1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

انوار العلوم ۔ مجموعہ کتب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ ۔ جلد 11

'حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 21, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    انوار العلوم ۔ مجموعہ کتب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ ۔ جلد 11

    ‏a.11.1
    سلسلہ ٹریکٹ منجاب لوگ انجمن احمدیہ قادیان نمبر۳
    اظہار حقیقت
    از قلم حقیقت رقم
    حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تعالیٰ
    جس میں
    مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کی دیانت داری کا کشف راز کیا گیا ہے
    جسے
    بغرض افادہ عام
    فضل حسین لوکل سیکرٹری تبیلغ قادیان نے شائع کیا
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھوالناصر
    کیا مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء دیانت سے کام لے رہے ہیں
    مولوی محمد علی صاحب کے نزدیک غیر احمدی ختم نبوت کے منکر ہیں
    مولوی محمد علی صاحب کے رفقا نے سترہ جون کے جلسہ کی کامیابی کے آثار شروع سے محسوس کر کے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ وہ اس کی مخالفت کریں گے اور یہ ان کی دیرینہ عادت ہے- وہ ہر اس تحریک کی جو میری طرف سے ہو` مخالفت کرنا اپنے لئے ضروری سمجھتے ہیں- کیونکہ ان کے نزدیک اگر احمدی جماعت سے کوئی نیک کام ہوگا تو لوگ اس طرف متوجہ ہو جائیں گے- اور اس سے ان کے کام کو نقصان پہنچے گا- چنانچہ جب پچھلے سال رسول کریم ~صل۲~ کی عزت کی حفاظت کے لئے تمام ہندوستان میں جلسے کئے گئے تھے تو اس وقت بھی غیر مبایعین نے ان جلسوں کی شمولیت سے اجتناب کیا تھا اور ان کے بعض افراد نے بیان کیا تھا کہ ہمیں ہمارے مرکز نے ان میں حصہ لینے سے روکا ہے- چنانچہ سوائے دو چار جگہوں کے جہاں سے کہ غیر مبایعین نے اپنے طور پر ان جلسوں میں شمولیت اختیار کی- بحیثیت قوم مولوی صاحب کے رفقاء ان جلسوں میں شامل ہونے سے مجتنب رہے اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اس تحریک کا بانی میں تھا- اور ان لوگوں کے نزدیک میری تحریکات میں حصہ لینا درست نہ تھا- حالانکہ جو وجہ وہ اب بتاتے ہیں` وہ اس وقت موجود نہ تھی- کیونکہ اس وقت ختم نبوت کا سوال نہ تھا بلکہ سوال یہ تھا کہ رسول کریم ~صل۲~ کو جو گالیاں دی جاتی ہیں ان کا سدباب کیا جائے اور مسلمانوں کو اپنی تمدنی اصلاح کی طرف توجہ دلائی جائے- مومولوی صاحب اور ان کے رفقاء نے اس وقت تو ان تحریکات میں حصہ لینا پسند نہ کیا مگر چار پانچ ماہ کے بعد مولوی صاحب نے ایک ٹریکٹ شائع کیا جو اب تک شائع ہو رہا ہے اور اس میں ان تمدنی تحریکات کو جو میں نے پیش کی تھیں اس طرح پیش کیا گیا ہے گویا کہ وہ ابتدا ان کی طرف سے پیش ہوئی تھی- اور اس امر کو مولوی صاحب بالکل دبا گئے ہیں کہ جس وقت وہ تجاویز میری طرف سے پیش ہوئی تھیں تو اس وقت وہ ان کے رفقاء ان میں حصہ لینے کے لئے بالکل تیار نہ تھے-
    مولوی صاحب کے اس رویہ کے مقابلہ میں میرا رویہ جو ان کے بارہ میں رہا ہے- وہ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ جس وقت مولوی محمد یعقوب صاحب پر جو مولوی محمد علی صاحب کے ہم زلف اور لائٹ اخبار کے ایڈیٹر ہیں` مقدمہ چلانے کا خیال گورنمنٹ نے ظاہر کیا تو اس وفد میں جو اس مقدمہ کے واپس لینے کے لئے اوگلوی صاحب کے پیش ہوا- ہماری جماعت لاہور کے سیکرٹری حکیم محمد حسین صاحب قریشی بھی شامل تھے- اور میں نے اپنی جماعت کے بعض وکیلوں کو تاکید کی کہ اگر دوسرا فریق منظور کر لے تو وہ اس مقدمہ کی مفت پیروی کریں- اور اس کے علاوہ گورنمنٹ سے پروٹسٹ کیا کہ اس کا مولوی محمد یعقوب صاحب پر مقدمہ چلانا درست نہیں ہے- اور یہ کہ اسے چاہئے کہ انہیں آزاد کر دے-
    بہرحال ہر شخص اپنی طینت کے مطابق معاملہ کرتا ہے- مولوی صاحب اور ان کے رفقاء اپنے درجہ اخلاق کے مطابق سلوک کرنے پر مجبور ہیں- اور میں اپنے درجہ اخلاق کے مطابق سلوک کرنے پر مجبور ہوں- اس میں کوئی شکوہ کی وجہ نہیں ہے- مگر جس امر کی طرف میں اس وقت توجہ دلانی چاہتا ہوں` وہ یہ ہے کہ مولوی صاحب اور ان کے رفقاء نے سترہ جون کے جلسوں کی مخالفت کرنے میں دیانتداری سے کام نہیں لیا- اور یہ کہ انہوں نے مسلمان پبلک سے حقیقت کو چھپایا ہے- اور جو وجہ مخالفت کی وہ ظاہر کرتے رہے ہیں وہ درست نہ تھی- اور وہ خوب جانتے تھے کہ وہ پبلک کو دھوکا دے رہے ہیں-
    اخبار >پیغام صلح< نے ان جلسوں کی مخالفت کی وجہ یہ بتائی ہے کہ ان جلسوں کے متعلق یہ بیان کیا گیا تھا کہ وہ خاتم النبیین کی تائید میں ہیں- اور چونکہ نعوذ باللہ میں اور جماعت احمدیہ بقول >پیغام صلح< رسول کریم ~صل۲~ کی ختم نبوت کے منکر ہیں` اس لئے ہمیں کوئی حق نہ تھا کہ ہم رسول کریم ~صل۲~ کو خاتم النبیین قرار دے کر ان کی عظمت کے اظہار کے لئے جلسے کرتے- ہمارا ایسا کرنا ایک دھوکا تھا جو ہم دنیا کو دے رہے تھے-
    اس مضمون کی مولوی محمد علی صاحب نے اپنی زبان سے ایک معزز رئیس سردار حبیب اللہ صاحب کے سامنے تائید کی ہے- جنہوں نے خود میرے سامنے بہ موجودگی اپنے نانا صاحب اور ہماری جماعت کے بعض افراد کے اس امر کی شہادت دی کہ مولوی صاحب نے مجھ سے کہا تھا کہ ہمیں ان جلسوں پر یہ اعتراض تھا کہ باوجود رسول کریم ~صل۲~ کو خاتم النبیین نہ ماننے کے ان لوگوں نے خاتم النبیین کے نام کے نیچے آپ کی تعظیم کے اظہار کے لئے جلسے کیوں کئے ہیں-
    پیغام صلح کی اشاعت ۲۷-جولائی ۱۹۲۸ء میں اوپر کے بیان کی تصدیق بھی ہو گئی ہے کیونکہ اس میں مولوی محمد علی صاحب الفضل کی ایک ڈائری کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میں نے سردار حبیب اللہ صاحب سے کہا تھا کہ
    >مگر جن لوگوں کا ختم نبوت پر ایمان نہیں اور آنحضرت ~صل۲~ کے بعد نبوت کا سلسلہ جاری کرتے ہیں- ان کا دنیا میں یہ اعلان کرنا کہ ہم یوم خاتمالنبیین منائیں گے` دنیا کو دھوکا دینا ہے کہ لوگ یہ خیال کریں کہ واقعی یہ لوگ نبوت کو آنحضرت ~صل۲~ پر ختم مانتے ہیں<-
    )صفحہ ۱ کالم ۳(
    پھر لکھتے ہیں کہ-:
    >جب میاں صاحب اور ان کے مرید آنحضرت ~صل۲~ پر نبوت کو ختم نہیں مانتے تو یوم خاتم النبیین سے لوگوں کو دھوکا ہوگا یا نہیں- کیونکہ عام مسلمان خاتم النبیین کے معنی یہی جانتے ہیں کہ نبوت آنحضرت صلعم پر ختم ہو گئی اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا<- )صفحہ۱ کالم۳(
    ان حوالوں سے ظاہر ہے کہ مولوی صاحب نے اس بیان کی جو سردار حبیب اللہ صاحب ممبر لیجلیٹو کونسل پنجاب کی زبانی مجھے معلوم ہوا تھا` تحریراً بھی تصدیق کر دی ہے اور اب ان کی اور پیغام صلح کی تحریروں سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انہوں نے جو ۱۷-جون کے جلسوں کی مخالفت کی تھی` اس کے اسباب مندرجہ ذیل تھے-
    ۱- میں اور میرے احباب رسول کریم ~صل۲~ کو خاتم النبیین نہیں مانتے- اس لئے ہمارا حق نہ تھا کہ ہم خاتم النبیین کی تائید میں جلسے کرتے-
    ۲- مولوی صاحب کے عقیدہ کے مطابق عام مسلمان رسول کریم ~صل۲~ کو خاتم النبیین مانتے ہیں اور آپ کے بعد کسی نبی کے قائل نہیں- اس لئے ہمارا خاتم النبیین کی تائید میں جلسوں کا اعلان کرنا دھوکا تھا اور ایک فریب تھا- جس سے ہمارا مقصد خاتم النبیین ماننے والے غیر احمدی مسلمانوں کو دھوکا دینا تھا-
    میں اب یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ مولوی صاحب اور ان کے احباب ان دونوں امور میں دیدہ و دانستہ غلط بیانی کی مرتکب ہوئے ہیں- اور انہوں نے صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے وہ باتیں شائع کی ہیں جو ان کے علم اور ان کے یقین کے خلاف ہیں-
    امر اول کے جواب میں میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں رسول کریم ~صل۲~ کی خاتم النبیین یقین کرتا ہوں اور اس پر میرا ایمان ہے- قرآن شریف کے ایک ایک شوشہ کو میں صحیح سمجھتا ہوں- اور میرا یقین ہے کہ اس میں کسی قسم کا تغیر ناممکن ہے- جو لوگ قرآن شریف کو منسوخ قرار دیں یا اس کی تعلیم کو منسوخ قرار دیں` میں انہیں کافر سمجھتا ہوں- میرے نزدیک رسول کریم ~صل۲~ خاتم النبیین ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں لکھا ہے- اور جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میرا یہی عقیدہ ہے اور انشاء اللہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ موت تک اس عقیدہ پر قائم رہوں گا- اور اللہ تعالیٰ مجھے محمد رسول اللہ ~صل۲~ کے خدام کے زمرہ میں کھڑا کرے گا- اور میں اس دعویٰ پر اللہ تعالیٰ کی غلیظ سے غلیظ قسم کھاتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ اگر میں دل میں یا ظاہر میں رسول کریم ~صل۲~ کے خاتم النبیین ہونے کا منکر ہوں- اور لوگوں کے دکھانے کے لئے اور انہیں دھوکا دینے کیلئے ختم نبوت پر ایمان ظاہر کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی *** مجھ پر اور میری اولاد پر ہو اور اللفہ تعالیٰ اس کام کو جو میں نے شروع کیا ہوا ہے` تباہ و برباد کر دے- میں یہ اعلان آج نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ میں نے اس عقیدہ کا اعلان ہے- اور سب سے بڑا ثبوت اس کا یہ ہے کہ میں بیعت کے وقت ہر مبائع سے اقرار لیتا ہوں کہ وہ رسول کریم ~صل۲~ کو خاتم النبیین یقین کرے گا- مولوی محمد علی صاحب بھی میرے اس عقیدہ اور میرے اس فعل سے اچھی طرح واقف ہیں- باوجود اس کے مولوی صاحب کا اور ان کے رفقاء کا یہ شائع کرنا کہ میں ختم نبوت کا منکر ہوں` تقویٰ اور دیانت کے خلاف فعل ہے- اور ہر شریف انسان ان کے اس فعل پر انہیں ملامت کرے گا-
    مولوی صاحب یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی مانتا ہوں- اس لئے ثابت ہوا کہ میں رسول کریم ~صل۲~ کے خاتم النبیین ہونے کا منکر ہوں کیونکہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایسا نبی ہر گز نہیں مانتا کہ ان کے آنے سے رسول کریم ~صل۲~ کی نبوت ختم ہو گئی ہو- اور آپ کی شریعت منسوخ ہو گئی ہو- بلکہ میرا یہ عقیدہ ہے اور ہر ایک جس نے میری کتب کو پڑھا ہے یا میرے عقیدہ کے متعلق مجھ سے زبانی گفتگو کی ہے جانتا ہے کہ میں حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کو رسول کریم ~صل۲~ کا ایک امتی مانتا ہوں اور آپ کو رسول کریم ~صل۲~ کی شریعت اور آپ کے احکامات کے ایسا ہی ماتحت مانتا ہوں جیسا کہ اپنے آپ کو یا اور کسی مسلمان کو بلکہ میرا یہ یقین ہے کہ مرزا صاحب رسول کریم ~صل۲~ کے احکامات کے جس قدر تابع اور فرمانبردار تھے` اس کا ہزارواں حصہ اطاعت بھی دوسرے لوگوں میں نہیں ہے- اور آپ کی نبوت ظلی اور تابع نبوت تھی جو آپ کو امتی ہونا سے ہر گز باہر نہیں نکالتی تھی- اور میں یہ بھی مانتا ہوں کہ آپ کو جو کچھ ملا تھا` وہ رسول کریم ~صل۲~ کے ذریعہ اور آپ کے فیض سے ملا تھا- پس باوجود اس عقیدہ کے میری نسبت یہ کہنا کہ میں چونکہ مرزا صاحب کو نبی مانتا ہوں` اس لئے گو میں منہ سے کہوں کہ رسول کریم ~صل۲~ خاتم النبیین ہیں` میں جھوٹا اور دھوکے باز ہوں- خود ایک دھوکا ہے- اور مولوی صاحب اس امر کو خوب جانتے ہیں-
    میں مولوی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر اس طرح کسی کے ایمان اور اس کے دعویٰ پر باوجود اس کے انکار کے حملہ کرنا جائز ہوتا ہے تو پھر کیا میں جو مرزا صاحب کو امتی نبی مانتا ہوں اور جس کے نزدیک مرزا صاحب کا یہی دعویٰ تھا- کیا میرا اور میری جماعت کا حق ہوگا کہ چونکہ مولوی صاحب مرزا صاحب کو ہی نہیں مانتے- ہم ان کی نسبت یہ کہا کریں کہ مولوی صاحب اور ان کے رفقاء مرزا صاحب کے منکر ہیں اور اپنے آپ کو احمدی کہنے میں وہ دنیا کو دھوکا دے رہے ہیں-
    پھر میں پوچھتا ہوں کہ غیر احمدی طبقہ جو علماء کے ماتحت ہے` ان کا یہ عقیدہ ہے کہ مردے زندہ ہو سکتے ہیں اور انبیاء کو ایسی طاقت مل جاتی ہے اور انسان بہ جسد عنصری آسمان پر جا سکتاہے- اور اس عقیدہ کے ماتحت ان کا خیال ہے کہ حضرت مسیح موعود ناصر علیہ السلام بھی مردے زندہ کیا کرتے تھے- اور پرندے بھی پیدا کیا کرتے تھے- اور جب یہود نے انہیں مارنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں آسمان پر اٹھا لیا تھا اور وہ اب تک وہاں زندہ موجود ہیں- لیکن ان لوگوں کے بر خلاف آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ اس قسم کے امور کا واقع ہونا تعلیم قرآنی کے خلاف ہے- تو اس صورت میں کیا مولوی صاحب یہ جائز سمجھیں گے کہ غیر احمدی صاحبان مولوی صاحب کی نسبت جو ان امور کے قائل نہیں یہ اعلان کریں کہ وہ معجزات کا قائل نہیں ہیں- اور مولوی صاحب یہ جواب دیں کہ میں تو معجزات کا قائل ہوں- البتہ اس تشریح کا پابند نہیں ہوں جو دوسرے لوگ کرتے ہیں اور جو میرے نزدیک قرآن کریم کے خلاف ہے- پس مجھے معجزات کا منکر نہیں کہا جا سکتا-
    تو کیا مولوی صاحب یہی جواب ہماری طرف سے نہیں دے سکتے تھے اور یہ خیال نہیں کر سکتے تھے کہ گو ہمارا اور ان کا ختم نبوت کے مفہوم میں اختلاف ہے- لیکن یہ لوگ چونکہ اس امر کے مدعی ہیں کہ انہیں ختم نبوت پر ایمان ہے- اس لئے انہیں خاتم النبیین کا منکر نہیں کہا جا سکتا- مگر یہ جواب تو مولوی صاحب کو تب سوجھتا جب وہ عدل اور انصاف سے مسئلہ کی حقیقت پر غور کرنے کے لئے تیار ہوتے-
    پھر کیا مولوی صاحب اس امر کا جواب دیں گے کہ ان کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ ماننا اور ان کی نسبت یہ یقین کرنا کہ وہ بغیر کھانے پینے کے آسمان پر بیٹھے ہیں- اور وہ پرندے پیدا کیا کرتے تھے- اور مردے زندہ کیا کرتے تھے` شرک ہے یا نہیں- تو پھر کیا وہ اس امر کا اعلان کریں گے کہ تمام مسلمان لا الہ الا اللہ دھوکے اور فریب سے پڑھتے ہیں` دراصل وہ سب کے سب مشرک ہیں- اور توحید کے منکر ہو کر کافر ہو چکے ہیں- اگر نہیں تو کیوں؟ جب انہوں نے ہم پر ختم نبوت کے منکر ہونے کا الزام لگایا ہے اور دھوکے باز ہونے کا فتویٰ دے دیا ہے- اس لئے نہیں کہ ہم ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں- بلکہ اس لئے کہ ان کے نزدیک ختم نبوت کی جو تشریح ہے` ہم اس سے اختلاف رکھتے ہیں- تو کیا سبب ہے کہ غیر احمدیوں کی نسبت جو ]ksn [tagلا الہ الا اللہ تو کہتے ہیں- مگر شرک کی تعریف میں مولوی صاحب سے اختلاف رکھتے ہوئے وہ بعض ایسے امور کے قائل ہیں جن کے مولوی صاحب شرک قرار دیتے ہیں- مولوی صاحب یہ اعلان نہیں کرتے کہ یہ لوگ دھوکے سے لا الہ الا اللہ کہتے ہیں- ورنہ اصل میں یہ مشرک ہیں- کیا ایسا نہ کرنے کی یہی وجہ تو نہیں کہ مولوی صاحب کے تمام کاموں کا گزارہ ہی ان لوگوں کے چندوں پر چلتا ہے ورنہ ان کے اپنے ہم عقیدہ معدودے چند آدمی ہیں-
    پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا مولوی صاحب اسی فتویٰ کو جو انہوں نے ہم پر چسپاں کیا ہے` کچھ اور لوگوں پر بھی چسپاں کریں گے- اگر وہ اس کے لئے تیار ہیں تو سنیں کہ حضرت عائشہ ؓ کا وہی مذہب ہے جو میرا ہے- وہ فرماتی ہیں-قولوا خاتم النبیین ولا تقولو لا نبی بعدہ یہ تو کہو کہ رسول کریم ~صل۲~ خاتم النبیین نہیں- مگر یہ نہ کہو کہ آپﷺ~ کے بعد کوئی اور نبی نہیں- اب مولوی صاحب یہ فرمائیں کہ کیا حضرت عائشہ ؓ کی نسبت بھی وہ یہ اعلان کریں گے کہ وہ خاتم النبیین کی منکر تھیں اور لا نبی بعدہ کہنے سے منع کر کے جو انہوں نے خاتم النبیین کہنے کی تعلیم دی ہے- یہ محض نعوذ باللہ من ذالک لوگوں کو دھوکا دیا ہے- مولوی صاحب نے اپنی کتاب النبوۃ فی الاسلام میں اس احتمال کو تسلیم کر لیا ہے کہ یہ قول حضرت عائشہ ؓ کا ہو سکتا ہے- لیکن یہ کہا ہے کہ اس صورت میں یہ قول ان کا مردود ہوگا- )صفحہ۱۷۷( مگر یہ فتویٰ نہیں دیا کہ میں پھر حضرت عائشہ ؓ کو دھوکہ باز کہوں گا- اور کہوں گا کہ خاتم النبیین کہنے میں وہ لوگوں کو دھوکہ دے رہی تھیں- اسی طرح کیا مولوی صاحب ان بیسیوں بزرگان اسلام کو جنہوں نے غیر تشریعی نبوت کا دروازہ کھلا تسلیم کیا ہے- ختم نبوت کا منکر قرار دیں گے اور سب کی نسبت یہ اعلان کریں گے کہ وہ دھوکہ باز تھے اور لوگوں کو قریب دے رہے تھے- اور تو خیر میں پوچھتا ہوں کہ مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیو بند جنہوں نے اپنے متعدد رسالوں میں غیر تشریعی نبوت کو جائز قرار دیا ہے کیا مولوی صاحب ان کی نسبت یہ اعلان کریں گے کہ وہ ختم نبوت پر ایمان لانے کے دعویٰ میں جھوٹے تھے- اور دنیا کو قریب دے رہے ہیں-
    اگر باوجود ان تشریحات کے مولوی صاحب ان کو دھوکہ باز نہیں کہتے- بلکہ نہیں کہہ سکتے تو پھر اس عقیدہ کی بنا پر مولوی صاحب مجھے اور باقی احمدی جماعت کو دھوکہ باز کس طرح کہہ رہے ہیں- اور کیا ان کا یہ فعل خود دھوکہ نہیں- اور اس وجہ سے نہیں کہ وہ اصل میں یہ چاہتے تھے کہ رسول کریم ~صل۲~ کی وہ عظیم الشان خدمت جو ۱۷- جون کے جلسوں کی شکل میں ظاہر ہوئی` مجھ سے اور میرے احباب کے ذریعہ سے نہ ہو- گویا ان کا دل میرے کینہ سے اس قدر بھرا ہوا ہے کہ وہ اس کو تو پسند کر لیتے ہیں کہ رسول کریم ~صل۲~ کی عظمت کے اظہار کے لئے کوشش نہ کی جائے- مگر اسے پسند نہیں کر سکتے کہ کوئی اچھا کام میرے ذریعہ سے ہو-
    غیر احمدی صاحبان مولوی صاحب اور ان کے رفقاء کے نزدیک ختم نبوت کے منکر ہیں!
    اب میں دوسری بات کو لیتا ہوں جو یہ ہے کہ مولوی صاحب اور ان کے رفقاء نے یہ وعویٰ کیا ہے کہ ان کے نزدیک غیر احمدی فرقے ختم نبوت کے ماننے والوں میں سے ہیں اور چونکہ میں ختم نبوت کا منکر ہوں اس لئے میرا حق یہ تھا کہ میں ختم نبوت کی تائید کا نام لیکر ان جلسہ کرنے کی دعوت دیتا-
    میں یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ مولوی صاحب کا یہ دعویٰ کہ ان کے نزدیک عام مسلمان ختم نبوت کو مانتے ہیں اور اس لئے ان کو ایک ختم نبوت کے منکر کے دھوکہ سے بچانے کے لئے ان کے اخبار نے لوگوں کو متوجہ کیا تھا- ایک صاف اور واضح دھوکہ ہے- مولوی صاحب ہر گز غیر احمدیوں کو ختم نبوت کے ماننے والے نہیں مانتے- وہ انہیں اسی طرح ختم نبوت کے ¶منکر قرار دیتے ہیں جس طرح کہ مجھے اور میرے احباب کو- اور اس کا ثبوت وہ حوالہ جات ہیں جو انہوں نے اپنی کتاب النبوۃ فی الاسلام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں سے نقل کئے ہیں- ان میں سے چند ذیل میں درج کرتا ہوں-
    >اور سب حدیثیں اس امر پر متفق ہیں کہ مسیح موعودؑ اس امت میں سے ہوگا- کیونکہ نبوت ختم کر دی گئی ہے اور ہمارے رسول خاتم النبیین ہیں<-
    )تحفہ بغداد صفحہ۲۷ النبوۃ فی الاسلام مصنفہ مولوی محمد علی صاحب صفحہ۳۱ ضمیمہ(
    ‏iqt] [tag >ساتھ ہی یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ جب ہمارے نزدیک نبی ~صل۲~ خاتم الانبیاء ہیں تو کوئی شک نہیں کہ جو شخص اس مسیح کے نزول پر ایمان لاتا ہے جو بنی اسرائیل کا نبی ہے` وہ خاتم النبیین کا کافر ہے<-
    )ترجمہ تحفہ بغداد صفحہ۲۸ النبوۃ الاسلام مصنفہ مولوی محمد علی صاحب صفحہ۳۱ ضمیمہ(
    >پس کچھ شک نہیں کہ اس عقیدہ کو یعنی آسمان سے مسیح کے نزول پر ایمان لانے کو نہ ایک بیماری بلکہ کئی بیماریاں لگی ہوئی ہیں- قرآن کی بنیات کے مخالف ہے ختم نبوت کے امر کی تکذیب کرتا ہے اور قوم عرب کے محاورات کے مغائر پڑا ہوا ہے<-
    )نور الحق حصہ اول صفحہ ۵۱ ترجمہ النبوۃ فی الاسلام مصنفہ مولوی محمد علی صاحب صفحہ۷۰ ضمیمہ(
    >خدا تعالیٰ فرماتا ہے-ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین اور حدیث میں ہے-لا نبی بعدی اور با اینہمہ حضرت مسیح کی وفات نصوص قطعیہ سے ثابت ہو چکی- لہذا دنیا میں ان کے دوبارہ آنے کی امید طمع خام- اور اگر کوئی اور نبی نیا یا پرانا آوے تو ہمارے نبی ~صل۲~ کیونکہ خاتم الانبیاء ہیں<-
    )ایام الصلح صفحہ ۷۴ النبوۃ فی الاسلام مصنفہ مولوی محمد علی صاحبہ صفحہ۹۷(
    >ہمارے نبی ~صل۲~ کا خاتم الانبیاء ہونا بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کو ہی چاہتا ہے- کیونکہ آپ کے بعد اگر کوئی دوسرا نبی آ جائے تو آپ خاتم الانبیاء نہیں ٹھہر سکتے- اور نہ سلسلہ وحی نبوت کا منقطع متصور ہو سکتا ہے- اور اگر فرض بھی کر لیں کہ حضرت عیسیٰ امتی ہو کر آئیں گے` تو شان نبوت تو ان سے منقطع نہیں ہوگی- گو امتیوں کی طرح وہ شریعت اسلام کی پابندی بھی کریں- مگر یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدا تعالیٰ کے علم میں نبی نہیں ہوں گے- اور اگر خدا تعالیٰ کے علم میں وہ نبی ہوں گے تو وہی اعتراض لازم آیا کہ خاتم الانبیاء ~صل۲~ کے بعد ایک نبی دنیا میں آگیا اور اس میں آنحضرت صلعم کی شان کا استخفاف ہے اور نص صریح قرآن کی تکذیب لازم آتی ہے<-
    )ایام الصلح صفحہ۱۴۶ النبوۃ فی الاسلام مصنفہ مولوی محمد علی صاحب ضمیمہ صفحہ۹۹(
    قولہ: مسیح نبی ہو کر نہیں آئے گا- امتی ہو کر آئے گا- مگر نبوت اس کی شان میں مضمر ہوگی-
    اقول: جب کہ شان نبوت اس کے ساتھ ہوگی اور خدا کے علم میں وہ نبی ہوگا تو بلاشبہ اس کا دنیا میں آنا ختم نبوت کے منافی ہوگا<-
    )ایام الصلح صفحہ ۱۶۳` ۱۶۴ النبوۃ فی الاسلام ضمیمہ صفحہ۱۰۱(
    >قرآن شریف جیسا کہ آیت الیوم اکملت لکم دینکم اور آیت ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین میں صریح نبوت کو آنحضرت ~صل۲~ پر ختم کر چکا ہے اور صریح لفظوں میں فرما چکا ہے کہ آنحضرت ~صل۲~ خاتم الانبیاء ہیں جیسا کہ فرمایا ہے کہ ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین لیکن وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ دنیا میں واپس لاتے ہیں- ان کا یہ عقودہ ہے کہ وہ بدستور اپنی نبوت کے ساتھ دنیا میں آئیں گے اور برابر پنتالیس برس تک جبرئیل علیہ السلام وحی نبوت لیکر نازل ہوتا رہے گا- اب بتلائو کہ ان کے عقیدہ کے موافق ختم نبوت اور ختم وحی نبوت کہاں باقی رہا- بلکہ ماننا پڑا کہ خاتم الانبیاء حضرت عیسیٰ ہیں<-
    )تحفہ گولڑویہ صفحہ۸۳ النبوۃ فی الاسلام صفحہ۱۲۰(
    یہ حوالہ جات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے ہیں- اور انہیں مولوی محمد علی صاحب نے اپنی کتاب النبوۃ فی الاسلام میں نقل کیا ہے- اور میں نے اس لئے کہ جو چاہے جہاں سے دیکھ لے- دونوں کتب کے صفحات کے حوالے دے دیئے ہیں- یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے بھی اور مولوی صاحب کی کتاب کے بھی` ان حوالہ جات سے مندرجہ ذیل مطالب برضاحت ثابت ہوتے ہیں-
    اول-:
    مسیح ناصری کی آمد پر ایمان لانا ختم نبوت کے منافی ہے-
    دوم-:
    جو شخص مسیح ناصری کے نزول پر ایمان لاتا ہے وہ خاتم النبیین کا کافر ہے- اور ختم نبوت کی تکذیب کرتا ہے-
    سوم-:
    اگر کوئی شخص یہ عقیدہ بھی رکھے کہ حضرت مسیح ناصری نبی نہیں بلکہ امتی ہو کر دوبارہ دنیا میں آئیں گے- تب بھی وہ ختم نبوت کا انکار ہی کرتا ہے-
    چہارم-:
    حضرت مسیح کی دوبارہ آمد کے عقیدہ رکھنے والے کے نزدیک رسول کریم ~صل۲~ خاتم النبیین 1] mrl[ نہیں ہیں بلکہ مسیح ناصری ہے-
    یہ چار نتائج جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالوں سے نکلتے ہیں` صاف بتاتے ہیں کہ آپ کے عقیدہ کے رو سے وہ تمام لوگ جو حضرت مسیح ناصری کی دوبارہ آمد کے قائل ہیں خواہ انہیں نبی بنا کر اتارتے ہوں خواہ امتی بنا کر- بہرحال ختم نبوت کے منکر اور خاتم الانبیاء کے کافر ہیں- اور چونکہ مسلمانوں کا بیشتر حصہ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ان میں سے ننانوے فیصدی اسی عقیدہ کے قائل ہیں- پس اوپر کے حوالہ جات کے رو سے مولوی محمد علی صاحب نے اپنی کتاب النبوۃ فی الاسلام میں نقل کئے ہیں` یہ ثابت ہوتا ہے کہ تمام غیر احمدی فرقہ جات بہ حیثیت فرقہ کے ختم نبوت کے منکر ہیں اور رسول کریم ~صل۲~ کو خاتم النبیین نہیں مانتے- اور جب مولوی صاحب کے عقیدہ کی رو سے تمام غیر احمدی رسول کریم ~صل۲~ کو خاتم النبیین نہیں مانتے تو پھر وہ بتائیں کہ ان کا یہ لکھنا کہ
    >جب میاں صاحب اور ان کے مرید آنحضرت ~صل۲~ پر نبوت کو ختم نہیں مانتے تو یوم خاتم النبیین سے لوگوں کو دھوکا ہوگا یا نہیں- کیونکہ عام مسلمان خاتم النبیین کے معنی یہی جانتے ہیں کہ نبوت آنحضرت ~صل۲~ پر ختم ہو گئی اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا<-
    >پیغام صلح ۲۷- جولائی ۱۹۲۸ء صفحہ۱ کالم۳(
    سراسر غلط اور مغالطہ دہی میں شامل ہے یا نہیں-
    مولوی محمد علی کا فرض ہے کہ وہ پہلے حضرت مسیح موعود کی کتب کے ان حوالہ جات کو رد کریں جو خود انہی کی کتاب میح منقول ہیں- اور اس کے بعد یہ دعویٰ کریں کہ مسلمان رسول کریم ~صل۲~ 2] f[rt کو خاتم النبین ان معنوں سے مانتے ہیں کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا- لیکن حیسا کہ اوپر کے حوالہ جات سے ثابت ہے باقی سلسلہ احمدیہ کے نزدیک مسلمان ان معنوں میں رسول کریم ~صل۲~ کو خاتم النبین نہیں مانتے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں یئے گا` بلکہ ان کے عقیدہ اور ہمارے عقیدہ میں صرف یہ فرق ہے کہ وہ تو یہ مانتے ہیں کہ ایک ایسا نبی آپ کے بعد آئے گا جس نے نبوت آپ کی اطاعت سے حاصل نہیں کی ہو گی اور ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ایسا نبی کوئی نہیں آئے گا بکلہ پیشگوئی ایسے نبی کے متعلق تھی جس نے اپنے تمام کمالات رسول کریم ~صل۲~ کے فیض سے اور آپ کی اتباع میں حاصل کرنے تھے- پس ختم نبوت کے جلسہ میں دوسرے فرقوں کو دعوت اتحاد و مکیرہم نے دنیا کو دھوکا نہیں دیا بکلہ اپنے عقیدہ کے مطابق اعلان کیا- اور اس امر میں اشتراک عمل کی دعوت دی جس میں ہمارا دوسرے فرقہ ہائے اسلام سے آپ لوگوں کی نسبت بہیں زیادہ اتحاد ہے- ہاں جب آپ نے لوگوں پر ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ گویا آپ کے عقیدہ کی رو سے دوسرے فرقے رسول اللہ کو خاتم النبین ماننے والے ہیں تو آپ نے ایک صریح غلط بیانی کی- ورنہ اصل عقیدہ آپ کا یہی ہے کہ تمام مسلمان فرقے رسول کریم ~صل۲~ کو خاتم النبین نہیں مانتے- اور صرف آپ اور آپ کے چند ساتھی ایسے نو تعلیم یافتہ لوگ جو آمد مسیح کے ہی منکر ہیں ختم نبوت کے قائل ہیں-
    گو اس جگہ یہ بحث نہیں کہ ہمارا عقیدہ درست ہے یا نہیں` بلکہ بحث یہ ہے کہ کیا مولوی صاحب کے عقیدہ کے رو سے فی الواقع ہم ختم نبوت کے منکر ہیں- اور دوسرے مسلمان فرقے اس کے ماننے والے ہیں- لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے ایک حوالہ میں یہ بھی ذکر آیا ہے کہ خواہ نئے بنی کی آمد کا کوئی ماننے والا ہو یا پرانے نبی کی آمد کا وہ ختم نبوت کا منکر ہے- اس لئے میں ضمنایہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس سے ہمارے عقیدہ پر کوئی زد نہیں پڑتی کیونکہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں-:
    >صرف اس نبوت کا دروازہ بند ہے جو احکام شریعت جدیدہ ساتھ رکھتی ہو- یا ایسا دعویٰ ہو جو آنحضرت ~صل۲~ کی اتباع سے الگ ہو کر دعویٰ کیا جائے لیکن ایسا شخص جو ایک طرف اس کو خدا تعالیٰ اس کی وحی میں امتی بھی قرار دیتا ہے` پھر دوسری طرف اس کا نام بنی بھی رکھتا ہے` یہ دعویٰ قرآن شریف کے احکام کے مخالف نہیں ہے- کیونکہ یہ نبوت بباعث امتی ہونے کے دراصل آنحضرت کی نبوت کا ایک ظل ہے` کوئی مستقل نبوت نہیں ہے<-
    )ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنحم صفحہ ۱۸۱(
    اور ہم لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بنی مانتے ہیں تو اوپر کی تشریح کے ساتھ ہی مانتے ہیں- پس حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے حوالہ جات کا ہم پر کوئی مخالف اثر نہیں پڑتا-
    اور اس کے بعد میں پھر اصل مضمون کی طرف رجوع کرتا ہوں- میں بتا چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے حوالہ جات سے سابت ہے کہ مسیح کی آمد کا عقیدہ رکھنے والا ختم نبوت کا منکر ہے- پس جب تک مولوی صاحب اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں` انہیں اس امر کا اقرار کرنا پڑے گا کہ تمام غیر احمدی خواہ وہ کسی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں` ختم نبوت کے منکر ہیں- اور ان کا یہ ظاہر کرنا کہ ان کے عقیدہ کے رو سے عام مسلمان ختم نبوت کے قائل ہیں` مغالطہ دہی سے زیادہ نہیں ہے-
    گو اوپر کی تحریرات کے بعد مولوی صاحب اس بات کی پناہ نہیں لے سکتے کہ نئے نبی اور پرانے نبی کی آمد کے عقیدہ میں فرق ہے- اور جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ پرانے نبیوں میں سے کوئی نبی آئے گا وہ تو ختم نبوت کا قائل ہے- اور جو یہ عقیدہ رکھے کہ اسی امت میں سے ایک شخص کو اسلام کے قیام کے لئے رسول کریم ~صل۲~ کے فیض سے نبی کا نام دیا جائے گا` وہ ختم نبوت کا منکر ہے- لیکن اگر وہ ایسا کریں تو میں انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک اور حوالے کی طرف توجہ دلاتا ہوں- یہ حوالہ بھی انہوں نے اپنی کتاب النبوۃ فی السلام میں نقل یکا ہے اور یہ ہیں-:
    >قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں- لیکن ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے- اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے- نہ حدیث میں نہ قرآن میں موجود ہے- اور حدیت لا نبی بعدی میں بھی یہ نفی عام ہے<- )ایام الصلح صفحہ ۱۴۶(
    اس حوالہ سے ثابت ہے کہ جو شحص یہ فرق کرے کہ پرانے بنی کی واپسی کا عقیدہ رکھنے والا تو ختم نبوت کا قائل ہے اور نئے نبی کی آمد کا عقیدہ رکھنے والا منکر ہے` وہ شرارتی ہے-
    مگر شاید مولوی صاحب کی اور ان کے متعین کی حضرت مسیح موعود کے حوالہ جات سے تسلی نہ ہو- کیونکہ وہ خود محتہد اعظم ہیں جیسا کہ حضرت مسیح عود علیہ اسلام کی صریح تحریر کے بعد کہ مسیح کا بن باپ ہونا ہمارے عقیدہ میں شامل ہے` وہ اس کے خلاف تعلیم دے رہے ہیں- اور جبکہ ان کے نزدیک مرزا صاحب محض ایک مجدد ہیں تو پھر ان کی تحقیق کے خلاف اور ان کے عقدہ کے مبائین عقیدہ رکھتے ہیں ان کے نزدیک کوئی ہرج بھی نہیں ہو گا- جس کا ثبوت یہ ہے کہ حضرت عمر سے جو مولوی صاحب کے نزدیک سب سے پہلے مجدد تھے اور ان کے محدث ہونے کی خود رسول کریم ~صل۲~ نے شہادت دی تھی` کئی مسائل میں صحابہ نے اختلاف کیا ہے اور آج تک لوگ اختلاف کرتے چلے جاتے ہیں- اس لئے میں خود مولوی صاحب کی اپنی ہی ایک تحریر جو کسی پرانے زمانہ کی نہیں بلکہ قریب کے زمانہ کی ہے` پیش کرتا ہوں- جس سے انہیں معلوم ہو جائے گا کہ تھوڑا عرصہ پہلے ان کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ غیر احمدی ختم نبوت کے منکر ہیں اور یہ کہ نئے اور پرانے نبی کی آمد کے عقیدوں میں نتیجہ کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے- مولوی صاحب اپنے رسالہ موسومہ بہ دعوۃ عمل میں تحریر فرماتے ہیں-
    >قرآن شریف تو نبوت کو آنحضرت ~صل۲~ پر ختم کرتا ہے- مگر مسلمانوں نے اس اصولی عقیدہ کے بالمقابل یہ خیال کر لیا ہے کہ ابھی آنحضرت ~صل۲~ کے بعد حضرت عیسیٰ جو نبی ہیں` وہ آئیں گے- اور یہ بھی نہ سوچا کہ جب نبوت کا کام تکمیل کو پہنچ چکا اور اس لئے نبوت ختم ہو چکی تو اب آنحضرت ~صل۲~ کے بعد کوئی نبی کس طرح آ سکتا ہے` خواہ پرانا ہو یا نیا- نبی جب آئے گا` نبوت کے کام کے لئے آئے گا- اور جب نبوت کا کام ختم ہو گیا تو نبی بھی نہیں آ سکتا- پرانے اور نئے سے کچھ فرق نہیں پڑتا<- )صفحہ۱۲(
    پھر صفحہ ۱۳ پر لکھتے ہیں کہ
    >مسلمانوں نے عقیدہ بنا لیا کہ حضرت عیسیٰ جنہوں نے آنحضرت ~صل۲~ سے نہیں بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے تعلیم حاصل کی ہے` وہ اس امت کے معلم بنیں گے اور یوں آنحضرت ~صل۲~ کی شاگردی سے یہ امت نکل جائے گی<-
    اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ اول مولوی صاحب کے نزدیک عام مسلمانوں کا عقیدہ ختم نبوت کے عقیدہ کے مقابل پر ہے- یعنی متضاد اور مخالف ہے- دوم- مولوی صاحب کے نزدیک یہ عقیدہ کہ کوئی پرانا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا ور یہ عقیدہ رکھنا کہ کوئی نیا نبی آئے گا` ان میں کچھ فرق نہیں- یہ دونوں عقیدے ایک ہی طرح ختم نبوت کے عقیدہ کو رد کرنے والے ہیں- سوم- مسلمانوں کے عقیدہ نزول مسیح کے رو سے امت محمدیہ امت محمدیہ نہ رہے گی- یعنی رسول کریم ~صل۲~ کی نبوت ختم ہو جائے گی- اب اس عقیدہ کے بعد مولوی صاحب کا ۲۷-جولائی ۱۹۲۸ء کے پیغام صلح میں یہ فرمانا کہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ نبوت آنحضرت ~صل۲~ پر ختم ہو گئی اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا` صرف ہمارے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کے لئے ایک چال اور خلاف ضمیر عقیدہ کا اظہار نہیں تو اور کیا ہے- کیا یہ غضب نہیں کہ ابھی کچھ عرصہ پہلے تو مولوی صاحب کے نزدیک تمام مسلمان ختم نبوت کے منکر تھے اور ان کے عقائد امت محمدیہ کو آنحضرت ~صل۲~ کی امت سے نکال رہے تھے- لیکن ۱۷-جون کے جلسہ کی تحریک کا ہونا تھا کہ مولوی صاحب کی آنکھیں کھل گئیں- اور انہیں معلوم ہو گیا کہ سب مسلمان تو ختم نبوت کے قائل ہیں اور یہ مبایع احمدی ختم نبوت کے منکر ہیں- ان کے ساتھ مل کر کہیں دوسروں کے بھی عقیدے خراب نہ ہو جائیں- کیا یہ تغیر غیر معمولی نہیں ہے- کیا یہ تبدیلی موجب حیرت نہیں ہے- کیا اس کی وجہ صرف یہی نہیں ہے کہ مولوی صاحب میرے بغض کی وجہ سے اس تحریک کو ناکام بنانا چاہتے تھے- اور رسول کریم ~صل۲~ کی محبت پر جو ان کے دل میں یقیناً ہوگی` ایک ساعت کے لئے میرا بغض غالب آ گیا- انا للہ وانا الیہ راجعون- میں تو اب بھی دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ انہیں اس امر سے محفوظ رکھے کہ ان کا دل ہمیشہ کے لئے ان کے جرم کی سزم میں محبت رسول سے محروم رہ جائے-
    شاید مولوی صاحب یہ فرمائیں کہ گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ لکھا ہے کہ مسیح کے نزول کو ماننا ختم نبوت کے خلاف ہے اور گو میں نے بھی اس عقیدہ کی تصدیق کی ہے` لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ فی الواقعہ وہ لوگ ختم نبوت کے منکر ہیں- بلکہ صرف یہ مطلب ہے کہ ان کا عقیدہ حقیقت میں ختم نبوت کے خلاف ہے- اور اس قسم کے حقائق کے اظہار سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم کسی کو فی الواقعہ اس عقیدہ کا منکر قرار دے دیں- پس چونکہ غیر احمدی تسلیم کرتے ہیں کہ رسول اللہ خاتم النبیین نہیں مانتے- نعوذ باللہ من ذالک- اور اگر ایسی کوئی تحریر انہیں نہیں ملی- بلکہ انہوں نے ہمارے عقائد پر قیاس کیا تھا- اور ان کے نزدیک ہم اور غیر احمدی جیسا کہ ان کی تحریرات سے میں ثابت کر چکا ہوں` ایک ہی کشتی میں سوار ہیں- اور دونوں بقول ان کے صرف منہ سے ختم نبوت کے اقراری ہیں تو پھر انہوں نے دونوں سے سلوک میں فرق کیوں کیا اور ایک کو ختم نبوت کا ماننے والا اور ایک کو منکر کیوں قرار دیا- اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فیصلہ کو کیوں طلاق نسیاں پر رکھ دیا کہ >پرانے اور نئے نبی کی تفریق کرنا شرارت ہے<-
    حق یہ ہے کہ مولوی صاحب اور ان کے رفقاء دل میں تو دونوں ہی کو خاتم النبیین کا ماننے والا ہی سمجھتے ہیں اور اپنی پہلی تحریروں میں دونوں ہی کو منکر قرار دے چکے ہیں- لیکن اس موقع پر اس خوف سے کہ کہیں ۱۷-جون کے جلسوں کی تحریک کامیاب نہ ہو جائے انہوں نے یہ درمیانی راستہ نکالا کہ جو کثیر التعداد جماعتیں ہیں اور جن سے انہیں چندے ملتے رہتے ہیں` انہیں تو انہوں نے اپنی پہلی تحریروں کے خلاف ختم نبوت کا ماننے والا قرار دے لیا- اور ہم لوگ جو تعداد میں تھوڑے ہیں اور ہم سے کچھ عرصہ وصول ہونے کی امید نہیں ہے` ہمیں انہوں نے ختم نبوت کا منکر قرار دے لیا- لیکن حق یہ ہے کہ گو ہم میں سے ہر ایک کا یہ حق ہے کہ وہ دوسرے کی نسبت یہ کہہ دے کہ اس کا عقیدہ حقیقت ختم نبوت کے منافی ہے- لیکن جو شخص کہتا ہے کہ مسلمانوں میں سے کوئی فرقہ بھی ایسا ہے کہ وہ ختم نبوت کا ایسے رنگ میں منکر ہے کہ اس کا حق ہی نہیں کہ وہ دوسرے مسلمانوں سے مل کر رسول کریم ~صل۲~ کی عظمت کے قیام کے لئے کوشش کر سکے` وہ جھوٹا اور مفتری ہے اور اسلام اور مسلمانوں کی تباہی کا ذمہ دار ہے- واخر دعونا ان الحمدللہ رب العالمین
    خاکسار
    مرزا محمود احمد )خلیفہ المسیح ثانی(
    مذہبی رواداری کی بے نظیر مثال
    برادران السلام علیکم
    کچھ عرصہ ہوا میرے پاس قادیان کے کچھ سکھ صاحبان بطور وفد آئے اور انہوں نے شکایت کی کہ ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی اے کی کتاب >گورونانک صاحب کا مذہب< میں ان کے پیشوائوں پر حملہ کیا گیا ہے- میں یہ یقین نہیں کر سکا تھا کہ کوئی احمدی ایسا کرے- لیکن چونکہ بعض حوالہ مجھے ایسے سنائے گئے جو میرے نزدیک واقعہ میں قابل اعتراض تھے` اس لئے میں نے انہیں تسلی دلائی کہ اس کتاب کے متعلق تحقیق کر کے میں مناسب کارروائی کروں گا- اس وعدہ کے
    ‏a.11.2
    نبی کے زمانہ میں چھوٹے بڑے اور بڑے چھوٹے کئے جاتے ہیں
    فرمودہ ۱۶- اگست ۱۹۲۹ء بمقام یاڑی پورہ کشمیر(
    تشہد و تعوذ و تلاوت سورۃ فاتحہ کے بعد فرمایا-:
    قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ جب کسی بستی میں فاتحنہ طور پر داخل ہوتا ہے- توجعلوا اعزہ اھلھا اذلہ وہ اس کے بڑے لوگوں کو چھوٹا اور چھوٹوں کو بڑا کر دیتا ہے- اور ہم دیکھتے ہیں دنیا میں جب کبھی حکومت بدلتی ہے تو جہاں نیا بادشاہ اور نئے حاکم ہو جاتے ہیں- وہاں اس کے ساتھ دنیا میں بہت بڑا تغیر بھی واقع ہوتا ہے وہ لوگ جو اس ملک میں بڑے سمجھے جاتے ہیں- جن کے ہاتھوں میں سب کام ہوتے ہیں` وہ اپنی عزت اور حکومت کی حفاظت کیلئے نئے بادشاہ سے مقابلہ کرتے ہیں- کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کوئی اور بادشاہ قابض ہو گیا تو ان کی حکومت میں خلل واقع ہوگا- اگر اس مقابلہ میں نیا بادشاہ غالب آ جاتا ہے تو وہ چھوٹوں کو بڑا بنا دیتا ہے اور بڑوں کو چھوٹا کر دیتا ہے- خدائی سلسلوں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے-
    رسول کریم ~صل۲~ جب مبعوث ہوئے تو عرب میں گو کوئی بادشاہ نہیں تھا مگر ہر علاقہ میں بڑے بڑے لوگ تھے جو اپنے اپنے علاقہ پر حکومت کرتے تھے- مدینہ میں` طائف میں` حضر موت میں` یمن وغیرہ میں` غرض ہر علاقہ میں رئیس تھے- جب آپ نے نبوت کا پیغام پہنچایا تو آپ کی باتوں میں کوئی ایسی بات نہ تھی جو بری ہو- آپ نے ایک بات بھی ایسی نہ کہی جس سے مخالفین یہ نتیجہ نکالتے کہ یہ شخص اپنی بڑائی چاہتا ہے اور ہمیں گرانا چاہتا ہے- اگر رسول کریم ~صل۲~ نے نماز کا حکم دیا تو اس میں آپ کا کوئی ذاتی فائدہ نہ تھا` سراسر دوسروں کا ہی فائدہ تھا- اگر آپ نے حقیقی مالک کو راضی کرنے کی تعلیم دی تو جو لوگ اس تعلیم پر چلتے اور اللہ تعالیٰ کو راضی کر لیتے ان کی اپنی ذاتوں کو ہی فائدہ پہنچتا- رسول کریم ~صل۲~ کو کیا فائدہ ہوتا- اگر رسول کریم ~صل۲~ نے زکٰوۃ دینے کا حکم دیا تو اس میں بھی لوگوں کا ہی فائدہ تھا نہ کہ آپﷺ~ کا- آپﷺ~ نے تو سیدوں کو زکٰوۃ لینے سے منع کر دیا- حالانکہ سیدوں میں بھی غریب ہوتے ہیں- تو نہ صرف آپ زکٰوۃ کے مال سے مجتنب رہے بلکہ اپنی اولاد کے لئے بھی فرما گئے کہ ان کے لئے زکٰوۃ کا مال جائز نہیں-
    اسی طرح کریم ~صل۲~ نے جھوٹ بولتے سے منع فرمایا- اس میں آپ کو کیا فائدہ حاصل ہوتا تھا- کونسی جاگیر مل جاتی تھی- یہ صرف لوگوں کے فائدہ کے لئے آپﷺ~ نے تعلیم دی-
    اسی طرح چوری کرنے سے منع فرمایا- اس سے بھی آپ کی ذات کو کچھ فائدہ نہ تھا- صرف لوگوں کے بھلے کے لئے فرمایا- آنحضرت ~صل۲~ کے گھروں میں تو بعض اوقات کھانے کو بھی کچھ نہ ہوتا تھا- اس حالت میں یہ خیال نہیں کیا جا سکتا- کہ آپﷺ~ نے ظلم کرنے سے منع فرمایا- یہ حکم بھی اس لئے دیا تا لوگ ایک دوسرے کے ظلم سے بچیں- ورنہ آنحضرت ~صل۲~ خود تو علیحدگی میں عبادت کر کے اپنا وقت گزارتے تھے- پس جو بھی تعلیم رسول کریم ~صل۲~ نے لوگوں کو دی` نہ تو اس میں کوئی برائی تھی اور نہ آپﷺ~ کی اس میں کوئی ذاتی غرض تھی- آپﷺ~ نے جھوٹ سے منع فرمایا- اس میں کونسی بری بات تھی- چوری سے منع فرمایا- اس میں کونسی بری بات تھی- بدکاری سے منع فرمایا- اس میں کونسی بری بات تھی- عرب لوگ شراب سے بدمست رہتے تھے- ان کو شراب پینے سے منع فرمایا- اس میں کونسی بری بات تھی- مگر باوجود اس کے پھر بھی لوگوں نے آپﷺ~ کو سخت تکلیفیں دیں- آپ کے ماننے والوں پر ایسے ظلم و ستم ڈھائے کہ وہ ہمیشہ مصائب کا تختہ مشق بنے رہے- ان تکالیف سے تنگ آ کر بعض صحابہ ملک چھوڑے پر مجبور ہو گئے اور ہجرت کر کے حبشہ میں جا کر پناہ گزیں ہوئے- مگر مکہ والوں کی اس سے بھی تسلی نہ ہوئی کہ چار پانچ سو کوس پر بھی وہ اپنے غریب ہم وطنوں کو آرام سے بسنے دیں- انہوں نے حشبہ کے بادشاہ کو تحفے بھیج کر اس بات کے لئے رضا مند کرنا چاہا کہ وہ مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکال دے- لیکن جب یہ تدبیر کار گر نہ ہوئی تو بعض ان میں سے حشبہ پہنچے ان میں سے ایک عمرو بن عاص بھی تھے جو بعد میں بہت بڑے صحابی ہوئے- انہوں نے مصر فتح کیا تھا- انہوں نے جا کر حبشہ کے بادشاہ سے کہا- یہ لوگ ہمارے غلام ہیں اور بغاوت کر کے وہاں سے بھاگ آئے ہیں- بادشاہ منصف مزاج تھا- اس نے مسلمانوں کو بلایا اور دریافت کیا- آپ لوگوں پر کیا الزام ہے- انہوں نے جواب دیا- اے بادشاہ- ہماری قصور اس کے سوا کوئی نہیں کہ ہم لوگ چوری کیا کرتے تھے- بدکاری میں مبتلا تھے` شرک کے گند سے ملوث تھے` ہر قسم کا دغا فریب کرتے تھے کہ خدا کا ایک برگزیدہ پیدا ہوا- اس نے ہمیں ان باتوں سے روکا- ہم نے اس کی آواز پر لبیک کہا- اور یہ سب برائیاں چھوڑ دیں- بس یہی ہمارا قصور ہے-
    یہ تقریر ایسے رقت بھرے الفاظ میں کی گئی کہ بادشاہ اور درباری سب رو پڑے اور بادشاہ نے انہیں واپس دینے سے انکار کر دیا-
    جب اس طرح بھی اہل مکہ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا- تو عمرو بن عاص نے اپنے ساتھی سے کہا- اب میں درباریوں کو ان کے خلاف اکستاتا ہوں- چنانچہ اس نے درباریوں کو تحفے تحائف دے کر اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ بادشاہ کو یہ کہہ کر مخالف بنائیں کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہتک کرتے ہیں- بادشاہ عیسائی تھا- اسے اس طرح اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی دوسرے دن درباریوں نے بادشاہ سے کہا- اے بادشاہ: یہ لوگ نہ صرف مکہ والوں کے دشمن ہیں بلکہ تمہارے بھی دشمن ہیں- کیونکہ یہ حضرت عیسیٰ کی توہین کرتے ہیں- بادشاہ نے پھر مسلمان مہاجرین کو بلایا اور اس بارے میں دریافت کیا- انہوں نے کہا ہم لوگ حضرت عیسیٰ کو خدا کا نبی مانتے ہیں- اور دل سے ان کی تعظیم کرتے ہیں- ہاں ہم انہیں خدا کا بیٹا نہیں مانتے- اور سورہ مریم کی آیات سنائیں- بادشاہ نے ان کا جواب سنکر ایک تنکہ اٹھایا اور خدا کی قسم کھا کر کہا میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس سے زیادہ اس تنکہ کے برابر بھی نہیں سمجھتا- درباری یہ سن کر بادشاہ کے خلاف سخت برافروختہ ہو گئے- مگر بادشاہ نے انہیں وہ واقعہ یاد دلایا جب کہ وہ اس کے باپ کی وفات پر اسے قتل کر کے اس کے چچا کو بادشاہ بنانا چاہتے تھے- مگر خدا نے کچھ ایسے سامان کر دیئے کہ بادشاہت اسے مل گئی- بادشاہ نے کہا کہ تم لوگوں کا مجھ پر کچھ احسان نہیں یہ خدا کا مجھ پر احسان ہے- بادشاہت کے جانے کا مجھے کچھ بھی ڈر نہیں- وہ خدا جس نے مجھے بادشاہت عطا کی میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں- اور یہ ظلم جو تم مجھ سے کرانا چاہتے ہو ہر گز نہیں کروں گا-
    ایک وقت تو یہ حالت تھی- لیکن پھر وہ زمانہ بھی آیا- جب کہ یہ اسلام- نبی کریم ~صل۲~ اور صحابہؓ کے دشمن مسلمان ہوئے اور اخلاص میں اعلیٰ درجہ کی ترقی کی- یہی عمرو بن عاص جب مسلمان ہو گئے تھے تو اپنے متعلق کہنے لگے- مجھ پر دو زمانے آئے ایک اسلام کی مخالفت کا اور ایک موافقت کا- مخالفت کے زمانہ میں میں نبی کریم ~صل۲~ سے ایسا بغض رکھتا تھا کہ حقارت سے کبھی چہرہ نہیں دیکھتا تھا- پھر موافقت کا زمانہ آیا- اس میں نبی ~صل۲~ کی محبت اس قدر دل میں جاگزیں ہوئی اور آپ کا جلال ایسا تھا کہ میں رعب کی وجہ سے آپﷺ~ کے چہرہ کی طرف نگاہ نہیں کر سکتا تھا- ابوجہل کا لڑکا عکرمہ تھا- پہلے مخالفت کرتا رہا- لڑائیوں میں سرگرم حصہ لیتا تھا- مگر جب اسلام اختیار کیا تو ہر طرح کی قربانیاں کیں- جان و مال سے دریغ نہ کیا- اور اسلام کی اس قدر خدمت کی کہ اپنا پورا جان نثار ہونا ثابت کر دیا- غرضیکہ وہ دشمان اسلام جو سخت مخالفت پر تلے رہتے تھے آخر کار انہوں نے حقانیت کو مانا اور مان کر ہر طرح کی قربانیوں میں حصہ لیا-
    اسی طرح ایک وقت تو وہ تھا کہ آنحضرت ~صل۲~ اور صحابہ کرام کو گھروں سے باہر نکلنا دشوار تھا- اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر گزارہ کرنا پڑتا تھا تا کہ دشمنوں کے شر سے محفوظ رہیں- لیکن پھر وہ بھی زمانہ آیا کہ آنحضرت ~صل۲~ فاتح کی حیثیت سے ایک جرار لشکر کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے- اس طرح وہ دن آیا کہ دشمن کو دروازے بند کر لینے پڑے اور کسی کو طاقت نہ ہوئی کہ باہر نکل سکے- وہ لوگ جو غریب سمجھے جاتے تھے اور جو اتنے مظلوم تھے کہ کوئی ان کی فریاد کو نہیں پہنچتا تھا` اس وقت وہ فاتح کی حیثیت سے داخل ہو رہے تھے- اور اس دن خدا تعالیٰ نے دشمنوں کو دکھا دیا کہ کس طرح چھوٹے بڑے بنائے جاتے ہیں اور بڑے چھوٹے کر دیئے جاتے ہیں-
    پھر آنحضرت ~صل۲~ کی وفات پر جب حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ ہوئے تو ان کے باپ سے کسی نے کہا- ابوبکر مسلمانوہ کا خلیفہ ہو گیا- اس پر وہ تعجب سے پوچھنے لگے- کون ابوبکر ؓ - کیا ابوقحافہ کا بیٹا- جب ان کو یقین دلایا گیا کہ وہی خلیفہ ہوئے ہیں تو وہ دریافت کرنے لگے- کیا بنو ہاشم نے ان کو مان لیا ہے- بنو عبدالشمس- بنو عبدالمطلب وغیرہ نے ان کی اطاعت اختیار کر لی ہے- جب کہا گیا کہ ہاں- سب نے مان لیا ہے تو حضرت ابوبکر ؓ کے والد نے اگرچہ وہ پہلے سے اسلام میں داخل تھے مگر کمزور ایمان رکھتے تھے- کلمہ شہادت پڑھا اور کہا آج مجھے یقین ہو گیا کہ اسلام سچا ہے- یہ آنحضرت ~صل۲~ کی ہی قوت قدسیہ کا اثر ہے کہ ان قبائل نے ابوبکر ؓ کی اطاعت اختیار کر لی` ورنہ ابوبکر کی کیا حقیقت تھی-
    پھر حضرت ابوہریرہ کو دیکھو- فتوحات کے زمانہ میں ایک دن ریشمی رومال میں تھوک کر کہنے لگے- واہ واہ ابوہریرہ- ایک وہ زمانہ تھا کہ بھوک کے مارے بے ہوش ہو جانے پر لوگ مرگی کے خیال سے جوتیاں مارا کرتے تھے اور ایک یہ زمانہ ہے ریشمی رومالوں میں تھوکتے ہو- پاس بیٹھنے والوں نے یہ بات سنکر پوچھا- آپ نے کیا فرمایا- کہنے لگے آنحضرت ~صل۲~ کے زمانہ میں میں ہر وقت مسجد میں بیٹھا رہتا تا کہ جب آپ باہر تشریف لائیں اور کچھ فرمائیں تو میں سن سکوں- اس وجہ سے میرے کھانے کا کوئی باقاعدہ انتظام نہ تھا- بعض دفعہ سات سات فاقے کرنے پڑتے تھے اور بعض اوقات شدت بھوک کے سبب بے ہوشی طاری ہو جاتی اور اس بے ہوشی کو مرگی خیال کیا جاتا- اور عرب کے رواج کے ماتحت اس کا علاج جوتیوں سے کیا جاتا- ایک دفعہ جب کہ بھوک نے بہت ستایا تو میں نے صدقہ کی آیت نکال کر حضرت ابوبکر ؓ کے پیش کی- انہوں نے اس کا مطلب بیان کیا اور چلد دیئے- اسی طرح حضرت عمر ؓ کے پیش کی- انہوں نے بھی مطلب بیان کیا اور چل دیئے- حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں جب وہ مطلب بیان کر کے چل پڑتے اور آیت کے پیش کرنے سے میری غرض کو نہ سمجھتے تو میں اپنے دل میں کہتا کیا یہ معنی مجھے معلوم نہ تھے- یہ مجھ سے بہتر تو نہیں جانتے- اس اثنا میں آنحضرت ~صل۲~ تشریف لائے اور فرمایا- ابوہریرہ کیا بھوک لگی ہے- میں نے عرض کیا ہاں- اس پر آپ نے مسجد کے دوسرے غرباء کوبھی بلانے کے لئے فرمایا- چنانچہ جب میں سب کو بلا کر لے گیا تو آپ نے دودھ کا ایک پیالہ نکالا اور پلانا شروع کیا- مگر مجھے چھوڑ کر پہلے دوسروں کو پلانے لگ گئے- اس پر میں دل میں کڑھا کہ بھوک سے تو میں مر رہا تھا- ایک پیالہ دودھ ہے- وہ دوسرے پینے لگ گئے ہیں مجھے کیا ملے گا- آنحضرت ~صل۲~ نے سب کو پلا کر مجھے فرمایا- ابوہریرہ اب تم پیو- میں نے پیا- حضور نے فرمایا اور پیو- پھر میں نے پیا- اس طرح حضور نے مجھے کئی بار پلایا- حتیٰ کہ پیٹ میں ذرا بھی گنجائش باقی نہ رہی- یہ واقعہ سنا کر حضرت ابوہریرہ ؓ فرمانے لگے اس وقت مجھے یہ واقعہ یاد آ گیا کہ ایک تو وہ زمانہ تھا کہ میرا یہ حال تھا- اور ایک یہ زمانہ ہے کہ جب خدا نے فضل کیا- آنحضرت ~صل۲~ کے فرمانے کے مطابق فتوحات ہوئیں- اور میں ایران کے بادشاہ کے رومال میں تھوکتا ہوں- حضرت ابوہریرہ فتوحات کے زمانہ میں مصر کو گورنر بھی بنا دیئے گئے تھے-
    الغرض دنیا میں جب خدا کے نبی آتے ہیں تو لوگ ان کی مخالفت کرتے ہیں- وجہ مخالفت صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ خیال کر لیتے ہیں جو حکومت ہمیں حاصل ہے وہ اسے حاصل ہو جائے گی- ایسے لوگوں کو چھوٹا بنا دیا جاتا ہے- اور جو نبی کو قبول کرتے ہیں انہیں ادنیٰ حالت سے بڑا بنا دیا جاتا ہے- حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مبعوث ہوئے تو ان کی قوم نہایت ذلیل سمجھی جات یتھی- اینٹیں پاتھنے کا کام ان سے لیا جاتا تھا- لیکن حضرت موسیٰ کو مان کر وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئی- اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے- آپ کے ماننے والے بھی ادنیٰ قوموں سے تعلق رکھتے تھے- حواری اور مچھلیاں پکڑنے والے آپ کے متبع تھے- مگر خدا نے ان کو عزت دی- باقی جو بڑے بنے بیٹھے تھے` ان سب کو ذلیل و رسوا کر دیا-
    یج بھی خدا نے ایک مامور بھیجا ہے جس کے ہاتھ پر ہم سب احمدیوں نے بیعت کی ہے- یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام- الہی سلسلوں کی طرح یہ سلسلہ بھی پہلے بہت کمزور سمجھا جاتا تھا- مگر جوں جوں زمانہ گزرتا جاتا ہے سلسلہ ترقی کرتا جاتا ہے- اور اس کی عظمت لوگوں کے دلوں پر بیٹھتی جاتی ہے- ایک دفعہ کچھ حنفی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ مباحثہ کرنے کے لئے لے گئے- بٹالہ پہنچنے پر آپ نے فرمایا- پہلے میں یہ تو معلوم کر لوں کہ وہ کہتے کیا ہیں- مولوی محمد حسین صاحب نے بتایا کہ میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ قرآن کریم کی بات بہرحال مقدم ہے اور حدیث موخر- اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا- یہی ٹھیک ہے میں بھی اسے درست سمجھتا ہوں- حضرت صاحب کے اس جواب پر مباحثہ کے لئے لے جانے والے تالیاں پیٹنے لگے- مگر آپ نے ان کی تالیوں کا کچھ بھی خیال نہ کیا- اور خدا اور خدا کے رسول کے حکم کے خلاف کچھ کہنا گناہ سمجھا- جب آپ قادیان کو واپس لوٹے تو راستے میں الہام ہوا- آج تو نے میری خاطر ذلت قبول کی ہے- مگر میں تجھے عزت دوں گا اور تمام دنیا میں تیرا نام معزز کروں گا- بظاہر یہ بات معمولی نظر آتی ہے- مگر غور کیا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فعل بہت بڑی بات تھی-
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق عام لوگوں کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ آپ بھی بڑے مرزا صاحب کے بیٹے ہیں- آپ ہر وقت مسجد میں بیٹھے رہتے اور خدا کی عبادت میں مشغول رہتے- آپ کے والد افسوس کیا کرتے کہ یہ میرا بیٹا آئندہ زندگی میں بھرکا مرے گا- کیونکہ یہ تو زمیندارہ بھی نہیں کر سکے گا- مگر ان کو کیا معلوم تھا کہ یہ ایک عظیم الشان ہستی بننے والا ہے-
    اس زمانہ کے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت کرتے ہیں حالانکہ آپ نے بھی کوئی بات ایسی نہیں کہی- جو بری ہو- اس سرینگر میں فاحشہ عورتیں موجود ہیں- مولوی اور واعظ انہیں دیکھتے ہیں مگر کوئی کچھ نہیں کہتا- لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر کرو تو فوراً مخالفت کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے- نہ صرف مخالفت بلکہ سخت افروختہ ہو جائیں گے- مانا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کی ہے- اور بعض لوگوں کا عقیدہ ان کی زندگی کا ہے- مگر اس قدر افروختہ ہونے کے کیا معنی- زیادہ سے زیادہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ عقیدہ کی غلطی ہے-
    مسلمانوں کی ذلت کا ایک بہت بڑا باعث یہ بھی ہے کہ انہوں نے محمد رسول اللہ ~صل۲~ کو زمین پر مدفون مانا- اور عیسیٰ علیہ السلام کو بقید حیات آسمان پر بٹھایا- یہی عیسائی جو ہم پر حکومت کرتے ہیں- مسلمان بادشاہ ہونے کے زمانہ میں ان کی منت و سماجت پر ان کے لڑکوں کو سکولوں میں داخل کیا جاتا تھا- مگر آج یہ بادشاہ ہیں- اس کی وجہ کیا ہے- یہی کہ مسلمانوں نے حضرت محمد رسول اللہ ~صل۲~ کو زمین میں دفن کیا- خدا نے بھی انہیں ذلیل و رسوا کر دیا- حضرت عیسیٰ کو آسمان پر بٹھایا- خدا نے بھی ان کی قوم کو ان پر حاکم کر دیا- انہی عقائد کی وجہ سے مسلمان عیسائیوں سے مغلوب ہو رہے ہیں اور مسلمانوں کا ایک حصہ عیسائیت کا شکار ہو چکا ہے- ایک سادہ لوح مسلمان نہایت آسانی سے ان کے جال میں پھنس جاتا ہے- وہ آنحضرت ~صل۲~ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کر کے دکھاتے ہیں- اس طرح پر کہ ساتھ ساتھ اقرار کرواتے چلے جاتے ہیں- وہ پوچھتی ہیں بتائو بھائی دونوں نبیوں میں سے زندہ کون ہے- مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ کہنے پر مجبور ہوتا ہے اور آنحضرت ~صل۲~ کو وفات یافتہ قرار دیتا ہے- اس کے بعد وہ پوچھتے ہیں کہ آسمان پر کون ہے مردے کون زندہ کیا کرتا تھا- پرندے کون پیدا کرتا تھا- مسلمان ان سب کا جواب حضرت عیسیٰ کے متعلق اثبات میں دیتا ہے اور آنحضرت ~صل۲~ کے حق میں نفی کرتا ہے- پھر عیسائی کہتے ہیں وہ جو زندہ ہے آسمان پر ہے- مردوں کو زندہ کرتا تھا- پرندے پیدا کرتا تھا- ہم اسے مانیں اور اسے نجات دہندہ قرار دیں یا اسے جو زندہ نہیں نہ آسمان پر ہے اور نہ مردوں کو زندہ کرتا تھا نہ کوئی چیز اس نے پیدا کی- اس مقابلہ میں مسلمان کے پاس کوئی حقیقی جواب نہیں ہوتا- اور وہ مجبور ہوتا ہے کہ عیسائیت اختیار کے- عیسیٰ کی خدائی کو تسلیم کرے- کیونکہ جن باتوں کو وہ پہلے سے مانتا چلا آتا ہے عیسائی وہی باتیں اس کے سامنے رکھتے ہیں اور وہی باتیں ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کی خدائی کو مستلزم ہیں- بر خلاف اس کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت ~صل۲~ کی عزت قائم کی اور حقیقت اسلام کو لوگوں کے سامنے رکھا- باطل کی آمیزش کو دور کیا اور خدائی احکام کو دنیا میں جاری کیا- مگر لوگوں نے آپ کی مخالفت کی اور خدائی احکام کو دنیا میں جاری کیا- مگر لوگوں نے آپ کی مخالفت کی- اور ہر طرح سے مقابلہ کیا تا یہ تعلیم دنیا میں نہ پھیلے- آپ کے خلاف ہر قسم کے ذلیل و رسوا کرنے کے منصوبے کئے گئے- آپ پر مقدمات کئے گئے- جھوٹے گواہ بنا کر لے جائے گئے- مارنے کی کوشش کی گئی- قتل کے مقدمے بنائے گئے- یہی وہ زمانہ تھا جب کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے لکھا- میں مرزا صاحب کو اپنے قلم سے مٹا دوں گا- مگر خدا کی قدرت کا تماشا دیکھو خدا نے ان کے خاندان کو تباہ کر دیا- اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خاندان ترقی کر رہا ہے اور احمدیت پھیلتی جاتی ہے-
    افغانستان جہاں کہ احمدیوں پر سخت مظالم ڈھائے جاتے ہیں` ان کو مروایا جاتا ہے- اس ملک میں بھی خدا کے فضل سے احمدیت ترقی کرتی جاتی ہے-
    مولوی نعمت اللہ خان صاحب جن کو محمود طرزی وزیر امان اللہ خان سابق شاہ افغانستان کی چھٹی پر کہ اپنا مبلغ بھیجو` افغانستان میں بطور مبلغ بھیجا تھا- لیکن جب انہوں نے لوگوں کے سامنے احمدیت کو پیش کیا تو ان کے خلاف وہاں کے علماء نے فتاویٰ کفر لگائے- اور انہیں واجب القتل قرار دیا اور انہیں تکلیفوں میں ڈال کر سنگسار کر دیا- انہیں ذلیل کرنے کی غرض سے بازاروں میں پھیرایا گیا- غرضکہ ہر نوع کی تکلیف انہیں پہنچائی گئی- مگر انہوں نے احمدیت کو نہ چھوڑا ایک انگریز مصنف جو ان دنوں وہاں موجود تھا- اور اس نے سنگساری کا واقعہ دیکھا تھا- وہ لکھتا ہے کہ جب مولوی نعت اللہ خان صاحب کو گاڑا گیا اور پتھر پڑنے شروع ہوئے تو وہ یہی کہتے تھے- میں نے حق کو قبول کیا ہے` میں اسے نہیں چھوڑ سکتا- آپ مجھے مار دیں میں تو آپ کے حق میں دعا ہی کروں گا- باوجود ایسے خطرناک مظالم کے پھر بھی اس ملک میں جماعت ترقی کر رہی ہے- اب جب کہ امیر امان اللہ خان اپنے ملک کو چھوڑ کر روما )اٹلی( میں پہنچ چکے ہیں ان کے ایک وزیر کی چھٹی میرے نام سیلون سے آئی ہے کہ میں جب افغانستان میں تھا تو احمدیت کی تبلیغ کیا کرتا تھا- اب ولایت جا رہا ہوں` واپسی پر افغانستان میں آ کر پھر تبلیغ کروں گا-
    خدا کی گرفت سے بڑھ کر کسی کی گرفت نہیں ہو سکتی- امان اللہ خان کے ان بے جا مظالم پر خدا کی گرفت ہوئی- اس نے لڑک کر ملک کو انگریزوں سے آزاد کرایا تھا- اس وجہ سے قوم اس کی بہت ممنون تھی اور اس کی بہت عزت کرتی تھی- مگر یکدفعہ حالات بدلے اور وہ عزت جو اسے حاصل تھی- ذلت کے رنگ میں بدل گئی اور اب جس حال میں امان اللہ خان ہیں وہ دنیا سے پوشیدہ نہیں- غرضیکہ احمدیت ہر ملک میں پھیلتی جاتی ہے- اس علاقہ میں بھی احمدیت پھیلی ہے- یاڑی پورہ` گنج پورہ` آسنور` رشی نگر` بنڈہ پور وغیرہ دیہات میں ہزاروں احمدی ہیں- مگر باقی علاقوں کی نسبت کم ہیں- اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ملک میں تعلیم کم ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو یہاں نہیں آئے- یہاں حق کی آواز پہنچی اور لوگوں نے قبول کی- پھر وہ مرکز میں پہنچے اور صداقت کو معلوم کیا- اور اس پر قائم ہو گئے اور واپس آ کر دوسرے لوگوں تک اس صداقت کو پہنچایا اور اس طرح صداقت پھیلتی گئی-
    یاد رکھو- خدا کی طرف سے آنے والا برکات کے ساتھ آتا ہے- گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام شریعت کی نئی کتاب نہیں لائے اور نہ نیا کلمہ جاری کیا ہے- وہی نمازیں ہیں` وہی روزے ہیں جن کا رسول کریم ~صل۲~ نے حکم دیا تھا- مگر آپ کے ساتھ برکات کا نزول ہوا- جن سے بہتوں کو فائدہ ہوا- کشمیر کی جماعتوں کے متعلق جب میں غور کرتا ہوں تو افسوس آتا ہے کہ انہوں نے نمایاں ترقی نہیں کی- جس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انہوں نے تبلیغ کو چھوڑ دیا ہے- میں سمجھتا ہوں کوئی شخص سری نگر جائے اور اس سے راجہ صاحب مصافحہ کریں تو وہ ہر جگہ اس کا ذکر کرے گا- لیکن جب خدا تعالیٰ کے نائب نے دنیا کو آواز دی اور تم لوگوں نے اس پر لبیک کہا اور اس کے سلسلہ میں داخل ہوئے جسے خدا دنیا میں عزت دینا چاہئے ہے- تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم حق کی آواز دوسروں تک نہیں پہنچاتے- افسوس ہے کہ یہاں کی جماعتوں نے اس کی پوری قدر نہ کی- آج نہیں تو آنے والی نسلیں تمہارے کپڑوں تک سے برکت حاصل کریں گی- جیسے رسول کریم ~صل۲~ کے بعد آپ کے پیروں سے لوگ برکات حاصل کرتے رہے-
    حضرت ابو ذر غفاری کا قصہ حدیث میں آتا ہے جب انہوں نے آنحضرت ~صل۲~ کی نسبت سنا- تو وہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے- اور آپ کی تعلیم کو سن کر اسلام میں داخل ہو گئے- چونکہ آپ کا قبیلہ سخت مخالف تھا- اس لئے آنحضرت ~صل۲~ سے اپنے اسلام کے مخفی رکھنے کی اجازت چاہی- آپ نے اجازت دے دی- اس کے بعد کچھ دن وہ حضور کی صحبت میں رہے اور اس قدر اسلام کی محبت ان کے اندر موجزن ہوئی کہ وہ سرداران مکہ کے سامنے جا کر بلند آواز سے کہنے لگے-اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھدان محمد رسول اللہ اس پر انہیں اس قدر زود کوب کیا گیا کہ وہ بے ہوش گئے- حضرت عباس جو ابھی اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے وہاں سے گذرے اور انہیں یہ کہہ کر چھڑایا کہ جانتے ہو کہ یہ شخص کون ہے؟ غفار قبیلہ کا ہے اور اگر وہ تمہارے مخالف ہوگئے تو تمہاری ساری تجارت بند ہو جائے گی- اور کوئی چیز تمہارے پاس نہیں پہنچ سکے گی- اس دن تو وہ چھوٹ گئے لیکن دوسرے دن پھر اسی طرح کیا اور پھر مار کھائی- پہلے تو وہ اپنے قبیلہ میں جا کر اپنے اسلام کے مخفی رکھنے کی اجازت چاہتے تھے- مگر ایمان نے ایسا جوش مارا کہ انہوں نے مکہ ہی میں اشاعت اسلام شروع کر دی-
    ہماری کشمیر کی جماعتیں تبلیغ کے معاملہ میں بہت سست نظر آتی ہیں- اس دفعہ بھی اور پہلے بھی جب کبھی میں یہاں آیا یہی دیکھا- یہ عذر درست نہیں کہ ہم ان پڑھ ہیں- ہماری جماعت میں بہت سے ایسے ان پڑھ ہیں جو ایک حرف بھی نہیں جانتے- مگر احمدیت کے لئے ایسا جوش رکھتے ہیں کہ سینکڑوں لوگ ان کے ذریعہ احمدیت میں داخل ہو چکے ہیں- احمدیت کی سچائی کی یہ بھی ایک زبردست دلیل ہے کہ کوئی زمانہ تھا جب مسلمان کہلانے والے عیسائی ہوتی تھے- لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ظہور ہوا تو عیسائی اور انگریز لوگ مسلمان ہونے لگے گویا پہلے اگر شیر بکری کو کھاتے تھے تو اب بکری شیروں کو کھانے لگی- اور یہ سب کچھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے ہوا- ولایت میں انگریز مسلمان ہو رہے ہیں- امریکہ میں امریکن لوگ اسلام قبول کرتے جاتے ہیں- یہ لوگ تھے جو آنحضرت ~صل۲~ کو گالیاں دیا کرتے تھے- مگر اب اسلام قبول کر کے آنحضرت ~صل۲~ پر درود بھیجتے ہیں- عیسائی پادریوں کو نوٹس دیا گیا ہے کہ وہ احمدیوں سے بات چیت نہ کریں- پادری زویمر جو کسی زمانہ میں مصر میں رہتا تھا- اس نے ایک شخص سے سوال کیا جس کا وہ جواب نہ دے سکا- اتفاقا وہ شخص ہمارے ایک طالب علم سے ملا جو مصر میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے گئے ہوئے تھے اور جو آج کل مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر ہیں- انہوں نے اس شخص کو سوال کا جواب سمجھایا اور کہا یہ جواب پادری کے سامنے پیش کرنا- چنانچہ وہ شخص پادری زویمر کے پاس گیا اور اسے جواب سنایا- پادری صاحب گھبرا کر کہنے لگے کیا تم کسی قادیانی سے تو مل کر نہیں آئے` اب یہاں نہ آنا- غرضیکہ یہ لوگ اب احمدیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے-
    پس احمدیت کی اشاعت بزدلی سے نہ کرو` بلکہ جرات اور بہادری سے کرو- یہ مطلب نہیں کہ گورنمنٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کرنی شروع کر دو- بلکہ یہ ہے کہ گورنمنٹ سے مل کر کام کیا جائے- ہم پنجاب میں رہتے ہیں- وہاں گورنمنٹ سے ملکر کام کرتے ہیں مگر ڈرتے نہیں- اگر ہماری جماعت دوسروں پر ظاہر کر دے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک خزانہ ہے- تو پھر کون ہے جو انکار کرے اور خزانہ کو رد کر دے-
    میں پھر کہتا ہوں کہ یہ سوال ہی غلط ہے کہ ہم ان پڑھ ہیں- آنحضرت ~صل۲~ امی تھے- مگر سب دنیا کو آپ نے تعلیم دی- پس خدا کا فضل حاصل کرو` پھر سب کچھ پا لو گے- نیکی اور تقویٰ میں ترقی کرو- پھر کسی کتاب کے پڑھنے کی ضرورت نہیں- اصل چیز خدا کی محبت ہے` اسے پیدا کرو- پڑھائی صرف >سونے پر سہاگہ< کا کام دیتی ہے- اگر کتابی علم سے کچھ بنتا- تو پھر اسلام نہ پھیلتا- کیونکہ آنحضرت ~صل۲~ امی تھے- عرب لوگ امی تھے- مگر دیکھو ان امیوں نے کس طرح اسلام پھیلایا- پہلے بزرگ مختلف پیشے اختیار کر کے اسلام کو پھیلایا کرتے تھے- وہ امی تھے- اپنا کام کرتے تھے- مگر خدا کی محبت ان میں موجزن تھی- اس لئے وہ اسلام کی راہ میں تکلیف اٹھا کر بھی اسلام پھیلاتے تھے- پس کوشش کرو کہ حق دنیا میں پھیل جائے اور اس وقت تک آرام نہ کرو جب تک حق تمام دنیا تک نہ پہنچ جائے- اپنے نفوس میں اصلاح کرو اور اپنی حالت درست کرو- اللہ تعالیٰ آپ لوگوں پر اپنے فضل نازل کرے گا- اور لوگوں کے قلوب میں الہام کرے گا تا کہ وہ آپ کی مدد کریں اور ہاتھ بٹائیں-
    اللہ تعالیٰ کے فضل سے آسنور کے علاقہ کے کچھ طلباء قادیان تعلیم حاصل کرنے کے لئے گئے ہوئے ہیں- ایک ان میں سے فارغ التحصیل ہونے والا ہے- ارادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے اس علاقہ میں مقرر کیا جائے- اس کے بعد اور طالب علم جوں جوں تیار ہوتے جائیں` انہیں اس علاقہ میں تبلیغ کے کام پر لگایا جائے- تا کہ وہ اپنے علاقہ کو سنبھالیں- مگر قبل اس کے کہ ایسا ہو آپ لوگوں کو اپنس سستیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنا چاہئے- آج ہی مجھ سے شکایت کی گئی ہے کہ عام طور پر لوگ چندہ نہیں دیتے- میں نے کہا- چندہ لینے والے بھی آپ لوگ ہیں اور دینے والے بھی آپ ہی- ہم اس بارے میں کیا کر سکتے ہیں- جب تک کسی کو دین کے لئے خرچ کرنے کا خود شوق نہ ہو` دوسرے کیا کر سکتے ہیں- ہاں یہ سیدھی اور پکی بات ہے کہ جب کوئی جماعت بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہوتی ہے تو اسے بیرونی مدد بھی حاصل ہو جاتی ہے-
    ایسے تمام علاقے جن کی زبان علیحدہ ہے مگر ہندوستان کا ہی حصہ ہیں ان کے متعلق یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان کے چندہ کا ایک حصہ انہیں کے علاقہ میں خرچ کیا جائے- گذشتہ مجلس مشاورت میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ایسے علاقوں کا چندہ ۲۵ فیصدی انہی میں خرچ کیا جائے- باقی مرکز میں بھیجا جائے- اور جو دوسرے ممالک ہیں وہاں کا ۵۷ فیصدی چندہ وہیں خرچ ہو اور ۲۵ فیصدی مرکز میں بھیجا جائے- مرکز میں چندہ بھیجنے کی اس لئے ضرورت ہے کہ وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قائم کردہ لنگر خانہ ہے- دفاتر ہیں جو ساری جماعت کے انتظامی امور سرانجام دیتے ہیں- ان کے اخراجات کے لئے چندہ کی ضرورت ہے-
    اس علاقہ کی جماعتیں اگر باقاعدہ چندہ دیں تو اس میں سے ۲۵ فیصدی یہاں خرچ کیا جا سکتا ہے- جس سے کئی مدرسے چل سکتے ہیں اور مبلغ رکھے جا سکتے ہیں- پھر ہر احمدی کو تبلیغ میں حصہ لینا چاہئے- پنجاب میں احمدیت اسی طرح پھیلی کہ سینکڑوں آدمی اس کے لئے کوشش کر رہے ہیں اور ۸۰ فیصدی چندہ پنجاب کا ہوتا ہے جس سے کئی کام کرنے والے مقرر کئے جاتے ہیں- اسی طرح کشمیر میں بھی ہو سکتا ہے- موجودہ جماعت تبلیغی اخراجات برداشت کرے اور جوں جوں جماعت بڑھتی جائے` آمد بھی بڑھتی جائے جس سے کئی مبلغ رکھے جائیں اور کئی مدرسے بنائے جا سکیں- مگر پہلے انہی لوگوں کو سارا بوجھ اٹھانا چاہئے جو اس وقت احمدیت میں داخل ہیں- میں جماعت کے لوگوں کو اس طرف خاص طور پر توجہ دلانا چاہتا ہوں خواہ کوئی تاجر ہو` یا واعظ` زمیندار ہو` یا گورنمنٹ کا ملازم- خواہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا- ہر ایک کو سب سے اول اپنے نفس کی اصلاح کرنی چاہئے اور لوگوں کے سامنے اپنا ایسا نمونہ پیش کرنا چاہئے کہ جو کوئی دیکھے` پکار اٹھے- خدا رسیدہ لوگ ایسے ہوتے ہیں- اگر ایسی حالت ہو جائے تو پھر دیکھ لو احمدیت کی ترقی کے لئے کس طرح رستہ کھل جاتا ہے اور کتنی جلدی ترقی ہوتی ہے- لیکن یہ حالت نہ ہو تو خواہ کوئی مبلغ آئے یا میں خود ہی آئوں جسے خدا تعالیٰ نے خلافت کے مقام پر کھڑا کیا ہے اور وعظ کرو- تو لوگ یہی کہیں گے جب احمدیوں میں کوئی تغیر نہیں نظر آتا تو ہم کیوں احمدی بنیں- پس اپنے اخلاق درست کرو- اپنے معاملات درست کرو- اپنے تعلقات درست کرو- اور لوگوں پر ثابت کر دو کہ ان کی سچی ہمدردی اور خیر خواہی آپ کے دل میں ہے- میں بخار کی حالت میں تھا اور آج ہی مجھے واپس سری نگر جانا ہے چونکہ معلوم ہوا تھا کہ لوگ یہاں جمع ہیں` اس لئے آ گیا ہوں- میرے گھر سے بھی بیمار ہیں اس لئے میرا واپس جانا ضروری ہے- میں آپ لوگوں کو یہی نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے فرائض اچھی طرح ادا کرنے کی کوشش کریں- عبادات باقاعدہ ادا کریں- چندہ وغیرہ میں اچھی طرح حصہ لیں اور تبلیغ میں سرگرم رہیں-
    خدا تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ آپ لوگوں کی ضرورتیں پوری کر سکیں- اور آپ لوگوں کو پورے جوش سے کام کرنے کی ہمت عطا کرے اور دوسرے لوگوں کو حق قبول کرنے کی توفیق بخشے- جو لوگ اس سچائی کو قبول نہیں کرتے` وہ اسلام کے غلبہ میں روک ہیں- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو جماعت قائم کی ہے- وہ اسلام کی حفاظت کرنے والی فوج ہے- جو اس فوج میں شامل نہیں ہوتا- وہ اسلام کی شکست کا باعث بنتا ہے- خدا تعالیٰ لوگوں کو سمجھ دے تا کہ وہ اس فوج میں داخل ہوں اور اسلام دنیا میں کامیاب ہو- اور ساری دنیا میں پھیل جائے- )الفضل ۱۲-نومبر ۱۹۲۹ء(
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    ‏]82 [pخدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھوالناصر
    حضرت امام جماعت احمدیہ کا مکتوب
    مسئلہ ذبیحہ گائے کے متعلق بنام ہندو` سکھ اور مسلم لیڈر صاحبان
    آپ کو قادیان کے مذبح کے متعلق ناگوار حالات اخبارات کے ذریعہ معلوم ہو چکے ہوں گے- چونکہ یہ معاملہ اب بہت اہمیت اختیار کرتا جاتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ اس بارہ میں میری مزید خاموشی سلسلہ احمدیہ کے مفاد کے بھی خلاف ہے اور ملک کے امن کی بربادی کا بھی موجب ہے- اس لئے پیشتر اس کے کہ میں کوئی ایسی راہ اختیار کروں جو احمدیہ سلسلہ کے وقار اور مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے ضروری ہو- اور ملک سے کی روح کو دور کر کے حقیقی امن کی بنیاد رکھنے والی ہو- میں نے مناسب سمجھا- کہ میں ان سکھ` ہندو اور مسلمان لیڈروں اور بارسوخ افراد کو جو اس معاملہ سے دلچسپی رکھتے ہیں- ذاتی طور پر مخاطب کر کے ان کی رائے معلوم کر لوں- تاکہ اگر کوئی ایسی راہ نکل سکے جس سے بغیر ایسے ذرائع کے اختیار کرنے کے جو مختلف اقوام کے لئے تکلیف دہ ہوں- مسلمانوں کو ان کے حقوق بھی مل سکیں اور دوسری اقوام کے لئے بھی کسی ناواجب تکلیف کی صورت پیدا نہ ہو- مذبح کے خلاف جن جن اخبارات نے لکھا ہے مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کا اکثر حصہ راستی سے دور اور مبالغہ بلکہ خلاف بیانی سے پر ہے- اصل واقعات یہ ہیں-:
    قادیان میرے آباء واجداد کا بنایا ہوا قصبہ ہے اور اس کا اصل نام اسلام پور تھا- جس کے آخر میں قاضی کا لفظ اس وجہ سے زائد کیا جاتا تھا تا یہ ظاہر کیا جائے کہ مغلیہ حکومت کی طرف سے ایک قاضی اس علاقہ کی نگرانی کے لئے رہتا ہے- لیکن مرور زمانہ سے یہ نام صرف قاضی اور پھر قاضی سے قادی اور قادی سے قادیان بن گیا- میرے آباء واجداد تین سو سال تک اس پر اور اس کے علاقہ پر پہلے تو مغلیہ حکومت کی طرف سے اور بعد میں طوائف الملوکی کے زمانہ میں آزادانہ طور پر حکومت کرتے رہے ہیں- چنانچہ پرانی روایات اور سرلیپل گریفن کی کتاب رئوسائے پنجاب اس امر پر شاہد ہیں- مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب کی حکومت سے پہلے ہمارے خاندان کی حکومت کے خلاف سکھ قبائل نے حملہ کیا- اور آہستہ آہستہ ان کے مقبوضات سے جو اسی دیہات پر مشتمل تھے` ان کو بے دخل کرتے گئے- یہاں تک کہ صرف قادیان ان کے قبضہ میں رہ گیا- اسی سے بھی ان کو بے دخل کرنے کے لئے سکھ قبائل پاس کے قصبات میں ایک نیم دائرہ کی صورت میں آباد ہو گئے اور آخر میرے دادا کے والد کے زمانے میں میرے آباء کو قادیان چھوڑنا پڑا- لیکن مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں قبائل کا زور ٹوٹنے پر میرے دادا صاحب پھر قادیان میں واپس آ گئے- اور قادیان اور اس کے محلقہ سات دیہات پر انہیں دخل مل گیا- اس کے بعد انگریزی حکومت اس ملک میں آئی- تو برخلاف فوج کے دوسرے افسروں کے میرے دادا صاحب نے انگریزی حکومت سے خفیہ سازباز نہ کیا` اور غالباً اسی وجہ سے ان کے مقبوضہ علاقہ کو گورنمنٹ نے ضبط کر لیا- اور لمبے مقدمات کے بعد قادیان کی ملکیت اور اس کے پاس کے تین گائوں کی ملکیت اعلیٰ ہمارے خاندان کو ملی- میری غرض اس تمہید سے یہ ہے کہ قادیان اور اس کے پاس کے اکثر گائوں اسلامی زمانہ کے آباد شدہ ہیں- اور مسلمانوں کے ہاتھ سے ان کی بناء پڑی ہے- پس ان کے ساتھ کوئی ہندو روایات وابستہ نہیں ہیں- وہ شروع سے اسلامی روایات کے پابند رہے ہیں- اور سوائے سکھوں کی حکومت کے چالیس پچاس سالہ عرصہ کے وہ کبھی بھی اسلامی حقوق کی بجاآوری سے محروم نہیں ہوئے- اس وقت بھی قادیان کی زرعی زمین کے مالک صرف میں اور میرے بھائی ہیں- اور محض تھوڑی سی زمین بعض احمدی احباب کے قبضہ میں ہے- جنہوں نے وہ زمین ہم ہی سے بغرض آبادی حاصل کی ہے- ہندو اور سکھ صرف بطور مزارعان یا غیر مالکان آباد ہیں- اور وہ بھی نہایت قلیل تعداد میں یعنی بمشکل کل آبادی کا قریباً ساتواں حصہ-
    باوجود ان حالات کے اول میرے دادا صاحب نے اور بعد میں میرے والد صاحب بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے اور ان کے بعد میں نے قادیان میں گائے کے ذبیحہ کو محض اس وجہ سے روکے رکھا کہ اس وقت تک اس کی اقتصادی طور پر زیادہ ضرورت نہیں معلوم ہوتی تھی- اور ہم پسند نہیں کرتے تھے کہ خواہ مخواہ ہماری ہمسایہ اقوام کا دل دکھایا جائے-
    قادیان کے کئی ہندو اس امر کی شہادت دے سکتے ہیں کہ چند سال ہوئے کہ جب بعض لوگوں نے قادیان کے ملحقہ گائوں سے مذبح کی درخواست دی تو میں نے حکام کو کہلا کر مذبح کو رکوا دیا اور ایک معزز ہندو صاحب کی تحریر بھی اس بارہ میں میرے پاس موجود ہے جو بوقت ضرورت پیش کی جا سکتی ہے- علاوہ ازیں اس امر کا ثبوت کہ اپنے ہمسایوں کے احساسات کا میں نے پورا خیال رکھا ہے` یہ بھی ہے کہ جس حد تک قانون گائے ذبح کرنے کو جائز قرادر دیتا ہے` میں اس سے بھی جماعت کو برابر روکتا رہا ہوں- بلکہ بعض لوگوں کو تو یہ معلوم ہونے پر کہ انہوں نے اس معاملہ میں فتنہ کا طریق اختیار کیا ہے` میں نے چھ چھ ماہ یا سال سال کے لئے قادیان سے نکال دیا-
    غرض جب تک کہ اقتصادی ضرورت انتہا کو نہیں پہنچ گئی` میں نے اپنے ہمسایوں کے احساسات کو اپنی جماعت کے مالی نقصان پر مقدم رکھا- اور زور سے انہیں ان کے حق کے استعمال سے باز رکھا- لیکن قادیان کی آبادی بوجہ احمدی جماعت کا مرکز ہونے کے اس سرعت سے بڑھ رہی ہے کہ بہت کم شہروں میں جو اس حیثیت کے ہوں- اس کی مثال ملتی ہے- اس بڑھتی ہوئی آبادی کا اثر طبعی طور پر قادیان اور اس کے گردو نواح پر پڑنا تھا اور پڑا- اور لوگوں میں یہ مطالبہ بڑھتا گیا کہ کثیر التعداد آبادی کو قلیل التعداد جماعت کے احساسات کی خاطر آپ مالی نقصان کیوں پہنچاتے ہیں- آبادی کی زیادتی کے ساتھ ساتھ جب میں نے دیکھا کہ ملک کی عام مالی حالت کی خرابی کی وجہ سے ان کے خورد و نوش کے سامانوں کا مہیا ہونا بھی مشکل ہو رہا ہے اور لوگ نہایت تنگ حال ہو رہے ہیں تو لوگوں کے بار بار اصرار پر اور یہ دیکھ کر کہ سکھ لوگ جھٹکہ کی دکان کھولنے کی تجویزیں کر رہے ہیں` میں نے اجازت دے دی کہ اگر کوئی شخص چاہے تو مذبح کے لئے درخواست دے سکتا ہے- لیکن میں نے اپنا آخری فیصلہ آئندہ پر ملتوی رکھا-
    اس کے بعد میں چند روز کے لئے لاہور گیا- اور اپنے برادر نسبتی عزیزم لفٹینٹ خلیفہ تقی الدین احمد- آئی- ایم- ایس کے مکان پر مقیم تھا کہ رات کے گیارہ بجے قادیان کے سات ہندئووں کا ایک وفد میرے پاس آیا اور مجھ سے شکایت کی کہ قادیان میں مذبح کھلنے والا ہے` میں اس کا تدارک کروں- اس وفد کے رئیس پنڈت دولت رام ممبر میونسپل کمیٹی قادیان تھے- میں نے ان سے کہا کہ ایک طرف لوگ اپنی مشکلات کا رونا رو رہے ہیں` دوسری طرف سکھوں نے جھٹکہ کا کام شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے- ان حالات میں میں قادیان جا کر اور فریقین کے حالات سن کر ہی فیصلہ کر سکتا ہوں- اور انہیں تسلی دلائی کہ جس حد تک ممکن ہوگا` میں ایسی صورت اختیار کروں تا کہ طرفین کی ضرورت اور احساسات کا لحاظ رکھا جائے- پس وہ قادیان جانے پر مجھ سے ملیں- میں دوسرے ہی دن قادیان کو روانہ ہو گیا- اور وہاں پہنچے پر ہندو صاحبان کا ایک بڑا وفد میرے پاس اسی غرض کے لئے آیا- میں نے انہیں سمجھایا کہ سکھوں نے جھٹکہ کا سوال چھیڑ کر میری پوزیشن نازک کر دی ہے- کیونکہ ذبیحہ گائے کا روکنا احساسات کے احترام پر منبی ہے- اور مسلمانوں میں یہ شکایت پیدا ہو چکی ہے کہ جب دوسرا فریق ہمارے احساسات کا خیال نہیں رکھتا تو ہمیں اس کے احساسات کے لئے اس قدر بڑی قربانی پر کیوں مجبور کیا جاتا ہے- اس لئے پہلے مجھے سکھوں سے اور اپنی جماعت کے علاوہ دوسرے مسلمانوں سے بات کرنے کا موقعہ دیں- اس پر وہ لوگ چلے گئے-
    دوسرے دن ایک آریہ صاحب ایک پاس کے گائوں کے میری جھتے دار اور ایک سکھ ڈاکٹر کو لے کر میرے پاس آ گئے اور کہا کہ آپ سکھوں سے بات کرنا چاہتے ہیں` سو یہ لوگ آ گئے ہیں- میں نے انہیں جواب دیا کہ میں نے تو یہ کہا تھا کہ میں خود قادیان کے سکھوں کو بلوائوں گا- آپ صرف ایک قادیان کے آدمی اور ایک جھتے دار کو لے کر آگئے ہیں- مگر بہر حال میں ان کی بات سننے کو تیار ہوں- ان لوگوں نے مجھ سے سوال کیا کہ جب پہلے گائے کے ذبیحہ سے آپ روکتے تھے تو اب آپ نے مذبح کی درخواست کی کیوں اجازت دے دی ہے- میں نے انہیں بتایا کہ آپ لوگوں کا سوال بھی اس امر کو ثابت کر رہا ہے کہ موجودہ درخواست کسی دشمنی یا دل کے دکھانے کی غرض سے نہیں ہے- کیونکہ جب میں پہلے آپ کے احساسات کا خیال رکھتا رہا ہوں تو اب کیوں بلاوجہ ان کو صدمہ پہنچائوں گا- ہاں اگر آپ وجہ معلوم کرنا چاہتے ہیں- تو وہ یہ ہے کہ ایک تو لوگوں کی اقتصادی حالت اور بڑھتی ہوئی مسلمان آبادی نے حالات بدل دئے ہیں- اور دوسرے جھٹک کے سوال کے پیدا ہونے کے سبب سے میں دیانت دارانہ طور پر اس قدر زور نہیں دے سکتا- جس قدر کہ پہلے دے سکتا تھا- ہاں میں نے ان کو یہ بھی کہا کہ میرے نزدیک جھٹکہ پر مسلمانوں کا اعتراض بھی ویسا ہی فضول ہے جیسے گائے کے ذبیحہ پر ہندوئوں کا- لیکن سمجھوتہ کراتے وقت یہ سوال نہیں ہوتا کہ مطالبہ معقول ہے یا نہیں- بلکہ لوگوں کے احساسات کا جو غلط ہوں یا صحیح- لحاظ رکھنا پڑتا ہے- گو مجھے جھٹکہ پر کوئی اعتراض نہیں- لیکن چونکہ اب دوسرے مسلمانوں کے احساسات کا بھی سوال آگیا ہے جن کو جھٹکہ پر اعتراض ہے- اور پھر چونکہ میں جج نہیں بلکہ ایک سمجھوتہ کرانے والے کی حیثیت رکھتا ہوں- میرا فرض ہے کہ طرفین کے احساسات کا یکساں خیال رکھوں-
    اس گفتگو کے دوران میں جتھ دار صاحب نے مجھے دھمکی دی- کہ اگر گائوکشی کی اجازت ہوئی تو آپ یاد رکھیں کہ فساد ہو جائے گا اور اس دھمکی کے جواب میں میری شرافت کا صرف ایک ہی تقاضا تھا کہ میں انہیں یہ کہتا کہ اگر آپ فساد سے ڈرا کر اس امر کو روکنا چاہتے ہیں تو ہرگز اسے نہیں روگوں گا- اور یہی میں نے ان کو جواب دیا-
    چونکہ میں نے دیکھا کہ سکھ صاحبان میرے لئے ایسا موقعہ مہیا کرنے پر تیار نہ تھے کہ میں دوسرے فریق پر زور دے کر اگر ان کو کلی طور پر نہ روک سکوں` کم از کم ایک ایسا سمجھوتہ کرا دوں- جس سے فریقین کی کم سے کم دل آزاری ہو- اس لئے میں نے مسلمانوں کو بلوا کر ان سے مشورہ کرنا ضروری نہ سمھجا- اور اس امر کا منتظر رہا کہ ہندو صاحبان کا نمائندہ جب انہیں جا کر اطلاع دے گا- اور وہ مجھ سے آکر ملیں گے تو اس وقت آئندہ طریق عمل پر غور کروں گا- لیکن وہ لوگ پھر میرے پاس نہ آئے- اور میں نے سنا ہے- واللہ اعلم درست ہے یا نہیں کہ آپس میں یہ مشورہ ہوا کہ جھٹکہ کو چلنے دو- گائے کا سوال خود زور سے طے کر لیں گے- اس طرح یہ دونوں سوال چلتے رہے میرے کہنے پر مسلمانوں کی طرف سے جھٹکہ پر کوئی اعتراض نہ ہوا- اور برسر بازار جھٹکہ کی دوکان کھل گئی- اور مذبح اس طرف بنایا گیا جس طرف کہ مسلمان گائوں ہیں- اور اس کی فروخت کے لئے ایسے محلہ میں دوکان کھلوائی گئی جس کی ۱۰۰ فیصد آبادی مسلمان ہے-
    میں نے دوران ملاقات میں ہندو صاحبان اور سکھ صاحبان کو بھی کہہ دیا تھا- اور اب بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میرے نزدیک ملک میں امن اسی اصل پر کار بند ہونے سے ہوگا کہ ہر قوم دوسری قوم کے معاملات میں دخل دینے سے اجتناب کرے- مسلمانوں کو ان کی مرغوب چیزوں کے استعمال کرنے کی پوری آزادی ہو- اور ہندوئوں اور سکھوں کو ان کی مرغوب چیزوں کے استعمال کی- ہاں بغیر آزادی کو محدود کرنے کے دوسرے کے احساسات کا جس قدر خیال رکھنا ممکن ہو- رکھا جائے- جب تک ہندو مسلمان اور سکھ اس اصل کی پانبدی نہیں کریں گے- کبھی امن نہیں ہوگا اور کبھی نہیں ہوگا-
    اب میں پھر واقعات کی طرف آتا ہوں- حکام ضلح کی منظوری کے بعد مذبح قائم ہو گیا- اور جب کہ میں کشمیر آیا ہوا تھا- میرے پیچھے ہی اس میں ذبیحہ بھی شروع ہو گیا- اس پر جیسا کہ مجھے باقاعدہ رپورٹوں سے معلوم ہوا ہے` قادیان سے بعض ہندو جو شروع سے ہی مذبح کے خلاف آس پاس کے گائوں میں سکھوں اور ہندوئوں کو اکسا رہے تھے- انہوں نے خوب لوگوں کو جوش دلایا- اور آخر سات اگست ۱۹۲۹ء کو سکھوں اور ہندوئوں کی ایک بڑی تعداد نے پولیس کی موجودگی میں مذبح گرا دیا- اور انیٹوں تک کے ٹکڑے کر دے- احمدیہ جماعت موقعہ پر مقابلہ سے مجتنب رہی- ورنہ اپنی طاقت اور قوت کے لحاظ سے اور قریب کے دیہات کی مزید مدد کے ساتھ وہ اس قابل تھی کہ حملہ آوروں کو ایسا تلخ جواب دیتی کہ انہیں مدتوں تک یاد رہتا مگر انہوں نے امن پسندی کو اور قانون کے احترام کو اپنے جوش پر مقدم کیا-
    لیکن افسوس ہے کہ اس امن پسندی کا جواب عام طور پر ہندو اخباروں کی طرف سے نہایت ہی قابل شرم ملا ہے- انہوں نے بجائے اس کے کہ اپنے ہم مذہبوں کے ناجائز رویہ پر اظہار افسوس کرتے- خلاف بیانی اور مغالطہ دہی سے ان کی تائید کرنی شروع کی- اور انہیں اور بھی اکسایا- اور بجائے اس کے کہ انہیں ملامت کرتے` ان کی اور بھی پیٹھ ٹھونکی- اور اس قدر شور برپا کیا کہ اس سے متاثر ہو کر گورنمنٹ کے بعض افسر بھی ڈر گئے- اور انہوں نے سخت قابل اعتراض رویہ اختیار کیا-
    بعض سکھ لیڈروں کا قابل تعریف رویہ
    لیکن اس کے مقابلہ میں سکھوں کے بعض لیڈروں اور ان کے بعض اخبارات نے نہایت قابل تعریف رویہ اختیار کیا` اور فساد سے پہلے بھی سکوں کو اس میں شمولیت سے روکا- اور بعد میں بھی ان لوگوں کے فعل کو جنہوں نے مذبح گرایا تھا- ناپسند گیا-
    اس وقت کمشنر صاحب کے سامنے اپیل پیش ہے- اور میں نہیں جانتا کہ وہ کیا فیصلہ کریں- لیکن ان کا موجودہ رویہ بہت ہی قابل اعتراض ہے- مگر اس وقت سوال ان کے فیصلہ کا نہیں ہے- کیونکہ جو ہمارا حق ہے ہم اسے آج نہیں تو کل لے کر رہیں گے- سوال یہ ہے کہ اس فتنہ کا اثر ہندوستان کی دو نہیں تین قوموں پر جنہوں نے چند سال کے لئے نہیں` ہمیشہ ہندوستان میں رہنا ہے` کیا پڑے گا؟
    میں بتا چکا ہوں کہ میں مدتوں تک مذبح کے خلاف رہا ہوں- نہ اس وجہ سے کہ میں مسلمانوں کا اس بارہ میں حق نہیں سمجھتا- بلکہ اس وجہ سے کہ میرے نزدیک باوجود قانونی اور عقلی حق کے جہاں تک ہو سکے` اپنے ہمسایہ کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے- مگر میرے نزدیک ہمسایہ کا بھی فرض ہے کہ وہ اس امر کا خیال رکھے کہ قربانی کرنا صرف دوسرے پر ہی واجب نہیں- اس کا بھی فرض ہے کہ جس کسی دوسرے کو حقیقی اور مادی نقصان پہنچ رہا ہو- وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھے اور سمجھے کہ اس کا مذہب صرف اس کے اعمال پر حکومت کر سکتا ہے- دوسرے مذہب کے پیروئوں پر اس کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے-
    غرض گو میں اس وقت تک کہ اقتصادی حالت نے مجبور نہیں کر دیا مذبح کے خلاف رہا ہوں- لیکن اب جب کہ اس طرح ظالمانہ طور پر اور امن عامہ کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے قادیان اور اس کے نواحی علاقہ کے سکھوں اور ہندوئوں نے مذبح گرا دیا ہے- ذبیحہ گائے کا سوال ایک نئی صورت میں میرے سامنے آیا ہے- اس واقعہ نے مجھ پر روشن کر دیا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہی اصل قانون ہے- اور اس کے بغیر اور کسی قانون کی حرمت ان کی نگاہ میں نہیں ہے- اس تلخ حقیقت کو اس امر نے اور بھی نمایاں کر دیا ہے کہ مہابیر دل نام کی ایک سوسائٹی کی طرف سے یہ اعلان ہوا ہے کہ اگر ذبیحہ گائے کی اجازت مل گئی تو اس کے ممبر دوبارہ بھی جبر اور تعدی سے اس کام کو روکنے سے باز نہیں رہیں گے-
    میرے نزدیک موجودہ حالات نے مسلمانوں کو پہلے سے بھی زیادہ مجبور کر دیا ہے- کہ وہ گائے کے ذبح کرنے کے حق کو استعمال کریں- اور جہاں یہ حق حاصل نہ ہو` وہاں اس کے حاصل کرنے کی کوشش کریں- کیونکہ پہلے تو اقتصادی حالت کا ہی تقاضا تھا- کہ وہ گائے کے گوشت کو استعمال کریں- اب مذہبی اور اخلاقی حالات بھی اس کا مطالبہ کرنے لگ گئے ہیں- مذہبی حق اس طرح کہ اسلام میں کسی وجود کا حد سے بڑھ کر احترام شرک ہے- قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے- کہ بنی اسرائیل چونکہ فرعونیوں میں رہتے تھے- جن میں کہ گائے ایک مقدس وجود سمجھا جاتا تھا- اس وجہ سے ہمسائیوں کے خیالات کے بد اثرات سے بچانے کے لئے انہیں گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا- پس جب کہ ہندو صاحبان مسلمانوں کو مجبور کرنے لگے ہیں کہ وہ کسی صورت میں بھی گائے ذبح نہ کیا کریں- تو ہمیں ڈر ہے کہ مسلمانوں کی آئندہ نسلیں آہستہ آہستہ گائے کا ناواجب احترام کرنے لگیں گی- اور جس طرح انہوں نے اور کئی بدرسوم ہندوئوں کی اختیار کر لی گائے کی عزت بھی مشرکانہ طور پر ان کے دل میں جاگزیں ہو جائے گی- اور یہ ایک خیالی خطرہ نہیں ہے- بلکہ سکھوں میں اس کی نظیر ملتی ہے- سکھ لوگ موحد ہیں اور مشرکانہ خیالات ان کے اصول مذہب کا جزو نہیں ہیں- لیکن باوجود اس کے چونکہ ہندوئوں سے ان کی رسوم ملتی تھیں- ان سے رشتہ ناطہ کا تعلق رکھنے کی خاطر انہوں نے گائے کا کھانا ترک کر دیا- اب گو وہ کہتے تو یہی ہیں کہ گائے کی عزت ہمارے مذہب کا جزو نہیں- صرف اقتصادی طور پر ہم اس کے ذبح کرنے کے مخالف ہیں- لیکن حق یہی ہے کہ ان کے دلوں میں آہستہ آہستہ اس کی عزت گھر کی چکی ہے ورنہ اقتصادی طور پر گائے کی حفاظت کا خیال مسلمانوں میں زیادہ ہونا چاہئے تھا- جن کے زمینداروں کی تعداد پنجاب میں سکھوں سے بہت زیادہ ہے-
    پھر یہ اقتصادی سوال عقلا بھی درست ہیں- یورپ کے لوگ گائے کا گوشت کثرت سے استعمال کرتے ہیں- اور ان کے ملک کی گائے ہمارے ملک کی گائے سے بہت اچھی ہوتی ہے- اور گائے کی تعداد کو بھی بے روک گائوکشی نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا- اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جس ملک میں جس جانور کی کھپت زیادہ ہو گی- اس کی پیدائش بھی زیادہ ہو جائے گی- کیونکہ اس کے فوائد کی کثرت کی وجہ سے اس کی قدر بڑھ جائے گی- اور لوگ اسے زیادہ پالنے لگیں گے- گائے کی حفاظت گائوکشی کے روکنے سے ہرگز نہیں ہو سکتی- بلکہ اس کی نسسل کشی کی طرف توجہ کرنے سے ہو گی- یو- پی جس میں کثرت سے گائے ذبح ہوتی ہے- وہاں گائے کی تعداد اس کی نسل کی عمدگی میں پنجاب کی نسبت جہاں کہ بہت سی روکیں ہیں` کوئی کمی نہیں آئی-
    اخلاقی طور پر بھی اس جبر کی وجہ سے یہ سوال زیادہ اہم ہو گیا ہے کیونکہ جبر کے ماتحت کسی امر سے رکنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قوم میں بزدلی پیدا ہو جاتی ہے- پس اب جب کہ جبر اور تعدی سے کام لیا گیا ہے اور آئندہ کے لئے بھی دھمکی دی گئی ہے- ہر مسلمان کا فرض ہوگا کہ وہ قانون کے اندر رہتے ہوئے ہر ممکن طریق سے اس سرکشی والی روح کا مقابلہ کرے اور اپنی آئندہ نسل کو غلامی اور بزدلی کی دو لعنتوں سے بچائے اور مسلمان اگر اس فتنہ کا مقابلہ نہیں کریں گے تو یقیناً آئندہ وہ شودروں کی طرف ہو کر رہیں گے- ان حالات کو آپ کے سامنے پیش کر کے میں آپ سے چاہتا ہوں کہ آپ کے نزدیک اگر کوئی ایسی راہ ہے کہ مسلمان اپنی ضروری غذا کو بھی حاصل کر سکیں اور ان کی مذہبی اور اخلاقی حالت بھی درست رہے- اور ان کے ہمسائیوں کے جذبات بھی ناواجب طور پر زخمی نہ ہوں تو آپ مجھے اس سے مطلع کریں میں ہر معقول تجویز پر غور کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہوں-
    آپ پر یہ بھی واضح رہے کہ مجھے ہر گز ان لوگوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے جنہوں نے بعض شریروں کے اکسانے سے مذبح کو گرا دیا ہے- میں ہر گز اس پر خوش نہیں کہ ضرور ان کو سزا ہی ملے- اگر مسلمانوں کے جائز حقوق ان کو مل جائیں اور اگر یہ وحشیانہ طریق ترک کر دیا جائے اور دوسرے کے کاموں میں خواہ مخواہ دخل نہ دیا جائے تو میں بڑی خوشی سے ان لوگوں کو معاف کر دوں گا- اور دوسری اقوام سے مل کر گورنمنٹ سے درخواست کروں گا کہ آئندہ دلوں کی صفائی کیلئے ان لوگوں کو چھوڑ دیا جائے-
    اسی طرح میں ہر وہ تجویز جس سے ہندوئوں اور سکھوں کے احساسات کا ممکن سے ممکن حد تک خیال رکھ کر مذبح کو جاری کیا جا سکے- قبول کرنے کے لئے تیار ہوں اور اس پر جہاں تک میرا اختیار اور میری طاقت ہے عمل کرانے کا ذمہ وار ہوں- مثلاً اگر مجھے یہ بتایا جائے کہ قادیان کے نواح میں شہر سے باہر )کیونکہ حفظان صحت کا خیال ضروری ہے( فلاں جگہ مذبح بنایا جائے` پہلی جگہ پر نہ ہو یا یہ کہ دیواریں پہلے سے زیادہ اونچی ہوں یا مثلاً یہ کہ دوکانیں صرف شہر کے فلاں فلاں حصہ میں رکھی جائیں یا اور ایسی ہی تجاویز جس سے ہندوئوں اور سکھوں کے احساسات کو کم سے کم صدمہ پہنچتا ہو- پیش کی جائیں تو میں انشاء اللہ ان کی تائید کروں گا اور ان کے حصول کے لئے ہندوئوں اور سکھوں کی پوری مدد کروں گا- لیکن اگر مجھے اس پر مجبور کیا جائے کہ گائے کے ذبیحہ کو کلی طور پر بند کر دیا جائے تو میں اسے نہ صرف خلاف عقل مطالبہ سمجھتا ہوں بلکہ گذشتہ طاقت کے مظاہرہ کے بعد ذبیحہ گائے کے ترک کو مسلمانوں کے اخلاق کو بھی اور ان کے مذہب کو بھی برباد کرنے والا سمجھتا ہوں- اور اس کے قبول کرنے کے لئے تیار نہیہ ہوں- بلکہ اس مطالبہ کی صورت میں میں یہ اپنا فرض سمجھوں گا کہ مسلمانوں کو اس ظلم سے بچائوں اور جس قدر تدابیر گائے کے گوشت کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے لئے ممکن ہو سکتی ہوں` انہیں اختیار کروں-
    میرے نزدیک ہمارے برادران وطن کو یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ صرف نئے مذبحوں کے اجراء ہی سے گائے کے گوشت کا استعمال زیادہ نہیں ہوتا- بلکہ اس کے اور بھی طریق ہیں- مثلاًیہ کہ جس جس جگہ پر پہلے سے مذبح موجود ہے- اگر وہاہ کے مسلمان جو پہلے شاذو نادر گائے کا گوشت استعمال کرتے تھے- آئندہ عہد کر لیں کہ وہ گائے کا گوشت ہی استعمال کیا کریں گے- یا اکثر استعمال کیا کریں گے تو وہ سمجھ لیں کہ چند ماہ میں بیسیوں مذبحوں سے زیادہ گائے کے گوشت کی کھپت شروع ہو جائے گی- اسی طرح مثلاً اگر ان قصبات کے لوگ جہاں پہلے گائے کا گوشت نہیں ہوتا تھا- قریب کے مذبحوں سے گائے کا گوشت منگوا کر استعمال کرنا شروع کر دیں تو اس کا علاج ان کے پاس کیا ہے یا مثلاً اگر دیہات کے لوگ جن پر موجودہ قانون حاوی نہیں ہے- گائے زیادہ ذبح کرنے لگیں تو اس کا علاج ان کے پاس کیا ہے؟ غرض ایسے بہت سے ذرائع ہیہ کہ جن کو اختیار کر کے پنجاب میں چند ہی ماہ میں گائے کے گوشت کی کھپت دگنی سے بھی زیادہ کی جا سکتی ہے- اور ان ذرائع کے اختیار کرنے سے ہندوئوں اور سکھوں کے احساسات کو بھی پہلے سے زیادہ صدمہ پہنچے گا- اور اگر گورنمنٹ دخل دے گی تو یقیناً یہ تحریک اور بھی زیادہ طاقت پکڑ جائے گی اور ہر مسلمان گائوں کا براہ راست گورنمنٹ سے مقابلہ شروع ہو جائے گا- لیکن گورنمنٹ سے بہت زیادہ تکلیف خود ہندو صاحبان کے احساسات کو پہنچے گی- میں امید کرتا ہوں کہ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ میرے خط کا جلد جواب دے کر مجھے ممنون فرمائیں گے- لیکن اگر آپ نے اس طرف جلد توجہ نہ کی اور بعد میں کوئی ناگوار صورت حالات پیدا ہوئی تو میں سمجھتا ہوں کہ اپنی قوم کا درد اور ملک کی محبت رکھتے کی وجہ سے آپ کو بھی ضرور تکلیف محسوس ہوگی- مگر چونکہ وقت پر آپ نے خبر نہ لی ہوگی` آپ کو مجھے ہی نہیں بلکہ اپنی قوم کو بھی کچھ کہنے کا حق نہ ہوگا- اور نہ آپ کو یہ حق ہوگا کہ آپ مجھ پر خصوصاً اور باقی مسلمانوں پر عموماً یہ اعتراض کریں کہ ہمیں حالات کو بہتر بنانے کا موقعہ نہیں دیا گیا- یا یہ کہ ایسے ذرائع کو اختیار کرنے کی کوشش نہیں کی گئی جو ملک میں صلح اور آشتی پھیلانے کا موجب ہوتے-
    پیشتر اس کے کہ میں اس خط کو ختم کروں میں سکھ لیڈروں کو خصوصیت کے ساتھ اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ میں نے ان کے جائز حقوق کا ہمیشہ احترام کیا ہے- چنانچہ پچھلے دنوں جب ایک احمدی نو مسلم کی کتاب کے خلاف انہوں نے احتجاج کیا کہ اس سے ان کی دل آزاری ہوئی ہے- تو گورنمنٹ نے بھی ان کی آواز پر توجہ نہ کی تھی کہ میں نے خود اس کتاب کو ضبط کر لیا اور انہیں اس امر کا اقرار ہوگا کہ میرا ضبطی کا حکم گورنمنٹ کے حکم سے زیادہ موثر تھا- کیونکہ نہ صرف اس کتاب کی خریداری رک گئی بلکہ فروخت شدہ کتاب یا اس کے قابل اعتراض حصے ہر جگہ جلا دیئے گئے- پس میں مخلصانہ طور پر انہیں مشورہ دینے کا حق رکھتا ہوں کہ گائوکشی کے سوال کے متعلق فیصلہ کرنے سے پہلے وہ دو باتوں پر غور کر لیں- اول اس کا مذہبی پہلو ہے- سکھ اصحاب یہ امر بھلا نہیں سکتے کہ حضرت باوا نانک علیہ رحمتہ نے توحید کے قیام کے لئے ہر قسم کی قربانی سے کام لیا ہے- پس جس چیز کو قائم کرنے کے لئے انہوں نے اپنی جانوں اور اپنے آرام کو قربان کر دیا تھا- اس چیز کو محض ایک عارضی معاہدہ کے قیام کے لئے تباہ ہونے دینا ہر گز اپنے آباء کی خدمات توحید کا اچھا اعتراف نہ ہوگا-
    دوسرے انہیں یہ بات نہ بھلانی چاہئے کہ جب تک گائو کشی کے متعلق عام سکھوں کے جوش کی موجودہ حالت قائم رہے گی اس وقت تک سکھ پبلک کے دو لیڈر رہیں گے- ایک ہندو ساہوکار اور دوسرے سکھوں کے قومی لیڈر- چنانچہ مذبح قادیان کا واقعہ اس امر کا بین ثبوت ہے- باوجود اس کے کہ سردار کھڑک سنگھ صاحب جیسے قومی لیڈر خود قادیان میں کہہ آئے تھے کہ گائوکشی پر سکھوں کو اور جھٹکہ پر مسلمانوں کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے- مسلمانوں نے تو ان کی نصیحت پر عمل کر کے جھٹکہ پر اعتراض نہ کیا- مگر سکھوں کو ہندو جوش دلانے میں کامیاب ہو گئے- پہر انہدام مذبح کے بعد بھی اکالی اور خالصہ سکھوں کے دونوں حصوں کے موقر اخبارات کے سمجھانے کے باوجود قادیان اور اس کے گردو نواح کے سکھوں پر کوئی اثر نہیں ہوا- پس گائوکشی کے متعلق سکھوں کے رائج الوقت خیالات ان کے قومی شیرازہ کے باندھنے میں بھی روک ہیں-
    پس امید ہے کہ اپنے مذہب کی جان یعنی توحید کی حفاظت اور اپنے قومی شیرازہ کی مضبوطی کو مدنظر رکھتے ہوئے سکھ لیڈر اپنی قوم کو اس مشرکانہ خیال کی تائید میں کھڑا ہونے سے باز رکھیں گے بلکہ توحید کے قیام کے لئے ہمارے دوش بدوش کھڑے ہوں گے- میں امید کرتا ہوہ کہ اوپر کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ مسلمان اپنی ہمسائیوں کے احساسات کا جائز احترام کرنے کو تیار ہیں- اس امر کو ترجیح دی جائے گی کہ جن جن مسلمانوں کو جائز طور پر مذبح کی ضرورت ہے- ایسی شرائط کے ساتھ ان کو اجازت دی جائے کہ ان کے ہمسائیوں کو ناواجب تکلیف نہ ہو اور ایسے حالات سے ملک کو بچایا جائے جو اس کے امن کو برباد کرنے والے اور اس کی آزادی کو نقصان پہنچانے والے ہوں- اس جابرانہ رویہ کو دیکھتے ہوئے جو قادیان کے مذبح کے انہدام میں تیار کیا گیا ہے- اور جو مسلمانوں کو کھلا چیلنج ہے اور اس رویہ کو دیکھتے ہوئے جو بعض ہندو اخبارات نے اس موقعہ پر اختیار کیا ہے- میرے جذبات جس قدر متاثر ہیں- میں نے اس کا اظہار اس مضمون میں نہیں ہونے دیا- تا کہ میری اصل غرض فوت نہ ہو جائے- مگر میں امید کرتا ہوں ہوں کہ باوجود اس کے آپ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کریں گے کہ ایک زندہ قوم اپنی آئندہ نسل کو روحانی اور اخلاقی موت میں پڑنے کے خطرہ میں دیکھ کر انتہائی جدوجہد کرنے کے بغیر خاموش نہیں ہوگی-
    خاکسار
    مرزا غلام احمد
    امام جماعت احمدیہ قادیان
    حال سری نگر کشمیر۹ ستمبر۱۹۲۹ء
    ‏a.11.3
    مذبح کے سوال کو حل کرنے پر اہل قادیان کی پوری آمادگی
    )فرمودہ ۱۶ اکتوبر ۱۹۲۹ء(
    مذبح قادیان کے انہدام سے پیدا شدہ صورت حال کے مطابق مشورہ اور غور کرنے کیلئے ۱۶-اکتوبر ۱۹۲۹ء بعد نماز عصر مسجد نور میں ایک جلسہ منعقد ہوا- جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے تقریر فرمائی- حضور نے تلاوت سورہ فاتحہ کے بعد فرمایا- مذبح کے معاملہ میں جہاں تک میں نے غور کیا ہے- یہاں دو قسم کے خیالات پائے جاتے ہیں- بعض لوگ تو یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ مذبح کا معاملہ اب ختم ہو چکا ہے- اور ہمیں اس کے متعلق اب کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں اور بعض کا یہ خیال ہے کہ اس معاملہ میں ہماری طرف سے سستی ہو رہی ہے- اور جس طرح کام ہونا چاہئے اس طرح نہیں چلایا جاتا- لیکن یہ دونوں خیال غلط ہیں-
    مذبح کے متعلق کام کرنے کا وقت اب شروع ہونے والا ہے ہم نہیں کہہ سکتے گورنمنٹ اس کے متعلق کیا فیصلہ کرے گی- اس وقت تک ہم نے جو کچھ کیا ہے- وہ یہی ہے کہ تمام باتیں کمشنر تک پہنچا دی ہیں- لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ ان باتوں پر عمل بھی کرے- اور ہمارا پچھلا تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ گورنمنٹ شورش پسندوں سے ڈرتی ہے- اور امن پسند لوگوں کے حقوق کی کماحقہ حفاظت نہیں کرتی- حالانکہ گورنمنٹ کی ضرورت ہی کمزورں کے لئے ہوتی ہے- زبردست تو خود لاٹھی سے اپنی حفاظت کر لیتے ہیں بلکہ ان کی تو یہ خواہش ہوتی ہے کہ ملک میں کوئی حکومت نہ رہے تا وہ اپنی من مانی کارروائیاں کریں- اگرچہ ہندوستانہ میں اس وقت بھی ایسے حکام موجود ہیں جو قانون کا احترام اور کمزورں کی اعانت کرتے اور حق و انصاف کو ہر حال میں قائم رکھتے ہیں- لیکن ایک طبقہ ایسا ہے جو حالات کے مطابق بدلتا رہتا ہے اور اسے عمدہ پالیسی سمجھتا ہے- افسران بالا کے ساتھ گفتگو کرنے سے جو باتیں معلوم ہوئی ہیں- ان میں سے بعض مذبح کے موافق نہیں- بلکہ ڈپٹی کمشنر جس نے انگریزی انصاف کا پورا پورا نمونہ دکھایا ہے اور پوری پوری تحقیقات کے بعد دوسری جماعت کو بے صبر کرنے والی تھی اس کی اجازت دی ہے- افسران بالا نے اس کے بھی خلاف رائے دی ہے- حالانکہ سنا گیا ہے کہ پہلے کمشنر مسٹر کینوبے بھی اس سے متفق تھے- لیکن باوجود اس کے یہ دونوں افسر تجربہ کار` مقامی حالات سے واقف اور علاقہ کے ذمہ وار تھے- ان کی پراوہ نہیں کرتے اور جب تک پورے زور کے ساتھ کوشش نہیں کی گئی- افسران بالا نے واقعات کو معلوم کرنے کی بھی کوشش نہیں کی گویا وہ ایک ایسی قوم کو جو شروع سے وفاداری پر قائم رہی ہے- قانون توڑنے پر مجبور کر رہے تھے- اور دھتکار رہے تھے اور پوری کوشش کے بعد ہم صرف واقعات ان تک پہنچانے کے قابل ہو سکے ہیں- اب اس کا نتیجہ کیا ہوگا- اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا- پس ابھی ہمارا کام ختم نہیں ہوا بلکہ شروع ہونے والا ہے- اور ہمارے لئے ضروری ہے کہ پہلے سے ہی ایسا نظام قائم کر لیں کہ اگر فیصلہ ہہمارے خلاف ہو تو معاً اپنا کام شروع کر سکیں- میں نے بتایا ہے کہ ہم مذہباً پاپندی قانون کے لئے مجبور ہیں- اگر احمدیت کا جوا ہماری گردنوں پر نہ ہوتا تو یقیناً ہم بھی وہی طریقہ اختیار کرتے جو دوسرں نے کیا ہوا ہے اور یہ ہمارا گورنمنٹ پر کوئی احسان نہیں اور نہ اس کا بدلہ ہم اس سے چاہتے ہیں اگرچہ گورنمنٹ کا فرض تھا کہ اس انسان کا احترام کرتی جس نے اس کے لئے ایک وفادار جماعت پیدا کر دی ہے- ایسا نہ کرنا گورنمنٹ کی احسان فراموشی ہے- مگر بہرحال ہم پابندی قانون کے لئے مجبور ہیں- اور چاہے طبائع میں کتنا ہی جوش ہو` ہمارے دشمن شریک` ساتھی` واعظ سب ہمیں طعنے دیں- ہم نے بہرحال قانون کی پابندی کرنی ہے- لیکن قانون کے معنی ڈپٹی کمشنر` کمشنر یا گورنر کا حکم نہیں- بلکہ شہنشاہ معظم کے ۱۹۱۷ء کے اعلان کے مطابق گورنمنٹ کے معنی People the of Govt یعنی ملک کی آواز کے ہیں- یعنی گورنمنٹ رعایا کی رائے کا نام ہے- پس جب گورنمنٹ کے معنی یہ ہیں تو اگر ہم اپنی آواز بلند ہی نہ کریں تو ہم تعاون کرنے والے کیسے ٹھہر سکتے ہیں- پس ہمارا فرض ہے کہ اپنی نمائندگی کو زیادہ مضبوط کریں- اور پورے زور کے ساتھ اپنی آواز افسران بالا تک پہنچائیں- لیکن شرط یہ ہے کہ قانون شکنی نہ ہو اور ہمیشہ آئین کا احترام کیا جائے- پس ہم نے قانون کے اندر رہتے ہوئے اور حکومت سے تعاون کرتے ہوئے اپنے حقوق حاصل کرنے ہیں- یہ اصل ہے جس کے ماتحت ہمیں اپنی آواز بلند کرنی چاہئے- عجیب بات ہے کہ میں اپنے خط میں جو لیڈروں کے نام لکھا- جن الفاظ میں انہیں مخاطب کیا` وہی آج سے پچاس سال قبل گورنر جنرل لکھ چکا ہے- جنہیں میں نے بعد میں دیکھا- ملتان کے کمشنر نے حکومت سے دریافت کیا کہ مذبح کے متعلق کیا قوانین ہیں- اس کے جواب میں گورنر جنرل نے لکھا کہ اس میں اس حد تک روک ہونی چاہئے کہ ہندوئوں کی دل آزاری نہ ہو- اس جواب پر اس نے ملتان میں گوکشی بند کر دی- کیونکہ اس نے اس کے معنی یہی سمجھے کہ جہاں ہندوں ہوں وہاں چونکہ ان کی دلازاری ہوتی ہے` اس لئے گوکشی نہیں ہونی چاہئے اور اپنے اس فیصلہ سے لوکل گورنمنٹ کو اطلاع دی- جس نے اسے لکھا تمہارا یہ فیصلہ الفاظ کے خلاف معلوم ہوتا ہے- اور ساتھ ہی گورنر جنرل کو اطلاع دی کہ کمشنر ملتان کا یہ فیصلہ آپ کے الفاظ کے خلاف معلوم ہوتا ہے جس پر گورنر جنرل نے لکھا نہ صرف یہ کہ ہمارے الفاظ کا ہی خیال نہیں رکھا گیا بلکہ ان کی روح کے بھی خلاف ہے- گوکشی ¶مسلمانوں کا امتیازی نشان ہے اور اس کے بند کر دینے کے یہ معنی ہیں کہ اس ملک میں ہندوئوں کی حکومت ہے- اور مسلمان ان کے غلام ہیں- پس کمشنر ملتان کا یہ فیصلہ غلط ہے- اور گوکشی کی عام اجازت ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ غلامی کی بدترین قسم ہے- دیہات میں جو لوگ ڈرتے ہیں` وہ چونکہ کمزور ہیں- اگر وہ اسے برداشت کرتے ہیں تو کریں- نبیوں کی جماعتیں حر ہوتی ہیں اور حریت پیدا کرنے آتی ہیں- اس لئے ہم اسے قبول نہیں کرتے-
    میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تعلیم نے کہ میری جماعت گورنمنٹ کی وفادار ہے- ہمیں غلامی سے بچال یا- لوگ ہمیں غلام کہتے ہیں لیکن حقیقت میں غلام وہ ہیں جو اطاعت کو فرض نہ سمجھتے ہوئے مجبوراً اطاعت کرتے ہیں- اور ہم مذہب کی پابندی میں ایسا کرتے ہیں- وگرنہ ہم اسے کبھی برداشت نہ کرتے- اور فوراً ہتیھار لیکر نکل کھڑے ہوتے- ہماری شریعت نے تو ایمان میں بھی غلامی کو جائز نہیں رکھا- بظاہر یہ کمزوری معلوم ہوتی ہے کہ ہم نے اس وقت کیوں سکھوں پر لٹھ نہیں چلایا- لیکن یہ بہت بہتر ہوا ہے کیونکہ جہاں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں- ہندو کہتے ہیں مسلمانوں نے ابتداء کی- لیکن یہاں ان کے ظلم کا خالص نمونہ نظر آ رہا ہے- اور ہندو لیڈر غصہ میں دانت پیس رہے ہیں کہ مسلمانوں نے کیوں مقابلہ نہیں کیا کیونکہ یہ ان کی تعدی کا روشن ثبوت ہے- اور یہ واقعات بتاتے ہیں کہ وہ امن و امان سے رہنے کے متمنی نہیں- بلکہ چاہتے ہیں کہ مسلمان چوہڑے` چمار اور گونڈبھیل کی طرف ملک کے اندر رہیں- اب مسلمان دیکھ لیں کہ وہ ایسی زندگی بسر کرنے کے لئے تیار ہیں یا نہیں- ہندو برابر چند سال سے ایسی حرکات کر رہے ہیں- ایک جگہ فساد کرتے ہیں وہاں کے مسلمان دو تین ماہ شور مچا کر خاموش ہو جاتے ہیں تو دوسری جگہ کر دیتے ہیں- پھر تیسری جگہ غرضیکہ فسادات کا ایک سلسلہ انہوں نے شروع کر رکھا ہے- جس سے مقصد ان کا یہ ہے کہ مسلمان بزدل ہو جائیں اور خود بخود کہنے لگیں کہ ہمیں تمہاری غلامی منظور ہے-
    غرضیکہ ہندو روز بروز دلیر ہوتے چلے جا رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مہابیر دل نے اعلان کیا ہے کہ ہم خون کی ندیاں بہا دیں گے لیکن مذبح نہیں بننے دیں گے- پس اب ہمارے سامنے یہ سوال ہے جس پر غور کرنا ہے- اس کے دو پہلو ہیں- ایک مقامی جس سے باہر والوں کا تعلق نہیں ہے- اور صرف قادیان یا اس کے ملحقہ دیہات سے جو ¶یہاں سے گوشت لے جا سکتے ہیں` تعلق رکھتا ہے- کیونکہ یہاں کے مذبح کا گوشت یہاں کے لوگ ہی کھائیں گے- اور دوسرا پہلو اس جبر کا ہے جو اس کے گرانے کے متعلق کیا گیا- اور وہ تعدی کی روح جس کا مظاہرہ ہوا- یہ ساری دنیا کے احمدیوں بلکہ سارے مسلمانوں بلکہ دوسری اقوام سے بھی تعلق رکھتا ہے- مقامی حصہ کے متعلق تمام اخراجات مقامی جماعت کو برداشت کرنے ہونگے- اگرچہ مرکزی نظام کے ماتحت ہی یہ کام ہوگا- لیکن باہر کے لوگوں سے اس کے لئے مدد نہیں لی جائے گی- لیکن اس ظالمانہ روح کو توڑنا جیسا قادیان سے تعلق رکھتا ہے- ویسا ہی دوسرے مقامات سے ہے- اس لئے لوگوں کے اندر نئی زندگی اور ایسا جوش پیدا کرنا جس سے وہ ثابت کر دیں کہ وہ اس جبر کو ماننے کے لئے تیار نہیں- یہ کام مرکز سے متعلق ہے- پس مرکزی حصہ کے متعلق تو باہر کی جماعتوں سے مدد لی جائے گی- لیکن مقامی پہلو کی ہر قسم کی ذمہ داری مالی` جانی` مقامی لوگوں کو برداشت کرنی چاہئے- اگرچہ اس میں بھی مرکزی جماعت مدد دے گی- لیکن وہ Subsidy قسم کی ہوگی- اصل بوجھ مقامی جماعت پر ہی ہوگا- یہ نہیں کہ اس کے لئے بھی باہر سے مدد مانگیں- اور خود مجاور بن کر بیٹھے رہیں- یہ سپر نہایت بری ہے- مقامی لوگوں کو تو ہرکام میں عملی نمونہ سے باہر والوں کو راہ نمائی کرنی چاہئے- اگر باہر کے لوگ بھی اس بوجھ کو بھی اٹھانے کے لئے تیار ہیں` لیکن ہمیں اپنی ذمہ واری کو خود محسوس کرنا چاہئے- پس آپ لوگ یہ سمجھ کر کہ اس رستہ میں آپ کو بہت سی قربانیاں کرنی پڈں گی- بھوکے` پیاسے` ننگے رہنا پڑے گا- سپاہیانہ زندگی کی مشق کرنی ہوگی- راتوں کو جاگنا ہوگا- پہرے دینے ہونگے- ان سب باتوں کو ملحوظ رکھ کر بتائیں کہ کیا آپ اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے تیار ہیں اور اس کام کو جاری رکھنا چاہتے ہیں-
    حضور کے اس سوال پر تمام حاضرین نے بلا استثناء کھڑے ہو کر اس کام کو سرانجام دینے پر آمادگی کا اقرار کیا- پھر حضور نے دریافت فرمایا- جو لوگ اس معاملہ کو طول دینا مناسب نہ سمجھتے ہوں اور اسے یہیں ختم کر دینا چاہتے ہوں وہ کھڑے ہو جائیں- جس پر ایک آدمی بھی کھڑا نہ ہوا-
    کے بعد حضور نے فرمایا- ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ اس علاقہ کے مسلمانوں کی تنظیم کریں- لوگوں کو قانون سے واقف کریں- اس علاقہ میں مسلمانوں پر بہت ظلم ہو رہا ہے- اس ضلع میں کثرت مسلمانوں کی ہے- ذیلداروں اور آنریر مجسٹریٹیاں مسلمانوں کے مقابلہ میں ہندوئوں کے پاس بہت زیادہ ہیں- مسلمان قانون سے ناواقف ہیں- ہمارا کام ہے کہ انہیں واقف کریں- انہیں بتائیں بلکہ اشتہار دیں کہ گائے کھائیں- یہ کوئی جرم نہیں ہے- صرف یہ شرط ہے کہ پردہ کے اندر اسے ذبح کیا جائے- گائے کے ذبیحہ کرنے کی کہیں بھی ممانعت نہیں- سوائے اس جگہ کے جہاں دفہ ۴۳ ہو- صرف اتنی احتیاط چاہئے کہ نمائش نہ ہو- اس وقت یہاں دفعہ ۴۳ ہے- لیکن اگر کمشنر نے فیصلہ خلاف سنا دیا تو اسی دن یہ منسوخ ہو جائے گی- پس آج سے ہی سکیمیں بنانی چاہئیں کہ پھر ہمیں کیا کرنا ہوگا-
    ‏po] ga[tاحمدی خواتین کے فرائض اور ذمہ واریاں
    )فرمودہ ۵-اکتوبر ۱۹۲۹ء(
    ۵- اکتوبر لجنہ اماء اللہ کی طرف سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو جو ایڈریس دیا گیا اس کے جواب میں حضور نے حسب ذیل تقریر فرمائی- سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا-:
    پہلے تو ممبرات لجنہ کا اپنی طرف سے اور اپنے خاندان اور اپنے ہمراہیوں کی طرف سے اس دعوت کے متعلق شکریہ ادا کرتا ہوں جو ہماری آمد پر دی گئی ہے- اس کے بعد اس امر پر خوشی کا اظہار کرتا ہوں کہ لجنہ آہستگی کے ساتھ گو استقلال کے ساتھ اپنے لئے کام کے نئے میدان تلاش کر رہی ہے- اور میں امید کرتا ہوں کہ اگر لجنہ اسی طرح کام کرتی چلی گئی تو حقیقاً نہ کہ نام کے طور پر اسے ہم ایک مرکزی لجنہ قرار دے سکیں گے-
    اس کے بعد جو کچھ لجنہ اپنے کام کو وسیع کرنے کے متعلق کر رہی ہے اس کی نسبت ایک بات کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ انجمنوں کی زندگی دراصل قانون کی زندگی ہوتی ہے- کسی ایک فرد سے کام لے کر بہت سے افراد کے ہاتھوں میں کام دینے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ افراد متحد جدوجہد کر احترام کے عادی ہو جائیں اور ان کے اندر یہ ماہ پیدا ہو جائے کہ اگر کسی وقت ایک لیڈر سے انجمن محروم ہو جائے تو کام کے تسلسل میں فرق نہ پیدا ہو- اس غرض کو پورا کرنے کے لئے یہ اہم اور ضروری بات ہوتی ہے کہ ہمیشہ قانون کی پابندی کی جائے- اور قانون کی پابندی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ قانون مقررہ الفاظ میں موجود ہو- جہاں لجنہ کی ممبرات اپنے کام کو وسیع کرنے کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں` وہاں انہیں اپنے ہی قانون سے باہر نہیں نکلنا چاہئے- اسی ایڈریس میں جو اس وقت پڑھا گیا ہے` ایک سکول کا ذکر ہے- مگر میرے پاس لجنہ کی جو رپورٹ پہنچتی رہی ہے- اس میں اس کا ذکر اس رنگ میں نہیں تھا- جس رنگ میں اس کا ایڈریس میں ذکر ہے` بلکہ اور رنگ میں تھا- لجنہ جب اپنے کام کی آپ ذمہ وار ہے تو وہ ایسا ریزولیوشن پاس کر سکتی تھی جس کے ماتحت یہ سکول آ جاتا- ممکن ہے لجنہ نے اس کے متعلق ریزولیوشن پا کیا ہو اور مجھے وہ ریزولیوشن نہ پہنچا ہو- مگر جو پہنچا اس میں اور جس بات کا اس وقت ذکر کیا گیا ہے بہت فرق ہے- اس قسم کی اور خامیاں بھی لجنہ کے کام میں ہو جاتی ہیں- جس کی وجہ یہ ہے کہ ممبرات لجنہ کو یہ احساس نہیں کہ پہلے قانون ہونا چاہئے اور پھر اس کے ماتحت کام کرنا چاہئے- خواہ کوئی کتنا اچھا کام ہو- لیکن اگر قانون سے پہلے شروع کیا جاتا تو اس سے انتظام کے ماتحت کام کرنے کی روح برباد ہو جاتی ہے- اس کے مقابلہ میں خواہ کتنا تھوڑا کام ہو لیکن اگر اس کے متعلق قانون پہلے وضع کیا جاتا ہے اور کام پیچھے کیا جاتا ہے تو اس طرح قربانی اور ایثار کا مادہ ترقی کرتا اور انتظام کے ماتحت کام کرنے کی روح پیدا ہوتی ہے- پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں لجنہ کی ممبرات کام کی طرف قدم بڑھاتی ہیں- وہاں کوئی ایسا کام نہ کریں نہ کوئی عہدہ دار ایسا کرے اور نہ ساری ممبرات کہ جس کام کے متعلق قانون نہ پاس ہو- اسے شروع کیا جائے- مجھے یاد ہے جب صدر انجمن کی بنیاد پڑی تو بعض ممبر ایسے کام خود بخود جاری کر لیتے جو انجمن کے اصول کے خلاف ہوتے- ہم ان کی اس بناء پر مخالفت کرتے کہ انجمن کے احصول کے خلاف کوئی کام نہ ہونا چاہئے- اس پر وہ کہتے- دیکھو یہ اچھا کام نہیں ہونے دیتے- ہم ان کو جواب دیتے- اگر کوئی اچھا کام ہے تو سو دفعہ اسے کرو مگر اس کے لئے قانون پاس کر لو- انجمن کے اصول کی خلاف ورزی کر کے کوئی کام کیوں شروع کرتے ہو-
    پس ممبرات لجنہ کو یاد رکھنا چاہئے- قانون پاس کرنے سے قبل کوئی کام نہ شروع کریں- خواہ وہ کام کتنا بڑا اور کتنا مفید ہی کیوں نہ ہو اور میں تو کہوں گا اگر جہاد بھی لجنہ کے فیصلہ پر منحصر ہو تو اس کے فیصلہ سے قبل وہ بھی شروع نہیں ہونا چاہئے-
    دوسری بات جس کی طرف میں لجنہ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں` وہ یہ ہے کہ جب کوئی جماعت نظام کے ماتحت کام کرنا شروع کرتی ہے تو چونکہ وہ پہلے نظام کے ماتحت کام کرنے کی عادی نہیں ہوتی` اس لئے کام کرنے والوں میں اختلاف پیدا ہوتا ہے- ایسے اختلافات سے گھبرانا نہیں چاہئے- اس قسم کے اختلاف سے نظام کی وہ خامیاں ظاہر ہوتی ہیں جو ابتدائی کاموں میں عموماً پائی جاتی ہیں- قانون کی خامیاں وکلاء کے بالمقابل کھڑے ہونے سے ہی ظاہر ہوتی ہیں- اور اس طرح قانون مکمل ہوتا چلا جاتا ہے- پس اگر لجنہ کے کاموں میں اختلاف پیدا ہو تو اس سے گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ اختلاف تو نقائص کی طرف توجہ دلاتا اور دوسرے کی خامیاں ظاہر کرتا ہے- اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قانون مکمل ہوتا جاتا ہے- اور قانون کے مکمل ہونے سے کام کر پختگی حاصل ہوتی جاتی ہے- پس اختلاف سے گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ اس کی قدر کرنی چاہئے- دیکھ رسول کریم ~صل۲~ نے فرمایا ہے-اختلاف امتی رحمہ میری امت میں اختلاف رحمت ہے- یہ ایسا ہی اختلاف ہے جو ایک نظام کے ماتحت` ایک انمجن کے ماتحت اور خلافت کے ماتحت کیا جائے- ہاں جو اختلاف اس کے مقابلہ میں اور اس کے باہر ہو کر کیا جائے` وہ تباہی کا موجب ہوتا ہے- ہر فریق جب یہ کہے کہ ہمیں جو اختلاف ہوگا` وہ جب قانون اور نظام کے خلاف ہوگا ہم اسے چھوڑ دیں گے اور نظام کے ماتحت کام کریں گے- تو ایسا اختلاف نقصان کا موجب نہیں ہوتا بلکہ فائدہ رسان ہوتا ہے- ممبرات لجنہ کو یاد رکھنا چاہئے ان کے سامنے کاموں کا بہت بڑا میدان پڑا ہے- اور ان کے کرنے کے ایسے ایسے کام ہیں جو ابھی ان کے ذہن میں بھی نہیں آ سکتے- ایک زمانہ تھا جب میں ممبرات لجنہ کے سامنے تقریر کرتا اور بتاتا کہ انہیں کیا کرنا چاہئے تو ممبرات کی تقریر سن کر کہتیں ہم خوب اچھی طرح تقریر سمجھ گئی ہیں- مگر یہ تو بتایا جائے ہم کام کیا کریں میں پھر تقریر کرتا- اور پھر ان کی طرف سے یہی سنتا کہ ہم نے سب باتیں سن لی ہیں- مگر جو کام ہمیں کرنا چاہئے وہ بتایا جاشے گویا وہی حالت ہوتی جو ساری رات زلیخا کا قصہ سنانے والے کے متعلق ہوئی تھی کہ ساری رات سن سن کر پوچھنے لگے- زلیخا مرد تھا یا عورت- میں ان کی بات پر حیران ہوتا کہ میں نے تو انہیں دنیا بھر کے کام بتا دیئے ہیں مگر یہ کہہ رہی ہیں بتائو ہم کیا کا کریں- لیکن اب میں دیکھتا ہوں ان میں کام کرنے کا احساس پیدا ہو رہا ہے- اور انہوں نے جوش سے کام شروع کئے ہوئے ہیں- لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے ان امور کے ساتھ اختلاف کا ہونا بھی لازمی ہے ان کو برداشت کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے- وہ قوم جو ایسے اختلاف کو جو اصولی نہیں ہوتے برداشت نہیں کرتی اور اختلاف کرنے والوں کو اپنے ساتھ نہیں ملاتی- بلکہ علیحدہ ہو جانے پر مجبور کرتی ہے وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی-
    مسلمانوں کی تباہی کا بہت بڑا باعث یہی ہے کہ جسے کوئی اختلاف ہو اسے علیحدہ کر دیا جاتا ہے- حالانکہ اگر اختلاف اصولی نہیں نظام کو نہیں توڑتا اور اصل جڑ پر ضرب نہیں لگاتا تو اس کا ہونا ضروری ہے اور اسے برداشت کرنا چاہئے- ہاں اگر اختلاف اصولی ہو اسکا جڑ پر حملہ ہو تو ایسا اختلاف کرنے والے کو علیحدہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے- جیسے اس عضو کا کاٹنا ضروری ہوتا ہے جس میں ایسے جراثیم پیدا ہو جائیں جو سارے جسم کو تباہ کر دینے والے ہوں-
    ان نصائح کے بعد میں سمجھتا ہوں لجنہ آہستہ آہستہ اپنے کام کو سمجھنے لگ جائے گی اور اس مقام پر پہنچ جائے گی کہ ہم فخر کر سکیں گے- کہ جس طرح ہماری جماعت کے مرد منظم ہیں اور قانون کے ماتحت کام کرنا جانتے ہیں اسی طرح ہماری جماعت کی عورتیں بھی منظم ہیں-
    اس کے بعد چونکہ اس ایڈریس میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو یہاں پیش آیا اور جو مذبح کا واقعہ ہے- اس کی طرف میں اپنی تقریر کا رخ پھیرتے ہوئے لجنہ کو مخاطب کرتا ہوں- لجنہ اماء اللہ میں گو ایسی عورتیں نہیں ہیں جن کی اولاد ہو` یا جوان اولاد ہو- الاماشاء اللہ- لیکن بوجہ اس کے کہ یہی عورتوں کی قائمقام ہیں- اس لئے میں انہیں اس فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو اس زمانہ میں عورتوں پر عائد ہوتا ہے- ہماری جماعت ہر موقعہ پر باامن جماعت رہی ہے- اب بھی باامن ہے اور باامن رہے گی- مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم کسی جبر سے اپنے حقوق چھوڑ دیں اور ان کی حفاظت نہ کریں- دنیا میں سب سے بڑھ کر باامن رسول کریم ~صل۲~ تھے- مگر آپ کی آخری عمر لڑائیوں میں ہی گذری- دراصل امن اور جنگ متضاد نہیں- بعض دفعہ امن اور جنگ ایک ہی ہوتا ہے بعض دفعہ جنگ امن کے خلاف ہوتی ہے اور بعض دفعہ جنگ ایک جد تک ان کے خلاف ہوتی ہے- اور ایک حد تک اس کے موافق- بعض دفعہ امن کے قیام کے لئے جنگ کرنی پڑتی ہے- اور بعض دفعہ امن کی بربادی کے لئے جنگ کی جاتی ہے اور بعض دفعہ بین بین حالت ہوتی ہے- یعنی نیت تو امن قائم کرنے کی ہوتی ہے- لیکن فعل امن کو برباد کرنے والا ہوتا ہے- یا نیت تو امن کو برباد کرنے والی ہوتی ہے لیکن فعل امن قائم کر دیتا ہے- پس جب کہ قیام امن کے لئے جنگ بھی ضروری ہوتی ہے- تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری اولادیں بہادر اور مضبوط دل کی ہوں- ہمارے ملک میں بہت بڑی مصیبت یہ ہے کہ جب مردوں کے لئے کوئی خاص کام کرنے کا وقت آتا ہے تو عورتوں میں شور پڑ جاتا ہے- کہ ہمار یبچے` ہمارے بھائی` ہمارے خاوند` ہمارے دوسرے رشتہ دار تکلیف میں مبتلا ہو جائیں گے- رسول کریم ~صل۲~ کو جہاں مرد جری اور بہادر ملے تھے- وہاں عورتیں بھی نہایت قوی دل اور مضبوط حوصلہ والی ملی تھیں- یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ~صل۲~ اور آپ کے غلاموں نے بڑے بڑے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے- ورنہ اگر میدان جنگ میں جانے کے لئے گھر سے نکلنے والا مرد گھر میں روتی ہوئی ماں- چلاتی ہوئی بیوی اور بے ہوش بہن کو چھوڑ کر جائے گا تو کوئی بہادرانہ کام نہیں کر سکے گا کیونکہ اس کے دل پر غم کا بادل چھایا ہوا ہوگا اور اسے خیال ہوگا معلوم نہیں گھر میں کیا کہرام مچا ہوا ہوگا لیکن اگر وہ گھر والوں کو ہشاش بشاش چھوڑ کر جاتا ہے تو اس کا دل خوش ہوگا- اور وہ سمجھے گا میں اپنے گھر میں کسی کو افسردہ دل نہیں چھوڑ آیا اور اس خوشی میں وہ پوری طرح جان بازی دکھا سکے گا-
    ہماری جماعت جوں جوں ترقی کر رہی ہے- اس کے سامنے نہایت اہم کام آ رہے ہیں اور ہم نہیں جانتے ہمیں آگے قدم بڑھانے کے لئے کیا کیا قربانیاں کرنی پڑیں گی- اور خدا ہی جانتا ہے کتنے مستقبل قریب میں ہمارے سپرد حکومتوں کا انتظام ہوگا- اور اس کے لئے ہمیں کن حالات میں سے گزرنا پڑے گا- پس ضروری ہے کہ ہماری جماعت کی عورتیں بہادر اور مضبوط دل ہوں- تا کہ ان کی اولاد بہادر اور جری ہو- میں جہاں اپنی جماعت کی عورتوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تعلیم میں تربیت میں نظام میں خدمت دین میں ترقی کریں- وہاں یہ بھی کہتا ہوں کہ اولاد کو بہادر بنائیں- اور اس کے دل ایسے مضبوط کریں کہ جو بھی قربانی انہیں کرنی پڑے- وہ خوشی سے کریں- وہ جب قربانی کے لئے گھر سے نکلیں- تو خوش خوش نکلیں نہ کہ دل کو دکھ دینے والے نظارے دیکھتے ہوئے نکلیں- چونکہ اب مغرب کی اذان ہو گئی ہے اس لئے میں تقریر بند کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ دوستوں میں ایسی روح پیدا کرے جس سے بہترین نظام قائم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی روحانیت بھی عطا کرے- تا ایسا نہ ہو کہ نظام باقی رہ جائے اور روحانیت نہ رہے- مجھے لجنہ کی طرف سے رقعہ دیا گیا ہے جس میں لکھا ہے- کہ جس سکول کا ایڈریس میں ذکر ہے- اس کے متعلق ریزولیوشن پاس کیا گیا ہے- مجھے کوئی ایسا ریزولیوشن نہیں پہنچا- اگر پاس ہوا ہو تو لکھ کر مجھے بھیج دیا جائے میں اسے دیکھ لوں گا- )الفضل۱۱-اکتوبر۱۹۲۹ء(
    ‏a.11.4
    انوار العلوم جلد ۱۱
    چند اہم اور ضروری امور
    چند اہم اور ضروری امور

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    ‏jmc-nsk] ga[tبسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    چند اہم اور ضروری امور
    )فرمودہ ۲۸- دسمبر ۱۹۲۹ء برموقع جلسہ سالانہ قادیان(
    حضور نے اول تو احباب کو ان ایام میں زیادہ عرصہ قادیان میں ٹھہرنے کی نصیحت فرمائی- پھر اس سال اپنے طویل عرصہ علیل رہنے کا ذکر کرتے ہوئے اس کام کا ذکر کیا جو قرآنکریم کے اردو نوٹوں کے مرتب کرنے اور ترجمہ انگریزی کے متعلق ہوا- اسی سلسلہ میں حضور نے حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب ایم اے کی تصنیف کردہ سیرت رسول کریم ~صل۲~ کا ذکر کیا اور اس کے جلد شائع ہونے کی توقع دلائی-
    ان امور کے بعد حضور نے نہایت درد ناک الفاظ میں حضرت حافظ روشن علی صاحب مرحوم کی وفات کا ذکر کیا اور ان کی خوبیاں بیان فرمائیں حضور نے فرمایا-
    میں سمجھتا ہوں میں ایک نہایت وفادار دوست کی نیک یاد کے ساتھ بیانصافی کروں گا اگر اس موقع پر حافظ روشن علی صاحب کی وفات پر اظہار رنج و افسوس نہ کروں- حافظصاحب مرحوم نہایت ہی مخلص اور بے نفس انسان تھے- میں نے ان کے اندر وہ روح دیکھی جسے اپنی جماعت میں پیدا کرنے کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خواہش تھی ان میں تبلیغ کے متعلق ایسا جوش تھا کہ وہ کچھ کہلوانے کے محتاج نہ تھے- بہت لوگ مخلص ہوتے ہیں` کام بھی اچھا کرتے ہیں مگر اس امر کے محتاج ہوتے ہیں کہ دوسرے انہیں کہیں- یہ کام کرو تو وہ کریں- حافظ صاحب مرحوم کو میں نے دیکھا وہ سمجھتے تھے گو خدا تعالیٰ نے خلیفہ مقرر کیا ہے مگر ہر مومن کا فرض ہے کہ ہر کام کی نگہداشت کرے اور اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھے- وہ اپنے آپ کو سلسلہ کا ایسا ہی ذمہ وار سمجھتے تھے جیسا اگر کوئی مسلمان بالکل اکیلا رہ جائے اور وہ سمجھے- یہ ان میں ایک نہایت ہی قابل قدر خوبی تھی اور اس کا انکار ناشکری ہوگی- یہ خوبی پیدا کئے بغیر جماعت ترقی نہیں کر سکتی کہ ہر شخص محسوس کرے کہ سب کام مجھے کرنا ہے اور تمام کاموں کا میں ذمہ وار ہوں- میں سمجھتا ہوں ایسے ہی لوگوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہالصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ اگر مجھے چالیس مومن میسر آ جائیں تو میں ساری دنیا کو فتح کر لوں- یعنی ان میں سے ہر ایک محسوس کرے کہ مجھ پر ہی جماعت کی ساری ذمہ داری ہے اور میرا مرض ہے کہ ساری دنیا کو فتح ¶کرو- خدا کرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش سے بہت بڑھ چڑھ کر ایسے لوگ ہوں- جیسا کہ نبیوں کے متعلق خدا تعالیٰ کی سنت ہے ایسے چالیس آدمی نہیں بلکہ لاکھوں میسر کر دے جن میں سے ہر ایک یہ سمجھے کہ آسمان اور زمین کا بار اٹھانا اسی کا فرض ہے-
    پھر اس سال افراد کے لحاظ سے جماعت نے جو ترقی کی- وہ بیان کی- سماٹرا میں احمدیت کی ترقی` وہاں کے احباب کا حصول` دین کی خاطر قادیان آنا اور احمدیہ مشن امریکہ کی کامیابی کا ذکر فرمایا-
    پھر مذبح قادیان کے واقعات کا اختصار کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے اس کے متعلق احبابجماعت کے جوش کی تعریف فرمائی- سیاسی تحریکات کے متعلق فرمایا-
    ایسی تمام تحریکات جو قانون شکنی کا موجب نہ ہوں` فساد اور بدامنی پیدا نہ کریں` ان میں ہم شریک ہو سکتے ہیں اور دوسروں سے بڑھ کر ان میں حصہ لے سکتے ہیں کیونکہ مومن کا یہ بھی کام ہے کہ لوگوں کو ان کے حقوق دلائے- یہ اسلام کا حکم ہے مگر اس کے ساتھ ہی اسلام یہ بھی حکم دیتا ہے کہ شرارت نہ ہو` فساد نہ ہو` فتنہ نہ ہو- دنیا ہمیں خواہ کچھ کہے ہم سب کچھ برداشت کر لیں گے لیکن جو دین کا حکم ہے اسے ہم کسی حالت میں بھی نہیں چھوڑ سکتے- بعض لوگ گھبرا کر لکھتے ہیں اگر ہم دوسروں کے ساتھ ان کے ہر ایک کام میں شامل نہ ہوں تو وہ گالیاں دیتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ کیا تم لوگوں نے پہلے گالیاں نہیں کھائیں- اگر راستی اور امن کے قیام کے لئے لوگ برا بھلا کہیں تو کہہ لیں ہمیں اس کی پرواہ نہیں- ہاں ہم تمام ان تحریکوں میں جو قانون کے اندر ہوں ہر جائز خدمت اور جائز قربانی کرنے کیلئے تیار ہیں اور بحیثیت جماعت ان میں شامل ہو سکتے ہیں- البتہ افراد کا حق نہیں کہ آپ ہی آپ کسی تحریک میں شامل ہو جائیں جو گورنمنٹ سرونٹ نہیں وہ اس میں بھی شامل ہو سکتے ہیں مگر اپنے آپ نہیں جماعت کے نمائندے بن کر جائیں- یہی حال مسلم لیگ اور دیگر سوسائٹیوں کا ہے کہ ان میں احمدی جماعت کے نمائندے ہو کر جائیں تا کہ ہماری پالیسی متحدہ طور پر ان کے سامنے آئے-
    سوراج کے متعلق لوگ پوچھتے ہیں کہ ہمارا کیا خیال ہے؟ اس کا جواب میں نے پہلے بھی دیا ہوا ہے اور اب بھی دیتا ہوں کہ پہلے سوراج گھر سے شروع ہونا چاہئے اور نفس پر حکومت کرنا سیکھنا چاہئے- اگر یہ نہیں تو ملک تو الگ رہا ایک گائوں کے لئے سوراج حاصل نہیں کیا جا سکتا- جن لوگوں میں درندگی اور وحشت ہو ان کو حکومت ملے تو وہ ایک دوسرے کو ہی پھاڑیں گے- چونکہ روز بروز ایسی تحریکیں نکلتی رہتی اور ایسے امور پیش آتے رہتے ہیں جن میں جماعت کو راہ نمائی کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے میں اپنی جماعت کے اخبارات کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ہر ایسی بات کے متعلق فوراً مجھ سے پوچھ کر ہدایت شائع کر دیا کریں تا کہ لوگ دبدھا۱~}~ میں نہ رہیں- اس سے اخبارات کو بھی فائدہ ہوگا- وہ اپ ٹو ڈیٹ (UPTODATE) اور زیادہ دلچسپ بن جائیں گے اور لوگوں کو بھی فکر نہ رہے گی کہ کسی معاملہ کے متعلق انہیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے- ہمارے اخبارات سمجھتے ہیں چونکہ دیگر امور کے متعلق ہم خبریں شائع نہیں کرتے اس لئے جماعت کو ان کا پتہ نہیں ہوتا- حالانکہ لوگ دوسرے اخبارات بھی پڑھتے ہیں اور وہ اس بات کے محتاج ہوتے ہیں کہ ان کے سامنے جماعت کا رویہ بیان کیا جائے-
    اس کے بعد حضور نے بیمہ کے متعلق اظہار خیالات کرتے ہوئے فرمایا-
    اس کے متعلق جماعت کے ایک خاص طبقہ میں ہیجان پایا جاتا ہے اور بڑی کثرت سے خطوط آتے ہیں کہ اس بارے میں فیصلہ کیا جائے- حضور نے اس کے متعلق جس قدر تحقیق کی- اس کا بالتفصیل ذکر کرنے اور بیمہ کی مختلف صورتیں بیان کرنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دو تحریروں کی بناء پر یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ-:
    بیمہ کی وہ ساری کی ساری اقسام جو اس وقت تک ہمارے علم میں آ چکی ہیں ناجائز ہیں- ہاں اگر کوئی کمپنی یہ شرط کرے کہ بیمہ کرانے والا کمپنی کے فائدہ اور نقصان میں شامل ہوگا` تو پھر بیمہ کرانا جائز ہو سکتا ہے- مگر میں نے مختلف کمپنیوں کے نمائندوں سے گفتگو کر کے معلوم کیا ہے کہ موجودہ قواعد کے رو سے وہ اس قسم کا انتظام نہیں کر سکتے- لیکن چونکہ جماعت کی کاروباری ضرورتیں بڑھ رہی ہیں اور ان کا پورا کرنا ضروری ہے اس لئے میں چند دوستوں کے سپرد یہ کام کرنے والا ہوں کہ وہ ایسی سکیم بنائیں جس کی رو سے لوگ روپیہ جمع کر سکیں اور ضرورت کے وقت انہیں روپیہ مل سکے- اگر کوئی ایسی صورت نکل آئے اور کیوں نہ نکلے گی یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ مومنین کی ضروریات پورا کرنے کے لئے کوئی جائز صورت ہی نہ رہے- اگر قانون دان اصحاب توجہ کریں تو ایسی کمپنی بنائی جا سکتی ہے جس میں روپیہ جمع کرانا ناجائز نہ ہو اور ضرورت کے وقت اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے- اس کے متعلق میں نے بھی ایک سکیم بنائی ہے- میں اس کے متعلق قانون دان اصحاب کی رائے سن کر دیکھوں گا کہ اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے یا نہیں- چونکہ یہ ضرورت بہت محسوس کی جا رہی ہے اس لئے اس کا ضرور انتظام ہونا چاہئے- ہاں ایک طرح کا بیمہ جائز ہے اور وہ یہ کہ مجبوراً کرانا پڑے جیسے بعض محکموں میں گورنمنٹ نے ضروری کر دیا ہے کہ ملازم بیمہ کرائیں- یہ چونکہ اپنے اختیار کی بات نہیں ہوتی اس لئے جائز ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ موجود ہے- آپ نے فرمایا ہے پراویڈنٹ فنڈ جہاں مجبور کر کے جمع کرایا جاتا ہے وہاں اس رقم پر جو زائد ملے وہ لے لینا چاہئے-
    اس کے بعد حضور نے مجلس مشاورت میں عورتوں کے حق نمائندگی کے متعلق فرمایا-:
    ایک اور مسئلہ جس نے ہماری جماعت میں بہت شور برپا کر دیا ہے وہ مجلس مشاورت میں عورتوں کے حقوق کا مسئلہ ہے- میں نے مجلس مشاورت میں سوال پیش کیا تھا کہ عورتوں کو حقنمائندگی ملنا چاہئے یا نہیں میرے نزدیک کسی مسئلہ کے متعلق اتنا جوش` جوش نہیں بلکہ دیوانگی پیدا نہیں ہوئی جتنی اس بارے میں پیدا ہوئی ہے- عورتیں ہیں تو کمزور مگر معلوم ہوتا ہے ان میں مردوں کو بہادر بنانے کا خاص ملکہ ہے- بعض دوستوں میں اتنا جوش پایا جاتا ہے کہ وہ کہتے ہیں اگر عورتوں کو حق نمائندگی مل گیا تو اسلام مردہ ہو جائے گا- اس کے مقابلہ میں دوسرے فریق میں جوش نہیں دیکھا گیا لیکن عورتوں میں جوش ہے- الفضل میں ایک مضمون ان کے حقنمائندگی کے خلاف جب چھپا تو لجنہ کی طرف سے میرے پاس شکایت آئی کہ اب ہم کیا کریں- جامعہ احمدیہ میں اس مسئلہ پر بحث ہوئی اور وہاں حق نمائندگی کے مخالفین کو کامیاب قرار دیا گیا ہے- میں نے کہا تم بھی میٹنگ کرو جس میں اس مسئلہ پر بحث کرو کہ مردوں کا مجلسمشاورت میں حق نمائندگی ہے یا نہیں اور پھر فیصلہ کر دو کہ نہیں- جامعہ احمدیہ میں تو بچوں کے مضامین کا فیصلہ کیا گیا ہے نہ کہ حق نمائندگی کا-
    اگرچہ یہ معمولی سوال نہیں ہے- اس میں غلطی بہت خطرناک ہو سکتی ہے- تا ہم ایسا اہم بھی نہیں ہے کہ اگر عورتوں کو حق نمائندگی دے دیا جائے تو اسلام کو مردہ قرار دینا پڑے- بے شک یہ سوال بہت اہم ہے مگر اس کا شریعت سے تعلق نہیں- شریعت سے ثابت ہے کہ رسول کریم ~صل۲~ نے مرد سے بھی مشورہ لیا اور عورت سے بھی- باقی رہا یہ کہ کس طریق سے مشورہ لینا چاہئے یہ نہ مردوں کے متعلق بتایا نہ عورتوں کے متعلق- یہ بات عورتوں کو حقنمائندگی نہ ملنے کا کوئی بڑے سے بڑا ممد بھی ثابت نہیں کر سکتا- شریعت نے کہا ہے مشورہ کرو- آگے یہ کس طریق سے کیا جائے یہ ہم پر چھوڑ دیا کہ زمانہ کے حالات کے مطابق جس طرح مناسب ہو کرو- اگر رسول کریم ~صل۲~ کے وقت اس طرح مشورہ کیا جاتا کہ شام` یمن` حلب وغیرہ علاقوں کے نمائندے آتے اور مشورہ میں شریک ہوتے تو ہو سکتا تھا مدینہ میں مشورہ ہی ہو رہا ہوتا اور پیچھے حملہ ہو جاتا- اس لئے رسول کریم ~صل۲~ کا یہ طریق تھا کہ نماز کے لئے لوگوں کو جمع کرتے اور پھر مشورہ کر لیتے- بعد میں اس طریق کو بدلنا پڑا- پس طریقمشورہ بدلا جا سکتا ہے- کیونکہ یہ شریعت میں موجود نہیں- یہ ہم نے حالات کے مطابق خود مقرر کرنا ہے- اس میں اگر غلطی کریں گے تو نقصان اٹھائیں گے- مگر شریعت دفن نہ ہوگی` وہ زندہ ہی رہے گی-
    یہ بات ہماری جماعت کے لوگوں کو اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ آج وہ زمانہ نہیں کہ کھڑے ہو کر کہہ دیا جائے عورتیں ناقصات العقل والدین text] gat[ ہیں اور اس کے یہ معنی کر لئے جائیں کہ عورتوں میں کوئی عقل نہیں- یہ معنی خود رسولکریم ~صل۲~ کے عمل اور آپ سے بعد کے عمل سے غلط ثابت ہوتے ہیں- اگر اس کے یہی معنی ہیں جو عام طور پر سمجھے جاتے ہیں تو رسول کریم ~صل۲~ نے ام سلمہؓ سے کیوں مشورہ لیا؟ اگر عورتیں ناقصات العقل ہوتی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ایسی عورتیں بھی ہوئی ہیں جنہوں نے کامل العقل مردوں کو عقل کے بارے میں شکست دی اور ان کے پایہ کے مرد نہیں ملتے- میں حضرت عائشہ ؓ کو پیش کرتا ہوں- قرآن کریم میں خاتم النبین کے الفاظ آئے تھے ادھر حدیثوں میں لا نبی بعدی ۲~}~ کے الفاظ موجود تھے- جوں جوں زمانہ نبوت سے بعد ہوتا جاتا` ان سے یہ نتیجہ نکالا جاتا کہ رسول کریم ~صل۲~ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا- اس خطرہ کے انسداد کیلئے کسی مرد کو توفیق نہ ملی سوائے حضرت علیؓ یا ایک دو اور کے- مگر حضرت عائشہؓ دھڑلے سے فرماتی ہیں-قولوا انہ خاتم الانبیاء ولاتقولوا لانبی بعدہ۳~}~]2 [rtf یہ تو کہو کہ رسول کریم ~صل۲~ خاتمالنبین ہیں مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں- اب دیکھ لو اس زمانہ کے مامور نے کس کی تصدیق کی- ان کی جنہیں ناقصات العقل کہا جاتا ہے یا ان کی جو کامل العقل کہلاتے تھے- اگر اس وقت وہ یہ کہتیں کہ میں جسے ناقصات العقل میں شامل کیا جاتا ہے کیوں بولوں تو آج اس بارے میں کس قدر مشکلات پیش آتیں اور ہم کتنے میدانوں میں شکست کھاتے- جب ہم خاتم النبین کے یہ معنی پیش کرتے کہ رسول کریم ~صل۲~ کے بعد آپ کی امت میں سے آپ کی ¶غلامی میں نبی آ سکتا ہے تو کہا جاتا پہلے کسی نے یہ معنی کیوں نہ سمجھے- اب جب یہ کہا جاتا ہے تو ہم کہتے ہیں دیکھو رسول کریم ~صل۲~ کی بیوی نے یہی معنی سمجھے تھے- دراصل ناقصاتالعقل والدین نسبتی امر ہے کہ مرد کے مقابلہ میں عورت کم عقل رکھتی ہے- یعنی کامل سے کاملمردسے کامل سے کامل عورت عقل میں کم ہوگی اور دوسرے درجہ کے مرد سے دوسریدرجہ کی عورت کم ہوگی اور اس سے کوئی انکار نہیں کرتا- بعض باتیں مردوں سے تعلق رکھنے والی ایسی ہیں جن میں عورتوں کو پیچھے رہنا پڑتا ہے جیسے لڑائیاں اور جنگیں ہیں- پس ناقصاتالعقل نسبتی امر ہے- اور اس سے عورتوں کا حق نمائندگی نہیں مارا جا سکتا کیونکہ اگر ایسا کیا جائے تو سب کے سب اول درجہ کی عقل رکھنے والے مردوں کو حق نمائندگی ملنا چاہئے دوسروں کا حق نہیں ہونا چاہئے مگر مجلس مشاورت میں جو نمائندے آتے ہیں ان میں گو اعلیٰدرجہ کی عقل رکھنے والے بھی ہوتے ہیں مگر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو کچھ نہیں جانتے- ان سے بڑھ کر بیسیوں مرد دوسرے مقامات پر موجود ہوتے ہیں اور مرد ہی نہیں بیسیوں عورتیں بڑھ کر ہوتی ہیں- مثلاً ایک ایسا شخص جو کسی گائوں سے آتا ہے اور مجلسمشاورت کا نمائندہ ہوتا ہے اس سے زیادہ واقفیت رکھنے والے بہت سے ہماری جماعت کے مرد لاہور میں ہوتے ہیں مگر انہیں نمائندگی کا حق نہیں دیا جاتا- غرض عورتوں کو نمائندگی دینا ان کا حق ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ کس طرح انہیں یہ حق دیں- میں سمجھتا ہوں الفضل کے مضامین پڑھ کر بعض لوگوں کو تو یہ خیال پیدا ہو گیا ہوگا کہ جہاد کا موقع آ گیا ہے مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے عورتوں کا یہ حق ہے- ہاں سوال یہ ہے کہ کس طریق سے ان سے مشورہ لیا جائے تا کہ ان کا حق بھی زائل نہ ہو اور ان کے مشورہ سے ہم فائدہ بھی اٹھائیں-
    اس کے بعد حضور نے شاردا ایکٹ ۴~}~ کے متعلق فرمایا-
    بعض دوست سمجھتے ہیں اس نے شریعت پر حملہ کر دیا ہے اور بعض کہتے ہیں کوئی بھی خطرہ کی بات نہیں ہے- مگر میں کہتا ہوں دونوں افراط و تفریط سے کام لے رہے ہیں- وہ بھی جن کا خیال ہے کہ یہ اسلام پر حملہ کیا گیا ہے اور وہ بھی جو یہ کہتے ہیں کہ اس سے کوئی نقصان نہیں- یہ اسلام پر ہر گز حملہ نہیں ہوا مگر یہ بھی صحیح نہیں کہ اس سے کوئی خطرہ نہیں- بے شک اسلام پر حملہ نہیں ہوا مگر مسلمانوں پر حملہ ضرور ہوا ہے اور اس سے خطرہ ہے کہ اور بہت سے نقصان نہ پہنچ جائیں- اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ ایک کمزور اور بے کس لڑکی کو نابالغی کی حالت میں بیاہ دینا بہت بڑا ظلم ہے اور اسے قوم اور جماعت کے لئے بیکار بنا دینا ہے- کوئی عقلمند اس کی تائید نہیں کرے گا اور نہیں کر سکتا لیکن نکاح اور میاں بیوی کے اجتماع میں فرق ہے- اجتماع تو نابالغی کی حالت میں کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہو سکتا مگر دیکھنا یہ ہے کہ نکاح بھی کسی صورت میں جائز ہے یا نہیں- یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا منشاء یہ ہے کہ عورت کا بلوغت کے بعد نکاح ہو کیونکہ نکاح سے عورت مرد کی رضا مندی کا تعلق ہے اور اگر بلوغت نہیں تو رضا مندی کیسی- پس اگر یہ کہا جائے کہ بلا ضرورت بھی نابالغ کا نکاح جائز ہے تو ہم کہیں گے نکاح کی غرض جو شریعت نے قائم کی ہے وہ باطل ہو جاتی ہے- نکاح سے غرض تو یہ ہے کہ مرد و عورت ایک دوسرے کے ممد ہونے کا عہد کریں اور یہ عہد نابالغی میں نہیں کیا جا سکتا- لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ بعض حالات میں نابالغ کا نکاح کرنے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے- مثلاً ایک ایسا شخص ہے جس کی ایک بیوی فوت ہو جائے اور دوسری سے اس کے نوجوان لڑکے ہوں اور وہ پسند نہ کرے کہ سوتیلی بہنوں کی ولایت سوتیلے بھائیوں کے سپرد کرے اور کسی اور کو ولی بنا کر وہ یہ بھی نہ چاہتا ہو کہ دوسروں پر ظاہر کرے کہ اس کے گھر میں تفرقہ ہے- وہ نابالغ لڑکی کا نکاح کر سکتا ہے- مگر شریعت نے اس لڑکی کے لئے یہ رکھا ہے کہ اگر اسے یہ رشتہ ناپسند ہو تو بالغ ہو کر انکار کر دے اس طرح گویا نابالغ کا صرف لفظی نکاح ہو- کئی حالتوں میں یہ نابالغی کا نکاح ہی پسندیدہ ہو جاتا ہے- میرے پاس کئی اس قسم کے بھی خطوط آتے ہیں کہ ماں باپ نے ہمارا نکاح فلاں جگہ کیا تھا ہمیں وہی جگہ پسند ہے لیکن دوسرے رشتہ دار وہ رشتہ چھڑانا چاہتے ہیں- اسی طرح اور کئی احتمالات ممکن ہیں جن میں چھوٹی عمر کی شادی مفید ہو سکتی ہے مگر یہ شاذ و نادر ہوتے ہیں- تا ہم یہ ضرورت ہے کہ نابالغ کی شادی کرنے کی اجازت ہو- مگر ایسی ضرورتوں کو بھی قربان کیا جا سکتا ہے اور شریعت نے یہ جائز رکھا ہے کہ جائز امر کا ناجائز استعمال اگر جائز کیا جائے تو اس میں روک ڈال دی جائے- حدیث میں آتا ہے حضرتعمرؓ کے زمانہ میں لوگ تین طلاقیں اکٹھی دے کر پھر مل جاتے- حضرت عمرؓ نے کہا یہ شریعت کے ساتھ ہنسی ہے- اب اگر کوئی تین طلاقیں اکٹھی دے گا تو اسے پھر ملنے کی اجازت نہ ہوگی تو یہ جائز ہے کہ اگر کسی جائز بات کا ناجائز فائدہ اٹھایا جائے تو اس سے روک دیا جائے مگر اس کا فیصلہ خود مسلمان کریں دوسروں کو اس کا حق حاصل نہیں ہے کیونکہ اگر اور دخل دیں گے تو دوسرے مسائل پر بھی اس کا اثر پڑے گا- مثلاً گائے کا ذبح کرنا مسلمانوں کیلئے جائز ہے- کل کو ہو سکتا ہے ہندو اس کے خلاف قانون پاس کر دیں- اسی طرح طلاق جائز ہے` ایک سے زائد بیویاں کرنا جائز ہے` ان کے خلاف بھی غیرمذاہب والے قانون پاس کر سکتے ہیں مگر ان مسائل میں دخل دینا کوئی مسلمان برداشت نہ کرے گا- ان وجوہات سے نابالغی کی شادی میں رکاوٹ خطرناک ہے- مگر اس کا علاج یہ نہیں جو بعض لوگوں نے تجویز کیا ہے کہ دس دس سال کی لڑکیوں کی شادیاں کر دیں گے- یہ اپنا نقصان آپ کرنے والی بات ہے-
    اس کے بعد حضور نے یہ ثابت کیا کہ مسلمانوں کو ایسے قانون کی ضرورت نہیں کیونکہ ان میں بچپن کی شادی کا بہت کم رواج ہے اور وہ بھی روز بروز دور ہو رہا ہے- پھر حضور نے ان امور کی تشریح فرماتے ہوئے جن کی اسلام میں اجازت ہے بتایا کہ بعض ایسی اجازتیں ہیں جن کا شریعت نے ضمناً ذکر نہیں کیا بلکہ انہیں شریعت کا جزو بنا لیا ہے اور کہہ دیا ہے یہ باتیں کرو تو ان کے متعلق یہ یہ حکم ہے- ان اجازتوں میں کسی کا دخل دینا بہت زیادہ برا ہے- بچپن کی شادی بھی انہی میں سے ہے- شریعت نے اس کی اجازت دی اور اس کے لئے بعض احکام بیان کئے کہ لڑکی بالغ ہو کر چاہے تو ایسی شادی سے انکار کر سکتی ہے- پھر اسی اجازت کی ایک قسم یہ ہے کہ رسول کریم ~صل۲~ نے اس پر خود عمل کیا ہو اور بچپن کی شادی ایسی ہی اجازت ہے کہ رسول کریم ~صل۲~ نے اس پر عمل کیا- یعنی حضرت عائشہؓ کے ساتھ بچپن میں نکاح کیا- اور ۱۲ سال کی عمر میں ان کا رخصتانہ ہو گیا- یہ صحیح ہے کہ عرب میں بلوغت جلد ہو جاتی ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ حضرت عائشہؓ کے قویٰ اعلیٰ درجہ کے تھے لیکن ان کی عمر ۱۲ سال کی تھی- جب رسول کریم ~صل۲~ کے ہاں تشریف لے گئیں- اب اگر ان کی عمر کے متعلق یہ انتظار کیا جاتا کہ ۱۷` ۱۸ سال کی ہو جاتی تو صرف ایک سال انہیں رسول کریم ~صل۲~ کی صحبت میں رہنے کا موقع ملتا اور دین کی بہت سی باتیں نامکمل رہ جاتیں- مگر جو عرصہ انہیں ملا اس میں انہوں نے دین کی بڑی خدمت کی- اسی لئے ضروری تھا کہ رسول کریم ~صل۲~ کے پاس انہیں ایسے وقت میں خدا تعالیٰ لاتا کہ وہ آپ کی صحبت سے فیض حاصل کر کے دنیا کو فائدہ پہنچا سکتیں- اس لئے انہیں جلد بالغ کر دیا- تو جس بات پر رسول کریم ~صل۲~ نے عمل کیا اور جائز قرار دیا اس سے قطعاً روکنا بہت اہم ہے- میں تو اس کے متعلق یہ کہتا ہوں کہ بچپن کی شادی سے روکو مگر عارضی جب تک کہ مسلمان اس اجازت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں قطعی مت روکو-
    اب اس کے متعلق طریق یہ ہے کہ گورنمنٹ کو بتایا جائے کہ اس قانون میں کیا کیا نقائص ہیں اور اس سے مسلمانوں کو کیا کیا خطرات ہیں- اگر گورنمنٹ یہ اقرار کرے کہ ایسی باتوں میں آئندہ دخل نہ دیا جائے گا تو پھر اطمینان ہو سکتا ہے اور ہم اسے برداشت کر لیں گے-
    اس کے بعد حضور نے مالی حالت کو مضبوط بنانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا-
    میں نے اپنی تحریک میں ذکر کیا تھا کہ سلسلہ پر مالی بوجھ پڑا ہوا ہے جو زمیندار جماعتوں کی وجہ سے ہے- اس لئے نہیں کہ ان کے اخلاص میں کمی ہے بلکہ اس لئے کہ پے در پے ایسے حادثات ہوئے ہیں جن سے فصلوں کو بہت نقصان پہنچا ہے- مگر یہ بھی صاف بات ہے کہ سلسلہ کے کام جماعت نے ہی کرنے ہیں اس لئے باقاعدگی کے ساتھ چندہ ادا کرنا چاہئے- مجھے گمان نہیں بلکہ یقین ہے کہ پورے طور پر بعض جماعتیں اس طرف توجہ نہیں کرتیں کہ سب کو سلسلہ کا بوجھ اٹھانا چاہئے اس لئے سارا بوجھ چند جماعتوں پر پڑا ہوا ہے- میں سب دوستوں کو اور خصوصاً کارکنوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے طور پر جائزہ لیں اور دیکھیں کونسے دوست کمچندہ دیتے ہیں یا نہیں دیتے- اپنے آئندہ سال کے پروگرام میں ایسے لوگوں کی سستی اور کمزوری دور کرنا خاص طور پر رکھا جائے- جس طرح انہیں باقاعدگی کے ساتھ چندہ دینے کی عادت ہے اسی طرح دوسروں کو بھی ہو سکتی ہے- اگر ہمت اور استقلال سے دوست کام کریں تو خدا تعالیٰ برکت دے گا- ابھی دیکھا ہے چندہ جلسہ سالانہ کے لئے تحریک کی گئی- باوجود اس کے کہ سردیوں میں کئی قسم کے بوجھ ہوتے ہیں- پھر یہاں آنے کے لئے بھی خرچ کی ضرورت تھی مگر دوستوں نے پوری توجہ کی- ۱۶ ہزار کے قریب روپیہ آ چکا ہے اور اگر وعدے ملائے جائیں تو ۱۸ ہزار بن جاتا ہے- اس کے علاوہ دوسرے چندے بھی دوستوں نے ادا کئے ہیں- ایسی نظیر سوائے مخلصین کے اور کوئی نہیں پیش کر سکتا- بعض لوگوں کو ایک غلطی لگی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ جو لوگ نئے سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں- یا جو سست ہیں انہیں چندہ کی تحریک نہ کرنی چاہئے- اس سے انہیں ابتلاء آئے گا حالانکہ ایسے لوگوں کو مضبوط کرنے کے لئے قربانی کرانے کی ضرورت ہے- اور یہ اپنے بھائیوں پر بدظنی ہے کہ اس طرح انہیں ابتلاء آ جائے گا- میں نے کئی لوگوں کو جب یہ غلطی دور کرنے کے لئے لکھا اور انہوں نے کوشش کی تو عمدہ نتیجہ نکلا- اور پھر انہوں نے لکھا کہ آپ کی تحریک کی برکت سے ایسا ہوا- بے شک خدا تعالیٰ برکت دیتا ہے مگر اس میں ان کی کوشش کا بھی دخل ہوتا ہے- بعض لوگوں سے جب چندہ مانگا گیا تو انہوں نے سال سال کا اکٹھا لا دیا- تو یہ اپنے بھائیوں کے متعلق بدظنی ہے کہ اگر ان سے چندہ مانگا گیا تو انہیں ابتلاء آ جائے گا- پس میں جماعتوں کے کارکنوں کو توجہ دلاتا ہوں اور اگر وہ سست ہوں تو دوسروں سے کہتا ہوں کہ چندہ کی ادائیگی میں ہر شخص سے باقاعدگی اختیار کرائیں- اس میں شبہ نہیں کہ کامیابی خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے- مگر جو ضرورتیں مال سے پوری ہو سکتی ہیں ان کے لئے مال کی ضرورت ہے اور اس کے بغیر کام نہیں ہو سکتا- بعض جگہ کے پریذیڈنٹ یا سیکرٹری خود سست ہوتے ہیں- جب کوئی تحریک کی جائے تو اسے اس لئے روک دیتے ہیں کہ اگر کسی کو چندہ دینے کے لئے کہا تو وہ کہے گا خود بھی لائو ایسی جگہ دوسرے دوستوں کو کھڑا ہو جانا چاہئے- ابھی میں نے حافظ روشن علی صاحب مرحوم کی مثال پیش کی تھی کہ ہر شخص اپنے آپ کو دین کا رکھوالا سمجھے- اگر دیکھیں سیکرٹری یا پریذیڈنٹ سست ہے تو خود کام کریں- کئی جماعتیں ایسی ہیں جہاں اسی وجہ سے نقص ہے- اگر ان سست سیکرٹری یا پریذیڈنٹ کو بدل دیا جائے تو باقاعدہ چندہ آنے لگ جائے- پھر کئی جگہ چندہ میں کمی آپس کے فتنہوفساد کی وجہ سے ہے کیونکہ دلوں کی عدم صفائی سے ایمان میں کمزوری آ جاتی ہے- اول تو میں نصیحت کروں گا کہ ایسی جگہ بیٹھ کر جہاں چاروں طرف دشمن ہی دشمن کھڑے ہوں آپس میں فتنہوفساد نہ کرو بلکہ اگر کسی سے کوئی غلطی یا کمزوری سرزد ہو تو اسے معاف کرو` معاف کرو` پھر معاف کرو- لیکن اگر معاف نہیں کر سکتے اور سزا ہی دینا چاہتے ہو تو محبت والی سزا دو- کوئی کہے محبت والی سزا کیسی ہوگی- تو یاد رکھنا چاہئے- اصل سزا یہی ہے کہ سزا دیتے وقت بھی محبت ہو` کینہ اور بغض نہ ہو- پس اول تو معاف کرو` ایک دوسرے کی کمزوری سے درگذر کرو اور اگر معاف نہیں کر سکتے تو محبت اور پیار سے جماعت میں فیصلہ کرالو اور پھر جو فیصلہ ہو اسے مان لو- اس طرح بھی جماعت کی بہت ترقی ہو سکتی ہے- مجھے یہ سن کر رونا آتا ہے کہ آپس کی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنی چھوڑ دی جاتی ہے- نماز اللہ تعالیٰ کا فرض ہے نہ کہ زید و بکر کا- اگر احمدیت میں غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہوتی` میں تو جا کر مولوی ثناء اللہ جیسے لوگوں کے پیچھے بھی نماز پڑھتا اور بتاتا کہ ہمیں ان سے کوئی بغض یا کینہ نہیں ہے- اگر کوئی اپنے بھائی کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا جسے خدا نے ماں جائے بھائی سے بھی بڑھ کر تعلق والا بنایا ہے تو وہ اپنے ساتھ آپ دشمنی کرتا ہے- پس آپس کا تفرقہ دور کرو اور اتحاد پیدا کرو اس طرح بھی جماعت بہت ترقی کر سکتی ہے-
    مالی حالت کو درست کرنے کی ایک صورت وہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے الہام الہی سے مقرر فرمائی ہے اور وہ وصیت ہے- مجھے یہ معلوم کر کے تعجب ہوا کہ عورت مرد ملا کر ابھی تک دو ہزار نے بھی وصیت نہیں کی حالانکہ جماعت کی تعداد بہت زیادہ ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے وصیت کو جزو ایمان قرار دیا ہے- احباب کو اس کی طرف توجہ کرنی چاہئے- اور یوں بھی بیت المال والے کسی نہ کسی طرح وصیت کے قریب قریب چندہ وصول کر ہی لیتے ہیں- مالی لحاظ سے ہی یہ بھی کہتا ہوں کہ قرآن کریم کے پارے اور رسول کریم ~صل۲~ کی لائف (LIFE) بھی شائع ہو گی- اس کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے- کم از کم تین ہزار تعداد چھپے تو سستی قیمت رکھی جا سکتی ہے- ابھی سے جماعتیں ذمہداری لے لیں کہ اتنی اتنی تعداد وہ خود خرید لیں گی یا بکوائیں گی- اس میں امداد کرنے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ بک ڈپو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی کتب خریدی جائیں اس طرح فنڈ جمع ہو سکتا ہے- انہی دنوں حوالہ دیکھنے کیلئے میں نے حضرت مسیح موعود علیہالسلام کی کتاب کشتی نوح نکالی تو اس پر لکھا تھا بار چہارم چھپی- اور ایک ہزار تعداد تھی- اس طرح گویا وہ چار ہزار چھپی- اگر ہر شخص ایک ایک کتاب اپنے پاس رکھتا تو کم از کم ایک لاکھ چھپ سکتی تھی- سب دوستوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں پڑھنی چاہئیں کہ ان میں ہماری راہ نمائی کی گئی ہے-
    اب میں اس اہم فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس کی طرف کم توجہ ہے- اور وہ تبلیغ ہے- پچھلے سال میں نے تحریک کی تھی کہ احباب اس میں خاص طور پر حصہ لیں اور کم از کم اپنے پایہ کا ایک ایک آدمی سال میں احمدی بنانے کا وعدہ کریں- اس قسم کا وعدہ دو سو چھیاسی دوستوں نے کیا تھا- مجھے یقین ہے کہ بہت سے دوستوں نے یہ وعدہ پورا کیا مگر دفتر کے رجسٹر میں صرف سولہ آدمیوں کے نام درج ہیں- چونکہ ان کے نام جلسہ کے موقع پر سنانے کا میں نے وعدہ کیا تھا اس لئے سناتا ہوں- وہ نام یہ ہیں-
    ۱- منشی چراغ الدین صاحب گورداسپور- ۲- نواب بی بی صاحبہ اہلیہ محمد علی صاحب فیض اللہ چک- ۳- دولت خان صاحب بیری- ۴-الطاف حسین صاحب اودے پور کٹیا- ۵-بہادرصاحب کھریپڑ- ۶- دولت خان صاحب کاٹھ گڑھ- ۷- ملک اللہ رکھا صاحب- ۸-محمدعلی صاحب فیض اللہ چک- ۹- بابو احمد جان صاحب نینی تال- ۱۰- محمد عبدالرحیم صاحب رائیچور محبوب نگر- ۱۱- شیخ غلام حیدر صاحب تلونڈی راہوالی- ۱۲- خدا بخش صاحب جنرلسیکرٹری جماعت ہانڈو ضلع لاہور- ۱۳- نور دین صاحب احمدی ہانڈو- ۱۴-الہدادصاحب ہانڈو- ۱۵-مولوی امام الدین صاحب سیکھواں- ۱۶-میاں نانک صاحب سیکھواں-
    یہ رپورٹ صحیح نہیں- بہت زیادہ دوستوں نے وعدہ پورا کیا لیکن اگر سب نے بھی پورا کیا تو بھی دو سو چھیاسی کی تعداد کتنی تھوڑی ہے- یہ بہت اہم فرض ہے اور ہر احمدی کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے- میں نے مسلمانوں میں زندگی پیدا کرنے کے لئے ان کی سیاسیات میں دخل دیا` ان کے تمدنی معاملات میں حصہ لیا` ان کے معاشرتی امور کی طرف توجہ کی` ان کی تمدنی اصلاح کی کوشش کی مگر میں آخر کار اس نتیجہ پر پہنچا کہ مسلمان اگر زندہ ہونگے تو احمدی ہو کر ورنہ ان کی زندگی کی کوئی صورت نہیں- ان میں اتحاد نہیں` ان میں تنظیم نہیں` ان میں کام کرنے کی روح نہیں` ان میں زندہ رہنے کی خواہش نہیں` ان میں دیانت نہیں` ان میں شجاعت نہیں` ان میں غیرت نہیں` ان کی حرص بڑھی ہوئی ہے` ان میں تفرقہ پھیلا ہوا ہے` وہ بغض و کینہ کا شکار ہو رہے ہیں` وہ ایک دوسرے کے حسد کی وجہ سے کچھ کر نہیں سکتے- میں نے چاروں طرف ہاتھ مارے اور ہر ممکن کوشش کی کہ ان میں بیداری پیدا ہو` مگر میں مایوس ہو گیا اور آخر کار میری نظر اسی کمزور جماعت پر آ کر ٹکی جو احمدی جماعت ہے- میرا اندازہ ہے کہ اگر پچیس لاکھ افراد کی جماعت بھی منظم اور احمدی ہو جائے تو مجھے ایک اور ایک دو کی طرح یقین ہے کہ اس پر پہلے دن کا سورج نکلنے پر ہی یقیناً یورپ کے تمام فرقے تسلیم کر لیں گے کہ اسلام کے غالب ہونے میں شبہ نہیں- اب بھی عیسائیوں کی ایک بہت بڑی انجمن انگلش چرچ مشنری سوسائٹی نے اپنے خاص اجلاس میں فیصلہ لکھا ہے کہ احمدی جماعت جہاں جہاں عیسائیت کا مقابلہ کر رہی ہے اسے شکست دے رہی ہے- کتنا بڑا اقرار ہے- مگر ہماری ہستی کیا ہے- میرا یقین ہے کہ اگر صرف پچیس لاکھ بھی احمدی ہوں تو ساری دنیا پر اسلام کو غالب کر سکتے ہیں- ہم موجودہ حالت میں بھی غالب ہونگے لیکن اس قدر تعداد ہونے پر دشمن سے دشمن بھی اقرار کرنے پر مجبور ہوگا کہ اس نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں مگر ان ۷ کروڑ مسلمانوں میں کچھ بھی دم نہیں- پس ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے کہ احمدیت کی اشاعت ہو- اب پھر ایک دفعہ میں اپیل کرتا ہوں- اس وقت یہاں نام نہیں لکھے جائیں گے کیونکہ اس طرح تقریر رہ جائے گی دفتر میں نام بھیج دیئے جائیں- میں اپیل کرتا ہوں اور میرا اپیل کرنا کیا خدا تعالیٰ نے یہ حق رکھا ہے- میں تو ثواب میں شامل ہونے کے لئے کہتا ہوں کہ سارے احباب قطع نظر اس سے کہ ان کی بڑی پوزیشن ہے یا چھوٹی` اگلے سال کم از کم اپنے رتبہ کے ایک ایک آدمی کو احمدی بنائیں- خدا تعالیٰ کے نزدیک تو ہر ایک کا درجہ بڑا ہے- یہ میں اس وجہ سے کہہ رہا ہوں کہ اس طرح تمام طبقوں میں احمدیت پھیل جائے ورنہ جو بھی احمدیت میں آتا ہے خدا کے نزدیک اس کا بڑا درجہ ہے- پھر چھوٹے بڑے اور بڑے چھوٹے ہو سکتے ہیں- ہو سکتا ہے جو بظاہر چھوٹا نظر آئے` اپنے علاقہ میں تغیر پیدا کرنے کے لحاظ سے بڑا ثابت ہو- پس دوست اپنے نام لکھا دیں ان کے نام اخبار میں درج کر دیئے جائیں گے تا کہ آئندہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں- نام درج ہو جانے بھی بڑی بات ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے منارۃ المسیح کے متعلق اعلان کیا تھا کہ جو سو روپیہ دے گا اس کا نام منارہ پر لکھا جائے گا- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نام لکھا جانا بھی بڑی بات ہے تا کہ اگلی نسلیں ان کے نام یاد رکھیں اور جو لوگ روحانیمینار بنانے میں حصہ لیں گے ان کے نام کیوں نہ یاد رکھیں گے- پس اپنے اپنے نام دو تا کہ آئندہ نسلیں یاد رکھیں کہ انہوں نے روحانی مینار بنانے میں حصہ لیا تھا-
    میں نے دیکھا ہے نئی جماعتیں بہت کم قائم ہو رہی ہیں اس لئے ارادہ ہے کہ نئے علاقوں میں مبلغ بھیجے جائیں جو وہاں رہیں اور تبلیغ کریں- دوست ان کی مدد کریں سیالکوٹ` گجرات` جالندھر` ہوشیار پور وغیرہ علاقوں کے دوست ایسے مقامات کے پتے دیں جہاں دس دس` پندرہپندرہ میل میں کوئی احمدی نہیں مگر وہاں ان کی رشتہ داریاں ہوں تا کہ وہ اخلاقی مدد مبلغوں کو دے سکیں- اگر ایسے علاقوں کے پتے آ جائیں تو مبلغوں کو وہاں بھیجا جائے- میں نے دیکھا ہے ہمارے مولویوں کو مخالفت برداشت کرنے اور گالیاں سننے کی عادت نہیں رہی- کیونکہ وہ ایسے ہی علاقوں میں جاتے ہیں جہاں احمدی ہیں مگر وہاں جلد ترقی نہیں ہو سکتی- جہاں نئی جماعتیں قائم ہوتی ہیں وہاں جلد احمدیت پھیل جاتی ہے- میں امید کرتا ہوں دوست جلد ایسے حلقوں کے متعلق مجھے اطلاع دیں گے-
    یہ بھی ارادہ ہے کہ آنے والے سال میں اگر خدا تعالیٰ توفیق دے تو ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں کا ٹور کروں- برہما کے دوستوں کا خیال ہے کہ میرے جانے سے اچھی تبلیغ ہو سکتی ہے- بنگال کے دوستوں کی بھی مدت سے خواہش ہے کہ میں وہاں جائوں- اگر یہ سفر تجویز ہو تو راستے کے بڑے بڑے شہروں میں بھی ٹھہر سکتے ہیں اور اگر یہ سفر کامیاب ہو تو اور علاقوں میں بھی جا سکتے ہیں- بھیرہ جانے کا ارادہ مدت سے ہے کیونکہ وہ حضرت خلیفہ اول کا وطن ہے- عام مسلمانوں کی حالت روز بروز افسوسناک ہو رہی ہے- اسلام کی ہتک ہو رہی ہے مگر انہیں کوئی پرواہ نہیں- ان میں مذہب کے متعلق کچھ بھی احساس نہیں ہے جو اسی طرح پیدا کیا جا سکتا ہے کہ تبلیغ احمدیت پر زور دیا جائے-
    اس وقت میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ بعض مقامات کے متعلق شکایت آئی ہے کہ رسولکریم ~صل۲~ کی سیرت کے متعلق جلسوں کے انعقاد میں چونکہ غیر احمدیوں سے کام لینا پڑا` اس لئے بعض لوگوں میں مداہنت پیدا ہو گئی ہے- میں کسی کا نام نہیں لیتا مگر ایسے لوگ خود اپنے نفسوں میں غور کر لیں- اگر اصل چیز ہی مٹ جائے تو پھر ایسے جلسوں اور ان میں تقریروں کا کیا فائدہ- ایسے جلسوں کے لئے مسلمانوں کے پاس جائو اور انہیں کہو آئو یہ ہمارا متحدہ کام ہے تم بھی اس میں شامل ہو جائو- اگر وہ شامل ہوں تو بہتر ورنہ ان کی منتیں اور خوشامدیں نہ کرو- اگر وہ رسول کریم ~صل۲~ کی تعریف اور شان کے اظہار کے جلسوں میں شامل ہونگے تو برکات حاصل کریں گے اور اس کا فائدہ انہیں خود پہنچے گا- ہمارا ان کے شامل ہونے سے کوئی فائدہ نہیں- لیکن یاد رکھو! ان کی بے جا رضا مندی کے لئے اپنا دین تباہ نہ کرو- خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہاری ہدایت میں کسی کے گمراہ ہونے کی وجہ سے فرق آتا ہے تو گمراہ ہونے والے کی پرواہ نہ کرو- تم میں اگر کسی جگہ کوئی اکیلا ہی ہو اور اس کے ساتھ کوئی شامل نہ ہو تو وہ جنگل کے درختوں کے سامنے جا کر محمد ~صل۲~ کی تعریف کرنا شروع کر دے- اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ اپنی ذمہ داری سے بری سمجھا جائے گا اور اس کا نتیجہ بھی نکلے گا- لیکن کسی صورت اور کسی حالت میں بھی مداہنت نہیں اختیار کرنی چاہئے بلکہ احمدیت کی تبلیغ کھلے بندوں کرنی چاہئے-
    اب کے سال یہ تجویز ہے کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کا طریق تھا کہ تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد چھوٹے چھوٹے تبلیغی اشتہار شائع کرتے رہتے تھے- اب بھی اس طرح کیا جائے- ایسے اشتہارات دس` بیس` تیس ہزار شائع کئے جائیں- اس طرح امید ہے کہ نیا جوش پیدا ہو جائے گا- میرا ارادہ ہے اگر خدا تعالیٰ توفیق دے تو جنوری میں ہی ایک اشتہار شائع کر دیا جائے تا کہ دوست جاتے ہی اس کام کو شروع کر دیں-
    پچھلے سال میں نے قرآن کریم اور حدیث کے درس کی طرف احباب کو توجہ دلائی تھی اب پھر توجہ دلاتا ہوں- جہاں جہاں درس جاری ہوا وہاں نمایاں ترقی کے آثار نظر آتے ہیں- وہاں کے احمدیوں کی اولادوں پر نمایاں اثر ہے- ابھی تک جہاں درس جاری نہیں ہوئے وہاں ضرور جاری کئے جائیں- خواہ کوئی کتنا تھوڑا پڑھا ہوا ہو` درس جاری کرے تو خدا تعالیٰ اس کی ضرور مدد کرے گا اور خود اسے معارف سکھلائے گا- اس طرح درس دینے والے کو خود بھی فائدہ پہنچے گا اور دوسروں کو بھی- جہاں جہاں درس جاری ہیں وہاں کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ درس میں بڑے ہی شامل نہ ہوں بلکہ بچوں کو بھی شامل کیا جائے تا کہ بچپن سے ان کے دلوں میں دین کی محبت پیدا ہو- تھوڑی دیر درس ہو تا کہ وہ بے دل نہ ہوں اور اگر عام درس جاری نہ ہو سکے تو گھر میں بیوی بچوں کو ہی لے کر بیٹھ جانا چاہئے اور ایک رکوع اور اس کا ترجمہ سنا دیا جائے- احباب کم از کم تین ماہ ہی اس طرح کر کے دیکھیں کہ کیا اثر پیدا ہو جاتا ہے- اگر ترجمہ نہ آتا ہو تو مترجم قرآن سے ہی پڑھ دیا جائے-
    اب میں اپنی جماعت کے دوستوں کی توجہ اس طرف دلاتے ہوئے تقریر ختم کرتا ہوں کہ دنیا میں ترقی کرنے کے دو ہی راستے ہیں- ایک دیوانگی اور دوسرا فرزانگی- بغیر ان کے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی کہ یا تو انسان پاگل بن کر دنیا ومافیھا کو بھول جائے یا پھر عقل کے اس نقطہ پر پہنچ جائے کہ کوئی غلطی اس سے سرزد نہ ہو- یورپ کے لوگوں کو دیکھو جو کام وہ کرنا چاہتے ہیں اس کی سکیم تیار کرتے وقت باریک در باریک باتوں تک پہنچتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ سوائے اس کام کے کوئی چیز ان کے پیش نظر ہی نہیں ہے- پس ترقی یا تو فرزانگی سے حاصل ہو سکتی ہے یا دیوانگی سے- دیوانگی کی ترقی وہ ہوتی ہے جو انبیاء کی جماعتیں حاصل کرتی ہیں- لوگ ان پر ہنستے ہیں کہ وہ اپنا مال برباد کر رہے ہیں- چنانچہ آتا ہیقالوا انومن کما امن السفھاء ۶~}~ کفار کہتے ہیں- کیا ہم بھی ان بے وقوفوں کی طرح ایمان لے آئیں جو اپنے اموال تباہ کر رہے ہیں- میں نے دوران خلافت میں اس بات کے لئے پورا زور لگایا کہ درمیانیراستہ پر جماعت کو چلائوں- کچھ کچھ دیوانگی ہو اور کچھ کچھ فرزانگی- مگر مجھے اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اس میں مجھے کامیابی نہیں ہوئی- مجھے نہ وہ کامیابی نظر آئی جو دیوانگی سے حاصل ہوتی ہے اور نہ وہ نظر آئی جو فرزانگی سے ملتی ہے- بے شک کامیابی ہوئی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوئی مگر وہ ایسی نہ تھی جو فرزانگی والی ہوتی یا جو دیوانگی والی ہوتی- آپ لوگ اپنے نفسوں میں غور کریں- جب ہم نے یہ کام کر کے چھوڑنا ہے جس کا ذمہ لیا ہے تو اب یا تو وہ راستہ اختیار کریں جو میں نے پیش کیا تھا اور میرے ساتھ تعاون کریں- یا پھر یہ فیصلہ کریں کہ پوری فرزانگی سے کام لینا ہے یا پوری دیوانگی سے- پھر جو بھی فیصلہ کریں اس پر سارے کاربند ہو جائیں- مگر اتنا یاد رکھیں فرزانگی کے لئے مال اور جتھے اور بہت بڑے نظام کی ضرورت ہے- بہرحال احباب اس بارے میں مشورہ دیں کہ وہ کس بات پر عمل کرنے کے لئے تیار ہیں-
    اس کے بعد میں اس بات پر اپنی تقریر ختم کرتا ہوں کہ ہمارے لئے سب سے بڑی چیز دعا ہے- مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کے متعلق وہ روح کم نظر آتی ہے جو پہلے سالوں میں دیکھی جاتی تھی- کئی لوگ سمجھتے ہیں الحاح اور زاری کے ساتھ دعا کرنے سے ان کی بڑائی میں فرق آ جائے گا- کئی یہ خیال کرتے ہیں کہ جو بھی مانگیں اللہ تعالیٰ نعوذ باللہ غلاموں کی طرح فوراً دے دے اور اگر اس میں فرق پڑے تو پھر ان کے نزدیک دعا کچھ نہیں- انہی دنوں ایک صاحب آئے جو کہنے لگے اگر کسی مقصد کے لئے دعا بھی کریں اور اس کے لئے تدبیر بھی کریں تو پھر دعا کی کیا ضرورت ہے- وہ مستری تھے میں نے ان سے کہا آپ ایک دروازہ لکڑی کا بناتے ہیں اور پھر اس پر پالش کرتے ہیں اگر کوئی یہ سمجھے کہ بغیر دروازہ مکان محفوظ رہ سکتا ہے تو یہ غلط ہے اور اگر کوئی یہ سمجھے کہ بغیر پالش دروازہ دیر تک محفوظ رہ سکتا ہے تو یہ بھی غلط ہے- جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ دعا سے وہ کام لیا جائے جو دوا کا ہے وہ ایسے ہی ہیں جو یا تو صرف پالش سے دروازہ بنانا چاہتے ہیں یا جو یہ کہتے ہیں کہ پالش کے بغیر دروازہ عرصہ تک محفوظ رہ سکتا ہے- غرض بعض کبر کی وجہ سے دعا نہیں کرتے اور بعض قبول نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں- لیکن یاد رکھو کوئی روحانیکامیابی بغیر دعا کے نہیں ہو سکتی اگر آپ لوگ روحانی کامیابی اور سلسلہ کی کامیابی چاہتے ہیں تو روزانہ دعائوں میں اپنے آپ کو لگائو- میں خیال نہیں کر سکتا کہ بغیر دعا کے کس طرح روحانیت قائم رہ سکتی ہے- میرا تو کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں میں دعا نہ کروں- پس ہر احمدی کو چاہئے کہ خداتعالیٰ کے حضور گڑ گڑائے تا کہ وہ اخلاص` روحانیت اور قوت پیدا کرے- دنیاوی چیزوں کی اس کے مقابلہ میں حقیقت ہی کیا ہے کہ خداتعالیٰ ہمیں مل جائے مگر خدا تعالیٰ سوائے دعائوں کے نہیں مل سکتا- بہت ہیں جو دروازہ پر پہنچ کر محروم رہتے ہیں- کیونکہ خدا تعالیٰ کو ملنے کا دروازہ بغیر دعا اور عاجزی کے نہیں کھل سکتا- ایسے لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی اپنے محبوب کے دروازہ پر پہنچ کر دروازہ نہ کھٹکھٹائے- خدا تعالیٰ کے ملنے کے دروازہ تک پہنچنا ہمارا کام ہے آگے دروازہ کھولنا اس کا کام ہے- نماز` روزہ` حج` زکٰوۃ ایسے ہی امور ہیں جیسے کوئی اپنے محبوب کے دروازہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے اور دعا ایسی ہے جیسے دروازہ کھٹکھٹاتا ہے- پس دعائیں کرو` عاجزی اور زاری سے دعائیں کرو- ورنہ یاد رکھو روحانیت کے قریب بھی پہنچنا ناممکن ہے- خدا تعالیٰ فرماتا ہے-قل مایعبوابکم ربی لولا دعاوکم۷~}~ کہ تمہارا ایمان لانا اور مال خرچ کرنا کسی کام نہیں آ سکتا اگر تم مجھے نہ پکارو گے- پکارنے سے ہی معلوم ہو سکتا ہے کہ تمہیں مجھ سے سچیمحبت ہے اور تمہیں ملنے کے بغیر چین نہیں آ سکتا- پس دعائوں پر زور دو مگر اس کے ساتھ تدبیریں بھی کرو-
    حضور نے اس امر کا ذکر کرتے ہوئے کہ سب اصحاب کو تمام تقریریں باقاعدگی کے ساتھ سننی چاہئیں اور اگر کسی کو کوئی خاص ضرورت پیش آئے تو اسے چاہئے کہ جلد سے جلد ضرورت پوری کرکے جلسہ گاہ میں آ جائے فرمایا:
    میرا خیال تھا کہ ہر ایک جماعت کے لئے جلسہ گاہ میں بلاک تقسیم کر دیئے جائیں اور جماعت کے امیر یا پریذیڈنٹ یا سیکرٹری صاحب کو ذمہ وار قرار دیا جائے کہ وہ اپنی جماعت کو لے کر اس جگہ بیٹھیں- میں امید کرتا ہوں کہ ایسا انتظام کرنے کی ضرورت نہ پیش آنے دی جائے گی اور احباب جس مقصد کو لے کر یہاں آتے ہیں` اسے حاصل کرنے کی پوری پوری کوشش کریں گے- )الفضل ۷- جنوری ۱۹۳۰ء(

    ۱~}~
    دبدھا: شک و شبہ` پریشانی` گھبراہٹ` شش و پنج
    ۲~}~
    بخاری کتاب الانبیاء باب ماذکر عن بنی اسرائیل
    ‏17] [p۳~}~
    تکملہ مجمع البحار جلد۴ صفحہ۸۵ حرف الزا- مطبع نولکشور- لکھنو
    ۴~}~
    شاردا ایکٹ: اجمیر کے ایک معروف شخص مسٹر شاردا رائے صاحب ہربلاس تھے- انہوں نے ہندوستان کی مرکزی اسمبلی میں کم سنی کی شادی کے خلاف مسودہ قانون پیش کیا تھا جو شاردابل کے نام سے مشہور ہوا- اس بل سے مسلمان علماء نے شدید اختلاف کیا-
    )اردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد۱ صفحہ۸۲۸ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۷ء(
    ۵~~}
    سنن ابی داود کتاب الطلاق باب بقیہ نسخ المراجعہ بعد الطلیقات الثلاث
    ۶~}~
    البقرہ : ۱۴
    ۷~}~ الفرقان : ۷۸

    ‏a.11.4.b
    انوار العلوم جلد ۱۱
    افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۲۹ء
    افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۲۹ء

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۲۹ء
    )فرمودہ ۲۷- دسمبر ۱۹۲۹ء(
    تشہد` تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا-:
    آج چونکہ جمعہ ہے اور اس کے خطبہ میں مجھے پھر کچھ بولنا پڑے گا اس لئے میں نہایت اختصار کے ساتھ تمام احباب کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ان دنوں میں خصوصیت سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں کہ وہ اپنے فضل اور کرم سے اس حصہ عمل کو جو ہمارے اختیارات سے باہر ہے اور اس حصہ عمل کو جو ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے ہم سے سر انجام نہیں پا سکتا خود اپنے فضل اور لطف سے پورا کر دے- انسان کے ارادے بہت بڑے بڑے ہوتے ہیں اور گھر میں بیٹھ کر ارادے کر لینا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن وہ حصہ جس سے نفع اور فائدہ حاصل ہو سکتا ہے وہ وہی ہے جس کے ساتھ عمل شامل ہوتا ہے- ارادے ایمان کا جزو ہوتے ہیں اور ایمان کی تمثیل ایک کھیتی کی سی ہے اور عمل کی تمثیل خداوند کریم نے نہر اور پانی سے دی ہے- اور وہی کھیتی سرسبز اور شاداب ہو سکتی ہے جسے موقع پر پانی دیا جائے ورنہ خواہ بہتر سے بہتر بیج عمدہ سے عمدہ زمین میں ڈالا جائے لیکن اس زمین میں نمی اور تری نہ ہو اسے وقت پر پانی نہ دیا جائے تو وہ غلہ پیدا نہیں کر سکتی اور اپنے ثمرات نہیں دے سکتی- پس ہمارے ارادے` ہمارے خیالات اور ہماری جنگیں تبھی نفع دے سکتی ہیں جب استقلال کے ساتھ اعمال کا پانی شامل ہو- بیسیوں انسان کی کوتاہیاں` بیسیوں انسان کی مشکلات` بیسیوں انسان کی کمزوریاں اسے اپنے ان ارادوں کے مطابق عمل کرنے سے روکتی رہتی ہیں جو وہ ایک وقت نہایت خلوص سے اپنے دل میں قائم کرتا ہے- پس ہمیں دعا کرنی چاہئے خدا تعالیٰ ان کوتاہیوں کو دور کر دے جو ہمیں اپنے ارادوں کے مطابق کام کرنے سے روکتی ہیں- پھر وہ کمی پوری کر دے جس کا پورا کرنا ہمارے اختیار میں نہیں ہے- پھر وہ برکات جن کا نازل کرنا ہمارے قبضہ سے باہر ہے نازل کرے- رسول کریم ~صل۲~ فرماتے ہیں خدا اس مومن کی دعا قبول کرتا ہے جو اپنے مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے لئے دعا کرتا ہے-۱~}~یہ کیا ہی آسان بات ہے دعا قبول کرانے کے متعلق کہ ایک دوسرے کے لئے دعا کریں اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنے لئے دعا نہ کریں- کریں- لیکن دوسروں کے لئے بھی کریں تا کہ اگر اپنے لئے دعا میں وہ جوش پیدا نہ ہو کہ وہ پوری ہو جائے تو اپنے بھائی کے لئے جوش پیدا ہو جائے- اور اس کے متعلق جو دعا کرے وہ پوری ہو جائے- اسی طرح اس کے بھائی میں اگر اپنے لئے پورا جوش نہیں پیدا ہوا تو اس نے اس کے لئے جو دعا کی وہ قبول ہو جائے- گویا اس کی دعا ہمارے لئے قبول ہو جائے اور اس کے متعلق ہماری دعا مانی جائے- اس کے متعلق مجھے ایک رئویا یاد آیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جب کہ میری عمر بارہ تیرہ سال کی ہو گی دیکھا تھا- میں نے دیکھا قیامت کا دن ہے اور خدا کے حضور لوگوں کو پیش کیا جا رہا ہے- خدا تعالیٰ ایک مضبوط خوبصورت جوان کی شکل میں کرسی پر بیٹھا ہے- دائیں طرف حضرت خلیفہ اول اور دوسرے کئی لوگ بیٹھے ہیں میں بھی انہی میں ہوں- وہاں ایک دائیں طرف کوٹھڑی ہے ایک بائیں طرف- اس وقت خدا تعالیٰ کے حضور ایک شخص پیش کیا گیا جو بہت مضبوط اور تنومند تھا اس کا چہرہ سرخ تھا- یاد نہیں رہا خدا تعالیٰ نے اس سے کچھ پوچھا یا نہیں اور اگر پوچھا تو میں نے نہیں سنا مگر بغیر اس کے کہ وہ جواب دیتا اس کے چہرہ کی رنگت متغیر ہونے لگی اور ایسا معلوم ہوا کہ اسے کوڑھ ہو گیا ہے- پھر اس کے جسم کا گوشت پوست پیپ بننے لگا آخر سر سے لے کر پیر تک وہ پیپ کا بن گیا- اس پر فرشتوں نے کہا یہ جہنمی ہے آئو اسے جہنم میں پھینکیں- چنانچہ اسے بائیں طرف کی کوٹھڑی میں پھینک دیا گیا- پھر ایک اور شخص لایا گیا- اللہ تعالیٰ نے اس سے سوال نہیں کیا یا مجھے یاد نہیں رہا اس کا چہرہ چمکنے لگا اور اس کا سارا جسم نور کا بن گیا- اس پر فرشتے بغیر خدا کے حکم کے کہنے لگے یہ جنتی ہے` چلو اسے جنت میں لے جائیں- چنانچہ اسے جنت میں لے گئے- اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا تم اپنی پیٹھوں کی طرف دیکھو جس کے پیچھے پختہ دیوار ہو` وہ جنتی ہے اور جس کے پیچھے دیوار کچی ہو وہ دوزخی ہے- یہ کہہ کر اللہتعالیٰ وہاں پھر دکھائی نہ دیا- اور ہم پر اتنی ہیبت طاری ہو گئی کہ کوئی ڈر کے مارے اپنے پیچھے نہ دیکھتا- ہر ایک ڈرتا کہ نہ معلوم اسے کیا نظر آئے- جب اسی حالت میں عرصہ گذر گیا تو حضرت خلیفہ اول نے مجھے کہا تم میرے پیچھے دیکھو میں تمھارے پیچھے دیکھتا ہوں- میں نے کہا بہت اچھا- میں نے ڈرتے ڈرتے ان کے پیچھے دیکھا اور انہوں نے میرے پیچھے اور یکدم میں نے چلا کر کہا آپ کے پیچھے پکی دیوار ہے- انہوں نے بھی کہا آپ کے پیچھے پکی دیوار ہے- میرے نزدیک ایک دوسرے کے پیچھے دیکھنے کے معنی یہی ہیں کہ ایمان کی تکمیل ایک دوسرے کی مدد سے ہو سکتی ہے- جب مومن دوسروں کے لئے دعا کرتا اور اپنے آپ کو دوسرے کی خیرخواہی میں مصروف کر دیتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے برکت دیتا اور اس کی دعا سنتا ہے- پس احباب دعا کریں اپنے علاوہ دوسروں کے لئے بھی دعا کریں ساری جماعت کے لئے دعا کریں بلکہ ساری دنیا کے لئے دعا کریں حتی کہ جو اشد ترین دشمن ہو اس کے لئے بھی دعا کریں کہ خدا کا اس پر فضل ہو- اپنے دلوں کو ہر قسم کے کینہ اور عداوت سے اسی طرح پاک کر لو جس طرح اللہ پاک ہے- وہ جس طرح کافر اور مومن دونوں کو رزق دیتا اور اپنے فیوض نازل کرتا ہے` تم بھی تمام کدورتوں` تمام دشمنیوں اور تمام عداوتوں سے اپنے دلوں کو پاک کر کے دعا کرو- شاید رحم کرنے والی ہستی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں ہمارے قرضوں کو معاف کر دے جس طرح ہم اپنے قرض داروں کو معاف کر دیتے ہیں- جب ہم اپنے دشمنوں اور مخالفوں کے لئے دعا کریں تو وہ بھی ہم پر اس لئے فضل نازل کرے کہ آج میرا بندہ چھوٹے سے دل اور کمحوصلہ کے ساتھ اپنے دشمن کو معاف کرتا اور اس کے لئے دعا کرتا ہے تو میں جو سب کا بادشاہ ہوں اسے معاف کر دوں- پھر آپ لوگ مل کر سلسلہ کے کاموں میں کامیابی کے لئے دعا کریں تا کہ جس کام کو ہم اپنے عمل سے نہیں کر سکتے وہ خدا کے رحم سے ہو جائے- خصوصیت سے ان دوستوں اور جماعتوں کے لئے دعا کی جائے جو سلسلہ کا بوجھ اٹھانے میں خاص حصہ لیتی ہیں- آپ لوگوں کو معلوم ہو گا کہ جلسہ کی تحریک میں اس دفعہ ایک نقص کی وجہ سے خطرہ لاحق ہو گیا تھا مگر میں نے جو تحریک کی اس میں خدا تعالیٰ نے برکت دی- احباب کے اخلاص میں جوش پیدا ہوا اور ایک قلیل عرصہ میں پندرہ ہزار سے زیادہ چندہ آ چکا ہے- گو اخراجات جلسہ کے لحاظ سے ابھی پانچ ہزار کی کمی ہے مگر معلوم ہوا ہے ابھی سو کے قریب جماعتیں چندہ دینے والی باقی ہیں- اگر ان جماعتوں کے دوست یہاں موجود ہوں تو میں ان سے کہوں گا وہ دوسری جماعتوں کے احباب کے اخلاص میں ترقی کے لئے دعا کریں کہ ان کا بوجھ بھی انہوں نے اٹھایا ہے- شاید اسی طرح خدا تعالیٰ ان کی سوئی ہوئی حالت کو بدل دے- پھر ان کے لئے بھی دعا کی جائے کہ انہیں بھی اخلاص سے حصہ نصیب ہو- پھر خواہ کسی میں چندہ کے لحاظ سے کمزوری ہو` خواہ تبلیغ کے لحاظ سے` خواہ انتظامی لحاظ سے` پھر خواہ مرکزی لوگ ہوں` خواہ بیرونی سب کے لئے دعا کی جائے- کیونکہ ہر ایک خدا کے فضل کا محتاج ہے- اور اس کے فضل کے سوا ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے- )الفضل۳- جنوری ۱۹۳۰ء(
    ۱~}~
    ابن ماجہ کتاب المناسک باب فضل دعاء الحاج
    ‏a.11.5
    ‏a11.5
    انوار العلوم جلد ۱۱


    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھوالناصر
    ندائے ایمان
    نمبر۳
    اسلام کی سب سے بڑی خوبی اس کی وہ زندگی ہے جس کا جواب دوسرے کسی مذہب میں موجود نہیں- ماضی کے قصے ہر اک مذہب میں موجود ہیں- لیکن ذیل کے معیار پر سوائے اسلام کے کوئی پورا نہیں اترتا- مثلا کلمہ طبیہ شجرہ طیبہ اصلہا ثابت و فرعہا فی السماء توتی کلھا کل حین باذن ربھا )ابراھیم: صفحہ۲۵`۲۶( پاک کلام کی حالت پاک درخت کی طرح ہے- جس کی جڑ مضبوط ہوتی ہے اور جس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں- اور جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنا پھل ہر وقت دیتا ہے- یہ پھل صرف اسلام میں ہی موجود ہے- اور اس کی زندگی پر ایک زبردست شاہد ہے-
    انہی پھلوں میں سے ایک پھل کا نام رسول کریم ~صل۲~ نے مسیح موعود اور مہدی معہود رکھا ہے- اور مسلمان تیرہ سو سال سے برابر اس زمانہ کا انتظار کرتے چلے آئے ہیں- جب اسلام کے درخت کو یہ پھل لگے اور دوسرے مذہبوں پر اس کی برتری ثابت کرے اور ایسا کیوں نہ ہوتا جب کہ رسول کریم ~صل۲~ نے خود اس کے زمانہ کا ان الفاظ میں شوق دلایا ہے کہ اسلام کس طرح ہلاک ہو سکتا ہے- جب کہ اس کے شروع میں میں اور آخر میں مسیح موعود ہیں- اور پھر فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ اس امت کا ابتدائی حصہ اچھا ہے یا آخری-۱~}~ پس رسول کریم ~صل۲~ کی وفات کے بعد مسلمانوں کے لئے سب سے بڑھ کو خوش کن خواب مسیح موعود اور مہدی معہود کے زمانہ کو پانا تھا- ان کے بڑے اور ان کے چھوٹے ان کے عالم اور ان کے جاہل سب شوق سے اس دن کا انتظار کر رہے تھے- جب مسیح موعود کا ظہور ہوگا اور ایک دفعہ پھر مسلمان رسول کریم ~صل۲~ کے صحابی کہلانے کے مستحق ہو جائیں گے ایک دفعہ پھر خدا تعالیٰ کا نور ان میں چلتا پھرتا نظر آئے گا- ایک دفعہ پھر باوجود لمبے عرصہ کے گذر جانے کے وہ رسول کریم ~صل۲~ کے بروز اور آپ کے روحانی فرزند کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر گویا خود رسول کریم ~صل۲~ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے- پھر اسلام کفر پر فخر کرے گا اور کفر اسلام کے سامنے شرمندگی سے سرجھکا لے گا- اور مسلمان کفار کو دیکھ کر کہیں گے- اے جھوٹے مذاہب کے فریب میں آنے والو! دیکھو ہمارا رسول وہ کس طرح زندہ ہے- اور کس طرح اس کا فیض اس کے روحانی فرزندوں کے ذریعہ سے ہر زمانہ میں جاری ہے-
    مسلمان اسی امید اور اسی آرزو میں بیٹھے تھے کہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ نے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا دعویٰ کیا- سارے عالم اسلامی میں شور پڑ گیا کہ وہ جس نے آسمان پر سے آنا تھا` زمین پر سے کس طرح ظاہر ہو گیا- اور جس نے بنی اسرائیل میں ظاہر ہونا تھا` مسلمانوں میں کس طرح پیدا ہو گیا- تمام علماء نے آپ پر کفر کے فتوے لگائے اور کہا کہ یہ شخص رسول کریم ~صل۲~ کی پیشگوئیوں کا منکر ہے- اور اسلام کا دشمن- لیکن تھوڑے ہی عرصہ میں جب آپ نے اور آپ کی جماعت نے قرآن کریم سے ثابت کر دیا کہ مسیح ناصری علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور اب کوئی مسیح آسمان سے آنے والا نہیں اور مسلمان علماء نے جن کی نسبت رسول کریم ~صل۲~ نے فرمایا تھا کہ آخری زمانہ میں وہ سب لوگوں سے بدتر ہوں گے- جب دیکھ لیا کہ مسیح زندہ رکھنا مشکل ہے اور اس میدان میں سلسلہ احمدیہ کا مقابلہ کرنا ناممکن- تو انہوں نے جھٹ پہلو بدلا اور اب عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ہمیں کسی مسیح اور مہدی کی ضرورت نہیں- رسول کریم ~صل۲~ ہمارے لئے کافی ہیں- آج سے تیس سال پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ بانی سلسلہ احمدیہ کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ وہ آسمان پر سے مسیح کے آنے کے منکر ہیں- آج یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ وہ رسول کریم ~صل۲~ کے بعد کسی مسیح کے آنے کے قائل ہیں- کیا رسول کریم ~صل۲~ ہمارے لئے کافی نہیں؟ جن کی آنکھیں ہیں وہ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ مشرق سے مغرب کی طرف تبدیلی صاف بتا رہی ہے کہ یہ شور اسلام کی خیر خواہی کی وجہ سے نہیں- بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دشمنی کے سبب سے ہے- جس طرح کسی نے کہا ہے کہ لا یجب علی بل ببغض معاویہ علی کی محبت کی وجہ سے نہیں` بلکہ معاویہ کے بغض کی وجہ سے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے- وہی حال اس وقت مسلمانوں کا ہو رہا ہے کہ محض مسیح موعود علیہ السلام کی دشمنی کی وجہ سے وہ اسلام کی ایک بہت بڑی خوبی کو ہٹا رہے ہیں- اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ احمدیت کی ترقی کو روک دیں گے اور یہ نہیں خیال کرتے کہ اس طرح وہ اسلام کی سب سے بڑی خوبی کو مٹا رہے ہیں اور اسلام کو کفر کے سامنے شرمندہ کر رہے ہیں-
    سورہ جمعہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہیھوالذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم ایاتہ ویزکیھم و یعلمھم لکتاب والحکمہ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین- واخرین منھم لما یلحقوبھم وھوا العزیز الحکیم )الجمعہ: ۳`۴( وہ خدا ہی ہے- جس نے امیوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے` تا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سنائے اور انہیں پاک کرے- اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے- گو اس سے پہلے یہ لوگ کھلی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے- اور اسی طرح یہ رسول ایک ایسی ہی امی قوم کو جو ابھی ظاہر نہیں ہوئی یہی باتیں سکھائے گا- او اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے- اس آیت سے ظاہر ہے کہ رسول کریم ~صل۲~ کی دو بعثتیں مقدر ہیں- ایک ظاہری اور ایک باطنی یا ایک حقیقی اور ایک ظلی- اور دونوں بعثتوں میں کام ایک ہی ہے- یعنی اللہ تعالیٰ کے تازہ نشانات لوگوں کو سنا کر اور ظاہری اور باطنی شریعت کی تعلیم دے کر لوگوں کو پاک کرنا- اب مسلمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دشمنی میں گو ظاہری بعثت کے تو قائل ہیں لیکن باطنی کا انکار کر رہے ہیں- اور اس آیت کے صریح مفہوم کو جھٹلا رہے ہیں- اور اسی طرح اور بہت سی آیتوں کو جن کے ذکر کی اس جگہ گنجائش نہیں- اور صدہا حدیثوں کو اور ہزار ہا کشوف کو جو تیرہ سو سال میں مسلمان اولیاء آمد مسیح کے متعلق دیکھتے رہے ہیں-
    یہ منکر ایک آیت کے مفہوم کی تاویل کر لیں گے- ایک حدیث کو بگاڑ لیں گے- لیکن وہ متعدد آیات اور صدہا حدیثوں اور ہزار ہا کشوف کو نہیں چھپا سکتے- مسیح کے زندہ آسمان پر جانے کے متعلق ایک بھی کشف کسی مسلمہ بزرگ کی پیش نہیں جا سکتی- لیکن اس کی آمد کے متعلق قریباً ہر ولی نے کچھ نہ کچھ خبر دی ہے- پس مسیح کی آمد کا انکار درحقیقت قرآن اور حدیث اور سب بزرگوں کا انکار ہے- اور اس قسم کے انکار کے بعد اسلام کا باقی ہی کیا رہ جاتا ہے-
    میں ان تمام مسلمان سے جو اسلام کا درد رکھتے ہیں اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس خطرناک فتنہ کی حقیقت کو سمجھیں اور اس کا مقابلہ کریں- اگر وہ بانی سلسلہ کی صداقت کو ابھی نہیں سمجھے تو نہ سہی- وہ خدا تعالیٰ کے فضل کی گھڑی کا انتظار کریں- لیکن آپ کی دشمنی میں جو اسلام کو زندگی سے اور رسول کریم ~صل۲~ کو اجراء فیض سے محروم کیا جا رہا ہے وہ کم سے کم اس سے تو بچیں اور دوسروں کو بچائیں-
    مسیح موعود کی آمد کے منکر لوگوں کو یوں دھوکہ دیتے ہیں کہ رسول کریم ~صل۲~ چونکہ کامل ہیں آپ کے بعد کسی شخص کی ضرورت نہیں- لیکن یہ نادان نہیں سمجھتے کہ کیا خدا تعالیٰ کامل نہیں- کیا خدا تعالیٰ نے اس وجہ سے کہ اس کا نور بندوں کی نگہ سے پوشیدہ ہو گیا- رسول کریم ~صل۲~ کو نہیں بھیجا پھر جب خدا تعالیٰ کے نور کو ظاہر کرنے کے لئے رسول کریم ~صل۲~ کے ظہور کی ضرورت ہوئی تو کیوں رسول کریم ~صل۲~ کے نور کے ظہور کے لئے آپ کے کسی فیض یافتہ کی ضرورت نہیں ہو سکتی- یہ لوگ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمان خراب ہو گئے ہیں- لیکن یہ نہیں تسلیم کرتے کہ ان کے علاج کے لئے خدا تعالیٰ کوئی تدبیر کرے گا- ان کے نزدیک امت محمدیہ کے بگڑنے سے تو رسول کریم ~صل۲~ کے کمال میں فرق نہیں آتا- لیکن اس بگاڑ کی درستی کا سامان کرنے سے آپ کمال میں نقص آ جاتا ہے- شیطان کی ذریت جاری رہی تو آپ کی ہتک نہیں ہوتی لیکن آپ کے روحانی فرزند پیدا ہوں تو آپ کی ہتک ہوتی ہے- اگر غور کریں تو اس خیال کے لوگ دانستہ یا نادانستہ چہل کی نقل کرتے ہیں- جس نے کہا تھا کہ رسول اللہ صلعم نعوذ باللہ ابتر ہیں- حالانکہ قرآن کریم اللہ فرماتا ہے کہ ان شائنک ھوالابتر )الکوثر:۴(تیرے دشمن ہی بے اولاد ثابت ہوں گے- تیری اولاد تو جاری رہے گی- گویا جب کبھی کوئی شیطانی تحریک جاری ہو گی- رسول کریم ~صل۲~ کی روحانی اولاد میں سے کوئی شخص کھڑا ہو کر اسے تباہ کر دے گا- غرض یہ تحریک جو اس وقت مسلمانوں میں مسیح کی آمد کا انکار کرنے کے متعلق ہو رہی ہے- ایک شیطانی تحریک ہے اور دجالی بھی- کیونکہ دجال کا کام ہے کہ مسیح کا مقابلہ کرے- اور اس سے بڑھ کر اور کیا مقابلہ ہو گا کہ سرے سے اس کی آمد کا ہی لوگوں کو منکر بنا دیا جائے- اور گوبظاہر اس تحریک کو اسلام کی دوستی کا جامہ پہنایا جا رہا ہے- لیکن درپردہ یہ اسلام کی دشمنی ہے- اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مسلمان یا تو یہ سمجھنے لگیں گے کہ اسلام خدا کا پیارا مذہب نہیں کہ اس کی خرابی کی اسے پرواہ نہیں اور یا پھر یہ سمجھنے لگیں گے کہ مسلمانوں کے عقیدہ اور عمل میں کوئی خرابی ہی نہیں آئی- اور ایک طرف تو اپنی اصلاح سے غافل ہو جائیں گے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کو ظالم سمجھنے لگیں گے کہ بغیر ہمارے قصور کے اس نے ہمیں آسمان سے اٹھا کر زمین پر پھینک دیا ہے- اور ان دونوں خیالات میں سے کوئی بھی غالب آ جائے وہ مسلمانوں کو ترقی سے محروم کر دے گا- پس اب بھی وقت ہے کہ اس دجالی تحریک کا مقابلہ کیا جائے- اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دشمنی میں اسلام کی جڑ پر تبر نہ رکھا جائے- ورنہ یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے فضل کا انکار رنگ لائے بغیر نہیں رہے گا- وہ فرماتا ہے- لئن شکرتم لا زید نکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید )ابراھیم:۸( اگر تم شکر کرو تو میں تم کو اور بھی بڑھائوں گا اور اگر تم کفر کرو تو میرا عذاب بہت سخت ہے-
    واخردعونا ان الحمد للہ رب العالمین-
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    خلیفتہ المسیح الثانی
    امام جماعت احمدیہ- قادیان-
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھوالناصر
    ندائے ایمان
    دوست نما دشمن
    نمبر۴
    اسلام کے بیرونی دشمن ہی کم نہیں- لیکن افسوس کہ اس کے اندرونی دشمن بھی بہت سے پیدا ہو گئے ہیں- وہ لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں` دشمنان اسلام کی پیٹھ ٹھونک رہے ہیں اور اپنوں کو غفلت کی نیند سلانے کی درپے رہتے ہیں- رسول کریم ~صل۲~ نے فرمایا تھا کہ آخری زمانہ میں امت محمدیہ میں بگاڑ پیدا ہو جائے گا- اور لوگ رسماً مسلمان رہ جائیں گے- اسلام اور قرآن کریم کے آثار مٹ جائیں گے اور قرآن کریم کے صرف لفظ باقی رہ جائیں گے- اس وقت اللہ تعالیٰ آپ کی روحانی ذریت میں سے ایک شخص کو کھڑا کرے گا جو اسلام کی عظمت کو از سر نو قائم کرے گا- اور ایمان اور قرآن کو دوبارہ واپس لا کر تجدید دین کی بنیاد رکھے گا- اس وقت علما دنیا میں سب سے بدترین مخلوق ہونگے اور سب سے زیادہ روحانیت سے محروم- اسلام جب شروع ہوا اس وقت بھی اس کی مسافرانہ حیثیت تھی کہ نہ اس کا کوئی مکان تھا نہ گھر نہ وطن نہ ملک- اور آخری زمانہ میں بھی اس کا یہی حال ہوگا- کہ وہ بے وطن اور بے دیار ہو جائے گا اور مسافرانہ حیثیت سے ادھر ادھر پھرے گا کوئی اسے اپنے گھر رکھنے پر تیار نہ ہوگا- ان حدیثوں سے صاف ظاہر ہے کہ ایک زمانہ مسلمانوں پر ایسا آنے والا ہے کہ ان کے ظاہر تو مسلمانوں والے ہونگے اور باطن کافروں والے- ان کی زبانیں اسلام کی مقر ہونگی لیکن اندرونے اسلام و قرآن کو دھکے دے رہے ہونگے- ان کے علماء ان کو اسلام کی طرف واپس لانے کی جگہ خود اسلام کو عملاً چھوڑ رہے ہونگے اور دنیا کے پردہ پر بدترین مخلوق ہونگے- ظاہر ہے کہ ایسے وقت میں علماء سے اس قسم کی امید رکھنی کہ وہ صداقت اور حق کی تائید کریں گے خلاف عقل ہے- اس لئے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تباہی سے بچانے کیلئے اہل فارس میں سے ایک شخص کو اس وقت کھڑا کرے گا جو لوگوں کو اسلام کی طرف واپس لائے گا اور ایمان کو قائم کرے گا-
    یہ بھی احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کی مستقبل میں سب سے بڑا فتنہ مسیحیت کا فتنہ ہے- حتیٰ کہ احادیث میں بتایا گیا ہے کہ مسیحی لوگ اپنی طاقت اور قوت سے سب دنیا پر چھا جائیں گے- بلکہ اس فتنہ کا ذکر خود قرآن کریم میں موجود ہے- جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہوھم من کل حدب ینسلون ) الانبیاء: ۹۷( یعنی یاجوج ماجوج سب بلند و بالا مقاموں سے اتر کر دنیا پر چھا جائیں گے اور یاجوج ماجوج کے متعلق بائیبل سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیحی لوگ ہیں- چنانچہ لکھا ہے کہ یاجوج سے مراد روس اور ماجوج سے مراد ایک زبردست طاقت ہے جو امن سے جزیروں میں بیٹھ کر حکومت کرتی ہے- یعنی حکومت برطانیہ اور ان دونوں ملکوں کا شاہی مذہب مسیحیت ہے- پس یہ امر بالبداہت ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو جو خراب حالت رسول کریم2] f[st ~صل۲~ نے بیان فرمائی ہے وہ اسی فتنہ یعنی مسیحیت کی ترقی کے زمانہ میں ہی ہونی تھی اور چونکہ مسیحی فتنہ ظاہر ہو چکا ہے بلکہ اب تو اس میں کمزوری کے آثار پیدا ہونے لگ گئے ہیں- جیسا کہ روس کی حالت سے ظاہر ہوتا ہے تو یہ امر ناممکن ہے کہ رسول کریم ~صل۲~ کے فرمودہ کے مطابق مسلمانوں میں خرابی پیدا نہ ہو چکی ہو-
    وہ لوگ جو دین اسلام کے دشمن ہیں اور اس کی سچائی دیکھنا نہیں چاہتے اس صداقت کو چھپانا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کو تسلی دے رہے ہیں کہ تمہاری حالت بالکل ٹھیک ہے تم نمازیں پڑھتے ہو رورے رکھتے ہو حج کرتے ہو پس تمہاری حالت بالکل درست ہے اور اگر کوئی خرابی ہو تو تمہارے علماء تمہاری اصلاح کے لئے کافی ہیں- حالانکہ اس سے زیادہ کوئی ظلم نہیں ہو سکتا کہ ایک بیمار کو اس کی بیماری سے ناواقف رکھا جائے یا یہ کہ علاج کا کام دشمن جان کے سپرد کیا جائے- رسول کریم ~صل۲~ تو فرماتے ہیں کہ مسیحیت کی ترقی کے وقت مسلمانوں کی حالت خراب ہو گی اور ان میں صرف ظاہری اسلام باقی رہ جائے گا- لیکن مسلمانوں کے لیڈر کہلانے والے کہتے ہیں کہ نہیں نہیں اطمینان سے بیٹھے رہو تم میں کوئی نقص پیدا نہیں ہوا- رسول کریم ~صل۲~ تو فرماتے ہیں اس وقت مسلمانوں کے علماء دنیا میں سب سے بدترین مخلوق ہونگے- لیکن یہ لوگ کہتے ہیں کہ اول تو مسلمانوں میں کوئی نقص نہیں اور اگر ہے تو اس کا علاج یہ علماء کر لیں گے- گویا اول تو رسول کریم ~صل۲~ کی تشخیص مرض کو جھٹلایا جاتا ہے اور پھر فرض کر کے کہ مرض ہے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ جسے رسول کریم ~صل۲~ نے دشمن جان قرار دیا ہے اسی سے علاج کرائو اور جو تھوڑا بہت دین یا ایمان باقی ہے اسے بھی برباد کرا لو-
    اے بھائیو! خوب سمجھ لو کہ رسول کریم ~صل۲~ سے زیادہ کوئی آپ لوگوں کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا- وہ تو ہم سب کے روحانی باپ ہیں اور اس وجہ سے جسمانی ماں باپ سے بہت زیادہ خیر خواہ کونسا باپ ہے جو اپنے بچہ کی بدگوئی کرے گا اور جب وہ نہایت نیک ہے اسے بدقرار دے گا اور جب وہ تندرست ہے اسے بیمار قرار دے گا- سوائے اس باپ کے جو کسی وجہ سے اپنے بچہ کا دشمن ہو گیا ہو یا جو فاتر العقل ہو- مگر کیا آپ میں سے کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ رسول کریم ~صل۲~ جیسا باپ ایسی غلطی کا مرتکب ہو سکتا ہے- یقیناً اگر مسلمانوں پر ایسا زمانہ نہیں آنے والا تھا تو آپ کبھی ایسے فقرے نہ کہتے کہ ان کے اندر صرف رسماً اسلام رہ جائے گا-
    اسی طرح یہ بھی ظاہر ہے کہ رسول کریم ~صل۲~ جو علماء کی عزت قائم کرنے میں سب سے بڑھ کر تھے اور جنہوں نے علماء امتی کانبیا بنی اسرائیل فرما کر علماء اسلام کو وہ عزت بخشی ہے جو کبھی کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بخشی- وہ بلاوجہ ہر گز یہ نہ کہہ سکتے تھے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کے علماء آسمان کے نیچے برترین مخلوق ہونگے- یقیناً آپﷺ~ کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے علماء کی بہت ہی بری حالت دکھائی ہوگی- تبھی آپﷺ~ نے ایسا فرمایا- ورنہ آپﷺ~ نے ایسا نہیں کیا بلکہ علماء کی حالت کو نہایت سخت الفاظ میں بیان فرمایا ہے- تو صاف ظاہر ہے کہ آپﷺ~ نے یہ کام امت کی ہمدردی سے مجبور ہو کر کیا ہے اور اس خوف سے کیا ہے تا مسلمان ایسی گھبراہٹ کے وقت میں ان سے اپنا علاج کرا کے اپنے آپ کو تباہ اور برباد نہ کر لیں اور رہی سہی روحانیت سے بھی انہیں ہاتھ نہ دھونے پڑیں-
    پس اے بھائیو! رسول کریم ~صل۲~ کی بات کو یاد رکھو کہ آپﷺ~ سے بڑھ کر آپ لوگوں کا کوئی خیر خواہ نہیں ہو سکتا- اور ان دوست نما دشمنوں سے بچو جو تم کو بیمار دیکھ کر علاج کا مشورہ دینے کی بجائے الٹا غافل کرنا چاہتے ہیں اور آپ سے بھی دشمنی کرتے ہیں اور رسول کریم ~صل۲~ کی بھی تکذیب کرتے ہیں- مسلمانوں کی خراب حالت اظہر من الشمس ہے- ان کی حکومتیں جاتی رہیں ان کی تجارتیں برباد ہو گئیں ان کے دلوں سے علم اٹھ گیا ہے- تقویٰ مٹ گیا ہے ان کے قلوب سے خدا تعالیٰ کی یاد رہی ہے- رسول کریم ~صل۲~ کی اتباع کا جوش سرد ہو گیا ہے- ہمدردی عام کا خیال جاتا رہا ہے- قربانی اور ایثار کی روح مردہ ہو گئی ہے- غرض بقول اصدق الناس صرف رسم اسلام باقی رہ گئی ہے روح اسلام مٹ چکی ہے-
    ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ اگر مسلمانوں کی خبر نہ لیتا اور حسب وعدہ فارسی الاصل انسان کو یعنی حضرت مرزا غلام احمد صاحب بانی سلسلہ احمدیہ کو مبعوث نہ فرماتا- تو یقیناً اس پر وعدہ خلافی کا الزام آتا- مگر اللہ تعالیٰ سے زیادہ وعدوں کا پورا کرنے والا کون ہو سکتا ہے- اس نے وقت پر اپنا وعدہ پورا کر دیا- اور مرض کے پیدا ہوتے ہی طبیب بھی بھیج دیا- اب یہ آپ لوگوں کا کام ہے کہ رسول کریم ~صل۲~ کے تجویز کردہ اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے طبیب سے علاج کرائیں اور اس کی اتباع میں داخل ہو کر اسلام کی شوکت بڑھائیں یا ان لوگوں سے علاج کرائیں کہ جن کو رسول کریم ~صل۲~ نے آسمان کے نیچے سب سے بدتر وجود قرار دیا ہے اور آپ لوگوں کے ایمان کا دشمن- مگر یہ یاد رکھیں کہ دوست سے بھاگ کر دشمن کی پناہ میں جانے والا کبھی فلاح نہیں پاتا اور اللہ تعالیٰ کے تجویز کردہ نسخہ کو رد کر کے بندوں کے ٹوٹکوں پر نگہ رکھنے والا کبھی صحت کا منہ نہیں دیکھتا-
    وقت نازک ہے اور مصیبت بہت بڑی- پس اللہ تعالیٰ کی نصیحت کی قدر کرو- اور اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ اس نے عین مرض کے وقت طبیب روحانی بھیج دیا ہے- اس کے مامور حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے دعووں پر ایمان لاتے ہوئے احمدیت کو قبول کرو تا کہ یہ مصیبت کے دن ٹال جائیں اور اسلام ایک دفعہ پھر فتح و کامرانی کے دن دیکھے- محمد رسول اللہ ~صل۲~ کا باغ خشک ہو رہا ہے- اگر وفادار ہو تو دیر نہ لگائو اٹھو اور پنے خونوں سے اس باغ کے درخت کو سیراب کرو- آسمانی باغ کنوئوں کے پانیوں سے نہیں بلکہ مومنوں کے خون سے سینچے جاتے ہیں- اس دن کا انتظار نہ کرو کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے تم کو غداروں کی فہرست میں شامل کر کے ابدی موت کے گھاٹ اتار دیں- بلکہ آگے بڑھ کر خود اپنے لئے قربانی کی موت قبول کرو تا کہ ابدی زندگی پائو- اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو- واخر دعونا ان الحمد للہ رب العلمین-
    خاکسار
    مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ
    قادیان- ضلع گورداسپور- پنجاب
    ۱~}~ یاتی علی الناس زمان لا یبقی من الاسلام الا اسمہ ولا یبقی من القران الا رسمہ مساجد ھم عارہ وھی خراب من الھدی علماء ھم شرمن تحت ادیھم السماء )مشکوۃ کتاب العلم(
    ۲~}~ وضع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یدہ علی سلمان ثم قال لوکان الایمان بالثریا لنالہ رجال او رجل من ھولاء )بخاری کتاب التفسیر زیر آیات واخرین منھم لما یلحقوابھم )سورہ الجمعہ( اور ترمذی میں ہے لوکان الدین عندالثریا یا لتناولہ رجال من الطرس مسلمان کو جو فارسی الاصل تھے آنحضرت ~صل۲~ نے سلمان منااھل البیت فرما کر اپنے اہل بیت میں ہی شمار فرمایا ہے-
    ۳~}~ ان الدین بدو غریبا وسیعود غریبا )مشکوہ باب الاعتصام بالکتاب والسنتہ بحوالہ ترمذی(
    ۴~}~ حزقیل باب ۳۸ آیت ۳` حزقیل باب ۳۹ آیت۶
    ۵~}~
    ‏a11.5,a
    انوار العلوم جلد ۱۱
    ندائے ایمان )۱(
    ندائے ایمان )۱(

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھوالناصر
    ندائے ایمان
    )نمبر۱(
    اے بھائیو! آپ کو معلوم ہوگا کہ آج سے قریباً پچاس سال پہلے حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ الصلٰوۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ نے اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر دنیا کی اصلاح کا کام شروع کیا تھا- آپ اس امر سے ناواقف نہیں ہو سکتے کہ جس وقت خدا تعالیٰ کے اس بہادر نے اسلام کی خدمت کا بیڑا اٹھایا تھا` اس وقت کیا اپنے اور کیا پرائے سب کے سب اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے تھے حتیٰ کہ خود اس کے عزیز اور نہایت قریبی رشتہ دار تک اس کو تباہ اور برباد کرنے کے لئے کوشاں تھے اور اسے ثواب کا موجب اور رضائے الہی کا باعث خیال کرتے تھے- ہر ایک جو اس زمانہ کے حالات سے آگاہ ہے بیان کرے گا کہ اس وقت لوگوں کا یہی خیال تھا کہ اگر مرزا غلام احمد صاحب نے اپنے دعویٰ سے توبہ نہ کی تو ان کی تباہی ایک قلیلعرصہ میں یقینی اور قطعی ہے- اور بہت تھے جنہوں نے اپنے خیالوں سے آپ کی تباہی کے متعلق وقت کی 2] mr[lتعیین بھی کر دی تھی اور علی الاعلان لاف زنی کرتے تھے کہ دو یا تین سال میں آپ کا نام و نشان تک مٹ جائے گا اور آپ کا دعویٰ ایک قصہ اور کہانی ہو جائے گا- یہ لافزنیاں اگر منہ کی باتوں تک رہتیں تب بھی بات تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے ان دعووں کو پورا کرنے کے لئے عملاً بھی سارا زور لگایا اور مخالفت میں کوئی کسر باقی نہ رکھی- وہ لوگ جو ایک مجلس میں بیٹھنا حرام سمجھتے تھے آپ کی مخالفت میں سگے بھائیوں سے بھی زیادہ متحد نظر آنے لگے اور جن مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے نظر آتے تھے آپ کو نقصان پہنچانے کی خاطر ایک دوسرے کی پیٹھ ٹھونکنے والے بن گئے- زمین جور اور ظلم سے بھر گئی اور آسمان انسان کی تعدی اور دست درازی کے قصے دیکھ کر تاریک ہو گیا اور تاریکی کے فرزندوں نے خیال کر لیا کہ وہ اس شمع کو جسے خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے جلایا تھا بجھانے میں جلد کامیاب ہو جائیں گے لیکن باوجود تمام مذاہب کی متفقہ کوششوں کے اور حالات کی نامساعدت کے آپ ہر قسم کے گزند سے محفوظ رہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے قدم کو استوار اور مضبوط رکھا-
    جس وقت آپ کے ہم قوموں اور ہم مذہبوں اور رشتہ داروں اور عزیزوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا اس وقت خدا تعالیٰ جو تمام وفاداروں سے بڑھ کر وفا دار اور تمام دوستوں سے بڑھ کر دوست ہے آپ سے پہلے کی نسبت بھی زیادہ پیار کرنے گا- اور اس کی مصف¶ی وحی بارش کی طرح آپ پر نازل ہونے لگی- اور اس کے ذریعہ سے اس نے آپ کے دل کو مضبوط کرنا شروع کیا اور کہا کہ جس طرح تو میرے نام کے لئے تکلیف اٹھا رہا ہے اور بدنام کیا جا رہا ہے اور لوگ تجھ سے دشمنی کر رہے ہیں اور اپنے عزیز تجھے چھوڑ رہے ہیں اور کسی جرم کی وجہ سے نہیں بلکہ محض اس لئے کہ تو اسلام کی عظمت دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے تیری عزت پر حملے کئے جاتے ہیں اور تیری عیب جوئی کے لئے ہر ایک ناواجب ذریعہ اختیار کیا جاتا ہے میں تیرے نام کو بلند کروں گا اور ایک بڑی جماعت اسلام پر فدا ہونے والوں کی تجھے دوں گا- اور میرے فرشتے میری طرف سے درود اور سلام لیکر تجھ پر نازل ہونگے اور ایک بڑی قوم تجھ سے پیدا ہوگی اور آدم کی طرح ایک نئی دنیا کا تو باپ بنے گا اور تیرے دشمن ذلیل اور خوار ہونگے- اور جن جن راہوں سے وہ تجھ پر حملہ کریں گے انہیں راہوں سے اور ان کے علاوہ اور ایسی راہوں سے بھی جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہونگی ان پر حملہ کروں گا اور ان کے منصوبے ان کے منہ پر ماروں گا- اور ایک یار وفادار کی طرح تیرے پہلو بہ پہلو کھڑا ہو کر تیرے دشمنوں سے جنگ کروں گا اور جو تجھ پر وار کرے گا میں اس پر وار کروں گا لیکن وہ جو تیرا دوست اور ساتھی ہوگا میں اسے عزت دوں گا اور اس پر اپنا نور ڈالوں گا اور اپنی برکتوں سے اسے حصہوافر دوں گا- اور اپنے دین کا علم اسے عطا کروں گا- اور دین اسلام کا سپاہی اسے بنائوں گا اور ایسا ہوگا کہ تیرا نام دنیا میں سورج اور چاند کی طرح چمکے گا اور دن بدن تیرا اور تیری جماعت کا قدم ترقی کے زینہ پر بلند ہوتا چلا جائے گا-
    جوں جوں یہ الہامات آپ کی طرف سے شائع ہوتے تھے مخالف اپنی مخالفت میں اور بھی بڑھتے چلے جاتے تھے اور ہر طرح کوشاں تھے کہ آپ کو جھوٹا ثابت کریں لیکن خدا کی باتوں کو کون ٹال سکتا تھا- باوجود ان سب مخالفانہ تدابیر کے جو آپ کے مخالفوں نے آپ کے خلاف استعمال کیں آپ کی صداقت لوگوں پر ظاہر ہونی شروع ہوئی اور روحانی مردے آپ کے ہاتھوں سے زندہ ہونے لگے- اور وہ جو پہلے بہرے تھے اب سننے لگے اور جو پہلے اندھے تھے اب دیکھنے لگے اور جو پہلے روحانی کوڑھ میں مبتلا تھے اب ان کے جسم چاند کی طرح منور نظر آنے لگے اور ایک یہاں سے اور ایک وہاں سے اور ایک قریب سے اور ایک دور سے خدا کی قرناء کی آواز سن کر دوڑ پڑا یہاں تک کہ آہستہ آہستہ بالکل اسی طرح جس طرح کہ قدیم سے خدا کے نبیوں سے ہوتا چلا آیا ہے ایک جماعت اس خدا کے بہادر کے گرد جمع ہو گئی اور اسلام کا سپہ سالار اور محمد رسول اللہ ~صل۲~ کا جاں نثار اپنے فدائیوں کے جھرمٹ میں ایک جوان رعنا دولہا کی طرح اسلام کی حفاظت کے لئے آگے بڑھا- اور تم نے بھی دیکھا اور باقی دنیا نے بھی دیکھ لیا کہ وہی جسے کافر و زندیق کہا جاتا تھا اسلام کا علمبردار ثابت ہوا- اور وہی جسے اسلام کا دشمن کہا جاتا تھا اس کی حفاظت کا واحد ذمہ وار نظر آیا- جب عالم کہلانے والے اور تصوف کا دم بھرنے والے اپنی روٹیوں کی فکر میں اور اپنے آرام و آسائش کی جستجو میں تھے وہ اور اس کے ساتھی اسلام کی فکر میں اور اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں مشغول تھے- نہ معلوم اس نے اپنے پر ایمان لانے والوں کے دلوں میں کیا جادو پھونک دیا تھا کہ اسلام کی خدمت کے سوا اور رسول کریم ~صل۲~ کی شان کے بلند کرنے کے سوا ان کو اور کسی بات میں مزا ہی نہیں آتا تھا حتیٰ کہ وہ دن آ گیا جب اسلام کو اس کی پوری شان کے ساتھ قائم کر کے اور اس کے جاں نثاروں کی ایک جماعت بنا کر وہ خدا کا پیارا اپنے پیارے سے جا ملا اور اس کے دشمن جو اس کی تباہی کی خوابیں دیکھ رہے تھے منہ دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے- مگر اب بھی ایک امید پر ان کا سہارا تھا اور وہ یہ کہ شاید اس کے مرنے کے بعد اس کا کام تباہ ہو جائے گا اور اس کی جماعت جو اس کی لسانی اور اس کی جادوبیانی کی وجہ سے اس کے گرد جمع ہو گئی تھی اب پراگندہ ہو جائے گی لیکن زمانہ نے ظاہر کر دیا کہ یہ خیال بھی ایک فریب سے زیادہ حقیقت نہ رکھتا تھا- جس طرح ایک مضبوط درخت روز بروز جڑیں پکڑتا جاتا ہے اس کی جماعت بھی مضبوط ہوتی جا رہی ہے اور آثار بتا رہے ہیں کہ مضبوط ہوتی چلی جائے گی- اور اسلام کی محبت رکھنے والے دل اور اس کی نیکی چاہنے والے دماغ اس زمانہ کے موعود کی عقیدت کی مہمان نوازی کے لئے اپنے دروازے کھول دیں گے تا کہ اسلام کے غلبہ پانے کا زمانہ جلد سے جلد آئے اور کفر ایک ناپاکچیز کی طرح دنیا سے اٹھا کر پھینک دیا جائے-
    مبارک ہیں وہ جو اس دن کے لانے میں پیش قدمی کریں اور خدا کی آواز کو دوسروں سے پہلے قبول کریں- پس اے بھائیو! اس اشتہار کے ذریعہ سے میں آپ کو توجہ دلاتا ہوں کہ حق کو قبول کرنے میں جلدی کرنی چاہئے اور خدا کی آواز سے بے پرواہی نہیں برتنی چاہئے کیونکہ کیا معلوم ہے کہ موت کب آ جائے گی اور ہمارے اعمال کے زمانہ کو ختم کر دے گی- اور اگر خدا نخواستہ ایسا ہوا کہ آپ اس عظیم الشان کام کے متعلق آج اور کل ہی کرتے رہے اور ایمان کا وقت گذر گیا اور موت کی گھڑی آ گئی تو بتائیں کہ اس وقت کیا چارہ کار ہوگا- نہ پچھتانا کچھ مفید ہوگا اور نہ گریہ و زاری کچھ نفع دے گی- آخر کونسی دلیل ہے جس کے آپ منتظر ہیں اور کونسا نشان ہے جس کی آپ کو جستجو ہے- مسیح موعود کے متعلق جو کام بتایا گیا تھا وہ آپ کے ہاتھوں سے پورا ہو رہا ہے اور اسلام ایک نئی زندگی پا رہا ہے- پس جلدی کریں اور مسیح موعود کو قبول کر کے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں-
    لیکن اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے ابھی تک اس معاملہ پر غور ہی نہیں کیا تو بھی میں آپ کو توجہ دلاتا ہوں کہ جلد تحقیق کی طرف متوجہ ہوں اور مندرجہ طریقوں میں سے ایک کو اختیار کریں-
    ۱- جو سوالات آپ کے نزدیک حل طلب ہوں انہیں اپنے قریب کے احمدیوں کے سامنے پیش کر کے حل کرائیں-
    ۲- اگر آپ کے پاس کوئی احمدی جماعت نہ ہو تو مجھے اپنے سوالوں سے اطلاع دیں-
    ۳- اپنے علاقہ میں جلسہ کر کے احمدی مبلغ منگوا کر خود بھی سلسلہ احمدیہ کی صداقت کے دلائل سنیں اور دوسروں کو بھی اس کا موقع دیں- اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کو اپنے نور کے قبول کرنے کی توفیق عنایت فرمائے-
    خاکسار
    مرزا محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    امام جماعت احمدیہ
    قادیان- ضلع گورداسپور- پنجاب
    ۱۵- جنوری ۱۹۳۰ء
    ‏a11.5b
    انوار العلوم جلد ۱۱
    افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۳۰ء
    افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۳۰ء

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی

    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۳۰ء
    )فرمودہ ۲۶ دسمبر ۱۹۳۰ء(
    تشہد ` تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا-:
    اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے اسلام جیسا مذہب ہمیں عطا فرمایا اور قرآن جیسی کتاب ہمیں بخشی- یہ وہ نعمت اور وہ خزانہ ہے جس کی نسبت وہی اصدق الصادقین خود فرماتا ہے اگر سب جن و انس بھی جمع ہو جائیں تب بھی اس قسم کا خزانہ تیار نہیں کر سکتے-۱~}~
    معمولی انسانوں کی بنی ہوئی چیزیں دنیا میں بہت قیمت پاتی ہیں- ایک مصور چند رنگ جمع کر دیتا ہے جو قدرتی نظاروں کی خوبصورتی ظاہر کرتے ہیں- وہ خالق نہیں بلکہ وہ نقال ہوتا ہے مگر اس کی نقلیں بھی اچھی بنی ہوئی تیس چالیس لاکھ کو بک جاتی ہیں- ایک انسان جو تصویر بناتا ہے اس میں کچھ گھاس کے تنکے ہوتے ہیں` کچھ درخت ہوتے ہیں` کہیں کسی ندی کے بہنے کا نظارہ دکھایا جاتا ہے` کہیں پہاڑ کی چوٹیاں برف سے ڈھکی ہوئی دکھائی جاتی ہیں` گویا خدا تعالیٰ کی پیدائش کے وہ حصے جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں ان کا بھی اس تصویر میں کروڑواں حصہ بھی نہیں ہوتا- پھر نہ ان پہاڑوں کی برف ہمیں پانی پہنچاتی ہے` نہ ان پہاڑوں کی چوٹیاں ہمارے لئے گرمی سے بچنے کے لئے سرد مقامات پیش کرتی ہیں- نہ وہ سبزہ اس قابل ہوتا ہے کہ اس سے پھول پھل پیدا ہو سکیں یا کسی قسم کا غلہ اس سے حاصل کیا جا سکے وہ خدا تعالیٰ کی مخلوق کے ایک نہایت قلیل حصہ کی نقل اور تصویر یا نظارہ ہوتا ہے مگر وہ جتنا اصل نظارہ کے قریب ہوتا جاتا ہے اتنی ہی اس کی قیمت بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ میں نے بتایا ہے کہ بعض تصاویر تیس تیس لاکھ روپیہ کو بک جاتی ہیں- لیکن انسانی صنعت جو محض نقل ہوتی ہے اور ایک نہایت ہی قلیل حصہ کی نقل ہوتی ہے وہ اگر اتنی قیمت پاتی ہے تو وہ چیز جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمام جن اور انس مل کر بھی کوشش کریں تو اس کے مقابلہ کی چیز پیدا نہیں کر سکتے بلکہ اس کے مقابلہ کی پیدا کرنا تو الگ رہا اس کے کسی حصہ کی نقل بھی نہیں کر سکتے- وہ کسقدر قیمتی ہو سکتی ہے- مثل کے معنی تصویر کے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے روحانی سلسلہ جسمانی سلسلہ سے اعلیٰ ہے- تم جسمانی چیزوں کی تصویر کھینچ سکتے ہو مگر یہ ہم روحانی چیز پیش کرتے ہیں تمام کے تمام مل جائو اور اس کی تصویر بنائو- اصل کے مطابق بنانا تو تمہارے لئے جسمانی سلسلہ میں بھی ممکن نہیں ہے تم نقل ہی کر سکتے ہو مگر تم اس کی نقل بھی نہیں کر سکتے۲~}~ تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں اسلام جیسا مذہب اور قرآن جیسی کتاب عطا کی- اس پر مزید فضل یہ ہوا کہ ہمارے گناہوں` ہماری شامت اعمال` ہماری غفلتوں اور ہماری خطائوں کی وجہ سے جب یہ پاک کلام دنیا سے اٹھ گیا تو اس نے پھر عطا کیا- وہ کلام جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ جن و انس مل کر بھی اس کے کسی حصے کی تصویر اور نقل پیش نہیں کر سکتے- اس میں مسلمان کہلانے والوں اور مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے والوں کو ہزاروں عیب دکھائی دینے لگے- اور وہ لوگ اچھے اور قابل مسلمان سمجھے جانے لگے جو قرآن کے متعلق اچھی معذرت پیش کر سکیں-
    سرسید احمد صاحب علی گڑھ کالج کے بانی جن کی تعلیمی کوششوں کی ہم قدر کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کی ایک حد تک خدمت کی ان کی مذہبی لحاظ سے پوزیشن یہی تھی کہ وہ قرآن کی طرف سے معذرت پیش کرنے میں قابل سمجھتے جاتے اور ان کی معذرت یہی ہوتی کہ وہ کہتے قرآن میں پرانے زمانہ کی باتیں ہیں- اور ایسے لوگوں کو مخاطب کر کے کی گئی ہیں جو جاہل تھے- اہل یورپ کو ان کا کوئی خیال نہیں کرنا چاہئے- اسی طرح سید امیر علی صاحب مسلمانوں کے دوسرے مشہور لیڈر تھے- ان کے متعلق بھی یہی بات کہی جاتی کہ وہ اسلام کی طرف سے بہت اچھی معذرت پیش کرتے ہیں- مثلاً قرآن کریم میں جہاں ملائکہ کا لفظ آیا اس کے متعلق انہوں نے کہہ دیا کہ یورپ کے لوگوں کو اس سے گھبرانا نہیں چاہئے پہلے زمانہ کے لوگ اس قسم کی مخلوق مانا ہی کرتے تھے انہی کے خیالات کو مدنظر رکھ کر قرآن میں یہ ذکر آ گیا ہے- اسی طرح پردہ وغیرہ کے متعلق کہتے کہ یہ اس زمانے کے لئے تھا جب کہ تہذیب نے اتنی ترقی نہ کی تھی-
    غرض اسلام کے بہترین خادم بلکہ محسن وہ لوگ سمجھے جاتے تھے جو قرآن کریم کی خیالیغلطیوں اور وہمی تقصیروں کا ازالہ اپنی باتوں سے کرتے تھے- اس ماحول اور ایسی حالت میں خدا تعالیٰ نے ایک نبی بھیجا جس نے قرآن کریم کو اس کی اصل شکل میں پیش کیا اور بتا دیا کہ جہاں چاہو اسے لے جائو کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کر سکے اور اس کے ایک لفظ کو بھی غلط ثابت کرنے کی جرات رکھے- یہ تو ایک بم ہے کہ باطل کی جتنی بھی بڑی سے بڑی عمارت پر اسے گرائو اسے پاش پاش کر دے گا- اس کی طرف سے کسی قسم کی معذرت کرنے کی ضرورت نہیں- معذرت تو بیمار اور ناکارہ کی طرف سے کی جاتی ہے مگر وہ کلام جو دنیا کے لئے ہدایت لے کر آیا اس کی طرف سے معذرت پیش کرنے کی کیا ضرورت ہے- وہ تو خدا تعالیٰ کے نوراور اس کی برکتوں کا مجموعہ ہے- اس کے سامنے دنیا کو ضرورت ہے کہ معذرت پیش کرے جو ظلمت اور گمراہی میں پڑی ہوئی ہے- پھر اس کے سامنے دوسری مذہبی کتابوں کو ہاتھ جوڑنے چاہئیں اور کہنا چاہئے اب ہماری زیادہ پردہدری نہ کی جائے- پس اس کلام کا تو یہ مرتبہ ہے کہ دنیا کے ہر ملک اور ہر قوم کے انسان آتے اور کہتے ہم جہالت میں مبتلا ہیں تم خدا تعالیٰ کا کلام ہو ہماری دستگیری کرو اور ہمیں ظلمت کے گڑھے سے نکالو- قرآن کو کسی قسم کی معذرت پیش کرنے کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے اس کا تو ایک ایک لفظ عقل` نقل` تاریخ` جغرافیہ` سائنس غرض دنیا کے ہر علم سے درست ثابت ہوتا ہے-
    غرض خدا تعالیٰ کا ہم پر یہ فضل ہوا کہ اس نے ہمارے زمانہ میں ایک ایسا انسان بھیجا جو دوبارہ دنیا میں قرآن لایا پھر اس کا ایک فضل یہ ہوا کہ ہم لوگ جو علم کے لحاظ سے` عقل کے لحاظ سے` تجربہ کے لحاظ سے` ظاہری سامانوں کے لحاظ سے دنیا میں نہایت ہی کمزور ہیں بلکہ بغیرمبالغہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر اس چیز کو ہم سے جدا کر دیا جائے جو خدا تعالیٰ کے مامور نے ہمیں عطا کی ہے تو ہم دنیا میں بدترین خلائق کہلانے کے مستحق ہیں- مگر باوجود اس کے کہ ہم بدترین خلائق ہیں اور انہی لوگوں میں سے ہیں جنہیں آج کل کی متمدن کہلانے والی قومیں جاہل` وحشی اور بدتہذیب کہتی ہیں ہم میں ¶سے ہی خدا تعالیٰ نے ایسے آدمیوں کو چنا جنہوں نے مہذب کہلانے والی اقوام کو ہدایت` علم و عرفان دیا اور مہذب قومیں ہماری باتوں کے آگے سرتسلیم خم کر رہی ہیں- وہ قومیں جو ہمیں غیرمہذب کہتی تھیں اور اب بھی دوسروں کو غیرمہذب اور وحشی ہی کہتی ہیں وہ خواہش کرتی ہیں کہ ہم سے تہذیب اور روحانیت سیکھیں اور ہمانکیلئے علماء بھیجیں- یہ اللہ تعالیٰ کا محض فضل اور رحمت ہے- ہماری کوئی قربانی` کوئی ایثار` کوئی اخلاص اس کا بدلہ نہیں ہو سکتا- یہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت کے ماتحت ہے شروع میں بھی اور آخر میں بھی- نہ ابتداء میں ہمارا کوئی عمل اس فضل کے نازل ہونے کا باعث ہوا اور نہ کوئی انتہائی عمل اس کا بدلہ ہو سکتا ہے- ان حالات میں آئو ہم خدا تعالیٰ کے آگے جھکیں اور جہاں سے بے مانگے اتنا کچھ ملا ہے وہاں سے مانگ کر دیکھیں کہ کتنا ملتا ہے- آئو ہم سب مل کر دعا کریں کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ہمیں اس کام کے لئے چنا ہے` اسی طرح اس کے کرنے کی اہمیت اور طاقت بھی عطا کرے اور توفیق بخشے- ہمارے کاموں میں برکت دے کیونکہ جب تک خدا تعالیٰ آسمان پر نہ چاہے زمین میں اس کے فرشتے لوگوں کے قلوب نہیں کھولتے- ہم لوگوں کے کانوں تک خدا اور اس کے رسول کا کلام پہنچا سکتے ہیں مگر دلوں تک نہیں پہنچا سکتے- حالانکہ ہمارا فرض یہ ہے کہ لوگوں کے قلوب تک پہنچائیں- یہ خدا تعالیٰ ہی کر سکتا ہے کرے اور اس کی مدد اور تائید سے ہی ایسا ہو سکتا ہے- پس پیشتر اس کے کہ جلسہ شروع ہو میں احباب سے درخواست کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے اعمال اور اقوال میں برکت دے` ہمیں اپنے فضل کے سایہ کے نیچے رکھے` فرشتے آسمان سے ہماری تائید اور نصرت کے لئے نازل کرے` ہم کمزور ہیں ہمیں طاقت عطا کرے` ہم ضعیف ہیں ہمیں توانائی بخشے ہم جاہل ہیں ہمیں علم دے` ہم بے عمل ہیں ہمیں اعمال حسنہ کی توفیق دے` ہم دنیا کے مقابلہ میں نہتے ہیں وہ ہمیں کامیابی کے سامان عطا کرے تا کہ ہم اس عظیم الشان جنگ میں کامیاب ہوں جس کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں کھڑا کیا ہے- دنیا اس وقت ناپاکی اور غفلت میں مبتلا ہے` جہالت اور ظلمت کے گڑھے میں گری ہوئی ہے` شیطان اپنی ساری فوجوں کے ساتھ مقابلہ میں کھڑا ہے` ہم باوجود نہایت کمزوری اور ناتوانی کے اس کے مقابلہ کے لئے منتخب کئے گئے ہیں خدا تعالیٰ اپنا خاص فضل نازل کرے تب ہی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں- ہمیں اپنے فضل سے خدا تعالیٰ ایسی کامیابی عطا کرے کہ دنیا ہماری کمزوری اور ناتوانی کو دیکھتی ہوئی پکار اٹھے کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہی ہے اور اسی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دنیا کی اصلاح اور بہتری کے لئے بھیجا-
    دعا سے پہلے میں ایک اور بات بیان کرنا چاہتا ہوں- یہ اجتماع کا موقع ہے اور اس پر اس بات کا بیان کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق خداتعالیٰ کا الہام ہے لا نبقی لک من المخزیات ذکرا ۳~}~ کہ ہم تیرے لئے رسوائی والی کوئی بات باقی نہ چھوڑیں گے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر مخالفین کی طرف سے ایک بہت بڑا اعتراض یہ کیا جاتا تھا کہ آپ کا ایک بیٹا آپ کے سلسلہ میں شامل نہیں- مخالف کہتے اگر مرزا صاحب سچے ہوتے تو ان کا اپنا بیٹا کیوں نہ انہیں مانتا- اگرچہ یہ کوئی ایسا اعتراض نہیں جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت پر حرف آ سکتا- حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے نے بھی ان کو نہ مانا تھا اس سے حضرت نوح علیہ السلام کی صداقت باطل نہیں قرار دی جا سکتی- پس مخالفین کا یہ اعتراض محض جہالت اور نادانی کی وجہ سے تھا لیکن اللہتعالیٰ نے اسے بھی دور کر دیا اور ایسے لوگوں کا منہ بند کر دیا چنانچہ کل مرزا سلطان احمد صاحب میری بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے اور اس طرح بھی دشمن کا منہ بند ہو گیا- اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی بیٹا آپ کی جماعت میں داخل نہیں اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ساری کی ساری اولاد احمدیت میں داخل ہو گئی ہے-
    )اس پر تمام مجمع نے نہایت بلند آواز سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے حضور مبارکباد پیش کی- اور حضور نے >خیر مبارک< کہا(
    ایک بات کا ذکر کرنا میں اپنی تقریر میں بھول گیا تھا اور وہ یہ کہ پچھلے ہفتہ دو دفعہ میں نے دو رئویا دیکھے ہیں- جن میں ایسے نظارے دکھائے گئے جو مخفی ابتلاء کا پتہ دیتے ہیں- ایک رئویا تو میں نے آج سے پانچ دن قبل دیکھا- ایک پرسوں- میں ان کی تشریح نہیں کرتا- یہ منع ہے کیونکہ منذر رئویا کا بیان کرنا بعض اوقات اس کے پورا کرنے کا موجب ہو جاتا ہے لیکن اتنا بتا دیتا ہوں تا کہ دوستوں کی توجہ دعا کی طرف ہو کہ ایک حملہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃوالسلام پر کیا گیا اور ایک مجھ پر- اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان سے مبرم تقدیر بھی ٹل جایا کرتی ہے- احباب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحم سے ہر قسم کی مشکلات دور فرمائے اور ہر قسم کے ابتلائوں سے جماعت کو محفوظ رکھے تا کہ ہم عمدگی اور آسانی سے اس کے سلسلہ کی خدمت کر سکیں- )الفضل یکم جنوری ۱۹۳۱ء(
    ۱`۲~}~
    بنی اسرائیل:۸۹
    ۳~}~
    تذکرہ صفحہ ۵۳۸ ایڈیشن چہارم
    ‏a11.5,c
    انوار العلوم جلد ۱۲
    ندائے ایمان)۲(
    ندائے ایمان )۲(

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھوالناصر
    ندائے ایمان )۲(
    رسول کریم ~صل۲~ کی ذات پر حملہ
    رسول کریم ~صل۲~ کی ذات مبارک کچھ ایسی کفر توڑ ہے کہ ہر شخص جس کے دل میں کفر کی کوئی رگ ہو آپ سے دشمنی رکھتا ہے اور آپ کی مقدس ذات پر حملہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے کیونکہ وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ کی ترقی میں اس کا زوال اور آپ کی زندگی میں اس کی موت ہے- اسی وجہ سے جس قدر حملے رسول کریم ~صل۲~ کی ذات پر ہوئے ہیں اور کسی نبی پر خواہ عرب کا ہو یا شام کا` ہندوستان کا ہو یا ایران کا نہیں ہوئے- لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے دشمنان اسلام آپ پر حملہ کرنے میں ایک حد تک معذور ہیں کیونکہ اسلام کے ذریعہ سے ان کے مکروں اور حیلوں کا تانا بانا ٹوٹتا ہے اور ہر ایک کو اپنی جان پیاری ہوتی ہے- لیکن تعجب ہے ان لوگوں پر جو اسلام سے محبت کا دعویٰ رکھتے ہیں` قرآن کریم پر ایمان ظاہر کرتے ہیں` درود پڑھتے اور سلام بھیجتے ہیں` لیکن باوجود اس کے رسول کریم ~صل۲~ کی ذات پر حملہ کرنے سے نہیں ڈرتے اور ایسے عقائد پھیلاتے ہیں جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارکذات کی سخت ہتک ہوتی ہے اور اس طرح عوام الناس کے دلوں سے آپ کی محبت کم کرتے ہیں- اس قسم کے لوگوں میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو آئے دن عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا وعظ کرتے پھرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ چوتھے آسمان پر بہ جسد عنصری بیٹھے ہیں اور کسی زمانہ میں آسمان سے اتر کر لوگوں کو اپنا تابع بنائیں گے- آہ! یہ لوگ کبھی خیال نہیں کرتے کہ وہ رسول جس کے احسانوں تلے ان کا بال بال دبا ہوا ہے اور جسے خدا تعالیٰ نے سب انسانوں سے افضل قرار دیا ہے اور جو اپنی قوت قدسیہ میں کیا ملائکہ اور کیا انسان سب پر فضیلت لے گیا ہے اس ذریعہ سے وہ اس کی ہتک کرتے ہیں اور ایک ایسے شخص کو جو اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوتا تو آپ کی غلامی میں فخر محسوس کرتا آپ کے وجود پر فضیلت دیتے ہیں-
    یہ امر ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی شخص نے خدا تعالیٰ کے دین کیلئے تکلیف نہیں اٹھائی- آپ مکہ میں تیرہ سال تک ایسی تکلیفات برداشت کرتے رہے ہیں کہ ایسی تکلیفات کا ایک سال تک برداشت کرنا بھی انسان کی کمر توڑ دیتا ہے اور آپ کے اتباع اور جاںنثار مرید بھی ناقابل برداشت ظلموں کا تختہ مشق بنے رہے ہیں- اس کے مقابل پر مسیح علیہالسلام اور ان کے حواریوں کی قربانیاں کیا ہستی رکھتی ہیں- وہ اپنی جگہ کتنی ہی شاندار کیوں نہ ہوں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے مقابلہ میں کچھ بھی قیمت نہیں رکھتیں- اول تو حضرت مسیحؑ کا زمانہ تبلیغ ہی کل تین سال بتایا جاتا ہے- پھر اس قلیل زمانہ میں بھی سوائے دو چار گالیوں اور ہنسی مذاق کے اور کوئی تکلیف نہیں جو ان کے مخالفوں نے انہیں دی ہو- لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی وقت میں تین سال تک ایک تنگ وادی میں محصور رکھا گیا` کھانا پینا بند کیا گیا` آپ سے خرید فروخت کرنیوالوں پر ڈنڈ مقرر کیا گیا- غرض اس قدر دکھ دیئے گئے کہ آپ کی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہؓ ان تکالیف کی سختی کی وجہ سے بیمار ہو کر فوت ہو گئیں- کھانے کی تنگی کی وجہ سے آپ کے صحابہؓ فرماتے ہیں کہ ہم پتے کھانے پر مجبور ہوتے تھے جس کی وجہ سے بکری کی مینگنیوں کی طرح ہمیں پاخانہ آتا تھا- بیسیوں دفعہ آپ کی اور آپ کے اتباع کی جانوں پر حملے کئے گئے` پتھر مارے گئے` گلا گھونٹا گیا` غلاظتیں پھینکی گئیں` غرض کون سی تکلیف تھی جو آپ پر نہ آئی ہو` لیکن باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی ارشاد ہوتا رہا کہ فاصبر کما صبر اولوالعزم ۱~}~ جس طرح ہمارے پکے ارادے والے بندے صبر کرتے رہے ہیں اسی طرح تو بھی صبر سے کام لے اور استقلال کے ساتھ اپنے دشمنوں کا مقابلہ کر- لیکن کیا یہ عجیب بات نہیں کہ باوجود ان حالات سے واقف ہونے کے مسلمان کہلانے والے اور علم کا دعویٰ کرنے والے یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو جب سولی پر لٹکانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے جھٹ کسی اور شخص کو ان کی شکل کا بنا کر یہودیوں کے ہاتھ میں پکڑوا دیا- اور حضرت مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا- اگر یہ امر صحیح ہے تو کیا مسیحیوں کا حق نہیں کہ وہ دعویٰ کریں کہ ہمارا راہنما تمہارے نبی سے افضل تھا کہ تمہارے نبی کو تو تیرہ سال تک مکہ میں اور پانچ سال تک مدینہ میں زبردست تکالیف کا سامنا رہا لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں مصیبت میں پڑا رہنے دیا اور کوئی خاص مدد نہ کی لیکن ہمارے راہنما پر ایک ہی دفعہ لوگوں نے ہاتھ ڈالنا چاہا تھا کہ خدا تعالیٰ نے اسے چوتھے آسمان پر جا بٹھایا اور ایک لمحہ کے لئے بھی تکلیف برداشت نہ کرنے دی-
    اے اسلام کا درد رکھنے والو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعویٰ کرنے والو! کبھی آپ نے سوچا بھی کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو اس طرح آسمان پر بٹھا کر آپ کے علماء نے اسلام پر کس طرح ظلم کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کس قدر ہتک کی ہے؟
    اسی طرح کیا کبھی آپ نے یہ بھی سوچا ہے کہ حضرت مسیح کے اس قدر لمبے عرصہ سے آسمان پر زندہ موجود ہونے کے عقیدہ سے ان علماء نے مسیحیت کو کس قدر طاقت بخشی ہے؟ کیونکہ یہ ظاہر بات ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر زندہ رکھا ہوا ہے وہ یقیناً اس شخص سے افضل ہونا چاہئے جسے ایک معمولی سی عمر دے کر اللہ تعالیٰ نے وفات دی اور پھر جبکہ ساتھ یہ بھی مانا جائے کہ وہ صرف آپ ہی زندہ نہیں بلکہ دوسرے مردوں کو بھی زندہ کیا کرتا تھا جیسا کہ مسلمانوں میں اس وقت عام عقیدہ ہے تو پھر اس امر میں کوئی بھی شبہ نہیں رہتا کہ نعوذ باللہ من ذلک حضرت مسیحؑ حضرت نبی کریم ~صل۲~ سے افضل تھے- مگر کیا خداتعالیٰ کی آخری کتاب قرآن کریم اس عقیدہ کی تائید کرتی ہے؟ ہر گز نہیں- قرآن کریم اس عقیدہ کو دھکے دیتا ہے اور سرتا پا اس کی تردید کرتا ہے- وہ تو کھول کھول کر بتاتا ہے کہ رسولکریم ~صل۲~ سب نبیوں کے سردار ہیں اور سب نبیوں سے یہ عہد لیا جاتا رہا ہے کہ اگر آپ کا عہد پائیں تو آپ کی مدد کریں اور تائید کریں اور آپ پر ایمان لائیں-۲~}~ پس کس طرح ہو سکتا ہے کہ سرداری کی خلعت تو نسبتا چھوٹے درجہ کے آدمی کو دے دی جائے اور سردار کو اس سے محروم کر دیا جائے-
    اللہ تعالیٰ ظالم نہیں اگر فی الواقعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب نبیوں کے سردار ہیں اور مجھے اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جس کی جھوٹی قسم کھانی *** کا کام ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً سب نبیوں اور رسولوں کے سردار ہیں اور کوئی انسان اس زمین پر نہ پیدا ہوا ہے نہ ہوگا جو آپ کے درجہ کو پہنچ سکے باقی سب انسان آپ سے درجہ میں کم ہیں اور خدا تعالیٰ کے قرب کا جو مقام آپ کو ملا ہے اور خدا تعالیٰ جو غیرت آپ کے لئے دکھاتا تھا وہ مقام کسی کو نہیں ملا اور وہ غیرت خدا تعالیٰ نے اور کسی کے لئے نہیں دکھائی- مسیح کیا تھا؟ وہ موسوی سلسلہ کے نبیوں میں سے ایک نبی تھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ کو تو موسوی سلسلہ کے سب نبی مل کر بھی نہیں پہنچ سکتے- پھر کس طرح ہو سکتا تھا کہ خدا تعالیٰ مسیح علیہ السلام کو تو دشمنوں کے حملہ سے بچانے کے لئے آسمان پر اٹھا لیتا اور رسول کریم کو چھوڑ دیتا کہ لوگ ان پر پتھر برسا برسا کر زخمی اور لہولہان کریں اور سنگ باری کر کے آپ کے دندان مبارک توڑ دیں حتی کہ آپ بے ہوش ہو کر گر جائیں جیسا کہ احد کی جنگ کے موقع پر ہوا؟ بخدا ایسا نہیں ہو سکتا اگر خدا تعالیٰ نے کسی کو آسمان پر اٹھانا ہوتا تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھاتا اور اگر اس نے کسی کو صدیوں تک زندہ رکھنا ہوتا تو وہ آپ کو زندہ رکھتا- پس نادان ہیں وہ لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت مسیحؑ کو خدا تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا اور وہ اب تک زندہ موجود ہیں کیونکہ یہ عقیدہ نہ صرف قرآن کریم کے مخالف ہے بلکہ مسیحیت کو اس سے طاقت حاصل ہوتی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس میں ہتک ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی بھی ہتک ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نعوذ باللہ ظالم ہے کہ جو اعلیٰ سلوک کا مستحق تھا اس سے تو اس نے ادنیٰ سلوک کیا اور جو ادنیٰ سلوک کا مستحق تھا اس سے اس نے اعلیٰ سلوک کیا- اسی طرح یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ زمین پر بے بس تھا تبھی تو اس نے مسیح علیہ السلام کو بچانے کیلئے آسمان پر اٹھا لیا- حالانکہ اگر مسلمان غور کرتے تو یہ آسمان پر اٹھانے کا عقیدہ تو مسیحیوں نے اپنی نادانی سے گھڑا ہے کیونکہ محرف مبدل کتاب میں لکھا ہے کہ خدا کی بادشاہت ابھی زمین پر نہیں آئی- ۳~}~چنانچہ مسیحی لوگ اب تک دعائیں کیا کرتے ہیں- کہ اے خدا! جس طرح تیری بادشاہت آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر بھی ہو- لیکن اسلام تو اس عقیدہ کو کفر قرار دیتا ہے- وہ تو صاف الفاظ میں سکھاتا ہے کہ للہ ملکالسموت والارض ۴~}~آسمان اور زمین کی بادشاہت اسی کے قبضہ میں ہے- پس اگر مسیحی یہ عقیدہ رکھیں کہ خدا تعالیٰ نے مسیح کو آسمان پر اٹھا لیا تو وہ تو مجبور ہیں کیونکہ ان کے عقیدہ کی رو سے زمین پر خدا تعالیٰ کی بادشاہت نہ تھی اس وجہ سے ان کے نزدیک وہ زمین پر مسیح کی حفاظت کرنے سے بے بس ہوگا- مگر مسلمانوں کو کیا ہوا کہ مسیحیوں کی نقل میں انہوں نے بھی خواہمخواہ مسیح علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا دیا حالانکہ ان کے خدا کی بادشاہت تو جس طرح آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر بھی ہے- اسے کیا ضرورت تھی کہ وہ یہودیوں سے ڈر کر اپنے نبی کو آسمان پر اٹھا لیتا- وہ اسی زمین میں اس کی حفاظت کر سکتا تھا اور اس کے دشمنوں کو تباہ کر سکتا تھا-
    غرض جس قدر بھی غور کیا جائے حضرت مسیح کو آسمان پر زندہ ماننے میں خدا تعالیٰ کی بھی اور رسول کریم کی بھی ہتک ہے اور مسیحیت نے اس سے بہت کچھ فائدہ اٹھایا ہے اور لاکھوں مسلمان اس عقیدہ کی وجہ سے ٹھوکر کھا کر مسیحی ہو گئے ہیں- پس اب بھی وقت ہے کہ مسلمان کچھ جانیں اور خلاف اسلام اور خلاف عقل عقیدہ کو چھوڑ کر توبہ کریں اور اپنے دوستوں کو بھی سمجھائیں ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کا جرم معمولی جرم نہیں- انہیں سمجھنا چاہئے کہ انہوں نے اپنی جانیں خدا تعالیٰ کو سپرد کرنی ہیں نہ کہ مولویوں کو- پس پیشتر اس کے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے چاہئے کہ سب مسلمان ایک زبان ہو کر اس گندے اور ہتک رسول کرنے والے عقیدہ کو اپنے دل سے نکال دیں تا کہ مسیحیت کی گرفت ڈھیلی پڑ جائے اور مسیح کو مرنے دیں کہ اس کے مرنے کے ساتھ ہی مسیحیت کی موت اور اسلام کی حیات ہے- کیا کوئی درد مند انسان ہے جو اپنے علاقہ میں مسیحؑ کو مار کر اسلام کو زندہ کرے- یقیناً جو ایمان کی وجہ سے نہ کہ نیچریت کی وجہ سے ایسا کرے گا خداتعالیٰ کی رحمت کو پا لے گا اور خداتعالیٰ اسے اپنی مرضی کی راہوں پر چلنے کی توفیق دے گا- واخر دعونا ان الحمد للہ رب العلمین
    خاکسار میرزا محمود احمد
    امام جماعت احمدیہ قادیان
    اگر آپ اسلام کا درد اور اپنی قوم کی خیر خواہی مدنظر رکھتے ہیں تو ہر مسلمان کہلانے والے کی ہمدردی کرنا اپنا فرض سمجھیں- جہاں تک ہو سکے مسلمان تاجروں سے مال خریدیں اور اپنی اولادوں کے دل میں خیال پیدا کریں کہ مسلمان بہادر ہوتا ہے- وہ کسی قوم کے فرد یا مجموعہ سے نہیں ڈرتا- خاکسار مرزا محمود احمد
    ‏gap] ga[t ۱~}~
    الاحقاف : ۳۶
    ۲~}~ ال عمران: ۸۲

    ۳~}~
    متی باب ۶ آیت ۹`۱۰ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انارکلی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء
    ۴~}~
    الجاثیہ : ۲۸` التفح: ۱۵

    ‏ ]2 [rtf
    ‏a11.6
    انوار العلوم جلد ۱۱
    بعض اہم اور ضروری امور
    بعض اہم اور ضروری امور

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    بعض اہم اور ضروری امور
    )فرمودہ ۲۷ دسمبر ۱۹۳۰ء برموقع جلسہ سالانہ(
    تشہد ` تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے اول تو اس بات پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے پھر اس سنت کو پورا کرنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائی جو اس کے مامور اور مرسل نے ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اشارہ سے جلسہ سالانہ کے رنگ میں قائم کی- اس کے بعد فرمایا-:
    ہم چونکہ اس وقت اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی برکات اور اس کے فیوض حاصل کریں اس لئے ہمارا پہلا فرض یہ ہے کہ ہم دیکھیں ہمارے لئے ماضی میں کیا پیدا کیا گیا جس کی حفاظت کرنا اور جسے ترقی دینا ہمارا فرض ہے یا جسے دور کرنا ہمارے لئے ضروری ہے- کئی باتیں ایسی پیدا کی جاتی ہیں جن کا دور کرنا مومن کا فرض ہوتا ہے اور کئی ایسی ہوتی ہیں جن کا حاصل کرنا مومن کے فرائض میں داخل ہوتا ہے- اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ابتلاء لاتا ہے تاکہ دیکھے کہ وہ کس طرح خدا تعالیٰ کے افعال پر غور و تدبر کرتے ہیں- اللہ تعالیٰ بڑا غیور ہے جہاں وہ کسی کا محتاج نہیں` وہاں اس میں غیرت بھی کمال درجہ کی ہے اور وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس کے بندے اس کے افعال سچے عاشق کی طرح دیکھتے ہیں یا نہیں- ایک سچے عاشق کی کیا حالت ہوتی ہے یہ کہ ہر وقت اس کا دل چاہتا ہے کہ وہ اپنے محبوب کی حرکات دیکھتا رہے` اس کی ہر بات پر نگاہ رکھے اور اس کے رنگ میں رنگین ہو جائے- پس سچے مومنوں کو خدا تعالیٰ کے افعال پر نگاہ رکھنی چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کن امور میں انہیں ہوشیار کرنا چاہتا ہے اور کن میں آگے بڑھانا چاہتا ہے-
    ایک بہت بڑا ابتلاء
    اس سال ہماری جماعت پر ایک بہت بڑا ابتلاء آیا- گذشتہ مارچ میں چند لوگوں نے جو جماعت میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے جب دیکھا کہ جماعت ان کا پیدا کردہ فتنہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تو انہوں نے وہی طریق اختیار کیا جو فتنہ پرداز لوگ اپنی شرارت کو انتہا تک پہنچانے کے لئے اختیار کیا کرتے ہیں- یعنی ایسی تحریریں شائع کرنی شروع کر دیں جن سے اشتعال آئے اور جن کو دیکھ کر صبر سے کام لینا محال ہو جائے- مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے ہماری جماعت کو ایک سبق دیا اور بتایا کہ وہ مومن کو ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرنا چاہتا ہے- خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو یہ سکھانا چاہا کہ ایسے واقعات بھی پیش آ جاتے ہیں جب انسان اپنے نفس پر قابو نہیں رکھ سکتا لیکن ادھر شریعت یہ مطالبہ کرتی ہے کہ نفس کو قابو میں رکھا جائے- میں سمجھتا ہوں ان انتہا درجہ کی اشتعال انگیزیوں کے مقابلہ میں جو فتنہ پردازوں نے شرارت کو بڑھانے کے لئے کیں سوائے چند کوتاہیوں کے ہماری جماعت کے لوگوں نے اپنے نفس کو قابو میں رکھا اور لاکھوں انسانوں کی جماعت میں سے چند کوتاہیاں اس جماعت کے اعلیٰ اخلاق اور ضبط نفس پر دلالت کرتی ہیں نہ کہ کسی قسم کا اس پر حرف لاتی ہیں- ان حالات میں جس عمدگی سے جماعت نے کام کیا اس کی نظیر کا کسی اور جگہ ملنا محال ہے- ایک طرف جماعت کے لوگوں کی غیرت اور حمیت کا امتحان تھا اور دوسری طرف اپنے نفس پر قابو رکھنے کا- گویا دو آگیں تھیں جن میں وہ کھڑے تھے اور جہاں یہ دونوں آگیں جمع ہو جائیں وہاں عقلمند سے عقلمند انسانوں کی عقل بھی ماری جاتی ہے- مگر خداتعالیٰ کے فضل و کرم سے ہماری جماعت پوری طرح کامیاب ہوئی- اس نے غیرت بھی دکھائی اور اپنے نفس پر قابو بھی رکھا اور اگر کسی سے کچھ کوتاہی ہوئی تو ہم خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ باقی جماعت کے صبر` تحمل اور استقلال کی وجہ سے اور شریعت اور اسلام کی تکریم کے طور پر اپنے نفس پر قابو رکھنے کی وجہ سے کوتاہی کرنے والوں کو معاف کر دے-
    وفات کی جھوٹی خبر
    ہماری جماعت کی ایک اور آزمائش جو خدا تعالیٰ نے دشمنوں کے ذریعہ کی اور جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک رنگ میں آزمائش تھی اور ایک رنگ میں انعام- اب میں اس کا ذکر کرتا ہوں- مستریوں نے جو فتنہ پھیلایا اس کے متعلق قدرتی طور پر کبھی یہ خدشہ پیدا ہوتا تھا کہ شاید جماعت کا ایک حصہ اپنے اندر کمزوری محسوس کرے کیونکہ دشمن جو روز بروز شرارت میں بڑھتا جاتا ہے شاید اس کو اندر سے مدد ملتی ہو- یہ انسانی کمزوری کے ماتحت میرے دل میں خیال پیدا ہوتا- اللہ تعالیٰ نے اسے دور کرنے کے لئے دشمن سے ہی ہتھیار چلوایا- فتنہ پرداز لوگ بڑے دعویٰ کے ساتھ یہ کہتے تھے کہ جماعت کے لوگ انہیں مخفی طور پر مدد دیتے ہیں- اللہ تعالیٰ نے اسے غلط اور محض جھوٹ ثابت کرنے کیلئے ایسا ذریعہ پیدا کرایا اور دشمن کے ہاتھ سے ہی پیدا کرایا کہ اس کا وہ انکار نہ کر سکتا تھا- یہ وہ خبر تھی جو میری موت کی شائع کرائی گئی- اس خبر نے جماعت کے اخلاص اور محبت کے جذبات کو نکال کر باہر رکھ دیا اور اخلاص کی ایسی نمائش ہوئی جو دنیا میں پچھلے سالوں میں بہت کم ہوئی ہوگی- اس خبر کے پھیلانے پر دشمن نے معلوم کر لیا کہ وہ اپنی شرارت میں بالکل ناکام ہو چکا ہے اور ہمیں معلوم ہو گیا کہ جماعت کے کسی حصہ میں بھی اخلاص کی کوئی کمی نہیں ہوئی- مجھے اس وقت تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں- اس خبر کے شائع ہونے پر جو خطوط آئے اور ہم نے جماعت کے لوگوں کی جو حالت دیکھی اس کی تفسیر الفاظ میں ممکن نہیں اس سے ظاہر ہو گیا کہ جماعت میں جو اخلاص ہے وہ ہمارے اندازہ سے باہر ہے- بہت سے خطوط ایسے آئے جن میں جماعت کے معزز افراد نے لکھا کہ اس خبر کے سنتے ہی انہوں نے ارادہ کر لیا تھا کہ وہ ملازمتیں چھوڑ کر بقیہ عمر دین کی خدمت میں صرف کریں گے- یہ انتہائی قربانی تھی اور صحیح قربانی تھی- جس کا ارادہ کیا گیا-
    انتخاب خلافت سب سے بڑی آزمائش ہے
    جہاں خدا تعالیٰ نے جماعت کو اخلاص کے اظہار کا موقع دیا وہاں یہ بھی بتا دیا کہ انسان آخر انسان ہی ہے خواہ وہ کوئی ہو اور ایک نہ ایک دن اسے اپنے مخلصین سے جدا ہونا پڑتا ہے- اس بات کا احساس بھی خدا تعالیٰ نے جماعت کو کرا دیا- اس سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ خلیفہ سے جماعت کو جو تعلق ہے وہ جماعت ہی کی بہتری اور بھلائی کے لئے ہے اور جو بھی خلیفہ ہو اس سے تعلق ضروری ہے- یاد رکھو! اسلام اور احمدیت کی امانت کی حفاظت سب سے مقدم ہے اور جماعت کو تیار رہنا چاہئے کہ جب بھی خلفاء کی وفات ہو جماعت اس شخص پر جو سب سے بہترین خدمت دین کر سکے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے اور اس سے الہام پانے کے بعد متفق ہو جائے گی- انتخاب خلافت سے بڑی آزمائش مسلمانوں کے لئے اور کوئی نہیں- یہ ایسی ہے جیسے باریک دھار پر چلنا- ذرا سا قدم لڑکھڑانے سے انسان دوزخ میں جا گرتا ہے- غرض انتخاب خلافت سب سے بڑھ کر ذمہ داری ہے جماعت کو اس بارے میں اپنی ذمہ داری پہچاننی چاہئے-
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر شرمناک حملہ
    پچھلے دنوں ایک شرمناک حملہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر کیا گیا اور میں سمجھتا ہوں اس کا باعث وہی چند نادان منافق ہیں جو فتنہ پردازی میں حصہ لے رہے ہیں اور جس طرح جماعت کے مخلصین کا اخلاص ظاہر ہوا اسی طرح بعض منافقین کی منافقت ظاہر ہو گئی- اور تو اور اس قسم کے بھی سنگ دل معلوم ہوئے کہ قاضی محمد علی صاحب کا پیغام آیا ایک شخص مجھے کہتا رہا تم کیوں یہ نہیں کہہ دیتے کہ سازش کر کے مجھ سے قتل کرایا گیا ہے- ایسے ہی کچھ لوگ تھے جو مستریوں کے فتنہ کا ذکر کر کے کہتے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کیوں ایسے الزام نہ لگائے جاتے تھے- اب کوئی بات ہوگی تبھی الزام لگاتے ہیں- میں سمجھتا ہوں یہ رسالہ جس کا نام تائید اسلام رکھا گیا ہے لیکن دراصل بدترین کفری رسالہ ہے ایسے ہی لوگ اس کی اشاعت کا موجب ہوئے ہیں- اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃوالسلام کی ذات پر ایسے گندے اتہام لگائے گئے ہیں جیسے مستری مجھ پر لگاتے تھے-
    میں وہ الفاظ نہیں پڑھ سکتا میں نے گھر پر ان کے پڑھنے کی کوشش کی- مگر نہ پڑھ سکا- چند سطور پڑھ کر چھوڑ دینے پر مجبور ہوا- بہرحال وہ ویسے ہی اعتراضات ہیں جیسے مجھ پر کئے گئے اور میں سمجھتا ہوں ہر گناہ کے نتیجہ میں گند نکلتا ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی دشمن اس قسم کے اعتراضات کیا کرتے تھے- مگر مومن کا کام یہ ہے کہ ایسی باتوں کو پرے پھینک دے اس لئے ہم نے ان کو پھینک دیا- مگر بعد میں آنے والے چند نادانوں نے کہا ان کو کیوں پھینکا گیا- ہم نے ایسی باتوں کو اس لئے پرے پھینک دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے- لا نبقی لک من المخزیات ذکرا۱~}~ پس ہمارا کام یہ نہیں کہ ہم لعنتوں کو جمع کرتے رہیں- یہ لعنتیوں کا کام ہے- ہمارا کام یہ ہے کہ ہم رحمتوں کو چنیں-
    خدا تعالیٰ کی گرفت
    جہاں ہماری غیرت یہ نہیں چاہتی کہ ہم ایسی باتوں پر طوالت سے بحث کریں وہاں ہمارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ پوری طرح ایسی باتوں کے خلاف نفرت اور حقارت کا اظہار کر دیں- اس قسم کے اعتراضات کرنے والوں سے کہہ دیں کہ تم اپنی بہو بیٹیوں اور بیویوں کی فہرست بنا لو- میں اس بات کے لئے تیار ہوں کہ ہر ایک چیز حتیٰ کہ خلافت کو بھی پیش کر کے کہہ دوں کہ اگر ان میں وہی باتیں نہ پیدا ہو جائیں جن کا جھوٹا الزام ہم پر لگاتے ہیں تو ہم جھوٹے- یہ ان کے لئے خدا تعالیٰ کی گرفت ہے جو پوری ہو کر رہے گی اور خدا تعالیٰ کی گرفت بڑی سخت ہوتی ہے- شیعوں کو دیکھ لو جتنی کنچنیاں ہوتی ہیں ان میں سے اکثر شیعہ کہلاتی ہیں- شیعوں نے خدا تعالیٰ کے پاک بندوں پر بعض اعتراضات کئے تھے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہزار سال سے اس قسم کے عیب ان میں پیدا ہو گئے-
    گورنمنٹ سے مطالبہ
    ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے ضرور بدلہ لیتا ہے اور اب بھی ضرور لے گا- مگر موجودہ گورنمنٹ نے جب یہ قانون بنایا ہوا ہے کہ مذہبی پیشوائوں پر ناپاک حملے کرنے والوں کی گرفت کی جاتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم گورنمنٹ سے اس قانون کے استعمال کرنے کا مطالبہ نہ کریں- جس حق کو گورنمنٹ خود تسلیم کرتی ہے ہمارا حق ہے کہ ہم اس کا مطالبہ کریں- میں امید کرتا ہوں کہ ساری جماعت اس بات پر متفق ہوگی کہ گورنمنٹ سے مطالبہ کیا جائے کہ اس قانون سے کام لے یا پھر اس قانون کو منسوخ کر دے- جب تک یہ قانون موجود ہے اس وقت تک ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ جماعت احمدیہ کے امام کو دوسرے فرقوں کے پیشوائوں سے کم درجہ دے-
    اب میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کی طرف سے گورنمنٹ کو توجہ دلانی چاہئے- ہم اپنے لئے کوئی خاص رعایت نہیں چاہتے- گورنمنٹ یا تو اس قانون کو منسوخ کر دے یا پھر اسی طرح ہمارے لئے اس کا اجرا کرے جس طرح اوروں کے مذہبی پیشوائوں کے متعلق کرتی ہے-
    تازہ تصانیف
    اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو کتابیں نہایت اعلیٰ پایہ کی تصنیف ہو چکی ہیں- ان کے مسودات کے بعض حصے میرے سامنے پیش ہو چکے ہیں- ان میں سے ایک تو رسول کریم ~صل۲~ کی سیرت پر ہے جو میاں بشیر احمد صاحب نے لکھی ہے اور سیرت کی موجودہ کتابوں میں سے سب سے بہتر کتاب ہے- اس کے ذریعہ اسلام کی خدمت میں بہت آسانی پیدا ہو جائے گی- انشاء اللہ
    دوسری کتاب ایک مخالف سلسلہ کی کتاب >عشرہ کاملہ< کا جواب ہے- جو مولوی اللہ دتا صاحب کو تبلیغ کے کام سے فارغ کر کے لکھائی گئی ہے- اس کا نام میں نے ہی >تفہیمات ربانیہ< رکھا ہے- اس کا ایک حصہ میں نے پڑھا ہے جو بہت اچھا تھا- اس کتاب کے لئے کئی سال سے مطالبہ ہو رہا تھا- کئی دوستوں نے بتایا کہ >عشرہ کاملہ< میں ایسا مواد ہے کہ جس کا جواب ضروری ہے- اب خدا کے فضل سے اس کے جواب میں اعلیٰ لٹریچر تیار ہوا ہے- دوستوں کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور اس کی اشاعت کرنی چاہئے-
    تفسیر القرآن
    گذشتہ جلسہ سالانہ پر ایک چیز کا میں نے وعدہ کیا تھا اور وہ قرآن کریم کی اردو تفسیر تھی- یہ تفسیر چار سو صفحہ تک چھپ چکی ہے اور اس سے زیادہ کا مسودہ تیار ہو چکا ہے- یہ درس کے نوٹ ہیں اور چونکہ نظر ثانی کرتے وقت مجھے بہت کچھ لکھنا پڑتا ہے اس لئے اس کی اشاعت میں دیر ہو گئی اور جولائی کے بعد اور اہم وقتی کاموں کی وجہ سے میں یہ کام نہ کر سکا- میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے صحت اور توفیق بخشی تو چند ماہ تک یہ کتاب تیار ہو جائے گی-
    انگریزی ترجمہ قرآن کی نظر ثانی بھی بہت کچھ ہو چکی ہے- تھوڑا سا حصہ باقی ہے وہ مارچ تک امید ہے ختم ہو جائے گا-
    غیر مبائعین کی کذب بیانی
    اس کے بعد حضور نے غیر مبائعین کے فتنہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لوگ جھوٹ اور غلط بیانی میں کس طرح حد سے گذر چکے ہیں- اور اس بات پر اظہار تعجب و افسوس فرمایا کہ ایسے ایسے جھوٹ دیکھ کر ان لوگوں کے دل میں کیوں درد نہیں پیدا ہوتا جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ تعلیم دی کہ کسی حالت میں خفیف سے خفیف جھوٹ بھی نہیں بولنا چاہئے- حضور نے ان لوگوں کے حد سے بڑھے ہوئے جھوٹ کی مثال میں ۳۰- ستمبر کے پیغام کا ایک مضمون پڑھ کر سنایا- جس میں لکھا ہے کہ خلیفہ قادیان کو اپنے بعد کی خلافت کی فکر ابھی سے دامن گیر ہے اور اس منصب جلیلہ کے لئے اپنے لخت جگر میاں ناصر احمد کے نام قرعہ فال نکالا ہے- اس انتخاب کے بعد ولی عہد خلافت پرنس آف ویلز کی طرح دورہ پر نکلے- تمام قادیانی جماعتوں کو اپنے دیدارفیض آثار سے آنکھوں کا نور اور دل کا سرور عطا فرمایا- ہدیے` نظرانے اور تحائف وصول کر کے کامیابی سے قادیان واپس تشریف فرما ہوئے- اس کامیاب دورہ کا اندازہ لگانے کے بعد کہ مریدوں نے میاں ناصر کو سر آنکھوں پر قبول کیا- اخباروں` پوسٹروں` اشتہاروں اور خطوط وغیرہ کی پیشانیوں کو ھوالناصر کے فقرہ سے مزین کیا جانے لگا اور یوں ایک رنگ میں اعلان کیا گیا کہ ہونے والا خلیفہ ناصر میاں ہے- تمام حاضرین نے *** اللہ علیالکاذبین کہتے ہوئے شہادت دی کہ میاں ناصر احمد صاحب نے کوئی دورہ نہیں کیا- حضور نے وضاحت کے ساتھ پیغام کے اس مضمون کی تردید کی اور بتایا کہ میاں ناصر احمد کو خلافت کے لئے دورہ کرانے کا الزام لگانے والے دیکھیں- میں تو وہ ہوں جس نے ۱۹۲۴ء کی مجلسمشاورت میں یہ بات پیش کی تھی کہ کوئی خلیفہ اپنے کسی رشتہ دار کو اپنا جانشین نہیں مقرر کر سکتا- چنانچہ میں نے پیش کیا تھا کہ-
    >کوئی خلیفہ اپنے بعد اپنے کسی قریبی رشتہ دار کو یعنی اپنے باپ یا بیٹے یا بھائی یا بہنوئی یا داماد کو یا اپنے باپ یا بیٹوں یا بیٹیوں یا ¶بھائیوں کے اوپر یا نیچے کی طرف کے رشتہ داروں کو اپنا جانشین مقرر نہیں کر سکتا- نہ کسی خلیفہ کی زندگی میں مجلس شوریٰ اس کے کسی مذکورہ بالا رشتہ دار کو اس کا جانشیں مقرر کر سکتی ہے- نہ کسی خلیفہ کے لئے جائز ہوگا کہ وہ وضاحتا یا اشارتا اپنے کسی ایسے مذکورہ بالا رشتہ دار کی نسبت تحریک کرے کہ اس کو جانشین مقرر کیا جائے- اگر کوئی خلیفہ مذکورہ بالا اصول کے خلاف جانشین مقرر کرے تو وہ جائز نہ سمجھا جائے گا اور مجلس شوریٰ کا فرض ہوگا کہ خلیفہ کی وفات پر آزادنہ طور سے خلیفہ حسب قداعد تجویز کرے اور پہلا انتخاب یا نامزدگی چونکہ ناجائز تھی` وہ مسترد سمجھی جائے گی<-۲~}~
    اب دیکھو غیر مبائعین کی طرف سے یہ الزام اس شخص پر لگایا جاتا ہے جس نے خلافت کے متعلق پیش بندیاں پہلے سے ہی کر دی ہیں تا کہ کوئی ایسی کارروائی نہ کر سکے اور اگر کرے تو اسے مسترد کر دیا جائے-
    تبلیغی اشتہارات
    میں نے پچھلے سال تبلیغی اشتہارات شائع کرنے کا اعلان کیا تھا- ایک اشتہار شائع بھی کیا گیا- اس کے بعد یہ معلوم کرنے کے لئے کہ کس قسم کے اشتہار ہوں التواء کیا گیا- اسی دوران میں سیاسی تحریکات ملک میں بڑے زور سے پیدا ہو گئیں اور لوگ سیاسیات میں منہمک ہو گئے- خیال تھا کہ یہ تحریکات جلد ختم ہو جائیں گی مگر یہ لمبی ہوتی چلی گئی ہیں- اب ارادہ ہے کہ اشتہارات کا سلسلہ شروع کر دیا جائے- وہ لوگ اپنا راگ گاتے ہیں تو ہم بھی اپنا راگ گائیں-
    سیاسیات میں دخل
    جہاں تک ممکن ہو ہم سیاسیات سے الگ رہتے ہیں لیکن اس سال سیاسی حالات میں ایسا تغیر پیدا ہو گیا اور ایسی باتیں رونما ہوئیں جو دین پر اثر انداز ہو سکتی ہیں- ان کی وجہ سے ہم خاموش نہیں رہ سکتے تھے- ہندوستان کے حالات ایسے ہیں کہ اگر ہندوستان والوں کو بغیر حد بندی کے ملکی اختیارات مل گئے تو وہ سب سے پہلے ہم پر ہی ہاتھ صاف کریں گے- اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم ایسی قیود اور پابندیوں کا مطالبہ کریں جو ملک کے امن کو برباد نہ ہونے دیں- اس وجہ سے ہمیں ان معاملات میں دخل دینا پڑا اور ظاہر ہے کہ یہ دخل سیاسی لحاظ سے نہیں بلکہ مذہبی لحاظ سے ہے- اگر ہندو اس قسم کے قوانین نافذ کر دیں جن کی وجہ سے دین کی اشاعت بند ہو جائے جیسا کہ ہندو ریاستوں میں اب بھی اس قسم کی پابندیاں ہیں جن کی وجہ سے مسلمان ہونے والوں کو روکا جاتا ہے تو ہم ہندوستان کے لئے اس قسم کے قانون کس طرح برداشت کر سکتے ہیں اور ہمارا کس طرح گزارہ ہو سکتا ہے- جب کہ ہمارا اوڑھنا` بچھونا` جینا` مرنا دین ہی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم کوشش کریں کہ دین کی اشاعت میں رکاوٹ پیدا کرنے والی کوئی بات نہ ہو- اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ کسی سیاسی تحریک کا دین بااخلاق پر اثر پڑتا ہے تب ہم دخل دیتے ہیں- جیسے کل گورنر صاحب پر حملہ کے خلاف ہماری طرف سے اظہار نفرت کیا گیا-
    یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں سیاسیات میں بھی ایسی ہی برتری عطا کی ہے جیسی دوسرے امور میں- اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمیں جو کچھ ملتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ملتا ہے- ہماری اپنی قابلیتوں کا اس میں کوئی دخل نہیں- اب بیسیوں بڑے بڑے سیاست دان یورپ اور ہندوستان کے لوگوں کی تحریریں موجود ہیں جن میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ہم نے ہندوستان کے نظم و نسق کے متعلق جو رائے پیش کی ہے وہ بہت صائب ہے- اس قسم کی تحریروں میں سے کچھ سائمن رپورٹ پر تبصرہ کے اردو ایڈیشن میں شائع کر دی گئی ہیں اور بہت سی باقی ہیں جو بعد میں آئی ہیں- غرض خدا تعالیٰ نے اس طرح بھی ہماری برتری تسلیم کرا دی ہے- اس پر ہمیں کوئی فخر نہیں- ہم تو خدمت کرنا چاہتے ہیں اور جب ہماری خدمت کے اچھے نتائج نکلیں تو اس کا اچھا اثر ضرور اہل ملک پر ہوگا- ہم تو اقلیت میں ہیں حکومت دوسری قومیں ہی کریں گی مگر باوجود اس کے ہم جو اتنی محنت اور مشقت برداشت کرتے اور روپیہ صرف کر رہے ہیں کیا اس سے شرفاء پر یہ اثر نہ ہوگا کہ ہم میں اتنی تڑپ کیوں ہے- ضرور انہیں یہ خیال آئے گا کہ ملک اور اہل ملک کی خدمت کی یہ تڑپ حضرت مرزا صاحب نے ہی پیدا کی ہے- اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ادب اور عزت لوگوں میں بڑھے گی اور اس طرح آپس کا بعد دور ہوتا جائے گا- باقی جو دلائل کا کام ہے وہ کریں گے-
    کتاب ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل
    میری کتاب >ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل< اردو` انگریزی میں شائع ہو چکی ہے- اس کے لئے کچھ چندہ کیا گیا تھا مگر خرچ اندازہ سے زیادہ ہو گیا ہے- اس لئے کچھ قرضہ باقی ہے اسے جلد ادا کرنا ضروری ہے- اور وہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ یہ کتاب فروخت ہو جائے- میں احباب سے خواہش کرتا ہوں کہ شہروں میں رہنے والے اصحاب انگریزی ایڈیشن کے کئی کئی نسخے خرید لیں اور انگریزی خوانوں میں فروخت کریں اسی طرح اردو ایڈیشن کی اشاعت بھی کی جائے- مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ یہ کتاب کثر ت سے شائع ہو مگر مفت نہیں بلکہ فروخت کی جائے یہ کتاب علیحدہ خرچ سے چھپوا کر دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں رکھوا دی گئی ہے تا کہ اس کی آمد سے قرضہ ادا ہو سکے اور صدر انجمن احمدیہ پر بوجھ نہ پڑے-
    انگریزی اخبار سن رائز
    اسی سال میں نے اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے انگریزی اخبار سن رائز کو ہفتہ وار کر دیا ہے- عام طور پر میری عادت ہے کہ میں مجلس شوریٰ کے مشورہ کے بغیر کوئی کارروائی نہیں کرتا لیکن حالات فوری طور پر ایسے پیدا ہو گئے تھے کہ سن رائز کو ہفتہ وار کرنا پڑا- میں احباب سے خواہش کرتا ہوں کہ وہ اس کی اشاعت بڑھانے کے لئے کوشش کریں- اس کے ایڈیٹر ملک غلام فرید صاحب ہیں تو نوجوان مگر ان میں کام کرنیکی قابلیت ہے- اگر احباب مدد کریں تو صحیح سیاسی خیالات پھیلانے میں مفید کام کر سکتے ہیں-
    مولوی ثناء اللہ صاحب کی تحریروں کا جواب
    اس سال جب میں شملہ جانے لگا تو مجھے معلوم ہوا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے بالمقابل تفسیر نویسی کے متعلق ایک مضمون شائع کیا ہے- روانگی کے وقت وہ مضمون مجھے ملا- شملہ میں چونکہ اور بہت کام تھا اس لئے میں اس مضمون کی طرف توجہ نہ کر سکا- دوسرے یہ بھی خیال تھا کہ پہلے حوالے دیکھ کر جواب لکھوں- آخر میں نے میاں غلام نبی صاحب ایڈیٹر الفضل سے حوالے منگوائے لیکن اتنے میں ولایت سے خطوط آئے کہ جس طرح نہرو رپورٹ پر تبصرہ کیا گیا تھا اسی طرح اگر سائمن رپورٹ پر بھی تبصرہ لکھا جائے تو بہت مفید ہو سکتا ہے- اس پر میں نے فیصلہ کیا کہ سائمن رپورٹ پر بھی تبصرہ لکھوں اور اس کے بعد مولویثناء اللہ صاحب کی تحریروں کا جواب لکھوں گا کیونکہ اگر پہلے ان کا جواب لکھا گیا اور مولویصاحب کو معلوم ہو گیا کہ میں سائمن رپورٹ پر تبصرہ لکھنے میں مصروف ہوں تو وہ کہیں گے ابھی آئو اور قرآن کی تفسیر لکھو- اس لئے اس وقت انہیں جواب دوں گا جب فرصت ہوگی کیونکہ دیکھا گیا ہے مولوی ایسے موقع کی تاک میں رہتے ہیں جب کہ انہیں مقابلہ سے بچنے کے لئے کوئی بہانہ مل سکے- مثلاً جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا کہ انہیں مباحثات سے روکا گیا ہے تو مولویوں نے جھٹ اعلان کر دیا آئو اب مباحثہ کر لو- اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ اگر مباحثہ کرنے پر آمادہ ہو گئے تو کہہ دیں گے انہوں نے الہی ہدایات کے خلاف کیا اور اگر آمادہ نہ ہوئے تو کہہ دیں گے جھوٹے ہیں اس لئے مباحثہ نہیں کرتے-
    اس وجہ سے میں نے خیال کیا کہ جب مجھے فرصت ہوگی` اسی وقت مولوی صاحب کو مخاطب کروں گا اس وقت تک جس قدر چاہیں ہنسی اڑا لیں- غرض میں نے سائمن رپورٹ کے متعلق کتاب لکھنی شروع کر دی اس کے بعد رائونڈٹیبل کانفرنس کا کام شروع ہو گیا- جس کے متعلق ہندوستان میں اور باہر بہت کچھ کرنا پڑا- اس وجہ سے بہت سی ڈاک بھی جمع ہو گئی اور شکایات آنی شروع ہو گئیں کہ خطوط کے جواب نہیں آتے- پس اس کام سے فارغ ہو کر ڈاک کی طرف زیادہ توجہ کرنی پڑی- ۱۵- دسمبر کو مجھے ڈاک اور دوسرے کاموں سے فراغت ہوئی- اس وقت میں نے خیال کیا کہ اگر اب جواب دوں تو مولوی صاحب جلسہ سالانہ کی تاریخوں میں کہیں گے تفسیر لکھو اس لئے یہی مناسب ہے کہ جلسہ سالانہ پر ان کے متعلق اعلان کروں- اس کے بعد جو وقت بھی وہ تفسیر نویسی کے لئے مقرر کریں گے ہم اسے انشاء اللہ منظور کر لیں گے-
    اوپر کی وجہ کے علاوہ میں دسمبر میں بیمار بھی رہا- اور ناف کے قریب پھوڑا ہونے کی وجہ سے زیادہ دیر تک بیٹھ کر نہ لکھ سکتا تھا- اب میں اصل بحث کو لیتا ہوں- ۷- مارچ ۱۹۳۰ء کے الفضل میں میرا ایک مکالمہ ایک غیر احمدی مولوی صاحب سے جو بڑے سیاح تھے اور انہوں نے دنیا کے بڑے حصہ کا چکر لگایا تھا شائع ہوا- آخر انہوں نے بیعت کر لی اور حیدر آباد میں جا کر فوت ہو گئے- انہوں نے مجھ سے کئی سوالات کئے تھے جن کے میں نے جواب دیئے- اسی سلسلہ میں انہوں نے پوچھا- کیا علماء اندھے ہیں جو ایسے واضح دلائل کو نہیں مانتے اس کے جواب میں میں نے انہیں جو کچھ کہا- وہ الفضل ۷- مارچ ۱۹۳۰ء میں ان الفاظ میں شائع ہوا ہے-
    >اس زمانہ کے علماء کو شرمن تحت ادیم السماء ۳~}~یعنی بدترین مخلوق قرار دیا گیا ہے اور دراصل کسی آنے والے کی ضرورت بھی اسی وقت ہوتی ہے جب علماء بگڑ جائیں- جب تک یہودی علماء میں علم باقی تھا اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر عمل کرتے تھے رسول کریم ~صل۲~ نہ آئے- اللہہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کے آنے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ علماء کی حالت بگڑ جاتی ہے- حضرت مسیحموعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان علماء کو چیلنج دیا کہ میرے مقابل میں آ کر تفسیر لکھو- اگر ان علماء میں علم ہوتا تو وہ اسے قبول کیوں نہ کرتے- پھر حضرت مسیح موعود علیہالسلام نے فرمایا ہے- یہ تفسیر قرآن کا کام میرا ہے یا اس کا جو مجھ سے ہو اور اس طرح یہ دروازہ اپنی جماعت کیلئے بھی کھلا رکھا- اب میں نے بھی کئی بار چیلنج دیا ہے کہ قرعہ ڈال کر کوئی مقام نکال لو- اگر یہ نہیں تو جس مقام پر تم کو زیادہ عبور ہو بلکہ یہاں تک کہ تم کو ایک مقام پر جتنا عرصہ چاہو غور کر لو اور مجھے وہ نہ بتائو- پھر میرے مقابل میں آ کر اس کی تفسیر لکھو- دنیا فوراً دیکھ لے گی کہ علوم کے دروازے مجھ پر کھلتے ہیں یا ان پر- مگر کسی کو جرات نہیں ہوتی کہ سامنے آئے<
    الفضل میں اس مکالمہ کے شائع ہونے پر غالباً بعض لوگوں کی تحریک پر مولوی ثناء اللہ صاحب نے لکھا-
    >پہلے بھی خلیفہ قادیان نے دیو بندیوں کو تفسیر نویسی کا چیلنج دیا تھا جس کے جواب میں ہم نے لکھا تھا کہ تعلیمی حیثیت سے ہم بھی دیو بندی ہیں- پس ایک سادہ قرآن شریف لے کر بٹالہ کی جامع مسجد میں آکر بالمقابل تفسیر لکھئے- جس کے جواب میں آج تک ہاں نہ پہنچی بلکہ انکار کر گئے- گذشتہ را صلوۃ اب سہی- ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں- صرف یہ کہ سادہ قرآن اور کاغذ قلم دوات لیکر الگ الگ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنا ہوگا اور تفسیر اور معارف کیلئے ضروری ہو گا کہ علوم عربیہ کے ماتحت ہوں` بس<۴~}~
    اس تحریر سے یہ امور ثابت ہوتے ہیں- اول یہ کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے تفسیرنویسی کے متعلق میرا وہ چیلنج منظور کر لیا تھا جو میں نے دیو بندیوں کو دیا تھا- دوم یہ کہ باوجود ان کے قبول کر لینے کے میری طرف سے ہاں نہ پہنچی بلکہ انکار کر دیا-
    پہلی بات کہ مولوی صاحب نے چیلنج منظور کر لیا تھا- خود ان کی اپنی بات سے رد ہو جاتی ہے- وہ چیلنج منظور نہیں کرتے بلکہ ایک نیا چیلنج دیتے ہیں- چنانچہ باوجود یہ لکھنے کے کہ ان کی طرف سے کوئی شرط نہیں پھر شرطیں پیش کرتے ہیں حالانکہ شرطیں پیش کرنے کا حق چیلنج دینے والے کا ہوتا ہے چیلنج منظور کرنے والے کا نہیں ہوتا- چیلنج منظور کرنے والا یہ تو کہہ سکتا ہے کہ جو شرائط پیش کی گئی ہیں وہ معقول نہیں غلط ہیں مگر یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اپنی طرف سے یہ شرطیں پیش کرتا ہوں- مولوی صاحب کا کام یہ تھا کہ میرے چیلنج میں جو شرائط تھیں ان میں سے جنہیں درست سمجھتے ان کے متعلق اعلان کر دیتے کہ انہیں منظور کرتا ہوں اور جنہیں درست نہ سمجھتے ان کے متعلق ثابت کرتے کہ یہ معقول نہیں- نہ کہ خود شرائط پیش کرنا شروع کر دیتے- یا انہیں یہ ثابت کرنا چاہئے تھا کہ جس رنگ میں میں نے چیلنج دیا ہے وہ خدا کی طرف سے موید ہونے کا ثبوت نہیں بن سکتا- پھر وہ خود اپنی طرف سے چیلنج دیتے اور شرائط پیش کرتے- اس پر یا تو میں ان کی شرائط کو غلط ثابت کرتا یا ان کے چیلنج کو قبول کر لیتا- مگر وہ ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے میرا چیلنج منظور کر لیا اور دوسری طرف اپنی شرائط پیش کر رہے ہیں-
    یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسی کہ یہاں کے ایک سادہ مزاج شخص نے جس کا عرف میاں بگا تھا حضرت خلیفہ المسیح الاول کے حضور میں کی تھی- اس نے ایک دن حضرت خلیفہ اول سے آ کر کہا کہ میری شادی خلیفہ اول کا بہت کچھ انتظام ہو گیا ہے تھوڑی سی بات ہے وہ آپ کر دیں- حضرت خلیفہ اول نے پوچھا کیا انتظام ہوا ہے؟ کہنے لگا میں اور میری ماں اس امر پر راضی ہو گئے ہیں کہ میرا نکاح ہو جائے اب آپ صرف کسی لڑکی اور روپیہ کا انتظام کر دیں-
    مولوی ثناء اللہ صاحب کی منظوری بھی ایسی ہی ہے- وہ کہتے ہیں میں نے چیلنج منظور کر لیا مگر میری طرف سے یہ یہ شرط ہے- اس کی بجائے یہی کیوں نہ کہہ دیا کہ چیلنج منظور ہے مگر شرط یہ ہے کہ مقابلہ نہ ہو- جن امور کو وہ پیش کرتے ہیں ان کے متعلق وہ یوں بھی کہہ سکتے تھے کہ تمہارا چیلنج مجھے منظور ہے مگر تم بھی میرا ایک چیلنج منظور کرو- جس کی یہ یہ شرائط ہیں-
    مولوی صاحب نے یہ جو کہا ہے کہ ان کو جواب نہ دیا گیا تھا اور ہماری طرف سے خاموشی رہی یہ بھی درست نہیں- ان کو جواب دیا گیا تھا- چنانچہ ۲۷- اکتوبر ۱۹۲۵ء کے الفضل میں میری منظوری سے ایک مضمون شائع کیا گیا جس میں یہ فقرے درج ہیں-
    >حسب ارشاد حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ حضور کی طرف سے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ اگرچہ آپ نہ دیوبندی ہیں اور نہ دیو بندیوں نے آپ کو اپنا وکیل اور قائم مقام تسلیم کیا ہے تا ہم جیسا کہ الفضل مورخہ ۱۰- ستمبر ۱۹۲۵ء میں دیو بندیوں کے مقابلہ پر نہ آنے کی صورت میں آپ کو اجازت دی گئی ہے- اگر آپ تفسیر نویسی میں مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ان دو صورتوں میں سے جو الفضل نے پیش کی ہیں- جو صورت چاہیں اختیار فرما لیں- حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو دونوں صورتیں منظور ہیں<-
    پہلی صورت الفضل نے اپنے پرچہ ۱۰- ستمبر ۱۹۲۵ء میں یہ پیش کی ہے کہ چونکہ مولویثنائاللہ صاحب نے اپنے اخبار اہلحدیث ۲۱- اگست ۱۹۲۵ء میں لکھا ہے کہ حضرت خلیفہالمسیحالثانی نہ علوم ظاہری کے عالم ہیں اور نہ کسی باطنی درجہ کے مدعی ہیں اس لئے انہیں اختیار ہوگا کہ اپنا شبہ دور کرنے کے لئے وہ بالمشافہ تفسیر نویسی کرنا چاہتے ہوں تو قادیان تشریف لے آئیں- ان کے تمام اخراجات مناسب ہم ادا کریں گے اور اگر کسی قسم کی جانی یا مالی حفاظت کی ذمہ داری بھی وہ ہم پر عائد کریں گے تو اس کے لئے بھی ہم تیار ہوں گے- یہ صورت حضرت خلیفہ المسیح منظور فرماتے ہیں-
    دوسری صورت الفضل نے یہ پیش کی تھی کہ اگر مولوی ثناء اللہ صاحب قادیان تشریف نہ لانا چاہیں تو مناسب انتظام کے ساتھ قرعہ اندازی ہونے کے بعد وہ اپنی جگہ قرآنشریف کے ان تین رکوع کی تفسیر لکھیں جو قرعہ اندازی سے منتخب ہونگے اور حضرتخلیفہ المسیح اپنی جگہ انہی منتخب شدہ تین رکوع کی تفسیر لکھیں اور پھر یہ دونوں تفسیریں مساوی خرچ کے ساتھ یکجا کر کے شائع کی جائیں تا کہ دنیا دیکھ لے کہ حضرت مسیح موعود علیہالسلام نے قرآن کریم کی کیا خدمت کی ہے اور مولوی صاحبان نے کیا- قرعہ اندازی ایسے طریق سے ہوگی کہ کسی فریق کو شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہ ہو اور مقام قرعہ اندازی امرتسر ہی ہوگا- اس دوسری صورت پر بھی حضرت خلیفہ المسیح کو کوئی اعتراض نہیں<- ][ یہ ہے حقیقت مولوی صاحب کے دوسرے دعویٰ کی کہ ہم نے ان کی منظوری کے بعد خاموشی اختیار کی بلکہ انکار- کیا صاف انکار ہے؟ انکار اسی کو کہتے ہیں کہ ہم نے کہا مولویصاحب کے اخراجات بھی ہم ادا کریں گے` جلسہ کا انتظام بھی ہم کریں گے` ان کی جانی اور مالی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہم لیں گے- یہ ہے وہ انکار جو چودھویں صدی کے وارث انبیاء بننے کے دعویدار نے ہمارے متعلق بیان کیا ہے- جس کے متعلق اس زمانہ کے حمقاء بھی کہیں گے کہ اس سے ہماری مثال نہ دو-
    میرا اصل چیلنج جو اس وقت دیا گیا تھا اور جو اب بھی قائم ہے ۱۶- جولائی ۱۹۲۵ء کے الفضل میں شائع ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے-
    >غیر احمدی علماء مل کر قرآن کریم کے وہ معارف روحانیہ بیان کریں جو پہلی کسی کتاب میں نہیں ملتے اور جن کے بغیر روحانی تکمیل ناممکن تھی- پھر میں ان کے مقابلہ پر کم سے کم دگنے معارف قرآنیہ بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھے ہیں- اور ان مولویوں کو تو کیا سوجھنے تھے پہلے مفسرین و مصنفین نے بھی نہیں لکھے اگر میں کم سے کم دگنے ایسے معارف نہ لکھ سکوں تو بے شک مولوی صاحبان اعتراض کریں- طریق فیصلہ یہ ہوگا کہ مولوی صاحبان معارف قرآنیہ کی ایک کتاب ایک سال تک لکھ کر شائع کر دیں اور اس کے بعد میں اس پر جرح کروں گا جس کے لئے مجھے چھ ماہ کی مدت ملے گی- اس مدت میں جس قدر باتیں ان کی میرے نزدیک پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں ان کو میں پیش کروں گا- اگر ثالث فیصلہ دیں کہ وہ باتیں واقعہ میں پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں تو اس حصہ کو کاٹ کر صرف وہ حصہ ان کی کتاب کا تسلیم کیا جائے گا جس میں ایسے معارف قرآنیہ ہوں جو پہلی کتب میں پائے نہیں جاتے- اس کے بعد چھ ماہ کے عرصہ میں ایسے معارف قرآنیہ حضرت مسیح موعود علیہالسلام کی کتب سے یا آپ کے مقرر کردہ اصول کی بناء پر لکھوں گا جو پہلے کسی مصنف اسلامی نے نہیں لکھے اور مولوی صاحبان کو چھ ماہ کی مدت دی جائے گی کہ وہ اس پر جرح کر لیں اور جس قدر حصہ ان کی جرح کا منصف تسلیم کریں اس کو کاٹ کر باقی کتاب کا مقابلہ ان کی کتاب سے کیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ آیا میرے بیان کردہ معارف قرآنیہ جو حضرت مسیح موعود علیہالسلام کی تحریرات سے لئے گئے ہونگے اور جو پہلی کسی کتاب میں موجود نہ ہونگے- ان علماء کے ان معارف قرآنیہ سے کم از کم دگنے ہوں اور وہ پہلی کسی کتاب میں موجود نہ ہوں- اگر میں ایسے دگنے معارف دکھانے سے قاصر رہوں تو مولوی صاحبان جو چاہیں کہیں- لیکن اگر مولوی صاحبان اس مقابلہ سے گریز کریں یا شکست کھائیں تو دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعویٰ منجانب اللہ تھا- یہ ضروری ہوگا کہ ہر فریق اپنی کتاب کی اشاعت کے معاً بعد اپنی کتاب دوسرے فریق کو رجسٹری کے ذریعہ سے بھج دے- مولوی صاحبان کو میں اجازت دیتا ہوں کہ وہ دگنی چوگنی قیمت کا وی- پی میرے نام کر دیں- اگر مولوی صاحب اس طریق فیصلہ کو ناپسند کریں اور اس سے گریز کریں تو دوسرا طریق یہ ہے کہ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ادنیٰ خادم ہوں میرے مقابلہ پر مولوی صاحبان آئیں اور قرآن کریم کے تین رکوع کسی جگہ سے قرعہ ڈال کر انتخاب کر لیں اور وہ تین دن تک اس ٹکڑے کی ایسی تفسیر لکھیں جس میں چند ایسے نکات ضرور ہوں جو پہلی کتب میں موجود نہ ہوں اور میں بھی اسی ٹکڑے کی اسی عرصہ میں تفسیر لکھوں گا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کی روشنی میں اس کی تشریح بیان کروں گا اور کم سے کم چند ایسے معارف بیان کروں گا جو اس سے پہلے کسی مفسر یا مصنف نے نہ لکھے ہوں گے اور پھر دنیا خود دیکھ لے گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کی کیا خدمت کی ہے اور مولوی صاحبان کو قرآن کریم اور اس کے نازل کرنے والے سے کیا تعلق اور کیا رشتہ ہے<-
    یہ وہ چیلنج ہے جو دیو بندی مولویوں کو دیا گیا تھا جس کے جواب میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے لکھا تھا کہ میں بھی دیو بند کا پڑھا ہوا ہوں- میں اسے منظور کرتا ہوں لیکن کہتے ہیں سادہ قرآن اور کاغذ قلم دوات لیکر الگ الگ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنا ہوگا- میں کہتا ہوں ترجمہ یا بے ترجمہ کا تو کوئی سوال ہی نہیں- معلوم ہوتا ہے مولوی صاحب کی عقل میں اتنی کمی آ گئی ہے کہ باوجود اس کے کہ انہوں نے میرے متعدد مضامین اور کتابیں پڑھی ہونگی- مخالفین پر میری تحریروں کا رعب بھی جانتے ہیں- مگر خیال کرتے ہیں کہ جب میرے ہاتھ میں بے ترجمہ قرآن آیا تو بس میں ان کے مقابلہ میں رہ جائوں گا- گویا جو کچھ میری طرف سے شائع ہوتا ہے وہ مولوی صاحب لکھ کر مجھے بھیج دیا کرتے ہیں اور میں اپنی طرف سے اسے شائع کر دیتا ہوں-
    مولوی صاحب کو یاد رکھنا چاہئے میری طرف سے یہ چیلنج نہیں کہ میں بڑا عالم ہوں- اگر کوئی یہ دعویٰ کرے تو اس کے لئے ایسی بات پیش کر دینا جو اس کی ذاتی قابلیت کی نفی کرتی ہو اس کے دعویٰ کو رد کر سکتی ہے- مگر جو یہ کہتا ہو کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے تائید اور نصرت حاصل ہوتی ہے اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ایسی چیز پیش کرے جس میں خدا تعالیٰ کی تائید شامل ہو- میں نے یہ چیلنج نہیں دیا کہ میں مولوی نذیر احمد صاحب سے اچھا قرآن کا اردو ترجمہ کرونگا- اس ترجمہ کیلئے اردو کی ڈکشنریاں اور کتابیں دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے- مگر میں نے اردو میں ترجمہ کرنے کا چیلنج نہیں دیا- پھر میں نے یہ چیلنج ساری دنیا کو دیا ہے- اگر ترجمہ کرنے کا ہی مقابلہ ہو تو میں چینی زبان جاننے والوں سے چینی میں ترجمہ کرنے کا کس طرح مقابلہ کر سکتا ہوں- فارسی جاننے والوں سے فارسی میں ترجمہ کرنے کا کیونکر مقابلہ کر سکتا ہوں` علیھذالقیاس دوسری زبانوں میں کس طرح ترجمے کر سکتا ہوں-
    غرض میں نے ترجمہ کرنے کا چیلنج نہیں دیا اور نہ ترجمہ کر لینے سے یہ ثابت ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت شامل حال ہے- مولوی نذیر احمد صاحب کا اگر اردو ترجمہ اچھا ثابت ہو تو اس سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ وہ خدا کی طرف سے تھے بلکہ یہ کہ وہ اچھے اردودان تھے- صرف بلاترجمہ قرآن کی شرط لگانے سے مولوی صاحب کی یہ غرض ہوگی کہ میں تفسیروں اور دوسری کتابوں سے عبارتیں نہ نقل کر لوں- مگر یہ کتابیں تو ان کے پاس بھی ہوں گی- اگر میں ان میں سے لکھ سکوں گا تو وہ بھی ایسی کتابیں لا سکتے ہیں وہ ان کتابوں سے کیوں نہ لکھ سکیں گے لیکن اگر ان کے پاس ایسی کتابیں نہ ہوں تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ جو کتاب وہ دیکھنا چاہیں گے` ہم انہیں دکھا دیں گے-
    اب میں یہ بتاتا ہوں کہ تفسیروں وغیرہ کے دیکھنے کی کیا ضرورت ہے- زیر بحث یہ امر تھا کہ تفسیر لکھنے والے کی تفسیر میں کچھ ایسے معارف ہوں جو پہلی کتابوں میں نہ ہوں- مگر میں تفسیروں کا حافظ نہیں ہوں- پھر ان تفسیروں کو دیکھے بغیر یہ کس طرح پتہ لگ سکتا ہے کہ فلاں بات ان میں آئی ہے یا نہیں آئی- میں نے یہ چیلنج نہیں دیا کہ میں تفسیروں کا حافظ ہوں بلکہ یہ کہا ہے کہ میں کچھ ایسے معارف بیان کروں گا جو پہلی کتابوں میں نہ ہوں گے اور اس کے لئے تفسیروں کا دیکھنا ضروری ہے- تا معلوم ہو سکے کہ جو کچھ لکھا گیا وہ پہلی کتابوں میں نہیں ہے- میری طرف سے کوشش تو یہی ہوگی کہ کوئی ایسی بات نہ لکھی جائے جو پہلی کتابوں میں ہو- مگر جب تک یہ نہ دیکھ لیا جائے کہ پہلی کتابوں میں وہ باتیں نہیں کس طرح تسلی ہو سکتی ہے- ہاں اگر میں ان کتابوں میں سے کچھ نقل کروں گا تو اس سے میرا دعویٰ ہی غلط ہو جائے گا- پس نقل تو میرے دعویٰ کو باطل کرتی ہے پھر مجھے اس سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے-
    کلید قرآن کی ضرورت
    اسی طرح قرآن کریم کی کلید کی بھی ضرورت ہوگی کیونکہ میرا یہ دعویٰ نہیں کہ میں قرآن کریم کا حافظ ہوں اس لئے قرآن کریم کی کلید کی ضرورت ہوگی- وہ مضمون جو میرے ذہن میں ہوتا ہے وہ دوسروں کو معلوم نہیں ہوتا- مگر ساری آیت مجھے یاد نہیں ہوتی- حافظ روشن علی صاحب مرحوم خدا تعالیٰ ان کی مغفرت کرے ایک دفعہ لاہور میرے ساتھ تھے- میری ایک تقریر بھی وہاں تھی اس کے لئے میں نوٹ لکھانے لگا تو آیتیں ان سے پوچھتا جاتا تھا- وہ کہنے لگے ان آیات کی بناء پر کیا تقریر ہوگی ان آیات کا تو کوئی جوڑ معلوم نہیں ہوتا- میں نے کہا جوڑ جلسہ میں جا کر معلوم ہو گا جب میں تقریر کروں گا- غرض آیات کے نکالنے کے لئے کلید کی ضرورت ہوتی ہے-
    اپنے لئے اور کڑی شرائط
    پس میرا چیلنج اب بھی موجود ہے- ہاں میں اپنے لئے اس کی شرطوں کو اور کڑا کر دیتا ہوں- اور چند ایسے معارف کی شرط بھی جو اس سے پہلے کسی مفسر یا مصنف نے نہ لکھے ہوں اڑا دیتا ہوں اور یہ ذمہ لیتا ہوں کہ میری تفسیر میں کوئی نکتہ بھی ایسا نہ ہوگا جو کسی پہلی تفسیر میں ہو- مولوی صاحب یہاں آئیں تو ان کا خرچ ہم خود دیں گے لیکن وہ یہاں نہ آنا چاہیں تو گورداسپور آ جائیں مگر کسی مسجد میں اجتماع نہ ہوگا کیونکہ ان لوگوں کی مسجدوں میں جو کچھ ہوتا ہے اس کو ہم خوب جانتے ہیں- علیحدہ مکان میں اجتماع ہو جو فریقین کے لئے مساوی حیثیت رکھتا ہو- اگر وہ گورداسپور آ جائیں جہاں مکان متحدہ ہو تو ان کے کرایہ کے اخراجات ہم دیں گے اور اگر قادیان میں آئیں تو ان کے اور ان کے ساتھیوں کے کھانے پینے کا خرچ بھی ہم دیں گے- ہماری طرف سے صرف یہ شرط ہے کہ ایسے معارف بیان ہوں جن سے قرآن کریم کی افضلیت ثابت ہو` اسلام کی صداقت ثابت ہو- مولوی صاحب نے یہ شرط لگائی ہے کہ تفسیر اور معارف کے لئے ضروری ہوگا کہ علوم عربیہ کے ماتحت ہوں- مگر یہ صاف بات ہے اور ایسا ہی ہونا ضروری ہے- ورنہ مثلاً قرآن کریم میں جو ذالک الکتب ۵~}~ آیا ہے- میں- کتاب کے معنی کپڑا لکھوں` تو ہر شخص سمجھے گا کہ یہ غلط ہے- پھر اس شرط کے پیش کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے- اگر علوم عربیہ کے خلاف کوئی بات ہوگی تو وہ فوراً رد ہو جائے گی-
    کوئی اردو تفسیر پاس نہ ہوگی
    مولوی صاحب کی تحریر میں ایک اور بھی لطیفہ ہے- وہ ایک طرف تو یہ لکھتے ہیں کہ اور کوئی کتاب پاس نہ ہو جس سے مراد ان کی تفاسیر ہیں اور دوسری طرف یہ شرط لگاتے ہیں کہ صرف سادہ یعنی بے ترجمہ قرآن ہو- گویا ان کے نزدیک اگر میرے پاس سادہ قرآن ہوا تو میں کچھ نہ لکھ سکوں گا- کیونکہ قرآن کریم عربی میں ہے اور میں عربی نہیں جانتا- لیکن ساتھ ہی ان کے خیال میں میرے پاس رازی کی تفسیر نہیں ہونی چاہئے تا ایسا نہ ہو کہ میں اس کے مطالب چرالوں- مولوی صاحب کی اس بات سے ظاہر ہے کہ جب خدا کسی کی عقل مار دیتا ہے تو وہ عام بیوقوفوں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے- کیا کوئی شخص یہ خیال کر سکتاہے کہ جو شخص قرآن کریم کا ترجمہ نہیں جانتا وہ رازی اور ابن حیان کے مطالب کو سمجھ لے گا اور ان کی تفاسیر سے مضمون چرا لے گا- اگر مولوی صاحب کی عقل میں یہ بات آ گئی ہے تو گو یہ انتہائی درجہ کی احمقانہ بات ہے میں یہ شرط اپنے چیلنج میں اور بڑھا دیتا ہوں کہ کوئی اردو کی کتاب نہ رکھنی ہوگی اور نہ ترجمہ والا قرآن ہوگا- جب ان کا یہ خیال ہے کہ میں قرآن کریم بھی بغیر ترجمہ دیکھے نہیں سمجھ سکتا تو یہ ظاہر ہے کہ عربی کتب کی موجودگی سے صرف مولوی صاحب کو ہی فائدہ پہنچے گا میں تو ان سے فائدہ حاصل کر ہی نہیں سکتا- باقی رہیں ان کی شرائط سو وہ ایک علیحدہ چیلنج ہیں اگر مولوی صاحب سمجھتے ہیں کہ وہ معقول ہیں اور ان سے کسی کا موید من اللہ ہونا ثابت ہوتا ہے تو وہ انہیں بطور چیلنج کے شائع کر کے دیکھ لیں- اللہ تعالیٰ ان کی ذلت کے اسی وقت سامان کرتا ہے یا نہیں- اگر انہیں عربیدانی کا دعویٰ ہے تو اعلان کر دیں کہ خدا تعالیٰ اس میں ان کی مدد کرے گا کوئی آئے اور مقابلہ کر لے- پھر ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے ہی ان کے اس چیلنج کو منظور کرنے کی توفیق عطا کر دے- مگر اب تو میرا چیلنج ہے کہ قرآن کریم کی پیشگوئی کے ماتحت جو جماعتیں راستی پر ہوں` ان پر معارف قرآنیہ خاص طور پر کھولے جاتے ہیں- پس کوئی مخالف احمدیت خواہ عرب کا ہو` خواہ مصر کا ہو` خواہ شام کا ہو` خواہ ہندوستان کا میرے مقابلہ پر قرعہ سے تین رکوع قرآن کریم کے چن کر تین دن میں تفسیر لکھ دے- اللہ تعالیٰ مجھے ضرور ایسے مطالب سمجھائے گا جو حضرت مسیحموعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے باہر نہیں ملیں گے اور جو علوم عربیہ کے مخالف نہیں ہونگے انہیں جس امر میں دعویٰ ہو اسے وہ الگ شائع کر دیں-
    غرض اگر انہوں نے میرا چیلنج منظور کر لیا ہے تو آئیں معارف لکھیں ان کا خرچ ہم دیں گے- اب میں چند کی شرط بھی نہیں رکھتا- تمام کے تمام نکات ایسے ہوں گے جو کسی پہلی کتاب میں نہ ہوں گے اور ان تفسیروں میں تو یقیناً نہ ہوں گے جو پاس رکھی جائیں گی وہ صرف اس لئے رکھی جائیں گی کہ تا معلوم ہو مفسرین نے کیا لکھا ہے- تا ہم ان کی لکھی ہوئی باتوں میں نہ پڑیں-
    شاید کسی کو یہ شبہ ہو کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے امداد کا دعویٰ ہے تو تفسیروں کو دیکھنے کی کیا ضرورت ہے- یا کلید کی کیا ضرورت ہے- اللہ تعالیٰ خود بتا دے گا کہ فلاں مضمون تفسیر میں ہے یا نہیں- یا فلاں آیت کے الفاظ کیا ہیں- تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ شبہ محض نافہمی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے- چیلنج یہ نہیں دیا گیا کہ تفسیر الہام سے لکھی جائے گی بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ تائید الہی سے لکھی جائے گی اور تائید الہی الفاظ میں اور معین مضامین کی صورت میں نازل نہیں ہوا کرتی بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے دماغ کو خاص روشنی دے دی جاتی ہے اور اس پر خاص علوم کا دروازہ کھل جاتا ہے- مگر یہ نہیں کہ اس کو ساتھ یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ پہلی کتب میں ہے اور یہ نہیں ایسا صرف الہام سے ہو سکتا ہے- اور اس جگہ الہامی تفسیر کا دعویٰ نہیں- گو الہام بھی ہو تو بھی اس میں سنت اللہ نہیں ہوتی کہ حوالہ جات بھی بتائے جائیں-
    میں امید کرتا ہوں کہ قرآن کریم کے معارف لکھنے کے متعلق جو میرا چیلنج تھا اس کی میں پوری تشریح کر چکا ہوں- اگر مولوی صاحب کو وہ منظور ہو تو اس کی قبولیت کا اعلان کر دیں- اگر ان کے نزدیک یہ چیلنج درست نہیں تو پھر ان کے نزدیک جو فیصلہ کا ذریعہ ہے` اسے اپنی طرف سے بطور چیلنج پیش کر دیں- خواہ سب دنیا سے زیادہ فصیح عربی لکھنے کا چیلنج دیں` خواہ سب دنیا سے بہتر ترجمہ قرآن کریم کرنے کا چیلنج دیں- وہ جو بھی چیلنج دیں اگر وہ شریعت کے خلاف نہ ہوا تو بیسیوں آدمی ان کے چیلنج کو قبول کرنے کے لئے کھڑے ہو جائیں گے- انشائاللہتعالی
    سورۃ التحریم کی تفسیر
    پھر حضور نے سورۃ التحریم کی آیتیایھا الذین آمنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا-۶~}~ کی تشریح فرماتے ہوئے اس آگ سے خود بچنے اور دوسروں کو بچانے کے لئے سب سے ضروری چیز دعا ثابت کی- اس کے متعلق ضروری ہدایات دیں اور اس پر پوری طرح کاربند ہونے کا ارشاد فرمایا-
    ہر احمدی کشتی نوح پڑھے یا سنے
    اسی ضمن میں ایک بات یہ بیان فرمائی کہ اگلے سال تمام کے تمام احمدی پڑھے لکھے یا ان پڑھ حضرت مسیحموعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب کشتی نوح پڑھیں یا سنیں- اسی طرح ہر سال ایک کتاب مقرر کر دی جایا کرے تو سب لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری کتب سے واقف ہو جائیں گے- آپ لوگ جو یہاں موجود ہیں سن لیں اور جو یہاں نہیں انہیں سنا دیں کہ اگلے سال کشتی نوح کا پڑھنا یا سننا ہر ایک احمدی کا فرض ہے- زیادہ سے زیادہ یہ تین گھنٹہ میں ختم ہو سکتی ہے اور یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے-
    آخر میں حضور نے سورہ تحریم کے پہلے رکوع کی نہایت ہی پر معارف تفسیر بیان کی اور ثابت کیا کہ جس آگ سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کا حکم اس سورہ میں دیا گیا ہے اس کا ذکر اسی سورہ میں کر دیا گیا ہے اور وہ یہ آگیں ہیں- ۱- مسلم نہ ہونا- ۲-مومن نہ ہونا- ۳- قانت نہ ہونا- ۴- تائب نہ ہونا- ۵- عابد نہ ہونا- ۶- سائح نہ ہونا- ان کی نہایت لطیف تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ مسلمانوں کی دینی اور دنیوی کامیابی انہی چھ باتوں سے بچنے میں ہے-
    )الفضل ۱۳`۳۱ جنوری ۱۹۳۰ء(
    ۱~}~
    تذکرہ صفحہ ۵۳۸`۵۸۱- ایڈیشن چہارم` الوصیت صفحہ ۳ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۰۱
    ۲~}~
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء صفحہ ۳۹`۴۰
    ۳~}~
    مشکوۃ کتاب العلم الفصل الثالث جلد۱ صفحہ۵۳۱ مطبوعہ مکتبہ حقانیہ پشاور
    ۴~}~
    الہدیت ۲۳ مئی ۱۹۳۰ء صفحہ ۵ کالم ۳
    ۵~}~
    ‏b1] g[ta البقرہ:۳
    ۶~}~ التحریم:۷

    ‏a11.7
    انوار العلوم جلد ۱۱
    ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل
    ہندوستان کے موجودہ
    سیاسی مسئلہ کا حل

    از
    سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفہ المسیح الثانی
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھوالناصر
    رائونڈ ٹیبل کانفرنس کو مدنظر رکھتے ہوئے سائمن کمیشن کی
    رپورٹ پر تبصرہ
    دیباچہ
    سائمن کمیشن COMMISSION) (SIMON کی رپورٹ پر تبصرہ کرنا ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جو اس وقت ہندوستان اور انگلستان میں پیدا ہو رہے ہیں کوئی معمولی امر نہیں ہے کیونکہ ایک طرف ہندوستان کا ایک طبقہ اسے رجعت قہقری قرار دے رہا ہے تو دوسری طرف انگریزی قوم کا ایک حصہ اسے اندھیرے کی چھلانگ بتا رہا ہے- طبائع جوش میں ہیں نوجوان ہندوستان آزادی کے خوشنما خواب دیکھ رہا ہے تو تجربہ کار انگلستان آہستگی اور احتیاط کا مشورہ دے رہا ہے- وہ اسے اپنی آزادی میں حائل قرار دے رہا ہے تو یہ اسے دیوانگی کے مرض میں مبتلا سمجھ رہا ہے ان حالات میں مشورہ دینا آسان کام نہیں- جب ایک خاص خیال انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے تو اچھی سے اچھی بات بھی اسے بری معلوم دینے لگتی ہے اور وہ اپنے خیر خواہ کو بدخواہ سمجھ لیتا ہے لیکن باوجود اس کے میں موجودہ صورت حالات کو دیکھتے ہوئے خاموش نہیں رہ سکتا- کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ حقیقت کو معلوم کرنے کی طرف بہت کم توجہ ہے اور ایک دوسرے کی طرف سے دل اس قدر بغض و کینہ سے لبریز ہیں کہ حسنظنی نام کو بھی باقی نہیں رہی ہے- ایک عام ہندوستانی انگریز کی ہر بات میں منصوبہ بازی اور دھوکا دہی کی کوئی چال محسوس کرتا ہے اور ایک عام انگریز ہر آزادی کے خواہشمند ہندوستانی کو جاہپسند اور مفسد تصور کرتا ہے-
    پس میں سمجھتا ہوں کہ گو ایک مذہبی آدمی ہونے کے لحاظ سے مجھے سیاست ملکی سے اسقدر تعلق نہیں ہے جیسا کہ ان لوگوں کو جو رات دن انہی کاموں میں پڑے رہتے ہیں لیکن اسیقدر میری ذمہ داری صلح اور آشتی پیدا کرنے کے متعلق زیادہ ہے- اور نیز میں خیال کرتا ہوں کہ شورش کی دنیا سے علیحدہ ہونے کی وجہ سے میں شاید کئی امور کی تہہ کو زیادہ آسانی سے پہنچ سکتا ہوں بہ نسبت ان لوگوں کے کہ جو اس جنگ میں ایک یا دوسری طرف سے شامل ہیں- پس اس وقت جب کہ رائونڈ ٹیبل کانفرنس کے اعلان کی وجہ سے لوگوں کی توجہات مسئلہ ہندوستان کے حل کرنے میں لگی ہوئی ہیں میں بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ اپنے خیالات دونوں ملکوں کے غیر متعصب لوگوں کے سامنے رکھ دوں-
    میں خوب سمجھتا ہوں کہ یہ کام مشکل ہے- ہندوستان جیسا وسیع ملک جس میں تینتیسکروڑ نفوس بستے ہیں اور جس میں بیسیوں زبانیں بولی جاتی ہیں اس کے مستقبل کے متعلق کچھ لکھنا آسان کام نہیں ہے- پس میں اللہ تعالیٰ سے جو سب مخلوقات کا مالک اور خالق ہے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل اور رحم سے کام لے کر اس نازک معاملہ کے متعلق ہماری راہنمائی فرمائے اور ہمیں اس راستہ کو اختیار کرنے کی توفیق دے جو ہمارے حال اور مستقبل دونوں کے لئے اچھا ہو اور جس پر چل کر ہم نہ صرف اس قابل ہوں کہ اپنی دنیا کو اچھا کر سکیں- بلکہ اس کی رضا کے حصول کی بھی ہم میں قابلیت پیدا ہو- ہم کمزور ہیں لیکن وہ طاقت والا ہے` ہم مستقبل کی ضرورتوں سے ناواقف ہیں لیکن وہ واقف ہے پس اسی کی مدد سے ہم حقیقی خوشی اور حقیقی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں- اور اس کے آگے ہم جھکتے ہیں کہ وہ ہماری مدد اور نصرت کرے اور ہماری بہتری کے سامان پیدا کرے-
    اس کے بعد میں انگریز افسران حکومت کو خواہ ہندوستان کے ہوں خواہ انگلستان کے خصوصاً اور باقی انگریزوں کو عموماً کہتا ہوں کہ آپ لوگوں پر ایک بہت بڑی ذمہ واری ہے- خداتعالیٰ نے آپ کے سپرد ایک امانت کی ہے اس امانت کو صحیح طور پر ادا کرنا آپ کا فرض ہے- مادیت کی ترقی نے خدا تعالیٰ پر ایمان بہت کمزور کر دیا ہے اور جو لوگ اس پر یقین بھی رکھتے ہیں وہ بھی اسے ایک بے تعلق شاہد کی طرح سمجھتے ہیں جو دنیا کے معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا لیکن یہ بات درست نہیں اگر ایسا ہوتا تو وہ نبیوں کا اتنا لمبا سلسلہ نہ جاری کرتا- اس دنیا کا پیدا کرنے والا خدا اس کی بہتری سے غافل نہیں رہ سکتا تم اس سیاسی امر میں اس کا ذکر کرنے پر ہنسو یا مجھے بیوقوف سمجھو لیکن حق یہی ہے کہ ایک دن سب کو اس کے حضور جوابدہ ہونا ہے- بہت ہیں جو اس زندگی میں اس کی ہستی کو نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن ان کی موت کے وقت کی گھڑیاں حسرت و اندوہ میں گزرتی ہیں- پس چاہئے کہ آپ اپنی ذمہ واری کو سمجھتے ہوئے اور خدا تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندوستان کی تینتیس کروڑ آدمی کی قسمت کے فیصلہ کے وقت اپنے قلیل اور بے حقیقت فوائد کو بالکل نظر انداز کر دیں کہ وہ روپیہ کی گنتی میں خواہ کروڑوں ہندسوں سے بھی اوپر نکل جائیں لیکن اخلاقوروحانیت کے لحاظ سے ایک آدمی کی آزادی کے برابر بھی ان کی قیمت نہیں ہے- اگر آپ لوگ انصاف سے کام لیں گے تو خواہ آپ کے بعض ابنائے وطن اس وقت آپ کو گالیاں دیں اور غدار کہیں لیکن ایک دن آئے گا کہ آپ کی اپنی ہی نسلیں نہیں بلکہ تمام دنیا کے لوگ آپ کے نام کو عزت سے لیں گے اور آپ کی یاد کے وقت ادب سے لوگوں کی گردنیں جھک جائیں گی اور آپ کا ذکر ہمیشہ کے لئے بابرکت ہو جائے گا-
    اسی طرح میں اپنے اہل وطن سے کہتا ہوں کہ اس نازک موقع پر اپنے دلوں کو تعصب اور کینہ سے خالی کر دو کہ گو یہ جذبات بظاہر میٹھے معلوم ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ان سے زیادہ تلخ اور تکلیف دہ کوئی چیز نہیں- واقعات بتا رہے ہیں کہ ہندوستان کی آزادی کا وقت آ گیا ہے- خدا تعالیٰ دلوں میں ایک نئی روح پھونک رہا ہے- تاریکی کے بادلوں کے پیچھے سے امید کی بجلی بار بار کوند رہی ہے- خواہ ہر آنے والی ساعت کی تاریکی پہلی تاریکی کی نسبت کس قدر ہی زیادہ کیوں نہ ہو ہر بعد میں ظاہر ہونے والی روشنی بھی پہلی روشنی سے بہت زیادہ روشن ہوتی ہے اور خداتعالیٰ کی مشیت کا اظہار کر دیتی ہے- پس اپنے کینہ اور بغض سے خدا تعالیٰ کی رحمت کو غضب سے نہ بدلو اور اس کے فضل کو اس کے قہر میں تبدیل نہ کرو کہ وہ ضدی اور ہٹ دھرم اور سچائی کے منکر کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے-
    یہ حقیقت ہے کہ انگریزی قوم کا وجود ہندوستان میں خواہ کتنا ہی خود غرضی پر مبنی ہو پھر بھی خدا تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک فضل ہے- اس میں کچھ شک نہیں کہ ان کے آنے کی وجہ سے ہم نے بہت کچھ کھویا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کے آنے کی وجہ سے ہم نے بہت کچھ پایا بھی ہے- اگر دنیا کی مادی ترقی کی بنیاد اب جدید مغربی علوم پر رکھی جانے والی ہے جیسا کہ آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہی ہونے والا ہے تو جو کچھ ہم نے کھویا ہے اسے ہم ایک تختی کے دھوئے جانے سے زیادہ وقعت نہیں دے سکتے- اور ہمیں اللہ تعالیٰ کے اس فضل پر شکر کرنا چاہئے کہ اس نے ہمارے ملک کو دوسرے مشرقی ممالک کی نسبت زیادہ سہولت کے ساتھ ان علوم کا وارث بنا دیا ہے- اگر دیکھا جائے تو سوائے جاپان کے ہندوستان علومجدیدہ اور ان کے نتائج سے باقی سب ایشیائی ممالک کی نسبت زیادہ بہرہ ور ہوا ہے اور دانستہ یا نادانستہ جس طرح بھی ہو اس صورت حالات کے پیدا کرنے میں انگریزوں کا بہت کچھ دخل ہے- اسی طرح ہندوستان کے مختلف صوبوں میں ہندوستانی ہونے کا خیال اور ان کا آپس میں اتحاد بھی بہت کچھ انگریزی سیاست کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے اور قانون کا ادب اور کمسیکم ہندوستانیوں کے آپس کے اختلافوں میں انصاف بھی انہی کے عہد کا نتیجہ ہے-
    پس ہمیں ان کے عیبوں کے ساتھ ان کے ہنروں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ جو شخص صداقت کے ایک حصہ کا انکار کرتا ہے وہ دوسرے حصوں کا انکار کرنے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے- جس قوم کو اللہ تعالیٰ نے ہماری بیداری کا موجب بنایا ہے ہمیں بھی اس کے ساتھ مجنونانہ سلوک نہیں کرنا چاہئے اور اس آخری فیصلہ کی گھڑیوں کو بلاوجہ تلخ کر کے دنیا میں ایک نئی جنگ کی بنیاد نہیں رکھنی چاہئے کہ ظلم جس طرح ایک انگریز کے ہاتھ سے برا ہے ویسا ہی ایک ہندوستانی کے ہاتھ سے بھی برا ہے- پس آپ لوگ نرمی اور محبت سے ایک ایسے فیصلہ پر پہنچنے کی کوشش کریں کہ جو دلوں کی کدورت اور کینہ کو دھو دے اور ایک ایسی حکومت کی بنیاد رکھیں جو محبت و اتحاد کا ایک نیا دور شروع کرنے والی ہو- یاد رکھیں کہ دنیا ایک جسم ہے اور تمام ممالک اس کے عضو ہیں اس وقت تک بہت سے لوگ اس کے اعضاء کو کاٹنے کی کوشش میں لگے رہے ہیں اب خدا چاہتا ہے کہ سب دنیا کو اس کی اصل شکل میں قائم کرے اور ملکیتوملوکیت کی قیدوں سے آزاد کرے- اس مقصد کے حصول کے لئے برطانوی حکومت کا ڈھانچہ ایک بہترین ڈھانچہ ہے اور اس میں یہ قابلیت ہے کہ مختلف الاحوال اور دور دراز کے ملکوں کو بغیر ان کی آزادی کو نقصان پہنچانے کے ایک سلسلہ میں منسلک کر دے-
    پس ایسے ذرائع کو استعمال کرو کہ عمدگی اور مضبوطی کے ساتھ ہندوستان بھی اس اتحادعالم کی بنیاد کی ایک مکمل لیکن پیوست اینٹ ہو اور جھوٹی خواہشوں کے پیچھے پڑ کر ایسی راہیں تلاش نہ کرو کہ جو اس عجیب و غریب تجربہ کو جو مختلف ممالک کی آزادی کو قائم رکھتے ہوئے انہیں ملکیت کی قیدوں سے آزاد کرانے کے لئے کیا جا رہا ہے تباہ کر دے-
    خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور ہر ایک جو اس فیصلہ میں حصہ لینے والا ہے` خواہ اس ملک کا` خواہ اس ملک کا` اس کے دل اور دماغ پر اپنے الہام کی روشنی ڈالے تا کہ وہ اس کی مرضی کے مطابق چلے یہاں تک کہ دنیا میں ہماری نہیں بلکہ اس کی مرضی کی حکومت ہو کہ اسی میں سب برکت اور اسی میں سب راحت ہے-
    حصہ اول
    باب اول
    اصولی مباحث
    تمہید
    اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت اس امر کا فیصلہ کر چکی ہے کہ رائونڈ ٹیبل کانفرنس میں کوئی خاص سکیم غور کرنے کے لئے معین نہیں کی جائے گی لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رائونڈ ٹیبل کانفرنس میں سب سے زیادہ توجہ سائمن کمیشن کی رپورٹ حاصل کرے گی- میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستانیوں کے احساسات کو مدنظر رکھتے ہوئے غالباً برطانوینمائندے اس رپورٹ کا اس قدر کم نام لیں گے جس قدر کہ کام کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے لئے ممکن ہو اور ہندوستانی نمائندے بھی غالباً اس مخالفت کو مدنظر رکھتے ہوئے جو اس رپورٹ کی ہندوستان میں ہوئی ہے اس کا ذکر بہت ہی کم کریں گے سوائے اس کے کہ مخالفت کے رنگ میں ہو- لیکن اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ خواہ برطانوی نمائندے ہوں خواہ ہندوستانی دونوں کے دماغوں پر یہ رپورٹ حکومت کر رہی ہوگی اور وہ اس کے اثر سے خواہ کس قدر بھی کوشش کریں آزاد نہیں ہو سکتے- اور اس کے دو سبب ہیں-
    )۱( اول یہ کہ اس رپورٹ کے علاوہ کوئی اور مکمل رپورٹ نہیں ہے جس نے قانوناساسی کی تمام شاخوں پر روشنی ڈالی ہو اور ہر ایک امر کی دلیل دی ہو- نہرو رپورٹ ہے لیکن وہ )الف( ناقص اور نامکمل ہے- )ب( ایسی جماعت نے اسے تیار کیا ہے جو ہندوستانیوں میں سے خاص فوائد کی نمائندہ تھی- اور )ج( اس میں بعض دوسری اقوام کے فوائد کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے- )ہ( اس کے بہت سے اچھے حصے سائمن کمیشن کی رپورٹ میں شامل کر لئے گئے ہیں-
    )۲( باوجود اس کے کہ سائمن رپورٹ کی شدید مخالفت ہوئی ہے لیکن اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس رپورٹ کا ڈھانچہ ایسا ہے کہ اس میں مناسب اصلاح کر کے ایک مفید اور قابل عمل اساس حکومت بنایا جا سکتا ہے- اور بعض پیچیدہ مسائل اس میں ایسے طریق پر حل کر دیئے گئے ہیں کہ جن کے بغیر ہندوستان میں کبھی امن نہیں ہو سکتا اور وہ صورت جو سائمنکمیشن نے تجویز کی ہے غالباً ہندوستانیوں کے منہ سے نکلی ہوئی کبھی بھی انگلستان کے لئے قابل تسلیم نہ ہوسکتی- پس انگلستان کی رائے کو آسانی سے متاثر کرنے کے لئے بعض معاملات میں مسلمان اور بعض میں ہندو سائمن رپورٹ کا نام لئے بغیر اس کے دلائل سے فائدہ اٹھانے پر مجبور ہونگے-
    پس ان حالات میں اس رپورٹ کو نظر انداز کرنا بالکل ناممکن ہے اور کسی چیز کے اچھے حصے کو بھی اس کے برے حصے کی وجہ سے خراب اور برا کہنا خلاف دیانت ہے- پس میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ رائونڈ ٹیبل کانفرنس کی کارروائی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں سائمن کمیشن کی رپورٹ پر ریویو کروں-
    سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ رپورٹ اس قدر بری نہیں جس قدر کہ اس خلاصہ سے ظاہر ہوتا تھا جو ہندوستان میں شائع کیا گیا- اس میں کئی جگہ غلطی بھی کی گئی تھی اور کئی جگہ اختصار کی وجہ سے مضمون واضح نہ ہوتا تھا- پس ان حالات میں ہر ایک شخص نے اس پر نہایت سختی سے تنقید کی اور انہی لوگوں میں سے ایک میں بھی ہوں- لیکن اصل کتاب کو پڑھنے کے بعد میری بھی رائے بدل گئی اور بہت سے دوسرے لوگوں کی بھی رائے بدل گئی- اس کو غور سے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قومی نقطہ نگاہ سے اس میں بہت سے اچھے امور بھی ہیں اور بہت سے برے امور بھی ہیں لیکن باوجود کمیشن کی اس رائے کے کہ یہ رپورٹ ایسے رنگ میں لکھی گئی ہے کہ یا اسے کلی طور پر قبول کرنا ہوگا یا کلی طور پر رد کرنا ہوگا میرے نزدیک اس کی اصلاح آسانی سے ہو سکتی ہے اور یہ رائے کہ اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی انہوں نے صرف نہرو رپورٹ سے متاثر ہو کر لکھ دی ہے- میں نے اسے خوب غور سے پڑھا ہے اور میں یقینی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ اس کے بعض حصوں میں تبدیلی کر کے اور بعض کی جگہ پر بالکل اور قوانین تجویز کر کے ہم اس سکیم کو اختیار کر سکتے ہیں اور اس سے کسی صورت میں بھی کوئی نقصان نہیں ہوتا-
    یہ امر صرف سائمن کمیشن سے مخصوص نہیں کہ اس کے بعض حصے بعض دوسرے حصوں سے تعلق شدید رکھتے ہیں- دنیا کی ہر سکیم میں یہ بات پائی جاتی ہے اور یہ عقلمند آدمی کا کام ہے کہ جب وہ کسی ایک حصہ میں تبدیلی کرنا چاہے تو یہ بھی دیکھ لے کہ اس کا دوسرے حصوں پر کیا اثر پڑتا ہے- پھر اگر دوسرے حصوں میں تبدیلی کرنے سے وہ سکیم کسی مفید غرض کو پورا کرتی ہو تو اس تبدیلی کو اختیار کرے ورنہ موازنہ کرے کہ دوسرے حصوں میں تبدیلی سے زیادہ نقصان ہوتا ہے یا اس حصہ کو قائم رکھنے سے زیادہ نقصان ہوتا ہے جس میں تبدیلی کا اسے خیال پیدا ہوا تھا اور یہی سلوک ہمیں سائمن کمیشن کی رپورٹ سے کرنا چاہئے- اور میری ذاتی رائے تو یہی ہے کہ خود سائمن رپورٹ کو ہی رائونڈ ٹیبل کانفرنس میں زیر بحث لانا چاہئے کہ اس میں زیادہ آسانی رہے گی اور کام جلدی سے ختم ہو جائے گا- ورنہ مختلف سکیمیں پیش ہونگی جن کے پیچھے وہ اخلاقی طاقت نہ ہو گی جو اس رپورٹ کے پیچھے ہے نہ وہ اس قدر غور اور مطالعہ کا نتیجہ ہوں گی- نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کی توجہ کو پوری طرح جذب نہ کر سکیں گی اور نامکمل غور کے نتیجے میں ان کے کئی اچھے نکتے رد کر دیئے جائیں گے اور کئی بری باتیں بظاہر خوشنما ہونے کی وجہ سے قبول کر لی جائیں گے- لیکن چونکہ اس سکیم کی سخت مخالفت ہو چکی ہے- شاید ممبران رائونڈ ٹیبل کانفرنس اسے مصلحت کے خلاف سمجھیں کہ اس رپورٹ کو سامنے رکھ کر اس میں تبدیلی کی کوشش کریں اس لئے اس صورت میں میں تو انہیں یہ مشورہ دوں گا کہ خواہ اس رپورٹ کا ذکر وہ نہ کر سکیں لیکن اس کو خوب مطالعہ کر کے اس مجلس میں شامل ہوں اور ہمیشہ اس کے مضامین پر نگاہ رکھیں کہ باوجود بہت سے نقائص کے یہ رپورٹ ان کے بہت کام آئے گی- خصوصاً مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس رپورٹ کا یہ احسان عظیم ہے کہ اس نے انگریزوں کو ہندوستان کے لئے فیڈرل سسٹم کے قبول کرنے کی طرف مائل کر دیا ہے حالانکہ انگلستان اپنی قدیم روایات کے اثر کے ماتحت اس سسٹم کو آسانی سے قبول نہیں کر سکتا تھا-
    مجھے اس جگہ یہ بھی لکھ دینا چاہئے کہ باوجود بہت محنت کے کمیشن کے ممبروں نے شاید جلدی کی وجہ سے بعض مقامات پر حسابی غلطی بھی نکالی ہے اور بعض جگہ بعض مضامین کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن اصل مقام پر پھر اس اشارہ کے مطابق سکیم کو پیش نہیں کر سکے لیکن اس امر پر مجھے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں- رائونڈ ٹیبل کانفرنس کو اگر اللہ تعالیٰ نے کامیاب کیا تو ڈرافٹ بنانے والے اس قسم کے نقائص کی خود اصلاح کر لیں گے-
    باب دوم
    ایشیائی ممالک میں نیابتی حکومت
    کمیشن نے رپورٹ کے حصہ دوم کی تمہید میں اس کا ذکر کیا ہے کہ ہندوستان میں مغربی اصول پر آئین- حکومت کا تجویز کرنا بالکل درست نہیں کیونکہ جو آئین کہ سینکڑوں سال کے تجربہ کے بعد ایک مغربی ملک کے باشندوں نے تجویز کیا ہے وہ آسانی سے ایک ایسے مشرقی ملک پر چسپاں نہیں ہو سکتا جہاں کہ ہزاروں سال تک خود مختار حکومت کا دور دورہ رہا ہے- گو کمیشن نے کسی ایک جگہ اس مضمون پر تفصیلی بحث نہیں کی لیکن مختلف مقامات پر اس کی طرف اشارہ کیا ہے- اور چونکہ علاوہ کمیشن کے بہت سے یورپین مصنف بھی اس کی طرف اپنی کتب میں توجہ دلاتے رہتے ہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس سوال کے متعلق بھی کچھ لکھوں کیونکہ جب تک انسان کے دل کی وہ گرہیں نہ کھل جائیں جن کی وجہ سے وہ کسی خاص مضمون کو سمجھنے کے ناقابل ہو اس وقت تک خواہ وہ سمجھنے کی کوشش بھی کرے اس مضمون کو نہیں سمجھ سکتا-
    اگر کمیشن کا یہ مطلب ہے کہ انگلستان کا نظام اپنی مکمل صورت میں ہندوستان میں جاری نہیں کیا جا سکتا تو میں اس میں کمیشن کی رائے سے بالکل متفق ہوں لیکن اس میں مشرقومغرب یا کسی پرانی یا نئی روایت کا ہر گز کوئی تعلق نہیں- کسی ملک کے تجویز کردہ آئین بھی کسی دوسرے ملک میں خواہ وہ کسی پرانی یا نئی روایت کا ہر گز کوئی تعلق نہیں- کسی ملک کے تجویز کردہ آئین بھی کسی دوسرے ملک میں خواہ وہ اس پہلے ملک سے خیالات میں انتہائی درجہ کا متحد ہی کیوں نہ ہو پوری طرح جاری نہیں ہو سکتے- انگلستان کا آئین ہندوستان کے لئے ہی ناقابلقبول نہیں بلکہ فرانس اور جرمنی نے بھی اسے اپنے ملک میں جاری نہیں کیا اور یونائیٹڈسٹیٹس (UNITEDSTATES) جس کے اکثر باشندے انگلستان کے رہنے والے ہیں وہ بھی اس کی نقل کرنے سے قاصر رہا ہے بلکہ خود انگلستان کے ماتحت جو نو آبادیاں ہیں ان میں بھی پوری طرح انگریزی آئین جاری نہیں- پس یہ تو ایسی واضح بات ہے کہ اس کا خاص طور پر ذکر کرنا یا اسے اہمیت دینا بالکل خلاف عقل ہے-
    لیکن اگر کمیشن کی یہ مراد ہے کہ نیابتی حکومت کا طریق خواہ کسی صورت میں ہو مشرقیحالات کے منافی ہے اور اس کے جاری کرنے میں احتیاط چاہئے تو مجھے اس سے اختلاف ہے- اگر آج سے چند سو سال پہلے یہ بات کہی جاتی تو اور بات تھی لیکن آج جب کہ سب دنیا میں آئینی حکومت کا دور دورہ ہے اور ایران اور افغانستان بھی جو تعلیم کے لحاظ سے بھی اور مغربیممالک سے تعلقات کے لحاظ سے بھی ہندوستان سے بہت پیچھے ہیں اس طریق کو جاری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایران اور ترکی تو ایک حد تک اس میں کامیاب بھی ہو گئے ہیں اور جاپان بھی اس میں بہت کچھ ترقی کر چکا ہے یہ کہنا کہ ہندوستان جو دنیا کی اس نئی تحریک کا بہت حد تک مطالعہ کر چکا ہے اور تھوڑا بہت تجربہ بھی رکھتا ہے اس کے لائق نہیں بالکل درست نہیں ہو سکتا-
    دنیا کی تاریخ بھی اس رائے کے مخالف ہے- انگلستان نے بے شک صدیوں میں نیابتیحکومت کا سبق سیکھا ہے لیکن فرانس اور جرمنی نے اس طریق کو یکدم ہی اختیار کر لیا تھا- یہی حال پولینڈ اور آسٹریا کا ہے- ان کی حکومتوں کے تغیر پر سینکڑوں نہیں بلکہ چند ہی سال لگے ہیں- اور اصل بات یہ ہے کہ نمونہ تیار کرنے میں دیر لگتی ہے لیکن نمونہ کی نقل میں اس قدر دیر نہیں لگتی- سٹیم انجن کی دریافت پر جس قدر دیر لگی تھی اتنی دیر اس کا دوسرا نمونہ بنانے میں نہیں لگی اور نہ ہر ملک کی ضرورتوں کے مطابق انجنوں کے نئے نمونوں کے بنانے میں دیر لگی پس یہ استدلال کمیشن کے ممبروں یا دوسرے یوروپین مصنفوں کا درست نہیں- اب زمانہ بدل چکا ہے خواہ مزاج مختلف ہوں` حالات مختلف ہوں لیکن وہ اصولی اتحاد جو سب دنیا کے لوگوں میں پیدا ہو رہا ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا- ہندوستان بے شک انگلستان کے آئین کی لفظبہلفظ نقل نہیں کر سکتا بالکل اسی طرح جس طرح انگلستان کے ہمسایہ ملک فرانس اور جرمن اس کی نقل نہیں کر سکتے لیکن اپنی ضرورتوں کے مطابق وہ ایک نیا ڈھانچہ ضرور تیار کر سکتا ہے اور اس پر عمل بھی کر سکتا ہے- گو ابتداء میں مشکلات ہونگی لیکن کونسا تجربہ بغیر خطرات کے قبول کرنے کے کیا جا سکتا ہے- ہمارا فرض ہے کہ ہم خطرات کو کم کرنے کی کوشش کریں لیکن خطرات کی وجہ سے ترقی کی طرف قدم نہ اٹھانا ہمیں خطرات سے تو شاید نہ بچاوے لیکن ترقی سے ضرور محروم کر دے گا-
    باب سوم
    کیا ہندوستان آزادی کا مستحق ہے؟
    اگر ہے تو کس حد تک؟
    پیشتر اس کے کہ ہم ہندوستان کے آئندہ نظام حکومت پر بحث کریں ہمیں اصولی طور پر یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا ہندوستان اخلاقا یا سیاستا آزادی کا مستحق ہے اور اگر ہے تو کس حد تک؟ کیونکہ بغیر اس کے کہ ہمارے خیالات اس سوال کے متعلق ایک اصل پر قائم ہوں ہماری بحثیں بالکل فضول اور لغو ہونگی اور سوائے اس کے کہ ہم اور زیادہ پیچیدگیوں میں پڑ جائیں ہمارے مباحثات کا کچھ فائدہ نہ ہوگا-
    پس سائمن رپورٹ یا کسی اور رپورٹ پر غور کرنے سے پہلے یا انگریزوں اور ہندوستانی نمائندوں کے تفصیلی تبادلہ خیالات سے پہلے اس سوال کا حل کر لینا ضروری ہے- جب اس سوال کا حل ہو جائے گا تو اگلی بحثیں آسانی سے طے ہو سکیں گی ورنہ جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ ہندوستان کو آزادی کا حق ہی حاصل نہیں وہ کس طرح اس بحث کے طے کرنے میں ممد ہو سکتا ہے کہ کس حد تک ہندوستان کو اختیارات دیئے جائیں؟ اور جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان کو فوراً آزاد کر دیا جائے وہ کب اس بحث میں مدد دے سکتا ہے کہ آئندہ سکیم میں کن کن حفاظتی تدابیر کی ضرورت ہے؟ آزادی ہند کے سوال کو ان دو نقطئہ نگاہ سے دیکھنے والے افراد بھی کسی سمجھوتہ کی طرف آ ہی نہیں سکتے- اور اگر وہ ایک دوسرے کی دھمکیوں یا اصرار یا لوگوں کے مجبور کرنے سے کسی سمجھوتہ پر پہنچیں بھی تو یقیناً وہ سمجھوتہ کسی اصل پر مبنی نہ ہوگا بلکہ اس کے مختلف حصے ایک دوسرے کے مخالف ہوں گے- اور ایک حصہ بجائے دوسرے حصے سے پیوست ہونے کے اس جبر یا مصلحت سے مطابقت رکھے گا جس کے اثر کے نیچے اس کا تصفیہ ہوا تھا اور ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ ایسی سکیم ملک کے لئے کس قدر خطرناک ہوگی؟
    پس میرے نزدیک بہتر ہوگا کہ اصل مضمون کے متعلق کچھ لکھنے سے پہلے اسے قریبالفہم بنانے کے لئے اس سوال کو اپنے علم کے مطابق حل کرنے کی کوشش کروں کہ کیا ہندوستان آزادی کا مستحق ہے اور اگر ہے تو کس حد تک؟ اور اس غرض کے لئے پہلے میں اس سوال کے پہلے حصہ کو لیتا ہوں-
    کیا ہندوستان آزادی کا مستحق ہے
    اس سوال کا جواب کئی طرح سے دیا جا سکتا ہے- مذہبی طور پر` اخلاقی طور پر اور سیاسی طور پر- مذہبی سوال سب سے مقدم ہے لیکن چونکہ انگلستان اور ہندوستان اور خود ہندوستان کی مختلف اقوام کا مذہب ایک نہیں اس لئے مذہب کی رو سے بحث اس سوال کے حل کرنے میں مدد نہیں دے سکتی- پس میں اسے چھوڑ کر اخلاقی پہلو کو لیتا ہوں-
    ۲۰- اگست ۱۹۱۷ء کو مسٹر مانٹیگو MONTAGUE)۔(MR نے ہائوس آف کامنز میں جو تقریر کی- اس میں ہندوستان کے آئندہ نظام حکومت کے متعلق ایک یہ فقرہ بھی تھا کہ-:
    >حضور ملک معظم کی حکومت کی پالیسی جس کے ساتھ حکومت ہند کو بھی پورے طور پر اتفاق ہے یہ ہے کہ انتظام مملکت کے ہر شعبہ میں ہندوستانیوں کو بتدریج بڑھنے والا حصہ دیا جائے اور آہستہ آہستہ آزاد محکمے قائم کر دیئے جائیں تا کہ ترقی کرتے کرتے ہندوستان میں برطانوی تاج کے ماتحت ایک آزاد نیابتی حکومت قائم ہو جائے<-
    اس کے بعد گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۱۹ء کی تمہید میں اسی فقرہ کو لفظ بلفظ نقل کر کے برطانوی پارلیمنٹ بھی اس میں ظاہر کردہ خیالات سے اپنا اتفاق ظاہر کر چکی ہے-
    یہ بیان کرنا بے محل نہ ہوگا کہ مسٹر مانٹیگو MONTAGUE)۔(MR کا اعلان ان کا اپنا ذاتی اعلان نہ تھا بلکہ برطانوی وزارت کا تسلیم شدہ اعلان تھا اور سائمن رپورٹ سے تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس اعلان میں(RESPONSIBLEGOVERNMENT) کے الفاظ لارڈکرزن (LORDCURZON) کے قلم سے لکھے ہوئے اب تک موجود ہیں-
    پس اس اعلان سے حکومت ہند کے علاوہ جس کی رضا مندی صاف لفظوں میں ظاہر ہے برطانوی وزارت بھی اپنا اتفاق ظاہر کر چکی ہے- حکومت ہند` وزارت برطانیہ اور پارلیمنٹ کے بعد بادشاہ کی شخصیت ہی رہ جاتی تھی کہ جن کی تصدیق صاف لفظوں میں اس اعلان کے متعلق نہ تھی- لیکن ۱۵- مارچ ۱۹۲۱ء کو حضور ملک معظم کی طرف سے گورنر جنرل ہندوستان کے نام جو ہدایت نامہ جاری کیاگیا اس میں صاف لفظوں میں اس اعلان کی طرف اشارہ کر کے نہ صرف اس کی تصدیق کی گئی ہے بلکہ اسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے- ملک معظم تحریر فرماتے ہیں-
    >دسویں- اوپر کے تمام امور کے لئے ہماری خواہش اور مرضی ہے کہ ہماری پارلیمنٹ نے جو اصول ہندوستان میں ایسی نیابتی حکومت کے قیام کے لئے جو ہماری مملکت کا جزو رہے تجویز کئے ہیں- ان پر اس طرح عمل کیا جائے کہ آخر کار اس کے نتیجہ میں برطانوی ہندوستان ہماری ڈومینینز (DOMINIONS) میں اس مقام کو حاصل کر سکے جس کا وہ حقدار ہے<-
    ان اعلانات سے ثابت ہوتا ہے کہ بادشاہ معظم` پارلیمنٹ` وزارت برطانیہ اور حکومتہند سب کے سب اس امر کا اعلان کر چکے ہیں کہ ہندوستان میں ان کی حکومت کا طریق آئندہ ایسا ہوگا کہ جس کے نتیجہ میں ہندوستان کے مختلف حﷺ سلف گورنمنٹ (SELFGOVERNMENT) حاصل کر لیں گے اور ہندوستان بحیثیت مجموعی نیابتی حکومت حاصل کر لے گا- یہ ایک وعدہ ہے جس سے انگلستان اخلاقاً کسی صورت میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا- اور اگر وہ >تدریجی< یا ایسے ہی الفاظ کی پناہ لے کر اس وعدہ کے پورا کرنے میں دیر کرے تو بھی گو وہ قانوناً زیر الزام نہ ہو لیکن اخلاقا وہ بہت بڑی ذمہ واری کے نیچے آ جائے گا اور اس چیز کو جو آخر میں حکومتوں کے نشان کے طور پر اکیلی باقی رہ جاتی ہے یعنی >نیک نامی< ناقابل تلافی طور پر نقصان پہنچا دے گا-
    بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس اعلان میں درجہ نو آبادیات کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ نیابتیحکومت کا ہے اور ان دونو اصطلاحوں میں بہت بڑا فرق ہے- گو اس فرق کی طرف توجہ دلانے والے بعض ایسے انگریز ہیں جن کو میں اپنا دوست سمجھتا ہوں لیکن میں اس میں ان سے اختلاف کئے بغیر نہیں رہ سکتا- اعلان مذکور کے تین جملے قابل غور ہیں-
    اول- >ہندوستانیوں کی بڑھنے والی شمولیت تمام محکمہ جات میں< اس جملہ میں >بڑھنے والی< کا لفظ کوئی حد نہیں رکھتا سوائے اس حد کے جو طبعی ہے یعنی جب کہ تعداد پوری ہو جائے- پس اس لفظ کے استعمال کرنے کے سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں ہو سکتے کہ ہندوستانیوں کو سب قسم کی ملازمتوں میں متواتر بڑھنے والا حصہ دیا جائے گا یہاں تک کہ سب ملازمتیں ہندوستانیوں کے ہاتھ میں آ جائیں گی- جس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہیں کہ ایگزیکٹو (EXECUTIVE) پورے طور پر ہندوستانیوں کے ہاتھ میں آ جائیں گی-
    دوسرا قابل توجہ جملہ >خود مختار محکموں کے تدریجی نشوونما< کا ہے- اس میں >خود مختار محکموں< سے مراد یقیناً میونسپل کمیٹیاں` ڈسٹرکٹس بورڈز اور صوبہ جاتی حکومتیں ہیں- ڈسٹرکٹ بورڈ اور میونسپل کمیٹیاں بھی خود مختار محکمے نہیں کہلا سکتے جب تک کہ صوبہ جاتی حکومتیں ان پر حاکم نہ ہوں اور وہ خود مختار نہ ہوں کیونکہ لوکل بورڈ` بالا حکومت سے آزاد ہو کر کام نہیں کر سکتا- اور کوئی میونسپل اور ڈسٹرکٹ بورڈ خود مختارانہ حکومت کرنے والا نہیں کہلا سکتا جب تک کہ جس حکومت سے اسے احکام ملتے ہوں اس کا قیام اس کے ووٹروں کی مرضی کے مطابق نہ ہو- پس میونسپل اور ڈسٹرکٹ بورڈوں کا خود مختار ہونا صوبہ جاتی حکومت کے خود مختار ہونے پر منحصر ہے- اور اس فقرہ میں یقیناً انہی تین حﷺ حکومت کا ذکر ہے- پس دوسرے لفظوں میں اس جملہ میں صوبہ جات کی آزادی کا وعدہ ہے-
    تیسرا قابل توجہ جملہ وہ ہے جس میں اوپر کی پالیسی کا آخری نتیجہ بیان کیا گیا ہے یعنی >اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ آخر برطانوی ہند میں ایک ایسی خود مختار حکومت بتدریج قائم ہو جائے جو برطانوی شاہنشاہی کا جزو ہو<-
    اس جملہ میں بتایا گیا ہے کہ اوپر کی دونوں تجویزوں کی غرض یہ ہے کہ برطانوی ہند میں نیابتی حکومت تو قائم ہو جائے لیکن وہ برطانوی شاہنشاہیت کا حصہ رہے باہر نہ نکل جائے- اس جملہ کے صاف لفظوں میں معنی یہ ہیں کہ پارلیمنٹ نے اس آخری حد تک ہندوستان کو خود مختار حکومت دینے کا وعدہ کیا تھا کہ اگر اس سے زیادہ حق دیا جائے تو ہندوستان برطانوی ایمپائر (EMPIRE) کا حصہ رہ ہی نہیں سکتا- اور یہی چیز ہے جس کا دوسرا نام >ڈومینین سٹیٹس< (DOMINIONSTATUS) ہے- ڈومینین سٹیٹس اور کامل آزادی میں صرف ایک قدم کا فرق ہے وہ قدم اگر کوئی ڈومینین اٹھائے تو وہ برطانوی ایمپائر کا حصہ نہیں رہتی- اور چونکہ اس حد تک پہنچی ہوئی خود مختار حکومت کا ہندوستان سے وعدہ کیا گیا ہے اس لئے یہ کہنا کہ اس سے ڈومینین سٹیٹس مراد نہیں` درست نہیں-
    اس وعدہ سے صاف ظاہر ہے کہ ایگزیکٹو بھی ہندوستانیوں کو دے دی جائے گی اور صوبہجات کو بھی پوری آزادی دے دی جائے گی- اور اس طرح آزادی دیتے دیتے مرکزیحکومت ہند کو بھی اس آزادی کے مقام پر پہنچا دیا جائے گا کہ تاج برطانیہ سے علیحدگی کے حق کے علاوہ سب اختیارات اسے حاصل ہونگے-
    لیکن اگر ہم اس تفصیل میں نہ بھی پڑیں تو بھی خود مختار حکومت کے معنی ڈومینینسٹیٹس کے ہی ہیں- اور اصول آئین کے علماء اس کے یہی معنی کرتے چلے آئے ہیں- چنانچہ مثال کے طور پر میں D۔H۔P ۔A۔M ۔Strong۔J۔C Doctorکی کتاب ModernPoliticalConstitutionsکا ایک حوالہ نقل کرتا ہوں- وہ لکھتے ہیں-
    >ایک خود مختار نو آبادی وہ ہے جسے نیابتی حکومت حاصل ہو اور جسے نیابتی حکومت کہتے ہیں وہ عملی سیاست میں صرف اس امر کا نام ہے کہ ان نو آبادیوں میں وزارت کو ملکی نمائندوں کے تابع کر دیا جائے جہاں کہ اس سے پہلے وہ برطانوی حکومت کے تابع ہوا کرتی تھی کیونکہ نیابتی حکومت کے صرف یہ معنی نہیں کہ وہ نوآبادی جسے اس قسم کی حکومت حاصل ہو اپنے لئے اپنے فائدے کے مطابق قانون وضع کرنے میں آزاد ہے بلکہ یہ بھی کہ اس کی وزارت آئندہ پوری طرح اور براہراست ملک کے منتخب نمائندوں کے ماتحت ہوگی- ۱~}~
    اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ اصول آئینی کے ماہرین کے نزدیک رسپانسیبل (RESPONSIBLE) گورنمنٹ کے صرف یہ معنی نہیں کہ کسی ملک کو اپنے معاملات کے متعلق قانون سازی کا اختیار کلی طور پر مل جائے بلکہ یہ بھی کہ ایگزیکٹو پوری طرح اور براہ راست ملک کے منتخب نمائندوں کے ماتحت ہو اور کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ کسی ڈومینین کو اس سے زیادہ اختیار حاصل ہے-
    دوسرا حوالہ میں مسٹر وڈروولسن سابق پریذیڈنٹ یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ کا پیش کرتا ہوں- جو سلف گورنمنٹ کے متعلق ہے- وہ اپنی کتاب
    ۔States United the in Government Constitutionalمیں لکھتے ہیں-:
    >نیابتی حکومت آئینی طریق حکومت کی آخری منزل ہے<- ۲~}~
    اور جب کہ انگلستان ہندوستان کو سلف گورنمنٹ دینے کا وعدہ کر چکا ہے جو کہ آئینیارتقاء کی آخری منزل ہے تو پھر ڈومینین سٹیٹس کی وہ کونسی بات رہ گئی جو اسے اس وعدہ کے مطابق نہیں مل سکتی-
    اوپر کے حوالہ جات سے یہ امر قطعی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ انگلستان صاف طور پر ہندوستان کو رسپانسیبل گورنمنٹ یا ڈومینین سٹیٹس دینے کا وعدہ کر چکا ہے اور اب اپنے اعلان سے پیچھے ہٹنا اس کے لئے اخلاقا بالکل ناجائز ہے اور اسے اس قسم کا مشورہ دینے والے لوگ اس کی عزت کو خطرہ میں ڈال رہے ہیں-
    اب میں دوسرے سوال کو لیتا ہوں کہ کیا ہندوستان سیاسی طور پر آزادی کا مستحق ہے؟
    میرے نزدیک اس سوال کا جواب بھی اثبات میں ہے- سیاسی استحقاق دو طرح حاصل ہوتے ہیں- یا خدمت سے یا قابلیت سے- ہندوستان نے جنگ عظیم کے موقع پر انسانی آزادی کے قیام کے لئے ایک بے نظیر قربانی کر کے اپنے اس حق کو ثابت کر دیا ہے- جنگ کے دوران میں برطانیہ کے وزراء بار بار ہندوستانیوں سے اپیل کرتے تھے کہ دول متحدہ دنیا کی آزادی کو برباد کرنا چاہتی ہیں اور انہیں اس برے ارادہ سے روکنے کے لئے ہندوستان کو انگلستان کی مدد کے لئے کھڑا ہو جانا چاہئے- ہر اک شخص جانتا ہے کہ ہندوستان نے اس آواز کا جواب کس شاندار طور پر دیا- دس بارہ لاکھ آدمی کا مہیا کر دینا معمولی بات نہیں خصوصاً جب کہ ہندوستان کو اس جنگ سے کوئی ذاتی سرورکار نہ تھا- ایک محکوم قوم کو انتخاب کے لئے کوئی وسیع میدان حاصل نہیں ہوتا وہ ایک محکومی اور دوسری مملوکی میں چنداں فرق نہیں کرتی پس عام ہندوستانی اس امر کے سمجھنے کی قابلیت نہیں رکھتا تھا کہ انگریزی غلبہ اور جرمن غلبہ میں کچھ فرق ہے اس کے لئے یہ دونوں باتیں برابر تھیں- مگر پھر بھی پرانے تعلقات کو گو وہ محکومی کے تعلقات تھے اس نے محبت کی نگاہ سے دیکھا اور ان کے توڑنے کو پسند نہ کیا اور اپنا سب کچھ حکومت کے قدموں پر لا کر نثار کر دیا- اس قربانی کو آج کی اطمینان کی حالت کے اثر کے نیچے نہ دیکھو ان حالات کو سامنے لا کر دیکھو جب ہر وقت ڈوور۳~}~ کی بندرگاہ کی طرف انگلستان کی نگاہ لگی رہتی تھی اور جب انگلستان کی بہادر عورتیں ہر رات اس خوف میں سوتی تھیں کہ یہ رات ان محبانوطن کے لئے جو فرانس کے میدان میں اپنے وطن کی حفاظت کے لئے بیحفاظت کھلے میدان میں پڑے ہیں کیا پیغام لاتی ہے؟ جب ہر صبح شادی شدہ عورتیں دھڑکتے ہوئے دلوں کے ساتھ اٹھتی تھیں اور پہلا خیال ان کے دلوں میں یہ ہوتا تھا کہ کیا اب بھی وہ سہاگ کی حالت میں ہیں یا بیوہ ہو چکی ہیں- جب حیران و ششدر بچے اپنی مائوں کا منہ تکا کرتے تھے کہ کس مصیبت نے ان کے چہروں کو زرد اور ان کی آنکھوں کو بے کیف کر رکھا ہے اور حیران ہوتے تھے کہ ان کے والد کو کیا ہو گیا ہے کہ واپس ہونے کا نام ہی نہیں لیتا- جب مائیں اپنے بچوں کو حسرت و اندوہ سے تھپکی دیا کرتی تھیں جنہوں نے کبھی اپنے باپ کا منہ نہ دیکھا تھا اور نہ آئندہ دیکھنے کی امید تھی- جب ارباب حل و عقد جمع ہوتے تھے تو ان کا پہلا سوال یہ ہوتا تھا کہ اب آئندہ کیا ہونے والا ہے؟ جب انگلستان کی آزاد روح جس نے سات سو سال کی متواتر جدوجہد کے بعد حقیقی آزادی حاصل کی تھی اپنی سب سے عزیز چیز کو ہاتھوں سے جاتا ہوا دیکھتی تھی- ہاں جس وقت ایک مسکراہٹ خدمت اور ایک کلمہ تعریف وفاداری کہلاتا تھا- اس ماحول کو اپنے ذہن میں دوبارہ پیدا کر کے` ان خطرات کو سامنے لا کر` ان امیدوں کو جگا کر` ان بے کسیوں کی یاد کو تازہ کر کے پھر سوچو کہ محکوم ہندوستان جس پر اس جنگ کا کوئی بھی اثر نہیں تھا اس نے کس بہادری اور کس دلیری سے اس نازک موقع پر انگلستان کی مدد کی- جانے دو احمدیہ جماعت کو کہ وہ خوشامد پسند اور فطرتی وفادار مشہور ہے- گاندھی ہی کو دیکھو کہ وہ پیدائشی عدم تعاون کرنے والا شخص بھی اس وقت انگلستان کے لئے ریکروٹ مہیا کرنے کی خدمت میں لگا ہوا تھا اور ہندوستان کی جنگی قومیں اپنے جگر گوشے نکال نکال کر انگلستان کی آزادی کے قیام کے لئے دے رہی تھیں- اب جب کہ وہ خطرہ گزر گیا ہے بعض انگریز کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہندوستانیوں نے روپیہ کے لئے کیا- لیکن کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ کیا انگریز فاقے کرکے لڑا کرتے تھے اور حکومت کا کوئی خرچ نہیں کرایا کرتے تھے؟ جو لڑے گا وہ کچھ خرچ بھی کرائے گا- باقی جان روپیہ سے نہیں خریدی جاتی- ہاں چند اپنی زندگی سے مایوس ہو کر روپیہ کی خاطر جان دینے کے لئے تیار ہو جائیں گے لیکن ملکوں کے ملک کبھی روپیہ کے لئے اپنی جان بیچنے کو تیار نہیں ہوا کرتے- اور اگر تنخواہ لالچ کو ظاہر کرتی ہے تو ائتلافی ہوں یا اتحادی ان کے سب آدمی لالچ ہی سے کام کیا کرتے تھے-
    ہندوستان نے کس جوش سے اس موقع پر انگلستان کا ساتھ دیا- اس کا جواب میں اپنے دوست سر مائیکل اوڈوائر (SIRMICHAELO`DWYER) کے الفاظ میں دیتا ہوں- جو اس وقت پنجاب کے جو درحقیقت ہندوستان کا ایک ہی جنگی صوبہ ہے لفٹیننٹ گورنر تھے-
    >وہ شاندار جواب جو پنجاب نے برطانوی ایمپائر کی آواز کا دیا اور بھی زیادہ شاندار نظر آتا ہے جب ہم اس امر کو دیکھتے ہیں کہ پچھلی جنگوں کے مواقع پر عموماً اور دوسری افغانی جنگ کے موقع پر خصوصاً یہ ثابت ہو گیا تھا کہ جنگ کے موقع پر کسی بڑی تعداد میں ریکروٹ بھرتی کرنا خواہ ہندوستان کی سرحد پر ہی جنگ کیوں نہ ہو بہت مشکل ہوتا ہے<-
    >سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پنجاب کی نصف سے زیادہ آبادی مسلمان ہے اور جن لوگوں کو دیہاتی مسلمانوں کا صرف سطحی علم تھا وہ خیال کرتے تھے کہ ایسی جنگ کے لئے جو ترکوں کے خلاف تھی اور جو مصر` فلسطین اور عراق جیسے اسلامی ممالک میں جہاں کہ اسلامی مقدس مقامات ہیں لڑی جا رہی تھی مسلمان بھرتی نہیں ہوں گے-۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ سب مایوسانہ خیالات باطل ثابت ہوئے- جنگ کی ابتداء میں صرف ایک لاکھ پنجابی سپاہی تھا لیکن جنگ کے خاتمہ تک پانچ لاکھ آدمی فوجی خدمت کر چکا تھا- دوران جنگ میں اندازاً تین لاکھ ساٹھ ہزار سپاہی بھرتی ہوا تھا- جو کہ کل ہندوستان کی بھرتی کے نصف سے بھی زائد تھا اور ان میں سے نصف پنجاب کے مسلمان تھے جو اس علم کے ساتھ بھرتی ہو رہے تھے کہ وہ ترکوں کے خلاف جنگ کرنے جا رہے ہیں اور جن میں سے شاذو نادر کے سوا باقی سب باوجود سخت کوشش کے جو انہیں غدار بنانے کے لئے کی گئی حکومت کے وفادار رہے<- ۴~}~
    آگے صفحہ ۲۱۹ پر وہ پنجابیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ-:
    >انہوں نے شروع جنگ سے ہی بغیر کسی جبر کے دلی شوق سے ہماری آواز پر شاندار طریق سے لبیک کہا<- ۵~}~
    یہ اس شخص کی گواہی ہے جس نے میرے نزدیک انگلستان کے بچانے میں غالباً لارڈکچنر (LORDKITCHENER) اور مسٹر لائڈ جارج GEORGE) (L`ORD کے بعد سب سے زیادہ کام کیا تھا اور جس کی خدمات کا میرے نزدیک سوواں حصہ بھی اعتراف نہیں ہوا اور یہ اس ملک کی قربانی ہے جسے اس جنگ سے کسی حقیقی نقصان کا خطرہ نہ تھا-
    کہا جاتا ہے کہ یہ خدمات پنجاب کی ہیں لیکن ہم پنجابی اپنے آپ کو باقی ہندوستان سے جدا نہیں سمجھتے- ہمارا صوبہ جنگی اقوام کا وطن ہے اس لئے اس نے لڑنے والی فوج دی- دوسرے صوبوں کی آبادی کے اخلاق اور ہیں انہوں نے مزدور اور روپیہ دیا ہر ایک سے جو کچھ ہو سکا اس نے دیا اور دل کھول کر دیا-
    لیکن یہ بھی درست نہیں کہ باقی ملک نے لڑنے والے فوجی نہیں دیئے- سر اوڈوائر (SIRO'DWYER) تحریر کرتے ہیں کہ-:
    >گورنمنٹ آف انڈیا نے خود اس طرف توجہ نہیں کی چنانچہ جب اپریل۱۹۱۸ء میں حضور ملک معظم نے اپیل کی تو اس پر سب صوبہ جات میں بیداری پیدا ہوئی اور جنگ کے آخری چھ ماہ میں باقی ہندوستان نے ایک لاکھ تراسی ہزار فوجیریکروٹ دیئے-<۶~}~
    اس میں کوئی شک نہیں کہ جنگ کے بعد ملک میں بے چینی پیدا ہوئی لیکن اس کا سبب یہ تھا کہ ہندوستان کے احساسات کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا تھا- ٹرکی جس کے فتح کرنے میں مسلمانوں کا بہت سا دخل تھا اس کے ساتھ مسلمانوں کے احساسات کو کچلتے ہوئے سب سے برا سلوک کیا گیا اور بعض انگریز ہندوستان کی خدمات کو یہ کہہ کر حقیر ثابت کرنے لگے کہ یہ سب کچھ روپیہ کی خاطر کیا گیا تھا-
    غرض اس جنگ کے موقع پر جسے جنگ آزادی کہا جاتا ہے ہندوستان نے اپنی خدمات کے ذریعہ سے اپنے آپ کو مہذب دنیا میں برابری کے ساتھ شریک ہونے کا اہل ثابت کر دیا اور اس لحاظ سے وہ آزادی کا مستحق ہے- سوال کے پہلے حصہ کو حل کرنے کے بعد اب میں اس کا دوسرا پہلو لیتا ہوں-
    کیا ہندوستان قابلیت کے لحاظ سے آزادی کا مستحق ہے؟
    جہاں تک میں نے اس سوال پر غور کیا ہے میری سمجھ میں یہ بات کبھی نہیں آئی کہ کوئی ملک بھی ایسا ممکن ہے جو آزادی کا مستحق نہ ہو- اگر کسی ملک کی تعلیم کم ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ جیسا وہ ملک ہے ویسے ہی اس کے حاکم ہوں گے- یہ سوال تبھی درست تسلیم کیا جا سکتا ہے جب کہ بقائے انسب ¶کے اصول کو پورے طور پر صحیح تسلیم کر لیا جائے لیکن جمہوریت کا اصول تو بقائے انسب کے اصول کے بالکل بر خلاف ہے جسے اگر تسلیم کر لیا جائے تو پھر سوائے چند پروفیسروں اور فلاسفروں کے کسی کو بھی ملک کی حکومت میں دخل نہیں حاصل ہونا چاہئے-
    علاوہ ازیں قابلیت خود ایک مبہم لفظ ہے- اس کے معنی نہ کتابی علم کے ہیں اور نہ مختلف زبانیں جاننے کے- ایک شخص یا ایک قوم باوجود بالکل ان پڑھ ہونے کے حکومت کے قابل ہو سکتی ہے- چنانچہ لارڈ برائس جو آئین اساسی کے سب سے بڑے ماہر گزرے ہیں لکھتے ہیں کہ-:
    >اس کی مثالیں مل سکتی ہیں کہ عوام الناس نے بعض ملکوں میں اسی طرح اپنے رائے دہندگی کے حق کو خوبی سے ادا کیا ہے جس طرح کہ ان لوگوں نے جو تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں<- ۷~}~
    نیز تاریخ سے اس کی مثالیں ملتی ہیں کہ ایسے ممالک جن میں تعلیم کم تھی ان میں اپنے ملک کے مناسب حال رسپانسیبل گورنمنٹ جاری تھی- پس محض اس وجہ سے کہ ہندوستان کے لوگ اس قدر تعلیم یافتہ نہیں ہیں جس قدر کہ اس زمانہ میں یورپ کے لوگ ہیں ہندوستان کو آزادی کے قابل نہ سمجھنا درست نہیں ہے- ہندوستانی گو دوسرے ملکوں کے لوگوں پر حکومت کرنے کے قابل نہ ہوں لیکن وہ اپنے ملک پر حکومت کرنے کے ضرور قابل ہیں- اور حق تو یہ ہے کہ اگر ان عارضی حالات کو نظر انداز کر دیا جائے جن کے ماتحت ایک قوم دوسری قوم کے ملک پر قبضہ کرنے کے لئے مجبور ہو جاتی ہے تو حقیقت یہی ہے کہ دنیا میں کوئی ایسی قوم نہ پیدا ہوئی ہے اور نہ جب تک سب اقوام انسانیت کے دائرے کے اندر محدود رہتی ہیں پیدا ہو سکتی ہے کہ جو دوسری اقوام پر ان کی مرضی کے خلاف حکومت کرنے کے قابل ہو-
    حقیقت یہ ہے کہ اصول سیاست کے مطابق قابلیت صرف حکومت کرنے کی خواہش کا نام ہے- یہی سب سے اہم امر ہے جسے ہمیں مدنظر رکھنا چاہئے اور جب کسی ملک میں یہ خواہش زور کے ساتھ پیدا ہو جائے تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ اس قوم کو آزادی دے دینی چاہئے- کیونکہ تعلیم سے بھی زیادہ یہ خواہش اہمیت رکھتی ہے- لارڈ برائس کی یہ تحریر صداقت سے پر ہے کہ-:
    >یہ بات جو کہی جاتی ہے بالکل سچی ہے کہ علم اور تجربہ اور نیز ذہانت کسی قوم کو آزاد حکومت کا مستحق بنانے کے لئے نہایت ضروری امور ہیں- لیکن تجربہ نہ ہونے سے بھی زیادہ خطرناک نقص جو اس مقصد کے حصول کی راہ میں ہوتا ہے وہ افراد قوم میں آزادی کی خواہش کا موجود نہ ہونا ہے<- ۸~}~
    یہ بالکل سچ ہے کہ سلف گورنمنٹ (SELFGOVERNMENT) بغیر عوام الناس میں خواہش آزادی کے نہیں حاصل ہو سکتی- اور یہ امر بھی ویسا ہی صحیح ہے کہ جب یہ خواہش کسی ملک کے باشندوں میں پیدا ہو جائے تو ان کو آزادی سے محروم رکھنا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے-
    ہندوستان کے گزشتہ واقعات سے یہ امر روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ ہندوستان میں اب یہ عام خواہش ہے کہ اسے آزادی حاصل ہو جائے- یہ تغیر اس قدر جلد ہوا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے- آج سے بارہ تیرہ سال پہلے میں تجربہ کی بناء پر کہا کرتا تھا کہ یہ خواہش صرف چند تعلیم یافتہ لوگوں میں ہے اور باقی لوگ اس سے ناآشنا ہیں- آج میں اپنے تجربہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ اب یہ خواہش عوام الناس میں بھی پیدا ہو گئی ہے- بوجہ ایک مذہبی راہنما ہونے کے مجھے کثرت سے گائوں کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ان گوشوں میں جہاں تعلیم کا نام و نشان نہیں زمیندار شوق سے اس دن کے آنے کے متعلق گفتگو کر رہا ہوتا ہے کہ ہندوستان کو کب آزادی ملے گی؟
    میں اس سوال کو بالکل ان پڑھ زمینداروں کے منہ سے سن کر محو حیرت ہو جاتا ہوں کہ >کیا انگریز اب ہمارے ملک کو کچھ دیں گے بھی یا نہیں؟< اس سوال کا کروڑوں انسانوں کے دلوں میں اس قدر جلد پیدا ہو جانے کا احتمال آج سے بارہ سال پہلے نہیں کیا جا سکتا تھا- اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا بڑا باعث جنگ عظیم ہے- ان دنوں میں برطانیہ نے ہندوستان کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے بڑی کثرت سے ملک میں اپنی مظلومیت اور جرمنوں کے ہاتھوں مختلف ممالک کی آزادی کے تباہ ہو جانے کا پروپیگنڈا کیا تھا- اس پروپیگنڈا نے بعض ایسے اصول سے ہندوستانیوں کو واقف کر دیا جنہیں خود ان کے لیڈر ان کے کانوں میں نہیں ڈال سکے تھے- بے شک یہ امر ایک بہت بڑا دخل اس تغیر میں رکھتا ہے لیکن کونسا تغیر دنیا کا بلاوجہ ہوا کرتا ہے- ایک وجہ اس تغیر کی یہ بھی ہے کہ ہندوستانیوں کو کانگریس نے ان کے بعض حقوق کے تلف ہونے کی طرف توجہ دلائی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت برطانیہ کے بدلنے سے ان کے وہ حقوق انہیں مل جائیں گے اور ان کے بوجھ کم ہو جائیں گے-
    زمینداروں کی حالت پنجاب میں پچھلے چار سال سے بہت خراب ہے- فصلوں کی متواتر تباہی اور اس سال غلہ کا نرخ گر جانے کے سبب سے زمینداروں کی کمر بالکل ٹوٹ گئی ہے- انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ حکومت کے تغیر سے ان کی یہ مشکلات دور ہو جائیں گی اور اس کی وجہ سے وہ حکومت کے تغیر کے خواہاں ہو رہے ہیں گو ان میں سے ایک حصہ ابھی اس قدر دلیر نہیں کہ حکام کے سامنے بھی یہ بات کہے` لیکن اپنی مجالس میں وہ یہ باتیں ضرور کہتے ہیں-
    کہا جا سکتا ہے کہ یہ خواہش عارضی اسباب کی وجہ سے ہے لیکن یہ دلیل اس خواہش کی اہمیت کو کم نہیں کر سکتی- بالکل ممکن ہے کہ سلف گورنمنٹ میں ان مشکلات کا علاج نہ ہو سکے لیکن لوگ مشکلات میں یہ نہیں دیکھا کرتے کہ دوسری تدبیر کامیاب ہو گی یا نہیں- وہ صرف یہ دیکھا کرتے ہیں کہ موجودہ تدبیر ہماری مشکلات کو دور نہیں کر سکی اور وہ اسے توڑ کر کوئی اور تدبیر جو خواہ کتنی ہی خلاف عقل کیوں نہ ہو اختیار کرنے کی طرف مائل ہو جایا کرتے ہیں- جس وقت انگلستان میں تحریک آزادی پیدا ہوئی ہے اس وقت بھی عارضی تکالیف ہی اس کی موجب تھیں- میگنا چارٹا (MAGNACHARTA) کا باعث اہالئی انگلستان کا آئین سیاست کا مطالعہ نہ تھا بلکہ کنگ جان (KINGJOHN) کے حقیقی یا خیالی مظالم سے بچنے کی خاطر انہوں نے میگناچارٹا حاصل کیا تھا- پس میگنا چارٹا آئین اساسی کے احساس سے پیدا نہیں ہوا بلکہ آئیناساسی میگنا چارٹا کی وجہ سے پیدا ہوئے-
    غرض یہ دلائل اقوام کے تغیر میں کام نہیں آتے اور نہیں آ سکتے- آزادی کے سیاسی استحقاق کے لئے جس امر کو دیکھنا چاہئے وہ صرف ایک عام خواہش ہے اور وہ اس وقت ہندوستان میں پیدا ہو چکی ہے- اگر ہندوستان میں اس سوال کے متعلق عام رائے لی جائے تو جو لوگ اس صورت حالات کو تسلیم نہیں کرتے ان کی آنکھیں کھل جائیں گی- اور میرے نزدیک تو کانگریس کے بائیکاٹ کی تحریک نے بھی ایک حد تک ثابت کر دیا ہے کہ ملک میں ایک عام خواہش حصول آزادی کی پیدا ہو چکی ہے- اور جب یہ خواہش پیدا ہو چکی ہے تو انگلستان کا دیانتدارانہ فرض ہے کہ وہ اب اس سوال کو مناسب طریق پر حل کرے- یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ اس نئے تجربے میں نقصان ہونگے- بے شک ہوں گے لیکن بقول لارڈ برائس-:
    >غلطیاں ہونگی اور نقصان یقیناً اٹھانا پڑے گا لیکن جب تک کسی قوم کو اس کا کوئی مضبوط ہمسایہ غلام نہیں بنا لیتا یا اپنے اندر جذب نہیں کر لیتا` ناکامیاں شاذو نادر ہی ناقابل اصلاح ہوتی ہیں- لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خود مختار حکومت کی برکات میں سے یہ ایک برکت ہے کہ نقصان سے علم پیدا ہوتا ہے اور علم سے دانائی پیدا ہوتی ہے- جب کہ اس کے برخلاف غیر حکومت خواہ کس قدر ہی خیر خواہ کیوں نہ ہو اس کے ماتحت لوگوں کا علم اول تو بڑھتا نہیں اور اگر بڑھتا ہے تو نہایت ہی سست رفتار سے<-۹~}~
    انگلستان کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس خواہش کے پیدا کرنے میں خود اس کا بھی بہت کچھ حصہ ہے اور دوسرے لوگ اس کی اس کوشش کی قدر کریں یا نہ کریں میں اس کیکوشش کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کے لوگ اس کے ممنون ہوں- بہرحال جب کہ انگلستان نے یہ خواہش ہندوستانیوں کے دلوں میں پیدا کی ہے پھر ۱۹۱۹ء کے انڈیا ایکٹ کے ذریعہ اس خواہش کو اور بھی تیز کر دیا ہے تو وہ اب کسی صورت میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا- اسے وہ الفاظ یاد رکھنے چاہئیں جو اس کے سب سے بڑے آئین اساسی کے ماہر نے جس کے کئی حوالے میں پہلے نقل کر چکا ہوں کہے ہیں- وہ لکھتے ہیں-:
    >قوموں پر ایسے وقت آیا کرتے ہیں کہ جب آگے بڑھنا کھڑے ہونے سے بہرحال بہتر ہوتا ہے جب کہ اختیارات دینا زیادہ دانشمندی کے مطابق ہوتا ہے- خواہ ان کے غلط استعمال کا خطرہ ہی کیوں نہ ہو- بہ نسبت اس کے کہ اختیارات کو روک کر بے چینی پیدا کی جائے<-۱۰~}~
    میں انگلستان کا ایک خیر خواہ ہونے کی حیثیت سے جس نے بمعہ اپنی جماعت کے ہر فتنہ اور فساد کے موقع پر قیام امن کی اہم خدمات انجام دی ہیں اور جو اس وقت بھی بائیکاٹ وغیرہ کا مقابلہ کر رہا ہے` اسے بتانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان میں یہ وقت آ گیا ہے اور اب اسے وہ تجربہ کرنے دینا چاہئے جس کے لئے وہ فی الحقیقت بے تاب ہو رہا ہے- اگر وہ وقت نہ آ چکا ہوتا تو کانگریس کی خلاف اخلاق اور خلاف عقل تجاویز کبھی بھی ملک میں کامیاب نہ ہوتیں- ان کی وسیع کامیابی بتا رہی ہے کہ ملک کے ایک کافی حصہ کی دماغی کیفیت ہندوستان کی آزادی کے سوال کے متعلق اپنا توازن کھو چکی ہے-
    کیا ہندو مسلم اختلاف کی موجودگی میں ہندوستان کو آزادی دی جا سکتی ہے؟
    جب کبھی ہندوستان کی آزادی کا سوال پیدا ہوتا ہے- بعض لوگ یہ سوال اٹھا دیا کرتے ہیں کہ ہندوستان میں مختلف اقوام میں اس قدر اختلاف ہے کہ انہیں حکومت دینا گویا انہیں تباہ کرنا ہے لیکن بعض لوگ اس کے مقابلہ میں یہ کہا کرتے ہیں کہ حکومت ہندوئوں اور مسلمانوں کو خود لڑواتی ہے تا کہ کبھی بھی ہندوستان آزاد نہ ہو سکے-
    اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان میں شدید اختلاف ہے- ایسا شدید کہ ہر بہی خواہ ملک اسے دیکھ کر تکلیف محسوس کرتا ہے- میں جب کبھی اس اختلاف پر غور کرتا ہوں تو میرا دل حسرت و اندوہ سے بھر جاتا ہے لیکن حسرت واقعات کو نہیں بدل سکتی- مگر یہ امر بھی درست نہیں کہ اس کا موجب انگریز ہیں اور یہ کہ وہ جان بوجھ کو ہندوئوں اور مسلمانوں کو لڑواتے ہیں میں یہ نہیں کہتا کہ انگریزوں میں کوئی برا نہیں- ان میں بھی اسی طرح برے لوگ ہیں جس طرح ہندوستانیوں میں ہیں- بالکل ممکن ہے کہ ان میں سے بعض ہندو مسلمان کو لڑواتے بھی ہوں جس طرح کہ بعض ہندوستانی اپنے بھائیوں کو لڑواتے ہیں- لیکن میں ایک منٹ کے لئے بھی خیال نہیں کر سکتا کہ ایک قوم کی قوم جو دانائی اور انسانی ہمدردی میں ایک قابل تقلید نمونہ دکھا رہی ہو اخلاق میں اس قدر گر گئی ہو کہ اس کے تمام افراد یا اکثر افراد دو قوموں میں لڑائی کروا کے تماشہ دیکھتے ہوں- اگر ہندوستان کے کسی ایک مقام پر ہندو مسلمان میں فساد ہوتا تو میں سمجھتا کہ کسی انگریز افسر کی کارروائی ہے- پھر اگر صرف ان علاقوں میں فساد ہوتا جو براہ راست انگریزوں کے ماتحت ہوتے ہیں تو میں ایسا سمجھ لیتا لیکن میں تو دیکھتا ہوں کہ ہندو مسلمانوں میں فساد ہندوستانی افسروں کے ماتحت بھی ہوتا ہے بلکہ شاید زیادہ ہوتا ہے- اور ریاستوں میں بھی ہوتا ہے جن میں انگریزوں کی سیاست براہ راست کام نہیں کر رہی ہوتی- پھر باوجود ان حقائق کے انگریزوں پر فسادات کا الزام لگانا کسی طرح شرافت نہیں کہلا سکتا اور میرے نزدیک اس قسم کا الزام لگانے والے صرف اپنی گندی فطرت کا ثبوت دیتے ہیں- اگر یہ فساد انگریز کروا رہے ہیں تو وہ فسادات اور مظالم جو سکھوں کی طرف سے مسلمانوں پر سکھ حکومت کے زمانہ میں ہوتے تھے یا وہ خانہ جنگیاں جو سیواجی نے اورنگ زیب کے زمانہ میں کیں اور وہ قتل عام جو اس کے ہاتھوں مسلمانوں کا ہوا اس کا ذمہ وار کون تھا؟ جب انگریزوں کے آنے سے پہلے ہندومسلم فسادات شروع ہو چکے تھے- اور جب اسلامی حکومت کے تنزل کے زمانہ سے ہی ہندو مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے کی فکر میں لگ گئے تھے تو اس الزام کو انگریزوں پر عائد کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟
    یہ میں تسلیم کر لوں گا کہ جس طرح ہمارے مختلف میلان ہوتے ہیں انگریزوں کے بھی مختلف میلان ہوتے ہیں- جو انگریز شروع ملازمت میں ایسے علاقہ میں لگتا ہے کہ جس میں مسلمان مضبوط اور کام کرنے والے ہوں وہ مسلمانوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور جو ہندوئوں کے علاقہ میں مقرر ہوتا ہے وہ زیادہ تر ہندوئوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے مگر یہ ایک ایسا طبعی امر ہے کہ جس سے کوئی قوم بچ نہیں سکتی- انسانی مدنی الطبع ہے اور جن لوگوں سے اسے زیادہ ملنے کا موقع ملتا ہے وہ ان کی طرف طبعاً زیادہ مائل ہوتا ہے- اس سے بڑھ کر بحیثیت قوم انگریزوں پر کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا اور یہ کوئی قصور نہیں- اور اگر ہے تو اس کا فائدہ زیادہ تر اس الزام کے لگانے والے یعنی ہندو ہی اٹھاتے ہیں کیونکہ انہی کی اس ملک میں کثرت ہے- اسی وجہ سے انگریز زیادہ تر انہی کی طرف مائل ہوتے ہیں-
    اصل حقیقت یہ ہے کہ ان فسادات کا اصل موجب ہندو دماغ کی بناوٹ ہے- ہندو بوجہ چھوت چھات اور قومی برتری کے خیال کے دوسری اقوام سے مل کر کام کر ہی نہیں سکتا سوائے اس کے کہ اسے یہ یقین ہو کہ یہ قوم مجھ پر برتری نہیں حاصل کر سکتی- یہ خیالات اسے ورثہ میں ملے ہیں اور ان کے دور کرنے کے لئے محنت درکار ہے جس کے لئے افسوس ہے کہ ہندولیڈر بوجہ غالباً اس سے زیادہ اہم امور یعنی ہندوستان کے لئے آزادی حاصل کرنے کی طرف توجہ دینے کے ابھی فرصت نہیں نکال سکے لیکن اپنے قصور کو دوسری قوم پر تھوپنا ایک صریح ظلم ہے- بہرحال میں اس سوال کے متعلق آگے چل کر تفصیل کے ساتھ لکھوں گا سردست میں صرف اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ اختلافات ضرور موجود ہیں اور نہایت خطرناک صورت میں- اور ان کی ذمہ واری انگریزوں پر نہیں بلکہ ہندئووں پر ہے لیکن باوجود اس کے ہندوستان کو آزادی سے محروم نہیں رکھا جا سکتا-
    اس میں کوئی شک نہیں کہ اختلافات کی موجودگی میں رسپانسیبل گورنمنٹ (RESPONSIBLEGOVERNMENT) کے راستہ میں سخت روک ہوتی ہے- لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رسپانسیبل گورنمنٹ کے بغیر اس قسم کے اختلافات مٹ بھی نہیں سکتے- ہندوئوں میں اختلاف پیدا کرنے کا مادہ اس لئے ہے کہ وہ ہزار سال سے حکومت کے مفہوم سے ناواقف ہیں- جب کہ انگریز اس وقت حکومت کر رہے ہیں اور مسلمان ابھی قریب کے زمانہ میں حکومت کر چکے ہیں اور اب بھی ان کے بھائی بند آزاد ممالک میں حکومت کر رہے ہیں- پس وہ جانتے ہیں کہ ترقی جس قدر ایک ملک کے باشندوں میں صلح سے حاصل ہو سکتی ہے جنگ سے نہیں ہو سکتی- لیکن ہندو بوجہ ایک عرصہ سے حکومت سے محروم ہونے کے خیال کرتے ہیں کہ جب تک دوسروں کو پیس نہ دیا جائے ہم ترقی نہیں کر سکتے- وہ کامیابی کی وسیع راہوں سے بے خبر ہیں اور غالباً اس میں چھوت چھات اور قومی تفریق کا بھی بہت کچھ دخل ہے مگر اس کا ایک ہی علاج ہے کہ ہندوستان میں رسپانسیبل گورنمنٹ کی بنیاد رکھی جائے تا کہ ہندوستان کے باشندوں کو تجربہ سے صلح و آشتی کے فوائد معلوم ہوں اور ان کے اخلاق کی اصلاح ہو- اگر اس علاج کو اختیار نہ کیا گیا تو کبھی بھی یہ نقص دور نہ ہوگا اور کبھی بھی ہندوستان آزادی کا مستحق نہ بنے گا-
    پس ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ کس طرح آئندہ نظام حکومت میں اس فساد کے امکانات کو کم کیا جائے نہ یہ کہ اس اختلاف کی موجودگی میں ہندوستان کو آزاد حکومت دی ہی نہ جائے-
    اگر ہندوستان آزادی کا مستحق ہے تو کس حد تک؟
    سوال کے اس حصہ کا جواب دینے کے بعد کہ کیا ہندوستان آزادی کا مستحق ہے؟ میں سوال کے اس حصہ کو لیتا ہوں کہ اگر ہے تو کس حد تک؟
    بعض لوگ اس سوال کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ہندوستان پوری آزادی کا مستحق ہے بلکہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہندوستان کو برطانیہ سے الگ ہو کر اپنی حکومت قائم کرنی چاہئے- گو کانگریس کے نمائندے رائونڈ ٹیبل کانفرنس میں نہیں لیکن چونکہ ممکن ہے کہ بعض لوگ اس کے نمائندوں میں ایسے شامل ہوں جو کانگریس کے اس مطالبہ کو پیش کر دیں اس لئے میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ان کا یہ فعل نہ صرف ہندوستان سے دشمنی کا موجب ہوگا بلکہ دنیا سے دشمنی کا موجب ہوگا-
    انگلستان پر آپ خواہ کتنے الزام لگا لیں- انگلستان نے ڈومینین سٹیٹس (DOMINIONSTATUS) کی ایجاد سے دنیا کے اتحاد کی جو راہ کھول دی ہے وہ میرے نزدیک ایک الہی اشارہ ہے جو آئندہ طریق عمل کی طرف ہماری راہنمائی کر رہا ہے- ہم قوموں اور ملکوں کے سوال میں اس قدر پھنس گئے ہیں کہ ہمارے ذہن سے یہ امر بالکل اتر گیا ہے کہ ہم سب انسان ہیں اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں اور جس طرح ایک باپ کی اولاد الگ الگ جائیداد رکھنے کے باوجود پھر ایک ہی رشتہ میں منسلک ہوتی ہے ہم بھی باوجود الگ الگ ملکوں میں بسنے کے پھر ایک ہی وجود کی طرح ہوں اور نہ تو ملکوں کا اختلاف اور نہ قوموں کا اختلاف ہمارے ان برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچا سکے جو ہمارے پیدا کرنے والے نے ہم میں قائم کئے ہیں- بے شک لوگ مجھے مذہبی دیوانہ کہہ لیں لیکن میں یہ بات کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے کہ وہ دنیا کو ایک مقام پر جمع کر دے بعد اس کے کہ وہ پراگندہ ہو رہی تھی اور یہ اس کا ارادہ آثار سے ظاہر ہے- میل جول کے سامان نئے سے نئے پیدا ہو رہے ہیں` قومیں آپس میں مل رہی ہیں` اتحاد امم کی خواہش ہی نہیں پیدا ہو رہی بلکہ دنیا ایسی مشکلات میں سے گذر رہی ہے کہ کسی نہ کسی قسم کے اتحاد کے لئے وہ مجبور ہو رہی ہے- ان تدابیر میں سے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کو متحد کرنے کیلئے کی جا رہی ہیں ایک لیگ آف نیشنز (LEAGUEOFNATIONS) بھی ہے اور دوسرے برطانوی حکومت کا موجودہ ڈھانچہ ہے جو میرے نزدیک ابتدائی تدابیر میں سے سب سے مکمل صورت میں ہے اس کے ذریعہ سے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ملک ایک خیالی زنجیر میں بندھے ہوئے اور ایک رشتہ میں منسلک نظر آتے ہیں- کوئی طاقت اور کوئی فوج اس اتحاد کا موجب نہیں` کوئی جبر اسے قائم نہیں رکھے ہوئے` ایک دلی ارادہ اور ایک دلی خواہش یہ سب کچھ کرا رہی ہے- ہر حصہ اپنے ملک میں آزاد ہے ویسا ہی آزاد جیسے کہ وہ ملک جو اس سلطنت سے باہر ہیں مگر پھر سب مل کر ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہیں` ایک دوسرے کی مشکلات میں ہمدردی کرتے ہیں` ایک کل کا اپنے آپ کو جزو سمجھتے ہیں- کوئی اسے خیال دنیا کہے یا قوتواہمہ کا حد سے بڑھ جانا خیال کرے میں تو اس سسٹم کو دنیا کے آئندہ اتحاد کے لئے بطور بیج کے خیال کرتا ہوں اور دنیا کے اتحاد کے خواب کی تعبیر سمجھتا ہوں- اگر ہندوستان اس سلسلہ کو اپنی شمولیت سے مضبوط کر دے تو یقیناً وہ اتحاد عالم کی ایک شاندار خدمت کرے گا- میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے مخفی اسباب پیدا کر کے یہ سلسلہ شروع کیا ہے- اور آہستہ آہستہ اس کے نقائص دور ہو کر ایک دن یہ ایسا مکمل ہو جائے گا کہ جو تھوڑا بہت شائبہ انگلستان کی برتری کا ہے وہ بھی جاتا رہے گا- اور اس وقت اس کی خوبیوں سے متاثر ہو کر کئی آزاد کہلانے والے ممالک بھی جب ان کے باشندوں کے دلوں سے قومیت کی تنگ دلی کم ہو جائے گی اس میں شمولیت کے خواہشمند ہو جائیں گے- اور غالباً اللہ تعالیٰ کی مشیت جو دنیا سے جنگ کو ایک وقت تک مٹا دینے کے متعلق ہے اسی صورت میں پوری ہوگی اور امن ایک مستحکم بنیاد پر قائم ہو جائے گا- اس وقت بہت سے ممالک جن میں انگلستان بھی ایک فرد ہوگا صرف ایک مرکزی نقطہ سے وابستگی پیدا کر کے ایک آزاد نظام کے حصے ہو جائیں گے اور یا تو ان کے باہم اتصال کے لئے کوئی ایسی وزارت قائم کی جائے گی جو براہ راست کسی ملک کے نظام سے تعلق نہ رکھتی ہوگی اور یا پھر تمام ممالک جو اس نظام کا حصہ ہونگے ان کے وزراء باری باری اس خدمت کو انجام دیں گے اور مساوات اپنی پوری صورت میں ظاہر ہو جائے گی- یہ محض وہم کی پرواز نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا فعل دنیا کو اس طرف لے جا رہا ہے اور محبت کی بنیاد پر اتحاد امم کی ہر سکیم اس کے کسی نظام کو اختیار کرنے پر مجبور ہے-
    پس جب کہ دنیا کے تغیرات سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کو ملکیت اور قومیت کی قیدوں سے آزاد کرانے اور ایک پائیدار اتحاد میں جکڑنے کے سامان پیدا ہو رہے ہیں تو کیا یہ ہماری بے وقوفی نہ ہوگی کہ ہم جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس راہ کے اختیار کرنے کی طاقت دی ہے اس موقع کو گنوا دیں اور بجائے دنیا میں اتحاد پیدا کرنے کے شقاق کی راہ کھولیں اور بجائے جوڑنے کے توڑنے لگیں- بے شک انسان کو خدا تعالیٰ نے بہت کچھ طاقتیں دی ہیں لیکن جو قوم اس رو کی خلاف ورزی کر رہی ہوتی ہے جسے خدا تعالیٰ چلاتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی اور حوادث کے ساحل پر اس کے جہاز ٹکرا ٹکرا کر غرق ہو جاتے ہیں-
    پس میں سب نمائندوں سے اور اپنے ملک کے دوسرے باشندوں سے التجا کرتا ہوں کہ وہ اپنے جوشوں پر قابو پاتے ہوئے انگلستان سے علیحدگی کے خیال کو دل سے نکال دیں کہ اس طرح وہ اپنے ملک کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے لیکن دنیا سے دشمنی کے مرتکب ضرور ہو جائیں گے-
    الغرض انگلستان سے علیحدہ ہونے کا خیال نہ صرف امکان کے خلاف ہے بلکہ قانونقدرت کے منشاء کے بھی خلاف ہے پس اسے ہمیں بالکل نظر انداز کر دینا چاہئے اور اس سوال پر غور کرنا چاہئے کہ انگلستان سے تعلق رکھتے ہوئے ہندوستان کس حد تک آزادی کا مستحق ہے؟
    اگر اس سوال کا تعلق موجودہ زمانہ سے نہ ہو بلکہ آئندہ زمانہ سے ہو تو میں جواب دوں گا کہ ہندوستان ویسی ہی آزادی کا مستحق ہے جیسی آزادی کہ دوسری آزاد نو آبادیوں کو حاصل ہے اور جسے ڈومینین سٹیٹس کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے- لیکن اگر اس سوال کا تعلق موجودہ زمانہ سے ہو تو میں ملامت گر کی ملامت کی پرواہ کئے بغیر کہوں گا کہ ہندوستان ہر گز اس قابل نہیں ہے کہ اسے اس وقت کامل آزادی مل جائے فوراً ڈومینین سٹیٹس مل جانے کو میں برکت نہیں بلکہ عذاب قرار دوں گا-
    میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ تجربہ سے ہی انسان مضبوط ہوتا ہے لیکن تجربہ کی بھی ایک حد ہوتی ہے- جب اس حد سے زیادہ تجربہ کو لے جایا جائے تو پھر تجربہ ہلاکت کا بھی موجب ہو جاتا ہے- پس یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ ہمیں تجربہ کرنے دو ہم تجربہ سے سیکھ جائیں گے- اگر اس قسم کی آزاد حکومت جو ڈومینین سٹیٹس کہلاتی ہے ہندوستان کو یکدم دے دی جائے تو سب سے بڑی مصیبت یہ ہوگی کہ اسے اس کا تجربہ کرنے کی مہلت بھی کوئی نہ دے گا- باہر کے ممالک کو جانے دو شاید ان کا خطرہ خیالی ہو لیکن ہمارے اپنے اندر لڑنے کی کافی روح موجود ہے- پیشتر اس کے کہ تجربہ ہندوستانیوں کو مضبوط کرے وہ تجربہ کی حد سے آگے نکل چکے ہوں گے اور دنیا تباہی اور بربادی کا ایک ایسا منظر دیکھے گی جو قرون وسطیٰ میں یورپ میں بھی نظر نہیں آیا- ہم ایک وطنیت کے خواہاں لیکن اس صورت میں ہماری قومیت بھی باقی نہیں رہے گی-
    سٹیج پر کھڑے ہو کر یہ کہہ دینا یا قلم پکڑ کر یہ لکھ دینا کہ ہندوستان اس وقت مکمل آزادی کے قابل ہے آسان ہے لیکن حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا- وہ بحری جہاز کہاں ہیں جو ہمارے ساحل کی حفاظت کریں گے اور ہماری تجارتوں کو بے خطرہ فروغ پانے دیں گے؟ اور وہ فوجیں کہاں ہیں کہ جو ہماری سرحدوں کو بچائیں گی اور ہمارے ملک کے امن کو قائم رکھیں گی؟ اور وہ درس گاہیں کہاں ہیں جو ہماری سیاسی اور ملکی ضرورتوں کو پورا کرنے والے نوجوان ہمیں دیں گی؟
    بعض لوگ اس موقع پر کہہ دیں گے کہ ان چیزوں کا نہ ہونا انگریزوں کا قصور ہے- میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ یہ کس کا قصور ہے؟ سوال تو یہ ہے کہ کیا ان حالات میں فوراً کاملآزاد حکومت مل سکتی ہے؟ کیا یہ کہہ کر کہ یہ انگریزوں کا قصور ہے ہندوستان اس قابل ہو جائے گا کہ فوراً اپنے ملک کے انتظام کو سنبھال لے؟
    یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ مثلاً آئرلینڈ نے ایک دن میں آزاد گورنمنٹ حاصل کر لی تھی کیونکہ آئرلینڈ اور ہندوستان میں فرق ہے- آئرلینڈ انگلستان کا ایک جزو تھا اور آزادحکومت کی سب کلیں اس میں اسی طرح موجود تھیں جس طرح کہ آزاد ممالک کی ہوتی ہیں- اس کے باشندے اعلیٰ فوجی عہدوں پر مامور تھے اور نظام سلطنت کے ہر شعبہ میں آئرلینڈ کو تجربہ حاصل تھا- علاوہ ازیں آئرلینڈ کا ملک ایک چھوٹا جزیرہ ہے جسے بوجہ انگلستان سے ملحق ہونے کے کسی بحری طاقت سے خطرہ نہیں اور ملک میں صرف ایک ہی قوم بسنے کی وجہ سے کوئی زیادہ پریشانی کے سامان نہیں-
    یہی حال دوسرے ممالک کا ہے جو جنگ عظیم کے بعد آزاد ہوئے ہیں- گو وہ نام کے لحاظ سے دوسری حکومتوں سے ملحق تھے لیکن کام کے لحاظ سے وہ اپنے حاکموں کے ساتھ شریک تھے اور ان کی جدائی صرف نام کی جدائی تھی لیکن یہ حال ہندوستان میں نہیں- ہندوستان میں اگر کوئی حصہ فوراً آزاد کیا جا سکتا ہے تو وہ صوبہ جات ہیں- جن کے سب کل پرزے پہلے ہی ہندوستانیوں کے قبضہ میں آ چکے ہیں- باقی رہا مرکز اس کے آزاد کرنے کے لئے بہت کچھ تیاری کی ضرورت ہے-
    فلپائن کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے- یونائیٹڈ سٹیٹس نے ان جزائر کو اور کیوبا کو آزاد کرانے کے لئے سپین سے جنگ کی لیکن باوجود ارادہ کے انہیں فوراً آزادی دینے کے قابل نہ ہوئیں اور کیوبا کے متعلق تو تھوڑی لیکن فلپائنز کے متعلق بہت زیادہ نگرانی اور حفاظت کی ضرورت انہیں محسوس ہوئی- چنانچہ فلپائنز کی حکومت تو اب تک بھی ان کی نگرانی کی محتاج ہے-
    اس زمانہ میں کسی ملک کو پوری آزادی حاصل کرنے کیلئے مندرجہ ذیل چیزوں کی ضرورت ہے-
    ۱
    فوج کے انتظام کرنے کی اہلیت رکھنے والے افسروں کی-
    ۲
    اس قسم کے کارخانوں کی جہاں اسلحہ جنگ تیار اور مرمت ہو سکیں-
    ۳
    ہوائی جہازوں پر کام کرنے والے اور ان کے جنگی کام کی اہلیت رکھنے والے اعلیٰافسروں کی-
    ۴
    بحری بیڑے کی جو ساحل کی حفاظت نہ صرف غنیم سے بلکہ بد دیانت تاجروں کی دخلاندازی سے بھی کرے-
    یہ چار چیزیں تو ایسی ہیں کہ جن کی آزادی کے لئے فوری ضرورت ہے- باقی اور بیسیوں امور ہیں کہ جن کی تکمیل کی ضرورت ہے- گو انہیں ایک وقت تک نظر انداز بھی کیا جا سکتا ہے لیکن مذکورہ بالا امور کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا- ہمارے ہندوستانی کمیشن والے فوجیافسروں یا نوجوان کنگز کمیشن والے افسروں کے متعلق یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایک دن میں سب ذمہ داری کے عہدوں کو سنبھالنے کی قابلیت پیدا کر لیں گے- نہ ایک دن میں جنگیبیڑا اور اس پر کام کرنے والے یا ہوائی جہاز اور ان پر کام کرنے والے یا جنگی سامانوں کی مرمت کے ماہر پیدا ہو سکتے ہیں-
    یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہم اپنے ہمسایوں سے صلح رکھیں گے- کیونکہ ہمسایوں سے صلح رکھنی ہمارے اختیار میں نہیں ہے بلکہ ہمارے ہمسایوں کے اختیار میں ہے- کون کہہ سکتا ہے کہ وہ بھی ہم سے صلح رکھیں گے- ان کا موجودہ اظہار دوستی ہر گز ہمیں تسلی نہیں دلا سکتا- اٹلی نے جس دن ٹرکی کے افریقن علاقہ پر عملہ کرنا تھا اسی دن اس کے وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ ٹرکی سے ہمارے تعلقات ایسے اچھے پہلے کبھی نہیں ہوئے- موجودہ زمانہ میں ہمیں نہ صرف افغانستان کی طرف سے خطرہ ہے بلکہ شمالی سرحد کی طرف سے روس اور نیپال دونوں حکومتوں سے خطرہ ہے- پہلے زمانوں میں شمالی لوگوں کو ہندوستان پر حملہ کا خیال نہیں پیدا ہوا تھا لیکن مغلیہ حکومت کے آخری دور میں نیپال کو ہندوستان کی فتح کا خیال پیدا ہو چکا ہے- ایک دفعہ انگریزوں کی وجہ سے اس کا حملہ ناکام ہوا تھا مگر کون کہہ سکتا ہے کہ آزاد ہندوستان پر بھی اس کا حملہ اسی طرح ناکام ہوگا- یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انگریز اس وقت ملک کو بچانے کے لئے آئیں گے اس قدر دور ملک سے جب کہ خود اس ملک میں جنگی تیاری کا مرکز موجود نہ ہو مدافعت بالکل ناممکن ہوتی ہے اس وقت جنگ کی مشینری یہاں موجود ہے- ہندوستان کو پوری آزادی دینے کے بعد یہ حالت نہیں رہ سکتی اور نئے سرے سے مرکز قائم کرنا بہت مشکل کام ہے- پس ان حالات کے ماتحت ہمیں ایک عرصہ تک انگریزی دخل ہندوستان کی مرکزیحکومت میں تسلیم کرنا ہوگا اور ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ہندوستان کو آزادی کچھ مدارج طے کرنے کے بعد ہی مل سکتی ہے` یکدم نہیں-
    ‏a11.8
    انوار العلوم جلد ۱۱
    ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل

    باب چہارم
    آزادی کے مختلف مدارج کس طرح مقرر کئے جائیں؟
    پہلے باب کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اس سوال پر غور کریں کہ اگر کامل آزادی فوراً نہیں مل سکتی اور یہ عارضی روک انگلستان نہیں بلکہ ہندوستان کے فائدہ کیلئے ہے تو پھر وہ کونسا طریق اختیار کیا جائے کہ جس کے ذریعہ سے بغیر ناواجب دیر کے ہندوستان کو ہر قدم پر اس قدر آزادی ملتی جائے جس قدر آزادی کا کہ وہ اس وقت مستحق ہو-
    اس سوال کے دو حل اس وقت تک تجویز کئے جا چکے ہیں- ایک حل مانٹیگو چیمسفورڈ رپورٹ۱۱~}~ (MONTAGUECHELMSFORDREPORT) میں تجویز کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد ایک رائل کمیشن بیٹھے جو یہ فیصلہ کرے کہ گذشتہ سالوں میں کس قدر ترقی ہندوستان نے کی ہے اور اب اس کے نظام اساسی میں کس قسم کی تبدیلی کی ضرورت ہے-
    اس حل کو سائمن کمیشن نے رد کر دیا ہے اور ہندوستان کی موجودہ شورش کا بہت بڑا حصہ اس حل کی طرف منسوب کیا ہے- میرے نزدیک یہ درست نہیں- جن حالات میں مانٹیگوچیمسفورڈ رپورٹ تیار ہوئی تھی ان کے ماتحت قیام امن کا بہترین علاج یہی تھا کہ ہندوستانیوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ یہ سکیم آخری تجویز نہیں ہے بلکہ انہیں آئندہ تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد اختیارات ملتے چلے جائیں گے- وہ بالکل نیا تجربہ کر رہے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ نتیجہ کیا نکلے گا اور ان کے سامنے ان آنے والے دس سالوں کی تاریخ نہ تھی جو سائمن کمیشن کے سامنے تھی- پس ان حالات میں وہی سکیم بہتر تھی جو انہوں نے تجویز کی اور یہ بالکل درست نہیں کہ دوبارہ کمیشن کے قیام کی امید کی وجہ سے ہندوستان میں کوئی شورش ہوئی بلکہ حق یہ ہے کہ شورش کا موجب یہ تھا کہ ہندوستان کا ایک بڑا حصہ یہ سمجھتا تھا کہ مانٹیگوچیمسفورڈسکیم نے ہندوستان کو اس قدر حق نہیں دیا جس قدر کہ اسے دینا چاہئے تھا بلکہ اس دس سال کے بعد دوبارہ غور ہونے کے خیال سے کئی وہ لوگ جو دوسری صورت میں شورش میں شامل ہو جاتے اس میں شامل نہیں ہوئے- ہاں میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ پچھلے دس سال میں ہندوستان میں جو تغیرات پیدا ہوئے ہیں ان کی بناء پر زیر بحث سوال کا وہی حل بہتر ہے جو سائمن کمیشن نے تجویز کیا ہے-
    سائمن کمیشن کا تجویز کردہ حل یہ ہے-:
    >چاہئے کہ نیا اساس جس قدر ممکن ہو اپنے اندر ہی ترقی کا سامان رکھتا ہو- چاہئے کہ اس میں ناقابل تبدیل اور ہمہ گیر اصول نہ ہوں- بلکہ اس میں حسبضرورت ترقی اور اختلاف کی گنجائش ہو<-۱۲~}~
    میری رائے میں یہ حصہ کمیشن کے بہترین نتائج میں سے ہے- اگر سائمن کمیشن حقیقتاً اس اصل کے مطابق سکیم پیش کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے تو میرے نزدیک وہ ہمیشہ کے لئے ہندوستانیوں کے شکریہ کا مستحق ہے- کمیشن کے اس اصل کے ماتحت آئندہ ہندوستان کی آئینی ترقی کے لئے کسی اور کمیشن کی ضرورت نہیں ہوگی- ایک ہی دفعہ پارلیمنٹ ایک ایسا مسودہ پاس کر دے گی جس کے ماتحت ہندوستان آپ ہی آپ اپنے وقت پر اس آزادی کو حاصل کر لے گا جو اس کے لئے مقرر کی گئی ہے- مگر جہاں تک میں نے سکیم پر غور کیا ہے یا تو اس مقصد کو سائمن کمیشن اپنی تفصیل میں مدنظر نہیں رکھ سکا یا پھر ہندوستان کی آزادی کا مفہوم سمجھنے میں اسے دھوکا لگا ہے اور وہ ہندوستان کی آزادی کو دوسرے ملکوں کی آزادی سے مختلف چیز سمجھتا ہے-
    پہلے میں صوبہ جات کو لیتا ہوں- صوبہ جات کا نظام حکومت کمیشن نے یہ مقرر کیا ہے-:
    ۱
    کہ گورنر کو وزارت کی مجالس کا پریزیڈنٹ تجویز کیا ہے-
    ۲
    گورنر کو اختیار دیا ہے کہ وہ چاہے تو سول سروس کے کسی فرد کو یا کسی ایسے شخص کو جو نہ سروس میں ہو اور نہ کونسل کا ممبر ہو وزیر مقرر کر دے-
    ۳
    اسے اختیار دیا ہے کہ خواہ ایک وزیر اعظم مقرر کر کے اس کے مشورہ سے وزارت مقرر کرے- خواہ مختلف اقوام میں سے وزیر چن لے-
    ہر ایک شخص جو آئینی حکومت کے اصول سے واقف ہے سمجھ سکتا ہے کہ ایسی حکومت ذمہ دار حکومت نہیں کہلا سکتی اور اس قسم کی تجویز زیادہ سے زیادہ عارضی طور پر برداشت کی جا سکتی ہے لیکن رپورٹ خاموش ہے کہ اس طریق کو کس طرح بدلا جا سکے گا- آیا اس میں تغیر کرنا گورنمنٹ کے اختیار میں ہوگا` کونسلوں کے اختیار میں ہوگا` گورنر جنرل اور سیکرٹریآفسٹیٹ کے اختیار میں ہوگا` یا پارلیمنٹ کے اختیار میں ہوگا` اگر گورنر کے اختیار میں ہوگا تو ایک گورنر کے فیصلہ کو دوسرا گورنر بدل سکے گا یا نہیں- اگر بدل سکے گا تو نظام حکومت ہمیشہ آگے پیچھے ہوتا رہے گا- اگر کونسلوں کے اختیار میں ہوگا تو وہ پہلے ہی سیشن میں اسے بدل دیں گی- اگر گورنر جنرل اور سیکرٹری آف سٹیٹ کے اختیار میں ہوگا تو اس کی بھی کوئی آئینی صورت نہیں بتائی اور اگر پارلیمنٹ کے اختیار میں ہوگا تو وہی سوال نئے کمیشنوں کا پیدا ہو جائے گا- مگر اس سے بھی مشکل سوال مرکزی حکومت کا ہے جس میں کہ حکومت کو نیابتی اصول پر ابھی قائم ہی نہیں کیا گیا- وہاں موجودہ نظام کونسل کس طرح بدلا جا سکے گا- اس کا جواب کمیشن کی رپورٹ نہیں دیتی بلکہ وہ خود تسلیم کرتی ہے کہ اس کی کوئی تدبیر انہیں نہیں سوجھی- وہ اقرار کرتی ہے کہ-:
    >یہ تو ممکن ہے کہ اس وقت ایک ایسا نظام حکومت مقرر کر دیا جائے جو آئندہ ترقی کے مخالف نہ ہو لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ ایک ہی قانون پارلیمنٹ میں ایسا پاس کر دیا جائے جس کے ذریعہ سے ہندوستان کی مرکزی حکومت اندرونی اصلاح اور ارتقاء کے ذریعہ سے آپ ہی آپ آزادی کی طرف قدم بڑھاتی جائے-۱۳<~}~
    یہ خیال کرتے ہوئے کہ اصل سوال مرکزی حکومت کا ہی تھا صوبہ جات کے موجودہ نظام میں تو معمولی تغیرات کے ساتھ ایک معقول نظام حکومت جو ہر روز کی شورش سے نجات دے دے- ممکن تھا اس فقرہ کے یہ معنے بنتے ہیں کہ جب کہ مانٹیگوچیمسفورڈ سکیم نے کم سے کم یہ انتظام کیا تھا کہ وقتاً فوقتاً آئین حکومت پر نظر ثانی ہوتی رہے- سائمن کمیشن نے صرف اظہارحیرت کر دیا ہے اور پیش آنے والی مشکل کا کوئی علاج نہیں بتایا- وہ ایک اعلیٰ اصل قائم کرنے میں تو کامیاب ہوا ہے لیکن اس اصل سے کام لینے میں بری طرح ناکام رہا ہے- میں کوشش کروں گا کہ آئندہ تفصیلی بحث میں ضروری ضروری مقامات پر کمیشن کی رپورٹ کے اس نقص کی طرف توجہ دلائوں-

    باب پنجم
    ہندوستان کی دوہری مشکلات
    انگلستان سے سمجھوتہ اور اقلیتوں کے سوال کا حل
    اس امر پر اپنی رائے ظاہر کرنے کے بعد کہ سائمن کمیشن کی یہ سفارش کہ آئندہ ہندوستان کے لئے ایسا نظام تجویز کیا جائے کہ جس کے اندر ہی ترقی کی گنجائش ہو اب میں اس اہم سوال کے متعلق کچھ لکھنا چاہتا ہوں جو ہندوستان کی آئینی ترقی کے راستہ میں بطور ایک چٹان کے حائل ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ بوجہ ایک لمبے عرصہ سے ہندوستان پر حکومت کرنے کے انگلستان سے سمجھوتہ کرنا بھی بہت مشکل ہے لیکن اس سے بھی زیادہ یہ مشکل ہے کہ ہندوستان کے لئے کوئی ایسا طریق حکومت تجویز کیا جائے جس کے ذریعہ سے وہ لوگ برسرحکومت آئیں جو واقعہ میں حکومت کرنے کے مستحق ہوں اور وہ لوگ حکومت پر قائم نہ ہوں جو اسے نفاق و شقاق کا ذریعہ بنا لیں- کارلائل نے کیا سچ کہا ہے کہ
    >فضیلت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کو حکومت سے علیحدہ کرنے کے بعد بھی اصل سوال حل طلب رہ جاتا ہے جو یہ ہے کہ حکومت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دی جائے جو واقعہ میں اس کے اہل ہیں- آہ! ہم اس سوال کا حل کس طرح کریں؟<
    کار لائل کا یہ قول ہر ملک پر صادق آتا ہے لیکن ہندوستان کی حالت پر تو یہ بہت ہی چسپاں ہوتا ہے- ہمارے لئے انگریزوں سے سمجھوتہ اس قدر مشکل نہیں جس قدر کہ اپنے لئے ایک مناسب قسم کی گورنمنٹ تجویز کرنے کا سوال مشکل ہے- ہمارا ملک تعصب اور اختلاف کی آماجگاہ بن رہا ہے- اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا اللہ تعالیٰ نے ہندوستان کو ان دونوں خصلتوں کا گھر بنا دیا ہے- اس اختلاف کی موجودگی میں سیلف گورنمنٹ بجائے مفید ہونے کے ملک کے لئے سخت مضر ہو سکتی ہے-
    بعض لوگ تو اس مشکل کا حل یہ بتاتے ہیں کہ جب تک یہ حالت دور نہ ہو جائے ہندوستان کو کسی قسم کی آزادی دی ہی نہ جائے لیکن جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں یہ علاج صحیح نہیں- اگر ہندوستان کو آزادی نہ ملی تو یہ اختلاف دور ہو ہی نہیں سکتا اور صورت حالات بد سے بد تر ہوتی چلی جائے گی-
    کیا ڈیما کریسی اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے منافی ہے؟
    بعضدوسرے لوگ اس کا یہ علاج بتاتے ہیں کہ یہ کوئی مرض ہی نہیں اس کو مرض سمجھنا ہی مرض کو بڑھا رہا ہے- اگر ہندوستان >ڈیماکریسی< (DEMOCRACY) جس کے معنی اکثریت کی حکومت کے ہیں چاہتا ہے تو پھر اسے اقلیتوں کا سوال نظر انداز کر دینا چاہئے کیونکہ >ڈیماکریسی< کی غرضوغایت ہی یہ ہے کہ اکثریت حکومت کرے- اقلیت کو چاہئے کہ اپنے آپ کو اکثریت کے ساتھ وابستہ کرے یا پھر خود اکثریت بننے کی کوشش کرے مگر >ڈیماکریسی< کا مطالبہ کرتے ہوئے ساتھ ہی یہ مطالبہ کرنا کہ اکثریت کو حکومت نہ کرنے دو اور اسے پابندیوں میں جکڑ دو گویا ایک طرف >ڈیماکریسی< کے اصول کو رد کرنا ہے تو دوسری طرف فتنہ و فساد کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھولنا ہے- عام طور پر یہ سوال بعض انگریزوں یا دوسرے مغربی لوگوں کی طرف سے اٹھایا جاتا ہے اور سوال کرنے والوں میں سے بعض کی غرض تو یہ ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہندوستان کی آزادی کا مطالبہ نہ کریں اس میں ان کا نقصان ہے- اور بعض یہ اعتراض محض ہندوستان کے حالات سے ناواقفیت کی وجہ سے کرتے ہیں-
    میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ خیال >ڈیما کریسی< کے مفہوم کے نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے- ہر اکثریت کی حکومت کو >ڈیماکریسی< نہیں کہہ سکتے بلکہ اس اکثریت کی حکومت کو >ڈیماکریسی< کہتے ہیں جو خالص ملکی فوائد کو مدنظر رکھتی ہے نہ کہ کسی خاص قوم یا عقیدہ کے لوگوں کے فوائد کو اگر ایک ملک میں ایک قوم یا ایک مذہب کے دس لاکھ آدمی بستے ہوں اور دوسری قوم اور دوسرے مذہب کے ایک لاکھ اور وہ دس لاکھ اپنی قوم یا اپنے مذہب کے لوگوں کے فائدہ کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کریں تو یہ ہر گز >ڈیماکریسی< نہیں کہلائے گی- انگلستان کی رومن کیتھولک اکثریت جب پراٹیسٹنٹ (PROTESTANT) اقلیت کے خلاف قواعد بنا رہی تھی تو وہ ہر گز >ڈیماکریسی< کی عامل نہیں تھی- >ڈیماکریسی< اس اکثرت کی حکومت کو کہتے ہیں جس کا جتھا ان اصول پر بنا ہو جو حکومت سے متعلق ہیں- وہ اکثریت جس کا جتھا ملکی سیاست پر نہیں بلکہ کسی خاص مذہبی یا قومی فوائد کی بناء پر بنا ہو اس کی حکومت کو جمہوریحکومت نہیں کہا جا سکتا وہ فرقہ وار حکومت ہے- ڈاکٹر سی- ایف- سٹرانگ STRONG)۔F۔(C ایم- اے- پی- ایچ- ڈی >ڈیماکریسی< کی تعریف یہ کرتے ہیں-
    >ڈیماکریسی سے ہماری مراد اس قسم کی حکومت ہے جس میں کہ حکومت کا اختیار قانوناً کسی خاص قوم کو نہ دیا گیا ہو- بلکہ تمام ملک کو بہحیثیت مجموعی دیا گیا ہو-۱۴<~}~
    اس میں کوئی شک نہیں کہ مسٹر سٹرانگ نے یہ شرط لگائی ہے کہ حکومت قانوناً کسی فرقہ کے سپرد نہ ہو لیکن قانوناً سپرد ہونے یا عملاً ایسا ہونے میں کوئی فرق نہیں- اگر گورنمنٹ قانوناً کسی خاص قوم کے سپرد ہوگی تو ہم کہیں گے کہ یہ قانوناً ڈیماکریسی نہیں اگر عملا ایسا ہوگا تو ہم کہیں گے کہ وہ حکومت عملاً ڈیماکریسی نہیں- بہرحال حقیقی ڈیما کریٹک حکومت وہی ہے جس میں حکومت اس اکثریت کے قبضہ میں ہو جس کا جتھا سیاسی امور کی بناء پر بنا ہو نہ کہ قومی یا مذہبی امور کی بناء پر- لارڈ برائس ڈیما کریسی کے متعلق لکھتے ہیں-:
    >جس طرح دوسری حکومتیں اس امر کی محتاج ہیں اسی طرح جمہوریت بھی اس امر کی محتاج ہے کہ فردی آزادی کا اس میں پوری طرح خیال رکھا جائے-۱۵<~}~
    ‏]txte [tag پس کوئی حکومت جس میں افراد کے حقوق محفوظ نہ ہوں ہر گز ڈیما کریسی نہیں کہلا سکتی- اور ڈیما کریسی کے ہر گز یہ معنی نہیں کہ اس کے ذریعہ اقلیتوں کی قربانی کی جائے-
    یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی ڈیماکریسی تحریر شدہ یا غیر تحریر شدہ آئین حکومت کے بغیر نہیں ہو سکتی- اور آئین حکومت کی ایک بہت بڑی غرض یہ ہوتی ہے کہ افراد یا جماعتوں کے حقوق کو تلف ہونے سے بچایا جائے پس اسی نقطہ نگاہ سے ہمیں ہندوستان کی اقلیتوں کے سوال کو دیکھنا چاہئے- اگر تو ہندوستان کی اقلیتیں سیاسی اور تمدنی ہیں اور اکثریت بھی سیاسی اور تمدنی ہے تو بے شک ڈیماکریسی کے ماتحت اقلیت کو اکثریت پر قربان ہو جانا چاہئے اور اکثریت کو حکومت کا پورا حق ہونا چاہئے- لیکن اگر اس کے برخلاف اکثریت سے مراد ہندوستان میں ایک خاص قوم اور مذہب کی اکثریت ہے تو وہ اکثریت ڈیماکریسی کے نقطہ نگاہ سے اکثریت نہیں بلکہ ایک فرقہ وارانہ جماعت ہے جسے کوئی حق نہیں کہ اقلیت پر بغیر حد بندی کے حکومت کرے-
    اگر اس اصل کو تسلیم کر لیا جائے کہ اکثریت اقلیت پر بغیر حد بندی کے حکومت کرنے کی مجاز ہے تو اس سے دنیا کی تمام علمی ترقی رک جاتی ہے- ذہنی ترقی کی ہر نئی رو اور ہر جدید علم پہلے معدودے چند افراد کی توجہ کو ہی کھینچتا ہے اور اکثریت اس کی مخالف ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کی جانی دشمن ہوتی ہے- اگر اکثریت کو غیر محدود حکومت کرنے کا اختیار ہو تو پھر وہ مختلف مظالم جو دنیا میں مذہب یا فلسفہ کے نام پر ہوتے چلے آئے ہیں انہیں جائز اور درست کہنا ہوگا لیکن کبھی بھی فطرت انسانی نے ان کے جواز کو قبول نہیں کیا- اگر اس اصل کو قبول کر لیا جائے تو دنیا کی تمام علمی` اخلاقی اور مذہبی ترقی رک جاتی ہے- یہ کبھی نہیں ہوا کہ دنیا ایک دن سوتے سوتے اٹھے اور اس کے اکثر افراد ایک نئے مذہبی` فلسفی یا تمدنی یا علمی نکتے کے قائل ہو گئے ہوں- ہر نئی تحقیق اقلیتوں میں نشوونما پاتی رہی ہے اور پاتی رہے گی پس دنیا کی نجات اقلیتوں کی حفاظت میں ہے- اقلیتوں کے حقوق کو نظر انداز کر دو تو دنیا تمام علمی اور اخلاقی ترقیوں سے محروم ہو جائے گی-
    پھر جو لوگ اقلیت کو ا کثریت کے رحم پر چھوڑ دینے کا مشورہ دیتے ہیں وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ ہر ایک اقلیت ایک قسم کی نہیں ہوتی اور نہ ہر ایک چیز قربان کر دینے کے قابل ہوتی ہے- اس دنیا میں بعض چیزیں ایسی بھی ہیں جو کسی صورت میں قربان نہیں کی جا سکتیں- اگر گلیلیو (GALILEO) اپنے وقت کی اکثریت سے ڈر کر سیاروں کی حرکات کے مسئلہ کو چھوڑ دیتا تو دنیا آج کہاں ہوتی؟ اس قسم کا مشورہ دینے والوں کو پہلے یہ سوچنا چاہئے کہ ہندوستان کی اقلیتوں کی بنیاد کس امر پر ہے- اگر ان کی بنیاد ٹیرف ریفارم (TARIFFREFORM) یا انکمٹیکس کے اصول میں اختلاف رکھنے پر ہے تو بے شک انہیں نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن جب کہ ان کی بنیاد مذہب پر ہے جسے آزادی اور وطنیت سے بھی زیادہ متبرک سمجھا جاتا ہے اور اگر مذہب کوئی چیز ہے تو اسے ایسا ہی سمجھنا چاہئے تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ اقلیت ایسی حکومت کو برداشت کرے جو مذہب کے اختلاف کی وجہ سے اس پر ظلم کرتی ہو- یا ایسے قوانین پاس کرتی ہو جس سے اس کی غرض اس مذہبی اقلیت کے افراد کو دق کر کے ملک سے نکل جانے یا اکثریت کے مذہب کو قبول کرنے یا دائمی طو رپر ایک ادنیٰ پوزیشن قبول کرنے پر مجبور کرنا ہو- ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جب ایک اقلیت اور اکثریت کے درمیان مذکورہ بالا امور مابہالنزاع ہوں تو اقلیت ہر گز اکثریت کی مرضی پر چلنے کیلئے مجبور نہیں کی جا سکتی- اور میں آگے چل کر بتائوں گا کہ ہندوستان میں اقلیت اور اکثریت کا اختلاف اسی قسم کا ہے-
    کیا تجربہ رواداری سکھا دے گا؟
    مذکورہ بالا دو گروہوں کے علاوہ ایک تیسرا گروہ بھی ہے جس کا یہ خیال ہے کہ بے شک اقلیت کے حقوق کی حفاظت ہونی چاہئے لیکن اس کا یہ طریق نہیں کہ قوانین کے ذریعہ سے اس کی حفاظت کی جائے- رواداری تجربہ اور ذمہ واری سے خود بخود آ جاتی ہے- پس بغیر کسی حفاظت کی تدبیر کے ملک میں ایک آزاد نظام حکومت قائم کر دینا چاہئے- اکثریت یا اقلیت جس میں بھی نقص ہو ایک دوسرے سے واسطہ پڑنے پر خود بخود اس کی اصلاح ہو جائے گی اور طبائع آپس میں مل جائیں گی- یہ نقطہ نگاہ ہندوئوں کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے-
    اگر دو قوموں میں ادنیٰ سا اختلاف ہو اور وہ امور جن کی نسبت خطرہ ہو معمولی ہوں تو ایک طریق اصلاح کا وہ بھی ہے جو اوپر بیان ہوا- لیکن سوال یہ ہے کہ جب اقلیت اور اکثریت کا اختلاف اس قسم کا ہو کہ ایک دوسرے کو کچلنا چاہے تو کیا پھر بھی یہ علاج کامیاب ہو سکتا ہے؟ اگر تجربہ سے یہ معلوم ہو کہ ایک قوم دوسری قوم کو کھاتی جاتی ہے تو پھر کس طرح اعتبار کیا جا سکتا ہے کہ اکٹھے رہنے سے ایک کو دوسری سے خطرہ نہیں ہوگا پھر اگر یہ بھی ثابت ہو جائے کہ اقلیت اور اکثریت زندگی کے کئی شعبوں میں اکٹھی رہتی چلی آئی ہیں لیکن باوجود اس اکٹھا رہنے کے اکثریت اقلیت کو نقصان پہنچانے سے باز نہیں آئی تو کس طرح یقین کیا جا سکتا ہے کہ آئندہ زیادہ اہم امور میں اکٹھا رہنے سے اکثریت اقلیت سے ایسا سلوک نہیں کرے گی- غرض اگر اختلاف معمولی ہو تو بے شک یہ جرات کی جا سکتی ہے کہ دونوں قوموں کو کچھ عرصہ کے لئے اکٹھا چھوڑ دیا جائے اور انتظار کیا جائے کہ سیاست خود مروت سکھا لے گی لیکن جب کہ اختلاف اہم ہو اور ایک قوم دوسری کو کھانے کی عادی ہو چکی ہو تو پھر محض امید موہوم پر ایک قوم کو تباہی کے گڑھے میں نہیں دھکیلا جا سکتا-
    یہ ثابت کر چکنے کے بعد کہ جب اقلیت کو اہم امور میں اختلاف ہو جسے وہ قربان نہ کر سکتی ہو تو اس سے اکثریت کے حکم پر سر جھکانے کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا اور اس طرح جب اکثریت کے عمل سے اور ارادہ سے ثابت ہو جائے کہ وہ اقلیت کو نقصان پہنچاتی رہی ہے اور آئندہ نقصان پہنچانا چاہتی ہے تو اس صورت میں اقلیت کو اکثریت کے سپرد کر کے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ آہستہ آہستہ رواداری کی روح پیدا ہو جائے گی- میں یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان میں اقلیت اور اکثریت کے تعلقات نہایت اہم ہیں اور اکثریت کا تعلق اقلیت سے گذشتہ تجربہ اور آئندہ ارادوں کی بناء پر ایسا نظر آتا ہے کہ اسے اکثریت کے سپرد نہیں کیا جا سکتا-
    ہندوئوں کا اقلیتوں سے سلوک
    ہندوستان میں اس وقت اکثریت ہندو قوم کی ہے اور اس کے مقابلہ میں مسلمان` ادنیٰ اقوام اور انگریز اینگلوانڈین وغیرہ تعداد میں کم ہیں- ان میں سے ادنیٰ اقوام کا سوال تو اتنی دفعہ انگلستان کے لوگوں کے سامنے آ چکا ہے کہ اس کے متعلق میں کچھ زیادہ لکھنا پسند نہیں کرتا لیکن میں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہندو دوسری اقلیتوں سے کیا سلوک کرتے ہیں تا کہ ان لوگوں کو جو واقف نہیں ہیں یہ معلوم ہو جائے کہ ہندو لوگ دوسری اقلیتوں سے بھی جہاں تک ان کی طاقت ہے اچھوت اقوام کا سا ہی سلوک کرتے ہیں اور جب تک ان کی یہ حالت قائم ہے اس وقت تک کوئی عقلمند قوم ان پر اعتبار نہیں کر سکتی-
    سب سے پہلے تو میں ایک دوسرے سے میل ملاقات کے معاملہ کو لیتا ہوں- دنیا میں محبت اور رواداری قائم کرنے کا اصل ذریعہ یہی ہے کہ افراد آپس میں ملتے جلتے رہیں- ایک دوسرے کے ساتھ ملنے جلنے سے دلوں کی کدورت دور ہوتی رہتی ہے اور ملنے میں ایک دوسرے کے قلب کی صفائی کا اظہار کرنے کے لئے بہترین طریق دنیا میں مصافحہ کا ہے- تمام اقوام ایک دوسرے سے ملتے وقت مصافحہ کرتی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مصافحہ کا طبیعت پر ایک خاص اثر ہوتا ہے اور یہ گویا ادنیٰ سے ادنیٰ ذریعہ ایک دوسرے سے اظہار محبت کا ہوتا ہے لیکن ہندو اپنی روایات میں اس قدر محصور ہے کہ دوسری اقوام سے اتنے سلوک کا بھی روادار نہیں- جب آپ کسی ہندو کو دیکھیں گے تو وہ خواہ آپ کا کیسا ہی واقف ہو اس کی تمام تر کوشش یہ ہوگی کہ اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر ایک غیر قوم کے آدمی سے مصافحہ کرنے سے نجات حاصل کرے- وہ ہاتھ جوڑے گا سامنے جھک کر گھٹنوں کو ہاتھ لگا لے گا لیکن جہاں تک اس کا بس چلے گا اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہیں لگائے گا کیونکہ اس کے نزدیک ایسا فعل اسے ناپاک کر دیتا ہے- شاید انگریزوں کو یہ عجیب بات معلوم ہوگی اور وہ خیال کریں گے کہ ہم سے تو ہندو مصافحہ کرتے ہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ فعل ان میں سے اکثر کا بالکل بناوٹ اور ظاہر داری کے طور پر ہوتا ہے ورنہ دل میں وہ مسلمان کیا اور انگریز کیا سب کو سخت حقارت سے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ چھو جانے کو غلاظت سے بھر جانے کے برابر سمجھتے ہیں- اور یہ صرف قیاس نہیں بلکہ واقعہ ہے اس کے ثبوت میں میں ہندوئوں کے چوٹی کے لیڈر پنڈت مدن موہن مالویہ کا قول نقل کرتا ہوں- وہ فرماتے ہیں-
    >میں جب کسی انگریز سے ملتا ہوں تو ملنے کے بعد پانی سے ہاتھ دھو لیتا ہوں<- ۱۶~}~
    ‏]ttex [tag اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ ان ہندوئوں کو چھوڑ کر جو مذہب سے بیزار ہیں باقی اصل ہندو صرف دکھاوے کے لئے دوسری اقوام کے لوگوں سے مصافحہ کرتے ہیں ورنہ وہ دل میں اسے ایک ناپاک فعل تصور کرتے ہیں-
    دوسرا ذریعہ اقوام میں تعلق بڑھانے کا مل جل کر کھانا پینا ہے اس طرح بھی بہت کچھ اختلاف مٹتا ہے لیکن کوئی ہندو جو حقیقی ہندو ہے کبھی مسلمان یا انگریز یا اور کسی قوم کے ہاتھ کا چھوا ہوا نہیں کھاتا اور جو ہندو انگریزوں کی دعوتوں میں آ کر کھا لیتے ہیں درحقیقت وہ یا تو ہندو مذہب سے بیزار یا ناواقف ہیں اور یا پھر وہ انگریزوں کو دھوکا دیتے ہیں- اس بارہ میں ہندو قوم کا تعصب اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ پنڈت مدن موہن مالویہ جی تو اس مجلس میں جس میں کوئی غیرہندو بیٹھا ہو پانی پینا بھی پسند نہیں کرتے- چنانچہ ایک خاص مجلس )جو گاندھی جی کا روزہ تڑوانے کے لئے جو انہوں نے ہندو مسلم فساد کی بناء پر رکھا تھا( منعقد کی گئی تھی اور جس کی غرض یہ بتائی گئی تھی کہ ہندو مسلمانوں میں شدھی کی وجہ سے جو فساد پیدا ہو گیا ہے اسے دور کیا جائے اس میں مجھ سے بھی خواہش کی گئی تھی کہ میں اپنی جماعت کے نمائندے بھیجوں- ان نمائندوں کا بیان ہے کہ پنڈت مالویہ جی پیاسے بیٹھے رہے اور اس وجہ سے پانی نہ پیا کہ اس مجلس میں کچھ مسلمان بیٹھے ہیں آخر ان کے لئے الگ کمرہ کا انتظام کیا گیا تو انہوں نے وہاں جا کر پانی پیا- جس قوم کے لیڈروں کے تعصب کا یہ حال ہے کیا اس کی نسبت یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھے گی- ہر ایک شخص جو ہندوستان سے واقف ہے جانتا ہے کہ ہندو مسلمان دکاندار سے کبھی کوئی چیز لے کر نہیں کھاتے- بظاہر یہ کہا جاتا ہے کہ اس کی وجہ صفائی کا خیال ہے حالانکہ ایک غریب مسلمان بھی صفائی میں ہندو سے بہتر ہوتا ہے- ہندو مٹھائی بنانے والا جس کی مٹھائی شریف سے شریف ہندو شوق سے خرید کر کھا لیتا ہے ایسا غلیظ ہوتا ہے کہ شاید اس کے برابر غلیظ انسان تلاش کرنا مشکل ہوگا اور اس کے برتنوں کو دیکھ کر گھن آتی ہے- بسا اوقات کتے انہیں چاٹ جاتے ہیں اور وہ اس کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں کرتا لیکن جب ایک مسلمان پاس سے بھی گذر جاتا ہے تو وہ >دور رہنا` دور رہنا< کا شور مچا دیتا ہے اور اس فعل کی بنیاد ہر گز مذہب پر نہیں ہے بلکہ جیسا کہ ہندوئوں کا اقرار ہے یہ تدبیر صرف دوسری اقوام کو اقتصادی طور پر کمزور کرنے اور ہندوئوں کی دولت بڑھانے کے لئے کی گئی ہے- چنانچہ ہندوئوں کا ایک مشہور مذہبی اخبار >مسافر آگرہ< چھوت چھات کے متعلق لکھتا ہے-:
    >اگر یہ چھوت چھات نہ ہوتی تو آج کسی قسم کی تجارت بھی ہندوئوں کے ہاتھ میں نظر نہ آتی- ہم کہتے ہیں اگر ہماری تجارت کی کسی طاقت نے حفاظت کی تو وہ طاقت اس بائیکاٹ کی تھی-<
    >اس تحریک سے ہندو قوم کو جو زبردست فوائد حاصل ہوئے ہیں وہ ایسے نہیں ہیں کہ جن میں کسی قسم کے مبالغہ کی گنجائش ہو- مثال کے طور پر آپ سب سے پہلے تجارت ہی کو لے لیجئے- آج ملک کی تمام خوردنی اور عمدہ اشیاء کی تجارت ہندوئوں کے ہاتھ میں ہے<- ۱۷~}~
    ایک مذہبی اخبار کا یہ بیان بالکل واضح کر دیتا ہے کہ چھوت چھات کوئی مذہبی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اقتصادی بائیکاٹ کی ہی ایک شکل ہے- اس کی اصل غرض یہ ہے کہ دوسری اقوام کے بائیکاٹ پر پردہ پڑا رہے اور انہیں یہ کہہ کر خاموش کرایا جا سکے کہ ہم جو تم سے چیزیں نہیں خریدتے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہمارا مذہب اس سے روکتا ہے- اس بائیکاٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ تمام ملک میں کھانے کی دکانیں ہندوئوں کی ہیں اور مسلمانوں کی قریباً نہ ہونے کے برابر ہیں- اور ہندوئوں کی اس چھوت چھات کی وجہ سے سٹیشنوں پر بھی کھانے کا ٹھیکہ عام طور پر ہندوئوں کو دیا جاتا ہے اس خیال سے کہ مسلمان ہندوئوں کے ہاتھ کا کھا لیتے ہیں اور ہندو مسلمان کے ہاتھ کا نہیں کھاتے- اب اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ فی کس سال میں ایک روپیہ کی مٹھائی یا کھانا بازار سے خریدا جا سکتا ہے- یہ اندازہ درحقیقت بہت تھوڑا ہے تو بھی بالغ مسلمانوں کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر سال مسلمانوں کی جیب سے چار کروڑ روپیہ ہندوئوں کو مل جاتا ہے جس کے واپس آنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی- جس قوم نے اپنی ہمسایہ قوم کے بائیکاٹ کی ایسی منظم صورت نکالی ہے کیا اس کی نسبت اقلیتوں کو یہ مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ وہ اس پر اعتبار کریں اور اپنی قسمت کی باگ ڈور اس کے سپرد کر دیں؟
    یہ صورت صرف کھانے پینے کی چیزوں کے متعلق نہیں ہے بلکہ اور تجارتوں کا بھی ایک تھوڑے فرق کے ساتھ یہی حال ہے- مسلمان عام طور پر ہندوئوں کی دکانوں پر سے سودا خریدتے ہیں لیکن ہندو شاذ و نادر ہی مسلمان کی دوکان سے سودا خریدتا ہے- کسی شہر میں` کسی بازار میں` کسی دن صبح سے شام تک پہرہ لگا کر دیکھ لو مسلمان کی دکان پر ہندو گاہگ بہت کم آتا دکھائی دے گا- اگر مسلمان سے کسی قدر ارزاں چیز بھی ملے گی تو بھی وہ ہندو سے ہی خریدے گا-
    ہندوئوں کا یہ تعصب اس قدر بڑھ گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو مکان بھی کرایہ پر نہیں دیتے- چنانچہ الہ آباد کے ایک مشہور ہندو لیڈر جو موجودہ گانگریسی تحریک میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے لیڈر کہلاتے ہیں ان کے بہت سے مکانات الہ آباد میں ہیں لیکن ان کا حکم ہے کہ مکان کسی مسلمان کو کرایہ پر نہ دیا جائے- اور یہ امر ان سے مخصوص نہیں ہندوئوں کے ایک بڑے طبقہ کا یہی حال ہے- میں ۱۹۱۷ء میں بوجہ بیماری بمبئی گیا سمندر کے کنارہ پر رہنے کا چونکہ مشورہ تھا باندرہ جو بمبئی کے مضافات کا ایک قصبہ ہے اس میں ایک بنگلہ کرایہ پر لیا- میری والدہ صاحبہ ہمراہ تھیں انہیں کاربنکل کی تکلیف ہو گئی اور ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ علاج کی سہولت کے لئے بمبئی میں مکان لے لیا جائے- مجھے چونکہ ڈاکٹری مشورہ سمندر کے کنارہ کے پاس رہنے کا تھا چوپاٹی پر مکان کی تلاش کی گئی لیکن کوئی مکان خالی نظر نہ آیا- آخر ایک ریاست کے وزیر اعظم جو بغرض تبدیلی آب و ہوا بمبئی میں آئے ہوئے تھے ان کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ مکان خالی کرنے والے ہیں- ان سے دریافت کیا گیا تو اتفاقا وہ وطن کے لحاظ سے پنجابی نکلے اور وطنیت کے خیال سے انہوں نے وعدہ کر لیا کہ وہ مکان بقیہ ٹرم کے لئے ہمیں کرایہ پر دے دیں گے- کرایہ وغیرہ کا فیصلہ ان کے ساتھ ہو گیا مکان پر قبضہ کرنے کی تاریخ بھی مقرر ہو گئی لیکن بعد میں انہوں نے انکار کر دیا- جب ہم نے زیادہ زور دیا تو انہوں نے بتایا کہ بمبئی میں ایک بڑی جماعت ہندوئوں کی ایسی ہے جس نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ مکانات مسلمانوں کو کرایہ پر نہ دیئے جائیں- چنانچہ میں نے جب آپ سے وعدہ کر لیا تو بعض لوگ اس بات کو سن کر میرے پاس آئے اور کہا کہ اگر کسی مسلمان کو تم نے مکان کرایہ پر دیا تو آئندہ تم کو بھی کرایہ پر مکان اس علاقہ میں نہیں ملے گا- بے شک اس کی نظیریں مل جائیں گی کہ ہندوئوں نے مسلمانوں کو مکان کرایہ پر دیا ہوگا لیکن وہ مکان بنائے ہی اس غرض سے گئے ہونگے کہ کرایہ پر چڑھائے جائیں ورنہ ہندوئوں نے بڑے شہروں میں اپنے لئے الگ علاقے تجویز کر چھوڑے ہیں- ان میں کسی مسلمان کو نہیں آنے دیتے بالکل اسی طرح جس طرح سائوتھ افریقہ (SOUTHAFRICA)میں ہندوستانیوں سے اور اقوام کے لوگ سلوک کر رہے ہیں لیکن ان کے طریق عمل پر جہاں ہندو شور مچاتا ہے وہاں خود اسی کی نقل ہندوستان میں کر رہا ہے کیونکہ وہ سمجھ چکا ہے کہ اس طرح سگریگیشن (SEGREGATION) کرنے سے قوموں کو کمزور کیا جا سکتا ہے-
    یہ سگریگیشن صرف مکانوں کے متعلق ہی نہیں بلکہ جائدادوں کے متعلق بھی ہے اور ایک منظم صورت میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے جائیدادیں چھڑوا کر ہندوئوں کے قبضہ میں لائی جائیں- اگر ہندوستان کے بنیوں کے ان منصوبوں کو دیکھا جائے جو وہ مسلمانوں کی جائیدادوں کو اپنے قبضہ میں کرنے کے لئے کرتے ہیں تو صاف معلوم ہو جائے گا کہ ان کی اصل غرض مالی فائدہ کے لئے جائیداد پر قبضہ کرنا نہیں ہوتی بلکہ مسلمانوں کو کمزور کرنا ہوتی ہے- بسا اوقات جائیداد اس روپیہ کے مقابلہ میں حقیر ہوتی ہے جو انہوں نے قرض کے طور پر دیا ہوا ہوتا ہے لیکن ان کی اصل آمد ان جائیدادوں کے حصول کے بعد شروع ہوتی ہے- وہ اس علاقہ کے حاکم ہو جاتے ہیں اور اپنے مقروضوں پر ایک جابر بادشاہ کی طرف حکومت کرتے ہیں- یہ تو بھلا کسے توفیق ملے گی کہ وہ اصولی طور پر اس قرضہ کے سلسلہ کی تحقیق کرے مگر میں اس کے متعلق مسٹر تلک جو مشہور مرہٹہ لیڈر گذرے ہیں ان کی وصیت کا ذکر کرتا ہوں جس سے اس ارادہ کا پتہ لگ جائے گا- خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی نے حکیم وارثی صاحب کا ایک بیان شائع کیا ہے- مسٹر وارثی صاحب تحریک آزادی میں جوش سے حصہ لینے والے تھے اور بطور والنٹیئر تلک صاحب کے مکان پر پہرہ دیتے رہے تھے- وہ کہتے ہیں کہ مسٹر تلک نے مرتے وقت اپنے ایک دوست سے کہا کہ مسٹر گاندھی کو میرا یہ پیغام پہنچا دینا کہ-:
    >میری طرح ہمیشہ اس بات کا خیال رکھیں کہ جس طرح بھی ہو سکے ہندوستان کی سب جائیدادیں ہندوئوں کے قبضہ میں آ جائیں- پھر صرف حکومت کا مسئلہ باقی رہ جائے گا جس کا حل بالکل آسان ہوگا- مقدم بات یہ ہے کہ ملکیت ہندوئوں کے قبضہ میں آ جائے<-
    سرکاری ملازمتوں میں بھی یہ سگریگیشن (SEGREGATION) جاری ہے- پوری کوشش کی جاتی ہے کہ مسلمان اپنا جائز حق نہ لے سکیں- تمام محکمے ہندوئوں سے پر ہیں- ظاہر یہ کیا جاتا ہے کہ مسلمان ملتے نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہیں نالائق قرار دے کر رد کر دیا جاتا ہے- مسلمان عرضی دیتے ہیں تو اسے پھاڑ دیا جاتا ہے اور کہہ دیا جاتا ہے کہ کوئی جگہ نہیں- اسی دن یا دوسرے دن ہندو آ جاتا ہے تو اس کے لئے جگہ نکل آتی ہے- ایک معزز افسر تعلیم نے مجھ سے ذکر کیا کہ ایک مسلمان امیدوار ملازمت میرے پاس آیا اور میں نے اسے کہا کہ وہ دفتر میں عرضی دے دے- دوسرے دن اس نے مجھے آ کر کہا کہ ہیڈ کلرک نے اس پر یہ لکھ کر عرضی واپس کر دی ہے کہ کوئی گنجائش نہیں ہے- اسی دن یا دوسرے دن اس ہیڈ کلرک نے ایک ہندو کی عرضی میرے سامنے پیش کر دی کہ فلاں جگہ نکلی ہے اس پر اس شخص کو مقرر کیا جائے- میں نے اس سے پوچھا کہ فلاں مسلمان کی درخواست پر تو تم نے لکھا ہے کہ جگہ نہیں ہے اب اس ہندو کے لئے جگہ کہاں سے نکل آئی- تو کھسیانا سا ہو کر کہنے لگا کہ غلطی ہو گئی- اس کوشش کے علاوہ کہ مسلمان سروس میں نہ آ سکیں ایک منظم کوشش یہ بھی جاری ہے کہ مسلمان جو سروس میں آ چکے ہیں ان کو نکال دیا جائے- ہندو سنگھٹن کی ایک غرض یہ بھی تھی- چنانچہ سنگھٹن کی تحریک جو ۱۹۲۲ء سے شروع ہوئی اس کے معاً بعد پنجاب کے متعدد مسلمان افسروں کے خلاف مقدمات چلے اور انہیں ملازمتوں سے الگ کیا گیا- اور ان سب واقعات کی تہہ میں ہندو سنگھٹن کار فرما تھا- اگر کوئی مسلمان مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے والا ہو یا گورنمنٹ کا ساتھ دینے والا ہو تو پھر اس کی شامت ہی آ جاتی ہے- اگر ایک آزاد کمیشن کے ذریعہ سے تحقیق کرائی جائے تو ناقابل تردید ثبوت اس امر کا مل جائے گا کہ اگر کسی مسلمان افسر نے چند مسلمانوں کو ملازمت دلائی ہو خواہ وہ ان کی تعداد کے حق کے لحاظ سے کم ہی کیوں نہ ہو تو اس مسلمان کے خلاف کیا اخبارات میں اور کیا دفاتر میں ایک شور پڑ جاتا ہے اور خفیہ شکایات کی بھی اس قدر بھرمار ہوتی ہے کہ اس کی کوئی حد نہیں رہتی- انہی چند ماہ میں احمدی چونکہ کانگریس کا مقابلہ کرتے رہے ہیں ہندوئوں کے ایک منظم پروپیگنڈا کے ذریعہ سے انہیں تکلیف پہنچائی جا رہی ہے- حال میں پنجاب کی ایک نہر کے ایک ڈپٹی کلکٹر اور ایک اسسٹنٹ انجنیئر کو ان کے ہندو آفیسر نے سزائیں دلوائی ہیں- اس میں کوئی شک نہیں کہ الزام محکمانہ لگائے گئے ہیں لیکن ہر ایک شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ پندرہ بیس سالہ سروس کے بعد ایک ہی محکمہ میں ایک جماعت کے دو معزز افسر جو کانگریس کے پروپیگنڈا کی مخالفت کر رہے تھے ایک ہی ہندو افسر کے ذریعہ سے جو کانگریس کا موید ہے نالائق قرار پا جاتے ہیں تو ضرور اس میں کوئی بات ہوگی- آخر وجہ کیا ہے کہ ایک ہی کمیونٹی (COMMUNITY)کے دو افسر گرفت میں آ جاتے ہیں اور ایک ہی وقت میں گرفت میں آتے ہیں حالانکہ اس سے پہلے اپنی سروس کے لمبے عرصہ میں وہ ترقیات حاصل کرتے چلے آئے تھے اور محکمہ میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے-
    ممکن ہے بعض لوگ یہ خیال کریں کہ یہ نتیجہ غلط نکالا گیا ہے ہندوئوں کی مقررہ پالیسی یہ نہیں ہو سکتی اس لئے میں اس وقت ہندوئوں کے مشہور لیڈر بھائی پر مانند ایم- اے کی شہادت اس بارہ میں پیش کرتا ہوں- وہ ہندوستان کی مختلف رنگ میں خدمت کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے جو ہندو گورنمنٹ سروس میں ہیں- ان کا نقطہ نگاہ یہ بیان کرتے ہیں-
    >سرکاری مہربانی حاصل کرنے کی جدوجہد کریں اور کچھ سرکاری عہدے اپنے ہاتھ میں رکھیں اور سرکار کے ساتھ مل کر پہلے مسلمانوں کو کمزور کریں اور ہندوئوں کی طاقت بڑھا لیں- جب اس طرح طاقت بڑھ جائے گی تو پھر سوراج حاصل کرنے کے لئے کوشش کی جا سکتی ہے<-۱۸~}~
    یہ اس شخص کا بیان ہے جس نے لالہ لاجپت رائے کی زندگی کے آخری ایام میں ان سے بھی زیادہ ہندو قوم میں رسوخ اور طاقت پیدا کر لی تھی- تمدنی طور پر جو مسلمانوں کا بائیکاٹ ہو رہا ہے وہ بھی کم شدید نہیں- مسلمان ہندوئوں کو ملازم رکھتے ہیں لیکن ہندو مسلمان کو بہت ہی کم ملازمت دیتا ہے اور جب دیتا ہے تو صرف اپنے مطلب اور فائدہ کیلئے دیتا ہے- باجہ اور گائے کے سوال کو ایک عظیم الشان جھگڑے کا موجب بنایا ہوا ہے- وید کے زمانہ کے ہندو خود گائے کا گوشت کھایا کرتے تھے اور قربانیاں کیا کرتے تھے- چنانچہ رگوید اور اتھروید سے اس کا ثبوت ملتا ہے- اتھر وید کانڈ ۹- سوکت ۳ کے نویں منتر میں لکھا ہے کہ -:
    ‏iqt] [tag >اہل خانہ گائے کا شیریں دودھ اور لذیذ گوشت مہمان کو کھلائے بغیر نہ کھائے<-
    پنڈت ابناس چندر داس ایم- اے لکھتے ہیں-:
    >قدیم آریوں کے ہاں گائے کے گوشت کھانے کی شہادت پائی جاتی ہے- لیکن دودھ نہ دینے والی گائیں شاذ و نادر ہی ماری جاتی تھیں<- ۱۹~}~
    ہندوئوں میں قربانی کا اس قدر رواج تھا کہ بدھ حکومتوں کے خلاف بغاوت کی وجہ یہ قرار دی گئی تھی کہ انہوں نے قربانی کو روک دیا تھا- چنانچہ مہامہوپادھیائے پنڈت ہرپرشاد شاستری لکھتے ہیں-:
    >اس )اشوک کی ریاست کے خلاف ہندوئوں کی بغاوت( کا سبب جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے یہ تھا کہ اشوک نے اپنی حکومت میں جانوروں کی قربانی بند کر دی تھی- مگر پشیہ پتر نے تخت پر بیٹھتے ہی دارالخلافہ میں اشومیدھ یگیہ کیا<- )جانور کی قربانی کی عبادت گزاری( ۲۰~}~
    اب یہ کیا تعجب کی بات نہیں کہ بدھوں کے زمانہ میں تو قربانی روکنے کو بغاوت کا ذریعہ بنایا گیا تھا اور اس زمانہ میں قربانی کی اجازت کو جنگ کا ذریعہ بنایا جاتا ہے- یقیناً مسلمانوں کے آخری زمانہ میں عوام الناس کو بھڑکانے کے لئے یہ ایک تدبیر ایجاد کی گئی تھی اور اسے ترقی دیتے دیتے اب ایک قومی خیال بنا لیا گیا ہے- گائے کے متعلق ہندو قوم کا ظلم اس قدر بڑھ گیا ہے کہ کوئی صوبہ ایسا نہیں جس میں گائے کی وجہ سے خون ریزی نہ ہو چکی ہو اور کوئی سال نہیں گزرتا کہ جس میں گائے کی قربانی کی وجہ سے فساد نہ ہو جاتا ہو حالانکہ مسلمان اپنے لئے گائے قربان کرتے ہیں اور خود کھاتے ہیں` ہندوئوں کو اس سے کیا تعلق- اور اس ظلم پر مزیدبرآں یہ بات ہے کہ ان فسادات پر ہندو قوم فساد کرنے والوں کو ڈانٹتی نہیں بلکہ ان کے لئے عذر تلاش کرتی ہے- پچھلے دس سال میں جس قدر فساد ہوئے ہیں ان کی اگر لسٹ بنائی جائے تو نوے فیصدی فسادوں کی بنیاد ہندوئوں کی طرف سے ثابت ہوگی- اور پھر ساتھ ہی یہ عجیب بات ثابت ہوگی کہ جو فساد مسلمانوں کی غلطی سے ہوئے ہیں ان پر مسلمانوں نے اپنی قوم کو بڑی سختی سے ڈانٹا ہے لیکن وہ نوے فیصدی فساد جو ہندوئوں کی طرف سے ہوئے ہیں ان پر ہندو قوم اور ہندو پریس نے یا تو الزام مسلمانوں پر لگانے کی کوشش کی ہے اور یا پھر فسادیوں کی تائید میں عذر تلاش کرنے لگ گئے ہیں- اب ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ ڈیماکریسی جس کا پہلا اصل یہ ہے کہ دوسرے کے فعل میں دست اندازی نہ کی جائے` وہ اور یہ طریق عمل کسی صورت میں یکجا نہیں رہ سکتے-
    جہاں جہاں ہندوئوں کا زور ہے وہاں میونسپل قواعد ایسے بنائے گئے ہیں کہ گائے کا ذبیحہ بند ہو جائے` گورنمنٹ بھی مذبحوں کے کھولنے میں روکاٹ ڈالتی ہے- جہاں چھائونی ہو وہاں تو فوجیوں کے لئے گائے کا گوشت مہیا کرنے کے لئے خود سرکاری طور پر انتظام کیا جاتا ہے لیکن مسلمانوں کی ضرورت کو فساد کا موجب سمجھا جاتا ہے- انگریزی علاقہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی ناقابل برداشت ہے مگر ہندو ریاستوں میں جو کچھ ہوتا ہے وہ تو انتہاء سے بڑھا ہوا ہے اور اس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اگر ہندوستان میں آزاد حکومت ہوئی تو ہندو اس بارے میں مسلمانوں سے کیا سلوک کریں گے- کشمیر جس میں پچانوے فیصدی مسلمانوں کی آبادی ہے اس میں گائے ذبح کرنے پر کہتے ہیں کہ سات سال قید کی سزا مقرر ہے- اس کا الزام موجودہ مہاراجہ صاحب پر نہیں وہ ایسے والد کے بیٹے ہیں کہ جن کو اسلام سے انس تھا- وہ سلسلہ احمدیہ کے پہلے خلیفہ سے جب کہ وہ کشمیر میں شاہی طبیب تھے خاص انس رکھتے تھے اور انہیں بھائیوں کی طرح جانتے تھے- بلکہ ان کے والد کے تعلق کی وجہ سے ہی انہیں کشمیر چھوڑنا پڑا- پس میں انہیں خاص محبت اور عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں بے تعصب حکمران بننے کی توفیق دے گا اور وہ دوسرے ہندو راجوں کے لئے ایک عمدہ مثال قائم کریں گے- دوسری ریاستوں کا حال بھی کم خراب نہیں- ایک اعلیٰ انگریز پولیٹیکل افسر کی روایت ہے کہ میں ایک ریاست میں ریذیڈنٹ تھا- وہاں مسلمانوں نے گائے ذبح کر دی ان لوگوں سے ایک لاکھ روپیہ ریاست نے لے کر چھوڑا لیکن دوسرے ہی دن ایک بچہ کا قتل ہو گیا تو پچیسروپیہ پر معاملہ کو دبا دیا گیا وہ کہتے ہیں جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے ریاست والوں کو ملامت کی-
    اس سے بھی بڑھ کر اب یہ ظلم ہو رہا ہے کہ بعض ہندو ریاستوں میں تبلیغ اسلام کو بالکل روک دیا گیا ہے اور وہ اس طرح کہ قانون بنا دیا گیا ہے کہ کوئی شخص عدالت میں حاضر ہوئے بغیر مذہب نہیں بدل سکتا- نتیجہ یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان ہندو ہونا چاہے تو اسے فوراً اجازت مل جاتی ہے لیکن اگر ہندو مسلمان ہونا چاہے تو بڑی لمبی تحقیقات ہوتی ہے- ان اشخاص کے نام دریافت کئے جاتے ہیں جنہوں نے اسے تبلیغ کی تھی- پھر انہیں بھی دق کیا جاتا ہے اور اس مسلمان ہونے کے خواہشمند کو بھی تکلیف دی جاتی ہے اور بعض دفعہ جھوٹے الزام لگا کر قید کر دیا جاتا ہے اور یہاں تک تنگ کیا جاتا ہے کہ اس کی نظروں میں دنیا تاریک ہو جاتی ہے اور یوں نظر آتا ہے کہ گویا نعوذ باللہ اس ملک میں خدا تعالیٰ کی بادشاہت نہیں ہے اور یا تو وہ شخص اس علاقہ کو چھوڑ دیتا ہے یا پھر ڈر کر اپنا ارادہ ترک کر دیتا ہے-
    یہی ظلم مہذب دنیا کو حیران کر دینے کے لئے کافی ہے لیکن بعض جگہ ظلم اس سے بھی بڑھ جاتا ہے- چنانچہ پچھلے دنوں یو-پی میں ہندوئوں نے کمزور مسلمانوں کو ہندو بنانے کی کوشش شروع کی تو ایک ہندو ریاست جو اس علاقہ کے ساتھ تھی وہاں سپرنٹنڈنٹ پولیس نے خود کھڑے ہو کر اپنے سامنے ایک گائوں کے لوگوں کو جبراً شدھ کیا- ایک بوڑھی عورت جہیہ نامی )میں نے اس کا نام اس لئے لکھ دیا ہے تا آئندہ نسلوں میں اس کی یاد قائم رہے( ایسی تھی جس نے انکار کیا اور صاف کہہ دیا کہ میں مذہب کو ہر گز قربان نہیں کروں گی- اسے طرح طرح سے دکھ دیا گیا لیکن وہ ساٹھ ¶سالہ بڑھیا اپنے ایمان پر ثابت قدم رہی بلکہ ایک بڑی میٹنگ جو اس کی قوم نے شدھی کے متعلق غور کرنے کے لئے انگریزی علاقہ میں منعقد کی تھی` اس میں وہ کھڑی ہو گئی اور اس نے بڑے زور سے اعلان کیا کہ میں اپنے بچوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کرنا پسند کروں گی لیکن اسلام کو نہیں چھوڑوں گی- اگر تم مردوں نے اس ظلم کا مقابلہ نہ کیا تو ہم عورتیں اس کا مقابلہ کریں گی- نتیجہ یہ ہوا کہ اس عورت کو پانی سے روک دیا گیا` اس کے کھیتوں کو کاٹنے سے روکا گیا` میں نے جب یہ واقعات سنے تو اپنی جماعت کے تعلیم یافتہ آدمیوں کو بھیجا کہ وہ اپنے ہاتھ سے اس کے کھیت کاٹیں اور چونکہ اس کو رہائش کی بھی تکلیف تھی اس کے لئے ایک مکان بنوا دیا اور اس غرض سے وہاں مبلغ بھیجے کہ ان لوگوں کو ڈھارس دیں اور اسلام کی طرف واپس لائیں لیکن ریاست نے جھٹ قانون بنا دیا کہ کوئی انگریزی علاقہ کا آدمی اس علاقہ میں رات کو نہ رہے- اس پر ہمارے مبلغ انگریزی علاقہ میں خیمے لگا کر رہنے لگے- صبح کو وہ وہاں سے چلے جاتے تھے اور شام کو واپس آ جاتے تھے- شدید گرمی میں ناقابل برداشت تکالیف اٹھا کر انہوں نے اس ظلم کا مقابلہ کیا۔۔۔۔۔۔۔ لیکن حکومت برطانیہ کے دفاتر نے باوجود توجہ دلانے کے کوئی توجہ نہ کی کیونکہ ان کے خیال میں ریاستیں آزاد ہیں- جب کہ ریاستوں کے بارہ میں اس وقت ان کا یہ حال ہے تو کون امید کر سکتا ہے کہ آئینی گورنر آزاد صوبہ جات کے معاملات میں مسلمانوں کی خاطر دخل دے گا پس یہ حفاظتی تدبیر ہمیں کب تسلی دے سکتی ہے-
    یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ متعصبانہ خیالات صرف بعض لوگوں کے ہیں- ایسا نہیں بلکہ ہندو قوم بدقسمتی سے بہ حیثیت قوم اس مرض میں مبتلا ہو چکی ہے اور صرف ایک قلیل تعداد اس مرض سے بچی ہوئی ہے- چنانچہ اس وقت شہادت کے طور پر میں خود مسٹر گاندھی کو پیش کرتا ہوں- مسٹر گاندھی نے ۱۹۱۸ء میں ایک تقریر کے دوران میں بیان کیا-
    >یہ خیال نہ کرنا چاہئے کہ یورپین کے لئے گائو کشی جاری رہنے کی بابت ہندو کچھ بھی محسوس نہیں کرتے- میں جانتا ہوں کہ ان کا غصہ اس خوف کے نیچے دب رہا ہے جو انگریزی عملداری نے پیدا کر دیا ہے- مگر ایک ہندو بھی ہندوستان کے طولوعرض میں ایسا نہیں ہے جو ایک دن اپنی سرزمین کو گائو کشی سے آزاد کرانے کی امید نہ رکھتا ہو- اور ہندو مذہب کو جیسا کہ میں جانتا ہوں` اس کی روح کے سراسر خلاف عیسائی یا مسلمان کو بزور شمشیر بھی گائو کشی چھوڑنے پر مجبور کرنے سے اغماض نہ کرے گا<- ۲۱~}~
    مسٹر گاندھی کے اس بیان کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ یہ جذبہ تعصب صرف چند جاہل افراد میں ہے اور اس کی زیادہ پرواہ نہیں کرنی چاہئے-
    ہندوئوں کے آئندہ ارادے اقلیت کے متعلق
    اس امر کے ثابت کرنے کے بعد کہ زندگی کے ہر شعبہ میں مسلمانوں کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کے لئے اکثریت نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے جس کی موجودگی میں صرف ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کو حفاظت کا ذریعہ نہیں سمجھا جا سکتا- اب میں یہ بتاتا ہوں کہ ہندوئوں کے آئندہ ارادے اقلیت کے متعلق کیا ہیں کیونکہ جب یہ ثابت ہو جائے کہ ایک اکثریت پہلے سے ارادہ کر کے آزادی کے حصول کو اقلیت کی ہر محبوب چیز کے قربان کرنے کا ذریعہ بنانا چاہتی ہے تو یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ اس کا نقطہ نگاہ کسی قریب کے مستقبل میں بدل جائے گا-
    انگریزی حکومت سے وفاداری کا مسلمانوں کو کیا صلہ ملے گا
    ہندوئوں کے مشہور قومی لیکچرار ستیہ دیو صاحب اپنے ایک لیکچر میں بیان کرتے ہیں-:
    >میرا خیال ہے کہ مسلمانوں کا مستقبل اگر وہ قوم پرست نہ بنیں بڑے خطرہ میں رہے گا- ہندوستان کے مسلمان اگر اپنے مذہبی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیوانہ پن میں ڈوبے رہے )یعنی ہندو نہ ہو گئے( تو ان کا کام صرف بدیشی گورنمنٹ کی مدد کر کے ہندوستان کو غلام رکھنا رہ جائے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کسی آزادی کے موقع پر ملک کے سب لوگ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی ہستی بڑے خطرے میں پڑ جائے گی- مسلمانوں کی نجات کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ قوم پرستی کا ہے<- ]2 [stf۲۲~}~
    اس اعلان کے الفاظ کسی تشریح کے محتاج نہیں- آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کو صرف اسلام کے جرم کی ہی سزا نہیں ملے گی بلکہ انگریزی حکومت سے تعاون کی بھی سزا ملے گی اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ لارڈارون (LORDIRWIN) اور مسٹربن BEN)۔(MR نے جو پچھلے دنوں مسلمانوں کی وفاداری کے متواتر اعلان کئے ہیں اس میں انہوں نے مسلمانوں کی خیر خواہی نہیں کی بلکہ مذکورہ بالا اعلان کی موجودگی میں ان کے موت کے وارنٹ (WARRANT) پر دستخط کئے ہیں-
    مسلمان کن شرائط پر ہندوستان میں رہ سکیں گے
    یہی ملکی خادم سا گر صوبہ سی-پی میں اپنی تقریر میں یہ بھی بیان کرتا ہے-:
    >ہندوئو! سنگھٹن کرو اور مضبوط بنو اس دنیا میں طاقت ہی کی پوجا ہوتی ہے- اور جب تم مضبوط بن جائو گے تو یہی مسلمان خود بخود تمہارے قدموں پر اپنا سر جھکا دیں گے<- >جب ہم ہندو سنگھٹن کے ذریعہ سے خاطر خواہ طور پر مضبوط ہو جائیں گے- تو مسلمانوں کے سامنے یہ شرائط پیش کریں گے- )۱-( قرآن کو الہامی کتاب نہیں سمجھنا چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔ )۲-( حضرت محمد کو رسول خدا نہ کہا جائے- )۳( عرب وغیرہ کا خیال دل سے دور کر دینا چاہئے- )۴( سعدی و رومی کی بجائے کبیر و تلسی داس کی تصانیف کا مطالعہ کیا جائے- )۵( اسلامی تہواروں اور تعطیلوں کی بجائے ہندو تہوار تعطیلات منائی جائیں- )۶( مسلمانوں کو رام و کرشن وغیرہ دیوتائوں کے تہوار منانے چاہئیں- )۷( انہیں اسلامی نام بھی چھوڑ دینے چاہئیں اور ان کی جگہ رام دین` کرشن خاں وغیرہ نام رکھنے چاہئیں- )۸( عربی کی بجائے تمام عبادتیں ہندی میں کی جائیں<- ۲۳~}~
    پھر یہی صاحب فرماتے ہیں-:
    >بھارت ورش کی قومی زبان ہے سنسکرت- عربی اور فارسی کو میں بھارتورش سے باہر کر دینا چاہتا ہوں<-
    اس عبارت سے ظاہر ہے کہ ہندو سوراج میں مسلمانوں سے یہ سلوک کرنا چاہتے ہیں کہ ان سے ان کا مذہب` ان کا تمدن اور ان کی زبان اور ان کے نام تک چھڑوانا چاہتے ہیں-
    شاید کوئی کہے کہ ستیہ دیو گو کتنے ہی بڑے آدمی ہوں لیکن ہندو قوم کے چوٹی کے لیڈر نہیں اس لئے میں چند چوٹی کے لیڈروں کے حوالہ جات نقل کرتا ہوں- ڈاکٹر مونجے جو رائونڈٹیبل کانفرنس CONFERENCE) TABLE (ROUND کے نمائندے مقرر ہوئے ہیں- ہندوئوں کو یوں نصیحت کرتے ہیں-
    >ہندو اگر سنگھٹ ہو جائیں تو انگریزوں اور ان کے مسلمان پٹھوئوں کو کسی دوسرے کی مدد کے بغیر نیچا دکھا کر سوراج حاصل کر سکتے ہیں- مسٹر جناح کی تجاویز فورٹین ڈیمانڈز آف مسلمز DEMONDSOFMUSLIMS) (FOURTEEN منتقمانہمقابلہ کی دھمکی دے رہی ہیں جن کی ہندوئوں کو کچھ پرواہ نہیں- ہندوئوں کو یہ پرانا خیال دل سے نکال دینا چاہئے کہ مسلمانوں کی مدد کے بغیر سوراج حاصل ہونا محال ہے<-
    ڈاکٹر مونجے صاف لفظوں میں ظاہر کر رہے ہیں کہ ہندو مسلمانوں کو ان کا حق دینے کو تیار نہیں ہیں- وہ اپنے زور سے انگریزوں اور مسلمانوں دونوں کو درست کر کے رکھ دیں گے اور مسلمانوں سے کوئی سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہونگے- جن لوگوں کا شروع میں یہ حال ہے ان کا انجام کیا ہوگا؟
    ایک اور ہندو لیڈر لالہ ہردیال ایم- اے جن سے یورپ و امریکہ کے لوگ خوب واقف ہیں لکھتے ہیں-
    >جب انگلستان کچھ عرصہ بعد ہوم رول (HOMERULE) یعنی ۷۵فیصدی سوراجیہ ہمیں پیش کرے تو وہ ہندو قومی دل کے ساتھ عہدوپیمانکرے<- ۲۴~}~
    پھر یہی صاحب لکھتے ہیں-:
    >ہندو سنگھٹن کا آدرش یہ ہے کہ ہندو قومی سنتھائوں انسٹی چیوشنز (INSUITUTIONS) کی بنیادوں پر ہندو قومی ریاست قائم کی جائے- ہندو قومی سنتھائیں یہ ہیں- مثلاً سنسکرت بھاشا` ہندی بھاشا` ہندو قوم کا اتہاس` ہندو تہوار` ہندو مہاپرشوں کا سمرن` ہندوئوں کے دیش بھارت یا ہندوئوں کے ستھان کا پریم` ہندو قوم کے ساہتیہ کا پریم وغیرہ وغیرہ- پھر جو لوگ آج کل کے نیم عربی` نیم ایرانی مسلمانوں کو قومی تحریک میں خواہ مخواہ شامل کرنا چاہتے ہیں وہ اس صداقت کو نہیں سمجھتے کہ ہر ایک قومی ریاست پرانی قومی سنتھائوں پر قائم کی جاتی ہے جن سے لوگوں میں یگانگت کا بھائو پیدا ہوتا ہے<- ۲۵~}~
    پھر یہی صاحب لکھتے ہیں-:
    >جب ہندو سنگھٹن کی طاقت سے سوراجیہ لینے کا وقت قریب آئے گا- تو ہماری جو نیتی )پالیسی( عیسائیوں اور مسلمانوں کی طرف ہوگی اس کا اعلان کر دیا جائے گا- اس وقت باہمی سمجھوتہ وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ہندو مہاسبھا صرف اپنے فیصلہ کا اعلان کرے گی کہ نئی ہندو ریاست میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے کیا فرائض اور حقوق ہونگے اور ان کی شدھی کی کیا شرائط ہونگی<- ۲۶~}~
    اسی طرح یہ صاحب فرماتے ہیں-:
    >سوراج پارٹی کا اصول ہونا چاہئے کہ ہر ہندوستانی بچہ کو قومی رتن دیئے جائیں خواہ وہ مسلمان ہو یا عیسائی- اگر کوئی فرقہ ان کے لینے سے انکار کرے اور ملک میں دورنگی پھیلائے تو اس کی قانونی طور پر ممانعت کر دی جائے- یا اس کو عرب کے ریگستان میں کھجوریں کھانے کے لئے بھیج دیا جائے- ہمارے ہندوستان کے آم کیلئے اور نارنگیاں کھانے کا انہیں کوئی حق نہیں<- ۲۷~}~
    یہی لالہ ہردیال صاحب ایک اور موقع پر فرماتے ہیں-:
    >میں کہتا ہوں کہ ہندو قوم اور ہندوستان اور پنجاب کا مستقبل ان چار آدرشوں )نصب العین( پر منحصر ہے- یعنی )۱( ہندو سنگھٹن )۲( ہندو راج )۳( اسلام اور عیسائیت کی شدھی )۴( افغانستان اور سرحد کی فتح اور شدھی<-
    >اگر ہندوئوں کو اپنی رکھشا کرنی منظور ہے تو خود ہاتھ پائوں ہلانے پڑیں گے اور مہاراجہ رنجیت سنگھ اور سردار ہری سنگھ نلوہ کی یادگار میں افغانستان اور سرحد کو فتح کر کے تمام پہاڑی قبیلوں کی شدھی کرنی ہوگی- اگر ہندو اس فرض سے غافل رہیں گے تو پھر اسلامی حکومت ہندوستان میں قائم ہو جائے گی<- ۲۸~}~
    پھر یہی صاحب فرماتے ہیں-:
    >جب تک پنجاب اور ہندوستان بدیشی مذہبوں )یعنی عیسائیت اور اسلام( سے پاک نہ ہوگا تب تک ہمیں چین سے سونا نہیں ملے گا- جو ہندو اس آدرش )مقصد( کو نہیں مانتا وہ کپوت ہے` بے جان ہے` مردہ دل ہے` بے سمجھ ہے` ہر سچے ہندو کی یہ خواہش ہونی چاہئے کہ اپنے دیش کو اسلام اور عیسائیت سے پاک کر دے<- ۲۹~}~
    مہاشہ کرشن ورنیکلر پریس (VERNACULARPRESS)کے سب سے بڑے مالکوں میں سے ہیں- اور آریہ پرتی مذہبی سبھا کے اہم ترین ممبروں میں سے ہیں- وہ لکھتے ہیں-:
    >اب وقت دور نہیں سمجھنا چاہئے جب کہ یہ اسلام ہمیشہ کے لئے سرزمین ہند سے غائب ہو جائے گا اور جو شخص خواہ وہ مہاتما گاندھی بھی کیوں نہ ہو- ایسے اسلام کی اشاعت یا ڈیفنس (DEFENCE) میں بالواسطہ یا غیر واسطہ مدد دے گا وہ ملک اور سوراجیہ کا دشمن سمجھا جائے گا اور کوئی سچا ہندو ایسے اشخاص کے ساتھ اپنا کسی قسم کا تعلق نہیں رکھے گا<-
    >سب سے پہلے آپ کا یہ فرض ہوگا کہ ایسے اسلام کو ہمیشہ کے لئے گنگا جی کے سپرد کر دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب تک مسلمان تبلیغ کو ہندوستان کے اندر سے بند نہیں کریں گے دونوں قوموں میں اتحاد نہیں ہوگا اور جو لوگ وید بھگوان اور رام کرشن کا نام مٹا کر عرب کے ریگستان کی تہذیب اور حضرت محمد کا نام سرزمین ورت میں پھیلانا چاہتے ہیں ان کے ساتھ ہندوئوں کا اتحاد کبھی نہیں ہو سکتا<- ۳۰2]~}~ ftr[
    پروفیسر رام دیو جو آریہ سماج کے بڑے لیڈر اور ان کے مرکزی کالج کے پرنسپل رہے ہیں اور بعد میں سیاسی کاموں میں پڑ گئے لکھتے ہیں-:
    >ہندوستان کی ہر ایک مسجد پر ویدک دھرم یا آریہ سماج کا جھنڈا بلند کیا جائے گا<- ۳۱~}~
    یہی صاحب آریہ سماج کے سالانہ جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے فرما چکے ہیں-:
    >اسی طرح اب ایک زمانہ آنے والا ہے کہ تمام مسجدیں آریہ مندر بنائے جائیں گے اور ان میں ہون ہوا کریں گے- میں سوچا کرتا ہوں کہ جب دہلی کی جامعمسجد آ جائے گی- ہم کیا کریں گے- ہم تمام ہندوستان کے آریہ نہیں بلکہ تمام دنیا کے آریہ جمع ہو کر ایک کانفرنس کیا کریں گے<-
    ڈاکٹر گوکل چند نارنگ ایم-ایل-سی لاہور ہائی کورٹ کی بار کے پریزیڈنٹ جو سائمنکمیشن کی پنجاب کمیٹی کے ممبر بھی تھے- فرماتے ہیں-:
    >مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی شرم نہیں آتی کہ اگر آپ کے ایک ہندو بھائی کو مسلمان بنانے میں آپ کسی کو روکتے نہیں اور وہ باز نہیں آتا تو بہتر ہے کہ آپ وہاں کٹ کر مر جائیں<- 2] [stf۳۲~}~
    یہ تو انگریزی علاقہ کے لوگوں کا حال ہے- اب ریاستوں کا حال دیکھیں- سر والٹر لارنس LAWRENCE) WALTER (SIR اپنی کتاب SERVED WE WHICH INDIA )انڈیا جس کی ہم نے خدمت کی( میں لکھتے ہیں کہ-:
    لارڈ کرزن (LORDCURZON) نے میری دعوت کا انتظام کیا تھا- جنرلسر پرتاب سنگھ بہادر برادر مہاراجہ صاحب جودھ پور میرے بڑے دوست تھے- دیرتک مجھ سے باتیں کرتے رہے- دوران گفتگو میں کہنے لگے کہ >میرا مقصد یہ ہے کہ میں مسلمانوں کو ہندوستان میں فنا کر دوں<- میں نے ان کے اس تعصب کی مذمت کی اور ان کے اور اپنے مسلمان دوستوں کا ذکر کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ >ہاں میں بھی انہیں پسند کرتا ہوں لیکن مجھے زیادہ اچھا یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرجائیں<-۳۳~}~
    ان حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر حصہ ہندو لیڈروں کا خواہ انگریزی علاقہ کے ہوں یا ریاستوں کے )۱( مسلمانوں سے شدید تعصب رکھتے ہیں- )۲( وہ علے الاعلان یہ ارادہ ظاہر کر چکے ہیں کہ اگر ان کو طاقت حاصل ہوئی تو وہ مسلمانوں کو ہلاک کر دیں گے )۳( وہ ہندوستان میں صرف ہندو راج قائم کریں گے- )۴( عیسائیوں اور مسلمانوں سے وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے بلکہ اپنی مرضی کے مطابق ان کو ہندوستان میں رہنے کی اجازت دیں گے- اور اس اجازت کے ساتھ یہ شرط ہوگی کہ وہ اپنے مذہب کو چھوڑ کر ہندو ہو جائیں- )۵(وہ مسلمانوں کی زبان کو مٹا دیں گے- )۶( وہ اقلیتوں کے تہواروں کو قانونا ناجائز کر دیں گے- )۷( ان کی عبادتوں کو بدلائیں گے- )۸( گائے کے ذبیحہ کو بزور شمشیر روک دیں گے- )۹( تبلیغ کو ناجائز کر دیں گے- )۱۰( اگر کوئی ہندو اقلیت کے مذہب کو قبول کرنے لگے گا تو ہندو اس سے روکیں گے لیکن اگر وہ باز نہ آیا تو ہندو کٹ کر مر جائیں گے- )۱۱( افغانستان اور سرحد کو فتح کر کے انہیں شدھ کر لیا جائے گا- )۱۲( مسلمانوں کی مسجدوں کو مندروں میں تبدیل کر دیا جائے گا- )۱۳( مسلمانوں کے اسلامی نام تک بدل دیئے جائیں گے- )۱۴( جو لوگ ہندو زبان` ہندو مذہب اور ہندو تہذیب اور ہندو تہوار اختیار کرنے کو تیار نہ ہوں گے انہیں ہندوستان سے نکال دیا جائے گا- )۱۵( اگر کوئی شخص خواہ مہاتما گاندھی ہی کیوں نہ ہوں اسلام اور مسلمانوں سے نرمی کی تعلیم دے گا تو اس کا بھی ہندو بائیکاٹ کر دیں گے-
    یہ ارادے ہیں جو سوراج کے قیام پر ہندو مسلمانوں کے متعلق خصوصاً اور دوسری اقلیتوں کے متعلق عموماً رکھتے ہیں- جو ان کا موجودہ سلوک ہے اس کا ذکر پہلے کر آیا ہوں- کیا ان کی موجودگی میں کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ اقلیتوں کو اپنے حقوق کی حفاظت کا مطالبہ نہیں کرنا چاہئے یا یہ کہ ایسا مطالبہ ڈیماکریسی (DEMOCRACY) کے اصول کے خلاف ہے- کیا اس قدر سخت سلوک اور اس قدر خطرناک ارادوں کی موجودگی میں دنیا کی کسی اور اقلیت نے بھی اس قدر نرم مطالبے کیے ہیں جس قدر کہ مسلمانوں کی طرف سے پیش ہوتے ہیں؟ ][ میں اس جگہ یہ امر بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں ہر گز یہ نہیں سمجھتا کہ سب کے سب ہندو مذکورہ بالا خیالات میں مبتلا ہیں- ان میں یقیناً ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان خیالات کو اسی طرح حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں گے جس طرح اقلیتوں کے لوگ- چنانچہ بعض ہندوصاحبان نے ان خیالات کے خلاف اظہار نفرت کیا بھی ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ یہ طبقہ بہت تھوڑا اور دوسرے گروہ کے مقابلہ میں کم اثر رکھنے والا ہے- ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ایک دن ایسا آ جائے کہ ہندوئوں کے دل سے تعصب اور کینہ نکل جائے اور وہ اپنے اس مرض سے صحت پا جائیں جس کی وجہ سے اپنی قوم کے سوا ہر قوم انہیں گردن زدنی نظر آتی ہے- لیکن جب تک وہ دن آئے اس وقت تک نہایت ضروری ہے کہ اقلیتوں کی حفاظت کا کوئی سامان ہو-
    ‏ a11.9
    انوار العلوم جلد ۱۱
    ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل
    باب ششم
    اقلیتوں کی حفاظت کی تدابیر کے اصول
    سائمن کمیشن نے اس اختلاف کو تسلیم کیا ہے جو اکثریت اور اقلیت میں ہے لیکن بوجہ غیرملکی ہونے کے وہ لوگ اس کی پوری کیفیت کو معلوم نہیں کر سکے اور اسی وجہ سے وہ اس کا صحیح علاج تجویز کرنے سے قاصر رہے ہیں- انہوں نے اختصار کے ساتھ ہندو مسلمانوں کو جھگڑے کا جو گائے اور باجہ کے متعلق ہوتا ہے ذکر کیا ہے لیکن وہ یہ معلوم نہیں کر سکے کہ یہاں صرف گائے کا سوال نہیں بلکہ اس اقتصادی اور تمدنی بائیکاٹ کا سوال ہے جو عرصہ دراز سے ہندومسلمانوں کا کرتے چلے آئے ہیں- کمیشن کو اس اختلاف کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی کیونکہ اس کے اہم فرائض میں سے ایک یہ فرض بھی تھا کہ وہ ایسے قوانین تجویز کرے جو اس اختلاف کے برے نتیجوں سے دونوں قوموں کو محفوظ رکھیں- لیکن جب تک اختلاف کی حقیقت اور اس کی گہرائی کو اہل کمیشن معلوم نہ کرتے وہ علاج کس طرح تجویز کر سکتے تھے- انہوں نے صرف گائے اور باجے کے سوال کو لے لیا اور اس پر غور نہیں کیا کہ گائے کا سوال ہندو سنگھٹن کی تدابیر میں سے ایک تدبیر ہے اور یہ کہ اس سوال نے موجودہ صورت صرف اسلامی حکومت کے آخری ایام میں اختیار کی ہے بلکہ اب تک بھی بعض ہندو اقوام ہندوستان میں ایسی موجود ہیں جو گائے کا گوشت کھا لیتی ہیں گو اس سیاسی ایجی ٹیشن کی وجہ سے ان کی تعداد کم ہوتی چلی جا رہی ہے- کمیشن کو اس منظم بائیکاٹ کی حقیقت کو معلوم کرنا چاہئے تھا جو مسلمانوں کا ہر شعبہ زندگی میں کیا جا رہا ہے- کیا تجارت اور کیا تمدن اور کیا ملازمت اور کیا اقتصادیات ایک بھی تو شعبہ ایسا نہیں جس میں مسلمانوں کو مذہب یا حفظان صحت یا اقتصاد کے نام سے نقصان نہیں پہنچایا جاتا-
    پس اصل غرض سیاسی برتری کا حصول ہے- گائے کے سوال کو ہی لے لو- اگر تو صرف جہلاء کا معاملہ ہوتا تو ہم کہتے کہ بوجہ گائے کو پوجنے کے انہیں جوش آ جاتا ہے لیکن یہ کیا وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ بھی اس سوال میں ویسے ہی جوش سے حصہ لیتے ہیں جس طرح کہ جہلاء اور ایسے تعلیم یافتہ لوگ بھی اس موقع پر جوش میں آ جاتے ہیں جو گائے کے کھانے سے بھی پرہیز نہیں کرتے-
    اس وقت سیاسی تحریک کی باگ ڈور زیادہ تر غیر ممالک میں تعلیم پانے والے لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور یورپین لوگ اس امر کو خوب جانتے ہیں کہ جس وقت یہ لوگ یورپ میں آتے ہیں تو ان میں سے اکثر بلکہ نوے فیصدی سے زیادہ گائے کا گوشت خوب کھاتے ہیں- میں نے جب ۱۹۲۴ء میں ولایت کا سفر کیا تو میرے ایک سیکرٹری صاحب نے یہ دیکھ کر کہ ویٹر (WAITER) ہمیشہ سور کا گوشت ہی سامنے لاتا ہے اور واپس کرنے پر بہت حیران ہوتا ہے- اسے سمجھایا کہ ہم لوگ مسلمان ہیں ہمارے سامنے سور کا گوشت پیش ہی نہ کیا کرو- ان کے ساتھ ایک ہندو صاحب بیٹھا کرتے تھے اور ہندو مذہب کے متعلق خوب بحثیں کیا کرتے تھے ان کے متعلق بھی کہہ دیا کہ یہ صاحب گائے کا گوشت نہیں کھاتے ان کے سامنے گائے کا گوشت نہ لایا کرو- وہ صاحب اس وقت تو خاموش ہو رہے لیکن ایک دو دن میں ہی اس محرومی کی تاب نہ لا سکے اور صاف کہہ دیا کہ میں اپنے کھانے کے متعلق خود ہدایت دے لوں گا آپ کو اس سے کچھ تعلق نہیں اور پھر بڑے شوق سے گائے کا گوشت منگوا کر کھانے لگ گئے- لیکن کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ جس وقت یہ لوگ ہندوستان آتے ہیں تو گائے کے سوال پر سب سے زیادہ شور مچاتے ہیں- میں انسانی کمزوری کو تسلیم کرتا ہوں لیکن یہ کیسی انسانی کمزوری ہے کہ جس فعل کا انسان خود مرتکب ہوتا ہے اس کے ارتکاب پر دوسرے انسان کا خون بہانا بھی جائز قرار دیتا ہے- اسی طرح آریہ سماج جو اپنے آپ کو موحد قرار دیتی ہے وہ گائے کے معاملہ میں سب ہندوئوں سے بڑھ کر حصہ لیتی ہے اور جب اس پر اس فعل کی حماقت ظاہر کی جاتی ہے تو وہ یہ جواب دیتی ہے کہ یہ سوال اقتصادی سوال ہے- کیا یہ عجیب بات نہیں کہ پنجاب میں زمیندارہ تو زیادہ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو اور ہندو شہری لوگ ہوں جن پر زمیندار کی مشکلات کا اثر سب سے کم پڑتا ہے لیکن سب سے زیادہ اس اقتصادی مسئلہ کے لئے جوش انہیں کو آتا ہے- اور پھر کون عقلمند اس امر کو تسلیم کرے گا کہ ایک گائے کا ذبح کرنا تو ملک کے اقتصادیات پر بہت برا اثر ڈالتا ہے لیکن اس کے بدلہ میں آدمیوں کو قتل کر دینا ملک کی اقتصادی حالت کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا؟
    غرض یہ عذر بالکل نامعقول ہے اور اصل بات یہی ہے کہ گائے کے سوال کو قوم کے جمع کرنے کا ایک ذریعہ بنایا گیا ہے- اس وجہ سے موحد اور گائے خور بھی اس امر پر جمع ہو جاتے ہیں بلکہ گائے خور اور موحد اس معاملہ میں دوسروں سے آگے رہتے ہیں اور گائے کی عبادت کرنے والوں کو بھڑکانے کا اصل موجب وہی ہوتے ہیں-
    اگر کمیشن اس حقیقت کو معلوم کرتا تو وہ کبھی ہندو مسلم سوال کو اس سرسری نگاہ سے نہ دیکھتا جس سے کہ اس نے دیکھا ہے اور کبھی ان حفاظتی تدابیر کو جو اس اختلاف کے خطرناکنتائج سے بچنے کے لئے مسلمانوں کی طرف سے پیش ہو رہی ہیں- اس طرح بغیر کافی توجہ دینے کے چھوڑ نہ دیتا-
    جہاں تک میں نے غور کیا ہے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اقلیتوں اور اکثریت کا فیصلہ کرتے وقت ہمیں ان اصول کو مدنظر رکھنا چاہئے جو حکومت کے قیام کا باعث ہوتے ہیں- جہاں تک میں سمجھتا ہوں حکومت کا اصل مقصد یہ ہے-:
    ۱
    افراد کو ایک دوسرے کے حقوق میں دخل اندازی سے روکنا-
    ۲
    افراد اور جماعت اور ملک کو حکومت سے باہر کے لوگوں کی دست اندازی سے بچانا اور ان پر دست اندازی کرنے سے روکنا-
    ‏in] [tag۳
    ایسے ذرائع اختیار کرنا جو ملک کی مجموعی ترقی کا موجب ہوں-
    ۴
    ان ذرائع کی تکمیل کیلئے ملک سے بحصہ رسدی بلاواسطہ یا بالواسطہ ٹیکس وصول کرنا-
    ۵
    ایسا انتظام کرنا کہ افراد یا حکومت کے خلاف قانون توڑنے والوں کے جرم کی صحیح طور پر اور انصاف سے تشخیص اور تعیین کی جا سکے- دوسرے لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ حکومت کی غرض یہ ہے کہ وہ افراد کے فائدے کیلئے )۱( قانون سازی کرے- )۲( قانون کا نفاذ کرے- )۳( قانون شکن کی ذمہ واری کی تعیین کر کے اسے سزا دے- یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ حکومت کی غرض عدل و انصاف سے کام کرنے والی )۱( لیجسلیٹو )۲( ایگزیکٹو )۳( اور قضاء کا قیام ہے-
    اس کے سوا حقیقی حکومت کی غرض اور کوئی نہیں ہو سکتی کیونکہ حقیقی حکومت وہ ہے جو افراد کی مرضی سے قائم ہو اور کونسا فرد ہے جو یہ کہے گا کہ ایسی حکومت قائم کرو جو میرے حقوق کو قانون سازی یا اطلاق قانون یا قضاء میں سے کسی شعبہ میں یا سب شعبوں میں تلف کر دے- پس ان امور کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین اساسی بناتے وقت ہمیں ملحوظ رکھنا ہوگا کہ آئین ایسا ہو کہ جس میں ناواجب طور پر افراد یا جماعتوں کے حقوق تلف نہ ہو سکیں اور حکومت کا فائدہ سب ملک کو پہنچے نہ کہ کسی خاص جماعت کو خواہ وہ اقلیت ہو یا اکثریت-
    اگر مذکورہ بالا اصل صحیح ہے تو آئین اساسی مختلف ممالک کے حالات کے لحاظ سے مختلف ہوں گے کیونکہ اس ملک کے افراد کے خاص حالات کو ان میں مدنظر رکھا جائے گا- اگر فرض کرو کہ ایک ملک میں بعض افراد کو اپنی زبان کے متعلق خطرہ ہے تو اس امر کا لحاظ رکھا جائے گا کہ ان کی زبان کو کوئی نقصان نہ پہنچائے- اگر مذہب کو خطرہ ہے تو مذہب کا لحاظ رکھا جائے گا- اگر فرض کرو کہ نئی قائم ہونے والی حکومت کے افراد بحیثیت افراد نہیں بلکہ بحیثیت جماعت کے اس نظام میں شامل ہوئے ہیں اور انہیں اپنے اندرونی نظام کے متعلق خطرہ ہے تو ان کے اندرونی نظام کی حفاظت کا خیال رکھا جائے گا-
    غرض چونکہ جمہوری حکومت افراد یا جماعتوں کی مرضی سے قائم ہوتی ہے حکومت کے نظام میں اس ملک کی ضرورت کے لحاظ سے ایسی حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں گی کہ جن سے افراد یا جماعتوں کے حقیقی یا جائز خوف کا ازالہ ہو سکے تا کہ وہ بشاشت قلب کے ساتھ نظامحکومت کو چلانے کیلئے تیار ہوں جس کے بغیر کوئی حکومت بھی کامیاب نہیں ہو سکتی-
    اب اس اصل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم ہندوستان کی حالت کو دیکھتے ہیں کہ آیا اس میں آئین حکومت کے قیام کے وقت حفاظتی تدابیر کے اختیار کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کن کن تدابیر کی؟
    یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ہندوستان میں بہت سی اقلیتیں ہیں جن میں سے سب سے زبردست مسلمان ہیں- اور دوسرے نمبر پر مسیحی اور قومی لحاظ سے انگریز- میں اوپر ثابت کر چکا ہوں کہ اکثریت اور اقلیت کا اختلاف اس قدر شدید ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اکثر اقلیتیں اسے نظر انداز کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں- پس اگر ہندوستان میں صحیح معنوں میں جمہوری حکومت قائم کرنی ہے تو افراد یا جماعتوں کی حفاظت ضروری ہے- اس امر کا فیصلہ کہ کس حد تک اور کن کن امور میں حفاظت ضروری ہے ان اصول پر ہونا چاہئے-
    ۱
    کیا افراد یا مجموعہ افراد کا خوف حقیقی ہے یا وہمی یا بناوٹی؟
    ۲
    اس خطرہ کے پیدا ہونے کی ذمہ داری اقلیت پر ہے یا اکثریت پر؟
    ۳
    جن امور کے متعلق اقلیت خوف کرتی ہے کیا وہ قومی یا انفرادی ترقی کیلئے ضروری ہیں؟
    ۴
    جن امور کے متعلق اقلیت خوف کرتی ہے کیا انہیں قربان نہیں کیا جا سکتا؟
    ۵
    جن امور کے متعلق اقلیت حفاظت چاہتی ہے کیا ان کے متعلق حفاظتی تدابیر کا اختیار کرنا نظام کو باطل اور حکومت کو تباہ تو نہیں کرتا؟
    ۶
    اقلیت جن حفاظتی تدابیر کا مطالبہ کرتی ہے کیا ان سے اکثریت یا دوسری اقلیتوں کے حقوق کو تو نقصان نہیں پہنچتا؟
    یہ چھ اصول ہیں جنہیں میرے نزدیک اقلیتوں اور اکثریت کے حقوق کے فیصلہ کے وقت مدنظر رکھنا چاہئے اور اب میں ان اصول کی روشنی میں اصولی طور پر ہندوستان کی اقلیتوں کے سوال کو لیتا ہوں-
    پہلا اصل یہ ہے کہ کیا اقلیتوں کا خوف حقیقی یا وہمی یا بناوٹی تو نہیں؟ اس سوال کا حل اس لئے ضروری ہے کہ اگر خوف وہمی ہو تو اس وہم کا ازالہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اگر ازالہ ہو جائے تو سب جھگڑا ختم ہو جاتا ہے- اگر ازالہ نہ ہو تو پھر ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ چونکہ خوف وہمی ہے ہم حفاظتی تدابیر کو کم سے کم درجہ تک اختیار کریں تا کہ آئین اساسی بلاوجہ پیچیدہ نہ ہو- )یاد رکھنا چاہئے کہ اس وقت میرے مدنظر یہ امر ہے کہ ہندوستان کا فیصلہ کرتے وقت ایک تیسری قوم بطور جج یا مشیر کار کے شامل ہوگی اس لئے لازماً اس بحث میں اس فریق کو مدنظر رکھنا پڑے گا(- اگر خوف بناوٹی ہو تو اس کی حقیقت معلوم کر کے ہمیں نظر انداز کر دینا چاہئے- اگر حقیقی ہو تو ہمیں اس کے دور کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے- کیونکہ اقلیت کی تباہی جمہوریت کے اصول کے ویسے ہی خلاف ہے جیسے کہ اکثریت کی تباہی-
    ہندوئوں کے افعال اور ان کے ارادوں کو بالتفصیل لکھ کر میں یہ ثابت کر چکا ہوں کہ مسلمانوں اور مسیحیوں اور انگریزوں )میں ہر جگہ اینگلو انڈین کو اس لفظ میں شامل سمجھوں گا( کا خوف حقیقی ہے پس ان کے خوف کا علاج ضروری ہے- گو ہندوستانی مسیحیوں میں سے ایک معقول تعداد کسی حفاظتی تدبیر کی ضرورت نہیں سمجھتی لیکن ان کے متعلق بھی خوف حقیقی ہے- لیکن وہ خود حفاظت نہ چاہیں تو زبردستی ان کے لئے ایسی تدابیر کا اختیار کرنا عقل کے خلاف ہوگا-
    اب ایک اقلیت رہ گئی ہے جس کا میں نے اب تک ذکر نہیں کیا- اس اقلیت کے خوف میرے نزدیک بناوٹی ہیں اور صرف زائد حقوق لینے کے لئے پیش کئے جاتے ہیں یہ اقلیت سکھوں کی ہے- سکھ تمدنی طور پر ہندوئوں کا ایک حصہ ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان میں آپس میں چھوت چھات نہیں` ان میں سے بعض آپس میں رشتہ داریاں بھی کر لیتے ہیں` بہت سے ہندو تہواروں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں` بعض ان میں سے مقدس ہندو جگہوں کی زیارت کیلئے بھی جاتے ہیں- غرض تمدنی طور پر سکھ ہندوئوں کا حصہ ہیں گو مذہباً وہ بہ نسبت ہندوئوں کے مسلمانوں کے بہت زیادہ قریب ہیں-
    ان کے تمدنی طور پر ہندوئوں کا حصہ ہونے کا بہت بڑا ثبوت یہ ہے کہ جبکہ ہندو ملازمتوں وغیرہ میں مسلمانوں کو باہر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں سکھوں سے ان کا یہ سلوک نہیں ہے- ہندو انجنیئروں کی بدولت مسلمان ریلوے اور نہروں اور پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے ٹھیکوں سے قریباً محروم ہیں لیکن ان محکمہ جات میں ٹھیکہ داری کا کام سکھوں کو اسی طرح مل جاتا ہے جس طرح ہندوئوں کو اور اس کی بدولت سکھ اکثر بڑے بڑے مالدار ہیں- غرض اقتصادی اور تمدنی بائیکاٹ سے یہ لوگ مستثنیٰ ہیں-
    پس ان کا ہندوئوں سے الگ ایک اقلیت کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرنا درست نہیں- اول تو یہ لوگ تمدنی` سیاسی یا اقتصادی طور پر اقلیت کہلا نہیں سکتے کیونکہ ان تینوں امور میں یہ ہندوئوں کے ساتھ کامل یگانگت رکھتے ہیں- دوسرے اس لئے کہ اگر یہ اقلیت ہوں بھی تو وہ یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ کسی شعبہ زندگی میں ان سے بے انصافی ہوئی ہے اپنے حق سے زیادہ ہی ہر چیز ان کو مل رہی ہے- پنجاب کی آبادی میں یہ چودہ فیصدی ہیں لیکن بیس فیصدی حق لے رہے ہیں- ان حالات میں ان کا اپنی زیست کے متعلق خوف ظاہر کرنا میرے نزدیک درست نہیں- لیکن اگر یہ قوم بھی واقعات سے یا دوسری قوموں کے ارادوں سے یہ ثابت کر دے کہ ان کے ساتھ دشمنی کی جاتی ہے اور ان کے حقوق تلف کئے جاتے ہیں یا ان کے تلف کئے جانے کا حقیقی خوف ہے تو اپنے حق اور خوف کے مطابق حفاظت کے یہ بھی ویسے ہی حق دار ہیں جیسے کہ اور اقلیتیں ہیں اور کسی کا حق نہیں کہ انہیں ان کے جائز مطالبات سے محروم رکھنے کی کوشش کرے-
    دوسرا اصل جسے آئین اساسی کے تجویز کرتے وقت مدنظر رکھنا ضروری ہے یہ ہے کہ اقلیتوں کو جو خطرہ پیدا ہوا ہے اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟ اس امر کی تحقیق اس لئے ضروری ہوتی ہے تا اقلیتیں جان بوجھ کر کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس سے اکثریتیں ان کے خلاف بھڑک اٹھیں اور اس طرح وہ یہ ثابت کرنا چاہیں کہ انہیں اکثریت سے صحیح طور پر خطرہ ہے اور اس وجہ سے وہ خاص حفاظت کی مستحق ہیں-
    اگر اس اصل کا لحاظ نہ رکھا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کبھی بھی قومیت کی روح ملک میں پیدا نہ ہو سکے گی اور بعض خود غرض لوگ اقلیتوں کو بھڑکا بھڑکا کر ملک کے امن کو برباد کرتے رہیں گے- جیسا کہ ٹرکی کی حکومت میں ہوتا رہا ہے کہ پہلے تو بعض حکومتیں ذاتی اغراض کے ماتحت مسیحی اقلیتوں کو جوش دلا کر کوئی شرارت کروا دیتی تھیں پھر جب ترک انہیں سزا دیتے تھے تو وہی حکومتیں بیج میں آ کودتی تھیں کہ اقلیتوں پر بہت ظلم ہو رہا ہے ان کی حفاظت ہونی چاہئے- اس طرح حفاظتی تدابیر کراتے کراتے ایک دن ان علاقوں کو آزاد کروا دیا گیا-
    میں گو مسلمانوں کی تائید میں لکھ رہا ہوں لیکن میں یہ کبھی پسند نہیں کروں گا کہ یہی صورت ہندوستان میں پیدا ہو اور کوئی اقلیت خواہ مسلمانوں کی ہی کیوں نہ ہو اپنے جائز حق سے متجاوز ہو کر اکثریت کو جوش دلا دے اور پھر اس امر کا مطالبہ کرنے لگے کہ ہمیں خاص حقوق ملنے چاہئیں تا کہ ہمارے حقوق کی حفاظت ہو-
    اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس وقت تک ہندوستان کی اقلیتوں کو جو خطرات ہیں وہ ان کے اپنے پیدا کئے ہوئے نہیں ہیں بلکہ ان کی ذمہ داری اکثریت پر ہے- مثلاً ملازمتوں کو لے لیا جائے اس بارہ میں کوئی امکان ہی نہیں ہو سکتا کہ مسلمان ہندوئوں کو بھڑکائیں یا تعلیمی درسگاہوں کو لے لیا جائے ان میں جو مسلمانوں کو پیچھے رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے یا بعض عدالتوں تک میں جو مسلمانوں کے حقوق کو تلف کیا جاتا ہے` حتیٰ کہ اگر بعض ججوں کے فیصلوں کو دیکھا جائے تو یہاں تک نظر آتا ہے کہ ایک ہی قانون اور ایک ہی قسم کے حالات کے ماتحت مسلمان مدعی ہے تو اور فیصلہ ہے اور ہندو مدعی ہے تو اور فیصلہ ہے- یا چھوت چھات کی جاتی ہے یا تجارتی بائیکاٹ جو کیا جاتا ہے باوجود اس کے کہ مسلمان سات سو سال تک ہندوئوں کے ہاتھ کا کھاتے رہے ہیں اور ان سے سودے خریدتے رہے ہیں- اس ایذا دہی کی کوئی وجہ مسلمانوں کی طرف سے پیدا نہیں ہوئی- ذبح گائے پر جو شور کیا جاتا ہے اسے بھی جائز نہیں کہا جا سکتا کیونکہ گائے کا ذبح کرنا یا کھانا مسلمانوں کا ذاتی فعل ہے- اس سے ہندوئوں کو کوئی تعلق نہیں ہے- اگر مسلمان ہندوئوں کی گائیں پکڑ کر ذبح کرتے یا ان کو ان کا گوشت کھانے پر مجبور کرتے تو اس صورت میں اس فساد کے موجب مسلمان کہلاتے اور ہندو ہر طرح حق بجانب ہوتے- جب ایسا نہیں تو گائے کے ذبح کرنے پر فساد کرنا مسلمانوں کے حق میں دخل اندازی کرنا ہے- اگر مسلمان جن کے مذہب میں سود لینا اور دینا سخت منع ہے یا سور کھانا منع ہے بنکوں کو گرانے یا سور کھانے والوں پر حملہ کرنا شروع کر دیں تو اسے کون جائز قرار دے گا- اسی طرح اسلام کو اور بانی اسلام کو جو گالیاں ہندو مذہبی مصنفین کی طرف سے دی جاتی ہیں اور تبلیغ کو روکنے اور خالص ہندو راج کے قائم کرنے اور اسلامی زبانوں کو ہی نہیں بلکہ الفاظ کو بھی ملک سے نکال دینے کے جو منصوبے اکثر ہندو لیڈروں کی طرف سے ظاہر ہوئے ہیں ان کا باعث ہرگز مسلمان نہیں کہلا سکتے- غرض جو خطرات ہندوستان کی اقلیتوں کو ہیں وہ ان کے پیدا کردہ نہیں ہیں بلکہ اکثریت کے ہیں اس لئے اقلیتوں کی شکایت بجا ہے اور خاص توجہ کی مستحق ہے- اگر اصولاً دیکھا جائے تو بھی ذمہ داری اکثریت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ سائمن کمیشن نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ ہندو مسلم فسادات کی اصل وجہ پولیٹیکل ہے- وہ لکھتے ہیں-:
    >ہمارے نزدیک اصل سبب )ان فسادات کا( سیاسی طاقت کے حصول کی کوشش اور ان فوائد کو حاصل کرنا ہے جو سیاسی طاقت کے ذریعہ سے حاصل ہوتے ہیں<- ۳۴~}~
    اور یہی امر صحیح ہے جیسا کہ میں بھی ثابت کر چکا ہوں اور اگر یہ امر صحیح ہے تو ہر ایک یہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ فسادات کا فائدہ اقلیت کو نہیں بلکہ اکثریت کو حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ اکثریت کے سامنے آزادی کا خیال ہوتا ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اقلیت کو کمزور کر کے اپنی طاقت اس قدر بڑھائے کہ اقلیتیں اس کی آزادانہ حکومت میں روک نہ بن سکیں اور وہ پورے طور پر اپنے منشاء کے مطابق حکومت کر سکے-
    تیسرا اصل میں نے یہ بتایا تھا کہ اقلیتوں اور اکثریت کا تصفیہ کرتے وقت اس امر کو دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اقلیت جن امور میں حفاظت کا مطالبہ کرتی ہے کیا وہ امور قومی یا انفرادی ترقی کیلئے ضروری ہیں کیونکہ اگر وہ غیر ضروری امور ہوں تو انہیں آئین اساسی میں لانا اسے بلاوجہ پیچیدہ کر دیتا ہے- اس صورت میں ہمارا فرض ہوگا کہ جہاں تک ممکن ہو سکے اقلیت کو سمجھائیں کہ وہ خواہ مخواہ ان پر زور نہ دے اور ایسے چھوٹے امور جن میں تغیر سے نہ اقلیت کو نقصان ہے اور نہ اکثریت کو کوئی فائدہ ہے ان کے متعلق یونہی یہ شبہ نہ کرے کہ اکثریت ان میں جبر سے کام لے گی اور اگر اکثریت ایسا کرے بھی تو چونکہ وہ غیر ضروری ہیں اقلیت کو ان میں صبر سے کام لے کر ملک کی فضاء کو درست بنانے کی کوشش کرنی چاہئے-
    اب میں مسلمانوں کے مطالبات پیش کرتا ہوں تا کہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کیا وہ امور قومی یا انفرادی ترقی کیلئے ضروری ہیں؟ مسلمانوں کے مطالبات یہ ہیں-:
    ۱-
    ہندوستان کی آئندہ حکومت اشتراکی اصول پر ہو- یعنی مرکزی حکومت کو صوبہ جات سے اختیار ملیں نہ کہ مرکزی حکومت سے صوبہ جات کو اور سوائے ان امور کے جو سارے ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کا اختیار صوبہ جات مرکزی حکومت کو دیں باقی سب امور صوبہ جات کے قبضہ میں رہیں-
    ۲-
    سرحدی صوبہ اور بلوچستان کو بھی دوسرے آزاد صوبوں کی طرح حکومت دی جائے اور سندھ کو بمبئی سے آزاد کر کے نیا صوبہ بنایا جائے اور اسے بھی آزاد صوبوں کے برابر حقوق دیئے جائیں-
    ۳-
    اس امر کا انتظام کر لیا جائے کہ تمام اقوام کی نمائندگی ان کی تعداد کے مطابق ہو- سوائے اس کے کہ کوئی اقلیت بہت کمزور ہو اور اس کے ہر قسم کے مفاد کی نمائندگی کے لئے ضروری ہو کہ اسے کچھ زائد نشستیں دے دی جائیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اکثریت کی اکثریت نہ جاتی رہے یا بے اثر نہ ہو جائے-
    ۴-
    مرکزی حکومت میں مسلمانوں کی نمائندگی اتنی ہو کہ ان کی مرضی کے خلاف قانوناساسی کو تبدیل نہ کیا جا سکے-
    ۵-
    قوم وار نمائندوں کا انتخاب جاری رکھا جائے جب تک کہ حقیقی یا عملی اقلیتیں اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کا موقع نہ حاصل کر لیں-
    ۶-
    گورنمنٹ` مذہب` تبلیغ یا تبدیلی مذہب کو کسی حد بندی یا پابندی کے نیچے نہ لائے- نہ یہ اجازت ہو کہ وہ کوئی ایسا قانون بنائے جس کی غرض ہندوستان کی کسی خاص قوم کے افراد کے حقوق یا اس کی تمدنی یا اقتصادی یا ادبی آزادی کو محدود کرنا ہو- نہ وہ ایسا قانون بنائے جس کی غرض کسی خاص قوم کے افراد کو خاص اختیار دے کر کسی دوسری قوم یا اقوام سے ممتاز کرنا ہو-
    ۷-
    گورنمنٹ کو کسی قوم کے اہلی قانون (PERSONALLAWS)میں اس وقت تک دخل دینے کی اجازت نہ ہو جب تک کہ اس قوم کے اپنے منتخب نمائندوں کی اکثریت اس کی تائید میں نہ ہو اس مزید شرط کے ساتھ کہ وہ نمائندے اس خاص مسئلہ کی تائید کا اظہار انتخاب کے وقت کر چکے ہوں-
    ۸-
    اس امر کی حفاظت کر لی جائے کہ اقلیتوں کو مخفی یا ظاہر تدابیر کے ذریعہ سے ملازمت کے مناسب حق سے اکثریت محروم نہیں کرے گی اور اقلیتوں کو ان کا واجبی حصہ ملتا رہے گا-
    ۹-
    ہندوستان کے آئین اساسی کو ایسی شکل دی جائے کہ اقلیتوں کے منشاء یا صوبہ جات کے منشاء کے خلاف اس میں تبدیلی نہ ہو سکے-
    ۱۰-
    صوبہ جات کی حدود میں تبدیلی آئندہ بغیر صوبہ متعلقہ کی مرضی کے نہ ہو سکے-
    یہ وہ دس مطالبات ہیں جو مختلف شکلوں میں مسلمانوں کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں اور چونکہ ان میں سب اقلیتوں کے حقوق آ جاتے ہیں اس لئے جہاں تک میں سمجھتا ہوں قلیل تغیر کے ساتھ ان تمام اقلیتوں کے یہ مطالبات ہیں کہ جو اس وقت اکثریت سے خائف ہیں- چنانچہ کلکتہ میں پچھلے دنوں جو انگریزوں کی آل انڈیا کانفرنس ہوئی ہے اس میں بھی اوپر کے مطالبات میں سے اکثر کی تائید کی گئی ہے-
    ان مطالبات پر ایک سرسری نظر ڈال کر معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک مطالبہ قومی یا انفرادی ترقی کے لئے ضروری ہے- سوائے مذہبی یا تمدنی حصہ کے کہ شاید سیاسی نقطہ نگاہ سے اسے قومی یا فردی ترقی کا ذریعہ بعض لوگ تصور نہیں کرتے بلکہ اسے قومی ترقی میں روک سمجھتے ہیں لیکن اس حصہ کی حفاظت اگلے اصل میں آ جاتی ہے-
    چوتھا اصل میں نے یہ بتایا تھا کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے وقت یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جن امور کی حفاظت کا وہ مطالبہ کرتی ہیں کیا انہیں ملک کے فائدہ کے لئے قربان نہیں کیا جا سکتا؟ اس اصل کو مدنظر رکھنے کی اس لئے ضرورت ہے کہ جہاں بعض ایسے امور ہو سکتے ہیں کہ جنہیں قربان کیا جا سکتا ہے وہاں بعض ایسے امور بھی ہو سکتے ہیں کہ خواہ دوسرے لوگوں کے نزدیک وہ قومی یا فردی ترقی کے لئے ضروری نہ ہوں لیکن جس قوم یا فرد سے وہ متعلق ہیں وہ اپنے عقیدہ کے مطابق انہیں کسی صورت میں قربان نہیں کر سکتا- مذہبی یا تمدنی مسائل بھی اس قسم کے ہیں کہ دوسرے لوگ انہیں ضروری نہ سمجھتے ہوں لیکن جن اقوام سے وہ تعلق رکھتے ہیں وہ انہیں اپنی روحانی یا اہلی زندگی کے لئے مادی امور سے بھی زیادہ ضروری سمجھتی ہیں اور وہ کبھی کسی ایسے نظام حکومت کو تسلیم نہیں کر سکتیں جو ان مسائل میں دخل اندازی کرتا ہو- پس جب کسی اقلیت کو اکثریت سے یہ خطرہ ہو کہ وہ ایسے امور میں دخل اندازی کرے گی تو وہ مطالبہ کر سکتی ہے کہ ان امور میں اس کی حفاظت کا انتظام کیا جائے- ہندوستان کے سوال کو حل کرتے ہوئے اس اصل کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کیونکہ ہندوستان میں اقلیتوں کو ان امور میں بھی اکثریت کی دخل اندازی کا خطرہ ہے- وہ صاف طور پر آئندہ مذہبی تبلیغ یا تبدیلی مذہب میں دخل اندازی کی دھمکی دے چکی ہے اور بہت سی ہندو ریاستوں میں عملاً ایسا ہو رہا ہے جیسا کہ میں پہلے ثابت کر چکا ہوں- اسی طرح گائے کی قربانی یا اس کے ذبیحہ کے متعلق بھی ریاستوں اور میونسپلٹیوں میں قواعد بن چکے ہیں اور آئندہ کیلئے دھمکی دی جا رہی ہے اور کل کو ممکن ہے کہ ورثہ` شادی وغیرہ کے متعلق بھی اکثریت قواعد تجویز کرنے لگے- پس ضروری ہے کہ ان امور کے متعلق بھی اقلیت کی حفاظت کا سامان کیا جائے-
    پانچواں اصل جسے اقلیتوں کی حفاظت کا فیصلہ کرتے ہوئے مدنظر رکھنا چاہئے یہ ہے کہ اقلیتیں جن امور میں حفاظت چاہتی ہیں کیا ان کے متعلق حفاظتی تدابیر کا اختیار کرنا کسی نظام کو باطل اور حکومت کو تباہ تو نہیں ¶کر دیتا؟ اس اصل کو مدنظر رکھنا اس لئے ضروری ہے کہ اگر اقلیتوں کی تدابیر حکومت کو ہی برباد کرنے والی ہوں تو پھر انہیں اختیار نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس صورت میں آئین اساسی تیار کرنے کے سوال کو ہی ترک کر دیا جائے گا- یا پھر اقلیتوں کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنے دعویٰ کو حد سے آگے نہ بڑھائیں-
    چھٹا اصل یہ ہے کہ کوئی اقلیت اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے ایسے مطالبات نہ کرے جن سے کسی اور قوم کا کوئی ایسا حق جو بحیثیت قوم اسے حاصل تھا` تلف ہوتا ہو- اس اصل کی اہمیت تو ظاہر ہی ہے- جس طرح اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت ضروری ہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اکثریت کے قومی حقوق کی بھی حفاظت کی جائے اور یہ کہ ایک اقلیت کے حق کی دوسری اقلیت کے حق کے مقابلہ میں حفاظت کی جائے- مسلمانوں کے مطالبات کو دیکھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ان میں کوئی ایسا مطالبہ نہیں ہے کہ جس سے اکثریت یا دوسری اقلیتوں کے حقوق کو نقصان پہنچتا ہو- بلکہ وہ سب ایسے مطالبات ہیں کہ اکثریت کو ان سے کوئی نقصان نہیں اور دوسری اقلیتوں کے حقوق کی بھی ان میں برابر کی حفاظت مدنظر رکھی گئی ہے-
    باب ہفتم
    ہندوستانی اقلیتوں کے مطالبات اصول آئینی کے خلاف نہیں
    ان اصول کو بیان کرنے کے بعد جو اقلیتوں کے متعلق حفاظتی تدابیر کا فیصلہ کرتے ہوئے مدنظر رکھنے چاہئیں` میں اب یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان کی اقلیتوں کے جو مطالبات ہیں وہ اصولی طور پر ان آئینی اصول کے خلاف نہیں ہیں جو مختلف مہذب ممالک میں تسلیم کئے جا چکے ہیں اس لئے بادی الرائے میں انہیں رد نہیں کیا جا سکتا بلکہ مناسب طریق پر ان کا ہندوستان کے آئندہ آئین اساسی میں شامل کیا جانا ضروری ہے- میں اس وقت تفصیلی بحث میں نہیں پڑوں گا کیونکہ وہ بحث اسی وقت مناسب ہوگی جب ان اصول کو عملی شکل دینے کے متعلق جو تجاویز پیش ہو چکی ہیں یا میں خود پیش کروں گا ان کی خوبی یا برائی زیر بحث آئے گی- فی الحال میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہر ایک مطالبہ جو ہندوستان کی اقلیتیں کرتی ہیں ان کی مثال مختلف ممالک کے آئین اساسی میں ملتی ہے جس کی وجہ سے ہم ان مطالبات کو خلاف اصول نہیں کہہ سکتے- ذاتی طور پر تو میں اس امر کا قائل نہیں کہ جو امر کسی پہلے آئین اساسی میں نہ پایا جاتا ہو وہ ضرور خلاف اصول اور مضر ہے کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ جو بات ہم سے پہلے لوگوں کو نہیں سوجھی وہ ہمیں بھی نہ سوجھے- لیکن چونکہ لوگوں نے یہ عادت بنا لی ہے کہ بجائے بات کی معقولیت دیکھنے کے یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے مسلمہ معقول آدمیوں نے اسے قبول کیا ہے یا نہیں اس لئے میں دنیا کے مختلف آئینی مسودات سے یہ ثابت کرتا ہوں کہ یہ سب کے سب مطالبات معقول تسلیم کئے جا چکے ہیں اور حسب ضرورت مختلف ممالک کے آئین اساسی میں شامل ہیں-
    اول مطالبہ مکمل فیڈرل کانسٹیٹیوشن (FEDERALCONSTITUTION) کا ہے- اس کے متعلق یہ کہہ دینا کافی ہے کہ دنیا کی قریباً سب نئی حکومتیں یا نئے نظام فیڈرل اصول پر ہی طے ہو رہے ہیں پس اس مطالبے کو ملک و حکومت کے مفاد کے خلاف نہیں کہا جا سکتا-
    دوسرے مطالبہ کا ایک حصہ سرحدی صوبہ اور بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے مطابق حق دینے کا ہے- یہ مطالبہ بھی ملک و حکومت کے مفاد کے خلاف نہیں کیونکہ دنیا کی کوئی آئینیحکومت ایسی نہیں جس میں سب حﷺ ملک کو یکساں حقوق نہ دیئے گئے ہوں-
    دوسرا حصہ اس مطالبہ کا سندھ کی آزادی کا ہے- اس حصہ کو بھی نظام یا حکومت کی تباہی کا موجب نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دس گیارہ صوبوں میں ایک اور صوبہ کی زیادتی ہر گز نظامحکومت کو تباہ نہیں کر سکتی اور نہ قانون اساسی کے اصول میں نئے صوبوں کے قیام کے خلاف کوئی بات پائی جاتی ہے-
    تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ ہر قوم کے لئے اس کی تعداد کے مطابق نمائندگی کا انتظام کیا جائے- یہ مطالبہ بھی کسی صورت میں حکومت کو کمزور کرنے کا موجب نہیں ہے کیونکہ اصولنیابت کی تکمیل ہی اس اصل پر مبنی ہے کہ ہر جماعت اپنی تعداد کے مطابق حقوق حاصل کر سکے- چنانچہ آئے دن انتخاب کے نئے سے نئے قواعد جو تیار ہوتے رہتے ہیں تو ان کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ مختلف جماعتوں کی نیابت ان کی تعداد کے مطابق ہو سکے- چنانچہ اسی امر کو مدنظر رکھتے ہوئے پروپورشنل ریپریزنٹیشن (PEROPORTIONALREPRESENTATION) )یعنی نیابت مطابق تعداد( کا اصول ایجاد کیا گیا ہے اور اسے اس قدر ترقی دی گئی ہے کہ اس وقت تک کئی درجن طریق بلکہ ایک ماہر کے بیان کے مطابق قریباً تین سو طریق اس کے ایجاد ہو چکے ہیں-
    دوسرا حصہ اس مطالبہ کا یہ ہے کہ جہاں اکثریت کی کونسلوں کی اکثریت کو نقصان نہ پہنچتا ہو وہاں قلیل التعداد جماعتوں کے ہر قسم کے مفاد کی نیابت کی خاطر ان کے اصل حق سے کچھ زائد دے دیا جائے- اس مطالبہ کی مثال مجھے اس وقت کوئی معلوم نہیں- لیکن میں خیال کرتا ہوں کہ زیکو سلویکا کی کونسل اور سینٹ میں غالباً روتھیننیز (RUTHENIANS) کو ان کے اصل حق سے کچھ زائد حق ملا ہوا ہے-
    چوتھا مطالبہ یہ ہے کہ مرکزی اسمبلی میں اقلیتوں کی نمائندگی اس قدر ہو کہ ان کی مرضی کے خلاف کانسٹی ٹیوشن تبدیل نہ ہو سکے- یہ اصل بھی مسلمہ ہے اور مختلف حکومتوں میں اس کے لئے مختلف قواعد بنائے گئے ہیں- چنانچہ یورپ کی نئی حکومتوں میں جو جنگ کے بعد قائم ہوئی ہیں اقلیتوں کی حفاظت کے متعلق جو حفاظتی تدابیر آئین اساسی میں شامل کی گئی ہیں ان کے بدلنے کا حق اکثریت کو نہیں دیا گیا بلکہ انہیں ایک معاہدہ کی صورت دی گئی ہے یا ایک نہ بدل سکنے والے قانون کی صورت دی گئی ہے- پس یہ اصل مسلم ہے گو اس کی عملی شکل میں اختلاف ہو-
    پانچواں مطالبہ یہ ہے کہ جب تک حقیقی یا عملی اقلیتیں )جس سے میری مراد وہ اکثریت ہے جو سیاسی حالات کے ماتحت عملاً اقلیت بنا دی گئی ہو- اس کی تفصیل میں تفصیلات سکیم پر ریویو کرتے ہوئے کروں گا(- اپنے پائوں پر نہ کھڑی ہو جائیں` اس وقت تک جداگانہ انتخاب کا سلسلہ جاری رہے- یہ مطالبہ بھی حکومت کو کمزور کرنے والا نہیں ہے بلکہ اس کی مثال بھی دوسری اقوام کے قوانین اساسی میں ملتی ہے- چنانچہ زیکو سلویکا میں اوتھینیا میں کمیونل (COMMUNAL)انتخاب ہوتا رہا ہے- ۳۵~}~
    چھٹے مطالبہ کا پہلا حصہ یہ ہے کہ گورنمنٹ` مذہب` تبلیغ یا تبدیلی مذہب کے بارہ میں پوری آزادی دے اور اقلیتوں یا افراد کی تمدنی` اقتصادی یا ادبی آزادی کو محدود نہ کرے- اس بارہ میں زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں- درحقیقت تو یہ حق ڈیماکریسی کے مفہوم کے نیچے ہی آ جاتا ہے لیکن یہ اصل زیکوسلویکا کی حکومت اپنے آئین اساسی میں شامل کر چکی ہے- اسی طرح پولینڈ نے اپنے معاہدہ کے آرٹیکل نمبر۱۰ میں یہودیوں کو نہ صرف اپنی زبان کے پڑھنے اور بولنے کی آزادی دی ہے بلکہ آرٹیکل نمبر۹ میں اس کے لئے پبلک فنڈ سے روپیہ مہیا کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے اور اس روپے کو خرچ کرنے کا حق یہودیوں کی مقرر کردہ کمیٹیوں کے سپرد کیا ہے- آرٹیکل نمبر۱۱ میں سبت کی حفاظت کا اقرار کیا ہے بلکہ پولینڈ نے یہودی سپاہیوں کے لئے کوشر (KOSHER) گوشت تک کے مہیا کرنے کا وعدہ کیا ہے-
    یوگوسلیویا میں مسلمانوں کی اقلیت ہے اور اس حکومت نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے کہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی جائے گی ان کے اوقاف کی حفاظت کی جائے گی` اور مذہبی یا خیراتی سوسائٹیوں کے بنانے میں کوئی روک پیدا ہونے نہیں دی جائے گی-
    رومانیہ نے بھی اپنے معاہدہ کے آرٹیکل گیارہ میں وعدہ کیا ہے کہ سیکسنز اور زیکنسل کے لوگوں کو علمی اور مذہبی معاملات میں خود مختاری حاصل ہوگی-
    غرض یہ امر مسلمہ ہے کہ مذہبی` تمدنی اور تبلیغی امور میں حکومت کو دخل اندازی کی اجازت نہیں ہونی چاہئے اور مختلف حکومتوں میں رائج ہے اور بعض حکومتوں کے آئین اساسی میں شامل ہے پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہندوستان جس کے حالات ان ملکوں سے زیادہ نازک ہیں اس میں ان امور کی حفاظت کا سامان نہ کیا جائے-
    ساتواں سوال پرسنل لاء (PERSONALLAW) کا ہے- اس کی حفاظت کی ضرورت کو بھی دنیا تسلیم کر چکی ہے- چنانچہ یوگوسلیویا اپنے معاہدہ کے آرٹیکل دس میں اقرار کرتا ہے کہ-:
    >سرب` کروٹ اور سلیویا کی حکومت تسلیم کرتی ہے کہ مسلمانوں کو ان کے اہلی قانون اور شخصی درجہ کے متعلق وہ ایسی سہولتیں دے گی کہ جن سے وہ مسلمانوں کے رواج کے مطابق اپنے ان معاملات کو طے کرنے کے قابل ہو سکیں<-
    آٹھواں مطالبہ ملازمتوں میں مناسب حصہ کے متعلق ہے گو کسی دوسرے قانون اساسی میں اس کی شمولیت نظر نہیں آتی لیکن پولینڈ کے یہودیوں اور وہاں کی گورنمنٹ میں جو صلح کا معاہدہ تجویز ہوا تھا اس میں یہ شرط بھی تھی کہ یہودیوں کو ان کی آبادی کی نسبت سے ملازمتوں میں حق ملے گا اور گو بوجہ سیاسی اسباب کے اس معاہدہ کی تکمیل نہیں ہو سکی لیکن اس سے اس قدر ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کے باہر بھی اس احتیاط کی ضرورت اور معقولیت کو تسلیم کیا جا چکا ہے-
    نواں مطالبہ یہ ہے کہ ہندوستان کا آئین اساسی اقلیتوں اور صوبہ جات کی مرضی کے بغیر تبدیل نہ ہو سکے یہ اصل بھی تسلیم کیا جا چکا ہے- صوبہ جات کے متعلق اس کا اطلاق یونائیٹڈسٹیٹس میں ہوتا ہے اور اقلیتوں کی مرضی کے بغیر اس میں تبدیلی کی بندش نئی یورپین حکومتوں میں ہے جہاں اسے معاہدہ کی صورت دے کر لیگ آف نیشنز کی مرضی کے بغیر ان امور میں جو اقلیتوں کے حقوق کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں` تبدیلی کا راستہ بند کر دیا گیا ہے-
    دسواں مطالبہ یہ ہے کہ صوبہ جات کی حدود میں تغیر بغیر صوبہ متعلقہ کی مرضی کے نہ ہو سکے یہ امر اصل میں فیڈریشن کا حصہ ہے اور یونائیٹڈ سٹیٹس وغیرہ سب جگہ اس پر عمل ہو رہا ہے-
    غرض جس قدر مطالبات ہندوستان کی اقلیتوں کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں وہ علاوہ معقول ہونے کے متعلق ممالک کے آئین دستوری میں پہلے شامل کئے جا چکے ہیں اس لئے وہ نہ صرف عقل کی تصدیق اپنے ساتھ رکھتے ہیں` بلکہ تجربہ کی تصدیق بھی انہیں حاصل ہے-
    باب ہشتم
    سائمن کمیشن کی حفاظتی تدابیر
    میں بتا چکا ہوں کہ اہل کمیشن نے اقلیتوں کے لئے حفاظتی تدابیر کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے- چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ-:
    > ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت تک کہ رواداری کی روح ہندوستان میں پیدا ہو جائے اور اس وقت تک کہ اقلیتیں اکثریت کے انصاف پر زیادہ اعتبار کرنے لگیں حفاظتی تدابیر کی ضرورت یقینی طور پر ثابت ہے<- ۳۶~}~
    لیکن انہوں نے اس کا جو علاج تجویز کیا ہے وہ یہ ہے کہ گورنروں اور گورنر جنرل کے ہاتھ میں اختیارات دیئے جائیں تا کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کر سکیں- وہ لکھتے ہیں کہ-:
    >ہمارا خیال ہے کہ کمزور یا تعداد میں کم جماعتوں کی حفاظت کا عملی ذریعہ صرف یہی ہے کہ ایک غیر جانبدارانہ دخل اندازی کی طاقت گورنر جنرل اور صوبہجات کے گورنروں کے ہاتھ میں قائم رکھی جائے جسے وہ حسب موقع اسی غرض کے لئے استعمال کیا کریں<- ۳۷~}~
    اسی طرح وہ سنٹرل لیجسلیچر (CENTRALLEGISLATURE) کے نیچے لکھتے ہیں کہ-:
    >اس )حفاظت( کو حاصل کرنے کا عملی طریقہ صرف یہ ہے کہ ایک غیرجانبدارانہ دخل اندازی کا حق گورنر جنرل اور صوبہ جات کے گورنروں کے ہاتھ میں محفوظ رکھا جائے<- ۳۸~}~
    ممکن ہے کہ یہ ذریعہ حفاظت انگریزوں کے حقوق کی حفاظت کر سکے گو مجھے اس کے متعلق بھی شبہ ہے- لیکن یہ تو یقینی امر ہے کہ وہ دوسری اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت اس طرح بالکل نہیں ہو سکتی اور مجھے یقین ہے کہ چند ہی سال میں خود انگریز بھی شکایت کرنے لگیں گے کہ اس طرح ان کے حقوق کی حفاظت نہیں ہو سکتی- کمیشن نے اس امر کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے کہ جن امور میں اقلیتوں کو حفاظت کی ضرورت ہے ان میں پہلے بھی ضرورت رہتی تھی اور یہ کہ برطانیہ کے نمائندوں نے کیا گورنر اور کیا دوسرے افسر بہت ہی کم ان امور میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی ہے- مثلاً ملازمتوں کے متعلق مسلمانوں کو شکوہ ہے لیکن اس بارہ میں موجودہ اختیارات کے باوجود حکومت بہت ہی کم علاج کر سکتی ہے- کئی سال ہوئے ریلوے کی ملازمتوں کے متعلق گورنمنٹ نے وعدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کے حقوق کی نگرانی کی جائے گی- لیکن نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ۱۹۲۶ء میں تو آٹھ فیصدی مسلمان ملازمت میں آئے تھے- مگر ۱۹۲۹ء میں کل دو فیصدی مسلمان ملازمت میں لئے گئے ہیں- ڈسٹرک بورڈوں وغیرہ میں نامزدگی کا حق اس لئے دیا گیا تھا کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت ہو لیکن اگر گورنمنٹ کبھی ان نامزدگیوں کو دیکھنے کی تکلیف گوارا کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ ہر گز اس امر کا لحاظ نہیں رکھا جاتا بلکہ حکامضلع خواہ انگریز ہوں خواہ ہندوستانی اس حق کو اپنے ساتھ ملنے والوں کے لئے بطور صلہوانعام استعمال کرتے ہیں- میں کونسلوں کی نامزدگیوں کی نسبت یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ وہ بطورانعام یا صلہ استعمال ہوتی ہیں لیکن یہ یقینی امر ہے کہ ان میں بھی توازن کا قیام ہر گز مدنظر نہیں رکھا جاتا اور بسا اوقات وہ اس طرح کی جاتی ہیں کہ جو اقوام پہلے ہی اپنے حق سے زائد لے رہی تھیں نامزدگیوں میں بھی وہ آکر شامل ہو جاتی ہیں- گائے کی قربانی کو گورنمنٹ حتیالامکان روکنے کی کوشش کرتی ہے اور نئے مذبحے کھولنے کی نہایت مشکل سے اجازت دیتی ہے حالانکہ غذا انسانی ضرورتوں میں سے اہم چیز ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ کسی قوم کو اس کی غذا سے روکا جائے جب کہ وہ دوسرے کے احساسات کو صدمہ پہنچائے بغیر ایک الگ جگہ میں اپنی ضرورت کو پورا کرنے پر آمادہ ہو-
    زبان کی یہ حالت ہے کہ مختلف صوبہ جات میں اردو کی جگہ ہندی لے رہی ہے اور گورنمنٹ بالکل خاموش ہے-
    حقوق کی حفاظت کا یہ حال ہے کہ پنجاب کے ایک کالج میں ایک سرجن پروفیسر کا عہدہ ولایت کے پاس شدہ ایک قابل مسلمان کی بجائے جو اسی شرط پر نائب پروفیسر ہوا تھا کہ اس جگہ کے خالی ہونے پر اسے مقرر کر دیا جائے گا ایک ہندو اسسٹنٹ فزیشن کو دے دیا گیا اور باوجود اس کے کہ پرنسپل نے اعتراض بھی کیا کہ مجھے سرجن کی ضرورت ہے نہ کہ فزیشن کی غیرمسلموزیر نے اپنے فیصلہ کو نہ بدلا-
    کالجوں میں مسلمان طالبعلموں کیلئے چالیس فیصدی کی حد بندی کر دی گئی ہے حالانکہ صوبہ میں ان کی آبادی نصف سے زیادہ ہے-
    اسی طرح مسلمانوں کی درسگاہوں کو ان کے حق کی نسبت بہت کم ایڈ (AID) دی جاتی ہے- زیادہ تنخواہ والی نئی جگہوں میں سے اکثر پر ہندوئوں کو مقرر کر دیا گیا ہے- ہندو اور مسیحی اپنے مذہبی دن کی چھٹی مناتے ہیں لیکن باوجود اس کے کہ گورنمنٹ آف انڈیا نے اجازت دی ہے پھر بھی اکثر محکموں میں مسلمانوں کو جمعہ کی نماز کی چھٹی نہیں دی جاتی اور بعض دفاتر چھٹی دیتے ہیں تو بعد میں اتنا وقت کام لے لیتے ہیں حالانکہ یورپ میں جہاں یہودی اقلیت کافی ہے ان کے لئے سبت کی چھٹی کا انتظام کیا گیا ہے- مسلمان اس پر راضی تھے کہ جمعہ کے دن انہیں دو گھنٹہ کی چھٹی ہی دے دی جائے لیکن اس کا کوئی انتظام نہیں حالانکہ وہ آبادی میں سے پچیسفیصدی ہیں-
    غرض یہ سب کچھ گورنروں کی نظروں کے سامنے ہو رہا ہے- یہ نہیں کہ وہ بددیانت ہیں بلکہ اعلیٰ سے اعلیٰ کیریکٹر کے لوگ ہیں جن کے ذاتی چلن نے ہمارے دلوں میں گھر کیا ہوا ہے لیکن ان معاملات میں وہ کچھ نہیں کر سکتے اس لئے کہ ساتھ مل کر کام کرنے والوں پر اس قسم کی نکتہ چینی انسانی طبیعت کے خلاف ہے-
    یہ تو سلوک کے متعلق ہے- اب میں قانون کو لیتا ہوں- پنجاب میں زمینداروں کی حفاظت کے لئے زمیندارہ قانون بنا ہوا ہے- اس سے زمینداروں کو بہت کچھ نجات ساہوکاروں کے ظلموں سے حاصل ہوئی تھی لیکن پچھلے دنوں ہائی کورٹ کے چند فیصلوں کے ذریعہ سے اس قانون کا نفع قریباً باطل ہو گیا ہے- زمینداروں نے بہت زور دیا لیکن گورنمنٹ اپنے مصالح کی وجہ سے کچھ نہیں کر سکی- زمینداروں نے خود مسودہ پیش کیا تو گورنمنٹ نے آفیشل بلاک (OFFICIALBLOCK) کی مدد سے اسے مسترد کرا دیا- ساہو کار اس ملک میں بعض دفعہ سو سو فیصدی سود لیتے ہیں اور عدالتیں نہایت نامعقول سود انہیں دلاتی ہیں- ایسے کیس موجود ہیں کہ بیس تیس روپیہ ایک شخص نے قرض لیا اور دس پندرہ سال میں تینچارسو روپیہ وہ ادا کر چکا ہے لیکن ابھی تین چار سو کا قرض موجود ہے باوجود واویلا کرنے کے ایسے لوگوں کی مشکل اب تک حل نہیں ہوئی-
    میرا یہ مطلب نہیں کہ یہ سب امور اقلیتوں کی حفاظت کی تدابیر سے حل ہو جائیں گے کیونکہ ان میں سے بعض تو اس مد میں آ ہی نہیں سکتے- میرا صرف یہ مطلب ہے کہ باوجود اس وقت تک پورے اختیارات ہونے کے اور آفیشل بلاک ہونے کے گورنر ان مصائب کو بھی نہیں دور کر سکے جن کی حقیقت سے وہ خوب آگاہ ہیں اور جن کی شناعت کو وہ تسلیم کرتے ہیں تو آئندہ تھوڑے اختیارات کے ساتھ وہ کب حقیقی یا سیاسی اقلیتوں کی مدد کر سکیں گے- )سیاسی اقلیت سے میری مراد بنگال اور پنجاب کے مسلمان ہیں جو اکثریت کے باوجود قانوناً اقلیت میں بدل دیئے گئے ہیں اور آہستہ آہستہ انہیں اس قدر کمزور کر دیا گیا ہے کہ خاص تدابیر کے بغیر اب وہ ابھر نہیں سکتے-(
    غرض گورنروں کے ذریعہ سے اقلیتوں کی حفاظت کا طریق بہت ناقص ہے- گورنروں کو بے شک باقی ملکوں کے آئینی گورنروں کی طرح خاص اختیارات ملنے چاہئیں لیکن وہ خاص حالات کے متعلق ہونے چاہئیں نہ کہ ان امور کیلئے جو ہندوستان کا روز مرہ کا شغل بن رہے ہیں- ایسے امور کی اصلاح تو قانون اساسی ہی کے ذریعہ سے ہو سکتی ہے اور ہونی چاہئے- گورنروں کا ان امور کے متعلق بااختیار ہونا یوں بھی مصلحت کے خلاف ہے کیونکہ آئندہ گورنر آئینی گورنر ہونگے اور ان کا اصل کام غیر جانبدارانہ رویہ سے اخلاقی اثر ڈال کر لوگوں سے کام لینا ہوگا- پس ان کے سپرد اقلیتوں کے جھگڑوں کو چکانے کا کام کر دینا ان کی پوزیشن کو کمزور کر دے گا اور وہ کبھی بھی اس رسوخ کو حاصل نہ کر سکیں گے جس کے بغیر اپنے فرائض کی ادائیگی ان کے لئے مشکل ہوگی-
    علاوہ ازیں اقلیتیں اس بات سے بھی جائز طور پر خائف ہیں کہ گورنر یقیناً زبردست اقوام کے ساتھ ہوں گے کیونکہ اس کے بغیر وہ حکومت کو صحیح طور پر چلا نہیں سکتے- اسی وجہ سے اگر اختیارات ان کے سپرد ہوں گے تو اقلیتیں خواہ حقیقی ہوں خواہ سیاسی سخت خطرہ میں رہیں گی-
    نیز سیاسی طور پر بھی اس علاج پر اعتراض وارد ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ گورنروں کے سپرد ان اختیارات کو کر دینے کے یہ معنی ہونگے کہ صوبہ جاتی آزادی کبھی مکمل ہی نہ ہو کیونکہ جب تک گورنروں کو براہ راست دخل دینے کا اختیار رہے گا اس وقت تک صوبہ جات کو مکملآزادی حاصل نہیں ہو سکتی اور اگر اقلیتوں کی حفاظت کے لئے دخل دینے کی طاقت گورنروںکو دی گئی تو پھر وہ وقت نہ معلوم کب آئے گا جب کہ صوبہ جات پورے طور پر آزاد کہلا سکیں گے؟
    کمیشن نے اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کو کانسٹی ٹیوشن (CONSTITUTION) میں شامل کرنے کے خلاف مندرجہ ذیل دلائل دیئے ہیں-
    >مختلف اقلیتوں` مذاہب اور قوموں کے نمائندوں نے ہمارے سامنے زور دیا ہے کہ ہندوستانی مجلس قانون ساز کے اختیارات آئین اساسی میں اس طرح واضح کر دینے چاہئیں کہ وہ امتیازی قانون پاس نہ کر سکے اور اگر وہ ایسا کرے تو اس کا قانون ناجائز سمجھا جائے<- >ہمیں یقین ہے کہ قانون کے ذریعہ سے حفاظت خاصخاص اقلیتوں کو نہیں دی جا سکے گی اور نہ ہی ایسا قانون پاس کیا جا سکتا ہے کہ جس سے صرف تجارت کے متعلق طرفداری والے قانون کی ممانعت کی جائے- اس وجہ سے اگر قانون میں حفاظتی تدابیر کا ذکر کیا گیا تو اس کے الفاظ ایسے وسیع بنانے ہوں گے کہ انسانی حقوق کے گنوانے سے زیادہ اس میں کچھ نہ ہو سکے گا اور ان الفاظ سے ان عدالتوں کو جنہیں یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کیا شکایت کنندہ گروہ اقلیت کہلا سکتا ہے؟ یا یہ کہ کیا وہ قانون جس کی شکایت کی گئی ہے واقعہ میں ناجائز طرفداری والا قانون ہے؟ کوئی امداد نہ ملے گی<-
    علاوہ ازیں یہ دیکھتے ہوئے کہ ہندوستان میں مقدمات جس طرح باریکدرباریک باتیں نکال کر کئے جاتے ہیں اور انہیں خاص طور پر لمبا کیا جاتا ہے ہمیں اس امر کی امید رکھنی چاہئے کہ عدالتوں میں ایسے مقدمات لے جائے جایا کریں گے جن کا تصفیہ عدالتوں میں اچھی طرح نہیں ہو سکتا-
    >یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر عدالت کو ایسے مقدمات میں فیصلہ کرنے کا اختیار ہو جن کی بناء حقیقی شکایات ہوں تو اس کا یہ بھی فرض ہے کہ ان مقدمات کو بھی وہ سنے جن کی بنیاد دور از قیاس امور پر رکھی گئی ہو اور جن کے چلانے کی کوئی بھی معقول وجہ موجود نہ ہو- پس ان مشکلات کو دیکھتے ہوئے ہم یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہیں کہ حفاظتی قانون کے ذریعہ سے ناجائز طرفداری والے قانونوں کا ازالہ نہ کریں<- ۳۹~}~
    ان اعتراضات کو بیان کر کے کمیشن کہتا ہے کہ-:
    >پس حفاظت کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ ایک غیر جانبدارانہ دخل اندازی کا اختیار گورنر جنرل اور صوبہ جات کے گورنروں کے ہاتھ میں اس غرض کیلئے قائم رکھا جائے اور انہیں جو ہدایات اپنے کام کو صحیح طور پر چلانے کے لئے دی جائیں ان میں یہ واضح کر دیا جائے کہ تمام مناسب موقعوں پر وہ اسی طاقت کو استعمال کریں<-
    میں یہ تو ثابت کر چکا ہوں کہ یہ ذریعہ بھی کوئی ذریعہ نہیں- نہ تو اس سے اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت ہو سکتی ہے اور نہ ہی گورنر کی پوزیشن ہی آئینی طور پر مضبوط رہتی ہے اور علاوہ ازیں اس طریق کے اختیار کرنے سے صوبہ جات کی آزادی بھی خطرہ میں پڑ جاتی ہے- پس میں صرف ان اعتراضات کا جواب دیتا ہوں جو کمیشن نے حفاظتی تدابیر کو آئین اساسی میں لانے کے متعلق کئے ہیں-:
    )۱(
    کمیشن کہتا ہے کہ چونکہ مختلف اقلیتوں میں امتیاز نہیں کیا جا سکتا اس لئے ہندوستان میں مختلف اقلیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون بنانا پڑے گا اور وہ قانون لازماً بالکل مبہم الفاظ میں ہوگا-
    کمیشن کے ممبروں نے یہ نہیں سوچا کہ اقلیتیں خواہ کس قدر ہوں وجوہ اختلاف بہت تھوڑے ہیں اور مشترک ہیں- قریباً وہی قانون مسلمانوں کے حق کی حفاظت کرے گا- جو مسیحیوں کے حق کی حفاظت کرے گا اور وہی ہندوئوں کے حق کی بھی کرے گا اور وہی سکھوں کے حق کی بھی کرے گا- مثلاً اگر آئین اساسی میں یہ دفعہ رکھ دی جائے کہ اپنی پرائیویٹ ملکیت کی جگہوں پر کسی قوم کو معبد بنانے سے نہیں روکا جائے گا تو اس کا فائدہ مسلمانوں کو ہی حاصل نہ ہوگا بلکہ مسیحیوں` انگریزوں` ہندوئوں` سکھوں اور پارسیوں سب کو ہوگا- یا مثلاً یہ دفعہ اس میں ہو کہ کوئی امتیازی قانون نہیں بنایا جائے گا تو اس کا فائدہ بھی سب فرقوں کو یکساں پہنچے گا- اسی طرح اگر یہ قانون ہو کہ تبلیغ سے کسی صورت میں نہیں روکا جائے گا نہ تبدیلی مذہب کے لئے کوئی حد بندی کی جائے گی- جیسے مثلاً مجسٹریٹ کی اجازت یا ایسی ہی کوئی شرط تو اس کا فائدہ بھی سب ہی اٹھائیں گے- غرض اکثر قوانین ایسے ہی ہونگے کہ کسی خاص اقلیت کی خاطر نہیں بنائے جائیں گے بلکہ سب اقلیتوں کے مفاد ان میں مشترک ہونگے- پس یہ کہنا کہ ہر ایک اقلیت کے حقوق کی حفاظت کا ذکر چونکہ تفصیلاً نہیں ہو سکتا اس لئے مبہم الفاظ میں قوانین بنانے پڑیں گے درست نہیں- لیکن اگر یہ صحیح بھی ہو کہ الگ الگ قوانین بنانے پڑیں گے تو لاکھوں کروڑوں آدمیوں کے مذہب اور جان اور مال کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ چند دفعات کی زیادتی کے خوف سے اسے چھوڑ دیا جائے- میرا سب سے بڑا سوال اس کے متعلق یہ ہے کہ گورنر کو جو ہدایات دی جائیں گی وہ مبہم ہونگی یا مفصل؟ اگر مبہم ہونگی تو کیا کمیشن یہ یقین کرتا ہے کہ نو دس کروڑ افراد اقلیتوں کے ان مبہم ہدایات کی وجہ سے مطمئن ہو جائیں گے؟ اور اگر وہ ہدایات مفصل ہونگی تو جن الفاظ میں گورنر کو ہدایت دی جا سکتی ہے انہیں الفاظ کو کیوں آئین اساسی میں شامل نہیں کیا جا سکتا؟ مبہم الفاظ میں گورنر کو ہدایت دینی تو ایک ایسا فعل ہے جس سے کچھ بھی نفع نہیں پہنچ سکتا بلکہ مضرت کا احتمال ہے- غرض ابہام کا اعتراض ایسا نہیں جو صرف آئین اساسی پر وارد ہوتا ہو- یہ اعتراض اسی زور سے بلکہ اس سے زیادہ زور سے گورنر کو اختیارات دینے پر وارد ہوتا ہے- کل کو ممکن ہے کہ اقلیت پر ایک حملہ ہو اور گورنر کہہ دے کہ قانون اساسی میں اس کا ذکر نہیں- میرے نزدیک اکثریت کو حق ہے کہ اس بارے میں قانون بنائے تو اس صورت میں اقلیتیں کیا کر سکتی ہیں- گورنر کے اختیارات بھی تو تبھی نفع دے سکتے ہیں کہ جب قانون اساسی میں اقلیتوں کے حقوق کا تفصیلی ذکر ہو تا کہ ان کی بناء پر اقلیتیں مطالبہ کر سکیں اور ان کی روشنی میں گورنر فیصلہ کر سکے- پس گورنر کے ہاتھ میں اختیارات کا رکھنا ہمیں آئین اساسی کی تکمیل سے آزاد نہیں کر سکتا- گورنر کو زیادہ سے زیادہ سپریم کورٹ کا قائم مقام قرار دیا جا سکتا ہے لیکن جس طرح سپریم کورٹ کا قیام آئین اساسی کے مکمل ہونے کی ضرورت ثابت کرتا ہے نہ کہ اس کے غیر ضروری ہونے کی اسی طرح گورنروں کو اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی ہدایت دینا ان حقوق کے بالتفصیل بیان کرنے کا متقاضی ہے نہ کہ اسے بغیر بیان کئے چھوڑ دینے کا- جب حقوق ہی بیان نہ ہونگے تو گورنر فیصلہ کس امر کا کرے گا- غرض یہ دلیل کمیشن کی بالکل کمزور اور بودی ہے- فیصلہ گورنر کے ہاتھ میں ہو یا کسی اور کے ہاتھ میں` یہ لازم ہے کہ ان امور کو کہ جنہیں اقلیتوں کی حفاظت کیلئے ضروری سمجھا جائے آئین اساسی میں بیان کر دیا جائے-
    یہ امر بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں کہ اگر آئین اساسی میں وہ امور بیان نہ ہونگے جن میں دخل اندازی قانون ساز مجالس کیلئے جائز نہ ہوگی تو جو فیصلہ بھی وہ کرے گی وہ اصولاً آئینی ہوگا- اور اس صورت میں گورنر کا ان کے فیصلہ کو رد کرنا یا اسے تبدیل کرنا غیرآئینی ہوگا- اور اس کے دخل دینے کے معنی یہ ہونگے کہ قانون ساز مجلس تھی تو اپنے اختیارات کے دائرہ کے اندر لیکن گورنر نے بعض اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی خاطر اس کے بنائے ہوئے قانون کو رد کر دیا- لیکن کیا اس اصل پر کوئی آئینی حکومت چل سکتی ہے؟ اور کیا اس قسم کی غیرآئینی دخل اندازی دیر تک برداشت کی جا سکتی ہے؟ اس طرح اقلیتیں تو یہ محسوس کریں گی کہ وہ گورنر کے احسان پر زندہ ہیں اور صرف رحم کے طور پر ان سے سلوک کیا جا رہا ہے اور اکثریت بھی اس وجہ سے انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھے گی اور ایک نیا آفیشل بلاک (OFFICIALBLOCK) بن جائے گا جو ایسا ہی ملک کے لئے مضر ہوگا جیسا کہ پہلا آفیشلبلاک مضر ہو رہا ہے-
    لیکن اگر اس کے بر خلاف آئین اساسی میں اقلیتوں کے حقوق کا ذکر آ جائے تو بالفرض اگر گورنر کے ہاتھ میں بھی اختیار رکھا جائے تو بھی اس کا دخل دینا آئینی سمجھا جائے گا اور اقلیتوں کو بھی یہ احساس نہ ہوگا کہ وہ کوئی احسان طلب کر رہی ہیں بلکہ وہ جب طلب کریں گی اپنا حق طلب کریں گی-
    )۲(
    دوسرا اعتراض کمیشن کا یہ ہے کہ اگر قانون اساسی میں اقلیتوں کے حقوق کی دفعات کو شامل کیا گیا تو مقدمہ بازی بڑھ جائے گی کیونکہ عدالتوں میں کمزور اور مضبوط ہر قسم کے مقدمات چلائے جا سکتے ہیں-
    اس کے متعلق میرا یہ سوال ہے کہ گورنر کا رویہ ایسے اوقات میں کیا ہوگا؟ کیا یہ ہوگا کہ وہ اپنی مرضی سے جس معاملہ کو چاہے گا رد کر دے گا اور جسے چاہے گا زیر غور لے آئے گا یا ہر معاملہ پر غور کر کے فیصلہ کرے گا- یا یہ کہ کسی دوسرے افسر سے رپورٹ لے کر اگر وہ سفارش کرے کہ درخواست قابل غور ہے تو وہ غور کرے گا ورنہ نہیں؟ اگر پہلی صورت ہوگی اور وہ بغیر درخواست پڑھنے کے صرف درخواست کنندوں کے نام دیکھ کر فیصلہ کر دیا کرے گا تو ایسے فیصلہ کی حقیقت کچھ بھی نہ ہوگی- اور اگر وہ کسی دوسرے افسر کی رپورٹ پر فیصلہ کرے گا کہ معاملہ قابل غور ہے یا نہیں تو اس کی دو صورتیں ممکن ہیں- اول یہ کہ وزیر متعلقہ کی رپورٹ پر فیصلہ کرے- یہ صورت ظاہر ہے کہ ایسی ہی ہے کہ کسی ملزم سے رائے لی جائے کہ تمہارے خلاف مقدمہ سنا جائے یا نہیں؟ اور اگر اس کے لئے کوئی اور محکمہ بنایا جائے گا تو ایسے آفیسر کہاں سے لائے جائیں گے جن کی رپورٹوں پر اطمینان کیا جا سکے کہ وہ گورنر کے آگے معاملہ کو صحیح طور پر رکھیں گے اور اسے دھوکا نہیں دیں گے- اور اگر یہ صورت اختیار کی جائے گی کہ گورنر خود ہر ایک ایسی درخواست کو جو حقوق کے اتلاف کے متعلق ہو سنے گا تو یہ صورت بھی دو حالتوں سے خالی نہیں ہوگی- اگر تو ایسی درخواستیں زیادہ تعداد میں ہونگی جیسا کہ کمیشن کو خوف ہے تو ایسا گورنر کہاں سے لایا جائے گا جو علاوہ تمام انتظامی کام کی نگرانی اور صوبہ کے لوگوں سے ملاقاتیں کرنے اور قانون ساز مجالس کے کام کی نگہداشت اور محکمانہ خط و کتابت کے ان کثیر التعداد درخواستوں کو بھی پوری طرح سنے گا اور کافی غور کے بعد ان کے بارہ میں فیصلہ دے گا- اس صورت میں تو ایک نہیں کئی گورنر مقرر کرنے پڑیں گے- اور اگر غرض یہ ہے کہ صرف اشک شوئی کی جائے اور درخواستیں لیکر کوئی سیکرٹری پڑھ لے اور خود ہی یہ فیصلہ لکھ کر ہمارے نزدیک معاملہ دخل اندازی کے قابل نہیں گورنر صاحب کے دستخطوں سے یا ان کی طرف سے دستخط کر کے درخواست کنندوں کو واپس بھیج دے تو کیوں کمیشن نے صاف طور پر یہی سفارش نہ کر دی کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی ضرورت نہیں- انہیں اکثریت کے رحم پر چھوڑ دیا جائے یا تو وہ ظلم سے تنگ آ کر ملک سے نکل جائیں گی یا تباہ اور برباد ہو کر اکثریت کے لئے راستہ خالی کر دیں گی-
    ہندوستان کے بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اس سکیم کی اصل غرض صرف یہ ہے کہ کمیشن نے جو حقوق ہندوستان کو بظاہر دیئے تھے وہ اس ترکیب سے انہیں واپس لینا چاہتا ہے- اور آفیشل بلاک کی جگہ ایک اقلیت کا بلاک بنانا چاہتا ہے جو گورنر کے رحم پر ہونے کے سبب موقع بے موقع اور جائز و ناجائز طور پر اکثریت کا مقابلہ گورنروں کے اشارہ پر کرتا رہے اور حکومت پھر بھی پہلے کی طرح ہندوستانیوں کے ہاتھ سے باہر ہی رہے- میں کمیشن کے ممبروں پر یہ الزام نہیں لگاتا لیکن یہ یقینی بات ہے کہ کوئی گورنر ہر گز اس طرح کام نہیں کر سکتا اور نتیجہ یہی ہوگا کہ جب کبھی کوئی اقلیت شور ڈال کر گورنر کو متوجہ کر سکے گی اس کی درخواست پر تو اس صورت میں کہ اکثریت کو کافی شور مچانے کا موقع نہ ملا ہو یا گورنر کے نزدیک انہیں کسی قدر تنبیہ کرنے کی ضرورت ہو کچھ توجہ ہو جائے گی` ورنہ گورنروں کو ایسی درخواستوں کی طرف بذات خاص توجہ کرنے کا نہ موقع ہوگا نہ وہ ایسا کر سکیں گے- کمیشن نے اس امر پر بھی غور نہیں کیا کہ گورنر ایگزیکٹو (EXECUTIVE) افسر ہوگا- اور اس وجہ سے لازماً وہ ایگزیکٹو حالات سے متاثر ہوگا اور خالص قانونی نقطہ نگاہ کو مدنظر رکھنا اس کے لئے مشکل ہوگا اور جو فیصلے وہ کرے گا وہ ایگزیکٹو حالات اور اس کی وزارت کے خیالات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہیں گے-
    خلاصہ یہ ہے کہ کمیشن نے جس مشکل کی بناء پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ آئین اساسی میں اقلیتوں کے حقوق کی تفصیل نہیں ہونی چاہئے وہ مشکل گورنر کو ہدایت دینے کی صورت میں بھی اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ شدت سے قائم رہتی ہے- اور جس مشکل سے بچنے کے لئے اس نے عدالتوں کی بجائے گورنر کے ذمہ اس کام کو لگایا ہے وہ مشکل گورنر کے راستہ میں اور بھی اہم صورت میں پیدا ہو جاتی ہے اور حقیقت حال پر غور کرنے سے اس نتیجہ پر پہنچنا پڑتا ہے کہ یا تو گورنر یہ کام کر ہی نہیں سکے گا اور طبعی طور پر اس کے لئے اس کام کو کرنا ناممکن ہوگا اور کام یونہی پڑا رہے گا- اور یا پھر گورنر کا صرف نام ہوگا اور کریں گے دوسرے لوگ اور انصاف کا حاصل کرنا بالکل محال ہوگا-
    اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ کانسٹی ٹیوشن خود تو اپنے پر عمل کرا نہیں سکتی اور نہ انسان آئندہ کی ضرورتوں کو پوری طرح سمجھ سکتا ہے- پھر کیا جائے تو کیا؟ میرا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان آئندہ کی سب ضرورتوں کو نہیں سمجھ سکتا لیکن اس وجہ سے کہ ہم آئندہ کی ضرورتوں کو نہیں سمجھ سکتے موجودہ ضرورتوں کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے- وہ طریقے جو اس وقت تک دنیا کی تاریخ سے اقلیتوں کو نقصان پہنچانے کے معلوم ہو چکے ہیں اور وہ ارادے جو اکثریت آئندہ کے متعلق ظاہر کر چکی ہے ان کو مدنظر رکھتے ہوئے اقلیتوں کی حفاظت کی دفعات آئین اساسی میں رکھ دی جائیں- ہندوستان ہی ایک ایسا ملک نہیں ہے کہ جس میں مختلف اقلیتیں پائی جاتی ہیں اور ممالک بھی ہیں اور انہوں نے یا معاہدات کے ذریعہ یا آئین اساسی کے ذریعہ سے مختلف اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی کوشش کی ہے اور یہ درست نہیں کہ سب کے سب اس میں ناکام رہے ہیں- بعض ممالک میں یہ حفاظتی طریق کامیاب ہو چکے ہیں یا ہو رہے ہیں- چنانچہ زیکو سلویکا میں بہت حد تک کانسٹی ٹیوشن کی وجہ سے اقلیتوں کو اپنے حقوق کی حفاظت میں کامیابی ہو رہی ہے-
    اس میں کوئی شک نہیں کہ قانون خالی کافی نہیں ہوتا جب تک اس کے صحیح استعمال کی روح بھی مجلس عاملہ میں موجود نہ ہو- لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا قانون اور مجلس عاملہ دونوں کی مخالفت زیادہ آرام دہ صورت ہے یا کم سے کم ایک طرف سے اطمینان بہتر حالت ہے- اگر قانون ہو تو اقلیتوں کو شور مچانے کا موقع ہوتا ہے اور ظالم قوم کے شریف الطبع لوگوں سے اپیل کرنے کا موقع ہوتا ہے- اگر قانون بھی نہ ہو پھر تو کوئی جگہ بھی سہارا لینے کے لئے باقی نہیں رہتی-
    ہندو نقطئہ نگاہ اقلیتوں کی حفاظت کی تدابیر کے متعلق
    اس جگہ میں ہندو نقطئہ نگاہ کو بھی پیش کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ بھی بہت کچھ انگریزوں کی رائے پر اثر انداز ہوتا ہے- انگریز فطرتا حفاظتی تدابیر کی ظاہری صورت کے مخالف ہے- جس کی وجہ سے وہ ہر اس رائے کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے جو ایسی تدابیر کی ضرورت کو اڑا دے- وہ حفاظتی تدابیر کی ضرورت تسلیم کرنے میں اپنے قومی نظام کی شکست محسوس کرتا ہے- اور اسے یہ خیال نہیں آتا کہ ہر قوم کے حالات مختلف ہوتے ہیں اور وہ اس امر کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ اس کا نظام اپنے ارتقاء کے دوران میں ان حالات سے گزر چکا ہے جن میں سے ہندوستان اب گزر رہا ہے- اس تمام تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے جو گزر چکی ہے رومن کیتھولک اور پراٹسٹنٹ کی ایک دوسرے کے خلاف تدابیر کو یاد کرتے ہوئے آج کوئی انگریز یہ پسند نہ کرے گا کہ وہی جذبات اور وہی حالات اگر دوبارہ پیدا ہو جائیں تو بجائے آئینی حفاظت کے اس کے ملک کو دوبارہ پہلے سے حالات میں سے گزارا جائے- مگر انگریزی قوم اس تاریخ کو بھول جاتی ہے اور حفاظتی تدابیر کا ذکر آتے ہی سمجھنے لگتی ہے کہ اس سے اس کے نظام کا نقص بیان کرنا مطلوب ہے اور وہ جھٹ اس طرح ہوشیار ہو جاتی ہے کہ جس طرح اس کی عزت پر کوئی حملہ ہونے لگا ہو- پس اندریں حالات بھی ضروری ہے کہ ہندو نقطئہ نگاہ کی حقیقت بھی بیان کر دی جائے تا کہ کم سے کم وہ جو دلیل کی قوت کو تسلیم کرتے ہیں دھوکے میں نہ رہیں-
    ہندو نقطئہ نگاہ )جس سے میری مراد ان ہندوئوں کا نقطئہ نگاہ ہے جو مہاسبھائی ذہنیت کے ہیں اور جن کا غلبہ اس وقت اپنی قوم پر ہے- ورنہ ہندوئوں میں بہت شریف الطبع اور منصف مزاج لوگ بھی ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ سرسپرو جیسے اور بھی کئی آدمی رائونڈ ٹیبل کانفرنس میں موجود ہوں گے- جو اپنی قوم کے خاموش حصہ کی ترجمانی کرتے ہوئے ملک کی آزادی اور اس کے امن کے قیام کی راہ کھول دیں گے( یہ ہے کہ اقلیتوں کو کوئی خطرہ ہی نہیں ہے اور اقلیتیں جو مطالبات کرتی ہیں وہ قومیت کو کمزور کرنے والے ہیں اور مسلمانوں کی حکومت قائم کرنے کے مترادف ہے-
    میں پہلے ثابت کر چکا ہوں کہ اقلیتوں کے مطالبات پر یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا- ان کے مطالبات دوسری اقوام کے حقوق کو تلف کرنے والے ہر گز نہیں ہیں اور نہ وہ ملکی مفاد کے مخالف ہیں لیکن میں اس جگہ اختصار سے پھر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس گروہ کے ہندوئوں کی یہ کوشش کہ اقلیتوں کے مطالبات آئین اساسی میں نہ آئیں اس لئے نہیں کہ یہ لوگ نیشنلسٹ (NATIONALIST) ہیں بلکہ صرف اس وجہ سے ہے کہ کہیں اقلیتیں بھی اپنے پائوں پر کھڑے ہو کر اپنے حقوق میں سے کچھ حصہ نہ لے لیں- ورنہ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ آئین اساسی کی غرض یہ ہوتی ہے کہ مختلف اقوام اس کے ذریعہ سے آپس میں ایک معاہدہ کرتی ہیں اور اقرار کرتی ہیں کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے حقوق کی ہمیشہ کے لئے محافظ رہیں گی- یا تو ہندو یہ ثابت کریں کہ اقلیتیں جن امور کا مطالبہ کرتی ہیں ان میں ہندوئوں کے حقوق کا اتلاف ہے ورنہ ان کے انکار کرنے کے سوائے اس کے کیا معنی ہو سکتے ہیں کہ وہ اقلیتوں کو ان کا حق دینا پسند نہیں کرتے-
    مثلاً تبلیغی آزادی کو لے لو- اگر ہندو اقلیتوں کو تبلیغ سے روکنے کا ارادہ نہیں رکھتے تو انہیں اس امر پر کیوں اعتراض ہے کہ قانون اساسی میں یہ شرط رکھی جائے کہ تبلیغ آزاد ہوگی؟ اور اگر ان کا یہ ارادہ نہیں تو وہ ڈاکٹر گوکل چند صاحب نارنگ کے ان الفاظ پر کہ-:
    >اگر آپ کے ایک ہندو بھائی کو مسلمان بنانے میں آپ کسی کو روکتے ہیں اور وہ باز نہیں آتا تو بہتر ہے کہ آپ وہاں کٹ کر مر جائیں<
    عمل کریں تو ان کا کیا حرج ہے کہ ہندوستان کے قانون اساسی میں یہ بات آ جائے کہ تبدیلی مذہب پر کسی قسم کی کوئی پابندی مقرر نہیں کی جائے گی- یا اگر ہندوئوں کا یہ ارادہ نہیں ہے کہ انگریزوں کے خلاف خاص قواعد بنا کر ان کی ہندوستانی تجارت کو تباہ کریں تو ان کا کیا حرج ہے کہ آئین اساسی میں یہ بات آ جائے کہ ایسا کوئی قانون نہ بنایا جائے گا جس کا منشاء کسی خاص قوم کی تجارت کو جو ہندوستان کو وطن بنا چکی ہو تباہ کرنا ہو-
    غرض جب کہ اقلیتیں کسی اور کا حق نہیں مارتیں صرف اپنے جائز حقوق کی حفاظت چاہتی ہیں تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ان کے مطالبات ملک کو کمزور کرنے والے اور ظالمانہ ہیں اور اکثریت کے لئے ایک دھمکی کے مترادف ہیں؟ جس چیز کے کرنے کا انسان ارادہ رکھتا ہے اس کا اقرار کرنے سے بھی وہ نہیں ڈرا کرتا اور کانسٹی ٹیوشن (CONSTITUTION) صرف دلی ارادہ کے اظہار کا نام ہوتا ہے اور کچھ بھی نہیں-
    ‏a11.10
    انوار العلوم جلد ۱۱
    ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل
    حصہ دوم
    باب اول
    ہندوستان کا آئین اساسی
    اب میں اس مقام پر پہنچ گیا ہوں کہ ہندوستان کے آئندہ دستور اساسی کے متعلق اپنے خیالات کو ظاہر کر سکوں کیونکہ ابتدائی مراحل کو میں طے کر چکا ہوں اور اب مجھے صرف نتیجہ بیان کرنا ہے جو یہ ہے کہ ہندوستان کا آئندہ دستور اساسی محفوظ (RIGID) ہو اور اقلیتوں اور صوبوں کے حقوق کی حفاظت اس میں مدنظر رکھی جائے- اکثریت بے شک جو بات ملک کے لئے بہتر سمجھے اس کے مطابق عمل کرے لیکن جب تک اقلیتیں اس پر تسلی نہ پا جائیں اس وقت تک اکثریت کے اختیارات کو اس طرح محدود کر دیا جائے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کو تلف نہ کر سکے اور اس حد بندی کو آئین اساسی میں شامل کر دیا جائے کیونکہ آئین اساسی اپنے ساتھ مادیطاقت نہیں رکھتا لیکن اخلاقی طاقت بہت کچھ رکھتا ہے اور اکثریت کا ایک حصہ ضرور معاہدہ کی خلاف ورزی سے پرہیز کرنے پر اصرار کرتا ہے جس کی مدد کے ساتھ اقلیت اپنے حقوق کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے-
    دنیا میں حکومتیں معاہدات کو توڑتی ہی رہتی ہیں لیکن باوجود اس کے کوئی نہیں کہتا کہ معاہدات کی کیا ضرورت ہے؟ جب کسی حکومت کی مرضی ہوگی وہ معاہدہ توڑ دے گی- اس میں کوئی شک نہیں کہ مرضی پر معاہدات ٹوٹ سکتے ہیں اور توڑے جاتے ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ معاہدات کو توڑ کر جس قدر ظلم ہوتا ہے اس سے بہت زیادہ بغیر معاہدہ کے ہوتا ہے- دنیا میں سب انسان یکساں نہیں ہوتے- بعض لوگ معاہدہ کا احترام کرتے ہیں اور اپنے دوسرے بھائیوں کو ان کے توڑنے سے روکتے ہیں اور اس طرح ظلم کا ایک حصہ مٹ جاتا ہے- پس کانسٹی ٹیوشن میں اقلیتوں کے جائز مطالبات کا آنا ضروری ہے تا کہ ملک کی بھی اور دنیا کی رائے عامہ بھی اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی تائید میں استعمال کی جا سکے-
    مگر میں یہ نہیں کہتا کہ صرف کانسٹی ٹیوشن میں ان حقوق کا ذکر آ جائے کیونکہ گو پبلکرائے بھی بہت کچھ مدد کرتی ہے لیکن بعض دفعہ دیانتدارانہ طور پر معاہدات کے معنی کرنے میں اختلاف ہو جاتا ہے- اس صورت میں کوئی اور نظام بھی ایسا ہونا چاہئے جو غیرجانبدار رہ کر اختلاف کا فیصلہ کر سکے- اس موقع پر کمیشن کی سفارش پھر سامنے آ جاتی ہے- کمیشن کا خیال ہے کہ اس کا فیصلہ گورنر کے ہاتھ میں رکھا جائے لیکن میں ثابت کر چکا ہوں کہ یہ طریق درست نہیں اور اس میں گورنروں کی پوزیشن کو بھی نقصان پہنچے گا اور اقلیتوں کو بھی کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا-
    میرے نزدیک اس کا بہترین طریق وہی ہے جسے دنیا تجربہ سے معلوم کر چکی ہے- یعنی عدالت کے سپرد یہ فیصلہ کیا جائے- کانسٹی ٹیوشن ایک معاہدہ ہے اور اسے وہی بدل سکتا ہے جس نے یہ معاہدہ کیا تھا- جو شخص یا اشخاص معاہدہ کرنے والوں کی رضا مندی کے بغیر اسے بدلتے ہیں وہ خلاف قانون کام کرتے ہیں- پس ایک ایسا محکمہ ہونا ضروری ہے جو یہ فیصلہ کرے کہ آیا واقعہ میں معاہدہ کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں اور یہ فیصلہ ہو بھی اس طرح کہ کسی کو معقول طور پر اعتراض کی گنجائش نہ رہے اور یہ غرض صرف عدالت سے حاصل ہوتی ہے- عدالت کے جج بھی انسان ہوتے ہیں- وہ بھی خاص میلان رکھتے ہیں لیکن ان میں ایک بات ایسی ہوتی ہے جو انصاف کی طرف انہیں مائل کرتی رہتی ہے اور وہ عادت ہے- بہت سے ججوں کی زندگی میں ایسے مقدمات ضرور آتے رہتے ہیں کہ جن میں وہ ایک شدید میلان اور فریق کی طرف محسوس کرتے ہیں لیکن اگر وہ رشوت خور نہ ہوں تو اکثر مقدمات ان کے سامنے ایسے آتے ہیں جن سے انہیں ذاتی دلچسپی نہیں ہوتی اور اس طرح ان کا دماغ اسی رنگ میں نشوونما پاتا رہتا ہے کہ انہیں انصاف کی عادت ہو جاتی ہے- عادت کے علاوہ کچھ احتیاطیں عدالت کے متعلق قانون نے بھی اختیار کی ہیں جو اسے ایک حد تک انصاف پر مجبور کر دیتی ہیں اور وہ یہ کہ اس کی سب کارروائی کھلے بندوں ہوتی ہے اور اس کے سامنے دونو فریق اپنے دلائل پیش کر سکتے ہیں- اور وہ پہلے امور قابل تنقیح نکال کر قابل بحث امور کو ایک لحاظ سے واضح اور ایک لحاظ سے محدود کر دیتی ہے- پھر عدالت مجبور ہے کہ خود فیصلہ لکھے- اس طرح اس کے فیصلے اور اس کی سب کارروائی کی نقل لینے کا دونوں فریق کو حق ہے- یہ پانچوں امر بظاہر معمولی معلوم دیتے ہیں لیکن انصاف میں بہت ممد ہیں اور کم سے کم ایک بڑی حد تک فریقین کے لئے تسلی اور اطمینان کا موجب ہو جاتے ہیں- اس کے برخلاف ایگزیکٹو (EXECUTIVE) کی کارروائی پس پردہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے رعایت کا شبہ لوگوں کے دلوں میں رہتا ہے- اس میں فریقین کو ایک دوسرے کے بالمقابل جرح کرنے اور دلائل بیان کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا جس کی وجہ سے وہ امور جو ایگزیکٹو پر مشتبہ رہیں انہیں کھولنے کا موقع فریقین کو نہیں ملتا- وہ قابل تنقیح امور کو الگ نکال کر فریقین کو اس سے آگاہ نہیں کرتی کہ اسے معاملہ کی حقیقت سے واقف کرنے کے لئے کن کن امور پر روشنی ڈالنی ضروری ہے- پھر ضروری نہیں کہ وہ فیصلہ خود لکھے یا لکھوائے بلکہ عام طور پر ایگزیکٹو محکموں میں فیصلے دوسرے لوگ لکھتے ہیں اور افسر صرف یہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ فیصلہ درست ہے- حالانکہ سب مسل کو پڑھ کر خود فیصلہ لکھنا یا لکھوانا اور شئے ہے اور دوسرے کے فیصلہ پر نظر اصلاح ڈالنا اور شئے ہے اسی طرح ایگزیکٹو کی سب کارروائی ضروری نہیں کہ تحریر میں آئے اس کا ایک حصہ ضرور زبانی مشوروں پر مبنی ہوتا ہے اس وجہ سے اس کا ریکارڈ نامکمل ہوتا ہے اور پھر اس نامکمل ریکارڈ کی نقل لینے کا فریقین کو اختیار نہیں ہوتا جس کی وجہ سے فریقین کو اس کے فیصلے کے صحت کے پرکھنے کا موقع نہیں ملتا- ان پانچوں اختلافوں کی وجہ سے حقوق کے تصفیہ کے لئے عدالت کے فیصلہ کو انتظامی حکام کے فیصلہ سے ممتاز کیا گیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اس بارے میں ممتاز ہے-
    میرا یہ مطلب نہیں کہ عدالت خراب نہیں ہو سکتی- میں خود پہلے لکھ چکا ہوں کہ عدالتیں بھی خراب ہو سکتی ہیں لیکن جب دو چیزوں کا مقابلہ کیا جاتا ہے تو دونوں کی اچھی یا دونوں کی بری یا دونوں کی اوسط حالت کا مقابلہ کیا جاتا ہے` نہ کہ ایک کی اچھی اور ایک کی بری حالت کا- اور اگر اس طرح ہم عدالت اور ایگزیکٹو کا مقابلہ کریں تو یقیناً ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ بری عدالت بری ایگزیکٹو سے کم نقصان پہنچا سکتی ہے اور اچھی ایگزیکٹو سے اچھی عدالت پر لوگ زیادہ اعتبار کرتے ہیں اور اس کی یہ وجہ نہیں کہ عدالت پر زیادہ قابل لوگ مقرر کئے جاتے ہیں بلکہ اس کی وجہ وہ قوانین ہیں جن کا میں اوپر ذکر کر آیا ہوں اور جن کی وجہ سے لوگوں کے قلوب میں ایک اطمینان سا پیدا ہو جاتا ہے- اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ محبت کے جذبات ہمیشہ ایگزیکٹو سے تعلق رکھتے ہیں` عدالت سے نہیں- کیونکہ اس کی وجہ ایگزیکٹو کے فیصلوں کی خوبی نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ عدالت کی بنیاد دلیل پر ہے اور ایگزیکٹو کی احساسات پر` اور محبت احساسات سے تعلق رکھتی ہے چنانچہ اس کے مقابل پر یہ امر بھی دیکھا جائے گا کہ نسبتی طور پر لوگ عدالت سے اس قدر نفرت بھی نہیں کرتے جس قدر ایگزیکٹو سے` اور اس کی وجہ بھی وہی ہے کہ ایگزیکٹو کا احساسات سے زیادہ تعلق ہے-
    مجھے جن جن صاحب علم و تجربہ اور بارسوخ مسلمانوں سے اس بارہ میں تبادلہ خیالات کا موقع ملا ہے میں نے ان سب کو اس امر کے خلاف پایا ہے کہ اختلاف کی صورت میں عدالت پر آئین اساسی کی تشریح کو چھوڑا جائے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ وہ جج کہاں سے لائے جائیں گے جو منصفانہ طور پر فیصلہ کریں گے- اگر تو وہ ہندوستان کی حکومت کی طرف سے مقرر شدہ ہونگے اور ہندو یا مسلمان ہونگے تو بوجہ اس کے کہ آئینی سوالوں کے ساتھ خود ان کے مفاد وابستہ ہوں گے ان کی رائے تعصب کیا ذاتیات سے بھی آزاد نہ ہوگی اور اگر وہ جج برطانیہ کی طرف سے مقرر کر کے بھیجے گئے تو بھی یہ سوال رہے گا کہ برطانیہ ضرور اکثریت کے خیالات سے مرعوب ہوگا اور وہ ایسے جج مقرر نہیں کرے گا جو تمام تعصبات سے بالا ہوں-
    بے شک اس دلیل میں ایک حد تک وزن ہے- لیکن میرا سوال یہ ہے اور اس کا جواب اس وقت تک کوئی مجھے نہیں دے سکا کہ پھر فیصلہ کس طرح ہوگا؟ یا تو یہ تسلیم کیا جائے کہ میجاریٹی (MAJORITY) کبھی بھی آئین اساسی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کرے گی- تب بیشک کسی تیسرے محکمہ کی ضرورت نہ ہوگی جو اختلاف کی صورت میں آئین اساسی کے معنی کرے- لیکن اگر میجارٹی پر اس قدر حسن ظن ہے تو پھر حفاظتی تدابیر کی ضرورت ہی کیا ہے؟ لیکن اگر یہ ممکن بلکہ قرین قیاس ہے کہ میجارٹی دانستہ یا نادانستہ ایسے فیصلے کرے گی جو آئین ا ساسی کے خلاف ہونگے- یا بعض حالات میں کوئی اقلیت یا کوئی صوبہ یا تمام صوبہ جاتی حکومتیں مرکزی حکومت کے کسی فیصلہ کو آئین اساسی کے خلاف قرار دیں گی تو پھر یہ بھی ضروری ہے کہ اس اختلاف کا فیصلہ کرنے والا بھی کوئی صیغہ ہو- اگر ایسا صیغہ کوئی نہ ہو تو آئین اساسی کا فائدہ کیا ہے- اس صورت میں وہ اقلیتوں کے لئے ایسا ہی غیر مفید ہے جیسا کہ عام قانون-
    اگر ان لوگوں کا یہ مطلب ہے کہ سائمن کمیشن کی رپورٹ کی تجویز بہتر ہے یعنی ان امور کا گورنر یا گورنر جنرل فیصلہ کیا کرے تب بھی وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ سپریم کورٹ کوئی نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس صورت میں صرف یہ سمجھا جائے گا کہ وہ کوئی علیحدہ سپریم کورٹ نہیں چاہتے بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ گورنروں اور گورنر جنرل کو ہی سپریم کورٹ کے اختیار دے دیئے جائیں لیکن اگر ان کا یہ مطلب ہو تو ان کا بیان متضاد ہے کیونکہ سپریم کورٹ کے خلاف ان کی دلیل یہی ہے کہ ایسے جج کہاں سے آئیں گے جو انصاف سے فیصلہ کریں گے اور وہ کونسی طاقت ہوگی جس پر اعتبار کیا جا سکتا ہو کہ وہ غیر جانبدار جج مقرر کرے گی؟ جب گورنروں اور گورنر جنرل کو یہ اختیار دینا وہ پسند کرتے ہیں تو معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک وہ طاقت بھی موجود ہے جس پر انتخاب کے بارہ میں اعتبار کیا جا سکتا ہے اور وہ آدمی بھی موجود ہیں جو انصاف سے فیصلہ کریں گے- پس جس دلیل پر وہ سپریم کورٹ کی مخالفت کرتے ہیں وہ باطل ہو گئی- صرف یہ سوال رہ گیا کہ آئین اساسی کے معنوں یا اس کے استعمال کے متعلق اگر اختلاف پیدا ہو تو اس کا فیصلہ کوئی مستقل عدالت کرے- یا گورنروں اور گورنر جنرل کو ہی اس غرض کے لئے عدالت فرض کر لیا جائے اور اگر یہی ان کا منشاء ہو تو میں پہلے ثابت کر چکا ہوں کہ یہ علاج درست نہیں- اس سے نہ تو اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت ہوگی اور نہ گورنروں کا وقار ہی قائم رہے گا- اور بہتر سے بہتر گورنر اپنی کسی ذاتی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ اس آئینی نقص کی وجہ سے بدنام ہو کر ملک سے نکل جائے گا-
    میرا یہ خیال ہے کہ وہ لوگ جو سپریم کورٹ کے مخالف ہیں وہ گورنروں کو بھی یہ اختیار دینا پسند نہیں کرتے کیونکہ ان لوگوں سے میں نے یہ خیالات بھی سنے ہیں کہ اقلیتوں کے حقوق گورنروں کے سپرد کر کے سائمن کمیشن نے ہمیشہ کے لئے ہندوستان کو غلام بنانے کی تجویز کر دی ہے- پس میں سمجھتا ہوں کہ سپریم کورٹ کی مخالفت وہ لوگ صرف ان مشکلات کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں جو اس کے متعلق نظر آتی ہیں- لیکن اس پر انہوں نے غور ہی نہیں کیا کہ مستقل آئین حکومت رجڈ کانسٹی ٹیوشن (RIGIDCONSTITUTION) جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں` لازمی طور پر کسی نہ کسی ایسے محکمہ کی محتاج ہے جو یہ فیصلہ کر سکے کہ اس کی صحیح تشریح اور اس کا صحیح استعمال ہو رہا ہے- اور وہ لوگ آئین اساسی کے اصول کو اسی طرح نظر انداز کر رہے ہیں جس طرح کہ سائمن کمیشن نے انہیں نظر انداز کر دیا ہے- سائمن کمیشن تو یہ کہتا ہے کہ صوبہجات کا آئین اساسی لچکدار )NOITU(FLEXIBLECONSTIT ہو- ہاں گورنر یہ خیال رکھے کہ اقلیتوں کے حقوق تلف تو نہیں کئے جاتے اور سپریم کورٹ کے ہندوستانی مخالف یہ کہتے ہیں کہ آئین اساسی تو مستقل ہو لیکن اس کی خلاف ورزی کی صورت میں کسی عدالت کے سپرد اس کا فیصلہ نہ کیا جائے- گویا ایک اس کو لچکدار قرار دے کر اس کی لچک کو دور کر دیتا ہے اور دوسرا اسے مستقل قرار دے کر اس کے استقلال کو نظر انداز کر دیتا ہے اور یہ دونوں حالتیں بالکل غیر آئینی اور خلاف عقل ہیں اور مجھے تعجب ہے کہ وہ لوگ جو رات دن سیاسیات میں مشغول رہتے ہیں` اس قسم کی غلطی کے مرتکب کس طرح ہو سکتے ہیں-
    چونکہ میری غرض یہ ہے کہ میں نہ صرف ان لوگوں سے اپیل کروں کہ جو سیاسیاتحاضرہ کے ماہر ہیں بلکہ ان سے بھی جو عقل میں تو ان سے کم نہیں لیکن ان کی خودساختہ اصطلاحات سے واقف نہیں ہیں اس لئے ایسے لوگوں کے سمجھانے کے لئے میں مذکورہبالاعبارت کی مزید تشریح کر دینا مناسب سمجھتا ہوں- اس وقت تک سیاسیات کی جس قدر باریکیوں تک انسان کا دماغ پہنچ سکا ہے اس سے ماہرین سیاسیات اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ آئینی حکومتوں میں یعنی ان حکومتوں میں جو کسی ایک شخص کی غیر محدود مرضی پر منحصر نہیں ہیں دو قسم کے قوانین ہوتے ہیں- ایک اساسی یعنی وہ قانون جو یہ بتاتے ہیں کہ حکومت خواہ شخصی ہو یا جماعتی` پھر جماعتی کا خواہ قانون ساز حصہ ہو` خواہ انتظامی` خواہ عدالتی` اپنے اختیارات کو کس رنگ میں اور کس حد کے اندر استعمال کرے گا اور دوسرا عام قانون جو حکومت کے عمل کی حدبندی یا تشریح نہیں کرتا بلکہ حکومت کے علاوہ جو افراد یا جماعتیں ہوں` ان کے اعمال کے متعلق قانون تجویز کرتا ہے-
    دوسرے وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ڈیما کریٹک (DEMOCRATIC) یعنی جمہوریحکومتیں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں- ایک وہ جن کا قانون کلی طور پر اکثریت کی مرضی کے مطابق بنتا ہے- یعنی سب کے سب قوانین خواہ اساسی ہوں یا عام ایک ہی قاعدہ کے مطابق ملک کے منتخب کردہ نمائندوں کی اکثریت کی رائے کے مطابق بنائے جاتے ہیں چونکہ اس حکومت کے قوانین بلااستثناء منتخب کردہ نمائندوں کی اکثریت کی رائے کے مطابق بنتے ہیں اور جب کوئی دوسری اکثریت انہیں منسوخ کر دے یا اس میں تبدیلی کر دے تو وہ منسوخ ہو جاتے ہیں یا بدل جاتے ہیں- اس وجہ سے اس حکومت کے آئین اساسی کو لچکدار کہتے ہیں- یعنی اکثریت جب چاہے عام قانونوں کی طرح اپنے آئین اساسی کو بھی بدل سکتی ہے اور دوسرے قوانین کے مقابلہ میں انہیں کوئی خاص حفاظت حاصل نہیں ہوتی- اس حکومت کی مجلس یا مجالسواضعقوانین پوری طرح آزاد ہوتی ہے-
    دوسری قسم جمہوری حکومت کی وہ ہوتی ہے کہ جس کے آئین اساسی عام قانونوں سے مختلف قرار دیئے جاتے ہیں اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس ملک کے باشندے افراد یا جماعتوں یا صوبوں یا ریاستوں کی صورت میں ایک معاہدہ کر کے اس حکومت کو قائم کرتے ہیں اور حکومت پر حد بندی لگاتے ہیں کہ تم کو ملک کے انتظام کیلئے یوں تو پورے اختیارات حاصل ہونگے لیکن فلاں فلاں معاملات میں جب تک معاہدہ کرنے والے افراد یا جماعتیں یا صوبے یا ریاستیں تم کو دوبارہ اختیار نہ دیں تم کوئی قانون نہیں بنا سکتے- گویا اس ملک کی حکومت کو اس ملک کے باشندے پورے اختیار نہیں دیتے بلکہ بعض اختیارات کو سب ملک یا صوبے یا افراد یا جماعتیں اپنے ہاتھ میں رکھتی ہیں تا کہ حکومت ان کے حق کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے اور ان کے مشورہ کے بغیر کام نہ کر سکے لیکن ان مخصوص امور کے علاوہ دوسرے امور کے متعلق حکومت کو پورا اختیار ہوتا ہے کہ اکثریت کی مرضی کے مطابق جو قانون چاہے بنا دے- کسی فرد یا کسی جماعت یا کسی صوبہ یا کسی ریاست کو اس پر اعتراض کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا اس قسم کی حکومت کے آئین اساسی کو مستقل کہتے ہیں- یعنی ان کے بدلنے کا حکومت کو خود اختیار نہیں ہوتا بلکہ وہ افراد یا جماعتیں یا صوبے یا ریاستیں جن کی مرضی کے مطابق وہ قانون بنا تھا` جب مقررہ اصول کے مطابق اپنی مرضی کا اظہار کریں` تبھی انہیں بدلا جا سکتا ہے- وہ طریق جن سے معاہدہ کرنے والی جماعتوں یا افراد یا صوبوں یا ریاستوں کی مرضی کا پتہ لیا جاتا ہے مختلف ہیں لیکن اس جگہ ان کے ذکر کی ضرورت نہیں-
    حکومت اور قانون کی ان دونوں قسموں کے سمجھ لینے کے بعد یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں رہتا کہ جن حکومتوں کا آئین اساسی لچکدار ہے انہیں کسی ایسے محکمہ کی ضرورت نہیں جو یہ فیصلہ کرے کہ ان کی حکومت کا فیصلہ صحیح تھا یا غلط کیونکہ ایسی حکومت کو ہر امر میں فیصلہ کرنے کا پورا اختیار حاصل ہوتا ہے اور جسے پورا اختیار حاصل ہو اس کے فیصلہ کو کون غلط کہہ سکتا ہے لیکن اس کے برخلاف جن حکومتوں کا آئیناساسی مستقل یا غیر لچکدار ہو ان کے اختیارات چونکہ محدود ہوتے ہیں اس لئے ان کے لئے کسی ایسے محکمہ کی ضرورت ہوتی ہے کہ جو یہ فیصلہ کرے کہ انہوں نے اپنے حق سے باہر تو کوئی قانون نہیں بنا دیا- اس وجہ سے جس قدر آئیناساسی کے اصول کے چوٹی کے ماہر ہیں ان کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جس حکومت کا آئیناساسی مستقل یا غیر لچک دار ہو یعنی ملک نے اسے یہ آزادی نہ دی ہو کہ وہ جو چاہے کرے اس کے لئے ایک ایسے محکمہ کا ہونا ضروری ہے کہ جو کسی طرف سے اپیل دائر ہونے پر یہ فیصلہ کرے کہ حکومت نے قانون اساسی کی خلاف ورزی تو نہیں کی- چنانچہ لارڈ برائس کینیڈا کی کانسٹی ٹیوشن کا بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ-:
    >جیسا کہ ان حکومتوں کے متعلق کہ جو کسی آئین اساسی کے ماتحت محدود اختیار رکھتی ہوں عقل کا تقاضا ہے )کینیڈا کی( عدالتوں کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے کہ آیا کوئی قانون حکومت کا غیر آئینی تو نہیں<- ۴۰~}~
    اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ لارڈ برائس کے نزدیک اس حکومت کے لئے جس کے آئین اساسی مستقل ہیں یا دوسرے لفظوں میں جس کی مجلس واضع قوانین محدود اختیارات رکھتی ہے- ضروری ہے کہ اس کے ساتھ ایک ایسا محکمہ ہو جو بصورت اپیل فیصلہ کر سکے کہ مجلس نے اپنے حقوق سے تجاوز تو نہیں کیا- اس میں کوئی شک نہیں کہ لارڈ برائس کے بیان کے مطابق امریکن مصنفوں کے بر خلاف یورپ کے بہت سے قانون دان اس اصل کے مخالف ہیں اور ضروری نہیں سمجھتے کہ آئین اساسی کے متعلق اختلاف کی صورت میں مجلس قانون ساز کے سوا کوئی اور محکمہ فیصلہ کرے کہ کونسا فریق حق پر ہے- چنانچہ وہ تحریر کرتے ہیں-:
    >یہ رائے یورپ کے براعظم میں صحیح تسلیم نہیں کی جاتی- وہاں سوئٹررلینڈ اور فرانس کی جمہوریتوں اور جرمن بادشاہت کے قانون دان اب تک مصر ہیں کہ مجلس عاملہ اور عدالت قانون ساز مجلس کے ماتحت ہونی چاہئے- چنانچہ دو نہایت ہی اعلیٰ پایہ کے سوئٹررلینڈ کے قانون دانوں نے میرے سامنے یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ امریکن طریق زیادہ معقول ہے بیان کیا کہ )فیصلہ کرنے والی عدالت کے بغیر( سوئٹررلینڈ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور یہ بھی بیان کیا کہ افراد ملک کو اس طرح کوئی سخت نقصان نہیں پہنچ سکتا کیونکہ ان کے سامنے معاملہ کو پیش کر کے ان کی حفاظت کا سامان کیا جا سکتا ہے<- ۴۱~}~
    لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ اختلاف جو سوئٹررلینڈ کے قانون دانوں نے کیا ہے حقیقی نہیں ہے اور سوئٹررلینڈ کے قانون اساسی سے ہر گز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سوئٹررلینڈ میں کوئی سپریم کورٹ نہیں ہے بلکہ خود انہی دو ماہرین قانون کے بیان سے جو لارڈ برائس نے نقل کیا ہے ثابت ہے کہ وہاں بھی سپریم کورٹ ہے- کیونکہ وہ بیان کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی سوئٹررلینڈ میں اس لئے ضرورت نہیں کہ اگر آئین اساسی کے خلاف کوئی بات اسمبلی کرے تو ملک کے باشندے اپنے حق کی حفاظت کر سکتے ہیں اور اس حفاظت سے ان کی مراد ریفرنڈم (REFERENDUM) ہے- یعنی ملک سے ووٹ لے کر فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک زیر اعتراض قانون کو آئین اساسی کے خلاف سمجھتا ہے یا نہیں- چنانچہ لارڈ برائس ان کے قول کی مزید تشریح مذکورہ بالا فقرہ سے اگلے فقرہ میں یوں بیان کرتے ہیں کہ-:
    >اگر قومی مجلس کے کسی قانون کے متعلق خیال کیا جائے کہ وہ قانون اساسی کے خلاف ہے تو اسی وقت یہ مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک کے باشندوں کی اس کے متعلق رائے لی جائے- پھر ملک خود فیصلہ کر دے گا کہ قانون آئین اساسی کے خلاف ہے یا نہیں<- ۴۲~}~
    اس طرح پروفیسر ڈبلیو- بی- منرو MUNROE)۔B۔(W پی- ایچ- ڈی- ایل- ایل- بی لکھتے ہیں کہ-:
    >اس کے برخلاف اگر کسی معاملہ کے خلاف درخواست دی جائے کہ وہ قانون اساسی کے خلاف ہے اور ملک کی عام رائے اس کے بارہ میں حاصل کی جائے تو اگر اکثر رائے دہندگان اس کے خلاف ہوں تو وہ قانون منسوخ ہو جائے گا<- ۴۳~}~
    ان دونوں حوالوں سے ثابت ہے کہ سوئٹررلینڈ میں بھی آئین اساسی کے ٹوٹنے کی صورت میں ایک ایسا محکمہ مقرر ہے جس کے سامنے اپیل کی جا سکے گو چند آدمیوں کی جماعت پر مشتمل نہیں ہے بلکہ ملک کے سب افراد پر مشتمل ہے اور سب ملک کے باشندوں کا کورٹ بھی ویسا ہی سپریم کورٹ کہلا سکتا ہے جیسے کہ چند افراد کا کورٹ سپریم کورٹ کہلا سکتا ہے- غرض اصل بات یہ ہے کہ یورپ کے قانون دانوں نے اس امر کو سمجھا ہی نہیں کہ امریکن اور دوسرے ماہرین قانون کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ غیر لچکدار آئین اساسی کے لئے کسی خاص شکل کے سپریم کورٹ کا ہونا ضروری ہے- جو کچھ ان کا دعویٰ ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی کسی حکومت کا آئین اساسی غیر لچکدار ہو یہ ضروری ہے کہ کوئی ایسا محکمہ بنایا جائے کہ جو اختلاف کے وقت اس امر کا فیصلہ کرے کہ آیا حکومت نے اپنے اختیارات سے باہر ہو کر تو کوئی قانون نہیں بنایا- کیونکہ اس امر کا فیصلہ مجلس واضع قوانین پر چھوڑ دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی ایک فریق مقدمہ کو خود اپنے مقدمہ کا فیصلہ کرنے کے لئے جج مقرر کر دیا جائے اور سوئٹررلینڈ نے جو صورت فیصلہ کی تجویز کی ہے یعنی سب ملک کی ریفرنڈم وہ اس ملک کے لحاظ سے بالکل معقول ہے اور یہ ہر گز نہیں کہا جا سکتا کہ سوئٹررلینڈ میں کوئی سپریم کورٹ نہیں ہے- ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سوئٹررلینڈ کا سپریم کورٹ یونائیٹڈ سٹیٹس کے سپریم کورٹ سے مختلف ہے-
    چونکہ بحث کے وقت یہ سوال بھی آ سکتا ہے کہ اگر ریفرنڈم بھی ایک قسم کا سپریم کورٹ ہے تو کیوں ہندوستان میں بھی ویسا ہی سپریم کورٹ نہ جاری کر دیا جائے- یعنی اگر کسی جماعت کو فیڈرل گورنمنٹ کے کسی فیصلہ یا قانون پر اعتراض ہو تو ملک کی عام رائے دریافت کر کے جو کثرت کی رائے ہو اس کے مطابق فیصلہ کر لیا جائے اس لئے میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ اختلاف جو یورپ اور امریکہ کے ماہرین قانون میں ہوا ہے کہ آیا غیر لچکدار قانون اساسی کے لئے کسی سپریم کورٹ کا ہونا لازمی ہے یا نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس حقیقت پر غور نہیں کیا کہ ہر ملک کے حالات کے لحاظ سے الگ قسم کے سپریم کورٹ کی ضرورت ہوا کرتی ہے- یہ موقع نہیں کہ میں تفصیلی طور پر بتائوں کہ کس طرح مختلف ممالک کی مختلف حالتوں کے مطابق مختلف شکلوں کے سپریم کورٹ کی ضرورت ہوا کرتی ہے لیکن ہندوستان کے معاملہ کو مدنظر رکھتے ہوئے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ غیر لچکدار قانون اساسی کی دو بڑی ضرورتیں ہوتی ہیں- ایک تو شخصی حکومت یا آلیگار کی (OLIGARCHY) یعنی بااثر لوگوں کی حکومت کے حملہ سے بچنا اور دوسرے اکثریت کی حکومت کے حملہ سے بچنا- پہلی صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ آئین اساسی کے بنانے والوں کے سامنے یہ خطرہ ہوتا ہے کہ کسی وقت کوئی خاص علمی یا مذہبی یا سرمایہ دار یا زمیندار جماعت ملک کی حکومت کو اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی جمہوریت کی شکل کو توڑ کر ایسے چند بااثر لوگوں کی حکومت )آلیگار کی( میں تبدیل نہ کر دے تب وہ لوگ اس خطرہ سے بچنے کیلئے ایک غیر لچکدار قانون اساسی بناتے ہیں اور اس کی تبدیلی کے متعلق ایسی شرطیں مقرر کرتے ہیں کہ جب تک اکثر افراد کی رائے اس کی تائید میں نہ ہو اس وقت تک اسے تبدیل نہ کیا جا سکے اور اس آئین کے توڑے جانے کے احتمال کے موقع پر بھی فیصلہ ملک کی اکثر آبادی پر چھوڑتے ہیں تا کہ معلوم ہوتا رہے کہ کوئی اقلیت غفلت میں ملک پر حکمران تو نہیں ہوگئی-
    دوسری صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ آئین اساسی بنانے والوں کے سامنے یہ سوال ہوتا ہے کہ اکثریت ہی کہیں اقلیت کو نہ کھا جائے- اور بعض ایسی اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت ان کے مدنظر ہوتی ہے کہ جو اسی شرط پر اس نظام حکومت میں شامل ہونے کے لئے تیار ہوتی ہیں کہ ان کی جداگانہ ہستی معرض خطر میں نہ آئے- اس صورت میں آئین اساسی کے بنانے والے صرف یہ امر مدنظر نہیں رکھتے کہ اکثریت کے حقوق تلف نہ ہو جائیں بلکہ ایسے قواعد بناتے ہیں جن کی مدد سے اقلیتیں اکثریت کے حملہ سے محفوظ رہیں اور اس صورت میں قانون اساسی کے توڑے جانے کے احتمال کے وقت بھی فیصلہ اکثریت کے سپرد نہیں کیا جاتا بلکہ کسی اور محکمہ کے سپرد یہ کام کیا جاتا ہے-
    یہ امر ظاہر ہے کہ جس ملک کے قواعد کی غرض چند بااثر افراد کی حکومت سے اپنے ملک کو بچانا ہو ان کے لئے بہترین سپریم کورٹ ملک کی اکثریت کی رائے ہی ہو سکتی ہے کیونکہ چند اشخاص کے فیصلہ سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ ملک کا اکثر حصہ اس کا موید ہے لیکن ملک کے اکثر حصہ کا فیصلہ اگر حاصل ہو جائے تو پوری طرح تسلی ہو جاتی ہے کہ اکثریت کی حکومت کا مدعا پورا ہو رہا ہے- برخلاف اس کے جس ملک کا اساس اس اصل پر ہو کہ بعض جماعتوں یا صوبوں کی منفردانہ شخصیت کو نقصان سے بچایا جائے- اس میں اگر سپریم کورٹ ملک کی اکثریت کی رائے کو قرار دیا جائے تو یہ گویا اس غرض کو ہی باطل کرنا ہوگا جس کے لئے قانون اساسی بنایا گیا تھا- جس اکثریت کی دست اندازی سے بچنا مقصود تھا اسی کو جج بنا لینا ایک فریق مقدمہ کے اختیار میں فیصلہ کا اختیار دے دینے کے مترادف ہے- خلاصہ یہ کہ ان دونوں صورتوں میں الگ الگ قسم کے سپریم کورٹ کا ہونا ضروری ہے- پہلی صورت میں ملک کی اکثریت کا فیصلہ ہی قانون اساسی کی حفاظت کر سکتا ہے اور دوسری صورت میں اکثریت کے فیصلہ پر چھوڑ دینا قانوناساسی کی غرض کو باطل کر دیتا ہے- پس انہی مختلف حالات کے ماتحت سوئٹررلینڈ جس کے آئین اساسی بنانے والوں کے سامنے چند بااثر افراد کی حکومت کا خطرہ تھا انہوں نے اپنے ملک کے آئین اساسی کا مفہوم بتانے کا اختیار ایسے سپریم کورٹ کو دیا جس میں سب افراد ملک شامل تھے اور یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ جسے یہ خطرہ نہیں تھا بلکہ جس کے اجزائے ترکیبی یعنی مختلف ریاستوں کے اوپر ایک ہی خیال حکومت کر رہا تھا کہ یہ نیا نظام کہیں ہماری مستقل حیثیت کو نہ مٹا دے اور ہر ریاست ڈر رہی تھی کہ کہیں دوسری ریاستیں مل کر میری ہستی کو معدوم نہ کر دیں یا میری آواز کو کمزور نہ کر دیں اس نے اپنے لئے ایسا نظام تجویز کیا جس میں بعض خاص امور کو تو اکثریت کے فیصلہ سے بالکل باہر نکال لیا اور ایسی شرطیں لگا دیں کہ کسی صورت میں بھی اکثریت اقلیتوں کو قربان نہ کر سکے اور بعض امور کے فیصلہ کے لئے ایسی پابندیاں لگا دیں کہ صرف منتخب نمائندوں کی اکثریت فیصلہ نہ کر سکے بلکہ اقلیتیں جو یونائیٹڈ سٹیٹس کی صورت میں ریاستیں تھیں جب تک بحیثیت ریاستوں کے ایک بہت بڑی کثرت سے اس کی تائید نہ کریں ان امور کے متعلق فیصلہ نہ سمجھا جائے اور اپنے مخصوص حالات کے ماتحت ان لوگوں نے سپریمکورٹ بھی ملک کی تمام آبادی کو قرار نہ دیا کیونکہ اکثریت کے فیصلہ سے بچنے کے لئے ہی وہ تدبیریں کر رہے تھے بلکہ ایک آزاد کورٹ الگ تجویز کیا جس کے سامنے آئین اساسی کے سوال پیش ہوا کریں- چنانچہ اس کورٹ کے ججوں کے انتخاب کا انہوں نے یہ طریق مقرر کیا کہ پریذیڈنٹ ان کا انتخاب کیا کرے لیکن سینٹ کا اتفاق رائے ضروری ہو- سینٹ کے اتفاقرائے میں پھر وہی روح کام کر رہی ہے کہ ریاستوں کو بحیثیت ریاست اس امر کی نگرانی کا موقع مل جائے کہ ایسے جج مقرر نہ ہوں جو اقلیتوں یعنی ریاستوں کے حقوق کو نظر انداز کر دینے والے ہوں- غرض سوئٹررلینڈ اور یونائیٹڈ سٹیٹس دونوں ملکوں نے اپنے خاص حالات کے مطابق سپریم کورٹ تجویز کئے ہیں خواہ ایک نے اس کا نام سپریم کورٹ نہ رکھا ہو مگر آئیناساسی کی حفاظت اور ترجمانی کرنے والا محکمہ ضرور مرجود ہے اور اس مناسب شکل میں موجود ہے جس شکل میں کہ اس کی ضرورت تھی-
    یہ جو میں نے کہا ہے کہ سوئٹررلینڈ میں چند بااثر افراد کی حکومت کے خوف کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین اساسی تجویز کیا گیا ہے اور یونائیٹڈ سٹیٹس میں اکثریت کے غلبہ کے خوف کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین اساسی تجویز کیا گیا ہے` یہ بے دلیل بات نہیں بلکہ تاریخ اور خود ان ممالک کے آئین اساسی سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے- یونائیٹڈ سٹیٹس کے متعلق تو ہر تاریخ کے پڑھنے والے کو یہ بات معلوم ہے کہ اس کے آئین اساسی کے بناتے وقت سب سے بڑی دقت یہی تھی کہ ہر ایک ریاست ڈرتی تھی کہ ایسا نہ ہو کہ بعض دوسری ریاستوں کا جتھا مل کر مجھے تباہ کر دے اور اس وقت یونائیٹڈ سٹیٹس کا قانون اساسی بنانے والوں کے سامنے اصل سوال یہی تھا کہ اکثریت` اقلیت کو کچل نہ دے- چنانچہ اس وقت ان لوگوں کی جو کیفیت تھی وہ الگزنڈرہملٹن (ALEXANDERHAMILTON) کے خیالات سے جو اس قانون اساسی کے بنانے والوں میں سے ایک نمایاں شخصیت ہے ظاہر ہے- انہوں نے قانون ساز مجلس کے سامنے بیان کیا کہ-:
    >سب اختیارات اکثریت کو دے دو تو وہ اقلیت کو کچل دے گی اور سب اختیارات اقلیت کو دے دو تو وہ اکثریت کو کچل دے گی اس لئے دونوں کو اس قسم کے اختیارات ہونے چاہئیں کہ وہ ایک دوسرے کے مقابل پر اپنی حفاظت کر سکیں<- ۴۴~}~
    مصنف کتاب کا بیان ہے کہ یہ روح سب مجلس پر غالب تھی- چنانچہ وہ لکھتے ہیں-:
    >اس وقت کی بحثوں میں کثرت سے ایسے بیانات موجود ہیں جن سے اس خیال کی تائید ہوتی ہے<- ۴۵~}~
    اگر تاریخ کو نہ بھی دیکھا جائے تو خود سینٹ کی بناوٹ اس امر کو خوب واضح کر دیتی ہے کیونکہ سینٹ کے لئے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ ہر ریاست کے برابر نمائندے اس میں لئے جائیں خواہ اس کی آبادی زیادہ ہو یا کم اور اس امر پر بھی ریاستوں کو بہ مشکل راضی کیا گیا تھا ورنہ وہ تو کانگریس میں بھی برابر نمائندگی کی طالب تھیں- غرض یونائیٹڈ سٹیٹس کے کانسٹیٹیوشن اور تاریخ دونوں سے ثابت ہے کہ اس کے آئین میں اس امر کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ کسی صوبہ کو مرکزی حکومت یا دوسرے صوبوں سے نقصان نہ پہنچے-
    سوئٹررلینڈ کی حکومت کی تاریخ سے گو یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کا آئین خاص افراد یا جماعت کی دست برد سے بچنے کے لئے بنایا گیا تھا کیونکہ اس کا آئین درحقیقت ایک لمبے عرصہ میں تیار ہوا ہے- لیکن اس ملک کے حالات اور گردو پیش کے حالات سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حکومتوں کے سامنے مقصد وحید یہ ہوتا تھا کہ چرچ کسی طرح حکومت پر قبضہ نہ کر لے- ہاں اس ملک کے آئین اساسی سے اس امر کا پتہ ضرور لگتا ہے کہ بعض خاص افراد کی حکومت سے بچنے کے لئے ایسی کوشش کی گئی تھی- چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس ملک میں بعض مسیحی فرقوں کی قانوناً بندش کر دی گئی ہے اور پادریوں پر پادری ہونے کی صورت میں بعض قیود لگائی گئی ہیں اور اسی قسم کے خوف کے ماتحت ودار تھرگ کے علاقہ کو سوئٹررلینڈ نے اپنے ساتھ ملانے سے انکار کر دیا ہے- ۴۶~}~
    غرض ملک کا آئین اساسی جس خطرہ کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتا ہے- اسی کے مطابق سپریمکورٹ بھی تجویز کیا جاتا ہے- پس ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ ہندوستان میں جو مستقل آئین اساسی پر زور دیا جاتا ہے تو کیوں دیا جاتا ہے- آیا اقلیتوں کو خطرہ سے بچانے کے لئے یا کسی خاص بااثر جماعت کے ہاتھ سے اکثریت کو بچانے کے لئے- اگر اول الذکر صورت ہے جیسا کہ سب تسلیم کرتے ہیں کہ وہی صورت ہے- تو پھر یونائیٹڈسٹیٹس کی طرح کا سپریم کورٹ ہی کام دے سکتا ہے اور اگر دوسری قسم کے خطرات ہیں جیسا کہ ہر اک جانتا ہے کہ نہیں ہیں تو پھر بیشک سوئٹررلینڈ جیسا سپریم کورٹ یعنی ریفرنڈم تجویز کیا جا سکتا ہے-
    خلاصہ یہ ہے کہ ہندوستان کا آئین اساسی غیر لچک دار ہونا چاہئے اور اقلیتوں کی حفاظت کے لئے جن امور کو ضروری سمجھا جائے وہ اس میں بالتفصیل بیان کئے جائیں اور کوئی ایسا محکمہ ضرور تجویز ہونا چاہئے کہ جو فیصلہ کر سکے کہ قانون اساسی کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی- قانوناساسی کی دفعات کیا ہوں اس کی تبدیلی کی کیا ضرورت ہو سپریم کورٹ کس صورت میں عمل کرے میں اس وقت اس پر بحث نہیں کرتا- اس کا موقع میرے نزدیک فیڈریشن کی بحث کے بعد آئے گا- پس اب میں فیڈرل سسٹم (FEDERALSYSTEM) پر بحث کرتا ہوں-
    باب دوم
    ہندوستان میں اتحادی )فیڈرل( حکومت
    سائمن کمیشن نے مانٹیگوچیمسفورڈ سکیم کی اتباع میں ہندوستان کے لئے فیڈرل حکومت کی سفارش کی ہے اور میرے نزدیک یہ سفارش اس کی سب سے اہم سفارشوں میں سے ہے اور اسے مانٹیگوچیمسفورڈ پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ گو ثانی الذکر نے بطور تنزل کے تو اتحادی طرزحکومت کی سفارش کی تھی لیکن اپنی سفارشات کا ڈھانچہ ایسا تیار نہیں کیا تھا جو اتحادی طرزحکومت کے بالکل مطابق ہو- لیکن سائمن رپورٹ نے اپنی سکیم فیڈرل اصول کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی ہے اور آئندہ منازل کلی طور پر اس کے اصول کے مطابق مقرر کی ہیں-
    ہندوستان کے حالات کو سمجھ لینے کے بعد کوئی شخص بھی درحقیقت اس کے سوا کوئی سفارش نہیں کر سکتا- ہندوستان ایک ملک نہیں بلکہ ممالک کا مجموعہ ہے جس کے باشندوں میں آہستہ آہستہ اب جا کر قومیت کا احساس پیدا ہوا ہے- لیکن وہ احساس اس قدر مضبوط نہیں کہ اس پر توحیدی (UNITARY) حکومت کی بنیاد رکھی جا سکے- دوسرے اس کی زبان ایک نہیں- ہر صوبہ کی زبان دوسرے صوبہ سے مختلف ہے بلکہ بعض صوبوں کی بھی ایک زبان نہیں- ایک ہی صوبہ کے مختلف حصوں میں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں- اور اسی قدر تعداد میں تقسیم ہیں کہ اس اختلاف کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا- پھر اقوام کا اختلاف بھی ہے- شمالی ہند کے ہندو جنوبی ہند کے ہندوئوں سے بالکل مختلف ہیں- جنوبی ہند کے باشندے اپنے آپ کو ویدک تہذیب سے پہلے کا مانتے ہیں- اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ویدوں نے ان کے منتروں سے اپنی تعلیم اخذ کی ہے- اس کے برخلاف شمالی ہند کے باشندے ویدوں کو نہ صرف مذہب کے لحاظ سے سب کتب پر مقدم کرتے ہیں بلکہ انہیں ابتدائے عالم میں قرار دے کر اپنی تہذیب کی بنیاد ہی ان پر رکھتے ہیں- پھر مذاہب کا اختلاف ہے- شمالی صوبہ جات میں ہندو مذہب کا زور ہے- لیکن اسلامی تہذیب کا بھی گہرا اثر ان علاقوں پر ہے- اس کے برخلاف وسطی ہند میں ہندو مذہب اور ہندو تہذیب اپنے پورے زور پر نظر آتے ہیں- جنوبی ہند میں جا کر ہندو مذہب تو رہ جاتا ہے لیکن تہذیب ڈریویڈین قوم کی آ جاتی ہے- جس نے باوجود براہمنوں کے کچل دینے والے اثر کے اپنی شخصیت کو ترک نہیں کیا اور ایک ادنیٰ اشارہ پر ابھرنے کے لئے تیار ہے- پھر قومی اخلاق کا اختلاف ہے- شمال مغربی ہند کے پٹھان اور شمال مشرقی ہند کے بنگالی میں کوئی جوڑ ہی نہیں- ان دونوں کے اخلاق میں اس قدر فرق ہے جس قدر کہ ایک مانٹی نیگرو کے باشندہ اور ایک شمالی فرانس کے باشندے میں فرق ہے- سندھی کو یو-پی کے باشندوں سے کوئی بھی مناسبت نہیں اور ایک پنجابی اور بہاری کے اخلاق آپس میں کوئی نسبت نہیں رکھتے- اختلاف ہر ملک میں ہوتا ہے مگر یہ اختلاف انتہائی درجہ کا ہے- ایسا اختلاف کہ وہ ایک دوسرے کی مقامی ضرورتوں کے لئے کسی صورت میں بھی مناسب قانون نہیں بنا سکتے- نہ ایک قانون ان سب صوبوں کے لوگوں کے لئے موجب امن و برکت ہو سکتا ہے- پھر سب سے بڑھ کر ہندوستان کی ریاستوں کا سوال ہے- وہ ابھی تک کم سے کم ظاہری طور پر مختار فردی حکومت کے ماتحت ہیں- اگر ہندوستان ترقی کرنا چاہتا ہے تو ان سے کسی نہ کسی رنگ میں اس کا تعلق ضروری ہوگا- لیکن بغیر اس کے کہ وہ اپنی خود مختارانہ حیثیت کو قائم رکھ سکیں وہ کبھی بھی آزادہندوستان سے اتحاد کرنا پسند نہیں کریں گی- پس ان حالات کے ماتحت ہندوستان میں اگر کوئی طریق حکومت کامیاب ہو سکتا ہے تو وہ اتحادی یعنی فیڈرل طرز حکومت ہے اور اس وجہ سے کمیشن کی سفارش اس بارہ میں بہت وقعت اور اہمیت رکھتی ہے-
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سائمن رپورٹ کس قسم کی فیڈرل حکومت ہندوستان کو دینا چاہتی ہے- اس بارہ میں اس کی سفارشات اس قدر مبہم ہیں کہ ہر شخص جس نے رپورٹ پڑھی ہے اس کا خیال دوسرے سے مختلف ہے- ایک طرف تو سائمن رپورٹ کہتی ہے کہ-:
    >ایسے علاقوں کا اتحاد جیسے کہ ریاستیں اور صوبہ جات ہند ہیں کہ پہلے )یعنی ریاستیں( تو فردی حکومت کے ماتحت ہیں اور دوسرے جمہوری اصول کے ماتحت ہیں` مجبور کرتا ہے کہ اس کی بنیاد اس اصل پر رکھی جائے کہ ممکن سے ممکن اندرونی آزادی ان علاقوں کو دی جائے جو حکومت ہند کا حصہ بنیں گے<- ۴۷~}~
    لیکن دوسری طرف وہ لکھتے ہیں-:
    >معمولی قانون ساز اختیارات نئی کونسلوں کے بہت وسیع ہونگے کیونکہ انہیں صوبہ کے امن اور اچھی طرح حکومت چلانے کے لئے قانون بنانے کے موجودہ وقت کی طرح پورے اختیارات حاصل ہونگے اور صرف ان امور کے متعلق حد بندی ہوگی )جو حد بندی اس طرح عمل میں لائی جائے گی کہ ہر قانون کے پاس کرنے سے پہلے گورنر جنرل سے اجازت لینی پڑے گی( کہ جو مرکزی اسمبلی سے تعلق رکھتے ہونگے- ہم پورے زور سے اس امر کا اظہار کرتے ہیں کہ موجودہ ایکٹ کی دفعات کو اس بارہ میں قائم رکھا جائے کیونکہ اس سے مرکزی اور صوبہ جات کے اختیارات کی اچھی تقسیم ہو گئی ہے- ان دفعات میں اس امر کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ کسی قانون کو جو پاس ہو چکا ہو اور گورنر جنرل کی منظوری حاصل کر چکا ہو غلط قرار نہ دیا جا سکے اور اس طرح مقدمہ بازی کے دروازہ کو بند کر دیا گیا ہے جس کا اس صورت میں کہ مرکز اور صوبہ جات کے اختیارات کو زیادہ وضاحت سے تقسیم کر دیا جائے کھل جانا لازمی تھا<- ۴۸~}~
    اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آئندہ بھی کونسلوں کے وہی اختیارات رہیں گے جو اب ہیں اور وہ اختیارات نہایت ہی قلیل ہیں اور درحقیقت ان کی موجودگی میں صوبہ جات کی کونسلیں صوبہ جات کی کونسلیں کہلانے کی مستحق ہی نہیں ہیں اور چونکہ گذشتہ اختیارات میں یہ شرط بھی لگی ہوئی ہے کہ صوبہ جات کے متعلق قوانین گورنر جنرل کی مرضی سے مرکزیاسمبلی بنا سکتی ہے- پس معلوم ہوا کہ سائمن رپورٹ کی سفارش کے مطابق آئندہ بھی مرکزیاسمبلی گورنر جنرل کی اجازت سے صوبہ جات کے متعلق قانون بنا سکے گی- گویا وہ اختیارات جو صوبہجات کو دیئے گئے تھے اس طرح وہ بھی عملاً چھینے گئے اور صرف گورنر جنرل کی مرضی کی حد بندی کے ماتحت صوبہ جات کے تمام اختیارات مرکزی اسمبلی کے ہاتھ میں چلے گئے- غرض جو اختیارات اس پیرہ میں صوبہ جات کی کونسلوں کو دیئے گئے ہیں وہ بالکل محدود ہیں اور عملاً سب اختیارات مرکز ہی میں رہے ہیں اور صوبہ جات کے نام نہاد اختیارات کو بھی ایک طرح کا مرکزی بنا دیا گیا ہے- یہ شکل کسی صورت میں اٹانومی (AUTONOMY) کہلانے کی مستحق نہیں- اور اسے اٹانومی کہنا اٹانومی کے دعویداروں کو بے وقوف بنانے کے مترادف ہے-
    ان دو متضاد بیانوں کی وجہ سے مختلف لوگوں کے مختلف خیالات ہیں- بعض تو کہتے ہیں کہ پہلا حوالہ بطور اصول کے ہے اور دوسرا حوالہ صرف درمیانی وقت کے لئے عارضی احتیاط کا کام دیتا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ دوسرا حوالہ کمیشن کے اصل خیالات کو ظاہر کرتا ہے اور اس نے صرف ہندوستانیوں کو یہ تسلی دلانے کے لئے کہ اگر مرکز میں ہم کو اختیار نہیں ملے تو صوبہجات میں تو اٹانومی مل گئی ہے- فیڈرل سسٹم اور اٹانومی کے الفاظ اختیار کئے ہیں ورنہ ان کی تجویز کردہ سکیم فیڈرل سسٹم کہلانے کی مستحق ہر گز نہیں کیونکہ صوبہ جات کو بالکل ایک بیمعنی سی کانسٹی چیوشن دی گئی ہے جس کی آئندہ ترقی کیلئے بھی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی- اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر دوسرے حوالہ کو ہم بطور اصل کے تسلیم کریں تو ہمیں ایسی ہی مایوسانہ رائے قائم کرنی پڑتی ہے- لیکن میرا خیال ہے کہ کمیشن نے دیدہ دانستہ ایسا نہیں کیا- جس زور سے انہوں نے فیڈریشن اصول کو پیش کیا ہے اور جس طرح انہوں نے زور سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس وقت مرکزی حکومت کو طاقتیں دینی مناسب نہیں کیونکہ یہ کام اتحادی اصول کے ماتحت صوبہ جات کا ہے- اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں یہی تھا کہ صوبہ جات کو حقیقی خود اختیاری حکومت ملے جیسے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ریاستوں کو حاصل ہے- مگر بہرحال خواہ ان کا مطلب کچھ بھی ہو اب جب کہ شبہ پیدا ہو گیا ہے یہ امر آئندہ آئین اساسی میں بوضاحت بیان ہونا چاہئے کہ ہندوستان کی حکومت کامل اتحادی ہوگی اور مرکزی حکومت کو صرف وہ اختیارات حاصل ہوں گے جو صوبہ جات اسے دیں یا جن اختیارات کو کہ وہ اپنی آزادی کے مکمل ہونے پر اس کے پاس رہنے دینے پر رضامندی ظاہر کریں اور تمام باقی اختیارات صوبہ جات کے قبضہ میں سمجھے جائیں گے اور ان کی مرضی کے بغیر مرکز ان میں کسی صورت میں دخل دینے کا مجاز نہ ہوگا-
    فیڈرل سسٹم پر اعتراضات اور ان کے جواب
    بعض ہندو صاحبان کی طرف سے فیڈرل سسٹم پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس طرح ہندوستان کی قومیت کمزور ہو جائے گی اور کبھی بھی ہندوستان ایک قوم نہیں بن سکے گا اور بعض ان میں سے یہ بھی کہتے ہیں کہ فیڈرل طریق کو جاری کر کے انگریزوں کا یہ منشاء ہے کہ ہندوستان کے مختلف صوبوں میں رقابت پیدا کر دیں اور اس طرح ہمیشہ کے لئے ہندوستان پر قبضہ رکھیں- یہ اعتراض معمولی لوگوں کی طرف سے نہیں ہے بلکہ مسٹر شاستری جیسے پرانے خادم ملک کی طرف بھی یہ منسوب کیا جاتا ہے کہ انہوں نے انگلستان میں ایک موقع پر فیڈرل سسٹم کے خلاف یہ اعتراض کیا ہے کہ اس سے ہندوستان میں کبھی بھی قومیت پیدا نہیں ہوگی- گو مجھے کبھی بھی مسٹر شاستری سے ملنے کا موقع نہیں ملا لیکن میرے دل میں ان کی بہت عزت ہے کیونکہ میرا ہمیشہ ان کی نسبت یہ خیال رہا ہے کہ وہ ان چند ہندوستانیوں میں سے ہیں کہ جو بات کرنے سے پہلے سوچ لیتے ہیں اور جانچ تول کر بات کرتے ہیں اور نسلی اور مذہبی جھگڑوں کی آگ کے بھڑکانے کے مرتکب نہیں ہوتے ایسے آدمی کی بات ضرور قابل غور ہوتی ہے اس وجہ سے میں نے نہایت غور سے اس سوال کے مختلف پہلوئوں کو دیکھا ہے- لیکن باوجود اس کے میں اس دلیل کے اندر کوئی بھی حقیقت پانے سے محروم رہا ہوں- میں تاریخعالم پر ایک گہری نظر ڈالنے سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جس طرح انسان آپس میں ایکدوسرے سے بحیثیت افراد کے اور بحیثیت اقوام کے مختلف ہیں اسی طرح وہ آپس میں بحیثیتزمانہ کے بھی اور بحیثیت جگہ کے بھی مختلف ہیں- یعنی انسانوں میں یہی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ ایک فرد دوسرے فرد سے اور ایک قوم دوسری قوم سے مختلف ہے بلکہ جس زمانہ میں کوئی شخص یا قوم ہے اگر اسے دوسرے زمانہ میں لے جایا جائے تو اس کے حالات بھی اپنے پہلے حالات سے مختلف ہو جائیں گے- اسی طرح ایک قوم کو اس کے موجودہ ملک سے نکال کر دوسرے ملک میں لے جائو تو اس کے حالات بھی وہاں جا کر مختلف ہو جائیں گے- مثال کے طور پر انگلستان کی نو آبادیوں کو دیکھ لو- وہاں کے قوانین انگلستان سے جدا ہیں حالانکہ وہ انگلستان سے جا کر وہاں بسے ہیں- اس کی وجہ یہی ہے کہ ملک کے تغیر کے ساتھ ان کی ضرورتیں بھی بدلتی گئی ہیں- پھر ان میں آپس میں بھی اتحاد نہیں- کینیڈا کی انگریزی نو آبادیوں نے اپنے لئے اور قوانین تجویز کئے ہیں تو آسٹریا نے اور نیوزی لینڈ نے اور- اور یہ اختلاف عام قوانین میں ہی نہیں ہے بلکہ قانون اساسی میں بھی ہے- اب اگر اس اختلاف کو دیکھ کرکوئی شخص یہ مقابلہ کرنے بیٹھے کہ ان قوانین میں سے کونسا بہتر ہے تو گو بعض غلطیاں وہ نکال لے گا لیکن ایسے مقابلہ کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ حق سے دور جا پڑے گا کیونکہ بہت سی باتیں جنہیں وہ دوسری باتوں پر ترجیح دے گا درحقیقت ترجیح کے قابل نہیں ہونگی جو جس ملک میں رائج ہے وہاں کے لئے وہی بہتر اور مفید ہوگی- غرض ملکوں کے حالات پر غور کئے بغیر اور قوموں کے حالات پر غور کئے بغیر ایک قاعدہ کلیہ بنا لینا کہ فلاں اصول حکومت فلاں سے بہتر ہے ایک نادانی کا فعل ہے اور اس کا مرتکب آپ بھی گمراہ ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے- مختلف ممالک میں مختلف طرز کی حکومتیں بلاوجہ نہیں ہیں بلکہ دانستہ یا قلبی شعور کے ماتحت نادانستہ طور پر ملک کی خاص ضرورتوں کے مطابق لوگوں نے قوانین بنائے ہیں اور ہم ہر گز یہ نہیں کہہ سکتے کہ یونیٹری یعنی اتصالی حکومت بہتر ہوتی ہے یا فیڈرل یعنی اتحادی- نہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اتصالی حکومتوں میں سے شخصی یا حکومت خواص یا جمہوری حکومت اچھی ہوتی ہے- یا یہ کہ اتحادی حکومتوں میں سے مرکز کو مضبوط کرنے والی یا مرکز کو کمزور کرنے والی حکومت اچھی ہوتی ہے- جو کچھ ہم کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ فلاں ملک کے لحاظ سے یا فلاں قوم کے لحاظ سے یا فلاں مذہب کے لحاظ سے فلاں حکومت اچھی ہو سکتی ہے اسی طرح ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں قسم کی حکومت سے قومیت پیدا ہوتی ہے- ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ فلاں ملک یا فلاں قوم یا مذہب کے لوگوں میں فلاں قسم کی حکومت سے قومیت پیدا ہو سکتی ہے- پس یہ کہنا کہ فیڈرل اصول حکومت سے قومیت کمزور ہو جاتی ہے بالکل طفلانہ خیال ہے- نہ فیڈرل طرز حکومت قومیت پیدا کرتا ہے اور نہ یونیٹری طرز حکومت قومیت پیدا کرتا ہے- قومیت تو اس خیال سے پیدا ہوتی ہے کہ فلاں نظام حکومت ہمارا ہے اس کا قائم رکھنا اور اس کی عزت کرنا ہمارا فرض ہے- جو نظام بھی یہ جذبات اپنے ملک کی آبادی میں پیدا کر سکتا ہے وہ قومیت پیدا کر دے گا خواہ کسی قسم کا ہو- اور جو نظام حکومت یہ جذبہ پیدا نہیں کر سکے گا وہ اس عمل میں ناکام رہے گا خواہ کوئی ہی کیوں نہ ہو- پس قومیت صرف اس نظام سے پیدا ہو سکے گی جو اس ملک کے باشندوں کے دلوں کو اپنے قابو میں لا سکے- تاریخ سے بیسیوں مثالیں اس کی بھی مل سکتی ہیں کہ جب جمہوریت قومیت پیدا کرنے سے محروم رہی تو شخصی حکومت نے قومیت پیدا کر دی- تازہ مثال اٹلی ہی کی موجود ہے- اسی طرح اس کی بھی مثالیں موجود ہیں کہ فیڈرل حکومت نے اعلیٰ درجہ کی قومیت پیدا کر دی جیسے کہ یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ میں ہوا یا آئرلینڈ میں ہوا کہ برطانوی طرز حکومت بھی ایک قسم کی فیڈریشن ہے- جب تک آئرلینڈ کو انگلستان نے اپنے ساتھ ملائے رکھا آئرلینڈ نے برطانوی قومیت کے قبول کرنے سے انکار کر دیا لیکن جب اس کی تکالیف کو دور کر کے آزاد کر دیا تو آج آئرلینڈ انگلستان کے ساتھ ہے- پس اگر ہم ہندوستان کے خیر خواہ ہیں اور ہندوستان میں قومیت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ مختلف اقوام اور مختلف صوبوں کو جن میں بے چینی پیدا ہو چکی ہے مطمئن کریں- اور ہندوستان کے معاملہ میں اس کا علاج صرف ایک کامل فیڈریشن ہے- جب تک فیڈریشن کے ذریعہ سے ان مختلف مذاہب اور مختلف زبانوں اور مختلف تہذیب کے لوگوں کو اس خوف سے آزاد نہیں کیا جائے گا کہ ہندوستان کی قومی حکومت انہیں تباہ کر دے گی اس وقت تک اقلیتوں کے دل کبھی بھی ہندوستانی حکومت کو اپنا نہیں سمجھیں گے- اور جب تک وہ نظام حکومت کو اپنا نہیں سمجھیں گے وہ کبھی بھی قومیت کے جذبات سے متاثر نہیں ہونگے خواہ ہندوستان کے مختلف حصوں میں کتنا ہی اتصال کیوں پیدا نہ کر دو- ہر ایک شخص جس نے انسانی نفسیات کا مطالعہ کیا ہو سمجھ سکتا ہے کہ جب اختلاف شدید ہو اور ایک دوسرے سے خوف حد سے بڑھا ہوا ہو تو بہترین علاج یہی ہوتا ہے کہ کسی قدر علیحدہ رکھ کر سوچنے کا موقع دیا جائے ورنہ ایسے دو شخص اگر اکٹھے رکھے جائیں تو کوئی تعجب نہیں کہ ایک دوسرے کو محض اس خوف سے قتل کر دے کہ یہ مجھے قتل کرنے لگا ہے- یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ کے لوگوں نے دانائی سے اس حکمت کو سمجھا اور وہ ایک قوم بن گئے- ہم اگر اس کو سمجھ لیں گے تو ایک قوم بن جائیں گے اور اگر بغیر مختلف نظاموں کی حقیقت اور ان کے معنی سمجھنے کے طوطوں کی طرح اصطلاحات رٹتے رہے تو خدا جانے بدنصیب ہندوستان کا انجام کیا ہوگا-
    اتحادی یعنی فیڈرل طرز حکومت پر یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ اس میں چونکہ ثنائی یعنی ڈویل (DUAL) طرز حکومت ہوتی ہے یعنی ایک ہی شخص دو حکومتوں کی رعایا ہوتا ہے اس لئے اختلاف کے مواقع زیادہ پیدا ہوتے رہتے ہیں اور دونوں حکومتیں اپنے اپنے حلقہ اثر کو بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں- میں اس سوال کی تفصیلات میں پڑ کر مضمون کو لمبا کرنا نہیں چاہتا لیکن میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ جب ڈویل حکومت ایسی ہو کہ ایک کا حکم دوسری کے حکم کے متضاد ہو تب یہ فساد پیدا ہوتے ہیں لیکن جب دونوں حکومتوں کے اختیارات الگ الگ ہوں` حکومت کا دائرہ الگ الگ ہو` تو پھر اختلاف کی کیا وجہ ہو سکتی ہے- جن امور کے متعلق حکومتمقامی نے قانون بنانا ہے ان میں حکومت مرکزی نے نہیں بنانا اور جن میں اس نے بنانا ہے اس نے نہیں بنانا پھر اختلاف اور جھگڑے کی کیا ضرورت ہے- ہاں اس صورت میں اختلاف دو طرح پیدا ہو سکتا ہے یا شرارت سے یا غلطی سے- غلطی کا علاج سپریم کورٹ کرے گا- باقی رہا شرارت کا سوال- سو اگر ایک دوسرے کے خلاف بعض کا موجود ہونا تسلیم کیا جائے تو ساتھ ہی فیڈریشن کی ضرورت ثابت ہو جاتی ہے- پس یہ صورت حالات فیڈریشن کے خلاف نہیں بلکہ اس کی تائید میں ایک دلیل ہوگی-
    بعض لوگ کہتے ہیں کہ یونائیٹڈ سٹیٹس کے قانون اساسی میں بیرونی اور ریاستوں کی باہمی تجارت فیڈرل گورنمنٹ کے سپرد تھی اور اندرونی تجارت ریاستوں کے سپرد تھی- مگر ریلوں کی ایجاد نے اس فرق کو اڑا دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سپریم کورٹ کو بہت بڑی ہوشیاری سے اس قانون کو توڑ مروڑ کر صورت حالات کے مطابق کرنا پڑا- اگر فیڈرل طریق حکومت ہوا تو اسی قسم کی مشکلات ہندوستان کو بھی پیش آئیں گی- میرا جواب یہ ہے کہ ضرورت نے ساتھ ہی یہ عقل بھی تو سکھا دی کہ موجودہ زمانہ میں ہم کانسٹی چیوشن کو کیا رنگ دے سکتے ہیں پھر ڈر کس بات کا؟ دوسرے یہ اعتراض درحقیقت اعتراض ہی نہیں کیونکہ قانون اساسی بدلا بھی تو جا سکتا ہے- جب فیڈرل حکومت کے تمام حصوں کو نئے حالات کے ماتحت کوئی نقص معلوم ہوگا تو وہ خود خواہش کریں گے کہ قانون اساسی کو بدل دیا جائے اور صوبوں کو اپنی خواہش کے بعد اس قانون کے بدلنے میں کوئی روک نہیں ہو سکتی-
    غرض فیڈرل طرز حکومت پر جو اعتراضات کئے جاتے ہیں وہ کوئی وقعت نہیں رکھتے- یہ نظام بھی جب اس ملک میں جاری کیا جائے جس میں ملک کے مختلف حصے یا اس کی مختلف اقوام آپس میں ایک دوسرے پر اعتبار نہ رکھتی ہوں اور ایک دوسرے سے خائف ہوں تو بجائے اختلاف کی خلیج بڑھانے کے اتحاد قلبی کے پیدا کرنے کے لئے راستہ صاف کر دیتا ہے اور دلوں کو اس امر کے لئے آمادہ کر دیتا ہے کہ اگر ضرورت ہو تو کسی وقت زیادہ اتصالی کیفیت گورنمنٹ پیدا کر لی جائے اور جس ملک کے مناسب حال یہ طریق حکومت ہو اس میں اس کو جاری نہ کرنا بلکہ یونیٹری (UNITARY) طریق حکومت جاری کرنا اتحاد نہیں بلکہ فساد پیدا کرتا ہے- مسٹر جیمز بیک JAMESBECK)۔(MR یونائیٹڈ سٹیٹس کے سالٹر جنرل نے یونائٹیڈسٹیٹس کے متعلق جو مندرجہ ذیل فقرہ کہا ہے اس سے ہم ہندوستان کے آئندہ نظام کے متعلق فائدہ اٹھا سکتے ہیں- وہ لکھتے ہیں-:
    >ایک ایسے ملک میں جو ایٹلانٹک سے پیسفک تک اور )شمالی امریکہ کی( جھیلوں سے لے کر )میکسیکو کی( خلیج تک پھیلا ہوا ہے- جس کا شمالی کونہ قطب شمالی کے سمندر سے زیادہ فاصلہ پر نہیں ہے اور جس کا جنوبی حصہ خط استواء سے کچھ زیادہ بعید نہیں ہے- عادات` رسوم اور طبائع کے لحاظ سے لوگوں میں اس قدر اختلافات میں کہ اگر ثنائیت )ڈویل (DUAL کی قسم کی حکومت نہ ہوتی تو نظام حکومت کبھی کا تباہ اور برباد ہو چکا ہوتا<- ۴۹~}~
    ہندوستان کے اختلافات یونائٹیڈسٹیٹس سے بہت زیادہ ہیں- پس اگر اس ملک میں یونیٹری حکومت اتحاد نہیں بلکہ فساد پیدا کر سکتی تھی تو یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ ہندوستان میں اس سے قومیت پیدا ہوگی- اگر اس طریق کو اختیار کیا گیا تو قومیت پیدا نہیں ہوگی بلکہ خرابی ہوگی-
    ہندوستان کے لئے فیڈرل سسٹم کے فوائد
    علاوہ زبان و رسوم وغیرہ کے اختلاف کے یہ امر بھی غور کے قابل ہے کہ ہندوستان میں حقیقی اتحاد کے لئے فیڈرل اصول حکومت کے بغیر گذارہ ہی نہیں ہو سکتا- کیونکہ اس ملک کا ایک تہائی حصہ ریاستوں کے ماتحت ہے اور جب تک وہ حصہ ہندوستان سے ان امور میں مشترک ہو کر کام نہ کرے جو آل انڈیا حیثیت کے ہیں اس وقت تک ہندوستان ترقی نہیں کر سکتا اور اس کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ فیڈریشن کے اصول پر کام کیا جائے- ورنہ نیم آزاد ریاستیں کبھی بھی برطانوی ہند سے مل کر کام کرنے پر تیار نہ ہونگی-
    دوسرا فائدہ فیڈرل سسٹم کا یہ ہے کہ ہندوستان ایک وسیع ملک ہے اور اس کے مختلف صوبوں کے باشندوں کے مزاج بوجہ مختلف آب و ہوا کے مختلف ہیں- پس یہ لازمی بات ہے کہ فیڈرل سسٹم کے اجراء پر ہر صوبہ اپنی ضرورت کے مطابق حکومت کے قواعد بنائے گا اور اس طرح تھوڑے ہی عرصہ میں ہندوستان میں متفرق قسم کے سیاسی تجربات ہونے لگ جائیں گے جن تجربات سے مرکزی حکومت فائدہ اٹھائے گی اور اسے آئینی اصول کے مطابق ایک ایسی مکمل صورت اختیار کرنے کا موقع ہوگا جو شاید دنیا کے کسی اور ملک کو حاصل نہیں ہے-
    فیڈرل انڈیا کے حصے
    اب میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ ملک کے کونسے حصے اور کس اصل پر فیڈرل انڈیا کا جزو بنیں گے- میں اس وقت ریاستہائے ہند کے سوال کو چھوڑتا ہوں کیونکہ وہ مستقل بحث کا محتاج ہے اور صرف برطانوی ہند کو لیتا ہوں- اس وقت ہندوستان نو آئینی صوبوں اور چند غیر آئینی علاقوں میں منقسم ہے- سوال یہ ہے کہ اس موجودہ حالت میں اس کی فیڈریشن کس طرح بن سکتی ہے- کیونکہ فیڈریشن کے اصول کے یہ امر منافی ہے کہ اس کے بعض حصے مرکزی حکومت کے ماتحت ہوں- اگر ایسا ہوا تو فیڈریشن ناقص ہو جائے گی- کیونکہ اس میں یونیٹری یعنی اتصالی اور فیڈرل یعنی اتحادی دونوں قسم کی حکومتیں ایک ہی جگہ جمع ہو جائیں گی- ان علاقوں کے لحاظ سے جن میں مقامی حکومت نہ ہوگی` فیڈرل اسمبلی مقامی حکومت کا رنگ رکھے گی اور ان علاقوں کے لحاظ سے جن میں مقامی حکومت ہوگی` وہ فیڈرل اسمبلی کی حیثیت رکھے گی پھر اس کے ممبروں کے انتخاب کے بھی سائمنرپورٹ کے مطابق مختلف طریق ہونگے- صوبہ جاتی حکومتوں میں تو مقامی کونسلیں اس کے ممبر منتخب کریں گی اور غیر آئینی علاقہ کے لوگ براہ راست انتخاب کریں گے اور )غیرترقییافتہ( علاقوں کے نمائندے خود گورنر جنرل منتخب کیا کریں گے یہ صورت بالکل غیرآئینیہوگی اور اس سے فساد پیدا ہوگا- فیڈرل حکومت کا کوئی حصہ فیڈریشن سے آزاد نہیں ہو سکتا سوائے اس کے کہ خاص ضرورتوں کے ماتحت کوئی حکومت نیا شہر بسا لے جس کے باشندے یہ جانتے ہوئے وہاں بسیں کہ ہمیں لوکل حکومت میں کوئی حق نہیں ملے گا- یا یہ کہ جو حصہ مقامی آزادی سے محروم ہو وہ فیڈرل حکومت کا حصہ ہی نہ ہو بلکہ اس کا ایک ماتحت علاقہ ہو جیسے کہ یونائٹیڈ سٹیٹس میں فلپائن ہے- ان دونوں صورتوں کے سوا کوئی حصہ ملک کا حقیقی فیڈرل حکومت میں مقامی آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا- صرف اس لئے نہیں کہ یہ اس پر ظلم ہے بلکہ اس لئے بھی کہ یہ امر فیڈرل اسمبلی کو ایک جہت سے مقامی کونسل کی شکل دے دیتا ہے- جو فیڈرل اصول کے بالکل بر خلاف اور یونیٹری اصول کے مطابق ہے- فیڈرل حکومت تبھی صحیح اصول پر چل سکتی ہے جب اس کے سب حصے برابر کی آزادی رکھتے ہوں- پس جب تک ہندوستان کی موجودہ تقسیم کو نہ بدلا جائے اس وقت تک فیڈرل نظام حکومت اس ملک میں صحیح طور پر جاری نہیں ہو سکتا اور صوبہ جات کا تغیر و تبدل صرف ایک سہولت کا ہی ¶سوال نہیں بلکہ ایک اصولی سوال ہے اور اس وجہ سے اس سے زیادہ قابل توجہ ہے جس قدر توجہ کہ سائمنکمیشن نے اسے دی ہے-
    سائمن کمیشن کی رپورٹ یہ ہے کہ گورنروں کے صوبوں کے سوا باقی سب صوبوں کی باستثناء شمال مغربی سرحدی صوبہ کے وہی حالت رہے جو پہلے تھی اور شمال مغربی سرحدی صوبہ کو بھی وہ ایک نیم آزاد سی حکومت دینا چاہتے ہیں لیکن اگر ان کی اس سفارش کو تسلیم کر لیا جائے تو کبھی بھی ہندوستان صحیح طور پر فیڈرل سسٹم کے اصول پر نشوونما نہیں پا سکتا- تعجب ہے کہ وہ ایک طرف ان صوبوں کے موجودہ نظام کو خود ہی ناقص قرار دیتے ہیں پھر اس کے قیام کی بھی سفارش کرتے ہیں- قریباً ہر گورنر کے صوبہ کے ساتھ کوئی نہ کوئی غیر ترقی یافتہ (BACKWARD) علاقہ لگا ہوا ہے جس کی وجہ سے گورنروں کو دہرے اختیار دینے پڑیں گے- پھر چھوٹے صوبے ہیں ان میں کوئی خاص نظام حکومت ہے ہی نہیں وہ براہراست گورنمنٹ آف انڈیا سے تعلق رکھتے ہیں- اس وجہ سے ہندوستان کو مجموعی حیثیت سے کوئی آئینی شکل نہیں دی جا سکتی- پس میرے نزدیک اس سوال کو ایک ہی دفعہ حل کر دینا چاہئے-
    پہلے میں بیک ورڈ (BACKWARD) علاقوں کو لیتا ہوں- کہا جاتا ہے کہ تعلیم میں پیچھے ہونے کے سبب سے وہاں کے باشندے اب تک عام سیاسیات میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہوئے- لیکن سوال یہ ہے کہ گورنمنٹ نے اب تک ان کے لئے کوشش کیا کی ہے- خواہ وہ کس قدر بھی وحشی ہوں پھر بھی وہ سو سال سے زائد عرصہ سے حکومت برطانیہ کے ماتحت ہیں- پس کون تسلیم کر سکتا ہے کہ اس قدر لمبے عرصہ میں ان کے اندر کوئی مفید تبدیلی نہیں کی جا سکتی تھی- یہ تو بالکل درست ہے کہ وہ سینکڑوں سال کی مہذب دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے مگر ان میں کچھ تو قابلیت آتی لیکن وہ اب تک ویسے کے ویسے ہیں اور اس کی وجہ صرف یہ معلوم ہوتی ہے کہ مہذب دنیا کی دلکشیوں نے مقامی حکام کو ادھر توجہ نہیں کرنے دی اور نہ ہی حکامبالا نے ان سے وقتاً فوقتاً یہ رپورٹ طلب کی کہ ان کی تعلیمی اور تمدنی ترقی کی طرف تم نے گذشتہ سالوں میں کیا توجہ کی ہے- پھر حکومت کی خواہش بھی انسان پر سوار رہتی ہے کہ اس لئے حکام کو یہ بھی خیال رہا ہوگا کہ ان کے ترقی کرنے پر ہمارے وہ اختیار نہیں رہیں گے جو اب ہیں- ورنہ ایک اس قدر زبردست حکومت سے جب کہ وہ لوگ پوری طرح اس کے ماتحت تھے اس کی اصلاح نہ ہو سکنا عقل کے بالکل خلاف ہے- میں اب اس امر کا ذمہ لینے کے لئے تیار ہوں کہ گورنمنٹ پندرہ بیس سال تک ان علاقوں میں سے ایک علاقہ ہمارے سپرد کر کے دیکھ لے کہ ان کی اس قدر اصلاح ہو جاتی ہے یا نہیں کہ وہ باقی لوگوں کے ساتھ مل کر گزارہ چلانے کے قابل ہو جائیں- غرض میرے نزدیک ان لوگوں کی پچھلی کمزوری صرف اور صرف ان کے غیر ترقی یافتہ (BACKWARD) قرار دینے کی وجہ سے ہے- جب تک پنجاب کو آئینی صوبہ قرار نہ دیا گیا تھا وہ بھی پچاس سالہ انتظام کے باوجود سب صوبوں سے پیچھے تھا لیکن جونہی اسے آئینی حکومت ملی دس بارہ سال کے عرصہ میں پنجاب کی حالت ہی بدل گئی ہے اور وہ اب کسی صورت میں دوسرے صوبوں سے کم نہیں- تعلیم میں وہ کئی صوبوں سے آگے نکل چکا ہے- مادی ترقی میں بھی وہ چھلانگیں مارتا ہوا دوسرے صوبوں کو پیچھے چھوڑ رہا ہے- پس غیرترقی یافتہ علاقوں کی آفت سے ہندوستان کو بچانے کا یہی واحد ذریعہ ہے کہ وہ علاقے جو غیرترقی یافتہ کہلاتے ہیں انہیں بقیہ صوبوں کے ساتھ شامل کر دیا جائے- اگر ان کے رقبے بڑے ہوتے تو میں سمجھتا کہ خواہ کسی سبب سے بھی ان کی حالت خراب ہو` لیکن جب حالت خراب ہو چکی ہے تو کیوں دوسرے صوبوں سے ملا کر انہیں بھی ان کی وجہ سے خراب کیا جائے- لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ صرف چھوٹے چھوٹے رقبے ہیں اور انہیں دوسری آبادی کے ساتھ باقاعدہ مدد دینے سے کوئی نقص پیدا نہیں ہو سکتا- وہ دوسرے لوگوں کو ترقی سے نہیں روکیں گے بلکہ ان سے مل کر خود ترقی کر جائیں گے اس لئے انہیں باقاعدہ طور پر آئینی حکومتوں کا جزو بنا دینا چاہئے- ہر صوبہ کی آئینی حکومتیں خود ہی اپنے قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی ترقی کا سامان پیدا کر لیں گی- زیادہ سے زیادہ اس امر کا انتظام کر دیا جائے کہ ان کی تعلیمی یا صنعتی ترقی کے لئے خاص افسر مقرر ہو جائیں اور خاص رقوم ان کے لئے صوبہ کے فنڈ سے الگ کر دی جایا کریں اس طرح دس پندرہ سال میں ان کی اصلاح ہو جائے گی- بہرحال ہندوستان کا حصہ ہوتے ہوئے انہیں الگ رکھنا ہندوستان کے نظام کو کمزور کرنا ہے-
    انہی غیر ترقی یافتہ علاقوں میں سے جزائر انڈمان کو بھی پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان میں چونکہ عمر قید کے سزا یافتہ رہتے ہیں اس وجہ سے ان جزائر کی بھی اصلاح نہیں ہو سکی- اب اس قانون کو موقوف کر دیا گیا ہے لیکن یہ دلیل بھی معقول نہیں- باوجود قیدیوں کے وہاں رہنے کے اس علاقہ کی اصلاح ہو سکتی تھی اور ہونی چاہئے تھی- قیدی صرف ایک محدود علاقہ میں رہتے تھے باقی علاقہ اسی طرح آزاد ہے- پس درحقیقت اس علاقہ کے غیر ترقی یافتہ رہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ مدراس گورنمنٹ جس کے ماتحت یہ علاقہ ہے اسے اپنے قریب کے زیادہ تعلیم یافتہ علاقوں کی وجہ سے اس طرف توجہ نہیں ہوئی اور یہ خدا کی مخلوق ڈیڑھ سو سال تک جہالت کے گڑھے میں گری رہی ہے- اب وقت ہے کہ انہیں دوسرے لوگوں کی طرح حقوق دے دیئے جائیں- اگر وہ آج ان حقوق کو پوری طرح استعمال نہ کر سکیں گے تو کل کریں گے- وہ کونسا ملک ہے جس کے سب حصوں نے ایک ہی وقت میں یکساں طور پر آئینی حقوق سے فائدہ اٹھایا ہے- پس راستہ کھولنا ہمارا کام ہے فائدہ ہر ایک شخص اپنے ظرف کے مطابق حاصل کرے گا- اور راستہ کھلنے پر ہی دل میں نشوونما کی بھی خواہش پیدا ہوگی- ہاں اگر کوئی خاص خطرہ ہو تو بعض حفاظتی تدابیر سے اس کا علاج تجویز کر لیا جائے-
    اب میں ان چھوٹے صوبوں کو لیتا ہوں جنہیں پراونشل گورنمنٹ (PROVINCIALGOVERNMENT) نہیں ملی- اول دہلی ہے اس کے متعلق کسی دلیل کے بغیر کمیشن نے رپورٹ کی ہے کہ اس کا سابق انتظام ہی قائم رہے اور وہ یہ ہے کہ پنجابکونسل جو قانون پاس کرتی ہے گورنر جنرل خاص اعلان کے ذریعہ سے اسے اس صوبہ میں نافذ کر دیتے ہیں- دوسرا صوبہ کورگ کا ہے- اس کی آبادی ایک لاکھ چھتیس ہزار اور رقبہ ایک ہزار پانچ سو اسی مربع میل ہے- ریاست میسور کا ریذیڈنٹ (RESIDENT) بحیثیت عہدہ اس کا چیف کمشنر ہوتا ہے- اور ایک کونسل اس صوبہ کو ملی ہے جس کا پریذیڈنٹ خود چیف کمشنر ہے- اس وقت تک اس کونسل نے دو قانون پاس کئے ہیں- اور سال میں اوسطاً چھ دن اس کے اجلاس ہوتے ہیں- کمیشن کی رائے میں اس علاقہ کے نظام میں بھی کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں- تیسرا علاقہ بلوچستان کا ہے اس میں چیف کمشنر حاکم ہے جو جرگہ کی مدد سے وہاں حکومت کرتا ہے اور اس علاقہ کی ریاستوں کے لئے ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل GENERAL) GOVERNOR THE TO (AGENT کا عہدہ بھی اسی کے پاس ہوتا ہے- کمیشن وہاں کے لوگوں کی عادات کی وجہ سے اس ملک کے انتظام میں بھی تبدیلی کی سفارش نہیں کرتا- اس کا رقبہ ایک لاکھ چونتیس ہزار تین سو اڑتیس مربع میل ہے اور آبادی ساڑھے آٹھ لاکھ کے قریب ہے- لیکن اکثر رقبہ ریاستوں کے ماتحت ہے اور نصف کے قریب آبادی بھی ان میں بستی ہے- انگریزی علاقہ قریباً دس ہزار مربع میل ہے- لیکن اس کے ساتھ دائمی ٹھیکہ کا علاقہ قریباً چوالیسہزار میل ہے- چوتھا صوبہ اجمیر مارواڑ ہے- یہ علاقہ ریاستوں میں گھرا ہوا ہے اور بوجہ دوسرے صوبوں سے دور ہونے کے کمیشن اس کی نئی تشکیل کی بھی سفارش نہیں کرتا- اس صوبہ کی آبادی پانچ لاکھ سے کچھ اوپر ہے اور رقبہ دو ہزار سات سو گیارہ مربع میل ہے- موجودہ نظام حکومت یہ ہے کہ راجپوتانہ کی ریاستوں کے لئے گورنر جنرل کا جو ایجنٹ مقرر ہوتا ہے وہی اس کا چیف کمشنر ہوتا ہے- پانچواں صوبہ شمال مغربی سرحدی صوبہ ہے جس کی آبادی قریباً چالیس لاکھ ہے- اور رقبہ تقریباً چالیس ہزار مربع میل ہے- اس کا موجودہ انتظام یہ ہے کہ ایک چیف کمشنر وہاں مقرر ہوتا ہے جو فارن آفس کی معرفت گورنر جنرل کے ماتحت ہے- اس صوبہ کے لئے خاص قوانین گورنر جنرل کی طرف سے مقرر ہیں- وہ یہ پانچ صوبے ہیں جو علاوہ ان علاقوں کے جو بیک ورڈ (BACKWARD) کہلاتے ہیں اس وقت تک اصلاحات سے محروم ہیں لیکن کوئی معقول وجہ نہیں کہ انہیں اصلاحات سے محروم رکھا جائے- جہاں تک میں سمجھتا ہوں کورگ کو بڑی آسانی سے مدراس سے ملایا جا سکتا ہے- کمیشن کا یہ بیان کہ اس علاقہ کا مذہب اور اس کی قومیت مختلف ہے کوئی دلیل نہیں کیونکہ مذہب اور قومیت کا اختلاف دوسرے علاقوں میں بھی پایا جاتا ہے- اصل بات جو دیکھنے والی ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ علاقہ جغرافیہ اور تاریخی حیثیت سے الگ حیثیت رکھتا ہو اور دوسرے علاقہ سے مل کر اس کی ترقی میں روک پیدا ہونے کا احتمال ہو اور اس میں الگ صوبہ بننے کی قابلیت ہو اور یہ باتیں کورگ میں نہیں پائی جاتیں- پس کوئی وجہ نہیں کہ اسے مدراس کے ساتھ شامل کر کے اس دو عملی کو جو ملک میں پیدا ہے دور نہ کیا جائے- زبان اور مذہب کے متعلق اس قسم کی حفاظتی تدابیر اختیار کر لی جائیں جو دوسری اقلیتوں کو حاصل ہیں- جیسے کہ اس علاقہ میں ابتدائی تعلیم مقامی زبان میں ہوگی- یا یہ کہ اس علاقہ کے لوگوں کو تناسب آبادی کے لحاظ سے ملازمتیں وغیرہ ملتی رہیں گے- غرض ان کے حقوق کی حفاظت کا انتظام کر کے مدراس کے ساتھ ملا دینا چاہئے-
    اسی طرح اجمیر ماڑواڑہ کے علاقہ کو باوجود اس کے کہ وہ یو-پی سے کسی قدر فاصلہ پر ہے یو-پی میں ملا دینا چاہئے کیونکہ دونوں علاقوں کی زبان اور رسم و رواج بالکل ایک سے ہیں اور ان کے ملانے میں کوئی روک نہیں ہے- باقی رہا یہ کہ درمیان میں ریاستوں کا علاقہ ہے یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے- کئی اور علاقے یو-پی کے ہیں جو مرکز سے قریباً اسی قدر فاصلہ پر ہیں- جس قدر کہ اجمیر ماڑواڑ کا علاقہ ہے- اور بعض مقامی ضرورتوں کے لئے الگ انتظام کیا جا سکتا ہے- جیسے مثلاً ایک جوڈیشنل کمشنر کی اسامی مقرر کر دی جائے-
    تیسرا علاقہ بلوچستان کا ہے یہ علاقہ بھی آبادی اور آمدن کے لحاظ سے بہت چھوٹا ہے گو رقبہ کے لحاظ سے کافی ہے- کیونکہ خالص انگریزی علاقہ بھی قریباً سو میل لمبا اور سو میل چوڑا ہے لیکن اگر ایجنسی کا علاقہ جو براہ راست انگریزی افسروں کے انتظام کے ماتحت ہے شامل کر دیا جائے تو ترپین ہزار مربع میل کا رقبہ ہو جاتا ہے جو بہار اور اڑیسہ کے دو تہائی کے برابر ہے اور آسام سے تھوڑا ہی کم بنتا ہے- پس اس وجہ سے یہ علاقہ اس امر کا مستحق ہے کہ اس کو ایک نیا صوبہ بنا دیا جائے- تو امید ہے کہ تھوڑے عرصہ میں اس علاقہ کی آبادی اور آمدن دونوں میں ترقی کی دی جائے گی کیونکہ اس وقت تک بوجہ غیر آئینی صوبہ ہونے کے اس علاقہ میں بسنے سے لوگ گھبراتے ہیں- اور جس قسم کا سلوک نو واردوں سے اس علاقہ میں ہوتا ہے وہ لوگوں کو جرات نہیں دلاتا کہ اسے اپنا وطن بنائیں- لیکن جونہی کہ اس صوبہ کو آئینی شکل دے دی گئی تو پنجاب اور سندھ کی آبادی کا کچھ حصہ شوق سے اس میں اپنے لئے ترقی کے نئے راستے نکالنے کی کوشش کرنے کے واسطے تیار ہو جائے گا- یہ خیال کہ اس صوبہ کی آمدن کم ہے اس تجویز کے راستہ میں روک نہیں بننا چاہئے کیونکہ اب بھی اس صوبہ پر امپیرئل گورنمنٹ (IMPERIALGOVERNMENT)ہی روپیہ خرچ کرتی ہے- اگر چند سال تک امپیریلگورنمنٹ اور خرچ کرے گی تو اس ملک کی آمدن خود بخود ترقی کرے گی اور وہ ملک کی عظمت اور ترقی کا موجب ہوگا- لیکن اگر کسی طرح اس تجویز پر عمل نہ کیا جا سکے تو پھر میری رائے میں بہتر ہوگا کہ یا تو اسے صوبہ سرحدی کے ساتھ ملا دیا جائے کہ ساری سرحد ایک نظام کے ماتحت آ جائے- یا پھر سندھ کے ساتھ ملا دیا جائے کہ اس ملک کے ساتھ باقی علاقوں کی نسبت بلوچستان کو زیادہ مشابہت ہے اور ریل کی وجہ سے آمدورفت میں بھی سہولت ہے- باقی جو علاقہ ریاستوں کا ہے وہ دوسری ریاستوں کی طرح پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ (POLITICALDEPARTMENT)سے تعلق رکھے گا-
    دہلی کی نسبت بھی میں تو یہی کہوں گا کہ اگر اسے الگ رکھنا ہے تو اس کو بھی ایک صوبہ کی شکل دے دی جائے اور اس کا بہتر طریق یہ ہے کہ ایک دو تحصیلیں پنجاب اور ایک دو تحصیلیں یو-پی کے صوبہ سے لے کر اس کا علاقہ ذرا بڑا کر لیا جائے- چونکہ دہلی بوجہ صدر مقام ہونے کے جلد ترقی کر رہا ہے اور امید ہے کہ اپنے صوبہ کے اخراجات برداشت کرنے اس کے لئے مشکل نہ ہونگے نیز چونکہ اس کا بہت سا خرچ بوجہ صدر مقام ہونے کے ہوگا امپیریل گورنمنٹ کو اس کے اخراجات ادا کرنے میں کوئی دریغ نہیں ہونا چاہئے- لیکن اگر یہ تجویر کسی وجہ سے ناقابل عمل ہو تب بھی میں یہ کہوں گا کہ اسے صوبہ جاتی حکومت دینی چاہئے- اگر سوئٹررلینڈ کی کنٹنز (CANTONS) کو جو دہلی سے بہت چھوٹی ہے لوکل سیلف گورنمنٹ (LOCALSELFGOVERNMENT) کے اختیارات حاصل ہیں تو کیوں دہلی کو یہ اختیارات حاصل نہ ہوں-
    اب صرف صوبہ سرحدی رہ جاتا ہے- میرے نزدیک وہ بھی اسی طرح آزادی کا مستحق ہے جس طرح اور صوبے- کمیشن نے ایک عجیب مثال دے کر اس صوبہ کو اس کے جائز حق سے محروم کرنا چاہا ہے- وہ لکھتا ہے کہ ایک پائوڈر میگزین (POWDERMAGAZINE) میں کھڑا ہونے والا شخص اپنے لئے عمل کی آزادی کا مطالبہ کر کے سگریٹ نوشی کا لطف نہیں اٹھا سکتا- اس سرحد کے مقام کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں کے باشندے بھی دوسرے صوبوں کی طرح اختیارات نہیں مانگ سکتے- اول تو یہ مثال ہی غلط ہے- گن پائوڈر میگزین میں جانے والا تو خود اس جگہ جاتا ہے لیکن یہاں تو آپ خود دوسرے کے گھر میں گن پائوڈر کی میگزین بنا دیتے ہیں- آپ کو یہ اجازت کہاں سے حاصل ہوئی کہ کسی کے گھر میں جا کر بارود رکھ دیں اور پھر اس سے مطالبہ کریں کہ اب تم آگ نہ جلائو کہ ہمارے پائوڈر کو آگ لگ جائے گی- صوبہ سرحد والے تو جواب دیں گے کہ یہ حالت تو آپ لوگوں کی اپنی پیدا کی ہوئی ہے ہمیں آزاد کر دو پھر دیکھو ہم اپنے وطن کا انتظام کر لیتے ہیں یا نہیں-
    دوسرے یہ امر دیکھنا چاہئے کہ صوبہ سرحدی کے فساد کا اصل باعث ہی اس صوبہ کو حقوق کا نہ ملنا ہے- سرحد کا پٹھان دیکھتا ہے کہ اس کا بھائی ڈیورنڈلائن سے پرے ایک پوری آزاد حکومت چلا رہا ہے اور اس سے ورے بھی ایک اندرونی طور پر آزاد حکومت حاصل ہے لیکن یہ اس کا رشتہ دار اور اس سے زیادہ تعلیم یافتہ اپنے گھر کا انتظام کرنے کے قابل نہیں سمجھا جاتا- اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ہمیشہ اپنے آزاد علاقہ کے بھائیوں کو شورش پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ لوگ بھی اس کی ہمدردی میں حکام سرحد کو تنگ کرتے رہتے ہیں- یہ کس طرح ممکن ہے کہ جب ان لوگوں کے دلوں میں بھی آزادی کا ولولہ اٹھنے لگے جو آزاد حکومتوں سے نہ مکانی قرب رکھتے ہیں اور نہ نسلی تو وہ لوگ جو آزاد حکومتوں کے ہمسایہ ہیں اور نسلا ان سے متحد ہیں حتیٰ کہ ان کی آپس میں کثرت سے شادیاں بھی ہوتی رہتی ہیں وہ آزادی کے جذبات سے خالی رہیں- اور پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ انہیں آزادی سے محروم کر کے امید کی جائے کہ وہ گنپائوڈر کے خیال سے دیا سلائی نہ جلائیں- وہ تو ضرور دیا سلائی جلائیں گے تا کہ گن پائوڈر اڑ جائے اور شاید اس طرح ان کے لئے آزادی کا راستہ کھل جائے-
    کمیشن جس نتیجہ پر صوبہ سرحدی کے متعلق پہنچا ہے وہ بالکل نرالا ہے- دنیا کی دوسری اقوام اپنے سرحدی قبائل کو خوش رکھنے کی کوشش کرتی ہیں تا کہ وہ ملک کے لئے بطور سپر کے کام دیں- لیکن کمیشن یہ تجویز پیش کرتا ہے کہ انہیں دوسروں کی طرح حقوق نہ دیئے جائیں کیونکہ یہ سرحد پر ہیں- جس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہیں کہ وہ کبھی مطمئن نہ ہوں اور ہمیشہ سرحدی قبائل کو اکساتے رہیں- انگلستان اگر جزیرہ ہے تو کیا ہوا کیا دنیا کی اور
    ‏a11.11
    ہمیشہ سرحدی قبائل کو اکساتے رہیں- انگلستان اگر جزیرہ ہے تو کیا دنیا کی اور حکومتیں ایسی ہیں یا نہیں جن کی حدود دوسرے ممالک سے ملتی ہیں- پھر کیا وہ اپنے ان علاقوں کو آزادی سے محروم کر دیا کرتی ہیں؟
    یہ بات کہ سرحد تبھی مضبوط ہو سکتی ہے جب کہ سرحدی صوبہ کے لوگ یہ محسوس کریں کہ یہ ہمارا ملک ہے اور جو شخص حملہ کرتا ہے وہ ہماری آزادی میں دخل اندازی کرتا ہے ایسی موٹی بات ہے کہ ایک بچہ بھی اسے سمجھ سکتا ہے- سرحدیوں کو یہ یقین دلا دو کہ تم کو دوسرے صوبوں کی طرح حقوق نہیں مل سکتے تو دیکھو کہ وہ کس طرح آئے دن کوشش کرتے ہیں کہ انگریزی حکومت سے آزاد ہو کر اپنی ہمسایہ اقوام اور اپنے ہم قوم لوگوں سے مل جائیں- لیکن اس کے برخلاف ان کو اپنے صوبہ میں آزاد حکومت دو پھر دیکھو کہ وہ کس طرح سرحد کی حفاظت کرتے ہیں- اور اصل بات تو یہ ہے کہ اسی دن سے آزاد قبائل بھی دخلاندازی سے باز آ جائیں گے جس دن کہ سرحدی صوبہ کو اختیارات مل گئے کیونکہ وہ انگریزیعلاقہ کے پٹھانوں سے گہرے تعلق پیدا کر چکے ہیں اور اگر وہ ان پر حملہ آور ہوں گے تو انہیں ان تعلقات کو خیر باد کہنا پڑے گا اور پشاور کوہاٹ اور بنوں کے لوگوں سے ان کے تعلقات خراب ہو جائیں گے اس لئے وہ ان حملوں سے باز رہیں گے- اور جب حملوں سے باز رہیں گے تو لازماً اپنے گزارہ کے لئے انہیں اور کوئی ذریعہ معاش کا تلاش کرنا پڑے گا اور اس طرح باہستگی وہ متمدن ہوتے چلے جائیں گے-
    آخر میں میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ کمیشن بھی اس امر کو تو تسلیم کرتا ہے کہ موجودہ انتظام چھوٹے صوبوں کا عارضی ہے لیکن اس نے یہ غور نہیں کیا کہ کم سے کم کورگ اور اجمیر مارواڑہ کے متعلق جو مشکلات ہیں وہ عارضی نہیں ہیں- نہ کورگ والوں کا مذہب اور زبان تبدیل ہونے کا کوئی سیاسی احتمال ہے اور نہ اجمیر مارواڑہ کا علاقہ کسی وقت کسی دوسرے صوبہ کے قریب ہو سکتا ہے پھر اس وقت ان کے متعلق قطعی فیصلہ نہ کرنے سے کونسا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے- آئندہ پر تو ان امور کا فیصلہ ڈالا جاتا ہے جن کے متعلق احتمال ہوتا ہے کہ شاید کل کو حالات تبدیل ہو جائیں- جب حالات سیاستا وہی رہیں گے جو آج ہیں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان کا فیصلہ بعد میں کیا جائے- پس یا تو یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ ان چھوٹے چھوٹے چند صوبوں کی وجہ سے ہندوستان کی فیڈریشن کبھی بھی مضبوط نہ کی جائے گی اور یا پھر انہیں کسی نہ کسی صوبہ کے ساتھ ملا دیا جائے-
    اسی طرح وہ صوبے جنہیں مستقل شکل میں رکھنا ہے ان کے متعلق بھی ابھی فیصلہ ہونا چاہئے کہ انہیں بھی آزاد حکومت ملے گی کیونکہ بغیر اس کے فیڈریشن مضبوط نہیں ہو سکتی- ہاں آزاد حکومت سے مراد یہ نہیں کہ تمام صوبوں کو ایک ہی شکل کی حکومت ملے- میں اسے بالکل غیر معقول بات سمجھتا ہوں کہ ہمارے وزراء کی تنخواہیں بھی انگلستان مقرر کرے- اگر تنخواہوں تک کا سوال انگلستان نے حل کرنا ہے تو پھر آزادی کا کیا مطلب ہوا- اصل طریق فیصلہ کا تو یہ ہے کہ وہ آزادی کی مقدار جو اس وقت ہندوستان اور ہندوستانیوں کو ملتی ہے اس کا فیصلہ اب ہو جائے- اور پھر ہر صوبہ کی کونسل اپنا نظام حکومت خود تجویز کرے- یہی اتحادی حکومت کی غرض ہوتی ہے اور اگر یہ غرض پوری نہ ہو تو اتحادیت کی بنیاد یقیناً کمزور ہو گی- یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ کی ریاستوں کے نظام آپس میں مختلف ہیں لیکن ان کی فیڈریشن میں کوئی نقص نہیں اسی طرح ہندوستان میں ہونا چاہئے- اگر پنجاب اپنے وزراء کو تین ہزار تنخواہ دینا چاہتا ہے اور بنگال چھ ہزار تو اس پر انگلستان کے باشندوں کو کیا اور کیوں اعتراض ہو سکتا ہے- اسی طرح اگر انتخاب کے طریقوں میں وہ فرق کرنا چاہتے ہیں بغیر اس کے کہ کسی قوم یا کسی جماعت کے حق کو نقصان پہنچے تو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے- اسی طرح اگر وزارت کے متعلق مختلف صوبے آپس میں اختلاف کریں- کوئی صوبہ وزارت کا انتخاب کونسلوں کے سپرد کرے- لیکن کونسلوں کی عمر تک انہیں مستقل عہدہ دے دے- دوسرا ان کا عہدہ پر قائم رہنا کونسلوں کی مرضی کے تابع رکھے تو اس سے نہ تو حکومت ہی کمزور ہوتی ہے نہ فیڈریشن میں کوئی نقص آتا ہے- غرض بیسیوں طریق حکومت کے جو مختلف ملکوں کے تجربہ میں آ چکے ہیں` انہیں مدنظر رکھتے ہوئے صوبہ جات اگر اپنی ضرورتوں کے مطابق کوئی نظام قائم کریں تو اس پر انگلستان کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے- جس بات کی حد بندی کی ضرورت ہے وہ صرف یہ ہے کہ بادشاہ معظم نے جو حقوق محفوظ رکھے ہوں یا جو حقوق مرکزی گورنمنٹ کو دیئے گئے ہوں یا جو حقوق اقلیتوں کے لئے محفوظ رکھے گئے ہوں انہیں تلف نہ کیا جائے- ان تینوں شرطوں کو پورا کرنے کے بعد ہر صوبہ کو اجازت ہو کہ اپنی ضرورت کے مطابق انتظام کرے اور اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے تو چھوٹے صوبوں کو اپنے صوبوں کا انتظام کرنے میں کوئی دقت نہ ہوگی- سوئٹررلینڈ اگر اپنے وزراء کو نہایت قلیل معاوضہ دیتا ہے اور اس کے نظام میں کوئی نقص نہیں آ جاتا تو اگر بلوچستان اور صوبہ سرحد بھی ایسا ہی کریں تو اس میں کیا نقص ہے- آخر صوبہ سرحدی کا ہمسایہ افغانستان اپنے وزراء کو بہت کم تنخواہیں دیتا ہے اور اس بناء پر اس کے انتظام کو ناقص نہیں کہا جا سکتا- اگر کوئی نقص ہے تو اس کی وجوہ اور ہیں- اسی طرح موجودہ شکل گورنمنٹ کی جو سب صوبوں میں یکساں طور پر جاری ہے اس کے اندر بھی حسب ضرورت تبدیلی کر کے کام کو ہلکا اور اخراجات کو بہت کم کیا جا سکتا ہے- ہمارے ملک کی مثال ہے کہ جتنی چادر دیکھو اتنے پائوں پھیلائو-
    غرض میرے نزدیک فیڈریشن کے اصل کو صحیح طور پر چلانے کیلئے ہندوستان کے تمام برطانوی علاقہ کا اسی وقت ایک مکمل فیصلہ ہو جانا چاہئے- ورنہ حکومت میں ثنائیت )دوشاخی( قائم رہے گی اور ہر ایک حکومت خواہ صوبہ جاتی ہو خواہ مرکزی اس میں یہ دہری صورت پائی جائے گی کہ ایک حصہ ملک کے لحاظ سے وہ آئینی اور ایک حصہ ملک کے لحاظ سے غیر آئینی حکومت رہے گی- بلکہ مرکزی حکومت میں تو یہ تین شاخیں پیدا ہو جائیں گی- آئینی مرکزی اور غیر آئینی مرکزی اور صوبہ جاتی- کیونکہ چھوٹے صوبوں کے لئے وہ صوبہ جاتی حکومت کی قائم مقام رہے گی- کانفرنس اگر اس امر کا فیصلہ کئے بغیر اٹھے گی تو وہ یقیناً ایک سخت غلطی کی مرتکب ہوگی اور دونوں فریق کچھ عرصہ کے بعد ان علاقوں کے ذریعہ سے نئے فتنے اٹھتے ہوئے دیکھیں گے-
    اب میں ان صوبہ جات کو لیتا ہوں جنہیں صوبہ جاتی آزادی کی پہلی قسط مل چکی ہے- ان صوبہ جات کی دو حالتیں ہیں- ان میں سے بعض تو ہندوستان سے علیحدہ ہونا چاہئے ہیں- جیسے برما اور بعض پھٹ کر دو صوبے بننا چاہتے ہیں- جیسے سندھ` اڑیسہ اور کرناٹک وغیرہ- الگ ہونے کا مطالبہ صرف برما کا ہے اور میرے نزدیک یہ مطالبہ بالکل معقول ہے- برما کبھی بھی صحیح طور پر ہندوستان کا حصہ نہیں بنا بلکہ تاریخی اور جغرافیائی اور نسلی اور زبانی اور اقتصادی اور تمدنی طور پر وہ بالکل ہندوستان سے الگ ہے اور عملاً بھی اب تک الگ رہا ہے- چنانچہ گورنمنٹ آف انڈیا کے دفاتر میں تمام صوبہ جات کے افراد ملتے ہیں لیکن برمی نہیں ملتے- اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ ہندوستان سے اپنے آپ کو الگ سمجھتے ہوئے اس کو ایک دوسرا ملک خیال کرتے ہیں اور اس کے مرکز میں آ کر اپنے حقوق لینے کو بھی ایک قسم کی جلاوطنی خیال کرتے ہیں- پس جو صوبہ اس طرح علیحدہ رہا ہے اور جو ہر شعبہ زندگی میں ہندوستان سے مختلف ہے اسے ہندوستان سے ملائے رکھنا اسے غلام بنانے کے مترادف ہے- برما کا اختلاف ہندوستان سے سیلون کی نسبت بھی زیادہ ہے- اور اگر سیلون کو اس سے الگ رکھا گیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ برما کو الگ نہ رکھا جائے- پس اس صوبہ کو تو الگ اور آزاد حکومت ملنی چاہئے- اور جب ہم یہ فیصلہ کر دیں تو برما کے سوال کے متعلق ہمیں کسی مزید توجہ کی ضرورت نہیں رہتی-
    نئے صوبہ جات
    ‏]1ttex [tagدوسرا سوال صوبہ جات کی تقسیم کا ہے- جب سے بعض صوبہ جات کو ایک حد تک آزادی حاصل ہوئی ہے ملک کے کئی حصوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں بھی مستقل صوبہ قرار دیا جائے- یہ علاقے مندرجہ ذیل ہیں- سندھ` اڑیسہ` کرناٹک` کیرالا اور آندھرا- نہرو رپورٹ نے کرناٹک اور سندھ کے دعویٰ کی تائید کی ہے اور سائمن رپورٹ نے اڑیسہ اور سندھ کے علاقہ کی- جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ تینوں صوبے الگ حکومت دیئے جانے کے قابل ہیں اور ایسا کر دینا چاہئے تا کہ ہندوستان کے صوبوں کی تقسیم کا ایک دفعہ ہی فیصلہ ہو جائے- بقیہ علاقے چھوٹے اور غیر اہم ہیں- ان تین نئے صوبوں کو بنانے سے بمبئی` مدراس اور بنگال اور بہار کے علاقے کاٹنے پڑیں گے- لیکن موخر الذکر علاقے کافی آباد ہیں اور کم سے کم آبادی کے لحاظ سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور بوجہ آبادی کی زیادتی کے ان میں مالی طور پر جلد مضبوط ہونے کی طاقت تسلیم کرنی چاہئے- باقی رہا مدراس` سو اس کا رقبہ تو پہلے ہی بہت زیادہ ہے اور آبادی بھی کافی ہے- دوسرے کرناٹک کو الگ کر کے کورگ کو اس میں شامل کر دیا جائے تو کسی قدر اس علاقہ کی تلافی ہو جائے گی- بمبئی میں سے ایک بہت بڑا حصہ یعنی سندھ نکل جاتا ہے لیکن پھر بھی ایک لاکھ چالیس ہزار مربع میل کے قریب اس کا رقبہ باقی رہ جاتا ہے اور دو کروڑ تیس لاکھ کے قریب آبادی جس سے اس صوبہ کی آبادی اور رقبہ دونوں پنجاب کے رقبہ اور آبادی کے قریب آ جاتے ہیں اور یہ حالت اس صوبہ کے لوگوں کے لئے ہر گز پریشان کن نہیں ہونی چاہئے-
    ان سب صوبوں میں سے سندھ کا مطالبہ سب سے زبردست ہے- سندھ تاریخ کے لحاظ سے` جغرافیہ کے لحاظ سے` زبان کے لحاظ سے` عادات اور رسوم کے لحاظ سے` آب و ہوا کے لحاظ سے` لباس کے لحاظ سے غرض کسی لحاظ سے بمبئی سے کوئی تعلق نہیں رکھتا- کبھی بھی تاریخی زمانہ میں یہ علاقہ بمبئی سے متحد نہیں ہوا بلکہ پرانے زمانہ میں تو اسے ہندوستان سے بھی الگ سمجھتے تھے اور اسلامی حملہ سے کچھ ہی عرصہ پہلے اس ملک پر ہندوستانی راجوں نے حکومت کی ہے- پس جو علاقہ کہ بمبئی سے ہر رنگ میں جدا ہے اسے اس کے اکثر باشندوں کی خواہش کے خلاف بمبئی سے ملحق رکھنا کسی طرح جائز نہیں-
    کہا جاتا ہے کہ اس ملک کی مالی حالت اچھی نہیں اور اس وجہ سے یہ اپنا بوجھ خود نہیں اٹھا سکے گا- نہرو رپورٹ اور سائمنرپورٹ دونوں نے یہ اعتراض اٹھایا ہے مگر میرے نزدیک یہ اعتراض ان کا درست نہیں- اگر آسام اپنا بوجھ آپ اٹھا سکتا ہے تو کیوں سندھ جو پنجاب کے دریائوں کے دہانے پر ہے اور جو کراچی جیسی بندرگاہ رکھتا ہے ترقی نہیں کر سکتا- اصل بات یہ ہے کہ سندھ کی مالی حالت بمبئی سے ملحق ہونے کی وجہ سے کمزور ہے ورنہ جیسا کہ کئی تجربہکار انگریزوں اور ہندوستانیوں نے جو اس صوبہ سے تعلق رکھتے ہیں اپنی تحقیق بتائی ہے یہ صوبہ اب تک بہت ترقی کر چکا ہے بمبئی اور کراچی میں رقابت ہے اور اس کی وجہ سے کراچی کی ترقی کے راستہ میں ہمیشہ روک پیدا کی جاتی رہی ہے- اسی طرح اس کی زمینوں کے آباد کرنے اور اس میں سڑکوں اور ریلوں کے جاری کرنے کی طرف بہت کم توجہ ہوئی ہے- اسی طرح ملک میں تعلیم پھیلانے کی طرف بھی بہت کم توجہ ہوئی ہے اور جب کسی صوبہ کو ترقی کے سامان نہ دیئے جائیں گے تو وہ ترقی کس طرح کرے گا- بمبئی سے الگ ہوتے ہی خصوصاً اس کی نئی نہروں کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ صوبہ جلد ترقی کر جائے گا اور اپنا بوجھ خود اٹھا سکے گا- اس وقت تک مرکزی حکومت سے اسے اپنے اخراجات کو چلانے کے لئے کچھ قرض دیا جا سکتا ہے- نیز اس کا نظام حکومت ایسا تیار کیا جا سکتا ہے کہ باوجود پوری آزادی کے اس کا خرچ زیادہ نہ ہو- گورنر اور وزراء کی تنخواہیں کم ہوں` وزراء کی تعداد کم ہو` کونسل کے ممبروں کی تعداد کم ہو` شروع میں اسے الگ ہائی کورٹ نہ دیا جائے بلکہ بمبئی یا پنجاب سے عدالتوں کا الحاق رہے` یونیورسٹی چند سال تک نہ بنے` غرض کئی طرح کفایت کر کے اس صوبہ کو جلد ہی اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے قابل بنایا جا سکتا ہے- باقی رہا وہ قرض جو نہروں کی وجہ سے بمبئی نے اس کیلئے لیا ہے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ نہروں کے اجراء پر زمینوں کی فروخت سے ادا کیا جا سکے گا-
    میرے نزدیک سب سے اہم بات جسے مدنظر رکھنا چاہئے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں عام احساس ہے کہ جن علاقوں میں مسلمان زیادہ ہیں انہیں یا تو دوسرے علاقوں سے ملحق کر دیا جاتا ہے یا پھر حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے- پنجاب اور صوبہ سرحدی اور بلوچستان کی مثال ظاہر ہے- پنجاب بہت قریب زمانہ سے حقوق حاصل کر سکا ہے- بنگال کو بھی ناجائز تدابیر سے دیر تک ہندو صوبہ بنائے رکھا گیا ہے- چنانچہ باوجود اس کے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی ۱۸۳۳ء میں آگرہ کا صوبہ بنانے کی اجازت لے چکی تھی اور یہ فیصلہ تھا کہ بہار کا علاقہ اس کے ساتھ ملا دیا جائے گا لیکن اس پر عمل نہ ہوا اور آخر لارڈ کرزن (LORDCURZON) نے جن کا حسن سلوک وہ مسلمان جو تاریخ کا گہرا مطالعہ کرنے کی عادی ہیں کسی صورت میں نہیں بھلا سکتے- ۱۹۰۵ء میں مشرقی بنگال کو جدا کر کے مسلمانوں کی ترقی کا راستہ کھولا- مگر ان پر وہ لے دے ہوئی کہ آخر ملک معظم کو دربار دہلی میں اس تقسیم کو منسوخ کرنا پڑا- لیکن وہی غرض جو لارڈ کرزن کے ذہن میں تھی کہ مسلمانوں کو کسی طرح ترقی کا موقع ملے اس طرح پوری کی گئی کہ بہار اور اڑیسہ کو بنگال سے علیحدہ کر دیا گیا اور اس طرح مسلمانوں کا عنصر بنگال میں زیادہ ہو گیا- غرض مسلمانوں کو یہ شکایت ہے اور مجموعی حیثیت میں نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بجا شکایت ہے کہ کسی نہ کسی بہانے سے اسلامی صوبوں کو حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے- پس صحیح طریق کار یہی ہے کہ ان کی اس دیرینہ اور جائز شکایت کو دور کر کے فتنہ و فساد کے سامانوں کو جس قدر ہو سکے کم کیا جائے-
    خلاصہ یہ کہ جس قدر حصے ہندوستان کے آئینی نظام سے باہر ہیں ان کو کسی نہ کسی طرح نظام میں شامل کر دیا جائے اور کسی حصہ ملک کو دوسرے سے زائد آزادی نہ دی جائے تا کہ فیڈریشن اصولی طور پر مکمل ہو جائے اور صوبہ سرحدی اور بلوچستان کو آزادی میں برابر گو شکل کے لحاظ سے مختلف حکومت جس کی تدریجی ترقی کے سامان پورے طور پر خود ان صوبوں کے قانون اساسی میں موجود ہوں دی جائے- سندھ کو فوراً بمبئی سے الگ کر کے آزاد آئینی صوبہ کی شکل میں تبدیل کر دیا جائے اور اڑیسہ اور کرناٹک کو بھی الگ الگ صوبے بنا دیا جائے- اسی طرح اگر دہلی کو الگ صوبہ بنایا گیا تو چودہ صوبے ہو جائیں گے اور اگر اسے کسی اور علاقہ کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا تو تیرہ صوبے ہندوستان کے ہو جائیں گے جن میں سے پانچ اسلامی صوبے ہونگے اور ۸ ہندو صوبے-
    باب سوم
    صوبہ جات کی حکومت
    سائمن رپورٹ نے چونکہ موجودہ طریق حکومت کو قائم رکھنے کی سفارش کی ہے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں دو علیحدہ علیحدہ باب باندھے ہیں- ایک میں گورنروں کے صوبوں پر بحث کی ہے- اور دوسرے میں چیف کمشنروں کے صوبوں کے متعلق بحث کی ہے- لیکن چونکہ میرے نزدیک یہ اصول ہی غلط ہے کہ ایک فیڈریشن کے مختلف حصے مختلف قسم کے اختیارات رکھتے ہوں کیونکہ فیڈریشن کے معنی ہی یہ ہیں کہ عملا یا ذہنا ہر ایک حصہ پورا آزاد ہو اور اپنی طرف سے مرکز کو بعض اختیارات اتحاد ملکی کی خاطر دے اس لئے میں نے پہلے باب میں یہ بتایا ہے کہ سب حﷺ ملک کو ایک ہی سطح پر لے آنا چاہئے اور جو حصے ملک کے گورنروں کے صوبوں سے باہر ہیں` انہیں یا تو کسی دوسرے صوبہ سے ملا دینا چاہئے یا پھر ان کو مستقل صوبہ کی شکل میں تبدیل کر دینا چاہئے- پس ان حالات میں میں نے اس باب کا عنوان >گورنروں کے صوبے< نہیں بلکہ >صوبہ جات کی حکومت< رکھا ہے- اس حکومت کے مختلف حصوں میں سے سب سے پہلے میں ایگزیکٹو (EXECUTIVE) کو لیتا ہوں-
    ۱- صوبہ جات کی ایگزیکٹو
    دو شاخی حکومت
    سائمن رپورٹ نے مختلف تجاویز پر بحث کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ دوشاخی (DAIRCHY) حکومت کا طریق ہندوستان سے اب بالکل مٹا دیا جائے- عام حالات کے مطابق میرے نزدیک بھی اب وقت آ گیا ہے کہ ایسا ہی کیا جائے- گو میرے نزدیک دوشاخی حکومت کے خلاف جو الزامات ہیں وہ اس قدر اس طریق حکومت پر وارد نہیں ہوتے جس قدر کہ اس تشکیل پر جو اس طریق حکومت کو ہندوستان میں دی گئی تھی- جہاں تک مجھے یاد ہے پہلا شخص میں تھا جس نے اس طریق حکومت کی احمدیہ جماعت کے میموریل میں سفارش کی تھی لیکن میری سکیم مندرجہ ذیل اصل پر مبنی تھی کہ جو حصہ اختیارات کا ملک کے سپرد کیا جائے وہ پورے طور پر اس کے سپرد رہے اور جو حصہ سپرد نہ ہو وہ پورے طور پر سپرد نہ ہو- اس وقت مسٹر مانٹیگو MONTANGUE) ۔(MR اس سے متاثر معلوم ہوتے تھے لیکن دھلی کے بعد جہاں احمدیہ جماعت کا وفد پیش ہوا تھا کلکتہ میں یہی سکیم دوسری شکل میں مسٹر کرٹس کی مدد سے ان کے سامنے پیش کی گئی اور چونکہ وہ زیادہ مکمل صورت میں تھی مسٹر مانٹیگو اس کی طرف راغب ہو گئے- جب ان کی رپورٹ آئی تو پنجاب گورنمنٹ نے جس کے رئیس اس وقت سراوڈ وائر O'DWYER) (SIR تھے ایک کاپی اس کی میرے پاس بھی بھجوائی اور میری رائے اس کے متعلق دریافت کی- میں نے اس پر ایک تفصیلی تبصرہ لکھا اور بتایا کہ یہ طریق فساد پیدا کرے گا- بہتر یہ تھا کہ جو ا ختیارات انہوں نے دینے تجویز کئے ہیں ان سے تھوڑے اختیارات ہندوستانیوں کو دیئے جاتے لیکن مکمل طور پر دیئے جاتے اور جن امور میں اختیار نہیں دیا گیاان میں خواہ اظہار رائے کی اجازت دی جاتی یا نہ لیکن کونسل یا اسمبلی کو متفقہ طور پر اس بارہ میں کوئی ریزولیشن پاس کرنے کی اجازت نہ دی جاتی کیونکہ انسانی فطرت کے یہ خلاف ہے کہ وہ ایک حد تک چل کر درمیان میں کھڑا رہ سکے- اس وقت میری اس رائے کی طرف توجہ نہیں دی گئی غالباً اس وجہ سے کہ وہ ایک مذہبی امام کی طرف سے تھی نہ کہ کسی سیاسی لیڈر کی طرف سے` مجھے خوشی نہیں بلکہ افسوس ہے کہ وہی خطرات جن کو میں نے تفصیلا بیان کیا تھا ظاہر ہوئے اور ملک میں فساد کی ایک رو چل گئی- پس میرے نزدیک دوشاخی حکومت کی وہ شکل جو ہندوستان میں جاری کی گئی ناقص تھی- دوسری صورت میں وہی دوشاخی حکومت کامیاب ہو سکتی تھی- مگر بہرحال اب جب کہ اس طریق حکومت کا تجربہ کیا گیا ہے اب واپس لوٹ کر پھر نئے سرے سے تجربہ نہیں کیا جا سکتا- دوسری طرف پچھلے بارہ سال میں ملک کے حالات بھی بدل گئے ہیں اور اب ضرورت ہے کہ قدم آگے بڑھایا جائے اس لئے میں کمیشن کی رپورٹ کی تائید کرنے پر مجبور ہوں- گو میرا خیال ہے کہ کمیشن کی رپورٹ کی پوری طرح تصدیق کرنا اب بھی ملک کو فسادات کا آماجگاہ بنا دے گا- مگر میری اپنی رائے جو کچھ بھی اس بارے میں ہے خواہ اسے میرے انگریز دوست ناپسند کریں یا ہندوستانی دوست اس پر ناراض ہوں میں آگے چل کر تفصیلات میں بیان کردوں گا گو بعض امور کے متعلق چونکہ دونوں فریق پہلے سے فیصلہ کر چکے ہیں میں ڈرتا ہوں کہ میری آواز صدا بہ صحرا نہ ثابت ہو-
    گورنرز
    ہر صوبہ جو ہندوستان میں پہلے سے موجود ہے یا نیا بنایا جائے گا اس کی حکومت کا سردار ایک گورنر ہو لیکن گورنروں کے موجودہ طریق انتخاب میں تبدیلی کی جائے- اس وقت یہ قاعدہ ہے کہ پریزیڈنسی گورنروں کے سوا سب گورنر سول سروس میں سے منتخب کئے جاتے ہیں اور اس طرح جب کہ مدراس` بمبئی اور کلکتہ کے گورنر انگلستان سے براہراست آتے ہیں بہار` آسام` یو-پی` پنجاب اور سنٹرل پراونسز (CENTRALPROVINCES) کے گورنر ہندوستان کی سول سروس میں سے ہی منتخب کئے جاتے ہیں- دونوں طرح کے انتخاب میں بعض نقائص بھی ہیں اور بعض خوبیاں بھی لیکن یہ امر کہ فلاں فلاں صوبہ کے گورنر براہراست آئیں اور فلاں فلاں کے وہیں سے منتخب ہوں بالکل غیر طبعی اور غیرمعقول ہے- اس کی آخر کیا معقول وجہ ہو سکتی ہے کہ بنگال میں تو براہ راست آنے والا گورنر مفید ہو سکتا ہے اور بہار و اڑیسہ میں ہندوستان کی سول سروس سے چنا ہوا گورنر مفید ہو سکتا ہے- سب صوبوں میں ایک ہی اصل برتنا چاہئے تھا یا سب جگہ سول سروس سے گورنر چنا جاتا یا سب جگہ براہراست آتا- یا سب جگہ کے لئے دروازہ کھلا رکھا جاتا جیسا مناسب ہوتا کر لیا جاتا- جب سول سروس میں قابل آدمی موجود ہوتا وہاں سے چن لیا جاتا جب وہاں سے خاص قابلیت کا آدمی نہ ملتا تو براہ راست انگلستان سے آدمی بھجوا دیا جاتا- مگر جو طریق اختیار کیا گیا ہے وہ کسی اصل پر بھی مبنی نہیں مگر جو کچھ پہلے ہو چکا سو ہو چکا- اب نئے تغیرات جن کی سفارش کمیشن نے کی ہے ان کے ماتحت لازماً اس طریق میں تغیر کرنا ہوگا- وہ تغیرات یہ ہیں کہ کمیشن سفارش کرتا ہے کہ ڈائی آر کی (DAIRCHY)اڑا دی جائے اور منسٹر اور ایگزیکٹو منسٹر کا فرق مٹا دیا جائے- جس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہیں کہ سروسز اطاعت کے لحاظ سے پوری طرح منسٹروں کے ماتحت آ جائیں گی- جب کہ اس سے پہلے منسٹروں کا اقتدار ان پر بہت ہی کم ہوتا تھا- اسی طرح کمیشن کی یہ بھی رپورٹ ہے کہ گورنر کو اختیار ہونا چاہئے کہ وہ چاہے تو سب منسٹر منتخب شدہ نمائندوں میں سے ہی مقرر کر دے جس کے معنی یہ ہیں کہ یہ بالکل ممکن بلکہ غالب ہے کہ ایک وقت ایسا آ جائے کہ تمام سولسرونٹس وزراء کے ماتحت ہوں اور ان کی ہدایتوں کے ماتحت عمل کریں کیونکہ سب ایگزیکٹو ان کے قبضہ میں ہوگی- لیکن اگر قاعدہ یہ ہوا کہ پریزیڈنسی صوبوں کے سوا باقی سب جگہ گورنر سولسرونٹس میں سے مقرر ہونگے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ایک شخص منسٹر کے ماتحت کام کرتا ہوا یکدم گورنر بن کر اس کا حاکم ہو جائے گا جو اچھے انتظام کے منافی ہے-
    موجودہ نظام کے ماتحت بھی مذکورہ بالا صوبوں میں ہر سول سرونٹ بالقوۃ گورنر ہوتا ہے- لیکن ساتھ ہی موجودہ نظام میں منسٹر اس کے اوپر براہ راست افسر نہیں ہوتا- اس وجہ سے وہ نقص پیدا نہیں ہوتا جو میں نے اوپر بیان کیا ہے- نئے تغیر کے بعد اگر اس نقص کی اصلاح نہ کی گئی تو کبھی بھی منسٹروں میں صحیح طور پر کام کرنے کی جرات نہ پیدا ہوگی اور نہ سول سرونٹس میں صحیح طور پر ان کے احکام کو بجا لانے کی روح پیدا ہوگی جس سے نظام ڈھیلا ہوتا چلا جائے گا- پس اگر دو شاخی حکومت کو دور کرنا ہے تو ساتھ ہی یہ فیصلہ کرنا بھی ضروری ہے کہ آئندہ ان صوبوں کے گورنر بھی براہ راست آئیں گے-
    اس تبدیلی پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ چونکہ اس طرح سول سرونٹس کے لئے ترقی کی گنجائش کم رہ جاتی ہے لائق آدمی اس طرف آنے سے گریز کریں گے لیکن میرے نزدیک یہ اعتراض درست نہیں- اگر مدراس` بمبئی اور بنگال کو لائق آدمی مل جاتے ہیں تو کیوں ان صوبوں کو نہ ملیں گے؟ ایک اور علاج بھی اس نقص کو رفع کرنے کا کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ بجائے اس کے کہ بعض صوبوں میں سے ایسے افسروں کو جو اس وقت کام کر رہے ہوں گورنر بنایا جائے گورنر علاوہ انگلستان کے تجربہ کار سیاسیوں کے ایک حصہ گورنروں کا ہندوستان کے ایسے ریٹائرڈ افسروں میں سے بھی مقرر کیا جایا کرے جو کم سے کم پانچ سال پہلے ہندوستان کی ملازمت سے ریٹائر ہو چکا ہو- اس طرح اس ملازمت میں بھی پہلی سی کشش باقی رہے گی اور مذکورہ بالا نقص بھی دور ہو جائے گا بلکہ تجربہ کے ساتھ ساتھ وہ زائد فوائد بھی حاصل ہو جائیں گے جو براہ راست گورنر مقرر کرنے کے بیان کئے جاتے ہیں-
    وزارت
    سائمن رپورٹ کی سفارش یہ ہے کہ-:
    )۱(
    منسٹری متفقہ طور پر کونسلوں کے سامنے ذمہ دار ہو-
    )۲(
    گورنمنٹ کے سب ممبر منسٹر کہلائیں- ایگزیکٹو ممبر اور منسٹر کی تفریق مٹا دی جائے-
    )۳(
    منسٹر کیلئے کوئی شرط نہ ہو کہ وہ منتخب شدہ یا نامزد شدہ ممبر ہی ہو بلکہ سرکاری افسر یا پبلک کے کسی آدمی کو جو کونسل کا ممبر نہ بھی ہو وزارت کے عہدہ پر مقرر کرنے کی گورنر کو اجازت ہو-
    )۴(
    وزارت کے خلاف صرف بحیثیت مجموعی اظہار ناراضگی ہو سکتا ہے ایک وزیر کے خلاف نہیں ہو سکتا-
    )۵(
    وزراء کے علاوہ نائب وزراء کی جگہیں بھی نکالی جائیں- اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ جہاں مذہبی اختلاف شدت سے ہوگا وہاں دو مختلف مذاہب کے وزیر اور نائب وزیر مقرر کر کے ایک دوسرے کے ظلم سے حفاظت کی جا سکے گی-
    مذکورہ بالا اصول کی اصل غرض یہ بتائی گئی ہے کہ وزارت ہر روز تبدیل نہ ہوگی بلکہ ایک حد تک مستقل عرصہ حیات اسے مل جائے گا اور اس طرح وہ اچھا کام کر سکے گی- دوسرے یہ کہ وسیع حلقہ انتخاب کی وجہ سے زیادہ اعلیٰ کارکنوں پر مشتمل وزارت تیار ہو سکے گی-
    میرے نزدیک یہ سفارش کمیشن کی کہ نائب وزراء کی جگہیں بھی نکالی جائیں` بہت معقول ہے لیکن میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ اس کا حکومت کے بنیادی قوانین سے کیا تعلق ہے؟ یہ معاملہ صوبہ جاتی کونسلوں سے متعلق ہے اور انہی پر اسے چھوڑ دینا چاہئے- اس وقت قانون میں صرف یہ بات رکھ دینی چاہئے کہ نئے طریق پر مقرر ہونے والی صوبہ جاتی کونسلوں کے معاً بعد گورنر ایک شخص کے سپرد وزارت بنانے کا کام کرے اور وہ پہلے اجلاس میں پریزیڈنٹ کے انتخاب کے بعد اپنی ضرورتوں کو پیش کر کے کونسل سے وزارتوں اور نائب وزارتوں کی تعداد مقرر کرا لے- اس طرح ہر صوبہ میں اس کی ضرورت کے مطابق وزراء مقرر ہوں گے- یہ طریق درست نہیں کہ بے تعلق اور بغیر تجربہ کئے کچھ لوگ انگلستان میں بیٹھ کر سب صوبوں کی ضرورتوں کا آپ ہی قیاس کر کے وزارتیں مقرر کر دیں- اور نہ گورنروں کے سپرد یہ کام ہونا چاہئے کیونکہ یہ کام کونسلوں کا ہے کہ وہ ان کاموں کی جو انہوں نے جاری کرنے ہیں تعیین کریں- پس انہی کا یہ کام بھی ہونا چاہئے کہ وہ کام کے مطابق عہدے بھی تجویز کریں اور اسی طرح تنخواہیں مقرر کرنا بھی ان کا کام ہے- ہاں وہ تنخواہیں ذاتی نہیں ہونی چاہئیں یعنی یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہر وزیر کے تعین پر تنخواہ بدلی جا سکے- ہاں یہ شرط ہونی چاہئے کہ اگر سول سروس میں سے کسی کو وزیر مقرر کیا جائے تو اس کی تنخواہ اگر وزیر کی تنخواہ سے زائد ہو تو اسے اس کی زائد تنخواہ ملتی رہے- باقی جو امور کمیشن نے وزارت کے متعلق مقرر کئے ہیں گو بظاہر معمولی معلوم ہوتے ہیں مگر میرے نزدیک ان کا مضر اثر صوبوں کی سیاسی ارتقاء پر پڑے گا کیونکہ یہ سب اصول پارٹی سسٹم کو کمزور کرنے والے ہیں- مثلاً یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ کونسلوں میں پارٹیوں کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ کچھ لوگ اپنے جزوی اختلافات کو اس لئے ترک کر دیتے ہیں کہ تا اصول متفقہ کو اپنی پارٹی کے زور سے اپنے ملک میں جاری کر سکیں- اور اصول کے جاری کرنے کا ذریعہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایگزیکٹو پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں- لیکن کونسلوں سے باہر کے لوگوں کو بھی اگر وزارت پر مقرر کرنے کی اجازت ہوئی تو کونسلوں میں پارٹیوں کے بنانے کی کوئی غرض باقی نہیں رہے گی اور ممبر اس میں زیادہ فائدہ دیکھیں گے کہ وہ ہر ایک پارٹی سے الگ رہیں تا کہ پوری حریت سے رائے دے سکیں- اس صورت میں انہیں کوئی مجبوری نہ ہوگی کہ وہ اپنے خیالات کے ایک حصہ کو قربان کر کے کسی خاص جماعت سے اپنے آپ کو وابستہ کر دیں کیونکہ وہ خیال کریں گے کہ پارٹی کی طاقت سے وزارت کا سوال وابستہ نہیں ہے- پس بہتر ہے کہ ہم الگ ہی رہ کر کام کریں تا کہ ہماری حریت پوری طرح قائم رہے- نیز یہ بھی خیال کرنا چاہئے کہ سول سروس سے کسی وزیر کو لینے کی اجازت دینے کی وجہ تو موجود ہے` یعنی ایک غیر ملک کا شخص اور سرکاری عہدیدار کونسلوں میں نہ قانونا آ سکتا ہے` نہ اپنے رسوخ سے آ سکتا ہے ادھر اس کے تجربہ سے بھی ہم فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں- پس اس کا یہی طریق ہو سکتا ہے کہ اسے ہم براہ راست وزارت پر مقرر کر دیں- لیکن ایک ایسا شخص جو ملازم بھی نہیں اور اس ملک کا باشندہ بھی ہے اور بالکل آزاد ہے کہ کوشش کر کے کونسلوں میں آ سکے وہ اگر کونسلوں میں آنے کی زحمت برداشت نہیں کرتا تو کوئی وجہ نہیں کہ اسے وزارت کے کام پر مقرر کر کے اس سیاسی نظام کو جس پر کونسلوں کی زندگی کی بنیاد ہے تباہ کر دیا جائے-
    باقی رہی یہ اجازت کہ گورنر چاہے تو سول سروس میں سے کسی شخص کو وزارت پر مقرر کر دے میں ذاتی طور پر اس کا موید ہوں کیونکہ میرے نزدیک ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ کلی طور پر برطانوی حکام کے مشورہ سے ہندوستانی حکومت آزاد ہو سکے لیکن یہ اصول کہ گورنر اپنی مرضی سے ایک آدمی کو سول سرونٹس )STNAVRES(CIVIL میں سے وزارت کے لئے مقرر کر دیا کرے کسی طرح درست نہیں- اور اس متحدہ ذمہ داری کے اصول کے خلاف ہے` جسے سائمن کمیشن جاری کرنا چاہتا ہے- عقل اسے کسی طرح باور کر سکتی ہے کہ ایک شخص کو جو کونسلوں پر کوئی اثر نہیں رکھتا گورنر اپنی مرضی سے وزارت میں داخل کر دے اور پھر ساری وزارت کو مجبور کیا جائے کہ وہ ذمہ واری میں اس کے ساتھ شریک ہو جائے- انسان ذمہداری تو اس کی لیتا ہے جس کے ساتھ کام کرنے کی رغبت وہ اپنے اندر محسوس کرتا ہے لیکن جس ساتھی کو دوسرا منتخب کرتا ہے اس کے ساتھ وہ ذمہ داری میں کس طرح شریک ہو سکتا ہے؟ دنیا کی مختلف وزارتوں کو دیکھ لو مشترکہ ذمہ داری انہی ملکوں میں ہے جہاں وزیر اعظم اپنی وزارت منتخب کرتا ہے- جہاں انتخاب دوسرے کے ہاتھ سے ہو وہاں گو سب مل کر کام کرنیکی کوشش کرتے ہیں لیکن ذمہ داری مشترکہ نہیں ہوتی- یعنی یہ نہیں ہوتا کہ ایک کے فعل پر نکتہ چینی ہونے پر سب ہی مستعفی ہو جائیں- انگلستان اور فرانس میں ایک وزیر اپنے ہمراہی منتخب کرتا ہے اس لئے وہاں وزارت کی ذمہ داری بھی مشترکہ ہے- لیکن یونائیٹڈ سٹیٹس اور سوئٹررلینڈ میں سب وزراء الگ الگ چنے جاتے ہیں- اول الذکر میں پریزیڈنٹ وزراء کا انتخاب کرتا ہے اور موخر الذکر میں دونو پارلیمنٹیں مل کر وزراء کا انتخاب کرتی ہیں- پس وہاں ذمہ داری بھی مشترکہ نہیں ہے- اگر ایک وزیر کو پریزیڈنٹ اپنی ذاتی یا ملک کی ناراضگی کی وجہ سے علیحدہ کرنا چاہے تو دوسرے وزراء پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا- اور نہ سوئٹررلینڈ میں اگر ایک وزیر کے کام پر اعتراض ہو اور وہ استعفاء دے تو سب پابند نہیں کہ وہ بھی ساتھ استعفاء دے دیں-
    پس یہ عقل کے خلاف ہے کہ وزراء کا انتخاب تو گورنر کرے اور ذمہ داری سب کی مشترکہ ہو- ذمہ داری مشترکہ تبھی ہو سکتی ہے جب کہ پارٹی سسٹم پر ایک وزیر اپنی پارٹی یا اپنے ساتھ اتحاد رکھنے والی پارٹیوں میں سے باقی وزراء کو منتخب کرے پس کمیشن کی تجویز ہر گز قابلعمل نہیں- ہاں چونکہ سردست سول سروس کے افسروں سے کام لینا میرے نزدیک ضروری ہے اس لئے درمیانی راہ میرے نزدیک یہ ہو سکتی ہے کہ یہ شرط کر دی جائے کہ وزارت عالیہ کے لئے جس شخص کو چنا جائے اس کا فرض ہو کہ مثلاً آج سے پندرہ سال تک کمسیکم ایک یورپین سول سرونٹ کو وہ اپنی وزارت میں شامل کرے لیکن اس افسر کی تعیین گورنر کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ¶اس کے اختیار میں ہو جس کے سپرد وزارت تیار کرنے کا کام کیا گیا ہے- میرا یہ مطلب نہیں کہ جس افسر کو وہ چنے اسے مجبور کیا جائے کہ وہ وزارت کے کام کو قبول کرے- بلکہ میرا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنی مرضی کے افسروں میں سے کسی کو اس کام کے لئے راضی کرے- پندرہ سال کے بعد ہر صوبہ کی کونسل کو اختیار ہو کہ وہ حقیقی (ABSOLUTE) اکثریت کے ساتھ اس امر کا فیصلہ کرے کہ آئندہ یہ سلسلہ جاری رہے یا بند کر دیا جائے اور وزارت کلی طور پر ہندوستانیوں کے ہاتھ میں آ جائے- اس طرح پارٹی سسٹم بھی ترقی کرے گا اور وزارت مشترکہ ذمہ داری بھی اٹھا سکے گی اور تجربہ کار افسروں کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کا بھی ملک کو موقع مل جائے گا اور جس طرح سول سروس کے کسی ایک فرد کو وزارت دینے کا اختیار وزیراعظم کو حاصل ہو اسی طرح کونسلوں سے باہر کسی شخص کو منتخب کرنے کا اختیار بھی اسے ہو لیکن شرط یہ ہو کہ ایسا شخص وزارت کے عہدہ پر مامور ہونے کے چھ ماہ کے عرصہ کے اندر بذریعہ انتخاب کونسل کا ممبر ہو جائے- اگر اس عرصہ میں وہ ممبر منتخب نہ ہو سکے تو پھر وہ وزارت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ استعفاء دینے پر مجبور ہو-
    یہ ایک حقیقت ہے کہ جب کہ افسران میں سے بعض کا وزارت پر مقرر ہوتے رہنا بشرطیکہ وزیر اعظم کے انتخاب پر ایسا ہو ملک کے لئے ایک وقت تک مفید ہوگا بلکہ میری ذاتیرائے میں صحیح طریق پر حکومت کرنے کے لئے ضروری ہوگا- وہاں گورنر کی مرضی سے ایسے ہندوستانی وزراء کا تقرر جو کونسلوں کے منتخب ممبر نہ ہوں آئینی ترقی کے سخت منافی ہوگا- پس ہندوستانی نمائندوں کو اس امر کو کبھی تسلیم نہیں کرنا چاہئے-
    سائمن رپورٹ نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ گورنر کو اختیار ہونا چاہئے کہ خواہ ایک پارٹی یا جماعت میں سے وزارت کا انتخاب کرے یا مختلف پارٹیوں میں سے- اس امر کا تو کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ آئین اساسی کے ماتحت گورنر ہی وزراء مقرر کرتا ہے مگر ساتھ ہی اس کا بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر صحیح طور پر پارٹیوں کے اصول پر حکومت کو چلانا مدنظر ہو تو اس انتخاب میں گورنر آزاد نہیں ہوتا بلکہ اس کا یہ فرض ہوتا ہے کہ اس بارے میں وہ اس وزیر کی رائے کو قبول کرے جسے وہ وزارت بنانے کے لئے مقرر کرلے وہ وزیر اعظم کو مشورہ دے سکتا ہے لیکن اصل ذمہ واری وزارت کے انتخاب کی وزیر اعظم پر ہی ہوتی ہے- اگر ایسا نہ کیا جائے تو ہر روز مصنوعی پارٹیاں محض وزارتوں کی خاطر بنتی رہیں گی اور آئینی طور پر کام کرنے کی عادت کبھی بھی پارٹیوں کے ممبروں کو نہیں پڑے گی- پس گورنر کو پابند کرنا چاہئے کہ وہ اس بارہ میں وزیر اعظم کے انتخاب کی تصدیق کرے- یا پھر وزارت بنانے کا کام کسی اور وزیر کے سپرد کرے- صرف اسی صورت میں پارٹیاں اپنے اثر کو محسوس کرا سکتی ہیں اور اسی صورت میں گورنر مجبور ہو سکتا ہے کہ سب سے پہلے اس پارٹی کو موقع دے جو اکثریت رکھتی ہو- ورنہ وہی ہوتا رہے گا جو اب ہو رہا ہے- یعنی گورنر چند اقلیتوں کو ملا کر ایک وزارت مقرر کر دیتے ہیں جو کسی پارٹی کی بھی نمائندہ نہیں ہوتی-
    گورنر اور وزارت کے تعلقات
    گورنروں اور وزارت کے تعلقات کے متعلق کمیشن کی رپورٹ یہ ہے کہ:
    >گو عام طور پر گورنر کو اپنی وزارت کے فیصلوں میں دخل نہیں دینا چاہئے لیکن پانچ مواقع پر اسے اختیار ہوگا کہ وہ دخل دے- یعنی جب وہ سمجھے کہ اس کا دخل دینا ضروری ہے-
    )۱(
    صوبہ کے امن اور سلامتی کے قیام کیلئے-
    )۲(
    بعض قوموں یا جماعتوں کے مقابل پر بعض دوسری قوموں یا جماعتوں کے فوائد کو کسی سخت نقصان سے بچانے کے لئے-
    )۳(
    تا کہ گورنمنٹ کی اس ذمہ داری کی واجبی عہدہ برائی ہو سکے جو کہ ان اقوام کے خرچ سے تعلق رکھتی ہے جو مجلس واضع قوانین کے فیصلہ کے ماتحت نہیں-
    )۴(
    تا کہ ان احکام کی تعمیل ہو سکے جو کہ کسی صوبہ کی گورنمنٹ یا گورنمنٹ ہند یا وزیر ہند کی طرف سے پہنچیں-
    )۵(
    تا کہ ان فرائض کو ادا کیا جا سکے جو کہ قانونا گورنر پر ذاتی طور پر عائد ہوتے ہیں- مثلاً ایسے فرائض جو کہ ملازمتوں کے سوال یا بیک ورڈ (BACKWARD) یعنی غیرترقییافتہ علاقوں کے متعلق ذمہ داری سے تعلق رکھتے ہیں- ۵۰~}~
    ان پانچ میں مواقع سے آخری تین تو کسی قدر اصلاح کے ساتھ بالکل درست ہیں اور وہ اصلاح میرے نزدیک یہ ہے کہ چوتھی صورت میں جو گورنمنٹ آف انڈیا کے الفاظ ہیں ان کی جگہ گورنر جنرل کے الفاظ رکھے جائیں اس لئے کہ بعض معاملات میں دخل اندازی کی اس وقت تک گورنر جنرل کو تو اجازت دی جا سکتی ہے جب تک کہ صوبہ جات اور مرکزی حکومت کا نظام پختہ نہیں ہوتا لیکن گورنمنٹ آف انڈیا کو جس سے مراد شروع میں یا کچھ دیر کے بعد وزارت منتخبہ ہو سکتی ہے صوبہ جات وہ اختیار دینے کو ہر گز تیار نہ ہونگے- کیونکہ احتمال ہے کہ وہ صوبہ جات کی آزادی کو کمزور کرنیکی کوشش کریں گے-
    اسی طرح پانچویں استثناء میں بیک ورڈ علاقوں کو مستثنیٰ کیا گیا ہے جو میرے نزدیک درست نہیں- کیونکہ میں ثابت کر چکا ہوں کہ اصولاً بھی ایسے علاقوں کی موجودگی فیڈریشن کے اصول کے خلاف ہے اور عملاً بھی اس سے گورنمنٹ میں اوپر سے نیچے تک ثنائیت (DUALITY) پیدا ہوتی ہے جو عمدہ گورنمنٹ کے اصول کے خلاف ہے اور جس کی اجازت صرف خاص صورتوں میں دی جا سکتی ہے-
    اب دو پہلی صورتیں باقی رہ جاتی ہیں- میرے نزدیک ان دونوں صورتوں میں گورنر کو اختیار دینا نظام حکومت کو پراگندہ کرنے والا ہوگا-
    پہلی صورت میں حفاظت اور امن کے لفظ اس قدر مبہم ہیں کہ ان کے ماتحت ہر وقت گورنر دخل دے سکتا ہے اور وزارت کا حقیقی معنوں میں وزارت ہونا صرف گورنر کے مزاج پر منحصر ہوگا- اچھا گورنر اپنے آپ کو روکے رکھے گا برا گورنر جس طرح چاہے گا دخل دے گا اور کہے گا کہ یہ امن اور ملک کی حفاظت کی خاطر میں ایسا کرتا ہوں-
    یہی حال دوسری شق کا ہے- اس میں اقلیتوں کو خطرناک نقصان پہنچنے کی صورت میں دخل اندازی کی اجازت دی گئی ہے لیکن ایسی بیوقوف وزارت کم ہی ہوگی کہ جو اقلیتوں پر ظلم کو خطرناک صورت میں ظاہر ہونے دے- پس اقلیت کو تو اس شرط سے کچھ فائدہ نہیں- اکثریت ان کا گلا کاٹتی جائے گی اور گورنر خطرناک صورت کے انتظار میں بیٹھا رہے گا- ہاں جب کوئی گورنر ایسا آ جائے گا جو حکومت میں زیادہ حصہ لینے کا خواہشمند ہوگا تو وہ اس استثناء سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ضرور دخل اندازی کرے گا- حالانکہ اگر کوئی وزارت خطرناک طور پر اقلیتوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو جائے تو بجائے اس کے کہ گورنر اس کی غلطیوں کی اصلاح میں لگا رہے اس کا فرض ہونا چاہئے کہ وہ اس وزارت کو استعفاء دینے پر مجبور کرے اور اگر اس کی جگہ دوسری وزارت نہ کھڑی کی جا سکتی ہو تو اس کونسل کو برخواست کر دے جس کے افراد صرف انہی لوگوں کو وزیر مقرر کرنے کیلئے مصر ہوں جو اقلیتوں پر خطرناک قسم کے ظلم روا رکھتے ہوں اور نئی کونسل کا انتخاب کرائے-
    میرے نزدیک یہ دونوں صورتیں جن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں گورنر کو دخل اندازی کا اختیار دیا گیا ہے ان کی موجودگی میں گورنر کو یہ طریق اختیار کرنا چاہئے کہ وزارت کو سمجھائے- اگر وزارت اس کے مشورہ کو قبول نہ کرے اور وہ سمجھے کہ معاملہ اہم ہے تو اسے مجبور کرے کہ وہ استعفاء دے دے- اگر دوسری وزارت کھڑی نہ ہو یا اسی طریق عمل کو اختیار کرے تو اگر معاملہ اہم ہو تو گورنر اس کونسل کو برخواست کر کے نئی کونسل کے انتخاب کا حکم دے- اس طریق کو اختیار کرنے سے دونوں فریق یعنی وزارت بھی اور گورنر بھی اپنی حد کے اندر رہنے کی کوشش کریں گے- وزارت اس بات سے ڈرے گی کہ اگر وہ ناجائز اصرار کرے گی تو شاید کوئی دوسری وزارت اس کی جگہ لینے کو تیار ہو جائے- یا وہ اس امر سے ڈرے گی کہ اگر اس کے ظلموں کی وجہ سے کونسل کو برخواست کیا گیا تو شاید ملک اس کی امداد نہ کرے اور انتخاب میں اسے شکست حاصل ہو- اسی طرح گورنر بھی خیال رکھے گا کہ میں اس وقت اپنے پہلو پر زور دوں جب کہ ملک کا ایک طبقہ میرا ساتھ دینے کیلئے تیار ہو- ورنہ بلاوجہ دخل اندازی وزارت کو اور زیادہ ہر دل عزیز کر دے گی- اگر مذکورہ بالا طریق کے باوجود بھی ظلم کی کوئی صورت باقی رہ جائے گی تو اس کا علاج سپریم کورٹ کے ذریعہ سے جس کی ضرورت میں پہلے ثابت کر آیا ہوں مظلوم گروہ کر سکتا ہے-
    وزارت کے کام کے طریق کے متعلق جو کچھ کمیشن نے لکھا ہے میرے نزدیک درست ہے- بعض لوگ مجلس وزارت کا سیکرٹری مقرر کرنے کی جو کمیشن نے سفارش کی ہے تا وہ گورنر کو وزارت کی مجلس کی کارروائیوں سے اطلاع دیتا رہے اسے جاسوس قرار دے کر ناپسند کرتے ہیں لیکن جب کہ وزارت کی مجلس کا پریذیڈنٹ قانونا گورنر سمجھا جاتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ گورنر حالات سے آگاہ نہ رہے اور کوئی وجہ نہیں کہ اس کو حالات سے واقف رکھنے کا نام جاسوسی رکھا جائے-
    خطرناک حالات کے متعلق گورنروں کے اختیارات
    کمیشن نے ایسے خطرناک حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جب کوئی صورت بھی آئینی طور پر حکومت چلانے کی باقی نہ رہے گورنروں کو خاص اختیارات دیئے ہیں جو یہ ہیں کہ ایسے حالات میں انہیں اختیار ہوگا کہ خواہ وہ سب کام کو اپنے ہاتھ میں لے لیں خواہ اپنے مددگار مقرر کر کے حکومت کا کام چلائیں- خطرناک صورت کی تشریح اس نے یہ کی ہے کہ ایسی وزارت کا بنانا یا قائم رکھنا مشکل ہو جائے جسے کونسل کی امداد حاصل ہو یا جب کہ گورنمنٹ کے کام کو چلانے سے عام طور پر انکار کر دیا جائے اور اس کے کام کو خراب کرنے کی کوشش کی جائے- ان حالات میں جب گورنر حکومت کو اپنے ہاتھ میں لے لے کمیشن نے اسے اختیار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے وزراء مقرر کرے اور انہیں کونسلوں کا ممبر مقرر کر دے اور اسے یہ بھی اختیار دیا ہے کہ وہ ضروری اخراجات کی منظوری دے یا ایسا نیا قانون پاس کر دے جس کی قیام امن کیلئے ضرورت ہو لیکن جب گورنر ان اختیارات کو برتنا چاہے تو پارلیمنٹ کو اس کی فوراً اطلاع دے اور بغیر پارلیمنٹ کی منظوری کے ان غیر معمولی اختیارات کو بارہ ماہ سے زائد استعمال نہ کرے-
    ‏]text [tag اس میں کوئی شک نہیں کہ جب حکومت کا کام بند ہونے لگے تو اس قسم کا اختیار گورنر کے ہاتھ میں ضرور ہونا چاہئے کہ جس کی مدد سے وہ حکومت کا کام چلا سکے لیکن خطرہ کی جو تشریح کمیشن نے کی ہے وہ ایسی ہے کہ اسے غیر معمولی خطرہ نہیں کہہ سکتے اس لئے اس کی وجہ سے غیرمعمولی اختیارات کو استعمال کرنیکی اجازت دینا کسی صورت میں جائز نہیں ہو سکتا- مثلاً اس کا یہ کہنا کہ جب کوئی ایسی وزارت بنائی یا قائم نہ رکھی جا سکے جسے کونسل کی امداد حاصل ہو تو اس وقت گورنر یہ اختیار برت سکتا ہے ہر گز درست نہیں- یہ حالت ہمیشہ متمدن ممالک میں پیش آتی رہتی ہے لیکن کبھی بھی اس کی وجہ سے آئینی حکومت کو معطل کر کے نیا نظام قائم نہیں کیا جاتا- اگر وزارت کا انتخاب یا اس کا قیام ناممکن نظر آئے تو گورنر کا یہ کام ہے کہ وہ مجلس واضع قوانین کو برخواست کر کے نیا انتخاب کرائے نہ کہ فوراً حکومت کو اپنے ہاتھ میں لے لے-
    پس اصل قانون یہ ہونا چاہئے کہ اگر کوئی موجودہ وزارت کام سے انکار کر دے اور اس کی جگہ لینے کے لئے منتخب نمائندوں میں سے کوئی شخص تیار نہ ہو تو پھر گورنر کو اختیار ہوگا کہ وہ وزارت کا کام اپنی مرضی کے مطابق بعض آدمیوں کے سپرد کر دے اور مجلس کو فوراً برخواست کر کے دوسرا انتخاب کرائے اور اگر وہ مجلس بھی وزارت بنانے کے لئے تیار نہ ہو تو پھر وزارت کا کام اپنی نگرانی میں لے کر پارلیمنٹ کو اطلاع دے- یا اگر یہ حالت پیدا ہو جائے کہ موجودہ وزارت کام سے انکار کر دے اور بعض منتخب شدہ نمائندے وزارت کا عہدہ لینے کیلئے تیار ہوں تو منتخب شدہ نمائندوں میں سے قائم کی جا سکتی ہے- لیکن کونسل کسی وزارت سے بھی تعاون کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو مختلف پارٹیوں کو وزارت پیش کرنے کے بعد اگر کام کسی صورت میں نہ چل سکے تو گورنر کو چاہئے کہ مجلس کو برخواست کر کے نیا انتخاب کرائے اور اگر اس نئے انتخاب کے بعد بھی وزارت کو کثرت حاصل نہ ہو اور نہ دوسری کوئی پارٹی اکیلی یا دوسروں سے مل کر کونسل میں کثرت حاصل کر سکے اور نہ کثرت خود حکومت کا کام آئینی طور پر اپنے ہاتھ میں لینے کے لئے تیار ہو تو اس صورت میں کونسل کو برخواست کر کے گورنر پارلیمنٹ کو اطلاع دے-
    پس ان قیدوں کے ساتھ یہ اختیارات گورنروں کو ملنے چاہئیں ورنہ جن الفاظ میں سائمن کمیشن نے لکھا ہے ان کی رو سے تو عام آئینی مظاہروں کی بناء پر بھی گورنر آئینی حکومت کو توڑ کر غیر آئینی حکومت کو قائم کر سکیں گے-

    صوبہ جات کی مجالس واضع قوانین
    کونسلوں کی عمر
    کمیشن نے صوبہ جات کی مجالس واضع قانون کے متعلق جو سفارشات کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ صوبہ جات کی کونسلوں کی عمر پانچ سال کر دی جائے اور گورنر کو اختیار ہو تا دوسرے صوبہ جات کے انتخاب سے اس کے انتخاب کے وقت کو برابر رکھنے کے لئے دو سال تک عمر بڑھا کر سات سال کر دے- اس تبدیلی کی وجہ اس نے یہ بتائی ہے کہ آئندہ ہم نے مرکزی مجلس کے متعلق یہ قاعدہ رکھا ہے کہ اس کے ممبر بالواسطہ طور پر کونسلوں کے ذریعہ سے منتخب ہوا کریں- اس وجہ سے اس قسم کا انتظام ہونا چاہئے کہ عام طور پر سب کونسلیں ایک وقت میں منتخب ہوں تا کہ اسمبلی کے ممبروں کے انتخاب میں دقت نہ ہو-
    کاغذ پر یہ سکیم بے شک اچھی لگے لیکن اس کی تشریح کر کے دیکھیں تو یہ سکیم بالکل غیرمعقول معلوم ہوتی ہے- اول تو یہ خیال ہی غلط ہے کہ فیڈرل اسمبلی کا انتخاب صوبہ جاتی کونسلوں کے ذریعہ سے کوئی مفید نتیجہ پیدا کر سکتا ہے- لیکن یہ سوال تو الگ زیر بحث آئے گا سردست تو میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ صوبہ جاتی کونسلوں کی عمر کو غیر طبعی قواعد کے ماتحت رکھنا انتظام کو خراب کرے گا- صوبہ جاتی کونسلوں کی عمر بے شک پانچ سال رکھی جائے میرے نزدیک یہ اچھا نتیجہ پیدا کرے گا لیکن اس سے زیادہ عمر کے بڑھانے کی اجازت دینی مناسب نہیں- دنیا کے اکثر نیابتی حکومتوں والے ممالک میں کونسلوں کی عمر پانچ سال یا اس سے کم ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ قانون سیاسی کے ماہروں کا خیال ہے کہ اس عرصہ میں اس قدر تغیرات پیدا ہو جاتے ہیں کہ ملک دوبارہ انتخاب کا بے صبری سے انتظار کرنے لگتا ہے- انگلستان کا ہی تجربہ زیر نظر رکھ لو کہ وہ وزارتیں جو یہ کوشش کرتی ہیں کہ ہم پورے پانچ سال اپنی عمر پوری کر کے پھر جنرل الیکشن کا اعلان کریں الیکشن میں اکثر ناکامی کا منہ دیکھتی ہیں-
    پس جب ان ممالک میں جن کا نظام پرانا اور ٹھوس ہو چکا ہے پانچ سال کی عمر ایک کافی لمبی عمر سمجھی جاتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک خیالی فائدہ کے لئے سات سال کے لمبے عرصہ تک کونسلوں کی عمر کو لمبا کیا جائے- جب ہندوستان میں صوبے زیادہ ہوگئے اور کونسلوں کو اختیارات زیادہ ملے تو دوسری جمہوری حکومتوں کی طرح یہاں بھی تغیرات جلدی پیدا ہونگے اور ہونے چاہئیں-
    پس ان تغیرات کو نظر انداز کر کے یہ فرض کر لینا کہ ایسے تغیرات بہت کم ہونگے اور پھر یہ فرض کر لینا کہ وہ دو سال سے پہلے ہی ہونگے محض ایک قیاسی بات ہے- اگر چار پانچ صوبوں میں تغیرات ہوئے اور کسی میں پہلے الیکشن کے بعد دوسرے سال میں کسی میں تیسرے سال میں اور کسی میں چوتھے سال میں تغیر ہوا تو پھر کونسلوں اور اسمبلی کے انتخاب میں کس طرح موافقت قائم رکھی جا سکے گی؟ تو یہ قاعدہ ہونا چاہئے کہ پانچ سال کی مدت پر سب کونسلوں کا خواہ ان کا درمیان میں جدید انتخاب ہو چکا ہو دوبارہ انتخاب ہو- سوائے اس صورت کے کہ آخری سال کے دوران میں انتخاب ہو اس صورت میں انتخاب اگلے انتخاب کے آخر تک کام دے سکے گا- یا پھر آزاد چھوڑ دیا جائے کہ جب کسی کا انتخاب ہو` ہو` ایسا علاج جو مرض کو تو دور نہیں کر سکتا صرف مزید پیچیدگی پیدا کر دیتا ہے کس کام کا؟
    میں اس جگہ یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جہاں گورنروں کو کونسلوں کے برخواست کرنے کا حق دیا گیا ہے وہاں خود کونسلوں کو بھی اپنے برخواست کرنے کا حق ملنا چاہئے- کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ایک وقت ملک کی رائے ایک خاص پارٹی کی تائید میں بڑھ چکی ہو لیکن گورنر اپنے فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے کونسلوں کو برخواست نہ کرتا ہو- اس صورت میں اجازت ہونی چاہئے کہ کونسل کی کثرت رائے کونسل کے برخواست کرنے کا فیصلہ کر دے اور دوبارہ انتخاب کے ذریعہ سے اپنی طاقت کو بڑھانے کی کوشش کرے-
    ممبروں اور ووٹرونکی تعداد کی زیادتی
    کمیشن کی ایک یہ تجویز بھی ہے کہ کونسلوں کے ووٹروں کی تعداد اور ممبروں کی تعداد میں بھی اضافہ کر دیا جائے- یہ تجویز کمیشن کی نہایت معقول ہے- میرا تو خیال ہے کہ پہلے بھی ووٹروں کی تعداد ناکافی ثابت ہوئی ہے اور اس اصلاح کی دیر سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی- لیکن اس موقع پر میں ایک ضروری اضافہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ ووٹروں کی قابلیت کا موجودہ معیار ایک مصنوعی معیار ہے- اصل میں تو ہر عاقل و بالغ ووٹ کا مستحق ہے- پس ان حد بندیوں سے جو ووٹروں پر لگائی جائیں اور جس کے نتیجہ میں قوم کو نقصان پہنچتا ہو اس کی ذمہ دار حکومت ہے نہ کہ وہ قوم- پس اس قوم کے حقوق کے نقصان کا ازالہ کرنا بھی حکومت کا کام ہے-
    گزشتہ سکھ حکومت کے وقت پنجاب میں مسلمانوں کی جائدادیں عام طور پر سکھوں کے قبضہ میں چلی گئی تھیں اور بنگال کے برطانیہ کے ماتحت آنے کے وقت ایسٹ انڈیا کمپنی کے نمائندوں نے اپنے کام کی سہولت کے لئے بنگال کی اکثر زمینیں مستقل ٹھیکہ کے اصول پر چند ہندو عمال کے سپرد کر دی تھیں- اس وجہ سے پنجاب اور بنگال میں جائداد کی بنیاد پر مسلمان ووٹروں کی تعداد بہت کم ہے اور اس امر کو ہمیشہ اس بات کی تائید میں پیش کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو نمائندگی ان کی تعداد کے حق سے کم ملنی چاہئے اور یہ مطالبہ انہی زبانوں سے سنا جاتا ہے جو جمہوریت کا وعظ کرتے کرتے خشک ہوتی چلی جاتی ہیں- جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جمہوریت انہیں اسی وقت پسند ہے جب وہ ان کے مطلب کی ہو- حالانکہ کسی قوم کو اس کی تعداد کے مطابق حق ملنا ایک ایسا معقول امر ہے کہ اس میں نہ کوئی رعایت کا پہلو ہے اور نہ کسی پر ظلم ہے-
    پس چاہئے کہ اگر ووٹروں کے دائرہ کو ابھی کچھ عرصہ تک محدود رکھنے کی تجویز ہو تو اس امر کا انتظام ہو جائے کہ جس جس قوم کو اس سے نقصان پہنچتا ہو اس کا ازالہ کسی دوسری طرح کر دیا جائے یعنی خاص حقوق کے ذریعہ سے اس کے ووٹروں کی تعداد اس تعداد کے برابر )نہ کہ قریباً برابر جیسا کہ سائمن کمیشن نے لکھا ہے( کر دی جائے جو اسے تناسب آبادی کے لحاظ سے حاصل ہو سکتی تھی-
    یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مشترکہ انتخاب پر جو زور دیا جاتا ہے اس کا راستہ بند کرنے کا الزام بھی اس قدر مسلمانوں پر نہیں ہے بلکہ گورنمنٹ پر ہے- جس نے فرنچائز (FRANCHISE) کے ایسے اصول مقرر کئے ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کے ووٹروں کی تعداد کم رہ جاتی ہے- اس وجہ سے وہ ڈرتے ہیں کہ جائنٹ الیکٹوریٹ )ETARO(JOINTELECT میں نہ معلوم ہمارا کیا حال ہوگا-
    اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ جائنٹ الیکٹوریٹ لے کر فرنچائز وسیع کرا لو جیسا کہ کانگریس والوں نے مسلمانوں سے وعدہ کیا ہے تو یہ بات مسلمانوں کے شبہ کو اور بھی قوی کرتی ہے- کیونکہ اس کا مطلب تو یہ نکلتا ہے کہ گو فرنچائز کی وسعت کی خوبی کو تو ہندو تسلیم کرتے ہیں لیکن انہوں نے اس سوال کا حل سودا کرنے کے لئے ملتوی کر رکھا ہے- حالانکہ اصل طریق یہ ہے کہ پہلے ہر نوجوان کے حق رائے دہندگی کو تسلیم کر کے اس کا اجراء کیا جائے پھر اس کا تجربہ ہو چکنے کے بعد مسلمانوں سے مشترکہ انتخاب کے متعلق سمجھوتہ کیا جائے اور یہ بات ظاہر ہے کہ اگر مسلمانوں کے ووٹ ان کی تعداد کے مطابق ہو جائیں اور کچھ عرصہ تک انہیں الیکشن کا تجربہ کرنے کا بھی موقع دے دیا جائے تو مسلمانوں کا میلان خود بخود مشترکہ انتخاب کی طرف ہوتا چلا جائے گا- لیکن اگر ان کے اس حق کو ہندوئوں نے دوسرے امور کے لئے سودا کرنے کے طور پر محفوظ رکھا تو ان کے شبہات اور بھی بڑھتے چلے جائیں گے- لیکن اگر انتظام کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوراً ہی ہر بالغ کو ووٹ کا حق نہیں دیا جا سکتا تو بہتر ہے کہ ایسے قواعد تجویز کئے جائیں کہ کمیشن کی تجویز کے مطابق ووٹروں کی موجودہ تعداد سے تین گنا زیادہ ووٹ ہو جائیں- لیکن اس امر کا خیال رکھ لیا جائے کہ مسلمانوں کا حق نہ مارا جائے اور ان کی تعداد کے مطابق ان کے ووٹروں کی تعداد ہو-
    کونسلوں کے ممبروں کی تعداد میں اضافہ
    ووٹروں کے متعلق اپنی رائے کے اظہار کے بعد میں ممبروں کی زیادتی کے سوال کو لیتا ہوں-
    میرے نزدیک تمام اقوام کی صحیح نمائندگی کے لئے ضروری ہے کہ جن صوبوں کی آبادی ایک کروڑ سے کم ہو ان کی کونسل کم سے کم پچھتر ممبروں کی ہو- اور ایک کروڑ سے زائد آبادی رکھنے والے صوبوں میں دو سو سے اڑھائی سو تک ممبروں کی تعداد مقرر کی جائے- سوائے بنگال اور یو-پی کے کہ جن کی تعداد دوسرے صوبوں سے بہت زیادہ ہے- ان دونوں صوبوں میں تین سو ممبروں کی کونسلیں مختلف علاقوں کی نمائندگی کے لئے ضروری ہیں-
    جداگانہ انتخاب
    اور
    مختلف اقوام کا حق نیابت
    اب میں جداگانہ انتخاب کے سوال کو لیتا ہوں- یہ سوال اس وقت سیاسیات ہند میں اہمترین سوال بن رہا ہے اور مختلف اقوام کے حق نیابت کا سوال بھی اسی کے گرد چکر کھا رہا ہے- مسلمانوں کے لئے جداگانہ انتخاب اور تعداد سے زیادہ نیابت کا حق صاف الفاظ میں لارڈمنٹو (LORDMINTO) نے منظور کیا تھا- ان کے الفاظ سرآغا خان کی قیادت میں پیش ہونے والے ڈیپوٹیشن (DEPUTATION) کے جواب میں یہ تھے-
    >آپ لوگوں نے بیان کیا ہے کہ موجودہ قواعد کی بناء پر جو جماعتیں کونسلوں کے ممبر منتخب کرتی ہیں ان سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ کسی مسلمان امیدوار کو منتخب کریں گی اور یہ کہ اگر اتفاقا وہ ایسا کر بھی دیں تو یہ اسی صورت میں ہوگا کہ وہ امیدوار اپنی قوم سے غداری کرتے ہوئے اپنے خیالات کو اکثریت کے ہاتھ فروخت کر دے اور اس وجہ سے وہ امید وار اپنی قوم کا نمائندہ نہیں ہوگا- اسی طرح آپ لوگ بالکل جائر طور پر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ کے حقوق کا فیصلہ صرف آپ کی قوم کی تعداد کو مدنظر رکھ کر نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس فیصلہ کے وقت آپ کی قوم کی سیاسی اہمیت کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے اور ان خدمات کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ جو اس نے حکومت برطانیہ کی تائید میں کی ہیں- میں بالکل آپ کے اس خیال سے متفق ہوں-
    میں اسی طرح اس امر پر یقین رکھتا ہوں جس طرح کہ میرا خیال ہے کہ آپ لوگ اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ ہندوستان میں انتخاب کا حق اگر صرف ایک فرد رعایا ہونے کی حیثیت سے دیا گیا اور مذہب اور رسم و رواج کے اس فرق کو نظرانداز کر دیا گیا جو اس براعظم میں بسنے والی اقوام میں پایا جاتا ہے تو یہ انتظام یقیناً بری طرح برباد ہوگا اور ناکام رہے گا<-
    اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ لارڈ منٹو (LORDMINTO) نے تسلیم کیا تھا کہ-:
    )۱( مسلمانوں کو مشترکہ انتخاب کے ذریعہ سے نہ تو ان کے حق کے برابر نیابت مل سکتی ہے اور نہ ان کے صحیح نمائندے ہی منتخب ہو سکتے ہیں-
    )۲( مسلمانوں کو حق صرف تعداد کے مطابق ہی نہیں ملنا چاہئے بلکہ ان کی پولیٹیکل حیثیت کے لحاظ کو مدنظر رکھ کر ان کی تعداد سے زائد حق ملنا چاہئے-
    چنانچہ اس اعلان کے مطابق گورنمنٹ آف انڈیا نے مارلے منٹو ریفامز سکیم SCHEME) REFORMS MINTO (MORLEY میں مسلمانوں کے حقوق کی علیحدہ نمائندگی کے متعلق کچھ قوانین تجویز کئے- جو ۱۹۱۰ء میں نافذ کئے گئے- ][ بہرحال حکومت برطانیہ کا ایک ذمہ وار افسر اس امر کا صریح طور پر اقرار کر چکا ہے کہ علیحدہ نمائندگی کے بغیر نہ کمیت کے لحاظ سے اور نہ کیفیت کے لحاظ سے مسلمانوں کا حق انہیں مل سکتا ہے جس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہیں کہ اس ملک میں اکثریت اقلیت کے حقوق تلف کرنے کے لئے اپنی ساری قوت خرچ کر دیتی ہے- ایسی صورت میں جداگانہ انتخاب کے جس قدر نقائص بھی فرض کئے جائیں ان کی ذمہ داری ہندوئوں پر پڑتی ہے نہ کہ مسلمانوں پر- اور ان حالات میں علیحدہ نمائندگی کا حق کوئی رعایت نہیں جس کے بدلہ میں کوئی اور حق مسلمانوں سے لیا جائے یا ان سے کسی قسم کی قربانی کا مطالبہ کیا جائے بلکہ یہ طریق صرف ان کے جائز حقوق کی حفاظت کا ایک ذریعہ ہے-
    مانٹیگوچیمسفورڈ رپورٹ (MONTAGUECHELMSFORDREPORT) نے بھی اس امر کا تذکرہ کیا ہے اور سائمن کمیشن نے بھی اسے تسلیم کیا ہے کہ علیحدہ نمائندگی ہندوستان کی موجودہ حالات میں ضروری ہے- پس کسی نتیجہ پر پہنچتے وقت پہلے اس امر کو ضرور مدنظر رکھنا چاہئے کہ علیحدہ نمائندگی کی ضرورت مسلمانوں کے کسی فعل کے سبب سے نہیں بلکہ ہندوئوں کے افعال کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اور یہ وہ صداقت ہے کہ اسے لارڈ منٹو (LORDMINTO) بھی تسلیم کر چکے ہیں اور اسی کتاب میں میں ثابت کر چکا ہوں کہ حالات اور عقل بھی اسی رائے کی تائید کرتے ہیں-
    سائمن رپورٹ کا بیان ہے کہ مانٹیگو چیمسفورڈ رپورٹ باوجود اس کی ضرورت کو تسلیم کرنے کے بیان کرتی ہے کہ جداگانہ انتخاب-
    >فرقہ وارانہ امتیاز کو ہمیشہ کیلئے مستقل کرتا ہے اور اقوام کے موجودہ تعلقات کو ایک نہ بدل سکنے والی شکل دے دیتا ہے اور حکومت خود اختیاری کے اصول کی ترقی کے راستہ میں ایک سخت روک ہے<-
    ‏text] [tag خود سائمن کمیشن کے ممبر بھی اس رائے کی ان الفاظ میں تائید کرتے ہیں کہ-:
    >اگر اوپر کے خیالات کو تسلیم کرنا تعصب ہے تو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے خیالات بھی یہی ہیں<- ۵۱~}~
    میرا خیال ہے کہ نہ مانٹیگو چیمسفورڈ رپورٹ کے لکھنے والوں نے اور نہ سائمن رپورٹ (SIMONREPOT) کے لکھنے والوں نے اس امر کا خیال کیا ہے کہ جداگانہ اور مشترکہ انتخاب مختلف مواقع کے لحاظ سے مختلف اثر پیدا کرتے ہیں- انسانی دماغ سب شعبہ ہائے زندگی میں ایک ہی طرح عمل کرتا ہے- جس طرح میاں بیوی میں جب شقاق پیدا ہوتا ہے تو ایک حد تک صلح کی کوشش کر کے ہمیں انہیں علیحدہ کرنا پڑتا ہے اور وہ تعلقات جو اکٹھا رکھنے سے درست نہیں ہو سکتے اس طرح بسا اوقات درست ہو جاتے ہیں- یہی حال قوموں کا ہوتا ہے جب ان کا تنافر حد سے بڑھ جاتا ہے تو ان میں ایک حد تک علیحدگی بجائے نقصان کے فائدہ کا موجب ہوتی ہے- مانٹیگوچیمسفورڈ رپورٹ اور سائمن رپورٹ کے مصنفوں کے دل پر یہ خیال حاوی معلوم ہوتا ہے کہ صرف اس لئے کہ مسلمان اس کے چھوڑنے پر ناراض ہونگے علیحدہ نمائندگی کی ضرورت ہے حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ موجودہ صورت حالات میں یہی علاج ملک میں قیام امن کا موجب ہو سکتا ہے- جب ایک کمزور قوم جس میں بیداری پیدا ہو چکی ہو یہ دیکھتی ہو کہ وہ قوم جو پہلے سے مضبوط تھی اس کی ترقی کے راستہ میں پورا زور لگا کر روکیں پیدا کرتی ہے اور حکومت میں اپنے مناسب حصہ کے حصول کی بھی اسے اجازت نہیں دیتی تو ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اس حالت کو دیکھ کر یکجائی الیکشن سے اس کے خیالات میں سکون اور محبت پیدا نہیں ہو گی بلکہ غصہ اور رنج بڑھے گا اور جب وہ دیکھے گی کہ جائز ذریعہ سے میرے حقوق نہیں ملتے تو وہ فساد اور لڑائی پر آمادہ ہو جائے گی- لیکن جب کسی قوم کے حقوق اسے ملجائیں گے تو وہ ان غم اور غصہ کے خیالات سے بہت کچھ آزاد ہو جائے گی چنانچہ اس کا ثبوت مسٹرچنتامونی کے اس بیان سے جو انہوں نے انڈین ریفارمز کمیٹی (INDIANREFORMSCOMMITTEE) کے سامنے دیا تھا ملتا ہے- مسٹر چنتا مونی لبرل لیڈر ہیں اور اس وقت رائونڈ ٹیبل کانفرنس کے نمائندے ہو کر گئے ہیں- سر محمد شفیع صاحب بیان کرتے ہیں-
    >جیسا کہ انڈین ریفارمز کمیٹی کے سامنے مسٹر چنتا مونی نے بیان کیا تھا کہ جداگانہ انتخاب سے صوبہ جات متحدہ کے مسلمانوں کے قلوب میں اپنے حقوق کے محفوظ ہو جانے کی وجہ سے جو اطمینان پیدا ہوا اور اس کا جو اچھا نتیجہ ہندو مسلم تعلقات کے بہتر ہو جانے کی صورت میں نکلا وہ ایسا نمایاں تھا کہ مسٹر چنتا مونی اور ان کے ہم خیال ہندوئوں نے میونسپل کمیٹیوں اور ڈسٹرکٹ بورڈوں میں بھی جداگانہ انتخاب کے طریق کو جاری کر دیا<-۵۲~}~
    اس کے مقابلہ میں مشترکہ انتخاب نے ہندوستان کی فضاء میں جو اثر پیداکیا ہے وہ یہ ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے ایک ممبر متحدہ طور پر سب اقوام کی طرف سے منتخب ہوتا ہے- اس وقت تک کئی الیکشن ہو چکے ہیں لیکن مسلمان اس حلقہ انتخاب سے ایک دفعہ کوشش کرنے کے بعد اس قدر مایوس ہوئے ہیں کہ اب کوئی مسلمان اس حلقہ کی طرف سے کھڑا ہی نہیں ہوتا اور ان کی ساری کوشش اس امر میں مرکوز رہتی ہے کہ کوئی مسلمان اس حلقہ میں ووٹ نہ دے تا کہ ہندو ممبر مسلمانوں کا نمائندہ نہ سمجھا جا سکے- اگر مشترکہ انتخاب کا مطالبہ واقعہ میں ہندوئوں کی طرف سے قومی اتحاد کی خاطر ہوتا تو یہ خطرناک نتیجہ اس حلقہ میں جس کا ہر ووٹر یونیورسٹی کا گریجوایٹ ہے کیوں نکلتا اور اگر یہ طریق ہر ملک میں قطع نظر وہاں کے مخصوص حالات کے ایسا ہی بابرکت ہوتا تو ہندوستان کے وہ حلقے جن میں اس طریق کو رائج کیا گیا ہے سب سے زیادہ تعصب بغض اور کینہ کے نظارے کیوں دکھاتے؟
    بعض لوگ کہتے ہیں کہ مشترکہ انتخاب کے طریق میں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس کے ماتحت جو انتخاب ہوں ان میں ایسے مسائل کو نہیں چھیڑا جا سکتا جو ایک قوم کو دوسری قوم سے لڑوانے والے ہوں- مگر میرے نزدیک جہاں پہلے سے تعصب موجود ہو اور سیاسی سوالات زیر بحث نہ ہوں وہاں مشترکہ انتخاب میں سب سے زیادہ یہی سوال اٹھایا جائے گا کیونکہ اگر ہندو الگ حلقہ سے منتخب ہو رہا ہو اور مسلمان الگ حلقہ سے تو ہندو کی اپنے ہندو مدمقابل کے خلاف اور مسلمان کی اپنے مسلمان مدمقابل کے خلاف طاقت خرچ ہوگی لیکن اگر ایک ہی حلقہ سے ہندو اور مسلمان کھڑے ہونگے تو تعصب کی موجودگی کی وجہ سے ان کے لئے سب سے سہل طریق یہ ہوگا کہ اپنی اپنی قوم کے تعصب سے اپیل کر کے اس کی مدد حاصل کریں- اصل میں انگلستان کے لوگ اس امر کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ الیکشن کے وقت کسی نہ کسی چیز پر حصول امداد کا دارومدار ہوتا ہے- ووٹر کو جگانا آسان کام نہیں- اس کے جگانے کے لئے کوئی ایسا مقصد اس کے سامنے رکھنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی غفلت کو ترک کر کے امیدوار کی مدد کے لئے تیار ہو جائے- انگلستان میں اور دوسرے ممالک میں خاص خاص سیاسی پالیساں ہیں جن کی خوشنمائی اور دلفریبی ظاہر کر کے امیدوار ووٹروں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں لیکن ہندوستان میں تو اب تک کوئی سیاسی پالیسی سوائے انگریزوں کی مخالفت کے نہیں ہے- آزادی کے ساتھ ہی یہ جوش دلانے کا ذریعہ بھی ختم ہو جائے گا- باقی اور کونسی پالیسی ہے جس سے پبلک میں امیدوار جوش پیدا کر سکیں گے- سیاسی پارٹی کوئی ہے نہیں جس کے پروگرام کی تائید کر کے امیدوار لوگوں کی مدد حاصل کرے اور اگر کوئی پارٹی ہو بھی تو ابھی تک چونکہ پارٹی سسٹم پر حکومت کو قائم نہیں کیا گیا اور آئندہ کے لئے بھی سائمن رپورٹ نے اس کا دروازہ بند کر دیا ہے کوئی پارٹی سیاسی پروگرام نہیں تیار کر سکتی- پس کوئی امیدوار جو کسی حلقہ سے کھڑا ہو اپنے حلقہ کے ووٹروں کے سامنے پیش کرے تو کیا؟ کیا وہ اکیلا کوئی پالیسی تیار کر سکتا ہے اور اگر کرے تو کیا اپنے حلقہ کے لوگوں کو یقین دلا سکتا ہے کہ اگر وہ کامیاب ہوا تو اس پالیسی پر عمل کرا سکے گا- پارٹی تو یہ امید دلاسکتی ہے کیونکہ وہ بوجہ ایک جماعت ہونے کے اس امر کی امید رکھتی ہے کہ اگر اس کی کثرت ہوئی تو وہ حکومت پر قابض ہو جائے گی اور اپنی پالیسی کے مطابق حکومت کرے گی لیکن ایک فرد کس برتے پر کوئی وعدہ کر سکتا ہے؟ اس کے لئے تو ان حالات میں سوائے قومی اور مذہبی تعصب کی پناہ لینے کے اور کوئی چارہ ہی نہیں ہو سکتا پس وہ اسی حربہ کو استعمال کرے گا- پس اب جب کہ علیحدہ انتخاب کی صورت میں امیدوار کی قوم کے سوال پر یا حد سے حد اس کے کانگریسی یا مخالف کانگریس ہونے کی بنیاد پر الیکشن کا جھگڑا طے کیا جاتا ہے- اگر متحدہ انتخاب ہوگا تو مذہب کی بناء پر جنگ ہوگی- پس جب تک کہ حکومت حقیقی طور پر ہندوستانیوں کے ہاتھ میں نہیں آتی اور بجائے اس کے کہ گورنر مختلف پارٹیوں سے چن کر وزارت بنائے ایک وزیر اعظم کے ذریعہ سے وزارت نہیں بنائی جاتی پارٹی سسٹم کبھی ترقی نہیں پا سکتا اور کبھی بھی سیاسی اصول پر انتخابات میں مقابلہ نہیں کیا جا سکتا- ہاں جب صوبہ جات کو آزادی ملے گی اور لوگ یہ محسوس کریں گے کہ قوانین انگریزوں کی طاقت سے نہیں بلکہ وزارت کی مرضی سے بنتے ہیں تب وہ لوگ جن کو ان قانونوں سے تکلیف پہنچی اکٹھے ہونے شروع ہونگے اور اپنے لئے ایک الگ پالیسی مقرر کرلیں گے اور مشترکہ تکلیف کا مقابلہ کرنے کے لئے وہ تمام ہندو` سکھ` مسلمان اور مسیحی ایک جتھہ بنا لیں گے جن کوان قانونوں سے تکلیف پہنچی ہوگی اور اس طرح آہستہ آہستہ مختلف سیاسی طریق کار ایسے تجویز ہو جائیں گے جن کی بناء پر لوگوں کو انتخاب کی جنگ لڑنا آسان ہو جائے گا اور بوجہ اس کے کہ یہ لوگ اپنی پارٹیوں میں ہندو` مسلمان` سکھ` مسیحی ہر قسم کے لوگ شامل رکھتے ہونگے انتخاب کے موقع پر ہندو` مسلم یا سکھ` مسیحی کا سوال نہیں اٹھا سکیں گے اور نہ اس کی انہیں اس وقت ضرورت محسوس ہوگی تب اور صرف تب وہ وقت آئے گا جب ہندوستان کے مخصوص حالات کے لحاظ سے مخلوط طریق انتخاب بغیر فتنہ پیدا کرنے کے ملک کے لئے مفید ہو سکے گا- اس سے پہلے اسے جاری کر کے دیکھ لو` قومی تعصب کی آگ روزانہ تیز سے تیز تر بھڑکنے لگے گی اور یہ علاج جو یورپین نگاہ میں تریاق نظر آتا ہے ہندوستان کو زہر ہو کر لگے گا- پس علیحدہ انتخاب کے طریق کو مسلمانوں پر احسان کر کے نہیں بلکہ ہندوستان کی ترقی اور یہاں کے باشندوں کے اچھے تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری رکھنا چاہئے-
    اب رہا یہ سوال کہ اگر اس طریق کو جاری کر دیا گیا تو کیا ہمیشہ کے لئے یہ انوکھا طریق ہندوستان کے گلے پڑا رہے گا؟ آخر اس کے دور کرنے کا بھی کوئی طریق ہوگا یا نہیں؟ مسلمانوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ اس کے دور کرنے کا طریق یہی ہے کہ وہ اقلیتیں جن کے حق میں اس طریق کو جاری کیا جائے اس کے بدلنے کی سفارش کریں- اس وقت تک حکومتہندوستان کا بھی یہی خیال ہے لیکن میرے نزدیک یہ حل کوئی ایسا آسان حل نہیں- >جن کے حق میں اس قانون کو جاری کیا گیا ہے< مبہم الفاظ ہیں اس کا کون فیصلہ کرے گا کہ یہ قانون کس کے حق میں جاری کیا گیا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ جن کو جداگانہ انتخاب کا حق دیاگیا ہے یعنی جن کے ووٹروں کی الگ فہرست بنائی جاتی ہے انہیں کے حق میں اس قانون کو سمجھا جائے گا- یہ تعریف بے شک ایک حد تک مشکل کو حل کر دیتی ہے لیکن بعض صوبوں میں اس تعریف سے بھی کام نہیں چلتا- مثلاً پنجاب میں مسلمانوں اور سکھوں کے علاوہ ایک عام حلقہانتخاب ہے- پس معلوم ہوا کہ یہ حق پنجاب میں مسلمانوں اور سکھوں کو ملا ہے- لیکن یہ امر بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اوپر کی دونوں قوموں کو چھوڑ کر ہندوئوں اور مسیحیوں کے سوا کسی اور مذہب کے لوگ پنجاب میں نہیں ہیں اور مسیحیوں کی تعداد بھی اس قدر کم ہے کہ یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ نام کے سوا عام حلقہ انتخاب میں ہندوئوں کے سوا کوئی اور قوم بھی شامل ہے- پس ہندو میرے نزدیک جائز طور پر کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں اور سکھوں کو الگ کر کے درحقیقت عام حلقہ انتخاب کا لفظ محض ایک نام کی حیثیت رکھتا ہے ورنہ اس سے مراد ہندو ہی ہیں اس لئے یہ حق پنجاب میں ہماری خاطر بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ مسلمانوں اور سکھوں کی خاطر اور کم سے کم میرے نزدیک ان کا یہ دعویٰ خلاف عقل نہیں ہوگا- پس ان حالات میں وہی ہندو جو آج اپنے فائدہ کے لئے مخلوط انتخاب کا دعویٰ کرتے ہیں کل کو مسلمانوں کا فائدہ دیکھ کر علیحدہ انتخاب پر زور دیں گے- اس وقت اس طریق کو جو درحقیقت ایک عارضی تدبیر کے طور پر ہے کس طرح چھوڑا جا سکے گا؟
    ابھی چند دن ہوئے ایک مشہور مسلمان سیاسی لیڈر سے اس بارہ میں میری گفتگو ہوئی اور میں نے ان سے یہی سوال کیا کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ اس طریق انتخاب کو چھوڑنا پڑے گا- اس وقت ہم کس طرح اس طریق کو چھوڑ سکیں گے؟ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے اختیار میں ہوگا کہ ہم چھوڑ دیں- میں نے کہا کہ سائمن رپورٹ نے پنجاب میں اسے ہمارے اختیار میں نہیں رکھا بلکہ ہندو` مسلمان` سکھ تینوں قوموں کی رضامندی پر اس کے منسوخ ہونے کو منحصر رکھا ہے- انہوں نے کہا کہ بے شک لیکن ہم یہ زور دیں گے کہ جس کی خاطر یہ قانون رکھا جائے اس کی مرضی پر یہ منسوخ ہونا چاہئے- میں نے کہا کہ اگر رائونڈٹیبل کانفرنس کے موقع پر ہماری اس دلیل کو کارگر ہوتے دیکھ کر سکھوں اور ہندوئوں نے بھی پنجاب میں اپنے لئے علیحدہ انتخاب کا مطالبہ پیش کیا تو پھر؟ انہوں نے جواب دیا کہ تب ہم مخلوط انتخاب کی طرف آ جائیں گے- سکھ اور ہندو جداگانہ انتخاب کو اختیار کر لیں گے اور مخلوط انتخاب ہمارے حصہ میں آ جائے گا جو کہ اس صورت میں بغیر جداگانہ انتخاب کا الزام اپنے سر لینے کے جداگانہ انتخاب کے برابر ہی مفید ہوگا- چونکہ چائے پر دوستانہ گفتگو ہو رہی تھی اور کم سے کم میں اپنے دماغ پر پورا زور نہیں دے رہا تھا مجھے یہ تجویز معقول معلوم ہوئی- مگر بعد میں جب میں نے اس کے سب پہلوئوں پر غور کیا تو مجھے یہ تجویز بالکل نامناسب معلوم دی کیونکہ یہ امر میرے دوست کے ذہن سے اتر گیا تھا کہ جداگانہ انتخاب کا حق جسے دیا جائے اس کا چھوڑنا اسی کے اختیار میں ہے- سو اگر مسلمان اس پوزیشن کو اختیار کر لیں گے جو انہوں نے تجویز کی تھی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ نئے نظام حکومت کے بعد دوسرے ہی الیکشن پر ہندو` سکھ اپنے اس حق کو چھوڑ کر ہم سے آ ملیں گے اور ہمارے پاس ان کے روکنے کے لئے کوئی دلیل نہ ہو گی کیونکہ مخلوط انتخاب والے کا حق نہیں کہ وہ علیحدہ حلقہ انتخاب والے کو جداگانہ انتخاب کا حق چھوڑنے سے روک سکے- پس نتیجہ یہ ہوگا کہ پیشتر اس کے کہ پنجاب مخلوط انتخاب کے لئے تیار ہو` وہ جداگانہ انتخاب کے حق سے محروم کر دیا جائے گا اور نظام چونکہ قائم ہو چکا ہوگا مسلمان دوبارہ اس سوال کو نہیں اٹھا سکیں گے-
    غرض کم سے کم پنجاب میں اس علاج سے ہماری مشکلات کا حل نہیں ہو سکتا اور ہمارا فرض ہے کہ ہم کوئی نیا علاج تجویز کریں- میں غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس کا علاج ایک ہی ہے کہ علیحدہ انتخاب کا حق صرف محدود سالوں کے لئے ہو- اس عرصہ کے گذر جانے پر خود بخود سب ملک میں مخلوط انتخاب کا طریق رائج ہو جائے گا- ہاں اس عرصہ کے گذرنے سے پہلے بھی اگر اس جماعت کے تین چوتھائی منتخب نمائندے جس کے حق میں اس طریق کو جاری کیا گیا ہو یہ فیصلہ کر دیں کہ وہ اس حق کو چھوڑنے کے لئے تیار ہیں اور گورنرصوبہ کی رائے ہو کہ وہ اپنی قوم کی ترجمانی کر رہے ہیں تو اس قوم کے حق میں اس طریق انتخاب کو ترک کر دیا جائے- قوم کی ترجمانی معلوم کرنے کا ذریعہ یہ ہو کہ گورنر ان کی اس رائے کو شائع کر کے پبلک رائے کو معلوم کرلے-
    ‏a11.12
    میں نے جہاں تک غور کیا ہے پچیس سال کا عرصہ اس انتخاب کے طریق کو جاری رکھنے کے لئے کافی ہے وہ اقوام جو ڈرتی ہیں کہ کہیں ہماری حق تلفی نہ ہو- اگر وہ اس عرصہ میں بھی اپنے آپ کو اپنے پائوں پر کھڑا نہیں کر سکیں تو وہ مزید امداد کی مستحق نہیں ہیں لیکن یہ عرصہ نئے نظام سے شروع ہو- گذشتہ زمانہ اس میں شامل نہ کیا جائے کیونکہ اس زمانہ میں صوبہ جات کو آزادی حاصل نہیں ہوئی تھی اور بیداری بغیر آزادی کے نہیں پیدا ہوتی-
    اس پچیس سال کے عرصہ کے بعد جہاں جہاں اور جس جس قوم کے حق میں یہ طریق ابھی جاری ہو اسے موقوف کر دیا جائے لیکن شرط یہ ہو کہ صرف ان اقلیتوں کے حق میں اسے موقوف کیا جائے جو تین فیصدی سے زائد ہوں- جن اقلیتوں کی تعداد تین فیصدی سے کم ہو اور انہیں جداگانہ انتخاب کا حق حاصل ہو ان کے اس حق کو بغیر ان کی مرضی کے خواہ کسی قدر عرصہ بھی گذر جائے- باطل نہ کیا جائے دوسری شرط یہ ہو کہ اس صورت میں اس حق کو باطل کیا جائے جب کہ ہر بالغ مرد کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہو چکا ہو- جن قوموں کے حق میں اس قانون کو پچیس سال بعد منسوخ کر دیا جائے ان کی بھی میرے نزدیک دو قسمیں ضروری ہیں- اگر تو وہ قوم جسے جداگانہ انتخاب کا حق دیا گیا ہو اس کی صوبہ میں اکثریت ہے تب تو کلی طور پر اس قانون کو منسوخ کر دیا جائے- لیکن اگر وہ قوم اقلیت ہے تو جداگانہ انتخاب تو منسوخ ہو لیکن مخلوط انتخاب کے ساتھ اس کی تعداد یا اس کے مقررہ حق کے برابر نشستیں جو بھی ان میں سے زیادہ ہوں اس قوم کے لئے مقرر کر دی جائیں اور ان مقررہ نشستوں کو ترک کر کے کلی طور پر مخلوط انتخاب کو اختیار کرنا اس قوم کے تین چوتھائی افراد کے ریزولیوشن پر منحصر ہو- اور اس کے ساتھ بھی وہی شرطیں ہوں جو میں وقت سے پہلے جداگانہ انتخاب کے طریق کو منسوخ کرنے کے متعلق بیان کر آیا ہوں-
    مختلف اقوام کی نیابت کا تناسب
    جداگانہ انتخاب کے ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ ہر ایک قوم کی نمائندگی کا تناسب کیا ہوگا- کیونکہ جس ملک میں یہ طریق جاری نہ ہو وہاں سوائے اس صورت کے کہ مخلوط انتخاب کے ساتھ نشستوں کا تعین کیا جائے یہ سوال بلاواسطہ طور پر پیدا ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ جب سب لوگ مل کر نمائندے منتخب کریں اور نشستوں کا تعین بھی نہ ہو تو جو قوم زیادہ جگہیں لے سکتی ہو لے جائے اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا- پس یہ سوال خصوصیت کے ساتھ علیحدہ انتخاب سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اسی کے ساتھ اسے بیان کرنا مناسب ہے-
    مسلمانوں کا مطالبہ جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں شروع سے یہ رہا ہے کہ چونکہ ان کی پولیٹیکل حیثیت اس ملک میں بہت زیادہ ہے- کیونکہ انگریزوں نے ان سے حکومت لی ہے اور اکثر حصے ملک کے ایسے ہیں جو مسلمان بادشاہوں سے بطور ٹھیکہ کے انہوں نے لئے تھے یا بطور انعام کے ان کو ملے تھے پس عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ جس قوم سے حکومت بطور مستاجری یا انعام میں لی گئی ہو اس کے حق کو وقعت دی جائے- اسی طرح مسلمانوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ مسلمان فوجی خدمات میں اپنی قومی تعداد سے زیادہ حصہ لیتے رہے ہیں اس لئے بھی انہیں زیادہ حصہ ملنا چاہئے- یہ مطالبہ معقول ہے یا غیر معقول میں اس بحث میں نہیں پڑتا- بہرحال اس کو لارڈ منٹو تسلیم کر چکے ہیں اور مسٹر گوکھلے جیسا لیڈر اس کی تصدیق کر چکا ہے-
    لارڈ منٹو کے اعلان کے بعد ہندو مسلم سمجھوتے کے لئے لکھنئو میں ایک مجلس ہوئی تھی جس میں ہندوئوں نے اس اصل کو قبول کر کے مسلمانوں سے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ ہندو صوبوں میں ہندو مسلمانوں کو ان کے حق سے زائد حق دے دیں گے لیکن اسی طرح مسلمان مسلمانصوبوں میں ہندوئوں کو ان کے حق سے زائد نشستیں دے دیں- مسلمانوں نے بدقسمتی سے اسے منظور کر لیا- میں اسے بدقسمتی کہتا ہوں کیونکہ تمام بعد میں ظاہر ہونے والے فسادات اسی سمجھوتہ پر مبنی ہیں- ایک طرف ہندو مسلمانوں کو یہ سمجھوتہ یاد دلاتے ہیں دوسری طرف برطانوی نمائندے اس سمجھوتہ کو مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے ہیں- اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان نمائندوں نے اپنی طرف سے تو اپنی قوم سے نیکی ہی کرنی چاہی تھی لیکن ہو گئی برائی- اگر لارڈ منٹو کے اعلان اور اس پر مسٹر گوکھلے اور دوسرے ہندو لیڈروں کی تصدیق تک ہی معاملہ ختم ہو جاتا تو مسلمانوں کا حق ضائع نہ ہوتا- لیکن جہاں تک میرا خیال ہے بعض ہندوئوں نے یہ دیکھ کر کہ مسلمان اپنا حق لے چلے ہیں یہ چال چلی اور مسلمانوں سے میثاق لکھنو باندھ کر ہمیشہ کے لئے انہیں اپاہج کر دیا- لکھنئو پیکٹ کیا ہے ایک اقرار ہے کہ ہندوستان بھر میں کسی صوبہ میں بھی مسلمانوں کو آزادی کا سانس لینا نصیب نہ ہوگا- تعداد کے لحاظ سے بے شک مسلمانوں کو بہت کچھ مل گیا ہے لیکن قیمت کے لحاظ سے وہ سب کچھ کھو بیٹھے ہیں- سائمنرپورٹ نے بھی مسلمانوں کو یاد دلایا ہے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ دوسرے صوبوں میں بھی مسلمانوں کو ان کے حق سے بہت زیادہ ملے اور پنجاب اور بنگال میں بھی انہیں قانون کے ذریعہ سے کثرت دلا دی جائے-
    میرے نزدیک لکھنئو پیکٹ ایک غلطی تھی لیکن اس کے پیش کرنے والوں کو ایک بات بھول جاتی ہے اور وہ یہ کہ لکھنئو پیکٹ کی کبھی بھی تصدیق نہیں کی گئی- وہ ہمیشہ کے لئے ایک منسوخ شدہ تحریر کی حیثیت میں رہا ہے اور اس امر کی تو سائمن رپورٹ بھی شہادت دیتی ہے کہ کم سے کم موجودہ زمانہ میں وہ قابل توجہ نہیں ہے- اس میں لکھا ہے-:
    >اس )لکھنئو کے( معاہدہ کو اب دونوں ہی فریق نمائندگی کا صحیح فیصلہ کرنے والا نہیں تسلیم کرتے<- ۵۳~}~
    لیکن حق یہ ہے کہ کبھی بھی اس پیکٹ پر عمل نہیں ہوا کیونکہ اس میں ایک اہم شرط تھی جس کی بناء پر یہ فیصلہ تسلیم کیا گیا تھا اور اس شرط پر ایک دن کے لئے بھی عمل نہیں ہوا اور وہ یہ کہ جب کسی قوم کے ممبروں کی تین چوتھائی یہ فیصلہ کر دے کہ کسی قانون کا ان کی قوم پر خاص طور پر مضر اثر پڑتا ہے تو وہ قانون پاس نہیں ہو سکے گا یہ قانون کبھی بھی قانون کی صورت میں نہیں آیا- پس جس اطمینان کی صورت کی امید دلانے پر مسلمان اس فیصلہ پر راضی ہوئے تھے جب کہ وہ صورت ہی پیدا نہیں ہوئی تو معاہدہ کی کیا ہستی رہی؟ غرض اس معاہدہ پر کسی فیصلہ کی بنیاد رکھنی بالکل درست نہیں اور جیسا کہ سائمن کمیشن نے لکھا ہے موجودہ مشکلات کو حل کرنے کے لئے ہمیں کوئی اور راہ تلاش کرنی ہوگی-
    سائمن کمیشن نے یہ راہ تجویز کی ہے کہ جن صوبوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں تو انہیں وہی حقوق دے دیئے جائیں جو ان کو ملے ہوئے ہیں ]71 [p۵۴~}~ لیکن پنجاب اور بنگال جہاں ان کی اکثریت ہے وہاں ان کے نزدیک مسلمانوں کو ان کی آبادی کے مطابق حقوق دینے کمیشن کے نزدیک درست نہیں- کیونکہ
    >اس سے مسلمانوں کو دونوں صوبوں )بنگال اور پنجاب( میں ایک معین اور ناقابل تغیر اکثریت حاصل ہو جائے گی<- ۵۵~}~
    کمیشن کا خیال ہے کہ-:
    >موجودہ زائد حق جو چھ صوبوں میں مسلمانوں کو حاصل ہے اس کی موجودگی میں بغیر دونوں قوموں میں کوئی نیا معاہدہ ہونے کے انصاف کے خلاف ہوگا کہ انہیں بنگال اور پنجاب میں موجودہ حق سے زائد دے دیا جائے<-
    کمیشن پھر خود ہی ایک تجویز پیش کرتا ہے- جس کے قبول کرنے پر وہ امید دلاتا ہے کہ مسلمانوں کے زائد حقوق دوسرے صوبوں سے نہیں چھینے جائیں گے اور جن صوبوں میں ان کی اکثریت ہے ان میں بھی انہیں زیادہ نمائندگی حاصل کرنے کا موقع رہے گا اور وہ یہ ہے کہ وہ بنگال میں مخلوط انتخاب کو مان لیں-
    پنجاب کے متعلق بھی ان کا خیال ہے کہ اگر مسلمان سکھ اور ہندو تینوں مخلوط انتخاب پر راضی ہو جائیں تو اس سمجھوتے کے بعد وہ مسلمانوں کے باقی صوبوں سے زائد حق نہیں چھینیں گے-
    ایک ایسی جماعت سے جس میں سرجان سائمن (SIRJOHNSIMON) جیسا قانوندان شامل ہو اس قسم کی غیر معقول تجویز کی میں ہر گز امید نہیں کر سکتا تھا- کمیشن نے اس تجویز کے پیش کرتے وقت کئی امور بالکل نظر انداز کر دیئے ہیں- اول یہ کہ جو چیز انسان کی اپنی نہ ہو اسے وہ کسی کو دینے کا حق نہیں رکھتا- وہ لکھتے ہیں کہ-:
    >اگر باہمی سمجھوتے سے بنگال میں جداگانہ انتخاب کے طریق کو ترک کر دیا جائے تا کہ ہر اک جماعت ایک متحدہ حلقہ انتخاب سے اپیل کر کے جس قدر نشستیں لے جا سکے لے جائے- ہم اس بناء پر مسلمانوں سے ان دوسرے صوبوں میں کہ جہاں وہ اقلیت ہیں- جو زائد حق انہیں ملا ہوا ہے` نہیں چھینیں گے<- ۵۶~}~
    جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر پنجاب اور بنگال دونوں مسلم صوبوں میں سے بنگال میں یہ سمجھوتہ ہو جائے کہ جداگانہ طریق انتخاب کو چھوڑ کر مخلوط انتخاب جاری کر لیا جائے تو وہ اس صورت میں دوسرے صوبوں میں مسلمانوں کے حق سے کچھ کم نہیں کریں گے- لیکن سوال یہ ہے کہ جب ملک کی قوموں میں ¶آپس میں سمجھوتہ ہو جائے کہ وہ باوجود دوسری جگہ مسلمانوں کو زائد حق دینے کے اس صوبہ میں ان سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتے جس میں وہ اکثریت ہیں تو اس میں سائمن کمیشن کا کیا دخل ہے- سائمن کمیشن کا دخل تو اس صورت میں ہو سکتا تھا اگر وہ یہ کہتا کہ اگر مسلمان بنگال میں مخلوط انتخاب کو ترک کر دیں تو ہم بغیر دوسرے صوبوں میں سے مسلمانوں کا حق کم کرنے کے بنگال میں عام مقابلہ کی انہیں اجازت دے دیں گے لیکن جب بنیاد انہوں نے مختلف قوموں کے اتفاق پر رکھی ہے تو ان کی دخل اندازی کا سوال ہی نہیں رہتا- اس قسم کی بات انہوں نے پنجاب کے متعلق بھی کہی ہے-
    دوسری خلاف عقل بات ان کی اس تحریر سے یہ نکلتی ہے کہ ایک طرف تو ان کا یہ دعویٰ ہے کہ چونکہ مسلمان پنجاب اور بنگال میں جداگانہ انتخاب کا مطالبہ کرتے ہیں اس وجہ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ یہاں بھی انہیں اس حق کے ساتھ ان کی تعداد کے برابر انہیں حق دے دیا جائے اور دوسرے صوبوں میں بھی انہیں ان کی آبادی سے زیادہ حق دے دیا جائے- اور دوسری طرف وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر بنگال اور پنجاب میں مسلمان اور دوسری قومیں سمجھوتہ سے جداگانہ انتخاب کو چھوڑ دیں تب ہو سکتا ہے کہ دوسرے صوبوں میں ان کا حق کم کرنے کے بغیر انہیں ان دونوں صوبوں میں آزاد مقابلہ کی اجازت دے دی جائے- اب ایک ادنیٰ غور سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ یہ دونوں دعوے متضاد ہیں- کیونکہ ایک طرف تو مسلمانوں کو پنجاب اور بنگال میں میجارٹی (MAJORITY)سے اس لئے محروم کیا گیا ہے کہ جداگانہ انتخاب ان کے مطالبہ پر جاری کئے گئے ہیں اس وجہ سے انہیں مستقل اکثریت کا حق نہیں دیا جا سکتا- دوسری طرف کمیشن کہتا ہے کہ جداگانہ انتخاب کا طریق چھوڑ کر مخلوط انتخاب کو اختیار کرنا مسلمانوں کے اختیار میں نہیں بلکہ دوسری قوموں کی رضامندی پر مبنی ہے- اگر یہ تبدیلی دوسری قوموں کی رضامندی پر مبنی ہے تو مسلمانوں کی وجہ سے اس قانون کا اجراء نہ ہوا بلکہ سب قوموں کے لئے ہوا- پس کمیشن کا جداگانہ انتخاب کی بناء پر مسلمانوں سے کسی قربانی کا مطالبہ کرنا درست نہ ہوا- لیکن اگر یہ درست ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کی خاطر جاری کیا گیا ہے اور اس وجہ سے انہیں اکثریت کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے تو پھر اس کا ترک کرنا بھی صرف انہی کی مرضی پر منحصر ہونا چاہئے نہ کہ دوسروں کی رضامندی پر-
    تیسری بات جو کمیشن کے اس فیصلہ میں خلاف عقل نظر آتی ہے یہ ہے کہ انہوں نے یہ غور نہیں کیا کہ وہ مسلمانوں کو کیا دیتے ہیں اور ان سے کیا لیتے ہیں- وہ جو کچھ مسلمانوں کو دیتے ہیں وہ چند نشستیں ہیں اور جو لیتے ہیں وہ اکثریت ہے اور اقتصادیات کا یہ ایک موٹا اصل ہے کہ چیزوں کی قیمت ان کی تعداد کے لحاظ سے نہیں بلکہ ان کے فائدہ کے لحاظ سے ہوتی ہے- کیا سرجان سائمن اپنی پارٹی کی طرف سے یہ سمجھوتہ کسی دوسری پارٹی سے کرنے کو تیار ہونگے کہ جس دفعہ ان کی پارٹی کو پارلیمنٹ میں میجارٹی حاصل ہو سکتی ہو وہ اس میجارٹی کو چھوڑ دیں- اور بجائے اس کے آئندہ مختلف پارلیمنٹوں میں مثلاً دس فیصدی نشستیں انہیں حاصل ہو سکتی ہوں تو پندرہ فیصدی نشستیں ان کی پارٹی کو بلا مقابلہ دوسری پارٹیاں دے دیا کریں- یہ ایک موٹیبات ہے کہ دس پارلیمنٹوں کی مینارٹی کی قلیل زیادتی بھی ایک دفعہ کی میجارٹی کا مقابلہ نہیں کر سکتی- لیکن سائمن کمیشن اس ظلم اور اس تعدی کا نام برطانوی انصاف رکھتا ہے کہ مسلمانوں کو چھ صوبوں میں کچھ زائد حق دے کر وہ مسلمانوں کو دو صوبوں کی میجارٹی سے محروم کر دیتا ہے اور محروم بھی ابدی طور پر کیونکہ آئندہ میجارٹی کے امکان کو بھی وہ اس شرط سے مشروط کر دیتا ہے کہ دوسری پارٹیاں قواعد کو تبدیل کرنے پر راضی ہوں اور اتنا بھی نہیں سوچتا کہ ان پارٹیوں کو مستقل میجارٹی (MAJORITY) چھوڑنے کی کیا ضرورت ہے-
    چوتھی بات جو اس فیصلہ میں خلاف عقل ہے یہ ہے کہ سائمن رپورٹ مسلمانوں کو پنجاب اور بنگال میں ان کی تعداد کے مطابق نیابت دینے سے اس وجہ سے انکار کرتی ہے کہ-:
    >اس سے مسلمان کو دونوں صوبوں میں معین اور ناقابل تغیر اکثریت حاصل ہو جائے گی<- ۵۷~}~
    گویا سائمن کمیشن کی نگاہ میں کسی جماعت کو خواہ وہ اکثریت ہی کیوں نہ ہو- مستقل میجارٹی (MAJORITY) دینا درست نہیں اور حد سے بڑھا ہوا مطالبہ ہے لیکن اس حد سے بڑھے ہوئے مطالبہ کا علاج وہ یہ کرتا ہے کہ اقلیت کو مستقل میجارٹی دے دیتا ہے- کیونکہ وہ موجودہ طریق کو آئندہ بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے اور موجودہ قانون میں بنگال اور پنجاب میں درحقیقت ہندوئوں کو اکثریت حاصل ہے- پنجاب کے معاملہ کو اگر مشتبہ بھی قرار دیا جائے تو بھی بنگال کا معاملہ تو بالکل واضح ہے- جنرل کانسٹیچیوانسی (GENERALCONSTITUENCY) میں چھیالیس ہندو ممبر ہیں اور انتالیس مسلمان ممبر ہیں- ادنیٰ اقوام میں سے جو ممبر ہوگا وہ بھی ہندو ہی ہوگا اور ایسا ہی ہوتا ہے اس طرح ہندوئوں کو سینتالیس ممبریاں مل گئیں- لیبر کی طرف سے دو ممبر مقرر ہیں- جن میں سے کم سے کم ایک ہندو ہوگا تو اڑتالیس ہندو ہوں گے- اگر ایک لیبر کا ممبر مسلمان فرض کر لیا جائے- جو عام طور پر نہیں ہوتا تو چالیس مسلمان ہوئے- زمینداروں کی کانسٹی چیوانسی (CONSTITUENCY)کی طرف سے پانچ ممبر ہوتے ہیں- عملاً وہ سب کے سب ہندو ہوتے ہیں لیکن اگر ووٹروں کی تعداد کو مدنظر رکھیں تو فرض کر لیتے ہیں کہ چار ہندو اور ایک مسلمان ہوگا- اس طرح باون ہندو اور اکتالیس مسلمان ہوئے- یونیورسٹی کا ممبر بوجہ ہندو ووٹروں کی تعداد زیادہ ہونے کے لازماً ہندو ہوگا- بہرحال اگر فرض کر لیا جائے کہ یہ ممبر باری باری ہندو مسلمانوں میں سے منتخب ہوتا رہے گا تو اس کو دونوں طرف نہیں ڈالتے- لیکن تجارت چونکہ پورے طور پر ہندوئوں کے قبضہ میں ہے- چار ہندوستانی ممبر سب کے سب ہندو ہونگے- یہ فرض کر کے شاید کبھی مسلمان بھی ہو جائے- ووٹروں کی تعداد کا ایک سرسری اندازہ لگا کر ہم فرض کر لیتے ہیں کہ چار میں سے ایک مسلمان ہو جایا کرے گا اور اس طرح کل ہندو ممبر چون اور مسلمان بیالیس بنتے ہیں- یعنی بارہ کا فرق ہے- انگریز اینگلوانڈین (ANGLOINDIANS) اور ہندوستانی مسیحیوں کی تعداد آٹھ بنتی ہے- اور تجارت کے انگریزنمائندے ملا کر یہ تعداد انیس ہوتی ہے- گویا اکثریت جو چون فیصدی سے کچھ اوپر ہے اس کے کل نمائندے بیالیس اور اقلیت جو پینتالیس فیصدی سے کچھ کم ہے- اس کے کل نمائندے تہتر ہو جاتے ہیں- یعنی پچھتر فیصدی زیادہ حق اقلیت کو دے دیا گیا ہے- اگر انگریز اور مسیحینمائندوں کو نکال دیا جائے تب بھی ہندو ممبر اپنے حق سے ساٹھ فیصدی زیادہ لے گئے ہیں اور مسلمانوں سے قریباً پچیس فیصدی زیادہ ہیں حالانکہ آبادی میں وہ ان سے بیس فیصدی کم ہیں- یہ اندازے جو میں نے اوپر لکھے ہیں بہت نرم ہیں عملاً جو کچھ ہوتا ہے اس سے زیادہ ہوتا ہے- چنانچہ ۱۹۲۲ء میں منتخب شدہ ممبر چھیالیس ہندو اور انتالیس مسلمان تھے- زمینداروں کی کانسٹیچیوانسی (CONSTITUENCY) میں سے پانچوں ہندو تھے` یونیورسٹی کا ممبر ہندو تھا` تجارتیممبریوں میں سے گیارہ انگریز اور چار ہندو تھے- ادنیٰ اقوام کا ممبر بھی ہندو تھا- گویا ستاون ہندو اور انتالیس مسلمان تھے- پھر گورنر صاحب نے جو غیر سرکاری ممبر اپنے اختیار سے نامزد کئے وہ چار تھے لیکن انہوں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ ہندو اپنے حق سے بہت زیادہ لے چکے ہیں انہوں نے بھی بجائے مسلمانوں کی کمی کو پورا کرنے کے ایک مسلمان اور تین ہندو نامزد کئے گویا ساٹھ ہندو اور چالیس مسلمان مقرر ہو گئے اور وہ مسلمان جن کو ہندوئوں کے مقابل پر پچیس فیصدی کی اکثریت حاصل تھی ان پر ہندوئوں کو ساٹھ فیصدی کی اکثریت دے دی گئی-
    خلاصہ یہ کہ اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت کو توڑ کر بنگال میں قانونی طور پر غیر مبدل اکثریت ہندوئوں کو مسلمانوں کے خلاف دے دی گئی ہے اور پنجاب میں بھی کم سے کم ۱۹۲۲ء میں ہندوئوں اور سکھوں کو مسلمانوں پر اکثریت حاصل تھی- اب ممکن ہے کہ مساوات حاصل ہو- پس غور کے قابل بات یہ ہے کہ اکثریت کو قانوناً اگر اکثریت دینی جائز نہیں تو اس کی اکثریت کو قانونا توڑ دینا یا کسی ایک اقلیت یا اقلیتوں کے مجموعہ کو قانونی اکثریت دے دینا کس طرح جائز ہو سکتا ہے- اور کیا اس ناواجب طریق کو جاری رکھتے ہوئے سائمن کمیشن کو یہ خیال نہیں گذرا کہ یہ طریق اکثریت کو اکثریت دینے سے زیادہ ظالمانہ ہے؟ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہندوئوں کی اکثریت خاص منافع کی نمائندگی کے سبب سے ہے نہ کہ عام حلقہ ہائے نیابت کی وجہ سے- کیونکہ بنگال میں تو عام حلقہ نیابت میں بھی ہندوئوں کو مسلمانوں کی انتالیس نشستوں کے مقابل پر چھیالیس نشستیں دی گئی ہیں زمینداری` تجارتی` یونیورسٹی اور ڈپرسڈ کلاسز (DEPRESSEDCLASSES) کے نام سے ان کی اکثریت کو صرف مزید تقویت دی گئی ہے- اور پنجاب میں بھی یہی بات ہے کہ خاص منافع کے نام سے ہندوئوں اور سکھوں کو اکثریت دے دی گئی ہے- مگر سوال یہ ہے کہ یہ خاص منافع کی نشستیں کس نے قائم کی ہیں- آیا قانون نے یا مسلمانوں نے- جو قانون اس قسم کی مصنوعی شاخیں پیدا کر کے ایک اکثریت کی اکثریت کو باطل کر دیتا ہے کیا وہ ظالمانہ نہیں اور کیا اس کا بدلنا کمیشن کا فرض نہ تھا کیا اس قسم کی خاص نشستیں انگلستان میں جاری ہیں وجہ کیا ہے کہ وہاں تو تجارت کے باوجود ہندوستان سے زیادہ اہم ہونے کے علیحدہ نمائندگی کی مستحق نہیں قرار پاتی اور ہندوستان میں اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے- اگر انگریزی تجارت بوجہ غیر ملکی ہونے کے خاص نمائندوں کی مستحق تھی تو اس کی کیا وجہ ہے کہ انگریزوں کو زائد نمائندگی دینے کے لئے ہندوئوں کو بھی زائد نمائندگی دے کر مسلمانوں سے بڑھایا جاتا ہے مگر میں اس سوال کے متعلق آگے چل کر زیادہ تفصیل سے لکھوں گا اس لئے یہاں اس کا ذکر چھوڑتا ہوں-
    پانچویں غلطی سائمن کمیشن نے اس فیصلہ میں یہ کی ہے کہ ایک طرف تو وہ فیڈرل اصول کو جاری کر کے یہ اصل تسلیم کرتا ہے کہ ہندوستان کے صوبہ جات ایک آزاد ہستی رکھتے ہیں یا لارڈ منٹو (LORDMINTO) کے الفاظ میں ہندوستان ایک ملک نہیں بلکہ ایک براعظم ہے- لیکن اس کے برخلاف جب مسلمانوں کے حقوق کا سوال آتا ہے تو وہی کمیشن یہ کہتا ہے کہ چونکہ دوسرے صوبوں میں مسلمانوں کو زیادہ حق مل گیا ہے اس لئے پنجاب اور بنگال میں ان کی میجارٹی قائم نہیں رکھی جا سکتی- کیا وہ صوبہ جات جو فیڈریشن کے اصول پر زور دیتے ہیں اس امر کو پسند کر سکتے ہیں کہ ایک صوبہ کا حق دوسرے کو دے دیا جائے- کیا دنیا میں کسی اور جگہ بھی یہ قائدہ ہے کہ ایک پارٹی کو ایک صوبے میں زیادہ حق دے دیا جائے اور دوسری کو دوسرے میں- کیا اس قسم کا فیصلہ آسٹریلیا یا کینیڈا کے صوبوں کے متعلق کوئی کمیشن بغیر خطرناک نتائج پیدا کرنے کے کر سکتا ہے- پھر یہ قربانی پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کے حقوق کے متعلق کس طرح جائز ہو سکتی ہے- کیا کبھی بھی بنگال اور پنجاب کے باشندوں نے سائمن کمیشن یا کسی اور کمیشن کو یہ حق دیا ہے کہ وہ ان کے حقوق دوسرے صوبوں کے مسلمانوں میں تقسیم کر دے اور وہ بھی اس طرح کہ مسلمان ہر جگہ کمزور ہو جائیں- میں ذاتی طور پر تو اس امر کے لئے تیار ہو جائوں گا کہ اگر مثلاً یو-پی اور بہار میں مسلمانوں کو میجارٹی دے دی جائے تو بنگال اور پنجاب میں مسلمانوں کو مائنارٹی (MINORITY) دے دی جائے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ دوسرے مسلمان بھی اس پر راضی ہوں- لیکن اس امر پر تو کوئی مسلمان جماعت راضی نہیں اور راضی نہیں ہو سکتی کہ دوسرے صوبوں کی مسلمان اقلیتوں کو اس قدر حق زائد دے کر جن سے وہ پھر بھی اقلیت میں ہی رہیں مسلمانوں کی دو جگہ کی اکثریت کو اقلیت سے بدل دیا جائے- اگر انصاف کی نگاہ سے دیکھا جائے تو ہندوئوں نے جو قربانی دوسرے صوبوں میں کی ہے` اس کا بہت بڑا بدلہ ان کو مل چکا ہے اور وہ یہ کہ صوبہ سرحد کے مسلمان صوبے کو ان کی شہہ اور ان کی خوشی کے لئے اب تک آزادی سے محروم رکھا گیا ہے-
    بہرحال کسی کمیشن کا یہ حق نہیں کہ پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کا حق وہ اور کسی صوبہ کے لوگوں کی خاطر قربان کر دے- ان دونوں صوبوں کے مسلمان اس کو قبول کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں اور میں جانتا ہوں کہ خواہ کس قدر قربانی ہی کیوں نہ کرنی پڑے وہ ہر گز اس کے لئے تیار نہیں ہونگے- اگر برطانیہ دوسرے صوبوں کے مسلمانوں کو کسی زائد حق کا حقدار نہیں سمجھتا تو وہ اس زیادتی کو جو دوسرے صوبوں کے مسلمانوں کو دی ہے واپس لے سکتا ہے- لیکن وہ ان صوبوں کو کوئی زیادتی پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کو کمزور کر کے کسی صورت میں نہیں دے سکتا بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ دوسرے صوبوں کے مسلمان بھی کوئی ایسی زیادتی قبول نہیں کریں گے جس کی ناقابل برداشت قیمت پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں سے وصول کی جائے- اگر قیمت لینی ہے تو صوبہ سرحد اور صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان اس قیمت کو ادا کرنے کو تیار ہیں- چنانچہ صوبہ سرحد کے مسلمان اس امر کو قبول کرتے ہیں کہ ہندوئوں کو پچیس فیصدی تک حق دے دیں گویا ان کی آبادی سے پانچ گنے زیادہ- اسی طرح سندھ اور بلوچستان کے مسلمان بھی اگر انہیں آزادی ملے تو تیار ہیں کہ دوسرے صوبہجات کے مسلمانوں کی خاطر ہندوئوں کو ان ¶کے حق سے بہت زیادہ تعداد میں نیابت دے دیں-
    چھٹی غلطی اس فیصلہ میں کمیشن سے یہ ہوئی ہے کہ باوجود اس امر کو تسلیم کرنے کے کہ لکھنئو پیکٹ پر کبھی بھی عمل نہیں کیا گیا اور اب تو دونوں پارٹیاں اسے رد کرتی ہیں یہ خیال اس کے ذہن پر مستولی رہا ہے کہ مسلمانوں کو جو کچھ دوسرے صوبوں میں ملا ہے وہ لکھنئو پیکٹ کی وجہ سے ملا ہے اور اس وجہ سے لکھنئو پیکٹ کے مطابق پنجاب اور بنگال میں بھی عمل ہونا چاہئے لیکن یہ خیال ان کا بالکل غلط ہے- نہ مسلمانوں کا دعویٰ لکھنئو پیکٹ پر مبنی ہے اور نہ اس کی بناء پر وہ کسی تبدیلی کے لئے تیار ہیں- مسلمانوں کو اگر ہندو اکثریت کے صوبوں میں کوئی حق ملا ہے یا اس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں تو اس کی بناء لارڈ منٹو کے اعلان پر ہے- جیسا کہ میں پہلے نقل کر چکا ہوں- لارڈ منٹو نے بحیثیت وائسرائے کے مسلمانوں کے وفد کے جواب میں یہ اعلان کیا تھا کہ-:
    >آپ لوگوں نے بیان کیا ہے کہ موجودہ قوانین کی بناء پر جو جماعتیں کونسلوں کے ممبر منتخب کرتی ہیں ان سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ کسی مسلمان امیدوار کو منتخب کریں گی اور یہ کہ اگر اتفاقا وہ ایسا کر دیں تو یہ اسی صورت میں ہوگا کہ وہ امیدوار اپنی قوم سے غداری کرتے ہوئے اپنے خیالات کو اکثریت کے ہاتھ فروخت کر دے اور اس وجہ سے وہ امید وار اپنی قوم کا نمائندہ نہیں ہوگا-
    اسی طرح آپ لوگ بالکل جائز طور پر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ کے حقوق کا فیصلہ صرف آپ کی قوم کی تعداد کو مدنظر رکھ کر نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس فیصلہ کے وقت آپ کی قوم کی سیاسی اہمیت کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے اور ان خدمات کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ جو اس نے حکومت برطانیہ کی تائید میں کی ہیں- میں آپ کے اس خیال سے بالکل متفق ہوں<-
    اس عبارت سے ظاہر ہے کہ لارڈ منٹو (LORDMINTO) تسلیم کرتے ہیں کہ- )۱( جداگانہ انتخاب کے طریق کو اختیار کرنا مسلمانوں کے لئے کوئی احسان نہیں بلکہ صرف انہیں موت سے بچانے کے لئے ایسا کیا گیا ہے-
    )۲( مسلمانوں کا حق ہے کہ ان کی تعداد سے زیادہ ان کو نیابت دی جائے- پس جداگانہ انتخاب کو سائمن کمیشن یا کوئی اور جماعت احسان قرار دے کر اس کے بدلہ کی طالب نہیں ہو سکتی- وہ ایک ایسا طریق ہے جس کو لارڈ منٹو نے مسلمانوں کے حقوق کے قیام کا ذریعہ قرار دیا ہے- اسی طرح مسلمانوں کو ان کی تعداد سے زائد نیابت کا دیا جانا بھی لارڈ منٹو کے اعلان کے مطابق کسی اور صوبے میں اپنا حق چھوڑ دینے کے بدلہ میں نہیں ہے بلکہ ان کی سیاسی اہمیت اور ان کی قربانیوں کی وجہ سے ہے- پس اس زیادتی کے بدلہ میں پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کے حق کو تلف کرنا برطانیہ کے لئے ہر گز جائز نہیں ہو سکتا- برطانیہ کے نمائندے کہہ سکتے ہیں کہ لارڈمنٹو کا اعلان ایک پرزہ کاغذ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا- وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ ہم اس امر کا خیال کریں کہ ہندوستان کا بڑا حصہ مسلمان حکومت سے بطور انعام یا بطور مستاجری ہمیں ملا تھا اس لئے مسلمانوں کو کوئی سیاسی اہمیت حاصل نہیں- اور پھر وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کی خدمات کی قیمت ادا ہو چکی- یا یہ کہ اب ان سے بڑھ کر خدمت کرنے والے لوگ پیدا ہو گئے ہیں اس لئے ہم نے جن صوبہجات میں مسلمانوں کو ان کے حق سے زائد نیابت دی تھی اسے اب واپس لیتے ہیں- لیکن وہ یہ بات کسی صورت میں نہیں کہہ سکتے کہ پنجاب اور بنگال کی اکثریت کی قربانی کے بدلہ میں انہوں نے دوسریصوبہ جات کے مسلمانوں کو ان کے حق سے زائد دیا تھا کیونکہ یہ امر حکومت ہند کے ریکارڈ کے خلاف ہے- اگر انہیں وہ زیادتی گراں معلوم ہوتی ہے تو وہ بے شک اسے واپس لے لیں لیکن وہ ہم سے اس قربانی کا مطالبہ نہ کریں جو قربانی ہم کسی صورت میں کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور جو مسلمان نمائندہ بھی اس فیصلے پر راضی ہو گیا کہ پنجاب اور بنگال کی اکثریت کو قربان کر دیا جائے تو مسلمان اسے یقیناً غدار سمجھیں گے اور میرے نزدیک وہ ایسا سمجھنے میں حق بجانب ہونگے-
    کمیشن کی یہ دلیل کہ کسی قوم کو مستقل میجارٹی نہیں دی جا سکتی بالکل بے حقیقت ہے- میجارٹی کو مستقل میجارٹی ہی دی جاتی ہے- اقلیت کو میجارٹی بے شک نہیں دی جاسکتی مگر اس مستقل اور غیر مستقل کی کوئی شرط نہیں- لیکن کمیشن کا فعل تو بالکل ہی عجیب ہے کہ اس نے اقلیت کو تو قانوناً اکثریت دے دی ہے لیکن اکثریت کو اکثریت دینے سے انکار کر دیا ہے-
    ساتویں غلطی سائمن کمیشن نے اس فیصلہ میں یہ کی ہے کہ آخر میں اس حقیقت کو بھی ظاہر کر دیا ہے کہ اس کا یہ فیصلہ کن مخفی اغراض پر مبنی ہے- کمیشن پنجاب اور بنگال میں جائنٹالیکٹوریٹ (JOINTELECTORATE) کے چھوڑنے کی تحریک کے متعلق لکھتا ہے-
    >ہم نے یہ آخری تجویز جو درحقیقت مسلمانوں کو دو راستوں میں سے ایک کے منتخب کرنے کا حق دیتی ہے اس لئے پیش کی ہے- کیونکہ ہم سچے دل سے یہ خواہش رکھتے ہیں کہ جس قدر ذرائع ممکن ہو سکیں انہیں اختیار کر کے جداگانہ انتخاب کے طریق کو کم کیا جائے- اور دوسرے )یعنی مشترک( طریق انتخاب کے لئے عملی تجربہ کا موقع نکالا جائے<- ۵۸~}~
    اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ سائمن کمیشن کا اصل منشاء یہ ہے کہ مسلمانوں کو مجبور کر کے جداگانہ انتخاب کے طریق کو منسوخ کرایا جائے- گویا چونکہ حکومت ہند مسلمانوں سے جداگانہانتخاب کا وعدہ کر چکی ہے اب صاف لفظوں میں تو مسلمانوں سے کمیشن نہیں کہنا چاہتا کہ تم اس حق کو چھوڑ دو- ہاں وہ مخفی ذرائع سے زور دے کر انہیں مجبور کرنا چاہتا ہے کہ وہ اس حق کو چھوڑ دیں- مگر میں کمیشن کے ممبروں کو بتانا چاہتا ہوں کہ وعدہ کے ایفاء کا یہ بہت ہی برا طریق ہے اور علم الاخلاق کے رو سے یہ وعدہ کا پورا کرنا نہیں بلکہ اس کا توڑنا سمجھا جاتا ہے-
    کمیشن کے ممبروں کو لارڈ منٹو کا یہ اقرار نہیں بھولنا چاہئے تھا کہ جو مسلمان نمائندے جداگانہ انتخاب کے ذریعہ سے چنے جائیں` وہ حقیقی طور پر مسلمان نمائندے نہیں ہو سکتے اور اس کی روشنی میں دیکھنا چاہئے تھا کہ کیا اس قسم کے تجربے کا وقت آ گیا ہے؟ پھر کمیشن کو یہ بھی دیکھنا چاہئے تھا کہ اب بھی انتخاب کا ایک حصہ مخلوط ہے کیا اس تجربہ میں وطنیت کا کوئی نمونہ نظر آتا ہے؟ کیا یونیورسٹیوں کی نشستیں مسلمانوں کو مل رہی ہیں اگر پنجاب اور بنگال میں بھی مسلمان یونیورسٹیوں کی نشستیں حاصل نہیں کر سکے تو اس قسم کے انتخاب کی برکات کا انہیں کس طرح قائل کیا جا سکتا ہے؟ اور جب تجربہ بتاتا ہے کہ ہندو وطنیت نہیں بلکہ مذہب کو ترجیح دیتا ہے تو پھر اس تجربہ کے لئے مسلمانوں کو مشورہ دینا نہیں بلکہ ان کی اکثریت کو تباہ کر کے مجبور کرنا کس طرح قرین انصاف ہو سکتا ہے-
    میں گو تفصیل سے اس امر کو بیان نہیں کر سکتا لیکن اس جگہ مختصراً اس امر کی طرف اشارہ کر دیتا ہوں کہ جداگانہ انتخاب کا اصول اس قدر برا نہیں ہے جس قدر کہ ظاہر کیا جاتا ہے بلکہ کسی نہ کسی صورت میں اس اصل کو سیاسیات نے تسلیم کیا ہوا ہے- پس اس کی مخالفت بوجہ اصول کی خرابی کے نہیں ہے بلکہ اس کی شکل کے اختلاف کی وجہ سے ہے- ہندوستان کے جداگانہ انتخاب اور دوسرے ملکوں کے جداگانہ انتخاب میں فرق صرف یہ ہے کہ باہر کے ملکوں میں اس کی بنیاد نسل یا علاقہ یا پیشہ پر رکھی جاتی ہے اور ہندوستان میں اس کی بنیاد مذہب پر ہے- چنانچہ انگلستان میں ہائوس آف لارڈز (HOUSEOFLORD) کی بنیاد اسی اصل پر پڑی ہے- سیکنڈ چیمبر (SECONDCHAMBER) کی خوبیاں تو بعد میں معلوم ہوئی ہیں لیکن لارڈز پہلے سے اپنا حق سمجھتے تھے کہ انہیں حکومت کے مسائل میں عذر کرنے کا موقع دیا جائے اور یہ کہ ان کے انتخاب کو عام لوگوں کے ووٹ پر نہ رکھا جائے کیونکہ اس طرح ان کا انتخاب خطرہ میں ہوگا- بلکہ ان کا دعویٰ تھا کہ جب ایک شخص ذاتی حیثیت میں بادشاہ کی طرف سے پارلیمنٹ میں بیٹھنے کیلئے بلایا جائے اور وہ اس دعوت کو قبول کر لے تو آئندہ اس کی اولاد کا بھی حق ہو جائے گا کہ اسے بھی اس غرض کیلئے بلایا جائے- ۵۹~}~ یونیورسٹی کی نشستیں بھی اسی اصل کے ماتحت ہیں ورنہ کیا وجہ ہے کہ یونیورسٹیوں کو الگ ممبر دیئے جائیں- کیوں انہیں نہ کہا جائے کہ عام حلقہانتخاب سے اپنے آدمیوں کو بھیجیں- تجارت و صنعت کی نشستیں بھی ایسی ہی ہیں لیکن ان سب منافع کی حفاظت کیلئے اہمیت کے لحاظ سے بہت کم ہی علیحدہ انتخاب کی اجازت دی جاتی ہے لیکن مذہب خطرہ میں ہو تو اس طریق کو بے اصول سمجھا جاتا ہے- یہ واقعہ میں حیرت کی بات ہے اور سمجھ سے بالا ہے-
    سائمن کمیشن کی تجویز کی غلطیاں ظاہر کرنے کے بعد اب میں وہ تجاویز بتاتا ہوں جو میرے نزدیک معقول ہیں اور جن پر عمل کر کے عدل و انصاف قائم ہو سکتا ہے- سو سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ گو بنگال اور پنجاب میں مسلمان اکثریت میں ہیں لیکن اکثریت سے مراد صرف تعداد کی اکثریت نہیں ہوتی بلکہ حقیقی اکثریت ہوتی ہے اور وہ اکثریت ان صوبوں میں بھی مسلمانوں کو حاصل نہیں ہے- شروع شروع میں تو مسلمانوں کو ہر شعبہ زندگی میں خود حکومت نے کمزور کیا تھا کیونکہ عذر کے بعد حکومت کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو آگے بڑھانا حکومت کے مفاد کے خلاف ہوگا- قانون کوئی نہیں تھا لیکن عملاً حکام کی یہی پالیسی تھی کہ وہ مسلمانوں کو آگے نہیں بڑھنے دیتے تھے- یہ روح اس حد تک ترقی کر گئی تھی کہ ہمارے وطنیشاعر غالب کی سوانح میں اس بارہ میں ان کا ایک عجیب تجربہ لکھا ہے- وہ آخری شاہ دہلی کے درباری تھے اور خود نواب زادے تھے- غدر کے بعد تباہی آئی تو یہ بے چارے بھی فاقوں کو پہنچ گئے- آخر کسی نے مشورہ دیا کہ نوکری کر لیں- انہی دنوں انگریزی مدرسہ میں فارسی کی پروفیسری کی جگہ خالی ہوئی- یہ اس انگریز کے پاس جا پہنچے جس کے سپرد پروفیسر کا انتخاب تھا- وہاں پہنچے تو اس نے دیکھتے ہی کہا کہ >ہم مسلمان کو نہیں مانگتا< غالب سا حاضر جواب بھلا کہاں چوکتا تھا- بولے صاحب! مسلمان کہاں ہوں آپ کو دھوکا ہوا- اگر عمر بھر ایک دن شراب چھوڑی تو کافر اور ایک دن بھی نماز پڑھی ہو تو مسلمان- مگر ان کی حاضر جوابی کام نہ آئی اور صاحب نے گھر سے نکال کر دم لیا-
    اس قسم کے واقعات ہر روز پیش آتے تھے اور اس وقت تک پیش آتے رہے جب تک لارڈ کرزن (LORDCURZON) نے اس ظلم کا ازالہ نہ کیا اور خاص سرکلر کے ذریعہ سے تاکید کی کہ آئندہ ملازمتوں میں مسلمانوں کے حق کو مقدم رکھا جائے کیونکہ یہ قوم بہت پیچھے رہ گئی ہے- لیکن لارڈ کرزن کی تجویز بھی کامیاب نہ ہو سکی کیونکہ ہندو دفاتر پر بہت قبضہ کر چکے تھے- اب یہ حال ہے کہ دفاتر پر ان کا قبضہ ہے` بنکوں پر ان کا قبضہ ہے اور تجارت پر ان کا قبضہ ہے- پنجاب میں قانون زمیندارہ کے منظور ہونے سے پہلے قریباً تیس فیصدی زمینیں مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر ان کے ہاتھ میں جا چکی تھیں- اور بنگال میں انگریزی عمل داری کے شروع ہی میں تحصیل داری کے ٹھیکوں میں وہ ملک کے مالک ہو چکے تھے- اب جو کچھ باقی ہے وہ رہن ہے یا قرضہ کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے کیونکہ زمیندار قرض لینے پر مجبور ہے اور ہندو ساہوکار اپنی زیادہ طلبی کے راستہ میں کسی قانون کو مانع نہیں پاتا-
    پس ان حالات میں مسلمانوں کو پنجاب اور بنگال میں حقیقی اکثریت کا مالک نہیں کہا جا سکتا حالانکہ جس اکثریت سے کوئی قوم اپنے حقوق کی حفاظت کر سکتی ہے وہ حقیقی اکثریت ہے نہ کہ خالی تعدادی اکثریت- پس جب تک مسلمانوں کو حقیقی اکثریت حاصل نہ ہو جائے اس وقت تک وہ ان دونوں صوبوں میں بھی خاص حفاظت کے مستحق ہیں-
    اوپر کے تمدنی نقص کے علاوہ ایک اور نقص بھی ہے اور وہ یہ کہ فرنچائز (FRANCHISE) کے اصول ایسے بنائے گئے ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں ووٹر دوسری اقوام سے تھوڑے رہ جاتے ہیں- چنانچہ پنجاب جس میں مسلمان ۲ء ۵۵ کی تعداد میں ہیں ان کے ووٹروں کی تعداد ۷ء۴۳ ہے اور بنگال جس میں مسلمان ۶ء۵۴ ہیں- اس میں مسلمان ووٹروں کی تعداد ۱ء۴۵ فیصدی ہے- پس جب کہ بناوٹی قوانین سے مسلمانوں کے ووٹروں کی تعداد کو کم رکھا جاتا ہے تو مسلمان اکثریت میں کس طرح سمجھے جا سکتے ہیں- اگر یہ کہا جائے کہ آئندہ اس قسم کا انتظام کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کو ان کی تعداد کے مطابق ووٹر مل جائیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سوال تو جس قدر جلد ہو سکے حل ہونا چاہئے لیکن باوجود اس نقص کے دور کرنے کے مسلمان فوراً اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ ووٹر فوراً اپنے کام اور اپنے فرض کو نہیں سیکھ جاتے- کچھ عرصہ مسلمانوں کو پھر بھی چاہئے ہوگا جس میں کہ وہ اپنے ووٹروں کو ووٹ دینے کا طریق سکھا سکیں اور ان میں سیاسیات سے دلچسپی پیدا کرا سکیں- کیونکہ شروع میں غیر مسلموں کو مسلمانوں پر یہ فوقیت ہو گی کہ ان کے ووٹروں کی زیادہ تعداد پچھلے بارہ سال کے تجربہ کے ماتحت اپنے کام سے واقف ہو چکی ہو گی اور سیاسی دلچسپی اس میں پیدا ہو چکی ہوگی- نئے ووٹر کو پوری دلچسپی نہیں ہوتی- چنانچہ انگلستان میں عورتوں نے کس زور سے ووٹ کا حق حاصل کیا تھا لیکن اس کے استعمال میں وہ شوق ظاہر نہیں کیا جس کی وجہ سے یہی تھی کہ انہیں ابھی ووٹ کے استعمال کا طریق نہیں آیا اور نہ سیاسیات کی تفصیلات سے دلچسپی پیدا ہوئی ہے-
    خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان پنجاب اور بنگال میں گو ظاہراً اکثریت میں ہیں لیکن طاقت کے لحاظ سے اقلیت میں ہیں اور اس وجہ سے ویسے ہی حفاظت کے مستحق ہیں جس طرح کہ ظاہریاقلیتیں- کیونکہ زیادہ آدمیوں پر ظلم ہوتے رہنا تھوڑے آدمیوں پر ظلم ہوتے رہنے سے زیادہ برا اور ظالمانہ فعل ہے- لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک صداقت ہے کہ اکثریت ہمیشہ کے لئے حفاظت کی مستحق نہیں ہو سکتی کیونکہ اس طرح دائمی حفاظت سے مطمئن ہو کر وہ کمزور ہونے لگتی ہے اور نہ صرف خود تباہ ہوتی ہے بلکہ ملک کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے- پس جہاں تک اکثریت کی حفاظت کا سوال ہے اس کا کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ یہ بات صرف عارضی ہو سکتی ہے اور اس حفاظت کا عارضی رکھنا ملک کے لئے ہی ضروری نہیں بلکہ اکثریت کی اپنی زندگی کے قیام کے لئے بھی ضروری ہے-
    اس اصل کو پیش کرنے کے بعد میں اب پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کے سوال کو لیتا ہوں- میں بتا چکا ہوں کہ میرے نزدیک اکثریت اسی وقت حفاظت کی مستحق ہوتی ہے جب وہ معنوی طور پر اقلیت ہو اور یہ کہ وہ اس صورت میں بھی دائمی حفاظت کی مستحق نہیں ہوتی- پس اس اصل کے ماتحت پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کو جن کی نسبت میں یہ ثابت کر چکا ہوں کہ معنوی طور پر وہ اقلیت ہی ہیں گو حفاظت تو مل سکتی ہے لیکن صرف عارضی حفاظت مل سکتی ہے-
    پس ہمیں جہاں ان دونوں صوبوں میں مسلمانوں کی حفاظت کا سامان مہیا کرنا چاہئے وہاں یہ بھی غور کرنا چاہئے کہ اس حفاظت کے سوال کو کب اور کس طرح ختم کیا جائے- بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب اکثریت کہہ دے گی کہ اب ہمیں حفاظت کی ضرروت نہیں اس وقت حفاظتیتدابیر کو ختم کر دیا جائے گا- لیکن میں پہلے بتا چکا ہوں کہ یہ تدبیر قابل عمل نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ جس وقت اکثریت کہے کہ اب ہمیں حفاظتی تدابیر کی ضرورت نہیں اس وقت دوسریاقوام یہ کہہ دیں کہ اب ہم ان کے چھوڑنے پر راضی نہیں اور اس طرح صرف ضد اور تعصب کی وجہ سے نہ کہ حقیقی ضرورت کے لحاظ سے حفاظتی تدابیر جو کہ درحقیقت وقتیعلاج ہوتی ہیں دائمی طور پر ملک کے گلے پڑ جائیں- اس کے علاوہ میرے نزدیک اس تدبیر کو اختیار کرنے میں یہ نقص بھی ہے کہ گو ہم یہ کہتے رہیں کہ یہ تدابیر وقتی ہیں لیکن جو قوم ان کے ذریعہ سے فائدہ اٹھا رہی ہو گی وہ اس خیال سے کہ ہمارے ہی اختیار میں تو بات ہے جب چاہیں گے ان تدابیر کو چھوڑ دیں گے` اپنی کمزوری کو دور کرنے کے لئے جلد کوشش نہیں کریں گی اور نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ بجائے اپنے نفس میں بیداری پیدا کرنے یا دوسری قوم سے صلح کی کوشش کرتے رہنے کے حفاظتی قانون پر دارومدار رکھنے کی عادی ہو جائیں گی اور ہمیشہ کے لئے ان کی تدابیر کی حفاظت کی آڑ لینے پر مجبور رہے گی-
    پس ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم کوئی ایسا طریق ایجاد کریں جس کی مدد سے ہماری تینوں غرضیں پوری ہو جائیں- اول ان حفاظتی تدابیر کو بغیر از سر نو جھگڑا پیدا کرنے کے ختم کیا جا سکے- دوم اکثریت اپنی حالت کو جلد سے جلد اچھا کرنے پر مجبور ہو- سوم حفاظتی تدابیر فساد اور جھگڑے کر بڑھانے میں ممد نہ ہوں- سو ان تینوں غرضوں کو پورا کرنے کے لئے میرے نزدیک صرف ایک ہی تدبیر اختیار کی جا سکتی ہے اور وہ یہ کہ چند سال مقرر کر دیے جائیں کہ اس وقت تک یہ حفاظتی تدابیر رہیں گی` اس کے بعد خود بخود منسوخ ہو جائیں گی- اس طرح تینوں فائدے حاصل ہو جائیں گے کیونکہ سال مقرر ہونے کی وجہ سے کسی جماعت کو کسی وقت بھی یہ کہنے کا موقع نہ ملے گا کہ ہم انہیں ختم نہیں ہونے دیں گے- دوسرے اکثریت کو یہ خیال رہے گا کہ صرف فلاں وقت تک یہ حفاظت ہے اس کے بعد ختم ہو جائے گی اس لئے وہ اس قانون سے مطمئن نہیں ہو گی بلکہ پورا زور لگائے گی کہ اس سے پہلے پہلے وہ اپنے افراد کو بیدار کر لے تا کہ اس کے منسوخ ہونے پر وہ اپنی حفاظت خود کر سکے- تیسرے سب اقوام اپنے اندر صلح کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہیں گی کیونکہ ہر ایک فریق جان لے گا کہ وہ دوسرے کو اس کی غفلت کی حالت میں کمزور نہیں کر سکتا اور یہ کہ کچھ عرصہ کے بعد سب کو مل کر کام کرنا ہوگا- پس آئندہ آنے والے مخلوط انتخاب کے خیال سے جب کہ ہر ایک امیدوار کو اپنی ہمسایہ قوم کی امداد کا خواہاں ہونا پڑے گا` سب قوموں کے افراد آپس کی رنجش اور کدورت کو کم کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے- غرض عرصہ کی تعیین سے یہ تینوں فوائد حاصل ہو جاتے ہیں- اس لئے سب سے بہتر تدبیر یہی ہے کہ عرصہ کی تعیین ہو جائے-
    اب رہا یہ سوال کہ کتنا عرصہ اکثریت کو بیدار کرنے کے لئے ملنا چاہئے سو اس کا جواب میں پہلے دے چکا ہوں- اس جگہ اصولی طور پر اس قدر اور کہنا چاہتا ہوں کہ کامل صوبہ جاتی آزادی کے حصول کے بعد پندرہ سال یعنی تین الیکشن کا عرصہ اس غرض کے لئے ضروری ہے اور صوبہ جاتی حکومت کی تکمیل کا عرصہ اگر ہم دس سال فرض کریں تو پچیس سال کا عرصہ اس غرض کے لئے بہت مناسب ہے- اس عرصہ کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ اس عرصہ سے کم میں قوم کی تعلیم اور اقتصادی حالت کو درست کرنا بہت مشکل کام ہے-
    جہاں اقلیتوں کو حفاظت دی گئی ہے ان کے متعلق بھی میں پہلے لکھ آیا ہوں کہ اس عرصہ کے بعد جداگانہ انتخاب کا حق ان سے لے لیا جائے لیکن مقررہ نشستوں کے ساتھ مخلوطانتخاب کا حق ان کے پاس اس وقت تک رہے جب تک ان کی مرضی ہو-
    اس کے بعد میں حق نیابت کی مقدار کے سوال کو لیتا ہوں- جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ اقلیتیں دو قسم کی ہوتی ہیں- ایک تعداد کے لحاظ سے اور ایک ضعف اور کمزوری کے لحاظ سے- پس اگر اقلیتوں کے حق کی حفاظت کی ضرورت تسلیم کر لی جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جو اقلیت ظاہری نہیں بلکہ معنوی ہے وہ بھی اسی طرح حفاظت کی محتاج ہے جس طرح کہ ظاہری- اور جب یہ تسلیم کر لیا جائے کہ معنوی اقلیت بھی حفاظت کی محتاج ہوتی ہے` تو اسے طاقت پہنچانے کے لئے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ جس قدر زیادہ سے زیادہ حق اسے جائز طور پر دیا جا سکے اسے ملنا چاہئے تاکہ وہ طاقت حاصل کر سکے- اگر زیادہ سے زیادہ جائز حق اسے نہ دیا جائے تو جس غرض سے اسے حفاظت دی گئی ہے وہ پوری نہیں ہو سکے گی اور ایک اکثریت کا زیادہ سے زیادہ جائز حق وہ تناسب نیابت ہے جو اسے تعداد کے لحاظ سے اسے مل سکتا ہے- پس عقلا ایک اکثریت جو اس قدر کمزور ہو کہ اقلیت سے بھی اسے خطرہ لاحق ہو اسے پورے طور پر وہ حق ملنا چاہئے کہ جو تعداد کے لحاظ سے اسے مل سکتا ہے- اور اس دلیل کی بناء پر پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کو اگر واقعہ میں اپنی کمزوری دور کرنے کا موقع دینا ہے تو لازمی طور پر پچپن اور چون فیصدی حق نیابت دینا لازمی ہے-
    چونکہ میرے مقرر کردہ اصول کے مطابق پنجاب اور بنگال کی اکثریت کو صرف ایک معین مدت تک جو عقلاً ان کے لئے اپنی کمزوری دور کرنے کے لئے ضروری ہے حفاظت حاصل ہو گی اس لئے کمیشن کا یہ اعتراض بھی دور ہو جاتا ہے کہ قانونا کسی کو مستقل اکثریت نہیں مل سکتی- کیونکہ یہ اکثریت مستقل نہیں ہو گی بلکہ عارضی ہو گی اور پچیس سال کے بعد سب فریق آزاد ہوں گے کہ ووٹروں کو اپنی پالیسی بتا کر اپنے حق میں کر لیں بلکہ اس عرصہ میں سیاسی پالیسیاں قائم ہو چکی ہوں گی- غالب امید ہے کہ مذہبی بنیاد پر الیکشن کی جنگ کا زمانہ بھی گذر چکا ہو گا اور سیاسی سوالات پر الیکشن کا مقابلہ شروع ہو چکا ہو گا اور ان احتیاطوں کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی جو آج نہایت اہم اور ضروری معلوم ہوتی ہیں-
    کمیشن کے اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے کہ اکثریت کی اکثریت کو قانون کی مدد سے قائم رکھنا اصول کے خلاف ہے میں ایک تجویز بھی پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ پنجاب اور بنگال کو دو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے- یعنی ایک وہ حلقہ ہائے انتخاب جن میں ایک مذہب کے پیرئووں کے ووٹ اسی فیصدی یا اس سے زائد ہوں- یعنی اکثریت اور اقلیتوں کے ووٹوں کی نسبت ایک اور چار کی ہو یا اس سے بھی زیادہ ہو- ایسے تمام حلقہ ہائے انتخاب میں مخلوط انتخاب کر دیا جائے اور جن حلقہ ہائے انتخاب میں اس سے کم فرق ہو ان میں جداگانہ انتخاب رہے- اس طرح دونوں ملکوں میں بعض حصوں سے تو جداگانہ انتخاب پر ممبر آئیں گے اور بعض حصوں سے مخلوط انتخاب کے ذریعہ- لیکن چونکہ نسبت ووٹروں کی ایک اور چار کی ہو گی اس لئے جب تک اکتیسں فیصدی ووٹ اقلیت اکثریت سے نہیں چھینے گی اس وقت تک اس پر فتح نہیں پا سکے کی- اس ذریعہ سے ایک ہی وقت میں دونوں قسم کے تجربے شروع ہو جائیں گے اور اکثریت کو کوئی ایسا خطرہ بھی نہ ہو گا جس کا علاج نہ ہو سکے- جس حلقہ میں جداگانہ انتخاب رہے وہ انہیں شرائط کے ساتھ جو میں پہلے لکھ چکا ہوں پچیس سال کے بعد بند ہو جائے- اس طریق سے اکثریت قانونی اکثریت نہیں کہلا سکے گی کیونکہ اس کا ایک حصہ مخلوط انتخاب سے بغیر کسی قانون کی مدد کے آیا ہو گا- اگر کہا جائے کہ ایک اور چار کا فرق ایسا بڑا فرق ہے کہ اس میں اکثریت کا کامیاب ہونا یقینی ہے پس یہ بھی ایک قسم کی قانونی مدد ہے- تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ فائدہ دونوں قوموں کو یکساں ملے گا- دوسرے اگر یہ بات قانونی مدد کہلانے کی مستحق ہو گی تو کیوں سی-پی اور مدراس کے انتخاب جہاں مسیحی اور مسلمان مل کر بھی پندرہ فیصدی سے کم ہیں قانونی طور پر ہندئووں کو اکثریت دینے والے نہ قرار دیئے جائیں؟
    دوسرا سوال ان صوبوں کا ہے جن میں مسلمانوں کی اقلیت ہے- سو صوبہ سرحد اور سندھ دونوں کے آزاد حکومت حاصل کرنے پر اس سوال کا حل خودبخود ہو جاتا ہے- اگر ہندوصاحبان بحیثیت مجموعی مسلمانوں سے سمجھوتہ کرنا چاہیں گے تو ان دونوں صوبوں کے مسلمانوں سے سمجھوتہ کر لیں گے- جو حق وہ اپنی اکثریت کے صوبوں میں مسلمانوں کو دیں گے وہی حق ان کو ان دونوں صوبوں میں اور بلوچستان میں مل جائے گا اور اگر ہندو صاحبان نے بحیثیت قوم سمجھوتہ نہ کرنا چاہا تو ان نئے اسلامی صوبوں میں بھی انہیں کوئی زائد حق نہیں مل سکے گا کیونکہ مسلمان بھی اپنی قوم کا ویسا ہی درد رکھتے ہیں جیسا کہ ہندو اپنی قوم کا رکھتے ہیں- اس صورت میں مسلمانوں کا دعویٰ لارڈ منٹو (LORDMINTO) کے اعلان کی بناء پر زائد نیابت کے لئے قائم رہے گا- لیکن ہندوئوں کو اسلامی صوبوں سے زائد حق مانگنے کا حق نہ ہو گا اس لئے کہ ان کے دعویٰ کی بنیاد کسی گورنمنٹ کے اعلان پر نہیں ہے بلکہ صرف سمجھوتہ پر ہے- پس سمجھوتہ نہ ہونے کی صورت میں ان کا مطالبہ ناجائز ہو جائے گا-
    اس سوال کو اصولی طور پر حل کر لینے کے بعد جب ہم تفصیلات کی طرف آتے ہیں تو ہمیں بہت سی مشکلات معلوم ہوتی ہیں- چنانچہ جب ہم پنجاب اور بنگال کے انتخاب کے حلقوں کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسی طرح بنائے گئے ہیں کہ ان کی بناء پر مسلمانوں کی اکثریت خطرہ میں پڑ جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ بہت سے حلقے مخصوص فوائد کے قرار دیئے گئے ہیں- اگر مسلمانوں کو عام حلقوں سے کافی نیابت مل بھی جائے تو مخصوص حلقے توازن کو خراب کر دیتے ہیں-
    جہاں تک مجھے معلوم ہے یہ سوال حکومت کو بہت پریشان کر رہا ہے لیکن اگر غور سے دیکھیں تو یہ پریشانی خود اپنی پیدا کی ہوئی ہے کیونکہ جس قدر وسیع مخصوص فوائد ہندوستان میں ہیں دنیا بھر میں اور کسی جگہ نہیں ہیں- دوسرے ممالک میں تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ بڑا زمیندار` بڑا تاجر` بڑا صناع اپنی دولت اور اپنے رسوخ کے ذریعہ سے دوسرے لوگوں کی نسبت کونسلوں میں آنے کا زیادہ موقع حاصل کر سکتا ہے لیکن ہمارے ہاں براہمنی طریق نے ہر شعبہ پر قبضہ کر رکھا ہے- اگر نسلی براہمن کو ہم اس کے مقام سے ہٹانے میں کامیاب بھی ہو جائیں تو بھی یہ نیا براہمن جو پیشوں یا کاموں کی وجہ سے اپنے آپ کو باقی دنیا سے بالا سمجھتا ہے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا او رہمارے ملک کے نظام کو درہم برہم کر دیتا ہے-
    پنجاب میں علاوہ عام حلقہ ہائے انتخاب کے مندرجہ ذیل حلقہ ہائے انتخاب میں ایک یونیورسٹی کا` ایک بلوچ سرداروں کا` ایک مسلمان زمینداروں کا` ایک ہندو زمینداروں کا` ایک سکھ زمینداروں کا` دو تجارتی` ایک مزدوروں کا` ایک مسیحیوں کا` ایک یوروپین کا` ایک اینگلوانڈین کا` ایک فوجی` گویا کل چہتر غیر سرکاری ممبروں میں سے بارہ حلقے مخصوص ہیں یعنی سولہ فیصدی اور یہ ظاہر ہے کہ جہاں سولہ فیصدی بھرتی مخصوص حلقوں سے ہوگی وہاں قوموں کا توازن کب قائم رہ سکتا ہے- دنیا کا اور کونسا ملک ہے جس میں اس سے نصف بھرتی بھی مخصوص حلقوں سے کی جاتی ہو؟
    تفصیلا نگاہ ڈالنے کے لئے زمینداروں کا حلقہ ہی لے لو- کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ زمیندار کو اپنے انتخاب کے لئے خاص حلقہ کی ضرورت ہے؟ خود سائمن کمیشن نے بھی اس امر پر حیرت ظاہر کی ہے کہ یہ حلقہ الگ کیوں ہے- اور ثابت کیا ہے کہ زمیندار علاوہ اپنے حلقہ کے دوسرے حلقوں سے بھی بہت زیادہ تعداد میں کونسلوں میں داخل ہوئے ہیں پس کوئی وجہ نہیں کہ ان حلقوں کو قائم رکھا جائے- خاص حلقے یا تو اس وجہ سے بنائے جاتے ہیں کہ کسی خاص گروہ کو دوسروں سے مل کر انتخاب کے ذریعہ سے حق نہ مل سکتا ہو- یا اس لئے بنائے جاتے ہیں کہ ملک میں دو کونسلیں ہوں- جیسے کہ ہائوس آف لارڈز (HOUSEOFLORDS)اور ہائوس آف کامنز (HOUSEOFCOMMONS) میں فرق کیا گیا ہے- لیکن جب کہ زمینداروں کو نہ خطرہ ہے اور نہ کسی دوسری مجلس کا سوال ہے پھر انہیں خاص حق کیوں دیا جائے- میری یہ تحریر اور بھی وزنی ہو جاتی ہے جب کہ اس امر کو یاد رکھا جائے کہ میں خود ان زمینداروں میں سے ہوں جنہیں اس خاص حق کا فائدہ پہنچتا ہے- اور اس حلقہ کے اڑانے پر میرے اور میرے چار بھائیوں کا یہ حق تلف ہوتا ہے- لیکن باوجود اس کے جو فضول بات ہے میں اسے فضول کہنے سے نہیں رک سکتا-
    اسی طرح تجارتی حلقہ ہے- وجہ کیا ہے کہ اس حلقہ کو قائم رکھا جائے؟ کیا تاجروں کو دوسرے حلقہ میں کھڑا ہونے سے کوئی روک ہے؟ اگر روک نہیں تو بڑا تاجر جو بڑا رسوخ بھی رکھتا ہے کیوں دوسرے حلقہ سے کھڑا نہیں ہو سکتا؟ کیا انگلستان میں یا امریکہ میں تاجر کو حق دیا گیا ہے کہ ہندوستان میں دیا جائے؟ تاجر بے شک عام حلقہ سے کھڑے ہوں اور سب ممبریاں لے لیں لیکن انہیں خاص طور پر حق کیوں دیا جائے؟ اس طرح فوجی ممبر ہے- جنگ عظیم میں شامل ہونے والے فوجیوں کو خاص طور پر ووٹ کا حق دیا گیا ہے- پس اگر فوجی کوئی خاص فوائد کونسلوں سے وابستہ رکھتے ہیں تو اپنے حد سے بڑھے ہوئے ووٹنگ (VOTING) کے حق سے کام لیکر فوجیوں کو کونسلوں میں بھیج سکتے ہیں- الگ فوجی ممبر مقرر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے- یہی حال مزدور ممبر کا ہے کافی طور پر مزدور ووٹر ہر ایک صوبہ میں موجود ہیں وہ اپنے ووٹ سے کام لے کر اپنے آدمی بھیج سکتے ہیں- یہ ایک ایسی بین بات ہے کہ خود سائمن کمیشن کے ایک ایسے ممبر نے جو مزدور پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اس پر اعتراض کیا ہے اور نامزدگی کو اور مزدوروں کے مفاد کے خلاف بتایا ہے- اگر یہ حلقہ ہائے مخصوص اڑا دیئے جائیں تو توازن کا قائم رکھنا آسان ہو جاتا ہے- بنگال کے زمینداروں کے حلقے اور تجارتی حلقے اگر اڑا دیئے جائیں تو مختلف اقوام کو ان کی تعداد کے مطابق ووٹ دینا نسبتاً بہت آسان ہو جاتا ہے-
    اب ایک انگریزوں کا سوال رہ جاتا ہے- میرے نزدیک اس وجہ سے کہ اس وقت بوجہ حکومت سے ناراضگی کے ان کے خلاف خاص جوش ہے وہ اس امر کے مستحق ہیں کہ انہیں خاص نیابت ملے لیکن ان میں بھی تجارتی اور عام حلقوں کی تقسیم فضول ہے- جس قدر تعداد کہ انگریزی فوائد کی حفاظت کے لئے ضروری سمجھی جائے اس قدر تعداد ان کے لئے مقرر کر دی جائے- تاجر بھی اور دوسرے بھی اپنے اپنے اثر کے حلقے سے کھڑے ہو کر اپنی نیابت حاصل کر لیں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا- مگر ہمیں اس پر ضرور اعتراض ہے کہ انگریزوں کو خاص حصہ دینے کے لئے ایسے اصول ایجاد کئے جائیں جن کے ماتحت ہندوئوں کو بھی اپنے حق سے زائد لینے کا موقع مل جائے- جہاں تک میرا خیال ہے یہ فوائد صرف انگریزوں کی نیابت کو مضبوط کرنے کے لئے ایجاد کئے گئے ہیں لیکن اب مسلمان اس طریق کی مضرتوں سے آگاہ ہو چکے ہیں- وہ انگریزوں کے خاص حق پر کوئی اعتراض نہیں کریں گے اور انگریزوں کے لئے جو خطرات ہیں ان کو دیکھ کر انہیں کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہئے- لیکن ایسے اصول تجویز کر کے انہیں حق نہ دیئے جائیں کہ ساتھ ہی مسلمانوں کے حق کا ایک ٹکڑا اسی اصل کے ماتحت ہندو بھی کاٹ لیں-
    جہاں تک میں سمجھتا ہوں پنجاب کی ممبریوں کی تقسیم عمدگی سے اس طرح ہو سکتی ہے کہ دو فیصدی حق نیابت انگریزوں اور اینگلو انڈینز (ANGLOINDIANS) کو دے دیا جائے- ان کے تجارتی اور دوسرے سب فوائد بھی اس میں شامل ہوں لیکن تجارت کے نام سے علیحدہ حق نہ دیا جائے- ایک سیٹ یونیورسٹی کو ملے لیکن شرط یہ کر دی جائے کہ ایک دفعہ ہندو یا سکھ ممبر ہو اور دوسری دفعہ مسلمان ممبر گو انتخاب مخلوط ہو- یا پھر یہ کیا جائے کہ دو نشستیں یونیورسٹی کو دے دی جائیں لیکن ان میں سے ایک مسلمان کے لئے اور ایک ہندو یا سکھ کے لئے وقف ہو- انتخاب مخلوط ہی ہو- اور یا تو واحد قابل انتقال ووٹ سے انتخاب ہو لیکن شرط یہ ہو کہ دوسرا ممبر وہ نہیں ہوگا جسے دوسرے نمبر پر ووٹ ملیں بلکہ وہ مسلمان امیدوار ہوگا جسے مسلمانوں میں سے سب سے زائد ووٹ ملیں- یا ہر ووٹر کو دو ووٹ دیئے جائیں جن میں سے ایک وہ ہندو کو دینے کا اور ایک مسلمان کو دینے کا پابند ہو یا اور ایسا ہی کوئی طریق اختیار کیا جائے- خاص زمینداروں کو اگر الگ سیٹ دینی ہی ہے تو صرف ڈیرہ غازیخان کے تمنداروں کو جو چھوٹی قسم کے رولنگ چیفس (RULINGCHIEFS) ہیں ایک سیٹ دے دی جائے لیکن اس صورت میں ان کے لئے قاعدہ ہونا چاہئے کہ وہ دوسرے حلقوں میں سے نہیں کھڑے ہو سکتے-
    اگر ہم پنجاب کے دو سو ممبر فرض کریں جو ضرور ہونے چاہئیں تو یونیورسٹی کی دو اور تمنداروں کی ایک نشست فرض کر کے سات نشستیں ختم ہو جاتی ہیں اور ایک سو ترانوے )۱۹۳( نشستیں باقی رہ جاتی ہیں- آبادی کے لحاظ سے مسلمان پچپن فیصدی سے کچھ زیادہ ہیں- ہندو اکتیس فیصدی کے قریب ہیں اور سکھ بارہ فیصدی ہیں اور مسیحی اور ادنیٰ اقوام وغیرہ ایک فیصدی سے کچھ زیادہ ہیں- پس تعداد آبادی کے لحاظ سے ۱۶ء۲۳ سکھوں کو اور ۸ء۵۹ ہندوئوں کو اور ۵ء۲ مسیحیوں اور ادنیٰ اقوام کو ممبریاں ملنی چاہئیں- ہم ہندوئوں کی نشستیں پوری ساٹھ فرض کر لیتے ہیں اور اسی طرح سکھوں مسیحیوں اور ادنیٰ اقوام کی کسر پوری ممبری فرض کر کے چوبیس اور تین ممبر فرض کر لیتے ہیں- پس بقیہ ۱۹۳ ممبروں میں ایک سو چھ ممبر مسلمان ہوئے- چونکہ ایک یونیورسٹی کی اور ایک تمنداروں کی نشست ان کو مل چکی ہے اس لئے ایک سو آٹھ ممبر ان کے ہوئے- اپنی تعداد کے لحاظ سے انہیں ایک سو گیارہ ممبریاں ملنی چاہئیں تھیں- پس اس حساب کے رو سے انہوں نے تین ممبریاں انگریزوں اور دوسری اقوام کو دیں- اس کے مقابل پر ہندوئوں کی یونیورسٹی کی نشست ملا کر اکسٹھ ممبریاں ہوئیں اور انہیں ایک ممبری اقلیتوں کے لئے قربان کرنی پڑی-
    جہاں تک میں غور کرتا ہوں اس امر کو دیکھ کر کہ سکھ اور ہندو تمدنی طور پر ایک ہیں اور ایک دوسرے کے حقوق نہ صرف ادا کرتے ہیں بلکہ دوسری اقوام کے مقابل پر اکٹھے ہو جاتے ہیں یہ انتظام نہایت منصفانہ انتظام ہے اور اس میں کسی قوم کا حق نہیں مارا جاتا-
    بنگال کی نسبت میرے نزدیک بہتر طریق یہ ہوگا کہ چھ فیصدی انگریزوں اور اینگلو ]2 [lrmانڈینز (ANGLOINDIANS) کو نشستیں دے دی جائیں- خواہ تجارت پیشہ ہوں یا دوسرے جو چارفیصدی مسلمانوں سے اور دو فیصدی ہندوئوں سے لی جائیں اور اس طرح مسلمانوں کو ۶ء۵۰ حق دیا جائے اور دوسری اقوام کو ۴ء۴۹ حق دیا جائے- یونیورسٹی کی دو نشستیں مقرر کی جائیں جن میں سے ایک ہندو کو اور ایک مسلمان کو ملے- زمینداروں کی الگ نمائندگی کی ضرورت نہیں- لیکن اگر انہیں علیحدہ نمائندگی دی جائے تو اس اصل پر ہو کہ ہر قوم کے حقنیابت کے برابر اس کی قوم کے زمینداروں کو حق نیابت ملے کیونکہ اگر زمینداروں کو صرف زمینداری کے حقوق کی نیابت کا خیال ہے تو ان کی نیابت اسی طرح ایک مسلمان زمیندار کر سکتا ہے جس طرح ایک ہندو-
    پس اگر ان کی غرض صرف زمیندارہ حقوق کی حفاظت ہے تو انہیں اس بات پر راضی ہو جانا چاہئے کہ دونوں قوموں کی نیابت کے تناسب کو قائم رکھنے کے لئے زمینداروں کے حلقوں کا انتخاب مخلوط لیکن معین نشستوں کے ساتھ ہو اور تعین نشستوں کا آبادی کے تناسب کے لحاظ سے ہو- اسی طرح اگر ہندوستانی تجارتی حلقوں کو حق دینا ضروری سمجھا جائے تو اسی اصول پر دیا جائے- یعنی نشستوں کا تعین مذہب کے مطابق ہو جائے تا کہ تجارتی اور زمینداری حلقوں کو قومی برتری کا ذریعہ نہ بنایا جائے- آخر مسلمان تاجر بھی ہیں اور زمیندار بھی اور وہ اسی طرح ان مخصوص مفاد کی نگرانی کر سکتے ہیں جس طرح ہندو صاحبان- تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ اگر ان حلقوں کو قائم رکھا جائے تو یہ شرط نہ کر دی جائے کہ تعداد آبادی کے مطابق ان حلقوں کے نمائندے منتخب ہونے چاہئیں- میں اس تفصیل میں نہیں پڑنا چاہتا کہ یہ انتخاب کن اصول پر ہوں کیونکہ انتخاب کے مختلف ذرائع میں سے کئی ذرائع ہماری غرض کو پورا کر سکتے ہیں- جو بھی مناسب ہو اسے اختیار کیا جائے- اصل غرض صرف یہ ہے کہ انگریزوں کی نمائندگی کے بعد جس میں چار فیصدی کی قربانی مسلمانوں سے اور دو فیصدی کی قربانی ہندوئوں سے کرائی جائے باقی سب حلقوں میں اس امر کا لحاظ رکھا جائے کہ خواہ مخصوص ہوں خواہ عام نسبت آبادی کی قائم رہے-
    میں خیال کرتا ہوں کہ میرے کئی دوست مجھ پر اعتراض کریں گے کہ- اس وقت تک تو میں زور دیتا رہا ہوں کہ مسلمانوں کو ان کی آبادی کے مطابق ووٹ ملیں لیکن اب میں نے خود پنجاب میں ساڑھے پچپن کی بجائے چون اور بنگال میں ساڑھے چون کی بجائے پچاس کی تجویز پیش کی ہے- سو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ میں اب بھی اسی تجویز کی تائید میں ہوں لیکن علاوہ ہندوستانی اقوام کے ہمیں انگریزوں کے مخصوص مفاد کا بھی خیال رکھنا پڑے گا جن کی آبادی بہت کم ہے لیکن تجارت اور صنعت بہت وسیع ہے- پس اگر انہیں کوئی حق دیا گیا تو لازماً دوسری اقوام کے حق میں سے دیا جائے گا اور یہ معقول بات نہیں ہو سکتی کہ ہم انگریزوں کے اس حق کو تو تسلیم کریں لیکن ساتھ ہی اپنی تعداد سے بحصہ رسدی انہیں نشستیں دینے کے لئے تیار نہ ہوں- پس ان حالات میں ہمیں دو اصل تسلیم کرنے پڑیں گے- ایک یہ کہ بنگالوپنجاب میں مسلمانوں کی حقیقی اکثریت قائم رہے اور دوسرے یہ کہ وہ اپنے حصہ کے مطابق بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ انگریزوں کو حق دے دیں تا کہ ان کے حقوق کی نمائندگی پوری طرح ہو سکے-
    مسلمانوں کو یہ امر بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ پنجاب اور بنگال دونوں جگہوں میں انگریزوں نے اکثر اوقات مسلمانوں کا ساتھ دیا ہے اور آل انڈیا برٹش ایسوسی ایشن ASSOCIATION) BRITISH INDIA (ALLنے تو حال کے کلکتہ کے اجلاس میں کلی طور پر مسلمانوں کے مطالبات کی تائید کی ہے- پس ہمیں بھی ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہئے- اور یہ یقین رکھنا چاہئے کہ ان کی طرف ہمارا دوستانہ طور پر بڑھنا ان کے دلوں پر اثر کئے بغیر نہیں رہے گا اور ہم آئند انہیں ایک خیر خواہ دوست پائیں گے- خصوصاً جب کہ ان کا زیادہ تر کام تجارت ہے اور اس وجہ سے ان کی رقابت ہندوئوں سے بہ نسبت مسلمانوں کے بہت زیادہ ہے- اور میں امید کرتا ہوں کہ پنجاب اور بنگال میں آپس میں سمجھوتہ کر کے ایک مستقل اکثریت کے ساتھ مسلمان اور انگریز نمائندے ان دونوں صوبوں کی ترقی کے لئے حکومت قائم کر سکیں گے اور اپنے منصفانہ رویہ سے دوسرے صوبوں کے لئے ایک نیک مثال قائم کر دیںگے-
    میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ تقسیم جو میں نے اوپر بتائی ہے یہ فرض کر کے ہے کہ پنجاب اور بنگال کی آبادی ۴ء۵۵ اور ۶ء۵۶ ہے- اگر اس سے زائد آبادی مسلمانوں کو حاصل ہوئی جیسا کہ امید ہے کہ آئندہ مردم شماری میں انشاء اللہ حاصل ہوگی تو جو زیادتی اس وقت یا آئندہ مردم شماریوں میں ہوگی یہ سب کی سب مسلمانوں کو ملے گی- اسے کسی صورت میں بھی دوسری اقوام میں بانٹا نہیں جائے گا- مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ خوش آئند مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے قوموں کے سمجھوتے کی کوشش کریں اور اگر سکھوں کو خوش کرنے کے لئے کسی قدر اور قربانی کرنی پڑے تو پرواہ نہ کریں- میرا خیال ہے کہ اگر کسی طرح بھی صلح سے کام نہ نکلے تو پنجاب کے مسلمانوں کو باون فیصدی حق تمام دوسری اقوام کی مشترکہ طاقت کے مقابل پر قبول کر لینا چاہئے- کیونکہ انشاء اللہ آئندہ مردم شماری میں ستاون فیصدی تک مسلمانوں کی آبادی ہونے کی امید ہے جسے ملا کر فوراً ہی ساڑھے تریپن فیصدی حق مسلمانوں کو مل جائے گا- جسے ان کی بڑھتی ہوئی نسل انشاء اللہ ہر مردم شماری میں مضبوط کرتی چلی جائے گی-
    فرنچائز اور عورتوں کی نمائندگی
    اب میں فرنچائز (FRANCHISE)کے سوال کو لیتا ہوں لیکن چونکہ اس سوال کے صرف اس پہلو کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں جو عورتوں کے ووٹ سے تعلق رکھتا ہے اس لئے میں نے اسی کے ساتھ عورتوں کی نمائندگی کو بھی شامل کر دیا ہے-
    مجھے اس سوال کے بارہ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کمیشن نے اس سوال کا فیصلہ کرتے وقت بہت بے احتیاطی سے کام لیا ہے اور اس مضمون کو چھیڑ دیا ہے جسے چھیڑنا اس کے منصب سے باہر تھا یعنی مسلمانوں کے مذہب پر حملہ کیا ہے- سرجان سائمن JOHNSIMON)۔(SIR اور ان کے ساتھی اس امر سے ناواقف نہیں ہو سکتے کہ پردہ اسلام کا ایک حکم ہے اور اس کے خلاف کچھ لکھنا براہ راست اسلام پر حملہ کرنا ہے-
    میں اس امر کو تسلیم کرتا ہوں کہ ہر شخص اپنی رائے کے متعلق آزاد ہے- اس بارہ میں اسلام سے زیادہ کوئی مذہب حریت نہیں سکھاتا اور اگر سر جان سائمن کوئی مذہبی کتاب لکھ رہے ہوتے تو میں ان کے خیالات کا دلچسپی سے مطالعہ کرتا اور ان کے دلائل کے حسن و قبح کو پرکھتا لیکن سر جان سائمن ایک سرکاری کمیشن کی رپورٹ لکھ رہے تھے اور اس وجہ سے انہیں مذہبیمسائل سے علیحدہ رہنا چاہئے تھا- وہ بار بار پردہ کو بہت سے مصائب کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں- مثلاً ایک جگہ وہ لکھتے ہیں-:
    )>مردوں اور عورتوں کی تعداد میں( فرق سب سے نمایاں دس سے بیس سال کی عمر کے افراد میں ہے اور تمدنی رسوم اور عادات جیسے کہ پردہ اور بچپن کی شادی ہیں اور نادان دائیوں کی حرکات کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے- کیونکہ ان امور کی وجہ سے ہندوستان کی عورتوں کی قوتوں کو بہت نقصان پہنچا ہے<- ۶۰~}~
    اسی طرح وہ لکھتے ہیں-:
    >جب تک کہ ایک چھوٹی لڑکی کی قسمت میں پردہ اور پچپن کی شادی لکھی ہوئی ہے اس وقت تک نہ تو رائے عامہ اور نہ والدین کی امنگیں ہی روبکار ہو کر لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کیلئے آواز اٹھائیں گی<- ۶۱~}~
    بزعم خود ان نقائص کو دور کرنے کیلئے کمیشن نے عورتوں کی فرنچائز پر زور دیا ہے لیکن وہ اس اہم سیاسی اصل کو بھول گئے ہیں کہ سیاسی حقوق مانگنے پر ہی ملنے چاہئیں- جب کہ وہ مردوں کے لئے جو اپنا حق مانگ رہے ہیں فرنچائز کو وسیع کرنے سے گھبراتے ہیں` سرحد کے لوگوں کو براہ راست فرنچائز دینے سے انکار کرتے ہیں` بلوچستان کو اس لئے فرنچائز نہیں دیتے کہ ان کی عادات کے یہ طریق خلاف ہے وہ عورتوں کو فرنچائز دینے کے لئے بغیر ان کی مانگ کے اور ان کے حالات کا خیال کئے بغیر تیار ہو جاتے ہیں- کیا یہ بات ان کے افعال کے متضاد ہونے کا ثبوت نہیں؟ اور کیا یہ امر اس بات کو ظاہر نہیں کرتا کہ اس سوال کے حل کرنے میں اس قدر تمدنی ضرورتوں کا خیال نہیں کیا گیا جس قدر مغربی تمدن کی برتری کو ثابت کرنا مدنظر رکھا گیا ہے؟ اور ایک شاہی کمیشن کے ممبروں کا اس رویہ کو اختیار کرنا نہایت ہی ناپسندیدہ اور مکروہ فعل ہے- مجھے افسوس ہے کہ کمیشن کے اس رویہ میں سیکرٹری آف سٹیٹ فار انڈیا مسٹروجوڈبن بھی شامل ہیں- کیونکہ جیسا کہ مجھ سے گورنمنٹ آف انڈیا کے ایک ممبر اور ایک سیکرٹری نے بیان کیا تھا رائونڈٹیبل کانفرنس کے ممبروں کے انتخاب کے موقع پر باوجود گورنمنٹ آف انڈیا کے دو دفعہ کے انکار کے انہوں نے زور دے کر دو عورتوں کو ممبر مقرر کروایا ہے اور پھر یہ کہہ کر نامزد کروایا ہے کہ ان دو میں سے ایک ہندو اور ایک مسلمان ہو- مسلمان نمائندہ خاتون ہمارے ایک معزز ہم وطن کی بیٹی ہیں اور میرے ایک معزز ہم وطن دوست کی بیوی ہیں اور ان کی ذاتی لیاقت پر مجھے کوئی اعتراض نہیں- پس میں امید کرتا ہوں کہ میری اس تحریر کو کسی رنگ میں بھی اس معزز اور قابل احترام خاتون کے خلاف نہیں سمجھا جائے گا- مجھے اعتراض صرف سیکرٹری آف سٹیٹ کے اس رویہ پر ہے کہ باوجود حکومت ہند کے انکار کے انہوں نے زور دے کر عورتوں میں سے نمائندے مقرر کروائے ہیں اور اس طرح ایک قوم کے اندرونی دستور العمل میں ناجائز دست اندازی کی ہے- ][ اب میں سائمن کمیشن کی جو رائے عورتوں کے پردہ کے بارہ میں ہے اس کی تغلیط کرتا ہوں- اول تو سائمن کمیشن نے یہ عجیب استدلال کیا ہے کہ عورتوں کی تعداد جو مردوں سے کم ہے اس کا ایک سبب پردہ ہے اس کی وجہ سے ان کی صحت خراب ہو جاتی ہے اور وہ مر جاتی ہیں- لیکن وہ اس کا کیا جواب دے سکتے ہیں کہ انگلستان میں مردوں اور عورتوں کی نسبت میں فرق ہندوستان سے زیادہ ہے صرف اختلاف یہ ہے کہ وہاں مرد کم اور عورتیں زیادہ ہیں- اور ہندوستان میں عورتیں کم اور مرد زیادہ ہیں- کیا انگلستان کی نسبت بھی کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ وہاں مردوں پر کوئی خاص ظلم ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ مر جاتے ہیں اور عورتیں زندہ رہتی ہیں؟ اگر سائمن کمیشن مختلف ممالک کی آبادیوں کا مقابلہ کرتا تو اسے معلوم ہو جاتا کہ عورت و مرد کی آبادی کے فرق کے اصول بالکل اور ہیں اور اکثر وجوہ نہایت باریک طبعی مسائل پر مبنی ہیں جن کی سائمن کمیشن کو کوئی واقفیت نہیں تھی- سائمن کمیشن کے ممبروں کے دلچسپ معائنے کے لئے میں انہیں بتاتا ہوں کہ آئرلینڈ کے شمالی حصہ میں یعنی السٹر کی حکومت میں چار فیصدی عورتیں مردوں سے زیادہ ہیں- لیکن جنوبی حصہ یعنی آئرش فری سٹیٹ (IRISHFREESTATE) میں قریباً دو فیصدی مرد زیادہ ہیں- کیا اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ شمالی حصہ میں تو مردوں پر ظلم ہوتا ہے اور جنوبی حصہ میں عورتوں پر؟ لیکن اس فرق کا حل یہ نہیں ہوگا بلکہ یہ ہوگا کہ بعض باریک طبعی اسباب کی وجہ سے انگریزی قوم میں عورتوں کی زیادتی ہوتی ہے اس وجہ سے شمالی آئرلینڈ میں جس میں انگریزی نسل کے لوگ زیادہ بستے ہیں عورتیں زیادہ ہیں اور جنوبی آئرلینڈ میں جس میں آئرش نسل کی زیادتی ہے اس میں مرد زیادہ ہیں-
    سائمن کمیشن نے اپنے اندازہ میں ایک اور بھی غلطی کی ہے اور وہ یہ کہ اس نے غور نہیں کیا کہ عورتوں کی کمی سب سے زیادہ سکھوں اور پہاڑی نسلوں میں ہے اور یہ دونوں قومیں پردہ کی سخت مخالف ہیں اور سکھوں میں بچپن کی شادی کا رواج بھی دوسری قوموں سے کم ہے- سکھ عورت نہایت مضبوط ہوتی ہے- باوجود اس کے سکھوں میں عورتیں کم ہیں اور مرد زیادہ ہیں- پہاڑی قوموں میں عورتوں کی کمی اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ اب تک ایک عورت کے تین تین چار چار خاوند ہوتے ہیں اور سکھ قوم میں بوجہ رشتہ نہ ملنے کے دوسری قوموں کی عورتوں کو سکھ بنا کر ان سے شادیاں کرتے ہیں-
    پھر اگر سائمن کمیشن واقعات پر نگاہ ڈالتا تو اسے یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ پردہ کا رواج دسفیصدی سے زیادہ لوگوں میں نہیں ہے- دیہات کی عورتوں میں سے ننانوے فیصدی پردہ کے عام مفہوم کے مطابق پردہ نہیں کرتیں- پس اگر عورتوں کی کمی کا فرق پردہ کی وجہ سے ہے تو اس فرق کو دیکھ کر جو مردوں اور عورتوں کی نسبت میں ہے فرض کر لینا چاہئے کہ پردہ دار حصہ جو صرف دس فیصدی ہے اس میں دو مردوں کے مقابلہ میں ایک عورت ہے جو بالبداہت غلط ہے- بچپن کی شادی جس سے میری مراد کسی خاص عمر سے نہیں ہے بلکہ قویٰ کے نشوونما پانے سے پہلے کی عمر کی شادی ہے بے شک نقصان دہ ہے لیکن مسلمانوں میں اس کا بہت کم رواج ہے اور سائمن کمیشن کا یہ کہنا کہ مسلمانوں میں اس کے متعلق ایک روایت ہے بالکل خلاف واقعہ ہے- مسلمانوں میں بچپن میں شادی کر دینے کے متعلق کوئی روایت نہیں ہے- اور اگر شارداایکٹ کے خلاف مسلمانوں نے کوئی شور مچایا ہے تو اس کا سبب یہ نہیں کہ وہ بچپن کی شادی کو ضروری سمجھتے ہیں بلکہ اس وجہ سے کہ وہ اس امر کو پسند نہیں کرتے کہ کوئی غیر مذہب کی اکثریت ان کے پرسنل لاء میں دخل اندازی کرے اور اس طرح آئندہ کے لئے راستہ کھل جائے- یہ عیب ہندوئوں میں ہی ہے اور انہی کو اس کا نقصان بھی پہنچتا ہے کیونکہ ان کے ہاں بیوہ کی شادی کا رواج نہیں- اور اس وجہ سے جو عورت بیوہ ہو جاتی ہے اس کی عمر برباد ہو جاتی ہے- مسلمانوں میں جس قدر یہ رواج ہے بوجہ ہندوئوں کے اثر کے ہے اور ہم لوگ اسے آہستگی سے دور کر رہے ہیں-
    اب میں پردہ کے صحت اور تعلیم پر اثر کو لیتا ہوں- اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ پردہ مسلمانوں میں ابتداء سے ہے- لیکن باوجود اس کے مسلمان عورتیں حکومتوں کے ہر قسم کے کاموں میں حصہ لیتی رہی ہیں- عورتیں مسلمانوں میں بادشاہ بھی ہوئیں ہیں` فوجوں میں بھی انہوں نے کام کیا ہے` قضاء وغیرہ کے عہدہ پر بھی انہیں مقرر کیا گیا ہے` پروفیسر بھی وہ رہی ہیں اور ان پردہ دار عورتوں کو اس زمانہ میں یہ طاقت اور علم کے کام کرنے پڑے ہیں جس وقت باقی اقوام کی بے پردہ عورتیں صحت اور علم دونوں میں ان کے مقابلہ سے عاجز تھیں- پس معلوم ہوا کہ پردہ نہیں بلکہ مسلمان عورتوں کی کمزوری اور جہالت کے اس وقت اور اسباب ہیں-
    میں حیران ہوں کہ کس طرح پردہ کو تعلیم کے لئے روک کہا جاتا ہے- ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اسلامی پردہ کی بھی عامل ہے اور باوجود اس کے عورتوں کی تعلیم اس میں باقی سب ہندوستان کی عورتوں سے زیادہ ہے- میں نے جماعت کی امامت پر مقرر ہوتے ہی عورتوں کی تعلیم کی طرف توجہ کی ہے اور باوجود ہر قسم کے اعتراضات کے اس کو ترقی دیتا چلا گیا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان میں نوے فیصدی سے بھی زیادہ لڑکیاں تعلیم پاتی ہیں- اور پچھلے تین سال سے یونیورسٹی کے امتحانوں میں ہماری عورتیں شامل ہونے لگی ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر سال ہماری جماعت کی کوئی نہ کوئی پردہ دار خاتون یونیورسٹی میں اول نمبر پر رہتی چلی آتی ہے- ہاں جو روک ہمارے راستہ میں ہے وہ پردہ کی نہیں بلکہ یہ ہے کہ استانیاں تیار ہونے میں دیر لگی ہے اور گورنمنٹ اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ مرد استاد پس پردہ عورتوں کو پڑھائیں- پس جب تک عورت استانیاں تیار نہ ہو جائیں ہمارے سکول یونیورسٹی سے باقاعدہ طور پر ملحق نہیں ہو سکتے- پس ہمارے تجربہ میں تو عورتوں کی تعلیم میں روک پردہ نہیں بلکہ گورنمنٹ کا رویہ ہے- جو یہ دیکھتے ہوئے کہ استانیاں نہیں مل سکتیں سوسائٹیوں کو اجازت نہیں دیتی کہ اس وقت تک کہ عورت استانیاں کافی تعداد میں میسر آ سکیں عمر رسیدہ اور قابل اعتبار مردوں سے لڑکیوں کو تعلیم دلوائیں-
    غالباً میری یہ تحریر سر جان سائمن (SIRJOHNSIMON) کی نظر سے بھی گزرے گی- میں امید کرتا ہوں کہ وہ اسے ذاتیات پر مبنی نہیں سمجھیں گے بلکہ انہیں یہ امر یاد ہوگا کہ ان کے اور ان کے رفقاء کے ہندوستان کے ورود کے موقع پر سب سے زیادہ جوش کے ساتھ میری جماعت نے انہیں خوش آمدید کہا تھا اور ان کے بائیکاٹ کے خلاف نہایت زبردست پروپیگنڈا اشتہاروں` ٹریکٹوں` اخباروں اور لیکچروں کے ذریعہ سے کیا تھا- پس مجھے جو اس امر کے خلاف پروٹسٹ (PROTEST) کرنا پڑا تو اس کی صرف یہ وجہ ہے کہ میرے نزدیک انہوں نے بغیر کافی تحقیق کے ایک اسلامی حکم پر حملہ کر دیا ہے-
    ‏a11.12
    میں نے جہاں تک غور کیا ہے پچیس سال کا عرصہ اس انتخاب کے طریق کو جاری رکھنے کے لئے کافی ہے وہ اقوام جو ڈرتی ہیں کہ کہیں ہماری حق تلفی نہ ہو- اگر وہ اس عرصہ میں بھی اپنے آپ کو اپنے پائوں پر کھڑا نہیں کر سکیں تو وہ مزید امداد کی مستحق نہیں ہیں لیکن یہ عرصہ نئے نظام سے شروع ہو- گذشتہ زمانہ اس میں شامل نہ کیا جائے کیونکہ اس زمانہ میں صوبہ جات کو آزادی حاصل نہیں ہوئی تھی اور بیداری بغیر آزادی کے نہیں پیدا ہوتی-
    اس پچیس سال کے عرصہ کے بعد جہاں جہاں اور جس جس قوم کے حق میں یہ طریق ابھی جاری ہو اسے موقوف کر دیا جائے لیکن شرط یہ ہو کہ صرف ان اقلیتوں کے حق میں اسے موقوف کیا جائے جو تین فیصدی سے زائد ہوں- جن اقلیتوں کی تعداد تین فیصدی سے کم ہو اور انہیں جداگانہ انتخاب کا حق حاصل ہو ان کے اس حق کو بغیر ان کی مرضی کے خواہ کسی قدر عرصہ بھی گذر جائے- باطل نہ کیا جائے دوسری شرط یہ ہو کہ اس صورت میں اس حق کو باطل کیا جائے جب کہ ہر بالغ مرد کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہو چکا ہو- جن قوموں کے حق میں اس قانون کو پچیس سال بعد منسوخ کر دیا جائے ان کی بھی میرے نزدیک دو قسمیں ضروری ہیں- اگر تو وہ قوم جسے جداگانہ انتخاب کا حق دیا گیا ہو اس کی صوبہ میں اکثریت ہے تب تو کلی طور پر اس قانون کو منسوخ کر دیا جائے- لیکن اگر وہ قوم اقلیت ہے تو جداگانہ انتخاب تو منسوخ ہو لیکن مخلوط انتخاب کے ساتھ اس کی تعداد یا اس کے مقررہ حق کے برابر نشستیں جو بھی ان میں سے زیادہ ہوں اس قوم کے لئے مقرر کر دی جائیں اور ان مقررہ نشستوں کو ترک کر کے کلی طور پر مخلوط انتخاب کو اختیار کرنا اس قوم کے تین چوتھائی افراد کے ریزولیوشن پر منحصر ہو- اور اس کے ساتھ بھی وہی شرطیں ہوں جو میں وقت سے پہلے جداگانہ انتخاب کے طریق کو منسوخ کرنے کے متعلق بیان کر آیا ہوں-
    مختلف اقوام کی نیابت کا تناسب
    جداگانہ انتخاب کے ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ ہر ایک قوم کی نمائندگی کا تناسب کیا ہوگا- کیونکہ جس ملک میں یہ طریق جاری نہ ہو وہاں سوائے اس صورت کے کہ مخلوط انتخاب کے ساتھ نشستوں کا تعین کیا جائے یہ سوال بلاواسطہ طور پر پیدا ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ جب سب لوگ مل کر نمائندے منتخب کریں اور نشستوں کا تعین بھی نہ ہو تو جو قوم زیادہ جگہیں لے سکتی ہو لے جائے اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا- پس یہ سوال خصوصیت کے ساتھ علیحدہ انتخاب سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اسی کے ساتھ اسے بیان کرنا مناسب ہے-
    مسلمانوں کا مطالبہ جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں شروع سے یہ رہا ہے کہ چونکہ ان کی پولیٹیکل حیثیت اس ملک میں بہت زیادہ ہے- کیونکہ انگریزوں نے ان سے حکومت لی ہے اور اکثر حصے ملک کے ایسے ہیں جو مسلمان بادشاہوں سے بطور ٹھیکہ کے انہوں نے لئے تھے یا بطور انعام کے ان کو ملے تھے پس عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ جس قوم سے حکومت بطور مستاجری یا انعام میں لی گئی ہو اس کے حق کو وقعت دی جائے- اسی طرح مسلمانوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ مسلمان فوجی خدمات میں اپنی قومی تعداد سے زیادہ حصہ لیتے رہے ہیں اس لئے بھی انہیں زیادہ حصہ ملنا چاہئے- یہ مطالبہ معقول ہے یا غیر معقول میں اس بحث میں نہیں پڑتا- بہرحال اس کو لارڈ منٹو تسلیم کر چکے ہیں اور مسٹر گوکھلے جیسا لیڈر اس کی تصدیق کر چکا ہے-
    لارڈ منٹو کے اعلان کے بعد ہندو مسلم سمجھوتے کے لئے لکھنئو میں ایک مجلس ہوئی تھی جس میں ہندوئوں نے اس اصل کو قبول کر کے مسلمانوں سے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ ہندو صوبوں میں ہندو مسلمانوں کو ان کے حق سے زائد حق دے دیں گے لیکن اسی طرح مسلمان مسلمانصوبوں میں ہندوئوں کو ان کے حق سے زائد نشستیں دے دیں- مسلمانوں نے بدقسمتی سے اسے منظور کر لیا- میں اسے بدقسمتی کہتا ہوں کیونکہ تمام بعد میں ظاہر ہونے والے فسادات اسی سمجھوتہ پر مبنی ہیں- ایک طرف ہندو مسلمانوں کو یہ سمجھوتہ یاد دلاتے ہیں دوسری طرف برطانوی نمائندے اس سمجھوتہ کو مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے ہیں- اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان نمائندوں نے اپنی طرف سے تو اپنی قوم سے نیکی ہی کرنی چاہی تھی لیکن ہو گئی برائی- اگر لارڈ منٹو کے اعلان اور اس پر مسٹر گوکھلے اور دوسرے ہندو لیڈروں کی تصدیق تک ہی معاملہ ختم ہو جاتا تو مسلمانوں کا حق ضائع نہ ہوتا- لیکن جہاں تک میرا خیال ہے بعض ہندوئوں نے یہ دیکھ کر کہ مسلمان اپنا حق لے چلے ہیں یہ چال چلی اور مسلمانوں سے میثاق لکھنو باندھ کر ہمیشہ کے لئے انہیں اپاہج کر دیا- لکھنئو پیکٹ کیا ہے ایک اقرار ہے کہ ہندوستان بھر میں کسی صوبہ میں بھی مسلمانوں کو آزادی کا سانس لینا نصیب نہ ہوگا- تعداد کے لحاظ سے بے شک مسلمانوں کو بہت کچھ مل گیا ہے لیکن قیمت کے لحاظ سے وہ سب کچھ کھو بیٹھے ہیں- سائمنرپورٹ نے بھی مسلمانوں کو یاد دلایا ہے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ دوسرے صوبوں میں بھی مسلمانوں کو ان کے حق سے بہت زیادہ ملے اور پنجاب اور بنگال میں بھی انہیں قانون کے ذریعہ سے کثرت دلا دی جائے-
    میرے نزدیک لکھنئو پیکٹ ایک غلطی تھی لیکن اس کے پیش کرنے والوں کو ایک بات بھول جاتی ہے اور وہ یہ کہ لکھنئو پیکٹ کی کبھی بھی تصدیق نہیں کی گئی- وہ ہمیشہ کے لئے ایک منسوخ شدہ تحریر کی حیثیت میں رہا ہے اور اس امر کی تو سائمن رپورٹ بھی شہادت دیتی ہے کہ کم سے کم موجودہ زمانہ میں وہ قابل توجہ نہیں ہے- اس میں لکھا ہے-:
    >اس )لکھنئو کے( معاہدہ کو اب دونوں ہی فریق نمائندگی کا صحیح فیصلہ کرنے والا نہیں تسلیم کرتے<- ۵۳~}~
    لیکن حق یہ ہے کہ کبھی بھی اس پیکٹ پر عمل نہیں ہوا کیونکہ اس میں ایک اہم شرط تھی جس کی بناء پر یہ فیصلہ تسلیم کیا گیا تھا اور اس شرط پر ایک دن کے لئے بھی عمل نہیں ہوا اور وہ یہ کہ جب کسی قوم کے ممبروں کی تین چوتھائی یہ فیصلہ کر دے کہ کسی قانون کا ان کی قوم پر خاص طور پر مضر اثر پڑتا ہے تو وہ قانون پاس نہیں ہو سکے گا یہ قانون کبھی بھی قانون کی صورت میں نہیں آیا- پس جس اطمینان کی صورت کی امید دلانے پر مسلمان اس فیصلہ پر راضی ہوئے تھے جب کہ وہ صورت ہی پیدا نہیں ہوئی تو معاہدہ کی کیا ہستی رہی؟ غرض اس معاہدہ پر کسی فیصلہ کی بنیاد رکھنی بالکل درست نہیں اور جیسا کہ سائمن کمیشن نے لکھا ہے موجودہ مشکلات کو حل کرنے کے لئے ہمیں کوئی اور راہ تلاش کرنی ہوگی-
    سائمن کمیشن نے یہ راہ تجویز کی ہے کہ جن صوبوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں تو انہیں وہی حقوق دے دیئے جائیں جو ان کو ملے ہوئے ہیں ]71 [p۵۴~}~ لیکن پنجاب اور بنگال جہاں ان کی اکثریت ہے وہاں ان کے نزدیک مسلمانوں کو ان کی آبادی کے مطابق حقوق دینے کمیشن کے نزدیک درست نہیں- کیونکہ
    >اس سے مسلمانوں کو دونوں صوبوں )بنگال اور پنجاب( میں ایک معین اور ناقابل تغیر اکثریت حاصل ہو جائے گی<- ۵۵~}~
    کمیشن کا خیال ہے کہ-:
    >موجودہ زائد حق جو چھ صوبوں میں مسلمانوں کو حاصل ہے اس کی موجودگی میں بغیر دونوں قوموں میں کوئی نیا معاہدہ ہونے کے انصاف کے خلاف ہوگا کہ انہیں بنگال اور پنجاب میں موجودہ حق سے زائد دے دیا جائے<-
    کمیشن پھر خود ہی ایک تجویز پیش کرتا ہے- جس کے قبول کرنے پر وہ امید دلاتا ہے کہ مسلمانوں کے زائد حقوق دوسرے صوبوں سے نہیں چھینے جائیں گے اور جن صوبوں میں ان کی اکثریت ہے ان میں بھی انہیں زیادہ نمائندگی حاصل کرنے کا موقع رہے گا اور وہ یہ ہے کہ وہ بنگال میں مخلوط انتخاب کو مان لیں-
    پنجاب کے متعلق بھی ان کا خیال ہے کہ اگر مسلمان سکھ اور ہندو تینوں مخلوط انتخاب پر راضی ہو جائیں تو اس سمجھوتے کے بعد وہ مسلمانوں کے باقی صوبوں سے زائد حق نہیں چھینیں گے-
    ایک ایسی جماعت سے جس میں سرجان سائمن (SIRJOHNSIMON) جیسا قانوندان شامل ہو اس قسم کی غیر معقول تجویز کی میں ہر گز امید نہیں کر سکتا تھا- کمیشن نے اس تجویز کے پیش کرتے وقت کئی امور بالکل نظر انداز کر دیئے ہیں- اول یہ کہ جو چیز انسان کی اپنی نہ ہو اسے وہ کسی کو دینے کا حق نہیں رکھتا- وہ لکھتے ہیں کہ-:
    >اگر باہمی سمجھوتے سے بنگال میں جداگانہ انتخاب کے طریق کو ترک کر دیا جائے تا کہ ہر اک جماعت ایک متحدہ حلقہ انتخاب سے اپیل کر کے جس قدر نشستیں لے جا سکے لے جائے- ہم اس بناء پر مسلمانوں سے ان دوسرے صوبوں میں کہ جہاں وہ اقلیت ہیں- جو زائد حق انہیں ملا ہوا ہے` نہیں چھینیں گے<- ۵۶~}~
    جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر پنجاب اور بنگال دونوں مسلم صوبوں میں سے بنگال میں یہ سمجھوتہ ہو جائے کہ جداگانہ طریق انتخاب کو چھوڑ کر مخلوط انتخاب جاری کر لیا جائے تو وہ اس صورت میں دوسرے صوبوں میں مسلمانوں کے حق سے کچھ کم نہیں کریں گے- لیکن سوال یہ ہے کہ جب ملک کی قوموں میں ¶آپس میں سمجھوتہ ہو جائے کہ وہ باوجود دوسری جگہ مسلمانوں کو زائد حق دینے کے اس صوبہ میں ان سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتے جس میں وہ اکثریت ہیں تو اس میں سائمن کمیشن کا کیا دخل ہے- سائمن کمیشن کا دخل تو اس صورت میں ہو سکتا تھا اگر وہ یہ کہتا کہ اگر مسلمان بنگال میں مخلوط انتخاب کو ترک کر دیں تو ہم بغیر دوسرے صوبوں میں سے مسلمانوں کا حق کم کرنے کے بنگال میں عام مقابلہ کی انہیں اجازت دے دیں گے لیکن جب بنیاد انہوں نے مختلف قوموں کے اتفاق پر رکھی ہے تو ان کی دخل اندازی کا سوال ہی نہیں رہتا- اس قسم کی بات انہوں نے پنجاب کے متعلق بھی کہی ہے-
    دوسری خلاف عقل بات ان کی اس تحریر سے یہ نکلتی ہے کہ ایک طرف تو ان کا یہ دعویٰ ہے کہ چونکہ مسلمان پنجاب اور بنگال میں جداگانہ انتخاب کا مطالبہ کرتے ہیں اس وجہ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ یہاں بھی انہیں اس حق کے ساتھ ان کی تعداد کے برابر انہیں حق دے دیا جائے اور دوسرے صوبوں میں بھی انہیں ان کی آبادی سے زیادہ حق دے دیا جائے- اور دوسری طرف وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر بنگال اور پنجاب میں مسلمان اور دوسری قومیں سمجھوتہ سے جداگانہ انتخاب کو چھوڑ دیں تب ہو سکتا ہے کہ دوسرے صوبوں میں ان کا حق کم کرنے کے بغیر انہیں ان دونوں صوبوں میں آزاد مقابلہ کی اجازت دے دی جائے- اب ایک ادنیٰ غور سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ یہ دونوں دعوے متضاد ہیں- کیونکہ ایک طرف تو مسلمانوں کو پنجاب اور بنگال میں میجارٹی (MAJORITY)سے اس لئے محروم کیا گیا ہے کہ جداگانہ انتخاب ان کے مطالبہ پر جاری کئے گئے ہیں اس وجہ سے انہیں مستقل اکثریت کا حق نہیں دیا جا سکتا- دوسری طرف کمیشن کہتا ہے کہ جداگانہ انتخاب کا طریق چھوڑ کر مخلوط انتخاب کو اختیار کرنا مسلمانوں کے اختیار میں نہیں بلکہ دوسری قوموں کی رضامندی پر مبنی ہے- اگر یہ تبدیلی دوسری قوموں کی رضامندی پر مبنی ہے تو مسلمانوں کی وجہ سے اس قانون کا اجراء نہ ہوا بلکہ سب قوموں کے لئے ہوا- پس کمیشن کا جداگانہ انتخاب کی بناء پر مسلمانوں سے کسی قربانی کا مطالبہ کرنا درست نہ ہوا- لیکن اگر یہ درست ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کی خاطر جاری کیا گیا ہے اور اس وجہ سے انہیں اکثریت کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے تو پھر اس کا ترک کرنا بھی صرف انہی کی مرضی پر منحصر ہونا چاہئے نہ کہ دوسروں کی رضامندی پر-
    تیسری بات جو کمیشن کے اس فیصلہ میں خلاف عقل نظر آتی ہے یہ ہے کہ انہوں نے یہ غور نہیں کیا کہ وہ مسلمانوں کو کیا دیتے ہیں اور ان سے کیا لیتے ہیں- وہ جو کچھ مسلمانوں کو دیتے ہیں وہ چند نشستیں ہیں اور جو لیتے ہیں وہ اکثریت ہے اور اقتصادیات کا یہ ایک موٹا اصل ہے کہ چیزوں کی قیمت ان کی تعداد کے لحاظ سے نہیں بلکہ ان کے فائدہ کے لحاظ سے ہوتی ہے- کیا سرجان سائمن اپنی پارٹی کی طرف سے یہ سمجھوتہ کسی دوسری پارٹی سے کرنے کو تیار ہونگے کہ جس دفعہ ان کی پارٹی کو پارلیمنٹ میں میجارٹی حاصل ہو سکتی ہو وہ اس میجارٹی کو چھوڑ دیں- اور بجائے اس کے آئندہ مختلف پارلیمنٹوں میں مثلاً دس فیصدی نشستیں انہیں حاصل ہو سکتی ہوں تو پندرہ فیصدی نشستیں ان کی پارٹی کو بلا مقابلہ دوسری پارٹیاں دے دیا کریں- یہ ایک موٹیبات ہے کہ دس پارلیمنٹوں کی مینارٹی کی قلیل زیادتی بھی ایک دفعہ کی میجارٹی کا مقابلہ نہیں کر سکتی- لیکن سائمن کمیشن اس ظلم اور اس تعدی کا نام برطانوی انصاف رکھتا ہے کہ مسلمانوں کو چھ صوبوں میں کچھ زائد حق دے کر وہ مسلمانوں کو دو صوبوں کی میجارٹی سے محروم کر دیتا ہے اور محروم بھی ابدی طور پر کیونکہ آئندہ میجارٹی کے امکان کو بھی وہ اس شرط سے مشروط کر دیتا ہے کہ دوسری پارٹیاں قواعد کو تبدیل کرنے پر راضی ہوں اور اتنا بھی نہیں سوچتا کہ ان پارٹیوں کو مستقل میجارٹی (MAJORITY) چھوڑنے کی کیا ضرورت ہے-
    چوتھی بات جو اس فیصلہ میں خلاف عقل ہے یہ ہے کہ سائمن رپورٹ مسلمانوں کو پنجاب اور بنگال میں ان کی تعداد کے مطابق نیابت دینے سے اس وجہ سے انکار کرتی ہے کہ-:
    >اس سے مسلمان کو دونوں صوبوں میں معین اور ناقابل تغیر اکثریت حاصل ہو جائے گی<- ۵۷~}~
    گویا سائمن کمیشن کی نگاہ میں کسی جماعت کو خواہ وہ اکثریت ہی کیوں نہ ہو- مستقل میجارٹی (MAJORITY) دینا درست نہیں اور حد سے بڑھا ہوا مطالبہ ہے لیکن اس حد سے بڑھے ہوئے مطالبہ کا علاج وہ یہ کرتا ہے کہ اقلیت کو مستقل میجارٹی دے دیتا ہے- کیونکہ وہ موجودہ طریق کو آئندہ بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے اور موجودہ قانون میں بنگال اور پنجاب میں درحقیقت ہندوئوں کو اکثریت حاصل ہے- پنجاب کے معاملہ کو اگر مشتبہ بھی قرار دیا جائے تو بھی بنگال کا معاملہ تو بالکل واضح ہے- جنرل کانسٹیچیوانسی (GENERALCONSTITUENCY) میں چھیالیس ہندو ممبر ہیں اور انتالیس مسلمان ممبر ہیں- ادنیٰ اقوام میں سے جو ممبر ہوگا وہ بھی ہندو ہی ہوگا اور ایسا ہی ہوتا ہے اس طرح ہندوئوں کو سینتالیس ممبریاں مل گئیں- لیبر کی طرف سے دو ممبر مقرر ہیں- جن میں سے کم سے کم ایک ہندو ہوگا تو اڑتالیس ہندو ہوں گے- اگر ایک لیبر کا ممبر مسلمان فرض کر لیا جائے- جو عام طور پر نہیں ہوتا تو چالیس مسلمان ہوئے- زمینداروں کی کانسٹی چیوانسی (CONSTITUENCY)کی طرف سے پانچ ممبر ہوتے ہیں- عملاً وہ سب کے سب ہندو ہوتے ہیں لیکن اگر ووٹروں کی تعداد کو مدنظر رکھیں تو فرض کر لیتے ہیں کہ چار ہندو اور ایک مسلمان ہوگا- اس طرح باون ہندو اور اکتالیس مسلمان ہوئے- یونیورسٹی کا ممبر بوجہ ہندو ووٹروں کی تعداد زیادہ ہونے کے لازماً ہندو ہوگا- بہرحال اگر فرض کر لیا جائے کہ یہ ممبر باری باری ہندو مسلمانوں میں سے منتخب ہوتا رہے گا تو اس کو دونوں طرف نہیں ڈالتے- لیکن تجارت چونکہ پورے طور پر ہندوئوں کے قبضہ میں ہے- چار ہندوستانی ممبر سب کے سب ہندو ہونگے- یہ فرض کر کے شاید کبھی مسلمان بھی ہو جائے- ووٹروں کی تعداد کا ایک سرسری اندازہ لگا کر ہم فرض کر لیتے ہیں کہ چار میں سے ایک مسلمان ہو جایا کرے گا اور اس طرح کل ہندو ممبر چون اور مسلمان بیالیس بنتے ہیں- یعنی بارہ کا فرق ہے- انگریز اینگلوانڈین (ANGLOINDIANS) اور ہندوستانی مسیحیوں کی تعداد آٹھ بنتی ہے- اور تجارت کے انگریزنمائندے ملا کر یہ تعداد انیس ہوتی ہے- گویا اکثریت جو چون فیصدی سے کچھ اوپر ہے اس کے کل نمائندے بیالیس اور اقلیت جو پینتالیس فیصدی سے کچھ کم ہے- اس کے کل نمائندے تہتر ہو جاتے ہیں- یعنی پچھتر فیصدی زیادہ حق اقلیت کو دے دیا گیا ہے- اگر انگریز اور مسیحینمائندوں کو نکال دیا جائے تب بھی ہندو ممبر اپنے حق سے ساٹھ فیصدی زیادہ لے گئے ہیں اور مسلمانوں سے قریباً پچیس فیصدی زیادہ ہیں حالانکہ آبادی میں وہ ان سے بیس فیصدی کم ہیں- یہ اندازے جو میں نے اوپر لکھے ہیں بہت نرم ہیں عملاً جو کچھ ہوتا ہے اس سے زیادہ ہوتا ہے- چنانچہ ۱۹۲۲ء میں منتخب شدہ ممبر چھیالیس ہندو اور انتالیس مسلمان تھے- زمینداروں کی کانسٹیچیوانسی (CONSTITUENCY) میں سے پانچوں ہندو تھے` یونیورسٹی کا ممبر ہندو تھا` تجارتیممبریوں میں سے گیارہ انگریز اور چار ہندو تھے- ادنیٰ اقوام کا ممبر بھی ہندو تھا- گویا ستاون ہندو اور انتالیس مسلمان تھے- پھر گورنر صاحب نے جو غیر سرکاری ممبر اپنے اختیار سے نامزد کئے وہ چار تھے لیکن انہوں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ ہندو اپنے حق سے بہت زیادہ لے چکے ہیں انہوں نے بھی بجائے مسلمانوں کی کمی کو پورا کرنے کے ایک مسلمان اور تین ہندو نامزد کئے گویا ساٹھ ہندو اور چالیس مسلمان مقرر ہو گئے اور وہ مسلمان جن کو ہندوئوں کے مقابل پر پچیس فیصدی کی اکثریت حاصل تھی ان پر ہندوئوں کو ساٹھ فیصدی کی اکثریت دے دی گئی-
    خلاصہ یہ کہ اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت کو توڑ کر بنگال میں قانونی طور پر غیر مبدل اکثریت ہندوئوں کو مسلمانوں کے خلاف دے دی گئی ہے اور پنجاب میں بھی کم سے کم ۱۹۲۲ء میں ہندوئوں اور سکھوں کو مسلمانوں پر اکثریت حاصل تھی- اب ممکن ہے کہ مساوات حاصل ہو- پس غور کے قابل بات یہ ہے کہ اکثریت کو قانوناً اگر اکثریت دینی جائز نہیں تو اس کی اکثریت کو قانونا توڑ دینا یا کسی ایک اقلیت یا اقلیتوں کے مجموعہ کو قانونی اکثریت دے دینا کس طرح جائز ہو سکتا ہے- اور کیا اس ناواجب طریق کو جاری رکھتے ہوئے سائمن کمیشن کو یہ خیال نہیں گذرا کہ یہ طریق اکثریت کو اکثریت دینے سے زیادہ ظالمانہ ہے؟ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہندوئوں کی اکثریت خاص منافع کی نمائندگی کے سبب سے ہے نہ کہ عام حلقہ ہائے نیابت کی وجہ سے- کیونکہ بنگال میں تو عام حلقہ نیابت میں بھی ہندوئوں کو مسلمانوں کی انتالیس نشستوں کے مقابل پر چھیالیس نشستیں دی گئی ہیں زمینداری` تجارتی` یونیورسٹی اور ڈپرسڈ کلاسز (DEPRESSEDCLASSES) کے نام سے ان کی اکثریت کو صرف مزید تقویت دی گئی ہے- اور پنجاب میں بھی یہی بات ہے کہ خاص منافع کے نام سے ہندوئوں اور سکھوں کو اکثریت دے دی گئی ہے- مگر سوال یہ ہے کہ یہ خاص منافع کی نشستیں کس نے قائم کی ہیں- آیا قانون نے یا مسلمانوں نے- جو قانون اس قسم کی مصنوعی شاخیں پیدا کر کے ایک اکثریت کی اکثریت کو باطل کر دیتا ہے کیا وہ ظالمانہ نہیں اور کیا اس کا بدلنا کمیشن کا فرض نہ تھا کیا اس قسم کی خاص نشستیں انگلستان میں جاری ہیں وجہ کیا ہے کہ وہاں تو تجارت کے باوجود ہندوستان سے زیادہ اہم ہونے کے علیحدہ نمائندگی کی مستحق نہیں قرار پاتی اور ہندوستان میں اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے- اگر انگریزی تجارت بوجہ غیر ملکی ہونے کے خاص نمائندوں کی مستحق تھی تو اس کی کیا وجہ ہے کہ انگریزوں کو زائد نمائندگی دینے کے لئے ہندوئوں کو بھی زائد نمائندگی دے کر مسلمانوں سے بڑھایا جاتا ہے مگر میں اس سوال کے متعلق آگے چل کر زیادہ تفصیل سے لکھوں گا اس لئے یہاں اس کا ذکر چھوڑتا ہوں-
    پانچویں غلطی سائمن کمیشن نے اس فیصلہ میں یہ کی ہے کہ ایک طرف تو وہ فیڈرل اصول کو جاری کر کے یہ اصل تسلیم کرتا ہے کہ ہندوستان کے صوبہ جات ایک آزاد ہستی رکھتے ہیں یا لارڈ منٹو (LORDMINTO) کے الفاظ میں ہندوستان ایک ملک نہیں بلکہ ایک براعظم ہے- لیکن اس کے برخلاف جب مسلمانوں کے حقوق کا سوال آتا ہے تو وہی کمیشن یہ کہتا ہے کہ چونکہ دوسرے صوبوں میں مسلمانوں کو زیادہ حق مل گیا ہے اس لئے پنجاب اور بنگال میں ان کی میجارٹی قائم نہیں رکھی جا سکتی- کیا وہ صوبہ جات جو فیڈریشن کے اصول پر زور دیتے ہیں اس امر کو پسند کر سکتے ہیں کہ ایک صوبہ کا حق دوسرے کو دے دیا جائے- کیا دنیا میں کسی اور جگہ بھی یہ قائدہ ہے کہ ایک پارٹی کو ایک صوبے میں زیادہ حق دے دیا جائے اور دوسری کو دوسرے میں- کیا اس قسم کا فیصلہ آسٹریلیا یا کینیڈا کے صوبوں کے متعلق کوئی کمیشن بغیر خطرناک نتائج پیدا کرنے کے کر سکتا ہے- پھر یہ قربانی پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کے حقوق کے متعلق کس طرح جائز ہو سکتی ہے- کیا کبھی بھی بنگال اور پنجاب کے باشندوں نے سائمن کمیشن یا کسی اور کمیشن کو یہ حق دیا ہے کہ وہ ان کے حقوق دوسرے صوبوں کے مسلمانوں میں تقسیم کر دے اور وہ بھی اس طرح کہ مسلمان ہر جگہ کمزور ہو جائیں- میں ذاتی طور پر تو اس امر کے لئے تیار ہو جائوں گا کہ اگر مثلاً یو-پی اور بہار میں مسلمانوں کو میجارٹی دے دی جائے تو بنگال اور پنجاب میں مسلمانوں کو مائنارٹی (MINORITY) دے دی جائے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ دوسرے مسلمان بھی اس پر راضی ہوں- لیکن اس امر پر تو کوئی مسلمان جماعت راضی نہیں اور راضی نہیں ہو سکتی کہ دوسرے صوبوں کی مسلمان اقلیتوں کو اس قدر حق زائد دے کر جن سے وہ پھر بھی اقلیت میں ہی رہیں مسلمانوں کی دو جگہ کی اکثریت کو اقلیت سے بدل دیا جائے- اگر انصاف کی نگاہ سے دیکھا جائے تو ہندوئوں نے جو قربانی دوسرے صوبوں میں کی ہے` اس کا بہت بڑا بدلہ ان کو مل چکا ہے اور وہ یہ کہ صوبہ سرحد کے مسلمان صوبے کو ان کی شہہ اور ان کی خوشی کے لئے اب تک آزادی سے محروم رکھا گیا ہے-
    بہرحال کسی کمیشن کا یہ حق نہیں کہ پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کا حق وہ اور کسی صوبہ کے لوگوں کی خاطر قربان کر دے- ان دونوں صوبوں کے مسلمان اس کو قبول کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں اور میں جانتا ہوں کہ خواہ کس قدر قربانی ہی کیوں نہ کرنی پڑے وہ ہر گز اس کے لئے تیار نہیں ہونگے- اگر برطانیہ دوسرے صوبوں کے مسلمانوں کو کسی زائد حق کا حقدار نہیں سمجھتا تو وہ اس زیادتی کو جو دوسرے صوبوں کے مسلمانوں کو دی ہے واپس لے سکتا ہے- لیکن وہ ان صوبوں کو کوئی زیادتی پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کو کمزور کر کے کسی صورت میں نہیں دے سکتا بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ دوسرے صوبوں کے مسلمان بھی کوئی ایسی زیادتی قبول نہیں کریں گے جس کی ناقابل برداشت قیمت پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں سے وصول کی جائے- اگر قیمت لینی ہے تو صوبہ سرحد اور صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان اس قیمت کو ادا کرنے کو تیار ہیں- چنانچہ صوبہ سرحد کے مسلمان اس امر کو قبول کرتے ہیں کہ ہندوئوں کو پچیس فیصدی تک حق دے دیں گویا ان کی آبادی سے پانچ گنے زیادہ- اسی طرح سندھ اور بلوچستان کے مسلمان بھی اگر انہیں آزادی ملے تو تیار ہیں کہ دوسرے صوبہجات کے مسلمانوں کی خاطر ہندوئوں کو ان ¶کے حق سے بہت زیادہ تعداد میں نیابت دے دیں-
    چھٹی غلطی اس فیصلہ میں کمیشن سے یہ ہوئی ہے کہ باوجود اس امر کو تسلیم کرنے کے کہ لکھنئو پیکٹ پر کبھی بھی عمل نہیں کیا گیا اور اب تو دونوں پارٹیاں اسے رد کرتی ہیں یہ خیال اس کے ذہن پر مستولی رہا ہے کہ مسلمانوں کو جو کچھ دوسرے صوبوں میں ملا ہے وہ لکھنئو پیکٹ کی وجہ سے ملا ہے اور اس وجہ سے لکھنئو پیکٹ کے مطابق پنجاب اور بنگال میں بھی عمل ہونا چاہئے لیکن یہ خیال ان کا بالکل غلط ہے- نہ مسلمانوں کا دعویٰ لکھنئو پیکٹ پر مبنی ہے اور نہ اس کی بناء پر وہ کسی تبدیلی کے لئے تیار ہیں- مسلمانوں کو اگر ہندو اکثریت کے صوبوں میں کوئی حق ملا ہے یا اس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں تو اس کی بناء لارڈ منٹو کے اعلان پر ہے- جیسا کہ میں پہلے نقل کر چکا ہوں- لارڈ منٹو نے بحیثیت وائسرائے کے مسلمانوں کے وفد کے جواب میں یہ اعلان کیا تھا کہ-:
    >آپ لوگوں نے بیان کیا ہے کہ موجودہ قوانین کی بناء پر جو جماعتیں کونسلوں کے ممبر منتخب کرتی ہیں ان سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ کسی مسلمان امیدوار کو منتخب کریں گی اور یہ کہ اگر اتفاقا وہ ایسا کر دیں تو یہ اسی صورت میں ہوگا کہ وہ امیدوار اپنی قوم سے غداری کرتے ہوئے اپنے خیالات کو اکثریت کے ہاتھ فروخت کر دے اور اس وجہ سے وہ امید وار اپنی قوم کا نمائندہ نہیں ہوگا-
    اسی طرح آپ لوگ بالکل جائز طور پر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ کے حقوق کا فیصلہ صرف آپ کی قوم کی تعداد کو مدنظر رکھ کر نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس فیصلہ کے وقت آپ کی قوم کی سیاسی اہمیت کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے اور ان خدمات کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ جو اس نے حکومت برطانیہ کی تائید میں کی ہیں- میں آپ کے اس خیال سے بالکل متفق ہوں<-
    اس عبارت سے ظاہر ہے کہ لارڈ منٹو (LORDMINTO) تسلیم کرتے ہیں کہ- )۱( جداگانہ انتخاب کے طریق کو اختیار کرنا مسلمانوں کے لئے کوئی احسان نہیں بلکہ صرف انہیں موت سے بچانے کے لئے ایسا کیا گیا ہے-
    )۲( مسلمانوں کا حق ہے کہ ان کی تعداد سے زیادہ ان کو نیابت دی جائے- پس جداگانہ انتخاب کو سائمن کمیشن یا کوئی اور جماعت احسان قرار دے کر اس کے بدلہ کی طالب نہیں ہو سکتی- وہ ایک ایسا طریق ہے جس کو لارڈ منٹو نے مسلمانوں کے حقوق کے قیام کا ذریعہ قرار دیا ہے- اسی طرح مسلمانوں کو ان کی تعداد سے زائد نیابت کا دیا جانا بھی لارڈ منٹو کے اعلان کے مطابق کسی اور صوبے میں اپنا حق چھوڑ دینے کے بدلہ میں نہیں ہے بلکہ ان کی سیاسی اہمیت اور ان کی قربانیوں کی وجہ سے ہے- پس اس زیادتی کے بدلہ میں پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کے حق کو تلف کرنا برطانیہ کے لئے ہر گز جائز نہیں ہو سکتا- برطانیہ کے نمائندے کہہ سکتے ہیں کہ لارڈمنٹو کا اعلان ایک پرزہ کاغذ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا- وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ ہم اس امر کا خیال کریں کہ ہندوستان کا بڑا حصہ مسلمان حکومت سے بطور انعام یا بطور مستاجری ہمیں ملا تھا اس لئے مسلمانوں کو کوئی سیاسی اہمیت حاصل نہیں- اور پھر وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کی خدمات کی قیمت ادا ہو چکی- یا یہ کہ اب ان سے بڑھ کر خدمت کرنے والے لوگ پیدا ہو گئے ہیں اس لئے ہم نے جن صوبہجات میں مسلمانوں کو ان کے حق سے زائد نیابت دی تھی اسے اب واپس لیتے ہیں- لیکن وہ یہ بات کسی صورت میں نہیں کہہ سکتے کہ پنجاب اور بنگال کی اکثریت کی قربانی کے بدلہ میں انہوں نے دوسریصوبہ جات کے مسلمانوں کو ان کے حق سے زائد دیا تھا کیونکہ یہ امر حکومت ہند کے ریکارڈ کے خلاف ہے- اگر انہیں وہ زیادتی گراں معلوم ہوتی ہے تو وہ بے شک اسے واپس لے لیں لیکن وہ ہم سے اس قربانی کا مطالبہ نہ کریں جو قربانی ہم کسی صورت میں کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور جو مسلمان نمائندہ بھی اس فیصلے پر راضی ہو گیا کہ پنجاب اور بنگال کی اکثریت کو قربان کر دیا جائے تو مسلمان اسے یقیناً غدار سمجھیں گے اور میرے نزدیک وہ ایسا سمجھنے میں حق بجانب ہونگے-
    کمیشن کی یہ دلیل کہ کسی قوم کو مستقل میجارٹی نہیں دی جا سکتی بالکل بے حقیقت ہے- میجارٹی کو مستقل میجارٹی ہی دی جاتی ہے- اقلیت کو میجارٹی بے شک نہیں دی جاسکتی مگر اس مستقل اور غیر مستقل کی کوئی شرط نہیں- لیکن کمیشن کا فعل تو بالکل ہی عجیب ہے کہ اس نے اقلیت کو تو قانوناً اکثریت دے دی ہے لیکن اکثریت کو اکثریت دینے سے انکار کر دیا ہے-
    ساتویں غلطی سائمن کمیشن نے اس فیصلہ میں یہ کی ہے کہ آخر میں اس حقیقت کو بھی ظاہر کر دیا ہے کہ اس کا یہ فیصلہ کن مخفی اغراض پر مبنی ہے- کمیشن پنجاب اور بنگال میں جائنٹالیکٹوریٹ (JOINTELECTORATE) کے چھوڑنے کی تحریک کے متعلق لکھتا ہے-
    >ہم نے یہ آخری تجویز جو درحقیقت مسلمانوں کو دو راستوں میں سے ایک کے منتخب کرنے کا حق دیتی ہے اس لئے پیش کی ہے- کیونکہ ہم سچے دل سے یہ خواہش رکھتے ہیں کہ جس قدر ذرائع ممکن ہو سکیں انہیں اختیار کر کے جداگانہ انتخاب کے طریق کو کم کیا جائے- اور دوسرے )یعنی مشترک( طریق انتخاب کے لئے عملی تجربہ کا موقع نکالا جائے<- ۵۸~}~
    اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ سائمن کمیشن کا اصل منشاء یہ ہے کہ مسلمانوں کو مجبور کر کے جداگانہ انتخاب کے طریق کو منسوخ کرایا جائے- گویا چونکہ حکومت ہند مسلمانوں سے جداگانہانتخاب کا وعدہ کر چکی ہے اب صاف لفظوں میں تو مسلمانوں سے کمیشن نہیں کہنا چاہتا کہ تم اس حق کو چھوڑ دو- ہاں وہ مخفی ذرائع سے زور دے کر انہیں مجبور کرنا چاہتا ہے کہ وہ اس حق کو چھوڑ دیں- مگر میں کمیشن کے ممبروں کو بتانا چاہتا ہوں کہ وعدہ کے ایفاء کا یہ بہت ہی برا طریق ہے اور علم الاخلاق کے رو سے یہ وعدہ کا پورا کرنا نہیں بلکہ اس کا توڑنا سمجھا جاتا ہے-
    کمیشن کے ممبروں کو لارڈ منٹو کا یہ اقرار نہیں بھولنا چاہئے تھا کہ جو مسلمان نمائندے جداگانہ انتخاب کے ذریعہ سے چنے جائیں` وہ حقیقی طور پر مسلمان نمائندے نہیں ہو سکتے اور اس کی روشنی میں دیکھنا چاہئے تھا کہ کیا اس قسم کے تجربے کا وقت آ گیا ہے؟ پھر کمیشن کو یہ بھی دیکھنا چاہئے تھا کہ اب بھی انتخاب کا ایک حصہ مخلوط ہے کیا اس تجربہ میں وطنیت کا کوئی نمونہ نظر آتا ہے؟ کیا یونیورسٹیوں کی نشستیں مسلمانوں کو مل رہی ہیں اگر پنجاب اور بنگال میں بھی مسلمان یونیورسٹیوں کی نشستیں حاصل نہیں کر سکے تو اس قسم کے انتخاب کی برکات کا انہیں کس طرح قائل کیا جا سکتا ہے؟ اور جب تجربہ بتاتا ہے کہ ہندو وطنیت نہیں بلکہ مذہب کو ترجیح دیتا ہے تو پھر اس تجربہ کے لئے مسلمانوں کو مشورہ دینا نہیں بلکہ ان کی اکثریت کو تباہ کر کے مجبور کرنا کس طرح قرین انصاف ہو سکتا ہے-
    میں گو تفصیل سے اس امر کو بیان نہیں کر سکتا لیکن اس جگہ مختصراً اس امر کی طرف اشارہ کر دیتا ہوں کہ جداگانہ انتخاب کا اصول اس قدر برا نہیں ہے جس قدر کہ ظاہر کیا جاتا ہے بلکہ کسی نہ کسی صورت میں اس اصل کو سیاسیات نے تسلیم کیا ہوا ہے- پس اس کی مخالفت بوجہ اصول کی خرابی کے نہیں ہے بلکہ اس کی شکل کے اختلاف کی وجہ سے ہے- ہندوستان کے جداگانہ انتخاب اور دوسرے ملکوں کے جداگانہ انتخاب میں فرق صرف یہ ہے کہ باہر کے ملکوں میں اس کی بنیاد نسل یا علاقہ یا پیشہ پر رکھی جاتی ہے اور ہندوستان میں اس کی بنیاد مذہب پر ہے- چنانچہ انگلستان میں ہائوس آف لارڈز (HOUSEOFLORD) کی بنیاد اسی اصل پر پڑی ہے- سیکنڈ چیمبر (SECONDCHAMBER) کی خوبیاں تو بعد میں معلوم ہوئی ہیں لیکن لارڈز پہلے سے اپنا حق سمجھتے تھے کہ انہیں حکومت کے مسائل میں عذر کرنے کا موقع دیا جائے اور یہ کہ ان کے انتخاب کو عام لوگوں کے ووٹ پر نہ رکھا جائے کیونکہ اس طرح ان کا انتخاب خطرہ میں ہوگا- بلکہ ان کا دعویٰ تھا کہ جب ایک شخص ذاتی حیثیت میں بادشاہ کی طرف سے پارلیمنٹ میں بیٹھنے کیلئے بلایا جائے اور وہ اس دعوت کو قبول کر لے تو آئندہ اس کی اولاد کا بھی حق ہو جائے گا کہ اسے بھی اس غرض کیلئے بلایا جائے- ۵۹~}~ یونیورسٹی کی نشستیں بھی اسی اصل کے ماتحت ہیں ورنہ کیا وجہ ہے کہ یونیورسٹیوں کو الگ ممبر دیئے جائیں- کیوں انہیں نہ کہا جائے کہ عام حلقہانتخاب سے اپنے آدمیوں کو بھیجیں- تجارت و صنعت کی نشستیں بھی ایسی ہی ہیں لیکن ان سب منافع کی حفاظت کیلئے اہمیت کے لحاظ سے بہت کم ہی علیحدہ انتخاب کی اجازت دی جاتی ہے لیکن مذہب خطرہ میں ہو تو اس طریق کو بے اصول سمجھا جاتا ہے- یہ واقعہ میں حیرت کی بات ہے اور سمجھ سے بالا ہے-
    سائمن کمیشن کی تجویز کی غلطیاں ظاہر کرنے کے بعد اب میں وہ تجاویز بتاتا ہوں جو میرے نزدیک معقول ہیں اور جن پر عمل کر کے عدل و انصاف قائم ہو سکتا ہے- سو سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ گو بنگال اور پنجاب میں مسلمان اکثریت میں ہیں لیکن اکثریت سے مراد صرف تعداد کی اکثریت نہیں ہوتی بلکہ حقیقی اکثریت ہوتی ہے اور وہ اکثریت ان صوبوں میں بھی مسلمانوں کو حاصل نہیں ہے- شروع شروع میں تو مسلمانوں کو ہر شعبہ زندگی میں خود حکومت نے کمزور کیا تھا کیونکہ عذر کے بعد حکومت کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو آگے بڑھانا حکومت کے مفاد کے خلاف ہوگا- قانون کوئی نہیں تھا لیکن عملاً حکام کی یہی پالیسی تھی کہ وہ مسلمانوں کو آگے نہیں بڑھنے دیتے تھے- یہ روح اس حد تک ترقی کر گئی تھی کہ ہمارے وطنیشاعر غالب کی سوانح میں اس بارہ میں ان کا ایک عجیب تجربہ لکھا ہے- وہ آخری شاہ دہلی کے درباری تھے اور خود نواب زادے تھے- غدر کے بعد تباہی آئی تو یہ بے چارے بھی فاقوں کو پہنچ گئے- آخر کسی نے مشورہ دیا کہ نوکری کر لیں- انہی دنوں انگریزی مدرسہ میں فارسی کی پروفیسری کی جگہ خالی ہوئی- یہ اس انگریز کے پاس جا پہنچے جس کے سپرد پروفیسر کا انتخاب تھا- وہاں پہنچے تو اس نے دیکھتے ہی کہا کہ >ہم مسلمان کو نہیں مانگتا< غالب سا حاضر جواب بھلا کہاں چوکتا تھا- بولے صاحب! مسلمان کہاں ہوں آپ کو دھوکا ہوا- اگر عمر بھر ایک دن شراب چھوڑی تو کافر اور ایک دن بھی نماز پڑھی ہو تو مسلمان- مگر ان کی حاضر جوابی کام نہ آئی اور صاحب نے گھر سے نکال کر دم لیا-
    اس قسم کے واقعات ہر روز پیش آتے تھے اور اس وقت تک پیش آتے رہے جب تک لارڈ کرزن (LORDCURZON) نے اس ظلم کا ازالہ نہ کیا اور خاص سرکلر کے ذریعہ سے تاکید کی کہ آئندہ ملازمتوں میں مسلمانوں کے حق کو مقدم رکھا جائے کیونکہ یہ قوم بہت پیچھے رہ گئی ہے- لیکن لارڈ کرزن کی تجویز بھی کامیاب نہ ہو سکی کیونکہ ہندو دفاتر پر بہت قبضہ کر چکے تھے- اب یہ حال ہے کہ دفاتر پر ان کا قبضہ ہے` بنکوں پر ان کا قبضہ ہے اور تجارت پر ان کا قبضہ ہے- پنجاب میں قانون زمیندارہ کے منظور ہونے سے پہلے قریباً تیس فیصدی زمینیں مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر ان کے ہاتھ میں جا چکی تھیں- اور بنگال میں انگریزی عمل داری کے شروع ہی میں تحصیل داری کے ٹھیکوں میں وہ ملک کے مالک ہو چکے تھے- اب جو کچھ باقی ہے وہ رہن ہے یا قرضہ کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے کیونکہ زمیندار قرض لینے پر مجبور ہے اور ہندو ساہوکار اپنی زیادہ طلبی کے راستہ میں کسی قانون کو مانع نہیں پاتا-
    پس ان حالات میں مسلمانوں کو پنجاب اور بنگال میں حقیقی اکثریت کا مالک نہیں کہا جا سکتا حالانکہ جس اکثریت سے کوئی قوم اپنے حقوق کی حفاظت کر سکتی ہے وہ حقیقی اکثریت ہے نہ کہ خالی تعدادی اکثریت- پس جب تک مسلمانوں کو حقیقی اکثریت حاصل نہ ہو جائے اس وقت تک وہ ان دونوں صوبوں میں بھی خاص حفاظت کے مستحق ہیں-
    اوپر کے تمدنی نقص کے علاوہ ایک اور نقص بھی ہے اور وہ یہ کہ فرنچائز (FRANCHISE) کے اصول ایسے بنائے گئے ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں ووٹر دوسری اقوام سے تھوڑے رہ جاتے ہیں- چنانچہ پنجاب جس میں مسلمان ۲ء ۵۵ کی تعداد میں ہیں ان کے ووٹروں کی تعداد ۷ء۴۳ ہے اور بنگال جس میں مسلمان ۶ء۵۴ ہیں- اس میں مسلمان ووٹروں کی تعداد ۱ء۴۵ فیصدی ہے- پس جب کہ بناوٹی قوانین سے مسلمانوں کے ووٹروں کی تعداد کو کم رکھا جاتا ہے تو مسلمان اکثریت میں کس طرح سمجھے جا سکتے ہیں- اگر یہ کہا جائے کہ آئندہ اس قسم کا انتظام کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کو ان کی تعداد کے مطابق ووٹر مل جائیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سوال تو جس قدر جلد ہو سکے حل ہونا چاہئے لیکن باوجود اس نقص کے دور کرنے کے مسلمان فوراً اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ ووٹر فوراً اپنے کام اور اپنے فرض کو نہیں سیکھ جاتے- کچھ عرصہ مسلمانوں کو پھر بھی چاہئے ہوگا جس میں کہ وہ اپنے ووٹروں کو ووٹ دینے کا طریق سکھا سکیں اور ان میں سیاسیات سے دلچسپی پیدا کرا سکیں- کیونکہ شروع میں غیر مسلموں کو مسلمانوں پر یہ فوقیت ہو گی کہ ان کے ووٹروں کی زیادہ تعداد پچھلے بارہ سال کے تجربہ کے ماتحت اپنے کام سے واقف ہو چکی ہو گی اور سیاسی دلچسپی اس میں پیدا ہو چکی ہوگی- نئے ووٹر کو پوری دلچسپی نہیں ہوتی- چنانچہ انگلستان میں عورتوں نے کس زور سے ووٹ کا حق حاصل کیا تھا لیکن اس کے استعمال میں وہ شوق ظاہر نہیں کیا جس کی وجہ سے یہی تھی کہ انہیں ابھی ووٹ کے استعمال کا طریق نہیں آیا اور نہ سیاسیات کی تفصیلات سے دلچسپی پیدا ہوئی ہے-
    خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان پنجاب اور بنگال میں گو ظاہراً اکثریت میں ہیں لیکن طاقت کے لحاظ سے اقلیت میں ہیں اور اس وجہ سے ویسے ہی حفاظت کے مستحق ہیں جس طرح کہ ظاہریاقلیتیں- کیونکہ زیادہ آدمیوں پر ظلم ہوتے رہنا تھوڑے آدمیوں پر ظلم ہوتے رہنے سے زیادہ برا اور ظالمانہ فعل ہے- لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک صداقت ہے کہ اکثریت ہمیشہ کے لئے حفاظت کی مستحق نہیں ہو سکتی کیونکہ اس طرح دائمی حفاظت سے مطمئن ہو کر وہ کمزور ہونے لگتی ہے اور نہ صرف خود تباہ ہوتی ہے بلکہ ملک کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے- پس جہاں تک اکثریت کی حفاظت کا سوال ہے اس کا کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ یہ بات صرف عارضی ہو سکتی ہے اور اس حفاظت کا عارضی رکھنا ملک کے لئے ہی ضروری نہیں بلکہ اکثریت کی اپنی زندگی کے قیام کے لئے بھی ضروری ہے-
    اس اصل کو پیش کرنے کے بعد میں اب پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کے سوال کو لیتا ہوں- میں بتا چکا ہوں کہ میرے نزدیک اکثریت اسی وقت حفاظت کی مستحق ہوتی ہے جب وہ معنوی طور پر اقلیت ہو اور یہ کہ وہ اس صورت میں بھی دائمی حفاظت کی مستحق نہیں ہوتی- پس اس اصل کے ماتحت پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کو جن کی نسبت میں یہ ثابت کر چکا ہوں کہ معنوی طور پر وہ اقلیت ہی ہیں گو حفاظت تو مل سکتی ہے لیکن صرف عارضی حفاظت مل سکتی ہے-
    پس ہمیں جہاں ان دونوں صوبوں میں مسلمانوں کی حفاظت کا سامان مہیا کرنا چاہئے وہاں یہ بھی غور کرنا چاہئے کہ اس حفاظت کے سوال کو کب اور کس طرح ختم کیا جائے- بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب اکثریت کہہ دے گی کہ اب ہمیں حفاظت کی ضرروت نہیں اس وقت حفاظتیتدابیر کو ختم کر دیا جائے گا- لیکن میں پہلے بتا چکا ہوں کہ یہ تدبیر قابل عمل نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ جس وقت اکثریت کہے کہ اب ہمیں حفاظتی تدابیر کی ضرورت نہیں اس وقت دوسریاقوام یہ کہہ دیں کہ اب ہم ان کے چھوڑنے پر راضی نہیں اور اس طرح صرف ضد اور تعصب کی وجہ سے نہ کہ حقیقی ضرورت کے لحاظ سے حفاظتی تدابیر جو کہ درحقیقت وقتیعلاج ہوتی ہیں دائمی طور پر ملک کے گلے پڑ جائیں- اس کے علاوہ میرے نزدیک اس تدبیر کو اختیار کرنے میں یہ نقص بھی ہے کہ گو ہم یہ کہتے رہیں کہ یہ تدابیر وقتی ہیں لیکن جو قوم ان کے ذریعہ سے فائدہ اٹھا رہی ہو گی وہ اس خیال سے کہ ہمارے ہی اختیار میں تو بات ہے جب چاہیں گے ان تدابیر کو چھوڑ دیں گے` اپنی کمزوری کو دور کرنے کے لئے جلد کوشش نہیں کریں گی اور نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ بجائے اپنے نفس میں بیداری پیدا کرنے یا دوسری قوم سے صلح کی کوشش کرتے رہنے کے حفاظتی قانون پر دارومدار رکھنے کی عادی ہو جائیں گی اور ہمیشہ کے لئے ان کی تدابیر کی حفاظت کی آڑ لینے پر مجبور رہے گی-
    پس ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم کوئی ایسا طریق ایجاد کریں جس کی مدد سے ہماری تینوں غرضیں پوری ہو جائیں- اول ان حفاظتی تدابیر کو بغیر از سر نو جھگڑا پیدا کرنے کے ختم کیا جا سکے- دوم اکثریت اپنی حالت کو جلد سے جلد اچھا کرنے پر مجبور ہو- سوم حفاظتی تدابیر فساد اور جھگڑے کر بڑھانے میں ممد نہ ہوں- سو ان تینوں غرضوں کو پورا کرنے کے لئے میرے نزدیک صرف ایک ہی تدبیر اختیار کی جا سکتی ہے اور وہ یہ کہ چند سال مقرر کر دیے جائیں کہ اس وقت تک یہ حفاظتی تدابیر رہیں گی` اس کے بعد خود بخود منسوخ ہو جائیں گی- اس طرح تینوں فائدے حاصل ہو جائیں گے کیونکہ سال مقرر ہونے کی وجہ سے کسی جماعت کو کسی وقت بھی یہ کہنے کا موقع نہ ملے گا کہ ہم انہیں ختم نہیں ہونے دیں گے- دوسرے اکثریت کو یہ خیال رہے گا کہ صرف فلاں وقت تک یہ حفاظت ہے اس کے بعد ختم ہو جائے گی اس لئے وہ اس قانون سے مطمئن نہیں ہو گی بلکہ پورا زور لگائے گی کہ اس سے پہلے پہلے وہ اپنے افراد کو بیدار کر لے تا کہ اس کے منسوخ ہونے پر وہ اپنی حفاظت خود کر سکے- تیسرے سب اقوام اپنے اندر صلح کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہیں گی کیونکہ ہر ایک فریق جان لے گا کہ وہ دوسرے کو اس کی غفلت کی حالت میں کمزور نہیں کر سکتا اور یہ کہ کچھ عرصہ کے بعد سب کو مل کر کام کرنا ہوگا- پس آئندہ آنے والے مخلوط انتخاب کے خیال سے جب کہ ہر ایک امیدوار کو اپنی ہمسایہ قوم کی امداد کا خواہاں ہونا پڑے گا` سب قوموں کے افراد آپس کی رنجش اور کدورت کو کم کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے- غرض عرصہ کی تعیین سے یہ تینوں فوائد حاصل ہو جاتے ہیں- اس لئے سب سے بہتر تدبیر یہی ہے کہ عرصہ کی تعیین ہو جائے-
    اب رہا یہ سوال کہ کتنا عرصہ اکثریت کو بیدار کرنے کے لئے ملنا چاہئے سو اس کا جواب میں پہلے دے چکا ہوں- اس جگہ اصولی طور پر اس قدر اور کہنا چاہتا ہوں کہ کامل صوبہ جاتی آزادی کے حصول کے بعد پندرہ سال یعنی تین الیکشن کا عرصہ اس غرض کے لئے ضروری ہے اور صوبہ جاتی حکومت کی تکمیل کا عرصہ اگر ہم دس سال فرض کریں تو پچیس سال کا عرصہ اس غرض کے لئے بہت مناسب ہے- اس عرصہ کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ اس عرصہ سے کم میں قوم کی تعلیم اور اقتصادی حالت کو درست کرنا بہت مشکل کام ہے-
    جہاں اقلیتوں کو حفاظت دی گئی ہے ان کے متعلق بھی میں پہلے لکھ آیا ہوں کہ اس عرصہ کے بعد جداگانہ انتخاب کا حق ان سے لے لیا جائے لیکن مقررہ نشستوں کے ساتھ مخلوطانتخاب کا حق ان کے پاس اس وقت تک رہے جب تک ان کی مرضی ہو-
    اس کے بعد میں حق نیابت کی مقدار کے سوال کو لیتا ہوں- جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ اقلیتیں دو قسم کی ہوتی ہیں- ایک تعداد کے لحاظ سے اور ایک ضعف اور کمزوری کے لحاظ سے- پس اگر اقلیتوں کے حق کی حفاظت کی ضرورت تسلیم کر لی جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جو اقلیت ظاہری نہیں بلکہ معنوی ہے وہ بھی اسی طرح حفاظت کی محتاج ہے جس طرح کہ ظاہری- اور جب یہ تسلیم کر لیا جائے کہ معنوی اقلیت بھی حفاظت کی محتاج ہوتی ہے` تو اسے طاقت پہنچانے کے لئے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ جس قدر زیادہ سے زیادہ حق اسے جائز طور پر دیا جا سکے اسے ملنا چاہئے تاکہ وہ طاقت حاصل کر سکے- اگر زیادہ سے زیادہ جائز حق اسے نہ دیا جائے تو جس غرض سے اسے حفاظت دی گئی ہے وہ پوری نہیں ہو سکے گی اور ایک اکثریت کا زیادہ سے زیادہ جائز حق وہ تناسب نیابت ہے جو اسے تعداد کے لحاظ سے اسے مل سکتا ہے- پس عقلا ایک اکثریت جو اس قدر کمزور ہو کہ اقلیت سے بھی اسے خطرہ لاحق ہو اسے پورے طور پر وہ حق ملنا چاہئے کہ جو تعداد کے لحاظ سے اسے مل سکتا ہے- اور اس دلیل کی بناء پر پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کو اگر واقعہ میں اپنی کمزوری دور کرنے کا موقع دینا ہے تو لازمی طور پر پچپن اور چون فیصدی حق نیابت دینا لازمی ہے-
    چونکہ میرے مقرر کردہ اصول کے مطابق پنجاب اور بنگال کی اکثریت کو صرف ایک معین مدت تک جو عقلاً ان کے لئے اپنی کمزوری دور کرنے کے لئے ضروری ہے حفاظت حاصل ہو گی اس لئے کمیشن کا یہ اعتراض بھی دور ہو جاتا ہے کہ قانونا کسی کو مستقل اکثریت نہیں مل سکتی- کیونکہ یہ اکثریت مستقل نہیں ہو گی بلکہ عارضی ہو گی اور پچیس سال کے بعد سب فریق آزاد ہوں گے کہ ووٹروں کو اپنی پالیسی بتا کر اپنے حق میں کر لیں بلکہ اس عرصہ میں سیاسی پالیسیاں قائم ہو چکی ہوں گی- غالب امید ہے کہ مذہبی بنیاد پر الیکشن کی جنگ کا زمانہ بھی گذر چکا ہو گا اور سیاسی سوالات پر الیکشن کا مقابلہ شروع ہو چکا ہو گا اور ان احتیاطوں کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی جو آج نہایت اہم اور ضروری معلوم ہوتی ہیں-
    کمیشن کے اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے کہ اکثریت کی اکثریت کو قانون کی مدد سے قائم رکھنا اصول کے خلاف ہے میں ایک تجویز بھی پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ پنجاب اور بنگال کو دو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے- یعنی ایک وہ حلقہ ہائے انتخاب جن میں ایک مذہب کے پیرئووں کے ووٹ اسی فیصدی یا اس سے زائد ہوں- یعنی اکثریت اور اقلیتوں کے ووٹوں کی نسبت ایک اور چار کی ہو یا اس سے بھی زیادہ ہو- ایسے تمام حلقہ ہائے انتخاب میں مخلوط انتخاب کر دیا جائے اور جن حلقہ ہائے انتخاب میں اس سے کم فرق ہو ان میں جداگانہ انتخاب رہے- اس طرح دونوں ملکوں میں بعض حصوں سے تو جداگانہ انتخاب پر ممبر آئیں گے اور بعض حصوں سے مخلوط انتخاب کے ذریعہ- لیکن چونکہ نسبت ووٹروں کی ایک اور چار کی ہو گی اس لئے جب تک اکتیسں فیصدی ووٹ اقلیت اکثریت سے نہیں چھینے گی اس وقت تک اس پر فتح نہیں پا سکے کی- اس ذریعہ سے ایک ہی وقت میں دونوں قسم کے تجربے شروع ہو جائیں گے اور اکثریت کو کوئی ایسا خطرہ بھی نہ ہو گا جس کا علاج نہ ہو سکے- جس حلقہ میں جداگانہ انتخاب رہے وہ انہیں شرائط کے ساتھ جو میں پہلے لکھ چکا ہوں پچیس سال کے بعد بند ہو جائے- اس طریق سے اکثریت قانونی اکثریت نہیں کہلا سکے گی کیونکہ اس کا ایک حصہ مخلوط انتخاب سے بغیر کسی قانون کی مدد کے آیا ہو گا- اگر کہا جائے کہ ایک اور چار کا فرق ایسا بڑا فرق ہے کہ اس میں اکثریت کا کامیاب ہونا یقینی ہے پس یہ بھی ایک قسم کی قانونی مدد ہے- تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ فائدہ دونوں قوموں کو یکساں ملے گا- دوسرے اگر یہ بات قانونی مدد کہلانے کی مستحق ہو گی تو کیوں سی-پی اور مدراس کے انتخاب جہاں مسیحی اور مسلمان مل کر بھی پندرہ فیصدی سے کم ہیں قانونی طور پر ہندئووں کو اکثریت دینے والے نہ قرار دیئے جائیں؟
    دوسرا سوال ان صوبوں کا ہے جن میں مسلمانوں کی اقلیت ہے- سو صوبہ سرحد اور سندھ دونوں کے آزاد حکومت حاصل کرنے پر اس سوال کا حل خودبخود ہو جاتا ہے- اگر ہندوصاحبان بحیثیت مجموعی مسلمانوں سے سمجھوتہ کرنا چاہیں گے تو ان دونوں صوبوں کے مسلمانوں سے سمجھوتہ کر لیں گے- جو حق وہ اپنی اکثریت کے صوبوں میں مسلمانوں کو دیں گے وہی حق ان کو ان دونوں صوبوں میں اور بلوچستان میں مل جائے گا اور اگر ہندو صاحبان نے بحیثیت قوم سمجھوتہ نہ کرنا چاہا تو ان نئے اسلامی صوبوں میں بھی انہیں کوئی زائد حق نہیں مل سکے گا کیونکہ مسلمان بھی اپنی قوم کا ویسا ہی درد رکھتے ہیں جیسا کہ ہندو اپنی قوم کا رکھتے ہیں- اس صورت میں مسلمانوں کا دعویٰ لارڈ منٹو (LORDMINTO) کے اعلان کی بناء پر زائد نیابت کے لئے قائم رہے گا- لیکن ہندوئوں کو اسلامی صوبوں سے زائد حق مانگنے کا حق نہ ہو گا اس لئے کہ ان کے دعویٰ کی بنیاد کسی گورنمنٹ کے اعلان پر نہیں ہے بلکہ صرف سمجھوتہ پر ہے- پس سمجھوتہ نہ ہونے کی صورت میں ان کا مطالبہ ناجائز ہو جائے گا-
    اس سوال کو اصولی طور پر حل کر لینے کے بعد جب ہم تفصیلات کی طرف آتے ہیں تو ہمیں بہت سی مشکلات معلوم ہوتی ہیں- چنانچہ جب ہم پنجاب اور بنگال کے انتخاب کے حلقوں کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسی طرح بنائے گئے ہیں کہ ان کی بناء پر مسلمانوں کی اکثریت خطرہ میں پڑ جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ بہت سے حلقے مخصوص فوائد کے قرار دیئے گئے ہیں- اگر مسلمانوں کو عام حلقوں سے کافی نیابت مل بھی جائے تو مخصوص حلقے توازن کو خراب کر دیتے ہیں-
    جہاں تک مجھے معلوم ہے یہ سوال حکومت کو بہت پریشان کر رہا ہے لیکن اگر غور سے دیکھیں تو یہ پریشانی خود اپنی پیدا کی ہوئی ہے کیونکہ جس قدر وسیع مخصوص فوائد ہندوستان میں ہیں دنیا بھر میں اور کسی جگہ نہیں ہیں- دوسرے ممالک میں تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ بڑا زمیندار` بڑا تاجر` بڑا صناع اپنی دولت اور اپنے رسوخ کے ذریعہ سے دوسرے لوگوں کی نسبت کونسلوں میں آنے کا زیادہ موقع حاصل کر سکتا ہے لیکن ہمارے ہاں براہمنی طریق نے ہر شعبہ پر قبضہ کر رکھا ہے- اگر نسلی براہمن کو ہم اس کے مقام سے ہٹانے میں کامیاب بھی ہو جائیں تو بھی یہ نیا براہمن جو پیشوں یا کاموں کی وجہ سے اپنے آپ کو باقی دنیا سے بالا سمجھتا ہے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا او رہمارے ملک کے نظام کو درہم برہم کر دیتا ہے-
    پنجاب میں علاوہ عام حلقہ ہائے انتخاب کے مندرجہ ذیل حلقہ ہائے انتخاب میں ایک یونیورسٹی کا` ایک بلوچ سرداروں کا` ایک مسلمان زمینداروں کا` ایک ہندو زمینداروں کا` ایک سکھ زمینداروں کا` دو تجارتی` ایک مزدوروں کا` ایک مسیحیوں کا` ایک یوروپین کا` ایک اینگلوانڈین کا` ایک فوجی` گویا کل چہتر غیر سرکاری ممبروں میں سے بارہ حلقے مخصوص ہیں یعنی سولہ فیصدی اور یہ ظاہر ہے کہ جہاں سولہ فیصدی بھرتی مخصوص حلقوں سے ہوگی وہاں قوموں کا توازن کب قائم رہ سکتا ہے- دنیا کا اور کونسا ملک ہے جس میں اس سے نصف بھرتی بھی مخصوص حلقوں سے کی جاتی ہو؟
    تفصیلا نگاہ ڈالنے کے لئے زمینداروں کا حلقہ ہی لے لو- کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ زمیندار کو اپنے انتخاب کے لئے خاص حلقہ کی ضرورت ہے؟ خود سائمن کمیشن نے بھی اس امر پر حیرت ظاہر کی ہے کہ یہ حلقہ الگ کیوں ہے- اور ثابت کیا ہے کہ زمیندار علاوہ اپنے حلقہ کے دوسرے حلقوں سے بھی بہت زیادہ تعداد میں کونسلوں میں داخل ہوئے ہیں پس کوئی وجہ نہیں کہ ان حلقوں کو قائم رکھا جائے- خاص حلقے یا تو اس وجہ سے بنائے جاتے ہیں کہ کسی خاص گروہ کو دوسروں سے مل کر انتخاب کے ذریعہ سے حق نہ مل سکتا ہو- یا اس لئے بنائے جاتے ہیں کہ ملک میں دو کونسلیں ہوں- جیسے کہ ہائوس آف لارڈز (HOUSEOFLORDS)اور ہائوس آف کامنز (HOUSEOFCOMMONS) میں فرق کیا گیا ہے- لیکن جب کہ زمینداروں کو نہ خطرہ ہے اور نہ کسی دوسری مجلس کا سوال ہے پھر انہیں خاص حق کیوں دیا جائے- میری یہ تحریر اور بھی وزنی ہو جاتی ہے جب کہ اس امر کو یاد رکھا جائے کہ میں خود ان زمینداروں میں سے ہوں جنہیں اس خاص حق کا فائدہ پہنچتا ہے- اور اس حلقہ کے اڑانے پر میرے اور میرے چار بھائیوں کا یہ حق تلف ہوتا ہے- لیکن باوجود اس کے جو فضول بات ہے میں اسے فضول کہنے سے نہیں رک سکتا-
    اسی طرح تجارتی حلقہ ہے- وجہ کیا ہے کہ اس حلقہ کو قائم رکھا جائے؟ کیا تاجروں کو دوسرے حلقہ میں کھڑا ہونے سے کوئی روک ہے؟ اگر روک نہیں تو بڑا تاجر جو بڑا رسوخ بھی رکھتا ہے کیوں دوسرے حلقہ سے کھڑا نہیں ہو سکتا؟ کیا انگلستان میں یا امریکہ میں تاجر کو حق دیا گیا ہے کہ ہندوستان میں دیا جائے؟ تاجر بے شک عام حلقہ سے کھڑے ہوں اور سب ممبریاں لے لیں لیکن انہیں خاص طور پر حق کیوں دیا جائے؟ اس طرح فوجی ممبر ہے- جنگ عظیم میں شامل ہونے والے فوجیوں کو خاص طور پر ووٹ کا حق دیا گیا ہے- پس اگر فوجی کوئی خاص فوائد کونسلوں سے وابستہ رکھتے ہیں تو اپنے حد سے بڑھے ہوئے ووٹنگ (VOTING) کے حق سے کام لیکر فوجیوں کو کونسلوں میں بھیج سکتے ہیں- الگ فوجی ممبر مقرر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے- یہی حال مزدور ممبر کا ہے کافی طور پر مزدور ووٹر ہر ایک صوبہ میں موجود ہیں وہ اپنے ووٹ سے کام لے کر اپنے آدمی بھیج سکتے ہیں- یہ ایک ایسی بین بات ہے کہ خود سائمن کمیشن کے ایک ایسے ممبر نے جو مزدور پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اس پر اعتراض کیا ہے اور نامزدگی کو اور مزدوروں کے مفاد کے خلاف بتایا ہے- اگر یہ حلقہ ہائے مخصوص اڑا دیئے جائیں تو توازن کا قائم رکھنا آسان ہو جاتا ہے- بنگال کے زمینداروں کے حلقے اور تجارتی حلقے اگر اڑا دیئے جائیں تو مختلف اقوام کو ان کی تعداد کے مطابق ووٹ دینا نسبتاً بہت آسان ہو جاتا ہے-
    اب ایک انگریزوں کا سوال رہ جاتا ہے- میرے نزدیک اس وجہ سے کہ اس وقت بوجہ حکومت سے ناراضگی کے ان کے خلاف خاص جوش ہے وہ اس امر کے مستحق ہیں کہ انہیں خاص نیابت ملے لیکن ان میں بھی تجارتی اور عام حلقوں کی تقسیم فضول ہے- جس قدر تعداد کہ انگریزی فوائد کی حفاظت کے لئے ضروری سمجھی جائے اس قدر تعداد ان کے لئے مقرر کر دی جائے- تاجر بھی اور دوسرے بھی اپنے اپنے اثر کے حلقے سے کھڑے ہو کر اپنی نیابت حاصل کر لیں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا- مگر ہمیں اس پر ضرور اعتراض ہے کہ انگریزوں کو خاص حصہ دینے کے لئے ایسے اصول ایجاد کئے جائیں جن کے ماتحت ہندوئوں کو بھی اپنے حق سے زائد لینے کا موقع مل جائے- جہاں تک میرا خیال ہے یہ فوائد صرف انگریزوں کی نیابت کو مضبوط کرنے کے لئے ایجاد کئے گئے ہیں لیکن اب مسلمان اس طریق کی مضرتوں سے آگاہ ہو چکے ہیں- وہ انگریزوں کے خاص حق پر کوئی اعتراض نہیں کریں گے اور انگریزوں کے لئے جو خطرات ہیں ان کو دیکھ کر انہیں کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہئے- لیکن ایسے اصول تجویز کر کے انہیں حق نہ دیئے جائیں کہ ساتھ ہی مسلمانوں کے حق کا ایک ٹکڑا اسی اصل کے ماتحت ہندو بھی کاٹ لیں-
    جہاں تک میں سمجھتا ہوں پنجاب کی ممبریوں کی تقسیم عمدگی سے اس طرح ہو سکتی ہے کہ دو فیصدی حق نیابت انگریزوں اور اینگلو انڈینز (ANGLOINDIANS) کو دے دیا جائے- ان کے تجارتی اور دوسرے سب فوائد بھی اس میں شامل ہوں لیکن تجارت کے نام سے علیحدہ حق نہ دیا جائے- ایک سیٹ یونیورسٹی کو ملے لیکن شرط یہ کر دی جائے کہ ایک دفعہ ہندو یا سکھ ممبر ہو اور دوسری دفعہ مسلمان ممبر گو انتخاب مخلوط ہو- یا پھر یہ کیا جائے کہ دو نشستیں یونیورسٹی کو دے دی جائیں لیکن ان میں سے ایک مسلمان کے لئے اور ایک ہندو یا سکھ کے لئے وقف ہو- انتخاب مخلوط ہی ہو- اور یا تو واحد قابل انتقال ووٹ سے انتخاب ہو لیکن شرط یہ ہو کہ دوسرا ممبر وہ نہیں ہوگا جسے دوسرے نمبر پر ووٹ ملیں بلکہ وہ مسلمان امیدوار ہوگا جسے مسلمانوں میں سے سب سے زائد ووٹ ملیں- یا ہر ووٹر کو دو ووٹ دیئے جائیں جن میں سے ایک وہ ہندو کو دینے کا اور ایک مسلمان کو دینے کا پابند ہو یا اور ایسا ہی کوئی طریق اختیار کیا جائے- خاص زمینداروں کو اگر الگ سیٹ دینی ہی ہے تو صرف ڈیرہ غازیخان کے تمنداروں کو جو چھوٹی قسم کے رولنگ چیفس (RULINGCHIEFS) ہیں ایک سیٹ دے دی جائے لیکن اس صورت میں ان کے لئے قاعدہ ہونا چاہئے کہ وہ دوسرے حلقوں میں سے نہیں کھڑے ہو سکتے-
    اگر ہم پنجاب کے دو سو ممبر فرض کریں جو ضرور ہونے چاہئیں تو یونیورسٹی کی دو اور تمنداروں کی ایک نشست فرض کر کے سات نشستیں ختم ہو جاتی ہیں اور ایک سو ترانوے )۱۹۳( نشستیں باقی رہ جاتی ہیں- آبادی کے لحاظ سے مسلمان پچپن فیصدی سے کچھ زیادہ ہیں- ہندو اکتیس فیصدی کے قریب ہیں اور سکھ بارہ فیصدی ہیں اور مسیحی اور ادنیٰ اقوام وغیرہ ایک فیصدی سے کچھ زیادہ ہیں- پس تعداد آبادی کے لحاظ سے ۱۶ء۲۳ سکھوں کو اور ۸ء۵۹ ہندوئوں کو اور ۵ء۲ مسیحیوں اور ادنیٰ اقوام کو ممبریاں ملنی چاہئیں- ہم ہندوئوں کی نشستیں پوری ساٹھ فرض کر لیتے ہیں اور اسی طرح سکھوں مسیحیوں اور ادنیٰ اقوام کی کسر پوری ممبری فرض کر کے چوبیس اور تین ممبر فرض کر لیتے ہیں- پس بقیہ ۱۹۳ ممبروں میں ایک سو چھ ممبر مسلمان ہوئے- چونکہ ایک یونیورسٹی کی اور ایک تمنداروں کی نشست ان کو مل چکی ہے اس لئے ایک سو آٹھ ممبر ان کے ہوئے- اپنی تعداد کے لحاظ سے انہیں ایک سو گیارہ ممبریاں ملنی چاہئیں تھیں- پس اس حساب کے رو سے انہوں نے تین ممبریاں انگریزوں اور دوسری اقوام کو دیں- اس کے مقابل پر ہندوئوں کی یونیورسٹی کی نشست ملا کر اکسٹھ ممبریاں ہوئیں اور انہیں ایک ممبری اقلیتوں کے لئے قربان کرنی پڑی-
    جہاں تک میں غور کرتا ہوں اس امر کو دیکھ کر کہ سکھ اور ہندو تمدنی طور پر ایک ہیں اور ایک دوسرے کے حقوق نہ صرف ادا کرتے ہیں بلکہ دوسری اقوام کے مقابل پر اکٹھے ہو جاتے ہیں یہ انتظام نہایت منصفانہ انتظام ہے اور اس میں کسی قوم کا حق نہیں مارا جاتا-
    بنگال کی نسبت میرے نزدیک بہتر طریق یہ ہوگا کہ چھ فیصدی انگریزوں اور اینگلو ]2 [lrmانڈینز (ANGLOINDIANS) کو نشستیں دے دی جائیں- خواہ تجارت پیشہ ہوں یا دوسرے جو چارفیصدی مسلم