1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

انوار العلوم ۔ مجموعہ کتب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ ۔ جلد 12

'حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 21, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    انوار العلوم ۔ مجموعہ کتب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ ۔ جلد 12

    ‏a12.1
    انوار العلوم جلد ۱۲
    تحریک آزادی کشمیر
    تحریک آزادی کشمیر

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی

    ‏jmc-nsk] g[taاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    ریاست کشمیر و جموں میں مسلمانوں کی حالت
    )تحریر فرمودہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ۱۲ جون ۱۹۳۱ء(
    میں متواتر کئی سال سے کشمیر میں مسلمانوں کی جو حالت ہو رہی ہے اس کا مطالعہ کر رہا ہوں اور لمبے مطالعہ اور غور کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہوا ہوں کہ جب تک مسلمان ہر قسم کی قربانی کرنے کیلئے تیار نہ ہوں گے یہ زرخیز خطہ جو نہ صرف زمین کے لحاظ سے زرخیز ہے بلکہ دماغی قابلیتوں کے لحاظ سے بھی حیرت انگیز ہے‘ کبھی بھی مسلمانوں کیلئے فائدہ بخش تو کیا آرام دہ ثابت نہیں ہو سکتا-
    زمینداروں میں بیداری کی روح
    میں ۱۹۲۹ء میں جب کشمیر گیا تو مجھے یہ بات معلوم کر کے نہایت ہی خوشی ہوئی کہ مسلمانوں میں ایک عام بیداری پائی جاتی تھی- حتی کہ کشمیری زمیندار جو کہ لمبے عرصہ سے ظلموں کا تختہ مشق ہونے کی وجہ سے اپنی خود داری کی روح بھی کھو چکے تھے ان میں بھی زندگی کی روح داخل ہوتی ہوئی معلوم دیتی تھی- اتفاق حسنہ سے زمینداروں کی طرف سے جو جدوجہد کی جا رہی تھی اس کے لیڈر ایک احمدی زمیندار تھے- زمینداروں کی حالت کے درست کرنے کے لئے جو کچھ وہ کوشش کر رہے تھے اس کی وجہ سے ریاست انہیں طرح طرح سے دق کر رہی تھی- وہ ایک نہایت ہی شریف آدمی ہیں‘ معزز زمیندار ہیں‘ اچھے تاجر ہیں اور ان کا خاندان ہمیشہ سے ہی اپنے علاقہ میں معزز چلا آیا ہے اور وہ بھی اپنی گزشتہ عمر میں نہایت ہی معزز اور شریف سمجھے جاتے رہے ہیں لیکن محض کسانوں کی حمایت کی وجہ سے ان کا نام بدمعاشوں میں لکھنے کی کوشش کی جا رہی تھی- جب مجھے یہ حالات معلوم ہوئے تو میں نے مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم- اے کو اس بارہ میں انسپکٹر جنرل آف پولیس ریاست جموں و کشمیر سے ملاقات کے لئے بھیجا- گفتگو کے بعد انسپکٹر جنرل آف پولیس نے یہ وعدہ کیا کہ وہ جائز کوشش بے شک کریں لیکن زمینداروں کو اس طرح نہ اکسائیں جس سے شورش پیدا ہو اور اس کے مقابلہ میں وہ بھی یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ان کو جو ناجائز تکلیفیں پولیس کی طرف سے پہنچ رہی ہیں وہ ان کا ازالہ کر دیں گے- اور اسی طرح یہ یقین دلایا کہ جو جائز تکالیف کسانوں کو ہیں ان کا ازالہ کرنے کے لئے ریاست تیار ہے- ہم نے یہ یقین کرتے ہوئے کہ یہ وعدے اپنے اندر کوئی حقیقت رکھتے ہیں ان صاحب کو جو اس وقت کسانوں کی رہنمائی کر رہے تھے یہ یقین دلایا کہ ان کی جائز شکایات پر ریاست غور کرے گی اس لئے وہ کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے شورش اور فتنہ کا خوف ہو- لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ زمینداروں کی جائز شکایات کا دور ہونا تو الگ رہا برابر دو سال سے ان صاحب کے خلاف ریاست کے حکام کوششیں کر رہے ہیں اور باوجود مقامی حکام کے لکھنے کے کہ وہ صاحب نہایت ہی شریف انسان ہیں‘ ان کا نام بدمعاشوں میں درج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے- یہ معاملہ مسٹر ویک فیلڈ WAKEFIELD)۔(MR کے سامنے بھی لایا جا چکا ہے لیکن افسوس ہے وہ بھی اس طرف توجہ نہیں کر سکے-
    مسٹر ویک فیلڈ کا تازہ وعدہ
    اس تجربہ کو مدنظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ وہ تازہ خبر جو >انقلاب< مورخہ ۱۲- جون کے پرچہ میں شائع ہوئی ہے کہ مسٹر ویکفیلڈ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کی تکالیف کو مہاراجہ صاحب کے سامنے پیش کریں گے اور ان کے دور کرنے کی کوشش کریں گے اس پر زیادہ اعتبار نہیں کیا جا سکتا-
    مسٹر ویک فیلڈ کی شخصیت
    وہ لوگ جن کو مسٹر ویک فیلڈ سے ملنے کا موقع حاصل ہوا ہے یقین دلاتے ہیں کہ وہ اپنی ذات میں نہایت اچھے آدمی ہیں اور جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کی خیر خواہی کرتے ہیں لیکن مسٹر ویک فیلڈ بہرحال ایک ہندو ریاست کے ملازم ہیں اور ریاست بھی وہ جس میں آج سے ساٹھ‘ ستر سال پہلے یہ سکیم بنائی گئی تھی کہ کس طرح مسلمانوں کو شدھ کر کے ہندو بنا لیا جائے- ہم سب کو اس بات کی امید تھی کہ سر ہری سنگھ بہادر مہاراجہ کشمیر کے گدی نشین ہونے پر ریاست کی حالت اچھی ہو جائے گی لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ پہلے سے بدتر ہو گئی ہے- نہ اس لئے کہ مہاراجہ ہری سنگھ بہادر اپنے پیش رو سے زیادہ متعصب ہیں کیونکہ واقعہ اس کے خلاف ہے- بلکہ اس وجہ سے کہ ریاست میں ایک ایسا عنصر اس وقت غالب ہو رہا ہے جو نہایت ہی متعصب ہے اور آریہ راج کے قائم کرنے کے خیالی پلائو پکا رہا ہے- یہ عنصر چونکہ مہاراجہ صاحب بہادر کے گردوپیش رہتا ہے اور ریاست کی بدقسمتی سے اس وقت ریاست کے سیاہ و سفید کا مالک بن رہا ہے اس لئے مہاراجہ صاحب بہادر جموں و کشمیر بھی یا تو اس عنصر کے بڑھے ہوئے نفوذ سے خوف کھا کر یا بوجہ ناواقفیت کے ان کی پالیسی کو نہ سمجھتے ہوئے کسی مخالف آواز کے سننے کے لئے تیار نہیں ہیں- ہر ایک شخص اس بات کو جانتا ہے کہ مسٹر ویک فیلڈ چند سال پہلے ریاست میں سب سے بڑی طاقت سمجھے جاتے تھے لیکن یہ امر بھی ہر شخص کو معلوم ہے کہ مسٹر ویک فیلڈ کی اب وہ حالت نہیں ہے- کشمیر میں مسلمانوں کو حقوق دینے کے متعلق جو تجاویز تھیں ان کا جو حشر ہوا‘ اس سے مسٹر ویک فیلڈ کی طاقت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے- پس ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میرے نزدیک مسٹر ویک فیلڈ کے وعدہ پر اعتبار کرتے ہوئے خواہ ہم ان کی نیت کو کتنا ہی صحیح سمجھیں ہمیں اپنی کوششوں کو ترک نہیں کرنا چاہئے-
    تمام مسلمانوں کا فرض
    کشمیر ایک ایسا ملک ہے جسے صنعت و حرفت کا مرکز بنایا جا سکتا ہے- اس ملک کے مسلمانوں کو ترقی دے کر ہم اپنی صنعتی اور حرفتی پستی کو دور کر سکتے ہیں- اس کی آب و ہوا ان شدید تغیرات سے محفوظ ہونے کی وجہ سے جو پنجاب میں پائے جاتے ہیں‘ بارہ مہینے کام کے قابل ہے- ہندوستان کی انڈسٹریل ترقی میں اس کا موسم بہت حد تک روک ہے لیکن کشمیر اس روک سے آزاد ہے اور پھر وہ ایک وسیع میدان ہے جس میں عظیم الشان کارخانوں کے قائم کرنے کی پوری گنجائش ہے- پس تمام مسلمانوں کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ اس ملک کو اس تباہی سے بچانے کی کوشش کریں جس کے سامان بعض لوگ پوری طاقت سے پیدا کر رہے ہیں- اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان اخبارات جیسے >انقلاب‘< >مسلم آئوٹ لک‘< >سیاست< اور >سن رائز< اور اسی طرح نیا اخبار >کشمیری مسلمان< جموں اور کشمیر کے مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت میں بہت کچھ حصہ لے رہے ہیں- لیکن خالی اخبارات کی کوششیں ایسے معاملات کو پوری طرح کامیاب نہیں کر سکتیں- ضرورت ہے کہ ریاست کشمیر کو اور گورنمنٹ کو پوری طرح اس بات کا یقین دلا دیا جائے کہ اس معاملہ میں سارے کے سارے مسلمان خواہ وہ بڑے ہوں یا کہ چھوٹے ہوں کشمیر کے مسلمانوں کی تائید اور حمایت پر ہیں اور ان مظالم کو جو وہاں کے مسلمانوں پر جائز رکھے جاتے ہیں کسی صورت میں برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں- جہاں تک میں سمجھتا ہوں ریاست پر اور گورنمنٹ پر زور ڈالنے کے سامان مفقود نہیں ہیں‘ ہم دونوں طرف زور ڈال سکتے ہیں- ضرورت صرف متحدہ کوشش اور عملی جدوجہد کی ہے-
    مسلمانوں کے مطالبات
    میں نے ان مطالبات کو جو مسلمانان کشمیر کی طرف سے مسٹرویکفیلڈ کے پیش ہوئے ہیں دیکھا ہے- میرے نزدیک وہ نہایت ہی معقول اور قلیل ترین مطالبات ہیں اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں ان میں اس مطالبہ کو بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے کہ کشمیر کے علاقہ میں انجمنیں قائم کرنے پر جو روک پیدا کی جاتی ہے اس کو بھی دور کیا جائے- جہاں تک مجھے علم ہے یہی پونچھ کے علاقہ میں بھی روک ہوتی ہے اور اجازت کی ضرورت ہوتی ہے- یعنی جس طرح تحریر و تقریر کی مکمل آزادی کا مطالبہ کیا گیا ہے اسی طرح اجتماع کی مکمل آزادی کا بھی مطالبہ کیا جائے- اور میرے نزدیک علاقہ کشمیر کے مسلمانوں کے زمیندارہ حقوق جو ہیں ان پر نظر ثانی کا مطالبہ بھی ہونا چاہئے- کشمیر کے مسلمانوں کا بیشتر حصہ زمیندار ہے لیکن وہ لوگ ایسے قیود میں جکڑے ہوئے ہیں کہ سر اٹھانا ان کے لئے ناممکن ہے- عام طور پر کشمیر کے علاقہ میں کسی نہ کسی بڑے زمیندار کے قبضہ میں جائدادیں ہوتی ہیں اور وہ لوگ انہیں تنگ کرتے رہتے ہیں- اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دو چار مسلمان زمیندار بھی ہیں- لیکن دو چار مسلمانوں کی وجہ سے کشمیر کے لاکھوں مسلمانوں کو غلام نہیں بنے رہنے دینا چاہئے-
    ‏0] f[st مسٹر ویک فیلڈ کے وعدوں کے نیچے خطرہ کا احتمال
    جہاں تک میں سمجھتا ہوں اگر ہمیں کشمیر و جموں کے مسلمانوں کی آزادی کا سوال حل کرنا مطلوب ہے تو اس کا وقت اس سے بہتر اور نہیں ہو سکتا- ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے نتیجہ میں قدرتی طور پر انگلستان اپنے قدم مضبوط کرنے کے لئے ریاستوں کو آئندہ بہت زیادہ آزادی دینے پر آمادہ ہے- اگر اس وقت کے آنے سے پہلے جموں اور کشمیر کے مسلمان آزاد نہ ہو گئے تو وہ بیرونی دبائو جو جموں اور کشمیر ریاست پر آج ڈال سکتے ہیں کل نہیں ڈال سکیں گے- پس میرے نزدیک اس بات کی ضرورت ہے کہ ایک کانفرنس جلد سے جلد لاہور یا سیالکوٹ یا راولپنڈی میں منعقد کی جائے- اس کانفرنس میں جموں اور کشمیر سے بھی نمائندے بلوائے جائیں اور پنجاب اور اگر ہو سکے تو ہندوستان کے دوسرے علاقوں کے مسلمان لیڈروں کو بھی بلایا جائے- اس کانفرنس میں ہمیں پورے طور پر جموں اور کشمیر کے نمائندوں سے حالات سن کر آئندہ کے لئے ایک طریق عمل تجویز کر لینا چاہئے- اور پھر ایک طرف حکومت ہند پر زور ڈالنا چاہئے کہ وہ کشمیر کی ریاست کو مجبور کرے کہ مسلمانوں کو حقوق دیئے جائیں- دوسری طرف مہاراجہ صاحب کشمیر و جموں کے سامنے پورے طور پر معاملہ کو کھول کر رکھ دینے کی کوشش کی جائے تا کہ جس حد تک ان کو غلط فہمی میں رکھا گیا ہے وہ غلط فہمی دور ہو جائے- اور اگر ان دونوں کوششوں سے کوئی نتیجہ نہ نکلے تو پھر ایسی تدابیر اختیار کی جائیں کہ جن کے نتیجہ میں مسلمانان جموں و کشمیر وہ آزادی حاصل کر سکیں جو دوسرے علاقہ کے لوگوں کو حاصل ہے- چونکہ ریاست ہندو ہے ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوگا کہ ہم اپنے حقوق میں سے کچھ حصہ رئیس کے خاندان کے لئے چھوڑ دیں لیکن یہ کسی صورت میں تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ ۹۵ فیصدی آبادی کو پانچ فیصدی بلکہ اس سے بھی کم حق دے کر خاموش کرا دیا جائے- میرے خیال میں کشمیری کانفرنس نے جو کچھ کام اس وقت تک کیا ہے وہ قابل قدر ہے لیکن یہ سوال اس قسم کا نہیں کہ جس کو باقی مسلمان کشمیریوں کا سوال کہہ کر چھوڑ دیں- مسلمانان جموں و کشمیر کو اگر ان کے حق سے محروم رکھا جائے تو اس کا اثر صرف کشمیریوں پر ہی نہیں پڑے گا بلکہ سارے مسلمانوں پر پڑے گا اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ دوسرے مسلمان تماشائی کے طور پر اس جنگ کو دیکھتے رہیں- میں سمجھتا ہوں کہ اس کانفرنس کی دعوت کشمیریکانفرنس کی طرف سے جاری ہونی چاہئے لیکن دعوت صرف کشمیریوں تک ہی محدود نہیں رہنی چاہئے بلکہ تمام مسلمانوں کو جو کوئی بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں‘ اس مجلس میں شریک ہونے کی دعوت دینی چاہئے اور کوئی وجہ نہیں کہ اگر متحدہ کوشش کی جائے تو اس سوال کو جلد سے جلد حل نہ کیا جا سکے- )الفضل ۱۶- جون ۱۹۳۱ء(
    معاملات کشمیر کے حل کے متعلق جلسہ شوری
    )تحریر فرمودہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی(
    ابھی ابھی میری نظر سے اخبار >سیاست< کا مضمون >کشمیر کانفرنس کے انعقاد کی تجویز< گزرا ہے- میں نہیں سمجھ سکا کہ یہ مضمون خود عملہ سیاست کی طرف سے ہے یا کسی نامہ نگار کی طرف سے کیونکہ نیچے کسی کا نام نہیں ہے مگر بہرحال مجھے خوشی ہے کہ اہل کشمیر کی توجہ کام کی طرف پھر رہی ہے- مجھے مکرمی خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی کا بھی ایک خط ملا ہے جس میں انہوں نے میری تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے سیالکوٹ کو جلسہ شوریٰ کے لئے پسند فرمایا ہے اور ہر طرح امداد کرنے کا وعدہ کیا ہے- میں نے انہیں جوابا یہی تحریر کیا ہے کہ اب اس تجویز کی اشاعت کے بعد پہلا حق کشمیری کانفرنس کا ہے کہ وہ اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دعوت نامہ شائع کرے اور مقام اجتماع کا اعلان کرے- لیکن اگر مصلحت کی وجہ سے وہ اس کام کو ہاتھ میں نہ لینا چاہے تو پھر ہم لوگوں میں سے کوئی اس کا محرک ہو سکتا ہے-
    کشمیری کانفرنس متوجہ ہو
    اب بھی میرا یہی خیال ہے کہ کشمیری کانفرنس کے سیکرٹریصاحب کو اس کام کے لئے کھڑا ہونا چاہئے- مجھے اچھی طرح معلوم نہیں کہ وہ کون صاحب ہیں- مگر میں امید کرتا ہوں کہ کام کو سہولت سے چلانے کے لئے وہی اس مجلس کے انعقاد کی کوشش کریں گے کیونکہ ہر کام کے لئے بلا ضرورت و مصلحت الگ الگ انجمنوں کا بنانا تفرقہ اور انشقاق پیدا کرتا ہے لیکن اگر کسی وجہ سے وہ اس کام کو کرنا پسند نہ فرماتے ہوں تو میں ان سے درخواست کروں گا کہ وہ اخبار کے ذریعہ سے اس کی اطلاع کر دیں تا کہ کوئی دوسرا انتظام کیا جائے-
    >سیاست< کے مضمون نگار صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ کشمیر کے نمائندوں کا طلب کرنا ناممکن ہوگا لیکن میرے نزدیک یہ ناممکن نہیں مجھے جو اطلاعات کشمیر سے آ رہی ہیں‘ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر میں سینکڑوں آدمی اس امر کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں کہ اپنی جان اور مال کو قربان کر کے مسلمانوں کو اس ذلت سے بچائیں جس میں وہ اس وقت مبتلا ہیں اور کشمیر والوں نے ایک انجمن سات آدمیوں کی ایسی بنائی ہے جس کے ہاتھ میں سب کام دے دیا گیا ہے- ہو سکتا ہے کہ انجمن اپنے میں سے کسی کو یا اپنے حلقہ سے باہر سے کسی شخص کو نمائندہ مقرر کر کے بھیج دے- اسی طرح گائوں کے علاقوں سے بھی نمائندے بلوائے جا سکتے ہیں- اگر ریاست کشمیر کی طرف سے روک کا احتمال ہو تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان نمائندوں کا علم بھی کسی کو نہ دیا جائے- لیکن اگر بفرض محال ہم کشمیر سے نمائندے طلب نہ بھی کر سکیں تو پھر ہم یہ کر سکتے ہیں کہ ایک دو معتبر آدمیوں کو اپنی طرف سے کشمیر بھجوا دیں- وہ بہت معروف نہ ہوں اور نہ ان کے نام شائع کئے جائیں- کشمیر پہنچ کر وہ کشمیر کی انجمن اور دوسرے علاقوں کے سربرآوردہ لوگوں سے مشورہ کر کے ان کے خیالات کو نوٹ کر کے لے آئیں اور کانفرنس میں ان سے فائدہ اٹھا لیا جائے-
    کانفرنس کی ہیئت ترکیبی
    بہرحال کشمیر کے حقیقی مطالبات کا علم ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ مختلف علاقوں میں مختلف طور سے ظلم ہو رہا ہے اور ہم دور بیٹھے اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے- لیکن باوجود اس کے میرا یہ مطلب نہیں کہ اگر کشمیر کے نمائندے نہ آ سکیں تو ہم کوئی کام ہی نہ کریں- اگر ان سب تجاویز میں سے کسی پر بھی عمل نہ ہو تو بھی ہمیں کانفرنس کرنی چاہئے- جو باشندگان کشمیر‘ کشمیر سے باہر ہیں وہ کم کشمیری نہیں ہیں- ہم ان کی مدد سے جس حد تک مکمل ہو سکے‘ اپنی سکیم تیار کر سکتے ہیں-
    یہ ضروری ہے کہ یہ کانفرنس تمام فرقوں اور تمام اقوام کی نمائندہ کانفرنس ہو تا کہ متفقہ کوشش سے کشمیر کے سوال کو حل کیا جائے- اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس غرض کے لئے ان مسلمانوں کو بھی ضرور دعوت دینی چاہئے جو کانگرس سے تعلق رکھتے ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ وہ لوگ اس کام میں دوسرے مسلمانوں سے پیچھے رہیں گے-
    پبلسٹی کمیٹی کی ضرورت
    >سیاست< کے مضمون نگار صاحب نے ایک پبلسٹی کمیٹی کشمیر کے قیام کی بھی تجویز کی ہے‘ میں اس سے بالکل متفق ہوں- اور یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس بارہ میں میں کشمیر کے دوستوں کو پہلے سے لکھ چکا ہوں کہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو کامیاب کرنے کے لئے ہندوستان اور اس کے باہر بھی پروپیگنڈا کی ضرورت ہوگی- اور میں اس کام میں سے یہ حصہ اپنے ذمہ لیتا ہوں کہ پارلیمنٹ کے ممبروں اور گورنمنٹ ہند کو کشمیر کے مسلمانوں کے حالات سے آگاہ کرتا رہوں اور کشمیر کے حالات کے متعلق پارلیمنٹ میں سوال کرواتا رہوں- اس کے جواب میں مجھے یہ اطلاع بھی آ گئی ہے کہ وہاں بعض دوست ایسے حالات جمع کرنے میں مشغول ہیں جن سے ان مظالم کی نوعیت ظاہر ہو گی جو اس وقت کشمیر کے مسلمانوں پر روا رکھے جاتے ہیں- اس فہرست کے آتے ہی میں ایک اشتہار میں ان کا مناسب حصہ درج کر کے پارلیمنٹ کے ممبروں میں اور دوسرے سربرآوردہ لوگوں میں تقسیم کرائوں گا اور گورنمنٹ ہند کو بھی توجہ دلائوں گا-
    غلاموں کو آزاد کرائو
    اس وقت غلامی کے خلاف سخت شور ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ کشمیر کی لاکھوں کی آبادی بلا قصور غلام بنا کر رکھی جائے- آخر غلام اسی کو کہتے ہیں جسے روپیہ کے بدلے میں فروخت کر دیا جائے- اور کیا یہ حق نہیں کہ کشمیر کو روپیہ کے بدلے میں حکومت ہند نے فروخت کر دیا تھا- پھر کیا ہمارا یہ مطالبہ درست نہیں کہ جب کہ انگریز عرب اور افریقہ کے غلاموں کے آزاد کرانے کی کوشش کر رہے ہیں‘ وہ ان غلاموں کو بھی آزاد کرائیں جن کی غلامی کا موجب وہ خود ہوئے ہیں- میں سمجھتا ہوں ہر ایک دیانتدار آدمی اس معاملہ میں ہمارے ساتھ ہوگا- بلکہ میرا تو یہ خیال ہے کہ خود مہاراجہ سر ہری سنگھ صاحب بھی اگر ان کے سامنے سب حالات رکھے جائیں تو اس ظلم کی جو ان کے نام سے کیا جا رہا ہے‘ اجازت نہ دیں گے اور مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق دے کر اس فیڈریشن کے اصل کو مضبوط کریں گے جس کی وہ تائید کر رہے ہیں- ورنہ کشمیر جیسے غلام ملک اور آزاد ہندوستان میں فیڈریشن کیسی؟ مہاراجہ صاحب خواہ کس قدر عقلمند ہوں وہ یہ امید نہیں کر سکتے کہ ہم باشندگانہندوستان اس امر کو پسند کریں گے کہ مہاراجہ صاحب خود ہی چار پانچ ممبر اپنی طرف سے مقرر کر کے بھجوا دیں اور ہم لوگ ان کی رائے کو اہل کشمیر کی رائے قرار دے کر اس کو وہی عظمت دیں جو کئی لاکھ آبادی والے ملک کے نمائندوں کی رائے کو حاصل ہونا چاہئے-
    )الفضل ۲- جولائی ۱۹۳۱ء(
    مسلمانان جموں و کشمیر کی حالت اور
    مسلمانوں کا فرض
    اس سے پہلے میں دو مضامین میں اس مسئلہ کی طرف مسلمانوں کی توجہ کو پھیر چکا ہوں لیکن جہاں تک میرا خیال ہے اب تک اس مسئلہ کی اہمیت اور اس کی باریکی کو مسلمان نہیں سمجھے- یہ تو شکر کا مقام ہے کہ عام طور پر مسلمانوں میں کشمیر کے مسلمانوں کی حالت کی طرف توجہ پیدا ہو گئی ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑ دینا چاہئے اور سب مسلمانوں کو آزادی کی جدوجہد میں برادران کشمیر کی امداد کرنی چاہئے لیکن ابھی تک کوئی ایسا نظام قائم نہیں ہوا جس کے ماتحت کام کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلایا جا سکے-
    یوم کشمیر منانے کی تحریک
    پچھلے دنوں ایک تحریک پشاور سے کی گئی کہ دس جولائی کو یومکشمیر منایا جائے- دوسری تحریک کان پور سے کی گئی کہ اٹھائیس جولائی کو یوم کشمیر منایا جائے- اب ایک تیسری تحریک لاہور سے کی گئی ہے کہ ۲۴ تاریخ کو یوم کشمیر منایا جائے- اس قسم کے اختلاف کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسی کوئی تحریک بھی کامیاب نہ ہو سکے گی اور ہر ایک تحریک کے محرکوں سے تعلق رکھنے والے الگ الگ دنوں میں جلسے کر کے اس حقیقی فائدہ سے جو مظاہروں میں مقصود ہوتا ہے‘ محروم رہ جائیں گے نیز آپس میں شقاق بھی پیدا ہوگا ہر ایک محرک کو یہ احساس ہوگا کہ چونکہ دوسروں نے میری بات نہیں مانی‘ اس لئے میں ان کی کیوں مانوں-
    ایک اور بڑا بھاری نقص یہ ہوگا کہ چونکہ ابھی تک کام کا کوئی پروگرام مقرر نہیں ہوا- اس لئے سوائے جوش و خروش کے اور کوئی حقیقی فائدہ ان مظاہروں سے حاصل نہیں کیا جا سکے گا- اور انگریزی علاقہ میں جوش و خروش کا خالی مظاہرہ سینکڑوں میل دور بیٹھے ہوئے ریاستی حکام پر کسی صورت میں اثر نہیں ڈال سکتا- میں نے تو اس مشکل کا حل یہ کیا کہ دس جولائی کو اپنی جماعت کا جلسہ کرا دیا تا کہ ہمارے پشاور کے دوستوں کی تحریک رائیگاں نہ جائے اور دشمنوں کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کی بات کا احترام کرنے کیلئے تیار نہیں لیکن چوبیس اور اٹھائیس جولائی کی تاریخوں کی مشکل ابھی سامنے ہے- میں نہیں سمجھتا کہ جب جمعیہ العلماء کانپور نے ۲۸- تاریخ مقرر کر دی تھی تو لاہور کی لوکل کمیٹی کو کیا ضرورت پیش آئی تھی کہ وہ نئی تاریخ مقرر کرتی- اگر حقیقی مشکل ہمارے رستے میں ہو سکتی تھی تو یہ کہ تاریخ بہت قریب مقرر کی گئی- مگر حقیقت یہ ہے کہ کانپور کی تاریخ پہلے مقرر ہو چکی تھی اور پھر وہ لاہور کی مقررہ تاریخ سے چار دن پیچھے کی تھی- اب اگر یو- پی والے ۲۸ کو اور پنجاب والے ۲۴ کو جلسے کریں یا خود پنجاب میں بھی مختلف اوقات میں جلسے ہوں تو اس سے کیا فائدہ حاصل ہوگا-
    نظام کار تجویز کیا جائے
    ان حالات میں میں تمام ان ذمہ وار اشخاص کو جو یا تو نسلا کشمیری ہیں یا مسئلہ کشمیر سے ہمدردی رکھتے ہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس کام کے کرنے کے لئے ایک نظام تجویز کریں- کوئی لوکل کمیٹی خواہ کتنے ہی بااثر آدمیوں پر مشتمل ہو‘ اس کام کو نہیں کر سکتی جب تک ایک آل انڈیا کانفرنس مسلمانوں کی اس مسئلہ پر غور نہ کرے گی اور اس کے لئے ایک متفقہ پروگرام تجویز نہ کرے گی اس سوال کا حل ناممکن ہے-
    ضروری باتیں
    ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ یہ سوال براہ راست برطانوی ہند کے باشندوں سے تعلق نہیں رکھتا اور ہمارے یہاں کے مظاہرے ریاست کشمیر پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتے-
    دوسرے باشندگان کشمیر ابھی تعلیم میں بہت پیچھے ہیں اور بوجہ اس کے کہ ان کو کسی قسم کی بھی آزادی حاصل نہیں‘ عوام الناس میں باقاعدہ جدوجہد کی بھی ہمت کم ہے-
    تیسرے ریاستوں میں اس طرح کی آئینی حکومت نہیں ہوتی جس طرح کی حکومت برطانوی علاقہ میں ہے- نہ ان کا کوئی قانون مقرر ہے نہ ان کا کوئی ریکارڈ ہوتا ہے- وہ جس طرح چاہتی ہیں کرتی ہیں اور پھر اپنے منشاء کے مطابق اپنے فعل کی تشریح کر کے دنیا کے سامنے پیش کر دیتی ہیں-
    چوتھے حکومت ہند ریاستوں کے معاملہ میں غیر جانبدار رہنے کا اعلان کر چکی ہے اور ان کی اس پالیسی کی تائید مسلمان بھی کر چکے ہیں- پس حکومت ہند پر اس معاملہ میں زور دینا کوئی معمولی کام نہیں ہوگا اور ہمیں نہایت غور کے بعد کوئی ایسی راہ تلاش کرنی پڑے گی کہ ہمارا اصول بھی نہ ٹوٹے اور ہمارا کام بھی ہو جائے-
    پس ان حالات میں ہمیں اپنا پروگرام ایسی طرز پر بنانا ہوگا کہ کشمیر کے مسلمانوں کی ہمت بھی قائم رہے اور حکومت ہند پر بھی ہم زور دے سکیں اور کوئی ایسی بات بھی ہم سے صادر نہ ہو جس کا اثر ہمارے بعض دوسرے اصولوں پر جو مسئلہ کشمیر سے کم اہم نہیں ہیں پڑتا ہے اور ایسا پروگرام آل انڈیا کانفرنس کے بعد ہی مقرر کیا جا سکتا ہے-
    ہندوستان بھر کے چوٹی کے لیڈروں کی کانفرنس کی ضرورت
    میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے بعض دوست یہ خیال کر رہے ہیں کہ محض ان شکایات کو پیش کر دینا اور کرتے رہنا جو جموں اور کشمیر کے مسلمانوں کو ریاست سے ہیں‘ ہمارے لئے کافی پروگرام ہے حالانکہ یہ درست نہیں- اس سوال میں بعض ایسی پیچیدگیاں ہیں کہ اخبارات کے صفحات پر بھی ہم ان کو نہیں لا سکتے- اور میں ان مسلمانوں کو جو جوش تو رکھتے ہیں لیکن کسی نظام کے ماتحت کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں‘ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر کافی غور و فکر کے بعد اور وسیع مشورہ کے بعد اس کا پروگرام تیار نہ کیا گیا تو آئندہ بعض ایسے سوالات پیدا ہو جائیں گے جن کا حل ان کے امکان سے باہر ہوگا- لیکن اس وقت پچھتانے سے کچھ حاصل نہ ہو سکے گا اور مسلمانوں کو بعض ایسے نقصانات پہنچ جائیں گے جن کا خیال کر کے بھی دل کو تکلیف ہوتی ہے- پس میں پھر ایک دفعہ ان ذمہ دار لیڈروں کو جو برطانوی ہند کی کشمیری برادری میں رسوخ رکھتے ہیں‘ توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ایک نہایت محدود لیکن ہندوستان بھر کے چوٹی کے لیڈروں کی ایک کانفرنس کسی ایسے مقام پر جہاں جموں اور کشمیر کے مسلمان بھی آ سکیں منعقد کریں تا کہ اس موقع پر ان تمام مشکلات پر غور کر کے جو ہمارے رستے میں حائل ہیں‘ ایک ایسا پروگرام تیار کیا جائے جس پر عمل کر کے بغیر کسی نئی پیچیدگی کے پیدا ہونے کے ہم مسلمانان کشمیر کی آزادی کے مسئلہ کو حل کر سکیں-
    کشمیر ڈے اور فراہمی چندہ کی تحریک
    اس پروگرام کے بعد ہی میرے نزدیک کشمیرڈے کی کوئی تاریخ مقرر کرنی چاہئے اور اتنا عرصہ پہلے سے وہ تاریخ مقرر ہونی چاہئے کہ سارے ہندوستان میں جلسوں کی تیاری کی جا سکے- اس دن علاوہ کشمیر کے حالات سے مسلمانوں کو واقف کرنے کے پروگرام کا وہ حصہ بھی لوگوں کو سنایا جائے جس کا شائع کرنا مناسب سمجھا جائے اور ہر مقام پر چندہ بھی کیا جائے- اگر فیگائوں پانچ پانچ روپیہ بھی اوسطاً چندہ کے ہو جائیں تو قریباً تین لاکھ روپیہ پنجاب میں ہی جمع ہو سکتا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس جدوجہد میں بہت کچھ روپیہ بھی صرف کرنا پڑے گا اور بغیر ایک زبردست فنانشل کمیٹی کے جس پر ملک اعتبار کر سکے کسی بڑے چندہ کی تحریک کرنا یقیناً مہلک ثابت ہوگا-
    میں امید کرتا ہوں کہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب‘ شیخ دین محمد صاحب‘ سید محسن شاہ صاحب اور اسی طرح دوسرے سربرآوردہ ابنائے کشمیر جو اپنے وطن کی محبت میں کسی دوسرے سے کم نہیں ہیں‘ اس موقع کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے موجودہ طوائف الملوکی کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے ورنہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سب طاقت ضائع ہو جائے گی اور نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا- )الفضل ۱۶- جولائی ۱۹۳۱ء(
    مسلمانان سرینگر پر گولی چلانے کا اندوہناک حادثہ
    )حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا تار وائسرائے ہند کو(
    یورایکسیلنسی کشمیر میں مسلمانوں کی خستہ حالی سے ناواقف نہیں- تازہ ترین اطلاعات سے پایا جاتا ہے کہ مسلمانوں پر نہایت ہی خلاف انسانیت اور وحشیانہ مظالم کا ارتکاب شروع ہو گیا ہے- ۱۳- جولائی کو سرینگر میں جو کچھ ہوا‘ وہ فی الواقعہ تاسف انگیز ہے- ایسوسی ایٹیڈ پریس کی اطلاع کے مطابق نومسلمان ہلاک اور متعدد مجروح ہوئے ہیں لیکن پرائیویٹ اطلاعات سے پایا جاتا ہے کہ سینکڑوں مسلمان ہلاک اور مجروح ہوئے ہیں- ریاست سے آنے والی تمام خبروں پر سخت سنسر ہے- یہی وجہ ہے کہ ہمیں جو تار موصول ہوا وہ سیالکوٹ سے دیا گیا ہے- ہزہائینس مہاراجہ کشمیر کے تازہ اعلان کے معاً بعد جس میں انہوں نے اپنی مسلم رعایا کو کئی طرح کی دھمکیاں دی ہیں‘ اس قسم کی واردات کا ہونا صاف بتاتا ہے کہ یا تو غریب مسلمانوں پر بلاوجہ حملہ کر دیا گیا ہے اور یا ایک نہایت ہی معمولی سے بہانہ کی آڑ لے کر ان بے چاروں کو سفاکی کے ساتھ ذبح کر دیا گیا ہے-
    کشمیر میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت ہے لیکن ان کے حقوق بے دردی سے پامال کئے جا رہے ہیں- اس وقت وہاں مسلم گریجوایٹوں کی تعداد بہت کافی ہے- مگر انہیں کوئی ملازمت نہیں دی جاتی- یا اگر بہت مہربانی ہو تو کسی ادنیٰ سے کام پر لگا دیا جاتا ہے اور جب ایک ملک کی ۹۵ فیصدی آبادی کو اس کے جائز حقوق سے صریح نا انصافی کر کے محروم رکھا جائے‘ اس کے دل میں ناراضگی کے جذبات کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے- لیکن نہایت ہی افسوس ہے کہ ریاست کے ذمہ دار حکام بجائے اس کے کہ مسلمانوں کے جائز مطالبات منظور کریں‘ ان کی خفگی کو رائفلوں اور بک شاٹ (BUCKSHOT)۱~}~ سے دور کرنا چاہتے ہیں- جموں کے حکمرانوں نے کشمیر کو فتح نہیں کیا تھا بلکہ انگریزوں نے اسے ان کے ہاتھ ایک حقیر سی رقم کے بدلے فروخت کر دیا تھا- لہذا وہاں جو کچھ ہو رہا ہے‘ حکومت برطانیہ بھی اس سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی- مزید برآں ریاست آخر کار برطانیہ کے ماتحت ہے اور موجودہ حکمران جو محض ایک چیف تھا‘ ریاست اور اختیارات کے لئے حکومت برطانیہ کا ممنون احسان ہے اس لئے حکومت برطانیہ کا فرض ہے کہ وہ کشمیر کے بے بس مسلمانوں کی شکایات کے ازالہ کے لئے جو کچھ کر سکتی ہے کرنے سے دریغ نہ کرے-
    کشمیر کی اپنی علیحدہ زبان ہے اور اس کا تمدن اور مذہب وغیرہ جموں سے بالکل جداگانہ ہے- اس لئے ڈوگرا وزراء سے کشمیری مسلمانوں کے حق میں کسی بہتری کی توقع نہیں ہو سکتی اور انہیں اس وقت تک امن حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ ان کی اپنی وزارت کے ذریعہ مہاراجہ جموں ان پر حکومت نہ کریں- لہذا انسانیت کے نام پر میں یورایکسیلنسی سے پر زور اپیل کرتا ہوں کہ آپ کشمیر کے لاکھوں غریب مسلمانوں کو جنہیں برٹش گورنمنٹ نے چند سکوں کے عوض غلام بنا دیا‘ ان مظالم سے بچائیں تا کہ ترقی اور آزاد خیالی کے موجودہ زمانہ کے چہرہ سے یہ سیاہ داغ دور ہو سکے-
    کشمیر بے شک ایک ریاست ہے مگر اس حقیقت سے انکار نہیں ہو سکتا کہ یہ ناانصافی سے پنجاب سے علیحدہ کیا گیا ہے اور دوسرے صوبہ جات کے مسلمانوں کی طرح پنجاب کے مسلمان کشمیری مسلمانوں پر ان مظالم کو کسی صورت میں برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتے اگر حکومت ہند اس میں مداخلت نہ کرے گی تو مجھے خطرہ ہے مسلمان اس انتہائی ظلم و ستم کو برداشت کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوئے گول میز کانفرنس میں شمولیت سے انکار نہ کر دیں اور انتہائی مایوسی کے عالم میں کانگریسی رو میں نہ بہہ جائیں-
    )الفضل ۱۸- جولائی ۱۹۳۱ء(
    کشمیر ڈے کا پروگرام
    تمام احباب نے پڑھ لیا ہوگا کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے ۱۴- اگست کو ایک >کشمیرڈے< منانے کا فیصلہ کیا ہے- میں اسی سلسلہ میں تمام مسلمان انجمنوں‘ سوسائٹیوں‘ لیڈروں اور ہر قسم کے بااثر لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ۱۴-اگست کو یاد رکھیں اور آج ہی سے مسلمانوں میں اس کے متعلق احساس پیدا کرنے کی کوشش کریں-
    مسلمانان کشمیر پر مظالم
    مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے تیس لاکھ بھائی بے زبان جانوروں کی طرح قسم قسم کے ظلموں کا تختہ مشق بنائے جا رہے ہیں- جن زمینوں پر وہ ہزاروں سال سے قابض تھے‘ ان کو ریاست کشمیر میں اپنی ملکیت قرار دے کر ناقابل برداشت مالیہ وصول کر رہی ہے- درخت کاٹنے‘ مکان بنانے‘ بغیر اجازت زمین فروخت کرنے کی اجازت نہیں- اگر کوئی شخص کشمیر میں مسلمان ہو جائے تو اس کی جائیداد ضبط کی جاتی ہے بلکہ کہا جاتا ہے کہ اہل و عیال بھی اس سے زبرستی چھین کر الگ کر دیئے جاتے ہیں- ریاست جموں و کشمیر میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں‘ انجمن بنانے کی اجازت نہیں‘ اخبار نکالنے کی اجازت نہیں‘ غرض اپنی اصلاح اور ظلموں پر شکایت کرنے کے سامان بھی ان سے چھین لئے گئے ہیں- وہاں کے مسلمانوں کی حالت اس شعر کی مصداق ہے-
    نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے
    گھٹ کے مر جائوں یہ مرضی مرے صیاد کی ہے
    جب اس صورت حالات کے خلاف جموں کے مسلمانوں نے ادب و احترام سے نہ کہ شرارت و شوخی سے مہاراجہ صاحب کے پاس شکایت کی تو بذریعہ تار جموں کے مسلمانوں کے نمائندوں کو بلوایا گیا کہ مہاراجہ صاحب کے پاس اپنی معروضات کو پیش کریں- لیکن کئی دن تک آج نہیں کل کرتے ہوئے ان کی شکایات سننے کی بجائے انہیں جیل خانہ میں ڈال دیا گیا اور اس وقت تک جیل میں پڑے سڑ رہے ہیں- کشمیر کے مسلمانوں کو جو ایک ہمدرد کشمیر کے مقدمے کی کارروائی سننے کی خواہش کے مجرم تھے‘ گولیوں اور چھروں سے زخمی کیا گیا- ان غریب قیدیوں اور بے کس مجروحوں اور خاموشی سے جان دینے والوں کا صرف یہ قصور تھا کہ وہ مسلمان کہلاتے تھے اور انہیں یہ احساس پیدا ہونے لگ گیا تھا کہ ہم بھی آدمی ہیں-
    ہر ایک مسلمان سے امید
    پس آج ہر ایک مسلمان جو ہندوستان کے کسی گوشے میں رہتا ہو‘ اس سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ۱۴- اگست کو جلسہ کرائے یا جلسے میں شامل ہو اور اس صورت حال کے خلاف احتجاج کرے کیونکہ جموں اور کشمیر کے تیس لاکھ مسلمانوں کی آواز جو غلامی کے طوق کے بوجھ کے نیچے کراہ رہے ہیں کسی خیرخواہملت کو آرام و چین سے سونے نہیں دے سکتی-
    اس جلسہ کا پروگرام مندرجہ ذیل قرار پایا ہے-
    جلوس
    ۱- جس قدر زیادہ سے زیادہ آدمی شامل ہو سکیں‘ ان کا ایک جلوس اس طرح نکالا جائے کہ مسلمانوں میں کشمیر کے معاملات کے متعلق دلچسپی پیدا ہو اور دوسری اقوام اور حکومت پر اس بارہ میں مسلمانوں کے دلی جذبات کا انکشاف ہو جائے اور وہ معلوم کر لیں کہ اس بارہ میں مسلمان جب تک ظلم کا ازالہ نہ کیا جائے صبر نہیں کریں گے-
    جلسہ
    ۲- ایک جلسہ وسیع پیمانے پر کیا جائے اور ہر فرقہ کے لوگوں کو اس میں شامل کیا جائے- اس جلسہ میں کشمیر کے حالات سنائے جائیں جن کے متعلق ایک مختصر رسالہ مولویاے- آر- درد صاحب ایم- اے سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی سے اصل لاگت پر مل سکتا ہے- اس رسالہ کو فروخت یا تقسیم کیا جائے تو اور بھی مفید ہوگا-
    دوسری ریاستوں سے کشمیر کے سوال کا تعلق نہیں
    ۳- حکومت کشمیر کی طرف سے دوسری ریاستوں میں یہ پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ مسلمان مہاراجہ صاحب کو تخت سے اتروانا چاہتے ہیں اور اس کے بعد وہ باری باری دوسری ہندو ریاستوں پر ہاتھ صاف کریں گے حالانکہ یہ واقعات کے بالکل بر خلاف ہے- مسلمان صرف کشمیر کے مسلمانوں کو ابتدائی حقوق انسانیت دلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور بس- دوسری ریاستوں سے کشمیر کے سوال کا کوئی تعلق نہیں- صرف بعض حکام کشمیر کی یہ چال ہے جس سے وہ دوسری ریاستوں کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کر کے گورنمنٹ پر دبائو ڈالنا چاہتے ہیں بلکہ سنا گیا ہے کہ بعض ریاستیں حکومت ہند پر دبائو ڈال بھی رہی ہیں اس امر کو خوب واضح کیا جائے-
    ہندو مسلم سوال نہیں
    ۴- حکومت کشمیر بڑے زور سے موجودہ تحریک کو ہندو مسلم تحریک ثابت کرنا چاہتی ہے حالانکہ باوجود اس کے کہ ریاست نے ہندوئوں کو آلہ کار بنایا ہوا ہے مسلمانان کشمیر ان کے خلاف کچھ نہیں کرتے کیونکہ مسلمانوں کے حقوق ریاست نے ہی غصب کئے ہوئے ہیں- اس امر کو اور بھی واضح کرنا چاہئے کہ یہ ریاست کی چال ہے کہ وہ اسے ہندو مسلم سوال بنا کر ہندوستان کے دوسرے ہندوئوں کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتی ہے-
    گورنمنٹ ہند اور ریاست کشمیر
    ۵- بعض حکام کشمیر بعض لوگوں کو رشوتیں دے کر پراپیگنڈا کرا رہے ہیں کہ گویا مسٹر ویک فیلڈ WAKEFIELD)۔(MR کے ذریعہ سے حکومت برطانیہ مسلمانوں کو اکسا کر کشمیر پر قبضہ کرنا چاہتی ہے- چنانچہ >پرنسلی انڈیا< نامی دہلی کے انگریزی اخبار میں اس قسم کے مضامین لکھوائے گئے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت برطانیہ اس وقت تک ریاست کی تائید میں ہے‘ چنانچہ ریزیڈنٹ کا یکطرفہ بیان اس پر دلالت کرتا ہے- ریاست کی غرض یہ ہے کہ اس طرح حریتپسند مسلمانوں کی ہمدردی کشمیر کے مسلمانوں سے ہٹا دے- اس سے بھی مسلمانوں کو واقف کرنا چاہئے-
    آزاد تحقیقاتی کمیٹی کا مطالبہ
    ۶- جموں میں قرآن کریم اور خطبے کے واقعہ اور سری نگر میں گولی چلانے کے واقعہ کے خلاف ریزولیوشن پاس کیا جائے اور حکومت برطانیہ سے آزاد تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ کیا جائے اور اس امر کا بھی کہ ہندوستانی بیرسٹروں کو سرینگر کے موجودہ مقدمہ کے متعلق پیروی کی اجازت دی جائے-
    مذہبی آزادی
    ۷- کشمیر میں اسلام لانے پر جو رکاوٹیں ہیں کہ جائیداد ضبط کی جاتی ہے اور بیوی بچے چھین لئے جاتے ہیں‘ اس کے خلاف ریزولیوشن پاس کیا جائے-
    انجمنیں بنانے کی آزادی
    ۸- کشمیر میں انجمنیں بنانے کی آزادی نہیں اور درخواست دینے پر اکثر ریاست توجہ نہیں کرتی- اس سے نہ مسلمان اپنی مذہبی‘ علمی‘ اقتصادی اور تمدنی تنظیم کر سکتے ہیں اور نہ ترقی کی راہیں سوچ سکتے ہیں اس کے خلاف ریزولیوشن ہو-
    اخبار نکالنے کی آزادی
    ۹- کشمیر میں اخبار نکالنے کی بھی آزادی نہیں- اس کے خلاف بھی ریزولیوشن ہو کہ انگریزی علاقہ کی طرح وہاں بھی اجازت مل جایا کرے-
    تقریر کرنے کی آزادی
    ۱۰- کشمیر میں تقریر کرنے کی بھی آزادی نہیں- اس کے خلاف بھی ریزولیوشن پاس کیا جائے-
    زمین کے مالکانہ حقوق کا مطالبہ
    ۱۱- کشمیر میں زمین کی ملکیت کے حقوق زمینداروں کو حاصل نہیں ہیں حالانکہ کشمیر انگریزوں سے مہاراجہ کو ملا ہے- پس وہاں کے زمینداروں کے حق پنجاب کے مطابق ہونے چاہئیں- وہاں نہ لوگ بلااجازت زمین فروخت کر سکتے ہیں‘ نہ مکان بنا سکتے ہیں‘ نہ درخت کاٹ سکتے ہیں اور اس طرح غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں- اس کے خلاف بھی ریزولیوشن ہونا چاہئے-
    ملازمتوں میں حصہ
    ۱۲- کشمیر میں مسلمان پچانوے فیصدی ہیں اور سب ریاست میں سترفیصدی مگر ملازمتوں میں ان کو تین فیصدی بھی حصہ نہیں مل رہا- اس کے خلاف ریزولیوشن پاس کئے جائیں اور مسلمانوں کے لئے کم از کم ستر فیصدی ملازمتوں کا مطالبہ کیا جائے- اس وقت ریاست بہانہ یہ کرتی ہے کہ مسلمان تعلیم یافتہ نہیں ملتے حالانکہ تعلیم کی کمی کی ذمہ داری ریاست پر ہے نیز یہ بھی غلط ہے کہ مسلمان تعلیم یافتہ نہیں ملتے- بہت سے گریجوایٹ ریاست میں بیکار پھر رہے ہیں اور یہ بھی غلط ہے کہ ریاست میں عہدے لیاقت پر ملتے ہیں- ریاست میں کئی ڈوگرے اعلیٰ عہدوں پر ہیں اور وہ مڈل پاس بھی نہیں ہیں-
    ‏sub] ga[t مجلس قانون ساز کا مطالبہ
    ۱۳- چونکہ مسلمانوں کو جائز طو رپر ریاست کے معاملات میں مشورہ دینے کا موقع حاصل نہیں اور نہ مہاراجہ صاحب تک پہنچنے کا موقع حاصل ہے- وہاں ایک قانون ساز مجلس قائم کی جائے تا کہ مسلمان اپنی آواز مہاراجہ صاحب تک پہنچا سکیں- اور قانون سازی کے وقت ان کی رائے ریاست کو معلوم ہو سکے- اس کے متعلق بھی ریزولیوشن کیا جائے-
    کشمیر کیلئے علیحدہ وزارت
    ۱۴- چونکہ کشمیر کا صوبہ زبان‘ تاریخ‘ تمدن اور مذہب کے لحاظ سے جموں سے بالکل علیحدہ ہے- اس لئے مطالبہ کیا جائے کہ کشمیر کے لئے علیحدہ وزارت ہو جو براہ راست مہاراجہ صاحب کے ساتھ کام کرے اور اس میں کشمیر کی آبادی کے لحاظ سے مسلمان وزراء لئے جائیں-
    چندہ جمع کیا جائے
    ۱۵- چونکہ کشمیر میں سخت ظلم ہو رہا ہے اور مسلمان بے بس ہیں اور کشمیر کے حالات سے انگریزی حکومت کو واقف کرنا اور مہذب دنیا کو ان حالات سے آگاہ کرنا از بس ضروری ہے ان سب امور کے لئے نہایت کثیر رقم کی ضرورت ہے اس لئے اس دن جلسوں میں خاص طور پر اس غرض کے لئے چندہ جمع کیا جائے- اس رقم کا ایک حصہ جموں کے مسلمانوں کی امداد کے لئے‘ ایک حصہ کشمیر کے مسلمانوں کی امداد کے لئے اور ایک حصہ ہندوستان اور بیرون ہند کے پراپیگنڈا کے لئے خرچ کیا جائے گا- مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے تیس لاکھ بھائیوں کو غلامی سے بچانا چاہتے ہیں تو انہیں بہت سی قربانی کرنی پڑے گی- مونہہ کی ہمدردی سے کشمیر کے مسلمانوں کی تکالیف دور نہیں ہو سکتیں- پس اگر سچی ہمدردی ہے تو اس کے مطابق قربانی کریں اور اس امر کو مدنظر رکھیں کہ یہ جنگ چند دن کی نہیں- ممکن ہے کہ ایک دو ماہ میں ہی فیصلہ ہو جائے اور ممکن ہے سالوں تک اس کے لئے جدوجہد کرنی پڑے- پس ہمت کر کے اس طرف قدم اٹھائیں تا کہ دنیا معلوم کر لے کہ مسلمان پر بے استقلالی کا الزام غلط ہے- ایسی تمام رقوم مسلم بنک لاہور میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے نام پر بھجوانی چاہئیں-
    مسلمان انشاء اللہ کامیاب ہونگے
    برادران! میں نے اس مقصد کے حصول کے لئے ہندوستان اور ہندوستان کے باہر اپنی کوشش شروع کر دی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے چند دن کی جدوجہد کے بعد ہی بعض ایسے حلقوں میں دلچسپی اور ہمدردی پیدا ہو گئی ہے جہاں سے اس قسم کی کوئی امید نہ تھی- اگر مسلمان جوش سے اور استقلال سے کام لیں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ کام مشکل اور منزل دور ہے‘ ہم انشاء اللہ کامیاب ہونگے اور کشمیر کے تیس لاکھ مسلمانوں اور ان کی اولادوں اور اولادوں کی اولادوں کی دعائیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی- کسی کا ایک بھائی غلام ہو تو وہ صبر نہیں کر سکتا کیا آپ لوگ تیس لاکھ بھائیوں کی غلامی کے باوجود خوشی کی زندگی بسر کر سکتے ہیں؟ میرا دل کہتا ہے کہ ہر گز نہیں- میں امید بھرے دل کے ساتھ آپ کو آپ کے فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ۱۴- اگست کو تمام ہندوستان کے مسلمان ایک پر امن مظاہرے سے مستقل جدوجہد اور مناسب حال قربانی کے عہد اور عملی نمونہ کے ذریعہ سے دنیا پر یہ ثابت کر دیں گے کہ وہ موت نہیں بلکہ زندگی کو پسند کرتے ہیں-
    جلسوں کی رپورٹ
    جلسوں کی رپورٹ فوراً بذریعہ تار مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم- اے سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی قادیان کے نام بھیج دیں تا کہ جلسوں کے بعد مناسب طور پر حکومت انگلستان کو صورت حالات سے واقف کیا جا سکے اور جلسہ کی تفصیلی کارروائی کہ کون پریزیڈنٹ تھا؟ کس کس نے تقریر کی؟ حاضرین کی تعداد کیا تھی؟ جلوس کس قسم کا نکلا؟ اخبارات اور سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی کو مندرجہ بالا پتہ پر بھیجی دیں تمام ریزولیوشنز کی ایک ایک کاپی اپنے اپنے صوبے کے گورنر وائسرائے ہند اور مہاراجہ کشمیر کے نام ضرور ارسال کریں-
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھوالناصر
    ریاست کشمیر و مسلم نمائندگان کے درمیان
    شرائط صلح پرایک نظر
    حیرت
    اٹھائیس تاریخ کے اخبارات میں یہ خبر پڑھ کر مجھے سخت حیرت ہوئی کہ مسلمانان کشمیر اور ریاست میں باہم سمجھوتہ ہو گیا ہے- اس حیرت کی وجہ یہ نہ تھی کہ صلح کیوں ہو گئی؟ کیونکہ میں تو صلح دل سے چاہتا ہوں بلکہ اس وجہ سے کہ جو شرائط صلح کی بیان کی گئی تھیں‘ ان میں بعض بڑے بڑے نقائص تھے اور میں یہ امر تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا کہ مسلمنمائندگان نے ان شرائط پر سمجھوتہ کیا ہوگا- اور اس وجہ سے گو ضرورت چاہتی تھی کہ میں فوراً ان شرائط پر تبصرہ کروں لیکن مصلحتا میں نے اس وقت تک انتظار کرنا مناسب سمجھا جب تک کہ خط کے ذریعہ سے ریاست کے اعلان کی تصدیق نہ ہو جائے- آخر آج خط کے ذریعہ سے تصدیق ہو گئی اور میں آج ہی یعنی اکتیس اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی رات کو ان شرائط پر تبصرہ کرنے کے لئے بیٹھا ہوں-
    مسلم نمائندگان کے متعلق
    مگر پیشتر اس کے کہ میں تبصرہ کروں میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ میری تنقید سے کوئی صاحب یہ نتیجہ نہ نکالیں کہ میں مسلم نمائندگان کو بددیانت یا غدار ثابت کرنا چاہتا ہوں- میرا یہ ہر گز منشاء نہیں کیونکہ ان لوگوں نے اپنے گزشتہ عمل سے اس امر کو ثابت کر دیا ہے کہ ان کے دلوں میں قوم کا درد اور قربانی کی روح ہے- پس جو کچھ میں ان شرائط کے خلاف لکھوں گا‘ اس کا صرف یہ مطلب ہوگا کہ ان صاحبان سے بوجہ ناتجربہ کاری غلطی ہوئی- یہ مطلب نہ ہوگا کہ انہوں نے اپنی قوم کو ریاست کے ہاتھوں فروخت کر دیا ہے- پس میں سب لوگوں کو یہ نصیحت کروں گا کہ بجائے ان سے لڑنے یا تفرقہ پیدا کرنے‘ وہ اب یہ کوشش کریں کہ جو غلطی ہو گئی ہے‘ اس کے بدنتائج سے جس قدر ہو سکے بچا جائے- اور نمائندگان کو بھی چاہئے کہ وہ آئندہ زیادہ احتیاط سے کام لیا کریں اور ہر چمکتی ہوئی چیز کو سونا سمجھنے سے پرہیز کریں-
    نمائندگان کی غلطی اپنی شرکت
    میں یہ بات بھی بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس غلطی میں کسی حد تک میں بھی شریک ہوں اور وہ اس طرح کہ مجھے شملہ میں یہ معلوم ہو گیا تھا کہ بعض لوگ مہاراجہ صاحب کشمیر کو تاریں دے رہے ہیں کہ اگر ہمیں اجازت دیں‘ تو ہم آ کر کشمیر کی شورش کو دور کر سکتے ہیں چنانچہ ایک تار اس مطلب کی ڈیویکو کے چائیخانہ میں گورنمنٹ کالج کے ایک پروفیسر سے لکھوائی گئی- اتفاقا ان پروفیسر صاحب کے میزبان ایک کلکٹر صاحب تھے جو اپنے مہمان کے دیر تک غیر حاضر رہنے کی وجہ سے کسی حاجت کے پورا کرنے کے لئے اٹھے اور چلتے ہوئے ان کی نظر اس تار پر پڑ گئی اور انہوں نے مجھے بتا دیا- اگر میں اسی وقت اخبارات میں اس واقعہ کو شائع کر دیتا تو شاید یہ صورت حالات پیدا نہ ہوتی- مگر میں نے تفرقہ کے خوف سے اس ذکر کو اخبارات میں لانا مناسب نہ سمجھا اور نتیجہ یہ ہوا جو نظر آ رہا ہے-
    سب سے بڑی غلطی
    سب سے پہلی غلطی جو درحقیقت باقی سب غلطیوں کا موجب ہوئی ہے یہ ہے کہ نمائندگان نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی سے مشورہ نہیں کیا- اگر وہ ایسا کرتے تو جن امور کا انہیں تجربہ تھا‘ ان میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی انہیں مشورہ دے سکتی تھی- میرا یہ منشاء نہیں کہ کشمیر کے نمائندے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی رائے کے پابند ہوتے کیونکہ اصل معاملہ ریاست اور رعایا کے درمیان ہے- ہم لوگ تو صرف بلوانے پر آئے ہیں پس ہمارا یہ حق نہیں کہ اہل کشمیر سے یہ مطالبہ کر سکیں کہ ہم جو کہیں وہ مانو لیکن اتنا حق ہمارا ضرور قائم ہو چکا ہے کہ ہم سے مشورہ کر لیا جایا کرے کیونکہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ خود اہالیان کشمیر کے خطوط اور زبانی شکایات کی بناء پر مسئلہ کشمیر کو ہم نے ہاتھ میں لیا ہے- اور باتوں کو جانے دیا جائے صرف کشمیر ڈے پر ہی ہندوستان میں قریباً پچاس ہزار روپیہ کا خرچ ہوا ہے کیونکہ ہزاروں جگہوں پر کشمیر ڈے منایا گیا ہے- اور بعض بڑے بڑے شہروں میں اس دن پانچ پانچ‘ چھ چھ سو روپیہ خرچ ہوا ہے- اس کے علاوہ ہندوستان اور انگلستان میں زبردست پروپیگنڈا کیا گیا ہے- اور بعض لوگوں نے اس کام میں دخل دینے کی وجہ سے اپنی پوزیشن کو بھی سخت نقصان پہنچایا ہے- غرض وقت‘ عزت اور مال کی قربانی چاہتی تھی کہ ہمارے کشمیر کے بھائی آل انڈیا کشمیر کمیٹی سے مشورے لیتے خواہ اسے قبول نہ کرتے کیونکہ عقلاً اور اخلاقا کوئی باہر کا آدمی انہیں اپنے مشورہ کے قبول کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا اور اگر وہ ایسا کرتے تو ضرور ان نقائص سے بچ جاتے جو موجودہ معاہدہ میں رہ گئے ہیں-
    اب میں اصل معاہدہ کو لیتا ہوں‘ اس میں مندرجہ ذیل غلطیاں ہوئی ہیں-
    مسلمانوں کے حقوق کے متعلق ریاست نے وعدہ نہیں کیا
    ۱- معاہدہ میں مسلمانوں کے حقوق کے متعلق ریاست کی طرف سے ایک لفظ بھی درج نہیں ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمنمائندگان کی طرف سے جو شرائط ہیں ان میں یہ ذکر ہے کہ-:
    >وہ ہمارے ان مطالبات کے فیصلہ تک جو ہماری طرف سے آئندہ پیش ہوں کوئی ایسا کام نہ کیا جائے کہ جو پرامن فضاء کو خراب کر کے مطالبات پر ہمدردانہ غور میں مشکلات پیدا کر دے<-
    )ترجمہ از اعلان ریاست(
    لیکن ریاست کی طرف سے جن امور کا اعلان ہوا ہے اس میں ایک لفظ بھی اس بارہ میں نہیں ہے کہ آیا ریاست مسلمانوں کے حقوق کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے یا نہیں ہے-
    یہ امر بالکل واضح ہے کہ مسلم نمائندگان کے بیان کی ریاست پابند نہیں اس کے پابند صرف وہی ہیں ریاست پابند انہی باتوں کی ہو سکتی ہے جن کا وہ خود وعدہ کرے- پس اس معاہدہ کے رو سے اگر ریاست مسلمانوں کے مطالبات پر غور کرنے سے انکار کر دے یا غور کر کے ان کو پوری طرح رد کر دے تو اخلاقا ریاست پر کوئی حرف نہیں آتا- وہ معاہدہ کو سامنے رکھ دے گی کہ بتائو کہاں ہم نے مطالبات پر غور کرنے کا یا کوئی حق دینے کا وعدہ کیا تھا- اس صورت میں مسلمانوں کی گزشتہ قربانی بالکل ضائع ہو جائے گی-
    ہر اک شخص سمجھ سکتا ہے کہ حقوق کے سوال میں فیصلہ اس شخص کے وعدہ سے ہوتا ہے جس نے کچھ دینا ہو نہ اس شخص کے قول سے جس نے لینا ہو- زید نے بکر سے اگر کچھ روپیہ لینا ہو تو زید کے یہ کہہ دینے سے کہ میں روپیہ لوں گا فیصلہ نہیں ہو سکتا- ہاں بکر جس نے دینا ہے اگر کہے کہ میں روپیہ دے دوں گا تب فیصلہ ہوگا- رسول کریم ~صل۲~ کے زمانہ میں ایک ایسا ہی واقعہ گزرا ہے جس سے اس امر کی حقیقت خوب کھل جاتی ہے- صلح حدیبیہ کے موقع پر ایک شرط یہ ہوئی تھی کہ عرب کے جو قبائل چاہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مل جائیں اور جو چاہیں مکہ والوں سے- دونوں فریق کا فرض ہے کہ نہ صرف آپس میں لڑائی سے بچیں بلکہ جو لوگ دوسرے فریق کے ساتھ مل جائیں ان سے بھی نہ لڑیں- مکہ والوں نے اس میں بدعہدی کی اور ایک قبیلہ جو مسلمانوں کا حلیف بن گیا تھا اس پر انہوں نے اپنے دوست قبیلہ کی حمایت میں رات کو حملہ کر دیا- ان لوگوں نے رسول کریم ~صل۲~ سے شکایت کی اور آپ نے اپنے دوست قبیلہ کی حمایت میں مکہ پر چڑھائی کا ارادہ کیا- ادھر مکہ والے چونکہ معاہدہ توڑ چکے تھے اس لئے انہیں بھی فکر ہوئی اور انہوں نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو جو اب تک اسلام نہ لائے تھے مدینہ روانہ کیا کہ جا کر کسی طرح رسول کریم ~صل۲~ کی ناراضگی کو دور کریں- انہوں نے آ کر مسجد نبویﷺ~ میں یہ اعلان کر دیا کہ چونکہ میں صلح حدیبیہ کے وقت مکہ میں موجود نہ تھا اور معاہدہ پر میرے دستخط نہ تھے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ معاہدہ آج سے سمجھا جائے گا- چونکہ دوسرے فریق یعنی رسول کریم ~صل۲~ کی طرف سے تصدیق نہ تھی سب صحابہ اس پر ہنس پڑے کہ یہ کیسا بے وقوفی کا اعلان ہے- جب تک ہم لوگ بھی اس امر کو تسلیم نہ کریں صرف ان کے کہنے سے کیا بنتا ہے اور ابوسفیان سخت شرمندہ ہو کر واپس چلے گئے-۲~}~ نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود اس اعلان کے رسول کریم ~صل۲~ نے مکہ پر چڑھائی کی اور خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق مکہ فتح ہو گیا- یہی صورت موجودہ معاہدہ میں ہوئی ہے- مسلم نمائندگان کہتے ہیں کہ ہمارے مطالبات پیش ہوں گے- ریاست اس کے جواب میں کوئی وعدہ نہیں کرتی صرف یہ کہتی ہے کہ مقدمات ملتوی کر دیئے جائیں گے اور جو ملازم ایام شورش میں علیحدہ کئے گئے تھے ان سے آئندہ اجتناب کا وعدہ لے کر بحال کر دیا جائے گا- یہ بات تو موجودہ ہیجان سے پہلے ہی حاصل تھی- اگر سب قربانیوں کے بعد ہمیں یہ حق ملے کہ جس طرح تمہاری حالت پہلے تھی ویسی ہی اب کر دی جائے گی تو ہماری قربانی کا کیا فائدہ؟
    انگریزی علاقہ میں گورنمنٹ اور رعایا کی صلح تبھی ہوئی ہے جب کہ حکومت نے پہلے اس امر کو اصولا تسلیم کر لیا کہ ہندوستان کو آزادی دی جائے گی- رائونڈ ٹیبل کانفرنس صرف اس کی تفصیلات کے لئے منعقد ہوئی ہے- اسی طرح ریاست سے یہ عہد لینا ضروری تھا کہ وہ مسلمانوں کو کامل مذہبی اور انسانی آزادی دے گی‘ ہاں تفصیلات بعد میں طے ہوں گی-
    عارضی صلح کا وقت مقرر نہیں کیا گیا
    )۲( اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ریاست نے زبانی طور پر کوئی ایسا وعدہ کر لیا ہے کہ مسلمانوں کو ان کے حقوق دے دے گی تو بھی ایک سخت غلطی یہ ہوئی ہے کہ عارضی صلح کا وقت مقرر نہیں کیا گیا- اگر اس معاہدہ کے رو سے ریاست سالہا سال تک اپنے فیصلہ کو پیچھے ڈالتی جائے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا- اور حق یہ ہے کہ رعایا کو اگر کوئی حق آسانی سے مل سکتا ہے تو اگلے پانچ چھ ماہ میں ہی مل سکتا ہے اس کے بعد غیر معمولی قربانیاں کر کے کچھ ملے تو ملے- اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دنوں انگلستان میں رائونڈ ٹیبل کانفرنس ہو رہی ہے اور اس موقع پر بیس کے قریب مسلمان نمائندے وہاں گئے ہوئے ہیں- بوجہ روزانہ ساتھ کام کرنے کے انہیں وزرائے انگلستان پر اثر ڈالنے کا خاص موقع ہے- اسی طرح وہاں کی پبلک پر بھی اثر ڈالنے کا خاص موقع ہے- یہ موقع آئندہ لاکھوں روپیہ خرچ کرنے سے بھی نہیں مل سکتا- میں جہاں تک سمجھتا ہوں‘ ریاست کی غرض ہی یہ ہے کہ یہ دن کسی طرح گزر جائیں اور انگلستان کے پروپیگنڈا کے اثر سے وہ بچ جائیں-
    یہ نہیں کہا جا سکتا کہ معاہدہ ریاست والوں نے کیا ہے نہ کہ باہر والوں نے‘ کیونکہ معاہدہ کی صورت میں خصوصاً جب کہ اس کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ مسلمانان کشمیر اپنے باہر کے دوستوں سے بھی یہ امید کرتے ہیں کہ وہ ایجی ٹیشن سے بچیں گے‘ باہر کے لوگوں کی بات کا بھی اثر بہت کمزور ہو جاتا ہے- اور ہر سننے والا جو حقیقت سے آگاہ ہو گا صاف کہے گا کہ جب خود باشندگان کشمیر معاہدہ کر کے خاموشی کا اقرار کر چکے ہیں تو تم کون ہو جو خواہ مخواہ شور مچا رہے ہو- غرض لازماً اس طرح باہر کے ایجی ٹیشن کا اثر نہایت ہی کمزور بلکہ بے اثر ہو جائے گا-
    یہ امر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ رائونڈٹیبل کانفرنس کے فیصلہ سے پہلے پہلے انگریزی اثر حکومت ہند میں زیادہ ہے اور اس کو مسلمان اپنی امداد کے لئے زیادہ آسانی سے متحرک کر سکتے ہیں بہ نسبت ہندو عنصر کے جو لازماً رائونڈ ٹیبل کانفرنس کے بعد بڑھ جائے گا کیونکہ اس وقت مرکزی حکومت میں ہندوستانیوں کو دخل مل جائے گا جس کا بیشتر حصہ ہندو ہوگا- دوسرے موجودہ تجویز کے مطابق خود ریاستوں کو بھی مرکزی حکومت میں اختیارات ملیں گے پس اس وقت ریاست پر اثر ڈالنا بہت ہی مشکل ہو جائے گا- پس ریاست نے اس وقت عارضی صلح کر کے معاملہ کو پیچھے ڈالنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے اور اس میں سراسر مسلمانوں کا نقصان ہوا ہے-
    اگر انہی شرائط پر صلح کرنی تھی تو بھی مسلمان نمائندگان کو چاہئے تھا کہ اس کے لئے کوئی وقت مقرر کرتے کہ ہمارے اور ریاست کے درمیان یہ صلح مثلاً ایک ماہ تک رہے گی- اس عرصہ میں ریاست کا فرض ہوگا کہ ہمارے مطالبات پر غور کر کے کسی نتیجہ پر پہنچے اگر وہ نتیجہ ہمارے لئے مفید ہوا تو یہ صلح مستقل ہو جائے گی اور اگر ہمیں یہ معلوم ہوا کہ ریاست معاملہ کو بلاوجہ لمبا کرنا چاہتی ہے یا دبانا چاہتی ہے تو ایک ماہ کے بعد دونوں فریق آزاد ہوں گے کہ حسب موقع جو تدابیر چاہیں‘ اختیار کریں-
    دہلی پیکٹ اور ریاست سے عارضی صلح میں فرق
    میں اس جگہ پھر یہ امر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس صلح کو دہلی پیکٹ سے کوئی مناسبت نہیں ہے- دہلی پیکٹ دو صریح اور اہم امور پر مبنی تھا- اول اس پیکٹ کی بنیاد لارڈ ارون (LORDIRWIN) کے اس حتمی وعدہ پر تھی کہ حکومت برطانیہ ہندوستان کو کامل آزادی دینے کا فیصلہ کر چکی ہے دیر صرف تفصیلات کے طے کرنے کی ہے- اور اس قسم کا کوئی وعدہ ریاست کی طرف سے نہیں ہے بلکہ اس کا ہزارواں حصہ بھی نہیں ہے- ریاست تو اس سے بڑھ کر یہ کرتی ہے کہ اپنی شرائط میں حقوق کا کوئی ذکر تک بھی نہیں کرتی-
    دوسرا فرق یہ ہے کہ دہلی پیکٹ میں جس طرح گورنمنٹ کو اجازت دی گئی ہے کہ اپنے مروجہ قانون کو استعمال کرے اسی طرح کانگرس کو بھی اجازت ہے کہ قانون کے اندر رہ کر اپنا پروپیگنڈا کرے اور اپنی جماعت کو منظم کرے- چنانچہ ان دنوں میں کانگرس نے خاص طور پر اپنے آپ کو منظم کر لیا ہے اور دوبارہ جنگ کے لئے خوب تیار ہو گئی ہے- لیکن اس معاہدہ میں صاف طور پر اقرار کیا ہے کہ ایجی ٹیشن قطعی طور پر بند کیا جائے گا- گویا جس حد تک موجودہ قانون اجازت دیتا ہو اس حد تک بھی ایجی ٹیشن جائز نہ ہوگا- مثلاً اگر کوئی شخص اسلام آباد۳~}~ جا کر مسلمانوں کو یہ بتائے کہ ان کے کون کون سے حقوق تلف ہو رہے ہیں جن کے حاصل کرنے کے لئے انہیں کوشش کرنی چاہئے تو یہ موجودہ معاہدہ کے برخلاف ہوگا اور ریاست اس پر معترض ہوگی- کانگرس پر ایسی کوئی پابندی نہیں- وہ صرف اس امر کی پابند ہے کہ گورنمنٹ کے خلاف لوگوں کو اکسائے نہیں لیکن وہ ہندوستانیوں کو اپنے حقوق کے سمجھانے اور ان کے حصول کے لئے ہر قربانی کرنے کے لئے تیار رہنے کی تلقین کرنے میں پوری طرح آزاد ہے اور اس وجہ سے صلح کے دنوں میں اس پر مردنی کی حالت نہیں آ سکتی- لیکن ریاست جموںوکشمیر کا معاہدہ ایسا ہے کہ اس قسم کے ذکر اس میں بالکل روک دیئے گئے ہیں- اور اگر آج وہاں کے لیڈر مسجد میں کھڑے ہو کر یا کسی گھر میں ہی صرف یہ تقریریں کریں کہ مسلمانوں کے کون کون سے حق مارے ہوئے ہیں اور یہ کہ ان کے حصول کے لئے ہر قربانی کرنے کے لئے انہیں تیار رہنا چاہئے تو ریاست اسے ضرور قابل اعتراض قرار دے گی- نتیجہ یہ ہوگا کہ اہالیانریاست میں مردنی پیدا ہو جائے گی اور سب گزشتہ کوشش برباد اور تباہ ہو جائے گی-
    ریاست سے باہر کا ایجی ٹیشن
    )۳( ریاست کی شروع سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ ثابت کرے کہ ریاست کے لوگ تو پرامن ہیں باہر کے لوگ فساد پیدا کر رہے ہیں اور انہیں اکسا رہے ہیں- اس سمجھوتہ میں نمائندگان نے ایک ایسا فقرہ لکھ دیا ہے جس کی بناء پر ریاست کہہ سکتی ہے کہ اس کے اس قسم کے اعلانات صحیح تھے- وہ فقرہ یہ ہے-
    >مسلمان باشندگان ریاست باہر کے ایجی ٹیشن سے متاثر نہیں ہوئے اور وہ اب تک اپنے حاکم کے پہلے ہی کی طرح وفادار اور مخلص ہیں-<
    اس فقرہ کے صاف معنی یہ ہیں کہ ریاست سے باہر کوئی پروپیگنڈا غیر وفا دارانہ ہوتا رہا ہے لیکن یہ درست نہیں کوئی پروپیگنڈا ریاست سے باہر ایسا نہیں ہوا جس کا موجب خود مظلومان کشمیر کی فریاد نہ ہو- ہم نے کشمیر کے آمدہ خطوط کی بناء پر سب کام شروع کیا تھا اور کبھی بھی عدم وفاداری کا سبق نہیں دیا بلکہ باقاعدہ لکھتے رہے ہیں کہ رعایا اپنے فرمانروا کی وفادار ہے اور خود مطلب حکام مہاراجہ صاحب کو بلاوجہ اکسا کر یہ فساد پیدا کر رہے ہیں- نمائندگان کے اس اقرار کی وجہ سے جو انہوں نے یقیناً دھوکا میں آ کر کیا ہے ریاست ایک ناجائز فائدہ اٹھائے گی اور ان مسلم لیڈروں کو بدنام کرے گی جنہوں نے اہالیاں کشمیر کے کہنے پر اور اپنے کسی ذاتی نفع کی خواہش کے بغیر محض ہمدردی کے طور پر اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لیا تھا-
    )۴( آخر میں سر ہری کشن صاحب کول کا جو شکریہ ادا کیا گیا ہے وہ بالکل ہی عجیب ہے اور صاف بتاتا ہے کہ اس معاہدہ کی اصل غرض سر ہری کشن کول کو مہاراجہ صاحب کی نظر میں مقبول کرانا ہے- میں نہیں سمجھتا کہ نمائندگان کو اس امر کے لکھنے کی کیا ضرورت تھی- وہ پندرہ دن پہلے یہ اعلان کر چکے تھے کہ سب فتنہ کول صاحب کی وجہ سے ہوا تھا- پندرہ دن بعد وہ ان کی پر زور تعریف کرتے ہیں- مہذب دنیا دونوں بیانات میں سے ایک کو ضرور غلط قرار دے گی اور اگر آئندہ کول صاحب مسلمانوں پر کوئی تشدد کریں گے تو ان کے خلاف آواز نہایت بے اثر ہوگی- اور یہی سمجھا جائے گا کہ باہر کے لوگوں نے جوش دلا کر احتجاج کرایا ہے-
    ایک فائدہ
    خلاصہ یہ کہ یہ معاہدہ اصولاً سخت مضر ہے اور ریاست اس کے ذریعہ سے تمام گزشتہ کوشش کو برباد کر سکتی ہے- ہاں ایک فائدہ اس معاہدہ کا ہوا ہے اور وہ یہ کہ ریاست نے ایک دفعہ مسلمانوں کی ہستی کو تسلیم کر لیا ہے لیکن اس فائدہ کے مقابلہ میں نقصان بہت زیادہ ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کے بد اثرات سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے-
    سنا گیا ہے کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ معاہدہ صلح حدیبیہ کی طرح ہے لیکن یہ درست نہیں- صلح حدیبیہ کی شرائط بظاہر بری نظر آتی تھیں لیکن گہرے غور پر ان میں مسلمانوں کا فائدہ نظر آتا تھا- اس معاہدہ کی صورت اس کے برخلاف یہ ہے کہ بظاہر مسلمانوں کے حق میں نظر آتا ہے لیکن بہ باطن اس میں ان کے لئے سخت نقصانات ہیں-
    ہنستے ہوئے نمائندوں کی غلطی کو منظور کر لیا جائے
    مگر خیر اب جو کچھ ہو چکا سو ہو چکا- ہمیں گرے ہوئے دودھ پر بیٹھ کر رونے کی ضرورت نہیں- اب ہمارا فرض یہ ہے کہ موجودہ حالت سے جس قدر فائدہ اٹھا سکیں اٹھائیں اور اس کے ضرر سے جس قدر بچ سکیں بچیں- بہرحال مسلمانوں کے نمائندوں نے یہ معاہدہ کیا ہے اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس کی پوری طرح اتباع کریں کیونکہ مسلمان دھوکے باز نہیں ہوتا اور جو قوم اپنے لیڈروں کی خود تذلیل کرتی ہے وہ کبھی عزت نہیں پاتی- نیز مسلمانوں میں قحط الرجال ہے اور کام کرنے کے قابل آدمی تھوڑے ہیں پس انہی سے کام لیا جا سکتا ہے اور لینا چاہئے- پس یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اس مضمون کو پڑھ کر کوئی جوشیلا شخص جموں اور کشمیر کے لیڈروں کی مخالفت شروع کر دے- انہوں نے دیانتداری سے کام کیا ہے اور ہمیں ان کی قربانیوں کا احترام کرنا چاہئے- اور ہنستے ہوئے ان کی غلطی کو قبول کرنا چاہئے اور اس کے ضرر سے بچنے کا بہترین طریق سوچنا چاہئے-
    اب کیا کرنا چاہئے
    وہ طریق میرے نزدیک یہ ہے کہ وقت کی تعیین سے اس معاہدہ کے ضرر کو محدود کر دیا جائے اور آئندہ کے لئے اپنے آپ کو آزاد کرا لیا جائے- میرے نزدیک اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ دستخط کرنے والے نمائندگان ریاست کو ایک دوسری یادداشت یہ بھجوا دیں کہ چونکہ عارضی صلح کا وقت کوئی مقرر نہیں اور یہ اصول کے خلاف ہے- اس فروگزاشت کا علاج ہونا چاہئے- پس ہم لوگ یہ تحریر کرتے ہیں کہ ایک ماہ تک اس کی معیاد ہوگی- اگر ایک ماہ کے اندر مسلمانوں کے حقوق کے متعلق ریاست نے کوئی فیصلہ کر دیا یا کم سے کم جس طرح انگریزی حکومت نے ہندوستان کے حقوق کے متعلق ایک اصولی اعلان کر دیا ہے‘ کوئی قابل تسلی اعلان کر دیا تب تو اس عارضی صلح کا زمانہ یا لمبا کر دیا جائے گا یا اسے مستقل صلح کی شکل میں بدل دیا جائے گا- لیکن اگر ایک ماہ کے عرصہ میں ریاست نے رعایا کو ابتدائی انسانی حقوق نہ دیئے یا ان کے متعلق کوئی فیصلہ نہ کیا تو یہ صلح ختم سمجھی جائے گی اور دونوں فریق اپنی اپنی جگہ پر آزاد ہونگے- اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ کام کا وقت گزر جانے سے پہلے ہی کچھ نہ کچھ فیصلہ ہو جائے گا- یا پھر اہالیان کشمیر کے لئے اور ان کے بیرونی دوستوں کے لئے کام کا وقت موجود رہے گا- ہم فوراً رائونڈ ٹیبل کانفرنس کے نمائندوں کے ذریعہ سے اور دوسرے ذرائع سے کام لے کر انگلستان اور دوسرے مہذب ممالک میں پروپیگنڈا شروع کر سکیں گے- نیز اس طرح وقت مقرر کرنے سے ہندوستان کے مسلمانوں کا جوش بھی قائم رہے گا اور وہ کام سے غافل نہ ہونگے- ورنہ بالکل ممکن ہے کہ اس صلح کا باہر ایسا برا اثر پڑے کہ دوبارہ لوگوں کو تیار کرنا مشکل ہو جائے-
    میں امید کرتا ہوں کہ نمائندگان خود بھی اس طرف فوراً توجہ کریں گے اور عام مسلمان بھی ان پر زور دیں گے کیونکہ جو کچھ بھی اس معاہدہ کے نتیجہ میں پیدا ہوا آخر اس کا اثر نمائندگان پر نہیں بلکہ ان تیس لاکھ مسلمانوں پر ہوگا جن کی نسبت سرایلبینبینر جی لکھتے ہیں کہ وہ بے زبان جانوروں کی طرح ہانکے جا رہے ہیں- واخر دعوئنا انالحمد للہ رب العلمین-
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    ‏a12.2
    انوار العلوم جلد ۱۲
    تحریک آزادی کشمیر
    آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قیام اور اس کا کام

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    ‏]txet [tag
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قیام اور اس کا کام
    )سیالکوٹ کے جلسہ عام میں تقریر(
    تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا-:
    ہماری پاک اور مقدس کتاب کی ابتداء ایک ایسے جملہ سے ہوتی ہے کہ ایک دفعہ ہی اسے دہرانے سے تمام کلفت اور تکلیف دور ہو جاتی ہے- کس شان کا یہ فقرہ ہے اور کس قسم کے ہمت بندھانے والے خیالات دل میں پیدا کر دیتا ہے جب انسان منہ سے کہتا ہے الحمدللہ رب العلمین یعنی سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہیں- بندے غلطیاں کرتے ہیں‘ انسانوں سے کمزوریاں سرزد ہوتی ہیں جس ہستی میں تمام خوبیاں جمع ہیں وہ محض ذات باری تعالیٰ ہی ہے- جب یہ چیز ہمارے دلوں میں داخل ہو جائے تو اپنے خلاف قصور کرنے والے کو جلد معاف کیا جا سکتا ہے- اصل میں غصہ اسی وقت آتا ہے جب امید کے خلاف کوئی بات سرزد ہو- اگر ایک شخص جنگل میں جا رہا ہو اور اسے یقین ہو کہ مجھے کھانے کے لئے کوئی چیز نہیں مل سکتی تو اگر اسے سوکھی ہوئی روٹی اور لسی بھی مل جائے تو وہ اسے نہایت خوشی سے کھا لے گا لیکن ایک اعلیٰ درجہ کے ہوٹل میں جہاں سے اسے اچھے اچھے کھانے ملنے کی امید ہو ذرا سا نقص‘ نمک کی معمولی سی کمی‘ میٹھے کی زیادتی یا پکانے میں کوتاہی اس کے دل میں رنجش پیدا کر دے گی کیونکہ اسے وہاں سے اچھے کھانے ملنے کی امید تھی-
    جس کام کے لئے آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ تیس لاکھ انسان ایک دو‘ تین نہیں‘ تیس لاکھ آج سے نہیں‘ صدیوں سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں ان کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرائے- اگر کسی شخص سے اس کا گدھا یا خچر چھیننے کی کوشش کی جائے تو وہ کتنا لڑتا ہے- جب وہ اپنے گدھے کو اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تو تیس لاکھ انسانوں کو جو گدھے سے بھی زیادہ غلام ہیں آزاد کرانا کوئی آسان کام نہیں- انہیں اپنی غلامی میں رکھنے کے لئے ان کا مالک اپنی طاقت کے مطابق انتہائی زور لگائے گا اور مالی‘ جانی قربانی اور تدبیر کا کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرے گا کہ اس کے غلام اس کے قبضہ میں رہیں-
    امریکہ میں بھی ایک وقت میں غلامی کا زور تھا- جب وہاں اس کی ممانعت کا اعلان کیا گیا تو دو سال تک وہاں ایسی خوفناک خونریزی ہوئی کہ کوئی گھر باقی نہ رہا جس کا کوئی نہ کوئی فرد مارا نہ گیا ہو- حتی کہ جب کامیابی ہو گئی تو لوگوں نے کہا اس خوشی میں مظاہرہ کرنا چاہئے لیکن پریزیڈنٹ جمہوریہ نے جواب دیا کہ ہمارے لئے خوشی کا کونسا موقع ہے جب کہ ہمارے ملک کے ہر گھر میں ماتم بپا ہو رہا ہے- پس کشمیر میں جو غلامی ہے اسے دور کرنا کوئی معمولی کام نہیں- ہم لوگوں میں سے کوئی خواہ سلسلہ احمدیہ سے تعلق رکھتا ہو یا حنفی المذہب ہو‘ یا اہلحدیث ہو ہر ایک کے دل میں یہی جذبہ ہوگا کہ کشمیری مسلمانوں کے مصائب میں ان کی امداد کی جائے اور جو لوگ اس کمیٹی میں شامل ہوئے ہیں وہ ایک بہت بڑے مقصد کو لے کر کھڑے ہوئے ہیں اور بڑے مقصد کے لئے قربانی بھی ہمیشہ بڑی ہی کرنی پڑتی ہے- اگر میں ایک چھڑی کو اٹھانا چاہوں تو معمولی قوت درکار ہوگی لیکن ایک بڑے پتھر کو اٹھانے کے لئے زیادہ قوت درکار ہوگی اور اگر ایک میز اٹھانی چاہوں تو سینہ کے تمام (MUSCLES) اکڑ جائیں گے اور اس کے لئے پوری توجہ درکار ہوگی- اسی طرح جس مقصد کیلئے ہم کھڑے ہوئے ہیں وہ ایسا نہیں کہ معمولی سی قربانی سے اس میں کامیاب ہو جائیں-
    چار کروڑ سالانہ آمدنی رکھنے والی ریاست سے ہمارا مقابلہ ہے- وہ یقیناً پورا زور لگائے گی کہ ہم کامیاب نہ ہو سکیں اور دوسری تدبیروں کے علاوہ ہم میں تفرقہ پیدا کرنے کی بھی کوشش کرے گی- انگریزی کی مثل ہے DivideandRule تفرقہ پیدا کرو اور حکومت کرو یعنی حکومت رعایا میں تفرقہ پیدا کر کے مضبوط ہو جاتی ہے اور اسے کوئی خوف نہیں رہتا- ہمارے ملک میں بھی ایک قصہ مشہور ہے کہ کسی زمیندار کے باغ میں تین شخص داخل ہو گئے اور پھل توڑ توڑ کر کھانے لگے- ان میں سے ایک عام آدمی تھا‘ ایک علم کا مدعی اور ایک سیاست کا دعویدار تھا- باغ کے مالک نے سوچا کہ اگر میں ان سے لڑتا ہوں تو یہ تینوں مل کر مجھے کچل ڈالیں گے اس لئے حکمت سے کام لینا چاہئے- چنانچہ وہ پہلے سید اور عالم کے پاس گیا اور کہا- حضرت آپ تو ہمارے سردار ہیں ہماری چیز آپ کی اپنی ہے لیکن اس جاہل کا کیا حق تھا کہ ایسا کرتا انہوں نے کہا درست ہے اس نے کہا تو پھر آپ میری مدد کریں کہ اسے سزا دوں- پھر دونوں کی مدد سے اس عام آدمی کو اس نے خوب مارا اور ایک درخت کے ساتھ باندھ دیا- اس کے بعد اس نے سید صاحب سے کہا آپ کا تو حق تھا مگر اس عالم نے ایسا کیوں کیا- سید نے پھر اس کی ہاں میں ہاں ملائی تو اس نے کہا- آپ اسے سزا دینے میں میری مدد کریں- چنانچہ اس کی مدد سے مولوی کو بھی خوب اچھی طرح پیٹ کر درخت کے ساتھ باندھ دیا- پھر سید صاحب اکیلے ہی رہ گئے انہیں بھی اچھی طرح مارا اور درخت سے باندھ دیا- تو یہ تدبیر عام سیاست دان استعمال کرتے ہیں اور اسی اصل کے ماتحت تفرقہ اندازی ہم میں بھی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی اور پورا زور لگایا جائے گا کہ کسی طرح مسلمانوں میں لڑائی ہو- میں نے چاہا تھا کہ کشمیر کے سوال میں کوئی تفرقہ پیدا نہ ہو لیکن افسوس کہ میں اس میں کامیاب نہیں ہو سکا- جس وقت آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا پہلا اجلاس شملہ میں منعقد ہوا تو جو ممبر اس وقت موجود تھے اور جن میں ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب اور خواجہ حسن نظامی صاحب اور خان بہادر شیخ رحیم بخش صاحب بھی تھے اس وقت تجویز کی گئی کہ اس کمیٹی کو آل انڈیا حیثیت دینی چاہئے اور صدر کو اختیار دیا جائے کہ وہ اور ممبروں کو کمیٹی میں شامل کریں- اس اختیار سے کام لے کر پہلا کام جو میں نے کیا یہ تھا کہ مظہر علی صاحب اظہر اور چوہدری افضل حق صاحب کو خطوط لکھوائے کہ مجھے امید ہے آپ اس میں شامل ہو کر ہمارا ہاتھ بٹائیں گے اور نہ صرف خطوط لکھوائے بلکہ ان کے ایک دوست مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی سے کہ جن کے بھائی ان لوگوں کے صدر ہیں اور جو خود کانگریسی خیالات کے ہیں وعدہ لیا کہ وہ ان لوگوں سے مل کر انہیں مجبور کریں کہ اس میں شامل ہو جائیں-
    میرا منشاء یہ تھا کہ اس کمیٹی میں کانگریس کے موید مسلمانوں کی بھی نمائندگی ہو اور سب جماعتیں مل کر کام کریں- احمدیہ جماعت کے متعلق میں نے یہ احتیاط کی کہ سوائے ایکصاحب کے جو لاہور کی جماعت سے تعلق رکھتے تھے اور اس جماعت کی بھی نمائندگی ضروری تھی ایک احمدی بھی اس کمیٹی کا ممبر نہیں بنایا تا یہ الزام نہ ہو کہ اپنے آدمی بھر لئے گئے بلکہ ملک کے بہترین اور مشہور لوگوں کو دعوت دی لیکن افسوس کہ باوجود میری اس کوشش کے مظہر علی صاحب اظہر اور چوہدری افضل حق صاحب نے ہماری دعوت کا جواب تک نہیں دیا- ہاں ہمیں دوسرے ذرائع سے معلوم ہوا کہ ان کا جواب یہی تھا کہ ہم ان کے ساتھ مل کر کام کرنا پسند نہیں کرتے- اس کے بعد >کشمیرڈے< کی تحریک ہوئی اور لاہور سے مجھے اطلاع ملی کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ چونکہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا صدر احمدیہ جماعت کا امام ہے اس لئے ہم اس کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار نہیں- قطع نظر اس سے کہ یہ سوال درست تھا یا نہیں مجھے جب یہ بات پہنچی تو میں نے فیصلہ کیا کہ ہمارا مقصد کشمیر کے لوگوں کی حالت کو درست کرنا ہے اور ان جھگڑوں میں پڑنا نہیں اس لئے میں نے تین خط لکھے ایک ڈاکٹر سر محمداقبال صاحب کو دوسرا مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کو اور تیسرا مولوی غلام رسول صاحبمہر کو کہ اگر احرار کی مجلس کا یہی اعتراض ہے کہ میں صدر ہوں تو آپ انہیں تیار کریں کہ وہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ممبر ہو جائیں اور مسلمانوں کی کثرت رائے کے ماتحت چلنے کا اقرار کریں اگر وہ اس امر کے لئے تیار ہوں تو میں فوراً مستعفیٰ ہو جائوں گا بلکہ بعض صاحبان کو تو میں نے یہ بھی لکھا کہ اس صورت میں وہ میرے اس خط کو ہی استعفیٰ سمجھ لیں- مجھے ان خطوط کے جو جواب آئے ہیں ان میں سے دو کا تو میں ذکر نہیں کرتا کہ شاید ان کے لکھنے والے سمجھیں ہمارے دوستوں سے ہمیں لڑوایا گیا ہے لیکن ایک کا جواب میں بیان کر دیتا ہوں- جو خط میں نے ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کو لکھا تھا وہ انہوں نے سید محسن شاہ صاحب کو دیا تا ان لوگوں کو دکھائیں- جب انہوں نے یہ خط ان کے پیش کیا تو انہوں نے کہا اس کمیٹی کو کس نے نمائندہ بنایا ہے کہ اس کی اتباع کریں- ہم تو الگ کام کریں گے حالانکہ یہ اعتراض ان کا درست نہ تھا- اس کمیٹی کو آل مسلم پارٹیز کانفرنس نے اپنی شاخ قرار دیا ہے- اور آل مسلم پارٹیز کانفرنس وہ ہے جس کے ممبر تمام کونسلوں کے منتخب شدہ‘ ممبر اسمبلی کے منتخب شدہ ممبر اور کونسل آف سٹیٹ کے منتخب شدہ ممبر ہیں- اس کے علاوہ اس میں بیس ممبر مسلم لیگ کے‘ بیس جمیعہ العلماء کے‘ بیس خلافت کمیٹی کے اور تیس ہندوستان کے عام شہرت رکھنے والے لیڈر ہیں- سوچنا چاہئے کہ اگر یہ مجلس بھی نمائندہ نہیں تو اور کون ہوگی- اس میں ہر خیال کے لوگ ہیں- پھر سارے کے سارے انتخاب کے ماتحت ممبر بنتے ہیں- یوں نہیں کوئی خود بخود ہی لیڈر بن جائے- ایک چمار کو بھی اگر کوئی جماعت منتخب کر دے تو وہ اس کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے- اس میں سیالکوٹ کے بھی منتخب شدہ نمائندے ہیں- دیہاتی حلقہ کی طرف سے چوہدری ظفراللہ خاں صاحب اور شہری حلقہ کی طرف سے شیخ دین محمد صاحب- اور جب تمام مسلمانوں کے منتخب شدہ نمائندے جو فیصلہ کریں وہ اکثریت کا فیصلہ نہیں کہلا سکتا تو کیا پندرہ لوگوں کی اس کمیٹی کا جو ایک گھر میں بیٹھ کر بنا ئی گئی ہو اکثریت کا فیصلہ کہلائے گا- پس یہ اعتراض قطعی طور پر حقیقت سے دور ہے کہ وہ میری وجہ سے شامل نہیں ہوئے- یہ دیکھ کر کہ وہ کسی طرح بھی اس کمیٹی میں شامل نہیں ہوتے نیز بعض اور باتوں سے جو ان سے تعلق رکھنے والوں نے بیان کیں‘ یہ نتیجہ نکالنا پڑتا ہے کہ ان کی اصل غرض کچھ اور ہے- اور چونکہ عوام احمدیوں کے خلاف بھڑک اٹھتے ہیں اس لئے نشانہ ہم کو بنا لیا ہے- لیکن جوش کی باتیں عارضی ہوتی ہیں- دنیا میں جو شخص کام کرنے کے لئے کھڑا ہو آج جو اسے پتھر مارتے ہیں کل کو ضرور وہی اس پر پھول برسائیں گے- جون آف آرک ایک فرانسیسی عورت تھی جس نے اپنے ملک کو آزاد کرایا تھا- اس کو اپنے زمانہ میں اس قدر تکلیف دی گئی کہ خود اس کے ابنائے وطن نے اسے پکڑ کر انگریزوں کے حوالہ کر دیا اور انگریزوں نے اس کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ آگ میں زندہ ڈال کر اسے جلا دیا جائے- لیکن آج وہ ولیہ سمجھی جاتی ہے حالانکہ اس کا کام روحانی نہیں بلکہ جسمانی تھا- تو جو لوگ دوسروں کی خاطر پتھر کھاتے ہیں ان پر ضرور پھول برستے ہیں- یہ جو پتھر آج پھینکے گئے ہیں ان کے کھانے کی ہم میں اہلیت نہیں- یہ خدا تعالیٰ نے اس لئے پھینکوائے ہیں کہ کل کو پھول بن کر ہمیں لگیں- ان سے سمجھ لینا چاہئے کہ کشمیر آزاد ہو گیا-
    حضرت عمرؓ کے زمانہ میں مسلمانوں کی ایران سے جنگ ہو رہی تھی- کسریٰ نے ان کا ایک وفد بلایا کہ آ کر بتائے مسلمان کیا چاہتے ہیں- چنانچہ صحابہ کا ایک وفد گیا- کسریٰ نے اس سے باتیں کیں اور کہا تم لوگ یہاں کیوں آئے ہو- تم وحشی اور جاہل ہو اور نہیں جانتے کہ میں تمہیں پیس ڈالوں گا- مسلمانوں کے رئیس وفد نے جواب دیا بے شک ہم لوگ ایسے ہی تھے مگر خدا تعالیٰ نے ہم میں ایک نبی مبعوث کیا جس نے ہماری حالت کو بدل دیا- باتوں ہی باتوں میں کسریٰ کو طیش آ گیا اور اس نے کہا یہ شخص گدھا ہے- مٹی کا ایک بورا لا کر اس پر رکھ دیا جائے- چنانچہ بورا لایا گیا- دوسرے صحابی منتظر تھے کہ وہ آگے سے ہٹ جائیں گے لیکن وہ نہایت اطمینان سے کھڑے رہے اور مٹی کا بورا لا کر ان کے کندھوں پر رکھ دیا گیا- اس پر انہوں نے چلا کر کہا کہ کسریٰ نے ایران کی زمین اپنے ہاتھوں سے ہمارے سپرد کر دی اور وہ بورا اٹھائے ہوئے دربار سے نکل گئے- مشرک چونکہ بزدل ہوتا ہے- کسریٰ کانپ اٹھا اور گھبرا کر آدمی بھیجے کہ مٹی ان سے چھین لائیں- لیکن وہ صحابی اور ان کے ساتھ گھوڑوں پر سوار ہو کر بھاگ چکے تھے-۴~}~ اسی طرح میں کہتا ہوں یہ پتھر بھی جن لوگوں نے مارے ہیں انہوں نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ کشمیر کی طرف سے مارے ہیں- جس کے معنی یہ ہیں کہ ریاست نے علاقہ پر رعایا کو قبضہ دے دیا ہے- سو اللہ کے فضل سے ہم امید کرتے ہیں وہ مظلوم جو سینکڑوں سال سے ظلم و ستم کا شکار ہو رہے ہیں ان کی آہیں اور سسکیاں آسمان پر جا پہنچیں اور خدا تعالیٰ نے ظالموں سے ظلم کی آخری اینٹیں پھینکوائیں تا اس ملک پر اپنا فضل نازل کرے-
    ہم نے چاہا کہ مہاراجہ اور حکومت کے ادب کو قائم رکھتے ہوئے امن کے ساتھ بغیر اس کے مہاراجہ کی عزت میں فرق آئے نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ کشمیر کی تمام رعایا کو اس کے حقوق دلائیں مگر اس کے نادان وزراء نے ایسا نہ چاہا- ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم باہر رہیں گے اور اس کے گھر پر جا کر پتھر نہیں پھینکیں گے- مگر ریاست نے ہمارے علاقہ میں ہم پر پتھر پھینکوائے اور ابتداء کی- اور یہ مسلمہ ہے کہ البادی اظلم یہ پتھر کوئی چیز نہیں- بعض دوستوں کو زخم آئے ہیں یہ بھی کچھ حقیقت نہیں رکھتے- ایک صحابی کی روایت ہے- جنگ احد کے دن میں نے ایک شخص کو دیکھا جو اکیلا تھا اور چاروں طرف سے اس پر حملے ہو رہے تھے- پتھر‘ نیزے اور تلواریں برس رہی تھیں پاس پہنچ کر جب میں نے دیکھا تو وہ رسول کریم ~صل۲~ تھے- اگر دنیا میں سیادت حق اور روحانیت کے قیام کے لئے ہمارے آقا سردارﷺ~ نے اس مقدس وجود نے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے چنا‘ جسے اپنے قرب میں بلند ترین جگہ عطاء کی- اگر دنیا کو آزاد کرانے کے جرم میں اس آزادی کے بانی حریت کے قائم کرنے والے اور حسن کی مورت پر پتھر پھینکے گئے تو ہم لوگ جو اس کے خاک پا کے برابر بھی نہیں‘ کیا حیثیت رکھتے ہیں- جب چاند نظر نہیں آیا تو چاند کا عکس کہاں نظر آ سکتا ہے- میں بتا رہا تھا کہ یہ فتنہ پردازی خواہ کسی کے ہاتھ سے ہوئی ہو اصل محرک اور ہے- لیکن ہمارا قلب وسیع ہے ہم ان ہاتھوں کو جنہوں نے پتھر برسائے‘ ان زبانوں کو جنہوں نے اس کے لئے تحریک کی اور اس کنجی کو جو اس کا باعث ہوئی‘ معاف کرتے ہیں کیونکہ جس کام کا ہم نے بیڑا اٹھایا ہے اس کے مقابلہ میں یہ تکلیف جو ہمیں پہنچائی گئی بالکل معمولی ہے-
    جنگ عظیم میں بیلجیئم کو غلامی سے بچانے کیلئے جس ¶کی آبادی کشمیر کی طرح تیس لاکھ کے قریب ہے‘ دو کروڑ آدمی مارا گیا- پس کشمیر کو آزاد کرانے کیلئے اگر ہم نے چند پتھر کھا لئے تو یہ کیا ہے- ہم نے شروع سے کوشش کی ہے کہ امن کے ساتھ کام کریں- اور آئندہ بھی یہی کوشش کرتے رہیں گے-
    اب میں اس سوال کا جواب دینا چاہتا ہوں کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے اس وقت تک کیا کام کیا ہے- پہلا کام اس کا یہ ہے کہ پہلے حکومت برطانیہ پورے طور پر مسلمانوں کے خلاف تھی اور وائسرائے سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے افسر تک کی یہی رائے تھی کہ یہ صرف چند ایک مسلمانوں کی شرارت ہے اور میں جس وقت شملہ پہنچا تو فضاء مسلمانوں کے سخت خلاف تھی- ہم نے ہر افسر سے مل کر اس مسئلہ کے متعلق اس سے بحثیں کیں اور آخر اکثر کی رائے میں تبدیلی پیدا ہو گئی حتی کہ حکومت کی طرف سے ریاست پر زور ڈالا گیا اور ریاست نے دبتے ہوئے مسلمانوں سے صلح کی خواہش کی- خود میں اسی غرض سے وائسرائے سے ملا- گورنر پنجاب سے بھی بوجہ ملحقہ صوبہ کا گورنر ہونے کے گفتگو کی- اسی طرح ایک اور ممبرحکومت سے اس بارہ میں تبادلہ خیال کیا- بقیہ لوگوں سے مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم-اے ملتے رہے- اس کے علاوہ اور بھی بہت سے واقعات ہیں لیکن سب کا بیان کرنا خلاف مصلحت ہے- اور چاہئے کسی کی تسلی ہو یا نہ ہو‘ تمام باتوں کو ظاہر نہیں کیا جا سکتا- ہاں یہ امر ہر اک جان سکتا ہے کہ ہماری اس کوشش کے نتیجہ میں حکومت ہند میں ایسی حرکت پیدا ہوئی جو مسلمانوں کے حق میں مفید تھی- پھر >کشمیرڈے< کا اعلان کیا گیا جس کی غرض یہ تھی کہ شملہ میں جب کانفرنس ہوئی تو بعض اصحاب کی رائے تھی وائسرائے کے پاس ایک وفد لے جایا جائے لیکن بعد غور یہ فیصلہ ہوا کہ اس وقت وفد لے جانے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اگر وہ یہ دریافت کریں کہ آپ لوگوں کو نمائندگی کا حق کس نے دیا ہے تو ہم کیا جواب دے سکتے ہیں اس لئے پہلے >کشمیر ڈے< منایا جانا چاہئے- ہر جگہ سے حکومت کو تار دیئے جائیں کہ کشمیری مسلمانوں سے ہمیں ہمدردی ہے اور ان کی امداد کے لئے کشمیر کمیٹی جو کچھ کر رہی ہے ہم اس سے متفق ہیں- جب ہر جگہ سے جلسے ہو کر حکومت کو اطلاعات دی جائیں گی تو پھر ہماری آواز آٹھ کروڑ مسلمانوں کی آواز سمجھی جائے گی- گو وقت بہت تھوڑا تھا مگر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی کوشش سے ہندوستان کے ہر گوشہ میں نہایت شاندار اور کامیاب جلسے ہوئے- خود سیالکوٹ کے لوگ گواہ ہیں کہ مقامی کشمیر کمیٹی کی کوشش سے یہاں ایسا کامیاب اور شاندار جلوس اور جلسہ ہوا کہ پہلے کبھی نہ ہوا تھا- یہ ایک ایسا کام ہے جسے ہر شخص نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے- اندازہ کیا گیا ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا اس پر قریباً پچاس ہزار روپیہ خرچ ہوا- یہ کوئی فضول کام نہیں بلکہ نہایت دیرپا اور مفید تحریک تھی- جس کے پھل مدتوں تک نکلتے رہیں گے اور اس سے گورنمنٹ کے دل میں یہ بات میخ کی طرح گڑ گئی ہے کہ اس تحریک میں سب مسلمان متفق و متحد ہیں- اگر اسے تفرقہ کی وجہ سے نقصان نہ پہنچایا جاتا تو یقیناً بہت فائدہ ہو سکتا تھا- پھر جس وقت تار آئی کہ سرینگر میں گولی چلی ہے ہم نے فوراً ایک وکیل وہاں بھیجا جو آج تک وہیں ہے- مظلومین کے لئے روپیہ بھجوایا گیا‘ وہاں کی کمیٹی کے کام کے لئے بھی کچھ امداد ارسال کی گئی- کشمیر کے علاقہ کی بعض کمیٹیوں کی حالت تو ایسی ہے کہ بعضاوقات تار دینے کے لئے بھی ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے- اس لئے نہیں کہ وہ لوگ قربانی کا مادہ نہیں رکھتے بلکہ اس لئے کہ بائیکاٹ وغیرہ کی وجہ سے بعض جگہ کے لوگ جہاں مسلمان کم ہیں سخت اقتصادی نقصان اٹھا رہے ہیں- اور نان شبینہ کے محتاج ہیں- جس وقت یہ امداد کی گئی ہے اس وقت کشمیر فنڈ میں ایک پیسہ بھی نہ تھا لیکن ہم برابر انہیں روپیہ بھیجتے رہے اور پانچ صد روپیہ تو پہلے ہی دن بھیجا تھا- اس کے علاوہ تین کشمیری نوجوانوں کو بھیجا گیا کہ وہ جا کر دیہات میں بیداری پیدا کریں کیونکہ معلوم ہوا تھا حکومت کشمیر کوآپریٹو بنکوں کے کارکنوں کے ذریعہ ناواقف دیہاتیوں سے انگوٹھے لگوا رہی ہے- انہیں کہا تو یہ جاتا ہے کہ سب انگوٹھے لگا دو تمہارے ہاں بنک قائم کر دیا جائے لیکن لکھ یہ لیا جاتا ہے کہ ہم سرکار کے سچے وفادار ہیں- اور سرینگر وغیرہ کے شورش کرنے والوں سے متفق نہیں اور ان کی حرکات کو ناپسند کرتے ہیں حالانکہ سارا کشمیر سوائے چند غداروں یا ناواقفوں کے ریاست کے موجودہ انتظام میں تبدیلی چاہتا ہے- پس اس خوف سے کہ ان کے ان پڑھ ہونے سے فائدہ نہ اٹھایا جائے انہیں اصل حقیقت بتانا ضروری تھا- چنانچہ مجھے شملہ میں ایک اعلیٰ افسر نے کہا کہ ہمارے پاس تو وہاں سے اطلاعات آ رہی ہیں کہ لوگ انگوٹھے لگا کر بھجوا رہے ہیں کہ ہم کو ریاست میں پورا امن حاصل ہے- پس اس بلا کو روکنے کے لئے ہم نے تین آدمی مقرر کئے جو دیہات میں پھر پھر کر لوگوں کو ہوشیار کریں کہ ریاست کے افسروں کے اس قسم کے دھوکوں میں نہ آئیں- پھر جموں میں پولیس کے حملہ کے متعلق جب تار آیا تو اسی وقت ہم نے اپنا نمائندہ وہاں بھجوا دیا- فوٹوگرافر کو بھیجا گیا تا وہ زخمیوں کے فوٹو لے- اور اب ہمارے پاس ڈوگرا حکومت کے مظالم کا زبردست ثبوت ہے- پہلے جب میں نے وائسرائے کو تار دیا کہ وہاں مسلمانوں پر حملہ کیا گیا ہے تو حکومت ہند نے ریاست کو اس کے متعلق تار دیا- اس کے بعد پولیٹیکل سیکرٹری نے مجھے بذریعہ تار اطلاع دی کہ حکومت کشمیر اس سے انکار کرتی ہے- لیکن ہمارے پاس اب فوٹو ہیں اور اس طرح ہم نے حکومت کشمیر کا جھوٹ ثابت کرنے کے لئے کافی مسالہ جمع کر لیا ہے- پھر نہ صرف یہ امداد دی بلکہ زخمیوں کے علاج کے لئے ڈاکٹر اور ادویہ وغیرہ بھجوائے- پھر جب پتہ لگا کہ لوگ بہت غریب ہیں تو پسماندگان کو امدادی رقوم بھجوائیں- بعض گھروں کی تو یہ حالت تھی کہ ادھر ان کے آدمی قید ہو گئے اور ادھر ان کے ہاں کھانے کو کچھ بھی نہ تھا- ہم نے اس کے لئے روپیہ بہم پہنچایا- اس وقت مجلس احرار قائم ہو چکی تھی مگر کیا انہوں نے بھوکوں کا پیٹ بھرا- نہیں اور ہر گز نہیں- ہاں آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے ایسا کیا- پھر مقدمات شروع ہوتے ہی انہوں نے قانونی امداد طلب کی اور ہم نے فوراً وہاں وکیل بھجوا دیا- مولوی مظہر علی صاحب اظہر تحقیقات کے لئے سرینگر تو پہنچ گئے مگر جموں میں مقدمات کی پیروی کے لئے نہ پہنچ سکے- پھر ہم نے ولایت میں پروپیگنڈا کیا ہے اور وہاں کے بعض لارڈز کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ وزراء اور پارلیمنٹ کے دوسرے ممبروں پر زور دیں کہ اس معاملہ میں مداخلت کی جائے اور ان سب باتوں کا اتنا اثر ہوا ہے کہ اندازاً چھوسوروپیہ ماہوار تنخواہ پر لنڈن میں ایک ایجنٹ مقرر کیا گیا ہے جو ہمارے پروپیگنڈا کا مقابلہ کرے اور ریاست کے حق میں پروپیگنڈا کے لئے بعض اخبارات کو مائل کرے- اگر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی یہ مساعی معمولی ہیں تو کیا ضرورت تھی کہ اس قدر خرچ کیا جاتا- پھر ہم نے عرب‘ امریکہ‘ سماٹرا‘ جاوا‘ مصر شام وغیرہ تمام مشرقی و مغربی ممالک میں انتظام کیا ہے کہ وہاں کے اخبارات میں حکومت کشمیر کے مظالم کی داستانیں شائع کی جائیں- غلامی کو دور کرنے والی لیگوں کو لکھا گیا ہے کہ انگریزی حکومت کے اندر اس وقت بھی تیس لاکھ انسان بدترین غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں-
    غرضیکہ دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں ہم نے اس تحریک کو نہ پہنچایا ہو کیونکہ ہر جگہ ہماری جماعت خدا کے فضل سے موجود ہے- ہاں ہم نے جو کچھ نہیں کیا وہ یہ ہے کہ سب کچھ کرنے کے باوجود شور نہیں مچایا کہ ہم یہ کر رہے ہیں اور وہ کر رہے ہیں- ایک مخلص لیڈر نے مجھے لکھا کہ آپ اور میں کشمیر میں داخل ہونے کی کوشش کریں- حکومت لازماً ہمیں گرفتار کرے گی اور اس سے تمام ملک میں شور مچ جائے گا- میں نے انہیں لکھا یہ صحیح ہے کہ میری اور آپ کی گرفتاری پر شور پڑ جائے گا کیونکہ ہمارے لئے اپنی جان اور مال قربان کرنے والے لاکھوں آدمی موجود ہیں مگر ریاست اتنی بے وقوف نہیں کہ ہمیں گرفتار کرے- میں خوب جانتا ہوں کہ وہ ہر گز ایسا نہیں کرے گی- پس اس فعل میں ہماری کوئی قربانی نہیں ہوگی صرف ایک نمائش ہو جائے گی جس سے فائدہ اٹھانا ہماری شان کے خلاف ہے چنانچہ انہوں نے بھی مجھ سے اتفاق کیا-
    احرار کا ایک ہی کام بیان کیا جاتا ہے یعنی جتھوں کا بھیجنا- لیکن یہ تحریک بھی آلانڈیاکشمیر کمیٹی نے ہی شروع کی ہے اور سب سے پہلے جتھوں کے متعلق ہمارے اعلانوں میں ہی ذکر آیا ہے لیکن بعد میں جب میں نے اس پر اچھی طرح غور کیا تو میں اسی نتیجہ پر پہنچا کہ یہ تجویز ریاستی مسلمانوں کے لئے نقصان رساں ہے- خود کشمیر کے بعض سرکردہ لوگوں کے جن کے نام ظاہر کرنا مناسب نہ ہوگا‘ خطوط ہمارے پاس موجود ہیں جن میں وہ لکھتے ہیں کہ یہ تحریک ہمارے لئے مضر ہے ہمیں تو صرف یہ ضرورت ہے کہ یہاں کے بیکس لوگوں کے لئے روپیہ بھیجا جائے جو اس مصیبت کے ایام میں فاقوں کی زندگی بسر کر رہے ہیں- حقیقت یہ ہے کہ قید ہونے کے لئے تو کشمیر کے بہت آدمی تیار ہیں- آخر اپنے گھر کا جو دکھ انہیں ہو سکتا ہے باہر والوں کو تو نہیں ہو سکتا- جو مشکل ان کے راستہ میں ہے یہ ہے کہ جب اس قسم کی تحریک شروع ہو تو ہزاروں غریب پس جاتے ہیں ان کی کچھ نہ کچھ امداد حوصلہ افزائی کے لئے ضروری ہوتی ہے- پس جس طرح یورپ کے لوگ آرمینیا وغیرہ کے لوگوں کی روپیہ سے امداد کرتے تھے اور انہیں کوئی اعتراض نہ ہو سکتا تھا اسی طرح برطانوی ہند کے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ ریاست کے مظلومین کی مالی امداد کریں-
    جتھوں کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ انہیں اول تو انگریزی حکومت ہی روکے گی- چنانچہ یہاں کے لوگوں کو معلوم ہے کہ احرار کے جتھوں کے ساتھ انگریزی افسر سیالکوٹ سے جموں گئے تھے تا اگر حکومت جموں اجازت نہ دے تو وہ ان لوگوں کو واپس لے آئیں- انٹرنیشنللاء کے مطابق ہر حکومت اس بات کی ذمہ دار ہے کہ اگر اس کی رعایا میں سے کوئی لوگ دوسری سرحد پر جا کر شورش پیدا کرنا چاہیں تو وہ انہیں روکے- اس لئے پنجاب سے بمبئی‘ کلکتہ‘ مدراس بلکہ برہما میں بھی جتھ جا سکتا ہے لیکن انگریزی رعایا کا کوئی جتھا کشمیر میں نہیں جا سکتا- پس جتھے بھیجنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ حکومت انگریزی انہیں روکے گی اور طبائع میں جوش ہونے کی وجہ سے لڑائی کا رخ انگریزوں کی طرف ہو جائے گا- وہاں ڈوگرہ حکومت ریاست کے مسلمانوں کو کچلتی رہے گی اور یہاں انگریزوں سے مسلمان پٹ رہے ہونگے- پس جتھے بھیجنا ریاست کے مسلمانوں سے دشمنی کے مترادف ہے‘ خیر خواہی ہر گز نہیں- جو اشخاص یہ جانتے ہوئے کہ ہمیں پکڑا نہیں جائے گا وہاں جاتے ہیں وہ محض نمائش کرتے ہیں اور جسے اس کا شوق ہو بے شک کرے ہم تو ٹھوس کام کرنا چاہتے ہیں- شروع میں لوگ بے شک ہنگامہخیزی سے متاثر ہو جائیں مگر آخر ایک نہ ایک دن دنیا یہ محسوس کر ہی لیتی ہے کہ کام کون کر رہا ہے؟ اور دراصل ٹھوس کام کر ہی وہ سکتا ہے جس کے اندر صبرو استقلال کے ساتھ حوادث کا مقابلہ کرنے کی سپرٹ ہو- ابھی دیکھ لو ہمیں تو یہ لوگ بزدل اور ٹودی۵~}~ کہتے ہیں اور خود بڑے حریت پسند‘ آزادی کے شیدا اور مجاہد ہونے کے دعوے کرتے ہیں- لیکن ہم تو ایک گھنٹہ سے زیادہ عرصہ تک پتھروں کی شدید بارش کے باوجود یہاں ڈٹے رہے ہیں لیکن یہ صرف ایک دھمکی سن کر ہی بھاگ گئے ہیں- حق کو اختیار کرنے سے ہی صبرو استقلال اور دلیری و جرات پیدا ہوتی ہے- جس وقت انسان اپنی نیت بدل لے اسی وقت اس کی روحانی حالت میں بھی تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے- اگر یہ لوگ بھی آج فیصلہ کر لیں کہ نمائش‘ ہنگامہ آرائی اور ذاتی اغراض و مقاصد کو چھوڑ کر حق کی حمایت کریں گے خواہ نتیجہ کچھ ہو تو ان کے اندر بھی دلیری اور بہادری پیدا ہو سکتی ہے-
    اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ فرض کرو میں نے جو کچھ اس وقت تک بیان کیا وہ کسی کی نظر میں سب فضول ہے تو بھی کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ جو چیز اس کی نظر میں لغو ہے وہ دوسروں کو بھی لغو سمجھنے پر مجبور کرے- رسول کریم ~صل۲~ نے فرمایا ہے- ھل شققت قلبہ ۶~}~ یعنی کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا ہے- فرض کر لو آل انڈیا کشمیر کمیٹی چند ایک ٹوڈیوں کا مجموعہ ہے- گو اس میں مولانا حسرت موہانی‘ مولانا شفیع دائودی جیسے مسلم رہنما مشیر حسین صاحب قدوائی جیسے کانگریسی لیڈر بھی شامل ہیں اور ہندوستان کے اندر سب لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ مولانا حسرت موہانی بزدلوں میں نہیں بلکہ قیدو بند کے شوق میں کانگریس کے لیڈروں سے بھی دس قدم آگے ہی رہنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ وہ کانگریس کے دشمن ہی اس وجہ سے ہیں کہ وہ مکمل آزادی کی خواہاں نہیں- اگر تو ٹوڈی کی یہی علامت ہے کہ جو شخص چاہے کسی کو ٹوڈی کہہ لے‘ تب تو الگ بات ہے- لیکن اگر اصول کو بھی کوئی عزت حاصل ہے اور اگر ٹوڈی لفظ کے بھی کوئی معنی ہیں- )اگرچہ مجھے آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس لفظ کے کیا معنی ہیں( اور پھر عقل بھی دنیا میں کوئی چیز ہے تو اس کمیٹی میں ایسے ایسے ممبر ہیں جو تحریک حریت کے زبردست رہنما تسلیم کئے گئے ہیں اور جو مدتوں جیل خانوں میں رہ چکے ہیں- چنانچہ مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی‘ مولوی غلام رسول صاحب مہر اور دیگر کئی ممبر اس کے ایسے ہیں جو جیل خانوں میں ہو آئے ہیں- لیکن احرار کہہ رہے ہیں کہ ابھی تک ان کی ٹوڈیت نہیں گئی- اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے جاپان کے ایک سیاست دان نے لکھا تھا کہ یورپ کے لوگ ہمیں غیر مہذب کہتے تھے- ہم نے خیال کیا شاید تہذیب تعلیم حاصل کرنے سے آتی ہے اس لئے ہم نے مدرسے جاری کئے مگر پھر بھی غیر مہذب ہی کہلاتے رہے- پھر خیال کیا شاید انڈسٹری کی ترقی سے تہذیب حاصل ہو سکے گی اس لئے اسے فروغ دینے کی پوری کوشش کی مگر پھر بھی ہمیں مہذب نہ سمجھا گیا- پھر ہم نے سوچا شاید یورپین ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کا نام تہذیب ہے اور ہم نے کثرت سے نوجوان دوسرے ممالک میں اس غرض کیلئے بھیجے مگر پھر بھی اہل یورپ ہمیں غیر مہذب ہی سمجھتے رہے- پھر ہم نے فوجوں کی درستی کی‘ کئی جہاز بنائے‘ مگر سب چیزیں اکارت گئیں اور ہم بدستور غیر مہذب سمجھے جاتے رہے حتی کہ منچوریا۷~}~ کے میدان میں ہم نے ایک لاکھ سفید چمڑے والے روسیوں کو تہہ تیغ کر دیا اور پھر اہل مغرب ہمیں مہذب سمجھنے لگے مگر دقت یہ ہے کہ وہاں تو پھر بھی مہذب کی تعریف معلوم ہو گئی تھی مگر یہاں تو ٹوڈی کی کوئی بھی تعریف اس وقت تک معلوم نہیں ہو سکی- بعض اخبارات ایسے لوگوں کو بھی ٹوڈی لکھتے ہیں جو ان سے زیادہ عرصہ تک جیل خانوں میں رہ چکے ہیں لیکن بات یہ ہے کہ منہ سے کہہ دینا اور بات ہے لیکن دلائل اور حقائق سے ثابت کرنا اور بات ہے-
    میں مولوی میرک شاہ صاحب جیسے دیو بندی اور مولوی محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی اور مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی جیسے اہل حدیث اور پیروں میں سے خواجہ حسن نظامی صاحب‘ مولانا ابوالحمید ظفر صاحب بنگالی جیسے‘ سیاست دانوں میں سے مولانا حسرت موہانی‘ مولانا شفیع دائودی‘ ڈاکٹر شفاعت احمد صاحب کانگریسیوں میں سے ملک برکت علی اور مشیر حسین صاحب قدوائی‘ تعلیم جدید کے ماہرین میں سے ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب جیسے اور فلسفیوں اور شاعروں میں ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب جیسے کشمیر کے مسلمانوں کے دیرینہ خادموں میں سے سیدمحسن شاہ صاحب جیسے لوگ شامل ہیں- آخر سوچنا چاہئے یہ کیا ہوا چلی کہ مذہبی لیڈر علوم دینیہ کے ماہر‘ آزادی و حریت کے رہنما‘ فلسفہ و شعر میں کمال رکھنے والے سب کے سب نے مل کر یکدم فیصلہ کر لیا کہ آئو ایسا دھوکا کریں کہ سب دنیا احمدی ہو جائے- میرے پاس وہ کونسا جادو تھا کہ ان سب کو میں نے اس سازش میں شامل کر لیا- مولوی میرک شاہ صاحب اور خواجہحسننظامی صاحب بھی میرے ساتھ اس میں شامل ہو گئے- پھر ابوبکر صاحب کو بنگال میں مذہبی لحاظ سے جو پوزیشن حاصل ہے‘ وہ پنجاب میں ایک شخص کو بھی نہیں- بیس تیس لاکھ کے درمیان ان کے مرید ہیں- انہوں نے بھی اپنے بیٹے کو اس سازش میں شریک کر دیا اور اگر یہ صحیح ہے کہ میں نے مسلمانوں کے ان تمام لیڈروں پر جادو کر دیا ہے تو کیا میں ایسا جادو سیالکوٹ کے عوام پر ہی نہیں کر سکتا وہ میرے افسوں۸~}~ سے بچ جانے کی امید کس طرح کر سکتے ہیں- میں تو اس صورت میں سیالکوٹ کی گلی گلی میں احمدیت پھیلا دوں گا- جو قوم یہ تسلیم کرتی ہے کہ اس کے چوٹی کے لیڈروں پر میرا جادو چل گیا ہے وہ کس طرح یہ گمان کر سکتی ہے کہ اس کے عوام محفوظ رہ سکتے ہیں- مگر یہ کہنا میری نہیں خود ان لوگوں کی اپنی ہتک ہے جو ایسا کہتے ہیں-
    یہ بات بالکل غلط ہے اگر ان لوگوں کو اس تحریک میں احمدیت کا ذرا بھی اثر نظر آتا تو ان کو کیا مجبوری تھی کہ میرے ساتھ اس طرح شامل ہو جاتے- اگر مخالفت کا موقع ہوتا تو یقیناً یہی لوگ مخالفت کرتے جو اس وقت میرے ساتھ ہیں- سو یہ محض وہم ہے- بلکہ وہم بھی نہیں ہنگامی جوش کی وجہ سے جنون کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے جس کے باعث خلاف حقیقت باتیں ان لوگوں کی طرف سے کہی جا رہی ہیں- اصل بات یہ ہے کہ موجود الوقت سب لوگوں نے مجھ پر زور دیا کہ میں اس کمیٹی کی صدارت منظور کر لوں اور اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے کہا یہ کمیٹی نئی قائم ہوئی ہے اور اس کی اساس کو قائم کرنے میں ہی ہمارے کئی ماہ صرف ہو جائیں گے لیکن آپ کی جماعت منظم ہے اور آپ ایک ہفتہ کے اندر اندر ہی کام شروع کر سکتے ہیں- میں نے اس سے انکار کیا لیکن بعض دوستوں کی طرف سے اصرار ہوا بلکہ بعض نے تو کہا کہ آپ ڈکٹیٹر بننا منظور کریں- لیکن میں نے اس سے انکار کیا اور کہا اگر بننا ہی ہوا تو میں پریذیڈنٹ ہی رہوں گا ڈکٹیٹر نہیں بننا چاہتا- اس پر مجھے یہ کہہ کر مجبور کیا گیا کہ قوم کی خدمت سے آپ انکار نہ کریں اور کوئی بے وقوف ہی کہہ سکتا ہے کہ ان تمام لیڈروں نے یہ سازش کی- اور یہ جانتے ہوئے کہ میں غیر احمدیوں کو اس طرح احمدی بنا سکوں گا اور میرے ساتھ شامل ہو گئے- دراصل یہ لوگ خیال کرتے ہیں ساری عقل ہمارے ہی اندر ہے باقی سب لوگ پاگل ہیں- مجھے یہ لوگ اسلام کا دشمن سمجھتے ہیں لیکن اتنا نہیں سوچتے کہ اگر میرے ذریعہ سے اسلام کی تائید ہو جائے تو ان کا کیا حرج ہے؟ اور یہ خوشی کا مقام ہے یا رنج کا؟ رسول کریم ~صل۲~ فرماتے ہیں کہ کبھی خدا تعالیٰ اسلام کی ایک فاسق شخص کے ذریعہ سے مدد کرتا ہے-۹~}~ پس یہ باوجود مذہبی مخالفت کے اگر یہی کچھ سمجھ لیتے کہ خدا تعالیٰ ایک دشمن سے کام لے رہا ہے تو ان کا کوئی حرج نہ تھا- آخر یہ لوگ گاندھی جیسے کافر کی اتباع بھی تو کر ہی رہے ہیں حالانکہ اس کے عقائد اسلام کے سخت خلاف ہیں- اس کی لائف پڑھ کر دیکھو کس طرح شروع سے آخر تک اسلام کی ہتک کی گئی ہے- ہندو دھرم کے وہ مسائل جو اسلام کے مقابل ہیں ان میں خاص طور پر اس نے ہندو دھرم کی فضیلت ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے- اس کے اندر تو انہیں کوئی عیب نظر نہیں آتا لیکن ہمارے اندر جن کا عقیدہ ہے-
    بعد از خدا بعشق محمد مخمرم
    گر کفرایں بود بخدا سخت کافرم
    عیوب کے سوا کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا-
    عقائد کا اختلاف سہی اور پچاس نہیں پچاس ہزار امور میں اختلاف سہی- ہر ایک کا حق ہے کہ دوسرے کے عقائد کو غلط سمجھے- لیکن اگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ حنفی غلطی پر ہیں تو یہ میرا حق نہیں کہ کہہ دوں یہ خدا تعالیٰ کے بھی منکر ہیں- یہ بدترین قسم کی بددیانتی ہے- انگریزی میں ایک مثل مشہور ہےdue his devil the Giveیعنی شیطان کو بھی اس کا حق ملنا چاہئے- جب ہمار دعویٰ ہے کہ ہم رسول کریم ~صل۲~ کے خادم ہیں تو خواہ ہمیں غلطی پر سمجھا جائے لیکن اتنا تو ماننا چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت رکھتے ہیں اور ہماری طرف غلط باتیں تو منسوب نہیں کرنی چاہئیں-
    مولوی میرک شاہ صاحب جانتے ہیں کہ کشمیر میں احمدیوں کی تعداد سو میں سے ایک بھی نہیں لیکن یہاں تک مشہور کیا گیا ہے کہ میں وہاں کی بادشاہت حاصل کرنی چاہتا ہوں بلکہ تاج بھی تیار کیا جا چکا ہے- لیکن اتنا نہیں سوچتے کہ جو رعایا راجہ کو نکالے گی وہ ہمیں کس طرح بادشاہ بنا لے گی- یہ تو ممکن ہے کہ مولانا انور شاہ صاحب یا میر واعظ شاہ صاحب یا مولوی میرکشاہ صاحب کو بنائے لیکن ہم میں سے کسی کے بننے کی کیا صورت ہو سکتی ہے- یہ سب جوش پیدا کرنے والی اور خلاف عقل باتیں ہیں- کشمیر ایجی ٹیشن ایک سیاسی کام ہے مسلمان یا غیرمسلمان کا سوال نہیں- جب انسان ایک گدھے کو مارتا ہے اور ہمیں درد محسوس ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے اپنے جیسے انسان کو بدترین مصیبت میں دیکھ کر کچھ احساس نہ ہو- میں نے وہاں خود دیکھا ہے کہ مسلمان زمیندار کو ایک بنیا پیٹتا جاتا ہے اور وہ آگے سے ہاتھ جوڑتا ہے- میں چھوٹا تھا کہ ہم سری نگر جاتے ہوئے ایک گائوں میں سے گزرے- اس وقت موٹریں نہ تھیں ٹانگوں پر جاتے تھے- گائوں والوں سے ہم نے مرغ مانگا مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا اس گائوں میں تو وبا پڑی تھی اور سب مرغ مر گئے- میرے چھوٹے بھائی بھی میرے ساتھ تھے جن کی عمر اس وقت تیرہ سال کی تھی- وہ ایک گھر میں گھس گئے اور واپس آ کر کہا اس میں چالیس سے زیادہ مرغ ہیں- میں نے سمجھا بچہ ہے‘ غلطی لگی ہوگی لیکن پاس ہی صحن تھا‘ میں نے جو ادھر نظر کی تو واقعی صحن مرغوں سے بھرا ہوا تھا- میں نے جب گھر والے سے پوچھا تو اس نے کہا یہ تو ہم نے نسل کشی کے لئے رکھے ہوئے ہیں- اتنے میں ایک اور ساتھی نے آ کر کہا- قریباً سب گھروں میں کثرت سے مرغ موجود ہیں- آخر گائوں والوں نے بتایا کہ بات یہ ہے کہ سرکاری آدمی آتے ہیں اور بغیر پیسہ دیئے ہمارے گھر اجاڑ کر چلے جاتے ہیں اس لئے ہر سفید پوش کو سرکاری آدمی سمجھ کر انکار کر دیتے ہیں-
    ایک دفعہ میں پہلگام گیا- ریاست کا اس وقت قانون تھا کہ بوجھ اٹھانے کیلئے اگر آدمی کی ضرورت ہو تو تحصیلدار کو چٹھی لکھی جائے- چنانچہ میں نے بھی چٹھی لکھی- مزدور آ گئے اور بوجھ اٹھا کر چل پڑے- تھوڑی دور جا کر میں نے دیکھا کہ ان میں سے ایک آہیں بھر رہا اور کراہ رہا ہے میں چونکہ جانتا تھا- کشمیری مزدور بوجھ بہت اٹھاتے ہیں اس لئے اس کے کراہنے پر مجھے حیرت ہوئی اور کہا تم لوگ تو بوجھ اٹھانے میں بہت مشاق ہو پھر اس طرح کیوں کراہ رہے ہو- اس نے کہا مشاق وہی ہوتے ہیں جن کا یہ پیشہ ہو- میں تو برات کے ساتھ جا رہا تھا کہ پکڑ کر یہاں بھیج دیا گیا- وہ ایک معزز زمیندار تھا جس نے کبھی یہ کام نہ کیا تھا- میں نے اسے کہا میں ٹرنک خود تو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا پہلے گائوں میں ہی چل کر خواہ مجھے کتنی رقم خرچ کرنی پڑے‘ میں وہاں سے مزدور لے کر تمہیں چھوڑ دوں گا‘ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا-
    اس سے بھی زیادہ عجیب واقعہ مجھے ایک افسر نے جو پونچھ میں وزارت کے عہدہ پر فائز رہا ہے بتایا انہوں نے بیان کیا کہ ایک دفعہ مجھے مزدوروں کی ضرورت تھی میں نے حاکم مجاز کو اس کے متعلق خط لکھا اس نے کچھ مزدور بھیجے جن کے متعلق مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک بھی مزدور نہ تھا بلکہ سب کے سب براتی تھے جن میں دولہا بھی شامل تھا- ذرا غور کرو- یہ کس قدر درد ناک واقعہ ہے- ان لوگوں کے لئے کھانے پکے ہوئے ہوں گے اور لڑکی والے ان کی راہ دیکھ رہے ہوں گے‘ دولہن دولہا کا انتظار کر رہی ہوگی- اس واقعہ سے میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے- ذرا اسے اپنے اوپر قیاس کر کے دیکھو- لیکن کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ کشمیری مسلمانوں پر ایسی ایسی آفتیں اور مصائب نازل ہو رہے ہوں اور یہاں یہ جھگڑے پیدا کئے جائیں حالانکہ چاہئے تھا کہ متحدہ کوشش سے ان کی تکلیف کو دور کیا جاتا- حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ میں شدید اختلاف تھا- جس سے جرات پا کر روم کے بادشاہ نے اسلامی سلطنت پر حملہ کا ارادہ کیا- لیکن حضرتمعاویہؓ نے اسے لکھا- اگر تم نے ایسا کیا تو سب سے پہلا جرنیل جو علیؓ کی طرف سے تمہارے مقابل پر آئے گا وہ معاویہ ہوگا- تو جہاں درد ہوتا ہے وہاں انسان شخصیتوں کا خیال کئے بغیر قربانی کیلئے تیار رہتا ہے-
    ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک خاوند کی دو عورتیں تھیں وہ باہر گیا ہوا تھا پیچھے دونوں کے ہاں لڑکے پیدا ہوئے مگر ایک کا لڑکا مر گیا- اس نے خیال کیا اب میری سوکن کی وقعت خاوند کی نظر میں بڑھ جائے گی اس لئے اس نے دوسری کے بچہ کو اپنا کہنا شروع کر دیا اور یہ جھگڑا اس قدر طول پکڑ گیا کہ حضرت دائود علیہ السلام کے پاس مقدمہ گیا- وہ حیران تھے کہ اس کا کیا فیصلہ کریں- حضرت سلیمان ان دنوں میں نوجوان تھے انہوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ میں کرتا ہوں اور کہا کہ ایک تلوار لائو تا کہ اس بچہ کو آدھا آدھا کر کے دنوں میں بانٹ دیا جائے- جس کا بچہ نہیں تھا اس نے تو کہا بے شک ایسا کر دیں لیکن جس کا تھا وہ کہنے لگی آپ ایسا نہ کریں یہ بچہ اس دوسری عورت کا ہے اس لئے اسے ہی دے دیا جائے- غرض جب حقیقی خیر خواہی دل میں ہو انسان ان باتوں کو نہیں دیکھا کرتا بلکہ کام کو دیکھتا ہے- چاہئے تو یہ تھا ان تفرقوں کو بھلا دیا جاتا- اگر کبھی مذہبی مخالفت کا موقع آیا اور کشمیریوں کے لئے ہماری وجہ سے مذہبی خطرہ پیدا ہو گیا تو یاد رکھو وہی لوگ اس کی مخالفت کے لئے اٹھیں گے جو آج میرے ساتھ ہیں کیونکہ یہی اس کے اہل ہیں- ان لوگوں نے اپنی زندگیاں علمی تحقیقاتوں میں صرف کی ہیں اور یہ اپنے اپنے سلسلوں کے لیڈر ہیں- میں احرار والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر ان میں سے کوئی یہاں بیٹھا ہو تو جا کر اپنے دوستوں کو سنا دے کہ میں ان پتھروں کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں کرتا اور اس وجہ سے ان پر کوئی غصہ نہیں- انہیں چاہئے کشمیر کے مظلوم بھائیوں کی خاطر اب بھی ان باتوں کو چھوڑ دیں- وہ آئیں میں صدارت چھوڑنے کیلئے تیار ہوں لیکن وہ عہد کریں کہ مسلمانوں کی اکثریت کے فیصلہ کی اتباع کریں گے- ان کے اخلاق آج ہم نے دیکھ لئے ہیں وہ آئیں اور ہمارے اخلاق بھی دیکھیں- میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ صدارت چھوڑ دینے کے بعد بھی میں اور میری جماعت ان کے ساتھیوں سے بھی زیادہ ان کا ہاتھ بٹائیں گے- صدارت میرے لئے عزت کی چیز نہیں- عزت خدمت سے حاصل ہوتی ہے- سیدالقوم خادھم ۱۰~}~ اگر کام نہ کیا جائے تو صرف صدر بننے سے کیا عزت ہو سکتی ہے- وہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی مجنون کہے میں بادشاہ ہوں بغیر خدمت کے اعزاز حاصل نہیں ہو سکتا- میرے ذمہ تو پہلے ہی بہت کام ہے- اتنی عظیم الشان جماعت کا میں امام ہوں اور اس قدر کام- پڑتا ہے کہ بارہ ایک بجے سے پہلے شاید ہی کبھی سونا نصیب ہوتا ہو- میں نے تو یہ بوجھ صرف اس لئے اٹھایا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کی آئندہ نسلیں دعائیں دیں گی اور کہیں گی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا بھلا کرے جن کی کوشش سے آج ہم آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں- ان کے لئے بھی موقع ہے کہ کشمیریوں سے دعائیں لیں- ان کی دعائیں عرش الہی کو ہلا دیں گی- وہ کہیں گے الہی! جن لوگوں نے ہمیں آزاد کرایا ہے تو بھی ان کو آزاد کر دے-
    دیکھو رسول کریم ~صل۲~ نے دنیا کو آزادی دلائی- جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کروڑوں انسان آپ کے نام پر اپنا سب کچھ نثار کر دینے پر آمادہ ہیں- وہی مغل جنہوں نے اسلام کو مٹانے کے لئے بغداد کو تباہ کیا آخر آ کر آپ کے قدموں پر گر گئے- اور آپ کی محنت ایسی بابرکت ثابت ہوئی کہ آج ساڑھے تیرہ سو سال گذرنے پر بھی آپ کا نام بلند ہو رہا ہے- یہ خدمت کا نتیجہ ہے- دنیا کی چند روزہ واہ واہ کوئی حقیقت نہیں رکھتی- آخر ایک دن خدا کے سامنے جانا ہے اور وہاں کوئی چالاکی اور ہوشیاری کام نہ آ سکے گی- اگر کسی شخص نے دیانتداری سے کام کیا ہے تو خواہ وہ مجرم بھی ہو‘ خدا تعالیٰ ضرور اس پر رحم کر دے گا لیکن جس نے دیانتداری سے کام نہیں کیا‘ اس کا کام خواہ اچھا ہی ہو‘ خدا تعالیٰ یہی کہے گا کہ تیری نیت نیک نہ تھی-
    آخر میں سب حاضرین سے اور ان سب سے جن تک میرا یہ پیغام پہنچے کہتا ہوں کہ اٹھو اپنے بھائیوں کی امداد کرو- اپنے کام بھی کرتے رہو مگر کچھ نہ کچھ یاد ان مظلوموں کی بھی دل میں رکھو- جہاں اپنے خانگی معاملات اور ذاتی تکالیف کے لئے تمہارے دلوں میں ٹیسیں اٹھتی ہیں‘ وہاں ایک ٹیس ان مظلوموں کے لئے بھی پیدا کرو- اور ان آنسوئوں کی جھڑیوں میں سے جو اپنے اپنے متعلقین کیلئے برساتے ہو اور نہیں تو ایک آنسو ان ستم رسیدہ بھائیوں کے لئے بھی ٹپکائو- مجھے یقین ہے کہ تمہاری آنکھوں سے ٹپکا ہوا ایک ایک آنسو جن کی محرک سچی ہمدردی ہوگی‘ ایک ایسا دریا بن جائے گا جو ان غریبوں کی تمام مصائب کو خس و خاشاک کی مانند بہا کر لے جائے گا اور اس ملک کو آزاد کر دے گا-
    )الفضل ۲۴- ستمبر ۱۹۳۱ء(
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھھوالناصر
    آل انڈیا کشمیر کمیٹی اور احرار اسلام
    معزز جریدہ >انقلاب< میں ۲۳-تاریخ کو ایک مقالہ افتتاحیہ اوپر کے عنوان کے نیچے شائع ہوا ہے- اس میں >انقلاب< کی خدمات اسلام‘ کشمیر کے سوال کی اہمیت‘ آل انڈیا کشمیر کمیٹی اور احرار اسلام کو مل کر کام کرنے کی نصیحت اور دونوں کے بعض معاونین کی ناگوار چھیڑ چھاڑ کا ذکر اور اس سے بچنے کی نصیحت ہے-
    >انقلاب< کی اسلامی خدمات
    >انقلاب< کی اسلامی خدمات کا تو میں سمجھتا ہوں کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا- جب مجھے>انقلاب< کی پالیسی سے اختلاف بلکہ اختلاف شدید بھی ہوا ہے ¶تب بھی میرا دل اس امر کو محسوس کرتا رہا ہے کہ انقلاب کا عملہ اپنی رائے میں دیانتداری سے کام کر رہا ہے اور کوئی ناجائز مقصد اس کے پیش نہیں ہے- اور اس کی شہادت میرے احباب کا وسیع حلقہ دے سکتا ہے جو ہر فرقہ و جماعت سے تعلق رکھتا ہے اور ہر حصہ ملک میں پھیلا ہوا ہے- میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ >انقلاب< کو اسی نیک نیتی سے آئندہ بھی قومی خدمت کی توفیق دے کہ اخبارات کا اصل مقصد ہی یہ ہوتا ہے- ہاں بدقسمتی سے ہمارا ملک ان چند مستثنیات میں سے ہے کہ جہاں اخبارات کی اکثریت ابھی تک اس معیار پر پوری نہیں اترتی اور قومی خدمت اخبارات کی امتیازی خوبی سمجھی جاتی ہے-
    آل انڈیا کشمیر کمیٹی اور احرار کا مل کر کام کرنا
    مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی اور احرار کو مل کر کام کرنے کی نصیحت سے بھی مجھے کلی طور پر اتفاق ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ بلاوجہ اختلاف ایک *** ہے جس سے بچنا ہر قوم کے لئے ضروری ہے- اور بہت سی اقوام کی تباہی کا موجب اندرونی اختلاف ہی ہوا کرتا ہے لیکن آخری امر یعنی دونوں طرف سے ناگوار چھیڑ چھاڑ کا جو ذکر >انقلاب< میں کیا گیا ہے میں اس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں-
    ناگوار چھیڑ چھاڑ کا ذکر
    >انقلاب< کا یہ مقالہ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے- کہ )۱( >الفضل< وغیرہ میں مجلس احرار کے خلاف بعض قابل اعتراض باتیں شائع ہو رہی ہیں- )۲( احمدی جماعت کے کسی سر برآوردہ شخص نے بعض سرکردہ اشخاص کے نام ایک گشتی مراسلت بھیجی ہے کہ مجلس احرار والے کانگرسی مسلمان ہیں کشمیر کے معاملہ میں ان کی کوئی امداد نہ کی جائے- )۳( احرار کے خلاف میرے مداح اور حمایتی حملے کرتے ہیں-
    کسی سرکردہ احمدی نے کوئی گشتی مراسلہ نہیں بھیجا
    سب سے پہلے میں نمبر۲ کو لیتا ہوں- اور بتانا چاہتا ہوں کہ یہ امر بالکل خلاف واقعہ ہے کہ کسی سرکردہ احمدی نے ایسا گشتی مراسلہ بھیجا ہے- ہمارے سلسلہ کے نظام سے جو شخص ادنیٰ واقفیت بھی رکھتا ہو جانتا ہے کہ ہمارے ہاں سرکردگی گشتی مراسلات بھیجنے کے لئے کافی نہیں- صرف اور صرف وہی شخص گشتی مراسلات بھیج سکتا ہے جو سلسلہ کی طرف سے کسی کام پر مقرر ہو اور وہ بھی صرف اپنے محکمہ کے متعلق- وہ محکمے جو مسئلہ کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں‘ امور خارجیہ اور امور عامہ کے ہیں- ان محکموں کا کام سیاسی مسائل سے ہے- باقی سب محکمے تبلیغ اور جماعت کی تربیت وغیرہ کاموں سے متعلق ہیں- ان محکموںکو بھی کشمیر کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ کشمیر کا کام ہم آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی طرف سے کرتے ہیں نہ کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے لیکن پھر بھی احتیاط کے طور پر میں نے ان دونوں محکموں سے دریافت کیا ہے اور وہ قطعی طور پر کسی ایسی گشتی چھٹی کے بھیجنے سے انکار کرتے ہیں جس کا ذکر >انقلاب< میں ہے- اب آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا دفتر رہ جاتا ہے- میں نے بہحیثیت صدر اس دفتر سے بھی دریافت کیا ہے اور وہ بھی کسی ایسی گشتی چھٹی کے بھیجنے سے انکار کرتا ہے- ہاں بعض لوگوں کے دریافت کرنے پر کہ احرار کے کارکن بیان کرتے ہیں کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی ٹوٹ گئی ہے اور کام ہمارے سپرد کر دیا گیا ہے یہ لکھا گیا ہے کہ یہ بات غلط ہے- نہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی ٹوٹ گئی ہے اور نہ اس نے اپنا کام احرار کے سپرد کیا ہے-
    اسی خیالی سرکلر کا ذکر کرتے ہوئے معزز >انقلاب< نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر کشمیر کے معاملہ میں بہت سے غیر احمدی احمدیوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تو غیر کانگریسی کانگرسیوں سے مل کر کیوں کام نہیں کر سکتے- مجھے اس دلیل پر بھی اعتراض ہے- مسئلہ کشمیر سیاسی مسئلہ ہے نہ مذہبی- پس جس طرح سالہا سال سے احمدی غیر احمدی لیڈروں کی قیادت میں کام کرتے رہے ہیں اگر ایک امر میں اتفاقاً احمدی صدر ہو جائے تو غیر احمدی بھی ان کی قیادت میں کام کر سکتے ہیں- لیکن کانگرسی اور غیر کانگریسی سیاسی تقسیمیں ہیں- پس اگر سیاسی اختلاف موجود ہو تو غیر کانگریسی کانگریسی کی ماتحتی میں کام نہیں کر سکے گا- گو وہی کانگریسی ایک دوسرے فرقہ کے سیاسی طور پر متحد الخیال آدمی کی ماتحتی میں کام کر سکے گا-
    کسی حمایتی نے احرار پر حملہ نہیں کیا
    تیسرے امر کا جواب یہ ہے کہ یہ امر واقعی طور پر درست نہیں کہ میرے حمائتی احرار کے خلاف حملے کرتے ہیں- ایسا بے شک ہوا ہے کہ احرار کے مخالف پروپیگنڈا کا جواب دیا گیا ہو لیکن حملہ اب تک میرے علم میں ایک بھی نہیں ہوا- انقلاب کے عملہ کو جس شخص نے یہ اطلاع دی ہے‘ بالکل غلط ہے- لیکن پھر بھی میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس کی تصدیق ہو جائے تو میں اپنے حمائیتوں کو تنبیہ کرنے کے لئے تیار ہوں-
    >الفضل< میں احرار کا ذکر
    اب رہا پہلا سوال- سو الفضل کے سوا سلسلہ احمدیہ کے کسی اخبار میں احرار کا ذکر نہیں آتا- اس لئے صرف >الفضل< ہی کا سوال باقی رہ جاتا ہے کیونکہ میں ذمہ وار اسی کا ہو سکتا ہوں- اگر سلسلہ کے باہر کا کوئی اخبار ہو تو اس کی ذمہ واری مجھ پر نہیں ہو سکتی- اور جہاں تک مجھے علم ہے ایسا کوئی اسلامی اخبار ہے بھی نہیں جس نے احرار پر ان کے حملہ کے بغیر کوئی حملہ کیا ہو-
    وہ تحریرات جو اخبارات میں احرار کے متعلق شائع ہوئی ہیں ان کی حقیقت سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل امور کا علم نہایت ضروری ہے-
    )۱( آل انڈیا کشمیر کمیٹی سب سے پہلے کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لئے منظم صورت میں ظاہر ہوئی ہے وہ آل انڈیا مسلم کانفرنس کی تسلیم کردہ کمیٹی ہے- اور تمام ہندوستان کے سربرآوردہ مسلمان اس میں شامل ہیں جن میں ہر قسم اور ہر خیال کے لوگ شامل ہیں-
    )۲(احرار نے اس سوال کو ہاتھ میں لیتے ہی لاہور میں تقریروں میں بیان کیا کہ لوگوں کو آل انڈیا کشمیر کمیٹی پر اعتبار نہیں اور انہوں نے یہ کام ہمارے سپرد کر دیا ہے اور سربرآوردہ لوگ اس کمیٹی سے الگ ہو گئے ہیں-
    )۳( وزیر آباد‘سیالکوٹ اور دوسرے مقامات پر بیان کیا گیا کہ خواجہ حسن نظامی صاحب کہتے ہیں کہ میں مرزا محمود احمد صاحب کی صدارت کا مخالف تھا- اور ڈاکٹر سر اقبال صاحب کی طرف یہ امر منسوب کیا گیا کہ وہ اس کام سے علیحدہ ہو گئے ہیں-
    )۴( سیالکوٹ اور دیگر شہروں میں بیان کیا گیا کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا صدر ایسی جماعت سے تعلق رکھتا ہے جس نے کبھی کسی اسلامی کام میں حصہ نہیں لیا اور صرف اس کام کو خراب کرنے کے لئے اس کام میں شامل ہوا ہے- جو لوگ اور اس کے ساتھ ہیں وہ ٹوڈی ہیں اور قوم کو فروخت کر دیں گے-
    )۵( سیالکوٹ اور دوسرے شہروں میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کشمیر کمیٹی کی صدارت کو امام جماعت احمدیہ نے اپنی تبلیغ کا ذریعہ بنایا ہے اور لوگوں کو لکھتے ہیں کہ سب ہندوستان نے مجھے امام مان لیا ہے‘ اب تم بھی میری بیعت کر لو-
    )۶( سیالکوٹ میں صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے متعلق ہزاروں کے مجمع میں کہا گیا کہ اس کا واحد علاج یہ ہے کہ جہاں ملے جوتی نکال کر اس کے سر پر مارو- تمہاری جوتی اور اس کا سر- تمہاری جوتی اور اس کا سر- تمہاری جوتی اور اس کا سر-
    )۷( سیالکوٹ میں احمدیہ جماعت کے متعلق کہا گیا کہ ان لوگوں نے کشمیر کی حفاظت کیا کرنی ہے جو اپنی مائوں کی حفاظت بھی نہیں کر سکے- ان کی تو ماں بھی دوسروں کے قبضہ میں ہے-
    )۸( کشمیر کی تائید میں سیالکوٹ میں جو جلسہ کیا گیا اس کے متعلق ساتھ کے ساتھ اعلان کیا گیا کہ وہاں احرار کا جلسہ ہوگا- جلسہ کے موقع پر پندرہ بیس ہزار آدمی حملہ آور ہو کر شور کرتا رہا اور ایک حصہ ایک گھنٹہ سے زائد تک سنگ باری کرتا رہا- تا آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا جلسہ منتشر ہو جائے اور احرار کا جلسہ ہو سکے- سنگ باری کا یہ حال تھا کہ باوجود چاروں طرف لوگوں کے ہجوم کے حلقہ میں آ کر پتھر گرتے تھے اور تین پتھر مجھے آ کر لگے- پچیس آدمی سخت زخمی ہوئے اور سینکڑوں کو معمولی چوٹیں آئیں-
    صدر کے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے اسے نظر انداز کر کے وہ محض ذاتی سوال ہے‘ دوسرے امور کے متعلق میں پوچھتا ہوں کہ وہ سوال اگر بغیر جواب کے رہیں تو کیا آل انڈیا کشمیر کمیٹی کوئی بھی کام کر سکتی ہے- اگر پبلک کو یہ کہا جائے کہ یہ لوگ بددیانت ہیں‘ قوم کو فروخت کرنے والے ہیں‘ کمیٹی کے سربرآوردہ ممبر مستعفی ہو چکے ہیں‘ کمیٹی اصل میں ٹوٹ چکی ہے‘ اس کے اصل روح رواں ممبر سب کام احرار کے سپرد کر چکے ہیں‘ تو اس کے بعد کمیٹی کے لئے دائرہ عمل کونسا رہ جاتا ہے- پبلک کے ہی ذریعہ سے اس نے کام کرنا ہے- جب پبلک کو مندرجہ بالا امور کا یقین دلا دیا جائے تو سیکرٹری یا صدر کی طرف سے جو اعلان ہوگا‘ لوگ یہی سمجھیں گے کہ یہ فریب ہے‘ کمیٹی تو ٹوٹ چکی ہے‘ اب چندہ کیسا اور کام کیسا- آخر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے نمائندے پبلک کو جا کر کیا کہیں کیا یہ کہ صاحبان ہم ایک ٹوڈیوں کی جماعت ہیں جو ہر وقت قوم کو فروخت کرنے کے لئے تیار رہتی ہے- ہمارا صدر کبھی کسی اسلامی کام میں شریک نہیں ہوا- ہمارے اکثر ممبر مستعفی ہو چکے ہیں- کیونکہ وہ کمیٹی کے پروگرام پر خوش نہیں- ہم لوگ چندہ کشمیر کے لوگوں یا کشمیر کی آزادی کیلئے نہیں خرچ کریں گے بلکہ احمدیت کی تبلیغ پر‘ اب آپ لوگ بھی چندہ دیں- اور ہر جگہ کمیٹیاں بنا کر اور ہمارے پروگرام پر عمل کر کے ہماری تقویت کا موجب بنیں-
    لیکن باوجود اس کے کہ یہ سب امور بالکل غلط تھے اور باوجود اس کے کہ ان کی اشاعت نے کمیٹی کے کام میں سخت روک پیدا کر دی تھی محض اتحاد کو قائم رکھنے کے لئے آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے ایک ماہ تک بالکل خاموشی رکھی اور کوئی جواب نہیں دیا- لیکن جب باہر سے کثرت سے شکایات آنے لگیں اور بہت سی جگہوں پر کشمیر کمیٹیاں یا ٹوٹ گئیں یا معطل ہو گئیں تو ان امور کا جواب دینا پڑا اور اس جواب کو جو ایک ماہ کے متواتر حملوں کے بعد اور کام کے بند ہونے کے خطرہ کے بعد دیا گیا‘ اگر حملہ یا قابل اعتراض کہا جائے تو میں معزز انقلاب سے اختلاف کئے بغیر نہیں رہ سکتا-
    آئندہ کا سوال
    اب رہا آئندہ کا سوال- اس کے متعلق میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی تمام حملوں کے باوجود جو گزشتہ ایام میں اس پر کئے گئے ہیں‘ اختلاف کو پسند نہیں کرتی اور ان تمام کاموں میں احرار کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے جو مشترک ہوں‘ بشرطیکہ یہ تعاون دو طرفہ ہو- ہاں جن امور میں دونوں کمیٹیوں کی پالیسی متضاد ہو وہ مجبور ہے کہ اپنے پسند کردہ طریق عمل کو اختیار کرے- اور اس صورت میں وہ اس امر پر بھی مجبور ہے کہ اپنی کمیٹیوں کو ہدایت کرے کہ اس حصہ میں وہ احرار کے ساتھ تعاون نہ کریں گو وہ ایسے امور میں بھی احرار کو مخاطب کر کے ان کی مخالفت نہ کرے گی‘ صرف اپنے اصول پر زور دیتی رہے گی- کیا میں امید رکھوں کہ عملہ >انقلاب< یا اور کوئی صاحب اس قسم کے سمجھوتہ کی کوشش کریں گے؟
    احرار کے خوش کرنے کی انتہائی کوشش
    میں آخر میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ احرار کو خوش کرنے کے لئے میں انتہائی کوشش کر چکا ہوں- اور اس بارہ میں خصوصیت سے ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب‘ مکرمی مولوی غلام رسول صاحب مہر اور مولانا محمد اسماعیل صاحب غزنوی سے خط و کتابت کرتا رہا ہوں- اسے صرف اس لئے شائع نہیں کرتا کہ چونکہ وہ پرائیویٹ تھی- شاید ان صاحبان کو اس کی اشاعت پر اعتراض ہو- اس بارہ میں جو ان احباب سے میں نے خط و کتابت کی ہے اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کی حمایت میں میں کس حد تک اتفاق قائم رکھنے کی جدوجہد کر چکا ہوں-
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    ۲۴ ستمبر ۱۹۳۱ء
    )الفضل ۲۹ ستمبر ۱۹۳۱ء(
    ‏a12.3
    انوار العلوم جلد ۱۲
    تحریک آزادی کشمیر
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھوالناصر
    قضیہ کشمیر کے متعلق چند تلخ و شیریں باتیں
    قضیہ کشمیر اس قدر جلد جلد صورت میں بدل رہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے متعلق ایک مجموعی نظر کی اشد ضرورت ہے ورنہ بالکل ممکن ہے کہ یہ کام بالکل خراب ہو جائے اور امیدوں کے بالکل الٹ نتیجہ نکلے-
    ہندوستان کے مسلمان عام طور پر سیاسیات سے ناواقف ہیں اور اس وجہ سے وہ زیادہتر نقل کرتے ہیں لیکن ریاستوں کے مسلمان تو بیچارے اور بھی ناواقف ہیں ان کے لئے دوسروں سے بہت زیادہ خطرات ہیں- اور جس شخص کو بھی اللہ تعالیٰ توفیق دے اس کا فرض ہے کہ انہیں حقیقت سے آگاہ کرے تا کہ وہ تکالیف سے محفوظ ہوں اور کامیابی کا منہ دیکھیں-
    سب سے بڑا خطرہ غلط امیدیں- خوشامد اور چاپلوسی کا مرض
    اس زمانہ میں خوشامد اور چاپلوسی کا مرض اور اسی طرح فخر و خود پسندی کا مرض اس قدر عام ہو گیا ہے کہ جو لوگ اس سے بچنا چاہتے ہیں وہ دشمن یا بزدل قرار دیئے جاتے ہیں- اور اس وجہ سے بہت سے سچے مخلص مایوس ہو کر اپنے گھر بیٹھ رہتے ہیں اور مظلوم اپنی مظلومیت میں بڑھتا جاتا ہے- یہی مرض مسئلہکشمیر کو بھی لاحق ہو رہا ہے اور میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ مسلمانان کشمیر اور ہندوستان کو اس مرض کے خطرات سے آگاہ کر دوں-
    یہ بالکل آسان ہے کہ میں یہ دعویٰ کروں کہ چند ایام میں میں کشمیر کے لوگوں کو ان مظالم سے بچا لوں گا جو ریاست کی طرف سے ہو رہے ہیں لیکن یہ امر بالکل اور ہے کہ میں ایسا کر بھی دوں- اسی طرح یہ امر بالکل اور ہے کہ میں یہ دعویٰ کروں کہ میری جان و مال اہل کشمیر کے لئے قربان ہے اور یہ بالکل اور امر ہے کہ میں اپنے مال کا سواں حصہ بھی اس غرض کیلئے قربان کر دوں- لیکن آج کل کچھ ایسا رواج ہو گیا ہے کہ وہ شخص جو اپنا مال خرچ کرتا ہے لیکن ساتھ یہ کہتا ہے کہ جہاں تک مجھ سے ہو سکے گا میں امداد کروں گا‘ دشمن اور بزدل قرار دیا جاتا ہے اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں اپنا مال اور اپنی جان تمہارے لئے قربان کر دوں گا اور سب دنیا سے مقابلہ کروں گا خواہ ایک پیسہ بھی خرچ نہ کرے‘ دوست اور حقیقی خیر خواہ سمجھا جاتا ہے-
    مخلصانہ مشورہ
    میں اہالیان کشمیر اور ان لوگوں کو جو کشمیر کے لوگوں سے دلچسپی رکھتے ہیں مخلصانہ طور پر مشورہ دوں گا کہ اگر وہ کشمیر کے مسئلہ کو کامیاب طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں خوشامد‘ چاپلوسی اور فخر و تکبر سے متاثر نہیں ہونا چاہئے‘ بلکہ حقیقت کو ننگا کر کے دیکھنا چاہئے اور اپنے دوستوں سے بھی یہی امید رکھنی چاہئے کہ وہ اسی طرح معاملات کو ان کے سامنے پیش کریں تا کہ اصل حالات سے انہیں آگاہی رہے اور سیدھے راستہ سے وہ پھر نہ جائیں-
    میں نے جو مشورہ اوپر دیا ہے اس کے مطابق سب سے پہلے میں کشمیر کے دوستوں کو اپنی رائے سے اطلاع دیتا ہوں اور جہاں تک میرا خیال ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اکثر ممبر بھی اس رائے میں مجھ سے متفق ہیں-
    مسلمانان کشمیر میں بیداری
    یاد رکھنا چاہئے کہ کشمیر کے لوگ اپنے لئے آزادی کے لئے کھڑے ہوئے ہیں- ایک لمبا عرصہ تک غلامی کی زندگی بسر کرنے کے بعد اب ان میں بیداری پیدا ہوئی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اگر انہوں نے اور ان کے آباء نے غلامی میں زندگی بسر کی ہے تو ان کی اولاد کم سے کم اس عذاب سے نجات پا جائے- چونکہ زیادہ تر ظلم کا شکار مسلمان ہوئے ہیں اس وجہ سے یہ بیداری بھی زیادہ تر انہی میں پیدا ہو رہی ہے- دوسری اقوام کے لوگ گو اس آزادی سے اتنا ہی فائدہ اٹھائیں گے جس قدر کہ مسلمان لیکن بوجہ اس کے کہ وہ ظلم کی چکی میں مسلمانوں جتنے نہیں پیسے گئے ان میں بیداری کا احساس ابھی مکمل نہیں ہوا بلکہ ابھی وہ مسلمانوں کی آزادی کی کوشش کو اپنی دشمنی سمجھ رہے ہیں اور اس وجہ سے بجائے ہاتھ بٹانے کے مسلمانوں کا ہاتھ روک رہے ہیں-
    حکام ریاست آسانی سے قبضہ نہیں چھوڑیں گے
    اس کا انکار نہیں ہو سکتا کہ حکامریاست اپنے قبضہ اور تصرف کو آسانی سے نہیں چھوڑ سکتے اور جب کہ غیر مسلم آزادی کی تحریک کو آزادی کی تحریک نہیں بلکہ ایک مذہبی تحریک سمجھ رہے ہیں‘ اس وجہ سے رعایا کا ایک حصہ بھی ضرور حکام کی مدد کرے گا اور مقابلہ کی مشکلات گویا دگنی ہو جائیں گی- پس ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ خیال کرنا کہ دو چار ہفتہ میں کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا یا چند جتھوں کے لے جانے سے ریاست رعایا کو آزادی دے دی گئی ایک غلط خیال ہے اور اس خیال کی موجودگی میں کبھی بھی کامیابی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس خیال کا نتیجہ مایوسی ہوگا اور مایوسی انسان کے ارادہ کو پست اور اس کی کوشش کو کمزور کر دیتی ہے-
    ہر باشندہ کشمیر کو کس ارادہ سے کھڑا ہونا چاہئے
    میرے نزدیک اپنی اور اپنے ملک کی سب سے بڑی خدمت یہ ہوگی کہ ہر باشندہ کشمیر جو آزادی کی خواہش رکھتا ہے یہ ارادہ کر لے کہ خواہ میری ساری عمر آزادی کی کوشش میں خرچ ہو جائے‘ میں اس کام میں اسے خرچ کر دوں گا اور آگے اپنی اولاد کو بھی یہی سبق دوں گا کہ اسی کوشش میں لگی رہے- اور اسی طرح قربانی کے متعلق ہر اک شخص کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ آزادی جیسی عزیز شے کے لئے جو کچھ بھی مجھے قربان کرنا پڑے میں قربان کر دوں گا- اگر اس قسم کا ارادہ رکھا جائے گا تو لازماً درمیانی مشکلات معمولی معلوم ہوں گی اور ہمت بڑھی رہے گی- لیکن اگر یہ خیال پیدا ہو گیا کہ بس دو چار ہفتوں میں ہمارا کام ختم ہو جائے گا اور دو چار ہڑتالوں یا دو چار جتھوں سے یہ مہم سر ہو جائے گی تو نتیجہ یہ ہوگا کہ جب کام اس سے لمبا ہوا لوگوں میں بد دلی پیدا ہونے لگے گی اور لوگ کہنے لگیں گے کہ ہمارے لیڈروں نے ہم سے دھوکا کیا اور بالکل ممکن ہے کہ مہم سربام پہنچ کر ناکام ہو جائے اور گوہر مقصود ہاتھ میں آ کر پھسل جائے-
    چند ماہ کی جدوجہد سے کیا نتیجہ نکلے گا
    جہاں تک میں سمجھتا ہوں اگر مسلمانان کشمیر کہ سردست آزادی کی مہم میں وہی قربانی کر رہے ہیں صحیح راستہ پر گامزن رہے تو انشاء اللہ نتیجہ مندرجہ ذیل صورت میں نکلے گا-
    اول کچھ عرصہ کی جدوجہد کے بعد جو میرے نزدیک تین چار ماہ کی جدوجہد سے زائد نہ ہوگی‘ کچھ حقوق رعایا کو مل جائیں گے- لیکن بعض اہم حقوق جن کے بغیر رعایا حقیقی طور پر ترقی کی طرف قدم نہیں اٹھا سکتی‘ اس پہلی منزل پر نہیں مل سکیں گے اور اس کے لئے ایک لمبی اور نہ تھکنے والی جدوجہد کرنی پڑے گی- اس کی تفصیل کیا ہوگی؟ میں اس سوال کو یہاں نہیں چھیڑ سکتا کیونکہ اس کو بیان کرنے سے کام کے خراب ہو جانے کا اندیشہ ہے- اسے میں انشاء اللہ دوسرے وقت ایسے لوگوں پر ظاہر کروں گا جن کو اس کے معلوم کرنے کی ضروررت ہوگی-
    کشمیر کو آزادی کس طرح مل سکتی ہے
    ہاں میں اس وقت یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ کشمیر کو آزادی صرف اہالیان کشمیر کی کوشش سے مل سکتی ہے- باہر کے لوگ صرف دو طرح ان کی مدد کر سکتے ہیں- )۱( روپیہ سے )۲(حکومتبرطانیہ اور دوسری مہذب اقوام میں اہالیان کشمیر کی تائید میں جذبات پیدا کر کے- پس ایک طرف تو اہل کشمیر کو یہ خیال دل سے نکال دینا چاہئے کہ باہر کے لوگ آ کر ان کی کوئی جسمانی مدد کر سکتے ہیں- ان کی مدد اول بے اثر ہوگی دوسرے اس کا آزادی کی کوشش پر الٹا اثر پڑے گا اور جدوجہد کی باگ اہل کشمیر کے ہاتھ سے نکل کر ایسے ہاتھوں میں چلی جائے گی جو بالکل ممکن ہے کہ کسی وقت انہیں فروخت کر ڈالیں اور خود الگ ہو جائیں- پس خود اہل کشمیر کا فائدہ اس میں ہے کہ باہر سے مشورہ لیں‘ مالی امداد لیں لیکن کسی صورت میں بھی جنگ میں شریک ہونے کے لئے انہیں نہ بلائیں تا کہ معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل کر دوسروں کے ہاتھ میں نہ چلا جائے- عارضی جوش ان کے کام نہ آئے گا بلکہ مستقل قربانی ان کے کام آئے گی اور مستقل قربانی ملک کے باشندے ہی کر سکتے ہیں- انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ جنگ عظیم میں باوجود اس کے کہ امریکہ جنگ میں شامل ہونے کو تیار تھا‘ خود انگریز اور فرانسیسی اسے جنگ سے روکتے تھے اور آخری ایام میں جب حالت بہت ہی خطرناک ہو گئی تب مجبور ہو کر امریکہ کو شامل ہونے دیا گیا- لیکن بعد میں پھر پچھتاوا پیدا ہوا اور آج تک اتحادی حکومتیں سمجھتی ہیں کہ امریکہ کے شامل ہونے سے انہیں بہت نقصان ہوا کیونکہ امریکہ نے انہیں اس قدر فائدہ نہیں اٹھانے دیا جس قدر وہ اٹھانا چاہتی تھیں-
    مسلمانان ہند کو قربانی کی نصیحت
    میں اس موقع پر مسلمانان ہند کو بھی جو کشمیر کے مسئلہ سے ہمدردی رکھتے ہیں‘ کچھ نصیحت کرنی چاہتا ہوں-
    مالی امداد کی ضرورت
    میں لکھ چکا ہوں کہ کشمیر کی آزادی کے لئے عملی جدوجہد صرف اہل کشمیر کو کرنی پڑے گی- لیکن کشمیر ایک غریب ملک ہے اور وہ اس وقت تک آزادی کی جدوجہد کو جاری نہیں رکھ سکتا جب تک اسے کافی مالی امداد باہر سے نہ ملے- اور جب تک زبردست پروپیگنڈا اس کی تائید میں کشمیر سے باہر نہ کیا جائے- اور اس کام کے لئے معقول رقم چاہئے جس کا مہیا کرنا ان لوگوں کا فرض ہے جو کشمیر سے باہر رہتے ہوئے اس کے مظلوم باشندوں کی ہمدردی کا احساس رکھتے ہیں- منہ سے قربانی کا دعویٰ کرنا یا جلسہ کر دینا یا ریزولیوشن پاس کر دینا گو ایک حد تک مفید ہو لیکن حقیقی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا اس لئے انہیں چاہئے کہ مالی قربانی کی طرف قدم اٹھائیں کہ اس وقت یہی سب سے بڑا کام ہے-
    دوسرا کام آل انڈیا کشمیر کمیٹی خود کر سکتی ہے لیکن اس قدر روپیہ جو اس کام کے لئے ضروری ہوگا‘ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے لوگ خود جمع نہیں کر سکتے- پس ہر گائوں اور قصبہ میں اس کے لئے چندہ جمع کر کے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کو بھجوانا چاہئے جو آگے اس رقم کو حسب ضرورت جموں اور کشمیر میں تقسیم کرے گی اور اسی طرح ہندوستان اور بیرون ہند بھی پروپیگنڈا کو جاری رکھے گی-
    کم از کم ایک لاکھ روپیہ
    میرا جہاں تک خیال ہے اگر کام کو صحیح طور پر چلایا جائے تو ایک لاکھ روپیہ سالانہ تک خرچ کرنے کیلئے ہمیں تیار رہنا چاہئے کیونکہ اگر ریاست سے سمجھوتہ نہ ہو سکا اور تازہ اطلاعات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ سمجھوتہ کرنے کے لئے ریاست تیار نہیں تو اس صورت میں از سر نو پکڑ دھکڑ شروع ہو جائے گی اور ہزاروں غریب اور نادار خاندانوں کو فاقوں سے بچانے کے لئے ایک معقول رقم ماہوار ہم کو خرچ کرنی پڑے گی-
    سردست ۱۲ ہزار کا بجٹ
    سردست آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سامنے قریباً بارہ ہزار روپیہ کا بجٹ پیش ہے- لیکن کام کے لحاظ سے یہ بجٹ بالکل حقیر اور بالکل ناکافی ہے- سال بھر کے لئے اس سے آٹھ دس گنا زیادہ بجٹ ہونا چاہئے- لیکن آلانڈیاکشمیر کمیٹی نے اس وجہ سے ابھی زیادہ جرات نہیں کی کہ اسے اس وقت تک کل آمد پندرہ سولہ سو روپیہ ہوئی ہے-
    جلد امدادی رقوم بھجوائی جائیں
    پس جو لوگ اس مسئلہ سے ہمدردی رکھتے ہیں‘ انہیں جلد سے جلد اپنے علاقوں میں چندہ کر کے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے حساب میں مسلم بنک آف انڈیا لاہور کے پتہ پر بھجوانا چاہئے- جو لوگ بنک کو بھیجنے میں دقت محسوس کریں‘ وہ براہ راست سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی قادیان کے نام بھجوا دیں- مگر انسب پہلا ہی پتہ ہے- اگر سیکرٹری کے نام بھیجیں تو رسید ضرور منگوا لیں-
    ہندوستان اور دوسرے ممالک میں پروپیگنڈا
    ضرورت پروپیگنڈا
    بعض لوگ ہندوستان اور دوسرے ممالک میں پروپیگنڈا کو غیرضروری خیال کرتے ہیں- لیکن یہ خیال ان کا غلط ہے- ہندوستان کی حکومت بہرحال کشمیر پر نگران ہے اور اس کے اعلیٰ حکام کی رائے کو اگر اپنی تائید میں حاصل کر لیا جائے تو یقیناً اس سے بہت کچھ فائدہ ہو سکتا ہے اور ہوا ہے- اسی طرح ہندوستان کی حکومت حکومت برطانیہ کے ماتحت ہے اگر انگلستان میں زبردست پروپیگنڈا کیا جائے تو یقیناً اس کا اثر حکومت ہند پر پڑے گا اور وہ زیادہ ہوشیاری سے حکومت کشمیر کی نگرانی کرے گی اور اس طرح بہت تھوڑی قربانی سے وہ کام ہو سکے گا جو دوسری صورت میں بہت بڑی قربانی کو چاہتا ہے-
    پروپیگنڈا کی اہمیت کا ثبوت
    اس امر کا مزید ثبوت کہ یہ ایک اہم کام ہے یہ ہے کہ خود ریاست اس کی عظمت کو قبول کرتی ہے- چنانچہ باہر سے لوگوں کو بلا کر ان پر اثر ڈالنا‘ اخبارات کے نمائندوں کو خریدنے کی کوشش کرنا‘ حکومت ہند کے پاس بااثر لوگوں کو بھجوانا‘ ولایت میں پروپیگنڈا کا مقابلہ کرنے کے لئے ایجنٹ مقرر کرنا‘ یہ سب امور اس کو ظاہر کرتے ہیں کہ ریاست اس تجویز کے موثر ہونے کو قبول کرتی ہے اور اسے بے اثر بنانے کے لئے لاکھوں روپیہ خرچ کرنے کو تیار ہے- چنانچہ مجھے معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایک ہندوستانی لیڈر کے ذریعہ سے ریاست نے انگلستان میں ایک شخص کو چھسو روپیہ ماہوار کے قریب معاوضہ دینے کا وعدہ کر کے ہمارے پروپیگنڈا کا مقابلہ کرنے کی تحریک کی ہے اور انگلستان کے دو زبردست اخبارات کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی تجویز کی ہے- لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک اخبار کا تو زور توڑ دیا ہے اور دوسرا اخبار انشاء اللہ ان کے ہاتھ فروخت نہیں ہو سکے گا-
    مسلمانوں کا زور توڑنے کی تدابیر
    مسئلہ کشمیر کی وجہ سے مسلمانوں کا زور توڑنے کے لئے ریاست کے ایماء پر یا اپنے طور پر کچھ اور تدابیر بھی اختیار کی جا رہی ہیں- جن میں سے بعض یہ ہیں-
    مخالفانہ تدابیر
    )۱( کشمیری مال کا بائیکاٹ کر کے- تمام پنجاب میں اندر ہی اندر یہ تحریک کی جا رہی ہے کہ کشمیری مال چونکہ بدیشی تاگہ یا بدیشی کپڑا سے تیار ہوتا ہے اس لئے اس کا بائیکاٹ کرنا چاہئے- یہ جواب ہے بعض مسلمانوں کی اس تحریک کا کہ ریاستی کارخانہ کے ریشم کو نہ خریدا جائے- )۲( ریاست کے تعمیری پروگرام کو بند کر کے- تا کہ مسلمان ٹھیکیدار معطل ہو جائیں اور مالی نقصان اٹھائیں- )۳( مسلمان کاریگروں کا بائیکاٹ کر کے-
    مخالفانہ تدابیر کا جواب دینے کی ضرورت
    یہ سب کام اس طرح ہو رہے ہیں کہ ان میں ریاست کا ہاتھ نظر نہ آئے لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں ریاست اس میں شامل ہے- اور اس کا جواب دینے کی مسلمانوں کو ضررت ہے- )۱( کشمیری مال جو مسلمانوں کا تیار کردہ خرید کر )۲( بیکار مزدوروں اور کاریگروں کو کام دے کر )۳( خصوصیت کے ساتھ ان کارخانوں کا مال بند کر کے جو ان ہندو افسروں کی ملکیت ہیں جو اس کام میں نمایاں ہیں- مثال کے طور پر میں دیکھتا ہوں کہ کول خاندان کی بنائی ہوئی دیا سلائیاں پنجاب میں کثرت سے بکتی ہیں- اگر مسلمان ان کو خریدنا بند کر دیں تو اس سے ان کارخانہ داروں کو معلوم ہو جائے گا کہ بائیکاٹ کی تلوار دو دھاری ہوتی ہے اور صرف ایک ہی طرف نہیں کاٹتی-
    میں امید کرتا ہوں کہ مختلف شہروں کے پر جوش مسلمان اور مسلمان دوکاندار ان امور کو اپنے ہاتھ میں لیں گے کیونکہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی اس قسم کے کام اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتی کیونکہ اس کی توجہ تعمیری اور اصلی کام سے ہٹ کر دوسری طرف لگ جاتی ہے-
    انکوائری کمیٹی
    ایک اہم نقص موجودہ کام میں یہ ہو رہا ہے کہ اہالیاں کشمیر کی طرف سے کوئی انتظام مسلمانوں کی تکالیف کی تحقیق کے متعلق نہیں ہے- اس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ افواہیں بہت کثرت سے پھیلتی رہتی ہیں- یہ افواہیں بعض دفعہ مفید ہوتی ہیں اور بعض دفعہ مضر بھی ہوتی ہیں- پس فائدہ کو دیکھ کر ان کے ضرر سے ہمیں غافل نہیں ہونا چاہئے-
    تحقیقاتی کمیٹی کا کام
    اور چاہئے کہ مجلس نمائندگان کشمیر ایک تحقیقاتی کمیٹی مستقل طور پر مقرر کر دے جس کا یہ کام ہو کہ جب کوئی شکایت مسلمانوں پر ظلم کی ان کے سننے میں آئے- خواہ ریاست کی طرف سے ہو خواہ دوسرے لوگوں کی طرف سے‘ وہ اس کی باقاعدہ تحقیقات کرے اور عدالتوں کی طرح جرح کر کے اور گواہیاں لے کر مثل مکمل کرے اور پھر اس سے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کو اور پریس کو مطلع کرے- اس طرح ایک تو افواہوں کا سدباب ہو جائے گا- دوسرے نمائندگان کشمیر کی وقعت مہذب دنیا میں بہت بڑھ جائے گی کہ وہ کوئی بات غیر ذمہ دارانہ طور پر نہیں کرنا چاہتے اور ان کی بات اس قدر پکی سمجھی جائے گی کہ اس کی تردید کی کسی کو جرات نہ ہو سکے گی- سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ریکارڈ مکمل ہوتا چلا جائے گا- اب یہ نقص ہوتا ہے کہ ایک صریح ظلم کے خلاف شور مچایا جاتا ہے لیکن بوجہ شہادت محفوظ نہ ہونے کے کچھ دن کے بعد اس واقعہ کے یا تو شاہد ہی نہیں ملتے اور اگر شاہد ملیں تو انہیں شہادت یاد نہیں رہتی-
    بیرونی مدد سے گھبرانا نہیں چاہئے
    ریاست کے بعض باشندے اس بات کے کہنے سے گھبراتے ہیں کہ باہر کے لوگ ان کی امداد کرتے ہیں-
    مدد اور تحریک میں فرق
    اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ مدد اور تحریک میں فرق ہے- اگر باہر والوں کے اکسانے سے کشمیر میں شورش ہو تو بیشک یہ عیب ہے- لیکن اگر اندر کی شورش اور ظلم دیکھ کر باہر والے روپیہ اور مشورہ سے مدد کرنے کے لئے آ جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اس قسم کی مدد سے یا اس کا اقرار کرنے سے اہالیان ریاست کے کام کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا-
    ریاست باہر والوں سے مدد لے رہی ہے
    خود ریاست بھی تو باہر کے لوگوں سے مدد لے رہی ہے- کئی آدمی اس نے باہر سے اس لئے منگوائے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو پھسلا کر ان سے دب کر صلح کروا دیں- پس یہ قدرتی امر ہے کہ شور سن کر ہر اک کے ہمدرد اس کے اردگرد جمع ہو جائیں گے- اس کے اقرار میں نہ کوئی نقصان ہے اور نہ ایسی امداد میں کوئی ہرج‘ ہرج تب تھا کہ بے چینی کے اسباب نہ ہوتے لیکن باہر والوں کی انگیخت کی وجہ سے ریاست کے باشندے فساد کرتے- لیکن جب لوگوں کی تکلیف کے بہت سے اسباب موجود ہیں تو پھر باہر والوں پر ناجائز دخل اندازی کا اعتراض کس طرح آ سکتا ہے- ریاست اپنی اصلاح کرے‘ باہر والے خود خاموش ہو جائیں گے-
    اہالیان ریاست کو نصیحت
    آخر میں میں پھر اہالیان ریاست کو نصیحت کرتا ہوں کہ اتحاد اور جذبہ ایثار سے اور اپنے لیڈروں کی اطاعت اور ان کے احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کریں-
    ہر ایک جائز مدد دینے کا وعدہ
    میں اپنی طرف سے اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی طرف سے اقرار کرتا ہوں کہ ہر اک جائز مدد ہم انشاء اللہ ان کی کریں گے- اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جب تک اور جس حد تک ہم سے ہو سکے گا ریاست اور ان کے درمیان وقار والی صلح کرانے کے لئے کوشش کریں گے- اور ہم اللہ تعالیٰ سے امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے فضل سے آپ لوگوں کو بھی اور مہاراجہ صاحب کو بھی ایسے راستہ پر چلنے کی توفیق دے گا جس سے ریاست اور اہل ریاست دونوں کی عزت بڑھے گی اور کشمیر اپنے طبعی ذرائع کے مطابق اپنے ہمسایہ ممالک کے دوش بدوش عزت و اکرام کے مقام پر کھڑا ہوگا- واخر دعوئنا ان الحمدللہ رب العلمین
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    )الفضل ۲۷ ستمبر ۱۹۳۱ء(
    مظالم کشمیر کے متعلق جدوجہد
    امام صاحب بیت الفضل لندن کو بذریعہ تار احکام
    قادیان ۳۰- ستمبر: کشمیر کے حالات سخت نازک ہو رہے ہیں- مارشل لاء جاری کر دیا گیا ہے- تشدد اور مظالم کی انتہاء ہو گئی ہے- اپنے مکانات کی دوسری منزل پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو سپاہیوں کو سلام نہ کرنے کے جرم میں مارا پیٹا جاتا ہے- مسلمانوں کو جھنڈے کی سلامی پر مجبور کیا جاتا ہے جو خلاف اسلام ہے- بعض لوگوں کو >مہاراجہ کی جے< نہ پکارنے پر مارا گیا- ایک مسلمان نے خدا کی قسم کھائی کہ اس نے سلام کر دیا ہے لیکن فوجیوں نے پھر بھی اسے زدوکوب کیا اور مسلمانوں کے خدا کو غلیظ گالیاں دیں- دو مسلمانوں نے رسول کریم ~صل۲~ کی قسم کھا کر کہا انہوں نے سلام کیا ہے لیکن سپاہیوں نے سرورکائنات ~صل۲~ اور آپ کی مقدسہ والدہ کی شان میں بدزبانی کی اور گالیاں دیں- نہتے اور پرامن لوگوں پر گولیاں چلائی گئی ہیں- ایک بے گناہ سلاخیں لگی ہوئی کھڑکی سے دیکھ رہا تھا کہ اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا اور بہانہ یہ بنایا گیا کہ یہ شخص پتھر مارنے کا ارادہ رکھتا تھا- بیسیوں مسلمان ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں- پریس اور حکومت کو اس طرف متوجہ کریں- گول میز کانفرنس کے مندوبین سے اپیل کریں کہ وہ اس بارہ میں کچھ کوشش کریں جو شخص ایسے مظالم اور رسول کریم ~صل۲~ کی شان میں بے ہودہ سرائیوں سے بھی متاثر نہیں ہوتا‘ مسلمانوں کے لئے اس کا وجود اور عدم وجود برابر ہے-
    پریذیڈنٹ آل انڈیا کشمیر کمیٹی- قادیان
    )الفضل ۴- اکتوبر ۱۹۳۱ء(
    مظالم کشمیر کے متعلق وائسرائے ہند کو تار
    قادیان ۳۰- ستمبر: ہز ایکسی لنسی وائسرائے ہند شملہ- کشمیر کے حالات بہت نازک ہو گئے ہیں حکومت کی مداخلت ضروری ہے- مسلمان ان مظالم کی وجہ سے بے حد مشتعل ہیں- اس سلسلہ میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی یور ایکسی لنسی کی خدمت میں ایک چھوٹا سا وفد بھیجنا چاہتی ہے- مہربانی فرما کر اس کی اجازت مرحمت فرمائیں- مفصل خط بھیجا جا رہا ہے-
    پریزیڈنٹ آل انڈیا کشمیر کمیٹی- قادیان
    )الفضل ۴- اکتوبر ۱۹۳۱ء(
    امریکہ کے مبلغ کو بذریعہ تار احکام
    قادیان ۳۰ ستمبر: کشمیر میں مظالم اور تشدد روز افرزوں ہے- اس کے متعلق امریکہ میں پر زور پروپیگنڈا کیا جائے- اخبارات کے ایڈیٹروں‘ مدیروں اور غلامی کا انسداد کرنے والی انجمنوں کے کار پردازوں سے ملاقاتیں کریں اور دورہ کر کے اس موضوع پر لیکچر دیں- چونکہ کشمیری بنی اسرائیل ہیں- اس لئے یہودی انجمنوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی بھی کوشش کریں اور اپنی سرگرمیوں سے بذریعہ تار اطلاع دیتے رہے-
    )الفضل ۴- اکتوبر ۱۹۳۱ء(
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھوالناصر
    مظلومین کشمیر کے متعلق مسلمانان ہندوستان
    اپنا فرض ادا کریں
    ریاست کے تشدد پر اظہار مذمت
    کشمیر کی تازہ خبروں نے تمام مہذب دنیا کو حیرانوششدر کر دیا ہے- باوجود عارضی سمجھوتہ کے ریاست نے مسلمانوں کے کئی مقتدر لیڈروں کو گرفتار کر لیا ہے اور جو لوگ اس فعل پر اظہارناراضگی کرنے کے لئے جمع ہوئے گولی کا نشانہ بنا کر بہت سے آدمی قتل اور زخمی کر دیئے گئے ہیں- یہ وقت ہے کہ ہندوستان کے ہر گوشہ سے ریاست کے اس فعل پر اظہار مذمت ہو تاکہ ریاست کو معلوم ہو جائے کہ ریاست کے باہر کے مسلمان اپنے بھائیوں کے درد میں شریک ہیں- پس میں ہر اک انجمن سے درخواست کرتا ہوں کہ اس فعل پر مذمت کا ووٹ پاس کر کے ریاست کو اطلاع دے-
    مسلمان لیڈروں کی رہائی کا مطالبہ
    اسی طرح چاہئے کہ جناب وائسرائے سے اپیل کی جائے کہ وہ دخل دے کر مسلم لیڈروں کو قید سے چھڑائیں تا کہ مسلمانان کشمیر اپنے مطالبات پیش کر سکیں- جب تک مسلم لیڈر نہ چھوڑے جائیں گے‘ مسلمان اپنے مطالبات پیش نہ کریں گے- اور اگر کوئی شخص بغیر اس کے سمجھوتہ کرے گا تو قومی غدار سمجھا جائے گا-
    کشمیر کے مظلومین کی امداد کی ضرورت
    اسی طرح ضرورت ہے کہ کشمیر کے مظلوموں کی امداد کے لئے ہر جگہ پر چندہ جمع کیا جائے‘ منہ کی ہمدردی کچھ چیز نہیں- جان تو بڑی چیز ہے پہلے کچھ قربانی کر کے دکھانی چاہئے تاکہ اہل کشمیر کو یقین آ سکے کہ ہمارے ہندوستانی بھائی ہم سے سچی ہمدردی رکھتے ہیں- افسوس ہے کہ باوجود بار بار توجہ دلانے کے کل اڑھائی ہزار روپیہ کے قریب چندہ ہوا ہے- جس کا اکثر حصہ ختم ہو چکا ہے- حالانکہ جس طرح جلدی جلدی کشمیر میں حادثات ہو رہے ہیں‘ وہاں کے لوگوں کے لئے ہزاروں روپیہ ماہوار کی امداد کی ضرورت ہے- اگر ہندوستان کے مسلمان بیوائوں‘ یتیموں اور زخمیوں کی امداد کے لئے روپیہ نہ بھیج سکیں گے تو مسلمان کے دشمنوں کو یقین ہو جائے گا کہ مسلمانوں کو ایک ایک کر کے مار لینا آسان کام ہے- پس میری ہر اس شخص سے جس تک میرا یہ اعلان پہنچے‘ درخواست ہے کہ اپنے علاقہ میں اس غرض کے لئے چندہ کر کے مسلم بنک آف انڈیا لاہور کے نام پر ارسال کر دے- اور کوپن پر لکھ دے کہ یہ روپیہ آلانڈیا کشمیر کمیٹی کے حساب میں جمع کیا جائے- اس وقت کی ذرا سی سستی کشمیر کے لوگوں کے لئے سخت تباہی کا موجب ہو گی- پس اگر بھکاریوں کی طرح دروازوں پر بھیک مانگ کر بھی چندہ جمع کرنا پڑے تو چندہ کریں اور جلد ارسال کریں- اس وقت تک شہروں میں سے صرف شملہ‘ مری‘ سیالکوٹ‘ رانی کھیت اور قادیان نے اپنا فرض ادا کیا ہے- باقی شہر یا بالکل خاموش ہیں یا بہت کم توجہ انہوں نے کی ہے حالانکہ یہ وقت سستی کا نہیں ہے-
    یاد رہے کہ اگر کوئی رقم اس تحریک کے ختم ہونے پر بچ رہی تو وہ کشمیر مسلمان کالج یا کشمیری مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم یا کسی اور ایسے کام پر جو ان کے فائدہ کا ہو‘ انہیں سے مشورہ لے کر خرچ کی جائے گی-
    رضا کاروں کی ضرورت
    چونکہ اس کام کے لئے رضا کاروں کی بھی ضرور ت ہے- اس لئے میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے فیصلے کے مطابق اعلان کرتا ہوں کہ جو لوگ اپنے آپ کو ہر قسم کی تکلیف میں ڈال کر کام کرنے کے لئے تیار ہوں اور پیدل سفر اور بھوک پیاس کی تکلیف کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس نیک کام میں حصہ لینا چاہتے ہوں‘ انہیں چاہئے کہ جلد اپنے نام آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے دفتر میں رجسٹر کرا دیں- ہر شخص کو کم سے کم ایک ماہ کے لئے وقف کرنا ہو گا- اور جس وقت آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی طرف سے اطلاع جائے‘ فوراً حاضر ہونا ہو گا- جو کام ان سے لیا جائے گا آئینی ہو گا- لیکن ضروری نہیں کہ ریاست کا نقطہ نگاہ ہم سے متفق ہو اس لئے جو لوگ اپنے آپ کو پیش کریں‘ وہ اس امر کے لئے بھی تیار ہوں کہ اگر انہیں قید و بند کی سختیاں جھیلنی پڑیں تو وہ گھبرائیں گے نہیں- مختلف جگہوں کی لوکل کشمیر کمیٹیاں امید ہے کہ جلد اس طرف توجہ کریں گی-
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    )الفضل یکم اکتوبر ۱۹۳۱ء(
    برادران کشمیر کے نام پیغامات
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھوالناصر
    برادران کشمیر کے نام پہلا پیغام
    برادران! السلام علیکم و رحمہ اللہ وبرکاتہ
    ریاست کشمیر میں جو حالات پیدا ہو رہے ہیں‘ ان کو پڑھ کر ہر مسلمان کا دل دکھ رہا ہے اور ہر اک شخص کا دل ہمدردی سے آپ کی طرف کھنچا جا رہا ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم لوگوں کی طاقت میں جو کچھ بھی ہے اس سے دریغ نہیں کریں گے اور اگر آپ کو تکالیف سے بچانے کے لئے سو سال بھی کوشش کرنی پڑے تو انشاء اللہ وفاداری اور نیک نیتی سے اس کو جاری رکھیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم امید کرتے ہیں کہ صورت حالات جلد بہتر ہو جائے گی کیونکہ ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں اور خدا تعالیٰ زبردست دوست ہمیں عنایت کر رہا ہے-
    برادران! اس موقع پر آپ کو ایک نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ظلم کی شدت کے وقت انسان آپے سے باہر ہو جاتا ہے لیکن کامیابی کا گر صبر ہے- صبر انسان کی طاقت کو بڑھا دیتا ہے اس کی قابلیت کو ترقی دیتا ہے- خدا تعالیٰ رسول کریم ~صل۲~ کو پہلے دن ہی فتح بخش سکتا تھا لیکن اس نے تیرہ سال آپ کو اہل مکہ کے ظلموں تلے اسی وجہ سے رکھا کہ وہ چاہتا تھا کہ مسلمانوں میں حکومت کرنے کی قابلیت پیدا ہو جائے- اس میں شک نہیں کہ آپ مدتوں سے مظلوم ہیں لیکن حق یہ ہے کہ پہلے آپ کے دل میں آزادی کا خیال ہی پیدا نہ تھا اس لئے اس وقت آپ کی خاموشی صبر نہ تھی بلکہ کمزوری تھی- صبر اسی حالت کا نام ہے کہ انسان کا دل مقابلہ کو چاہے لیکن پھر وہ اپنے آپ کو کسی اصول کے ماتحت روک لے‘ یہ حالت انسان کی اعلیٰ درجہ کی تربیت کرتی ہے اور اس میں بڑی قابلیتیں پیدا کر دیتی ہے اور اس کاموقع آپ کو ابھی ملا ہے-
    پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ خواہ کس قدر ظلم ہو آپ لوگ اس کا جواب تشدد سے نہ دیں بلکہ صبر اور قربانی سے دیں اور اس وقت کو تنظیم اور ایثار ا ور قربانی سے خرچ کریں- تب اللہ تعالیٰ کا فضل آسمان سے بھی نازل ہو گا یعنی اس کی براہ راست مدد بھی آپ کو حاصل ہو گی اور زمین سے بھی ظاہر ہو گا یعنی اس کے بندوں کے دل بھی آپ کی مدد اور ہمدردی کے جذبات سے لبریز ہو جائیں گے-
    دوسری بات میں یہ کہنی چا ہتا ہوں کہ آپ لوگ قطعی طور پر صلح سے انکار کر دیں جب تک کہ آپ کے گرفتار شدہ لیڈر رہا نہ ہو جائیں- یہ مصلحت کے بھی خلاف ہو گا اور غداری بھی ہو گی کہ آپ کے لئے قربانی کرنے والے جیل خانہ میں ہوں اور آپ ان سے بالا بالا صلح کرلیں- جس وقت تک ایک نمائندہ بھی قید میں ہو اس وقت تک صلح کی گفتگو نہیں ہونی چاہئے- جب سب آزاد ہو جائیں پھر سب مل کر اور مشورہ سے اور اتحاد سے اپنی قوم کی ضرورتوں کو مہاراجہ صاحب کے سامنے پیش کریں- تو میں امید کرتا ہوں کہ مہاراجہ صاحب جن پر میں اب تک بھی حسن ظن رکھتا ہوں‘ آپ لوگوں کی تکلیفوں کو دور کریں گے- اور آپ لوگوں کو موقع مل جائے گا کہ اپنے پیار ملک کی ترقی کے لئے دل کی خواہش کے مطابق کام کر سکیں-
    آخر میں میں پھر سب مسلمانوں کی ہمدردی کا یقین دلاتے ہوئے اس بات کا وعدہ کرتا ہوں کہ انشاء اللہ ہم لوگ اپنی طاقت کے مطابق آپ لوگوں کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہیں اور انشاء اللہ تیار رہیں گے‘ اس کے لئے کام کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے-
    والسلام
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی
    )تاریخ احمدیت جلد۲ ضمیمہ نمبر۱ صفحہ۱‘۲ مطبوعہ ۱۹۶۵ء(
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    ریاست کی جلد بازی اور بے تدبیری نے حالات بہت خراب کر دیئے
    اخبارات کے ایک نمائندہ نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے کشمیر کے تازہ قیامت خیز حالات کے متعلق اظہار رائے کی درخواست کی- تو حضور نے بحیثیت صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی فرمایا-
    ہمیں ان فسادات کا ریاست سے کم افسوس نہیں لیکن ہمیں رنج اس بات کا ہے کہ ریاست کی جلد بازی سے دائمی امن کے قیام میں رخنہ پڑ گیا ہے- اگر وہ کچھ دن صبر سے کام لیتی تو یقیناً اس کے لئے مفید ہوتا-
    ریاست کے ناقابل تسلیم بیانات
    آپ نے فرمایا کہ مجھے افسوس ہے کہ ریاست ایسے بیانات شائع کر رہی ہے جنہیں کوئی عقلمند تسلیم نہیں کر سکتا- کہا جاتا ہے کہ مسلم لیڈر خفیہ طور پر حکومت کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں- ہر شخص جانتا ہے کہ تمام ہندوستانی ریاستیں حکومت برطانیہ کی حفاظت میں ہیں اور ان کے خلاف بغاوت برطانیہ کے خلاف بغاوت کے مترادف ہے- پس یا تو ریاست کے اس اعلان کا یہ مطلب ہے کہ حکومت برطانیہ شورش برپا کرا رہی ہے- یا اس کے یہ معنے ہیں کہ کشمیر کے مسلمان اس قدر بہادر اور جنگجو ہو گئے ہیں کہ جس کام کو سرانجام دینے کی کانگرس بھی جرات نہ کر سکی‘ وہ اس کا ارادہ کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت برطانیہ اور ریاست دونوں کو برباد کریں دیں کیونکہ ریاست کی حکومت یا تو برطانیہ کی مرضی سے یا خود برطانیہ کو تباہ کر کے تباہ کی جا سکتی ہے کیا کوئی عقل مند اس قسم کی باتیں تسلیم کر سکتا ہے؟
    مطالبات پیش کرنے میں کیوں دیر ہوئی
    آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مسلمانوں کی طرف سے مطالبات پیش کرنے میں جو دیر ہوئی ریاست کی کمیونک (COMMUNIQUE) میں اسے بھی اشارۃ سازش کا ثبوت قرار دیا گیا ہے- چونکہ مطالبات کی تیاری کے بارے میں مجھے ذاتی علم ہے‘ میں اس کی بھی تردید کرنی چاہتا ہوں-اصل بات یہ ہے کہ مطالبات اور شے ہے اور ان کا صحیح قانونی زبان میں لکھنا اور شے ہے- ۲۶-اگست کو صلح ہوئی ہے اور اسی وقت سے نمائندگان قوم پبلک کی شکایات جمع کرنے میں مصروف ہو گئے- ان کے سامنے دو زبردست کام تھے- ایک یہ کہ ضروری مطالبات باقی نہ رہ جائیں اور دوسرے یہ کہ غیر ضروری مطالبات فہرست میں شامل نہ ہو جائیں- عوام کو اس امر پر مائل کرنا کہ وہ اپنے کم ضروری مطالبات کو فی الحال نظر انداز کر دیں‘ کوئی معمولی بات نہیں- اگر سب کے سب مطالبات پیش کر دیئے جاتے تو کئی سو ہو جاتے اور انہیں رد کرنے سے ریاست کے لئے سخت مشکل پیدا ہو جاتی- نمائندوں نے ریاست کی خدمت کی اور اس پر احسان کیا کہ ایسے مطالبات کو جو زیادہ اہم نہ تھے نظر انداز کر دیا- اس کے بعد انہوں نے آئین اساسی کے ماہرین سے قانونی زبانی میں اپنے مطالبات کو لکھوایا- یہ دونوں کام قریباً تین ہفتے میں ختم ہوئے- جو عرصہ بجائے زیادہ ہونے کے اس قدر کم ہے کہ ہر عقلمند اسے استعجاب کی نگاہ سے دیکھے گا لیکن ریاست نمائندوں کی اس خدمت پر شکر گزار ہونے کی بجائے اسے قابل اعتراض اور سازش کا ثبوت قرار دیتی ہے- چونکہ مطالبات کے آخری ڈرافٹ کا کام اور قانون دان لوگوں سے مشورہ میرے ہی ذریعہ سے ہوا ہے‘ اس لئے میں پبلک کے سامنے واقعات کو پیش کر کے پوچھتا ہوں کہ کیا یہ توقف ناجائز تھا اور کیا اس بارہ میں نمائندوں کی کوشش قابل تحسین تھی یا قابل مذمت-
    ریاست کے بے تدبیر مشیر
    ہم لوگوں کو جو ریاست سے باہر ہیں اس قسم کے اعلانات کو دیکھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ ریاست کا کام اس وقت ایسے ہاتھوں میں ہے جو مہاراجہ بہادر کو کم فہمی کی وجہ سے بدنام کر رہے ہیں- کاش وہ ہزہائی نس مہاراجہ کو حقیقت حال سے آگاہ کرتے اور بتاتے کہ ان کی مسلم رعایا دوسری رعایا سے کم وفادار نہیں اور مستقل امن کی صورت پیدا کرتے- آج کل ساری دنیا کی نگاہ اس قضیہ پر لگی ہوئی ہے اور حکام کی غلطی مہاراجہ صاحب کی طرف منسوب کی جاتی ہے-
    اب کس طرح صلح ہو سکتی ہے
    اس سوال کے جواب میں کہ کیا اب بھی صلح کی کوئی صورت ہے؟ آپ نے فرمایا‘ بلاوجہ خون ریزی اور لیڈروں کی گرفتاری نے حالات بہت خراب کر دیئے ہیں اور پبلک میں اس حد تک جوش پیدا کر دیا ہے کہ اندیشہ ہے بعض لوگ اپنے آپ کو تباہ کر لینے پر تیار ہو جائیں اور کہہ دیں کہ مر جائیں گے مگر صلح نہیں کریں گے- لیکن اگر فی الفور قید شدہ لیڈروں کو آزاد کر دیا جائے تو میں امید کرتا ہوں کہ کشمیر کے نمائندے ہر ممکن کوشش صلح کی فضاء پیدا کرنے اور مطالبات کو فوراً پیش کرنے کے لئے کریں گے-
    )الفضل ۴- اکتوبر ۱۹۳۱ء(
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھوالناصر
    برادران ریاست کشمیر کے نام دوسرا پیغام
    برادران کشمیر! آپ لوگوں سے جو سلوک اس وقت ہو رہا ہے اسے سن کر ہر مسلمان کا کلیجہ منہ کو آ رہا ہے اور تمام ہندوستان میں غم و غصہ کی ایک لہر پھیل رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی پورا زور لگا رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ جلد اس کی کوششیں نتیجہ خیز ہوں گی اور اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کی مشکلات دور فرما کر بہتری کی صورت پیدا کر دے گا-
    برادران! اس وقت بعض خود پرست لوگ مہاراجہ صاحب کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی زبان بن رہے ہیں اور ان تک جھوٹی رپورٹیں کر کے انہیں آپ لوگوں کے خلاف بھڑکا رہے ہیں- کہیں ایک باتصویر جھنڈے کو مشرکانہ طریق پر سلام کروایا جا رہا ہے اور کہیں ٹکٹکیوں پر کس کر بید لگائے جا رہے ہیں اور کہیں بانی اسلام ~صل۲~ اور اسلام کو گالیاں دلوائی جا رہی ہیں لیکن یہ سب کچھ عارضی مصیبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کچھ عرصہ میں دور ہو جائیں گی- ایک طالب علم‘ علم کے حصول کے لئے پندرہ سال رات دن محنت کرتا ہے- ایک نان پز ایک روٹی پکانے کے لئے تین دفعہ آگ میں جھکتا ہے- پھر آپ لوگ جو صدیوں کی تیار کردہ غلامی کی زنجیریں کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں ان تکالیف کو جو آپ کو پیش آ رہی ہیں کب خاطر میں لا سکتے ہیں- یہ تکلیفیں تو کچھ نہیں ان سے ہزاروں گنے تکالیف بھی اس کام میں پیش آئیں تو ان کی پروا نہیں کرنی چاہئے- ایک بات ضروری ہے کہ آپ لوگ اپنی طبائع میں جوش پیدا نہ ہونے دیں اور اگر پبلک میں آپ کو بولنے کی اجازت نہیں تو اس وقت اپنے گھروں میں ظلموں کی داستانیں بیان کریں اور رات کو سونے سے پہلے اپنی بیویوں‘ بہنوں اور بچوں کو نصیحت کریں کہ غلامی کی زندگی سخت ذلت کی زندگی ہے انہیں اپنے باپ دادوں کی مصیبتوں کو یاد رکھنا چاہئے اور ان غلامی کی زنجیروں کو کاٹنے کی کوشش کرنی چاہئے- یاد رکھیں کہ مظلومیت آخر کامیاب ہوتی ہے اور بچپن میں کان میں ڈالی ہوئی باتیں پتھر کی لکیر کی طرح ثابت ہوتی ہیں- پس جن تقریروں سے آپ کو باہر روک دیا گیا ہے وہ تقریریں آپ میں سے ہر شخص رات کے وقت اپنے اپنے گھر میں گھر کی عورتوں اور بچوں کے سامنے کرے کہ اس سے سارے ملک کی تربیت بھی ہوتی چلی جائے گی اور باہر کی تقریروں کا جو مقصد تھا اس طرح اور بھی زیادہ عمدگی سے پورا ہوتا رہے گا- بلکہ میں تو کہوں گا کہ جو شخص اکیلا ہے اسے چاہئے کہ رات کو سونے سے پہلے خواہ اونچی آواز سے خواہ دل میں ایک دفعہ ان ظلموں کا ذکر کر لیا کرے جو امن کے قیام کے نام سے گذشتہ دنوں میں کشمیر میں روا رکھے گئے ہیں-
    دوسری نصیحت میں یہ کرتا ہوں کہ آپ لوگ رات کو سونے سے پہلے سب گھر والوں کو جمع کر کے اپنے ان لیڈروں کی آزادی کے لئے جو اپنے کسی جرم کے بدلے میں نہیں‘ بلکہ صرف آپ لوگوں کو انصاف دلانے کے لئے جیل خانوں میں پڑے ہوئے ہیں‘ رو رو کر دعائیں کریں- تاکہ آپ کی دعائیں عرش عظیم کو ہلائیں اور وہ شاہنشاہ جو سب بادشاہوں پر حکمران ہے آپ کی مصیبت کو دور کرنے کے لئے اپنے فرشتوں کو بھیجے- اصل میں تو زبردست بادشاہ بھی اللہ تعالیٰ کی مدد کے ہر وقت محتاج ہوتے ہیں لیکن مظلوم اور کمزور کا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے- پس روز رات کو اپنے اپنے گھروں میں اسے پکاریں اور بچوں کو ساتھ شامل کریں تا ان کے دل میں بھی درد پیدا ہو- اور تا شاید ان معصوموں کی دعائوں سے ہی اللہ تعالیٰ آپ کے مظلوم لیڈروں اور دوسرے قومی خادموں کو قید و بند کی تکالیف سے بچائے-
    اسی طرح وہ لیڈر جو ابھی تک آزاد ہیں ان کے لئے بھی دعائیں کیا کریں کہ خدا تعالیٰ ان پر بھی اپنا فضل کرے اور انہیں ان کی قومی خدمتوں کا بہت بڑا اجر دے- آپ لوگ اگر سمجھیں تو اللہ تعالیٰ کا آپ پر بڑا فضل ہے کہ دونوں میرواعظان کو اس نے قومی درد عطا فرمایا اور وہ سب جھگڑے بھلا کر دوش بدوش ہر اک قسم کی تکلیف برداشت کر کے آپ لوگوں کے لئے کام میں لگے ہوئے ہیں- ان کا یہ اتحاد اور ان کی یہ قربانی ضائع نہیں جائے گی اور اللہ تعالیٰ جہاں انہیں نیک بدلہ دے گا وہاں اس قربانی کے بدلہ میں آپ لوگوں کو بھی کامیاب کرے گا-
    ہم لوگوں سے جس قدر ہو سکتا ہے کام کر رہے ہیں- میں نے بحیثیت صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی اب پہلے سے بہت زیادہ کام کرنا شروع کر دیا ہے- چاروں طرف آدمی مسلمانوں کو حالات سے آگاہ کرنے کے لئے بھجوا دیئے ہیں اور چندہ پر بھی آگے سے بہت زیادہ زور دینا شروع کر دیا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہندوستان کے مسلمان ہر قسم کی مالی اور جانی امداد آپ کو بہم پہنچاتے رہیں گے- آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے تجویز کی ہے کہ پہلے اچھی طرح حکومت ہند پر اتمام حجت کر دے اور اس کے لئے حضور وائسرائے کو توجہ دلائی جا رہی ہے- چنانچہ پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کے تار سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس وقت حکومت ہند اور ریاست میں تازہ مظالم کے متعلق خط و کتابت ہو رہی ہے- ہم چاہتے ہیں کہ اگر حکومت ہند فوراًدخل دینے کے لئے تیار نہ ہو تو ہم لوگ خود ایسی تدابیر اختیار کریں جن سے حکومت ہند اور ریاست آپ لوگوں کے مطالبات پر غور کرنے کے لئے مجبور ہو-
    ہر ایک کام میں تب ہی کامیابی ہوتی ہے جب پورے نظام سے کیا جائے اس لئے تمام پہلوئوں کو سوچ کر قدم اٹھانا ضروری ہوتا ہے- پس میں آپ کو بھی یہ نصیحت کرتا ہوں کہ کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے ریاست کو خواہ مخواہ دخل دینے کا موقع ملے اور وہ بیرونی دنیا کو کہے کہ ہم تو مجبور ہو کر سختی کرتے ہیں ورنہ ابتداء مسلمانوں کی طرف سے ہے- اب بھی وہ یہی کہتی ہے‘ چنانچہ ایک معزز صاحب نے مجھ خط لکھا ہے کہ میں گاندھی جی کے ساتھ جہاز میں تھا میں نے انہیں کشمیر کے واقعات کی طرف توجہ دلائی تو انہوں نے کہا کہ میری یہ تحقیق ہے کہ سب شرارت مسلمانوں کی ہے اور ریاست مظلوم ہے- وہ صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے سختی سے گاندھی جی کو توجہ دلائی کہ اس قدر بڑے لیڈر ہو کر آپ اس قدر تعصب سے کام لیتے ہیں اور بغیر تحقیق کے مسلمانوں کو ظالم قرار دیتے ہیں- تو اس پر انہوں نے کہا کہ میں بھی تم کو قسم دیتا ہوں کہ کشمیریوں کا مظلوم ہونا ثابت کرو ورنہ تم کو میں سخت بددیانت سمجھوں گا- آپ لوگ دیکھ لیں کہ گاندھی جی جیسے انسان کو جنہیں ہر دلعزیز بننے کا نہایت شوق ہے بعض حکام ریاست نے دھوکا دے کر اس قدر متعصب بنا دیا ہے تو دوسرے لوگوں کا کیا حال ہو گا- پس آپ کو چاہئے کہ اپنے مظلوم ہونے کی حالت کو بالکل نہ بدلیں- بید بیشک تکلیف دہ ہیں‘ قید بے شک ایک مصیبت ہے لیکن ان تکلیفوں سے بہت زیادہ رسول کریم ~صل۲~ نے اور آپﷺ~ کے صحابہؓ نے برداشت کی تھیں- ظلم کے پائوں نہیں ہوتے ظلم بھی دیر تک قائم نہیں رہ سکتا- کانٹوں کے ساتھ ہی پھول ہوتے ہیں گلاب کے درخت میں پھول کانٹے لگتے ہیں پھر پھول آتا ہے- پس ان کانٹوں کو صبر سے برداشت کرو تا گلاب کا پھول آپ کو دیا جائے- اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو- اس خط کے مضمون کو جہاں تک ہو سکے اپنے دوستوں تک پہنچائو- حتی کہ کشمیر کا ہر مرد اور ہر عورت اور ہر بچہ اس کے مضمون سے آگاہ ہو جائے- میں انشاء اللہ جلد ہی تیسرا خط آپ لوگوں کو لکھوں گا- خدا کرے اس خط میں میں آپ لوگوں کو کوئی بشارت دے سکوں اور اس وقت تک آپ کے لیڈر آزاد ہو چکے ہوں-
    مرزا محمود احمد
    صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی
    )تاریخ احمدیت جلد۶ ضمیمہ نمبر۱ صفحہ۳ تا ۵ مطبوعہ ۱۹۶۵ء(
    )۴- اکتوبر ۱۹۳۱ء(
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھوالناصر
    برادران ریاست کشمیر کے نام تیسرا پیغام
    برادران کشمیر! السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ
    میرا دوسرا مطبوعہ خط آپ کو مل گیا ہو گا- مجھے خوشی ہے کہ چار تاریخ کی صبح کو جو میں نے لکھا تھا کہ جب میرا تیسرا خط آپ کو پہنچے گا تو انشاء اللہ آپ کے لیڈر آزاد ہو چکے ہوں گے وہ بات صحیح ثابت ہوئی- اور اب میں ایسے ہی وقت میں خط لکھ رہا ہوں جبکہ ہمارے بھائی آپ کے لیڈر آزاد ہو چکے- برادران! یہ وقت آپ پر نہایت نازک ہے احتیاط کی سخت ضرورت ہے اور ذرہ سی لغزش خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہے- پس ان دنوں خاص طور پر اتحاد عمل اور خلوص نیت کی ضرورت ہے- چنانچہ میں نے باوجود اس کے کہ احرار کی طرف سے ہمارے خلاف متواتر حملے ہوئے صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی حیثیت سے اس کی تمام شاخوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جس قسم کی امداد اپنے پروگرام کو قائم رکھتے ہوئے کر سکیں کر دیں جیسے مثلاً طبی امداد- پس کشمیر میں جہاں اصل جنگ ہو رہی ہے اتحاد کی زیادہ ضرورت ہے- دشمن ہمیشہ تفرقہ پیدا کر کے فائدہ اٹھایا کرتا ہے- اور یقیناً مسلمانوں کے بدخواہ احمدی‘ غیر احمدی‘ سنی‘ شیعہ‘ وہابی‘ حنفی‘ دیوبندی اور بریلوی اور اس قسم کے اور سوال پیدا کر کے مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنا چاہیں گے لیکن یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں- سیاسی معاملات میں آپس کا اتفاق نہایت ضروری ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نعمتوں میں سے ہے- پس آپ کو دشمنوں کے اس قسم کے فریبوں میں نہیں آنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے اپنی آزادی کے لئے پوری کوشش کریں- میں آپ سے بحیثیت صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی بھی اور بحیثیت امام جماعت احمدیہ ہونے کے بھی پورا وعدہ کرتا ہوں کہ ہم لوگ انشاء اللہ آپ کی ہر طرح مدد کریں گے اور کرتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ آپ کی تکالیف دور ہو جائیں اور آپ کو آزادی کا سانس لینا نصیب ہو اور خدا تعالیٰ آپ کو دشمنوں کے شر سے بچائے-
    میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کی کامیابی کے سامان پیدا ہو چکے ہیں لیکن میں آپ کو اس امر کے لئے ہوشیار بھی کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کی ترقی خود آپ کی قربانی پر منحصر ہے- جب تک آپ لوگ خود ایک لمبی قربانی کیلئے تیار نہ ہوں گے باوجود ریاست سے حقول مل جانے کے آپ ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے- لیکن اگر آپ اپنی اصلاح کرنے کے لئے تیار ہوں تو آل انڈیا کشمیر کمیٹی ہر طرح آپ کی امداد انشاء الل¶ہ کرتی چلی جائے گی- اس وقت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے انگلستان کی وزارت پر اور ہندوستان کی حکومت پر اس نے اس قدر اثر ڈالا ہے کہ ریاست کو فکر پڑ گئی ہے اور وہ توجہ کرنے پر مجبور ہو گئی ہے اور آئندہ انشاء اللہ ہم کو اس سے بھی زیادہ امید ہے- میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ ریاست کے گوشہ گوشہ میں کمیٹیاں بنا لیں گے تا کہ آئندہ تعاون میں دقت نہ ہو اور اپنے لیڈروں کی اطاعت کا مادہ پیدا کریں گے تا کہ کامیابی میں روک نہ ہو-
    والسلام
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    )تاریخ احمدیت جلد۶ ضمیمہ نمبر۱ صفحہ۵‘۶ مطبوعہ ۱۹۶۵ء(
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    مسلمانان کشمیر کے مطالبات کے متعلق
    مہاراجہ بہادر کے اعلان پر تبصرہ
    قادیان ۳۰-اکتوبر- مہاراجہ صاحب کشمیر نے مسلم نمائندگان کو جو جواب دیا ہے اسے میں نے بہت دلچسپی سے پڑھا ہے- اس میں کئی ایک ایسی باتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مہاراجہ صاحب کے دل میں اپنی رعایا کو مطمئن کرنے کی پوری خواہش ہے لیکن بدقسمتی سے اس میں کوئی تعمیری پروگرام نہیں بیان کیا گیا اور بہت کچھ تفصیلات پر منحصر ہے جو ابھی پردہراز میں ہیں-
    کیا ہی اچھا ہوتا اگر مہاراجہ صاحب فوری اعلان کر دیتے کہ ان کی رعایا کو بغیر کسی مزید تاخیر کے انسانیت کے وہ تمام ابتدائی حقوق عطا کر دیئے جائیں گے جو میموریل کی ابتداء میں درج ہیں اور جن سے وہ اس وقت تک محروم چلی آتی ہے- ایسے اعلان کے لئے کسی لمبیچوڑے غور و خوض کی ضرورت نہ تھی کیونکہ یہ حقوق نہ صرف برٹش انڈیا میں بلکہ تمام متمدن ممالک میں خواہ وہ تہذیب کے کسی درجہ پر کیوں نہ ہوں رعایا کو حاصل ہیں-
    مہاراجہ صاحب کے لئے بہترین طریق یہ تھا کہ ان تمام قوانین کو منسوخ کر دیتے جو غیرمتعلق اشخاص کے نزدیک بھی ان کی رعایا کی ذہنی و اقتصادی ترقی کے لئے مضر ہیں- ایسے امور کے تصفیہ کیلئے جو زیادہ غور و فکر کے محتاج ہیں‘ کشمیر میں ایک گول میز کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کر دیتے اور ساتھ ہی مسلم نمائندوں کی ایک کمیٹی مقرر کر دیتے جو وزراء کے سامنے اپنی شکایات پیش کرتی- جن کا دور کرنا رعایا کا اعتماد حاصل کرنے میں بہت ممد ہوگا-
    مہاراجہ صاحب کی طرف سے دلال کمیشن کی رپورٹ کی تائید نے اس اعلان کے مفید اثر کو بہت حد تک کمزور کر دیا ہے کیونکہ اس رپورٹ کی نہ صرف مسلمانوں نے بلکہ انگریزوں کے اخبارات نے بھی مذمت کی ہے اور یہ بعض صحیح‘ بعض نیم صحیح اور بعض بالکل بے بنیاد بیانات کے ایک مرقع سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی- اور اگر اب بھی ایسے ہی کمیشن مقرر کئے گئے تو ان کا نتیجہ ابھی سے ہی معلوم کیا جا سکتا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ ان سے نہ مسلمانوں کو اطمینان ہوگا اور نہ ہی غیر متعلق بیرونی دنیا کو-
    مہاراجہ صاحب کے دل میں اپنی رعایا کو مطمئن کرنے کی حقیقی خواہش موجود ہے اور ان کے جواب میں بعض نقائص اس عجلت کا نتیجہ ہیں جس میں یہ جواب تیار کیا گیا- گہرے غور کے بعد ہز ہائی نس ان کوتاہیوں کو دور کر دیں گے تا کہ ان کی رعایا امن و خوشحالی کی زندگی بسر کر سکے-
    یہ میری ذاتی رائے ہے اور باقاعدہ اعلان اس وقت کیا جائے گا جب کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ایک فوری اجلاس میں تمام معاملہ پر غور کر لیا جائے گا)-الفضل ۲۲- اکتوبر ۱۹۳۱ء(
    تحریک آزادی کشمیر کے تعلق میں
    حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے بعض اہم مکتوبات
    مکتوب نمبر۱: الفیض لاہور- ۲۵ اکتوبر ۱۹۳۱ء
    مکرمی درد و غزنوی صاحب- السلام علیکم ورحمہ اللہ- آپ لوگوں کے کام سے نہایت خوش ہوں- اللہ تعالیٰ کامیاب فرمائے- میں نے کل تار دیا تھا کہ بدھ تک کام بند کر دیں- جواب بھی مل گیا ہے- اس عرصہ میں احرار نے اعلان کیا ہے کہ جیون لال کی تار آئی ہے کہ میں آپ لوگوں سے ملنے کے لئے آ رہا ہوں- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکام دو طرفہ چال چل رہے ہیں- میں نے صاف کہہ دیا ہے کہ معاملہ کو صاف کریں- واللہ اعلم کیا بات ہے- ابھی ان کا پیغام آیا ہے کہ یہ بات بھی غلط ہے کہ جیون لال وہاں سے چلے ہیں‘ وہ اب تک وہیں ہیں-
    کل کی تار کا موجب وزیر اعظم کی تار تھی کہ تقریریں رکوائیں- رات کو یہ سمجھوتہ ہوا تھا کہ میں جائوں اور میری موجودگی میں نمائندوں سے ریاست فیصلہ کرے اور ابتدائی حقوق کا اعلان کرے اور کمیشن میں مناسب تبدیلی کرے- لیکن جب میں صبح اس غرض سے آدمی بھیجنے والا تھا تو وہ دوست جن کی معرفت کام ہو رہا تھا آئے اور خواہش ظاہر کی کہ مہاراجہ صاحب سردی سے تکلیف میں ہیں‘ وقت لمبا کر دیا جائے وہ جموں تشریف لے آئیں تو آسانی ہوگی- میں نے کہا کہ بغیر اس کے کہ حقوق کا اعلان ہو اور میعاد بڑھانے کو تیار نہیں- جموں ہمارے لئے مضر ہے کہ وہاں ہندوئوں کا زور ہے- انہوں نے کہا کہ وہ کونسے امور ہیں جن کا اعلان ضروری ہے- میں نے وہ امور لکھوا دیئے- اس پر انہوں نے کہا کہ اگر وہ نہ مانیں- میں نے جواب دیا کہ پھر ریاست سے مقابلہ ہوگا- اور کہا- ہاں وہ تبدیلیاں پیش کریں تو بے شک میں غور کرنے کو تیار ہوں- انہوں نے کہا کہ اگر مہاراجہ خود بلا کر نمائندوں سے کہیں کہ کچھ دن کی اور مہلت دے دو- میں نے کہا کہ اس میں ان کی فتح ہے- میں سفارش کروں گا کہ کچھ دن اور بڑھا دو باقی اپنی مصلحت وہ خود سمجھ سکتے ہیں- اس پر انہوں نے کہا کہ اگر یوں ہو کہ کچھ مہلت مل جائے اور اس عرصہ میں وقت مقرر ہو کہ راجہ ہری کشن کول صاحب باہر آ کر آپ سے ملیں- میں نے کہا کہ مجھے ان سے ملنے کا شوق نہیں- اصل سوال تو اہل کشمیر کے خوش ہونے کا ہے اگر وہ ساتھ ہوں اور خوش ہو جائیں تو مجھے کچھ اعتراض نہیں- اس پر وہ تینوں تجویزیں لے کر گئے ہیں- لیکن جیون لال صاحب کی تار نے اور آپ کی تار نے شبہ ڈال دیا ہے اس لئے آپ لوگ بھی ہوشیار رہیں-
    گلنسی صاحب کے متعلق الگ ہدایات میں ذکر کروں گا- نہایت مخفی بات ہے- احرار باہر یہ مشہور کر رہے ہیں کہ قادیانی پروپیگنڈا کی وجہ سے ہمیں آنا پڑا- لیڈروں نے روپیہ کھا لیا ہے اور مصنوعی تاریں دلوا رہے ہیں کہ نمائندوں پر ہمیں اعتبار نہیں آپ لوگ اس سے بھی ہوشیار رہیں-
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    )اوپر جن تجاویز کا ذکر آیا ہے- ان کا مسودہ حضور کے قلم سے درج ذیل کیا جاتا ہے(-
    عارضی معاہدہ کی شرائط
    ۱-
    ‏]din [tag میر پور‘ کوٹلی‘ راجوری‘ کشمیر و پونچھ وغیرہ کے فسادات کے متعلق ایک کمیشن جس میں ایک جج مسلمان ایک ہندو اور ایک انگریز ہو مقرر کر دیا جائے- ایسے جج ہوں جن پر فریقین کو اعتماد ہو-
    ۲-
    ان علاقوں میں فوراً کم سے کم پچاس فی صدی افسر یعنی وزیر وزارت‘ سپرنٹنڈنٹ پولیس‘ انسپکٹران پولیس‘ مجسٹریٹ درجہ اول و دوم مسلمان مقرر کر دیئے جائیں اور موجودہ تمام افسر وہاں سے بدل دیئے جائیں- گورنر کشمیر کو بھی وہاں سے فوراً بدل دیا جائے-
    ۳-
    قانون‘ پریس اور ایسوسی ایشنز انگریزی اصول پر فوراً جاری کر دیئے جائیں- قانون‘ آزادی تقریر ابھی جاری ہو جائے- لیکن اگر اس کا اجراء دو تین ماہ کیلئے بعض قیود کے ماتحت ہو تو معقول قیود پر اعتراض نہ ہوگا-
    ۴-
    معاملہ وکاہ چرائی و ٹیکس درختاں وغیرہ کے متعلق ایک کمیشن مقرر کر کے مزید کمی کی جائے اور جہاں مناسب چراگاہیں نہیں وہاں کاہ چرائی کا ٹیکس بالکل اڑا دیا جائے- جہاں چراگاہیں ہیں وہاں اس میں معقول تخفیف کی جائے-
    ۵-
    معاملہ کے لگانے میں جو زیادتیاں اور بے قاعدیاں ہوئی ہیں اور مسلمانوں پر زائد بوجھ ڈالا گیا ہے اس کی اصلاح کی جائے-
    ۶-
    جن جن علاقوں کے لیڈر سول نافرمانی بند کرنے کا اعلان کریں اور جہاں لوگ معاملہ دینے لگ جائیں یا دے چکے ہوں‘ وہاں سے آرڈیننس ہٹا دیا جائے- بعض افراد کے جرم قوم کی طرف منسوب نہ ہوں کثرت دیکھی جائے کہ کدھر ہے-
    ۷-
    چونکہ مسلمانوں کو واقع میں روپیہ نہیں ملتا- جن لوگوں کے پاس روپیہ نہیں معقول شرائط پر معاملہ کی ادائیگی کے لئے انہیں قرض دلوایا جائے- ورنہ جب ان کے پاس ہو ہی نہ تو انہیں مجرم قرار نہ دیا جائے-
    ۸-
    فیصلہ کر دیا جائے کہ دس سال کے عرصہ میں کم سے کم پچاس فیصدی افسر اور ماتحت عملہ قریباً مسلمانوں میں سے مقرر کیا جائے گا اور اس کیلئے ایسے قواعد تجویز ہو جائیں گے کہ اس فیصلہ پر عمل ہونا یقینی ہو جائے-
    ۹-
    جو سیاسی قیدی اس سمجھوتہ پر دستخط کر دیں ان کو رہا کر دیا جائے اور جن ملزموں کے متعلق مسلمانوں کو شبہ ہو کہ ان کا اصل جرم سیاسی ہے صرف ظاہر میں کوئی اور الزام لگایا گیا ہے ان کے کیس پر غور کرنے کے لئے ایک ایسا جج جس پر مسلمانوں کو اعتماد ہو مقرر کیا جائے-
    ۱۰-
    جو مستقل مطالبات ۱۹ اکتوبر ۱۹۳۱ء کو مسلمان نمائندوں کی طرف سے پیش کئے گئے ہیں‘ ان کے متعلق چھ ماہ کے اندر ریاست اپنا آخری فیصلہ شائع کر دے-
    )تاریخ احمدیت جلد۶ ضمیمہ نمبر۲ صفحہ ۵۱ تا ۵۳(
    تحریک آزادی کشمیر کے تعلق میں مکتوب نمبر۲
    مکرمی درد صاحب- السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ-
    ایک خط ابھی غزنوی صاحب کو لکھا ہے اس کے ضروری مطالب سے وہ آپ کو آگاہ کر دیں گے- جموں کے واقعات سخت قابل افسوس ہیں- بالا بالا کام سے سب کوشش کے تباہ ہونے کا اندیشہ ہے اللہ تعالیٰ رحم فرمائے- اگر اس طرح ایک جگہ کام شروع نہ کیا جاتا تو اس طرح بے دردی سے حملہ کرنے کی ریاست کے عمال کو جرات نہ ہوتی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو نظام کی پابندی کی توفیق دے-
    سیاہ نشان کے پروگرام کے متعلق اطلاع نہیں ملی- اس طرح کشمیر کے لوگوں کی حقیقی تعداد کا جو اس تحریک سے دلچسپی لیتی ہے خوب پتہ لگ جاتا- اور دلوں میں ہر وقت آزادی کی لہر دوڑتی رہتی- نہ معلوم ابھی تک عمل شروع ہوا یا نہیں- یہ پروگرام بہترین تعمیری پروگرام ہے اور ایک رنگ میں مردم شماری- کیونکہ ہر سیاہ نشان لگانے والا بغیر ایک لفظ بولنے کے اپنے مقصد کی تبلیغ بھی کرتا اور دوسرے ایک نظر سے معلوم ہو سکتا کہ کس حد تک لوگ ہمدردی رکھتے ہیں- گویا دل بھی مضبوط ہوتے‘ پروپیگنڈا ہوتا‘ اپنوں کو اپنے اثر کا علم ہوتا اور ریاست پر رعب پڑتا- اگر عمل نہیں ہوا تو اب توجہ دلائیں- ظاہری نشانات باطنی حالتوں پر خاص روشنی ڈالتے ہیں-
    کل آپ کی تار قانونی امداد کے متعلق ملی ہے- پہلے لکھ چکا ہوں کہ قانونی امداد تیار ہے- لیکن سوال تو یہ ہے- )۱( مقدمات کب شروع ہوں گے- )۲( کوشش ہو کہ ایک مجسٹریٹ متواتر سنے- ) ( کمیشن کا اس وقت تک بائیکاٹ ہو جب تک پہلے کمیشن کی رپورٹ رد نہ ہو اور نئے کمیشن کو مسلمانوں کی مرضی کے مطابق نہ بنایا جائے- ورنہ دوسرا کمیشن بھی مضر ہوگا- اور جب تک مسلمانوں کی مظلومیت ثابت نہ ہو کانسٹی ٹیوشنل کمیشن پر زور سفارش نہیں کر سکتا-
    اسلامی کمیشن کا بھی اس وقت تک بائیکاٹ ہونا چاہئے جب تک کہ اس کی ہیئت ترکیبی درست نہ ہو- پس بغیر ان امور کے تصفیہ کے آپ وکیل کیوں طلب کر رہے ہیں یہ سمجھ میں نہیں آیا- بہرحال دوستوں کو یقین دلائیں کہ انشاء اللہ وکلاء پہنچ جائیں گے )آپ وزیر اعظم سے مل کر یہ کوشش کریں کہ ایڈووکیٹ اور بیرسٹر کے بغیر بھی دوسرے وکلاء کو اجازت مل جائے- اس میں سہولت رہے گی-
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    )تاریخ احمدیت جلد ششم ضمیمہ نمبر۲ صفحہ۵۳(
    ‏a12.4
    انوار العلوم جلد ۱۲
    تحریک آزادی کشمیر
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    جموں میں مسلمانوں کے کشت و خون کے متعلق
    مہاراجہ صاحب کشمیر کو تار
    جموں سے یہ دل گداز خبریں موصول ہوئی ہیں کہ فوج نے درجنوں مسلمانوں کو قتل کر دیا اور سینکڑوں زخمی ہوئے- مہاراجہ صاحب کو اپنی ذاتی توجہ فی الفور اس طرف منعطف کرنی چاہئے- یہ دلال کمیشن کی رپورٹ کا نتیجہ ہے جس میں افسران کی بدعنوانیوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے- اور اس بارے میں ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جن کا مقصد وحید قانون کا احترام کرنا ہے- اس قسم کے واقعات قیام امن و امان کو زائل کر رہے ہیں- اور مجھے خوف ہے کہ مہاراجہ صاحب بہادر کی محبت جو رعایا کے دل میں ہے اٹھ رہی ہے- میں مہاراجہ صاحب سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ اپنی شایان شان فیاضی سے کام لے کر ریاست کی رعایا اور جتھوں کے ممبروں کو جو سیاسی جرائم میں گرفتار اور سزا یاب ہوئے رہا کر دیں- نیز دلالرپورٹ کو منسوخ کر دیں اور تمام فسادات کی تحقیقات کے لئے ایک آزاد کمیشن مقرر کیا جائے- کمیشن کا صدر باہر کے ہائی کورٹ کا غیر جانبدار جج ہو جس کو حکومت ہند مقرر کرے اور اس میں مسلمانوں کی کافی نمائندگی ہو- نیز بہت جلد ان کی شکایات کے ازالہ اور ابتدائی حقوق کے متعلق اعلان کیا جائے-
    اگر ریاست جتھوں اور سیاسی قیدیوں کو رہا کر دے‘ دلال کمیشن کی رپورٹ کو منسوخ کر دے اور ایک نئے آزاد کمیشن کا تقرر کرے تو مسلمان مطمئن ہو سکتے ہیں- اور ایک نامزد افسر نمائندگان کشمیر سے ابتدائی حقوق‘ امتیازی قانون اور دوسری شکایات کے متعلق گفتگو کر کے اپنی رپورٹ ۳۰- نومبر سے پیشتر پیش کرے اور مہاراجہ صاحب نومبر کے آخری ہفتہ تک اپنے فیصلے سے مطلع کر دیں-
    میں آپ کی مسلم رعایا اور باہر کے سمجھدار مسلمانوں سے متوقع ہوں کہ وہ فضائیامنوامان کو بہتر بنانے اور مستقل تصفیہ میں امداد دیں گے- اگرچہ میرے اور کشمیر کمیٹی کے خلاف پروپیگنڈا ہو رہا ہے تا ہم کمیٹی اور میں خود پر امن ذرائع کو پسند کرتا ہوں- میں مہاراجہ صاحب سے متوقع ہوں کہ آپ فوری اقدام عمل کریں گے تا کہ دنیا کو یقین ہو جائے کہ آپ کو اپنی رعایا کی فلاح و بہبود کا خیال ہے اور ریاست صلح اور آئینی ذرائع کی خواہشمند ہے-
    )پریذیڈنٹ آل انڈیا کشمیر کمیٹی(
    )الفضل ۱۰ نومبر ۱۹۳۱ء(
    برطانوی افواج کے جموں میں داخلہ کے متعلق
    وائسرائے ہند کو تار
    جموں میں انتہائی بربریت واقعہ ہونے کے بعد برطانوی افواج ریاست میں داخل ہو گئی ہیں لیکن تا حال آزادانہ تحقیقات کے متعلق کوئی اعلان نہیں کیا گیا- جب تک کہ پہلی دلالرپورٹ کو کالعدم قرار دے کر نئے آزاد کمیشن کا تقرر نہیں کیا جاتا‘ مسلمان یہ یقین کرنے پر مجبور ہیں کہ برطانوی افواج کا ریاست میں داخلہ یا تو مسلمانوں کے خلاف اقدام ہے اور یا پھر حکومت برطانیہ کے مفاد کی غرض سے ہے- لہذا میں ہز ایکسی لنسی سے اپیل کرتا ہوں کہ مزید خطرات کے انسداد کے لئے مداخلت کریں-
    )پریذیڈنٹ آل انڈیا کشمیر کمیٹی(
    )الفضل ۱۲- نومبر ۱۹۳۱ء(
    مہاراجہ بہادر کشمیر کے بیان پر اظہار اطمینان
    مہاراجہ بہادر کو مبارکباد
    قادیان ۱۳- نومبر- میں نے آج ہز ہائی نس مہاراجہ کشمیر کا اعلان بہت دلچسپی کے ساتھ مطالعہ کیا- اگرچہ مجھے پہلے ہی علم تھا کہ ایسا اعلان ہونے والا ہے لیکن پھر بھی میں اس کے مطالعہ سے بہت اثر پذیر ہوا ہوں- میں ہزہائینس کو ان کے صحیح فیصلہ اور ان کے وزیر اعظم کو دانشمندانہ مشورہ پر مبارکباد دیتا ہوں- انہوں نے ایک نہایت اہم مسئلہ کے تصفیہ کا دروازہ کھول دیا ہے-
    حکومت ہند اور گورنر پنجاب کا شکریہ
    میری رائے میں حکومت ہند اور ہز ایکسی لنسی گورنر پنجاب ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے بدامنیوں کے اسباب کی تحقیقات کے لئے مسٹر مڈلٹن کو مقرر کیا ہے کیونکہ ان سے بہتر آدمی منتخب نہیں ہو سکتا تھا-
    ایک شدید نقص
    لیکن اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ اس کمیشن کو دلال کمیشن کے تحقیق کردہ واقعات کے صرف بعد کے حالات کی تحقیقات کا اختیار دیا گیا ہے- یہ ایک شدید نقص ہے اس کی فوری تلافی ہونی چاہئے کیونکہ دلال کمیشن کا مسلمانوں نے مقاطعہ کر رکھا تھا اور دو غیر سرکاری مسلمان ارکان نے اس میں شرکت نہیں کی تھی اس لئے اس بات کا احتمال ہے کہ کہیں دلال کمیشن کی رپورٹ جس میں مسلمانوں کے ساتھ کوئی انصاف نہیں کیا گیا تھا‘ جدید کمیشن کی کارروائی پر اثر انداز نہ ہو جائے-
    گلینسی کمیشن میں ایک نقص
    گلینسی کمیشن کی ہیئت ترکیبی میں بھی ایک نقص ہے- اس میں ایک ایسا مسلم رکن شامل نہیں جو آئینی مسائل کا ماہر ہو- ایسے رکن کی شمولیت مسلمانوں کے لئے بہت زیادہ اطمینان کا موجب ہوگی-
    مبارک عزم
    اعلان میں سب سے نمایاں بات ریاست کے قوانین میں تبدیلی کر کے برطانوی ہند کے قوانین کے مطابق بنانے کا ارادہ اور تحریر و تقریر کی آزادی دینے کا مبارک عزم ہے- یہ ایک بہت بڑی پیش قدمی ہے اور مجھے اس پر بہت خوشی حاصل ہوئی ہے کیونکہ سب سے پہلے میں نے اس بات کو پیش کیا تھا-
    نیکی ارادوں کو عملی جامہ پہنایا جائے
    خاتمہ پر مجھے یہ کہنا ہے کہ ہم اس فیصلہ پر کتنے بھی خوش ہوں لیکن ہمیں یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ہم نے مقصد حاصل کر لیا ہے- صحیح راستہ کی طرف قدم اٹھایا گیا ہے- لیکن چونکہ تفصیلات کا ابھی تصفیہ ہونا ہے اس لئے ہم ابھی نہیں کہہ سکتے کہ کوئی حقیقی ترقی ہوگی یا نہیں- ہم امید کرتے ہیں کہ ہز ہائی نس مہاراجہ صاحب اپنے نیک ارادوں کو عملی جامہ پہنائیں گے اور کشمیر کے اچھے دن آ جائیں گے اور یہ ملک دوسری ریاستوں کے لئے مثال ثابت ہوگا-
    )پریذیڈنٹ آل انڈیا کشمیر کمیٹی(
    )الفضل ۱۷- نومبر ۱۹۳۱ء(
    ‏po] [tagمسلمانان کشمیر کی فوری ضروریات
    اگر آپ آج امداد نہیں کرتے تو کل پچھتائیں گے
    مسلمانان کشمیر کی قربانیاں اور مسلمانان ہند کی ہمدردی
    مسلمانان کشمیر کی بے نظیر قربانیوں اور اس کے ساتھ مسلمانان پنجاب و دیگر صوبہ جات ہند کی ویسی ہی بے نظیر ہمدردی ایک ایسا دل خوشکن نظارہ ہے کہ ہر مسلمان کے دل کو خوشی کے جذبات سے لبریز کر رہا ہے اور وہ لوگ جو صورتحالات سے آگاہ اور واقف ہیں جانتے ہیں کہ قربانی کے ان شاندار مظاہروں کے نتیجہ میں اللہتعالیٰ کے فضل سے مسلمانان کشمیر کی غلامی کی زنجیریں کٹنے والی ہیں اور مسلمانان ہند کی عظمت ان کے مخالفین کے دلوں میں قائم ہو رہی ہے- لیکن اس خوشی کے وقت میں ہمیں ایک بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے جو یہ ہے کہ جنگ ابھی جاری ہے اور ایک تھوڑی سی غفلت اور سستی فتح کو شکست میں بدل سکتی ہے-
    مسئلہ کشمیر کی موجودہ حالت اور اس کا اقتضاء
    آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا صدر ہونے کے لحاظ سے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ تمام مسلمانوں کو کھول کر اس وقت کی حالت بتا دوں اس وقت ریاست کی طرف سے دو کمیشن مقرر ہیں- ایک مڈلٹن کمیشن فسادات کی وجہ اور ذمہ داری دریافت کرنے کے لئے اور ایک گلینسی کمیشن مسلمانوں کی تمام شکایات اور حق تلفیوں کی تحقیقات کے لئے- ان دو کمیشنوں کے علاوہ ایک کثیر تعداد مقدمات کی جموں و کشمیر اور میرپور میں مسلمانوں کے خلاف دائر ہے- ان تینوں کاموں کے لئے اور مسلمان مظلومین کی امداد کے لئے جن میں مقتولین کی بیوائیں اور یتامی اور ماخوذین کے غریب رشتہ دار شامل ہیں اور ہندوستان اور انگلستان میں پراپیگنڈے کے لئے ایک کثیر رقم کی ضرورت ہے-
    آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا شاندار اور وسیع کام
    اس وقت ہندوستان کے ایک مشہور عالم اہالیان کشمیر کی امداد کے لئے سری نگر میں کشمیر کمیٹی کی طرف سے تشریف رکھتے ہیں- دو وکیل اور ایک گریجویٹ دفتری کام کے لئے اور ایک کلرک سری نگر میں اور ایک وکیل جموں میں کام کر رہے ہیں- ایک اور وکیل دو تین دن تک جموں پہنچ جائیں گے اور ایک وکیل کا میر پور کے لئے انتظام ہو رہا ہے- اور ایک یا دو وکیل زائد گلینسی کمیشن کے کاموں کی نگرانی کے لئے جلد بھیجنے اور ضروری ہیں- اس وقت تک جو وکلاء جا رہے ہیں وہ مفت کام کر رہے ہیں لیکن ان کے اخراجات خور و نوش مکان اور کرایوں کا انتظام‘ گواہیاں جمع کرنے اور ہر قسم کی معلومات کمیشن کے لئے مہیا کرنے کا خرچ نہایت کثرت سے اس وقت پڑ رہا ہے اور کچھ ماہ تک یہ خرچ بجائے کم ہونے کے بڑھتا جائے گا- جموں میں سینکڑوں مسلمان گھر فاقے کر رہے ہیں‘ ان کے لئے ریلیف کی الگ ضرورت ہے اور پروپیگنڈا مزید برآں ہے- ان دنوں میں گورنمنٹ اور پریس کی تاروں کا خرچ ہی تین چار سو روپیہ ماہوار تک پہنچ جاتا ہے- انگلستان کی تاریں جو وہاں کے نمائندوں کو صورت حالات سے آگاہ کرنے کیلئے دی جاتی ہیں‘ بہت سا خرچ چاہتی ہیں-
    آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی آمد و اخراجات
    یہ کل اخراجات تین چار ہزار روپیہ ماہوار تک پہنچ جاتے ہیں اور ان سب اخراجات کی ادائیگی آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ذمہ ہے جو اس وقت تک سب اخراجات ادا کرتی رہی ہے- اس وقت تک مسلم بنک آف انڈیا کے ذریعہ سے کل آمد اس کمیٹی کی ۴۶۰۰ کے قریب ہے- اور براہ راست آمد ایک ہزار کے قریب ہے- اس میں بھی ایک ہزار کے قریب رقم میری طرف سے اور انجمن احمدیہ کی طرف سے ہے- میں ان سفروں پر جو اس کام پر مجھے کرنے پڑے ہیں ذاتی طور پر اور اپنی جماعت کے دفتر کی طرف سے چار ہزار سے زائد رقم خرچ کر چکا ہوں- جو رقم نقدی کی صورت میں اس وقت تک کشمیر اور جموں بھیجی جا چکی ہے‘ وہ پانچ ہزار سے اوپر ہے اور جو کرایوں وغیرہ کی صورت میں یا مطبوعات کی صورت میں وہاں گئی ہے‘ اسے ملا کر سات ہزار کے قریب رقم کشمیر اور جموں پہنچ چکی ہے- تاروں‘ اشتہاروں‘ ٹریکٹوں‘ سفرخرچ اور انگلستان کے پروپیگنڈا کا خرچ ملا کر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا خرچ بہت زیادہ ہو جاتا ہے اور اس وقت اس کا فنڈ ۴۳۰۰ روپے کا مقروض ہے لیکن اس وقت جب کہ کام کا یکدم زور آ پڑا ہے‘ مزید قرض لینے کی بالکل گنجائش نہیں-
    بہی خواہان کشمیر سے اپیل
    پس ان حالات کو پبلک کے سامنے لا کر میں تمام بہی خواہان کشمیر سے اپیل کرتا ہوں کہ اس وقت کی نزاکت کو سمجھ کر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی امداد کی طرف متوجہ ہوں چونکہ کشمیر میں خرچ کئی جگہ پر ہو رہا ہے- یعنی سری نگر میں‘ جموں میں اور عنقریب میرپور میں بھی شروع ہوگا اور پھر ہندوستان‘ انگلستان میں بھی‘ اس لئے سب روپیہ مرکزی فنڈ آل انڈیا کشمیر کمیٹی میں آنا چاہئے اور اس کے حساب میں مسلم بنک آف انڈیا لمیٹیڈ لاہور میں جمع ہونا چاہئے- اگر دس پندرہ دن کے اندر دس پندرہ ہزار روپیہ جمع نہ ہو سکا تو کمیٹی کو افسوس کے ساتھ امداد کا کام بند کرنا پڑے گا- وکلاء اور دوسرے کارکن حسرت اور افسوس سے واپس آ جائیں گے اور دونوں کمیشنیں یقیناً مسلمانوں کے لئے بجائے مفید کے مضر ثابت ہونگی- اب بھی روپیہ کے نہ ہونے کی وجہ سے سخت نقصان ہو رہا ہے لیکن اگر فوراً روپے کی آمد شروع نہ ہوئی تو کام بالکل بند ہو جائے گا اور اس کی ذمہداری مسلمانوں کے سر پر ہوگی-
    میں ہر بہی خواہ سے کہتا ہوں کہ یہ حساب نہ لگائیں کہ باقی شہروں کی رقم سے مل کر آپ کی رقم کافی ہو جائے گی کیونکہ ممکن ہے میری تحریک نے صرف آپ کے دل میں اور آپ کے شہر کے لوگوں میں ہی اثر کیا ہو- پس ہر شخص اس ہمت سے کام کرے کہ گویا سب کام اسی کے ذمہ ہے- آئندہ انشاء اللہ سب آمد کی اطلاع بذریعہ اخبارات بھی شائع ہوتی رہے گی تا کہ سب کو آمد کا اندازہ لگانے کا موقع ملتا رہے-
    آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی خدمات
    گو مجھے افسوس ہے کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی خدمات کو باقاعدہ اخبارات میں شائع نہیں کیا جاتا رہا لیکن ان بہت سے ریزولیشنوں کو پڑھ کر جو متواتر سری نگر اور جموں کے پبلک اجلاسوں میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے شکریہ کے طور پر پاس ہوتے رہے ہیں‘ آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا کام نہایت مفید اور ضروری ہے اور اوپر کی تشریح سے اس کی ضرورت خود آپ پر بھی واضح ہو گئی ہو گی-
    مسلم نمائندگان کشمیر کی طرف سے اپیل
    میں یہ لکھ کر اس تحریر کو ختم کرتا ہوں کہ ریاست کشمیر کے نمائندوں کی مجلس کے فنانشل سیکرٹری کی طرف سے بھی ایک اپیل آئی ہے جس میں کشمیر کے مسلمانوں کی امداد کے لئے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی مالی امداد کی اپیل کی گئی ہے- یہ اپیل الگ شائع کی جائے گی- سردست میں اس اعلان کی اشاعت سے اپنے فرض سے سبکدوش ہوتا ہوں- اب مسلمانوں کا کام ہے کہ اس کام کو ادھورا چھوڑ کر سب قربانیوں کو ضائع کر دیں یا پورا کر کے اپنے بھائیوں کو آزاد اور اپنی عزت کو قائم کریں-
    خاکسار
    میرزا محمود احمد
    صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی
    )الفضل مورخہ ۶ دسمبر ۱۹۳۱ء(
    تحریک آزادی کشمیر کے تعلق میں مکتوب نمبر۳
    مکرمی و معظمی راجہ سرہری کشن صاحب کول- آپ کا خط مجھے ملا- اگر ہزہائینس مہاراجہ صاحب جموں و کشمیر خیال فرماتے ہیں کہ میری ملاقات سے کوئی بہتر صورت پیدا ہو سکتی ہے اور امن کے قیام میں مدد مل سکتی ہے تو مجھے ان کی ملاقات کے لئے کسی مناسب مقام پر آنے پر کوئی اعتراض نہیں میں بڑی خوشی سے اس کام کو کروں گا- حقیقت یہ ہے کہ ریاست کا فائدہ مہاراجہ صاحب کے منشاء پر منحصر ہے کیونکہ فائدہ تبھی ہو سکتا ہے اگر مہاراجہ صاحب مجھ سے اس امر پر گفتگو کرنے کو تیار ہوں کہ مسلمانوں کے مطالبات میں سے کون سے ایسے امور ہیں جن کے متعلق خود مہاراجہ صاحب اعلان کر سکتے ہیں اور کون سے ایسے امور ہیں جن کا اصولی تصفیہ اس وقت ہو سکتا ہے لیکن ان کی تفصیلات کو گلینسی کمیشن کی رپورٹ تک ملتوی رکھنا ضروری ہے اور کون سے ایسے امور ہیں کہ جن کے لئے کلی طور پر گلینسی کمیشن کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہئے- اگر مہاراجہ صاحب اس قسم کی گفتگو کرنے پر تیار ہوں اور اس امر کو پسند فرما لیں کہ وہ کسی مناسب مقام پر جیسے چھائونی سیالکوٹ میں تشریف لے آئیں تو میں چند ممبران کشمیر کمیٹی کو ہمراہ لے کر وہاں آ جائوں گا تاکہ جو گفتگو ہو میں فوراً اس کے متعلق ممبروں سے گفتگو کر لوں اور فیصلہ بغیر ناواجب دیر کے ہو سکے- مجھے یقین ہو کہ اگر ایسا انتظام ہو گیا تو یقیناً ریاست اور مسلمانوں دونوں کے لئے مفید ہو گا- کیونکہ میرا یا میرے ساتھیوں کا ہرگز یہ منشاء نہیں کہ فساد پھیلے- ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کی صورت پیدا ہو جائے- اس صورت میں ہم پوری طرح امن کے قیام کے لئے کوشش کریں گے- والسلام
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    )تاریخ احمدیت جلد ششم ضمیمہ نمبر۳ صفحہ۵۴ مطبوعہ ۱۹۶۵ء(
    تحریک آزادی کشمیر کے تعلق میں مکتوب نمبر۴
    مکرمی راجہ سرہری کشن کول صاحب! آپ کا خط مورخہ ۳۱- دسمبر ۱۹۳۱ء ملا- جس کا شکریہ ادا کرتا ہوں- چونکہ مقدم چیز یہ ہے کہ ہزہائی نس مہاراجہ صاحب سے میری ملاقات کوئی مفید نتیجہ پیدا کرے اس لئے سردست میں ملاقات کی جگہ کے سوال کو نظر انداز کرتا ہوں اور اصل سوال کو لیتا ہوں جو مسلمانوں کے حقوق کے تصفیہ کے متعلق ہے- اگر ان امور کے متعلق ہزہائی نس مہاراجہ صاحب ہمدردانہ طور پر غور فرمانا چاہیں تو میں انشاء اللہ پوری کوشش کروں گا کہ مناسب سمجھوتہ ہو کر ریاست میں امن قائم ہو جائے-
    مسلمانان کشمیر کے مطالبات کے جواب میں جو اعلان ہزہائی نس مہاراجہ بہادر نے ۱۲- نومبر ۱۹۳۱ء کو فرمایا وہ بحیثیت مجموعی بہت قابل قدر تھا اور اسی لئے مسلمانان کشمیر اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے اس کے متعلق قدردانی اور شکریہ کا اظہار کیا- مگر جیسا کہ آپ کو معلوم ہے جو مطالبات ریاست کے سامنے نمائندگان نے پیش کئے تھے ان میں نو امور ایسے تھے جن کے متعلق ان کا مطالبہ تھا کہ ان کا مناسب فیصلہ فوراً کیا جائے- میں سمجھتا ہوں کہ ان کے متعلق فوری فیصلہ کرنے میں کوئی روک نہیں- اور وہ ہرگز کسی قسم کے کمیشن کے قیام کے محتاج نہیں ہیں- مگر میں افسوس کرتا ہوں کہ اب تک ان مطالبات کے متعلق کوئی کارروائی اس رنگ میں نہیں ہوئی کہ مسلمانوں کی تسلی کا موجب ہو-
    سب سے پہلا مطالبہ یہ تھا کہ جن حکام نے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو صدمہ پہنچایا ہے انہیں مناسب سزا دی جائے- دلال کمیشن حالانکہ مسلمان اس پر خوش نہیں تسلیم کرتا ہے کہ ایک انسپکٹر پولیس نے خطبہ سے امام کو روک کر فساد کی آگ بھڑکائی لیکن اس وقت تک اسے کوئی سزا نہیں دی گئی اور نہ اس شخص کو جس نے قرآن کریم کی ہتک کی تھی کوئی سزا دی گئی ہے- اس کا ریٹائر ہونا طبعی وقت پر ہوا ہے اور وہ کوئی سزا نہیں-
    دوسرا مطالبہ جو مقدس مقامات کے متعلق تھا وہ ایک حد تک پورا ہو رہا ہے لیکن اول تو ابھی بہت سے مقدس مقامات واگذار ہونا باقی ہیں- علاوہ ازیں جو مسجد واگذار کی گئی ہے- یعنی پتھر مسجد وہ ایسی خراب حالت میں ہے کہ مسلمانوں پر اس کی مرمت کا بوجھ ڈالنا ایک سزا ہو گا- اس کے متعلق ضروری ہے کہ مسجد کے گرد کا علاقہ بھی اگر اب تک واگذار نہیں ہوا‘ واگذار کیا جائے- نیز ریاست کو چاہئے کہ مسجد کی مرمت کے لئے بھی ایک معقول رقم دے تا کہ مسجد کے احترام اور تقدس کے مطابق اس کی واجبی مرمت کرائی جا سکے-
    تیسرا مطالبہ بھی مکمل طور پر پورا نہیں کیا گیا کیونکہ بعض ایسے ملازم ہیں کہ جن کو گواہیاں دینے یا مسلمانوں کی ہمدردی کے جرم میں دور یا خراب مقامات پر تبدیل کر دیا گیا ہے اور ابھی تک انہیں اپنے مقامات پر واپس نہیں لایا گیا-
    چوتھا مطالبہ تازہ فسادات میں مقتولوں کے وارثوں اور زخمیوں کو معاوضہ اور گذارہ دینے کا تھا- جہاں تک مجھے بتایا گیا ہے اس کو بھی اب تک عملاً پورا نہیں کیا گیا اور اکثر غرباء اب تک فاقوں مر رہے ہیں حالانکہ یہ کام جس قدر جلد ہوتا خود ریاست کے حق میں مفید ہوتا اور رعایا کے دلوں میں محبت پیدا کرنے کا موجب-
    مطالبہ نمبر۵ کے متعلق بھی مناسب کارروائی نہیں ہوئی اور اب تک بعض سیاسی قیدی جیسے میاں عبدالقدیر قید ہیں- اگر ہزہائی نس ایسے قیدیوں کو چھوڑ دیں تو یقیناً اچھی فضا پیدا ہو جائے گی-
    مطالبہ نمبر۶ کے متعلق کمیشن بیٹھ چکا ہے اور اس کے لئے ہم ریاست کے ممنون ہیں-
    مطالبات نمبر سات‘ آٹھ‘ نو درحقیقت ایسے مطالبات ہیں کہ جن کا مسلمانوں کے حقیقی مفاد سے تعلق ہے بلکہ سات اور نو کا ریاست کی تمام رعایا کو فائدہ پہنچتا ہے- ان میں سے نو کے سوا دوسرے دونوں مطالبات کو ابھی عملاً پورا نہیں کیا گیا حالانکہ ان کے فوری طور پر پورا ہونے میں کوئی مشکل نہ تھی- ریاست اور انگریزی علاقہ میں اس بارہ میں ایک سے حالات ہیں اور جو قانون انگریزی علاقہ میں ہے کوئی وجہ نہیں کہ ریاست میں فوراً جاری نہ ہو سکے-
    مطالبہ نمبر۷ کے متعلق سنا گیا ہے کہ مسٹر گلینسی رپورٹ کر چکے ہیں کہ پریس اور انجمنوں اور تقریر کی آزادی دی جائے- اگر یہ خبر صحیح ہے تو یہ امر اور بھی قابل افسوس ہے کہ اب تک اس کے متعلق فیصلہ نہ کر کے فضا کو خراب ہونے دیا گیا ہے-
    مطالبہ نمبر آٹھ بھی ایسا مطالبہ ہے کہ جس کے متعلق انگریزی حکومت کہ جہاں ہندوآبادی کی اکثریت ہے ایک فیصلہ کر چکی ہے اگر اس قانون کو ریاست کشمیر میں کہ جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے جاری کر دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نظر نہیں آتا-
    مطالبہ نمبر نو کے متعلق ہزہائی نس نے مہربانی فرما کر یہ اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ اپنی رعایا کو زیادہ سے زیادہ حکومت میں حصہ لینے کا موقع دیں گے لیکن یہ الفاظ اصل مطالبہ پر حاوی نہیں- ہزہائی نس کی رعایا کا مودبانہ مطالبہ یہ تھا کہ حکومت کے انتظام کی ترتیب ایسی ہو کہ آہستہ آہستہ حکومت نمائندہ ہو جائے ہزہائی نس مہاراجہ صاحب بہادر کے وعدہ کے الفاظ ایسے ہیں کہ اگر صرف ملازمتیں مسلمانوں کو زیادہ دے دی جائیں تو ان الفاظ کا مفہوم ایک گونہ پورا ہو جائے گا- حالانکہ اصل مطالبہ اور ہے- پس اگر اس امر کی تسلی دلا دی جائے کہ <INCREASINGASSOCIATION> سے مراد نمائندہ حکومت کے اصول پر حکومت کو قائم کرنا ہو گا- خواہ اس کی پہلی قسط آخری قسط کو پورا کرنے والی نہ ہو تو یہ امر یقیناً رعایا کی تسلی کا موجب ہو گا-
    مطالبا ت کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کرنے کے بعد میں یہ زائد کرنا چاہتا ہوں کہ بعض حالات ان مطالبات کے تیار ہونے کے بعد حوادث زمانہ کی وجہ سے یا ریاست کے بعض اعلانات کی وجہ سے نئے پیدا ہو گئے ہیں ان کے متعلق ہمدردانہ غور بھی ضروری ہے کیونکہ ان کے تصفیہ کے بغیر فساد کا مٹنا مشکل ہے-
    سب سے پہلا سوال زمینداروں کی اقتصادی حالت تباہ ہو جانا ہے- آپ جانتے ہیں کہ ریاست جموں کی سرحد اس حکومت سے ملتی ہے جس نے اس زمانہ میں جمہوریت کا ایک نیا مفہوم پیدا کرنا ہے اور اس سے تمام دنیا میں ہیجان پیدا ہو گیا ہے- زمینداروں کی موجودہ تباہی نے ان خیالات کو رائج کرنے میں بے انتہا مدد دی ہے- انگریزی حکومت نے باوجود قیام امن کی خاطر کثیر رقوم خرچ کرنے کے اس وقت زمینداروں کا بوجھ کم کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے- ریاست جموں نے بھی اپنے مالیہ میں تخفیف کی ہے لیکن وہ تخفیف بہت کم ہے- زمیندار پر جو بار ریاست میں اس وقت ہے وہ انگریزی علاقہ کے زمیندار کے بار سے بہت زیادہ ہے حالانکہ جو قیمت انگریزی علاقہ کے زمیندار کو اپنی پیدا وار پر ملتی ہے اس سے بہت کم ریاست کے زمیندار کو اپنی پیداوار پر ملتی ہے- پس ان حالات کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے- اگر ریاست ایک سال کے لئے عارضی طور پر جب تک کہ گلینسی کی رپورٹ پیش ہو کر اس پر غور کیا جا سکے‘ ریاست کے زمینداروں کا بار تمام ٹیکسوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انگریزی علاقہ کے بار کے مطابق کم کر دے تو نہ صرف یہ ایک انصاف کا کام ہو گا بلکہ اس سے رعایا اور راعی کے تعلقات کے درست ہونے میں یقیناً بہت کچھ مدد ملے گی-
    دوسرا تغیر جو بعد کے حالات سے پیدا ہوا ہے وہ جموں اور میرپور کے سیاسی قیدیوں کا سوال ہے- جب گاندھی ارون پیکٹ ہوا تھا تو تمام سیاسی قیدی حکومت برطانیہ نے بغیر کوئی معاہدہ لینے کے چھوڑ دیئے تھے- ریاست نے رعایا سے صلح تو کی لیکن قیدیوں کو نہیں چھوڑا- اس کی وجہ سے ان قیدیوں کے دوستوں اور ساتھیوں کا دبائو لیڈروں پر پڑ رہا ہے اور تعاون کی کارروائی پوری طرح نہیں ہو سکتی- میرے نزدیک یقیناً ریاست کا اس میں فائدہ ہے کہ وہ ان قیدیوں کو چھوڑ دے- اگر وہ لوگ نئی فضا سے فائدہ نہ اٹھائیں تو انہیں پھر گرفتار کیا جا سکتا ہے اور اس وقت یقیناً رعایا کا سمجھدار طبقہ ریاست کے ساتھ ہو گا-
    ایک نیا تغیر گلینسی کمیشن کے قیام کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان اس کی موجودہ ترکیب سے مطمئن نہیں لیکن جو کچھ پہلے ہو چکا وہ تو خیر ہو چکا آئندہ ایک نئی کمیشن قانوناساسی کے متعلق مقرر کی جائے گی- اس کی ترکیب سے پہلے مسلمانوں کے احساسات کو معلوم کر کے ان کا خیال رکھ لینا ضروری امر ہے-
    دلال کمیشن کے مسلمان مخالف تھے لیکن دلال کمیشن کی رپورٹ کا جو حصہ مفید تھا اب تک اس پر بھی عمل نہیں ہوا- یعنی )۱( مسلمانوں کی ملازمتوں کے متعلق کوئی معین احکام جاری نہیں ہوئے- )۲( اس قسم کے غیر تعلیم یافتہ افسروں کو جن کے بے فائدہ ہونے کے متعلق کمیشن نے رائے ظاہر کی تھی اب تک ہٹایا نہیں گیا-
    یہ جملہ امور ایسے ہیں کہ جن پر گفتگو ہو کر کسی مفید نتیجہ کی امید ہو سکتی ہے اور اگر ہزہائی نس ان کے متعلق تبادلہ خیال کا مجھے موقع دیں تو میں ہزہائی نس کی ملاقات کو ایک مبارک بات سمجھوں گا جس سے لاکھوں آدمیوں کے فائدہ کی امید ہو گی- اور اگر کوئی مفید صورت نکلے تو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سامنے اس ملاقا کا نتیجہ رکھ کر کوشش کروں گا کہ کوئی ایسی صورت نکلے جس سے جلد سے جلد امن قائم ہو سکے- لیکن اگر ہزہائی نس کسی مصلحت کی وجہ سے ان امور پر غور کرنے کے لئے تیار نہ ہوں تو محض ایک رسمی ملاقات باوجود اس ادب و احترام کے جو میرے دل میں ہزہائی نس کا ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر سکتی-
    میں خط ختم کرنے سے پہلے یہ بات بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میرا یہ مطلب نہیں کہ ہر امر جس صورت میں نمائندوں نے پیش کیا ہے اسی صورت میں اس کے متعلق فیصلہ کیا جائے- وہ صرف ایک بنیاد ہے لیکن اگر کوئی ایسی راہ نکل آئے جو رعایا کے حقوق کی حفاظت کرتی ہو اور ساتھ ہی والئی ملک کے احساسات اور ریاست کے حقیقی مفاد بھی اس میں ملحوظ رہتے ہوں تو ایسے تصفیہ پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اور میں ایسے تغیرات کو ملک سے منوانے میں ہر طرح ہزہائی نس کی حکومت کی امداد کروں گا-
    میں امید کرتا ہوں کہ آپ ہزہائی نس کو ایسا مشورہ دیں گے کہ کوئی راہ ملک میں قیامامن کی نکل آئے گی- ورنہ مجھے ڈر ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک ایجی ٹیشن کے جاری رہنے کے بعد ایک طبقہ کو ایجی ٹیشن کی عادت ہی نہ پڑ جائے- جس کے بعد کوئی حق بھی ایسے لوگوں کو تسلی نہیں دے سکتا- یہ حالت ملک اور حکومت دونوں کے لئے نہایت خطرناک ہوتی ہے اور عظیم الشان انقلابات کے بغیر ایسی حالت نہیں بدلا کرتی- اللہ تعالیٰ ایسے ناگوار تغیرات سے مہاراجہ صاحب بہادر اور ان کی رعایا کو محفوظ رکھے-
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    ۱۹۳۲ء-۱-۳
    )تاریخ احمدیت جلد۶ ضمیمہ نمبر۲ صفحہ۵۴ تا ۵۷ مطبوعہ ۱۹۶۵ء(
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھوالناصر
    کشمیر کے لیڈر مسٹر عبداللہ کی گرفتاری
    اور
    اہل کشمیر کا فرض
    برادران کشمیر! السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ-
    گذشتہ کئی ماہ کے عرصہ میں میں خاموش رہا ہوں اور اپنا مطبوعہ خط آپ کے نام نہیں بھیج سکا- اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ لوگوں کے قابل فخر لیڈر مسٹر عبداللہ آزاد ہو کر آ گئے تھے اور آزادی کی جدوجہد کو نہایت خوبی اور قابلیت سے چلا رہے تھے- پس میں ضرورت نہیں سمجھتا تھا کہ اپنے مطبوعہ خطوں کا سلسلہ جاری رکھوں- لیکن اب جبکہ ریاست نے پھر مسٹر عبداللہ اور دوسرے لیڈروں کو گرفتار کر لیا ہے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اپنے مطبوعہ خطوں کا سلسلہ پھر جاری کر دوں- تاکہ آپ لوگوں کی کام کرنے کی روح زندہ رہے اور مسٹر عبداللہ کی گرفتاری کی وجہ سے آپ میں پراگندگی اور سستی پیدا نہ ہو-
    اے عزیز بھائیو! ریاست کے بعض حکام ایک عرصہ سے کوشش کر رہے تھے کہ مسٹرعبداللہ کو گرفتار کریں لیکن انہیں کوئی موقع نہیں ملتا تھا- چنانچہ مجھے معتبر ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ بعض لوگوں نے یہ کوشش کی کہ مسٹر عبداللہ جس جگہ ہوں وہاں لڑائی کروا دی جائے- اور پھر مسٹر عبداللہ کو پکڑوا دیا جائے کہ یہ بھی لڑائی میں شامل تھے- اسی طرح بعض خبیثوں نے یہ بھی کوشش کی کہ کسی ہندو فاحشہ عورت کو سکھا کر ان کے گھر پر بھیج دیں اور ان پر جبریہ بداخلاقی کا الزام لگا کر انہیں گرفتار کروا دیں- میں یہ نہیں جانتا کہ کسی ذمہ وار ریاستی افسر کا اس میں دخل تھا یا نہیں لیکن یہ یقینی امر ہے کہ اس قسم کی کوششیں بعض لوگ کر رہے تھے- لیکن چونکہ میں نے ان ارادوں کا ذمہ وار حلقوں میں افشاء کر دیا تھا‘ اس لئے وہ لوگ ڈر گئے اور ان ارادوں کے پورا کرنے سے باز رہے- آخر اب مفتی ضیاء الدین صاحب کی جلاوطنی کے موقع پر کہ یہ صاحب بھی ایک اعلیٰ درجہ کے مخلص قومی خادم ہیں‘ ایک لغو بہانہ بنا کر مسٹرعبداللہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے حالانکہ مسٹر عبداللہ امن کے قیام کے لئے کوشاں تھے نہ کہ فساد پیدا کرنے کے لئے-
    عزیز بھائیو! چونکہ انسان حالات سے واقف ہو کر مخالف کے حملوں سے بچ جاتا ہے بلکہ مشہور ہے کہ دشمن کے منصوبوں سے واقف ہونا آدھی فتح ہوتی ہے- میں آپ کو بتا نا چاہتا ہوں کہ ریاست کے حکام کن چالوں سے آپ کو پھنسانا اور آپ کے حقوق کو تلف کرنا چاہتے ہیں تا کہ آپ لوگ فریب میں نہ آئیں اور اپنے اعلیٰ درجہ کے کام کو کامیابی کے ساتھ فتح کر سکیں-
    آپ کو معلوم رہنا چاہئے کہ پچھلے مظالم کے وقت میں اور دوسرے ہمدردان کشمیر اس امر میں کامیاب ہو گئے تھے کہ حکومت ہند کی توجہ کو آپ لوگوں کی ناگفتہ بہ حالت کی طرف پھرا سکیں اور اوپر کے دبائو کی وجہ سے ریاست مجبور ہو گئی تھی کہ اس ظلم کا راستہ ترک کر کے انصاف کی طرف مائل ہو لیکن وہ حکام ریاست جن کا دلی منشاء یہ تھا کہ کسی طرح مسلمانوں کو حقوق نہ ملیں‘ انہوں نے یہ کوشش شروع کر دی کہ کسی اہل کشمیر کی طرف سے ایسے مطالبات پیش کرا دیں جو بالکل غیر معقول ہوں- یا ایسے فسادات کروا دیں جنہیں انگریز ناپسندیدہ سمجھیں- وہ اس کا یہ فائدہ سمجھتے تھے کہ اس طر ح انگریزوں کی ہمدردی مسلمانوں سے ہٹ کر ریاست کے ساتھ ہو جائے گی- دوسری کوشش انہوں نے یہ کرنی شروع کر دی کہ فرقہ وارانہ سوال پیدا کر کے مسلمانوں کی طاقت کو کمزور کر دیں-
    پہلے مقصد کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے بعض مسلمان ذمہ وار لوگوں کو انگریزوں سے لڑوانے کی کوشش کی- چنانچہ جب گلینسی کمیشن مقرر ہوا تو باوجود اس کے کہ مسٹر عبداللہ اور ان کے ساتھی اس امر کا فیصلہ کر چکے تھے کہ جب تک کوئی خلاف بات ظاہر نہ ہو وہ اس سے تعاون کریں گے اور میں نے بھی انہیں یہی مشورہ دیا تھا‘ ریاست کا ایک ایجنٹ جسے اسی قسم کے کاموں کے لئے باہر سے بلوایا گیا تھا‘ مسٹر گلینسی سے ملا اور انہیں اس نے کہا کہ مسلمان تم سے تعاون کرنا نہیں چاہتے- اور اس طرح انہیں مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا- مگر چونکہ مسلمان تعاون کرنے کے لئے تیار تھے‘ اس کا علاج اس شخص نے یہ کیا کہ مسلمانوں سے کہا کہ مسٹر گلینسی تم سے ملنا نہیں چاہتے‘ میں انہیں سمجھا کر منوا دیتا ہوں- اور پھر مسٹر گلینسی کو یہ بتا کر کہ میں نے بڑی محنت سے مسلمانوں کو منوایا ہے اپنے جرم پر پردہ ڈالا اور ساتھ ہی مسٹرگلینسی کی طبیعت میں شروع میں ہی مسلمان لیڈروں سے بغض پیدا کر دیا- چنانچہ مولوی عبدالرحیم درد ایم-اے سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی جو کہ عرصہ سے آپ لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں‘ انہیں ایک رات گیارہ بجے بلا کر ریذیڈنٹ صاحب اور مسٹر گلینسی نے صبح کے تین بجے تک جو گفتگو کی اس سے صاف ظاہر تھا کہ دونوں صاحبان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف زہر بھرنے کی پوری کوشش کی گئی تھی-
    اسی سلسلہ میں ایک کوشش یہ کی گئی کہ بعض اہالیان کشمیر سے جو درحقیقت ریاست کے بعض حکام سے ساز باز رکھتے ہیں اور ان کی خفیہ چھٹیاں معتبر لوگوں نے دیکھی ہیں‘ یہ اعلان کروایا کہ وہ لوگ کشمیر کے لئے آزاد اسمبلی چاہتے ہیں- یہ امر کہ یہ لوگ بعض حکام ریاست کے سکھانے پر ایسا کر رہے تھے‘ اس طرح واضح ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ ساتھ کے ساتھ کہے جاتے ہیں کہ وہ مہاراجہ صاحب کے اقتدار کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتے- حالانکہ آزاد اسمبلی کے معنی ہی یہ ہیں کہ مہاراجہ صاحب کے کل اختیار لے کر اسمبلی کو دے دیئے جائیں سب اختیار مہاراجہ صاحب سے لے لئے جائیں تو پھر ان کا اقتدار کہاں باقی رہا- غرض یہ دونوں باتیں ایسی متضاد اور ایک دوسرے سے مخالف ہیں کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسمبلی کا مطالبہ خود حکام ریاست انگریزوں کو یہ بتانے کے لئے کہ اہل کشمیر کے مطالبات خلاف عقل اور باغیانہ ہیں کرواتے تھے- اصل میں یہ لوگ ریاست کے ایجنٹ تھے- تبھی تو یہ کہتے تھے کہ ہم مہاراجہ صاحب کے اقتدار میں کوئی فرق نہیں لانا چاہتے- دوسرا ثبوت کہ یہ لوگ ریاست کی طرف سے اس کام پر مقرر ہوئے تھے یہ ہے کہ یہ لوگ ریاست کی موٹروں میں ریاست کے خرچ پر سفر کرتے رہے ہیں اور حکام ریاست نے تاریں دے دے کر انہیں بلوایا ہے اور ان کو اپنے کاموں پر بھجوایا ہے- اب کیا کوئی شخص مان سکتا ہے کہ ایک طرف تو یہ لوگ کامل آزادی کا مطالبہ کر رہے تھے- دوسری طرف ریاست جو مسلمانوں کو سردست کچھ بھی دینے کو تیار نہیں معلوم ہوتی‘ ان لوگوں سے دوستانہ برتائو کر رہی تھی اور مسٹر عبداللہ جیسے آدمی کو جن کے مطالبات نہایت معقول تھے‘ اپنا دشمن قرار دے رہی تھی- ریاست کا یہ سلوک صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ ریاست کے ایجنٹ تھے اور مسٹر عبداللہ رعایا کے حقیقی خیر خواہ تھے-
    دوسرا کام یعنی مسلمانوں میں تفرقہ ڈالوانے کا کام بھی ریاست نے خود مسلمانوں سے لیا اور انہی میں سے بعض لوگوں کو اس کام کے لئے کھڑا کیا کہ فرقہ بندی کا سوال اٹھائیں- حالانکہ فرقہ بندی مذہبی شے ہے اور کشمیر کی آزادی کا سوال مذہبی نہیں بلکہ سیاسی ہے- کیا اگر ہندو اٹھ کر آج مسلمانوں کے مطالبات کی تصدیق کرنے لگیں اور کہیں کہ ان حقوق کے ملنے سے ہمارا بھی فائدہ ہے‘ تو کیا کوئی مسلمان ہے جو کہے گا کہ ہندوئوں کا ہم سے کیا تعلق؟ بلکہ ہر مسلمان شوق سے ان ہندوئوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا اور ہندوئوں کی امداد کو امداد غیبی سمجھے گا- یا مثلاً مہاراجہ صاحب اختیار دینے کو تیار ہوں تو کیا کوئی کہے گا کہ وہ ہندو ہیں ہم ان سے کچھ نہیں مانگتے- یا جب سرینگر کے مظالم کے موقع پر بعض انگریزوں نے بعض مسلمانوں کو مارنے پیٹنے سے بچانے کے لئے کوشش کی تھی تو کیا وہ مسلمان انہیں یہ کہتے تھے کہ ہم عیسائی کافر سے مدد نہیں لیتے ان ڈوگروں کو مارنے دو تم ہمیں نہ بچائو- غرض یہ ایک بالکل خلاف عقل سوال تھا اور اصل بات یہ تھی کہ ریاست کے حکام جانتے تھے کہ کشمیر کی آزادی کے لئے آئینی جدوجہد میں میرا بہت سا دخل ہے اور وہ اسی جدوجہد سے زیادہ خائف تھے- پس ریاست نے یہ کوشش شروع کی کہ مجھے تنگ کرے اور کشمیر کمیٹی سے استعفاء دینے پر مجبور کر دے- لیکن وہ یہ نہیں جانتی کہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو ایک ارادہ کر کے اس سے پیچھے ہٹ جائیں- مجھے اگر کشمیر کمیٹی سے استعفاء دینا پڑتا تو بھی میں اہل کشمیر کی مدد سے دست کش نہ ہوتا- اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے امید ہے کہ اہلکشمیر کے آزاد ہونے تک مجھے ان کی خدمت کی برابر توفیق ملتی رہے گی- اے میرے رب! تو ایسا ہی کر اور مجھے اس مظلوم قوم کی مدد کرنے کی اور بے غرض اور بے نفس خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما- آمین اللھم آمین
    اس تفرقہ ڈلوانے کے کام پر اس قدر زور دیا گیا کہ ریاست کے بعض حکام نے خود بلوا کر میر واعظ محمد یوسف شاہ صاحب کو لاہور بھجوایا جہاں انہوں نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ میں صدارت سے مستعفی ہو جائوں لیکن بعض معززین کا بیان ہے کہ جب انہوں نے میر واعظ صاحب سے پوچھا کہ اگر موجودہ صدر استعفاء دے دیں تو کیا آپ مسٹر عبداللہ صاحب سے مل کر کام کرنے لگ جائیں گے اور ان کی تائید کرنے لگیں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں میں ایسا پھر بھی نہیں کروں گا- اس پر ان معززین نے کہا کہ اگر صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اسعتفاء کی غرض اتحاد پیدا کرنا ہے تو اتحاد تو اس صورت میں بھی نہ ہوا- پھر ہم خواہ مخواہ کیوں کوشش کریں کہ وہ استعفاء دیں-
    غرض یہ کہ ریاست کے بعض حکام نے پورا زور لگایا کہ مذہبی فرقہ بندی کا سوال اٹھا کر مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں- لیکن مسٹر عبداللہ کی دور اندیشی اور اہل کشمیر کی وہ طبعی ذہانت جو انہیں اللہ تعالیٰ نے عطا کر رکھی ہے ان کے منشاء کے راستہ میں روک بن گئی اور اہل کشمیر نے صاف کہہ دیا کہ وہ اس سیاسی سوال میں مذہبی تفرقہ پیدا نہیں ہونے دیں گے- فالحمدللہ ثم الحمدللہ
    ان حالات کے بیان کرنے سے میری غرض یہ ہے کہ آپ لوگ پوری طرح ان کوششوں سے آگاہ رہیں جو ریاست آپ کے کام کو نقصان پہنچانے کیلئے کر رہی ہے- اور آئندہ بھی کرے گی اور اس کے ایجنٹوں کے دھوکا میں آ کر غصہ کی حالت میں کوئی فساد نہ کر بیٹھیں یا فرقہ بندی کے سوال کو سیاسی مسائل میں داخل نہ کرلیں-
    اے بھائیو! اس میں کوئی شک نہیں کہ مسٹر عبداللہ جیسے لیڈر کے بلاوجہ گرفتار کئے جانے پر جنہوں نے اپنی زندگی اپنے پیارے وطن اور اپنے پیارے وطنی بھائیوں کی خدمت کیلئے وقف کر چھوڑی تھی‘ آپ لوگوں کو جس قدر بھی غصہ ہو کم ہے- میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے اکثر اس جگہ خون بہانے کے لئے تیار ہیں جہاں مسٹر عبداللہ کا پسینہ گرے لیکن آپ لوگوں کو یہ بات نہیں بھلانی چاہئے کہ مسٹر عبداللہ سے محبت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ان کے کام کو جاری رکھا جائے- پس آپ لوگ ریاست کے اس ظلم کا جواب جو انہوں نے مسٹر عبداللہ صاحب‘ مفتی ضیاء الدین صاحب اور دیگر لیڈران کشمیر کو گرفتار یا جلاوطن کر کے کیا ہے یہ دیں کہ اس تحریک کو کامیاب کرنے کے لئے جو مسٹر عبداللہ نے شروع کر رکھی تھی‘ پہلے سے بھی زیادہ مستعد ہو جائیں- نیز جو مطالبات انہوں نے پیش کئے تھے‘ ان پر آپ لوگ اڑے رہیں اور جو شخص ان مطالبات کے خلاف کہے خواہ آپ کا ظاہر میں دوست بن کر یہی کہے کہ ان مطالبات سے زیادہ سخت مطالبات ہونے چاہئیں‘ اس کی بات کو رد کر دیں اور صاف کہہ دیں کہ مسٹر عبداللہ کی پیٹھ پیچھے ہم کسی اور کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں- مجھے اس نصیحت کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں خود ریاست کا اس میں فائدہ ہے کہ بعض لوگوں سے زیادہ سخت مطالبات پیش کرائے کیونکہ اس سے ایک طرف مسٹر عبداللہ کی لیڈری میں فرق آتا ہے‘ دوسری طرف انگریزوں کو بھڑکانے کا اسے موقع ملتا ہے- پس آپ نہ صرف اس خوشامدی سے ہوشیار رہیں جو نقصان کا خوف دلا کر آزادی کی تحریک سے آپ لوگوں کو ہٹانا چاہے بلکہ اس دوست نما دشمن سے بھی ہوشیار رہیں جو بظاہر آپ کی خیر خواہی کا دعویٰ کر کے اور سبز باغ دکھا کر آپ کو آپ کے حقیقی لیڈر سے پھرانا چاہتا ہے- مجھے اس بات پر زور دینے کی اس لئے بھی ضرورت پیش آئی ہے کہ بعض لیڈر جو ظاہر میں جوشیلے نظر آتے ہیں مجھے ان کی نسبت یقینی طور پر معلوم ہے کہ وہ ریاست سے روپیہ لیتے ہیں اور مسٹر عبداللہ کا اثر گھٹانے کے لئے ریاست کی طرف سے مقرر ہیں-
    یہ امر بھی یاد رکھیں کہ کوئی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک کہ پبلک کی ہمدردی اس کے ساتھ نہ ہو اور پبلک اس کی خاطر اپنی جان دینے کو تیار نہ ہو- عزت کی موت ذلت کی زندگی سے ہزار درجہ اچھی ہوتی ہے- پس جہاں میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے نفسوں پر قابو رکھیں‘ وہاں میں یہ نصیحت بھی کرتا ہوں کہ آپ کو اپنے نفسوں کو ملک اور قوم کے لئے قربانی کی خاطر تیار رکھنا چاہئے یہ اور بات ہے کہ آپ اپنے ملک کے فائدہ کیلئے اعتدال کا طریق اختیار کریں اور یہ بات اور ہے کہ آپ اس امر کے لئے تیار ہوں کہ اگر ملک کے لئے جان دینی پڑے گی تو خوشی سے جان دے دیں گے- یہ دونوں باتیں جدا جدا ہیں اور اپنی اپنی جگہ دونوں حق ہیں- پس ¶چونکہ بالکل ممکن ہے کہ ایسا وقت آ جائے کہ بغیر اخلاق یا مذہب کو ہاتھ سے دینے کے آپ کو اپنے ملک کیلئے جان دینی پڑے‘ اس لئے اس وقت کیلئے بھی آپ کو تیار رہنا چاہئے اور اپنے اندر قربانی کی روح اور بہادری کا احساس پیدا کرنا چاہئے- اور پھر یہ بھی ضروری ہے کہ ہر کشمیری کو آپ لوگ اس جنگ کیلئے تیار رکھیں جو اس وقت آزادی کے لئے آپ لوگ کر رہے ہیں- قید ہونا صرف مسٹر عبداللہ کا فرض نہیں‘ آپ لوگوں کا بھی فرض ہے- مسٹرعبداللہ آسمان سے نہیں گرے‘ ان کے بھی ماں باپ بھائی بند ہیں- ان کا بھی ایک دل اور ایک جسم ہے- جس طرح آپ کے قید ہونے پر آپ کے عزیزوں کو تکلیف پہنچ سکتی ہے اور جس طرح قید ہونے سے خود آپ لوگوں کے دل اور جسم کو تکلیف پہنچ سکتی ہے‘ اسی طرح مسٹرعبداللہ کے عزیزوں کو بھی اور ان کیدل اور جسم کو بھی تکلیف پہنچتی ہے- پس اس پر خوش نہ ہوں کہ آپ کا لیڈر آپ کے لئے قید میں ہے کیونکہ یہ غداری اور بے وفائی کی کمینہ مثال ہوگی بلکہ اس امر کے لئے تیار رہیں کہ اگر موقع آئے تو آپ بھی اور آپ کے عزیز بھی بلکہ آپ کی عورتیں بھی قید ہونے کو تیار رہیں گی-
    یہ بھی مت خیال کریں کہ جب ہمیں امن کی تعلیم دی جاتی ہے تو ہمیں قید ہونے کا موقع کس طرح مل سکتا ہے کیونکہ مسٹر عبداللہ کو بھی ریاست نے بلاوجہ اور بلاقصور گرفتار کیا ہے- اور اسی دفعہ نہیں پہلے بھی اسی طرح بلاوجہ انہیں قید کرتی رہی ہے- اسی طرح ہو سکتا ہے کہ آپ کو بھی کسی وقت ریاست بلاوجہ قید کر لے- پس اپنے نفسوں کو تیار رکھیں اور اپنی اولاد کو بھی سمجھاتے رہیں کہ ملک کی خاطر قید ہونا کوئی بری بات نہیں‘ بلکہ عزت ہے-
    میں نے اپنے ایک پہلے خط میں لکھا تھا کہ مسٹر عبداللہ اور دوسرے لیڈر جب تک آزاد نہ ہوں- آپ لوگ روزانہ ان کے لئے دعا کرتے رہا کریں اور اپنی اولادوں کو بھی اس میں شامل کیا کریں- میں اس بات کی طرف پھر توجہ دلاتا ہوں کہ آج سے آپ لوگ متواتر رات کو سونے سے پہلے خدا تعالیٰ سے اپنے مذہب اور طریقہ کے مطابق مسٹر عبداللہ کیلئے اور اہل کشمیر کو انسانی حقوق ملنے کیلئے دعا کیا کریں- نیز میں مساجد کے اماموں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ بھی ہر جمعہ کے دن تمام نمازیوں سمیت مناسب موقع پر کشمیر کی آزادی اور مسٹر عبداللہ اور دیگر لیڈران کشمیر کی حفاظت اور رہائی کیلئے دعا کیا کریں- اس کا فائدہ ایک تو یہ ہوگا کہ اللہ تعالٰی کی غیرت جوش میں آ کر ان ظلموں کا خاتمہ جلد کر دے گی جو اہل کشمیر پر روا رکھے جاتے ہیں اور دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ ہر گھر میں اور بچوں تک بھی یہ تحریک پہنچ جائے گی- یاد رکھیں کہ ریاست یہ قانون تو بنا سکتی ہے کہ گذرگاہوں یا مساجد میں آپ کو اور آپ کے بچوں کو اور آپ کی عورتوں کو کوئی شخص ملک کے صحیح حالات نہ بتائے- لیکن کوئی ریاست خواہ کس قدر زبردست کیوں نہ ہو‘ اس امر کا انتظام نہیں کر سکتی کہ ہر گھر میں اپنے سپاہی بٹھا دے- پس اگر قانون نے مجلسوں کا دروازہ آپ کے لئے بند کر دیا ہے تو اپنے گھروں میں اپنی عورتوں اور بچوں کو بٹھا کر دعائوں کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی مدد چاہو اور اپنی عورتوں اور اپنے بچوں کی قومی تربیت بھی کرو-
    اور بھی کئی باتیں ہیں جو میں کہنی چاہتا ہوں لیکن سردست میں اپنے اس خط کو اس بات پر ختم کرتا ہوں کہ اے اہل کشمیر! آپ کو یہ امر ایک منٹ کے لئے بھی نہیں بھلانا چاہئے کہ مسٹر عبداللہ جو آپ سے زیادہ نازو نعم میں پلے ہوئے ہیں- جو ظاہری تعلیم کی آخری ڈگری حاصل کر چکے ہیں اور جو اگر کسی مہذب ملک میں ہوتے اور کسی منصف حکومت سے ان کا واسطہ پڑتا تو کسی نہایت ہی اعلیٰ عہدہ پر ہوتے‘ آج قید خانہ کی تاریک کوٹھڑی میں بند ہیں- کسی اپنے جرم کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اس لئے کہ اے اہل کشمیر! آپ لوگ غلامی سے آزاد ہو جائیں اور آپ کی اولادیں عزت کی زندگی بسر کریں-
    خاکسار
    میرزا محمود احمد
    صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی
    قادیان- ضلع گورداسپور )پنجاب(
    ۲۷-۱-۱۹۳۲ء
    )تاریخ احمدیت جلد۶ ضمیمہ نمبر۱ صفحہ۷ تا ۱۲ مطبوعہ ۱۹۶۵ء(
    مسلمان لیڈران کشمیر کی گرفتاری پر وائسرائے ہند کو تار
    ‏text] gat[ قادیان ۲۷- جنوری ۱۹۳۲ء-
    یورایکسی لینسی کے یقین دلانے پر مجھے اطمینان ہو گیا تھا کہ کشمیر کے مسلمانوں کی شکایات دور کر دی جائیں گی اور کہ ریاست اپنی متشددانہ پالیسی ترک کر دے گی- یہ اطمینان دلائے جانے پر میں نے ریاست کے اندر اور باہر اس امر کے لئے پوری پوری کوشش کی کہ مسلمان پر امن رہیں اور گلینسی اور مڈلٹن کمیشنوں‘ نیز مسٹرجنکنز اور مسٹر لاتھر سے تعاون کریں اس لئے میں بالکل خاموش تھا اور سری نگر و جموں کے نمائندگان کو بھی پر امن رکھنے کی کوشش میں مصروف تھا- کشمیر کے مشہور و معروف رہنما مسٹرعبداللہ اور موچھ کے مفتی ضیاء الدین صاحب اس پر امن کام میں ہمارے ممدو معاون تھے- اس وقت بھی سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی بعض دوسرے مقتدر راہنمائوں کے ساتھ جموں میں اس امر کی کوشش کر رہے ہیں کہ ریاست اور علاقہ میرپور کے مسلمانوں کے درمیان صلح کرا دیں اور سول نافرمانی کی تحریک کو بند کرا دیں-
    لیکن ہماری مصالحانہ مساعی کے باوجود ریاستی حکام مسلمانوں پر انتہائی تشدد میں مصروف رہے اور جلسوں کی ممانعت‘ پانچ افراد سے زیادہ کے اجتماع کی ممانعت وغیرہ کے لئے ان مقامات پر بھی آرڈیننس جاری کر دیئے گئے جہاں بالکل امن و امان تھا- اب خبر آئی ہے کہ مفتی ضیاء الدین صاحب کو جبراً حدود ریاست سے نکال دیا گیا ہے اور مسٹر عبداللہ کو ان کے رفقاء سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے- جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ریاستی حکام خود ہی فتنہ انگریزی کرنا چاہتے ہیں تا حکومت برطانیہ کی ہمدردی حاصل کر سکیں اور مسلمانوں کو برباد کرنے کے لئے بہانہ بنا سکیں-
    اس لئے میں ایک بار پھر یورایکسی لنسی سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری مداخلت کر کے حالات کو بدتر صورت اختیار کرنے سے بچا لیں اگر یورایکسی لنسی کے لئے اس میں مداخلت ممکن نہ ہو تو مہربانی فرما کر مجھے اطلاع کرا دیں تا میں مسلمانان کشمیر کو اطلاع دے سکوں کہ اب ان کے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ یا تو جدوجہد میں ہی اپنے آپ کو فنا کر دیں اور یا دائمی غلامی پر رضا مند ہو جائیں-
    مرزا محمود احمد
    پریذیڈنٹ آل انڈیا کشمیر کمیٹی
    مہاراجہ صاحب کشمیر کو تار
    اطلاع موصول ہوئی ہے کہ مسٹر عبداللہ کو سرینگر میں گرفتار کر لیا گیا ہے حالانکہ صرف وہی ایسا آدمی تھا جس کے مشورے ریاست میں قیام امن کا موجب رہے ہیں- اور اس کی گرفتاری سے واضح ہوتا ہے کہ ریاستی حکام امن کے خواہشمند نہیں بلکہ بدامنی چاہتے ہیں-
    میں یورہائی نس سے آخری بار التماس کرتا ہوں کہ مہربانی فرما کر حکام کو اس تشدد اور سختی سے روک دیں- وگرنہ باوجود ہماری انتہائی کوشش کے مجھے خطرہ ہے کہ خواہ کتنے بھی آرڈیننس جاری کئے جائیں‘ امن قائم نہ ہو سکے گا اور اس کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر ہوگی-
    مرزا محمود احمد
    پریذیڈنٹ آل انڈیا کشمیر کمیٹی
    )الفضل ۳۱- جنوری ۱۹۳۲ء(
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    اہل کشمیر کے دو اہم فرض
    میرا دوسرا خط )سلسلہ دوم(
    بردران کشمیر! السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ-
    میرا پہلا خط آپ کو مل گیا ہے اور گورنر کشمیر نے اسے ضبط شدہ بھی قرار دے دیا ہے- یہ ریاست کشمیر کی بدقسمتی ہے کہ اس میں گورنر جیسے عہدہ پر جاہلوں اور ناقابلوں کا تقرر ہوتا ہے اور مہاراجہ صاحب کی حکومت کے چلانے کے لئے لوگ مقرر ہوتے ہیں جو ان خطوط کو ضبط کرتے ہیں جن میں پر امن رہنے کی تعلیم دی جاتی ہے- افسوس کہ مہاراجہ صاحب ان امور سے ناواقف ہیں کہ ان کے بنائے ہوئے افسر خود ان کی حکومت کی جڑ پر تبر رکھ رہے ہیں اور ان کے ہاتھ سے کھا کر انہی کے ہاتھ کو کاٹ رہے ہیں- ممکن ہے یہ لوگ دل سے خیال کرتے ہوں کہ مہاراجہ صاحب کی وفاداری کرتے ہیں لیکن مجھے تو شبہ ہے کہ یہ لوگ دل سے بھی مہاراجہ صاحب کے بدخواہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ امن کی تعلیم دینے والوں کی کوششوں کو کمزور کر کے ریاست میں بغاوت پھیلائیں- بہرحال اگر یہ لوگ مہاراجہ صاحب اور ریاست کے دشمن نہیں تو نہایت بیوقوف دوست ضرور ہیں-
    عزیز دوستو! جو میرے پہلے خط کا حشر ہوا وہی اس خط کا بھی ہو سکتا ہے اس لئے میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آئندہ آپ لوگ یہ احتیاط کیا کریں کہ میرا مطبوعہ خط ملتے ہی فوراً اسے پڑھ کر دوسروں تک پہنچا دیا کریں تا کہ ریاست کے ضبط کرنے سے پہلے وہ خط ہر اک کے ہاتھوں میں پہنچ چکا ہو اور تا کہ ہر مسلمان اپنے فرض سے آگاہ ہو چکا ہو اور بہتر ہو گا کہ جس کے ہاتھ میں میرا خط پہنچے وہ اس کا مضمون ان مردوں‘ عورتوں اور بچوں کو سنا دے جو پڑھنا نہیں جانتے اور اگر ہو سکے تو اس کی کئی نقلیں کر کے دوسرے گائوں کے دوستوں کو بھجوا دے اگر پورا خط نقل نہ ہو سکے تو اس کا خلاصہ ہی لکھ کر دوسرے دوستوں کو اطلاع کر دے-
    ان ہدایات کے بعد میں آپ لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کو خط لکھنے کے علاوہ میں نے اپنے نائبوں کو انگلستان میں بھی تاریں دیں کہ وہ کشمیر کے مظالم کی طرف وہاں کے حکام کو توجہ دلائیں اور کشمیر کمیٹی کے سیکرٹری کو دہلی بھیجا تا کہ وہ حکومت ہند میں بھی آپ لوگوں کی تکالیف کو پیش کر کے داد خواہی کریں اور اسی طرح اپنے عزیز چوہدری ظفراللہ خان صاحب ممبر رائونڈ ٹیبل کانفرنس کو بھی تار دی کہ وہ بھی حکام سے ملیں- چنانچہ یہ لوگ وائسرائے کے پرائیوٹ سیکرٹری اور دوسرے سکرٹریوں اور حکام سے ملے اور انہیں صورت حالات سے آگاہ کیا- اسی طرح ولایت میں خان صاحب فرزند علی خان صاحب امام مسجد لنڈن نے میری ہدایت کے مطابق کوشش کی نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت کو دہلی اور لندن دونوں جگہ اصل حقیقت سے آگاہی ہو گئی اور ولایت کے اخبارات نے بڑے ز ور سے یہ لکھنا شروع کر دیا کہ ریاست کا نظام پوری طرح بدل کر مسلمانوں کی داد خواہی کرنی چاہئے- اور حکومت ہند نے بھی اس طرف توجہ کرنی شروع کی چنانچہ تازہ اطلاعات مظہر ہیں کہ اگر وزیراعظم صاحب نے اپنا رویہ نہ بدلا تو شاید وہ چند دن میں اپنے عہدہ سے الگ کر دیئے جائیں گے اور جلد ہی دوسرے افسروں میں بھی مناسب تبدیلی ہو جائے گی جس کے لئے میں میرپور‘ کوٹلی‘ راجوری اور بھمبر کے دوستوں کی خواہش کے مطابق کوشش کر رہا ہوں- میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ جلد کوئی آپ لوگوں کی بہتری کے سامان ہو جائیں گے- میں نے ولایت پھر تار دی ہے کہ وہاں پہلے سے بھی زیادہ پراپیگنڈا کیا جائے اور اصل حالات سے انگریزوں کو واقف کیا جائے- کیونکہ ریاست میں اس قدر ظلم ہوئے ہیں کہ اس انصاف پسند قوم کو اگر ان کا علم ہو گیا تو یقیناً ایک شور پڑ جائے گا اور وہ حکومت پر بے انتہا زور دے گی- میں نے اس سلسلہ میں ایک ولایتی خطوں کا سلسلہ بھی شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے- یعنی جس طرح میں آپ کو خط لکھتا ہوں اسی طرح ایک خط پارلیمنٹ کے ممبروں‘ وزراء‘ امراء اور ولایتی اخبارات کے ایڈیٹروں کے نام بھی لکھا کروں گا تا کہ انہیں بھی سب حالات کا علم ہوتا رہے اور ہندوئوں کے غلط پروپیگنڈا سے وہ واقف ہوتے رہیں- مجھے امید ہے کہ میرے ایک دو خطوں سے وہاں شور پڑ جائے گا اور فریب کی چادر جو ریاستی ہندوئوں نے بنی ہے تار تار ہو جائے گی-
    اس کے بعد میں آپ لوگوں کو پھر نصیحت کرتا ہوں کہ سول نافرمانی کا لفظ جو بدقسمتی سے بعض لوگوں نے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا اور جس کے سبب انگریزی حکومت نے دھوکا کھا کر ریاست کو سختی کرنے کی اجازت دے دی تھی اسے بالکل ترک کر دیں اور ہر اک شخص کو سمجھائیں کہ غلط لفظ استعمال کرنے سے بھی سخت نقصان ہے- وہ ایسے لفظوں کا استعمال ترک کر دیں اور ایسے طریقوں سے بچیں کہ جن کے ذریعہ سے انگریزی حکومت کو ریاستی حکام دھوکا دے سکیں- یاد رکھیں کہ آزادی یا تلوار کے زور سے حاصل ہو سکتی ہے یاانگریزوں کی امداد سے- اور تلوار سے آزادی کا حصول آپ لوگوں کے لئے ناممکن ہے پس ایسے طریقے اختیار کرنے جن سے انگریزوں کی ہمدردی بھی جاتی رہے ہرگزعقلمندی کا شیوہ نہیں- اس لفظ کے استعمال سے دیکھ لو کہ پہلے کس قدر نقصان ہوا ہے- صرف میرپور کے علاقہ میں چند نوجوانوں نے غلطی سے سول نافرمانی سوال اٹھایا اور وہاں کے علاوہ تمام ریاست کشمیر پر ظلم کی انتہاء ہوگئی- کارکن گرفتار ہوگئے‘ عورتوں کی بے عزتی ہوئی اور بچے بلاوجہ پیٹے گئے- جس سول نافرمانی نے اب تک انگریزی علاقہ میں جہاں رعایا پہلے سے آزاد ہے کچھ نفع نہیں دیابلکہ مسٹر گاندھی اس کے بانی اب تک قید ہیں اور سب مسلمان اس کا تجربہ کرکے اس کی مخالفت کر رہے ہیں اس نے وہاں کیا نفع دینا ہے سوائے اس کے کہ مہذب دنیا اس کی وجہ سے مسلمانوں کو باغی کہنے لگے اور ریاست کا دلی منشاء پورا ہوا اور اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوسکتا- ہاں ابتدائی انسانی حقوق کے متعلق اگر کسی وقت سب لیڈروں کے مشورہ سے ریاست کے ظالمانہ اور خلاف شریعت احکام کے ماننے سے انکار کیا جائے تو دہ سول نافرمانی نہ ہوگی کیونکہ ابتدائی حقوق سے محروم کرنیوالی حکومت عرفعام میں خود باغی کہلاتی ہے اس احکام کے نہ مانے والے لوگ باغی نہیں کہلاتے مگر اس کے متعلق میں تفصیل سے بعد میں لکھوں گا-
    اس وقت سب سے اہم بات جو میں کہنی چاہتا ہوں یہ ہے کہ گلینسی کمیشن اس وقت جلد جلد اپنا کام ختم کر رہا ہے- اس کمیشن کی رپورٹ پر انگریزی حکومت کی آئندہ امداد کا بہت کچھ انحصار ہے- میں خود بھی اس کمیشن کے سامنے پیش کرنے کو ایک بیان لکھ رہا ہوں لیکن آپ لوگوں کی کئی تکالیف ہوں گی جو مجھے معلوم نہیں اس لئے جس جس علاقہ میں میرا یہ خط پہنچے وہاں کے لوگوں کو چاہئے کہ اپنی شکایات اور ان کے ثبوت لکھ کر جلد سے جلد مفتی جلال الدین صاحب کو جو مسٹر عبداللہ صاحب کے جانشین ہیں‘ سری نگر بھجوا دیں تا کہ وہ کمیشن کے آگے ان شکایت کو رکھ سکیں- اس معاملہ میں سستی ہوئی تو بعد میں پچھتانا پڑے گا کیونکہ ایسے کمیشن روز روز نہیں بیٹھا کرتے-
    مجھے معلوم ہے کہ بعض لوگ آپ لوگوں کو یہ کہتے ہیں کہ اس کمیشن سے تعاون کا کوئی فائدہ نہ ہو گا لیکن یاد رکھیں کہ آپ کے لیڈر شیخ عبداللہ صاحب اور دوسرے سب آپ کے خیر خواہوں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ اس کمیشن سے تعاون کیا جائے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کمیشن سے تعاون مفید ہو گا- پہلا فائدہ تو یہی ہے کہ اس کمیشن کی بدولت پریس اور تقریر اور انجمنوں کی آزادی کا سوال پیش ہو چکا ہے اور تھوڑے دنوں میں اس کے متعلق کارروائی شروع ہو جائے گی اس کے علاوہ بھی امید ہے کہ اور بہت سے فوائد انشاء اللہ حاصل ہوں گے اور جن امور میں اس کمیشن کی رپورٹ نامکمل یا غلط ہوئی ہمارے لئے اس کے خلاف احتجاج کرنے کا پھر بھی راستہ کھلا ہے- علاوہ ازیں اس وقت یہ کمیشن ایک طرح روک بن رہا ہے- جب انگریزی حکومت کو توجہ دلائی جاتی ہے تو اس کے ذمہ وار حکام کہتے ہیں کہ مہاراجہ صاحب ایک کمیشن بٹھا چکے ہیں پس اس کے فیصلہ کا انتظار کرنا چاہئے- پس ہمارا فرض ہے کہ جہاں تک ہو سکے جلد اس کمیشن کا کام ختم کرائیں اور پوری کوشش کریں کہ اس کمیشن کی کارروائی اس رنگ میں تکمیل کو پہنچے کہ کمیشن مجبور ہو کہ کاغذات کی بناء پر مسلمانوں کے حق میں رپورٹ کرے-
    دوسرا ضروری امر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ریاست نے اس وقت پرامن لوگوں کے جلسے اور جلوس روک رکھے ہیں- سول نافرمانی کے پروگرام والوں اور ہندوئوں کے جلسے اور جلوس کھلے ہیں جیسا کہ گذشتہ دنوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔کا جلوس نکلا اور اس میں احرار زندہ باد اور قادیانی مردہ باد کے نعرے لگائے گئے- کسی کے مردہ باد کہنے سے ہم مر نہیں جاتے پس میں تو کہتا ہوں کہ اگر ہمیں مردہ باد کہہ کر کسی کا دل خوش ہوتا ہو تو چلو یہ بھی ایک ہماری خدمت ہے وہ اسی طرح اپنا دل خوش کر لیں- ہم بھی خوش ہیں کہ ہمارے ایک بھائی کا دل اس طرح خوش ہو گیا- مگر ایک سبق ہمیں ان جلسوں اور جلوسوں سے ملتا ہے اور وہ یہ کہ ریاست کا ان لوگوں کو جلسوں اور جلسوں کی اجازت دینا صاف بتاتا ہے کہ ریاست کے لئے اس میں فائدے ہیں اور وہ فائدے میرے نزدیک دو ہیں- )۱(اول فائدہ یہ ہے کہ ریاست اس طرح حکومت انگریزی کو یہ بتانا چاہتی ہے کہ ریاست کے مسلمان باغی ہو گئے ہیں اور اس غرض کو پورا کرنے کے لئے وہ اپنے ایجنٹ مقرر کر رہی ہے- )۲(دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح ریاست لوگوں پر یہ ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ مسٹر عبداللہ لیڈر کشمیر کی پارٹی کمزور اور تھوڑی ہے اور ان کے مخالف زور پر ہیں- ریاست کے ہاتھ میں فوج ہے اور حکومت ہے- وہ ظلم کے ساتھ ایک ہی قانون کو دو طرح استعمال کر سکتی ہے- لیکن اللہتعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے اور ہم بغیر فساد پیدا کرنے کے اس کی تجویز کو رد کر سکتے ہیں اور وہ اس طرح کہ ریاست نے جلسوں سے تو آپ لوگوں کو روک دیا ہے لیکن وہ لباس پر تو کوئی پابندی نہیں لگا سکتی اس لئے میرے نزدیک آپ لوگ لباس کے ذریعہ سے اپنے خیالات کو ظاہر کر سکتے ہیں اور وہ اس طرح کہ جس قدر لوگ مسٹر عبداللہ کے ہم خیال ہیں اور امن پسندی کے ساتھ اپنے حق لینا چاہتے ہیں اور سول نافرمانی کے حامی نہیں وہ اس امر کے ظاہر کرنے کے لئے کہ مسٹر عبداللہ اور دوسرے لیڈروں کی قید سے انہیں تکلیف ہے اور دوسرے اس امر کو ظاہر کرنے کے لئے کہ وہ بہرحال پرامن ذریعہ سے اپنے حقوق طلب کریں گے اور ریاست کے حکام کو جوش دلانے کے باوجود اپنے طریق کو نہیں چھوڑ دیں گے اپنے بازو پر ایک سیاہ رنگ کا چھوٹا سا کپڑا باندھ لیں یا اپنے سینہ پر ایک سیاہ نشان لٹکا لیں-ایسے نشان سے بغیر ایک لفظ منہ سے نکالنے کے‘ بغیر تقریر کرنے کے‘ بغیر جلوس نکالنے کے‘ آپ حکومت اور دوسرے لوگوں کو بتا سکیں گے کہ آپ مسٹر عبداللہ کے ہم خیال ہیں- اگر یہ تحریک ہر جگہ کے لیڈر کامیاب کر سکیں اور ملک کے ہر گوشہ میں ہر شخص خواہ مرد ہو‘ خواہ عورت‘ خواہ بچہ اس سیاہ نشان کا حامل ہو تو آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ بغیر جلسوں اور جلوس کے آپ لوگوں کی طرف سے اس امر کا اظہار ہوتا رہے گا کہ ایک طرف تو آپ لوگ مسٹر عبداللہ کی قید پر احتجاج کرتے ہیں اور دوسری طرف ریاست کے ان ایجنٹوں کی پالیسی کے خلاف اظہار رائے کرتے ہیں جو اندر سے تو ریاست سے ملے ہوئے ہیں اور بظاہر کامل آزادی کا مظاہرہ پیش کر کے تحریک کو کچلنا چاہتے ہیں- اگر مختلف علاقوں کے لیڈر اس تحریک کو جاری کریں تو آپ لوگ دیکھیں گے کہ تھوڑے ہی دنوں میں ریاست اور اس کے ایجنٹ مرعوب ہونے لگیں گے- اور ہر راہ چلتے آدمی کو معلوم ہو جائے گا کہ کشمیر کا بچہ بچہ شیر کشمیر اور دوسری لیڈروں کے ساتھ ہے اور یہ کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ حقوق کا مطالبہ صرف چند لوگوں کی طرف سے ہے یایہ کہ ریاست کشمیر کے لوگ فساد کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں- اس تحریک میں سب اہل کشمیر شامل ہیں اور وہ باغی نہیں بلکہ آئینی طور پر اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والے ہیں اور یہ وہ حق ہے جس سے کوئی شخص کسی کو محروم نہیں کر سکتا-
    اس کے علاوہ اور بہت سی باتیں ہیں جو میں اپنے اگلے خط میں ظاہر کروں گا- سردست میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آپ لوگ جلد سے جلد ان امور کے متعلق کوشش کریں گے اور ایسے سامان پیدا کر دیں گے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری کوششیں بار آور ہوں اور آپ لوگوں کو آزادی کا سانس لینا نصیب ہو اور آپ کے لیڈر پھر آپ لوگوں میں آ کر شامل ہوں اور آپ کی خدمت میں مشغول ہوں-
    والسلام
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی
    نوٹ: )۱( جن صاحبان کو یہ خط پہنچے ان سے درخواست ہے کہ اس کے اثر کو وسیع کرنے کے لئے وہ اپنے دوسرے دوستوں اور واقفوں کے نام اور پتے جو دوسرے گائوں کے ہوں میرے نام یا سیکرٹری کے نام بھجوا دیں تا کہ آئندہ خطوط اور بھی وسیع علاقوں میں پھیلائے جا سکیں-
    )۲( چونکہ میرا ارادہ ہے کہ میں باقاعدہ انگلستان کے لوگوں کو اور ہندوستان کے حکام کو ایک رسالہ کے ذریعہ سے حالات کشمیر سے واقف کرتا رہوں میں ممنون ہوں گا اگر اپنے علاقہ کے حالات سے اور حکام کے رویہ سے مجھے آپ لوگ اطلاع دیتے رہا کریں- واقعات بالکل سچے اور بیان حلفیہ ہونے چاہئیں-
    مرزا محمود احمد
    )تاریخ احمدیت جلد۶ ضمیمہ نمبر۱ صفحہ۱۲ تا ۱۶ مطبوعہ ۱۹۶۵ء(
    ‏a12.5
    انوار العلوم جلد ۱۲
    تحریک آزادی کشمیر
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھوالناصر
    ‏]dhea [tagاہل کشمیر کے نام
    میرا تیسرا خط )سلسلہ دوم(
    مڈلٹن کمیشن رپورٹ
    برادران! السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ
    گو اب تک مڈلٹن رپورٹ مکمل صورت میں شائع نہیں ہوئی لیکن اس کا خلاصہ اخبارات میں شائع ہوا ہے اس خلاصہ کو دیکھ کر مسلمانوں میں سخت جوش اور غضب کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ محسوس کر رہے ہیں کہ ریاست کے ہندو افسروں کی طرح انگریزی افسروں نے بھی ان سے دھوکا کیا ہے اور یہ کہ وہ آئندہ انگریزوں سے بھی کسی انصاف کی امید نہیں کر سکتے-
    گو اس قسم کی منافرت اور مایوسی کے جذبات میرے دل میں پیدا نہ ہوئے ہوں جو بعض دوسرے مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہوئے ہیں لیکن میں اس امر کا اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ میرے نزدیک ہر انصاف پسند انسان کے نزدیک یہ رپورٹ موجب حیرت ثابت ہوئی ہوگی- اور تو اور سول اینڈ ملٹری گزٹ اخبار تک اس رپورٹ کے متعلق شبہات کا اظہار کرتا ہے اور اس کے حیرت انگیز یکطرفہ فیصلہ کو ایسوسی ایٹیڈ پریس کے خلاصہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے اصل رپورٹ کے شائع ہونے کی انتظار کا مشورہ دیتا ہے-
    وہ لوگ جو اس امید میں تھے کہ مڈلٹن کمیشن کی رپورٹ مسلمانوں کی مظلومیت کو روزروشن کی طرح ثابت کر دے گی بے شک اس وقت مایوسی محسوس کرتے ہیں لیکن جن لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ نہ افراد اقوام کے قائم مقام ہوتے ہیں اور نہ قومی جنگیں آسانی سے ختم ہوا کرتی ہیں وہ باوجود خلاف امید نتیجہ کے مایوس نہیں- اگر مسلمان مظلوم ہیں جیسا کہ ہمارے نزدیک مظلوم ہیں‘ تو ہزار مڈلٹن رپورٹ بھی ان کو ظالم نہیں بنا سکتی- وہ مظاہرات جو برطانوی علاقہ کے مظاہرات کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے تھے‘ لیکن جن کو بجائے لاٹھیوں کے گولیوں سے پراگندہ کیا گیا اور گولیاں بھی اس بیدردی سے چلائی گئیں کہ کثیر تعداد آدمیوں کی ان کا نشانہ بنی ایسا واقعہ نہیں ہیں کہ مڈلٹن رپورٹ ان کی حقیقت پر پردہ ڈال سکے- اگر مڈلٹن رپورٹ کا کوئی اثر دنیا پر ہوگا تو صرف یہ کہ لاکھوں آدمی جو اس سے پہلے برطانوی انصاف پر اعتماد رکھتے تھے‘ اب برطانوی قوم کو بھی ظالم اور جابر قرار دینے لگیں گے- پس میرے نزدیک مڈلٹن رپورٹ کا نہ ریاست کو فائدہ پہنچا ہے اور نہ مسلمانوں کو نقصان بلکہ انگریزوں کو نقصان پہنچا ہے- پس نہ ہندوئوں کے لئے خوشی کا موقع ہے اور نہ مسلمانوں کے لئے گھبراہٹ کا- اگر کسی کے لئے گھبراہٹ کا موقع ہے تو عقلمند اور سمجھ دار انگریزوں کے لئے جو اس میں اپنے وقار پر ایک شدید ضرب محسوس کریں گے-
    مجھے یقین ہے کہ مسٹر مڈلٹن بددیانت نہیں اور معاملہ وہ نہیں جو ریاست کے بعض اعلیٰ کارکن کئی ماہ سے بیان کر رہے تھے- یعنی یہ کہ انہوں نے مسٹر مڈلٹن کی رائے کو خرید لیا ہے- کیونکہ گو میں مسٹر مڈلٹن کو ذاتی طور پر نہیں جانتا‘ لیکن ان کے جاننے والے سب مسلمان یہی کہتے ہیں کہ خواہ ہائی کورٹ کے جج خریدے جا سکتے ہوں‘ لیکن مسٹر مڈلٹن نہیں خریدے جا سکتے- اور کوئی وجہ نہیں کہ واقفوں کی رائے کو جو خود ہماری قوم کے فرد ہیں ہم نظر انداز کر دیں- پس میں یہ تو نہیں مان سکتا کہ مسٹر مڈلٹن نے بددیانتی سے کام لیا ہے‘ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کی رائے یک طرفہ ہے اور ان کی طبیعت کا میلان ان کے فیصلہ سے پھوٹا پڑتا ہے-
    جب ایک کمیشن کے تقرر کی ہم کوشش کرتے ہیں تو ہمیں اس امر کی توقع رکھنی چاہئے کہ ممکن ہے اس کا فیصلہ ہمارے خلاف ہو- ہزاروں مقدمات میں سچے جھوٹے ثابت ہو جاتے ہیں اور جھوٹے سچے ثابت ہو جاتے ہیں- پس اگر صرف مڈلٹن کمیشن کا فیصلہ ہمارے خلاف ہوتا اور مسلمان اس پر ناراض ہوتے تو میں اسے بچپن کا فعل قرار دیتا اور باوجود اس فیصلہ سے اختلاف رکھنے کے اس پر ناراضگی کا اظہار نہ کرتا- لیکن یہ فیصلہ اس رنگ میں لکھا گیا ہے کہ صرف خلاف ہی فیصلہ نہیں ہے بلکہ متعصبانہ رنگ رکھتا ہے- چنانچہ ہر اک بات جو مسلمانوں کے منہ سے نکلی ہے‘ اسے خلاف عقل‘ بالبداہت باطل‘ کھلی کھلی دروغ بیانی کا قرار دیا گیا ہے اور جو کچھ ریاست کی طرف سے کہا گیا ہے‘ اسے معقول اور درست قرار دیا گیا ہے اور متعدد گواہوں کی گواہیوں کو اپنے ذاتی میلان پر قربان کر دیا گیا ہے- بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں کی گواہی کو من حیث القوم ناقابل اعتبار قرار دے کر ایک ایسی قومی ہتک کی گئی ہے کہ اس کا خمیازہ اگر خطرناک سیاسی بے چینی کی صورت میں پیدا ہو تو برطانیہ کو سوائے اس بات کے کہنے کے چارہ نہ ہوگا کہ خدا مجھے میرے بے احتیاط فرزندوں سے بچائے-
    مگر جہاں تک میں سمجھتا ہوں‘ اکثر انگریز دلوں میں خوب سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں پر ظلم ہوا ہے- پس اس رپورٹ کا مسلمانوں پر تو کیا اثر ہوگا‘ خود انگریزوں پر بھی اس کا کوئی اثر نہ ہوگا- یہ اور بات ہے کہ بعض لوگ اپنے سیاسی فوائد کی وجہ سے اپنے دلی خیال کا اظہار نہ کریں-
    مجھے حیرت ہے کہ جب مسٹر مڈلٹن کے نزدیک سب کشمیری مسلمان جھوٹے ہیں تو انہیں اس قدر عرصہ تک تحقیقات کی ضرورت کیا پیش آئی تھی- انہیں تو شروع میں ہی کہہ دینا چاہئے تھا کہ میں کسی مسلمان کی گواہی نہیں سنوں گا- اس قدر روپیہ اپنی ذات پر اور اپنے عملہ پر خرچ کروانے کے علاوہ انہوں نے مسلمانوں کا روپیہ بھی جنہوں نے دور دور سے گواہ منگوا کر پیش کئے تھے کیوں ضائع کرایا-
    مڈلٹن رپورٹ پر اپنے خیالات ظاہر کرنے کے بعد میں اس امر پر بھی اظہار افسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس رپورٹ کے شائع ہونے پر بعض لوگ اس طرح مایوس ہو گئے ہیں کہ گویا ان کے نزدیک مڈلٹن کمیشن ہی ہمارا معبود ہے- اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کام کرنے کے کئی راستے تجویز کئے ہیں- اور ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان راستوں سے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کوشش کریں- اگر ان میں سے بعض بند نظر آئیں تو ہمیں مایوسی کی ضرورت نہیں- ہم نے اگر ایک کوشش کی اور اس میں ہم ناکام رہے تو مایوسی کی کونسی بات ہے- ہمیں پھر کوشش کرنی چاہئے اور پھر کوشش کرنی چاہئے‘ یہاں تک کہ ہم کامیاب ہو جائیں-
    ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مڈلٹن کمیشن خود مسلمانوں کی کوششوں کے نتیجہ میں مقرر ہوا تھا- کشمیر سے متواتر یہ آواز آ رہی تھی کہ آزاد کمیشن مقرر کرایا جائے اور باہر کے مسلمانوں نے اس کی تائید کی- پس اس قسم کے نتائج سے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں- مڈلٹن کمیشن پر نہ آپ کو کوئی ناقابل برداشت قربانی کرنی پڑی ہے اور نہ اس رپورٹ سے ہماری پہلی پوزیشن میں کوئی نقص واقع ہوا ہے- اس کمیشن کا مطالبہ مسلمانوں کی طرف سے اس خیال سے تھا کہ اگر وہ انصاف پر مبنی ہوا تو مسلمانوں کی طرف غیر جانبدار لوگوں کی توجہ ہو جائے گی- اب اگر خلاف فیصلہ ہوا ہے تو حالت وہیں کی وہیں آ گئی‘ جہاں پہلے تھی- پس نقصان کچھ نہیں ہوا- ہاں اگر فیصلہ درست ہوتا تو فائدہ ہو سکتا تھا- پس مایوسی کی کوئی وجہ نہیں- قومی جنگوں میں اتارچڑھائو ہوتے رہتے ہیں- رسول کریم ~صل۲~ کے زمانہ کے متعلق بھی آتا ہے کہ لڑائی ڈول کی طرح تھی- کبھی کسی کا ڈول کوئیں میں پڑتا اور کبھی کسی کا- پس اگر فی الواقع مسلمانان کشمیر کا ارادہ آزادی حاصل کرنا ہے تو انہیں اپنے دل وسیع اور مضبوط کرنے چاہئیں اور اپنی ہمتیں بلند اور اس قسم کی تکلیفوں اور ناکامیوں کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں کرنی چاہئے- ورنہ وہ یاد رکھیں کہ بڑے کام چھوٹے حوصلوں سے نہیں ہوتے- اور اگر ان کا منشاء صرف تکلیفوں سے بچنے کا ہے تو اس کا آسان علاج ہے کہ ہتھیار ڈال دیں- اس صورت میں کچھ دنوں تک یہ ظاہری ظلم بند ہو کر اسی سابقہ کند چھری سے ہندو افسر انہیں قربان کرنے لگیں گے جس سے پہلے قربان کیا کرتے تھے- لیکن اس موت میں نہ کوئی شان ہوگی نہ مسلمانوں کی ان سے ہمدردی ہوگی- ہم لوگ آپ لوگوں کے بلانے پر آئے ہیں اگر آپ لوگ خاموش ہونا چاہیں تو ہم بھی خاموش ہو جائیں گے- مگر مجھے یقین ہے کہ مایوسی صرف چند لوگوں کا حصہ ہے مسلمانوں کی کثرت اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے آزادی حاصل کرنے کے لئے جان و دل سے مستعد ہے اور یہی کثرت ہے جو آخر باوجود ہمت ہارنے والوں اور مایوس ہونے والوں کے انشاء اللہ کامیاب ہو کر رہے گی-
    بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اب ہمیں گلینسی کمیشن پر کیا اعتبار رہا- اس میں کوئی شک نہیں کہ گلینسی کمیشن سے بھی خطرہ ہے جس طرح مڈلٹن کمیشن میں خطرہ تھا- لیکن اگر اس کمیشن نے بھی ہماری امیدوں کے خلاف فیصلہ کیا تو ہمارا کیا نقصان ہوگا- کیا انگریز کے منہ سے نکلی ہوئی بات ہمارے مذہب کا جزو ہے- اگر مسٹر گلینسی نے مسٹر مڈلٹن والا طریق اختیار کیا تو ہم مڈلٹن رپورٹ کی طرح اس کی غلطیوں کا بھی پردہ فاش کریں گے- اور اگر اس میں مسلمانوں کے حق میں کوئی سفارش کی گئی تو یقیناً اس سے ہم کو فائدہ پہنچے گا- بعض افسر اور بعض دوسرے لوگ بہت پہلے سے گلینسی رپورٹ کے متعلق بھی کہہ رہے ہیں کہ مسٹر گلینسی نے ان سے کہہ رکھا ہے کہ ان کا فیصلہ مسلمانوں کے خلاف ہوگا- اگر یہ سچ ہے تو بھی میرے نزدیک ہمیں اس سے مایوسی کی ضرورت نہیں- ہر اک غیر منصفانہ رپورٹ جو انگریز کریں گے‘ اس سے مسلمانوں کی ہمدردی کھو کر اپنی قوم کے لئے مشکلات پیدا کریں گے- پس ایسی رپورٹ سے ہمارا نقصان نہیں‘ خود ان کا نقصان ہے- ہمارے مطالبات پھر بھی قائم رہیں گے- ہم نے اپنے حقوق کے متعلق کیا یہ تسلیم کیا ہے کہ جو کچھ انگریز کہہ دیں گے‘ اسے ہم تسلیم کر لیں گے- اگر وہ معقول بات ہوگی تو ہم اسے مانیں گے‘ ورنہ کہیں گے کہ عطائے تو بلقائے تو-
    براردان! یاد رکھیں کہ مایوسی کی لہر دو طرف سے چلائی جا رہی ہے- ایک ریاست کے ہندو افسروں کی طرف سے جو بعض انگریزوں کی غلطیاں گنوا کر مسلمانوں کو اس طرف لانا چاہتے ہیں کہ وہ خود ریاست کے ہندو افسروں سے فیصلہ چاہیں- حالانکہ جو کچھ ہندو افسروں نے سلوک کیا ہے وہ اس قدر پرانا نہیں کہ اسے مسلمان بھول جائیں- ایک شخص کے فیصلہ سے انگریزی طبیعت کا حال نہیں معلوم ہو سکتا- نہ مسٹر مڈلٹن اور مسٹر گلینسی انگریزی حکومت کا نام ہے- لیکن ہندوئوں نے تو ریاست میں افراد کی حیثیت میں نہیں حکومت کی حیثیت میں مسلمانوں کو بیدردی سے کچلا ہے- پس جو کچھ ان سے ظاہر ہوا ہے‘ کیا مسلمان اسے اس قدر جلد بھول جائیں گے؟ اب اس وقت بھی کہ مڈلٹن رپورٹ شائع ہو چکی ہے‘ میرے پاس درخواستیں آ رہی ہیں کہ میرپور کی طرح دوسرے علاقوں میں بھی انگریزی مداخلت کی کوشش کی جائے- اگر انگریزوں اور ریاستی حکام میں فرق نہیں تو یہ کیوں ہو رہا ہے؟ یہ سخت بے وقوفی ہوگی کہ ہم ایک شخص سے یا ایک فعل سے ناراض ہو کر عقل کو ہی چھوڑ دیں اور اپنی موت کے سامان خود کرنے لگیں- پس مڈلٹن رپورٹ کی غلطی کا یہ نتیجہ نہیں نکلنا چاہئے کہ ہم ہندو حکام کے ہاتھ میں کھیلنے لگیں- ان باتوں میں آنے والے لوگوں کو چاہئے کہ ان وسوسوں کے پیدا کرنے والوں سے دریافت کریں کہ فرض کرو کہ مڈلٹن صاحب کوئی رقم کھا گئے ہیں )جسے میں تسلیم نہیں کرتا( تو یہ بتائو وہ رقم کس نے کھلائی ہے اور کس غرض سے؟ اگر ہندو حکام نے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے تو اس جھوٹ کو تسلیم کر کے بھی تو اصل دشمن وہی رشوت کھلانے والے ثابت ہوتے ہیں-
    دوسرے لوگ جو اس وقت مایوسی پیدا کر رہے ہیں‘ وہ لوگ ہیں جو اس امر سے ڈرتے ہیں کہ کہیں دوسری مسلمان ریاستوں میں شورش نہ پیدا کی جائے- یہ لوگ بھی سخت غلطی پر ہیں- اول تو کشمیر اور مسلمان ریاستوں کے حالات یکساں نہیں دوسرے یہ بھی غلط ہے کہ ہندو مسلمانوں کے کشمیر کے معاملات میں دلچسپی لینے کی وجہ سے مسلمان ریاستوں کے خلاف شورش کریں گے وہ پہلے سے یہ کام کر رہے ہیں- مسلمان کشمیر کے متعلق دلچسپی لیں یا نہ لیں انہوں نے مسلم ریاستوں میں بغیر وجہ کے بھی ضرور شورش پیدا کرنی ہے- پس ہمیں ان لوگوں کی باتوں میں نہیں آنا چاہئے اور استقلال سے کشمیر کی آزادی کے لئے کوشش کرتے رہنا چاہئے اور ایک سبب پر توکل نہیں کرنا چاہئے‘ ہر جائز وسیلہ جس سے کام کے ہونے کی امید ہو ہمیں اختیار کرنا چاہئے اور اگر کسی کوشش کا نتیجہ حسب دلخواہ نہ نکلے تو ناامید نہیں ہونا چاہئے- اس وقت سب سے بڑا آلہ آزادی کا سول نافرمانی سمجھا جاتا ہے- پھر کیا یہ آلہ گزشتہ آٹھ سال میں کامیاب ہو گیا؟ اگر وہ آٹھ سال میں کامیاب نہیں ہوا تو ہم نو ماہ میں اپنی کوششوں سے کیوں مایوس ہوں-
    یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ نے خود ہی ہمارے لئے ایک راستہ مقرر کر چھوڑا ہے- اور ہمیں درمیانی روکوں کی وجہ سے اس سے ادھر ادھر نہیں ہونا چاہئے- اور وہ توکل اور تبلیغ ہے- خدا تعالیٰ کے فضل پر یقین رکھنا اور انسانی فطرت پر یقین رکھنا کہ وہ زیادہ دیر تک دلیل کا مقابلہ نہیں کر سکتی یہی اصل کامیابیوں کی جڑ ہے اور یہی کمزوروں کا حربہ ہے جس سے وہ بغیر فوجوں کے جیت جاتے ہیں- رسول کریم ~صل۲~ کو دیکھ لو- آپ باوجود انتہائی کوشش کر چکنے کے اپنے مخالفوں سے ناامید نہیں ہوئے کیونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر بھی یقین تھا اور آپ اس امر پر بھی یقین رکھتے تھے کہ انسانی فطرت زیادہ دیر تک معقولیت سے آنکھیں بن نہیں کر سکتی- آخر ایک دن وہی لوگ جو آپ کے دشمن تھے آپ کے تابع فرمان ہو گئے- پس ہمارے آقا کا اسوہ ہمارے سامنے موجود ہے- ہمیں کسی اور کی نقل کی ضرورت نہیں ہمارا فرض ہے کہ ایک طرف ہر مسلمان کے دل میں خواہ وہ کشمیر کا ہو یا باہر کا کشمیر کے مسئلہ سے دلچسپی پیدا کریں اور دوسری طرف ریاست کے حکام کو بھی اور انگریزوں کو بھی اپنے دعاوی کی معقولیت کا قائل کریں- اور یہ نہ شبہ کریں کہ یہ لوگ ہماری بات نہیں مانیں گے- کیونکہ جب ہم اپنی طاقت پر خود شک کرنے لگ جائیں تو ہماری بات کا دوسروں پر بھی اثر نہیں ہوتا- ہمیں چاہئے کہ یقین رکھیں کہ ضرور ہماری بات اثر کرے گی- دیکھو مسمریزم کرنے والا ایک جاگتے شخص کو کہنے لگتا ہے کہ تم سو گئے تم سو گئے‘ اور وہ سو جاتا ہے- پھر وہ اس سے جو کچھ چاہتا ہے منوا لیتا ہے- اگر وہ دوسرے سے جھوٹ منوا لیتا ہے تو کیا ہم سچ نہ منوا سکیں گے؟ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا بلکہ ضرور ہے کہ ایک دن یا ریاست کے حکام ہماری بات مان لیں اور مسلمانوں کو حق دے دیں اور یا انگریز ہی ہماری بات مان لیں اور ہمارے حق دلا دیں- اسی طرح اگر ہم ریاست اور اس کے باہر مسلمانوں کو بیدار کرتے رہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ دوسرے لوگ ہم سے مرعوب ہوں گے کیونکہ بیدار قوم کو کوئی نہیں دبا سکتا- غرض اگر دوسرے لوگ دیکھیں گے کہ کشمیر کے مسلمان اور دوسرے مسلمان اس امر پر تل گئے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے ان کے جائز حق حاصل کریں‘ تو جو لوگ دلیل سے ماننے والے نہیں وہ رعب سے مان لیں گے- مگر رعب دھمکیوں سے اور مارنے سے نہیں پیدا ہوتا بلکہ پختہ ارادہ اور اپنے کام کے لئے مستقل قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جانے سے پیدا ہوتا ہے- مجھے یقین ہے کہ اگر یہ باتیں اہلکشمیر پیدا کر لیں تو نہ ریاست ان کے حق کو دبا سکتی ہے نہ انگریز اس میں اس کی مدد کر سکتے ہیں- کوئی حکومت اپنے سب ملک کو تباہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتی- اور کوئی توپ پختہ ارادہ کو زیر نہیں کر سکتی- پس ہمارا راستہ کھلا ہے اندرونی تنظیم اور اپنے معاملہ کو بار بار دلیل کے ساتھ پبلک میں لانا ان دونوں تدبیروں میں سے کوئی نہ کوئی ضرور اثر کرے گی- یا تنظیم رعب پیدا کرے گی یا دلیل دل کو صاف کر دے گی‘ خواہ ریاست کے حکام کے دلوں کو خواہ انگریزوں کے دلوں کو- اور جس طرح سے بھی ہمیں حق مل جائے‘ ہم اسے خوشی سے قبول کریں گے- اور نہ ریاست سے گفتگو کا دروازہ بند کریں گے نہ انگریزوں سے- جو بھی ہماری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا‘ اس کی طرف ہم بھی دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے- اگر آج ریاست ہمارے بھائیوں کے حقوق دینے کو تیار ہو جائے تو ہم اس کے ساتھ مل کر انگریزوں سے کہیں گے کہ ہم لوگوں کی صلح ہو گئی ہے- اب آپ لوگ یہاں سے تشریف لے جائیے- اور اگر انگریزوں کی معرفت ہمیں حق ملے گا تو ہم کہیں گے کہ ہمارے وطنی بھائیوں سے یہ غیر اچھے ہیں جنہوں نے انصاف سے کام لیا- یہی اور صرف یہی عقلمندی کا طریق ہے- اور جو شخص غصہ میں اور درمیانی مشکلات سے ڈر کر اپنے لئے خود ایک دروازہ کو بند کر لیتا ہے‘ وہ نادان ہے اور قوم کا دشمن ہے- آج ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہمارا حق ریاست سے ملے گا یا انگریزوں سے- اور دلیل سے ملے گا یا قربانی کے رعب سے- پس ¶ہم دونوں دروازوں کو کھلا رکھیں گے- اور دونوں طریق کو اختیار کئے رہیں گے- یعنی انگریزوں اور ریاست دونوں سے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھیں گے- اسی طرح علاوہ دلیل کے اپنی تنظیم کو مضبوط کرتے چلے جائیں گے- پھر اللہ تعالیٰ کے علم میں جس طرح ہماری کامیابی مقدر ہے اسے قبول کر لیں گے اور اس کی قضاء پر خوش ہو جائیں گے-
    میں امید کرتا ہوں کہ میں نے حقیقت کو خوب واضح کر دیا ہے اور بیدار مغز اہل کشمیر مایوسی پیدا کرنے والے لوگوں کی باتوں میں نہیں آئیں گے- بلکہ ہمت اور استقلال سے اپنے کام میں مشغول رہیں گے اور یہ سمجھ لیں گے کہ مڈلٹن رپورٹ ہماری قسمت کا فیصلہ نہیں وہ فیصلہ ہمارے مولا نے کرنا ہے اور وہ ضرور اچھا ہی فیصلہ کرے گا- مڈلٹن کمیشن مختلف سامانوں میں سے ایک سامان تھا- اگر فی الواقع وہ سامان مفید بھی ثابت نہیں ہوا ) گو میرے نزدیک یہ فیصلہ بھی مفید ہوگا اور بوجہ اپنے کھلے ہوئے تعصب کے شریف طبقہ کو اور بھی ہمارا ہمدرد بنا دے گا( تو ہمیں نہ مایوسی کی کوئی وجہ ہے اور نہ اپنا طریق عمل بدلنے کی- ہمارا اصل پروگرام اسی طرح قائم ہے اور ہم اس کے ذریعہ سے کامیاب ہونے کی کامل امید رکھتے ہیں‘ لیکن ہتھیلی پر سرسوں جما کر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق اور سچی قربانیوں اور تنظیم اور دلیل کے ذریعہ سے- واخر دعوئنا ان الحمدللہ ربالعلمین
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    )تاریخ احمدیت جلد۶ ضمیمہ نمبر۱ صفحہ۱۶ تا ۲۲ مطبوعہ ۱۹۶۵ء(
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ممبروں کی
    طرف سے ایک اہم علان
    برادران! ]kns [tag السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ-
    آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا کام ایک ٹھوس کام ہے- اس کمیٹی نے اس وقت ہندوستان میں کشمیر سے دلچسپی پیدا کرا دی جبکہ پنجاب سے باہر کے لوگ اس مسئلہ کی حقیقت سے بالکل ناواقف تھے- اور نہ صرف ہندوستان میں بلکہ انگلستان‘ امریکہ‘ شام‘ مصر‘ جاواسماٹرا وغیرہ ممالک میں بھی لوگوں کو کشمیر کے مسلمانوں کی حالت سے واقف کر کے ان سے ہمدردی کا مادہ پیدا کیا اور ریاست کو اس کی اصلی صورت میں ظاہر کیا- پھر کشمیر کمیٹی نے وزارت برطانیہ اور حکومت ہند کو متواتر حقیقت حال سے آگاہ کر کے اور ممبران پارلیمنٹ میں ایجی ٹیشن پیدا کر کے اس امر میں دلچسپی لینے کے لئے آمادہ کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ریاست اب مسلمانوں کو حقوق دینے پر آمادہ ہے- کشمیر کے تختہ مشق مظلوموں کی مالی امداد‘انہیں صحیح مشورہ‘ طبیامداد‘ علمی امداد اور ہر قسم کی ضروری امداد کا انتظام کیا اور کر رہی ہے- لیکن بعض لوگ بعد میں آ کر اس کام کو اپنی طرف منسوب کرنا چاہتے ہیں- مجھے اس پر اعتراض نہیں کہ کوئی اور بھی یہ کام کرے بلکہ خوشی ہے اور نہ اس پر اعتراض ہے کہ کوئی اپنے طریق کو بہتر قرار دے- لیکن یہ امر ضرور قابل اعتراض ہے کہ کہا جاتا ہے کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی احمدیوں یا قادیانیوں کی تحریک ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا صدر احمدی ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے اتنے ممبروں میں سے صرف تین احمدی ہیں جن میں سے دو قادیان اور ایک صاحب لاہور کے مرکز سے تعلق رکھتے ہیں باقی سب حنفی یا اہلحدیث ہیں- چنانچہ اہلحدیث کی انجمن کے ناظم مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی‘ علماء میں سے مولانا سید میرک شاہ صاحب اور مولانا مظہر علی صاحب ایڈیٹر الامان‘ صوفیاء میں سے جناب خواجہ حسن نظامی صاحب اور ان کے خلیفہ سید کشفی شاہ صاحب نظامی اور پیروں میں سے مولانا ابوبکر صاحب بنگالی کے صاحبزادے مولوی ابو ظفر صاحب‘ بوہرہ قوم کے اعلیٰ رکن سیٹھ محمد علی صاحب‘ اسی طرح سیاسی لیڈروں میں سے ہر حلقہ کے لوگ اور وہ لوگ جنہوں نے اپنی عمریں مسلمانوں کی خدمت میں خرچ کر دی ہیں- پس باوجود ان لیڈروں اور علماء کی شمولیت کے یہ کہنا کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی قادیانی تحریک ہے‘ بہت بڑا ظلم ہے- اور اس سے سوائے اس کے کہ مظلوم کشمیریوں کے کام کو نقصان پہنچے اور کچھ نتیجہ نہیں نکل سکتا-
    اسی طرح افسوس ہے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سب ممبروں نے استعفاء دے دیا ہے- یہ امر بھی درست نہیں- چنانچہ میں ذیل میں ایک تحریر شائع کرتا ہوں جس سے یہ معلوم ہو جائے گا کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی اب بھی آل انڈیا حیثیت رکھتی ہے اور اس کے ممبر اس پوزیشن کے ہیں کہ گورنمنٹ اور ملک پر اثر ڈال سکتے ہیں اور ایسا اہم کام کر سکتے ہیں جس سے زیادہ کام کوئی اور شاید نہ کر سکے- یہ امر بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ ڈاکٹر سرمحمداقبال صاحب‘ مولانا شفیع دائودی سیکرٹری آل انڈیا مسلم کانفرنس‘ ڈاکٹر شفاعت احمد خان صاحب بھی اس کے ممبر ہیں اور اس کے کام کو نہایت تن دہی سے انگلستان میں سرانجام دے رہے ہیں- بوجہ ہندوستان سے باہر ہونے کے ان کے دستخط نہیں کرائے جا سکے- ہندوستان کے بعض ممبراں کے بھی بوجہ گھر پر نہ ہونے کے دستخط نہیں کرائے جا سکے-
    والسلامخاکسار
    مرزا محمود احمد
    اعلان
    ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ یہ کمیٹی ٹوٹ گئی ہے- اس کے ممبران مستعفی ہو گئے ہیں اور یہ کہ کمیٹی کی کسی قسم کی مدد نہ کی جائے وغیرہ- اس لئے ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ بالکل غلط ہے کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی ٹوٹ گئی ہے- یہ کمیٹی خدا کے فضل سے اسی طرح قائم ہے اور اپنا کام پوری کوشش سے کر رہی ہے-جب تک ہمارے ۳۰ لاکھ مظلوم بھائی کشمیر میں آزاد نہ ہوں گے یہ کمیٹی انشاء اللہ کام کرتی جائے گی اور ہر ممکن طریق سے ان کی مدد کرے گی- یہ کمیٹی اس کام کو ہر گز درمیان میں چھوڑنے کیلئے تیار نہیں-
    خاکساران
    ۱- ملک برکت علی )صاحب ایڈووکیٹ- سابق ایڈیٹر آبزرو رکن نیشنلسٹ مسلم پارٹی لاہور(- ۲- مولانا سید حبیب شاہ )صاحب ایڈیٹر سیاست لاہور( ۳- )مولانا( محمد یعقوب )صاحب ایڈیٹر لائٹ لاہور( ۴- )نواب سر( محمد ذوالفقار علی خان )صاحب ایم- ایل- اے رئیس لاہور( ۵- )ڈاکٹر( ضیاء الدین احمد )صاحب ایم-ایل- اے علیگڑھ( ۶- )مولان( سید محمد اسمعیل )صاحب غزنوی ناظم جمعیہ اہلحدیث امرتسر( ۷- )نواب( محمد ابراہیم علی خان )صاحب نواب آف کنج پورہ- ایم- ایل- اے( ۸- )مولانا( سید کشفی شاہ )صاحب نظامی رنگون( ۹- )جناب( عبدالرحیم )صاحب ڈسٹمکار- بمبئی( ۱۰- )جناب( محمد علی اللہ بخش )صاحب مختار کار جناب پیر صاحب بوہرہ قوم ۔۔۔( ۱۱- )جناب( محمد اسماعیل حاجی احمد )صاحب اسسٹنٹ سیکرٹری کھچی میمن یونین کلتہ( ۱۲- )مولانا( ابوظفر وجہہ الدین )صاحب ولد مولانا ابوبکر صاحب بنگال( ۱۳- )جناب( احمد عبدالستار )صاحب اعزازی سیکرٹری کلکتہ مجلس( ۱۴- )مسٹر( ایچ ایس سہروردی )بیرسٹر ایٹ لاء کلکتہ ایم ایل سی(
    نوٹ-: بعض ممبران نے اعلان کے ساتھ کچھ نوٹ بھی لکھے ہیں- چنانچہ بنگال کے مشہور لیڈر مسٹر ایچ ایس شہید سہروردی جو کسی زمانہ میں کانگریسی پارٹی کے چوٹی کے لیڈر تھے- یہ لکھتے ہیں مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض خود غرض لوگ اس قسم کی باتیں مشہور کر رہے ہیں کہ ممبران کشمیر کمیٹی نے استعفا دے دیا ہے- میری رائے میں یہ کمیٹی نہایت عمدہ اور ضروری کام سرانجام دے رہی ہے اور ہمارے مظلوم کشمیری بھائیوں کی امداد میں کوشاں ہے- اس کمیٹی کو چاہئے کہ وہ اپنے اس نہایت اہم کام کو جس کو اس نے اپنے کندھوں پر اٹھایا ہے جاری رکھے-
    ریاست کے حکام کا رویہ دن بدن خراب ہو رہا ہے- اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم مسلمانان کشمیر کو اس طرح ریاست کے حکام کے رحم پر نہ چھوڑیں- مسلمانوں کو امید ہے کہ کشمیری بھائیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور آخر کار حق و انصاف کی فتح ہوگی- چونکہ میری رائے میں کشمیر کمیٹی کی پہلے سے بھی زیادہ ضروریت ہے- اس لئے میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے کمیٹی سے ہر گز استعفاء نہیں دیا-
    )اشتہار شائع کردہ عبدالرحیم درد- ایم اے- سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی(
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
    اہل کشمیر کے نام چوتھا خط
    )سلسلہ دوم(
    برادران! السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ-
    میں نے اس امر کو دیکھ کر کہ حکام کشمیر بغیر اس امر کا خیال کئے کہ میرے خطوط ان کے فائدہ کے ہیں یا نقصان کے‘ خطوط کو ضبط کرتے رہے ہیں آئندہ خط لکھنے میں وقفہ ڈال دیا تھا لیکن جیسا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہے میں آپ لوگوں کے کام کے لئے دہلی گیا تھا اور جموں میں بھی مناسب کوشش کرتا رہا ہوں- سو الحمدلل¶ہ کہ سر راجہ ہری کشن کول صاحب تو ریاست کو چھوڑ گئے ہیں اور نیا انتظام امید ہے کہ مسلمانوں کے حق میں مفید ہو گا- گو میرے نزدیک آدمیوں کی تبدیلی نہیں بلکہ قانون اور نیت کی تبدیلی سے رعایا کو فائدہ پہنچ سکتا ہے- آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے جو کچھ کوششیں کی ہیں‘ اس کے نتیجہ میں مجھے امید ہے کہ بہت جلد اہل کشمیر کی اکثر تکالیف دور ہو جائیں گی اور ان کی آئندہ ترقی کا سامان پیدا ہو جائے گا- یہ کس رنگ میں ہو گا اور کب ہو گا اس سوال کا جواب دینے سے میں ابھی معذور ہوں- ہاں آپ لوگ تسلی رکھیں کہ انشاء اللہ ایک ماہ یا اس کے قریب عرصہ میں ایسے امور ظاہر ہوں گے جو آپ لوگوں کے لئے خوشی کا موجب ہوں گے اور آپ گذشتہ تکالیف کو بھول جائیں گے لیکن اصل کام اسی وقت سے شروع ہو گا کیونکہ حق کا ملنا اور اس سے فائدہ اٹھانا الگ الگ امور ہیں- اگر ریاست کشمیر کے مسلمانوں نے حقوق سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کی تو سب قربانی ضائع جائے گی-
    آپ لوگوں کو گذشتہ ایام میں سخت تکالیف کا سامنا ہوا ہے اور اب تک ہو رہا ہے- لیکن یہ امر آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ بڑے کاموں کے لئے بڑی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے- اگر میرا علم صحیح ہے اور آپ لوگوں کو جلد بہت سے حقوق ملنے والے ہیں‘ تو یہ کامیابی آپ کی ایسی ہو گی کہ اس کی نظیر ہندوستان میں اور کہیں نہیں ملتی اور کامیابی کے مقابلہ میں تکالیف بہت کم رہ جائیں گی-
    مجھے افسوس ہے کہ پوری طرح میرے منشاء کے مطابق کام نہیں ہوا- ورنہ مجھے یقین ہے کہ اس قدر تکا لیف بھی نہ ہوتیں- لیکن آپ لوگوں کو چاہئے کہ اگر اللہ تعالیٰ حقوق دلا دے تو سب گزشتہ ظلموں کو بھول کر آئندہ ترقی کے سامان پیدا کرنے میں لگ جائیں- ورنہ اگر اس وقت گزشتہ بدلے لینے کی طرف آپ متوجہ ہوئے تو بدلہ تو نہ معلوم آپ لے سکیں یا نہ لے سکیں‘ حقوق سے فائدہ اٹھانے سے آپ لوگ محروم رہ جائیں گے‘ یاد رکھیں کہ مسلمان نہایت وسیع الحوصلہ ہوتا ہے-
    میں انشاء اللہ جس وقت خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کو کامیاب کیا‘ ایک ا یسا پروگرام آپ لوگوں کے سامنے اور آپ کے ہندوستان کے خیرخواہوں کے سامنے رکھوں گا جس پر چل کر مجھے امید ہے کہ آپ لوگ اپنے حقوق سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں گے اور اپنی ہمسایہ قوموں سے بھی آپ کے تعلقات خوشگوار رہیں گے-
    میں اپنی طرف سے بھی یہ وعدہ کرتا ہو کہ انشاء اللہ ہر ممکن امداد آپ کی آئندہ ترقی کے لئے دیتا رہوں گا- وما تو فیقی لا باللہ
    والسلام
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    )تاریخ احمدیت جلد۶ ضمیمہ نمبر۱ صفحہ۲۲‘۲۳ مطبوعہ ۱۹۶۵ء(
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ- ھوالناصر
    اہل جموں و کشمیر کی طرف میرا پانچواں خط
    )سلسلہ دوم(
    برادران! میرے گذشتہ خط کے بعد بعض حالات میرے علم میں ایسے آئے ہیں کہ جن کی وجہ سے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ بعض امور کی تشریح جس قدر جلد ہو سکے کر دوں-
    پہلی بات یہ ہے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ جموں میں یہ بات مشہور کی جا رہی ہے کہ سرظفر علی خان صاحب کو میں نے کوشش کر کے نکلوایا ہے اور میری غرض یہ ہے کہ چوہدریظفراللہ خان صاحب کو ان کی جگہ وزیر مقرر کروائوں- مجھے افسوس سے یہ معلوم ہوا کہ بعض ذمہ وار لیڈروں نے بھی اس خیال کا اظہار کیا ہے اور عوام الناس میں بھی اس بات کا چرچا ہے- میں سمجھتا تھا کہ جس اخلاص اور محبت سے میں نے اہل کشمیر کا کام کیا تھا اس کے بعد اس قسم کی بدظنیاں پیدا نہ ہو سکیں گی‘ لیکن افسوس کہ میرا یہ خیال غلط نکلا- اگر محض اختلافرائے ہوتا تو میں بالکل پرواہ نہ کرتا لیکن اس الزام میں میری نیت اور دیانت پر چونکہ حملہ کیا گیا ہے میں اس کا جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں لیکن پھر بھی نام نہ لوں گا تا کہ دوسروں کی بدنامی کا موجب نہ ہو-
    اصل واقعہ یہ ہے کہ سر ظفر علی صاحب کے کشمیر پہنچنے کے معاً بعد بعض نمائندگان کشمیر نے مجھے ایسے واقعات لکھے جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ سر ظفر علی صاحب مسلمانوں سے اچھا سلوک نہیں کرتے اور ایک واقعہ میر واعظ یوسف شاہ صاحب کے ساتھ ان کے سلوک کا خاص طور پر بیان کیا گیا تھا اس پر میں نے ولایت تار دیئے اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ممبروں اور ہمدردوں نے وہاں کوشش کی اور بعض ذمہ وار حکام نے بتایا کہ احرار کی تحریک کے کمزور ہوتے ہی سر ہری کشن کول اور مرزا سر ظفر علی صاحب کو کشمیر سے علیحدہ کر دیا جائے گا- یہ غالباً اکتوبر کا واقعہ ہے اس واقعہ سے معلوم ہو جائے گا کہ ان کے اخراج کی تحریک خود کشمیر سے ہوئی اور اکتوبر میں اس کا فیصلہ بھی درحقیقت ہو چکا تھا- گو خاص حالات کی وجہ سے اس پر عمل بعد میں ہوا- پس اس کا الزام مجھ پر لگانا درست نہیں-
    باقی رہا یہ الزام کہ میں نے یہ کوشش عزیز مکرم چوہدری ظفراللہ خان صاحب کو وزیر بنانے کے لئے کی ہے- اس کا جواب میں یہی دے سکتا ہوں کہ چوہدری ظفراللہ خان صاحب کا میرے دل میں بہت احترام ہے لیکن مجھے یہ معلوم بھی ہو جائے کہ وہ کشمیر کی وزارت کی خواہش رکھتے ہیں تو میری رائے ان کی نسبت بدل جائے کیونکہ میں ان کو اس سے بہت بڑے کاموں کا اہل سمجھتا ہوں- پس اس وجہ سے اس عہدہ کو ان کی ترقی کا نہیں بلکہ ان کے تنزل کا موجب سمجھوں گا- علاوہ ازیں کشمیر کے وزیر کی تنخواہ غالباً تین ہزار کے قریب ہے لیکن چوہدری ظفراللہ خان صاحب- اس وقت بھی چار اور پانچ ہزار کے درمیان حکومت ہند سے وصول کر رہے ہیں- پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ زیادہ آمد والے کام سے ہٹا کر میں انہیں ایک تھوڑی تنخواہ والے کام پر لگنے کا مشورہ دوں خصوصاً جبکہ اس میں کوئی مزید ترقی اور مزید عزت کا بھی سوال نہیں- پس جن لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے ان کی عقل ویسی ہی ہے جیسی کہ اس فقیر کی جس نے ایک ڈپٹی کو خوش ہو کر دعا دی تھی کہ خدا تعالیٰ تجھے تھانے دار بنائے- کاش وہ بدظنی کر کے گنہگار نہ بنتے اور سمجھ سے کام لیتے اور سوچتے کہ عزیزم ظفراللہ خان صاحب وزارت کشمیر سے زیادہ اہم کام کر رہے ہیں اور اس سے بہت زیادہ ترقی کے سامان ان کے لئے خدا تعالیٰ کے محض فضل سے میسر ہیں-
    دوسرا اعتراض مجھ پر یہ کیا گیا ہے کہ میں نے کوشش کر کے انگریزوں کو ریاست میں داخل کیا ہے--- انگریزوں کے داخلہ کا واقعہ بھی اس طرح ہے کہ جب کشمیر میں شورش زیادہ ہوئی اور مجھے یہ آوازیں آنی شروع ہوئیں کہ انگریز کشمیر میں گھس جائیں تو اچھا ہے تو میں نے اپنے ہاتھ سے ایک خط شیخ عبداللہ صاحب ایم-ایس-سی لیڈر کشمیر کو لکھا اور رجسٹری کر کے بھیجا کہ انگریز افسروں کا آنا مفید نہیں مضر ہو گا‘ اس لئے آپ لوگ اس قسم کا مطالبہ ہرگز نہ کریں- اور یہی خیال میرا شروع سے ہے کیونکہ گو انگریز افسر بالعموم انصاف اور قواعد کی پابندی میں بہت سے ہندوستانیوں سے بڑھ کر ہوتا ہے لیکن انگریز انگریزی حکومت میں ہی مفید ہوتا ہے ریاستوں میں نہیں- اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انگریزوں میں بوجہ ان کی اپنے قومی کیریکٹر کے اعلیٰ ہونے کے یہ نقص ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں کی بات کو زیادہ مانتے ہیں- انگریزی علاقہ میں یہ بات چنداں مضر نہیں ہوتی کیونکہ یہاں انگریزی طریق ایک عرصہ سے جاری ہے اور نگرانی اس شدت سے ہوتی ہے کہ دیسی افسروں کو بھی قواعد کی پابندی اور محکمانہ دیانت کی عادت ہو گئی ہے‘ ریاستوں میں یہ بات نہیں ہوتی- پس وہاں کے جھوٹ سے جب انگریز کا اعتماد ملتا ہے تو بجائے ملک کو نفع پہنچنے کے نقصان پہنچتا ہے انگریز اسی وقت مفید ہوتے ہیں جب سب نظام انگریزی ہو- اس نظام میں ان کی عادات بالکل پیوست ہو جاتی ہیں اور کام اچھا چلنے لگتا ہے- پس اس خطرہ کی وجہ سے میرا ہمیشہ یہ خیال ہے کہ انگریزوں کے کشمیر میں چلے جانے پر ہندو افسر زیادہ ظلم کر سکیں گے کیونکہ وہ ظلم کر کے جھوٹی رپورٹ دیں گے اور انگریز افسر کو اگر دھوکا لگ گیا اور اس جھوٹ پر اس کے سامنے پردہ پڑ گیا تو حکومت ہند اس انگریز افسر کے مقابلہ میں کسی اور کی بات نہیں سنے گی کیونکہ وہ سمجھے گی کہ ایک غیر جانبدار آدمی کا بیان زیادہ قابل اعتماد ہے اور اس سے ہمارے کام کو نقصان پہنچے گا- یہ میرا خطرہ اب صحیح ثابت ہو رہا ہے چنانچہ مسلمانوں کی آواز حکومت ہند میں پہلی سی موثر نہیں رہی اور آئندہ کامیابی کے لئے ہمیں بہت زیادہ عقل اور بہت زیادہ علم اور آہستگی کی ضرورت ہے- غرض شیخ عبداللہ صاحب کے نام میرا خط اس امر کا شاہد ہے کہ انگریزوں کے لانے کی مجھے کوئی خواہش نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔-
    دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ بعض لوگوں نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ میں نے جو یہ اعلان کیا ہے کہ ایک دو ماہ میں کشمیر کے متعلق کوئی ایسا فیصلہ ہو جائے گا جو مسلمانوں کے حق میں مفید ہو گا یہ فیصلہ کیا ہے اور کس حد تک مسلمانوں کے لئے مفید ہے- میں ان دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے جو علم ہوا ہے وہ پانچ ذرائع سے ہے اور وہ سب ہی مخفی ہیں پس میں تفصیلات نہیں بتا سکتا- ہاں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ انشاء اللہ مسلمانوں کی حالت پہلے سے اچھی ہو جائے گی- باقی سیاسی جدوجہد ایسی ہی ہوتی ہے کہ آج ایک طاقت کو انسان حاصل کرتا ہے کل دوسرا قدم اٹھاتا ہے- اہل کشمیر دوسری ریاستوں سے غیر معمولی طور پر آگے قدم نہیں اٹھا سکتے- ریاستوں کی آزادی ہندوستان کی طرح تدریجی ہو گی- لیکن ہو گی ضرور یہ ناممکن ہے کہ ریاستیں اب بھی پرانی چا ل پر چلتی جائیں- زمانہ انہیں مجبور کر رہا ہے اور کرتا چلا جائے گا- پس یہ خیال غلط ہے کہ سب کچھ ایک وقت میں حاصل ہو جائے جس طرح یہ خیال بھی غلط ہے کہ ریاستیں اپنی پرانی حالت پر قائم رہ سکیں گی-
    تیسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ گو آئینی کمیشن کی ترکیب قابل اعتراض ہے اس میں نہ مسلمانوں کی کافی تعداد ہے اور نہ مسلمانوں سے مشورہ کر کے ممبر مقرر کئے گئے ہیں- پس یہ تو ہمارا فرض تھا کہ اس کے خلاف پروٹسٹ کریں لیکن پروٹسٹ کرنے کے بعد میرے نزدیک اس کا بائیکاٹ مسلمانوں کے لئے مفید نہیں- اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مسلمانوں کا پہلو کمزور ہو جائے گا- اصل بات یہ ہے کہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اسمبلی کسی نہ کسی شکل میں دینے کا فیصلہ مہاراجہ صاحب کر چکے ہیں- اب سوال صرف تفصیلات کا ہے پس اگر مسلمان شامل نہ ہوئے تو کام تو رکے گا نہیں صرف نتیجہ یہ ہو گا کہ مسلمانوں کا مشورہ کمزور ہو گا جو نقصان دہ ہو گا- گو میری رائے تو یہی ہے کہ پروٹسٹ کر کے اس میں مسلمان ممبر حصہ لیں اور کوشش کریں کہ بہتر سے بہتر صورت اسمبلی کی بن سکے- کیونکہ گو اصول میرے نزدیک پہلے سے طے شدہ ہیں اور اس پر کمیشن کا کوئی اثر نہیں ہو گا لیکن چھوٹی چھوٹی باتیں بھی اچھی باتوں کو زیادہ اچھا بنا دیتی ہیں یا اور خراب کر دیتی ہیں- پس اس موقع سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے- جب ہم نے پروٹسٹ کر دیا تو دنیا پر یہ ظاہر ہو گیا کہ ہم اس بے انصافی کو ناپسند کرتے ہیں- اس کے بعد ہماری شمولیت قطعاً غلط فہمی نہیں پیدا کر سکتی کیونکہ سیاسی امور میں اس قسم کی شمولیت ہوتی ہی رہتی ہے اور لوگ اس کی حقیقت خوب سمجھتے ہیں- پس جو فائدہ آپ لوگ اس وقت اٹھا سکتے ہیں کمیشن میں شامل ہو کر اٹھا لیں جو نقص رہ جائے گا اسے انشاء اللہ آئندہ درست کرنے کی کوشش ہوتی رہے گی- اور ابھی تو اہل کشمیر کے سامنے اپنی تعلیم اور تربیت کا اس قدر کام ہے جو کئی سال تک ان کی توجہ کو اپنی طرف لئے رہے گا-
    چوتھی بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ کئی ہزار آدمی علاقہ کھڑی سے مقامی حکام کے ظلموں سے تنگ آ کر جہلم میں آ گئے ہیں- مجھے ان مصیبت زدوں سے ہمدردی ہے لیکن میرے نزدیک فوراً نکل آنے کی بجائے بہتر ہوتا کہ پہلے ہم لوگوں کو کوشش کرنے دی جاتی- اب بھی میں ان بھائیوں کویہی نصیحت کروں گا کہ وہ اس اپنے علاقہ میں چلے جائیں اور ہمیں اپنی بہتری کے لئے کوشش کرنے دیں- اگر ہم سے کچھ نہ ہو سکا تو ہم خود ان سے کہہ دیں گے کہ اب آپ لوگوں کے لئے ملک چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے- مگر پوری کوشش کئے بغیر اور حکومت کو اصلاح کا موقع دینے سے پہلے نکلنا زیادہ مفید نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا-
    میں ایک دفعہ پھر برادران ریاست کشمیر کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے دوسرے ممبر ان کے پورے خیر خواہ ہیں اور انشاء اللہ جہاں تک ان کی طاقت میں ہے‘ وہ اس کام کو معقول اصول پر جاری رکھیں گے اور نہ میں اور نہ کوئی اور ممبر انشاء اللہ اس قسم کے اعتراضات سے بد دل ہو گا کیونکہ اگر ہم ایسا کریں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ہم میں سچا قومی درد نہیں- ہم انشاء اللہ آپ لوگوں کی تکلیفوں کو دور کرنے میں پوری سعی کریں گے اور کر رہے ہیں- چار تاریخ کو کمیٹی کی طرف سے ایک وفد ہزایکسی لنسی وائسرائے کی خدمت میں کشمیر کے متعلق پیش ہونے والا ہے- وکلاء کے لئے بھی ہم اجازت طلب کر رہے ہیں اور جس حد تک ممکن ہو گا ہم لوگ انشاء اللہ ریلیف کا کام کریں گے- ہاں آپ لوگوں سے ہم یہ خواہش ضرور رکھتے ہیں کہ ہمارے تجربہ سے جہاں تک ہو سکے فائدہ اٹھائیں اور ایسے رنگ میں کام کریں کہ غریبوں اور کمزوروں کا نقصان نہ ہو اور ملک تباہ نہ ہو بلکہ ترقی کرے-
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    )تاریخ احمدیت جلد۲ ضمیمہ نمبر۱ صفحہ۲۳ تا ۲۶ مطبوعہ ۱۹۶۵ء(
    ‏]ttex [tagاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ- ھوالناصر
    مسلمانان ریاست جموں و کشمیر کے نام
    میرا چھٹا خط )سلسلہ دوم(
    برادران!
    میں اپنے پچھلے خط میں لکھ چکا ہوں کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی آپ لوگوں کی تکالیف کے متعلق پوری کوشش کر رہی ہے اور میں نے یہ ذکر بھی کیا تھا کہ ایک وفد چار تاریخ کو جناب وائسرائے صاحب کی خدمت میں پیش ہونے والا ہے- جو آپ لوگوں کی تکالیف کے متعلق آپ سے تفصیلی گفتگو کرے گا- یہ وفد چار تاریخ کو پیش ہوا اور اس کے ممبر مندرجہ ذیل اصحاب تھے-
    )۱(نواب عبدالحفیظ صاحب ڈھاکہ )۲(خواجہ حسن نظامی صاحب )۳(مولانا شفیع دائودی صاحب )۴(نواب صاحب کنجپورہ )۵(سید مسعود احمد شاہ صاحب بہار )۶(اے ایچ غزنوی صاحب بنگال )۷(سید محسن شاہ صاحب )۸(خان بہادر رحیم بخش صاحب )۹(ڈاکٹر مرزایعقوب بیگ صاحب لاہور )۱۰(سید حبیب صاحب )۱۱(ڈاکٹر شفاعت احمد صاحب یوپی )۱۲(شیخفضل حق صاحب بھیرہ )۱۳(کپتان شیر محمد صاحب دومیلی )۱۴(چوہدری ظفراللہ خان صاحب )۱۵(مولوی عبدالرحیم صاحب درد- ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کسی مجبوری کی وجہ سے وفد میں شامل نہ ہو سکے- وفد نے جو ایڈریس حضور وائسرائے کی خدمت میں پیش کیا اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے-:
    کشمیر کی ریاست میں ایک لمبے عرصہ سے عملاً ہندوئوں کو ہی حکومت میں حصہ دیا جاتا ہے- مسلمان بہت کم اور النادر کالمعدوم کی حیثیت میں ہیں- حالانکہ ان کی آبادی ستانوے فیصد ہے- نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو انتظامی اور قانونی دونوں شکنجوں میں اس طرح کس دیا گیا ہے کہ وہ ترقی نہیں کر سکتے- ایک لمبے عرصہ تک صبر کرنے کے بعد اب مسلمانوں میں بیداری پیدا ہوئی ہے اور انہوں نے بالکل جائز طور پر اپنے حقوق کا مطالبہ شروع کیا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت ہند اس بارہ میں ان کی امداد کرے گی-
    اسی غرض کے پورا کرنے کے لئے جو کمیشن مقرر کیا گیا ہے- ہمیں افسوس ہے کہ اس میں مسلمانوں کی نہ تو صحیح نمائندگی ہے اور نہ کافی نمائندگی ہے‘ اس کا تدارک ہونا چاہئے- مگر صرف اسی قدر اصلاح سے کام نہیں چلے گا- چاہئے کہ کشمیر کے مسلم لیڈروں کو آزاد کر کے اس مشورہ میں شریک کیا جائے اور دوسرے سیاسی قیدیوں کو بھی رہا کر کے فضاء صاف کی جائے-
    موجودہ فسادات میں جو مقدمات چلائے جا رہے ہیں‘ اس پر مسلمانوں میں بے چینی ہے ریاست کے افسر جس پر خود الزام ہے‘ آزاد تحقیقات نہیں کر سکتے اس لئے ریاست کے باہر سے قابل اعتماد جج بلوا کر مقدمات ان کے سامنے پیش کرنے چاہئیں-
    ہمیں مختلف ذرائع سے رپورٹیں ملی ہیں کہ بعض حکام نے سخت مظالم کئے ہیں اور فسادات کو اپنے بغض نکالنے کا ذریعہ بنا لیا ہے اور اس کا ایک نتیجہ یہ ہوا ہے کہ کھڑی کے علاقہ سے ہزاروں آدمی نکل کر انگریزی علاقہ میں چلے آئے ہیں‘ اس کا علاج ہونا چاہئے- جس کے لئے ہم یہ تجویز کرتے ہیں کہ فوراً وہاں سے ان افسروں کو جن کے خلاف مسلمانوں کو شکایت ہے تبدیل کر دیا جائے اور ایک آزاد تحقیقات ان کے افعال کے متعلق کرائی جائے- اس بارہ میں خصوصیت سے کشمیر‘ کوٹلی‘ راجوری اور تحصیل مینڈر‘ پونچھ کے افسر قابل ذکر ہیں- ہم درخواست کرتے ہیں کہ کشمیر میں ہمیشہ سردیوں میں مسلمان گورنر اور مسلمان یا انگریز افسر پولیس رہنا چاہئے-
    مہاراجہ صاحب کی وزارت میں کم سے کم دو مسلمان وزراء جن پر مسلمانوں کو اعتبار ہونے چاہئیں- مسلمان موجودہ مسلمان وزیر کے خلاف سخت مشتعل ہیں کیونکہ وہ ہر گز مسلمانوں کے فوائد کی حفاظت نہیں کر سکتے-
    موجودہ فسادات کے متعلق جو مقدمات ہیں‘ ان میں باہر سے مسلمان وکیلوں کو پیش ہونے کی اجازت ہونی چاہئے- اور ان سے بائیس روپیہ کی خاص فیس نہیں لینی چاہئے- اس بارہ میں چیف جسٹس صاحب کشمیر نے سفارش کی ہے اور حکومت ہند کی سفارش مزید سہولت پیدا کر سکتی ہے-
    کشمیر میں قیدیوں کے ساتھ سلوک اچھا نہیں ہوتا‘ اس کی اصلاح کی جائے- اور آئندہ کے لئے ہر قوم میں سے کچھ معتمد علیہ غیر سرکاری آدمی مقرر کئے جائیں جو جیل خانوں کا معائنہ کیا کریں تا کہ اگر کوئی ظلم ہو رہا ہو تو اس کا علم ہو جائے- ہم یہ بھی درخواست کرتے ہیں کہ آزاد تحقیقات جیل خانوں کے انتظام کے متعلق کروائی جائے اور قانون جیل خانہ کی بھی اصلاح کی جائے اور خوراک وغیرہ کا انتظام بھی بہتر کیا جائے-
    یہ ایڈریس چار تاریخ کو حضور وائسرائے کے پیش ہوا اور تمام ممبران کے اتفاق سے چوہدری ظفراللہ خان صاحب گفتگو کیلئے مقرر ہوئے ایک گھنٹہ تک وائسرائے صاحب سے جن کے ساتھ وزیر ریاست اور پرائیویٹ سیکرٹری بھی تھے گفتگو ہوئی اور علاوہ چوہدری ظفراللہ خان صاحب کے مناسب موقعوں پر دوسرے ممبران وفد نے بھی حضور وائسرائے کو مسلمانوں کی تکالیف اور صورت حالات سے آگاہ کیا- میرے پاس گفتگو کی تفصیلات آ چکی ہیں لیکن چونکہ ایسی گفتگو پرائیویٹ سمجھی جاتی ہے میں اسے شائع نہیں کر سکتا- مگر اس قدر بتا دینا چاہتا ہوں کہ سب گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ حکومت ہند اور ریاست دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ اصلاح کی کافی گنجائش ہے اور دونوں آمادہ ہیں کہ اصلاح کی جائے- تجاویز پر غور ہو رہا ہے اور امید ہے کہ جلد ترتیب وار مختلف تکالیف کا ازالہ شروع ہو جائے گا-
    پس ان حالات میں میں یہ دو نصیحتیں کروں گا- اول یہ کہ جس جس جگہ کوئی غیر آئینی کارروائی ہو رہی ہو اسے ترک کر دینا چاہئے تا کہ اس پروگرام کے پورا کرنے میں روک پیدا نہ ہو- دوسری یہ کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم آئینی جدوجہد چھوڑ دیں- آئینی کوششوں کو بہ سہولت اور پر امن ذرائع سے برابر جاری رکھنا چاہئے- یہاں تک کہ شیخ محمد عبداللہ صاحب‘ قاضی گوہر رحمن صاحب‘ مفتی جلال الدین صاحب اور دوسرے قومی لیڈر اور قومی کارکن آزاد ہو کر ملک کی رہنمائی کر سکیں- جن لوگوں نے خود تکلیف اٹھا کر اپنی قوم کو بیدار کیا ہے خواہ وہ قید میں ہیں یا آزاد ہم ان کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے-
    ایک خوشخبری میں اور دیتا ہوں کہ اس وقت سب سے زیادہ تکلیف لوگوں کو مقدمات کی تھی کیونکہ باہر سے وکیل آنے کی اجازت نہ تھی اور ریاستی وکلاء میں مسلمان بہت کم تھے اور ان میں سے تجربہ کار اور بھی کم تھے- میں نے چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹر برادرخورد چوہدری ظفراللہ خان صاحب بیرسٹر کو اس کام کیلئے جموں بھجوایا تھا- جنہوں نے آنریبل مسٹر دلال چیف جسٹس ریاست جموں و کشمیر سے گفتگو کی اور چیف جسٹس صاحب نے اجازت کی ضرورت کو تسلیم کر کے حکومت کے پاس اس قید کے اڑانیکی سفارش کی- مہاراجہ صاحب نے عنایت فرما کر پہلے قانون میں تبدیلی کر دی ہے اور اب چیف جسٹس صاحب کی اجازت سے باہر کے وکلاء بغیر کسی خاص فیس ادا کرنے کے مقدمات میں پیش ہو سکیں گے- اس سے امید ہے کہ وہ بے اطمینانی جو پیدا ہو رہی تھی دور ہو جائے گی اور لوگوں کو ان الزامات کے دور کرنے کا کافی موقع مل جائے گا جو بعض متعصب افسروں نے بلاوجہ ان پر لگائے ہیں اور میں یقین دلاتا ہوں کہ اس غرض کیلئے قومی درد رکھنے والے وکلاء انشاء اللہ میسر آ جائیں گے-
    میں امید کرتا ہوں کہ جلد بعض دوسری تکالیف کا بھی ازالہ ہو جائے گا اور آپ لوگوں کو آرام کا سانس لینا میسر ہوگا- خدا کرے کہ میری یہ امید ٹھیک ہو-
    والسلام
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    )تاریخ احمدیت جلد۶ ضمیمہ نمبر۱ صفحہ۲۶ تا ۲۸ مطبوعہ ۱۹۶۵ء(
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ- ھوالناصر
    مسلمانان ریاست جموں و کشمیر کے نام
    میرا ساتواں خط )سلسلہ دوم(
    گلینسی رپورٹ کے متعلق اظہار رائے
    برادران!
    میں اپنے گزشتہ خطوں میں لکھ چکا ہوں کہ عنقریب اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کے مطالبات کا ایک حصہ پورا ہونے والا ہے چنانچہ اس وقت تک آپ لوگوں کو گلینسی کمیشن کی رپورٹ کا خلاصہ معلوم ہو چکا ہوگا- اس رپورٹ کے متعلق میں تفصیلا لکھنا مناسب نہیں سمجھتا کیونکہ گو مجھے اس کے مضمون سے پہلے سے آگاہی تھی بلکہ اس کے لکھنے جانے سے بھی پہلے مجھے اس کے بعض مطالب سے آگاہی تھی لیکن پھر بھی اس کی مطبوعہ شکل میں چونکہ ابھی میں نے اسے پوری طرح نہیں پڑھا اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے خاص اجلاس میں بھی اس پر غور نہیں ہوا اس لئے اس پر تفصیلی رائے کا اظہار کرنا ابھی مناسب نہیں-
    مسلمانوں کی خوشی کیلئے کافی مواد
    ہاں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ گو یہ رپورٹ میری خواہشات کو کلی طور پر پورا کرنے والی نہیں لیکن پھر بھی اس میں کافی مواد ایسا موجود ہے جس پر مسلمانوں کو بھی خوش ہونا چاہئے اور مہاراجہ صاحب بہادر کو بھی کیونکہ انہوں نے اپنی رعایا کے حقوق کی طرف توجہ کر کے اپنی نیک نفسی کا ثبوت دیا ہے- اسی طرح اس رپورٹ کے لکھنے پر مسٹر گلینسی بھی خاص مبارک باد کے مستحق ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے نمائندے بھی کہ انہوں نے رعایا کے حقوق ادا کرنے کی سفارشات کی ہیں خواہ وہ مسلمانوں کے مرض کا پورا علاج نہ بھی ہوں-
    مسلمان نمائندوں کا شکریہ
    میں خصوصیت سے اپنے باہمت نوجوان چوہدری غلام عباس صاحب اور دیرینہ قومی کارکن خواجہ غلام احمد صاحب اشائی کو شکریہ کا مستحق سمجھتا ہوں کہ انہوں نے نہایت محنت اور تکلیف برداشت کر کے مسلمانوں کے نقطہ نگاہ کو پیش کرنے کی کوشش کی- چوہدری غلام عباس صاحب نے اس نیک کام میں اپنوں اور بیگانوں سے جو برا بھلا سنا ہے‘ میں امید کرتا ہوں کہ ان کے دل پر اس کا کوئی اثر نہیں رہے گا کیونکہ انہوں نے خلوص سے قومی خدمت کی ہے- اور یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی قربانی کو ضائع نہیں کرے گا- اگر موجودہ نسل ان کی قربانی کی داد نہ بھی دے تو بھی آئندہ نسلیں انہیں ضرور دعائوں سے یاد کریں گی- انشاء اللہ تعالی
    دوسری گلینسی رپورٹ
    میں امید کرتا ہوں کہ دوسری گلینسی رپورٹ ایک نیا دروازہ سیاسی میدان کا مسلمانوں کے لئے کھول دے گی- اور گو وہ بھی یقیناً مسلمانوں کی پورے طور پر داد رسی کرنے والی نہ ہوگی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بھی ان کی زندگی کے نقطہ نگاہ کو بدلنے والی اور آئندہ منزل کی طرف ایک صحیح قدم ہاں مگر ایک چھوٹا قدم ہوگی-
    ابھی بڑا کام باقی ہے
    میں اس وقت نہ تو یہ کہتا ہوں کہ ہمیں ان رپورٹوں پر افسوس کرنا چاہئے کیونکہ ان میں یقیناً اچھے امور ہیں اور ایسی باتیں ہیں کہ اگر انہیں صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو یقیناً مسلمان آزادی حاصل کرنے کے قریب ہو جائیں گے اور نہ ہی یہ کہتا ہوں کہ ہمیں خوش ہونا چاہئے کیونکہ ابھی ہمارا بہت سا کام پڑا ہے اور اسے پورا کئے بغیر ہم دم نہیں لے سکتے- نیز ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ صرف قانون سے ہم خوش نہیں ہوسکتے کیونکہ قانون کا غلط استعمال اچھے قانون کو بھی خراب کر دیتا ہے- پس دیکھنا یہ ہے کہ ان فیصلہ جات پر مہاراجہ صاحب کی حکومت عمل کس طرح کرتی ہے- ہمیں امید ہے کہ اب جب کہ انگریز وزراء آ گئے ہیں اور انہوں نے ایک حد تک حقیقت کو بھی سمجھ لیا ہے پہلے کی نسبت اچھی طرح ان اصلاحات پر عمل ہوگا- لیکن غیب کا علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے اس لئے جب کہ ہم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہیں‘ ساتھ ہی ہم اس سے عاجزانہ طور پر دعا بھی کرتے ہیں کہ وہ ان رپورٹوں کے اچھے حصوں کو نافذ کرنے کی وزراء اور حکام کو مناسب توفیق بخشے- اللھم آمین
    مجھے یقین ہے کہ اگر مجھے صحیح طور پر اس تحریک کی راہنمائی کا موقع ملتا اور بعض امور ایسے پیدا نہ ہو جاتے کہ تفرقہ اور شقاق پیدا ہو جاتا تو نتائج اس سے بھی شاندار ہوتے لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کے آگے کوئی چارہ نہیں اور پھر ہم کہہ بھی کیا سکتے ہیں- شاید جو کچھ ہوا اس میں ہمارا نفع ہو کیونکہ علم غیب تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے-
    زمینوں کی ملکیت کا فیصلہ
    مجھے سب سے زیادہ خوشی اس امر کی ہے کہ زمینوں کی ملکیت ریاست سے لے کر زمینداروں کو دے دی گئی ہے- اگر سوچا جائے تو یہ کروڑوں روپیہ کا فائدہ ہے اور گو بظاہر یہ صرف ایک اصطلاحی تغیر معلوم ہوتا ہے لیکن چند دنوں کے بعد اس کے عظیم الشان نتائج کو لوگ محسوس کریں گے اور یہ امر کشمیر کی آزادی کی پہلی بنیاد ہے اور اس کی وجہ سے اہل کشمیر پر زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوگا- مجھے اس تغیر پر دہری خوشی ہے کیونکہ اس مطالبہ کا خیال سب سے پہلے میں نے پیدا کیا تھا اور زور دے کر اس امر کی اہمیت کو منوایا تھا- بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ مطالبہ مانا نہیں جا سکتا مگر اللہ تعالیٰ کا محض فضل ہے کہ آخر یہ مطالبہ تسلیم کر لیا گیا-
    پریس کی آزادی وغیرہ
    اسی طرح پریس کی آزادی کے متعلق جدید قوانین کا وعدہ بھی ایک بہت بڑی کامیابی ہے- شاملاتوں کی ناواجب تقسیم کا انسداد‘ اخروٹ کا درخت کاٹنے کی مکمل اور چنار کی مشروط آزادی‘ لکڑی کے مہیا کرنے کے لئے سہولتیں‘ بعض علاقوں میں چرائی کا ٹیکس معاف ہونا‘ تعلیم اور ملازمتوں میں سہولتیں‘ انجمنوں کی مشکلات کا ازالہ اور ایسے ہی اور بہت سے امور ہیں کہ جن میں اصلاح ایک نہایت خوشکن امر ہے اور انشاء اللہ اس سے ریاست کشمیر کی رعایا کو بہت فائدہ پہنچے گا-
    ‏0] ft[s بقیہ باتیں
    بعض باتیں ابھی باقی ہیں- جیسے وزارت کے متعلق فیصلہ‘ انجمنوں اور تقریر کی آزادی‘ مالیہ کو صحیح اصول پر لانا‘ آرڈیننسوں کو اڑانا‘ اور قیدیوں کی عام آزادی کا اعلان‘ مسلمان ہونے والی کی جائیدادوں کی ضبطی‘ جن کے متعلق فیصلہ یا نہیں ہوا یا ناقص ہوا ہے یا بالکل خلاف ہوا ہے مجھے ان کا خیال ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ آخر ان امور میں بھی انشاء اللہ ہمیں کامیابی حاصل ہوگی-
    لیڈروں سے وفاداری کا تقاضا
    قیدیوں کی آزادی گو سیاسی حقوق سے تعلق نہیں رکھتی لیکن ہر قوم جو زندہ رہنا چاہتی ہو‘ اس کا فرض ہے کہ اپنے لیڈروں اور کارکنوں سے وفاداری کا معاملہ کرے اور اگر قومی کارکن قید رہیں اور لوگ تسلی سے بیٹھ جائیں تو یہ امر یقیناً خطرناک قسم کی بیوفائی ہوگا- مسلمانان جموں و کشمیر کو یاد رکھنا چاہئے کہ گو وہ بہت سے ظلموں کے تلے دبے چلے آتے ہیں لیکن پھر بھی ان کی حالت یتیموں والی نہ تھی کیونکہ جب تک ان کے لئے جان دینے والے لوگ موجود تھے وہ یتیم نہ تھے- لیکن اگر وہ آرام ملنے پر اپنے قومی کارکنوں کو بھول جائیں گے تو یقیناً آئندہ کسی کو ان کے لئے قربانی کرنے کی جرات نہ ہوگی اور اس وقت یقیناً وہ یتیم ہو جائیں گے- پس انہیں اس نکتہ کو یاد رکھنا چاہئے اور ملک کی خاطر قربانی کرنے والوں کے آرام کو اپنے آرام پر مقدم رکھنا چاہئے- پس ان کا یہ فرض ہے کہ جب تک مسٹر عبداللہ‘ قاضی گوہر رحمن اور ان کے ساتھی آزاد نہ ہوں‘ وہ چین سے نہ بیٹھیں- اور میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس کام میں میں ان کی ہر ممکن امداد کروں گا اور اب بھی اس غرض کو پورا کرنے کے لئے کوشش کر رہا ہوں- مشکلات ہیں لیکن مسلمان کو مشکلات سے نہیں ڈرنا چاہئے-
    قومی غداروں کے مقابلہ کیلئے تیاری کی ضرورت
    یہ بھی یاد رہے کہ بعض غدار آئندہ اصلاحات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں- اہل کشمیر اگر اس فریب میں آ گئے اور آئندہ کونسلوں میں مسٹرعبداللہ کے دشمن اور قومی تحریک کے مخالف ممبر ہو گئے تو سب محنت اکارت جائے گی اور مسٹر عبداللہ اور دوسرے قومی کارکنوں کی سخت ہتک ہوگی- پس اس امر کے لئے آپ لوگ تیار رہیں کہ اگر خدانخواستہ قومی کارکنوں کو جلدی آزادی نہ ملی اور ان کی آزادی سے پہلے اسمبلی کے انتخابات ہوئے )گو مجھے امید نہیں کہ ایسا ہو( تو ان کا فرض ہونا چاہئے کہ قومی غداروں کے مقابلہ میں قومی کام سے ہمدردی رکھنے والوں کو امیدوار کر کے کھڑا کر دیں- اور یہ نہ کریں کہ کانگرس کی نقل میں بائیکاٹ کا سوال اٹھاویں- بائیکاٹ سے کچھ فائدہ نہ ہوگا کیونکہ آخر کوئی نہ کوئی ممبر تو ہو ہی جائے گا- اور قومی خیر خواہوں کی جگہ قومی غداروں کو ممبر بننے کا موقع دینا ہر گز عقلمندی نہ کہلائے گا- پس گو یہ ایک بہت طویل عمل ہے کہ قومی کارکنوں کی آزادی سے پہلے اسمبلی کا انتخاب ہو-
    اختلاف چھوڑ دیں
    لیکن چونکہ بعض قومی غدار اندر ہی اندر اس کی تیاریاں کر رہے ہیں‘ اہل جموں و کشمیر کو ہوشیار کر دینا چاہتا ہوں اور ساتھ ہی خواجہسعدالدین صاحب شال‘ خواجہ غلام احمد صاحب اشائی اور دوسرے کارکنوں کو جن کی گزشتہ قومی خدمات کا انکار نہیں ہو سکتا توجہ دلاتا ہوں کہ اب وقت ہے وہ قومی تحریکات کو مضبوط کرنے کے لئے اختلاف چھوڑ دیں- میں ہمیشہ ان کا خیر خواہ رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ ان کی گزشتہ خدمات قومی تحسین کا انعام حاصل کئے بغیر نہ رہیں- پس میں ان سے اور ان کے دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ قومی کارکنوں کی خدمت میں آ کر شامل ہو جائیں اور یقین رکھیں کہ اس طریق کو اختیار کر کے انہیں ذلت نہیں بلکہ عزت حاصل ہوگی-
    ظلم کے روکے جانے کے سامان
    ایک دو اور باتیں ہیں جن کا ذکر کر کے میں اس خط کو ختم کرنا چاہتا ہوں- اول یہ کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ گو اصلاحات کا اعلان ہو گیا ہے لیکن ظلم تو ابھی تک جاری ہے- اس شبہ کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دوڑتے ہوئے گھوڑے کو یکدم نہیں روکا جا سکتا- طوفان بھی تھمتے ہوئے کچھ وقت لیتا ہے- پس ظلم گو جاری ہے لیکن ایسے سامان ہو رہے ہیں کہ انشاء اللہ ظلموں کا بھی انسداد ہو جائے گا- میں ابھی تفصیل نہیں بیان کرنا چاہتا لیکن یہ میں یقین دلاتا ہوں کہ اگر میرے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے عقل سے کام لیا گیا تو تھوڑے سے عرصہ میں ظلم کے روکے جانے کے بھی سامان ہو جائیں گے- انشاء اللہ تعالیٰ
    وکلاء کے متعلق اعلان
    دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ وکلاء کے متعلق جو اعلان میں نے کیا تھا‘ اس میں بعض غلط فہمیوں سے کچھ الجھن پیدا ہو گئی ہے لیکن اس کے ¶لئے میں کوشش کر رہا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہتری کی توقع رکھتا ہوں- اور اگر لوگوں کو پوری طرح ڈیفنس کا موقع نہ دیا گیا تو میں انشاء اللہ اور ایسی تدابیر اختیار کروں گا کہ جن سے لوگوں کے اس اہم حق کی طرف حکومت کو توجہ ہو-
    سیاہ نشان
    تیسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ میں نے جو سیاہ نشان لگانے کا اعلان کیا تھا‘ اس کے متعلق مجھے سری نگر سے شکایات موصول ہوئی تھیں کہ سیاہ نشان لگانے کو جرم قرار دیا گیا ہے اور اس نشان کے لگانے کے سبب سے بعض لوگوں کو گرفتار کر کے ان پر مقدمہ چلایا گیا ہے- میں نے اس کے متعلق حکومت کشمیر سے خط و کتابت کی ہے اور جو جواب وزیر اعظم صاحب کی طرف سے آیا ہے‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بارہ میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے کیونکہ ان کے جواب میں اس لہر سے قطعاً انکار کیا گیا ہے اور لکھا ہے کہ نہ کسی شخص کو سیاہ نشان لگانے پر سزا دی گئی ہے اور نہ مقدمہ ہی چلایا گیا ہے- اگر یہ بیان درست ہے تو مجھے تعجب ہے کہ رپورٹ دینے والوں کو اتنا بڑا مغالطہ کیونکر لگ گیا- بہرحال یہ سوال حل ہو گیا ہے کہ سیاہ نشان لگانے کو ریاست کشمیر میں جرم نہیں قرار دیا گیا-
    میں اس خواہش کے اظہار پر اس خط کو ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس موسم گرما میں توفیق دے کہ خواہ چند دن کے لئے ہو کشمیر آ کر خود صورت حالات کا معائنہ کر سکوں اور اس ملک کے مرض کو بذات خود دیکھ کر اس کے علاج کی پہلے سے زیادہ تدبیر کرنے کی توفیق پائوں- وما توفیقی الا باللہ واخر دعوئنا ان الحمدللہ رب العلمین
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی
    )الفضل یکم مئی ۱۹۳۲ء(
    )تاریخ احمدیت جلد۲ ضمیمہ نمبر۱ صفحہ۲۹ تا ۳۲ مطبوعہ ۱۹۶۵ء(
    کشمیر کے پریس ایکٹ کے خلاف احتجاج
    ڈیرہ دون ۳- مئی- حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بحیثیت صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی حسب ذیل بیان اخبارات کو دیا-
    مجھے پریس کے متعلق ریاست کشمیر کے جدید قوانین کو دیکھ کر بے حد صدمہ ہوا ہے بعض حالتوں میں وہ برطانوی ہند کے ہنگامی قانون سے بھی زیادہ سخت ہیں- ایک ایسے علاقہ میں جہاں فی الحال اخبارات ستر روپے کے لیتھو پریس میں چھپیں گے اور جن کے چند سو سے زیادہ خریدار نہ ہونگے‘ ایک ہزار سے دس ہزار روپے تک کی ضمانت طلب کرنا مضحکہ خیز ہے- ان قوانین کے ماتحت کوئی اسلامی اخبار جاری نہیں ہو سکتا- اس سے تو یہی بہتر تھا کہ پرانے قواعد ہی برقرار رکھے جاتے- پریس کے متعلق ان قوانین سے صاف پتہ لگتا ہے کہ جب گلینسی کمیشن کی سفارشات کو عملی جامہ پہنایا جائے گا تو ان کی حقیقت کچھ بھی نہ رہے گی- مجھے افسوس ہے کہ مسٹر کالون نے موقع کے مطابق مناسب کارروائی نہیں کی اور اپنے آپ کو ہندو حکام کے ہاتھوں میں دے دیا ہے- مجھے اس بات کا خوف ہے کہ قانون شکنی کے جذبہ میں مٹ رہا تھا ریاست نے نئی زندگی پیدا کر دی ہے تا ہم مجھے امید ہے کہ مسلمان پریشان نہ ہونگے اور یاد رکھیں گے کہ ہم اپنا مقصد صرف آئینی ذرائع سے ہی حاصل کر سکتے ہیں-
    )الفضل ۸ مئی ۱۹۳۲ء(
    تحریک آزادی کشمیر کے تعلق میں مکتوب نمبر۵
    مکرمی ماسٹر محمد الدین صاحب- السلام علیکم ورحمہ اللہ-
    سید ولی اللہ شاہ صاحب بیمار ہیں اور درد صاحب وائسرائے کے ڈیپوٹیشن کے انتظام میں ہیں- یہ دونوں صاحب کشمیر کا کام کیا کرتے تھے اس لئے ایک ضروری امر کے لئے جس کا پیچھے ڈالنا مصلحت اور ضرورت کے خلاف ہے آپ کو تکلیف دیتا ہوں-
    تھراراد کا علاقہ )نام پوری طرح حافظہ میں نہیں ہے( جموں کی ریاست کا حصہ ہے اور ٹھیکہ پر پونچھ کو ملا ہوا ہے اس علاقہ کے لوگوں کی حالت ریاست کشمیر سے بھی خراب ہے- پونچھ کے لوگوں کو جو آزادیاں ہیں مثلاً بعض اقوام کو کاہ چرائی معاف ہے اس سے یہ لوگ محروم ہیں کہ تم جموں کے باشندے ہو- جموں میں درختوں وغیرہ کے متعلق جو میر پور کی تحصیل کو آزادی ہے۔۔۔۔۔۔ اس سے انہیں محروم رکھا جاتا ہے کہ تم پونچھ کے ماتحت ہو-
    پھر عجیب بات یہ ہے کہ پونچھ سے مال جموں میں لاتے وقت ریاست پونچھ ان سے کسٹمز وصول کرتی ہے اور جب جموں میں آتے ہیں تو پھر درآمد کا ٹیکس انہیں دینا پڑتا ہے- اس طرح باہر سے لانے والے مال پر پہلے جموں والے اور پھر پونچھ والے کسٹمز لیتے ہیں حالانکہ یہ اصل میں جموں سے وابستہ ہیں اور کسٹم کی چوکیاں پونچھ میں ہونی چاہئے تھیں- جموں کے علاقہ میں مال لانے یا وہاں سے لے جانے پر کوئی ڈیوٹی نہیں ہونی چاہئے تھی- اس تکلیف سے گھبرا کر ان لوگوں نے پروٹسٹ کیا اور حسب قواعد میرپور جس کے ساتھ اصولاً یہ وابستہ ہیں‘ بعض درخت کاٹے اور بوجہ جموں ریاست کے باشندے ہونے کے ڈیوٹی دینے سے انکار کیا تو موجودہ شورش سے فائدہ اٹھا کر ان لوگوں کے فعل کو پونچھ کی حکومت نے سول نافرمانی قرار دیا- حالانکہ انہوں نے حکومت جموں کے جس کے یہ باشندے ہیں قانون نہیں توڑے بلکہ ان پر اس کے مطابق عمل کیا- زیادہ سے زیادہ ان پر دیوانی نالشیں کر کے حکومت کو اپنا حق ثابت کرنا چاہئے تھا-
    پھر ان پر یہ ظلم ہے کہ یہ جموں کے باشندے ہیں وہیں ان کی رشتہ داریاں ہیں لیکن باوجود جموں کے ساتھ وابستہ ہونے کے ان کے مقدمات پونچھ میں سنے جاتے ہیں حالانکہ زمینداری اگر ٹھیکے پر دے دی جائے تو یہ کسی حکومت کو حق نہیں کہ اپنی رعایا کے سول حقوق کسی اور حکومت کو دے دے- یہ بیل گائے نہیں ہیں کہ ان سے ایسا سلوک روا رکھا جائے- اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسٹر کالون نے ان لوگوں کو مسٹر جارڈین کے پاس شکایات سنانے کو بھیجا تو انہوں نے انکار کر دیا- اس بناء پر کہ یہ علاقہ جموں میں نہیں پونچھ میں ہے حالانکہ حقیقتاً یہ جموں کا علاقہ ہے-
    آپ نے ان امور کو مسٹر کالون پر روشن کر کے یہ کوشش کرنی ہے کہ اس ردعمل کو دور کیا جائے- اگر پونچھ کو جموں نے امداد دینی ہے تو روپیہ دے لیں یہ لوگ اپنے فروخت کئے جانے پر راضی نہیں-
    )۱(ان کے مقدمات جموں کورٹس میں ہوں-
    )۲(کسٹمز جموں اور اس علاقہ کے درمیان میں نہ ہوں بلکہ پونچھ کی کسٹمز کی چوکیاں ان کے علاقہ کے پرے پونچھ کے علاقہ میں ہوں انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے کہ پونچھ کے علاقہ سے ان کے علاقہ میں مال لانے یا وہاں لے جانے پر کسٹمز لی جائیں-
    )۳(اس وقت جو مقدمات خواہ مخواہ سول نافرمانی کے اٹھائے گئے ہیں محض اس وجہ سے کہ پونچھ دربار اور جموں دربار میں جھگڑا ہے اور یہ لوگ جموں کے ساتھ ہیں ان مقدمات کے سننے کیلئے عارضی طور پر جموں سے جج جائیں اور اپیل جموں کورٹ میں ہو-
    )۴(کوئی انگریز افسر مسٹر لاتھر یا مسٹر جارڈین یا اور کوئی افسر ریاست کا خواہ انگریز نہ ہو ان امور کی تحقیق کے لئے جائے اور علاقہ کے لوگوں کو سب حالات اور ثبوت اس کے پاس پیش کرنے کی اجازت ہو- سرسری کارروائی نہ ہو-
    )۵(اس وقت تک مقدمات کی کارروائی ملتوی رہے-
    مسٹر کالون کے علاوہ ریذیڈنٹ سے بھی ملیں اور اسے یہ وجہ بتائیں کہ چونکہ یہ دو جھگڑا درباروں میں ہے جو دونوں آپ کے ماتحت ہیں اس لئے ہم آپ کے پاس آئے ہیں آپ ان واقعات کو دیکھ لیں کہ ناقابل برداشت ہیں- اس علاقہ میں گویا کوئی بھی حکومت نہیں- یہ اپنے حق کسی سے بھی مانگ نہیں سکتے- نہ ملازمتوں کا راستہ ان کے لئے پوری طرح کھلا ہے-
    کوشش کر کے مسٹر گلینسی کو بھی ملیں اور انہیں بھی سب حالات بتا کر مشورہ لیں- وہ آئندہ وزیر ریاست ہائے حکومت ہند میں ہونے والے ہیں-
    )۲( دوسرا امر ایک اور ہے اس کی تشریح کیلئے خط بھجوا رہا ہوں اسے پڑھ لیں- اس کے متعلق بھی مسٹر کالون وزیر اعظم ریاست جموں اور ریزیڈنٹ کو ملیں- اس بارہ میں اول بدعنوانی ہوئی ہے کہ جموں کی رعایا پر پونچھ والوں نے چھاپہ مارا ہے اور پھر انہیں پکڑ کر لے گئے ہیں-
    دوم- ان لوگوں نے ہندوئوں کو پناہ دی اور فساد کے وقت انہیں بچایا‘ لیکن الٹا ان پر ظلم کیا جا رہا ہے- کہیں کہ اس بارہ میں ہم بہ حیثیت جماعت پروٹسٹ کرتے ہیں ہمارا فرض ہے کہ اپنی جماعت کے لوگوں کی مدد کریں اور اگر اس قدر ظلم ریاست نے روا رکھا اور فوراً تحقیق کر کے شریروں کو سزا نہ دی تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ آئندہ ہماری جماعت بھی بجائے فسادات سے بچنے کے ان میں حصہ لے-۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظلم ہو رہا ہے اور ریاست کے اعلیٰ حکام کوئی خبر نہیں لیتے- اس بارہ میں بھی ریذیڈنٹ سے ذکر کریں-
    والسلام
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    )تاریخ احمدیت جلد۶ ضمیمہ صفحہ۵۷‘ ۵۸ مطبوعہ ۱۹۶۵ء(
    ‏a12.5,c
    انوار العلوم جلد ۱۲
    ندائے ایمان)۲(
    ندائے ایمان )۲(

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھوالناصر
    ندائے ایمان )۲(
    رسول کریم ~صل۲~ کی ذات پر حملہ
    رسول کریم ~صل۲~ کی ذات مبارک کچھ ایسی کفر توڑ ہے کہ ہر شخص جس کے دل میں کفر کی کوئی رگ ہو آپ سے دشمنی رکھتا ہے اور آپ کی مقدس ذات پر حملہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے کیونکہ وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ کی ترقی میں اس کا زوال اور آپ کی زندگی میں اس کی موت ہے- اسی وجہ سے جس قدر حملے رسول کریم ~صل۲~ کی ذات پر ہوئے ہیں اور کسی نبی پر خواہ عرب کا ہو یا شام کا‘ ہندوستان کا ہو یا ایران کا نہیں ہوئے- لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے دشمنان اسلام آپ پر حملہ کرنے میں ایک حد تک معذور ہیں کیونکہ اسلام کے ذریعہ سے ان کے مکروں اور حیلوں کا تانا بانا ٹوٹتا ہے اور ہر ایک کو اپنی جان پیاری ہوتی ہے- لیکن تعجب ہے ان لوگوں پر جو اسلام سے محبت کا دعویٰ رکھتے ہیں‘ قرآن کریم پر ایمان ظاہر کرتے ہیں‘ درود پڑھتے اور سلام بھیجتے ہیں‘ لیکن باوجود اس کے رسول کریم ~صل۲~ کی ذات پر حملہ کرنے سے نہیں ڈرتے اور ایسے عقائد پھیلاتے ہیں جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارکذات کی سخت ہتک ہوتی ہے اور اس طرح عوام الناس کے دلوں سے آپ کی محبت کم کرتے ہیں- اس قسم کے لوگوں میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو آئے دن عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا وعظ کرتے پھرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ چوتھے آسمان پر بہ جسد عنصری بیٹھے ہیں اور کسی زمانہ میں آسمان سے اتر کر لوگوں کو اپنا تابع بنائیں گے- آہ! یہ لوگ کبھی خیال نہیں کرتے کہ وہ رسول جس کے احسانوں تلے ان کا بال بال دبا ہوا ہے اور جسے خدا تعالیٰ نے سب انسانوں سے افضل قرار دیا ہے اور جو اپنی قوت قدسیہ میں کیا ملائکہ اور کیا انسان سب پر فضیلت لے گیا ہے اس ذریعہ سے وہ اس کی ہتک کرتے ہیں اور ایک ایسے شخص کو جو اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوتا تو آپ کی غلامی میں فخر محسوس کرتا آپ کے وجود پر فضیلت دیتے ہیں-
    یہ امر ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی شخص نے خدا تعالیٰ کے دین کیلئے تکلیف نہیں اٹھائی- آپ مکہ میں تیرہ سال تک ایسی تکلیفات برداشت کرتے رہے ہیں کہ ایسی تکلیفات کا ایک سال تک برداشت کرنا بھی انسان کی کمر توڑ دیتا ہے اور آپ کے اتباع اور جاںنثار مرید بھی ناقابل برداشت ظلموں کا تختہ مشق بنے رہے ہیں- اس کے مقابل پر مسیح علیہالسلام اور ان کے حواریوں کی قربانیاں کیا ہستی رکھتی ہیں- وہ اپنی جگہ کتنی ہی شاندار کیوں نہ ہوں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے مقابلہ میں کچھ بھی قیمت نہیں رکھتیں- اول تو حضرت مسیحؑ کا زمانہ تبلیغ ہی کل تین سال بتایا جاتا ہے- پھر اس قلیل زمانہ میں بھی سوائے دو چار گالیوں اور ہنسی مذاق کے اور کوئی تکلیف نہیں جو ان کے مخالفوں نے انہیں دی ہو- لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی وقت میں تین سال تک ایک تنگ وادی میں محصور رکھا گیا‘ کھانا پینا بند کیا گیا‘ آپ سے خرید فروخت کرنیوالوں پر ڈنڈ مقرر کیا گیا- غرض اس قدر دکھ دیئے گئے کہ آپ کی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہؓ ان تکالیف کی سختی کی وجہ سے بیمار ہو کر فوت ہو گئیں- کھانے کی تنگی کی وجہ سے آپ کے صحابہؓ فرماتے ہیں کہ ہم پتے کھانے پر مجبور ہوتے تھے جس کی وجہ سے بکری کی مینگنیوں کی طرح ہمیں پاخانہ آتا تھا- بیسیوں دفعہ آپ کی اور آپ کے اتباع کی جانوں پر حملے کئے گئے‘ پتھر مارے گئے‘ گلا گھونٹا گیا‘ غلاظتیں پھینکی گئیں‘ غرض کون سی تکلیف تھی جو آپ پر نہ آئی ہو‘ لیکن باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی ارشاد ہوتا رہا کہ فاصبر کما صبر اولوالعزم ۱~}~ جس طرح ہمارے پکے ارادے والے بندے صبر کرتے رہے ہیں اسی طرح تو بھی صبر سے کام لے اور استقلال کے ساتھ اپنے دشمنوں کا مقابلہ کر- لیکن کیا یہ عجیب بات نہیں کہ باوجود ان حالات سے واقف ہونے کے مسلمان کہلانے والے اور علم کا دعویٰ کرنے والے یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو جب سولی پر لٹکانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے جھٹ کسی اور شخص کو ان کی شکل کا بنا کر یہودیوں کے ہاتھ میں پکڑوا دیا- اور حضرت مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا- اگر یہ امر صحیح ہے تو کیا مسیحیوں کا حق نہیں کہ وہ دعویٰ کریں کہ ہمارا راہنما تمہارے نبی سے افضل تھا کہ تمہارے نبی کو تو تیرہ سال تک مکہ میں اور پانچ سال تک مدینہ میں زبردست تکالیف کا سامنا رہا لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں مصیبت میں پڑا رہنے دیا اور کوئی خاص مدد نہ کی لیکن ہمارے راہنما پر ایک ہی دفعہ لوگوں نے ہاتھ ڈالنا چاہا تھا کہ خدا تعالیٰ نے اسے چوتھے آسمان پر جا بٹھایا اور ایک لمحہ کے لئے بھی تکلیف برداشت نہ کرنے دی-
    اے اسلام کا درد رکھنے والو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعویٰ کرنے والو! کبھی آپ نے سوچا بھی کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو اس طرح آسمان پر بٹھا کر آپ کے علماء نے اسلام پر کس طرح ظلم کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کس قدر ہتک کی ہے؟
    اسی طرح کیا کبھی آپ نے یہ بھی سوچا ہے کہ حضرت مسیح کے اس قدر لمبے عرصہ سے آسمان پر زندہ موجود ہونے کے عقیدہ سے ان علماء نے مسیحیت کو کس قدر طاقت بخشی ہے؟ کیونکہ یہ ظاہر بات ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر زندہ رکھا ہوا ہے وہ یقیناً اس شخص سے افضل ہونا چاہئے جسے ایک معمولی سی عمر دے کر اللہ تعالیٰ نے وفات دی اور پھر جبکہ ساتھ یہ بھی مانا جائے کہ وہ صرف آپ ہی زندہ نہیں بلکہ دوسرے مردوں کو بھی زندہ کیا کرتا تھا جیسا کہ مسلمانوں میں اس وقت عام عقیدہ ہے تو پھر اس امر میں کوئی بھی شبہ نہیں رہتا کہ نعوذ باللہ من ذلک حضرت مسیحؑ حضرت نبی کریم ~صل۲~ سے افضل تھے- مگر کیا خداتعالیٰ کی آخری کتاب قرآن کریم اس عقیدہ کی تائید کرتی ہے؟ ہر گز نہیں- قرآن کریم اس عقیدہ کو دھکے دیتا ہے اور سرتا پا اس کی تردید کرتا ہے- وہ تو کھول کھول کر بتاتا ہے کہ رسولکریم ~صل۲~ سب نبیوں کے سردار ہیں اور سب نبیوں سے یہ عہد لیا جاتا رہا ہے کہ اگر آپ کا عہد پائیں تو آپ کی مدد کریں اور تائید کریں اور آپ پر ایمان لائیں-۲~}~ پس کس طرح ہو سکتا ہے کہ سرداری کی خلعت تو نسبتا چھوٹے درجہ کے آدمی کو دے دی جائے اور سردار کو اس سے محروم کر دیا جائے-
    اللہ تعالیٰ ظالم نہیں اگر فی الواقعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب نبیوں کے سردار ہیں اور مجھے اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جس کی جھوٹی قسم کھانی *** کا کام ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً سب نبیوں اور رسولوں کے سردار ہیں اور کوئی انسان اس زمین پر نہ پیدا ہوا ہے نہ ہوگا جو آپ کے درجہ کو پہنچ سکے باقی سب انسان آپ سے درجہ میں کم ہیں اور خدا تعالیٰ کے قرب کا جو مقام آپ کو ملا ہے اور خدا تعالیٰ جو غیرت آپ کے لئے دکھاتا تھا وہ مقام کسی کو نہیں ملا اور وہ غیرت خدا تعالیٰ نے اور کسی کے لئے نہیں دکھائی- مسیح کیا تھا؟ وہ موسوی سلسلہ کے نبیوں میں سے ایک نبی تھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ کو تو موسوی سلسلہ کے سب نبی مل کر بھی نہیں پہنچ سکتے- پھر کس طرح ہو سکتا تھا کہ خدا تعالیٰ مسیح علیہ السلام کو تو دشمنوں کے حملہ سے بچانے کے لئے آسمان پر اٹھا لیتا اور رسول کریم کو چھوڑ ¶دیتا کہ لوگ ان پر پتھر برسا برسا کر زخمی اور لہولہان کریں اور سنگ باری کر کے آپ کے دندان مبارک توڑ دیں حتی کہ آپ بے ہوش ہو کر گر جائیں جیسا کہ احد کی جنگ کے موقع پر ہوا؟ بخدا ایسا نہیں ہو سکتا اگر خدا تعالیٰ نے کسی کو آسمان پر اٹھانا ہوتا تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھاتا اور اگر اس نے کسی کو صدیوں تک زندہ رکھنا ہوتا تو وہ آپ کو زندہ رکھتا- پس نادان ہیں وہ لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت مسیحؑ کو خدا تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا اور وہ اب تک زندہ موجود ہیں کیونکہ یہ عقیدہ نہ صرف قرآن کریم کے مخالف ہے بلکہ مسیحیت کو اس سے طاقت حاصل ہوتی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس میں ہتک ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی بھی ہتک ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نعوذ باللہ ظالم ہے کہ جو اعلیٰ سلوک کا مستحق تھا اس سے تو اس نے ادنیٰ سلوک کیا اور جو ادنیٰ سلوک کا مستحق تھا اس سے اس نے اعلیٰ سلوک کیا- اسی طرح یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ زمین پر بے بس تھا تبھی تو اس نے مسیح علیہ السلام کو بچانے کیلئے آسمان پر اٹھا لیا- حالانکہ اگر مسلمان غور کرتے تو یہ آسمان پر اٹھانے کا عقیدہ تو مسیحیوں نے اپنی نادانی سے گھڑا ہے کیونکہ محرف مبدل کتاب میں لکھا ہے کہ خدا کی بادشاہت ابھی زمین پر نہیں آئی- ۳~}~چنانچہ مسیحی لوگ اب تک دعائیں کیا کرتے ہیں- کہ اے خدا! جس طرح تیری بادشاہت آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر بھی ہو- لیکن اسلام تو اس عقیدہ کو کفر قرار دیتا ہے- وہ تو صاف الفاظ میں سکھاتا ہے کہ للہ ملکالسموت والارض ۴~}~آسمان اور زمین کی بادشاہت اسی کے قبضہ میں ہے- پس اگر مسیحی یہ عقیدہ رکھیں کہ خدا تعالیٰ نے مسیح کو آسمان پر اٹھا لیا تو وہ تو مجبور ہیں کیونکہ ان کے عقیدہ کی رو سے زمین پر خدا تعالیٰ کی بادشاہت نہ تھی اس وجہ سے ان کے نزدیک وہ زمین پر مسیح کی حفاظت کرنے سے بے بس ہوگا- مگر مسلمانوں کو کیا ہوا کہ مسیحیوں کی نقل میں انہوں نے بھی خواہمخواہ مسیح علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا دیا حالانکہ ان کے خدا کی بادشاہت تو جس طرح آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر بھی ہے- اسے کیا ضرورت تھی کہ وہ یہودیوں سے ڈر کر اپنے نبی کو آسمان پر اٹھا لیتا- وہ اسی زمین میں اس کی حفاظت کر سکتا تھا اور اس کے دشمنوں کو تباہ کر سکتا تھا-
    غرض جس قدر بھی غور کیا جائے حضرت مسیح کو آسمان پر زندہ ماننے میں خدا تعالیٰ کی بھی اور رسول کریم کی بھی ہتک ہے اور مسیحیت نے اس سے بہت کچھ فائدہ اٹھایا ہے اور لاکھوں مسلمان اس عقیدہ کی وجہ سے ٹھوکر کھا کر مسیحی ہو گئے ہیں- پس اب بھی وقت ہے کہ مسلمان کچھ جانیں اور خلاف اسلام اور خلاف عقل عقیدہ کو چھوڑ کر توبہ کریں اور اپنے دوستوں کو بھی سمجھائیں ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کا جرم معمولی جرم نہیں- انہیں سمجھنا چاہئے کہ انہوں نے اپنی جانیں خدا تعالیٰ کو سپرد کرنی ہیں نہ کہ مولویوں کو- پس پیشتر اس کے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے چاہئے کہ سب مسلمان ایک زبان ہو کر اس گندے اور ہتک رسول کرنے والے عقیدہ کو اپنے دل سے نکال دیں تا کہ مسیحیت کی گرفت ڈھیلی پڑ جائے اور مسیح کو مرنے دیں کہ اس کے مرنے کے ساتھ ہی مسیحیت کی موت اور اسلام کی حیات ہے- کیا کوئی درد مند انسان ہے جو اپنے علاقہ میں مسیحؑ کو مار کر اسلام کو زندہ کرے- یقیناً جو ایمان کی وجہ سے نہ کہ نیچریت کی وجہ سے ایسا کرے گا خداتعالیٰ کی رحمت کو پا لے گا اور خداتعالیٰ اسے اپنی مرضی کی راہوں پر چلنے کی توفیق دے گا- واخر دعونا ان الحمد للہ رب العلمین
    خاکسار- میرزا محمود احمد
    امام جماعت احمدیہ قادیان
    اگر آپ اسلام کا درد اور اپنی قوم کی خیر خواہی مدنظر رکھتے ہیں تو ہر مسلمان کہلانے والے کی ہمدردی کرنا اپنا فرض سمجھیں- جہاں تک ہو سکے مسلمان تاجروں سے مال خریدیں اور اپنی اولادوں کے دل میں خیال پیدا کریں کہ مسلمان بہادر ہوتا ہے- وہ کسی قوم کے فرد یا مجموعہ سے نہیں ڈرتا- خاکسار مرزا محمود احمد
    ۱~}~
    الاحقاف : ۳۶
    ۲~}~ ال عمران: ۸۲

    ۳~}~
    متی باب ۶ آیت ۹‘۱۰ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انارکلی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء
    ۴~}~
    الجاثیہ : ۲۸‘ التفح: ۱۵
    ‏ a12.6
    انوار العلوم جلد ۱۲
    تحریک آزادی کشمیر
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ- ھوالناصر
    برادران ریاست جموں و کشمیر کے نام
    میرا آٹھواں خط
    السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ
    مجھے اپنے ساتویں خط کے متعلق اطلاع ملی ہے کہ اس پر بعض دوستوں کو اعتراض ہے- چنانچہ اس بارہ میں ایک دو خط بھی مجھے جموں سے ملے ہیں اور ایک دوست جو گذشتہ جلسہ آلانڈیا کشمیر کمیٹی میں جموں کے نمائندوں میں سے شامل ہوئے تھے انہوں نے بھی ان غلط فہمیوں کا ذکر کیا تھا جو اہل جموں کے دلوں میں اس بارہ میں پیدا ہو رہی ہیں- وہ غلط فہمیاں یہ ہیں-
    )۱(
    گلینسی کمیشن نے اچھی رپورٹ نہیں لکھی اور بلاوجہ اس کی تعریف کر دی گئی ہے-
    )۲(
    بعض امور میں گلینسی رپورٹ نے پہلے سے بھی بدتر حالات پیدا کر دیئے ہیں-
    )۳(
    ارتداد کا مسئلہ نہایت اہم مسئلہ تھا- اس کو میں نے اپنے خط میں بالکل نظر انداز کر دیا ہے-
    )۴(
    وائسرائے اور مہاراجہ صاحب کی خوشنودی کو مسلمانوں کی خیر خواہی پر مقدم رکھا گیا ہے-
    )۵(
    جب تک وہی حالت نہ پیدا ہو جائے جو انگریزی ہندوستان کے باشندوں کی ہے اس جدوجہد کو نہیں چھوڑنا چاہئے-
    )۶(
    ان سفارشات پر عمل نہ ہوگا-
    مجھے ان اعتراضات کو سن کر تعجب بھی ہوا اور حیرت بھی- انسان کا حافظہ کس قدر کمزور ہے ابھی چند ماہ ہوئے ان اعتراض کرنے والوں میں سے کئی اس سے بھی کم اختیارات کو بڑی کامیابی سمجھتے تھے- آج گلینسی رپورٹ ان کی نگاہوں میں حقیر نظر آتی ہے-
    میں سب سے پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے گلینسی کمیشن کی رپورٹ کو کلی طور پر تسلیم نہیں کیا نہ ارتداد کے مسئلہ پر خاموشی کی ہے نہ جدوجہد بند کرنے کا مشورہ دیا ہے- میرے خط پر ایک نگاہ ڈالنے سے ثابت ہو سکتا ہے کہ میں گلینسی رپورٹ کو ناقص سمجھتا ہوں- ارتداد کے مسئلہ کو اہم اور آئندہ جدوجہد کو ضروری بلکہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ خود مختار حکومتوں میں بھی آزادی کی جدوجہد کا جاری رہنا ضروری ہوتا ہے جس دن یہ جدوجہد بند ہو اسی دن سے غلامی کی روح قوم میں داخل ہونے لگتی ہے اور بظاہر آزاد نظر آنے والی قوم باطن میں غلامی کی زنجیروں میں جکڑی جاتی ہے-
    میں نے جو کچھ لکھا ہے یہ ہے کہ گلینسی رپورٹ میں بہت سے امور مسلمانوں کے فائدہ کے ہیں- اگر مسلمان ان سے فائدہ اٹھائیں تو بہت بڑا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور یہ کہ ارتداد کے مسئلہ کے متعلق اور دوسرے امور کے متعلق جو ناقص ہیں ہم جدوجہد جاری رکھیں گے- لیکن جو اچھا کام گلینسی کمیشن نے کیا ہے اس کے بارہ میں ہمیں شکریہ ادا کرنا چاہئے- اور اس کے ذریعہ سے جو طاقت ہمیں حاصل ہوئی ہے اس سے کام لے کر ترقی کی نئی راہیں نکالنی چاہئیں- اور جدوجہد کو کامیاب بنانے کیلئے حالات کے مطابق اس کی صورت بدل دینی چاہئے- میں نے جو کچھ لکھا اس پر اب تک قائم ہوں اور میرے نزدیک کشمیر کے لوگوں کا اس میں فائدہ ہے- میں نے یہ کام لوگوں کی خوشنودی کیلئے نہیں کیا تھا کہ ان کے اعتراض سے ڈر جائوں میں نے بلا غرض یہ کام کیا ہے اور بلا غرض ہی اسے جاری رکھنا چاہتا ہوں- اگر میں لوگوں کے اعتراض سے ڈر کر اس بات کو چھوڑ دوں جو میرے نزدیک حق ہے تو میں یقیناً خود غرض ہوں گا اور میرا سب پہلا کام برباد ہو جائے گا-
    وائسرائے صاحب کو خوش کرنا یا مہاراجہ صاحب کو خوش کرنا کوئی بری بات نہیں- میں مہاراجہ صاحب سے کبھی نہیں ملا اور نہ اس وقت تک خواہش ہے جب تک کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کے متعلق دبائو سے نہیں بلکہ دلی رغبت سے غور کرنے کو تیار نہیں- سرہریکشنکول صاحب نے مجھے متواتر مہاراجہ صاحب سے ملنے کی دعوت دی لیکن میں نے نہیں مانا اور یہی اصرار کیا کہ مہاراجہ صاحب مسلمانوں کے حقوق کے متعلق میرے ساتھ گفتگو کرنا چاہیں تو میں مل سکتا ہوں ورنہ نہیں- یہ خط و کتابت میرے پاس محفوظ ہے ان کی خوشنودی کی اس حد تک مجھے ضرورت ہے جس حد تک ہر انسان کی کیونکہ میں سب انسانوں کو اپنا بھائی سمجھتا ہوں اور کسی بھائی سے لڑنا پسند نہیں کرتا- باقی مجھے ان سے کوئی غرض نہیں کیونکہ خاندانی لحاظ سے میں ایک ایسے شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہوں کہ جس نے ایک ہزار سال تک دنیا کی تاریخ کو اپنے قبضہ میں رکھا ہے اور وجاہت کے لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ جس قدر جان فدا کرنے والے لوگ میرے ماتحت ہیں ان کا ہزارواں حصہ بھی مہاراجہ صاحب کو حاصل نہیں- پس مہاراجہ صاحب تو کسی وقت میری مدد کے محتاج ہو سکتے ہیں میں ان کی امداد کا محتاج خدا تعالیٰ کے فضل سے نہیں اور نہ انشاء اللہ ہوں گا-
    وائسرائے صاحب کی میں قدر کرتا ہوں وہ مجھ سے عمر میں زیادہ ہیں دوسرے وہ نہایت زیرک اور پھر خلیق ہیں تیسرے وہ ہمارے بادشاہ کے نائب ہیں اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جو خواہ اسے بدقسمتی کہہ لو اس امر کا قائل ہوں کہ برٹش امپائر دنیا میں اتحاد کے قیام کی بہت بڑی اہلیت رکھتی ہے اور حضور ملک معظم اس امپائر کی ایک ظاہری علامت ہیں- پس میں ان کے نمائندوں کا احترام نہایت ضروری سمجھتا ہوں اور خواہ ذاتی طور پر ان سے اختلاف ہو ان کے ادب و احترام کو ایک اخلاقی اور سیاسی فرض خیال کرتا ہوں لیکن مجھے ان کی خوشنودی کی بھی کوئی پروا نہیں- اگر میں اپنا فرض ادا کر دوں اور ان کا مناسب ادب کروں ان کے ساتھ جائز حد تک تعاون کروں اور اس کے باوجود بعض قومی کاموں کی وجہ سے مجھ سے ناراض ہوں تو میں ایک ذرہ بھر بھی ان کی اس ناراضگی کی پرواہ نہیں کروں گا بلکہ ان پر رحم کروں گا کہ وہ اپنے ذاتی خیالات کو قومی مفاد پر قربان کرتے ہیں- مگر اس وقت تک مجھے اس کا تجربہ نہیں ہوا- کشمیر کے بارہ میں مجھے حکومت سے اختلاف ہوا بعض دیرنہ دوست ناراض ہیں لیکن مجھے اس کی پروا نہیں- میں جانتا ہوں وہ ایک دن شرمندہ ہوں گے اور میری اخلاقی برتری کو تسلیم کریں گے اور اگر زمانہ ان کے ناجائز رنج کو دور نہ کر سکے تو میں سمجھوں گا کہ وہ میرے احترام کے مستحق نہ تھے-
    یہ تو حکومت کے متعلق ہے اب میں اہل کشمیر کو لیتا ہوں- میں اپنے ان بھائیوں سے بھی صاف کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میرا ان سے تعلق اخلاقی ہے- جب تک وہ مظلوم ہیں میں اپنا پورا زور ان کی تائید میں خرچ کروں گا- لیکن اگر انہوں نے ایسی راہ اختیار کیا جو اخلاقاً درست نہ ہو گا تو میں اس وقت یقیناً اسی کی تائید کروں گا کہ جو حق پر ہوگا- اور انہیں غلطی سے روکوں گا- میں نے جو کچھ کام کیا ہے وہ ان کے لئے نہیں اپنے مولیٰ کیلئے کیا ہے- پس میرا ان پر احسان نہیں نہ میں ان سے کسی شکریہ کا طالب ہوں- ہاں میں انہی کے فائدہ کے لئے انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ انسان کو ہر اچھی چیز کی خوبی تسلیم کرنی چاہئے- گلینسی کمیشن کی رپورٹ یقیناً بہت سی خوبیاں رکھتی ہے اس میں یقیناً مسلمانوں کی ترقی کا بہت سا مادہ موجود ہے- اس کے متعلق یہ کہنا کہ اس سے ہماری حالت پہلے سے بدتر ہو جائے گی‘ درست نہیں- اگر یہ درست ہے تو کیا یہ لوگ اس امر کا اعلان کرنے کو تیار ہیں کہ اس کمیشن کی سفارشات کو واپس لے لیا جائے-
    باقی رہا یہ وہم کہ گلینسی کمیشن کی اس لئے تعریف کی جاتی ہے کہ وہ انگریز ہیں تو یہ بالبداہت غلط ہے- اب جن صاحب پر ذمہ واری ہے وہ بھی انگریز ہیں یعنی مسٹر کالون اور ان کے کاموں کو ہم خوب غور سے دیکھ رہے ہیں- اور اگر ثابت ہوا کہ گلینسی کمیشن کی رپورٹ پر عمل کرنے میں انہوں نے سستی کی ہے تو ہم یقیناً ان کا مقابلہ کریں گے- پس میں سب اہل کشمیر کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ وہموں کو چھوڑ کر عمل کی طرف توجہ کریں-
    ایک ضروری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کی کامیابی کو دیکھ کر ہندوئوں نے بھی ایجی ٹیشن شروع کیا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کو جو تھوڑے بہت حقوق ملے ہیں وہ بھی انہیں حاصل رہیں- اگر اس موقع پر مسلمانوں نے غفلت سے کام لیا تو ہندو یقیناً اپنا مدعا حاصل کر لیں گے- پس اس وقت ضرورت ہے کہ مسٹر عبداللہ کی عدم موجودگی میں ایک انجمن مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی حفاظت میں بنائی جائے اور وہ انجمن اپنی رائے سے حکومت کو اطلاع دیتی رہے- ینگ مین مسلم ایسوسی ایشن کے اصول پر اگر ایک انجمن تیار ہو تو یقیناً اس کے ذریعہ سے بہت سا کام کیا جا سکتا ہے- یہ مت خیال کریں کہ بغیر اجازت کے انجمن نہیں بن سکتی- انجمنوں کی ممانعت کا کوئی قانون دنیا کی کوئی حکومت نہیں بنا سکتی- آخر ہندو انجمنیں بنا رہے ہیں- آپ کی انجمن خفیہ نہ ہوگی نہ باغیانہ- پھر حکومت اس بارہ میں کس طرح دخل دے گی- میں امید کرتا ہوں کہ نوجوان فوراً اس طرف قدم اٹھائیں گے اور اس ضرورت کو پورا کریں گے- ورنہ سخت نقصان کا خطرہ ہے اور بعد میں پچھتائے کچھ نہ ہوگا-
    ایک ضروری امر جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ جب تک خود اہل کشمیر اپنے آپ کو منظم نہ کریں گے کچھ کام نہیں ہوگا- باہر کے لوگ کبھی کسی نظام کو سنبھال نہیں سکتے- پس ضرورت ہے ایسے والنٹیئروں کی جو اپنی خدمات کو قومی کاموں کے لئے وقف کرنے کیلئے تیار ہوں- ایسے لوگ اگر ایک ایک دو دو درجن بھی ہر شہر اور قصبہ میں مل جائیں تو ہندو ایجی ٹیشن کو بے اثر بنایا جا سکتا ہے-
    مجھے بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ حکومت مسٹر عبداللہ کی قید کو لمبا کرنے کی فکر میں ہے- اس میں کیا شک ہے کہ ہندو اس بارہ میں پورا زور لگائیں گے- لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جہاں بعض حلقوں میں یہ سوال زیر غور ہے وہاں بعض حلقوں میں سیاسی قیدی چھوڑ کر اچھی فضاء پیدا کرنے کا خیال بھی پیدا ہو رہا ہے- اور کیا تعجب ہے کہ دوسری تحریک پہلی پر غالب آ جائے- پس ہمارا فرض یہی ہے کہ ہم ہوشیاری سے سب حالات کو دیکھیں اور جس رنگ میں ہمارا فائدہ نظر آتا ہو اس کے مطابق کام کریں-
    بعض لوگوں کو وزارت کے متعلق بھی شکایات ہیں- میں اس کے متعلق بھی آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کی اصلاح کے متعلق بھی ہم کوشش کر رہے ہیں- اور میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ جب تک ایک کام کرنے والی وزارت مقرر نہ ہوگی‘ ہم انشاء اللہ صبر نہیں کریں گے اور ایسے آثار ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ انشاء اللہ اس امر میں ہمیں کامیابی ہوگی-
    میں نے گذشتہ خط میں لکھا تھا کہ میں کشمیر آنے کا ارادہ رکھتا ہوں- بعض دوستوں کو اس سے غلط فہمی ہوئی ہے- میں قریب زمانہ میں وہاں آنے کا ارادہ نہیں رکھتا- بلکہ میرا ارادہ یہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ہمارے قیدی بھائیوں کو آزاد کرے تو آئندہ تنظیم کے پروگرام پر مشورہ کرنے کے لئے وہاں آئوں تا کہ جو فوائد گذشتہ سیاسی جنگ میں ہم نے حاصل کئے ہیں ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے- اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو-
    والسلام
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی
    ۲۷-۵-۱۹۳۲ء
    )پمفلٹ شائع شدہ- اللہہ بخش سٹیم پریس قادیان(
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    مسئلہ کشمیر >پیغام صلح< اور >الفضل<
    گذشتہ ایام میں >پیغام صلح< میں ایک مضمون کسی صاحب زیرک شاہ صاحب کا شائع ہوا تھا- اس مضمون میں زیرک شاہ صاحب نے مولانا سید میرک شاہ صاحب پر اعتراض کیا ہے کہ وہ قادیان کیوں جاتے ہیں اور کیوں مجھ سے مل کر کشمیر کا کام کرتے ہیں؟ اگر کشمیر کی خدمت کرنی ہی مدنظر ہوتی تو احرار سے مل کر کام کرتے- مضمون نہایت نامناسب‘ زبان ناپسندیدہ اور مقصد نہایت غلط تھا- مولانا میرک شاہ صاحب نے اگر باوجود اختلاف عقیدہ مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے مجھ سے مل کر کام کیا تو وہ اس میں منفرد نہ تھے- اہل حدیث‘ شیعہ‘ حنفی‘ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے ممبر غرض ہر قسم کے لوگ اس امر میں آلانڈیا کشمیر کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کرتے رہے ہیں اور کرتے ہیں- اور یہ ایک نہایت اعلیٰ علامت ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب مسلمان ایک ایسے مقام پر کھڑے ہو گئے ہیں کہ اپنے ذاتی اختلافات کو قربان کر کے اپنی ملی بہبود کو مقدم کرنے لگے ہیں- اس حالت پر جس قدر خوشی کا اظہار کیا جائے کم ہے-
    میں نے جب یہ مضمون پڑھا تو مجھے خطرہ ہوا کہ اس کو بنائے مخاصمت بنا کر ایک نیا فتنہ پیدا کر دیا جائے گا اس لئے میں نے درد صاحب سے کہا کہ وہ مولوی محمد یعقوب صاحب ایڈیٹر لائٹ سے کہیں کہ یہ مضمون ناپسندیدہ تھا‘ وہ اس کا کچھ علاج کریں اور خود کوئی ایسا جواب نہ دیا جائے جو فتنہ کو لمبا کر کے ہماری کشمیر کے مسلمانوں کے متعلق گزشتہ محنت کو برباد کر دے- مجھے افسوس ہے کہ باوجود میری ہدایت کے >الفضل< میں ایک جواب اس مضمون کا شائع ہوا ہے جو درگزر کی روح اور عفو کا نمونہ پیش کرنے کی بجائے غصہ اور غضب کی روح کو ظاہر کرتا ہے- مزید افسوس یہ ہے کہ یہ مضمون ایڈیٹوریل ہے- ہم غصہ سے کینہ کو دور نہیں کر سکتے- محبت اور عفو کی روح ہی دلوں کی اصلاح کر سکتی ہے- میں اسے نہایت ناپسند کرتا ہوں کہ بیغیرتی یا غضب ہم پر غالب آ جائیں- مجھے افسوس ہے کہ باوجود میرے بار بار سمجھانے کے کہ بے غیرتی اور غصہ دو انتہائی مقام ہیں‘ ہمیں ان سے بچ کر غیرت اور عفو کے مقام پر جو وسطی مقام ہے‘ کھڑا ہونا چاہئے- ہماری جماعت کے بہت سے لوگ اس حکمت کو وقت پر بھول جاتے ہیں- کاش ہم اپنے نفس کو خدا اور انسانیت کے لئے قربان کرنے کا ملکہ پیدا کر سکیں کیونکہ یہی کنجی سب روحانی ترقی کی ہے-
    میں اس مضمون پر گو یہ جواباً لکھا گیا ہے‘ اظہار افسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا- اس مضمون کے شائع ہونے کے بعد مولوی محمد یعقوب صاحب آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے جلسہ میں شامل ہوئے- ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب محض علالت کی وجہ سے )اللہ تعالیٰ انہیں شفا عطا فرمائے( شامل نہیں ہوئے- ورنہ وہ شروع سے سچی ہمدردی کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں- اور بغیر کسی ملامت کے خوف کے احرار کے بارہ میں مضمون لکھتے رہے ہیں- اس سے صاف ظاہر ہے کہ زیرک شاہ صاحب کا مضمون احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کا پسند کردہ مضمون نہ تھا- اور ایک آدمی کی غلطی سب کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی- محض انجمن کے اخبار میں کسی مضمون کا شائع ہونا اس امر پر دلالت نہیں کرتا کہ انجمن اس سے متفق ہے- اس قسم کے مضامین کا تسلسل اور بلا تردید تسلسل اس امر پر دلالت کر سکتا ہے لیکن ابھی تک یہ بات ثابت نہیں- پس اس قدر جلدی جواب میں جوش و غضب کا رویہ اختیار کرنا ہر گز مناسب نہ تھا- الفضل میں بھی کئی ایسے مضامین شائع ہوتے ہیں کہ جو میرے منشاء کے خلاف ہوتے ہیں- ان کی ذمہ داری مجھ پر یا صدر انجمن احمدیہ پر نہیں ہو سکتی کیونکہ بسا اوقات مضمون نظر سے ہی نہیں گزرتا یا گزرے تو اس غلطی کو انفرادی یا معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے- گو میں یہ خیال کرتا ہوں کہ یہ غلطی بہت اہم غلطی تھی اور چاہئے تھا کہ >پیغام صلح< کے ایڈیٹر اس سے اختلاف ظاہر کر دیتے کیونکہ اس مضمون سے خود ان کی ا نجمن کے ممبر جو کشمیر میں رہتے ہیں‘ ناراض ہوئے ہیں- لیکن پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا رویہ اس بارہ میں وہی ہونا چاہئے جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں- ہمارا فرض مولانا میرک شاہ صاحب کی برائت تک ختم ہو جانا چاہئے تھا دوسرے پہلو کو خود احمدیہ انجمن اشاعت اسلام پر یا اس کے ممبروں پر چھوڑ دینا چاہئے تھا-
    خاکسار- مرزا محمود احمد
    )الفضل ۲۹ مئی ۱۹۳۲ء(
    تحریک آزادی کشمیر کے تعلق میں مکتوب نمبر۶
    مولوی جلال الدین صاحب- السلام علیکم-
    گوہر الرحمن صاحب کا جرمانہ اب تک ادا نہیں ہوا اس وجہ سے ان کی قید بڑھ جانے کا اندیشہ ہے اس کی طرف فوری توجہ کریں- قاضی صاحب کی مراد دو سو ہے ایک سو گھر کے لئے اور ایک سو جرمانہ کی معلوم ہوتی ہے- اس حساب سے روپیہ ارسال کر دیا جائے-
    مرزا محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    ۲۵-۶-۱۹۳۲ء
    )تاریخ احمدیت جلد۶ ضمیمہ نمبر۲ صفحہ۵۹ مطبوعہ ۱۹۶۵ء(
    مسلمانان ریاست کشمیر کے نام پیغام
    آل کشمیر مسلم کانفرنس کے موقع پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بحیثیت صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی مسلمانان ریاست کے نام ایک پیغام بھجوایا تھا جسے صدر کانفرنس جناب شیخ محمد عبداللہ صاحب ایم-ایس-سی شیر کشمیر نے اجلاس عام میں نمائندگان کانفرنس اور ہزارہا لوگوں کے مجمع میں پڑھ کر سنایا- پیغام حسب ذیل ہے-
    >سب سے پہلے میں اپنی طرف سے‘ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی طرف سے‘ آلکشمیر مسلم کانفرنس کے مندوبین کو ان قربانیوں پر جو انہوں نے اور ان کے اہل وطن نے کی ہیں اور اس کامیابی پر جو انہوں نے آزادی کی تازہ جدوجہد میں حاصل کی ہے- مبارکباد دیتا ہوں- مجھے اس بات کا فخر ہے کہ بحیثیت صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی مجھے ان کے ملک کی خدمت کرنے کی خوشی خاصل ہوئی ہے جو ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک خستہ حالت میں رہا ہے-
    برادران! میں آپ کی کامیابی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ کانفرنس کی کارروائی میں سچی حب الوطنی کے جذبہ کے ماتحت جرات‘ میانہروی‘ رواداری‘ تشکر‘ دانائی اور تدبر کے ذریعہ آپ ایسے نتائج پر پہنچیں گے جو آپ کے ملک کی ترقی میں بہت ممد ہوں گے اور اسلام کی شان کو دوبالا کرنے والے ہوں گے-
    برادران! میرا آپ کے لئے یہی پیغام ہے کہ جب تک انسان اپنی قوم کے مفاد کے لئے ذاتیات کو فنا نہ کر دے وہ کامیاب خدمت نہیں کر سکتا بلکہ نفاق اور انشقاق پیدا کرتا ہے- پس اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو نفسانی خیالات کو ہمیشہ کے لئے ترک کر دو اور اپنے قلوب کو صاف کر کے قطعی فیصلہ کر دو کہ خالق ہدایت کے ماتحت آپ ہر چیز اپنے اس مقصد کے لئے قربان کر دیں گے جو آپ نے اپنے لئے مقرر کیا ہے-
    میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم یعنی مسلمانان ہندوستان آپ کے مقصد کے لئے جو کچھ ہماری طاقت میں ہے‘ سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہیں اور خدا کے فضل سے آپ ضرور کامیاب ہوں گے اور امیدوں سے بڑھ کر ہوں گے اور آپ کا ملک موجودہ مصیبت سے نکل کر پھر جنت نشان ہو جائے گا- اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو<-
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    ۱~}~
    بک شاٹ: BUCKSHOT سیسے کا چھرا جو جانوروں خصوصاً ہرن کو شکار کرنے کیلئے استعمال کیا جائے- )قومی انگریزی اردو لغبت جلد۱ صفحہ۲۴۴‘ ۴۴۵ مطبوعہ دہلی ۱۹۹۴ء(
    ۲~}~
    شرح مواھب اللدنیہ جلد۲ صفحہ۹۲۹۲ تا ۲۹۴ مطبوعہ الازھریہ المصریہ ۱۳۲۵ھ
    ۳~}~
    اسلام آباد- وادی کشمیر میں سرینگر کے بعد دوسرا بڑا شہر جو سرینگر سے ۳۴ میل جنوب مشرق میں دریائے جہلم سے ایک میل دور واقع ہے- زمانہ قدیم میں اسے اننت ناگ کہتے تھے-
    ۴~}~
    طبری الجزء الرابع صفحہ ۳۲۴‘ ۳۲۵ دارالفکر بیروت لبنان ۱۹۸۷ء
    ۵~}~
    ٹوڈی: خوشامدی- جی حضوری
    ۶~}~
    >الاشققت عن قبلہ< مسند احمد بن حنبل جلد۵ صفحہ۲۰۷ العکتب الاسلامی بیروت-
    ۷~}~
    منچوریا: -Manchuria شمال مشرقی چین کا علاقہ
    ۸~}~
    افسوں: جادو- منتر- حیلہ- مکر- فریب
    ۹~}~
    بخاری کتاب الجھاد والسیر باب ان اللہ لیوید الذین بالرجل الفاجر-
    ۱۰~}~
    الجامع الصغیر جلد۲ صفحہ۲۹ مطبوعہ ۱۳۲۱ھ
    ‏a12.7
    انوار العلوم جلد ۱۲
    سلسلہ احمدیہ کی تعلیم
    سلسلہ احمدیہ کی تعلیم

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی

    ‏jmc-nsk] gat[بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    سلسلہ احمدیہ کی تعلیم
    ۱- سلسلہ احمدیہ کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے جو اپنے دوبارہ آنے کی خبر دی تھی وہ بانی سلسلہ احمدیہ کے وجود میں پوری ہو گئی ہے اور یہ کہ دنیا کا نیا دور اب اسی تعلیم پر مبنی ہوگا جو مسیح موعود علیہ السلام نے دی ہے-
    ۲- سلسلہ احمدیہ کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کی پیشگوئیوں کے مطابق جس نجات دہندہ نے دنیا کو خدا تعالیٰ کی آخری شریعت سکھانے کے لئے آنا تھا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بانی مذہب اسلام تھے- آپ کے وجود میں گذشتہ انبیاء کی سب پیشگوئیاں پوری ہو گئیں- آپ آخری شریعت لانے والے رسول تھے اور قرآن کریم آخری شریعت کی کتاب ہے آنحضرت صلعم کے بعد کوئی اور ایسا رسول نہ نیا نہ پرانا آ سکتا ہے جس نے آپ سے فیض حاصل نہ کیا ہو اور جس کا کام آپ کا کام نہ کہلا سکتا ہو کیونکہ دنیا کی ابدی استادی کا مقام صرف آپ کو ہی حاصل ہے اور کوئی شخص اس میں آپ کا شریک نہیں ہو سکتا اور اسی وجہ سے آپ نبیوں کی مہر کہلاتے ہیں-
    ۳- مذکورہ بالا عقیدہ کے ماتحت سلسلہ احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کا کام صرف قرآن کریم کی تشریح اور اس کے مطالب کا ہی بیان تھا ورنہ اس نے کوئی جدید تعلیم نہیں دینی تھی- بالکل اسی طرح جس طرح حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کا یہ کام تھا کہ وہ تورات کی تشریح کرتے-
    )۴( سلسلہ احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا ایک خدا ہے- اس نے دنیا کو اپنے ارادے اور اپنے حکم سے پیدا کیا ہے- وہ ازل سے ہے اور اس کے لئے فنا نہیں- وہ مالک ہے سب قدرتوں کا اور قادر ہے اپنی مشیت پر اور اس وجہ سے کسی بیوی یا بیٹے یا مددگار کا محتاج نہیں- واحد ہے‘ لاشریک ہے- بڑے سے بڑا انسان خواہ کوئی ہو‘ اس کا بندہ اور اس کا فرمانبردار ہے- انسان کے لئے اس کی پرستش کے سوا کسی کی پرستش جائز نہیں خواہ وہ موسیٰ‘ عیسیٰ‘ محمد علیہم السلام والصلوۃ جیسی ہستیاں ہی کیوں نہ ہوں- جیسا کہ حضرت مسیح ناصری علیہالسلام نے فرمایا ہے کہ سب حکموں میں اول یہ ہے کہ-:
    >اے اسرائیل سن! وہ خداوند جو ہمارا خدا ہے ایک ہی خداوند ہے- اور تو خداوند کو جو تیرا خدا ہے اپنے سارے دل سے اور اپنی ساری جان سے اور اپنی ساری عقل سے اور اپنے سارے زور سے پیار کر- اول حکم یہی ہے-< ۱~}~
    سلسلہ احمدیہ کی بھی یہی تعلیم ہے کہ انسان کا دل اور اس کی جان کلی طور پر خدا کے لئے ہونے چاہئیں- بندوں کو خدائی کا مقام دینا درست نہیں ہے-
    ۵- سلسلہ احمدیہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس طرح پہلے بولتا تھا اب بھی بولتا ہے اور جس طرح پہلے نشان دکھاتا تھا‘ اب بھی دکھاتا ہے- اور جس طرح پہلے اس کے فرشتے اس کے بندوں پر نازل ہوتے تھے‘ اب بھی اترتے ہیں- اور یہ کہ وہ مذہب جس کی بنیاد قصوں پر ہو مذہب نہیں ایک کہانی ہے اور وہ عقیدے جن کی بنیاد صرف روایت پر ہو عقیدے نہیں بلکہ توہمات ہیں- پس سچا مذہب وہی ہے جو اپنے ساتھ تازہ نشان رکھتا ہو-
    ۶- سلسلہ احمدیہ یہ بھی تعلیم دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کو پیدا کر کے بے دخل نہیں ہو گیا اور اب بھی سب کام اسی کے حکم اور اسی کے اشارہ سے چلتے ہیں- وہ قادر خدا ہے جس کا امر دنیا کے ہر فعل میں ہو رہا ہے- دنیا کا ایک ذرہ بھی اس کے اذن کے بغیر ہل نہیں سکتا- سائنس اور ہیئت کے قوانین کا ظہور صرف اس کے ازلی قانون کے ماتحت میں نہیں ہے بلکہ اب ہر اک نتیجہ جو اب بھی نکل رہا ہے‘ اس کے حکم سے اور اس کے ارادہ کے ماتحت نکلتا ہے- وہ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور معجزانہ طاقتیں ان کے لئے ظاہر کرتا ہے اور جب وہ کسی بندے کی تائید میں ہو جاتا ہے تو دنیا کی حکومتیں اور طاقتیں اس کے حکم کے مقابلہ سے عاجز آ جاتی ہیں اور تمام ظاہری سامان بے کار اور سب مادی طاقتیں بے اثر ہو جاتی ہیں- دنیا کے لوگ بے شک اس امر پر ہنسیں لیکن ہم نے ہزاروں لاکھوں اس امر کے مشاہدات کئے ہیں اور کر رہے ہیں- اور خدا تعالیٰ کی اس قدرت نمائی کے ماتحت ہمارا یقین ہے کہ باوجود اس کے کہ دنیا کے سب مذاہب احمدیت کی مخالفت پر آمادہ ہیں اور دنیا کی سب طاقتیں اسلام کو مٹانے کے لئے کوشاں ہیں لیکن پر امن ذرائع سے اور معجزانہ حالات کے ماتحت سلسلہ احمدیہ دنیا میں پھیل جائے گا اور اس کے ذریعہ اسلام کو باقی سب ادیان پر علمی غلبہ حاصل ہوگا-
    ۷- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنے قرب کے لئے پیدا کیا ہے- پس اسے کسی اور واسطہ کو تسلیم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ہم اس مقصد کے لئے پیدا نہیں کئے گئے بلکہ دوسروں کا احسان ہے کہ وہ ہمیں اس مقام پر پہنچا دیتے ہیں- اور اگر ہم یہ تسلیم کریں تو ماننا پڑتا ہے کہ انسانی پیدائش کا کوئی اعلیٰ مقصد ہے ہی نہیں مگر دنیا کا ذرہ ذرہ اس کے خلاف گواہی دے رہا ہے- پس حق یہی ہے کہ انسان قرب الہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ۲~}~میں نے جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میرے عبد بن جائیں- یعنی میری صفات کو اپنے اندر پیدا کریں- بائبل نے بھی اس طرح ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے >تب خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت اور اپنی مانند بنا دیں-<۳~}~
    ۸- سلسلہ احمدیہ کا عقیدہ ہے کہ نجات کسی ایک قوم یا ایک ملک کے لوگوں کا حق نہیں بلکہ سب بنی نوع انسان خدا تعالیٰ کے فضل کے یکساں مستحق رہے ہیں اور اس وجہ سے یہ خیال کہ خدا تعالیٰ نے ہدایت کو صرف بنی اسرائیل میں یا عربوں میں یا ہندوستانیوں میں محصور کر دیا ایک لغو اور بیہودہ خیال ہے- سب انسان خدا تعالیٰ کے بندے ہیں اور جس طرح اس کا سورج سب کے لئے چڑھتا ہے‘ اسی طرح اس کی ہدایت بھی سب کے لئے ہے- ہاں خود انسانوں کے فائدہ کے لئے اس نے پہلے مختلف اقوام کی طرف الگ الگ انبیاء ارسال کئے اور آخر میں جب انسان خدا تعالیٰ کی سب باتوں کو سمجھنے کے قابل ہو گیا تو اس نے وہ روح حق بھیجی جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور جس کی نسبت انجیل میں آتا ہے کہ
    >میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں پر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے- لیکن جب وہ یعنی روح حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتاوے گی اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی وہ میری بزرگی کرے گی اس لئے کہ وہ میری چیزوں سے پاوے گی اور تمہیں دکھاوے گی-<۴~}~
    غرض سلسلہ احمدیہ کی تعلیم ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں اللہ تعالیٰ کے نبی گذرے ہیں اور اس وجہ سے ہمارا فرض ہے کہ ہم دوسری قوموں کے گذشتہ بزرگوں کو بھی محبت اور قدر کی نگاہ سے دیکھیں کیونکہ وہ سب خدا کی طرف سے تھے اور اس وجہ سے ہمارے لئے واجب ادب ہیں- پس ہم لوگ جو سلسلہ احمدیہ کے پیرو ہیں جس طرح حضرت نوع اور حضرت ابراہیم حضرت موسیٰ‘ حضرت مسیح علیہم السلام کو ادب و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اسی طرح کرشن جی اور رامچندر جی اور گوتم بدھ اور زرتشت اور کنفوشس علیہم السلام کو بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں-
    ۹- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ دوسرے مذاہب کے عیب بیان کرنے کی بجائے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنی چاہئیں کیونکہ کسی کی کمزوری سے ہماری بڑائی ثابت نہیں ہوتی بلکہ ہماری تعلیم کی برتری ہی ہمارے مذہب کی برتری ثابت کر سکتی ہے- پس دوسرے مذاہب کے عیب بیان کرنا ہماری جماعت کا طریق نہیں- ہاں جوابی طور پر جب ہم کو یہ معلوم ہو کہ ایک قوم برابر بد گوئی میں بڑھتی جاتی ہے تو دفاع کے طور پر ہمیں الزامی جوابوں کے دینے کی اجازت دی گئی ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ یہ تعلیم دنیا میں امن قائم رکھنے کے لئے اور قوموں میں صلح کرانے کے لئے نہایت ممد ہے- اور اس کا دوسرا پہلو کہ اگر کوئی قوم شرارت سے باز نہ آئے تو اس کے مقابل میں الزامی جواب دینا درست ہے درحقیقت پہلے پہلو کو مکمل کرتا ہے کیونکہ بعض انسان اس قدر خدا تعالیٰ سے دور ہو جاتے ہیں کہ ان کے انسانی احساسات کو اکسانے کے لئے ایک ٹھیس کی ضرورت ہوتی ہے جس طرح کہ کبھی جسم انسانی کی حفاظت کے لئے ڈاکٹر کے نشتر کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ طریق قابل اعتراض نہیں بلکہ بگڑی ہوئی قوم کی خیر خواہی میں داخل ہے- چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی باوجود اس کے کہ آپ کی طبیعت نہایت حلیم تھی- کبھی کبھی یہ طریق اختیار کرنا پڑا کہ
    >تم اپنے باپ شیطان سے ہو اور چاہتے ہو کہ اپنے باپ کی خواہش کے موافق کرو-<۵~}~
    غرض اس قسم کی استثنائی صورتوں کو چھوڑ کر جب خود دوسری قوم کی اصلاح کے لئے الزامی جواب دینا پڑے سلسلہ احمدیہ کی تعلیم ہے کہ صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرو دوسرے مذاہب پر حملے نہ کرو تا کہ دنیا میں صلح اور آشتی قائم ہو اور لوگ اپنے رب کی طرف توجہ کرنے کا موقع پائیں-
    ۱۰- سلسلہ احمدیہ کی ایک یہ بھی تعلیم ہے کہ شریعت بطور سزا کے نہیں نازل ہوئی کیونکہ شریعت نام ہے ان احکام کا جو انسان کی روحانی تمدنی اور اخلاقی ترقی کا موجب ہوتے ہیں اور بالواسطہ طور پر اس کی ترقی کا بھی باعث ہوتے ہیں اور کسی کو وہ راہ بتانا جس پر چل کر وہ کامیاب ہو سکے کسی صورت میں بھی چٹی نہیں کہلا سکتا- ہم جب ایک بھولے ہوئے کو راہ دکھاتے ہیں تو وہ ہمارا ممنون ہوتا ہے یہ نہیں کہا کرتا کہ تم نے مجھ پر بوجھ لاد دیا ہے- ایک جہاز کا کپتان جسے سمندروں کا چارٹ مل جاتا ہے شکوہ نہیں کرتا بلکہ شکریہ ادا کرتا ہے- شریعت بھی درحقیقت انسانی سفر کے لئے ایک چارٹ ہے جس سے اسے راستہ کی مشکلات سے آگاہ کیا جاتا ہے اور آسانی سے سفر طے کرنے کے طریق بتائے جاتے ہیں- وہ ایک گائیڈ ہے جو ہر منزل پر اس کے کام آتا ہے نہ کہ چٹی اور سزا- پس اس کی ضرورت ہر وقت انسان کو تھی اب بھی ہے اور ہمیشہ رہے گی اور اللہ تعالیٰ نے اسے بطور سزا نہیں نازل کیا بلکہ بطور احسان نازل کیا ہے- اور اس سے زیادہ بدبختی کا دن انسان کے لئے نہیں آ سکتا جس دن کہ وہ اس راہنما سے محروم ہو جائے مگر اللہ تعالیٰ جو رحیم و کریم ہے کبھی برداشت نہیں کر سکتا کہ اپنے بندوں کو جو ابدی زندگی کے لئے سرگردان ہیں اس ضروری امداد سے محروم کر کے ہمیشہ کے لئے تاریکی اور ظلمت میں بھٹکتا رہنے دے-
    ۱۱- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جس طرح ہر انسان کا پیدائشی حق ہے کہ اس کے لئے خدا تعالیٰ کے قرب کا دروازہ کھلا رہے اور اس کے اور اس کے رب کے درمیان کوئی اور ہستی حائل نہ ہو- اسی طرح ہر انسان اپنی نجات کیلئے اپنی ہی جدوجہد کا محتاج ہے کوئی دوسرا شخص اس کی نجات کے معاملہ میں سوائے راہنمائی اور ہدایت کے اور کسی کام نہیں آ سکتا- ہر انسان کا فرض ہے کہ اپنے لئے نجات کا راستہ خود تیار کرے- جیسا کہ مسیح علیہ السلام نے نہایت خوبصورت الفاظ میں فرمایا ہے-
    >اگر کوئی چاہے کہ میرے پیچھے آوے تو اپنا انکار کرے اور اپنی صلیب اٹھا کے میری پیروی کرے-< ۷~}~
    اور حق بھی یہی ہے کہ نجات اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہے- اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو انسان کا ایمان اور اس کی وہ جدوجہد ہی کھینچ سکتی ہے جو وہ خدا سا بننے کیلئے کرتا ہے کیونکہ تب خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ دیکھو میرا بندہ مجھ سے ملنے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنے بندے کو اٹھا لیتا ہے- جس طرح روتے ہوئے بچے کو ماں اٹھاتی ہے وہ اپنے بچے کو اٹھانے کے لئے کسی کی سفارش کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ سب سے بڑی سفارش اس کے بچے کی صحیح خواہش یا اس کی چیخ ہی ہوتی ہے-
    ۱۲- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ا نسان اپنے اعمال میں نہ تو کلی طور پر آزاد ہے اور نہ کلی طور پر مجبور- بلکہ وہ اس حد تک مجبور ہے کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر سے آزاد نہیں ہو سکتا اور اس حد تک آزاد ہے کہ اپنے اعمال کی جزاء سزا کا مستحق ہے- خدا تعالیٰ کسی کو بد اور کسی کو نیک نہیں قرار دیتا- بلکہ وہ اعمال کا زمانہ شروع ہونے سے پہلے ہدایت کرتا اور اعمال کے نتائج پیدا کرتا ہے- پس دنیا میں ہر واقعہ جو تقدیر کے ماتحت نظر آتا ہے درحقیقت کسی اختیاری فعل کے نتیجہ میں ہے اور ہر واقعہ جس میں انسان کلی طور پر مختار نظر آتا ہے وہ درحقیقت قانون قدرت‘ انسان کے پہلے اعمال اور اس کے گردو پیش کے حالات سے متاثر ہوتا ہے- اسی وجہ سے ابتدائے دنیا سے مختلف مذاہب اور مختلف فلسفی اس امر پر بحث کرتے چلے آئے ہیں کہ آیا انسان مجبور ہے یا مختار- اور تقدیر کے سوال نے انسان کو حیران کئے رکھا ہے- لیکن اگر لوگ اسلام کی تعلیم کو مدنظر رکھتے تو یہ جھگڑے پیدا ہی نہ ہوتے- اور اگر ہوتے تو بہت جلد ختم ہو جاتے- اس میں کیا شک ہے کہ انسان اپنے اعمال پر ایک سرسری نگاہ بھی ڈالے تو اس نتیجہ تک پہنچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ اس کے افعال میں تقدیر و اختیار کے قانون ایک ہی وقت میں جاری ہیں-
    بظاہر یہ مسئلہ ایک علمی مسئلہ نظر آتا ہے لیکن درحقیقت بہت اہم اور عملی مسئلہ اور دنیا کی روحانی اور تمدنی ترقی کا اس پر بہت کچھ مدار ہے اور یہ مسئلہ خدا تعالیٰ کے وجود پر بھی دلالت کرتا ہے کیونکہ انسانی اختیار اور اس کی مجبوریاں ایسی ملی ہوئی ہیں کہ سوائے ایک ایسی ہستی کے جو ذرہ ذرہ کا علم رکھتی ہو کوئی اور ہستی انسانی جدوجہد کی قیمت مقرر نہیں کر سکتی اور اسے حقیقی جزاء اور سزا نہیں دے سکتی کیونکہ جب تک ہر انسان کے اختیار اور اس کی مجبوری کا صحیح اندازہ نہ لگایا جائے‘ اس کی نیکی یا اس کی بدی کا بھی صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا- ہزاروں ہیں جو بظاہر نیک نظر آتے ہیں لیکن ان کی نیکی کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کے اندر بدی کی قابلیت نہیں- لیکن ہزاروں ہیں جو بظاہر بدنظر آتے ہیں لیکن وہ نیک ہیں کیونکہ ان کے لئے بدی کے بہت سے محرکات ہیں اور بہت سی مجبوریاں بھی ہیں لیکن وہ اپنے نفس سے جنگ کرتے رہتے ہیں اور بعض دفعہ کامیاب ا ور بعض دفعہ مغلوب ہو جاتے ہیں- پس ماننا پڑتا ہے کہ اگر انسانی اعمال نے منافقت کی چادر سے نکل کر کبھی اپنی صحیح شکل میں ظاہر ہونا ہے تو ایک ایسی ہستی ہونی چاہئے جو ظاہر و پوشیدہ کو اور ماضی و حال اور مستقبل کو یکساں طور پر جانتی ہو تا کہ انسانوں کے متعلق عدل و انصاف سے فیصلہ کیا جائے-
    ۱۳- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ اخلاق کا سوال حل نہیں ہو سکتا جب تک انسانی پیدائش کے سوال کو مدنظر نہ رکھا جائے- علم الاخلاق کی تمام بحثیں آخر ایک چکر میں تبدیل ہو جاتی ہیں جو ہمیں کسی خاص فیصلہ تک نہیں پہنچاتا- لیکن اگر ہم انسان کی فطرت پر غور کریں تو لازماً اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ وہ بعض باتوں کو برا سمجھتی ہے- پس اچھے اور برے کا سوال تو ایک طبعی تقاضا ہے لیکن یہ کہ فلاں چیز بری ہے یا اچھی ہے مختلف فیہ مسئلہ ہے اور اس کی وجہ مذاہب کا اثر ہے- پس اچھے اور برے اخلاق کا فیصلہ انسانوں کے میلانوں پر نہیں کیا جا سکتا کہ وہ مختلف ہیں ان کا فیصلہ صرف خدا تعالیٰ کی صفات سے مقابلہ کر کے کیا جا سکتا ہے- انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی شکل پر پیدا کیا ہے- یعنی وہ طاقتیں اسے دی ہیں کہ الہی صفات کو اپنے اندر جذب کر سکے اور اخلاق حسنہ انہی صفات کو اپنے اندر جذب کرنے کا نام ہے اور اخلاق سیئہ انہی سے دوری کا- ہر ایک جو اپنی طاقتوں کو اسی طرح استعمال کرتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی صفات ظاہر ہوتی ہیں وہ اخلاق حسنہ پر عامل ہے اور جو اس کے خلاف کرتا ہے وہ اخلاق سیئہ پر- پس انسان کے اندر جس قدر طاقتیں ہیں سب ہی اچھے مصرف کے لئے ہیں جس طرح خدا تعالیٰ میں کوئی عیب نہیں‘ انسان میں بھی کوئی عیب نہیں بلکہ اس کی سب طاقتیں ضروری ہیں- ہاں ان کے استعمال کی درستی یا غلطی سے وہ اچھا یا برا ہو جاتا ہے- پس اگر ہم نیک ہونا چاہتے ہیں تو ہمارا یہ فرض نہیں کہ اپنی طاقتوں کو دبائیں اور مار دیں بلکہ ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم انہیں خدا تعالیٰ کی صفات کی طرح موقع اور محل پر استعمال کریں-
    اس عقیدہ سے وہ جنگ جو قدیم سے دین اور دنیا میں چلی آئی ہے ختم ہو جاتی ہے کیونکہ اس عقیدہ کے ماتحت مادی طاقتیں روحانی طاقتوں کے مخالف نہیں قرار پاتیں بلکہ روحانی طاقتوں کے پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں اور ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کی ترقی کے لئے کوشش کرتے ہوئے انسان دین کا بھی کام کر سکتا ہے اور کرتا جاتا ہے-
    ۱۴- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے اور یہ عقیدہ اوپر کے عقیدہ کا لازمی نتیجہ ہے کہ انسانوں کے باہمی معاملات کی بنیاد اصلاح پر ہونی چاہئے نہ کہ کسی غیر لچکدار فلسفی اصل پر- کیونکہ انسان کے اعمال درحقیقت تبدیل ہونے والی شئے ہیں- اور مختلف حالتوں میں ان کی قیمت مختلف ہوتی ہے- ایک وقت میں ایک کام برا اور دوسرے وقت میں وہی اچھا ہو سکتا ہے- ہم ایک تندرست کو جو غذا دے سکتے ہیں بیمار کو نہیں دے سکتے- کیونکہ کسی نے اپنے اخلاق کو کسی طرح ڈھالا ہے اور کسی نے کسی طرح- پس اگر ہم خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے موقع اور محل کے مطابق ہمارے اعمال ظاہر ہوں اور ہماری اصل غرض اصلاح ہو اور اگر کوئی شخص پیار سے ماننے والا ہو تو ہم اسے باوجود ناراضگی کے اور غصہ میں آ جانے کے پیار سے سمجھائیں اور اگر کوئی شخص سزا سے ماننے والا ہو تو ہم اسے اس کے جرم اور اس کی طبیعت کی سختی کے مطابق سزا دے کر اسے سمجھائیں- کیونکہ اصل غرض اصلاح ہے جو مریض کی حالت کے مطابق ہی ہو سکتی ہے- اگر اس کی حالت کو نظر انداز کر دیں تو اصلاح ناممکن ہے-
    ۱۵- سلسلہ احمدیہ کا ایک یہ بھی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جس قدر صفات پیدا کی ہیں‘ ضروری ہیں- اور ان صفات کے سرچشمے یعنی عقل اور جذبات کا ہر کام میں لحاظ رکھنا ضروری ہے- اور ان صفات کے سرچشمے یعنی عقل اور جذبات کا ہر کام میں لحاظ رکھنا ضروری ہے- تمام تمدنی اور سیاسی خرابیاں اسی سے پیدا ہوتی ہیں کہ باہمی معاملات میں یا عقل کو ترک کر دیا جاتا ہے یا جذبات کو- یا ان کی صحیح نسبت قائم نہیں رکھی جاتی- عورت و مرد کے تعلقات کو عام طور پر جذبات پر مبنی رکھا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے نقصان ہوتا ہے حالانکہ کوئی عورت و مرد دنیا سے الگ نہیں ہو سکتے- وہ دنیا کا ایک حصہ ہیں اور انہیں اپنے حصہ ہونے کی حقیقت کو نہیں بھولنا چاہئے- پس جہاں ان کے تعلقات کی بنیاد جذبات پر ہونی ضروری ہے وہاں اس کے ساتھ ہی اس کی بنیاد عقل پر بھی ہونی ضروری ہے- میاں بیوی کے حقوق‘ طلاق‘ کثرت ازدواج‘ بچوں کی تربیت اور ان پر ماں باپ کے تصرف کی حد بندی‘ ورثہ اس میں مختلف رشتہ داروں کے حقوق کی تعیین‘ یہ سب ایسے امور ہیں جن میں اس قانون کو ملحوظ رکھ کر ایک ایسا درمیانہ طریق اختیار کیا جا سکتا ہے کہ جس سے نہ جذبات کو ٹھیس لگے اور نہ عقل کو جواب دیا جا سکتا ہے اور اسلام نے ایسا ہی کیا ہے- گو جذبات کے طوفان کے وقت اس تعلیم کو قابل اعتراض قرار دیا گیا ہے لیکن سکون کی ساعتوں میں دنیا اس طریق کی برتری کو قبول کرنے پر مجبور ہوتی رہی ہے-
    ۱۶- سلسلہ احمدیہ کی ایک یہ بھی تعلیم ہے کہ عورت و مرد مشرقی اور مغربی سب اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک ہیں سب کے لئے خدا تعالیٰ کے قرب اور ابدی زندگی کے دروازے کھلے ہیں- پس ان کے تعلقات کی بنیاد ایسے اصول پر ہونی چاہئے کہ ایک دوسرے کے لئے تکلیف کا موجب نہ ہوں اور ہر اک کے لئے ترقی کے دروازے کھلے رہیں اور کوئی کسی پر ناجائز حکومت نہ کرے-
    ۱۷- سلسلہ احمدیہ کی ایک تعلیم یہ بھی ہے کہ انسان کی جزاء کی اصل بنیاد اعمال پر نہیں بلکہ اس کی قلبی حالت پر ہے- اس وجہ سے دنیا میں نیکی کو مضبوط کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے زیادہ دل کی پاکیزگی پر زور دیا جائے کیونکہ جب تک خیالات میں نیکی نہ ہو‘ حقیقی نیکی حاصل نہیں ہو سکتی- اور خیالات چونکہ جبر اور زور سے تبدیل نہیں ہو سکتے بلکہ دلیل اور مشاہدہ اور نمونہ سے تبدیل ہوتے ہیں‘ اس لئے سلسلہ احمدیہ اس امر پر زور دیتا ہے کہ مذہب کے لئے جنگ یا جبر بالکل جائز نہیں- چونکہ جبر سے صرف ظاہر تبدیل ہو سکتا ہے اور جس کا ظاہر و باطن ایک نہ ہو‘ وہ منافق ہے- پس جو شخص مذہب میں جبر سے کام لیتا ہے‘ وہ منافقت پھیلانے کا موجب ہے اور بجائے نیکی کی اشاعت کے بدی کی اشاعت کا مرتکب ہے اور اپنے عمل سے اپنے مقصد کو نقصان پہنچاتا ہے- اس عقیدہ کے ماتحت ہماری جماعت نے ہر ملک میں مذہب کے بارہ میں جبر کی مخالفت کی ہے اور ہمارے بعض آدمیوں نے اس پاک تعلیم کی حفاظت میں جو نیکی کے قائم کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہے اپنی جانیں تک قربان کر دی ہیں- اور گو جبر کے مویدین نے انہیں سنگسار کر کے نہایت تکلیف اور ایذاء سے قتل کیا مگر وہ آخر دم تک اپنے عقیدہ پر قائم رہے-
    ۱۸- سلسلہ احمدیہ کی سیاسیات کے متعلق یہ تعلیم ہے کہ حکومت اور رعایا کے تعلقات کی بنیاد قانون کے احترام اور پرامن جدوجہد پر ہونی چاہئے اور فساد سے دونوں کو پرہیز کرنا چاہئے- اور حکومت اور رعایا دونوں کا فرض ہے کہ قانون کی جب تک وہ بدلے نہیں پیروی کریں اور اگر غلط قانون ہے تو جائز ذرائع سے اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے- اس تعلیم کے ماتحت ہماری جماعت جس جس حکومت کے ماتحت بستی ہے‘ ہمیشہ فتنہ کی راہوں سے الگ رہتی ہے- اور چونکہ اکثر حصہ جماعت احمدیہ کا انگریزی حکومت کے ماتحت ہے‘ لوگ خیال کرتے ہیں کہ شاید یہ جماعت انگریزوں کی جاسوس ہے لیکن آپ سے بہتر اسے کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ یہ امر غلط ہے- ہم نے ہمیشہ دلیری سے ہندوستانیوں کے حقوق کا مطالبہ کیا ہے- ہمیں دوسرے محبان وطن سے صرف اس امر میں اختلاف رہا ہے کہ عارضی فائدہ کے لئے اپنی قوم کے کیرکٹر کو شورش پیدا کر کے اور قانون کا احترام دل سے نکال کر خراب نہیں کرنا چاہئے کیونکہ مادی فائدہ سے بہرحال اخلاقی فائدہ مقدم ہے- اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ جب تک ہم کسی ملک میں رہیں‘ اس کے قانون کی پابندی کریں لیکن جب ہم سمجھیں کہ کوئی حکومت ظلم میں حد سے بڑھ رہی ہے تو اس کے ملک کو چھوڑ کر اس کا مقابلہ کریں اور اگر وہ حکومت نکلنے بھی نہ دے تو پھر ہمیں اجازت ہے کہ اسی کے ملک میں رہتے ہوئے اس کا مقابلہ کریں اس صورت میں قانون توڑنے کی وہ ذمہ دار ہے‘ ہم نہیں-
    ہم جس ملک میں رہتے ہیں‘ اس تعلیمی پر عمل کرتے ہیں اور یقیناً یہی تعلیم ہے جس سے اخلاق اور مذہب کو قائم رکھتے ہوئے انسان آزادی کو حاصل کر سکتا ہے-
    ۱۹- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ حکومت کے قیام کی غرض ملک کا فائدہ ہے اور ان کاموں کو بجا لانا ہے جنہیں افراد الگ الگ پورا نہیں کر سکتے- پس اسلامی تعلیم کے مطابق ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کا فرض ہے کہ ہر فرد رعایا کے کھانے‘ لباس‘ مکان اور کام کا انتظام کرے- ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہندوستان کی حکومت اب تک اس فرض سے بالکل غافل رہی ہے- لیکن یہ ظاہر ہے کہ اگر افراد ملک کو پیٹ بھر کر کھانا بھی نہ ملے اور پہننے کو کپڑا اور سر چھپانے کو مکان نہ ملے تو پھر کسی حکومت کی ضرورت ہی کیا ہے- اسلامی قانون کے رو سے حکومت ایک نکمے آدمی کو کام پر مجبور کر سکتی ہے لیکن اس کا فرض ہے کہ اول تو کام دے کر اس کے گزارہ کی صورت پیدا کرے اور اگر کام نہیں دے سکتی تو پھر خزانہ شاہی سے اس کی اقل ترین ضروریات کو پورا کرے- اور جب تک حکومتیں اس اصول پر نہ چلائی جائیں گی یقیناً لیبر اور کیپٹل اور امپریلزم اور سوشلزم اور بولشوزم کے جھگڑے کبھی ختم نہ ہونگے- اگر اس اصل کو تسلیم کر لیا جائے تو کبھی کوئی حکومت اپنے ملک سے باہر جا کر استبدادی حکومت نہیں کر سکتی کیونکہ اس پر اپنے ملک کا بار ہی اس قدر ہوگا کہ وہ دوسرے ملک کے بوجھ کو برداشت ہی نہیں کر سکے گی- سوائے اس کے کہ دوسرے ملک سے اس کے تعلقات کی بنیاد تعاون اور دوستی پر ہو-
    ۲۰- سلسلہ احمدیہ کا ایک یہ بھی عقیدہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ خدا تعالیٰ نے تمام بنینوع انسان کے لئے بحیثیت مجموعی پیدا کیا ہے اور جس طرح کوئی شخص کسی کی زمین میں ہل چلا کر بوجہ ہل چلانے کے اس کی پیداوار کا واحد مالک نہیں ہو سکتا‘ اسی طرح قدرت کے پیدا کردہ سامانوں سے کام لے کر کوئی شخص اس کے ثمرات کا واحد مالک نہیں ہو سکتا- اور چونکہ جس قدر دولت کمائی جاتی ہے‘ خواہ زراعت سے ہو‘ خواہ تجارت سے‘ خواہ صنعت و حرفت سے‘ اس کے کمانے میں اس ذخیرہ کو کام میں لایا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی مجموعی بہتری کے لئے دنیا میں پیدا کیا ہے- اس لئے شریعت نے ہر سرمایہ دار پر اس رقم کو چھوڑ کر جو وہ خرچ کر لیتا ہے‘ ایک رائلٹی مقرر کی ہے اور حکومت کا فرض مقرر کیا ہے کہ اس رقم کو لیکر دوسرے مستحقوں پر خرچ کرے- اس اصل کے ذریعہ سے ایک طرف تو اسلام نے مختلف کاموں کے ساتھ افراد کی دلچسپی کو بھی قائم رکھا ہے اور یہی ذریعہ فردی ترقی اور قومی ترقی کے توازن کو قائم رکھنے کا ہے-
    ۲۱- سلسلہ احمدیہ کی ایک یہ بھی تعلیم ہے کہ تمام ایسے سمجھوتے یا کام یا احکام جو بنی نوع انسان کے کسی فرد کی جائز ترقی کے راستہ میں روک ہوں درست نہیں- اسی وجہ سے شریعت اسلام نے باپ کی جائیداد کو اولاد اور دوسرے رشتہ داروں میں تقسیم کرنے پر زور دیا ہے تا کہ چند خاندانوں کے ہاتھ میں زمین نہ رہے اور کوئی خاندان اسی وقت تک زمین کا مالک رہے جب تک کہ وہ اپنی ذاتی لیاقت کے ساتھ اس کا مالک رہ سکتا ہے- اسی طرح سود کو روک دیا ہے تا چند ذہین لوگ مل کر تجارت اور صنعت و حرفت کو اپنے ہاتھ میں نہ کر لیں اور ہر اک شخص جسے خدا تعالیٰ نے خاص علم اور فہم دیا ہے‘ مجبور ہو کر دوسروں کا روپیہ شامل کر کے انہیں بھی حصہ دار بنائے اور دولت صرف چند ہاتھوں میں جمع نہ ہو جائے- اسی طرح زکٰوۃ مقرر کر کے ایسے لوگوں کے لئے ترقی کا راستہ کھولا ہے جن کے پاس علم اور قابلیت تو ہے لیکن روپیہ نہیں-
    اسی اصل کے ماتحت احمدیت نسلی بادشاہتوں کی مخالف ہے کیونکہ اس طرح ایک خاندان محض وراثت کی بناء پر نہ کہ لیاقت کی بناء پر دوسرے لوگوں کی ترقی کے راستہ میں روک بنتا ہے- اسی طرح وہ قومی برتری اور امتیاز کے بھی مخالف ہے کیونکہ اس طرح بھی بعض عہدوں‘ تجارتوں یا کاموں کے دروازے بعض خاص افراد کے لئے کھلے ہوتے ہیں اور دوسروں کے لئے بند اور یہ ہر گز درست نہیں کہ جو کام خدا تعالیٰ نے سب کے لئے کھلے رکھے ہیں انہیں بعض کے لئے مخصوص کر دیا جائے-
    ۲۲- سلسلہ احمدیہ کی یہ بھی تعلیم ہے کہ موت انسانی زندگی کو ختم نہیں کر دیتی بلکہ وہ ایک لمبے سلسلہ حیات کی ایک تبدیلی کا نام ہے- ورنہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے غیر متناہی ترقیات کے لئے پیدا کیا ہے- ہم میں سے ہر ایک جو مرتا ہے‘ ایک نئی دنیا میں اور نئی قوتوں سے اپنے اس کام کو جسے اس نے اس دنیا میں شروع کیا تھا جاری رکھتا ہے- اگر وہ برے راستہ پر چلا تھا تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی حالتوں میں سے گزارے گا جس سے اس کی حالت کی اصلاح ہو جائے اور وہ اپنی روحانی بیماریوں سے شفا پا کر خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کر سکے اور اس کا دیدار اسے نصیب ہو سکے- اور اسی زمانہ علاج کا نام دوزخ ہے جس میں انسان صرف ایک عارضی زمانہ کے لئے جو روحانی بیماریوں کی نوعیت کی وجہ سے گو بہت لمبا ہو گا مگر پھر ختم ہو جانے والا ہوگا‘ داخل ہوگا- آخر سب انسان اللہ تعالیٰ کے قرب کو پا لیں گے اور کوئی انسان بھی خواہ کس قدر گنہگار ہی کیوں نہ ہو اور خواہ کسی مذہب کا کیوں نہ ہو‘ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم نہیں رہے گا کیونکہ اگر ایسا ہو تو پھر شیطان کی فتح سمجھی جائے گی جس نے ان بندوں میں سے بعض کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے قرب کے لئے پیدا کیا تھا‘ گمراہ کر دیا- پس ضرور ہے کہ سب انسان آخر نجات پا جائیں اور جنت میں جائیں جو اس مقام کا نام ہے جس میں انسان نئی روحانی طاقتیں پا کر اللہ تعالیٰ کی صفات کو بدرجہ اتم اپنے وجود میں پیدا کرنا شروع کرے گا- اور نہ ختم ہونے والی ترقیات کے حصول کی ابدی کوششوں میں مشغول ہوگا تا کہ وہ اپنے تجربہ کی بناء پر معلوم کر لے کہ خدا تعالیٰ کی صفات غیر محدود ہیں جن کی انتہا کو انسان غیر محدود کوشش سے بھی نہیں پہنچ سکتا- اور ہر منزل کے بعد ایک اور منزل ظاہر ہو جاتی ہے جسے طے کرنا اس کے لئے ابھی باقی ہوتا ہے-
    )ریویو آف ریلیجنز جولائی ۱۹۳۱ء(
    ۱~}~
    مرقس باب ۱۲ آیت ۲۹‘ ۳۰ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لنڈن ۱۸۸۷ء
    ۲~}~
    الذریت:۵۷
    ۳~}~
    پیدائش باب۱ آیت ۲۶ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء
    ۴~}~
    یوحنا باب ۱۶ آیت ۱۲ تا ۱۵ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء
    ۵~}~
    یوحنا باب ۸ آیت ۴۴ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء
    ۶~}~
    متی باب ۱۶ آیت ۲۴ پیدائش باب۱ آیت ۲۶ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء
    ‏a12.8
    انوار العلوم جلد ۱۲
    حریت انسانی کا قائم کرنے والا رسول ~صل۲~
    حریت انسانی کا قائم کرنے والا رسول ~صل۲~

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھوالناصر
    حریت انسانی کا قائم کرنے والا رسول ~صل۲~
    رقم فرمودہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی
    غلامی کا سوال ایسا پیچیدہ سوال ہے کہ بہت ہی کم لوگوں نے اس کو سمجھا ہے اور بہت ہی کم لوگوں نے اسے سمجھنے کی کوشش کی ہے- بلکہ افسوس ہے کہ اکثر لوگوں نے اس سوال کی پیچیدگی کو بھی محسوس نہیں کیا اور بغیر غور اور فکر کے اس کے متعلق رائے قائم کرنی شروع کر دی ہے- غلامی نہ ہر زمانہ اور ہر ماحول میں بری قرار دی جا سکتی ہے اور نہ اسے کوئی شخص ایک جنبش قلم سے روک سکتا ہے- جو شخص بھی نیچر کا یا ماضی کے ایک لمبے سلسلے کے پیدا کئے ہوئے ماحول کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے‘ بغیر اس کے کہ اصولی طور پر اس کی تمام جزئیات کا علاج کرے ‘ وہ یقیناً اپنے ہاتھ سے اپنی ناکامی کی بنیاد رکھتا ہے-اور عارضی طور پر اگر وہ دنیا کی نگاہوں میں مقبول بھی ہو جائے تو ہو جائے لیکن ضرور ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس کا حسن بدصورتی اور اس کی کامیابی ناکامی نظر آنے لگے گی-
    انسانی تمدن کے مدارج کا ایک درجہ
    اگر ہم غلامی کے سوال پر ٹھنڈے دل سے غور کریں اور اس بات کو نظر انداز کر دیں کہ لوگ ہمیں کیا کہیں گے اور ناموں پر فدا ہونے والے لوگ جو حقیقت پر غور کرنے کے عادی نہیں ہم پر کیا فتویٰ لگائیں گے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ غلامی درحقیقت انسانی تمدن کے مدراج کے وسیع سلسلے میں سے ایک درجہ ہے اور اسے کلی طور پر دنیا سے مٹایا نہیں جا سکتا-
    غلامی کا مفہوم
    غلامی کا کیا مفہوم ہے؟ یہی کہ ایک شخص دوسرے کی مرضی کے پورے طور پر تابع ہو جاتا ہے یا تابع کر دیا جاتا ہے- اب اگر ایک شخص کا دوسرے کی مرضی کے تابع ہو جانا ایک برا فعل ہے تو جس طرح کلی طور پر تابع ہونا برا فعل ہے اسی طرح جزئی طور پر تابع ہونا بھی برا فعل ہو گا-
    جزئی غلامی
    لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کا سب کارخانہ اس جزئی غلامی پر قائم ہے- بچہ جس وقت سکول میں جاتا ہے‘ سکول کے نظام کے ماتحت ہوتا ہے- اس نظام کے قائم کرنے میں اس سے کوئی رائے نہیں لی جاتی‘ اس کے اوقات کے متعلق اس سے کوئی رائے نہیں لی جاتی‘ اس کے استادوں کے انتخاب میں اس سے کوئی رائے نہیں لی جاتی‘ اگر وہ اس نظام کو توڑتا ہے تو اسے بدنی سزا تک بھی دی جاتی ہے- اب اس بچہ میں اور ایک غلام میں کیا فرق ہے- یہی نہ کہ غلام چوبیس گھنٹے کا غلام ہوتا ہے اور یہ صرف پانچ چھ گھنٹے کے لئے غلام بنتا ہے- اور یا یہ فرق ہے کہ غلام کی خدمات کا نفع دوسرا شخص اٹھاتا ہے اور اس طالب علم کی خدمت کا نفع خود اسی کو پہنچتا ہے- مگر جبر اور نظام کی اندھا دھند پابندی جو غلامی کے مفہوم کا جزو اعلیٰ ہے‘ وہ یہاں بھی موجود ہے-
    غلامی کی تمام صورتیں بری نہیں
    پس ہم اس نظارہ کو دیکھ کر یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ سارے وقت کی غلامی اور وہ غلامی جو دوسرے کے فائدہ کیلئے ہو بری ہے لیکن وہ غلامی جو عارضی ہو اور اس کا فائدہ خود ہم کو پہنچتا ہو‘ وہ بری نہیں- لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ غلامی اپنی ذات میں تمام صورتوں میں بری ہے-
    بچہ کی غلامی
    لیکن طالب علم سے بھی بڑھ کر ہم کو ایک اور غلامی معلوم ہوتی ہے اور وہ وہ غلامی ہے جو بچوں سے ماں باپ کراتے ہیں- ہر بچہ اپنی جوانی کے زمانہ تک کلی طور پر اپنے ماں باپ کی مرضی کے تابع ہوتا ہے- اگر کماتا ہے تو اس کے مالک اس کے ماں باپ ہوں گے‘ اگر وہ گھر کے کام کاج میں مدد دیتا ہے تو اس کی کوئی قیمت نہیں لگائی جاتی‘ گھر کے نظام میں اس کی کوئی آواز نہیں ہوتی‘ کھانے‘ پینے‘ پہننے کے متعلق وہ اپنے ماں باپ کا تابع ہوتا ہے‘ اس کی آئندہ زندگی کی داغ بیل ڈالنے کے لئے اس سے کوئی رائے نہیں پوچھی جاتی‘ اس کے ماں باپ ہی اس کے لئے ایک پروگرام بناتے ہیں اور اس پر اسے چلاتے ہیں- غرض کیا اطاعت کے لحاظ سے‘ کیا حریت ضمیر کے لحاظ سے‘ کیا ملکیت کے لحاظ سے اور کیا آزادی اعمال کے لحاظ سے‘ ہر انسان دس بارہ سال کی عمر تک کلی طور پر اپنے ماں باپ کے ماتحت ہوتا ہے اور اس میں اور ایک غلام میں کوئی فرق نہیں ہوتا-
    کونسی غلامی بری ہوتی ہے
    اگر کوئی شخص کہے کہ بچہ کو ماں باپ نہایت پیار اور محبت سے رکھتے ہیں جو خود کھاتے ہیں‘ اس کو کھلاتے ہیں- جو خود پہنتے ہیں‘ اس کو پہناتے ہیں- پھر بچہ کا بچپن کا زمانہ سمجھ کا زمانہ نہیں ہوتا- اگر اس کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو اس کے لئے اور دنیا کے لئے نقصان کا موجب ہو گا- اس کے ماں باپ اسے جن باتوں کے لئے مجبور کرتے ہیں وہ خود اس کے فائدہ کے لئے ہوتی ہیں- تو میں کہوں گا کہ معلوم ہوا‘ غلامی اسی وقت بری ہوتی ہے جب اپنے میں اور غلام میں کوئی فرق کیا جائے اور جب غلام کے فائدہ کا پروگرام مدنظرنہ رکھا جائے‘ جب غلام کی عقل پختہ اور فہم صحیح ہو مگر باوجود اس کے اس کو مجبور کیا جائے‘ ورنہ بچے اور ماں باپ کے تعلقات کو دیکھتے ہوئے بغیر قید کے غلامی کو برا نہیں کہا جا سکتا-
    ملازموں کی غلامی
    تیسری قسم کی غلامی کی مثال ملازمتوں میں ملتی ہے- ملازمتوں میں بھی انسان بعض دفعہ یا بعض اعمال میں کلی طور پر دوسرے کے ماتحت ہوتا ہے- یا بعض اوقات میں کلی طور پر دوسرے کے تابع ہوتا ہے- مگر اس کا نام کوئی غلامی نہیں رکھتا حالانکہ ملازمت اور غلامی میں کوئی فرق نہیں ہے- شائد یہ کہا جائے کہ ملازم اپنی مرضی سے دوسرے کی ملازمت اختیار کرتا ہے اس لئے وہ غلام نہیں ہوتا- اور غلام پر جبراً قبضہ کیا جاتا ہے اس لئے ہم اس کو ملازم سے الگ سمجھتے ہیں- لیکن یہ امتیاز صحیح نہیں- اس لئے کہ اس امتیاز کے ماتحت یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگر کوئی شخص اپنے آپ کو اپنی مرضی سے فروخت کر دے تو ایسے شخص کا غلام بنانا جائز ہے لیکن اگر یہ بھی ناجائز ہے تو ماننا پڑے گا کہ مرضی کی غلامیاں بھی غلامیاں ہی ہوتی ہیں- اگر کوئی کہے کہ غلام اور ملازم میں یہ فرق ہے کہ نوکر اپنی مرضی سے ملازمت چھوڑ سکتا ہے لیکن غلام ایسا نہیں کر سکتا- تو پھر ہمیں یوں کہنا پڑے گا کہ وہ غلامی بری ہے جس کا طوق اپنی مرضی سے اتارا نہ جا سکے- لیکن وہ غلامی حقیقی نہیں ہے جس کا طوق ہم اپنی مرضی سے اپنی گردن سے اتار سکیں-
    غلامی تمدن انسانی کا جزو لاینفک ہے
    بہرحال اوپر کی مثالوں سے یہ ضرور ثابت ہو گا کہ غلامی تمدن انسانی کا ایک جزو لاینفک ہے اور یہ کہ غلامی کا مفہوم اس وقت تک دنیا میں نہایت مبہم رہا ہے- اگر ہم اس کی تشریح کریں تو ہمیں دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ماننی پڑے گی- یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ دنیا میں غلامی موجود ہے اور موجود رہے گی اور اس کے بغیر دنیا کا گزارہ چل نہیں سکتا اور یا یہ ماننا پڑے گا کہ غلامی بھی دنیا کی اور چیزوں کی طرف بعض حالات میں اچھی ہوتی ہے اور بعض حالات میں بری- بعض شرطوں کے ساتھ جائز اور ان شرطوں کے بغیر ناجائز- ہم بغیر قیود کے نہ اس کی مذمت کے سکتے ہیں اور نہ اس کو جائز قرار دے سکتے ہیں-
    دنیا میں غلامی کی بنیاد کس طرح پڑی
    اس تمہید کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ غلامی کی بنیاد دنیا میں کس طرح پڑی- انسانی تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسانی پیدائش کی ابتداء میں جبکہ انسانی دماغ زیادہ ترقی یافتہ نہیں تھا اور جبکہ اخلاق کی باریکیوں سے بھی انسان واقف نہ ہوا تھا اور ان کی عادت اس میں نہ پڑی تھی- اس وقت جبکہ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے رستہ میں روک پاتا تھا تو اس روک کے دور کرنے کا وہ صرف ایک علاج سمجھتا تھا- وہ علاج یہ تھا کہ اپنے مدقابل کو قتل کر ڈالے- کیونکہ اس دور میں ابھی انسان میں یہ سمجھنے کی قابلیت نہ تھی کہ جب ایک دوسرا شخص مجھے اپنے رستہ سے ہٹانا چا ہتا ہے تو بغیر اس کے کہ میں اس شخص کو اپنے رستہ سے ہٹا دوں میری حفاظت کا اور کونسا رستہ ہو سکتا ہے- پس اس زمانہ میں قتل ایک علاج تھا جو خود حفاظتی کا ایک انتہائی کامل ذریعہ سمجھا جاتا تھا- اس زمانہ میں وہ قتل جو لڑائی کے نتیجہ میں ہو کسی صورت میں بھی معیوب نہ تھا کیونکہ جو شخص اپنے دشمن کو قتل نہ کرتا‘ وہ یقیناً خود قتل کیا جاتا سوائے اس صورت کے کہ باہمی صلح ممکن ہو- پس اس زمانہ میں نیک اور بد اقوام جب کسی دوسری قوم سے جنگ کرنے پر مجبور ہوتی تھیں تو جب صلح کا امکان نہ ہوتا تھا تو نہ صرف جنگ میں اپنے دشمنوں کو مارتی تھیں بلکہ جنگ کے بعد بھی جو دشمن ہاتھ آ سکتے- ان کو قتل کر دیتی تھیں- اس وقت کے حالات کے ماتحت یہ باتیں بری نہ تھیں بلکہ خود حفاظتی کے قانون کے ماتحت نہایت ضروری تھیں- اور اس وقت کے معیار اخلاق کے ماتحت صرف وہی اقوام ظالم کہلاتی تھیں جو عورتوں اور بچوں کو بھی مار ڈالتی تھیں-
    اس کے بعد ایک نیا دور چلا اور اخلاق کا معیار بلند ہو گیا- اب یہ فرق کیا جانے لگا کہ صرف وہی شخص مارے جانے چاہئیں جو فتنوں کے بانی ہوں باقی لوگوں کو اگر ایسی صورت میں زندہ رکھا جا سکے کہ وہ ہماری تباہی کا موجب نہ ہوں تو انہیں زندہ رہنے کا موقع دینا چاہئے- چونکہ ابھی دنیا کا تمدن کامل نہیں ہوا تھا اور نظام حکومت ایسا پیچیدہ نہ تھا جیسا کہ اس زمانہ میں ہے- اس زمانہ میں یہ انتظام کیا گیا کہ جس قوم سے جنگ ہو‘ اس کے افراد کو قید کر لیا جائے اور چونکہ نہ حکومت قیدیوں کا خرچ برداشت کر سکتی ہے اور نہ ان کے لئے قید خانے مہیا کر سکتی ہے‘ اس لئے انہیں ملک کے مختلف افراد کے قبضہ میں دے دیا جائے کہ وہ ان کی نگرانی رکھیں- اور اس خرچ کے بدلہ میں جو انہیں ان قیدیوں پر کرنا پڑے‘ ان سے کام لیا جائے- چونکہ اس وقت کا نقطہ نگاہ یہی تھا کہ ہمارا ہر دشمن درحقیقت ہمارا آئندہ قاتل ہے اس لئے جب کوئی اس قسم کا قیدی بھاگتا تھا تو اس کے معنی یہی لئے جاتے تھے کہ یہ اپنے علاقہ میں جا کر پھر ہمارے خلاف لڑائی کا جوش پیدا کرے گا اور ہمیں قتل کرنے کی کوشش کرے گا اس لئے اس زمانہ کے نقطہ نگاہ سے ہر قیدی جو بھاگتا تھا‘ اسے قتل کیا جاتا تھا- اور اگر ہم اس وقت کے نقطہ نگاہ سے اس سوال پر نظر ڈالیں تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ گو آج یہ فعل ظالمانہ نظر آئے مگر اس وقت کے حالات کے ماتحت سوسائٹی کی حفاظت کے لئے یہ ایک ضروری فعل تھا-
    صنعت و حرفت کی داغ بیل کس طرح رکھی گئی
    دنیا نے اس کے اوپر پھر ترقی کی اور غلاموں کے وجود کو تمدن کا ایک جزو بنا لیا- یعنی وہ پیشے جن میں مشاقی صبر‘ استقلال اور لمبی محنت کے نتیجے میں پیدا ہوتی تھی ان قیدیوں یعنی غلاموں کے سپرد کئے گئے اور اس طرح صنعت و حرفت جو اس وقت تمدن و ترقی کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں‘ داغ بیل رکھی گئی- یہی وجہ ہے کہ قدیم الایام سے صنعت و حرفت ذلیل پیشے خیال کئے جاتے ہیں اور اہل صنعت و حرفت دوسروں قوموں کی نسبت اونیٰ خیال کئے جاتے ہیں- کیونکہ جو کام کلی طور پر غلاموں کے سپرد ہوں گے‘ وہ لازماً غلاموں سے تعلق رکھنے کی وجہ سے حقیر خیال کئے جائیں گے-][ اس زمانہ میں صنعت و حرفت سے تعلق رکھنا گویا اپنے غلام ہونے کا ثبوت دینا تھا- جب غلامی کا دور کم ہوا اور صنعت و حرفت کو آزاد لوگوں نے بھی اختیار کر لیا تو بوجہ اس کے کہ اکثر پیشہ ور جوگو خود غلام نہ تھے مگر غلاموں کی اولاد تھے حقیر خیال کئے جاتے تھے اور ان کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی جو ان کی طرح پیشہ اختیار کرتے تھے‘ ذلیل سمجھے جاتے تھے-
    غلامی کی بنیاد ظلم پر نہیں بلکہ رحم پر رکھی گئی
    مذکورہ بالا تاریخی واقعات سے یہ معلوم ہو گا کہ غلامی کی بنیاد ظلم پر نہیں بلکہ رحم پر رکھی گئی ہے اور اس کے قیام کا اصل محرک جنگ میں شامل ہونے والے لوگوں کو قتل ہونے سے بچانے کا خیال تھا- جس وقت تک لوگوں کی یاد میں پہلا نقطہ نگاہ تازہ رہا اس وقت تک تو لوگ اس تحریک کو نیک اور شاہراہ ترقی کی طرف ایک صحیح قدم سمجھتے رہے- جب ایک لمبے عرصہ کے بعد پہلا نقطہ نگاہ بھول گیا تو پھر یہی فعل ایک سزا سمجھا جانے لگا- خصوصاً جبکہ انسانی دماغ ترقی کر رہا تھا اور اخلاق کی مزید باریکیاں معلوم ہونے کے سبب سے ایک حصہ انسانوں کا اس بات کی طرف مائل تھا کہ اپنے دشمن کے ضرر سے بچنے کے لئے اور ذرائع بھی اختیار کئے جا سکتے ہیں‘ پس ہمیں ان کی تلاش کرنی چاہئے-
    غلامی کی ناجائز صورتیں
    غلامی کی ان صورتوں کے علاوہ جو کہ اپنے اپنے وقت میں جائز تھیں‘ بعض ناجائز صورتیں بھی پیدا ہو گئیں مثلاً یہ کہ جب لوگوں نے دیکھا کہ لوگوں کو غلاموں سے کام لینے کی عادت ہو گئی ہے اور وہ ان کے لئے بڑی بڑی رقمیں ادا کرتے ہیں تو انہوں نے آزاد لوگوں کو یا ان کے بچوں کو پکڑ پکڑ کر بیچنا شروع کیا اور ایک ملک سے پکڑ کر دوسرے ملک میں لے جا کر بیچ دیتے تھے اور اس طرح لاکھوں روپیہ کماتے تھے- یہ صورت انسانی تمدن کے مختلف دوروں میں کبھی بھی معقول نہیں سمجھی گئی اور ہمیشہ اسے ناپسندیدہ اور نامناسب ہی قرار دیا گیا-
    چونکہ غلامی کی ابتداء اس خیال پر تھی کہ انسان کو غلام اس کے فائدہ کے لئے بنایا جاتا ہے یعنی اس کو قتل سے بچانے کے لئے اس لئے اس نقطہ نگاہ کے ماتحت دنیا میں ایک اور طریق غلامی کا بھی ایجاد ہو گیا کہ بعض لوگ خود اپنے آپ کو یا اپنے بچوں کو بیچ ڈالتے تھے- کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ایک مالدار آدمی کے پاس فروخت ہو جانے پر ان کی یا ان کے بچوں کی حالت اچھی ہو جائے گی- جہاں تک میں خیال کرتا ہوں‘ اس زمانہ کے نقطہ نگاہ کے ماتحت یہ بات بھی کوئی معیوب نہ تھی کیونکہ عمر بھر بھوکے رہنے‘ بیماریوں میں مبتلا رہنے اور اپنے بیوی بچوں کو بھوکا تڑپتے دیکھنے سے یہ بات اس وقت کے تمدن کے لحاظ سے بہتر معلوم ہوتی تھی کہ کوئی شخص اپنی ساری عمر کی خدمت کااقرار ایک شخص سے کر لے اور اس کے بدلہ میں کوئی دوسرا شخص اس کی رہائش اور اس کے کھانے پینے کا ذمہ وار ہو-
    میری یہ تمہید اور غلامی کی تاریخ پر غور کرنے سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آ سکتی ہے کہ انسانی سوسائٹی پر بعض دور ایسے آتے ہیں جبکہ غلامی ضروری ہو جاتی ہے اور یہ کہ غلامی کے اصل نقائص یہ ہیں-:
    )۱( کہ انسان کی آزادی بالکل مسلوب ہو جائے-
    )۲( اس کی قید اس کے فائدہ کے لئے نہ ہو-
    )۳( جبکہ انسان کو اس وقت مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی برائی اور بھلائی پہچان سکتا ہو-
    )۴( جبکہ آزادی کا حصول اس کے اختیار میں نہ ہو-
    )۵( جبکہ غلام اور آقا کے تعلقات کی بنیاد حسن سلوک پر نہ ہو-
    غلای کس طرح مٹ سکتی ہے
    اگر کوئی ایسا قانون ہو جو ان سب باتوں کا لحاظ کرے تو وہی قانون صحیح طور پر غلامی کو دنیا سے مٹا سکے گا- کیونکہ جب تک غلامی کی ضرورتوں کو جو بعض دفعہ ایک آزاد انسان کو بھی غلام بننے پر مجبور کر دیتی ہیں‘ دور نہ کیا جائے اس وقت تک غلامی کلی طور پر دنیا سے نہیں مٹ سکتی- اور جب تک ایسے لوگوں کو جو اپنے نفس کو قابو میں نہ رکھ سکیں اور دنیا کے تمدن کے تختے کو الٹنے کی کوشش میں ہوں ان کو خطرناک جرائم کی سزا میں بعض قیود اور حد بندیوں کے نیچے نہ لایا جائے‘ اس وقت تک نہ غلامی مٹ سکتی ہے نہ دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے-
    غلامی کو مٹانے کے لئے اصول رسول کریمﷺ~ نے بیان کئے
    افسوس کہ ان امور کو مدنظر رکھے بغیر دنیا نے غلامی کو مٹانا چاہا ہے اور بغیر مغز کے ایک قشر تیار کر کے اس پر خوش ہو رہی ہے حالانکہ غلامی اب بھی موجود ہے اور موجود رہے گی- اس کی بعض صورتیں مٹائی نہیں جا سکتیں اور مٹائی نہیں جا سکیں گی کیونکہ وہ اچھی صورتیں ہیں‘ بری نہیں- اور بعض صورتیں ظاہراً مٹادی گئی ہیں‘ حقیقتاً موجود ہیں اور اس وقت تک موجود رہیں گی جب تک کہ سوسائٹی کے تمدن کی بنیاد ان اصول پر نہ رکھی جائے گی جن سے غلامی کی روح مٹ سکتی ہے اور وہ اصول صرف اور صرف اسلام نے بیان کئے ہیں- اور حضرت محمد رسول اللہ ~صل۲~ نے ان کی بنیاد رکھی ہے-
    سرولیم میور کا اعتراض
    باوجود اس کے سرولیممیور جیسے ناواقف لوگ یہ کہتے ہیں کہ-:
    >معمولی اہمیت والے معاملات کو نظر انداز کر کے اسلام سے تین بہت بڑے عیب پیدا ہوئے ہیں جو ہر ملک اور ہر زمانہ میں رائج رہے ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک کہ قرآن پر مسلمانوں کے ایمان کی بنیاد ہے- اول کثرت ازدواج‘ طلاق اور غلامی کے مسائل- یہ پبلک کے اخلاق کی جڑ پر تبر رکھتے ہیں اور اہلی زندگی کو زہر آلود بناتے ہیں- اور سوسائٹی کے نظام کو تہ دبالا کرتے ہیں<-۱~}~
    مگر حقیقت یہی ہے- کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ~صل۲~ کے ذریعہ سے ہی ان تینوں عیوب کے دور کرنے کا طریق بتایا ہے- اس طریق کو نظر انداز کر دو تو یقیناً ایک عیب کی اصلاح کرتے ہوئے دوسرا عیب پیدا ہو جائے گا- اور اس کی اصلاح کرتے ہوئے پھر تیسرا پھر چوتھا- اور ایک گڑھے سے بچنے کی کوشش میں انسان دوسرے گڑھے میں گرے گا جو پہلے سے بھی زیادہ گہرا ہو گا- یہاں تک کہ وہ مجبور ہو کر اس طریق کی طرف لوٹے گا جسے محمد رسول اللہ ~صل۲~ نے خدا تعالیٰ کے حکم سے قائم کیا-
    غلامی کے متعلق اسلام کی کامل تعلیم
    میں وہ اصول بیان کر چکا ہوں جن کی بناء پر انسانی آزادی پر قید لگانی پڑی ہے اور وہ اصول بھی بیان کر چکا ہوں جن کی بناء پر انسانی آزادی پر قید لگانا ضروری ہے- اور میں یہ بھی بیان کر چکا ہوں کہ غلامی کی حقیقی تعریف یہی ہے کہ انسان کی آزادی کو سلب کر کے اس کو بعض قیود کا پابند کر دیا جائے- اگر ان تینوں امور کے متعلق میری رائے صحیح ہے اور جہاں تک میرا مطالعہ اور میرا علم جاتا ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ غلامی کے متعلق اصولی طور پر غور کرنے والے تمام لوگ ان تینوں باتوں میں مجھ سے متفق ہیں‘ تو میں کہہ سکتا ہوں کہ رسول اللہ ~صل۲~ نے غلامی کے متعلق جو تعلیم دی ہے‘ اس کے کامل اور اکمل ہونے کے متعلق کسی شخص کو ئی اعتراض نہیں ہو سکتا-
    غلامی کو اسلام نے کس طرح مٹایا
    پہلے میں غلامی کی ان اقسام کو لیتا ہوں جو غلامی کے مشہور طریق سے جدا ہیں- پہلا طریق یہ ہے کہ کسی آزاد کو زبردستی پکڑ کر بیچ ڈالا جائے- اس کے متعلق رسول کریم ~صل۲~ نے یہ تعلیم دی ہے کہ آزاد کو فروخت کرنے والا واجب القتل ہے- چنانچہ نجد کے کچھ عیسائیوں نے حضرت عمرؓ سے شکایت کی کہ ہمیں بعض ہماری ہمسایہ قوموں نے بغیر کسی جنگ کے قید کر کے غلام بنایا ہوا ہے- حضرت عمرؓ نے ان کو آزاد کر دیااور فرمایا کہ اگر یہ جرم اسلام سے پہلے کا نہ ہوتا تو میں اسلامی احکام کے مطابق ان آزادوں کے قید کرنے والوں کو قتل کی سزا دیتا- جو شخص اس قسم کی غلامی کے نتائج پر غور کرے وہ اس بات کو تسلیم کئے بغیر نہیں رہے گا کہ اس رنگ میں انسان کو قید کر کے اس کے بیوی بچوں اور وطن سے جدا کر دینا ایک نہایت ہی قبیح فعل ہے- اور اس کی سزا یقیناً قتل ہی ہونی چاہیئے- کیونکہ ایسا شخص ہزاروں جانوں کو قتل کرتا ہے-
    دوسرا طریق
    دوسرے ایک ناجائز طریق دنیا میں غلامی کا یہ تھا کہ غلام بنانے کے لئے اپنی ہمسایہ قوم پر حملہ کر دیتے یا مال و دولت لوٹنے کے لئے حملے کرتے تھے اور ساتھ ہی آدمیوں کو غلام بنا لیتے تھے- اسلام نے اس کو بھی رد کیا اور یہ قاعدہ بنا دیا کہ کسی قوم کو دوسری قوم پر اس وقت تک حملہ کرنے کا حق نہیں جب تک کہ وہ یہ ثابت نہ کر دے کہ اس کے بعض حقوق اس قوم نے تلف کر دیئے ہیں اور جب تک کہ ہمسایہ قوموں کو اس بات کا موقع نہ دے دیا جائے کہ وہ دونوں فریق میں اصلاح کی کوشش کریں لیکن ایسی جنگ کے بعد بھی غلام بنانے کی اجازت نہیں- صرف اس بات کی اجازت ہے کہ جس حق پر لڑائی تھی وہ اس کو دلا دیا جائے- یا جو اخراجات وغیرہ اس پر ہوئے ہیں وہ اس کو کلی طور پر یا ان کا کچھ حصہ دلا دیا جائے- چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے-:
    و ان طائفتن من المومنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما فان بغت احدھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی تفی الی امر اللہ فان فائت فاصلحوا بینھما بالعدل واقسطوا ان اللہ یحبالمقسطین۲~}~
    اور اگر مومنوں سے دو قومیں آپس میں لڑنے پر آمادہ ہوں تو ان میں صلح کرا دو- پھر اگر اس صلح کے بعد بھی ایک دوسری کے خلاف زیادتی سے کام لے تو جو قوم زیادتی کرتی ہے اس کے خلاف سب قوموں کو مل کر جنگ کرنی چاہیئے- یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹ آئے- پھر اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹ آئے تو دوبارہ ان میں عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرا دو- اللہ تعالیٰ یقیناً انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے-
    اس آیت سے صاف ظاہرہے کہ اسلام نے دنیوی جھگڑوں میں یونہی حملہ کر دینے کی اجازت ہی نہیں دی بلکہ سب سے پہلے دوسری اقوام کو بیچ میں ڈال کر صلح کرنے کا حکم دیا ہے- اگر کوئی قوم دوسری قوم کا حق دینے کے لئے تیار نہ ہو تو پھر سب قوموں کو اس کے خلاف جنگ کرنے کا حکم دیا ہے اور لڑائی کا انجام پھر صلح پر رکھا ہے- جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ غلامی یا دوسرے کے حقوق کے تلف کرنے کی صورت با لکل ناممکن ہو جائے گی-
    یہ خیال نہیں کرنا چاہیئے کہ اس جگہ مومنوں کے متعلق احکام ہیں- مومنوں کا لفظ صرف اس لئے بیان کیا گیا ہے کہ مومن ہی قرآن کریم کے احکام کو مانیں گے- ورنہ اصولی طور پر دنیا کی سب قومیں ان احکام پر عمل کر سکتی ہیں اور ان سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں-
    تیسرا طریق
    تیسری صورت جو غلامی کے عام مشہور قاعدہ کے علاوہ دنیا میں رائج ہو گئی تھی‘ یہ تھی کہ لوگ اپنے آپ کو یا اپنے بیوی بچوں کو بیچ ڈالا کرتے تھے- اسلام نے اس طریق کو بھی بالکل روک دیا ہے اور ایک عام حکم دے دیا ہے کہ کسی آزاد کو غلام نہیں بنایا جا سکتا خواہ اس کی مرضی سے یا بغیر مرضی کے- لیکن میں بتا چکا ہوں کہ بعض حالات میں آزادی سے غلامی بہتر ہوتی ہے- ایک آزاد شخص جو بیمار ہے یا جسے کوئی ملازمت کا کام نہیں مل سکتا یا اور کوئی اسی قسم کی بات پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ روزی نہیں کما سکتا‘ وہ آزاد رہتے ہوئے جو تکلیف اٹھائے گا بعض حالات میں غلامی میں اس سے کم تکلیف پہنچے گی- اسی طرح جو تکلیف اس کے بچے اس کے پاس اٹھائیں گے‘ بالکل ممکن ہے کہ بعض حالات ایسے پیدا ہو جائیں کہ غلامی میں اس سے کم تکلیف اسے پہنچے- پس یہ حکم کہ کوئی شخص خود اپنے آپ کو یا اپنے بچوں کو نہیں بیچ سکتا اس وقت تک مفید اور قابل عمل نہیں کہلا سکتا جب تک کہ ان مشکلات کا بھی علاج نہ سوچا جائے جو اس حالت میں پیدا ہوتی ہیں- اس زمانہ میں تمدنی ترقی کے ماتحت اس حکم کو تو لوگوں نے اختیار کر لیا ہے لیکن اس کے ساتھ جو مشکلات وابستہ ہیں‘ ان کا کوئی علاج نہیں کیا- مگر محمدﷺ~ رسول اللہ ~صل۲~ نے اس کا علاج بھی بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت میں ہر فرد کا کھانا مہیا کرنا اور اس کا ضروری لباس اور اس کے لئے رہائش کا انتظام حکومت پر یا بالفاظ دیگر ساری قوم پر واجب قرار دیا گیا ہے- اور اس طرح اس ضرورت کو جو آزاد کو غلام بنانے پر مجبور کرتی ہے‘ باطل کر کے غلامی کی ایک شق کا قلع قمع کر دیا گیا ہے-
    دنیوی جنگوں میں کسی کو غلام نہیں بنایا جا سکتا
    اس کے بعد اب میں وہ صورت لیتا ہوں جو غلامی کی جائز صورت سمجھی جاتی رہی ہے- اور جو یہ ہے کہ کسی شکوہ یا شکایت پر دو قومیں آپس میں لڑ پڑیں اور ان میں سے غالب آنے والی قوم مغلوب کے افراد کو قید کر کے اپنا غلام بنا لے- اس قسم کی غلامی میں سے اسلام نے اس غلامی کو تو اڑا دیا ہے جو دنیوی جنگوں کے نتیجے میں رائج تھی- اور اس کے متعلق وہی تعلیم دی ہے جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ اول تو دنیوی جنگیں نہ ہی ہوں اور اگر ہوں تو ان کا اختتام صلح پر ہونا چاہیئے اور محض حقوق کے لقفیہ پر ہونا چاہیئے اور غلام وغیرہ نہیں بنانے چاہئیں- ان جنگوں کا اصول اسلام نے یہ رکھا ہے کہ دوسری بے تعلق قوموں کو بھی ان میں حصہ لینا چاہیئے تا کہ کوئی قوم بھی تعدی نہ کر سکے-
    مذہبی جنگوں میں غلام بنانے کی ممانعت
    دوسری قسم کی جنگیں مذہبی جنگیں ہیں- ان کے متعلق اسلام نے جو حکم دیا ہے وہ یہ ہے- لکم دینکم ولی دین ۳~}~ اور فرمایا ہے- لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی- ۴~}~ یعنی ہر ایک کا دین اس کے ساتھ ہے- اور دلیل اور صحیح طریق عمل واضح کر دینے کے بعد کسی کو ایک دوسرے پر جبر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی- اگر ہدایت کے ظاہر ہونے کے بعد بھی کوئی شخص ہدایت کو تسلیم نہیں کرتا تو اس کا نقصان اس کو پہنچے گا- دوسروں کو کوئی حق نہیں کہ وہ اس پر زور دیں اور اسے مجبور کر کے اپنے مذہب میں داخل کریں- پس اپنا مذہب منوانے کے لئے جنگ کرنے کا سلسلہ اسلام نے بالکل روک دیا ہے- اور اس طرح حملہ کر کے غلام بنانے کا طریق دنیا سے مٹا دیا ہے-
    مظلوم قوم کے لئے اجازت
    مگر چونکہ ضروری نہیں کہ ہر شخص اسلام کی تعلیم پر عمل کرے‘ اور چونکہ مذہبی حملے عام طور پر کمزور قوموں پر ہوا کرتے ہیں - خصوصاً ایسے مذاہب کے پیروئوں پر جو جدید ہوتے ہیں اور ان سے ہمدردی حملہ آور قوم کے علاوہ دوسری قوموں میں بھی نہیں ہوتی‘ اس لئے دنیوی جنگوں کے متعلق جو قانون تھا وہ یہاں پر چسپاں نہیں ہو سکتا- ایسے موقع پر حملہ آور قوم کی ہم مذاہب اقوام یا وہ اقوام جو اس کی ہم مذہب تو نہ ہوں لیکن دوسری قوم کے مذہب سے شدید اختلاف رکھتی ہوں‘ اس مظلوم قوم کی تائید کے لئے کبھی نہیں نکلیں گی- پس ضروری تھا کہ اس مظلوم قوم کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار دیا جاتا جس سے وہ اپنے حقوق کی حفاظت کر سکتی اور حملہ آور قوم کے دل میں بھی کوئی ڈر باقی رہتا- پس اس کے لئے اسلام نے یہ اجازت دی کہ اگر ایک قوم اپنا مذہب منوانے کے لئے کسی دوسری قوم پر حملہ کرے تو اس کے قیدیوں کے ساتھ عام جنگی قیدیوں کی نسبت کسی قدر مختلف سلوک کیا جائے- اور وہ یہ سلوک ہے کہ اس کے قیدیوں کو فروخت کرنے کی اجازت ہو تا کہ وہ مظلوم قوم جس پر حملہ کی وجہ ہی اس کا کمزور ہونا تھا‘قیدیوں کی پرورش کے بار کے نیچے دب کر اور بھی تباہ نہ ہو جائے- اس صورت کا نام خواہ غلامی رکھ لو خواہ قید کی کوئی دوسری نوعیت قرار دے لو بہرحال اسلام نے اس کو جائز رکھا ہے- مگر کوئی عقل مند انکار نہیں کر سکتا کہ ایک کمزور قوم پر اس غرض سے حملہ کرنے والا کہ اسے اس کی واحد دولت یعنی تعلق باللہ سے محروم کر دے اور شیطان کی ابدی غلامی میں دے دے‘ یقیناً اس بات کا مستحق ہے کہ اسے بتایا جائے کہ آزادی کا چھن جانا کیسا تکلیف دہ ہے- جو شخص حریت ضمیر انسان سے چھینتا ہے اگر اسے کچھ عرصہ کے لئے جسمانی حریت سے محروم رکھا جائے تو یقیناً یہ سزا اس کے فعل سے کم ہے-
    ضروری شرائط
    باوجود اس کے کہ جس جرم کی سزا میں اسلام نے فردی قید کو جائز رکھا ہے‘ وہ بہت شدید ہے اور اس کی سزا بہت کم ہے- پھر بھی اس نے ایسی قیود مقرر کر دی ہیں کہ جن کی وجہ سے یہ قید غلامی کے اس مفہوم سے باہر نکل جاتی ہے جو عام طور پر دنیا میں سمجھا جاتا ہے- کیونکہ اسلام نے ان قیدیوں کے لئے یہ شرائط مقرر کی ہیں-:
    )۱(ہر شخص جس کے پاس وہ قیدی رہیں‘ وہ انہیں وہی کچھ کھلائے جو خود کھاتا ہے- اور وہی کچھ پہنائے جو خود پہنتا ہے-
    )۲( کوئی شخص انہیں بدنی سزا نہ دے-
    )۳( ان سے کوئی ایسا کام نہ لیا جائے جو وہ کر نہ سکتے ہوں-
    )۴( ان سے کوئی ایسا کام نہ لیا جائے جس کے کرنے سے مالک خود کراہت کرتا ہو- بلکہ مالک کو چاہیئے کہ وہ کام میں ان کے ساتھ شریک ہو-
    )۵(اگر وہ آزادی کا مطالبہ کریں تو انہیں فوراً آزادی دی جائے بشرطیکہ وہ اپنا فدیہ ادا کر دیں-
    )۶(فدیہ کی ادائیگی میں بھی یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی گھر سے مالدار نہیں ہے اور اس کے رشتہ دار فدیہ دے کر اسے نہیں چھڑا سکتے تو وہ مالک سے ٹھیکہ کر لے کہ فلاں تاریخ تک اتنی قسطوں میں‘ میں یہ رقم ادا کر دوں گا- اس سمجھوتے پر مالک مجبور ہوگا اور اسی دن سے یہ قیدی اپنے مال کا مالک سمجھا جائے گا اور جو کچھ کمائے گا‘ اس کا ہو گا- صرف اپنے وقت معین پر مقررہ قسط ادا کرتا رہے گا- جس دن اصل رقم ادا ہو جائے گی یہ پورے طور پر آزاد سمجھا جائے گا-
    )۷( غلام کو حق دیا گیا ہے کہ جب کوئی مالک اس کے ساتھ نامناسب سلوک کرتا ہو تو وہ مجبور کر کے اپنے آپ کو فروخت کرا لے-
    آزادی سلب کرنے کی اجازت کس صورت میں دی
    ان قوانین سے یہ بات ثابت ہے کہ اول اسلام نے انسانی آزادی سلب کرنے کی اسی وقت اجازت دی ہے جبکہ اس میں اپنی خیرو شر سمجھنے کی طاقت باقی نہ رہی ہو گویا کہ اس کی مثال ایک بچہ کی سی ہے کیونکہ جو شخص تلوار کے ذریعہ سے دوسروں کو اپنا ہم خیال بنانا چاہتا ہے وہ انسان کی ذہنی ترقی کوجو اس کی پیدائش کا اصل مقصود ہے‘ روکتا ہے- اور بنی نوع انسان کو اس عظیم الشان مقصد سے محروم کرنا چاہتا ہے جس مقصد کے حصول کے لئے کروڑوں جانوں کو ضائع کر دینا بھی وہ معمولی قربانی سمجھے ہیں- پس اس قسم کی نادانی کرنے والا انسان یقیناً بچوں سے بدتر ہے اور یقیناً اس امر کا مستحق ہے کہ ایک عرصہ تک اسے قید و بند میں رکھا جائے-
    لیکن جس وقت حکومت ایسی کمزور ہو کہ وہ باقاعدہ سپاہی نہ رکھ سکتی ہو اور قوم کے افراد پر جنگی اخراجات کی ذمہ واری فرداً فرداً پڑتی ہو اس وقت قیدیوں کے رکھنے کا بہترین طریق یہی ہو سکتا ہے کہ ان کو افراد میں تقسیم کر دیا جائے تا کہ وہ ان سے اپنے اخراجات جنگ وصول کر لیں- جب حکومت کی باقاعدہ فوج ہو اور افراد پر جنگی اخراجات کا بار فرداً فرداً نہ پڑتا ہو تو اس وقت جنگی قیدی تقسیم نہیں ہوں گے بلکہ حکومت کی تحویل میں رہیں گے-
    اسلام نے غلامی کے نقائص کس طرح دور کئے
    ماتحتی کی بری صورتوں میں سے ایک یہ صورت تھی کہ ماتحت کے ساتھ ذلت کا سلوک کیا جائے اور اس وجہ سے غلامی بری کہلاتی ہے- لیکن جب اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ مالک جو خود کھائے وہ غلام کو کھلائے اور جو پہنے وہ غلام کو پہنائے اور اس سے وہ کام نہ لے جو اس کی طاقت سے باہر ہو- اور وہ کام نہ لے جو آقا اس کے ساتھ خود مل کر کرنے کے لئے تیار نہ ہو اور اسے مارے نہیں اگر مارے تو وہ خود بخود آزاد ہو جائے گا- تو ایسے غلام کی حالت ایک چھوٹے بھائی یا بچہ کی طرح ہے- اگر چھوٹا بھائی یا بچہ غلام نہیں کہلا سکتا تو یہ شخص بھی غلامی کی عام تعریف سے باہر نکل آتا ہے-
    تیسرا نقص غلامی میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ انسان ہمیشہ کے لئے ایک بات کا پابند ہو جاتا ہے- اس کا بھی اسلام نے علاج کر دیا ہے کیونکہ غلام کا حق رکھا ہے کہ وہ اپنا فدیہ دے کر آزاد ہو جائے- اور اگر وہ اپنا فدیہ یکدم ادا نہیں کر سکتا تو اپنے مالک سے قسطیں مقرر کر لے- اور جس وقت وہ قسطیں مقرر ہو جائیں‘ اسی وقت سے وہ اپنے اعمال میں ویسا ہی آزاد ہو گا جیسا دوسرا آزاد شخص اور وہ اپنے مال کا مالک سمجھا جائے گا- پس ہر ایسا قیدی جو مذہبی جنگ میں گرفتار ہوتا ہے‘ اس کے لئے ممکن ہے کہ وہ آزادی حاصل کر لے- اور جب آزادی کا حصول اس کے اپنے اختیار میں ہے تو اس قسم کی قید‘ غلامی کی ناجائز شقوں میں کس طرح شامل کی جا سکتی ہے- قرآن کریم نے غلام کے لئے دو ہی صورتیں رکھی ہیں- اما منا بعد و اما فداء-۵~}~ مذہبی جنگ میں جب کوئی شخص قید ہو تو یا اس کو بطور احسان چھوڑ دیں یا فدیہ لے کر چھوڑ دیں- پس یہ صورت اسلام میں جائز ہی نہیں کہ باوجود اس کے کہ کوئی شخص اپنا فدیہ پیش کرتا ہو پھر اس کو غلام رکھا جائے- ہاں یہ ایک صورت رہ جاتی ہے کہ نہ تو کوئی شخص فدیہ دے سکتا ہو اور نہ مالک بغیر فدیہ کے آزاد کرنے کی طاقت رکھتا ہو- کیونکہ بالکل ممکن ہے کہ جو رقم اس نے جنگ میں خرچ کی تھی‘ اس نے اس کی مالی حالت کو خراب کر دیا ہو- ایسی صورت کے لئے قرآن کریم نے یہ اصول مقرر کیا ہے- کہ-:
    والذین یبتغون الکتب مما ملکت ایمانکم فکا تبوھم ان علمتم فیھم خیرا- واتوھم من مال اللہ الذی اتکم- ۶~}~
    یعنی وہ لوگ جو کہ تمہارے قیدیوں میں سے چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ قسطیں مقرر کر لی جائیں اور انہیں آزاد کر دیا جائے تو ان کے فدیہ کی رقم کی قسطیں مقرر کر لو- اگر تمہیں معلوم ہو کہ وہ روپیہ کمانے کی اہلیت رکھتے ہیں- بلکہ چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جوکچھ تمہیں دیا ہے‘ اس میں سے ان کی مدد کرو- یعنی انہیں کچھ سرمایہ بھی دے دو تا کہ اس کے ذریعہ سے روپیہ کما کر وہ اپنا فدیہ ادا کرنے کے قابل ہو جائیں-
    جو لوگ اس کی بھی قابلیت نہ رکھتے ہوں‘ ان کے لئے اسلام نے نصیحت فرمائی ہے کہ مالدار لوگ انہیں آزاد کرائیں- اور حکومت انہیں آزاد کرائے- لیکن جو لوگ کسی طرح بھی کمائی نہ کر سکتے ہوں اور آزاد ہو کر سوال کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہو‘ ان کے متعلق مالک کو یہی حکم ہے کہ وہ انہیں پاس رکھے اور ان کی خبر گیری کرے- اپنے کھانے میں سے اسے کھلائے اور اپنے کپڑے میں سے انہیں پہنائے-
    اسلام میں کوئی غلامی نہیں
    ہر شخص جو ان احکام کو پڑھے‘ معلوم کر سکتا ہے کہ غلامی کا جو مفہوم دنیا میں پایا جاتا ہے‘ اس کے رو سے اسلام میں کوئی غلامی رائج نہیں- ہاں فلسفیانہ اصول پر جو غلامی کی تشریح کی جاتی ہے اور جس کے ماتحت غلامی اچھی بھی ہو سکتی ہے اور بری بھی اور ضروری بھی ہو سکتی ہے اور غیر ضروری بھی اس غلامی کی بعض قسمیں اسلام نے جائر رکھی ہیں- یعنی وہ جو اچھی ہیں اور ضروری ہیں اور جن کا ترک کرنا کوئی عقلمند انسان پسند نہیں کر سکتا اور جن کے ترک کرنے سے دنیا میں فساد اور فتنہ پیدا ہوتا ہے اور حقیقی آزادی مٹتی ہے اور دنیا کی ترقی میں روک پیدا ہوتی ہے اور جو غلامی کے برے طریق ہیں ان سے اسلام نے روکا ہے اور دوسرے لوگوں کی طرح صرف روکا ہی نہیں بلکہ غلامی کے ان طریقوں کے موجبات اور محرکات کا بھی علاج کیا ہے تا کہ انسان مجبور ہو کر ان غلامیوں میں مبتلا نہ ہو-
    حقیقی آزادی دینے والا انسان
    پس مبارک ہے محمد رسول اللہ ~صل۲~ کا وجود جنہوں نے اس غلامی کو جو دنیا کے لئے مضر تھی‘ مٹایا اور دنیا کو حقیقی آزادی عطا کی- وہ نادان جو لفظاً غلامی کو مٹاتے ہیں اور عملاً اسے قائم کرتے ہیں‘ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو چاند پر تھوکتا ہے- لیکن چاند پر تھوکا خود ان کے اپنے منہ پر پڑتا ہے- عقلمند آدمی محسوس کرتے ہیں- کل سب دنیا معلوم کر لے گی کہ حقیقی آزادی اس تعلیم میں ہے جو محمد رسول اللہ ~صل۲~ نے دی ہے اور دنیا کو نجات دینے والی ہستی صرف محمد رسول اللہ ~صل۲~ کی ذات ہے- واخر دعوئنا ان الحمد للہ رب العلمین
    )الفضل ۸- نومبر ۱۹۳۱ء(
    ۱~}~

    ۲~}~
    الحجرات : ۱۰
    ‏c1] g[ta ۳~}~ الکفرون: ۷
    ۴~}~ البقرہ: ۲۵۷
    ۵~}~
    محمد : ۵
    ۷~}~ النور: ۳۴
    ‏ a12.9
    انوار العلوم جلد ۱۲
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ زندگی
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ زندگی

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی

    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ زندگی
    )رقم فرمودہ حضرت خلیفہ المیسح الثانی(
    اسوہ حسنہ
    ہمارے ہادی اور رہنما آنحضرت ~صل۲~ چونکہ رحمہ للعالمین ہو کر آئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو کل دنیا کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے اس لئے آپ نے ہمارے لئے جو نمونہ قائم کیا وہی سب سے درست اور اعلیٰ ہے اور اس قابل ہے کہ ہم اس کی نقل کریں- آپ نے اپنے طریق عمل سے ہمیں بتایا ہے کہ جذبات نفس جو پاک اور نیک ہیں ان کو دبانا تو کسی طرح جائز ہی نہیں بلکہ ان کو تو ابھارنا چاہئے اور جو جذبات ایسے ہوں کہ ان سے گناہوں اور بدیوں کی طرف توجہ ہوتی ہو ان کا چھپانا نہیں بلکہ ان کا مارنا ضروری ہے- پس اگر تکلف سے بعض ایسی باتیں نہیں کرتے جن کا کرنا ہمارے دین اور دنیا کے لئے مفید تھا تو ہم غلط کار ہیں اور اگر وہ باتیں جن کا کرنا دین اسلام کے رو سے ہمارے لئے جائز ہے صرف تکلف اور بناوٹ سے نہیں کرتے‘ ورنہ دراصل ان کے شائق ہیں‘ تو یہ نفاق ہے اور اگر لوگوں کی نظروں میں عزت و عظمت حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو خاموش اور سنجیدہ بناتے ہیں تو یہ شرک ہے- آنحضرت ~صل۲~ کی زندگی میں ایسا ایک بھی نمونہ نہیں پایا جاتا جس سے معلوم ہو کہ آپ نے ان تینوں اغراض میں سے کسی کے لئے تکلف یا بناوٹ سے کام لیا بلکہ آپ کی زندگی نہایت سادہ اور صاف معلوم ہوتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی عزت کو لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں سمجھتے تھے بلکہ عزت و ذلت کا مالک خدا کو ہی سمجھتے تھے-
    دینی پیشوائوں میں تصنع
    جو لوگ دین کے پیشوا ہوتے ہیں انہیں یہ بہت خیال ہوتا ہے کہ ہماری عبادتیں اور ذکر دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوں اور خاص طور پر تصنع سے کام لیتے ہیں تا لوگ نہایت نیک سمجھیں- اگر مسلمان ہیں تو وضو میں خاص اہتمام کریں گے اور بہت دیر تک وضو کے اعضا کو دھوتے رہیں گے اور وضو کے قطروں سے پرہیز کریں گے‘ سجدہ اور رکوع لمبے لمبے کریں گے‘ اپنی شکل سے خاص حالت خشوع و خضوع ظاہر کریں گے اور خوب وظائف پڑھیں گے- مگر آنحضرت ~صل۲~ باوجود اس کے کہ سب سے اتقی اور اورع تھے اور آپ کے برابر خشیت اللہ کوئی انسان پیدا نہیں کر سکتا مگر باوجود اس کے آپ ان سب باتوں میں سادہ تھے اور آپ کی زندگی بالکل ان تکلفات سے پاک تھی-
    بچہ کے رونے پر نماز میں جلدی
    ابی قتادہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ~صل۲~ نے فرمایا- انی لاقوم فی الصلوہ ارید ان اطول فیھا فاسمع بکاء الصبی فاتجوز فی صلوتی کراھیہ ان اشق علی امہ ۱~}~ یعنی میں بعض دفعہ نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور ارادہ کرتا ہوں کہ نماز کو لمبا کر دوں مگر کسی بچہ کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اپنی نماز کو اس خوف سے کہ کہیں میں بچہ کی ماں کو مشقت میں نہ ڈالوں‘ نماز مختصر کر دیتا ہوں- کس سادگی سے آنحضرت ~صل۲~ نے فرمایا کہ ہم بچہ کی آواز سن کر نماز میں جلدی کر دیتے ہیں- آج کل کے صوفیاء تو ایسے قول کو شائد اپنی ہتک سمجھیں کیونکہ وہ تو اس بات کے اظہار میں اپنا فخر سمجھتے ہیں کہ ہم نماز میں ایسے مست ہوئے کہ کچھ خبر ہی نہیں رہی اور گو پاس ڈھول بھی بجتے رہیں تو ہمیں کچھ خیال نہیں آتا- مگر آنحضرت ~صل۲~ ان تکلفات سے بری تھے- آپ کی عظمت خدا تعالیٰ کی دی ہوئی تھی نہ کہ انسانوں نے آپ کو معزز بنایا تھا- یہ خیال وہی کر سکتے ہیں جو انسانوں کو اپنا عزت دینے والا سمجھتے ہوں-
    جوتیوں سمیت نماز پڑھنا
    حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ انہ سئل اکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یصلی فی نعلیہ قال نعم- ۲~}~یعنی آپ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم ~صل۲~ جوتیوں سمیت نماز پڑھ لیا کرتے تھے- آپ نے جواب دیا کہ ہاں پڑھ لیتے تھے- اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس طرح تکلفات سے بچتے تھے اب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ وہ مسلمان جو ایمان اور اسلام سے بھی ناواقف ہیں اگر کسی کو اپنی جوتیوں سمیت نماز پڑھتے دیکھ لیں تو شور مچا دیں اور جب تک کوئی ان کے خیال کے مطابق کل شرائط کو پورا نہ کرے وہ دیکھ بھی نہیں سکتے- مگر آنحضرت ~صل۲~ جو ہمارے لئے اسوہحسنہ ہیں آپ کا یہ طریق تھا بلکہ آپ واقعات کو دیکھتے تھے نہ تکلفات کے پابند تھے- اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے طہارت اور پاکیزگی شرط ہے- اور یہ بات قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے پس جو جوتی پاک ہو اور عام جگہوں پر جہاں نجاست کے لگنے کا خطرہ ہو پہن کر نہ گئے ہوں تو اس میں ضرورت کے وقت نماز پڑھنے میں کچھ حرج نہیں اور آپ نے ایسا کر کے امتمحمدیہ پر ایک بہت بڑا احسان کیا کہ انہیں آئندہ کے لئے تکلفات اور بناوٹ سے بچا لیا- اس اسوہ حسنہ سے ان لوگوں کو فائدہ اٹھانا چاہئے جو آج کل ان باتوں پر جھگڑتے ہیں اور تکلفات کے شیدا ہیں- جس فعل سے عظمت الہی اور تقویٰ میں فرق نہ آئے‘ اس کے کرنے پر انسان کی بزرگی میں فرق نہیں آ سکتا-
    بن بلائے دعوت میں آنے والے کیلئے اجازت طلب کرنا
    حضرت ابو مسعود الانصاریؓ سے روایت ہے-قال کان من الانصار رجل یقال لہ ابو شعیب وکان لہ غلام لحام فقال اصنع لی طعاما ادعو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خامس خمسہ فدعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خامس خمسہ فتبعھم رجل فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم انک دعوتنا خامس خمسہ وھذا رجل قدتبعنا فان شئت اذنت لہ وان شئت ترکتہ قال بل اذنت لہ ۳~}~ آپ نے فرمایا کہ ایک شخص انصار میں تھا اس کا نام ابوشعیب تھا اور اس کا ایک غلام تھا جو قصائی کا پیشہ کرتا تھا- اسے اس نے حکم دیا کہ تو میرے لئے کھانا تیار کر کہ میں رسول اللہ ~صل۲~ کو چار اور آدمیوں سمیت کھانے کیلئے بلائوں گا- پھر اس نے رسول اللہ ~صل۲~ سے بھی کہلا بھیجا کہ حضورﷺ~ کی اور چار اور آدمیوں کی دعوت ہے- جب آپ اس کے ہاں چلے تو ایک اور شخص بھی ساتھ ہو گیا- جب آپ اس کے گھر پر پہنچے تو اس سے کہا کہ تم نے ہمیں پانچ آدمیوں کو بلایا تھا اور یہ شخص بھی ہمارے ساتھ آ گیا ہے- اب بتائو کہ اسے بھی اندر آنے کی اجازت ہے یا نہیں- اس نے کہا یا رسول اللہ ~صل۲~ اجازت ہے- تو آپ اس کے سمیت اندر چلے گئے-
    اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس طرح بے تکلفی سے معاملات کو پیش کر دیتے- شائد آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو چپ ہی رہتا مگر آپ دنیا کے لئے نمونہ تھے اس لئے آپ ہر بات میں جب تک خود عمل کر کے نہ دکھاتے‘ ہمارے لئے مشکل ہوتی- آپ نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ سادگی ہی انسان کے لئے مبارک ہے اور ظاہر کر دیا کہ آپ کی عزت تکلفات یا بناوٹ سے نہیں تھی اور نہ آپ ظاہری خاموشی یا وقار سے بڑا بننا چاہتے تھے بلکہ آپ کی عزت خدا کی طرف سے تھی-
    گھر کے اخراجات میں سادگی
    آپ کی زندگی بھی نہایت سادہ تھی اور وہ اسراف اور غلو جو امراء اپنے گھر کے اخراجات میں کرتے ہیں آپ کے ہاں نام کو نہ تھا بلکہ ایسی سادگی سے زندگی بسر کرتے کہ دنیا کے بادشاہ اسے دیکھ کر ہی حیران ہو جائیں اور اس پر عمل کرنا تو الگ رہا یورپ کے بادشاہ شائد یہ بھی نہ مان سکیں کہ کوئی ایسا بادشاہ بھی تھا جسے دین کی بادشاہت بھی نصیب تھی اور دنیا کی حکومت بھی حاصل تھی مگر پھر بھی وہ اپنے اخراجات میں ایسا کفایت شعار اور سادہ تھا اور پھر بخیل نہیں بلکہ دنیا نے آج تک جس قدر سخی پیدا کئے ہیں ان سب سے بڑھ کر سخی تھا-
    امراء کی حالت
    جن کو اللہ تعالیٰ مال و دولت دیتا ہے ان کا حال لوگوں سے پوشیدہ نہیں- غریب سے غریب ممالک میں بھی نسبتا امراء کا گروہ موجود ہے- حتیٰ کہ جنگلی قوموں اور وحشی قبیلوں میں بھی کوئی نہ کوئی طبقہ امراء کا ہوتا ہے اور ان کی زندگیوں میں اور دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں جو فرق نمایاں ہوتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں- خصوصاً جن قوموں میں تمدن بھی ہو ان میں تو امراء کی زندگیاں ایسی پر عیش و عشرت ہوتی ہیں کہ ان کے اخراجات اپنی حدود سے بھی آگے نکل جاتے ہیں-
    عرب سرداروں کی حالت
    آنحضرت ~صل۲~ جس قوم میں پیدا ہوئے وہ بھی فخر و خیلاء میں خاص طور پر مشہور تھی اور حشم و خدم کو مایہ ناز جانتی تھی- عرب سردار باوجود ایک غیر آباد ملک کے باشندہ ہونے کے بیسیوں غلام رکھتے اور اپنے گھروں کی رونق کے بڑھانے کے عادی تھے-
    عرب کی دو ہمسایہ قوموں کے بادشاہوں کی حالت
    عرب کے اردگرد دو قومیں ایسی بستی تھیں کہ جو اپنی طاقت و جبروت کے لحاظ سے اس وقت کی کل معلومہ دنیا پر حاوی تھیں- ایک طرف ایران اپنی مشرقی شان و شوکت کے ساتھ اپنے شاہانہ رعب و داب کو کل ایشیاء پر قائم کئے ہوئے تھا تو دوسری طرف روم اپنے مغربی جاہ و جلال کے ساتھ اپنے حاکمانہ دست تصرف کو افریقہ اور یورپ پر پھیلائے ہوئے تھا- اور یہ دونوں ملک عیش و طرب میں اپنی حکومتوں کو کہیں پیچھے چھوڑ چکے تھے اور آسائش و آرام کے ایسے ایسے سامان پیدا ہو چکے تھے کہ بعض باتوں کو تو اب اس زمانہ میں بھی کہ آرام و آسائش کے سامانوں کی ترقی کمال درجہ کو پہنچ چکی ہے‘ نگاہ حیرت سے دیکھا جاتا ہے- دربار ایران میں شاہان ایران جس شان و شوکت کے ساتھ بیٹھنے کے عادی تھے اور اس کے گھروں میں جو کچھ سامان طرب جمع کئے جاتے تھے اسے شاہ نامہ کے پڑھنے والے بھی بخوبی سمجھ سکتے ہیں اور جنہوں نے تاریخوں میں ان سامانوں کی تفصیلوں کا مطالعہ کیا ہے وہ تو اچھی طرح سے ان کا اندازہ کر سکتے ہیں- اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ دربار شاہی کے قالین میں بھی جواہرات اور موتی ٹنکے ہوئے تھے اور باغات کے نقشہ کو زمردوں اور موتیوں کے صرف سے تیار کر کے میدان دربار کو شاہی باغوں کا مماثل بنا دیا جاتا تھا- ہزاروں خدام اور غلام شاہ ایران کے ساتھ رہتے- اور ہر وقت عیش و عشرت کا بازار گرم رہتا تھا-
    رومی بادشاہ بھی ایرانیوں سے کم نہ تھے اور وہ اگر ایشیائی شان و شوکت کے شیدا نہ تھے تو مغربی آرائش و زیبائش کے دلدادہ ضرور تھے- جن لوگوں نے رومیوں کی تاریخ پڑھی ہے وہ جانتے ہیں کہ رومیوں کی حکومتوں نے اپنی دولت کے ایام میں دولت کو کس کس طریق پر خرچ کیا ہے-
    پس عرب جیسے ملک میں پیدا ہو کر جہاں دوسروں کو غلام بنا کر حکومت کرنا فخر سمجھا جاتا تھا اور جو روم و ایران جیسی مقتدر حکومتوں کے درمیان واقعہ تھا کہ ایک طرف ایرانی عیش و عشرت اسے لبھا رہی تھی تو دوسری طرف رومی زیبائش و آرائش کے سامان اس کا دل اپنی طرف کھینچ رہے تھے- آنحضرت ~صل۲~ کا بادشاہ عرب بن جانا اور پھر ان باتوں میں سے ایک سے بھی متاثر نہ ہوتا اور روم و ایران کے دام تزویر سے صاف بچ جانا اور عرب کے بت کو مار کر گرا دینا کیا یہ کوئی ایسی بات ہے جسے دیکھ کر پھر بھی کوئی دانا انسان آپ کے پاک بازوں کے سردار اور طہارت النفس میں کامل نمونہ ہونے میں شک کر سکے‘ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا-
    گھر کا کام خود کرنا
    علاوہ اس کے آپ کے اردگرد بادشاہوں کی زندگی کا نمونہ تھا وہ ایسا نہ تھا کہ اس سے آپ وہ تاثرات حاصل کرتے جن کا اظہار آپ کے اعمال کرتے ہیں- یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا درجہ دے دیا تھا کہ اب آپ تمام مخلوقات کے مرجع افکار ہو گئے تھے اور ایک طرف روم آپ کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اور دوسری طرف ایران آپ کے ترقی کرنے والے اقبال کو شک و شبہ کی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور دونوں متفکر تھے کہ اس سیلاب کو روکنے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی جائے اس لئے دونوں حکومتوں کے آدمی آپ کے پاس آتے جاتے تھے اور ان کے ساتھ خط و کتابت کا سلسلہ شروع تھا- ایسی صورت میں بظاہر ان لوگوں پر رعب قائم کرنے کے لئے ضروری تھا کہ آپ بھی اپنے ساتھ ایک جماعت غلاموں کی رکھتے اور اپنی حالت ایسی بناتے جس سے وہ لوگ متاثر اور مرعوب ہوتے مگر آپ نے کبھی ایسا نہ کیا- غلاموں کی جماعت تو الگ رہی گھر کے کام کاج کے لئے بھی کوئی نوکر نہ رکھا اور خود ہی سب کام کر لیتے تھے-
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت لکھا ہے کہانھا سئلت عن النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ماکان یصنع فی بیتہ قالت کان یکون فی مھنہ اھلہ تعنی فی خدمہ اھلہ فاذا حضرت الصلوہ خرج الی الصلوہ ۴~}~ یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ نبی کریم ~صل۲~ گھر میں کیا کرتے تھے- آپ نے جواب دیا- کہ آپ اپنے اہل کی مہنت کرتے تھے- یعنی خدمت کرتے تھے- پس جب نماز کا وقت آ جاتا تو آپ نماز کے لئے باہر چلے جاتے تھے-
    اس حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کس سادگی کی زندگی بسر فرماتے تھے اور بادشاہت کے باوجود آپ کے گھر کا کام کاج کرنے والا کوئی نوکر نہ ہوتا بلکہ آپ اپنے خالی اوقات میں خود ہی اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ مل کر گھر کا کام کاج کروا دیتے- اللہ اللہ کیسی سادہ زندگی ہے‘ کیا بے نظیر نمونہ ہے‘ کیا کوئی انسان بھی ایسا پیش کیا جا سکتا ہے جس نے بادشاہ ہو کر یہ نمونہ دکھایا ہو کہ اپنے گھر کے کام کے لئے ایک نوکر بھی نہ ہو- اگر کسی نے دکھایا ہے تو وہ بھی آپ کے خدام میں سے ہوگا- کسی دوسرے بادشاہ نے جو آپ کی غلامی کا فخر نہ رکھتا ہو یہ نمونہ کبھی نہیں دکھایا- ایسے بھی مل جائیں گے جنہوں نے دنیا سے ڈر کر اسے چھوڑ ہی دیا- ایسے بھی ہونگے جو دنیا میں پڑے اور اسی کے ہو گئے- مگر یہ نمونہ کہ دنیا کی اصلاح کے لئے اس کا بوجھ اپنے کندھوں پر بھی اٹھائے رکھا اور ملکوں کے انتظام کی باگ اپنے ہاتھ میں رکھی مگر پھر بھی اس سے الگ رہے اور اس سے محبت نہ کی اور بادشاہ ہو کر فقر اختیار کیا- یہ بات آنحضرت ~صل۲~ اور آپ کے خدام کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتی- جن لوگوں کے پاس کچھ تھا ہی نہیں وہ اپنے رہنے کے لئے مکان بھی نہ پاتے تھے اور دشمن جنہیں کہیں چین سے نہیں رہنے دیتے تھے کبھی کہیں اور کبھی کہیں جانا پڑتا تھا ان کے ہاں کی سادگی کوئی اعلیٰ نمونہ نہیں- جس کے پاس ہو ہی نہیں اس نے شان و شوکت سے کیا رہنا ہے- مگر ملک عرب کا بادشاہ ہو کر لاکھوں روپیہ اپنے ہاتھ سے لوگوں میں تقسیم کر دینا اور گھر کا کام کاج بھی خود کرنا یہ وہ بات ہے جو اصحاب بصیرت کی توجہ کو اپنی طرف کھینچے بغیر نہیں رہ سکتی-
    )الفضل ۶ نومبر ۱۹۳۲ء(
    ۱~}~
    بخاری کتاب الاذان باب من اخف الصلوہ عبد بکاء الصبی
    ۲~}~
    بخاری کتاب الصلوہ باب الصلوہ فی النعال
    ۳~}~
    بخاری کتاب الاطعمہ باب الرجل یتکلف الطعام لاخوانہ
    ۴~}~
    بخاری کتاب الاذان باب من کان فی حاجہ اھلہ فاقیمت الصلوہ فخرج
    نے پوچھا کون ہے- آپ نے فرمایا محمدﷺ-~ وہ گھبرا گیا کہ کیا معاملہ ہے- فوراً آ کر دروازہ کھولا- اور پوچھا کیا بات ہے- آپ نے فرمایا- اس غریب کا روپیہ کیوں نہیں دیتے- اس نے کہا ٹھہرے ابھی لاتا ہوں- اور اندر سے روپیہ لا کر فوراً دے دیا- لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کر دیا کہ یہ ڈر گیا ہے- مگر اس نے کہا میں تمہیں کیا بتائوں کہ کیا ہوا- جب میں نے دروازہ کھولا تو ایسا معلوم ہوا ہوا کہ محمدﷺ~ )صلی اللہ علیہ والہ وسلم( کے دائیں اور بائیں دو دیوانے اونٹ کھڑے ہیں جو مجھے نوچ کر کھا جائیں گے- کوئی تعجب نہیں یہ معجزہ ہو- مگر اس میں بھی شک نہیں کہ صداقت کا بھی ایک رعب ہوتا ہے غرض کہ ایک غریب کا حق دلوانے کے لئے آپ نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے سے بھی دریغ نہ کیا- اور اس طرح اپنے عمل سے دکھا دیا کہ غربت میں بھی انسان کے اندر کیسی اخلاقی جرات ہونی چاہیئے-
    جب آپ نے حضرت خدیجہ سے شادی کی تو اس وقت کوئی مال آپ کے پاس نہ تھا- بعض لوگوں نے روایت کی ہے کہ آپ کے والد نے پانچ بکریاں اور ایک دو اونٹ آپ کے لئے چھوڑے اور بعض اس سے بھی انکار کرتے ہیں- بہرحال اگر ورثہ میں آپ کو کوئی جائداد ملی بھی تو وہ ایسی قلیل تھی کہ اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے- مگر پھر بھی آپ کی طبیعت میں حرص بالکل نہ تھی اور سیر چشمی کمال کو پہنچی ہوئی تھی- اپنے حالات کے لحاظ سے آپ کے لئے کی گنجائش تھی لیکن آپ کا لقب امین تھا اس وقت بھی ممکن ہے یہاں لاہور میں ہی سینکڑوں ایسے لوگ ہوں جن کے پاس اگر کوئی امانت رکھی جائے تو وہ اسے واپس کر دیں گے مگر دنیا انہیں امین نہیں کہتی- کیونکہ امین وہی کہلا سکتا ہے جو خطرناک امتحانوں سے گزر کر بھی امانت کو قائم رکھے- اگر ایک شخص کے پاس لاکھ روپیہ ہے تو ہمارا ایک ہزار اگر وہ واپس کر دے تو یہ کوئی خوبی نہیں مگر رسول کریم ~صل۲~ کو سخت مالی امتحانوں سے گزرنا پڑتا تھا اور باوجود اس کے آپ کے پاس سب
    ‏a12.10
    انوار العلوم جلد ۱۲
    رسول کریم ~صل۲~ نے صحیح تمدن کی بنیاد رکھی
    رسول کریم ~صل۲~ نے صحیح تمدن کی بنیاد رکھی

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    رسول کریم ~صل۲~ نے صحیح تمدن کی بنیاد رکھی
    ۶- نومبر کو سیرت النبی کا جلسہ جو قادیان میں ہوا اس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حسب ذیل تقریر فرمائی-
    تشہد و تعوذ اور بسم اللہ کے بعد یہ آیات فرمائیں-
    یسج للہ ما فی السموت وما فی الارض الملک القدوس العزیز الحکیم ھوالذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم آیاتہ ویزکیھم و یعلمھم الکتاب والحکمہ وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین و اخرین منھم لمایلحقوبھم وھوالعزیز الحکیم ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم- ۱~}~
    پیچش کی وجہ سے مجھے طبی اجازت تو نہیں تھی کہ اس موقع پر کچھ کہتا لیکن دنیا میں انسان ہر وقت دلیل کے تابع نہیں ہوتا بلکہ کبھی جذبات کے تابع بھی ہوتا ہے اور یہ جذبات اور عقل کا جال ایسے رنگ میں پھیلا ہوا ہے کہ اس میں صحیح امتیاز اور فرق کرنا بہت ہی مشکل ہے- پس میرے جذبات نے عقل کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور اسے یہی جواب دیا کہ تیرے لئے ایسے حکم چلانے کے اور بہت سے مواقع ہیں آج ہمیں اپنا کام کرنے دو- تم اپنے لئے کوئی اور موقع تلاش کر لینا- اور اس میں شبہ کیا ہے کہ ایسے وجود کے ذکر کے موقع پر جس کی زندگی جہاں ایک طرف عقل و خرد کی بہترین مثال ہے وہاں اس کے ذریعہ جذبات کا بھی نہایت پاکیزہ طور پر ظہور ہوا اور یہ جذباتی تمثال ایسی ہے جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ
    ہر گز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
    ثبت است برجریدہ عالم دوام ما
    دنیا میں خالی عقل نے کبھی زندگی نہیں پائی- زندگی ہمیشہ عشق نے پائی ہے‘ جذبات نے پائی ہے- دنیا میں بڑے بڑے فلاسفر اور عاشق گزرے ہیں لیکن جو حکومت عشاق نے لوگوں کے دلوں پر کی وہ فلاسفروں کو حاصل نہ ہوئی- انبیاء میں حقیقی عشق کی جو مثالیں ہیں انہیں نظرانداز کردو اور مجازی عشق ہی کو لے لو- دنیا میں کتنے آدمی ہیں جو ارسطو یا افلاطون کی باتوں کو جانتے ہیں یا ان کا نام بھی جانتے ہیں مگر کتنے ہیں جو مجنوں اور لیلی کو جانتے ہیں اور کتنے ہیں جو ان کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں- کوئی شہر یا قصبہ ایسا نہ ہوگا جہاں شاعر نہ ہوں اور یہ شاعر کون ہیں؟ لیلیٰ اور مجنوں کے شاگرد- اور ان میں سے ان کو الگ کر کے جن کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں علیحدہ کر دیا ہے اور جو دین کی خدمت یا اسے تازہ کرنے کے لئے شعر لکھتے ہیں باقی تمام وہی ہیں جو لیلیٰ و مجنوں کی نقل کرنا چاہتے ہیں- اگرچہ وہ لیلیٰ و مجنوں نہیں ہوتے لیکن تم جس وقت ان کا کلام سنو گے تو ایسا معلوم ہوگا گویا انہوں نے کبھی کھانا ہی نہیں کھایا‘ کبھی تکیہ سے سر نہیں اٹھایا کہ ساری رات ان کی آنکھیں نہ کھلی رہی ہوں اور ان کی آنکھیں کبھی خشک نہیں ہوئیں‘ جگر اور دل ان کے جسم میں ہے ہی نہیں‘ مدتیں ہوئیں کچھ خون بن کر اور کچھ پانی بن کر بہہ چکا ہے اور وہ جیتا جاگتا وجود ہے جو تمہارے سامنے بیٹھا ہوگا‘ کئی دفعہ مرا اور دفن ہو چکا اور اس کے معشوق نے آ کر اس کی قبر کو ٹھکرا دیا‘ جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ لیلیٰ و مجنوں کو بھی عشق میں پیچھے چھوڑنا چاہتا ہے- تو جتنے دلوں پر عشق نے قبضہ کیا ہے عقل نے نہیں کیا- پس ایسا انسان جس نے عقل کے میدان میں ہی اپنی برتری ثابت نہیں کی بلکہ جذبات کے میدان میں بھی سب عاشقوں سے آگے بڑھ گیا حتیٰ کہ کوئی بھی عاشق عشق میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘ اس کے ذکر کے موقع پر عقل کی بات ماننے سے آج اس نے انکار کر دیا-
    خدا تعالیٰ کے عشق کو جانے دو کیونکہ وہ عام لوگوں کی رسائی سے بالا ہوتا ہے‘ انسانی عشق کو لے لو- مجنوں کیا تھا ایک عورت کا عاشق تھا- اس کا عشق باغرض تھا وہ اس سے متمتع ہونا چاہتا تھا- اس کے حسن سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا- مگر اس کے مقابلہ میں محمد رسول اللہ کا عشق جو دنیا سے تھا‘ وہ کسی فائدہ کی غرض سے نہ تھا‘ تمتع کے خیال سے نہ تھا اور پھر وہ ایک دو سے نہیں‘ دوستوں اور پیاروں سے نہیں‘ حسینوں سے نہیں بلکہ سب سے تھا بلکہ بدصورتوں سے زیادہ تھا- قرآن کریم میں آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے-لعلک باخع نفسک الا یکونوا مومنین ۲~}~اے محمد ) ~صل۲~ ( شائد تو اپنی جان کو ہلاک کر دے گا- ان خوبصورتوں کے لئے نہیں جنہوں نے ابوبکرؓ اور عمرؓ کی طرح ایمان لا کر اپنے چہروں کو منور کر لیا تھا بلکہ ان بدصورت اور بھونڈی شکل کے لوگوں کے لئے جنہیں دیکھ کر گھن آتی تھی- جنہیں دیکھ کر روحانی شخص کو متلی ہو جاتی تھی جیسے عتبہ‘ شیبہ‘ ابوجہل وغیرہ تو ان کے عشق میں مرا جاتا ہے کہ کیوں ان کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا- مجنوں کا عشق اس کے مقابلہ میں کیا ہے- اس نے اس سے محبت کی جس کی شکل اسے پسند تھی لیکن محمد رسول اللہ کا عشق ان لوگوں سے بھی تھا جن کی روحانی شکل آپ کو ناپسند تھی- پس ایسا جذباتی انسان جس کا عشق کسی ایک سے نہیں ساری دنیا سے وابستہ ہے آج ہی کے لوگوں سے نہیں بلکہ آئندہ زمانوں سے بھی ہے جیسا کہ فرمایاواخرین منھم لما یلحقوابھم یعنی محمد رسول اللہ صرف اپنے زمانہ کے لوگوں کو ہی فائدہ پہنچانا نہیں چاہتا بلکہ ان لوگوں کے لئے بھی جو ابھی پیدا نہیں ہوئے مفید بننا چاہتا ہے-
    پس غور کرو جذباتی دنیا میں اس کا وجود کتنا عظیم الشان ہے اس کے عشق کی انتہا ہی نہیں- وہ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی آگ سلگاتا ہے- پھر اس سے آسمانوں کی طرف پرواز کرتا ہے اور اس کی روح خدا کے آستانہ پر جا گرتی ہے اور اس کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت سے چنگاری لیتی ہے گویا محدود محبت غیر محدود محبت کو کھینچتی ہے اور پھر دنیا میں آتی ہے اور بعینہ اسی طرح جس طرح مشرق سے نکل کر آفتاب کی شعائیں روئے زمین پر پھیلنی شروع ہو جاتی ہیں اس کی محبت بھی پھیلتی ہے- مشرق و مغرب‘ گورے اور کالے‘ خوبصورت اور بدصورت سب کو اپنے دامن میں سمیت لیتی ہے- پھر وہ مکان کی حد بندیوں کو توڑتی ہوئی نکل جاتی ہے اور صدیوں کے بعد صدیاں گزرتی ہیں مگر وہ محبت ختم نہیں ہوتی اور نہ ہوگی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو دنیا سے اٹھا لے- پھر یہ ایک وقت کی بات نہیں یوں تو ہر نیک بندے پر محبت کے ایام کبھی کبھی آتے ہیں- حضرت نظام الدین اولیاء کے متعلق آتا ہے کہ آپ ایک دفعہ اپنے شاگردوں کے ساتھ جا رہے تھے راستہ میں ایک خوبصورت لڑکا گزرا آپ نے آگے بڑھ کر اس کا منہ چوم لیا- اس پر شاگردوں نے بھی ایسا ہی کرنا شروع کر دیا کہ شاید اس میں جلوہ الہی ہو- ایک شاگرد جو آپ کے خاص منظور نظر تھے انہوں نے ایسا نہ کیا باقیوں نے اس پر چہ میگوئیاں شروع کیں- آگے چلے تو ایک بھٹیاری بھٹی میں آگ جلا رہی تھی اور پتوں کی آگ کے شعلے جیسا کہ بہت بلند ہوتے ہیں نکل رہے تھے جو ایک خوبصورت نظارہ پیش کر رہے تھے- آپ کھڑے ہو کر اسے دیکھتے رہے پھر جھکے اور شعلہ کو بوسہ دیا- اس وقت اس شاگرد نے بھی شعلہ کو چوما جس نے لڑکے کو نہیں چوما تھا لیکن باقی شاگرد کھڑے رہے اور کسی کو جرات نہ ہوئی- اس پر انہوں نے کہا کہ تم لوگوں نے خوبصورت بچے کو چوما تھا کیونکہ چوٹا بچہ سب کو پیارا لگتا ہے‘ حالانکہ خواجہ صاحب کو اس میں خدا کا جلوہ نظر آتا تھا‘ اس لئے انہوں نے اسے چوما تھا لیکن مجھے چونکہ نظر نہ آیا‘ اس لئے میں نے نہ چوما- اب اس آگ میں مجھے نظر آیا اور میں نے اسے چوم لیا اور یہاں آپ کی اتباع کی لیکن وہاں میری آنکھیں نہ کھلیں‘ اس لئے نہ کی لیکن تم نے ہوائو ہوس کے ماتحت بچہ کو چوما تھا- تو وقتی طور پر ہر بزرگ پر ایسا وقت آتا ہے کہ بنی نوع انسان کی محبت سے وہ لبریز ہو جاتا ہے مگر محمد رسول اللہ کی محبت وقتی نہ تھی- وہ آپ کی روح اور جسم کا ایک حصہ تھی جس کا پتہ اس سے لگتا ہے کہ جب آپ کی وفات کا وقت آیا تو آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھیلعن اللہ الیھود والنصاری اتخذوا قبور انبیائھم مسجدا ۳~}~یعنی خدا یہود و نصاریٰ پر *** کرے کہ انہوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا- گویا آپ کے دل میں تڑپ تھی کہ یہود و نصاریٰ کیوں اپنے لئے جہنم خرید رہے ہیں اور پھر اپنے ماننے والوں کو تنبیہ کی کہ وہ ایسا نہ کریں- گویا سکرات موت کے وقت بھی آپ کے اندر مسلمان اور کفار دونوں کی محبت کا جلوہ تھا- ایک طرف یہود و نصاریٰ کو شرک سے بچانے کا درد تھا اور دوسری طرف یہ درد تھا کہ یہی غلطی میرے ماننے والے بھی نہ کریں- غرض آپ کی ساری زندگی یہ ثابت کرتی ہے کہ آپ بنی نوع انسان کے ہر طبقہ کے لئے ہمدردی رکھتے تھے-
    آج کے لئے جو مضامین مقرر کئے گئے ہیں وہ دو ہیں ایک یہ کہ آنحضرت ~صل۲~ نے تمدن کی بنیاد مستحکم اصول پر رکھی اور دوسرے یہ کہ آپ نے احکام کی حکمتیں بیان کیں- یہ دونوں اکٹھے بھی بیان ہو سکتے ہیں اور الگ الگ بھی- لیکن میں اکٹھا ہی بیان کروں گا- میرے نزدیک تو وہ شخص جس کے دل میں انسان کی محبت ہے یعنی بنی نوع انسان کی‘ ایک فرد یا بعض افراد کی نہیں بلکہ سب کے سب کی ہو اس کے کام یقیناً ایسی حکمت پر مبنی ہوں گے جو فائدہ کا موجب ہو- انسان تبھی بے عقلی کا کام کرتا ہے جب وہ اپنے خود ساختہ اصول کو مقدم رکھے اور بنی نوع انسان کے فائدہ کو موخر کرے- ایسا شخص جب بھی کوئی فیصلہ کرے گا ضرور نامعقول باتیں کرے گا- لیکن جو بنی نوع انسان کا فائدہ چاہتا ہے اس کے اصول میں بعض اوقات تغیر و تبدل بھی ہوگا- مثلاً ایک بچہ بیمار ہے طبیب اور ماں باپ دونوں کا اس سے تعلق ہے- اگر ڈاکٹر کی دوائی سے فائدہ نہیں پہنچتا تو ماں باپ چاہیں گے کہ کسی طبیب کو بھی مشورہ کے لئے بلا لیں لیکن ڈاکٹر کہے گا کہ اگر طبیب کو بلاتے ہو تو میں جاتا ہوں- کیوں؟ اس لئے کہ اسے بچہ کی جان بچانے سے کوئی غرض نہیں وہ صرف اپنے اصول کی برتری منوانا چاہتا ہے- یہی حال اطباء کا ہے- حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ایک واقعہ سنایا کرتے تھے- اب تو اطباء بھی انگریزی ادویہ کا استعمال کرنے لگ گئے ہیں مگر پہلے ان کا تعصب ڈاکٹروں سے بھی بڑھا ہوا تھا- ایک رئیس کا بچہ بیمار تھا اس نے آپ کو بھی بلایا- آپ فرماتے میں گیا تو سول سرجن بھی وہاں موجود تھا- وہ تھرما میٹر لگا کر ٹمپریچر دیکھنا چاہتا تھا مگر ان کا خاندانی طبیب کہہ رہا تھا میں جاتا ہوں- انگریزی ادویہ تمام گرم خشک ہوتی ہیں تھرمامیٹر سے بچہ مر جائے گا- رئیس نے آپ سے کہا حکیم صاحب کو سمجھائیں- آپ نے کہا- حکیم صاحب بے شک انگریزی ادویہ گرم خشک ہوتی ہیں مگر یہ دوائی نہیں‘ یہ تو آلہ ہے لیکن حکیم صاحب کہاں مانتے تھے- کہنے لگے انگریزوں کی ہر چیز گرم خشک ہوتی ہے‘ میں یہاں نہیں ٹھہر سکتا- اب کوئی ماں باپ ایسا نہیں کر سکتے- انہیں اس سے غرض نہیں ہوگی کہ طب یونانی جیتتی ہے یا انگریزی- ان کا مقصود تو یہ ہوگا کہ جس طرح بھی ہو بچے کی جان بچ جائے اس لئے ماں باپ کی رائے زیادہ صحیح ہوتی ہے اور الا ماشاء اللہ عام طور پر لوگ اس بات کو خوب جانتے اور سمجھتے ہیں کہ اچھا ڈاکٹر اور اچھا وکیل کونسا ہوتا ہے- تو جو شخص بنی نوع انسان کی محبت اپنے دل میں رکھے گا اس کے اصول یقیناً صحیح ہوں گے- قطع نظر اس سے کہ الہی کلام صحیح ہونا چاہئے اگر فلسفیانہ نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا احساس دوسرے تمام انسانوں سے زیادہ وسیع ہے- کیونکہ جتنی محبت ہو‘ اتنا ہی زیادہ اس چیز کا مطالعہ ہوگا اور اس لئے اس کا فائدہ بھی زیادہ ملحوظ رہے گا اور جس کے دل میں بنی نوع انسان کا عشق ہوگا اس کے اصول کی بنیاد زیادہ مستحکم ہوگی اور وہی بات ہوگی کہ
    ہر گز نہ نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
    جس کے دل میں عشق کی لو لگی ہوگی اسے ہر دم یہی خیال ہوگا کہ لوگوں کو فائدہ پہنچایا جائے اور یہی مقصد پیش نظر رہے گا کہ اپنے معشوقوں کو دکھ درد سے بچایا جائے- اس وقت یہ بات ہوگی کہ
    ثبت است برجریدہ عالم دوام ما
    اور ایسا شخص جس کا دل عشق سے زندہ ہو‘ وہ اپنے پیچھے ایسی باتیں چھوڑے گا جو کبھی مٹ نہیں سکتیں-
    پس رسول کریم ~صل۲~ نے جو اصول الہاماً بتائے یا الہام سے استنباط کر کے بتائے‘ ان کا استحکام عشق کے مطابق ہے اور عشق چونکہ غیر محدود استحکام رکھتا ہے‘ اس لئے ان اصوال کا استحکام بھی غیر محدود ہے اور چونکہ ان کی بنیاد عشق ہے اس لئے کہنا پڑے گا کہ اسلامی اصول کی بنیاد حکمت پر ہے- مثلاً ایک شخص کہتا ہے سیدھے چلتے جائو وہاں تمہیں فلاں چیز ملے گی- اب سیدھے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرف بھی انسان منہ کرے آگے سیدھا ہی ہوگا لیکن ایک اور شخص ہے جو ایک راستہ بتاتا ہے اور ساتھ ہی نقشہ دے دیتا ہے کہ اس کے مطابق چلے جائو اب اس پر عمل کرنے سے کامیابی ہوگی- لیکن غیر معین بات کبھی کامرانی کا موجب نہیں ہو سکتی- فرض کرو- ایک جرنیل حکم دیتا ہے کہ بہرحال تم نے فلاں جگہ پہنچنا ہے لیکن ایک جرنیل ساتھ ہی مزید راہنمائی کیلئے یہ بھی بتا دیتا ہے کہ پیش آمدہ متوقع مشکلات پر کس طرح قابو پایا جائے نتیجہ یہ ہوگا کہ بہرحال پہنچنے کا حکم دینے والے کی فوج کو جہاں کوئی روک پیش آئے گی مشکل میں پڑ جائے گی لیکن دوسرے کو زیادہ کامیابی ہوگی کیونکہ اس کے احکام حکمت پر مبنی ہوں گے اور دوام ہمیشہ حکمت سے ہی حاصل ہوتا ہے- پس یہ دونوں مضمون مشترک ہیں اس لئے میں تمدن کی بعض باتوں کو لے لیتا ہوں اور ان کے اندر ہی دوسری باتیں بھی آ جائیں گی-
    تمدن کے معنی ہیں- مدنیت‘ شہریت‘ چند آدمیوں کا مل کر رہنا- جب چند آدمی مل کر رہیں تو کئی قسم کی دقتیں پیش آتی ہیں کیونکہ ہر شخص کی خواہشات دوسرے کے تابع نہیں ہوتیں اور بسا اوقات ٹکرا جاتی ہیں- مثلاً ایک پھول ہے- دو آدمیوں کی خواہش ہے کہ اسے حاصل کریں- اب اگر وہ مل کر رہنا چاہتے ہیں تو کوئی ایسا قانون ہونا چاہئے جو یہ بتائے کہ وہ کون لے- اکٹھے مل کر رہنے کے لئے کوئی اصول مقرر کر کے ان پر چلنا ہوگا- وگرنہ سرپھٹول جاری ہو جائے گی اور اسی غرض سے دنیا نے کئی انتظام کئے ہیں- تمدن کے دوام کیلئے عورت مرد مل کر رہتے ہیں جو میاں بیوی کہلاتے ہیں وہ آئندہ نسل کی ذمہ داری اپنے سر پر لیتے ہیں اسے خاندان کہا جاتا ہے- پھر محلہ والوں کے ساتھ تعلقات کو نظام میں لانے کے لئے اور قوانین کی ضرورت ہے- پھر ان قوانین پر عمل کرانے کے لئے راجہ یا نواب یا بادشاہ کی ضرورت ہوتی ہے- پھر ایک دوسرے سے لین دین‘ شادی غمی‘ موت پیدائش وغیرہ معاملات کے لئے آئین و ضوابط ضروری ہیں اس کے لئے قضاء یا ججوں وغیرہ کا انتظام ہوتا ہے- گویا ان قوانین کا نام جن سے بنی نوع انسان آرام سے رہ سکیں اور باہمی جھگڑے دور ہو جائیں تمدن ہے-
    اس کے متعلق پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس انتظام کو لوگ قبول کیوں کریں- کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ قانون فلاں نے اس لئے بنایا ہے کہ مجھے نقصان پہنچائے میں اسے نہیں مانتا- تمدن قائم کرنے والے کہتے ہیں ایسی مشکلات کو دور کرنے کیلئے بادشاہ چاہئے جس کے پاس فوج اور پولیس ہو تا کہ لوگوں کو سزا دے کر ٹھیک کر دے- مگر کہا جا سکتا ہے کہ اس کے معنی تو یہ ہوں گے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس جن کے پاس زیادہ زور ہوگا وہی حکومت کرے گا- اگر یہ اصول صحیح مان لیا جائے تو رعایا میں سے جس کا زور چلے گا وہ بھی چلائے گا اسے پھر ہم کس اصول کی بناء پر روک سکیں گے- اور یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آج تک دنیا نہیں دے سکی- یہی وجہ ہے کہ بغاوت کو دور کرنے یا اسے ناجائز منوانے کیلئے دنیا کے پاس کوئی دلیل نہیں- جو دلیل دی جائے باغی وہی بادشاہ پر چسپاں کر دیتے ہیں- گویا جو تمدن کی بنیاد ہے اس کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ کیوں ایک دوسرے کی بات مانیں اور کیوں اپنا حق چھوڑ دیں- اس کا جواب دنیا معلوم نہیں کر سکی لیکن رسول کریم ~صل۲~ نے اس سوال کا جواب دیا ہے- فرمایا دیکھو تمہارے تمدنی اختلافات کی بنیاد یہ ہے کہ ہم کیوں کر یہ مان لیں کہ جس کے ہاتھ میں فیصلہ کرنے کا کام ہے وہ منصف اور عادل ہے ممکن ہے وہ دشمن سے سختی اور دوست سے نرمی کا برتائو کرے پھر کس طرح تسلیم کر لیں کہ وہ صحیح فیصلہ کرے گا- آپ نے فرمایا یہ دلیل ٹھیک ہے- واقعہ میں لوگوں کے فوائد اس طرح ہیں‘ کوئی کسی کا رشتہ دار ہے‘ کسی کی کسی سے دوستی اور کسی سے دشمنی اور بعض سے منافرت اس لئے ان حالات کی موجودگی میں انسانوں کے قواعد قابل اعتماد نہیں ہو سکتے اور وہ یقیناً غلط ہیں- دراصل تمدن کی بنیاد الہام پر ہونی چاہئے اور تمدنی قوانین اس ذات کی طرف سے ہونے چاہئیں جس کی نہ کسی سے رشتہ داری ہے اور نہ کسی سے دشمنی- عورتوں سے پوچھو کہتی ہیں مردوں کے ہاتھ میں چونکہ قانون بنانا ہے اس لئے جس طرح چاہتے ہیں بنا لیتے ہیں- ہندوستانی کہتے ہیں ملکی قوانین انگریزوں نے اپنی قوم کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنائے ہوئے ہیں اس لئے ہم سول نافرمانی کرتے ہیں- گاندھی جی کہتے ہیں ہم انگریزوں کا قانون نہیں مانتے وہ ہمارے مخالف ہیں- مگر خدا تعالیٰ کے قوانین کے متعلق کوئی یہ نہیں کہہ سکتا- خدا تعالیٰ کو اس سے غرض نہیں کہ لنکا شائر کا کپڑا فروخت ہو یا نہ ہو اور ہندوستان کی روئی بکے یا نہ بکے‘ نہ اسے کسی ملک کے نمک سے سروکار ہے اس کے نزدیک سب یکساں ہیں اس لئے رسول کریم ~صل۲~ نے آ کر فرمایااللہ نور السموت والارض ۴~}~خدا ہی آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے- سب چیزیں اسی سے طاقت پاتی ہیں- وہ جس قانون کو جاری کرتا ہے وہ ایسے سرچشمہ سے نور حاصل کرتا ہے کہ جو لا شرقیہ ولا غربیہ ۵~}~جو نہ شرقی ہے نہ غربی- گویا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آ کر بتایا کہ دنیا میں کبھی امن نہیں ہو سکتا جب تک تمدن کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہو- باقیوں نے کہا ہم تمدنی قوانین بنائیں گے اور اسلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس نے تمدنی امور میں دخل دیا ہے- اب وہ لوگ دھکے کھا کھا کر وہیں آ رہے ہیں جہاں اسلام لانا چاہتا ہے- تعلقات خواہ میاں بیوی کے ہوں یا ماں باپ کے‘ بھائی بھائی کے ہوں یا بہن بھائی کے‘ رعایا اور راعی کے ہوں یا مختلف حکومتوں کے سب میں دنیا اسلام کی طرف آ رہی ہے- پس پہلی بنیاد جو تمدن کے متعلق رسول کریم ~صل۲~ نے رکھی وہ یہ تھی کہ تمدن کی بنیاد الہام پر ہونی چاہئے والا بعض کو شکوہ رہے گا کہ بعض کی رعایت کی گئی ہے- اب صرف یہ سوال رہ جاتا ہے کہ جو تمدن رسول کریم ~صل۲~ نے پیش کیا وہ خدا کی طرف سے ہے یا نہیں- لیکن یہ ثابت ہو جانے کے بعد کہ واقعی خدا کی طرف سے ہے اس پر رعایت کا شبہ نہیں ہو سکتا- دنیا میں جو قوانین لوگ بناتے ہیں ان کے متعلق تو یہ خیال ہو سکتا ہے کہ بنانے والے کو اس کا حق بھی تھا یا نہیں لیکن خدا تعالیٰ کے متعلق اس قسم کا اعتراض بھی نہیں کیا جا سکتا- اور جب یہ ثابت ہو جائے کہ یہ قانون فی الواقعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا- اسلام سے جملہ تمدنی امور کے متعلق ایسے قوانین بنائے ہیں کہ ان میں کوئی رخنہ یا نقص نہیں نکالا جا سکتا اور ایسی تعلیم دی ہے کہ اس کے ذریعہ انسانوں کا باہم مل کر بیٹھنا ممکن ہو گیا ہے-
    دنیا میں تمدنی امور میں پہلی چیز شادی یعنی میاں بیوی کے تعلقات ہیں اسی سے نسل انسانی چلتی ہے اس کے متعلق ہی اسلامی تعلیم کو اگر دیکھ لیا جائے تو ہمارے دعویٰ کی تصدیق ہو جاتی ہے- دنیا میں شادی عام طور پر یا تو زور سے کی جاتی ہے یا محبت سے- زور سے شادی دو قسم کی ہوتی ہے یا تو مرد زبردستی کسی عورت سے شادی کرلے اور یا لڑکی کے والدین زبردستی جس سے چاہیں شادی کر دیں-
    بابل کی حکومت میں یہی قانون رائج تھا کہ لڑکیاں جب جوان ہو جاتیں تو والدین انہیں مارکیٹ میں لا کر اس لئے کھڑا کر دیتے کہ ہم نے اسے پال پوس کر جوان کیا ہے اب کون اس کی زیادہ قیمت دیتا ہے اور جو ان کی منشاء کے مطابق قیمت دے دیتا وہ لے جاتا لڑکی کو اس میں کوئی اختیار نہ تھا- ہمارے ملک میں بھی یہی رواج ہے- یہاں اگرچہ مارکیٹ میں تو نہیں لے جاتے مگر گھر میں قیمت لے لیتے ہیں- اگر کہو کہ لڑکی کو مارکیٹ میں لے جائو تو کہیں گے استغفراللہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے لیکن یوں گھر میں روپیہ لے لیں گے حالانکہ یہ حماقت ہے- اگر قیمت ہی لینی ہے تو زیادہ سے زیادہ لینی چاہئے- غالب نے کہا ہے-
    وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
    تو پھر اے سنگدل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو
    یعنی اگر مجھے سر ہی پھوڑنا ہے تو اے معشوق تیرے دروازہ پر ہی کیوں پھوڑوں- جہاں چاہوں پھوڑ سکتا ہوں- اسی طرح اگر لڑکیوں کو بیچنا ہی ہو تو زیادہ قیمت پر مارکیٹ میں کیوں نہ لے جائیں- ہمارے ملک میں نوے فیصدی زمیندار لڑکیوں کو بیچتے ہیں اس کے لئے باقاعدہ سودا کرتے ہیں اور دو سو چار سو پانچ سو‘ ہزار غرض کہ جس قدر بھی قیمت مل سکے وصول کرتے ہیں- وہ اپنی لڑکیوں کے لئے اچھا خاوند تلاش نہیں کرتے بلکہ جو زیادہ پیسہ دے اور اس طرح بسا اوقات جوان لڑکیاں بوڑھوں سے‘ شریف بدمعاشوں سے‘ لائق نالائقوں سے اور عقلمند بیوقوفوں سے بیاہ دی جاتی ہیں- گویا ایک طریق زور سے شادی کر دینے کا تو یہ ہے کہ ماں باپ قیمت لے کر جہاں چاہیں لڑکی کو بیاہ دیں- اس کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایسے خاوند کی اگر موت بھی ہو جائے تو لڑکی آزاد نہیں ہو سکتی اسے خاوند کے بھائی یا کسی اور رشتہ دار سے بیاہ دیا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے قیمت ادا کر کے اسے خریدا ہوتا ہے- اور بیوہ ہو جانے کی صورت میں اگر ماں باپ اسے اپنے گھر لاتے ہیں تو چوری یا کسی حیلہ سے کیونکہ بصورت دیگر جہاں لڑکی بیاہی ہوتی ہے وہ ادا کردہ رقم کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس طرح ایسی لڑکی نہ صرف خاوند کی زندگی میں بلکہ اس سے آزادی کے بعد بھی قید ہی ہوتی ہے- دوسرا طریق یہ ہے جو ہندوئوں یا انگریزوں میں بھی رائج تھا کہ مرد جبر سے لے جائے- بڑے بڑے راجے مہاراجے اپنی لڑکیوں کو پیش کر دیتے کہ کون اسے چھین کر لے جاتا ہے اسے سوئمبر کی رسم کہا جاتا- بڑے بڑے راجے مہاراجے امیدوار ہو کر آتے- طاقتوں کا مظاہرہ کرتے اور جو سب کو مغلوب کر لیتا وہ اس لڑکی کا خاوند ہو جاتا- خواہ وہ بدصورت ہی ہو یا جاہل یا نقائص اخلاقی اپنے اندر رکھتا ہو- انگریزوں میں لڑکی کی مرضی سے شادی کا دستور ہے مگر وہ مرضی بھی غیر مرضی کے برابر ہے- وہاں یہ طریق ہے کہ لڑکی لڑکا آپس میں ملیں ایک دوسرے سے محبت کریں اور جب پسند آ جائے تو شادی کر لیں- کسی اور کا اس میں دخل نہیں ہوتا- اور جیسا کہ میں نے کہا ہے چونکہ جذبات کی دنیا سب پر غالب ہے اس طریق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہنگامی جذبات کے ماتحت وہ اخلاق و شرافت وغیرہ تمام اوصاف بھول جاتے ہیں- صرف مال اور حسن وغیرہ کو دیکھ کر شادی کر لیتے ہیں اور جذبات جب ابھرتے ہیں تو عقل اور ہوش و حواس کھو دیتے ہیں- نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بڑے بڑے چور‘ ڈاکو اپنے آپ کو شریف اور امیر زادہ ظاہر کر کے امراء کی لڑکیوں سے شادی کر لیتے ہیں اور پھر تباہ کر دیتے ہیں- سات آٹھ سال کا عرصہ ہوا اخباروں میں ایک شادی کا بہت چرچا رہا- جرمنی میں ایک شخص آیا اور اس نے اپنے آپ کو روس کا شہزادہ ظاہر کر کے قیصر جرمنی کی ہمشیرہ سے شادی کر لی حالانکہ وہ فی الواقع کسی باورچی خانہ میں برتن مانجھنے والا تھا جس نے کسی نہ کسی طریق سے روپیہ حاصل کر کے یہ فریب کیا جو جلد ہی ظاہر ہو گیا- تو محض اپنی مرضی کی شادی کا انجام بھی اچھا نہیں ہو سکتا کیونکہ اس حالت میں اخلاق اور شرافت وغیرہ امور کو کوئی نہیں دیکھتا- مال و دولت یا حسن پر لٹو ہو جاتے ہیں- اسلام نے شادی کے متعلق جو تعلیم دی اس سے پہلے شادی کی حکمت بتائی اور پھر یہ بتایا کہ شادی کیونکر کرنی چاہئے- میاں بیوی کی ذمہ داریاں کھول کھول کر بیان کیں نتائج بتائے اور پھر بتایا کہ شادی دونوں کی مرضی سے ہونی چاہئے مگر اس طرح کہ اس میں ماں باپ کی مرضی بھی شامل ہو- اکیلے ماں باپ بھی اپنی مرضی سے اپنی لڑکی کی شادی نہیں کر سکتے مگر لڑکی بھی صرف اپنی مرضی سے ان کی مرضی کے بغیر نہیں کر سکتی- اگر صرف ماں باپ کی مرضی ہو تو بعض ماں باپ ایسے بھی ہوں گے جو صرف روپیہ دیکھیں گے لیکن لڑکی تو یہ بھی دیکھے گی کہ میری ساری ضرورتوں کو بھی پورا کر سکتا ہے یا نہیں- بعض شکلوں کو ہی بعض لڑکیاں برداشت نہیں کر سکتیں- رسول کریم ~صل۲~ کے زمانہ میں ایک لونڈی تھی جس نے آپ سے عرض کیا کہ مجھے اپنے خاوند کی شکل اچھی نہیں لگتی- پھر ایک اور عورت کے متعلق آتا ہے کہ اس نے کہا- یا رسول اللہ) ~صل۲~ ( میں اس شخص کے ساتھ جس سے میری شادی کی گئی ہے‘ رہنا گوارا نہیں کر سکتی- چنانچہ آپ نے علیحدگی کا حکم دے دیا-۶~}~ تو بسا اوقات بعض آدمیوں کی شکل سے عورتوں کو طبعاً نفرت ہوتی ہے- لڑکی ان باتوں کو دیکھ سکتی ہے اس لئے رسول کریم ~صل۲~ نے شادی کی بنیاد اس امر پر رکھی کہ دونوں کی مرضی سے ہو ماں باپ کی بھی اور لڑکی کی بھی- اب سوال یہ ہے کہ اگر دونوں کی مرضی نہ ملے تو کیا کیا جائے- اگر لڑکی کو وہ پسند ہو مگر ماں باپ اپنے اغراض کے ماتحت وہاں اس کی شادی نہ کریں تو اسلام نے لڑکی کو اختیار دیا ہے وہ عدالت میں جا کر درخواست دے سکتی کہ میرے والد اپنے اغراض کے ماتحت مجھے اچھے رشتہ سے محروم رکھنا چاہتے ہیں اور عدالت تحقیقات کے بعد اسے اجازت دے سکتی ہے کہ شادی کر لے- گویا اس طرح سب کے حقوق محفوظ کرنے کا انتظام کر دیا گیا- لڑکی اور ماں باپ دونوں کی مرضی کو ضروری رکھا اور اس طرح کا رشتہ یقیناً مبارک ہوتا ہے- یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی شادیاں زیادہ کامیاب ہوتی ہیں- یورپ میں نوے فیصدی شادیاں ناکام ہوتی ہیں- حتیٰ کے وہاں یہ لطیفہ مشہور ہے کہ اگر کوئی مرد و عورت اکٹھے جا رہے ہوں تو کہتے ہیں یا تو یہ میاں بیوی نہیں یا ان کی شادی پر ابھی ایک ماہ نہیں گزرا- لیکن مسلمانوں میں نویفیصدی شادیاں کامیاب ہوتی ہیں- ہندوستان میں دیکھ لو‘ غیر قوموں کی عورتیں زیادہ نکلتی اور اغوا ہوتی ہیں سوائے ان قوموں کی عورتوں کے جن کی مالی یا اخلاقی حالت لوگوں نے خراب کر دی ہے- غرض اسلام نے زوجیت کے تعلق کی ابتداء ایسے اصول پر رکھی کہ اس کی کوئی اور مثال نہیں مل سکتی- پھر دھوکے بازی سے بچنے کیلئے یہ حکم دیا کہ نکاح علی الاعلان ہو- جو علی الاعلان نہیں وہ نکاح ہی نہیں- اس سے بھی بہت سے فسادات کا انسداد ہو جاتا ہے- پوشیدہ طور پر تو کوئی غلط بات ظاہر کر کے دھوکا بھی دے سکتا ہے لیکن اعلان سے عام طور پر عیوب کھل جاتے ہیں- پھر تمدنی خرابیوں کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ مرد چونکہ کماتا ہے دولت اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس لئے وہ ناجائز طور پر عورت کو خرچ وغیرہ سے تنگ کر سکتا ہے اور عورت کو اس کا محتاج رہنا پڑتا ہے- یورپ نے اس کا یہ علاج تجویز کیا ہے کہ وہ نوکریاں کرنے لگ گئی ہیں نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ بعض ملکوں کی نسلیں کم ہونا شروع ہو گئی ہیں اور بعض ملکوں میں دس سال کے اندر چار‘ پانچ فیصدی نسل کم ہو گئی ہے- اسلام نے اس کا علاج یہ رکھا ہے کہ ہر شخص کی حیثیت کے مطابق عورت کا مہر مقرر کر دیا علاوہ اخراجات کے- گویا مہر عورت کا جیب خرچ ہے دوسری سب ضرورتیں پھر بھی خاوند کے ذمہ ہیں اور مہر اس کے علاوہ ہے- جس سے وہ ان ضرورتوں کو پورا کر سکتی ہے جو وہ خاوند کو نہیں بتانا چاہتی- مثلاً اس کے والدین غریب ہیں اور وہ ان کی مدد کرنا چاہتی ہے لیکن ساتھ ہی خاوند پر اپنی یہ خواہش ظاہر کر کے اس کی نظروں میں خود ذلیل ہونا اور والدین کو ذلیل کرنا نہیں چاہتی- یا مثلاً اس کے والدین فوت ہو چکے ہیں اور وہ اپنے بھائیوں کو تعلیم دلانا چاہتی ہے اور ساتھ ہی اس کی غیرت یہ بھی برداشت نہیں کرتی کہ خاوند کا احسان برداشت کرے اس لئے اسلام نے پہلے دن سے عورت کے ہاتھ میں مال دے دیا- جس دن شادی ہوتی ہے خاوند کا مال کم ہو جاتا ہے کیونکہ اسے مہر کے علاوہ اور بھی اخراجات کرنے پڑتے ہیں لیکن نکاح کے ساتھ ہی عورت کا مال بڑھ جاتا ہے- گویا وہ اسی دن سے اس لحاظ سے خاوند کے بے جا تصرف سے آزاد ہو جاتی ہے اور اس طرح جو جھگڑے وغیرہ یورپ میں پیدا ہو رہے ہیں اسلام نے پہلے دن سے ہی ان کا انسداد کر دیا-
    پھر مرد و عورت کے تعلقات میں ایک وجہ فساد یہ ہوتی ہے کہ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں میرا بچہ نہیں اور یہ ایک ایسا نازک معاملہ ہے جس کا علاج کوئی نہیں کیونکہ اس بات کا کسی کے پاس کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ میاں بیوی فی الواقعہ باہم ملے- بعض لوگوں نے اس کے لئے بعض ذرائع تجویز کئے لیکن وہ نہایت گندے ہیں- مثلاً بعض اقوام میں یہ رواج ہے کہ ملوث پارچات دکھاتے ہیں لیکن یہ نہایت ہی خطرناک طریق ہے اور اس میں سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ بعض عورتوں کا خون نکلتا ہی نہیں اور چونکہ سب لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں اس لئے گندے کپڑوں کی نمائش سے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ عورت بدکار تھی حالانکہ وہ ایسی نہیں ہوتی- شریعت اسلامیہ نے اس کے لئے کیا لطیف طریق رکھا ہے اور وہ یہ کہ جب میاں بیوی ملیں تو اگلے روز ولیمہ کی دعوت کی جائے- اس طرح بغیر ایک لفظ منہ سے نکالے یہ اعلاج ہو جاتا ہے کہ میاں بیوی آپس میں مل گئے ہیں-
    پھر ایک بات اسلام نے یہ رکھی کہ نکاح سے قبل استخارہ کر لو- رسول کریم ~صل۲~ نے ہر اہم امر میں استخارہ کا حکم دیا ہے بالخصوص شادی کے بارے میں-۷~}~ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جلد بازی کے برے انجام سے انسان بچ جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی مدد حاصل کر سکتا ہے- جلد بازی سے بھی کئی جھگڑے پیدا ہو جاتے ہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ بڑا اچھا رشتہ ہے آج ہی کر لو لیکن مقصد ان کا یہ ہوتا ہے کہ ان کے عیوب ظاہر نہ ہونے پائیں- لیکن اگر سات روز تک استخارہ کیا جائے تو اس عرصہ میں اور لوگوں سے بھی شادی کا ذکر آئے گا اور اس طرح بات کھل جائے گی- پھر استخارہ کی وجہ سے جذبات دب جاتے ہیں اور انسان روحانی تصرف کے ماتحت ہوتا ہے- خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت اس کے علاوہ ہے-
    شادی کے بعد پھر میاں بیوی کے تعلقات شروع ہو جاتے ہیں- اس میں بھی اسلام کا دیگر مذاہب کی تعلیم سے تصادم ہوتا ہے- باقی سب مذاہب اسے ناپاک قرار دیتے ہیں وہ اس کی اجازت بھی دیتے ہیں مگر اس کے باوجود اسے ادنیٰ اور ذلیل قرار دیتے اور شادی نہ کرنے کو بہتر سمجھتے ہیں- اس کا نتیجہ یہ ہے کہ فطرت سے مجبور ہو کر ان تعلقات کو قائم بھی کیا جاتا ہے مگر چونکہ دل میں یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ ناپاک تعلقات ہیں اس لئے دل پر زنگ لگتا رہتا ہے کہ ہم یہ برا کام کر رہے ہیں- گاندھی جی نے لکھا ہے- میں جب بھی بیوی کے پاس جاتا تو میرے دل پر ایک بوجھ ہوتا کہ میں برا کام کر رہا ہوں- آخر ہم نے قسم کھائی کہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے یہ ہندو دھرم کی تعلیم کا اثر تھا- ایک طرف تو فطرت میں ایسا جذبہ ہے- پھر اولاد کی خواہش ہوتی ہے- صحت کے لئے بھی ضروری ہوتا ہے لیکن دوسری طرف یہ خیال ہوتا ہے کہ بری بات ہے- نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ کام کرتے بھی ہیں اور دل سیاہ ہوتا جاتا ہے کہ ہم برا کام کر رہے ہیں- اسلام نے بتایا کہ یہ خیال غلط ہے- اگر اس خیال کے ماتحت تعلقات قائم کرو گے تو بچہ کے دل میں بھی یہ خیال ہوگا اور گناہ کی مہر لے کر رحم مادر سے نکلے گا- اس کی بنیاد ہی گناہ پر ہوگی اور وہی مثال ہوگی کہ
    خشت اول چوں نہد معمار کج
    تاثریا مے رود دیوار کج
    بچے کی پیدائش کی بنیاد ہی جب گند پر ہوگی تو اس کا دل کبھی پاک نہ ہو سکے گا-
    رسول کریم ~صل۲~ نے فرمایا یہ تعلقات پاکیزہ ہیں اور جو شادی نہیں کرتا وہ غلطی کرتا ہے- رہبانیت پسندیدہ چیز نہیں جس شخص نے شادی نہ کی اور وہ مر گیا- فھو بطال ۸~}~اس کی عمر ضائع گئی-
    غرض آپ نے بتایا کہ یہ تعلق گندہ نہیں بلکہ انسانی صحت اور دماغی ترقی کا منبع ہے- میاں بیوی گویا پاکیزہ محبت کا مدرسہ اور محبت کی پہلی کڑی ہیں اور اسلام نے یہ کہہ کر کہ یہ پاکیزہ تعلقات ہیں گناہ کے احساس کو مٹا دیا- گناہ کے احساس کی وضاحت کے لئے ایک مثال دے دیتا ہوں- فرض کرو کہ ایک شخص کہیں سفر پر جا رہا ہے سٹیشن پر آ کر گاڑی میں بیٹھ گیا بعد میں بیوی کو خیال آیا کہ میاں کو کھانے کی تکلیف ہوگی اس نے کھانا تیار کر کے کسی کے ہاتھ سٹیشن پر بھیج دیا- گاڑی روانہ ہو رہی تھی اور وہ بمشکل کھانے کو اس ڈبہ میں رکھ سکا جس میں میاں بیٹھا ہے لیکن اسے اطلاع نہ دے سکا- دوران سفر میں اسے بھوک لگتی ہے اور وہ کھانا کھانے لگ جاتا ہے لیکن ساتھ ہی اسے یہ احساس ہے کہ ممکن ہے یہ کسی اور کا ہو- اس صورت میں اگرچہ کھانا اسی کا ہے لیکن اس احساس کی وجہ سے اس کے دل پر چوری کا زنگ لگتا جائے گا- تو اصل چیز احساس ہوتا ہے اور اسلام نے ان تعلقات سے گناہ کے احساس کو مٹا دیا- اور پھر یہ بتایا کہ شادی محبت کے اجتماع کا نام ہے اور چونکہ محبت جب پورے جوش پر ہو تمام دوسرے تعلقات دب جاتے ہیں اس لئے شریعت نے حکم دیا کہ جب میاں بیوی ملیں تو دعا کریںاللھم جنبنا الشیطن وجنب الشیطن ما رزقتنا ۹~}~یعنی اے اللہ ہمیں بھی شیطان سے بچا اور اس میل کے نتیجہ میں اگر کوئی اولاد ہونے والی ہے تو اسے بھی بچا- میاں بیوی کی محبت پاک ہی سہی مگر ایسا نہ ہو کہ ادنیٰ خیالات اعلیٰ پر غالب آ جائیں اور اس طرح محبت کے جذبات کے غلبہ کے باعث جس نقصان کا احتمال ہو سکتا تھا اس کا بھی انسداد کر دیا- پھر اس موقع پر جس قدر توجہ ایک دوسرے کی طرف یہ ہوتی ہے اس کے نتیجہ میں روحانی طاقتیں باہر کی طرف جاتی ہیں- میاں بیوی کا یہ تعلق ایسا ہوتا ہے کہ ایک دوسرے میں جذب ہونے کی کوشش کرتا ہے- اس کے نتیجہ میں ایسی رو پیدا ہوتی ہے کہ دماغی توجہات کو ایک ہی طرف بدل دیتی ہے اس کے لئے اسلام نے غسل رکھا تا ایسا نہ ہو کہ دماغ اس طرف لگا رہے بلکہ جسم ٹھنڈا ہو کر بھاپ بند ہو جائے- گویا غسل ان نقائص کو دور کرنے کے لئے ہے جو باہم ملنے سے قدرتی طور پر پیدا ہو سکتے تھے- اور غسل کے ذریعہ پھر ان طاقتوں کو مجتمع کر دیا تا دوسری طرف ان کو لگایا جا سکے- پھر ان تعلقات کو محدود کیا- بعض حالتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں میاں بیوی کا آپس میں ملنا درست نہیں ہوتا- بعض شرائع نے ایسی حالت کو گند قرار دیا ہے اور تورات کا حکم ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو اسے الگ رکھا جائے اور ہاتھ تک نہ لگایا جائے- بعض نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر وقت مرد و عورت مل سکتے ہیں لیکن یہ دونوں باتیں تمدن کے لئے تباہ کن ہیں- اگر بالکل علیحدہ کر دیا جائے تو عورت حقیر اور ذلیل خیال کی جائے گی اور اگر ملنے کی اجازت ہو تو یہ دونوں کی صحت کے لئے تباہ کن ہے اس لئے اسلام نے یہ تعلیمی دی کہ ھواذی ۱۰~}~ تکلیف کی چیز ہے- اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے- لیکن عورت ایسی ہی پاک ہے جیسے تم- گویا ایک طرف تو علیحدگی کا حکم دیا تا قوتیں پھر نشوونما پائیں اور دوسری طرف گند کے نقصانات سے آگاہ کر دیا-
    پھر بہت سے فتنے اس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ بعض مذاہب میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عورت کی روح اور ہے اور مرد کی اور بلکہ بعض عیسائیوں میں تو یہ خیال بھی ہے کہ عورت کی روح ہوتی ہی نہیں- مگر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایامن انفسکم ۱۱~}~ جیسی روح تمہاری ہے ویسی عورتوں کی ہے- اب دیکھو‘ کیسی امن کی تعلیم ہے عام طور پر اس لئے لڑائی جھگڑا ہوتا ہے کہ مرد سمجھتے ہیں عورت میں حس ہوتی ہی نہیں اچھا کھانا‘ پہننا‘ سیرو تفریح سب اپنے لئے ہے- ایسے لوگ عورت کو جب چاہیں مارپیٹ لیں گے اور بلاوجہ اپنی سیادت جتاتے رہیں گے کیونکہ کہ وہ سمجھتے ہیں عورت میں حس نہیں- حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے پنجاب میں تو عام طور پر عورت کو جوتی سمجھا جاتا ہے لیکن قرآن کریم نے بتایا کہ من انفسکم تم میں اور عورت میں کوئی فرق نہیں- جس طرح بری بات تمہیں بری لگتی ہے اس طرح اس کو بھی بری محسوس ہوتی ہے اور اسے بھی تمہاری طرح ہی اچھی باتوں کی خواہش ہے-
    یہ مضمون تو بہت لمبا ہے اور ابھی میں نے اس کا پہلا حصہ ہی بیان کیا ہے مگر چونکہ مغرب کا وقت ہو چکا ہے اس لئے اسے بند کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں توفیق دے کہ رسول کریم ~صل۲~ کی اصلی شان کو دنیا میں پیش کر سکیں- تا وہ لوگ بھی جو اس سے اس وقت دور ہیں قریب ہو جائیں اور ساری دنیا اس اخوت میں پروئی جائے جس کے لئے خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور وہ لڑائی جھگڑے دور ہو جائیں جنہوں نے ایک آدم کی اولاد کو دو کیمپوں میں تقسیم کر رکھا ہے-
    ۱~}~
    الجمعہ : ۲ تا ۵


    ‏ ۲2]~}~ f[rt
    الشعراء : ۴


    ۳~}~
    بخاری کتاب الجنائز باب مایکرہ من اتخاذ المساجد علی القبور
    ۴‘۵~}~
    النور : ۳۶


    ۶~}~
    ابن ماجہ کتاب النکاح باب من زوج ابنتہ وھی کارھہ بخاری کتاب الحیل باب فی النکاح
    ‏]1h [tag۷~}~
    بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء عندالا ستخارہ
    ۸~}~

    ۹~}~
    بخاری کتاب الدعوات باب مایول اذاتی اھلہ
    ۱۰~}~
    البقرہ : ۲۲۳
    ۱۱~}~ النحل : ۷۳
    ‏ a12.10,a
    انوار العلوم جلد ۱۲
    مستورات سے خطاب
    مستورات سے خطاب

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    مستورات سے خطاب
    )فرمودہ ۲۷- دسمبر ۱۹۳۲ء برموقع جلسہ سالانہ(
    تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا-:
    جس طرح اعصاب اور رگوں کا آپس میں تعلق ہوتا ہے اسی طرح عورتوں اور مردوں کے تعاون کے ساتھ دنیا کا نظام چلتا ہے- مگر آج کل کے زمانہ میں ہر طرف جنگ شروع ہے- آپس میں نااتفاقی بڑھ رہی ہے اور پیشگوئی ہے کہ قیامت کے قریب سب نعمتیں مٹا دی جائیں گی- سب و حوش یعنی غیر تعلیم یافتہ قومیں اور ادنیٰ قومیں ملائی جائیں گی اور ان کو اٹھایا جائے گا تمام بنی آدم مساوات چاہیں گے- اس واسطے بنی آدم کے اس حصہ کو بھی یعنی عورتوں کو احساس ہوا کہ ہم بھی مساوات وغیرہ میں حصہ لیں اس لئے عورتوں نے بھی جنگ اور جھگڑوں میں حصہ لینا شروع کیا- ہمارے ملک میں مثل مشہور ہے کہ خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے اور اس کا نام بھیڑ چال بھی رکھا ہے- گویہ ملکہ اور جذبہ ہر ایک ملک میں پایا جاتا ہے مگر ہمارے ملک میں یہ بہت زیادہ ہے- جس طرح ایک گیدڑ بھاگا جاتا تھا کسی نے پوچھا کہاں بھاگے جاتے ہو- کہنے لگا بادشاہ سلامت نے حکم دیا ہے کہ شہر کے تمام اونٹ پکڑ لئے جائیں- اس نے کہا تم تو گیڈر ہو اور حکم اونٹوں کیلئے ہے- کہنے لگا شاید گیڈر بھی پکڑے جائیں- تو بعینہ یہی طریقہ ہمارے ملک کی عورتوں نے اختیار کیا کہ عیسائی اور ہندو وغیرہ عورتوں کی ریس میں آ کر کہہ دیا کہ ہمیں ہمارے حقوق دیئے جائیں حالانکہ مرد کون ہوتے ہیں ان کو حقوق دینے والے ان کو خود خدا تعالیٰ نے حقوق دیئے ہیں- قرآن کریم میں جس طرح مسلمان عورت کی تعریف آئی ہے کسی کتاب یا مذہب میں نہیں پائی جاتی- عیسائیوں کا مذہب ہے کہ عورت میں روح ہی نہیں- دوسرے مذاہب میں کہیں تو عورت کو شیطان کا آلہ اور کہیں شر کی جڑ اور کہیں کچھ کہیں کچھ کہہ دیا ہے مگر اسلام نے قرآن نے جہاں مومن مرد کا ذکر فرمایا وہیں مومنات عورتوں کا ذکر بھی فرمایا- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رسولکریم ~صل۲~ کی بیوی کی حیثیت سے ہی قدر نہیں بلکہ عائشہ‘ عائشہ ہو کر مشہور ہوئیں- پھر عیسائیت میں عورت کا حق کوئی نہیں رکھا گیا بلکہ ماں کا بھی حق نہیں رکھا ہے کیونکہ حضرت مسیح کو جب یہ کہا گیا کہ مریم ملنے آئی ہے تو کہا مریم کون ہے؟ جا اے عورت! میں تجھ کو نہیں جانتا-۱~}~ سو جب کہ ماں کا حق نہیں جانا تو بیوی کا حق بھلا کیا جانے گا- تو عیسائی جب کہ عورت میں روح ہی نہیں مانتے تو حق کیا دیں گے اور مسلمان عورتوں نے ان کی ریس کی- عقلمند آدمی کا قاعدہ ہے کہ وہ کسی کے زیر اثر نہ ہو- اسلام نے عورت کو مساوی حقوق دیئے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر- دیکھو عورت کے نکاح پر مہر پہلے دلواتا ہے اور وہ محض اس کی ملکیت قرار دیا گیا جس پر کسی اور کا تصرف نہیں ہو سکتا- فرانس ایسا ملک ہے کہ وہاں کی تہذیب و تمدن سب یورپ میں آزادانہ ہے- چونکہ عورت کو کوئی حق نہیں دیا گیا اس لئے وہاں کی عورتوں نے اپنے حقوق لینے کیلئے جنگ شروع کی اور محض بھیڑ چال کے طور پر ہماری مسلم عورتوں نے بھی اپنے حقوق لینے کا مطالبہ کیا حالانکہ ان کو خدا نے سب حقوق دیئے تھے مگر خدا جانے وہ کیوں مانگنے لگیں-
    ہاں انہوں نے اپنے ملے ہوئے حقوق کو استعمال نہیں کیا- غیر مسلم عورتوں کو تو حقوق ملے ہی نہیں تھے تب ان کا مطالبہ تھا مگر مسلم عورت کو تو خود خدا نے حقوق دیئے- اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے حقوق کو استعمال کرنا نہیں سیکھا اور نہ ان کو استعمال کرنے آتے ہیں-
    سو تم بجائے جھگڑے اور حقوق طلبی کی جدوجہد کے اپنے حقوق کو جو اسلام نے تم کو دیئے ہیں استعمال کرنا سیکھو- یونہی غلطی کھا کر شوروغل کرنا تو پھر وہی مثال ہوگی جیسا کہ ایک بادشاہ کے کسی قابل سپاہی کو تلوار چلانا عمدگی سے آتی تھی اور شہزادہ صاحب کو ریس آئی کہ بادشاہ سلامت کی اس پر اتنی مہربانی اور شفقت ہے کہ ہر روز انعامات دیتے اور قدر افزائی کرتے ہیں بادشاہ کے حضور عرض کیا کہ مجھے ایک عمدہ تلوار دی جائے- بادشاہ نے سپاہی کو بلایا کہ تلوار شہزادہ کو دے دو- بہادر سپاہی نے بہتیرا عرض کیا کہ حضور ان کو چلانی نہیں آتی کہیں ٹیڑھی اور غلط چلا کر الٹا نقصان کریں گے مگر شہزادہ کی ضد برابر جاری رہی- آخر تلوار حاصل کر لی اور غلط انداز سے چلا کر اپنا بازو کاٹ لیا اس پر بادشاہ نے ڈانٹا اور وہ مورد عتاب ہوا- تو ٹھیک اسی طرح مسلمان عورتوں کو حقوق کا استعمال کرنا نہیں آتا- دیکھو اسلام میں بچے کو ماں کا دودھ چھڑانے کے متعلق بھی حکم ہے کہ آپس کے مشورے سے چھڑائو-
    مہر کے متعلق فرمایا تمہاری ملکیت ہے چاہے جس طرح استعمال کرو- تو لوگوں نے اس پر غلطی یہ کی کہ مہر دس لاکھ یا اس سے بھی زیادہ باندھنے شروع کئے- کیا فائدہ اگر کسی کی آمدنی ایک پیسہ کی بھی نہ ہو اور مہر باندھ لے لاکھ دو لاکھ تا کہ وہ ادا نہ ہو سکے- یہ کوئی فخر یا اظہار دولتمندی کا طریقہ نہیں- ایسی ایسی مشکلات لوگوں نے صحیح طور پر حقوق کا استعمال نہ سیکھنے کی وجہ سے خود بخود اپنے اوپر ڈال لی ہیں- الغرض مسلمان عورت کو خدا نے تو ہر طرح کے حقوق دیئے ہیں چاہئے کہ ان کا صحیح طور سے استعمال کرنا سیکھے- اگر انسان کے پاس ایک بہت عمدہ گھوڑا ہے مگر وہ اس پر چڑھنا نہیں جانتا تو گھوڑا بے فائدہ ہے- صحیح استعمال کے بعد ارادہ کی ضرورت ہے اگر انسان کو علم بھی ہو‘ قابلیت بھی ہو‘ ارادہ نہ ہو تو وہ قابلیت بھی کچھ مفید نہیں- بعض لوگ عالم اور قابل ہوتے ہیں مگر ارادہ نہیں ہوتا تو وہ کچھ بھی کام نہیں کر سکتے- پھر نیت پختہ اور عمل ہو جب کام کا ارادہ کرے اس پر عمل کرے- بعض لوگ کسی کام کا علم رکھتے ہیں‘ قابلیت بھی ہوتی ہے‘ ارادہ بھی کرتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے تو ان کی مثال اس بڑھیا کی سی ہوتی ہے جس نے اپنے گھر کا دروازہ لگوا کر بھی اسے کتوں کے لئے کھلا چھوڑ دیا تھا- ہمارے ملک میں عورتوں نے غلظی سے ¶سمجھ لیا ہے کہ ہمارے حقوق پر مردوں نے قبضہ مخالفانہ کر رکھا ہے- سو مسلمان عورتوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے اسلام کے دیئے ہوئے حقوق کا استعمال کرنا نہ سیکھیں گی تو شکوہ بے فائدہ ہوگا-
    اسلام میں دیئے ہوئے حقوق اگر دریافت کرنے ہوں تو قرآن پڑھو حدیث کا مطالعہ کرو پھر اس کی صحیح تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام کی کتب سے ملے گی- دیکھو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے ایک دفعہ اپنی بیوی سے کوئی سخت بات کی تو الہام ہوا کہ مسلمانوں کے لیڈر سے کہہ دو کہ یہ بات اچھی نہیں۲~}~ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طرز عمل اور عمدہ معاشرت سے سبق سیکھو کہ آپ نے اصل اسلام کے طریقہ پر عمل کر کے دکھا دیا کہ عورت کی کتنی قدر اسلام نے رکھی ہے- بے شک لوگ دعویٰ کرتے ہیں اور بڑے بڑے لیڈران ملک حامی حقوق نسواں بھی ہیں اور سر سید احمد خاں وغیرہ بہت لائق لیڈر تھے مگر ان کی جماعت خود اسلام پر اعتراض کرتی ہے- دوسرے مذہب عیسائی تو خیر ہیں ہی دشمن اسلام ان کا تو کام ہی یہی ہے مگر ہماری عورتیں اگر اپنا دین سیکھیں‘ قرآن مجید کو پڑھیں تو ان کو معلوم ہوگا کہ غیر مذہب کے اعتراضات کا کیا جواب ہو سکتا ہے- قرآن شریف ایک جامع کتاب ہے اس میں سے سب کچھ معلوم ہو سکتا ہے بشرطیکہ تدبر اور غور سے پڑھا جائے- دیکھو میں چونکہ صحت کا کمزور تھا اور شروع سے ہی مدرسہ میں میرا لحاظ کیا جاتا تھا اس لئے پرائمری سے انٹرنس تک میں نے کوئی امتحان پاس نہیں کیا- مگر میں نے صرف قرآن مجید پڑھا- فلسفہ منطق وغیرہ میں نے نہیں پڑھا- مگر اب تک میں خدا کے فضل سے اور صرف قرآن مجید پڑھنے کے باعث ہر ایک بڑے انسان سے‘ غیر مذاہب کے پیشوائوں سے‘ بڑے بڑے لیکچراروں اور مدبروں سے گفتگو کرنے پر کبھی بھی نہیں جھجکا اور نہ کسی بڑے سے بڑے لیکچرار‘ پرنسپل‘ بشپ تک نے میرے سامنے کبھی گفتگو کی جرات کی- میں یورپ میں گیا تو بھی انگریزی میں برابر مضمون بیان کرتا اور بڑے بڑے فلسفیوں کی مجالس میں برابر گفتگو کرتا اور دل میں کوئی رکاوٹ نہ ہوتی- مگر یہ میرے ذہن کی کوئی خوبی نہیں بلکہ میرے پاس قرآن کی تلوار ہے- پس اگر تم بھی قرآن‘ حدیث اور احمدیت کی کتابیں پڑھو گی تو پتہ لگے گا کہ اسلام کیسا عمدہ مذہب ہے- کوئی عیسائی جرات نہیں کر سکتا کہ احمدیوں کے سامنے آئے- تمہارے پاس قرآن کا ہتھیار ہونا چاہئے- دیکھو کوئی ڈاکٹر کامیاب نہیں ہو سکتا محض اپنی دوائوں یا عمدہ چمکدار اوزاروں سے بلکہ خود اس کی دماغی قابلیت ہونی چاہئے- اگر قابلیت نہ ہو تو اوزار یا دوائیں کچھ بھی مفید نہیں ہو سکتیں-
    چند اخلاق کے ساتھ قابلیت پیدا ہوتی ہے- ایک شکر ہے- شکر گزاری کے ساتھ بہت سے نیک اخلاق پیدا ہوتے ہیں اور شکر گزاری کے ساتھ ترقی اور بہتری کے سامان پیدا ہوتے ہیں- شکریہ ادا کرنے کا فعل قوم کے اندر محبت اور اتحاد پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے- جب کسی نیک تحریک پر شکریہ ادا کر کے اپنا فرض ادا کرتے ہیں تو بہت سے نیک اخلاق پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں- حضرت جنید~رح~۳~}~ )یا شبلی فرمایا( رحمہ اللہ علیہ ایک بزرگ گزرے ہیں- وہ پہلے کسی صوبہ کے گورنر تھے- ایسے نیک اور صالح بزرگ تھے کہ اولیاء کرام میں سے ہوئے- چنانچہ ان کے نام پر لوگ بچوں کے نام رکھتے ہیں )چنانچہ ہمارے قاضی اکمل صاحب کے بچوں کے نام جنید و شبلی ہیں( ان کا ذکر ہے کہ بادشاہ نے ان کو زمانہ گورنری میں ان کی حسن خدمات کے صلہ میں بہت اعلیٰ درجہ کا خلعت بخشا- جب وہ خلعت پہن کر دربار میں بادشاہ کے حضور بیٹھے تو چھینک آ گئی تو اپنی ناک اسی خلعت فاخرہ کے دامن سے پونچھ لی- بادشاہ نے دیکھ لیا اور سمجھا کہ ہماری خلعت کی بے حرمتی کی ہے- غلاموں کو حکم دیا فوراً ان سے چھین لو- چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور دربار سے نکال دیا کہ جائو تم میں اعزاز شاہی کے شکریہ کی قابلیت نہیں- کہتے ہیں کہ یہ بہت سخت حاکم اور ظالم گورنر تھے مگر پھر ایسے نرم دل اور عاجز بندے خدا کے ہو گئے کہ جن جن افراد رعیت کو ستایا تھا ان کے دروازے پر جا کر معافی طلب کی اور تقصیریں معاف کروائیں اور توبہ کی اور عبادت الہی میں مصروف ہوئے-۴~}~ text] [tag یہ اس خلعت کے واقعہ کا اثر تھا- آپ سمجھ گئے کہ اے مولا! جب انسان کے ایک خلعت کی تحقیر کر کے ایسی سزا پائی ہے تو تو نے جو نعمتیں بخشیں ان کا شکریہ ادا نہ کرنے پر تو بہت زیادہ مستحق سزا ہوں گا- چنانچہ پھر وہ شکریہ رب ادا کرنے سے اولیاء کرام میں سے ہو گئے- سو تم زیادہ شکر گزار بنو- رسول کریم ~صل۲~ نے فرمایا ہے میں نے دوزخ میں زیادہ حصہ عورتوں کا دیکھا کیونکہ وہ ناشکری ہوتی ہیں-۵~}~
    پھر عورتوں میں تعاون نہیں ہوتا اور یہ ہمارے ملک میں ہی نہیں بلکہ یورپ کی عورتیں بھی تعاون نہیں کر سکتیں- میں یورپ میں گیا تو ایک عورت نے سوال کیا کہ کیا تمہارے ملک میں دروازے ہوتے ہیں )یورپ کے لوگ عموماً دروازے بند رکھتے ہیں( تو میں نے کہا دروازے ہوتے ہیں اور پھر کھلے رہتے ہیں تو اس عورت نے غلطی سے سمجھا کہ ہم پر اعتراض کیا ہے کہ یورپ کے لوگ مہمان نواز نہیں ہوتے اور ہم مہمان نواز ہیں- پھر شکر کے ساتھ آپس میں ہمدردی ہونی چاہئے-
    پھر عورتوں کو بہت زیادہ صبر کرنے کی بھی مشق چاہئے جو ان میں بہت کم ہے- صبر کا جذبہ مشق کرنے سے پیدا ہوتا ہے جو ہمارے ملک کی عورتوں میں بہت ہی نایاب ہے کیونکہ ان کو عادت نہیں اور یہ محنت اور بہادری سے آتا ہے- یہاں تو اگر کوئی ذرا بھی تکلیف پہنچ جائے تو یہ رونے لگ جاتی ہیں حالانکہ ملکوں کے ساتھ جنگ ہو تو رونا کیسا؟ تحمل‘ برداشت اور صبر کی صحابیات میں بہت مشق تھی- ایک صحابیہؓ کا ذکر ہے کہ ان کا جنگ میں باپ‘ بیٹا‘ خاوند شہید ہوئے تو کچھ پرواہ نہ کی اور بار بار رسول اللہ ~صل۲~ کی خیریت دریافت فرماتیں اور پھر حضور کی زندگی کی خوشخبری سن کر کہا رسول اللہ زندہ ہیں تو کچھ پرواہ نہیں-]71 [p۶~}~ اسی طرح ایک صحابیہ بی بی نے جنگ میں دشمنوں میں گھرے ہونے پر خیموں کے ڈنڈے اکھاڑ کر اتنی جنگ کی کہ دشمن کا ناطقہ بند کر دیا اور ان کو بھگا دیا۷~}~ مگر ہمارے ملک کی عورتیں ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونے لگ جاتی ہیں کہ میرا صبر‘ یہ صبر کوئی صبر نہیں ہوتا- چنانچہ رسول کریم ~صل۲~ کی نسبت آیا ہے آپ کہیں تشریف لے جا رہے تھے ایک عورت بے تابی سے رو رہی تھی- آپ نے دریافت فرمایا کیوں روتی ہے؟ عرض کیا گیا حضورﷺ~ اس کا بچہ فوت ہو گیا ہے- آپ نے اس عورت کے پاس جا کر فرمایا صبر کرو- وہ جواب دیتی ہے کہ جس کے دل کو لگے وہی جانے- اے شخص )اس نے رسول کریمﷺ~ کو پہچانا نہ تھا( تیرا بھی کوئی بچہ مرتا تو جانتا کتنا دکھ ہوتا- آپ نے فرمایا میرے تو کئی بچے مر گئے ہیں- پیچھے جب اس کو کسی نے بتایا کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو وہ عورت دوڑی آئی کہ یا رسول اللہﷺ~ میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا اب صبر کرتی ہوں معاف فرمائیں- آپ نے فرمایا اب کیا صبر ہے! صبر تو پہلے کرنا تھا رو دھو کر صبر کرنا بے فائدہ ہے-۸2]~}~ f[rt تو تم بھی اگر صحابیات کی طرح صبر کرنے کی مشق کرو گی تب کچھ ملکی معاملات اور حقوق کو استعمال کرنے کی قابلیت پیدا کرو گی- ورنہ جو آدمی ذرا ذرا بات میں صبر اور تحمل‘ برداشت کی عادت نہیں رکھتا وہ ملکی معاملات میں کیا ہمت دکھلا سکتا ہے- تمہارا دماغ غم و الم وغیرہ سے خالی ہوگا تب کچھ کام کر سکو گی ورنہ یوں ہی زبانی واویلا بے کار ہے-
    پھر جرات ہے یاد رکھو انسان سے جرات سب کام کرواتی ہے- اگر دل میں جرات ہو تو انسان بہادری سے کام کر سکتا ہے ورنہ کچھ نہیں کر سکتا- اپنی دلی جرات جس طرح کام کرواسکتی ہے کسی دوسرے کی امداد سے وہ کام ہر گز نہیں ہو سکتا-
    ایک واقعہ کشمیریوں کا لکھا ہے کہ کشمیری قوم کے لوگ ایک فوج میں بھرتی ہوئے- جب جنگ ہونے لگی جرنیل نے حکم دیا کہ فلاں جگہ فوج کھڑی ہو- تو ایک دو سپاہی افسر کے پاس جا کر عرض کرنے لگے کہ حضور ہمارے ساتھ کوئی پہرہ دار ہونا چاہئے جو ہماری حفاظت کرے- افسر نے سمجھ لیا کہ یہ بزدل ہیں- چنانچہ اب کشمیریوں کو فوج میں بھرتی نہیں کیا جاتا- مگر ہمارے ایک بزرگ بادشاہ ہوئے ہیں انہوں نے چیونٹی سے سبق لیا کہ وہ کئی بار ان کے سامنے دیوار پر سے گری اور پھر چڑھی- آخر پوری دیوار طے کر کے کامیاب ہو گئی تو اس سے بادشاہ نے سبق لیا اور کئی بار ہارنے پر آخر فاتح شہنشاہ بن گئے- یہ جرات اور ہمت تھی-
    کہتے ہیں رستم ایک بار کسی پہلوان سے شکست کھا کر نیچے گر پڑا- مگر اس کی بہادری اور ہمت کا رعب مشہور تھا تو اس نے سوچا کہ آئو ہمت کر کے چھوٹ جائوں- چنانچہ جب کہ دشمن اس کی پیٹھ پر سوار تھا اور گردن دبائے بیٹھا تھا اس نے جرات کر کے اسے زور کی آواز سے ڈرایا کہ رستم آ گیا- رستم آ گیا تو دشمن یہ نام سن کر سہم گیا اور بھاگ گیا- اپنے نام کی آڑ لے کر رستم زندہ و سلامت رہ گیا- تو جرات اور ہمت کے بغیر بھی انسان ناکام رہتا ہے-
    پھر انکسار اور تواضع ہے- ہمارے ملک میں تواضع بہت اچھا لفظ رائج ہے مگر اس کے معنی کم لوگ جانتے ہیں- اگر کوئی کسی کو اچھی طرح روٹی کھلا دے تو کہتے ہیں بھئی بڑی تواضع کی- یا کوئی حاکم تھانہ دار کسی گائوں میں چلا جائے تو اس کی خاطر تواضع کرنا بولتے ہیں مگر اصل ترجمہ تواضع کا نہیں جانتے- ذکر ہے کہ ایک بادشاہ بذات خود بھیس بدل کر شہروں میں پھرا کرتا ایک دن کسی ایسے مقام پر جا نکلا جہاں ایک جمعدار پہرہ پر کھڑا تھا- اس نے بادشاہ کو بھی جو بھیس بدلے ہوئے تھا معمولی آدمی سمجھ کر نخوت اور غرور سے گزرنے نہ دیا اور کہا تو جانتا نہیں میرا کیا عہدہ ہے؟ بادشاہ نے پوچھا حضور آپ کا کیا عہدہ ہے- کیا سپاہی؟ کہا ذرا اوپر چڑھو- اس نے کہا کیا جمعدار؟ کہا ہوں- پھر سپاہی نے پوچھا تو کون ہے تھانہ دار؟ بادشاہ نے بھی کہا ذرا اور اوپر بڑھو- پھر اس نے کہا اور اوپر بڑھو- سپاہی نے کہا ڈپٹی؟ اس نے کہا ذرا اور اوپر بڑھو- اسی طرح سوال و جواب سے بادشاہ کے عہدہ تک پہنچا- آخر سپاہی نے شرمندہ ہو کر معافی طلب کی تو بعض لوگ تواضع اور انکسار کرنا نہیں جانتے- کسی کو ذرا دنیاوی قدر مل جائے پھر نخوت اور تکبر سے بھر جاتے ہیں غرور سے پائوں زمین پر رکھنا بھول جاتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ بڑے لوگ اگر انکسار کریں تو ان کی قدر افزائی ہوتی ہے اور عزت بڑھتی ہے- دیکھو زار روس کی تباہی قیصر جرمنی کی شکست محض غرور اور نخوت اور انکسار نہ کرنے کے سبب سے ہوئی- مگر بادشاہ جارج پنجم کی بہت بڑی عزت ہے- رعیت کو اگر انکسار اور تواضع سے پیش آئیں تو ہزار گنا زیادہ عزت ہوتی ہے- شہنشاہ معظم کی رعایا ان کے انکسار کے طرز عمل سے قدر کرتی ہے- بڑے لوگ اگر انکسار کریں تو لوگ ان کو آنکھوں پر بٹھاتے‘ ان کی دل و جان سے خدمت کرتے ہیں- قوم کا امیر ان کا خادم ہوتا ہے- حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عین اسلام پر عمل درآمد فرماتے ہوئے ایک فارسی شعر لکھا ہے-
    >منہ از بہرما کرسی کہ ماموریم خدمت را<
    یعنی میرے لئے کرسی مت رکھو کہ میں ایک غریب اور عاجز انسان ہوں- تو بہت سے فوائد انکسار کرنے اور عاجز بننے میں ہوتے ہیں- یہ ایک نفس کی اصلاح اور اپنی قدر کروانے کا طریقہ ہے-
    پھر ایک قابل قدر چیز قربانی ہے اگر اپنے حقوق سے فائدہ لینا چاہتی ہو تو قربانیاں کرو‘ نفس کی قربانیاں‘ مال کی قربانیاں‘ اپنی خواہشات کی قربانیاں‘ دوسروں کی خدمت کرو‘ خدمت کرنے والا آدمی بڑا ہوتا ہے دوسرے سب چھوٹے ہیں- دیکھو اگر یورپ کی کوئی بڑی شہزادی خدمت کرتی ہے‘ ہسپتال میں جا کر بیماروں‘ معذوروں کو دیکھتی ہے‘ ان کو کچھ دیتی یا پوچھتی ہے تو کتنا بڑا رتبہ پاتی ہے- سو تم بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں سے ہو جو اپنے آپ کو خادم اسلام سمجھتے تھے- تم بھی ہر قسم کی قربانی کر کے خدمت خلق میں مصروف ہو جائو تا کہ دین و دنیا کی کامیابیاں حاصل کرو-
    آخر میں ضروری نصیحت کرتا ہوں کہ اتحاد کے لئے ایک نظام اور پابندی کی ضرورت ہے- عورتوں میں نظام اور پابندی قوانین بالکل نہیں یہ بہت ضروری بات ہے کوشش سے اس پر عامل ہونا چاہئے- دیکھو اسلام میں جب شراب کی حرمت کا حکم ہوا ہے فوراً صحابہ کرامؓ نے تعمیل کی- پھر ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ حضرت رسول کریم ~صل۲~ نے بلند آواز سے فرمایا کہ بیٹھ جائو تو سب لوگ جہاں بھی آپ کی آواز پہنچی بیٹھ گئے- کسی صحابی نے دوسرے کو ایک راستہ میں غیر مانوس سی جگہ پر بیٹھے دیکھ کر پوچھا- یہاں کیوں بیٹھے ہو تو اس نے کہا- میں نے رسول اللہ ~صل۲~ کی آواز سنی تو تعمیل ارشاد کے لئے یہیں بیٹھ گیا- مجھے یہ نہیں معلوم کہ کیا بات ہے میں نے صرف تعمیل ارشاد کی-۹~}~ سو تم بھی یہ ضروری اور نہایت ضروری بات سیکھو کہ نظام اور پابندی قوانین کے لئے ہر ایک حکم ماننا ضروری ہے-
    اس کے بعد میں عورتوں کو دو کام بتاتا ہوں چاہئے کہ کوشش کر کے سوچیں اور مجھے نتیجہ سے اطلاع دیں تا کہ پھر ہم اپنی ساری جماعت میں اس کو رائج کریں- اس میں اول تو برقعہ اور پردہ کا سوال ہے- شرعی پردہ کے لئے نہ تو وہ پرانا برقعہ کچھ مفید ہوا کیونکہ پردہ کے علاوہ عورت کو تازہ ہوا اور صحت کی بھی ضرورت ہے جو اس برقعہ میں نہیں اور نہ اس میں بچہ گود میں اٹھایا جا سکتا ہے- اگر آگے سے ہوا سے کھل جائے یا اٹھانا پڑے تو صرف پچھلا حصہ ہی چھپ سکتا ہے سامنے کا سب لباس نظر آتا ہے اور نئے فیشن کا برقعہ بھی بعض کو پسند نہیں- شاید اس لئے بھی کہ اس میں زینت اور خوبصورتی نمایاں پائی جاتی ہے اس لئے ردی سمجھتے ہیں اور چادر سے بھی دقت ہوتی ہے-
    اس لئے میں سلسلہ کی قابل خواتین اور سلائی کی ماہر بہنوں سے خواہش رکھتا ہوں کہ وہ اپنے لئے کوئی ایسا برقعہ سوچیں کہ جو صحت اور شرعی پردہ کے لحاظ سے آرام دہ ہو- پھر ہمیں بتائیں- میں تو سینا پرونا نہیں جانتا خواتین خود ہی بہتر طور سے جانتی ہیں- امید ہے کہ وہ سوچ کر ہمیں اطلاع دیں گی اور ہم اس پر غور کر کے پھر اسے رائج کر دیں گے-
    دوسری بات زنانہ نمائش کی نسبت ہے جو صنعت و حرفت کے لحاظ سے ہو- ہر قسم کے نمونے کی اشیاء جو آپ کے شہروں میں بنتی ہوں وہ مرکز میں لانی چاہئیں- موجودہ نمائش تو بجائے اشیاء کی نمائش کے خود لجنہ کی نمائش ہو جاتی ہے- سو ہماری خواتین کو اس پر توجہ کرنی چاہئے کہ ہر ایک چیز جو ان کے شہر میں عمدہ بنتی ہے اس کے بھیجنے کا انتظام کریں یا مجھے بتلائیں پھر میں اس کا انتظام کر کے لجنہ کو بتائوں گا کہ نمائش کس کو کہتے ہیں- دو تین سال سے تو تجربہ کر کے دیکھا ہے یہ کچھ نہیں کر سکتیں- سو ہماری خواتین کو ضرور اس کی کوشش کرنی چاہئے- یہ دو کام ان کے ذمہ ہیں- امید ہے کہ آئندہ سال ان پر عمل درآمد ہوگا- اخیر میں میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تم کو ان نیک کاموں کے کرنے کی توفیق عطا فرمائے-
    )مصباح ۱۵- جنوری ۱۹۳۳ء(
    ۱~}~
    مرقس باب ۳ آیت ۳۱ تا ۳۵ )مفہوما(
    ۲~}~
    تذکرہ صفحہ ۳۹۶- ایڈیشن چہارم
    ۳‘۴~}~
    یہ واقعہ حضرت ابوبکر سبلیؓ کا ہے جو بعد میں حضرت جنید بغدادی کے مرید بنے- )تذکرہ الاولیاء اردو ترجمہ ۳۷۱ تا ۳۷۳ مطبوعہ کشمیری بازار لاہور(
    ۵~}~
    بخاری کتاب الایمان باب کفران العشیر
    ۶~}~
    السیرہ النبویہ لابن ہشام الجزء الثالث صفحہ۱۰۵ مطبع مصطفی البابی الحلبی مصر ۱۹۳۶ء
    ۷~}~
    ۸~}~
    بخاری کتاب الجنائز باب زیادہ القبور
    ۹~}~
    ‏a12.11
    بعض اہم اور ضروری امور

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    بعض اہم اور ضروری امور
    )تقریر فرمودہ ۲۷- دسمبر ۱۹۳۲ء برموقع جلسہ سالانہ(
    تشہد‘ تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    عورتوں کیلئے ناکافی جلسہ گاہ
    آج میرا گلا قریباً پہلے ہی دن بیٹھ گیا ہے کیونکہ ہمارے منتظمین نے عورتوں کی جلسہ گاہ اس دفعہ بڑھائی نہیں تھی اور جس قدر خواتین آئیں ان کی تعداد گزشتہ سال کی نسبت قریباً ڈیوڑھی تھی نتیجہ یہ ہوا کہ جب میں تقریر کرنے کیلئے جلسہ گاہ میں پہنچا تو اس میں تل دھرنے کی بھی جگہ باقی نہ تھی اور سینکڑوں عورتیں باہر کھڑی تھیں- میں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح خواتین سمٹ کر بیٹھ جائیں تا کہ باقی خواتین کیلئے جگہ نکل سکے مگر تمام کوشش کرنے کے باوجود اتنی جگہ نہ نکل سکی کہ سب خواتین سما سکیں اور سینکڑوں ہی باہر کھڑی رہیں حالانکہ اردگرد کے مکانات کی چھتیں بھی عورتوں سے پر ہو چکی تھیں- آخر آدھ گھنٹہ کی جدوجہد کے بعد میں نے سوچا اب ایک ہی تجویز ہے جس پر عمل کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ قادیان کی جتنی خواتین ہیں وہ جلسہ سے چلی جائیں اور اپنی جگہ باہر سے آنے والی خواتین کو دے دیں- اس پر قادیان کی عورتوں کو جن کی تعداد کئی سو تھی جلسہ گاہ سے نکال کر مہمان خواتین کو جگہ دی گئی تب بھی خواتین بمشکل سما سکیں نتیجہ یہ ہوا کہ اس افراتفری میں بہت شور پڑ گیا- عورتیں باوجود سمجھانے کے بچوں کو ساتھ لے آئیں ہیں اور مہمان عورتوں کیلئے مشکل بھی ہے کہ اپنے بچوں کو کہاں چھوڑیں اس لئے انہیں ساتھ لانے ہی پڑتے ہیں- جب عورتیں جلسہ گاہ میں جگہ کی گنجائش نکالنے کیلئے کھڑی ہوئیں تو بچے رونے لگ گئے ان کے ساتھ عورتوں کے چیخنے چلانے کا شور بھی مل گیا اور پھر یہ شور بند نہ ہوا اس وجہ سے تقریر کرتے ہوئے مجھے بھی بہت چیخنا پڑا اس لئے بجائے اس کہ کل میرے گلے پر اثر پڑتا میں آج ہی مائوف گلے کے ساتھ یہاں آیا ہوں- میں امید کرتا ہوں کہ منتظمین جلسہ آئندہ انتظام کے سلسلہ میں عورتوں کو بھی مدنظر رکھا کریں گے اور انہیں اس طرح نذر تغافل نہ کر دیای کریں گے تا کہ اس قسم کی مشکلات ان کی جلسہ گاہ کے متعلق پیش نہ آئیں-
    یاد رکھنا چاہئے کہ جب عورتوں میں بیداری نہ پیدا ہو اس وقت تک مردوں کیلئے ترقی کرنا بھی مشکل ہوتا ہے- عورتوں کا ایمان بہت مستقل ہوتا ہے- اللہ تعالیٰ نے عورت کو اتنا فکر نہیں دیا جتنے جذبات دیئے ہیں- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایمان تو بڑھیا کا سا ہونا چاہئے- سارا دن دلائل دیتے رہو سب کچھ سن سنا کر کہہ دے گی وہی بات ٹھیک ہے جو میں مانتی ہوں- مومن کو بڑھیا کی طرح تو نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی بات تسلیم ہی نہ کرے لیکن اس کا ایمان ایسا ہونا چاہئے کہ کوئی چیز اسے ہلا نہ سکے- غرض عورتوں کا ایمان قابل تعریف ہوتا ہے ان میں جہالت بھی زیادہ ہوتی ہے مگر ایمان میں بھی بہت پختہ ہوتی ہیں- میں نے کئی بار سنایا ہے میراثی قوم کی ایک عورت تھی جو گانے بجانے کا کام کرتی تھی- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں وہ یہاں اپنے لڑکے کو لائی جو عیسائی ہو گیا تھا اور گفتگو میں مولویوں کے منہ بند کر دیتا تھا- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے نصیحت کی مگر وہ بھی کچھ ایسا پکا تھا کہ ایک دن موقع پا کر باوجودیکہ مسلول تھا رات کو بھاگ گیا- جب اس کی ماں کو پتہ لگا تو اس کے پیچھے گئی اور بٹالہ سے پکڑ کر پھر لے آئی- وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے رو رو کر کہتی کہ ایک بار اسے کلمہ پڑھا دیں‘ پھر خواہ مر ہی جائے- آخر خدا تعالیٰ نے اس کی زاری کو قبول کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اس کا لڑکا مسلمان ہو گیا اور پھر مر گیا-
    تو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کا طبقہ یونہی نہیں بنایا- جہاں فکر‘ جرات اور بہادری کا تعلق مرد کے دماغ سے ہے‘ وہاں صبرو استقلال کا تعلق عورت کے دماغ سے ہے- یہی دیکھ لو کتنے صبر و استقلال سے عورت بچے پالتی ہے- مرد تو اس طرح کر کے دکھائے بچے ذرا شور ڈالیں تو مرد چیخ اٹھتا ہے کہ کام خراب ہو رہا ہے بچوں کو روکو مگر عورت رات دن سنتی ہے اور اس شور سے لذت حاصل کرتی ہے- غرض عورتیں مردوں کی تکمیل کا جزو ہیں بغیر ان کی تربیت کے سچائی قائم نہیں ہو سکتی- اولاد کی تربیت بھی ان کے ذمہ ہوتی ہے اگر ان کی اپنی تربیت ہی نہ ہو تو اولاد کی کیا کر سکیں گی ان کیلئے جلسہ گاہ کو بھی ہر سال وسیع کیا جایا کرے-
    لائوڈسپیکر کی ضرورت
    اس کے ساتھ ہی ان کیلئے لائوڈسپیکر ضروری ہے کیونکہ ان کے ساتھ بچے ہوتے ہیں جو شور مچاتے ہیں- اس قدر مرد جو یہاں بیٹھے ہیں ان سے نصف تعداد کی عورتوں کیلئے لائوسپیکر چاہئے- عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت نصف ہوگی مگر میں تقریر کرتے ہوئے جدھر سے منہ پھیرتا ادھر سے ہی کہنے لگ جاتیں کچھ سنائی نہیں دیتا حالانکہ میں پورے زور سے گلا پھاڑ پھاڑ کر بول رہا تھا- تو عورتوں کیلئے لائوڈسپیکر کی جلد ضرورت ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ مردوں سے جلد اس کیلئے چندہ جمع کر دیں گی- مردوں کیلئے بھی لائوڈ سپیکر کی ضرورت ہے- بہت سے لیکچرار اس لئے جلسہ میں لیکچر دینے کیلئے مقرر نہیں کئے جاتے کہ ان کی آواز سارے مجمع میں نہ پہنچ سکے گی- اگر لائوڈ سپیکر کا انتظام ہو جائے تو ان کو بھی لیکچر دینے کا موقع دیا جا سکتا ہے-
    سفارشات
    میں لیکچر شروع کرنے سے پہلے کچھ سفارشات کرنا چاہتا ہوں جو میں من یشفع شعاعہ حسنہ یکن لہ نصیب منھا 2] fts[۱~}~ کے ماتحت ہمیشہ کیا کرتا ہوں-
    پہلی سفارش
    پہلی سفارش تو ایک صاحب کے متعلق ہے جن کا لڑکا گم ہو گیا ہے- وہ دوست جموں کے رہنے والے ہیں اور گم شدہ لڑکے کا نام عبدالکریم ہے- وہ دوست غریب آدمی ہیں- وہ لڑکے کی زیادہ تصاویر نہیں چھپوا سکتے- ایک تصویر انہوں نے دی ہے جس کے متعلق میں انتظام کر دوں گا کہ جو دوست ملاقات کے لئے آئیں ان کو دکھاتے جائیں اور کمروں میں بھی دکھا دی جائے- تصویر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکے کے چہرہ کے نقوش ایسے ہیں کہ ان سے جلد شناخت کیا جا سکتا ہے- دوست خیال رکھیں اگر اس شکل و شباہت کا لڑکا انہیں کہیں ملے تو وہ قادیان میں اطلاع دیں- یہاں سے لڑکے کے رشتہ داروں کو اطلاع دے دی جائے گی-
    دوسری سفارش
    دوسری سفارش میں سید دلاور شاہ صاحب کے متعلق کرنا چاہتا ہوں- وہ جو کام پہلے کرتے تھے اس میں بعض وجوہات کے باعث نقص پیدا ہو گیا ہے یعنی پریس وغیرہ کی دقتیں درپیش ہیں- انہوں نے کتب خانہ جاری کیا ہے اور وہ خواہش کرتے ہیں کہ جو دوست کتابیں منگوانا چاہیں وہ ان سے منگوایا کریں اور جو کتابیں ان کے پاس موجود ہیں وہ خرید کر ان کی مدد کریں- مینیجر اسلامیہ پریس بک ڈپو لاہور ان کا پتہ ہے ان کے پاس سلسلہ سے تعلق رکھنے والی کتابیں بھی ہیں- مثلاً مباحثہ لاہور جو مولوی غلام رسول صاحب راجیکی نے کیا تھا- عام طور پر لوگ مولوی صاحب کا کلام پسند کرتے ہیں‘ وہ خریدیں- دوسری کتاب >تحقیق واقعات کربلا< ہے- جو ہمارے دوست اور میرے استاد منشی خادم حسین صاحب خادم بھیروی نے لکھی ہے اور بہت اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے- خادم صاحب کا طرز تحریر ایسا ہے کہ شیعہ کبھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے سخت لکھا بلکہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کا کلام بہت نرم اور میٹھا ہوتا ہے وہ جو کچھ لکھتے ہیں احمدیت کی روشنی میں لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں- جو دوست سید دلاور شاہ صاحب کی کتابیں خریدنا چاہیں وہ ان سے لاہور کے پتہ سے منگوا لیں-
    تیسری سفارش
    تیسری سفارش سلسلہ کی ان کتب کے متعلق کی جاتی ہے جو اس سال نئی شائع ہوئیں یا دوبارہ شائع ہوئیں‘ مسئلہ کشمیر‘ ہندو راج کے منصوبے‘ مقدمہ بہاولپور میں بیان وغیرہ بک ڈپو نے شائع کی ہیں اور منشی فخر الدین صاحب نے مترجم قرآن درس القرآن حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور بعض اور کتابیں شائع کی ہیں اسی طرح دوسرے کتب فروشوں کی کتابیں ہیں- ہماری جماعت خدا کے فضل سے علمی جماعت ہے احباب کو چاہئے کہ کتب شائع کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کیا کریں تا کہ وہ جلدی جلدی اور کتب شائع کرتے رہیں-
    اس سال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دو کتابیں تحفہ گولڑویہ‘ اور کتاب البریہ بھی شائع ہوئی ہیں- ان کے متعلق تو مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے متعلق سفارش کرنا ایک قسم کی ہتک ہے اس لئے ان کے متعلق تو میں سفارش کا لفظ نہیں کہہ سکتا ہاں احباب کو اطلاع دیتا ہوں کہ یہ کتابیں جو نایاب تھیں‘ دوبارہ چھپ گئی ہیں احباب ان سے فائدہ اٹھائیں-
    چوتھی سفارش
    چوتھی سفارش سید ممتاز علی صاحب مالک اخبار تہذیب النسواں لاہور کی ایک کتاب مضامین قرآن کے متعلق ہے- سید صاحب کا بیان ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب لاہور گئے تو اس کتاب کا مسودہ منگوا کر اس کے ذریعہ بعض حوالے نکالے تھے- میں سمجھتا ہوں یہ بات صحیح ہوگی اور اس طرح کتاب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت بھی حاصل ہے- میں نے دیکھا ہے اس قسم کی پہلی کتابوں سے یہ بہتر کتاب ہے- مختلف مضامین کی آیتیں اس کے ذریعہ باسانی نکالی جا سکتی ہیں کیونکہ ہر مضمون کے متعلق آیات یک جا کر دی گئی ہیں- اس کتاب سے بہت کچھ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے- اس وقت تک اس کی چند جلدیں شائع ہو چکی ہیں جو بہت خوشخط اور عمدہ ہیں-
    پانچویں سفارش
    پانچویں سفارش اخبار ایسٹرن ٹائمز کے متعلق ہے- میں نے گزشتہ سال کے جلسہ کے موقع پر بھی اس کی طرف توجہ دلائی تھی- مسلمانوں کو اپنے انگریزی پریس کو مضبوط کرنے کی بے حد ضرورت ہے مگر مسلمانوں کی بے توجہی سے مسلم آئوٹ لک تو بند ہو گیا اب ایسٹرن ٹائمز جاری ہے مگر اس کی بھی وہی حالت ہے- افسوس ہے کہ مسلمانوں نے ابھی تک یہ بات محسوس نہیں کی کہ علمی طور پر بھی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے- ہندوئوں کے متعلق میں نے دیکھا ہے ان کے اخبارات کو سمجھنے کیلئے خاص ہی دماغ کی ضرورت ہوتی ہے- جب کبھی مجھے >ملاپ< یا >پرتاب< دیکھنے کا اتفاق ہوا میں نے دیکھا بعض اوقات ایک فقرہ کو سمجھنے کیلئے کئی کئی منٹ لگتے ہیں- پھر جتنی کتابت وغیرہ کی غلطیاں ان اخباروں کے ایک ایک پرچہ میں ہوتی ہیں اتنی مسلمان اخبارات کے ایک مہینہ کے پرچوں میں بھی نہیں ہوتیں- مگر باوجود اس کے جس ہندو کو دیکھو اس کے ہاتھ میں >ملاپ< یا >پرتاب< یا کوئی اور ہندو اخبار ہوگا- ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ ابتداء میں ہی تکمیل چاہتے ہیں اور جب تک ان کے نزدیک کوئی کام مکمل نہ ہو اس کی طرف متوجہ ہونا ضروری نہیں سمجھتے- میں نے اپنی جماعت میں بھی دیکھا ہے کوئی کام سپرد کرو جب اس کے متعلق پوچھا جائے تو یہی کہا جاتا ہے کہ ابھی مکمل نہیں ہوا حالانکہ انسانی کام کبھی مکمل نہیں ہو سکتے حتیٰ کہ جس بات کو مکمل سمجھ لیا جائے وہ بھی مکمل نہیں ہوتی- ایک دفعہ میں نے دعا قبول ہونے کے طریق کے متعلق خطبے پڑھے جب میں آخری خطبہ پڑھ کر آیا تو خیال پیدا ہوا کہ شائد اب کوئی طریق باقی نہیں رہ گیا- اس دن میں نے گھر آ کر سنتیں پڑھیں- سنتیں پڑھتے ہوئے قرائت پڑھ کر جب میں رکوع میں گیا تو اتنے سے قلیل وقت میں دو نئے طریق مجھے معلوم ہوئے اس پر مجھے بہت شرم آئی کہ میں نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ تمام طریق ختم ہو گئے بدظنی سے کام لیا- مجھے ایک سیکنڈ میں دو زبردست طریق بتا دیئے گئے-
    مسلمانوں میں تکمیل کا غلط خیال پایا جاتا ہے- کوئی انسان مکمل نہیں اور نہ کسی انسانی کام کو تکمیل حاصل ہے- تکمیل صرف اللہ تعالیٰ کیلئے ہی ہے- اگر کسی انسان کو مکمل سمجھا جاتا ہے تو وہ بھی نسبتی تکمیل ہے ہم رسول کریم ~صل۲~ کو کامل انسان سمجھتے ہیں مگر کیا یہ کہتے ہیں کہ آپ کی روحانی ترقی اب جاری نہیں- اگر کوئی یہ کہتا ہے تو وہ رسول کریم ~صل۲~ کی ہتک کرتا ہے اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ کی روحانی ترقی جاری ہے تو معلوم ہوا کہ آپ کے مکمل ہونے کا یہ مطلب ہے کہ تمام انسانوں سے آپ مکمل ہیں- نہ یہ کہ آپ میں ترقی کی کوئی گنجائش نہیں- ہم ہر روز اللھم صل علی محمد کہتے ہیں- اگر سب کچھ رسول کریم ~صل۲~ کو مل چکا ہے تو پھر یہ کہنے کے کیا معنی- اس کا مطلب تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے خزانے اتنے وسیع ہیں کہ رسول کریم ~صل۲~ کی ترقی بھی ہمیشہ ہوتی رہے گی-
    مسلمان اسلامی انگریزی اخبارات کے متعلق یہی کہتے رہتے ہیں کہ ان میں سٹیٹسمین کی سی خوبیاں نہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ ابتداء میں ایسی خوبیاں کس طرح پیدا کی جا سکتی ہیں- میں کہتا ہوں کہ اگر سٹیٹسمین میں خوبیاں ہیں تو اسے بھی خریدو لیکن کم از کم ایک مسلمان اخبار بھی ضرور خریدو- میں چودہ پندرہ اخبارات خریدتا ہوں اگر میں ایک ہی اخبار خریدتا تو بھی ایسٹرن ٹائمز یا کوئی اور اسلامی پرچہ ضرور خریدتا خواہ اس کے پڑھنے میں کتنی ہی تکلیف ہوتی- جو صاحب ایک ہی اخبار خرید سکتے ہیں انہیں میں کہتا ہوں ایسٹرن ٹائمز خریدیں- خریداروں کے بڑھنے سے ہی اخبارات ترقی کر سکتے ہیں اور مکمل بن سکتے ہیں-
    ‏]sub [tag چھٹی سفارش
    ایک سفارش میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیر کے متعلق منشی محمد دین صاحب فوق ایڈیٹر کشمیری اخبار لاہور نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں- ان میں عمدہ عمدہ کتابیں بھی ہیں- کشمیر کے متعلق حالات معلوم کرنے والے اصحاب وہ کتابیں خریدیں-
    ساتویں سفارش
    ایک ضروری سفارش میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ منشی احمد دین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے صحابی ہیں‘ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف جو مقدمات مخالفین نے دائر کئے تھے ان کے دوران میں بڑی خدمت کرتے رہے ہیں‘ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ان سے انس تھا‘ وہ آج کل بیکار ہیں ان کی آنکھوں میں نقص پیدا ہو گیا ہے اور ان کا کوئی ذریعہ معاش نہیں- ان کو کتابوں کا عشق رہا ہے اور انہوں نے سلسلہ کی اور دوسری دس ہزار مالیت کے قریب کی کتابیں جمع کی ہوئی ہیں بیسیوں ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی شائع شدہ آپ کی تصانیف حاصل کرنے کا شوق ہو جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت کی شائع شدہ کتب کی قدر جانتے ہوں وہ خرید سکتے ہیں- دس ہزار کی کتابیں اگر تھوڑی تھوڑی بکتی رہیں تو ان کا گزارہ ہو سکتا ہے- مفتی محمد صادق صاحب کے پاس ان کتب کی فہرست ہے دوست ان سے معلوم کر سکتے ہیں-
    آٹھویں سفارش
    ایک اور سفارش میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک پرانے صحابی بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی ہیں- ان کے لڑکے نے فوٹو کی دوکان نکالی ہے میں اپنے آپ کو مستثنی کرتا ہوا کہتا ہوں مکان سجانے کیلئے کیمرے کے فوٹو رکھنا ناجائز نہیں اگرچہ یہ ڈر ہو سکتا ہے کہ کوئی بری صورت نہ پیدا ہو جائے مگر فوٹو کا فائدہ بھی ہو سکتا ہے اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا فوٹو شائع کیا بھائی جی کے لڑکے نے فوٹو بنائے ہیں جو دوست دوسروں کو دکھانے کیلئے یا جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہیں دیکھا آپ کی شکل دیکھنے کیلئے وہ فوٹو خرید سکتے ہیں- میں نے اپنے آپ کو مستثنی اس لئے کیا ہے کہ میرے کمرہ میں جو فوٹو ہوتے ہیں وہ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ کوئی صاحب دے جاتے ہیں کہ یہاں رکھ دو وہ کمرے میں پڑے رہتے ہیں پھر صفائی کرنے والے اٹھا کر کہیں رکھ دیتے ہیں ورنہ میں نے کبھی کوئی فوٹو نہیں رکھا نہ مجھے کبھی یہ خواہش پیدا ہوئی-
    پروگرام جلسہ میں تبدیلی
    اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس سال جلسہ سالانہ کے پروگرام میں کچھ تغیرات کئے گئے تھے- میرے پاس شکایتیں آئیں کہ ہر سال ایک ہی قسم کے مضامین کی تکرار کی جاتی ہے- گو بیان کرنے والوں کا پیرایہ مختلف ہو‘ استدلالات میں فرق ہو مگر چیز وہی ہوتی ہے جو پہلے کئی بار پیش کی جاتی ہے- مثلاً وفات مسیح‘ صداقت مسیح موعود علیہ السلام وغیرہ کے مسائل- ان حالات کو دیکھ کر اب کے میں نے پروگرام میں بعض اصلاحات کیں اور نظارت دعوت و تبلیغ کو بتایا کہ ایک ہی مضمون کو کئی طریق سے بیان کیا جا سکتا ہے اور وہ اس طرح کہ اس کے عنوان مقرر کر دیئے جائیں اور ہر سال وہ عنوان بدلتے رہیں- اس طرح لیکچر دینے والا مجبور ہو گا کہ مطالعہ کرے تحقیق کرے اور غور و فکر سے اپنے مضمون کی تیاری کرے- اب کے میں نے مضامین کے ہیڈنگس خود مقرر کر دیئے- اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جتنے لیکچرار مقرر کئے گئے‘ وہ گھبرا گئے- ان میں سے بعض کی تو میں نے مدد کر دی اور انہیں مضامین کے متعلق ضروری اصول بتا دیئے- اگر اس طرح مضامین بیان کئے جائیں تو سالہا سال تک ایک ہی موضوع پر لیکچر دیئے جا سکتے ہیں- آئندہ انشاء اللہ اسی طرح مضامین مقرر کئے جایا کریں گے- یعنی مضامین تو وہی ہونگے- لیکن ان کے ہیڈنگس مختلف اور نئے مقرر کئے جایا کریں گے-
    ایک اور فیصلہ
    اسی سلسلہ میں یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ ہمارا سٹیج جلسہ سالانہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نیابت میں ہوتا ہے اس لئے اس سٹیج پر پرانے صحابہ اور پرانے کارکنوں کو بولنا چاہئے اور نئے آدمیوں کیلئے یہ رکھا تھا کہ کم از کم سات آٹھ سال انہیں خدمت دین کا موقع ملا ہو اور ان کی رائے سلجھ چکی ہو-
    فیصلہ میں حکمت
    میں نے یہ فیصلہ ایک حکمت کے ماتحت کیا تھا اور وہ حکمت یہ ہے کہ دنیا میں صرف علم ہی رائے کو پختہ کرنے کیلئے کافی نہیں ہوتا بلکہ تجربہ بھی رائے کو سلجھاتا ہے اور نوجوانوں کے مقابلہ میں عمر رسیدہ لوگوں کی رائے بہت پختہ ہوتی ہے- ادھر نوجوانوں میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ آگے بڑھیں اگر اس کیلئے کوئی حد بندی نہ ہو تو وہ بوڑھے جنہوں نے علم اور تجربہ تو حاصل کیا ہوا ہے مگر ان میں جنگی سپرٹ نہیں ہوتی ان کو ایسے نوجوان پیچھے کر دیں گے- اس حکمت کے ماتحت میں نے کہا ہمیں ابھی سے یہ انتظام کر دینا چاہئے کہ تجربہ کار بوڑھوں کو پیچھے نہ ڈالا جا سکے- اس پر نوجوانوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں آج نہیں تو آج سے چند سال بعد ان کو بولنے کا موقع مل سکے گا اور اگر وہ گھبراتے ہیں تو پھر رسول کریم ~صل۲~ نے فرمایا ہے جو شخص خود کسی عہدہ کا طلب گار ہوتا ہے اسے عہدہ نہ دو-۲~}~ اس لحاظ سے الل¶ہ تعالیٰ بھی احتیاط کرتا ہے چنانچہ نبوت کے سٹیج پر چالیس سال کی عمر کے بعد ہی لاتا ہے ورنہ کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ رسول کریم ~صل۲~ کی جب پندرہ بیس سال کی عمر تھی اس وقت نعوذ باللہ آپ میں کوئی نقص تھا- نبی کی طبیعت تو بچپن میں ہی سلجھی ہوئی ہوتی ہے- مگر اللہ تعالیٰ چونکہ انبیاء کو دنیا کیلئے مثال بنانا چاہتا ہے اس لئے پختہ عمر کے بعد نبوت کے درجہ پر فائز کرتا ہے- خادم صاحب کو جو یہ شکوہ پیدا ہوا ہے کہ کسی نقص کی وجہ سے ان کو تقریر کرنے کا موقع نہیں دیا گیا یہ درست نہیں- نقص ان کا نہیں بلکہ ان کی عمر کا ہے اور جو شکایت انہوں نے پیش کی ہے وہ میرے علم کے بغیر وقوع پذیر ہوئی ہے- وہ منتظمین کی غلطی تھی ان کا فرض تھا کہ جو اصل میں نے قرار دیا تھا اس کے مطابق کام کرتے- باقی اللہ تعالیٰ اگر کسی کو نیابت کا درجہ عطا کر دے تو اور بات ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیابت عطا ہوتی ہے تو کوئی بندہ اسے روک نہیں سکتا-
    علمی مضمون کے متعلق اطلاع
    اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ طریق ہے کل کی تقریر کیلئے میں نے علمی مضمون رکھا ہے اس کیلئے دوست کاغذ پنسل لے کر آئیں اور منتظمین روشنی کا انتظام کریں تا کہ اندھیرا ہو جانے پر دوست آسانی سے تقریر کے نوٹ لے سکیں- بعض دوست تقریر کے نوٹ لینے میں اس لئے سستی کرتے تھے کہ تقریر چھپ جائے گی لیکن خدا تعالیٰ کی مصلحت کے ماتحت چار سال سے سالانہ جلسہ کی تقریریں چھپی ہی نہیں- میں امید کرتا ہوں کہ کل کے لیکچر میں بعض حصے ایسے ہوں گے کہ وہ نوجوان طبقہ جو عیسائیوں کے اثر سے متاثر ہے اس کیلئے بہت مفید ہونگے اور عیسائیت کے فتنہ کے مقابلہ میں ان سے بہت کچھ مدد ملے گی-
    ‏sub] gat[ جلسہ سالانہ کی اہمیت
    اس کے بعد جلسہ سالانہ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں- اس جلسہ کو خدا تعالیٰ نے بڑی اہمیت دی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا خاص نشان ہے- جماعت کو چاہئے کہ اسے پوری شان کے ساتھ قائم رکھے اور خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ آج تک جماعت نے اس جلسہ کی شان قائم رکھی ہوئی ہے- آج )۲۷- دسمبر( کی رپورٹ مظہر ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت آج چار ہزار مہمانوں کی زیادتی ہے- یعنی چار ہزار زائد مہمانوں کو کھانا دیا گیا- جلسہ گاہ کے لحاظ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ بھری ہوئی ہے اور ابھی لوگ باہر کھڑے ہیں حالانکہ اس دفعہ گزشتہ سال کی نسبت ۳x۳ فٹ بڑھ گئی ہے- یعنی منتظمین کو تو بڑھانے کا خیال نہ تھا لیکن اتنی بڑھ گئی- احباب کو کوشش کرنی چاہئے کہ جب خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت بڑھ رہی ہے تو سالانہ جلسہ میں حاضری بھی بڑھے- باقی رہا یہ کہ پھر خرچ کی کیا صورت ہوگی اس کے متعلق لا تخش عن ذی العرش اقلالا ۳~}~ کو پیش نظر رکھنا چاہئے- یعنی خدا تعالیٰ کے متعلق کمی کا خیال کبھی نہیں کرنا چاہئے بلکہ زیادتی کی امید رکھنی چاہئے- اسی طرح یہ خیال کہ بہت زیادہ لوگ آ گئے تو پھر وہ تقریریں کس طرح سن سکیں گے- اس کے متعلق بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جب لوگ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کی باتیں سننے کیلئے آئیں گے تو خدا تعالیٰ ان کو سنانے کا انتظام بھی کر دے گا- اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ایک آلہ لائوڈ سپیکر بنوا دیا ہے چونکہ تبلیغ کی تکمیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سے مخصوص تھی اور اس کیلئے جلسہ رکھا گیا اور جب یہ زمانہ آیا کہ کثیر مجمع کو سنانا مشکل ہو گیا تو خدا تعالیٰ نے لائوڈسپیکر نکال دیا- اگر حضرت مسیحؑ کی جماعت تبلیغی جماعت تھی تو ان کے وقت لائوڈسپیکر کیوں نہ بنائے گئے- اس آلہ کا اب ایجاد ہونا بھی بتاتا ہے کہ یہ کام رسول کریم ~صل۲~ کی امت سے وابستہ تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سے وابستہ تھا- پس کوشش کرنی چاہئے کہ ہر سال زیادہ سے زیادہ لوگ سالانہ جلسہ میں شامل ہوں-
    ایک قسم کا ظلی حج
    اس جلسہ میں شمولیت معمولی بات نہیں بلکہ بہت سی برکات کا موجب ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک مشہور شعر ہے جسے بچے بھی پڑھتے پھرتے ہیں-
    زمین قادیاں اب محترم ہے
    ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
    میں نے ایک خطبہ جمعہ میں جلسہ سے پہلے سالانہ جلسہ میں شمولیت کی تحریک کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں شمولیت ایک قسم کا ظلی حج ہے- الفضل میں جب یہ خطبہ شائع ہوا تو ہیڈنگ میں تو ایک قسم کا ظلی حج کے الفاظ شائع کئے گئے لیکن خطبہ کے اندر سے >ایک قسم< کے الفاظ اڑ گئے جو میں نے کہے تھے-
    غیر مبائعین کے مذہب کا خلاصہ
    میں کہتا ہوں اگر یہ الفاظ نہ بھی ہوں تو بھی جب ظلی حج کہا گیا تو اس کے یہی معنی ہیں کہ اصل حج قائم ہے- دیکھو جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ظلی نبی کہتے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ رسول کریم ~صل۲~ کی رسالت نعوذ باللہ مٹ گئی- مگر بعض لوگوں کی فطرت گندی ہوتی ہے اور وہ محض اعتراض کرنا ہی جانتے ہیں- ہمارے ایسے ہی دوستوں نے )میں انہیں دوست ہی کہوں گا( جن کے عقائد کا اگر کوئی خلاصہ پوچھے تو دو لفظوں میں یہ ہوگا کہ عداوت محمود- اگر میں خدا تعالیٰ کی توحید پر بھی زور دوں تو وہ اس کی بھی کسی نہ کسی رنگ میں مخالفت شروع کر دیں گے- انہوں نے اعتراض کر دیا کہ قادیان کے جلسہ کو حج کا مرتبہ دے دیا گیا-
    غیر مبائعین کا فتویٰ
    حالانکہ خود انہوں نے یہ فتویٰ دیا ہوا ہے کہ قادیان مکہ ہے جب اختلاف پیدا ہوا تو غیر مبائعین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس الہام کو بناء قرار دیتے ہوئے کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں‘ لا ہور کو مدینہ ٹھہرایا اور قادیان کو مکہ- چنانچہ لاہور کو عرصہ تک مدینہ المسیح لکھتے بھی رہے- جب انہوں نے اپنے لئے مدینہ تجویز کر لیا تو یقیناً مکہ جہاں حج ہوتا ہے‘ ہمیں دے چکے- اس وقت چونکہ ان کے خیال میں فائدہ یہ کہنے میں تھا کہ قادیان مکہ ہے تا کہ وہ لاہور کو مدینہ کہہ سکیں اس لئے انہوں نے قادیان کو مکہ کہا لیکن اب اس میں مکہ کی برکات کا ذکر کیا گیا تو اپنی ہی بات کے خلاف کہنے لگ گئے- ان کی مثال شترمرغ کی سی ہے جب اسے کہا گیا کہ آئو تم پر بوجھ لادیں تو اس نے کہہ دیا کیا مرغ پر بھی بوجھ لادا جاتا ہے اور جب کہا گیا کہ اڑو تو اس نے کہہ دیا کیا شتر بھی اڑ سکتا ہے- جب لاہور کو مدینہ کہنے میں انہوں نے فائدہ سمجھا اس وقت قادیان کو مکہ کہہ دیا لیکن جب یہ کہا گیا کہ قادیان میں خدا تعالیٰ نے ایک قسم کے ظلی حج کی برکات رکھی ہیں تو اسے کفر قرار دینے لگ گئے-
    حضرت مسیح موعود کے دو شعر
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دو نہایت ہی لطیف اشعار ہیں- اگر انہی پر غیر مبائعین غور کرتے تو انہیں سمجھ آ جاتی- حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں-
    کیا شک ہے ماننے میں تمہیں اس مسیح کے
    جس کی مماثلت کو خدا نے بتا دیا
    حاذق طبیب پاتے ہیں‘ تم سے یہی خطاب
    خوبوں کو بھی تو تم نے مسیحا بنا دیا
    فرماتے ہیں- طبیبوں کو تم مسیح الملک کہتے ہو- پھر جسے خدا کوئی خطاب دے اس پر کیوں برا مناتے ہو-
    حج کو بھی شاعروں نے باندھا ہے- چنانچہ کہا گیا ہے-
    دل بدست آور کہ حج اکبر است
    کسی کا دل ہاتھ میں لینے کو حج اکبر کہا گیا ہے لیکن میں نے تو حج بھی نہیں کہا تھا بلکہ ظلی حج کہا- مگر شاعر جو کچھ کہیں اسے تو بخوشی سن لیتے ہیں لیکن میں جو بات کہوں اسے کفر اور ضلالت قرار دینے لگ جاتے ہیں-
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو یہ الہام ہے کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں اس کے متعلق ہم تو یہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں نام قادیان کے ہیں- مگر غیر مبائعین مدینہ لاہور کو اور مکہ قادیان کو قرار دیتے ہیں- اسی بات پر وہ قائم رہیں تو قادیان کے جلسہ سالانہ میں شمولیت کو ظلی حج کہنا کوئی ناجائز نہیں- اگر میں یہ کہتا کہ مکہ معظمہ کا حج موقوف ہو گیا اور اس کی بجائے قادیان آنا حج کا درجہ رکھتا ہے تب وہ اعتراض کر سکتے تھے- مگر مکہ معظمہ کا حج تو قائم ہے-
    مسئلہ حج اور حضرت مسیح موعود ؑ
    میں نے جب غیر مبائعین کے اعتراض کے متعلق غور کیا تو معلوم ہوا کہ مجھے غلطی لگی ہے- جو کچھ میں نے کہا وہ غلط تھا لیکن یہ غلطی اس پلڑے کے لحاظ سے نہ تھی جس میں غیر مبائعین بیٹھے ہیں‘ بلکہ دوسرے پلڑے کی تھی- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئینہ کمالات اسلام میں نواب محمد علی خاں صاحب کو جو ہمارے بہنوئی ہیں‘ قادیان آنے کی تحریک کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں-
    >لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں مگر اس جگہ نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر- کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی-< ۴~}~
    شیخ یعقوب علی صاحب بھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں آنے کو حج قرار دیا ہے- ایک واقع مجھے بھی یاد ہے- صاحبزادہ عبداللطیف صاحب مرحوم شہید حج کے ارادہ سے کابل روانہ ہوئے تھے- وہ جب یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حج کرنے کے متعلق اپنے ارادہ کا اظہار کیا- اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا- اس وقت اسلام کی خدمت کی بے حد ضرورت ہے اور یہی حج ہے- چنانچہ پھر صاحبزادہ صاحب حج کے لئے نہ گئے اور یہیں رہے کیونکہ اگر وہ حج کیلئے چلے جاتے تو احمدیت نہ سیکھ سکتے-
    پس غیر مبائعین کا اعتراض فضول ہے- خدا تعالیٰ نے قادیان میں جو برکات رکھی ہیں اور خاص کر سالانہ جلسہ کی برکات ان کے لحاظ سے جلسہ میں شمولیت کو ایک قسم کا ظلی حج کہنا بالکل درست ہے-
    ذکر الہی اور دعائوں کی تاکید
    اب میں جلسہ پر آنے والے دوستوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جلسہ سالانہ کے بھی کچھ آداب ہیں- دوستوں کو چاہئے ان کو مدنظر رکھیں- اس بارے میں پہلی بات تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں کا آنا سیر و تماشا کے طور پر نہیں ہوتا بلکہ عبادت کیلئے ہوتا ہے- دوسرے سفروں میں تو عبادت میں تخفیف ہو جاتی ہے مگر یہاں کا سفر چونکہ عبادت کیلئے کیا جاتا ہے اس لئے یہاں عبادت زیادہ کرنی چاہئے- پس جلسہ پر آنے والے دوست ان ایام میں ذکر الہی اور دعائوں پر بہت زور دیں تا کہ اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو بابرکت ثابت کرے-
    مقبرہ بہشتی میں جانا
    دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جو دوست آتے ہیں وہ مقبرہ بہشتی میں ضرور جایا کریں- اللہ تعالیٰ کے حکم سے مقبرہ بہشتی اسی لئے قائم کیا گیا کہ ہمیشہ آنے والی نسلیں وہاں جائیں اور دین کیلئے قربانی کرنے والوں کیلئے دعائیں کریں- میں امید کرتا ہوں کہ بہت سے دوست وہاں جاتے ہوں گے مگر میرا خیال ہے بہت سے اصحاب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت میں یہ بات بھول جاتی ہوگی کہ مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے والے سب کیلئے دعا کریں- وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار پر دعا کر کے واپس آ جاتے ہوں گے- مقبرہ بہشتی میں دفن کر کے کتبے لگانے کا مطلب یہی ہے کہ ان سب کیلئے دعائیں کی جائیں- باقی رہا یہ کہ دعا کس طرح کی جائے- اس کا طریق یہ ہے کہ ایک جگہ کھڑے ہو کر سب مدفون اصحاب کیلئے دعا کی جائے-
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار پر جا کر دعائیں کرنے کے متعلق بعض ہدایات بھی بیان کرتا ہوں- جس سے زیادہ محبت ہوتی ہے اس کے متعلق لوگ غلطی سے مشرکانہ رنگ اختیار کر لیتے ہیں اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ دعا کرتے وقت ایسا رنگ نہ ہو- مثلاً اس طرح مخاطب کر کے دعا نہ کرنی چاہئے کہ اے خدا کے مسیح فلاں بات ہو جائے- اگر خدا تعالیٰ مکاشفہ کرادے تو چاہے جتنی باتیں کر لی جائیں لیکن عام حالات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقاصد پورے کرنے اور آپ کے درجات بلند کرنے کیلئے دعائیں کرنی چاہئیں- میں یہ دعا ہمیشہ کیا کرتا ہوں کہ ہمارے لئے حکم ہے جب رسول سے کوئی مشورہ لے تو صدقہ کرے مگر ہم ان تک کچھ پہنچا نہیں سکتے اس لئے میں جو آیا ہوں تو یہ دعا کرتا ہوں کہ الہی تو ہی ان کو ایسا روحانی تحفہ عطا کر جو پہلے عطا نہ کیا ہو- اسی طرح رسول کریم ~صل۲~ کیلئے دعا کو پہلے رکھ لیتا ہوں- مجھے خیال آیا کرتا تھا کہ جنازہ کی نماز میں درود کیوں پڑھا جاتا ہے اس کا پہلے ایک جواب خدا تعالیٰ نے مجھے یہ سمجھایا کہ شاعر نے کہا تھا-
    کنت السواد لناظری فعمی علی الناظر
    من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت احاذر۵~}~
    ‏]text [tag میں تو رسول کریم ~صل۲~ کی وفات سے ڈرتا تھا جب آپ فوت ہو گئے تو اب جو چاہے مرے- اس جذبہ کے ماتحت جب کوئی کسی کا جنازہ پڑھتا ہے تو درود پڑھتے وقت یہ ظاہر کرتا ہے کہ مجھے رسول کریم ~صل۲~ کی وفات کا غم بھولا نہیں وہ ابھی تک تازہ ہے اس لئے جنازہ کی نماز میں رسول کریم ~صل۲~ پر درود پہلے رکھا-
    پھر ایک اور بات سمجھائی اور وہ یہ کہ جب کوئی مسلمان مرتا ہے تو امت محمدیہ میں کمی آ جاتی ہے اس وقت جنازہ پڑھنے والا کہتا ہے اللھم صل علی محمد خدایا اس کمی کو پورا کر دے- پس مقبرہ بہشتی میں جا کر دعا کرتے وقت رسول کریم ~صل۲~ پر درود پڑھنا اور آپ کو دعا میں شامل کرنا ایک اہم چیز ہے-
    شعائر اللہ کی زیارت
    پھر شعائر اللہ کی زیارت بھی ضروری ہے- یہاں کئی ایک شعائر اللہ ہیں- مثلاً یہی علاقہ ہے جہاں جلسہ ہو رہا ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رئویا میں دیکھا کہ شمالی اور مشرقی طرف قادیان بڑھتی بڑھتی دریائے بیاس تک چلی گئی ہے- ادھر ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیر کرتے ہوئے تشریف لائے تو جہاں مدرسہ ہائی کی عمارت ہے اس جگہ کے قریب فرمایا لوگ کہتے ہیں یہاں جن رہتے ہیں مگر خدا تعالیٰ نے مجھے جو خبر دی ہے اس کے ماتحت بتاتا ہوں کہ یہاں آبادی ہی آبادی ہوگی-
    اسی طرح شعائر اللہ میں مسجد مبارک‘ مسجد اقصیٰ‘ منارۃ المسیح شامل ہیں- ان مقامات میں سیر کے طور پر نہیں بلکہ ان کو شعائر اللہ سمجھ کر جانا چاہئے تا کہ خدا تعالیٰ ان کی برکات سے مستفیض کرے- منارۃ المسیح کے پاس جب جائو تو یہ نہ سمجھو کہ یہ منارہ ہے بلکہ یہ سمجھو کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں مسیح موعود اترا‘ اسی طرح مسجد اقصیٰ میں جب جائو تو یہ نہ سمجھو کہ وہ اینٹوں اور چونے کی ایک عمارت ہے بلکہ یہ سمجھو کہ یہ وہ مقام ہے جہاں سے دنیا میں خدا کا نور پھیلا‘ پھر جب مسجد مبارک میں جائو تو یہ سمجھو کہ یہ وہ مقدس جگہ ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نمازیں پڑھا کرتے تھے- اسی طرح قادیان کی آبادی کو دیکھو کہ پہلے پرانی آبادی کتنی تھی اور اب کس قدر پھیل چکی ہے اور کس طرح ترقیات ہو رہی ہیں-
    اسی طرح ایک زندہ نشان حضرت ام المومنین ہیں- صحابہ کا یہ طریق تھا کہ جب آتے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور باقی امہات المومنین کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کرتے اور ان کی دعائوں کے مستحق بنتے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں اور پھر بعد میں بھی کئی لوگ حضرت ام المومنین کی خدمت میں حاضر ہوتے اور دعا کی درخواست کرتے- نئے آنے والے لوگوں کو چونکہ اس قسم کی باتیں معلوم نہیں ہوتیں- پھر اتنے ہجوم میں یہ بھی خیال ہو سکتا ہے کہ شائد حاضر ہونے کا موقع نہ مل سکے اس لئے میں نے یہ بات یاد دلا دی ہے-
    پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ سے ملنا چاہئے کئی ایسے ہونگے جو پھٹے پرانے کپڑوں میں ہونگے اور ان کے پاس سے کہنی مار کر لوگ گزر جاتے ہونگے مگر وہ ان میں سے ہیں جن کی تعریف خود خدا تعالیٰ نے کی ہے ان سے خاص طور پر ملنا چاہئے- اسی لئے میں نے منتظمین جلسہ سے کہا ہوا ہے کہ صحابہ مسیح موعود علیہ السلام میں سے کسی کا لیکچر ذکر حبیبؑ پر رکھنا چاہئے مگر اب کے نہیں رکھا گیا- یہاں ذکر حبیب کا جلسہ ہفتہ وار ہوتا ہے جو بہت مفید ہے-
    امام وقت سے ملاقات اور مصافحہ
    ‏]1text [tagجلسہ کے موقع پر خلیفہ سے ملاقات بھی ضروری چیز ہے مگر اس کے متعلق بعض ضروری باتیں ہیں جو یاد رکھنی چاہئیں- پہلی بات تو یہ ہے کہ خلفاء کی اپنی طرف سے بیعت نہیں ہوتی بلکہ رسول کی نیابت میں ہوتی ہے- ہمارے سلسلہ میں رسول کریم ~صل۲~ کی نیابت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حاصل ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نیابت خلیفہ کو حاصل ہوتی ہے- ادھر رسول کریم ~صل۲~ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ پر بیعت کرنا قرار دیا ہے- چونکہ خلیفہ کے ہاتھ کو رسول کی نیابت حاصل ہوتی ہے اس لئے امام وقت سے مصافحہ کرنا بھی برکت رکھتا ہے- مگر وہ مصافحہ نہیں جو سخت ہجوم اور بھیڑ میں اس طرح کیا جاتا ہے کہ کچھ خود ٹھوکر کھائی اور کچھ مجھے زخم کر دیا- یہ مصافحہ ملاقات کے وقت کا مصافحہ ہوتا ہے اس وقت اگرچہ مصافحہ کیلئے بہت تھوڑا وقت ہوتا ہے مگر یاد رکھنا چاہئے خدا تعالیٰ مامورین اور خلفاء کے برکات کو مختصر وقت میں پورا کر دیتا ہے- اگر یہ بات ان کو حاصل نہ ہو تو وہ اپنا کام پورا ہی نہ کر سکیں- تو مصافحہ کے وقت خاص طور پر دعا کی جاتی ہے مگر آداب کو مدنظر رکھنا چاہئے- اس طرح نہیں ہونا چاہئے کہ ایک نے آگے سے ہاتھ کھینچا ہوا ہو تو دوسرا پیچھے سے کھینچنے لگ جائے- اگر مصافحہ کرنے کا موقع نکل گیا ہو تو جانے دینا چاہئے اور آگے سے مصافحہ کرنا چاہئے اسی لئے میں نے ملاقات کیلئے وقت رکھا ہوا ہے تا کہ ہر ایک کو مصافحہ کا موقع مل سکے-
    پھر بعض لوگ سمجھتے ہیں مصافحہ یا ملاقات کیلئے نذر ضروری ہے مگر یہ گندہ خیال ہے- اس کا ملاقات یا مصافحہ سے کوئی تعلق نہیں ہے- خدا تعالیٰ فرماتا ہے کونوا مع الصادقین ۶~~} اور جو مصافحہ کرتا ہے وہ ایک رنگ میں معیت حاصل کر لیتا ہے- دوستوں کو چاہئے کہ جہاں تک ہو سکے ملاقات کیا کریں اور یہ خیال بھی دل میں نہ لائیں کہ ملاقات کیلئے یا بیعت کیلئے نذر ضروری ہے- معلوم ہوتا ہے عورتوں کو یہ باتیں نہیں بتائی جاتیں- اس دفعہ عورتوں نے جب بیعت کی تو ایک عورت کھڑی ہو کر کہنے لگ گئی تم نے بیعت کی ہے نذر کیوں نہیں دیتیں- میں نے اسے بہتیرا کہا بیٹھ جائو یہ کہنا گناہ ہے مگر وہ یہی کہتی گئی کہ یہ کس طرح گناہ ہے نذر دینی ضروری ہے- اس قسم کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں-
    ملاقات کرنے والے دوستوں کو میں ایک بات یہ کہنی چاہتا ہوں کہ ناخن کٹانا اسلام کی سنت ہے- مگر میں نے دیکھا کئی لوگ اچھی طرح ناخن نہیں کٹواتے- ایک صاحب نے مجھ سے مصافحہ کیا تو ان کے ناخن سے میرا ہاتھ زخمی ہو گیا- یہ تو میں نہیں کہتا کہ مصافحہ نہ کرو یہ بھی نہیں کہتا کہ مصافحہ کرتے وقت جھپٹا نہ مارو- جلدی میں جھپٹا مارنا ہی پڑتا ہے مگر یہ ضرور کہتا ہوں کہ ناخن اچھی طرح کٹانے چاہئیں تا کہ مجھے زخم نہ لگے-
    میں نے ایک نصیحت یہ کی ہوئی ہے کہ ہماری جماعت کے دوست سونٹا رکھا کریں- یہ نصیحت اب بھی قائم ہے مگر اس میں میں ایک ترمیم کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ مصافحہ کرتے وقت سونٹا ساتھ نہ ہو- سونٹا ہاتھ میں یا بغل میں دبائے ہوئے مصافحہ کرنے سے وہ سیدھا میرے منہ کی طرف ہوتا ہے اور اس کے لگنے کا خطرہ ہوتا ہے-
    قادیان آنا اور مکان بنوانا
    ایک نصیحت میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ جلسہ کے بغیر بھی دوستوں کو قادیان آتے رہنا چاہئے- حضرت مسیح موعود علیہالصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے جو بار بار قادیان نہیں آتا اس کے ایمان کے متعلق مجھے خطرہ ہے- ادھر یہاں کی بودوباش کو آپ نے ضروری قرار دیا ہے- پس احباب کو چاہئے کہ قادیان کو زندگی میں وطن بنانے اور مر کر مدفن بنانے کی کوشش کریں اسی کے ماتحت میں نے ایک تحریک کی ہے کہ مکانات بنوانے کیلئے ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں شامل ہونے والوں کیلئے پچیس روپیہ کا ایک حصہ رکھا گیا ہے- دوست اس کمیٹی میں شریک ہوں حصہ ڈالیں اور یہاں مکان بنوائیں- میں نے یہ بھی تحریک کی ہے کہ دس دس بارہ بارہ روپیہ کے حﷺ کی کمیٹی بھی بنائی جائے تا کہ کم آمدنی والے بھی مکان بنوا سکیں- اس طرح ایک تو قادیان میں دوستوں کے مکانات بنیں گے دوسرے قادیان کی مشرقی طرف آبادی بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیش گوئی پوری ہوگی- میں خود اس کمیٹی کا حصہ دار ہوں مگر میں نے قرض لے کر ایک مکان بنوایا ہے کیونکہ اب ہمارے گھر میں اتنی تنگی ہے کہ ایک ایک کمرہ میں جیل کی اتنی جگہ کے مقابلہ میں دو گنے افراد رہتے ہیں اس کمیٹی میں دوست شامل ہو سکتے ہیں- مجھے مکان بنوانے سے ہمیشہ آتا ہے- جو مکان بنوایا گیا ہے اس کے متعلق بھی میرے دل پر بوجھ ہے اس لئے دوستوں سے خواہش کرتا ہوں کہ دعا کریں خدا تعالیٰ اس مکان کو بابرکت کرے- میں تو اس میں رہنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتا میرے لئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مکان ہی بہترین ہے مگر جو نسل اس میں جا کر رہے اس کیلئے دعا کی جائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکات سے اسے حصہ ملے-
    سلسلہ کی مالی حالت
    میں نے اس سال اعلان کیا تھا کہ چندہ خاص نہ لیا جائے گا باوجودیکہ مجلس مشاورت کے وقت جو بجٹ پیش ہوا اس میں چندہ خاص کی مد رکھی گئی تھی اور احباب نے اس کے رکھنے پر زور بھی دیا تھا مگر میں نے اس سال کے لئے چندہ خاص نہ رہنے دیا- اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بجٹ میں ۵۵ ہزار کی کمی ہو گئی ہے اور اس وقت کارکنوں کی تین تین ماہ کی تنخواہیں واجب الادا ہیں تا ہم ارادہ یہی ہے کہ سال کے آخر تک چندہ خاص کی تحریک نہ کی جائے گی-
    مجلس مشاورت کے نمائندے
    مگر قابل غور بات یہ ہے کہ ہر سال جماعتوں کے نمائندے مجلس شوریٰ کے موقع پر بجٹ پر غور کر کے اسے پاس کرنے کی سفارش کرتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ اس بجٹ کو پورا کریں گے- مگر پھر صدائے برنخواست کا معاملہ ہوتا ہے- ایسی حالت میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یا تو جماعتیں ایسے لوگوں کو مجلس مشاورت میں اپنا نمائندہ بنا کر بھیجتی ہیں جو انہیں جا کر کچھ بتاتے ہی نہیں- یا پھر ایسے لوگوں کو بھیجا جاتا ہے جن کا جماعتوں میں کوئی اثر نہیں ہوتا- یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جو دور ہونی چاہئیں- مجلس شوریٰ میں وہی لوگ آنے چاہئیں جن کے تسلیم کردہ فیصلوں پر جماعتیں عمل کرنے کیلئے تیار ہوں-
    جماعتیں بجٹ پورا کریں
    خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے-امر ھم شوری بینھم ۷~}~مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے- جب رسول یا امام کوئی فیصلہ کر دے تو خواہ اپنی رائے کے خلاف ہی ہو تو بھی مان لینا چاہئے- مگر میں نے کبھی مالی معاملات میں نمائندگان مجلس مشاورت کے مشورہ کے خلاف نہیں کیا- پس جب وہی بجٹ منظور کیا جاتا ہے جو جماعتوں کے نمائندے پیش کرتے ہیں تو احباب کو چاہئے کہ اپنا اپنا بجٹ پورا کیا کریں- اس وقت تک جو بقائے ہیں‘ وہ ادا کر دیں اور آئندہ کیلئے باقاعدگی اختیار کریں-
    مشکلات
    میں جانتا ہوں کہ جماعت کیلئے بھی مجبوری ہے کیونکہ بجٹ تو اتنے ہی رکھے گئے جتنے پہلے ہوتے تھے- مگر گورنمنٹ نے ملازموں کی تنخواہیں کم دی ہیں- اس کا اثر چندہ کی کمی پر پڑنا لازمی تھا- اسی طرح زمینداروں نے جب غلہ بیچا اس وقت سستا تھا اور جب مہنگا ہوا تو بنیوں کے گھر جا چکا تھا اس طرح فائدہ بنیوں نے اٹھایا- یہ مشکلات ہیں مگر وہ مومن ہی کیا جو مشکلات سے گھبرا جائے اور انہیں دور کرنے میں پوری طاقت نہ صرف کر دے-
    ریزرو فنڈ
    میں سمجھتا ہوں کہ اب سلسلہ کی ایسی حیثیت ہے کہ ضروری ہے ہم ایک مستقل فنڈ جاری کریں- رسول کریم ~صل۲~ کے وقت بھی بعض جائدادیں اسلامی کاموں کیلئے وقف کر دی گئی تھیں- اسی طرح حضرت عمرؓ کے زمانہ میں کیا گیا- ہمیں بھی ریزرو فنڈ قائم کرنا چاہئے- میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے اس کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور سندھ میں زمین خریدی گئی ہے- زمین اعلیٰ درجہ کی ہے‘ وہاں اجناس کے ریٹ بھی اچھے ہیں- بیس سال کی قسطوں پر ساری قیمت ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے- تیس ہزار روپیہ سلسلہ کی طرف سے داخل کر دیا گیا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ یہ کام مفید ثابت ہوگا کیونکہ فوراً ہی غیر مبائعین کا اعتراض پہنچا کہ لو اب جائیدادیں خریدی جا رہی ہیں- دراصل میں نے یہ سلسلہ کیلئے بطور ریزروفنڈ زمین خریدی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ اسی کی آمدنی سے اگلی قسطیں ادا ہو سکیں گی- یہ پانچ لاکھ کا سودا ہے جو بیس سال میں ادا کرنا ہے ۲۵ ہزار سالانہ قسط کا دینا ہوگا مگر امید کی جاتی ہے کہ تیس چالیس ہزار سالانہ آمدنی ہو سکے گی- اس طرح قسطیں باسانی ادا کی جا سکیں گی اور شائد بعض حالات میں کچھ رقم بچ بھی سکے- غیر مبائعین نے ایک زمین چالیس مربعے خریدی تھی اور اس پر بڑا فخر کیا تھا مگر خدا تعالیٰ نے ہمیں سو مربع دے دیا ہے-
    جماعت احمدیہ کی اقتصادی حالت
    کوئی احمدی بے کار نہ ہو
    اب میں جماعت کی اقتصادی حالت کے متعلق کچھ بیان کرتا ہوں- پہلے فردی حالت کو لیتا ہوں- اسلام قطعاً یہ بات پسند نہیں کرتا کہ کوئی انسان نکما رہے ہر شخص کو کچھ نہ کچھ کام کرنا چاہئے مگر افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے ہزاروں افراد نکمے بیٹھے رہتے ہیں اور جب ان سے پوچھو تو کوئی نہ کوئی عذر پیش کر دیتے ہیں- کبھی کہتے ہیں کوئی ملازمت نہیں ملتی‘ کبھی کہہ دیتے ہیں تجارت کرنا چاہتے ہیں مگر روپیہ نہیں- حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان تجارت کرنا نہیں جانتے وہ بڑا سرمایہ چاہتے ہیں- نہ انہیں وہ مل سکتا ہے اور نہ کام کر سکتے ہیں- لیکن ہندو تھوڑے سے تھوڑے سرمایہ سے تجارت شروع کر دیتے ہیں اور پھر کامیابی حاصل کر لیتے ہیں- ہماری جماعت کے لوگوں کو اپنے اس طریق عمل کی اصلاح کرنی چاہئے‘ اپنا رویہ بدلنا چاہئے اور ہر حال میں بے کاری سے بچنا چاہئے- میرے نزدیک بیکار رہنا خودکشی کے مترادف ہے کیونکہ ایک سال بھی جو بے کار رہا اسے اگر کوئی عمدہ ملازمت مل جائے تو بھی اس میں کامیاب نہ ہو سکے گا کیونکہ بے کاری کی زندگی انسان کو بالکل نکما کر دیتی ہے اور کوئی کام کرنے کی ہمت باقی نہیں چھوڑتی- اس حالت سے بچنے کیلئے چاہئے کہ خواہ کوئی بی- اے ہو یا ایم- اے- ایل- ایل- بی ہو یا بیرسٹر ہو یا ولایت کی کوئی اور ڈگری رکھتا ہو‘ اگر اسے کوئی ملازمت نہیں ملتی یا حسب منشاء کام نہیں ملتا تو وہ معمولی سے معمولی کام حتیٰ کہ ایک جگہ سے مٹی اٹھا کر دوسری جگہ پھینکنا ہی شروع کر دے لیکن بے کار اور نکما ہر گز نہ رہے- اگر وہ اپنے آپ کو کسی نہ کسی کام میں لگائے رکھے گا‘ خواہ وہ کام کتنا ہی معمولی ہو تو اس سے امید کی جا سکے گی کہ مفید کام کر سکے گا-
    پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اپنے علاقہ کے احمدیوں کے متعلق تحقیقات کریں کہ ان میں سے کتنے بے کار ہیں اور پھر انہیں مجبور کریں کہ وہ کوئی نہ کوئی کام کیا کریں- لیکن اگر وہ کوئی کام نہ کر سکیں تو انہیں قادیان بھیج دیا جائے تا کہ یہاں آ کر وہ آنریری کام کریں- جب تک یہ حالت نہ ہو کہ ہماری جماعت کا کوئی انسان بے کار نہ ہو‘ اس وقت تک جماعت کی اقتصادی حالت درست نہ ہوگی-
    مسلمانوں کے بزرگوں کا طریق عمل
    کسی شخص کو کوئی کام کرنے میں کسی قسم کی عار نہیں ہونی چاہئے مسلمانوں میں یہ کتنی خوبی کی بات تھی کہ ان کے بڑے بڑے بزرگوں کے نام کے ساتھ لکھا ہوتا ہے رسی بٹنے والا یا ٹوکریاں بنانے والا‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے علماء اور امام عملاً کام کرتے تھے اور کام کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے- میں نے ایک دفعہ تجویز کی تھی کہ ایک کلب بنائی جائے جس کا کوئی ممبر راج کا‘ کوئی معمار کا‘ کوئی لوہار کا کام کرے تا کہ اس قسم کے کام کرنے میں جو عار سمجھتی جاتی ہے وہ لوگوں کے دلوں سے نکل جائے اب بھی میرا خیال ہے کہ اس قسم کی تجویز کی جائے-
    دوسروں کی امداد کرو
    پھر جہاں میں یہ کہتا ہوں کہ ہماری جماعت کا ہر ایک فرد کام کرے- جو بے کار ہے وہ اپنے لئے کام تلاش کرے اگر کوئی اعلیٰ درجہ کا کام نہیں ملتا تو ادنیٰ سے ادنیٰ کام کرنے میں بھی عار نہ سمجھے اگر دوست ایسا کریں تو دیکھیں گے کہ جماعت میں اتنی قوت اور طاقت پیدا ہو جائے گی کہ کوئی مقابلہ نہ کر سکے گا وہاں دوسری طرف میں یہ بھی کہتا ہوں کہ ہماری جماعت کے جو لوگ ملازم ہیں‘ انہیں چاہئے کہ دوسروں کو ملازم کرائیں‘ جو تاجر ہیں انہیں چاہئے دوسروں کو تجارت کرنا سکھائیں‘ جو پیشہ ور ہیں انہیں چاہئے دوسروں کو اپنے پیشہ کا کام سکھائیں- یہ صرف دنیوی طور پر عمدہ اور مفید کام نہ ہوگا بلکہ دینی خدمت بھی ہوگی اور بہت بڑے ثواب کا موجب ہوگا-
    ایک طریق
    ایک طریق کام چلانے کا وہ بھی ہے جو بوہروں میں رائج ہے ان میں سے اگر کوئی بے کار ہو جائے‘ تجارت نہ چلتی ہو اور اس کے پاس سرمایہ نہ ہو‘ تو بوہرے اس طرح کرتے ہیں کہ پنچائت کر کے فیصلہ کر دیتے ہیں فلاں چیز فلاں کے سوا اور کوئی نہ بیچے- دوسرے دکاندار وہ مال اسے دے دیں گے- مثلاً دیا سلائی کی ڈبیاں ہیں جب یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ فلاں کے سوا اور کوئی دیا سلائی کی ڈبیاں نہ بیچے تو جتنے بوہروں کے پاس یہ مال ہوگا وہ سب اس کو دے دیں گے اس طرح اس کا کام چل جاتا ہے مگر اس کیلئے بڑی جماعت کی ضرورت ہے- جہاں چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہوں وہ اس طرح کر سکتی ہیں کہ ایک دکان کھلوا دی جائے اور یہ عہد کر لیا جائے کہ تکلیف اٹھا کر بھی سب کے سب اسی سے سودا خریدیں گے- مسلمانوں میں تجارت کبھی ترقی نہ کر سکے گی جب تک وہ اس قسم کی پابندی اپنے اوپر عائد نہ کریں گے- ہماری جماعت اگر اس طریق کو چلائے تو بیسیوں لوگ تاجر بن سکتے ہیں-
    قومی نقطہ نگاہ سے اقتصادی حالت
    پھر قومی نقطہ نگاہ سے بھی اپنی اقتصادی حالت کا اندازہ کرنا چاہئے اس کے متعلق پہلی نصیحت میں نے یہ کی تھی کہ جہاں تک ہو سکے مسلمان اپنی ضروریات کی چیزیں مسلمان دوکانداروں سے خریدیں اور کھانے پینے کی چیزیں جو ہندو کسی مسلمان سے نہیں خریدتے وہ تو قطعاً مسلمانوں کو ہندوئوں سے نہ خریدنی چاہئیں- یہ اول درجہ کی بے حیائی ہے کہ وہ چیزیں جو مسلمان کا ہاتھ لگ جانے کی وجہ سے ہندوئوں کے نزدیک ناپاک ہو جاتی ہیں‘ وہ مسلمان ہندوئوں کے ہاتھ کی بنائی ہوئی خرید کر استعمال کریں- کئی دوست اس تحریک پر عمل کرتے ہیں مگر کئی نہیں بھی کرتے اور دوسرے مسلمان تو بالکل نہیں کرتے- ہماری جماعت کے جو دوست اس پر عمل نہیں کرتے وہ خود عمل کریں اور دوسرے مسلمانوں کو عمل کرنے کی تحریک کریں اور جہاں جہاں مسلمانوں کی دکانیں نہیں ہیں‘ وہاں احمدیوں کی دوکانیں کھلوا دیں اور ان کی مدد اس طرح کریں کہ ضروریات کی چیزیں انہی سے خریدیں-
    ہوزری کمپنی کی تحریک
    دوسرا طریق یہ ہے کہ مشترک سرمایہ سے کام کیا جائے وہ کام جو افراد نہیں کر سکتے‘ قوم کر سکتی ہے- اسی سلسلہ میں میں نے مجلس شوریٰ میں یہ تجویز منظور کی تھی کہ جرابیں وغیرہ بننے کیلئے کمپنی بنائے جائے اس کے کچھ حصے قادیان اور باہر کے لوگوں نے خریدے ہیں- لیکن کام شروع کرنے کیلئے کم از کم بائیس ہزار روپیہ ضروری ہے- افسوس کہ جماعت نے اس طرف پوری توجہ نہیں کی- حالانکہ مجلس مشاورت میں شریک ہونے والے دوست یہ عہد کر کے گئے تھے کہ ہم اس کمپنی کی بنی ہوئی چیزیں خریدیں گے اور میں نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر اس کمپنی کی جرابیں پورے سائز کی نہ ہونگی تو خواہ وہ کتنی ہی خراب ہوں ہم وہی پہنیں گے اور ان پر اعلیٰ درجہ کی جرابوں کو ترجیح نہ دیں گے- تمام جماعتوں کو چاہئے کہ اس ہوزری فیکٹری کے حصے خریدیں- اس رنگ میں عمدگی سے تجارتی کام چلایا جا سکتا ہے- ہوزری کے کام کو اس لئے چنا گیا ہے کہ یہ تھوڑے سرمایہ سے چلایا جا سکتا ہے جب یہ تجویز کی گئی تھی‘ اس وقت بارہ ہزار سرمایہ کی ضرورت تھی لیکن اب بائیس ہزار کی ہے- اور اگر اب بھی کام نہ چلایا گیا تو ممکن ہے پھر پچاس ہزار کی ضرورت پیش آئے- اگر سرمایہ زیادہ ہو جائے تو اس کام کو اور زیادہ بڑھایا جا سکتا ہے یعنی بنیانیں اور کپڑا بننے کا کام شروع کیا جا سکتا ہے-
    قومی سرمایہ سے کام جاری کرنے کی ضرورت
    اس وقت مسلمانوں میں بیداری کے آثار پائے جاتے ہیں اور وہ ابھرنا چاہتے ہیں مگر ہندئووں نے تجارت کا ایک ایسا حلقہ قائم کر رکھا ہے کہ مسلمان ابھر نہیں سکتے- ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ نے موقع دیا ہے کہ ہم اپنی تنظیم کے ذریعہ ابھر سکتے ہیں اور دوسرے مسلمانوں کو سہارا دیکر کھڑا کر سکتے ہیں میری غرض یہ ہے کہ مسلمانوں کو اقتصادی طور پر جو کچلا جا رہا ہے اس کا انسداد ہو جائے‘ مسلمان محفوظ ہو جائیں اور ارتداد کے گڑھے میں نہ گریں- اس کے علاوہ کئی ادنیٰ اقوام مسلمان ہونے کیلئے تیار ہیں مگر وہ کہتی ہیں کہ کام دو ہم کام کہاں سے دیں جب تک قومی طور پر کام شروع نہ کئے جائیں-
    میں اس کام کی مثال ایسی سمجھتا ہوں جیسے مظہر جان جاناں کا لڈو کھانا تھا- اس کے پاس ایک دفعہ بالائی کے لڈو لائے گئے جو بہت چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں- ان کے ایک مخلص مرید تھے انہیں انہوں نے دو لڈو دیئے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد پوچھا تمہیں لڈو دیئے تھے کہاں ہیں- انہوں نے کہا وہ تو میں نے اسی وقت کھا لئے تھے- کہنے لگے کیا دونوں کھا لئے- انہوں نے کہا اتنے چھوٹے چھوٹے تو تھے ذرا سی دیر میں کھا لئے ان کے کھانے میں کونسی بات تھی- انہوں نے کہا کیا تمہیں لڈو کھانا نہیں آتا- مرید نے جواب دیا مجھے تو اسی طرح کھانا آتا ہے کہ منہ میں ڈال لیا اور کھا لیا اگر کوئی اور طریق ہو تو آپ بتا دیں- انہوں نے کہا اچھا پھر کبھی لڈو آئے تو بتائیں گے- ایک دن پھر کوئی مرید لڈو لایا اس پر مظہر جان جاناں نے اس مرید کو بلا کر کہا- دیکھو- اس طرح لڈو کھانا چاہئے یہ کہہ کر انہوں نے رومال بچھایا اور اس پر دو لڈو رکھ کر کہنے لگے غور کرو اس میں کیا کیا چیزیں پڑی ہیں اور پھر ان کو کتنے آدمیوں نے تیار کیا ہے اس لئے کہ مظہر جان جاناں لڈو کھائے سبحان اللہ یہ خدا تعالیٰ کا کتنا بڑا فضل ہے- یہ کہہ کر ایک ذرا سا ٹکڑا منہ میں ڈالا اور پھر خدا تعالیٰ کے احسانات پر تقریر کرنے لگ گئے- اسی طرح کرتے رہے کہ اذان ہو گئی اور آپ نماز کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے- اس طرح انہوں نے بتایا کہ لڈو کھانا بھی عبادت ہے- اگر اسے صحیح طور پر کھایا جائے یعنی لڈو نفس کیلئے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھانے کیلئے کھانا چاہئے-
    ہمارا فرض ہے کہ جماعت کی چاردیواری کو ہر طرف سے مضبوط کریں- اس کی ایک طرف کی دیوار اقتصادی حالت ہے اسے اگر مضبوط نہ کیا جائے تو سخت نقصان ہوگا- فی الحال جو چھوٹا سا کام شروع کرنے کی تجویز ہے اس میں احباب کو شرکت اختیار کرنی چاہئے- جب ہم اس کام میں روپیہ اس نیت سے لگا رہے ہیں کہ جماعت کی طاقت اور قوت بڑھے‘ جو بے کار لوگ ہیں وہ کام پر لگ جائیں‘ مسلمانوں کی اقتصادی حالت درست ہو سکے‘ اچھوت اقوام میں تبلیغ کر سکیں تو انشائاللہ اس کمپنی کو کسی صورت میں بھی نقصان نہیں ہوگا اور اگر خدانخواستہ مالی لحاظ سے نقصان ہو تو خدا تعالیٰ دوسری طرح اسے پورا کر دے گا- بعض لوگ سٹور کے فیل ہونے سے ڈرے ہوئے ہیں مگر وہ منافع کیلئے کام شروع کیا گیا تھا اور اب جو کام شروع کیا جانے والا ہے اس کی غرض یہ ہے کہ مسلمانوں کو ترقی حاصل ہو اور اقتصادی پہلو سے ان کی حفاظت کر سکیں- پھر ترقی کرنے والی قوم کو اس طرح کی باتوں سے ڈرنا نہیں چاہئے کہ فلاں کام میں نقصان ہو گیا تھا اس قسم کا ڈر ترقی کے رستہ میں بہت بڑی روک ہے- انگریزوں نے جب ایسٹ انڈین کمپنی بنائی تو پہلے اس میں گھاٹا پڑتا رہا مگر انہوں نے استقلال کے ساتھ کام جاری رکھا آخر ہندوستان کی بادشاہت انہیں مل گئی- غرض قومی طور پر جو کام شروع کیا جائے وہ گو ابتداء میں معمولی نظر آئے‘ اس میں مشکلات ہوں‘ اس میں نقصان اٹھانا پڑے لیکن اگر قوم ہمت اور استقلال سے اسے جاری رکھے تو آخر کار عظیم الشان نتائج رونما ہوتے ہیں ہماری جماعت کو ایسی ہی ہمت دکھانی چاہئے-
    مسلمانان کشمیر کی امداد
    اقتصادی حالت کی اصلاح کے ماتحت میں ایک اور سوال کو لیتا ہوں وہ مسلمانان کشمیر کا مسئلہ ہے- میں اس کو بھی سیاسی سوال نہیں بلکہ اقتصادی سوال سمجھتا ہوں کیونکہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا حصہ اقتصادی غلامی میں مبتلا ہے اور اگر یہ حصہ اقتصادی طور پر غلام رہے تو اس لحاظ سے مسلمانوں میں کمزوری پائی جائے گی- اسی وجہ سے میں نے اس معاملہ میں حصہ لیا ورنہ میں حصہ لینے کا کوئی حق نہ سمجھتا اور آج بھی نہیں سمجھتا ہوں مگر میں نے دیکھا مسلمانوں کی ایک بہت بڑی آبادی اقتصادی غلامی میں مبتلا ہے اسی لئے میں نے دوستوں کو مسلمانان کشمیر کی امداد کی طرف توجہ دلائی اور چندہ دینے کی تحریک کی- میں خوش ہوں کہ دوستوں نے توجہ کی اور ڈیڑھ ہزار کے قریب ہندوستان اور بیرون ہند سے ماہوار چندہ آ جاتا ہے مگر اخراجات کی زیادتی کی وجہ سے دس ہزار کے قریب قرض ہو گیا ہے- اگر اس وقت کشمیر کے مسلمانوں کی امداد کا کام بند بھی کر دیا جائے تو بھی دس ماہ تک چندہ جاری رکھنا پڑے گا تا کہ قرض ادا ہو جائے- مگر ابھی کام ختم نہیں ہوا بلکہ بڑھ رہا ہے اور ابھی کم از کم ڈیڑھ دو سال تک جاری رکھنے کی ضرورت ہے- خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کا خاصہ ہے کہ جس کام کو وہ ہاتھ میں لیتی ہے اسے مکمل کر کے چھوڑتی ہے اور اس بات کو ہمارے دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں- اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اس حد تک اس کام کو مکمل کریں جس حد تک تکمیل کی ضرورت ہے- پس میں توجہ دلاتا ہوں کہ دوست نہ صرف اس امداد کو جاری رکھیں بلکہ اسے دوگنی تگنی کر دیں اور کوشش کریں کہ نہ صرف ہزار ڈیڑھ ہزار روپیہ اس کام کیلئے ماہوار جمع ہو بلکہ دو اڑھائی ہزار تک آمد ماہوار ہو اور دو ڈیڑھ سال تک جاری رہے جب تک کہ وہاں کے لوگ کام کو سنبھالنے کے قابل نہ ہو جائیں اس امداد کو جاری رکھیں-
    میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ اس کام میں خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہے- میں نے اپنا ایک رئویا بھی سنایا تھا اب چند ہی دن ہوئے میں نے ایک اور رئویا دیکھا- میں نے دیکھا دروازہ پر آواز دی گئی ہے کہ باہر آئیں ایک ضروری کام ہے- جب میں باہر آیا تو دیکھا کہ دروازہ پر شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی اور منشی برکت علی صاحب آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ کھڑے ہیں اور ان کے ہاتھ میں ایک پارسل ہے- پارسل رسیوں سے بندھا ہوا ہے اور اوپر مہریں لگی ہوئی ہیں وہ کاغذات کا بنڈل معلوم ہوتا ہے انہوں نے بڑے ادب سے کاغذات پیش کئے- میرا ہی ادب نہیں کیا بلکہ کاغذات کا بھی ادب کیا- کہا- یہ پارسل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بصیغہ راز بھیجا ہے اور اس میں تاکیدی ارشاد فرمایا ہے اور یہ بھی کہ حاجی نبی بخش کو بھی شامل کر لیا جائے-
    منشی برکت علی صاحب کے سپرد میں نے چندہ کشمیر کا کام کیا ہوا ہے اس وقت میرا ذہن اس طرف گیا کہ اس پارسل میں کشمیر کے متعلق خاص ہدایایت ہیں تو میں اس کام میں خدائی ہاتھ سمجھتا ہوں- پہلے جب ایک دفعہ میں نے تقریر کی اور بتایا کہ خدا تعالیٰ کا منشاء ہے کہ کشمیریوں کو آزادی حاصل ہو اور خدا تعالیٰ کا ہاتھ اس کام میں ہے تو ادھر میں نے خطبہ پڑھا اور ادھر کشمیر کے حالات میں سخت خرابی پیدا ہو گئی- بڑے زور سے مسلمانوں پر تشدد شروع ہو گیا انگریزی فوجیں ریاست میں داخل ہو گئیں اور حالات نہایت ہی خطرناک ہو گئے- اس وقت بعض لوگ حیران ہو گئے کہ اب کیا ہوگا- مگر ایک مہینہ کے اندر اندر حالات بالکل بدل گئے اور وہ لوگ جو سختی کرنے والے تھے ریاست سے نکلوا دیئے گئے-
    پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے اپنے ہاں جا کر اس کام کو پہلے سے بھی زیادہ توجہ اور کوشش سے کریں اور کم از کم اڑھائی تین ہزار روپیہ ماہوار چندہ جمع کرنے کی کوشش کریں اور کم از کم اڑہائی تین ہزار روپیہ ماہوار چندہ جمع کرنے کی کوشش کریں- دو ڈیڑھ سال تک غالباً اسے جاری رکھنے کی ضرورت ہوگی اس وقت تک جاری رکھا جائے-
    )الفضل ۱۰-جنور ی ۱۹۳۳ء(
    ‏a12.12
    سلطنت مغلیہ کا آخری دور اور مسلمانوں کی حالت
    اب میں سیاسی حالت کی طرف آتا ہوں- موجودہ زمانہ ہندوستان میں ایسا ہی ہے جیسا کہ حکومت مغلیہ کے آخر میں آیا تھا- اس وقت ایک طرف سے سکھ اٹھے اور دوسری طرف سے مرہٹے جنہوں نے مسلمانوں کو جو خانہ جنگیوں اور بے انتظامیوں کی وجہ سے کمزور ہو چکے تھے کچل کر رکھ دیا اور پنجاب میں تو سکھوں نے حد ہی کر دی ان کے دور میں کہیں اذان نہ دی جاتی تھی- حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے- امرتسر میں کسی سکھ نے ایک مسلمان کو خط دیا کہ پڑھ دو- اس وقت سکھ کی قابلیت یہ سمجھی جاتی تھی کہ وہ پڑھا ہوا نہ ہو اور سکھ مختلف بہانوں سے لوگوں سے خط پڑھواتے تا کہ اگر کوئی پڑھ دے تو یہ اس کے مسلمان ہونے کی علامت ہوگی اور اسے مار دیا جائے- جسے خط پڑھنے کیلئے دیا گیا اس نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں- سکھ نے کہا- نہیں- ضرور پڑھ دو- اس نے کہا- میں بالکل نہیں پڑھا ہوا- سکھ نے کہا- اگر تم پڑھے ہوئے نہیں تو یہ بالکل کا لفظ کہاں سے سیکھ لیا تم ضرور پڑھے ہوئے ہو یہ کہہ کر اس نے تلوار سے اس کا سر اڑا دیا-
    حضرت مسیح موعود کی بعثت
    دراصل یہ عذاب تھا جو اس رنگ میں مسلمانوں پر نازل ہوا جس نے مسلمانوں کو پیس کر رکھ دیا- آخر خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو مبعوث کیا اور مسلمان جب بے حد کمزور ہو گئے تو روحانی طور پر ان کی حفاظت کا سامان کیا گیا-
    ہندوئوں کی منظم سازش
    اب ایک اور زمانہ آ رہا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انگریز ایک حد تک حکومت کر کے تھک گئے ہیں- لایودہ حفظھما ۸~~}تو خدا تعالیٰ کی شان ہے- انگریزوں نے زبانی نہیں تو عملی طور پر کہہ دیا ہے کہ ہم تھک گئے ہیں‘ ہندوستانی ہندوستان کی حکومت سنبھال لیں- ان حالات میں نہایت ہی نازک وقت آیا ہوا ہے ایسا نازک کہ اگر ذرا کوتاہی کی گئی تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ایک ایسی منظم قوم جسے سالہا سال سے یہ بتایا جا رہا ہے کہ مسلمان تمہارے دشمن ہیں‘ وہ مسلمانوں کے خلاف کھڑی ہو جائے گی- >ہندو راج کے منصوبے< کتاب میں جو مہاشہ فضل حسین صاحب نے شائع کی ہے‘ بڑے بڑے ہندو لیڈروں کے بہت سے اس قسم کے بیانات درج کر دیئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو کچل کر رکھ دو یا اپنے اندر شامل کرلو اور ہندوستان میں ہندو راج قائم کرلو-
    نہایت ہی تاریک مستقبل
    ان حالات میں نہایت ہی تاریک مستقبل نظر آتا ہے- جس سے ڈر آتا ہے اور خطرناک ڈر اس لئے نہیں کہ اسلام کو مٹا دیا جائے گا یہ تو ناممکن ہے بلکہ اس لئے کہ جس طرح حضرت مسیح ناصری کے انکار کی وجہ سے رومیوں کو کچل دیا گیا تھا اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انکار کی وجہ سے مسلمانان ہند کو نہ کچل کر رکھ دیا جائے- خدا تعالیٰ نے ان کی امداد اور اصلاح کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا آپ نے ایک جماعت قائم کی‘ عقل و سمجھ رکھنے والے لوگ مانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اچھا کام کیا اور آپ کی جماعت اچھا کام کر رہی ہے مگر اس کے ساتھ شامل نہیں ہوتے- یہ مانتے ہیں کہ جماعت احمدیہ بڑی منظم جماعت ہے اس نے بڑا کام کیا ہے مگر ساتھ ہی کہتے ہیں اسے کچل دینا چاہئے- ان حالات میں مسلمانان ہندوستان کے متعلق جس قدر خطرات ہو سکتے ہیں‘ ان کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ایک طرف مسلمانوں کی پراگندگی اور آپس کے لڑائی جھگڑے اور دوسروی طرف ہندوئوں کی ان کے خلاف تنظیم کوئی معمولی خطرہ کی بات نہیں-
    مسلمانان کشمیر پر مظالم
    مسلمانان کشمیر پر جو مظالم کئے گئے وہ بھی ہندوئوں کی اسی سکیم کے ماتحت کئے گئے جو انہوں نے مسلمانوں کے خلاف تجویز کر رکھی ہے- موجودہ مہاراجہ صاحب نے پہلے جب حکومت ہاتھ میں لی تو ان کی توجہ مسلمانوں کی کمزور حالت کی اصلاح کی طرف تھی وہ چاہتے تھے کہ مسلمان ترقی کریں مگر ہندو لیڈروں نے جب یہ طے کیا کہ پہلے ہندو ریاستوں میں مکمل ہندو راج قائم کرنا چاہئے تو انہوں نے راجوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا- کشمیر میں بھی یہی کیا گیا اس کے بعد الور میں کیا جا رہا ہے-
    ہماری مشکلات
    ہمارے لئے ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ ہمارے اصول ایسے ہیں جن کے لحاظ سے ہم دوسرے مسلمانوں سے بعض باتوں میں تعاون نہیں کر سکتے- مثلاً ہمارا ایک اصل یہ ہے کہ کسی حکومت کے خلاف بغاوت اور قانون شکنی میں دوسرے مسلمانوں کا ساتھ نہ دیں تو اپنے گھروں میں بیٹھے رہنے والے اور کوئی کام نہ کرنے والے ہمیں قومی غدار قرار دینے لگ جاتے ہیں اور عوام کو ہمارے خلاف بھڑکانا شروع کر دیتے ہیں- پھر جس حکومت سے مقابلہ ہو اس کے افسر ضد اور تعصب کی وجہ سے احمدیوں پر بے جا تشدد اور ظلم شروع کر دیتے ہیں- کشمیر میں ایسے واقعات ہوئے- مثلاً ایک احمدی کو سخت مارنے پیٹنے کے علاوہ بالکل ننگا کر کے اس کی عورت کے سامنے کھڑا کر دیا گیا اور عورت کو بھی ننگا کیا گیا- ہمیں اس قسم کے جہالت اور وحشت کے واقعات بھی دیکھنے پڑیں گے مگر باوجود اس کے ہم کام کئے جائیں گے-
    ہر قدم پر خطرہ
    ہمیں یہ یقین رکھنا چاہئے کہ ہمیں ہر قدم پر خطرہ ہے- ہم مسلمانوں کے لئے خواہ کتنی قربانیاں کریں ایسا موقع آئے گا جب وہ کہیں گے ان کو مارو اور کچلو اس وقت کمزور دل کہیں گے کیا ہمیں اس قوم کی مدد کرنے کے لئے کہا جاتا ہے جو ہماری ہی دشمن ہے اور ہمیں ہی کچلنا چاہتی ہے- مگر یاد رکھنا چاہئے ہم اس خدا کے بندے ہیں جو کافروں اور دہریوں کی بھی ربوبیت کرتا ہے ہمیں اس قسم کے نظاروں سے گھبرانا نہیں چاہئے اگر ہم رب العالمین کے بندے ہیں تو ہمارے حوصلے بہت وسیع اور ہماری ہمتیں بہت بلند ہونی چاہئیں-
    مسلمانان ہند کی سیاسی نجات
    میرے نزدیک ہندوستان کے مسلمانوں کی سیاسی نجات بھی احمدیوں سے ہی وابستہ ہے- مسلمانوں میں بعض دیانتدار لیڈر ہیں جو قوم کا درد رکھتے ہیں مگر وہ استقلال سے کام نہیں کر سکتے جلد گھبرا جا تے ہیں اور کہہ اٹھتے ہیں لڑ مرو حالانکہ مسلمان کا کام لڑ مرنا نہیں بلکہ لڑ مارنا ہے- خدا کا بندہ مقابلہ میں کیوں مرے‘ مرنا تو دشمن کے لئے ہے-
    مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت
    ہمیں سیاسی معاملات میں حصہ لیتے ہوئے تین مشکلات کو مدنظر رکھنا چاہئے- پہلی مشکل مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے متعلق ہے- ہماری ذمہ واری ہو گی کہ ہم مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کریں مگر مشکل یہ ہے کہ اس میں خود مسلمان روک بنیں گے- مسلمانوں میں چونکہ تعلیم کم ہے اور عام لوگ سیاسیات سے واقف نہیں اس لئے بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جس بات میں ان کا نقصان ہوتا ہے اسے اپنا حق قرار دے لیتے ہیں جیسا کہ ایک جماعت کہتی ہے مشترکہ انتخاب ہمارا حق ہے یہ ہمیں ملنا چاہئے-
    ایک گرو اور چیلے کا قصہ
    ‏text1] [tagایک قصہ مشہور ہے- کہتے ہیں ایک گرو اپنے چیلے کو لے کر جگہ بہجگہ پھر رہا تھا- ایک مقام پر جب وہ گئے تو وہاں انہیں معلوم ہوا کہ یہاں ہر چیز ٹکے سیر بکتی ہے- چیلے نے کہا یہاں ٹھہرنا چاہئے یہ خوب مزا ہے کہ جو چیز چاہو ٹکے سیر لے لو- گرو نے سمجھایا کہ جہاں ایسا اندھیر ہو وہاں نہ معلوم اور کیا کچھ ہو گا مگر چیلے نے کہا اور کیا ہو سکتا ہے یہاں ہی ٹھہریئے- کچھ عرصہ کے بعد راجہ کو رپورٹ کی گئی کہ ایک آدمی دیوار کے نیچے آ کر مر گیا ہے- راجہ نے کہا یہ خون ہوا ہے اس کے بدلے دیوار کو پھانسی دے دی جائے- کہا گیا دیوار کو کس طرح پھانسی دی جائے- راجہ نے کہا دیوار کو نہیں تو دیوار کے مالک کو پھانسی دے دو- اس پر دیوار کے مالک کو پکڑ لائے- جب اسے پیش کیا گیا تو اس نے کہا مہاراج میرا کیا قصور ہے‘ دیوار راج نے خراب بنائی تھی اس لئے گر گئی- راجہ نے کہا ٹھیک ہے قصور راج کا ہے‘ اسے پکڑ کر لاو- جب اسے لایا گیا تو اس نے کہا میرا کیا قصور ہے گارا خراب تھا اس میں سقہ نے پانی زیادہ ڈال دیا تھا- راجہ نے کہا سقہ گرفتار کر کے لایا جائے- جب وہ لایا گیا تو اس نے کہا اس وقت پاس سے ایک عورت گزر رہی تھی جسے ایک مرد اشارے کر رہا تھا‘ میں ان کی طرف دیکھنے لگ گیا اور مشک کا مونہہ بند کرنا بھول گیا- اس پر عورت کو لایا گیا- اس نے کہا میرا کیا قصور ہے‘ مجھے فلاں مرد اشارے کر رہا تھا- اس مرد کو پکڑ کر منگایا گیا اسے کوئی عذر نہ سوجھا- اس پر فیصلہ کیا گیا کہ اسے پھانسی دے دی جائے- جب پھندا اس کے گلے میں ڈالا گیا تو وہ کھلا تھا- اس کی اطلاع راجہ صاحب کو دی گئی- انہوں نے کہا اسے چھوڑ دیا جائے اور کوئی موٹا آدمی پکڑ لیا جائے جس کی گردن پھندے میں پوری آ سکے- وہ چیلا مٹھائیاں کھا کھا کر بہت موٹا ہو چکا تھا اسے پکڑ لیا گیا- اس نے پوچھا- کوئی قصور بتائو- کہا گیا- یہی قصور ہے کہ تمہاری گردن پھندے میں پوری آئے گی- اس نے کہا- اچھا جس طرح مرضی ہو کرو مگر مجھے اپنے گرو سے مل لینے دو- جب وہ گر و سے ملنے گیا تو اس نے کہا- میں نہ کہتا تھا یہاں نہ ٹھہرو- چیلے نے کہا- اب تو میں پھنس گیا کسی طرح نکالیں- گرو نے کہا- اچھا چلو میں بھی وہیں آتا ہوں- جب چیلے کو پھانسی پر لٹکانے لگے تو گرو دوڑتا ہوا جا کر کہنے لگا- میرا حق ہے‘ پھانسی میں چڑھوں گا- میں اسی دن کے لئے تو عبادت کرتا رہا ہو- چیلا کہے- نہیں میں چڑھوں گا- ان دونوں کو راجہ صاحب کے پاس لے گئے- کہ یہ کہتے ہیں آج جو پھانسی پر چڑھے گا سیدھا سورگ میں جائے گا- راجہ نے کہا- یہ میرا حق ہے میں پھانسی پر چڑھوں گا- اس طرح راجہ پھانسی پا گیا-
    اسی قسم کا حق وہ مسلمان مانگتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ مشترکہ انتخاب ہمارا حق ہے- جہاں مسلمانوں میں ا یسا طبقہ ہو جو پھانسی کو اپنا حق سمجھے اس کے متعلق سمجھ سکتے ہو‘ اس کی کتنی درد ناک حالت ہے- بہرحال مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ خواہ ہم کتنی خدمت کریں وہ یہی کہیں گے کہ یہ قومی غدار ہیں- مگر ہمیں ایسی باتوں کی کوئی پروا نہیں کرنی چاہئے بلکہ دیانت داری کے ساتھ اپنے کام پر قائم رہنا چاہئے اور مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے کوشش کا کوئی وقیقہ فروگزاشت نہ کرنا چاہئے-
    تمام اقوام کے حقوق کی حفاظت
    دوسرے ہمارا یہ بھی فر ض ہو گا کہ اگر تمام کے تمام مسلمان مل کر بھی چاہئیں کہ غیر قوموں کے متعلق عدل و انصاف کو مدنظر نہ رکھا جائے تو ہم بالکل انکار کر دیں- ہم رب العالمین کے خلیفہ ہیں اس نے ہماری جماعت کو اس لئے قائم کیا ہے کہ ہم دنیا میں حق اور عدل کو قائم کریں اس وجہ سے ہمارا فرض ہے کہ تمام اقوام کے حقوق کی حفاظت کریں خواہ وہ ہم سے لڑ ہی رہی ہوں- ہو سکتا ہے کہ کسی وقت کوئی ایسا معاملہ پیش آ جائے جس سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہو لیکن کسی دوسری قوم سے ناانصافی ہو تی ہو اس وقت گو ہمیں بہت مشکل پیش آئے گی لیکن ہمارا فرض ہو گا کہ ناانصافی کرنے والوں کا ساتھ نہ دیں بلکہ جن کا حق مارا جاتا ہو ان کی امداد کریں-
    قانون شکنی کرنے والوں سے مقابلہ
    تیسری مشکل یہ ہے کہ بغاوت اور قانون شکنی کرنے والوں کے جب ہم خلاف ہوں گے تو وہ ہمارے بھی دشمن ہو جائیں گے اور کہیں گے یہ غدار ہیں- مگر ان تمام مشکلات سے گزرتے ہوئے ہمارا فرض ہے کہ راستی کو قائم کریں- ہم خدا تعالیٰ کے ایک مامور کے ماننے والے ہیں اور وہ کسی خاص قوم سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ ساری دنیا سے تعلق رکھتا ہے اور ساری دنیا کے فائدہ کے لئے معبوث ہوا ہے-
    مسلم کانفرنس اور الہ آباد کانفرنس
    میرے نزدیک موجودہ حالات میں مسلمانوں کے مطالبات انصاف پر مبنی ہیں- الہ آباد کی کانفرنس نے غلطی کی وہ مسلمانوں میں شقاق پیدا کر رہی ہے اور عملاً نظر آ رہا ہے کہ لڑائی جھگڑے زیادہ بڑھ رہے ہیں مگر ہم کسی ایک فریق پر الزام نہیں لگا سکتے- وجہ یہ کہ جہاں مسلم کانفرنس کے مطالبات ٹھیک ہیں وہاں وہ الہ آباد کانفرنس کے خلاف ایک غلطی کر رہی ہے اور وہ یہ کہ اس میں شریک ہونے والے مسلمان لیڈروں نے ابھی کوئی فیصلہ کیا ہی نہیں تھا کہ انہیں غدار قرار دے دیا گیا- یہ طریق کام کرنے کا نہیں- چاہئے کہ ہم ایک دوسرے پر اعتماد کریں- میرے نزدیک مناسب نہ تھا کہ اس موقعہ پر ہندو مسلمانوں کی کانفرنس ہو مگر جب ہوئی تو ہمارا فرض تھا کہ اس میں شریک ہونے والوں کو ان کی غلطی دلائل سے سمجھاتے نہ کہ سوٹے سے- اس طریق عمل سے ہم بہت نقصان اٹھا چکے ہیں- اس کانفرنس میں شریک ہونے والے مسلمان لیڈروں کو غدار کہنا ٹھیک نہیں ان میں دیانت دار اور خدمت گزار لوگ بھی موجود ہیں مگر اسی طرح پھانسی پر چڑھ رہے ہیں جس طرح راجہ چڑھا تھا-
    احمدیوں کو نصیحت
    ہماری جماعت کے جو دوست سیاسی امور میں حصہ لیتے ہیں وہ مسلمانوں کے حقوق اور مطالبات کے متعلق میرے مضامین پڑھیں اور اپنے اپنے علاقہ کے لوگوں کو ان کے مطالب سمجھائیں- میرے نزدیک مسلم کانفرنس جو مطالبات پیش کر رہی ہے وہ صحیح ہیں اور الہ آباد کانفرنس میں حصہ لینے والے جس رنگ میں سیاسی امور طے کر رہے ہیں وہ غلط ہیں اور مسلمان کے لئے نقصان رساں-
    قتل و غارت کی خطرناک تحریک
    ایک اور خطرناک تحریک ملک میں جاری ہے اور وہ قتل و غارت کا سلسلہ ہے- ایک جماعت ایسی ہے جو کہتی ہے کہ انگریزوں کو اور ان سے تعاون کرنے والوں کو مار دیں گے- میرے نزدیک یہ تحریک انگریزوں کے خلاف اتنی نقصان رساں نہیں ہے جتنی مسلمانوں کے لئے ہے- جہاں جہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے وہاں ہی یہ تحریک زوروں پر ہے مگر مسلمان اس میں شامل نہیں ہیں-
    مسلمانوں کے لئے خطرات
    پنجاب میں‘ بنگال میں اور صوبہ سرحد میں یہ تحریک زیادہ پائی جاتی ہے اور انہی علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے مگر مسلمان اس میں شامل نہیں صرف ہندو ہی اس میں حصہ لے رہے ہیں- اس کے معنی کیا ہیں یہ کہ مسلمان کو ڈرایا جا رہا ہے کہ دیکھو جب انگریزوں سے ہم یہ سلوک کر رہے ہیں جو ہر قسم کی طاقت رکھتے اور ہندوستان میں حکمران ہیں تو تمہاری کیا حقیقت ہے کہ ہندوئوں کے مقابلہ میں ٹھہر سکو- مسلمان چونکہ بے حد غیر منظم اور پراگندہ ہیں اس لئے اس تحریک کے خطرات مسلمانوں کے لئے بہت زیادہ ہیں بہ نسبت انگریزوں کے اس وجہ سے مسلمانوں کے لئے سیاسی لحاظ سے بھی اس تحریک کا مقابلہ کرنا ضروری ہے اور مذہبی لحاظ سے اس سے بھی زیادہ ضروری ہے- ہماری جماعت اس لئے کھڑی ہوئی ہے کہ شرارت کو دور کرے خواہ کوئی شرارت کرے‘ انگریز کرے یا ہندو-
    کانگرسی اور تحریک تشدد
    میں نے قتل و غارت کی اس خطرناک تحریک کے متعلق بڑا مطالعہ کیا ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ کئی کانگرسی اس میں شامل ہیں اور ایسے لوگوں کے لئے روپیہ کانگرس مہیا کرتی ہے بحیثیت جماعت نہیں بلکہ ذمہ وار کانگرسی افراد روپیہ سے مدد کرتے ہیں- قتل و خونریزی کے حادثات کے متعلق جب بھی کانگرسیوں کی طرف سے نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے تو دو رخی طریق اختیار کیا جاتا ہے- بے شک یہ کہا جاتا ہے کہ کانگرس تشدد کو پسند نہیں کرتی لیکن دوسری طرف تشدد کا ارتکاب کر کے سزا پانے والوں کو قوم کے لئے قربانی کرنے والے قرار دیا جاتا ہے اور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ان پر رحم کرنا چاہئے- لیکن اگر ان کو رحم کا مستحق سمجھا جاتا ہے تو انگریزوں پر کیوں نہ رحم کرنا چاہئے- جب قاتلوں اور خونریزی کرنے والے کے مقابلہ کے لئے کوئی تجویز کی جاتی ہے تو کانگرس والے بے چین ہو جاتے ہیں حالانکہ ہر وہ شخص جو ہندوستان کا خیرہ خواہ کہلاتا ہے‘ اسے قتل و غارت کرنے والوں کا مقابلہ کرنا چاہئے- کیونکہ جو طریق عمل ایسے لوگوں نے اختیار کر رکھا ہے اس سے کبھی حکومت نہیں مل سکتی-
    خونریزی کرنے والوں کی جماعت
    خونریزی کرنے والوں کو خون بہانے کی عادت ہو جاتی ہے اور وہ خون کرتے جاتے ہیں جس سے ان کے اخلاق مٹ جاتے ہیں اور وہ عقل کی حدود سے گزر کر جنون میں مبتلا ہو جاتے ہیں- یاد رکھنا چاہئے- عقل اور جنون کے درمیان بہت باریک پردہ ہوتا ہے- ایک وفعہ کوئی شخص کسی برے قتل کا ارتکاب کر لے تو دوسری دفعہ اس کے کرنے میں اس کے لئے اتنا حجاب نہ رہے گا جتنا پہلے ہو گا اسی طرح جو لوگ قتل کے مرتکب ہوتے ہیں ان کے نفس پر دوسروں کا خوں بہانا قابو پا لیتا ہے اور پھر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر قتل کرنے لگ جاتے ہیں-
    ‏sub] ga[t اسلام کا حکم اور بانی اسلام کا عمل
    اس نقص کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلام نے دشمن پر حملہ کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اندفاع کا حکم دیا ہے- ساری عمر رسول کریمﷺ~ نے صرف ایک دفعہ دشمن پر حملہ اور وہ بھی اس وقت جبکہ وہ آپ کے سر پر پہنچ گیا- صحابہؓ نے اس کا مقابلہ کرنا چاہا مگر آپ نے ان کو روک دیا اور فرمایا- اسے آنے دو- جب وہ قریب آیا تو آپ نے اسے نیزہ ذرا سے چھبو دیا- اس پر وہ بھاگا اور جب اس سے پوچھا گیا کہ کیوں بھاگے- تو اس نے کہا- ساری دنیا کی آگ اس چھوٹے سے زخم میں بھر دی گئی ہے- تو رسول کریمﷺ~ نے ساری عمر میں کبھی کسی کی جان نہ لی بلکہ جب مجرموں کے قتل کا سوال سامنے آیا تو آپ نے فرمایا- اگر یہ لوگ معانی مانگ لیتے یا سفارش کراتے تو میں انہیں چھوڑ دیتا-
    پوری طرح مقابلہ کرنے کی ضرورت
    میرے نزدیک انارکسٹ قوم کے اخلاق کو کچلنے والے ہیں اور اس چیز کو کچلنے والے ہیں جسے قائم کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو قائم کیا ہے اس لئے انگریزوں سے زیادہ ہمیں اس تحریک کے متعلق فکر کرنا چاہئے- انگریزوں کو تو اپنی جان ہی کی فکر ہے- لیکن ہمیں لوگوں کی روح کی فکر ہے پس ہمیں اس تحریک کا پوری طرح مقابلہ کرنا چاہئے-
    قاتل اور ڈاکو حکومت نہیں کر سکتے
    پھر یاد رکھنا چاہئے دنیا میں قاتل اور ڈاکو حکومت نہیں کر سکتے- اگر فاتح ہو جائیں تو ان کی فتح عارضی ہوتی ہے وہ حکومت ہرگز قائم نہیں رکھ سکتے اس لئے جن لوگوں نے قتل و خونریزی کی راہ اختیار کر رکھی ہے وہ ہندوستان کے دوست نہیں بلکہ بہت بڑے دشمن ہیں- ان کے ذریعہ ہندوستان میں قومی حکومت قائم نہ ہو گی بلکہ ہندوستان کو تباہی و بربادی کا سامنا کرنا پڑے گا-
    انگریزوں کا قصور
    میرے نزدیک اس بارے میں انگریزوں کا بھی قصور ہے- وہ ایسی پالیسی پر چلے ہوئے ہیں کہ صحیح طریق عمل اختیار کرتے ہوئے ڈرتے ہیں- میں نے کئی بار ذمہ وار انگریزوں کو بتایا ہے کہ جو طریق انہوں نے اختیار کیا ہوا ہے اس کے ذریعہ کامیابی نہ ہو گی- اس وقت انارکسٹوں کا مقابلہ صوبجاتی حکومتیں کرتی ہیں لیکن جب ایک صوبہ میں آرڈیننس جاری کیا جاتا ہے تو وہ دوسرے صوبہ میں چلے جاتے ہیں اور وہاں شرارت کا بیج بو دیتے ہیں- پھر اگر سارے ہندوستان میں ان کے خلاف کارروائی کی جائے تو بھی کامیابی نہ ہوگی کیونکہ جس کو مارنے کا منصوبہ کیا جائے وہ اگر مارنے والوں کو کہے کہ ایسا نہ کرو تو ان پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا- یہ کوشش غیر جانبدار لوگوں کی طرف سے ہونی چاہئے- دیکھو جسے قتل کیا جانے والا ہو وہ اگر قاتل سے کہے قتل نہ کرو تو اس کا کوئی اثر نہ ہو گا لیکن اگر غیر جانبدار کہے کہ یہ کام ٹھیک نہیں ایسی شرارت نہ کرو تو اس کا زیادہ اثر ہو سکتا ہے- اسی طرح ریاستوں میں بھی جب تک اس تحریک کی روک تھام نہ کی جائے یہ تحریک رک نہیں سکتی-
    کیا کرنا چاہئے
    میں نے جہاں یہ کہا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تحریک کے خلاف تمام صوبوں اور ریاستوں میں یکدم کام شروع کیا جائے اور یہ کام حکومت کی طرف سے نہیں بلکہ عام لوگوں کی طرف سے ہونا چاہئے وہاں میں یہ بھی کہتا ہوں کہ حکومت کی طرف سے اس کام کی ابتداء ہونی چاہئے- اس کی طرف سے اس کام کے لئے جب دعوت دی جائے گی تو ریاستیں بھی شامل ہو جائیں گی- اس طرح ایک مجلس کی جائے جس میں سب پارٹیوں کے نمائندے شریک ہوں حکومت کا صرف یہ کام ہو کر مختلف گروہوں کے نمائندوں کو ایک جگہ جمع کر دے- پھر وہ مجلس حکومت سے آزاد ہو کر کام کرے- لارڈ ارون سابق وائسرائے ہند کے سامنے میں نے یہ تجویز پیش کی تو انہوں نے کہا- تجویز بہت اچھی ہے مگر ابھی شورش ہے‘ ذرا امن ہو لے تو اس پر عمل کیا جائے گا- لارڈو ۹~}~ ولنگڈن موجودہ وائسرائے ہند سے جب میں ملا اور یہ تجویز پیش کی تو انہوں نے کہا- میں سمجھ نہیں سکتا کہ لارڈارون نے کس طرح کہا کہ ابھی اس تجویز پر عمل کرنے کا وقت نہیں یہی تو اس پر عمل کرنے کا وقت ہے اور یہ بہت مفید تجویز ہے میں جلد مشورہ کر کے اس پر عمل کروں گا- مگر ابھی تک مشورہ نہیں ہو سکا حالانکہ اس تحریک کا مقابلہ کرنے کا یہی طریق ہے کہ ایک ایسی مجلس قائم کی جائے جس میں تمام قوموں کے نمائندے شریک کئے جائیں- کانگرس کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے پھر ہر علاقہ میں اس کی شاخیں قائم کی جائیں اور کام شروع کیا جائے-
    عباد اللہ کی تحریک
    ہمارا فرض ہے کہ اس تحریک کا مقابلہ کریں اور خدا کے فضل سے ہمارے پاس ایسے سامان ہیں کہ ہم اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں- اسی سلسلہ میں میں نے عباداللہ کی تحریک کی ہے اور اس کے لئے ضروری قرار دیا ہے کہ ۱۶ سے ۳۵ سال تک کے لوگ اس میں شامل ہوں- اس انتظام کو اگر اچھی طرح چلایا جائے تو بہت کچھ کامیابی ہو سکتی ہے- جس طرح ہماری جماعت خدا کے فضل سے منظم ہے اس طرح سکھ بھی منظم نہیں اور ہندو بھی نہیں- ہم ہر جگہ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں اور امن کے قیام میں حصہ لے سکتے ہیں-
    اخلاقی فرض
    یہ سیاسی کام ہی نہیں بلکہ ہمارا اخلاقی فرض بھی ہے کہ ایسا کریں- قوموں میں خرابی نوجوانوں کی وجہ سے پیدا ہوا کرتی ہے اور نوجوانوں میں خرابی بیکاری کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے- جب نوجوانوں کے لئے اس قسم کا شغل پیدا کر دیا جائے جیسا کہ عباداللہ کے لئے تجویز کیا گیا ہے اور ہر نوجوان کو یہ احساس کرایا جائے کہ وہ قومی سپاہی ہے اور اس کا فرض ہے کہ ملک میں جو فتنہ و فساد رونما ہو اسے دور کرے تو اس طرح نوجوانوں کو اپنی اصلاح کا موقعہ بھی ملتا رہے گا اور ان کی اخلاقی حالت بہتر ہو جائے گی-
    احباب کو نصیحت
    پس میں احباب کو نصیحت کرتا ہوں کہ پورے طور پر اپنے اپنے علاقہ میں کوشش کریں کہ عباداللہ کی کمیٹیاں مقرر کی جائیں- ابھی تک اس قسم کی بہت تھوڑی کمیٹیاں بنی ہیں اگر انتظام مکمل ہو جائے تو اس سے بہت سے فوائد حاصل ہوں گے- ملک سے کامیابی کے ساتھ بدامنی دور ہو سکے گی‘ قتل و غارت کی تحریک کا مقابلہ کیا جا سکے گا اور اہل ملک کے اخلاق کو اعلیٰ درجہ کا بنایا جا سکے گا-
    سلسلہ کی تمدنی ضرورت
    اب میں سلسلہ کی تمدنی ضروریات کو لیتا ہوں- بظاہر تمدن ایک معمولی چیز نظر آتا ہے مگر دراصل اس کی تفصیل کی حد نہیں- بعض لوگ کہتے ہیں ایک بات کو یوں کر لیا تو کیا اور ووں کر لیا تو کیا‘ معمولی بات ہے مگر ان معمولی باتوں کا مجموعہ بہت بڑی با ت بن جاتی ہے- کسی کے متعلق کہتے ہیں- اسے خیال تھا کہ میں بڑا بہادر ہوں اس کے اظہار کے لئے وہ شیر کی تصویر اپنے بازو پر گدوانے لگا- جب گودنے والے نے سوئی ماری تو اس نے پوچھا- کیا گودنے لگے ہو- اسے بتایا گیا شیر کا دایاں کان گودنے لگا ہوں- اس نے کہا اس کے بغیر شیر بن سکتا ہے یا نہیں- کہا گیا بن سکتا ہے- اس نے کہا اسے چھوڑو اور آگے چلو- گودنے والے نے پھر سوئی ماری تو اس نے کہا کیا گودنے لگے ہو- بتایا گیا شیر کابایاں کان- اس نے کہا اسے بھی چھوڑو‘ آگے چلو- اسی طرح جو عضو بھی گودنے لگتا کہہ دیتا اسے رہنے دو- آخر گودنے والے نے کہا- ایک آدھ چیز نہ ہو تب تو شیر رہ سکتا ہے لیکن اگر سب کے سب اعضاء چھوڑ دیئے جائیں تو پھر شیر کہاں رہ سکتا ہے- اسی طرح گو تمدن کی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں لیکن اگر ان کا خیال نہ رکھا جائے تو مجموعی طور پر ان کا اخلاق پر بڑا بھاری اثر ہوتا ہے- اصل بات یہ ہے کہ تمام کمزوریاں تمدن سے شروع ہوتی ہیں- مذہب میں بھی اسی سے خرابی پیدا ہوتی ہے- عام لوگوں کو اس سے بحث نہیں ہوتی کہ ملائکہ ہیں یا نہیں‘ اگر ہیں تو کیا چیز ہیں بلکہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاملات کیسے ہیں- غیر مبائعین کو ہی دیکھ لو- جن لوگوں نے مرکز سے علیحدگی اختیار کی‘ ان کا ابتداء میں کوئی مذہبی جھگڑا نہ تھا ان کے مدنظر صرف یہ بات تھی کہ حضرت خلیفہ اولؓ کے بعد کون خلیفہ ہو گا- مجھے یاد ہے- حضرت خلیفہ اول کے وقت جب یہ سوال اٹھایا گیا کہ انجمن خلیفہ کے ماتحت ہے یا خلیفہ انجمن کے ماتحت تو لوگوں کو باہر سے بلایا گیا- اس دن میں نماز کے انتظار میں اپنے صحن میں اندر ٹہل رہا تھا اور بہت سے لوگ مسجد میں جمع تھے ان میں بہت جوش پایا جاتا تھا اور ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے تھے- میں نے سنا- اس وقت کہا جا رہا تھا حضرت مولوی صاحب جو چاہیں کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ خلیفہ بن جائے- اس وقت میری سمجھ میں نہ آتا کہ بچہ سے کون مراد ہے- پھر معلوم ہوا کہ وہ میرے متعلق کہتے ہیں- اس کے بعد انہوں نے مسائل میں اختلاف پیدا کر لیا-
    اس طرح شیعہ‘سنی کا جو جھگڑا ہے‘ اس کی وجہ بھی ذاتی معاملات بنے- مسائل میں اختلاف بعد میں پیدا کر لیا گیا- اصل جھگڑا اسی بات سے شروع ہوا کہ حضرت علیؓ کیوں پہلے خلیفہ نہ بنے-
    غرض چھوٹے چھوٹے تمدنی جھگڑے ہوتے ہیں جو بعد میں بڑی باتیں بن جاتی ہیں اور مذہبی عقائد میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے- ہمیں اس اختلاف سے جماعت کو بچانے کے لئے کوشش کرنی چاہئے- اس کے لئے میں چند باتیں بیان کرتا ہوں-
    بیاہ شادی میں قومیت کی پابندیاں دور کرو
    پہلی بات یہ ہے کہ اب تک ہماری جماعت میں بیاہ شادی کے متعلق قومی سوال سختی سے اٹھایا جاتا ہے حتی کہ ہم تو قوم در قوم کے اختلاف سن کر چکرا جاتے ہیں- ہماری جماعت کو چاہئے نیچے والوں کو اوپر اٹھایا جائے اور اوپر والوں کو نیچے لایا جائے- اصل بات تو یہ ہے کہ نہ کوئی اوپر ہے اور نہ کوئی نیچے سب برابر ہیں لیکن سمجھا جاتا ہے کہ قومیت کے لحاظ سے بعض لوگ اوپر ہیں اور بعض نیچے اس لئے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ آپس میں مل جائیں- یہ دو بھائیوں میں لڑائی والا معاملہ ہے ہم یہ نہیں کہتے کہ فلاں بھائی چل کر دوسرے کے گھر جائے- بلکہ مشہور شاعر ذوق کی طرح یہ کہتے ہیں-
    بعد مدت کے گلے ملتے ہوئے آتی ہے شرم
    اب مناسب ہے یہی کچھ تم بڑھو کچھ ہم بڑھیں
    جن قوموں کو ایک دوسرے کے قریب سمجھا جاتا ہے انہیں چاہئے کہ آپس میں شادیاں شروع کر دیں تا کہ قومیت کے بیجا پابندیاں کسی قدر تو ڈھیلی ہو جائیں اور اس طرح قومیت کی اونچ نیچ کو مٹانے کی کوشش کی جائے-
    لڑکی والوں کا شادی سے قبل کچھ لینا حرام ہے
    دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ شادی کے موقعہ پر روپیہ وغیرہ لینے کی رسم بھی پائی جاتی ہے اور یہ بات بردہ فروشی سے کم نہیں ہے- جو شخص لڑکی کی شادی کے سلسلہ میں روپیہ وغیرہ لیتا ہے اس کی عقل پر پردہ پڑ جاتااور اس کی آنکھوں پر پٹی بندھ جاتی ہے وہ لڑکے کی خوبیاں نہیں دیکھتا بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ مجھے کتنا روپیہ ملتا ہے- ہم کہتے ہیں- وہی روپیہ نہیں جو لڑکی کی ملکیت ہو بلکہ وہ بھی جو داماد کی ملکیت ہو لے لے مگر شادی کے بعد- شادی سے قبل کچھ لینا قطعاً ناجائز ہے- بردہ فروشی ہے اور یہ حرام ہے-
    بٹہ کی مذموم رسم
    دوسری رسم بٹہ کی ہے- ملتان‘ جھنگ وغیرہ اضلاع جن میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے‘ وہاں یہ مرض جاری ہے اس کا نتیجہ بھی بردہ فروشی ہے- لڑکی کے لئے اچھا رشتہ ہو تو اس لئے نہیں لیتے کہ لڑکے کے لئے بھی رشتہ ملنا چاہئے اور جہاں سے لڑکے کے لئے رشتہ مل جائے‘ وہاں لڑکی کا رشتہ کر دیتے ہیں خواہ وہ لڑکی کے لئے رشتہ موزون نہ ہو- یہ بات بھی بہت بری ہے اسے بھی دور کرنا چاہئے-
    بیاہ شادی میں سادگی اختیار کرو
    تیسری بات یہ ہے کہ بیاہ شادی میں سادگی نہیں اختیار کی جاتی اس سے بھی خطرناک نقصان ہوتا ہے- اس کا ایک نتیجہ تو یہ ہوتا ہے کہ شادی ہونے میں دیر لگتی ہے- لڑکی والوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کتنا زیور اور کتنا کپڑا دیا جائے گا- اگر یہ چیزیں ان کی منشاء کے مطابق نہ ہوں تو رشتہ نہیں کیا جاتا- ایسے لوگوں کی مثال اس پیر کی سی ہوتی ہے جو اپنے ایک مرید کے گھر گیا اور کہنے لگا- دیکھو! کسی قسم کا تکلف نہ کرنا- پلائو تو آپ پکائیں گے ہی اور ملک کا دستور ہے ساتھ زردہ بھی ہو‘ کچھ حلوا بھی پکا لینا- اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں- ہم احمدی ہیں ہم نے سب رسمیں چھوڑ دی ہیں مگر اتنا ضرور ہو کہ کم از کم آٹھ سو کا زیور اور چھ سو کا کپڑا بنا لیا جائے- ہم نے رشتہ دار چھوڑے اپنی قوم کو چھوڑا‘ کیا اب بھی ہم تکلف کریں- گویا ان کے نزدیک اتنے زیور اور کپڑے کا مطالبہ تکلف نہیں ہوتا- شادی کے موقعہ پر زیور اور کپڑے بطور تحفہ ہوتے ہیں- کوئی شخص یہ بے حیائی نہ کرتا ہو گا کہ کسی سے تحفہ مانگ کر لے مگر شادی بیاہ کے متعلق چونکہ یہ عادت ہو گئی ہے‘ اس لئے اس کا حسن و قبح نہیں دیکھا جاتا- اگر کسی شخص سے کہو‘ فلاں دوست سے جا کر کہے مجھے تحفہ کے طور پر کشمیر کی شال منگا دیجئے یا اوورکوٹ بنوا دیجئے تو وہ کہے گا کیا تم مجھے ایسا بے حیا سمجھتے ہو کہ میں اس قسم کی بات کہوں- مگر لڑکی کے رشتہ کے سلسلہ میں زیور کپڑا وغیرہ کا مطالبہ کرنے میں وہ یہی کرتا ہے اور اپنی لڑکی کے نام پر کرتا ہے یہ نہایت ہی شرمناک بات ہے- اس طرح بیاہ شادی میں روکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے اور لڑکے لڑکی کی جوانی اور ان کے جذبات کو تباہ کیا جاتا ہے- کفو کا خیال ضروری ہے مگر اس کی حد بندی ہے اور وہ یہ کہ اپنی حیثیت کے قریب قریب کے خاندان میں رشتہ کر لیا جائے نہ کہ اپنے سے بہت اعلیٰ خاندان تلاش کیا جائے- اس قسم کی سختیوں کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ بیاہ شادی کی مشکلات بہت بڑھ گئی ہیں- چونکہ ہماری جماعت کے لوگ ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اس لئے پہلے ہی رشتوں کا پتہ نہیں لگتا اور اگر کسی جگہ پتہ لگے تو پھر اس قسم کے سوال اٹھائے جاتے ہیں کہ لڑکے کی تنخواہ کیا ہے‘ جائیداد کتنی ہے‘ زیور کتنا ہو گا‘ کپڑا کتنا- اگر یہ باتیں اپنی خواہش اور منشاء کے مطابق نہ ہوں تو انکار کر دیا جاتا ہے- اس قسم کی باتیں عیب ہیں اور ان کی اصلاح نہایت ضروری ہے- جو لوگ خدا تعالیٰ کا توکل چھوڑ کر ایسی باتیں کرتے ہیں‘ خدا تعالیٰ بھی ان کی تجاویز میں برکت نہیں ڈالتا اور ہمیشہ ان میں لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں-
    ‏sub] g[ta معاملات کی صفائی اور معاہدات کی پابندی
    ایک اور اہم بات معاملات کی صفائی ہے- اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ جس طرح ہمیں تکلیف ہوتی ہے اسی طرح اس کو بھی ہوتی ہے جس کا روپیہ دینا ہوتا ہے‘ تو پھر لین دین کے معاملات میں اتنی مشکلات نہ رونما ہوں- اگر کسی کے لئے آمدنی کی بالکل کوئی صورت نہیں تو اور بات ہے ایسی حالت میں لینے والے کو بھی اس پر رحم کرنا چاہئے لیکن اگر کچھ نہ کچھ آمدنی ہو اور وہ اپنے اوپر تو خرچ کی جائے لیکن جس کا قرض دینا ہو اسے کچھ نہ دیا جائے تو یہ بہت بڑا گناہ ہے- شریعت نے معاہدات کی پابندی نہایت ضروری قراردی ہے- پابندی اختیار نہ کرنے والوں کی وجہ سے ضرورت مند اور وعدہ کا ایفا کرنے والوں کو بھی کوئی قرض نہیں دیتا- رسول کریم ~صل۲~ معاہدات کی اس قدر پابندی کرتے تھے کہ جب آپ جنگ بدر کے لئے تشریف لے گئے تو صرف تین سو سپاہی آپ کے ساتھ تھے- اس وقت دو مسلمان مکہ سے بھاگ کر آپ کے لشکر میں آ ملے- جو بڑے جری اور بہادر تھے- تین سو کی تعداد کے لحاظ سے ان دو کی شمولیت بہت بڑی امداد تھی لیکن جب انہوں نے کہا کہ جس وقت ہم آ رہے تھے اس وقت کفار نے ہمیں پکڑ لیا تھا اور پھر اس عہد پر چھوڑا کہ ہم ان کے مقابلہ پر نہ لڑیں گے مگر وہ کفار تھے ان سے معاہدہ کیا‘ حقیقت رکھتا ہے تو رسول کریم ~صل۲~ نے فرمایا- نہیں اس کی پابندی ضروری ہے اور ان کو لڑائی میں شامل ہونے کی اجازت نہ دی-۱۰~}~ اسی طرح رسول کریم ~صل۲~ کے ایک داماد جب مسلمان ہو گئے تو وہ مکہ گئے اور جن کا مال ان کے پاس تھا ان سب کو واپس دے کر پھر آئے- انہوں نے کہا- میں اگر چاہتا تو مدینہ میں ہی رہ جاتا مگر میں اس لئے آیا کہ تم یہ نہ کہو مسلمان ہو گیا ہے اور دیانت سے کام نہیں لیا-۱۱~}~ تو معاہدات کو نہایت تکلیف اٹھا کر بھی پورا کرنا چاہئے حتی کہ موت قبول کر کے بھی پورا کرنا چاہئے تا کہ جماعت کی اقتصادی حالت درست ہو-
    دوسری بات یہ ضروری ہے کہ مال میں خواہ ذرا سا بھی نقص ہو‘ تاجر کو چاہئے خریدار کو بتا دے تا کہ بعد میں کوئی جھگڑا نہ پیدا ہو- اس طرح نقصان نہیں ہوتا بلکہ فائدہ ہی رہتا ہے- جب انسان دھوکا کی چیز بیچنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا تو مال خریدتے وقت خود بھی احتیاط نہیں کرتا لیکن اگر ناقص چیز گاہک اس سے نہ خریدے تو اسے خود بھی احتیاط کرنی پڑے گی- پھر معاملہ کی صفائی سے ایک قومی کیریکٹر بنتا ہے جو ساری قوم کے لئے نہایت مفید ہوتا ہے-
    تعلیم و تربیت
    ایک اور ضروری معاملہ تعلیم و تربیت ہے- عام طور پر لوگ بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ نہیں کرتے- سینکڑوں بچے ایسے ہیں خدا تعالیٰ ان پر رحم کرے کہ جب ان کے ماں باپ فوت ہو گئے تو وہ خراب ہو گئے کیونکہ ان کی تربیت نہ کی گئی تھی- غور کرو ادھر اگر ہم لوگوں کو اپنی جماعت میں داخل کرنے کی کوشش کرتے رہیں اور ادھر ہماری جماعت کے بچے تعلیم و تربیت نہ ہونے کی وجہ سے نکلتے رہیں تو فائدہ کیا ہوا- کیا جس مشک میں سوراخ ہو‘ اس میں پانی ٹھہر سکتا ہے- پس ایک تبلیغی جماعت کے لئے نہایت ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کا پورا پورا خیال رکھے ورنہ وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی- میں دوستوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ پوری کوشش کریں- یہ کوشش ماں باپ ہی کر سکتے ہیں اور ضروری ہے کہ سارے کے سارے لوگ اس میں لگے رہیں- اگر سارے مصروف نہ ہوں تو پھر کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا کیونکہ جب تک دوسرے بچوں کی اصلاح نہ ہو اپنے بچوں کی بھی کوئی اصلاح نہیں کر سکتا- پھر تعلیم کا مفہوم صرف لکھنا پڑھنا سمجھا جاتا ہے مگر صحابہ کے نزدیک یہ نہ تھا- حضرت عمرؓ سے جب پوچھا گیا کہ تعلیم کیا ہے تو آپ نے فرمایا- لکھنا‘ پڑھنا‘ حساب‘ تیرنا اور تیر چلانا‘ علم کے استعمال کرنے کے لئے طاقت اور ہمت نہایت ضروری چیز ہے-۱۲~}~ میں نے بہت سے صحابہ کے حوالے دیکھے ہیں جو تیرنا اور تیر چلانا تعلیم میں شامل کرتے ہیں- ہمارے بچے فٹ بال اور کرکٹ وغیرہ تو کھیلتے ہیں مگر ان باتوں میں کوشش نہیں کرتے- فٹ بال وغیرہ اچھی کھیلیں ہیں مگر زندگی میں کام آنے والی نہیں اور تیرنا اور تیر چلانا ایسی باتیں ہیں جو ساری زندگی سے تعلق رکھتی ہیں ان کے ذریعہ طاقت آتی ہے‘ صحت حاصل ہوتی ہے اور ساتھ ہی یہ فن زندگی میں کام آتے ہیں- پس ہماری جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ بچوں کو لکھنے پڑھنے کے ساتھ تیرنا‘ غلیل چلانا وغیرہ بھی سکھائیں- زمانہ تو بندوق چلانے کا ہے مگر جب تک بندوق چلانے کے لئے نہ ملے اس وقت تک جو کچھ میسر ہو اسی سے کام لینا چاہئے- ہاں اپنے بچوں کو یہ ضرور بتا دینا کہ غلیل وغیرہ کسی انسان پر نہ چلائیں یہ بہت اہم بات ہے- رسول کریم ~صل۲~ بہت احتیاط کیا کرتے تھے- چنانچہ فرمایا- جب کسی کو چھری پکڑانے لگو تو سرا اس کی طرف نہ کیا جائے بلکہ دستہ کیا جائے۱۳~}~ بچوں کو جب اس قسم کی تعلیم دو تو ساتھ احتیاطیں بھی ضرور سکھائو کہ کسی کو ضرر نہ پہنچانا-
    تمدنی ضرورتوں میں سے ایک ضروری بات یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے سے تعاون کیا جائے- پہلے میں ذکر کر آیا ہوں کہ ایک دوسرے کی امداد کی جائے مگر جہاں میں یہ کہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کی مدد کرو وہاں میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اس بات کا انتظار نہ کرو کہ میں کسی کی سفارش کروں تب مدد کی جائے- کہتے ہیں- اس طرح آپ کو دعا کرنے کی تحریک ہو گی مگر میں کسی مومن کے متعلق یہ توقع ہی نہیں رکھتا کہ جب وہ اپنے کسی بھائی کے کام آ سکتا ہو تو کام نہ آئے- لیکن ایک اور بات ہے اور وہ یہ کہ ایک طبقہ ایسا ہے جو سفارش میں خلافت کو بھی کھینچ کر لانا چا ہتا ہے- یہ بہت گری ہوئی اور نہایت قابل نفرت بات ہے- خلافت نبوت کی نیابت ہے اور نبوت خدا کی نیابت ہے پس خلیفہ کو ایسی جگہ کھڑا کرنا جہاں اس کی گردن نیچی ہو‘ بہت بڑی ہتک ہے- ہم دنیوی لحاظ سے بادشاہ کی اطاعت کرتے ہیں مگر یہ بھی سمجھتے ہیں کہ خلیفہ کا درجہ تمام دنیا کے بادشاہوں سے بڑا ہے- اگر کوئی یہ نہیں یقین رکھتا تو وہ محمد ~صل۲~ کی رسالت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مسیحیت سے واقف نہیں- خلیفہ کے پاس اس لئے آنا کہ ڈپٹی کمشنر یا کسی مجسٹریٹ کو سفارش کرائی جائے- اس کا مطلب یہ ہے کہ خلیفہ کی ان حکام کے سامنے نظر نیچی کرائی جائے اور اگر اس حد تک خلیفہ کی سفارش لے جائیں تو پھر خدا تعالیٰ پر توکل کہاں رہا- جو شخص کسی مجسٹریٹ کے لئے سفارش چاہتا ہے اسے تو میں مجرم سمجھتا ہوں- میں نے جب یہ رکھا ہے کہ اپنی جماعت کے کسی قاضی کے متعلق اگر مجھے یہ معلوم ہوا کہ اس نے کسی معاملہ میں کسی کی سفارش قبول کی ہے تو میں اسے نکال دوں گا تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کسی مجسٹریٹ سے خود سفارش کروں- بعض دفعہ کر دیتا ہوں مگر وہ اور رنگ کی سفارش ہوتی ہے- مثلاً یہ کہ مقدمہ کا جلدی تصفیہ کر دیا جائے- اس قسم کی سفارش میں نقص نہیں مگر یہ کہ فلاں کے حق میں فیصلہ کیا جائے یہ نہیں ہو سکتا- ایک شخص نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میرا کیس اتنا اہم ہے کہ خلیفہ کو خود گورنر کے پاس جا کر کہنا چاہئے کہ فیصلہ میرے حق میں ہو- ایک شخص نے کہا- ہمارے علاقہ میں تبلیغ کا بڑا موقعہ نکلا ہے اور وہ یہ کہ مجھے نمبردار بنوا دیا جائے- میں متنبہ کرتا ہوں کہ اس قسم کی سفارشات چاہنا خلافت کی ہتک ہے اور اسے جاری نہیں رہنا چاہئے- اس قسم کے کاموں کے لئے مجھے مت کہا کرو بلکہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو نہ کہا کرو اور خدا تعالیٰ پر توکل کرو- جب ہمارے آپس کے ایسے تعلقات نہ تھے اس وقت کون حفاظت کرتا تھا- خدا پر ہی توکل کرو تا کہ کسی مشکل اور مصیبت کے وقت خود خدا تمہاری سفارش کرنے والا ہو-
    سلسلہ کی مذہبی ضروریات
    اب میں مذہبی ضروریات کو لیتا ہوں- یہ ضرورتیں دو قسم کی ہیں- اول بلاواسطہ اثر ڈالنے والی اور دوم بالواسطہ اثر ڈالنے والی-
    انگلستان میں تبلیغ اسلام کے اثرات
    ابھی چند دن ہوئے‘ میں لاہور گیا تو مسلمانوں کے ایک لیڈر مجھ سے ملنے آئے- عبداللہ یوسف علی صاحب ان کا نام ہے‘ بہت قابل اور سمجھ دار آدمی ہیں‘ مسلمانوں میں جو اعلیٰ طبقہ ہے اس سے تعلق رکھتے ہیں- انہوں نے کہا میں انگلستان میں رہتا ہوں- آپ کے مشن میں بھی جاتا ہوں- میں یہ مانتا ہوں کہ آپ کے مشن کے ذریعہ کچھ لوگ مسلمان ہوئے ہیں مگر وہ بہت غریب طبقہ کے ہیں- کیا آپ امید رکھتے ہیں کہ ان کے ذریعہ یورپ کو مسلمان کر لیں گے- میں نے کہا ہاں میں مانتا ہوں کہ نو مسلم غریب طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں- انہوں نے کہا- پھر آپ اس مشن پر اتنا روپیہ کیوں صرف کرتے ہیں- میں نے کہا اس لئے کہ جب ہم ہندوستان میں تبلیغ اسلام کرتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں مذہب کو کیا لئے پھرتے ہو‘ یورپ کے فلسفہ نے مذہب کو مٹا دیا ہے لیکن جب کوئی انگریز مسلمان ہوتا ہے اور ہندوستان میں اس کا اعلان ہوتا ہے تو وہ لوگ جو اہل یورپ کی تقلید میں مذہب کی کوئی حقیقت نہیں سمجھتے‘ انہیں خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں بھی مذہب کے متعلق غور کرنا چاہئے- اس پر کہنے لگے میں سمجھ گیا آپ اس مشن سے بلاواسطہ فائدہ اٹھاتے ہیں-
    ہر احمدی کو ڈاڑھی رکھنی چاہئے
    غرض بعض باتیں بلا واسطہ فائدہ دیتی ہیں- انہی میں سے ایک ڈاڑھی رکھنا ہے- ایک صاحب میرے پاس آئے اور آ کر کہنے لگے کیا ڈاڑھی رکھنے سے خدا ملتا ہے- میں نے کہا- ڈاڑھی رکھنے سے نہیں مگر محمد ~صل۲~ کی اطاعت کرنے سے خدا ملتا ہے آپﷺ~ نے چونکہ ڈاڑھی رکھی اس لئے ہمیں بھی آپ کی تقلید میں ڈاڑھی رکھنی چاہئے-
    ہم نے حکم دیا تھا کہ ایسے لوگ سلسلہ کے کاموں میں افسر نہ بنائے جائیں گے جو ڈاڑھی منڈائیں اور فیصلہ کیا تھا کہ امپیریل سروس وغیرہ میں جہاں ڈاڑھی منڈانے کی مجبوری ہو‘ وہاں بھی ہم اجازت نہیں دیں گے کیونکہ ہم شریعت بدل نہیں سکتے- ہاں اتنا کریں گے کہ ان کو عہدہ سے محروم نہ کریں گے مگر اس پر پوری طرح عمل نہیں کیا جا رہا اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض مخلص نوجوانوں نے بھی ڈاڑھی منڈانی شروع کر دی ہے- ڈاڑھی رکھنا ایک ضروری امر ہے اور ہر احمدی کو اس کا احترام کرنا چاہئے-
    اوہام کا مقابلہ کیا جائے
    دوسری ضروری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ اوہام کا مقابلہ کیا جائے نبی اس لئے آتے ہیں کہ دنیا سے اوہام مٹائیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں پائے جاتے ہیں- کل ہی ایک سوال پیش کیا گیا کہ جماعت میں ایسے لوگ ہیں جو تعویذ اور ٹونے کرتے ہیں‘ کیا یہ جائز ہے- میرے نردیک یہ نہایت ہی کمزوری ایمان کی علامت ہے- بعض لوگ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام نے بھی ایک تعویذ دیا تھا- اس میں شبہ نہیں کہ دیا تھا مگر وہ واقعہ یہ ہے کہ خلیفہ نورالدین صاحب جموں والے کے ہاں کوئی لڑکا نہ تھا انہوں نے مجھے کہا کہ میں حضرت صاحب سے ان کو تعویذ لے دوں- میری اس وقت بہت چھوٹی عمر تھی میں حضرت صاحب کے پیچھے پڑ گیا آپ نے دعا لکھ کر دی جو میں نے خلیفہ صاحب کو دے دی وہ دعا قبول ہو گئی اور خلیفہ صاحب کو خدا تعالیٰ نے نرینہ اولاد دی- دراصل وہ دعا جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوہ والسلام نے لکھی اسی وقت قبول ہو چکی تھی- آگے اس تعویذ کو باندھنا خلیفہ صاحب کا کام تھا اس کا دعا کی قبولیت سے کوئی تعلق نہ تھا-
    پس لوگوں کا یہ خیال کرنا کہ اگر دعا کو لکھ لیا جائے اور لٹکا دیا جائے تب وہ قبول ہوتی ہے بیہودہ وہم پیدا کرتا اور ذکر الہی کرنے کی جڑ کاٹتا ہے- دعا لکھنا تو منع نہیں لیکن جس کی دعا میں یہ اثر نہیں کہ ایک سیکنڈ میں قبول ہو اس سے دعا لکھا کر یہ سمجھنا کہ اب ہم دعا کرنے سے فارغ ہو گئے بہت بڑی غلطی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے محروم کر دینے والی بات ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کی جو مثال پیش کی جاتی ہے- اس کے متعلق یہ بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوہ والسلام کی وہ شان تھی کہ خدا تعالیٰ آپ کی دعا ایک سیکنڈ میں قبول کر لے مگر آپ نے بھی اپنے طور پر کبھی دعا لکھ کر نہ دی تا کہ غلط مثال نہ قائم ہو جائے بلکہ میرے اصرار پر ایک بار لکھی-
    دراصل تعویذ ایک قسم کا خیالی مسمریزم ہے اور اگر دعا ہے تو دعا لکھوا کر یہ سمجھ لینا کہ اب ہم فارغ ہو گئے دعا کرنے کی ضرورت نہیں رہی ایک بیہودہ بات ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام سے تو خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا اجیب کل دعائک الا فی شرکائک۱۴~}~ اور خلیفہ نورالدین صاحب آپ کے شرکاء میں سے نہ تھے ان کے متعلق آپ نے جو دعا کی وہ قبول ہوگئی مگر یہ کسی اور کو تو نہیں کہا گیا پھر وہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوہ والسلام کی مثال اپنے لئے قرار دے سکتا ہے- غور کرو- کیا وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام عادتا تعویذ نہ لکھا کرتے تھے- نہ رسول کریم ~صل۲~ نے ایسا کیا نہ آپ کے خلفاء نے پھر نہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے کیا اور نہ میں کرتا ہوں- اگر کسی کو یہ دعویٰ ہے کہ اس کا تعویذ لکھنا موثر ہو سکتا ہے تو وہ آئے اور لکھے میں اس کے مقابلہ میں صرف ہاتھ لگا دوں گا اور خدا تعالیٰ اس سے فضل کرے گا- دراصل دعا کی جڑ انکساری اور تذلل ہے اور تعویذ اس کی جڑ کو کاٹ دیتا ہے- اگر کوئی بات پوری بھی ہو جائے تو تعویذ لکھنے لکھانے والے یہ نہیں کہیں گے کہ خدا تعالیٰ نے دعا قبول کی بلکہ یہی کہیں گے کہ تعویذ کی برکت سے ایسا ہوا اور یہ شریک ہے- خدا تعالیٰ نے جو تعویذ دیا ہے اس پر کیوں عمل نہیں کیا جاتا- مثلاً ہر قسم کی تکلیف بیماری وغیرہ کے وقت یہ پڑھا کرو- قل اعوذ برب الفلق من شرما خلق و من شر غاسق اذا وقب ومن شرالنفثت فی العقد ومن شر حاسد اذا حسد- ۱۵~}~ ایک دفعہ دعا لکھ کر یہ سمجھ لینا کہ اس کا اثر ہوتا رہے گا وہی بات ہے جو ایک ہندو کے نہانے کے متعلق مشہور ہے جس نے سردی کے موسم میں دریا سے واپس آتے ہوئے پنڈت سے یہ کہہ کر تور اشنان سومور اشنان سمجھ لیا تھا کہ میرا بھی اشنان ہو گیا- تعویذ بھی یہی ہوتا ہے کہ لکھا کر رکھ لیا اور سمجھ لیا کہ اب دعا کرنے سے فراغت حاصل ہو گئی- اس قسم کی گندی باتوں کو مٹانا ہمارے فرائض میں داخل ہے کیونکہ یہ اس صحیح سپرٹ کو مٹانے والی ہوتی ہیں جسے پیدا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے نبی آتے ہیں- اگر ان باتوں سے کوئی فائدہ ہوتا ہے تو وہم کی وجہ سے ہوتا ہے مگر وہم کو ترقی دینا سخت نقصان رساں ہے-
    تبلیغ احمدیت
    تیسری چیز جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ تبلیغ ہے- اس سال یوم التبلیغ کا اعلان کیا گیا تھا یہ اتنا بابرکت ثابت ہوا ہے کہ کئی لوگ جنہوں نے سالہا سال سے تبلیغ نہ کی تھی انہوں نے بھی اس دن تبلیغ کی- ابھی چند دن ہوئے ایک نواب صاحب آئے تھے ان کے ساتھ ایک معزز صاحب تھے جنہوں نے بچت کی اور کہا یہ نواب صاحب کے یوم التبلیغ منانے کا نتیجہ ہے- دس بارہ سل سے ان سے میرا تعلق تھا لیکن کبھی انہوں نے تبلیغ نہ کی تھی- اس دن جو میں ان کے پاس گیا تو کہا آج ہمیں تبلیغ کرنے کا حکم ہے اور خوب تبلیغ کی اسی دن میں نے بیعت کر لی-
    اس دن ایسی مزیدار تبلیغ ہوئی کہ کئی دوستوں نے خواہش ظاہر کی کہ یہ دن بار بار آنا چاہئے- میں ابھی ایسا تو نہیں کر سکتا مگر اسی دن پر نہیں رہنا چاہئے بلکہ جب تک دوسری دفعہ یوم التبلیغ آئے‘ اپنے طور پر بھی تبلیغ کرتے رہنا چاہئے مگر یاد رکھنا چاہئے صرف مونہہ کی باتوں سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے بھی تبلیغ کرو- تبلیغ اپنے اعمال میں درستی بھی پیدا کرتی ہے- جب دوسروں کو انسان تبلیغ کرتا ہے تو اسے اپنے متعلق شرم آ جاتی ہے کہ مجھے بھی اصلاح کرنی چاہئے- پس تبلیغ کرنا نہ صرف جماعت کی ترقی کا موجب ہے بلکہ اپنی اصلاح کا بھی موجب ہے-
    عبادات
    چوتھی بات جس کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ عبادات ہیں- عبادت انسان کا خداتعالیٰ سے تعلق پیدا کرتی ہے- خدا کے فضل سے جماعت کی اس طرف توجہ ہے مگر پھر بھی دیکھا جاتا ہے کہ بعض لوگوں میں کمزوری ہے- ایک احمدی کا بھی نماز نہ پڑھنا- یا نماز پڑھنے میں سستی کرنا میرے نزدیک قومی ہلاکت کے مترادف ہے- ہر ایک احمدی کو نہ صرف نماز کا بلکہ باجماعت نماز کا خیال رکھنا چاہئے- رسول کریم ~صل۲~ نے با جماعت نماز کا بہت زیادہ ثواب بتایا ہے-۱۶~}~ ہر احمدی کو چاہئے کہ نماز کی پابندی کرے اور کرائے اور بھی عبادات ہیں- مثلاً رمضان کے روزے ہیں- ذکر الہی بھی بہت ضروری اور مفید چیز ہے- ایک صحابی کہتے ہیں ذکر الہی دل کو صیقل کرتا ہے- اس کی طرف ہماری جماعت کے لوگوں کو اتنی توجہ نہیں جتنی ہونی چاہئے-
    سلسلہ کا لٹریچر پڑھنے کی تاکید
    مذہبی طور پر‘ میں یہ کہنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مذہبی روح کے لئے سلسلہ کا لٹریچر نہایت ضروری چیز ہے مگر افسوس کہ جماعت کی عدم توجہی کی وجہ سے لٹریچر اتنا شائع نہیں ہوتا جتنا ہونا چاہئے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوہ والسلام کی کئی کتابیں ایسی ہیں کہ جن کے اس وقت تک صرف ایک ایک دو دو ایڈیشن شائع ہوئے ہیں- یہ خطرناک علامت ہے- دوستوں کو چاہئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوہ والسلام کی کتب خصوصیت سے زیادہ پڑھا کریں اور بکثرت اپنے گھروں میں رکھیں یہ ان کے لئے اور ان کی اولاد کے لئے نہایت قیمتی خزانہ ہے- پھر سلسلہ کے اخبارات بھی خریدنے چاہئیں >الفضل< کی پندرہ سال قبل جتنی اشاعت تھی اتنی ہی اب بھی ہے حالانکہ پچھلے دس سال کے متعلق ہمارا اندازہ نہیں بلکہ گورنمنٹ کی رپورٹ کہتی ہے کہ جماعت دوگنی ہو گئی ہے- مگر الفضل کی اشاعت اتنی ہی ہے- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت نے الفضل کے متعلق اپنی ذمہ واری کو محسوس نہیں کیا- مذہب کو قائم رکھنے کے لئے مذہبی روح کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور سلسلہ کے لٹریچر سے پیدا ہو سکتی ہے- احباب اسے پڑھا کریں-
    اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اپنے فضلوں کا وارث بنائے اور اپنی ذمہ داری کو سمجھنے کی توفیق دے-
    )الفضل ۳‘۵‘۸‘۱۰‘۱۲‘۱۵‘ ۱۷- جنوری ۱۹۳۳ء
    ۱~}~
    النساء: ۸۶
    ۲~}~
    بخاری کتاب الاحکام باب من لم یسال الامارہ اعانہ اللہ علیھا
    ۳~}~
    ۴~}~
    آئینہ کمالات اسلام صفحہ۳۵۲ روحانی خزائن جلد۵ مطبوعہ ۱۹۸۵ء
    ۵~}~
    شروح دیوان حسان بن ثابت صفحہ۲۲۱ کتب خانہ آرام باغ کراچی
    ۶~}~
    التوبہ : ۱۱۹
    ۷~}~ الشوری :۳۹
    ۸~}~ البقرہ : ۲۵۶
    ۹~}~
    لارڈ ولنگڈن: مدراس اور بمبئی کا گورنر- ۱۹۳۱ء تا ۱۹۳۶ء وائسرائے ہند رہا- دوسری اور تیسری گول میز کانفرنس اسی کے عہد میں لندن میں ہوئی- )اردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد۲ صفحہ۱۸۱۰ء مطبوعہ ۱۹۸۸ء(
    ۱۰~}~
    مسلم کتاب الجھاد والسیر باب الوفاء بالعھد
    ۱۱~}~

    ۱۲~}~

    ۱۲~}~

    ۱۴~}~
    تذکرہ صفحہ۲۶- ایڈیشن چہارم
    ۱۵~}~
    العلق : ۲ تا ۶
    ۱۶~}~
    بخاری کتاب الاذان باب فضل صلوہ الجماعہ
    ‏a12.13
    انوار العلوم جلد ۱۲
    بنی اسرائیل پر نازل ہونے والے من کی حقیقت
    بنی اسرائیل پر نازل ہونے والے من کی حقیقت

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    بنی اسرائیل پر نازل ہونے والے من کی حقیقت
    )رقم فرمودہ حضرت خلیفہ المیسح الثانی(
    ادبی دنیا کے جنوری نمبر میں مولوی نعیم الرحمن صاحب ایم- اے پروفیسر الہ آباد یونیورسٹی کا ایک مضمون من کی ماہیت کے عنوان سے شائع ہوا ہے- پروفیسر صاحب نے اس امر پر بحث کی ہے کہ بنی اسرائیل پر جو من نازل ہوا تھا- اس کی حقیقت کیا تھی- انہوں نے اول تو تورات کے بعض حوالے نقل کر کے بتایا ہے کہ تورات کی رو سے من اور اس کے نزول کی حقیقت کیا تھی- پھر طبی طور پر من کی جو ماہیت بتائی جاتی ہے‘ وہ بیان کر کے بتایا ہے کہ تورات میں من کی بیان کردہ حقیقت طبی تفصیلات کے مطابق نہیں-
    مجھے یہ مضمون پڑھ کر خوشی ہوئی کہ مسلمانوں میں بھی علمی تحقیق کا ذوق پیدا ہو رہا ہے اور وہ اس حالت جمود سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں جو >یہ کیا ہے< کہنے سے باز رکھ رہی تھی اور اسی خوشی میں اس مضمون کے متعلق میں بھی بعض باتیں کہنی چاہتا ہوں-
    بنی اسرائیل جب مصر سے نکل کر کنعان کی طرف آئے تو جس علاقہ میں سے انہیں گزرنا پڑا وہ بہت غیر آباد تھا اور دور دراز فاصلہ پر بعض شہر آباد تھے- اب تک یہ علاقہ ایسا ہی ہے اور اب بھی اس علاقہ سے گزرنا آسان نہیں- فلسطین پر انگریزی قبضہ کی وجہ سے اب اس علاقہ میں ریل جاری ہو گئی ہے اور سفر میں سہولتیں پیدا ہوگئی ہیں لیکن اس غیر آبادی میں کوئی فرق نہیں آتا- کیونکہ یہ علاقہ آبادی کے قابل زمینوں سے خالی ہے اور بے آب و گیاہ میدانوں پر مشتمل ہے- ترکوں نے جنگ عظیم میں بہت کوشش کی کہ کسی طرح مصر میں داخل ہو کر انگلستان اور ہندوستان کے تعلقات قطع کر دیں لیکن پانی کی دقت اور سامان خورونوش کی کمی کے سبب عقلوں کو حیرت میں ڈال دینے والی قربانی کے باوجود اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے- انگریزوں نے بھی شروع میں بہت زور مارا لیکن خشک اور چٹیل میدانوں کی وجہ سے وہ بھی سویز کے راستہ سے فلسطین میں داخل نہ ہو سکے- آخر جنرل ایلنبی نے نیل سے پانی لے کر سویز کے اوپر سے نلوں کے ذریعہ سے پانی گزارا اور اس علاقہ کو جو بڑے شہروں کے لئے ناقابل تھا‘ قابل سکونت بنا دیا- صلیبی جنگوں کے وقت جب فلسطین اور شام کے محاذ پر یورپ کی تمام اقوام کے منتخب بہادر اس نیت سے ڈیرے ڈالے پڑے تھے کہ اسلام کے بڑھنے والے سیلاب کو روک دیں ‘ اس وقت بھی دشت سینا مسلمانوں اور مسیحیوں سے رستہ دینے کا ٹیکس لیتا رہا تھا- نویں صدی کے آخر اور دسویں صدی کے ابتدائی حصہ میں نامعلوم کتنے اسلامی اور مسیحی لشکر پانی نہ ملنے اور کھانے کی کمی کے سبب اس دشت میں تباہ ہو گئے تھے-
    پانی کی کمی کے سبب گزرنے والے قافلوں کو لازماً ان چشموں یا تالابوں کے پاس سے گزرنا پڑتا تھا جو کہیں کہیں اس دشت میں پائے جاتے تھے اور اس وجہ سے جو فریق بھی غالب ہوتا تھا اسے دوسرے فر یق کے آدمیوں کو مارنے کا ایک آسان بہانہ مل جاتا تھا- کیونکہ تھوڑے آدمی ان چشموں یا تالابوں پر مقرر کر دینے سے اس بات کی کافی ضمانت ہو جاتی تھی کہ حریف کے آدمی نقصان اٹھائے بغیر مصر سے فلسطین کی طرف نہیں جا سکتے- چنانچہ اسامہ بن منقذ اپنی کتاب >الاعتبار< میں لکھتے ہیں کہ الجعفر نامی چشمہ جو مصر اور فلسطین کے درمیان تھا کبھی کسی وقت فرنگیوں سے خالی نہیں ہوتا تھا- ہمیشہ اس جگہ سے لوگوں کو بچ کر جانا پڑتا تھا- ایک دفعہ انہیں سیف الدین ابن سالار وزیر مصر نے شاہ نور دین کے پاس بھیجا کہ وہ طبریہ پر حملہ کریں تو ہم مصر سے غزہ پر حملہ کر کے فرنگیوں کو وہاں قلعے بنانے سے روک دیں- وہ کہتے ہیں کہ ہم الجعفر چشمہ پر پہنچے تو اتفاقاً فرنگی اس وقت موجود نہ تھے لیکن طے قبیلہ میں سے بنوابی خاندان کے کچھ لوگ وہاں تھے- جن کے جسم پر چمڑے کے سوا گوشت کا نام و نشان نہ تھا- آنکھیں باہر نکلی ہوئی تھیں اور بالکل بدحال ہو رہے تھے- وہ کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا تم لوگ یہاں کس طرح گزارہ کرتے ہو- تو انہوں نے جواب دیا کہ مردار کی ہڈیاں ابال کر اس پر گزارہ کرتے ہیں اور کوئی چیز کھانے کی یہاں نہیں ہے- ان کے کتے بھی اسی پر گزارہ کرتے تھے- ہاں گھوڑے چشمہ کے ارد گرد کی گھاس پر گزارہ کرتے تھے- اسامہ لکھتے ہیں کہ میں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ تم لوگ یہاں اس حالت میں کیوں پڑے ہو‘ دمشق کی طرف کیوں نہیں چلے گئے- تو انہوں نے جواب دیا کہ اس خیال سے کہ وہاں کی وبائوں سے ہمیں نقصان نہ پہنچے- اسامہ حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ کیسے بیوقوف لوگ تھے ان کی اس وقت کی حالت سے بڑھ کر وباء کیا نقصان پہنچا سکتی تھی-
    بنی اسرائیل اور دشت سینا
    میری غرض اس واقعہ کے ذکر سے یہ ہے کہ دشت سینا ایک ایسا خطرناک علاقہ ہے کہ بڑی جماعتوں کے لئے بھی بغیر خاص انتظام کے اس میں سے گزرنا مشکل ہے اور اس میں قیام کرنا تو اور بھی مصیبت ہے- پھر بنی اسرائیل میں جن کے بیس سال سے زائد کے جوانوں میں سے جنگی خدمت کے قابل مردوں کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ بتائی گئی ہے اور جو بے سروسامانی کی حالت میں مصر سے بھاگے تھے اس علاقہ میں سے کس طرح گزرے اور کس طرح اڑتیس سال تک اس علاقہ میں انہوں نے بسر کیا- یہ ایک ایسا سوال ہے جو صدیوں سے دنیا کو حیرت میں ڈال رہا ہے- بائیبل نے اس کا جواب من کے نزول اور حورب کی چٹان میں بارہ چشموں کے پھوٹنے کے معجزہ سے دیا ہے- وہ بتاتی ہے کہ اس مظلوم قوم کی خدا تعالیٰ نے مدد کی اور اپنے فضل سے اس نے ان کے لئے کھانے اور پینے کا سامان مہیا کیا- میں اس وقت پانی کی تحقیق کو چھوڑتا ہوں اور من کی تحقیق کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ اس کی حقیقت زیر بحث ہے-
    بائیبل کا بیان پڑھنے کے بعد طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ-:
    )۱( من کیا چیز تھی
    )۲( کیا اس کا وجود معجزانہ تھا
    )۳( کیا بنی اسرائیل اسے کھا کر ایک طویل مدت تک زندگی بسر کر سکتے تھے-
    پہلے سوال کا جواب دیتے وقت خود بخود یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس غذا کو من کا نام بنی اسرائیل نے دیا تھا یا پہلے سے اس کا یہ نام تھا اگر بنی اسرائیل نے اسے اسی نام سے پکارا تو کیوں؟ کیا اس غذا کی اندرونی خاصیت کی وجہ سے یا کسی اور دوسری وجہ سے‘ حروج باب ۱۶ آیت ۱۵ میں >من< کا سب سے پہلے ذکر ہے- اس میں لکھا ہے کہ جب بنی اسرائیل ایلیم روانہ ہوئے تو راستہ میں خوراک نہ ملنے کے سبب انہوں نے شور مچایا- چنانچہ خدا تعالیٰ نے ان سے گوشت اور روٹی کا وعدہ کیا- شام کو بے شمار بٹیر جنگل میں آ گئے- جنہیں پکڑ کر انہوں نے گوشت کھایا اور صبح کے وقت ایک چیز زمین پر پڑی ملی- جو چھوٹی چھوٹی سفید رنگ کی تھی- جسے دیکھ کر بنی اسرائیل نے آپس میں کہا یہ من ہے؟ کیونکہ انہوں نے نہ جانا کہ وہ کیا ہے- اس پر موسیٰ نے ان سے کہا- یہ روٹی ہے جو خدا نے کھانے کو تم کو دی ہے<-
    اس آیت کی بناء پر بعض لوگوں نے یہ خیال کیا ہے کہ >من< کا لفظ اس جگہ بطور استفہام استعمال ہوا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیا چیز ہے- بعد میں یہی لفظ نام کے طور پر بنیاسرائیل میں استعمال ہونے لگا- چنانچہ اس باب )۱۶( کی آیت ۳۱ میں لکھا ہے-
    >اور اسرائیل کے گھرانے نے اس کا نام >من< رکھا<-
    بعض محققین جارج ایبرز ۲~}~ کی اتباع میں اصل تشریح کو غلط سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ لفظوں کی مشابہت سے مغالطہ ہو گیا ہے- اصل میں یہ لفظ >منو< ہے اور قبطی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی قبطی زبان میں کھانے کے ہیں- اس لئے بنی اسرائیل نے من سوال اور استفہام کے طور پر اس کا نام نہیں رکھا بلکہ چونکہ خدا تعالیٰ نے کہا کہ یہ موعودہ روٹی ہے- انہوں نے اس کا نام >منا< یعنی خوراک رکھ دیا- کیونکہ اس کا کوئی اور نام انہیں معلوم نہ تھا- ان کا یہ خیال ہے کہ من استفہامیہ کا استعمال ارمیک زبان میں نہیں اور یہ قابل تعجب امر ہے کہ اس معنی میں جس میں ارمیک زبان کا کوئی اور لفظ استعمال نہیں ہوا‘ یہ لفظ مستعمل ہو جاتا- مگر مسٹر فیلڈ نے اس حیرت کو بائیبل کے ایک قدیم یونانی نسخہ سے دور کرنے کی کوشش کی- نیز اس نسخہ میں خروج باب۱۶ آیت۱۵ کے الفاظ >من ہے< کی بجائے >کیا یہ من ہے<- ہیں اور اگر یہ فرق صحیح تسلیم کر لیا جائے تو من خوراک کے معنی میں درست ثابت ہوتا ہے اور استفہام کے الفاظ کا علیحدہ موجود ہونا واضح کر دیتا ہے کہ >من< کا لفظ اس جگہ استفہام کے طور پر استعمال نہیں ہوا تھا-
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عبرانی کا لفظ جو اس جگہ استعمال ہوا ہے‘ اس کے معنی استفہام کے بھی ہوتے ہیں- لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ یہ لفظ بنی اسرائیل کی جلا وطنی اور اس کے بعد کے زمانہ میں ان معنوں میں صرف عزرا اور دانیال کی کتب میں استعمال ہوا ہے- جلا وطنی سے پہلے کے زمانہ میں اس کا استعمال ان معنوں میں نظر نہیں آتا اور اس وجہ سے بعض اہل نظر نے اسے ارمیک قرار دیا-
    ہم جب اس لفظ کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے تورات کے دوسرے مقامات کا مطالعہ کرتے ہیں کہ بے جان چیزوں کے متعلق سوال کرنے کا کیا طریق ہے‘ تو وہاں ہمیں ایک ایسی بات مل جاتی ہے جو اس سوال کو ہمارے لئے قطعی طور پر حل کر دیتی ہے اور وہ یہ کہ تورات میں جہاں بے جان چیزوں کے متعلق سوال کیا گیا ہے- وہاں >منہ< کا لفظ استعمال کیا گیا ہے نہ کہ >من< کا اور جہاں جاندار چیزوں کے متعلق سوال کیا گیا ہے وہاں >ری< کا لفظ استعمال کیا گیا ہے- چنانچہ خروج باب ۴ آیت ۲ میں ہے-
    >پھر خدا نے موسیٰ سے کہا کہ یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے- پھر وہ بولا عصا< اس جگہ عبرانی میں لفظ >مزہ< ہے- یعنی یہ کیا ہے- یہ الفاظ عربی کے الفاظ >ماذا< سے ملتے ہیں >مزہ< کا یہ استعمال غیر معمولی ہے- ورنہ احبارباب ۲۵- آیت۲۰- شمار باب ۱۳ آیت۱۹‘ ا- سمویل باب ۳ آیت۱۷- زبور باب ۳ آیت۱۲۰- امثال باب ۳۰ آیت۴ اور دیگر مقامات میں >کیا< کے لئے لفظ >منہ< استعمال کیا گیا ہے- اس کے مقابلہ میں جاندار کے متعلق صوال کے موقع پر >کون< کے لئے پیدائش باب ۲۷ آیت۱۸ ایضاً باب ۳۳ آیت۵- خروج باب ۱۵ آیت۱۱‘ ۱- سمویل باب ۲۵ آیت۱۰- زبور باب ۴ آیت۶ وغیرہ میں عبرانی کا لفظ >رمی< استعمال ہوا ہے- اس فرق کو دیکھ کر صاف طور پر واضح ہو جاتا ہے- کہ خروج باب ۱۶ میں جو >من< کا استعمال ہوا ہے وہ >کیا< کے معنوں میں نہیں- کیونکہ پرانی عبرانی زبان میں کیا کے لئے >من< نہیں بلکہ >منہ< کا لفظ استعمال کرتے تھے-
    اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جلا وطنی اور اس کے بعد کے زمانہ میں جب >من< کا لفظ سوال کے لئے استعمال ہونے لگا تو اس سے بے جان نہیں بلکہ جاندار کے متعلق سوال کیا جاتا تھا- چنانچہ عزرا باب ۵ آیت۳‘۹ اور دانیال باب ۲ آیت۱۵ میں >من< کا لفظ سوال کے لئے استعمال ہوا ہے- لیکن وہاں سوال جانداروں کے متعلق ہے پس معلوم ہوا کہ اول تو تورات کے نزول کے وقت >من< کا لفظ سوال کے لئے استعمال نہیں ہوتا تھا- دوم بنی اسرائیل کی جلا وطنی کے زمانہ سے جب یہ لفظ سوال کے لئے استعمال ہونے لگا ہے- اس وقت بھی یہ لفظ قاعدہ کے طور پر جاندار چیزوں کے متعلق سوال کرنے کے لئے استعمال ہوتا تھا‘ نہ یہ کہ بے جان چیزوں کے متعلق اور استثناء کے طور پر اگر کہیں اس کے خلاف استعمال ہوا ہے تو اسے بطور سند پیش نہیں کیا جا سکتا- لہذا خروج باب ۱۵ آیت۱۶ میں >من ہے< کے معنی >کیا ہے< کے کرنا اور اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ >من< کو >من< اس لئے کہا گیا تھا کہ بنی اسرائیل نے اسے پہچاننے کی وجہ سے >من< کے لفظ سے اس کے متعلق سوال کیا تھا‘ درست نہیں-
    اور یہ غلط فہمی یورپی مصنفوں کو اس لئے ہوئی ہے کہ وہ عبرانی جیسی مردہ زبان کی تحقیق کرتے وقت اس امر کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ عبرانی کی ماں عربی زبان زندہ موجود ہے- عبرانی الفاظ کی حقیقت کے سمجھنے میں جب مشکلات ہوں تو وہ عربی زبان سے مدد لے لیا کریں- اس موقع پر اگر وہ عربی سے مدد لیتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ عربی زبان میں >ما< غیر ذی روح کیلئے اور ]kns >[tagمن< ذی روح کے لئے استعمال ہوتا ہے اور پھر اس علم کی روشنی میں بائیبل کے الفاظ کو دیکھتے تو ان پر واضح ہو جاتا کہ یہی قاعدہ بائیبل کی عبرانی میں بھی مدنظر رکھا گیا ہے اور اس طرح اس لغزش سے بچ جاتے- مگر اتنی تعریف ان کی ضرور کرنی پڑتی ہے کہ انہوں نے یہ فرق ضرور محسوس کیا ہے کہ من کا لفظ سوال کے معنوں میں جلاوطنی کے زمانہ اور اس کے بعد استعمال ہوا ہے- ۳~}~ پہلے نہیں اور اس کی بناء پر بعض نے من کے معنے استفہام کے سوا کچھ اور لینے کی کوشش کی ہے- چنانچہ جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں‘ جارج ایبرز نے اس لفظ کو قبطی لفظ >منو< سے ماخوذ قرار دیا- جس کے معنی خوراک کے ہیں- اسی طرح Jesenius نے اپنی لغت میں من کی وجہ تسمیہ عربی لفظ من سے بیان کی ہے- جس کے معنی فضل اور احسان کے ہیں- اس مصنف کے خیال کے مطابق اس چیز کا نام من اس لئے رکھا گیا تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوئی تھی اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ وجہ زیادہ قرین قیاس ہے-
    اب میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ من کیا چیز تھی؟ جیسا کہ پروفیسر نعیم الرحمن صاحب نے کہا ہے بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شبنم کے ساتھ گرتی تھی اور سفید سفید گول دھنیے کے بیجوں کی طرح ہوتی تھی اور لوگ اسے چکی میں پیس کر یا اوکھلی میں کوٹ کر توے پر پکاتے تھے یا پھلکیاں بناتے تھے اور اس کا مزا تازہ تیل کا سا تھا- جب دھوپ نکل آتی- تو من پگھل جایا کرتا تھا- خروج باب۱۶ آیت۱۴ و گنتی باب۱۱ آیت۷- یہ چیز سبت کے دن نہیں گرتی تھی اور اگر لوگ جمع کرتے تھے تو سٹر جاتی تھی- سوائے سبت کے دن کے جو اس کے لئے جمع رکھی جاتی تھی وہ نہ سٹرتی تھی- یہ من برابر اڑتیس سال تک بنی اسرائیل پر نازل ہوتا رہا- گنتی باب ۲۱ اور اس وقت بند ہوا جب انہوں نے موجودہ زمین میں قدم رکھا اور وہاں کا دانہ کھایا- یشوع باب۵ آیت۱۲-
    اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا کوئی ایسی چیز ہے جو بائیبل کی بیان کردہ صفات کے مطابق ہو اور سینا مقام میں پائی جاتی ہو؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر معجزانہ امور کو نظر انداز کر دیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ فی الواقعہ ایک ایسی چیز سینا کے علاقہ میں پائی جاتی ہے جو شبنم کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے اور دھوپ کی گرمی میں پگھل جاتی ہے اور تیل سا اس کا مزا ہوتا ہے اور سفید رنگ کی ہوتی ہے- جس کی ایک قسم کو ہمارے ملک میں شیر خشت کہتے ہیں اور دوسری کو ترنجبین اور ہندی میں اسے یورس- شرط کڑا یعنی جواسے کی شکر کہتے ہیں- کیونکہ ہندوستان میں یہ چیز جواسے کے درخت سے نکالی جاتی ہے- لاطینی میں اسے >منا< کہتے ہیں اور اس چیز کی ماہیت پوری طرح طبی کتب میں بھی درج ہے- انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا میں بھی درج ہے- چنانچہ اسے پروفیسر نعیم الرحمن صاحب نے تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے اس لئے میں اس مضمون کو چھوڑتا ہوں- ہاں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ یورپی سیاحوں نے شہادت دی ہے کہ اب تک اس علاقہ میں من ملتا ہے گو وہ شبنم کے ساتھ نہیں گرتا بلکہ ٹیمرکسگیلیکا نامی درخت کا رس ہوتا ہے- جس کی چھال کو جب ایک کیڑا جسے اب گاسپیریامینیفیرا کہتے ہیں چھیدتا ہے تو اس سے یہ رس ٹپکتا ہے بغیر کیڑے کے انسانی ہاتھوں سے درخت کی چھال میں شگاف کرنے سے بھی یہ رس گر کر جم جاتا ہے اور مختلف ممالک میں اس درخت سے مختلف طریقوں سے رس کو جمع کیا جاتا ہے- سسلی اور خراسان کا من مشہور ہے- ہندوستان میں بھی جواسے کے درخت سے وید من بناتے ہیں- مصر سے مصنوعی من بنا ہوا آتا ہے لیکن اطباء اسے پہچان لیتے ہیں- بزمارڈٹ جرمن سیاح کا بیان ہے کہ سینا میں موجودہ درختوں کی تعداد کا اندازہ لگاتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ سالانہ اڑھائی تین سو سیر تک من تیار ہو سکتا ہے مگر خیال کیا جاتا ہے کہ پہلے زمانہ میں جنگل زیادہ وسیع ہوتا تھا اور اس سے بہت زیادہ من تیار ہو سکتا تھا- لیکن جیسا کہ پروفیسر نعیم الرحمن صاحب نے لکھا ہے بائیبل میں بنیاسرائیل کی جو تعداد لکھی ہے اس کے مطابق انہیں روزانہ چھبیس ہزار سات سو پچاس من کے قریب من کی ضرورت ہوتی ہوگی اور سالانہ ایک کروڑ من کے قریب- لیکن چھ سات سو من سالانہ جو اب وہاں پیدا ہوتا ہے اور ایک کروڑ من جس کی انہیں ضرورت ہوتی تھی‘ ان دونوں اندازوں میں اس قدر فرق ہے کہ خواہ قوت واہمہ کو کتنا ہی آزاد چھوڑ دیا جائے‘ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ کسی زمانہ میں اس علاقہ میں اس قدر جنگل تھا کہ ایک کروڑ من من پیدا ہو جاتا تھا- خصوصاً جب ہم اس امر کو مدنظر رکھیں کہ اس علاقہ کا اکثر حصہ ایسا ہے کہ اس میں درخت پیدا ہی نہیں ہو سکتے-
    ایک حل تو اس مشکل کا یہ ہے کہ ہم سمجھ لیں کہ بائیبل میں جو تعداد بنی اسرائیل کی لکھی ہے‘ وہ مبالغہ آمیز نہیں ہے- گنتی باب ۱‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے بیس سال سے زائد عمر سے لڑنے کے قابل مردوں کی تعداد بارہویں قبیلہ کو چھوڑ کر جن کی گنتی نہیں کی گئی چھ لاکھ تین ہزار اور پانچ سو پچاس تھی اگر بارہویں قبیلہ کا اندازہ کر لیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ کل لڑنے کے قابل مرد ساڑھے چھ لاکھ تھے- عورتوں بچوں اور جنگ کے ناقابل بوڑھوں کی تعداد کا اندازہ لگانے کے لئے ہم اس تعداد کو دس گنا زیادہ کر لیتے ہیں کیونکہ یہ ایک عاماندازہ ہے کہ چھ فیصدی سے لے کر دس فیصدی تک ملک کی آبادی جنگی خدمت کے قابل ہوتی ہے- ہم خیال کر لیتے ہیں کہ بنیاسرائیل میں سختی سے جنگی خدمت لی جاتی تھی اور کل تعداد بنی اسرائیل کی جنگی سپاہیوں سے صرف دس گنی تھی- یعنی ۶۰ لاکھ-
    مگر عقل اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ بنی اسرائیل ساٹھ لاکھ تھے کیونکہ اتنے آدمی مصر سے اتنے قلیل عرصہ میں نکل ہی نہیں سکتے- پھر یردن پار کی بستی جس میں آ کر وہ بسے ہیں‘ اس قدر آبادی کی حامل نہیں ہو سکتی- فلسطین کی آبادی کا اندازہ ۱۹۲۶ء میں آٹھ لاکھ باون ہزار دو سو اڑسٹھ تھا-۴~}~
    اس ملک کا کل رقبہ ۹ ہزار مربع میل ہے- یعنی پنجاب کے کل رقبہ کا قریباً چودھواں حصہ اور پھر اس کا ایک بڑا حصہ ناقابل سکونت ہے‘ صرف ریت کے میدان ہیں جنہیں آباد نہیں کیا جا سکتا- پس اس ملک میں جو پہلے سے آباد تھا‘ ساٹھ لاکھ آدمیوں کا آ کر بس جانا بالکل خلاف عقل ہے-
    ایک اور دلیل سے بھی یہ امر خلاف عقل معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل ساٹھ لاکھ تو درکنار چند لاکھ بھی ہوں اور وہ اس طرح کہ حضرت اسحٰق کی پیدائش سے لے کر حضرت یعقوب کے مصر میں داخل ہونے تک تقریباً دو سو سال کا عرصہ بائیبل کے مطابق گزرا ہے- اس عرصہ میں حضرت ابراہیم کی نسل کے افراد بارہ تک پہنچے ہیں- عیسو کی اولاد کو بھی اگر اسی قدر فرض کر لیا جائے تو دو سو سال میں چوبیس افراد تک ان کی نسل پہنچی ہے- اس کے بعد مصر سے نکلنے کے زمانہ تک دو سو سال گزرے ہیں- پس عام اندازہ تو یہی ہو سکتا ہے کہ حضرت یعقوب کے بارہ بیٹوں کی نسل اس دو سو سال میں چھ سات سو افراد تک پہنچ گئی ہوگی لیکن اگر ہم یہ بھی فرض کر لیں کہ وہ بہت شادیاں کرتے تھے اور اولاد زیادہ ہوتی تھی جب بھی پندرہ بیس ہزار سے زائد تو کسی صورت میں ان کی تعداد نہیں ہو سکتی اور اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ بنیاسرائیل اپنے سفر کے دوران میں معمولی شہر کے آدمیوں سے بھی ڈرتے تھے اور ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے یہ امر یقینی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ دو اڑھائیہزار سپاہیوں سے زائد نہ تھے- اس اندازہ کے ماتحت nsk] [tagمن کی وہ مقدار جو بنی اسرائیل کے لئے ضروری ہوتی ہو گی بہت کم رہ جاتی ہے- لیکن یہ سوال پھر بھی باقی رہ جاتا ہے کہ کیا بنیاسرائیل من پر گزارہ کر سکتے تھے- من جیسا کہ بتایا جا چکا ہے ایک گوند ہے جو ہے بھی مسہل- اس غذا پر انسان چند دن سے زائد گزارہ نہیں کر سکتا- پھر بنی اسرائیل نے اڑتیس سال تک اس پر کیونکر گزارہ کیا- نئے یورپی محققین بھی اس سوال کی معقولیت کے قائل ہو گئے ہیں اور اب ان کا یہ خیال ہے کہ >من< کی جو ماہیت بائیبل میں بتائی گئی ہے‘ اس میں مبالغہ اور تداخل ہو گیا ہے من ان کے نزدیک لچن (Lichen) کے دانوں کا نام ہے جو قحط کے دنوں میں لوگ کھانے لگتے ہیں- لچن ایک بوٹی ہے جو سطح کے اوپر ہی اگ آتی ہے- جڑ کے لئے اسے زمین کی ضرورت نہیں ہوتی- اس لئے چٹانوں کی سطح اور درختوں کی چھال پر بھی اگ آتی ہے- اس کی بعض قسمیں پتھروں پر اگتی ہیں- خصوصاً چولے کے پتھروں پر اور جب اسے پتھر سے الگ کیا جائے- تو جوار کے کچلے ہوئے دانہ کے مشابہہ ہو جاتی ہے- جب یہ بوٹی پک جائے تو اس کے چھلکے جڑ سے الگ ہو کر گول شکل اختیار کر لیتے ہیں اور ہلکا ہونے کی وجہ سے ہوا انہیں اڑا کر دور دور لے جاتی ہے-۵~}~
    علمائے نباتات کے نزدیک یہ بوٹی کھمب کی قسموں میں سے ہے- اگر نئے یورپی محقیقین کی رائے تسلیم کر لی جائے تو پھر یہ سوال حل ہو جاتا ہے کہ بنی اسرا ئیل نے اس کھانے پر گزارہ کس طرح کیا؟ لیکن وہ سوال پھر پیدا ہو جاتا ہے کہ بائیبل کی بیان کردہ من کی ماہیت کے ساتھ اس بوٹی کی کوئی مناسبت نہیں- نہ یہ بوٹی میٹھی ہوتی ہے نہ اس کا مزہ تازہ تیل کا سا ہوتا ہے اور نہ یہ بوٹی دوپہر کو پگھل جاتی ہے-
    قرآن کریم و حدیث شریف سے استمداد
    میرے نزدیک اس سوال کا جواب ہمیں بائیبل اور ان کی متعلقہ کتب سے نہیں مل سکتا- یورپین محققین خواہ کتنا ہی زور لگائیں‘ وہ اس سوال کا پوری طرح جواب نہیں دے سکتے کیونکہ وہ اس سرچشمہ سے دور ہیں جس سے حقیقی علم عطا ہوتا ہے پس اگر ہمیں صحیح جواب کی ضرورت ہے تو ہمیں چاہیئے کہ قرآن اور حدیث سے استمداد حاصل کریں-
    قرآن کریم اور حدیث میں من کے متعلق مندرجہ ذیل حقائق بیان ہوئے ہیں-
    )۱( الم ترالی الذین خرجوا من دیار ھم وھم الوف حذر الموت فقال لھم اللہ موتوا ثم احیاھم۶~}~
    کیا تجھے ان لوگوں کا حال معلوم نہیں جو اپنے گھروں سے موت کے ڈر سے اس حال میں نکلے تھے کہ وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں کہا کہ مر جائو پھر انہیں اس نے زندہ کر دیا-
    )۲( وانزلنا علیکم المن والسلوی کلوامن طیبت مارزقنکم ۷~}~
    اور ہم نے تم پر من اور سلویٰ اتارا تھا اور کہا تھا کہ جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے‘ اس میں سے اعلیٰ اور پاکیزہ چیزوں کو کھائو-
    )۳( بخاری میں سعید بن زید کی روایت ہے- قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الکماہ من المن۸~}~ رسول کریم ~صل۲~ نے فرمایا کہ کھمب بھی >من< کی اقسام میں سے ہے- ترمذی میں ابوہریرہؓ سے روایت ہے- ان ناسا من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم قالوا الکماہ جدری الارض فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الکماہ من المن ۹~}~ نبی کریم ~صل۲~ کے صحابہ میں سے بعض لوگ اعراب کے توہمات کے مطابق باتیں کر رہے تھے کہ کھمب زمین کی چیچک ہے- نبی کریم ~صل۲~ نے اس بات کو سن کر فرمایا کہ کھمب >من< کی اقسام میں سے ہے-
    اوپر کی آیات و احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں مصر سے نہیں نکلے بلکہ ہزاروں کی تعداد میں نکلے تھے-
    )۴( جو چیز ان کے کھانے کے لئے مہیا کی گئی تھی وہ غذا کے لحاظ سے اعلیٰ درجہ کی تھی اور ایسی نہ تھی جو غذائیت یا مزے کے لحاظ سے تکلیف دہ ہو-
    )۵( جو چیز بنی اسرائیل کو کھانے کے لئے ملی تھی وہ ایک چیز نہ تھی بلکہ کئی چیزیں تھیں اور ان کئی چیزوں میں سے ایک کھمب بھی تھی-
    یہ ایک نہایت عجیب بات ہے کہ >من< کا ذکر قرآن کریم میں تین جگہ پر آیا ہے ایک سورہ بقرہ میں ایک اعراف میں اور طہ میں اور تینوں جگہ اس کے ذکر کے بعد کلوامن الطیبت ۱۰~}~ کا فقرہ ہے- جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس خیال کی تردید کرنا مقصود ہے کہ وہ کھانا طبیعت پر بوجھ ڈالنے والا یا غذائیت کے لحاظ سے ادنیٰ قسم کا تھا-
    >جیسا کہ ہم لچن (LICHEN) کی جس کا ذکر اوپر آ چکا ہے‘ تحقیق کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی کھمب کی قسم کا پودہ ہے- چنانچہ انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا میں لکھا ہے- >لچن اور کھمب کے اقسام بالکل آپس میں ملتے جلتے ہیں اور یہ امر ان اقسام کی مشابہت سے جو ایک دوسرے کی طبعی سرحد پر واقع ہیں بالکل ظاہر ہو جاتا ہے-<۱۱~}~
    لیکن یہ امر ظاہر ہے کہ لچن خود اچھا کھانا نہیں ہے بلکہ قحط کے ایام میں مجبوراً اسے لوگ کھاتے ہیں- اس کے برعکس کھمب اعلیٰ درجہ کے کھانوں میں سے ہے اور گراں قیمت پر فروخت ہوتی ہے اور خاص طور پر اسے امراء کے لئے بویا جاتا ہے اور فرانس میں تو اس کی اس قدر کھپت ہے کہ پیرس میں ایک زمیندار دن میں تین سے تین ہزار پونڈ تک کھمب منڈی میں فروخت کرنے کے لئے بھیجتا ہے- اور پھر یہ ہے بھی جلد اگنے والی چیز- چنانچہ انگریزی میں اس چیز کو جو جلد ہو جائے- مشروم گروتھ (MASHROOMGROWTH) یعنی کھمب کی طرح پیدا ہونے والی کہتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لئے جو کھانے سے تنگ ہوں ایسی ہی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جو جلد اگ آئیں اور جلد استعمال میں آ سکیں- اب کیا یہ صاحبان بصیرت کے لئے عجیب بات نہیں کہ بائیبل کے کثیر نسخوں اور علم طبیعات کے ماہروں کی امداد کے باوجود یورپ بیسویں صدی میں جس نتیجہ پر >من< کے متعلق پہنچا ہے اور وہ بھی ناقص صورت میں‘ اس کی اب سے تیرہ سو سال پہلے نہایت جامعیت کے ساتھ توضیح کر دی گئی تھی-
    احسان الٰہی سے ملنے والی غذا
    میں جہاں تک مندرجہ بالا آیات اور احادیث سے سمجھ چکا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دشتسیناء میں کھمب ترنجبین اور ایسی ہی اور چیزیں جو جلد تیار ہو جاتی ہیں‘ پیدا کر دیں جن سے بنیاسرائیل کو باسانی غذا ملنے لگی اور چونکہ اس کے لئے محنت نہیں کرنی پڑتی تھی اس غذا کا نام من یعنی احسان الٰہی سے ملنے والی غذا رکھا گیا- وہ ایک قسم کی غذا نہ تھی بلکہ کئی قسم کی غذائیں تھیں- کیونکہ حدیث کے الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ کئی طرح کا من تھا- وہاں سب میں ایک مشابہت تھی اور وہ یہ کہ غذائیں ہل چلا کر اور محنت کر کے بنی اسرائیل کو پیدا نہیں کرنی پڑتی تھیں- لیکن چونکہ غذائیں اور بٹیر جو اس وقت کثرت سے اس جنگل میں آ گئے تھے شکم میں قبض پیدا کرتے تھے‘ اللہ تعالیٰ نے ترنجبین بھی کثرت سے پیدا کر دی- جسے دوسری غذائوں میں ملا کر کھانے سے ان کی صحت درست رہتی تھی- لہذا یہ حقیقت ہے کہ من جس کا کثرت سے ان ایام میں پیدا ہونا ایک معجزہ تھا‘ لیکن خود اس کا وجود اس دنیا مکی چیزوں میں سے تھا وہ ایسی غذا تھی جسے ایک عرصہ تک کھایا جا سکتا تھا اور اس کی مصلح ترنجبین بھی ساتھ پیدا کر دی گئی تھی تا کہ جنگل کی خشک غذا صحت کو نقصان نہ پہنچائے-
    اس تشریح کے ساتھ سب سوال حل ہو جاتے ہیں- یہ بھی کہ من کو لوگ دیر تک کس طرح کھاتے رہے اور یہ بھی کہ وہ سال بھر کس طرح ملتی رہتی تھی اور یہ بھی کہ وہ تیل کی طرح بھی تھی اور اس سے روٹیاں بھی پکتی تھی اور پھلکیاں بھی بنائی جاتی تھیں- کیونکہ وہ ایک چیز نہ تھی بلکہ کئی چیزوں کا نام من تھا اور اس تشریح کو تسلیم کر کے کوئی خلاف عقل بات بھی تسلیم نہیں کرنی پڑتی- بٹیر وغیرہ کی قسم کی چیزوں پر ایک ایسی قوم جسے اہم سیاسی اغراض کے لئے جنگل میں رہنا ضروری ہے گذارہ کر سکتی ہے اور قرآن کریم کی بتائی مقدار کے مطابق قوم کا اس جنگل میں آسانی سے بسر اوقات کر سکنا ناممکنات میں سے نہیں ہے- )ابن الفارس(
    )الفضل ۲۲‘۲۳ مارچ ۱۹۴۶ء(
    ۱~}~
    خروج باب۱۶ آیت۳۱ برٹش اینڈ فارن بائبل سوساٹی انارکلی لاہور- ۱۹۲۲ء
    ۲~}~
    جارج ایبرز EBERSGEORGMORITZ یکم ۱۸۳۷ء کو برلن میں پیدا ہوا- ۷- اگست ۱۸۹۸ء BAVARIA TUTZINDG جرمنی میں وفات پائی- یہ جرمنی کا ناول نویس اور ماہر مصریات تھا- اس نے قانون فقہ کی تعلیم حاصل کی- پھر برلن میں مشرقی زبانوں اور آثار قدیمہ کا مطالعہ کیا- ۱۹۶۵ء میں یونیورسٹی آف جینا (JENA) میں مصری زبان اور آثار قدیمہ کا استاد مقرر ہوا- ۱۸۷۰ء میں اس شعبہ میں جرمنی کے شہر LEIPZID میں پروفیسر مقرر ہوا-
    1۔vol Yourk New Namas of Encylopedia contury The
    ‏1825 in published 13099 1388, ۔p
    ۳~}~
    انسائیکلوپیڈیا ببلیکا جلد۳ زیر لفظ >منا<
    ۴~}~
    انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا چودھواں ایڈیشن
    ۵~}~
    انسائیکلوپیڈیا ببلیکا جلد ۳
    ۶~}~
    البقرہ : ۲۴۴
    ۷~}~ البقرہ:۸۵

    ۸~}~
    بخاری کتاب الطب باب المن شفاء للجین میں یہ روایت اس طرح ہے قال سمعت النبی ¶صلی اللہ علیہ وسلم یقول الکماہ من المن
    ۹~}~
    ترمذی ابواب الطب باب ماجاء فی الکماہ والعجوہ
    ۱۰~}~
    البقرہ : ۵۸‘ الاعراف: ۱۶۱‘ طہ : ۸۱

    ۱۱~}~
    انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا جلد۱۴ صفحہ۲۹ ایڈیشن۱۴
    ‏a12.14
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    انوار العلوم جلد ۱۲
    اردو زبان کی کس طرح خدمت کر سکتے ہیں
    اردو رسائل زبان کی کس طرح
    خدمت کر سکتے ہیں

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی

    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    اردو رسائل زبان کی کس طرح خدمت کر سکتے ہیں
    اردو زبان کی بڑی دقتوں میں سے ایک دقت یہ ہے کہ اس کی لغت کتابی صورت میں پوری طرح مدون نہیں ہے اور نہ اس کے قواعد پورے طور پر محصور ہیں اور نہ مختلف علمی مضامین کے ادا کرنے کے لئے اصطلاحیں مقرر ہیں- مولوی فتح محمد صاحب جالندھری نے قواعد کے بارے میں اچھی خدمت کی ہے اور مولانا شبلی اور مولوی عبدالحق صاحب نے ان کے کام کو جلا دینے میں حصہ لیا ہے- لغت کا کام مولوی نذیر احمد دہلوی نے کیا ہے اور اصطلاحات کے لئے ہم عثمانیہ یونیورسٹی کے ممنون ہیں- انجمن ترقی اردو انہی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بہت کچھ کر رہی ہے- لیکن کام اس قدر ہے کہ کسی ایک شخص یا ایک انجمن یا ایک ادارہ سے یہ ہونا ناممکن ہے-
    اردو کے بہی خواہوں نے میرے نزدیک بعض مشکلات کو جو اردو زبان سے مخصوص ہیں نظر انداز کر دیا ہے- مثلاً
    ۱-
    وہ سب زبانوں میں عمر میں چھوٹی ہے-
    ۲-
    ‏]ind [tag حقیقی شاہی گود میں پلنے کا اسے کبھی موقع نہیں ملا- جو زبان کی ترقی کیلئے ضروری ہے-
    ۳-
    اصل میں تو تین لیکن کم سے کم دو مائیں اس کی ضرور ہیں اور مصیبت یہ ہے کہ دونوں سگی ہیں- ہر ایک اپنی تربیت کا رنگ اس پر چڑھانا چاہتی ہے- اور جب ان کا آپس میں اتحاد نہیں ہو سکا تو دونوں اپنا غصہ اس معصوم پر نکالتی ہیں- میں نے تو جہاں تک غور کیا ہے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس وقت جھگڑا یہ نہیں کہ اہل سنسکرت اردو کو اپنا بنانے کو تیار نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ اسے صرف اپنا ہی بنائے رکھنے پر مصر ہیں اور عربی فارسی والوں کے سایہ سے اس نونہال کو دور رکھنا چاہتے ہیں اور یہی حال ان کا بھی ہے-
    ۴-
    ہمارا علمی طبقہ غیر زبانوں میں سوچنے کا عادی ہو گیا ہے- اور اس وجہ سے اس کی تحقیقوتفتیش سے اردو نفع نہیں اٹھا سکتی-
    ۵-
    ٹائپ نہ ہونے کے سبب آنکھوں کو اس کے حروف سے وہ موانست نہیں پیدا ہوتی جو ٹائپ پر چھپنے والی زبانوں کے حروف سے ہو جاتی ہے اور اس وجہ سے لوگوں میں شوق تعلیم سرعت سے ترقی نہیں کر سکا اور کتابوں کی اشاعت وسیع پیمانے پر نہیں ہو سکی- انسان بارہ تیرہ قسم کے ٹائپوں کا عادی تو ہو سکتا ہے لیکن ہزاروں قسم کا نہیں اور اردو زبان کے جتنے کاتب ہیں گویا اتنے ہی ٹائپ ہیں جس کی وجہ سے طبیعتوں پر ایک غیرمحسوس بوجھ پڑتا ہے اور تعلیم کا ذوق کم ہو جاتا ہے-
    ان مشکلات کی وجہ سے اردو کی ترقی کے رستے میں دوسری زبانوں کی نسبت زیادہ مشکلات حائل ہیں مگر میرے نزدیک وہ ایسی نہیں کہ دور نہ کی جا سکیں- اب تک نقص یہی رہا ہے کہ مرض کی تشخیص نہیں کی گئی اور اس کی وجہ سے لازماً علاج بھی صحیح نہیں ہوا- اگر اردو عمر میں اپنی بہنوں سے چھوٹی تھی تو اس کے لئے اس قسم کی غذا کا بھی انتظام ہونا چاہئے تھا- اور اگر وہ شاہی گود سے محروم تھی تو کیوں نہ اسے جمہوریت کی گود میں ڈال دیا گیا جس کی حفاظت شاہی حفاظت سے کسی صورت میں کم نہیں بلکہ اصل بادشاہت تو اس کی ہے- اگر اس کی تربیت کے متعلق اختلاف تھا تو یہ صورت حالات پیدا کرنے کی بجائے کہ جس کا بس چلا وہ اسے اپنے گھر لے گیا وہی کیوں نہ کیا گیا جو حضرت محمد ~صل۲~ نے اس وقت کیا تھا جب خانہ کعبہ کی تعمیرجدید کے موقع پر حجر اسود کو اٹھا کر اس کی جگہ پر رکھنے کے سوال پر مختلف قریش خاندانوں میں جھگڑا پیدا ہو گیا تھا اور انہوں نے ایک چادر بچھا دی اور اس پر حجر اسود اپنے ہاتھ سے رکھ کر سب قوموں کے سرداروں سے کہا کہ وہ اس چادر کے کونے پکڑ لیں اور اس طرح سب کے سب اس کے اٹھانے میں برابر کے شریک ہو جائیں- اسی طرح اگر اردو‘ سنسکرت اور عربی کی مشترک تربیت میں دے دی جاتی تو یہ جھگڑا ختم ہو سکتا تھا-
    ٹائپ کا سوال مختلف قسم کا سوال ہے لیکن اگر مذکورہ بالا باتوں کی طرف توجہ ہوتی تو بہت سے لوگ اسے حل کرنے کی طرف بھی مائل ہو جاتے- اور الحمدللہ کہ اس وقت حیدر آباد میں بہت سے ارباب بصیرت اس کے لئے بھی کوشش کر رہے ہیں-
    میری ان معروضات کا مطلب یہ ہے کہ اردو کی ترقی کیلئے ایسے ذرائع اختیار کرنے چاہئیں کہ ایک محدود جماعت کی دلچسپی کا مرکز بننے کی بجائے جمہور کو اس سے دلچسپی پیدا ہو- خالص علمی رسائل صرف منتخب اشخاص کی توجہ منعطف کرا سکتے ہیں- اور زبانیں چند آدمیوں سے نہیں بنتیں خواہ وہ بہت اونچے پایہ کے کیوں نہ ہوں- قاعدہ یہ ہے کہ زبان عوام الناس بناتے ہیں اور اصطلاحیں علماء اردو بھی اس قاعدہ سے مستثنی نہیں ہو سکتی-
    پس اگر ہم اردو کی ترقی کے مقصد میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اس کا ذریعہ صرف یہی ہے کہ ہمارے ادبی رسالوں میں اس کے علمی پہلوئوں پر بحثیں ہوں تا کہ صرف پیش آنے والی مشکلات کے علاج کا ہی سامان نہ ہو بلکہ عوام الناس بھی ان تحقیقات سے واقف ہوتے جائیں- اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے کئی اردو رسائل کامیابی سے چل رہے ہیں- اگر ان رسائل میں چند صفحات‘ مستقل طور پر اس بات کے لئے وقف ہو جائیں کہ ان میں اردو زبان کی لغت یا قواعد یا اصطلاحوں وغیرہ پر بحثیں ہوا کریں گی تو یقیناً تھوڑے عرصہ میں وہ کام ہو سکتا ہے جو بڑی بڑی انجمنیں نہیں کر سکتیں اور بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جو نئی نئی اختراعیں ہوں گی یا الفاظ کے استعمال یا قواعد زبان کے متعلق جو پہلو زیادہ وزنی معلوم ہوگا عام لوگ بھی اس کو قبول کر لیں گے- کیونکہ دلچسپ اردو رسائل میں چھپنے کی وجہ سے وہ سب مضامین ان کی نظروں سے بھی گذرتے رہیں گے- ہاں یہ مدنظر رہے کہ مضمون ایسے رنگ میں ہو کہ سب لوگ اسے سمجھ سکیں- اس قسم کے مضامین کی اشاعت کا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ہمارے ہندو بھائی بھی ان بحثوں میں حصہ لے سکیں گے اور اس میں کیا شک ہے کہ بغیر ان کی مدد کے ہم یہ کام نہیں کر سکتے- کیونکہ اردو میں بہت سے لفظ سنسکرت اور ہندی بھاشا کے ہیں اور ان کی اصلاح یا ان میں ترقی بغیر ہندوئوں کی مدد کے نہیں ہو سکتی- ان کی شمولیت کے بغیر یا تو وہ حصہ زبان کا نامکمل رہ جائے گا یا اسے بالکل ترک کر کے اس کی جگہ عربی الفاظ اور اصطلاحیں داخل کرنی پڑیں گی اور یہ دونوں باتیں سخت مضر اور اردو کی ترقی کے راستہ میں روک پیدا کرنے والی ہوں گی-
    اس تمہید کے بعد میں ایڈیٹر صاحب ادبی دنیا اور دوسرے ادبی رسائل سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر وہ ان باتوں میں مجھ سے متفق ہوں تو اپنے رسائل میں ایک مستقل باب اس غرض کے لئے کھول دیں لیکن انہیں ان مشکلات کا بھی اندازہ کر لینا چاہئے جو اس کام میں پیش آئیں گی- مثلاً یہ کہ جو سوالات اٹھائے جائیں گے انہیں حل کون کرے گا؟ بالکل ممکن ہے کہ جواب دینے والے ایسے لوگ ہوں جن کا کلام سند نہ ہو یا جن کے جواب تسلی بخش نہ ہوں یا کوئی شخص جواب کی طرف توجہ ہی نہ کرے- اگر صرف رسالہ کے ادارہ نے جواب دیئے تو پھر اول تو اصل مطلب فوت ہو جائے گا- دوم ممکن ہے کہ اس سے وہ اثر پیدا نہ ہو سکے جو اصل مقصود ہے لہذا اس مشکل اور اس قسم کی دوسری مشکلات کے حل کے لئے میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ جو رسالہ اس تحریک پر عمل کرنا چاہے اس میں ایک ادبی کلب قائم کر دی جائے- ادارہ کی طرف سے متعدد بار تحریک کر کے رسالہ کے خریداروں کے نام ظاہر کریں جو خریدار مستند ادیب ہیں ان سے اصرار کر کے اپنا نام پیش کرنے کے لئے کہا جائے- ایسے تمام خریداروں کے نام ایک رجسٹر میں جمع کر لئے جائیں اور انہیں ادبی کلب کا ممبر سمجھا جائے چونکہ بالکل ممکن ہے کہ بہت سے ادیب اور علماء جن کی امداد کی ضرورت سمجھی جائے رسالہ کے خریدار نہ ہوں اس لئے ایسے لوگوں کی ایک فہرست تیار کی جائے اور رسالہ کے مستطیع خریداروں کی امداد سے ان کے نام رسالہ مفت ارسال کیا جائے اور ان کا نام اعزازی ممبر کے طور پر کلب کے رجسٹر میں درج کر لیا جائے-
    تمام ممبروں سے امید کی جائے کہ جب کبھی کوئی سوال
    )۱( اردو لغت کے متعلق-
    )۲( نحوی قواعد کے متعلق
    )۳( بعض علمی خیالات کے ادا کرنے میں زبان کی دقتوں کے متعلق
    )۴( محاورات کے متعلق-
    )۵( تذکیر و تانیث اور جمع کے قواعد کے متعلق-
    )۶( پرانی اصطلاحات کی تشریح یا نئی اصطلاحات کی ضرورت کے متعلق پیدا ہو تو بجائے خود حل کر کے خود ہی اس سے لطف حاصل کرنے کے وہ اس سوال کو رسالہ کے ادبی کلب کے حصہ میں شائع کرائیں- خواہ اپنا حل بھی ساتھ ہی لکھ دیں یا خالی سوال ہی لکھ دیں-
    ان سے یہ بھی امید کی جائے کہ جب کوئی ایسا سوال شائع ہو تو وہ اس کا جواب دینے کی کوشش کیا کریں-
    ملک اردو علم و ادب کے لحاظ سے چند حلقوں میں تقسیم کر دیا جائے- مثلاً
    )۱( دھلی اور اس کے مضافات
    )۲( لکھنئو اور اس کے مضافات
    )۳( پنجاب
    )۴( رامپور اور اس کے مضافات
    )۵( بھوپال اور اس کے مضافات
    )۶( آگرہ اور اس کے مضافات
    )۷( اعظم گڑھ اور الہ آباد اور اس کے مضافات
    )۸( بہار
    )۹( حیدر آباد
    اس طرح علمی لحاظ سے اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے-
    ۱-
    اسلامی یعنی عربی اور فارسی اثر
    ۲-
    ہندو یعنی سنسکرت اور ہندی بھاشا اثر
    جب سوالات رسالہ کے دفتر میں آئیں تو ادارہ انہیں مختلف حصوں میں تقسیم کر دے مثلاً جو سوال کسی لفظ کے استعمال‘ اس کی شکل‘ اس کی تذکیر و تانیث کے متعلق ہوں انہیں ایک جگہ جمع کر کے شائع کرے اور ان کے متعلق مذکورہ بالا حلقوں کے احباب سے درخواست کرے کہ وہ نہ صرف اپنی علمی تحقیق بتائیں بلکہ یہ بھی بتائیں کہ ان کے علاقہ میں وہ لفظ اردو میں استعمال ہوتا ہے یا نہیں‘ اگر ہوتا ہے تو کس شکل میں اور کن کن معنوں میں؟ اس طرح دو فائدے حاصل ہونگے ایک تو اس امر کا اندازہ ہو جائے گا کہ اس خاص لفظ یا محاورہ کے متعلق اردو بولنے والوں کی اکثریت کس طرف جا رہی ہے اور اس سے اردو کی ترقی کی رو کا اندازہ ہو سکے گا- دوسرے علمی تحقیق بھی ہو جائے گی اور پڑھنے والوں کی طبائع فیصلہ کر سکیں گی کہ اس بارہ میں اردو کے حق میں کونسی بات مفید ہے- آیا تحقیق کی پیروی کرنی چاہئے یا غلط العام کی تصدیق کہ یہ دونوں باتیں اپنے اپنے موقع پر زبان کی ترقی کے لئے ضروری ہوتی ہیں- اسی طرح جس لفظ کے متعلق بحث ہو اگر سنسکرت یا ہندی بھاشا اس کا ماخذ ہو تو اس کے علماء کو اور عربی فارسی ماخذ ہو تو اس کے علماء کو اس پروشنی ڈالنے کی طرف توجہ دلائی جائے- اس طرح اور بہت سی تقسیمیں کی جا سکتی ہیں جو اس کلب کو زیادہ دلچسپ بنانے کا باعث ہو سکتی ہیں- کلب کا کام فیصلہ کرنا نہ ہو بلکہ ہر پہلو کو روشنی میں لانا ہو-
    اسی طرح جدید اصطلاحات کی ضرورتوں کو کلب کے صفحات میں شائع کیا جائے اور بحث کی طرح اس طریق پر نہ ڈالی جائے کہ خالص عربی یا خالص سنسکرت اصطلاحات لے لی جائیں بلکہ تحریک یہ کی جائے کہ وہ خیال جس کے ادا کرنے کی ضرورت پیدا ہوئی ہے اس کے متعلق کلب کے ممبر پہلے یہ بحث کریں کہ اس خیال کا کس اردو لفظ سے تعلق ہے- پھر یہ دیکھا جائے کہ وہ لفظ کس زبان کا ہے اور آیا اس لفظ سے جدید اصطلاح کا بنانا آسان ہوگا- اگر عام رائے اس کی تائید میں ہو تو پھر اس زبان کے ماہروں سے درخواست کی جائے کہ وہ اس کے متعلق اپنا خیال ظاہر کریں- کیونکہ جس زبان کا لفظ ہو اس کے ماہر اس کے صحیح مشتقات پر روشنی ڈال سکتے ہیں-
    ممکن ہے یہ خیال کیا جائے کہ اردو رسائل کے ادارے تو پہلے ہی بوجھوں تلے دبے پڑے ہیں وہ اتنی پیچیدہ سکیم پر کس طرح عمل کر سکتے ہیں- لیکن اول تو یہ سکیم عمل میں اس قدر پیچیدہ اور توجہ طلب نہ ہوگی جس قدر کاغذ پر نظر آتی ہے-
    دوسرے اس قسم کے کلب جیسا کہ یورپ کا تجربہ ہے ہمیشہ رسائل و اخبارات کی دلچسپی اور خریداری بڑھانے کا موجب ہوتے ہیں‘ اس لئے جو رسالہ اس کام کو شروع کرے گا وہ میرے نزدیک مالی پہلو سے فائدہ میں رہے گا- تیسرے یہ بھی ضروری نہیں کہ فوراً اس ساری سکیم پر عمل کیا جائے ہو سکتا ہے کہ کلب جاری کر کے صفحات مقرر کئے بغیر اور اس طرح مضامین تقسیم کئے بغیر جس طرح میں نے بیان کیا ہے کام شروع کر دیا جائے- پھر جوں جوں ادارہ اور کلب کے ممبروں کو مشق ہوتی جائے کام اصول کے ماتحت لایا جائے تھوڑی سی ہمت کی ضرورت ہے اور بس- ادبی دنیا کے لئے اور اگر کوئی اور رسالہ اس تحریک پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ضرورت ہو تو میں اس بحث کو واضح کرنے کے لئے اور اس تحریک سے لوگوں میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے بشرط فرصت اور مضامین بھی لکھ سکتا ہوں-
    )رسالہ ادبی دنیا مارچ ۱۹۳۱ء صفحہ ۱۸۶ تا ۱۸۸(
    ‏a12.15
    انوار العلوم جلد ۱۲
    اردو رسائل زبان کی کس طرح خدمت کر سکتے ہیں
    اردو رسائل زبان کی کس طرح
    خدمت کر سکتے ہیں

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    ‏]op [tag
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    اردو رسائل زبان کی کس طرح خدمت کر سکتے ہیں
    اردو زبان کی بڑی دقتوں میں سے ایک دقت یہ ہے کہ اس کی لغت کتابی صورت میں پوری طرح مدون نہیں ہے اور نہ اس کے قواعد پورے طور پر محصور ہیں اور نہ مختلف علمیمضامین کے ادا کرنے کے لئے اصطلاحیں مقرر ہیں- مولوی فتح محمد صاحب جالندھری نے قواعد کے بارے میں اچھی خدمت کی ہے ¶اور مولانا شبلی اور مولوی عبدالحق صاحب نے ان کے کام کو جلا دینے میں حصہ لیا ہے- لغت کا کام مولوی نذیر احمد دہلوی نے کیا ہے اور اصطلاحات کے لئے ہم عثمانیہ یونیورسٹی کے ممنون ہیں- انجمن ترقی اردو انہی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بہت کچھ کر رہی ہے- لیکن کام اس قدر ہے کہ کسی ایک شخص یا ایک انجمن یا ایک ادارہ سے یہ ہونا ناممکن ہے-
    اردو کے بہی خواہوں نے میرے نزدیک بعض مشکلات کو جو اردو زبان سے مخصوص ہیں نظر انداز کر دیا ہے مثلاً-:
    ۱-
    وہ سب زبانوں میں عمر میں چھوٹی ہے-
    ۲-
    حقیقی شاہی گود میں پلنے کا اسے کبھی موقع نہیں ملا جو زبان کی ترقی کیلئے ضروری ہے-
    ۳-
    اصل میں تو تین لیکن کم سے کم دو مائیں اس کی ضرور ہیں اور مصیبت یہ ہے کہ دونوں سگی ہیں- ہر ایک اپنی تربیت کا رنگ اس پر چڑھانا چاہتی ہے- اور جب ان کا آپس میں اتحاد نہیں ہو سکا تو دونوں اپنا غصہ اس معصوم پر نکالتی ہیں- میں نے تو جہاں تک غور کیا ہے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس وقت جھگڑا یہ نہیں کہ اہل سنسکرت اردو کو اپنا بنانے کو تیار نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ اسے صرف اپنا ہی بنائے رکھنے پر مصر ہیں اور عربی فارسی والوں کے سایہ سے اس نونہال کو دور رکھنا چاہتے ہیں اور یہی حال ان کا بھی ہے-
    ۴-
    ہمارا علمی طبقہ غیر زبانوں میں سوچنے کا عادی ہو گیا ہے- اور اس وجہ سے اس کی تحقیقوتفتیش سے اردو نفع نہیں اٹھا سکتی-
    ۵-
    ٹائپ نہ ہونے کے سبب آنکھوں کو اس کے حروف سے وہ موانست نہیں پیدا ہوتی جو ٹائپ پر چھپنے والی زبانوں کے حروف سے ہو جاتی ہے اور اس وجہ سے لوگوں میں شوقتعلیم سرعت سے ترقی نہیں کر سکا اور کتابوں کی اشاعت وسیع پیمانے پر نہیں ہو سکی- انسان بارہ تیرہ قسم کے ٹائپوں کا عادی تو ہو سکتا ہے لیکن ہزاروں قسم کا نہیں اور اردو زبان کے جتنے کاتب ہیں گویا اتنے ہی ٹائپ ہیں جس کی وجہ سے طبیعتوں پر ایک غیرمحسوس بوجھ پڑتا ہے اور تعلیم کا ذوق کم ہو جاتا ہے-
    ان مشکلات کی وجہ سے اردو کی ترقی کے رستے میں دوسری زبانوں کی نسبت زیادہ مشکلات حائل ہیں مگر میرے نزدیک وہ ایسی نہیں کہ دور نہ کی جا سکیں- اب تک نقص یہی رہا ہے کہ مرض کی تشخیص نہیں کی گئی اور اس کی وجہ سے لازماً علاج بھی صحیح نہیں ہوا- اگر اردو عمر میں اپنی بہنوں سے چھوٹی تھی تو اس کے لئے اس قسم کی غذا کا بھی انتظام ہونا چاہئے تھا- اور اگر وہ شاہی گود سے محروم تھی تو کیوں نہ اسے جمہوریت کی گود میں ڈال دیا گیا جس کی حفاظت شاہی حفاظت سے کسی صورت میں کم نہیں بلکہ اصل بادشاہت تو اس کی ہے- اگر اس کی تربیت کے متعلق اختلاف تھا تو یہ صورت حالات پیدا کرنے کی بجائے کہ جس کا بس چلا وہ اسے اپنے گھر لے گیا وہی کیوں نہ کیا گیا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کیا تھا جب خانہ کعبہ کی تعمیرجدید کے موقع پر حجر اسود کو اٹھا کر اس کی جگہ پر رکھنے کے سوال پر مختلف قریش خاندانوں میں جھگڑا پیدا ہو گیا تھا اور انہوں نے ایک چادر بچھا دی اور اس پر حجر اسود اپنے ہاتھ سے رکھ کر سب قوموں کے سرداروں سے کہا کہ وہ اس چادر کے کونے پکڑ لیں اور اس طرح سب کے سب اس کے اٹھانے میں برابر کے شریک ہو جائیں- اسی طرح اگر اردو‘ سنسکرت اور عربی کی مشترک تربیت میں دے دی جاتی تو یہ جھگڑا ختم ہو سکتا تھا-
    ٹائپ کا سوال مختلف قسم کا سوال ہے لیکن اگر مذکورہ بالا باتوں کی طرف توجہ ہوتی تو بہت سے لوگ اسے حل کرنے کی طرف بھی مائل ہو جاتے- اور الحمدللہ کہ اس وقت حیدرآباد میں بہت سے ارباب بصیرت اس کے لئے بھی کوشش کر رہے ہیں-
    میری ان معروضات کا مطلب یہ ہے کہ اردو کی ترقی کیلئے ایسے ذرائع اختیار کرنے چاہئیں کہ ایک محدود جماعت کی دلچسپی کا مرکز بننے کی بجائے جمہور کو اس سے دلچسپی پیدا ہو- خالص علمی رسائل صرف منتخب اشخاص کی توجہ منعطف کرا سکتے ہیں- اور زبانیں چند آدمیوں سے نہیں بنتیں خواہ وہ بہت اونچے پایہ کے کیوں نہ ہوں- قاعدہ یہ ہے کہ زبان عوام الناس بناتے ہیں اور اصطلاحیں علماء‘ اردو بھی اس قاعدہ سے مستثنی نہیں ہو سکتی-
    پس اگر ہم اردو کی ترقی کے مقصد میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اس کا ذریعہ صرف یہی ہے کہ ہمارے ادبی رسالوں میں اس کے علمی پہلوئوں پر بحثیں ہوں تا کہ صرف پیش آنے والی مشکلات کے علاج کا ہی سامان نہ ہو بلکہ عوام الناس بھی ان تحقیقات سے واقف ہوتے جائیں- اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے کئی اردو رسائل کامیابی سے چل رہے ہیں- اگر ان رسائل میں چند صفحات مستقل طور پر اس بات کے لئے وقف ہو جائیں کہ ان میں اردو زبان کی لغت یا قواعد یا اصطلاحوں وغیرہ پر بحثیں ہوا کریں گی تو یقیناً تھوڑے عرصہ میں وہ کام ہو سکتا ہے جو بڑی بڑی انجمنیں نہیں کر سکتیں اور بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جو نئی نئی اختراعیں ہوں گی یا الفاظ کے استعمال یا قواعد زبان کے متعلق جو پہلو زیادہ وزنی معلوم ہوگا عام لوگ بھی اس کو قبول کر لیں گے- کیونکہ دلچسپ اردو رسائل میں چھپنے کی وجہ سے وہ سب مضامین ان کی نظروں سے بھی گذرتے رہیں گے- ہاں یہ مدنظر رہے کہ مضمون ایسے رنگ میں ہو کہ سب لوگ اسے سمجھ سکیں- اس قسم کے مضامین کی اشاعت کا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ہمارے ہندو بھائی بھی ان بحثوں میں حصہ لے سکیں گے اور اس میں کیا شک ہے کہ بغیر ان کی مدد کے ہم یہ کام نہیں کر سکتے- کیونکہ اردو میں بہت سے لفظ سنسکرت اور ہندی بھاشا کے ہیں اور ان کی اصلاح یا ان میں ترقی بغیر ہندوئوں کی مدد کے نہیں ہو سکتی- ان کی شمولیت کے بغیر یا تو وہ حصہ زبان کا نامکمل رہ جائے گا یا اسے بالکل ترک کر کے اس کی جگہ عربی الفاظ اور اصطلاحیں داخل کرنی پڑیں گی اور یہ دونوں باتیں سخت مضر اور اردو کی ترقی کے راستہ میں روک پیدا کرنے والی ہوں گی-
    اس تمہید کے بعد میں ایڈیٹر صاحب ادبی دنیا اور دوسرے ادبی رسائل سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر وہ ان باتوں میں مجھ سے متفق ہوں تو اپنے رسائل میں ایک مستقل باب اس غرض کے لئے کھول دیں لیکن انہیں ان مشکلات کا بھی اندازہ کر لینا چاہئے جو اس کام میں پیش آئیں گی- مثلاً یہ کہ جو سوالات اٹھائے جائیں گے انہیں حل کون کرے گا؟ بالکل ممکن ہے کہ جواب دینے والے ایسے لوگ ہوں جن کا کلام سند نہ ہو یا جن کے جواب تسلی بخش نہ ہوں یا کوئی شخص جواب کی طرف توجہ ہی نہ کرے- اگر صرف رسالہ کے ادارہ نے جواب دیئے تو پھر اول تو اصل مطلب فوت ہو جائے گا- دوم ممکن ہے کہ اس سے وہ اثر پیدا نہ ہو سکے جو اصل مقصود ہے لہذا اس مشکل اور اس قسم کی دوسری مشکلات کے حل کے لئے میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ جو رسالہ اس تحریک پر عمل کرنا چاہے اس میں ایک ادبی کلب قائم کر دی جائے- ادارہ کی طرف سے متعدد بار تحریک کر کے رسالہ کے خریداروں کے نام ظاہر کریں جو خریدار مستند ادیب ہیں ان سے اصرار کر کے اپنا نام پیش کرنے کے لئے کہا جائے- ایسے تمام خریداروں کے نام ایک رجسٹر میں جمع کر لئے جائیں اور انہیں ادبی کلب کا ممبر سمجھا جائے چونکہ بالکل ممکن ہے کہ بہت سے ادیب اور علماء جن کی امداد کی ضرورت سمجھی جائے رسالہ کے خریدار نہ ہوں اس لئے ایسے لوگوں کی ایک فہرست تیار کی جائے اور رسالہ کے مستطیع خریداروں کی امداد سے ان کے نام رسالہ مفت ارسال کیا جائے اور ان کا نام اعزازی ممبر کے طور پر کلب کے رجسٹر میں درج کر لیا جائے-
    تمام ممبروں سے امید کی جائے کہ جب کبھی کوئی سوال-:
    )۱(
    اردو لغت کے متعلق-
    )۲(
    نحوی قواعد کے متعلق
    )۳(
    بعض علمی خیالات کے ادا کرنے میں زبان کی دقتوں کے متعلق
    )۴(
    محاورات کے متعلق-
    )۵(
    تذکیر و تانیث اور جمع کے قواعد کے متعلق-
    )۶(
    پرانی اصطلاحات کی تشریح یا نئی اصطلاحات کی ضرورت کے متعلق پیدا ہو تو بجائے خود حل کر کے خود ہی اس سے لطف حاصل کرنے کے وہ اس سوال کو رسالہ کے ادبی کلب کے حصہ میں شائع کرائیں- خواہ اپنا حل بھی ساتھ ہی لکھ دیں یا خالی سوال ہی لکھ دیں-
    ان سے یہ بھی امید کی جائے کہ جب کوئی ایسا سوال شائع ہو تو وہ اس کا جواب دینے کی کوشش کیا کریں-
    ملک اردو علم و ادب کے لحاظ سے چند حلقوں میں تقسیم کر دیا جائے مثلاً-:
    )۱(
    ‏]din [tag دھلی اور اس کے مضافات
    )۲(
    لکھنئو اور اس کے مضافات
    )۳(
    پنجاب
    )۴(
    رامپور اور اس کے مضافات
    )۵(
    بھوپال اور اس کے مضافات
    )۶(
    آگرہ اور اس کے مضافات
    )۷(
    اعظم گڑھ اور الہ آباد اور اس کے مضافات
    )۸(
    بہار
    )۹(
    حیدر آباد
    اس طرح علمی لحاظ سے اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے-
    ۱-
    اسلامی یعنی عربی اور فارسی اثر
    ۲-
    ہندو یعنی سنسکرت اور ہندی بھاشا اثر
    جب سوالات رسالہ کے دفتر میں آئیں تو ادارہ انہیں مختلف حصوں میں تقسیم کر دے مثلاً جو سوال کسی لفظ کے استعمال‘ اس کی شکل‘ اس کی تذکیر و تانیث کے متعلق ہوں انہیں ایک جگہ جمع کر کے شائع کرے اور ان کے متعلق مذکورہ بالا حلقوں کے احباب سے درخواست کرے کہ وہ نہ صرف اپنی علمی تحقیق بتائیں بلکہ یہ بھی بتائیں کہ ان کے علاقہ میں وہ لفظ اردو میں استعمال ہوتا ہے یا نہیں‘ اگر ہوتا ہے تو کس شکل میں اور کن کن معنوں میں؟ اس طرح دو فائدے حاصل ہونگے ایک تو اس امر کا اندازہ ہو جائے گا کہ اس خاص لفظ یا محاورہ کے متعلق اردو بولنے والوں کی اکثریت کس طرف جا رہی ہے اور اس سے اردو کی ترقی کی رو کا اندازہ ہو سکے گا- دوسرے علمی تحقیق بھی ہو جائے گی اور پڑھنے والوں کی طبائع فیصلہ کر سکیں گی کہ اس بارہ میں اردو کے حق میں کونسی بات مفید ہے- آیا تحقیق کی پیروی کرنی چاہئے یا غلط العام کی تصدیق کہ یہ دونوں باتیں اپنے اپنے موقع پر زبان کی ترقی کے لئے ضروری ہوتی ہیں- اسیطرح جس لفظ کے متعلق بحث ہو اگر سنسکرت یا ہندی بھاشا اس کا ماخذ ہو تو اس کے علماء کو اور عربی فارسی ماخذ ہو تو اس کے علماء کو اس پروشنی ڈالنے کی طرف توجہ دلائی جائے- اس طرح اور بہت سی تقسیمیں کی جا سکتی ہیں جو اس کلب کو زیادہ دلچسپ بنانے کا باعث ہو سکتی ہیں- کلب کا کام فیصلہ کرنا نہ ہو بلکہ ہر پہلو کو روشنی میں لانا ہو-
    اسی طرح جدید اصطلاحات کی ضرورتوں کو کلب کے صفحات میں شائع کیا جائے اور بحث کی طرح اس طریق پر نہ ڈالی جائے کہ خالص عربی یا خالص سنسکرت اصطلاحات لے لی جائیں بلکہ تحریک یہ کی جائے کہ وہ خیال جس کے ادا کرنے کی ضرورت پیدا ہوئی ہے اس کے متعلق کلب کے ممبر پہلے یہ بحث کریں کہ اس خیال کا کس اردو لفظ سے تعلق ہے- پھر یہ دیکھا جائے کہ وہ لفظ کس زبان کا ہے اور آیا اس لفظ سے جدید اصطلاح کا بنانا آسان ہوگا- اگر عام رائے اس کی تائید میں ہو تو پھر اس زبان کے ماہروں سے درخواست کی جائے کہ وہ اس کے متعلق اپنا خیال ظاہر کریں- کیونکہ جس زبان کا لفظ ہو اس کے ماہر اس کے صحیح مشتقات پر روشنی ڈال سکتے ہیں-
    ممکن ہے یہ خیال کیا جائے کہ اردو رسائل کے ادارے تو پہلے ہی بوجھوں تلے دبے پڑے ہیں وہ اتنی پیچیدہ سکیم پر کس طرح عمل کر سکتے ہیں- لیکن اول تو یہ سکیم عمل میں اس قدر پیچیدہ اور توجہ طلب نہ ہوگی جس قدر کاغذ پر نظر آتی ہے-
    دوسرے اس قسم کے کلب جیسا کہ یورپ کا تجربہ ہے ہمیشہ رسائل و اخبارات کی دلچسپی اور خریداری بڑھانے کا موجب ہوتے ہیں‘ اس لئے جو رسالہ اس کام کو شروع کرے گا وہ میرے نزدیک مالی پہلو سے فائدہ میں رہے گا- تیسرے یہ بھی ضروری نہیں کہ فوراً اس ساری سکیم پر عمل کیا جائے ہو سکتا ہے کہ کلب جاری کر کے صفحات مقرر کئے بغیر اور اس طرح مضامین تقسیم کئے بغیر جس طرح میں نے بیان کیا ہے کام شروع کر دیا جائے- پھر جوں جوں ادارہ اور کلب کے ممبروں کو مشق ہوتی جائے کام اصول کے ماتحت لایا جائے تھوڑی سی ہمت کی ضرورت ہے اور بس- ادبی دنیا کے لئے اور اگر کوئی اور رسالہ اس تحریک پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ضرورت ہو تو میں اس بحث کو واضح کرنے کے لئے اور اس تحریک سے لوگوں میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے بشرط فرصت اور مضامین بھی لکھ سکتا ہوں-
    )رسالہ ادبی دنیا مارچ ۱۹۳۱ء صفحہ ۱۸۶ تا ۱۸۸(
    ‏a12.16
    انوار العلوم جلد ۱۱
    تحفہ لارڈ ارون
    تحفہ لارڈ ارون

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم][بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھوالناصر
    دیباچہ
    یہ رسالہ ان خدمات کے اعتراف میں جو ہندوستان کی آزادی کے حصول کے بارہ میں لارڈارون (LORDIRWIN) سے ظہور میں آئی ہیں اور اس اعلیٰ اخلاقی نمونہ کی یاد گار کو تازہ رکھنے کیلئے جو انہوں نے اپنے پانچ سالہ ولایت ہند کے زمانہ میں دکھایا ہے جماعت احمدیہ کے دس ہزار افراد نے جو ہندوستان کے سب صوبوں کے سو شہروں میں بسنے والے ہیں ہزایکسیلنسی لارڈارون کے ان کے اپنے عہدہ ولایت ہند سے فارغ ہونے کے موقع پر پیش کیا ہے اس امر کے اظہار کیلئے کہ اس رسالہ کا پیش کرنا ایک وسیع جماعت کے جذبات تشکر کی ترجمانی کرتا ہے یہ شرط کی گئی تھی کہ ہر شخص جو اس میں حصہ لینا چاہے صرف ایک آنہ چندہ ادا کر سکتا ہے- تاکہ یہ تحفہ بہت سے آدمیوں کی طرف سے پیش کیا جا سکے اور تا کہ اس کا مادی پہلو اخلاص کے پہلو کے پیچھے بالکل چھپ جائے- بجائے اس کے کہ اس تحریک کو عام کیا جاتا یہ مناسب سمجھا گیا کہ بشمولیت قادیان جو سلسلہ احمدیہ کا مرکز ہے صرف ہندوستان کے سو شہروں کے احمدیوں کو اس میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے ورنہ اگر اس تحریک کو عام کیا جاتا تو مجھے یقین ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں جماعت احمدیہ کے افراد اس اعتراف میں شمولیت کرتے-
    خاکسار مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    امام جماعت احمدیہ قادیان
    ۲۷ مارچ ۱۹۳۱ء

    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھوالناصر
    باب اول
    یورایکسیلنسی (YOUREXCELLENCY) دنیا کے دستور کے خلاف اور خود اپنے سلسلہ کے دستور کے خلاف میں اس وقت سلسلہ احمدیہ کی طرف سے آپ کے ہندوستان اور وائسرائلٹی (VICEROYALTY) کے عہدہ کی عنان چھوڑتے وقت بجائے کسی ایڈریس کے یہ کتاب بطور تحفہ پیش کرتا ہوں- اس سے پہلے برطانوی حکومت میں سے کسی وائسرائے کیلئے سلسلہ احمدیہ کی طرف سے کوئی کتاب نہیں لکھی گئی- ہاں ملکہ وکٹوریہ آنجہانی اور ہمارے موجودہ پرنس آف ویلز کیلئے کتب لکھی گئی ہیں- ملکہ وکٹوریہ کیلئے خود بانی سلسلہ احمدیہ نے کتاب لکھی تھی اور اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھا تھا- اور پرنس آف ویلز کیلئے ان کے ورود ہند کے موقع پر میں نے کتاب لکھی تھی جس کا نام تحفہ ویلز رکھا گیا تھا اور جسے انہوں نے لاہور کے مقام پر قبول فرمایا تھا- پس اس کتاب کی تحریر اور پیشکش میں سلسلہ احمدیہ آپ کی خدمات کا غیر معمولی رنگ میں اعتراف کرتا ہے-
    دنیا کے دستور کو مدنظر رکھتے ہوئے شاید یہ ایک عجیب سی بات معلوم ہو کہ بجائے کسی عمارت یا محکمہ کے ایک کتاب کی صورت میں یادگار قائم کی جائے اور بجائے ایڈریس کے رسالہ کے ذریعہ سے اعتراف خدمات کیا جائے- لیکن عمارات یا محکمہ جات مادی اشیاء ہیں اور ایک روحانی سلسلہ کی طرف سے بہترین یاد گار ایک علمی یاد گار ہی ہو سکتی ہے- علاوہ ازیں ہمارا یہ یقین ہے کہ ہر ایک تصنیف جو بانی سلسلہ احمدیہ نے کی ہے یا ان کے خلفاء کی طرف سے کی گئی ہے یا کی جائے گی خدا تعالیٰ کی طرف سے خلعت دوام پائے گی- اور اس سلسلہ کی روزانہ بڑھنے والی تعداد اسے ہمیشہ کیلئے بطور یادگار محفوظ رکھے گی- پس سلسلہ احمدیہ کے امام کی طرف سے ایک کتاب کا لکھا جانا زیادہ مناسب اور زیادہ پائیدار یادگار ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ اس ذریعہ سے جب تک دنیا قائم ہے آپ کی ان مخلصانہ خدمات کی یاد تازہ رہے گی جو ہندوستان میں امن قائم کرنے کی کوششوں کے ذریعہ سے آپ بجا لائے ہیں-
    یورایکسیلنسی! اس میں کوئی شک نہیں کہ جس وقت ہندوستان کی حکومت کا کام ملکمعظم نے آپ کے سپرد کیا تھا اس وقت ملک کی حالت نہایت خطرناک تھی اور بظاہر معلوم ہوتا تھا کہ ملک روز بروز شقاق و تفرقہ کا شکار ہوتا چلا جائے گا لیکن آپ نے آتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ملک کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کے باہمی مناقشات کے طے کرنے میں آپ کی مدد کریں اور آپ کی اس خواہش کے پورا کرنے میں مدد دینے کیلئے میں نے ایک لمبا خط آپ کو لکھا تھا جو >وائسرائے کے نام ایک خط< کے نام سے چھپ کر شائع ہو چکا ہے مجھے افسوس ہے کہ اس خواہش کو آپ اپنے عہدہ کے ایام میں پورا نہیں کر سکے اور ملک اسی طرح فساد اور جنگ میں آج بھی مبتلا ہے جس طرح کہ پہلے مبتلا تھا- لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آپ کے زمانہ میں یہ خیال ہندوستانیوں کے دل سے نکل گیا ہے کہ ہندو مسلم مناقشات کی بنیاد گورنمنٹ رکھتی ہے اور یہ کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ حکومت برطانیہ کے دشمنوں کے دلوں میں بھی آپ نے اپنی دیانتداری کا سکہ جما لیا ہے اور یہ کوئی معمولی خدمت نہیں ہے-
    یورایکسیلنسی! ہندوستان اور انگلستان کے تعلقات اس حد تک خراب ہو چکے تھے کہ ہر شخص جو ہندوستان کا خیر خواہ بننا چاہے انگلستان کا دشمن کہلاتا تھا جیسا کہ مسٹر مانٹیگو سے ہوا- اور جو انگلستان کا خیر خواہ بننا چاہے ہندوستان کا دشمن کہلاتا تھا جیسا کہ اکثر گورنروں اور گورنرجنرلوں سے ہوا- ایسے حالات میں یہ اللہ تعالیٰ کا محض فضل تھا کہ اس نے آپ کو یہ توفیق دی کہ اپنے جلیل القدر عہدہ کی باگ ہاتھ سے چھوڑتے ہوئے آپ نہ صرف اپنے ملک کے خیرخواہ تصور کئے جاتے ہیں بلکہ ہندوستان کے خیر خواہ بھی سمجھے جاتے ہیں اور دونوں ملکوں کے قدر شناس اور واقف حال آدمی آپ کو حیرت‘ عزت اور محبت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں- یہ جو کچھ ہوا یقیناً اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل بھی انسان کی اندرونی نیکی ہی جذب کرتی ہے- پس اس عظیم الشان مقصد کے حصول پر میں اور جماعت احمدیہ آپ کو مبارکباد کہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ کا طریق عمل آپ کے بعد آنے والوں کیلئے مشعل راہ ثابت ہو گا-
    یورایکسیلنسی! ایک مذہبی جماعت کے افراد ہونے کے لحاظ سے میں اور جماعت احمدیہ سب سے زیادہ قدر کی نگاہ سے آپ کے مذہبی جوش کو دیکھتے ہیں- اس دہریت اور مادیت کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس پر توکل بہت ہی مفقود ہو رہا ہے لیکن آپ کی تقریریں اور آپ کے گردو پیش رہنے والے لوگ اس امر کے شاہد ہیں کہ آپ کو ہمیشہ خدا تعالیٰ پر یقین اور اس کی امداد پر بھروسہ رہا ہے اور ان مادی وسائل کے علاوہ جو قیام امن و امان کیلئے آپ استعمال کرتے رہے ہیں آپ نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل کی طرف بھی نگاہ رکھی ہے اور آپ کے اس طریق نے ہمارے دلوں میں خاص طور پر گھر کر لیا ہے- یہ قدرتی بات ہے کہ جو اپنے پیارے سے پیار کرے اس سے بھی محبت ہو جاتی ہے- جہاں انگلستان کے لوگوں کو آپ سے اس لئے محبت پیدا ہو گئی ہے کہ آپ انگلستان سے محبت رکھتے ہیں اور ہندوستان کے لوگوں کو آپ سے اس لئے محبت ہو گئی ہے کہ آپ ہندوستان سے محبت رکھتے ہیں‘ وہاں ہماری جماعت کو آپ سے سب سے زیادہ اس وجہ سے محبت ہو گئی ہے کہ آپ ہمارے پیارے رب سے محبت رکھتے ہیں-
    یورایکسیلنسی! اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ مسیحی ہیں اور ہم مسلمان- اور ایک مسیحی اور ایک مسلمان کے الوہیت کے نقشہ میں بہت کچھ فرق ہے- لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے جو مختلف مذاہب کے درمیان اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق ہیں سب مذاہب میں خدا تعالیٰ کے متعلق ایک ہی جذبہ کار فرما ہے اور وہ اپنے پیدا کرنے والے سے خواہ وہ کوئی اور کیسی ہی صفات کا مالک کیوں نہ ہو تعلق پیدا کرنے کی خواہش ہے- پس اس خواہش میں آپ کو مشترک دیکھ کر باوجود مذہبی اختلاف کے ہم اپنے دلوں میں آپ سے ایک اتحاد دیکھتے ہیں اور اس سے زیادہ اتحاد کے اللہ تعالیٰ سے متمنی ہیں کہ جو اس سے کچھ بھی محبت رکھتے ہیں وہ انہیں ضائع نہیں کرتا اور ضرور ان کیلئے اپنی ہدایت کو مکمل کرتا ہے- ہم امید کرتے ہیں کہ ہندوستان کے امراء جن کی امارت اور ریاست نے انہیں خدا تعالیٰ اور اس کی عبادت سے مستغنی کر دیا ہے آپ کی مثال کو دیکھ کر ندامت محسوس کریں گے اور اپنی اور اپنی رعایا کی مادی ترقی کے ساتھ روحانی ترقی کی طرف بھی توجہ کریں گے-
    یورایکسیلنسی! اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ کو پھر اس ملک میں واپس آنے کا موقع ملے گا یا نہیں اور بظاہر امام جماعت احمدیہ کے دوبارہ انگلستان جانے کا احتمال بھی کم ہی معلوم ہوتا ہے پس باوجود اس کے کہ انگلستان میں ہماری جماعت کی طرف سے ایک نائب رہتا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ ہمارے سلسلہ سے عموماً اور انگلستان کی جماعت احمدیہ سے خصوصاً دلچسپی رکھیں گے ہم خیال کرتے ہیں کہ ہم ہندوستان کے احمدی آپ کو کلی طور پر الوداع کہہ رہے ہیں اور اس وجہ سے ہم چاہتے ہیں کہ اس موقع پر آپ کی عظیم الشان کامیابیوں پر آپ کو مبارک باد کہنے کے علاوہ چند خواہشات کا بھی اظہار کریں-
    ہم امید کرتے ہیں کہ وہ کام جسے آپ نے بعض وقت اپنی سیاسی عزت کو خطرہ میں ڈال کر سر انجام دیا ہے اس کی تکمیل میں آپ انگلستان پہنچ کر پہلے سے بھی زیادہ سرگرم رہیں گے- ہماری مراد اس سے آزادی ہند کا کام ہے جس کی خواہش میں ہم کسی طرح کانگریس یا دوسری جماعتوں سے پیچھے نہیں کیونکہ اپنے ملک کی غلامی سوائے بیوقوف یا غدار کے کوئی شخص پسند نہیں کر سکتا- لیکن ایک امر ہے جس کی طرف ہم آپ کی توجہ پھرانی چاہتے ہیں اور وہ یہ ہے-
    برطانیہ سے دانستہ یا نادانستہ مسلمانوں کو اس ملک میں سخت نقصان پہنچا ہے- مسلمانوں کی حکومت انگریزی حکومت کے قیام سے طبعا تباہ ہو گئی ہے- اسلامی ریاستیں جیسے کرناٹک‘ بنگال‘ اودھ‘ میسور‘ جھجھر اور سندھ وغیرہ ہیں انگریزی حکومت کے قیام سے مٹ گئی ہیں بلکہ مسلمانوں کا تمدن اور ان کی قومیت بھی انگریزی حکومت کے قیام سے تباہ ہو گئی ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ انگریزوں کے ہندوستان میں طاقت پکڑنے سے پہلے اسلامی مرکزی حکومت کمزور ہو گئی تھی اور جنوب میں مرہٹے سر اٹھا رہے تھے اور پنجاب میں سکھ لیکن مرہٹوں کو احمدشاہ ابدالی کچل چکا تھا اور سکھ تھوڑا عرصہ اپنی شان دکھا کر خانہ جنگی میں مصرورف ہو گئے تھے- میسور اور حیدر آباد نئی امنگوں کے ساتھ اٹھ رہے تھے اور غالب گمان تھا کہ اگر انگلستان کا قدم درمیان میں نہ آتا تو چند سال میں ایک نئی زبردست اسلامی حکومت اسی طرح ہندوستان میں قائم ہو جاتی جس طرح مغلوں سے پہلے بارہا ہو چکی تھی- پس انگلستان کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب انگلستان ہندوستان کو آزادی دیتا ہے تو وہ ہندوئوں کو اس حالت سے سینکڑوں گنے قوی چھوڑ کر جاتا ہے جس حالت میں کہ اس نے انہیں پایا تھا اور مسلمانوں کو اس حالت سے سینکڑوں گنے کمزور کر کے جاتا ہے جس حالت میں کہ اس نے انہیں پایا تھا- کیا ان حالات کو دیکھتے ہوئے یہ امر بعید از عقل ہو گا اگر مسلمانوں کے دل انگلستان کی محبت سے اس قدر لبریز نہ ہوں جس قدر کہ وہ ان سے امید کرتا ہے؟ لیکن اگر باوجود ان واقعات کے مسلمان حکومت کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ایسا کرنے پر آمادہ ہیں تو کیا یہ مسلمانوں کے وسعت حوصلہ کی علامت نہیں اور کیا انگلستان کا بھی اس وقت جب کہ وہ ہندوستان کی عنان حکومت ہندوستانیوں کے سپرد کرنے لگا ہے یہ فرض نہیں کہ وہ دیکھے کہ اس تغیر کے نتیجہ میں مسلمان اور بھی تباہ نہ ہو جائیں بلکہ انہیں علمی‘ تمدنی اور مذہبی ترقی کرنے کا موقع حاصل رہے اور یقیناً مسلمانوں کے مطالبات میں اس سے زیادہ کوئی خواہش نہیں کی گئی- اور اگر انگلستان ایسا نہیں کرے گا تو مسلمانوں کو ہمیشہ انگریزوں سے یہ جائز شکایت رہے گی کہ انہوں نے ہندوستان میں آ کر یا اپنا فائدہ کیا یا ہندوئوں کا- مسلمانوں کا فائدہ کرنا تو درکنار ان کی طاقت کو اس نے توڑ کر ہمیشہ کیلئے انہیں نکما کر دیا- کیا آپ سا مذہب سے لگائو رکھنے والا انسان یہ پسند کرے گا کہ تاریخ انگلستان کے متعلق ان واقعات کا اظہار کرے جو میں نے اوپر بیان کئے ہیں- پس میں اور تمام جماعت احمدیہ بلکہ ہر ایک مسلمان آپ سے امید کرتا ہے کہ آپ انگلستان پہنچ کر اپنے دوستوں کو خصوصاً اور عام انگلستان کی پبلک کو عموماً اسلامی نقطئہ نگاہ سے واقف کریں گے اور اس خطرناک غلطی میں مبتلا ہونے سے انگلستان کو محفوظ رکھیں گے جس میں اس کے مبتلاء ہو جانے کے زبردست احتمالات پیدا ہو رہے ہیں- اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کی اکثریت کی اچھی رائے کا حاصل کرنا انگلستان کے لئے نہایت ضروری ہے مگر اس سے بہت زیادہ ضروری اس کیلئے اپنی عزت کی حفاظت اور خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے جس کی ناراضگی انسان کو ادبار کے ایسے خطرناک راستہ پر چلا دیتی ہے جس سے واپس ہونا بہت مشکل ہوتا ہے-
    یورایکسیلنسی! میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اس امر کو پسند کرتے ہیں کہ دوسروں کو تباہ کر کے اپنی قوم کو ترقی دیں- اگر کبھی بھی خدانخواستہ مسلمان ہندوئوں یا کسی اور قوم کے حقوق کے تلف کرنے پر آمادہ ہوئے تو میں اور میری جماعت سب سے پہلے انہیں اس فعل سے باز رکھنے کی کوشش کریں گے اور کسی مخالفت یا نقصان کی پرواہ نہیں کریں گے- لیکن احمدی جماعت اس امر کو بھی کبھی برداشت نہیں کرے گی کہ مسلمانوں کو دوسری قوموں کے رحم پر چھوڑ دیا جائے اور ان کی حکومت کو تباہ کرنے کے بعد ان کی اجتماعی حیثیت کو بھی برباد کر دیا جائے اور ایک دوسری قوم کو ان کے سروں پر بٹھا دیا جائے اور اسلام کو آزادانہ طور پر پرامن طریق سے ترقی کرنے کے ذرائع سے محروم کر دیا جائے- احمدی جماعت نے ہندوستان سے باہر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ موت سے نہیں ڈرتی اور جو قربانی ہم نے ہندوستان سے باہر کی ہے وہی قربانی ہم ہندوستان کے اندر بھی کرنے کیلئے تیار ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ عدل اور انصاف کے قیام کیلئے جو قربانی بھی کی جائے کبھی ضائع نہیں جاتی- لیکن ہم ساتھ ہی آپ سے اور آپ جیسے نیک ارادے رکھنے والے دوسرے دوستوں سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ ایسی صورت پیدا نہیں ہونے دیں گے کہ ہندوستان ایک لمبے عرصہ تک کیلئے فتنہوفساد میں مبتلا ہو جائے اور اس کی آزادی اس کیلئے *** کا موجب ثابت ہو- اگر ایسا ہوا تو یہ امر ہندوستان کیلئے تکلیف کا موجب ہو گا ہی انگلستان بھی علاوہ مورد الزام بننے کے اس فتنہ کے اثر سے محفوظ نہیں رہ سکے گا- پس میں امید کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے مطالبات جو بالکل جائز اور مناسب ہیں اور ان کے جدا گانہ تمدن اور ان کی گری ہوئی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے جس کی اخلاقی ذمہ واری انگلستان پر بھی ہے نہایت ضروری ہیں پورا کرنے کے لئے آپ انگلستان میں جا کر پوری کوشش کریں گے اور ثابت کر دیں گے کہ جہاں آپ ہندوستان کو ہومرول (HOMERULE) دلانے کی کوشش میں گلیڈسٹون (GLADSTONE) ثابت ہوئے ہیں وہاں مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کیلئے آپ ڈی اسرائیلی سے کم جوش نہیں رکھتے تاکہ برطانوی افراد کا زور اس کے کمزور کرنے میں نہیں بلکہ اس کے مضبوط کرنے میں خرچ ہو- اس کے بدلہ میں میں جماعت احمدیہ اور اس کے دوستوں کی طرف سے یہ اقرار کرتا ہوں کہ خواہ ہندوستان کی دوسری جماعتیں کچھ بھی کریں ہم لوگ ہمیشہ اس امر کا لحاظ رکھیں گے کہ برطانوی ایمپائر (EMPIRE) کو جو ہمارے نزدیک باوجود اپنی کمزوریوں کے دنیا کے اتحاد کا نقطہمرکزی بننے کی اہلیت رکھتی ہے مضبوط کرنے اور ہندوستان سے اس کے تعلق کو خوشگوار طور پر بڑھانے کیلئے کوشاں رہیں گے اور یہ ایک ایسی جماعت کا وعدہ ہے جس کے وعدوں کی قیمت اور سچائی پر گزشتہ پچاس سالہ تاریخ شاہد ہے-
    باب دوم
    یورایکسیلنسی! آپ کو اس عظیم الشان کام پر مبارک باد دینے کے بعد جس کی وجہ سے مجھے امید ہے کہ آپ کا نام انگلستان کے بہترین آدمیوں کے ساتھ ہمیشہ کیلئے یاد رکھا جائے گا میں آپ کے سامنے وہ بہترین تحفہ پیش کرتا ہوں جو دنیا کے خزانوں میں آپ کو نہیں مل سکتا اور جس کا ملنا محض خدا تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے اور وہ تحفہ وہ پیغام حق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ترقی دینے اور اپنا قرب عطا کرنے کیلئے ارسال فرمایا ہے-
    ممکن ہے کہ آپ پر یہ دعوت گراں گذرے یا آپ اسے ایک مجنونانہ خیال سمجھیں لیکن ہر انسان اپنے یقین کے مطابق عمل کرتا ہے اور ہم چونکہ آپ سے محبت رکھتے اور آپ کی قدر کرتے ہیں اس لئے اس امر پر مجبور ہیں کہ اپنے دل کے یقین کے مطابق وہ صداقت آپ کے سامنے پیش کریں جس سے بڑھ کر کوئی چیز اس دنیا میں قیمت نہیں رکھتی-
    یورایکسیلنسی! وہ خدا جس نے آدم کو بھیجا اور نوح کو مبعوث کیا اور ابراہیم پر اپنا فضل کیا اور موسیٰ کو اپنا برگزیدہ بنایا اور مسیح علیہ السلام کو اپنے جلال کے تخت پر اپنے دائیں جگہ دی اسی نے حضرت مسیح علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کی پیشگوئیوں کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری زمانہ کا نجات دہندہ کر کے مبعوث فرمایا ہے تاکہ آپ وہ سب کچھ سکھائیں جس کی برداشت اس سے پہلے دنیا نہیں رکھتی تھی اور تا آپ سے دنیا تسلی پائے اور دنیا کا سردار آپ کے ذریعہ سے ہمیشہ کیلئے قید کیا جائے- اور پھر اسی خدا نے اس زمانہ میں حضرتمسیح ناصری کی پیشگوئیوں کے تحت حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کو مسیح علیہ السلام کی بعثتثانی قرار دے کر مبعوث فرمایا ہے کیونکہ لکھا تھا کہ اس کا آنا مشرق سے ہو گا اور اسی طرح طبعیسامانوں سے ہو گا جس طرح مشرق سے مغرب کی طرف روشنی پھیل جاتی ہے- ۱~}~اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اس ملک سے واپسی پر اللہ تعالیٰ کے اس پیغام پر غور کریں گے جو غریب اور امیر‘ بادشاہ اور رعایا سب کیلئے برابر ہے اور بندوں کے ساتھ معاملہ میں ایک اعلیٰ نمونہ دکھانے کے بعد خالق کے تعلقات کو بھی اعلیٰ پیمانہ پر قائم کریں گے-
    یورایکسیلنسی! آپ کی قوم پر اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا احسان کیا ہے- اگر آپ انگلستان کی تاریخ پر ایک مجموعی نظر ڈالیں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ انگلستان کی ترقی غیر معمولی مشکلات کے موقع پر ایسے حوادث کے ذریعہ سے ہوتی رہی ہے جسے گو بعض لوگ اتفاق حسنہ کہہ دیں لیکن بصیرت رکھنے والے انسان ان میں خدا تعالیٰ کے فضل کا جلوہ دیکھتے ہیں- اتفاق حسنہ ایک منفرد واقعہ کا نام ہوتا ہے لیکن انگلستان کی پچھلی چھ سو سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس قسم کے غیرمعمولی حوادث جن کے ذریعہ سے انگلستان کی بعض تاریک ترین گھڑیاں بعد میں اس کی روشن ترین ساعتیں ثابت ہوئی ہیں ایک لمبے سلسلہ میں منسلک ہیں- جس کی کڑیوں کو الگ الگ دیکھ کر گو اتفاق حسنہ کہا جا سکے لیکن جنہیں مجموعی نظر سے دیکھ کر خدا تعالیٰ کی مشیت کے سوا کسی اور سبب کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا- پس اللہ تعالیٰ کی یہ خاص نگاہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انگلستان سے کوئی خاص کام لینا چاہتا ہے اور وہ کام وہی ہے جو بانی سلسلہ احمدیہ نے بذریعہ الہام بتایا ہے- یعنی ایک دن انگلستان اسلام کو قبول کر کے اسی طرح خدا تعالیٰ کی بادشاہت کا وارث ہونے والا ہے جس طرح اس نے دنیا کی بادشاہت سے ورثہ پایا ہے-۲~}~
    انگلستان جس قدر بھی خوش ہو بجاہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں پسند ٹھہرا- وہ ایک دلہن ہے جسے آسمانی دولہا نے اپنے لئے پسند کر لیا‘ ایک موتی ہے جو جوہری کی نگاہ میں جچ گیا‘ ایک درخت ہے جسے باغبان نے باغ کے وسط میں لگایا-
    یورایکسیلنسی! بے شک سیاسی مسائل اپنے اندر دلوں کو جذب کر لینے کی طاقت رکھتے ہیں اور میدان سیاست میں کامیاب ہونے والا بہت عزت و شہرت پاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے پانے کی کوشش کرنے والا اس سے بھی زیادہ عزت و شہرت پاتا ہے- یورپ و ایشیا میں بڑیبڑے سیاسی لوگ اور بادشاہ گزرے ہیں لیکن ان میں سے کتنے ہیں جو گلیل و یروشلم کے چندماہیگیروں اور محصول لینے والوں کے برابر شہرت و عزت کے مالک ہو سکے ہیں- یقیناً وہ گلیل کے ماہی گیر خدا تعالیٰ کی نظر میں بھی اور دنیا کی نگاہوں میں بھی بادشاہوں سے بھی زیادہ عزتوشہرت رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنا تعلق ایک خدا تعالیٰ کے برگزیدہ سے پیدا کیا- اور اس میں کیا شک ہے کہ دنیا کے خادموں سے اللہ تعالیٰ کے خادم زیادہ مرتبہ پائیں گے- پس جس طرح آج سے انیس سو سال پہلے ایک خدا کے برگزیدہ سے تعلق نے دنیوی لحاظ سے ادنیٰحیثیت کے آدمیوں کو شہرت و عزت کے بلند ترین مینار پر جا کھڑا کیا اسی طرح اس وقت بھی اس کے مثیل کے ساتھ تعلق انسان کو بلند ترین مقامات پر پہنچانے کا موجب ہوا ہے اور ہو گا- ہاں خدا تعالیٰ کی بادشاہت ایک چور کی طرح آتی ہے- ۳~}~اور اس وجہ سے شروع شروع میں اس کے خادموں سے چوروں والا ہی سلوک کیا جاتا ہے- وہ ذلیل سمجھے جاتے ہیں اور انہیں دکھ دیا جاتا ہے اور تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں اور دنیا سمجھ لیتی ہے کہ اب وہ یقیناً نیست و نابود ہو جائیں گے اور ان کا نام تک مٹ جائے گا- لیکن وہ نہیں جانتی کہ حقیقی عزت کے وہی لوگ مستحق ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کیلئے ذلت کو برادشت کرتے ہیں اور آسمانی تخت پر وہی لوگ بٹھائے جاتے ہیں جو صلیب پر لٹکائے جانے کیلئے تیار ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ابدی بادشاہت کا تاج انہی کے سر پر رکھا جاتا ہے کہ جو کانٹوں کا تاج پہننے کیلئے آمادہ ہو جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی محبت کا جام انہی کو ملتا ہے جن کے ہونٹ بدگوئی اور *** کے تیز اور تلخ سرکہ سے آشنا ہو چکے ہوتے ہیں- اور درحقیقت ابدی زندگی خدا تعالیٰ کی راہ میں مر جانے کا ہی نام ہے کیونکہ جو اس راہ میں مرتے ہیں اس کی غیرت انہیں پھر کبھی مرنے نہیں دیتی- اور یہ دروازہ جس طرح آج سے انیس سو سال پہلے کھلا تھا آج بھی کھلا ہے- مبارک وہ جو اس دروازہ سے داخل ہوتا ہے- مبارک وہ جو >ہوشعنا< ۴~}~کہتے ہوئے خدا کے برگزیدہ کو قبول کرتا ہے- مبارک وہ جو خدا کی بادشاہت میں اس وقت داخل ہوتے ہیں جب دنیا داروں کی نگاہ میں وہ ایک دوزخ کی شکل میں ظاہر ہو رہی ہوتی ہے کیونکہ وہی اپنے باپ کے دائیں اور بائیں تخت پر بٹھائے جائیں گے اور اس کی بادشاہت میں انہی کو حصہ دیا جائے گا-
    یورایکسیلنسی! آسمانی قانون دنیوی قانون سے مختلف ہوتا ہے- آسمانی قانون میں تمثیلوں میں کلام کیا جاتا ہے تا راستباز اور متکبر کا امتحان کیا جائے اور سچے اور جھوٹے کا تعلق ظاہر کیا جائے- ہر اک کو جو خدا تعالیٰ سے سچی محبت رکھتا ہے آسمانی نور دیا جاتا ہے تا وہ اس نور کی روشنی میں سچائی کی راہ کو معلوم کرے مگر جو لوگ دل کے کھوٹے ہوتے ہیں وہ لفظوں کے پردوں میں چھپ جاتے ہیں اور اس وقت جب کہ خدا کا جلال عریان ہو کر سامنے آتا ہے وہ اپنی آنکھوں پر عبارتوں کا نقاب ڈال لیتے ہیں تب ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے جس کے وہ مستحق تھے- لفظ ان کے سپرد کر دیئے جاتے ہیں اور معنی ان کے- جنہوں نے معنوں پر نگاہ کی اور اس امر کو یاد رکھا کہ پہلے نوشتوں میں لکھا گیا تھا کہ وہ تمثیلوں میں کلام کرے گا- اور اس میں کیا شک ہے کہ تمثیلی کلام اس زمانہ کے لوگوں کیلئے نہیں بلکہ بعد میں آنے والے لوگوں کیلئے ٹھوکر کا موجب ہوتا ہے-
    ہر دیکھنے والا دیکھ سکتا ہے اور سوچنے والا سوچ سکتا ہے کہ سورج اندھیرا ہو چکا ہے اور چاند کی روشنی جاتی رہی ہے اور ستارے گر رہے ہیں اور آسمان کی قوتیں ہلائی گئی ہیں- ۵~}~ کیونکہ آسمان اور زمین کا تعلق قطع ہو گیا ہے اور انسان نے اپنے پیدا کرنے والے کا خیال بالکل ترک کر دیا ہے اور اس سے منہ موڑ کر اپنی تمام تر توجہ دنیا ہی کی طرف پھیر دی ہے- اور تمثیلی زبان میں اس پیشگوئی کا یہی مطلب تھا کہ آسمان کا تعلق زمین سے قطع ہو جائے گا اور دین کی حکومت جاتی رہے گی اور خدا تعالیٰ کا نور رک جائے گا اور اس میں کیا شک ہے کہ جس قدر دین سے بعد اور خدا تعالیٰ سے بے پرواہی اس زمانہ میں ہے پہلے کبھی نہیں ہوئی- پہلے بھی لوگ بے دین ہوتے تھے لیکن ان میں سے اکثر محسوس کرتے تھے کہ وہ غلطی کے مرتکب ہیں لیکن اس زمانہ میں جو لوگ دین چھوڑ رہے ہیں وہ اس یقین کے ساتھ ایسا کر رہے ہیں کہ وہ ظلمت سے نور کی طرف آ رہے ہیں اور پرانے وہموں کو ترک کر کے علم کی فضاء میں سانس لے رہے ہیں-
    اسی طرح کہا گیا تھا کہ قوم قوم پر چڑھے گی اور بادشاہت بادشاہت پر حملہ کرے گی اور کتنی جگہوں میں زلزلے ہونگے اور کال پڑیں گے اور فساد اٹھیں گے ۶~}~ سو ایسا ہی ہوا- اس زمانہ میں نہ صرف ایک عالمگیر جنگ میں بادشاہتوں نے بادشاہتوں پر حملہ کیا ہے بلکہ قومیں بھی دوسری قوموں پر چڑھ رہی ہیں- اس سے پہلے کوئی زمانہ نہیں گذرا جب کہ ایک ہی وقت میں بادشاہتیں دوسری بادشاہتوں پر حملہآور ہوں اور قومیں قوموں پر حملہ آور ہوں لیکن اس زمانہ میں یہ دونوں قسموں کی جنگیں ایک ہی وقت میں جاری ہیں- حکومتیں ہی حکومتوں پر حملہآور نہیں ہیں بلکہ انسانوں کے مختلف گروہ بھی ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں کہیں لیبر(LABOUR) اور کہیں کیپٹل (CAPITAL) کا سوال ہے‘ کہیں مشرق اور مغرب کا سوال ہے‘ کہیں تجارت اور زمیندارے کی بحث ہے‘ کہیں شہری اور دیہاتی کا جھگڑا ہے کہیں ہندو اور مسلم کی لڑائی ہے تو کہیں کنفیوشس کے ماننے والوں اور مسیحیوں میں فساد برپا ہے- غرض قوموں اور گروہوں اور حکومتوں حکومتوں میں ایک ہی وقت میں اس قدر اختلاف رونما ہو رہا ہے کہ دیکھنے والے دنگ ہیں کہ دنیا کو کیا ہو جائے گا-
    اور یہ جو کہا گیا تھا کہ زلزلے ہونگے اور کال پڑیں گے سو زلزلے گزشتہ تیس سال میں اس قدر آئے ہیں کہ پچھلی سات آٹھ صدیوں کے زلزلے اس کے برابر اموات اور نقصانمال نہیں پیش کر سکتے اور کال باوجود ریلوں اور جہازوں کی ایجاد کے ایسا پڑا ہے کہ روس اور ہندوستان اور چین اور کئی علاقوں میں اس قدر تعداد میں لوگ اس کے باعث تباہ ہوئے ہیں کہ اس سے پہلے کبھی اس قدر تباہی نہ آئی تھی-
    غرض جو کچھ خدا کے برگزیدہ مسیح نے اپنی دوبارہ بعثت کے وقت کے متعلق کہا تھا وہ لفظبلفظ پورا ہو چکا ہے اور اب مبارک ہے وہ جو وقت کو پہچانے اور اس کے ظہور کی تلاش کرے کیونکہ یہ ازل سے مقدر تھا کہ مسیح کی دوبارہ آمد اسی طرح پوشیدہ ہو جس طرح کہ پہلی دفعہ ہوئی تھی تا سچوں اور جھوٹوں میں فرق کیا جائے اور ہوشیار اور غافل میں امتیاز ہو-
    وہ جس نے آنا تھا نوشتوں کے مطابق آدھی رات کو آیا اور ایسا ہی ہونا چاہئے تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے مامور ہمیشہ تاریکی کے زمانہ میں ہی آیا کرتے ہیں وہ لوگوں کے نور سے حصہ لینے نہیں آتے بلکہ لوگوں کو تاریکی سے نکالنے کیلئے آتے ہیں- پس ان کی آمد کا زمانہ وہی ہوتا ہے جب لوگ خدا تعالیٰ اور اس کے دین سے انتہائی درجہ غفلت میں پڑے ہوئے ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان سے دوستی کر لیتے ہیں- پس اسی سنت اللہ کے مطابق اس زمانہ کا مسیح اور آسمانی بادشاہت کا دولہا ایسے ہی وقت میں آیا جب کہ کنواریاں سو چکی تھیں اور ان کی مشعلوں کا تیل ختم ہو چکا تھا سوائے چند کے جنہوں نے ہوشیاری سے تیل محفوظ رکھ چھوڑا تھا اور جو دولہا کے جلوس کے ساتھ شامل ہو گئیں-]71 [p۷~}~ باقی سب نہ صرف جلوس میں شامل نہیں ہوئیں بلکہ افسوس کہ وہ تمثیل کی کنواریوں کی مانند تیل کی تلاش میں بھی نہیں گئیں اور سوتی ہی رہیں- مگر اللہ تعالیٰ کا رحم بہت وسیع ہے گو کہا گیا تھا کہ جو سوتی رہیں ان کے لئے شادی کے گھر کا دروازہ نہیں کھولا جائے گا لیکن خدا تعالیٰ کے رحم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر اک جو اپنی غفلت سے تائب ہو کر دولہا کی طرف قدم اٹھائے اسے قبول کیا جائے تا شیطان کی حکومت کو ختم کیا جائے اور دنیا کا سردار ہمیشہ کیلئے بعد میں ڈال دیا جائے- پس یورایکسیلنسی! اس تمنا کو دیکھ کر جو آپ کے دل میں خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کیلئے پائی جاتی ہے میں آپ کو بھی بشارت دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم کر دی گئی ہے اور خدا کا مسیح بادلوں پر سے یعنی دنیا والوں کی نگاہ سے پوشیدہ ہو کر اور صرف آسمان والوں کی نظروں کے سامنے دنیا میں نازل ہو گیا ہے- لیکن اس کی آمد پر وہی ہوا جو پہلے ایلیا کے نزول کے وقت میں ہوا تھا یعنی لوگوں نے آسمانی تمثیل کو نہیں سمجھا اور یہ کہہ کر منہ پھیر لیا کہ ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ وہی مسیح آسمان سے اترے گا جو انیس سو سال پہلے اترا تھا- پس جب تک وہ فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے نہیں اترے گا ہم کسی مسیح کو نہیں مانیں گے- لیکن یورایکسیلنسی! اس سوال کو اللہ تعالیٰ نے خود مسیح علیہ السلام کے ذریعہ سے ان کی پہلی بعثت میں حل کر دیا ہے اور مسیح کے نزول سے پہلے ایلیا کے دوبارہ نزول کی پیشگوئی میں اس قسم کے تمثیلی کلام کی حقیقت کو ظاہر کر دیا ہے- پس آنے والا مسیح آسمان سے نہیں بلکہ اسی دنیا سے پیدا ہونا تھا اور بانی سلسلہ احمدیہ کے وجود میں ظاہر ہو چکا لوگ چاہیں تو قبول کریں اور جس کسی کے کان سننے کے ہوں سنے- جو لوگ باوجود کل پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے اسے تسلیم نہیں کریں گے وہ انتظار کرتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ تھک کر ان میں سے بعض تو اس کی آمد ہی کے منکر ہو جائیں گے جس طرح یہود نے کیا اور بعض مایوسیوں کے گڑھوں میں گر جائیں گے اور امنگوں اور امیدوں سے جو اللہ تعالیٰ کے اعلیٰ فضلوں میں سے ہیں محروم ہو کر زندگی کی ہر قسم کی دلچسپی کو کھو بیٹھیں گے-
    کاش کہ دنیا دیکھتی کہ خدا تعالیٰ کا مقدس کس طرح باوجود مخالفت کے بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس کے فرشتے اس کے برگزیدوں کو زمین کی حد سے آسمان کی حد تک چاروں طرف سے اکٹھا کر رہے ہیں- ۸~}~ جب وہ ظاہر ہوا اس کے اہل وطن یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ چند دن میں اسے پیس ڈالیں گے لیکن آج اس کی طرف بلانے والے اور اس پر ایمان لانے والے ہندوستان سے باہر انگلستان‘ فرانس‘ جرمن‘ ہالینڈ‘ امریکہ شمالی اور جنوبی‘ آسٹریلیا‘ سماٹرا جاوا‘ چین‘ روس‘ ایران‘ افغانستان‘ عرب‘ عراق‘ شام‘ فلسطین‘ مصر‘ ٹرکی‘ الجزائر‘ مراکش‘ نائیجیریا‘ گولڈ کوسٹ )گھانا‘( سیرالیون‘ کینیا‘ یوگنڈا‘ ٹانگانیکا)تنزانیہ‘( زنجبار‘ نٹال‘ کیپکالونی وغیرہ ممالک میں بھی پھیلے ہوئے ہیں اور روز بروز بڑھ رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں کہ جب یہ ہلال‘ بدر ہو کر مطلع عالم پر چمکے گا- پس مبارک ہیں وہ جو اب بھی اس کی صداقت پر غور کر کے خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے اور ابدی زندگی پاتے ہیں کیونکہ انسان روٹی سے نہیں بلکہ کلام سے زندہ رہتا ہے-۹~}~
    باب سوم
    یورایکسیلنسی! میں آپ کو اسلام اور سلسلہ احمدیہ کی دعوت دینے کے بعد اور یہ بتانے کے بعد کہ سلسلہ احمدیہ ان پیشگوئیوں کو پورا کرتا ہے جو اناجیل میں مسیح کی آمد ثانی کے متعلق مذکور ہیں اختصار کے ساتھ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ سلسلہ احمدیہ کی تعلیم کیا ہے تا کہ آپ اس کے مقصد اور اس کی غرض سے واقف ہو جائیں-
    ۱- سلسلہ احمدیہ کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے جو اپنے دوبارہ آنے کی خبر دی تھی وہ بانی سلسلہ احمدیہ کے وجود میں پوری ہو گئی ہے اور یہ کہ دنیا کا نیا دور اب اسی تعلیم پر مبنی ہوگا جو مسیح موعود علیہ السلام نے دی ہے-
    ۲- سلسلہ احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کی پیشگوئیوں کے مطابق جس نجات دہندہ نے دنیا کو خدا تعالیٰ کی آخری شریعت سکھانے کیلئے آنا تھا وہ محمد رسول اللہ ~صل۲~ بانی مذہب اسلام تھے آپﷺ~ کے وجود میں گزشتہ انبیاء کی سب پیشگوئیاں پوری ہو گئیں- آپﷺ~ آخری شریعت لانے والے رسول تھے اور قرآن کریم آخری شریعت کی کتاب ہے- آنحضرت ~صل۲~ کے بعد کوئی اور ایسا رسول نہ نیا نہ پرانا آ سکتا ہے جس نے آپ سے فیض حاصل نہ کیا ہو اور جس کا کام آپ کا کام نہ کہلا سکتا ہو کیونکہ دنیا کی ابدی استادی کا مقام صرف آپ~صل۳~کو ہی حاصل ہے اور کوئی شخص اس میں آپﷺ~ کا شریک نہیں ہو سکتا‘ اور اسی وجہ سے آپﷺ~ >نبیوں کی مہر< کہلاتے ہیں-
    ۳- مذکورہ بالا عقیدہ کے ماتحت سلسلہ احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح موعود کا کام صرف قرآنکریم کی تشریح اور اس کے مطالب کا ہی بیان تھا ورنہ اس نے کوئی جدید تعلیم نہیں دینی تھی بالکل اسی طرح جس طرح حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کا یہ کام تھا کہ وہ تورات کی تشریح کرتے جیسا کہ خود انہوں نے بیان فرمایا ہے کہ-:
    یہ خیال مت کرو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے کو آیا- میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں-۱۰~}~
    یورایکسیلنسی! بعض تعلیمات سلسلہ احمدیہ کی آپ کو ایسی نظر آئیں گی جو بظاہر مسلمانوں کے عقیدہ کے خلاف ہیں اور جو اس مشہور تعلیم کے بھی خلاف ہیں جو قرآن کریم کی طرف منسوب کی جاتی ہے لیکن اس کی یہ وجہ نہیں کہ مسیح موعود علیہ السلام نے کوئی نئی تعلیم دی ہے بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مسلمانوں میں زمانہ نبوت سے بعد کی وجہ سے بعض غلط عقائد کا رواج ہو گیا تھا اور ان عقائد کے ماتحت وہ قرآن کریم کے بھی غلط معنی کرنے لگ گئے تھے- مسیح موعود علیہ السلام نے آکر ان غلط عقائد کی اصلاح کر دی اور قرآن کریم کی تفسیر قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے مطابق کر کے ان غلط تفسیروں کو رد کر دیا جو اس کی طرف زبردستی منسوب ہو رہی تھیں- پس حضرت مسیح موعود نے کوئی نئی تعلیم نہیں دی صرف مسلمانوں کی غلطیوں کی اصلاح کی ہے- ہاں بعض باتیں آپ نے نئی بھی بیان کی ہیں لیکن وہ بھی قرآن کریم سے باہر نہیں بلکہ قرآن کریم سے ہی ہیں لیکن چونکہ وہ اس زمانہ سے مخصوص تھیں دنیا کو اس سے پہلے ان کی معرفت عطا نہیں کی گئی تھی-
    ۴- سلسلہ احمدیہ کا عقیدہ ہے کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا ایک خدا ہے اس نے دنیا کو اپنے ارادے اور اپنے حکم سے پیدا کیا ہے‘ وہ ازل سے ہے اور اس کیلئے فنا نہیں‘ وہ مالک ہے سب قدرتوں کا اور قادر ہے اپنی مشیت پر اور اس وجہ سے کسی بیوی یا بیٹے یا مددگار کا محتاج نہیں‘ واحد ہے لاشریک ہے بڑے سے بڑا انسان خواہ کوئی ہو اس کا بندہ اور اس کا فرمانبردار ہے‘ انسان کیلئے اس کی پرستش کے سوا کسی کی پرستش جائز نہیں خواہ وہ موسیٰ‘ عیسیٰ‘ محمدعلیھم السلام والصلوۃ جیسی ہستیاں ہی کیوں نہ ہوں جیسا کہ حضرت مسیح ناصری نے فرمایا ہے کہ-:
    سب حکموں میں اول یہ ہے کہ اے اسرائیل سن! وہ خداوند جو ہمارا خدا ہے ایک ہی خداوند ہے اور تو خداوند کو جو تیرا خدا ہے اپنے سارے دل سے اور اپنی ساری جان سے اور اپنی ساری عقل سے اور اپنے سارے زور سے پیار کر اول حکم یہی ہے-۱۱~}~ سلسلہ احمدیہ کی بھی یہی تعلیم ہے کہ انسان کا دل اور اس کی جان کلی طور پر خدا کیلئے ہونے چاہئیں بندوں کو خدائی کا مقام دینا درست نہیں ہے-
    ۵- سلسلہ احمدیہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس طرح پہلے بولتا تھا اب بھی بولتا ہے اور جس طرح پہلے نشان دکھاتا تھا اب بھی دکھاتا ہے اور جس طرح پہلے اس کے فرشتے اس کے بندوں پر نازل ہوتے تھے اب بھی اترتے ہیں اور یہ کہ وہ مذہب جس کی بنیاد قصوں پر ہو مذہب نہیں ایک کہانی ہے اور وہ عقیدے جن کی بنیاد صرف روایت پر ہو عقیدے نہیں بلکہ توہمات ہیں- پس سچا مذہب وہی ہے جو اپنے ساتھ تازہ نشانات رکھتا ہو- اور میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر گواہی دیتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر ہم نے اس قدر نشانات دیکھے ہیں کہ جو شمار ¶میں نہیں آ سکتے اور آپ کے طفیل اور آپ سے تعلق رکھ کر ہم میں سے ہزاروں نے کلام الہی سے بقدر اپنے ظرف کے حصہ پایا ہے- چنانچہ ان لوگوں میں سے ایک میں بھی ہوں- میں نے خدا تعالیٰ کے فضل سے رئویا اور الہامات سے حصہ پایا ہے اور سینکڑوں امور قبل از وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے بتائے ہیں جو اپنے وقت پر جا کر پورے ہوئے حالانکہ اس سے پہلے سامان ان امور کے وجود میں آنے کے بالکل مخالف تھے- پس یورایکسیلنسی! ہم لوگوں کا ایمان مشاہدہ پر جو عینی بھی ہے اور ذاتی بھی‘ مبنی ہے اور صرف پرانے قصوں اور گزشتہ کتابوں پر ہی مبنی نہیں- اور ہم یقین سے کہتے ہیں کہ کسی ملک کا آدمی ہو خواہ یورپ کا خواہ امریکہ کا خواہ افریقہ کا خواہ کسی اور ملک کا اگر قرآن کریم اور رسول کریم ~صل۲~ پر ایمان لائے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وحی کی تصدیق کرے تو اللہ تعالیٰ کے کلام سے اسے اپنے ایمان کے مطابق حصہ مل سکتا ہے-
    ۶- سلسلہ احمدیہ یہ بھی تعلیم دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کو پیدا کر کے بے دخل نہیں ہو گیا اور اب بھی سب کام اسی کے حکم اور اسی کے اشارہ سے چلتے ہیں- وہ قادر خدا ہے جس کا امر دنیا کے ہر فعل میں ہو رہا ہے- دنیا کا ایک ذرہ بھی اس کے اذن بغیر ہل نہیں سکتا- سائنس اور ہیئت کے قوانین کا ظہور صرف اس کے ازلی قانون کے ماتحت ہی نہیں ہے بلکہ ہر اک نتیجہ جو اب بھی نکل رہا ہے اس کے حکم سے اور اس کے ارادہ کے ماتحت نکلتا ہے- وہ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور معجزانہ طاقتیں ان کیلئے ظاہر کرتا ہے- اور جب وہ کسی بندے کی تائید میں ہو جاتا ہے تو دنیا کی حکومتیں اور طاقتیں اس کے حکم کے مقابلہ سے عاجز آ جاتی ہیں اور تمام ظاہری سامان بے کار اور سب مادی طاقتیں بے اثر ہو جاتی ہیں- دنیا کے لوگ بے شک اس امر پر ہنسیں لیکن ہم نے ہزاروں لاکھوں اس امر کے مشاہدات کئے ہیں اور کر رہے ہیں اور خدا تعالیٰ کی اس قدرت نمائی کے ماتحت ہمارا یقین ہے کہ باوجود اس کے کہ دنیا کے سب مذاہب احمدیت کی مخالفت پر آمادہ ہیں اور دنیا کی سب طاقتیں اسلام کو مٹانے کیلئے کوشاں ہیں لیکن پر امن ذرائع سے اور معجزانہ حالات کے ماتحت سلسلہ احمدیہ دنیا میں پھیل جائے گا اور اس کے ذریعہ سے اسلام کو باقی سب ادیان پر علمی غلبہ حاصل ہو گا-
    ۷- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنے قرب کیلئے پیدا کیا ہے- پس اسے کسی اور واسطہ کی ضرورت نہیں ہے- واسطہ کو تسلیم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ہم اس مقصد کیلئے پیدا نہیں کئے گئے بلکہ دوسروں کا احسان ہے کہ وہ ہمیں اس مقام پر پہنچا دیتے ہیں اور اگر ہم یہ تسلیم کریں تو ماننا پڑتا ہے کہ انسانی پیدائش کا کوئی اعلیٰ مقصد ہے ہی نہیں مگر دنیا کا ذرہ ذرہ اس کے خلاف گواہی دے رہا ہے- پس حق یہی ہے کہ انسان قرب الہی کیلئے پیدا کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا ہے کہوما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ۱۲~}~ میں نے جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میرے عبد بن جائیں یعنی میری صفات کو اپنے اندر پیدا کریں- بائیبل نے بھی اس طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے کہ-:
    >تب خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت پر اور اپنی مانند بناویں< ۱۳~}~
    ۸- سلسلہ احمدیہ کا عقیدہ ہے کہ نجات کسی ایک قوم یا ایک ملک کے لوگوں کا حق نہیں بلکہ سب بنی نوع انسان خدا تعالیٰ کے فضل کے یکساں مستحق رہے ہیں اور اس وجہ سے یہ خیال کہ خدا تعالیٰ نے ہدایت کو صرف بنی اسرائیل میں یا عربوں میں یا ہندوستانیوں میں محصور کر دیا ایک لغو اور بیہودہ خیال ہے- سب انسان خدا تعالیٰ کے بندے ہیں اور جس طرح اس کا سورج سب کیلئے چڑھتا ہے اسی طرح اس کی ہدایت بھی سب کیلئے ہے- ہاں خود انسانوں کے فائدہ کیلئے اس نے پہلے مختلف اقوام کی طرف الگ الگ انبیاء ارسال کئے اور آخر میں جب انسان خدا تعالیٰ کی سب باتوں کو سمجھنے کے قابل ہو گیا تو اس نے وہ >روح حق< بھیجی جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور جس کی نسبت انجیل میں آتا ہے کہ-:
    >میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں پر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے- لیکن جب وہ یعنی روح حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتاوے گی اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی وہ میری بزرگی کرے گی اس لئے کہ وہ میری چیزوں سے پاوے گی اور تمہیں دکھاوے گی<- ۱۴~}~
    غرض سلسلہ احمدیہ کی تعلیم ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں اللہ تعالیٰ کے نبی گذرے ہیں اور اس وجہ سے ہمارا فرض ہے کہ ہم دوسری قوموں کے گزشتہ بزرگوں کو بھی محبت اور قدر کی نگاہ سے دیکھیں کیونکہ وہ سب خدا کی طرف سے تھے اور اس وجہ سے ہمارے لئے واجب ادب ہیں- پس ہم لوگ جو سلسلہ احمدیہ کے پیرو ہیں جس طرح حضرت نوح اور حضرت ابراہیم حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح علیھم السلام کو ادب و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اسی طرح کرشنجی اور رام چندر جی اور گوتم بدھ اور زرتشت اور کنفیوشس علیھم السلام کو بھی عزتواحترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یورایکسیلنسی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ تعلیم دنیا میں امن و امان کے قائم کرنے میں کس قدر مدد دے سکتی ہے اور ایک عظیم الشان سچائی کا اقرار کروا کے ہمیں سچائی کے کس قدر قریب کر دیتی ہے- اور ان قوموں کے دلوں کو جو یہ سمجھتی تھیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں چھوڑے رکھا ہے کس قدر خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے-
    ۹- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ دوسرے مذاہب کے عیب بیان کرنے کی بجائے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنی چاہئیں کیونکہ کسی کی کمزوری سے ہماری بڑائی ثابت نہیں ہوتی بلکہ ہماری تعلیم کی برتری ہی ہمارے مذہب کی برتری ثابت کر سکتی ہے- پس دوسرے مذاہب کے عیب بیان کرنا ہماری جماعت کا طریق نہیں- ہاں جوابی طور پر جب ہم کو یہ معلوم ہو کہ ایک قوم برابر بد گوئی میں بڑھتی جاتی ہے دفاع کے طور پر ہمیں الزامی جوابوں کے دینے کی اجازت دی گئی ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ یہ تعلیم دنیا میں امن قائم رکھنے کیلئے اور قوموں میں صلح کرانے کیلئے نہایت ممد ہے- اور اس کا دوسرا پہلو کہ اگر کوئی قوم شرارت سے باز نہ آئے تو اس کے مقابل میں الزامیجواب دینا درست ہے درحقیقت پہلے پہلو کو مکمل کرتا ہے- کیونکہ بعض انسان اس قدر خدا تعالیٰ سے دور ہو جاتے ہیں کہ ان کے انسانی احساسات کو اکسانے کیلئے ایک ٹھیس کی ضرورت ہوتی ہے جس طرح کہ کبھی جسم انسانی کی حفاظت کیلئے ڈاکٹر کے نشتر کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ طریق قابل اعتراض نہیں بلکہ بگڑی ہوئی قوم کی خیر خواہی میں داخل ہے- چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی باوجود اس کے کہ آپ کی طبیعت نہایت حلیم تھی کبھی کبھی یہ طریق اختیار کرنا پڑا جیسا کہ فریسیوں کے حد سے بڑھ جانے پر آپ کو کہنا پڑا کہ-:
    >تم اپنے باپ شیطان سے ہو اور چاہتے ہو کہ اپنے باپ کی خواہش کے موافق کرو<- ۱۵~}~
    غرض اس قسم کی استثنائی صورتوں کو چھوڑ کر جب خود دوسری قوم کی اصلاح کیلئے الزامی جواب دینا پڑے سلسلہ احمدیہ کی تعلیم ہے کہ صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرو دوسرے مذاہب پر حملے نہ کرو تا کہ دنیا میں صلح اور آشتی قائم ہو اور لوگ اپنے رب کی طرف توجہ کرنے کا موقع پائیں-
    ۱۰- سلسلہ احمدیہ کی ایک یہ بھی تعلیم ہے کہ شریعت بطور سزا کے نہیں نازل ہوئی کیونکہ شریعت نام ہے ان احکام کا جو انسان کی روحانی‘ تمدنی اور اخلاقی ترقی کا موجب ہوتے ہیں اور بالواسطہ طور پر اس کی ترقی کا بھی باعث ہوتے ہیں اور کسی کو وہ راہ بتانا جس پر چل کر وہ کامیاب ہو سکے کسی صورت میں بھی چٹی نہیں کہلا سکتا- ہم جب ایک بھولے ہوئے کو راہ دکھاتے ہیں تو وہ ہمارا ممنون ہوتا ہے یہ نہیں کہا کرتا کہ تم نے مجھ پر بوجھ لاد دیا ہے- ایک جہاز کا کپتان جسے سمندروں کا چارٹ مل جاتا ہے شکوہ نہیں کرتا بلکہ شکریہ ادا کرتا ہے- شریعت بھی درحقیقت انسانی سفر کیلئے ایک چارٹ ہے جس سے اسے راستہ کی مشکلات سے آگاہ کیا جاتا ہے اور آسانی سے سفر طے کرنے کے طریق بتائے جاتے ہیں- وہ ایک گائیڈ ہے جو ہر منزل پر اس کے کام آتا ہے نہ کہ چٹی اور سزا- پس اس کی ضرورت ہر وقت انسان کو تھی اب بھی ہے اور ہمیشہ رہے گی اور اللہ تعالیٰ نے اسے بطور سزا نہیں نازل کیا بلکہ بطور احسان نازل کیا ہے اور اس سے زیادہ بدبختی کا دن انسان کیلئے نہیں آ سکتا جس دن کہ وہ اس راہنما سے محروم ہو جائے- مگر اللہ تعالیٰ جو رحیم و کریم ہے کبھی برداشت نہیں کر سکتا کہ اپنے بندوں کو جو ابدی زندگی کیلئے سرگردان ہیں اس ضروری امداد سے محروم کر کے ہمیشہ کیلئے تاریکی اور ظلمت میں بھٹکتا رہنے دے-
    ۱۱- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جس طرح ہر انسان کا پیدائشی حق ہے کہ اس کیلئے خدا تعالیٰ کے قرب کا دروازہ کھلا رہے اور اس کے اور اس کے رب کے درمیان کوئی اور ہستی حائل نہ ہو اسی طرح ہر انسان اپنی نجات کیلئے اپنی ہی جدوجہد کا محتاج ہے کوئی دوسرا شخص اس کی نجات کے معاملہ میں سوائے راہنمائی اور ہدایت کے اور کسی کام نہیں آ سکتا- ہر انسان کا فرض ہے کہ اپنے لئے نجات کا راستہ خود تیار کرے جیسا کہ مسیح علیہ السلام نے نہایت خوبصورت الفاظ میں فرمایا ہے-
    >اگر کوئی چاہے کہ میرے پیچھے آوے تو اپناانکار کرے اور اپنی صلیب اٹھا کے میری پیروی کرے<-۱۶~}~
    حق بھی یہی ہے کہ نجات اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو انسان کا ایمان اور اس کی وہ جدوجہد ہی کھینچ سکتی ہے جو وہ خدا سا بننے کیلئے کرتا ہے کیونکہ تب خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ دیکھو میرا بندہ مجھ سے ملنے کی کوشش کر رہا ہے پھر میں کیونکر خاموش رہوں اور اس کی امداد کیلئے ہاتھ نہ بڑھائوں- پھر وہ ہاتھ بڑھاتا ہے اور اپنے بندے کو اٹھا لیتا ہے جس طرح روتے ہوئے بچے کو ماں اٹھاتی ہے وہ اپنے بچے کو اٹھانے کیلئے کسی کی سفارش کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ سب سے بڑی سفارش اس کے بچے کی صحیح خواہش یا اس کی چیخ ہی ہوتی ہے-
    ۱۲- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ انسان اپنے اعمال میں نہ تو کلی طور پر آزاد ہے اور نہ کلی طور پر مجبور- بلکہ وہ اس حد تک مجبور ہے کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر سے آزاد نہیں ہو سکتا اور اس حد تک آزاد ہے کہ اپنے اعمال کی جزاء سزا کا مستحق ہے- خدا تعالیٰ کسی کو بد اور کسی کو نیک نہیں قرار دیتا بلکہ وہ اعمال کا زمانہ شروع ہونے سے پہلے ہدایت کرتا ہے اور اس زمانہ کے شروع ہو جانے پر ہدایت کرتا اور اعمال کے نتائج پیدا کرتا ہے- پس دنیا میں ہر واقعہ جو تقدیر کے ماتحت نظر آتا ہے درحقیقت کسی اختیاری فعل کے نتیجہ میں ہے اور ہر واقعہ جس میں انسان کلی طور پر مختار نظر آتا ہے وہ درحقیقت قانون قدرت‘ انسان کے پہلے اعمال اور اس کے گردو پیش کے حالات سے متاثر ہوتا ہے اسی وجہ سے ابتدائے دنیا سے مختلف مذاہب اور مختلف فلسفی اس امر پر بحث کرتے چلے آئے ہیں کہ آیا انسان مجبور ہے یا مختار- اور تقدیر کے سوال نے انسان کو حیران کئے رکھا ہے- لیکن اگر لوگ اسلام کی تعلیم کو مدنظر رکھتے تو یہ جھگڑے پیدا ہی نہ ہوتے اور اگر ہوتے تو بہت جلد ختم ہو جاتے- اس میں کیا شک ہے کہ انسان اپنے اعمال پر ایک سرسری نگاہ بھی ڈالے تو اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ اس کے افعال میں تقدیر و اختیار کے قانون ایک ہی وقت میں جاری ہیں-
    بظاہر یہ مسئلہ ایک علمی مسئلہ نظر آتا ہے لیکن درحقیقت بہت اہم اور عملی مسئلہ ہے اور دنیا کی روحانی اور تمدنی ترقی کا اس پر بہت کچھ مدار ہے اور یہ مسئلہ خدا تعالیٰ کے وجود پر بھی دلالت کرتا ہے کیونکہ انسانی اختیار اور اس کی مجبوریاں ایسی ملی ہوئی ہیں کہ سوائے ایک ایسی ہستی کے جو ذرہ ذرہ کا علم رکھتی ہو کوئی اور ہستی انسانی جدوجہد کی قیمت مقرر نہیں کر سکتی اور اسے حقیقی جزاء اور سزا نہیں دے سکتی- کیونکہ جب تک ہر انسان کے اختیار اور اس کی مجبوری کا صحیح اندازہ نہ لگایا جائے اس کی نیکی یا اس کی بدی کا بھی صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا- ہزاروں ہیں جو بظاہر نیک نظر آتے ہیں لیکن ان کی نیکی کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کے اندر بدی کی قابلیت نہیں- لیکن ہزاروں ہیں جو بظاہر بدنظر آتے ہیں لیکن وہ نیک ہیں کیونکہ ان کیلئے بدی کے بہت سے محرکات ہیں اور بہت سی مجبوریاں بھی ہیں لیکن وہ اپنے نفس سے جنگ کرتے رہتے ہیں اور بعض دفعہ کامیاب اور بعض دفعہ مغلوب ہو جاتے ہیں- پس ماننا پڑتا ہے کہ اگر انسانی اعمال نے منافقت کی چادر سے نکل کر کبھی اپنی صحیح شکل میں ظاہر ہونا ہے تو ایک ایسی ہستی ہونی چاہئے جو ظاہر و پوشیدہ کو اور ماضی‘ حال اور مستقبل کو یکساں طور پر جانتی ہو تا کہ انسانوں کے متعلق عدل و انصاف سے فیصلہ کیا جائے-
    ۱۳- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ اخلاق کا سوال حل نہیں ہو سکتا جب تک انسانی پیدائش کے سوال کو مدنظر نہ رکھا جائے علم الاخلاق کی تمام بحثیں آخر ایک چکر میں تبدیل ہو جاتی ہیں جو ہمیں کسی خاص فیصلہ تک نہیں پہنچاتا لیکن اگر ہم انسان کی فطرت پر غور کریں تو لازماً اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ وہ بعض باتوں کو اچھا اور بعض باتوں کو برا سمجھتی ہے- پس اچھے اور برے کا سوال تو ایک طبعی تقاضا ہے لیکن یہ کہ فلاں چیز بری ہے یا اچھی ہے مختلف فیہ مسئلہ ہے اور اس کی وجہ مذاہب کا اثر‘ عادات کا اثر اور ماحول کا اثر ہے- پس اچھے اور برے اخلاق کا فیصلہ انسانوں کے میلانوں پر نہیں کیا جا سکتا کہ وہ مختلف ہیں- ان کا فیصلہ صرف خدا تعالیٰ کی صفات سے مقابلہ کر کے کیا جا سکتا ہے- انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی شکل پر پیدا کیا ہے یعنی وہ طاقتیں اسے دی ہیں کہ الہی صفات کو اپنے اندر جذب کر سکے اور اخلاق حسنہ انہی صفات کو اپنے اندر جذب کرنے کا نام ہے اور اخلاق سیئہ انہی سے دوری کا- ہر اک جو اپنی طاقتوں کو اسی طرح استعمال کرتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی صفات ظاہر ہوتی ہیں وہ اخلاق حسنہ پر عامل ہے اور جو اس کے خلاف کرتا ہے وہ اخلاق سیئہ پر- پس انسان کے اندر جس قدر طاقتیں ہیں سب ہی اچھے مصرف کیلئے ہیں- جس طرح خدا تعالیٰ میں کوئی عیب نہیں انسان میں بھی کوئی عیب نہیں بلکہ اس کی سب طاقتیں ضروری ہیں ہاں ان کے استعمال کی درستی یا غلطی سے وہ اچھا یا برا ہو جاتا ہے- پس اگر ہم نیک ہونا چاہتے ہیں تو ہمارا یہ فرض نہیں کہ اپنی طاقتوں کو دبائیں اور مار دیں‘ بلکہ ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم انہیں خدا تعالیٰ کی صفات کی طرح موقع اور محل پر استعمال کریں-
    اس عقیدہ سے وہ جنگ جو قدیم سے دین اور دنیا میں چلی آئی ہے ختم ہو جاتی ہے- کیونکہ اس عقیدہ کے ماتحت مادی طاقتیں روحانی طاقتوں کے مخالف نہیں قرار پاتیں بلکہ روحانی طاقتوں کے پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں اور ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کی ترقی کیلئے کوشش کرتے ہوئے انسان دین کا بھی کام کر سکتا ہے اور کرتا جاتا ہے-
    ۱۴- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے اور یہ عقیدہ اوپر کے عقیدہ کا لازمی نتیجہ ہے کہ انسانوں کے باہمی معاملات کی بنیاد اصلاح پر ہونی چاہئے نہ کہ کسی غیر لچکدار فلسفی اصل پر- کیونکہ انسان کے اعمال درحقیقت تبدیل ہونے والی شئے ہیں اور مختلف حالتوں میں ان کی قیمت مختلف ہوتی ہے- ایک وقت میں ایک کام برا اور دوسرے وقت میں وہی اچھا ہو سکتا ہے- ہم ایک تندرست کو جو غذا دے سکتے ہیں بیمار کو نہیں دے سکتے- اسی طرح ہم سب لوگوں سے ایک ہی قسم کا معاملہ نہیں کر سکتے کیونکہ کسی نے اپنے اخلاق کو کسی طرح ڈھالا ہے اور کسی نے کسی طرح- پس اگر ہم خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ موقع اور محل کے مطابق ہمارے اعمال ظاہر ہوں اور ہماری اصل غرض اصلاح ہو اور اگر کوئی شخص پیار سے ماننے والا ہو تو ہم اسے باوجود ناراضگی کے اور غصہ میں آ جانے کے پیار سے سمجھائیں اور اگر کوئی شخص سزا سے ماننے والا ہو تو ہم اسے اس کے جرم اور اس کی طبیعت کی سختی کے مطابق سزا دے کر اسے سمجھائیں کیونکہ اصل غرض اصلاح ہے جو مریض کی حالت کے مطابق ہی ہو سکتی ہے اگر اس کی حالت کو نظر انداز کر دیں تو اصلاح ناممکن ہے-
    ۱۵- سلسلہ احمدیہ کا ایک یہ بھی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جس قدر صفات پیدا کی ہیں ضروری ہیں اور ان صفات کے سرچشمے یعنی عقل اور جذبات کا ہر کام میں لحاظ رکھنا ضروری ہے- تمام تمدنی اور سیاسی خرابیاں اسی سے پیدا ہوتی ہیں کہ باہمی معاملات میں یا عقل کو ترک کر دیا جاتا ہے یا جذبات کو یا ان کی صحیح نسبت قائم نہیں رکھی جاتی- عورت و مرد کے تعلقات کو عام طور پر جذبات پر مبنی رکھا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے نقصان ہوتا ہے حالانکہ کوئی عورت و مرد دنیا سے الگ نہیں ہو سکتے- وہ دنیا کا ایک حصہ ہیں اور انہیں اپنے حصہ ہونے کی حقیقت کو نہیں بھولنا چاہئے- پس جہاں ان کے تعلقات کی بنیاد جذبات پر ہونی ضروری ہے وہاں اس کے ساتھ ہی اس کی بنیاد عقل پر بھی ہونی ضروری ہے- میاں بیوی کے حقوق‘ طلاق‘ کثرت ازدواج‘ بچوں کی تربیت اور ان پر ماں باپ کے تصرف کی حد بندی‘ ورثہ اس میں مختلف رشتہ داروں کے حقوق کی تعیین‘ یہ سب ایسے امور ہیں جن میں اس قانون کو ملحوظ رکھ کر ایک ایسا درمیانہ طریق اختیار کیا جا سکتا ہے کہ جس سے نہ جذبات کو ٹھیس لگے اور نہ عقل کو جواب دیا جائے اور اسلام نے ایسا ہی کیا ہے گو جذبات کے طوفان کے وقت اس تعلیم کو قابل اعتراض قرار دیا گیا ہے لیکن سکون کی ساعتوں میں دنیا اس طریق کی برتری کو قبول کرنے پر مجبور ہوتی رہی ہے-
    ۱۶- سلسلہ احمدیہ کی ایک یہ بھی تعلیم ہے کہ عورت و مرد مشرقی اور مغربی سب اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک ہیں- سب کیلئے خدا تعالیٰ کے قرب اور ابدی زندگی کے دروازے کھلے ہیں- پس ان کے تعلقات ¶کی بنیاد ایسے اصول پر ہونی چاہئے کہ ایک دوسرے کیلئے تکلیف کا موجب نہ ہوں اور ہر ایک کیلئے ترقی کے دروازے کھلے رہیں اور کوئی کسی پر ناجائز حکومت نہ کرے-
    ۱۷- سلسلہ احمدیہ کی ایک تعلیم یہ بھی ہے کہ انسان کی جزاء کی اصل بنیاد اعمال پر نہیں بلکہ اس کی قلبی حالت پر ہے اس وجہ سے دنیا میں نیکی کو مضبوط کرنے کیلئے ضروری ہے کہ سب سے زیادہ دل کی پاکیزگی پر زور دیا جائے کیونکہ جب تک خیالات میں نیکی نہ ہو حقیقی نیکی حاصل نہیں ہو سکتی اور خیالات چونکہ جبر اور زور سے تبدیل نہیں ہو سکتے بلکہ دلیل اور مشاہدہ اور نمونہ سے تبدیل ہوتے ہیں اس لئے سلسلہ احمدیہ اس امر پر زور دیتا ہے کہ مذہب کیلئے جنگ یا جبر بالکل جائز نہیں- کیونکہ جبر سے صرف ظاہر تبدیل ہو سکتا ہے اور جس کا ظاہر و باطن ایک نہ ہو وہ منافق ہے- پس جو شخص مذہب میں جبر سے کام لیتا ہے وہ منافقت پھیلانے کا موجب ہے اور بجائے نیکی کی اشاعت کے بدی کی اشاعت کا مرتکب ہے اور اپنے عمل سے اپنے مقصد کو نقصان پہنچاتا- ہے اس عقیدہ کے ماتحت ہماری جماعت نے ہر ملک میں مذہب کے بارہ میں جبر کی مخالفت کی ہے اور ہمارے بعض آدمیوں نے اس پاک تعلیم کی حفاظت میں جو نیکی کے قائم کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہے اپنی جانیں تک قربان کر دی ہیں- اور گو جبر کے مویدین نے انہیں سنگسار کر کے نہایت تکلیف اور ایذاء سے قتل کیا مگر وہ آخر دم تک اپنے عقیدہ پر قائم رہے-
    ۱۸- سلسلہ احمدیہ کی سیاسیات کے متعلق یہ تعلیم ہے کہ حکومت اور رعایا کے تعلقات کی بنیاد قانون کے احترام اور پر امن جدوجہد پر ہونی چاہئے اور فساد سے دونوں کو پرہیز کرنا چاہئے اور حکومت اور رعایا دونوں کا فرض ہے کہ قانون کی جب تک وہ بدلے نہیں پیروی کریں اور اگر غلط قانون ہے تو جائز ذرائع سے اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے- اس تعلیم کے ماتحت ہماری جماعت جس جس حکومت کے ماتحت بستی ہے ہمیشہ فتنہ کی راہوں سے الگ رہتی ہے- اور چونکہ اکثر حصہ جماعت احمدیہ کا انگریزی حکومت کے ماتحت ہے لوگ خیال کرتے ہیں کہ شاید یہ جماعت انگریزوں کی جاسوس ہے لیکن آپ سے بہتر اسے کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ یہ امر غلط ہے- ہم نے ہمیشہ دلیری سے ہندوستانیوں کے حقوق کا مطالبہ کیا ہے- ہمیں دوسرے محبانوطن سے صرف اس امر میں اختلاف رہا ہے کہ عارضی فائدہ کیلئے اپنی قوم کے کیریکٹر کو شورش پیدا کر کے اور قانون کا احترام دل سے نکال کر خراب نہیں کرنا چاہئے کیونکہ مادی فائدہ سے بہرحال اخلاقی فائدہ مقدم ہے- اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ جب تک ہم کسی ملک میں رہیں اس کے قانون کی پابندی کریں لیکن جب ہم سمجھیں کہ کوئی حکومت ظلم میں حد سے بڑھ رہی ہے تو اس کے ملک کو چھوڑ کر اس کا مقابلہ کریں اور اگر وہ حکومت نکلنے بھی نہ دے تو پھر ہمیں اجازت ہے کہ اسی کے ملک میں رہتے ہوئے اس کا مقابلہ کریں‘ اس صورت میں قانون توڑنے کی وہ ذمہ دار ہے ہم نہیں-
    ہم جس جس ملک میں رہتے ہیں اس تعلیم پر عمل کرتے ہیں اور یقیناً یہی تعلیم ہے جس سے اخلاق اور مذہب کو قائم رکھتے ہوئے انسان آزادی کو حاصل کر سکتا ہے-
    ۱۹- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ حکومت کے قیام کی غرض ملک کا فائدہ ہے اور ان کاموں کو بجا لانا ہے جنہیں افراد الگ الگ پورا نہیں کر سکتے- پس اسلامی تعلیم کے مطابق ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کا فرض ہے کہ ہر فرد رعایا کے کھانے‘ لباس‘ مکان اور کام کا انتظام کرے- ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہندوستان کی حکومت اب تک اس فرض سے بالکل غافل رہی ہے- لیکن یہ ظاہر ہے کہ اگر افراد ملک کو پیٹ بھر کر کھانا بھی نہ ملے اور پہننے کو کپڑا اور سرچھپانے کو مکان نہ ملے تو پھر کسی حکومت کی ضرورت ہی کیا ہے- اسلامی قانون کی رو سے حکومت ایک نکمے آدمی کو کام پر مجبور کر سکتی ہے لیکن اس کا فرض ہے کہ اول تو کام دے کر اس کے گزارہ کی صورت پیدا کرے اور اگر کام نہیں دے سکتی تو پھر خزانہ شاہی سے اس کی اقل ترین ضروریات کو پورا کرے اور جب تک حکومتیں اس اصول پر نہ چلائی جائیں گی یقیناً لیبر اور کیپیٹل اور امپریلزم اور شوشلزم اور بولشوزم کے جھگڑے کبھی ختم نہ ہونگے- اگر اس اصل کو تسلیم کر لیا جائے تو کبھی کوئی حکومت اپنے ملک سے باہر جا کر استبدادی حکومت نہیں کر سکتی- کیونکہ اس پر اپنے ملک کا بار ہی اس قدر ہوگا کہ وہ دوسرے ملک کے بوجھ کو برداشت ہی نہیں کر سکے گی سوائے اس کے کہ دوسرے ملک سے اس کے تعلقات کے بنیاد تعاون اور دوستی پر ہو-
    ۲۰- سلسلہ احمدیہ کا ایک یہ بھی عقیدہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ خدا تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کیلئے بحیثیت مجموعی پیدا کیا ہے اور جس طرح کوئی شخص کسی کی زمین میں ہل چلا کر بوجہ ہل چلانے کے اس کی پیداوار کا واحد مالک نہیں ہو سکتا اسی طرح قدرت کے پیدا کردہ سامانوں سے کام لیکر کوئی شخص اس کے ثمرات کا واحد مالک نہیں ہو سکتا- اور چونکہ جس قدر دولت کمائی جاتی ہے خواہ زراعت سے ہو‘ خواہ تجارت سے‘ خواہ صنعت و حرت سے اس کے کمانے میں اس ذخیرہ کو کام میں لایا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنینوع انسان کی مجموعی بہتری کیلئے دنیا میں پیدا کیا ہے اس لئے شریعت نے ہر سرمایہدار پر اس رقم کو چھوڑ کر جو وہ خرچ کر لیتا ہے ایک رائلٹی مقرر کی ہے اور حکومت کا فرض مقرر کیا ہے کہ اس رقم کو لے کر دوسرے مستحقوں پر خرچ کرے- اس اصل کے ذریعہ سے ایک طرف تو اسلام نے مختلف کاموں کے ساتھ افراد کی دلچسپی کو بھی قائم رکھا ہے اور دوسری طرف قوم کے متفقہ حقوق کو بھی قائم رکھا ہے اور یہی ذریعہ فردی ترقی اور قومی ترقی کے توازن کو قائم رکھنے کا ہے-
    ۲۱- سلسلہ احمدیہ کی ایک یہ بھی تعلیم ہے کہ تمام ایسے سمجھوتے یا کام یا احکام جو بنی نوع انسان کے کسی فرد کی جائز ترقی کے راستہ میں روک ہوں درست نہیں- اسی وجہ سے شریعت اسلام نے باپ کی جائیداد کو اولاد اور دوسرے رشتہ داروں میں تقسیم کرنے پر زور دیا ہے تا کہ چند خاندانوں کے ہاتھ میں زمین نہ رہے اور کوئی خاندان اسی وقت تک زمین کا مالک رہے جب تک کہ وہ اپنی ذاتی لیاقت کے ساتھ اس کا مالک رہ سکتا ہے- اسی طرح سود کو روک دیا ہے تا چند ذہین لوگ مل کر تجارت اور صنعت و حرفت کو اپنے ہاتھ میں نہ کر لیں اور ہر اک شخص جسے خدا تعالیٰ نے خاص علم اور فہم دیا ہے مجبور ہو کر دوسروں کا روپیہ شامل کر کے انہیں بھی حصہ دار بنائے اور دولت صرف چند ہاتھوں میں جمع نہ ہو جائے- اسی طرح زکوۃ مقرر کر کے ایسے لوگوں کیلئے ترقی کا راستہ کھولا ہے جن کے پاس علم اور قابلیت تو ہے لیکن روپیہ نہیں-
    اسی اصل کے ماتحت احمدیت نسلی بادشاہتوں کی مخالف ہے کیونکہ اس طرح ایک خاندان محض وراثت کی بناء پر نہ کہ لیاقت کی بناء پر دوسرے لوگوں کی ترقی کے راستہ میں روک بنتا ہے- اسی طرح وہ قومی برتری اور امتیاز کے بھی مخالف ہے کیونکہ اس طرح بھی بعض عہدوں‘ تجارتوں یا کاموں کے دروازے بعض خاص افراد کیلئے کھلے ہوتے ہیں اور دوسروں کیلئے بند اور یہ ہر گز درست نہیں کہ جو کام خدا تعالیٰ نے سب کیلئے کھلے رکھے ہیں انہیں بعض کیلئے مخصوص کر دیا جائے-
    ۲۲- سلسلہ احمدیہ کی یہ بھی تعلیم ہے کہ موت انسانی زندگی کو ختم نہیں کر دیتی بلکہ وہ ایک لمبے سلسلہ حیات کی ایک تبدیلی کا نام ہے ورنہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے غیر متناہی ترقیات کیلئے پیدا کیا ہے- ہم میں سے ہر ایک جو مرتا ہے ایک نئی دنیا میں اور نئی قوتوں سے اپنے اس کام کو جسے اس نے اس دنیا میں شروع کیا تھا جاری رکھتا ہے- اگر وہ برے راستہ پر چلا تھا تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی حالتوں میں سے گزارے گا جس سے اس کی حالت کی اصلاح ہو جائے اور وہ اپنی روحانی بیماریوں سے شفا پا کر خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کر سکے اور اس کا دیدار اسے نصیب ہو سکے اور اسی زمانہ علاج کا نام دوزخ ہے جس میں انسان صرف ایک عارضی زمانہ کے لئے جو روحانی بیماریوں کی نوعیت کی وجہ سے گو بہت لمبا ہوگا مگر پھر بھی ختم ہو جانے والا ہوگا‘ داخل ہوگا- آخر سب انسان اللہ تعالیٰ کے قرب کو پا لیں گے اور کوئی انسان بھی خواہ کس قدر گناہ گار ہی کیوں نہ ہو اور خواہ کسی مذہب کا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم نہیں رہے گا- کیونکہ اگر ایسا ہو تو پھر شیطان کی فتح سمجھی جائے گی جس نے ان بندوں میں سے بعض کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے قرب کیلئے پیدا کیا تھا گمراہ کر ¶دیا- پس ضرور ہے کہ سب انسان آخر نجات پا جائیں اور جنت میں جائیں جو اس مقام کا نام ہے جس میں انسان نئی روحانی طاقتیں پا کر اللہ تعالیٰ کی صفات کو بدرجہ اتم اپنے وجود میں پیدا کرنا شروع کرے گا اور نہ ختم ہونے والی ترقیات کے حصول کی ابدی کوششوں میں مشغول ہوگا تا کہ وہ اپنے تجربہ کی بناء پر معلوم کر لے کہ خداتعالیٰ کی صفات غیر محدود ہیں جن کی انتہاء کو انسان غیر محدود کوشش سے بھی نہیں پہنچ سکتا اور ہر منزل کے بعد ایک اور منزل ظاہر ہو جاتی ہے جسے طے کرنا اس کیلئے ابھی باقی ہوتا ہے-
    ‏head] [tagخاتمہ
    یورایکسیلنسی! احمدیت کی تعلیم کے خلاصہ کے بعد میں ایک دفعہ پھر آپ کی توجہ کو اس طرف پھراتا ہوں کہ بے شک یہ سلسلہ اس وقت کمزور ہے لیکن سب الہی سلسلے شروع میں کمزور ہوتے ہیں- شام‘فلسطین اور روم کے شہروں میں پھرنے والے حواریوں کو کون کہہ سکتا تھا کہ یہ کسی وقت دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دیں گے- وہی حال ہمارے سلسلہ کا ہے اس کی بنیادیں خدا تعالیٰ نے رکھی ہیں اور دنیا کی روکیں اس کی شان کو کمزور نہیں بلکہ دو بالا کرتی ہیں کیونکہ غیر معمولی مشکلات پر غالب آنا اور غیر معمولی کمزوری کے باوجود ترقی کرنا الہی مدد اور الہی نصرت کا نشان ہوتا ہے اور بصیرت رکھنے والوں کے ایمان کی زیادتی کا موجب- پس میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے خاندان کو اور آپ کے ملک کے چھوٹے اور بڑے سب لوگوں کو اور اسی طرح باقی دنیا کو اس نور کے قبول کرنے کی توفیق دے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوا ہے اور جس کا انتظار سب دنیا ہزاروں سال سے کر رہی تھی مگر افسوس کہ جب وہ ظاہر ہوا تو اکثروں نے اس سے آنکھیں بند کر لیں اور تاریک کونوں سے باہر نہ آئے- الل¶ہ تعالیٰ ہمارے سب بھائیوں کو ہدایت دے اور اپنے فضل سے ان کی راہنمائی فرمائے کیونکہ ہم سب کمزور ہیں اور اس کی مہربانی کے محتاج- آمین
    یورایکسیلنسی! میں اس کتاب کو ختم کرنے سے پہلے پھر ایک دفعہ آپ کو اور لیڈی ارون کو جو اس اہم کام میں آپ کے شریک رہی ہیں جو دنیا کی بہت بڑی ذمہ داریوں میں سے تھا اس کام کے کامیابی کے ساتھ ختم کرنے پر اپنی طرف سے اور جماعت احمدیہ کی طرف سے مبارک باد دیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی آئندہ زندگی کو گذشتہ سے بھی زیادہ کامیاب اور مفید بنائے- الوداع- واخر دعوئنا ان الحمدللہ رب العلمین-
    خاکسار
    مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    امام جماعت احمدیہ
    قادیان-۳۱- مارچ ۱۹۳۱ء
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسول الکریم
    حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا مکتوب لارڈ ارون کے نام
    )تحفہ لارڈ ارون کے ساتھ حسب ذیل مکتوب حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی طرف سے لارڈ ارون کی خدمت میں پیش کیا گیا(-
    ‏]txet [tag جیسا کہ یورایکسیلنسی کو قبل ازیں اطلاع دی جا چکی ہے- ہندوستان کے لئے یورایکسیلنسی کی شاندار خدمات کے اعتراف نیز ان کی یاد کو تازہ رکھنے کیلئے میں نے ایک مختصر سی کتاب لکھی ہے- اور میں چوہدری فتح محمد خان ایم اے‘ چوہدری ظفراللہ خان بارایٹلا ایم- ایل- سی اور مولوی عبدالرحیم درد ایم- اے اس پر مشتمل ایک وفد کو اس غرض سے بھیج رہا ہوں کہ ہندوستان سے روانگی سے پیشتر میری نیز جماعت احمدیہ کی طرف سے یہ کتاب یورایکسیلنسی کے پیش کرے-
    اس کتاب میں اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے علاوہ میں اس مکتوب کے ذریعہ بھی یورایکسیلنسی کو الوداع کہتا ہوں- اور دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ مستقبل کو ماضی سے بھی زیادہ شاندار اور بابرکت بنائے- مجھے اس امر کا افسوس ہے کہ میں ذاتی طور پر یورایکسیلنسی کو الوداع نہ کہہ سکا-
    لارڈارون کا جواب
    جناب محترم!
    آپ نے نہایت مہربانی سے مجھے جو کتاب بھجوائی ہے اور جو یور ہولی نس کے نمائندہ وفد نے کل مجھے دی- اس کے نیز اس خوبصورت کاسکٹ کیلئے جس میں کتاب رکھی ہوئی تھی‘ میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں- یہ ان تمام کاسکٹوں سے جو میں نے آج تک دیکھے ہیں بے نظیر ہے- اور جماعت احمدیہ کے ممبروں کے ساتھ مختلف مواقع پر میری جو ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں یہ کاسکٹ ان کیلئے ایک خوشگوار یاد گار کا کام دے گا- یہ امر میرے لئے بے حد دلچسپی کا باعث ہے کہ آپ کے قریباً دس ہزار پیروئوں نے اس خوبصورت تحفہ کی تیاری میں حصہ لیا ہے-
    اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں آپ کو خدا حافظ کہتا ہوں- آپ یقین رکھیں کہ ہندوستان سے جانے کے بعد آپ کی جماعت سے میری دلچسپی اور ¶ہمدردی کا سلسلہ منقطع نہ ہوگا بلکہ بدستور جاری رہے گا- اور میری ہمیشہ یہ آرزو رہے گی کہ مسرت و خوشحالی پوری طرح آپ نیز آپ کے متبعین کے شامل حال رہے-
    ۱~}~
    متی: باب ۴۴ آیت ۲۷ )مفہوماً(
    ۲~}~
    تذکرہ: ایڈیشن ۴ صفحہ ۴۱۰ رئویا کا ذکر ہے
    ۳~}~
    مکاشفہ: باب ۳ آیت ۳ نیز لوقا: باب ۱۲ آیت۱۹‘۴۰ )مفہوماً(
    ۴~}~
    متی: باب ۲۱
    ۶~}~
    متی: باب ۲۴ آیت ۲۹ )مفہوماً(
    ۶~}~
    متی: باب ۲۴ آیت ۷‘۸ )مفہوماً(
    ۷~}~
    متی : باب۲۵ آیت ۱ تا ۱۱ )مفہوماً(
    ۸~}~
    رقس: باب ۱۳ آیت ۲۷ )مفہوماً(
    ۹~}~
    متی: باب ۴ آیت ۴ )مفہوماً(
    ۱۰~}~
    متی: باب۵ آیت ۱۷ )مفہوماً(
    ۱۱~}~
    رقس: باب ۱۲ آیت ۲۹‘۳۰ )مفہوماً(
    ۱۲~}~
    الذلویت: ۵۷
    ۱۳~}~
    پیدائش: باب ۱۶ آیت۱۲ تا ۱۴ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لندن مطبوعہ ۱۸۸۷ء
    ۱۴~}~
    یوحنا: باب ۸ آیت ۱۲ تا۱۴ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لندن مطبوعہ ۱۸۸۷ء
    ۱۵~}~
    یوحنا: باب ۸ آیت ۴۴ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لندن مطبوعہ ۱۸۸۷ء
    ۱۶~}~
    متی: باب ۱۶ آیت ۲۴ برٹش اینڈ فارن سوسائٹی لندن مطبوعہ ۱۸۸۷ء
    ‏a12.17
    انوار العلوم جلد ۱۲
    گورنمنٹ اور آریوں سے خطاب
    گورنمنٹ اور آریوں سے خطاب

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھوالناصر
    میرا ۲۷- مارچ کا خطبہ
    حصہ اول
    گورنمنٹ اور آریوں سے خطاب
    میرے ۲۷- مارچ کے خطبہ کے شائع ہونے پر اپنوں اور بیگانوں میں ایک ہیجان پیدا ہو گیا ہے اور علاوہ اس کے کہ مختلف قسم کے خطوط میرے پاس آ رہے ہیں آریہ اخبارات بھی اس پر بہت کچھ ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس کے متعلق کسی قدر اور تشریح کر دوں تاکہ دوست اور دشمن دونوں کو اصل حقیقت معلوم ہو جائے اور کوئی شخص دھوکے میں نہ رہے-
    میرا نقطئہ نگاہ سمجھ لیا جائے
    سب سے پہلے تو میں آریہ اخبارات اور حکومت کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ کسی قسم کا قدم اٹھانے سے پہلے میرا نقطئہ نگاہ اچھی طرح سمجھ لیں تاکہ کسی بے اصولے پن کا ارتکاب آخر انہیں شرمندہ نہ کرے- میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اس قدر عمر پبلک کے سامنے گزاری ہے کہ حکومت بھی اور ابنائے وطن بھی اس امر کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ میں جلد بازی سے قدم اٹھانے کا عادی نہیں ہوں- جہاں تک ہو سکتا ہے سوچ کر اور غور اور فکر کے بعد میں فیصلہ کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت تک سترہ سالہ پبلک زندگی میں ایک دفعہ بھی مجھے شرمندہ ہونے کا موقع پیش نہیں آیا اور مجھے اپنے فیصلہ کے بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور جلد یا بدیر لوگوں کو میرے نقطئہ نگاہ کی صحت تسلیم کرنی پڑی ہے- اپنے علم اور اپنے تجربہ کو دیکھتے ہوئے میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا ہے ورنہ چونکہ میری صحت خراب ہے اس کے اثر کے نیچے بالکل ممکن تھا کہ اگر خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو میری تقریر اور تحریر میں جلدبازی اور چڑ چڑے پن کا اثر پایا جاتا- بہرحال دوست اور دشمن اس امر کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے کہ میں محتاط آدمی ہوں اور اندھا دھند اعلان کرنے کا عادی نہیں حتیٰ کہ بعض دوست مجھ پر کمزوری کا الزام لگاتے ہیں- پس حکومت اور دشمنان اسلام کو میں اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ میرے نقطئہ نگاہ کو اچھی طرح سمجھ لیں- جو یہ ہے-
    بین الاقوام معاملات میں حکومت کا رویہ
    میرا خطبہ بیان کردہ ۲۷- مارچ ۱۹۳۱ء اس امر کے متعلق ہے کہ حکومت کا رویہ بینالاقوامی معاملات میں انصاف پر مبنی نہیں بلکہ ضرورت وقتی پر مبنی ہے اور یہ بات نہایت قابل افسوس ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کو مصلحت وقت کے مطابق کام کرنا ایک حد تک ضروری ہوتا ہے لیکن یہ اسی وقت تک جائز ہے جب تک کہ کسی قوم یا فرد پر ظلم نہ ہوتا ہو- جب کسی فعل سے کسی فرد یا قوم پر ظلم ہوتا ہو تو ایسا فعل مصلحت وقت کے ماتحت نہیں بلکہ سیاسی پالیسی کے ماتحت کہلائے گا اور مجھے افسوس ہے کہ بین الاقوام معاملات میں گورنمنٹ کا رویہ دلیرانہ اور منصفانہ نہیں بلکہ سیاسی پالیسی کے ماتحت ہوتا ہے- جو قوم زیادہ شور مچائے اور گورنمنٹ کو زیادہ تنگ کر سکے گورنمنٹ اس کے ساتھ مل جاتی ہے- آریہ لوگ پنجاب میں زیادہ شور مچاتے ہیں اور حکومت ہمیشہ ان سے دبتی ہے اور اس وقت حکومت کے دفاتر اور اس کی پالیسی پر وہی قابض ہیں- کانگریس نے شور مچایا اور حکومت اس کے آگے اس قدر گری کہ اس کے ساتھ تعاون کرنے والے لوگ اپنے دلوں میں شرمندگی اور ذلت محسوس کرتے ہیں-
    ‏sub] gat[ انگریزوں کی خوبیاں
    میرا ہمیشہ سے یہ خیال ہے اور اب تک ہے کہ انگریزوں میں بہت سی خوبیاں ہیں اور ان کی وجہ سے میں ان کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ انگریز ابھی اس ملک میں بہت سے مفید کام کریں گے اور ہندوستان ابھی پوری طرح ان سے مستغنی نہیں ہو سکتا-
    انگریز اپنے دوستوں کا حلقہ تنگ کر رہے ہیں
    لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ انگریزی حکومت کو مذکورہ بالا کمزوری اس کے دوستوں کا حلقہ روز بروز تنگ کرتی جاتی ہے اور اگر حکومت نے وقت پر اپنی اصلاح نہ کی تو ایک دن ایسا آئے گا کہ ہر ایک قوم ان سے تاجرانہ یا خود غرضانہ تعلق رکھے گی- انگریز کی دوستی اور اس سے مخلصانہ تعلق رکھنے والا ایک فرد بشر بھی نہ ہو گا اور اس تغیر کی ذمہ واری حکومت پر اور صرف حکومت پر ہو گی-
    مذبح قادیان کا معاملہ
    میں اپنے ہی سلسلہ کی مثال لیتا ہوں- قادیان کا مذبح گرایا گیا اور ایسے حالات میں گرایا گیا کہ کوئی انصاف پسند انسان اس کو جائز نہیں قرار دے سکتا- ایک طرف ظلم‘ تعدی‘ بغاوت اور شرارت کا مظاہرہ تھا تو دوسری طرف نرمی‘ عفو‘ امن پسندی اور شرافت کا مظاہرہ تھا- پولیس کی موجودگی میں مذبح گرایا گیا- ایک سب انسپکٹر اور کئی کانسٹیبل وہاں موجود تھے انہوں نے ان حملہ آوروں کو روکا نہیں بلکہ کھڑے دیکھتے رہے اور پھر مقدمہ میں ایک شخص بھی مجرموں میں سے اپنے کیفر کردار کو نہیں پہنچا- دوسری طرف احمدیوں نے نہایت بردباری اور امن پسندی کا ثبوت دیا اور باوجود طاقت کے اس خوف کی وجہ سے ان شریروں کا مقابلہ نہ کیا کہ کہیں وہ امن شکنی کا موجب نہ ہو جائیں اور اسی یقین کی وجہ سے ہاتھ نہ اٹھایا کہ حکومت ان مفسدوں کو خود سزا دے گی لیکن ان کا اعتماد بے محل ثابت ہوا- حکومت نے ایک مفسد کو بھی سزا نہیں دی- میں ایک منٹ کے لئے بھی خیال نہیں کر سکتا کہ علاقہ کے تھانہ دار اور پولیس کی موجودگی میں ایک مجرم کی بھی شناخت صحیح طور پر نہ ہو سکی ہو- پس سب مجرموں کا چھٹ جانا بتاتا ہے کہ یا تو اصل مجرموں کو پکڑا ہی نہ گیا تھا- یا یہ کہ مقدمہ کو جان بوجھ کر اس طرح چلایا گیا تھا کہ وہ لوگ بری ہو جائیں تاکہ دنیا یہ خیال کر لے کہ گورنمنٹ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے اور سکھ بھی گورنمنٹ سے ناراض نہ ہوں- اس وقت ایک ہی سوال حکام کے سامنے تھا اور وہ یہ تھا کہ سکھوں کو دسمبر ۱۹۲۹ء کی کانگریس کے اجلاس میں شامل ہونے سے ہر قیمت پر روکا جائے لیکن اگر حکومت وفادار رعایا کے حقوق کو تلف کر کے اس قسم کی کارروائی کرے تو اسے کب یہ امید ہو سکتی ہے کہ آئندہ مشکلات کے وقت میں اس کی تائید کی جائے گی-
    کانگرس کی شورش کے ایام میں کام
    مگر میں نے پھر بھی کانگرس کی شورش کے وقت میں ایسا کام کیا ہے کہ کوئی انجمن یا فرد اس کی مثال پیش نہیں کر سکتا- اگر میں اس وقت الگ رہتا تو یقیناً ملک میں شورش بہت زیادہ ترقی کر جاتی اور یہ صرف میری ہی راہنمائی تھی جس کے نتیجہ میں دوسری اقوام کو بھی جرات ہوئی اور ان میں سے کئی کانگرس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو گئیں-
    ہم نیلام ہونے کے لئے تیار نہیں
    لیکن باوجود اس کے مذبح کے معاملہ میں حکومت ہمارے احساسات کے ساتھ کھیلتی رہی ہے- اس نے جان بوجھ کر اس معاملہ کو اس قدر لمبا کیا ہے کہ کوئی شخص اسے جائز نہیں قرار دے سکتا- وہ ہماری جیبوں سے سکھوں کو عارضی طور پر روکے رکھنے کی قیمت دلوانا چاہتی ہے لیکن ہم نیلام ہونے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں- ذمہ وار افسر دو سال سے ہمیں یہ کہتے چلے آتے ہیں کہ مذبح کا فیصلہ ہو گیا ہے بس اب جاری ہوتا ہے کچھ دن آپ لوگ اور صبر کریں- اپنے حقوق چھوڑ کر بھی سکھوں کو خوش رکھیں تاکہ مذبح کے کھولنے میں دقت نہ ہو- یہی آواز ہے جو ڈیڑھ سال سے ہمارے کانوں میں پڑ رہی ہے لیکن ہنوز روز اول والا معاملہ ہے- مذبح ہمارا حق ہے‘ اس حق کے لینے کے لئے زائد قیمت ادا کرنے کے معنی ہی کیا ہوئے-
    قادیان کی تعزیری چوکی
    لطف یہ ہے کہ جو تعزیری چوکی بٹھائی گئی ہے علاوہ اس کے کہ اس کا رویہ نہایت قابل اعتراض ہے اس کے آنے پر چوریاں بڑھ گئی ہیں اور لوگ شبہ کرتے ہیں کہ یہ چوریاں خود بعض پولیس کے آدمی اس لئے کروا رہے ہیں تاکہ تعزیری چوکی کی معیاد بڑھائی جا سکے- نیت کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیان میں پچھلی سردیوں میں اس قدر چوریاں ہوئی ہیں کہ اس سے پہلے کئی سال میں بھی اس قدر نہ ہوئی ہوں گی- پس اگر بددیانتی نہیں تو بعض لوکل افسروں کی نالائقی اس سے ضرور ثابت ہوتی ہے-
    تغزیری چوکی کا خرچ
    دوسری عجیب بات یہ ہے کہ اس چوکی کا خرچ جو علاقہ پر تقسیم کیا گیا ہے اس میں مسلمانوں پر خاص ظلم کیا گیا ہے حالانکہ قصور سکھوں کا تھا- کمین لوگ جو بچارے نہایت محنت سے مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں ان پر بار بہت زیادہ ڈالا گیا ہے اور سکھ زمینداروں پر بہت کم ڈالا گیا ہے- یہ ظلم برابر جاری ہے اور باوجود توجہ دلانے کے اس کی اصلاح نہیں ہوئی-
    گورنمنٹ کا قابل تعریف فعل
    ہم اس قدر ممنون ضرور ہیں کہ احمدی جماعت کو اس ٹیکس سے بری رکھا گیا ہے اور اسی طرح قادیان کے دوسرے باشندوں کو بھی اور میں اس ناراضگی کے وقت میں بھی گورنمنٹ کے اس فعل کے تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا- لیکن یہ امر ایسا تھا جس میں کسی دوسری قوم کی ناراضگی کا سوال نہ تھا اور یہ میں مانتا ہوں کہ جب سیاسی پالیسی کا سوال نہ ہو اس وقت انگریز افسر ہندوستانی سے زیادہ اعتماد کے قابل ہوتا ہے اور باجود ان لوگوں کے برا منانے کے میں اس خوبی کے اعتراف سے باز نہیں رہ سکتا-
    ہمارا شکوہ
    ہمیں اگر شکوہ پیدا ہوتا ہے تو اس وقت جب کہ کسی کثیرالتعداد قوم کے ساتھ ہمارا مقابلہ ہوتا ہے اس وقت حکومت کے بعض افسران انصاف کی جگہ سیاسی نقطئہ نگاہ سے حالات کو دیکھنے لگتے ہیں اور اگر کثیرالتعداد لوگ ناراض ہوتے ہوں تو عدل اور انصاف کو ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں- اور یہ امر ہے جس کی اصلاح کی ضرورت ہے-
    الفضل کو گورنمنٹ کی تنبیہہ
    اسی قسم کی ایک تازہ مثال میں نے اپنے خطبہ میں پیش کی تھی اور وہ یہ کہ آریوں نے ابتداء کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ کو لیکھرام کا قاتل لکھا لیکن حکومت نے اس طرف کوئی توجہ نہیں کی اور ایسے شخصوں کو کوئی سزا نہیں دی- لیکن الفضل نے جب جواب دیا تو اس کو تنبیہہ کی گئی کہ اس میں لیکھرام کے خلاف مضامین کیوں لکھے گئے ہیں اور ایک وجہ تنبیہہ کی یہ بتائی گئی کہ لیکھرام کو لیکھو کیوں لکھا گیا ہے- حالانکہ جیسا کہ میں نے اپنے خطبہ میں بیان کیا ہے پنڈت لیکھرام کا اصل نام لیکھو ہی تھا- پس لیکھو کو لیکھو کہنا کوئی جرم نہیں تھا- لیکن حکومت نے اس پر تو اظہار ناراضگی کیا کہ لیکھو کو لیکھو کیوں لکھا ہے اور ان آریہ اخبارات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو قاتل لکھتے ہیں- حالانکہ جب الفضل نے جوابی طور پر آریوں پر حملہ کیا تھا تو حکومت کو اس امر کا لحاظ رکھنا چاہئے تھا اور اپنے نفس میں شرمندہ ہونا چاہئے تھا کہ ہم نے وقت پر ان شریروں کی زبان بندی نہیں کی جنہوں نے ایک ایسے شخص پر جو گورنمنٹ کا بھی محسن تھا ایسا گندہ الزام لگایا ہے-
    آریوں کی دھمکی کا جواب
    میرے اس خطبہ پر حکومت تو نہ معلوم کیا کارروائی کرے لیکن آریہ صاحبان بہت ناراض ہیں اور دھمکی دیتے ہیں کہ اگر لیکھو کو لیکھو لکھا گیا تو وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو مرزو یا غلمو لکھیں گے- میں ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ میرا نقطئہ نگاہ پہلے خوب سمجھ لیں- میرا نقطئہ نگاہ یہ ہے کہ-:
    )۱( جب آریوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو قاتل لکھا تو اپنی گندگی اور شرارت کا ثبوت دیا اور ہمارے پیشوا اور امام کو بلا وجہ گالیاں دیں- پس ہمارا حق ہے کہ ہم ان کو اسی رنگ میں جواب دیں اور ابتداء کرنے کے بعد آریوں کو ناراض ہونے کا ہرگز کوئی حق نہیں- ہاں وہ اپنی شرارت پر ندامت کا اظہار کریں اور آئندہ کے لئے توبہ کریں تو وہ ہم سے نیک سلوک کی امید رکھ سکتے ہیں- ورنہ اگر وہ گالیوں میں بڑھیں گے تو جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں‘ انہیں ایسے جواب سننے پڑیں گے جو ان کے لئے بہت تلخ ہوں گے اور دنیا بھی انہی پر الزام رکھے گی کیونکہ انہوں نے ظلم کی ابتداء کی ہے-
    ایک اور آریہ اخبار کا بے ہودہ نوٹ
    مجھے ایک آریہ اخبار کا یہ نوٹ دیکھ کر سخت تعجب ہوا کہ ہم نے تو مرزا صاحب کو کچھ بھی برا نہیں کہا- ہم نے تو صرف انہیں قاتل لکھا ہے اور یہ تو ہر قوم کے آدمیوں کا خیال ہے- اول تو یہ امر غلط ہے کہ سب اقوام کے لوگ ایسا سمجھتے ہیں سوائے چند خبیث لوگوں کے سب شریف آدمی یہی سمجھتے ہیں کہ لیکھرام یا اپنے کسی شخص کے ہاتھ سے مارا گیا یا اس کے مارنے والا کوئی بے تعلق شخص تھا جس نے اسے مذہبی جوش میں قتل کر دیا- اور جو لوگ زیادہ دلیر ہیں اور لوگوں سے نہیں ڈرتے وہ خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں یہی کہتے ہیں کہ لیکھرام کے قتل کا واقعہ ایسا ہے کہ اسے الہی فعل کے سوا کسی اور امر کے طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا-
    آریہ اخبارات کی دنایت
    دوسرے یہ امر ان آریہ اخبارات کی دنایت پر دلالت کرتا ہے کہ وہ کسی کو قاتل کہنا معمولی بات سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس میں کوئی گالی نہیں ہے- جب کوئی قوم اخلاق سے عاری ہو جاتی ہے تو نہ صرف یہ کہ اس سے بد اخلاقی کے کاموں کا ارتکاب ہوتا ہے بلکہ وہ بداخلاقی کو بداخلاقی بھی نہیں سمجھتی- یہی حال معلوم ہوتا ہے آریوں میں سے ایک گروہ کا ہے کہ وہ ایک مقدس ہستی کو قاتل کہہ کر پھر خیال کرتے ہیں کہ ہم نے گالی نہیں دی- گویا کہ وہ اس لفظ کو بہت اچھا سمجھنے لگے ہیں- شاید کانپور‘ بنارس وغیرہ مقامات پر عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کے بعد اب وہ اپنی فطرتوں کو تسلی دینے کے لئے اس عیب کو عیب نہ قرار دیتے ہوں لیکن انہیں یاد رہے کہ احمدی اور ہر شریف انسان قتل کو گناہ اور عیب سمجھتا ہے اور اپنے بزرگوں کی نسبت اس لفظ کے استعمال کو گالی قرار دیتا ہے- پس جب انہوں نے یہ لفظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نسبت استعمال کیا اور اب تک کر رہے ہیں تو احمدی جو کچھ شائع کریں گے جوابی ہو گا اور اخلاقی ذمہ داری خود آریوں پر یا حکومت پر ہو گی-
    اعزازی خطاب استعمال کرنے کیلئے مجبور نہیں کیا جا سکتا
    )۲( دوسری بات میرے نقطئہ نگاہ کے متعلق انہیں اور حکومت کو یہ یاد رکھنی چاہئے کہ میرے نزدیک حکومت یا کسی قوم کا یہ حق نہیں کہ ہم کسی دوسری قوم کے اعزازی خطاب اس کے افراد کے متعلق استعمال کریں- اخلاقی طور پر ہم سے یہ تو امید رکھی جا سکتی ہے کہ ہم ظاہری آداب کو ملحوظ رکھیں لیکن یہ نہیں کہ ہم ان کے خود ساختہ خطابات کو بھی استعمال کیا کریں- لالہ منشی رام جی بعد میں سوامی شردھانند بن گئے اب ہم سے یہ تو توقع کی جا سکتی ہے کہ ہم لالہ اور جی کا لفظ ان کے نام کے ساتھ لگائیں یا اور کوئی ادب کا لفظ ان کے نام کے ساتھ بڑھا دیں جو عام گفتگو میں استعمال ہوتا ہو لیکن اس امر پر ہمیں مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ ہم منشی رام کا نام چھوڑ کر انہیں شردھانند لکھا کریں- اسی طرح گاندھی جی کو جی کہہ کر یا صاحب کہہ کر پکارنے کی تو ہم سے امید کی جا سکتی ہے اور اخلاقا ہمیں ایسا کرنا چاہئے لیکن ہم سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ ہم انہیں مہاتما بھی کہیں- چنانچہ اسمبلی میں ایک دفعہ ایک گورنمنٹ ممبر نے جب مسٹر گاندھی کہا اور لوگوں نے شور مچایا تو اس نے نہایت زور سے کہا کہ مہاتما میں نہیں کہہ سکتا میں مسٹر ہی کہوں گا اور اسی طرح ایک دفعہ غالباً مسٹرجناح کے ساتھ بھی ہوا-
    غرض عرف عام کے مطابق اخلاقاً ایک دوسرے کے نام کے ساتھ صاحب وغیرہ کے الفاظ لگانے تو ضروری سمجھے جاتے ہیں لیکن ماں باپ کے رکھے ہوئے نام کے سوا دوسرے اختیار کردہ یا عطاء کردہ نام لینے ہرگز ضروری نہیں اور اس پر کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا-
    لیکھو نام والدین نے رکھا
    پس میرے نقطئہ نگاہ کے مطابق پنڈت لیکھرام کو لیکھو لکھنا ہرگز خلاف اخلاق نہیں کیونکہ ان کا نام ان کے والدین نے لیکھو ہی رکھا تھا جیسا کہ لالہ منشی رام جی المعروف سوامی شردھانند جی کی تحریر کردہ سوانح عمری سے ظاہر ہے- سوامی شردھانند پنڈت لیکھو صاحب سے بڑی حیثیت کے آدمی تھے اور خود ان کی پارٹی کے تھے اور پھر ان کے ہم وطن تھے- پس ان کی تحریر کو دشمن کی تحریر نہیں کہا جا سکتا اور ان کی شہادت اس لئے زیادہ معتبر ہے کہ انہوں نے یہ بات پنڈت لیکھو صاحب کے چچا سے سن کر لکھی ہے- پس اب آریہ صاحبان اور حکومت کے لئے اصولا صرف ایک ہی راستہ کھلا ہے کہ وہ یہ ثابت کر دیں کہ سوامی شردھانند جی نے جو کچھ لکھا ہے عداوت سے اور جھوٹ لکھا ہے- تب بے شک وہ ہم سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ پنڈت لیکھرام کو لیکھرام لکھا کرو اور اگر وہ ایسا ثابت کر دیں تو گورنمنٹ سے پہلے میں الفضل کو تنبیہہ کروں گا- لیکن اگر سوامی شردھانند جی نے سچ لکھا ہے اور پنڈت جی کا نام لیکھو ہی تھا تو لیکھو کو لیکھو لکھنے پر وارننگ دینے میں حکومت نے نہایت بے انصافی سے کام لیا ہے اور اس پر شور مچانے والے آریوں نے حماقت سے-
    مسیح موعود کا نام والدین نے کیا رکھا
    ‏]1txet [tagاب اوپر کی بات کو سمجھ کر آریہ اخبارات حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو مرزو لکھیں یا غلمو یا سندھی جیسا کہ انہوں نے نوٹس دیا ہے- لیکن اگر انہیں شرافت انسانی سے کوئی بھی حصہ ملا ہے تو انہیں ثابت کرنا ہو گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کا نام ان کے والد نے غلاماحمد نہیں بلکہ مرزو یا غلمو رکھا تھا غلام احمد بعد میں انہوں نے خود یا ان کی جماعت نے رکھ لیا- اگر وہ یہ ثابت کر دیں گے تو ہمیں ہرگز ان پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا بلکہ ہم انہیں حق بجانب سمجھیں گے-
    اسلامی بادشاہوں کی ہتک
    میں نے اپنے خطبہ میں ایک اور امر کی طرف بھی توجہ دلائی تھی کہ مسلمانوں کے بزرگوں کی طرح مسلمانوں کے بادشاہوں کے خلاف بھی ہندوئوں کا ایک طبقہ خصوصاً آریہ بد کلامی اور دشنام دہی سے کام لیتا رہتا ہے لیکن حکومت اس طرف توجہ نہیں کرتی- لیکن اسلامی بادشاہوں کے باغی جو بھگتسنگھ وغیرہ کے طریق پر چلتے رہے ہیں جیسے سیواجی وغیرہ- جب بعض اسلامی اخبارات نے ان کی اصلیت کو بے نقاب کرنا چاہا ہے تو حکومت اس میں دخل دیتی رہی ہے- لیکن یہ بیاصولاپن ہے اور اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ حکومت بعض موقعوں پر عدل اور انصاف کے ماتحت نہیں بلکہ ضرورت اور ذاتی اغراض کے ماتحت کام کرتی ہے- اگر یہ نہیں تو حکومت اس امر میں امتیاز کر کے دکھاوے کہ کیوں سیوا جی کو برا کہنے پر وہ قانون کو جنبش دیتی ہے لیکن اورنگ زیب کو برا کہنے پر کچھ نہیں کہتی اور کیوں وہ سیواجی کے خلاف لکھنے والوں پر اظہارناراضگی کرتی ہے جب کہ وہ بھگت سنگھ کی تائید میں جو یقیناً سیواجی سے بڑھ کر حبوطنی کے جذبہ سے معمور تھا مضمون لکھنے والوں کو ملک کے امن کا برباد کرنے والا قرار دیتی ہے-
    سیواجی اور بھگت سنگھ کا مقابلہ
    یہ امر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اگر سیواجی اور بھگتسنگھ کا مقابلہ کیا جائے تو بھگت سنگھ یقیناً سیواجی سے زیادہ حب وطن کے جذبات سے معمور تھا کیونکہ سیواجی کو لوٹ مار کی بھی خواہش تھی جو بھگت سنگھ کو نہ تھی- سیواجی کو احتمال تھا کہ اگر میں جیتا تو ملک کا بادشاہ ہو جائوں گا لیکن بھگتسنگھ جانتا تھا کہ میں انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے میں کامیاب بھی ہو جائوں تب بھی حکومت گاندھی جی اور نہرو جی کے قبضہ میں جائے گی اس کے نام صرف شاباش ہی شاباش لکھی جائے گی- سیواجی جانتا تھا کہ وہ بھی اورنگ زیب کی طرح تلوار چلا سکتا ہے اور مقابلہ کر کے ہوس نکال سکتا ہے- لیکن بھگت سنگھ جانتا تھا کہ اسے چوری چھپے حملہ کرنے کے سوا برسر پیکار آنے کا موقع میسر نہیں- سیواجی کے پیچھے اس کی قوم کی امداد تھی اور بھگت سنگھ جانتا تھا کہ اس کی قوم کے بزدل مخفی طور پر شاباش دینے کے سوا اس کی کوئی امداد نہیں کریں گے- بلکہ ظاہر میں اس کے فعل سے برائت کا اظہار کرتے رہیں گے- سیواجی جانتا تھا کہ مسلم بادشاہ اپنی قدیم روایات کے مطابق اس سے نرمی کا سلوک کرے گا- بھگت سنگھ جانتا تھا کہ اسے انگریزی قانون کے ماتحت ایک فوجی کی موت مرنے کا بھی موقع نہیں دیا جائے گا بلکہ ایک مجرم کی موت مرنے پر مجبور کیا جائے گا- سب سے آخر میں یہ کہ سیواجی اس بادشاہ کے مقابل پر کھڑا ہوا تھا جس نے ہندوستان کو اپنا وطن بنا لیا تھا اور جسے غیر ملکی بادشاہ نہیں کہا جا سکتا تھا- لیکن بھگت سنگھ ایک غیرملکی حکومت کے خلاف کھڑا تھا- پس ان سب امتیازوں اور ان کے علاوہ اور بہت سے امتیازوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سیواجی یقیناً بھگت سنگھ سے بہت ادنیٰ تھا اور اگر اس کا فعل قابلتعریف تھا اور اس کے خلاف لکھنا جرم ہے تو یقیناً بھگت سنگھ کا فعل اس سے سینکڑوں گنے زیادہ قابل تعریف ہے اور اس کے خلاف لکھنا اور بھی جرم ہے-
    ملک معظم کے بعض نمائندوں کی غداری
    حقیقت یہ ہے کہ ملک معظم کے ان نمائندوں میں سے جو ہندوستان میں مقرر ہیں بعض نے اورنگ زیب کے خلاف مضمون لکھوا کر اور