرح مجھے یہ معلوم ہو جائے کہ مَیں کس طرح اِس مصیبت سے بچ سکتا ہوں تو اسے کسی طرح یہ بات معلوم نہیں ہو سکتی، لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف جب توجہ کی جائے تو اس قسم کے تمام عُقدے حل ہو جاتے ہیں پس وہ خبریں صرف خبریں ہوتی ہیں، لیکن الہامِ الٰہی میںقدرت اور جلال کا پہلو پایا جاتا ہے۔
    ستاروں سے حاصل کردہ خبروں کی حقیقت
    پھر مَیں نے پُوچھا کہ ستاروںسے جو خبریں ملتی ہیں اُن کی حقیقت کیا
    ہوتی ہے؟ اِس کے جواب میں مجھے ایک نہایت ہی لطیف بات سورۃ الصّٰفّٰت سے معلوم ہوئی۔اللہ تعالیٰ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔۶۴؎حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس قوم سے تعلق رکھتے تھے جو ستارہ پرست تھی چنانچہ قرآن مجید میں ہی ایک دوسرے مقام پر ذکرآتا ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ مخالفوں کو چڑانے اور انہیں سمجھانے کے لئے طنزاً کہا کہ فلاں ستارہ میرا رب ہے مگر جب وہ ڈوب گیا تو کہنے لگے کہ یہ خدا کیسا ہے جو ڈوب گیا۔ مَیں تو ایسے خدا کا قائل نہیںہو سکتا۔ اس کے بعد اُنہوں نے طنزاً چاند کے متعلق کہا کہ وہ میرا رب ہے اور جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہنے لگے مَیں تو سخت غلطی میں مبتلاء ہو جاتا اگر میرا خدا میری راہبری نہ کرتا، بھلا وہ بھی خدا ہو سکتا ہے جو ڈوب جائے۔ پھر سورج کے متعلق انہوںنے کہا کہ وہ میرا رب ہے مگر جب وہ بھی غروب ہو گیا تو وہ کہنے لگے کہ مَیں اِن سب مشرکانہ باتوں سے بیزار ہوں۔میرا خدا تو ایک ہی خدا ہے جو زمین وآسمان کا مالک ہے۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام جس قوم میںسے تھے وہ ستارہ پرست تھی اور چونکہ ستاروں کی پرستش نہیںہو سکتی اس لئے اُنہوں نے مختلف ستاروں کے قائمقام کے طور پر بہت سے بُت بنائے ہوئے تھے اور وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اگر ان بتوں کی عبادت کی جائے تو جس ستارہ کے یہ قائم مقام ہیں اس کی مدد ہمیںحاصل ہو جائے گی۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام جس خاندان میںسے تھے وہ بھی پروہتوں کا خاندان تھا چنانچہ ان کے باپ نے ایک بتوں کی دُکان کھولی ہوئی تھی جس پر وہ کبھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی بٹھا دیتا اور کبھی ان کے دوسرے بھائیوں کو ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اندر بچپن سے ہی سعادت کا مادہ رکھا ہؤا تھا، چنانچہ یہودی روایات(طالمود) میں آتا ہے کہ ایک دن ان کابھائی انہیں دُکان پر بٹھا گیا اور بتوں کی قیمت وغیرہ بتا کر کہہ گیا کہ اگر کوئی گاہک آئے تواُسے بُت دیدینا۔ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ایک بڈھا شخص اس دُکان پر آیا اور کہنے لگا کہ مجھے ایک بُت چاہئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک بُت اُٹھایااور گاہک کے ہاتھ میں دیدیا۔ وہ اُسے دیکھ کر کہنے لگا کہ اچھا ہے اس کی قیمت بتائو۔ انہوں نے کہا کہ تم پہلے یہ بتائو کہ تم اس بُت کو کیا کرو گے۔ اُس نے کہا اِسے گھر میںلے جائوںگا اور اپنے سامنے رکھ کر اس کے آگے سجدہ کیا کرونگا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ سن کر بڑے زور سے ایک قہقہہ لگایااور کہا تجھے اس کے آگے جھکتے ہوئے شرم نہیںآئے گی؟ تو ستّر اسّی سال کی عمر کا ہو گیا ہے اور یہ بُت وہ ہے جو کَل ہی میرے چچا نے بنوایا ہے بھلا اِس بُت نے جسے کَل سنگ تراش نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے تجھے کیا فائدہ پہنچانا ہے؟ اور کیا تجھے شرم نہیں آئے گی کہ تو اتنا بڑا آدمی ہو کر اس کے آگے جُھک جائے۔ اب وہ گو بُت پرست ہی تھا مگر یہ فقرہ سُن کر اس کے اندر بُت کو گھر لے جانے کی ہمّت نہ رہی اور وہ وہیں اسے چھوڑ کر چلا گیا۔ان کے بھائیوں کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے باپ سے شکایت کر دی کہ ابراہیم کو دُکان پر نہ بٹھایا جائے ورنہ یہ تمام گاہکوں کو خراب کر دیگا۔ تو ان لوگوں میںستاروں کا علم خاص طو رپر پایا جاتا تھا اور علمِ رمل اور علمِ نجوم آئندہ نسلوں کو سکھایا جاتا تھا ۔جس طرح ہندوئوں میں پنڈت اس کام میں مشّاق ہوتے ہیں اوروہ زائچہ نکالتے اور جنم پتری دیکھتے ہیں اسی طرح ان کو بھی زائچہ نکالنا اور جنم پتری دیکھنا سکھایا جاتا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی چونکہ ایسے ہی خاندان میںسے تھے اس لئے لازماً انہوں نے بھی یہ علم سیکھا، مگر جب بڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو توحید کی تعلیم دینی شروع کر دی تو قوم سے ان کی بحثیں شروع ہو گئیں۔
    حضرت ابراہیم کا ستارہ پرستوں کو درسِ توحید
    ایک دن وہ اپنے رشتہ داروں اور قوم کے دوسرے لوگوں سے
    کہنے لگے کہ تم یہ تو سوچو کہ آخر تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو۔ تم جھوٹ اور فریب کے ساتھ خداتعالیٰ کوچھوڑ کر اَور معبود بناتے ہو اور پھر یہ جانتے ہوئے کہ تم نے خود اپنے ہاتھ سے ان بتوں کو بنایا ہے ان کے پیچھے چل پڑتے ہو اور انہیں خدا کاشریک قرار دیتے ہو؟ تم جو ستاروں کے پیچھے چل رہے ہو ہمیشہ تم کہتے ہو کہ مریخ نے یہ کر دیا، زحل نے وہ کر دیا۔مشتری نے یہ کیا اور عطارد نے وہ کیا ۔ تم یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ ربّ العٰلمین کیا کر رہا ہے کس قدر ایک وسیع نظام ہے جوہر چیز میںنظر آتا ہے۔کیا یہ تمام نظام ایک بالا قانون کے بغیر ہی ہے؟ ساری چیزیں اس کے اشاروں پر چل رہی ہیں اور ان ستاروں میں بھی جس قدر طاقتیں ہیں وہ خداتعالیٰ کی ہی عطا کردہ ہیں۔ پس عبادت کا اصل مستحق خدا ہے نہ کہ کوئی اور چیز۔ یہ تقریر آپ کر ہی رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک لطیف نکتہ سمجھا دیا آپ نے ستاروں میں دیکھا اور کہا کہ مَیں بیمار ہوں آپ کایہ کہنا تھا کہ لوگ چلے گئے اور مجلس منتشر ہو گئی۔یہاں مفسّرین کو بڑی مشکل پیش آئی ہے اور وہ حیران ہیں کہکے کیا معنی کریں۔ بعض کہتے ہیں کہ اُس روز آپ واقعہ میں بیمار تھے جب بحث زیادہ ہو گئی تو انہوں نے کہا اب مجھے آرام کرنے دو مَیں بحث کر کے تھک گیا ہوں۔ مگر بعض کہتے ہیں کہ آپ اُس روز بیمار تھے ہی نہیں۔آپ نےجو کہا تو محض اُن سے پیچھا چھڑانے کے لئے کہا ،چونکہ وہ بحث کرتے ہی چلے جاتے تھے اور بس کرنے میںنہیںآتے تھے اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جھوٹ بول کر کہدیا کہ مَیں بیمار ہوں چنانچہ وہ چلے گئے۔بعض کہتے ہیں کہ آپ نے جھوٹ نہیں بولا تھوڑے بہت آپ ضرور بیمار تھے چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ آپ کو اُس دن نزلہ کی شکایت تھی۔آپ نے ا نہیں کہہ دیا کہ بھائی اب معاف کرو مَیں بیمار ہوں۔غرض مفسّرین اِس موقع پر عجیب طرح گھبرائے ہوئے نظر آتے ہیں اور اُن سے کوئی تأویل بن نہیںپڑتی، کبھی کوئی بات کہتے ہیں اور کبھی کوئی ، مگر سوال یہ ہے کہ سے پہلے یہ الفاظ ہیں کہ ۔انہوں نے ستاروں کو دیکھا۔اب سوال یہ ہے کہ ان کے بیمار ہونے کی خبر کا ستاروں سے کیا تعلق ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ انہوں نے ستاروں کو دیکھ کریہ معلوم کیا تھاکہ اب بحث کرتے کرتے بہت دیر ہو گئی ہے حالانکہ دیر ہوجانے کا ستاروں سے کوئی تعلق نہیں ہوتاآپ ہی انسان سمجھ لیتا ہے کہ اب فلاں کام کرتے کرتے مجھے کافی دیر ہو گئی ہے۔ ستاروں کی طرف دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہا کرتا کہ اب بہت دیر ہو گئی ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ اگر ستاروں کو دیکھ کر انہوں نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ دیر ہو گئی ہے تو انہیں کہہ دینا چاہئے تھا اب بہت دیر ہو گئی ہے تم چلے جائو مگر وہ یہ نہیں کہتے کہ دیر ہو گئی ہے تم چلے جائو بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ مَیں بیمار ہوں۔ اِس پر بعض مفسرین لُغت کی پناہ ڈھونڈنے لگے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ کے ایک معنے بیزار کے بھی ہیں انہوں نے بحث کرتے کرتے ستاروںکی طرف دیکھا اور کہا کہ مَیں ان ستاروں سے سخت بیزار ہوں۔ اِس پر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ یہ قول بھی صحیح نہیں ہو سکتا کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان مشرکین سے یہ کہنا چاہئے تھا کہ میں تم سے بیزار ہوں۔ ستاروں کے متعلق یہ کہنے کا کیافائدہ تھا کہ میں ان سے بیزار ہوں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان معنوں میں سے کوئی معنے بھی صحیح نہیں۔ اصل معنے کے یہ ہیں کہ جب آپ ان لوگوں سے بحث کر رہے تھے تو بحث کرتے کرتے اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ اِن زبانی باتوں سے تو ان کا اطمینان نہیںہو گا تم یوں کرو کہ اِسی وقت اپنا زائچہ نکالو چنانچہ جب وہ تقریر کر رہے تھے کہ ستاروں میں کوئی طاقت نہیں کہ وہ کسی کو نقصان پہنچائیں، سب طاقتیںاور قدرتیں خداتعالیٰ کو ہی ہیں۔ تومعاً آپ نے اپنی تقریر کا رُخ بدلا اور کہا دیکھو! تم جو ستاروں کی گردشوں اور اُن کی چالوں کے بہت قائل ہو، مَیں تم پر اتمامِ حُجّت کرنے کے لئے تمہارے سامنے اپنا زائچہ نکالتا ہوں چنانچہ انہوں نے جو زائچہ دیکھا تو اس سے مہورت ۶۵؎ یہ نکلی کہ ابراہیم کی خیر نہیں وہ ابھی بیمار ہو جائے گا۔ اس امر کو معلوم کرنے کے لئے چاہے انہوں نے اوپردیکھا ہو اور ممکن ہے کہ اوپر ہی دیکھا ہو کیونکہکا لفظ آیت میںاستعمال ہؤا ہے اور ممکن ہے کہ انہوں نے نقشہ دیکھا ہو، بہرحال جب انہوں نے ستاروں کی چال کو دیکھا اور مقررہ نقشہ سے اپنا زائچہ نکالا، تو اُس میںلکھا تھا کہ فلاں ستارہ کی گردش سے ابراہیم اسی گھڑی بیمار ہو جائے گا (گویا کے یہ معنی نہیں کہ میں بیمار ہوں بلکہ یہ ہیں کہ مَیں بیمار ہونے والا ہوں) جب یہ زائچہ نکل آیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اُن سے کہا کہ اب میری اور تمہاری بحث ختم۔ اگرمَیں بیمار ہو گیا تو مَیں مان لونگا کہ تم سچ کہتے ہو اور اگر مَیں بیمار نہ ہؤا تو تمہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ ستاروں کی گردشوں اور چالوں پر یقین رکھنا اور یہ خیال کرنا کہ ستاروں کا انسانوں پر بھی اثر ہوتا ہے بیہودہ بات ہے۔ چنانچہ اسی پر بات ختم ہو گئی اور وہ اُٹھ کر چلے گئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہاں سے فارغ ہوتے ہی بُت خانہ میں گئے اور انہوں نے بُت توڑنے شروع کر دئیے۔ جب ان کے بُت ٹوٹے اور لوگوں کو یہ خبر ہوئی تو وہ دَوڑے دَوڑے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ انہوںنے کہا دکھائی نہیںدیتا کیا کر رہا ہوں، تمہار ے بتوں کو توڑ رہا ہوں تا کہ تمہیں یہ معلوم ہو کہ میںبیمار نہیں ہوں اور تمہارے زائچہ نے جو کچھ بتایا تھا وہ غلط ہے انہوں نے جب دیکھا کہ ہمیں دُہری ذلّت پہنچی ہے یعنی ایک تو یہ ذلّت کہ ستارے کا اثر جو زائچہ سے نکلا تھا وہ غلط ثابت ہؤا اور دوسری یہ ذلّت کہ ہمارے بُت اُسی گھڑی توڑے گئے ہیں جس گھڑی ابراہیم نے بیمار ہونا تھا تو وہ سخت طیش میںآ گئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ابراہیم کو اُسی وقت آگ میںڈال کر جلا دیا جائے تاکہ ہم لوگوںسے یہ کہہ سکیںکہ زائچہ میںجو یہ لکھا تھا کہ ابراہیم پر ایک آفت آئے گی وہ یہی آفت تھی کہ ابراہیم آگ میں جل کر مر گیا۔مگر جب انہوں نے آگ جلائی اور حضرت ابراہیم ؑکو اُس میںڈالا تو اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ بارش ہو گئی اور آگ بُجھ گئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس میںسے سلامت نکل آئے اور اِس طرح جو تدبیر انہوں نے زائچہ کو درست ثابت کرنے کے لئے اختیار کی تھی وہ بھی ناکام گئی۔یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس کے بعد دوسرے یا تیسرے دن انہوں نے دوبارہ آگ میں نہیںڈالا کیونکہ اگر دوسرے تیسرے دن پھر آگ میںڈالتے تو ان کی سچائی ثابت نہ ہو سکتی ۔ ان کے زائچہ کی سچائی اُسی وقت ثابت ہو سکتی تھی جب کہ اُسی گھڑی حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں جل جاتے جس گھڑی آپ پر کسی آفت کا اُترنا زائچہ بتلاتا تھا مگر جب وہ وقت گزر گیا تو چونکہ اس کے بعد اگر آپ کو وہ دوبارہ بھی آگ میںڈالتے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تکذیب نہیںہو سکتی تھی اس لئے پھر انہوں نے آپ کو آگ میں نہ ڈالا حالانکہ اگر انہوں نے آپ کو توحید کی وجہ سے ہی آگ میںڈالا تھا تو چاہئے تھا کہ ایک دفعہ جب وہ اپنے مقصد میں ناکام رہے تھے تو دوسری دفعہ پھر آپ کو جلانے کی کوشش کرتے مگر انہوںنے بعد میں ایسی کوئی کوشش نہیں کی جس سے یہ بات یقینی طور پر ثابت ہو تی ہے کہ انہوں نے آپ کو آگ میں اِسی لئے ڈالا تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کی وہ خبر درست نکلے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق زائچہ سے نکلی تھی۔
    اب دیکھو یہ کس طرح ایک مکمل دلیل ستارہ پرستوں کے خلاف بن گئی۔ زائچہ دیکھا گیا اور اس سے سب کے سامنے یہ نتیجہ نکلا کہ ابراہیم پراسی وقت کوئی شدید آفت آنیوالی ہے جو اسے تباہ کر دیگی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا بس اسی پرمیری اور تمہاری بحث ختم۔ اگر میںتباہ ہو گیا تو تم سچے اور اگر نہ ہؤا تو مَیںسچا۔ جب وہ چلے گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی تکذیب واضح کرنے کے لئے بتوں کو توڑنا شروع کر دیا۔ اگر یہ معنی نہ کئے جائیں تو اُس دن بتوں کو خاص طور پر توڑنے کا کوئی مطلب ہی نہیںہو سکتا۔آپ نے اُس دن خاص طور پر اسی لئے بُت توڑے کہ جس وقت آپ بُت توڑ رہے تھے وہی وقت زائچہ کے مطابق آپ کی بیماری کا تھا۔ پس آپ نے اپنے عمل سے انہیں زبردست شکست دی اور بتایا کہ تم توکہتے تھے مَیں فلاں وقت بیمار ہو جائوںگا مگر میں نے اسی وقت تمہارے بتوں کے ناک کاٹ ڈالے ہیں۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ جب ان کی قوم کو یہ خطرناک زِک پہنچی تو اِس کے بعد آپ نے سمجھا کہ اب اِس عملی زِک کے نتیجہ میںلوگوں کے دلوں میںایسا بُغض بیٹھ گیا ہے کہ میرا یہاں رہنا ٹھیک نہیں چنانچہ وہ اس علاقہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے علاقہ کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے۔
    پھر مَیں نے کہا کہ اچھا جو حصہ حساب وتاریخ کا رہ گیا ہے اُس کے متعلق مجھے اِس رصدگاہ سے کیا اطلاع ملتی ہے جب میرے دل میں یہ سوال پیداہؤا تو مجھے اِس کے متعلق یہ اطلاعات ملیں۔
    سورج، چاند اور ستارے سب انسان
    اوّل: سورج اور چاند اور ستارے سب اپنی ذات میں مقصود نہیں بلکہ یہ سب ایک اعلیٰ ہستی
    کی خدمت کیلئے پیدا کئے گئے ہیں
    کے کام اور فائدہ کیلئے بنائے گئے ہیںاور وہ اعلیٰ ہستی انسان ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ سورہ نحل میںفرماتا
    ہے۔ ۶۶؎ کہ اے بیوقوف انسان! تو خواہ مخواہ سورج، چاند اور ستاروں کی طرف دَوڑ رہا ہے کیا تجھے معلوم نہیں کہ یہ رات، دن، سورج، چاند اور ستارے سب تیری خدمت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں مگر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ جسے ہم نے خاد م قرار دیا تھا اُس کو تم اپنا مخدوم قر ار دے رہے ہو اور جسے ہم نے مخدوم بنا کر بھیجا تھا وہ خادم بن رہا ہے تم ان سے ڈرتے اور گھبراتے کیوں ہو۔ کیا تم نے کبھی دیکھا کہ کوئی آقا اپنے نوکر سے ڈر رہا ہو اور اُس کے آگے ہاتھ جوڑ تا پھرتا ہو، یا کوئی افسر اپنے چپڑاسی کی منتیں کرتا رہتا ہو؟ اور اگر تم کسی کو ایسا کرتے دیکھو تو کیا تم نہیں کہو گے کہ وہ پاگل ہو گیا ہے۔ پھر تمہیں کیوں اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیںآتی کہ ہم نے تو ان تمام چیزوں کو تمہارا غلام بناکر دنیا میںپید ا کیا ہے اور ان سب کا فرض ہے کہ وہ تمہاری خدمت کریں۔ بیشک یہ بڑی چیزیں ہیں مگر جس ہستی نے اِن کو پیدا کیا ہے وہ اِن سے بھی بڑی ہے ۔ اُس نے تو اِن چیزوں کو تمہاری خدمت کے لئے پیدا کیا ہے مگر تمہاری عجیب حالت ہے کہ تم اُلٹا اِنہیں کے آگے اپنے ہاتھ جوڑ رہے ہو۔ قرآن کریم نے جوشرک کی اس بیہودگی کی طرف اس زور سے توجہ دلائی ہے ۔ مجھے اس کے متعلق ایک قصہ یاد آ گیا وہ بھی بیان کرتا ہوں کہ اس سے مُشرکوں کی بے وقوفی پر خوب روشنی پڑتی ہے۔ وہ قصّہ یہ ہے کہ فرانس میںدو پادری ایک دفعہ سفر کر رہے تھے کہ سفر کرتے کرتے رات آ گئی اور انہیں ضرورت محسوس ہوئی کہ کہیں رات آرام سے بسر کریں اور صبح پھر اپنی منزلِ مقصود کی طرف روانہ ہو جائیں۔ انہوں نے ایک مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے ایک عورت نکلی، انہوں نے کہا ہم مسافر ہیں ، صرف رات کاٹنا چاہتے ہیں اگر تکلیف نہ ہو تو تھوڑی سی جگہ کا ہمارے لئے انتظام کر دیا جائے ،ہم صبح چلے جائیں گے۔ اُس نے کہا جگہ تو کوئی نہیں ،ایک ہی کمرہ ہے جس میں ہم میاںبیوی رہتے ہیں مگر چونکہ تمہیںبھی ضرورت ہے اس لئے ہم اس کمرہ میں ایک پردہ لٹکالیتے ہیں ایک طرف تم سوتے رہنا،دوسری طرف ہم رات گزار لیں گے۔ چنانچہ اس نے پردہ لٹکا دیا اور وہ دونوں اندر آگئے۔ اتفاق یہ ہے اُن کے پاس کچھ روپے بھی تھے، اب جب وہ سونے کے لئے لیٹے تو انہیں خیال آیا کہ کہیںیہ گھر والے ہماری نقدی نہ چُرالیں۔ اس لئے انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ ذرا ہوشیار رہنا اور جاگتے رہنا، ایسا نہ ہو کہ ہم لُوٹے جائیں۔ا دھر میاں جوپیشہ میںقصّاب تھا اِس خیال سے کہ ہمارے مہمانوں کی نیند خراب نہ ہو بیوی سے آہستہ آہستہ باتیںکرنے لگا۔ ان پادریوں کے پاس چونکہ روپیہ تھا انہوں نے سوچا کہ کہیں یہ لوگ ہمیں لُوٹنے کی تجویز تو نہیں کر رہے اور کان لگا کر باتیں سننے لگے۔ اُن دونوں میاں بیوی نے دو سؤر پال رکھے تھے جو سؤر خانے میںتھے اور وہ چاہتے تھے کہ ان میںسے ایک کو دوسرے دن ذبح کر دیں۔ اتفاق کی بات ہے کہ ایک سؤر موٹا تھا اور ایک دُبلا تھا۔ا سی طرح ایک پادری بھی موٹا تھا اور ایک دُبلا۔جب پادریوں نے کان لگا کر سُننا شروع کیا تو اُس وقت میاں بیوی آپس میںیہ گفتگو کر رہے تھے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایک کو ذبح کر دیا جائے ،خاوند کہنے لگا کہ میری بھی یہی صلاح ہے کہ ایک کوذبح کر دیا جائے۔ پادریوں نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے سمجھا کہ بس اب ہماری خیر نہیںیہ ضرور چھرا لے کر ہم پر حملہ کر دیں گے اور ہمیں مار کر نقدی اپنے قبضہ میں کر لیں گے مگر انہوں نے کہا ابھی یہ فیصلہ کرنا ٹھیک نہیں ذرا اور باتیں بھی سُن لیں ۔ پھر انہوں نے کان لگائے تو انہوںنے سُنا کہ بیوی کہہ رہی ہے پہلے کس کوذبح کریں؟ میاںنے کہا پہلے موٹے کو ذبح کرو پتلا جو ہے اُسے چند دن ِکھلا ِپلا کر پھر ذبح کردینگے۔ یہ بات انہوںنے جو نہی سُنی وہ سخت گھبرائے اور انہیں یقین ہو گیا کہ اب ہمارے قتل کی تجویز پختہ ہو چکی ہے چنانچہ انہوںنے چاہا کہ کسی طرح اس مکان سے بھاگ نکلیں۔ دروازے چونکہ بند تھے اس لئے دروازوں سے نکلنے کا تو کوئی راستہ نہ تھا۔ وہ بالا خانہ پر لیٹے ہوئے تھے انہوں نے نظر جوماری تو دیکھاکہ ایک کھڑکی کھلی ہے بس انہوںنے جلدی سے اُٹھ کر کھڑکی میں سے چھلانگ لگا دی جو موٹا پادری تھا وہ پہلے گِرا اور جو دُبلا پادری تھا وہ اس موٹے پادری کے اوپرآ پڑا۔دُبلے کو تو کوئی چوٹ نہ لگی، مگر موٹا جو پہلے گِرا تھا اُس کے پائوں میںسخت موچ آ گئی اور وہ چلنے کے ناقابل ہو گیا۔ یہ دیکھ کر دُبلا پادری فوراً بھاگ کھڑا ہؤا اور ساتھی کو کہتا گیا کہ مَیں علاقہ کے رئیس سے کچھ سپاہی مددکے لئے لاتا ہوں تم فکر نہ کرو اور اِدھر اُدھر چمٹ کر اپنے آپ کو بچائو۔ اُدھر موٹے پادری کو یہ فکر ہؤا کہ کہیں گھر والے چھُری لے کر نہ پہنچ جائیں اور مجھے ذبح نہ کر دیں۔چنانچہ اُس نے آہستہ آہستہ گھسٹنا شروع کیا اور گھسٹتے گھسٹتے وہ اُس سؤر خانہ کے پاس جاپہنچا جس میںمیزبان کے سؤر بند تھے مگراُسے کچھ پتہ نہ تھا کہ اندر سؤر ہیں یاکیا ہے، اُس نے خیال کیا کہ مَیں یہاں چُھپ کر بیٹھ جاتا ہوں تا کہ گھر والے میرا تعاقب کرتے ہوئے مجھے دیکھ نہ لیں ۔ جب اُ س نے سؤر خانہ کا دروازہ کھولا تو سؤر ڈر کے مارے نکل بھاگے اور یہ اندر چھپ کر بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ قصاب چُھری لے کے موٹے سؤر کو ذبح کرنے کے لئے وہاں پہنچ گیا۔پادری نے سمجھا کہ اب میری خیر نہیں یہ ضرور مجھے مارڈالے گا۔چنانچہ وہ اور زیادہ دبک کر کونے میںچھپ گیا۔ قصاب نے ڈنڈا ہلایا اور کہانکل نکل ، مگر وہ اور زیادہ سمٹ سمٹا کر ایک طرف ہو گیا وہ حیران ہؤا کہ سؤر نکلتا کیوں نہیں مگر خیرا س نے اور زیادہ زور سے ڈنڈا پھیر ا اور آواز دے کر سؤر کو باہر نکالنا چاہا اور آخر گھسیٹ کر باہر نکال لیا۔پادری نے سمجھ لیا کہ اب کوئی چارہ نجات کانہیں اب میرے ذبح ہونے کا وقت آ گیا ہے اور وہ آخری کوشش کے طور پر قصاب کے آگے ہاتھ جوڑ کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ میں پادری ہوں مَیں نے تمہارا کوئی قصور نہیں کیا۔ خدا کے لئے معاف کرو۔ ادھر قصاب نے جب دیکھا کہ سؤر کی بجائے اندر سے ایک آدمی نِکل آیا ہے تو وہ سخت حیران ہؤا اور اس نے سمجھا کہ یہ کوئی فرشتہ ہے جو میری جان نکالنے کے لئے یہاں آیا ہے چنانچہ وہ ڈر کر دوزانو ہو کر اُس کے سامنے بیٹھ گیا اور ہاتھ جوڑ کر درخواست کرنے لگ گیا کہ خدا کے لئے مجھ پر رحم کرو ابھی میں مرنے کے قابل نہیں مجھے اپنے کام درست کر لینے دو اور اپنے گناہوں سے تائب ہو لینے دو۔ اب یہ عجیب نظارہ تھا کہ ایک طرف پادری ہاتھ جوڑ ے جا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ خدا کے لئے مجھ پر رحم کرو اوردوسری طرف وہ قصاب ہاتھ جوڑ رہا تھا اور کہہ رہا تھا خدا کے لئے مجھ پررحم کرو۔تھوڑی دیر تو وہ اسی طرح ایک دوسرے کی منتیں سماجتیں کرتے رہے اور گھبراہٹ میں نہ وہ اِس کی سنتا تھا اور نہ یہ اُس کی مگر آخر دونوں کے ہوش کچھ بجا ہونے لگے اور انہوں نے دیکھا کہ نہ وہ اِس کو ذبح کرتا ہے اور نہ یہ اُس کی جان نکال رہا ہے بلکہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہے ہیں یہ دیکھ کر اُن کی عقل کچھ ٹھکانے لگی اور حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور قصاب نے جو غور کیا تو اپنے سامنے رات والا پادری بیٹھا دیکھا اور حیرت سے پوچھا کہ تم یہاں کہاں؟ اس نے کہا کہ رات کو ہم نے تم میاںبیوی کو یہ کہتے ہوئے سن پایا تھا کہ موٹے کو صبح ذبح کر دینگے او ر دُبلے کو کچھ دن ِکھلا ِپلا کر۔ اس لئے ہم کھڑکی سے کُود کر بھاگے اور میرا چونکہ پائوں چوٹ کھا گیا تھا مَیں اِس سؤرخانہ میں چُھپ کر بیٹھ گیا اور میرا ساتھی فوج کی مدد لینے گیا ہے۔ا س پر قصاب نے بے اختیار ہنسنا شروع کیااور بتایا کہ ان کے دو سؤر ہیں ایک موٹا اور ایک دُبلا۔ وہ تو ان سؤروں میں سے موٹے کے ذبح کرنے کی تجویز کر رہے تھے او رآہستہ آہستہ اس لئے بول رہے تھے کہ مہمانوں کی نیند خراب نہ ہو۔اتنے میں سرکاری سوار بھی آ گئے او ر اس حقیقت کو معلو م کر کے سب ہنستے ہنستے لَوٹ گئے۔یہی حال ستارہ پرستوں کا ہے۔ اللہ میاں نے ان کو انسانوں کی خدمت کے لئے مقرر کیاہے اور وہ انسان کی خدمت کر رہے ہیں مگر انسان ہے کہ اُن کے آگے ہاتھ جوڑ رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ خدا کے لئے ہم پر رحم کرو۔گویا ستارے اِس کے غلام بن رہے ہیں اور یہ اُن کا غلام بن رہا ہے ۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے اِس آیت کے آخر میں بیان کی ہے کہ یہ سب انسانوں کے خدمت گزار تو ہیں مگر انہی کے لئے جو ان امور کو دیکھیں اور عقل اور سمجھ سے کام لیں ایسے لوگ کبھی بھی ان کو خدائی صفات والا قرار نہیں دے سکتے۔ہاں اگر کوئی اس فرانسسکن (FRANCISCAN) پادری کی طرح بِلاوجہ ڈر کرہاتھ جوڑنے لگ جائے تو اور بات ہے۔
    سب اجرامِ فلکی ایک عالمگیر قانون کے تابع ہیں!
    (۲) دوسری بات مجھے یہ معلوم ہوئی کہ سورج چاند اور
    ستارے سب ایک عالمگیر قانون کے ماتحت چل رہے ہیںاور اس امر کا ثبوت ہیں کہ ایک زبردست ہستی ان سب پر حاکم ہے، چنانچہ مَیں نے قرآن کریم کو دیکھا تو وہاں یہ لکھا ہؤا تھاکہ ۶۷؎ یعنی اے بیوقوفو! کیا تمہیں معلوم نہیںآسمان اور زمین میں جو کچھ ہے اور سورج، چاند، ستارے،پہاڑ، درخت،چوپائے اور انسانوں میںسے بھی بہت سے لوگ سب خداتعالیٰ کی اطاعت میں لگے ہوئے ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہیں جن کے لئے عذاب مقرر ہو چکا ہے اور جسے خدا ذلیل کرے اُسے کوئی عزّت نہیں دے سکتا، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔غرض بتایا کہ دنیا میں جس قدر چیزیں ہیںوہ سب ایک قانون کے ماتحت چل رہی ہیں، سورج کیا اور چاند کیا اور ستارے کیا اور پہاڑ کیا اور درخت کیا سب ایک خاص نظام کے ماتحت حرکت کرتے ہیں اور ہر ایک کے منہ میں لگام پڑی ہوئی ہے پھر تم ان چیزوں کو جن کو خود لگامیں پڑی ہوئی ہیں خدا کس طرح قرار دیتے ہو۔ یہ چیزیں تو خود تمہارے آگے آگے بطور خدمت گار چل رہی ہیں مگر تم ایسے احمق ہو کہ تم انہی کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑے ہو اور اِس طرح اپنے آپ کو ذلیل کر رہے ہو اور یہ اس امر کی سزا ہے کہ تم نے اپنے پیدا کرنے والے خدا کو چھوڑ دیا۔ پس اُس نے تم کوتمہارے ہی غلاموں کا غلام بنا دیا اور جسے خدا ذلیل کرد ے اسے کوئی عزت نہیںدے سکتا۔ـ
    سورج کو ضیاء اور چاند کو نُور بنایا گیا ہے
    (۳)تیسری بات مجھے یہ معلوم ہوئی کہ سورج اپنی ذات میںروشن ہے اور چاند
    دوسرے سے روشنی اخذ کرتا ہے چنانچہ میں نے دیکھا کہ قرآن مجید میں لکھا ہؤا ہے۔ ۶۸؎ کہ خدا ہی ہے جس نے سورج کو ضیاء بنایا اور چاندکو نور ۔ضیاء کے معنے ہیں اپنی ذات میں جلنے والی اور روشن چیز۔ ا ور نور اُسے کہتے ہیں جو دوسرے کے اثرکے ماتحت روشن ہو۔ پس خداتعالیٰ نے اس آیت میں یہ بتادیا کہ سورج تو اپنی ذات میں روشن ہے مگر چاند سورج سے اکتسابِ نور کرتا ہے۔
    پھر اسی مضمون کو مَیں نے ایک اور لطیف طرز میںبھی قرآن کریم میںموجود پایا چنانچہ مَیں نے دیکھا کہ قرآن مجید میںلکھا ہے۔۶۹؎کہ کیا تم نہیں دیکھتے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو کس طرح تہہ بہ تہہ بنایا ہے اور چاند کو اُ س نے نور اور سورج کو اس نے سراج بنایا ہے، سراج اُس دِیے کو کہتے ہیں جس میں بتی روشن ہو۔ پس سراج کا لفظ استعمال کر کے بھی اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ سورج کے اندر خود ایک آگ ہے جس کی وجہ سے اس کی روشنی تمام جہان پر پھیلتی ہے۔موجودہ تحقیق نے بھی یہی ثابت کیا ہے کہ سورج میں ریڈیم کے اجزاء کی وجہ سے ایک جلتی ہوئی آگ ہے اور اسی وجہ سے وہ روشن ہے۔ اب دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے صرف سراج کے لفظ میں ہی آج سے تیرہ سَو سال پہلے وہ نکتہ بتا دیا تھاجسے تیرھویں صدی ہجری میںیورپین محققین نے دریافت کیا اور بتادیا تھا کہ سورج کی روشنی ذاتی ہے اور چاند کی طفیلی جس طرح دِیے کی بتّی جلتی ہے اسی طرح سورج میںایک ایسی آگ ہے جس کی وجہ سے وہ ہر وقت روشن رہتا ہے مگر چاند میںایسی کوئی روشنی نہیںوہ جو کچھ حاصل کرتا ہے سورج سے حاصل کرتا ہے اسی لئے سورج کو تو سراج کہا مگر چاند کو نور قرا ردیا۔
    (۴) چوتھی بات قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ سورج اور چاند کی بناوٹ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ آخر یہ بھی فنا ہو جائیںگے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۷۰؎ کہ خدا ہی ہے جس نے آسمانوں کو بغیر کسی ستون کے بلند کیا۔ پھر وہ عرش پر جاگزیں ہو گیا اور اُس نے سورج اور چاند کو انسانوں کی خدمت کے لئے مقر رکردیا، ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے دائرہ میں حرکت کر رہا ہے مگر یہ تمام حرکات ایک وقت مقررہ تک ہیں، جب مقررہ وقت ختم ہو گیا تو اس کے بعد ان پر تباہی آجائے گی، آجکل اہل یورپ کی تحقیقات سے بھی یہی ثابت ہؤا ہے کہ یہ تمام چیزیں ایک دن تباہ ہو جائیں گی، پہلے یورپین لوگ قیامت کے منکر ہؤا کرتے تھے اور وہ اسلام کے اس عقیدہ کو تسلیم نہیں کرتے تھے کہ کسی دن تمام کارخانۂ عالَم درہم برہم ہو جائے گا اور سورج ، چاند اور ستارے سب فنا ہو جائیںگے مگر موجودہ تحقیق سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ستاروں، چاند اور سورج کی گردش ایک دن یقینا ٹوٹ جائے گی اور دنیا پر قیامت آ جائے گی اللہ تعالیٰ قرآن کریم میںیہی فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو تمہارے لئے ّمسخر تو کیا ہے مگر ان تمام کی رفتار یں ایک دن ختم ہونے والی ہیں یہ نہیں کہ یہ کوئی دائمی چیز ہیں۔
    سورج اور چاند کا حساب اور تاریخ سے تعلق
    (۵) پھر مَیں نے یہ معلوم کرنا چاہا کہ ان رصدگاہوں سے جو حساب
    وغیرہ نکالتے ہیں کیا یہ صحیح ہے اور کیا قرآنی رصدگاہ میںاس کو تسلیم کیا گیا ہے؟ مَیں نے جب غور کیا تو مجھے معلوم ہؤا کہ قرآن اِس بات کو بھی تسلیم کرتا ہے اور وہ فرماتا ہے کہ سورج اور چاند یہ دونوں حساب اور تاریخ بتانے کے لئے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۔
    کہ ہم نے سورج کو ضیاء اور قمر کو نور بنایا ہے اسی طرح سورج اور چاند کی ہم نے منازل مقرر کردی ہیں تا کہ تمہیں سالوںکی گِنتی اور حساب معلوم ہؤا کرے گویا سورج اور چاند دونوں سالوں کی گِنتی اور حساب کا ایک ذریعہ ہیں، اسی طرح فرمایا۔۔۷۱؎ کہ خدا صبح کو نکالنے والا ہے۔اسی نے رات کو سکون کا موجب اور سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ بنایا ہے اور یہ فیصلہ ایک غالب اور علم رکھنے والے خدا کا ہے پھر فرمایا۷۲؎
    سورج اور چاند دونوں ہم نے حساب کے کام پر لگائے ہوئے ہیں۔
    مَیں نے جب قرآن کریم میںان آیات کو دیکھا اور ان پرغور وتدبّر کیا تو مَیںاس نتیجہ پر پہنچا کہ واقع میں تاریخ اور حساب کے ساتھ سورج اور چاند دونوں کا بہت بڑا تعلق ہے اور یہ علوم کبھی ظاہر نہیں ہو سکتے تھے اگر سورج اور چاند کا وجود نہ ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ حساب کی وسعت ستاروں کی رفتار سے ہوئی ہے اور جس قدر باریک حساب ہیں وہ علمِ ہیئت کی وجہ سے ہی ہیں۔ اگر علمِ ہیئت نہ ہوتا اور ستاروں کی گردشیں اور ان کی رفتاریں مقرر نہ ہوتیں تو اربوں کھربوں کے جس قدر حسابات ہیں وہ کبھی صحیح طور پر نہ ہو سکتے۔ اسی طرح سورج اور چاند اگر نہ ہوتے تو دِنوں اور سالوں کا اندازہ نہ ہو سکتا اس لئے کہ اندازہ اور فاصلہ معلو م کرنے کے لئے کسی مستقل چیز کا موجود ہونا ضروری ہوتا ہے جیسے پٹواری جب حساب لگاتے ہیںتوکہتے ہیں کہ فلاں زمین فلاں کنویں سے اتنے کرم کے فاصلہ پر ہے یا فلاں درخت سے اتنے کرم کے فاصلہ پر ہے پس کسی مستقل چیزکے بغیر فاصلے کا معلوم کرنا ناممکن ہوتا ہے اِسی وجہ سے سالوں اور دنوں کا بھی اندازہ نہ ہو سکتا اگر سورج اور چاند نہ ہوتے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر سورج اور چاند نہ ہوتے اور یونہی روشنی ہو جاتی یا تاریکی ہو جاتی تو اس طرح بھی دن رات ہو سکتے تھے مگر سوال یہ ہے کہ اگر یونہی روشنی ہو جاتی تو اس کامستقل کنارہ کونسا ہوتا اور کیونکر معلوم ہوتاکہ فلاں مستقل کنارے سے فلاںسال شروع ہؤا ہے اور فلاں مستقل کنارے سے فلاں سال۔
    تقویم شمسی کی ضرورت اور اس کی اہمیت
    بہرحال چاند اور سورج دونوں کا سالوں، مہینوں اور دِنوں کے حساب سے تعلق
    ہے، لیکن مجھے خیال آیا کہ چاند سے تو ہم پھر بھی کچھ نہ کچھ فائدہ اُٹھا رہے ہیں اور ہجری قمری ہم میں جاری ہے جس سے لوگ بہت کچھ فائدہ اُٹھاتے ہیں مگر سورج سے تو ہم بالکل فائدہ نہیں اُٹھا رہے حالانکہ جیسا کہ قرآن کریم بیان کرتا ہے سورج اور چاند دونوں ہی حساب کے لئے مفید ہیں اور دوسری طرف عقلی طور پر بھی اگر دیکھا جائے تو اِن دونوں میںفوائد نظر آتے ہیں۔ چنانچہ وقت اور زمانہ کی تعیین کے لحاظ سے سورج مفید ہے اور عبادتوں کوشرعی طریق پر چلانے کیلئے چاند مفید ہے اس لئے کہ چاند کے لحاظ سے موسم بدلتے رہتے ہیں اور انسان سال کے ہر حصہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا قرار پا سکتا ہے۔مثلاً رمضان ہے اب اس کا انحصار چونکہ قمری مہینوں پر ہے اس لئے ۳۶ سال میں ایک دَور ختم ہو جاتا ہے اور سال کے بارہ مہینوں میں ہی رمضان کے ایام آجاتے ہیں، کبھی جنوری میں آجاتا ہے، کبھی فروری میں آ جاتا ہے، کبھی مارچ میں آجاتا ہے، کبھی اپریل میں آجاتا ہے غرض وہ کبھی کسی مہینہ میںآ جاتا ہے اور کبھی کسی مہینہ میں اور اس طرح سال کے تین سَو ساٹھ دِنوںمیں ہر دن ایسا ہوتا ہے جس میںانسان نے روز ہ رکھا ہوتا ہے لیکن اگر قمری مہینوں کی بجائے شمسی مہینوں پر روزے مقرر ہوتے تو اگر ایک دفعہ جنوری میں روزے آتے تو پھر ہمیشہ جنوری میں ہی روزے رکھنے پڑتے اور اس طرح عبادت کو وسعت حاصل نہ ہوتی ۔پس عبادت کو زیادہ وسیع کرنے کے لئے اور اس غرض کے لئے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر لحظہ کے متعلق یہ کہہ سکے کہ وہ اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میںگزارا ہے، عبادت کا انحصار قمری مہینوں پر رکھا گیا ہے،لیکن وقت کی تعیینِ صحیح کے لئے سورج مفید ہے اور سال کے اختتام یا اس کے شروع ہونے کے لحاظ سے انسانی دماغ سورج سے ہی تسلی پاتا ہے۔ بہرحال مجھے خیال آیا کہ ہم مسلمانوں نے قمری تاریخوں سے تو فائدہ اُٹھایا ہے لیکن شمسی تاریخوں سے فائدہ نہیں اُٹھایا ، حالانکہ قمری شمسی دونوں میںفوائد ہیں اور چونکہ ہر انسان شمسی حساب پر مجبور ہوتا ہے اس لئے مسلمانوں نے بھی مجبوراً عیسوی سن استعمال کرناشروع کر دیا حالانکہ اگر ہم ہجری قمری کے ساتھ ہجری شمسی بھی بناتے اور ہجری قمری تاریخوں کے بِالمقابل ہجری شمسی تاریخیں بھی ہوتیں توقطعاً کوئی جھگڑا نہ ہوتا۔
    اب اگر کوئی شخص یہ معلوم کرنا چاہے کہ ۶۲۲ ہجری کب تھا اوراُس وقت شمسی کے لحاظ سے کونسا سال تھا تو وہ فوراً معلوم نہیں کر سکتا اور محض۶۲۲ہجری کہنے سے اس کی تسلی نہیں ہوتی کیونکہ سال کے لحاظ سے انسانی دماغ سورج ہی سے تسلی پاتا ہے، اسی وجہ سے لوگ ہجری قمری سالوں کے عیسوی سن معلوم کرتے ہیں اور اس طرح خواہ مخواہ مسلمان بھی عیسوی سن کو اپنے اندر رائج کئے ہوئے ہیں۔
    میرے نزدیک ضروری تھا کہ جس طرح ہجری قمری بنائی گئی تھی اسی طرح ہجری شمسی بھی بنائی جاتی اور ان دونوں سے فائدہ اُٹھایا جاتا، مگر مجھے یہ بات جنتر منتر کودیکھ کر سُوجھی اور مَیں نے اُسی وقت سے تہیہ کرلیا کہ اِس بارہ میں کامل تحقیق کر کے عیسوی شمسی سن کی بجائے ہجری شمسی سن جاری کر دیا جائے گا۔ جب میں واپس آیا تو اتفاق کی بات ہے کہ مجھے اس بارہ میں اپنی لائبریری سے ایک کتاب بھی مل گئی۔ میر ے ساتھ خداتعالیٰ کی یہ عجیب سنت ہے کہ مجھے جب بھی کسی چیز کی شدید ضرورت ہو وہ آپ ہی آپ میرے سامنے آجاتی ہے بعض دفعہ مجھے قرآن کریم کی آیتوں کے حوالوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اُس وقت کوئی حافظ پاس ہوتا نہیں تو مَیں نے اکثر دیکھا ہے کہ ایسے وقت میںبسا اوقات جب قرآن کھولتا ہوں تو وہی آیت سامنے آ جاتی ہے جس کی مجھے ضرورت ہوتی ہے۔
    گزشتہ سال مَیں نے جلسہ سالانہ پرجو تقریر کی، اُس کے نوٹ لکھنے کی مجھے فُرصت نہیں ملتی تھی۔ ایک دن میں نے اس کا چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب سے ذکر کیا تووہ ہنس کر کہنے لگے کہ میں نے تو دیکھا ہے جب بھی آپ کو فُرصت نہ ملے اُس وقت خداتعالیٰ کی خاص تائید ہوتی ہے چنانچہ واقعہ میںایسا ہی ہؤا جب مَیںنوٹ لکھنے کے لئے بیٹھا جس کے لئے بہت سے حوالوں کی ضرورت تھی تو وہ حیرت انگیز طور پر جلد جلد نکلتے گئے حتیٰ کہ ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ بعض حوالہ جات کی مجھے ضرورت پیش آئی مگر میراذہن اُس طرف نہ جاتا تھا کہ وہ حوالہ جات کس کتاب میںسے ملیں گے۔ارادہ تھا کہ بعض اور دوستوں کو بُلا کر اُن کے سپرد حوالہ جات نکالنے کا کام کردُوں کہ اتفاقاً کسی اور کتاب کی تلاش کے لئے مَیں نے کتابوں کی الماری جو کھولی تو مَیں نے دیکھا کہ اس میں چندکتابیں بے ترتیب طو ر پر گِری ہوئی ہیں مَیں نے انہیں ٹھیک کرنے کے لئے اُٹھایا تو ان میں سے مجھے ایک کتاب مل گئی جس کے لائبریری میںہونے کا مجھے علم نہیں تھا، مَیں نے اُسے کھولا تو اس میںاکثر وہ حوالے موجود تھے جن کی مجھے اُس وقت ضرورت تھی۔
    اسی طرح مَیں بعض اور کتابوں کی تلاش کر رہا تھا کہ اتفاقاً ایک کتاب نکل آئی جس کا نام ہے ’’تَقْوِیْمُنَا الشَّمْسِیُّ‘‘ اس میں مصنف نے بحث کرتے ہوئے تاریخی طور پر اس بات کو ثابت کیا ہے کہ مسلمانوں میں دیر سے یہ خیال چلا آ رہا ہے کہ ہجری قمری کی طرح ہجری شمسی بھی ہونی چاہئے وہ کہتا ہے کہ خلفائے عباسیہ نے بھی ہجری شمسی تقویم بنانے کی کوشش کی مگر اس میں فلاں فلاں روک پیدا ہو گئی اسی طرح وہ لکھتا ہے کہ بعد میں دولتِ عثمانیہ نے بھی ہجری شمسی بنائی مگر رائج نہ ہو سکی، غرض اُس نے تاریخی طو ر پر اس کتاب میں یہ بحث کی ہے کہ مسلمانوں میںیہ خیال کب پیدا ہؤا اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے کیا کیا کوششیں ہوئیں اور کیا کیا نقائص ہوتے رہے۔ بہرحال یہ خیال مسلمانوں میںدیر سے پایا جاتا ہے بلکہ اس حد تک یہ خیال مضبوطی سے گڑا ہؤا معلوم ہوتا ہے کہ اِس کتاب کا مصنف کتاب کا نام محض تقویم شمسی نہیں رکھتا بلکہ ’’تَقْوِیْمُنَا الشَّمْسِیُّ‘‘ رکھتا ہے یعنی ہماری اپنی شمسی ہجری تقویم۔
    میرا رادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آئندہ عیسوی شمسی سن کی بجائے ہجری شمسی سن جاری کیا جائے اور عیسوی سن کے استعمال کو ترک کر دیا جائے میرا ارادہ ہے کہ ایک دو مہینہ تک اس بارہ میں پوری تحقیق کر کے ہجری شمسی سن جاری کر دیا جائے اور آئندہ کے لئے عیسوی سن کا استعمال چھوڑ دیا جائے، خواہ مخواہ عیسائیت کا ایک طَوق ہماری گردنوں میں کیوں پڑا رہے (یہ تحقیق میری مقرر کر دہ ایک کمیٹی نے مکمل کر کے تقویم شمسی ہجری تیار کر دی ہے اور دو سال سے اس کا کیلنڈر شائع ہو رہاہے)
    نظام شمسیکا تمدّنی ترقی سے تعلق
    (۶) قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ نظام شمسی ایک خاص قانون کے ماتحت ہے اور اس کا قانون
    انسانی کاموں کیلئے بطور ایک نمونہ کے مقرر کیا گیا ہے اور اس سے انسان کی تمدّنی ترقی کیلئے ایک ہدایت اور راہنمائی حاصل ہوتی ہے فرماتا ہے۔۷۳؎ سورج اور چاند دونوںایک حساب کے ماتحت کام کر رہے ہیںیعنی ان کی حرکات قانون سے آزاد نہیںہیں بلکہ ایک معیّن اور مقررہ قانون کے مطابق ہیں اور اسی مقررہ قانون کا نتیجہ یہ ہے کہ زمین کی روئیدگی اور سبزہ اس قانون کے ماتحت چلتا ہے اور اس سے متأثر ہوتا ہے۔ سجد ہ کے معنے فرمانبرداری کے بھی ہوتے ہیں اور کے اس جگہ یہی معنے ہیں اورکے معنے جڑی بوٹی کے بھی ہوتے ہیں اور وہی معنے اِس جگہ مراد ہیں کیونکہ شجر کے ساتھ جس کے معنے درخت کے ہیں اس کا عطف ہے اور آیت کامطلب یہ ہے کہ بغیر تنے والی سبزیاں ہوںیا تنے والے درخت ہوں سب اپنے اُگنے، نشوونما پانے اور پھل لانے میںسورج اور چاند کے پیچھے چلتے ہیں اور ان سے متأثر ہوتے ہیں ۔ چنانچہ دیکھ لو دنیا کے حصہ شمالی اور حصہ جنوبی میں موسم کا فرق ہوتا ہے جب شمال میںسردی ہوتی ہے جنوب میں گرمی ہوتی ہے اور جب شمالی حصہ میں گرمی ہوتی ہے جنوبی حصہ میں سردی ہوتی ہے اور اِس تغیّر کی وجہ سے دونوں حصوں کی فصلوں کے موسموں میں بھی فرق پڑجاتا ہے اور اسی کی طرف میں اشارہ فرمایا ہے کہ سورج اور چاند جس قانون کے تابع ہیںاسی کے تابع سبزیاں، ترکاریاں، جڑی بوٹیاں اور بڑے درخت ہیں اور وہ ان سے متأثر ہوتے ہیں۔ پس اس آیت سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ زمین کے اندر جو تغیرات ہوتے ہیں وہ نظام شمسی کا ایک حصہ ہیںاور ان سے متأثر ہوتے ہیں آزاد نہیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے یعنی اس سورج چاند کے نظام کے اوپر ایک اور نظام ہے یعنی نظامِ شمسی نظامِ عالَم کے ماتحت ہے جس طرح کہ نظامِ ارضی نظامِ شمسی کے ماتحت ہے اور نظامِ عالَم بھی ایک معیّن اور مقررہ قانون کے تابع ہے اور اس کے اجزاء ایک دوسرے سے آزاد نہیں ہیں۔ اس آیت میںکیسی زبردست سچائی بیان کی گئی ہے جو قرآن کریم کے وقت میں کسی کو معلوم نہ تھی، بلکہ صرف حال ہی کے زمانہ میںاس کا علم لوگوں کو ہؤا ہے اور وہ یہ ہے کہ نظامِ شمسی ہی ایک نظام نہیں بلکہ وہ نظام ایک اور بالا اور وسیع تر نظام کا حصہ ہے جو یعنی عالَمِ محتوی کہلاتا ہے اور کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ نظام ماقبل کے بیان کردہ نظاموں سے یعنی نظامِ ارضی اور نظامِ شمسی سے بلند مرتبہ اور وسیع تر ہے اور کہہ کر یہ بتایا ہے کہ وہ بالا اور بلند نظام بھی میزان کے تابع رکھا گیا ہے اور ایک قانون کا پابند کر دیا گیا ہے آزاد نہیں ہے۔
    اِس مضمون میں مندرجہ ذیل علوم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:-
    (۱) نظامِ ارضی نظامِ شمسی کے تابع ہے نہ کہ اس پر حاکم یہ وہ نکتہ ہے جسے مشہور مہندس گلیلیو (GALILEO) نے جب دریافت کیا اور اس امر کا اعلان کیا کہ زمین سورج کے گِرد گھومتی ہے نہ کہ سورج زمین کے گرد، جیسا کہ اُس وقت عام خیال تھا تو اُس پر عیسائی دنیا نے کُفر کا فتویٰ لگادیا اور کہا کہ اگر اِس امر کو تسلیم کرلیا جائے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو پھر سورج کو زمین سے افضل ماننا پڑیگا اور اس کے نتیجہ میںانسان کی افضلیت مشتبہہ ہو جائے گی اور مذہب باطل ہو جائے گا اور اس دلیل کی بناء پر گلیلیو پر سخت ظلم کئے گئے اُسے قید کیا گیا، پِیٹا گیا یہاں تک کہ سالہاسال کے ظلموں کوبرداشت نہ کر کے اس غریب کو یہ کہہ کر توبہ کرنی پڑی کہ جو عیسائیت کہتی ہے وہ ٹھیک ہے شیطان نے مجھے دھوکا دیکر یہ دکھادیا کہ زمین سورج کے گِرد چکر لگاتی ہے تب جا کر اُس کی تکلیف کسی قدر دُور ہوئی،لیکن قرآ ن کریم کو دیکھو وہ کس طرح شروع سے ہی فرما رہا ہے کہ ہم نے سورج اور چاند کو خاص قانون کے ماتحت بنایا ہے اور وہ اس قانون کی پابندی کر رہے ہیں اور زمین کی روئیدگیاںآگے ان کے قانون کے تابع چل رہی ہیں۔
    اگر کوئی کہے کہ سورج کے گِرد تو زمین چل رہی ہے ،لیکن چاند تو زمین کے گِرد چکر لگا رہا ہے تو اِس کا جواب یہ ہے کہ یہی تو قرآن کریم کا منشاء ہے کہ ایک کُرّہ جس کے تابع زمین ہے اس کو لے لیا گیا ہے اور ایک وہ جو زمین کے تابع ہے اُسے لے لیا گیا ہے اور بتایا ہے کہ زمین دونوں سے متأثر ہو رہی ہے۔ ا س سے بھی جس کے گِرد وہ گھومتی ہے اور اُس سے بھی جو اِس کے گِردگھومتا ہے اور ا س سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ادنیٰ بھی اعلیٰ پر اثر انداز ہوتا ہے اور ماتحت بھی حاکم پراپنا اثر چھوڑتا ہے اس لئے طاقتور کو غرور سے کام نہیںلینا چاہئے اور کمزور سے آنکھیںنہیں بند کرلینی چاہئیں کیونکہ یہ ا س سے بھی متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور ضرور ہے کہ اس کے اثر کو بھی قبول کرے پس اگر اس کی اصلاح نہ کرے گا تو خود بھی تباہ ہو گا اور اگر اسے نہ اُٹھائے گا تو خود بھی گِرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہی یہ ہے کہ ہر شَے اپنے سے اعلیٰ اور اپنے سے ادنیٰ دونوں سے اثر قبول کرتی ہے اور حاکم اور محکوم دونوں اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
    نظامِ ارضی نظامِِ شمسی کا ایک حصّہ ہے
    خلاصہ یہ ہے کہ اوپر کی آیات میںیہ قانون بیان کیا گیا ہے کہ نظامِ ارضی ایک وسیع نظام
    یعنی نظامِ شمسی کا ایک حصہ ہے اور یہ نہیں کہ سورج اس زمین کے گِرد چکر کھاتا ہے اور اس کے تابع ہے جیسا کہ کچھ عرصہ قبل تک دنیا کا عام خیال تھا ۔دوسری بات یہ بتائی ہے کہ نظامِ شمسی ایک اور نظام کے تابع ہے جو اِس سے بالا اور وسیع تر ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو قرآن کریم کے زمانہ تک دنیا کے کسی فلسفی یا مذہبی شخص نے بیان نہیں کیا تھا بلکہ وہ سب کے سب نظامِ شمسی ہی کو اہم ترین اَورآخری نظام سمجھتے تھے مگر قرآن کریم نے آج سے تیرہ سَو سال پہلے بتا دیا تھا کہ نظامِ شمسی ایک اور نظام کے تابع ہے جو اِس سے بالا اور وسیع تر ہے۔
    فلک کی تشریح
    اگر کہا جائے کہ پہلے فلاسفروں نے بھی افلاک کے وجود کو تسلیم کیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم نے بھی فلک کا وجود تسلیم کیا ہے مگر وہ شَے سَمَاء
    سے جُدا ہے۔ فلک درحقیقت نظامِ شمسی کے پھیلائو کا نام ہے اور اُن وُسعتوں کو کہتے ہیں جن میں نظامِ شمسی کے افراد چکر لگاتے ہیں۔ چنانچہ سورہ انبیاء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۷۴؎
    یہی مضمون سورہ یٰس رکوع ۳ میں بھی آیا ہے ۔ پس فلک یا افلاک کو تسلیم کر کے یونانی فلاسفر اس نظامِ سماوی کے قائل نہیں کہلا سکتے جس کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے۔ وہ افلاک کے علاوہ اَور شَے ہے اور نظامِ شمسی کے اوپر کے نظاموں پر دلالت کرتا ہے اور صرف ایک محیط پر دلالت نہیں کرتا جس میںنظامِ شمسی کے افراد چکر لگاتے ہیں۔
    تیسری بات اِس آیت میں یہ بتائی گئی ہے کہ یہ نظام ہم نے اس لئے بنایا ہے کہ ۔
    تم میزان میں تعدّی سے کام نہ لو اور انصاف کے ساتھ وزن کو قائم رکھو اور وزن میں کوئی کمی نہ کر و۔یا یہ کہ ہم نے تم کو بیان العلوم اس لئے سکھایا ہے کہ تا میزان میں تعدّی سے کام نہ لو وغیرہ وغیرہ۔اس میں یہ نکتہ بتایا ہے کہ ا نسان اُسی وقت ظلم اور زیادتی سے کام لے سکتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو قانونِ عالَم سے آزاد سمجھتا ہو لیکن اگر وہ اپنے آپ کو عالَم کی مشین کا ایک پُرزہ سمجھتا ہو تو کبھی اپنے مقام کو نہیں بھول سکتا۔ کیونکہ مشین کا جوپُرزہ اپنی جگہ سے ہِل جائے تو وہ ٹوٹنے اور کمزور ہو جانے کے خطرہ میںپڑ جاتا ہے یا خود اُس مشین کو توڑ ڈالتا ہے جس کا وہ پُرزہ ہوتا ہے ۔ پس فرماتا ہے کہ نظامِ شمسی انسانی ہدایت کا موجب ہے اور اس کی تأثیرات کو دیکھ کر انسان معلوم کر سکتا ہے کہ میں آزاد نہیں بلکہ ایک نظام کا فرد یا ایک مشین کا پُرزہ ہوں۔ پس اگر مَیں نے دوسرے کَل پُرزوں کے کام میںدخل دیا اور اُن کے حق کو چھیننا چاہا یا اپنے کام میں سُستی کی یا دوسروں کے حق ادا کرنے میں کوتاہی کی تو اس کا نقصان مجھے ہی پہنچے گا اور جب میں بظاہر دوسرے پر ظلم کر رہا ہوں گا تو درحقیقت مَیں اپنی ہی جان پر ظلم کر رہا ہو نگا اور جب مَیں کسی کا حق کسی اَور کو دے رہا ہوں گا تو درحقیقت اپنے ہی حق کو ضائع کر رہا ہونگا۔
    چوتھی بات یہ بتائی ہے کہ نظامِ عالَم انسان کے تمدّن میںترقی کے لئے ایک بہت بڑی ہدایت ہے اگر انسان نظامِ عالَم کو اپنا راہنما بنا کر اس کے مطابق نظامِ انسانی کو ڈھال لے تو وہ ہر قسم کی تکالیف سے بچ سکتا ہے اور نقصانوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ اس نظام میں ہر فرد اپنے مفوّضہ کام کو بجا لا رہا ہے اور دوسرے کے دائرہ میں دخل نہیں دیتا نہ ظلم کے ساتھ نہ تخسیر کے ساتھ یعنی نہ اس سے زیادہ کام لیتا ہے نہ اس کا حق کم کرتا ہے اور نہ دوسرے کے کام میں دخل دیتا ہے۔یہی اطاعت، ذمّہ داری کی ادائیگی کا احساس اوردوسرے کے امور میں دخل اندازی سے اجتناب ہی ایسے قوانین ہیںجن کو نظر انداز کر کے بنی نوع انسان اپنے تمدّن کو تباہ اور برباد کر رہے ہیں۔
    نظامِ عالَم کی کامیابی کے تین اصل
    اِس جگہ نظامِ عالَم کے کامل ہونے کے تین اصل بیان فرمائے ہیں۔
    (۱) کوئی فرد اپنے مفوّضہ کام سے زیادہ نہیں کر رہا ۔
    (۲) ہر فرد اپنے مفوّضہ کام کو پوری طرح ادا کر رہا ہے۔
    (۳) کوئی فرد دوسرے فرد کو اس کے فرض کی ادائیگی سے روک نہیں رہا ، یا اس کے اد ا کرنے کی قابلیت سے اسے محروم نہیں کر رہا۔
    غور کر کے دیکھ لو نظامِ عالَم کی کامیابی کا انحصار انہی تین باتوں پر ہے اور انسانی نظام کی خرابی یا بے ثباتی کا سبب بھی ا ن تینوں یاان میں سے کسی کا فُقدان ہوتا ہے اور انہیں سے محفوظ رہنے کے لئے قرآن کریم نے نظامِ عالَم کو دیکھنے اور اس سے سبق لینے کے لئے اس جگہ اشارہ فرمایا ہے۔ یہ آیات سورۃ الرحمن کے شروع میں ہیںجہاں کہ قرآن کریم کی آمد کی غرض بیان کی گئی ہے۔ظاہر ہے کہ خالی ترازو کے تول اور بٹّوں کے درست رکھنے کا مضمون نہ تو قرآن کریم کے نزول کے اغراض سے خاص تعلق رکھتا ہے اور نہ نظامِ عالَم سے ۔ پس ظاہر ہے کہ اس جگہ گیہوں اور چاولوں کے ماپ اور تول کا ذکر نہیں بلکہ انسانی اعمال کے ماپ اور تول کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ انسان کو اپنی سوسائٹی کے بنیادی اصول نظامِ عالَم کے مطابق رکھنے چاہئیں اور جو قیود اور حدبندیاں اِس پر الٰہی قانون نے لگائی ہیں ان کو توڑنا نہیں چاہئے اور نہ تو یہ کرنا چاہئے کہ کام کا اِس قدر جوش ہو کہ دوسروں کے مفوّضہ کاموںمیں دخل دینے لگ جائے اور نہ یہ غفلت کرے کہ اپنے فرض کو بھی ادا نہ کرے اور نہ یہ ظلم کر ے کہ دوسروں کو بھی ان کے کام سے روکے خواہ بِالواسطہ یا بِلاواسطہ۔
    قومی تباہی کے اسباب
    اب دیکھ لو کہ نظامِ انسانی کی تباہی ان تین امور سے ہی وابستہ ہے جب کوئی قوم ہلاک یا تباہ ہوتی ہے تو اِس کایا تو یہ سبب ہوتا ہے کہ
    بعض ذہین اور طبّاع لوگ اپنے جوشِ عمل سے گمراہ ہو کر دوسروں کی ذمہ داریاں اپنے اوپر لینی شروع کر دیتے ہیں یا توغیر قوموں کی حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میںلینے کی کوشش کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اِس طرح وہ دنیا پراحسان کر رہے ہیں یا خود اپنے ملکی یا قومی نظام میںا س قدر کام اپنے ذمہ لے لیتے ہیں کہ ان کا پورا کرنا ان سے ناممکن ہوتا ہے اور اس طرح ملکی یا ملّی کام تبا ہ ہو جاتے ہیں اور قوم یا ملک بجائے ترقی کرنے کے تنزّلکی طرف چلا جاتا ہے۔بڑے بڑے فاتحین جو شہاب کی طرح چمکے شہاب کی طرح ہی غائب ہو گئے ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ اُنہوں نے خود توکچھ شہرت اور عزت حاصل کرلی لیکن قومی نظام کو ایک دھکّا لگا گئے اور نظامِ ارضی کی مشین میںان کی قوم کے پُرزہ کی جو جگہ تھی اس سے ہِلا کر دوسری جگہ کر گئے جس سے قوم کو بھی صدمہ پہنچا اور دنیا کو بھی ۔اسی طرح وہ جو شیلے قومی کارکن جو ہر مجلس پر چھا جانا چاہتے ہیں اور جوشِ عمل کی وجہ سے سب عُہدے اپنے ہی ہاتھوں میںرکھنا چاہتے ہیں قوم کی تباہی کاموجب ہو جاتے ہیں، کیونکہ ایک تو وہ سب کام اچھی طرح کر ہی نہیں سکتے اور دوسرے اس وجہ سے قوم میںاچھے دماغ پیدا ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے کیونکہ باقی دماغ نکمیّ رہ کر کمزور ہو جاتے ہیں۔حال ہی میںایک وسیع ہندوستانی ادارہ کے بارہ میں ایک معزّز ہندوستانی نے مجھ سے کہا کہ مَیںبارہا اس ادارہ کے کرتا دھرتا کو کہہ چکا ہوں کہ تم اِس ادارہ کو منظم کرو، سیکرٹریٹ بنائو، انسپکٹر مقرر کرو، تا کہ کام وسیع ہو اور کام کرنے والوں کی جماعت تیار ہو مگر وہ سنتا ہی نہیں۔ یہ شکایت ان کی بجا تھی اور مَیں نے دیکھا ہے کہ اس کانتیجہ یہ ہؤا ہے کہ اس ادارہ میںکام کرنے والی کوئی نئی پود تیار نہیںہورہی۔ ڈکٹیڑوں پر ڈیماکریسیز کو اِسی وجہ سے فوقیت حاصل ہوتی ہے کہ اس میں کام کرنے والے پیدا ہوتے رہتے ہیں اور ان کے آگے بڑھنے کے لئے راستہ ُکھلا رہتا ہے پس جو قوم یا ملک اچھا نظام اور پائیدار نظام قائم کرنا چاہے اسے نظامِ عالَم سے یہ سبق سیکھ لینا چاہئے کہ ہر فرد اپناکام ہی کرے دوسروں کے کام سمیٹنے کی کوشش نہ کرے ، ورنہ وہ سب کام نہ کر سکے گا اور دوسروں کے دماغ معطّل ہوجائینگے۔ قومی زندگی پائیدار بنانے کے لئے متواتر لائق افراد کاپیداہوناضروری ہے اور لائق افراد بغیر تجربہ اور عملی کام کے پیدا نہیں ہو سکتے۔پس زیادہ ذہین اور قابل اشخاص کا فرض ہے کہ وہ کام کو اچھا بنانے کے شوق میںدوسروں کے لئے راستہ بند نہ کریں بلکہ دوسروں کو جو خواہ ان سے کم لائق ہوں کام کرنے کا موقع دیں ، تا کہ وہ بھی تجربہ حاصل کر کے اس خلاء کو پُر کرنے کے قابل ہوں جوبڑوں کے مرنے کے بعد ضرورہو کر رہیگا۔
    دوسری خرابی جو نظامِ ملکی یا سیاسی کو تباہ کرنے کا موجب ہوتی ہے یہ ہے کہ ہر فرد اپنے فرض کو پوری طرح ادا نہیںکر رہا ہوتا جس طرح زیادہ کام اپنے ہاتھ میںلے لینا نقصان کاموجب ہوتا ہے اسی طرح اپنے مفوّضہ کام کو پورا نہ کرنا بھی تباہی کا موجب ہوتا ہے۔پس سوسائٹی یا ملک یا قوم اُسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب کہ اس کے تمام افرا د میںذمہ داری کا علم اور اُس کی ادائیگی کا احساس پیدا ہو۔ اور یہ تبھی ہو سکتا ہے کہ اوّل تمام قوم کے اندر علم پیداکیاجائے اور پھر اس علم کو عمل کی صورت میں بدلنے کی کوشش کی جائے تا کہ قوم کا ہر فرد اپنی ذمہ داری کو اد اکرے جس طرح کہ نظامِ عالَم کا ہر فرد اپنے فرض کوادا کر رہا ہے۔
    تیسری خرابی قومی نظام کو تباہ کرنے والی یہ ہے کہ بعض لوگ دوسروں کو بِالواسطہ یابِلاواسطہ کام سے روکنے لگتے ہیںیعنی یا تو ظلماً ایک فرقۂ قوم کوکام سے الگ کر دیتے ہیں اور صرف ایک حصہ قوم کوکام کے قابل قرار دیتے ہیں جیسے آرین نسلیں ہیں کہ قومی برتری کے خیال سے وہ صرف اپنی ہی نسل کے لوگوں کو ملک وقوم کا بوجھ اُٹھانے والا قرار دیکر دوسری نسلوں اور قوموں کے لوگوں کو کام سے بے دخل کر دیتی ہیںاور اس طرح قومی تنزّلکے سامان پیدا کردیتی ہیں۔ اور یہ نہیں سمجھتیں کہ ادنیٰ اقوام کی خرابی بھی اُلٹ کر اعلیٰ قوم پر اثر انداز ہو جاتی ہے اور اسے خراب کر دیتی ہے۔ اور یہ عقیدہ کہ صرف اعلیٰ ادنیٰ پراثر انداز ہوتا ہے غلط ہے، چنانچہ نظامِ عالَم میں سورج جو بڑ ا ہے وہ بھی زمین پر اثر انداز ہو رہا ہے اور چاند جو چھوٹا ہے وہ بھی زمین پر اثر انداز ہو رہا ہے ۔پس چھوٹوں کو نظر انداز کرنا بالکل خلافِ عقل ہے اور جو افراد یا اقوام بعض افراد یا اقوام کو چھوٹا اور ادنیٰ قرار دے کر نظر انداز کر دیتی ہیں اور قومی مشین کے پُرزوں سے ان کو خارج کر دیتی ہیںوہ آخر تباہ ہو جاتی ہیں اور ادنیٰ افراد یا اقوام ان کو بھی قعرِمذلّت میںگِرا دیتے ہیں۔
    اسی طرح بِالواسطہ طور پر کسی کے حق میں کمی کرنا بھی قوم کے حق میں نقصان دہ ہوتا ہے یعنی کمزور اور غریب اور مزدور اقوام کی تعلیم یاتربیت سے غفلت یا اولاد کی تربیت سے اِعراض یہ سب بِالواسطہ اِخْسَارِ فِی الْمِیْزَانِ ہے۔یعنی گو عقیدۃً انہیںادنیٰ نہیں سمجھا جاتا، لیکن عملاً ان سے سلوک وہی ہوتا ہے جو غیر ضروری حصہ سے ہو سکتا ہے،لیکن چونکہ وہ افراد بھی قانونِ قدرت کے مطابق قوم کا ضروری حصہ ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ساری مشین خراب ہوجاتی ہے اور نظامِ ملکی یا قومی درہم برہم ہو جاتا ہے۔
    دیکھو! کس خوبی سے اوّل ـ نظامِ عالَم کی حقیقت بیان کی ہے اور پھر نظامِ انسانی کو اس پر چسپاں کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے بابلیوںؔ نے اور ان کے بعد یونانیوں نے نظامِ شمسی پرنظامِ تمدّن کو ڈھالنے کی کوشش کی ہے مگر جس خوبی، جس اختصار اور جس ہمہ گیری کے ساتھ قرآن کریم نے چند مختصر الفاظ میں ان دونوں نظاموں کی حقیقت اور مماثلت کو بیان کیا ہے اس کی نظیر ان اقوامِ عالَم کے فلاسفروں کے کلام میں نہیں پائی جاتی۔
    اور مسائل بھی علمِ ہیئت کے قرآن کریم میںبیان ہوئے ہیں مگر اجمالاً انہیں امور پر کفایت کی جاتی ہے۔
    (۳) ایک وسیع اور عظیم الشّان سمندر
    تیسری چیز جو مَیںنے دیکھی تھی سمندر تھا،مَیں نے اُس وقت اپنے دل میں کہا کہ ایک اور سمندر قرآن نے پیش کیا ہے مگر افسوس کہ لوگ اسے بھول گئے ہیں وہ اس کی طرف سے ہنس کرگزر جاتے بلکہ اُسے حقیر بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ سمندر خود ہماری کتاب قرآن کریم ہے۔ سمندر کیا ہوتا ہے؟ سمندر کے معنے ایک ایسی وسیع چیز کے ہیں جس کا کنارہ نظر نہیں آتا اور جس میںموتی، مونگا اور اِسی قسم کی اور بیسیوں قیمتی چیزیں ہوتی ہیں۔ مَیں نے دیکھا کہ اسی قسم کی ایک چیز ہمارے پاس بھی ہے مگر افسوس کہ ہم اس کی قدر نہیں کرتے ۔ہم موتی نکالنے والوں کی قدر کرتے ہیں،ہم مونگا نکالنے والوں کی قدر کرتے ہیں، ہم مچھلیاں نکالنے والوں کی قدر کرتے ہیں، ہم مچھلیوں کا تیل نکالنے والوں کی قدر کرتے ہیں، ہم سیپیاں نکالنے والوں کی قدر کرتے ہیں، ہم کوڑیاں نکالنے والوں کی قدر کرتے ہیں،مگر ہم نہیں قدر کرتے تو اُس شخص کی جوقرآن کریم کے سمندر میںسے قیمتی موتی نکال کر ہمارے سامنے پیش کرے، حالانکہ یہ وہ سمندر ہے کہ جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔۷۵؎ یعنی اے رسول! ہم نے تجھ پر وہ کتاب نازل کی ہے جو ہے جس میں ہر چیزکا بیان موجود ہے اور جس کا کوئی کنارہ ہی نہیں۔ اس میں موتی بھی ہیں، اس میں مونگے بھی ہیں، اس میں ہیرے بھی ہیں، اس میںجواہرات بھی ہیں، غرض خشکی اور تری کی تمام نعمتیں اس میںجمع ہیں جب بھی تمہیںکسی چیز کی ضرورت ہو تم اس سمندر میںغوطہ لگائو وہ چیزتمہارے ہاتھ میں آجائے گی۔پھر سمندر میںتو یہ خطرہ ہوتا ہے کہ انسان غرق ہو جائے بعض دفعہ سمندروں میںطوفان آتے اور بڑے بڑ ے جہاز تباہ ہو جاتے ہیں مگر فرمایا یہ وہ سمندر ہے کہ اس سمندر میں جو غوطہ لگائے وہ کبھی تباہ نہیں ہو سکتا اور سمندروں میںبڑے بڑے کپتان بھی بعض دفعہ راستہ بھول جاتے ہیںمگر یہ سمندر ہے کہ جہاں کوئی انسان رستہ بھولنے لگتا ہے وہ کہتا ہے کہ غلط راستے پر نہ جائو۔ صحیح راستہ یہ ہے اِدھر آئو۔ پھر یہ صرف نہیں بلکہبھی ہے۔ ان سمندروں میںتو لوگ ڈوبتے اور عذاب میں مبتلاء ہوتے ہیں مگر یہ وہ سمندر ہے جو انسان کو زندگی بخشتا اور اُسے ہر قسم کی تباہی سے محفوظ رکھتا ہے ۔پھر اسی حد تک بس نہیں بلکہ ۔ اس سمندر میںتیرنے والا ہمیشہ خوشی محسوس کرتا ہے اور کبھی کسی خطرہ سے اسے دوچار ہونا نہیں پڑتا۔ اس کے آگے بھی رحمتیں ہوتی ہیں اس کے پیچھے بھی رحمتیں ہوتی ہیں۔ جب ایک نعمت اسے مل جاتی ہے تو اُسے کہا جاتا ہے کہ اسی نعمت پر بس نہیں آئو تمہیں دوسری نعمت بھی دیں۔ اور جب دوسری نعمت مل جاتی ہے تو تیسری نعمت اس کے سامنے پیش کر دی جاتی ہے۔ وہ ایک مقام پر اپنا قدم روکتا ہے تو اُسے آواز آتی ہے کہ صاحب! ٹھہرتے کیوں ہیں، اگلی منزل پراس سے بھی زیادہ اچھی نعمتیں ہیں اور جب وہ دوسری منزل پرپہنچتا ہے تو آواز آتی ہے کہ صاحب! آگے بڑھیئے ہماری نعمتیں تو ابھی آپ نے دیکھی ہی نہیں سمندر میں تو جب انسان دو چار سَو میل آگے جاتا ہے تو جہاز خطرے میں گھر جاتا ہے مگر یہاں ہر قدم پر یہ آواز آتی ہے کہ گھبرائیے نہیں،آپ تو امن اور سلامتی کی طرف بڑھتے چلے آ رہے ہیں۔
    قرآنی سمندر کی وُسعت
    پھر سورۃ لقمان رکوع ۳ میںاس سمندر کی وسعت بتائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
    ۷۶؎ یعنی زمین میںجس قدر درخت ہیں اگر اُن تمام کو کاٹ کاٹ کر قلمیں بنا دی جائیں اور جنگلوں اور باغات کا ایک درخت بھی نہ رہنے دیاجائے سب کی قلمیں تیا ر کرلی جائیں اور سمندر سیاہی بن جائے اور پھر اور سات سمندروں کاپانی بھی سیاہی بنا دیا جائے اور ان قلموں اور اس سیاہی سے کلام اللہ کے معنے لکھے جائیں تو قلمیں ٹوٹ جائینگی،سات سمندروںکی سیاہی خشک ہو جائے گی، مگرقرآن کا سمندر پھر بھی بھرا ہؤا ہو گا اور اس کے معارف ختم ہونے میں نہیں آئیں گے۔کیونکہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔غالب ہونے کی وجہ سے اس نے وہ وسعتِ قرآنی معارف کو بخشی ہے کہ اگر تمام درخت قلمیںبن جائیں اور تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور ان سے اس کے معارف لکھے جائیں، پھر بھی وہ ختم ہونے میںنہ آئیں۔مگر وسعت بعض دفعہ لغو بھی ہو جاتی ہے، بڑے بڑے شاعر جس قدر گزرے ہیں ان کے اشعار میں کسی نہ کسی حد تک لغویت ضرور آ گئی ہے۔ اسی طرح جتنے بڑے نثار گزرے ہیں ان تمام کی نثر کے بعض حصوں میںفضولیات پائی جاتی ہیں۔مگر فرمایا یہاں ایسا نہیں، باوجود قرآنی مطالب اس قدر وسیع ہونے کے اس میںکوئی بات لغو اور بے فائدہ نہیں کیونکہ ایک حکیم ہستی کایہ نازل کردہ کلام ہے اور جو حکیم خدا کی طرف سے نازل شدہ کلام ہو اس میں لغو بات کس طرح ہو سکتی ہے۔پس ایک طرف تو قرآنی معارف میںاس قدر وسعت ہے کہ سات سمندروں کی سیاہی ختم ہوجائے مگر اس کے معارف ختم نہ ہوں اور دوسری طرف اس میں ایک بات بھی خلافِ حکمت نہیں بلکہ ایک ایک بات کو دیکھ کر انسان قربان ہو جاتا ہے۔
    پھر سورہ دخان رکوع ایک میں فرماتا ہے۔۔۷۷؎ کہ حمید مجید خدا کی طرف سے ایک کتاب آئی ہے جو کھول کھول کر تمام سچائیوں کو بیان کرنے والی ہے اور میں اسی کتاب کو اس بات کی شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں کہ تمہار اخدا بڑا بزرگی والا خدا ہے ہم نے یہ قرآن ایک ایسے تاریک زمانہ میںاُتارا ہے جو رات سے مشابہت رکھتا تھا اور جس میںقسم قسم کی تباہیاں اور قسم قسم کے گند اور فساد تھے مگر باوجود ان فسادوں کے وہ زمانہ ایک لحاظ سے مبارک بھی تھا کیونکہ ۔ اس میں خداکی طرف سے یہ آواز بلند ہوئی تھی کہ ہوشیار ہوجائو۔ گو تمہارے گھر ڈاکوئوں کا شکار ہو رہے ہیں مگر اب خدا خود تمہاری حفاظت کیلئے آ رہا ہے۔ پس ہم نے خود ا س کتاب کے ذریعہ اپنے بندوں کو ہوشیار اور بیدار کیا۔
    مُنذرکے عام طورپر نہایت غلط معنے کئے جاتے ہیں ،یعنی اُردو میںاس کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ ہم ڈرانے والے ہیں، حالانکہ عربی زبان میںاِنذار کے معنے ڈرانا نہیں بلکہ ہوشیار اور بیدار کرنا ہیں۔ تو فرمایا گویہ رات تھی اور تاریک رات تھی، چاروں طرف ڈاکے پڑر ہے تھے اور دین وایمان کہیں نظر نہیںآتا تھا مگر پھر بھی یہ مبارک رات تھی کیونکہ اس میںخدا خود چوکیدار بن کرآیا اور اُس نے خود پہرہ دیا او رآوازیں دیں کہ میرے بندو! ہوشیار ہو جائو، بھلا اِس سے زیادہ مبارک رات اور کونسی ہو سکتی ہے۔ یہ مبارک رات کیوں نہ ہو، راتوں کے وقت چوروں کی طرف سے مال اُٹھایا جاتا ہے مگر اس رات میں لوگوں کو خود ہماری طرف سے مالا مال کیا جا رہا ہے اور انہیں بُلا بُلا کر کہا جا رہا ہے کہ آئو اور اپنے گھروں کو برکتوں سے بھر لو۔ یہ سب کچھ ہمارے حکم کے ماتحت ہو رہا ہے کیونکہ آج ہم اس بات پر تُلے ہوئے ہیں کہ لوگوں کو نعماء سے مالا مال کر دیں۔ پس اس سے زیادہ مبارک رات اور کون سی ہو سکتی ہے کہ بغیر مانگے اور سوال کئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانی ضرورتیں پوری کی جا رہی ہیں۔ سے مراد وہی معارف اور علوم ہیں جو بغیر کسی انسانی کوششوں کے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کھولتا ہے۔ اگر کوئی شخص روٹی کھا رہا ہو اور کوئی دوسراآ کر اُسے کہے کہ تو روٹی کھا رہا ہے تو وہ حکیم نہیں کہلاسکتا، حکیم وہی کہلائے گا جو ایسی بات بتائے جس کا دوسرے کو علم نہ ہو۔ پس قرآن صرف کلام ہی نہیں بلکہ ایسے حقائق اور معارف کا حامل ہے کہ بندے لاکھ سرپٹکتے رہتے وہ ان علوم اور معارف کو اپنی ذاتی جدوجہد سے کبھی حاصل نہ کر سکتے۔
    اسی طرح سورہ یوسف میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے متعلق فرماتا ہے۔۷۸؎
    کہ یہ بات جھوٹی نہیں۔ یہ پہلی کتابوں کی پیشگوئیوں کو پورا کر رہی ہے اور ہر چیز اس میں بیان کر دی گئی ہے اور یہ مؤمنوں کی ہدایت اور رحمت کا موجب ہے۔
    (۵) سورہ عنکبوت میں فرماتا ہے۔۷۹؎
    ارے! اب بھی ان کو کسی اور جگہ جانے کی ضرورت ہے جب کہ ہم نے انہیں اتنی بڑی چیز دیدی ہے جس کی اور کہیں مثال ہی نہیں ملتی۔یعنی ہم نے ایک کتاب اُتار دی ہے اور وہ ایسی کتاب ہے کہ سمندر کے پاس تو لوگ جاتے ہیں مگر یہ سمندر ایسا ہے کہ آپ تمہارے پاس چل کر آ گیا ہے۔پھر دنیا میں تو لو گ اُستادوں کے پاس جاتے اور ان سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے فلاں بات کس طرح ہے مگر یہاں وہ استاد بھیجا گیا کہ جسے خدا کی طرف سے یہ حکم ہے کہ ۸۰؎ تم خود لوگوں کے پاس جائو اور اُنہیں یہ تمام باتیں پہنچائو اور یاد رکھو کہ اگر تم نے ان میںسے ایک بات بھی نہ پہنچائی تو ہم کہیں گے کہ تم نے کچھ بھی نہیںپہنچایا گویا ہمارا اُستاد اور ہمارا آقا خود ہمارے گھروں پر چل کر آ گیا ہے اگر تم سوچو تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے اپنے رسول کو جو یہ حکم دیا ہے یہ تم پر ہمارا اتنا عظیم الشان انعام ہے جس کی کوئی حد نہیں گویا پنجابی کی وہی مثال یہاں صادق آ رہی ہے کہ ’’چوپڑیاں تے دو دو‘‘یعنی روٹیاں چپڑی ہوئی بھی ہوں اور پھر ملیں بھی دو دو تو اور کیا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ بھی کہتا ہے کہ ہم تمہیں ایک تو چپڑی ہوئی روٹیاں دے رہے ہیں اور پھر دو دو دے رہے ہیں ایک تو ہم نے وہ کتاب دی جو ہر طرح کامل ومکمل ہے اور جس کی نظیر کسی اور الہامی کتاب میں نہیں مل سکتی اور پھر اپنے رسول کو یہ حکم دیدیا ہے کہ جائو اور ہماری یہ کتاب خود لوگوں کے گھر پہنچ کر انہیں سنائو اور اس کی تعلیموں سے انہیں آ گاہ کرو۔
    ۔ایک نعمت تو یہ تھی کہ اتنی عظیم الشان نعمت گھر بیٹھے مل گئی اور دوسری نعمت یہ ہے کہ جو اس کتاب کو مان لیںگے ، دنیا میںان کی عزت قائم کر دی جائے گی،بعض لوگ اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں نصیحت کی باتیں ہیں۔یہ معنے بھی درست ہیں مگر ا س کے یہ معنے بھی ہیں کہ جو لوگ اس کتاب پر سچے دل سے ایمان لائیں گے، ان کا ذکرِ نیک دنیامیں جاری رہے گا اور کہا جائے گا کہ فلاں نے یہ خدمت کی اور فلاں نے وہ خدمت کی گویا یہ کتاب نہ صرف ذاتی کمالات کے لحاظ سے ایک شرف اور عظمت رکھتی ہے بلکہ جو لوگ اس پر صدقِ دل سے ایمان لائیں گے وہ بھی دنیا میں معزز اور مکرم ہو جائیں گے۔
    پھر فرمایا۔ ۸۱؎
    کہ ہم نے قرآن میںہر قسم کی باتیں بیا ن کر دی ہیں ، مگر افسوس انسان پر کہ وہ ہر بات کو سُنکر کہتا ہے کہ ابھی اور چاہئے اور جوبات اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے اس کا انکار کر دیتا ہے، اگر اس کے اندر ایک ذرہ بھی شرافت کا مادہ ہوتا تو یہ ان باتوں کو قبول کرتا جو اس کے سامنے پیش کی گئی تھیں اور اگر دل میںاُن کے بعد بھی پیاس رہتی تو کسی اور چیز کی طلب کرتا ، مگر یہ عمل تو کرتا نہیں اور اَور چیزیں مانگے جاتا ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کو ہدایت سے کوئی غرض نہیں، محض ایک پاگل اور احمق انسان کی طرح ہاتھ پھیلائے کہے جاتا ہے کہ اَور دو، اَور دو۔ اوریہ نہیں دیکھتا کہ جو اسے دیا گیا ہے اسے اس نے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک رکھا ہے اسی طرح فرمایا۔
    ۸۲؎
    ہم نے قرآن میں انسان کے نفع کے لئے ہر چیز رکھدی ہے مگر افسوس کہ وہ پھر بھی اس پاک کتاب کاانکار کئے جاتا ہے۔یہی مضمون سورہ روم ع۶ اور سورہ زمر ع۳ میں بھی بیان ہؤا ہے۔
    قرآنی سمندر کی گہرائیوں کاپتہ لگانا کسی انسانی عقل کا کام نہیں
    یہ وہ سمندر ہے جو مَیں
    نے دیکھا اور یہ وہ بحرِزخّار ہے جس کا مَیں نے مشاہدہ کیا، اس سمندر کا کوئی کنارہ نہیں، اس سمندر کی کوئی انتہا نہیں۔اس سمندر کی گہرائیوں کا پتہ لگانا کسی انسانی عقل کا کام نہیں اور اس کی وسعتِ بے پایاں کو کوئی انسانی دماغ نہیں سمجھ سکتا۔مجھے حیرت ہوتی ہے، مجھے تعجب آتا ہے، مجھے رونا آتا ہے کہ معمولی معمولی خلیجوں کے کنارے ہمارا ایک سیاح یا شاعر کھڑا ہوتا اور فرطِ مسرت میں جھومتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کا کوئی کنارہ نہیں یہ بے کنار خلیج یا بے کنار دریا ہے حالانکہ ایک دن کی منزل یا دو دن کی منزل پر اس کا کنارہ موجود ہوتا ہے ۔بڑے بڑے سمندروں کا بھی دس پندرہ دن کے سفر کے بعد کنارہ آجاتا ہے، مگر وہ اس کنارے والے سمندر کے متعلق کہتا ہے کہ وہ بے کنار ہے پس مجھے حیرت ہوئی اور میرا دل اِس غم سے خون ہو گیا کہ وہ عظیم الشان سمندر جسے خدا نے بے کنار کہا، جس کی وسعت کو اس نے خود غیر محدود قرار دیا اور جس کے کنارہ کو کوئی انسانی عقل تلاش نہیں کر سکتی اس کے متعلق مولویوں کو یہ کہتے ہوئے ذرا شرم نہیں آتی کہ اس کی آیات کی طبری اور بیضاوی نے جو تفسیر لکھ دی ہے اب اس کے بعد کچھ اور کہنا تفسیر بِالرائے ہے۔ یقینا وہ جھوٹے ہیں ،کیونکہ خدا کہتا ہے کہ اگر ساری دُنیا کے درختوں کی قلمیں بنائی جائیں اور سات سمندروں کی سیاہی بنالی جائے اور ان قلموں او ر سیاہیوں سے خدا تعالیٰ کی اس پاک کتاب کے معارف لکھے جائیں تب بھی قلمیں ٹوٹ جائیں گی، سیاہیاں خشک ہو جائینگی، مگر اس کتاب کے معارف ختم نہیں ہوں گے لیکن یہ دو چار سَو صفحوں کی چند جلدیں لکھنے کے بعد کہہ دیتے ہیں کہ اب ان باتوں سے زیادہ کوئی اور بات بیان کرنی حرام ہے۔ مَیں کہتا ہوں اور مَیں کیا خدا کا کلام کہہ رہا ہے کہ جس دن تم سارے درختوں کی قلمیںبنا کر اور سارے سمندروں کی سیاہی بنا کر ان سے قرآن کے معارف لکھ لو گے تو اس کے بعد تم بیشک میر ے پاس آ جانا اور کہنا کہ اب قرآن کی اور تفسیر مت کرولیکن دنیا نے ابھی تو قرآن کی تفسیرلکھنے میں ایک جنگل کی لکڑی بھی ختم نہیں کی اور سمندر چھوڑ ایک کنویں کے پانی جتنی سیاہی بھی اس پر خرچ نہیںکی۔ پس ابھی ہمیں اس حق سے کوئی روک نہیں سکتا اور یہ حق ہمارا اُس وقت تک چلتا چلا جائے گا جب تک سمندروں میںپانی کا ایک قطرہ بھی موجود ہے ۔یا درخت کی ایک شاخ بھی دنیا میں پائی جاتی ہے ہاںتمہارا بے شک یہ حق ہے کہ تم ثابت کروکہ ہم قرآن کریم کی جو تفسیر کرتے ہیں وہ اسلام کے خلاف ہے، اس بات سے تمہیں کوئی نہیں روکتا مگر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ تم قرآن کے نئے معانی کیوں کرتے ہو میں ان سے کہتا ہوں کہ اے نالائقو ! اور اے احمقو! تم تو خشکی میں تڑپ رہے ہو اور ہم خداتعالیٰ کے ایک وسیع سمندر میں غوطے لگا رہے ہیں۔ تم ریت کے تودوں پر لَوٹتے ہو اور طعنے ان لوگوں کو دے رہے ہو جو سمندر کی تہہ سے موتی نکالنے والے ہیں۔ پس خدا سے ڈرو اور خدا تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے بحرِ زخّار کو پتوں کی کشتیوں میں پار کرنے کی کوشش نہ کرو اور کود کر اس کو پھلانگجانے کے دعووں سے اپنی نادانی ظاہر نہ کرو ۔
    مَیں نے جب ان باتوں کو دیکھا تو میری حیرت کی کوئی انتہا ء نہ رہی اور مَیں نے کہا، افسوس خزانے موجود ہیں، قلعے موجود ہیں ، رصدگاہیں موجود ہیں، سمندر موجود ہے مگر ان کو دیکھنے والا کوئی نہیں، آثارِ قدیمہ کی جن لوگوں کے ہاتھوں میں خدا نے کنجیاں دی تھیں اُنہوں نے اُن آثارِ قدیمہ کو خراب کر دیا، تباہ کر دیا اور اِس قدر ان کی حالت کو مشتبہہ کر دیا کہ ان پرکوئی شخص اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا تھا تب اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ذریعہ قرآن کریم کو نازل کیا۔ یہ آپ کے دل کا خون ہی تھا جو آسمان سے قرآن کو کھینچ لایا۔ اس قرآن کے آثارِ قدیمہ کے مختلف کمروں میں آدم ؑ اور نوحؑ اور ابراہیم ؑ اور موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ اور دیگر تمام انبیاء کی چیزیں ایک قرینہ سے پڑی ہوئی ہیں میل وکچیل سے مبرّا، داغوں اور دھبوں سے صاف، چھینٹوں اور غلاظت سے پاک ہر چیز اصل اور حقیقی رنگ میںہمارے پاس ہے۔پُرانے سے پُرانے آثار اس میںپائے جاتے ہیں اور صحیح سے صحیح حالات اس میں موجود ہیں مگر افسوس ہزار افسوس کہ لوگ اس عظیم الشان خزانہ کی تو قدر نہیں کرتے مگر چند پھٹے ہوئے کاغذ، چند ٹوٹی ہوئی چُھریاں ، چند پُرانے اور بوسیدہ کپڑے اور چند شکستہ برتن جب کوئی زمین سے نکالتا ہے تو اُس کی تعریف کے شور سے آسمان سرپراُٹھالیتے ہیں اورکہتے ہیں واہ واہ! اس نے کس قدر عظیم الشان کارنامہ سرانجام دیا۔ وہ خزانہ جو خدا نے اُن کو دیا تھا اس کو وہ بھول گئے ،وہ سمندر جو خدا نے ان کو عطا کیا تھا اس سے انہوں نے منہ موڑ لیا، وہ تمام رصدگاہیں جوقرآن میں موجود تھیں اُن سے وہ غافل اور لاپرواہ ہو گئے تب خدا نے میرے دل پر اِس عظیم الشان راز کا انکشاف کیا اور میرے دل نے کہا’’مَیں نے پالیا، مَیں نے پالیا‘‘ اور جب میں نے کہا۔ ’’مَیں نے پالیا، مَیں نے پالیا‘‘ تو اِس کے معنے یہ تھے کہ اب یہ نعمتیں دنیا سے زیادہ دیر تک مخفی نہیں رہ سکتیں۔مَیں دنیا کے سامنے ان تمام نعمتوں کو ایک ایک کر کے رکھونگا اور اُسے مجبور کروں گا کہ وہ اِس کی طرف توجہ کرے۔ـ
    قرآن کریم کا بلند ترین مقام
    پس اے دوستو! مَیں اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان خزانہ سے تمہیں مطلع کرتا ہوں۔ دنیا کے علوم اس کے
    مقابلہ میںہیچ ہیں۔ دنیا کی تمام تحقیقاتیں اس کے مقابلہ میں ہیچ ہیں اور دنیا کی تمام سائنس اس کے مقابلہ میںاتنی حقیقت بھی نہیں رکھتی جتنی سورج کے مقابلہ میںایک کرمِ شب تاب حقیقت رکھتا ہے۔ دنیا کے علوم قرآن کے مقابلہ میںکوئی چیز نہیں، قرآن ایک زندہ خدا کا زندہ کلام ہے اور وہ غیر محدود معارف وحقائق کا حامل ہے۔ یہ قرآن جیسے پہلے لوگوں کے لئے کھلا تھا اسی طرح آج ہمارے لئے ُکھلا ہے، یہ ابوبکرؓ کے لئے بھی ُ کھلا تھا، یہ عمرؓ کے لئے بھی ُ کھلا تھا، یہ عثمانؓ کے لئے بھی ُکھلا تھا، یہ علیؓ کے لئے بھی ُکھلا تھا یہ بعد میں آنے والے ہزار ہا اولیاء وصلحاء کے لئے بھی ُکھلا تھا اور آج جب کہ دنیا کے علوم میں ترقی ہو رہی ہے یہ پھر بھی ُکھلا ہے بلکہ جس طرح دُنیوی علو م میںآجکل زیادتی ہو رہی ہے اسی طرح قرآنی معارف بھی آجکل نئے سے نئے نکل رہے ہیں۔ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے اچھا تاجر پہلے اپنا مال مخفی رکھتا ہے، مگر جب مقابلہ آ پڑتا ہے تو پہلے ایک تھان نکالتا ہے پھر دوسرا تھان نکالتا ہے پھر تیسرا تھان نکالتا ہے اور یکے بعد دیگرے نکالتا ہی جاتا ہے یہاں تک کہ تھانوں کا انبار لگ جاتا ہے۔ اسی طرح جب بھی دنیا ظاہری علوم میںترقی کر جانے کے گھمنڈ میںقرآن کا مقابلہ کرنا چاہے گی، قرآن اپنے ماننے والوں سے کہے گا میاں! ذرا میرے فلاں کمرہ کو تو کھولنا۔ اُسے کھولا جائے گا تو دنیا کے تمام علوم اس کے مقابلہ میںہیچ ہو کر رہ جائیں گے۔پھر ضرورت پر وہ دوسرا کمرہ کھولے گا او رپھر تیسرا اور اس طرح ہمیشہ ہی دنیا کو اس کے مقابل پر زِک پہنچے گی اور ہمیشہ ہی قرآن نئے سے نئے علوم پیش کرتا رہے گا۔ یہی وہ چیز ہے جس کو پیش کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا اور یہی وہ چیز ہے جس کو پیش کرنا ہماری جماعت کا اولین فرض ہے اور ہم حتی المقدور اپنے اس فرض کو اد ا بھی کر رہے ہیں۔ دنیا ہماری اسی لئے مخالف ہے کہ وہ کہتی ہے کہ تم قرآن کی خوبیاں لوگوںکے سامنے کیوں پیش کرتے ہو، مگر ہم کہتے ہیں ،اِسی وجہ سے تو خدا کی غیرت بھڑکی اور جب اُس نے دیکھا کہ تم اُس کی کتاب کو صندوقوں او رغلافوں میں بند کر کے بیٹھ گئے ہو تو اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا اور آپ کو حُکم دیا کہ جائو اور قرآن کے معارف اور علوم سے دنیا کو روشناس کرو۔ یہی وہ خزائن ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے تقسیم کئے اور یہی وہ خزائن ہیں جو آج ہم تقسیم کر رہے ہیں۔ دنیا اگر حملہ کرتی ہے تو پرواہ نہیں، وہ دشمنی کرتی ہے تو سَو بار کرے، وہ عداوت اور عناد کا مظاہرہ کرتی ہے تو لاکھ بار کرے ہم اپنے فرض کی ادائیگی سے غافل ہونے والے نہیں ہم انہیںکہتے ہیں کہ تم بے شک ہمارے سینوں میں خنجر مارے جائو اگر ہم مر گئے تو یہ کہتے ہوئے مریں گے کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا جھنڈا بلند کرتے ہوئے مارے گئے ہیں اور اگر جیت گئے تو یہ کہتے ہوئے جیتیں گے کہ ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا جھنڈا دنیا میں بلند کر دیا۔
    دوستوں کو نصیحت
    آخر میں مَیں نصیحت کرتا ہوں کہ ہمار ے سپرد ایک عظیم الشان کام ہے ہم نے اسلام کی عظمت اور اس کی برتری دنیا کے تمام مذاہب پرثابت کرنی
    ہے پس دوستوں کو چاہئے کہ جہاں تک ان سے ہو سکے وہ اسلام کوسیکھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ دشمن کے اعتراضات کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے وہ تو عداوت اور دشمنی کے جوش میں بیہودہ اعتراضات کرتا ہی رہے گا، ہاں اپنے نفس کی اصلاح سے کبھی غافل نہیں ہونا چاہئے، اگر اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہم اس کے دین کے حقیقی خدمت گزار ہوں تو بشریت کی وجہ سے جو غلطیاں ہم سے سرزد ہونگی اللہ تعالیٰ انہیں یقینا معاف کر دیگا کیونکہ وہ اپنے بندوں کو دنیا کی نگاہ میںکبھی ذلیل نہیں کر سکتا۔ بشری کمیاں انبیاء میں بھی ہوتی ہیں ۔ پس اگر ایسی غلطیاں خدمتِ دین کے ساتھ ہوں تو خدا ان پر گرفت نہیں کرتا، کیا تم نہیں دیکھتے کہ ایک حبشی کو اپنا وہ بچہ کس قدر خوبصورت نظر آتا ہے جس کا رنگ سیاہ ہوتا ہے، موٹے موٹے ہونٹ ہوتے ہیں، آنکھوں میںغلاظت بھری ہوتی ہے اور شکل نہایت بھیانک اور ڈراؤنی ہوتی ہے۔ پھر اگرایک حبشی اپنے مَیلے کُچیلے اور بدصورت بچہ کی تحقیر نہیں کر سکتا،بلکہ اسے اپنے دل کا ٹکڑا سمجھتا ہے تو کس قدر نادان ہے وہ شخص جو خیال کرتا ہے کہ گو ہم خداتعالیٰ کے دین کی تائید کے لئے کھڑے ہو جائیںاور اللہ تعالیٰ کے روحانی فرزند بن جائیں وہ پھر بھی ہماری بعض غلطیوں کی وجہ سے ہمیں دھتکاردیگا۔ وہ ہمیںدھتکارے گا نہیں بلکہ اپنے سینہ سے لگائے گا اور ہماری کمزوریوں اور خطائوں سے چشم پوشی کریگا، ہاں اپنے طور پر ہر انسان کو یہ کوشش کرتے رہنا چاہئے کہ وہ کمزوریوں اور خطائوں پر غالب آ ئے اگر وہ اپنی طرف سے ان خطائوں اورکمزوریوں پر غالب آنے کے لئے پوری جدوجہد اور سعی کرتا ہے تو وہ اُس بچے کی طرح ہے جو زمین پر گِرتا اور پھر اُٹھنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس طرح ایسے بچہ کو باپ نہایت پیار کے ساتھ اپنے گلے لگا لیتا ہے اسی طرح خدا بھی اپنے اس بندے کو اپنے قُرب میں جگہ دیتا اور خود اُسے اُٹھا کر اپنے پاس بٹھا لیتا ہے پس کمزوریوں اور خطائوں پر غالب آنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ سے دُعائیں کرتے رہو کہ وہ ہمارے دلوں میںقرآن کی محبت پیدا کرے،اپنے دین کی محبت پیدا کرے، اپنے رسول کی محبت پیدا کرے اور ہمیں دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے تا کہ ہم اس کے نام کو دُنیا کے کناروں تک پھیلاسکیں اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی کمزوریوں پر غالب آئیںاور اپنی خطائوں کو دُور کرسکیں لیکن اگر باوجود ہماری کوشش کے پھر بھی ہم میں کوئی عیب یا گُناہ رہ جائے تو وہ اپنے فضل سے ہمیں بخش دے اور ہمارے دشمن کو ہم پرغالب آنے کاموقع نہ دے وہ اپنے فضل کی چادر میں ہم سب کو لپیٹ لے اور اپنے محبوبین اور مقربین میںہمیںشامل فرمائے تاہم کہہ سکیں کہ ہماری زندگی کی ایک ایک حرکت خدا تعالیٰ کے دین کے اِحیاء کے لئے ہے اور ہمارا خالق اور مالک خدا بھی ہم سے محبت کرتا ہے۔
    ۱؎ تذکرہ صفحہ ۴۱۳ ۔ ایڈیشن چہارم۔
    ۲؎ پیدائش باب ۱ آیت ۲ تا ۱۹ نارتھ انڈیابائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء۔
    ۳؎ پیدائش باب ۱ آیت ۲۶ تا ۲۸ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء۔
    ۴؎ پیدائش باب ۲ آیت ۸نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء۔
    ۵؎ پیدائش باب ۲آیت ۱۶تا ۲۳ نارتھ انڈیابائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء۔
    ۶؎ ڈارون (ERASMUS DARWIN) 1731ء تا 1802ء۔ انگریز سائنسدان۔ اگرچہ طبیب مگر اس نے ایک لمبی نظم ’’نباتیاتی باغ‘‘ (THE BOTANIC GARDEN) بھی لکھی۔ ایک نظم ’’زونومیا‘‘ (ZOONOMIA) میں ارتقائی نظریات کی پیشگوئی ملتی ہے۔ جہاز بیگل پر ماہر موجودات کے عہدہ پر فائز ہونے سے پہلے اس نے طبّ اور مذہب کا مطالعہ کیا۔ اس کے انکشافات، مشاہدات اور تحقیقات سے ارتقاء کا وہ نظریہ قائم ہؤا جو ڈارونیت (DARWINISM) بھی کہلاتا ہے۔ اِس نظریہ پر اِس نے اپنی کتاب ’’آغازِ انواع‘‘ (ORIGION OF SPECIES) میں بحث کی ہے۔ (اُردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد ۱ صفحہ ۶۱۷ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۷ء)
    ۷؎ ہیکل(HAECKEL ERNST HEINRICH) 1834ء تا 1919ء۔ جرمن حیاتیات دان اور فلسفی پاٹسڈم (POTSDAM) برلن اور ویانا میں طب اور حیوانیات کا مطالعہ کیا اور اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔ ۱۸۶۵ء میں JENA یونیورسٹی میں حیوانیات کا پروفیسر ہوگیا اور ۵۰ سال تک نظریۂ ارتقاء کی اشاعت کرتا رہا۔ وہ پہلا سائنسدان تھا جس نے حیوانی زندگی کا شجرۂ نسب مرتب کیا۔ (اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ۲ صفحہ ۱۸۸۳ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء)
    ۸؎ ہکسلے(HUXLEY T(HOMAS) H(ENRY)انگریز حیاتیات دان۔ جب وہ جہاز رٹیل سینک پر نائب سرجن تھا تو اس نے بحر الکاہل کے رقبوں میں سمندری زندگی کے نمونے اکٹھے کئے۔ ڈارون کا حامی تھا اور اس نے ارتقاء ، تشریح، عضویات اور سائنس کے دوسرے موضوعات پر لکھا۔ (اُردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد ۲ صفحہ ۱۸۵۶ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء)
    ۹؎ نوح : ۱۴ تا ۱۹
    ۱۰؎ مریم : ۶۸
    ۱۱؎ الدھر : ۲
    ۱۲،۱۳؎ الدھر : ۳
    ۱۴؎ فاطر : ۱۲
    ۱۵؎ الانبیاء : ۳۱
    ۱۶؎ السجدۃ : ۸
    ۱۷؎ السجدۃ : ۹
    ۱۸؎ المرسلٰت : ۲۱ تا ۲۳
    ۱۹؎ النّجم : ۴۳ تا ۴۸
    ۲۰؎ فاطر : ۱۲
    ۲۱؎ البقرۃ : ۳۱
    ۲۲؎ الاعراف : ۱۲
    ۲۳؎ البقرۃ : ۳۷
    ۲۴؎ طٰہٰ : ۱۲۴
    ۲۵؎ البقرۃ : ۳۹
    ۲۶؎ الاعراف : ۲۶
    ۲۷؎ ص : ۷۷
    ۲۸؎ الانبیاء : ۳۸
    ۲۹؎ الرّوم : ۵۵
    ۳۰؎ الاعراف: ۱۳
    ۳۱؎ اللّھب : ۲
    ۳۲؎ الرحمٰن : ۱۶
    ۳۳؎ البقرۃ : ۳۶
    ۳۴؎ الاعراف : ۲۰
    ۳۵؎ طٰہٰ : ۱۱۸
    ۳۶؎ النساء : ۲
    ۳۷؎ الاعراف : ۱۹۰،۱۹۱

    ۳۸؎ بخاری کتاب النکاح باب الوصاۃ بالنّساء
    ۳۹؎ مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحہ ۴۹۷ المکتب الاسلامی بیروت ۱۹۷۸ء
    ۴۰؎ مجمع البحار جلد ۲ صفحہ ۲۹۴ مطبع نولکشور ۱۳۱۴ھ
    ۴۱؎ بخاری کتاب التفسیر باب یایھا النبی لم تحرم ما احل اللّٰہ لک
    ۴۲؎ طٰہٰ : ۱۲۲
    ۴۳؎ طٰہٰ : ۱۱۹ ، ۱۲۰
    ۴۴؎ البقرۃ : ۳۶
    ۴۵؎ البقرۃ : ۳۲
    ۴۶؎ النمل : ۲۴
    ۴۷،۴۸؎ البقرۃ : ۳۱
    ۴۹؎ التحریم : ۴
    ۵۰؎ یوحنا باب ۱۶ آیت ۱۲ ، ۱۳ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء
    ۵۱؎ طٰہٰ : ۹۱
    ۵۲؎ خروج باب ۳۲۔ آیت ۱ تا ۴ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء
    ۵۳؎ طٰہٰ : ۹۱
    ۵۴؎ خروج باب ۳۲ آیت ۲۰ ( مفہوماً)
    ۵۵؎ خروج باب ۳۲ آیت ۱۹ تا ۲۸ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور ۱۹۲۲ء (مفہوماً)
    ۵۶؎ فاطر : ۲۵
    ۵۷؎ الانعام : ۸۴ تا ۹۱
    ۵۸؎ الانعام : ۷۶
    ۵۹؎ النجم : ۹ ، ۱۰
    ۶۰؎ یونس : ۶۳ تا ۶۵
    ۶۱؎ النمل : ۶۶ ، ۶۷
    ۶۲؎ الجنّ : ۲۷ ، ۲۸
    ۶۳؎ حٰم السجدۃ: ۳۱ تا ۳۳
    ۶۴؎ الصّٰفّٰت : ۸۴ تا ۱۰۰
    ۶۵؎ مہورت: کسی کام کیلئے
    ستاروںکی چال کے مطابق
    مبارک وقت معلوم کرنا
    ۶۶؎ النحل : ۱۳
    ۶۷؎ الحج : ۱۹
    ۶۸؎ یونس : ۶
    ۶۹؎ نوح : ۱۶ ، ۱۷
    ۷۰؎ الرعد : ۳
    ۷۱؎ الانعام : ۹۷
    ۷۲؎ الرحمٰن : ۶
    ۷۳؎ الرحمٰن : ۶ تا ۱۰
    ۷۴؎ الانبیاء : ۳۴
    ۷۵؎ النحل : ۹۰
    ۷۶؎ لقمان : ۲۸
    ۷۷؎ الدخان : ۲ تا ۶
    ۷۸؎ یوسف : ۱۱۲
    ۷۹؎ العنکبوت : ۵۲
    ۸۰؎ المائدۃ : ۶۸
    ۸۱؎ بنی اسرائیل: ۹۰
    ۸۲؎ الکہف : ۵۵



    روس اور موجودہ جنگ



    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

    روس اور موجودہ جنگ
    (رقم فرمودہ ستمبر ۱۹۳۹ء)
    روس کا پولینڈ میں داخلہ
    روس کا پولینڈ میں اپنی فوجیں بھیج دینا دُنیا کیلئے حیرت کا موجب ہو رہا ہے اور لوگوں میں اس کے
    متعلق مختلف قسم کے خیالات ہیں۔ اب تک کئی انگریز مدبّر اور اخبارات مثلاً ڈیلی ٹیلیگراف جو موجودہ برسرِاقتدار پارٹی کے خیالات کا نمائندہ اخبار ہے‘ یہ لکھ رہے ہیں کہ غالباً روس پولینڈ میں اس وجہ سے داخل ہوء ا ہے کہ کہیں جرمنی پولینڈ میں بہت زیادہ اقتدار پیدا کر کے رُوسی فوائد کیلئے نقصان دہ ثابت نہ ہو۔
    میرے نزدیک یہ رائے درست نہیں اور جس قدر جلد مدبّرینِ انگلستان اس رائے کو ترک کر دیں اتنا ہی ان کیلئے سیاسی طور پر یہ امر مفید ہو گا اور وہ امن کے ایک غلط احساس سے نکل کر اپنے ملک کی بہتر خدمت کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔
    پولینڈ کا جائے وقوع
    جب ڈینزگ کا سوال پیدا ہوء ا ہے اور برطانیہ اور فرانس نے اس کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا ہے‘ میرے دل میں یہ خیال آیا تھا
    کہ پولینڈ کا جائے وقوع ایسا ہے کہ فرانس اور انگلستان اس کی کسی صورت میں مدد نہیں کر سکتے۔ نہ تو اس کی سرحدیں کسی طرف سے ان کے ممالک سے ملتی ہیں اور نہ بحری راستہ ایسا ہے کہ اس طرف سے انگلستان اس کی مدد کر سکے۔ پس چاہئے کہ یہ طاقتیںروس کو ساتھ شامل کریں تاکہ خشکی کی راہ سے اس کی مدد کر سکیں۔ چنانچہ جب انگریزوں اور فرانسیسیوں نے اس غرض سے روس سے گفتگو شروع کی تو بشریّت کے تقاضا کے ماتحت مجھے خوشی ہوئی کہ میری رائے درست ثابت ہو رہی ہے ۔ اور انگلستان اور فرانس کے مدبرّین نے بھی اس کی ضرورت کو محسوس کیا ہے۔
    روس کی نیت میں فتور کا احساس
    لیکن گفتگو جب لمبی ہو گئی اور آخر یہ اعلان ہوء ا کہ چونکہ اصل معاہدہ میں دیر ہو گی۔ کیونکہ
    بعض اہم سوالات پر اتفاق نہیں ہو سکا اس لئے روس کا زور ہے کہ ساتھ کے ساتھ سب ممالک کے جنگی افسر بھی تبادلۂ خیالات کرتے رہیں۔ تو اس اعلان کے ساتھ ہی میرے دل پر یہ امر روشن ہوگیا کہ روس کی نیت اچھی نہیں۔ اور میرے دل پر اس امر کا اس قدر گہرا اثر تھا کہ میرا میلان شدت سے اس طرف ہو رہا تھا کہ میں انگلستان کی وزارتِ خارجہ کو جس کے اتفاق سے اس وقت ہمارے ایک سابق وائسرائے جو مجھے جانتے ہیں انچارج ہیں،مشورہ دوں کہ وہ ہوشیار ہو جائیں کہ روس کی نیت درست نہیں معلوم ہوتی لیکن پھر میں نے خیال کیا کہ ان لوگوں پر ہمارے مشورے اس قدر اثر نہیں کرتے کیونکہ وہ جائز طور پر خیال کرتے ہیں کہ ہمیں تو سب حالات معلوم ہیں اور یہ پردہ میں ہیں اس لئے یہ صحیح نتیجہ نہیں نکال سکتے اور ان کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ بعض بندوں کو اللہ تعالیٰ نورِ فراست بخشتا ہے اور وہ بسااوقات تھوڑے علم سے زیادہ فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔
    روس اور جرمنی در پردہ ملے ہوئے تھے
    جو خیال اس وقت میرے دل میں آیا یہ تھا کہ جب معاہدہ کی تکمیل
    میں اہم روکیں موجود ہیں تو پھر روس کو فوجی تبادلہ ء خیالات پر زور دینے کی اس قدر ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔ فوجی تبادلہ خیالات کی تو سیاسی معاہدہ کے بعد ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ اس پر روس کے مطالبہ کی مختلف وجوہات میرے ذہن میں آئیں اور آخر میرا دل اس خیال پر قائم ہو گیا کہ درحقیقت روس اور جرمنی اندر سے ملے ہوئے ہیں اور روس معاہدہ کی گفتگو کو جان کر لمبا کر رہا ہے تاکہ جب چاہے گفتگو کو بغیر اخلاقی الزام تلے آنے کے ختم کر دے اور فوجی گفتگو سے ان کا منشاء یہ ہے کہ اسے معلوم ہو جائے کہ پولینڈ کی حفاظت کیلئے انگلستان اور فرانس نے کیا تجویز سوچ رکھی ہے۔
    پولینڈ کو امداد دینے میں انگلستان کو مشکلات
    اس امر کا سمجھنا بہت سے ہندوستانیوں کیلئے مشکل
    ہو گا کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے گریجوایٹ تک بھی پولینڈ کے صحیح مقام سے ناواقف ہیں اور بڑی بے تکلفی سے آج کل جرح کرتے رہتے ہیں کہ انگلستان نے پولینڈ کی مدد کیوں نہیں کی اور کیوں ایک بڑی فوج وہاں نہیں بھجوا دی حالانکہ پولینڈ کے جائے وقوع کو مدنظر رکھتے ہوئے انگلستان اور فرانس کیلئے یہ ناممکن ہے۔ اس حقیقت کو ذہن نشین کرانے کیلئے میں ایک ناقص سا نقشہ دیتا ہوں جس سے معلوم ہو سکے کہ حقیقت حال کیا ہے۔
    اِس نقشہ کو دیکھ کر معلوم ہو سکتا ہے کہ انگلستان اور پولینڈ کے راستہ میں بحیرہ شمالی اور بالٹک سی (SEA)واقع ہیں۔ اور بحیرہ شمالی سے بحیرہ بالٹک تک جانے کے لئے راستہ ایک تنگ آبنائے سے گزرتا ہے جو جزائر ڈنمارک اور سویڈن کے درمیان واقع ہے۔ جس کی اسی طرح جرمنی نگرانی کر سکتا ہے جس طرح انگلستان فرانسیسی برطانوی آ بنائے کی نگرانی کر سکتا ہے۔
    بحیرہ بالٹک پر جرمنی کا قبضہ
    خصوصاً جب سے کہ جرمنی نے ڈنمارک کے نیچے سے کیل ۱؎ کی نہر نکال کر بحیرہ شمالی اور بالٹک کو ملا دیا ہے
    اس کے لئے یہ کام بہت زیادہ آسان ہو گیا ہے کیونکہ پہلے جرمنی کو دونوں سمندروں میں جہازی بیڑے رکھنے ضروری تھے اور ضرورت کے وقت ایک سمندر کا بیڑا دوسرے سمندر کے بیڑے کی مدد کو نہیں پہنچ سکتا تھا لیکن سابق جرمن امراء نے اس دِقّت کو دور کرنے کیلئے کیل کے مقام پر ایک نہر بنوا دی۔ جس کے راستہ سے جرمنی کا بیڑا چند گھنٹوں میں بحیرہ شمالی سے بالٹک اور بالٹک سے بحیرہ شمالی کی طرف جا سکتا ہے۔ اور اس طرح بالٹک پر جرمنی کا قبضہ بہت زیادہ مضبوط ہو گیا ہے پس سمندری سرنگوں اور اپنے بیڑے کی مدد سے انگلستان کے زبردست بیڑہ کے باوجود جرمنی اس قابل ہے کہ انگلستان کو بالٹک میں کسی مؤثرکارروائی کرنے سے روک دے۔ پس پولینڈ جو بالٹک میں واقع ہے اس کی مدد انگلستان عام حالات میں ہرگز نہیں کر سکتا تھا۔ خصوصاً ان حالات میں کہ پولینڈ کا اپنا کوئی محفوظ بندرگاہ نہ تھا اور ڈنزگ جرمنی کے اثر کے ماتحت تھا۔
    اس کی امداد کی اور وہ بھی ناقص امداد کی یہی صورت ہو سکتی تھی کہ انگلستان ترکی اور رومانیہ کے تعاون سے بحیرہ اسود کے ذریعہ سے اسلحہ کی امداد پولینڈ تک پہنچائے۔ پولینڈ کے جنوب میں رومانیہ ہے اور اس کے مشرق میںبحیرہ اسود ہے اور اس کے جنوب اور جنوب مغرب میں ترکی کا علاقہ اور درہ دانیا ل ہے۔ انگلستان نے رومانیہ اور ترکی سے معاہدات بھی کر لئے تھے اس لئے جرمنی کے لئے یہ معلوم کرنا ضروری تھا کہ انگلستان اور فرانس کی پولینڈ کی امداد کے بارہ میں کیا تجاویز ہیں تاکہ ان کا پہلے سے توڑ سوچ لیا جائے۔
    روس کی غرض برطانوی سکیم کو معلوم کرنا تھی
    غرض جس وقت روس کی طرف سے فوجی تبادلہ ء خیال
    پر زور دیا جانے لگا۔ اس مطالبہ کے نامناسب وقت پر پیش ہونے کی وجہ سے میرے دل میں بڑے زور سے یہ خیال پیدا ہوء ا کہ درحقیقت پولینڈ کے بارہ میں روس اور جرمنی میں خفیہ بات ہو چکی ہے اور یہ فوجی افسران سے تبادلہ ء خیالات کا اصرار محض برطانوی سکیم کے معلوم کرنے کی غرض سے ہے کیونکہ جب باہمی فوجی تعاون کے بارہ میں گفتگو ہوتی ہے تو سب پہلوؤں پر روشنی ڈالنی پڑتی ہے اور بہت سی مخفی باتیں ظاہر کرنی پڑتی ہیں۔
    روس کا پولینڈ میں فوجیں لانے پر اصرار
    میرا یہ خیال یقین سے بدل گیا جب یہ اعلان ہوء ا کہ روس نے
    اس امر پر زور دینا شروع کیا ہے کہ اس کی فوجیں پولینڈ میں جا کر جرمنوں سے ضرور لڑیں گی۔ انگلستان فرانس اور روس کسی اپنی غرض سے سمجھوتہ نہیں کر رہے تھے۔ ان کا سمجھوتہ ایک کمزور ملک کو زبردست ہمسائے سے بچانے کے لئے تھا۔ اگر وہ کمزور ملک ایک خاص حد تک امداد کو اپنے تحفظ کیلئے کافی سمجھتا تھا تو مددگار کا اس امر پر اصرار کرنا کیا معنی رکھتا تھا کہ میں تمہارے ملک میں فوجیں بھی ضرور لاؤں گا۔ ظاہر تھا کہ روس کا یہ اصرار صرف اس غرض سے تھا کہ روسی فوجیں پولینڈ میں داخل ہو کر جرمنی کے پولینڈ پر قبضہ کرنے کے بارہ میں ایسی سہولت پیدا کر دیں کہ بغیر خون ریزی کے پولینڈ کی حکومت ختم ہو جائے۔
    پس یہ اصرار پولینڈ کی امداد کے لئے نہ تھا بلکہ بغیر جنگ کے اس پر قبضہ کرنے کے لئے تھا جس کے بعد وہی کچھ ہونا تھا جو اب ہو رہا ہے یعنی پولینڈ کی تقسیم۔
    میں سمجھتا ہوں اس گفتگو میں پولینڈ کے انکار میں انگریز مدبرّین نے جو اس کی تائید کی وہ بہت معقول کام تھا اور جب جرمنی اور روس کے معاہدہ کے امکانات پیدا ہونے پر بظاہر (ورنہ مخفی طور پر میرے نزدیک تصفیہ پہلے سے ہو چکا تھا) انگلستان نے روس کو یہ دعوت دی کہ اب پولینڈ روسی فوجوں کے پولینڈ میں داخلہ پر راضی ہو جائے گا تو میرے نزدیک یہ وقتی جوش کانتیجہ تھا۔ جس نے دماغ کے انفعال پذیر حصہ کو وقتی طور پرمعطل کر دیا تھا۔ ورنہ یہ پیش کش گویا دشمن کے ہاتھ میں کھیلنے کے مترادف تھی جسے وہ صرف اس لئے قبول نہ کرسکا کہ وہ دوسرا قدم اٹھا چکا تھا۔
    روس اور جرمنی کا خفیہ سمجھوتہ
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرے نزدیک روس اور جرمنی میں خفیہ سمجھوتہ دیر سے ہو چکا تھا اوراس کا ماحصل یہ
    تھا کہ پہلے تو روس اتحادیوں سے مل کر پولینڈ میں اپنی فوجیں بھیجنے کی صورت پیدا کرے اور اس طرح پولینڈ کی حکومت کو بغیر خون ریزی کے تباہ کر دیا جائے۔ اگر ا س میں کامیابی نہ ہو تو پھر جرمنی اور روس اپنے خفیہ سمجھوتہ کو ظاہری معاہدہ کی صورت میں بدل دیں اور جرمنی پولینڈ پر حملہ کر دے۔ اگر مغربی طاقتیں دخل نہ دیں توفَبِھَا۔ اگر وہ دخل دے دیں تو جب جرمنی پولینڈ کو کُچل ڈالے تو بغیر دوسری اقوام سے اعلانِ جنگ کرنے کے روس اپنی فوجیں پولینڈ میں داخل کر دے اور ملک کو حسبِ معاہدہ تقسیم کر دیا جائے۔
    روس نے جرمنی کے حملہ کے ساتھ ہی کیوں حملہ نہ کیا؟
    کہا جا سکتا ہے کہ اس تجویز کی کیا ضرورت تھی کیوں نہ شروع سے ہی روس اور جرمنی نے مل کر پولینڈ پر حملہ کر دیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہٹلر نے اپنی
    کتاب MEINE KAMPF میں لکھا ہے کہسیاست میں بہترین حربہ طاقت نہیں بلکہ رُعب ہے۔ انگلستان اور فرانس پولینڈ کی تائید میں اس قدر بڑھ چکے تھے کہ اگر جرمنی اور روس شروع میں ہی مل کر پولینڈ پر حملہ کر دیتے تو اس امر کا ہرگز احتمال نہ تھا کہ انگلستان اور فرانس ان کے اجتماع سے مرعوب ہو کر پولینڈ کی مدد نہ کرتے۔ نفسیاتی نکتہ کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ وقت انگلستان یا فرانس کے مرعوب ہونے کا ہرگز نہ تھا اور ہٹلرجو ماہر نفسیات ہے اس امر کو خوب سمجھتا تھا۔ دوسرے پولینڈ کی تباہی سے پہلے کون کہہ سکتا تھا کہ پولینڈ اس قدر جلد تباہ ہو جائے گا اس لئے اس نے روس سے یہ سمجھوتہ کیا کہ وہ پہلے جنگ میں شامل نہ ہو بلکہ جب جرمنی پولینڈ کو تباہ کر دے تو وہ اپنا حصہ لینے کے لئے اپنی فوجیں داخل کر دے۔
    جو شخص بھی انسانی دماغ کا صحیح مطالعہ کرنے والا ہو سمجھ سکتا ہے کہ سب سے عمدہ موقع اپنے دشمن کو مرعوب کرنے کا وہ ہوتا ہے جب دشمن پر یہ امر روشن ہو جائے کہ جس کام کو میں کرنا چاہتا تھا اس کا وقت تو گزر چکا ہے اب کسی بڑی قربانی کو پیش کرنا صرف قوم کی جانوں اور ملک کی طاقت کو ضائع کرنے کے مترادف ہو گا۔
    پس جب ہٹلر پولینڈ کو فتح کر لے اس وقت اگر ایک اور بڑی طاقت جو بہ ظاہرانگلستان اور فرانس کی دشمن نہیں پولینڈ کی تقسیم میں حصہ دار ہو جاتی ہے‘ طبعاً انگلستان اور فرانس کے مدبرین کے دل میں یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ:۔
    (۱) پولینڈ پر حملہ جرمنی نے کیا تھا۔
    (۲) اس کے اصول ایسے جارحانہ ہیں کہ ان کے خلاف ہمارے ملک میں سخت منافرت کا جذبہ پیدا ہو چکا ہے۔
    (۳) اگر وہ پولینڈ پر قبضہ کر لیتا تو ہم جنگ کے بعد پولینڈ کو اس سے آزاد کرا دیتے۔
    مگر اب صورتِ حالات مختلف ہے۔ پولینڈ کا ایک حصہ روس میں مل چکا ہے۔ اگر ہم جرمنی کو شکست بھی دے دیں تو ہم پولینڈ کو آزاد نہیں کرا سکتے۔ کیا ان حالات میں لڑائی جاری رکھنی ضروری ہے؟ کیا بے تعلق دنیا اور اس کی حکومتیں اب ہمارے لڑائی کو جاری رکھنے کو پسندیدہ نگاہوں سے دیکھیں گی؟ پہلے ان کی ہمدردی ہمارے ساتھ اس لئے تھی کہ ہم ایک کمزور ملک کی آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں لیکن اب جبکہ جرمنی سے جنگ کر کے ہم پولینڈ کو آزاد نہیں کرا سکتے وہ یہ خیال کریں گی کہ ہماری جنگ پولینڈ کی آزادی کے لئے نہیں بلکہ بعض اپنی اغراض کے لئے تھی۔ پولینڈ اب اسی صورت میں آزاد ہو سکتا ہے کہ روس سے بھی جنگ کی جائے مگر کیا روس سے جنگ کے لئے فرانس کے باشندے جس کا بہت سا حصہ روسیوں سے محبت رکھتا ہے، ہندوستان کے باشندے جن کی ایک مقتدر سیاسی پارٹی ان سے ہمدردی رکھتی ہے اسی جوش سے جنگ کے لئے تیار ہوں گے جس طرح کہ وہ جرمنی کے خلاف جنگ کیلئے تیار تھے؟ کیا ان حالات میں یہی بہتر نہیں کہ ہم یہ کہہ کر کہ چونکہ پولینڈ تباہ ہو چکا ہے اور چونکہ اس کا ایک حصہ روس نے اپنے اندر شامل کر لیا ہے اور چونکہ باوجود اس کے کہ ہم روس کے اس فعل کو ناپسند کرتے ہیں۔ ہماری اس سے کوئی اصولی طور پر لڑائی نہیں اور چونکہ یہ بہترین موقع ہے کہ پولینڈ کی تقسیم کے وقت ہم اپنے رسوخ کو استعمال کر کے اس کے لئے زیادہ سے زیادہ ملک اور زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل کر سکیں ہم جنگ کو ختم کرتے ہیں۔
    ہٹلر کے زرخیز دماغ نے ان سب امور کو پہلے سے سوچا اور روس سے سمجھوتہ کرتے وقت یہی فیصلہ کیا کہ وہ شروع میں جنگ میں شامل نہ ہو بلکہ اس وقت آ کر اپنے حصہ پر قبضہ کر لے جب ہٹلر پولینڈ کو تباہ کر لے۔
    کیا جرمنی سے صلح کر لی جائیگی
    کہا جا سکتا ہے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ اس صورتِ حالات سے انگلستان اور فرانس کی
    حکومتیں متأثر ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ ہرگز نہیں بلکہ میں کہتا ہوں کہ خدا نہ کرے کہ وہ متاء ثر ہوں کیونکہ اس وقت ان کا جرمنی سے صلح کر لینا اپنی قوم سے بھی غداری ہو گا اور دنیا سے بھی غداری ہو گا۔ مگر جب مدبّرین آئندہ کے متعلق تجاویز سوچا کرتے ہیں تو چونکہ آئندہ کا یقینی علم کسی انسان کو نہیں‘ وہ صرف یہ دیکھا کرتے ہیں کہ امکان کس امر کا زیادہ ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ انگلستان اور فرانس کو مشکلات میں ڈالنے کا امکان اس میں کم تھا کہ روس شروع ہی میں جنگ میں شامل ہو جاتااور اس میں بہت زیادہ تھا کہ پولینڈ کی فتح کے بعد وہ بغیر جنگ میں شامل ہونے کے پولینڈ پر قبضہ کر لیتا۔ پس ہٹلر نے اس صورت کو پسند کر لیا جو اس کے لئے زیادہ سے زیادہ مفید تھی اور جس کے اختیار کرنے میں اگر یقینی نہیں تو غالب طور پر اسے یقین تھا کہ بغیر بڑی لڑائی لڑنے کے وہ پولینڈ کے ضروری حصہ کو ہضم کر سکے گا۔
    مدبّرین برطانیہ سے خطاب
    پس میرے نزدیک انگلستان کے مدبّرین کو اس صورتِ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاری کرنی
    چاہئے اور اس دھوکے میں نہیں رہنا چاہئے کہ یہ روسی حملہ جرمنی کے خطرہ کی وجہ سے ہے۔ یہ جرمنی کے خطرہ کی وجہ سے نہیں بلکہ سابق سمجھوتہ کے ماتحت ہے اور اب روس اور جرمنی انگریزوں کی طاقت کو توڑنے کے لئے متحد ہو چکے ہیں۔ بے شک ان میں شدید اختلاف ہیں، بے شک وہ ایک وقت میں ظاہر ہوں گے لیکن کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ اختلافات ابھی ظاہر ہو جائیں گے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ فضل کر کے کَل ہی جرمنی اور روس میں لڑائی چُھڑواوے، ممکن ہے باوجود معاہدہ کے روس دل میں یہ ارادہ رکھتا ہو کہ پہلے صلح سے پولینڈ میں داخل ہو جاؤں پھر جرمنی سے نپٹ لوں گا اور چند ہی دنوں میں کسی بہانہ سے جرمنی سے لڑ پڑے۔ سیاسی میدانوں میں ایسے دھوکے پہلے ہو چکے ہیں۔ ترکی سے جب بلقانی طاقتوں نے جنگ کی ہے تو انہوں نے یہی کیا تھا۔ رومانیہ، سرویا اور یونان نے بلغاریہ کے ساتھ معاہدہ کر کے اپنے ساتھ ملا لیا تھا لیکن اندرونی طور پر آپس میں ایک اور معاہدہ بھی کر چھوڑا تھا کہ اگر ترکی پر ہمیں فتح حاصل ہو گئی تو ہم بلغاریہ کو وہ کچھ نہیں دیں گے جس کا ہم نے معاہدہ کیا ہے۔ چنانچہ ترکی پر فتح پاتے ہی انہوں نے بلغاریہ پر حملہ کر کے اس کے بعض حصے چھین لئے۔ پس اب بھی ایسا ہو سکتا ہے مگر یہ سب امکانات ہیں اگر پورے ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اگر نہ ہوں توان حالات کے لئے برطانیہ کو پہلے سے تیار ہو جانا چاہئے اور صرف امیدوں پر اپنی تیاری کا انحصار نہیں رکھنا چاہئے۔
    انگلستان اور ترکی کے اتحاد میں دنیا کا امن ہے
    میں سمجھتا ہوں روس کی وجہ سے ترکی سے
    جو انگریزی اتحاد ہو چکا ہے وہ بھی خطرہ میںہے اور انگلستان کو اسے اور بھی پِکّا کرنے کی سرتوڑ کوشش کرنی چاہئے کیونکہ اگر روس جنگ میں شامل ہوء ا تو اتحادی طاقتوں کی کامیابی کا انحصار صرف اور صرف عالم اسلامی سے تعاون پر ہو گا اور یہ تعاون مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکتا جب تک ترکی حکومت اتحادیوں کے ساتھ نہ ہو۔
    اتحادیوں کو کیا کرنا چاہئے
    باقی رہی موجودہ جنگ۔ اگر اتحادی میری بات مانیں تو ان کیلئے سب سے بہتر بات یہ ہے کہ وہ روس کے
    پولینڈ پر حملہ کو نظرانداز کر دیں۔ روس نے جو کچھ کیا جرمنی کے حملہ کے نتیجہ میں کیا۔ پس وہ جرمنی سے کہہ دیں کہ یہ تقسیم تمہارے فعل کا نتیجہ ہے ہم جنگ کے بعد اس کا بدلہ پولینڈ کو تم سے دلوائیں گے اور میرے نزدیک پولینڈ کے قضیہ کا بہترین حل بھی یہی ہے۔ یوکرینن کا روس کے ساتھ شامل ہونا پولینڈ کو مضبوط کرتا ہے کمزور نہیں۔ پھر کیا حرج ہے کہ اسے روس کے پاس ہی رہنے دیا جائے۔ جب جنگ میں اللہ تعالیٰ فتح دے اور پولینڈ کی حکومت پھر سے قائم کی جائے تو جو پولز اس علاقہ میں بستے ہیں ان کا تبادلہ ان علاقوں کے جرمنوں سے کر دیا جائے جو کوننگز برگ (KONIGSBERG)سے لیکر پولش کاریڈور (POLISH CORRIDOR)تک رہتے ہیں۔ ان علاقوں کے جرمنوں کو اپنے حلیف کے ملک میں رہنے کے لئے بھجوا دیا جائے۔ اس طرح جرمنوں اور یوکرینن کی آبادی پولینڈ میں فساد بھی پیدا نہ کرتی رہے گی اور پولینڈ کو سمندر تک کا اچھا راستہ بھی مل جائے گا۔ غرض میرے نزدیک اس نئی مشکل کا سہل حل یہی ہے کہ جرمنی کے فعل کی قیمت اسی سے وصول کی جائے اور روس سے جھگڑے کی صورت کو نظرانداز کر کے جرمن کی تدبیر کو ناکام کر دیا جائے۔
    اسی سلسلہ میں میرا ارادہ بعض اور مضامین لکھنے کا بھی ہے۔ وَمَاتَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہِ
    مرزا محمود احمد
    امام جماعت احمدیہ
    (الفضل ۲۱؍ستمبر۱۹۳۹ء)
    ۱؎ کیل شیلسوگ ہولسٹائین KIEL SCHLESWIG HOLSTEIN شمالی جرمنی کا دارالحکومت ۔ بحیرہ بالٹک پر بڑی بندر گاہ۔ ۱۹۴۵ء تک جرمنی کا اہم بحری اڈہ تھا۔ بحیرہ شمالی سے نہر کیل کے ذریعہ ملحق ہے یہ لمبی مصنوعی آبی شاہراہ ۱۸۹۵ء میں نکلی۔ یہ ۶۱ فٹ لمبی اور ۱۴۴ فٹ چوڑی اور ۳۸ فٹ گہری ہے۔ اسے چار لاک لگے ہوئے ہیں۔
    (اُردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد۲ صفحہ۱۲۵۵۔ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء)


    خدام سے خطاب







    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

    خدام سے خطاب
    (تقریر فرمودہ ۲۵؍ دسمبر ۱۹۳۹ء برموقع اجتماع خدام الاحمدیہ بمقام قادیان)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    آج کا اجلاس خدام الاحمدیہ کی طرف سے ہے اور گو اس کے پروگرام کے بعض حصے مجھے دکھا کر مقرر کئے گئے تھے مجھے افسوس ہے کہ ان سے بھی اس بارہ میں ایک غلطی ہوئی اور مجھ سے بھی۔ دراصل یہ پروگرام اصلاح کے قابل ہے۔ مثلاً اس کا ایک جزویہ ہے کہ اس مجلس کو جو کام کے لحاظ سے سال بھر اوّل رہی جھنڈا دیا جائے۔ جس وقت میں نے یہ تجویز منظور کی اُس وقت میرے ذہن میں یہ امر نہ تھا کہ جماعت کا جھنڈا ا بھی قانونی طور پر منظور نہیں ہؤا اور اسے جماعت کے سامنے پیش کر کے یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ تمہارا جھنڈا ہے اور اسے پیش کئے بغیر ہی اس کی نقل کسی ماتحت مجلس کو دے دینا ناموزوں بات ہے۔ پہلے تو میں نے اس کی منظوری دے دی مگر کَل مجھے خیال آیاکہ پروگرام کا یہ حصہ اصلاح طلب ہے اس لئے میں نے کارپردازان سے کہہ دیا کہ جب ۲۸ دسمبر کو جماعت کا جھنڈا لہرایا جائے گا یا دینی اصطلاح کے مطابق نصب کیا جائے گا اُسی وقت یہ انعامی جھنڈا بھی دے دیا جائے گا۔ دوسری غلطی اس پروگرام میں یہ ہوئی ہے اور اس کے لئے مَیں بھی ذمہ دار ہوں کہ یہ جلسہ، سالانہ جلسہ کے ایام میں رکھا گیا ہے۔ ایسا جلسہ جس کا پروگرام کئی گھنٹے کا ہو اِن دنوں میں رکھنا منتظمین کو پریشانی میں ڈالنے والی بات ہے۔ چنانچہ جب میں اس جلسہ میں آنے لگا تو ناظر صاحب ضیافت کا ایک رُقعہ مجھے ملا کہ کام کرنے والے، خدام الاحمدیہ کے جلسہ میں چلے گئے ہیں کچھ نیشنل لیگ کے کام میں ہیں۔ اِدھر ٹرینیں مہمانوں سے بھری ہوئی آ رہی ہیں اور ان حالات میں مَیں ان کو کس طرح سنبھال سکتا ہوں جب میرے پاس کام کرنے والے ہی نہ ہوں اور ان کی یہ بات معقول ہے۔ جن دنوں میں قادیان کے لوگ کام میں مشغول ہوں اور آزادنہ ہوں ایسے جلسے کرنا جن میں قادیان کے لوگوں کی حاضری ضروری ہو ٹھیک نہیں اور ہمیں ایسے جلسے کر کے منتظمین کو پریشانی میں مبتلا کرنا نہیں چاہئے اس لئے آئندہ خدام الاحمدیہ کا جلسہ کسی دوسرے دنوں میں ہونا چاہئے۔ مثلاً شوریٰ کے موقع پر کیا جا سکتا ہے یا اس کیلئے الگ وقت مقرر کئے جائیں تو یہ زیادہ موزوں ہو گا۔ الگ دن مقرر کرنے سے شروع میں کچھ دِقّت ضرور پیش آئے گی اور بعض ممبر شریک نہیں ہوں گے مگر اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے جن لوگوں کے نزدیک ممبری کی اتنی اہمیت بھی نہ ہو کہ وہ اپنے جلسہ کے لئے سال میں ایک بار جمع ہو جائیں وہ دراصل ممبری کے قابل ہی نہیں ہیں۔ خاکساروں کو دیکھو اس نام نہاد جہاد میں جو انہوں نے لکھنؤ میںشروع کر رکھا تھا وہ اپنے پاس سے کرایہ خرچ کر کے پہنچتے رہے ہیں اور اس طرح قید ہو کر اپنا کاروبار علیحدہ تباہ کرتے رہے ہیں اور دیگر نقصان علیحدہ کرتے رہے ہیں اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ خدام الاحمدیہ کے ممبر دوسرے ایام میں اپنے جلسہ میں شرکت کے لئے نہ آئیں اور پھر جو نہ آئیں ان کے متعلق کسی تشویش میں پڑنا اور خیال کرنا کہ کیا ہو گا باطل بات ہے ہمیں ایسے نکمّوں کی کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ پس میرے نزدیک شورٰی کے موقع پر جلسہ منعقد کرنے کی نسبت بھی یہ بہت بہتر ہے کہ الگ ایام مقرر کئے جائیں اس سے نوجوانوں کو اس تحریک میں شمولیت کی بھی ترغیب ہو گی اور یہ طریق گویا اس تحریک کی مضبوطی کا موجب ہو گا۔ جب میں نے مجلس شوریٰ کا قیام کیا تو شروع میں زیادہ لوگ نہیں آتے تھے مگر اب سینکڑوں ایسے آ جاتے ہیں جو ممبر بھی نہیں ہوتے اور صرف کارروائی سننے کیلئے آ جاتے ہیں۔ اس طرح اگر خدام الاحمدیہ اپنے جلسہ کے لئے الگ دن مقرر کرے تو سینکڑوں نوجوان ان دنوں میں بھی فائدہ اُٹھانے کی غرض سے قادیان آ جائیں گے اور سینکڑوں کو تحریک ہو گی کہ وہ ممبر بنیں۔ میرا بچپن سے یہ تجربہ ہے کہ کوئی اچھا کام جب شروع کر دیا جائے تو وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہو جاتا ہے۔ میری طبیعت میں بچپن سے ہی انتہائی احتیاط کی عادت ہے۔ بعض لوگ تو اسے وہم کہتے ہیں مگر میں تو اسے توجہ ہی کہوں گا۔ جب تک کوئی کام پوری طرح نہ ہو جائے مجھے اطمینان نہیں ہوتا۔ یہ بالکل ایسی ہی کیفیت ہے کہ جب تک بچہ ماں کے پا س نہ ہو اُسے تسلی نہیں ہوتی بلکہ وہ خیال کرتی ہے کہ شاید ٹھوکر لگ کر گر ہی نہ گیا ہو، ریل کے کسی حادثہ کا شکار نہ ہو گیا ہو، موٹر کے نیچے آ کر کُچلا نہ گیا ہو، وہ جو اَب تک آیا نہیں تو ایسا نہ ہو کہ کسی مشکل میں پھنسا ہوا ہو۔ اسی طرح مجھے بھی اطمینان نہیں ہوتا کہ کام ہو گیا ہو گا اور اس عادت کو میں چونکہ مفید سمجھتا ہوں اس لئے اسے دور کرنے کی کوشش میں نے کبھی نہیں کی۔ ہمارے ملک میں یہ عام مرض ہے کہ جسے کوئی کام سپرد کیا جائے وہ گھر بیٹھے بیٹھے ہی فرض کر لیتا ہے کہ ہو گیا ہو گا یہ درست نہیں۔ میں نے اپنی اس عادت سے بہت فائدہ اُٹھایا ہے اور بسااوقات نہایت خطرناک نتائج سے جماعت محض اس عادت کی وجہ سے بچ گئی۔ کئی بار ایسا ہوا کہ کسی ناظر یا کسی اور شخص کو کوئی کام بتایا گیا اس نے آگے دوسرے کے سپرد کر دیا اور خود فرض کر لیا کہ ہوگیا ہوگا لیکن مجھے گھر میں بیٹھے بیٹھے یہ خیال ہوا اور میں نے پتہ کرایا تو معلوم ہوا نہیں ہوا تھا اور اس طرح وہ بروقت کر لیا گیا اور اس وجہ سے کئی حوادث سے جماعت بچ گئی۔ میرے توجہ دلانے سے وہ کام ہو گیا اور نقصان نہ ہوا اور خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ وہ بھی اس عادت کی نقل کریں۔ ہندوستان میں نکمّا پن کی زیادہ وجہ یہی ہے کہ لوگ قیاس بہت کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی روزانہ ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ کئی بار میں کوئی کام بتاتا ہوں اور جب پرائیوٹ سیکرٹری سے پوچھا جاتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہو گیا ہے مگر جب بعد میںغلطی کاعلم ہوتا ہے تو کہہ دیا جاتا ہے کہ ہم نے فلاںشخص کو کہہ دیا تھا اور خیال تھا کہ اس نے کر دیا ہو گا۔ حالانکہ کام جس شخص کے سپرد کیا جائے اسے یقین ہونا چاہئے کہ ہو چکا ہے محض قیاس کر کے مطمئن نہیں ہو جانا چاہئے۔ یہ نکمّاپن کی علامت ہے۔ ایسے لوگوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کوئی شخص سفر پر گیا اور کسی لڑکے کو بطور خادم ساتھ لے گیا ایک رات وہ کسی سرائے میں ٹھہرے۔ رات کو بارش شروع ہو گئی اسے چونکہ خیال تھا کہ بارش ختم ہو تو سفر شروع کر کے آگے چلیں تا یہ جلد طے ہو اس لئے رات کو کئی بار اُس کی آنکھ کُھلی۔ اُس نے نوکر کو آواز دی اور کہا کہ باہر جا کر دیکھو بارش ہو رہی ہے یا نہیں؟ مگر نوکر نے بجائے اس کے کہ باہر جا کر دیکھتا وہیں پڑے پڑے جواب دیا کہ ابھی باہر سے بلی آئی تھی میںنے دیکھا وہ بھیگی ہوئی تھی اس لئے بارش ضرور ہو رہی ہے۔ حالانکہ یہ کوئی دلیل نہیں۔ ممکن تھا بلّی کسی نالی میں سے گزر کر آئی ہو اور اس وجہ سے بھیگ گئی ہو یا کسی اور وجہ سے ہو۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے نوکر سے کہا کہ لیمپ گُل کر دو۔ اُس نے جواب دیا کہ آپ کو اندھیرے میں نیند آتی ہے مگر میں روشنی میں سونے کا عادی ہوں اگر لیمپ گُل کر دیا گیا تو مجھے نیند نہیں آئے گی اس لئے آپ منہ پر لحاف ڈال لیں آپ کے لئے گویا لیمپ بجھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے پھر کہا کہ ہوا تیز آ رہی ہے اُٹھ کر دروازہ بند کر دوتو اس نے جواب دیا کہ دو کام میں نے کر دیئے ہیں ایک آپ خود اُٹھ کر کر لیں۔ تو اِس قسم کی سُستیاںہمیشہ قیاس آرائیوں سے پیدا ہوتی ہیں۔ ایسے ہی قیاس کی ایک اور مثال بھی ہے۔ ایسا قیاس کر لینا کہ یوں ہو گا محض سُستی کا نتیجہ ہوتا ہے اور ایسے لوگ میںنے دیکھا ہے کہ بعض اوقات اتنے دلیر ہو جاتے ہیں کہ کہہ دیتے ہیں فلاں کام یوں ہو گیا۔ وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ میرا خیال ہے ہو گیا ہو گا بلکہ خیال کا لفظ بھی بیچ میں سے اُڑا دیتے ہیں اور بڑی دلیری سے کہہ دیتے ہیں کہ ہو گیا ہے اور اکثر کاموں میں خرابی ایسے خیالات کے نتیجہ میں ہوتی ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ اس عادت کو بالکل چھوڑ دیں اور قیاس سے کام نہ لیا کریں جب تک ذاتی طور پر یہ اطمینان نہ کر لیں کہ جو کام ان کے سپرد کیا گیا تھا وہ ہو چکا ہے۔ ان کو وہم رہے کہ شاید خراب ہو گیا ہو۔ واقعات کی دنیا میں واقعات کو دیکھا کریں واقعات کی دنیا میں قیاس کا کوئی کام نہیں۔ میں ہمیشہ اپنے ساتھ کام کرنے والوںکو اس طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں مگر میں نے دیکھا ہے یہ مرض دور نہیں ہوتا اور قیاس سے بہت کام لیا جاتا ہے۔ اہلِ حدیث کا عقیدہ ہے کہ جس نے پہلے قیاس کیا وہ شیطان تھا۔ پہلے مجھے اس قول کی سمجھ نہیں آیا کرتی تھی مگر اب میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات ٹھیک ہے۔ قیاس یوں تو اچھی چیز ہے لیکن واقعات میں اس کو داخل کرنا سخت خطرناک ہے۔ ایک فلسفی اگر فلسفہ کے مسائل میں قیاس سے کام لیتا ہے تو یہ بات تو سمجھ میں آ سکتی ہے لیکن واقعات کی دنیا میں اس کا کوئی تعلق نہیں۔ ایک لطیفہ مشہور ہے کہ کہتے ہیں کوئی شخص کسی کے پاس مہمان گیا میزبان خود نہایت باقاعدہ اور وقت کا پابند آدمی تھا اور اپنے ملازموں کو بھی اس نے وقت کا پابند بنایا ہوا تھا۔ اس نے اندازہ کیا ہوا تھا کہ اگر نوکر کو فلاں دُکان پر بھیجا جائے تو وہ کتنے منٹ میں واپس آتا ہے وہ اپنے مہان کو اپنے نوکروں کی ہُنرمندی بھی دکھانا چاہتا تھااس لئے اس نے مہمان کے آگے کھانا رکھوا دیا اور نوکر سے کہا کہ فلاں دُکان سے جا کر فوراً دہی لے آؤ تھوڑی دیر بعد اس نے مہمان سے کہا کہ اب وہ دکان پر پہنچ چکا ہو گا۔ اب دہی لے چکا ہو گا اور واپس آ رہا ہو گا۔ اب فلاں مقام پر پہنچ گیاہو گا۔ بس آپ کھانا شروع کریں وہ آیا ہی چاہتاہے اور ساتھ آواز دی کہ ارے فلاں آ گیا۔ اِدھر اُس نے یہ کہا اور اُدھر اس نے جواب دیا کہ ہاںحضور آ گیا۔ مہمان یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا اور اس نے کہا کہ نوکروںکا ایسا سِدھا ہؤا ہونا تو بہت عزت افزائی کا موجب ہے۔ ایسے آقا کی بھی ہر دیکھنے والا تعریف کرنے پر مجبور ہے۔ اس لئے مجھے بھی اپنے نوکروں کو اسی طرح سِدھانا چاہئے چنانچہ گھر واپس پہنچا تو اس نے بھی نوکروں کو ڈانٹنا ڈپٹنا شروع کیا کہ کام جلدی جلدی اور وقت کی پابندی کے ساتھ کیا کرو۔ مگر جو شخص خود پابند نہ ہو اور جس کے نوکر روز دیکھیں کہ وہ خود وقت کا پابند نہیں اور سُست آدمی ہے تو خالی ڈانٹ ڈپٹ ان پر کیا اثر کر سکتی ہے۔ کچھ عرصہ بعد وہی شخص اس کے ہاں مہمان ہوا اس نے بھی اپنے نوکروں کی مستعدی اور سلیقہ شعاری دکھانے کے لئے اسی طرح کیا۔ یعنی کھانا اس کے سامنے رکھ کر نوکر کو دہی کے لئے بھیجا اور کہنا شروع کیا کہ اب وہاں پہنچا ہو گا۔ اب لَوٹ رہا ہو گا اَب فلاں جگہ ہو گا۔ اب بس پہنچا ہی چاہتا ہے آپ کھانا شروع کریںاور پھر نام لے کر آواز دی کہ کیوں بھئی آگئے۔ اُدھر سے نوکر نے کہاکہ جی آپ تو عقل ہی مار دیتے ہیں میں تو ابھی جوتا ہی تلاش کر رہاہوں۔ یہ لطیفہ دراصل ہندوستانیوں کی ذہنیت کا نقشہ ہے۔ وہ اس طرح قیاس کر لیتے ہیں اور میں نے دیکھا ہے اچھے اچھے تعلیم یافتہ بی اے اور ایم اے پاس اسی مرض کا شکار ہیں۔ وہ کہلاتے تو بی اے اور ایم اے ہیں مگر عقل کے لحاظ سے وہ پرائمری پاس بھی نہیں ہوتے۔ اس کی بڑی وجہ توسُستی ہے اور جب سُستی کے باعث کوئی کام نہ کیا تو پھر قیاس کرتے ہیں بہانہ سازی سے کام لیتے ہیں اور بسااوقات تو میں نے دیکھا ہے کہ کسی بات کے لئے جو ہدایات دی جاتی ہیں خود اپنے پاس سے ہی ان کا جواب بھی دے دیتے ہیں نہ پیغام آگے پہنچاتے ہیں اور نہ اس کی بات سنتے ہیں بلکہ خود بخود ہی جواب دینا شروع کر دیتے ہیں۔ پس میں خدام الاحمدیہ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر تم نے دنیا میں کوئی کام کرناہے تو قیاس کرنا چھوڑ دو۔ جب کوئی کام تمہارے سپرد کیا جائے تو اسے پورے وقت پر ادا کرو اور جب تک خود نہ دیکھ لو کہ وہ ہو گیا ہے مطمئن نہ ہو۔ گھر بیٹھے بیٹھے ہی یہ قیاس کر لینا کہ کام ہو گیا ہو گا اوّل درجہ کی نالائقی اور حماقت ہے۔ میں نے دیکھاہے کہ کام نہ کرنے کی وجہ سے ہندوستانیوں کے دماغ بھی ٹھیک طور پر کام نہیں کرتے اور یہ حالت ہے کہ کسی کو پیغام کچھ دو اور وہ آگے پہنچائیں گے کچھ اور، دماغ بات سنتے اور سمجھتے ہی نہیں۔ اس لئے خدام الاحمدیہ یہ بھی مشق کریں کہ جو پیغام دیا جائے اسے صحیح طور پر پہنچا سکیں۔ فوجوں میں یہ دستور ہے کہ اس کی مشق کرائی جاتی ہے جب کسی کو کوئی افسر پیغام دے تو دینے کے بعد پوچھتا ہے میں نے کیا کہا اور پھر وہ شخص اسے دُہراتا ہے۔ پچھلی جنگ میں ایک تجربہ کیا گیا کہ کس طرح بات دُور تک پہنچتے پہنچتے کیا بن جاتی ہے۔ فرانس کے جنگی محاذ پر شہزادہ ویلز جو بعد میں ایڈورڈ ہشتم کے نام سے تخت نشین ہو کر ریٹائر ہو چکے ہیں گئے تو ایک بڑی بھاری پریڈ ہوئی جس میں یہ تجربہ دکھایا گیا کہ پیغام پہنچانے میں لوگ کیسی کیسی غلطیاں کرتے ہیں۔ جرنیل نے پہلے سپاہی کو پیغام دیا کہ آگے پہنچا دو کہ شہزادہ ویلز آئے ہیں اور آخری افسر کوجو اطلاع اس طرح ملی وہ یہ تھی کہ دو پیسے مل گئے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہوئی کہ ایک سے دوسرے اور تیسرے تک بات کے پہنچنے میں کچھ تو لب و لہجہ کی تبدیلی سے فرق پڑا اور کچھ یہ کہ سننے والے نے قیاس کر لیا۔ یہ تو تجربہ کرنے کے لئے پیغام بھیجا گیا تھا لیکن اگر واقعی یہ پیغام پہنچانا مقصود ہوتا تو کس قدر نقصان ہوتا۔
    پس کام میں قیاس کرنا چھوڑ دو۔ دیکھو جب کوئی بچہ اپنی ماں سے جُدا ہو جاتا ہے تو کس طرح اس کے دل میں مختلف وساوس اُٹھتے ہیں۔ وہ یہی قیاس نہیں کر لیتی کہ وہ آرام سے بیٹھا ہو گا بلکہ سوچتی ہے کہ کہیں بھینس کا پاؤں اس پر نہ آ گیا ہو، گھوڑے نے اسے دولَتی نہ مار دی ہو، گدھے نے لات نہ مار دی ہو، سیڑھی سے گِر کر اس کا سر نہ پَھٹ گیا ہو، کوئی اسے اُٹھا کر نہ لے گیا ہو اور یہ ایک طبعی بات ہے۔ جب تک یہ وساوس اس کے دل میں پیدا نہ ہوں وہ اپنے بچہ کی پوری پوری نگرانی کر ہی نہیں سکتی۔ پس تم بھی کام کی اسی طرح نگرانی کرو۔ کام سے محبت کا علم ہی اُسی وقت ہو سکتا ہے جب وساوس پیدا ہونے لگیں۔ بڑی سے بڑی تعلیم یافتہ ماں کو دیکھ لو بچہ کا سوال آتے ہی فوراً اس کے دل میں وساوس پیدا ہونے لگیں گے۔یہ دراصل کامل محبت کانتیجہ ہے وہ دنیا بھر کے معاملات کے متعلق قیاسات کر لے گی لیکن بچہ کا سوال سامنے آتے ہی اس کے دل میں وساوس پیدا ہونے لگیں گے اور یہ کامل محبت کا نتیجہ ہے پس ا س قسم کی احتیاط بہت اچھی بات ہے۔ حضرت خلیفہ اوّل بعض اوقات کوئی بات کہہ دیتے مگر پھر خیال ہوتا کہ وہ شاید مجھے بُری لگی ہے مجھ سے پوچھتے تو مَیں انکار کرتا۔ مگر آپ فرماتے میاں! مجھے خیال تھا کہ شاید بُری لگی ہو۔ عشق است وہزار بدگمانی۔ مجھے چونکہ آپ سے بہت محبت ہے اِس لئے مجھے شُبہ رہتا ہے کہ کہیں ناراض تو نہیں ہو گئے۔ پس یاد رکھو کہ اگر دل میں وسوسہ پیدا نہیں ہوتا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ عشق نہیں ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ کام کا عشق ہو اور دل میں وسوسے پیدا نہ ہوں اور رہ رہ کر یہ خیال نہ آئے کہ شاید کام نہ ہوا ہو۔ میری عمر میںبیسیوں ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ میں نے اپنی اس طبیعت کی وجہ سے گھر بیٹھے بیٹھے بیسیوں کاموں کی اصلاح کرادی۔ میں نے کسی کام کے لئے کہا اور ناظر متعلقہ نے اس کا آرڈر دے کر سمجھ لیا کہ ہو گیا اور جب میں نے دریافت کرایا تو کہہ دیا کہ ہو گیا ہے لیکن جب تحقیقات کرائی گئی تو معلوم ہوا نہیں ہوا اور میں نے اسے پھر کرایا۔
    پس ایک بات تو یہ یادرکھو کہ جو کام تمہارے سپرد کیا جائے اس کے متعلق کبھی مطمئن نہ ہو جب تک خود تسلی نہ کر لو کہ وہ ہو گیا ہے۔ آنکھ سے نہ دیکھ لو یا اسے آنکھوں سے دیکھنے والا خود تمہارے سامنے بیان نہ کرے کہ وہ ہو گیا ہے اور دوسرے یہ بات یاد رکھو کہ یہ خیال کبھی نہ کرو کہ فلاں بات ہو نہیں سکتی۔ آج کل نوجوانوں سے ایسی باتیں بکثرت سننے میں آتی ہیں کہ کوئی مانتا نہیں، کوئی سنتا نہیں، یہ بھی بزدلی اور کمزوری کی علامت ہے۔ جب کوئی اچھا کام سامنے آئے اس کے متعلق پہلے احتیاط کے ساتھ اچھی طرح غور کر لو اور دیکھ لو کہ جہاں تک انسانی کوشش کا سوال ہے یہ ایسا تو نہیں جو ناممکن ہو اور کارکنوں پر اس سے ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ تو نہیں پڑتا اور جب فیصلہ کر لو کہ یہ طاقت کے اندر ہے تو پھر یہ کوئی قابلِ غور سوال نہیں کہ کوئی کرے گا یا نہیں۔ تم خود اسے شروع کر دو اور یہ نہ دیکھو کہ کوئی تمہارے ساتھ ہوتا ہے یا نہیں۔ میرے بچپن کے کئی کام ایسے ہیں جنہیں آج اتنی تنظیم کے باوجود بھی ہم بآسانی نہیں کر سکتے۔ جب ولایت میں مشن قائم ہوا تو خواجہ صاحب (خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم) نے وہاں سے لکھنا شروع کیا کہ ایک اور آدمی یہاں بھیجا جائے۔ حضرت خلیفہ اوّل نے صدرانجمن احمدیہ کو جو خزانہ کی مالک تھی حکم دیا کہ خواجہ صاحب کی مدد کے لئے کوئی آدمی بھیجنے کا انتظام کیا جائے۔ اس کے لئے کئی کمیٹیاں قائم ہوئیں۔ سب نشیب و فراز پر غور کیا گیا، کئی دقتیں سامنے آئیں، خرچ کا سوال بہت مشکل تھا۔ ایک دن حضرت خلیفہ اوّل نے مجھے فرمایا کہ خواجہ بہت تنگ کر رہا ہے۔ میں نے مولوی محمد علی صاحب سے بھی کہا کہ کوئی انتظام کیا جائے وہ بھی کوئی تجویز نہیں کرتے۔ انجمن بھی کوئی فیصلہ نہیں کرتی اور میں اس وجہ سے بہت پریشان ہوں۔ اُدھر کام خراب ہو رہا ہے اور اِدھر یہ لوگ کوئی توجہ ہی نہیں کرتے۔ میں وہاں سے اُٹھا اور انصار اللہ کی مجلس میں اِس بات کو پیش کیا اور کہا کہ یہ کوئی مشکل کام نہیںکوئی شخص اپنے آپ کو پیش کرے۔ چودھری فتح محمد صاحب نے کہا کہ میں اپنے آپ کو پیش کرتا ہوں۔ اب سوال کرایہ کا رہ گیا۔ چودھری صاحب نے کہا کہ تھرڈ کلاس کا جو کرایہ لگتا ہے وہ مجھے دے دیا جائے معلوم ہوا کرایہ دو سَو کے قریب ہو گا۔ سَو روپیہ خرچ خوراک وغیرہ کے لئے رکھ لیا گیا اور چند دوستوں نے اُسی وقت یہ روپیہ پورا کر دیا اور میں نے جا کر حضرت خلیفہ اوّل سے کہہ دیا کہ آدمی بھی تیار ہو گیا ہے اور روپیہ کا انتظام بھی ہو چکا ہے تو اس طرح میں نے انگلستان میں مشن قائم کیا۔ چودھری فتح محمد صاحب نے وہاں بعد میں الگ مشن قائم کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایسے رنگ میں مجھے کامیاب کیا کہ جس کام کیلئے صدرانجمن احمدیہ کئی مہینے مشورے اور تجویزیں کرتی رہی میں نے وہ چند منٹ میں کر دیا۔ آدمی بھی تیار کر لیا اور روپیہ بھی فراہم ہو گیا۔ اسی طرح کا ایک اور واقعہ ہے۔ قادیان میں علمی ترقی کے لئے میں نے انجمن سے یہ کہا کہ کوئی انتظام کیا جائے۔ جب تک یہاں کوئی ایسا آدمی نہ ہو جو عربی ممالک میں تعلیم حاصل کر کے آئے یہاں علمی ترقی نہ ہو سکے گی مگر انجمن نے ہمیشہ مالی مشکلات کا عُذر پیش کیا۔ میں نے چودھری نصراللہ خان صاحب مرحوم سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ کچھ بوجھ آپ اُٹھائیں اور کچھ میں اُٹھاتا ہوں اور ایک آدمی مصر بھیجا جائے ۔ وہ آمادہ ہو گئے اور میں نے شیخ عبدالرحمن مصری کو جواَب مرتد ہو چکے ہیں مصر بھیج دیا کہ وہاں سے عربی کی تعلیم حاصل کر کے آؤ تا سلسلہ کو بھی فائدہ پہنچے۔ ہم دو چار آدمیوں نے ہی مل کر ان کے لئے کرایہ وغیرہ کا انتظام کر دیا۔ وہ اُس وقت ملازم تھے اس لئے تنخواہ یہاں بال بچوں کو ملتی رہی اور وہاں کے اخراجات مَیں بھجواتا رہا۔ اس کام کے لئے انجمن مدتوں سوچتی رہی مگر میں نے خیال کیا کہ اگر یہ بات اچھی ہے تو میں اسے شروع کر دیتا ہوں اللہ تعالیٰ خود تکمیل تک پہنچا دے گا اور یہ میرے کام اس وقت کے ہیں جب میں ابھی بچہ تھا۔ خدام الاحمدیہ کے بہت سے ممبروں کے لحاظ سے مَیں بچہ تھا۔ اس کی ممبری کے لئے چالیس سال تک عمر کی شرط ہے مگر میری عمر اُس زمانہ میں ۲۲،۲۳ سال ہو گی اور کئی کام تو اس سے بھی پہلے زمانہ کے ہیں۔ اس زمانہ میں چودھری فتح محمد صاحب اور بعض دوسرے نوجوان سکولوں اور کالجوں میں پڑھا کرتے تھے۔ میری آنکھوں میں ککرے ہو گئے تھے اس لئے میں نے سکول میں پڑھنا چھوڑ دیا تھا اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل سے طب اور بخاری پڑھا کرتا تھا۔ ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ جب بڑے تبلیغ کرتے ہیں تو ہم کیوں نہ کریں اور اس کے لئے کیا ذریعہ اختیار کریں۔ آخر ہم نے فیصلہ کیا کہ جس طرح رسالہ ریویو نکلتا ہے ہم بھی ایک رسالہ جاری کریں۔ سب نے مجھ سے کہا کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اجازت حاصل کریںاور نام بھی رکھوائیں۔ آپ نے اجازت دے دی اور تشحیذالاذہان نام رکھا۔ اب اس کے اخراجات کا سوال تھا۔ ہم نے فیصلہ کیا جو جیب خرچ ملتا ہے اس میں سے ایک ایک روپیہ چندہ دیں گے۔ پہلے سات ممبر تھے اس لئے ہم نے فیصلہ کیا کہ سہ ماہی رسالہ نکالا جائے۔ مضمون تو ہم خود لکھ لیں گے پیکٹ وغیرہ بھی خود بنا لیں گے۔ اندازہ کیا گیا تو ۲۵،۳۰ روپیہ خرچہ کتابت اور طباعت وغیرہ کا تھا۔ ہم نے سوچا کہ کوئی نہ کوئی خریدار بھی تو مل ہی جائے گا۔ پہلے دو تین پرچے ہم نے خود اپنے ہاتھ سے پیک وغیرہ کئے ٹکٹ لگائے مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے اسے جلد ہی ترقی حاصل ہو گئی۔ تو رسالہ کا نکالنا کوئی معمولی بات نہیں مگر میں نے اسے شروع کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ چل نکلا گو بعد میں مَیں نے ہی اسے رسالہ ریویو میں مدغم کر دیا کیونکہ ریویو کی حالت اچھی نہ تھی اور میں چاہتا تھا کہ ساری توجہ اسی کی طرف ہو۔ کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جار ی کردہ ہے۔ اسی طرح میری خلافت کے ایام میں بھی بیسیوں امور ایسے پیش آئے کہ جب میں نے ان کو شروع کیا تو لوگوں نے اعتراض کیا اور کہا کہ یہ ایسا بوجھ ہے جسے قوم اُٹھا نہیں سکتی مگر آخر وہ کام خدا تعالیٰ نے کر دیئے۔ میرا تو یہ ہمیشہ سے قاعدہ رہا ہے کہ جب پوری سوچ بچار اور احتیاطوں کے باوجود میں نے دیکھا کہ کام ضروری ہے تو پھر میں نے کوئی پرواہ نہیں کی کہ کیا نتیجہ ہو گا اور تَوَ کُّلاً عَلَی اللّٰہِ اسے شروع کر دیا اور یہی سمجھا کہ اگر یہ کام اچھا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے خود تکمیل تک پہنچا دے گا۔ پس یاد رکھو کہ کسی کام کو شروع کرتے وقت یہ خیال کرنا کہ لوگ مانتے نہیں اوّل درجہ کی بزدلی ہے۔ تمہیں لوگوں سے کیا اگر وہ کام اچھا ہے تو تم خود اسے کرو خواہ بالکل اکیلے ہو اُسے شروع کر دو دوسروں کی ذمہ داری تم پر نہیں تم اپنا فرض ادا کرنا شروع کر دو۔ رسول کریم ﷺ کو بھی اللہ تعالیٰ یہی فرماتا ہے کہ تم پر اپنے نفس کی ذمہ داری ہے لوگوں کی نہیں۱؎۔ پس خدام الاحمدیہ اپنے آپ کو اُس وقت تک مفید وجود نہیں بنا سکتے جب تک کہ وہ اس یقین اور توکل پر اپنے کاموں کی بنیاد نہ رکھیں گے کہ جو کام اچھا ہے اس میں ہم نے دوسروں کو نہیں دیکھنا کہ وہ شامل ہوتے ہیں یا نہیں تم کو اس سے کیا کہ کوئی ساتھ ہو گا یا نہیں تم اپنا فرض ادا کرو۔ یہ خیال بھی بالکل غلط ہے کہ اگر کوئی اور ساتھ نہ ملا تو سُبکی ہو گی۔ دیکھو اِس وقت تک جتنے انبیاء ؑ گزرے ہیں وہ بھی اگر اسی سُبکی کے خیال سے کام کرنے سے محترز رہتے تو دنیا کا نقشہ کیا ہوتا۔ ان میں سے کسی نے بھی اِس سُبکی کا خیال نہیں کیا۔ حضرت آدمؑ کو جب اللہ تعالیٰ نے پیغام دیا تو انہوں نے اس کا خیال نہیں کیا۔ حضرت نوحؑ کو دیا تو انہوں نے یہ خیال نہیں کیا کہ نتیجہ کیا ہوگا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب یہ پیغام دیا تو وہ کب سوچنے بیٹھے کہ انجام کیا ہو گا۔ ان میں سے کسی نے بھی انجام کی پرواہ نہیں کی بلکہ جسے بھی حکم ملا وہ کام کرنے لگ گیا اور ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے نصرت مانگتا رہا۔ اگر یہ کام انسانی ہوتا تو حالات کو مدنظر رکھ کر بتاؤ کہ ان کی ناکامی میں شبہ ہی کیا تھا۔ یہ سب انبیاء ؑ بڑے بڑے دعوے لیکر مبعوث ہوئے تھے۔ حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ، رسول کریم ﷺ ان میں سے کس کا دعویٰ چھوٹا تھا۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ کتنا بڑا تھا۔ مگر ان میں سے کب کسی نے یہ خیال کیا کہ اسے کون مانے گا۔ ان کے سامنے صرف یہی بات تھی کہ خدا تعالیٰ کے ارشاد کی تعمیل ہو یہ خیال بالکل نہ تھا کہ کوئی مانتا ہے یا نہیں۔ کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ نبی کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ وہ جیت جائے گا اس لئے وہ پرواہ نہیں کرتا۔ مگر میں کہتا ہوں کہ مومن کو بھی اس کا پتہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں مومن کے لئے بھی کامیابی کا وعدہ موجود ہے فرق صرف تفاصیل کا ہے۔ قرآن کریم سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ مومن بھی دنیا میں ہارا کرتے ہیں نبی اور مومن دونوں کے لئے جیتنا مقدر ہے فرق صرف تفاصیل کا ہے۔ پس جب تک اپنے اندر یہ یقین اور توکّل پیدا نہ کیا جائے کہ اگر کام اچھا ہے تو اسے کرنا ہے خواہ کوئی ساتھ شامل ہو یا نہ ہو اُس وقت تک کامیابی محال ہے۔ جب یہ فیصلہ کر لو کہ کوئی کام اچھا ہے اور طاقت سے باہر نہیں ہے تو لوگ خواہ تمسخر کریں خواہ کچھ کہیں اسے شروع کر دو اور اگر تم ایسا کرو تو وہ کام ضرور ہو جائے گا۔ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میںحضرت خلیفہ اوّل جب درس دے کر واپس آتے تو اُن دنوں جلانے کے لئے گڈّوں پر اُپلے آیا کرتے تھے۔ مجھے دو تین مواقع ایسے یاد ہیں کہ چھوٹی بیت کی سیڑھیوں کے پاس چوک میں وہ اُپلے پڑے ہوتے۔ بارش کے آثار ہوتے تو خادم ان سے کہتا کہ دو چار آدمی دے دیں تا ان کو اندر رکھ لیں۔ آپ فرماتے کہ چلو ہم آدمی بن جاتے ہیں اور قرآن شریف کسی کے ہاتھ میں دے کر اُپلے اُٹھانے لگ جاتے اور پھر دوسرے لوگ بھی شامل ہو جاتے۔ پس کام کرنے سے دل چُرانا بھی ایک مخفی کِبر کا نتیجہ ہوتا ہے اور جب تک یہ خیال دل سے نہ نکالو گے کہ ہم اکیلے کس طرح کام کر سکتے ہیں کامیابی کی توقع فضول ہے۔ پہلے اچھی طرح کام کے متعلق سوچ لو اور پوری احتیاط کے ساتھ غور کر لو اور ایسی اچھی طرح سوچ لو کہ جیسے کہتے ہیںپہلے تولو پھر منہ سے بولو لیکن جب یہ سمجھ لو کہ یہ کام خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے تو پھر دائیں بائیں نظر مت ڈالو تم خود اسے شروع کر دو۔ اگر کوئی تمہارے ساتھ شامل ہوتا ہے تو سمجھو اس نے تم پر احسان کیا اور اگر نہیں تو اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور جب تم خود ایسی ذہنیت اپنے اندر پیدا کر لو گے تو اللہ تعالیٰ خود دوسروںکو تمہاری امداد کے لئے الہام کرے گا۔ یاد رکھو کہ دین کے کام انسانی تدبیروں سے نہیں ہوا کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت سے ہوتے ہیں۔ نادان خیال کرتے ہیں کہ الہام ہمیشہ لفظوں میں ہی ہوتا ہے لیکن یہ صحیح نہیں۔ شرعی احکام کی تفاصیل اور عبادات سے تعلق رکھنے والا الہام ضرور کلام میں ہوتا ہے مگر نیک کام میں مدد کا الہام ضروری نہیں کہ لفظوں میں ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے کہ یَنْصُرُکَ رِجَالٌ نُوْحِیْ اِلَیْھِمْ مِّنَ السَّمَائِ ۲؎ ایسے لوگ تیری مدد کریں گے جن کے دلوں میں ہم وحی کریں گے۔ تو دینی کاموں میں امداد کے لئے اللہ تعالیٰ عام لوگوں کے دلوں میں الہام کر دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ ان کو توجہ ہو جاتی ہے کہ ہم بھی اس کام میں مدد کریں۔ پس جو ضروری کام ہو اُسے انسان کی مدد کے خیال کے بغیر شروع کر دو پھر اللہ تعالیٰ نصرت کرتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کابندہ بن جاتا ہے تو اس کی نگاہ دوسرے انسان کی طرف اُٹھتی ہی نہیں اور اس کے اندر ایسا توکل اور عزم پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ کسی بڑے سے بڑے کام میں ہاتھ ڈالنے سے نہیں ڈرتا۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہر بڑی تحریک جو میں نے شروع کی بعض دفعہ ابتداء میں لوگوں نے ڈرایا بھی کہ یہ کامیاب نہیں ہو گی مگر میں کبھی جھجھکا نہیں اور ناکامی کے خوف سے کبھی نہیں ڈرا۔ اس کام کے ہو جانے کے متعلق دعائیں کرتا رہا ہوں مگر یہ کبھی پرواہ نہیں کی کہ یہ ہو گا نہیں یا یہ کہ اگر نہ ہوا تو کیا ہو گا اور پھر یہ بھی کبھی نہیں دیکھا کہ وہ ہوا نہ ہو۔ تعویق بعض دفعہ بے شک ہوتی ہے اور بعض اوقات رُکاوٹیں بھی پیدا ہوتی ہیں مگر آخر کار اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ ہو گیا۔
    پس آج مَیں یہ دو باتیںخاص طور پر خدام الاحمدیہ سے کہنا چاہتا ہوں۔ اوّل یہ کہ واقعات کی دنیا میں قیاس سے کام نہ لو اور جو کام تمہارے سپرد کیا جائے اس کے متعلق اُس وقت تک مطمئن نہ ہو جاؤ جب تک کہ وہ ہو نہ جائے اور دوسرے یہ کہ کام اختیار کرتے وقت پوری احتیاط سے کام لو۔ وہ کام اپنے یا دوسروں کے ذمہ نہ لگاؤ جو تم جانتے ہو کہ نہیں کر سکتے اور جب اس امر کا اطمینان کر لو کہ اچھا کام ہے اور تم کر سکتے ہو تو پھر خود اسے کرنے سے مت جھجھکو پھر جب یہ دیکھو کہ کام ضروری ہے مگر تمہارا نفس کہتا ہے کہ تم اسے کر نہیں سکتے تو اپنے نفس سے کہو کہ تو جھوٹا ہے اور غلط کہتا ہے یہ کام اللہ تعالیٰ ضرور کر دے گا اور پھر اسے شروع کر دو۔ جب ماں اپنے بچہ کی ضرورتیں پوری کرتی ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ خداتعالیٰ اپنے دین کی ضرورت کو پورا نہ کرے۔ پس یہ دونوں پہلو اپنی زندگی میں مدنظر رکھو تو پھر تکلیف میںنہیں پڑو گے اور کامیابی حاصل کر سکو گے۔
    مَیں نے ایک واقعہ اپنی زندگی کا کئی بار سنایا ہے۔ اُس وقت میری عمر صرف انیس سال تھی جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے۔ آپ کی بعض پیشگوئیوں کے ظاہری معنوں کے لحاظ سے اُس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ ابھی آپ فوت نہیں ہوںگے۔ جس وقت آپ کی وفات ہوئی ہے میں نے اپنے کانوں سے ایک شخص کو جو بعد میں مُرتد بھی ہو گیا تھا یہ کہتے سناکہ آپ پیشگوئیوں کے ماتحت فوت نہیں ہوئے۔ اُس روز میری بڑی بیوی لاہور میں ہی اپنے میکے گئی ہوئی تھیں اور آپ کی ایسی حالت دیکھ کر میں ان کو لینے چَلا گیا۔ جب میں واپس آیا تو آپ کے آخری سانس تھے اور اُس وقت میں نے اپنے کانوں سے یہ الفاظ ایک شخص کے منہ سے سُنے۔ وہ کسی اور سے بات کر رہا تھا۔ اُس وقت مَیں نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے سرہانے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا کہ اگر ساری جماعت بھی پھر جائے تو اے خدا! میں وہ تعلیم جو تو نے دے کر آپؑ کو مبعوث کیا تھا تنِ تنہا ساری دنیا میں پھیلاؤں گا اور میں ہمیشہ اس بات پر فخر کرتاہوں کہ ایسے وقت میںاللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ میرے منہ سے کہلوا دیئے۔ اُس عمر میں اور ایسے حالات میں ایسی بات بالکل غیر معمولی ہے۔ جب قرآن و حدیث پڑھا جا رہا ہو اور ایسی باتیں ہو رہی ہوں اُس وقت ایسی بات کہہ دینا کوئی غیر معمولی نہیں لیکن مصیبت کے وقت تو بڑی بڑی ہمت والے لوگ بھی ایک دوسرے سے گلے مِل مِل کر روتے ہیں۔ یہ وہ وقت نہیںتھاکہ جب کوئی خوشی کے واقعات سُنا رہا ہو۔ ایسے واقعات سن کر تو ایک نوجوان کے دل میں جوش پیدا ہو سکتا ہے اور وہ ایسی بات کہہ سکتا ہے لیکن وہ وقت ایسا تھا جب بظاہر ہمارے لئے دینی و دُنیوی دونوں ٹھکانے لَوٹ رہے تھے اور امید کی بجائے مایوسی کی گھٹائیں چھارہی تھیںاُس وقت میری زبان سے ایسا اقرار یقینا اللہ تعالیٰ کے تصرف کے ماتحت تھا۔ پس خدام الاحمدیہ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ جب تک ہر ایک یہ نہ سمجھے کہ اس کام کا ذمہ دار میں ہی ہوںاور کوئی نہیں اُس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔ پس اپنے اندر یہ روح پیدا کرو اور پھر خدا تعالیٰ پر توکّل رکھو کہ وہ ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ میرا یہ ہمیشہ کاتجربہ ہے کہ جب یہ توکّل پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور کامیاب کر دیتا ہے اس کے ساتھ کامیابی کے لئے دعائیں کرنا بھی ضروری ہے اور جب دُعا کرنے کے ساتھ یہ یقین ہو جائے کہ یہ قبول ہو گئی ہے تو وہ ضرور قبول ہو جاتی ہے۔ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کا وقت جب قریب تھا تو میں کوٹھے کی چھَت پر دُعا کے لئے گیا۔ اُس وقت مجھے شدید فکر اور غم بھی تھا مگر دُعا کیلئے میرے اندر وہ جوش پیدا نہ ہوا جس کے نتیجہ میں یہ یقین پیدا ہوتا ہے کہ دُعا قبول ہوگئی ہے۔ مَیں بہت دیر تک کوشش کرتا رہا مگر وہ حالت پیدا نہ ہوئی۔ اس پر مجھے خیال پیدا ہوا کہ شاید میرے دل میں منافقت ہے کہ جس کی وجہ سے جوش دُعا کیلئے پیدا نہیں ہوتا۔ اس پر مَیں نے اپنے لئے دُعا شروع کی تو اس میں بہت جوش پیدا ہؤا اور اُس وقت میرے دل میں یہ القاء ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء ہی نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں میری دُعا قبول ہو اس لئے وہ حالت پیدا نہیں ہوتی۔ تو دُعا کے ساتھ ایسی کیفیت اگر پیدا ہو جائے کہ انسان سمجھے یہ دُعا ضرور قبول ہوجائے گی تو وہ ضرور قبول ہو جاتی ہے انسان کو جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا ہو جائے اور وہ سمجھے کہ میری دُعا وہ ضرور قبول کرے گا تو انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک قسم کا وائرلیس کا سلسلہ قائم ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ پر کامل توکّل کی وجہ سے دل اس سے ایسا پیوست ہو جاتا ہے کہ انسان کو پتہ لگ جاتا ہے کہ اس کی دُعا ضرور سُنی جائے گی اور جب انسان اس مقام پر پہنچ جائے تو پھر سامانوں کی کمی وغیرہ سے گھبراہٹ کی ضرورت نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ اس کے لئے ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے سامان خود بخود پیدا کر دیتا ہے۔
    یہی مصری کا فتنہ جب شروع ہوا تو میرے دل میں ایک کرب تھا اور جماعت کے لوگوں میں بھی ایک ہیجان تھا کیونکہ وہ مدرسہ احمدیہ کا ہیڈ ماسٹر تھا۔ رات کو جب مَیں سویا تو مَیں نے خواب دیکھا کہ کوئی فرشتہ ہے یا انسان ہے وہ دَوڑا ہوا میرے پاس آیا اور کہتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں تب مَیںنے سمجھا کہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت حاصل ہے اور اس وجہ سے مجھے تکلیف میں دیکھ کر آپ برداشت نہیں کر سکے کہ مَیں اکیلا رہوں تب مَیں سمجھا کہ گو یہ بڑا آدمی ہے مگر مجھے اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا کون ہو سکتا ہے۔ پس یاد رکھو کہ کامیابی کیلئے یہ چیز بہت ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ پر توکّل ہو۔ پھر اس یقین کی ضرورت ہے کہ وہ ضرور میری مدد کرے گا اور جو شخص یہ یقین رکھتا ہو کہ میرا خدا میرے ساتھ ہے اسے گھبرانے کی کیا ضرورت اور اسے کسی انسان کی طرف سے ہمت اور حوصلہ دلانے کی کیا ضرورت ہے۔ مَیں نے دیکھا ہے بعض نادان اپنی بیوقوفی کی وجہ سے ایسے مواقع پر مجھے حوصلہ دلاتے ہیں۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بچہ فوت ہوا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس پر ایک نادان نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! صبر کریں حالانکہ وہ بے صبری کی بات نہ تھی بلکہ ایک ترحّم کی کیفیت تھی جو بالکل اور چیز ہے۔ اِسی طرح مجھے یاد ہے جب میری بیوی امۃ الحی فوت ہوئیں تو بہت عرصہ تک یہ حالت تھی کہ مَیں جب ان کا ذکر کرتا تو میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔ اِس پر ایک شخص نے جو اَب تو مولوی ہے مگر اُس وقت طالب علم تھا مجھے لکھا کہ آپ صبر سے کام لیں۔ مجھے خیال آیا کہ اس بے چارہ کو کیا علم ہے کہ صبر کیا چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بندے اِس ترحّم کی کیفیت کے علاوہ ایسے دلیر ہوتے ہیں کہ ان کو کسی کی پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ اُن کو یقین ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ غارِثور میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ چھُپے ہوئے تھے اور دشمن نے آ کر اس کا احاطہ کر لیا تو حضرت ابوبکرؓ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۳؎ اِس واقعہ میں دونوں کے عشق کا کیا عجیب نظارہ ہے۔ حضرت ابوبکرؓ اس لئے روئے کہ آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال تھا۔ آپؓ جانتے تھے کہ اگر پکڑے گئے تو میرا کیا ہے مَیں تو ایک عام آدمی ہوں لیکن اگر آنحضرت ﷺ کو کوئی گزند پہنچا تو کیا ہوگا آپؐ کی ذات پر تو دین کا انحصار ہے اس لئے آپ کا تمام حُزن اس وجہ سے تھا کہ دنیا دین سے محروم رہ جائے گی چنانچہ آپ نے اس وقت جو الفاظ کہے وہ یہی تھے کہ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اگر مَیں مارا گیا تو کیا ہے مَیں تو ایک عام آدمی ہوں میرے جیسے پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن آپؐ کی ذات پر تو دین کا انحصار ہے۔ یہ حُزن بالکل بے مثال ہے اور اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی بے مثال ہے۔ اُس وقت کُفّار کو دشمنی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھی اس لئے اصل مصیبت آپؐ کے لئے تھی۔ حضرت ابوبکرؓ سے کُفّار کو کوئی ذاتی دشمنی نہ تھی ان کو تو شاید وہ چھوڑ بھی دیتے اس لئے اگر ذاتی غم ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوتا مگر حضرت ابوبکرؓ کی شان یہ ہے کہ آپؐ کہتے ہیں یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مجھے اپنی ذات کا کوئی غم نہیں بلکہ آپؐ کا ہے۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان یہ ہے کہ گو اصل مصیبت آپ پر ہے مگر تسلی حضرت ابوبکرؓ کو دیتے ہیں اور فرماتے ہیں جس پر تکالیف کا وقت ہے وہ دوسرے کو تسلی دے رہا ہے اور اسے تسلی دے رہا ہے جس پر مصیبت نہیں۔ گویا آپؐ کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ اس مصیبت سے نجات دے گا اور یہ یقین جب بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہو جائے تو پھر اس کی کامیابی کو کوئی نہیں روک سکتا۔
    نوجوانوں کو جو ناکامیاں ہوتی ہیں اس کی ایک وجہ مَیں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ان کو خدا تعالیٰ پر ایسا یقین اور توکّل نہیں ہوتا اس لئے وہ لوگوں کی طرف دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں لوگ مدد نہیں کرتے، لوگ چندہ نہیں دیتے۔ ان کو جتنی اُمید لوگوں سے ہوتی ہے اس کا اگر ہزارواں حصہ بھی خدا تعالیٰ پر ہو تو وہ یقینا کامیاب ہو جائیں۔ پس میں نوجوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ یہ یقین اور یہ توکّل اپنے اندر پیدا کریں۔
    اِس کے بعد مَیں دُعا کر دیتا ہوں دوست بھی دُعا کریں۔ پھر خدام الاحمدیہ والے شاید اپنی رپورٹ سنائیں گے مَیں تو چلا جائوں گا کیونکہ مجھے کام ہے مگر دوست بیٹھے رہیں۔ مَیں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو کامیاب کرے۔ لیکن یاد رکھیں کہ اصل بات وہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی ہے کہ کامیابی کے لئے اتقاء بہت ضروری چیز ہے۔ اتقاء کے معنے بھی یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ڈھال بنا لینا اور یہی چیز ہمیں کامیاب کر سکتی ہے ورنہ اگر ہماری کامیابی کا انحصار دُنیوی سامانوں اور تدبیروں پر ہو تو پھر تو جب یہ سامان پورے ہوں گے اُسی وقت کامیابی نصیب ہوگی اور ان سامانوں کے لئے تو صدیاں درکار ہونگی لیکن اگر خدا تعالیٰ پر توکّل ہو تو وہ آج بھی ویسا ہی طاقتور ہے جیسا صدیوں بعد ہوگا اور وہ آج بھی ہمیں کامیاب کر سکتا ہے۔ اس لئے دوست دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر صحیح توکّل پیدا کرے۔ ہمارے دماغوں میں صحیح روشنی پیدا کرے اور عمل کی توفیق دے اور پھر ہمارے عمل کی نسبت سے بہت زیادہ اچھے اور زیادہ شاندار نتائج پیدا کرے۔
    (تاریخ خدام الاحمدیہ جلد اوّل صفحہ۱۰۵ تا ۱۱۵ مطبوعہ ایڈیشن اوّل)
    ۱؎ لاَ تُکَلَّفُ اِلاَّ نَفْسَکَ (النساء: ۸۵)
    ۲؎ تذکرہ صفحہ۵۰۔ ایڈیشن چہارم
    ۳؎ التوبۃ: ۴۰


    احمدیت زندہ ہے زندہ رہے گی اور دنیا کی کوئی طاقت اسے مٹا نہیں سکے گی



    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

    احمدیت زندہ ہے زندہ رہے گی اور دنیا کی کوئی طاقت اسے مٹا نہیں سکے گی
    (تقریر فرمودہ ۲۶؍ دسمبر ۱۹۳۹ء برموقع جلسہ سالانہ ]خلافت جوبلی[قادیان)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت کر رہا تھا اور ابھی پہلی ہی آیت مَیں نے پڑھی تھی کہ میری نگاہ سامنے تعلیم الاسلام ہائی سکول پر پڑی اور مجھے وہ نظارہ یاد آ گیا جو آج سے ۲۵ سال پہلے اُس وقت رونما ہوء ا تھا جب جماعت میں اختلاف پیدا ہوء ا تھا اور عمائد کہلانے والے احمدی جن کے ہاتھوں میں سلسلہ کا نظم و نسق تھا، انہوں نے اپنے تعلقات ہم سے قطع کر لئے اور گویا اس طرح خفگی کا اظہار کیا کہ اگر تم ہمارے منشاء کے ماتحت نہیں چلتے تو لو کام کو خود سنبھال لو، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے جو اَب فوت ہو چکے ہیں اس مدرسہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاتھا کہ ہم جاتے ہیں اور تم دیکھ لو گے کہ اس جگہ پر دس سال کے اندر اندر احمدیت نابود ہو کر عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا اس کے بعد وہ دس سال گزرے، پھر ان کے اوپر دس سال اور گزر گئے، پھر ان پر چھ سال اور گزر گئے لیکن اگر اُس وقت چند سَو آدمی احمدیت کا نام لینے والے یہاں جمع ہوتے تھے تو آج یہاں ہزاروں جمع ہیں اور ان سے بھی زیادہ جمع ہیں جو اس وقت ہمارے رجسٹروں میں لکھے ہوئے تھے اور اس لئے جمع ہیں تاکہ خدائے واحد کی تسبیح و تمجید کریں اور اس کے نام کو بلند کریں (اَللّٰہُ اَکْبَرُ کے نعرے)
    یہاں عیسائیت کا قبضہ بتانے والا مر گیا اور اس کے ساتھی بھی مر گئے، ان کا واسطہ خدا تعالیٰ سے جا پڑا مگر احمدیت زندہ رہی زندہ ہے اور زندہ رہے گی دنیا کی کوئی طاقت اسے مٹا نہ سکی اور نہ مٹا سکے گی۔ عیسائیت کی کیا طاقت ہے کہ یہاں قبضہ جمائے۔ عیسائیت تو ہمارا شکار ہے اور عیسائیت کے ممالک ہمارے شکار ہیں۔ عیسائیت ہمارے مقابلہ میں گرے گی اور ہم اِنْشَائَ اللّٰہُ فتح پائیں گے (نعرہ ہائے تکبیر)
    وہ دن گئے جب مریم کا بیٹا خدا کہلاتا تھا۔ مریم کے جسمانی بیٹے کو انیس سَو سال تک دنیا میں خدا کی توحید کے مقابلہ میں کھڑا کیا گیا اور بہتوں کو خدا تعالیٰ کی توحید سے پھرا دیا گیا مگر اب جو مریم کا روحانی بیٹا خداتعالیٰ نے کھڑا کیا ہے وہ خداتعالیٰ کی بادشاہت زمین میں اسی طرح قائم کرے گا جس طرح اس کی بادشاہت آسمان پر قائم ہے۔
    آج ہم اس جگہ پھر جمع ہوئے ہیں اس لئے کہ اپنی عقیدت اور اپنا اخلاص اپنے رب سے ظاہر کریں اور دنیا کو بتا دیں کہ احمدیت خداتعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کی خاطر متفقہ جدوجہد کرنے کیلئے کھڑی ہے اور خداتعالیٰ کے دین کیلئے ہر ممکن قربانی کرنے کے لئے آمادہ ہے۔ احمدی کہلانے والے پھر ایک دفعہ یہاں جمع ہوئے ہیں اس لئے کہ ان کا ایک دوسرے کے گھر جا کر ایک دوسرے کے متعلق یہ دیکھنا مشکل ہے کہ ان کا کیا حال ہے۔ لاہور کے کسی بازار میں اتفاقاً ایک احمدی دوسرے احمدی کو دو سال بعد دیکھتا تو اسے خیال پیدا ہوتا کہ وہ مرتد تو نہیں ہو گیا۔ اسی طرح چند سال کے بعد ایک احمدی دوسرے احمدی کو امرتسر کے بازار میں دیکھتا تو خیال کرتا نہ معلوم احمدیت سے اس کا تعلق ہے یا نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ احمدی ہر سال مرکز میں جمع ہوں، زیادہ سے زیادہ تعداد میں جمع ہوں اور مخالفین سے یہ کہتے ہوئے جمع ہوں کہ دیکھ لو خداتعالیٰ زیادہ سے زیادہ احمدیت کو ترقی دے رہا ہے کہنے والے کہتے ہیں کہ ہم قادیان کے فاتح ہیں، ہم قادیان کو مٹا دیں گے مگر وہ آئیں اور دیکھیں کہ ان کے مٹانے سے کس طرح احمدیت بڑھ رہی ہے۔
    بچپن میں ہم ایک قصہ سنا کرتے تھے اور اسے لغو سمجھتے تھے مگر روحانی دنیا میں وہ درست ثابت ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کوئی دیو تھا۔ اسے جب قتل کیا جاتا تو اس کے خون کے جتنے قطرے گرتے اتنے ہی اور دیو پیدا ہو جاتے۔ معلوم ہوتا ہے انبیاء کی جماعتوں کا ہی یہ نقشہ کھینچا گیا ہے کیونکہ انہیں جتنا کُچلا جائے، جتنا دبایا جائے اتنی ہی بڑھتی ہیں اور جتنا گرایا جائے اتنی ہی زیادہ ترقی کرتی ہیں۔
    پس اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہر ملک، ہر علاقہ اور ہر میدان میں احمدیت کی ترقی کے سامان کر دیئے ہیں اور احمدیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور نئے نئے ممالک میں احمدی جماعتیں قائم ہو رہی ہیں۔ سیرالیون سے جو مغربی افریقہ میں ہے حال ہی میں اطلاع موصول ہوئی ہے، اس کے متعلق کسی قدر تفصیلی حالات تو اگلے لیکچر میں بیان کروں گا اتنا بیان کر دینا اِس وقت مناسب ہے کہ اس جگہ سال بھر سے ایک مبلّغ بھیج دیا گیا تھا۔ وہاں شروع میں حکومت نے بھی مخالفت کی اور غیرمبائعین کا اثر بھی ہمارے خلاف کام کر رہا تھا مگر پرسوں وہاں کے مبلّغ کی طرف سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ وہاں کے دو رئیس پانچ سَو آدمیوں کے ساتھ احمدی ہو گئے ہیں تو خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ۱؎ کے نظارے دکھا رہا ہے اور ابھی یہ کیا ہے۔ پنجابی میں جسے وَنگی ۲؎ کہا جاتا ہے۔ وہ یہ ہے یعنی ایک دُکاندار کے پاس جاؤ تو وہ نمونہ کے طور پر تھوڑی سی چیز دکھاتا ہے کہ دیکھو کیسی اچھی ہے۔ پس یہ تو وَنگی ہے جو اللہ تعالیٰ جماعت کو دکھا رہا ہے ورنہ جماعت کیلئے بہت بڑی بڑی فتوحات مقدر ہیں جو ضرور حاصل ہوں گی۔ پس آؤ! دین کی خدمت کرنے کا مخلصانہ وعدہ کرو اور پھر دیکھو کہ کس طرح خداتعالیٰ کے فضل کے خزانے تمہارے لئے کھولے جاتے ہیں۔
    مَیں اس وقت جلسہ کا افتتاح کرنے کیلئے آیا ہوں۔ میں پروگرام میں مقرر کردہ وقت پر آنے کے لئے تیار تھا مگر افسوس ہے کہ سٹیج تیار نہ ہونے کی وجہ سے دیر سے افتتاح کرنا پڑا۔ ذمہ وار افسروں کو چاہئے کہ جہاں تک ہو سکے اس قسم کی غلطیوں سے بچیں۔ بہرحال اِس وقت میں جلسہ کا افتتاح کرتا ہوء ا اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس نے اپنی رحمتیں اور افضال جو اس وقت تک کئے آئندہ ان سے بڑھ کر فرمائے تاکہ ہماری حقیر کوششیں بار آور ہوں۔ اور ہم اس کے فضلوں کے پہلے سے زیادہ مَورد ہوں وہ ہماری کوششوں میں برکت دے تاکہ دنیا کے کناروں تک اسلام اور احمدیت پھیل جائے اور احمدیت کو ہر جگہ غلبہ اور شوکت عطا فرمائے۔ پھر مَیں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق نہ دے کہ جب ہم میں طاقت اور غلبہ آئے تو ہم ظالم بن جائیں یا سُست اور عیش پرست ہو جائیں بلکہ پہلے سے زیادہ متواضع، پہلے سے زیادہ رحم دل اور پہلے سے زیادہ اپنی زندگیاں خداتعالیٰ کیلئے خرچ کرنے والے ہوں۔ مسیح کا یہ کہنا کہ اونٹ کا سوئی کے ناکہ میں سے گزر جانا آسان ہے لیکن دولت مند کا خدا کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے غلط ہے۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ عزت اور شوکت اور غلبہ اور طاقت چاہو اور خداتعالیٰ جو دُنیوی انعامات دے ان کو قبول کرو لیکن اس عزت ،اس دولت اور اس طاقت کو خدا کے لئے اور اس کی مخلوق کی بھلائی اور بہتری کیلئے استعمال کرو۔ پس میں یہ نہیں کہتا کہ خداتعالیٰ ہمیں عزتیں ،طاقتیں اور شوکتیں نہ دے جو اس نے پہلے نبیوں کی جماعتوں کو دیں کیونکہ یہ ناشکری ہے مگر یہ دعا کرو کہ جب وہ اپنے فضل و کرم سے ترقیاں عطا کرے اور انعامات نازل کرے تو احمدی ان احسانوں کی قدر کریں اور اللہ تعالیٰ کے لئے اس کے دین کی اشاعت کے لئے اور اس کی مخلوق کی بھلائی کیلئے خرچ کریں۔
    پھر یہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو ہمیشہ فتنوں سے محفوظ رکھے اور جب کوئی فتنہ پیدا ہو تو اس پر غلبہ عطا کرے دشمنوں کی تدبیروں کوناکام اور خائب وخاسر رکھے۔ پھر یہ دعا کرو کہ خداتعالیٰ ہمارے اعمال میں اصلا ح اور برکت پیدا کرے کیونکہ جب تک نیک ارادہ کے ساتھ اعمال کی اصلاح نہیں ہوتی، کامیابی نہیں حاصل ہو سکتی۔ پھر ان مبلغین کیلئے دعاکرو جن کے دل چاہتے تھے کہ آج ہمارے ساتھ ہوتے اور خداتعالیٰ کے اس نشان کو دیکھتے جو احمدیت کی ترقی کا اس نے ظاہر کیا ہے مگر خداتعالیٰ کے کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے نہیں آ سکے۔ وہ گو جسمانی طور پر ہم سے دور ہیں لیکن ان کے دل ہمارے ساتھ ہیں۔ کئی ہیں جو ہمارے قریب بیٹھے ہیں اور ان کے دل دور ہیں۔ مگر وہ جو دور بیٹھے ہیں، وہ ہمارے دل میں ہیں، ہمارے دماغ میں ہیں، ہماری محبت ان کیلئے ہے اور ہم ان کیلئے دعا گو ہیں۔
    پھر اپنی اولادوں کے لئے دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کو دین کا خادم بنائے ان میں نَسْلاً بَعْدَ نَسْلٍ احمدیت کو اس طرح قائم رکھے کہ وہ دین کے مخلص خدمتگار ہوں۔ خداتعالیٰ ان سے خوش ہو اور وہ خداتعالیٰ سے خوش ہوں اور اس کی برکتوں کے ابدی وارث بنیں۔آمین
    (الفضل ۳ ؍جنوری ۱۹۴۰ء)
    ۱؎ النصر: ۳
    ۲؎ وَنگی: نمونہ، مثل



    مستورات سے خطاب






    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

    مستورات سے خطاب
    (تقریر فرمودہ ۲۷؍ دسمبر ۱۹۳۹ء برموقع ]خلافت جوبلی[ جلسہ سالانہ قادیان)
    لجنہ اماء اللہ قادیان کی طرف سے جو ایڈریس اس وقت پڑھا گیا ہے میں پہلے تو اس کے متعلق انہیں جَزَا کُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ الْجَزَائِ کہتا ہوں پھر انہیں یقین دلاتا ہوں کہ طبقۂ نسواں کی اصلاح کا کام ہرگز کسی شخص کا احسان نہیں بلکہ یہ ایک فرض ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسولوں اور ان کے جانشینوں کے کندھوں پر عائد کیا جاتا ہے۔ پس جو فرض میں خداتعالیٰ کے حکم کی وجہ سے ادا کرتا ہوں وہ کوئی احسان نہیں بلکہ اپنی عاقبت کے لئے میں ایک ذخیرہ جمع کرتا ہوں۔
    قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں اور مرد سب کے سب ایک ہی مقصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور وہ مقصد خداتعالیٰ کے قرب کا حصول ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ سب مرد اور عورتیں مل کر اس کے حضور پاک دل اور نیک ارادہ لے کر آئیں اور خدا تعالیٰ کے قرب میں وہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجے حاصل کریں۔ سارا قرآن اسی سے بھرا پڑا ہے۔ چنانچہ جہاں جنت کا ذکر ہے وہاں مردوںاور عورتوں کو اکٹھا شامل کیاہے۔ گواحکام میں مَردوں اور عورتوں کا اکٹھا ذکرنہیں بلکہ مردوں کے ذکر میں ہی عورتوں کو شامل کر لیا گیا ہے اور درحقیقت قرآنِ حکیم ہی وہ واحد اور کامل کتاب ہے جس نے عورتوں کے حقوق قائم کئے۔ اس سے پہلے نہ موسیٰؑ کی کتاب میں ان تمام حقوق کا ذکر تھا، نہ عیسیٰؑ کی تعلیمات میں یہ تمام باتیں پائی جاتی تھیں، نہ حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ اور دیگر انبیاء نے ان امور کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔ صرف قرآن کریم ہی ہے جس نے دنیا کو بتلایا کہ عورت بھی ویسی ہی ترقی کی تڑپ اپنے اندر رکھتی ہے جس طرح مرد، اور ویسی ہی اُمنگیں، ویسے ہی جذبات اور ویسی ہی قربانی کی روح اور ارادے رکھتی ہے جس طرح مرد رکھتے ہیں۔ وہ قرآنِ کریم ہی ہے جس کے ذریعہ پہلی دفعہ دنیا میں یہ آواز بلند ہوئی کہ ۱؎ اے مردو! جو عورتوں کے حقوق تلف کرتے آئے ہو اب ہم اعلان کرتے ہیں کہ جس طرح تمہارے بعض حقوق عورتوں پر ہیں اسی طرح عورتوں کے بعض حقوق تم پر ہیں۔ اگر عورتیں دوسری قوموں کو قرآن کریم کا یہ اعلان سنا دیتیں اور اپنے بچوں کو بھی بتاتیں کہ عورتوں کو بھی ایسے ہی اختیارات حاصل ہیں جس طرح مردوں کو، تو آج دنیا اس تعلیم سے بے بہرہ نہ رہتی اور نہ ذلت میں پھنستی۔ اس کی ذمہ داری تم پر ہے۔ اگر تم نے اپنے بیٹوں کو یہ تعلیم دی ہوتی کہ عورتوں کے حقوق شریعت ِاسلامیہ نے قائم کئے ہوئے ہیں جنہیں توڑنا شدید ترین گناہ ہے تو تم کبھی غلامی کی زنجیروں میں نہ جکڑی جاتیں۔ پس یہ قرآنی تعلیم ہے اور اس پر عمل کرنا اور دوسروں سے کرانا ہر مؤمن کا فرض ہے، کسی کا احسان نہیں۔ اور میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس معاملہ میں ہماری طرف سے کوئی کوتاہی نہیں ہو سکتی۔ اور جب تک کوئی خدا تعالیٰ کو ماننے والا ہے عورتوں کی ترقی و تنظیم کیلئے اس کی طرف سے ضرور کوششیں جا ری رہیں گی کیونکہ اگر وہ کوتاہی کرے تو وہ تمہارا گنہگا ر نہیں بلکہ خدا کا گنہگار ہو گا لیکن اس وقت عورتوں کا ایک حصہ بعض ایسے حقوق طلب کرنے لگ گیا ہے جو قرآن کے خلاف ہیں۔ مثلاً یہ کہ عورتیں پارلیمنٹ کی ممبر بنیں، گھوڑے کی سواری کریں، ظاہر ہے کہ ایسی عورت بچوں کی تربیت نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ میں ماں کی گود تربیت کا موجب نہیں ہے بلکہ اس کے لئے نرسنگ ہوم مقرر ہیں جہاں بچے بھیج دیئے جاتے ہیں۔ دائیاں دودھ پلاتی اور کھلاتی رہتی ہیں۔ جب بچے بڑے ہوتے ہیں تو بورڈنگ میں داخل کر دیئے جاتے ہیں کیونکہ مائیں ناچ گانے میں لگی رہتی ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ نے انسانی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ جس طرح ڈاکٹر اور وکیل دونوں اپنی اپنی جگہ مفید کام کرتے ہیں اسی طرح عورتیں اپنی جگہ کام کر رہی ہیں اور مرد اپنی جگہ اور مرد اور عورت دونوں کے کاموں کے دائرے الگ الگ ہیں لیکن اگر یہ اصول رائج کیا جائے کہ سب لوگوں کو وکیل بننا چاہئے یا ساری دنیا ڈاکٹر ہونی چاہئے یا سارے ہی لوہار یا ترکھان ہونے چاہئیں تو دنیا کا کارخانہ تباہ ہو جائے۔ برابری کے یہ معنی نہیں کہ عورت اور مرد دونوں ایک کام کریں بلکہ یہ ہیں کہ قومی طور پر دونوں پر یکساں طور پر ذمہ داریاں عائد ہیں۔ چنانچہ دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے عورت پر کتنی بڑی ذمہ داری عائد کی ہوئی ہے کہ ایک طرف وہ لڑکے کی تربیت کرتی ہے اور دوسری طرف لڑکی کی۔ گویا ایک طرح سارے زمانہ کو اس کی غلامی میں دیدیا جاتا ہے۔ اسی حقیقت کو رسول کریم ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا ہے کہ عورت کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔۲؎ اسی طرح مرد کو کہا گیا ہے کہ فلاں بات تم عورت سے منوا سکتے ہو اور فلاں نہیں۔ مثلاً اپنے مال میں وہ بالکل آزاد ہے۔ عجیب بات ہے کہ یورپ جو آج شور مچا رہا ہے کہ اس نے عورت کی عزت اور آزادی قائم کی وہاں بھی عورت کے حقوق صرف بیس سال سے رائج ہوئے لیکن اسلام نے ساڑھے تیرہ سَو سال سے عورت کے حقوق کو قائم کیا ہوء ا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عورتیں نہ تو یورپ کی آزادی اختیار کریں اور نہ جہالت میں گرفتار رہیں۔ مثلاً بعض عورتیں یہ کہہ دیا کرتی ہیں کہ مذہب خدا کی مرضی کا نام ہے اور جب خدا کی مرضی سمجھ میں آ جائے تو خاوند کی مرضی اس کے متعلق ضروری ہوتی ہے حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کہ خاوند کو یا بھائی کو یا باپ کو مذہب کے معاملہ میں عورت پر کسی قسم کا تصرف حاصل ہے۔ ہر عورت کو حق ہے کہ جب دین کی کوئی بات سمجھ میں آجائے تو اس پر عمل کرے خواہ سب اس کے مخالف ہوں۔ وہ یہ عُذر نہیں کر سکتی کہ میرے باپ یا بھائی یا خاوند نے اجازت نہیں دی۔ خدا کہے گا کہ صداقت کے معاملہ میں مَیں نے تجھے کسی کے ماتحت نہیں رکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کا تعلق دماغ سے رکھا ہے اور دماغ میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا دوسرے کو علم نہیں ہوتا۔ اب تم اتنی عورتیں یہاں بیٹھی ہو ممکن ہے کسی عورت کا بچہ شور مچا رہا ہو اور تم اپنے دل میں یہ کہہ رہی ہو کہ کیسی نالائق ہے اس نے لیکچر خراب کر دیا مگر وہ تمہارے اِن خیالات سے بالکل ناواقف ہو گی۔ تو دماغ کو اللہ تعالیٰ نے ایک مخفی خزانہ کی صورت میں بنایا ہے جس کے اوپر نہ بادشاہ کو حکومت حاصل ہے نہ باپ یا بیٹے یا استاد کو۔ گویا خدا تعالیٰ نے تمہیں یہ ایک ایسا صندوق دیا ہے جس میں تم اپنے ضروری راز رکھ سکتی ہو۔ اگر تم کسی کو دس سال بھی اپنے پاس رکھو تو اس کو پتہ نہیں لگے لگا کہ تمہارے اس صندوق میں کیا ہے جب تک تم خود نہ بتلاؤ کہ میرے دل اور دماغ میں کیا ہے۔ وہ تمہارا ذاتی ٹرنک ہے اگر تم کوئی راز کسی کو بتلانا چاہتی ہو تو کنجی لگا کر کھول لیتی ہو اور جو نہیں بتلانا چاہتی کنجی نہیں لگاتیں۔ پس خدا تعالیٰ نے ہر ایک کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اس خزانہ کو محفوظ رکھے۔ یہ ہر ایک کا ذاتی ٹرنک ہے جس میں کسی کو اگر کوئی شریک کرنا چاہتا ہے تو اس کا دروازہ کھول دیتا ہے اور اگر شریک نہیں کرنا چاہتا تو اس کو نہیں کھولتا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دماغ کی کنجی تمہارے ہاتھ میں دی ہے اور سچائی کے معاملہ میں نہ تو مرد کو اس پر حق حاصل ہے نہ بھائی کو۔ ہزارہا عورتیں ایسی ہیں جو سچائی کے کھلنے پر بھی نہیں مانتیں اور ایمان کو محض باپ یا ماں یا خاوند وغیرہ کے ڈر کی وجہ سے حاصل نہیں کر سکتیں۔ آنحضرت ﷺ کے پاس ایک دفعہ ایک عورت آئی اور اس نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! میرا خاوند صدقہ دینے سے منع کرتا ہے کیا میں پوشیدہ طور پر صدقہ دے دیا کروں؟ آپ ؐ نے فرمایا۔ ہاں ۳؎ ۔ گویا ان معاملات میں عورت کو حق دیا گیا ہے کہ وہ خاوند کے مال سے بغیر دریافت کئے خرچ کر سکتی ہے۔ پس ان حقوق کو جو خداتعالیٰ نے تمہیں دیئے ہیں یاد رکھو اور اس کے احسانات کی قدر کرو تاکہ تمہاری ترقی ہو۔
    اَب میں ایڈریس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ اس میں ایک غلطی کی گئی ہے اور وہ یہ کہ صرف قادیان کی لجنہ کا حق نہیں تھا کہ وہ انفرادی رنگ میں اپنی طرف سے ایڈریس پیش کر دیتی بلکہ باہر کی لجنات کا بھی حق تھا اور کوئی وجہ نہیں تھی کہ ان کو شامل نہ کیا جاتا۔ قادیان کی لجنہ کو اس لئے خصوصیت حاصل نہیں کہ وہ ایک ممتاز لجنہ ہے بلکہ اس لئے فوقیت حاصل ہے کہ وہ مرکزی لجنہ ہے۔ اگر وہ اپنے نام کے ساتھ صرف قادیان کا نام نہ لکھتیں تو دوسروں کے حوصلے وسیع ہو جاتے اور تمام لجنات کی طرف سے مشترکہ ایڈریس ہو جاتا۔
    اس کے بعد مَیں جماعت کی مستورات کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں اپنے اپنے مقام پر لجنات قائم کرنی چاہئیں اور کام کرنے والی عورتیں اس میں داخل کرنی چاہئیں۔ جس طرح دماغ بات نہیں کر سکتا اسی طرح جب تک ہاتھ نہ ہوں انسان کوئی کام نہیں کر سکتا۔ اگر کسی جگہ آگ لگ جائے اور ایک لنگڑا آدمی وہاں ہو تو اس کا دماغ فوراً یہ فیصلہ کر دے گا کہ بھاگ جا لیکن اس کے پاؤں جواب دے رہے ہوں گے اور باوجود دماغ کے فیصلہ کے وہ بھاگ نہیں سکے گا اسی طرح اگر ایک عورت کا بچہ گڑھے میں گِر جائے تو باوجود اس کے کہ عورت کا دماغ کہے گا کہ اسے نکال اگر اس کے ہاتھ نہیں تو وہ نکال نہیں سکے گی۔ لجنات بھی نظامِ سلسلہ میں بازو کی حیثیت رکھتی ہیں اور ضروری ہے کہ تمام مقامات پر ان کا قیام کیا جائے۔ پس اپنی اپنی جگہ لجنات قائم کرو اور اپنی اخلاقی، تعلیمی اور دینی تربیت کا سامان کرو۔ اس وقت تک صرف پچیس لجنات قائم ہیں حالانکہ مردوں کی ساڑھے سات سَو انجمنیں ہیں۔ تمہیں چاہئے کہ اس سُستی کو دور کرو اور ہر جگہ لجنہ اماء اللہ قائم کرنے کی کوشش کرو۔
    ایک انگریز نو مسلم خاتون کا تہنیت نامہ
    حضور کی تقریر ابھی جاری تھی کہ انگلستان کی احمدی خواتین کی
    نمائندہ انگریز نو مسلم خاتون محترمہ سلیمہ صاحبہ تشریف لائیں۔ حضور نے ازراہِ کرم اپنی تقریر کو بند کرتے ہوئے انہیں اپنا ایڈریس پیش کرنے کا موقع دیا۔ چنانچہ خاتون موصوفہ نے اپنا ایڈریس انگریزی زبان میں حضور کی خدمت میں پیش کیا اور حضور نے انگریزی میں ہی اس کا موزوں جواب دیا۔ بعد ازاں فرمایا:۔
    یہ ہماری نومُسلمہ بہن ہے جس کا نام سلیمہ ہے۔ یہ انگلستان کی رہنے والی ہیں۔ ان کی تار مجھے صبح ملی تھی کہ وہ آ رہی ہیں اور انہیں اپنا ایڈریس سنانا ہے۔ دس بجے آنے کا خیال تھا لیکن وقت پر نہ پہنچ سکیں۔
    تم نے دیکھا ہے کہ کس خوبصورتی کے ساتھ انہوں نے بِسْمِ اللّٰہِ پڑھی ہے۔ تم میں سے بہت کم ہوں گی جو اس رنگ میں صحیح بِسْمِ اللّٰہِ پڑھ سکتی ہوں۔ انگریز لوگ عربی نہیں پڑھ سکتے پھر یہ کیسے افسوس کی بات ہے کہ عیسائی عورت تو اس خوبصورتی سے پڑھے اور تم اس ملک کی ہوکر بِسْمِ اللّٰہِ صحیح نہ پڑھ سکو۔
    یہ چند باتیں بطور نصیحت مَیں نے مختصراً بیان کر دی ہیںکیونکہ آج اِس قسم کی مصروفیت ہے کہ میرے لئے لمبی تقریر کرنا مشکل ہے۔ دوسرے مردوں میں جو میری تقریر ہوتی ہے وہ بھی چونکہ لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ عورتیں سن سکتی ہیں اس لئے بظاہر کسی علیحدہ تقریرکی ضرورت نہیں ہوتی لیکن چونکہ رسول کریم ﷺ کبھی کبھی عورتوں میں تقریر فرمایا کرتے تھے اس لئے باوجود لاؤڈ سپیکر کے میں نے اس سلسلہ کو جاری رکھا۔ اسی سنت کے ماتحت میں آج بھی ایک مختصر سی تقریر کر د یناچاہتا ہوں۔
    اس کے بعد حضور نے مستقل تقریر فرمائی جو درج ذیل کی جاتی ہے۔
    تشہّد و تعوّذ کے بعد حضور نے حسبِ ذیل آیاتِ قرآنیہ کی تلاوت کی:۔





    ۴؎
    اس کے بعد فرمایا:۔
    بعض مرضیں بعض قوموں میں زیادہ ہوتی ہیں۔ مثلاً ہمارے ملک میں سینکڑوں خون ہر سال ہو جاتے ہیں ذرا غصہ آیا مرد نے گنڈاسا اُٹھایا اور دوسرے کا سر کاٹ دیا۔ کسی جگہ زمین کا جھگڑا ہو گیا یا شادی بیاہ یا لین دین کے معاملہ میں اختلاف ہو گیا تو قتل کردیا۔ یہ بات عورتوں میں بہت کم ہے۔ اگر سارے سال میں سینکڑوں مرد پھانسی پاتے ہیں تو اس کے مقابلہ میں عورت صرف ایک ہو گی۔ مگر بعض ایسی باتیں ہیں جو عورتوں میں زیادہ ہوتی ہیں۔ جس طرح مردوں میں قتل و خونریزی زیادہ ہے اسی طرح عورتوں میں جھوٹ زیادہ ہے اور جہاں مرد گنڈاسا لئے پھرتا ہے وہاں عورت زبان سے قتلِ عام کرتی پھرتی ہے اسی لئے رسول کریم ﷺ بیعت لیتے وقت عورتوں سے یہ عہد لیا کرتے تھے کہ ہم جھوٹے اتہام نہیں باندھیں گی معلوم ہوتا ہے عرب عورتوں میں اتہام لگانے کی عام عادت تھی۔ پھر جھوٹ بولنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچوں کو بھی اس کی عادت پڑ جاتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب ہماری ماں جھوٹ بولتی ہے تو ہم اس سے زیادہ کیوں نہ بولیں۔ ایک قصہ مشہور ہے کہتے ہیں دو دوستوں نے آپس میں کہا کہ اپنے اپنے خاندان کی کوئی بات سناؤ۔ اس پر ایک کہنے لگا کہ اب تو وہ بات نہیں رہی ہم تو بڑے رئیس ہوء ا کرتے تھے۔ چنانچہ ہمارے نانا کا اتنا بڑا طویلہ تھا کہ جب قحط پڑا کرتا تو سارے شہر کے جانور اس کے ایک کونے میں سما جاتے۔ دوسرا کہنے لگا ہمارے نانا جان کے پاس ایک ایسا بانس تھا کہ جب کبھی بارش نہ ہوتی تو وہ بانس سے بادلوں کو چھید کر بارش برسا لیتے۔ دوسرے کو غصہ آ گیا کہنے لگا تمہارے نانا جان یہ بانس رکھا کہاں کرتے تھے۔ وہ کہنے لگا تمہارے ناناجان کے طویلہ میں۔ اب دیکھو یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے جو اُن دونوں نے بولا۔ تھوڑ ے ہی دن ہوئے میں نے ایک اور قصہ پڑھا ہے کہ ایک رنگریز کی لڑکی سکول میں داخل ہوئی۔ ادھر سے ایک حلوائی کی لڑکی بھی داخل ہوئی۔ اُس نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو تو حلوائی کی لڑکی کہنے لگی کہ میرے ابا ڈپٹی ہیں۔ دوسری کہنے لگی کہ میرے ابا بڑے بینکر ہیں، ساہو کارہ کا کام ہے اور بیسیوں ہمارے مکان ہیں۔ ایک دفعہ اس نے اپنی سہیلی کی دعوت کر دی۔ اب بینکر کی لڑکی کے ہاں نوکر تو تھے نہیں اس نے اپنے بھائی بہنوں کو نوکر بنایا۔ پیسٹری رکھی جلیبیاں منگوائیں، بازار سے چائے کے برتن منگوائے اور جب ڈپٹی کی لڑکی آئی تو دونوں طرف سے باتیں ہونے لگیں۔ ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک ہمسائی آئی۔ جب اس کی نظر دوسری لڑکی پر پڑی تو کہنے لگی یہ تو ہمارے رنگریز بھائی کی لڑکی ہے۔ حلوائی کی لڑکی کہنے لگی یہ تو بینکر کی لڑکی ہے وہ کہنے لگی بینکر کی بیٹی ہے، یہ تو ہمارے محلہ کے فلاں رنگریز کی لڑکی ہے۔ تو یہ پاکھنڈ محض اس لئے بنایا کہ وہ اِس کو امیر سمجھے اور یہ اُس کو ۔ تو اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے مؤمن جھوٹ سے الگ رہتا ہے۔ اگر اسے پتہ لگے کہ فلاں نے جھوٹ بولا ہے تو اس کی دوستی چھوڑ دیتا ہے اور وہ کسی جھوٹے سے تعلق نہیں رکھتا۔ اور گو اس تعلیم کے مرد بھی مخاطب ہیں مگر عورتیں اس کی زیادہ مخاطب ہیں۔ اسی وجہ سے بیعت کی شرطوں میں اَب جھوٹ سے بچنے کے عہد کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ پہلے بیعت کے الفاظ یہ تھے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گی مگر اَب اس کے ساتھ یہ زیادہ کر دیا گیا ہے کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گی۔ پس تم اپنے دلوں میں یہ اقرار کرو کہ جھوٹ نہیں بولوں گی۔ جھوٹ کے یہ معنی نہیں کہ تم ہر ایک کو اپنی بات بتلاؤ۔ مثلاً اگر کسی چور کی بیوی تمہارے پاس راز لینے آتی ہے تو تم اس سے کہہ سکتی ہو کہ میں نہیں بتاتی جاؤ نکل جاؤ۔ یہ جھوٹ نہیں ہو گا لیکن یہ ضرور جھوٹ ہو گا کہ تم اسے اصل جگہ چھپا کر دوسری جگہ بتاؤ۔ پس آج تمام احمدی عورتیں کان کھول کر سن لیں کہ عورت کی بیعت میں یہ عہد شامل ہے اور جو جھوٹ بولے گی وہ خود اپنی بیعت کی شرط کو توڑنے والی قرار پائے گی۔
    پھر مؤمن کی یہ علامت بتلائی کہ جب وہ کوئی لغو بات دیکھتا ہے تو اس کے پاس سے گزر جاتا ہے لیکن یہ بات نہایت ہی افسوسناک ہے کہ عورت ہمیشہ لغویات کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ مثلاً بلاوجہ دوسری سے پوچھتی رہتی ہے کہ یہ کپڑا کتنے کا لیا، یہ زیور کہاں سے بنوایا اور جب تک اس کی ساری ہسٹری معلوم نہ کر لے اسے چین نہیں آتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک عورت نے انگوٹھی بنوائی لیکن کسی نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔ اس نے تنگ آ کر اپنے گھر کو آگ لگا دی۔ لوگوں نے پوچھا کچھ بچا بھی؟ اس نے کہا سوائے اس انگوٹھی کے کچھ نہیں بچا۔ ایک عورت نے پوچھا بہن تم نے یہ انگوٹھی کب بنوائی تھی؟ یہ تو بہت خوبصورت ہے۔ وہ کہنے لگی اگر یہی بات تم پہلے پوچھ لیتیں تو میرا گھر کیوں جلتا۔ یہ عادت عورتوں سے ہی مخصوص نہیں بلکہ مردوں میں بھی ہے۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کے بعد پوچھنے لگ جاتے ہیں کہ کہاں سے آئے ہو؟ کہاں جاؤ گے؟ کیا کام ہے؟ آمدنی کیا ہے؟ بھلا دوسرے کو اس معاملہ میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ انگریزوں میں یہ کبھی نہیں ہوتا کہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں کہ تو کہاں ملازم ہے؟ تعلیم کتنی ہے؟ تنخواہ کیا ملتی ہے؟وہ کبھی کریدنے کا خیال نہیں کرتے۔
    غرض عورتوں میں یہ لغویّت انتہاء درجہ کی ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مؤمن لغو کام نہیں کرتا جن لوگوں کو بڑی بڑی باتوں کا خیال ہوتا ہے ان کو چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف توجہ کرنے کی بَھلا فُرصت ہی کب ہو سکتی ہے۔ اگر تمہیں دین کا فکر ہو اور تمہیں معلوم ہو کہ اسلام ایک خطرناک مصیبت میں گھِرا ہوء ا ہے تو تم کو دوسری طرف توجہ ہو ہی نہیں سکتی۔ تمہارے گھر میں آگ لگی ہوئی ہو تو تم کس طرح چَین لے سکتی ہو۔ اسی طرح آج جبکہ مسلمانوں کے گھروں میں آگ لگی ہوئی ہے تم کس طرح یہ برداشت کر سکتی ہو کہ گوٹہ کناری میں مشغول رہو۔ کیوں نہیں تم وہ وقت خداتعالیٰ کے دین کیلئے وقف کر دیتیں اور کیوں تم وہی وقت دینی تعلیم کیلئے وقف نہیں کر دیتیں؟ تمہارے دل مردہ ہیں جبھی تو خدا کے دین کی مصیبت تمہیں نہیں رُلاتی اور تم لغو باتوں کی طرف متوجہ رہتی ہو۔

    پھر مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جب ان کے سامنے خدا کی باتیں بیان کی جاتی ہیں تو وہ بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گزر جاتے۔ یعنی جب ان کے سامنے خدا کی باتیں بیان کی جائیں تو یہ نہیں کہ عمل نہ کریں بلکہ فوراً عمل پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور خداتعالیٰ کی باتوں کو توجہ سے سنتے ہیں۔ مَیں نے مَردوں میں دیکھا ہے کہ مَرد گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں اور آواز تک نہیں نکالتے مگر عورتیں برداشت نہیں کر سکتیں اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد باتیں کرنے لگ جاتی ہیں۔ گویا ان کی توجہ دین کی باتوں کی طرف ہوتی ہی نہیں۔ ہمارے مُلک میں قصہ مشہور ہے کہ ایک بزرگ مسجد میں نماز پڑھنے گئے۔ امام کے خیالات پریشان تھے اسے نماز میں پندرہ روپوں کا خیال آ گیا۔ اِدھر مقتدیوں کا خیال تھا کہ امام صاحب سورۃ فاتحہ پڑھ رہے ہیں۔ مگر اسے خیال تھا کہ پندرہ روپوں سے دِلّی سے فلاں فلاں چیزیں خریدوں گا۔ اس طرح ہوتے ہوتے پانچ ہزار ہوگئے۔ رکوع میں خیال آیا کہ جب پانچ ہزار ہو جائیں گے تو بخارا جاؤں گا۔ وہاں سے گھوڑے خریدوں گا اور اسی طرح بیس ہزار ہو جائیں گے پھر واپس دِلّی آ کر بیس ہزار کے چالیس ہزار بنا لوں گا۔ اُدھر اللہ تعالیٰ نے اس بزرگ کو کشف میں یہ تمام باتیں بتا دیں اور وہ نماز توڑ کر الگ ہو گئے۔ سلام پھیر کر امام نے کہا کہ تم کافر ہو، مسلمان ہوتے تو ہمارے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھتے۔ وہ کہنے لگے میں کمزور ہوں زیادہ چل پھر نہیں سکتا۔ آپ تو دِلّی گئے پھر بخارا گئے وہاں سے گھوڑے لیکر پھر دِلّی آئے مجھ سے یہ سفر نہ ہو سکا اور میں آپ سے علیحدہ ہو گیا۔ وہ شرمندہ ہو کر معافی مانگنے لگا اور کہنے لگا آپ تو بزرگ معلوم ہوتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ذکرِ الٰہی کے موقع پرمؤمن پوری طر ح متوجہ رہتے ہیں مگر تم میں سے بعضوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ اِدھر نماز میں مصروف ہوئیں اور اُدھر تمہارا دماغ شامی کباب کا نسخہ تیار کرنے لگا یا کسی اور دنیاوی کام کو سوچنے میں مصروف ہو گیا۔ غرض بہت سی عورتوں میں یہ مرض ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک دفعہ عورتوں میں روزانہ لیکچر دینے شروع کئے۔ ایک دن کسی نے عرض کیا کہ حضور پوچھئے تو سہی یہ سمجھی کیا ہیں۔ آپ نے ایک عورت کوبلا کر پوچھا وہ برابر پندرہ روز سے لیکچر سن رہی تھی مگر کہنے لگی یہی نماز روزہ کی باتیں ہوئی ہوں گی۔ یہ سن کر آپ نے لیکچر ہی بند کر دیئے۔ تو عورتیں بہت کم توجہ سے سنتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایمان کی علامت یہ ہے کہ تم توجہ سے خدا تعالیٰ کی باتیں سنو۔
    پھر فرمایا۔ مؤمن کی علامت یہ ہے کہ ہر انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات رکھی ہے کہ وہ بڑائی چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم تمہاری اس فطرت سے آگاہ ہیں اور ہم بھی چاہتے ہیں کہ تمہیں بڑائی مل جائے مگراس کے حصول کا ذریعہ یہ ہے کہ تم اپنے لئے امام بننے کی دعا کرتے رہا کرو۔ اس میں بتایا کہ مؤمن کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر راضی نہیں رہنا چاہئے بلکہ لیڈر اور امام بننے کی خواہش کرنی چاہئے۔ مگر کس کا امام؟ متقیوں کا امام غیر متقیوں کا نہیں۔ ممکن ہے تمہیں خیال پیدا ہو کہ ہر شخص کس طرح لیڈر اور امام بن سکتا ہے۔ سو میں بتاتا ہوں کہ اس سے مرد اور عورتیں دونوں حصہ لے سکتے ہیں۔ مرد اگر کوشش کرے کہ میری بیوی سمجھدار ہو، اس کو اعلیٰ ترقیات حاصل ہو جائیں، تو جب وہ تمہارے تابع چلے گی تو تم امام ہو گے اور بیوی ماموم۔ اسی طرح اگر بیوی اپنی اولاد کی اعلیٰ تربیت کرے تو وہ امام ہو گی اور اولاد ماموم اور اولاد کے نیک کام بھی تمہاری طرف ہی منسوب کئے جائیں گے۔ تم قبر میں سو رہی ہو گی مگر جب تمہارے بچے صبح کی نماز پڑھیں گے تو فرشتے لکھ رہے ہوں گے کہ اس بی بی نے صبح کی نماز پڑھی، تم قبر میں سو رہی ہو گی اور فرشتے لکھ رہے ہوں گے کہ اس بی بی نے ظہر کی نماز پڑھی، تم قبر میں سو رہی ہو گی اور فرشتے لکھے رہے ہوں گے کہ اس بی بی نے عصر کی نماز پڑھی۔ چاروں طرف خاموشی ہو گی، تارے جگمگا رہے ہوں گے، لوگ سو رہے ہوں گے، لیکن اگر تم نے اپنی اولاد کو تہجد کی عادت ڈالی ہو گی تو فرشتے لکھ رہے ہوں گے کہ اس نے تہجد کی نماز پڑھی۔ کتنی عظیم الشان ترقی ہے جو تم حاصل کر سکتی ہو۔
    جو لوگ خدا تعالیٰ کیلئے اس قسم کے نیک کام کریں گے، کوشش کریں گے کہ ان کے بچے نیک ہو جائیں، فرمایا قیامت کے دن ہم ان کو اعلیٰ سے اعلیٰ جگہ دیں گے۔ جس طرح دنیا میں انہوں نے بچوں کو چوری سے، جھوٹ سے، فریب سے اور اسی طرح اور بدیوں سے بچایا اور جس طرح انہوں نے دنیا میں سلامتی پھیلائی اسی طرح جب وہ جنت میں جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ وہ بندے ہیں جن سے میرے بندے امن میں رہے۔ جاؤ آج ان کو سلامتی دو اور انہیں دار السلام میں داخل کر دو۔
    اس کے بدلہ میں وہ ہمیشہ ہمیش جنت میں رہیں گے۔
    فرماتا ہے۔ یادرکھو! تم اسی وقت تک مجھے پسندیدہ ہو جب تک تم ہماری باتیں مانوگی اگر تم ہماری باتیں نہ سنو گی تو تمہارا خدا تمہاری کوئی پرواہ نہیں کرے گا اور اس کا وبال تمہارے سر پر پڑے گا۔ تم اس دنیا میں بھی ذلیل ہو گی اور تمہاری اولاد بھی برکتوں سے محروم رہے گی۔
    کتنا خطرناک و عید اور انذار ہے، کاش تم سمجھو۔ کاش تم اپنی اصلاح کرو۔ کاش! تم خدا کی باتوں کی طرف توجہ دو اور کاش! خدا تمہارے دلوں کو پاک کر دے۔ اگر تمہاری اولادیں دین کی خدمت کریں گی تو تم بھی ان کی نیکیوں میں حصہ دار ہوگی۔ اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔
    میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو نیک عمل کرنے کی توفیق دے اور اپنی برکتیں تمہارے گھروں پر نازل فرمائے۔
    (مصباح مارچ ۱۹۴۰ء)
    ۱؎ البقرۃ: ۲۲۹
    ۲؎ الجامع الصغیر للسیوطی الجزء الاوّل صفحہ۱۲۵ مطبوعہ مصر ۱۳۲۱ھ
    ۳؎ ابوداؤد کتاب الزکوۃ باب الْمَرْأۃُ تصدق من بیت زوجھا (مفہوماً)
    ۴؎ الفرقان: ۷۳ تا۷۸



    اہم اور ضروری امور






    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    اہم اور ضروری امور
    (خلاصہ تقریر فرمودہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۳۹ء برموقع جلسہ سالانہ ]خلافت جوبلی[ قادیان)
    تشہّد،تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے ساتھیوں کی ایک اشتعال انگیز حرکت
    مجھے رات امور عامہ کی طرف سے رپورٹ ملی کہ ہماری جماعت کی طرف سے جو اشتہارات لگائے
    گئے تھے ان پر شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے ساتھیوں کی طرف سے ایک نہایت ہی گالیوں سے پُراشتہار کے فقرات کاٹ کر سب جگہ چسپاں کر دیئے گئے تھے تاجماعت کے جو دوست اپنے اشتہاروں کو پڑھیں ان کی نگاہ ان گالیوں پر بھی پڑ جائے۔ ان فقرات کے اندر کوئی دلیل نہ تھی، کوئی برہان نہ تھا، کوئی دین کے متعلق دعویٰ نہ تھا، محض گالیاں ہی گالیاں تھیں جو اِن فقرات میں لکھی تھیں اور مجھے امور عامہ نے رپورٹ کی کہ ہم نے وہ اشتہارات اتروا دیئے ہیں۔ میرے نزدیک یہ ان کی غلطی تھی۔ کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ ان اشتہارات کو اترواتے کیونکہ میری طرف سے کہا گیا تھا کہ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری نے مجھے گالیاں دی ہیں مگر ان کی طرف سے متواتر کہا گیا کہ انہوں نے گالیاں نہیں دیں۔ اس وقت قادیان میں کھانے کی پرچیوں کے لحاظ سے ۳۸ ہزار آدمی جمع ہیں۔ گزشتہ سال پچیس ہزار تھا۔ ان ۳۸ ہزار آدمیوں میں علاوہ جماعت کے دوستوں کے غیراحمدی، ہندو اور سکھ شرفاء بھی موجود ہیں۔ اگر یہ سب ان فقرات کو پڑھ لیتے تو یہ ثبوت ہوتا اس بات کا کہ جو کچھ میں نے کہا تھا، وہ درست تھا اور جو کچھ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کہا کرتے تھے وہ غلط تھا۔ مگر امور عامہ والوں نے غلطی سے اس خدائی نشان کو جو میری صداقت میں خدا تعالیٰ نے ظاہر کیا، باطل کر دیا۔ ممکن ہے ا بھی بیسیوں یا سینکڑوں نے ان گالیوں کو پڑھا ہو۔ لیکن اگر وہ اشتہارات نہ اُتروائے جاتے تو ہر شخص کو معلوم ہو جاتا کہ مصری صاحب کا یہ کہنا کہ انہوں نے ہمیں گالیاں نہیں دیں، درست نہیں تھا۔ میں ان الفاظ کو نہیں دُہراتا کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ کمزور طبائع مشتعل نہ ہو جائیں لیکن جن دوستوں نے ان گالیوں کو پڑھا ہے ان کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں ان باتوں کی پروا نہیں کرنی چاہئے کیونکہ آج تک اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کرنے کیلئے کوئی جماعت ایسی کھڑی نہیں ہوئی جسے مخالفین کی طرف سے گالیاں نہ ملی ہوں۔
    صحت کی حالت
    اپنی صحت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گزشتہ سال میری طبیعت بہت خراب رہی ہے۔ بار بار نقرس کے دورے ہوئے اسہال کی تکلیف
    مدتوں سے کم ہو گئی تھی مگر دس بارہ سال کے بعد اس قدر شدید دورے ہوئے کہ مہینوں اس کا سلسلہ جاری رہا۔ اپنڈکس اور گُردے کے مقام پر بھی شدید دردیں ہوئیں اس وجہ سے جو امید مجھے کام کرنے کے متعلق تھی وہ پوری نہیں ہوئی۔ اگر صحت اچھی رہتی تو گذشتہ سال جن کاموں کا ذکر کیا گیا تھا وہ سارے ہو جاتے مگر بعض ہوئے ہیں اور بعض ادھورے رہ گئے۔
    اخباراتِ سلسلہ کا ذکر
    اخباراتِ سلسلہ کے ضمن میں حضور نے سب سے پہلے الفضل کا ذکر کرتے ہوئے عملہ کو ضروری ہدایات دیں اور تاریخی،
    سیاسی، تعلیمی، صنعتی، اقتصادی اور مذہبی مضامین لکھنے کی تلقین فرمائی۔ اسی طرح غیرمذاہب کی تبلیغی جدوجہد کا ذکر اور علمی کتب پر ریویو کرنے کا بھی ارشاد فرمایا۔
    ’’سن رائز‘‘ کی خریداری کے متعلق حضور نے انگریزی خوان طبقہ کو توجہ دلائی اخبار فاروق کی خریداری کی بھی تحریک فرمائی۔ اُردو ریویو آف ریلیجنز کی ترقی پر اظہارِ خوشنودی فرمایا۔ انگریزی ریویو کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی۔
    جماعتہائے بیرونِ ہند کا ذکر
    حضور نے مغربی افریقہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہاں بعض لوگوں نے نظام سلسلہ کے خلاف
    بغاوت کی تھی جنہیں جماعت سے خارج کر دیا گیا ہے۔ مصر کی جماعت کے متعلق فرمایا کہ اس میں بہت بیداری نظر آتی ہے اور اس امید کا اظہار فرمایا کہ اگر یہ جماعت مضبوط ہو گئی تو عالَمِ اسلامی پر اس کا نہایت گہرا اثر پڑے گا۔ دمشق اور فلسطین کا کام بھی اچھا چل رہا ہے۔ حضور نے یہ بھی فرمایا کہ ہم نے جنگ کی وجہ سے بعض ممالک سے اپنے مبلّغ واپس بلا لئے ہیں۔ چنانچہ ہنگری سے مبلّغ واپس بلا لیا گیا، پولینڈ سے پہلے ہی واپس آ چکا تھا اب اٹلی والے مبلّغ کو بھی واپس بلا لیا جائے گا مگر جب جنگ ختم ہو گی تو نئے مبلّغ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تیار ہو چکے ہوں گے اور ہم انہیں مختلف ممالک میں تبلیغ کے لئے بھیج دیں گے۔
    انقلابِ حقیقی
    اس کے بعد حضور نے اعلان فرمایا کہ کتاب ’’انقلاب ِحقیقی،، دوبارہ چھپ گئی ہے۔ حیدر آباد کے ایک دوست نے دو ہزار جلدیں خریدنے کا وعدہ
    کیا ہے باقی دو ہزار ہے۔ جماعت کے دوست اس کی اشاعت میں حصہ لیں۔ جب میں نے اسے دوبارہ اصلاح کیلئے پڑھا تو بعض باتوں کا مَیں نے اس میں اضافہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغی طور پر تعلیم یافتہ طبقہ میں یہ کتاب اچھا اثر پیدا کر سکتی ہے۔ اس کتاب کے بعض حصے ایسے ہیں جو اپنے اندر الہامی رنگ رکھتے ہیں۔
    اچھوتوں میں تبلیغ
    اچھوتوں میں تبلیغ کے متعلق فرمایا۔ افسوس ہے کہ اس سال بہت کم ہوئی ہے۔جماعتوں نے بھی اس طرف توجہ نہیں کی حالانکہ یہ
    موجودہ وقت کا ایک اہم سوال ہے جس کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے۔
    تعلیم و تربیت
    حضور نے فرمایا جماعت کی تعلیم و تربیت کیلئے میں نے گزشتہ سال بعض نوجوانوں کا مطالبہ کیا تھا جن کے متعلق میں نے کہا تھا کہ انہیں ایسی
    تربیت دی جائے گی جس کے نتیجہ میں وہ دیہات میں رہ کر لوگوں کو فائدہ پہنچا سکیں ۔ اس کے مطابق جو نوجوان میسر آئے ان کو کمپونڈری کی تعلیم دلائی گئی، وٹرنری کی تعلیم دلائی گئی، یونانی طب سکھائی گئی، دوا سازی سکھائی گئی، زمیندارہ کام سکھایا گیا اور ضروری دینی تعلیم بھی دی گئی۔ ان کی بیویوں کو بھی نوار بُننا، کاڑھنا اور سِینا پُرونا سکھایا گیا ہے۔ افسوس ہے کہ باربار اعلان کرنے کے باوجود جماعت میں سے صرف پانچ نوجوان ایسے نکلے جنہوں نے یہ کام سیکھا مگر یہ سکیم ان پانچ پر ہی ختم نہیں ہو جائے گی۔ میرا دل چاہتا ہے ہر احمدی گاؤں میں ایسا ایک مدرس موجود ہو۔ اور چونکہ اگلے سال پھر یہی ٹریننگ نوجوانوں کو دی جائے گی اس لئے جو نوجوان مڈل پاس ہوں اور زمیندارہ کام سے دلچسپی رکھتے ہوں وہ اپنے آپ کو پیش کریں اور جو جماعتیں فارغ التحصیل نوجوانوں کو اپنے ہاں شرائط کے مطابق رکھنا چاہتی ہوں وہ اطلاع دیں۔
    مغربی کھیلوں کی بجائے دیسی کھیلوں کی ترویج
    اس بارے میں حضور نے فرمایا۔ گزشتہ سال
    میں نے مغربی کھیلوں کی بجائے دوڑنا، تیرنا، نشانہ بازی، بوجھ اُٹھانا، کُشتی لڑنا، گتکا، گھوڑے کی سواری اور اسی طرح اور کھیلوں کی طرف متوجہ کیا تھا اور میں نے یہ کام خدام الاحمدیہ کے سپرد کیا تھا۔ انہوں نے قادیان میں اس کو جاری کیا اور دو مقابلے ہوئے۔ باہر کی جماعتوں میں بھی تحریک کی گئی جس کے نتیجہ میں بعض نے تیرنے کی مشق کی، بعض نے ذہانت کے مقابلے کئے اور بعض نے دوسری کھیلوں میں حصہ لیا۔ اس کے بعد حضور نے ان جماعتوں کے نام سنائے جنہوں نے اس میں حصہ لیا تھا۔ حضور نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے اس سلسلہ میں دو گریجوایٹ نوجوانوں چوہدری محمد شریف صاحب بی۔اے اور چوہدری غلام یٰسین صاحب بی۔اے کو ورزشی کالج لاہور میں کام سیکھنے کے لئے بھجوایا ہوء ا ہے۔ اس کے علاوہ ایک نوجوان خلیل احمد صاحب ناصر بی۔اے حیدرآباد سے گتکا وغیرہ سیکھ کرآئے ہیں۔ ان کے ذریعہ جماعت کے دوسرے نوجوانوں کو بھی یہ فنون سکھائے جائیں گے۔
    مجالس خدام الاحمدیہ کی ترقی
    مجالس خدام الاحمدیہ کی ترقی کے متعلق حضور نے خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا اب ان کی
    ۱۵۱شاخیں قائم ہیں۔ دسمبر ۱۹۳۸ء میں ان کے ممبروں کی تعداد نو سو تھی جو اَب دو ہزار ہے لیکن انہیں ابھی اور زیادہ ترقی کرنی چاہئے اور ان کی شاخیں کم سے کم شاخہائے صدرانجمن احمدیہ کے برابر ہونی چاہئیں۔
    اسی ضمن میں حضور نے خدام الاحمدیہ کو وقت کی پابندی اور قربانی کی روح اپنے اندر پیدا کرنے کی نصیحت کی اور فرمایا کہ جو ممبر اِن شرائط کے مطابق کام نہ کریں انہیں ممبری سے الگ کر دینا چاہئے۔
    تحریکِ جدید کے ماتحت پانچ ہزار مبلّغ کھڑا کرنے کا ارادہ
    واقفینِ زندگی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ میری یہ خواہش ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ روء یا کہ آپ کو پانچ ہزار سپاہی دیا
    جائے گا ایک تو تحریک جدید میں چندہ دینے والوں کے ذریعہ پورا ہو۔دوسرا اس رنگ میں پورا ہو کہ ہم پانچ ہزار تحریک جدید کے ماتحت مبلّغ تیار کر دیں جو اپنی تمام زندگی اعلائے کلمۂ اسلام کیلئے وقف کئے ہوں۔
    پس میں باہمت نوجوانوں کو جو یا تو بی۔اے ہوں یا مولوی فاضل اور انٹرنس پاس ہوں کہتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو وقف کریں۔ باپوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے بیٹوں کو تحریک کریں بیٹوں کو کہتا ہوں کہ وہ باپوں سے کہیں کہ ہمیں خدمتِ اسلام کیلئے وقف کر دو۔ بھائیوں سے کہتا ہوں کہ وہ بھائیوں کو تحریک کریں اور دوستوں کو کہتا ہوں کہ وہ دوستوں کو تحریک کریں۔
    چندہ تحریک جدید اور امانت جائداد
    چندہ تحریک جدید کی طرف حضور نے جماعت کو توجہ دلائی بالخصوص زمینداروں
    کو۔ اسی طرح امانت جائیداد میں حصہ لینے کی بھی احباب کو تحریک فرمائی۔
    ہجری شمسیسنہ
    حضور نے فرمایا میں نے گزشتہ سال عیسوی سنہ کی بجائے ہجری سنہ کی طرف احبا ب جماعت کو توجہ دلائی تھی۔
    اوراس کے لئے میں نے ایک کمیٹی مقرر کر دی تھی جس نے خداتعالیٰ کے فضل سے اپنا کام ختم کر لیا ہے اور گو کمیٹی کے سب ممبران نے ہی کام کیا ہے مگر اصل میں تمام کام مولوی محمد اسمٰعیل صاحب (سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ) نے کیا ہے۔ اور انہی کی کوششوں سے یہ کام پایہ ء تکمیل کو پہنچا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ گزشتہ جلسہ پر میں نے کہا تھا کہ اب ۱۳۱۶ہجری کا جلسہ ختم ہوء ا ہے۔ مگر یہ درست نہیں تھا۔ تحقیق سے معلوم ہوء ا ہے کہ گزشتہ سال ۱۳۱۷ہجری تھا اور اس سال ۱۳۱۸ہجری ہے اور جنوری سے ۱۳۱۹ہجری کا آغاز ہو گا۔ مہینوں کے نام بھی ہم نے تجویز کئے ہیں۔ دسمبر مہینہ کا نام ’’صلح،، تجویز کیا گیا ہے۔ کیونکہ اسی سال صُلح حدیبیہ ہوئی تھی۔ یہ کیلنڈر اِنْشَائَ اللّٰہُ جلدی چَھپ جائے گا۔
    قرآن کریم کا ترجمہ
    قرآن کریم کے ترجمہ کے متعلق فرمایا کہ باوجود بیماری کے اس کا ایک حصہ مکمل ہو چکا ہے بلکہ کچھ حصہ کی کتابت بھی
    شروع ہو چکی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ اس کا ایک حصہ جو چھ سات صفحات پر مشتمل ہو گا پہلے تین چار ماہ کے اندر اندر شائع ہو جائے گا۔ دوسرے حصہ کے متعلق کوشش کروں گا کہ سال کے دوسرے حصہ میں مکمل ہو جائے انگریزی ترجمہ کے متعلق مولوی شیر علی صاحب نے اطلاع دی ہے کہ وہ ۱۸ سیپاروں کے نوٹ لکھ چکے ہیں۔ بقیہ سیپاروں کے نوٹ اِنْشَائَ اللّٰہُ شورٰی تک مکمل ہو جائیں گے۔ ترجمہ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے
    سال میں کم سے کم ایک نیا احمدی بنانے کا مطالبہ
    اس کے بعد حضور نے فرمایا۔ میں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہر احمدی سال میں کم از کم ایک نیا احمدی بنائے۔ جن دوستوں نے اپنے اس عہد کو پورا کیا ہو وہ کھڑے ہو
    جائیں۔(بہت تھوڑے کھڑے ہوئے) حضور نے فرمایا۔
    یہ دس بلکہ پانچ فی صدی بھی نہیں بنتے۔ دوستوں کو اس طرف مزید توجہ کرنی چاہئے۔
    جماعت کی ترقی کے متعلق اعدا دو شمار
    اس کے بعد حضور نے اندرون اور بیرونِ ہند میں احمدیت کی ترقی کا ذکر
    کیا۔ اس میں جو جماعتیں سبقت لے گئی ہیں ان کے نام سنائے اسی طرح جن ضلعوں میں سے کم احمدی ہوئے ہیں یا سال بھر میں کوئی احمدی بھی نہیں ہوء ا ان کے نام لئے۔ اندرونِ ہند میں سے تبلیغی لحاظ سے پہلا درجہ ضلع گورداسپور کو دوسرا درجہ بنگال کو اور تیسرا درجہ ضلع گجرات کو حاصل ہوء ا ہے۔
    لڑکیوں کو ورثہ دینے کی تحریک
    لڑکیوں کو ورثہ دینے کی تحریک کے متعلق حضور نے فرمایا۔ بعض زمینداروں نے شاندار نمونہ
    دکھایا ہے مگر لاکھوں کی جماعت میں یہ مثالیں بہت کم ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ جن دوستوں کو میری اس نصیحت پر عمل کرنے کا موقع ملا ہو وہ اطلاع بھجوا دیں کہ ہم نے اس پر عمل کیا ہے اور جنہوں نے اس پر عمل نہ کیا ہو ان کے متعلق بھی اطلاع دی جائے۔
    جنگ کا ذکر
    جنگ کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔ یہ معمولی جنگ نہیں ہے اس کا اثر ہماری جماعت پر بھی پڑنے والا ہے ہماری جماعت کو چاہئے کہ اس میں
    حکومت کو ہر ممکن امداد دے۔ حضور نے فرمایا۔ ہر احمدی جماعت میں ایک سیکرٹری جنگ بنایا جائے تاکہ جنگ کے متعلق جس قسم کے احکام مرکز سے بھیجے جائیں ان کو عمل میں لائے۔ اور احمدی ہر طرح مدد دیں۔ یہ مدد اسلام اور احمدیت کیلئے ضروری ہے۔ (الفضل ۳ جنوری ۱۹۴۰ء)
    اصلاحِ اعمال کا ایک لطیف گُر
    ایک ضروری امر جس کی طرف میں آج جماعت کے دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں
    وہ یہ ہے کہ جماعت کی تربیت میں مجھے بعض دفعہ بڑی بڑی دقّتیں پیش آئی ہیں اور ان دقّتوں کو دور کرنے کیلئے میں ایک لمبے عرصہ تک غور کرتا رہا ہوں اور سوچتا رہا ہوں کہ ان کا کیا علاج کیا جائے۔ میں نے ۱۹۳۶ء میں اس کے متعلق بعض خطبات بھی پڑھے تھے اور میں نے بتایا تھا کہ عقائد کے لحاظ سے تو ہم دوسروں پر فتح حاصل کر چکے ہیں مگر اعمال کے لحاظ سے ابھی ہم میں بہت کچھ کمزوریاں باقی ہیں اور اس لحاظ سے دوسروں پر ابھی ہمارا پوری طرح رُعب نہیں چھایا۔
    اس نقص کے ازالہ کیلئے میں برابر غور کرتا رہا ہوں۔ بلکہ بعض دفعہ گھنٹوںمَیں نے غور اور فکر سے کام لیا ہے۔ آخر سوچتے سوچتے خدا تعالیٰ نے ایک بات میرے دل میں ڈالی جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت اس بارہ میں میرے ساتھ تعاون کرے تو گو وہ بظاہر ایک چھوٹی سی بات ہے لیکن شاید ہزاروں آدمیوں کی اخلاقی حالت میں اس سے ایک حیرت انگیز تغیر پیدا ہو جائے مگر میں یہ بتا دیتا ہوں کہ اس پر عمل کرتے وقت اپنی پہلی عادت کو کچھ نہ کچھ چھوڑنا پڑے گا۔ اگر تم یہ عہد کر لو کہ تم اپنی پہلی عادت کو ترک کر کے اس امر کی طرف توجہ کرو گے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ تم اپنے اعمال کی اصلاح میں بہت کچھ کامیاب ہو سکتے ہو۔ لیکن اصل بات بتانے سے پہلے میں کچھ تمہیدی الفاظ بھی کہنا چاہتا ہوں تاکہ نفوس اس کو ماننے کیلئے تیار ہو جائیں۔ یہ امر ظاہر ہے کہ اگر خاص حالات میں کوئی بات کہی گئی ہو تو اس کا اثر بھی خاص طور پر ہوتا ہے۔ یوں تو ماں باپ اپنے بیٹوں کو ہمیشہ ہی کہتے رہتے ہیں کہ آپس میں صلح صفائی سے رہو لیکن جب باپ مر رہا ہوتا ہے اس کا سانس اُکھڑ رہاہوتا ہے اور اس پر نزع کی حالت طاری ہوتی ہے تو ا س وقت جب وہ کہتا ہے کہ بچو! میں تو اب مرنے لگا ہوں تم آپس میں صلح کر لو تو تمام بھائی روتے ہوئے آپس میں چمٹ جاتے ہیں اور سالوں کے کینے اور بُغض آناً فاناً دُور ہو جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز کا ایک ماحول ہوتا ہے وہ ماحول اگر تیار کر لیا جائے تو انسان عمدگی کے ساتھ بات کو مان لیتا ہے لیکن اگر ماحول تیار نہ ہو تو انسان بات کو قبول کرنے سے ہچکچاتا ہے۔ اس وجہ سے مَیں بھی پہلے ماحول تیار کرنا چاہتا ہوں اور سب سے پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ بات کن حالات میں کہی گئی ہے لیکن اس سے بھی پہلے بعض متفرق باتیں بیان کرنا ضروری ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ بعض باتیںمقصود ہوتی ہیں اور بعض مقصود کے حصول کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ جیسے ایک دوست اپنے دوست کے ہاں جانا چاہتا ہے تو دوست کی ملاقات اس کا مقصود ہوتا ہے لیکن ذریعہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے پاس گھوڑے پر سوار ہو کر جائے یا ریل پر سوار ہو کر جائے یا موٹر پر سوار ہو کر جائے ان ذرائع کی موجودگی مقصود کے حصول کیلئے بہت ضروری ہوتی ہے لیکن یہ ذرائع موقع اور محل کے لحاظ سے کبھی تو بہت زیادہ اہمیت اختیار کر لیتے ہیں اور کبھی کم اہمیت رکھتے ہیں۔ مثلاً ہم نے کہیں جانا ہو تو ہم جُوتی ضرور پہنتے ہیں اور اس کا پہننا ہمارے مقصد کے حصول کیلئے ضروری ہوتا ہے لیکن اگر دوسرا مکان دروازہ پر ہی ہو تو بعض دفعہ ننگے پاؤں بھی چلے جاتے ہیں اور جوتی کی کچھ پروا نہیں کرتے۔ تو مقصود کے حصول کیلئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کی اہمیت اور عدمِ اہمیت مختلف حالات کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اگر ان کے بغیر کسی صورت میں بھی مقصود پورا نہ ہو سکے تو وہ ویسی ہی اہمیت اختیار کر لیتی ہیں جیسے مقصود اہم ہوتا ہے اور اگر وہ ذرائع محض کام میں آسانی پیدا کرنے کیلئے ہوں توگو پھر بھی ہم ان کو اہمیت دیں گے مگر اتنی نہیں جتنی اس صورت میں ان کو اہمیت حاصل ہو سکتی ہے جب اس کے بغیر مقصود پورا ہی نہ ہو سکے۔ مثلاً ہم کہیں گھوڑے پر سوار ہو کر جانا چاہیں اور دس گھوڑے ہمارے پاس موجود ہوں تو گو گھوڑا ہمارے لئے ضروری ہو گا مگر ہر گھوڑا مقصود نہیں ہو گا بلکہ ان دس میں سے جو گھوڑا بھی مل جائے وہ ہماری ضرورت کو پورا کرنے کیلئے کافی ہو گا۔ مگر بعض دفعہ ذریعہ اتنی اہمیت اختیار کر لیتا ہے کہ اسے مقصود سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور دونوں لازم و ملزوم ہو جاتے ہیں۔ مثلاً اگر مقصود کے حصول کے کئی ذرائع ہوں تو گو کوئی نہ کوئی ذریعہ ضروری ہو گا لیکن اپنی ذات میں کوئی ذریعہ خاص اہم نہ ہو گا کیونکہ ایک کو چھوڑ کر دوسرے سے کام لیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر فرض کرو کہ کسی مقصود کا ایک ہی ذریعہ ہو تو پھر وہ ذریعہ بھی خاص اہمیت حاصل کر لے گا اور اس کی حیثیت ان ذرائع سے مختلف ہو گی جو متعدد ہوتے ہیں جیسے ایک مکان کے اگر کئی دروازے ہوں تو کسی خاص دروازہ کو ہم اہمیت نہیں دیں گے مگر ایک ہی دروازہ ہو تو اسے خاص اہمیت حاصل ہو جائے گی۔ یا انسانوں کی مثال ہو تو بقائے نسل کیلئے اولاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ایک شخص کے کئی بیٹے ہوں تو وہ سب سے ہی محبت کرے گا لیکن اس کی بقائے نسل کی خواہش کسی ایک کے ذریعہ بھی پوری ہو سکتی ہے۔ فرض کرو اس کے دس بیٹے ہیں اور ۹ سے اس کی نسل نہیں چلی تو وہ یہ کہہ کر اپنے دل کو تسلی دے سکتا ہے کہ ایک بیٹا تو موجود ہے اس سے میری نسل قائم رہ جائے گی لیکن اگر کسی شخص کاایک ہی بیٹا ہو تو اس کی محبت اپنے بیٹے سے بالکل اور رنگ کی ہو گی کیونکہ اس کیلئے مقصد کے حصول کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے۔ اسی طرح اس بیٹے کی اہمیت بھی اس کے نزدیک بالکل اور رنگ کی ہو گی۔ جس شخص کے دس بیٹے ہوں ان میں سے ایک اگر کسی شدید مرض میں مبتلا ء ہوتا ہے تو اس کی نظر اپنے باقی بیٹوں کی طرف اُٹھنے لگتی ہے لیکن جس شخص کا ایک ہی بیٹا ہو اور وہ مرض الموت میں مبتلاء ہو تو اس کے دل کی جو کیفیت ہو گی وہ بالکل نرالی ہو گی اور اس کا مقابلہ کوئی دوسرا شخص نہیں کر سکے گا۔
    اس بات کو سمجھانے کے بعد میں یہ بتاتا ہوں کہ رسول کریم ؐ کی بھی ایسی ہی مثال ہے۔ آپؐ سے ہمارا جو روحانی تعلق ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ آپ ہمارے لئے خدا تعالیٰ تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں مگر ہمیں دیکھنا چاہئے کہ آیا آپ بندوں اور خدا کے درمیان تعلق قائم کرنے کا واحد ذریعہ ہیں یا آپ اور ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہیں اور آپؐ کے علاوہ بھی کوئی شخص ایسا ہو سکتا ہے جو ہمیں خداتعالیٰ تک پہنچائے۔ اگر آپ بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچانے کا واحد ذریعہ ہوں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ گو آپ خدا تو نہیں مگر چونکہ خدا آپ کے بغیر نہیں مل سکتا اس لئے آپ کیلئے بھی وہی قربانی کرنی پڑے گی جو انسان خدا کیلئے کرتا ہے کیونکہ آپؑ کے بغیر اور کوئی شخص ہمیں خدا تک نہیں پہنچا سکتا۔ اس نقطہ نگاہ کے ماتحت تم غور کر کے دیکھ لو رسول کریمﷺ کو تمام انبیاء میں ایک امتیازی شان حاصل ہے اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کے نام کو کلمہ میں بھی شامل کیا ہے یہ بتانے کے لئے کہ جس طرح اللہ ایک ہے اسی طرح اب خدا تعالیٰ تک پہنچانے والا رسول بھی ایک ہی ہے۔ پس رسول کریم ﷺ اور دوسرے رسولوں میں یہ فرق ہے کہ ان کے زمانوں میں بھی وہ خداتعالیٰ تک پہنچانے کا ذریعہ تو ضرور تھے مگر وہ واحد ذریعہ نہ تھے۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اگر کسی یہودی نے نہ مانا ہوتا اور وہ ہندوستان میں آ کر حضرت کرشن علیہ السلام کو مان لیتا تو اس کے لئے اتنا ہی کافی تھا یا ایران میں جا کر وہاں کے کسی نبی پر ایمان لے آتا تو یہ امر اس کی نجات کیلئے کافی تھا مگر محمد رسول اللہﷺ کی بعثت کے بعد خداتعالیٰ نے اس طریق کو اُڑا دیا اور دنیا کی ہر قوم اور ہر مذہب والے کیلئے آپ کا ماننا ضروری قرار دیدیا ۔ اب کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کی بجائے فلاں نبی کو قبول کر لیتا ہوں، اگر آپ کو نہ مانا تو اس میں کیا حرج ہے کیونکہ گو آپ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں مگر واحد ذریعہ ہیں اور خواہ کوئی امریکہ میں رہتا ہو یا افریقہ میں اسی دروازہ میں سے اسے گزرنا پڑے گا اور آپ پر ایمان لانا اس کیلئے ضروری ہو گا مگر پہلے انبیاء واحد ذریعہ نہیں تھے۔ بے شک اُن انبیاء میں سے بعض پہلوٹھے کہلاتے لیکن محمد رسول اللہﷺ اکلوتے بیٹے تھے اور اکلوتے اور پہلوٹھے میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ پہلوٹھے کے معنی بڑے بیٹے کے ہوتے ہیں مگر اکلوتے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس کے سوا اور کوئی بیٹا نہیں۔ پس وہ پہلوٹھے بے شک ہوں مگر اپنے اپنے زمانہ میں وہ اکلوتے نہ تھے لیکن محمد رسول اللہﷺ اپنے زمانہ میں اکلوتے روحانی بیٹے تھے اور آپ کے آنے پر پہلے تمام انبیاء کی نبوتیں ختم ہو گئیں، اب نہ مصر کے نبی کی نبوت کام دے سکتی ہے، نہ چین کے نبی کی نبوت کام دے سکتی ہے، نہ شام کے نبی کی نبوت کام دے سکتی ہے، نہ ایران اور ہندوستان کے کسی نبی کی نبوت کام دے سکتی ہے، اب ہر ایک شخص کیلئے خواہ وہ مصر میں رہتا ہو یا چین، جاپان، ایران اور ہندوستان میں رہتا ہو ضروری ہے کہ وہ محمد رسول اللہﷺ کو قبول کرے کیونکہ آپؐ کے بغیر اب کوئی خداتعالیٰ تک پہنچانے کا ذریعہ نہیں۔ ا س کے علاوہ رسول کریم ﷺ کو ایک خصوصیت بھی حاصل تھی جو دراصل پہلی خصوصیت کا نتیجہ ہے اور وہ یہ کہ جس طرح رسول کریم ﷺ بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچانے کا واحد ذریعہ تھے اسی طرح آپ خداتعالیٰ کے اکلوتے روحانی بیٹے تھے اور آپ جانتے تھے کہ خداتعالیٰ کی روحانی نسل اب میرے ذریعہ ہی دنیا میں قائم رہ سکتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں لازماً ایک اور بات بھی پیدا ہو گئی اور وہ یہ کہ اگر کسی شخص کے کئی بیٹے ہوں تو گو سب اس کی خدمت کرتے ہیں مگر پھر بھی ان کی محبت بٹی ہوئی ہوتی ہے اور ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمارے باپ کی خدمت کرنے والے اور بھی وجود ہیں لیکن اگر کسی کا ایک ہی بیٹا ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ میرے سوا باپ کی خدمت کرنے والا اور کوئی نہیں اگر میں نے بھی اس کی خدمت نہ کی تو اور کون کرے گا۔ غرض جس طرح اس باپ کی محبت کا رنگ بالکل جُداگانہ ہوتا ہے جس کا ایک ہی بیٹا ہو، اسی طرح اُس بیٹے کی محبت کا رنگ بھی جُداگانہ ہوتا ہے جو اکلوتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی محبت رسول کریم ﷺ سے نرالے رنگ کی تھی اسی طرح محمد رسول ﷺ کی اللہ تعالیٰ کے دین کیلئے خدمت بھی نرالے رنگ کی تھی کیونکہ آپؐ جانتے تھے کہ اب خداتعالیٰ تک پہنچانے والا میرے سوا اور کوئی نہیں اور ساری ذمہ واری مجھ پر ہی ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ رسول کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے دین کی جو خدمت کی وہ دوسرے انبیاء سے ہرگز نہیں ہوئی۔ بے شک حضر ت موسیٰؑ نے خداتعالیٰ کے لئے قربانیاں کیں، بے شک حضرت عیسیٰؑ نے خداتعالیٰ کیلئے قربانیاں کیں، بے شک حضرت کرشنؑ نے خداتعالیٰ کیلئے قربانیاں کیں،حضرت رام چندر نے خداتعالیٰ کیلئے قربانیاں کیں۔ اسی طرح حضرت زرتشت کے حالات گو پورے تو نہیں ملتے مگر جس قدر ملتے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے خداتعالیٰ کے دین کیلئے قربانیاں کیں مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے جو قربانیاں کیں ان کی نظیر ہمیں کسی اور نبی میں نظر نہیں آتی اس لئے کہ ہر نبی جانتا تھا کہ اگر میرے ہاں کوئی نقص ہوء ا تو دوسرا نبی اس کو دور کر دے گا مگر محمد رسول اللہ ﷺ جانتے تھے کہ اب مجھ پر ہی تمام ذمہ واری ہے اس لئے آپ نے جس رنگ میں دین کی خدمت کی وہ بالکل بے نظیر ہے۔ یہی وہ احساس تھا جس کے ماتحت محمد رسول اللہ ﷺ نے بدر کے موقع پر فرمایا کہ اے خدا! اگر یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو لَنْ تُعْبَدَ فِی الْاَرْضِ اَبَداً ۱؎ تیری اس کے بعد زمین پر کہیں پرستش نہیں ہو گی۔ گویا جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ خدا تعالیٰ کے اکلوتے روحانی بیٹے تھے اسی طرح صحابہؓ اس اکلوتے روحانی بیٹے کی روحانی نسل تھے اور اگر وہ ہلاک ہو جاتے تو آپؐ کی روحانی نسل ماری جاتی اور چونکہ آپ خداتعالیٰ کے اکلوتے روحانی بیٹے تھے اس لئے آپ کی نسل کے مارے جانے کے یہ معنی تھے کہ دنیا میں خدا کا کوئی نام لیوا باقی نہ رہتا یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے جب بدر کے موقع پر دیکھا کہ مسلمان تھوڑے ہیں اور کفار زیادہ۔ پھر وہ سازوسامان سے مسلح ہیں اور ان کے پاس بہت کم سامان ہے اور بظاہر ان کے بچنے کی کوئی امید نہیں تو وہ خدا تعالیٰ کے حضور جُھکے اور انہوں نے کہا اے میرے روحانی باپ! آج دنیا میں صرف میرے ذریعہ سے تیری روحانی نسل قائم ہے اگر آج میری نسل ماری گئی تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ نہ میری نسل رہے گی اور نہ تیری نسل رہے گی۔ اس اصل کو مدنظر رکھ کر محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی اُمت کی جس محنت سے تربیت کی اور کسی نبی نے نہیںکی کیونکہ آپ جانتے تھے کہ یہ صرف میری روحانی اولاد ہی نہیں بلکہ چونکہ میں اکلوتا ہوں یہ میرے روحانی باپ کے فیض کے جاری رکھنے والی ایک ہی نسل ہے اس لئے میں نے ان کی تربیت اپنی اولاد سمجھ کر ہی نہیں کرنی بلکہ اس خیال سے بھی کرنی ہے کہ میرے روحانی باپ کا فیضان بھی ان کے بغیر بند ہو جاتا ہے۔ باقی ہر نبی کو اپنی اُمت کے متعلق صرف یہ خیال رہتا تھا کہ وہ اس کی اُمت ہے۔ حضرت عیسیٰؑ اپنی امت کے متعلق جانتے تھے کہ وہ ان کی امت ہے، حضرت موسیٰؑ اپنی اُمت کے متعلق جانتے تھے کہ وہ ان کی اُمت ہے حضرت نوحؑ اپنی اُمت کے متعلق جانتے تھے کہ وہ ان کی اُمت ہے مگرمحمد رسول اللہ ﷺ یہ جانتے تھے کہ یہ میری ہی اُمت نہیں بلکہ میرے اللہ کی بھی اُمت ہے۔ پس ان کی محبت اپنی اُمت سے دوہری تھی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے مرنے سے صرف میری نسل کا ہی انقطاع نہیں بلکہ میرے خدا کی روحانی نسل کا بھی انقطاع ہے اس لئے آپ کی تربیتِ قومی میں اس احساس کا بہت بڑا دخل تھا اور آپ نے جس محنت اور محبت سے تربیت کی اس کی نظیر اور کہیں نظر نہیں آتی۔ میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں جس سے آپ لوگ اندازہ لگا سکیں گے کہ جذباتِ محبت کیسا شاندار نظارہ پیدا کر دیا کرتے ہیں۔ حضرت خلیفہ اوّل جب گھوڑے سے گر کر سخت بیمار ہو گئے اور آپ کی حالت ایسی نازک ہو گئی کہ خیال کیاجاتا تھا شاید آپ جانبر نہ ہو سکیں۔تو ایک دن جبکہ آپ کی حالت سخت نازک تھی میں آیا اور سارا دن آپ کے پاس بیٹھا رہا۔ انہی دنوں میرا بیٹا ناصر احمد بھی سخت بیمار تھا۔ شدید قسم کی اسے پیچش تھی بار بار خون آتا اور ساتھ آؤں بھی اور اس کی یہ تکلیف اتنی بڑھ گئی کہ اس کی والدہ نے یہ خیال کیا کہ اب وہ شاید مرنے والاہے۔ چنانچہ عصر کے قریب ایک آدمی میرے پاس گھبرایا ہوء ا آیا اور کہنے لگا کہ ناصر احمد کی حالت سخت نازک ہے آپ جلدی گھر چلیں۔ میں نے اسے اشارہ کیا کہ واپس چلے جاؤ چنانچہ وہ واپس چلا گیا تھوڑی دیر کے بعد پھر آدمی آیا اور کہنے لگا کہ جلدی چلیں ناصر احمد کی حالت سخت خراب ہو گئی ہے۔ میں پھر بھی نہ اُٹھا اور اسے اشارہ کر کے واپس کر دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر آیا اس وقت حضرت خلیفہ اوّل ہوش میں آ چکے تھے۔ اس نے کہا کہ ناصراحمد کی حالت خطرناک ہے جلد آئیں مگر میں پھر بھی نہ اُٹھا اور وہیں بیٹھا رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت خلیفہ اوّل نے میری طرف منہ پھیرا اور فرمایامیاں تم گئے نہیں اور پھر کہا تم جانتے ہو وہ کس کی بیماری کی اطلاع دے کر گیا ہے۔ وہ تمہارا بیٹا ہی نہیں وہ حضرت مسیح موعودؑ کا پوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے تم نے اس نکتہ نگاہ سے پیغام پر غور نہیں کیا۔ چنانچہ میں آپ کے ارشاد کی تعمیل میں اُٹھا اور گھر چلا آیا تو جہاں محبت ہوتی ہے وہاں بعض دفعہ ایک بڑی نسبت کو انسان مدنظر رکھ لیتا ہے۔ اسی طرح محمد رسول اللہﷺ نے صحابہؓ کو اس نگاہ سے نہیں دیکھا کہ وہ میرے روحانی فرزند ہیں بلکہ اس نگاہ سے دیکھا کہ وہ میرے خدا کی روحانی نسل ہیں اور انہی کے ذریعہ دنیا میں دین کا قیام ہے اگر ان کی اچھی تربیت نہیں ہو گی تو تمام دنیا تباہ ہو جائے گی۔
    چنانچہ دیکھ لو رسول کریم ﷺ نے جس محبت سے اپنے صحابہؓ کو پالا وہ ایسی بے نظیر ہے کہ واقعات پڑھ کر جذبات قابو میں نہیں رہتے۔
    حضرت ابوہریرہ کا واقعہ میں نے کئی دفعہ سنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں چونکہ میں نے کچھ عرصہ بعد اسلام قبول کیا تھا اس لئے اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے قسم کھا لی کہ اب میں ہر وقت محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہوں گا اور آپ کی باتیں سنتا رہوں گا، مگر وہ تھے غریب۔ ماں غالباً عیسائی تھی، بھائی مسلمان ہو گیا تھا مگر ا س میں اتنا جوش نہیں تھا جتنا ان میں بلکہ وہ رسول کریمﷺ سے شکایتیں کیا کرتا تھا کہ ابوہریرہ نکّمارہتا ہے کچھ کام نہیں کرتا اور آپ فرماتے کہ تمہیں کیا معلوم خدا تمہیں اس کی وجہ سے رزق دے رہا ہو۔ بہرحال وہ کہتے ہیں میں نے عہد کر لیا کہ میں اب مسجد سے نہیں ہلوں گا بلکہ یہیں بیٹھا رہوں گا اور جب بھی رسول کریم ﷺ کوئی بات فرمائیں گے اسے اپنے ذہن میں محفوظ کر لونگا مگر چونکہ ان کے کھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا اس لئے بعض دفعہ انہیں سات سات وقت کا فاقہ ہو جاتا اور بھوک کی شدت سے بے ہوش ہو جاتے۔ وہ کہتے ہیں ایک دفعہ مجھے اتنی بھوک لگی کہ بے تاب ہو گیا اور مسجد کے دروازہ کے سامنے اس خیال سے جا کر کھڑا ہو گیا کہ ممکن ہے کسی کو میری شکل دیکھ کر خیال آ جائے اور وہ مجھے کچھ کھانے کیلئے دے دے۔ اتنے میں کیا دیکھا کہ حضرت ابوبکرؓ آ رہے ہیں میں نے ان کے سامنے ایک قرآنی آیت پڑھی جس میںبھوکوں کو کھانا کھلانے کا ذکر آتا ہے اور پوچھا کہ اس کے معنی کیا ہیں؟ وہ اس آیت کی ایک تفسیر کر کے آگے چل دئیے۔ حضرت ابوہریرہؓ اس موقع پر کہتے ہیں میں نے اپنے دل میں کہا یہ آ گئے تھے بڑا قرآن جاننے والے۔ کیا مجھے اس آیت کے معنی نہیں آتے تھے۔ میں نے تو اس لئے پوچھا تھا کہ وہ سمجھ کر مجھے کچھ کھلا دیں مگر انہوں نے مطلب بتا دیا اور چلے گئے۔ پھر حضرت عمرؓ کو آتے دیکھا تو میں نے ان کے سامنے بھی وہی آیت پڑھ دی وہ بھی اس کا مطلب بتا کر چل دیئے۔ حضرت ابوہریرہؓ پھر کہتے ہیں میں نے اپنے دل میں کہا عمرؓ سمجھتے ہیں انہیں بڑا قرآن آتا ہے بھلا مجھے ان سے کم قرآن آتا ہے میں نے تو اس لئے پوچھا تھا کہ وہ سمجھ جاتے اور مجھے کچھ کھلا پلا دیتے مگر انہوں نے بھی ایک معنی بتائے اور چلے گئے۔ وہ کہتے ہیں اب میں حیران کھڑا تھا کہ کیا کروں کہ اتنے میں مجھے پیچھے سے ایک نہایت ہی شیریں آواز آئی۔ ابوہریرہؓ بھوکے ہو؟ میںنے مُڑ کر دیکھا تو رسول کریمﷺکھڑے تھے اور جس بات کو ابوبکرؓ اور عمرؓ میرے منہ سے نہ پہچان سکے اسے رسول کریمﷺ نے اپنے گھر بیٹھے میری آواز سے پہچان لیا۔ میں آپؐ کے پاس گیا تو آپ نے کھڑکی کھولی اور فرمایا اِدھر آؤ۔ پھر فرمانے لگے۔ ہمارے گھر میں بھی کھانے کیلئے کچھ نہیں تھا ایک دوست نے ابھی ابھی کچھ دودھ بھیجا ہے میں چاہتا ہوں کہ مسجد میں اور بھی جس قدر لوگ ایسے موجود ہوں جنہوں نے کچھ کھایا نہ ہو تو ان سب کو بلا لاؤ۔ وہ کہنے لگے میں نے دل میں کہا کہ پیالہ ایک ہے اور اگر کچھ اور بھی پینے والے آ گئے تو میرے لئے کیا بچے گا مگر رسول کریم ﷺ کا چونکہ حکم تھا اس لئے چلا گیا۔ دیکھا تو ایک نہ دو بلکہ سات آدمی کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ ہم نے بھی کچھ نہیں کھایا۔ میں ان سب کو اکٹھا کر کے رسول کریمﷺ کے پاس لایا۔ آپؐ نے دودھ کا پیالہ لیکر ان میں سے ایک شخص کو دے دیا اور اس نے پینا شروع کر دیا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ اب میرے لئے تو کچھ نہیں بچے گا مگر خیر اس نے پیا اور کچھ چھوڑ دیا۔ میں نے کہا کہ اسے کچھ تو شرم آئی ہے سارا دودھ تو نہیں پی گیا مگر رسول کریمﷺ نے اسے فرمایا اور پیؤ۔ اب میں بڑا پریشان ہؤ ا کہ آگے تو کچھ بچ بھی گیا تھا مگر اب کیا بچے گا۔ اس نے بھی پیالے کو منہ سے لگا لیا اور دودھ پینا شروع کر دیا جب بس کر چکا تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا اور پیؤ۔ پھر اس نے اور دودھ پیا۔ جب سیر ہو گیا تو میں نے سمجھا کہ اب میری باری آئے گی مگر رسول کریم ﷺ نے پھر دوسرے کو پیالہ دے دیا۔ پھر تیسرے کو، پھر چوتھے کو، پھر پانچویں کو، پھر چھٹے کو، پھر ساتویں کو اور جب سب سیر ہو چکے تو آپؐ نے مجھے پیالہ دیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ دودھ سے اسی طرح لَبالَبْ بھرا ہوء ا ہے جس طرح پہلے بھرا تھا، اور خدا نے اس میںکچھ ایسی برکت رکھ دی کہ ایک قطرہ بھی کم نہ ہوء ا ۔ خیر میں نے پینا شروع کر دیا اور اتنا پیا اتنا پیا کہ بالکل سیر ہو گیا اور پیالہ رسول کریم ﷺ کو دینا چاہا مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا اور پیؤ۔ میں نے پھر پینا شروع کر دیا اور جب بہت ہی سیر ہو گیا تو ختم کر دیا مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا اور پیؤ۔ آخر کہتے ہیں میں نے اس قدر دودھ پیا کہ مجھے یوں محسوس ہوء ا اب دودھ میرے ناخنوں میں سے بہنے لگ جائے گا۔ چنانچہ میں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اب مجھ سے پیا نہیں جاتا۔ اس پر آپؐ نے پیالہ لیا اور اس دودھ کو خود پی کر ختم کر دیا۲؎۔ غرض اللہ تعالیٰ نے معجزانہ رنگ میں اس دودھ میں ایسی برکت رکھ دی کہ سب سیر ہو گئے اور دودھ بھی بچ رہا۔ نادان ان باتوں پر ہنستا ہے مگر جن لوگوں نے خدا تعالیٰ کے نشانات اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوں ان کے نزدیک یہ ناممکن بات نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بھی بعض ایسے ہی معجزات ہیں اور جب آپ کے خادم کے ہاتھ پر ایسے نشانات ظاہر ہو چکے ہوںتو آقا کے ہاتھ پر ان کا ظاہر ہونا کوئی تعجب انگیز نہیں ہو سکتا۔
    میں نے خود ایک دفعہ ایسا ہی نشان دیکھا۔ سخت گرمی کے ایام تھے اور میں نے روزہ رکھا ہوء ا تھا۔ اس دن مجھے روزہ سے اتنی سخت تکلیف ہوئی کہ میں بے تاب ہو گیا۔ اس بے تابی کی حالت میں مجھ پر کشفی حالت طاری ہو گئی اورمیں نے دیکھا کہ ایک شخص نے میرے منہ میں پان ڈال دیا ہے جس میں کچھ مُشک بھی ہے۔ جب یہ حالت جاتی رہی اور آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ مُشک کی میرے منہ سے خوشبو آ رہی تھی اور اس کی طراوت میرے رگ و ریشہ میں ایسی اثر کر گئی تھی کہ پیاس کا نام و نشان تک نہ تھا۔
    اسی طرح ایک دفعہ رؤیا میں کسی بزرگ نے میرے منہ میں مُشک ڈال دیا۔ میری بیوی پاس ہی سو رہی تھیںجب میں خواب سے بیدار ہوء ا تو میں نے ان کو جگایا اور کہا کہ ذرا میرے منہ کو تو سونگھنا۔ انہوں نے کہا سونے کے بعد انسان کے منہ سے ضرور کچھ نہ کچھ بُو آتی ہے مگر آپ کے منہ سے تو تیز مُشک کی خوشبو آ رہی ہے۔ تو ایسے کئی نشانات ہم نے دیکھے ہیں، اس لئے ان معجزات کے بارہ میں ہمیں کسی تاویل کی ضرورت نہیں مگر میرا یہ عقیدہ ہے کہ ایسے معجزات ہمیشہ مؤمنوں کے سامنے دکھائے جاتے ہیں کافروں کے سامنے نہیں دکھائے جاتے۔
    پھر مرض الموت کا ایک واقعہ بتاتا ہے کہ آپؐ صحابہؓ سے کس قدر شفقت رکھتے تھے۔ احادیث میں آتا ہے جب آپ کی وفات قریب آئی تو آپ سخت کرب اور اضطراب کی حالت میں کبھی دایاں پہلو بدلتے اور کبھی بایاں اور پھر فرماتے خدا یہود اور نصاری پر *** کرے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا ہے۔ ۳؎ یہ کتنی شفقت ہے جو اپنی امت کے لئے رسول کریمﷺ نے ظاہر فرمائی کہ وفات کے وقت بھی آپ انہیں بار بار بتاتے تھے کہ دیکھنا شرک کے قریب نہ جانا۔ اگر باقی انبیاء بھی اسی رنگ میں اپنی اُمت کی نگرانی کرتے تو وہ کہاں گمراہ ہوتیں۔ پھر ایک دفعہ مدینہ میں دشمن کا کچھ خطرہ محسوس ہوء ا اور خیال ہونے لگا کہ کہیں وہ مدینہ پر حملہ نہ کر دے۔ ان دنوں یہ عام افواہ تھی کہ روما کی حکومت مدینہ پر حملہ کرنا چاہتی ہے۔ ایک رات اچانک مدینہ میں شور مچ گیااور سمجھا جانے لگا کہ عیسائی لشکر حملہ آور ہو گیا ہے۔ صحابہؓ اِدھر اُدھر دَوڑ پڑے اور کچھ مسجد میں جمع ہو گئے۔ حضرت عمرو بن العاص بھی انہی میں سے تھے جو مسجد میں جمع ہوئے اور جن کی رسول کریم ﷺ نے بعد میں بڑی تعریف کی کہ انہوںنے خوب ہوشیاری سے کام لیا۔ غرض صحابہؓ جمع ہوئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ گھوڑوں پر سوار ہو کر باہر ایک چکر لگایا جائے اور دیکھا جائے کہ کیا حالت ہے۔ اتنے میں وہ کیا دیکھتے ہیں کہ رسول کریمﷺ اکیلے باہر سے تشریف لا رہے ہیں۔ آپؑ نے صحابہ کو دیکھ کرفرمایا کہ مَیں شور سن کر اکیلا یہ دیکھنے کیلئے چلا گیا تھا کہ کیا ہوء ا مگر معلوم ہوء ا ہے کہ کوئی خطرہ کی بات نہیں۔ ۴؎ گویا صحابہؓ تومحمد رسول اللہﷺ کی حفاظت کیلئے آپؐ کے دروازے پر جمع ہوئے اور محمد رسول اللہ ﷺ صحابہؓ کی حفاظت کیلئے ان سے بھی پہلے اکیلے اپنے گھر سے باہر تشریف لے گئے۔
    غرض بہت سے واقعات ہیں جن سے تم یہ معلوم کر سکتے ہو کہ ہمارا محبوب ہم سے کیسی محبت کرنے والا تھا اور پھر تم یہ بھی نتیجہ نکال سکتے ہو کہ جو باپ اپنی اولاد سے اتنی محبت کرنے والا ہو اس سے اس کی روحانی اولاد نے کتنی شاندار محبت کی ہو گی۔
    میں نے ایک دفعہ رؤیا میں دیکھا جیسے امرتسر میں ملکہ کاسٹیچو ہوء ا کرتا تھاایسا ہی ایک سنگ مرمر کا چبوترہ ہے اور اس کے قریب ایک نہایت خوبصورت بچہ ایسی حالت میں کھڑا ہے کہ ایک گُھٹنا اس نے ٹیکا ہوء ا ہے اور دوسرا اس نے جھکایا ہوء ا ہے۔ اس کا رنگ سفید اور اس کے نقوش بہت خوبصورت ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اس بچہ نے آسمان کی طرف اپنی آنکھیں اُٹھائی ہوئی ہیں۔ گویا وہ اس امر کی التجا کر رہا ہے کہ اس پر اوپر کی طرف سے محبت نازل ہو۔ رؤیا میں مَیں سمجھتا ہوں کہ وہ بچہ حضرت مسیح علیہ السلام ہیں۔ یکدم میں نے دیکھا کہ آسمان پَھٹ گیا اور اس میں سے عورت کی شکل میں ایک وجود اترا جس نے نہایت خوبصورت رنگوں والا لباس پہنا ہوء ا تھا۔ ویسے رنگ میں نے آج تک دنیا میں نہیں دیکھے۔ میں نے رؤیا میں اس کے پَر بھی دیکھے اور میں نے دیکھا کہ پَر پھیلائے ہوئے وہ آہستہ آہستہ آسمان سے اتر رہی ہے یہاں تک کہ وہ اس بچہ کے پاس پہنچی اور دونوں آپس میں چمٹ گئے۔
    اس وقت میں خیال کرتا ہوں کہ یہ عورت حضرت مریم علیہا السلام ہیں تب میری زبان پر یہ فقرہ جاری ہوء ا Love Creats Love یعنی محبت محبت پیدا کرتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ محبت کے نتیجہ میں محبت پیدا ہوء ا کرتی ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ نے جب اپنے صحابہؓ سے بے نظیر محبت کی تو صحابہؓ نے بھی اس کے مقابلہ میں وہ عشق دکھایا جس کی کوئی حد نہیں۔ چنانچہ حسان کا وہ شعر کتنا دردناک ہے جو آپؐ کی وفات پر انہوںنے کہا کہ
    کُنْتَ السَّوَادَ لِنَا ظِرِیْ فَعَمِیْ عَلَیْکَ النَّاظِرٗ
    مَنْ شَائَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرٗ۵؎
    کہ اے محمد! ﷺ تُو تو میری آنکھ کی پُتلی تھا اب تیرے مرنے سے میں تو اندھا ہو گیا
    مَنْ شَائَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرٗ
    اب تیرے بعد جو چاہے مرے مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔ میں تو تجھ کو ہی موت سے بچانے کی کوشش کیا کرتا تھا۔ اب جبکہ تو ہی زندہ نہیں رہا تو مجھے کسی اور کی موت کی کیا پروا ہو سکتی ہے۔
    پھر رسول کریم ﷺ کی شفقت اور آپؐ کی محبت صرف اپنے صحابہؓ تک ہی محدود نہ تھی بلکہ جیسی محبت آپ نے اپنے صحابہؓ سے کی ویسی ہی ہم سے بھی کی۔ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے آپ نے اپنے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا ایک دفعہ بڑی ہی محبت اور پیار سے ذکر کیا اور صحابہؓ سے فرمایا تم تو میرے صحابی ہو مگر وہ میرے بھائی ہوں گے۶؎ ۔صحابیت میں صرف دوستی کا تعلق ہوتا ہے مگر بھائی بھائی میں ایک خونی رشتہ ہوتا ہے۔ پس آنے والوں کا ذکر آپ نے اس رنگ میں کیا گویا ان کو اپنا رشتہ دار اور بھائی قرار دے دیا کیونکہ رسول کریم ﷺ نے سمجھا بعد میں آنے والے جب آئیں گے تو ان کو رشک پیدا ہو گا کہ ہمیں کچھ نہ ملا۔ تمام درجات صحابہؓ ہی لے گئے اس لئے آپ نے بعد میں آنے والوں کے قلوب کی تسلی کے لئے فرمایا کہ تم تو صحابی ہو مگر وہ میرے بھائی ہوں گے۔ پس جس آنکھ سے آپ نے صحابہؓ کو دیکھا ناممکن ہے کہ آج بھی تیرہ سَو سال گزرنے پر ہم اسی آنکھ سے آپ کی تعلیم کو نہ دیکھیں۔ کیا کیا رسوم تھیں جن سے رسول کریمﷺ نے ہمیں بچایا، کیا کیا اعمالِ بد تھے جن سے آپ نے بنی نوع انسان کو نجات دلائی، میں تو بعض دفعہ جب یہ سوچتا ہوں کہ اگر محمد رسول اللہﷺ نہ آتے تو کیا ہوتا تو مجھے جنون ہونے لگتا ہے۔ ایسے مہربان باپ کی وفات کے قریب کی نصیحت تم سمجھ سکتے ہو کہ کتنی اہم ہو گی باپ بیٹے سے محبت کرتا ہے بیٹا باپ سے محبت کرتا ہے اگر دوسرے وقتوں میں یہ محبت بالکل اور قسم کی ہوتی ہے تو وفات کے وقت بالکل اور قسم کی۔
    رسول کریم ﷺ کو بھی جب بتایا گیا کہ آپ کی وفات اب قریب ہے تو حجۃ الوداع کے موقع پر جس کے بعد آپ نے کوئی حج نہیں کیا اور جس کے صرف اسّی دن بعد آپؐ وفات پا گئے آپ نے فرمایا اعلان کر دو اَلصَّلٰوۃُ جَامِعَۃٌ یہ لوگوں کو جمع کرنے کا ایک طریق تھا کہ سب لوگوں کو کہا جاتا اے لوگو عبادت کیلئے جمع ہو جاؤ۔ جب سب صحابہؓ اکٹھے ہو گئے تو آپؐ نے ان کے سامنے ایک تقریر کی جو ایسی دردناک تھی کہ کوئی شخص نہیں تھا جس کی آنکھیں اس وقت چشمہ کی طرح پھوٹ پھوٹ کر نہ بہہ رہی ہوں۔ ایک صحابیؓ اس وقت کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کیا یہ نصیحت الوداعی ہے اور کیا ہم سمجھ لیں کہ اب آپ کی وفات آ گئی؟ ۷؎ اس وقت رسول کریم ﷺ نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک آپ کی وہ وصیت ہے جس کا میں آج ذکر کرنا چاہتا ہوں اور تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ وہ شفیق باپ جس نے اپنی روحانی اولاد کی بہبودی کیلئے تمام عمر صرف کر دی اس نے عَین اس وقت جبکہ اسے اپنی وفات کا الہام ہو چکا تھا تمہیں ایک وصیت کی ہے اور اس نے وصیت کرتے ہوئے تمہیں یہ حکم بھی دیا ہے کہ تم اس وصیت کو اپنے دوسرے بھائیوں تک پہنچاؤ۔
    پس ایسے شفیق باپ کی آخری وصیت کی جو اہمیت ہو سکتی ہے ہر شریف بیٹا اس کا احساس کر سکتا ہے اور چونکہ ہم سب آپؐ کی روحانی اولاد میں سے ہیں اس لئے جس نظر سے صحابہؓ نے آپ کو دیکھا اسی نظر سے دیکھنا ہمارا کام ہے اور ہم میں سے ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ وہ اس وصیت کو پورا کرنے کیلئے کھڑا ہو جائے۔
    وہ وصیت یہ ہے ۔عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْدِاللّٰہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَتٰی بَطْنَ الْوَادِیْ فَخَطَبَ النَّاسَ وَقَالَ اِنَّ دِماَئَ کُمْ وَاَمْوَالَکُمْ وَاَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ عَلَیْکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا۸؎ جابربن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پرمیدان میں آئے اور آپ نے ایک تقریر کی جس میں فرمایا۔
    اے دوستو!سن لوتمہاری ایک دوسرے کی جانیں، تمہارے ایک دوسرے کے اموال اور تمہاری ایک دوسرے کی عزتیں خدا نے تم پر حرام کر دی ہیں اور تمہارے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ تم اپنے کسی بھائی کی جان کو تکلیف دو، یا اس کے مال پر حملہ کرو، یا اس کی عزت پر حملہ کرو۔ جس طرح حج کا دن خدا نے عزت والا بنایا ہے ویسے ہی ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کے خون، اس کے مال اور اس کی عزت کی توقیر اس نے تم پر واجب کی ہے اور جس طرح ذوالحجہ کو عزت حاصل ہے اسی طرح خدا نے ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کے خون، اس کے مال اور اس کی عزت کو مقام بخشا ہے اور جو عزت خدا نے مکہ کو دی ہے وہی عزت اس نے ایک ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کے خون، مال اور عزت کو دی ہے۔ پس جو شخص اپنے کسی بھائی کی جان پر حملہ کرتا ہے وہ مکہ پر حملہ کرتا ہے، وہ ذوالحجہ پر حملہ کرتا ہے، وہ حج کے دن پر حملہ کرتا ہے، اسی طرح جو شخص اپنے بھائی کے مال پر حملہ کرتا ہے وہ مکہ پر حملہ کرتا ہے ،وہ ذوالحجہ پر حملہ کرتا ہے اور وہ حج کے دن پر حملہ کرتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اپنے کسی بھائی کی عزت پر حملہ کرتا ہے وہ بھی مکہ پر حملہ کرتا ہے وہ ذوالحجہ پر حملہ کرتا ہے وہ حج کے دن پر حملہ کرتا ہے۔
    اے عزیزو! کبھی تم نے غور کیا کہ جب کسی کے مال میں تم خیانت کرتے ہو یا کسی کا قرضہ ادا نہیں کرتے یا غیظ وغضب سے مشتعل ہو کر دوسرے کو مارتے یا اسے گالیاں دیتے ہو۔ یا جوش میں اسے ذلیل کرنے اور لوگوں میں رسوا کرنے کی کوشش کرتے ہو تو تم خدا کے حضور کتنے بڑے جُرم کے مرتکب بنتے ہو۔ کیا تم میں کوئی ماں کا بیٹا ایسا ہے جو اپنے ہاتھ سے کعبہ کی اینٹیں گرانے کی جرأت کر سکے۔ اگر ایک منافق اور ذلیل ترین انسان بھی ایسی جرأت نہیں کر سکتا تو تم ایک مسلمان کی عزت ایک مسلمان کے مال اور ایک مسلمان کی جان پر کس طرح حملہ کرتے ہو جبکہ محمد رسول اللہﷺ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہر مسلمان کی جان، اس کا مال اور اس کی عزت خدا کے حضور وہی مقام رکھتی ہے جو حج کا دن رکھتا ہے جو ذوالحجہ رکھتا ہے اور جو مکہ مکرمہ رکھتا ہے۔
    پھر ایک دوسری روایت میں جو ابی بکرہؓ سے مروی ہے آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ جب یہ بات بیان فرما چکے تو آپ نے فرمایا اَلافَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ۹؎ کہ اے دوستو تم تو میرے سامنے موجود ہو۔ مگر تمہارے سوا کچھ اور لوگ بھی ہیں جو اس وقت اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور کچھ وہ لوگ ہیں جو بعد میں آئیں گے۔پس جس شخص کے کان میں میری یہ بات پڑے اس کا فرض ہے کہ وہ یہ بات اپنے دوسرے بھائی کے کان میں بھی ڈالے۔ پھر آپؐ نے اس پر اور زیادہ زور دینے کیلئے اس فقرہ کو دُہرایا اور فرمایا اَلافَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَاب دیکھو یہ کتنی لطیف نصیحت ہے جو رسول کریمﷺ نے کی اور آپ نے اس میں اصلاحِ اعمال کا کیا لطیف گُر بیان فرمایا ہے۔ اگر مسلمان اس گُر کو سمجھ لیتے تو وہ ہزاروں فتنوں سے بچ جاتے۔ آج کل لوگ فاتحہ کے کارڈ تقسیم کرتے ہیں بلکہ بعض لوگ تو اس پر یہ لکھ کر بھیج دیتے ہیں کہ جو اسے دوسرے تک نہیں پہنچائے گا وہ عذاب میں گرفتار ہو جائے گا اور اس طرح لوگ ڈر کے مارے دوسروں تک پہنچاتے جاتے ہیں۔ مگر دیکھو رسول کریمﷺ نے اس طریق کو کس عمدگی اور خوبی کے ساتھ جاری کیا۔ وہ تحریر کا زمانہ نہیں تھا کہ آپ کارڈوں پر لکھوا کر فرماتے کہ ایک دوسرے کو پہنچاتے چلے جاؤ۔ وہ ایسا زمانہ تھا کہ لوگ باتیں سنتے اور پھر اپنے دلوں اور دماغوں میں محفوظ رکھتے۔
    اب آپ لوگوں نے مجھ سے یہ حدیث سنی ہے اور چونکہ رسول کریمﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو بھی اسے سنے وہ دوسروں تک پہنچا دے اس لئے آپ میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ دوسروں کو بتائے کہ دیکھو رسول کریم ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ جس طرح خانہ کعبہ کی تمہارے دل میں عزت ہے، جس طرح حج کے دن کی تمہارے دل میں عزت ہے، جس طرح ذوالحجہ کی تمہارے دل میں عزت ہے وہی عزت تمہیں ایک ادنیٰ سے ادنیٰ مؤمن کی جان، اس کے مال اور اس کی آبرو کی کرنی چاہئے اور ساتھ ہی کہہ دو کہ رسول کریمﷺ کا یہ بھی حکم ہے کہ جو شخص یہ حدیث سنے اسے دوسروں تک پہنچا دے۔ اسی طرح یہ بات لوگوں میں پھیلتی چلی جائے گی اور چونکہ آدمی محدود ہیں اس لئے چکر کھا کر لازماً یہ بات ہمارے پاس بھی پہنچے گی اور پھر ہمارا فرض ہو جائے گا کہ ہم اوروں کو سنائیں اور یہ امر ان کے ذہن نشین کر دیں کہ ایک مسلمان کے خون مال اور آبرو کی کیا قیمت ہے۔ اگر مسلمان اس حدیث کو انہی معنوں میں لیتے جو میں نے بیان کئے ہیں تو سال میں دو چار دفعہ وہ ضرور یہ حدیث سن لیتے کہ رسول کریم ﷺ نے وفات کے قریب یہ کہا ہے کہ مسلمانوں کا خون، ان کا مال اور ان کی آبرو دوسرے مسلمانوں پر ویسی ہی حرام ہے جیسے مکہ مکرمہ ،جیسے ذوالحجہ اور جیسے حج کا دن۔
    میں جانتا ہوں کہ جو چیز بار بار دُہرائی جائے اُس کا لوگوں پر اثر ہوتا چلا جاتا ہے۔ عیسائیوں نے جب بار بار کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں تو لوگ انہیںخدا کا بیٹا ماننے لگ گئے۔ کیا مسلمان اگر یہ دُہراتے چلے جائیں گے کہ ہر مؤمن کی جان، مال اور آبرو کی عزت کرنا دوسرے مسلمان پر فرض ہے اور جو اس کی ہتک کرتا ہے وہ ویسا ہی مجرم ہے جیسے خانہ کعبہ یا ذوالحجہ یا حج کے ایام کی ہتک کرنے والا تو کیوں دنیا میں امن قائم نہیں ہو گا اور کیوں فتنہ و فساد مِٹ نہیں جائے گا۔ اب پیچھے جو کچھ غفلت ہو چکی وہ تو ہو چکی آئندہ کیلئے میں یہ حدیث آپ لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہوں اور رسول کریم ﷺ کا پیغام آپ لوگوں تک پہنچاتا ہوں وہ شفیق باپ جس نے ساری عمر تمہارے لئے قربانیاں کیں اور جس کی تعلیم آج تک مردوں اور عورتوں پر احسانات کرتی چلی آئی ہے اس نے اپنی وفات کی خبر سن کر تم سب کو کہا کہ یاد رکھو اِنَّ دِماَئَ کُمْ وَاَمْوَالَکُمْ وَاَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ عَلَیْکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَااور پھر فرمایا جو شخص یہ حدیث سنے اس کا فرض ہے کہ وہ اُسے دوسروں تک پہنچا دے پس باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو یہ بات بتائے ماں کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو یہ بات بتائے۔ دادا کا فرض ہے کہ وہ اپنے پوتے کو بتائے اور پوتوں اور پڑپوتوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے بیٹوں اور پوتوں کو بتائیں۔ اگر مسلمان اسی طرح رسول کریمﷺ کی یہ حدیث ایک دوسرے کو پہنچاتے چلے جاتے تو ہر مسلمان اس بات پر فخر کا اظہار کر سکتا کہ اس نے رسول کریمﷺ کی ایک حدیث کسی کتاب میں پڑھنے کی بجائے رادیوں کی زبان سے براہ راست سُنی ہے اور یہ فخر کچھ کم فخر نہ ہوتا حضرت خلیفہ اوّل فرمایا کرتے تھے کہ مجھے رسول کریمﷺ کی چالیس حدیثیں ایسی پہنچی ہیں جن کا سلسلہ اسناد بغیر کسی وقفہ کے رسول کریمﷺ تک پہنچتا ہے۔ اسی طرح اگر مسلمان یہ حدیث ایک دوسرے کو پہنچاتے چلے جاتے تو ہر مسلمان یہ کہتا کہ میں نے رسول کریمﷺ کی ایک حدیث براہ راست آپؐ سے سنی ہے۔
    پس میں آج آپ لوگوں کے سامنے یہ چھوٹی سی بات پیش کرتا ہوں کہ ہر شخص اپنے دل میں یہ عہد کرے کہ وہ کسی دوسرے کو رسول کریمﷺ کی یہ حدیث سنا دے گا اور جب سنا چکے تو کہے کہ رسول کریمﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جس مجلس میں یہ حدیث بیان ہو اس کا حاضر غائب کو سنا دے اس طرح یہ حدیث چکر کھا کر پھر پانچ سات ماہ کے بعد تمہارے پاس پہنچے گی اور تمہیں پھر وہ نظارہ یاد آ جائے گا جب رسول کریمﷺ کو اپنی وفات کا الہام ہوء ا اور آپؐ کو یہ خطرہ محسوس ہوء ا کہ وہ لوگ جنہیں زندگی میں سنبھالتا رہا میری وفات کے بعد نہ معلوم کن فتنوں میں مبتلاء ہو جائیں تو آپ نے فرمایا میں تو اب جاتا ہوں مگر دیکھو اِنَّ دِماَئَ کُمْ وَاَمْوَالَکُمْ وَاَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ عَلَیْکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَااور آپ نے فرمایا فَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَاور پھر اس کو دو دفعہ دُہرایا تاکہ مسلمان اس کے پہنچانے میں غفلت سے کام نہ لیں ۔
    اگر مسلمان یہ حدیث ایک دوسرے کو پہنچاتے رہتے تو ان کے دلوں میں ایسی نرمی ،محبت، دیانت اور تقویٰ پیدا ہو جاتا کہ وہ اپنے کسی بھائی کو نہ ستاتے، نہ اس کی جان پر حملہ کرتے نہ اس کے مال پر حملہ کرتے، نہ اس کی آبرو پر حملہ کرتے اور اگر کوئی منہ پھٹ کبھی حملہ کر بیٹھتا تو دوسرا اسے یا ددلا دیتا کہ میاں کیا کرنے لگے ہو۔ تم خانہ کعبہ پر حملہ کرتے ہو، تم ذوالحجہ پر حملہ کرتے ہو، تم حج کے دن پر حملہ کرتے ہو، کیا اتنے مقدس مقامات پر حملہ کرتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی اور یقینا اس کے بعد وہ شرمندہ ہوتا اور اپنے اس ناروافعل پر ندامت کا اظہار کرتا۔
    پس اس سبق کو اچھی طرح یاد رکھو اور دوسروں تک پہنچا دو۔ اگر تم اس تحریک پر عمل کرو گے تو جماعت میں آہستہ آہستہ صحیح تقویٰ پیدا ہو جائے گا اور سوائے ازلی شِقّیوں کے جن کا کوئی علاج خدا نے مقرر نہیں کیا، باقی سب اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں گے اور جماعتی اتحاد کو کسی طرح ضُعف نہیں پہنچے گا کیونکہ گو یہ ایک چھوٹا سا نُکتہ ہے مگر اسی پر قومی زندگی کی بنیاد ہے۔
    (الفضل ۳؍اکتوبر ۱۹۵۹ء)
    ۱؎ مسلم کتاب الجھاد باب الامداد بالملائکۃ (الخ)
    ۲؎ بخاری کتاب الرقاق باب کَیْفَ کَانَ عَیْشُ النّبیّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم و اصحابہٖ (الخ)
    ۳؎ بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب مَاذُکِرَعَنْ بَنِی اِسْرائیل
    ۴؎ بخاری کتاب الجھاد والسیر باب السرعۃ والرکض فی الفزع
    ۵؎ شرح دیوان حسان بن ثابت صفحہ۲۲۱ آرام باغ کراچی
    ۶؎ کنز العمال جلد۱۲، صفحہ۱۸۳۔ مطبوعہ حلب ۱۹۷۴ء
    ۷؎
    ۸؎ مسلم کتاب الحج باب حجۃ النَّبِیّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم
    ۹؎ بخاری کتاب الفتنباب قول النَّبِیّ ﷺ لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا



    تقریر بجواب ایڈریس ہائے
    جماعتہائے احمدیہ




    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

    تقریر بجواب ایڈریس ہائے جماعتہائے احمدیہ
    (تقریر فرمودہ ۲۸؍ دسمبر ۱۹۳۹ء برموقع جلسہ خلافت جوبلی)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃفاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    مَیں جب سے تقریر کے میدان میں آیا ہوں اور جب سے مجھے تقریر کرنے یا بولنے کا موقع ملا ہے مَیں نے شروع دن سے یہ بات محسوس کی ہے کہ ذاتی بناوٹ کے لحاظ سے تقریر کرنا میرے لئے بڑا ہی مشکل ہوتا ہے اور میری کیفیت ایسی ہو جاتی ہے جسے اُردو میں ’’گھبرا جانا‘‘ کہتے ہیں اور انگریزی میں NERVAUS ہو جانا کہتے ہیں۔ مَیں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ اپنی دماغی کیفیت کے لحاظ سے مَیں ہمیشہ نروس ہو جاتا ہوں یا گھبرا جاتا ہوں۔ مجھے یاد ہے جب مَیں نے پہلی تقریر کی اور اس کے لئے کھڑا ہوئا توآنکھوںکے آگے اندھیرا آ گیا اور کچھ دیر تک تو حاضرین مجھے نظر نہ آتے تھے اور یہ کیفیت تو پھر کبھی پیدا نہیں ہوئی لیکن یہ ضرور ہوتا ہے کہ ایک خاص وقت میں جس کی تفصیل مَیں آگے چل کر بیان کروں گا میرے دل میں ایک اضطراب سا پیدا ہو جاتا ہے لیکن وہ حالت اُس وقت تک ہوتی ہے جب تک کہ بجلی کا وہ کنکشن قائم نہیں ہوتا جو شروع دن سے کسی بالا طاقت کے ساتھ میرے دماغ کا ہو جایا کرتا ہے اور جب یہ دَور آ جاتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے تمام بڑے بڑے مقرر اور لسّان جو اپنی اپنی زبانوں کے ماہر ہیں میرے سامنے بالکل ہیچ ہیں اور میرے ہاتھوں میں کھلونے کی طرح ہیں۔ جب مَیں پہلے پہل تقریر کے لئے کھڑا ہوا اور قرآن کریم سے آیات پڑھنے لگا تو مجھے الفاظ نظر نہ آتے تھے اور چونکہ وہ آیات مجھے یاد تھیں مَیں نے پڑھ دیں لیکن قرآن گو میرے سامنے تھا مگر اِس کے الفاظ مجھے نظر نہ آتے تھے اور جب مَیں نے آہستہ آہستہ تقریر شروع کی تو لوگ میری نظروں کے سامنے سے بالکل غائب تھے۔ اس کے بعد یکدم یوں معلوم ہوا کہ کسی بالا طاقت کے ساتھ میرے دماغ کا اتّصال ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ جب مَیں نے تقریر ختم کی تو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ یہ تقریر سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی اور اِنہوں نے قرآن کریم کے جو معارف بیان کئے ہیں باوجود اس کے کہ میں نے بڑی بڑی تفاسیر پڑھی ہیں اور میری لائبریری میں بعض نایاب تفاسیر موجود ہیں مگر یہ معارف نہ مجھے پہلے معلوم تھے اور نہ میں نے کہیں پڑھے ہیں۔ سو جب دَورانِ تقریر میں وہ کیفیت مجھ پر طاری ہوتی ہے تو مَیں محسوس کرتا ہوں کہ خداتعالیٰ کے فضل سے وہ کَل دبائی گئی ہے اور اب اللہ تعالیٰ میرے دماغ میں ایسے معارف نازل کرے گا کہ جو میرے علم میں نہیں ہیں اور بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ قرآن شریف پڑھتے ہوئے بھی وہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ آج بھی وہ کیفیت شروع ہوئی تھی مگر اِس وقت جو ایڈریس پڑھے گئے ہیں ان کو سُن کر وہ دُور ہو گئی۔ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ گھر سے باہر تشریف لائے تو دو شخص آپس میں لڑ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر کے متعلق بتایا تھا کہ وہ کونسی رات ہے مگر ان کی لڑائی کو دیکھ کر وہ مجھے بھول گئی۔۱؎ اِسی طرح مجھ پر بھی وہ کیفیت طاری ہوئی تھی مگر ا سکے بعد ایڈریس شروع ہوئے۔ ان میں سے بعض ایسی زبانوں میں تھے کہ نہ میں کچھ سمجھ سکا اور نہ آپ لوگ اور میں نے محسوس کیا کہ یہ بناوٹ ہے اور منتظمین دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم میں ایسی ایسی زبانیں جاننے والے لوگ موجود ہیں اور اس ظاہر داری کو دیکھ کر میری طبیعت پر ایسا بُرا اثر ہؤا کہ وہ کیفیت جاتی رہی۔ہم لوگ تو اپنے جذبات کو دبانے کے عادی ہیں اور جن لوگوں نے بڑے کام کرنے ہوتے ہیں اِن کو یہ مشق کرنی پڑتی ہے۔ سرکاری افسروں کو دیکھ لو مثلاً تحصیلدار اور تھانیدار وغیرہ ہیں سب قِسم کے لوگ ان کے پاس آتے اور باتیں کرتے ہیں اور وہ سب کی باتیں سُنتے جاتے ہیں لیکن اس مجلس میں ایسے لوگ بھی تھے جو جذبات کو دبانے کے عادی نہیں۔ اِس لئے اِن میں ایک بے چینی سی تھی اور وہ بھاگ رہے تھے اور یہ نظارہ میرے لئے تکلیف دِہ تھا اور اِس وجہ سے وہ کیفیت دُور ہو گئی۔ گو اَب میں اگر اِسی مضمون کو بیان کرنا شروع کر دوں تو وہ بٹن پھر دَب جائے گا مگر پہلے جو کچھ میرے ذہن میں تھا وہ اب یاد نہیں آ سکتا۔ بہرحال مجھے کچھ کہنا چاہئے اور اس کارروائی کے متعلق جہاں تک دُنیوی عقل کا تعلق ہے میں اَب بھی بیان کر سکتا ہوں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ ہر ایک نمائندہ نے وعدہ کیا تھا کہ تین منٹ کے اندراندر اپنا ایڈریس ختم کر دے گا لیکن سوائے اس ایڈریس کے جو ہندوستان کی جماعتوں کی طرف سے پیش کیا گیا اور کسی نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا پھر وہ جس طرح پیش کیا گیا ہے اِس میں حقیقی اِسلامی سادگی کا نمونہ نظر آتا ہے اور اِس لئے میں انہیں مبارک باد دیتا ہوں۔ محض چھاپ لینے کو مَیں سادگی کے خلاف نہیں سمجھتا۔ باقی جو ایڈریس پیش کئے گئے ہیں اِن میں سادگی کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ حقیقی سادگی وہ ہوتی ہے جِسے انسان ہر جگہ اور ہمیشہ نباہ سکے اور اِس کی قدردانی کے طور پر مَیں اِن سے وعدہ کرتا ہوں کہ اِن کا سارا ایڈریس پڑھوں گا۔ جب سے یہ خلافت جوبلی کی تحریک شروع ہوئی ہے میری طبیعت میں ہمیشہ ایک پہلو سے انقباض سا رہتا آیا ہے اور میں سوچتا رہا ہوں کہ جب ہم خود یہ تقریب منائیں تو پھر جو لوگ برتھ ڈے یا ایسی یہ دیگر تقاریب مناتے ہیں اُنہیں کس طرح روک سکیں گے۔ اَب تک اِس کے لئے کوئی دلیل میری سمجھ میں نہیں آ سکی اور مَیں ڈرتا ہوں کہ اِس کے نتیجہ میں ایسی رسوم جماعت میں پیدا نہ ہو جائیں جن کو مٹانے کے لئے احمدیت آئی ہے۔ ہماری کامیابی اور فتح یہی ہے کہ ہم دین کو اِسی طرح دوبارہ قائم کر دیں جس طرح رسول کریم ﷺ اِسے لائے تھے اور ایسے رنگ میں قائم کر دیں کہ شیطان اس پر حملہ نہ کر سکے اور کوئی کھڑکی، کوئی روشن دان اور کوئی دَر اِس کے لئے کُھلا نہ رہنے دیں اور جب سے یہ تقریب منانے کی تحریک شروع ہوئی ہے میں یہی سوچتا رہا ہوں کہ ایسا کرتے ہوئے ہم کوئی ایسا روشن دان تو نہیں کھول رہے کہ جس سے شیطان کو حملہ کا موقع مل سکے اور اس لحاظ سے مجھے شروع سے ہی ایک قسم کا انقباض سا رہا ہے کہ مَیں نے اس کی اجازت کیوں دی اور اس کے متعلق سب سے پہلے انشراحِ صدر مجھے مولوی جلال الدین صاحب شمس کا ایک مضمون الفضل میں پڑھ کر ہوئا جس میں لکھا تھا کہ اِسوقت گویا ایک اور تقریب بھی ہے اور وہ یہ کہ سلسلہ کی عمر پچاس سال پوری ہوتی ہے۔ تب میں نے سمجھا کہ یہ تقریب کسی انسان کے بجائے سلسلہ سے منسوب ہو سکتی ہے اور اِس وجہ سے مجھے خود بھی اِس خوشی میں شریک ہونا چاہئے۔ دوسرا انشراح مجھے اِس وقت پیدا ہوا جب دُرثمین سے وہ نظم پڑھی گئی جو آمین کہلاتی ہے۔ اِس کو سُن کر مجھے خیال آیا کہ یہ تقریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پیشگوئی کو بھی پورا کرنے کا ذریعہ ہے جو اِس میں بیان کی گئی ہے اور اِس کا منانا اِس لحاظ سے نہیں کہ یہ میری پچیس سالہ خلافت کے شکریہ کا اظہار ہے بلکہ اِس لئے کہ خداتعالیٰ کی بات کے پورا ہونے کا ذریعہ ہے نامناسب نہیں اور اِس خوشی میں مَیں بھی شریک ہو سکتا ہوں اور مَیں نے سمجھا کہ گو اپنی ذات کے لئے اِس کے منائے جانے کے متعلق مجھے انشراح نہ تھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے پورا ہونے کے لحاظ سے انشراح ہو گیا۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایک مرتبہ ایک صحابی کے متعلق فرمایا تھا کہ مَیں نے دیکھا ہے اِس کے ہاتھوں میں کسریٰ کے کڑے ہیں۔ چنانچہ جب ایران فتح ہوئا اور وہ کڑے جو کسریٰ دربار کے موقع پر پہنا کرتا تھا غنیمت میں آئے تو حضرت عمرؓ نے اِس صحابی کو بُلایا اور باوجودیکہ اِسلام میں مردوں کے لئے سونا پہننا ممنوع ہے آپ نے اِسے فرمایا کہ یہ کڑے پہنو۔ حالانکہ خلفاء کا کام قیامِ شریعت ہوتا ہے نہ کہ اِسے مٹانا مگر جب اِس صحابی نے یہ کہا کہ سونا پہننا مردوں کے لئے جائز نہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ یہ پہنو۔ ورنہ میں کوڑے لگاؤں گا۔۲؎ اِسی طرح میں نے یہ خیال کیا کہ گویہ کڑے مجھے ہی پہنائے گئے ہیں مگر چونکہ اِس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی پوری ہوتی ہے اِس لئے اِس کے منانے میں کوئی حرج نہیں اور اِس لئے میرے دل میں جو انقباض تھا وہ دُور ہو گیا اور میری نظریں اِس مجلس سے اُٹھ کر خداتعالیٰ کی طرف چلی گئیں اورمَیں نے کہا ہمارا خدا بھی کیسا سچا خدا ہے۔ مجھے یاد آیا کہ جب یہ پیشگوئی کی گئی اُس وقت میری ہستی ہی کیا تھی پھر وہ نظارہ میری آنکھوں کے سامنے پھر گیا جب ہمارے نانا جان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پا س شکایت کی کہ آپ کو پتہ ہی نہیں یہ لڑکا کیسا نالائق ہے پڑھتا لکھتا کچھ نہیں اس کا خط کیسا خراب ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے بلایا۔ مَیں ڈرتا اور کانپتا ہوئا گیا کہ پتہ نہیں یہ کیا فرمائیں گے۔ آپ نے مجھے ایک خط دیا کہ اِسے نقل کرو۔ مَیں نے وہ نقل کر کے دیا تو آپ نے حضرت خلیفہ اوّل کو جج کے طور پر بلایا اور فرمایا۔ میر صاحب نے شکایت کی ہے کہ یہ پڑھتا لکھتا نہیں اور کہ اِس کا خط بہت خراب ہے۔ مَیں نے اِس کا امتحان لیا ہے آپ بتائیں کیا رائے ہے؟ لیکن جیسا امتحان لینے والا نرم دل تھا ویسا ہی پاس کرنے والا بھی تھا۔ حضرت خلیفہ اوّل نے عرض کیا کہ حضور! میرے خیال میں تو اچھا لکھا ہے۔ حضور نے فرمایا۔ کہ ہاں اس کا خط کچھ میرے خط سے مِلتا جُلتا ہی ہے اور بس ہم پاس ہو گئے۔ ماسٹر فقیراللہ صاحب جو اَب پیغامیوں میں شامل ہیں ہمارے اُستاد تھے اور حساب پڑھایا کرتے تھے جس سے مجھے نفرت تھی۔ میری دماغی کیفیت کچھ ایسی تھی جو غالباً میری صحت کی خرابی کا نتیجہ تھا کہ مجھے حساب نہیں آتا تھا ورنہ اَب تو اچھا آتا ہے۔ ماسٹر صاحب ایک دن بہت ناراض ہوئے اور کہا کہ میں تمہاری شکایت کروں گا کہ تم حساب نہیں پڑھتے اور جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہہ بھی دیا۔ میں بھی چُپ کر کے کمرہ میں کھڑا رہا۔ حضور نے ماسٹر صاحب کی شکایت سُن کر فرمایا کہ اس نے دین کا کام ہی کرنا ہے اِس نے کونسی کسی دفتر میںنوکری کرنی ہے۔ مسلمانوں کے لئے جمع تفریق کا جاننا ہی کافی ہے۔ وہ اِسے آتا ہے یا نہیں؟ ماسٹر صاحب نے کہا وہ تو آتا ہے۔ ا س سے پہلے تو مَیں حساب کی گھنٹیوں میں بیٹھتا اور سمجھنے کی کوشش کرتا تھا مگر اس کے بعد مَیں نے وہ بھی چھوڑ دیا اور خیال کر لیا کہ حساب جتنا آنا چاہئے تھا مجھے آ گیا تو یہ میری حالت تھی جب یہ آمین لکھی گئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے دعائیں کیں کہ اِسے دین کی خدمت کی توفیق عطا کر۔ دُنیا میں یہ قاعدہ ہے کہ سب بی۔اے اور ایم۔اے لائق نہیں ہوتے۔ لیکن جو لوگ لائق ہوتے ہیں وہ انہی میں سے ہوتے ہیں۔ سارے وکیل لائق نہیں ہوتے مگر جو ہوتے ہیں وہ انہی میں سے ہوتے ہیں۔ سب ڈاکٹر خداتعالیٰ کی صفتِ شافی کے مظہر نہیں ہوتے مگر بہترین ڈاکٹر انہی میں سے ہوتے ہیں جنہوں نے ڈاکٹری کے امتحان پاس کئے ہوں۔ ہر زمیندار مٹی سے سونا نہیں بنا سکتا مگر جو بناتے ہیں اور انہی میں سے ہی ہوتے ہیں ترکھانوں میں سے نہیں۔ ہر ترکھان اچھی عمارت نہیں بنا سکتامگر جو بناتے ہیں وہ ترکھانوں میں سے ہی ہوتے ہیں لوہاروں میں سے نہیں۔ پھر ہر انجینئر ماہرِ فن نہیں مگر جو ہوتا ہے وہ انہی میں سے ہوتا ہے۔ ہرمعمار دہلی اور لاہور کی شاہی مساجد اور تاج محل نہیں بنا سکتا مگر اِن کے بنانے والے بھی معماروں میں سے ہی ہوتے ہیں کپڑا بُننے والوں میں سے نہیں ہوتے۔ پس ہر فن کا جاننے والا ماہر نہیں ہوتا مگر جو ماہر نکلتے ہیں وہ اِنہی میں سے ہوتے ہیں۔ مگر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ دعا کی اُس وقت مَیں ظاہری حالات کے لحاظ سے اپنے اندر کوئی بھی اہلیت نہ رکھتا تھا لیکن اِس وقت اِس آمین کو سُن کر مَیں نے کہا کہ خداتعالیٰ نے آپ کی دعائیں سُن لیں۔ جب یہ دعائیں کی گئیں مَیں معمولی رِیڈریں بھی نہیں پڑھ سکتا تھا مگر اَب خداتعالیٰ کا ایسا فضل ہے کہ مَیں کسی علم کی کیوں نہ ہو انگریزی کی مشکل سے مشکل کتاب پڑھ سکتا ہوں اور سمجھ سکتا ہوں اور گو مَیں انگریزی لکھ نہیں سکتا مگر بی۔ اے اور ایم۔ اے پاس شُدہ لوگوں کی غلطیاں خوب نکال لیتا ہوں۔ دینی علوم میں مَیں نے قرآن کریم کا ترجمہ حضرت خلیفہ اوّل سے پڑھا ہے اور اِس طرح پڑھا ہے کہ اَور کوئی اِس طرح پڑھے تو کچھ بھی نہ سیکھ سکے۔ پہلے تو ایک ماہ میں آپ نے مجھے دو تین سیپارے آہستہ آہستہ پڑھائے اور پھر فرمایا میاں! آپ بیمار رہتے ہیں میری اپنی صحت کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔ آؤ کیوں نہ ختم کر دیں اور مہینہ بھر میں سارا قرآن کریم مجھے ختم کرا دیا اور اللہ تعالیٰ کا فضل تھا پھر کچھ اُن کی نیت اور کچھ میری نیت ایسی مبارک گھڑی میں ملیں کہ وہ تعلیم ایک ایسا بیج ثابت ہوئا جو برابر بڑھتا جا رہا ہے۔ اِس طرح بخاری آپ نے مجھے تین ماہ میں پڑھائی اور ایسی جلدی جلدی پڑھاتے کہ باہر کے بعض دوست کہتے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ میں اگر کوئی سوال کرتا تو آپ فرماتے پڑھتے جاؤ اللہ تعالیٰ خود سب کچھ سمجھا دے گا۔ حافظ روشن علی مرحوم کو کُریدنے کی بہت عادت تھی اور اُن کا دماغ بھی منطقی تھا۔ وہ درس میں شامل تو نہیں تھے مگر جب مجھے پڑھتے دیکھا تو آ کر بیٹھنے لگے اور سوالات دریافت کرتے۔ اُن کو دیکھ کر مجھے بھی جوش آیا اور مَیں نے اِسی طرح سوالات پوچھنے شروع کر دیئے۔ ایک دو دن تو آپ نے جواب دیا اور پھر فرمایا تم بھی حافظ صاحب کی نقل کرنے لگے ہو مجھے جو کچھ آتا ہے وہ خود بتا دوں گا بُخل نہیں کروں گا اور باقی اللہ تعالیٰ خود سمجھا دے گا اور میں سمجھتا ہوں سب سے زیادہ فائدہ مجھے اِسی نصیحت نے دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود سمجھا دے گا۔ یہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والا خزانہ میرے ہاتھ آگیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایسا سمجھایا ہے کہ میں غرور تو نہیں کرتا مگر خداتعالیٰ کے فضل سے یہ حالت ہے کہ میں کوئی کتاب یا کوئی تفسیر پڑھ کر مرعوب نہیں ہوتا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو کچھ مجھے ملا ہے اُن کو نہیں ملا۔بیس بیس جلدوں کی تفسیریں ہیں مگر مَیں نے کبھی اِن کو بِالاستیعاب دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور اِن کے مطالعہ میں مجھے کبھی لذت محسوس نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ مجھے قرآن کریم کے چھوٹے سے لفظ میں ایسے مطالب سکھا دیتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں مَیں اِن کتابوں کے مطالعہ میں کیوں وقت ضائع کروں اور کبھی کوئی مسئلہ وغیرہ دیکھنے کے لئے کبھی ان کو دیکھتا ہوں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اِس مقام سے بہت دُور کھڑے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے اور یہ سب اس کا فضل ہے ورنہ بظاہر میں نے دنیا میں کوئی علم حاصل نہیں کیا حتّٰی کہ اپنی زبان تک بھی صحیح نہیں سیکھی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کا احسان اور فضل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کو قبول کر کے اس نے مجھے ایک ایسا گُر بتا دیا کہ جس سے مجھے ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت حاصل ہو جاتی ہے۔ مَیں ہمیشہ یہی کہا کرتا ہوں کہ مَیں تو خداتعالیٰ کی طرف سے ایک ہتھیار کی مانند ہوں اور مَیں نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ کوئی چیز چاہئے اور اُس نے مجھے نہ دی ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دُعا کی تھی کہ اِس سے ہر اندھیرا دُور ہو۔ دشمنوں کی طرف سے مجھ پر کئی حملے کئے گئے ،اعتراضات کئے گئے اور کہا کہ ہم خلافت کو مٹا دیں گے اور یہی وہ اندھیرا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے دُور کر دیا اور خلافت جوبلی کی تقریب منانے کے متعلق میرے دل میں جو انقباض تھا وہ اِس وقت یہ نظم سُن کر دُور ہو گیا اور میں نے سمجھا کہ آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے پورا ہونے کا اظہار ہو رہا ہے۔ دشمنوں نے کہا کہ ہم جماعت کو پِھرا لیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اور بھی زیادہ لوگوں کو لائیں گے اور جب ہم روشن کرنا چاہیں تو کوئی اندھیرا رہ نہیں سکتا اور اِس طرح اِس تقریب کے متعلق میرے دل میں جو انقباض تھا وہ یہ نظارہ دیکھ کر دُور ہو گیا ورنہ مجھے تو شرم آتی ہے کہ میری طرف یہ تقریب منسوب ہو مگر ہمارے سب کام اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور اِس کے ذریعہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی باتیں پوری ہوتی ہیں اِس لئے اِس کے منانے میں کوئی حرج نہیں یہ سب کام اللہ تعالیٰ کے ہیں اگر وہ نہ کرتا تو نہ مجھ میں طاقت تھی اور نہ آپ میں، نہ میرے علم نے کوئی کام کیا اور نہ آپ کی قربانی نے۔ جو کچھ ہوئا خداتعالیٰ کے فضل سے ہوئا اور ہم خوش ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور نشان دکھایا۔ دنیا نے چاہا کہ ہمیں مٹا دیں مگر خداتعالیٰ نے نہ مٹایا اور یہ نظارہ دیکھ کر میرے دل میں جو انقباض تھا وہ سب دُور ہو گیا۔ اس لئے جن دوستوں نے اس تقریب پر اپنی انجمنوں کی طرف سے ایڈریس پڑھے ہیں۔ مثلاً چوہدری سر محمد ظفراللہ خان صاحب، پروفیسر عطاء الرحمن صاحب، حکیم خلیل احمد صاحب، چوہدری ابوالہاشم خان صاحب، حاجی جنود اللہ صاحب اِسی طرح دمشق، جاوا، سماٹرا اور علی گڑھ اور بعض دوسری جگہوں کے دوستوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے پھر بعض ہندو صاحبان نے بھی اس موقع پر خوشی کا اظہار کیا ہے میں اِن سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اِن سب کو جَزَاکُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ الْجَزَائِ۔ کہتا ہوں اور یہ ایسی دُعا ہے کہ جس میں سارے ہی شکریے آجاتے ہیں۔ پس میں اِن دوستوں کا اور اِن کے ذریعہ اِن کی تمام جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور جَزَاکُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ الْجَزَائِ۔ کہتا ہوں اور دُعا کرتا ہوں کہ میرے زندگی کے اور جو دن باقی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دین کی خدمت، اسلام کی تائید اور اِس کے غلبہ اور مضبوطی کے لئے صرف کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاجب اِس کے حضور پیش ہونے کا موقع ملے تو شرمندہ نہ ہوں اور کہہ سکوں کہ تو نے جو خدمت میرے سپرد کی تھی تیری ہی توفیق سے مَیں نے اِسے ادا کر دیا۔ پھر میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنے فضل نازل کرے اور نیک اعمال کی توفیق عطاء فرمائے اور ہم میں سے جس کے دل میں بھی کوئی کمزوری ہو اُسے دُور کرے، اخلاص میں مضبوط کرے اور ہماری زندگیوں کو اپنے لئے وقف کر دے۔ ہماری زندگیوں کو بھی خوشگوار بنائے اور ہماری موتوں کو بھی تاجب جنتی سُنیں تو خوش ہوں کہ اور پاکیزہ روحیں ہمارے ساتھ شامل ہونے کے لئے آ رہی ہیں۔
    اِس کے بعد حضرت میر محمد اسحاق صاحب سٹیج پر تشریف لائے اور کہا کہ پروگرام میں اِس وقت میری کوئی تقریر نہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظم آمین کے جو ابھی پڑھی گئی ہے ایک شعر کے متعلق مَیں مختصراً کچھ غرض کرنا چاہتا ہوں۔ اِس وقت جماعت کی طرف سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں ایک حقیر سی رقم پیش کی جانے والی ہے جس سے حضور کی وہ دُعا کہ ’’دے اِس کو عمر و دولت‘‘ کی قبولیت بھی ظاہر ہو گی۔ آج ہم حضور کی خلافت پر پچیس سال گزرنے پر حضور کی خدمت میں حقیر سی رقم پیش کرتے ہیں اور مَیں آنریبل چوہدری سر محمد ظفراللہ خان صاحب کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ وہ تشریف لا کر یہ رقم حضور کی خدمت میں پیش کریں۔
    اِس کے بعد جناب چوہدری صاحب نے چیک کی صورت میں یہ رقم پیش کی اور کہا حضور اِسے قبول فرمائیں اور جس رنگ میں پسند فرمائیں اِسے استعمال کریں اور حضور مجھے اجازت دیں کہ مَیں دوستوں کے نام پڑھ کر سُنا دوں جنہوں نے اِس فنڈ میں نمایاں حصہ لیا ہے تا حضور خصوصیت سے اِن کے لئے دُعا فرمائیں اور حضور کی اجازت سے جناب چوہدری صاحب نے وہ نام پڑھ کر سُنائے۔
    اِس کے بعد حضور نے فرمایا:۔
    مَیں نے جو کہا تھا کہ جس وقت آمین پڑھی جا رہی تھی میرے دل میں ایک تحریک ہوئی تھی وہ دراصل یہ مصرع تھا جس کا ذکر میر صاحب نے کیا ہے مگر چونکہ ابھی تک وہ رقم مجھے نہ دی گئی تھی اِس لئے مَیں نے مناسب نہ سمجھا کہ پہلے ہی اِس کا ذکرکروں۔ اِس کے لئے میں سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری حقیقی دولت تو دین ہی ہے دین کے بغیر دولت کوئی چیز نہیں اور اگر دین ہو اور دولت نہ ہو تو بھی ہم خوش نصیب ہیں۔ مجھے یہ علم پہلے سے تھا کہ یہ رقم مجھے اِس موقع پر پیش کی جائے گی اور اِس دَوران میں مَیں یہ غور بھی کرتا رہا ہوں کہ اِسے خرچ کِس طرح کیا جائے لیکن بعض دوست بہت جلد باز ہوتے ہیں اور وہ اس عرصہ میں مجھے کئی مشورے دیتے رہے کہ اِسے یوں خرچ کیا جائے اور فلاں کام پر صَرف کیا جائے یہ بات مجھے بہت بُری لگتی تھی کیونکہ میں دیکھتا تھا کہ ایک طرف تو اِس کا نام تحفہ رکھا جاتا ہے اور دوسری طرف اِس کے خرچ کرنے کے متعلق مجھے مشورے دیئے جا رہے ہیں اگر یہ تحفہ ہے تو اِس سے مجھے اتنی تو خوشی حاصل ہونی چاہئے کہ مَیں نے اِسے اپنی مرضی سے خرچ کیا ہے۔ بہرحال میں اِس امر پر غور کرتا رہا ہوں کہ اِسے کس طرح خرچ کیا جائے اور اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ اِس سے برکاتِ خلافت کے اظہار کا کام لیا جائے۔ یہ امر ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء اِس کام کے کرنے والے تھے جو آپ کے اپنے کام تھے یعنی ۳؎ قرآن کریم میں رسول کریم ﷺ کے چار کام بیان کئے گئے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نشان بیان کرتا ہے، اِن کا تزکیہ کرتا، اِن کو کتاب پڑھاتا اور حکمت سکھاتا ہے۔ کتاب کے معنے کتاب اور تحریر کے بھی ہیں اور حکمت کے معنی سائنس کے بھی اور قرآن کریم کے حقائق و معارف اور مسائلِ فقہ کے بھی ہیں۔ پھر مَیں نے خیال کیا کہ خلیفہ کا کام استحکامِ جماعت بھی ہے اِس لئے اِس روپیہ سے یہ کام بھی کرنا چاہئے۔ بے شک بعض کام جماعت کر بھی رہی ہے مگر یہ چونکہ نئی چیز ہے اِس سے نئے کام ہونے چاہئیں اور اِس پر غور کرنے کے بعد مَیں نے سوچا کہ ابھی کچھ کام اِ س سلسلہ میں ایسے ہیں کہ جو نہیں ہو رہے۔ مثلاً یہ نہیں ہو رہا کہ غیر مُسلموں کے آگے اسلام کو ایسے رنگ میں پیش کیا جائے کہ وہ اِس طرف متوجہ ہوں چنانچہ مَیں نے اِرادہ کیا کہ یہ سلسلہ پہلے ہندوستان میں اور پھر بیرونِ ممالک میں شروع کیا جائے اور اِس غرض سے ایک، چار یا آٹھ صفحہ کا ٹریکٹ لکھا جائے جسے لاکھوں کی تعداد میں ہندوستان کی مختلف زبانوں میں چھپوا کر شائع کیا جائے۔ اِس وقت تک اِن زبانوں میں ہمارا تبلیغی لٹریچر کافی تعداد میں شائع نہیں ہوئا ۔ اُردو کے بعد میرا خیال ہے سب سے زیادہ اِس ٹریکٹ کی اشاعت ہندی میں ہونی چاہئے۔ ابھی تک یہ سکیم مَیں نے مکمل نہیں کی۔ فوری طور پر اِس کا خاکہ ہی میرے ذہن میں آیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ کم سے کم ایک لاکھ اشتہار یا ہینڈ بل وغیرہ اذان اور نماز کی حقیقت اور فضیلت پر شائع کئے جائیں تا ہندوؤں کو سمجھایا جا سکے کہ جس وقت آپ لوگ مساجد کے سامنے سے باجہ بجاتے ہوئے گزرتے ہیں تو مسلمان یہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ بات معقول رنگ میں ان کے سامنے پیش کی جائے کہ مسلمان تو یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور آپ اُس وقت ڈھول کے ساتھ ڈَم ڈَم کا شور کرتے ہیں۔ آپ سوچیں کہ کیا یہ وقت اِس طرح شور کرنے کیلئے مناسب ہوتا ہے جب یہ آواز بلند ہو رہی ہو کہ خداتعالیٰ سب سے بڑا ہے تو اُس وقت چُپ ہو جانا چاہئے یا ڈھول اور باجہ کے ساتھ شور مچانا چاہئے تو اِن کو ضرور سمجھ آ جائے گی کہ اِن کی ضد بے جا ہے اور اِس طرح اِس سے ہندو مسلمانوں میں صلح و اتحاد کا دروازہ بھی کُھل جائے گا۔ تعلیم یافتہ غیر مسلم اب بھی اِن باتوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
    اِسی طرح مَیں نے جلسہ ہائے سیرت کی جو تحریک شروع کی ہوئی ہے اِسے بھی وسعت دینی چاہئے یہ بھی بہت مفید تحریک ہے اور سیاسی لیڈر بھی اِسے تسلیم کرتے ہیں۔ بابوبین چندرپال کانگرس کے بہت بڑے لیڈروں میں سے ہیں۔ انہوں نے اِن جلسوں کے متعلق کہا تھا کہ یہ ہندو مسلم اتحاد کے لئے بہترین تجویز ہے اور مَیں اِن جلسوں کو سیاسی جلسے کہتا ہوں اِس لئے کہ اِن کے نتیجہ میں ہندو مسلم ایک ہو جائیں گے اور اِس طرح دونوں قوموں میں اتحاد کا دروازہ کُھل جائے گا۔ میرا ارادہ ہے کہ ایسے اشتہار ایک لاکھ ہندی میں، ایک لاکھ گورمکھی میں، پچاس ہزار تامل میں اور اِسی طرح مختلف زبانوں میں بکثرت شائع کئے جائیں اور ملک کے ایک سِرے سے دوسرے سِرے تک اسلام کے موٹے موٹے مسائل غیر مُسلموں تک پہنچا دیئے جائیں۔ اشتہار ایک صفحہ دو صفحہ یا زیادہ سے زیادہ چار صفحہ کا ہو اور کوشش کی جائے کہ ہر شخص تک اِسے پہنچا دیا جائے اور زیادہ نہیں تو ہندوستان کے ۳۳کروڑ باشندوں میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایک اشتہار پہنچ جائے یہ اسلام کی بہت بڑی خدمت ہو گی اِسی طرح میرا اِرادہ ہے کہ ایک چھوٹا سا مضمون چار یا آٹھ صفحات کا مسلمانوں کے لئے لکھ کر ایک لاکھ شائع کیا جائے جس میں مسلمانوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اور آپ کے دعاوی سے آگاہ کیا جائے اور بتایا جائے کہ آپ نے آ کر کیا پیش کیا ہے تا لوگ غور کر سکیں۔ پہلے یہ کام چھوٹے پیمانہ پر ہوں مگر کوشش کی جائے کہ آہستہ آہستہ اِن کووسیع کیا جائے۔ مَیں چاہتا ہوں کہ اِس رقم کو ایسے طور پر خرچ کیا جائے کہ اِس کی آمد میں سے خرچ ہوتا رہے اور سرمایہ محفوظ رہے۔ جیسے تحریک جدید کے فنڈ کے متعلق میں کوشش کر رہا ہوں تا کسی سے پھر چندہ مانگنے کی ضرورت نہ پیش آئے۔ اِس میں دینی تعلیم جو خلفاء کا کام ہے وہ بھی آ جائے گی پھر آرٹ اور سائنس کی تعلیم نیز غرباء کی تعلیم و ترقی بھی خلفاء کا اہم کام ہے۔ ہماری جماعت کے غرباء کی اعلیٰ تعلیم کے لئے فیِ الحال انتظامات نہیں ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کُندذہن لڑکے جن کے ماں باپ استطاعت رکھتے ہیں تو پڑھ جاتے ہیں مگر ذہین بوجہ غربت کے رہ جاتے ہیں۔ اِس کا نتیجہ ایک یہ بھی ہے کہ ملک کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اِس لئے مَیں چاہتا ہوں کہ اِس رقم سے اِس کا بھی انتظام کیا جائے اور مَیں نے تجویز کی ہے کہ اِس کی آمد سے شروع میں فی الحال ہر سال ایک ایک وظیفہ مستحق طلباء کو دیا جائے۔ پہلے سال مڈل سے شروع کیا جائے۔ مقابلہ کا امتحان ہو اور جو لڑکا اوّل رہے اور کم سے کم ستّر فی صدی نمبر حاصل کرے اسے انٹرنس تک بارہ روپیہ ماہوار وظیفہ دیا جائے اور پھر انٹرنس میں اوّل ، دوم اور سوم رہنے والوں کو تیس روپیہ ماہوار، جو ایف۔اے میں یہ امتیاز حاصل کریں انہیں ۴۵ روپے ماہوار اور پھر جو بی۔اے میں اوّل آئے اِسے ۶۰ روپے ماہوار دیا جائے اور تین سال کے بعد جب اِس فنڈ سے آمد شروع ہو جائے تو احمدی نوجوانوں کا مقابلہ کا امتحان ہو اور پھر جو لڑکا اوّل آئے اِسے انگلستان یا امریکہ میں جا کر تعلیم حاصل کرنے کے لئے اڑھائی سَو روپیہ ماہوار تین سال کے لئے امداد دی جائے۔ اِس طرح غرباء کی تعلیم کا انتظام ہو جائے گا اور جوں جوں آمد بڑھتی جائے گی اِن وظائف کو ہم بڑھاتے رہیں گے کئی غرباء اس لئے محنت نہیں کرتے کہ وہ سمجھتے ہیں ہم آگے تو پڑھ نہیں سکتے خواہ مخواہ کیوں مشقت اُٹھائیں لیکن اِس طرح جب اِن کے لئے ترقی کا امکان ہوگا تو وہ محنت سے تعلیم حاصل کریں گے مڈل میں اوّل رہنے والوں کیلئے جو وظیفہ مقرر ہے وہ صرف تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے طلباء کے لئے ہی مخصوص ہو گا کیونکہ سب جگہ مڈل میں پڑھنے والے احمدی طلباء میں مقابلہ کے امتحان کا انتظام ہم نہیں کر سکتے۔ یونیورسٹی کے امتحان میں امتیاز حاصل کرنے والا خواہ کِسی یونیورسٹی کا ہو وظیفہ حاصل کر سکے گا ہم صرف زیادہ نمبر دیکھیں گے کسی یونیورسٹی کا فرسٹ، سیکنڈ اور تھرڈ رہنے والا طالب علم بھی اِسے حاصل کر سکے گا اور اگر کسی بھی یونیورسٹی کا کوئی احمدی طالب علم یہ امتیاز حاصل نہ کر سکے تو جس کے بھی سب سے زیادہ نمبر ہوں اِسے یہ وظیفہ دے دیا جائے گا۔ انگلستان یا امریکہ میں حصولِ تعلیم کے لئے جو وظیفہ مقرر ہے اِس کے لئے ہم سارے ملک میں اعلان کر کے جو بھی مقابلہ میں شامل ہونا چاہیں ان کا امتحان لیں گے اور جو بھی فرسٹ رہے گا اسے یہ وظیفہ دیا جائے گا۔ کے ایک معنی ادنیٰ حالت سے اعلیٰ کی طرف لے جانے کے بھی ہیںاور اِس طرح اِس میں اقتصادی ترقی بھی شامل ہے اس کی فی الحال کوئی سکیم میرے ذہن میں نہیں مگر میرا ارادہ ہے کہ انڈسٹریل تعلیم کا کوئی معقول انتظام بھی کیا جائے تا پیشہ وروں کی حالت بھی بہتر ہو سکے۔ اِسی طرح ایگریکلچرل تعلیم کا بھی ہو تا زمینداروں کی حالت بھی درست ہو سکے۔ خلفاء کا ایک کام مَیں سمجھتا ہوں اِس عہدہ کا استحکام بھی ہے۔ میری خلافت پر شروع سے ہی پیغامیوں کا حملہ چلا آتا ہے مگر ہم نے اِس کے مقابلہ کے لئے کماحقہٗ توجہ نہیں کی۔ شروع میں اِس کے متعلق کچھ لٹریچر پیدا کیا تھا مگر اَب وہ ختم ہو چکا ہے۔ پس اِس فنڈ سے اِس قوم کی ہدایت کے لئے بھی جدوجہد کی جانی چاہئے اور اِس کے لئے بھی کوئی سکیم مَیں تجویز کروں گا۔ ہماری جماعت میں بعض لوگ اچھا لکھتے ہیں مَیں نے الفضل میں اِن کے مضامین پڑھے ہیں اِن سے فائدہ اُٹھانے کی کوئی صورت کی جائے گی۔
    پس یہ خلفاء کے چار کام ہیں اور انہی پر یہ روپیہ خرچ کیا جائے گا۔ پہلے اِسے کسی نفع مند کام میں لگا کر ہم اِس سے آمد کی صورت پیدا کریں گے اور پھر اِس آمد سے یہ کام شروع کریں گے ایک تو ایسا اُصولی لٹریچر شائع کریں گے کہ جس سے ہندو، سکھ اسلامی اُصول سے آگاہی حاصل کر سکیں۔ اب تک ہم نے اِن کی طرف پوری طرح توجہ نہیں کی حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض الہامات سے پتہ لگتا ہے کہ اِن لوگوں کے لئے بھی ہدایت مقدر ہے۔ مثلاً آپ کا ایک الہام ہے کہ’’ آریوں کا بادشاہ‘‘ ۴؎ ایک ہے ’’جے سنگھ بہادر‘‘۔ ’’ہے کرشن رودّر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے‘‘۵؎ مگر ہم نے ابھی تک اِن کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔ پس اَب اِن کے لئے لٹریچر شائع کرنا چاہئے۔ مَیں چاہتا ہوں کہ یہ اتنا مختصر ہو کہ اِسے لاکھوں کی تعداد میں شائع کر سکیں۔ پھر ایک حصہ مسلمانوں میں تبلیغ پر خرچ کیا جائے۔ ایک آرٹ، سائنس، انڈسٹری اور زراعت وغیرہ کی تعلیم پر اور ایک حصہ نظامِ سلسلہ پر دشمنوں کے حملہ کے مقابلہ کے لئے۔ آہستہ آہستہ کوشش کی جائے کہ اِس کی آمد میں اضافہ ہوتا رہے اور پھر اِس آمد سے یہ کام چلائے جائیں۔ اِس روپیہ کو خرچ کرنے کے لئے یہ تجویزیں ہیں۔ اِس کے بعد میں جھنڈے کے نصب کرنے کا اعلان کرتا ہوں منتظمین اِس کے لئے سامان لے آئیں۔
    جھنڈا نصب کرنے کے متعلق بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کانگرس کی رسم ہے لیکن اِس طرح تو بہت سی رسمیں کانگرس کی نقل قرار دینی پڑیں گی۔ کانگرسی جلسے بھی کرتے ہیں اِس لئے یہ جلسہ بھی کانگرس کی نقل ہو گی۔ گاندھی جی دودھ پیتے ہیں دودھ پینا بھی اِن کی نقل ہو گی اور اِس اصل کو پھیلاتے پھیلاتے یہاں تک پھیلانا پڑے گا کہ مسلمان بہت سی اچھی باتوں سے محروم رہ جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کانگرس کی نقل نہیں۔ رسول کریم ﷺ نے خود جھنڈا باندھا اور فرمایا کہ یہ مَیں اُسے دوں گا جو اِس کا حق اداکرے گا۔ ۶؎ پس یہ کہنا کہ یہ بدعت ہے تاریخ اسلام سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ جھنڈا لہرانا ناجائز نہیں ہاں البتہ اِس ساری تقریب میں مَیں ایک بات کو برداشت نہیں کر سکا اور وہ ایڈریسوں کا چاندی کے خولوں وغیرہ میں پیش کرنا ہے اور چاہے آپ لوگوں کو تکلیف ہو مَیں حُکم دیتا ہوں کہ اِن سب کو بیچ کر قیمت جوبلی فنڈ میں دے دی جائے۔ پس جھنڈا رسول کریم ﷺ سے ثابت ہے اور لڑائی وغیرہ کے مواقع پر اِس کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے تو جہاد سے ہی منع کر دیا ہے پھر جھنڈے کی کیا ضرورت ہے؟ مگر مَیں کہوں گا کہ اگر لوہے کی تلوار کے ساتھ جہاد کرنے والوں کے لئے جھنڈا ضروری ہے تو قرآن کی تلوار سے لڑنے والوں کے لئے کیوں نہیں۔ اگر اَب ہم لوگ کوئی جھنڈا معیّن نہ کریں گے تو بعد میں آنے والے ناراض ہوں گے اور کہیں گے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ ہی جھنڈا بنا جاتے تو کیا اچھا ہوتا۔ مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے ایک مجلس میں یہ سُنا ہے کہ ہمارا ایک جھنڈا ہونا چاہئے۔ جھنڈا لوگوں کے جمع ہونے کی ظاہری علامت ہے اور اِس سے نوجوانوں کے دلوں میں ایک ولولہ پیدا ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’لو اے ماپنہ ہر سعید خواہد بود۔‘‘ یعنی میرے جھنڈے کی پناہ ہر سعید کو حاصل ہو گی اور اِس لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ ہم اپنا جھنڈا نصب کریں تا سعید روحیں اس کے نیچے آکر پناہ لیں۔ یہ ظاہری نشان بھی بہت اہم چیزیں ہوتی ہیں۔ جنگِ جمل میں حضرت عائشہؓ ایک اُونٹ پر سوار تھیں دشمن نے فیصلہ کیا کہ اُونٹ کی ٹانگیں کاٹ دی جائیں تو آپ نیچے گِر جائیں اور آپ کے ساتھی لڑائی بند کر دیں لیکن جب آپ کے ساتھ والے صحابہ نے دیکھا کہ اس طرح آپ گِر جائیں گی تو گو آپ دین کا ستون نہ تھیں مگر بہرحال رسول کریم ﷺ کی محبت کی مظہر تھیں اس لئے صحابہ نے اپنی جانوں سے ان کے اونٹ کی حفاظت کی اور تین گھنٹہ کے اندر اندر ستّر جلیل القدر صحابی کٹ کر گِر گئے۔ ۷؎ قربانی کی ایسی مثالیں دِلوں میں جوش پیدا کرتی ہیں۔پس جھنڈا نہایت ضروری ہے اور بجائے اس کے کہ بعد میں آ کر کوئی بادشاہ اِسے بنائے یہ زیادہ مناسب ہے کہ یہ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھوں اور موعودہ خلافت کے زمانہ میں بن جائے۔ اگر اب کوئی جھنڈا نہ بنے تو بعد میں کوئی جھنڈا کسی کیلئے سند نہیں ہو سکتا۔ چینی کہیں گے ہم اپنا جھنڈا بناتے ہیں اور جاپانی کہیں گے اپنا اور اس طرح ہر قوم اپنا اپنا جھنڈا ہی آگے کرے گی۔ آج یہاں عرب، سماٹری، انگریز سب قوموں کے نمائندے موجود ہیں ایک انگریز نو مُسلمہ آئی ہوئی ہیںاور انہوں نے ایڈریس بھی پیش کیا ہے۔ جاوا، سماٹرا کے نمائندے بھی ہیں، افریقہ کے بھی ہیں انگریز گویا یورپ اور ایشیا کے نمائندے ہیں۔ افریقہ کا نمائندہ بھی ہے امریکہ والوں کی طرف سے بھی تار آ گیا ہے اور اِس لئے جو جھنڈا آج نصب ہو گا اِس میں سب قومیں شامل سمجھی جائیں گی اور وہ جماعت کی شَوکت کا نشان ہو گا اور یہی مناسب تھا کہ جھنڈا بھی بن جاتا تا بعد میں اِس کے متعلق کوئی اختلافات پیدا نہ ہوں۔ پھر یہ رسول کریم ﷺ کی سنت بھی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے ایک شعر کو بھی پورا کرتا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح دمشق کے منارہ شرقی پر اُترے گا۸؎ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہزاروں روپیہ خرچ کر کے وہ مینارہ بنوایاتا رسول کریم ﷺ کی بات ظاہری رنگ میں بھی پوری ہو اور خداتعالیٰ کا شکرہے کہ اس نے ہمیں یہ جھنڈا بنانے کی توفیق دی کہ جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک شعر ظاہری رنگ میں بھی پورا ہوتا ہے اور اِس وجہ سے کہ ہم لوگوں کو باطن کا بھی خیال رہے اور یہ محض ظاہری رسم ہی نہ رہے مَیں نے ایک اقرار نامہ تجویز کیا ہے پہلے مَیں اِسے پڑھ کر سُنا دیتا ہوں اِس کے بعد میں کہتا جاؤں گا اور دوست اِسے دُہراتے جائیں۔ اقرار نامہ یہ ہے:۔
    ’’میں اقرار کرتا ہوں کہ جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے اسلام اوراحمدیت کے قیام ،اس کی مضبوطی اور اس کی اشاعت کیلئے آخر دم تک کوشش کرتا رہوں گا اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے اِس امر کے لئے ہر ممکن قربانی پیش کروں گا کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام دوسرے سب دینوں اور سلسلوں پر غالب رہے اور اِس کا جھنڈا کبھی سَرنِگوں نہ ہو بلکہ دوسرے سب جھنڈوں سے اُونچا اُڑتا رہے۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ اَللّٰھَمَّ اٰمِیْنَ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّااِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
    (روئیداد خلافت جوبلی ۱۹۳۹ء صفحہ ۹ تا ۲۴)
    ۱؎ بخاری کتاب فضل لیلۃ القدر باب رفع معرفۃ لیلۃ القدر
    ۲؎ اسد الغابۃ جلد۲ صفحہ۲۶۵،۲۶۶
    ۳؎ الجمعۃ: ۳
    ۴؎ تذکرہ صفحہ ۳۸۱۔ ایڈیشن چہارم
    ۵؎ تذکرہ صفحہ۳۸۰۔ ایڈیشن چہارم
    ۶؎ مسند احمد بن حنبل صفحہ۳۵۳۔ المکتب الاسلامی بیروت
    ۷؎ تاریخ طبری جلد۵ صفحہ۵۷۵ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۷ء
    ۸؎ مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال



    خلافتِ راشدہ





    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

    خلافتِ راشدہ
    (تقریر فرمودہ ۲۸،۲۹ دسمبر ۱۹۳۹ء برموقع (خلافت جوبلی) جلسہ سالانہ قادیان)
    تشہّد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    خلافت کے مختلف پہلوئوں پر بحث کی ضرورت
    میرا طریق ہے کہ ہر جلسہ سالانہ پر مَیں
    ایک علمی تقریر کیا کرتا ہوں اِسی کے مطابق مَیں آج ایک اہم موضوع کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں اور چونکہ یہ جلسہ اس بات میں خصوصیت رکھتا ہے کہ اس کا تعلق ’’خلافت جوبلی‘‘ کے ساتھ ہے اور اس کے مضامین کا تعلق بھی مسئلہ خلافت سے ہی ہے اس لئے مَیں سمجھتا ہوں میری تقریر میں بھی زیادہ تر خلافت کے مختلف پہلوئوں پر ہی بحث ہونی چاہئے۔ ممکن ہے بعض لوگوں کیلئے یہ امر ملالِ طبع کا موجب ہو کہ جو شخص بھی تقریر کیلئے اٹھتا ہے وہ خلافت کے موضوع پر تقریر کرنا شروع کر دیتا ہے مگر اس موضوع کی اہمیت اور موجودہ جلسہ سالانہ کا اقتضاء یہی ہے کہ اِس مسئلہ کے متعلق عمدگی کے ساتھ تمام قسم کی تفصیلات بیان کر دی جائیں کیونکہ جس طرح انسانی فطرت میں یہ امر داخل ہے کہ اگر اسے کھانے کیلئے مختلف قسم کی چیزیں دی جائیں تو اُسے فائدہ ہوتا ہے اِسی طرح بعض دفعہ ایک ہی چیز بار بار بھی کھانی پڑتی ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ ہمارے کھانے پینے کے دن ہیں ۱؎ اور عیدالاضحیہ کے ایام میں تو خصوصیت کے ساتھ گوشت کے سوا اور کوئی غذا ہی نہیں ہوتی۔ چنانچہ حج کے دنوں میں بڑی کثرت سے بکرے وغیرہ ذبح ہوتے ہیں اور اُن کا گوشت جتنا کھایا جا سکتا ہے کھا لیا جاتا ہے اور باقی پھینک دیا جاتا ہے۔ اسی طرح بعض دفعہ ایک ہی عنوان پر مختلف رنگوں میں روشنی ڈالنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
    مخالفینِ سلسلہ کی طرف سے خلافت کی تنقیص کی کوشش
    اس وقت ہمارے سلسلہ کے خلاف دشمنوں کی طرف سے جو منصوبے کئے جا رہے ہیں اور جن جن تدابیر سے وہ احمدیت کے وقار کو ضعف پہنچانا چاہتے ہیں
    اُن میں سے ایک منصوبہ اور تدبیر یہ ہے کہ ان کی طرف سے متواتر خلافت کی تنقیص کی کوشش کی جاتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اگر کسی کے دل میں شیطان کو زندہ کیا جا سکے تو اس کے دل میں شیطان کو زندہ کر دیں۔ اسی وجہ سے مَیں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اَب کی دفعہ مَیں خلافت کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر وں تا کہ جو لوگ فائدہ اُٹھانا چاہیں اس سے فائدہ اُٹھا سکیں اور دین سے محبت رکھنے والوں کیلئے یہ تعلیم برکت اور راہنمائی کا موجب ہو جائے۔
    خلافت کا مسئلہ اسلام کے اہم ترین مسائل میں سے ہے
    خلافت کا مسئلہ میرے نزدیک اسلام کے اہم ترین مسائل میں سے ہے بلکہ مَیں سمجھتا ہوں اگر کلمۂ شریفہ کی تفسیر کی جائے تو اس تفسیر میں اس مسئلہ کا مقام
    سب سے بلند درجہ پر ہوگا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کلمہ طیبہ اسلام کی اساس ہے مگر یہ کلمہ اپنے اندر جو تفصیلات رکھتا ہے اور جن امور کی طرف یہ اشارہ کرتا ہے اُن میں سے سب سے بڑا امر مسئلہ خلافت ہی ہے۔ پس مَیں نے چاہا کہ اس مسئلہ کے متعلق اپنے خیالات جماعت کے سامنے واضح طور پر پیش کر دوں تا کہ مخالفین پر حجت تمام ہو اور ۲؎کا نظارہ نظر آ جائے۔ یعنی جو شخص دلیل سے گھائل ہونے والا ہو اس کے سامنے دلیل کو کھول کر بیان کر دیا جائے اور جس کا ایمان بصیرت پر مبنی ہو اس کے ہاتھ میں ایسی بیّن دلیل آ جائے جس سے اس کا ایمان تازہ ہو جائے۔
    اُمّتِ مُسلمہ کا نظام کسی مذہبی مسئلہ کے ساتھ وابستہ کرنیکی ضرورت
    سب سے پہلے میں اس سوال کو لیتا ہوں جو مغربی تعلیم کے اثر کے نیچے اُٹھایا جاتا ہے اور وہی ایک اصولی سوال ہے جس پر اس
    مسئلہ کا انحصار ہے اور وہ یہ ہے کہ نظام بہرحال ایک دُنیوی چیز ہے اور جب کہ نظام ایک دُنیوی چیز ہے دینی چیز نہیں تو اُمّتِ مسلمہ کے نظام کو کسی مذہبی مسئلہ کے ساتھ وابستہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور مذہب کا اس سے کوئی تعلق نہیں پھر اس پر مذہبی نقطۂ نگاہ سے غور کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا دین اُتارا اور ہم نے اسے مان لیا اب اسے اس امر میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں کہ ہم اپنے لئے کونسا نظام تجویز کرتے ہیںیہ ہر زمانہ میں مسلمانوں کی مرضی پر منحصر ہے وہ جس طرح چاہیں اس کا فیصلہ کر لیں۔ اگر مناسب سمجھیں تو ایک خود مختار بادشاہ پر متفق ہو جائیں، چاہیں تو جمہوریت کو پسند کر لیں، چاہیں تو بولشویک اصول کو قبول کر لیں اور چاہیںتو آئینی بادشاہت کے طریق کو اختیار کر لیں کسی ایک اصل کو مذہب کے نام پر رائج کرنے کی نہ ضرورت ہے نہ مفید ہو سکتا ہے اصل غرض تو دین کو پھیلانا ہے۔ بھلا اس میں پڑنے کی ضرورت کیا ہے کہ وہ نظام کیسا ہو جس کے ماتحت کام کیا جائے۔ موجودہ زمانہ میں نَو تعلیم یافتہ مغرب زدہ نوجوانوں نے اس بحث کو اُٹھایا ہے اور درحقیقت اس کے پیچھے وہ غلط حریّت کی رُوح کام کر رہی ہے جو مختلف خیالاتِ فلاسفہ سے متأثر ہو کر مسلمانوں میں موجودہ زمانہ میں پیدا ہوئی ہے۔ وہ اس سوال کو بار بار اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس رنگ میں مذہب بدنام ہوتا اور تعلیم یافتہ طبقہ مذہب سے بدظن ہوتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ مذہب کو اپنی جگہ پر رہنے دو اورسیاست کو اپنی جگہ۔
    مغربی اثر کے ماتحت خیالات کی یہ رَومدت سے چل رہی تھی مگر مسلمانوں میں سے کسی کوجرأت نہیں ہوتی تھی کہ عَلَی الْاِعْلانْ اس کا اظہار کرے۔ جب تُرکی خلافت تباہ ہوئی اور کمال اتاترک نے خلافت کو منسوخ کر دیا تو عالمِ اسلامی میں ایک ہیجان پیدا ہو گیا اور پُرانے خیالات کے جو لوگ تھے انہوں نے خلافت کمیٹیاں بنائیں۔ ہندوستان میں بھی کئی خلافت کمیٹیاں بنیں اور لوگوں نے کہا کہ ہم اس رَو کا مقابلہ کریں گے مگر وہ لوگ جن کے دلوں میں یہ شُبہات پیدا ہو چکے تھے کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے انہوں نے جب دیکھا کہ مسلمانوں کا ایک فاتح بادشاہ جس کی لوگوں کے دلوںمیں بہت بڑی عزت ہے اُس نے اپنے عمل سے اُن کے خیالات کی تائید کر دی ہے تو وہ اور زیادہ دلیر ہو گئے اور اُن میں سے بعض نے اس کے متعلق رسائل لکھے۔ اس قسم کے رسائل مسلمانوں نے بھی لکھے ہیں، یورپین لوگوں نے بھی لکھے ہیں اور بعض روسیوں نے بھی لکھے ہیں مگر اس خیال کو ایک مدلّل صورت میں ایک مصری عالم علی بن عبدالرزاق نے جو جامعہ ازہر کے علماء میں سے ہیں اور محاکمِ شریعہ کے قاضی ہیں اپنی کتاب ’’اَ لْاِسْلامُ وَ اُصُوْلُ الْحکم‘‘ میں پیش کیا ہے اور اس کا جیسا کہ مَیں بتا چکا ہوں وہ شدید اضطراب ہوء ا جو ترکی خلافت کی منسوخی سے عالَمِ اسلامی میں عموماً اور عربی ممالک میں خصوصاً پیدا ہوء ا تھا۔
    ایک سوال کا جواب
    شاید کہا جائے کہ اس بحث کا اس خلافتِ احمدیہ سے کیا تعلق ہے جو اصل بحث میرے مضمون کا ہو سکتا ہے کیونکہ وہ خلافت جو
    اس کتاب میں زیر بحث ہے خلافتِ سلطنت ہے اور احمدیہ جماعت کو جس خلافت سے تعلق ہے وہ مذہبی خلافت ہے تُرک بادشاہ ہیں اور احمدی بادشاہ نہیں۔ پس تُرکوں کی خلافت کی تائید میں جو دلائل ہونگے وہ اور رنگ کے ہونگے اور ان کی خلافت کی تردید میں جو دلائل ہونگے وہ بھی اور رنگ کے ہونگے۔ بھلا اس خلافت کا خلافتِ احمدیہ سے کیا تعلق ہے جسے کسی قسم کی بادشاہت حاصل نہیں اور جس کی خلافت محض مذہبی رنگ رکھتی ہے۔
    اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جس مسئلہ پر بحث کی جاتی ہے ضروری نہیں ہوتا کہ اُس کے صرف اُس پہلو پر روشنی ڈالی جائے جس کے متعلق کوئی سوال کرے بلکہ بسا اوقات اس کے تمام پہلوئوں پر بحث کی جاتی ہے اور یہ کوئی قابلِ اعتراض امر نہیں ہوتا۔ مثلاً ہم سے کوئی پوچھے کہ وضو میں ہاتھ کس طرح دھوئے جاتے ہیں تو اس کے جواب میں اگر ہم وضو کی تمام تفصیل اس کو بتا دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا بلکہ اس کے لئے مفید ہوگا کیونکہ وہ باقی باتیں بھی سمجھ جائے گا۔ اسی طرح گو احمدیہ جماعت کو جس خلافت سے تعلق ہے وہ مذہبی خلافت ہے لیکن اگر خلافتِ سلطنت کے متعلق بھی بحث کر دی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا بلکہ اس مضمون کی تکمیل کیلئے ایسا کرنا ضروری ہوگا۔
    سیاست صرف حکومت کے ساتھ وابستہ نہیں ہوتی
    دوسرا جواب یہ ہے کہ درحقیقت سیاست
    نظام کا دوسرا نام ہے اور یہ سیاست حکومت کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہے اور حکومت کے بغیر بھی سیاست ہوتی ہے۔ یہ لوگوں کی غلطی ہے کہ انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ سیاست صرف حکومت کے ساتھ ہی وابستہ ہوتی ہے حالانکہ بغیر حکومت کے بھی سیاست ہوتی ہے اور بغیر حکومت کے بھی نظام کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تین شخص اکٹھے کہیں سفر پر جانے لگیں تو وہ اپنے میں سے ایک شخص کو امیر بنا لیں ۳؎ تا کہ نماز کے وقت اسے امام بنایا جا سکے اور سفر میں جو جو ضرورتیں پیش آئیں اُن کے بارہ میں اس سے مشورہ لیا جا سکے۔ اب یہ ایک نظام ہے مگر اس کا تعلق حکومت سے نہیں۔ نظام درحقیقت ایک مستقل چیز ہے اگر حکومت شامل ہو تو اس پر بھی حاوی ہوتا ہے اور اگر نہ ہو تو باقی لوگوں کے لئے اُس کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔ پس مسئلہ خلافت ایک اسلامی نظام سے تعلق رکھتا ہے خواہ وہ سلطنت پر مشتمل ہو یا نہ ہو۔
    مذہبی خلافت پر اعتراض
    تیسرا جواب یہ ہے کہ اگر کوئی ثابت کر دے کہ اسلام نے کوئی خاص نظام پیش نہیں کیا تو اس کی زد خلافتِ سلطنت
    پر ہی نہیں پڑے گی بلکہ اس خلافت پر بھی پڑے گی جو ہم پیش کرتے ہیں گویا خلافتِ سلطنت اور خالص مذہبی نظام دونوں یکساں اس کی زد میں آئیں گے۔ پس گو وہ دلائل ترکی خلافت کے خلاف پیش کئے گئے ہیں لیکن چونکہ وہ احمدیہ خلافت پر بھی اسی طرح اثر انداز ہوتے ہیں جس طرح خلافتِ سلطنت پر، اس لئے ضروری ہے کہ ہم ان دلائل کا جائزہ لیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ اگر اسلام نے کوئی معیّن نظام پیش نہیں کیا تو جس طرح نظامِ سلطنت میں مسلمان آزاد ہونگے اسی طرح خالص نظامِ مذہبی میں بھی وہ آزاد سمجھے جائیں گے اور انہیں اختیار ہوگا کہ ہر زمانہ اور ہر ملک میں وہ جس طرح چاہیں اور جس شکل میں چاہیں ایک نظام اپنے لئے تجویز کر لیں۔
    ابتدائے اسلام میں نظامِ مملکت اور نظامِ دینی کا اجتماع
    اس سوال کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ابتدائے اسلام میں نظامِ مملکت اور نظامِ دینی اکٹھے تھے۔یعنی
    مذہب کا نظام توتھا ہی مگر اس کے ساتھ ہی وہ فوجیں بھی رکھتے تھے، اُن میں قاضی بھی موجود تھے، وہ حدود بھی جاری کرتے تھے، وہ قصاص بھی لیتے تھے، وہ لوگوں کو عہدوں پر بھی مقرر کرتے تھے، وہ وظائف بھی تقسیم کرتے تھے، اِسی طرح نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کی ادائیگی بھی ان میں جاری تھی گویا ابتدائے اسلام میں دونوں قسم کے نظام جمع ہو گئے تھے۔ پس اگر کوئی نظام اسلام سے ثابت نہیں تو خلافتِ مذہبی کی ابتداء بھی صرف اس وقت کے مسلمانوں کا ایک وقتی فیصلہ قرار دیا جائے گا اور اس سے آئندہ کیلئے کوئی استدلال کرنا اور سند پکڑنا درست نہ ہوگا۔ اور جب خلافت کا وجود ابتدائے اسلام میں ہی ثابت نہ ہوگا تو بعد میں کسی وقت اس کے وجود کو قائم کرنا کوئی مذہبی مسئلہ نہیں کہلا سکتا۔ پس اگر خلافت کے مسئلہ پر کوئی زد آئے گی تو یہ تو نہیں ہوگا کہ لوگ کہیں گے کہ صرف ترکوں کی خلافت ناجائز ہے بلکہ وہ سِرے سے خلافت کا ہی انکار کر دیں گے اور اس طرح ہم پر بھی جو مسئلۂ خلافت کے قائل ہیں اس کا اثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جیسے اگر ہندوئوں اور عیسائیوں پر کوئی ایسا اعتراض کیا جائے جو اسلام پر بھی وارد ہوتا ہو تو یہ نہیں کہا جا سکے گا کہ اس سے ہندوئوں اور عیسائیوں کو ہی نقصان پہنچتا ہے اسلام کو اس سے کیا ڈر ہے کیونکہ اگر وہی بات اسلام میں بھی پائی جاتی ہے تو ہمارا فرض ہوگا کہ ہم اس اعتراض کا ازالہ کریں کیونکہ اگر لوگ اس کی وجہ سے مذہب سے بدظن ہونگے تو صرف ہندوئوں اور عیسائیوں سے ہی نہیں ہونگے بلکہ مسلمانوں سے بھی ہونگے۔
    چوتھا جواب یہ ہے کہ ہم خلافتِ احمدیہ کے ثبوت کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفائے راشدین کی مثال لوگوں کے سامنے پیش کیا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس طرح حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ ہوئے اسی طرح حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے بعد بھی خلافت کا وجود ضروری ہے۔ اگر وہی خلافت اُڑ جائے تو لازماً خلافتِ احمدیہ بھی باطل ہو جائے گی۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نظام کے قیام سے تعلق رکھنے والا حصہ مذہبی حیثیت رکھتا ہے یا غیر مذہبی؟
    اس کے ساتھ ایک اور بات بھی یاد رکھنی
    چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اگر اس عقیدہ کو درست تسلیم کر لیا جائے جو علی بن عبدالرزاق نے لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے اور جسے غیر مبائعین بھی پیش کرتے ہیں تو اس سے ایک اور اہم سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہ آیا رسولِ کریم ﷺ کے اعمال کا وہ حصہ جو نظام کے قیام سے تعلق رکھتا ہے مذہبی حیثیت رکھتا ہے یا غیر مذہبی۔ کیونکہ جب ہم یہ فیصلہ کر دیں کہ اسلام کوئی معیّن نظام پیش نہیں کرتا بلکہ حضرت ابوبکرؓ ،حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ، اور حضرت علیؓ کی خلافت مسلمانوں کا ایک وقتی فیصلہ تھا اور وہ نظامِ مملکت کے استحکام کیلئے جو کام کرتے تھے وہ محض رسول کریم ﷺ کی نیابت میں کرتے تھے تو طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اعمال جو حکومت اور نظام کے قیام سے تعلق رکھتے تھے وہ محض ضرورتِ زمانہ کے ماتحت آپ سے صادر ہوتے تھے یا اسے کوئی مذہبی تائید بھی حاصل تھی۔ اگر وہ وقتی ضرورت کے ماتحت تھے تو حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ نے آپ کے تتبُّع میں جو کچھ بھی کیا ہو گا وقتی ضرورت کے ماتحت کیا ہو گا اور وہ ہمارے لئے شرعی نہیں ہو گا اور اگر رسول کریم ﷺ کے وہ اعمال جو حکومت اور نظام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں مذہبی حیثیت رکھتے تھے تو لازماً ہمیں ان سے سند لینی پڑے گی۔ پس یہ سوال صرف خلفاء تک محدود نہیں رہتا بلکہ رسول کریم ﷺ تک بھی جا پہنچتا ہے کہ اگر نظامِ خلافت کا اصول مذہبی نہیں تو چونکہ یہ نقل ہے رسول کریم ﷺ کے اعمال کی اس لئے ان کے وہ اعمال بھی مذہبی نہیں ہوں گے جو نظام کے قیام سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارے لئے ان کی اتباع ضروری نہیں ہو گی جیسے کپڑوں اور کھانے پینے کی چیزوں کے متعلق کوئی نہیں کہتا کہ رسول کریمﷺ نے فلاں قسم کے کپڑے پہنے یا فلاں کھانا کھایا اس لئے لازماً وہی کپڑا پہننا اور وہی کھانا کھانا چاہئے۔ مثلاً کوئی نہیں کہتا کہ رسول کریم ﷺ چونکہ تہہ بند باندھا کرتے تھے اس لئے تم بھی تہہ بند باندھو یا رسول کریم ﷺ چونکہ کھجوریں کھایا کرتے تھے اس لئے تم بھی کھجوریں کھاؤ بلکہ اس سے اصولی رنگ میں ایک نتیجہ أخذ کرلیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ انسان کو سادہ زندگی بسر کرنی چاہئے۔ اسی طرح اگر رسول کریم ﷺ کے ان اعمال کو جو نظام کے قیام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں شرعی نہیں سمجھا جائے گا بلکہ ضرورتِ زمانہ کے ماتحت قرار دیا جائے گا تو وہ ہمارے لئے نہیں ہوں گے اور ہم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکیں گے کہ عرب میں دشمنوں کی حکومت چونکہ ٹوٹ گئی تھی اور وہ سب آپ کے تابع ہو گئے تھے اس لئے آپ مجبور تھے کہ کوئی نہ کوئی نظام قائم کریں اور چونکہ نظام کے قیام کیلئے کچھ قوانین کی بھی ضرورت تھی اس لئے آپ نے بعض قوانین بھی بنا دیئے اور اس سے آپ کی غرض محض ان لوگوں کی اصلاح تھی۔ یہ غرض نہیں تھی کہ کوئی ایسا نظام قائم کریں جسے ہمیشہ کیلئے مذہبی تائید حاصل ہو جائے۔ غرض اس عقیدہ کو تسلیم کرنے سے یہ امر لازماً تسلیم کرنا پڑے گا کہ خود رسول کریم ﷺ کے اعمال کا وہ حصہ جو نظام کے قیام سے تعلق رکھتا ہے مذہبی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ وہ کام محض ضرورتِ زمانہ کے ماتحت آپ کرتے تھے اسے کوئی مذہبی تائید حاصل نہ تھی اگر مذہبی تائید حاصل ہوتی تو وہ بعد کے لوگوں کیلئے بھی سُنت اور قابِلِ عمل قرار پاتے۔ یہ ایک طبعی نتیجہ ہے جو اس عقیدہ سے پیدا ہوتا ہے مگر منکرین خلافت اس طبعی نتیجہ کو ہمیشہ لوگوں کی نگاہوں سے مخفی رکھنے کی کوشش کرتے چلے آئے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے یہ کہہ دیا کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کا و ہ حصہ جو سلطنت کے اُمور کے انصراح کے متعلق تھا محض ایک دُنیوی کام تھا اور وقتی ضرورتوں کے ماتحت تھا تو مسلمان اسے برداشت نہیں کریں گے اور وہ کہیں گے کہ تم رسول کریم ﷺکی ہتک کرتے ہو اسی لئے خلافت کے منکر اس بارہ میں ہمیشہ غیرمنطقی طریقہ اختیار کرتے رہے ہیں مگر علی بن عبدالرزاق جو جامعہ ازہر کے شیوخ میں سے ہے اس نے آزادی اور دلیری سے اس موضوع پر بحث کی ہے اور اس وجہ سے قدرتی طور پر وہ اسی نتیجہ پر پہنچا ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔ چنانچہ یہ عجیب توارد ہوء ا کہ ادھر جب اس مضمون پر میں نے نوٹ لکھنے شروع کئے تو لکھتے لکھتے میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اگراس دلیل کو اسی طرح اوپر کی طرف چلایا جائے تو اس کی زد رسول کریم ﷺ پر بھی پڑتی ہے اور تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ آپ کی زندگی کا یہ حصہ محض ایک دُنیوی کام تھا جسے آپ نے وقتی ضروریات کے ماتحت اختیار کیا۔ غرض پہلے میں اس نتیجہ پر پہنچا بعد میں جب میں نے اس کی کتاب کو پڑھا تو میں نے دیکھا کہ بعینہٖ اس نے یہی استنباط کیا ہوء ا ہے اور گو مسلمانوں کے خوف سے اس نے اس کو کھول کر بیان نہیں کیا بلکہ شکر کی گولی میں زہر دینے کی کوشش کی ہے لیکن پھر بھی اس کا مطلب خوب واضح ہے کہ قضاء وغیرہ کا انتظام اس وقت ثابت نہیں اور نہ دوسری ضروریات کا جو حکومت کیلئے ضروری ہیں مثلاً میزانیہ وغیرہ۔ پس معلوم ہؤا کہ اُس وقت جو کچھ کیا جاتا تھا صرف وقتی مصالح کے ماتحت کیا جاتا تھا۔
    خلافت کے انکار کا ایک خطرناک نتیجہ
    حقیقت یہ ہے کہ خلافت کے انکار کرنے کے ساتھ یہ بھی کہنا پڑتا
    ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی حکومت مذہبی نہیں تھی اور خواہ اس خیال کو مسلمانوں کی مخالفت کے ڈر سے کیسے ہی نرم الفاظ میں بیان کیا جائے صرف خلفاء کے نظامِ سلطنت کو ہی مذہبی حیثیت سے نہیں گرانا پڑتا بلکہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے اس حصہ کے متعلق بھی جو امورِ سلطنت کے انصرام کے ساتھ تعلق رکھتا تھا کہنا پڑتا ہے کہ وہ محض ایک دُنیوی کام تھا جسے وقتی ضرورتوں کے ماتحت آپ نے اختیار کیا ورنہ نماز ،روزہ ،حج اور زکوٰۃ کو مستثنیٰ کرتے ہوئے نظامی حصہ آپ نے لوگوں کی مرضی پر چھوڑ دیا ہے اور آپ کی طرف سے اس بات کی کُھلی اجازت ہے کہ اپنی سہولت کے لئے جیسا نظام کوئی چاہے پسند کرے۔ علی بن عبدالرزاق نے اس بات پر بھی بحث کی ہے چنانچہ وہ کہتا ہے کہ اگر رسول کریم ﷺ کو صحیح معنوں میں حکومت حاصل ہوتی تو آپ ہر جگہ جج مقرر کرتے مگر آپ نے ہر جگہ جج مقرر نہیں کئے اسی طرح باقاعدہ میزانیہ وغیرہ بنائے جاتے مگر یہ چیزیں بھی آپ کے عہد میں ثابت نہیں۔ اسی طرح اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اگر امورِ سلطنت کے انصرام میں کوئی حصہ لیا ہے تو وہ وقتی ضرورتوں کے ماتحت لیا ہے جیسے گھر میں کرسی نہیں ہوتی تو انسان فرش پر ہی بیٹھ جاتا ہے۔ اسی طرح اس وقت چونکہ کوئی حکومت نہیں تھی آپ نے عارضی انتظام قائم کرنے کیلئے بعض قوانین صادر کر دیئے۔ پس آپ کا یہ کام ایک دُنیوی کام تھا اس سے مذہبی رنگ میں کوئی سند نہیں لی جا سکتی۔
    غرض اس اصل کو تسلیم کرکے خلفاء کے نظامِ حکومت کو ہی مذہبی حیثیت سے نہیں گرانا پڑتا بلکہ رسول کریم ﷺ کے ان کاموں کو بھی جو نظامِ سلطنت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں دُنیوی کام قرار دینا پڑتا ہے اور تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ بعد کے لوگوں کیلئے سنت اور قابلِ عمل نہیں ہے۔
    اس تمہید کے بعد اب میں اصولی طور پر خلافت و نظامِ اسلامی کے مسئلہ کو لیتا ہوں۔
    مذہب کی دو قسمیں
    میرے نزدیک اس مسئلہ کو سمجھنے سے پہلے یہ امر سمجھ لینا ضروری ہے کہ دنیا کے مذاہب دو قسم کے ہیں (۱) اوّل وہ مذاہب جو
    مذہب کا دائرہ عمل چند عبادات اور اذکار تک محدود رکھتے ہیں اور امورِ اعمال دُنیوی کو ایک علیحدہ امر قرار دیتے ہیں اور ان میں کوئی دخل نہیںدیتے۔ وہ کہیں گے نماز یوں پڑھو، روزے یوں رکھو، صدقہ و خیرات یوں کرو، لوگوں کے حقوق یوں بجا لاؤ ،غرض عبادات اور اذکار کے متعلق وہ احکام بیان کریں گے مگر کوئی ایسا حکم نہیں دیں گے جس کا نظام کے ساتھ تعلق ہو یا اقتصادیات کے ساتھ تعلق ہو یا بَیْنَ الاقوامی حالات کے ساتھ تعلق ہو یا لین دین کے معاملات کے ساتھ تعلق ہو یا ورثہ کے ساتھ تعلق ہو۔ وہ ان امور کے متعلق قطعاً کوئی تعلیم نہیں دیں گے۔
    مسیحی مذہب میں شریعت کو *** قرار دینے کا اصل باعث
    اس قسم کے مذاہب میں سے ایک مسیحی مذہب ہے اور اس مذہب میں جو شریعت کو *** قرار دینے پر زور دیا گیا ہے اس کی وجہ بھی زیادہ تر
    یہی ہے کہ وہ افراد کے اعمال کو مذہب کی پابندیوں سے الگ رکھناچاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں مذہب کا کام صرف یہ ہے کہ وہ کہے تم نمازیں پڑھو، تم روزے رکھو، تم حج کرو، تم زکوٰۃ دو، تم عیسیٰ کو خدا سمجھو۔ اسے اس بات سے کیا واسطہ ہے کہ قتل، فساد، چوریوں اور ڈاکوں کے متعلق کیا احکام ہیں یا یہ کہ قومیں آپس میں کس طرح معاہدات کریں، یا اقتصاد کو کس طرح کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں شریعت کا اِن امور سے کوئی واسطہ نہیں۔ اگر لڑکوں اور لڑکیوں کو ورثہ میں سے حصہ دینے کا سوال ہو تو وہ کہہ دیں گے کہ اس میں شریعت کا کیا دخل ہے یہ ہمارے ملک کی پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ جس امر میں قوم کا فائدہ دیکھے اسے بطور قانون نافد کر دے۔ اسی طرح وہ کہتے ہیں اگر ہم فیصلہ کر لیں کہ ہم سود لیں گے چاہے روپیہ کی صورت میں لیں اور چاہے جنس کی صورت میں۔ تو مذہب کو کیا حق ہے کہ وہ یہ کہے کہ روپیہ کے بدلہ میں سودی روپیہ لینا ناجائز ہے۔ غرض وہ مذہب کے اُن احکام سے جو نظام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں شدید نفرت کرتے ہیں اسی لئے انہوں نے شریعت کو *** قرار دے لیا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ روزہ رکھنا *** ہے۔ اگر روزہ رکھنا *** کا موجب ہوتا تو انجیل کے پُرانے ایڈیشنوں میں یہ کس طرح لکھا ہوتا کہ:-
    ’’اس طرح کے دیو بغیر دعا اور روزہ کے نہیں نکالے جاتے ‘‘ ۴؎
    اور کیا ممکن ہے کہ ایک طرف تو انجیلوں میں اس قسم کے الفاظ آتے اور دوسری طرف یہ کہا جاتا کہ شریعت *** ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب عیسائیوں نے یہ کہا کہ شریعت *** ہے تو اس کے معنی یہی تھے کہ شریعت کا نظامِ قومی کو معیّن کر دینا *** ہے اور مذہب کو امور ِدُنیوی کے متعلق کوئی حکم دینے کا اختیار نہیں بلکہ ان امور کے متعلق ضرورت کے مطابق ہر قوم خود اپنے لئے قوانین تجویز کر سکتی ہے۔ اس طرح انہوں نے موسوی شریعت کی ان پابندیوں سے اپنے آپ کو آزاد کر لیا جو امورِ سلطنت میں اس نے لگائی تھیں۔ بیشک حضرت مسیح علیہ السلام نے جب یہ فقرہ کہا (بشرطیکہ ان کی طرف اسے منسوب کیا جا سکے) تو ان کا مطلب یہ نہیں تھا بلکہ ان کا مطلب صرف یہ تھا کہ یہود نے جو شریعت کے ظاہری احکام کو اس قدر اہمیت دے دی ہے کہ باطن اور روحانیت کو انہوں نے بالکل بُھلا دیا ہے یہ امر ان کے لئے ایک *** بن گیا ہے اور اس نے انہیں حقیقت سے کوسوں دور پھینک دیا ہے۔ لیکن جب مسیحیت روما میں پھیلی تو چونکہ وہ لوگ اپنے قومی دستور کو ترک کرنے کیلئے تیار نہیں تھے اور سمجھتے تھے کہ رومن لاء سے بہتر اورکوئی لاء نہیں بلکہ آج تک رومن لاء سے ہی یورپین حکومتیں فائدہ اُٹھاتی چلی آئی ہیں اس لئے وہاں کے لوگ جو بڑے متمدّن اور قانون دان تھے انہوں نے خیال کیا کہ دُنیا میں ہم سے بہتر کوئی قانون نہیں بنا سکتا ادھر انہوں نے دیکھا کہ عیسائی مذہب کی تعلیم بڑی اچھی ہے خدا تعالیٰ کی محبت کے متعلق، معجزات اور نشانات کے متعلق، دعاؤں کے متعلق، مسیح کی قربانیوں کے متعلق۔ جب انہوں نے عیسائیت کی تعلیمات کو دیکھا تو ان کے دل عیسائی مذہب کی طرف مائل ہو گئے اور انہوں نے اقرار کیا کہ یہ مذہب واقع میں اس قابل ہے کہ اسے قبول کر لیا جائے۔ مگر دوسری طرف وہ یہ امر بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ یہودی شریعت کو جس کو وہ رومن لاء کے مقابلہ میں بہت ادنیٰ سمجھتے تھے اپنے اندر جاری کریں۔ پس وہ ایک عجیب مخمصے میں مبتلاء ہو گئے۔ ایک طرف عیسائیت کی دلکش تعلیم انہیں اپنی طرف کھینچتی تھی اور دوسری طرف رومن لاء کی برتری اور فوقیت کا احساس انہیں یہودی شریعت کے آگے اپنا سر جُھکانے نہیں دیتاتھا۔ وہ اسی شش و پنج میں تھے کہ ان کی نگاہ عہدِ جدید کے اِن فقرات پر پڑی کہ:-
    ’’جتنے شریعت کے اعمال پر تکیہ کرتے ہیں وہ سب *** کے ماتحت ہیں۔‘‘ ۵؎
    اور یہ کہ:-
    ’’مسیح جو ہمارے لئے *** بنا اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی *** سے چُھڑایا۔۶؎
    یہ حضرت مسیح کے الفاظ نہیں بلکہ پولوس کے الفاظ ہیں۔ مگر انہیں ایک بہانہ ہاتھ آ گیا اور انہوں نے اِن فقرات کے معنی وسیع کر کے یہ فیصلہ کر لیا کہ مذہب کو امورِ دُنیوی کے متعلق کچھ حکم دینے کا اختیار نہیں بلکہ اِن امور کے متعلق ضرورت کے مطابق ہر قوم اپنے لئے خود قوانین تجویز کر سکتی ہے۔ حضرت مسیح کا (اگر بِالفرض انہوں نے کبھی یہ فقرہ کہا ہو) یا آپ کے حواریوں کا تو صرف یہ مطلب تھا کہ یہود صرف ظاہری احکام پر زور دیتے ہیں روحانیت کو انہوں نے بالکل بُھلا رکھا ہے اور یہ امر اُن کے لئے *** کا موجب ہے۔ وہ بے شک ظاہری طور پر نماز پڑھ لیتے ہیں مگر ان کے دل میں کوئی خشیت ،کوئی محبت اور خداتعالیٰ کی طرف کوئی توجہ پیدا نہیں ہوتی اور یہ نماز ان کیلئے *** ہے۔ وہ ظاہری طور پر صدقہ و خیرات کرتے وقت بکرے بھی ذبح کرتے ہیں مگر کبھی انہوں نے اپنے نفس کے بکرے کو ذبح نہیں کیا اور اس طرح صدقہ و خیرات بھی ان کے لئے *** ہے، وہ عبادت میں خداتعالیٰ کے سامنے ظاہری رنگ میں اپنا سر تو بے شک جُھکاتے ہیں مگر ان کے دل کبھی خدا کے آگے نہیں جُھکتے اس وجہ سے ان کی عبادت بھی ان کے لئے *** ہے، وہ بیشک زکوٰۃ دیتے ہیں اور اس طرح اپنے مال کی خداتعالیٰ کے لئے قربانی کرتے ہیں مگر کبھی اپنے باطل افکار کی قربانی اپنے لئے گوارا نہیں کرتے اور اس وجہ سے زکوٰۃ بھی ان کے لئے *** کا موجب ہے۔ غرض یہود نے چونکہ ظاہر پر زور دے رکھا تھا اور باطنی اصلاح کو انہوں نے بالکل فراموش کر دیا تھا اس لئے حضرت مسیح یا ان کے حواریوں کو یہ کہنا پڑا کہ صرف ظاہر شریعت پر عمل کرنا اور باطن کی اصلاح کی طرف متوجہ نہ ہونا ایک *** ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں تھے کہ شریعت *** ہے بلکہ یہ معنی تھے کہ ظاہر شریعت پر عمل کرنا اور باطنی اصلاح کی طرف تمہارا توجہ نہ کرنا تمہارے لئے *** کا باعث ہے۔ مگر رومیوں کو ایک بہانہ مل گیا اور انہوں نے کہا اس فقرہ کے یہ معنی ہیں کہ نماز روزہ وغیرہ احکام میں تو مذہب کی اطاعت کی جائے مگر امورِ دُنیوی میں اس کی اطاعت نہ کی جائے اور نہ اسے اِن امور کے متعلق احکام دینے کا کوئی اختیار ہے۔ یہ ہماری اپنی مرضی پر منحصر ہے کہ ہم اپنے لئے جو قانون چاہیں تجویز کر لیں اسی لئے جو رومی عیسائی مذہب اور شریعت کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ وہ *** ہے وہ خود ایک قانون بنا کر لوگوں کو اس کے ماتحت چلنے پر مجبور کرتے ہیں اگر محض کسی قانون کا ہونا *** ہوتا تو وہ خود بھی کوئی قانون نافذ نہ کرتے۔ مگر ان کا ایک طرف مذہب کو *** کہنا اور دوسری طرف خود اپنے لئے مختلف قسم کے قوانین تجویز کرنا بتاتا ہے کہ وہ اس فقرہ کے یہی معنی سمجھتے تھے کہ صرف لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لئے جو قانون چاہیں بنا لیں مذہب کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دُنیوی امور کے متعلق لوگوں کے سامنے کوئی احکام پیش کرے۔ اس طرح انہوں نے موسوی شریعت کی ان پابندیوں سے اپنے آپ کو آزاد کر لیا جو امورِ سلطنت میں اس نے لوگوں پر عائد کی ہوئی تھیں۔
    یہودی مذہب کا نظامِ حکومت میں دخل
    اس کے بالمقابل بعض دوسرے مذاہب ہیں۔ جنہوں نے مذہب
    کے دائرہ کو وسیع کیا ہے اور انسانی اعمال اور باہمی تعلقات اور نظامِ حکومت وغیرہ کے متعلق بھی قواعد بنائے ہیں اور جو لوگ ایسے مذاہب کو مانتے ہیں لازماً انہیں یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ حکومت کے معاملات میں بھی مذہب کو دخل اندازی کا حق حاصل ہے اور نیز یہ کہ ان احکام کی پابندی افراد اور جماعتوں پر اسی طرح واجب ہے جس طرح عقائد اور انفرادی احکام مثلاً نماز اور روزہ وغیرہ میں واجب ہے۔ اس کی مثال میں یہودی مذہب کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص موسوی شریعت کو پڑھے تو اسے جا بجا یہ لکھا ہوء ا نظر آئے گا کہ اگر کوئی قتل کرے تو اسے یہ سزا دی جائے، چوری کرے تو یہ سزا دی جائے، جنگ ہو تو اِن قواعد کو ملحوظ رکھا جائے، قربانی کرنی ہو تو اِن اصول کے ماتحت کی جائے، اسی طرح لین دین اور تجارت وغیرہ معاملات کے متعلق وہ ہدایات دیتا ہے۔ غرض وہ معاملات جو حکومت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں یہودی مذہب ان میں بھی دخل دیتا ہے۔ چنانچہ جب بھی کوئی شخص موسوی شریعت پر غور کرے گا وہ اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ مذہب کو جس طرح افراد کے معاملات میں دخل دینے کا حق حاصل ہے اسی طرح اسے قومی اور ملکی معاملات میں بھی دخل دینے کا حق حاصل ہے۔
    اسلام کِن مذاہب سے مشابہت رکھتا ہے
    اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ اسلام کونسی قسم کے مذاہب سے
    مشابہت رکھتا ہے۔ آیا اوّل الذکر قسم سے یا دوسری قسم کے مذاہب سے اور آیا اسلام نے قومی معاملات میں دخل دیا ہے یا نہیں؟ اگر محمد ﷺ نے قومی معاملات میں دخل دیا ہے چاہے اپنی مرضی سے اور چاہے اس وجہ سے کہ ملک کو اس کی بے حد ضرورت تھی تو ماننا پڑے گا کہ جیسے جنگل میں اگر کسی کو کوئی آوارہ بچہ مل جائے تو وہ رحم کر کے اسے اپنے گھر میں لے جاتا ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اسے اس کی ولایت کا حق حاصل ہو گیا ہے اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ نے رحم کر کے عرب کے یتیموں کو اپنی گود میں لے لیا مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ آپؐ کو ان کی ولایت کا حق حاصل ہو گیا تھا بلکہ جب وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو گئے تو انہیں اس بات کا اختیار تھا کہ وہ اپنے لئے جو قانون چاہتے تجویز کر لیتے لیکن اگر شریعتِ اسلام میں ایسے احکام موجود ہوں تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ رسول کریم ﷺ نے اپنے طور پر ان امورمیں دخل نہیںدیا بلکہ آپ نے اُسی وقت ان امور کو اپنے ہاتھ میں لیا جب خدا نے آپؐ کو اس کا حکم دیا اور جب خدا کا حکم دینا ثابت ہو جائے تو ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ آپؐ کی زندگی کا وہ حصہ جو امورِسلطنت کے انصرام میں گزرا وہ مذہبی حیثیت رکھتا ہے اور مسلمان جس طرح خالص مذہبی نظام میں اسلامی ہدایات کے پابند ہیں اسی طرح نظامِ سلطنت میں بھی وہ آزاد نہیں بلکہ شریعتِ اسلامیہ کے قائم کردہ نظامِ سلطنت کے پابند ہیں۔ اس غرض کے لئے جب قرآن کریم اور احادیث نبویہ کو دیکھا جاتا ہے تو ان پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے ہی یہ امر ثابت ہو جاتا ہے کہ اسلام پہلی قسم کے مذاہب میں شامل نہیں بلکہ دوسری قسم کے مذاہب میں شامل ہے۔ اس نے صرف بعض عقائد اور انفرادی اعمال کے بتانے پر ہی اکتفانہیں کیا بلکہ اس نے ان احکام کو بھی لیا ہے جو حکومت اور قانون سے تعلق رکھتے ہیں۔ چنانچہ وہ صرف یہی نہیں کہتا کہ نمازیں پڑھو، روزے رکھو، حج کرو، زکوٰۃ دو بلکہ وہ ایسے احکام بھی بتاتا ہے جن کا حکومت اور قانون سے تعلق ہوتا ہے۔ مثلاً وہ میاں بیوی کے تعلقات پر بحث کرتا ہے وہ بتاتا ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان اگر جھگڑا ہو جائے تو کیا کِیا جائے اور ان کی باہمی مصالحت کیلئے کیاکیا تدابیر عمل میں لائی جائیں اور اگر کبھی مرد کو اِس بات کی ضرورت پیش آئے کہ وہ عورت کو بدنی سزا دے تو وہ سزا کتنی اور کیسی ہو، اسی طرح وہ لین دین کے قواعد پر بھی بحث کرتا ہے وہ بتاتا ہے کہ قرض کے متعلق کتنے گواہ تسلیم کئے جاسکتے ہیں، قرضہ کی کونسی صورتیں جائز ہیں اور کونسی ناجائز، وہ تجارت اور فنانس کے اصول بھی بیان کرتا ہے، وہ شہادت کے قوانین بھی بیان کرتا ہے جن پر قضاء کی بنیاد ہے۔ چنانچہ وہ بتاتا ہے کہ کیسے گواہ ہونے چاہئیں، کتنے ہونے چاہئیں، ان کی گواہی میں کِن کِن امور کو ملحوظ رکھنا چاہئے، اسی طر ح وہ قضا ء کے متعلق کئی قسم کے احکام دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ قاضیوں کو کِس طرح فیصلہ کرنا چاہئے، پھر ان مختلف انسانی افعال کی وہ جسمانی سزائیں بھی تجویز کرتا ہے جو عام طور پر قوم کے سپرد ہوتی ہیں۔ مثلاً قتل کی کیا سزا ہے یا چوری کی کیا سزا ہے؟ اسی طرح وہ وراثت کے قوانین بھی بیان کرتا ہے اور حکومت کو ٹیکس کا جو حق حاصل ہے اس پر بھی پابندیاں لگاتا ہے اور ٹیکسوں کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ حکومت کو اِن ٹیکسوں کے خرچ کرنے کے متعلق جو اختیارات حاصل ہیںان کو بھی بیان کرتا ہے، فوجوں کے متعلق قواعد بھی بیان کرتا ہے۔ معاہدات کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے، وہ بتاتا ہے کہ دو قومیں جب آپس میں کوئی معاہدہ کرنا چاہئیں تو کِن اصول پر کریں؟ اسی طرح بَیْنَ الاقوامی تعلقات کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے، مزدور اور ملازم رکھنے والوں کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے، سڑکوں وغیرہ کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے۔ غرض وہ تمام امور جو حکومت سے تعلق رکھتے ہیں ان سب کو اسلام بیان کرتا ہے۔ پس اسلام کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے حکومت کو آزاد چھوڑ دیا ہے بلکہ جیسا کہ ثابت ہے اس نے حکومت کے ہر شعبے پر سیرکن بحث کی ہے۔ پس جو شخص اسلام کو مانتا ہے اور اس میں حکومت کے متعلق تمام احکام کو تفصیل سے بیان کیا ہوء ا دیکھتا ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مذہب کو ان امور سے کیا واسطہ بلکہ اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ رسول کریم ﷺ کے وہ افعال جو حکومت سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی ویسے ہی قابلِ تقلید ہیں جیسے نماز اور روزہ وغیرہ کے متعلق احکام کیونکہ جس خدا نے یہ کہا ہے کہ نماز پڑھو، جس خدا نے یہ کہا ہے کہ روزے رکھو۔ جس خدا نے یہ کہا ہے کہ حج کرو۔ جس خدا نے یہ کہا ہے کہ زکوٰۃ دو اسی خدا نے امورِ سیاست اور تنظیم ملکی کے متعلق بھی احکام بیان کئے ہیں۔ پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہر قوم اور ہر ملک آزاد ہے کہ اپنے لئے ایک مناسب طریق ایجاد کر لے اور جس طرح چاہے رہے بلکہ اسے اپنی زندگی کے سب شعبوں میں اسلامی احکام کی پابندی کرنی پڑے گی کیونکہ اگر رسول کریم ﷺ نے یہ اپنی طرف سے کیا ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ لوگ اس بارہ میں آزاد ہیں۔ مگر جب ہم کہتے ہیں کہ یہ احکام قرآن مجیدمیں آئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت رسول کریم ﷺ نے ان کو بیان کیا تو معلوم ہوء ا کہ یہ رسول کریم ﷺ کا ذاتی فعل نہیں تھا اور جبکہ قرآن نے ان تمام امور کو بیان کر دیا ہے جو حکومت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں تو عقل یہ تسلیم نہیں کر سکتی کہ اس نے حکومت سے تعلق رکھنے والی تو ساری باتیں بیان کر دی ہوں مگر یہ نہ بتایا ہو کہ حکومت کو چلایا کس طرح جائے۔ یہ توایسی ہی بات ہے کہ کوئی شخص مکان بنانے کیلئے لکڑیاں جمع کرے، کھڑکیاں اور دروازے بنوائے، اینٹوں اور چونے وغیرہ کا ڈھیرلگا دے مگر جب کوئی پوچھے کہ عمارت کب بنے گی اور اس کا کیا نقشہ ہو گا؟ تو وہ کہے کہ مجھے اس کا کوئی علم نہیں۔ صاف بات ہے کہ جب اس نے اینٹیں اکٹھی کیں، جب اس نے دروازے کھڑکیاں اور روشندان بنوائے، جب اس نے چونے اور گارے کا انتظام کیا تو آخر اسی لئے کیا کہ وہ مکان بنائے اس لئے تو نہیں کیا کہ وہ چیزیں بے فائدہ پڑی رہیں اور ضائع ہو جائیں۔ اسی طرح جب قرآن نے وہ تمام باتیںبیان کر دی ہیں جن کا حکومت کے ساتھ تعلق ہوء ا کرتا ہے تو عقلِ انسانی یہ بات تسلیم نہیں کر سکتی کہ اس نے نظامِ حکومت چلانے کا حکم نہ دیا ہو اور نہ یہ بتایا ہو کہ اس نظام کو کس رنگ میں چلایا جائے اور اگر وہ یہ نہیں بتاتا تو تم کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ قرآن نَعُوْذُ بِاللّٰہِ ناقص ہے۔
    حکومت کے تمام شعبوں کے متعلق اسلام کی جامع ہدایات
    غرض جبکہ اسلام نے حکومت کے تمام شعبوں کے متعلق تفصیلی ہدایات دے دی ہیں تو کوئی شخص نہیںکہہ سکتا کہ مذہب کو ان امور سے کیا
    واسطہ۔ ہر قوم اور ہر ملک اپنے لئے کوئی مناسبطریق تجویز کرنے میں آزاد ہے۔ ہاں وہ یہ بحث ضرور کرسکتا ہے کہ کسی خاص امر میں شریعت اسلامیہ نے اسے آزاد چھوڑ دیا ہے مگر یہ بات بالکل خلافِ عقل ہو گی کہ اسلام نے چھوٹے چھوٹے حقوق تو بیان کئے لیکن سب سے بڑا حق کہ فرد کوحکومت کے مقابل پر کیا حقوق حاصل ہیں اور حکومت کو کس شکل اور کس صورت سے افراد میں احکامِ الٰہیہ کو جاری کرنا چاہئے اس اہم ترین سوال کو اس نے بالکل نظر انداز کر دیا۔ اگر ہم یہ کہیں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ وہ مذہب ناقص ہے۔ جو مذہب شریعت کو *** قرار دیتا ہے وہ تو کہہ سکتا ہے کہ یہ باتیں میرے دائرہ سے باہر ہیں اور اس مذہب کو ناقص بھی ہم اسی لئے کہتے ہیں کہ اس نے انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کے متعلق روشن ہدایات نہیں دیں۔ مثلاً ایسا مذہب اگر خدا اور بندے کے تعلق پر بحث نہیں کرتا یا یہ نہیں بتاتا کہ بندوں کا بندوں سے کیسا تعلق ہونا چاہئے یا امورِ مملکت اور سیاست کے متعلق کوئی ہدایت نہیں دیتا تو وہ آسانی سے چُھٹکارا پا جاتا ہے کیونکہ وہ شریعت کو *** قرار دیتا ہے لیکن جومذہب ان امور میں دخل دیتا ہے اور اس امر کو مانتا ہے کہ خداتعالیٰ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان امور میں دخل دے اس کا ایسے اہم مسئلہ کو چھوڑ دینا اور لاکھوںکروڑوں آدمیوں کی جانوں کو خطرہ میں ڈال دینا یقینا ایک اور نقص کہلائے گا۔
    نفاذِ قانون کے متعلق تفصیلی ہدایات
    اس تمہید کے بعد میں اب اصل سوال کی طرف آتا ہوں۔ رسول کریمﷺ
    عرب میں مبعوث ہوئے اور عرب کا کوئی تحریر قانون نہ تھا۔ قبائلی رواج ہی ان میںقانون کا مرتبہ رکھتا تھا۔ چنانچہ کسی قبیلہ میں کوئی قانون تھا اور کسی قبیلہ میں کوئی۔ وہ انہی قبائلی رواج کے مطابق آپس کے جھگڑوں کا فیصلہ کر لیتے۔ یا جب انہوں نے کوئی معاہدہ کرنا ہوتا تو معاہدہ کر لیتے مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو آپ نے ان کے سامنے آسمانی شریعت پیش کی اور کہا کہ میرے خدا نے تمہارے لئے یہ تعلیم مقرر کی ہے تم اس پر عمل کرو اور پھر اس پر ان سے عمل کرایا بھی۔ اگر تو قرآن جو آسمانی صحیفہ ہے صرف نماز روزہ کے احکام پر اور بعض عقائد کے بیان پر اکتفاء کرتا اور سیاست و تدبیر مُلکی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے تو خواہ وہ زور سے ان کی پابندی کراتے کوئی کہہ سکتا تھاکہ عربوں نے مسلمانوں پر ظالمانہ حملہ کر کے اپنی حکومت تباہ کر لی اور ملک بغیر نظام اور قانون کے رہ گیا۔ اس مشکل کی وجہ سے وقت کی ضرورت سے مجبور ہو کر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک کو ابتری سے بچانے کیلئے کچھ قانون تجویز کر دیئے اور ان پر لوگوں سے عمل کرایا اور یہ حصہ آپ کے عمل کا مذہب نہ تھا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ان امور کے متعلق بھی تفصیلی احکام قرآن کریم میں موجود ہیں اور نہ صرف احکام موجود ہیں بلکہ ان کے نفاذ کے متعلق بھی احکام ہیں۔ مثلاً (۱) اللہ تعالیٰ سورہ حشر میں فرماتا ہے۔ ۷؎
    یعنی اے مسلمانو! محمد رسول اللہ ﷺ جو کچھ تمہیں دیں وہ لے لو اور جس بات سے وہ تمہیں روکیں اُس سے رُک جاؤ۔ گویا رسول کریم ﷺ کا حکم مسلمانوں کیلئے ہر حالت میں ماننا ضروری ہے۔
    (۲) دوسری جگہ فرماتا ہے۔


    یعنی تیرے ربّ کی قسم! جب تک وہ ہر اُس بات میں جس کے متعلق ان میں جھگڑا ہو جائے تجھے حَکَم نہ بنائیں اور پھر جو فیصلہ تو کرے اس سے وہ اپنے نفوس میں کسی قسم کی تنگی نہ پائیں اور پورے طور پر فرمانبردار نہ ہو جائیںاُس وقت تک وہ ہرگز ایماندار نہیں ہو سکتے۔ بعض لوگ رسول کریم ﷺ پر یہ اعتراض کیا کرتے تھے بلکہ اس زمانہ میں بھی ایسے معترض موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو نَعُوْذُ بِاللّٰہِ یہ حق حاصل نہیںتھا کہ وہ باہمی جھگڑوں کے نپٹانے اورنظام کو قائم رکھنے کے متعلق کوئی ہدایات دے سکیں۔ مگر فرمایا۔ ہم ان کی اس بات کو غلط قراردیتے ہیں اور عَلَی الْاِعْلان کہتے ہیں کہ یہ کبھی مومن نہیں کہلا سکتے جب تک وہ اپنے جھگڑوں میںاے محمد رسول اللہ ﷺ! تجھے حَکَم تسلیم نہ کریں اور پھر تیری قضاء پر وہ دل و جان سے راضی نہ ہوں۔ اس آیت کریمہ میں دو نہایت اہم باتیں بیان کی گئی ہیں۔
    اوّل یہ کہ خدا تعالیٰ اس آیت میں رسول کریم ﷺ کو آخری قاضی قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ آپ کا جو فیصلہ بھی ہو گا وہ آخری ہو گا اور اس پر کسی اور کے پاس کسی کو اپیل کا حق حاصل نہیں ہو گا اور آخری فیصلہ کا حق رسول کریم ﷺ کو دینا بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو حکومت کے اختیارات حاصل تھے۔
    دوسری بات جو اس سے ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اِن فیصلوں کے تسلیم کرنے کو ایمان کا جزو قرار دیتا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ تیرے ربّ کی قسم! وہ کبھی مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک وہ تیرے فیصلوں کو تسلیم نہ کریں۔ گویا یہ بھی دین کا ایک حصہ ہے اور ویسا ہی حصہ ہے جیسے نماز دین کا حصہ ہے، جیسے روزہ دین کا حصہ ہے، جیسے حج اور زکوٰۃ دین کا حصہ ہے۔ فرض کرو زید اور بکر کا آپس میں جھگڑا ہو جاتا ہے ایک کہتا ہے میں نے دوسرے سے دس روپے لینے ہیںاور دوسرا کہتا ہے میں نے کوئی روپیہ نہیں دینا۔ دونوں رسول کریم ﷺ کے پاس پہنچتے ہیں اور اپنے جھگڑے کو آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اور رسول کریم ﷺ ایک کے حق میں فیصلہ کر دیتے ہیں تو دوسرا اس فیصلے کو اگر نہیں مانتا تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے وہ مؤمن نہیں رہا۔ پس باوجودیکہ وہ نماز پڑھتا ہو گا، وہ روزے رکھتا ہو گا، وہ حج کرتا ہو گا، اگر وہ اس حصہ میں آ کر رسول کریم ﷺ کے کسی فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا فتویٰ اس کے متعلق یہی ہے کہ اس انکار کے بعد وہ مؤمن نہیں رہا۔ پس کے الفاظ نے بتا دیا کہ خدا تعالیٰ نے اس حصہ کو بھی دین کا ایک جزو قرار دیا ہے علیحدہ نہیں رکھا۔
    (۳) تیسری جگہ فرماتا ہے ۹؎ یعنی مؤمنوں کو جب خدا اور اُس کا رسول بُلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آؤ ہم تمہارے جھگڑے کا فیصلہ کر دیں تو وہ یہی کہتے ہیں کہ ۔ حضور کا حکم ہم نے سن لیا اور ہم ہمیشہ حضور کی اطاعت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوں گے اور ہمیشہ مظفر و منصور رہیں گے۔ اب ایک طرف رسول کریم ﷺ کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ایمان کو وابستہ قرار دینا اور دوسری طرف انہی لوگوں کو کامیاب قرار دینا جو کہیں اور آپ کے کسی فیصلہ کے خلاف نہ چلیں، بتاتا ہے کہ ان احکام کے ساتھ خدائی تصرف شامل ہے۔ اگر کوئی شخص ان احکام کو نہ مانے تو خدائی عذاب اس پر اُترتا اور اُسے ناکام و نامراد کر دیتا ہے لیکن دُنیوی امور میں ایسا نہیں ہوتا۔ وہاں صرف طبعی نتائج پیدا ہوء ا کرتے ہیں۔
    (۴) پھر فرماتا ہے




    یعنی وہ لوگ جو اس کی اتباع کرتے ہیں جو خدا کا رسول ہے اور جو نبی اور اُمّی ہے اور جس کے متعلق تورات اور انجیل میں وہ کئی پیشگوئیاں لکھی ہوئی پاتے ہیں وہ جانتے ہیںکہ یہ رسول انہیں ہمیشہ نیک کاموں کا حکم دیتا اور باتوں سے روکتا ہے۔ گویا وہ لوگوں میں ایک قانون نافذ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کرو اور وہ نہ کرو۔ اسی طرح وہ ان کے لئے طیبات کو حلال ٹھہراتا اور ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے۔ گویا وہ انسانی اعمال اور اقوال اور کھانے پینے کے متعلق بھی مناسب ہدایات دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے فلاں چیز کھاؤ اور فلاں نہ کھاؤ۔ فلاں بات کرو اور فلاں نہ کرو۔ اسی طرح وہ ان کے وہ بوجھ اُتارتا ہے جو ان کے لئے ناقابلِ برداشت ہو رہے ہیں اور ان کے اُن طوقوں کو دُور کرتا ہے جنہوں نے ان کو ترقی کی طرف بڑھنے سے روکا ہوئا تھا۔

    پس وہ لوگ جو اس رسول پر ایمان لاتے اور اس کے احکام کی عزت کرتے اور اس کی نصرت اور تائید کرتے اور اس نور کی اتباع کرتے ہیں جو اس کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے وہی لوگ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں گے۔ اب دیکھ لو گورنمنٹیں بھی ہمیشہ اسی قسم کے قوانین بناتی ہیں اور کہتی ہیں کہ یہ کرو اور وہ نہ کرو اور قرآن کہتا ہے کہ ہم نے یہ اختیار جو حکومت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے محمد رسول اللہ ﷺ کو دے دیا ہے جو لوگ اس کی اتباع کریں گے وہ کامیاب ہوں گے اور جو اطاعت سے انحراف کریں گے وہ ناکام ہوں گے۔
    (۵) اسی طرح فرماتا ہے۔


    ۱۱؎
    اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ محمد ﷺ کی حکومت ہو گی کس طرح؟ آیا دُنیوی بادشاہوں کی طرح یا کسی اور رنگ میں؟ فرماتا ہے خدا کا رسول تم میں موجود ہے اگر وہ تمہارے اکثر مشوروں کو قبول کرے تو تم یقینا مصیبت میں پڑ جاؤ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں ایمان پیدا کر دیا ہے اور تم اُس کی قدر و قیمت کو اچھی طرح سمجھتے ہو اور جانتے ہو کہ ایمان کا تمہارے پاس رہنا تمہارے لئے کس قدر مفید اور بابرکت ہے اور ایمان کا ضیاع تمہارے لئے کس قدر مُہلک ہے وَ اور پھر اس ایمان کو اس نے تمہارے دلوں میں نہایت خوبصورت شکل میں قائم کر دیا ہے اور کُفر، فسق، عِصیان اور خروج عن الاطاعت کو اس نے تمہاری آنکھوں میں مکروہ بنا دیا ہے اس لئے تمہیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ ہمارے رسول کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ اگر چاہے تو تمہارے مشوروں کو قبول کرے اور اگر چاہے تو ردّ کر دے۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایات پانے والے ہیں۔
    رسول کریم ﷺ کا طریق حکومت
    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کے حکومت کا ذکر کیا
    ہے اور بتایا ہے کہ آپ کا طریق حکومت یہ نہیں تھا کہ آپ ہر بات میں لوگوں کا مشورہ قبول کرتے اور اس کا ذکر اس لئے ضروری تھا کہ کوئی کہہ سکتاتھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم درحقیقت وہی فیصلہ کیا کرتے تھے جو قوم کا فیصلہ ہوء ا کرتا تھا جیسے پارلیمنٹیں مُلک کے نمائندوں کی آواز کے مطابق فیصلے کرتی ہیں اسی طرح کوئی کہہ سکتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ملک کا فیصلہ ہی لوگوں سے منواتے تھے اپنا قانون ان میں نافذ نہیں کرتے تھے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس شبہ کا ازالہ کر دیا اور خود ملک والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اگر ہمارا رسول تمہاری کثرتِ رائے کے ماتحت دیئے ہوئے اکثر مشوروں کو قبول کر لے تو تم مصیبت میں پڑ جاؤ۔ گویا رسول کریم ﷺ کی حکومت کا یہ طریق نہیں تھا کہ آپ کثرتِ رائے کے مطابق فیصلہ کرتے بلکہ جب کثرتِ رائے کو مفید سمجھتے تو کثرتِ رائے کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیتے اور جب کثرتِ رائے کو سمجھتے تو اس کے خلاف فیصلہ کرتے۔ کَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِکے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں تھا کہ رسول کریم ﷺ ہر بات قبول کر لیتے بلکہ آپ کو اختیار تھا کہ جب آپ لوگوںکی رائے میں کسی قسم کا نقص دیکھیں تو اسے رد ّکر دیں اور خود اپنی طرف سے کوئی فیصلہ فرما دیں۔
    (۶) پھر فرماتا ہے۔ ۱۲؎ کہ اے محمدﷺ ان کے اموال سے صدقہ لو اور اس کے ذریعہ ان کے دلوں کو پاک کرو۔ ان کی اقتصادی حالت کو درست کرو۔ اور پھر ہمیشہ ان سے نرمی کا معاملہ کرتے رہو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین احکام دیئے ہیں۔ اوّل یہ کہ لوگوں سے زکوٰۃ لو کیونکہ اس کے ذریعہ ان کے دلوں میں غریبوں سے پیار اور حسنِ سلوک کا مادہ پیدا ہو گا۔ دوسرا حکم یہ دیا کہ زکوٰۃ کے روپیہ کو ایسے طور پر خرچ کیا جائے کہ اس سے غربا ء کی حالت درست ہو اور وہ بھی دنیا میں ترقی کی طرف اپنا قدم بڑھا سکیں۔ تیسرا حکم کے الفاظ میں یہ دیا کہ زکوٰۃ کے لینے میں سختی نہ کی جائے بلکہ ہمیشہ حکم کا نرم پہلو اختیار کیا جائے۔ اسی وجہ سے رسول کریم ﷺ جب محصّلین کو زکوٰۃ کی وصولی کے لئے بھیجتے تو آپ ہمیشہ یہ تاکید فرمایا کرتے کہ موٹا دُنبہ اور اونٹ چُن کر نہ لینا بلکہ اپنی خوشی سے وہ جن جانوروں کو بطور زکوٰۃ دے دیں انہی کو لے لینا اور یہ خواہش نہ کرنا کہ وہ زیادہ اعلیٰ اور عمدہ جانور پیش کریں۔ گویا شرعاً اور قانوناً جس قدر نرمی جائز ہو سکتی ہے اسی قدر نرمی کرنے کا آپ لوگوں کو حکم دیتے۔
    (۷) ساتویں آیت جس میں حکومت سے تعلق رکھنے والے امور کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
    ۱۳؎
    یعنی وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے غضب کے ماتحت اس امر کی توفیق نہ پا سکے کہ وہ رسول کریمﷺ کے ساتھ جہاد کے لئے نکلیں اور جنگ میں شامل ہوں، وہ اپنے پیچھے رہنے پر بہت ہی خوش ہوئے اور انہوں نے اس بات کو بُرا سمجھا کہ وہ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کریں۔ اور انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ سخت گرمی کا موسم ہے ایسے موسم میں جہاد کیلئے نکلنا تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اب گرمی کا بہانہ بنا کر تو تم پیچھے رہ گئے ہو مگر یاد رکھو جہنم کی آگ کی تپش بہت زیادہ ہو گی۔ کاش وہ اس امر کو جانتے اور سمجھتے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے صریح لفظوں میں رسول کریمﷺ کو جہاد کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ سپاہی بنو اور دشمنوں سے لڑو اور یہ بھی فرما دیا ہے کہ جو لوگ تیرے حکم کے ماتحت لڑنے کے لئے نہیں نکلیں گے وہ خدا تعالیٰ کے حضور مجرم قرار پائیں گے۔
    (۸) پھر فرماتا ہے۔۱۴؎
    کہ وہ لوگ جو اللہ اور رسول سے لڑتے اور زمین میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی جزاء یہ ہے کہ انہیں قتل کیا جائے یا انہیں صلیب دیا جائے یا ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو مقابل پر کاٹ دیا جائے یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے۔ اور یہ امر ان کے لئے دنیا میں رسوائی کا موجب ہو گا اور آخرت میں عذاب عظیم کا موجب۔
    عرب سے کُفّار کے نکالے جانے کا حکم
    (۹) اسی طرح سورہ توبہ کی پہلی آیات میں عرب سے کُفّار کے
    نکالے جانے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے۔

    ۱۵؎
    یعنی اے محمد رسول اللہ ﷺ ان لوگوں میںاعلان کر دو کہ خدا اور رسول نے تمہاری ذلّت کے متعلق جو پیشگوئیاں کی تھیں وہ پوری ہو گئیں۔ اب خدا اور رسول پر تمہارا کوئی الزام نہیں لگ سکتا۔ پس اِن کو کہو کہ اب جاؤ اور سارے عرب میں چار ماہ پھر کر دیکھ لو کہ کہیں بھی تمہاری حکومت رہ گئی ہے۔ یقینا تمہیں معلوم ہو گا کہ تم اللہ تعالیٰ کو شکست نہیں دے سکے۔ اور خدا ہی ہے جس نے تمہیں رُسوا کیا۔ اسی طرح حج اکبر کے دن لوگوں میں اعلان کر دو کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں کے تمام اعتراضات سے ہو چکا ہے اور تمہارے جس قدر اعتراضات تھے وہ دُور ہو گئے۔ اگر وہ توبہ کر لیں تو یہ ان کے لئے بہتر ہو گا اور اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو جان لو کہ اَب بقیہ عرب میں ان کی تھوڑی بہت اگر کچھ حکومت باقی ہے تو وہ بھی تباہ ہو جائے گی۔ سوائے ان کے جو اُن مشرکوں میں سے تمہارے ساتھ معاہدہ کر لیں۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ انہوں نے معاہدہ کو کسی صورت میں نہ توڑا ہو اور نہ انہوں نے تمہارے خلاف دشمنوں کی کسی قسم کی مدد کی ہو۔ ایسے لوگوں کے ساتھ تم معاہدہ کو نبھاؤ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت رکھتا ہے۔ لیکن ان کے علاوہ اور جس قدر مشرک ہیں ان میںایک اعلان کر دو اور وہ یہ کہ آج سے چار ماہ کے بعد وہ عرب میں سے نکل جائیں اگر وہ نہ نکلیں اور عرب میں ہی ٹھہرے رہیں تو چونکہ انہوں نے گورنمنٹ کا آرڈر نہیں مانا ہو گا اس لئے ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اس کے بعد تم مشرکوں کو جہاں بھی پاؤ قتل کر دو اور جہاں پاؤ ان کو پکڑ لو اور پکڑ کر قید میں ڈال دو اور ان کی گھات میں تم ہر جگہ بیٹھو۔ ہاں اگر وہ مسلمان ہو جائیں اور نمازیں پڑھیں اور زکوٰتیں دیں تو بے شک انہیں چھوڑ دو کیونکہ خدا غفور اور رحیم ہے۔
    اَب دیکھو حکومت کس چیز کا نام ہوتا ہے۔ حکومت اس بات کا نام نہیں کہ میاں، بیوی سے اپنی باتیں منوائے اور بیوی، میاں سے، بلکہ حکومت کا ایک خاص دائرہ ہوتا ہے یہ نہیں کہ جو بھی کسی کو حکم دے اسے بادشاہ کہہ دیا جائے۔ انگریزی میں لطیفہ مشہور ہے کہ ایک بچے نے اپنے باپ سے پوچھا کہ ابا جان بادشاہ کس کو کہتے ہیں؟ باپ کہنے لگا بادشاہ وہ ہوتا ہے جس کی بات کو کوئی ردّ نہ کر سکے۔بچہ یہ سن کر کہنے لگا کہ ابا جان پھر تو ہماری اماں جان بادشاہ ہیں۔ معلوم ہوتا ہے وہ باپ ’’زَن مرید‘‘ ہو گا۔ تبھی اس کے بچہ نے کہا کہ اگر بادشاہ کی یہی تعریف ہے تو یہ تعریف تو میری والدہ پر صادق آتی ہے۔
    حکومت کیلئے ضروری شرائط
    غرض حکومت کا ایک خاص دائرہ ہوتا ہے اور جب ہم تسلیم کریں گے کہ فلاں حکومت ہے تو اس میں
    چند شرائط کا پایا جانا بھی ضروری ہو گا جن میں سے بعض یہ ہیں:۔
    (۱) حکومت کیلئے ملکی حدود کا ہونا ضروری ہے۔ یعنی جو نظام بھی رائج ہو اس کی ایک حد بندی ہو گی اور کہا جا سکے گا کہ فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک اس کا اثر ہے۔ گویا ملکی حدود حکومت کا ایک جُزوِ لَایَنْفَکَ ہے۔
    (۲) حکومت کو افراد کی مالی جانی اور رہائشی آزادی پر پابندیاں لگانے کا اختیار ہوتا ہے۔ مثلاً حکومت کو اختیار ہے کہ وہ کسی کو قید کر دے، کسی کو اپنے ملک سے باہر نکال دے یا کسی سے جبراً روپیہ وصول کر لے۔ اسی طرح جانی آزادی پر بھی وہ پابندی عائد کر سکتی ہے۔ مثلاً وہ حکم دے سکتی ہے کہ ہر نوجوان فوج میں بھرتی ہو جائے۔ یا اگر کہیں والنٹیئروں کی ضرورت ہو تو وہ ہر ایک کو بُلا سکتی ہے۔
    (۳) تیسرے، لوگوں پر ٹیکس لگانے اور ٹیکسوں کے وصول کرنے کا بھی اسے اختیار ہوتا ہے۔
    اسی طرح ایسے ہی اختیارات رکھنے والے ممالک سے اسے معاہدات کرنے کا اختیار ہوتا ہے، اسے باہر سے آنے والوں اور باہر جانے والوں پر پابندیاں لگانے کا اختیار ہوتا ہے، اسے تجارت اور لین دین کے متعلق قوانین بنانے کا اختیار ہوتا ہے، اسے قضا کا اختیار ہوتا ہے، غرض یہ تمام کام حکومت کے سپرد ہوتے ہیں اور اسے اختیار ہوتا ہے کہ وہ جس طرح چاہے ان امور کو سرانجام دے۔ بالخصوص ملکی حدود کا ہونا حکومت کے لئے نہایت ہی ضروری ہے کیونکہ اسی کے ماتحت وہ فیصلہ کرتی ہے کہ فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک رہنے والوں پر ہمارے احکام حاوی ہوں گے اور ان کا فرض ہو گا کہ وہ ان کی اطاعت کریں اس ملکی حد میں چاہے کسی وقت غیرآجائیں ان کے لئے بھی حکومت کے احکام کی اطاعت ضروری ہو گی اور جو اس حد میں سے نکل جائے وہ ایک حد تک ان قوانین کی اطاعت سے بھی باہر ہو جاتا ہے۔ غرض حکومت کا کام بعض باتوں کا حکم دینا بعض باتوں سے روکنا، افراد کی مالی جانی اور رہائشی آزادی پر ضرورت کے وقت پابندیاں عائد کرنا، ٹیکس وصول کرنا، لوگوں کوفوج میں بھرتی کرنا، معاہدات کرنا اور قضاء کے کام کو سرانجام دینا ہوتا ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو یہ سب اختیارات دیئے گئے ہیں یا نہیں۔
    پہلا امر مُلکی حد بندی تھی۔ سو اس اختیار کا رسول کریم ﷺ کو ملنا ایک واضح امر ہے کیونکہ آپ نے اعلان کر دیا کہ اتنے حصہ میں مسلمانوں کے سوا اور کوئی نہیں رہ سکتا اور اگر کوئی آیا تو اسے نکال دیا جائے گا۔ دوسری طرف فرما دیا کہ جو لوگ اس حد کے اندر رہتے ہیں ان کے لئے یہ یہ شرائط ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو دوسروں سے معاہدات کرنے کا بھی اختیار دیا اور پھر شرائط کے ماتحت اس بات کا بھی اختیار دیا کہ آپ اگر مناسب سمجھیں تو معاہدہ کو منسوخ کر دیں اسی طرح آپ کو ٹیکس وصول کرنے کا بھی اختیار دیا گیا۔ آپ کو ضرورت پر لوگوں کی مالی، جانی اور رہائشی آزادی پر پابندیاں عائد کرنے کا بھی اختیار دیا گیا۔ غرض حکومت کے جس قدر اختیارات ہوتے ہیں وہ تمام رسول کریم ﷺ کواللہ تعالیٰ نے دے دیئے ۔ حکومت کا کام بعض باتوں کا حکم دینا ہوتا ہے رسول کریم ﷺ کو خدا تعالیٰ یہ حق دیتا ہے۔ حکومت کا کام بعض باتوں سے روکنا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو یہ حق بھی دیتا ہے۔ پھر افراد کی مالی، جانی اور رہائشی آزادی کو حکومت ہی خاص حالات میں سَلب کر سکتی ہے۔ چنانچہ اس کا حق بھی اللہ تعالیٰ آپ کو دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم ان کے مال لے سکتے ہو، ٹیکس وصول کر سکتے ہو، جانیں ان سے طلب کر سکتے ہو اور جنگ پر لے جا سکتے ہو۔ اسی طرح ملک سے لوگوں کو نکالنے کا اختیار بھی آپ کو دیا گیا۔ پھر قضاء حکومت کا کام ہوتا ہے سو یہ حق بھی اسلام آپ کو دیتا ہے اور آپ کے فیصلہ کو آخری فیصلہ قرار دیتا ہے۔ پھر حکومت کی قسم بھی بتا دی کہ رسول کریم ﷺ اس بات کے پابند نہیں کہ تمہاری سب باتیں مانیں بلکہ تم اس بات کے پابند ہو کہ ان کی سب باتیں مانوکیونکہ اگر یہ تمہاری سب باتیں مانے تو اس کے خطرناک نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔
    پس ان آیات سے ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ کا تعلق امورِ حکومت کے انصرام سے وقتی ضرورت کے ماتحت نہ تھا بلکہ شریعت کا حصہ تھا اور جس طرح نماز روزہ وغیرہ احکام مذہب کا ہیں اسی طرح رسول کریم ﷺ کا نظامِ ملکی کا کام اور طریق بھی مذہب اور دین کا حصہ ہے اور دُنیوی یا وقتی ہرگز نہیں کہلا سکتا۔
    کیا نظام سے تعلق رکھنے والے احکام صرف رسول کریم ﷺ کی ذات سے مخصوص تھے؟
    خلافت کی اس دلیل پر کہ اسلام نے کوئی معیّن نظام پیش
    نہیں کیا جو یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اس طرح رسول کریم ﷺ کے اعمال کا وہ حصہ جو نظام کے قیام سے تعلق رکھتا ہے مذہبی حیثیت نہیں رکھے گا بلکہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ کام محض ضرورتِ زمانہ کے ماتحت آپ کرتے تھے اسے علی بن عبدالرزاق نے بھی محسوس کیا ہے اور چونکہ وہ آدمی ذہین ہے اس لئے اس نے اس مشکل کو بھانپا ہے اور یہ سمجھ کر کہ لوگ اس پر یہ اعتراض کریں گے کہ جب قرآن کریم میں ایسے احکام موجود ہیں جن کا تعلق حکومت کے ساتھ ہے تو تم کس طرح کہتے ہو کہ رسول کریمﷺ نے اِن کاموں کو وقتی ضرورت کے ماتحت کیا اور اسلام نے کوئی مخصوص نظامِ حکومت پیش نہیں کیا اسے اس رنگ میں حل کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کہتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی حکومت حکومتِ رسالت و محبت تھی نہ کہ حکومتِ ملوکیت۔ وہ کہتا ہے بیشک رسول کریم ﷺ نے کئی قسم کے احکام دیئے مگر وہ احکام رسول ہونے کے تھے بحیثیت نظام کے سردار ہونے کے نہیں تھے۔ اور اس سے اس کی غرض یہ ہے کہ چونکہ وہ احکام نظام کا سردار ہونے کے لحاظ سے نہیں دیئے گئے اس لئے وہ دوسروں کی طرف منتقل نہیں ہو سکتے اور چونکہ وہ تمام احکام بحیثیت رسول تھے اس لئے آپ کی وفات کے ساتھ ہی وہ احکام بھی ختم ہو گئے۔ پھر وہ ان تمام اختیارات کورسول کریم ﷺ کے ساتھ مخصوص ثابت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ رسول کے ساتھ لوگوں کو غیر معمولی محبت ہوتی ہے اور اس محبت کی وجہ سے ہر شخص اُن کی بات کو تسلیم کر لیتا ہے یہی کیفیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھی۔ صحابہؓ کو آپ کے ساتھ عشق تھا اور وہ آپ کے ہر حکم پر اپنی جانیں فدا کرنے کیلئے تیار رہتے تھے۔ پس آپ نے جو حکم بھی دیا وہ انہوں نے مان لیا اور وہ ماننے پر مجبور تھے کیونکہ وہ اگر عاشق تھے تو آپ معشوق، اور عاشق اپنے معشوق کی باتوں کو مانا ہی کرتا ہے۔ مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ احکام ہمیشہ کیلئے واجب العمل بن گئے بلکہ وہ صرف آپ کے ساتھ مخصوص تھے اور جب آپ وفات پا گئے تو اُن احکام کا دائرہ عمل بھی ختم ہو گیا۔
    نبی کے ساتھ اُس کے متبّعین کی غیر معمولی محبت
    علی بن عبدالرزاق کی یہ دلیل اِس لحاظ سے تو
    درست ہے کہ واقع میں نبی کے ساتھ اُس کے ماننے والوں کو غیر معمولی محبت ہوتی ہے۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ہماری جماعت کے ہزاروں لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو کچھ کرتے دیکھتے تھے وہی خود بھی کرنے لگ جاتے۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے کسی نے بطور اعتراض کہا کہ آپ کی جماعت کے بعض لوگ ڈاڑھی منڈواتے ہیںاور یہ کوئی پسندیدہ طریق نہیں۔ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا جب اِن کے دلوں میں محبتِ کامل پیدا ہو جائے گی اور وہ دیکھیں گے کہ مَیں نے ڈاڑھی رکھی ہوئی ہے تو وہ خود بھی ڈاڑھی رکھنے لگ جائیں گے اور کسی وعظ و نصیحت کی انہیں ضرورت نہیں رہے گی۔
    پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نبی اور اس کے ماننے والوں کے درمیان محبت کا ایک ایسا رشتہ ہوتا ہے جس کی نظیر اور کسی دُنیوی رشتہ میں نظر نہیں آ سکتی بلکہ بعض دفعہ محبت کے جوش میں انسان بظاہر معقولیت کو بھی چھوڑ دیتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی عادت تھی کہ جب وہ حج کیلئے جاتے تو ایک مقام پر پیشاب کرنے کیلئے بیٹھ جاتے اور چونکہ وہ بار بار اُسی مقام پر بیٹھتے اس لئے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ کو اِسی مقام پر پیشاب آتا ہے اِدھر اُدھر کسی اور جگہ نہیں آتا؟ انہوں نے کہا اصل بات یہ ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں پیشاب کرنے کیلئے بیٹھے تھے اس وجہ سے جب بھی میں یہاں سے گزرتا ہوں مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یاد آ جاتے ہیں اور میں اُس جگہ تھوڑی دیر کیلئے ضرور بیٹھ جاتاہوں۔ ۱۶؎
    تو محبت کی وجہ سے انسان بعض دفعہ ایسی نقلیں بھی کر لیتا ہے جو بظاہر غیر معقول نظر آتی ہیں۔ پس یہ جو اُس نے کہا کہ چونکہ صحابہؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تھی اس لئے وہ آپ کی اطاعت کرتے تھے اِسے ہم بھی تسلیم کرتے ہیں مگر یہاں یہ سوال نہیں کہ وہ لوگ آپ کی محبت سے اطاعت کرتے تھے یا دبائو سے بلکہ سوال یہ ہے کہ آیا اسلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی اقتدار ملک اور جان پر دیا تھا یا نہیں۔ اِسی طرح نہ ماننے والوں پر آپ کو کوئی اختیار دیا تھا یا نہیں۔ اگر قرآن میں صرف احکام بیان ہوتے اور نہ ماننے والوں کے متعلق کسی قسم کی سزا کا ذکر نہ ہوتا تو کہا جا سکتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احکام دیئے اور صحابہؓ نے اُس عشق کی وجہ سے جو انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھا ان احکام کو قبول کر لیا۔ مگر ہم تو دیکھتے ہیںکہ قرآن میں سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ اگر فلاں جُرم کرو گے تو تمہیں یہ سزا ملے گی اور فلاں جُرم کرو گے تو یہ سزا ملے گی اور جب کہ قرآن نے سزائیں بھی مقرر کی ہیں تو معلوم ہوء ا کہ محبت کا اصول کُلّیۃً درست نہیں کیونکہ جہاں احکام کی اطاعت محض محبت سے وابستہ ہو وہاں سزائیں مقرر نہیں کی جاتیں۔ پھر اسلام نے صرف چند احکام نہیں دیئے بلکہ نظامِ حکومت کی تفصیل بھی بیان کی ہے۔ گو بعض جگہ اس نے تفصیلات کو بیان نہیں بھی کیا اور اس میں لوگوں کیلئے اُس نے اجتہاد کے دروازہ کو کُھلا رکھا ہے تا کہ اُن کی عقلی اور فکری استعدادوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ چنانچہ بعض امور میںحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کر کے اصل اسلامی مسئلہ لوگوں کے سامنے پیش کیا اور بعض امور میں حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، اور حضرت علی رضی اللہ عنہم نے حالاتِ پیش آمدہ کے مطابق لوگوں کی رہبری کی بلکہ بعض امور ایسے ہیں جن کے متعلق آج تک غور و فکر سے کام لیا جا رہا ہے۔
    خیارِ بلوغ کا مسئلہ
    مثلاً باپ اگر بیٹی کا بلوغت سے پہلے نکاح کر دے تو بالغ ہونے پر اسے فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہے یا نہیں؟ یہ ایک سوال ہے جو
    عام طور پر پیدا ہوتا رہتا ہے۔ فقہ کی پُرانی کتابوں میں یہی ذکر ہے کہ باپ اگر بیٹی کا نکاح کر دے تو اُسے خیارِ بلوغ حاصل نہیں ہوتا مگر مَیں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ لڑکی کو خیارِ بلوغ حاصل ہے اور اسے اس بات کا حق ہے کہ اگر وہ بالغ ہونے پر اس رشتہ کو پسند نہ کرے تو اسے ردّ کر دے۔ اسی طرح اور بہت سے فقہی مسائل ہیں جو اسلامی تعلیم کے ماتحت آہستہ آہستہ نکلتے آتے ہیں اور بہت سے آئندہ زمانوں میں نکلیں گے۔ پس ہمیں تفصیلات سے غرض نہیں اورنہ اس وقت یہ سوال پیش ہے کہ اسلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی خاص رنگ کی حکومت دی تھی یا نہیںکیونکہ نظامِ حکومت علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں۔ انگلستان کا امریکہ سے امریکہ کا روس سے اور روس کا جرمنی سے نظامِ حکومت مختلف ہے مگر اس اختلاف کی وجہ سے یہ تونہیں کہ ایک کو ہم حکومت کہیں اور دوسرے کو ہم حکومت نہ کہیں۔ حکومت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی خاص نظام مقرر کیا جائے اور لوگوں کی باگ ڈور ایک آدمی یا ایک جماعت کے سپرد کر کے ملکی حدود کے اندر اس کو قائم کیا جائے۔ پس دیکھنا یہ ہے کہ کسی نظام کا خواہ وہ دوسرے نظاموں سے کیسا ہی مخالف کیوں نہ ہو اسلام حکم دیتا ہے یا نہیں اور اُس نظام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلاتے تھے یا نہیں۔
    اسلام ملکی اور قانونی نظام کا قائل ہے
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام ملوکیت کا قائل نہیں کیونکہ ملوکیت ایک خاص معنی
    رکھتی ہے اور اُن معنوں کی حکومت کا اسلام مخالف ہے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متعلق بھی فرمایا کہ مَیں بادشاہ نہیں اور خلفاء کے متعلق بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملوک کا لفظ استعمال نہیں فرمایا مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ اسلام مذہبی طور پر کسی بھی ملکی نظام کا قائل نہیں۔ اگر کوئی نظام قرآن اور اسلام سے ثابت ہو تو ہم کہیں گے کہ اسلام ملوکیت کا بے شک مخالف ہے مگر ایک خاص قسم کے نظام کو اس کی جگہ قائم کرتا ہے اور وہ اسلام کا مذہبی حصہ ہے اور چونکہ وہ مذہبی حصہ ہے اُس کا قیام مسلمانوں کیلئے ضروری ہے جہاں تک اُن کی طاقت ہو۔ حکومت در حقیقت نام ہے ملکی حدود اور اس میں خاص اختیارات کے اجراء کا۔ کسی خاص طرز کا نام نہیں اور ملکی حدود اور خاص اختیارات کا نفاذ قرآن کریم سے ثابت ہے۔جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہے جن کو مَیں ابھی پیش کر چکا ہوں۔ پس جب کہ ایک ملکی حد اور اس حد میں ایک خاص قانون اور ایک اصلی باشندے ملک کے اور ایک معاہد اور ایک غیر ملکی کا وجود پایا جاتا ہے تو ایک خاص نظامِ حکومت بھی ثابت ہے اس کا نام ہم بھی ملوکیت نہیں رکھتے کیونکہ ایسے معنوں کی حامل ہے جن کی اسلام اجازت نہیں دیتا لیکن بہرحال ایک ملکی اور قانونی نظام ثابت ہے اور اسی کے وجود کو ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں اور اسی نظام کے قیام کیلئے ہم خلافت کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ پس خلافت ایک اسلامی نظام ہے نہ کہ وقتی مصلحت کا نتیجہ۔
    مَیں اس امر کو مانتا ہوں کہ خلافت کے انکار سے منطقی نظریہ وہی قائم ہوتا ہے جو علی بن عبدالرزاق نے قائم کیا ہے اور خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نظام کو بھی کسی نہ کسی رنگ میں ردّ کرنا پڑتا ہے اور جو لوگ اِس نظریہ کو تسلیم کئے بغیر خلافت کا انکار کرتے ہیں وہ یا تو بیوقوف ہیں یا لوگوں کی آنکھوں میں خاک جھونکنا چاہتے ہیں۔ اب جب کہ قرآن کریم سے یہ امر ثابت ہو گیا کہ اسلام امورِ ملکی اور نظامِ قومی کو مذہب کا حصہ قرار دیتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اِن امور میں حصہ لینا اسے مذہب کا جزو قرار دیتا ہے تو اِن امور میں آپ کی ہدایت اور راہنمائی اُسی طرح سنت اور قابلِ نمونہ ہوئی جس طرح کہ نماز روزہ وغیرہ احکام میں اور اِن امور میں کسی آزادی کا مطالبہ اُسی وقت تسلیم ہو سکتا ہے جب کہ انسان اسلام سے بھی آزادی کا مطالبہ کرے اور جب یہ ثابت ہو گیا تو ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو گیا کہ جس طرح نماز روزہ کے احکام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک ختم نہیں ہو گئے اسی طرح نظامِ قومی یا نظامِ ملکی کے احکام بھی آپ کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہو گئے کیونکہ جس طرح فرد کی باطنی ترقی کیلئے نماز روزہ کی ضرورت باقی ہے اِسی طرح قوم کی ترقی کیلئے ان دوسری قسم کے احکام کے نفاذ اور انتظام کی بھی ضرورت ہے۔ اور جس طرح نماز باجماعت جو ایک اجتماعی عبادت ہے آپ کے بعد آپ کے نواب کے ذریعے ادا ہوتی رہنی چاہئے اسی طرح وہ دوسرے احکام بھی آپ کے نواب کے ذریعے سے پورے ہوتے رہنے چاہئیں۔ اور جس طرح نماز روزہ کے متعلق خداتعالیٰ نے جو احکام دیئے اُن کا یہ مطلب نہیں تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جائیں تو تم بے شک نہ نمازیں پڑھو اور نہ روزے رکھو اسی طرح نظام کے متعلق اسلام نے جو احکام دیئے اُن سے یہ مقصد نہیں تھا کہ وہ بعد میں قابلِ عمل نہیں رہیں گے۔ بلکہ جس طرح نماز میں ایک کے بعد دوسرا امام مقرر ہوتا چلا جاتا ہے اِسی طرح نظام سے تعلق رکھنے والے احکام پر بھی آپ کے نائبین کے ذریعہ ہمیشہ عمل ہوتے رہنا چاہئے۔
    قبائل عرب کی بغاوت کی وجہ
    مَیں سمجھتا ہوں اِسی دھوکا کی وجہ سے کہ نظام سے تعلق رکھنے والے احکام رسول کریم ﷺ کی
    ذات سے مختص تھے آپ کی وفات کے بعد عرب کے قبائل نے بغاوت کر دی اور انہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔ وہ بھی یہی دلیل دیتے تھے کہ خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺکے سِوا کسی اور کو زکوٰۃ لینے کا اختیار ہی نہیں دیا۔ چنانچہ وہ فرماتا ہے۔ اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم تو ان کے اموال کا کچھ حصہ بطور زکوٰۃ لے۔ یہ کہیں ذکر نہیں کہ کسی اور کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زکوٰۃ لینے کا اختیار ہے۔ مگر مسلمانوں نے ان کی اس دلیل کو تسلیم نہ کیا حالانکہ وہاں خصوصیت کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی مخاطب کیا گیا ہے۔ بہرحال جو لوگ اس وقت مرتد ہوئے ان کی بڑی دلیل یہی تھی کہ زکوٰۃ لینے کا صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار حاصل تھا کسی اور کو نہیں۔ اور اس کی وجہ یہی دھوکا تھا کہ نظام سے تعلق رکھنے والے احکام ہمیشہ کے لئے قابلِ عمل نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ احکام مخصوص تھے۔ مگر جیسا کہ مَیں ثابت کر چکا ہوں یہ خیال بالکل غلط ہے اور اصل حقیقت یہی ہے کہ جس طرح نماز روزہ کے احکام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک ختم نہیں ہو گئے اسی طرح قومی یا ملکی نظام سے تعلق رکھنے والے احکام بھی آپ کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہو گئے اور نماز باجماعت کی طرح جو ایک اجتماعی عبادت ہے اِن احکام کے متعلق بھی ضروری ہے کہ ہمیشہ مسلمانوں میں آپ کے نائبین کے ذریعہ اِن پر عمل ہوتا رہے۔
    مسئلہ خلافت کی تفصیلات
    اس اصولی بحث کے بعد مَیں خلافت کے مسئلہ کی تفصیلات کی طرف آتا ہوں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ نبی کو
    خدا تعالیٰ سے شدید اتصال ہوتا ہے ایسا شدید اتصال کہ بعض لوگ اسی وجہ سے دھوکا کھا کر یہ خیال کر لیتے ہیں کہ شاید وہ خدا ہی ہے جیسا کہ عیسائیوں کو اِسی قسم کی ٹھوکر لگی لیکن جنہیں یہ ٹھوکر نہیں لگتی اور وہ نبی کو بشر ہی سمجھتے ہیں وہ بھی اس شدید اتصال کی وجہ سے جو نبی کو خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے اور اس وجہ سے کہ اُس کے وجود میں اس کے اَتباع خدائی نشانات دیکھتے رہتے ہیں اس کے زمانہ میں یہ خیال تک نہیں کرتے کہ وہ فوت ہو جائے گا۔ یہ نہیں کہ وہ نبی کو بشر نہیں سمجھتے بلکہ شدتِ محبت کی وجہ سے وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم پہلے فوت ہونگے اور نبی کو اللہ تعالیٰ ابھی بہت زیادہ عمر دے گا۔ چنانچہ آج تک کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے متعلق اس کی زندگی میں اس کے متّبعین نے یہ سمجھا ہو کہ وہ فوت ہو جائے گا اور ہم زندہ رہیں گے بلکہ ہر شخص (سِوائے حدیث العہد اور قلیل الایمان لوگوں کے) یہ خیال کرتا ہے کہ نبی تو زندہ رہے گا اور وہ فوت ہو جائیں گے اور اس وجہ سے وہ ان اُمور پر کبھی بحث ہی نہیں کرتے جو اس کے بعد اُمت کو پیش آنے والے ہوتے ہیں اور زمانوں میں تو لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ اگر فلاں فوت ہو گیا تو کیا بنے گا۔ مگر نبی کے زمانہ میں انہیں اس قسم کا خیال تک نہیں آتا اور اس کی وجہ جیسا کہ مَیں بیان کر چکا ہوں شدتِ محبت ہوتی ہے۔ چنانچہ اس کا ہمیں ذاتی تجربہ بھی ہے۔
    ایک ذاتی تجربہ
    ہم میں سے کوئی احمدی سوائے اس کے کہ جس کے دل میں خرابی پیدا ہو چکی ہو یا جس کے ایمان میں کوئی نقص واقع ہو چکا ہو ایسا نہیں تھا
    جس کے دل میں کبھی بھی یہ خیال آیا ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو فوت ہو جائیں گے اور ہم آپ کے پیچھے زندہ رہ جائیں گے۔ چھوٹے کیا اور بڑے کیا، بچے کیا اور بوڑھے کیا، مرد کیا اور عورتیں کیا سب یہی سمجھتے تھے کہ ہم پہلے فوت ہونگے اور حضرت صاحب زندہ رہیں گے۔ غرض کچھ شدتِ محبت کی وجہ سے اور کچھ اس تعلق کی عظمت کی وجہ سے جو نبی کو خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ معلوم نہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کتنی لمبی عمر دے گا۔ چاہے کوئی شخص یہ خیال نہ کرتا ہو کہ یہ نبی ہمیشہ زندہ رہے گا مگر یہ خیال ضرور آتا ہے کہ ہم پہلے فوت ہونگے اور خدا تعالیٰ کا نبی دنیا میں زندہ رہے گا۔ چنانچہ بسا اوقات اٹھارہ اٹھارہ بیس بیس سال کے نوجوان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوتے اور نہایت لجاجت سے عرض کرتے کہ حضور ہمارا جنازہ خود پڑھائیں اور ہمیں تعجب آتا کہ یہ تو ابھی نوجوان ہیں اور حضرت صاحب ستّر برس سے اوپر کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اس کے علاوہ آپ بیمار بھی رہتے ہیں مگر یہ کہتے ہیں کہ ہمارا جنازہ آپ پڑھائیں۔ گویا انہیں یقین ہے کہ حضرت صاحب زندہ رہیں گے اور وہ آپ کے سامنے فوت ہونگے۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام جب وفات پا گئے تو دس پندرہ دن تک سینکڑوں آدمیوں کے دلوں میں کئی دفعہ یہ خیال آتا کہ آپ ابھی فوت نہیں ہوئے۔ میرا اپنا یہ حال تھا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی وفات کے تیسرے دن مَیں ایک دوست کے ساتھ باہر سیر کیلئے گیا اور دارالانوار کی طرف نکل گیا۔ ان دنوں ایک اعتراض کے متعلق بڑا چرچا تھا اور سمجھا جاتا تھا کہ وہ بہت ہی اہم ہے۔ راستہ میں مَیں نے اس اعتراض پر غور کرنا شروع کر دیا اور خاموشی سے سوچتا چلا گیا۔ مجھے یکدم اس اعتراض کا ایک نہایت ہی لطیف جواب سُوجھ گیا اور مَیں نے زور سے کہا کہ مجھے اس اعتراض کا جواب مل گیا ہے۔ اب میں گھر چل کر حضرت صاحب سے اس کا ذکر کروں گا اور آپ کو بتائوں گا کہ آپ کی وفات پر جو فلاں اعتراض دشمنوں نے کیا ہے اس کا یہ جواب ہے حالانکہ اس وقت حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو وفات پائے تین دن گزر چکے تھے۔ تو وہ لوگ جنہوں نے اس عشق کا مزا چکھا ہوء ا ہے وہ جانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی زندگی میں وہ کیا خیال کرتے تھے اور آپ کی وفات پر اُن کی کیا قلبی کیفیات تھیں۔ یہی حال صحابہؓ کا تھا۔ انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو عشق تھا اُس کی مثال تاریخ کے صفحات میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔ اس عشق کی وجہ سے صحابہؓ کیلئے یہ تسلیم کرنا سخت مشکل تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جائیں گے اور وہ زندہ رہیںگے۔ یہ نہیں کہ وہ آپ کو خدا سمجھتے تھے، وہ سمجھتے تو آپ کو انسان ہی تھے مگر شدتِ محبت کی وجہ سے خیال کرتے تھے کہ ہماری زندگی میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ آپ کی وفات پر جو واقعہ ہوء ا وہ اس حقیقت کی ایک نہایت واضح دلیل ہے۔
    رسول کریم ﷺ کی وفات پر صحابہؓ کی کیفیت
    حدیثوں اور تاریخوں میں آتا ہے کہ رسول کریم
    صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر جب لوگوں میں مشہور ہوئی تو حضرت عمرؓ تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ یہ افواہ محض منافقوں کی شرارت ہے ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اور وہ فوت نہیں ہوئے۔ آپ آسمان پر خدا سے کوئی حکم لینے کیلئے گئے ہیں اور تھوڑی دیر میں واپس آ جائیں گے اور منافقوں کو سزا دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے اس بات پر اتنا اصرار کیا کہ انہوں نے کہا اگر کسی نے میرے سامنے یہ کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو مَیں اُس کی گردن اُڑا دوں گا اور یہ کہہ کر ایک جوش اور غضب کی حالت میں تلوار ہاتھ میں لٹکائے مسجد میں ٹہلنے لگ گئے۔۱۷؎ لوگوں کو ان کو یہ بات اتنی بھلی معلوم ہوئی کہ ان میں سے کسی نے اس بات کے انکار کی ضرورت نہ سمجھی حالانکہ قرآن میں رسول کریم ﷺ کی نسبت یہ صاف طور پر لکھا ہوئا تھا کہ ۱۸؎ اگر محمدرسول اللہ ﷺ فوت ہو جائیں یا خداتعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بَل پھر جاؤ گے؟ مگر باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں ایسی صریح موجود تھی جس سے رسول کریم ﷺ کا وفات پانا ثابت ہو سکتا تھا پھر بھی انہیں ایسی ٹھوکر لگی کہ ان میں سے بعض نے رسول کریم ﷺ کی وفات پر یہ خیال کر لیا کہ آپ فوت نہیں ہوئے یہ منافقوں نے جھوٹی افواہ اُڑا دی ہے اور اس کی وجہ یہی تھی کہ محبت کی شدّت سے وہ خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ کبھی ایسا ممکن ہے کہ رسول کریم ﷺ فوت ہو جائیں اور وہ زندہ رہیں۔ بعض صحابہؓ جو طبیعت کے ٹھنڈے تھے انہوں نے جب یہ حال دیکھا تو انہیں خیال آیا کہ ایسا نہ ہو لوگوں کو کوئی ابتلاء آ جائے چنانچہ وہ جلدی جلدی سے گئے اور حضرت ابوبکرؓ کو بلا لائے۔ جب وہ مسجد میں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ہر شخص جوش اور خوشی کی حالت میں نعرے لگا رہا ہے اور کہہ رہا ہے منافق جھوٹ بولتے ہیں محمد رسول اللہ ﷺ فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہیں۔ گویا ایک قسم کے جنون کی حالت تھی جو ان پر طاری تھی۔ جیسے میں نے کہہ دیا تھا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو بتاؤں گا کہ آپ کی وفات پر دشمنوں نے جو فلاں اعتراض کیا ہے اس کا یہ جواب ہے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے جب یہ حالت دیکھی تو آپ اس کمرہ میں تشریف لے گئے جہاں رسول کریم ﷺ کا جسد مبارک پڑا ہوء ا تھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول کریم ﷺ کا کیا حال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آپؐ فوت ہو چکے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے یہ سنتے ہی کپڑا اُٹھایا اور آپ کی پیشانی پر انہوں نے بوسہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔ یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک تو آپ وفات پا جائیں اور دوسری طرف قوم پر موت وارد ہو جائے اور وہ صحیح اعتقادات سے منحرف ہو جائے۔ پھر آپ باہر تشریف لائے اور منبر پر کھڑے ہو کر آپ نے ایک وعظ کیا جس میں بتایا کہ محمد رسول اللہ ﷺ فوت ہو چکے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی کہ۱۹؎ اس کے بعدآپ نے بڑے زور سے کہا کہ اے لوگو! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیشک اللہ کے رسول تھے مگر اب وہ فوت ہو چکے ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کیا کرتا تھا تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ آپؐ وفات پا چکے ہیں لیکن اگر تم خدا کی عبادت کیا کرتے تھے تو تم سمجھ لو کہ تمہارا خدا زندہ ہے اور اس پر کبھی موت وارد نہیں ہو سکتی۔ حضرت عمرؓ جو اس وقت تلوار کی ٹیک کے ساتھ کھڑے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ ابھی یہ منبر سے اُتریں تو مَیں تلوار سے ان کی گردن اُڑا دوں۔ انہوں نے جس وقت یہ آیت سُنی مَعًا ان کی آنکھوں کے سامنے سے ایک پردہ اُٹھ گیا۔ ان کے گھٹنے کانپنے لگ گئے۔ ان کے ہاتھ لرزنے لگ گئے اور ان کے جسم پر ایک کپکپی طاری ہو گئی اور وہ ضُعف سے نڈھال ہو کر زمین پر گِر گئے۔ باقی صحابہؓ بھی کہتے ہیں کہ ہماری آنکھوں پر پہلے پردے پڑے ہوئے تھے مگر جب ہم نے حضرت ابوبکرؓ سے یہ آیت سنی تو وہ تمام پردے اُٹھ گئے۔ دنیا ان کی آنکھوں میں اندھیر ہو گئی اور مدینہ کی تمام گلیوں میں صحابہؓ روتے پھرتے تھے اور ہر ایک کی زبان پر یہ آیت تھی کہ ۲۰؎
    حضرت حسانؓ کا یہ شعر بھی اسی کیفیت پر دلالت کرتا ہے کہ
    کُنْتَ السَّوادَ لِنَا ظِرِیْ فَعَمِیَ عَلَیْکَ النَّاظِرٗ
    مَنْ شَا ئَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرٗ۲۱؎
    کہ اے خدا کے رسول! تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔ اب تیرے وفات پا جانے کی وجہ سے میری آنکھ اندھی ہو گئی ہے۔ صرف ہی ایک ایسا وجود تھا جس کے متعلق مجھے موت کا خوف تھا۔ اب تیری وفات کے بعد خواہ کوئی مرے مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہو سکتی۔
    نبی کی زندگی میں اسکی جانشینی کے مسئلہ کی طرف توجہ ہی نہیں ہو سکتی
    پس جب نبی کی زندگی میں قوم کے دل اور دماغ کی یہ کیفیت ہوتی ہے تو سمجھا جا سکتا ہے کہ خدا بھی اور نبی بھی ان کو اس ایذاء
    سے بچاتے ہیں اور اس نازک مضمون کو کہ نبی کی وفات کے بعد کیا ہو گا لطیف پیرایہ میں بیان کرتے ہیں اور قوم بھی اس مضمون کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتی اور نہ اِن امور میں زیادہ دخل دیتی ہے کہ نبی کے بعد کیا ہو گا۔ چنانچہ یہ کہیں سے ثابت نہیں کہ کسی نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا ہو کہ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! آپ جب فوت ہو جائیں گے تو کیا ہو گا؟ آیا آپ کے بعد خلافت کا سلسلہ جاری ہو گا یا کوئی پارلیمنٹ اور مجلس بنے گی جو مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے امور کا فیصلہ کرے گی کیونکہ ایسے امور پر وہی بحث کر سکتا ہے جو سنگدل ہو اور جو نبی کی محبت اور اس کی عظمت سے بالکل بیگانہ ہو۔ باقی کئی مسائل کے متعلق تو ہمیں احادیث میں نظر آتا ہے کہ صحابہؓ ان کے بارہ میں آپ سے دریافت کرتے رہتے تھے اور کُرید کُرید کر وہ آپ سے معلومات حاصل کرتے تھے مگر جانشینی کا مسئلہ ایسا تھا جو صحابہؓ آپ سے دریافت نہیں کر سکتے تھے اور نہ اس کو دریافت کرنے کا خیال تک ان کے دل میں آ سکتا تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ آپ زندہ رہیں گے اور ہم وفات پا جائیں گے۔ پس یہ مسئلہ ایک رنگ میں اور ایک حد تک پردۂ اخفاء میں رہتا ہے اور اس کے کُھلنے کا اصل وقت وہی ہوتا ہے جبکہ نبی فوت ہو جاتا ہے۔
    یہی حالات تھے جبکہ نبی کریم ﷺ فوت ہوئے آپؐ کی وفات صحابہؓ کے لئے ایک زلزلہ عظیمہ تھی۔ چنانچہ آپ کی وفات پر پہلی دفعہ انہیں یہ خیال پیدا ہوء ا کہ نبی بھی ہم سے جدا ہو سکتا ہے اور پہلی دفعہ یہ بات ان کے دماغ پر اپنی حقیقی اہمیت کے ساتھ نازل ہوئی کہ اس کے بعد انہیں کسی نظام کی ضرورت ہے جو نبی کی سنت اور خواہشات کے مطابق ہو اور اس کی پر انہوں نے غور کرنا شروع کیا۔ بیشک اس نظام کی تفصیلات قرآن کریم میں موجود تھیں مگر چونکہ وہ پہلے ہوئی تھیں اور ان کو کبھی کُریدا نہیں گیا تھا اس لئے لوگ ان آیات کو پڑھتے اور ان کے کوئی اور معنے کر لیتے۔ وہ خاص معنے نہیں کرتے تھے جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ نبی کی وفات کے بعد اس کے متّبعین کو کیا کرنا چاہئے۔
    ہر نبی کی دو زندگیاں ہوتی ہیں ایک شخصی اور ایک قومی
    درحقیقت اس جذبۂ محبت کی تہہ میں بھی ایک الٰہی حکمت کام کر رہی ہوتی ہے اور وہ یہ کہ نبی کی دو زندگیاں ہوتی ہیں۔ ایک شخصی اور ایک قومی اور اللہ تعالیٰ اِن دونوں
    زندگیوں کو الہام سے شروع کرتاہے۔ نبی کی شخصی زندگی تو الہام سے اس طرح شروع ہوتی ہے کہ جب وہ تیس یا چالیس سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے الہامات اس پر نازل ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور اسے کہا جاتا ہے کہ تو ماء مور ہے اور تجھے لوگوں کی اصلاح اور ان کی ہدایت کے لئے کھڑا کیا جاتا ہے۔ ان الہامات کے نتیجہ میں وہ اپنے اوپر خداتعالیٰ کے غیر معمولی فضل نازل ہوتے دیکھتا ہے اور وہ اپنے اندر نئی قوت، نئی زندگی اور نئی بزرگی محسوس کرتا ہے۔ اور نبی کی قومی زندگی الہام سے اس طرح شروع ہوتی ہے کہ جب وہ وفات پاتا ہے تو کسی بنی بنائی سکیم کے ماتحت اس کے بعد نظام قائم نہیں ہوتا بلکہ یکدم ایک تغیر پیدا ہوتا ہے اور خداتعالی کا مخفی الہام قوم کے دلوں کو اس نظام کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔
    قدرتِ اُولیٰ نبی کی شخصی زندگی ہوتی ہے اور قدرتِ ثانیہ قومی زندگی
    غرض جس طرح نبی کی شخصی زندگی کو اللہ تعالیٰ الہام سے شروع کرتا ہے اسی طرح وہ اس کی قومی زندگی کو جو اس کی
    وفات کے بعد شروع ہوتی ہے الہام سے شروع کرنا چاہتا ہے تاکہ دونوں میں مشابہت قائم رہے اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کا نام قدرتِ ثانیہ رکھا ہے۔ گویا قدرتِ اُولیٰ تو نبی کی شخصی زندگی ہے اور قدرتِ ثانیہ نبی کی قومی زندگی ہے۔ پس چونکہ اللہ تعالیٰ اس قومی زندگی کو ایک الہام سے اور اپنی قدرت سے شروع کرنا چاہتا ہے اس لئے اس کی کو نبی کے زمانہ میں قوم کی نظروں سے پوشیدہ رکھتا ہے۔پھر جب نبی فوت ہو جاتا ہے تو خداتعالیٰ کا مخفی الہام قوم کے دلوں کو اس زندگی کی تفصیلات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ انجیل میں بھی اسی قسم کی مثال پائی جاتی ہے جہاں ذکر آتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری کی وفات کے بعد حواری ایک جگہ جمع ہوئے تو ان پر روح القدس نازل ہوء ا اور وہ کئی قسم کی بولیاں بولنے لگ گئے اور گو انجیل نویسوں نے اس واقعہ کو نہایت مضحکہ خیز صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے مگر اس سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کی وفات کے بعد حواریوں میں یکدم کوئی ایسا تغیر پیدا ہوء ا جس کی طرف پہلے ان کی توجہ نہیں تھی اور وہ اس بات پر مجبور ہو گئے کہ اس تغیر کو روح القدس کی طرف منسوب کریں۔ غرض اللہ تعالیٰ نبی کی اس نئی زندگی کو بھی اس کی شخصی زندگی کی طرح اپنے الہام اور قدرت نمائی سے شروع کرتا ہے اور اسی وجہ سے نبی کے زمانہ میں اس کی جزئیات قوم کی نظروں سے پوشیدہ رکھی جاتی ہیں۔
    قضیۂ قرطاس پر ایک نظر
    یہاں مَیں ایک بات بطور لطیفہ بیان کر دیتا ہوں اور وہ یہ کہ شیعوں اور سُنیوں میں بہت مدت سے ایک نزاع چلا
    آتا ہے جسے قضیۂ قرطاس کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قضیۂ قرطاس کی تفصیل یہ ہے کہ احادیث میں آتا ہے رسول کریم ﷺ کو مرض الموت میں جب تکلیف بہت بڑھ گئی تو آپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ کاغذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ میں تمہارے لئے کوئی ایسی بات لکھوا دوں جس کے نتیجہ میں تم کبھی گمراہ نہ ہو۔ اس پر شیعہ کہتے ہیں کہ دراصل رسول کریم ﷺ یہ لکھوانا چاہتے تھے کہ میرے بعد علیؓ خلیفہ ہوں اور انہیں کو امام تسلیم کیا جائے لیکن حضرت عمرؓ نے آپؐ کو کچھ لکھوانے نہ دیا اور لوگوں سے کہہ دیا کہ جانے دو، رسول کریم ﷺ کو اس وقت تکلیف زیادہ ہے اور یہ مناسب نہیں کہ آپ کی تکلیف کو اور زیادہ بڑھایا جائے ہمارے لئے ہدایت کے لئے قرآن کافی ہے اس سے بڑھ کر کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ شیعہ کہتے ہیں کہ یہ ساری چالاکی عمرؓ کی تھی کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ رسول کریم ﷺ کوئی وصیت کر جائیں تاکہ بعد میں حضرت علیؓ کو محروم کر کے وہ خود حکومت کو سنبھال لیں۔ اگر وہ رسول کریم ﷺ کو وصیت لکھوانے دیتے تو آپ ضرور حضرت علی ؓ کے حق میں وصیت کر جاتے۔ اس اعتراض کے کئی جواب ہیں مگر میں اس وقت صرف دو جواب دینا چاہتا ہوں۔
    اوّل یہ کہ رسول کریم ﷺ اگر حضرت علیؓکے حق میں ہی خلافت کی وصیت کرنا چاہتے تھے تو حضرت عمرؓ کے انکار پر آپ نے دوبارہ یہ کیوں نہ فرمایا کہ قلم دوات ضرور لاؤ۔ میں تمہیں ایک اہم وصیت لکھوانا چاہتا ہوں۔ آخر آپ کو پتہ ہونا چاہئے تھا کہ عمرؓ (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ) علیؓ کا دشمن ہے اور اس وجہ سے عمرؓ کی کوشش یہی ہے کہ کسی طرح علیؓ کو کوئی فائدہ نہ پہنچ جائے۔ ایسی صورت میں یقینا رسول کریم ﷺ حضرت عمرؓ سے فرماتے کہ تم کیا کہہ رہے ہو مجھے بے شک تکلیف ہے مگر میں اس تکلیف کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ تم جلدی قلم دوات لاؤ تاکہ میں تمہیں کچھ لکھوا دوں۔ مگر رسول کریم ﷺنے دوبارہ قلم دوات لانے کی ہدایت نہیں دی بلکہ حضرت عمرؓ نے جب کہا کہ ہماری ہدایت کے لئے خدا کی کتاب کافی ہے تو رسول کریم ﷺ خاموش ہو گئے۔۲۲؎ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ درحقیقت وہی کچھ لکھوانا چاہتے تھے جس کی طرف حضرت عمرؓ نے اشارہ کیا تھا اور چونکہ رسول کریم ﷺ کے سامنے انہوں نے ایک رنگ میں خدا کی کتاب پر ہمیشہ عمل کرنے کا عہد کر لیا اس لئے رسول کریم ﷺ نے اس بات کی ضرورت نہ سمجھی کہ آپ کوئی علیحدہ وصیت لکھوانے پر اصرار کریں۔ پس اس واقعہ سے حضرت عمرؓ پر نہ صرف کوئی الزام عائد نہیں ہوتا بلکہ آپ کے خیال اور رسول کریم ﷺ کے خیال کا توارد ظاہر ہوتا ہے۔
    دوسرا جواب جو درحقیت شیعوں کے اس قسم کے بے بنیاد خیالات کو ردّ کرنے کے لئے ایک زبردست تاریخی ثبوت ہے وہ یہ ہے کہ ایسے موقعوں پر وصیت وہی شخص لکھوا سکتا ہے جسے یہ یقین ہو کہ اَب موت سر پر کھڑی ہے اور اگر ا س وقت وصیت نہ لکھوائی گئی تو پھر وصیت لکھوانے کا کوئی موقع نہیں رہے گا لیکن جسے یہ خیال ہو کہ مریض کو اللہ تعالیٰ صحت عطا کر دے گا اور جس مرض میں وہ مبتلاء ہے وہ مرض الموت نہیں بلکہ ایک معمولی مرض ہے تو وہ وصیت کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اور سمجھتا ہے کہ اس غرض کے لئے اسے تکلیف دینا بالکل بے فائدہ ہے۔ اب اس اصل کے ماتحت جب ہم ان واقعات کو دیکھتے ہیں جو رسول کریم ﷺ کی وفات پر صحابہؓ کو پیش آئے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کو حکومت سنبھالنے کا خیال تو الگ رہا یہ بھی خیال نہیں تھا کہ آنحضرت ﷺ فوت ہونے والے ہیں۔ چنانچہ جب رسول کریم ﷺ نے وفات پائی تو اس اچانک صدمہ نے جو ان کی توقع اور امید کے بالکل خلاف تھا حضرت عمرؓ کو دیوانہ سا بنا دیا اور انہیں کسی طرح یہ یقین بھی نہیں آتا تھا کہ رسول کریم ﷺ وفات پا گئے ہیں۔ وہ جنہیں رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی یہ یقین نہیں آتا تھا کہ آپ وفات پا گئے ہیں اور جن کے دل میں آپ کی محبت کا احساس اس قدر شدت سے تھا کہ وہ تلوار ہاتھ میں لے کر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ جو شخص یہ کہے گا کہ رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے ہیں میں اس کی گردن اُڑا دوں گا ان کے متعلق یہ کس طرح خیال کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے یہ سمجھ کر کہ رسول کریم ﷺ اَب فوت ہونے والے ہیں آپؐ حضرت علیؓ کے حق میں کوئی بات نہ لکھوا دیں آپؐ کو کچھ لکھنے سے روک دیا ہو۔ بلکہ اگر ہم غور کریں تو شیعوں کی اِن روایات سے حضرت علیؓ پر اعتراض آتا ہے کہ آپ آنحضرت ﷺ کی وفات کی توقع کر رہے تھے جبکہ حضرت عمرؓ شدتِ محبت کی وجہ سے یہ سمجھ رہے تھے کہ معمولی بیماری کی تکلیف ہے آپ اچھے ہو جائیں گے اور ابھی وفات نہیں پا سکتے۔ پس اس سے حضرت علیؓ پر تو اعتراض وارد ہوتا ہے مگر حضرت عمرؓ پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا بلکہ یہ امر ان کی نیکی،تقوٰی اور فضیلت کو ثابت کرتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نبی کی قومی زندگی کی بھی الہام سے ابتداء کرتا ہے
    غرض میں یہ مضمون بیان کر رہا تھا کہ نبی کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ الہام کے ذریعہ نبی کی قومی زندگی کی ابتداء کرتا ہے اسی لئے
    نبی کی وفات کے بعد قائم ہونے والی خلافت اور اس کی تفصیلات کو اللہ تعالیٰ نبی کی زندگی میں پردۂ اخفاء میں رکھتا ہے ایسے ہی حالات میں رسول کریم ﷺ فوت ہوئے۔ جب آپؐ وفات پا گئے تو پہلے تو بعض صحابہؓ نے سمجھا کہ آپ فوت نہیں ہوئے مگر جب انہیں پتہ لگا کہ آپ واقعہ میں فوت ہو چکے ہیں تو وہ حیران ہوئے کہ اب وہ کیا کریں اور وہ کون سا طریق عمل میں لائیں جو رسول کریم ﷺ کے لائے ہوئے مشن کی تکمیل کے لئے ضروری ہو۔ اسی پریشانی اور اضطراب کی حالت میں وہ اِدھر اُدھر پھرنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوء ا کہ تھوڑی ہی دیر کے اندر اُن میں دو گروہ ہو گئے جو بعد میں تین گروہوں کی صورت میں منتقل ہو گئے۔
    رسول کریم ﷺ کی وفات پر صحابہؓ کے تین گروہ
    ایک گروہ نے یہ خیال کیا کہ
    رسول کریم ﷺ کے بعد ایک ایسا شخص ضرور ہونا چاہئے جو نظامِ اسلامی کو قائم کرے مگر چونکہ نبی کے منشاء کو اس کے اہل و عیال ہی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اس لئے نبی کریم ﷺ کے اہل میں سے ہی کوئی شخص مقرر ہونا چاہئے کسی اَور خاندان میں سے کوئی شخص نہیں ہونا چاہئے۔ اس گروہ کے ذہن میں یہ بات تھی کہ اگر کسی اور خاندان میں سے کوئی شخص خلیفہ مقرر ہو گیا تو لوگ اس کی باتیں مانیں گے نہیں اور اس طرح نظام میں خلل واقع ہو گا لیکن اگر آپ کے خاندان میں سے ہی کوئی خلیفہ مقرر ہو گیا تو چونکہ لوگوں کو اس خاندان کی اطاعت کی عادت ہے اس لئے وہ خوشی سے اس کی اطاعت کو قبول کر لیں گے۔ جیسے ایک بادشاہ جس کی بات ماننے کے لوگ عادی ہو چکے ہوتے ہیںجب وفات پا جاتا ہے اور اُس کا بیٹا اُس کا جانشین بنتا ہے تو وہ اُس کی اطاعت بھی شوق سے کرنے لگ جاتے ہیں۔ مگردوسرے فریق نے سوچا کہ اس کے لئے رسول کریم ﷺ کے اہل میں سے ہونے کی شرط ضروری نہیں مقصد تو یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کا ایک جانشین ہو پس جو بھی سب سے زیادہ اس کا اہل ہو اس کے سپرد یہ کام ہونا چاہئے۔
    اس دوسرے گروہ کے پھر آگے دو حصے ہو گئے اور گو وہ دونوں اس بات میں متحد تھے کہ رسول کریم ﷺ کا کوئی جانشین ہونا چاہئے مگر ان میں اس بات پر اختلاف ہوگیا کہ رسول کریمﷺ کا یہ جانشین کِن لوگوں میں سے ہو۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ جو لوگ سب سے زیادہ عرصہ تک آپ کے زیر تعلیم رہے ہیں وہ اس کے مستحق ہیں یعنی مہاجر اور ان میں سے بھی قریش جن کی بات ماننے کیلئے عرب تیار ہو سکتے ہیں اور بعض نے یہ خیال کیا کہ چونکہ رسول کریم ﷺ کی وفات مدینہ میں ہوئی ہے اور مدینہ میں انصار کا زور ہے اس لئے وہی اس کام کو اچھی طرح سے چلا سکتے ہیں۔
    انصار اور مہاجرین میں اختلاف
    غرض اب انصار اور مہاجرین میں اختلاف ہو گیا۔ انصار کا یہ خیال تھا کہ چونکہ
    رسول کریم ﷺ نے اصل زندگی جو نظام کے ساتھ تعلق رکھتی ہے ہمارے اندر گذاری ہے اور مکہ میں کوئی نظام نہیں تھا اس لئے نظامِ حکومت ہم ہی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور خلافت کے متعلق ہمارا ہی حق ہے کسی اور کا حق نہیں۔ دوسری دلیل وہ یہ بھی دیتے کہ یہ علاقہ ہمارا ہے اور طبعاً ہماری بات کا ہی لوگوں پر زیادہ اثر ہو سکتا ہے، مہاجرین کا اثر نہیں ہو سکتا پس رسول کریمﷺ کا جانشین ہم میں سے ہونا چاہئے مہاجرین میں سے نہیں۔ اس کے مقابلہ میں مہاجرین یہ کہتے کہ رسول کریم ﷺ کی جتنی لمبی صحبت ہم نے اُٹھائی ہے اتنی لمبی صحبت انصار نے نہیں اُٹھائی اس لئے دین کو سمجھنے کی جو قابلیت ہمارے اندر ہے وہ انصار کے اندر نہیں۔ اس اختلاف پر ابھی دوسرے لوگ غور ہی کر رہے تھے اور وہ کسی نتیجہ پر نہیں پہنچے تھے کہ اِس آخری گروہ نے جو انصار کے حق میں تھا بنی ساعدہ کے ایک برآمدہ میں جمع ہو کر اس بارہ میں مشورہ شروع کر دیا اور سعد بن عبادہ جو خزرج کے سردار تھے اور نقباء میں سے تھے ان کے بارہ میں طبائع کا اِس طرف رُجحان ہو گیا کہ انہیں خلیفہ مقرر کیا جائے۔ چنانچہ انصار نے آپس میں یہ گفتگو کرتے ہوئے کہ ملک ہمارا ہے، زمینیں ہماری ہیں، جائدادیں ہماری ہیں اور اسلام کا فائدہ اسی میں ہے کہ ہم میں سے کوئی خلیفہ مقرر ہو فیصلہ کیا کہ اس منصب کے لئے سعد بن عبادہ سے بہتر اور کوئی شخص نہیں۔ یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ بعض نے کہا اگر مہاجرین اس کا انکار کریں گے تو کیا ہو گا؟ اس پر کسی نے کہا کہ پھر ہم کہیں گے مِنَّا اَمِیْرٌ وَمِنْکُمْ اَمِیْرٌ ۲۳؎ یعنی ایک امیر تم میں سے ہو جائے اور ایک ہم میں سے۔ سعد جو بہت دانا آدمی تھے انہوں نے کہا کہ یہ تو پہلی کمزوری ہے۔ یعنی یا تو ہم میں سے خلیفہ ہونا چاہئے یا ان میں سے۔ مِنَّا اَمِیْرٌ وَمِنْکُمْ اَمِیْرٌ کہنا تو گویا خلافت کے مفہوم کو نہ سمجھنا اور اسلام میں رخنہ ڈالنا ہے۔ اس مشورہ کی جب مہاجرین کو اطلاع ہوئی تو وہ بھی جلدی سے وہیں آ گئے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر مہاجرین میں سے کوئی خلیفہ نہ ہوء ا تو عرب اس کی اطاعت نہیں کریں گے۔ مدینہ میں بیشک انصار کا زور تھا مگر باقی تمام عرب مکہ والوں کی عظمت اور ان کے شرف کا قائل تھا۔ پس مہاجرین نے سمجھا کہ اگر اس وقت انصار میں سے کوئی خلیفہ مقرر ہو گیا تو اہل عرب کے لئے سخت مشکل پیش آئے گی اور ممکن ہے کہ ان میں سے اکثر اس ابتلاء میں پورے نہ اُتریں چنانچہ سب مہاجرین وہیں آ گئے۔ ان میں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت ابوعبیدہؓ بھی شامل تھے۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس موقع پر بیان کرنے کے لئے ایک بہت بڑا مضمون سوچا ہوء ا تھا اور میرا ارادہ تھاکہ میں جاتے ہی ایک ایسی تقریر کروں گا جس سے تمام انصار میرے دلائل کے قائل ہو جائیں گے اور وہ اس بات پر مجبور ہو جائیں گے کہ انصار کی بجائے مہاجرین میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کریں مگر جب ہم وہاں پہنچے تو حضرت ابوبکرؓ تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ انہوں نے بھلا کیا بیان کرنا ہے؟ مگر خدا کی قسم !جتنی باتیں میں نے سوچی ہوئی تھیں وہ سب انہوں نے بیان کر دیں بلکہ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے پاس سے بھی بہت سے دلائل دیئے۔ تب میں سمجھا کہ میں ابوبکرؓ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔۲۴؎
    غرض مہاجرین نے انہیں بتایا کہ اِس وقت قریش میں سے ہی امیر ہونا ضروری ہے اور رسول کریم ﷺ کی یہ حدیث بھی پیش کی کہ ۲۵؎ اور ان کی سبقتِ دین اور ان قربانیوں کا ذکر کیا جو وہ دین کیلئے کرتے چلے آئے تھے۔ اس پر حباب بن المنذر خزرجی نے مخالفت کی اور کہا کہ ہم اس بات کو نہیں مان سکتے کہ مہاجرین میں سے خلیفہ ہونا چاہئے ہاں اگر آپ لوگ کسی طرح نہیں مانتے اور آپ کو اس پر بہت ہی اصرار ہے تو پھر مِنَّا اَمِیْرٌ وَ مِنْکُمْ اَمِیْرٌ پر عمل کیا جائے یعنی ایک خلیفہ ہم میں سے ہو اور ایک آپ لوگوں میں سے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میاں سوچ سمجھ کر بات کرو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایک وقت میں دو امیروں کا ہونا جائز نہیں۲۶؎ (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیثیں تو ایسی موجود تھیں جن میں رسول کریم ﷺ نے نظامِ خلافت کی تشریح کی ہوئی تھی مگر آپ کی زندگی میں صحابہؓ کا ذہن اِدھر منتقل نہیں ہوء ا اور اس کی وجہ وہی خدائی حکمت تھی جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں)
    پس تمہارا یہ مطالبہ کہ ایک امیر تم میں سے ہو اور ایک ہم میں سے، عقلاً اور شرعاً کسی طرح جائز نہیں۔
    حضرت ابوبکرؓ کا انتخاب
    آخر کچھ بحث مباحثہ کے بعد حضرت ابوعبیدہؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے انصار کو توجہ دلائی کہ تم پہلی قوم ہو
    جو مکہ کے باہر ایمان لائی اب رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد تم پہلی قوم نہ بنو جنہوں نے دین کے منشاء کو بدل دیا۔ اس کا طبائع پر ایسا اثر ہوء ا کہ بشیر بن سعد خزرجی کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ یہ لوگ سچ کہتے ہیں ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ کی جو خدمت کی اور آپ کی نصرت و تائید کی وہ دُنیوی اغراض سے نہیں کی تھی اور نہ اس لئے کی تھی کہ ہمیںآپ کے بعد حکومت ملے بلکہ ہم نے خدا کیلئے کی تھی پس حق کا سوال نہیں بلکہ سوال اسلام کی ضرورت کا ہے اور اس لحاظ سے مہاجرین میں سے ہی امیر مقرر ہونا چاہئے کیونکہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کی لمبی صحبت پائی ہے۔ اس پر کچھ دیر تک اور بحث ہوتی رہی مگر آخر آدھ یا پون گھنٹہ کے بعد لوگوں کی رائے اسی طرح ہوتی چلی گئی کہ مہاجرین میں سے کسی کو خلیفہ مقرر کرنا چاہئے چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ اور حضرت ابوعبیدہؓ کو اس منصب کے لئے پیش کیا اور کہا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی بیعت کر لو مگر دونوں نے انکار کیا اور کہا کہ جسے رسول کریم ﷺ نے نماز کا امام بنایا اور جو سب مہاجرین میں سے بہتر ہے ہم اس کی بیعت کریں گے۔ مطلب یہ تھا کہ اس منصب کیلئے حضرت ابوبکرؓ سے بڑھ کر اور کوئی شخص نہیں۔ چنانچہ اس پر حضرت ابوبکرؓ کی بیعت شروع ہو گئی۔ پہلے حضرت عمرؓ نے بیعت کی، پھر حضرت ابوعبیدہ نے بیعت کی، پھر بشیرؓ بن سعد خزرجی نے بیعت کی اور پھر اوس نے اور پھر خزرج کے دوسرے لوگوں نے اور ا سقدر جوش پیدا ہوء ا کہ سعد جو بیمار تھے اور اُٹھ نہ سکتے تھے ان کی قوم ان کو روندتی ہوئی آگے بڑھ کر بیعت کرتی تھی۔ چنانچہ تھوڑی ہی دیر میں سعدؓ اور حضرت علیؓ کے سِوا سب نے بیعت کر لی۔ حتیّٰ کہ سعدؓ کے اپنے بیٹے نے بھی بیعت کر لی۔ حضرت علیؓ نے کچھ دنوں بعد بیعت کی۔ چنانچہ بعض روایات میں تین دن آتے ہیں اور بعض روایات میں یہ ذکر آتا ہے کہ آپ نے چھ ماہ بعد بیعت کی۔ چھ ماہ والی روایات میں یہ بھی بیان ہوء ا ہے کہ حضرت فاطمہؓکی تیمارداری میں مصروفیت کی وجہ سے آپ حضرت ابوبکرؓ کی بیعت نہ کر سکے اور جب آپ بیعت کرنے کے لئے آئے تو آپ نے یہ معذرت کی کہ چونکہ فاطمہؓ بیمار تھیں اس لئے بیعت میں دیر ہو گئی۔۲۷؎
    حضرت عمرؓ کا انتخاب
    حضرت ابوبکرؓ کی وفات جب قریب آئی تو آپ نے صحابہؓ سے مشورہ لیا کہ میں کس کو خلیفہ مقرر کروں۔ اکثرصحابہؓ نے
    اپنی رائے حضرت عمرؓ کی امارت کے متعلق ظاہر کی اور بعض نے صرف یہ اعتراض کیا کہ حضرت عمرؓ کی طبیعت میں سختی زیادہ ہے ایسا نہ ہو کہ لوگوں پر تشدّد کریں۔ آپ نے فرمایا یہ سختی اُسی وقت تھی جب تک ان پر کوئی ذمہ واری نہیں پڑی تھی اب جبکہ ایک ذمہ واری ان پر پڑ جائے گی ان کی سختی کا مادہ بھی اعتدال کے اندر آ جائے گا۔ چنانچہ تمام صحابہؓ حضرت عمرؓ کی خلافت پر راضی ہو گئے۔ آپ کی صحت چونکہ بہت خراب ہو چکی تھی اس لئے آپ نے اپنی بیوی اسماءؓ کا سہارا لیا اور ایسی حالت میں جبکہ آپ کے پاؤں لڑ کھڑا رہے تھے اور ہاتھ کانپ رہے تھے آپ مسجد میں آئے اور تمام مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بہت دنوں تک متواتر اس امر پر غور کیا ہے کہ اگر میں وفات پا جاؤں تو تمہارا کون خلیفہ ہو۔ آخر بہت کچھ غور کرنے اور دعاؤں سے کام لینے کے بعد میں نے یہی مناسب سمجھا ہے کہ عمرؓ کو خلیفہ نامزد کر دوں۔ سو میری وفات کے بعد عمرؓ تمہارے خلیفہ ہوں گے۔۲۸؎ سب صحابہؓ اور دوسرے لوگوں نے اس امارت کو تسلیم کیا اور حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ کی بیعت ہو گئی۔
    حضرت عثمانؓ کا انتخاب
    حضرت عمرؓ جب زخمی ہوئے اور آپ نے محسوس کیا کہ اب آپ کا آخری وقت قریب ہے تو آپ نے چھ
    آدمیوں کے متعلق وصیت کی کہ وہ اپنے میں سے ایک کو خلیفہ مقرر کر لیں۔ وہ چھ آدمی یہ تھے۔ حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوف،حضرت سعد بن الوقاصؓ‘‘حضرت زبیر، حضرت طلحہؓ ۔۲۹؎ اس کے ساتھ ہی حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو بھی آپ نے اس مشورہ میں شریک کرنے کیلئے مقرر فرمایا مگر خلافت کا حقدار قرار نہ دیا اور وصیت کی کہ یہ سب لوگ تین دن میں فیصلہ کریں اور تین دن کیلئے صہیب ؓ کو امام الصلوٰۃ مقرر کیا اور مشورہ کی نگرانی مقداد بن الاسودؓ کے سپرد کی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ سب کو ایک جگہ جمع کر کے فیصلہ کرنے پر مجبور کریں اور خود تلوار لے کر دروازہ پر پہرہ دیتے رہیں۔ اور فرمایا کہ جس پر کثرت رائے سے اتفاق ہو۔ سب لوگ اس کی بیعت کریں اور اگر کوئی انکار کرے تو اسے قتل کر دو لیکن اگر دونوں طرف تین تین ہو جائیں تو عبداللہ بن عمرؓ ان میں سے جس کو تجویز کریں وہ خلیفہ ہو۔ اگر اس فیصلہ پر وہ راضی نہ ہوں تو جس طرف عبدالرحمن بن عوفؓ ہوں وہ خلیفہ ہو۔
    آخر پانچوں اصحاب نے مشورہ کیا (کیونکہ طلحہؓ اس وقت مدینہ میں نہ تھے) مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوئا۔ بہت لمبی بحث کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے کہا کہ اچھا جو شخص اپنا نام واپس لینا چاہتا ہے وہ بولے جب سب خاموش رہے تو حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے کہا کہ سب سے پہلے میں اپنا نام واپس لیتا ہوں۔ پھر حضرت عثمانؓ نے کہا پھر باقی دو نے۔ حضرت علیؓ خاموش رہے۔ آخر انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ سے عہد لیا کہ وہ فیصلہ کرنے میں کوئی رعایت نہیں کریں گے انہوں نے عہد کیا اور سب کام ان کے سپرد ہو گیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف تین دن مدینہ کے ہر گھر گئے اور مردوں اور عورتوں سے پوچھا کہ ان کی رائے کس شخص کی خلافت کے حق میں ہے۔ سب نے یہی کہا کہ انہیں حضرت عثمانؓ کی خلافت منظور ہے۔ چنانچہ انہوں نے حضرت عثمانؓ کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔ اور وہ خلیفہ وہ گئے۔
    حضرت علیؓ کا انتخاب
    اس کے بعد حضرت عثمانؓ کا واقعۂ شہادت ہوء ا اور وہ صحابہؓ جو مدینہ میں موجود تھے انہوں نے یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں میں
    فتنہ بڑھتا جا رہا ہے حضرت علیؓ پر زور دیا کہ آپ لوگوں کی بیعت لیں۔ دوسری طرف کچھ مفسدین بھاگ کر حضرت علیؓ کے پاس پہنچے اور کہا کہ ا س وقت اسلامی حکومت کے ٹوٹ جانے کا سخت اندیشہ ہے آپ لوگوں سے بیعت لیں تاکہ ان کا خوف دور ہو اور امن و امان قائم ہو۔ غرض جب آپ کو بیعت لینے پر مجبور کیا گیا تو کئی دفعہ کے انکار کے بعد آپ نے اس ذمہ واری کو اٹھایا اور لوگوں سے بیعت لینی شروع کر دی بعض اکابر صحابہؓ اس وقت مدینہ سے باہر تھے اور بعض سے تو جبراً بیعت لی گئی۔ چنانچہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کے متعلق آتا ہے کہ ان کی طرف حکیم بن جبلہ اور مالک اشتر کو چند آدمیوں کے ساتھ روانہ کیا گیا اور انہوں نے تلواروں کا نشانہ کر کے انہیں بیعت پر آمادہ کیا۔ یعنی وہ تلواریں سونت کر ان کے سامنے کھڑے ہو گئے اور کہا کہ حضرت علیؓ کی بیعت کرنی ہے تو کرو ورنہ ہم ابھی تم کو مار ڈالیں گے حتیّٰ کہ بعض روایات میں یہ ذکر بھی آتا ہے کہ وہ ان کو نہایت سختی کے ساتھ زمین پر گھسیٹتے ہوئے لائے۔ ظاہر ہے کہ ایسی بیعت کوئی بیعت نہیں کہلا سکتی۔ پھر جب انہوں نے بیعت کی تو یہ بھی کہہ دیا کہ ہم اس شرط پر آپ کی بیعت کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے آپ قصاص لیں گے مگر بعد میں جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت علیؓ قاتلوں سے قصاص لینے میں جلدی نہیں کر رہے تو وہ بیعت سے الگ ہو گئے اور مدینہ سے مکہ چلے گئے۔
    حضرت عائشہؓ کا اعلانِ جہاد
    انہی لوگوں کی ایک جماعت نے جو حضرت عثمانؓ کے قتل میں شریک تھی حضرت عائشہؓ کو اس بات
    پر آمادہ کر لیا کہ آپ حضرت عثمانؓ کے خون کا بدلہ لینے کیلئے جہاد کا اعلان کر دیں۔ چنانچہ انہوں نے اس بات کا اعلان کیا اور صحابہؓ کو اپنی مدد کیلئے بلایا۔ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور اس کے نتیجہ میں حضرت علیؓ اور حضرت عائشہؓ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کے لشکر میں جنگ ہوئی جسے جنگ جمل کہا جاتا ہے اس جنگ کے شروع میں ہی حضرت زبیرؓ ، حضرت علیؓ کی زبان سے رسول کریم ﷺ کی ایک پیشگوئی سن کر علیحدہ ہو گئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ وہ حضرت علیؓ سے جنگ نہیں کریں گے اور اس بات کا اقرار کیا کہ اپنے اجتہاد میں انہوں نے غلطی کی ہے۔ دوسری طرف حضرت طلحہؓ نے بھی اپنی وفات سے پہلے حضرت علیؓ کی بیعت کا اقرار کر لیا۔ کیونکہ روایات میں آتا ہے کہ وہ زخموں کی شدت سے تڑپ رہے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس سے گزرا انہوں نے پوچھا تم کس گروہ میں سے ہو۔ اس نے کہا حضرت علیؓ کے گروہ میں سے۔ اس پر انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیکر کہا کہ تیرا ہاتھ علیؓ کا ہاتھ ہے۔ اور میں تیرے ہاتھ پر حضرت علیؓ کی دوبارہ بیعت کرتا ہوں۳۰؎۔ غرض باقی صحابہؓ کے اختلاف کا تو جنگ جمل کے وقت ہی فیصلہ ہو گیا مگر حضرت معاویہؓ کا اختلاف باقی رہا یہاں تک کہ جنگ صَفّین ہوئی۔
    جنگ صَفّین کے واقعات
    اس جنگ میں حضرت معاویہؓ کے ساتھیوں نے یہ ہوشیاری کی کہ نیزوں پر قرآن اٹھا دیئے اور کہا کہ جو کچھ
    قرآن فیصلہ کرے وہ ہمیں منظور ہے اور اس غرض کیلئے حَکَم مقرر ہونے چاہئیں۔ اس پر وہی مُفسد جو حضرت عثمانؓ کے قتل کی سازش میں شامل تھے اور جو آپ کی شہادت کے معاً بعد اپنے بچاؤ کیلئے حضرت علیؓ کے ساتھ شامل ہو گئے تھے انہوں نے حضرت علیؓ پر یہ زور دینا شروع کر دیا کہ یہ بالکل درست کہتے ہیں۔ آپ فیصلہ کیلئے حَکَم مقرر کر دیں۔ حضرت علیؓ نے بہتیرا انکار کیا مگر انہوں نے اور کچھ ان کمزور طبع لوگوں نے جو ان کے اس دھوکا میں آ گئے تھے حضرت علیؓ کو اس بات پر مجبور کیا کہ آپ حَکَم مقرر کریں۔ چنانچہ معاویہ کی طرف سے حضرت عمرو بن العاص اور حضرت علیؓ کی طرف سے حضرت ابوموسیٰ اشعری حَکَم مقرر کئے گئے۔ یہ تحکیم دراصل قتلِ عثمانؓ کے واقعہ میں تھی اور شرط یہ تھی کہ قرآن کریم کے مطابق فیصلہ ہو گا۔ مگر عمرو بن العاص اور ابو موسیٰ اشعری دونوں نے مشورہ کر کے یہ فیصلہ کیا کہ بہتر ہو گا کہ پہلے ہم دونوں یعنی حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کو ان کی امارت سے معزول کر دیں کیونکہ تمام مسلمان انہی دونوں کی وجہ سے مصیبت میں مبتلاء ہو رہے ہیں اور پھر آزادانہ رنگ میں مسلمانوں کو کوئی فیصلہ کرنے دیں تاکہ وہ جسے چاہیں خلیفہ بنا لیں حالانکہ وہ اس کام کیلئے مقرر ہی نہیں ہوئے تھے مگر بہرحال ان دونوں نے اس فیصلہ کا اعلان کرنے کیلئے ایک جلسہ عام منعقد کیا اور حضرت عمرو بن العاص نے حضرت ابوموسیٰ اشعری سے کہا کہ پہلے آپ اپنے فیصلہ کا اعلان کر دیں بعد میں مَیں اعلان کر دوں گا چنانچہ حضرت ابو موسیٰ نے اعلان کر دیا کہ وہ حضرت علیؓ کو خلافت سے معزول کرتے ہیں اس کے بعد حضرت عمرو بن العاص کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ابوموسیٰ نے حضرت علیؓ کو معزول کر دیا ہے اور میں بھی ان کی اس بات سے متفق ہوں اور حضرت علیؓ کو خلافت سے معزول کرتا ہوں لیکن معاویہؓ کو میں معزول نہیں کرتا بلکہ ان کے عہدہ امارت پر انہیں بحال رکھتا ہوں ( حضرت عمرو بن العاص خود بہت نیک آدمی تھے لیکن اس وقت میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ انہوں نے یہ فیصلہ کیوں کیا تھا) اس فیصلہ پر حضرت معاویہ کے ساتھیوں نے تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ جو لوگ حَکَم مقرر ہوئے تھے انہوں نے علیؓ کی بجائے معاویہؓ کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے اور یہ درست ہے ۔ مگر حضرت علیؓ نے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ نہ حَکَم اس غرض کیلئے مقرر تھے اور نہ ان کا یہ فیصلہ کسی قرآنی حُکم پر ہے۔ اس پر حضرت علیؓ کے وہی منافق طبع ساتھی جنہوں نے حَکَم مقرر کرنے پر زور دیا تھا یہ شور مچانے لگ گئے کہ حَکَم مقرر ہی کیوں کئے گئے تھے جبکہ دینی معاملات میں کوئی حَکَم ہو ہی نہیں سکتا۔ حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ اوّل تو یہ بات معاہدہ میں شامل تھی کہ ان کا فیصلہ قرآن کے مطابق ہو گا جس کی انہوں نے تعمیل نہیں کی۔ دوسرے حَکَم تو خود تمہارے اصرار کی وجہ سے مقرر کیا گیا تھا اور اب تم ہی کہتے ہو کہ میں نے حکم کیوں مقرر کیا۔ انہوں نے کہا ہم نے جَھک مارا اور ہم نے آپ سے جو کچھ کہا تھا وہ ہماری غلطی تھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ آپ نے یہ بات کیوں مانی۔ اس کے تو یہ معنی ہیں کہ ہم بھی گنہگار ہو گئے اور آپ بھی۔ ہم نے بھی غلطی کا ارتکاب کیا اور آپ نے بھی۔ اَب ہم نے تو اپنی غلطی سے توبہ کر لی ہے مناسب یہ ہے کہ آپ بھی توبہ کریں اور اس امر کا اقرار کریں کہ آپ نے جو کچھ کیا ہے ناجائز کیا ہے۔ اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ اگر حضرت علیؓ نے انکار کیا تو وہ یہ کہہ کر آپ کی بیعت سے الگ ہو جائیں گے کہ انہوں نے چونکہ ایک خلافِ اسلام فعل کیا ہے اس لئے ہم آپ کی بیعت میں نہیں رہ سکتے اور اگر انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا اور کہا کہ میں توبہ کرتا ہوں تو بھی ان کی خلافت باطل ہو جائے گی کیونکہ جو شخص اتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کرے وہ خلیفہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ حضرت علیؓ نے جب یہ باتیں سنیں تو کہا کہ میں نے کوئی غلطی نہیں کی۔ جس امر کے متعلق میں نے حَکَم مقرر کیا تھا اس میں کسی کو حَکَم مقرر کرنا شریعت اسلامیہ کی رُو سے جائز ہے باقی میں نے حَکَم مقرر کرتے وقت صاف طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ وہ جو کچھ فیصلہ کریں گے اگر قرآن اور حدیث کے مطابق ہو گا تب میں اسے منظور کروں گا ورنہ میں اسے کسی صورت میں بھی منظور نہیں کروں گا۔ انہوں نے چونکہ اس شرط کو ملحوظ نہیں رکھا اور نہ جس غرض کیلئے انہیں مقرر کیا گیا تھا اس کے متعلق انہوں نے کوئی فیصلہ کیا ہے اس لئے میرے لئے ان کا فیصلہ کوئی نہیں۔ مگر انہوں نے حضرت علیؓ کے اس عذر کو تسلیم نہ کیا اور بیعت سے علیحدہ ہو گئے اور خوارج کہلائے اور انہوں نے یہ مذہب نکالا کہ واجبُ الاِْطاَعت خلیفہ کوئی نہیں۔ کثرتِ مسلمین کے فیصلہ کے مطابق عمل ہؤا کرے گا کیونکہ کسی ایک شخص کو امیرواجب الاطاعت ماننا لَاحُکْمَ اِلاَّ لِلّٰہِ ۳۱؎کے خلاف ہے۔
    حضرت علیؓ کی خلافتِ بِلافصل کا نظریہ
    یہ خلافت کے بارہ میں پہلا اختلاف تھا جو واقع ہوئا۔ اس
    موقعہ پر جو لوگ حضرت علی ؓ کی تائید میں تھے انہوں نے ان امور کا جواب دینا شروع کیا اور جواب میں یہ امر بھی زیر بحث آیا کہ رسول کریم ﷺ کی بعض پیشگوئیاں حضرت علیؓ کے متعلق ہیں۔ یہ پیشگوئیاں جب تفصیل کے ساتھ بیان ہونی شروع ہوئیں تو ان پر غور کرتے ہوئے بعض غالیوں نے یہ سوچا کہ خلافت پر کیا بحث کرنی ہے۔ ہم کہتے ہیں حضرت علیؓ کی خلافت کسی انتخاب پر مبنی نہیں بلکہ صرف ان پیشگوئیوں کی وجہ سے ہے جو رسول کریم ﷺ نے ان کے متعلق کی تھیں اس لئے آپ رسول کریم ﷺ کے مقرر کردہ خلیفہ بِلافصل ہیں۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے میرے متعلق جب مصلح موعود کے موضوع پر بحث کی جائے تو کوئی شخص کہہ دے کہ ان کو تو ہم ا س لئے خلیفہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں ہیں نہ اس لئے کہ ان کی خلافت جماعت کی اکثریت کے انتخاب سے عمل میں آئی۔ جس دن کوئی شخص ایسا خیال کرے گا اسی دن اس کا قدم ہلاکت کی طرف اُٹھنا شروع ہو جائے گا کیونکہ اس طرح آہستہ آہستہ صرف ایک شخص کی امامت کا خیال دلوں میں راسخ ہو جاتا ہے اور نظامِ خلافت کی اہمیت کا احساس ان کے دلوں سے جاتا رہتا ہے۔ غرض حضرت علیؓ کے متعلق بعض غالیوں نے رسول کریمﷺ کی پیشگوئیوں سے یہ نتیجہ نکالا کہ آپ کی خلافت صرف ان پیشگوئیوں کی وجہ سے ہے جو آپؐ نے ان کے متعلق کیں کسی انتخاب پر مبنی نہیں ہے۔ پھر رفتہ رفتہ وہ اس طرف مائل ہو گئے کہ حضرت علیؓ درحقیقت امام بمعنی ماء مور تھے اور یہ کہ خلافت ان معنوں میں کوئی شَے نہیں جو مسلمان اس وقت تک سمجھتے رہے ہیں بلکہ ضرورت پر خداتعالیٰ کے خاص حُکم سے امام مقرر ہوتا ہے اور وہ لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کا موجب ہوتا ہے۔
    خلافت کے بارہ میں مسلمانوں میں تین گروہ
    ان مختلف قسم کے خیالات کے نتیجہ میں مسلمانوںمیں
    خلافت کے بارہ میں تین گروہ ہو گئے۔
    (۱) خلافت بمعنی نیابت ہے اور رسول کریم ﷺ کے بعد آپ کا کوئی نائب ہونا چاہئے۔ مگر اس کا طریق یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت کے فیصلہ کے مطابق یا خلیفہ کے تقرر کے مطابق جسے اُمت تسلیم کرے وہ شخص خلیفہ مقرر ہوتا ہے اور وہ واجبُ الاطاعت ہوتا ہے۔ یہ سُنّی کہلاتے ہیں۔
    (۲) حُکم خدا کا ہے۔ کسی شخص کو واجب الاطاعت ماننا شرک ہے۔ کثرت رائے کے مطابق فیصلہ ہونا چاہئے اور مسلمان آزاد ہیں وہ جو کچھ چاہیں اپنے لئے مقرر کریں۔ یہ خوارج کہلاتے ہیں۔
    (۳) انسان امیر مقرر نہیں کرتے بلکہ امیر مقرر کرنا خدا کا کام ہے اسی نے حضرت علیؓ کو امام مقرر کیا اور آپ کے بعد گیارہ اور امام مقرر کئے۔ آخری امام اب تک زندہ موجود ہے مگر مخفی۔ یہ شیعہ کہلاتے ہیں۔ ان میں سے ایک فریق ایسا نکلا کہ اس نے کہا۔ دنیا میں ہر وقت زندہ امام کا ہونا ضروری ہے جو ظاہر بھی ہو اور یہ اسماعیلیہ شیعہ کہلاتے ہیں۔
    خلافتِ احمدیہ کا ذکر
    یہ تو اس خلافت کی تاریخ ہے جو رسول کریم ﷺ کے معاً بعد ہوئی۔ اب میں اس خلافت کا ذکر کرتا ہوں جو حضرت مسیح موعود
    علیہ السلام کے بعد ہوئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت بھی جماعت کی ذہنی کیفیت وہی تھی جو آنحضرت ﷺ کے وقت میں صحابہؓ کی تھی۔ چنانچہ ہم سب یہی سمجھتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابھی وفات نہیں پا سکتے اس کا نتیجہ یہ تھا کہ کبھی ایک منٹ کیلئے بھی ہمارے دل میں یہ خیال نہیں آیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فوت ہو جائیں گے تو کیا ہو گا۔ میں اس وقت بچہ نہیں تھا بلکہ جوانی کی عمر کو پہنچا ہوء ا تھا، میں مضامین لکھا کرتا تھا، میں ایک رسالے کا ایڈیٹر بھی تھا، مگر میں اللہ تعالیٰ کی قَسم کھا کر کہتا ہوں کہ کبھی ایک منٹ بلکہ ایک سیکنڈ کیلئے بھی میرے دل میں یہ خیال نہیں آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام وفات پاجائیں گے حالانکہ آخری سالوں میں متواتر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایسے الہامات ہوئے جن میں آپ کی وفات کی خبر ہوتی تھی اور آخری ایام میں تو ان کی کثرت اور بھی بڑھ گئی مگر باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایسے الہامات ہوتے رہے اور باوجود اس کے کہ بعض الہامات و کشوف میں آپ کی وفات کے سال اور تاریخ وغیرہ کی بھی تعیّن تھی اور باوجود اس کے کہ ہم ’’الوصیت‘‘ پڑھتے تھے ہم یہی سمجھتے تھے کہ یہ باتیں شاید آج سے دو صدیاں بعد پوری ہوں گی اس لئے اس بات کا خیال بھی دل میں نہیں گزرتا تھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام وفات پا جائیں گے تو کیا ہو گا۔ اور چونکہ ہماری حالت ایسی تھی کہ ہم سمجھتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمارے سامنے فوت ہی نہیں ہو سکتے اس لئے جب واقعہ میں آپ کی وفات ہو گئی تو ہمارے لئے یہ باور کرنا مشکل تھا کہ آپ فوت ہو چکے ہیں۔ چنانچہ مجھے خوب یاد ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد جب آپ کو غسل دیکر کفن پہنایا گیا تو چونکہ ایسے موقع پر بعض دفعہ ہَوا کے جھونکے سے کپڑا ہِل جاتا ہے یا بعض دفعہ مونچھیں ہِل جاتی ہیں اس لئے بعض دوست دوڑتے ہوئے آتے اور کہتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو زندہ ہیں۔ ہم نے آپ کا کپڑا ہلتے دیکھا ہے یا مونچھوں کے بالوں کو ہلتے دیکھا ہے اور بعض کہتے کہ ہم نے کفن کو ہلتے دیکھا ہے۔ اس کے بعد جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نعش کو قادیان لایا گیا تو اسے باغ میں ایک مکان کے اندر رکھ دیا گیا۔ کوئی آٹھ نو بجے کا وقت ہو گا کہ خواجہ کمال الدین صاحب باغ میں پہنچے اور مجھے علیحدہ لے جا کر کہنے لگے کہ میاں! کچھ سوچا بھی ہے کہ اب حضرت صاحب کی وفات کے بعد کیا ہو گا۔ میں نے کہا کچھ ہونا تو چاہئے مگر یہ کہ کیا ہو اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ وہ کہنے لگے میرے نزدیک ہم سب کو حضرت مولوی صاحب کی بیعت کر لینی چاہئے۔ اس وقت کچھ عمر کے لحاظ سے اور کچھ اس وجہ سے بھی کہ میرا مطالعہ کم تھا میں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو یہ کہیں نہیں لکھاکہ ہم آپ کے بعد کسی اور کی بیعت کر لیں اس لئے حضرت مولوی صاحب کی ہم کیوں بیعت کریں۔ (گو ’’الوصیّۃ‘‘ میں اس کا ذکر تھا مگر اُس وقت میرا ذہن اس طرف گیا نہیں) انہوں نے اس پر میرے ساتھ بحث شروع کر دی اور کہا کہ اگر اس وقت ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت نہ کی گئی تو ہماری جماعت تباہ ہو جائے گی پھر انہوں نے کہا کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی تو یہی ہوء ا تھا کہ قوم نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کر لی تھی اس لئے اب بھی ہمیں ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہئے اور اس منصب کیلئے حضرت مولوی صاحب سے بڑھ کر ہماری جماعت میںاور کوئی شخص نہیں۔ مولوی محمد علی صاحب کی بھی یہی رائے ہے اور وہ کہتے ہیں کہ تمام جماعت کو مولوی صاحب کی بیعت کرنی چاہئے۔ آخرجماعت نے متفقہ طور پر حضرت خلیفہ اوّل کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ لوگوں سے بیعت لیں۔ اس پر باغ میں تمام لوگوں کا اجتماع ہوء ا اور ا س میں حضرت خلیفہ اوّل نے ایک تقریر کی اور فرمایا کہ مجھے امامت کی کوئی خواہش نہیں مَیں چاہتا ہوں کہ کسی اور کی بیعت کر لی جائے۔ چنانچہ آپ نے اس سلسلہ میں پہلے میرا نام لیا پھر ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب کا نام لیا۔ پھر ہمارے بہنوئی نواب محمد علی خان صاحب کا نام لیا اسی طرح بعض اور دوستوں کے نام لئے لیکن ہم سب لوگوں نے متفقہ طور پر یہی عرض کیا کہ اس منصبِ خلافت کے اہل آپ ہی ہیں چنانچہ سب لوگوں نے آپ کی بیعت کر لی۔
    خلیفۂ وقت کے اختیارات
    ابھی آپ کی بیعت پر پندرہ بیس دن ہی گزرے تھے کہ ایک دن مولوی محمد علی صاحب مجھے ملے اور کہنے
    لگے کہ میاں صاحب! کبھی آپ نے اس بات پر غور بھی کیا ہے کہ ہمارے سلسلہ کا نظام کیسے چلے گا؟ میں نے کہا اس پر اب اور غورکرنے کی کیا ضرورت ہے ہم نے حضرت مولوی صاحب کی بیعت جو کر لی ہے۔ وہ کہنے لگے وہ تو ہوئی ۔ سوال یہ ہے کہ سلسلہ کا نظام کس طرح چلے گا؟ میں نے کہا میرے نزدیک تو اب یہ بات غور کرنے کے قابل ہی نہیں کیونکہ جب ہم نے ایک شخص کی بیعت کر لی ہے تو وہ اس امر کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ کس طرح سلسلہ کا نظام قائم کرنا چاہئے ہمیں اس میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے! اس پر وہ خاموش تو ہو گئے مگر کہنے لگے یہ بات غور کے قابل ہے۔
    حضرت خلیفہ اوّل کی خدمت میں میر محمد اسحاق صاحب کے چند سوالات
    کچھ دنوں بعد جب جماعت کے دوستوں میں اس قسم کے سوالات کا چرچا ہونے لگا کہ خلیفہ کے کیا
    اختیارات ہیں اور آیا وہ حاکم ہے یاصدرانجمن احمدیہ حاکم ہے تو میرمحمد اسحاق صاحب نے حضرت خلیفہ اوّل کی خدمت میں بعض سوالات لکھ کر پیش کئے جن میں اس مسئلہ کی وضاحت کی درخواست کی گئی تھی۔ حضرت خلیفہ اوّل نے وہ سوالات باہر جماعتوں میں بھجوا دیئے اور ایک خاص تاریخ مقرر کی کہ اس دن مختلف جماعتوں کے نمائندے جمع ہو جائیں تاکہ سب سے مشورہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جا سکے مگر مجھے ابھی تک ان باتوں کا کوئی علم نہیں تھا۔ یہاں تک کہ
    ایک رؤیا
    مجھے ایک رؤیا ہوئا۔ میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا مکان ہے جس کا ایک حصہ مکمل ہے اور دوسرا نامکمل۔ نامکمل حصے پر اگرچہ بالے رکھے ہوئے ہیں مگر ابھی
    اینٹیں وغیرہ رکھ کر مٹی ڈالنی باقی ہے۔ اس حصہ عمارت پر ہم چار پانچ آدمی کھڑے ہیں جن میں سے ایک میر محمد اسحاق صاحب بھی ہیں۔ اچانک وہاں کڑیوں پر ہمیں کچھ بھوسہ دکھائی دیا۔ میر محمداسحاق صاحب نے جلدی سے ایک دیا سلائی کی ڈبیہ میں سے ایک دیا سلائی نکال کر کہا میرا جی چاہتا ہے کہ اس بُھوسے کو آگ لگا دوں۔ میں انہیں منع کرتا ہوں مگر وہ نہیں رُکتے۔ آخر میں انہیں سختی سے کہتا ہوں کہ اس بھوسے کو ایک دن آگ تو لگائی ہی جائے گی مگر ابھی وقت نہیں آیا اور یہ کہہ کر میں دوسری طرف متوجہ ہو گیا لیکن تھوڑی دیر کے بعد مجھے کچھ شور سا سنائی دیا۔ میں نے منہ پھیرا تو دیکھا۔ میر محمد اسحاق صاحب دیاسلائی کی تیلیاں نکال کر اس کی ڈبیہ سے جلدی جلدی رگڑتے ہیں مگر وہ جَلتی نہیں ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری دیا سلائی نکال کر وہ اس طرح رگڑتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بُھوسے کو آگ لگا دیں۔ میں یہ دیکھتے ہی ان کی طرف دَوڑ پڑا مگر میرے پہنچنے سے پہلے پہلے ایک دیاسلائی جَل گئی جس سے انہوں نے بھوسے کو آگ لگا دی۔ میں یہ دیکھ کر آگ میں کُود پڑا اور اسے جلدی سے بُجھا دیا مگر اس دوران میں چند کڑیوں کے سِرے جل گئے۔ میں نے یہ خواب لکھ کر حضرت خلیفہ اوّل کے سامنے پیش کی تو آپ نے میری طرف دیکھ کر فرمایا کہ خواب تو پوری ہو گئی۔ میں نے عرض کیا کہ کس طرح؟ آپ نے فرمایا۔ میر محمد اسحاق نے کچھ سوالات لکھ کر دیئے ہیں۔ وہ سوال میں نے باہر جماعتوں کو بھجوا دیئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں اس سے بہت بڑا فتنہ پیدا ہو گا۔ مجھے اس پر بھی کچھ معلوم نہ ہوئا کہ میرمحمد اسحاق صاحب نے کیا سوالات کئے ہیں لیکن بعد میں مَیں نے بعض دوستوں سے پوچھا تو انہوں نے ان سوالات کا مفہوم بتایا اور مجھے معلوم ہوئا کہ وہ سوالات خلافت کے متعلق ہیں۔ میر صاحب کے ان سوالات کی وجہ سے جماعت میں ایک شور برپا ہو گیا اور چاروں طرف سے ان کے جوابات آنے شروع ہو گئے۔ اس وقت ان لوگوں نے جس طرح جماعت کو دھوکا میں مبتلاء کرنا چاہا وہ اس سے ظاہر ہے کہ انہوں نے متواتر جماعت کو یہ کہا کہ جن خیالات کا وہ اظہار کر رہے ہیں وہی خیالات حضرت خلیفہ اوّل کے ہیں۔ چنانچہ وہ کہتے خدا کا شکر ہے کہ ایسے بے نفس آدمی کے زمانہ میں یہ سوال اُٹھا اگر بعد میں اُٹھتا تو نہ معلوم کیا فساد کھڑا ہوتا۔ بعض کہتے کہ بہت اچھا ہوئا آج جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اکثر صحابہؓ زندہ ہیں اس امر کا فیصلہ ہونے لگا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل جانشین انجمن ہی ہے۔ غرض جماعت پر یہ پوری طرح اثر ڈالنے کی کوشش کی گئی کہ (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ) حضرت خلیفہ اوّل ان کے خیالات سے متفق ہیں۔ مگر بہرحال اس وقت جماعت میں ایک غیرمعمولی جوش پایا جاتا تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ خلیفۂ وقت کے خلاف خطرناک بغاوت ہو جائے گی۔
    بیرونی جماعتوں کے نمائندوں کا قادیان میں اجتماع
    آخر وہ دن آ گیا جو حضرت خلیفہ اوّل نے اس غرض کیلئے مقرر کیا تھا اور جس میں بیرونی جماعتوں کے نمائندگان کو قادیان میں جمع
    ہونے کیلئے کہا گیا تھا۔ میں اس روز صبح کی نمازکے انتظار میں اپنے دالان میں ٹہل رہا تھا اور حضرت خلیفہ اوّل کی آمد کا انتظار کیا جا رہا تھا کہ میرے کانوں میں شیخ رحمت اللہ صاحب کی آواز آئی۔ وہ بڑے جوش سے مسجد میں کہہ رہے تھے کہ غضب خدا کا ایک لڑکے کی خاطر جماعت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ پہلے تو میں سمجھا کہ اس سے مراد شاید میر محمد اسحاق صاحب ہیں مگر پھر شیخ رحمت اللہ صاحب کی آواز آئی کہ جماعت ایک لڑکے کی غلامی کس طرح کر سکتی ہے۔ اس پر میں اور زیادہ حیران ہوئا اور میں سوچنے لگا کہ میرمحمد اسحاق صاحب نے تو صرف چند سوالات دریافت کئے ہیں ان کے ساتھ جماعت کی غلامی یا عدمِ غلامی کا کیا تعلق ہے مگر باوجود سوچنے اور غور کرنے کے میری سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ اس بچے سے کون مراد ہے۔ آخر صبح کی نماز کے بعد میں نے حضرت خلیفہ اوّل سے اس واقعہ کا ذکر کیا اور میں نے کہا کہ نہ معلوم آج مسجد میں کیا جھگڑا تھا کہ شیخ رحمت اللہ صاحب بلند آواز سے کہہ رہے تھے کہ ہم ایک بچہ کی بیعت کس طرح کر لیں اسی کی خاطر یہ تمام فساد ڈلوایا جا رہا ہے۔ میں تو نہیں سمجھ سکا کہ یہ بچہ کون ہے۔ حضرت خلیفہ اوّل میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا۔ تمہیں نہیں پتہ۔ اس سے مراد تم ہی تو ہو۔ غالباً شیخ صاحب کے ذہن میں یہ بات تھی کہ یہ تمام سوالات میں نے ہی لکھوائے ہیں اور میری وجہ سے ہی جماعت میں یہ شور اُٹھا ہے۔
    مسئلہ خلافت کے متعلق حضرت خلیفہ اوّل کی تقریر
    اس کے بعد حضرت خلیفہ اوّل
    تقریر کرنے کیلئے تشریف لائے۔ اس تقریر کے متعلق بھی پہلے سے میں نے ایک رؤیا دیکھا ہوئا تھا میں نے دیکھا کہ کوئی جلسہ ہے جس میں حضرت خلیفۂ اوّل کھڑے تقریر کر رہے ہیں اور تقریر مسئلہ خلافت پر ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی لشکر ہے جو آپ پر حملہ آور ہوئا ہے۔ اس وقت میں بھی جلسہ میں آیا اور آپ کے دائیں طرف کھڑے ہو کر میں نے کہا کہ حضور کوئی فکر نہ کریں ہم آپ کے خادم ہیں اور آپ کی حفاظت کیلئے اپنی جانیںتک دینے کیلئے تیار ہیں۔ ہم مارے جائیں گے تو پھر کوئی شخص حضور تک پہنچ سکے گا۔ ہماری موجودگی میں آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔ خواب مَیں نے حضرت خلیفۂ اوّل کو سنائی ہوئی تھی۔ چنانچہ اس جلسہ میں شامل ہونے کیلئے جب مَیں آیا تو مجھے اُس وقت وہ خواب یاد نہ رہی اور میں حضرت خلیفۂ اوّل کے بائیں طرف بیٹھ گیا اس پر آپ نے فرمایا۔ میاں! یہاں سے اُٹھ کر دائیں طرف آ جائو اور پھر خود ہی فرمایا۔ تمہیں معلوم ہے میں نے تمہیں دائیں طرف کیوں بٹھایا ہے؟ میں نے عرض کیا مجھے تو معلوم نہیں۔ اس پر آپ نے میری اُسی خواب کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اس خواب کی وجہ سے میں نے تمہیں اپنے دائیں طرف بٹھایا ہے۔
    جب آپ تقریر کیلئے کھڑے ہوئے تو بجائے اس کے کہ اُس جگہ کھڑے ہوتے جو آپ کیلئے تجویز کی گئی تھی آپ اس حصۂ مسجد میں کھڑے ہو گئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بنوایا تھا اور لوگوں پر اظہارِ ناراضگی کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے اپنے عمل سے مجھے اتنا دکھ دیا ہے کہ میں اس حصۂ مسجد میں بھی کھڑا نہیں ہوئا جو تم لوگوںکا بنایا ہوئا ہے بلکہ اپنے پِیر کی بنائی ہوئی مسجد میں کھڑا ہوئا ہوں۔ اس کے بعد آپ نے مسئلہ خلافت پر قرآن و حدیث سے روشنی ڈالی اور فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں خلیفہ کا کام صرف نمازیں پڑھا دینا، جنازے پڑھا دینا اور لوگوںکے نکاح پڑھا دینا ہے اُسے نظام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ یہ کہنے والوں کی سخت گُستاخانہ حرکت ہے۔ یہ کام تو ایک مُلاّں بھی کر سکتا ہے اس کیلئے کسی خلیفہ کی کیا ضرورت ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے یہ تقریر سنی ہوئی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ تقریر اتنی درد انگیز اور اس قدر جوش سے لبریز تھی کہ لوگوں کی روتے روتے گھِگھی بندھ گئی۔
    خواجہکمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب سے دوبارہ بیعت
    تقریر کے بعد آپ نے خواجہ کمال الدین صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب سے کہا کہ دوبارہ
    بیعت کرو چنانچہ انہوں نے دوبارہ بیعت کی۔ میرا ذہن اس وقت اِدھر منتقل نہیں ہوئا کہ ان سے بیعت ان کے جُرم کی وجہ سے لی جا رہی ہے۔ چنانچہ میں نے بھی بیعت کیلئے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا مگر حضرت خلیفۂ اوّل نے میرے ہاتھ کو پیچھے ہٹا دیا اور فرمایا تمہارا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے تو ایک جُرم کیا ہے جس کی وجہ سے دوبارہ ان سے بیعت لی جا رہی ہے مگر تم نے کونسا جُرم کیا ہے۔
    شیخ یعقوب علی صاحب سے اس موقع پر جو بیعت لی گئی وہ اس لئے لی گئی تھی کہ شیخ صاحب نے ایک جلسہ کیا تھا جس میں اُن لوگوں کے خلاف تقریریں کی گئی تھیں جنہوں نے نظامِ خلافت کی تحقیر کی تھی اور گو یہ اچھا کام تھا مگر حضرت خلیفۂ اوّل نے فرمایا جب ہم نے ان کو اس کام پر مقرر نہیں کیا تھا تو ان کا کیا حق تھا کہ وہ خود بخود الگ جلسہ کرتے۔ غرض ان تینوں سے دوبارہ بیعت لی گئی اور انہوںنے سب کے سامنے توبہ کی مگر جب جلسہ ختم ہو گیا اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تو ان لوگوں نے حضرت خلیفہ اوّل کے خلاف اور زیادہ منصوبے کرنے شروع کر دیئے اور مولوی محمد علی صاحب نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ میری اس قدر ہتک کی گئی ہے کہ اب میں قادیان میں نہیں رہ سکتا۔ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم ان دنوں مولوی محمد علی صاحب سے بہت تعلق رکھا کرتے تھے۔ ایک دن وہ سخت گھبراہٹ کی حالت میں حضرت خلیفہ اوّل کے پاس پہنچے۔ مَیں بھی اتفاقاً وہیں موجود تھا اور آتے ہی کہا کہ حضور! غضب ہوگیا آپ جلدی کوئی انتظام کریں۔ حضرت خلیفہ اوّل نے فرمایا کیا ہوئا؟ انہوں نے کہا مولوی محمد علی صاحب کہہ رہے ہیں کہ میری یہاں سخت ہتک ہوئی ہے اور مَیں اب قادیان میں کسی صورت میں نہیں رہ سکتا۔ آپ جلدی کریں اور کسی طرح مولوی محمد علی صاحب کو منانے کی کوشش کریں، ایسا نہ ہو کہ وہ چلے جائیں۔ حضرت خلیفہ اوّل نے فرمایا۔ ڈاکٹر صاحب! مولوی صاحب سے جا کر کہہ دیجئے کہ کل کے آنے میں تو ابھی دیر ہے، آپ جانا چاہتے ہیں تو آج ہی قادیان سے چلے جائیں۔ ڈاکٹر صاحب جو یہ خیال کر رہے تھے کہ اگر مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے تو نہ معلوم کیا زلزلہ آ جائے گا اُن کے تو یہ جواب سُن کر ہوش اُڑ گئے اور انہوں نے کہا حضور! پھر تو بڑا فساد ہوگا۔ حضرت خلیفہ اوّل نے فرمایا۔ مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔ میں خدا کا قائم کردہ خلیفہ ہوں مَیں ان دھمکیوں سے مرعوب ہونے والا نہیں۔ اس جواب کو سن کر مولوی محمد علی صاحب بھی خاموش ہو گئے اور پھر انہوں نے حضرت خلیفہ اوّل کی زندگی میں قادیان سے جانے کے ارادے کا اظہار نہیں کیا۔ البتہ اندر ہی اندر کھچڑی پکتی رہی اور کئی طرح کے منصوبوں سے انہوں نے جماعت میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہ بہت لمبے واقعات ہیں جن کو تفصیلاً بیان کرنے کا یہ موقع نہیں۔
    حضرت خلیفۂ اوّل کی بیماری میں ایک اشتہار شائع کرنے کی تجویز
    حضرت خلیفۂ اوّل جب مرض الموت سے بیمار ہوئے تو طبعاً ہم سب کے قلوب میں ایک بے چینی تھی اور ہم نہایت ہی افسوس کے ساتھ
    آنے والی گھڑی کو دیکھ رہے تھے اور چونکہ آپ کی بیماری کی وجہ سے لوگوں کی عام نگرانی نہیں رہی تھی اور اختلافی مسائل پر گفتگو بڑھتی چلی جا رہی تھی، اس لئے میں نے ایک اشتہار لکھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اب جب کہ حضرت خلیفۃ المسیح سخت بیمار ہیں یہ مناسب نہیں کہ ہم اختلافی مسائل پر آپس میں اس طرح بحثیں کریں مناسب یہی ہے کہ ہم ان بحثوں کو بند کر دیں اور اس وقت کا انتظار کریں جب کہ اللہ تعالیٰ حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کو صحت دے دے اور آپ خود اِن بحثوں کی نگرانی فرما سکیں۔ میں نے یہ اشتہار لکھ کر مرزا خدا بخش صاحب کو دیا اور میں نے کہا کہ آپ اسے مولوی محمد علی صاحب کے پاس لے جائیں تا کہ وہ بھی اس پر دستخط کر دیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ میرے ہم خیال اور ان کے ہم خیال دونوں اس قسم کی بحثوں سے اجتناب کریں گے اور جماعت میں کوئی فتنہ پیدا نہیں ہوگا۔ یہ حضرت خلیفہ اوّل کی وفات سے صرف دو یا ایک دن پہلے کی بات ہے مگر بجائے اس کے کہ مولوی محمد علی صاحب اس اشتہار پر دستخط کر دیتے انہوں نے جواب دیا کہ جماعت کے دوستوں میں جو کچھ اختلاف ہے چونکہ اس سے عام لوگ واقف نہیں اس لئے ایسا اشتہار شائع کرنا مناسب نہیں اس طرح دشمنوں کو خواہ مخواہ ہنسی کا موقع ملے گا۔ میرے خیال میں اشتہار شائع کرنے کی بجائے یہ بہتر ہے کہ ایک جلسہ کا انتظام کیا جائے جس میں آپ بھی تقریر کریں اور مَیں بھی تقریر کروں اور ہم دونوں لوگوں کو سمجھا دیں کہ اس طرح گفتگو نہ کیا کریں۔ چنانچہ مسجد نور میں ایک جلسے کا انتظام کیا گیا۔ مولوی محمد علی صاحب نے مجھ سے خواہش کی کہ پہلے میں تقریر کروں۔ چنانچہ میں نے جو کچھ اشتہار میں لکھا تھا وہی تقریر میں بیان کر دیا اور اتفاق پر زور دیا۔ میری تقریر کے بعد مولوی محمد علی صاحب کھڑے ہوئے مگر بجائے اس کے کہ وہ لوگوں کو کوئی نصیحت کرتے اُلٹا انہوں نے لوگوں کو ڈانٹنا شروع کر دیا کہ تم بڑے نالائق ہو مجھ پر اور خواجہ صاحب پر خواہ مخواہ اعتراض کرتے ہو تمہاری یہ حرکت پسندیدہ نہیں اس سے باز آ جائو۔ غرض انہوں نے خوب زجروتوبیخ سے کام لیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوئا کہ بجائے اتفاق پیدا ہونے کے افتراق اور بھی زیادہ ترقی کر گیا اور لوگوں کے دلوں میں اُن کے متعلق نفرت پیدا ہوگئی۔
    جماعت کو اختلاف سے محفوظ رکھنے کی کوشش
    چونکہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی طبیعت اب زیادہ کمزور
    ہوتی جا رہی تھی اس لئے ہر شخص کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ آپ کے بعد کیا ہوگا۔ میرے سامنے صرف جماعت کے اتحاد کا سوال تھا۔ یہ سوال نہیں تھا کہ ہم میں سے خلیفہ ہو یا اُن میں سے۔ چنانچہ گو عام طور پر وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت پر ایمان رکھتے تھے اُن کا یہی خیال تھا کہ ہم کسی ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت نہیں کر سکتے جس کے عقائد اُن کے عقائد سے مختلف ہوں کیونکہ اس طرح احمدیت کے مِٹ جانے کا اندیشہ ہے مگر میں نے دوستوں کو خاص طور پر سمجھانا شروع کیا کہ اگر حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات پر ہمیں کسی فتنے کا اندیشہ ہو تو ہمیں انہیں لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہئے اور جماعت کو اختلاف سے محفوظ رکھنا چاہئے۔ چنانچہ مَیں نے اکثر دوستوں کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ اگر جھگڑا محض اِس بات پر ہو کہ خلیفہ کس جماعت میں سے ہو ہم میں سے یا اُن میں سے تو ہمیں اُن میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔
    حضرت خلیفۂ اوّل کی وفات
    ۱۳؍ مارچ ۱۹۱۴ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل وفات پا گئے۔ میں جمعہ پڑھا کر نواب محمد علی خان
    صاحب کی گاڑی میں آ رہا تھا کہ راستہ میں مجھے آپ کی وفات کی اطلاع ملی اور اس طرح میرا ایک اور خواب پورا ہو گیا جو مَیں نے اس طرح دیکھا تھا کہ میں گاڑی میں سوار ہوں اور گاڑی ہمارے گھر کی طرف جا رہی ہے کہ راستہ میں مجھے کسی نے حضرت خلیفۃالمسیح کی وفات کی خبر دی۔ میں اس رؤیا کے مطابق سمجھتا تھا کہ غالباً میں اس وقت سفر پر ہونگا جب حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات ہو گی مگر خدا تعالیٰ نے اسے اس رنگ میں پورا کر دیا کہ جب جمعہ پڑھا کر مَیں گھر واپس آیا تو نواب محمد علی خان صاحب کا ملازم ان کا یہ پیغام لے کر میرے پاس آیا کہ وہ میرے انتظار میں ہیں اور ان کی گاڑی کھڑی ہے۔ چنانچہ میں اُن کے ہمراہ گاڑی میں سوار ہو کر چل پڑا اور راستہ میں مجھے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات کی اطلاع مل گئی۔
    دعائوں کی تحریک
    حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات پر تمام جماعتوں کو تاریں بھجوا دی گئیں اور مَیں نے دوستوں کو تحریک کی کہ ہر شخص اٹھتے بیٹھتے
    چلتے پھرتے دعائوں میں لگ جائے۔ راتوں کو تہجد پڑھے اور جسے توفیق ہو وہ کَل روزہ بھی رکھے تا کہ اللہ تعالیٰ اس مشکل کے وقت جماعت کی صحیح راہنمائی کرے اور ہمارا قدم کسی غلط راستہ پر نہ جا پڑے۔
    خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا متفقہ فیصلہ
    اُسی دن مَیں نے اپنے رشتہ داروں کو جمع کیا اور
    اُن سے اس اختلاف کے متعلق مشورہ طلب کیا۔ انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ خلیفہ ایسا شخص ہی مقرر ہونا چاہئے جس کے عقائد ہمارے عقائد کے ساتھ متفق ہوں مگر میں نے ان کوسمجھایا کہ اصل چیز جس کی اس وقت ہمیں ضرورت ہے اتفاق ہے۔ خلیفہ کا ہونا بے شک ہمارے نزدیک مذہباً ضروری ہے لیکن چونکہ جماعت میں اختلاف پیدا ہونا بھی مناسب نہیں، اس لئے اگر وہ بھی کسی کو خلیفہ بنانے میں ہمارے ساتھ متحد ہوں تو مناسب یہ ہے کہ عام رائے لے لی جائے اور اگر انہیں اس سے اختلاف ہو تو کسی ایسے آدمی کی خلافت پر اتفاق کیا جائے جو دونوں فریق کے نزدیک بے تعلق ہو۔ اور اگر وہ یہ بھی قبول نہ کریں تو پھر انہیں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے چاہے وہ مولوی محمد علی صاحب ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ بات منوانی اگرچہ سخت مشکل تھی مگر میرے اصرار پر ہمارے تمام خاندان نے اس بات کو تسلیم کر لیا۔
    مولوی محمد علی صاحب سے ملاقات
    اس کے بعد میں مولوی محمد علی صاحب سے ملا اور میں نے اُن سے کہا کہ مَیں آپ سے کچھ
    باتیں کرنی چاہتا ہوں۔ چنانچہ ہم دونوں جنگل کی طرف نکل گئے۔ مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے بعد جلد ہی کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس وجہ سے کہ جماعت میں اختلاف ہے اور فتنے کا ڈر ہے پورے طور پر بحث کر کے ایک بات پر متفق ہو کرکام کرنا چاہئے۔ میں نے کہا کَل تک امید ہے کافی لوگ جمع ہو جائیں گے۔ اس لئے میرے نزدیک کل جب تمام لوگ جمع ہو جائیں تو مشورہ کر لیا جائے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ نہیں اتنی جلدی کی کیا ضرورت ہے۔ چار پانچ ماہ جماعت غور کر لے پھر اس کے بعد جو فیصلہ ہو اس پر عمل کر لیا جائے۔ میں نے کہا کہ اس عرصہ میں اگر جماعت کے اندر کوئی فساد ہو گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔ جماعت بغیر لیڈر اور راہنما کے ہوگی اور جب جماعت کا کوئی امام نہیں ہوگا تو کون اس کے جھگڑوں کو حل کرے گا اور جماعت کے لوگ کس کے پاس اپنی فریاد لے کر جائیں گے۔ فساد کا کوئی وقت مقرر نہیں، ممکن ہے آج شام کو ہی ہو جائے پس یہ سوال رہنے دیں کہ آج اس امر کا فیصلہ نہ ہو کہ کون خلیفہ بنے بلکہ آج سے پانچ ماہ کے بعد فیصلہ ہو۔ ہاں اس امر پر ہمیں ضرور بحث کرنی چاہئے کہ کون خلیفہ ہو اور میں نے مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اور میرے ہم خیال اس بات پر تیار ہیں کہ آپ لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔ مولوی صاحب نے کہا یہ بڑی مشکل بات ہے آپ سوچ لیں اور کل اس پر پھر گفتگو ہو جائے چنانچہ ہم دونوں الگ ہو گئے۔
    مولوی محمد علی صاحب کا ایک ٹریکٹ
    رات کو جب مَیں تہجد کیلئے اٹھا تو بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے مجھے ایک
    ٹریکٹ دیا اور کہا کہ یہ ٹریکٹ تمام راستہ میں بیرونجات سے آنے والے احمدیوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ میں نے اسے دیکھا تو وہ مولوی محمد علی صاحب کا لکھا ہوئا تھا اور اس میں جماعت پر زور دیا گیا تھا کہ آئندہ خلافت کا سلسلہ نہیں چلنا چاہئے اور یہ کہ حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت بھی انہوں نے بطور ایک پِیر کے کی تھی نہ کہ بطور خلیفہ کے۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ جماعت کا ایک امیر ہو سکتا ہے مگر وہ بھی ایسا ہونا چاہئے جو واجبُ الاِْطاَعت نہ ہو، جو غیر احمدیوں کو کافر نہ کہتا ہو اور جس کی چالیس سال سے زیادہ عمر ہو۔ مقصد یہ تھا کہ اگر خلیفہ بنایا جائے تو مولوی محمد علی صاحب کو کیونکہ اُن کی عمر اس وقت چالیس سال سے زائد تھی اور وہ غیر احمدیوں کو کافربھی نہیں کہتے تھے۔
    انتخاب خلافت پر جماعت کے نوے فیصد دوستوں کا اتفاق
    میں نے جب یہ ٹریکٹ پڑھا تو آنے والے فتنہ کا تصور کر کے خود بھی دعا میں لگ گیا اور دوسرے لوگ جو اس کمرہ میں تھے اُن کو بھی مَیں
    نے جگایا اور اس ٹریکٹ سے باخبر کرتے ہوئے انہیں دعائوں کی تاکید کی۔ چنانچہ ہم سب نے دعائیں کیں۔ روزے رکھے اور قادیان کے اکثر احمدیوں نے بھی دعائوں اور روزہ میں حصہ لیا۔ صبح کے وقت بعض دوستوں نے یہ محسوس کر کے کہ مولوی محمد علی صاحب نے نہ صرف ہم سے دھوکا کیا ہے بلکہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کی وصیتوں کی بھی تحقیر کی ہے ایک تحریر لکھ کر تمام آنے والے احباب میں اس غرض سے پھرائی تا معلوم ہو کہ جماعت کا رحجان کِدھر ہے۔ اس میں جماعت کے دوستوں سے دریافت کیا گیا تھا کہ آپ بتائیں حضرت خلیفۂ اوّل کے بعد کیا ویسا ہی کوئی خلیفہ ہونا چاہئے یا نہیں جیسا کہ حضرت خلیفۂ اوّل تھے اور یہ کہ انہوں نے حضرت خلیفۂ اوّل کی بیعت آپ کو خلیفہ سمجھ کر کی تھی یا ایک پِیر اور صوفی سمجھ کر۔ اس ذریعہ سے جماعت کے دوستوں کے خیالات معلوم کرنے کا یہ فائدہ ہوئا کہ ہمیں لوگوں کے دستخطوں سے یہ معلوم ہو گیا کہ جماعت کا نوے فیصدی سے بھی زیادہ حصہ اس امر پر متفق ہے کہ خلیفہ ہونا چاہئے اور اسی رنگ میں ہونا چاہئے جس رنگ میں حضرت خلیفہ اوّل تھے۔
    مولوی محمد علی صاحب سے دوبارہ گفتگو
    دس بجے کے قریب مجھے مولوی محمد علی صاحب کا پیغام آیا کہ کل والی بات
    کے متعلق مَیں پھر کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ میں نے اُن کو بلوا لیا اور باتیں شروع ہو گئیں۔ میں نے اس امر پر زور دیا کہ خلافت کے متعلق آپ بحث نہ کریں کیونکہ آپ ایک خلیفہ کی بیعت کر کے اس اصول کو تسلیم کر چکے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد جماعت میں خلفاء کا سلسلہ جاری رہے گا صرف اس امر پر بحث کریں کہ خلیفہ کون ہو۔ وہ بار بار کہتے تھے کہ اس بارہ میں جلدی کی ضرورت نہیں جماعت کو چار پانچ ماہ غور کر لینے دیا جائے۔ اور میرا جواب وہی تھا جو میں ان کو پہلے دے چکا تھا بلکہ مَیں نے اُن کو یہ بھی کہا کہ اگر چار پانچ ماہ کے بعد بھی اختلاف ہی رہا تو کیا ہوگا۔ اگر آپ کثرتِ رائے پر فیصلہ کریں گے تو کیوں نہ ابھی جماعت کی کثرت رائے سے یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ کون خلیفہ ہو۔ جب سلسلۂ گفتگو کسی طرح ختم ہوتا نظر نہ آیا تو مَیں نے مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ باہر جو لوگ موجود ہیں اُن سے مشورہ لے لیا جائے۔ اس پر مولوی صاحب کے منہ سے بے اختیار یہ فقرہ نکل گیا کہ میاں صاحب! آپ کو پتہ ہے کہ وہ لوگ کس کو خلیفہ بنائیں گے۔ میں نے کہا لوگوں کا سوال نہیں مَیں خود یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لوں اور میرے ساتھی بھی اس غرض کیلئے تیار ہیں مگر انہوں نے پھر بھی یہی جواب دیا کہ آپ جانتے ہیں وہ کس کو منتخب کریں گے۔ اس پر مَیں مایوس ہو کر اُٹھ بیٹھا کیونکہ باہر جماعت کے دوست اس قدر جوش میں بھرے ہوئے تھے کہ وہ ہمارے دروازے توڑ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم زیادہ صبر نہیں کر سکتے۔ جماعت اس وقت تک بغیر کسی رئیس کے ہے اور آپ کی طرف سے کوئی امر طے ہونے میں ہی نہیں آتا۔ آخر مَیں نے مولوی صاحب سے کہا چونکہ ہمارے نزدیک خلیفہ ہونا ضروری ہے اس لئے آپ کی جو مرضی ہو وہ کریں۔ ہم اپنے طور پر لوگوں سے مشورہ کر کے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیتے ہیں۔ چنانچہ یہ کہتے ہوئے مَیں وہاں سے اُٹھ کھڑا ہوئا اور مجلس برخواست ہو گئی۔
    خلافتِ ثانیہ کا قیام
    عصر کی نماز کے بعد جب نواب محمد علی خان صاحب نے حضرت خلیفہ اوّل کی وصیت سنانے کے بعد لوگوں سے
    درخواست کی کہ وہ کسی کو آپ کا جانشین تجویز کریں تو سب نے بِالاتفاق میرا نام لیا اور اس طرح خلافتِ ثانیہ کا قیام عمل میں آیا۔
    مَیں نے سنا ہے کہ اُس وقت مولوی محمد علی صاحب بھی کچھ کہنے کیلئے کھڑے ہوئے تھے مگر کسی نے اُن کے کوٹ کو جَھٹک کر کہا کہ آپ بیٹھ جائیں۔ بہرحال جو کچھ ہوئا اللہ تعالیٰ کی مشیّت کے ماتحت ہوئا اور وہ جس کو خلیفہ بنانا چاہتا تھا اس کو اس نے خلیفہ بنا دیا۔
    حضرت خلیفۂ اوّل کے بعض ارشادات کی اصل حقیقت
    یہ لوگ حضرت خلیفۂ اوّل کو اپنے متعلق ہمیشہ غلط فہمی میں مبتلاء کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے اسی لئے حضرت خلیفۂ اوّل کے لیکچروں میں بعض
    جگہ اس قسم کے الفاظ نظر آ جاتے ہیں کہ لاہوری دوستوں پر بدظنی نہیں کرنی چاہئے۔ یہ خیال کرنا کہ وہ خلافت کے مخالف ہیں جھوٹ ہے۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ یہ خود حضرت خلیفۂ اوّل سے بار بار کہتے کہ ہمارے متعلق جو کچھ کہا جاتا ہے جھوٹ ہے، ہم تو خلافت کے صدقِ دل سے مؤیّد ہیں۔ مگر اب دیکھ لو اِن کا جھوٹ کس طرح ظاہر ہو گیا اور جن باتوں کا وہ قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کرتے تھے اب کس طرح شدت سے اُن کا انکار کرتے رہتے ہیں۔
    غرض حضرت خلیفۂ اوّل کی خلافت کو تسلیم کر لینے کے بعد ان لوگوں نے بھی خوارج کی طرح اَلْحُکْمُ لِلّٰہِ وَالْاَمْرُشُوْریٰ بَیْنَنَا۳۲؎ کا راگ الاپنا شروع کر دیا مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں ناکام رکھا اور جماعت میرے ہاتھ پر جمع ہوئی۔ اُن کے بعد بھی بعض لوگ بعض اغراض کے ماتحت بیعت سے علیحدہ ہوئے اور انہوں نے بھی ہمیشہ وہی شور مچایا جو خوارج مچایا کرتے تھے مگر خدا تعالیٰ نے آج تک اُن کو ناکام و نامراد رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آئندہ بھی جماعت کو ان کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔
    خلافت کے بارہ میں قرآنی احکام
    یہ تو تاریخ خلافت ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن و احادیث میں اس بارہ میں کیا روشنی ملتی ہے اور کیا کوئی نظام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام نے تجویز کیا ہے یا نہیں اور اگر کیا ہے تو وہ کیا ہے۔
    اس بارہ میں جب ہم غورکرتے ہیں تو ہمیں پہلا اصولی حکم قرآن کریم میں یہ ملتا ہے کہ:۔
    ۳۳؎
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اہل کتاب جھوٹ اور فریب اور شرک کی باتوں پر عمل کرتے ہوئے سچائی کو چھوڑ رہے ہیں اور جب بھی مؤمنوںاور غیر مؤمنوں کا مقابلہ ہوتا ہے تو مؤمنوں کے متعلق تو وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ بہت ہی بُرے ہیں اور کافروں کے متعلق اُن کی یہ رائے ہوتی ہے کہ وہ مؤمنوں سے بہتر ہیں۔ جیسے غیر مبائعین ہماری دشمنی کی وجہ سے عام مسلمانوں کو ہم سے بہتر سمجھتے اور اُن کے پیچھے نمازیں بھی پڑھ لیتے ہیں۔ چنانچہ جب بھی کوئی بات ہو وہ کہتے ہیں یہ مسلمان احمدیوں سے زیادہ اچھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ تم چونکہ مؤمنوں کو دور کرتے ہو اور غیر مؤمنوں کو اپنے قریب کرتے ہو اس لئے آج ہم تم سے بھی یہی کہتے ہیں کہ تم ہمارے قرب سے دور ہو جائو۔ اور لوگ تو *** صرف زبان سے کرتے ہیں اور جب کسی پر *** ڈالنی ہو تو کہتے ہیں جا تجھ پر *** مگر جس پر ہماری *** پڑتی ہے اس کا کوئی مددگار نہیں رہتا۔ یہود کو دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے اُن پر *** ڈالی تو اُن کا کیسا بُرا حال ہوئا۔ باوجود اس کے کہ مال و دولت اُن کے پاس بہت ہے مختلف قومیں مختلف وقتوں میں اُٹھتی اور انہیں ذلیل و رُسوا کرتی رہتی ہیں۔ یہی حال غیر مبائعین کا ہے۔ جب میری بیعت ہوئی تو اُس وقت قادیان میں دو ہزار کے قریب آدمی جمع تھے اور سِوائے پچاس ساٹھ کے باقی سب نے میری بیعت کرلی۔ مگر ’’پیغامِ صلح‘‘ نے لکھا کہ:-
    ’’حاضر الوقت جماعت میں سے نصف کے قریب لوگوں نے بیعت نہ کی اور افسوس کرتے ہوئے مسجد سے چلے آئے‘‘۔ ۳۴؎
    پھر اُسی پیغامِ صلح میں انہوں نے میرے متعلق اعلان کیا کہ:۔
    ’’ابھی بمشکل قوم کے بیسویں حصہ نے خلیفہ تسلیم کیا ہے‘‘ ۳۵؎
    گویا پانچ فیصدی آدمی ہمارے ساتھ تھے اور پچانوے فیصدی اُن کے ساتھ۔ مگر اب کیا حال ہے۔ اب وہ بار بار لکھتے ہیں کہ جماعت کی اکثریت خلافت سے وابستہ ہے۔ بلکہ اب تو ان کے دلائل کا رُخ ہی بدل گیا ہے۔ پہلے وہ اپنی سچائی کی یہ دلیل دیا کرتے تھے کہ جماعت کی اکثریت اُن کے ساتھ ہے مگر جب اکثریت خدا تعالیٰ نے ہمارے ساتھ کر دی تو وہ یہ کہنے لگ گئے کہ جماعت کی اکثریت کا کسی بات کا قائل ہونا اُس کی سچائی کی دلیل نہیں ہوتا۔ قرآن میں صاف آتا ہے کہ ۳۶؎ گویا جب تک وہ زیادہ رہے اُن کی یہ دلیل رہی کہ نبی کو ماننے والوں کی اکثریت گمراہ نہیں ہو سکتی اور جب ہم زیادہ ہو گئے تو کا مصداق ہمیں قرار دے دیا گیا۔ بہرحال انہوں نے اتنا تو ضرور اقرار کر لیا کہ اُن کے نصیر جاتے رہے ہیں۔ اور یہی اس قرآنی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ پھر فرماتا ہے۔ ۔ ان لوگوںکو تو یہ حَسد کھائے چلا جاتا ہے کہ انہیں حکومت اور طاقت کیوں نہ مل گئی۔ حالانکہ اگر دنیا کی حکومت ان کے قبضہ میں ہوتی تو یہ بال برابر بھی لوگوں کو کوئی چیز نہ دیتے۔ کھجور کی گٹھلی کے نشان کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی طبیعت میں سخت بخل ہے۔ جیسے پیغامیوں کو یہی بخل کھا گیا کہ ایک لڑکے کو خلافت کیوں مل گئی۔ فرماتا ہے۔تم جوبُخل کرتے ہو اور کہتے ہو کہ انہیں حکومت اور خلافت کیوں مل گئی تو اتنا تو سوچو کہ یہ حکومت اور سلطنت کس کو ملی ہے؟ کیا جسے حکومت ملی ہے وہ آل ابراہیم ؑ میں شامل نہیں۔ اگر ہے تو پھر تمہارے حسد سے کیا بنتا ہے۔ خدا نے پہلے بھی آل ابراہیم ؑکو حکومت اور سلطنت دی اور اب بھی وہ آل ابراہیم کو حکومت اور سلطنت دے گا۔ ہم اس سے پہلے بھی آل ابراہیم ؑ کو حکومت دے چکے ہیں۔ جن لوگوں نے اُن کی حکومت کو تسلیم کر لیا تھا وہ عزت پا گئے اور جنہوں نے انکار کیا اُن کو سزا مل گئی۔ فرماتا ہے یہ حکومت جو آل ابراہیم ؑ کو دی جائے گی یہ لوگوں کیلئے بڑی رحمت اور برکت کا موجب ہوگی۔ جب تک وہ اس رحمت کے نیچے رہیں گے اور اس حکومت سے بھاگنے کی کوشش نہیں کریں گے وہ بڑے آرام اور سُکھ میں رہیں گے مگر جب انہوں نے انکار کر دیا تو پھر اللہ تعالیٰ انہیں ایسے عذاب میں مبتلاء کرے گا جس سے رہائی کی کوئی صورت ہی نہیں ہوگی اور وہ ہمیشہ دُکھوں میں مبتلاء رہیں گے۔
    انسان کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ جب وہ ایک عذاب کا عادی ہو جاتا ہے تو اُس کی تکلیف اسے پہلے جیسی محسوس نہیں ہوتی۔ ایک بادشاہ خواہ کتنا ہی ظالم ہوجب اُس کی حکومت پر کچھ عرصہ گزر جاتا ہے تو اُس کا ظلم لوگوں کو پہلے جیسا محسوس نہیں ہوتا اور وہ خود بھی نرمی کا پہلو اختیار کرنے لگ جاتا ہے لیکن اگر وہ بدل جائے اور اُس کی جگہ کوئی اور ظالم بادشاہ آ جائے تو اُس کا ظلم بہت زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ پس فرماتا ہے اگر تم نے اس انعام کو ردّ کر دیا تو پھر ظالم بادشاہ تم پر حکومتیں کریں گے اور وہ حکومتیں جلد جلد بدلیں گی تا کہ تمہیں اپنے کئے کی سزا ملے۔
    ۔مگر جو لوگ ایمان لانے والے ہونگے اور اعمالِ صالحہ بجا لائیں گے، اُن کو ہم اعلیٰ درجہ کی حکومتیں بخشیں گے اور ان جنات میں اُن کے ساتھ اُن کی بیویاں بھی ہونگی اور اُن سب کو آرام اور سُکھ کا بہت لمبا زمانہ بخشا جائے گا۔ اِن آیات میں دراصل اسلامی حکومت کے قیام کی پیشگوئی کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہود جو اس کی مخالفت کرتے ہیں وہ سخت نقصان اٹھائیں گے اور ہمیشہ عذاب میں مبتلاء رہیں گے لیکن مؤمن جو اس فضل کو تسلیم کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں جنتی زندگی دے گا اور اُن کی بیویاں بھی اُن کے ساتھ ہونگی۔
    اَزْوَاجٌ مُطَھَّرَۃٌ کے الفاظ پر دشمنانِ اسلام کا ایک ناواجب اعتراض
    ٌ کے الفاظ پر کئی نادان دشمنانِ اسلام اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ اسلام جنت کو ایک چَکْلہ بناتا ہے
    کیونکہ عورتوں کا بھی ساتھ ہی ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے جنت میں جہاں مرد ہونگے وہاں عورتیں بھی ہونگی حالانکہ وہ نادان نہیں جانتے کہ چَکْلہ تو وہ خود اپنے نفس کی وجہ سے بناتے ہیں۔ ورنہ اسلام تو یہ بتاتا ہے کہ جس طرح مرد جنت کے حقدار ہیں عورتیں بھی حقدار ہیں اور یہ کہ جنت مرد اور عورت کے تعاون سے بنتی ہے، اکیلا مرد جنت نہیں بنا سکتا۔ چنانچہ دیکھ لو اس رکوع میں دُنیوی حکومتوں کا ذکر ہے اور ان حکومتوں کا ذکر کرتے کرتے اللہ تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ اس میں عورتوں کا شریک ہونا بھی ضروری ہے اور اگر وہ شریک نہ ہوں تو یہ مکمل نہیں کہلا سکتی۔ پس مرد اور عورت دونوں مل کر بناتے ہیں اور اگر وہ دونوں متحدہ طور پر کوشش نہ کریں تو کبھی یہ نہیں بن سکتی نہ دنیا کی اور نہ اُخروی ۔ بلکہ دنیا کی کی تعمیر میں بھی مرد اور عورت کو مل کر کام کرنا پڑتا ہے اور اُخروی کی تعمیر میں بھی مرد کے ساتھ عورت کی شراکت ضروری ہے۔ اگر وہ دونوں مل کر اس کی تعمیر نہیں کریں گے تو کبھی والی نعمت کو وہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔
    عورت اور مرد کے تعاون کے بغیر نہ دُنیوی جنت حاصل ہو سکتی ہے اور نہ اُخروی
    اگر لوگ اس نکتہ کو سمجھتے اور قومی زندگی میں عورت کو شریک رکھتے اور اس کی اہمیت اور قدروقیمت
    کو پہچانتے تو آج اسلام کی وہ حالت نہ ہوتی جو نظر آ رہی ہے اور نہ دنیا کی وہ حالت ہوتی جو دکھائی دے رہی ہے بلکہ یہ دنیا انسانوں کیلئے جنت ہو جاتی اور وہ یہیں جنت کو پا لیتے۔ مگر جو لوگ عورت کے بغیر حاصل کرتے ہیں اُن کی حقیقی نہیں ہوتی کیونکہ کی خصوصیت یہ ہے کہ عدن ہو۔ اور عورت کے بغیر عدن نصیب نہیں ہوتی بلکہ اِدھر مرد تیار کرتا ہے اور اُدھر عورت اُس کی اولاد کو سے باہر نکال دیتی ہے کیونکہ اولاد کی صحیح تربیت کے بغیر قوم کو دائمی حاصل نہیں ہو سکتی اور اولاد کی تربیت کا اکثر حصہ چونکہ عورت کے ہاتھ میں ہوتا ہے، اس لئے اس کی تکمیل کیلئے عورت کے تعاون اور اس کو اپنے ساتھ شریک کرنے کی انسان کو ہمیشہ ضرورت رہے گی۔ جب عورت کو تعلیم حاصل ہوگی، جب عورت کے اندر تقویٰ ہوگا، جب عورت کے اندر دین کی محبت ہوگی، جب عورت کے دل میں خدا اور اُس کے رسول کے احکام پر چلنے کی ایک والہانہ تڑپ ہوگی تو ناممکن ہے کہ وہ یہی جذبات اپنی اولاد کے اندر بھی پیدا کرنے کی کوشش نہ کرے۔ پس مردوں کا یہ کام ہے کہ وہ آج کی جنت تیار کریں اور عورتوں کا یہ کام ہے کہ وہ کَل کی تیار کریں۔ مردوں کا یہ کام ہے کہ وہ بنائیں اور عورتوں کا یہ کام ہے کہ وہ اس کیلئے نئے مالی پیدا کریں۔ اگر ایک طرف مرد اُس کی تعمیر میں لگا ہوئا ہو اور دوسری طرف عورت اس کی تعمیر میں لگی ہوتی ہے۔ اگر ایک طرف مرد اس کی حفاظت کرتا ہو اور دوسری طرف عورت اس کی حفاظت کیلئے نئے سے نئے مالی پیدا کرتی چلی جاتی ہو تو پھر کون ہے جو اُس کو برباد کر سکے۔ کون ہے جو قومی وحدت، قومی عظمت اور قومی شان کو نقصان پہنچا سکے۔ مگر جس دن عورت کو اس جنت کی تعمیر میں شریک ہونے سے روک دیا جائے گا اُسی دن اگلے مالی پیدا ہونے بند ہو جائیں گے اُسی دن پہلوں کی ٹریننگ ختم ہو جائے گی اور جب پہلوں کی ٹریننگ ختم ہو گئی اور اگلوں کا سلسلہ بھی بند ہو گیا تو وہ جنت کبھی قائم نہیں رہ سکتی بلکہ ضرور ہے کہ شیطان اُسے اُجاڑ کر رکھ دے۔
    ایک عظیم الشان نکتہ
    پس یہ ایک عظیم الشان نکتہ ہے جو قرآن کریم نے ہمیں بتایا کہ حیاتِ ملّی کے قیام کیلئے مَردوں اور عورتوں دونوں کو مِل کر کوشش
    کرنی چاہئے۔ جب تک عورتوں کو اپنے ساتھ شریک نہیں کرو گے اُس وقت تک تم یقین رکھو کہ تم جنت نہیں بنا سکو گے۔ اگر تم اپنی کوشش سے ساری دنیا کو بھی ایک دفعہ نمازی بنا لو تو اس کا کیا فائدہ جب کہ اُن نمازیوںکی اولادوں کو انہی کی مائیں بے نماز بنانے میں مصروف ہوں۔ اس طرح تو یہی ہوگا کہ تم بنائو گے اور عورتیں اُس جنت کو برباد کرتی چلی جائیں گی۔
    ہمارا ایک رشتہ دار ہوئا کرتا تھا جو دین کا سخت مخالف اور خدا اور رسول کے احکام پر ہمیشہ ہنسی اور تمسخر اُڑایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ وہ بیمار ہوئا اور علاج کیلئے حضرت خلیفۂ اوّل کے پاس آیا۔ حضرت خلیفۂ اوّل نے باتوں باتوں میں اس سے کہا کہ مرزا صاحب! آپ کے پہلو میں پانچ وقت لوگ مسجد میں آ کر نمازیں پڑھتے ہیں کیا آپ کو کبھی اس پر رَشک نہیں آیا؟ اور کیا آپ کے دل میں کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ آپ کو بھی نمازیں پڑھنی چاہئیں؟ اس نے یہ سن کر بڑے زور سے قہقہہ لگایا اور کہا مولوی صاحب مَیں تو بچپن سے ہی سلیم الفطرت واقع ہوئا ہوں۔ چنانچہ ان دنوں میں بھی جب میں لوگوں کو دیکھتا کہ انہوں نے سر نیچے اور سرین اونچے کئے ہوئے ہیں تو میں ہنسا کرتا تھا کہ یہ کیسے احمق لوگ ہیں۔
    اب بتائو جب مائیں ایسے ’’سلیم الفطرت بچے‘‘ پیدا کرنے شروع کر دیں تو واعظوں کے وعظ سے جو جنت تیار ہو آیا وہ ایک دن بھی قائم رہ سکتی ہے۔ اسی طرح کوئی مسئلہ لے لو علمی ہو یا مذہبی، سیاسی ہو یا اقتصادی، اگر عورت کو اپنے ساتھ شریک نہیں کیا جائے گا تو ان مسائل کے بارہ میں وہ تمہاری اولاد کو بالکل ناواقف رکھے گی اور تمہارا علم تمہارے ساتھ ہی ختم ہو جائے گا۔ غرض ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ دائمی مرد کو عورت کے بغیر نہیں مل سکتی اور یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے۔ پس وہ جنہوں نے اسلامی جنت کو چَکْلہ قرار دیا ہے انہوں نے اپنے کا اظہار کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کیا۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ ۳۷؎ کہ وہ لوگ جو اپنے دلوں میں خدا کا خوف رکھتے ہیں اُن کیلئے دو جنتیں ہیں۔ دوسری جگہ فرماتا ہے۔ ۳۸؎کہ دو جنتیں دنیا میں ہونگی اور دو ہی اگلے جہاں میں۔ کیونکہ ایک باغ مرد نے لگایا ہوگا اور ایک عورت نے۔ اسی کو کہا گیا ہے اور اسی کو قرار دیا گیا ہے۔ گویا اس باغ کی دو حیثیتیں بھی ہیں اور ایک بھی۔ دو اس لحاظ سے کہ ایک مرد کی کوششوں کا نتیجہ ہوگا اور دوسرا عورت کی کوششوں کا نتیجہ اور ایک اس لحاظ سے کہ مرد و عورت دونوں کی یہ مشترکہ جنت ہوگی۔
    پھر فرماتا ہے کہ صرف اگلے جہان میں ہی یہ دو نہیں ہونگے بلکہ اس دنیا میں بھی دو ہیں جن میں سے ایک کی تعمیر مرد کے سپرد ہے اور ایک کی تعمیر عورت کے سپرد۔ پس مؤمنوں کو دو جنتیں تو اس دنیا میں ملتی ہیں اور دو اگلے جہان میں یعنی اسے جسمانی اور روحانی دونوں رنگ کی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں۔ جو اپنا دائمی اثر چھوڑ جاتی ہیں۔ چنانچہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۳۹؎ یعنی جو لوگ مال و اسباب سے دُنیوی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں ایک وقتی فائدہ تو مل جاتا ہے لیکن جو لوگ ایسے اعمال کرتے ہیںجو خدا تعالیٰ کی رضا کیلئے ہوں اُن کے عمل ابدیّت کا مقام پا لیتے ہیں اور نہ صرف انہیں حاضر ثواب ملتا ہے بلکہ اُن کی وجہ سے ثواب کا ایک دائمی سلسلہ جاری ہوتا ہے۔
    اس حدیث کی تشریح کہ جنت مائوںکے قدموں کے نیچے ہے
    یہ حدیث کہ جنت مائوں کے قدموں کے نیچے ہے یہ بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر ماں اچھی تربیت کرے تو اچھی نسل پیدا ہوگی اور جو
    انعامات باپ حاصل کرے گا وہ دائمی ہو جائیں گے لیکن اگر ماں اچھی تربیت نہیں کرے گی تو باپ کے کمالات باپ تک ختم ہو جائیں گے اور دنیا کوجنّاتِ عدن حاصل نہیں ہونگی۔ یہی مفہوم اس حدیث سے بھی ظاہر ہوتا ہے جو معاویہ بن جاہمہ سے مروی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئا اور کہنے لگا کہ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں فلاں جہاد میں شامل ہو جائوں۔ آپ نے فرمایا۔ کیا تیری ماں زندہ ہے۔ اس نے کہا ہاں حضور زندہ ہے۔ آپ نے فرمایا۔ فَالْزِمْھَا فَاِنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ رِجْلَیْھَا۔۴۰؎ جا اور اسی کے پاس رہ کیونکہ اُس کے قدموں میں ہے۔ معلوم ہوتا ہے اس میں بعض ایسے نقائص تھے جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے تھے کہ اگر وہ ماں کی صحبت میں رہا تو اس کی عمدہ تربیت سے وہ دُور ہو جائیں گے۔ ممکن ہے اس میں تیزی اور جوش کا مادہ زیادہ ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھا ہو کہ اگر یہ جہاد پر چلا گیا تو اس کی طبیعت میں جو جوش کا مادہ ہے وہ اور بھی بڑھ جائے گا لیکن اگر اپنی والدہ کے پاس رہا اور اس کی اطاعت کرتے ہوئے اسے اپنے جوشوں کو دبانا پڑا تو اس کی اصلاح ہو جائے گی۔ بہرحال کوئی ایسی ہی کمزوری تھی جس کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے ماں کی تربیت جہاد کے میدان سے زیادہ بہتر سمجھی اور اُسے اپنی والدہ کی خدمت میں رہنے کا ارشاد فرمایا۔ یہ حدیث بھی ظاہر کرتی ہے کہ عورت کے تعاون کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ غرض عورت کا میں ہونا ضروری ہے نہ صرف اگلی میں بلکہ دُنیوی میں بھی کیونکہ اس کے بغیر کوئی قوم کامیاب نہیں ہو سکتی۔
    امانات کو اُ ن کے اہل کے سپرد کرنے کا حکم
    پھر فرماتاہے کہ یہ فضل اور رحمت جو تم کو حاصل ہوگی اُس کے قیام کیلئے
    ایک نظام کی ضرورت ہے، خود سری اور پراگندگی سے قوم اس انعام کو حاصل نہیں کر سکتی۔ پس اس جنت کے قیام کیلئے جو طریق تم کو اختیار کرنا چاہئے وہ ہم تمہیں بتاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ دُنیوی حکومتیں اور مال و املاک پر قبضے یہ سب تمہارے پاس خدا تعالیٰ کی امانتیں ہیں۔ پس ہم تم کو حکم دیتے ہیں کہ (۱) تم امانتوں کو اُن کے اہل کے سپرد کرو۔ یعنی اپنے لئے ایسے سردار چنو جو اس امانت کو اٹھانے کے اہل ہوں۔ (۲) پھر ہم ان کو جن کے سپرد یہ امانت کی جائے حکم دیتے ہیں کہ وہ انصاف اور عدل سے کام کریں گویا دونوں کو حکم دے دیا۔ ایک طرف لوگوں سے کہا کہ اے لوگو! ہم تم کو حکم دیتے ہیں کہ تم حکومت کے اختیارات ہمیشہ ایسے لوگوں کے سپرد کیا کرو جو ان اختیارات کو سنبھالنے اور حکومت کے کام کو چلانے کے سب سے زیادہ اہل ہوں اور پھر اے اہل حکومت! ہم تم کو بھی حکم دیتے ہیں کہ تم رعایا کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ رکھو اور کبھی بے انصافی کو اپنے قریب نہ آنے دو۔
    اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بہت بڑی حکمتوں پر مشتمل ہے اور وہ ہمیشہ تم کو اچھی باتوں کا حکم دیتا ہے اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔
    اس طرح جب ایک نظام قائم ہو جائے تو فرماتا ہے کہ اب جو غرض نظام کی تھی یعنی دین کی تمکین تم اس کی طرف توجہ کرو اور قومی عبادات اور قومی کاموں کے متعلق جو احکام ہیں ان کی بجاآوری کی طرف توجہ کرو۔ عبادات اور فرائض شخصی بھی ہوتے ہیں اور قومی بھی۔ جو شخصی عبادات اور فرائض ہیں اُن کیلئے کسی نظام کی ضرورت نہیں اور انہیں انتخاب امراء کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ پس انتخاب امراء کے بعد جو بیان فرمایا اس کے یہی معنی ہیں کہ نظام کی غرض یہ تھی کہ قومی عبادات اور فرائض صحیح طور پر ادا ہو سکیں۔ پس تم کو چاہئے کہ جب نظام قائم ہو جائے تو اس کی غرض کو پورا کرنے کی کوشش کرو۔ یہ نہیں کہ نظام بنا کر اپنے گھروں میں بیٹھ جاؤ اور سارا کام امراء پر ڈال دو۔ امراء کا قیام کام کرنے کیلئے نہیں ہوتا بلکہ کام لینے کیلئے ہوتا ہے۔ پس چاہئے کہ جب امراء قائم ہو جائیں تو تم قومی ذمہ واریوں کو ادا کرنے میں لگ جاؤ۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ ۔ یعنی جب تم نے امراء کا انتخاب کر لیا تواَب سن لو کہ تم پر تین حکومتیں ہوں گی۔ اوّل اللہ کی حکومت۔ دوم رسول کی حکومت۔ سوم اُولِی الْاَمْر کی حکومت ہاں ۔ چونکہ امراء ان ذمہ واریوں کی ادائیگی کے متعلق مختلف سکیمیں تجویز کریں گے تمہیں چاہئے کہ تم ان سکیموں میں ان کی اطاعت کرو لیکن اگر کبھی تمہارا ان سے اختلاف ہو جائے تو ان اختلافات کو اللہ اور رسول کی طرف لے جاؤ۔ یعنی ان اصول کے مطابق طے کرو جو اللہ اور اس کے رسول نے مقرر کئے ہیں اور اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی نہ کرو ۔یہ تمہارے لئے بہت بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت بابرکت ہوگا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر یہ امر بیان کر دیا ہے کہ جب حکومت کے اختیارات تم قابل ترین لوگوں کے سپرد کر دو تو پھر اللہ اور رسول کے احکام کے ساتھ ان حکام کے احکام کی بھی تمہیں اطاعت کرنی ہو گی اور یہ اس لئے فرمایا کہ پہلے اس نے حکومت کا مقام بتا دیا ہے کہ وہ کیسا ہونا چاہئے۔ وہ کہتا ہے کہ تمہاری ترقی کیلئے یہ امر ضروری ہے کہ تم اپنی باگ ڈور ایک ہاتھ میں دے دو مگر یاد رکھو انتخاب کرتے وقت اہلیت کو مدّنظر رکھو ایسا نہ ہو کہ تم یہ سمجھ کر کہ کسی نے تم پر احسان کیا ہوئا ہے یا کوئی تمہارا قریبی عزیز اور رشتہ دار ہے یا کسی سے تمہارے دوستانہ تعلقات ہیں اسے ووٹ دے دو۔ دنیا میں عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے اور ووٹ دیتے وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہمیں کس سے زیادہ تعلق ہے یا کون ہمارا عزیز اور دوست ہے۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کون اس کام کے زیادہ اہل ہے مگر فرمایا اسلامی انتخاب میں ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے کہ تم کسی کو محض اس لئے منتخب کر دو کہ وہ تمہارا باپ ہے یا تمہارا بیٹا ہے یا تمہارا بھائی ہے بلکہ اس کام کا جو شخص بھی اہل ہو اُس کے سپرد کر دو خواہ اس کے ساتھ تمہارے تعلقات ہوں یا نہ ہوں۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ جب تم امراء کا انتخاب کر لو گے تو لازماً وہ اسلام کی ترقی کیلئے بعض سکیمیں تجویز کریں گے اس لئے ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ جو احکام بھی ان کی طرف سے نافذ ہوں وہ خواہ تمہاری سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں ان کی اطاعت کرو۔ ہاں اگر کسی مقام پر تمہارا اُن سے اختلاف ہو جائے تو اسے خدا اور رسول کے احکام کی طرف پھرا دو۔ یہاں آ کر خلافت کے منکرین خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور کہتے ہیں بس بات حل ہو گئی اور معلوم ہو گیا کہ خلفاء کی باتیں ماننا کوئی ایسا ضروری نہیں۔ اگر وہ شریعت کے مطابق ہوں تو انہیں مان لینا چاہئے اور اگر شریعت کے مطابق نہ ہوں تو انہیں ردّ کر دینا چاہئے۔ اس اعتراض کو میں انشاء اللہ بعد میں حل کروں گا۔
    نظامِ اسلامی کے متعلق قرآنی اصول
    سرِدست میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ نظامِ اسلامی کے متعلق قرآن کریم
    نے عام احکام بیان کئے ہیں اور ان میں مندرجہ ذیل اصول بیان ہوئے ہیں:۔
    (۱) قومی نظام ایک امانت ہوتا ہے کیونکہ اس کا اثر صرف ایک شخص پر نہیں پڑتا بلکہ ساری قوم پر پڑتا ہے۔ پس اس کے بارہ میں فیصلہ کرتے وقت اپنی اغراض کو نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ قوم کی ضرورتوں اور فوائد کو دیکھنا چاہئے۔
    (۲) اس امانت کی ادائیگی کیلئے ایک نظام کی ضرورت ہے جس کے بغیر یہ امانت ادا نہیں ہو سکتی۔ یعنی افراد فرداً فرداً اس امانت کو پورا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے بلکہ ضرور ہے کہ اس کی ادائیگی کیلئے کوئی منصرم ہوں۔
    (۳) ان منصرموں کو قوم منتخب کرے۔
    (۴) انتخاب میں یہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ جنہیں منتخب کیا جائے وہ ان امانتوں کو پورا کرنے کے اہل ہوں۔ اس کے سِوا اور کوئی امر انتخاب میں مدنظر نہیں ہونا چاہئے۔
    (۵) جن کے سپرد یہ کام کیا جائے گا وہ امر قومی کے مالک نہ ہوں گے بلکہ صرف منصرم ہوں گے۔ کیونکہ فرمایا یعنی ان کے سپرد اس لئے یہ کام نہ ہو گا کہ وہ باپ دادا سے اس کے وارث اور مالک ہوں گے بلکہ اس لئے کہ وہ اس خدمت کے اہل ہوں گے۔
    یہ احکام کسی خاص مذہبی نظام کے متعلق نہیں بلکہ جیسا کہ الفاظ سے ظاہر ہے عام ہیں خواہ مذہبی نظام ہو اور خواہ دُنیوی ہو اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ملوکیت کو اپنے نظام کا حصہ تسلیم نہیں کرتا بلکہ اسلام صرف انتخابی نظام کو تسلیم کرتا ہے اور پھر اس نظام کے بارہ میں فرماتا ہے کہ جن کے سپرد یہ کام ہو افراد کو چاہئے کہ ان کی اطاعت کریں۔
    کیا اسلام کسی خالص دُنیوی حکومت کو تسلیم کرتا ہے
    اگر کہا جائے کہ کیا اسلام
    کسی خالص دُنیوی حکومت کو بھی تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام سب صحیح سامانوں کی موجودگی میں جبکہ سارے سامان اسلام کی تائید میں ہوں اور جبکہ اسلام آزاد ہو خالص دُنیوی نظام کو تسلیم نہیں کرتا۔ مگر وہ حالات کے اختلاف کو بھی نظر انداز نہیں کرتا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کسی وقت وہ اعلیٰ نظام جو اسلام کے مدنظر ہو نافذ نہ کیا جا سکے اس صورت میں دُنیوی نظاموں کی بھی ضرورت ہو سکتی ہے۔ مثلاً کسی وقت اگر مسلمانوں کا معتدبہ حصہ کُفّار حکومتوں کے ماتحت ہو جائے، ان کی سَلب ہو جائے، ان کی آزادی جاتی رہے اور ان کی اجتماعی قوت قائم نہ رہے تو جن ملکوں میں اسلام کا زور ہو وہ مذہبی اور دُنیوی نظام اکٹھا قائم نہیں کر سکتے۔ کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت اس کی اتباع نہیں کر سکتی۔ پس اس مجبوری کی وجہ سے ان ملکوں میں خالص دُنیوی نظام کی اجازت ہو گی جو انہی اصول پر قائم ہو گا جو اسلام نے تجویز کئے ہیں اور جن کا قبل ازیں ذکر کیا جا چکا ہے۔
    خالص دُنیوی نظام کا مفہوم
    خالص دُنیوی نظام سے یہ مراد نہیں کہ وہ نظام اسلامی احکام کو جو حکومت سے تعلق رکھتے ہیں نافذ نہیں
    کرے گا بلکہ مراد یہ ہے کہ مذہبی طور پر اس کے احکام سب عالمِ اسلامی پر واجب نہ ہوں گے کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت سیاسی حالات کی وجہ سے ان کی پابندی نہ کر سکے گی اور نہ اس نظام کے قیام میں مسلمانوں کی اکثریت کا ہاتھ ہو گا۔
    پس ایسے وقت میں جائز ہو گا کہ ایک خالص مذہبی نظام الگ قائم کیا جائے بلکہ جائز ہی نہیں ضروری ہو گا کہ ایک خالص مذہبی نظام علیحدہ قائم کر لیا جائے جس کا تعلق اس اسلامی نظام سے ہو جس کا تعلق کسی حکومت سے نہ ہو بلکہ اسلام کی روحانی تنظیم سے ہو تاکہ غیر حکومتیں دخل اندازی نہ کریں اور چونکہ وہ صرف روحانی نظام ہو گا اور حکومت کے کاروبار میں وہ دخل نہ دے گا اس لئے ایسا نظام غیر حکومتوں میں بسنے والے مسلمانوں کو اکٹھا کر سکے گا اور اسلام پراگندگی سے بچ جائے گا۔
    اگر مسلمان اس آیت کے مفہوم پر عمل کرتے تو یقینا جو تنزل مسلمانوں کو آخری زمانہ میں دیکھنا نصیب ہوئا اس کا دیکھنا انہیں نصیب نہ ہوتا۔
    مسلمانوں کی ایک افسوسناک غلطی
    مسلمانوں سے تنزل کے وقت میں یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے سمجھا کہ اگر وہ
    ساری دنیا میںایک ایسا نظام قائم نہیں کر سکے جو دینی اور دُنیوی امور پر مشتمل ہو تو اُن کیلئے خالص دینی نظام کی بھی کوئی صورت نہیں اور انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ دونوں نظام کسی صورت میں بھی الگ نہیں ہو سکتے اور جب ایک نظام ان کیلئے ناممکن ہو گیا تو انہوں نے دوسرے نظام کو بھی ترک کر دیا حالانکہ مسلمانوں کا فرض تھا کہ جب ان میں سے خلافت جاتی رہی تھی تو وہ کہتے کہ آؤ جو قومی مسائل ہیں ان کیلئے ہم ایک مرکز بنا لیں اور اس کے ماتحت ساری دنیا میں اسلام کو پھیلائیں۔ چنانچہ وہ اس مرکز کے ماتحت دنیا بھر میں تبلیغی مشن قائم کرتے، لوگوں کے اخلاق کی درستی کی کوشش کرتے، لوگوں کو قرآن پڑھاتے، غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کرتے اور جو مشترکہ قومی مسائل ہیں ان میں مشترکہ جدوجہد اور کوشش سے کام لیتے مگر انہوں نے سمجھا کہ اب ان کیلئے کسی خالص دینی نظام کے قیام کی کوئی صورت ہی باقی نہیں رہ گئی۔ نتیجہ یہ ہوئا کہ وہ روز بروز تنزلمیں گِرتے چلے گئے۔ اگر وہ دینی اور دُنیوی امور پر مشتمل نظام کے قیام میں ناکام رہنے کے بعد خالص دینی نظام قائم کر لیتے تو وہ بہت بڑی تباہی سے بچ جاتے اور اس کی وجہ سے آج شاید تمام دنیا میں اسلام اتنا غالب ہوتا کہ عیسائیوں کا نام و نشان تک نہ ہوتا مگر چونکہ انہیں یہ غلطی لگ گئی کہ اگر وہ ساری دنیامیں ایک ایسا نظام قائم نہیں کر سکے جو دینی اور دُنیوی دونوں امور پر مشتمل ہو تو اب ان کیلئے کسی خالص دینی نظام کے قیام کی کوئی صورت ہی نہیں اس لئے جب ایک نظام ان کے ہاتھ سے جاتا رہا تو دوسرے نظام کو بھی انہوں نے ترک کر دیا۔
    دوسری غلطی
    دوسری غلطی ان سے یہ ہوئی کہ انہوں نے یہ سمجھا انتخاب صرف اس نظام کیلئے ہے جو سب مسلمانوں کے دینی اور دُنیوی امور پر حاوی ہو حالانکہ
    ان آیات میں خداتعالیٰ نے واضح طور پر بتلا دیا تھا کہ انتخاب خالص دُنیوی نظام میں بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح دینی و دُنیوی مشترکہ نظام میں۔ اگر اور نہیں تو وہ اتنا ہی کر لیتے کہ جب بھی کسی کو بادشاہ بناتے تو انتخاب کے بعد بناتے۔ تب بھی وہ بہت سی تباہی سے بچ سکتے تھے مگر انہوں نے انتخاب کے طریق کو بھی ترک کر دیا حالانکہ اگر وہ اس نکتہ کو سمجھتے تو وہ ملوکیت کا غلبہ جو اسلام میں ہؤا اور جس نے اسلامی حکومت کو تباہ کر دیا کبھی نہ ہوتا اور مسلمانوں کی کوششیں اسلامی حکومت کے قیام کیلئے جاری رہتیں۔ اور مسلمان ڈیما کریسی (DEMOCRACY) کی صحیح ترقی کے پہلے اور سب سے بہتر علم بردار ہوتے۔
    اختلاف کی صورت میں ایک خالص مذہبی نظام قائم کرنے کا ثبوت
    یہ جو مَیں نے کہا ہے کہ ایسے حالات میں کہ اختلاف پیدا ہو چکا ہے ایک خالص مذہبی نظام قائم کرنے کا اس
    آیت سے ثبوت ملتا ہے۔ وہ اس طرح ہے کہ اس آیت میں سب مسلمان مخاطب ہیں اور انہیں ہر وقت کی اطاعت کا حکم ہے اس میں کسی زمانہ کی تخصیص نہیں کہ فلاں زمانہ میں کی اطاعت کرو اور فلاں زمانہ میں نہ کرو بلکہ ہر حالت اور ہر زمانہ میں ان کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر کوئی کہ کہے کی اطاعت کا حکم محض وقتی ہے تو ساتھ ہی اسے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کا حکم بھی محض وقتی ہے کیونکہ خدا نے اس سے پہلے کا حکم دیا ہے۔ لیکن اگر خدا اور رسول کے احکام کی اطاعت ہر وقت اور ہر زمانہ میں ضروری ہے تو معلوم ہوئا کہ کی اطاعت کا حکم بھی ہر حالت اور ہر زمانہ کیلئے ہے اور دراصل اس آیت کے ذریعہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ کسی نہ کسی نظام کی پابندی ان کیلئے ہر وقت لازمی ہو گی۔ پس جس طرح دوسرے احکام میں اگر ایک حصہ پر عمل نہ ہو سکے تو دوسرے حصے معاف نہیں ہو سکتے۔ جو جہاد نہ کر سکے اس کیلئے نماز معاف نہیں ہو سکتی، جو وضو نہ کر سکے اس کیلئے رکوع اور سجدہ معاف نہیں ہو سکتا، جو کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکے اس کیلئے بیٹھ کر یا لیٹ کر یا اشاروں سے نماز پڑھنا معاف نہیں ہو سکتا، اسی طرح اگر سارے عالمِ اسلامی کا ایک سیاسی نظام نہ ہو سکے تو مسلمان کی اطاعت کے ان حصوں سے آزاد نہیں ہو سکتے جن پر وہ عمل کر سکتے تھے۔ جیسے اگر کوئی حج کیلئے جائے اور صفا اور مردہ کے درمیان سعی نہ کر سکے تو سعی اس کیلئے معاف نہیں ہو جائے گی بلکہ اس کیلئے ضروری ہو گا کہ کسی دوسرے کی پیٹھ پر سوار ہو کر اس فرض کو ادا کرے۔ پس مسلمانوں سے یہ ایک شدید غلطی ہوئی کہ انہوں نے سمجھ لیا کہ چونکہ ایک نظام ان کیلئے ناممکن ہو گیا ہے اس لئے دوسرا نظام انہیں معاف ہو گیا ہے۔ حالانکہ خالص مذہبی نظام مختلف حکومتوں میں بَٹ جانے کی صورت میں بھی ناممکن نہیں ہو جاتا جیسا کہ آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظہور سے اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دیاہے اگر لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ تم چور کا ہاتھ کیوں نہیں کاٹتے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ یہ ہمارے بس کی بات نہیں لیکن جن امور میں ہمیں آزادی حاصل ہے ان امور میں ہم اپنی جماعت کے اندر اسلامی نظام کے قیام کی کوشش کرنا اپنا پہلا اور اہم فرض سمجھتے ہیں۔ پس اگر مسلمان بھی سمجھتے کہ ہر وقت اور ہر زمانہ میں کی اطاعت ان پر واجب ہے اور جن حصوں میں کی اطاعت ان کیلئے ناممکن تھی ان کو چھوڑ کر دوسرے حصوں کیلئے وہ نظام قائم رکھتے تو وہ اس حکم کو پورا کرنے والے بھی رہتے اور اسلام کبھی اس حالت کو نہ پہنچتا جس کو وہ اب پہنچا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کا شاید یہ منشاء تھا کہ اسلامی حکم کا یہ حصہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کے ذریعہ سے عمل میں آئے اور یہ فضیلت اس ۴۱؎ کی جماعت کو حاصل ہو کیونکہ آخر ہمارے لئے بھی کوئی نہ کوئی فضیلت کی بات رہنی چاہئے۔ صحابہؓ نے تو یہ فضیلت حاصل کر لی کہ انہوں نے ایک دینی و دُنیوی مشترکہ نظام اسلامی اصول پر قائم کیا مگر جو خالص مذہبی نظام تھا اس کے قیام کی طرف اس نے ہمیںتوجہ دلا دی۔ گویا اس آیت کے ایک حصے پر صحابہؓ نے عمل کیا اور دوسرے حصے پر ہم نے عمل کر لیا۔ پس ہم بھی صحابہؓ میں جا ملے۔ خلاصہ یہ کہ اس آیت میں اسلامی نظام کے قیام کے اصول بیان کئے گئے ہیں اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ (۱) اسلامی نظام انتخاب پر ہو۔ (۲)یہ کہ مسلمان ہر زمانہ میں کے تابع رہیں مگر افسوس کہ مسلمانوں نے اپنے تنزل کے زمانہ میں دونوں اصولوں کو بُھلا دیا۔ جہاں ان کا بس تھا انہوں نے انتخاب کو قائم نہ رکھا اور جو امور ان کے اختیار سے نکل گئے تھے ان کو چھوڑ کر جو امور ان کے اختیار میں تھے ان میں بھی انہوں نے کا نظام قائم کر کے ان کی اطاعت سے وحدتِ اسلامی کو قائم نہ رکھا اور ان لغو بحثوں میں پڑ گئے کہ انہیں صرف کی اطاعت کرنی چاہئے۔ اور اس طرح جو اصل غرض اس حکم کی تھی وہ نظر انداز ہو گئی حالانکہ جو امر ان کے اختیار میںنہ تھا اس میں ان پر کوئی گرفت نہ تھی اگر وہ اس حصہ کو پورا کرتے جو ان کے اختیار میں تھا۔
    اُولِی الْاَمْرِمِنْکُمْ کے متعلق ایک اعتراض کا جواب
    اس جگہ شاید کوئی اعتراض
    کرے کہ احمدیہ جماعت کی تعلیم تو یہ ہے کہمیں غیر مذاہب کے بھی شامل ہیںاور اس آیت کے ماتحت غیر مسلم حکام کی اطاعت بھی فرض ہے۔ مگر اب جو معنی کئے گئے ہیں اس کے ماتحت غیر مسلم آ ہی نہیں سکے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ درست ہے لیکن یہ معنی صرف کے ٹکڑے سے نکلتے ہیں۔ یعنی جب ہم کہتے ہیں کہ غیرمسلم بھی اس میں شامل ہیں تو اس وقت ہم سارے رکوع کو مدنظر نہیں رکھتے بلکہ آیت کے صرف ایک ٹکڑہ سے اپنے دعوے کا استنباط کرتے ہیں لیکن یہ ٹکڑہ ساری آیتوں سے مل کر جو معنی دیتا ہے انہیں باطل نہیں کیا جا سکتا۔ بیشک دُنیوی امور میں ہر کی اطاعت واجب ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ حکم بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ہر زمانہ میں کی اطاعت جو مسلمانوں میں سے ان کیلئے منتخب ہوں ان پر واجب ہے۔
    اُولِی الْاَمْرِ سے اختلاف کی صورت میں رُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ کے کیا معنی ہیں؟
    اب میں اس مضمون کو لیتا ہوں جس کے بیان کرنے کا میں پیچھے
    وعدہ کر آیا ہوں کہبعض لوگ اس مقام پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اولوالامر سے اختلاف کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اطاعت واجب نہیں بلکہ اختلاف کی صورت میں ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ خدا اور رسول کا کیا حکم ہے؟
    اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ معنی کئے جائیں تو آیت بالکل بے معنی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ہر شخص اپنے خیال کو درست سمجھا کرتا ہے۔ پس اگر اس آیت کا یہی مفہوم لیا جائے تو اطاعت کبھی ہو ہی نہیں سکتی۔ آخر وہ کونسا امر ایسا نکلے گا جسے تمام لوگ متفقہ طور پر خدا اور رسول کا حکم سمجھیں گے۔ یقینا کچھ لوگوں کو اختلاف بھی ہوئا کرتا ہے۔ پس ایسی صورت میں اگر ہر شخص کو یہ اختیار ہو کہ وہ حکم سنتے ہی کہہ دے کہ یہ خدا اور رسول کی تعلیم کے خلاف ہے تو اس صورت میں خلیفہ صرف اپنے آپ پر ہی حکومت کرنے کیلئے رہ جائے ، کسی اور پر اس نے کیا حکومت کرنی ہے۔ بِالخصوص موجودہ زمانہ میں تو ایسا ہے کہ آج کَل ماننے والے کم ہیں اور مجتہد زیادہ۔ ہر شخص اپنے آپ کو اہل الرائے خیال کرتا ہے۔ اس صورت میں خلیفہ تو اپنا بوریا بچھا کر الگ شور مچاتا رہے گا کہ یوں کرو اور لوگ یہ شور مچاتے رہیں گے کہ پہلے ان حکموں کو قرآن اور حدیث کے مطابق ثابت کرو، تب مانیں گے ورنہ نہیں اور یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا میں کوئی دینی امر ایسا نہیں جسے ساری دنیا یکساں طور پرمانتی ہو بلکہ ہر بات میں کچھ نہ کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ لطیفہ مشہور ہے کہ ایک جاہل شخص تھا جسے مولویوں کی مجلس میں بیٹھنے کا بڑا شوق تھا مگر چونکہ اسے دین سے کوئی واقفیت نہ تھی اس لئے جہاں جاتا لوگ دھکّے دے کر نکال دیتے۔ ایک دفعہ اس نے کسی دوست سے ذکر کیا کہ مجھے علماء کی مجلس میں بیٹھنے کا بڑا شوق ہے مگر لوگ مجھے بیٹھنے نہیں دیتے میں کیا کروں۔ اس نے کہا ایک بڑا سا جُبّہ اور پگڑی پہن لو۔ لوگ تمہاری صورت کو دیکھ کر خیال کریں گے کہ کوئی بہت بڑا عالم ہے اور تمہیں علماء کی مجلس میں بیٹھنے سے نہیں روکیں گے۔ جب اندر جا کر بیٹھ جاؤ اور تم سے کوئی بات پوچھی جائے تو کہہ دینا کہ اختلافی مسئلہ ہے بعض نے یوں لکھا ہے اور بعض نے اس کے خلاف لکھا ہے اور چونکہ مسائل میں کثرت سے اختلاف پایا جاتا ہے اس لئے تمہاری اس بات سے کسی کا ذہن اِدھر منتقل نہیں ہو گا کہ تم کچھ جانتے نہیں۔ چنانچہ اس نے ایک بڑا سا جُبّہ پہنا، پورے تھان کی پگڑی سر پر رکھی اور ہاتھ میں عصا لے کر اس نے علماء کی مجالس میں آنا جانا شروع کر دیا جب کسی مجلس میں بیٹھتا تو سر جُھکا کر بیٹھا رہتا۔ لوگ کہتیکہ جناب آپ بھی تو کچھ فرمائیں۔ اس پر وہ گردن ہِلا کر کہہ دیتا اس بارہ میں بحث کرنا لغو ہے۔ علمائِ اسلام کا اس کے متعلق بہت کچھ اختلاف ہے کچھ علماء نے تو اس طرح لکھا ہے جس طرح یہ مولانا فرماتے ہیں اور کچھ علماء نے اُس طرح لکھا ہے جس طرح وہ مولانا فرماتے ہیں۔ لوگ سمجھتے کہ اس شخص کا مطالعہ بڑا وسیع ہے۔ چنانچہ کہتے بات تو ٹھیک ہے جھگڑا چھوڑو اور کوئی اور بات کرو کچھ مدت تو اسی طرح ہوتا رہا اور علماء کی مجالس میں اس کی بڑی عزت و تکریم رہی۔ مگر ایک دن مجلس میں یہ ذکر چل پڑا کہ زمانہ ایسا خراب آ گیا ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ خدا کا انکار کرتا چلا جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اگر خدا ہے تو کوئی دلیل دو۔ اس پر لوگوں نے حسبِ دستور ان سے بھی کہا کہ سنایئے مولانا آپ کا کیا خیال ہے۔ وہ کہنے لگا بحث فضول ہے کہ کچھ علماء نے لکھا ہے کہ خدا ہے اور کچھ علماء نے لکھا ہے کہ خدا نہیں۔ یہ سنتے ہی لوگوں میں اس کا بھانڈا پُھوٹ گیا اور انہوں نے دھکّے دے کر اسے مجلس سے باہر نکال دیا۔ تو دنیا میں اس کثرت سے اختلاف پایا جاتا ہے کہ اگر کے یہ معنی کئے جائیں کہ جب بھی خلیفہ کے کسی حکم سے کسی کو اختلاف ہو اس کا فرض ہے کہ وہ خلیفہ کو دھکّا دے کر کہے کہ تیرا حکم خدا اور رسول کے احکام کے خلاف ہے تو اس کو اتنے دھکّے ملیں کہ ایک دن بھی خلافت کرنی اس کیلئے مشکل ہو جائے۔ پس یہ معنی عقل کے بالکل خلاف ہیں۔ ہماری جماعت میں سے بھی بعض لوگوں کو اس آیت کا صحیح مفہوم نہ سمجھنے کی وجہ سے ٹھوکر لگی ہے اگر وہ صحیح معنی سمجھ لیتے تو ان کو کبھی ٹھوکر نہ لگتی۔
    اُولِی الْاَمْرِمِنْکُمْ والی آیت دُنیوی حکام اور خلفائے راشدین دونوں پر حاوی ہے
    وہ صحیح معنی کیا ہیں؟ ان کو معلوم کرنے کیلئے پہلے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ
    آیت عام ہے اس میںخالص دُنیوی حکام بھی شامل ہیں اور خلفاء راشدین بھی شامل ہیں پس یہ آیت خالص اسلامی خلفاء کے متعلق نہیں بلکہ دُنیوی حکام کے متعلق بھی ہے۔
    اب اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ یہ آیت اپنے مطالب کے لحاظ سے عام ہے اور اس میں خالص دُنیوی حکام اور خلفائِ راشدین دونوں شامل ہیں یہ سمجھ لو کہ اِن دونوں کے بارہ میں قرآن کریم اور رسول کریم ﷺ کے احکام الگ الگ ہیں۔ جو خالص دُنیوی حکام ہیں ان کیلئے شریعتِ اسلامی کے الگ احکام ہیں۔ اور جو خلفاء راشدین ہیں ان کیلئے الگ احکام ہیں۔ پس جب خدا نے یہ کہا کہ تو اس کے یہ معنی نہیں کہ جب تمہارا سے جھگڑا ہو تو تم یہ دیکھنے لگ جاؤ کہ خدا اور رسول کا حکم تم کیا سمجھتے ہو بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ چونکہ اس عام حکم میں خلفائِ راشدین بھی شامل ہیں اور دُنیوی حکام بھی اس لئے جب اختلاف ہو تو دیکھو کہ وہ حکام کس قسم کے ہیں۔ اگر تو وہ خلفائے راشدین ہیں تو تم ان کے متعلق وہ عمل اختیار کرو جواللہ تعالیٰ نے خلفاء راشدین کے بارہ میں بیان فرمایا ہے اور اگر وہ حکام دُنیوی ہیں تو ان کے بارہ میں تم ان احکام پر عمل کرو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ان کے متعلق بیان کئے ہیں۔
    دونوں کے متعلق الگ الگ احکام
    اَب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا اِن دونوں قسم کے کے متعلق اللہ تعالیٰ
    اور اس کے رسول نے الگ الگ قسم کے احکام بیان کئے ہیں یا نہیں۔ اگر کئے ہیں تو وہ کیا ہیں۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن دونوں قسم کے کی نسبت دومختلف احکام بیان کئے ہیں جو یہ ہیں:۔
    (۱) عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے بَایَعْنا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَ الْمَکْرَہِ وَ عَلٰی اَثَرَۃٍ عَلَیْنَا وَ عَلٰی اَنْ لاَّنُنَازِعَ الْاَمْرَ اَھْلَہٗ وَ عَلٰی اَنْ نَّقُوْلَ بِالْحَقِّ فَاَیْنَمَا کُنَّا لَانَخَافُ فِیْ اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمِ وَ فِیْ رِوَایَۃٍ اَنْ لاَّنُنَازِعَ الْاَمْرَ اَھْلَہٗ اِلاَّ اَنْ تَرَوْا کُفْراً بَوَاحًا عِنْدَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ فِیْہِ بُرْھَانٌ مَتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔ ۴۲؎
    یعنی ہم نے رسول کریم ﷺ کی اِن شرائط پر بیعت کی کہ جو ہمارے حاکم مقرر ہوں گے ان کے احکام کی ہم ہمیشہ اطاعت کریں گے خواہ ہمیں آسانی ہو یا تنگی اور چاہے ہمارا دل ان احکام کے ماننے کو چاہے یا نہ چاہے بلکہ خواہ ہمارے حق وہ کسی اور کو دلا دیں۔ پھر بھی ہم ان کی اطاعت کریں گے۔ اسی طرح ہماری بیعت میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ جب ہم کسی کو اہل سمجھ کر اس کے سپرد حکومت کا کام کر دیں گے تو اس سے جھگڑا نہیں کریں گے اور نہ اس سے بحث شروع کر دیں گے کہ تم نے یہ حکم کیوں دیا وہ دینا چاہئے تھا۔ ہاں چونکہ ممکن ہے کہ وہ حکام کبھی کوئی بات دین کے خلاف بھی کہہ دیں اس لئے اگر ایسی صورت ہو تو ہمیں ہدایت تھی کہ ہم سچائی سے کام لیتے ہوئے انہیں اصل حقیقت سے آگاہ کر دیں اور خدا کے دین کے متعلق کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں۔ ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ ہدایت تھی کہ جو لوگ حکومت کے اہل ہوں اور ان کے سپرد یہ کام تمہاری طرف سے ہو چکا ہو ان سے تم کسی قسم کا جھگڑا نہ کرو۔ مگر یہ کہ تم ان سے کُھلا کُھلا کفر صادر ہوتے ہوئے دیکھ لو۔ ایسی حالت میں جبکہ وہ کسی کُھلے کفر کا ارتکاب کریں اور قرآن کریم کی نص صریح تمہاری تائید کر رہی ہوں تو تمہارا فرض ہے کہ تم اس خلافِ مذہب بات میں ان کی اطاعت کرنے سے انکار کر دواور وہی کرو جس کے کرنے کا تمہیں خدا نے حکم دیا ہے۔
    اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکِ الْاَشْجَعِیِّ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ خِیَارُاَئِمَّتِکُمُ الَّذِیْنَ تُحِبُّوْنَھُمْ وَیُحِبُّوْنَکُمْ وَتُصَلُّوْنَ عَلَیَھِمَ وَیُصَلُّوْنَ عَلَیْکُمْ وَشِرَارُاَئِمَّتِکُمُ الَّذِیْنَ تَبْغَضُوْنَھُمْ وَ یَبْغَضُوْنَکُمْ وَتَلْعَنُوْنَھُمْ وَیَلْعَنُوْنَکُمْ قَالَ قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَفَلا نُنَابِذُھُمْ عِنْدَ ذٰلِکَ قَالَ لَا مَا اَقَامُوْا فِیْکُمُ الصَّلٰوۃَ قَالَ لَا مَا اَقَامُوافِیْکُمْ الصَّلٰوۃَ اِلاَّ مَنْ وُلِیَ عَلَیْہِ وَالٍ فَرَاٰہُ یَاْتِیْ شَیْئًا مِنْ مَّعْصِیَۃِ اللّٰہِ فَلْیَکْرَہْ مَا یَاْتِیْ مِن مَّعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَلَا یَنْزِعَنَّ یَدًا مِنْ طَاعَتِہٖ ۴۳؎
    حضرت عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تمہارے بہترین حکام وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں۔ تم ان پر درود بھیجو اور ان کی ترقیات کیلئے دعائیں کرو اور وہ تم پر درود بھیجیں اور تمہاری ترقیات کیلئے دعائیں کریں اور بدترین حُکّام وہ ہیں جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں۔ تم ان پر *** ڈالو اور وہ تم پر *** ڈالیں۔ راوی کہتا ہے کہ ہم نے کہا۔ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! جب ایسے حکمران ہمارے سروں پر مسلّط ہو جائیں تو کیوں نہ ہم ان کا مقابلہ کر کے انہیں حکومت سے الگ کر دیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَامَا اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ فِیْکُمْ لَامَا اَقَامُواالصَّلٰوۃ فِیْکُمْ۔ ہرگز نہیں۔ ہرگز نہیں جب تک وہ نماز اور روزہ کے متعلق تم پر کوئی پابندی عائد نہ کریں اور تمہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے نہ روکیں تم ان کی اطاعت سے ہرگز منہ نہ موڑو۔ الا من وُلِی علیہ وَالٍ فراُہ یاْتی شیئًا من معصیۃ اللّٰہ فلیکرہ ما یأتی من معصیۃ اللّٰہ ولا ینزعنّ یدًا من طاعتہٖ۔ سنو! جب تم پر کسی کو حاکم بنایا جائے اور تم دیکھو کہ وہ بعض امور میں اللہ تعالیٰ کی معصیت کا ارتکاب کر رہا ہے تو تم اپنے دل میں اس کے ان افعال سے سخت نفرت رکھو مگر بغاوت نہ کرو۔
    دوسری حدیث میں اس سے یہ زائد حکم ملتا ہے کہ اگر کفر بواح اس سے ظاہر ہو تو اِس حالت میں اس کے خلاف بغاوت بھی کی جا سکتی ہے۔
    خلفائے راشدین کی سنت پر ہمیشہ قائم رہنے کا حکم
    اس کے مقابلہ میں احادیث میں
    عرباضبن ساریہؓ سے ہمیں ایک اور روایت بھی ملتی ہے۔ وہ کہتے ہیں صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ذَاتَ یَوْمٍ ثُمَّ اَقْبَلَ ع