1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

الہامی منطق ۔ مسیح میں خدائی صفات نہ پائی جاتی تھیں

'عیسائیت ۔ مسیحیت' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 6, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    الہامی منطق

    (مسیح میں خدائی صفات نہ پائی جاتی تھیں۔)

    ۱۔ خدا آزمایا نہیں جاتا۔ (یعقوب ۱/۱۳)

    مسیح آزمایا گیا۔ (متی۴/۱ و عبرانیوں ۴/۱۵) لہٰذا مسیح خدا نہیں۔

    ۲۔ خدا نہیں مرتا نہیں۔ (۱۔تیمتھس۶/۱۶ و دانی ایل ۶/۲۶)

    مسیح مرا۔ (متی۲۷/۵۰ و یوحنا۱۹/۳۰ و رومیوں۵/۶)

    نتیجہ مسیح خدا نہیں ہے۔

    ۳۔ خدا قیوم ہے۔

    مسیح قیوم نہیں (متی ۲۰/۲۳۔ اپنے دائیں بائیں بٹھانا میرا کام نہیں)

    ۴۔ اﷲ تعالیٰ کسی سے دعا نہیں مانگتا۔

    مسیح نے دعا مانگی۔ (لوقا ۵/۱۶ و ۲۲/۴۴)

    ۵۔ خدا قادرِ مطلق ہے۔ آپ سے ہر کام کرسکتا ہے۔ (۲۔کرنتھیوں ۷/۱)

    مسیح قادرِ مطلق نہ تھا اور آپ سے ہر کام نہ کرسکتا تھا۔ (یوحنا ۵/۳۰ و ۸/۲۸)

    صغریٰ:۔ اَلْمَسِیْحُ غَیْرُ قَادِرٍ یعنی مسیح قادر مطلق نہیں ہے

    کبریٰ:۔ وَ کُلُّ مَا ھُوَ غَیْرُ قَادِرٍ فَلَیْسَ ھُوَ بِاِلٰہٍ یعنی جو بھی غیر قادر ہے وہ الٰہ نہیں ہو سکتا۔

    نتیجہ:۔ فَالْمَسِیْحُ غَیْرُ اِلٰہٍ پس میسح الہٰ نہیں ہے

    ۶۔ صرف خدا عالم الغیب ہے۔ (۱۔سلاطین ۸/۳۹)

    (’’تو ہاں تُو ہی اکیلا سارے بنی آدم کے دلوں کو جانتا ہے۔‘‘)

    لیکن مسیح عالم الغیب نہ تھا۔ ثبوت کے لیے ملاحظہ ہو۔ (مرقس ۱۳/۳۲)

    ’’لیکن اس دن یا اس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔ نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا۔ مگر باپ۔‘‘

    ب۔ انجیر کا درخت۔ (متی ۱۸،۲۱/۱۹)

    ج۔ مجھے کس نے چھوا۔ (لوقا ۴۵،۸/۴۶)

    د۔ پطرس کو جنت کی کنجیاں (متی ۱۶/۱۹)

    مگر بعد میں پطرس شیطان (متی ۱۶/۲۳)

    ۷۔ خدا قائم بالذات ہے۔

    مسیح قائم بالذات نہیں۔ (۲۔کرنتھیوں ۱۳/۴ و رومیوں ۶/۱۰)

    ۸۔ خدا جو کہتا ہے ہو جاتا ہے۔ (حزقی ایل ۱۲/۲۵ و زبور ۵۰/۱ و مرقس ۱۴/۳۶)

    مسیح جو کہتا ہے وہ نہیں ہوتا۔

    (الف) متی ۲۰/۲۳۔ اپنے دائیں بائیں بٹھانا میرا کام نہیں۔

    ب۔ یوحنا ۵/۳۰۔ ’’میں اپنے آپ سے کچھ نہیں کرسکتا۔‘‘

    ج۔ متی ۱۶/۲۸۔ شاگردوں سے کہا کہ تم میں سے کئی زندہ ہوں گے کہ میں آسمان سے واپس آجاؤں گا لیکن ابھی تک نہیں آیا۔ شاگرد سب مرگئے۔

    ۹۔ خدا نہیں تھکتا اور ماندہ نہیں ہوتا۔ (یسعیاہ ۴۰/۲۸ و یرمیاہ ۶؍۱۰)

    مسیح تھکا ماندہ ہوا۔ (یوحنا ۴/۶۔ چنانچہ یسوع سفر سے تھکا ماندہ ہوکر اس کوئیں پر یونہی بیٹھ گیا۔)

    ۱۰۔ ’’خدا تھکے ہوؤں کو زور بخشتا ہے اور ناتوانوں کی توانائی زیادہ کرتا ہے۔‘‘ (یسعیاہ ۴۰/۲۹ و زبور ۱۴۵/۱۴)

    مگر مسیح کا اپنا یہ حال ہے کہ:۔ ’’لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور پرندوں کے گھونسلے مگر ابن آدم کے لیے سر دھرنے کی جگہ نہیں۔‘‘ (متی ۸/۲۰) لہٰذا مسیح خدا نہیں۔

    وَ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ یعنی یہ 10 دلائل پورے ہو گئے
     

اس صفحے کو مشتہر کریں