1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

اسوہ انسان کامل ۔ یونی کوڈ

'یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 23, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    اسوہ انسان کامل ۔ یونی کوڈ
    حضرت محمد مصطفی ؐکا سوانحی خاکہ
    کتاب اسوۂ انسان کامل میں سوانح کی ترتیب مہ وسال کی بجائے رسول اللہؐ کے اخلاق فاضلہ اور اُسوۂ حسنہ پر واقعاتی انداز میں بحث کی گئی ہے۔ اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آغاز میں ایک مختصر سوانحی خاکہ پیش کردیا جائے جو مختلف اہم واقعات سیرت کے لئے انڈیکس کا کام دے سکے۔ ہمارے نبی شاہِ دوعالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت اس تاریخی سال میں ہوئی، جب خانہ کعبہ پریمن کے گورنر ابرہہ نے حملہ کیاتھا۔ محمود پاشا فلکی مصری کی تحقیق کے مطابق یہ سال 571ء تھا اور 20؍اپریل (مطابق 9ربیع الاوّل) تاریخ تھی۔ چالیس سال کی عمر میں حضرت محمدمصطفی ؐ پر وحی قرآنی کا نزول ہوا۔ اس تسلسل میں اہم تاریخی سوانح کا خاکہ یُوں ہے۔
    ٭
    بعثت نبوی کا پہلا سال610ء ۔ نزول قرآن کا آغاز
    ٭
    پانچواں سال614ء ۔ پہلی ہجرت حبشہ
    ٭
    ساتواں سال615ء ۔ محاصرہ شعب ابی طالب،معجزہ شق القمر
    ٭
    دسواں سال619ء
    وفات حضرت خدیجہ و ابوطالب،نکاح حضرت عائشہ ؓ و حضرت سودہؓ، سفر طائف
    ٭
    گیارہواں سال620ء ۔ اہل یثرب سے ملاقات
    ٭
    بارھواں سال 621ء ۔ واقعۂ معراج
    ٭
    تیرھواں سال622ء ۔ بیعت عقبہ ثانیہ ، ہجرت مدینہ
    ٭
    ہجرت کاپہلا سال1ھ مطابق622 ء مدینہ آمد،مسجد قباء اور مسجد نبوی کی بنیاد، ابتدائے اذان،مؤاخات انصار و مہاجرین، معاہدہ یہود
    ٭
    2ھ بمطابق 623ء تحویل قبلہ ،فرضیت رمضان،عیدالفطر،جنگ بدر،حضرت عائشہ ؓ سے شادی
    ٭
    3ھ مطابق624ء غزوۂ قینقاع،پہلی عیدالاضحی،حضرت علیؓ کا حضرت فاطمہؓسے نکاح، حضرت عثمانؓ سے اُمّ کلثوم کی شادی، رسول اللہؐ کی حضرت حفصہؓ سے شادی،غزوہ ٔاحد
    ٭
    4ھ مطابق625ء واقعہ رجیع و بئر معونہ،یہودی قبیلہ بنو نضیر کا مدینہ سے اخراج، رسول اللہؐ کی حضرت امّ سلمہ ؓ سے شادی، غزوۂ بدر الموعد
    ٭
    5ھ مطابق 626ء غزوۂ دومۃ الجندل،مدینہ میں چاندگرھن اور نماز خسوف، غزوۂ بنو مصطلق اور واقعہ افک غزوۂ خندق، غزوۂ بنوقریظہ۔
    ٭
    6ھ مطابق627-28ء غزوۂ بنو لحیان، ثمامہ بن اثال رئیس یمامہ کا قبول اسلام، حضرت ابوالعاص داماد رسول کا قبول اسلام، صلح حدیبیہ اور بیعت رضوان
    ٭
    7ھ مطابق628-29ء
    شاہان مملکت کو تبلیغی خطوط، غزوۂ ذی قرد، غزوۂ خیبر،حضرت صفیہؓ سے شادی، اہل فدک سے مصالحت،آنحضرتؐ کو زہر دینے کی سازش، مہاجرین حبشہ کی واپسی، حضرت ابوھریرہؓ کا قبول اسلام،غزوۂ ذات الرقاع اور صلوۃ الخوف،عمرۃ القضاء
    ٭
    8ھ مطابق629ء غزوۂ مُوتہ ، غزوۂ فتح مکّہ، غزوہ حنین، غزوۂ طائف،مدینہ میںقبائل عرب کے وفودکی آمد کا آغاز
    ٭
    9ھ مطابق630ء
    غزوۂ تبوک، وفود عرب کی کثرت سے آمد، عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین کی موت، اہل طائف کا قبول اسلام، حضرت ابوبکرؓ کی قیادت میں مسلمانوں کا پہلا حج،
    ٭
    10ھ مطابق631ء
    حضرت عدی بن حاتم الطائی کا قبول اسلام، حضرت ابوموسیٰ ؓو حضرت معاذ ؓ کو یمن بھجوانا، حجۃ الوداع
    ٭
    11ھ مطابق632ء
    آخری وفد کی آمد، حضورؐ کی آخری بیماری، سریہّ اسامہ بن زید، وفات رسولؐ

    شمائل نبویؐ کی ایک جھلک
    ’’شمائل نبوی‘‘ میں اپنے آقا و مطاع حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان پاکیزہ عادات و اطوارکاایک نقشہ پیش کرنا مقصودہے جن کے بارہ میں قرآن شریف کی یہ گواہی ہے کہ وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ یعنی آپؐ عظیم الشان اخلاق پر فائز تھے۔ (سورۃ القلم:6)اس آسمانی شہادت سے بہتر آپؐ کے اخلاق کی تصویر کشی کون کرسکتا ہے؟
    رسول اللہؐ کی رفیقہء حیات حضرت عائشہ ؓ کی یہ شہادت ہے کہ اللہ کی رضاکے تابع آپؐ کے سب کام ہوتے تھے اور جس کام سے خدا ناراض ہو،آپؐ اس سے دور رہتے تھے۔(حکیم ترمذی)1
    یزید بن بابنوس بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ ؓ سے عرض کیا اے ام المؤمنین ! رسول اللہؐ کے اخلاق کیسے تھے؟ انہوں نے فرمایا رسول اللہؐ کے اخلاق قرآن تھے۔ پھر فرمانے لگیں تمہیں سورۃ المؤمنون یا د ہے تو سنائو۔ انہوں نے اس سورت کی پہلی دس آیات کی تلاوت کی جو قَدْاَفْلَحَ المُوْمِنُوْنَ سے شروع ہوتی ہیں اور جن میں یہ ذکر ہے کہ وہ مومن کامیاب ہوگئے جو اپنی نمازوں میں عاجزی اختیار کرتے ہیں ۔وہ لغو چیزوں سے پرہیز کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں۔وہ اپنے تمام سوراخوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے یا جن کے مالک ان کے داہنے ہاتھ ہوئے کہ ان پر کوئی ملامت نہیں۔ اور جو اس کے علاوہ چاہے وہ لوگ زیادتی کرنے والے ہیں۔ اور وہ جو اپنی امانتوں اور عہدوں کا خیال رکھتے ہیں۔ وہ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔حضرت عائشہؓ نے ان آیات کی تلاوت سن کر فرمایا کہ یہ تھے رسول اللہؐ کے اخلاق فاضلہ۔ (حاکم)2
    الغرضحضرت عائشہؓ کیچشم دیدشہادت کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم ؐ کے اخلاق قرآن تھے۔جس کا یہ مطلب ہے کہ اوّل۔قرآن شریف میں بیان فرمودہ تمام اخلاق اور مومنوں کی جملہ صفات کی تصویر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی۔ چنانچہ قرآن کی اخلاقی تعلیم پر عمل کر کے آپؐ نے ایسا حسین عملی نمونہ پیش کیا جسے قرآن کریم نے اسوۂ حسنہ قرار دیاہے۔(سورۃ الاحزاب:22)
    دوم۔قرآن نے جو حکم دیئے وہ سب آپؐ نے پورے کر دکھائے۔گویا آپؐ چلتے پھرتے اور مجسم قرآن تھے۔
    آیئے ان دونوں پہلوئوں سے شمائل نبوی پرایک نظر ڈالتے ہیں۔
    قرآن شریف میں رسول کریم ؐ کی شخصیت ،آپؐ کے لباس، حقوق العبادکی نازک ذمہ داریوں،بے پناہ روز مرہ مصروفیات ،انقطاع الی اللہ ،عبادات، ذکرالہٰی، تبلیغ اورپاکیزہ اخلاق، سچائی، راستبازی، استقامت،رافت و رحمت،عفووکرم وغیرہ کے واضح اشارے ملتے ہیں اور احادیث نبویہ میں ان اخلاق فاضلہ کی تفاصیل موجود ہیں۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پر کشش شخصیت کا عکس آپؐ کے خوبصورت اور پرکشش چہرہ سے خوب نمایاں تھا ،جس کے ہزاروں فدائی اور عاشق پیدا ہوئے۔
    بلاشبہ آپؐ کا بھرا بھرا ،کھلتے ہوئے سفید رنگ کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح روشن ہوتا تھا،شرافت و عظمت کا نور اس پر برستاتھااور بشاشت و مسکراہٹ اس پاکیزہ چہرہ کی رونق تھی۔
    آپؐ کاسر بڑا تھا او ر بال گھنے ۔ ریش مبارک گھنی تھی،ناک پتلی کھڑی ہوئی،کالی خوبصورت آنکھیں اور رخسار نرم و ملائم تھے۔ دہانہ کشادہ دانت فاصلے دار اور سفید موتیوں کی طرح چمکدار تھے۔گردن لمبی ، سینہ فراخ ،بدن چھریرا اور پیٹ سینہ کے برابر تھا۔قد درمیانہ اور متناسب تھا۔پُشت مبارک پر کندھوں کے درمیان کبوتری کے انڈے کے برابر سُرخ رنگ کا گوشت کا ایک ٹکڑا اُبھراہوا تھاجو مہر نبوت سے موسوم تھا اورجس کا ذکر قدیم نوشتوں میں رسول اللہؐ کی شناخت کی ایک جسمانی نشانی کے طور پر موجود تھا۔(ترمذی)3
    روز مرہ معمولات
    کہتے ہیں کسریٰ شاہ ایران نے اپنے ایام کی تقسیم اس طرح کررکھی تھی کہ جس دن بادِ بہار چلے وہ سونے اور آرام کے لئے مقررہوتا تھا، ابرآلودموسم شکار کیلئے مختص تھا، برسات کے دن رنگ و طرب اور شراب کی محفلیں سجتی تھیں۔ جب مطلع صاف اور دن روشن ہوتا تو دربار شاہی لگایا جاتا اور عوام و خواص کو اذن باریابی ہوتا۔ظاہر ہے یہ ان اہل دنیا کا حال ہے جو آخرت سے غافل ہیں۔
    مگر ہمارے آقاو مولا حضرت محمد مصطفیٰؐ نے ہر حال میں عسرہویایُسر اپنے دن کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہواتھا۔دن کا ایک حصہ عبادت الہٰی کیلئے،ایک حصہ اہل خانہ کے لئے اور ایک حصہ اپنی ذاتی ضروریات کیلئے مقررتھا۔پھر اپنی ذات کیلئے مقرر وقت میں سے بھی ایک بڑا حصہ بنی نوع اِنسان کی خدمت میں صرف ہوتا تھا۔(عیاض)4
    دعویٰ نبوت کے بعدرسول کریم ؐ کی ۳ ۲ سالہ زندگی میں سے ۱۳ سالہ مکی دور نزول قرآن، تبلیغی جدوجہد،اسلام قبول کرنے والوں کی تعلیم و تربیت اور ابتلاء و مصائب کا ایک ہنگامی دور تھا۔اس کے معمولات کی تفصیلات اس طرح نہیں ملتیں جس طرح دس سالہ مدنی دور کے معمولات روز و شب کی تفاصیل احادیث میں ملتی ہیں اور جن سے مکی دور کی بھرپورمصروفیات کا ایک اندازہ کیاجاسکتا ہے۔
    احادیث کے مطابق آپؐ روزانہ اپنی مصروفیات کا آغاز نماز تہجد سے فرماتے تھے۔ نماز سے قبل وضو کرتے ہوئے مسواک استعمال فرماتے اور منہ اچھی طرح صاف کرتے۔نہایت خوبصورت اور لمبی نماز تہجد ادا کرتے جس میں قرآن شریف کی لمبی تلاوت کرتے، اتنی لمبی کہ زیادہ دیر کھڑے رہنے سے پائوں پرورم ہوجاتے۔ نماز کے بعد آپؐ کچھ دیر لیٹ جاتے۔اگر آپؐ کے گھر والوں میں سے کوئی جاگ رہا ہوتا تو اس سے بات کرلیتے ورنہ آرام فرماتے۔ پھر جونہی نماز کے لئے حضرت بلال ؓ کی آواز کان میں پڑتی فوراًنہایت مستعدی سے اُٹھتے اور دو مختصر رکعت سنت ادا کرکے نماز فجر پڑھانے مسجد نبوی میں تشریف لے جاتے۔کبھی نماز تہجّد بیماری وغیرہ کے باعث رہ جاتی تو دن کے وقت نوافل ادا کرتے ۔(بخاری)5
    نمازفجر کے بعدسے طلوع آفتاب تک صحابہ کے درمیان تشریف فرما ہوتے ۔ذکرِ الٰہی سے فارغ ہوکرصحابہ سے احوال پرسی فرماتے ،زمانہ جاہلیت کی باتیں بھی ہوتیں۔ آپؐ پوچھتے کہ اگر کسی کو کوئی خواب آئی ہو تو سنائے ۔اچھی خواب پسند فرماتے اوراس کی تعبیر بیان کرتے۔کبھی اپنی کوئی خواب بھی سنادیتے۔ (بخاری،مسلم)6
    رسول کریم ؐ صبح ہی اپنے دن کا پروگرام مرتب فرمالیتے۔اگر کسی صحابی کو تین دن سے زیادہ غیرحاضر پاتے اس کے بارہ میں پوچھتے اگر وہ سفر پر ہوتا تو اس کے لئے دعا کرتے ۔شہر میں ہوتا تو اس کی ملاقات کو جاتے۔ بیمار ہوتا تو اس کی عیادت کو تشریف لے جاتے۔(کنز)7
    رسول کریمؐ کی مجالس صحابہ سے ملاقات اور تعلیم و تربیت کا بھی ایک نہایت عمدہ موقع ہوتی تھیں۔ صبح صبح مدینہ کے بچے حصول تبرّک کے لئے برتنوں میں پانی وغیرہ لے کر آجاتے تھے۔ آپؐ برتن میں انگلیاں ڈال کر تبرّک عطا فرماتے۔ (مسلم)8
    قومی کاموں سے فارغ ہوکر آپؐ گھر تشریف لے جاتے۔ اہل خانہ سے پوچھتے کہ کچھ کھانے کو ہے۔ مل جاتا تو کھا لیتے اور اگر کچھ موجود نہ ہوتا تو فرماتے اچھا آج ہم روزہ ہی رکھ لیتے ہیں۔(ترمذی)9
    بادشاہ اور بڑے لوگ اپنے کام وزراء اور دوسروں کے سپرد کر کے خود عیش و عشرت سے زندگی گزارتے ہیں مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پنجوقتہ نمازیں،جمعہ،عیدوغیرہ خود پڑھاتے تھے۔ پھرگھر میں جو وقت گزرتا کام کاج میں اہل خانہ کی مدد فرماتے۔ہاتھ سے کام کرنا عار نہ سمجھتے۔ عام آدمی کی طرح گھر میں کام کرتے، کپڑے خود سی لیتے، پیوندبھی لگائے ،ضرورت پرجوتا بھی ٹانک لیا،جھاڑو بھی دیا، حسب ضرورت جانوروں کو باندھ دیتے اورچارہ بھی ڈال دیتے، دودھ دوھ لیاکرتے۔خادم تھک جاتے تو ان کی مدد فرماتے۔(احمد10)بیت المال کے جانوروں کو نشان لگانے کی خاطر خود داغ دیتے۔
    آپؐاپنے ہمسایوں کا بہت خیال رکھتے ،ان کی بکریوں کادودھ اُن کو دوہ کردیتے۔ (احمد)11
    رسول کریمؐ کی ایک بہت اہم اور نازک ذمہ داری نزول قرآن اور اس کی حفاظت کی تھی۔اس کے لئے اپنے اوقات کا بڑا حصہ آپؐکووقف کرنا پڑتا تھا۔ گھر یا مجلس میں جہاں اورجب بھی وحی الہٰی کا نزول ہوتا اس کے بوجھ سے ایک خاص کیفیت آپؐ پر طاری ہوتی۔ جسم پسینہ سے شرابور ہوجاتا جس کے فوراً بعد کاتب کو بلواکر وحی الہٰی لکھوالیتے۔ (بخاری)12
    وحی قرآن کے یاد رکھنے اورنمازوںمیں تلاوت کے لئے گھر پراس کااعادہ اورغورو تدّبرایک الگ محنت طلب کام تھا۔
    ذکر الہٰی و دعا
    نبی کریمؐ ہر کام اللہ کا نام لے کر شروع کرتے، فرماتے تھے کہ اس کے بغیر کام بے برکت ہوتے ہیں۔(ہیثمی13) فراغت و مصروفیت ہر حال میں اللہ کو یاد رکھتے تھے۔ الغرض آپؐ ’’دست درکارودل بایار‘‘ کے حقیقی مصداق تھے۔
    ہر موقع اور محل کے لئے آپؐ سے دعائیں ثابت ہیں۔ صبح اٹھتے ہوئے خیرو برکت کی دعا مانگتے تو شام کو انجام بخیر کی۔گھر سے جاتے اور آتے ہوئے، مسجد داخل ہوتے اور نکلتے ہوئے، کھانا کھانے سے پہلے اور بعدمیں،بیت الخلاء جاتے آتے،بازار جاتے ہوئے، سفر پر روانہ ہوتے ہوئے، سوتے اور جاگتے وقت ہر حال میں خدا کی طرف رجوع کرتے اور اسے سہارا بناکر دعا کرتے۔مجلس میں بیٹھے ستّر مرتبہ استغفار فرماتے تھے۔ (بخاری)14
    دعائوں میں زیادہ الحاح اور تضرّع کے وقت یَاحَیُّ یَا قُیُّوْمُ کی صفات الہیہ (یعنی اے زندہ اے قائم رکھنے والے) پڑھ کر دعا کرتے۔ مصیبت کے وقت آسمان کی طرف سر اٹھا کر سُبْحَانَ اللّٰہِ العَظِیْمُ پڑھتے۔یعنی پاک ہے اللہ بڑی عظمت والا۔مجلس میں چھینک آنے پر دھیمی آواز میں الحمدللہ کہتے اور کسی دوسرے کو چھینک آنے پر یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کی دعا دیتے کہ اللہ تم پر رحم کرے۔(بخاری)15
    صحابہ سے عام ملاقاتیں ، وعظ و نصیحت اور سوال و جواب کی مجالس کے پروگرام نمازوں کے اوقات میں ہو جاتے تھے۔اکثراپنے اصحاب خصوصاً انصار کے گھروں میں تشریف لے جاتے۔(احمد16)حضرت ابو طلحہ انصاری ؓ کے گھر بھی تشریف لے گئے، کبھی ان کے باغ میں جاکر وقت گزارتے۔(بخاری)17
    نماز عصر کے بعد باری باری سب ازواج مطہرات کے گھر جایا کرتے تھے۔ (احمد18) یہ گھر ایک حویلی میں مختلف کمروں کی صورت میں پاس پاس ہی تھے۔ مغرب کے بعد سب بیویا ں اس گھر میں جمع ہوجاتیں جہاں حضورؐ کی باری ہوتی وہاں ان کے ساتھ مجلس فرماتے۔ ظہر کے بعد گھر میں حسب حالات کچھ قیلو لہ فرمالیتے اور فرمایا کرتے کہ قیلولہ کے ذریعے رات کی عبادت کیلئے مد دحاصل کیا کرو۔ (طبرانی)19
    عشاء سے قبل سونا آپؐ کو پسند نہ تھاتاکہ نماز عشاء نہ رہ جائے اورعشاء کے بعد بلاوجہ زیادہ دیر تک فضول باتیں اور گپ شپ پسند نہ فرماتے تھے۔ البتہ بعض اہم دینی کاموں کیلئے آپؐ ؐنے حضرت ابو بکرؓ اور عمر ؓ سے عشاء کے بعد بھی مشورے فرمائے۔ (احمد20) دن کے کاموں کا اختتام نماز عشاء سے پہلے پہلے کر کے عشاء کے بعد آرام کرنا پسند کرتے تاکہ تہجد کیلئے بروقت بیدارہوسکیں۔(بخاری)21
    پھر آدھی رات کے قریب جب آنکھ کھلتی اپنے مولیٰ سے راز و نیاز میں محو ہوجاتے۔ آپؐ نے رات کے ہر حصہ میں نماز تہجّد ادا کی ہے۔مگر اکثر رات کی آخری تہائی میں عبادت کرتے تھے۔(بخاری)22
    خوراک و غذا
    نبی کریمؐ کھانے سے پہلے اوربعدہاتھ دھونے کی ہدایت فرماتے تھے۔(ہیثمی23) نیز اللہ کا نام لے کر اپنے سامنے سے اور دائیںہاتھ سے کھانے کی تلقین فرماتے۔(بخاری24) آپؐ کی خوراک و غذا نہایت سادہ تھی۔ بسااوقات رات کے کھانے کی بجائے دودھ پر ہی گزارا ہوتا تھا۔(بخاری25) مشروب پیتے ہوئے تین مرتبہ سانس لیتے اور اللہ کے نام سے شروع کرتے اور اس کی حمد پرختم کرتے۔(ہیثمی)26
    جو ملی گندم کے اَن چَھنے آٹے کی روٹی استعمال کرتے تھے کیونکہ اس زمانہ میں چھلنیاں نہیں ہوتی تھیں۔یوں توحضورؐکو دستی کا گوشت پسند تھا مگر جو میّسر آتاکھا کر حمدوشکر بجالاتے۔ سبزیوں میں کدّو پسند تھا۔ سِر کہ کے ساتھ بھی روٹی کھائی اور فرمایا ’’یہ بھی کتنا اچھا سالن ہوتا ہے۔‘‘(بخاری)27
    عربی کھانا ثَرِید(جس میں گندم کے ساتھ گوشت ملا ہوتا ہے) مرغوب تھا۔ اسی نوع کا ایک اور کھاناہریسہ بھی استعمال فرمایا ۔سنگترہ کھجور کے ساتھ ملاکر کھانے کالطف بھی اٹھایا۔ اللہ کی ہر نعمت کے بعد اس کا شکر ادا کرتے۔(بخاری)28
    پھلوں میں تربوز بہت پسند تھا۔ دائیں ہاتھ سے کھجور اوربائیں سے تربوز لے کر کھاتے اور فرماتے ہم کھجور کی گرمی کا علاج تربوز کی ٹھنڈک سے کرتے ہیں۔ (حاکم29)میٹھے میں شہد کے علاوہ حلوہ اور کھیر پسند تھی۔(احمد)30
    آپؐ ٹیک لگاکرکھانا نہیں کھاتے تھے۔سخت گرم کھانا کھانے سے پرہیزکرتے تھے۔ (حاکم )31
    طہارت و صفائی
    ارشاد ربانی ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی رکھنے والوں کوپسند کرتاہے۔ (سورۃ البقرہ:23)یہی وجہ ہے کہ رسول کریمؐ نے باطنی طہارت کیلئے ظاہری طہارت کو ضروری قراردیا اور اس کے تفصیلی آداب سکھائے۔ دن میں پانچ مرتبہ ہر نماز سے پہلے وضو کا حکم دیا۔جسم کی صفائی کیلئے ہفتہ میں کم از کم دو مرتبہ نہانے کی ہدایت فرماتے۔کم از کم ایک صاع(یعنی قریباً تین لٹر) پانی سے نہالیتے تھے۔غسل کی عادت زیادہ تھی۔(ترمذی32) آنکھوں کی حفاظت کے لئے رات کوآپؐ سرمہ لگاتے تھے۔(ترمذی)33
    دانتوں کی صفائی پر بہت زور دیتے ،فرماتے تھے۔’’اگر اُمت کی تکلیف کا خیال نہ ہوتا تو ہر نماز کے ساتھ( دن میں پانچ مرتبہ) مسواک کا حکم دیتا۔‘‘اپنا یہ حال تھا کہ گھر میں داخل ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے۔مسواک دانتوں کے آڑے رُخ یعنی نیچے سے اوپر کرتے تھے۔ تاکہ درزیں خوب صاف ہوں۔ (مسلم34) بوقت وفات بھی مسواک دیکھ کر اس کی خواہش کی تو حضرت عائشہؓ نے نرم کرکے استعمال کروائی۔(بخاری)35
    آپؐ عمدہ خوشبوپسند کرتے تھے۔ اپنی مخصوص خوشبو سے پہچانے جاتے تھے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ حضورؐ کے پسینے سے جو خوشبو آتی تھی وہ مشک سے بھی بڑھ کر ہوتی تھی۔ (دارمی36) سر کے بال کانوں کی لَو سے بڑھ کر کندھوں پر آجاتے تو کٹوادیتے۔ داڑھی حسب ضرورت لمبے اور چوڑے رخ سے ترشواتے تھے۔جو مشت بھر رہتی تھی۔بالوں پر مہندی لگاتے تھے۔(ترمذی)37
    لباس
    قرآنی ارشاد کے مطابق لباس میں پردہ اور زینت کی بنیادی شرائط ملحوظ خاطر رکھتے تھے۔عام طور پر ایک تہبند اور ایک اوڑھنے کی چادر عربوں کا لباس تھاجو آپؐ نے بھی پہنا مگر سلا ہوا لمبی آستین والا کُرتہ زیادہ پسند تھا۔ بغیرآستین بھی پہنا۔(ابن ماجہ38)سادہ موٹے کپڑے استعمال فرماتے ۔آپؐ جبہ، پاجامہ اور سردی میں تنگ آستین والی روئی بھری صدری بھی استعمال فرماتے تھے۔حسب موقع وضو کے بعدپونچھنے کیلئے تولیہ بھی استعمال فرماتے۔
    آپ ؐنے ٹوپی بھی استعمال فرمائی۔ جمعہ کے روز کلاہ کے اوپر پگڑی پہنتے۔جمعہ عیدین اور وفود کی آمد پرعمدہ کپڑے اور خاص طور پر ایک سرخ قبا زیب تن فرماتے۔ایک چاند رات میں سرخ قبا پہنی ہوئی تھی۔دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ اس رات آپؐ چاند سے زیادہ خوبصورت لگ رہے تھے۔سفید کپڑے زیادہ پسند تھے۔مگر سرخ، سبز اور زعفرانی رنگ بھی استعمال فرمائے۔نیا کپڑا پہننے پر دو رکعت نماز ادا فرماتے اور پرانا کپڑا کسی ضرورت مند کو دے دیتے تھے۔چمڑے کے موزے استعمال فرماتے اور بوقت وضو ان پر مسح فرماتے۔چمڑے کے کھلے جوتے دو تسمے والے (ہوائی چپل ، سلیپر نما) استعمال فرماتے۔ (ترمذی) 39
    آپؐ کی چاندی کی انگشتری پر مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ؐ کندہ تھا جو خطوط پر مہر لگوانے کے لئے بنوائی تھی۔ (بخاری40)ایک عرصہ تک یہ انگوٹھی دائیں ہاتھ میں پہنتے رہے پھر بائیں ہاتھ میں بھی پہنی۔بیت الخلاء جاتے تو یہ انگوٹھی اتار دیتے۔وضو کرتے وقت اسے حرکت دے کر انگلی کو دھوتے۔ہاتھ میں بالعموم کھجور کی شاخ کی چھڑی رکھتے تھے۔
    جنگ میں آپؐ نے خود اور زرہ بھی پہنی ہے۔غزوۂ احد میں تو دو زرہیں پہن رکھی تھیں۔ایک زرہ کی کڑیاں ٹوٹ کر رخسار مبارک میں دھنس گئی تھیں۔(بخاری)41
    چال ڈھال اور گفتگو
    نبی کریم ؐچال ڈھال میں نہایت کو ہ وقارانسان تھے۔چال ایسی سبک تھی جیسے ڈھلوان سے اتر رہے ہوں۔حضرت ابوھریرہ ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہؐ سے زیادہ تیز رفتار کوئی نہیں دیکھا ایسے لگتا تھا کہ زمین آپؐ کے لئے لپٹتی جارہی ہے۔ہم ساتھ چل کر تھک جاتے مگر حضورؐ پرتھکاوٹ کا کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔آپؐ گردن اکڑا کر نہ چلتے بلکہ نظریں نیچی رکھتے تھے۔(ترمذی)42
    حضرت علی ؓ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریمؐ آگے کو جھک کر چلتے تھے یوں لگتاتھا جیسے گھاٹی سے اتر رہے ہوں، مَیں نے آپؐ سے پہلے اور آپؐ کے بعد ایسی رفتار والا شخص نہیں دیکھا۔(ترمذی)43
    حضرت حسن بن علیؓ اپنے ماموں ھندؓ بن ابی ھالہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ لمبے لمبے اور تیز قدم اُٹھاتے تھے۔نظر یں نیچی رکھتے تھے مگر جب دیکھتے تو نظریں بھرکر پوری توجہ فرماتے ،چلتے ہوئے اپنے صحابہ سے آگے نکل جاتے تھے، اور جو بھی راستہ میں ملتا اسے سلام کرنے میں پہل فرماتے تھے۔(ابن سعد)44
    حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ چلتے ہوئے اِدھر اُدھرتوجہ نہیں فرماتے تھے۔بسااوقات آپؐ کی چادر کسی درخت یا کانٹوں وغیرہ سے الجھ جاتی تو بھی توجہ نہ فرماتے اور صحابہ اس وجہ سے بے تکلفی سے باتیں کرتے ہوئے ہنستے اور سمجھتے تھے کہ حضورؐ کا دھیان ادھر نہیں۔(ابن سعد)45
    حسب ارشاد باری کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے آپؐ کو نرم کر دیا ہے۔(سورۃآل عمران:107) آپؐ کی گفتگو میں تلخی تھی نہ تیزی ٹھہر ٹھہر کر اور سمجھا کر وضاحت اور نرمی سے آپؐ اس طرح کلام فرماتے کہ بات ذہن نشین ہوجاتی۔تین دفعہ بات دہراتے تھے۔ (احمد)46
    کوئی بھی عزم کرلینے کے بعدآپؐ خدا پر کامل بھروسہ رکھتے ۔جب آپؐ تین دفعہ کوئی بات کہہ دیتے تو اسے کوئی پلٹا نہیں سکتا تھا۔(احمد47)لیکن آپؐ کبھی صحابہ کی طاقت سے زیادہ ان کو حکم نہ دیتے تھے۔(احمد)48
    آنحضورؐبغیر ضرورت کے گفتگو نہ فرماتے تھے اور جب بولتے تھے تو فصاحت و بلاغت سے بھر پور نہایت بامعنی کلام فرماتے ۔خود بات شروع کرتے اور اسے انتہا تک پہنچاتے ۔آپؐ کی گفتگو فضول باتوں اور ہر قسم کے نقص سے مبرّا اوربہت واضح ہوتی تھی۔اپنے ساتھیوں سے تلخ گفتگو نہیں کرتے تھے۔نہ ہی انہیں باتوں سے رسوا کرتے تھے۔معمولی سے معمولی احسان کا ذکر بھی تعظیم سے کرتے اور کسی کی مذمت نہ کرتے۔کسی پر محض دنیوی بات کی وجہ سے ناراض نہ ہوتے البتہ جب کوئی حق سے تجاوز کرتا توپھر آپؐ کے غصہ کوکوئی نہ روک سکتا تھا اور ایسی بات پرآپؐ سزا ضرور دیتے تھے مگر محض اپنی ذات کی خاطر غصے ہوتے تھے نہ انتقام لیتے تھے۔غصے میںمنہ پھیر لیتے تھے۔خوش ہوتے تو آنکھیں نیچی کرلیتے۔مسکراتے تو سفید دانت اس طرح آبدارہوتے جیسے بادل سے گرنے والے اولے۔(ابن سعد) 49
    حضرت جابرؓ کی روایت کے مطابق رسول کریمؐ کی گفتگو میں بھی ایک ترتیب اور حُسن ہوتا تھا۔ (ابودائود50) امّ معبد کی روایت کے مطابق رسول اللہؐ شیریں بیان تھے۔ آپؐ کی گفتگو کے وقت ایسے لگتا تھا جیسے کسی مالا کے موتی گررہے ہوں۔(حاکم)51
    حضرت عائشہؓکی ایک اور روایت ہے کہ رسول کریم ؐ کو جھوٹ سے زیادہ ناپسند اور قابل نفرین اور کوئی بات نہیں تھی۔ اور جب آپؐ کو کسی شخص کی اس کمزوری کا علم ہوتا تو آپؐ اس وقت تک اس سے کھچے کچھے رہتے تھے جب تک کہ آپ ؐکو معلوم نہ ہو جائے کہ اس شخص نے اس عادت سے توبہ کرلی ہے۔(ابن سعد)52
    زیادہ تر آپؐ کی ہنسی مسکراہٹ کی حد تک ہوتی تھی۔مسکرانا توآپؐ کی عادت تھی۔صحابہ کہتے ہیں ’’ہم نے حضور سے زیادہ مسکرانے والا کوئی نہیں دیکھا۔خوش ہوتے تو آپؐ کا چہرہ تمتما اُٹھتا تھا۔‘‘(احمد)53
    آپؐ کی گفتگو خشک نہ تھی۔بلکہ ہمیشہ شگفتہ مزاح فرماتے تھے۔ مگر مذاق میں بھی کبھی دامن صدق نہ چھوٹا۔فرماتے ’’میرے منہ سے صرف حق بات ہی نکلتی ہے۔‘‘ (طبرانی)54
    ایک صحابی نے ایک دفعہ سواری کیلئے آپؐ سے اونٹ مانگا۔ رسول کریمؐ نے فرمایا میں تجھے اونٹ کا بچہ دے سکتا ہوں۔وہ سراسیمہ ہوکر بولے حضورؐ اونٹنی کا بچہ لے کر میں کیا کروں گا؟مجھے تو سواری چاہئے فرمایا ’’بھئی! اونٹ بھی تو اونٹنی کا بچہ ہی ہوتا ہے۔‘‘(ترمذی)55
    صحابہ کو وعظ و نصیحت کرنے میں ناغہ کرتے تاکہ وہ اکتا نہ جائیں۔آپؐ کی تقریر نہایت فصیح و بلیغ دلکش اور جوش سے بھر ی ہوئی ہوتی تھی۔بعض دفعہ خطبہ میں یہ جوش و جلال بھی دیکھا گیا کہ آنکھیں سرخ ہیں اور آواز بلند۔ جیسے کسی حملہ آور لشکر سے ڈرا رہے ہوں جو صبح یا شام حملہ آور ہونے والا ہے۔ایک دفعہ صفات الہٰیہ کے بیان کے وقت منبر آپؐ کے جوش کے باعث لرزرہا تھا۔(مسلم56)رسول کریم ؐ کے خطبہ ونماز میں میانہ روی اور اعتدال ہوتا تھا۔ (مسلم)57
    حالت جنگ میں آپؐ عجب مجاہدانہ شان کے ساتھ کمان حمائل کئے ایک سپہ سالار کے طور پر صحابہ سے مخاطب ہوتے۔ عام حالات میں جمعہ وغیرہ کے موقع پر عصا ہاتھ میں ہوتا۔ (ابن ماجہ58) بعد میں منبر بن گیا تو اس پر خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔
    آپؐ جو کہتے تھے وہ کر کے بھی دکھاتے تھے۔ گفتگو میں الفاظ کے چنائو میں بہت احتیاط سے کام لیتے تھے اور الفاظ کے بے محل استعمال کی اصلاح فرما دیتے ،عرب میں غلام اپنے آقائوں کو ’’رب‘‘ کہتے تھے جس کے معنے ہیں پالنے والا۔اور جو حقیقی معنی میں اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ آپؐ نے فرمایاکہ آقا کو سید کہا کرو۔یعنی سردار۔آقا اپنے غلام کو ’عبد‘ کہتے تھے یعنی نوکر۔ فرمایا فتٰی کہہ کر مخاطب کرو۔یعنی نوجوان یا بچے تاکہ ان کی عزت نفس قائم رہے۔(بخاری59) نبی کریمؐ کو زبان وادب کا عمدہ ذوق تھا۔آپؐ موزوں کلام اورعمدہ شعر پسند فرماتے اور داد دیتے تھے۔حضرت شریدؓ سے روایت ہے کہ میں ایک دن رسول کریمؐ کے ساتھ آپؐ کی سواری کے پیچھے بیٹھا۔آپؐ نے فرمایا تمہیں مشہور شاعر امیہ بن الصلت کے کوئی شعریاد ہیں؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو آپؐ نے کچھ شعر سنانے کی خواہش کی۔ میں نے ایک شعر سنایا تو فرمایا’’ہاں اور سنائو‘‘ پھر ایک شعر سنایا تو فرمایا اور سنائو۔ یہاں تک کہ میں نے سوشعر سنائے۔ (مسلم60)رسول کریم اشعار کی محض ظاہری فصاحت پر خوش نہ ہوتے بلکہ ان کے مضامین کی گہرائی اور لطافت پر نظرہوتی اور کہیں کوئی بات کھٹکتی تو دریافت فرمالیتے۔
    مشہور شاعر نابغہ ابولیلیٰ نے حاضر خدمت ہوکر جب اپنا کلام سنایا اور یہ شعر پڑھا۔
    عَلَوْنَاالعِبَادََعِفَّۃً وَتَکَرُّمًا وَاِنَّالَنَرْجُوافَوقَ ذٰلِکَ مَظْھَرا
    یعنی اسلام قبول کر کے ہم تمام دنیا سے عفت اور عزت میں بلند ہوگئے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر ایک ’’مظہر‘‘ کی اُمید رکھتے ہیں۔ جہاں اللہ تعالیٰ ہماری اور عزت وکرامت ظاہرفرمائے گا۔ رسول کریمؐ نے فوراً پوچھا ’’مظہر‘‘ سے تمہاری کیا مراد ہے؟ نابغہ نے عرض کیا یارسول اللہؐ جنت مراد ہے۔ فرمایا ہاں ٹھیک ہے اگر اللہ نے چاہا تو ضرور یہ نعمت بھی عطاہوگی۔ اور جب نابغہ کلام سنا چکے تورسول کریمؐ نے فرمایا تم نے بہت خوب کہا اور پھر ان کو دعا بھی دی۔(ہیثمی)61
    حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ نبی کریمؐ کبھی شعر وغیرہ بھی گنگناتے تھے تو فرمانے لگیں کہ ہاں! اپنے صحابی شاعر عبداللہؓ بن رواحہ کے شعر گنگناتے تھے۔مثلاً یہ مصرع
    وَیَاتِیْکَ بِالَاخْبَارِمَالَمْ تُزَوِّ دٖ
    کہ تیرے پاس ایسی ایسی خبریں آئیں گی جو پہلے تمہیں حاصل نہیں۔ (ترمذی)62
    حضرت جندب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں نبی کریمؐ پیدل جارہے تھے۔ پتھر کی ٹھوکرسے ایک انگلی زخمی ہوگئی آپؐ نے انگلی کو مخاطب کر کے یہ شعر کہا
    ھَلْ اَنْتِ اِلاَّ اُصبْعٌ دُمِیتٖ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَالَقِیْتٖ
    توایک انگلی ہی تو ہے جو خون آلود ہوئی اور خدا کی راہ میں یہ تکلیف اُٹھائی۔(بخاری)63
    آپؐ کو اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت سے جوا مع الکلم عطا کئے گئے تھے یعنی مختصر کلام میں ایسے گہرے مضمون بیان فرماتے تھے کہ دریا کو کوزے میں بند کردیتے تھے۔نہایت لطیف خوبصورت محاورات میں کلام فرماتے تھے۔
    حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں وفدنہد آیا تو رسول اللہؐ نے ان کی درخواست پر ان کے حق میں دعا کی اور پھر انہیں ایک معاہدہ لکھ کرد یا کہ جو نماز قائم کرے مومن ہے،جو زکوۃ ادا کرے مسلمان ہے جو کلمہ شہادت لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مَحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِپڑھ لے وہ غافل نہیں لکھا جائے گاوغیرہ۔حضرت علیؓ کہتے ہیں اس معاہدہ کی فصیح و بلیغ عبارت دیکھ کر میں نے عرض کیا یارسول اللہؐ! ہم ایک باپ کے بیٹے۔ ایک شہرکی گلیوں میں بڑھے پلے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ وفود عرب سے آپؐ ایسی زبان میں کلام کرتے ہیں کہ اس کا جواب نہیں۔فرمایا اللہ نے مجھے ادب سکھایا ہے اور بہت بہترین سکھایا ہے اور میں بنی سعد میں پروان چڑھا ہوں۔(عیاض)64
    حضرت بُریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ سب لوگوں سے زیادہ فصیح تھے۔ بعض دفعہ رسول کریم ؐ ایسا کلام کرتے تھے کہ لوگوں کو اس کے معنی کی سمجھ نہ آتی تھی، یہاں تک کہ آپؐ خود اس کے معنے بیان فرماتے تھے۔(ابن جوزی)65
    حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ یہی سوال کیا کہ اے اللہ کے نبیؐ! آپؐ کی زبان ہم سب سے بڑھ کر فصیح وبلیغ ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ رسول کریمؐ نے فرمایا کہ میرے پاس جبریل ؑ آئے اور انہوں نے مجھے میرے باپ اسماعیل ؑ کی زبان سکھائی۔(کنز)66
    رسول کریمؐ کواچھے نام پسند تھے جیسے عبداللہ،عبدالرحمن وغیرہ۔کسی نام کے اچھے معنے نہ ہوتے تو اسے بدل دیتے۔ایک شخص کانام حُزن تھا جس کے معنی غم کے ہیں آپؐ نے اس کا نام سہل رکھ دیا جو آسانی کے معنی دیتا ہے۔ ایک عورت کانام عاصیہ تھا جس میں نافرمانی کا مفہوم ہے اس کا نام جمیلہ رکھ دیا یعنی خوبصورت۔(بخاری)67
    معاشرت
    رسول کریمؐ کی معاشرت اپنے اہل خانہ اور صحابہ کرام کے ساتھ رافت و رحمت کی آئینہ دار تھی۔فرمایا’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کیلئے بہتر ہو۔ اور میں تم میں سب سے بڑھ کر اپنے اہل کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ہوں۔‘‘(ابن ماجہ)68
    گھر میں بے تکلفی سے خوش خوش رہتے ۔کبھی بیویوں کو کہانیا ں اور قصے بھی سناتے۔ اہل خانہ سے حد درجہ کی نرمی اور اکرام کا سلوک فرماتے۔(بخاری)69
    گھریلو زندگی کا ایک نہایت دلکش اور قابل رشک نظارہ خود حضرت عائشہ ؓ کی زبانی سنیئے۔آپؓ بیان فرماتی ہیں کہ میں گھر میں بیٹھی چرخے پر سوت کات رہی تھی اور نبی کریمؐ اپنے جوتے کی مرمت فرمارہے تھے کہ آپؐ کی پیشانی مبارک پر پسینہ آگیا، پسینہ کے قطرے آپؐ کے پُرنور چہرے پر دمک رہے تھے اور ایک روشنی ان سے پھوٹ رہی تھی۔ میںمحو حیرت ہوکر یہ حسین نظارہ دیکھنے میں مگن تھی کہ ناگہاں رسول اللہؐ کی نظر مجھ پر پڑگئی۔ آپؐ نے میری حالت بھانپ کر فرمایا عائشہؓ! تم اتنی کھوئی کھوئی اور حیران وششدر کیوں ہو؟میں نے عرض کیا ابھی جو آپؐ کی پیشانی مبارک پر پسینہ آیا تو اس کے قطرات سے ایک عجب نور پھوٹتے میں نے دیکھا اگر شاعر ابوکبیر ھُذلی آپ ؐ کو اس حال میں دیکھ لیتا تو اسے ماننا پڑتا کہ اس کے شعر کے مصداق آپؐ ہی ہیں۔ رسول کریمؐ نے فرمایا اچھا! ابوکبیر کے وہ شعرتو سنائو۔میں نے شعر سنائے جن میں ایک یہ تھا۔ فَاِذَا نظَرْتَ اِلیٰ اَسِرَّ ۃِ وَجْھِہٖ
    بَرَقَتْ کَبَرْقِ العَارِضِ المُتَھَلِّلٖ
    کہ تم میرے محبوب کے روشن چہرے کے خدوخال کو دیکھو تو تمہیں اس کی چمک دمک بادل سے چمکنے والی بجلی کی طرح معلوم ہو۔
    حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں یہ شعر سن کر رسول کریمؐ جوش محبت اور فرطِ مسرت سے اٹھ کھڑے ہوئے اور میری پیشانی کا بوسہ لے کر فرمانے لگے۔ اے عائشہؓ ! اللہ آپ کو بہترین جزا عطافرمائے۔شایدتم نے مجھے اس حال میں دیکھ کر اتنا لطف نہیں اُٹھایا ہوگا۔جتنا مزامجھے آپ سے یہ شعر سن کر آیا ہے۔ (بیہقی)70
    اپنے صحابہ کی ضروریات اور جذبات کا بے حد احساس تھا ۔ان کے حالات سے باخبر رہتے مگر کسی کے خلاف یکطرفہ کوئی بات سننا گوارہ نہ کرتے۔ فرماتے تھے کہ اپنے اصحاب کیلئے میراسینہ صاف رہنے دو۔(ابودائود)71
    صحابہ کو فاقہ کی تکلیف ہوتی تو اپنے گھر لے جاکر تواضع فرماتے یا پھر صحابہ کو تحریک کردیتے۔وہ بیمار ہوتے تو اُن کی عیادت کرتے ۔اپنے یہودی خادم کا حال پوچھنے اس کے گھر گئے۔بوقت عیادت مریض پر ہاتھ پھیرتے اور شفا کی دعا کرتے۔(بخاری)72
    اپنے ساتھیوں پرخاص توجہ فرماتے۔ کوئی ساتھی راستہ میں مل جاتا تو رک کر اس سے ملتے اور کھڑے رہتے یہاں تک کہ وہ خوداجازت لیتا۔کسی سے مصافحہ کرتے تو اس وقت تک ہاتھ نہ چھوڑتے جب تک وہ نہ چھوڑے۔(ترمذی)73
    اپنے ساتھیوں سے تحائف قدردانی کے ساتھ وصول فرماتے تھے۔ خوشبو اور دودھ کا تحفہ کبھی رد نہ فرماتے اور بدلہ میں بہتر تحفہ عطا فرماتے تھے۔(احمد)74
    تحفہ میں زمزم کا پانی دینا پسند فرماتے تھے۔صدقہ کا مال اپنی ذات کے لئے نہ لیتے تھے۔انصار کے گھروں میں ملاقات کے لئے تشریف لے جاتے۔(احمد75)ان کے بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرتے ۔پیار دیتے اور دعا کرتے۔بعض بچوں کی پیدائش پر کھجور کی گھٹی بھی دی۔(بخاری)76
    گھر میں بیک وقت نو بیویاں رہیں ہمیشہ ان میں عدل فرماتے، ان میں سے کسی کو سفر پر ہمراہ لے جانے کے لئے فیصلہ قرعہ انداز ی سے فرماتے۔(احمد77)مدینہ سے رخصت ہوتے وقت سب سے آخر میں اپنی لختِ جگر حضرت فاطمہ ؓ سے مل کر جاتے اور واپسی پر مسجد نبوی میں دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد سب سے پہلے حضرت فاطمہؓ سے ہی آکر ملتے۔(احمد78) سفر سے واپس تشریف لاتے تو خاندان کے بچے اور اہل مدینہ آپؐ کا استقبال مدینہ سے باہر جا کر کرتے۔(بخاری)79
    آپؐ عام مسلمانوں کی دعوت طعام بلا تفریق قبول فرماتے۔(بخاری80) اپنے صحابہ کے جنازہ اور تدفین میں شامل ہوتے تھے۔سوائے اس کے کہ کوئی شخص مقروض ہو تو اس کے بارہ میں فرماتے تھے کہ اس کا جنازہ خود پڑھ لو۔(بخاری)81
    صحابہ کے ساتھ قومی کاموں میں برابر کے شریک ہوتے۔مسجد نبوی کی تعمیر میں ان کے ساتھ مل کر اینٹیں اٹھائیں تو غزوئہ احزاب کے موقع پر خندق کی کھدائی میں حصہ لیا اور مٹی باہر نکالی۔(بخاری)82
    آپؐ خادموں سے بہت حسن سلوک فرماتے تھے۔حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے کبھی آپؐ نے مجھے اُف تک نہیں فرمایا کبھی کسی بات پر نہیں ٹوکا۔(بخاری)83
    حضرت علیؓ نے امام حسینؓ کے اس سوال پر کہ رسول کریمؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے ساتھیوں کے ساتھ سلوک کیسا ہوتا تھا ۔حضور ؐکی معاشرت کا دلآویز نقشہ یوں کھینچا کہ:۔
    رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ مسکراتے تھے۔عمدہ اخلاق والے اور نرم خوُ تھے۔تُرش رو تھے نہ تند خو،نہ کوئی فحش زبان پر لانے والے نہ چیخ کر بولنے والے۔عیب چیں تھے نہ بخیل۔جو بات ناگوار ہوتی اس کی طرف توجہ ہی نہ فرماتے نہ ہی اس کے بارے میںکوئی جواب دیتے۔آپؐ نے اپنے آپؐ کو تین باتوں سے کلیتہً آزاد کرلیا ہواتھا۔ جھگڑے ،تکبر اور لا یعنی و فضول باتوں سے اور تین باتوں میں لوگوں کو آزاد چھوڑ رکھا تھا یعنی آپؐ کسی کی مذمت نہ کرتے تھے، کسی کی غیبت نہ کرتے تھے اور کسی کی پردہ دری نہ چاہتے تھے۔آپؐ صرف اس امر کے بارے میں گفتگو کرتے جس میں ثواب کی اُمید ہو ۔جب آپؐ خاموش ہوجاتے تو لوگ بات کرلیتے تھے مگر آپؐ کے سامنے ایک دوسرے سے باتیں نہ کرتے اور جب آپؐ کے سامنے کوئی ایک بات کر رہا ہوتا تو باقی لوگ اس کی بات خاموشی سے سنتے یہاں تک کہ وہ بات پوری کرلے۔آپؐ اپنے صحابہ کی باتوں میں دلچسپی لیتے۔ان کی مذاق کی باتوں میں ان کا ساتھ دیتے اور تعجب کا موقع ہوتا تو تعجب فرماتے ۔کبھی کوئی اجنبی مسافر آجاتا تو اس کی گفتگو یا سوال نہایت توجہ سے سماعت فرماتے۔(عیاض)84
    صحابہ مہمانوں کو حضورؐ کی خدمت میں بڑے شوق سے لایا کرتے تھے۔ وہ خود ازراہ ادب آپؐ سے اکثر سوال نہ کرتے تھے بلکہ اس انتظار میں رہتے کہ کوئی بدّو آکر مسئلہ پوچھے تو ہم بھی سنیں ۔(بخاری)85
    آپؐ کی ہدایت تھی کہ اگر کوئی ضرورت منددیکھو تواسے کچھ دے دو ورنہ اس کی مدد کے لئے تحریک کردیا کرو۔ فرماتے تھے کہ نیک سفارش کا بھی اجر ہوتا ہے۔مبالغہ آمیز تعریف و ستائش آپؐ کو قطعاً پسند نہ تھی۔سوائے اس کے کہ جائز حدود کے اندر ہو۔(بخاری)86
    آپؐ کسی کی قطع کلامی پسند نہ فرماتے تھے سوائے اس کے کہ وہ اپنی حد سے تجاوز کرے۔ایسی صورت میں اسے روک دیتے تھے یا خود اس مجلس سے اُٹھ کھڑے ہوتے تھے۔
    متفرق معمولات
    آپؐ ہفتہ کے روز کبھی پیدل اور کبھی سواری پر مسجد قبا جایا کرتے تھے جو بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں مدینہ سے چند میل دور تھی۔یوں ہفتہ وار تفریح بھی ہوجاتی اوراس محلہ کے صحابہ سے ملاقات بھی۔(احمد87)حضورؐ کو سبزے اور جاری پانی کو دیکھنابہت پسند تھا۔
    جمعہ کا دن تو جمعہ کی تیاری اور اس کی مصروفیات میں گزرتا ۔کوئی مہم بھجوانا ہوتی تو بالعموم جمعرات کو دن کے پہلے حصہ میں بھجواتے۔(احمد88)اور تین یا اس سے زائد افراد پر امیر مقرر فرماتے۔(بخاری)89
    نبی کریمؐ عیدین کے موقع پر قربانیوں اور عبادتوں کی قبولیت کی دعا کرنا پسند کرتے تھے۔ حضرت واثلہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول کریمؐ کو عید کے دن ملا۔ اور عرض کیا کہ اللہ ہم سے اور آپؐ سے (عبادات وغیرہ) قبول فرمائے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا ہاں! تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا ومِنْکَ یعنی اللہ ہم سے اور آپ سے قبول فرمائے۔(بیہقی)90
    ہر کام میں دائیں پہلو کو ترجیح دیتے۔جوتا پہننے،کنگھی کرنے،وضو کرنے،نہانے وغیرہ میں یہی معمول تھا۔دایاں ہاتھ کھانے پینے،مصافحہ کرنے کے لئے استعمال فرماتے۔ (بخاری)91
    دیگر طہارت وغیرہ کے کام بائیں ہاتھ سے کرتے۔دائیں پہلو پر سوتے۔ جوتا پہننے میں پہلے دایاں پائوں پہنتے اور اتارتے وقت پہلے بایاں اتارتے۔ (مسلم)92
    مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے دایاں پائوں اندر رکھتے اور باہر نکلتے وقت پہلے بایاں پائوں باہر رکھتے۔کسی کے بارے میں کوئی شکایت پہنچتی تو نام لئے بغیر(بعض لوگ کہہ کر)مجلس میں سر زنش یا تنبیہہ فرماتے۔(بخاری)93
    کسی کا نام بھول جاتا تو یا بن عبداللہ کہہ کر پکارتے یعنی اے اللہ کے بندے کے بیٹے! کوئی کام یاد رکھنے کیلئے انگلی پر دھا گہ باندھ لیتے۔
    سفر پر جاتے تو مدینہ میں امیر مقرر فرماتے۔ موسم گرما کی سخت گرمیوں کے بعدجب موسم سرما کی آمد آمد ہوتی توخوش ہو کر اسے مرحبا کہتے۔بادل یا آندھی کے آثار دیکھ کر فکر مند ہو جاتے اور چہرہ متغیّر ہوجاتا کہ یہ طوفان بادوباراں کہیں گزشتہ قوموں کی طرح عذاب کا پیش خیمہ نہ ہو اور پھر دعائے خیر میں لگ جاتے۔(بخاری)94
    مگر موسم گرما کی عام بارش سے خوش ہوتے اور اسے بڑے شوق سے سر پر لے کر فرماتے۔ ’’میرے رب کی طرف سے یہ تازہ رحمت آئی ہے‘‘(احمد)95
    خوش ہوتے تو چہرہ خوشی سے تمتما اٹھتا۔ناراض ہوتے تو چہرے کا رنگ سرخ ہوجاتااور چہرے پر اس کے آثارظاہرہوجاتے۔(احمد)96
    کوئی غم پہنچتا توفرماتے بندوں کی بجائے میرا رب میرے لئے کافی ہے۔اور نماز کی طرف توجہ فرماتے۔(احمد)97
    کسی کو سرزنش کرتے تو اتنا فرماتے۔’’اللہ اس کا بھلا کر ے اسے کیا ہوا؟‘‘ زیادہ سوالات اور قِیل وقال سے منع فرماتے تھے۔(بخاری)98
    مسائل میں الجھنیں اور مشکلات پیدا کرنے سے بھی روکتے اور فرماتے’’آسانی پیدا کرو مشکل پیدا نہ کرو۔‘‘
    مجلس میں چھینک آتی تو منہ پر ہاتھ یارومال رکھ لیتے۔جمائی آتی تو ہاتھ منہ پر رکھ لیتے۔تھوک پر مٹی ڈال کر اسے دفن کر دیتے ۔(بخاری)99
    کبھی آپؐ کو درد شقیقہ کی تکلیف بھی ہوجاتی تھی جو ایک یا دو دن رہتی تھی۔ایسی صورت میں گھر میں آرام فرماتے۔
    اخلاق فاضلہ
    وہ ہستی جس کے بارے میں عرش کے خدا نے گواہی دی کہ اے نبی تو عظیم اخلاق پر فائز ہے۔وہ اخلاق کیسے شاندار ہونگے۔
    حضورؐ کے عام اخلاق کے بارہ میں حضرت خدیجہ ؓ کی پندرہ سالہ رفاقت کے بعد وہ گواہی کیسی زبردست ہے کہ آپؐ صلہ رحمی کرنے والے، دوسروں کے بوجھ بانٹنے والے،گمشدہ اخلاق اور نیکیوں کو زندہ کرنے والے، مہمان نواز اور راہ حق میں مصائب پر مدد کرنے والے ہیں اس لئے آپؐ جیسے انسان کو اللہ ضائع نہیں کرے گا۔(بخاری)100
    پھر حضرت عائشہ ؓ کا آپؐ کے اخلاق کے بارہ میں بیان ہے کہ آپؐ کبھی فحش کلامی نہ فرماتے تھے۔نہ ہی بازاروں میں آوازے کسنا آپؐ کا شیوہ تھا۔ آپؐ بدی کابدلہ بدی سے نہیں لیتے تھے بلکہ عفو اور درگذر سے کام لیتے تھے۔(بخاری)101
    صحابہ بیان کرتے ہیں کہ سب لوگوںکے محبوب ترین انسان آپؐ تھے۔ (احمد)102 جب کبھی آپؐ کو دو معاملات میں اختیار دیا جاتا تو آسان امر کو اختیار کرتے۔ آپؐ سے زیادہ اپنے نفس پر ضبط کرنیوالا کوئی نہ تھا۔(بخاری)103
    ٭ حیاء ایسی تھی کہ آپؐ کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ حیا دار تھے۔(احمد)104
    ٭ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول کریمؐ سب سے بڑھ کر سخی تھے۔(مسلم)105
    ٭ جب بھی آپؐ سے سوال کیا گیا آپؐ نے عطا فرمایا۔(احمد)106
    مال فئی(غنیمت) جس روز آتا اسی روز تقسیم فرمادیتے تھے۔توکل ایسا تھا کہ کبھی کل کے لئے کچھ بچا کر نہ رکھتے تھے۔(بخاری)107
    آپؐ تمام لوگوں سے بڑھ کر زاہد اور دنیا سے بے رغبت تھے(احمد108)اپنے آپؐ کو دنیا میں ایک مسافر سمجھتے تھے جو سستانے کے لئے ایک درخت کے نیچے آرام کیلئے کچھ دیررکتا اور پھر آگے روانہ ہوجاتاہے۔(ترمذی)109
    شجاعت ایسی تھی کہ جنگوں میں تن تنہا بھی مردمیدان بن کرلڑے اور کبھی قدم پیچھے نہ ہٹایا۔اشجع الناس اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔(مسلم)110
    آپؐ کا عفو ایسا کہ جانی دشمنوںاور قاتلانہ حملہ کرنے والوں کو بھی معاف کردیا۔ (بخاری)111
    الغرض رسول کریمؐ جامع اخلاق فاضلہ تھے۔آپؐ صفات الٰہیہ کے مظہراتم تھے۔ آپؐ خلق عظیم پر فائز تھے اور بنی نوع انسان کے لئے ایک خوبصورت اور کامل نمونہ تھے۔ ایسانمونہ جس کی پیروی کی برکت سے آج بھی خدا مل سکتا ہے اور آج بھی وہ ہمارا خالق و مالک یہ پاکیزہ اخلاق نبوی اپنے بندوں میں دیکھ کر ان سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔سچ ہے
    محمد ہی نام اور محمد ہی کام عَلَیْکَ الصَّلٰوۃُ عَلَیْکَ السَّلَام



    حوالہ جات
    1
    نوادرالاصول فی احادیث الرسول حکیم ترمذی جلد 4ص215دارالجیل بیروت
    2
    مستدرک حاکم جلد2ص392 و مسلم
    3
    شمائل الترمذی باب ماجاء فی خلق رسول اللہؐ
    4
    الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ للقاضی عیاض جلد1ص174دارالکتاب العربی
    5
    بخاری کتاب التہجد
    6
    بخاری کتاب التعبیر الرؤیاء ،ابوداؤ کتاب الادب :4847
    مسلم کتاب المساجد باب فضل الجلوس فی الصلوۃ:286
    7
    کنزالعمال جلد7ص153
    8
    مسلم کتاب الفضائل باب قرب النبی علیہ السلام من الناس:742
    9
    ترمذی کتاب الصوم
    10
    مسند احمد جلد6ص121،اسد الغابہ جلد1ص29
    11
    مسند احمد جلد5ص111
    12
    بخاری بدء الوحی و فضائل القرآن
    13
    مجمع الزوائد لہیثمی جلد2ص188
    14
    بخاری وترمذی کتاب الدعوات
    15
    بخاری کتاب الادب
    16
    مسند احمد جلد6ص398
    17
    بخاری کتاب الصلوۃ و کتاب التفسیر سورۃ ال عمران لن تنالوالبرّ
    18
    مسنداحمد جلد6ص59
    19
    المعجم الکبیرللطبرانی جلد11ص245
    20
    مسند احمد1ص26
    21
    بخاری و ترمذی کتاب الصلوۃ
    22
    بخاری کتاب التہجد
    23
    مجمع الزوائدلہیثمی جلد5ص23
    24
    بخاری کتاب الاطعمہ
    25
    بخاری کتاب الرقاق
    26
    مجمع الزوائدلھیثمی جلد5ص81
    27
    بخاری کتاب الاطعمہ
    28
    بخاری و ترمذی کتاب الاطعمۃ
    29
    مستدرک حاکم جلد4ص121
    30
    مسند احمد6ص59
    31
    مستدرک حاکم جلد4ص118وابوداؤد کتاب الاطعمہ
    32
    ترمذی کتاب الطہارۃ
    33
    شمائل الترمذی باب ماجاء فی کحل رسول اللہؐ
    34
    مسلم کتاب الطھارۃ باب السواک :370
    35
    بخاری کتاب المغازی باب مرض النبیؐ
    36
    سنن الدارمی جلد1ص31
    37
    شمائل الترمذی باب ماجاء فی خلق رسول اللہؐؐ
    38
    ابن ماجہ کتاب اللباس
    39
    ترمذی کتاب الادب وکتاب اللباس
    40
    بخاری کتاب العلم
    41
    بخاری کتاب المغازی
    42
    شمائل ترمذی باب ماجاء فی مشیۃ رسول اللہؐؐ
    43
    ترمذی کتاب المناقب باب فی صفۃ النبی ؐ :3637
    44
    الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد1ص379,422
    45
    مسند احمد3ص213وبخاری کتاب العلم
    46
    مسند احمد جلد3ص423
    47
    مسند احمد6ص56
    48
    الشفاء للقاضی عیاض جلد1ص202،طبقات ابن سعد جلد1ص422
    49
    ابودائود کتاب الادب :4838
    50
    مستدرک حاکم جلد3ص9
    51
    الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد1ص378
    52
    مسنداحمد جلد4ص358
    53
    المعجم الکبیرلطبرانی جلد12ص391
    54
    شمائل الترمذی باب ماجاء فی مزاح رسول اللہؐؐ
    55
    مسلم کتاب الجمعہ باب تخفیف الصلوۃ و الخطبہ:1435
    56
    مسلم کتاب الجمعہ باب الصلوۃ
    57
    ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلوۃ باب ماجاء فی الخطبۃ یوم الجمعہ:1107
    58
    بخاری کتاب الادب
    59
    مسلم کتاب الشعر حدیث1
    60
    مجمع الزوائدلھیثمی جلد 8ص126
    61
    ترمذی کتاب الادب باب ماجاء فی انشادالشعر:28487
    62
    بخاری کتاب الادب باب مایجوز من الشعر
    63
    الشفاء للقاضی عیاض جلد1ص9
    64
    الوفاء باحوال المصطفے ابن جوزی ص459 بیروت
    65
    کنزالعمال جلد7ص219
    66
    بخاری کتاب الادب
    67
    ابن ماجہ کتاب النکاح
    68
    بخاری کتاب النکاح
    69
    سنن البیھقی جلد7ص422 دائرۃ المعارف حیدرآباد دکن
    70
    ابوداؤد کتاب الادب باب فی رفع الحدیث من المجلس:4218
    71
    بخاری کتاب التفسیر سورۃ الحجرات
    72
    بخاری کتاب المرضیٰ
    73
    ترمذی کتاب صفۃ القیامہ باب46
    74
    مسند احمد جلد6ص90
    75
    مسند احمد جلد4ص398
    76
    بخاری کتاب الادب
    77
    مسند احمد جلد6ص117
    78
    مسند احمدجلد3ص455
    79
    بخاری کتاب المغازی
    80
    بخاری کتاب الاطعمۃ
    81
    بخاری کتاب الحوالات
    82
    بخاری کتاب المغازی
    83
    بخاری کتاب المناقب
    84
    الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ قاضی عیاض جلد3ص206دارالکتاب العربی
    85
    بخاری کتاب العلم
    86
    بخاری کتاب الادب
    87
    مسند احمد جلد2ص4
    88
    مسند احمد جلد4ص484
    89
    بخاری و مسلم کتاب الجہاد و مسند احمد جلد5ص358
    90
    سنن الکبری للبیھقی جلد3ص319
    91
    بخاری کتاب الصلوۃ باب التیّمن
    92
    مسلم کتاب القدر:4816
    93
    بخاری کتاب الادب
    94
    بخاری کتاب التفسیر سورۃ الاحقاف
    95
    مسند احمد جلد6ص41,90,129
    96
    مسند احمد جلد3ص459و مجمع الزوائدلھیثمی جلد8ص287
    97
    مسند احمد جلد5ص388
    98
    بخاری کتاب الاستقراض
    99
    بخاری کتاب الادب وکتاب الصلوۃ
    100
    بخاری بدء الوحی
    101
    بخاری کتاب الادب
    102
    مسند احمد جلد3ص402
    103
    بخاری کتاب المناقب:3296
    104
    مسند احمد جلد3ص71
    105
    مسلم کتاب الفضائل
    106
    مسند احمد جلد3ص190
    107
    بخاری کتاب الرقاق
    108
    مسند احمد جلد4ص198
    109
    ترمذی کتاب الزھد
    110
    مسلم کتاب الفضائل
    111
    بخاری کتاب المغازی

    {توحید پرستوں کا بادشاہ}
    رسول اللہ ؐکی محبت الہٰی وغیرت توحید
    حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شرک وبت پرستی کے تاریک دور میں قیام توحید کا عظیم الشان کام لیا جانا تھا ۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے آغاز سے ہی آپؐ کے دل میں توحید کی محبت اور بت پرستی سے نفرت رکھ دی تھی اوراپنی خاص مشیٔت سے آپؐ کو ہرقسم کے شرک سے محفوظ رکھا ۔
    شرک سے نفرت
    رسول اللہؐ کی کھلائی ام ایمنؓ بیان کرتی تھیںکہ ’’ بُوانہ‘‘ وہ بت تھا جس کی قریش بہت تعظیم کرتے تھے۔ اُ س کے پاس حاضر ی دے کرقربانیاں گزارتے اور سال میں ایک دن وہاں اعتکاف کرتے تھے ۔ابو طالب بھی اپنی قوم کے ساتھ وہاں جاتے اور رسول اللہؐ کو بھی ساتھ لے جانا چاہتے مگر آپؐ انکار کر دیتے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات حضورؐ کی پھوپھیاں اورابو طالب آپؐسے سخت ناراض ہوتے اور کہتے کہ بتوں سے آپؐ کی بیزاری کے باعث ہمیں آپؐ کے بارے میں ڈر ہی رہتا ہے۔
    ایک دفعہ اپنی پھوپھیوں کے اصرار پر آپؐ وہاں چلے توگئے مگر سخت خوفزدہ ہو کر واپس آگئے اور کہا کہ میں نے وہاںایک عجیب منظر دیکھا ہے۔ پھوپھیوں نے کہا کہ اتنے نیک انسان پر شیطان اثر نہیں کر سکتا اور پوچھاآپؐ نے کیا دیکھا ہے؟آپؐ نے بتایا کہ جونہی میں بت کے قریب جانے لگتا تھاتو سفید رنگ اور لمبے قد کا ایک شخص چلّا کر کہتا تھا کہ اے محمدؐ ! پیچھے رہو اور اس بت کو مت چھوؤ۔ بعد میںپھوپھیوں نے بھی بتوں کے پاس جانے کے لئے یہ اصرار چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ آپؐ کو ایسی مشرکانہ رسوم سے محفوظ رکھا ۔(بیہقی)1
    بچپن میں اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ سفر شام کے دوران عیسائی راھب بُحیرٰی سے ملاقات ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ایک سوال پر فرمایا تھا کہ مجھ سے لات، اور عزیٰ بتوںکے بارہ میں مت پوچھو، خدا کی قسم ! ان سے بڑھ کر مجھے اور کسی چیز سے نفرت نہیں۔(بیہقی)2
    نبی کریم ؐ حضرت خدیجہؓ کا مال تجارت لے کر جب ملک شام گئے تو سودا فروخت کیا۔ کسی شخص نے اس دوران آپؐ سے لات اورعُزّٰی کی قسم لینا چاہی۔آپؐ نے فرمایا میں نے کبھی آج تک ان بتوں کے نام کی قسم نہیں کھائی اورنہ کبھی ان کی طرف توجہ کی ہے ۔(ابن سعد)3
    عبادت الہٰی کی محبت
    الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں بچپن سے ہی اپنے خالق ومالک کی محبت بھر دی گئی تھی۔عبادت اور ذکر الہٰی سے آپؐ کو خاص شغف تھا، خلوت پسند تھی۔ عین عنفوانِ شباب میں آپؐ کو نیک اور سچی خوابوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا ۔(بخاری)4
    جوانی میں آنحضورؐ ہر سال غار حرا میں ایک مہینہ کے لئے اعتکاف فرمایا کرتے اور تنہائی میں اللہ کو یاد کرتے تھے۔ جاہلیت میں قریش کی عبادت کا یہ ایک طریق تھا ۔جب آپؐ کا یہ اعتکاف ختم ہو تا توواپس آکر پہلے خانہ کعبہ کا طواف کرتے پھر گھر تشریف لے جاتے۔ جب حضورؐ کو پہلی وحی ہوئی تویہ رمضان کاہی مہینہ تھا جس میں آپؐ غار حرا میں اعتکاف فرما رہے تھے۔ (ابن ھشام)5
    اس زمانہ میں مکہ میں گنتی کے چند لوگ توحید پرست باقی رہ گئے تھے جو دین ابراہیمی پر قائم تھے ۔ان میں ایک قابل ذکر شخص زید بن عمرو تھے ۔ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کی ملاقات مکے کے قریب بلدح بستی میں ہوئی ۔ مشرکین کی طرف سے آنحضرتؐ کے سامنے کچھ کھانا پیش کیا گیا۔ آپؐ نے کھانے سے انکار کر دیا ۔پھر زید کو کھانا پیش کیا گیا تو انہوں نے بھی یہ کہہ کر کھانے سے انکار کیا کہ تم لوگ اپنے بتوں کے نام پر جانور ذبح کرتے ہو اس لئے میں ہر گزتمہارا کھانا نہ کھاؤں گا ، سوائے اس کھانے کے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ۔ زید بن عمرو قریش کا ذبیحہ حرام سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ بکری پیدا کرنے والاتو خدا ہے۔ اس کے لئے گھاس اُگانے والا بھی وہی ہے۔ پھر تم اسے غیر اللہ کے نام پر کیوں ذبح کرتے ہو؟(بخاری)6
    نبی کریم ؐکی پہلی وحی کا آغاز ہی بنیادی طور پر توحید کے پیغام سے ہوا۔ پہلے محض اِقْرَأ کے الفاظ پر آپؐ رکتے رہے مگر جب کہا گیا اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ یعنی اپنے اس پیدا کرنے والے پروردگار کے نام سے پڑھییٔ جس نے پیدا کیا، توبے اختیار آپؐ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوگئے کیونکہ آپؐ تو پہلے ہی اپنے خالق ومالک پر فدا تھے۔
    محبت الہٰی کی تمنَّا
    حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت الہٰی کے نظارے دیکھ کر مکے کے لوگ سچ ہی تو کہتے تھے عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَبَّہ‘ کہ محمد تو اپنے رب پر عاشق ہو گیا ہے۔(غزالی)7
    اوراس میں کیا شک ہے کہ آپؐ اپنے رب کے سچے عاشق تھے۔ آپؐ کی محبت کا اظہار نمازوں، عبادات، دعائوں اور ذکر الہٰی سے خوب عیاں ہے۔ رسول اللہؐ کی محبت الہٰی کا یہ حال تھا کہ حضرت داؤد ؑ کی یہ دعا بڑے شوق سے اپنی دعائوں میں شامل کرتے تھے ۔
    َاَللّٰھُمَّ اِنِّی￿ اَس￿اَلُکَ حُبَّکَ وَ حُبَّ مَن￿ یُّحِبُّکَ وَال￿عَمَلَ الَّذِی￿ یُبَلِّغُنِی￿ حُبَّکَ ، اَللّٰھُمَّ اج￿عَل￿ حُبَّکَ اَحَبَّ اِلَیَّ مِن￿ نَف￿سِی￿ وَمَالِی￿ وَاَھ￿لِی￿ وَمِنَ ال￿مَائِ ال￿بَارِدِ۔
    ’’اے اللہ میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور اُس کی محبت بھی جو تجھ سے محبت کرتا ہے۔ میں تجھ سے ایسے عمل کی توفیق مانگتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔ اے اللہ! اپنی اتنی محبت میرے دل میں ڈال دے جو میری اپنی ذات، میرے مال، میرے اہل اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ ہو ۔‘‘ (ترمذی)8
    مگر محبت الہٰی کی جو دعا آپؐ نے سکھائی وہ حضرت داؤد ؑکی دعا سے کہیں جامع اور بلیغ ہے ۔آپؐ اپنے مولیٰ کے حضور عرض کرتے :۔
    اَللّٰھُمَّ ار￿زُق￿نِی￿ حُبَّکَ وَحُبَّ مَن￿ یَّن￿فَعُنِی￿ حُبُّہٗ عِن￿دَکَ اَللّٰھُمَّ مَا رَزَق￿تَنِی￿ مِمَّا اُحِبُّ فَاج￿عَل￿ہُ قُوَّۃًلِّی￿ فِی￿مَا تُحِبُّ،وَمَازَوَی￿تَ عَنِّی￿ مِمَّا اُحِبُّ فَاج￿عَل￿ہُ فَرَاغًا لِّی￿ فِی￿مَا تُحِبُّ۔
    ’’ اے اللہ ! مجھے اپنی محبت عطا کر اور اُس کی محبت جس کی محبت مجھے تیرے حضور فائدہ بخشے۔ اے اللہ! میری دل پسند چیزیں جو تو مجھے عطا کرے ان کو اپنی محبوب چیز وں کے حصول کے لئے قوت کا ذریعہ بنا دے ۔اور میری وہ پیاری چیزیں جو تو مجھ سے علیحدہ کر دے ان کے بدلے اپنی پسندیدہ چیزیں مجھے عطا فرما دے۔(ترمذی)9
    جس سے محبت ہو اس کی ہر چیزسے بھی پیار ہوجاتا ہے، جب سال کی پہلی بارش ہوتی تو رسول اللہؐ اسے ننگے سر پر لیتے اور فرماتے ہمارے رب سے یہ تازہ نعمت آتی ہے اور سب سے زیادہ برکت والی ہے۔(کنز)10
    رسول کریمؐ کی عبادات اور اعمال پر توحید کی گہری چھاپ تھی۔آپؐنماز کا آغاز ہی اس دعا سے کرتے تھے ’’ وَجَّھْتُ وَ جْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰواتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفاً وَّ مَا اَناَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔(الانعام:80) میںنے موحّد ہوکر اپنی تمام توجہ اس ذات کی طرف پھیر دی جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔(نسائی)11
    چنانچہ رسول کریمؐ نے شرک کی مختلف شکلوں اور باریک راہوں سے بھی روکا۔ آپؐ نے ریاکاری کو شرک قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ جوشخص نماز میں ریا کرتا ہے وہ بھی شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔(احمد)12
    حضرت شدادؓ بن اوس کہتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ؐ آپؐ کی امت بھی آپؐ کے بعد شرک کرے گی؟ فرمایا ہاں وہ سورج، چاند ،پتھر یا بت کی پرستش تو نہیں کریں گے مگر اپنے اعمال میں دکھاوا کریں گے۔(احمد)13
    اسی طرح آپؐ نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے میں شرک کرنے والوں کے شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں۔ جو شخص کسی بھی عمل میں میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے تو میں اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہوں۔(مسلم)14
    حضرت عمرؓ ایک دفعہ مسجد سے نکلے تو حضرت معاذ بن جبل ؓ کو رسول کریم ؐکے مزار کے پاس روتے ہوئے پایا۔حضرت عمرؓ نے رونے کا سبب پوچھا۔ تو وہ کہنے لگے ایک حدیث (یادآگئی جو) میں نے رسول اللہ ؐ سے سنی تھی آپؐ نے فرمایا تھا کہ ’’معمولی ریاء بھی شرک ہے‘‘(حاکم15)رسول کریمؐ بدشگونی کو بھی شرک سے تعبیر فرماتے تھے۔(احمد)16
    ایک دفعہ رسول اللہؐ خطبہ ارشاد فرمانے کھڑے ہوئے اور فرمایا اے لوگو! جھوٹی گواہی بھی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے۔ پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی۔
    حُنَفَآئَ الِلّٰہِ غَیْرَمُشْرِکِیْنَ بِہٖ ط وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَکَاَنَّمَاخَرَّمِنَ السَّمَآئِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُاَوْتَھْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ۔(سورۃ حج:31)
    ترجمہ:ہمیشہ اللہ کی طرف جھکتے ہوئے اُس کا شریک نہ ٹھہراتے ہوئے اور جو بھی اللہ کا شریک ٹھہرائے گا۔تو گویا وہ آسمان سے گرگیا۔پس یا تو اُسے پرندے اُچک لیں گے یا ہوا اُسے کسی دُورجگہ جاپھینکے گی۔(ترمذی)17
    حضرت فروہ ؓ رسول کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیں جو میں رات سوتے ہوئے پڑھاکروں فرمایا سورۃ الکافرون پڑھاکرو۔ یہ شرک سے آزاد کرنے والی (سورت) ہے۔(احمد)18
    .968حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ شرک سے بچو یہ چیونٹی کے نقش پا سے بھی باریک تر ہے ۔صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ کیسے بچیں؟فرمایا یہ دُعا پڑھا کرو :-اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُو￿ذُبِکَ مِن￿ اَن￿ نُّش￿رِکَ بِکَ شَی￿أنَّع￿لَمُہٗ وَنَس￿تَغ￿فِرُکَ لِمَا لَا نَع￿لَمُ۔ (احمد)19
    .968 .968ترجمہ:۔ اے اﷲ! ہم تیری پناہ میں آتے ہیں اس بات سے کہ تیرے ساتھ جانتے بوجھتے ہوئے کسی کو شریک ٹھہرائیںاورلا علمی میں ایسا کرنے سے ہم تجھ سے بخشش کے طلبگار ہیں ۔
    رسول اللہ ؐ کی عبادات محض اپنے مولیٰ کی رضا کے لئے وقف اور خالص تھیں اورآپؐ کے دل پر توحید کی گہری چھاپ کی وجہ سے وہ ہر قسم کے ریاء سے پاک تھیں۔ جس پر عرش کے خدا نے بھی یہ گواہی دی کہ اے نبی تو کہہ دے میری نماز ،میری قربانیاں، میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی امر کا حکم دیا گیا ہے اور میں اُس کا سب سے پہلا فرمانبردار ہوں۔(سورۃالانعام:163,164)
    فرض نمازوں کے علاوہ بالخصوص رات کے وقت آپؐ اللہ تعالیٰ کی گہری محبت سے سرشار ہوکر نہایت خشوع و خضوع سے بہت لمبی اور خوبصور ت نماز پڑھا کرتے تھے۔اپنے رب کی عبادت آپؐ کو ہر دوسری چیز سے زیادہ پیاری تھی۔آپؐ کے پاس بیک وقت نوبیویاں رہیںاپنی عزیز ترین بیوی حضرت عائشہ ؓکے ہاں آپؐ کی نویں دن باری آتی تھی۔ایک دفعہ موسم سرما کی سرد رات کو ان کے لحاف میں داخل ہوجانے کے بعد اُن سے فرمانے لگے کہ عائشہ! اگر اجازت دو تو آج رات میں اپنے رب کی عبادت میں گزار لوں۔انہوں نے بخوشی اجازت دے دی اور آپؐ نے وہ ساری رات عبادت میں بسر کی اورروتے روتے سجدہ گاہ تر کردی۔ (سیوطی)20
    توحید کے اقرار کا بھی آپؐ کو بہت لحاظ تھا ۔ایک دفعہ ایک انصاری نے عرض کیا کہ میرے ذمّہ ایک مسلمان لونڈی آزادکرناہے۔ یہ ایک حبشی لونڈی ہے اگر آپؐ سمجھتے ہیں کہ یہ مومن ہے تو میں اسے آزاد کر دیتا ہوں ۔آنحضورؐ نے اس لونڈی سے پوچھا کہ کیا تم گواہی دیتی ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ؟اس نے کہا ہاں۔ آپؐ نے فرمایا کیا گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟اس نے کہا ہاں۔فرمایا کیا یوم آخرت پر ایمان لاتی ہو؟اس نے کہا ہاں۔ آپؐ نے فرمایا ’’اسے آزادکر دو۔یہ مومن عورت ہے۔‘‘(احمد)21
    قیام توحید
    رسول اللہ ؐ کی شریعت کا پہلا سبق ہی کلمہ توحید لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ تھا۔ یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔آپؐ کا اوڑھنا بچھونا توحید ہی تھا ۔صبح وشام خدا کی توحید کا دم بھرتے تھے۔دن چڑھتا توآپؐ کے لبوںپریہ دعاہوتی۔ ’’ہم نے اسلام کی فطرت اور کلمۂ اخلاص (یعنی توحید) پر اور اپنے نبی محمدؐ کے دین اور اپنے باپ ابراہیم ؑکی ملت پر صبح کی جو موحّد تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔‘‘(احمد)22
    شام ہوتی تو یہ دعا زبان پر ہوتی ۔اَم￿سَی￿نَا وَاَم￿سَی ال￿مُل￿کُ لِلّٰہِ’’ہم نے اور سارے جہاں نے اللہ کی خاطر شام کی ہے اور تمام تعریف اللہ کے لئے ہے ۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہت اسی کی ہے ۔تمام تعریفوں کا وہی مالک ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔‘‘ (مسلم)23
    کوئی مصیبت در پیش ہوتی تو یہ دعا کرتے ۔لَا اِلٰہَ اِلَّا ﷲُ ال￿عَظِی￿مُ ال￿حَلِی￿م ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہی عظمت والا اور بردبار ہے۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عظیم عرش کا رب ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آسمان اور زمین کا رب ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ عرش کریم کا رب ہے۔‘‘ (بخاری)24
    حضرت محمد ؐ مصطفٰے ہی تھے جنہوں نے شرک وبت پرستی کے ماحول میں نعرۂ تو حید بلند کیا ۔ پھر عمر بھریہ علمِ تو حید بلند کیے رکھااور کبھی اس پر آنچ نہ آنے دی ۔ اس کلمۂ توحید کی خاطر ہر طرح کے دکھ اٹھائے ،اذیتیں برداشت کیں ،اپنے جانی دوستوں کی قربانی بھی دی اور خود اپنی جان کی قربانی پیش کرنے سے بھی دریغ نہ کیا ۔ ہمیشہ قیام توحید کے لئے کوہ استقامت بن کر تمام ابتلاؤں کا مقابلہ کیا۔ آپؐ نے توحید کو ہی ذریعہ نجات قرار دیا اور فرمایا کہ جس نے صدق دل سے تو حید باری کا اقرار کیا وہ جنّتی ہے ۔(احمد) 25
    اپنی امت کو ہمیشہ توحید کے ترانے اور نغمے الاپنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص نے دن میں سو مرتبہ خدا کی توحید کا یوں اقرار کیا لَااِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُ وَحْدَہ‘ لَا شَرِیْکَ لَہ‘ لَہُُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍٔ قَدِ یْرٌ۔’’کہ خدا کہ سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ ایک ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں ،بادشاہت اُسی کی ہے ۔ تمام تعریفوں کا بھی وہ مستحق ہے اور وہ ہر شے ٔپر قادر ہے ۔‘‘ایسے شخص کو دس غلاموں کی آزادی کے برابر ثواب ہو گا اور اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور سو برائیاں مٹائی جائیں گی۔ توحید باری پر مشتمل یہ ذکر اُس دن شام تک کے لئے شیطان سے اُس کی پناہ کا ذریعہ بن جائے گا اور کوئی شخص اُس سے بہتر عمل والا قرار نہیں پائے گا سوائے اُس شخص کے جو یہ ذکر اِس سے زیادہ کثرت سے کرے۔(بخاری)26
    رسول اللہ ؐ نے توحید کی حفاظت کی خاطر وطن کی قربانی بھی دی اور مدینہ ہجرت کر لی۔جب وہاں بھی دشمن تعاقب کر کے حملہ آور ہوا تو مجبوراًدفاع کے لئے تلوار اٹھائی مگر ان دفاعی جنگوں کی غرض بھی یہی تھی کہ خدا کا نام بلند ہو۔
    ایک دفعہ کسی نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! کوئی شخص حمیت کی خاطر لڑتا ہے، کوئی شجاعت کے لئے تو کوئی مال غنیمت کی خاطر۔ان میں سے خدا کی خاطر جہاد کرنے والا کون شمار ہو گا؟آپؐ نے فرمایا ’’وہ شخص جو اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہواور توحید کی عظمت قائم ہو ، فی الحقیقت وہی خدا کی راہ میں لڑنے والا شمار ہو گا ۔‘‘(بخاری)27
    رسول اللہؐ نے توحید کا یہ احترام بھی قائم کیا کہ اپنے اوپر حملہ آور ہونے والے اور ظلم کرنے والے جانی دشمنوں کے متعلق فرمایا کہ اب بھی اگر یہ کلمۂ توحید پڑھ لیں تو ہماری ان سے کوئی لڑائی نہیں ۔(بخاری28)گویاہماری تلواریں جو اپنے دفاع کے لئے اٹھی تھیں ،کلمہ کے احترام میں پھر میانوں میں واپس چلی جائیں گی ۔چنانچہ آنحضورؐ نے کلمہ توحید کا اقرار کرنے پر جانی دشمن کو امان دینے کا حکم دیا ہے۔آپؐ نے فرمایا کہ جس بستی سے اذان کی آواز آتی ہو (جو توحید اور رسالت کے اقرار پر مشتمل ہے) اس پر حملہ نہیں کرنا۔(بخاری)29
    حضرت مقداد بن عمرو کندیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول کریمؐ سے پوچھا کہ اگر کسی کافر کے ساتھ میدان جنگ میں میرا مقابلہ ہو ، وہ میرا ہاتھ کاٹ دے اور کسی درخت کی آڑ لے کر مجھ سے بچنے کی خاطر کہہ دے کہ میں اللہ کی خاطر مسلمان ہوتا ہوں تو کیا اس کلمے کے بعد میں اسے قتل کرنے کا حق رکھتا ہوں۔فرمایا’’ نہیں تم اسے ہر گز قتل نہ کرو۔‘‘ میں نے عرض کیا یارسول اللہ!اس نے میرا ہاتھ کاٹا ہے اور اس کے بعد مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ حضورؐ نے فرمایا’’اسے قتل نہ کرو۔ اگر تم اسے قتل کرو گے تو وہ مسلمان اور تم کافر سمجھے جاؤ گے۔‘‘(بخاری)30
    حضرت اسامہؓ نے جب ایک جنگ میں مدّ مقابل دشمن پرحملہ کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے کلمہ پڑھ لیا۔اسامہ نے پھربھی اسے ہلاک کر دیاتو رسول اللہؐ یہ سن کر بہت ناراض ہوئے اور فرمایاکہ توحید کا اقرار کرنے والے ایک شخص کو کیوں قتل کیا ؟ قیامت کے روز جب کلمہ تمہارے گریبان کو پکڑے گا تو کیا جواب دو گے ؟ اور جب اسامہؓ نے کہا کہ وہ سچے دل سے کلمہ نہیں پڑھتا تھا تو فرمایا کہ ’’کیا تم نے اس کا دل چیرکر دیکھ لیا تھا؟‘‘ (مسلم)31
    رسول کریمؐ توحید کے بارے میں اتنی احتیاط فرماتے تھے کہ ایک دفعہ ایک یہودی عالم نے آپؐ کی مجلس میں آکر ذکرکیا کہ اے محمدؐ! آپؐ بہت اچھے لوگ ہیں بشرطیکہ آپ ؐ شرک نہ کرو۔ رسول کریمؐنے کمال عاجزی سے فرمایا اللہ پاک ہے۔وہ شرک کیا ہے؟ وہ کہنے لگاآپ ’’وَالکَعْبَتِہ‘‘ کہہ کر کعبہ کی قسم کھاتے ہو۔ حالانکہ مسلمان کعبہ کے بارہ میں کوئی مشرکانہ عقیدہ نہیں رکھتے تھے پھربھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ توقف کے بعد موقع ظن سے بچنے اور احتیاط کی خاطر مسلمانوں کو نصیحت فرمائی کہ اب اس شخص نے ایک بات کہہ دی ہے اس لئے آئندہ حلف کے وقت کعبہ کی بجائے ربّ کعبہ کہہ کر قسم کھایا کرو۔
    پھر وہ یہودی عالم کہنے لگا آپؐ بہت اچھی قوم ہیں۔ بشرطیکہ آپؐ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ رسول کریمؐ نے فرمایا اللہ پاک ہے۔ ہم کونسا شریک ٹھہراتے ہیں؟ اس نے کہا آپؐ لوگ کہتے ہیں اللہ نے چاہا اور تم نے چاہا۔ رسول کریمؐ نے پھر توقّف کیا اور فرمایا اس نے ایک بات کردی ہے۔ پس آئندہ جو شخص کہے کہ( ماشاء اللہ)اللہ نے چاہا تو اس کے بعد وقفہ ڈال کرکہہ سکتا ہے کہ تم نے چاہا۔(اکٹھے یہ جملے کہنے میں احتیاط کی جائے)۔(احمد)32
    چنانچہ ایک دفعہ ایک شخص نے نبی کریمؐ سے کہا ماشاء اللہ وشئتَ کہ جو اللہ نے چاہا اور آپؐ نے چاہا۔نبی کریمؐ نے فرمایا تم نے مجھے اللہ کے برابر ٹھہرایا بلکہ اصل وہ ہے جو صرف خدائے واحد نے چاہا۔(احمد)33
    حضرت عمرؓ ایک دفعہ اپنے والد کی قسم کھارہے تھے۔ رسول اللہؐ نے ان کو پکار کر فرمایا سنو! اللہ تمہیں اپنے باپوں کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے، جسے قسم کھانے کی ضرورت پیش آئے وہ اللہ کی قسم کھائے یا پھر خاموش رہے۔ (بخاری)34
    غیرت توحید
    زندگی کے بڑے سے بڑے ابتلاء میں بھی جب خود رسول اللہ ؐاورآپؐ کے صحابہ کی جانیں خطرہ میں تھیں آپؐ غیرت توحید کی حفاظت سے غافل نہیں ہوئے بلکہ آپؐ کی محبت توحید کمال شان کے ساتھ ظاہر ہوئی۔
    حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہؐ غزوۂ بدر کے لئے تشریف لے جارہے تھے کہ حرۃ الوبرہ مقام پر ایک مشرک شخص حاضر خدمت ہوا۔جرأت و شجاعت میں اس کی بہت شہرت تھی۔ صحابہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ ایک سو رما حالت جنگ میں میسرّ آیا ہے۔ اس نے رسول اللہ ؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں اس شرط پر آپؐ کے ساتھ لڑائی میں شامل ہونے آیا ہوں کہ مال غنیمت سے مجھے بھی حصّہ دیا جائے۔آپؐ نے فرمایا کیا تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہو؟ اس نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایاپھر تم جاسکتے ہو۔ میں کسی مشرک سے مدد لینا نہیں چاہتا۔سبحان اللہ! توحید کی کیسی غیرت ہے کہ حالتِ جنگ میں ہوتے ہوئے بھی ایک بہادر سور ماکی مدد اس لئے قبول کرنے کو تیار نہیں کہ وہ مشرک ہے۔ کچھ دیر بعد اس نے پھر حاضر ہوکر یہی درخواست کی تو آپؐ نے وہی جواب دیا۔ وہ تیسری دفعہ آیا اور عرض کیا کہ مجھے بھی شریک لشکر کرلیں۔آپ ؐ نے پھر پوچھا کہ اللہ اور رسول پر ایمان لاتے ہو؟اس دفعہ اس نے اثبات میں جواب دیا تو آپؐ نے فرمایا’’ ٹھیک ہے پھر ہمارے ساتھ چلو۔‘‘(مسلم)35
    عظمت توحید
    غزوۂ احد میں کفار مکہ کے درۂ اُحد سے دوبارہ حملہ کے بعد مسلمانوں کو ہزیمت اٹھانی پڑی۔ اس دوران ستر مسلمان شہید ہوئے تھے۔ خود حضورؐ کی شہادت کی خبریں پھیل گئیں ۔دشمن کو اس پر خوش ہونے کا موقع میسر آگیا۔ ابوسفیان فخر میں آکر اپنی فتح جتلانے لگا ۔اس نازک حالت میں (جب مسلمان خود حفاظتی کی خاطر ایک پہاڑی دامن میں پناہ گزیں تھے ) ابو سفیان مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہنے لگا ۔’’کیا تم لوگوں میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہیں؟‘‘رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ازراہ مصلحت ارشاد فرمایا کہ ان کو جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ مسلمانوں کی خاموشی دیکھ کر ابو سفیان کا حوصلہ بڑھا۔ کہنے لگا کیا تم میں ابو قحافہ کا بیٹا (ابو بکرؓ ) ہے ؟ حضور ؐ نے پھر ارشاد فرمایا کہ جواب نہ دو ۔ اس پر ابو سفیان پھر بولا کیا تم میں خطاب کا بیٹا (عمرؓ) ہے ؟ مسلمانوں کی مسلسل خاموشی دیکھ کر ابوسفیان نے فتح وکامرانی کا نعرہ لگایا اور کہا اُعْلُ ھُبُل ْ۔ ہبل بت زندہ باد۔یہ سن کر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غیرتِ توحید نے جوش مارا اور آپؐنے فوراًجواب دینے کا ارشادفرمایا۔ صحابہ نے پوچھا کیاجواب دیں ؟فر مایا کہواَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ اللہ سب سے بلند اور اعلیٰ شان والا ہے ۔ابو سفیان نے پھرکہا ہمارا تو عزیٰ بت ہے۔ تمہارا کوئی عزیٰ نہیں ! آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اس کو جواب میں کہو کہ اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارا کوئی مولیٰ نہیں۔ (بخاری)36
    فتح مکہ کے موقع پربھی غیرت توحیدکی عجب شان دیکھنے میں آئی۔خدائے واحد کا گھر ابراہیم ؑ خلیل اللہ نے ان دعائوں کے ساتھ تعمیر کیا تھاکہ خدایا مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے بچانا۔ (سورۃابراھیم:36) رسول اللہ ؐ کی بعثت کے وقت اس خانہ خدا کو ۳۶۰ جھوٹے خدائوں نے گھیر رکھا تھا۔لیکن ابراہیمی دعائوں کی بدولت اب رسول اللہ ؐ کے ذریعہ اس ظلم اور جھوٹ کے مٹنے کا وقت آگیا تھاچنانچہ فتح مکہ کے موقع پر آپؐ نے خانہ کعبہ تشریف لاکر خدا کے گھر کو بتوں سے پاک کیا۔
    مکے میں داخلے کے وقت دنیا نے کمال انکسار کا یہ منظردیکھاتھا کہ جب اپنی ذات کا معاملہ تھا تو اس فخر انسانیتؐ نے اپنا وجود کتنا مٹا دیا اور اپناسر کتنا جھکا دیا تھا کہ سواری کے پالان کو چھونے لگا لیکن جب رب جلیل کی عظمت و وحدانیت اور غیرت کے اظہار کا وقت آیا تونبیوں کے اس سردار ؐ نے ایک ایک بت کے پاس جاکر پوری قوت سے اُس پر اپنی کمان ماری۔ یکے بعد دیگرے انکو گراتے چلے گئے ۔ آپؐ بڑے جلال سے یہ آیتتلاوت کر رہے تھے ۔
    جَائَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا (سورۃ بنی اسرائیل:82)
    کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور وہ ہے ہی مٹنے والا۔(بخاری)37
    فتح پر خدائے واحد کی عظمت کے نعرے
    چند لمحوں میں ضرب مصطفوی ؐسے تمام بت ریزہ ریزہ ہوگئے۔ عزیٰ ٹوٹ کر پارہ پارہ ہوگیا اور ہبل پاش پاش ہوکر بکھر گیا۔(ابن ہشام)38
    تعمیر بیت اللہ کا یہ مقصد پورا ہوا کہ اس میں صرف اورصرف خدائے واحد کی پرستش کی جائے۔یہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرادوں اور تمنائوں کے پورا ہونے کا دن تھا۔یہ خدا کی بڑائی ظاہر کرنے اور عظمت قائم کرنے کا دن تھا۔اس روز رسولِ خداؐ کو زندگی کی سب سے بڑی خوشی پہنچی کہ توحید کا بول بالا ہوا تھا۔اس کیفیت میں جب رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس تشریف لائے اور حجرا سود کا بوسہ لیا تو وفور جذبات سے آپؐ نے بآواز بلند اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا۔
    صحابہ ؓ نے بھی جواب میں اللہ اکبر ، اللہ اکبر کے نعرے لگائے اور اس زور سے لگائے کہ سر زمین مکہ نعرہ ہائے تکبیر سے گونج اٹھی۔ مگر نعرے تھے کہ تھمنے کا نام نہ لیتے تھے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے صحابہ ؓ کو خاموش کرایا۔(زرقانی)39
    پس فتح مکہ کا دن بھی دراصل توحید کی عظمت اور قیام کا دن تھا ۔اس روز رسول اللہؐ نے اپنی فتح کا کوئی نقارہ نہیں بجایا ۔ہاں! اللہ تعالیٰ کی عظمت وجلال کے شادیانے ضرور بجائے گئے۔ یہ کہتے ہوئے لَااِلٰہَ اِلَا اللّٰہُ وَحْدَہ‘ اَعَزَّ جُنْدَہُ وَنَصَرَ عَبْدَہ‘ وَصَدَقَ وَعْدَہ‘ وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہ‘کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس نے اپنے لشکر کی عزت افزائی کی اوراپنے بندے کی مدد کی اور اپنا وعدہ پورا فرمایا۔ تنہا اسی نے تمام لشکروں کو پسپا کر دیا۔ (بخاری40)یہ تھا اپنی زندگی کی عظیم فتح پر ہمارے آقا ومولیٰ کا نعرہ ٔتوحید۔
    توحید پر گہرے ایمان کی وجہ سے رسول اللہؐ کو کبھی کسی کا خوف پیدا نہیں ہوا۔ غزوۂ حنین میں تیروں کی بوچھاڑ کے سامنے آپؐ خچر پرسوار مسلسل آگے بڑھ رہے تھے اور بآوازِ بلند فرمارہے تھے۔ اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ اَنَابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبْ
    میں نبی ہوں ۔جھوٹا نہیںہوں۔میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔(بخاری)41
    آپؐ کا تن تنہا ایک لشکر کے تیروں کی بوچھاڑ کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھنا جہاں توحید ِ کامل پر ایما ن کا نتیجہ تھا وہاں آپؐ کی صداقت کا محیرالعقول معجزہ بھی تھا ۔
    یہاں آپؐ کی غیرت ِ توحید ایک اورر نگ میں ظاہر ہوئی۔ خدشہ تھا کہ آپؐ کو مافوق البشر مخلوق نہ خیال کرلیاجائے اس لئے اپنی صداقت کی گواہی کے ساتھ یہ وضاحت فرمادی کہ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں اور ایک انسان ہوں۔یہ رعب بھی خداداد ہے اور یہ حفاظت خدا تعالیٰ کی عطاکردہ۔
    رسول اللہ ؐ کوقیام توحید اوراحکام الہٰی کی بڑی غیرت تھی۔طائف سے ثقیف قبیلہ کا وفد آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔انہوں نے بعض احکام میں رخصت کی شرط پر اسلام قبول کرنے کی حامی بھری اور عرض کیا کہ نماز معاف اور زنا،شراب اور سود حلال کردیا جائے۔ رسول کریمؐ نے اس کی اجازت نہیں دی اور فرمایا’’وہ دین ہی کیا ہے جس میں نماز نہیں‘‘
    اسی طرح اہل طائف نے اپنے بت’’لات‘‘ کے بارہ میں جسے وہ ’’ربّہ‘‘ یعنی دیوی کہتے تھے عرض کیا کہ تین سال تک اسے توڑا نہ جائے۔رسول اللہ ؐ کی غیرت توحید نے یہ مداہنت بھی قبول نہیں فرمائی۔اہل طائف نے عرض کیا کہ ایک سال تک ہی اسے نہ گرائیں۔رسول اللہؐ نے پھر بھی انکار کیا ۔انہوں نے کہا چلیں ایک ماہ تک اسے نہ گرانے کی اجازت دے دیں تاکہ لوگ اسلام میں داخل ہوجائیں اوربے وقوف لوگ اور عورتیں اسے گرانے کی وجہ سے اسلام سے دور نہ ہوں، لیکن رسول اللہؐ نے اس کی بھی رخصت نہیں دی اور حضرت ابو سفیانؓ اورحضرت مغیرہ بن شعبہؓ کو بھجواکر اس بت کو گروادیا۔(الحلبیہ)42
    رسول کریمؐ کی توہر بات کی تان توحیدالہٰی اور عظمت باری پرجاکرٹوٹتی تھی۔آپؐ کی اونٹنی عضباء بہت تیز رفتار تھی جس سے آگے کوئی اور اونٹنی نہ نکل سکتی تھی۔ایک دفعہ ایک اعرابی نے اپنی اونٹنی اُس کے ساتھ دوڑائی اور آگے نکل گیا۔صحابہ کو بڑا رنج ہوا مگر رسول کریمؐ نے عجب طمانیت کے ساتھ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دنیا کی کسی بھی چیز کو اونچا کرتا ہے تو لازم ہے کہ اسے نیچا بھی کرے کیونکہ سب سے اونچی خدا کی ذات ہے۔(ابودائود)43
    نبی کریمؐ کی پشت پر گوشت کا ابھرا ہوا ایک ٹکڑا تھا۔ابورمثہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے نبی کریمؐ کو کہا کہ یہ جو آپؐ کی پشت میں اُبھارسا ہے ذرا مجھے دکھائیں کیونکہ میں طبیب آدمی ہوں۔اُس کا مطلب تھا کہ میں اس کا علاج کر کے ٹھیک کردوں گا۔نبی کریمؐ نے کس غیرت سے فرمایا کہ اصل طبیب تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے آپؐ ایک دوست اور ساتھی ہو۔ اس کا طبیب وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا۔(ابودائود)44
    رسول کریمؐ فرماتے تھے کہ اللہ فرماتا ہے،کبریاء یعنی بڑائی میرا لبا س ہے،عظمت میرا اوڑھنا ہے جوکوئی ان دونوں میں میرے ساتھ مقابلہ کرے گا میں اسے آگ میں پھینکوں گا۔(ابودائود)45
    نبی کریمؐ نے نجران کے عیسائی وفد کے سامنے توحید باری کا مضمون خوب بیان کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آپؐ اپنے رب کے بارے میں ہمیں بتائیں وہ زَبرُ جد ہے؟ یا قوت ہے؟ سونا ہے یا چاندی؟رسول کریمؐ نے فرمایا میرا رب ایسی کسی مادی چیز میں سے نہیں ہے۔ بلکہ وہ خود ان اشیاء کا خالق ہے۔ اس زمانہ میں سورۃ الاخلاص نازل ہوچکی تھی نبی کریمؐ نے انہیں قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ۔ پڑھ کر سنائی کہ خدا ایک ہے۔ انہوں نے کہا وہ بھی ایک ہے آپؐ بھی ایک ہیں۔ فرق کیا ہوا؟ رسول کریمؐ نے یہ آیت پڑھی’’ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْ ئٌ ‘‘ اس جیسی اور کوئی چیز نہیں نہ کوئی مثیل ہے نہ ثانی۔ نصاریٰ نجران نے کہا آپؐ ہمیں اس خدا کی کوئی اور صفات بتائیں۔
    آپؐ نے سورۃ الاخلاص کی اگلی آیت پڑھی کہ اللہ بے نیاز ہے اور کسی کا محتا ج نہیں۔ انہوں نے کہا ’’صَمَدْ‘‘کیا ہوتا ہے۔ رسول اللہ ؐ نے فرمایا مخلوق اپنی ضروریات کے لئے جس ہستی کا سہارا لے وہ ذاتصَمَدْ کہلاتی ہے۔ انہوں نے اللہ کی اور کوئی صفت رسول اللہؐ سے پوچھی۔ رسول اللہؐ نے پڑھا لَمْ یَلِدْ یعنی نہ اس نے کسی کو جنا جیسے مریم کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ وَلَمْ یُوْلَدْ اور نہ وہ جنا گیا جیسے حضرت عیسیٰ پیدا ہوئے وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُواً اَحَد اور نہ کوئی مخلوق میں اس کی برابری کرنے والا ہے۔ (ترمذی)46
    توحید کی یہی محبت آپؐ نے اپنے صحابہ میں بھی پیدا فرمائی۔ چنانچہ ایک انصاری صحابی کا ذکر ہے کہ وہ مسجد قبا میں نماز پڑھاتے تھے اور جہری قراء ت والی ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد پہلے سورۃ الاخلاص قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ پڑھ کر پھر اس کے ساتھ کوئی اور سورت تلاوت کرتے تھے۔ نمازیوں نے انہیں مشورہ دیا کہ سورت اخلاص ہی پر اکتفا کرلیا کریں اس کے ساتھ الگ سورۃ پڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر مجھ سے نماز پڑھوانی ہے تو میں ایسے ہی پڑھائوں گا ورنہ بیشک کسی اور کو امام بنالو۔ چونکہ وہ ان میں سے صاحب فضیلت تھے اس لئے انہوں نے امام تو نہ بدلا البتہ رسول اللہؐ کی خدمت میں ان کی شکایت کردی۔ آپ ؐنے اُس صحابی کو بلا کر ہر رکعت میں سورت اخلاص پڑھنے کی وجہ پوچھی۔ انہوں نے کہا یہ سورت خدائے رحمان کی صفات پر مشتمل ہے۔ مجھے اس کی تلاوت بہت پیاری لگتی ہے۔ نبی کریم ؐ نے فرمایااس سورت سے محبت تمہارے جنت میں داخلہ کا ذریعہ بن جائے گی۔ (ترمذی)47
    بلاشبہ سورۃ الاخلاص میں توحید کامضمون نہایت اختصار اور کمال شان سے بیان ہوا ہے۔
    رسول کریمؐ کو خداکے آخری کلام اور اس کے احکام کی بھی بہت غیرت تھی۔حضرت عمر بن الخطابؓ ایک دفعہ تورات کا ایک نسخہ اٹھالائے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول یہ تورات کا نسخہ ہے۔ رسول اللہؐ خاموش بیٹھے رہے۔ حضرت عمرؓ اس میں سے پڑھنے لگے تو رسول اللہؐ کے چہرے کا رنگ متغیرّ ہونے لگا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عمرؓ کو اس طرف توجہ دلائی کہ آنحضورؐ یہ پسند نہیں فرمارہے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے معذرت کی۔ رسول اللہؐ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر موسیٰ ؑتم میں ظاہر ہوتے اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی اختیار کرتے تو سیدھی راہ سے گمراہ ہوجاتے اور اگر وہ خود بھی زندہ ہونے کی حالت میں میرا زمانۂ نبوت پالیتے تو ضرور میری پیروی کرتے۔(دارمی)48
    فتح مکہ کے موقع پر ایک قریشی عورت کے چوری کرنے پر جب اس کا ہاتھ کاٹنے کی سزا کا فیصلہ ہوا اور لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز ترین فرد اسامہ بن زید ؓسے معافی کی سفارش کروائی تو آپؐ جوش میں آکر فرمانے لگے ’’اے اسامہ کیا تم اللہ کے احکام میں سے ایک حکم کے بارہ میں سفارش کی جرأت کرتے ہو ؟‘‘(بخاری)49
    احکام الہٰی کی تعمیل کی غیرت کا ایک اور واقعہ ابو سعید بن معلّٰی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا میں نے جواب نہیں دیا اور نماز پڑھتا رہا۔ نماز سے فارغ ہوکر عرض کیا یارسول اللہؐ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔آپؐ نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو جب وہ تم کو پکارے تاکہ تمہیں زندہ کرے۔(بخاری50)حضورؐ کا اشارہ سورۂ انفال آیت25کی طرف تھا۔
    حضرت ابوبکر ؓ تہجد کی نماز میں بہت آہستہ آواز میں قرآن شریف کی تلاوت کیا کرتے تھے اور حضرت عمر ؓ ذرا اونچی آواز میں پڑھتے تھے۔رسول اللہؐ نے دونوں سے اس کی وجہ پوچھی۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا کہ میں اپنے رب سے سرگوشی میں بات کرتا ہوں۔وہ میری حاجت کو جانتا ہی ہے۔حضرت عمر ؓ نے کہا میں شیطان کو بھگاتا ہوں اور سوئے ہوئے کو جگاتا ہوں۔جب قرآن شریف کی یہ آیت اتری کہ نماز میں بہت اونچی تلاوت نہ کرو، نہ ہی بہت ہلکی آواز سے پڑھواور درمیانی راہ اختیار کرو۔(بنی اسرائیل: 111 ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکرؓ سے کہا کہ آپ ذرا اونچی آواز میں پڑھا کریںاور حضرت عمرؓ سے فرمایا کہ آپ ذرا ہلکی آواز میں پڑھا کریںتاکہ قرآنی حکم کی تعمیل ہو۔(سیوطی)51
    نبی کریمؐکو احکام الہٰی کی پابندی کی غیرت کے بارہ میںحضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی ذات کے بارہ میں کبھی کسی سے کوئی انتقام نہیں لیا۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے کسی حکم کو توڑا جاتا تو پھر آپؐ ضرور غیرت دکھاتے اور سزادیتے تھے۔(بخاری)52
    رسول اللہؐ کی آخری بیماری میں کسی بیوی نے حبشہ کے ایک گرجے کا ذکر کیا جو ماریہ(یعنی حضرت مریم ؑ) کے نام سے موسوم تھا۔آپؐ اپنی بیماری کی تکلیف دہ حالت میں بھی خاموش نہ رہ سکے۔جوش غیرتِ توحید میں اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ’’ براہو ان یہودیوں اور عیسائیوں کا جنہوں نے اپنے نبیوںاور بزرگوں کے مزاروں کو معابد بنالیا۔‘‘گویا بالفاظ دیگر اپنی وفات کو قریب جانتے ہوئے آپؐ بیویوں کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ دیکھو میرے بعد توحید پر قائم رہنا اور میری قبر پر سجدہ نہ ہونے دینا۔(بخاری)53
    گویا یہ آپؐ کی توحید کے قیام کے لئے آخری کوشش بھی تھی اور خواہش بھی۔تبھی توآپؐ یہ دعا کیا کرتے تھے اللّٰہُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِیْ وَثْناً اے اللہ میری قبر کو بت پرستی کی جگہ نہ بنانا۔(احمد)54
    پھردیکھوخدانے اپنے اس موحّدبندے کی غیرت توحید کی کیسے لاج رکھی کہ توحید پرستوں کے بادشاہ کا روضۂ مبارک ہرقسم کے شرک کی آلائش اوربت پرستی سے پاک ہے۔خدا کے ایک موحّد بندے کی توحید خالص کا نشان۔لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ۔
    خلائق کے دل تھے یقیں سے تہی
    بتوں نے تھی حق کی جگہ گھیر لی
    ضلالت تھی دنیا پہ وہ چھا رہی
    کہ توحید ڈھونڈے سے ملتی نہ تھی
    ہوا آپ کے دم سے اس کا قیام
    عَلَیْکَ الصَّلٰوۃُ عَلَیْکَ السَّلاَم

    حوالہ جات
    1
    دلائل النبوۃ للبیہقی جلد 1 ص 58 مطبوعہ بیروت
    2
    دلائل النبوۃ للبیہقی جلد2 ص 26 تا29 مطبوعہ بیرت
    3
    طبقات الکبریٰ ابن سعد جلد1ص311مطبوعہ بیروت
    4
    بخاری باب بدء الوحی
    5
    السیرۃ النبویہ لابن ہشام جلد1 ص 250,251 مکتبہ مصطفی البابی الحلبی
    6
    بخاری بنیان الکعبہ باب حدیث زید بن عمرو
    7
    المنقذمن الضلال للغزالی ص151پھئۃ الاوقاف پنجاب لاہور طبع اول1971
    8
    ترمذی کتاب الدعوات باب ماجاء فی عقد التسبیح :3412
    9
    ترمذی کتاب الدعوات باب ماجاء فی عقد التسبیح:3413
    10
    کنزالعمال حدیث نمبر4939
    11
    نسائی کتاب الصلوۃ باب افتتاح الصلوۃ
    12
    مسنداحمدجلد4ص126
    13
    مسنداحمدجلد4ص124
    14
    مسلم کتاب الزہدباب من الشرک فی عملہ غیراللہ
    15
    مستدرک حاکم جلد1ص4
    16
    مسنداحمد جلد5ص253
    17
    ترمذی کتاب الفرائض باب ماجاء فی میراث الجدّ
    18
    مسنداحمدجلد5ص456
    19
    مسنداحمدجلد4ص403مطبوعہ بیروت
    20
    الدّرالمنثورفی التفسیر الماثور للسیوطی جلد 6ص27مطبوعہ بیروت
    21
    مسند احمد جلد 3 ص 452مطبوعہ بیروت
    22
    مسند احمد جلد3ص406 مطبوعہ بیروت
    23
    مسلم کتاب الذکر باب التعوْذ من شرماعمل:4901
    24
    بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء عندالکرب:5869
    25
    مسند احمدجلد4صفحہ411مطبوعہ بیروت
    26
    بخاری کتاب بد ء الخلق باب صفۃ ابلیس وجنودہ
    27
    بخاری کتاب الجہاد باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ھی العلیا:2599
    28
    بخاری کتاب الایمان باب فان تابو واقا موا الصلوۃ:24
    29
    بخاری کتاب الجہاد
    30
    بخاری کتاب المغازی باب شہود الملائکۃ بدر اً
    31
    مسلم کتاب الایمان باب تحریم قتل الکافر بعد ان قال لا الہ الا اللہ :140
    32
    مسنداحمد بن حنبل جز6ص372:25845
    33
    مسنداحمد بن حنبل جزاول ص354 احیاء التراث العربی طبع جدیدہ بیروت لبنان
    34
    بخاری کتاب الادب باب من لم یر اکفار من قال متاولاًاوجاھلاً
    35
    مسلم کتاب الجہاد والسیر باب کراھۃ الاستعانہ فی الغزو بکافر
    36
    بخاری کتاب المغازی باب غزوہ احد
    37
    بخاری کتاب المغازی باب فتح مکہ
    38
    السیرۃ النبویّہ لابن ہشام جز 4ص59مطبوعہ مصر
    39
    شرح مواھب اللدنیہ لزرقانی جلد ۲ صفحہ ۳۳۴مطبوعہ بیروت
    40
    بخاری کتاب الجہاد باب مایقول اذارجع من الغزو:2854
    41
    بخاری کتاب المغازی باب قول اللہ تعالیٰ و یوم حنین
    42
    السیرۃ الحلبیہ جلد3ص217بیروت
    43
    ابوداؤد کتاب الادب باب فی کراھیۃ الرفعۃ فی الامور
    44
    ابوداؤدکتاب الترجْل باب فی الخضاب
    45
    ابوداؤد کتاب اللباس باب ماجاء فی الکبر
    46
    ترمذی کتاب تفسیر القرآن باب سورۃ الاخلاص:3287
    47
    ترمذی کتاب فضائل القرآن باب ماجاء فی سورۃ الاخلاص:2826
    48
    سنن دارمی مقدمہ باب مایتقی من تفسیر حدیث النبی ﷺ
    49
    بخاری کتاب الانبیاء باب حدیث الغار:3216
    50
    بخاری کتاب التفسیر سورۃ الفاتحۃ
    51
    الدرالمنثورزیر آیت سورۃ بنی اسرائیل جلد5ص350مطبوعہ بیروت
    52
    بخاری کتاب الادب باب یسرواو لا تعسروا:5661
    53
    بخاری کتاب الصلوۃ باب الصلوۃ فی البیعۃ
    54
    مسند احمد جلد2ص246مطبوعہ بیروت

    حق بندگی ادا کرنے والا…عبدکامل
    صحرائے عرب کی تاریک اور پرسکوت رات میں ہُو کا عالم طاری تھا۔ہر طرف ایک سناّٹا تھا۔خانہ کعبہ کے پڑوسی اور وادی بطحا کے مکین رنگ رلیاں مناکر اور شراب کی محفلیں سجانے کے بعد خواب نوشیں میں مست پڑے سورہے تھے....عین اِس وقت مکہ سے چند میل دور جنگل کے ایک پہاڑی غار میں ایک معصوم اور عابد و زاہد عربی نوجوان عبادت میں مصروف تھا ۔وہ اپنے رب ِکریم کے آستانہ پر سجدہ ریز ہوکر گریہ وزاری کر رہا تھا اور نہایت سوز وگداز کے ساتھ اس کے حضور میں التجا کرتا تھا ’’اے ہادی!اس جاہل قوم کو ہدایت دے!‘‘ عہد شباب میں ہی اس سعید نوجوان کو دنیا سے بے رغبتی ہوچکی تھی اوردنیا کی رعنائیاں اسے ایک آنکھ نہ بھاتی تھیں ۔
    خلوت میں یادالہٰی
    اس سعادت مند نوجوان کو عبادت الہٰی سے انتہائی لگائو تھا۔تنہائی کی دعائوں میںوہ ایک خاص لطف اٹھاتا ۔دنیا سے الگ تھلگ ہوکر خشوع وخضوع کے ساتھ خدا کو یاد کرنے میں وہ ایک خاص سرورو لذت محسوس کرتا۔ وہ تن تنہا کچھ زادِ راہ ساتھ لے کر مکہ سے چند میل دور حرا نامی پہاڑی غار میں جاکر،معتکف ہوکر عبادت کیا کرتا ۔مہینوں وہ مکہ کی طرب خیز زندگی سے کنارہ کش رہتا۔پھر جب زادِ راہ ختم ہوجاتی تو واپس آکر اور زاد ساتھ لے لیتا اور تنہائی میں جاکر مراقبہ کرتا۔ اللہ کو یاد کرتا۔(بخاری1)یہ پاک طینت اور نیک خصلت انسان درگاہِ الہٰی میں بار پاگیا۔
    حرا سے اُتر کر سوئے قوم آنے والا یہ فخر عرب نوجوان ہادیٔ برحق،سیدالمعصومین حضرت مصطفیٰ ﷺ کا وجود باجود ہے جسے رب العزت نے خلعت نبوت سے سرفراز فرمایا۔
    عین عنفوان شباب میں جبکہ آرزوئیں اور تمنائیں جو بن پر ہوتی ہیں اور خواہشات کے ہجوم کا مقابلہ مشکل ہوتا ہے۔محمد ﷺ دنیاسے بے رغبت ہوکر آبادی مکہ سے کوسوں دور ایک ویران پہاڑی غار حرا میں چلے جاتے ۔ وہاں تنہائی میں کائنات پرغورو فکر کرتے ۔اللہ کو یاد کرتے۔
    شہر مکہ کے طرب خیزاور پُر رونق ماحول کو چھوڑ کر ایک نوجوان کی اللہ کی یاد میں ایسی محویت، استغراق اور خلوت پسندی ایک غیرمعمولی واقعہ تھاجسے مکہ والوں اور آپؐ کے خاندان کے لوگوں نے تعجب اور حیرت کی نظر سے دیکھا۔ وہ سوچتے تھے کہ یہ عجیب انسان ہے جو دنیا کی دلچسپیوں سے بیزارہے۔ عالمِ جوانی میں بھی بیوی بچوں اورگھریلو زندگی پر ویرانوں کو ترجیح دیتا ہے۔
    عین عالم جوانی میں حضرت محمد ؐ دین ابراہیمی اور عربوں کے دستور کے مطابق سال میں ایک ماہ اعتکاف فرماتے تھے۔عمر کے چالیسویں سال میں آپؐ رمضان کے مہینہ میں غار حرا میں اعتکاف فرمارہے تھے کہ پہلی وحی ہوئی۔(ابن ہشام)2
    نماز کی عبادت
    جبریل ؑ نے ابتدائی وحی کے بعد نبی کریم ﷺ کو وضو کر کے دکھایا اور اس کا طریق سکھاکر آپؐ کو نماز پڑھائی۔آنحضورؐ نے حضرت خدیجہ ؓکو وضو کا طریق سکھاکر نماز پڑھائی جس طرح جبریل ؑ نے آپؐ کو سکھایا تھا۔(ابن ہشام)3
    الغرض مکی دور کے آغاز میں ہی حضرت جبریل ؑنے نبی کریم ﷺ کو پانچ نمازوں کی امامت کرواکے نماز کا طریق اور اوقات سمجھادیئے تھے۔(ترمذی)4
    رسول کریمؐ کو منصب نبوت عطا ہوا تو عبادت کی ذمہ داری اور بڑھ گئی۔ارشاد ہوا۔ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ o وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ (سورۃالانشراح:8,9)
    کہ جب تو دن بھر کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو تو رات کو اپنے رب کے حضور کھڑا ہوجا اور اس کی محبت سے تسکین دل پایا کر۔
    حضرت عائشہ ؓ کی روایت کے مطابق آغاز میں نماز دو دو رکعت ہوتی تھی۔مدینہ ہجرت کے بعد چار رکعت ہوگئی۔(بخاری)5
    فرضیت نماز کے روزاول سے لے کر تا دم واپسیں آپ نے اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ الَّلیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجَرِ(سورۃ بنی اسرائیل:79) میں پنج وقت نمازوں کی ادائیگی کے حکم کی تعمیل کاحق ایساا دا کر کے دکھایا کہ خود خدا نے گواہی دی کہ آپؐ کی نمازیں، عبادتیں اور مرنا اور جینا محض اللہ کی خاطر ہوچکا ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔(سورۃالاعراف:163)
    رسول اللہؐ پرآغازرسالت میں ابھی حضرت خدیجہؓ اور حضرت علیؓ ہی ایمان لائے تھے کہ آپؐنے ان کے ساتھ نماز باجماعت کی ادائیگی کا سلسلہ شروع فرمادیا۔پھر عمر بھر سفر و حضر، بیماری و صحت ، امن وجنگ غرض کہ ہر حالتِ عسرو یسر میں اس فریضہ کی بجا آوری میں کبھی کوئی کوتاہی نہیں ہونے دی۔ابتدا ً آپؐکفار کے فتنہ کے اندیشہ سے چھپ کربھی نماز ادا کرتے رہے۔ کبھی گھر میں پڑھ لیتے تو کبھی کسی پہاڑی گھاٹی میں ۔البتہ چاشت کی نمازعلی الاعلان کعبہ میں ادا کرتے ۔(بخاری)6
    دعویٰ نبوت کے بعدکفار مکہ نبی کریمؐ کو عبادت سے روکتے اورتکالیف دیتے۔ ظالموں نے ایک دن حالت سجدہ میں اونٹنی کی غلیظ نجاست سے بھری ہوئی بھاری بھر کم بچہ دانی رسول اللہؐ کی پشت پر ڈال دی۔(بخاری)7
    ایک بدبخت نے ایک دن حضور ؐ کے گلے میں چادر ڈال کر مروڑنا شروع کیااور گردن دبوچنے لگا۔ دم گھٹنے کو تھا کہ حضرت ابوبکرؓ نے اسے دھکا دیکر ہٹایا اور کہا’’ کیا تم ایک شخص کو اس لئے قتل کرنا چاہتے ہوکہ وہ کہتا ہے اللہ میرا رب ہے۔‘‘ مگر آپؐ عبادت سے کب باز آسکتے تھے۔ (بخاری)8
    اہتمام نماز
    نماز تو رسول کریمؐ کاروزانہ و شبانہ کا وہ معمول تھا جس میں آپؐ کی روح کی غذا تھی۔ ہرچند کہ امّت کی سہولت کی خاطررسول اللہؐ نے یہ رخصت دی کہ کھانا چنا جا چکا ہوتو کھانے سے فارغ ہوکرپھر نماز ادا کرلو۔مگر اپنا یہ حال تھا کھانا کھاتے ہوئے بلالؓ کی آواز سنی کہ نماز کا وقت ہوگیا تو صرف اتنا کہا’’ اسے کیا ہوا اللہ اُسکا بھلا کرے۔‘‘(یعنی کھانا تو کھا لینے دیا ہوتا) مگر اگلے ہی لمحے وہ چھری جس سے بھنا ہوا گوشت کاٹ رہے تھے وہیں پھینک دی اور سیدھے نماز کیلئے تشریف لے گئے۔(ابودائود)9
    حضرت عائشہ ؓ آپؐ کا معمول یہ بیان فرماتی تھیں کہ نماز کیلئے بلالؓ کی اطلاعی آواز پر آپؐ بلا توقّف مستعد ہوکر اٹھتے اور نمازکے لئے تشریف لے جاتے۔(بخاری)10
    بیماری میں بھی نماز ضائع نہ ہونے دیتے۔ایک دفعہ گھوڑے سے گرجانے کے باعث جسم کا دایاں پہلو شدیدزخمی ہوگیا۔ کھڑے ہوکر نماز ادا نہ فرماسکتے تھے۔ بیٹھ کرنمازپڑھائی مگر باجماعت نمازمیںناغہ پسندنہ فرمایا۔(بخاری)11
    سفر میں بھی نماز کا خاص اہتمام ہوتا تھا۔روایات حدیث کے مطابق زندگی بھرمیں صرف دو مواقع ایسے آئے کہ جن میں بعض صحابہ کورسول کریمؐ کی غیرموجودگی میں نماز پڑھانے کی نوبت آئی۔
    ایک موقعہ وہ تھا جب آنحضرتؐ بنی عمرو بن عوف میں مصالحت کے لئے تشریف لے گئے۔اور جیسا کہ ہدایت فرماگئے تھے تاخیر کی صورت میں کچھ انتظار کے بعد حضرت ابو بکرؓ نے بلالؓ کی درخواست پر نماز پڑھانی شرو ع کی۔اتنے میں آپؐ تشریف لے آئے۔حضرت ابوبکرؓ پیچھے ہٹ گئے اور آپؐ نے خود امامت کروائی۔(ابوداؤد)12
    دوسرا موقع وہ ہے جب ایک سفر میں آپؐ قافلے سے پیچھے رہ گئے تو حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓنے نماز فجر قضا ہونے کے اندیشہ سے شروع کروائی اور آپؐ پیچھے سے آکر شامل ہوگئے۔آپؐ نے بروقت نماز ادا کرنے پر صحابہ ؓ سے اظہار خوشنودی فرمایا۔(مسلم)13
    نبی کریم ؐ نے غزوۂ بنو قریظہ کے موقع پرمدینہ سے یہود بنی قریظہ کے قلعوں کی طرف روانہ ہوتے ہوئے صحابہ کو یہ ہدف دیا کہ عصر کی نماز بنو قریظہ جاکر ادا کی جائے۔(بخاری)14
    یوں آپؐ نے حالت سفر میں بھی نماز کی حفاظت کا پیشگی انتظام فرمادیا۔
    رسول کریمؐسفر میں جدھر سواری کا رخ ہوتا اسی طرف منہ کر کے نفل نماز سواری پر ادا فرمالیتے تھے۔(ابوداؤد15)تاہم فرض نمازیں ہمیشہ قافلہ روک کر باجماعت قصر اور جمع کر کے ادا کرتے۔ (بخاری16) بارش کی صورت میں بعض دفعہ سواری کے اوپر بھی فرض نماز ادا کی ہے۔ (ترمذی)17
    ایک سفر میں رات کے آخری حصہ میں پڑائو کرتے ہوئے بلالؓ کی ڈیوٹی فجر کی نماز میں جگانے پر لگائی گئی مگر ان پر نیند غالب آگئی۔دن چڑھے سب کی آنکھ کھلی۔ فجر کی نماز میں تاخیر ہوچکی تھی۔ پریشانی کے عالم میں رسول اللہؐ نے اس جگہ مزید رکنا بھی پسند نہیں فرمایا جہاں نماز ضائع ہوئی اور آگے جاکر نماز ادا کی۔(بخاری)18
    رسول کریمؐجنگ کے ہنگامی حالات میں بھی نماز کی حفاظت کا خاص خیال رکھتے تھے۔غزوہ بدرسے پہلے اپنی جھونپڑی میں نماز کی حالت میں گریہ و زاری کررہے تھے اورتین سو تیرہ عبادت گزاروں کا واسطہ دے کر دراصل آپؐ نے دعائوں کے ذریعہ اس کوٹھری میں ہی یہ جنگ جیت لی تھی۔
    غزوۂ احد کی شام جب لوہے کے خود کی کڑیاںدائیں رخسار میں ٹوٹ جانے سے بہت سا خون بہہ چکا تھا۔آپؐ زخموں سے نڈھال تھے اور ستر صحابہ کی شہادت کا زخم اس سے کہیں بڑھ کر اعصاب شکن تھا۔اس روز بھی آپ بلالؓ کی نداء پر نماز کیلئے اسی طرح تشریف لائے جس طرح عام دنوںمیں تشریف لاتے تھے اور دنیا نے قیام عبادت کا ایسا حیرت انگیز نظارہ دیکھا جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا ہوگا۔(واقدی)19
    غزوۂ احزاب میں دشمن کے مسلسل حملہ کے باعث ظہر و عصر کی نمازیں وقت پر ادا نہ ہو سکیں یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔وہی رسول خدا جو طائف میں دشمن کے ہاتھوں سے لہولہان ہوکر بھی ان کی ہدایت کی دعا کرتے ہیں۔نماز کے ضائع ہونے پر بے قرار ہوکر فرماتے تھے۔خدا ان کو غارت کرے انہوں نے ہمیں نماز سے روک دیا۔ پھرحضورؐ نے اصحاب کو اکٹھا کیا اور نمازیں ادا کروائیں۔ (بخاری)20
    نماز باجماعت کا اہتمام اس قدر تھا کہ فتح مکہ کے موقع پر شہر کے ایک جانب مسجد الحرام سے کافی فاصلے پرآپؐ کا قیام تھا۔مگر باقاعدہ تمام نماز وں کی ادائیگی کے لئے حرم تشریف لاتے رہے۔
    جنگوں کے دوران خطرے اور خوف کی حالت میں بھی آپؐ نے نماز نہیں چھوڑی بلکہ اس حال میں صحابہ کواس طرح نماز پڑھائی کہ ایک گروہ دشمن کے سامنے رہا اور دوسرے نے آپؐ کے ساتھ نصف نماز ادا کی۔ پھر پہلے گروہ نے آکر نماز پڑھی۔ یوں آپؐ نے سبق دیا کہ موت کے بڑے سے بڑے خطرے میں بھی نماز ترک نہیںکی جا سکتی یہ رخصت دے دی کہ سواری پر یا پیدل یا چلتے ہوئے بھی اشارے سے نماز ادا کی جاسکتی ہے۔(بخاری)21
    آخری بیماری میں رسول کریمؐتپ محرقہ کے باعث شدید بخار میں مبتلا تھے مگر فکرتھی تو نماز کی۔ گھبراہٹ کے عالم میں بار بار پوچھتے ،کیا نماز کا وقت ہوگیا؟بتایا گیا کہ لوگ آپ کے منتظر ہیں۔بخار ہلکا کرنے کی خاطر فرمایاکہ میرے اُوپر پانی کے مشکیز ے ڈالو۔ تعمیل ارشادہوئی مگر پھر غشی طاری ہوگئی۔ ہوش آیا تو پھر پوچھا کہ کیا نماز ہوگئی؟ جب پتہ چلا کہ صحابہ انتظار میں ہیں تو فرمایا’’ مجھ پر پانی ڈالو‘‘ جس کی تعمیل کی گئی۔غسل سے بخار کچھ کم ہوا تو تیسری مرتبہ نماز پر جانے لگے مگر نقاہت کے باعث نیم غشی کی کیفیت طاری ہوگئی اورآپ مسجد تشریف نہ لے جاسکے۔(بخاری)22
    بخار میں پھر جب ذرا افاقہ ہوا تو اسی بیماری اور نقاہت کے عالم میں دو صحابہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر، اُنکا سہارا لے کر رسول اللہؐنماز پڑھنے مسجد گئے۔ حالت یہ تھی کہ کمزوری سے پائوں زمین پر گھسٹتے جارہے تھے۔حضر ت ابوبکرؓ نماز پڑھا رہے تھے۔ آپؐ نے اُن کے بائیں پہلو میں امام کی جگہ بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ اوریوں آخر دم تک خدا کی عبادت کا حق ادا کر کے دکھادیا۔(بخاری)23
    دنیا میں آپؐ کی آخری خوشی بھی نماز کی خوشی تھی جب آپؐ نے سوموار کے دن ( جس روز دنیا سے کوچ فرمایا) فجر کی نماز کے وقت اپنے حجرے کا پردہ اٹھاکر دیکھا تو صحابہ محو عبادت تھے۔ اپنے غلاموں کو نماز میں دیکھ کر آپؐ کا دل سرور سے بھر گیا۔خوشی سے چہرے پر تبسم کھیلنے لگا۔(بخاری)24
    آپؐ نے سچ ہی تو فرمایا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہے۔ایسے اہتمام سے ادا کی جانیوالی نمازیں محبت الہٰی اور خشوع وخضوع سے کیسی بھری ہوئی ہوتی ہونگی(اس کا تفصیلی نقشہ رسول اللہ ؐ کی خشیٔت کے زیر عنوان بیان ہو گا)۔
    نماز تہجد
    نبی کریم ﷺ کی فرض نمازیں نسبتاً مختصر ہوتی تھیں تاکہ کمزور، بیمار، بچے، بوڑھے اور مسافر کیلئے بوجھ نہ ہو لیکن تنہائی میں آپؐ کی نفل نمازوں کی شان توبہت نرالی تھی۔ فرماتے تھے کہ بندہ نوافل کے ذریعہ بدستور اللہ کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ خدا اس کے ہاتھ پائوں اور آنکھیں ہوجاتا ہے۔بلاشبہ محبت الہٰی اورفنافی اللہ کا یہ مقام آپؐ نے حاصل کر کے ہمیں خوبصورت نمونہ دیا۔
    تہجد کی نماز رسول اللہؐ کی روح کی غذا تھی۔فرماتے تھے کہ اللہ نے ہر نبی کی ایک خواہش رکھی ہوتی ہے اور میری دلی خواہش رات کی عبادت ہے۔ (طبرانی)25
    ابتدا میں آپؐ رات کے وقت تیرہ یا گیارہ رکعتیں (بمعہ وتر)ادا فرماتے اور آخری عمر میں کمزوری کے باعث نو رکعتیں پڑھتے رہے۔ اگر کبھی رات کو اتفاقاً آنکھ نہ کھلتی تو دن کے وقت بارہ رکعتیں ادا کر کے اس کی تلافی فرماتے۔حضرت اُبی ّ بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ جب دو تہائی رات گزر چکی ہوتی تو آپؐ بآواز بلند فرماتے ’’لوگو!خدا کو یاد کرو زلزلہ قیامت آنے والاہے۔اس کے پیچھے آنے والی گھڑی سر پر ہے ۔موت اپنے سامان کے ساتھ آپہنچی ہے۔موت اپنے سامان کے ساتھ آپہنچی ہے۔‘‘(ترمذی)26
    رات کے وقت آپؐ کی نماز بہت لمبی ہوتی۔نسبتاًلمبی سورتیں تلاوت کرنا پسند فرماتے۔ حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ؓکی نماز(تہجد )کی کیفیت پوچھی گئی۔ آپ ؓ نے فرمایا۔ حضورؐ رمضان یا اس کے علاوہ دنوں میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے تھے۔مگر وہ اتنی لمبی پیاری اور حسین نماز ہوا کرتی تھی کہ اس نماز کی لمبائی اور حسن و خوبی کے متعلق مت پوچھو! ’’یعنی میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے آپؐ کی اس خوبصورت عبا دت کا نقشہ کھینچ سکوں۔ (بخاری)27
    نوجوان صحابہؓ کو حضور ؐ کی عبادت دیکھنے کا بہت شوق تھا۔رسول اللہ ؐ کے عم زاد اور حضرت میمونہ ؓ کے بھانجے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں۔ ’’میں ایک رات رسول اللہ ؐ کے گھر ٹھہرا۔ نصف رات یا اس سے کچھ پہلے آپؐ بیدار ہوئے۔چہرے سے نیند زائل کی۔آلِ عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں۔ پھر گھر میں لٹکے ہوئے مشکیزہ سے نہایت عمدہ طریق پر وضوء کیا اور نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔میں جاکر بائیں پہلومیں کھڑا ہوگیا۔آپؐ نے مجھے کان سے پکڑ کر دائیں طرف کردیا۔آپؐ نے تیرہ رکعتیں ادا فرمائیں۔‘‘ (بخاری)28
    نبی کریمؐ نے اپنے اس عمل سے ایک نوجوان کی عملی تربیت بھی فرمادی کہ اکیلا مقتدی امام کے دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے۔
    حضرت عوف بن مالک اشجعیؓ کہتے ہیں کہ ایک رات مجھے نبی کریم ﷺ کے ساتھ رات کو عبادت کرنے کی توفیق ملی۔آپؐ نے پہلے سورۃ بقرہ پڑھی۔ آپؐ کسی رحمت کی آیت سے نہیں گزرتے تھے مگر وہاں رک کر دعا کرتے اور کسی عذاب کی آیت سے نہیں گزرے مگر رک کر پناہ مانگی۔پھر قیام کے برابر آپؐ نے رکوع فرمایا۔جس میں تسبیح و تحمید کرتے رہے۔پھر قیام کے برابر سجدہ کیا۔سجدہ میں بھی یہی تسبیح ،دعا پڑھتے رہے۔پھر کھڑے ہوکر آل عمران پڑھی۔پھر اس کے بعد ہر رکعت میں ایک ایک سورۃ پڑھتے رہے۔(ابوداؤد)29
    حضرت حذیفہ بن یمانؓ (رسول اللہؐ کے راز دان صحابی) فرماتے ہیں کہ انہوں نے رمضان میں ایک رات رسول اللہ ؐ کے ساتھ نماز ادا کی۔جب نماز شروع کی تو آپؐ نے کہا
    ’’اَللّٰہُ اَکْبَرْذُ وْالمَلَکُوْتِ وَالْجَبْرُوْتِ وَالْکِبْرِیَائِ وَالعَظْمَۃِ۔‘‘یعنی اللہ بڑا ہے جو اقتدار اور سطوت کبریائی اور عظمت والا ہے۔پھرآپؐ نے سورۃ بقرہ (مکمل )پڑھی ،پھر رکوع فرمایا،جو قیام کے برابر تھا،پھر رکوع کے برابر وقت کھڑے ہوئے،پھر سجدہ کیا جو قیام کے برابر تھا۔پھر دونوں سجدوں کے درمیان رَبِّ اغْفِرْلِیْ۔رَبِّ اغْفِرْلِیْمیرے رب مجھے بخش دے کہتے ہوئے اتنی دیر بیٹھے جتنی دیر سجدہ کیا تھا۔دوسری رکعتوں میں آپؐنے آل عمران، نسائ، مائدہ، انعام وغیرہ طویل سورتیں تلاوت فرمائیں۔ (ابوداؤد)30
    ام المٔومنین حضرت سودہؓ نہایت سادہ اور نیک مزاج تھیں،ایک رات انہوں نے بھی اپنی باری میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز تہجد ادا کرنے کا ارادہ کیا اور حضورؐ کے ساتھ جاکر نماز میں شامل ہوئیں،نامعلوم کتنی نماز ساتھ ادا کر پائیں۔مگراپنی سادگی میں دن کو رسول کریم ؐ کے سامنے اس لمبی نماز پر جو تبصرہ کیا اس سے حضورؐ بہت محظوظ ہوئے۔کہنے لگیں ’’یا رسول اللہ ! رات آپؐ نے اتنا لمبا رکوع کروایا کہ مجھے تو لگتا تھا جھکے جھکے کہیں میری نکسیر ہی نہ پھوٹ پڑے۔‘‘ حضور ؐ (جن کی ہر رات کی نماز ہی ایسی لمبی ہوتی تھی) یہ تبصرہ سن کر خوب مسکرائے۔(ابن حجر)31
    بسا اوقات آپؐ ساری ساری رات عبادت میں گزار دیتے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ؐ کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی۔آپؐ اتنی دیر (نمازمیں) کھڑے رہے کہ میں نے ایک بُری بات کا ارادہ کرلیا۔پوچھا گیا کہ کیا ارادہ تھا؟ فرمایا’’میں نے سوچا کہ رسو ل اللہ ؐ کو چھوڑ کر بیٹھ جائوں۔‘‘ (بخاری)32
    حضرت ابو ذرؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ ایک رات نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے اور ساری رات ایک ہی آیت قیام،رکوع اور سجود میں پڑھتے رہے۔یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ابوذرؓ سے پوچھا گیاکہ وہ کون سی آیت تھی۔ فرمایا’’یہ آیت:اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (المائدۃ:199)
    خدایا! اگر تو انہیں عذاب دینا چاہے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخشنا چاہے تو تو بہت غالب اور بڑی حکمتوں والا خدا ہے۔(نسائی)33
    سبحان اللہ! خدا اور اس کے رسول ؐ کے دشمن آرام کی نیند سورہے ہیں اور خدا کا پیارا رسول ؐ بے قرار ہوکر گڑ گڑا کر بارگاہ ایزدی میں ان کی مغفرت کاملتجی ہے۔ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ آخری عمر میں جب حضو رؐکے بدن میں کچھ موٹاپے کے آثار ظاہر ہوئے۔تو بیٹھ کر تہجد ادا کرتے اور اس میں لمبی تلاوت فرماتے۔ جب سورت کی آخری تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہوکر تلاوت کرتے پھر سجدے میں جاتے۔(بخاری)34
    حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں۔آپؐ کچھ دیر سوتے پھر اٹھ کر نماز میں مصروف ہوتے پھر سوجاتے پھر اُٹھ بیٹھتے اور نماز ادا کرتے۔غرض صبح تک یہی حالت جاری رہتی۔ (بخاری)35
    حمدباری
    یہ نمازیں بھی یاد الہٰی اور اللہ کی حمد سے خوب لبریز ہوتی تھیں اور اس پہلو سے اللہ کی حمد کرنے میں آپ ؐکی ایک اور سبقت کی شان بھی کھل کر سامنے آتی ہے،جیسا کہ آپؐ کا نام ’’احمد‘‘ بھی تھا واقعی آپؐ اسم بامسمّٰی تھے۔ اللہ کی حمد و ستائش روئے زمین پر اس شان سے کب ہوئی ہوگی جو آپؐ نے کردکھائی۔
    آپؐ اپنی نفل نماز کا آغاز تسبیح و حمد سے کرتے اور اس کے لئے ایسے الفاظ کا انتخاب فرماتے کہ جن کو سوچ کر آج بھی روح وجد میں آجاتی ہے۔تسبیح وتحمید کے یہ نغمے اور ترانے جو کبھی حرا کی تنہائیوں میں الاپے اور کبھی مکہ اور مدینہ کی خلوتوں میں آپؐ نے اپنے محبوب حقیقی سے سوز و گداز میں ڈوبی کیا کیا سرگوشیاں کیں۔یہ تواحادیث کا ایک طویل باب ہیں۔آپؐ نماز تہجد کاآغاز ہی’’ اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ‘‘ سے کرتے کہ سب تعریف تیرے لئے ہے (بخاری)36
    پھر رکوع سے کھڑے ہوتے تو عرض کرتے ’’اے اللہ تیری اتنی تعریفیں کہ جن سے آسمان بھرجائے…اور اتنی تعریفیں کہ زمین بھی ان سے بھر جائے…اور اتنی حمد کہ آسمان و زمین کے بعد جو توُ چاہے وہ بھی بھر جائے…اے تعریف اور بزرگی کے لائق۔(مسلم37) کوئی ہے جو اس ایک حمد سے ہی بڑھ کر کوئی حمد پیش کر سکے؟
    نماز میں خشوع
    کبھی گھر کے لوگ سوجاتے تو آپؐ چپ چاپ بستر سے اٹھتے اور دعا و مناجات الہٰی میں مصروف ہوجاتے ۔حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات میری آنکھ کھلی تو آپؐ کو بستر پر نہ پایا ۔میںسمجھی کہ آپؐ کسی اور بیوی کے حجرے میں تشریف لے گئے ہیں ۔اندھیرے میں ادھر ادھر ٹٹولا تو دیکھا کہ پیشانی مبارک خاک پر ہے اور آپؐ سربسجود مصروفِ دعا ہیں۔سُبْحَانَکَ وَ بِحَمْدِکَ لَااِلٰہَ اِلَّااَنْتَ۔اے اللہ!تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ۔تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ فرماتی ہیں ’’یہ دیکھ کر مجھے اپنے شبہ پر ندامت ہوئی اور دل میں کہا۔سبحان اللہ! میں کس خیال میںہوں اور خدا کا رسول ؐ کس عالم میں ہے۔‘‘(نسائی)38
    رات کے وقت جب سارا عالم محو خواب ہوتا لوگ میٹھی نیند سورہے ہوتے۔ آپؐ چپکے سے بستر چھوڑ کربعض دفعہ سنسان قبرستان میں چلے جاتے اورہاتھ اُٹھاکر دعا میں مصروف ہوجاتے۔ایک دفعہ حضرت عائشہ ؓ تجسّس کیلئے پیچھے گئیں تو آپؐ جنت البقیع میں کھڑے دعا مانگ رہے تھے۔ اپنے رب سے محوراز و نیاز تھے۔حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ تم نے یہ کیوں سوچا کہ خدا کا رسول تم پر ظلم کرے گا۔(یعنی تمہاری باری میں کہیں اورکیسے جاسکتا تھا )پھرفرمایا مجھے جبریل ؑ ؑنے آکر تحریک کی کہ اہل بقیع کی بخشش کی دعا کروں اور میں نے خیال کیا تم سوگئی ہو اس لئے جگانا نامناسب سمجھا۔(نسائی)39
    حضرت عائشہ ؓ کی ایک اور روایت ہے کہ ایک رات میری باری میں باہر تشریف لے گئے ۔ کیا دیکھتی ہوں کہ ایک کپڑے کی طرح زمین پر پڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں سَجَدَلَکَ سَوَادِیْ وَ خِیَالِیْ وَ آمَنَ لَکَ فُؤَادِیْ رَبِّ ھٰذِہٖ یَدَایَ وَمَا جَنَیْتُ بِھَا عَلٰی نَفْسِیْ یَا عَظِیمًا یُرْجٰی لِکُلِّ عَظِیْمٍ اِغْفِرِالذَّنْبَ الْعَظِیْم۔(ھیثمی)40
    (اے اللہ)تیرے لئے میرے جسم و جاں سجدے میں ہیں۔میرا دل تجھ پر ایمان لاتا ہے۔اے میرے رب! یہ میرے دونوںہاتھ تیرے سامنے پھیلے ہیں اور جو کچھ میں نے ان کے ساتھ اپنی جان پر ظلم کیا وہ بھی تیرے سامنے ہے۔ اے عظیم! جس سے ہر عظیم بات کی اُمیدکی جاتی ہے۔عظیم گناہوں کو تو بخش دے۔ پھر فرمایا’’ اے عائشہ! جبریل نے مجھے یہ الفاظ پڑھنے کیلئے کہا ہے تم بھی اپنے سجدوں میں یہ پڑھا کرو۔جو شخص یہ کلمات پڑھے سجدے سے سر اٹھانے سے پہلے بخشا جاتا ہے۔‘‘
    عبادت سے محبت
    رسول کریمؐ کواپنے رب کی عبادت ہر دوسری چیز سے زیادہ عزیز تھی۔ اپنی عزیز ترین بیوی حضرت عائشہؓ کے ہاں نویں دن باری آتی تھی۔ایک دفعہ موسم سرما کی سرد رات کو ان کے لحاف میں داخل ہوجانے کے بعد ان سے فرماتے ہیں کہ عائشہ! اگر اجازت دو تو آج رات میں اپنے رب کی عبادت میں گزار دوں وہ بخوشی اجازت دیتی ہیں اور آپؐ ساری رات عبادت میں روتے روتے سجدہ گاہ تر کردیتے ہیں۔(سیوطی)41
    نماز میںرسول کریمؐ کی خشوع و خضوع کا یہ عالم ہوتا تھا کہ روتے ہوئے سینے سے ہنڈیا اُبلنے کی طرح آواز آتی تھی۔(احمد)42
    راتوں کی عبادت کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے بجا طور پر آپؐ کی یہ تعریف کی کہ
    یَبِیْتُ یُجَافِیْ جَنْبَہ‘ عَنْ فِرَاشِہٖ
    اِذَا سْتَثْقَلَتْ بِالْمُشَرِکِیْنَ المَضَاجِع‘
    کہ آپؐ اس وقت بستر سے الگ ہوکر رات گزار دیتے ہیںجب مشرکوں پر بستر کو چھوڑنا نیند کی وجہ سے بہت بوجھل ہوتا ہے۔(بخاری)43
    رمضان المبارک میں عبادت کا اہتمام
    عبادات اور دعائیںتوآپؐ کا عام معمول تھا۔رمضان کے مہینہ میں آپؐ کی عبادات میں بہت اضافہ ہوجاتا ۔خصوصاً رمضان کے آخری عشرہ کے اعتکاف میں توبہت زیادہ عبادت کرتے۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں۔ ’’جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو آپؐ کمر ہمت کس لیتے ۔ بیدار رہ کر راتوں کو زندہ کرتے ،خود بھی عبادت کرتے ،اہل بیت کو بھی جگاتے۔اس آخری عشرہ میں آپ ؐاعتکاف بھی فرماتے۔‘‘(بخاری)44
    آنحضورؐ سارا وقت خدا کے گھر میں بیٹھ کر یادالہٰی اور عبادت میں مصروف رہتے۔ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم ؐ کچھ بیمار تھے۔صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہؐ ! آج کچھ بیماری کا اثر آپؐ پر نمایاں ہے۔فرمانے لگے ’’اس کمزوری‘‘ کے باوجود آج رات میں نے طویل سورتیں نماز تہجد میں پڑھی ہیں۔(ابن الجوزی)45
    صحابہ کرام رسول اللہ ؐ کی کثرت عبادت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپؐ اس قدر لمبی نمازیں پڑھتے اور اتنا طویل قیام فرماتے کہ آپؐ کے پائوں سوج جاتے۔آپ ؐ سے عرض کی گئی کہ اس قدر مشقت کیوں کرتے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ آپؐ کی بخشش کا اعلان فرماکر آپؐ کو معصوم و بے گناہ قرار دے چکا ہے تو آپؐ نے فرمایا اے عائشہؓ! کیا میں (اس نعمت پر) عبادت گزار اور شکرگزار انسان نہ بنوں؟(بخاری)46
    عبادت الہٰی کی خاطر آرام طلبی ہر گز پسند نہ تھی۔ ایک رات حضرت حفصہ ؓ نے آپؐ کے بستر کی چارتہیں کردیں ۔صبح آپؐ نے فرمایا’’ رات تم نے کیا بچھایا تھا۔اسے اکہرا کردو اس نے مجھے نماز سے روک دیا ہے۔‘‘(ترمذی)47
    قرآن کی تلاوت اور ذکرالہٰی بھی ایک عبادت ہے۔نبی کریمؐ کو تلاوت کلام پاک سے بھی خاص شغف تھا۔روزانہ سورتوں کی مقررہ تعداد عشاء کے وقت تلاوت فرماتے ،پچھلی رات بیدار ہوتے تو کلام الہٰی زبان پر جاری ہوتا۔(عموماً آلِ عمران کا آخری رکوع تلاوت فرمایا کرتے) رات کے وقت نماز میں نہایت وجداور ذوق و شوق سے ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھتے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں ’’کبھی پوری رات آپ قیام فرماتے ۔سورہ بقرہ،آل عمران اور سورہ نساء تلاوت کرتے۔ جب کوئی عذاب کی آیت آتی تو خدا سے پناہ طلب کرتے اور جب کوئی رحمت کی آیت آتی تو اس کے لئے دعا کرتے۔‘‘(نسائی)48
    مزیدتفصیل ملاحظہ ہوزیرعنوان قرآن کریم سے عشق اورحمدوشکروذکرالہٰی۔
    روزہ کی عبادت
    روزے رکھنا سنّت انبیاء ہے۔ نبی کریمؐ بھی روزہ کی عبادت کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ نبوت سے قبل عربوں کے دستور کے مطابق دسویں محرم کاروزہ رکھتے تھے۔ نبوت کے بعد بھی مکہ میں آپؐ کئی مہینوں تک یہ روزہ رکھتے رہے۔مدینہ آکربھی روزہ رکھا یہاں تک کہ رمضان کے روزے فرض ہوئے۔رمضان کے علاوہ مدینہ میں آپؐ شعبان کا اکثر مہینہ روزے رکھتے تھے۔(بخاری49)سال کے باقی مہینوں میں یہ کیفیت رہتی کہ روزہ رکھنے پر آتے تو معلوم ہوتا کہ آپ ؐکبھی روزہ نہ چھوڑیں گے۔پھر روزے رکھنے چھوڑ دیتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ پھر نہیں رکھیں گے۔ (بخاری)50
    ایام بیض یعنی چاند کی تیرہ ،چودہ ، پندرہ تاریخ کا روزہ بھی نہیں چھوڑتے تھے۔(نسائی)51
    مہینہ کے نصف اول میں اکثر روزے رکھتے اور مہینہ میں تین دن معمولاً روزہ رکھتے۔بالعموم مہینہ کے پہلے سوموار اور اگلے دونوں جمعرات کے دن۔(مسلم)52
    آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ سوموار اور جمعرات کو اعمال (خدا کے حضور) پیش ہوتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ میرے عمل اس حالت میں پیش ہوں کہ میں روزہ دار ہوں۔(ترمذی)53
    اس کے علاوہ آپؐ نویں ذوالحجہ کا روزہ بھی رکھتے تھے۔(مسلم)54
    عام حالات میں آپؐ کبھی گھر تشریف لاتے پوچھتے کچھ کھانے کو ہے۔جواب ملتا کچھ نہیں۔ فرماتے تو میں آج روزہ رکھ لیتا ہوں ۔(ترمذی)55
    کبھی کبھی ’’صوم و صال‘‘ بھی رکھتے یعنی متواتر کئی دن تک روزے، درمیان میں افطار نہ کرتے تھے لیکن صحابہ ؓ کو آپؐ نے اس سے روکا اور فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کھلا پلا دیتا ہے۔(بخاری)56
    رمضان کی ایک اور اہم عبادت اعتکاف ہے۔ دعویٰ نبوت سے قبل بھی رسول کریمؐ کو تنہائی میں جاکر اللہ کو یاد کرنے کا شوق تھا۔ چنانچہ غارحرا میں جاکر اعتکاف فرماتے بعد کے زمانے میں رمضان کی فرضیت کے بعدپہلے درمیانی عشرہ اور آخری عشرہ تک اعتکاف فرماتے رہے۔ (بخاری57) جس میں آپؐ غیرمعمولی عبادت کی توفیق پاتے تھے۔حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آخری عشرہ میں نبی کریم ؐ اپنی کمر ہمت کس لیتے تھے۔اپنی راتوں کو زندہ کرتے اور عبادت الہٰی میں گزارتے تھے۔ اور گھر والوں کو بھی جگا کر عبادت کے لئے تحریک فرماتے تھے۔ اور اتنی محنت اور مجاہدہ آخری عشرہ میں فرماتے تھے کہ اتنا اہتمام کسی اور زمانہ میں نہیں ہوتا تھا۔(مسلم)58
    رسول کریمؐ کی عبادت کا معراج حج بیت اللہ کے موقع پربھی دیکھا گیا جب آپؐ محض جانوروں کی قربانی ہی خدا کی راہ میں نہیں گزارتے تھے۔کفن کے لباس کی طرح محض دوچادروں کا لباس اوڑھ کرننگے سردیوانہ وار اپنے رب کریم کے پاک گھر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب آپؐ کے جسم کے ساتھ آپؐ کی روح بھی اس طواف میں برابر کی شریک ہوتی تھی اور عبادت کا نقطۂ معراج حاصل ہوتا۔ اگرچہ آپؐ کی ساری زندگی ہی ہمہ تن عبادت تھی۔
    حوالہ جات
    1
    بخاری بدء الوحی
    2
    السیرۃ النبویۃلابن ہشام جلد1ص261,260,251مطبوعہ مصر
    3
    السیرۃ النبویۃلاہشام جز1ص252مطبوعہ مصر
    4
    ترمذی کتاب الصلوۃ باب ماجاء فی مواقیت الصلوۃ:138
    5
    بخاری کتاب المناقب باب التاریخ من أین أرخوالتاریخ:3642
    6
    بخاری کتاب الوضوء باب اذا القی علی ظھرا المصلی قذر:233
    7
    بخاری کتاب الصلوۃ باب المرأۃ تطرح عن المصلی شیئًا من الأذی:490
    8
    بخاری کتاب التفسیرسورۃ المؤمن4441
    9
    ابوداؤد کتاب الطہارۃ باب فی ترک الوضؤ ممامست النار:160
    10
    بخاری کتاب الجمعہ باب من نام اول اللیل:1078
    11
    بخاری کتاب المرضیٰ باب اذا عاد مریضاً:5226
    12
    ابوداؤد کتاب الصلوۃ باب التصفیق فی الصلوۃ
    13
    مسلم کتاب الصلاۃ باب تقدیم الجماعۃ :640
    14
    بخاری کتاب المغازی باب مرجع النبیؐ من الاحزاب:3810
    15
    ابوداؤد کتاب الصلوۃ باب ردّالسلام
    16
    بخاری ابواب تقصیر الصلوۃ
    17
    ترمذی کتاب الصلوۃ باب ماجاء فی الصلوۃ علی الدابہ فی الطین
    18
    بخاری کتاب المواقیت الصلوۃ باب الاذان بعد ذھاب الوقت:5609
    19
    فتوح العرب فی شروع الحرب ص387 ازواقدی
    20
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃالاحزاب ـ:3802
    21
    بخاری کتاب التفسیرسورۃ البقرۃ باب قولہ عزوجل فان خفتم فرجالا :4171
    22
    بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی ووفاتہ:4088
    23
    بخاری کتاب الاذان باب حد المریض ان یشھد الجماعۃ :624
    24
    بخاری کتاب الاذان باب اھل العلم والفضل احق بالا مامۃ:639
    25
    المعجم اللکبیرلطبرانی جلد 12ص84
    26
    ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ باب منہ:2381
    27
    بخاری کتاب الجمعۃ باب قیام النبی بلیل فی رمضان
    28
    بخاری کتاب الوضوء باب قراء ۃ القرآن بعد الحدث
    29
    ابوداؤد کتاب الصلوۃباب فی الدعا ء مایقول الرجل فی رکوعہ و سجودہ
    30
    ابوداؤدکتاب الصلوۃ باب مایقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ:740
    31
    الاصابہ فی تمییز الصحابۃ ابن حجرجلد 7ص721
    32
    بخاری کتاب الجمعہ باب طول القیام فی صلاۃ اللیل:1067
    33
    نسائی کتاب الافتتاح باب تردید الا یۃ:1000
    34
    بخاری کتاب الجمعۃ باب اذا صلی قاعدا:1051
    35
    بخاری کتاب التفسیر باب لیغفرلک اللہ:4460
    36
    بخاری کتاب الدعوات
    37
    مسلم کتاب الصلوۃ
    38
    نسائی کتاب عشرۃ النساء باب الغیرۃ
    39
    نسائی عشرۃ النساء باب الغیرۃ
    40
    مجمع الزوائد ھیثمی جلد 2ص128مطبوعہ بیروت
    41
    الدرالمنشور فی تفسیر الماثورجلد 6ص27مطبوعہ بیروت
    42
    مسند احمد جلد 4ص26مطبوعہ مصر
    43
    بخاری کتاب الجمعہ باب فضل من تعار من الیل:1087
    44
    بخاری کتاب صلاۃ التراویح باب العمل فی العشر الاواخرمن رمضان:1884
    45
    الوفاء باحوال المصطفیٰ ابن الجوزی ص511بیروت
    46
    بخاری کتاب التفسیر باب لیغفر لک اللہ ماتقدم:4459
    47
    الشمائل النبویہ الترمذی باب ماجاء فی فرا ش رسول اللہ
    48
    نسائی کتاب الافتتاح باب مسأ لۃ القاری اذا مرّبآیۃ رحمۃ:999
    49
    بخاری کتاب الصوم باب صوم شعبان:1834
    50
    بخاری کتاب الجمعۃ باب قیام النبیؐ باللیل من نومہ:1073
    51
    نسائی کتاب الصیام باب صوم النبیؐ
    52
    مسلم کتاب الصیام باب استحباب صیام ثلاثۃ ایاّم من کل شہر:1972
    53
    ترمذی کتاب الصیام باب فی صوم یوم الاثنین
    54
    مسلم کتاب الاعتکاف باب صوم عشر ذی الحجہ
    55
    ترمذی کتاب الصوم
    56
    بخاری کتاب الصوم باب برکۃ السحورمن غیر ایجاب:1788
    57
    بخاری کتاب الاعتکاف فی العشر الاواخر
    58
    مسلم کتاب الاعتکاف باب الاجتہاد فی اللہ

    نبی کریمؐ کی خشیٔت اور خوف الہٰی
    قرآن شریف نے جس خالق کائنات اور قادر مطلق ہستی کا ہمیں پتہ دیا ہے، وہ بادشاہ بھی ہے، غنی بھی، جبار قہاراور متکبر بھی…اس عظیم ہستی کے سامنے انسان وہ عاجز مخلوق ہے۔ جوہر لحظہ اس کا محتاج ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے’’ اَحْسَنِ تَقْوِیْم‘‘ یعنی بہترین صورت میں اپنی فطرت پر پیدا کیااور اس کی پیدائش کا مقصد عبودیّت ٹھہرایا۔اگر اللہ تعالیٰ کی نصرت اور فضل شامل حال نہ ہو تو انسان فطرت صحیحہ کو چھوڑ کر شیطانی راہوں میں بھٹک جاتا اور اَسْفَلُ السَّا فِلِیْن یعنی ذلّت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرجاتاہے۔یہ وہ خوف ہے جوایک ذی شعور انسان کو بے چین کر دینے کے لئے کافی ہے۔خدا کی ذات پر ایمان کے نتیجہ میں یہ خوف زائل ہوتا اور امید ورجاء کا بندھن مضبوط ہوتا ہے اس لئے ایمان وہی قابل تعریف قراردیا گیا ہے جو خوف و رجاء کے درمیان ہو۔انسان کے لئے اس کے سو اکوئی چارہ نہیں کہ وہ ہمیشہ درِ مولیٰ سے چمٹا رہے اور لرزاں و ترسا ں اسی کے حضور جھکارہے اوراس کی ناراضگی کے خوف سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاردے اسی کا نام تقویٰ ہے اور اسی میں انسان کی نجات ہے۔
    رسول کریمؐ نے فرمایا دو آنکھوں کو آگ نہیں چھوئے گی ایک وہ آنکھ جو اللہ کی خشیٔت میں روئے اور دوسری وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں حفاظت کرتے ہوئے بیدار رہے۔(ترمذی)1
    حقیقی خشیئت یہی ہے کہ انسان محض اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور کامل توحید کا بھی یہی مطلب ہے ۔ ایک دفعہ رسول کریمؐ نے صحابہ کو یہ نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تم میں سے کوئی اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھے انہوں نے کہا یا رسول اللہؐ وہ کیسے؟آپؐ نے فرمایا اس طرح کہ کسی دینی بات یا للّٰہی کام میں وہ کوئی خامی یا خرابی محسوس کرتا ہے مگر اس پر وہ خاموش رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے روز پوچھے گا تم نے کیوں اپنی رائے کا اظہار نہ کیا وہ کہے گا لوگوں کے ڈر سے ایسا نہ کیا۔ اللہ فرمائے گا لوگوں کی نسبت میں اس بات کا زیادہ مستحق تھا کہ تم مجھ سے ڈرتے۔(ابن ماجہ)2
    رسول کریمؐ نے اپنے صحابہ میں خشیئت الہٰی کی صفت پیدا کرنے کے لئے ایک دفعہ انہیں یہ کہانی سنائی کہ ایک شخص نے بوقت موت اپنے اہل خانہ کو وصیت کی کہ میری وفات کے بعد لکڑیاں جمع کرکے آگ جلانا جب میں جل کر راکھ ہوجائوں تو خاک سمند ر میں ڈال دینا۔ اولاد نے اس کی وصیت پر عمل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی خاک جمع کی او راس سے پوچھا تم نے ایسا کیوں کہا؟ اس نے عرض کیا اے میرے ربّ!تیرے ڈر اور خوف سے ایسا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ جواب سن کر اسے بخش دیا۔(بخاری)3
    سب سے بڑھ کر خدا ترس
    ہمارے نبی ﷺ اوّل المؤمنین تھے اس لئے سب سے بڑھ کر اپنے مولیٰ کی خشیٔت آپؐ میں تھی جس کی وجہ سے آپؐ ہمیشہ لرزاں و ترساں رہتے تھے۔ ہرچند کہ پہلی وحی خدا کی طرف سے آپؐ پر ایک عظیم روحانی انعام تھا۔مگر آپؐ کے لئے یہ بھی مقام خوف تھا اس لئے حضرت خدیجہؓ سے آکر کہا لَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ (بخاری4) مجھے تو اتنا ڈر پیدا ہواہے کہ اپنی جان کے لالے پڑگئے ہیں۔یہ ذمہ داری کا احساس بھی تھا اور انتہائی خشیٔت کا اظہار بھی۔
    ایک دفعہ بعض صحابہ نے دنیا سے بے رغبتی کے اظہار کے طور پر عمر بھر شادی نہ کرنے، ساری ساری رات عبادت کرنے اورہمیشہ روزہ رکھنے کے عہد کئے۔ رسول کریمؐ نے انہیں اس بات سے روکا اور اپنے نمونہ پر چلنے کی طرف توجہ دلائی نیزفرمایا دیکھو میں نے شادی بھی کی ہے، رات سوتا بھی ہوں ،عبادت بھی کرتا ہوں،روزے رکھتابھی ہوں اوراس میں ناغہ بھی کرتاہوں۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہؐ! آپؐ کی کیا بات آپؐ تو اللہ کے رسول ہیں ۔ان کا مطلب تھاہم کمزور اور گناہگار ہیں ہمیں زیادہ نیکیوں کی ضرورت ہے۔تب آپؐ نے بڑے جلال سے فرمایا کہ اِنَّاَتْقَاکُمْ وَاَعْلَمَکُمْ بِاللّٰہِ اَنَا۔(بخاری5)کہ تم میں سب سے زیادہ اللہ کا تقوی اختیار کرنے والا اور اللہ کی معرفت رکھنے والا میں ہوں۔گویاسب سے زیادہ عمل کی مجھے ضرورت ہے اور نجات کے لئے میرے نمونہ کی پیروی تم پر لازم ہے اوریہی امر واقعہ ہے کہ ہمارے نبیؐہی سب سے زیادہ خدا ترس انسان تھے۔
    نبی کریمؐ اکثر اپنی دعائوں میں یہ دعامانگا کرتے تھے کہ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ۔اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر جمادے اور مضبوط کر دے۔صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ !آپؐ بھی یہ دعا کرتے ہیں حالانکہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں (اورہمیں ہدایت دینے والے) فرمایا ہاں! دل تو رحمان خدا کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے وہ جیسے چاہے اس کو پھیردے۔(ترمذی)6
    آنحضورؐؐ کی خدا ترسی کا یہ عالم تھا کہ اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کو کھول کرسنا دیا کہ تمہارے عمل ہی تمہارے کام آئیں گے، میں یا میرے ساتھ تمہارارشتہ کچھ کام نہیں آئے گا۔(بخاری7) آپؐ فرماتے تھے کہ اللہ کی رحمت اورفضل نہ ہوتو میںبھی اپنی بخشش کے بارہ میں قطعیت سے کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا۔(بخاری)8
    اللہ تعالیٰ کے غناء سے ہمیشہ آپ ؐ کو یہ خوف بھی دامنگیر رہتا تھا کہ نیک اعمال خدا کے حضور قبولیت کے لائق بھی ٹھہرتے ہیں یا نہیں؟جیساکہ قرآن شریف میں ذکر ہے کہ سچے مومن وہ ہیں جو اپنے رب کی خشیئت کے باعث ڈرتے رہتے ہیںاور اپنے رب کی آیات پر ایمان لاتے ہیںاوریہ لوگ جب دیتے ہیں جو بھی وہ (خداکی راہ میں) دیں تو ان کے دل خوف زدہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔(المؤمنون : 58تا61)
    حضرت عائشہؓ کے دل میں ان آیات کے بارہ میں ایک سوال پیدا ہوا اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہؐ کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ،چوری (وغیرہ گناہ) کرتے اور پھر اللہ سے ڈرتے ہیں۔نبی کریم ﷺتوقرآن کی عملی تفسیر تھے۔آپؐ سے بڑھ کر کون اِن آیات کی حقیقت بیان کرسکتاتھا ۔آپ ؐنے کیا خوب فرمایا’’ اے صدّیق کی بیٹی! یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے، نمازیں پڑھتے اور صدقات دیتے ہیں مگر پھربھی ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ نیکیاں غیر مقبول ہوکر ردّ ہوجائیں ۔یہ وہ لوگ ہیں جو نیکیوں میں سبقت کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔‘‘(ترمذی)9
    حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ مجھے جہنم کی آگ کا خیال آیاتومیں روپڑی۔ رسول کریمؐ نے رونے کا سبب پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ جہنم کی آگ کو یادکرکے روپڑی تھی پھرمعلوم ہوتاہے۔ اسی وقت حضرت عائشہؓ کو رسول اللہؐ اور آپؐ کی شفاعت کا خیال آیا۔ تو آپؐ سے پوچھنے لگیں کیا آپؐ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یادکریںگے۔ رسول کریمؐ نے فرمایا تین جگہوں پر کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا۔ ایک تو حساب کے وقت جب تک یہ پتہ نہ چل جائے کہ اس کا پلڑا ہلکا ہے یا بھاری؟ دوسرے اعمال نامہ دیئے جانے کے وقت۔جب تک یہ علم نہ ہوجائے وہ دائیں ہاتھ میں دیا جاتاہے یابائیں یا پیچھے سے اور تیسرے پُل صراط کے پاس جو جہنم کے سامنے ہوگی۔(احمد)10
    خدا تعالیٰ کی ناراضگی اورپکڑ کا خوف
    آنحضورؐ ہمیشہ اس فکر میں رہتے تھے کہ کہیں آپؐ کا رحیم و کریم خدا آپؐ سے ناراض نہ ہوجائے۔ایک دفعہ حضور ؐ بیمار ہوگئے اور دو یا تین راتیں نماز تہجد کیلئے نہ اُٹھ سکے۔حضرت خدیجہؓ نے عرض کیایارسول اللہؐمیرے خیال میں آپؐ کے ساتھی(یعنی جبرائیل ؑ)کے نزول میں کچھ تاخیر ہوگئی ہے۔حضورؐ کو بھی طبعاً فکر ہوئی ہوگی۔چنانچہ سورۃ والضُّحٰے نازل ہوئی جس میں حضورؐ کو تسلی دیتے ہوئے یہ ارشاد ہے مَاوَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلیٰکہ تیرے رب نے تجھے چھوڑا نہیں اور نہ وہ تجھ سے ناراض ہوا۔(بخاری)11
    حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریمؐ جب بادل یا آندھی کے آثار دیکھتے تو آپؐ کا چہرہ متغیّر ہوجاتا۔میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! لوگ تو بادل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہوگی۔مگر میں دیکھتی ہوں کہ آپؐ بادل دیکھ کر پریشان ہوجاتے ہیں۔آپؐ نے فرمایا اے عائشہؓ ! کیا پتہ اس آندھی میں کوئی ایسا عذاب پوشیدہ ہو جس سے ایک گزشتہ قوم ہلاک ہوگئی تھی اور ایک قوم (عاد)ایسی گزری ہے جس نے عذاب دیکھ کر کہا تھاکہ یہ تو بادل ہے۔ برس کر چھٹ جائے گا۔ مگر وہی بادل اُن پردردناک عذاب بن کربرسا۔(بخاری)12
    قرآن شریف کی جن سورتوں میںعذاب الہٰی کے نتیجہ میں بعض گزشتہ قوموں کی تباہی کا ذکرہے۔اُن کے مضامین کا حضورؐ کی طبیعت پر بہت گہرا اثر تھا۔ایک دفعہ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ؐ آپ کے بالوں میں کچھ سفیدی سی جھلکنے لگی ہے۔آپؐ نے فرمایا ہاں سورۃہود، سورۃ الواقعہ، سورۃ المرسلات، سورۃ النبااور سورۃ التکویر وغیرہ نے مجھے بوڑھا کردیا ہے۔(ترمذی)13
    ایک دفعہ نبی کریمؐ ایک نوجوان کے پا س تشریف لائے جو جان کنی کے عالم میں تھا۔ آپؐ نے فرمایا تمہارا کیا حال ہے؟ اس نے جواب دیا خدا کی قسم اے اللہ کے رسول ؐ ! میں اللہ سے نیک اُمید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا بھی ہوں۔ رسول اللہؐ نے فرمایایہ دونوں باتیں خوف ورجاء جس مومن بندے کے دل میں آخری وقت میںاس طرح اکٹھی پائی جائیں تو اللہ تعالیٰ اُسے اس کی اُمید کے مطابق ضرور عطاکرے گااور اس کے خوف سے اس کو امن عطافرمائے گا۔(ترمذی)14
    احکام الہٰی کی بجاآوری
    نبی کریم ؐ کے تقویٰ کا ایک اظہار اللہ کے احکام کی بجا آوری سے خوب ہوتا تھا جو رسول کریمؐ ایسی مستعدی سے کرتے تھے جسکی مثال نہیں ملتی۔چنانچہ جب سورۃ النصرمیں افواج کے اسلام میں داخلہ پر استقبال کی خاطر اللہ کی تسبیح وحمد اور استغفار کا حکم ہوا تو حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں اس کے بعد رسول اللہؐ کی کوئی نمازخالی نہ جاتی تھی جس میں آپؐ یہ کلمات نہ پڑھتے ہوں سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔اے اللہ تو پاک ہے اے ہمارے رب اپنی حمد کے ساتھ اے اللہ مجھے بخش دے۔(بخاری)15
    رسول کریم ؐ احکام الہٰی کی پیروی میں تقویٰ کی انتہائی باریک راہوں کا خیال رکھتے تھے۔
    حضرت نعمان بن بشیرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریمؐسے سنا،حلال اور حرام واضح ہیں اور ان کے درمیان شبہ والی چیز یں ہیں جن کو اکثر لوگ جانتے نہیں، جو شخص ان مشتبہ چیزوں سے بچتا ہے اس نے اپنا دین اور عزت بچالی، جو اِن شبہات میں پڑگیا وہ اُس چروا ہے کی طرح ہے جو ایک رَکھ( محفوظ چرا گاہ) کے اِرد گرد بکریاں چراتا ہے۔ اس بات کا اندیشہ ہے کہ اس کی بکریاں اس چراگاہ کے اندر چلی جائیں گی۔ سنو ہر بادشاہ کی ایک رَکھ محفوظ جگہ ہوتی ہے اور اللہ کی رَکھ اس کی زمین میں اُس کی منع کردہ چیزیںہیں۔پھر سنو! جسم میں ایک ایسا عضو ہے کہ اگر وہ درست ہو تو سب جسم درست رہتا ہے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہوجائے گا۔ اور یاد رکھو یہ دل ہے۔(بخاری)16
    تقویٰ کی باریک راہوں کے اختیار کرنے اور شبہات سے بچنے کی چند مثالیں قابل ذکرہیں۔حضرت عقبہؓ بن حارث سے روایت ہے کہ اُنہوں نے ابواِھاب کی بیٹی سے شادی کی۔ ایک عورت نے آکر کہہ دیا کہ اس نے مجھے اورمیری بیوی کو دودھ پلایا ہے۔عقبہؓ نے کہا مجھے تو تم نے دودھ نہیں پلایا اور نہ ہی بتایا ہے۔ عقبہؓ حضورؐ کے پاس مکہ سے مدینہ یہ مسئلہ پوچھنے آئے۔ حضورؐ نے فرمایا اب جب یہ کہا جاچکا ہے اور شک پڑچکا ہے۔ پھر کیسے تم میاں بیوی رہ سکتے ہو؟ پھر حضورؐ نے ان کو جدا کردیا۔ عقبہ ؓ نے اور شادی کرلی۔(بخاری)17
    حضرت ابو قتادہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ سفر حدیبیہ کے لئے نکلا آپؐ اوردیگر صحابہ تواحرام میں تھے مگر میںنے احرام نہیں باندھاتھا۔ دوران سفر میں نے ایک جنگلی گدھا دیکھااور حملہ کر کے اُسے شکار کرلیا اور حضورؐ کے پاس آکر عرض کیاکہ حضور! میں احرام سے نہیں تھا اس لئے آپؐ کی خاطریہ شکار کرلیا۔چونکہ مُحرم کا خودشکارکرنا یا اس کی خاطر کسی کا شکار مارنا بھی جائز نہیں۔حضورؐ نے میرے اس فقرہ کی وجہ سے کہ’’ میں نے آپؐ کی خاطر یہ شکار کیا ہے‘‘ اُس میں سے کچھ کھانا پسند نہ کیا البتہ اپنے صحابہ کو اس گوشت سے کھانے کی اجازت دے دی۔(ابن ماجہ)18
    اللہ کے نام کی عظمت اور احترام
    ایک دفعہ ایک یہودی عالم نے آکر رسول کریمؐ پراعتراض کیا کہ آپ لوگ کعبہ کی قسم کھاکرشرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہرچند کہ مسلمان خانہ کعبہ کے بارہ میں کوئی مشرکانہ تصورنہیں رکھتے۔ پھر بھی رسول کریمؐ نے ازراہِ احتیاط یہی ارشاد فرمایا کہ آئندہ سے قسم کی نوبت آنے پر کعبہ کی بجائے ربّ کعبہ کی قسم کھائی جائے۔(احمد)19
    حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی صحابی نے رسول اللہؐ سے عرض کیا کہ’’مَاشَآئَ اللّٰہُ وَشِئْتَ‘‘کہ وہی ہوا یا ہوگا جو اللہ نے چاہا اور آپؐ نے چاہا۔ رسول کریمؐ نے فرمایا تم نے مجھے خدا کے برابر ٹھہرادیا۔ گویاصرف ماشاء اللہ کہو کہ یہی کامل توحیدہے۔ (احمد)20
    آنحضرت ﷺ تو خدا کا نام درمیان آجانے سے ڈر جاتے تھے۔اُمیمہ بنت شراحیل وہ معزز خاتون ہیں جو قبیلہ بنو الجون نے آنحضورؐ سے رشتہ ازدواج قائم کرنے کے لئے آپؐ کی خدمت میںبھجوائی ۔آپؐ کاارادہ اُن کو اپنے عقد میں شامل کرنے کاتھا۔(اُس کی ملازمہ یاکسی نے اس بی بی کو کہہ دیا کہ پہلے دن ہی رسول اللہؐ پررعب جمالینا)۔ آنحضرتﷺ نے ایک باغ میں ان کے لئے خیمہ لگوایا ۔ جب آپؐان کے پاس خیمہ میں تشریف لے گئے توفرمایااپنے آپ کومیرے لئے ہبہ کردو۔ وہ بولی کیاکوئی شہزادی بھی ایک عام شخص کو اپنی ذات ہبہ کرتی ہے۔ حضورؐ نے اُسے مانوس کرنے کے لئے اُس کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہا تواُس نے کہا میں آپؐ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔آپؐ نے فرمایا تم نے بہت عظیم الشان ہستی کی پناہ مانگی ہے۔ پھرآپؐ نے طلاق دے کر اُسے آزاد کردیااور مال و متاع دیکرواپس اُس کے قبیلہ میں بھجوادیا۔ (بخاری)21
    تقویٰ کی باریک راہیں
    آنحضرتؐہر لحظہ اپنے رب سے ڈرتے رہتے تھے۔ فرماتے تھے کہ مَیںبسااوقات گھر میں ایک کھجوربستر پر پڑی پاتا ہوں ۔اٹھا کر کھانے لگتا ہوں پھر خیال آتا ہے کہ صدقہ کی نہ ہو اور جہاں سے اٹھائی وہیں رکھ دیتا ہوں۔(بخاری)22
    رسول اللہؐ نے اپنی اولاد کی بھی اسی رنگ میں تربیت فرمائی اور ان کے دل میں بھی بچپن سے خوف خدا پیدا کیا۔ایک دفعہ حضرت امام حسنؓ یا حسینؓ نے گھر میں کھجور کاایک ڈھیر دیکھا اور صدقہ کی ان کھجوروں میں سے ایک کھجور منہ میں ڈال لی۔نبی کریم ؐ نے دیکھ لیا۔انگلی بچے کے منہ میں ڈالی، کھجور نکال کر باہر پھینک دی اور فرمایا بچے! ہم آل رسولؐ ہیں۔ ہم صدقہ نہیں کھاتے۔(بخاری)23
    ایک دفعہ آنحضرتؐ نماز کے بعد خلاف معمول بڑی تیزی سے صحابہ کی صفیں چیرتے ہوئے گھر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد واپس تشریف لائے تو ہاتھ میں سونے کی ایک ڈلی تھی۔ فرمایا کچھ سونا آیا تھا وہ مستحقین میں تقسیم ہوگیا۔ یہ سونے کی ڈلی تقسیم ہونے سے رہ گئی تھی۔ نماز میں مجھے خیال آیا تو اسے میں جلدی سے لے آیا ہوں تاکہ قومی مال میں سے کچھ ہمارے گھر میں نہ رہ جائے۔ طہارت نفس اور خوف ِ الہٰی کی یہ کیسی بے نظیر مثال ہے۔(بخاری)24
    آنحضرتؐہر دم اللہ تعالیٰ کے غنا اور عظمت سے خائف رہتے تھے۔ فرماتے تھے کہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے میں بسا اوقات ستر مرتبہ استغفار کرتا ہوںاو ر اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں۔(بخاری)25
    قرآن شریف میں انبیاء علیھم السلام کے قبولیت دعا کے تجارب کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کی ایک مشترک خصوصیت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ ہم سے چاہت اور خوف سے دعاکرتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی سے جھکنے والے اور خشوع اختیار کرنے والے تھے۔ (سورۃ الانبیائ:91)سیدالانبیاء ﷺکی دعائوں میں بھی یہ کیفیّت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔
    دعائوں میںگریہ وبکا
    نبی کریم ؐخوف الہٰی سے اکثر گریہ و زاری کرتے دیکھے جاتے۔ غزوۂ بدر کے موقع پر جب آپؐ کے تین سو تیرہ نہتے ساتھیوں کا مقابلہ ایک ہزار کے مسلح جنگجو لشکر سے تھا ،آپؐ میدان بدر میں اپنے جھونپڑے میں خدا کے حضور سجدہ ریز ہوکر رو رو کر دعائیں کر رہے تھے،حالانکہ اللہ کی طرف سے فتح و نصرت کے وعدے موجودتھے مگر آپؐ کی نگاہ اپنے مولیٰ کے غنا پر بھی تھی اسلئے سجدہ میں پڑے گریہ و زاری کررہے تھے۔بدن پر لرزہ طاری تھا۔کپکپاہٹ سے کندھوں پر سے چادر سرک کر گررہی تھی اور آپؐ اپنے مولیٰ سے یہ التجا کررہے تھے۔ اے اللہ!اگر آج اس مختصر سی جماعت کوتونے ہلاک کردیا تو پھر تیری عبادت کون کرے گا۔(مسلم)26
    حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں آپؐ نے خشوع و خضوع خشیٔت اور ابتہال سے بھری ہوئی جو دعا کی، وہ آپؐ کے خوف و ابتہال اور خشیٔت کا بہترین شاہکار ہے۔آپؐ اپنے مولا کے حضور عرض کرتے ہیں۔
    ’’اے اﷲ تو میری باتوں کوسنتا ہے اور میرے حال کو دیکھتا ہے میری پوشیدہ باتوں اور ظاہر امور سے تو خوب واقف ہے ۔میرا کوئی بھی معاملہ تجھ پر کچھ بھی تو مخفی نہیں ہے۔مَیں ایک بدحال فقیر اور محتاج ہی تو ہوں ،تیری مدد اور پناہ کا طالب ،سہما اور ڈرا ہؤا،اپنے گناہوں کا اقراری اور معترف ہو کر تیرے پاس (چلا آیا) ہوں مَیں تجھ سے ایک عاجز مسکین کی طرح سوال کرتا ہوں (ہاں!) تیرے حضور میں ایک ذلیل گناہگار کی طرح زاری کرتا ہوں ۔ایک اندھے نابینے کی طرح (ٹھوکروں سے)خوف زدہ تجھ سے دعا کرتا ہوں۔میری گردن تیرے آگے جھکی ہوئی ہے اور میرے آنسو تیرے حضور بہہ رہے ہیں ۔میرا جسم تیرا مطیع ہو کر سجدے میں گرا پڑا ہے اور ناک خاک آلودہ ہے ۔اے اﷲ! تو مجھے اپنے حضور دعا کرنے میں بدبخت نہ ٹھہرا دینا اور میرے ساتھ مہربانی اور رحم کا سلوک فرمانا۔اے وہ! جو سب سے بڑھ کر التجاؤں کو قبول کرتا اور سب سے بہتر عطا فرمانے والا ہے میری دعا قبول کر لینا ۔‘‘(طبرانی)27
    قرآن شریف میں ان مومنوں کی تعریف کی گئی ہے جو اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع اور عاجزی اختیار کرتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کی نماز خشوع کا بہترین نمونہ ہوتی تھی۔چنانچہ رکوع میں آپؐ یہ دعا بھی پڑھا کرتے تھے۔
    ’’میرے اﷲ ! تیری خاطر مَیں نے رکوع کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور میں تیرا ہی فرمانبردار ہوں ۔اور تجھی پر میرا توکّل ہے ۔تو ہی میرا پروردگار ہے۔ میرے کان اور میری آنکھیں ، میرا گوشت اور خون، میری ہڈیاں اور میرا دماغ اور میرے اعصاب اس اﷲ کی اطاعت میں جُھکے ہوئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔‘‘
    گریہ و زاری اور خشوع و خضوع کی یہ کیفیت آپؐ کی تنہائی کی نمازوں میں خاص طور پرپائی جاتی تھی۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ خدا کے حضوراس طرح گڑ گڑاتے تھے کہ آپؐ کے سینے سے اس کی آواز سنی جاسکتی تھی جو ہنڈیا کے ابلنے کی آواز سے مشابہ ہوتی تھی۔ (نسائی)28
    حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک رات میں نے حضورؐ کو بستر سے غائب پایا تلاش کیا تو مسجد میں تھے۔(اندھیرے میں)میرا ہاتھ آپؐ کے پائوں کے تلوے کو چھوگیا ۔آپؐ کے پائوں زمین پرگڑے ہوئے تھے اورسجد ے کی حالت میں مولیٰ کے حضورآپؐ یہ زاری کررہے تھے۔
    ’’اے اللہ میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں۔ میںخالص تیری پناہ چاہتا ہوں۔میں تیری تعریف شمار نہیں کرسکتا بے شک تو ویسا ہی ہے جس طرح تو نے خوداپنی تعریف آپ کی ہے۔‘‘(ابن ماجہ)29
    حضرت مطّرفؓ اپنے والد سے بیان کرتے ہیںکہ میں نے رسول خداؐ کو نماز پڑھتے دیکھا۔گریہ وزاری اور بکاء سے یوں ہچکیاں بندھ گئی تھیں گویا چکی چل رہی ہے اور ہنڈیا کے اُبلنے کی آواز کی طرح آپؐ کے سینہ سے گڑ گڑاہٹ سنائی دیتی تھی ۔(ابودائود)30
    حضرت عبداللہؓبن عمر حجۃ الوداع کا یہ خوبصورت منظر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے حجر اسود کی طرف منہ کیا۔پھر اپنے ہونٹ اس پر رکھ دیئے اور دیر تک روتے رہے۔پھر اچانک توجہ فرمائی توحضرت عمر بن الخطابؓ کو (پہلو میں کھڑے) روتے دیکھا اور فرمایا اے عمر! یہ وہ جگہ ہے جہاں (اللہ کی محبت اور خوف سے) آنسو بہائے جاتے ہیں۔(ابن ماجہ)31
    حضرت عبداللہؓ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ حضرت عائشہ ؓ سے عرض کیا کہ رسول کریم ﷺ کی کوئی بہت پیاری اور خوبصورت سی بات سنائیں۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا ان کی تو ہر ادا ہی پیاری تھی۔ایک رات میرے ہاں باری تھی۔ آپؐ تشریف لائے اور میرے ساتھ بستر میں داخل ہوئے۔ آپؐ کا بدن میرے بدن سے چھونے لگا۔پھر فرمانے لگے اے عائشہؓ ! کیا آج کی رات مجھے اپنے رب کی عبادت میں گزارنے کی اجازت دو گی۔میں نے کہا مجھے توآپؐ کی خواہش عزیز ہے۔حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں پھر آپؐ اٹھے ، مشکیزہ سے وضو کیا، اورنماز میں کھڑے ہوکر قرآن پڑھنے لگے۔پھر رونے لگے یہاں تک آپؐ کے آنسوئوں سے دامن تر ہوگیا ۔پھر آپؐ نے دائیں پہلو سے ٹیک لگائی۔ دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھ کر کچھ توقّف کیا۔ پھر رونے لگے یہاں تک کہ آپؐ کے آنسوئوں سے زمین بھیگ گئی۔صبح بلالؓ نماز کی اطلاع کرنے آئے تو آپؐ کو روتے پایا اور عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ!آپؐ بھی روتے ہیں؟ حالانکہ اللہ نے آپؐ کو بخش دیا۔فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
    پھر فرمانے لگے میں کیوں نہ روئوں جبکہ آج رات مجھ پر یہ آیات اتری ہیں اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ َوالْارْضِ وَ اخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ۔آپؐ نے آل عمران کے آخری رکوع کی یہ آیات پڑھیں اور فرمایا ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جس نے یہ آیات پڑھیں اور ان پر غور نہ کیا۔ (سیوطی)32
    عہد نبوی ؐ میں ایک دفعہ سورج گرہن ہوا۔رسول اللہ ؐ نماز کسوف پڑھنے کیلئے کھڑے ہوئے۔بڑے لمبے رکوع اور سجدے کئے ۔آپؐ اس قدر روتے جاتے تھے کہ ہچکی بندھ گئی ۔اس حال میںرو رو کر یہ دعا کر رہے تھے۔
    ’’میرے رب! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا کہ جب تک میں ان لوگوںمیں ہوں تو انہیں عذاب نہ دے گا۔کیا تو نے وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک یہ استغفار کرتے رہیں گے تو ان پر عذاب نازل نہ کرے گا۔پس ہم استغفار کرتے ہیں۔‘‘(توہمیںمعاف فرما)۔(سیوطی)33
    رسول کریمؐ اس وقت تک یہ دعا کرتے رہے جب تک سورج گرہن ختم نہ ہوگیا۔
    خشیئت کی اس کیفیت کے باوجود رسول کریم ﷺ کی خدا ترسی کا یہ عالم تھا کہ اپنے مولیٰ کے حضور مناجات میں اس کا تقویٰ اور خشیئت مانگا کرتے۔ کبھی کہتے ’’اے اللہ میرے نفس کو اپنا خوف اور تقویٰ نصیب کردے اور اسے پاک کردے۔ تجھ سے بڑھ کر کون اسے پاک کرسکتا ہے؟ توہی اس کا دوست اور آقا ہے۔‘‘(مسلم)34
    کبھی یہ دعا کرتے ’’اے اللہ اپنی وہ خشئیت ہمیں عطاکر جو ہمارے اور تیری نافرمانی کے درمیان حائل ہوجائے۔‘‘(ترمذی)35
    تلاوت قرآن اور خشیٔت الہٰی
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جن کو علم دیا گیا ہے۔جب ان پر رحمان خدا کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ روتے ہوئے خدا کے حضور ٹھوڑیوں کے بل سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور اللہ خشوع میں انہیں اور بڑھا دیتا ہے۔(بنی اسرائیل:110)دوسری جگہ فرمایا کہ قرآن کا کلام سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔(سورۃ الزمر:24)
    ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کون اس مضمون کا مصداق ہوسکتا ہے جو سب سے بڑھ کر خدا ترس تھے۔قرآن پڑھتے اور سنتے ہوئے آپؐ کی کیفیت بھی یہی ہوتی تھی۔
    کلام الہٰی سن کر آپؐ پر رِقّت طاری ہوجاتی اورآنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے ایک روز آپؐ نے فرمایا قرآن سنائو! جب وہ اس آیت پر پہنچے فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِکَ عَلیٰ ھٰؤُ لٓائِ شَھِیْدًا (النسائ:42) تو آپ ؐ تاب نہ لا سکے اور آنکھوں سے آنسوئوں کی لڑی بہہ نکلی۔ہاتھ کے اشارے سے فرمایا بس کرو۔(بخاری)36
    حضرت ابوھریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ جب (سورۂ نجم کی آخری) آیت اتری۔ اَفَمِنْ ھٰذَاالْحَدِیْثِ تَعْجَبُونَ وَتَضْحَکُوْنَ وَلَا تَبْکُوْنَ ۔ یعنی کیا تم اس بات (یاکلام) سے تعجب کرتے ہو۔ اور ہنستے ہو روتے نہیں تو رسول اللہؐ کے وہ غریب صحابہ جن کا مسجد نبوی کے چبوترے پر بسیرا ہوتا تھااوراصحاب صُفّہ کہلاتے تھے، بہت روئے۔ یہاں تک کہ ان کے آنسو سے رخسار بھیگ گئے۔ رسول کریمؐ نے ان کی آہ وزاری سنی تو ان کے ساتھ مل کررونے لگے۔ ابوھریرہؓ کہتے ہیں ہم حضورؐ کو روتا دیکھ کر اور رونے لگے۔ تب آپؐ نے فرمایا جو شخص اللہ کی خشیٔت سے رویا وہ آگ میں داخل نہ ہوگا۔(بیہقی وقرطبی)37
    حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں رسول اللہ ؐ کے ساتھ مجھے ایک رات گزارنے کا موقع ملا۔آپؐ نے بسم اللہ کی تلاوت شروع کی اور رو پڑے یہاں تک کہ روتے روتے گر گئے۔پھر بیس مرتبہ بسم اللہ پڑھی ہر دفعہ آپؐ روتے روتے گر پڑتے۔ آخر میں مجھے فرمانے لگے وہ شخص بہت ہی نامراد ہے جس پر رحمن اور رحیم خدا بھی رحم نہ کرے۔(ابن الجوزی)38
    کبھی آپؐ روتے روتے خدا کے حضورعرض کرتے۔’’اے اللہ مجھے آنسو بہانے والی آنکھیں عطاکر جوتیری خشیئت میں آنسوئوں کے بہنے سے دل کوٹھنڈا کردیں، پہلے اس سے کہ آنسو خون اور پتھر انگارے بن جائیں۔‘‘(طبرانی)39
    قصہ مختصر اس فانی فی اللہ کی خشیئت اور خوف الہٰی سے لبریزاندھیری راتوں کی یہی دلدوز چیخ و پکار اور دعائیں ہی توتھیں جنہوں نے عرش الہٰی کو ہلا کر رکھ دیا اوریک دفعہ سرزمین عرب میں ایک ایسا انقلاب عظیم پیدا ہوا کہ پہلے اس سے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سُنا۔





    حوالہ جات
    1
    ترمذی کتاب فضائل الجہاد باب ماجاء فی فضل الحرس فی سبیل اللہ:1639
    2
    ابن ماجہ کتاب الفتن باب الامر بالمعروف والنھی عن المنکر
    3
    بخاری کتاب الا نبیاء باب مایذکرعن بنی اسرائیل
    4
    بخاری باب کیف کان بدء الوحی
    5
    بخاری کتاب الایمان باب قول النبی ؐ انا اعلمکم باللہ :19
    6
    ترمذی کتاب القدر باب ماجاء ان القلوب بین اصبعی الرحمان:2006
    7
    بخاری کتاب الوصایا باب ھل یدخل النساء والولدفی الاقارب:2548
    8
    بخاری کتاب المرضی باب تمنی المریض الموت:5241
    9
    ترمذی کتاب تفسیر القرآن باب سورۃ المؤمنون :3099
    10
    مسند احمد جلد1ص101
    11
    بخاری کتاب التفسیر سورۃ والضحیٰ
    12
    بخاری کتاب التفسیر سورۃ الاحقاف باب قولہ فلما رأوہ عارضا مستقبل اودیتھم
    13
    ترمذی کتاب تفسیر القرآن باب من سورۃ الواقعہ:3219
    14
    ترمذی کتاب الجنائز باب ماجاء ان المؤمن یموت بعرق الجبین:905
    15
    بخاری کتاب الاذان باب الدعاء فی الرکوع:752
    16
    بخاری کتاب الایمان باب فضل من استبرأ لدینہ
    17
    بخاری کتاب العلم باب الرحلۃ فی المسٔلۃ النازلۃ
    18
    ابن ماجہ کتاب المناسک باب الرخصۃ فی ذلک ان لم یصدلہ :3084
    19
    مسنداحمدجلد6ص372
    20
    مسنداحمدجزاول ص354طبع جدیدہ داراحیاء التراث العربی بیروت
    21
    بخاری کتاب الطلاق باب من طلق وھل یواجہ الرجل امرا تہ بالطلاق:4853
    22
    بخاری کتاب اللقطۃ باب اذا وجدتمرۃ فی الطریق:2252
    23
    بخاری کتاب الزکاۃ باب اخذ الصدقۃ التمر:1390
    24
    بخاری کتاب الزکوۃ باب من احب تعجیل الصدقۃ:1340
    25
    بخاری کتاب الدعوات باب استغفار النبیؐ فی الیوم واللیلۃ :5832
    26
    مسلم کتاب الجہاد باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر:3309
    27
    المعجم الکبیرلطبرانی جلد11ص174بیروت
    28
    نسائی کتاب السہو باب البکاء فی الصلوۃ
    29
    ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلوۃ باب ماجاء فی القنوت:1169
    30
    ابو داؤد کتاب الصلوۃ باب البکاء فی الصلوۃ: 157
    31
    ابن ماجہ کتاب المناسک باب استلام الحجر:2945
    32
    الدرالمنثورللسیوطی جلد27:6جز 4ص409دارالفکر بیروت
    33
    الدرالمنثورللسیوطی جز9ص59دارالفکر بیروت
    34
    مسلم کتاب الذکر باب التعوذ من شر ماعمل:4899
    35
    ترمذی کتاب الدعوات باب ماجاء فی عقد التسبیح
    36
    بخاری کتاب فضائل القرآن باب قول المقریٔ للقاری حسبک:4662
    37
    بیھقی شعب الایمان جلد1ص479،جامع الاحکام القرطبی جلد17ص86
    38
    الوفاباحوال المصطفیٰ لابن جوزی ص549بیروت
    39
    کتاب الدعاء جلد3ص1480از علامہ طبرانی مطبوعہ بیروت

    ذکر الہٰی اور حمد و شکر میں اسوۂ رسولؐ
    کہتے ہیں کہ انسان جس چیز سے محبت کرتا ہے وہ اس کا بہت ذکر کرتا ہے اور ہمارے نبی حضرت محمدؐ کی تو پہلی اور آخری محبت اللہ تعالیٰ کی ذات تھی۔عین عالم جوانی میں آپؐ دنیا کی دلچسپیوں سے بیزار غارحرا کی تنہائیوں میں جاکر اس محبوب حقیقی کو ہی تو یاد کرتے تھے۔ اسی میں آپؐ کی زندگی کاسارا لطف تھا۔آپؐ کی یہ وارفتگی دیکھ کر اہل مکّہ بھی کہتے تھے کہ محمدؐ تو اپنے رب پر عاشق ہوگیا ہے۔
    مگر امر واقعہ یہ ہے آپؐ فنافی اللہ کے اس مقام پر تھے جہاں انسان اپنا وجود بھی فراموش کر بیٹھتا ہے اور محویت کے اس عالم میں صرف اللہ کی یاد باقی رہ جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہؓ کی روایت کے مطابق نبی کریم ؐہر لحظہ و ہر آن خدا کو یاد رکھتے تھے۔(مسلم)1
    یادالہٰی میں شغف
    دن ہو یا رات ،خلوت ہویا جلوت عالم خواب ہو یا بیداری کبھی بھی آپؐاپنے ربّ کی یاد نہیں بھولے۔فرماتے تھے کہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے میں بعض دفعہ ستّر سے بھی زائد مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔(ابودائود)2
    صوفیاء نے ’’دست درکار و دل بایار‘‘ کے محاورہ میں عشق کے جس مقام کا ذکر کیا ہے کہ ہاتھ کام میں لگے ہوںمگر دل یار کے ساتھ ہو۔ظاہر ہے اُس کا تعلق بیداری کی حالت سے ہی ہے۔ مگررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام تو اس سے بھی کہیں آگے تھا کہ سوتے ہوئے بھی آپؐ کا دل یاد الہٰی سے معمور ہوتا تھا۔فرماتے تھے میری آنکھیں جب سوجاتی ہیں تو بھی دل نہیں سوتا۔(بخاری)3
    گویا ذکر الہٰی آپؐ کے دل کی غذا تھا۔جیسے جسم کاانحصار دوران خون اور عمل تنفس پر ہے۔ آپؐ کی روح کا دارومدار ذکر الہٰی پر تھا۔ دن بھر میں قضائے حاجت کے ہی چند لمحے ہوں گے جن میں اللہ کے ذکر کی عظمت اور احترام کے باعث آپؐ اس سے رُک جاتے ہوں، شاید اِسی لئے قضائے حاجت سے فارغ ہوکر آتے تو غُفْرَانَکَ کی دعا کرتے تھے کہ اے اللہ تیری بخشش کا طلبگار ہوں۔ (ترمذی4) اس میں بھی یہ راز تھاکہ چند لمحے بھی کیوں یادالہٰی میں روک بنیں۔
    انسانی زندگی کاایک لمحہ بھی اپنے خالق و مالک کی توفیق اور احسان کے بغیر ممکن نہیں بلکہ محتاج محض ہے جبکہ صفت رحمانیت کے تحت بغیر کسی تقاضا کے اللہ تعالیٰ کے فیضان عام اور عنایات کے لا محدود سلسلہ نے اس کا احاطہ کیا ہوا ہے۔پھر صفت رحیمیت کے طفیل انسان کی محنت کے اجر کا ایک لامتناہی سلسلہ بھی جاری وساری ہے اور اللہ تعالیٰ کی ان گنت نعمتوں اور احسانات نے اس طرح انسان کو گھیر رکھا ہے کہ بے اختیار انسان کو اس قرآنی آیت کے آگے سر جھکانا پڑتا ہے کہ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو شمار نہیں کرسکو گے۔(سورۃ ابراھیم:15) قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنے بندوں پر افسو س بھی کیا ہے کہ ان میں سے بہت کم شکر ادا کرنے والے ہوتے ہیںوہاں حقِ شکر ادا کرنیوالوں کا تعریف کے ساتھ ذکر فرمایاہے۔
    شکرِنعمت
    حضرت نوح ؑکی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میںفرماتا ہے کہ وہ عبدِشکور تھے۔(سورۃ الاسرائ:171)یعنی اللہ تعالیٰ کے بہت شکر گزار بندے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے بارہ میں فرمایا کہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے۔(سورۃ النمل:122) پھر آنحضرتؐ کوارشاد ہوتا ہے کہ آپ اللہ کی عبادت کریں اور شکر کرنے والے بندوں میں شامل ہوجائیں۔(سورۃ الزمر:40)
    اللہ تعالیٰ کا اپنے شکر گزار بندوں سے وعدہ ہے کہ وہ انہیں اور زیادہ نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ ہمارے نبی کریم ﷺ نے واقعی حقِ شکر ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے بے شمار انعامات سے حصہ پایا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپؐ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔(سورۃ النسائ:114)
    رسول اللہؐ کی یاد الہٰی کی اصل معراج آپؐ کی نمازتھی۔ جس میں آپؐ کی آنکھوں اور دل کی ٹھنڈک تھی۔(نسائی)5
    عام لوگوں کا دل نماز میں نہیں لگتا اورنماز کے دوران بھی خیالات کہیں اور ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس نبی کریمؐ کا دل نماز کے علاوہ اوقات میں بھی نماز میںہی اٹکا ہوتا تھا۔اللہ کو اتنا یاد کرنے کے بعدبھی آپؐ اپنے رب کے حضور یہ دعا کرتے تھے کہ رَبِّ اجْعَلْنِیْ لَکَ ذَاکِرًا لَکَ شَاکِرًا۔(ابودائود)6
    یعنی’’ اے میرے رب مجھے اپنا ذکر کرنیوالا اور اپنا شکر کرنیوالا بنائیو۔‘‘ کیونکہ شکر بھی دراصل ذکر الہٰی اور محبت کے اظہار کا ایک خوبصورت اسلوب ہے۔اور ذکر کی ایک بہترین شکل حمدوثنا ہے۔
    آپؐ کی نماز مجسم شکر انہ ہوتی تھی جو الحمدللہ کہہ کر اللہ کی حمد سے شروع ہوتی۔ اس کا وسط بھی سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ‘ کہہ کر حمد کثیر پر مشتمل ہوتا تو اس کی انتہاء اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ کی جامع حمد پر ہی ہوتی تھی۔آپ ؐکے رکوع و سجود بھی اسی حمد الہٰی سے لبریز ہوتے تھے جن میں آپؐ عرض کرتے ’’اے اللہ تو پاک ہے اپنی تمام تعریفوں کے ساتھ۔‘‘(بخاری)7
    رکوع سے اٹھ کر پھر یہ حمد باری یوں ٹھاٹھیں مارتی جیسے بے قرار سمندر۔آپؐ عرض کرتے اے اللہ ہمارے رب! سب تعریفیں تجھی کو حاصل ہیں۔یہ حمد کر کے بھی آپؐ کاجی سیر نہ ہوتا تو کہتے تیری اتنی تعریفیں کہ جس سے سارے آسمان اور زمین بھر جائیں اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے وہ بھی بھر جائے۔(مگر تیری حمد ختم نہ ہو)۔اے تعریف اور بزرگی کے لائق ہستی! بندہ جتنی تیری تعریف کرے تو اس کا مستحق ہے اور ہم سب تیرے بندے ہی تو ہیں۔(مسلم)8
    فرض نمازوں کے علاوہ نوافل میں آپؐ کے شکرانے کا یہ عالم تھا کہ پوری پوری رات خدا کے حضور عبادت میں گزارردیتے یہاں تک کہ پائوں سوُج جاتے۔حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں تو کیا خوب جواب دیا اَفَلاَ اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًاکہ میں عبدشکور یعنی خدا کا انتہائی شکر گزار بندہ نہ بنوں۔(بخاری)9
    محبت الہٰی اورذکر و شکر سے بھری اس نماز سے فارغ ہوکر آپؐ یاد خدا کو بھولتے نہیں تھے بلکہ یہ دعا کرتے تھے۔اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِ کَ وَ شُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔(ابودائود)10
    اے اللہ! مجھے اپنے ذکر،اپنے شکر اور خوبصورت عبادت کی توفیق عطا فرما۔اس دعا کی قبولیت عملی زندگی میں لمحہ بہ لمحہ آپؐ کے ہمر کاب نظر آتی ہے۔ رات کا کچھ حصّہ آرام کر کے اٹھتے تو پہلا کلمہ جو آپؐ کی زبان پر جاری ہوتا وہ اللہ کی حمد اور شکر کا کلمہ ہوتا ۔آپؐ اپنے مولیٰ کے حضور اقرار کرتے کہ تمام تعریف اس خدا کی ذات کیلئے ہے جس نے نیند جیسی موت کے بعد ہمیں پھر سے زندگی دی اور بالآخر تو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔(بخاری)11
    روکھی سوکھی پر گزارا کرتے ہوئے بھی کھانے کے بعدرسول اللہؐ کے شکر گزار دل سے بے اختیار حمد اور تشکر کے جذبات نکلتے تھے۔فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے بہت راضی اور خوش ہوتا ہے۔ جو ایک لقمہ بھی کھاتا ہے تو اللہ کی حمد اور تعریف کرتا ہے۔ پانی پیتا ہے تو اس پر بھی اللہ کی حمد کرتا ہے۔چنانچہ کھانے کے بعد آپؐ دعا کرتے اس خدا کی تمام تعریف ہے جس نے ہمیں کھانا کھلایا اور پانی پلایا اور ہمیں اپنا فرما نبردار بندہ بنایا۔(ترمذی)12
    یعنی شکر کی یہ توفیق دی گویا توفیق شکر ملنے پر بھی ایک شکرانہ ادا کرتے تھے۔الغرض ذکر الہٰی آپؐ کے وجود کا جزو لاینفکّ تھا۔
    قضائے حاجت سے فارغ ہوجانے پر بھی اللہ کا شکر ہی بجالاتے اور عرض کرتے تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مضر چیز مجھ سے دور کردی مجھے تندرستی عطا کی اور غذا کے نفع بخش مادے میرے جسم میں باقی رکھ لئے۔(ابن ماجہ)13
    رات کو بستر پر جاتے ہوئے دن بھر میں ہونیوالی اللہ کی نعمتوں کا شکر یوں ادا کرتے کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھ پر اپنا احسان اور فضل کیا اور مجھے عطا کیا اور بہت دیا اور ہر حال میں اللہ ہی کی حمد و ثناہے۔ (ابودائود))14
    رسول کریمؐ نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت یہ کہتا ہے اے اللہ تیری جو نعمت اس وقت مجھے حاصل ہے وہ محض تیری طرف سے ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ وہ شخص اس دن کا شکر ادا کرتا ہے اور جو شام کو یہ کلمات کہتا ہے اس نے اپنی رات کا شکر ادا کیا۔(ابودائود)15
    رسول کریمؐ جب کوئی نیا کپڑا زیب تن فرماتے تو اللہ کی حمد بجالاتے۔(ترمذی)16
    موسم گرما میںجب کبھی عرصہ کے بعد بارش ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر شکر سے خدا کے حضور جھک جاتا، آپؐ اپنے سر سے کپڑا وغیرہ ہٹادیتے اور ننگے سر پر بارش لیتے اور فرماتے یہ میرے رب سے تازہ تازہ آئی ہے۔( احمد)17
    جب آپؐ کی دعا بارگاہ الہٰی میں قبولیت کا درجہ پاتی یا کوئی نیک کام انجام کو پہنچتا تو کسی فخر کی بجائے اللہ کی حمد بجالاتے اور کہتے تمام تعریف اس خدا کی ہے جس کے جلال و عظمت سے ہی نیک کام انجام کو پہنچتے ہیں۔(حاکم)18
    اپنے یہودی غلام کی عیادت کو گئے اس کا آخری وقت دیکھ کر اسے کلمہ پڑھنے کو کہا اور جب اس نے پڑھ لیا تو بے اختیار آپ کی زبان پر یوں حمد باری جاری ہوئی کہ اس خدا کی تعریف ہے جس نے ایک روح کو آگ سے بچا لیا۔(بخاری)19
    سجداتِ شکر
    کوئی خوشی کی خبر آتی تورسول کریمؐ فوراً خدا کے حضور سجدہ میں گر جاتے اور سجدہ تشکّر بجالاتے۔(خطیب وابودائود)20
    حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ کے ساتھ مکہ سے مدینہ واپس لوٹ رہے تھے۔جب ہم عزوراء مقام پر پہنچے وہاں حضورؐ اترے۔آپؐ نے ہاتھ اٹھائے اور کچھ وقت دعا کی۔پھرحضورؐ سجدے میں گر گئے۔لمبی دیر سجدے میں رہے۔پھر کھڑے ہوئے اور ہاتھ اُٹھا کر دعا کی۔پھر سجدے میں گر گئے۔آپؐ نے تین دفعہ ایسے کیا۔پھر آپؐ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی تھی اور اپنی امت کیلئے شفاعت کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے میری امت کی ایک تہائی کی شفاعت کی اجازت دی۔ میں اپنے رب کا شکرانہ بجالانے کیلئے سجدے میں گر گیا اور سر اُٹھاکر پھر اپنے رب سے امت کیلئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے مزیدایک تہائی اپنی امت کی شفاعت کیلئے اجازت مرحمت فرمائی۔میں پھر شکرانے کا سجدہ بجالایا۔ پھر سر اُٹھایا اور امت کیلئے اپنے رب سے دعا کی تب اللہ تعالیٰ نے میری امت کی تیسری تہائی کی بھی شفاعت کے لئے مجھے اجازت عطافرما دی اور میں اپنے رب کے حضورسجدۂ شکر بجالانے کے لئے گر گیا۔(ابودائود)21
    حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ؐ مسجد میں تشریف لائے اور قبلہ رُو ہوکر سجدے میں گرگئے اور بہت لمبا سجدہ کیا۔یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے شاید آپؐ کی روح قبض کرلی ہے۔میں آپؐ کے قریب ہوا تو آپؐ اُٹھ بیٹھے اور پوچھا کون ہے؟میں نے عرض کیا عبدالرحمن۔ فرمایا کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ؐ! آپؐ نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے اندیشہ ہواکہ کہیں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی روح تو قبض نہیں کرلی۔آپؐ نے فرمایا میرے پاس جبریل ؑ آئے تھے انہوں نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ آپؐ کے حق میں فرماتا ہے کہ جوا ٓپ ؐ پر درود بھیجے گا میں اس پر اپنی رحمتیں نازل کرونگا اور جو آپؐ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی بھیجوں گا۔یہ سُن کر میں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر بجالایا ہوں۔(احمد)22
    اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی مکہ کی فتح کے موقع پر آپؐ اپنی اونٹنی پر بیٹھے تھے اور سر جھک کر پالان کو چھُو رہا تھا ۔آپ ؐ سجدۂ تشکر بجالاتے ہوئے یہ دعا پڑھ رہے تھے۔ سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔ اے اللہ تو پاک ہے اپنی حمد اور تعریف کے ساتھ۔اے اللہ مجھے بخش دے۔(ابن ہشام)23
    شکرکے نئے گوشے
    نبی کریم ﷺ کے شکراداکرنے کا ایک لطیف پہلو یہ ہے کہ آپؐ شکر کے نئے گوشے تلاش کرتے تھے۔محض نعمتوں اور احسانوں اور کامیابیوں پر ہی آپ اللہ کا شکر نہیں کرتے تھے بلکہ گردش زمانہ اور مصائب سے محفوظ رہنے پر بھی اللہ کی حمد بجالاتے تھے۔ ہر مصیبت زدہ آپؐ کو اس شکر کی یاد دلاتا تھا۔چنانچہ کسی معذور یا مصیبت زدہ کو دیکھ کر جہاں انسانیت کے ناطہ سے آپ کے دل میں اس کے لئے درد پیدا ہوتا تھا وہاں آپؐ اللہ کا شکر بھی کرتے تھے کہ اس خدا کی تعریف ہے جس نے ہمیں اس مصیبت سے بچاکر صحت وتندرستی عطا کی اور اپنی بیشتر مخلوق پر فضیلت عطا فرمائی۔(ترمذی)24
    رسول کریمؐ حمد باری کے نئے او رنرالے انداز ڈھونڈنکالنے کا ایک واقعہ اُمّ المؤمنین حضرت جُویریہ یوں بیان کرتی ہیں کہ ایک روز صبح کی نماز کے وقت حضورؐ میرے پاس سے گئے تو میں اپنے مصلّے پر تھی۔ دن چڑھے واپس لوٹے تو بھی مجھے مصلّے پر پایا اور پوچھا کہ تم صبح سے اس حال میں یہاں بیٹھی ہو؟ میں نے کہاجی ہاں۔آپؐ نے فرمایا میں نے اس کے بعد صرف چار کلمات تین مرتبہ دہرائے ہیں۔ اگر ان کا موازنہ تمہارے اس سارے وقت کے ذکرو تسبیح سے کیا جائے تو وہ کلمے بھاری ہوں اور وہ یہ کلمے ہیں۔
    سُب￿حَانَ اﷲِ عَدَدَ خَل￿قِہٖ سُب￿حَانَ اﷲِ رِضَا نَف￿سِہٖ سُب￿حَانَ اﷲِ زِنَۃَ عَر￿شِہٖ سُب￿حَانَ اﷲِ مِدَادَ کَلِمَاتِہٖ ۔
    .968اﷲ پاک ہے اُس قدر جس قدر اُس کی مخلوق ہے ۔اﷲ پاک ہے اُس قدر جس قدر اُس کی ذات یہ بات پسند کرتی ہے ۔اﷲ پاک ہے اُس قدرجس قدر اُس کے عرش کا وزن ہے (یعنی بے انتہا) ۔اﷲ پاک ہے اُس قدر جس قدر اُس کے کلمات کی سیاہی ہے۔(مسلم )25
    اپنی ایک مناجات میںآپؐ اپنے مولیٰ کے حضور عرض کرتے ہیں ۔
    ’’تیرانور کامل ہے تو نے ہی ہدایت فرمائی سب تعریف تیرے لئے ہے، تیرا حلم عظیم ہے۔ تو نے ہی بخشش عطاکی پس کامل حمد تجھے ہی حاصل ہے۔تیرے ہاتھ فراخ ہیں۔ تو نے ہی سب عطا کیا پس کامل حمد تجھے ہی حاصل ہے۔اے ہمارے رب تیرا چہرہ سب چہروں سے زیادہ قابل عزت ہے اور تیری وجاہت تمام وجاہتوں سے بڑھ کر ہے۔تیری عطا تمام عطائوں سے افضل اورشیریں ہے۔ اے ہمارے رب! جب تیری اطاعت کی جاتی ہے تو تُو قدردانی کرتا ہے اور تیری نافرمانی ہو تو بھی تیری بخشش میں فرق نہیں آتا۔ تو ہی ہے جو مجبور اور لاچار کی دعا سنتا اور تکلیف دور کرتا ہے، بیمار کو صحت عطافرماتا، گناہ بخشتا اور توبہ قبول کرتا ہے۔ کوئی نہیں جو تیری نعمتوں کا بدلہ اتار سکے اور تیری تعریف تک کسی مدحت گر کی زبان رسائی نہیں پاسکتی۔ (شوکانی) 26
    اللہ تعالیٰ کو رسول اللہ ؐ کی حمد و ستائش کے اداکئے ہوئے یہ نغمے ایسے پسند آئے کہ اس نے فیصلہ فرمایا کہ قیامت کے روز جب نفسا نفسی کا عالم ہوگا اور ہر شخص کسی پناہ کی تلاش میں ہوگاتو رسول اللہؐ کو’’مقام محمود ‘‘یعنی حمد باری کے انتہائی مقام پر فائز ہونے کی وجہ سے حمد کا جھنڈا عطا کیا جائے گا۔(ترمذی)27
    آپؐ کی صفت احمد کی شان اس رنگ میں ظاہر ہوگی کہ آپؐ پر حمد کے نئے مضامین کھولے جائیں گے اورخدا کے لئے تعریفی کلمات سکھائے جائیں گے۔
    پھرآپؐ سجدہ ریز ہوکر وہ حمدباری بجالائیں گے جسکے جواب میں آپؐ کو یہ انعام ملے گا کہ اے محمدؐ! آج جو مانگیں گے آپؐ کو عطا کیا جائیگا۔تب آپؐ اپنی امت کی شفاعت کی دعا کریں گے۔ اور یہ حمد الہٰی کی ایک عظیم الشان برکت ہے جو آپؐ کو نصیب ہوگی۔(بخاری)28
    حمد باری کے حریص
    رسول اللہ ؐتواپنے رب کی حمد کے حریص تھے۔ اللہ کی حمد اور شکرکے ایسے اعلیٰ ذوق اور توفیق کے بعد پھربھی اگر کسی کو حمد باری کرتے ہوئے سن لیتے تو اس پر رشک کرتے۔(احمد)29
    مشرک شاعر امیہ بن صلت کا حمد باری پر مشتمل ایک شعر جب آپؐ نے سنا تو دل پھڑک اٹھا۔فرمانے لگے امیہ کا شعر تو ایمان لے آیا مگر خود اسکو ایمان کی توفیق نہ ملی۔دل کافر ہی رہا۔شعر یہ تھا:۔
    َلَکَ الْحَمْدُ وَالْنَّعْمَائُ وَالْفَضْلُ رَبَّنَا
    فََلاشَیْیَٔ اَعْلیٰ مِنْکَ حَمْدًا وَّاَمْجَدًا
    یعنی اے ہمارے رب! سب تعریفیں تیرے لئے ہیں ،احسان اور فضل بھی تیرے ہیں کوئی چیز حمد اور بزرگی سے تجھ سے بڑھ کر نہیں۔(کنز)30
    لبیدعرب کا مشہو ر شاعر تھاجس کا بلند پایہ کلام خانہ کعبہ میں لٹکایا گیا تھا ۔مگر رسول اللہؐ کو اس کے سارے کلام سے جو شعر پسند آیاوہ اللہ کی عظمت کے بارہ میں ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ سب سے سچی بات جو لبید نے کہی وہ اسکے شعر کا یہ مصرع ہے۔
    اَلَا کُلُّ شَی ئٍ مَّاخَلَا اللّٰہَ بَاطِل‘
    کہ سنو! اللہ کے سوا ہر چیز بالآخر فنا ہونیوالی ہے۔(بخاری)31
    پس سچی بات تویہ ہے کہ رسول اللہؐ سے بڑھ کر آج تک اللہ کی کوئی حمد کرنیوالا پیدا نہیں ہوا۔اسی لئے تو الہٰی نوشتوں میں آپ ؐکا نام ’’احمد‘‘ رکھا گیا تھا کہ سب سے بڑھ کر خدا کی حمد کرنیوالا ۔ اسی حمد باری کے صدقے آپؐ محمدؐ کہلائے اور آپؐ کی دنیا بھر میں تعریف ہوئی۔
    جذبۂ شکر اور قدردانی
    دراصل شکر ایک جذبہ ہے جو احسان کے نتیجہ میں ایک قدردان دل کے اندر پیدا ہوتا ہے۔انسان میں اس جذبہ کا ہونا اللہ کی سچی حمداور شکراداکرنے کے لئے بہت ضروری ہے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے تھے کہ جو لوگوں کے احسانوں کا شکر نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔(ترمذی32)کیونکہ اسے شکر کی نیک عادت ہی نہیں یا یہ جذبہ سرد پڑچکا ہے۔
    آنحضرت ﷺنے شکریہ ادا کرنے کا طریق بھی اپنی امت کو سمجھایا۔ حضرت اسامہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہؐ نے فرمایا کہ جس شخص سے کوئی نیکی کی جائے تو وہ اس نیکی کرنے والے سے یہ کہے جَزَاکَ اللّٰہ ُخَیْراً کہ اللہ تعالیٰ تجھے بہترین جزا دے تو اس شخص نے تعریف کا حق ادا کردیا۔(ترمذی)33
    آپؐ فرماتے تھے کہ جو شخص تمہارے ساتھ نیکی کرے اس کا بدلہ دو اور اس کی طاقت نہیں تو اس کے لئے دعا کیا کرو اتنی دعا کہ تم جان لو کہ تم نے اس کے احسان کا بدلہ اُتار دیا ہے۔(ابودائود)34
    انسانوں کا شکر
    ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ تو بدی کا بدلہ بھی نیکی سے دینے کے عادی تھے ۔
    آپؐ فرماتے تھے کہ اگر کسی کو کوئی تحفہ دیا جائے تو چاہیے کہ اس کا بدلہ دے اگر اس کی توفیق نہ ہو تو اس کی تعریف ہی کرے جس نے اس کی تعریف کی اس نے اس کا شکر کیا۔ اور جس نے شکرانے کا اظہار نہ کیا اس نے ناقدری کی۔(ابودائود)35
    جہاں تک نیکی کے بدلہ کا تعلق ہے رسول کریمؐ قرآن شریف کی اس آیت پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تھیمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْراًیَّرَہ‘۔(سورۃ زلزال:8) یعنی جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی اس کا بدلہ بھی پائے گا۔بلکہ بعض دفعہ بظاہر معمولی نیکی کاغیر معمولی بدلہ عطا فرماتے۔ ایک دفعہ آپؐ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے تو آپؐ کے کم سن چچازاد بھائی عبداللہ بن عباسؓ نے وضو کے لئے پانی بھر کر رکھ دیا۔آپؐ نے آکر پوچھا کہ یہ کس نے رکھا ہے اور پھر معلوم ہونے پر حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے لئے یہ دعا کی کہ اے اللہ ان کوقرآن اور حکمت سکھا۔ (بخاری۔36) اوران کو دین کی گہری سمجھ عطا کر۔اس دعا نے حضرت عبداللہؓ بن عباس کی زندگی کی کایا پلٹ دی۔(بخاری)37
    نبی کریم ؐ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو انصار مدینہ نے خدمات کی سعادت پائی۔بعض نے کھجور کے درخت پیش کردیئے۔اسکے بعد جب بنو قریظہ اوربنو نضیر کے اموال غنیمت آئے تو آپ ؐان قربانی کرنیوالے انصار کا خاص خیال رکھتے اور اُن کے تحائف کا بدلہ بہترین رنگ میں اُنہیں واپس دینے کی کوشش فرماتے تھے۔(بخاری)38
    فتح مکہ کے بعد بھی رسول کریمؐ نے انصار کی تالیف قلبی اور احساسات و جذبات کا خاص خیال رکھااور فرمایا اب میرا مرنا جینا تمہارے ساتھ ہے۔چنانچہ آپؐ نے مدینہ کو ہی اپناوطن ثانی قرار دیئے رکھا۔انصار کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی۔ فرماتے تھے انصار کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔(بخاری)39
    کعب بن زُھیر مشہور عرب شاعر تھاجورسول اللہ ؐ کے خلاف گندے اشعار کہنے کی وجہ سے لائق گرفت تھا۔جب وہ معافی کا خواستگار ہو کر حاضر خدمت ہوا تو حضورؐ کی شان میں ایک قصیدہ کہا جس میں مہاجرین کی تعریف کی اور انصار کا ذکر نہیں کیا۔رسول کریمؐ کو انصارکی اتنی دلداری مقصود ہوتی تھی، فرمانے لگے کہ تم نے انصار کی شان میں کچھ نہیں کہا۔ یہ بھی مدح کے مستحق ہیں۔تو اس نے انصار کے لئے یہ شعر کہا
    مَنْ سَرَّہ‘ کَرَمَ الْحَیَاۃِ فَلاَیَزَلْ
    فِیْ مِقْنَبٍ مِنْ صَالِحِی الْاَنْصَارِ
    جس شخص کو باعزت زندگی پسند ہے وہ ہمیشہ نیک انصار کے شہ سواروں کے دستہ میں شامل رہے گا۔(حلبیہ)40
    الغرض نبی کریم ﷺ کے ساتھ جس کسی نے زندگی میں کبھی کوئی نیکی کی آپ ؐنے کبھی فراموش نہیں کیا۔حتٰی کہ عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین نے غزوہ بدر کے بعد رسول اللہ ؐ کے چچا حضرت عباس کو عندالضرورت جو قمیص مہیا کیا تھا اسے بھی یاد رکھا اور عبد اللہ کی وفات پر اپنا قمیص اس کے کفن کے لئے عطا فرمایا ۔(بخاری)41
    نبی کریمؐ حضرت خدیجہؓ کی خدمات کو بھی ہمیشہ یادرکھتے تھے۔حضرت عائشہؓ نے ایک دفعہ اس بارہ میں ازراہ غیرت کچھ عرض کیا تو فرمایا’’جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا تو خدیجہ ؓنے قبول کیا۔ جب لوگوں نے انکار کیا تو وہ ایمان لائیں۔جب لوگوں نے مجھے مال سے محروم کیا تو انہوں نے اپنے مال سے میری مدد کی اور اللہ نے مجھے ان سے اولاد بھی عطافرمائی۔(مسند احمد )42
    نبی کریم ؐ جب اہل مکہ کے رویّہ سے مایوس ہوکر تبلیغ اسلام کے لئے طائف تشریف لے گئے تو واپسی پر مکہ میں داخلہ سے قبل حسب دستورکسی سردار کی امان لینی ضروری تھی۔آپ نے مختلف سرداروں کو پیغام بھجوائے مگر کسی نے حامی نہ بھری سوائے مطعم بن عدی کے جس نے اپنے بیٹوں کو بھجوایا کہ حضور کو اپنی حفاظت میں شہر میں لے آئیں۔نبی کریمؐ نے مُطْعَم کا یہ احسان ہمیشہ یادرکھا۔وہ بدر سے پہلے وفات پاچکے تھے مگر نبی کریمؐ نے بدر کی فتح کے بعد جب ستّرکفار مکہ کو قیدی بنایا تو فرمایا اگر آج ان کا سردار مُطْعَم بن عدی زندہ ہوتا اور مجھے ان قیدیوں کی رہائی کی سفارش کرتا تو میں اس کی خاطر ان سب کو چھوڑ دیتا۔(بخاری)43
    رسول اللہؐ کے چچا ابو طالب نے زندگی بھر آپ ؐسے وفا کی، ہمیشہ آپؐ کا ساتھ دیا اور آپ ؐکی خاطر شعب ابی طالب میں محصور رہے۔وہ بیمار ہوئے تو آپ ؐان کی عیادت کیلئے تشریف لے گئے۔ انہوں نے دعا کی درخواست کی کہ اپنے رب سے دعا کرو۔اللہ تعالیٰ مجھے صحت دے اور پھر آپؐ کی دعا سے وہ صحت یاب ہوئے۔(حاکم44)اس سے پتہ چلتا ہے کہ ابو طالب آپؐ کو دل سے سچا مانتے تھے مگر کھل کر اس کا اظہار نہ کرتے تھے۔آخری بیماری میں بھی حضورؐ انہیںاعلانیہ اظہار اسلام کی تحریک کرتے رہے مگر وہ ایسا نہ کرسکے۔اس کے باوجود نبی کریمؐ نے آخر دم تک ان سے حسن سلوک کیا۔
    حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہؐ کو جب اپنے والد ابوطالب کی وفات کی اطلاع کی تو آپ روپڑے اور فرمایا جائو ان کو غسل دو اور کفن کا انتظام کرو۔نیز آپؐ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان پر رحم کرے۔(ابن سعد)45
    جب ابو طالب کا جنازہ اُٹھا تو اپنے محسن کے سفر آخرت کو دیکھ کر بے اختیار رسول اللہؐ کوان کی صلہ رحمی اور احسان یاد آئے تو یہ دعا کی کہ صلہ رحمی کا بدلہ آپ ؐکو عطا ہو اور اے چچا اللہ آپؐ کو بہترین جزاعطاکرے۔ آمین۔ (ابن اثیر)46
    رسول کریمؐ چاہتے تھے کہ آپ ؐکے ساتھی اور آپؐ سے محبت کا دم بھرنے والے بھی شکر کا اعلیٰ وصف اپنے اندر پیدا کریں۔ ایک دفعہ حضرت ابوھریرہؓ کو یہ نصیحت فرمائی!اے ابوھریرہ! بہت زیادہ ڈرتے رہو تو آپ سب لوگوں سے زیادہ عبادت کرنے والے ہوجائوگے اور قناعت کرنے والے بن جائو ۔سب سے زیادہ شکر کرنے والے ہوجائو گے۔(ابن ماجہ)47
    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے آقا کی پیروی میں حقیقی حمد وشکر کی توفیق عطافرمائے۔ آمین۔
    حوالہ جات
    1
    مسلم کتاب الحیض باب ذکر اللہ تعالیٰ فی حال الجنابۃ و غیر ھا:558
    2
    ابوداؤد کتاب الصلاۃ باب فی الاستغفار:1294
    3
    بخاری کتاب المناقب باب کان النبی تنام عینہ ولا ینام قلبہ:3304
    4
    ترمذی کتاب الطہارۃ باب مایقول اذاخرج من الخلاء :7
    5
    نسائی کتاب عشرۃ النساء باب حب النساء :3879
    6
    ابوداؤد کتاب الصلاۃ باب مایقول الرجل اذاسلم:1391
    7
    بخاری کتاب الصلوۃ باب مایقول الامام ومن خلفہ اذا رفع رأسہ من الرکوع
    8
    مسلم کتاب الصلوۃ باب مایقول اذا رفع رأ سہ من الرکوع
    9
    بخاری کتاب التفسیر باب لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک:4460
    10
    ابوداؤد کتاب الصلوۃ باب فی الاستغفار:1301
    11
    بخاری کتاب الدعوات باب مایقول اذانام:5837
    12
    ترمذی کتاب الدعوات باب مایقول اذا فرغ من الطعام:3379
    13
    ابن ماجہ کتاب الطہارۃ باب مایقول اذا خرج من الخلائ:297
    14
    ابوداؤد کتاب الادب باب مایقال عندالنوم
    15
    سنن ابوداؤد کتاب الادب باب مایقول اصبح:4411
    16
    ترمذی کتاب اللباس باب مایقول اذا لبس ثوباجدیدا:1689
    17
    مسند احمد جلد3ص267مطبوعہ بیروت
    18
    مستدرک حاکم جلد1ص730مطبوعہ بیروت
    19
    بخاری کتاب الجنائزباب اذا اسلم الصبی فمات ھل یصلی علیہ
    20
    تاریخ الخطیب للبغدادی جلد4ص157،ابوداؤد :2774
    21
    ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی سجود الشکر:2394
    22
    مسند احمد جلد1ص191مطبوعہ بیروت
    23
    السیرۃ النبویۃ لابن ہشام جلد4ص91مطبوعہ بیروت
    24
    ترمذی کتاب الدعوات باب ماجاء فی مایقول اذا رأی مبتلیً
    25
    مسلم کتاب الذکر ولدعاء والتوبۃ والاستغفار باب التسبیح اول النھار وعندالنوم:4905
    26
    تحفۃ الذاکر ین از علامہ شوکانی ص290 مطبوعہ بیروت
    27
    ترمذی کتاب المناقب باب فی فضل النبیؐ:3543
    28
    بخاری کتاب التفسیرسورۃ البقرۃ باب قول اللہ وعلم ادم الاسماء کلھا
    29
    مسند احمد جلد2ص470مطبوعہ بیروت و مسلم کتاب الشعر
    30
    کنز العمال15241وفتح الباری جلد7ص154
    31
    بخاری کتاب المناقب باب ایام الجاھلیۃ:3553
    32
    ترمذی کتاب البروالصلۃ باب ماجاء فی الشکر لمن احسن الیک:1877
    33
    ترمذی کتاب البروالصلۃ باب ماجاء فی الثناء بالمعروف:1958
    34
    ابوداؤد کتاب الزکاۃ باب عطیۃ من سأل باللہ:1424
    35
    سنن ابوداؤد کتاب الادب باب فی شکر المعروف:4179
    36
    بخاری کتاب العلم باب قول النبی اللھم علّمہ الکتاب :73
    37
    بخاری کتاب الوضوء باب وضع المائِ عندالخلائ:140
    38
    بخاری کتاب المغازی باب حدیث بنی النضیر
    39
    بخاری کتاب الایمان باب حبّ الانصار من الایمان
    40
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص215مطبوعہ بیروت
    41
    بخاری کتاب التفسیرسورۃ التوبۃ باب قولہ استغفرلھم وشرح بخاری قسطلانی
    42
    مسنداحمد بن حنبل جلد6ص117مطبوعہ بیروت
    43
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۂ بدر
    44
    مستدرک حاکم کتاب الدعاء جلد1ص542مطبوعہ مصر
    45
    الطبقات الکبری لابن سعد جلد1ص27مطبوعہ بیروت
    46
    البدایہ والنھایہ لابن اثیر جلد3ص125مطبوعہ بیروت
    47
    سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب الودع والتقویٰ:4207

    رسول کریمؐ کی قرآن کریم سے گہری محبت اورعشق
    قرآن اللہ تعالیٰ کا پاک کلام اور وہ آخری مکمل ترین شریعت ہے جو قیامت تک بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر پر نازل کی گئی۔ فصیح وبلیغ عربی زبان میں نازل ہونے والا یہ کلام اپنے نفس مضمون کی وسعت و گہرائی حقائق ودقائق، دلائل وفضائل اور فصاحت وبلاغت کے لحاظ سے ایسابے مثل ہے کہ اس کی چھوٹی سے چھوٹی سورت یا چند آیات کی مثال لانے پر بھی آج تک کوئی قادر نہ ہوسکا۔قرآن عظیم کا اپنے جیسی نظیر پیش کرنے کا لاجواب چیلنج آج تک اس کی عظمت اور فتح کا نقارہ بجارہا ہے۔
    یہ وہی پاک کلام ہے جسے مشہو رقادرالکلام عرب شاعر لبید نے سنا تو اس کی عظمت کے آگے گھٹنے ٹیک دینے پر ایسا مجبور ہواکہ شعر کہنے چھوڑ دیئے۔چنانچہ جب اسے تازہ کلام سنانے کو کہا گیا تو کہنے لگا میں نے جب سے کلام اللہ کی یہ آیت سنی ہے الٓمّ ذٰلِکَ الْکِتَابُ لَارَیْبَ فِیْہ۔ میں نے شعرکہنے چھوڑ دیئے۔(قرطبی)1
    حضرت عمر ؓ کا قبول اسلام بھی قرآنی تائید کا اعجاز تھا۔ ایک وقت تھا جب وہ رسول اللہؐ کو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرکے گھرسے نکلے تھے۔مگرراستے میں اپنی بہن کے ہاںسورۃ طٰہٰ کی ابتدائی آیات پڑھتے ہی بے اختیارکہہ اُٹھے۔ یہ کتنا خوبصورت عزت والا کلام ہے اوربالآخر اسلام قبول کرلیا۔ (قرطبی) 2
    مشہور سردار قریش عتبہ قریش کانمائندہ بن کر رسول کریمؐ کو سمجھانے کی غرض سے آیا تو آپؐ نے اسے سورۃ حٰم فُصِّلَتْ کی ابتدائی آیات سنائیں۔ جب حضورؐ سجدہ والی آیت پر پہنچے تووہ بے اختیار حضورؐ کے ساتھ سجدے میں شامل ہوا اور کہہ اُٹھا کہ خدا کی قسم! یہ نہ تو شعر ہے نہ کسی کاھن کا کلام ہے اور نہ جادو ہے۔ خدا کی قسم میں نے محمدؐ سے ایسا کلام سنا ہے کہ آج تک کبھی ایسا کلام نہیں سنا۔(حاکم)3
    اس پاک کلام کی اصل شان اس وقت ظاہر ہوتی تھی جب خودخدا کا رسولؐ اس کی تلاوت کرکے سناتا تھاجیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
    رَسُولٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَھَّرَۃً فِیْھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ (البیّنۃ:3 )
    یعنی اللہ کا رسول مطہرّ صحیفے پڑھتا تھا۔ اُن میں قائم رہنے والی اور قائم رکھنے والی تعلیمات تھیں۔رسول اللہ ؐجب اس دلکش کلام کی آیات پڑھ کر سناتے تھے تو عرش کے خدا کو بھی اس پر پیار آتا تھاچنانچہ فرمایا وَمَاتَکُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْہُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَاتَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا کُنَّا عَلَیْکُمْ شُھُوْدًااِذْتُفِیْضُوْنَ فِیْہِ (یونس:62)
    یعنی (اے رسول)تو کبھی کسی خاص کیفیت میں نہیں ہوتا اور اس کیفیت میں قرآن کی تلاوت نہیں کرتا۔اسی طرح تم (اے مومنو!) کوئی(اچھا) عمل نہیں کرتے مگر ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں۔ جب تم اس کام میں مصروف ہوتے ہو۔
    اللہ تعالیٰ کو محمدؐ کی تلاوت قرآن پراس لئے بھی پیارآتا تھا کہ وہ ایک عجب جذب، سوزوگداز اور عشق ومحبت کے ساتھ اس پاک کلام کی تلاوت کرتے تھے۔آپؐ کی تلاوت کی وہی عظمت اور شان تھی جو قرآن میں یوںبیان ہوئی اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنَاھُمُ الْکِتَابَ یَتْلُوْ نَہ‘ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ اُوْلٓئِکَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ(البقرہ:122)
    یعنیجن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں جیسے تلاوت کا حق ہے۔ یہی لوگ ہیں جو اس کتاب پر سچا ایمان رکھتے ہیں۔
    رسول کریمؐ اس حکم الہٰی کے مطابق خوبصورت لحن اور ترتیل کے ساتھ ایسی تلاوت کرتے تھے کہ تلاوت کا حق ادا ہوجاتا تھا۔حضرت انسؓ سے پوچھا گیا کہ رسول کریمؐ کی تلاوت کیسی ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا آپؐ لمبی تلاوت کرتے تھے۔ پھر انہوں نے بسم اللہ پڑھ کر سنائی۔ اسے لمبا کیا پھر الرحمان کو لمبا کرکے پڑھا پھر الرحیم کو۔(احمد)4
    حضرت ابوھریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی چیز کو کان لگا کر توجہ سے نہیں سنتا جتنا نبی کریمؐ کی تلاوت قرآن کو سنتا ہے۔ جب وہ خوبصورت لحن اور غنا کے ساتھ بآوازبلنداس کی تلاوت کرتے ہیں۔(احمد)5
    حضرت ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریمؐ تلاوت کرتے ہوئے آیت پر وقف کرتے تھے۔ فاتحہ میں ہرآیت پر رُکتے رب العالمین پر پھرالرحمان الرحیم پررُک رُک کرتلاوت کرتے تھے۔(احمد)6
    رسول کریمؐ تلاوت کرتے ہوئے ایک ایک لفظ واضح اور جداکرکے پڑھتے۔ سوزوگداز میں ڈوبی ہوئی یہ آواز کبھی بلندہوجاتی اور کبھی دھیمی۔ کسی نے رسول اللہؐ سے پوچھا کہ بہترین تلاوت کونسی ہے؟ فرمایا جس کو سن کر آپؐ کو احساس ہو کہ یہ شخص اللہ سے ڈرتا ہے۔ یعنی خشیٔت الہٰی سے لبریزتلاوت اور یہ تلاوت آپؐ کی ہی ہوتی تھی۔
    رسول کریمؐ کا تو اوڑھنا بچھونا ہی قرآن تھا۔ دن بھر گاہے بگاہے اور خصوصاًنمازوں میں نازل ہونے والی تازہ قرآنی وحی کے تکرار اور دہرائی کا اہتمام تو ہوتا ہی تھا۔عموماً رات کوبھی زبان پر قرآن ہی ہوتا۔ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں۔ کبھی رات کو اچانک آنکھ کھل جاتی تو زبان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت کی آیات جاری ہوتیں۔ وَمَامِنْ اِلٰہٍ اِلَّاللّٰہُ الوَاحِدُ القَھَّارُ رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَالْاَ رْضِ وَمَابَیْنَھُمَا العَزِیْزُ الْغَفَّارُ (صٓ:67)
    یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ صاحب جبروت ہے نیز آسمانوں زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا رب ہے اور غالب اور بخشنے والا ہے۔(حاکم)7
    آپؐرات کو تیسرے پہر تہجدّ کے لئے بیدار ہوتے تو اُٹھتے ہی سورۃ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت فرماتے۔ان آیات کا مضمون خالق کائنات کی تخلیق ارض و سماء اور اس میںموجود نشانات پر غوروفکر سے تعلق رکھتا ہے۔ جس کے بعد انسان کے دل میں بے اختیار اللہ تعالیٰ کی عبادت کا شوق اور جوش ولولہ بیدار ہوتا ہے۔(بخاری)8
    اسی طرح رات کو بستر پر جاتے ہوئے بھی قرآن کے مختلف حصوں کی تلاوت رسول کریمؐ سے ثابت ہے۔ حضرت عائشہؓ کی ایک روایت کے مطابق نبی کریمؐ آخری تین سورتوں کی تلاوت کر کے ہاتھوں میں پھونکتے اور اپنے جسم پر پھیر کر سوجاتے۔(بخاری)9
    حضرت جابر ؓ کے بیان کے مطابق سونے سے قبل آنحضرت ؐسورہ الٓم السجدہ اور سورۂ ملک کی تلاوت کرتے تھے۔(ترمذی)10
    حضرت عائشہ ؓ کی دوسری روایت یہ ہے کہ سونے سے قبل رسول اللہؐسورۂ زمر اور بنی اسرائیل کی بھی تلاوت کرتے تھے۔(احمد)11
    حضرت عرباضؓ بن ساریہ کی روایت کے مطابق رسول کریمؐ بستر پرجاتے ہوئے وہ سورتیں پڑھتے تھے جو اللہ کی تسبیح کے ذکر سے شروع ہوتی ہیں(یعنی الحدید الحشر، الصف، الجمعہ، التغابن اور الاعلیٰ) اور فرماتے تھے ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوںسے بہتر ہے۔(احمد)12
    حضرت خباب ؓ کا بیان ہے کہ رسول کریم ؐبستر پر جانے سے قبل سورۂ کافرون سے لے کر آخر تک تمام سورتیں (اللھب،النصر،الاخلاص،الفلق، الناس)پڑھ کر سوتے تھے۔ (ھیثمی)13
    حضرت عوف بن مالک اشجعیؓ کہتے ہیں کہ ایک رات مجھے نبی کریم ﷺ کے ساتھ رات کو عبادت کرنے کی توفیق ملی۔آپؐ نے پہلے سورہ بقرہ پڑھی۔ آپؐ کسی رحمت کی آیت سے نہیں گزرتے تھے مگر وہاں رک کر دعا کرتے اور کسی عذاب کی آیت سے نہیں گزرے مگر رک کر پناہ مانگی۔پھر نماز میںقیام کے برابر آپؐ نے رکوع فرمایا۔جس میں تسبیح و تحمید کرتے رہے۔پھراسی قیام کے برابر سجدہ کیا۔سجدہ میں بھی یہی تسبیح اوردعا پڑھتے رہے۔پھر کھڑے ہوکر آل عمران کی تلاوت کی۔پھر اس کے بعد ہر رکعت میں ایک ایک سورۃ پڑھتے رہے۔(ابودائود)14
    رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے ۔ اس میں قرآن شریف کی تلاوت اورتدبّرکا شغف اپنی معراجپرہوتا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ نیکیوں میں سب لوگوں سے سبقت لے جانے والے تھے اور سب سے زیادہ آپؐ کی یہ شان رمضان میں دیکھی جاتی ہے۔ جب جبریل ؑ آپؐ سے ملاقات کرتے تھے اور یہ ملاقات رمضان کی ہر رات کو ہوتی تھی۔ جس میں وہ رسول کریمؐ سے قرآن کریم کا دورکرتے تھے یعنی آپؐ سے قرآن سنتے بھی تھے اورسناتے بھی تھے۔اس زمانے میں رسول اللہؐ کی نیکیوں کا عجب عالم ہوتاتھا۔ آپؐ تیزآندھی سے بھی بڑھ کر سخاوت فرماتے تھے۔(بخاری)15
    دوسری روایت میں ذکرہے کہ جبریل ؑ رسول کریمؐ کے ساتھ ہرسال رمضان میں ایک بارقرآن کریم کادورمکمل کرتے تھے۔ مگرحضورؐ کی وفات کے آخری سال انہوں نے دودفعہ قرآن کریم کا دورآپؐ کے ساتھ مکمل کیا۔(بخاری16) اور یہ آپؐ کی آخری سنت تھی۔
    تلاوت قرآن اور خشیت الہٰی
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جن کو علم دیا گیا ہے۔جب ان پر رحمان خدا کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ روتے ہوئے خدا کے حضور ٹھوڑیوں کے بل سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور اللہ خشوع میں انہیں اور بڑھا دیتا ہے۔(بنی اسرائیل:110)دوسری جگہ فرمایا کہ قرآن کا کلام سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔(سورۃ الزمر:24)
    ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بڑھ کر کون اس مضمون کا مصداق ہوسکتا ہے جو سب سے بڑھ کر خدا ترس تھے۔قرآن پڑھتے اور سنتے ہوئے آپؐ کی کیفیت بھی یہی ہوتی تھی۔
    نبی کریم ؐ قرآن شریف کے مضامین میں ڈوب کر تلاوت کرتے تھے اور اس کے گہرے اثرات آپؐ کی طبیعت پرہوتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا یارسول اللہؐ! آپؐکے بالوں میں سفیدی جھلکنے لگی ہے فرمایا ہاں! مجھے سورۂ ھود، الواقعہ، المرسلات،النبا اور التکویر نے بوڑھا کردیا۔(ترمذی)17
    (ان سورتوں میں گزشتہ قوموں کا ذکر ہے جن پر احکام خداوندی اور اس کے رسولوں کے انکار کی وجہ سے عذاب آیا اوروہ ہلاک ہوئیں)رسول کریمؐ نے بعض مواقع پر صحابہ کو سوز وگداز سے بھری آواز میںقرآن کریم کی تلاوت سُنائی۔
    ذراتصور کریںوہ کیا عجب سماں ہوگا اور کیسی بابرکت محفل ہوگی جس میں اس پاک وجود نے جس کے دل پر قرآن اترا۔ سورہ رحمان جِسے عروس القرآن(قرآن کی دلہن) کا خطاب آپؐ نے دیا خود صحابہ کو خوش الحانی سے سنائی۔ یقینا اس وقت آسمان کے فرشتے بھی ہمہ تن گوش ہوںگے اور خدائے ذوالعرش کی بھی محبت کی نظریں آپ ؐپر پڑتی ہوںگی۔
    اس دلکش واقعہ کا ذکر حضرت جابر ؓ یوں بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے ایک دفعہ انہیں سورہ رحمان تلاوت کر کے سنائی۔صحابہ محوحیرت ہوکر خاموشی سے سنتے رہے۔ رسول کریمؐ نے سورت کی تلاوت مکمل ہونے پر اس سکوت کو توڑتے ہوئے فرمایا کہ میں نے ایک قوم جنّ کو جب یہ سورت سنائی تو انہوں نے تم سے بھی بہتر نمونہ دکھایا۔ جب بھی میں نے فَبِاَیِّ اٰلٓائِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ کی آیت پڑھی جس کا مطلب ہے کہ تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کروگے تو وہ قوم جواب میں کہتی تھی۔ لَا بِشَیْ ئٍ مِنْ نِعمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ وَلَکَ الْحَمْدُ۔
    یعنی اے ہمارے رب ہم تیری نعمتوں میں سے کسی چیز کو جھٹلاتے نہیں او ر سب تعریفیں تیرے لئے ہیں۔(ترمذی)18
    قیس بن عاصمؓ نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا جو وحی آپؐ پر نازل ہوئی ہے۔ اس میں سے کچھ سنائیں نبی کریمؐ نے سورۃ الرحمان سنائی وہ کہنے لگا دوبارہ سنائیں۔ آپؐ نے پھر سنائی اس نے تیسری بار پھر درخواست کی تو آپؐ نے تیسری مرتبہ سنائی جس پر وہ کہہ اُٹھا خدا کی قسم اس کلام میں روانی اورایک شیرینی ہے اس کلام کا نچلا حصہ زرخیز ہے تو اُوپر کا حصہ پھلدار ہے۔ اور یہ انسان کا کلام نہیں ہوسکتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے ساتھ کوئی معبود نہیں اور آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔(قرطبی)19
    حضرت زیدؓ بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت ابی ّ ؓبن کعب نے رسول کریمؐ کی موجودگی میں صحابہ کو قرآن کی تلاوت سنائی تو سب پر رقّت طاری ہوگئی۔ رسول کریمؐ نے فرمایا رقت کے وقت دعا کو غنیمت جانو کیونکہ رقّت بھی رحمت ہے۔(قرطبی)20
    کلام الہٰی سن کررسول کریمؐ پررقت طاری ہوجاتی اورآنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے ایک روز آپؐ نے فرمایاکچھ قرآن سنائو! جب وہ اس آیت پر پہنچے فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِکَ عَلیٰ ھٰؤُ لٓائِ شَھِیْدًا (سورۃ النسائ:42)تو آپ ؐ ضبط نہ کر سکے اور آنکھوں سے آنسوئوں کی لڑی بہہ نکلی۔ہاتھ کے اشارے سے فرمایا بس کرو۔(بخاری)21
    آپؐ کی خشیت کا یہ عالم تھا کہ حضرت عبداللہؓ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے ایک شخص کو تلاوت کرتے سنا جو سورۂ مزّمل کی اس آیت کی تلاوت کررہا تھا ۔اِنَّ لَدَیْنَا اَنْکَالًا وَجَحِیْمًا (یعنی ہمارے پاس بیڑیاں اور جہنم ہے)تو نبی کریم ؐمدہوش ہوکر گرپڑے۔(کنز)22
    حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں رسول اللہ ؐ کے ساتھ مجھے ایک رات گزارنے کا موقع ملا۔آپؐ نے بسم اللہ کی تلاوت شروع کی اور رو پڑے یہاں تک کہ روتے روتے گر گئے۔پھر بیس مرتبہ بسم اللہ پڑھی ہر دفعہ آپؐ روتے روتے گر پڑتے۔ آخر میں مجھے فرمانے لگے وہ شخص بہت ہی نامراد ہے جس پر رحمن اور رحیم خدا بھی رحم نہ کرے۔(ابن جوزی)23
    کندہ قبیلہ کا وفدرسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے آپؐسے کوئی نشانِ صداقت طلب کیا۔ آپؐ نے قرآن شریف کے اعجازی کلام کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایسا کلام ہے جس پر کبھی بھی باطل اثر انداز نہیں ہوسکتانہ آگے سے نہ پیچھے سے۔ پھر آپؐ نے سورۂ صافات کی ابتدائی چھ آیات کی خوش الحانی سے تلاوت کی۔وَالصّٰفّٰتِ صَفًّاo فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاo فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًاo اِنَّ اِلٰھَکُمْ لَوَاحِدٌ oرَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَابَیْنَھُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِo (الصّٰفّٰت:1تا6)
    ترجمہ:قطاردرقطارصف بندی کرنے والی (فوجوں) کی قسم پھر اُن کی جو للکارتے ہوئے ڈپٹنے والیاں ہیں۔ پھر ذکربلند کرنے والیوں کی۔ یقینا تمہارا معبود ایک ہی ہے۔آسمانوں کا بھی ربّ ہے اور زمین کا بھی اور اس کا بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے اور تمام مشرقوں کا ربّ ہے۔
    یہاں تک تلاوت کر کے حضورؐ رُک گئے کیونکہ آواز بھراکر گلوگیر ہوگئی تھی۔ آپؐ ساکت و صامت اور بے حس و حرکت بیٹھے تھے ۔آنکھوں سے آنسو رواں تھے جو ٹپ ٹپ داڑھی پر گر رہے تھے۔ کندہ قبیلہ کے لوگ یہ عجیب ماجرا دیکھ کر حیران ہورہے تھے۔ کہنے لگے کیا آپؐ اپنے بھیجنے والے کے خوف سے روتے ہیں؟آپؐ نے فرمایا ہاں اسی کا خوف مجھے رُلاتا ہے جس نے مجھے صراطِ مستقیم پر مبعوث فرمایاہے۔مجھے تلوار کی دھار کی طرح سیدھا اُس راہ پر چلنا ہے اگر ذرا بھی میں نے اس سے انحراف کیا تو ہلاک ہوجائوں گا۔(حلبیہ)24
    نمازوں میں مسنون تلاوت
    قرآن کریم توسارے کا سارا ہی بہت پیارا ہے۔ مگر رسول کریمؐ سے مختلف اوقات میں حسب حال مضمون قرآنی کی مناسبت سے نمازوں میں بعض خاص سورتوں کی تلاوت ثابت ہے۔
    آپؐ ظہر و عصر کی نمازوں میں سورۂ فاتحہ کے بعد بعض سورتوں کی خاموش تلاوت فرماتے تھے اور مغرب وعشاء وفجر میں فاتحہ کے ساتھ کسی سورت یا حصۂ قرآن کی بآواز بلند تلاوت ہوتی تھی۔
    نمازظہر کی پہلی دورکعتیں آخری دورکعتوں سے تلاوت کے لحاظ سے دوگنی لمبی ہوتی تھیں۔ پہلی دورکعتوں میں سے ہررکعت میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کا اندازہ قریباً تیس آیات کے برابر تلاوت کا ہے۔ حضرت جابرؓ بن سمرہ کے مطابق ظہر وعصر میں سورۃ اللیل کی تلاوت ہوتی تھی۔(جس کی 21چھوٹی آیات ہیںدوسری روایت میں سورۂ اعلیٰ کی تلاوت کابھی ذکرہے) اور فجر کی نماز میں نسبتاًاس سے لمبی تلاوت ہوتی ہے۔ (مسلم)25
    حضرت جابرؓ کے نزدیک نبی کریمؐ فجر میں سورۃ ق ٓ کی تلاوت کرتے تھے بعد میں یہ تلاوت اس سے بھی نسبتاً مختصر ہوگئی۔ حضرت ابوبرزہؓ اسلمی کا اندازہ ہے کہ فجر کی ہر رکعت میں 60 سے 100 آیات کی تلاوت ہوتی تھی۔حضرت عمروؓ بن حُریث کا بیان ہے کہ انہوں نے فجر میں رسول کریمؐ کو سورۃ تکویر کی تلاوت کرتے سنا۔(مسلم)26
    حضرت ابوھریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں الٓم السجدہ اور سورۂ دھر کی تلاوت فرماتے تھے۔(بخاری)27
    حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ان کی والدہ ام الفضلؓ نے انہیں مغرب کی نماز میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا تو کہنے لگیں میرے بیٹے! تم نے نماز مغرب میں یہ سورت تلاوت کرکے مجھے وہ زمانہ یاد کروادیا، جب میں نے نبی کریم ؐ کونماز مغرب میں سورۂ المرسلات پڑھتے سنا۔(احمد)28
    حضرت جبیرؓ بن مطعم سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریمؐ کو مغرب کی نماز میں سورۂ طُور پڑھتے سنا۔اور ایسی خوبصورت اور دلکش آواز میں کہ قریب تھا کہ میرا دل اُڑ جائے۔ (احمد29) یعنی میں مکمل طور پر اس تلاوت کے سننے میں محو ہوگیا اور اپنی کوئی ہوش نہ رہی۔
    حضرت جابربن سمرہؓ نے نمازمغرب میں سورۃ کافرون اور سورۃاخلاص پڑھنے کی سنت رسول ؐروایت کی ہے۔(بغوی)30
    حضرت برائؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریمؐ کو نماز عشاء میں سورۂ التین کی تلاوت کرتے سنا۔ اور خدا کی قسم میں نے آپؐ سے زیادہ خوبصورت آواز میں تلاوت کرنے والا کوئی نہیں سنا۔(بخاری)31
    حضرت معاذ ؓ بن جبل کو رسول کریمؐ نے عشاء میں نسبتاً مختصر قرأت کی خاطر سورۃ شمس، والضُّحٰی،واللیل اورسورۃ الاعلیٰ کی تلاوت کی ہدایت فرمائی۔(احمد)32
    نبی کریمؐ جمعہ اور عیدین کے موقع پر سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ کی تلاوت فرماتے تھے۔(سیوطی)33
    اسی طرح جمعہ کی نماز کی پہلی رکعت میں سورۃ الجمعہ اور دوسری رکعت میں سورۃ المنافقون کی تلاوت کی روایت بھی آئی ہے۔(سیوطی)34
    الغرض رسول کریمؐ کے عشق قرآن کا اظہار قرآن شریف کی تلاوت کی کثرت سے بھی خوب ہوتا تھا۔ قرآن آپؐ کی روح کی غذاتھا۔ اور آپؐ کی قلبی کیفیت یہی تھی۔
    دل میں یہی ہے ہردم تیرا صحیفہ چُوموں
    قرآں کے گردگھوموں کعبہ میرا یہی ہے

    حوالہ جات
    1
    تفسیرالجامع لاحکام القرآن قرطبی جز 15ص51دارالکتاب العربی
    2
    تفسیرالجامع لاحکام القرآن قرطبی جز 11ص150دارالکتاب العربی
    3
    مستدرک علی الصحیحین للحاکم جلد 2ص253
    4
    مسنداحمدجلد3ص119
    5
    مسنداحمدجلد2ص450
    6
    مسنداحمدجلد6ص302
    7
    مستدرک علی الصحیحین للحاکم جلد1ص540
    8
    بخاری کتاب الوضوء باب قرا ء ۃ القرآن بعد الحدث
    9
    بخاری کتاب الدعوات باب التعوذ والقرا ء ۃ عندالمنام
    10
    ترمذی کتاب الدعوات باب ماجاء فیمن یقرا ٔالقرآن عندالمنام۔۔:3402
    11
    مسند احمد جلد6ص68
    12
    مسند احمد جلد4ص128
    13
    مجمع الزوائد ھیثمی جلد10ص121
    14
    ابوداؤد کتاب الصلوۃ۔باب فی الدعا ء مایقول الرجل فی رکوعہ و سجودہ
    15
    بخاری کتاب الصوم
    16
    بخاری کتاب الفضائل القرآن باب کان جبریل یعرض القرآن علی النبی ﷺ
    17
    ترمذی کتاب تفسیر القرآن باب تفسیر سورۃ الواقعہ:3297
    18
    ترمذی ابواب التفسیر سورۂ رحمان :3291
    19
    تفسیر الجامع لاحکام القرآن للقرطبی سورۃ الرحمان ص133مطبوعہ دارالکتاب العربی
    20
    تفسیرالجامع لاحکام القرآن قرطبی جلد15ص219دارالکتاب العربی
    21
    بخاری کتاب فضائل القرآن باب قول المقریٔ للقاری حسبک:4662
    22
    کنزالعمال جلد7ص206
    23
    الوفاباحوال المصطفیٰ لابن جوزی ص549بیروت
    24
    السیرۃ الحلبیہ جلد3ص227بیروت
    25
    مسلم کتاب الصلوۃ باب القراء ۃ فی الظھروالعصر والفجر
    26
    مسلم کتاب الصلوۃ باب القراء ۃ فی الفجر
    27
    بخاری کتاب الجمعہ باب مایقرأفی صلوۃ الفجر
    28
    مسنداحمدجلد6ص340
    29
    مسنداحمدجلد4ص84
    30
    شرح السنہ للبغوی جلد3ص81
    31
    بخاری کتاب الصلوۃ باب القراء ۃ فی المغرب والعشاء
    32
    مسنداحمدجلد6ص340
    33
    تفسیر الدر المنثور سورۃ الاعلیٰ جلد8ص480دارالفکر
    34
    تفسیر الدرالمنثورسورۃ المنافقون جلد8ص170دارالفکر

    رسول اللہؐ کی قبولیت دعا کے راز
    آداب دعا
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبولیت دعا کے راز اپنے تجربے سے خودمشاہدہ کئے پھر ہمیں بھی وہ آداب سکھائے۔آپؐ نے ان حالات، مقامات،اوقات، مواقع اور کیفیات کی نشاندہی فرمائی جن میں دعائیں بطور خاص قبول ہوتی ہیں۔ان تمام کیفیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل یہ حالتیں انسان میں جوش اضطراب اور دعا کی تحریک میں ممدّومعاون ہوتی ہیں۔اس لئے ایسے حالات ،اوقات کی دعائیں خاص قبولیت کا اثر رکھتی ہیں۔ ان بابرکت اوقات کا تذکرہ یہاں مناسب ہوگا۔
    ٭
    نماز تہجد کی دعائیں (بالخصوص رات کے آخری حصہ میں)
    ٭
    اذان کے وقت نیز اذان و اقامت کے درمیان کی دعا
    ٭
    آمین کی کیفیت میں ملائکہ سے موافقت یعنی نماز میں توجہ سے دعا
    ٭
    حالتِ سجدہ کی دعائیں ٭ نماز جمعہ میں قبولیت دعا کی گھڑی
    ٭
    مسلمانوں کے اجتماع اور پاکیزہ مجالس ذکر کی دعائیں
    ٭
    روزہ دار کی افطاری کے وقت کی دعا
    ٭
    رمضان المبارک بالخصوص آخری عشرہ اور لیلۃ القدر کی دعائیں
    ٭
    ختم قرآن کے وقت کی دعا ٭ بارش کے وقت کی دعا
    ٭
    حالتِ مظلومیت کی دعائیں ٭ ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا۔
    ٭
    ایک شخص کی دوسرے غیرموجود بھائی کے حق میںدعائیں
    بعض تعلقات کی وجہ سے بھی دعا میں اضطراب اور جوش پیدا ہوتا ہے۔مثلاً
    ٭
    والدین کی اولاد کے بارے میں اور نیک اولاد کی والدین کے حق میں دعا
    ٭
    امام عادل کی دعا نیز صالح اور نیک لوگوں کی دعائیں
    بعض مقامات بھی قبولیت دعا کے لئے خاص جوش اورتاثیر پیداکرتے ہیں۔
    ٭
    مکّہ مکرمہ میں بیت اللہ کو دیکھ کر دعا ٭ مقام ابراہیم پرنیزحجراسود کے پاس دعا
    ٭
    صفا مروہ پر دعا ٭ مشعرالحرام اور میدان عرفات میں دعا
    ٭
    مسجد نبوی اور بیت المقدس میں دعا
    اس جگہ قبولیت دعا کے ان جملہ مواقع اوقات و حالات اور تعلقات کے بارہ میں رسول کریم ﷺ کے بعض ارشادات بیان کرنے مناسب ہوں گے۔
    ۱۔ نماز تہجدکا وقت خاص قبولیت دعا کا وقت ہوتا ہے۔ رسول کریمؐ فرماتے ہیں کہ ہمارا رب ہر رات کو جب آخری تہائی شب باقی رہ جائے، نچلے آسمان پر اترآتا ہے اور کہتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا کو قبول کروں۔کون ہے جو مجھ سے مانگے اور مَیں اس کو عطاکروں۔کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے اورمَیں اسے بخش دوں۔(بخاری)1
    بعض روایات میں آدھی رات گزر جانے کے بعد اور بعض میں ایک تہائی رات کے بعد اللہ تعالیٰ کے نچلے آسمان پر اُتر آنے کا ذکر ہے۔
    حضرت ابوامامہ باہلیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سی دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔آپؐ نے فرمایا کہ رات کے درمیانی حصہ میں سب سے زیادہ قبولیت دعا کا وقت ہوتا ہے۔اس کے بعد فرض نمازوں کے معاً بعد کے اوقات بھی خاص قبولیت کے ہیں۔(ترمذی)2
    ۲۔ اذان کے وقت کی دعا کے بارے میں حضرت سہل ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا’’دو ایسے اوقات ہیں جن میں دعا ردّ نہیں کی جاتی ایک اذان کے وقت،دوسرے جنگ میں جب دشمن سے سخت مقابلہ جاری ہو۔‘‘(ابودائود)3
    حضرت انس بن مالک ؓکہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا کبھی ردّ نہیں کی جاتی۔کسی نے پوچھا اس وقت کون سی دعا کرنی چاہیے۔فرمایا’’دنیا و آخرت کی بھلائی مانگو‘‘۔(ترمذی)4
    ۳۔ ختم قرآن کا وقت بھی خاص قبولیت کے اوقات میں سے ہے۔ رسول کریمؐ نے فرمایا کہ جب بندہ قرآن کریم ختم کرتا ہے تو اس وقت ساٹھ ہزار فرشتے اس کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔ نیز اس موقع پر قبر کی وحشت سے مانوسیت اورحصول رحمت باری کی دعا رسول اللہؐ نے سکھلائی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ختم قرآن کا وقت نزول رحمت کا وقت ہوتا ہے۔ (شوکانی)5
    ۴۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کو جمعہ کی ایک خاص گھڑی کا بتایا جس میں دعائیں خاص طور پر قبول ہوتی ہیں۔اس گھڑی کا وقت خطبہ جمعہ سے لے کر جمعہ کے دن کے ختم ہونے تک بیان کیا گیا ہے۔خاص طور پر خطبہ جمعہ اور نماز کے دوران اس گھڑی کی توقع کی جاسکتی ہے۔(ابوداؤد)6
    ۵۔ رمضان المبارک دعائوں کا مہینہ ہے۔بالخصوص اس کے آخری عشرہ میں آنحضرتؐ کی سنت سے خاص مجاہدے کے ساتھ دعائیں کرنا ثابت ہے۔(بخاری)7
    رسول اللہ ؐ نے فرمایاروزہ دار کے لئے افطاری کا وقت قبولیت دعا کا ایک خاص موقع ہوتا ہے۔ جس وقت اس کی دعا ردّ نہیں کی جاتی۔(ترمذی)8
    ۶۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کی رات خاص طور پر قبولیت دعا کے اوقات میں سے ہے۔(ترمذی)9
    ۷۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب بھی نیک لوگ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے بیٹھتے ہیں تو فرشتے ان کو گھیرلیتے ہیں اور ان پر رحمت و سکینت کا نزول ہوتا ہے اور ان کو مغفرت عطاہوتی ہے۔(بخاری)10
    ۸۔ بعض احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ بارانِ رحمت کے نزول کا وقت بھی قبولیت دعا کا خاص وقت ہوتا ہے۔(ابن ماجہ)11
    ۹۔ جن کیفیات میں دعا بطور خاص قبول ہوتی ہے ۔ان میں ایک وہ حالت ہے جب نماز میں توجہ اور خشوع حاصل ہو۔حدیث میں آتا ہے جب سورۃ فاتحہ کی دعا کے بعد ملائکہ کی آمین سے کسی کی آمین کی موافقت ہوجائے تو اس کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں۔(بخاری)12
    ۱۰۔ سجدے میں دعائوں کا خاص موقع ہوتا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ انسان حالت سجدہ میں اپنے رب سے بہت قریب ہوتا ہے۔پس تم اس وقت کثرت سے دعائیں کیا کرو۔(مسلم)13
    ۱۱۔ مظلوم کی دعا بھی خاص قبولیت کے لائق ہے۔آنحضرت ﷺ نے جن تین دعائوں کی خاص قبولیت کا ذکر فرمایا ان میں ایک مظلوم کی دعا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ مظلوم کی دعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان قبولیت میں کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔(بخاری)14
    ۱۲۔ ایسے شخص کے لئے خاص توجہ اور جوش سے دعا کرنا جو پاس موجود نہ ہو خاص قبولیت کا موقع ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ سرعت کے ساتھ قبول ہونے والی دعا اس شخص کی دعا ہے جو اپنے کسی غیر حاضر بھائی کے لئے دعا کرتا ہے۔(مسلم)15
    ۱۳۔ دعا کرنے والے کی حالت بھی قبولیت دعا میں ممدّومعاون ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اپنے اللہ سے اس کے حضور،ہتھیلیاں پھیلاکر سوالی بن کر دعا مانگا کرو اور جب دعا سے فارغ ہوجائو تو ہاتھ منہ پر پھیرلو۔اسی طرح فرمایا کہ تمہارا رب بہت ہی کریم اور حیادار ہے۔جب بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلا کر دعا کرتا ہے تو اس کو اس بات سے شرم آتی ہے کہ وہ ان ہاتھوں کو خالی واپس لوٹا دے۔(ترمذی)16
    بعض رشتے اور تعلقات بھی قبولیت دعا کے لئے محرّک ہوتے ہیں۔ چنانچہ والد کی دعا کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر والد اولاد کے خلاف دعا کرے تو اس کی قبولیت میں شک نہیں ہوتا۔ (ترمذی17)اسی طرح والدین کی اولاد کے حق میںاور نیک اولاد کی اپنے والدین کے لئے دعا بھی خاص طور پر قبولیت کا رنگ رکھتی ہے۔
    ۱۵۔ آنحضرت ﷺ نے امام عادل یعنی مسلمانوں کے نیک اور بزرگ ائمہ کی دعا کے متعلق فرمایا کہ وہ ردّ نہیں کی جاتی اسی طرح نیک اور صالح لوگوں کی دعائیں بھی قبولیت کا خاص مرتبہ رکھتی ہیں۔(ترمذی)18
    بعض مقامات ایسے ہیں جہاں دعائیں خاص قبول ہوتی ہیں۔
    ۱۶ قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زکریا ؑ کو حصول اولاد کے لئے جب جوش دعا پیدا ہوا تو وہ اپنے محراب(عبادت کی خاص جگہ) میں دعا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور ٹلے نہیں جب تک دُعا قبول نہیں ہوئی۔ اسی جگہ ان کو دعا قبول ہوجانے کی خوشخبری بھی عطا کی گئی۔(سورۃآل عمران:39,40)
    ۱۷ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بیت اللہ کے ماحول میں مقام ابراہیم پر خاص طورسے عبادات اور دعائیں کرنے کی ہدایت فرمائی۔ (البقرہ)پس یہ دعائیں بھی خاص تاثیر رکھتی ہیں۔
    ۱۸ رسول کریمؐ نے فرمایا کہ جب بیت اللہ پر نظر پڑے تو جو دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔
    ۱۹ اسی طرح بیت اللہ میں حجر اسود کے پاس دعا کا خاص موقع ہوتا ہے جہاں رسول کریمؐ نے بہت رو رو کر دعائیں کیں۔(شوکانی)19
    ۲۰ صفا مروہ اور مشعر الحرام کے پاس بھی رسول اللہؐ نے دعائیں کیں۔اس جگہ بھی دعا کی قبولیت کا ذکرملتاہے۔(نسائی)20
    ۲۱ میدان عرفات کی دعا کورسول اللہؐ نے بہترین دعاقراردیا۔ (ترمذی) 21
    ۲۲ رسول اللہ ؐ نے بیت اللہ کے علاوہ دیگر مقامات مقدسہ میں سے بطور خاص مدینہ کی مسجد نبویؐ اور بیت المقدس کی طرف خاص اہتمام سے سفر کرنے کی اجازت فرمائی۔ ان مقامات میں بھی انسان قبولیت دعا کے خاص مواقع حاصل کرسکتا ہے۔(بخاری)22
    آداب دعا اور چند جامع دعائیں
    آدابِ دعامیں یہ شامل ہے کہ اس سے قبل اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کرنی چاہئے۔سورۃ فاتحہ کے بعد درود شریف پڑھ کر دعاکرنی زیادہ مناسب اور مقبول ہے۔
    رسول کریمؐ نے صحابہ کو دعا کے آداب بھی سکھائے۔ ایک دفعہ آپؐ ایک شخص کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔ جو چُوزے کی طرح کمزور ہوچکا تھا۔ رسول کریمؐ نے اس کی حالت بھانپ کر فرمایا کیا تم کوئی خاص دعا کرتے تھے وہ کہنے لگا ہاں میں دعاکرتا تھا کہ اے اللہ تو نے جو سزا مجھے دینی ہے۔آخرت کی بجائے اسی دنیا میں دے لے۔رسول کریمؐ نے فرمایا’’اللہ پاک ہے تمہیں اس سزا کی برداشت کہاں ہے؟ تمہیں یہ دعا کرنی چاہئے تھی!اَللّٰھُمَّ اٰتِنَا فِی الدُّن￿یَا حَسَنَۃً وَ فِی الاخِرَۃِ حَسَنَۃً ،وَقِنَا عَذَابَ النَّار۔
    اے اﷲ! ہمیں دنیا میںبھی نیکی عطا کر اور آخرت میں بھی ۔ اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔پھررسول کریمؐ نے اس شخص کے لئے دعا کی اور اسے اللہ تعالیٰ نے شفا عطافرمائی۔(مسلم)23
    .968حضرت عبد اﷲؓ بن عمرؓبیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺروزانہ صبح اور شام کچھ دُعائیہ کلمات ضرور پڑھتے تھے ۔اُن میں سے ایک دُعا یہ ہے :-
    اَللّٰھُمَّ اِنِّی￿ اَس￿اَلُکَ ال￿عَافِیَۃَ فِی الدُّن￿یَا وَالآخِرَۃِ اَللّٰھُمَّ اِنِّی￿ اَس￿اَلُکَ ال￿عَف￿وَ وَال￿عَافِیَۃَ فِی￿ دِی￿نِی￿ وَدُن￿یَایَ،وَاَھ￿لِی￿ وَمَالِی￿ ،اَللّٰھُمَّ اس￿تُر￿ عَو￿رَاتِی￿،وَآمِن￿ رَو￿عَاتِی￿ ،اَللّٰھُمَّ اح￿فَظ￿نِی￿ مِن￿ بَی￿نِ یَدَیَّ وَمِن￿ خَل￿فِی￿ وَعَن￿ یَمِی￿نِی￿ وَعَن￿ شِمَالِی￿ وَمِن￿ فَو￿قِی￿، وَاَعُو￿ذُ بِعَظ￿مَتِکَ اَن￿ اُغ￿تَالَ مِن￿ تَح￿تِی￿۔ (ابو داؤد )24
    اے اﷲ! مَیں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا طلبگار ہوں۔مولیٰ !مَیں تجھ سے دین و دنیا،مال و گھر بار میںعفو اور عافیت کا خواستگار ہوں۔اے اﷲ !میری کمزوریاںڈھانپ دے اور مجھے میرے خوفوں سے امن دے ۔اے اﷲ ! آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر سے خود میری حفاظت فرما اور مَیں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں کہ مَیں نیچے سے کسی مخفی مصیبت کا شکار ہوں۔
    حضرت ابوامامہ باہلیؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ آپؐنے ڈھیر ساری دُعائیں کی ہیںجو ہمیں یاد ہی نہیں رہیں۔آپؐ نے فرمایا کہ میںتمہیں ایک جامع دُعا سکھاتا ہوں تم یہ یاد کر لو:۔
    اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَس￿اَلُکَ مِن￿ خَی￿رِ مَا سَئَلَکَ مِن￿ہُ نَبِیُّکَ مُحَمَّدصَلَّی اللّٰہُ عَلَی￿ہِ وَسَلَّمَ ،وَنَعُو￿ذُبِکَ مِن￿ شَرِّمَااس￿تَعَاذَ مِن￿ہُ نَبِیُّکَ مُحَمَّد صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ وَاَن￿تَ ال￿مُس￿تَعَانُ ،وَعَلَی￿کَ ال￿بَلَاغُ۔ (ترمذی )25
    اے اللہ !ہم تجھ سے وہ تمام خیر و بھلائی مانگتے ہیں جو تیرے نبی ﷺ نے تجھ سے مانگی اور ہم تجھ سے ان باتوں سے پناہ چاہتے ہیں جن سے تیرے نبی محمد ﷺ نے پناہ چاہی ۔تو ہی ہے جس سے مدد چاہی جاتی ہے ۔پس تیرے تک دُعا کا پہنچانا لازم ہے۔
    حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ ایک دفعہ فجر کی نماز میں اتنی تاخیرسے تشریف لائے کہ سورج نکلنے کے قریب ہوگیا۔ آپؐ نے مختصر نماز پڑھا کر فرمایا کہ تم لوگ اپنی جگہ بیٹھے رہو۔ پھر ہماری طرف متوجہ ہوکر فرمایا میں تمہیں آج فجر کی نماز پر دیرسے آنے کی وجہ بتادوں۔ میں رات کو تہجد کے لئے اُٹھااورجتنی توفیق تھی نماز پڑھی۔ نماز میں ہی مجھے اونگھ آگئی۔ آنکھ کھلی تو اپنے رب کو نہایت خوبصورت شکل میں دیکھا۔ اللہ نے فرمایا اے محمد معلوم ہے فرشتے کس بارہ میں بحث کررہے ہیں؟ میں نے کہا مجھے معلوم نہیں۔ دوبارہ اللہ تعالیٰ نے یہی پوچھا تو میں نے یہی جواب دیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی میرے کندھے پر رکھی یہاں تک کہ اس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی اور ہر چیز میرے پر روشن ہوگئی۔پھر اللہ نے پوچھا اے محمد فرشتے کس بارہ میں بحث کررہے ہیں؟ میں نے کہا ’’کفّارات‘‘ کے بارہ میں۔ اللہ نے فرمایاکفّارات کیا ہیں؟(یعنی وہ چیزیں جن سے گناہ دورہوتے ہیں)۔میں نے کہا نماز باجماعت کے لئے چل کر مسجدجانا اور نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ کر ذکرالہٰی کرنا اور ناپسندیدگی کے باوجود مکمل وضو کرنا۔ پھر اللہ نے پوچھا اور ’’درجات‘‘ کیا ہیں؟ میں نے کہا کھانا کھلانا، نرم کلام کرنا اور نماز پڑھنا جب کہ لوگ سوئے ہوں۔ تب اللہ نے فرمایا اب مانگو جو مانگتے ہو۔ تب میں نے یہ دعا کی۔ رسول اللہؐ نے فرمایایہ دعا برحق ہے اسے خود بھی یادکرو اور دوسروں کو بھی سکھائو۔دعا یہ ہے۔اَللّٰھُمّ اِنّیِ أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ المَسَاکِیْنِ، وَأن تَغْفِرْلِیْ وَتَرْحَمْنِیْ، وَاِذَا اَرَدْتَّ فِتْنَۃً فِیْ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَمَفْتُونٍ، وَأَسْأَلُکَ حُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ ، وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُنِیْ اِلٰی حُبِّکَ
    اے اللہ! میں تجھ سے نیک کام کرنے اور بری باتیں چھوڑنے کی توفیق چاہتا ہوں۔ مجھے مساکین کی محبت عطاکر۔اور مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر۔ اور جب تو قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے بغیر فتنہ میں ڈالے موت دے دینا۔میں تجھ سے تیری محبت چاہتا ہوں اوراس کی محبت جس سے تو محبت کرتا ہے اور ایسے عمل کی محبت جو مجھے تیری محبت کے قریب کردے۔آمین۔(احمد)26
    سیرت النبی ؐ… قبولیت دعا کے واقعات
    خدا ایک مخفی خزانہ تھا اس نے چاہا کہ وہ پہچانا جائے سو اس نے انسان کو پیدا کیا اور اپنی ذات و صفات کا عرفان اسے بخشا ۔ان صفات میں سے ایک نہایت اہم صفت جو ہستی باری تعالیٰ پرزبردست گواہ ہے خدا تعالیٰ کا مجیب الدعوات ہونا ہے۔ وہ خود اپنی ہستی کا ثبوت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ کون ہے جو لاچار کی دعائیں سنتا اور اس کی مصیبت دور کرتا ہے کیا خدا کے سوا کوئی اور معبودہے؟(سورۃ النمل:63)
    اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ہوں جو ہر پکارنے والے کی پکار سنتا اور اس کا جواب دیتا ہوں، شرط یہ ہے کہ یہ دعائیں کرنے والے کامل ایمان کے ساتھ میرے حکم قبول کریں۔(سورۃ البقرہ:187)
    دراصل قبولیت دعا کا فلسفہ یہ ہے کہ جتنا کوئی خدا کی باتیں مانتا ہے اسی قدر اس کی سنی اور مانی جاتی ہے ۔ ایک لاکھ چوبیس ہزارنبیوں کی زندگی گواہ ہے کہ ان کا ایک ایک لمحہ دعا کے سہارے گزرااور تبھی وہ کامیاب وکامران ہوئے۔
    انبیاء کرام کے اس عظیم گروہ میں ایک وہ مرد میدان بھی ہے جس نے اپنے رب کریم کی اطاعت میں اپنا وجود ایسا مٹایا کہ خدا کی رضا اس کی رضا بن گئی۔ وہی فخرانسانیت جس نے یہ نعرہ بلند کیا کہ’’ میری نمازیں اورقربانیاں اور میرا مرنا اورجینا سب اس اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے‘‘۔ تب خدا بھی اس پر خوب مہربان ہوا اور اس دنیا میں اس کی سب مرادیں پوری کیں۔ اگلے جہاں میں بھی جب تمام انبیا ء کی خدمت میں خدا کے دربار میں شفاعت کرنے کی التماس ہو گی تو سب انبیاء کے عذر کے بعد آپؐ ہی وہ جری اللہ ہیں جو آگے بڑھیں گے اور اپنے مولیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو کر اور گڑگڑا کر اپنے امتیوں کے لئے شفاعت کی اجازت چاہیں گے تب آپؐ کو یہ مثردہ سنایا جائے گا کہ ’’ سَلْ تُعْطَہْ‘‘ آج آپ ؐجو مانگیں گے عطا کیا جائے گا۔ اور پھر کتنے ہی ایسے امتیوںکے حق میں آپؐ کی شفاعت قبول ہو گی جن کے اعمال صالحہ میں کچھ کمزوریاں بھی رہ گئی تھیں اور وہ سب بخشے جائیں گے ۔یقیناً یہی وہ عظیم الشان مقبول دعا ہو گی جس کے بارے میں ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ ہر نبی کو ایک خاص دعا کی قبولیت کا وعدہ ہوتا ہے اور میں نے وہ دعا اپنی امت کے لئے محفوظ کر رکھی ہے جو روز قیامت اپنے رب سے مانگوں گا۔ ہزاروں ہزار درود ہوں اس محسن اعظم ؐ پر جنہیں اپنی امت کا اس قدر درد تھا۔ (بخاری)27
    حقیقت یہ ہے کہ دنیا میںدعا کا عرفان اور اس پرسچا ایمان ہمارے سیدومولیٰ محمد مصطفیٰؐ نے پیدا کیا ،آپؐ نے ہمیں سکھایا کہ جوتی کا تسمہ بھی مانگنا ہو تو اپنے رب سے مانگو ۔ آپؐ کا تو لمحہ لمحہ دعا تھا اور آپؐ کی پاکیزہ سیرت قبولیت دعا کے سینکڑوں خوبصورت نمونوں سے بھری پڑی ہے۔ جن میںسے چند واقعات کا تذکرہ اس جگہ کیا جا رہا ہے تاکہ قبولیت دعا پر ایمان اور یقین بڑھے اور دعا کے لئے جوش اور جذبے اس طرح پروان چڑھیں جیسے حضرت مریم ؑ کے ہاں بے موسم پھل دیکھ کر حضرت زکریاؑ میں دعا کا جوش پیدا ہوا تھا جو بالآخر اُن کی قبولیت کا باعث ٹھہرا۔ ہم بھر پور یقین اور عزم کے ساتھ اپنے اس مولیٰ سے مانگیں جو اپنے بندوں کے ساتھ گمان کے مطابق ہی سلوک کرتاہے ۔سیرت رسولؐ سے ایسی مقبول دعاؤں کے چند نمونے یہاں پیش ہیں۔
    ہدایت کیلئے دعائیں
    (1) ہمارے آقا ومولیٰ کا اٹھنا بیٹھنا اور اوڑھنا بچھونا تو دعا ہی تھا، آپؐ کے ہر کام کا آغاز بھی دعا سے ہی ہوتا تھا اور دعاؤں سے ہی آپ ؐ کے کام انجام کو پہنچتے تھے ۔مکہ میں جب آپؐ نے دعوت اسلام کا آغاز فرمایا اور مخالفت شروع ہوئی تو سردار ان قریش میں عمرو بن ہشام (ابو جہل )اور عمر بن خطاب جیسے شدید معاندین پیش پیش تھے ۔ رسول کریم ؐ کے دل میں ان شدید دشمنان اسلام کے حق میں محبت اور رحم کے جذبات ہی پیدا ہوئے اورآپؐ نے خدا تعالیٰ کے حضور یہ دعا کی ۔
    ’’اے اللہ ! ان دو اشخاص عمرو بن ہشام اور عمر بن الخطاب میں سے کسی ایک کے ساتھ (جو تجھے پسند ہو ) اسلام کو عزت اور قوت نصیب فرما۔‘‘ (ترمذی)28
    پھردنیا نے دیکھا کہ ہادیٔ برحق کی دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی یہ دعا ایسے حیرت انگیز معجزانہ رنگ میں قبول ہوئی کہ وہی عمر جو گھر سے تلوار لے کر رسولؐ خدا کو قتل کرنے نکلے تھے اسلام کی محبت اور دعا کی تلوار سے گھائل ہو گئے ۔
    (2) جب قریش نافرمانیوں میں حد سے بڑھ گئے اور ان کے ایمان لانے کی صورت نظر نہ آئی ۔تب بھی اس رحمۃ للعالمینؐ نے ان کی ہلاکت نہیں مانگی بلکہ بارگاہ الٰہی میں ایک التجا کی (جو شاید بظاہر تو بد دعا معلوم ہو لیکن فی الواقع وہ ان کو کسی بڑی سزا اور تباہی سے بچانے کے لئے ایک نہایت حکیمانہ دعا تھی )آپ ؐ نے عرض کیا !’’اے میرے مولیٰ! ان مشرکین مکہ کے مقابلہ پر میری مدد کسی ایسے قحط سے فرماجس طرح حضرت یوسف ؑ کی مدد تو نے قحط سالی کے ذریعہ فرمائی تھی۔‘‘
    اس دعا میں رحمت وشفقت کا یہ عجیب رنگ غالب تھاکہ ان کو قحط سے ہلاک نہ کرنا بلکہ جس طرح یوسف کے بھائی قحط سالی سے مجبور ہو کر اس نشان کے بعد بالآخراُن پر ایمان لے آئے تھے اس طرح میری قوم کو بھی میرے پاس لے آ۔ چنانچہ یہ دعا قبول ہوئی اور مشرکین مکہ کو ایک شدید قحط نے آگھیرا۔ یہاں تک کہ ان کو ہڈیاںاور مردار کھانے کی نوبت آئی۔ تب مجبور ہو کر ابو سفیان آپ ؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ’’اے محمدؐ! آپ ؐ تو صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ آپ ؐ کی قوم اب ہلاک ہو رہی ہے آپ ؐ اللہ سے ہمارے حق میں دعا کریں (کہ قحط سالی دور فرما ئے ) اور بارشیں نازل ہوں ورنہ آپ ؐ کی قوم تباہ ہو جائے گی‘‘۔
    رسول کریم ؐ نے ابو سفیان کو احساس دلانے کے لئے صرف اتنا کہا کہ تم بڑے دلیر اور حوصلہ والے ہو جو قریش کی نافرمانی کے باوجود ان کے حق میں دعا چاہتے ہو ۔مگر دعا کرنے سے انکار نہیں کیا کیونکہ اس رحمت مجسم کو اپنی قوم کی ہلاکت ہر گز منظور نہ تھی۔ پھر لوگوں نے دیکھا کہ اسی وقت آپ ؐ کے ہاتھ دعا کے لئے اٹھ گئے اور اپنے مولیٰ سے قحط سالی دور ہونے اور باران رحمت کے نزول کی یہ دعا بھی خوب مقبول ہوئی۔ اس قدر بارش ہوئی کہ قریش کی فراخی اور آرام کے دن لوٹ آئے ۔مگر ساتھ ہی وہ انکار ومخالفت میں بھی تیز ہو گئے ۔(بخاری)29
    حضور ؐ کی دعا سے جب بارشوں کا کثرت سے نزول شروع ہوا تو مسلسل کئی روز تک بارش ہوتی چلی گئی ۔مشرکین نے پھر آکر بارش تھم جانے کے لئے درخواست دعا کی اور رسولؐ اللہ کی دعاؤں کے نتیجہ میں بارش تھم گئی۔ (سیوطی30)مگر حیف صد حیف کہ اس نشان کے باوجود قریش انکار ومخالفت سے باز نہ آئے۔
    (3) مکی دور میں مشرکین مکہ کی مخالفت اور انکار بالاصر ار سے تنگ آکر جب ہمارے آقا ومولیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے الٰہی ارشاد کے مطابق طائف کا قصد فرمایا تو آپؐ کو زندگی کی سب سے بڑی تکلیف اور اذیّت وہاں اٹھانی پڑی ۔حضرت عائشہ ؓ نے ایک دفعہ آپ ؐ سے پوچھا کہ یا رسول اللہؐ !جنگ اُحد (جس میں آپ ؐ شدید زخمی ہوئے اور تکلیف اٹھائی ) سے زیادہ بھی کبھی آپؐ کو تکلیف برداشت کرنی پڑی ہے؟ رسولؐاللہ نے فرمایا اے عائشہ ؓ میںنے تیری قوم سے بہت تکلیفیں برداشت کیں ۔مگر میری تکلیفوں کا سخت ترین دن وہ تھا جب میں طائف کے سردار عبدیالیل کے پاس گیا اور (پیغام حق پہنچانے کے لئے) اس سے اعانت اور امان چاہی مگر اس نے انکار کر دیا (بلکہ شہر کے اوباش آپؐ کے پیچھے لگا دئے جو آپؐ کو پتھر مارنے لگے یہاں تک کہ آپؐ کے پاؤں سے خون بہنے لگا)۔ تب میں افسردہ ہوکر وہاں سے لوٹا۔
    اس موقع پر ہمارے آقا ومولیٰ ؐنے دردوکرب میں ڈوبی ہوئی دعا کی اس سے آپؐ کی اس جسمانی تکلیف اور اذیت کابھی اندازہ ہوتا ہے جو اس موقع پر آپؐ نے برداشت کی۔دعا سے یوںمعلوم ہوتا ہے کہ مکہ اور طائف والوں کے انکار اور ظلم کے مقابل پر اپنی بے بسی اور بے کسی کا عالم دیکھ کر اس اولوالعزم رسولؐ سید المعصومین کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا ۔آپؐ نے اپنے مولیٰ کی غیرت کو یوں جوش دلایا کہ:۔
    ’’اے خداوند ! میں اپنے ضعف وناتوانی، مصیبت اور پریشانی کاحال تیرے سوا کس سے کہوں؟ مجھ میںصبر کی طاقت اب تھوڑی رہ گئی ہے۔ مجھے اپنی مشکل حل کرنے کی کوئی تدبیر نظر نہیں آتی ۔میں سب لوگوں میں ذلیل ورسوا ہو گیا ہوں ۔تیرا نام ارحم الراحمین ہے تو رحم فرما ! کیا تو مجھے دشمن کے حوالے کر دے گا جو مجھے تباہ وبرباد کردے ۔خیر! جو چاہے کر پر توُ مجھ سے ناراض نہ ہونا۔ بس پھر مجھے کسی کی پرواہ نہیں ہے۔‘‘(طبرانی)31
    پھر جب آپؐ قرن الثعالب مقام پر پہنچے تو کچھ اوسان بحال ہوئے۔ آسمان کی طرف نگاہ کی تو جبریل ؑ کی آواز آئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی دعا کا جواب بھیجا ہے۔ تب ملک الجبال نے آپؐ کوسلام کیا اور کہا کہ اے محمد! آپؐ کیا چاہتے ہیں ؟اگر آپؐ چاہیں تو ان دو پہاڑوں کو اس وادی پر گرا کر تباہ کر دوں ۔
    اپنے جانی دشمنوں کی ہلاکت کے جملہ اسباب جمع ہو جانے پر بھی آپؐ نے ان کی تباہی نہیں چاہی۔ آپؐ نے جواب دیا کہ نہیں ایسا مت کرو ۔میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو خدائے واحد لاشریک کی عبادت کریں گے اوراس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ (بخاری)32
    صرف یہی نہیں کہ آپؐ نے اپنی قوم کی ہلاکت نہیں چاہی بلکہ نہایت درد کے ساتھ خدا تعالیٰ سے دعا کی ۔اَللّٰھُمَّ اھْدِ قَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔
    اے اللہ! میری قوم کو ہدایت نصیب کر کہ یہ نادان ہیں ۔(خضری)33
    بے کسی اور بے بسی کے زمانے کایہ عجیب اور حیرت انگیز ماجرا ہے کہ وہ قوم جس سے ہمارے آقا ومولیٰؐ کو زندگی کا سب سے بڑا دکھ پہنچتا ہے۔اُن کے لئے بھی آپ ؐ کے دل کی گہرائیوں سے رحمت وہدایت کی دعا کے سوا کچھ نہیں نکلتا پھر جب مکہ فتح ہوتا ہے اور آپ ؐ کو اتنی طاقت حاصل ہوتی ہے کہ چاہیں تو طائف کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں اس وقت بھی آپؐ اہل طائف کے لئے اپنے مولیٰ سے رحمت کی بھیک مانگتے ہی نظر آتے ہیں۔ اسلامی لشکر جب طائف کا رخ کرتا ہے تو اہل طائف محصور ہو کر مقابلہ کی ٹھان لیتے ہیں اور قلعہ بند ہو کر کھلے میدان میں پڑے مسلمان محاصرین پر خوب تیر اندازی کرتے ہیں تب صحابہؓ سے رہا نہیں جاتا اور وہ رسولؐ اللہ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ ثقیف قبیلہ کے تیروں کی بارش نے ہمیں بھون کر رکھ دیا ہے آپؐ ان ظالموں کے خلاف کوئی بد دعا کریں۔ ایک ظالم قوم کا مسلسل ظلم اورانکار دیکھ کراورطاقت پاکر بھی ہمارے آقا ومولیٰؐ کی رحمت ودعا پھرجوش میں ہے آپؐ جواباً فرماتے ہیں !
    اَللّٰھُمَّ اھْدِ ثَقِیْفاً۔اے اللہ !وادی طائف کی قوم ثقیف کو ہدایت عطا فرما ۔دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والی یہ دعا بھی قبولیت کا شرف پا گئی اور 9ھ میں قوم ثقیف نے مدینہ میں آکر اسلام قبول کر لیا ۔(بخاری)34
    (4) یمن کے قبیلہ دوس کے سردار طفیل بن عمرو نے قبول اسلام کے بعد نبی کریم ؐ سے درخواست کی کہ میں اپنے قبیلہ کا سردار ہوں اور انہیں جاکر اسلام کی طرف بلانا چاہتا ہوں ۔آپؐ خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے کوئی تائیدی نشان عطا فرمائے۔نبی کریمؐ نے اُسی وقت دعا کی کہ اے اللہ! طفیلؓ بن عمرو کو کوئی نشان عطاکر۔یہ دعا عجیب رنگ میں قبول ہوئی جس نے حضرت طفیلؓ کو بھی مستجاب الدعوات بنادیا۔
    حضرت طفیلؓ کہتے ہیں میں اپنی قوم کی طرف لوٹا تواپنے شہر میں داخل ہوتے وقت میری پیشانی پر روشنی کا ایک نشان ظاہر ہوا۔میں نے دعا کی کہ اے اللہ! میری قوم یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ اپنا دین تبدیل کرنے کی وجہ سے میرا چہرہ مسخ ہوگیا ہے۔اس لئے یہ نشان کہیںاورظاہر فرمادے۔چنانچہ میری چابُک کے سرے پر وہ روشنی ظاہر ہوگئی اور جب میں شہر میں داخل ہوا تو لوگ میری چابُک کے سرے پر ایک روشن چراغ کا نظارہ کرنے لگے۔طفیل کے والد اور بیوی وغیرہ رشتہ داروں نے تو ان کی حکمت عملی سے نیز یہ نشان دیکھ کر حق قبول کرلیامگر قوم پھر بھی نہ مانی۔
    تب حضرت طفیلؓ نے دوبارہ مکہ آکر رسول اللہؐ سے اپنی قوم کے خلاف بددعا کی درخواست کی۔نبی کریمؐ نے ہاتھ اُٹھائے اور یہ دعا کی کہ اے اللہ دوس قبیلہ کو ہدایت عطافرمااور ان کو یہاں لے کر آ۔اور طفیل کو یہ نصیحت فرمائی کہ آپ واپس جاکر نہایت حکمت، نرمی اور محبت سے اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلائیں۔اس نصیحت پر عمل کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اوردوس قبیلہ مسلمان ہونے لگا۔غزوۂ خیبر کے زمانہ میں حضرت طفیل اپنی قوم میں سے مسلمان ہونے والوں کو لیکر آئے اور جلد ہی مدینہ میں دوس کے سترّ اسّی گھرانے آباد ہوگئے۔یہ بلاشبہ رسول اللہؐ کی دعا کا معجزنمانشان تھا۔(بیہقی)35
    (5) دوس قبیلہ کے ابوہریرہؓ اور ان کی مشرک والدہ بھی اسی دعا کا پھل تھے ۔ ایک روز حضرت ابوہریرہؓ نے مشرک والدہ کو اسلام قبول کرنے کو کہا تو انہوں نے رسولؐ اللہ کی شان میں گستاخی کی۔ابوہریرہؓ بڑے کرب کے ساتھ دربارنبوی میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ عرض کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل سے یہ دعا نکلی۔’’اَللّٰھُمَّ اھْدِ اُمَّ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ‘‘اے اللہ!ابوہریرہؓ کی ماں کو ہدایت دے۔یہ دعا عجیب معجزانہ طور پر قبول ہوئی۔ابوہریرہؓ گھر واپس آئے تو ان کی والدہ میں ایک عجیب تغیرّ اور انقلاب پیدا ہوچکا تھا۔وہ بآواز بلند ’’اَشْھَدُاَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ پڑھ کر اپنے قبول اسلام کا اعلان کررہی تھیں۔
    ابوہریرہؓ پھولے نہ سمائے اور خوشی کے آنسو لئے اسی وقت پھر رسولؐاللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔سارا واقعہ آپؐ سے عرض کیا۔ دعا پر ان کا ایمان اتنا پختہ ہوچکا تھا کہ عرض کیا اے خدا کے رسولؐ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ میری اور میری والدہ کی محبت مومنوں کے دلوں میں پیدا کردے اور رسول اللہؐ نے ان کے حق میں یہ دعا بھی کردی۔(ابن حجر)36
    (6) ایک دفعہ ایک یہودی نبی کریمؐ کے پاس بیٹھا تھا۔حضورؐ کو چھینک آئی تو یہودی نے یَرْحَمْکَ اللّٰہُ کہا کہ اللہ آپؐ پر رحم کرے۔نبی کریم ؐ نے اسے جواباً یہ دعا دی کہ اللہ تمہیں ہدایت دے۔چنانچہ اس یہودی کو اسلام قبول کرنے کی توفیق عطاہوئی۔(سیوطی)37
    ہمارے آقا و مولیٰ کی یہ دعائیں ہی تھیں جنہوں نے سر زمین عرب کی کایا پلٹ دی تھی۔ یہ تو ان دعائوں کا ذکر تھا جو قوم کی ہدایت کے لئے گاہے بگاہے آپؐ نے کیں مگر آپؐ کا وجود تو مجسم دعا تھا۔چلتا پھرتا دعائوں کا ایک پیکر۔ایسے لگتا ہے کہ مَایَعْبَؤُابِکُمْ َربِّیْ لَوْلَادُعَاؤُکُمْ (الفرقان:78)( کہ اگر تم دعا نہ کرو تو خدا کو تمہاری کیا پرواہ ہے) کا ارشاد ہر دم آپؐ کے مدنظر رہتا تھا ۔
    غزوات میں دعائیں
    رسول اللہؐ کی زندگی کی تمام تر فتوحات بھی دراصل آپؐ کی دعائوں کی ہی مرہون منت تھیں۔ ہر مشکل مرحلے پر آپؐ ہمیشہ خدا کو یاد کرتے اور نصرت الہٰی طلب کرتے نظر آتے ہیں۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ دعا آپ ؐ کی زندگی اور آپؐ کی جملہ مہمات دینیہ کی ایک کلید تھی۔جسے آپؐ ہر ضرورت کے وقت استعمال فرماتے تھے۔ ہمیشہ یہ کلید آپؐ کے لئے فتوحات کے دروازے کھولتی ہوئی نظر آتی ہے۔
    (7) بدر کی فتح کو اگر کوئی 313نہتے مسلمانوں کی فتح قرار دیتا ہے تودے، میں تو یہ جانتا ہوں کہ یہ دراصل میرے آقا و مولیٰ کی ان بے قرار دعائوں کی فتح تھی جو بدر کی جھونپڑی میں نہایت عاجزی اور اضطراب سے آپؐ نے مانگیں۔اس روزآپؐ نے اپنے مولیٰ کونامعلوم کیا کیا واسطے دیئے۔ یہاں تک کہ اسے اس کی توحید کا واسطہ دے کرکہااے مولیٰ! آج تو نے اس چھوٹی سی موحّد جماعت کو ہلاک کردیا تو پھر تیری عبادت کون کریگا۔ (بخاری)38
    کس قدر خدائی غیرت کو جوش دلانے والی ہے یہ دعا۔گویا باالفاظ دیگر آپؐ اپنے مولیٰ سے یوں مخاطب تھے کہ ان مٹھی بھر جانوں کی تو پرواہ نہیں،مجھے تو تجھ سے اور تیری توحید سے غرض ہے اور سالہا سال کی محنت کے بعدچند موحّد عبادت گزاروں کی یہ مٹھی بھر جماعت میں نے اکٹھی کی ہے۔اگر اس جماعت کو بھی تو نے ہلاک کردیا تو مجھے یہ فکر ہے کہ تیرے نام لیوا کہاں سے آئیں گے؟ بدر کے جھونپڑے میں کی جانے والی یہ دعا ہی تھی کہ بارگاہ الوہیت میں جب مقبول ہوئی تو اس نے کنکروں کی ایک مٹھی کو طوفان بادوباراں میں بدل کے رکھ دیااورتین سو تیرہ نہتے مسلمانوں کو مشرکین کے ایک ہزار مسلح لشکر جرار پر فتح عطا فرمائی۔(بخاری)39
    حضرت علیؓ بیان کرتے ہیںکہ بدر کے موقع پر رسول اللہؐ ساری رات دعا کرتے رہے۔عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ہم نے خدا کے سچے واسطے دے کر محمدؐ سے بڑھ کر دعا کرنے والا کوئی نہیں سنا۔آپؐ نے بدر میںبڑے الحاح کے ساتھ دعا کر کے جب سراُٹھایا تو آپؐ کا چہرہ چاند کی طرح چمک رہا تھا۔آپؐ نے فرمایا آج شام دشمن قوم کے لوگ جس جگہ ہلاک ہوکر گریں گے ان کی جگہ میں دیکھ رہا ہوں۔(ہیثمی)40
    (8) غزوۂ احزاب کی فتح بھی دراصل دعائوں کی فتح تھی۔جب مدینہ کی چھوٹی سے بستی پر چاروں طرف ہزاروں کی تعداد میں مسلح لشکر چڑھ آئے اور محصور مسلمان سخت سردی کے ایام میں،ناکافی غذائی ضروریات کے باعث سخت پریشان تھے۔صحابہؓ رسول نے بھوک کا مقابلہ کرنے کیلئے پیٹوں پر پتھر باندھ لئے اور خود رسول خداؐ کے پیٹ پر دو پتھر تھے۔وہ جنگ صرف ایک اعصاب شکن جنگ ہی نہ تھی بلکہ مسلمانوں کی زندگی پر ہولناک ابتلا تھاجس کا سچا نقشہ اور صاف تصویر قرآن شریف نے یوں کھینچی ہے۔
    ’’جب دشمن اوپر سے بھی چڑھ آئے تھے اور نیچے سے بھی اور آنکھیں پتھرا گئیں اور دل مارے خوف کے اچھل کر گلوں تک آرہے تھے اور مومنوں کو خدا کے وعدوں پر طرح طرح کے گمان آنے لگے۔جہاں مومن خوب آزمائے گئے اتنے کہ ان کی زندگیوں پر ایک شدیداور خوفناک زلزلہ کی کیفیت طاری ہوگئی اور وہ ہلائے گئے بلکہ جھنجھوڑ کر رکھ دئے گئے۔‘‘(سورۃالاحزاب11,12)
    ان نازک حالات میں جب شہر مدینہ زندگی اور موت کی کش مکش میںتھا۔ مدینہ میں ایک وجود ایسا بھی تھا جو اپنے مولیٰ پر کمال یقین اور توکل کے ساتھ ان دعائوں میں مصروف تھا۔
    اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ سَرِیْعَ الْحِسَابِ اِھْزِمِ الْاَحْزَابَ اَللّٰھُمَّ اھْزِ مْہُمْ وَزَلْزِلْھُمْ۔ اے میرے مولیٰ ! اپنی پاک کتاب کو نازل کرنے والے اور جلد حساب لینے والے! عرب کے ان تمام لشکروں کو پسپا کردے ان کو شکست فاش دے اور ہلا کر رکھ دے۔
    اس دعا کے نتیجہ میں اچانک ایک خوفناک آندھی نمودار ہوئی جس نے عربوں کی آگیں بجھادیں۔ وہ محاصرہ چھوڑ کر سخت افراتفری کے عالم میںبھاگے اور ایسے بھاگے کہ سر پیر کا ہوش نہ رہا۔لشکر کفار کا سردار ابو سفیان اپنے اونٹ کا گھٹنا تک کھولنا بھول گیا اور بندھے ہوئے اونٹ پر سوار ہوکر اسے بھگانا چاہا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موقع پر دعائوں کی قبولیت کے معجزہ کا ذکر کرتے ہوئے بے اختیار یہ کہہ اٹھے۔
    لَااِلٰہَ اِ لَّااللّٰہُ وَحْدَہ‘ اَعَزَّ جُنْدَہ‘ وَ نَصَرَ عَبْدَہ‘ وَغَلَبَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہ‘ فَلَا شَییَٔ بَعْدَہ ‘ (بخاری)41
    کہ اس خدا کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے اپنے گروہ کو عزت دی۔ اپنے بندے کی نصرت فرمائی اور خود ہی تمام لشکروں پہ غالب آیا۔ سب کچھ وہی ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔
    (9) غزوہ خیبر کا عظیم معرکہ بھی ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعائوں کا ثمرہ تھا۔جب مسلسل کئی روز مختلف جرنیلوں کی سرکردگی میں ترتیب دئیے گئے لشکر خیبر کے قلعوں کو فتح نہ کرسکے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعائوں میں لگ گئے،تب واقعہ یہ ہوا کہ خیبر کے محاصرہ کی ساتویں رات حضرت عمرؓ کے حفاظتی دستے نے ایک یہودی جاسوس کو اسلامی لشکر کے قریب گھومتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ اسے رسول کریمؐ کی خدمت میں لے آئے۔ اس وقت بھی حضور ؐ خدا کے حضور سر بسجود دعائوں میں مصروف تھے۔مگر آپؐ کی دعائیں رنگ لاچکی تھیں، یہودی جاسوس نے جان کی امان طلب کرتے ہوئے مسلمانوں کو خیبر کے قلعوں کے اہم جنگی راز بتادیئے۔ اس نے اہل خیبر کے خوف و ہراس اور مایوسی کے نتیجہ میں ایک قلعہ خالی کردینے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ فتح ہونے پر وہ راشن اور اسلحہ کے ذخیرے بھی بتائے گا۔(الحلبیہ)42
    دعائوں کے نتیجہ میں خیبر کی فتح کی کلید حاصل ہوچکی تھی رسول کریم ؐ نے اس وقت اعلان فرمایا کہ صبح آپؐ اُس شخص کو لشکرِ اسلامی کا عَلم عطا کریں گے جس کے ہاتھ پر خدا مسلمانوںکو فتح دینے والا ہے، اور پھر آپ ؐ نے حضر ت علیؓ کو بلا کر عَلم اسلام عطا کیا۔ ان کی دکھتی آنکھیں آپؐ کی دعا کے فوری اثر سے شفا یاب ہوئیں اور دعائوں کے ساتھ آپؐ نے حضرت علیؓ کو رخصت کیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت علیؓ کے ہاتھ پر خیبر فتح فرمایا۔(بخاری)43
    (10) مکہ کی عظیم الشان فتح بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعائوں کا تابندہ نشان تھا، رحمت دو عالم صدق دل سے چاہتے تھے کہ معاہدہ شکن دشمن پر اس طرح اچانک چڑھائی کریں کہ اسے کانوں کان خبر نہ ہوا ور اس کے نتیجہ میں دشمن جانی نقصان سے بھی بچ جائے۔اس مقصد کے حصول کے لئے دیگر تدابیر کے علاوہ آپؐ اپنے مولیٰ کے حضور دعائوں میں لگ گئے کہ اے اللہ! قریش کے جاسوس ہم سے روک رکھنا اور ہماری خبریں ان تک نہ پہنچنے پائیں۔(حلبیہ)44
    یہ دعائیں ایسی مقبول ہوئیں کہ جب رسولؐ خدا نہایت رازداری کے ساتھ دس ہزار قدوسیوں کے جلو میں اہل مکہ کے سر پر آن پہنچے تو بھی ابوسفیان کو یقین نہ آتا تھا کہ مسلمان اتنے بڑے لشکر کے ساتھ اتنی تیزی سے مکہ پر چڑھ آئے ہیں۔آپؐ نے انہیں یوں حیران و ششدر اور مبہوت کر چھوڑا کہ وہ رسول اللہ ؐ کے مقابلہ کا موقع نہ پاسکے اور مکہ بغیرکسی کشت و خون کے فتح ہوگیا۔
    (11) غزوات میں قدم قدم پر جو مشکلات رسول کریمؐ اور آپؐ کے صحابہؓ کو پیش آتیں، آپؐ اسی وقت خداتعالیٰ کے حضور دست بدعا ہوکر ان کا ازالہ کرتے۔ایک جنگ میں زادراہ اور راشن کی بہت قلت ہوگئی،صحابہ ؓ کرام پریشان ہوکر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کھانے کیلئے اپنے سواری کے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت چاہی۔پہلے تو آپؐ نے ان پر رحم کھاتے ہوئے اجازت دے دی، مگر بعد میں حضرت عمرؓ کے اس سوال پر کہ سواری کے اونٹ بھی نہ رہے تو سفر کیسے طے ہوگا؟ آپؐ کے دل میں دعا کا جوش پیدا ہوا۔ اسی وقت آپؐ نے اعلان کروایا کہ جو بچی کھچی زاد راہ قافلہ کے پاس ہے وہ اکٹھی کی جائے۔ پھرآپؐ نے اس معمولی سے جمع شدہ زاد راہ پر برکت کی دعا کی ۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور یہی خوراک اتنی بڑھ گئی کہ قافلہ کے سب لوگ اپنے اپنے برتن بھر کر لے گئے۔قبولیت دعا کا یہ عظیم الشان معجزہ دیکھ کر رسول خدا ؐبے اختیار کہہ اٹھے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔(بخاری)45
    (12) ایک سفر میں حضور ﷺ کی اونٹنی بدک کر بھاگ نکلی۔آپؐ نے دعا کی تو اچانک آندھی کا ایک بگولا نمودار ہوا جو اس اونٹنی کو دھکیل کر آپؐ کے پاس واپس لے آیا۔(عیاض)46
    اہل مدینہ کیلئے دعائیں
    (13) جب رسول اللہؐ مکہ سے ہجرت کر کے یثرب تشریف لائے تو یہ ایک وبائی علاقہ تھا جس کی وجہ سے کئی صحابہؓ حضرت ابوبکرؓ ،حضرت بلالؓ ،اور حضرت عائشہ ؓ وغیرہ بیمار پڑ گئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت خدا کے حضور دعا کی کہ اے مولیٰ! اس وبائی علاقہ کی وباء دو ر کردے اور اس شہر کے رزق میں برکت عطا فرما۔(بخاری47)یہ دعا جس طرح قبول ہوئی خود شہر مدینہ کی آبادی و شادابی اس پر شاہد ناطق ہے۔
    (14) ایک دفعہ مدینہ میں سخت قحط پڑگیا،ایک شخص نے خطبہ جمعہ میں کھڑے ہوکر نہایت لجاجت سے باران رحمت کے لئے یوں درخواست دعا کی کہ اے اللہ کے رسولؐ ! مال مویشی خشک سالی سے ہلاک ہوگئے اور راستے ٹوٹ گئے۔ آپؐ دعا کریں کہ خدا بارش دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی وقت ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی کہ اے اللہ! ہماری خشک سالی دور کر اور ہم پہ بارش برسا۔حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آتا تھا اور مطلع بالکل صاف تھا۔ اچانک سلع کی پہاڑیوں کے پیچھے سے چھوٹی سی ایک بدلی اٹھی جو وسط آسمان میں آکر پھیلی ،پھروہ برسی اور خوب برسی یہاں تک کہ ایک ہفتہ تک ہم نے سورج کی شکل نہ دیکھی۔ اگلے خطبہ جمعہ کے دوران پھر ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! اب تو بارش کی کثرت سے مال مویشی مرنے لگے ہیں اور سیلاب سے رستے بہ رہے ہیں۔ دعا کریں کہ اب بارش تھم جائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ اے اللہ! ان بادلوں کو ہمارے ارد گرد لے جا۔ ہم پہ نہ برسا۔ان کوپہاڑوں،ٹیلوں، وادیوںاور درختوں پر لے جا۔ تب اسی وقت معجزانہ رنگ میںبارش تھم گئی اور ہم جمعہ کے بعد باہر نکلے تو دھوپ نکل چکی تھی۔(بخاری)48
    رزق اور مال میں برکت کی دعائیں
    رسول کریم ؐ کی معجزانہ دعائوں کے اثرات اور برکات مال اور رزق میں خارق عادت برکت کے رنگ میں بھی ظاہر ہوئے۔
    (15) حضرت انس ؓ بن مالک انصاری دس برس کے تھے کہ والدین نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ذاتی خادم کے طور پر پیش کر دیا۔ ایک دفعہ حضرت انس ؓ کی والدہ حضرت ام سُلیم ؓنے آکر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ؐ ! یہ انسؓ آپ کا خادم ہے، اس کے لئے اللہ سے دعا کریں۔ آپؐنے اسی وقت انسؓ کو دعا دی کہ اے اللہ! انس کے مال واولاد میں برکت دینا اور جو کچھ تو اسے عطا کرے اس میں برکت ڈالنا ۔(بخاری)49
    حضرت انسؓ خود بیان کرتے تھے کہ خدا نے یہ دعا میرے حق میںخوب قبول فرمائی۔ میرا باغ سال میں دو مرتبہ پھل دیتا ہے اور میری زندگی میں میری اولاد بیٹے، بیٹیاں،پوتے نواسے ،نواسیاں سب ملا کر اسّی سے بھی زائد ہیں۔ حضرت انسؓ نے 103 سے 110سال عمر پائی۔(ابن اثیر)50
    (16) حضرت جابرؓ کے والد حضرت عبداللہ ؓ اُحد میں شہید ہوگئے تھے اور ان کے ذمہ یہودی ساہو کاروں کا کچھ قرض تھاجس کا وہ حضرت جابر ؓ سے سختی سے مطالبہ کررہے تھے۔یہاں تک کہ حضرت جابرؓ نے ان کو قرض کے عوض یہ پیشکش کردی کہ اس سال ان کے کھجوروں کے باغ کا سارا پھل قرض خواہ لے کر قرض سے بری الذمہ قرار دیدیں۔ مگر یہودی بنیئے نے رسول اللہؐ کی سفارش کے باوجود بھی ایساکرنے سے انکار کیا تو رسول کریم ؐ نے باغ میں تشریف لاکر دعا کی۔ اس دعا کی برکت سے کھجور کا اتنا پھل ہوا کہ قرض ادا کر کے بھی نصف کے قریب کھجوربچ رہی۔جب حضرت ابوبکرؓ کو اس کا پتہ چلا تو انہوں نے یہ تبصرہ کیا کہ رسول اللہؐ نے جب باغ میں جاکر دعا کی تھی اس وقت ہی ہمیں اندازہ ہوگیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کے پھل میں خارق عادت برکت دے گا۔(بخاری)51
    (17) حضرت مقدادؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے دو ساتھی بھوک اور فاقوں سے ایسے بدحال ہوئے کہ سماعت و بصارت بھی متاثر ہوگئی۔
    مقدادؓ اپنی اس وقت کی مالی تنگی کا حال بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے پاس صرف ایک اوڑھنے کی چادر تھی وہ بھی اتنی مختصر کہ سر ڈھانپتا تو پائوں ننگے ہوجاتے اور پائوں ڈھانکتا تو سر ننگا رہتا تھا ۔ہم نے محتاجی کے اس عالم میں صحابہؓ رسولؐ سے مدد چاہی مگر کوئی بھی ہمیں مہمان بناکر پاس نہ رکھ سکا۔ بالآخر ہم رسول کریم ؐ کی خدمت میں حاضر ہوگئے ۔ حضورؐ ہمیں اپنے گھر لے گئے۔ آپؐ کے گھر میں تین بکریاں تھیں۔ آپؐ نے فرمایا ان بکریوں کا دودھ دوہ لیا کرو۔ ہم چاروںپی لیا کریں گے چنانچہ یوں گزارہ ہونے لگا۔ہم تینوں دودھ کا اپنا حصہ پی کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ بچا کر رکھ لیتے تھے۔ آپؐ رات کو تشریف لاتے ۔پہلے ہلکی آواز میں سلام کرتے کہ سونے والے جاگ نہ جائیں اور جاگنے والا سن لے۔پھر اپنی جائے نماز پر نماز پڑھ کر اس جگہ آتے جہاں آپؐ کے لئے دودھ رکھا ہوتا تھا۔آپؐ خود دودھ لے کر نوش فرماتے۔ ایک رات شیطان نے میرے دل میں کیا خیال ڈالا کہ اپنے حصہ کا دُودھ پی کر میں سوچنے لگاکہ یہ جو حضور ؐ کے لئے تھوڑا سا دودھ پڑا ہے اس کی آپؐ کو ضرورت ہی کیا ہے ۔آپؐ کی خدمت میں تو انصار تحفے پیش کرتے رہتے ہیںاور آپؐ اس سے کھا پی لیتے ہوں گے۔یہ سوچ کر میں نے حضورؐ کے حصہ کا دودھ بھی پی لیا۔ جب اس سے خوب پیٹ بھر چکا توفکرہونے لگی کہ اب رسول کریم ؐ کیلئے کوئی دودھ باقی نہیں رہا اور اپنے کئے پر سخت ندامت سے اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ میرا برا ہومیں نے یہ کیا کیاکہ رسول کریم ﷺ کا حصہ بھی ہڑپ کر گیا۔اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئیں گے اور حسب معمول جب دودھ اس جگہ نہیں ملے گا تو ضرور میرے خلاف کوئی بد دعا کریں گے اور میری دنیاو آخرت تباہ ہوجائے گی۔اسی مخمصے اور بے چینی میں میری نیند اڑ گئی تھی ،جبکہ میرے دونوں ساتھی میٹھی نیند سورہے تھے کیونکہ وہ میری اس حرکت میں شامل نہیں تھے۔
    اسی اثنا ء میں رسول اللہ ؐ تشریف لائے۔ آپؐ نے حسب عادت سلام کیا۔پہلے اپنی جائے نماز پر جاکر نماز پڑھتے رہے۔ پھر اپنے دودھ والے برتن کے پاس گئے ڈھکنا اٹھایا تو اس میں کچھ نہ پایا۔اُدھر آپ ؐ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور ادھر مجھے یہ خوف کہ لو اب میرے خلاف بددعا ہوئی اور میں مارا گیا۔ مگر آپؐ نے جو دعا کی وہ یہ تھی اے اللہ! جو مجھے کھلائے تو اس کو کھلا جو مجھے پلائے تو خود اس کو پلا۔۔۔اس دعا کا سننا تھا کہ میں فوراً اٹھا چادر اوڑھی اور چھری لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بکریوں کی طرف چل پڑا کہ ذبح کر کے حضورؐ کو کھلا کر آپؐ کی دعا کا وارث بنوں۔ جب میں سب سے موٹی بکری کو ذبح کرنے لگا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے تھنوں میں دودھ اترا ہوا ہے،حالانکہ شام کو دودھ نکالا تھا پھر جب باقی بکریوں پر نظر کی تو سب کا یہی حال دیکھا۔ چنانچہ میں نے بکری ذبح کر نے کا ارادہ ترک کر کے حضورؐ کے گھر سے دودھ کا برتن لیا اور بکریاں دوبارہ دوہ کراسے بھر لیا اوررسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ آپؐ نے جب تازہ دودھ دیکھا تو خیال ہوا کہ ان بیچاروں نے بھی ابھی تک دودھ نہیں پیاہوگا۔فرمانے لگے کیا تم لوگوں نے آج رات دودھ نہیں پیا۔ میں نے بات ٹالتے ہوئے کہا کہ حضورؐ !بس آپؐ پئیں۔ حضورؐ نے کچھ دودھ پی کر باقی مجھے دیتے ہوئے فرمایا کہ اب تم پی لو۔ میں نے کہا کہ آپؐ اور پئیں۔ حضورؐ نے اور پیا اور پھر مجھے دے دیا۔اب دل کو تسلی ہوئی کہ رسول اللہ ؐبھوکے نہیں رہے خوب سیر ہوچکے ہیں اور یہ خوشی بھی کہ آپؐ کی یہ دعا کہ ’’اے اللہ! جو مجھے پلائے تو اسے بھی پلا‘‘ میرے حق میں قبول ہوچکی ہے۔تب حضورؐ کے دودھ کا حصہ پینے کی اپنی حرکت یاد کر کے مجھے بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی، اتنی ہنسی کہ میں لوٹ پوٹ ہوکر زمین پر گر پڑا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے مقداد ! تجھے اپنی کونسی عجیب حرکت یاد آئی ہے جس پر لوٹ پوٹ ہو رہے ہو ۔ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارا قصہ کہہ سنایا کہ اس طرح آپؐ کے حصہ کا دودھ بھی پی لیا اپنے حق میں آپؐ سے دعا بھی کروالی اور دوبارہ دودھ بھی پی لیا۔نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے(قبولیت دعا کے نتیجہ میں) خاص رحمت کا نزول تھا ۔تم نے اپنے ساتھی کو جگا کراور اس دودھ میں سے پلا کر کیوں نہ ان کے حق میں بھی یہ دعا پوری کروائی میں نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ مجھے اس برکت سے حصہ مل گیاتومیں اس بات سے بے پرواہ ہوگیا کہ کوئی اور اس میں شریک ہوتا ہے کہ نہیں۔(مسلم)52
    (18) اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ ؓ کے لئے رسول اللہؐ نے دعا کی کہ کبھی ان کو بھوک کی تکلیف نہ آئے۔ فاطمہؓ فرماتی ہیں اس کے بعد کبھی مجھے بھوک نہیں پہنچی۔(سیوطی)53
    (19) حضرت عبداللہ بن جعفرؓ کی تجارت میں برکت کے لئے حضورؐ نے دعا کی۔جس کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ کوئی چیز خریدتے تو اس میںنفع پاتے۔(سیوطی)54
    (20) حضرت عرُوہؓ کے لئے آپؐ نے برکت کی دعاکی۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ میں نے بازار جاکر سودا لگایا اور بسا اوقات چالیس ہزار تک منافع لے کر واپس لوٹا۔ امام بخاری نے لکھا ہے کہ عروہؓ مٹی بھی خریدتے تھے تو اس میں منافع پاتے تھے۔(سیوطی)55
    شفاء کی دعائیں
    (21) رسول کریمؐنے مختلف مواقع پر بعض بیماروں کیلئے معجزانہ شفا کی دعا مانگی۔خدا تعالیٰ نے اس دعا کی قبولیت کے فوری اثرات ظاہر فرمائے، غزوہ خیبر میں رسول اکرمؐ نے اعلان فرمایا کہ کل میں جس شخص کو جھنڈا دوں گا اس کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ فتح عطافرمائے گا۔ صحابہ نے اس امید میں رات بسر کی کہ شاید یہ قرعۂ فال ان کے نام پڑے۔ حضرت علیؓ کو آشوب چشم کی تکلیف تھی، آنکھیں اتنی شدید دکھتی تھیں کہ صحابہؓ کا اس طرف خیال ہی نہیں گیا کہ یہ عظیم فاتح حضرت علیؓ بھی ہوسکتے ہیں۔اگلی صبح جب حضورؐ نے حضرت علیؓ کو یاد فرمایا تو صحابہ ؓ نے ان کی بیماری کی وجہ سے معذرت پیش کرنا چاہی ،مگر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علیؐ کو بلا کر آنکھوں میں لعاب دہن لگایا اور دعا کی۔ خدا نے حضرت علیؓ کو معجزانہ طور پر اسی وقت شفا عطافرمائی اور شفا بھی ایسی کہ یوں لگتا تھا جیسے پہلے کبھی آپؓ کی آنکھیں خراب ہی نہ ہوئی تھیں۔ (بخاری)56
    (22) ایک اور موقع پررسول کریم ؐ نے حضرت علیؓ کے حق میں گرمی و سردی کے اثر سے محفوظ رہنے کی دعا کی چنانچہ وہ گرمی و سردی کے اثر سے محفوظ رہتے تھے۔ (ابن ماجہ)57
    (23) حضرت یعلی بن مرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول کریمؐ کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔راستہ میں ایک عورت ملی جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا۔اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اس بچے کو نیند کی حالت میں نامعلوم کتنی مرتبہ دورہ پڑتا ہے۔آپؐ نے فرمایا کہ بچہ مجھے پکڑائو۔میں نے بچہ حضورؐ کو دیا۔ آپؐ نے اسے اپنے پالان پر بٹھایا اور اس کا منہ کھول کر اس میں تین پھونکیں ماریں اور اسے اپنا لعاب دھن دیا اور فرمایا’’اللہ کے نام کے ساتھ اے اللہ کے بندے۔ اے اللہ کے دشمن دور ہوجا‘‘ پھر حضورؐ نے وہ بچہ واپس پکڑا دیا اور اس عورت سے فرمایا کہ واپسی سفر میں اسی جگہ آکر ملنا اور بچے کا حال بتانا۔
    سفر سے واپسی پر وہ عورت وہاں موجود تھی۔اس کے ساتھ تین بکریاں بھی تھیں۔ رسول کریمؐ نے پوچھا بچے کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا خدا کی قسم اس گھڑی تک اُسے کوئی دورہ نہیں پڑا۔پھر اس نے تین بکریاں حضورؐ کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کیں نبی کریمؐ نے مجھے فرمایا کہ نیچے اترو اور ایک بکری لے کر باقی واپس کردو۔(احمد)58
    (24) حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت اپنے بچے کو لے کر آئی اور عرض کیا کہ اسے کھانے کے وقت جنون کا دورہ ہوتا ہے۔رسول کریمؐنے اس کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی۔اچانک اسے کھل کر قے ہوئی اور اس کے پیٹ سے سیاہ رنگ کا چھوٹا سا سانپ نکل کر بھاگ گیا۔(احمد)59
    (25) حضرت سائب بن یزیدؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میری خالہ رسول کریمؐ کی خدمت میں لے گئیں اور عرض کیا کہ حضورؐ یہ میرا بھانجا سائب بیمار ہوگیا ہے۔آپؐ اس کیلئے دعا کریں۔ حضورؐ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے حق میں برکت کی دعا کی۔حضورؐ نے وضو فرمایا تو میں نے آپؐ کے وضوء کا بچا ہوا پانی بطور تبرک پی لیا۔(بخاری)60
    سائبؓ سن 2 ھ میں پیدا ہوئے تھے یہ واقعہ پانچ چھ برس کی عمر کا معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سائبؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت سے نہ صرف شفا دی بلکہ لمبی عمر عطا فرمائی اور سن 80ھ میں بعمر78برس ان کا انتقال ہوا۔(خطیب)61
    (26) یزید بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہؓ کی پنڈلی پر ایک زخم کا نشان دیکھا۔ میں نے ان سے پوچھا یہ کیسا نشان ہے؟ انہوں نے بتایا کہ خیبر کے دن مجھے یہ زخم آیا تھا۔زخم اتنا بڑا تھا کہ لوگوں میں مشہور ہوگیا کہ سلمہؓ زخمی ہوگیا ہے۔مجھے اٹھاکر نبی کریم ؐ کی خدمت میں لایا گیا۔ آپؐ(نے دعا کر کے) تین پھونکیں مجھ پہ ماریں۔تواسی وقت وہ زخم اچھا ہوگیا۔ایسے معلوم ہوتا تھا کہ کوئی زخم آیا ہی نہیں۔(صرف نشان باقی رہ گیا)۔اس کے بعد پھر کبھی اس میں تکلیف نہیں ہوئی۔(بخاری)62
    (27) عمرو بن اخطب ؓ بیان کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے چہرے پر پھیرا اور میرے حق میں صحت اور خوبصورتی کی دعا کی۔اللہ تعالیٰ نے یہ دعا اس طرح قبول فرمائی کہ َعمرو کو صحت والی لمبی زندگی اور اولاد عطا فرمائی۔ ایک سو بیس سال کی عمر میں بھی ان کی ایسی صحت تھی کہ سر میں صرف چند سفید بال تھے۔(ترمذی)63
    (28) حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ کے چچا ابو طالب بیمار ہوئے۔ آپؐ ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔ انہوں نے کہا بھتیجے! اپنے اس رب سے جس نے تجھے مبعوث کیا ہے دعا کر کہ وہ مجھے اچھا کردے۔ نبی کریمؐ نے اسی وقت دعا کی ’’اے اللہ میرے چچا کو شفا دے۔‘‘ یہ دعا حیرت انگیز رنگ میں فی الفور قبول ہوئی۔ ابو طالب اسی وقت اس طرح کھڑے ہوگئے جیسے ان کے بندھن کھول دیئے گئے ہوں۔اور کہنے لگے اے محمدؐ! واقعی تیرے رب نے تجھے بھیجا ہے اور وہ تیری بات بھی خوب مانتا ہے۔آنحضورؐ نے فرمایا اے چچا اگر آپؐ بھی اللہ تعالیٰ کی باتیں مانیں تو وہ ضرور آپؐ کی بھی سنے گا اور مانے گا۔(حاکم)64
    (29) حضرت ابو قتادہ ؓ کے لئے رسول اللہؐ نے دعا کی کہ اے اللہ ان کو کامیاب و کامران کر اور ان کے بالوں اور چہرہ کو برکت دے،چنانچہ ابوقتادہؓ نے صحت والی لمبی عمر پائی۔روایت ہے کہ ستر برس کی عمر میں بھی وہ پندرہ سالہ صحت مند جوان نظر آتے تھے۔(عیاض)65
    (30) اللہ تعالیٰ کی راہ میں خدمت کرنے والے صحابہ کے لئے رسول کریمؐ بہت دعائیں کیا کرتے تھے۔ مخلص خدّام کیلئے بسااوقات آپؐ کے دل سے ایسی دعا نکلتی تھی کہ معجزانہ رنگ میں اس کی قبولیت کے اثرات ظاہر ہوتے تھے۔
    عبداللہ بن عتیکؓ انصاری ایک مہم پر بھجوائے گئے۔واپسی پرایک حادثہ میں انکی ٹانگ کوشدید ضرب آئی اور پنڈلی ٹوٹ گئی ۔وہ کہتے ہیں میں ایک ٹانگ پر کودتا ہوا اپنے ساتھیوں تک پہنچا۔ پھر رسول کریم ؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپؐ نے فرمایا اپنا پائوں پھیلائو۔میں نے پائوں حضورؐ کے سامنے رکھ دیا۔ آپؐ نے اس پر ہاتھ پھیرا تو ایسے لگا جیسے کبھی مجھے یہ تکلیف ہوئی ہی نہ تھی۔(بخاری)66
    قبولیت دعا کی پیشگی خبر
    رسول کریمؐ کی دعاؤں کی ایک شان یہ بھی تھی کہ آپؐبعض دعائوں کی قبولیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے علم پاکرقبل از وقت اطلاع فرما دیا کرتے تھے۔
    (31) ایک مرتبہ نبی کریمؐحضرت انس ؓ بن مالک کے گھر تشریف لے گئے۔ وہاں کچھ دیر آرام فرمایا ،دریں اثناء آپؐ کی آنکھ لگ گئی۔ بیدار ہوئے تو مسکرارہے تھے۔ انسؓ کی خالہ ام حرامؓ نے وجہ پوچھی۔ آپؐ نے فرمایا مجھے سمندر پر سفر کرنے والے بعض اسلامی لشکر وں کا نظارہ کروایا گیا ہے جو تختوں پر بیٹھے ہوئے گویابادشاہوں کی طرح سفر کر رہے ہیں۔ حضرت ام حرامؓ کو کیا سوجھی۔ عرض کیا یا رسول اللہؐ !آپؐ دعا کریں میں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہو جائوں۔ آپؐ نے اپنی اس مخلص اور خدمت گزارخاتون کے جذبات کا خیال کرتے ہوئے ان کے حق میں دعاکی کہ اے اللہ ! ان کو بھی اسلامی لشکر کے اس بحری سفر میں شریک کردے،دوبارہ حضورؐ پر غنودگی طاری ہوئی اور آپؐ نے ایک دوسرے نظارے کاذکر کیا تو ام حرامؓ نے کہا یا رسول اللہؐ! میرے لئے ان لوگوں میں بھی شامل ہونے کی دعا کریں ۔رسول خداﷺ نے فرمایا کہ تم پہلے گروہ میں شامل ہوچکیں، (جس کے بارے میں چند لمحے قبل حضورؐ نے دعا کی تھی) یہ دعا غیر معمولی اور حیرت انگیز طور پر پوری ہوئی۔ ام حرامؓ کو خدا تعالیٰ نے لمبی عمر دی اور اس زمانے تک زندہ رکھا جب اسلامی لشکر حضرت معاویہؓ کے زمانے میں قبرص کے بحری سفر پر روانہ ہوا۔ ام حرامؓ بھی اپنے خاوندحضرت عبادہ بن صامتؓ کے ساتھ اس مہم میں شریک ہوئیں۔ سفر سے واپسی پر شام میں ساحل سمندر پر اترتے ہوئے سواری سے گر کر فوت ہو گئیں ۔(بخاری)67
    (32) خدا تعالیٰ سے علم پا کر دعا کی قبولیت کی اسی وقت اطلاع دینے کا ایک اور واقعہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے تعلق رکھتا ہے جو ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے۔ آپؐ نے مکہ سے ہجرت کر لی تھی۔ حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ میں بیمار ہو ئے تو فکر لاحق ہوئی کہ اگر مکہ میں وفات ہوئی تو انجام کے لحاظ سے ہجرت کا ثواب ضائع نہ ہو جائے۔ رسول کریم ؐ ان کی بیمار پرسی کے لئے گئے تو انہوں نے اپنے اس خدشہ کے اظہارکے ساتھ دعا کی خصوصی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا کہ حضورؐ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ مجھے مکہ میںوفات نہ دے جہاں سے میں ہجرت کرچکا ہوں۔اس وقت ان کی حالت ایسی نازک تھی کہ انہوں نے اپنے ورثہ وغیرہ کے بارے میں آخری وصیت بھی کردی ۔آنحضورؐ نے دعا کی کہ
    ’’اے اللہ! میرے صحابہؓ کی ہجرت ان کے لئے جاری کردے۔ ‘‘ پھر حضرت سعدؓ کو اس دعا کی قبولیت کی بشارت بھی دے دی اور فرمایا اے سعد! اللہ تعالیٰ تمہیں لمبی عمر عطا کرے گا اور بہت سے لوگ تجھ سے فائدہ اٹھائیں گے اور کئی لوگ نقصان اٹھائیں گے۔(بخاری)68
    چنانچہ حضرت سعدؓ کو اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر شفا عطا فرمائی۔وہ اُن دس صحابہ میں سے تھے جن کو رسول اللہؐ نے ان کی زندگی میں جنت کی بشارت دی۔ سن 55ھ میں بعمر ستّرسال آپ کا انتقال ہوا۔آپ کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے ایران جیسی عظیم الشان مملکت کی فتح کی بنیاد رکھوائی۔(ابن حجر)69
    (33) ایک دفعہ نبی کریمؐ قضائے حاجت کیلئے تشریف لے گئے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اس وقت کم سن بچے تھے۔دس گیارہ برس کی عمر ہوگی۔انہوں نے حضور ؐ کے لئے پانی کا لوٹا بھر کے رکھ دیا۔حضورؐ تشریف لائے توپوچھا ’’ یہ پانی کس نے رکھا ہے؟‘‘ عرض کیا گیا عبداللہ بن عباس ؓ نے! آپؐ کے دل میں اس بچہ کیلئے تشکّرکا ایسا جذبہ پیدا ہواکہ اسے محبت سے اپنے ساتھ چمٹا لیا اور دعا کی ’’اے اللہ! اس بچہ کو دین کی سمجھ عطا کر،اے اللہ! اس بچہ کو کتاب اور حکمت کا علم عطا فرما۔‘‘(بخاری70)یہ دعا پایۂ قبولیت کو پہنچی اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ امت کے عظیم الشان اور زبردست فقیہ اور عالم ٹھہرے اور ’’حِبْرُ الْامَّۃْ‘‘یعنی امت کے متبحر عالم کے طور پر مشہور ہوئے۔
    (34) رسول کریم ؐنے ایک صحابی حضرت جریرؓ بن عبداللہؓ کو ذُوالخلصہ کا بت خانہ منہدم کرنے کیلئے بھجوایا۔ یہ معبد بیت اللہ کے مقابل پر کعبہ یمانی کے نام سے تعمیر کیا گیا تھا۔حضرت جریرؓ نے عرض کیا کہ یا رسول ؐ اللہ! میں گھوڑے پر جم کر بیٹھ نہیں سکتا ۔رسول ؐ اللہ نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور دعا کی اے اللہ! اس کو مضبوط اور ثابت کردے اور اسے ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنادے۔ حضرت جریرؓ بیان کرتے تھے کہ اس دعا کا ایسا اثر ہوا کہ اس کے بعد میں کبھی گھوڑے سے گرا نہیں۔(بخاری)71
    (35) عبدالحمید بن سلمہؓ اپنے د ادا کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا اور یوں ان میں علیٰحدگی ہوگئی۔وہ اپنے نابالغ بچے کی حضانت(سُپرداری) کا مسئلہ حضورؐ کی خدمت میں فیصلہ کیلئے لائے۔حضورؐنے فرمایا کہ بچے کو اختیار دے دیتے ہیں ۔کم سن بچوں کا رجحان طبعاً والدہ کی طرف ہوتا ہے۔ حضورؐ کی نورانی بصیرت دیکھ رہی تھی کہ بچے کی کفالت والد کے پاس بہتر طور پر ہوسکے گی۔بچے کو جب اختیار دیا گیا تو وہ والدہ کی طرف جانے لگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچہ کی بہبود کے طبعی جوش سے اس کے حق میں دعا کی کہ اے اللہ! اس بچے کوباپ کی طرف رہنمائی کردے۔ وہی بچہ جو تھوڑی دیر پہلے ماں کی طرف دوڑا جارہا تھا،لپک کر باپ سے لپٹ گیا اور یوں حضورؐ کی دعاکی فوری قبولیت کا نظارہ بچے کے والدین نے دیکھا۔(احمد)72
    (36) حضرت ابوہریرہؓ نے یمن سے آکر 7ھ میں اسلام قبول کیا، انہوں نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں آپؐ سے جو باتیں سنتاہوں بھول جاتا ہوں۔ میرے لئے دعا کریں،آپؐ نے فرمایا ابوہریرہؓ چادر پھیلائو۔ابوہریرہؓ نے چادر پھیلائی آپؐ نے دعا کی اور پھر وہ چادر ابوہریرہؓ کو اوڑھا دی۔ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے کبھی کوئی حدیث نہیں بھولی۔یہی وجہ ہے کہ بہت بعد میں آنے کے باوجود حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایات ابتدائی دور کے صحابہ سے بھی زیادہ ہیں۔(ترمذی)73
    (37) ایک جنگ میں مسلمانوں کو سخت پیاس کا سامنا کرنا پڑا۔ پانی میسّر نہ تھا۔حضرت عمرؓ نے رسول کریمؐ سے دعا کی درخواست کی۔آپؐ نے دعا کی۔ اچانک ایک بادل اٹھا اور اتنا برسا کہ مسلمانوں کی ضرورت پوری ہوگئی اور پھر وہ بادل چھٹ گیا۔(عیاض)74
    (38) اپنے اصحاب کے لئے دلی جوش سے دعا کا ایک اور واقعہ حضرت ابوعامرؓ کے متعلق ہے جو جنگ اوطاس میں امیر مقرر کر کے بھجوائے گئے تھے۔ ابوموسیؓ اشعری بیان کرتے ہیں کہ میرے چچا! ابو عامرؓ کو جنگ کے دوران گھٹنے میں تیر لگا۔جب میں نے وہ تیر نکالا تو گھٹنے سے پانی نکلا۔ زخم بہت کاری تھا جان لیوا ثابت ہوا۔ آخری لمحات میں ابو عامرؓ نے ابو موسیٰ ؓسے کہا اے بھتیجے! نبی کریمؐ کو میرا سلام کہنا اور میری طرف سے دعائے مغفرت کی خاص درخواست کرنا۔یہ کہا اور جان جاں آفرین کے سپرد کردی۔ابو موسیٰ ؓیہ پیغام لے کر رسول خداؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ بیان کیا اور عرض کیا کہ ابو عامرؓ نے دعائے مغفرت کی درخواست کی تھی،تو رسول اللہؐ اپنے عاشق کی آخری خواہش سن کر بے قرار سے ہوگئے۔فوراً پانی منگوا کر وضو کیا اور ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی۔’’اے اللہ اپنے بندے ابو عامرؓ کو بخش دے۔‘‘مگر آپؐ نے اس فدائی کے لئے صرف بخشش کی دعا ہی نہیں مانگی ان کی بلندی درجات کی بھی دعا کی کہ’’ اے اللہ ! قیامت کے دن ابوعامرؓ کو اپنی بہت ساری مخلوق سے بلند مقام اور مرتبہ عطا کرنا۔‘‘ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں میں نے جو دعا کی یہ مقبول گھڑی دیکھی تو عرض کیا۔ حضورؐ! میرے حق میں بھی دعا کردیں۔ آپؐ نے دعا کی ’’اے اللہ! عبداللہ بن قیسؓ (ابوموسیٰ اشعری) کے گناہ بھی معاف کرنا اور قیامت کے دن اس کو معزز مقام میں داخل کرنا۔‘‘(بخاری)75
    (39) بے لوث خدمت کے نتیجہ میں دعا کا ایک اور واقعہ حضرت ابوایوب ؓ انصاری کا ہے۔غزوۂ خیبر سے واپسی پر جب رسول اللہ ؐ نے یہودی سردارحُیی بن اخطب کی بیٹی صفیہؓ سے شادی کی حضرت ابو ایوب ؓ انصاری کے ذہن میں جذبۂ عشقِ رسولؐ اور حفاظتِ رسولؐ کے خیال سے کچھ اندیشے اور وسوسے پیدا ہوئے اور آپؐ ساری رات حضورؐ کے خیمۂ عروسی کے گرد پہرہ دیتے رہے۔ صبح رسول اللہؐ نے دیکھ کر پوچھا تو دل کا حال عرض کیا کہ آپؐ کی حفاظت کے لئے از خودساری رات پہرہ پرکھڑارہا۔رسول اللہؐ نے اسی وقت دعا کی کہ’’ اے اللہ! ابو ایوب ؓ کو ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھنا جس طرح رات بھر یہ میری حفاظت پر مستعد رہے ہیں‘‘۔یہ دعا بھی قبول ہوئی۔حضرت ابو ایوب ؓ نے بہت لمبی عمر پائی اور قسطنطنیہ میں آپؓ کا مزار آج بھی محفوظ ہے اور زیارت گاہ خاص و عام ہے۔(حلبیہ)76
    (40) رسول کریم ؐنے اپنے صحابی سعدؓ کے لئے دعا کی تھی کہ اے اللہ! سعدؓ کی دعائیں قبول کرنا۔ اس دعا نے حضرت سعدؓ کو مستجاب الدعوات بزرگ بنادیاتھا۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں آپ کُوفہ کے گورنر تھے۔ ایک شخص ابوسعدہ نے ان پر بے انصافی اور خیانت کاالزام لگایا۔ حضرت سعد ؓ کو پتہ چلا تو انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ! اگر یہ شخص جھوٹا ہے تو اس کو لمبی عمر اور دائمی غربت دے۔ اس کی بینائی چھین لے اور اسے فتنوں کا نشانہ بنادے۔اُسے حضرت سعدؓ کی یہ دعا ایسے لگی کہ آخری عمر میں اندھا اور فقیر ہوکر مارا مارا پھرتا تھا اور گلیوں میں بچے بھی اسے چھیڑتے تھے۔چنانچہ جب تک سعدؓ زندہ رہے ان کے دعائیہ نشان کی وجہ سے لوگ ان کی بددعا سے ڈرتے تھے اور ان سے دعائے خیر کی تمنا رکھتے تھے۔(سیوطی)77
    (41) حویرثؓ بیان کرتے ہیں9ھ میں وفدِ تَجیب رسول کریم ؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؐ ان کی آمد پر بہت خوش ہوئے اور انعام واکرام عطاکرنے کے بعد پوچھا کہ کیا وفد میں سے کوئی پیچھے تو نہیں رہ گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک نوجوان ہمارے خیمہ گاہ پر حفاظت کی خاطر رہ گیا ہے ۔آپؐ نے فرمایا اسے بھی میرے پاس بھجوائو۔وہ جواں سال لڑکا آکرکہنے لگا کہ میں اسی قافلہ کا فرد ہوں جو ابھی آپؐسے انعام و اکرام لے کر رخصت ہوا۔جس طرح آپؐ نے ان کی حاجات پوری فرمائی ہیںمیری حاجت بھی پوری کریں۔آپؐ نے فرمایا حاجت بتائو؟ سعادت مند نوجوان نے عرض کیا بس یہی کہ آپؐ میرے حق میں بخشش اور رحمت کی دعا کریں کہ مولیٰ کریم میرے دل میں غنا پیدا کردے پھر حضورؐ نے اُسے باقی ساتھیوں جیسا انعام بھی عطا فرمایا۔ اگلے سال حج کے موقع پراس قبیلہ کے لوگ رسول کریم ؐسے ملے تو آپؐ نے ان سے اس نوجوان کے بارے میں پوچھا کہ وہ کیسا ہے؟انہوں نے بتایاکہ ہم نے اس جیسا کوئی اور نہیں دیکھا، نہ ہی اس سے بڑھ کرکوئی قناعت پسندپایا۔(ابن الجوزی)78
    قہری دعائوںکے نشان
    دعائوں کی یہ عظیم الشان برکات پانے والے سعادت مندوں کے بالمقابل کچھ ایسے بدبخت بھی تھے جو اپنی شقاوت ازلی کے نتیجہ میں رسول اللہؐ کی دعا سے اللہ تعالیٰ کی قہری تجلّی کے مورد بنے۔
    (42) نبی کریم ؐ نے ہمیشہ دشمن کی بھی خیر خواہی فرمائی۔ طائف میں آپؐ کو لہولہان کرنیوالے ہوں یا اُحد کے میدان میں خون آلودکرنے والے۔ آپؐ نے ان کی ہدایت کی ہی دعا کی۔مگر کبھی ایسا بھی ہوا کہ جب جانی دشمن حد سے بڑھ گئے اور رسولؐ خدا کو عبادت الہٰی سے روکنے لگے تو آپ ؐ نے عذاب الہٰی کا نشان مانگا۔ خدا تعالیٰ نے خوب آپؐ کی نصرت فرمائی ۔
    ایک دفعہ رسول کریمؐ بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابو جہل اور اس کے ساتھی بھی صحن کعبہ میں مجلس لگائے بیٹھے تھے۔ان سرداروں میں کسی ظالم نے مشورہ دیا کہ فلاں محلہ میں جواونٹنی ذبح ہوئی ہے کوئی جاکر اس کی بچہ دانی اٹھا لائے اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) جب سجدہ میں جائیں تو ان کی پشت پر رکھ دے۔ ان میں سے ایک بدبخت عُقبہ بن ابی مُعیط اٹھا اور اونٹنی کی گند بھری بچہ دانی اٹھا لایا اور دیکھتا رہاجونہی بنی کریم ؐ سجدہ میں گئے اس نے غلاظت بھرا وہ بوجھ آپ ؐ کی پشت پردونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہا کرتے تھے کہ میںیہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی رسولؐ خدا کی کچھ مدد نہ کرسکتا تھا۔بس کفِ افسوس ملتا رہ گیاکہ اے کاش ان دشمنان رسولؐ کے مقابل پر مجھے اتنی توفیق ہوتی کہ آپؐ سے یہ بوجھ دور کرسکتا۔اُدھر ان مشرک سرداروں کا یہ عالم تھا کہ رسولؐ اللہ کو اذیت میں دیکھ کر استہزا کرتے ہوئے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوئے جارہے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کی حالت میں پڑے تھے، بوجھ کی وجہ سے سر نہیں اٹھاسکتے تھے۔یہاں تک کہ آپؐ کی لخت جگر حضرت فاطمہؓ تشریف لائیں اور آپؓ کی پشت سے وہ غلاظت کا بوجھ ہٹایا۔تب آپؓ نے سجدے سے سراٹھایا ۔ عبادت الہٰی سے روکنے اور استہزا کرنے والے ان جانی دشمنوں کے حق میں رسول اللہؐ نے یہ فریاد کی’’ اَللّٰھُمَّ عَلَیْکَ بِقُرَیْشٍ‘‘۔ اے اللہ!ان قریش کو تو خود سنبھال ۔یہ دعا بھی قبول ہوئی اور خدائی گرفت ان دشمنان رسول پر بدر کے دن آئی اور رسول اللہؐ نے ان کا یہ عبرت ناک انجام بچشم خود دیکھاکہ میدان بدر میں ان کی لاشیں اس حال میں پڑی تھیں کہ تمازتِ آفتاب سے ان کے حلیے بگڑ چکے تھے۔(بخاری79) یہ تھا دشمنان رسولؐ کا عبرتناک انجام جو رسول ؐاللہ کی دعا کے نتیجہ میں ظاہر ہوا۔
    (43) رسول اللہؐ نے کسریٰ شاہ ایران کوتبلیغ کے لئے خط لکھا تو اس نے وہ پھاڑ کر ریزہ ریزہ کردیا۔آپؐ نے دعا کی کہ’’ اے اللہ! اس کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کردے‘‘۔(بخاری)80
    تاریخ شاہد ہے دنیا کی عظیم الشان سلطنت کے بارہ میں یہ دعا کس طرح حیرت انگیز طور پر قبول ہوئی کہ چند ہی سالوں میں سلطنت کسریٰ کے ایوان میں ایسا انتشار اور تزلزل برپا ہوا کہ شاہان کسریٰ اندرونی خلفشار کا شکار ہوکر ہلاک ہوئے اور یہ سلطنت رفتہ رفتہ نابود ہوکر رہ گئی۔
    عُتبہ بن ابی لہب جب اپنی فتنہ پردازیوں اور شر انگیزیوں سے بازنہ آیا توآپؐنے دعاکی کہ’’ اے اللہ اس پر کوئی کتا مسلّط کردے‘‘۔ تھوڑے ہی عرصہ میں وہ تجارتی قافلہ کے ساتھ شام گیاخود کہتا تھا کہ مجھے محمدؐ کی بددعا سے ڈرلگتا ہے۔ساتھیوں نے تسلی دی اور رات اس کا پہرہ دے کر حفاظت کرتے رہے۔مگر اچانک ایک بھیڑیا آیا، اسے اُٹھا کرلے گیا اور اسے ہڑپ کرگیا۔(ابن حجر)81
    (44) ایک اور معاند اسلام حکم بن ابی العاص سر کی جنبش اور آنکھ کے اشاروں سے آنحضرتؐ کا تمسخر اُڑاتا تھا۔آپؐ نے ایک دفعہ فرمایا’’ خدا کرے اسی طرح ہوجائو۔‘‘اس پر ایسا رعشہ طاری ہوا کہ آخری سانس تک رہا اور وہ اس حال میں مرا کہ آنکھوں کو حرکت دیتے دیکھا گیا۔ (عیاض)82
    (45) رسول خدا کی قبولیت دعا کایہ جلالی نشان بھی قابل ذکر ہے۔ بنونَجار سے ایک عیسائی شخص مسلمان ہوا اس نے سورۃ البقرۃ اور آل عمران بھی یاد کرلی(لکھنا پڑھنا جانتا تھا) نبی کریمؐ کی وحی بھی لکھنے لگا مگر کچھ عرصہ بعد مرتدّ ہوکر پھر عیسائی ہوگیا اور یہود سے جاملا۔ وہ اس سے بہت خوش ہوئے۔ وہاں جاکر یہ شخص دعوے کرنے لگا کہ محمد ﷺ کو تو کچھ نہیں آتا میں ہی لکھ کر دیا کرتا تھا۔اس پر یہود نے اسے اور عزت دی۔معلوم ہوتا تھا کہ یہ عیسائی کسی خاص سازش کیلئے بھیجا گیا تھا اور مقصدطائفہ یہود کی طرح یہ تھا کہ صبح مسلمان ہوکر شام کو انکار کردو تاکہ مسلمان بھی بد ظن ہوکر پھر جائیں۔ چونکہ اب وہ شخص وحی الہٰی کو اپنی طرف منسوب کررہا تھا اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حق و باطل کے لئے خدا تعالیٰ سے خاص نشان طلب کیا اور دعا کی کہ ’’اے اللہ ! اس شخص کو عبرت کا نشان بنا ۔ یہ دعا اس طرح قبول ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے جلد ہی اس شخص کو ہلاک کردیا‘‘۔ چنانچہ اسے دفن کردیا گیا مگر خداتعالیٰ نے اسے عبرت ناک نشان بنانا تھا۔ صبح ہوئی تو دنیا نے یہ حیرت انگیز نظارہ دیکھا کہ زمین نے اسے قبر سے نکال باہر پھینک دیاہے ۔عیسائی کہنے لگے کہ یہ کام محمدؐ اور اس کے ساتھیوں کا ہے کہ اس شخص کے مرتد ہونے کی وجہ سے انہوں نے اس کی قبر کھود کر نعش نکال باہر پھینکی ہے۔چنانچہ انہوں نے اسے دوبارہ دفن کردیا اور اس دفعہ قبر اتنی گہری کھودی جتنا وہ کھود سکتے تھے لیکن اگلی صبح پھر یہ عجیب ماجرا دیکھنے میں آیاکہ نعش زمین سے باہر پڑی تھی۔عیسائیوں نے پھر وہی الزام دہرایا کہ یہ مسلمانوں کا کام ہے ۔ اس دفعہ انہوں نے انتہائی گہرا گڑھا کھودا مگر زمین نے تیسری مرتبہ بھی اسے قبول نہ کیا۔ اب عیسائیوں کو عقل آئی کہ یہ انسان کے ہاتھوں کا کام نہیں ہوسکتا۔چنانچہ انہوں نے اس کی نعش کو دو چٹانوں کے درمیان رکھ کر اوپر پتھر پھینک دئیے۔(مسلم)83
    اُمّت کے لئے دعائیں
    ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمدؐ کی دعائوں کی وسعت کا یہ عالم تھاجس سے کوئی زمانہ محروم نہیں رہااور قیامت تک آنے والے متبعین امت کیلئے آپؐ نے دعائیں کردی ہیں۔
    آپؐ نے اپنے روحانی خلفاء کے حق میں دعا کی کہ اے اللہ! میرے ان خلفاء کے ساتھ خاص رحم اور فضل کا سلوک فرمانا جو میرے زمانے کے بعد آئیں گے اور میری احادیث اور سنت لوگوں تک پہنچائیں گے۔ خودبھی اس پر عمل کریں گے اور دوسروں کو اس کی تعلیم دیں گے۔(سیوطی)84
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ ؓ کو مہمات پر بھجواتے ہوئے بھی ان کے لئے دعا کرتے تھے۔ اکثر مہمات علی الصبح روانہ فرماتے اور اس موقع پر خاص طور پر یہ دعا کرتے۔ ’’اَللّٰھُمَّ بَارِکْ فِیْ اُمَّتِیْ فِیْ بُکُوْرِھِمْ ‘‘(احمد)85
    اے اللہ ! میری امت کے صبح کے سفروں میں خاص برکت عطا فرما۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کا اتنا خیال رکھا کہ اس کے حق میں یہ دعا کی اے اللہ ! جو شخص بھی میری امت کا والی یا حاکم ہو اور اُن پر سختی یا زیادتی کرے توتُو خود اس سے بدلہ لینا اور اُس سے ایسا ہی سلوک کرنا اور جووالی یا حاکم میری امت سے نرمی کا سلوک کرے تو تُوبھی اس کے ساتھ نرمی کا سلوک فرمانا۔(احمد)86
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی امت کے ساتھ جو محبت تھی اس کا ایک اظہار آپؐ نے اپنی شبانہ روز دعائوں سے بھی کیا۔جب آپؐ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے آئے تو اس وقت کئی کمزور مسلمان ایسے تھے جو مکہ میں رہ گئے۔ وہ مختلف وجوہ سے ہجرت نہ کرسکتے تھے اور مکہ میں اذیتیں برداشت کررہے تھے۔ آپؐ کے دل میں اپنے ان کمزور بھائیوں کیلئے جو درد تھا اس کا اندازہ آپؐ کی دعائوں سے کیا جاسکتا ہے ،ایک زمانہ تک آپؐ اپنے ان مظلوم مریدوں کے نام لے لے کر عشاء کی نماز میں دعا کرتے۔
    ’’ اے اللہ! عیاشؓ بن ابی ربیعہ(ابوجہل کے بھائی) کو کفار مکہ سے نجات دے، اے اللہ! ولید بن ولیدؓ کو ان سے رہائی دے،اے اللہ سلمہ ؓبن ہشام کو مشرکوں کے ظلم سے بچا،اے اللہ ! سب کمزور مسلمانوں (مومنوں) کی نجات کے سامان فرما‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو دشمن سے نجات دی۔(بخاری)87
    حضرت عبداللہ بن عمروؓ بن عاص سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے سورۃ ابراہیم کی آیات 36,37کی تلاوت کی جن میں اپنی اولاد کے شرک سے بچنے اور ساری قوم کے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا ہے۔
    پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ قرآنی دعا اپنی قوم کی بخشش کے بارہ میں پڑھی کہ اے اللہ اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگران کو بخش دے تو تُو غالب اور حکمت والا ہے۔(سورۃمائدہ:119)
    پھر آپؐ کے دل میں اپنی امت کے لئے دعا کا جوش پیدا ہوا تو ہاتھ اُٹھائے اور یوں دعا کی اے اللہ میری امت کو بھی بخش دے۔میری امت پر رحم کیجیئو اور یہ کہتے کہتے آپؐ رونے لگے تب اللہ تعالیٰ نے جبریل ؑ سے فرمایا کہ محمدؐ سے جاکر پوچھو(حالانکہ اللہ تعالیٰ آپؐ کی حالت کو خوب جانتاتھا کہ ان کے رونے کا کیا سبب ہے؟) جبریل ؑ نے آکر پوچھا تو رسول اللہؐ نے اپنی امت کے بارہ میں رحم کی بھیک مانگی۔ تب خدا کی رحمت بھی جوش میں آئی اور جبریل ؑ سے کہا کہ جاکر محمدؐ سے کہہ دو کہ ہم آپؐ کو آپؐ کی امت کے بارے میں راضی کریں گے اور ناخوش نہیں کریں گے۔(مسلم)88
    الغرض اللہ تعالیٰ نے رسول کریمؐ کو قبولیت دُعا کے ہر قسم کے نشان عطافرمائے اور اس کثرت سے آپؐ کی دعائیں بنی نوع انسان کے حق میں قبول ہوئیں کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ رسول کریمؐ کے پاکیزہ اسوہ پر عمل کے نتیجہ میں آج بھی ہر صاحب ایمان یہ برکات حاصل کرسکتا ہے۔





    حوالہ جات
    1
    بخاری کتاب الجمعۃ باب الدعاء فی الصلاۃ من اخر اللیل:107
    2
    ترمذی کتاب الدعوات باب ماجاء فی عقد التسبیح بالید:3421
    3
    ابوداؤد باب الصلاۃ باب ماجاء فی الدعاء بین الاذان والاقامۃ:437
    4
    ترمذی کتاب الدعوات باب فی العفووالعافیۃ:3518
    5
    تحفۃ الذاکرین للشوکانی ص42,43دارالکتاب العربی بیروت
    6
    ابوداؤد کتاب الصلاۃ باب الاجابۃ أیۃ الساعۃ:885
    7
    بخاری کتاب صلاۃ التراویح باب العمل فی العشرالأ واخر:1884
    8
    ترمذی کتاب الدعوات باب فی العفو والعافیۃ:3522
    9
    ترمذی کتاب الدعوات باب منہ:3435
    10
    بخاری کتاب الدعوات باب فضل ذکر اللہ:5929
    11
    ابن ماجہ کتاب الدعاء باب مایدعو بہ الرجل اذارأی السحاب:3879
    12
    بخاری کتاب التفسیر سورۃ الفاتحہ باب غیرالمغضوب علیھم ولاالضَّآلین
    13
    مسلم کتاب الصلوٰۃ باب مایقال فی الرکوع والسجود:744
    14
    بخاری کتاب المظالم باب الاتقاء والحذرمن دعوۃ المظلوم
    15
    مسلم کتاب الذکر باب فضل الدعاء للمسلمین بظھر الغیب:4914
    16
    ترمذی کتاب الدعوات باب فی دعاء النبیؐ :3479
    17
    ترمذی کتاب الدعوات باب ماذکر فی دعوۃ المسافر:3370
    18
    ترمذی کتاب صفۃ الجنۃ باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ:2449
    19
    تحفہ الذاکرین للشوکانی ص44,45 دارالکتاب العربی مطبوعہ بیروت
    20
    نسائی کتاب مناسک الحج باب التھلیل علی الصفا:2924
    21
    ترمذی کتاب الدعوات باب فی الدعاء یوم عرفۃ:3509
    22
    بخاری کتاب الجمعۃ باب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدنیۃ
    23
    مسلم کتاب الذکروالدعاء والتوبہ والاستغفارباب کراھۃ الدعاء بتعجیل العقوبۃ
    24
    ابوداؤد کتاب الادب باب مایقول اِذا أصبح
    25
    ترمذی کتاب الدعوات
    26
    مسنداحمد جلد5ص243
    27
    بخاری کتاب التفسیر سورہ بنی اسرائیل باب ذریۃ من حملنا مع نوح:41
    28
    ترمذی کتاب المناقب باب عمر بن الخطاب
    29
    بخاری کتاب التفسیر سورۃ الروم والدخان
    30
    الخصائص الکبریٰ للسیوطی جز ثانی صفحہ163مطبوعہ بیروت
    31
    المعجم الکبیر لطبرانی جلد11ص174بیروت
    32
    بخاری کتاب بدء الخلق باب ذکر الملائکۃ
    33
    نور الیقین فی سیرۃ خاتم النبین ڈاکٹرخضری بک واقعہ سفر طائف مطبوعہ مصر
    34
    بخاری کتاب المغازی وتر مذی ابواب المناقب باب مناقب ثقیف
    35
    دلائل النبوۃ للبیھقی جلد5ص361،مسند احمد جلد2ص243مطبوعہ بیروت
    36
    الاصابہ فی تمییز الصحابہؓ زیر لفظ ابوھریرہؓ جلد 4ص204مطبوعہ مصر
    37
    الخصائص الکبریٰ للسیوطی جزثانی ص167مطبوعہ بیروت
    38
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۂ بدر
    39
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۂ بدر
    40
    مجمع الزوائدللھیثمی جلد6ص82مطبوعہ بیروت
    41
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الخندق وھی الاحزاب:3805
    42
    سیرت الحلبیہ جلد3ص35بیروت
    43
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خیبر:3888
    44
    السیرۃالحلبیہ جلد3ص74بیروت
    45
    بخاری کتاب الجہاد باب حمل الزاد فی الغزو
    46
    الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ للقاضی عیاض جلد459
    47
    بخاری کتاب المناقب باب مقدم النبی واصحابہ المدینہ:3633
    48
    بخاری کتاب الجمعۃ باب الاستسقاء علی المنبر:959
    49
    بخاری کتاب الدعوات باب دعوۃ النبی لخادمہ
    50
    الاسد الغابہ لابن اثیر جلد1ص128مطبوعہ بیروت
    51
    بخاری کتاب المغازی باب غزوہ احد و کتاب الاستقراض
    52
    مسلم کتاب الاشر بہ باب اکرام الضیف و فضل ایثارہ
    53
    الخصائص الکبریٰ للسیوطی جزثانی ص71
    54
    الخصائص الکبریٰ للسیوطی جز ثانی ص170بحوالہ بیھقی دارالکتاب العربی
    55
    الخصائص الکبریٰ للسیوطی جز ثانی ص169بیروت بحوالہ بیھقی وابونعیم
    56
    بخاری کتاب الجہاد باب دعاء النبیؐ الناس الی الاسلام:2724
    57
    ابن ماجہ کتاب المقدمۃ باب فضل علی بن ابی طالب:114
    58
    مسند احمد بن حنبل جلد4ص170مطبوعہ بیروت
    59
    مسند احمد بن حنبل جلد1ص254بیروت
    60
    بخاری کتاب المناقب باب خاتم النبوۃ
    61
    الاکمال فی اسماء الرجال للخطیب زیر لفظ سائب
    62
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خیبر
    63
    ترمذی کتاب المناقب باب فی آیات اثبات نبوۃ النبیؐ:3562
    64
    مستدرک حاکم کتاب الدعاء جلد1ص542مطبوعہ مصر
    65
    الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ للقاضی عیاض جلد1ص458بیروت
    66
    بخاری کتاب المغازی باب غزوہ بدر
    67
    بخاری کتاب الجہاد باب فضل من یصرع فی سبیل اللہ
    68
    بخاری کتاب الوصایا باب ان یترک ورثتہ اغنیاء خیر:2537
    69
    الاصابہ فی تمییز الصحابہ زیر لفظ سعد
    70
    بخاری کتاب الوضوء باب وضع الماء عندالخلائ:140
    71
    بخاری کتاب المغازی باب غزوہ ذی الخلصہ
    72
    مسند احمدبن حنبل جلد5ص446-447 و
    الخصائص الکبریٰ للسیوطی جزثانی ص167بیروت
    73
    ترمذی کتاب المناقب باب مناقب ابی ھریرۃ:3769
    74
    الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ للقاضی عیاض جلد1ص457بحوالہ بیھقی
    75
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ أوطاس:3979
    76
    السیرۃ الحلبیہ جلد 3ص44مطبوعہ بیروت
    77
    الخصائص الکبریٰ للسیوطی جز ثانی ص165بیروت
    78
    الوفاء باحوال المصطفی ص764ازابن الجوزی بیروت
    79
    بخاری کتاب الجہاد باب الدعاء علی المشرکین بالھزیمۃ:2717
    80
    بخاری کتاب المغازی باب کتاب النبیؐالی کسریٰ
    81
    فتح الباری لابن حجرجلد4ص39 دارالکتب الاسلامیہ لاہور
    82
    الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ للقاضی عیاض جلد1ص46بحوالہ بیھقی
    83
    مسلم کتاب المنافقین باب 1:4986
    84
    جامع الصغیر للسیوطی جز1ص60بیروت
    85
    مسند احمدبن حنبل جلد3ص416بیروت
    86
    مسند احمد بن حنبل جلد6ص93بیروت
    87
    بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء علی المشرکین
    88
    مسلم کتاب الایمان باب دعاء النبی لامتہ :346

    مخبر صادقؐکے رؤیا و کشوف اور پیشگوئیاں
    خواب انسان کی باطنی کیفیت کے آئینہ دار ہوتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا جائزہ لینے کے لئے آپ ؐکے رؤیا وکشوف کا مضمون بھی بہت اہم ہے ۔دوسرے رؤیا وکشوف کے ذریعہ خوش خبریوں کا عطا ہونا اور خدا کا بندے سے کلام کرنا محبت الٰہی کی نشانی ہے۔
    تیسرے جن رؤیا وکشوف کا تعلق آئندہ زمانے سے ہو ان کاکثرت سے ہوبہو پورا ہو جاناصاحب کشف والہام انسان کی سچائی کا نشان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے متعلق فرماتا ہے۔ ’’وہ غیب کا جاننے والا ہے پس وہ کسی کو اپنے غیب پر غلبہ عطا نہیں کرتابجز اپنے برگزیدہ رسول کے۔‘‘(سورۃ الجن:27) اس اظہار غیب کا ذریعہ وحی والہام اور رؤیا وکشوف ہی ہیں۔چنانچہ دوسری جگہ فرمایا’’اور کسی انسان کے لئے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ یا پردے کے پیچھے سے یاکوئی پیغام رساں بھیجے جو اُس کے اِذن سے جو وہ چاہے وحی کرے۔یقینا وہ بہت بلند شان (اور)حکمت والا ہے۔‘‘(سورۃ الشوریٰ:52)
    رؤیا وکشوف کے بارہ میں قرآن شریف سے یہ اصول بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض پیش گوئیاں انبیاء کی زندگی میں پوری ہو جاتی ہیں اور بعض وفات کے بعد ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔’’اگرہم تجھے اُن انذاری وعدوں میں سے کچھ دکھادیں جو ہم ان سے کرتے ہیں یا تجھے وفات دے دیں تو(ہرصورت) تیرا کام صرف کھول کھول کر ُپہنچادینا ہے اور حساب ہمارے ذمہ ہے۔‘‘(سورۃ الرعد:41)
    سید الانبیا ء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’بشیر ونذیر ‘‘کے لقب سے بھی نوازاگیا ہے ۔ آپؐ کو قرآن شریف میں بیان فرمودہ بشارات اور تنبیہات کی تفاصیل رؤیا و کشوف کے ذریعے عطا فرمائی گئیں اور امت محمدیہ میں قیامت تک رونما ہونے والے واقعات کی خبریں عطا کی گئیں۔ ایک دفعہ نمازِ کسوف کے دوران ہونے والے کشفی نظارہ کے بارہ میں آپؐ نے فرمایا ’’مجھے ابھی اس جگہ آئندہ کے وہ تمام نظارے کروائے گئے جن کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے ‘‘ یہاں تک کہ جنت ودوزخ کی کیفیات بھی دکھائی گئیں۔ اس واضح اور جلی کشف میں بعض نعماء جنت اپنے سامنے دیکھ کر آپؐ انہیں لینے کے لئے آگے بڑھے اور جہنم کی شدت و تمازت کا نظارہ کر کے پیچھے ہٹے ۔(بخاری)1
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان رؤیا و کشوف کی مختلف انواع و کیفیات اور واقعات میں سے بطور نمونہ کچھ ذکر اس جگہ کیا جاتا ہے۔
    ۱۔نبی کریمؐ کی زندگی میں ظاہری رنگ میں پوری ہونے والی رؤیا
    پہلی قسم اُن رؤیاء و کشوف اور پیش گوئیوں کی ہے، جو نبی کریمؐکی حیات مبارکہ میں ہی واضح طور پر اپنے ظاہری رنگ میں منّ وعَنْ پوری ہو گئیں۔
    حضرت عائشہ ؓسے شادی کی رؤیا
    حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ شادی سے قبل ان کی تصویر دکھا کرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ آپ ؐکی بیوی ہے۔ظاہری حالات میں یہ بات ناممکن نظر آتی تھی کیونکہ حضرت عائشہؓ کی منگنی دوسری جگہ طے ہوچکی تھی اور یوں بھی نبی کریمؐ اور حضرت عائشہؓ کی عمروں کا فرق ہی چالیس سال سے زائد تھا۔ اس پیشگی غیبی خبر پر کامل ایمان کے باوجود آنحضورؐ نے کمال احتیاط سے اس کی تعبیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس رؤیاکا ظاہری رنگ میں پورا ہونا ہی مراد ہے تو وہ خود اس کے سامان پیدا فرماوے گا۔ (بخاری)2
    پھر بظاہر نا موافق حالات کے باوجود اللہ تعالیٰ نے یہ بات غیرمعمولی رنگ میںپوری کردکھائی اورجُبیر بن مطعم سے منگنی ختم ہونے کے بعد کم سن حضرت عائشہؓ رسول اللہؐ کے عقد میں آئیں اور اُمّ المؤمنین کا اعزازان کو عطاہوا۔
    مکی دور میں فتح بدرکی پیش گوئی
    ان پیشگوئیوں میں سے ایک غزوۂ بدر کی فتح کی پیش گوئی بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکّہ ہی میں تھے اور مسلمان انتہائی کمزور اور مظلوم ومقہور ہو چکے تھے ۔ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پہلی قوموں کی قربانیوں کی مثالیں دے کر صبر کی تلقین فرماتے تھے۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے تازہ نشان بھی مسلمانوں کے لئے انشراحِ صدر اور مضبوطیٔ ایمان کا موجب ہوتے تھے۔جیسے شقِّ قمر کا معجزہ وغیرہ۔ چاند جو عربوں کی حکومت کا نشان تھا۔ اس کے دو ٹکڑے کر کے دکھانے میں یہ بلیغ اشارہ بھی تھا کہ قریش کی حکومت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی اور انکی وحدت ملی پارہ پارہ ہوکر رہے گی۔سورۃ قمر (جس میں واقعہ شق قمر کا ذکر ہے ) میں واشگاف الفاظ میں مسلمانوں کے مقابل پر کفار کے ایک بڑے گروہ کی پسپائی کا ذکر ہے۔فرمایا سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَo(القمر:46)یعنی( اس روز قریش کی) جمعیت پسپا ہوگی اور یہ (اوران کے لشکر) پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہونگے۔
    کمزوری کے اس زمانے میں دشمن اس پیشگوئی کو دیوانے کی ایک بڑکہہ سکتے تھے اور اسی لئے ساحرومجنون کے الزام لگاتے تھے۔پھراللہ تعالیٰ نے جس شان سے ان وعدوں کو پورا فرمایا اس پر اہل مکّہ بھی انگشت بدنداں ہوکررہ گئے۔
    چنانچہ بدر کے موقع پر اس پیشگی وعدۂ فتح کی توثیق کرتے ہوئے فرمایا۔ وَاِذْیَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحْدَی الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّھَالَکُمْ(سورۃالانفال:8) کہ اس وقت کو یادکرو جب اللہ تمہیں دو گروہوں (یعنی لشکرکفار اور قافلہ) میں ایک کا وعدہ کررہا تھا کہ اس پر تم کو فتح ہوگی۔
    پھر بھی جب میدان بدر میں رسول اللہؐ نے دیکھا کہ قریش کے تجارتی قافلے کی بجائے ایک مسلح لشکر جرارسامنے ہے جو کمزور نہتے مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ہے تو طبعاً آپؐ کوفکر دامنگیرہوئی۔ تب خداتعالیٰ کی شان غنا سے ڈرتے ہوئے اور اپنی کمزوری پر نظر کرتے ہوئے رسول اللہؐ نے دعائوں کی حد کردی۔ آپؐ بدر کے دن اللہ تعالیٰ کو اس کے وعدوں کا واسطہ دے دے کر اتنے الحاح سے د عا کررہے تھے کہ چادر کندھوں سے گر گر جاتی تھی۔
    آپؐ اپنے مولیٰ سے سرگوشیاں کر رہے تھے۔اے اللہ تیرے عہدوں اور وعدوں کا واسطہ! (تو ہمیں کامیاب کر) اے اللہ اگر آج تو نے مسلمانوں کی اس جماعت کو ہلاک کردیا تو کون تیری عبادت کرے گا۔
    حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ کا ہاتھ پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہؐ! اب بس کریں۔ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھے۔ آپؐ یہ آیت تلاوت کررہے تھے ۔سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَo(سورۃالقمر:46)کہ لشکر ضرور پسپا ہوں گے اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ (بخاری3)گویا خدا کاپیشگی وعدہ فتح یاد کرکے مسلمانوں کو تسلی دے رہے تھے۔ چنانچہ بظاہر نامساعد حالات میں اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان میں مسلمانوں کو حیرت انگیز فتح عطافرمائی اور رسول اللہؐ کیکنکریوں کی ایک مٹھی کفار پرآندھی و طوفان بن کرٹوٹی اور انہیں پسپا کرنے کا موجب بن گئی۔
    سرداران قریش کی ہلاکت کی پیشگوئی
    نبی کریم ؐ کو بدر میں صنادید قریش کی ہلاکت کا کشفی نظارہ پہلے سے کروایا گیا تھا۔اس بارہ میں حضرت انسؓ بیان کرتے تھے کہ ہم مکّہ و مدینہ کے درمیان حضرت عمرؓ کے ساتھ شریک سفر تھے۔چنانچہ حضرت عمرؓ فرماتے تھے کہ معرکۂ بدر سے ایک روز قبل رسول کریمؐ نے ہمیں مشرک سرداروں کے ہلاک ہونے کی جگہوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا’’یہ فلاں شخص کے ہلاک ہونے کی جگہ ہے اور یہاں فلاں شخص ہلاک ہوگا۔‘‘حضرت عمرؓ کہتے ہیں پھر ہم نے دیکھا کہ وہ لوگ وہیں گر گر کر ہلاک ہوئے جہاں رسول خداؐ نے بتایاتھا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ۔آپ ؐنے ان کے گر کر ہلاک ہونے کی جو جگہیں بتائی تھیں، ان میں ذرا بھی غلطی نہیں ہوئی۔(مسلم)4
    غزوۂ بدر میں قریش کے چوبیس سردار ہلاک ہوئے۔انہیں بدر کے ایک گڑھے میں ڈالا گیا۔ تیسرے دن بدرسے کُوچ کے وقت رسو ل کریمؐاس گڑھے کے کنارے کھڑے ہوکر ان سرداروں اور ان کے باپوں کے نام لے کر پکارنے لگے ۔آپؐ فرماتے تھے ’’اے فلاں کے بیٹے کیا تمہیں یہ بات خوش کرتی ہے کہ تم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی ہوتی؟‘‘ہم نے تو اپنے ربّ کے وعدوں کو سچاپالیا کیا تم نے اپنے رب کا وعدہ حق پایا ہے یا نہیں؟ حضرت عمرؓ نے عرض کیا ’’یارسول اللہؐ !آپؐ ان بے جان جسموں سے کلام کررہے ہیں ‘‘آپ ؐ نے فرمایا ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے، جو باتیں میں کہہ رہا ہوں وہ انکو تم سے زیادہ سمجھ رہے ہیں۔‘‘ (یعنی اپنے ظلموں کی جزاپاکر)۔(بخاری)5
    مکی دور میں ہجرتِ مدینہ اور مکّہ واپسی کی پیشگوئی
    قرآن شریف میں سورۂ قَصص (جو مکی سورۃ ہے) کے آغاز میں حضرت موسیٰ ؑکے حالات اور سفر ہجرت کا ذکر ہے۔ آخرمیں مثیل موسیٰ نبی کریمؐ کے مکّہ سے ہجرت کرنے اور پھر مکّہ لوٹ کر آنے کی پیشگوئی واضح الفاظ میں کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَ آدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ط(سورۃ القصص :86)یعنی وہ جس نے تجھ پر قرآن فرض کیا ہے ،ضرور تجھے ایک واپس آنے کی جگہ کی طرف واپس لے آئے گا۔
    یہ پیشگوئی جن حالات میں کی گئی، ان میں مکّہ سے نکالے جانے کے بعد پھر واپس آنا بظاہر ایک ناممکن سی بات معلوم ہوتی تھی۔فتح مکّہ سے چندروز قبل تک بھی معلوم نہ تھا کہ رسول اللہؐ اس شان سے مکّہ میں داخل ہوں گے۔مگر یہ پیشگوئی صرف آٹھ سال کے عرصہ میں کس شان سے پوری ہوئی۔
    کسرٰی شاہ ایران کی ہلاکت کی پیشگوئی
    رسول اللہؐ نے کسرٰی شاہ ایران کو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہوئے خط لکھا ۔اس نے نہایت بے ادبی سے وہ خط پھاڑ دیا۔رسول کریمؐ کو علم ہوا تو آپؐ نے کسریٰ کی حکومت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی دعا کی۔پھر نہایت معجزانہ رنگ میں اس زمانہ کی یہ طاقتور حکومت بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوئی اورا س کا جابرو ظالم حاکم بھی پیشگوئی کے مطابق ہلاک ہوا اوررسول خداکی سچائی کا نشان بنا۔
    تفصیل اس کی یوں ہے کہ نبی کریمؐ کے تبلیغی خط کو کسریٰ نے اپنی ہتک سمجھااور یمن کے حاکم باذان کو حکم بھجوایا کہ اس شخص کو جو حجاز میں ہے دو مضبوط آدمی بھجوائو جوگرفتار کر کے اُسے میرے پاس لے آئیں۔باذان نے ایک افسربابویہ نامی اور ایک ایرانی شخص کے ہاتھ اپنے خط میںآنحضرت ؐکو لکھا کہ آپؐ ان دونوں کے ساتھ شاہ ایران کے پاس حاضر ہوں ۔ بابویہ کو اس نے کہا اس دعویدار نبوت سے جاکرخود بات کرو اور اس کے حالات سے مجھے مطلع کرو۔ یہ لوگ طائف پہنچے اور آنحضرت ؐ کے بارہ میں پوچھا ۔انہوں نے کہا وہ تو مدینہ میں ہیں۔ طائف والے اس پر بہت خوش ہوئے کہ اب کسرٰی شاہ ایران اس شخص کے پیچھے پڑگیا ہے۔ وہ اس کے لئے کافی ہے۔دونوں قاصدمدینہ پہنچے۔ بابویہ نے رسول اللہؐ سے بات چیت کی اور آپؐ کو بتایا کہ شہنشاہ کسرٰی نے شاہ یمن باذان کو حکم بھجوایا ہے کہ آپؐ کو گرفتار کر کے اس کے پاس بھجوایا جائے اور مجھے باذان نے بھیجا ہے کہ آپؐ میرے ساتھ چلیں۔ اگر آپ ؐمیرے ساتھ چلنے پر تیار ہوں تو میں شنہشاہ کسریٰ کے نام ایسا خط دوں گاکہ وہ آپؐ کو کوئی گزند نہیں پہنچائے گا۔ اگر آپؐ میرے ساتھ چلنے سے انکاری ہیں تو آپؐ خود جانتے ہیں کہ اس میں آپؐ کی بلکہ پوری قوم کی ہلاکت اور ملک کی تباہی وبربادی ہے ۔ آپؐ نے ان دونوں نمائندوں سے فرمایا کہ اس وقت تم دونوں جاؤ صبح آنا۔ رسول اللہ ؐ کو اسی رات اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی کہ شنہشاہ ایران کے بیٹے شیرویہ کو اس پر مسلط کر دیاگیاہے۔ اس نے اپنے باپ کو فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو قتل کردیا ہے۔
    اگلی صبح جب وہ دونوں رسو ل اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے ان دونوں سے فرمایا کہ میرے رب نے فلاں مہینے کی فلاں تاریخ رات کے وقت تمہارے رب کو ہلاک کر دیا ہے اور اس کے بیٹے شیرویہ کو اس پر مسلّط کر کے اسے قتل کیا ہے ۔ وہ دونوں کہنے لگے آپؐ کو پتہ ہے کہ آپؐ کیا کہہ رہے ہیں۔ ہم اس سے معمولی بات پر بڑی بڑی سزائیں دیا کرتے ہیں ۔کیا ہم آپؐ کی بات شہنشاہ کو لکھ کر بھیج دیں۔ آپؐ نے بڑے جلال سے فرمایا ۔ہاں ! میری طرف سے اسے یہ اطلاع کردو اور اسے جا کر یہ پیغام دو کہ میرا دین اور میرا غلبہ یقیناً تمہارے ملک ایران پر بھی ہو گااور اس کو کہہ دینا کہ اگر تم اسلام قبول کرلو تو تمہارا یہ ملک تمہارے ماتحت کر دیا جائے گا اور تمہیں تمہاری قوم پر حاکم بنا دیا جائے گا ۔یہ دونوں شخص جب حاکم یمن باذان کے پاس پہنچے تو اس نے کہا یہ کسی بادشاہ کا کلام نہیں ہے یہ شخص تو نبی معلوم ہوتا ہے ۔ جو کچھ اس نے کہا ہے ہم اس کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر تو یہ سچ نکلا تو یقیناًیہ خدا کا بھیجا ہوا نبی ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو ہم اس کے بارے میں اپنا فیصلہ کریں گے ۔تھوڑے ہی عرصے بعد باذان کو نئے شہنشاہ شیرویہ کا خط آیا، جس میں لکھا تھا۔ میں نے اپنے ملک ایران کے مفاد کی خاطرکسریٰ کوقتل کیا ہے کیونکہ وہ ایرانی سرداروں اور معززین کے قتل کا حکم دیتا اور ان کو قید کرتا تھا ۔اب تم میرا یہ خط پہنچتے ہی عوام سے میری اطاعت کا عہد لو اور کسریٰ نے جو خط حجاز کے ایک شخص کی گرفتاری کا لکھا تھا کالعدم سمجھو یہاں تک کہ میرا دوسرا حکم تمہیں پہنچے ۔ کسریٰ کے بیٹے کا خط پڑھتے ہی باذان کہنے لگا یہ شخص تو اللہ کا رسول ہے۔چنانچہ اس نے فوراً اسلام قبول کر لیا اور کئی ایرانی باشندے بھی جو یمن میں آباد تھے مسلمان ہو گئے ۔(طبری)6
    اسود عنسی کے قتل کی خبر
    حضرت عبداللہؓ بن عمربیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ؐ کو رات کے وقت اسود عنسی (مدعی نبوت ) کے قتل کی خبر دی ۔آپؐ نے ہمیں علی الصبح اطلاع فرمائی کہ آج رات اسود عنسی قتل ہو گیا ہے۔ ایک مبارک آدمی نے اس کو قتل کیا ہے ۔پوچھا گیا وہ کون ہے ؟ آپؐ نے فرمایا کہ اس کا نام فیروز بان فیروز ہے ۔(کنز)7
    -2تعبیر طلب رؤیا اور ان کا پورا ہونا
    دوسری قسم کی رؤیا یا پیشگوئیاں وہ ہیں جو اپنے ظاہری الفاظ میں پوری نہیں ہوتیں بلکہ تعبیر طلب ہوتی ہیں۔ رسول کریمؐ کو ان کی تعبیر کے بارہ میں بھی قبل از وقت علم عطا فرمایا گیا اور آپؐ نے وقت سے پہلے کھول کر بتا دیا کہ اس رؤیا کے مطابق یوں واقعہ ہوگا۔ اور پھر اسی طرح ظہور میں آکر وہ واقعات آپؐ کی سچائی کے گواہ بنے۔
    جھوٹے مدعیان نبوت کے ظہور کی پیشگوئی
    حجۃ الوداع کے بعد نبی کریم ؐ نے دو جھوٹے مدّعیان نبوت کے بارہ میں اپنی یہ رؤیابیان فرمائی کہ میں سویا ہوا تھا۔ زمین کے خزانے مجھے دیئے گئے ۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں دو سونے کے کنگن دیکھے۔ میری طبیعت پر یہ بات گراں گزری۔ سونے کے یہ کنگن میرے لئے باعث پریشانی ہوئے۔تب مجھے وحی ہوئی کہ ان کو پھونک ماریں۔ میں نے پھونک ماری تو وہ اُڑ گئے۔ میں نے اس رؤیا کی یہ تعبیر کی کہ دو جھوٹے دعویدارہیں جن کے درمیان میںہوں۔ایک تو صنعاء کا باشندہ(اسود عنسی) دوسرا یمامہ کا رہنے والا (مسیلمہ کذاب)۔ (بخاری)8
    یہ رؤیا بھی حضورؐ کی زندگی میں پوری ہوئی اور ان دونوںمدّعیان نے رسول اللہؐ کی زندگی میں نبوت کے دعوے کئے ۔اسود عنسی آپؐ کی زندگی میں اور مسیلمہ بعد میں ہلاک ہوا۔
    خلافت ابو بکرؓ وعمرؓ کے متعلق رؤیا
    خدا تعالیٰ کے ہرمامور کی طرح نبی کریم ؐ کو اپنے بعد اپنے مشن کے جاری اور قائم رہنے کی فکر لاحق تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فکر اُس رؤیا کے ذریعے دور فرمادی جس میں حضرت ابو بکرؓ کے مختصر زمانہ خلافت او ر حضرت عمرؓکے فتوحات سے بھرپور پُر شوکت عہد کی طرف اشارہ تھا۔ نبی کریم ؐ نے فرمایاکہ
    ’’میں نے رؤیا میں دیکھا کہ میں سیاہ رنگ کی بکریوں کے لئے کنوئیں سے پانی کھینچ رہا ہوں جن میں کچھ گندمی رنگ کی بکریا ں بھی ہیں۔ اتنے میں ابو بکرؓ آئے انہوں نے ایک یا دو ڈول پانی کھینچا اور ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری تھی پھر عمرؓ آئے اور انہوں نے ڈول لیا تو وہ اسے بھرا ہوا کھینچ لائے۔ اُنہوں نے تمام لوگوں کو پانی سے سیراب کیا اور تمام بکریوں نے پانی پی لیا۔ میں نے آج تک ایسا کوئی باکمال وباہمت جواں مردنہیں دیکھا جو حضرت عمرؓ جیسی طاقت رکھتا ہو۔‘‘(بخاری)9
    چنانچہ یہ رؤیا بھی بڑی شان سے پوری ہوئی۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں قیصر و کسریٰ کی عظیم فتوحات کی بنیاد رکھ دی گئی اور بڑی بڑی فتوحات ہوئیں۔
    فتح ایران اورسراقہ بن مالک کے بارہ میں پیشگوئی
    سفر ہجرت میں سو اونٹوں کے انعام کے لالچ میں رسول اللہؐ کا تعاقب کرنے والے سراقہ بن مالکؓ کے حق میں بھی رسول اللہؐ کی پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی۔
    حضرت ابوبکرؓ ہجرت نبوی کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ ہمارا تعاقب کرنیوالوں میں سے صرف سراقہ بن مالک ہی ہم تک پہنچ سکا جو اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ! یہ ہمیں پکڑنے کیلئے آیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اے ابوبکرؓ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ جب سراقہ ہمارے قریب ہوا تو رسول کریم ؐ نے دعا کی کہ اے اللہ ہماری طرف سے توُ خود اسکے لئے کافی ہو۔تب اچانک اسکے گھوڑے کے اگلے دو پائوں زمین میں دھنس گئے۔اس پر سراقہ کہنے لگا مجھے پتہ چل گیا ہے کہ یہ آپؐ کی دعا کا نتیجہ ہے۔اب آپؐ دعا کریں اللہ مجھے اس سے نجات دے۔ خدا کی قسم اپنے پیچھے آنیوالوں کو میں آپؐ کے بارہ میں نہیں بتائوں گا ۔ آپؐ میرے تِیر بطور نشانی لے لیں۔ فلاں جگہ جب میرے اونٹوں اور بکریوں کے ریوڑ کے پاس سے آپؐ گزریں تو اپنی ضرورت کے مطابق جوچیز چاہیں لے لیں۔حضور ؐ نے فرمایا مجھے اس کی ضرورت نہیں۔پھر آپؐ نے اس کے لئے دعا کی اور اس کے گھوڑے کے پائوں باہر نکل آئے۔(احمد)10
    سراقہ کی درخواست پر رسول کریمؐ نے اسے ایک تحریر امان لکھواکر دی اور جب وہ واپس جانے لگا تو آپؐ نے فرمایا اے سراقہ !اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب کسرٰی کے کنگن تجھے پہنائے جائیں گے؟ سراقہ نے حیرانی سے کہا کسریٰ بن ہرُمز(شہنشاہ ایران)؟ آپؐ نے فرمایا’’ہاں کسریٰ بن ہرُمز کے کنگن۔‘‘
    اپنے جانی دشمنوں سے جان بچاکر ہجرت کرنے والے بظاہر ایک کمزور انسان کی اس پیشگوئی کی شان اور عظمت پر غورتو کریں جس میں سُراقہ کو کسریٰ کے کنگن پہنائے جانے سے کہیں بڑھ کر عظیم الشان پیشگوئی یہ تھی کہ ایران فتح ہوگا اور کسریٰ کے خزانے مسلمانوں کے قبضہ میں آئیں گے۔پھر نامساعد حالات میں کی گئی یہ پیشگوئی کس شان سے پوری ہوئی۔
    سراقہ نے فتح مکّہ کے بعدجِعّرانہ میں اسلام قبول کیا۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں کسرٰی کے کنگن اور تاج وغیرہ حضرت عمرؓ کے دربار میں پیش ہوئے۔ حضرت عمر ؓ نے سراقہ کو بلایا اور فرمایا’’ ہاتھ آگے کرو ‘‘۔ پھر آپ نے اُسے سونے کے کنگن پہنادیئے اور فرمایا اے سراقہ ! کہو کہ تمام تعریفیں اس خدا کی ہیں جس نے ان کنگنوں کو کسریٰ کے ہاتھ سے چھین کر سراقہ کے ہاتھوں میں پہنادیا۔ وہ کسریٰ جو یہ دعویٰ کرتا تھا کہ میں لوگوں کا رب ہوں۔(الحلبیہ)11
    اسلامی بحری فتوحات کی پیشگوئی
    ایک اور عظیم الشان کشف کا تعلق اسلامی بحری جنگوں سے ہے۔ مدنی زندگی کے اس دور میں جب بری سفروں اور جنگوں کے پورے سامان بھی مسلمانوں کو میسر نہیں تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کی بحری جنگوں اورفتوحات کی خبر دی گئی ۔
    حضرت ام حرامؓ بنت ملحان بیان کرتی ہیں کہ حضورؐ ہمارے گھر محو استراحت تھے کہ عالم خواب سے اچانک مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے ۔میں نے سبب پوچھا تو فرمایا کہ:۔
    ’’ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اس سمندر میں اس شان سے سفر کریں گے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوتے ہیں۔‘‘
    ام حرام ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہؐ !آپ ؐدعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے بنادے۔چنانچہ رسول کریمؐ نے یہ دعا کی کہ’’ اے اللہ اسے بھی ان میں شامل کردے۔‘‘پھر آپؐ کو اونگھ آگئی اور آنکھ کھلی توآپؐ مسکرارہے تھے۔ میں نے وجہ پوچھی تو آپؐ نے پہلے کی طرح امت کے ایک اور گروہ کا ذکر کیا جو خدا کی راہ میں جہاد کی خاطر نکلیں گے اور بادشاہوں کی طرح تخت پر بیٹھے سمندری سفر کریں گے۔ ام حرام ؓ نے پھر دعا کی درخواست کی کہ وہ اس گروہ میں بھی شامل ہوں۔آپؐ نے فرمایا’’ تم گروہ اولین میں شامل ہو، گروہ آخرین میں شریک نہیں۔‘‘ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ پھریہی حضرت ام حرامؓ سمندری سفر میں شامل ہوئیںاور اسی سفر سے واپسی پر سواری سے گر کر وفات پائی۔(بخاری)12
    اس پیشگوئی میں جزیرہ قبرص کے بحری سفر کی طرف اشارہ تھا۔ حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت میں حضرت معاویہؓ کو جب وہ شام کے گورنر تھے پہلے عظیم اسلامی بحری بیڑے کی تیاری کی توفیق ملی۔ اس سے قبل مسلمانوں کو کوئی کشتی تک میسر نہ تھی۔حضرت عثمان ؓ کے زمانہ خلافت میں ہی حضرت معاویہؓ نے اسلامی فوجوں کی بحری کمان سنبھالتے ہوئے جزیرہ قبرص کی طرف بحری سفر اختیار کیاجو اسلامی تاریخ میں پہلا بحری جہاد تھا۔جس کے نتیجہ میں قبرص فتح ہوا اور بعد میں ہونے والی بحری فتوحات کی بنیادیں رکھی گئیں۔یوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کی وہ بات پوری ہوئی کہ دین اسلام غالب آئے گا یہاں تک کہ سمندر پار کی دنیائوں میں بھی اس کا پیغام پہنچے گا اور مسلمانوں کے گھڑ سوار دستے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے سمندروں کو بھی چیر جائیں گے۔(کنز)13
    یہ پیش گوئی اس شان کے ساتھ جلوہ گر ہوئی کہ اس زمانہ کی زبردست ایرانی اور رومی بحری قوتوں کے مقابل پر حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت میں مسلمانوں نے اپنی بحری قوت کا لوہا منوایا۔ عبداللہ بن سعدؓ بن ابی سرح کی سرکردگی میں اسلامی بحری بیٹرے نے بحیرہ روم کے پانیوں میں اپنی دھاک بٹھاکر اسلامی حکومت کی عظمت کو چار چاند لگادیئے۔چنانچہ فتح قبرص کے بعد کی اسلامی مہمات میں جہاں مسلمان ایک طرف بحیرہ اسود و احمر کے بھی اس پار پہنچے اور بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑائے تو دوسری طرف مسلمان فاتحین نے بحیرہ روم کو عبور کر کے جزیرہ روس صقلیہ اور قسطنطنیہ کو فتح کیا۔تیسری طرف طارق بن زیاد فاتح سپین نے بحیرہ روم کو چیرتے ہوئے بحر اوقیانوس کے کنارے جبرا لٹر پر پہنچ کر ہر چہ بادا باد کہہ کر اپنے سفینے جلادیئے تو چوتھی طرف محمدبن قاسم نے بحیرہ عرب اور بحر ہند کے سینے چیر ڈالے اور یوں مسلمانوں نے جریدۂ عالم پر بحری دنیا میں کیا بلحاظ سمندری علوم میں ترقی اورکیا بلحاظ صنعت اور کیا بلحاظ جہاز رانی ایسے اَن مٹ نقوش ثبت کئے جو رہتی دنیا تک یادرہیں گے۔ نئی بندرگاہیں تعمیرہوئیں، جہاز سازی کے کارخانے بنے بحری راستوں کی نشان دہی اور سمندروں کی پیمائش کے اصول وضع ہوئے اور مسلمان جو پانیوں سے ڈرتے تھے سمندروں پر حکومت کرنے لگے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے رؤیا وکشوف کمال شان کے ساتھ پورے ہوئے۔
    -3تعبیر طلب رؤیا کاکسی اور رنگ میں پورا ہونا
    رؤیا اور کشوف کی تیسری صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ رؤیا کے وقت کی گئی تعبیر کے مطابق من و عن ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ الہٰی مشیٔت وتقدیرکے مطابق کسی اور بہتر رنگ میں ظاہر ہوتی ہیںجیسے واقعہ صلح حدیبیہ۔
    مدنی دور میں جب مسلمان اہل مکّہ سے حالت جنگ میں تھے اور ان کے حج و عمرہ پر پابندی تھی۔اس وقت رسول اللہؐ نے رؤیا میں اپنے آپؐ کو صحابہ کے ساتھ امن و امان سے طواف کرتے دیکھا اور ظاہری تعبیر پر عمل کرتے ہوئے چودہ سو صحابہ کی جماعت ہمراہ لے کر عمرہ کرنے تشریف بھی لے گئے۔مگر گہری مخفی الہٰی حکمتوں اور منشاء الہٰی کے تابع آپؐ اس سال عمرہ نہ کرسکے اور معاہدۂ صلح حدیبیہ کے مطابق اگلے سال عمرہ کیا۔لیکن اس معاہدۂ حدیبیہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خیبر کی فتح بھی عطا فرمائی اور مکّہ بھی اسی معاہدہ کی برکت سے فتح ہوا۔اب اگر یہ تعبیر ظاہری رنگ میں پوری ہوجاتی کہ اُسی سال مسلمان طواف کر بھی لیتے تووہ فوائد و برکات حاصل نہ ہوتیں جو صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں عطا ہوئی ہیں اور جسے قرآن شریف میں’’فتح مبین‘‘ قراردیا گیا۔(بخاری)14
    ہجرت مدینہ کی رؤیا بھی اسی قسم کی تھی جس کی درست تعبیر بعد میں ظاہر ہوئی۔نبی کریم ؐ کواپنی ہجرت کی جگہ دکھائی گئی کہ کوئی کھجوروں والی جگہ ہے۔ آپؐ نے اُس سے یمامہ یا حجر کی سرزمین مراد لی۔مگر بعد میں کھلا کہ اس سے یثرب یعنی ’’مدینۃ الرّسول‘‘ مراد تھا۔(بخاری)15
    رؤیا میںدارالہجرت کے نام کے اخفاء میں یقینا گہری حکمت پوشیدہ تھی کہ ہجرت کے سفر میں کوئی روک یا خطرہ حائل نہ ہو۔
    -4رؤیاپوری ہونے پر اُس کی تعبیرکا کھلنا
    بعض رؤیا ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی تعبیر رؤیا کے وقت واضح نہیں ہوتی مگر بعد میں رؤیا کے پورا ہونے پر سمجھ آتی ہے۔ جس کی ایک حکمت یہ ہوتی ہے کہ اُس واقعہ یاحادثہ کے ظہور کے بعد رؤیا میں مضمر منشاء الہٰی معلوم کرکے انسان کو اطمینان حاصل ہو۔جیسے غزوۂ احد سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رؤیا میں دیکھا کہ آپؐ کچھ گائیوں کو ذبح کر رہے ہیں۔اسی طرح دیکھا کہ آپؐاپنی تلوار لہراتے ہیں اور اس کا اگلا حصہ ٹوٹ جاتاہے۔ رؤیا کے وقت اس کی تعبیر واضح نہ تھی، مگر بعد میں اس کشف کی تعبیر اُحد میں سترّ مسلمانوں کی شہادت کی عظیم قربانی،خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے اور دندان مبارک شہید ہونے کے رنگ میں ظاہر ہو گئی اس وقت کُھلا کہ اس رؤیا کا کیا مطلب تھا۔(بخاری)16
    -5پیش گوئی کا جانشین یا اولاد کے حق میں پورا ہونا
    بعض رؤیا کی تعبیر بعد میں آنے والوں مثلاً نبیوں کے خلفاء ،اُن کے ماننے والوں یا صاحبِ رؤیا کی اولاد کے حق میں ظاہر ہوتی ہے۔
    ایک نہایت اہم اور غیر معمولی شان کا حامل لطیف کشف وہ ہے جس کا نظارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوۂ احزاب کے اس ہولناک ابتلاء میں کروایا گیا جب اہل مدینہ ایک طرف کفار مکّہ کے امکانی حملہ سے بچنے کی خاطر شہر کے گرد خندق کھود رہے تھے۔ دوسری طرف اندرونی طور پر وہ سخت قحط سالی کا شکار تھے اور جیساکہ حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐکے صحابہ خندق کی کھدائی میں مصرو ف تھے۔مسلسل تین دن سے فاقہ میں تھے خودآنحضرتؐ نے بھوک کی شدت سے پیٹ پر دو پتھر باندھ رکھے تھے۔(بخاری)17
    حضرت براء بن عازبؓ اس واقعہ کی مزید تفصیل بیان کرتے ہیں کہ خندق کی کھدائی کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پتھریلی چٹان کے نہ ٹوٹنے کی شکایت کی گئی۔ آپؐ نے اللہ کا نام لے کر کدال کی پہلی ضرب لگائی تو پتھر شکستہ ہوگیا اور اس کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ گرا۔ آپؐ نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور فرمایا کہ ملک شام کی کنجیاں میرے حوالے کی گئی ہیں اور خدا کی قسم ! میں شام کے سرخ محلات اس جگہ سے دیکھ رہا ہوں ۔پھر آپؐ نے اللہ کا نام لے کر کدال کی دوسری ضرب لگائی پتھر کا ایک اور حصہ شکستہ ہوکر ٹوٹا اور رسول کریمؐ نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کر کے فرمایا مجھے ایران کی چابیاں عطا کی گئی ہیں اور خدا کی قسم! میں مدائن اور اس کے سفید محلات اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپؐ نے اللہ کا نام لیکر تیسری ضرب لگائی اور باقی پتھر بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ آپؐ نے تیسری بار اللہ اکبر کا نعرہ بلند کر کے فرمایا! ’’ یمن کی چابیاں میرے سپرد کی گئی ہیں اور خدا کی قسم !میں صنعاء کے محلات کا نظارہ اس جگہ سے کررہا ہوں۔(احمد)18
    یہ عظیم الشان روحانی کشف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ کے زبردست ایمان و یقین پر بھی دلالت کرتا ہے کہ ایک طرف فاقہ کشی کے اس عالم میں جب دشمن کے حملے کے خطرے سے جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ خود حفاظت کے لئے خندق کھودنے کی دفاعی تدبیروں میں مصروف ہیں۔ الہٰی وعدوں پر کیساپختہ ایمان ہے کہ اپنے دور کی دو عظیم طاقتور سلطنتوں کی فتح کی خبر کمزور نہتے مسلمانوں کو دے رہے ہیں اور وہ بھی اس یقین پر قائم نعرہ ہائے تکبیر بلند کر رہے ہیں کہ بظاہر یہ انہونی باتیں ایک دن پوری ہوکر رہیں گی۔
    پھر خدا کی شان دیکھو کہ حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ خلافت سے ان فتوحات کا آغاز ہوجاتا ہے۔حضرت خالد بن ولید ؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ اسلامی فوجوں کے ساتھ شام کو فتح کرتے ہیں اور حضرت عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں ان فتوحات کی تکمیل ہوجاتی ہے اورحضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی سرکردگی میں مسلمان ایران کو فتح کرتے ہیں اور صرف چند سال کے مختصر عرصہ میں دنیاکی دو بڑی سلطنتیں روم اور ایران ان فاقہ کش مگر یقین محکم رکھنے والے مسلمانوں کے زیر نگیں ہوجاتی ہیں۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان فتوحات کے روشن نظارے اس تفصیل کے ساتھ کرائے گئے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ خُریم بن اوسؓ کے بیان کے مطابق حیرہ کی فتح کے بارہ میں رسول کریم ؐ کا کشف جس شان کے ساتھ پورا ہوا وہ حیرت انگیز ہے۔رسول کریمؐ نے فرمایا’’ حیرہ کے سفید محلّات میرے سامنے لائے گئے اور میں نے دیکھا کہ اس کی (شہزادی) شیماء بنت نفیلہ ازدیہ ایک سرخ خچر پر سوار سیاہ اوڑھنی سے نقاب اوڑھے ہوئے ہے۔ خُریم ؓ نے غالباً اس پیشگوئی کی مزید پختگی کی خاطر عرض کیا یا رسول اللہؐ! اگر ہم حیرہ میں یوں فاتحانہ داخل ہوئے اور ان کی شہزادی شیماء کو ایسا ہی پایا جیسا کہ حضورؐ نے بیان فرمایا ہے تو کیا وہ شہزادی میری ملکیت ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا ہاں وہ تمہاری ہوئی۔ اب دیکھیں اس پیشگوئی میں حیرہ کی فتح کے ساتھ شیماء اور خریم کے زندہ رہنے کی پیشگوئی بھی شامل ہے۔ خریم کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں جب ہم نے حیرہ فتح کیا تو بعینہٖ وہی نظارہ ہم نے دیکھا جو رسول اللہؐ نے بیان فرمایا تھا کہ شیماء خچر پر سوار سیاہ اوڑھنی کا نقاب کئے آرہی تھی۔میںاس کی خچر سے چمٹ گیا اور کہا کہ رسول اللہؐ نے یہ مجھے ھبہ فرمادی تھی۔ سالار فوج خالدؓ بن ولید نے مجھے بلوایا اور میرے دعویٰ کی دلیل طلب کی۔ میں نے محمد بن مسلمہؓ اور محمد بن بشیر انصاری ؓکو بطور گواہ پیش کیا اور شیماء میرے حوالے کردی گئی۔ اس کا بھائی عبدالمسیح صلح کی غرض سے میرے پاس آیا اور کہا کہ اسے میرے پاس فروخت کرد و میں نے کہا میں دس سو درہم سے کم نہیں لونگا۔ اس نے فوراً مجھے ایک ہزار درہم دیئے اور میں نے شیماء اس کے حوالے کردی۔ مجھے لوگ کہنے لگے اگر تم دس ہزار درہم بھی کہتے تو وہ ادا کردیتا۔ یہ تم نے ایک ہزار مانگ کرکیا کیا؟ میں نے کہا دس سو سے زیادہ مجھے بھی گنتی نہیں آتی تھی۔(ابونعیم)19
    فاقہ کش ابوہریرہؓ جنہوں نے اِن رؤیاکی تعبیراپنی آنکھوں سے پوری ہوتے دیکھی،وہ یہ فتوحات دیکھ کر کہا کرتے تھے کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ’’ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئیں یہاں تک کہ میں نے اپنے ہاتھوں میں رکھیں‘‘۔پھرکہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو وفات پاگئے۔ اب تم ان خزانوں کوحاصل کررہے ہو۔(بخاری) 20
    پس رسول اللہؐ کے رؤیا ،کشوف اور پیشگوئیاں مختلف رنگوں میں الہٰی منشاء اور حکمت کے مطابق بہرحال پوری ہوئیںاورآج ہمارے لئے ازدیاد ایمان کا موجب بن کر ہمیں یقین دلاتی ہیں کہ اسلام کی نشأۃِ ثانیہ کے وہ وعدے بھی ضروربالضرور پورے ہونگے جو ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم سے کئے گئے ۔
    چنانچہ آخری زمانہ کے بعض خوش قسمت گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے رسول کریمؐ نے فرمایا کہ میری امت کے دو گروہوں کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے محفوظ فرمایا ہے ایک وہ جو ہندوستان سے جہاد کرے گا اور دوسری وہ جماعت جو عیسیٰ ؑبن مریم کے ساتھ ہوگی۔(نسائی)21
    اس پیشگوئی کا پہلا حصہ بڑی شان کے ساتھ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اس وقت پورا ہوا جب محمد بن قاسم کے ذریعے سندھ کی فتح سے ہندوستان کی فتوحات کا آغازہوا۔ اور انہوں نے سندھ کے باسیوں کووہاں کے ظالم حکمرانوں سے نجات دلا کر عدل وانصاف کی حکومت قائم کی اور اپنے اعلیٰ کردار اور پاکیزہ اقدار سے اہل سندھ کو اپنا گرویدہ کر لیا۔ یوں یہاں اسلام کا آغاز ہوا ۔پیشگوئی کے دوسرے حصے کا تعلق اس آخری زمانہ سے ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین کو سمیٹ کر دکھایا،یہاں تک کہ اُس کے مشرقی کنارے بھی اور مغربی کنارے بھی میرے سامنے تھے۔ اور مجھے کہا گیا تھا کہ میری اُمت کی حکومت زمین کے اُن تمام کناروں تک پہنچے گی جو مجھے سمیٹ کر دکھائے گئے اور مجھے دو خزانے دیئے گئے ایک سرخ خزانہ(یعنی سونے کا) اور ایک سفید خزانہ( یعنی چاندی کا)‘‘ (مسلم)22
    اسلام کے اس آخری عظیم الشان غلبہ کے بارہ میں آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کوئی کچا یا پکا گھر نہیں چھوڑے گا مگر اس میں اسلام کو داخل کر دے گا۔ان الہٰی وعدوں پر ہر مومن کو یقین اور ایمان ہونا چاہیے کیونکہ
    جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور
    ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے


    حوالہ جات
    1
    بخاری کتاب الجمعۃ باب اذافتلت الدابۃ فی الصلاۃ:1134
    2
    بخاری کتاب النکاح باب الابکار :4688
    3
    بخاری کتاب التفسیر باب سیھزم الجمع ویولون الدبر
    4
    مسلم کتاب الجنہ وصفۃ نعیمھا باب عرض مقعد المیت من الجنۃ:5120
    5
    بخاری کتاب المغازی باب قتل ابی جہل:3679
    6
    تاریخ الامم والملوک لطبری جز3ص248دارالفکربیروت
    7
    کنزالعمال حدیث نمبر 37472
    8
    بخاری کتاب تعبیر الرؤیاباب النفخ فی المنام :6515
    9
    بخاری کتاب المناقب باب مناقب عمر
    10
    مسند احمد جلد 1ص2مطبوعہ مصر
    11
    السیرۃ الحلبیہ جلد 2ص45 مطبوعہ بیروت
    12
    بخاری کتاب الجہادباب الدعاء بالجہادوالشہادۃ للرجال والنسائ:2580
    13
    کنزالعمال جلد 10 ص 212 مطبوعہ حلب
    14
    بخاری کتاب التفسیر سورۃ الفتح
    15
    بخاری کتاب المناقب باب ھجرۃ النبی الی المدینۃ
    16
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ احد
    17
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الخندق وھی الاحزاب :3792
    18
    مسند احمد بن حنبل جلد 4 ص 303 دارالفکر بیروت
    19
    دلائل النبوۃ لابی نعیم جلد2ص692
    20
    بخاری کتاب التعبیر باب رؤیا اللیل:6483
    21
    نسائی کتاب الجہاد باب غزوۃ الھند
    22
    مسلم کتاب الفتن واشراط الساعۃ باب ھلاک ھذہ الامۃ بعضھم ببعض:5144

    صداقت شعاری میں رسول اللہؐ کا بلند مقام
    انسانی سیرت و کردار کی تعمیر میں سب سے اہم وصف صدق لہجہ، سچائی اور راست گفتاری ہے۔ دراصل انسان کی باطنی سچائی ہی ہے جس کا اظہار نہ صرف اس کی زبان سے بلکہ سیر ت و کردار حتّٰی کہ اس کی پیشانی سے بھی جھلکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ماموروں اور فرستادوں کی سچائی کا نشان یہی صداقت شعاری کا خلق ٹھہرایا ہے۔
    چنانچہ نبی کریم ؐ کے ذریعہ اہل مکّہ کو یہ خطاب ہوا کہ ’’ان کو کہہ دے اگر اللہ چاہتا تو میں یہ( قرآن ) تم کو پڑھ کرنہ سناتا اور نہ اس سے تمہیں آگاہ کرتا۔ اس سے پہلے میں تمہارے درمیان عمر کا ایک حصّہ گزار چکا ہوں کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔‘‘ (سورۃیونس آیت 17)
    اس آیت میں آنحضرت ﷺکی دعویٰ سے پہلے کی زندگی بحیثیت مدّعیٔ نبوت راست گفتاری میں بطور مثال کے پیش فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ جو شخص بچپن اور جوانی میں انسانوں سے جھوٹ نہیں بولتا وہ بڑھاپے کے قریب خدا پر کیسے جھوٹ باندھ سکتا ہے۔ بلاشبہ مدّعی ٔ نبوت کی صداقت کے لئے یہ ایک بنیادی اور اہم دلیل ہے۔اس پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو پرکھا جائے تو آپؐ کی سچائی روز روشن کی طرح ظاہر و باہر ہے۔
    آپؐ ہی تھے جن کو آغاز جوانی سے ہی اپنے پرائے سبھی امانت دار مانتے تھے۔ آپؐ کا نام ہی صدوق پڑگیا تھا جو بے حد سچ بولنے والے کو کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن بھی دعویٔ نبوت تک کھلم کھلا یہ گواہی دیتے رہے کہ آپؐنے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔اس جگہ ہم رسول کریمؐ کی صداقت کے بارے میں چند شہادتیں پیش کریں گے۔
    میاں بیوی کی قربت کو قرآن شریف میں بجا طور پر ایک دوسرے کے لباس سے تعبیر کیا گیا ہے۔(سورۃ البقرۃ:188)پس بیوی سے بڑھ کر کون ہے جو شوہر کے زیادہ قریب ہو اور اس کے اخلاق کے بارہ میں اس سے بہتررائے دے سکے؟
    ازواج مطہرات ؓکی گواہی
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی وحی کے بعد گھبراہٹ کے عالم میں گھر تشریف لائے تو حضرت خدیجہ ؓ نے آپؐ کو جن الفاظ میں تسلی دی وہ آپؐ کی صداقت کی زبردست گواہی ہے۔ انہوں نے آپؐ کی یہ اہم صفت بھی بیان کی کہ آپؐ تو ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپؐ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔(بخاری)1
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میںحضرت عائشہؓ کی بھی یہی گواہی تھی کہ آپؐ کے اخلاق تو قرآن تھے اوراسلام وقرآن کا بنیادی خلق تو سچائی ہی ہے۔
    حضرت عائشہؓکی ایک اور روایت ہے کہ رسول کریم ؐ کو جھوٹ سے زیادہ ناپسند اور قابل نفرین اور کوئی بات نہیں تھی۔ اور جب آپؐ کو کسی شخص کی اس کمزوری کا علم ہوتا تو آپؐ اس وقت تک اس سے کھچے کچھے رہتے تھے جب تک کہ آپ ؐکو معلوم نہ ہو جائے کہ اس شخص نے اس عادت سے توبہ کرلی ہے۔(ابن سعد)2
    رشتہ داروں کی گواہی
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب حکم ہوا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو دعوت حق پہنچائیں تو کوہِ صفا پر آپؐ نے قبائل قریش کونام لے کر بلایا۔جب وہ اکٹھے ہوئے تو ان سے پوچھاکہ اگر میں تمہیں کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے سے ایک لشکر تم پر حملہ آور ہونے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا جانو گے؟’’ انہوں نے بلاتامّل کہا ہاں! ہم نے کبھی بھی آپؐ سے جھوٹ کا تجربہ نہیں کیا۔ آپؐ تو ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔‘‘مگر جب آپؐ نے انہیں کلمۂ توحید کی دعوت دی توآپؐ کا چچا ابو لہب کہنے لگا’’ تیرا برا ہو کیا تو نے اس لئے ہمیں جمع کیا تھا۔‘‘(بخاری )3
    سورۂ یونس میں نبی کی دعوے سے پہلے کی زندگی کو بطور دلیل پیش کرنے میں یہی حکمت ہے کہ بعد میں تو مخالف بھی پیدا ہوجاتے ہیں مگر دعویٰ سے پہلے سب اس کی راستبازی پر متفق ہوتے ہیں۔
    ابو طالب کی گواہی
    ایک دفعہ قریش کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت لے کر رسول اللہؐ کے چچا ابوطالب کے پاس آیا۔ ابو طالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلواکر سمجھایا کہ قریش کی بات مان لو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے فرمایا کہ اگر تم اس سورج سے روشن شعلۂ آگ بھی میرے پاس لے آئو پھر بھی میرے لئے اس کام کو چھوڑنا ممکن نہیں ۔اس پر ابو طالب نے گواہی دی کہ خد ا کی قسم ! میں نے آج تک کبھی اپنے بھتیجے کو اس کے قول میں جھوٹا نہیں پایا۔یعنی یہ اپنی بات کا پکا اور سچا ہے اور اس پر قائم رہے گا۔میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔(بیہقی)4
    ابو طالب کی دوسری گواہی شعب ابی طالب کے زمانہ کی ہے۔جب اس محصوری کی حالت میں تیسرا سال ہونے کو آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے علم پاکر ابو طالب کو اطلاع دی کہ بنو ہاشم سے بائیکاٹ کا جو معاہدہ خانہ کعبہ میں لٹکایا گیا تھا اس کی ساری عبارت کو سوائے لفظ اللہ کے دیمک کھاگئی ہے۔ ابوطالب کو رسول اللہ کے قول پر ایسا یقین تھا کہ انہوں پہلے اپنے بھائیوں سے کہا کہ خدا کی قسم محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا۔یہ بات بھی لازماً سچ ہے۔ چنانچہ وہ ان کے ساتھ سرداران قریش کے پاس گئے اور انہیں بھی کھل کر کہا کہ میرے بھتیجے نے مجھے یہ بتایا ہے کہ تمہارے معاہدہ کو دیمک کھا گئی ہے۔ اس نے مجھ سے آج تک جھوٹ نہیں بولا۔بے شک تم جاکر دیکھ لو اگر تو میرا بھتیجا سچا نکلے تو تمہیں بائیکاٹ کا اپنا فیصلہ تبدیل کرنا ہوگا۔ اگر وہ جھوٹا ثابت ہو تو میں اُسے تمہارے حوالے کرونگا۔چاہو تو اسے قتل کرو اور چاہو تو زندہ رکھو۔ انہوں نے کہا بالکل یہ انصاف کی بات ہے۔ پھر جاکر دیکھا تو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا،سوائے لفظ اللہ کے سارے معاہدہ کو دیمک چاٹ چکی تھی۔چنانچہ قریش یہ معاہدہ ختم کرنے پر مجبور ہوگئے۔(ابن جوزی)5
    خزیمہ بن حکیم سلمی کی گواہی
    خزیمہ حضرت خدیجہ ؓ کے سسرالی رشتہ داروں میں سے تھے۔ دعویٰ نبوت سے قبل جب رسول کریمؐ تجارت کے لئے حضرت خدیجہؓ کا مال تجارت لے کر شام گئے۔ خزیمہؓ بھی حضورؐ کے ساتھ تھے۔ حضورؐ کے پاکیزہ اخلاق مشاہدہ کر کے انہوں نے بے اختیار یہ گواہی د ی کہ
    ’’اے محمدؐ میں آپؐ کے اندر عظیم الشان خصائل اور خوبیاں دیکھتا ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ وہی نبی ہیں جس نے تہامہ سے ظاہرہوناتھا اور میں آپؐ پر ابھی ایمان لاتا ہوں۔ ‘‘ انہوں نے وعدہ کیاتھا کہ جب مجھے آپؐ کے دعویٰ کی خبر ملی میں ضرور آپؐ کی خدمت میں حاضر ہونگا۔ مگر دعویٰ کے بعد جلد اس وعدہ کی تکمیل نہ ہوسکی۔فتح مکہ کے بعد آکر اسلام قبول کیا تو رسول اللہؐ نے فرمایا’’پہلے مہاجر کو خوش آمدید‘‘۔(ابن حجر)6
    دوست کی گواہی
    حضرت ابوبکرؓ رسول اللہؐ کے بچپن کے دوست تھے۔ انہوں نے جب آپؐ کے دعویٰ کے بارہ میں سنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار کے باوجود کوئی دلیل نہیں چاہی کیونکہ زندگی بھر کا مشاہدہ یہی تھا کہ آپؐ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔(بیہقی)7
    پس رسول اللہؐ کا کردار بھی آپ ؐکی سچائی کا گواہ تھا اور آپؐ کی پیشانی پر بھی سچائی کی روشنی تھی جسے حضرت ابوبکرؓ نے پہچان لیا۔
    اولین معاند ابوجہل کی شہادت
    حق یہ ہے کہ سچوں کی گواہی دینے پر اپنے اور بیگانے تو کیا دشمن بھی مجبو رہوجاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ابو جہل سے بڑھ کر کون تھا؟ مگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو برملا کہا کرتا تھا کہ ہم تجھے جھوٹا نہیں کہتے بلکہ اس تعلیم کی تکذیب کرتے ہیں جو تو لے کر آیا ہے۔(ترمذی )8
    دشمن اسلام ابوسفیان کی گواہی
    رسول اللہؐ کا دوسرا بڑا دشمن ابو سفیان تھا۔ ہر قل شاہ روم نے اپنے دربار میں جب اس سے یہ سوال کیا کہ کیا تم نے اس مدعی نبوت ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) پر اس سے پہلے کوئی جھوٹ کا الزام لگایا؟ابو سفیان نے جواب دیا کہ نہیں ہرگز نہیں۔ دانا ہر قل نے اس جواب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں جانتا ہوں یہ ممکن نہیں ہوسکتا کہ اس نے لوگوں کے ساتھ توکبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور خدا پر جھوٹ باندھنے لگ جائے۔(بخاری )9
    جانی دشمن نضربن حارث کی شہادت
    رسول اللہؐ کا ایک اور جانی دشمن نضربن حارث تھا جودارالندوہ میں آپؐکے قتل کے منصوبے میں بھی شامل تھا۔ کفار کی مجلس میں جب کسی نے یہ مشورہ دیا کہ ہمیں محمدؐکے بارے میں یہ مشہور کردینا چاہئے کہ یہ جھوٹا ہے تو نضر بن حارث سے رہانہ گیا۔ وہ بے اختیار کہہ اٹھا کہ دیکھو محمدؐ تمہارے درمیان جوان ہوا،اس کے اخلاق پسندیدہ تھے۔ وہ تم میں سب سے زیادہ سچااور امین تھا۔ پھر جب وہ ادھیڑ عمر کو پہنچا اور اپنی تعلیم تمہارے سامنے پیش کرنے لگا تو تم نے کہا جھوٹا ہے ۔ خدا کی قسم! یہ بات کوئی نہیں مانے گا کہ وہ جھوٹا ہے۔ وہ ہرگزجھوٹا نہیں ہے۔(ابن ہشام) 10
    دشمن اسلام اُمیّہ بن خلف کی گواہی
    دشمن رسول امیہ بن خلف نے اپنے جاہلیت کے دوست حضرت سعد بن معاذ ؓ انصاری سے اپنی ہلاکت کے بارے میں رسول اللہؐ کی پیشگوئی سن کربے ساختہ گواہی دی تھی کہ خدا کی قسم (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) جب بھی بات کرتا ہے۔ جھوٹ نہیں بولتا۔(بخاری)11
    امیہ کی بیوی کی گواہی
    حضرت سعد بن معاذ ؓ انصاری نے جب سردارقریش امیہ بن خلف کی بیوی کو بتایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی ہے کہ اس کا خاوند امیہ ہلاک ہوگا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھی! خداکی قسم محمد جھوٹ نہیں بولتے۔ چنانچہ جب جنگ بدر کے لئے امیہ ابو جہل کے ساتھ جانے لگا تو بیوی نے پھر کہا ’’تمہیں یاد نہیں تمہارے یثربی بھائی سعد نے تمہیں کیا کہا تھا۔‘‘امیہ اس وجہ سے رُک گیا مگر ابوجہل باصرار اسے لے گیا چنانچہ امیہ بن خلف بدر میں مارا گیااور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سچی ثابت ہوئی۔(بخاری )12
    سردار قریش عتبہ کی گواہی
    قریش نے ایک دفعہ اپنے ایک سردار عتبہ کو نمائندہ بناکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔ اس نے کہا کہ آپؐ ہمارے معبودوں کو کیوں برا بھلا کہتے اور ہمارے آباء کو کیوں گمراہ قرار دیتے ہیں؟آپؐ کی جوبھی خواہش ہے پوری کرتے ہیں۔آپؐ ان باتوں سے باز آئیں۔حضورؐ تحمل اور خاموشی سے اس کی باتیں سنتے رہے۔ جب وہ سب کہہ چکا تو آپؐنے سورۃ حٰم فُصِّلَتْ کی چند آیات تلاوت کیں ،جب آپؐ اس آیت پر پہنچے کہ میں تمہیں عاد وثمود جیسے عذاب سے ڈرا تا ہوں توعتبہ نے آپؐ کو روک دیا کہ اب بس کریں اورخوف کے مارے اُٹھ کر چل دیا۔اس نے قریش کو جاکر کہا تمہیں پتہ ہے کہ محمدؐ جب کوئی بات کہتا ہے تو کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تم پر وہ عذاب نہ آجائے جس سے وہ ڈراتا ہے۔ تمام سردار یہ سن کرخاموش ہوگئے۔(حلبیہ13) اُن سب سردارانِ قریش کی یہ خاموشی اپنی ذات میں اس بات کی گواہی تھی کہ بلاشبہ آپ ؐ صادق وراستبازہیں ۔
    یہودی عالم کی گواہی
    عبداللہؓ بن سلام مدینہ کے ایک بڑے یہودی عالم تھے۔وہ مسلمان ہونے سے پہلے کا اپنا یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب آنحضورؐ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو لوگ دیوانہ وار آپؐ کو دیکھنے گئے میں بھی ان میں شامل ہوگیا۔ آپؐ کا نورانی چہرہ دیکھ کر ہی میںپہچان گیا کہ یہ چہرہ جھوٹے کا چہرہ نہیں ہوسکتا۔(ابن ماجہ)14
    ایچ جی ویلز نے رسول اللہؐ کے صدق وصفا کی گواہی دیتے ہوئے لکھا:۔
    ’’یہ محمد(ﷺ) کے صدق کی دلیل قاطع ہے کہ ان سے قربت رکھنے والے لوگ، اُن پر ایمان لائے ، حالانکہ وہ اُن کے اسرار ورموز سے پوری طرح واقف تھے اور اگر انہیں ان کی صداقت میں ذرہ برابر بھی شبہ ہوتا تو اُن پر وہ ہرگز ایمان نہ لاتے۔‘‘(ویلز)15
    پس ایک انسان کی سچائی پر اپنوں، پرایوں، دوستوںاور دشمنوں سب کا اتفاق کرلینا ایسی عظیم الشان شہادت ہے جو ہمارے نبی ؐ کی راستبازی اور سچائی کی زبردست اور روشن دلیل ہے۔

    حوالہ جات
    1
    بخاری کتاب التعبیرباب اول مابدیٔ بہ رسول اللہؐ
    2
    الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد1ص378
    3
    بخاری کتاب التفسیر سورۃ اللہب
    4
    دلائل النبوۃ بیھقی جلد2ص187دارالکتبہ العلمیہ بیروت
    5
    الوفاء باحوال المصطفیٰ لابن جوزی ص198بیروت
    6
    الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن الحجرجز 2ص112دارالکتاب العلمیہ بیروت
    7
    دلائل النبوۃ للبیہقی جلد2ص164دارالکتب العلمیہ بیروت
    8
    ترمذی ابواب التفسیر سورۃ الانعام زیرآیت قَدْنَعْلَمُ اِنَّہ‘ لَیَحْزُنکَ الَّذِی یَقُوْلُوْنَ
    9
    بخاری بدء الوحی
    10
    السیرۃ النبویۃ لابن ھشام جلد1ص320مصر
    11
    بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام
    12
    بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام
    13
    السیرۃ الحلبیۃ از علامہ برھان الدین جلد1ص303مطبوعہ بیروت
    14
    ابن ماجہ کتاب الاطعمہ باب اطعام الطعام
    15
    ایچ جی ویلز ، زکریا ہاشم زکریاص270بحوالہ نقوش رسول نمبر ص550

    ’ ’ رسولِ امین ؐ ‘‘کی امانت و دیانت
    ’’اللہ تمہیںحکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حقداروںکو اداکرو۔‘‘(النسائ:59) یہ ہے رسول اللہؐ کی شریعت میں قیام امانت کی بنیادی تعلیم۔ دنیامیں سب سے زیادہ امانت دار خداکے نبی اور رسول ہوتے ہیں جو خدا کا پیغام بلا کم وکاست اس کی مخلوق تک پہنچاتے ہیں۔ اس لئے قرآن شریف میں کئی انبیاء کا یہ دعویٰ مذکور ہے کہ ’’میں ایک امانت دار رسول ہوکر آیا ہوں۔‘‘ مگر ہمارے نبی حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ارفع یہ ہے کہ عرش کے خدانے آپؐ کے ’’امین‘‘ ہونے کی گواہی دی۔فرمایا مُطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ۔(التکویر:22) کہ یہ نبی ایسا ہے جس کی پیروی کی جائے اور امانت دار ہے۔آپؐ ہی وہ انسان کامل ہیں جنہوں نے اس امانت کا بوجھ اُٹھایا جو آسمان وزمین اورپہاڑبھی نہ اُٹھاسکے۔(الاحزاب:73)
    آسمان بار امانت نتوانست کشید
    قرعۂ فال بنام من دیوانہ زدند
    پس رسول کریمؐ ہی ہیں جنہوں نے امانت کے حق ادا کردکھائے۔آپؐ کے ماننے والوں کو بھی یہ تعلیم دی گئی کہ ’’وہ مومن فلاح پاگئے جو اپنی امانتوں اور عہدوں کا خیال رکھتے ہیں۔‘‘ (المؤمنون:9) رسول کریمؐ نے فرمایا جس کی امانت نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔(طبرانی)1
    امانت و دیانت کی بنیاد نیک نیتی دلی سچائی اور راستبازی ہے۔رسول کریمؐ میں یہ وصف بھی خوب نمایاں تھا۔ آپؐ اہل مکہ میں اس خوبی میں ایسے ممتاز تھے کہ سب آپؐ کو ’’صدوق وامین‘‘ کے لقب سے یاد کرتے تھے اور اپنی امانتیں آپؐ کے پاس بے خوف و خطر رکھتے تھے۔
    ایمان کا امانت سے گہرا تعلق ہے رسول کریمؐ کی تعلیم کاخاصہ بھی یہی تھا چنانچہ جب ہرقل نے ابوسفیان سے پوچھا کہ وہ مدعی نبوت تمہیں کیا تعلیم دیتا ہے۔ تو ابوسفیان نے بھی گواہی دی کہ وہ نماز،سچائی،پاکدامنی، ایفائے عہد اور امانت ادا کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس پرہرقل بے اختیار کہہ اُٹھا یہ تو نبی کی صفات ہیں۔(مسلم)2
    نجاشی شاہ حبشہ کے دربار میں حضرت جعفرطیارؓ نے رسول اللہؐ اور آپؐ کے دین کا تعارف کرواتے ہوئے کہا تھا کہ
    ’’اے بادشاہ! ہم ایک جاہل قوم تھے۔ بتوں کے پجاری تھے۔ مردار کھاتے اور بدکاری کے مرتکب ہوتے تھے۔ قطع رحمی ہمارا شیوہ تھا اور ہمسایوں سے بدسلوکی کرتے تھے۔ طاقتورکمزور کا حق کھا جاتا تھا تب خدا نے ہم میں ایک رسول بھیجا جس کی سچائی امانت اور پاکدامنی کے ہم گواہ ہیں۔ اس نے ہمیں خدا کی توحید اور عبادت کی طرف بلایا اور بت پرستی سے بچایا اور سچائی، امانت کی ادائیگی صلہ رحمی اور ہمسائے سے حسن سلوک کی تعلیم دی۔‘‘ (احمد)3
    قریش مکہ نبی کریمؐ کے خون کے پیاسے اورآپؐ کے قتل کے درپے تھے۔مگرحضورؐ کوہجرت مدینہ کے وقت ان کی امانتوں کی واپسی کی فکر تھی۔ چنانچہ مکہ چھوڑتے ہوئے اپنے عم زاد حضرت علیؓ کو ان خطرناک حالات کے باوجود پیچھے چھوڑ اکہ وہ امانتیں ادا کر کے مدینہ آئیں۔(ہشام)4
    رسول کریمؐ کے دل میں امانت کا جس قدر گہرااحساس تھااس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتاہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے آپؐ سے پوچھا کہ اگر کوئی گری پڑی چیز مل جائے تو اس کا کیا کیا جائے؟ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کی نشانیاں بتا کر اعلان کرتے رہو پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اسے لوٹا دو۔ وہ کہنے لگا اگر کوئی گمشدہ اونٹ مل جائے تو اس کا کیا کریں ؟ نبی کریمؐ بہت ناراض ہوئے۔ چہرہ کا رنگ سرخ ہوگیا اور فرمانے لگے تمہیں اس سے کیا؟ اس اونٹ کے پائوں ساتھ ہیں وہ درخت چرکر اور پانی پی کر زندہ رہ سکتاہے۔تم اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ خود اس کا مالک اُسے پالے۔(بخاری)5
    حفاظتِ امانت میںنبی کریمؐ کا اپنا یہ حال تھا کہ فرماتے تھے میں بسااوقات اپنے گھر میں بستر پر کوئی کھجور پڑی ہوئی پاتا ہوں۔کھانے کی خواہش بھی ہوتی ہے اور میں وہ کھجور اُٹھا کر کھانا چاہتا ہوں مگر پھر خیال آتا ہے کہ صدقہ کی کھجور نہ ہو تب اسے وہیں رکھ چھوڑ تا ہوں۔(بخاری)6
    ایک دفعہ گھر میں کھجور کے ایک ڈھیر میں سے کم سن حضرت امام حسین ؓیا حسنؓ نے ایک کھجور لے کر مُنہ میں ڈال لی۔ نبی کریمؐ نے فوراً وہ کھجور بچے کے مُنہ سے اگلوادی۔ کیونکہ وہ صدقہ کا مال تھا۔ اور مسلمانوں کی امانت تھی۔ آپؐ نے بچے سے فرمایا کہ ہم آلِ رسول صدقہ نہیں کھاتے اور بچے نے تھوکرکے وہ کھجور پھینک دی۔(بخاری)7
    غزوۂ خیبر کے موقع پر یہود شکست کے بعد پسپا ہوئے۔ مسلمانوں کو طویل محاصرہ کے بعد فتح عطاہوئی۔ بعض مسلمانوں نے جو کئی دن سے فاقہ سے تھے یہود کے مال مویشی پر غنیمت کے طور پر قبضہ کر کے کچھ جانور ذبح کئے اور ان کا گوشت پکنے کے لئے آگ پر چڑھادیا۔ نبی کریمؐ کو خبرہوئی تو رسول کریمؐ نے اسے سخت ناپسند فرمایا کہ مال غنیمت میں باضابطہ تقسیم سے پہلے یوں تصّرف کیوں کیا گیااور اسے آپ ؐنے خیانت پر محمول فرمایا ۔ آپؐنے صحابہ کو امانت کا سبق دینے کے لئے گوشت سے بھرے وہ سب دیگچے اور ہنڈیاں الٹوادیں پھر صحابہ کے مابین خود جانور تقسیم فرمائے اور ہر دس آدمیوں کو ایک بکری دی گئی۔دوسری روایت میں ہے کہ آپؐنے فرمایا کہ اموال پر زبردستی قبضہ جائزنہیں۔(احمد)8
    ایک دفعہ رسول کریمؐ نماز پڑھانے کے بعد خلاف معمول تیزی سے گھر گئے اور ایک سونے کی ڈلی لے کر واپس آئے اورفرمایا کہ کچھ سونا آیاتھا سب تقسیم ہوگیا یہ سونے کی ڈلی بچ گئی تھی۔ میں جلدی سے اسے لے آیا ہوں کہ قومی مال میں سے کوئی چیز ہمارے گھر میں نہ رہ جائے۔(بخاری)9
    حضرت سائب بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن حضرت عثمان ؓ اور زبیرؓمجھے اپنے ساتھ لے کر آنحضرت ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میری تعریفیں کرنے لگے۔ رسول کریمؐ نے انہیں فرمایا !آپؐ لوگ بے شک مجھے اس کے بارے میں زیادہ نہ بتائو۔ یہ جاہلیت کے زمانے میں میرا ساتھی رہا ہے۔ سائبؓ کہنے لگے ہاں یا رسول اللہؐ! آپؐ کتنے اچھے ساتھی تھے۔آپؐ نے فرمایاہاں اے سائبؓ دیکھنا جاہلیت میں تمہارے اخلاق بہت نیک تھے۔ اسلام میں بھی وہ قائم رکھنا۔مثلاً مہمان نوازی،یتیم کی عزت اور ہمسائے سے نیک سلوک وغیرہ پر خاص توجہ دینا۔
    دوسری روایت میں ہے کہ سائبؓ آنحضرت ؐ کے ساتھ تجارت میں شریک رہے۔فتح مکہ کے دن سائب نے یہ گواہی دی کہ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان آپؐ نے کبھی جھگڑا نہیں کیا۔(احمد)10
    غزوۂ خیبر کے محاصرہ کے وقت بھوک اور فاقے کے ایام میں مسلمانوں کی امانت کاایک کڑا امتحان ہوا۔ہوایوں کہ یہود کے ایک حبشی چراوہے نے اسلام قبول کرلیا اور سوال پیدا ہو اکہ اس کے سپرد یہود کی بکریوں کا کیا کیا جائے۔ نبی کریمؐ نے ہر حال میںامانت کی حفاظت کرنے کا فیصلہ فرمایا۔آپؐ نے اپنے صحابہ کی بھوک اور فاقہ کی قربانی دے دی مگرکیامجال کہ آپؐ کی امانت میں کوئی فرق آیا ہو حالانکہ یہ بکریاں دشمن کے طویل محاصرہ میں تو مہینوں کی خوراک بن سکتی تھیں۔مگرآپؐ نے کس شان استغناء سے فرمایا کہ بکریوں کا منہ قلعے کی طرف کر کے ان کوہانک دو۔خداتعالیٰ ان کو ان کے مالک کے پاس پہنچادے گا۔نومسلم غلام نے ایسا ہی کیا اور بکریاں قلعے کے پاس پہنچ گئیںجہاں سے قلعے والوں نے ان کو اندر داخل کرلیا۔سبحان اللہ! رسول اللہﷺ جنگ میں بھی جہاں سب کچھ جائز سمجھاجاتا ہے کس شدت سے امانت کے اصول پر عمل کرتے اور کرواتے تھے۔(ابن ھشام)11
    لڑنے والوں کے مال آج بھی میدان جنگ میں حلال سمجھے جاتے ہیں۔ کیا آج کل کے مہذب زمانہ میں کبھی ایسا واقعہ ہو اہے کہ دوران جنگ دشمن کے جانوراور مال و اسباب ہاتھ آگئے ہوں اور ان کو دشمن فوج کی طرف سے واپس کردیا گیا ہو۔نہیں نہیں! آج کی دنیا میں عام حالات میں بھی دشمن کے مال کی حفاظت تو درکنار،اسے لوٹنا جائز سمجھا جاتا ہے۔مگر قربان جائیں دیانتداروں کے اس سردار پر کہ دشمن کا وہ مال جوایک طرف فاقہ کش اور بھوک کے شکار مسلمانوں کی مہینوں کی غذابن سکتاتھا ،دوسری طرف دشمن اس سے اپنا محاصرہ لمبا کھینچ کر مسلمانوں کو پسپائی پر مجبور کرسکتا تھا۔ان سب باتوںکی کوئی پرواہ نہ کی اور امانت مالکوں کے سپرد کرنے کا فیصلہ فرمایا۔
    نبی کریمؐ نے بھی صرف انسانوں کی امانت کے حق ہی ادا نہیں کئے بلکہ اپنے مولیٰ کی امانتوں کے تمام حق اد اکردکھائے۔ ایک دفعہ یمن سے سونا آیا اور رسول اللہؐ نے تالیف قلبی کی خاطرعرب کے چار سرداروں میں تقسیم فرمادیا ایک شخص نے کہا ہم اس کے زیادہ حق دار تھے۔ رسول کریمؐ کو خبر ہوئی تو آپؐ نے فرمایا کیااللہ تعالیٰ تومجھے اہل زمین پرامین مقررکرے اور تم لوگ مجھے امین نہ سمجھو۔دوسری روایت میں ہے تم مجھے امین نہیں سمجھتے ہو حالانکہ میں اس ذات کا امین ہوں جو آسمان میں ہے۔ میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں (وحی الہٰی) آتی ہیں۔(گویا وحی آسمانی کا امین ہوں)۔ (بخاری واحمد)12
    خداکی امانتوں کی ادائیگی میں اللہ تعالیٰ کی عبادات اور قرآنی وحی کی تبلیغ شامل ہے۔ جس کا حق اداکرنے کی تفصیل عبادت اور داعی الی اللہ کے عناوین میں مذکور ہے۔
    پس رسول کریمؐ نے بندوں اور خدا کی تمام امانتوں کے حق ادا کر کے دکھائے۔

    حوالہ جات
    1
    المعجم الکبیرلطبرانی جلد8ص296
    2
    مسلم کتاب الجہاد والسیرکتاب النبی الی ہرقل یدعوہ الی الاسلام:3322
    3
    مسند احمدجلد1 ص203
    4
    السیرۃ النبویہ لابن ہشام جلد 2ص98
    5
    بخاری کتاب العلم باب الغضب فی الموعظۃ
    6
    بخاری کتاب اللقطہ باب اذا وجد تمرۃ فی الطریق:2252
    7
    بخاری کتاب الزکوٰۃ باب اخذ الصدقۃ التمر:1390
    8
    مسند احمد جلد4ص89،مستدرک علی الصحیحین للحاکم جلد2ص134
    9
    بخاری کتاب الزکوٰۃ باب من احب تعجیل الصدقۃ:1340
    10
    مسند احمد جلد 3ص425بیروت
    11
    السیرۃ النبویۃ لابن ھشام جلد4ص42
    12
    بخاری کتاب الانبیاء باب واِلٰی عادٍاخاھم ھودًاومسنداحمدجلد3ص4

    رسول اللہ ؐ کا ایفائے عہد
    قرآن شریف میں عہد پورا کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے فرمایا’’عہد پورا کرو کہ عہد کے بارہ میں پرسش ہوگی۔‘‘ (سورۃ الاسرائ:35)رسول کریمؐ نے فرمایا جو شخص بغیر کسی جائز وجہ کے کسی معاہدہ کرنے والے کو قتل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کردے گا۔(ابودائود1) نیزفرمایا جس کا عہد نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔(احمد)2
    نبی کریمؐ آغازسے ہی امانت و دیانت اورایفائے عہدکا بہت خیال رکھتے تھے۔آپؐ نے پابندیٔ عہد میں بھی بہترین نمونہ پیش فرمایا ہے۔
    بعثت سے قبل
    حضرت عبداللہ بن ابی الحمساء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے زمانۂ بعثت سے قبل نبی کریمؐ سے ایک سودا کیا۔ ان کا کچھ حصہ میرے ذمہ واجب الادا رہ گیا۔میں نے آپؐ سے طے کیا کہ فلاں وقت اس جگہ آکرمیں آپؐ کو ادائیگی کروں گامگر میں واپس جاکر وعدہ بھول گیا۔ تین روز بعد مجھے یاد آیا تو میں مقررہ جگہ حاضر ہوا۔کیا دیکھتا ہوں کہ نبی کریمؐ اسجگہ موجود تھے۔ آپؐ فرمانے لگے نوجوان! تم نے ہمیں سخت مشکل میں ڈالا۔ میں تین روز سے یہاں (اس وقت) تمہارا انتظار کرتا رہاہوں۔(ابودائود)3
    مکی دور میں بعثت سے قبل حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معاہدہ حلف الفضول میں شریک ہوئے تھے جس کا بنیادی مقصد مظلوموں کی امداد تھا۔آپؐ فرماتے تھے کہ اس معاہدہ میں شرکت کی خوشی مجھے اونٹوں کی دولت سے بڑھ کر ہے اور اسلام کے بعد بھی مجھے اس معاہدہ کا واسطہ دے کر مدد کے لئے بلایا جائے تو میں ضرورمدد کروں گا۔(ابن ہشام)4
    بعثت نبویؐ کے بعد
    دعویٔ نبوت کے بعد کا واقعہ ہے کہ ایک اجنبی ’’الاراشی‘‘ کا حق سردار مکّہ ابوجہل نے دبا لیا۔ اُس شخص نے آنحضرتؐ سے آکر مدد مانگی۔ حضور ؐ اُس کے ساتھ ہولئے اور معاہدہ حلف الفضول کی پابندی کرتے ہوئے اپنے سخت معاند ابوجہل کے دروازے پر جاکر اُس مظلوم اجنبی کے حق کا تقاضاکیا۔ پھروہاں سے ہلے نہیں جب تک کہ اُس کا حق اُسے دلوانہیں دیا۔ (ابن ہشام)5
    حضرت حُذیفہ بن الیمّانؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے بدر میں شامل ہونے میں یہ روک ہوئی کہ میں اور ابوسہلؓ بدر کے موقع پرگھرسے نکلے۔راستہ میں ہمیں کفارِ قریش نے پکڑ لیا۔ انہوں نے کہا تم محمدؐ کے پاس جانا چاہتے ہو؟ہم نے کہا نہیں ہم تو مدینہ جارہے ہیں۔انہوں نے ہم سے عہد لیا کہ ہم جاکر رسول اللہؐ کے ساتھ لڑائی میں شامل نہیں ہونگے بلکہ سیدھے مدینہ چلے جائیں گے۔ ہم رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضرہوئے اور سارا واقعہ عرض کردیا۔آپؐ نے فرمایا جائو اور اپنا عہد پورا کرو ہم دشمن کے مقابل پر دعا سے مدد چاہیں گے۔(مسلم)6
    شہنشاہ ِروم قل نے رسول اللہؐ کا تبلیغی خط ملنے پر اپنے دربار میں سردار قریش ابوسفیان کو بلاکر جب بغرض تحقیق کچھ سوالات کئے تو یہ بھی پوچھا تھا کہ کیا اس مدّعیٔ رسالت نے کبھی کوئی بدعہدی بھی کی ہے؟ابوسفیان رسول اللہؐ کا جانی دشمن تھا مگر پھر بھی اسے ہرقل کے سامنے تسلیم کرنا پڑا کہ ’’آج تک اُنہوں نے ہم سے کوئی بدعہدی نہیں کی۔البتہ آجکل ہمارا اس سے ایک معاہدہ (حدیبیہ) چل رہا ہے دیکھیں وہ کیا کرتا ہے۔‘‘ابوسفیان کہتا تھاکہ میں ہرقل کے سامنے اس سے زیادہ اپنی طرف سے کوئی بات اپنی گفتگو میں حضورؐ کے خلاف داخل نہ کرسکاتھا۔(بخاری)7
    مشرکین سے ایفائے عہد
    خدا کی تقدیر دیکھئے کہ رسول کریمؐ نے معاہدۂ حدیبیہ کی ایک ایک شق پر عمل کر کے دکھایا۔معاہدہ توڑنے کے مرتکب بھی پہلے قریش ہی ہوئے اور پھر عہدشکنی کا انجام بھی ان کو بھگتنا پڑا۔ جب کہ رسول کریمؐ نے ایفائے عہد کی برکات سے حصہ پایا اورسب سے بڑی برکت فتح مکہ کی صورت میں آپؐ کو عطاہوئی ۔
    معاہدہ حدیبیہ کی ایک شق یہ تھی کہ مسلمان آئندہ سال عمرہ کرنے مکہ آئیں گے اور تین دن کے اندر مکہ کو خالی کردیں گے۔ چنانچہ اگلے سال جب نبی کریمؐ عمرہ قضا کے لئے مکہ آئے تو قریش نے مکہ خالی کردیا۔حویطب بن عزیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں اور سہیل بن عمرو مکہ میں رہے تاکہ تین دن کے بعد مسلمانوں سے حسب معاہدہ مکہ خالی کرواسکیں جب تین دن گزر گئے تو میں نے اور سہیل نے رسول اللہؐ کو یاد کروایاکہ آج شرط کے مطابق مسلمانوں کو مکہ خالی کرنا ہوگا۔ آنحضورؐنے اسی وقت بلال ؓکو حکم فرمایا کہ اعلان کردیں کہ آج غروب آفتاب کے بعد کوئی مسلمان جو ہمارے ساتھ عمرہ کرنے مکہ آیا ہے مکہ میں نہ رہے اور بڑی سختی سے اس کی پابندی کی گئی۔(حاکم)8
    معاہدہ کی ایک شق یہ تھی کہ اگر کوئی مسلمان بھاگ کر مدینے جائے گا تو اسے واپس اہل مکہ کی طرف لوٹایا جائے گا۔ اس شق پر مسلمانوں نے تکمیل معاہدہ سے بھی پہلے عمل کر دکھایااور نمائندہ قریش کے مکہ سے بھاگ کر آنے والے مسلمان بیٹے ابو جندلؓ کو دوبارہ اس کے باپ سہیل بن عمروکے سپرد کردیا گیا جس نے اسے پھر اذیت ناک قید میں ڈال دیا۔
    معاہدہ کے بعد بھی بعض مسلمان مکہ سے بھاگ کر مدینہ آئے تورسول کریمؐ نے معاہدہ کے مطابق انہیں مکّہ واپس بھجوادیا۔ مگر یہ شرط خود مکّہ والوں کے لئے وبالِ جان بن گئی کیونکہ معاہدہ کے بعد مکّہ سے مدینہ آنے والے ایک بہادر مسلمان ابو بصیر کو جو مشرک گرفتارکرکے مدینہ سے دوبارہ مکّہ لے جارہے تھے،راستہ میںوہ ان کو قتل کر کے، رہائی پانے میں کامیاب ہوگیا۔ پھر ابو بصیرؓ نے واپس مدینہ آنے کی بجائے ساحل سمندر کے قریب اپنا اڈا بنالیا جہاں دیگر مسلمان بھی مکّہ سے آکر اکٹھے ہونے لگے اور ایک جمعیت بن کر اہل مکہ کے لئے خطرہ بن گئے۔جس پر مکہ والے خود یہ شرط چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔
    صلح حدیبیہ میں قریش کے نمائندے سہیل بن عمرو نے مسلمانوں کے ساتھ آئندہ دس سال کے لئے معاہدہ امن طے کیا تھا، جس کے مطابق بنوبکرقریش کے حلیف بنے تھے اور بنوخزاعہ مسلمانوں کے۔نیزیہ کہ کسی کے حلیف پر حملہ خود اس پر حملہ تصور کیاجائے گا۔
    حلیف سے ایفاء اور امداد
    صلح کے زمانے میں مسلمانوں کی غیر معمولی کامیابیاں دیکھ کر قریش نے معاہدۂ امن توڑنا چاہا اور قریش مکہ کے ایک گروہ نے اپنے حلیف بنو بکر سے ساز باز کر کے ایک تاریک رات میں مسلمانوں کے حلیف بنو خزاعہ پر حملہ کردیا۔خزاعہ نے حرم کعبہ میں پناہ لی لیکن پھر بھی ان کے تیئس آدمی نہایت بے دردی سے قتل کردیئے گئے۔خود سردار قریش ابوسفیان کوپتہ چلا تو اس نے اس واقعہ کواپنے آدمیوں کی شرانگیزی قراردیا اور کہااب محمد ؐ ہم پر ضرور حملہ کریں گے۔
    ادھر اللہ تعالیٰ نے آنحضرتؐ کو اس واقعہ کی اطلاع بذریعہ وحی اسی صبح کردی ۔ آپؐ نے حضرت عائشہؓ کو یہ واقعہ بتا کرفرمایا کہ منشاالہٰی یہی معلوم ہوتا ہے کہ قریش کی اس بدعہدی کا ہمارے حق میں کوئی بہتر نتیجہ ظاہر ہوگا۔ پھر تین روز بعد قبیلہ بنوخزاعہ کا چالیس شترسواروں کا ایک وفدرسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ بنو بکر اور قریش نے مل کر بدعہدی کرتے ہوئے شب خون مار کرہمارا قتل عام کیا ہے۔ اب معاہدۂ حدیبیہ کی رو سے آپؐ کا فرض ہے کہ ہماری مدد کریں۔بنوخزاعہ کے نمائندہ عمرو بن سالم نے اپنا حال زار بیان کر کے خدا کی ذات کا واسطہ دیکر ایفائے عہد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے عرض کیا
    یَا رَبِ ّ اِنِّیْ نَاشِدٌ مُحَمَّدًا
    حَلْفَ اَبِیْنَا وَ اَ بِیْہِ الْاَ تْلَدَا
    یعنی اے میرے رب!مَیں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا واسطہ دے کر مدد کے لئے پکارتا ہوں اور اپنے آباء اور اس کے آباء کے پرانے حلف کا واسطہ دے کر عہد پورا کرنے کا خواستگارہوں۔
    خزاعہ کی مظلومیت کا حال سن کر رحمتہ للعالمین ﷺ کا دل بھر آیا۔آپؐ کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔ آپؐ نے ایفائے عہد کے جذبہ سے سرشار ہوکر فرمایا۔ اے بنو خزاعہ!یقینا یقینا تمہاری مدد کی جائے گی۔اگر میں تمہاری مدد نہ کروں تو خدا میری مدد نہ کرے۔ تم محمد ﷺ کوعہد پورا کرنے والا اور با وفا پائو گے۔ تم دیکھو گے کہ جس طرح میں اپنی جان اور بیوی بچوں کی حفاظت کرتا ہوںاسی طرح تمہاری حفاظت کروں گا۔(ابن ہشام)9
    ادھر ابوسفیان اس معاہدہ شکنی کے نتیجے سے بچنے کیلئے بہت جلد اس یقین کے ساتھ مدینے پہنچا کہ محمدﷺ کو اس بدعہدی کی خبر نہ ہوگی۔اس نے بڑی ہوشیاری سے آنحضرت ﷺ سے بات کی کہ میں در اصل صلح حدیبیہ کے موقع پر موجود ہی نہیں تھا۔آپؐ میرے ساتھ اس معاہدہ کی ازسرنو تجدید کرلیں۔ آنحضرتؐ نے کمال حکمت عملی سے پوچھا کہ کیا کوئی فریق معاہدہ توڑ بیٹھا ہے؟ ابوسفیان گھبراکر کہنے لگا ایسی تو کوئی بات نہیں ہوئی۔ رسول کریمؐ نے جواب دیا تو پھر ہم سابقہ معاہدے پر قائم ہیں۔چنانچہ نبی کریمؐ نے بنو خزاعہ کے ساتھ کیا گیا عہد پورا فرمایا اور دس ہزار قدوسیوں کو ساتھ لے کر ان پر ہونے والے ظلم کا بدلہ لینے نکلے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ؐکو مکہ کی شاندار فتح عطا فرمائی۔(الحلبیہ)10
    سراقہ سے ایفاء عہد
    ہجرت مدینہ کے سفر میں سو اونٹوں کے انعام کے لالچ میں رسول اللہؐ کا پیچھا کرنے والے سراقہ بن مالک کی روایت ہے کہ جب میں تعاقب کرتے کرتے رسول کریمؐ کے قریب پہنچا تو میرا گھوڑا بار بار ٹھوکر کھاکر گرجاتا رہا تب میں نے آواز دے کر حضورؐ کو بلایا اور حضورؐ کے ارشاد پر ابوبکرؓ نے مجھ سے پوچھا آپؐ ہم سے کیا چاہتے ہو؟میں نے کہاآپؐ مجھے امن کی تحریر لکھ دیں، انہوں نے مجھے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر وہ تحریرلکھ دی اور میں واپس لوٹ آیا۔فتح مکہ کے بعد جب حضورؐ جنگ حنین سے فارغ ہوکر جعّرانہ میں تھے۔ میں حضورؐ سے ملاقات کے لئے حاضر ہوا،حضورؐ انصار کے ایک گھوڑ سوار دستے کے حفاظتی حصار میں تھے،وہ مجھے پیچھے ہٹاتے اور کہتے تھے کہ تمہیں کیا کام ہے؟ حضور ؐ اپنی اونٹنی پر سوار تھے ،میں نے اپنا ہاتھ بلند کرکے وہی تحریر رسول اللہؐ کو دکھائی اور کہا میں سراقہ ہوں اور یہ آپؐ کی تحریر امن ہے۔رسول کریمؐ نے فرمایا آج کا دن عہد پورا کرنے اور احسان کا دن ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا سراقہ کو میرے پاس لایا جائے۔ میں آپؐ کے قریب ہوا اور بالآخر آپ ؐ سے ملاقات کرکے اسلام قبول کرلیا۔(ابن ھشام)11
    رسول کریمؐ نے مسلمان عورت کے عہدکا بھی پاس کیا ہے۔امّ ہانی ؓ بنت ابی طالب نے فتح مکہ کے موقع پر رسول کریمؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ انہوں نے اپنے سسرال کے بعض مشرک لوگوں کو پناہ دی ہے۔حالانکہ حضرت علیؓ اس کے خلاف تھے۔رسول کریمؐ نے فرمایا اے ام ہانی ؓ! جسے تم نے امان دیدی اسے ہم نے امان دی۔(ابودائود)12
    ابو رافع قبطیؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے قریش نے رسول اللہؐ کی خدمت میں سفیر بناکر بھجوایا۔رسول کریمؐکو دیکھ کر میرے دل میں اسلام کی سچائی گھر کر گئی۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! میں قریش کی طرف لوٹ کر واپس نہیں جانا چاہتا۔ رسول کریمؐ نے فرمایا میں عہد شکنی نہیں کرتا اور نہ ہی سفیر کو روکتا ہوں۔آپؐ اس وقت بہر حال واپس جائوپھر اگربعد میں یہی ارادہ ہو کہ اسلام قبول کرنا ہے تو وہاں جاکر واپس آجانا۔چنانچہ یہ قریش کے پا س لوٹ کر گئے اور بعد میں آکر اسلام قبول کیا۔(ابودائود)13
    یہودمدینہ سے ایفائے عہد
    نبی کریمؐ نے مکہ سے یثرب ہجرت فرمائی تواہل مدینہ کے جن گروہوں سے معاہدہ ہوا اس میں یہود کے تین قبائل بنو قینقاع،بنوقریظہ اور بنو نضیرشامل تھے۔ اس معاہدہ کے مطابق یہود اور مسلمان امت واحدہ کے طور پر ریاست مدینہ کے باسی تھے۔ نبی کریمؐ نے ہمیشہ اس معاہدہ کا نہ صرف ایفاء اور احترام فرمایا۔ یہود کے حق میں عادلانہ فیصلے فرمائے۔یہود کو مکمل مذہبی آزادی دی اور بعض مسلمانوں نے جب ان کے بانی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر رسول کریمؐ کی فضیلت و برتری ظاہرکی جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو عطا کی تھی تو بھی آپؐ نے معاہدقوم کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ازراہِ انکساروایثار یہی فرمایا کہ مجھے موسیٰ ؐ پر فضیلت مت دو تاکہ اس کے نتیجہ میں مدینہ کی امن کی فضاخراب نہ ہو۔ (بخاری)14
    نبی کریمؐ نے یہودی جنازوں کا بھی احترام کیااور ان کا جنازہ آتے دیکھ کر کھڑے ہوگئے۔ کسی نے کہا کہ یہودی کا جنازہ ہے فرمایا کیا وہ انسان نہیں تھا۔(بخاری)15
    اس کے برعکس یہاں تک مسلسل عہد شکنی کے نتیجہ میں بالآخران کومدینہ بدرکرناپڑا۔ لیکن رسول اللہؐ پر کبھی کسی یہودی کو عہدشکنی کا الزام تک لگانے کی جرأت نہ ہوئی۔(بخاری)16
    عیسائیوں سے ایفائے عہد
    فتح مکہ کے بعدجن مختلف قبائل عرب نے مدینہ آکرصلح وامن کے معاہدے کئے ان میں نجران اور یمن کے عیسائی بھی تھے۔ نجران کے عیسائیوں نے معاہدۂ صلح کے بعد رسول کریمؐ سے درخواست کی کہ اس معاہدہ کے ایفاء کے لئے آپؐ اپنا کوئی ایسانمائندہ مقررکریں جو دیانتداری سے معاہدہ کی شقوں پر عمل کروائے۔ چنانچہ نبی کریمؐ نے حضرت ابوعبیدہؓ بن الجراح کو امین الامت کا خطاب دیتے ہوئے اور تکمیل معاہدہ کے لئے نگران مقررفرمایا اور انہوں نے ایفائے عہد کاحق ادا کردکھایا۔(بخاری)17
    الغرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پابندیٔ عہد میں بھی ایک مثالی نمونہ پیش فرمایاہے۔
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    حوالہ جات
    1
    بخاری کتاب الجمعۃ باب الدعاء فی الصلاۃ من اخر اللیل:107
    2
    ترمذی کتاب الدعوات باب ماجاء فی عقد التسبیح بالید:3421
    3
    ابوداؤد باب الصلاۃ باب ماجاء فی الدعاء بین الاذان والاقامۃ:437
    4
    ترمذی کتاب الدعوات باب فی العفووالعافیۃ:3518
    5
    تحفۃ الذاکرین للشوکانی ص42,43دارالکتاب العربی بیروت
    6
    ابوداؤد کتاب الصلاۃ باب الاجابۃ أیۃ الساعۃ:885
    7
    بخاری کتاب صلاۃ التراویح باب العمل فی العشرالأ واخر:1884
    8
    ترمذی کتاب الدعوات باب فی العفو والعافیۃ:3522
    9
    ترمذی کتاب الدعوات باب منہ:3435
    10
    بخاری کتاب الدعوات باب فضل ذکر اللہ:5929
    11
    ابن ماجہ کتاب الدعاء باب مایدعو بہ الرجل اذارأی السحاب:3879
    12
    بخاری کتاب التفسیر سورۃ الفاتحہ باب غیرالمغضوب علیھم ولاالضَّآلین
    13
    مسلم کتاب الصلوٰۃ باب مایقال فی الرکوع والسجود:744
    14
    بخاری کتاب المظالم باب الاتقاء والحذرمن دعوۃ المظلوم
    15
    مسلم کتاب الذکر باب فضل الدعاء للمسلمین بظھر الغیب:4914
    16
    ترمذی کتاب الدعوات باب فی دعاء النبیؐ :3479
    17
    ترمذی کتاب الدعوات باب ماذکر فی دعوۃ المسافر:3370
    18
    ترمذی کتاب صفۃ الجنۃ باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ:2449
    19
    تحفہ الذاکرین للشوکانی ص44,45 دارالکتاب العربی مطبوعہ بیروت
    20
    نسائی کتاب مناسک الحج باب التھلیل علی الصفا:2924
    21
    ترمذی کتاب الدعوات باب فی الدعاء یوم عرفۃ:3509
    22
    بخاری کتاب الجمعۃ باب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدنیۃ
    23
    مسلم کتاب الذکروالدعاء والتوبہ والاستغفارباب کراھۃ الدعاء بتعجیل العقوبۃ
    24
    ابوداؤد کتاب الادب باب مایقول اِذا أصبح
    25
    ترمذی کتاب الدعوات
    26
    مسنداحمد جلد5ص243
    27
    بخاری کتاب التفسیر سورہ بنی اسرائیل باب ذریۃ من حملنا مع نوح:41
    28
    ترمذی کتاب المناقب باب عمر بن الخطاب
    29
    بخاری کتاب التفسیر سورۃ الروم والدخان
    30
    الخصائص الکبریٰ للسیوطی جز ثانی صفحہ163مطبوعہ بیروت
    31
    المعجم الکبیر لطبرانی جلد11ص174بیروت
    32
    بخاری کتاب بدء الخلق باب ذکر الملائکۃ
    33
    نور الیقین فی سیرۃ خاتم النبین ڈاکٹرخضری بک واقعہ سفر طائف مطبوعہ مصر
    34
    بخاری کتاب المغازی وتر مذی ابواب المناقب باب مناقب ثقیف
    35
    دلائل النبوۃ للبیھقی جلد5ص361،مسند احمد جلد2ص243مطبوعہ بیروت
    36
    الاصابہ فی تمییز الصحابہؓ زیر لفظ ابوھریرہؓ جلد 4ص204مطبوعہ مصر
    37
    الخصائص الکبریٰ للسیوطی جزثانی ص167مطبوعہ بیروت
    38
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۂ بدر
    39
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۂ بدر
    40
    مجمع الزوائدللھیثمی جلد6ص82مطبوعہ بیروت
    41
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الخندق وھی الاحزاب:3805
    42
    سیرت الحلبیہ جلد3ص35بیروت
    43
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خیبر:3888
    44
    السیرۃالحلبیہ جلد3ص74بیروت
    45
    بخاری کتاب الجہاد باب حمل الزاد فی الغزو
    46
    الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ للقاضی عیاض جلد459
    47
    بخاری کتاب المناقب باب مقدم النبی واصحابہ المدینہ:3633
    48
    بخاری کتاب الجمعۃ باب الاستسقاء علی المنبر:959
    49
    بخاری کتاب الدعوات باب دعوۃ النبی لخادمہ
    50
    الاسد الغابہ لابن اثیر جلد1ص128مطبوعہ بیروت
    51
    بخاری کتاب المغازی باب غزوہ احد و کتاب الاستقراض
    52
    مسلم کتاب الاشر بہ باب اکرام الضیف و فضل ایثارہ
    53
    الخصائص الکبریٰ للسیوطی جزثانی ص71
    54
    الخصائص الکبریٰ للسیوطی جز ثانی ص170بحوالہ بیھقی دارالکتاب العربی
    55
    الخصائص الکبریٰ للسیوطی جز ثانی ص169بیروت بحوالہ بیھقی وابونعیم
    56
    بخاری کتاب الجہاد باب دعاء النبیؐ الناس الی الاسلام:2724
    57
    ابن ماجہ کتاب المقدمۃ باب فضل علی بن ابی طالب:114
    58
    مسند احمد بن حنبل جلد4ص170مطبوعہ بیروت
    59
    مسند احمد بن حنبل جلد1ص254بیروت
    60
    بخاری کتاب المناقب باب خاتم النبوۃ
    61
    الاکمال فی اسماء الرجال للخطیب زیر لفظ سائب
    62
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خیبر
    63
    ترمذی کتاب المناقب باب فی آیات اثبات نبوۃ النبیؐ:3562
    64
    مستدرک حاکم کتاب الدعاء جلد1ص542مطبوعہ مصر
    65
    الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ للقاضی عیاض جلد1ص458بیروت
    66
    بخاری کتاب المغازی باب غزوہ بدر
    67
    بخاری کتاب الجہاد باب فضل من یصرع فی سبیل اللہ
    68
    بخاری کتاب الوصایا باب ان یترک ورثتہ اغنیاء خیر:2537
    69
    الاصابہ فی تمییز الصحابہ زیر لفظ سعد
    70
    بخاری کتاب الوضوء باب وضع الماء عندالخلائ:140
    71
    بخاری کتاب المغازی باب غزوہ ذی الخلصہ
    72
    مسند احمدبن حنبل جلد5ص446-447 و
    الخصائص الکبریٰ للسیوطی جزثانی ص167بیروت
    73
    ترمذی کتاب المناقب باب مناقب ابی ھریرۃ:3769
    74
    الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ للقاضی عیاض جلد1ص457بحوالہ بیھقی
    75
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ أوطاس:3979
    76
    السیرۃ الحلبیہ جلد 3ص44مطبوعہ بیروت
    77
    الخصائص الکبریٰ للسیوطی جز ثانی ص165بیروت
    78
    الوفاء باحوال المصطفی ص764ازابن الجوزی بیروت
    79
    بخاری کتاب الجہاد باب الدعاء علی المشرکین بالھزیمۃ:2717
    80
    بخاری کتاب المغازی باب کتاب النبیؐالی کسریٰ
    81
    فتح الباری لابن حجرجلد4ص39 دارالکتب الاسلامیہ لاہور
    82
    الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ للقاضی عیاض جلد1ص46بحوالہ بیھقی
    83
    مسلم کتاب المنافقین باب 1:4986
    84
    جامع الصغیر للسیوطی جز1ص60بیروت
    85
    مسند احمدبن حنبل جلد3ص416بیروت
    86
    مسند احمد بن حنبل جلد6ص93بیروت
    87
    بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء علی المشرکین
    88
    مسلم کتاب الایمان باب دعاء النبی لامتہ :346

    مخبر صادقؐکے رؤیا و کشوف اور پیشگوئیاں
    خواب انسان کی باطنی کیفیت کے آئینہ دار ہوتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا جائزہ لینے کے لئے آپ ؐکے رؤیا وکشوف کا مضمون بھی بہت اہم ہے ۔دوسرے رؤیا وکشوف کے ذریعہ خوش خبریوں کا عطا ہونا اور خدا کا بندے سے کلام کرنا محبت الٰہی کی نشانی ہے۔
    تیسرے جن رؤیا وکشوف کا تعلق آئندہ زمانے سے ہو ان کاکثرت سے ہوبہو پورا ہو جاناصاحب کشف والہام انسان کی سچائی کا نشان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے متعلق فرماتا ہے۔ ’’وہ غیب کا جاننے والا ہے پس وہ کسی کو اپنے غیب پر غلبہ عطا نہیں کرتابجز اپنے برگزیدہ رسول کے۔‘‘(سورۃ الجن:27) اس اظہار غیب کا ذریعہ وحی والہام اور رؤیا وکشوف ہی ہیں۔چنانچہ دوسری جگہ فرمایا’’اور کسی انسان کے لئے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ یا پردے کے پیچھے سے یاکوئی پیغام رساں بھیجے جو اُس کے اِذن سے جو وہ چاہے وحی کرے۔یقینا وہ بہت بلند شان (اور)حکمت والا ہے۔‘‘(سورۃ الشوریٰ:52)
    رؤیا وکشوف کے بارہ میں قرآن شریف سے یہ اصول بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض پیش گوئیاں انبیاء کی زندگی میں پوری ہو جاتی ہیں اور بعض وفات کے بعد ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔’’اگرہم تجھے اُن انذاری وعدوں میں سے کچھ دکھادیں جو ہم ان سے کرتے ہیں یا تجھے وفات دے دیں تو(ہرصورت) تیرا کام صرف کھول کھول کر ُپہنچادینا ہے اور حساب ہمارے ذمہ ہے۔‘‘(سورۃ الرعد:41)
    سید الانبیا ء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’بشیر ونذیر ‘‘کے لقب سے بھی نوازاگیا ہے ۔ آپؐ کو قرآن شریف میں بیان فرمودہ بشارات اور تنبیہات کی تفاصیل رؤیا و کشوف کے ذریعے عطا فرمائی گئیں اور امت محمدیہ میں قیامت تک رونما ہونے والے واقعات کی خبریں عطا کی گئیں۔ ایک دفعہ نمازِ کسوف کے دوران ہونے والے کشفی نظارہ کے بارہ میں آپؐ نے فرمایا ’’مجھے ابھی اس جگہ آئندہ کے وہ تمام نظارے کروائے گئے جن کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے ‘‘ یہاں تک کہ جنت ودوزخ کی کیفیات بھی دکھائی گئیں۔ اس واضح اور جلی کشف میں بعض نعماء جنت اپنے سامنے دیکھ کر آپؐ انہیں لینے کے لئے آگے بڑھے اور جہنم کی شدت و تمازت کا نظارہ کر کے پیچھے ہٹے ۔(بخاری)1
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان رؤیا و کشوف کی مختلف انواع و کیفیات اور واقعات میں سے بطور نمونہ کچھ ذکر اس جگہ کیا جاتا ہے۔
    ۱۔نبی کریمؐ کی زندگی میں ظاہری رنگ میں پوری ہونے والی رؤیا
    پہلی قسم اُن رؤیاء و کشوف اور پیش گوئیوں کی ہے، جو نبی کریمؐکی حیات مبارکہ میں ہی واضح طور پر اپنے ظاہری رنگ میں منّ وعَنْ پوری ہو گئیں۔
    حضرت عائشہ ؓسے شادی کی رؤیا
    حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ شادی سے قبل ان کی تصویر دکھا کرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ آپ ؐکی بیوی ہے۔ظاہری حالات میں یہ بات ناممکن نظر آتی تھی کیونکہ حضرت عائشہؓ کی منگنی دوسری جگہ طے ہوچکی تھی اور یوں بھی نبی کریمؐ اور حضرت عائشہؓ کی عمروں کا فرق ہی چالیس سال سے زائد تھا۔ اس پیشگی غیبی خبر پر کامل ایمان کے باوجود آنحضورؐ نے کمال احتیاط سے اس کی تعبیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس رؤیاکا ظاہری رنگ میں پورا ہونا ہی مراد ہے تو وہ خود اس کے سامان پیدا فرماوے گا۔ (بخاری)2
    پھر بظاہر نا موافق حالات کے باوجود اللہ تعالیٰ نے یہ بات غیرمعمولی رنگ میںپوری کردکھائی اورجُبیر بن مطعم سے منگنی ختم ہونے کے بعد کم سن حضرت عائشہؓ رسول اللہؐ کے عقد میں آئیں اور اُمّ المؤمنین کا اعزازان کو عطاہوا۔
    مکی دور میں فتح بدرکی پیش گوئی
    ان پیشگوئیوں میں سے ایک غزوۂ بدر کی فتح کی پیش گوئی بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکّہ ہی میں تھے اور مسلمان انتہائی کمزور اور مظلوم ومقہور ہو چکے تھے ۔ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پہلی قوموں کی قربانیوں کی مثالیں دے کر صبر کی تلقین فرماتے تھے۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے تازہ نشان بھی مسلمانوں کے لئے انشراحِ صدر اور مضبوطیٔ ایمان کا موجب ہوتے تھے۔جیسے شقِّ قمر کا معجزہ وغیرہ۔ چاند جو عربوں کی حکومت کا نشان تھا۔ اس کے دو ٹکڑے کر کے دکھانے میں یہ بلیغ اشارہ بھی تھا کہ قریش کی حکومت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی اور انکی وحدت ملی پارہ پارہ ہوکر رہے گی۔سورۃ قمر (جس میں واقعہ شق قمر کا ذکر ہے ) میں واشگاف الفاظ میں مسلمانوں کے مقابل پر کفار کے ایک بڑے گروہ کی پسپائی کا ذکر ہے۔فرمایا سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَo(القمر:46)یعنی( اس روز قریش کی) جمعیت پسپا ہوگی اور یہ (اوران کے لشکر) پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہونگے۔
    کمزوری کے اس زمانے میں دشمن اس پیشگوئی کو دیوانے کی ایک بڑکہہ سکتے تھے اور اسی لئے ساحرومجنون کے الزام لگاتے تھے۔پھراللہ تعالیٰ نے جس شان سے ان وعدوں کو پورا فرمایا اس پر اہل مکّہ بھی انگشت بدنداں ہوکررہ گئے۔
    چنانچہ بدر کے موقع پر اس پیشگی وعدۂ فتح کی توثیق کرتے ہوئے فرمایا۔ وَاِذْیَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحْدَی الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّھَالَکُمْ(سورۃالانفال:8) کہ اس وقت کو یادکرو جب اللہ تمہیں دو گروہوں (یعنی لشکرکفار اور قافلہ) میں ایک کا وعدہ کررہا تھا کہ اس پر تم کو فتح ہوگی۔
    پھر بھی جب میدان بدر میں رسول اللہؐ نے دیکھا کہ قریش کے تجارتی قافلے کی بجائے ایک مسلح لشکر جرارسامنے ہے جو کمزور نہتے مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ہے تو طبعاً آپؐ کوفکر دامنگیرہوئی۔ تب خداتعالیٰ کی شان غنا سے ڈرتے ہوئے اور اپنی کمزوری پر نظر کرتے ہوئے رسول اللہؐ نے دعائوں کی حد کردی۔ آپؐ بدر کے دن اللہ تعالیٰ کو اس کے وعدوں کا واسطہ دے دے کر اتنے الحاح سے د عا کررہے تھے کہ چادر کندھوں سے گر گر جاتی تھی۔
    آپؐ اپنے مولیٰ سے سرگوشیاں کر رہے تھے۔اے اللہ تیرے عہدوں اور وعدوں کا واسطہ! (تو ہمیں کامیاب کر) اے اللہ اگر آج تو نے مسلمانوں کی اس جماعت کو ہلاک کردیا تو کون تیری عبادت کرے گا۔
    حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ کا ہاتھ پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہؐ! اب بس کریں۔ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھے۔ آپؐ یہ آیت تلاوت کررہے تھے ۔سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَo(سورۃالقمر:46)کہ لشکر ضرور پسپا ہوں گے اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ (بخاری3)گویا خدا کاپیشگی وعدہ فتح یاد کرکے مسلمانوں کو تسلی دے رہے تھے۔ چنانچہ بظاہر نامساعد حالات میں اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان میں مسلمانوں کو حیرت انگیز فتح عطافرمائی اور رسول اللہؐ کیکنکریوں کی ایک مٹھی کفار پرآندھی و طوفان بن کرٹوٹی اور انہیں پسپا کرنے کا موجب بن گئی۔
    سرداران قریش کی ہلاکت کی پیشگوئی
    نبی کریم ؐ کو بدر میں صنادید قریش کی ہلاکت کا کشفی نظارہ پہلے سے کروایا گیا تھا۔اس بارہ میں حضرت انسؓ بیان کرتے تھے کہ ہم مکّہ و مدینہ کے درمیان حضرت عمرؓ کے ساتھ شریک سفر تھے۔چنانچہ حضرت عمرؓ فرماتے تھے کہ معرکۂ بدر سے ایک روز قبل رسول کریمؐ نے ہمیں مشرک سرداروں کے ہلاک ہونے کی جگہوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا’’یہ فلاں شخص کے ہلاک ہونے کی جگہ ہے اور یہاں فلاں شخص ہلاک ہوگا۔‘‘حضرت عمرؓ کہتے ہیں پھر ہم نے دیکھا کہ وہ لوگ وہیں گر گر کر ہلاک ہوئے جہاں رسول خداؐ نے بتایاتھا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ۔آپ ؐنے ان کے گر کر ہلاک ہونے کی جو جگہیں بتائی تھیں، ان میں ذرا بھی غلطی نہیں ہوئی۔(مسلم)4
    غزوۂ بدر میں قریش کے چوبیس سردار ہلاک ہوئے۔انہیں بدر کے ایک گڑھے میں ڈالا گیا۔ تیسرے دن بدرسے کُوچ کے وقت رسو ل کریمؐاس گڑھے کے کنارے کھڑے ہوکر ان سرداروں اور ان کے باپوں کے نام لے کر پکارنے لگے ۔آپؐ فرماتے تھے ’’اے فلاں کے بیٹے کیا تمہیں یہ بات خوش کرتی ہے کہ تم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی ہوتی؟‘‘ہم نے تو اپنے ربّ کے وعدوں کو سچاپالیا کیا تم نے اپنے رب کا وعدہ حق پایا ہے یا نہیں؟ حضرت عمرؓ نے عرض کیا ’’یارسول اللہؐ !آپؐ ان بے جان جسموں سے کلام کررہے ہیں ‘‘آپ ؐ نے فرمایا ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے، جو باتیں میں کہہ رہا ہوں وہ انکو تم سے زیادہ سمجھ رہے ہیں۔‘‘ (یعنی اپنے ظلموں کی جزاپاکر)۔(بخاری)5
    مکی دور میں ہجرتِ مدینہ اور مکّہ واپسی کی پیشگوئی
    قرآن شریف میں سورۂ قَصص (جو مکی سورۃ ہے) کے آغاز میں حضرت موسیٰ ؑکے حالات اور سفر ہجرت کا ذکر ہے۔ آخرمیں مثیل موسیٰ نبی کریمؐ کے مکّہ سے ہجرت کرنے اور پھر مکّہ لوٹ کر آنے کی پیشگوئی واضح الفاظ میں کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَ آدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ط(سورۃ القصص :86)یعنی وہ جس نے تجھ پر قرآن فرض کیا ہے ،ضرور تجھے ایک واپس آنے کی جگہ کی طرف واپس لے آئے گا۔
    یہ پیشگوئی جن حالات میں کی گئی، ان میں مکّہ سے نکالے جانے کے بعد پھر واپس آنا بظاہر ایک ناممکن سی بات معلوم ہوتی تھی۔فتح مکّہ سے چندروز قبل تک بھی معلوم نہ تھا کہ رسول اللہؐ اس شان سے مکّہ میں داخل ہوں گے۔مگر یہ پیشگوئی صرف آٹھ سال کے عرصہ میں کس شان سے پوری ہوئی۔
    کسرٰی شاہ ایران کی ہلاکت کی پیشگوئی
    رسول اللہؐ نے کسرٰی شاہ ایران کو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہوئے خط لکھا ۔اس نے نہایت بے ادبی سے وہ خط پھاڑ دیا۔رسول کریمؐ کو علم ہوا تو آپؐ نے کسریٰ کی حکومت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی دعا کی۔پھر نہایت معجزانہ رنگ میں اس زمانہ کی یہ طاقتور حکومت بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوئی اورا س کا جابرو ظالم حاکم بھی پیشگوئی کے مطابق ہلاک ہوا اوررسول خداکی سچائی کا نشان بنا۔
    تفصیل اس کی یوں ہے کہ نبی کریمؐ کے تبلیغی خط کو کسریٰ نے اپنی ہتک سمجھااور یمن کے حاکم باذان کو حکم بھجوایا کہ اس شخص کو جو حجاز میں ہے دو مضبوط آدمی بھجوائو جوگرفتار کر کے اُسے میرے پاس لے آئیں۔باذان نے ایک افسربابویہ نامی اور ایک ایرانی شخص کے ہاتھ اپنے خط میںآنحضرت ؐکو لکھا کہ آپؐ ان دونوں کے ساتھ شاہ ایران کے پاس حاضر ہوں ۔ بابویہ کو اس نے کہا اس دعویدار نبوت سے جاکرخود بات کرو اور اس کے حالات سے مجھے مطلع کرو۔ یہ لوگ طائف پہنچے اور آنحضرت ؐ کے بارہ میں پوچھا ۔انہوں نے کہا وہ تو مدینہ میں ہیں۔ طائف والے اس پر بہت خوش ہوئے کہ اب کسرٰی شاہ ایران اس شخص کے پیچھے پڑگیا ہے۔ وہ اس کے لئے کافی ہے۔دونوں قاصدمدینہ پہنچے۔ بابویہ نے رسول اللہؐ سے بات چیت کی اور آپؐ کو بتایا کہ شہنشاہ کسرٰی نے شاہ یمن باذان کو حکم بھجوایا ہے کہ آپؐ کو گرفتار کر کے اس کے پاس بھجوایا جائے اور مجھے باذان نے بھیجا ہے کہ آپؐ میرے ساتھ چلیں۔ اگر آپ ؐمیرے ساتھ چلنے پر تیار ہوں تو میں شنہشاہ کسریٰ کے نام ایسا خط دوں گاکہ وہ آپؐ کو کوئی گزند نہیں پہنچائے گا۔ اگر آپؐ میرے ساتھ چلنے سے انکاری ہیں تو آپؐ خود جانتے ہیں کہ اس میں آپؐ کی بلکہ پوری قوم کی ہلاکت اور ملک کی تباہی وبربادی ہے ۔ آپؐ نے ان دونوں نمائندوں سے فرمایا کہ اس وقت تم دونوں جاؤ صبح آنا۔ رسول اللہ ؐ کو اسی رات اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی کہ شنہشاہ ایران کے بیٹے شیرویہ کو اس پر مسلط کر دیاگیاہے۔ اس نے اپنے باپ کو فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو قتل کردیا ہے۔
    اگلی صبح جب وہ دونوں رسو ل اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے ان دونوں سے فرمایا کہ میرے رب نے فلاں مہینے کی فلاں تاریخ رات کے وقت تمہارے رب کو ہلاک کر دیا ہے اور اس کے بیٹے شیرویہ کو اس پر مسلّط کر کے اسے قتل کیا ہے ۔ وہ دونوں کہنے لگے آپؐ کو پتہ ہے کہ آپؐ کیا کہہ رہے ہیں۔ ہم اس سے معمولی بات پر بڑی بڑی سزائیں دیا کرتے ہیں ۔کیا ہم آپؐ کی بات شہنشاہ کو لکھ کر بھیج دیں۔ آپؐ نے بڑے جلال سے فرمایا ۔ہاں ! میری طرف سے اسے یہ اطلاع کردو اور اسے جا کر یہ پیغام دو کہ میرا دین اور میرا غلبہ یقیناً تمہارے ملک ایران پر بھی ہو گااور اس کو کہہ دینا کہ اگر تم اسلام قبول کرلو تو تمہارا یہ ملک تمہارے ماتحت کر دیا جائے گا اور تمہیں تمہاری قوم پر حاکم بنا دیا جائے گا ۔یہ دونوں شخص جب حاکم یمن باذان کے پاس پہنچے تو اس نے کہا یہ کسی بادشاہ کا کلام نہیں ہے یہ شخص تو نبی معلوم ہوتا ہے ۔ جو کچھ اس نے کہا ہے ہم اس کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر تو یہ سچ نکلا تو یقیناًیہ خدا کا بھیجا ہوا نبی ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو ہم اس کے بارے میں اپنا فیصلہ کریں گے ۔تھوڑے ہی عرصے بعد باذان کو نئے شہنشاہ شیرویہ کا خط آیا، جس میں لکھا تھا۔ میں نے اپنے ملک ایران کے مفاد کی خاطرکسریٰ کوقتل کیا ہے کیونکہ وہ ایرانی سرداروں اور معززین کے قتل کا حکم دیتا اور ان کو قید کرتا تھا ۔اب تم میرا یہ خط پہنچتے ہی عوام سے میری اطاعت کا عہد لو اور کسریٰ نے جو خط حجاز کے ایک شخص کی گرفتاری کا لکھا تھا کالعدم سمجھو یہاں تک کہ میرا دوسرا حکم تمہیں پہنچے ۔ کسریٰ کے بیٹے کا خط پڑھتے ہی باذان کہنے لگا یہ شخص تو اللہ کا رسول ہے۔چنانچہ اس نے فوراً اسلام قبول کر لیا اور کئی ایرانی باشندے بھی جو یمن میں آباد تھے مسلمان ہو گئے ۔(طبری)6
    اسود عنسی کے قتل کی خبر
    حضرت عبداللہؓ بن عمربیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ؐ کو رات کے وقت اسود عنسی (مدعی نبوت ) کے قتل کی خبر دی ۔آپؐ نے ہمیں علی الصبح اطلاع فرمائی کہ آج رات اسود عنسی قتل ہو گیا ہے۔ ایک مبارک آدمی نے اس کو قتل کیا ہے ۔پوچھا گیا وہ کون ہے ؟ آپؐ نے فرمایا کہ اس کا نام فیروز بان فیروز ہے ۔(کنز)7
    -2تعبیر طلب رؤیا اور ان کا پورا ہونا
    دوسری قسم کی رؤیا یا پیشگوئیاں وہ ہیں جو اپنے ظاہری الفاظ میں پوری نہیں ہوتیں بلکہ تعبیر طلب ہوتی ہیں۔ رسول کریمؐ کو ان کی تعبیر کے بارہ میں بھی قبل از وقت علم عطا فرمایا گیا اور آپؐ نے وقت سے پہلے کھول کر بتا دیا کہ اس رؤیا کے مطابق یوں واقعہ ہوگا۔ اور پھر اسی طرح ظہور میں آکر وہ واقعات آپؐ کی سچائی کے گواہ بنے۔
    جھوٹے مدعیان نبوت کے ظہور کی پیشگوئی
    حجۃ الوداع کے بعد نبی کریم ؐ نے دو جھوٹے مدّعیان نبوت کے بارہ میں اپنی یہ رؤیابیان فرمائی کہ میں سویا ہوا تھا۔ زمین کے خزانے مجھے دیئے گئے ۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں دو سونے کے کنگن دیکھے۔ میری طبیعت پر یہ بات گراں گزری۔ سونے کے یہ کنگن میرے لئے باعث پریشانی ہوئے۔تب مجھے وحی ہوئی کہ ان کو پھونک ماریں۔ میں نے پھونک ماری تو وہ اُڑ گئے۔ میں نے اس رؤیا کی یہ تعبیر کی کہ دو جھوٹے دعویدارہیں جن کے درمیان میںہوں۔ایک تو صنعاء کا باشندہ(اسود عنسی) دوسرا یمامہ کا رہنے والا (مسیلمہ کذاب)۔ (بخاری)8
    یہ رؤیا بھی حضورؐ کی زندگی میں پوری ہوئی اور ان دونوںمدّعیان نے رسول اللہؐ کی زندگی میں نبوت کے دعوے کئے ۔اسود عنسی آپؐ کی زندگی میں اور مسیلمہ بعد میں ہلاک ہوا۔
    خلافت ابو بکرؓ وعمرؓ کے متعلق رؤیا
    خدا تعالیٰ کے ہرمامور کی طرح نبی کریم ؐ کو اپنے بعد اپنے مشن کے جاری اور قائم رہنے کی فکر لاحق تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فکر اُس رؤیا کے ذریعے دور فرمادی جس میں حضرت ابو بکرؓ کے مختصر زمانہ خلافت او ر حضرت عمرؓکے فتوحات سے بھرپور پُر شوکت عہد کی طرف اشارہ تھا۔ نبی کریم ؐ نے فرمایاکہ
    ’’میں نے رؤیا میں دیکھا کہ میں سیاہ رنگ کی بکریوں کے لئے کنوئیں سے پانی کھینچ رہا ہوں جن میں کچھ گندمی رنگ کی بکریا ں بھی ہیں۔ اتنے میں ابو بکرؓ آئے انہوں نے ایک یا دو ڈول پانی کھینچا اور ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری تھی پھر عمرؓ آئے اور انہوں نے ڈول لیا تو وہ اسے بھرا ہوا کھینچ لائے۔ اُنہوں نے تمام لوگوں کو پانی سے سیراب کیا اور تمام بکریوں نے پانی پی لیا۔ میں نے آج تک ایسا کوئی باکمال وباہمت جواں مردنہیں دیکھا جو حضرت عمرؓ جیسی طاقت رکھتا ہو۔‘‘(بخاری)9
    چنانچہ یہ رؤیا بھی بڑی شان سے پوری ہوئی۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں قیصر و کسریٰ کی عظیم فتوحات کی بنیاد رکھ دی گئی اور بڑی بڑی فتوحات ہوئیں۔
    فتح ایران اورسراقہ بن مالک کے بارہ میں پیشگوئی
    سفر ہجرت میں سو اونٹوں کے انعام کے لالچ میں رسول اللہؐ کا تعاقب کرنے والے سراقہ بن مالکؓ کے حق میں بھی رسول اللہؐ کی پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی۔
    حضرت ابوبکرؓ ہجرت نبوی کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ ہمارا تعاقب کرنیوالوں میں سے صرف سراقہ بن مالک ہی ہم تک پہنچ سکا جو اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ! یہ ہمیں پکڑنے کیلئے آیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اے ابوبکرؓ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ جب سراقہ ہمارے قریب ہوا تو رسول کریم ؐ نے دعا کی کہ اے اللہ ہماری طرف سے توُ خود اسکے لئے کافی ہو۔تب اچانک اسکے گھوڑے کے اگلے دو پائوں زمین میں دھنس گئے۔اس پر سراقہ کہنے لگا مجھے پتہ چل گیا ہے کہ یہ آپؐ کی دعا کا نتیجہ ہے۔اب آپؐ دعا کریں اللہ مجھے اس سے نجات دے۔ خدا کی قسم اپنے پیچھے آنیوالوں کو میں آپؐ کے بارہ میں نہیں بتائوں گا ۔ آپؐ میرے تِیر بطور نشانی لے لیں۔ فلاں جگہ جب میرے اونٹوں اور بکریوں کے ریوڑ کے پاس سے آپؐ گزریں تو اپنی ضرورت کے مطابق جوچیز چاہیں لے لیں۔حضور ؐ نے فرمایا مجھے اس کی ضرورت نہیں۔پھر آپؐ نے اس کے لئے دعا کی اور اس کے گھوڑے کے پائوں باہر نکل آئے۔(احمد)10
    سراقہ کی درخواست پر رسول کریمؐ نے اسے ایک تحریر امان لکھواکر دی اور جب وہ واپس جانے لگا تو آپؐ نے فرمایا اے سراقہ !اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب کسرٰی کے کنگن تجھے پہنائے جائیں گے؟ سراقہ نے حیرانی سے کہا کسریٰ بن ہرُمز(شہنشاہ ایران)؟ آپؐ نے فرمایا’’ہاں کسریٰ بن ہرُمز کے کنگن۔‘‘
    اپنے جانی دشمنوں سے جان بچاکر ہجرت کرنے والے بظاہر ایک کمزور انسان کی اس پیشگوئی کی شان اور عظمت پر غورتو کریں جس میں سُراقہ کو کسریٰ کے کنگن پہنائے جانے سے کہیں بڑھ کر عظیم الشان پیشگوئی یہ تھی کہ ایران فتح ہوگا اور کسریٰ کے خزانے مسلمانوں کے قبضہ میں آئیں گے۔پھر نامساعد حالات میں کی گئی یہ پیشگوئی کس شان سے پوری ہوئی۔
    سراقہ نے فتح مکّہ کے بعدجِعّرانہ میں اسلام قبول کیا۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں کسرٰی کے کنگن اور تاج وغیرہ حضرت عمرؓ کے دربار میں پیش ہوئے۔ حضرت عمر ؓ نے سراقہ کو بلایا اور فرمایا’’ ہاتھ آگے کرو ‘‘۔ پھر آپ نے اُسے سونے کے کنگن پہنادیئے اور فرمایا اے سراقہ ! کہو کہ تمام تعریفیں اس خدا کی ہیں جس نے ان کنگنوں کو کسریٰ کے ہاتھ سے چھین کر سراقہ کے ہاتھوں میں پہنادیا۔ وہ کسریٰ جو یہ دعویٰ کرتا تھا کہ میں لوگوں کا رب ہوں۔(الحلبیہ)11
    اسلامی بحری فتوحات کی پیشگوئی
    ایک اور عظیم الشان کشف کا تعلق اسلامی بحری جنگوں سے ہے۔ مدنی زندگی کے اس دور میں جب بری سفروں اور جنگوں کے پورے سامان بھی مسلمانوں کو میسر نہیں تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کی بحری جنگوں اورفتوحات کی خبر دی گئی ۔
    حضرت ام حرامؓ بنت ملحان بیان کرتی ہیں کہ حضورؐ ہمارے گھر محو استراحت تھے کہ عالم خواب سے اچانک مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے ۔میں نے سبب پوچھا تو فرمایا کہ:۔
    ’’ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اس سمندر میں اس شان سے سفر کریں گے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوتے ہیں۔‘‘
    ام حرام ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہؐ !آپ ؐدعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے بنادے۔چنانچہ رسول کریمؐ نے یہ دعا کی کہ’’ اے اللہ اسے بھی ان میں شامل کردے۔‘‘پھر آپؐ کو اونگھ آگئی اور آنکھ کھلی توآپؐ مسکرارہے تھے۔ میں نے وجہ پوچھی تو آپؐ نے پہلے کی طرح امت کے ایک اور گروہ کا ذکر کیا جو خدا کی راہ میں جہاد کی خاطر نکلیں گے اور بادشاہوں کی طرح تخت پر بیٹھے سمندری سفر کریں گے۔ ام حرام ؓ نے پھر دعا کی درخواست کی کہ وہ اس گروہ میں بھی شامل ہوں۔آپؐ نے فرمایا’’ تم گروہ اولین میں شامل ہو، گروہ آخرین میں شریک نہیں۔‘‘ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ پھریہی حضرت ام حرامؓ سمندری سفر میں شامل ہوئیںاور اسی سفر سے واپسی پر سواری سے گر کر وفات پائی۔(بخاری)12
    اس پیشگوئی میں جزیرہ قبرص کے بحری سفر کی طرف اشارہ تھا۔ حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت میں حضرت معاویہؓ کو جب وہ شام کے گورنر تھے پہلے عظیم اسلامی بحری بیڑے کی تیاری کی توفیق ملی۔ اس سے قبل مسلمانوں کو کوئی کشتی تک میسر نہ تھی۔حضرت عثمان ؓ کے زمانہ خلافت میں ہی حضرت معاویہؓ نے اسلامی فوجوں کی بحری کمان سنبھالتے ہوئے جزیرہ قبرص کی طرف بحری سفر اختیار کیاجو اسلامی تاریخ میں پہلا بحری جہاد تھا۔جس کے نتیجہ میں قبرص فتح ہوا اور بعد میں ہونے والی بحری فتوحات کی بنیادیں رکھی گئیں۔یوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کی وہ بات پوری ہوئی کہ دین اسلام غالب آئے گا یہاں تک کہ سمندر پار کی دنیائوں میں بھی اس کا پیغام پہنچے گا اور مسلمانوں کے گھڑ سوار دستے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے سمندروں کو بھی چیر جائیں گے۔(کنز)13
    یہ پیش گوئی اس شان کے ساتھ جلوہ گر ہوئی کہ اس زمانہ کی زبردست ایرانی اور رومی بحری قوتوں کے مقابل پر حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت میں مسلمانوں نے اپنی بحری قوت کا لوہا منوایا۔ عبداللہ بن سعدؓ بن ابی سرح کی سرکردگی میں اسلامی بحری بیٹرے نے بحیرہ روم کے پانیوں میں اپنی دھاک بٹھاکر اسلامی حکومت کی عظمت کو چار چاند لگادیئے۔چنانچہ فتح قبرص کے بعد کی اسلامی مہمات میں جہاں مسلمان ایک طرف بحیرہ اسود و احمر کے بھی اس پار پہنچے اور بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑائے تو دوسری طرف مسلمان فاتحین نے بحیرہ روم کو عبور کر کے جزیرہ روس صقلیہ اور قسطنطنیہ کو فتح کیا۔تیسری طرف طارق بن زیاد فاتح سپین نے بحیرہ روم کو چیرتے ہوئے بحر اوقیانوس کے کنارے جبرا لٹر پر پہنچ کر ہر چہ بادا باد کہہ کر اپنے سفینے جلادیئے تو چوتھی طرف محمدبن قاسم نے بحیرہ عرب اور بحر ہند کے سینے چیر ڈالے اور یوں مسلمانوں نے جریدۂ عالم پر بحری دنیا میں کیا بلحاظ سمندری علوم میں ترقی اورکیا بلحاظ صنعت اور کیا بلحاظ جہاز رانی ایسے اَن مٹ نقوش ثبت کئے جو رہتی دنیا تک یادرہیں گے۔ نئی بندرگاہیں تعمیرہوئیں، جہاز سازی کے کارخانے بنے بحری راستوں کی نشان دہی اور سمندروں کی پیمائش کے اصول وضع ہوئے اور مسلمان جو پانیوں سے ڈرتے تھے سمندروں پر حکومت کرنے لگے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے رؤیا وکشوف کمال شان کے ساتھ پورے ہوئے۔
    -3تعبیر طلب رؤیا کاکسی اور رنگ میں پورا ہونا
    رؤیا اور کشوف کی تیسری صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ رؤیا کے وقت کی گئی تعبیر کے مطابق من و عن ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ الہٰی مشیٔت وتقدیرکے مطابق کسی اور بہتر رنگ میں ظاہر ہوتی ہیںجیسے واقعہ صلح حدیبیہ۔
    مدنی دور میں جب مسلمان اہل مکّہ سے حالت جنگ میں تھے اور ان کے حج و عمرہ پر پابندی تھی۔اس وقت رسول اللہؐ نے رؤیا میں اپنے آپؐ کو صحابہ کے ساتھ امن و امان سے طواف کرتے دیکھا اور ظاہری تعبیر پر عمل کرتے ہوئے چودہ سو صحابہ کی جماعت ہمراہ لے کر عمرہ کرنے تشریف بھی لے گئے۔مگر گہری مخفی الہٰی حکمتوں اور منشاء الہٰی کے تابع آپؐ اس سال عمرہ نہ کرسکے اور معاہدۂ صلح حدیبیہ کے مطابق اگلے سال عمرہ کیا۔لیکن اس معاہدۂ حدیبیہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خیبر کی فتح بھی عطا فرمائی اور مکّہ بھی اسی معاہدہ کی برکت سے فتح ہوا۔اب اگر یہ تعبیر ظاہری رنگ میں پوری ہوجاتی کہ اُسی سال مسلمان طواف کر بھی لیتے تووہ فوائد و برکات حاصل نہ ہوتیں جو صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں عطا ہوئی ہیں اور جسے قرآن شریف میں’’فتح مبین‘‘ قراردیا گیا۔(بخاری)14
    ہجرت مدینہ کی رؤیا بھی اسی قسم کی تھی جس کی درست تعبیر بعد میں ظاہر ہوئی۔نبی کریم ؐ کواپنی ہجرت کی جگہ دکھائی گئی کہ کوئی کھجوروں والی جگہ ہے۔ آپؐ نے اُس سے یمامہ یا حجر کی سرزمین مراد لی۔مگر بعد میں کھلا کہ اس سے یثرب یعنی ’’مدینۃ الرّسول‘‘ مراد تھا۔(بخاری)15
    رؤیا میںدارالہجرت کے نام کے اخفاء میں یقینا گہری حکمت پوشیدہ تھی کہ ہجرت کے سفر میں کوئی روک یا خطرہ حائل نہ ہو۔
    -4رؤیاپوری ہونے پر اُس کی تعبیرکا کھلنا
    بعض رؤیا ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی تعبیر رؤیا کے وقت واضح نہیں ہوتی مگر بعد میں رؤیا کے پورا ہونے پر سمجھ آتی ہے۔ جس کی ایک حکمت یہ ہوتی ہے کہ اُس واقعہ یاحادثہ کے ظہور کے بعد رؤیا میں مضمر منشاء الہٰی معلوم کرکے انسان کو اطمینان حاصل ہو۔جیسے غزوۂ احد سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رؤیا میں دیکھا کہ آپؐ کچھ گائیوں کو ذبح کر رہے ہیں۔اسی طرح دیکھا کہ آپؐاپنی تلوار لہراتے ہیں اور اس کا اگلا حصہ ٹوٹ جاتاہے۔ رؤیا کے وقت اس کی تعبیر واضح نہ تھی، مگر بعد میں اس کشف کی تعبیر اُحد میں سترّ مسلمانوں کی شہادت کی عظیم قربانی،خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے اور دندان مبارک شہید ہونے کے رنگ میں ظاہر ہو گئی اس وقت کُھلا کہ اس رؤیا کا کیا مطلب تھا۔(بخاری)16
    -5پیش گوئی کا جانشین یا اولاد کے حق میں پورا ہونا
    بعض رؤیا کی تعبیر بعد میں آنے والوں مثلاً نبیوں کے خلفاء ،اُن کے ماننے والوں یا صاحبِ رؤیا کی اولاد کے حق میں ظاہر ہوتی ہے۔
    ایک نہایت اہم اور غیر معمولی شان کا حامل لطیف کشف وہ ہے جس کا نظارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوۂ احزاب کے اس ہولناک ابتلاء میں کروایا گیا جب اہل مدینہ ایک طرف کفار مکّہ کے امکانی حملہ سے بچنے کی خاطر شہر کے گرد خندق کھود رہے تھے۔ دوسری طرف اندرونی طور پر وہ سخت قحط سالی کا شکار تھے اور جیساکہ حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐکے صحابہ خندق کی کھدائی میں مصرو ف تھے۔مسلسل تین دن سے فاقہ میں تھے خودآنحضرتؐ نے بھوک کی شدت سے پیٹ پر دو پتھر باندھ رکھے تھے۔(بخاری)17
    حضرت براء بن عازبؓ اس واقعہ کی مزید تفصیل بیان کرتے ہیں کہ خندق کی کھدائی کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پتھریلی چٹان کے نہ ٹوٹنے کی شکایت کی گئی۔ آپؐ نے اللہ کا نام لے کر کدال کی پہلی ضرب لگائی تو پتھر شکستہ ہوگیا اور اس کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ گرا۔ آپؐ نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور فرمایا کہ ملک شام کی کنجیاں میرے حوالے کی گئی ہیں اور خدا کی قسم ! میں شام کے سرخ محلات اس جگہ سے دیکھ رہا ہوں ۔پھر آپؐ نے اللہ کا نام لے کر کدال کی دوسری ضرب لگائی پتھر کا ایک اور حصہ شکستہ ہوکر ٹوٹا اور رسول کریمؐ نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کر کے فرمایا مجھے ایران کی چابیاں عطا کی گئی ہیں اور خدا کی قسم! میں مدائن اور اس کے سفید محلات اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپؐ نے اللہ کا نام لیکر تیسری ضرب لگائی اور باقی پتھر بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ آپؐ نے تیسری بار اللہ اکبر کا نعرہ بلند کر کے فرمایا! ’’ یمن کی چابیاں میرے سپرد کی گئی ہیں اور خدا کی قسم !میں صنعاء کے محلات کا نظارہ اس جگہ سے کررہا ہوں۔(احمد)18
    یہ عظیم الشان روحانی کشف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ کے زبردست ایمان و یقین پر بھی دلالت کرتا ہے کہ ایک طرف فاقہ کشی کے اس عالم میں جب دشمن کے حملے کے خطرے سے جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ خود حفاظت کے لئے خندق کھودنے کی دفاعی تدبیروں میں مصروف ہیں۔ الہٰی وعدوں پر کیساپختہ ایمان ہے کہ اپنے دور کی دو عظیم طاقتور سلطنتوں کی فتح کی خبر کمزور نہتے مسلمانوں کو دے رہے ہیں اور وہ بھی اس یقین پر قائم نعرہ ہائے تکبیر بلند کر رہے ہیں کہ بظاہر یہ انہونی باتیں ایک دن پوری ہوکر رہیں گی۔
    پھر خدا کی شان دیکھو کہ حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ خلافت سے ان فتوحات کا آغاز ہوجاتا ہے۔حضرت خالد بن ولید ؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ اسلامی فوجوں کے ساتھ شام کو فتح کرتے ہیں اور حضرت عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں ان فتوحات کی تکمیل ہوجاتی ہے اورحضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی سرکردگی میں مسلمان ایران کو فتح کرتے ہیں اور صرف چند سال کے مختصر عرصہ میں دنیاکی دو بڑی سلطنتیں روم اور ایران ان فاقہ کش مگر یقین محکم رکھنے والے مسلمانوں کے زیر نگیں ہوجاتی ہیں۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان فتوحات کے روشن نظارے اس تفصیل کے ساتھ کرائے گئے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ خُریم بن اوسؓ کے بیان کے مطابق حیرہ کی فتح کے بارہ میں رسول کریم ؐ کا کشف جس شان کے ساتھ پورا ہوا وہ حیرت انگیز ہے۔رسول کریمؐ نے فرمایا’’ حیرہ کے سفید محلّات میرے سامنے لائے گئے اور میں نے دیکھا کہ اس کی (شہزادی) شیماء بنت نفیلہ ازدیہ ایک سرخ خچر پر سوار سیاہ اوڑھنی سے نقاب اوڑھے ہوئے ہے۔ خُریم ؓ نے غالباً اس پیشگوئی کی مزید پختگی کی خاطر عرض کیا یا رسول اللہؐ! اگر ہم حیرہ میں یوں فاتحانہ داخل ہوئے اور ان کی شہزادی شیماء کو ایسا ہی پایا جیسا کہ حضورؐ نے بیان فرمایا ہے تو کیا وہ شہزادی میری ملکیت ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا ہاں وہ تمہاری ہوئی۔ اب دیکھیں اس پیشگوئی میں حیرہ کی فتح کے ساتھ شیماء اور خریم کے زندہ رہنے کی پیشگوئی بھی شامل ہے۔ خریم کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں جب ہم نے حیرہ فتح کیا تو بعینہٖ وہی نظارہ ہم نے دیکھا جو رسول اللہؐ نے بیان فرمایا تھا کہ شیماء خچر پر سوار سیاہ اوڑھنی کا نقاب کئے آرہی تھی۔میںاس کی خچر سے چمٹ گیا اور کہا کہ رسول اللہؐ نے یہ مجھے ھبہ فرمادی تھی۔ سالار فوج خالدؓ بن ولید نے مجھے بلوایا اور میرے دعویٰ کی دلیل طلب کی۔ میں نے محمد بن مسلمہؓ اور محمد بن بشیر انصاری ؓکو بطور گواہ پیش کیا اور شیماء میرے حوالے کردی گئی۔ اس کا بھائی عبدالمسیح صلح کی غرض سے میرے پاس آیا اور کہا کہ اسے میرے پاس فروخت کرد و میں نے کہا میں دس سو درہم سے کم نہیں لونگا۔ اس نے فوراً مجھے ایک ہزار درہم دیئے اور میں نے شیماء اس کے حوالے کردی۔ مجھے لوگ کہنے لگے اگر تم دس ہزار درہم بھی کہتے تو وہ ادا کردیتا۔ یہ تم نے ایک ہزار مانگ کرکیا کیا؟ میں نے کہا دس سو سے زیادہ مجھے بھی گنتی نہیں آتی تھی۔(ابونعیم)19
    فاقہ کش ابوہریرہؓ جنہوں نے اِن رؤیاکی تعبیراپنی آنکھوں سے پوری ہوتے دیکھی،وہ یہ فتوحات دیکھ کر کہا کرتے تھے کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ’’ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئیں یہاں تک کہ میں نے اپنے ہاتھوں میں رکھیں‘‘۔پھرکہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو وفات پاگئے۔ اب تم ان خزانوں کوحاصل کررہے ہو۔(بخاری) 20
    پس رسول اللہؐ کے رؤیا ،کشوف اور پیشگوئیاں مختلف رنگوں میں الہٰی منشاء اور حکمت کے مطابق بہرحال پوری ہوئیںاورآج ہمارے لئے ازدیاد ایمان کا موجب بن کر ہمیں یقین دلاتی ہیں کہ اسلام کی نشأۃِ ثانیہ کے وہ وعدے بھی ضروربالضرور پورے ہونگے جو ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم سے کئے گئے ۔
    چنانچہ آخری زمانہ کے بعض خوش قسمت گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے رسول کریمؐ نے فرمایا کہ میری امت کے دو گروہوں کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے محفوظ فرمایا ہے ایک وہ جو ہندوستان سے جہاد کرے گا اور دوسری وہ جماعت جو عیسیٰ ؑبن مریم کے ساتھ ہوگی۔(نسائی)21
    اس پیشگوئی کا پہلا حصہ بڑی شان کے ساتھ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اس وقت پورا ہوا جب محمد بن قاسم کے ذریعے سندھ کی فتح سے ہندوستان کی فتوحات کا آغازہوا۔ اور انہوں نے سندھ کے باسیوں کووہاں کے ظالم حکمرانوں سے نجات دلا کر عدل وانصاف کی حکومت قائم کی اور اپنے اعلیٰ کردار اور پاکیزہ اقدار سے اہل سندھ کو اپنا گرویدہ کر لیا۔ یوں یہاں اسلام کا آغاز ہوا ۔پیشگوئی کے دوسرے حصے کا تعلق اس آخری زمانہ سے ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین کو سمیٹ کر دکھایا،یہاں تک کہ اُس کے مشرقی کنارے بھی اور مغربی کنارے بھی میرے سامنے تھے۔ اور مجھے کہا گیا تھا کہ میری اُمت کی حکومت زمین کے اُن تمام کناروں تک پہنچے گی جو مجھے سمیٹ کر دکھائے گئے اور مجھے دو خزانے دیئے گئے ایک سرخ خزانہ(یعنی سونے کا) اور ایک سفید خزانہ( یعنی چاندی کا)‘‘ (مسلم)22
    اسلام کے اس آخری عظیم الشان غلبہ کے بارہ میں آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کوئی کچا یا پکا گھر نہیں چھوڑے گا مگر اس میں اسلام کو داخل کر دے گا۔ان الہٰی وعدوں پر ہر مومن کو یقین اور ایمان ہونا چاہیے کیونکہ
    جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور
    ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے


    حوالہ جات
    1
    بخاری کتاب الجمعۃ باب اذافتلت الدابۃ فی الصلاۃ:1134
    2
    بخاری کتاب النکاح باب الابکار :4688
    3
    بخاری کتاب التفسیر باب سیھزم الجمع ویولون الدبر
    4
    مسلم کتاب الجنہ وصفۃ نعیمھا باب عرض مقعد المیت من الجنۃ:5120
    5
    بخاری کتاب المغازی باب قتل ابی جہل:3679
    6
    تاریخ الامم والملوک لطبری جز3ص248دارالفکربیروت
    7
    کنزالعمال حدیث نمبر 37472
    8
    بخاری کتاب تعبیر الرؤیاباب النفخ فی المنام :6515
    9
    بخاری کتاب المناقب باب مناقب عمر
    10
    مسند احمد جلد 1ص2مطبوعہ مصر
    11
    السیرۃ الحلبیہ جلد 2ص45 مطبوعہ بیروت
    12
    بخاری کتاب الجہادباب الدعاء بالجہادوالشہادۃ للرجال والنسائ:2580
    13
    کنزالعمال جلد 10 ص 212 مطبوعہ حلب
    14
    بخاری کتاب التفسیر سورۃ الفتح
    15
    بخاری کتاب المناقب باب ھجرۃ النبی الی المدینۃ
    16
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ احد
    17
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الخندق وھی الاحزاب :3792
    18
    مسند احمد بن حنبل جلد 4 ص 303 دارالفکر بیروت
    19
    دلائل النبوۃ لابی نعیم جلد2ص692
    20
    بخاری کتاب التعبیر باب رؤیا اللیل:6483
    21
    نسائی کتاب الجہاد باب غزوۃ الھند
    22
    مسلم کتاب الفتن واشراط الساعۃ باب ھلاک ھذہ الامۃ بعضھم ببعض:5144

    صداقت شعاری میں رسول اللہؐ کا بلند مقام
    انسانی سیرت و کردار کی تعمیر میں سب سے اہم وصف صدق لہجہ، سچائی اور راست گفتاری ہے۔ دراصل انسان کی باطنی سچائی ہی ہے جس کا اظہار نہ صرف اس کی زبان سے بلکہ سیر ت و کردار حتّٰی کہ اس کی پیشانی سے بھی جھلکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ماموروں اور فرستادوں کی سچائی کا نشان یہی صداقت شعاری کا خلق ٹھہرایا ہے۔
    چنانچہ نبی کریم ؐ کے ذریعہ اہل مکّہ کو یہ خطاب ہوا کہ ’’ان کو کہہ دے اگر اللہ چاہتا تو میں یہ( قرآن ) تم کو پڑھ کرنہ سناتا اور نہ اس سے تمہیں آگاہ کرتا۔ اس سے پہلے میں تمہارے درمیان عمر کا ایک حصّہ گزار چکا ہوں کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔‘‘ (سورۃیونس آیت 17)
    اس آیت میں آنحضرت ﷺکی دعویٰ سے پہلے کی زندگی بحیثیت مدّعیٔ نبوت راست گفتاری میں بطور مثال کے پیش فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ جو شخص بچپن اور جوانی میں انسانوں سے جھوٹ نہیں بولتا وہ بڑھاپے کے قریب خدا پر کیسے جھوٹ باندھ سکتا ہے۔ بلاشبہ مدّعی ٔ نبوت کی صداقت کے لئے یہ ایک بنیادی اور اہم دلیل ہے۔اس پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو پرکھا جائے تو آپؐ کی سچائی روز روشن کی طرح ظاہر و باہر ہے۔
    آپؐ ہی تھے جن کو آغاز جوانی سے ہی اپنے پرائے سبھی امانت دار مانتے تھے۔ آپؐ کا نام ہی صدوق پڑگیا تھا جو بے حد سچ بولنے والے کو کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن بھی دعویٔ نبوت تک کھلم کھلا یہ گواہی دیتے رہے کہ آپؐنے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔اس جگہ ہم رسول کریمؐ کی صداقت کے بارے میں چند شہادتیں پیش کریں گے۔
    میاں بیوی کی قربت کو قرآن شریف میں بجا طور پر ایک دوسرے کے لباس سے تعبیر کیا گیا ہے۔(سورۃ البقرۃ:188)پس بیوی سے بڑھ کر کون ہے جو شوہر کے زیادہ قریب ہو اور اس کے اخلاق کے بارہ میں اس سے بہتررائے دے سکے؟
    ازواج مطہرات ؓکی گواہی
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی وحی کے بعد گھبراہٹ کے عالم میں گھر تشریف لائے تو حضرت خدیجہ ؓ نے آپؐ کو جن الفاظ میں تسلی دی وہ آپؐ کی صداقت کی زبردست گواہی ہے۔ انہوں نے آپؐ کی یہ اہم صفت بھی بیان کی کہ آپؐ تو ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپؐ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔(بخاری)1
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میںحضرت عائشہؓ کی بھی یہی گواہی تھی کہ آپؐ کے اخلاق تو قرآن تھے اوراسلام وقرآن کا بنیادی خلق تو سچائی ہی ہے۔
    حضرت عائشہؓکی ایک اور روایت ہے کہ رسول کریم ؐ کو جھوٹ سے زیادہ ناپسند اور قابل نفرین اور کوئی بات نہیں تھی۔ اور جب آپؐ کو کسی شخص کی اس کمزوری کا علم ہوتا تو آپؐ اس وقت تک اس سے کھچے کچھے رہتے تھے جب تک کہ آپ ؐکو معلوم نہ ہو جائے کہ اس شخص نے اس عادت سے توبہ کرلی ہے۔(ابن سعد)2
    رشتہ داروں کی گواہی
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب حکم ہوا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو دعوت حق پہنچائیں تو کوہِ صفا پر آپؐ نے قبائل قریش کونام لے کر بلایا۔جب وہ اکٹھے ہوئے تو ان سے پوچھاکہ اگر میں تمہیں کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے سے ایک لشکر تم پر حملہ آور ہونے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا جانو گے؟’’ انہوں نے بلاتامّل کہا ہاں! ہم نے کبھی بھی آپؐ سے جھوٹ کا تجربہ نہیں کیا۔ آپؐ تو ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔‘‘مگر جب آپؐ نے انہیں کلمۂ توحید کی دعوت دی توآپؐ کا چچا ابو لہب کہنے لگا’’ تیرا برا ہو کیا تو نے اس لئے ہمیں جمع کیا تھا۔‘‘(بخاری )3
    سورۂ یونس میں نبی کی دعوے سے پہلے کی زندگی کو بطور دلیل پیش کرنے میں یہی حکمت ہے کہ بعد میں تو مخالف بھی پیدا ہوجاتے ہیں مگر دعویٰ سے پہلے سب اس کی راستبازی پر متفق ہوتے ہیں۔
    ابو طالب کی گواہی
    ایک دفعہ قریش کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت لے کر رسول اللہؐ کے چچا ابوطالب کے پاس آیا۔ ابو طالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلواکر سمجھایا کہ قریش کی بات مان لو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے فرمایا کہ اگر تم اس سورج سے روشن شعلۂ آگ بھی میرے پاس لے آئو پھر بھی میرے لئے اس کام کو چھوڑنا ممکن نہیں ۔اس پر ابو طالب نے گواہی دی کہ خد ا کی قسم ! میں نے آج تک کبھی اپنے بھتیجے کو اس کے قول میں جھوٹا نہیں پایا۔یعنی یہ اپنی بات کا پکا اور سچا ہے اور اس پر قائم رہے گا۔میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔(بیہقی)4
    ابو طالب کی دوسری گواہی شعب ابی طالب کے زمانہ کی ہے۔جب اس محصوری کی حالت میں تیسرا سال ہونے کو آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے علم پاکر ابو طالب کو اطلاع دی کہ بنو ہاشم سے بائیکاٹ کا جو معاہدہ خانہ کعبہ میں لٹکایا گیا تھا اس کی ساری عبارت کو سوائے لفظ اللہ کے دیمک کھاگئی ہے۔ ابوطالب کو رسول اللہ کے قول پر ایسا یقین تھا کہ انہوں پہلے اپنے بھائیوں سے کہا کہ خدا کی قسم محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا۔یہ بات بھی لازماً سچ ہے۔ چنانچہ وہ ان کے ساتھ سرداران قریش کے پاس گئے اور انہیں بھی کھل کر کہا کہ میرے بھتیجے نے مجھے یہ بتایا ہے کہ تمہارے معاہدہ کو دیمک کھا گئی ہے۔ اس نے مجھ سے آج تک جھوٹ نہیں بولا۔بے شک تم جاکر دیکھ لو اگر تو میرا بھتیجا سچا نکلے تو تمہیں بائیکاٹ کا اپنا فیصلہ تبدیل کرنا ہوگا۔ اگر وہ جھوٹا ثابت ہو تو میں اُسے تمہارے حوالے کرونگا۔چاہو تو اسے قتل کرو اور چاہو تو زندہ رکھو۔ انہوں نے کہا بالکل یہ انصاف کی بات ہے۔ پھر جاکر دیکھا تو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا،سوائے لفظ اللہ کے سارے معاہدہ کو دیمک چاٹ چکی تھی۔چنانچہ قریش یہ معاہدہ ختم کرنے پر مجبور ہوگئے۔(ابن جوزی)5
    خزیمہ بن حکیم سلمی کی گواہی
    خزیمہ حضرت خدیجہ ؓ کے سسرالی رشتہ داروں میں سے تھے۔ دعویٰ نبوت سے قبل جب رسول کریمؐ تجارت کے لئے حضرت خدیجہؓ کا مال تجارت لے کر شام گئے۔ خزیمہؓ بھی حضورؐ کے ساتھ تھے۔ حضورؐ کے پاکیزہ اخلاق مشاہدہ کر کے انہوں نے بے اختیار یہ گواہی د ی کہ
    ’’اے محمدؐ میں آپؐ کے اندر عظیم الشان خصائل اور خوبیاں دیکھتا ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ وہی نبی ہیں جس نے تہامہ سے ظاہرہوناتھا اور میں آپؐ پر ابھی ایمان لاتا ہوں۔ ‘‘ انہوں نے وعدہ کیاتھا کہ جب مجھے آپؐ کے دعویٰ کی خبر ملی میں ضرور آپؐ کی خدمت میں حاضر ہونگا۔ مگر دعویٰ کے بعد جلد اس وعدہ کی تکمیل نہ ہوسکی۔فتح مکہ کے بعد آکر اسلام قبول کیا تو رسول اللہؐ نے فرمایا’’پہلے مہاجر کو خوش آمدید‘‘۔(ابن حجر)6
    دوست کی گواہی
    حضرت ابوبکرؓ رسول اللہؐ کے بچپن کے دوست تھے۔ انہوں نے جب آپؐ کے دعویٰ کے بارہ میں سنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار کے باوجود کوئی دلیل نہیں چاہی کیونکہ زندگی بھر کا مشاہدہ یہی تھا کہ آپؐ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔(بیہقی)7
    پس رسول اللہؐ کا کردار بھی آپ ؐکی سچائی کا گواہ تھا اور آپؐ کی پیشانی پر بھی سچائی کی روشنی تھی جسے حضرت ابوبکرؓ نے پہچان لیا۔
    اولین معاند ابوجہل کی شہادت
    حق یہ ہے کہ سچوں کی گواہی دینے پر اپنے اور بیگانے تو کیا دشمن بھی مجبو رہوجاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ابو جہل سے بڑھ کر کون تھا؟ مگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو برملا کہا کرتا تھا کہ ہم تجھے جھوٹا نہیں کہتے بلکہ اس تعلیم کی تکذیب کرتے ہیں جو تو لے کر آیا ہے۔(ترمذی )8
    دشمن اسلام ابوسفیان کی گواہی
    رسول اللہؐ کا دوسرا بڑا دشمن ابو سفیان تھا۔ ہر قل شاہ روم نے اپنے دربار میں جب اس سے یہ سوال کیا کہ کیا تم نے اس مدعی نبوت ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) پر اس سے پہلے کوئی جھوٹ کا الزام لگایا؟ابو سفیان نے جواب دیا کہ نہیں ہرگز نہیں۔ دانا ہر قل نے اس جواب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں جانتا ہوں یہ ممکن نہیں ہوسکتا کہ اس نے لوگوں کے ساتھ توکبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور خدا پر جھوٹ باندھنے لگ جائے۔(بخاری )9
    جانی دشمن نضربن حارث کی شہادت
    رسول اللہؐ کا ایک اور جانی دشمن نضربن حارث تھا جودارالندوہ میں آپؐکے قتل کے منصوبے میں بھی شامل تھا۔ کفار کی مجلس میں جب کسی نے یہ مشورہ دیا کہ ہمیں محمدؐکے بارے میں یہ مشہور کردینا چاہئے کہ یہ جھوٹا ہے تو نضر بن حارث سے رہانہ گیا۔ وہ بے اختیار کہہ اٹھا کہ دیکھو محمدؐ تمہارے درمیان جوان ہوا،اس کے اخلاق پسندیدہ تھے۔ وہ تم میں سب سے زیادہ سچااور امین تھا۔ پھر جب وہ ادھیڑ عمر کو پہنچا اور اپنی تعلیم تمہارے سامنے پیش کرنے لگا تو تم نے کہا جھوٹا ہے ۔ خدا کی قسم! یہ بات کوئی نہیں مانے گا کہ وہ جھوٹا ہے۔ وہ ہرگزجھوٹا نہیں ہے۔(ابن ہشام) 10
    دشمن اسلام اُمیّہ بن خلف کی گواہی
    دشمن رسول امیہ بن خلف نے اپنے جاہلیت کے دوست حضرت سعد بن معاذ ؓ انصاری سے اپنی ہلاکت کے بارے میں رسول اللہؐ کی پیشگوئی سن کربے ساختہ گواہی دی تھی کہ خدا کی قسم (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) جب بھی بات کرتا ہے۔ جھوٹ نہیں بولتا۔(بخاری)11
    امیہ کی بیوی کی گواہی
    حضرت سعد بن معاذ ؓ انصاری نے جب سردارقریش امیہ بن خلف کی بیوی کو بتایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی ہے کہ اس کا خاوند امیہ ہلاک ہوگا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھی! خداکی قسم محمد جھوٹ نہیں بولتے۔ چنانچہ جب جنگ بدر کے لئے امیہ ابو جہل کے ساتھ جانے لگا تو بیوی نے پھر کہا ’’تمہیں یاد نہیں تمہارے یثربی بھائی سعد نے تمہیں کیا کہا تھا۔‘‘امیہ اس وجہ سے رُک گیا مگر ابوجہل باصرار اسے لے گیا چنانچہ امیہ بن خلف بدر میں مارا گیااور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سچی ثابت ہوئی۔(بخاری )12
    سردار قریش عتبہ کی گواہی
    قریش نے ایک دفعہ اپنے ایک سردار عتبہ کو نمائندہ بناکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔ اس نے کہا کہ آپؐ ہمارے معبودوں کو کیوں برا بھلا کہتے اور ہمارے آباء کو کیوں گمراہ قرار دیتے ہیں؟آپؐ کی جوبھی خواہش ہے پوری کرتے ہیں۔آپؐ ان باتوں سے باز آئیں۔حضورؐ تحمل اور خاموشی سے اس کی باتیں سنتے رہے۔ جب وہ سب کہہ چکا تو آپؐنے سورۃ حٰم فُصِّلَتْ کی چند آیات تلاوت کیں ،جب آپؐ اس آیت پر پہنچے کہ میں تمہیں عاد وثمود جیسے عذاب سے ڈرا تا ہوں توعتبہ نے آپؐ کو روک دیا کہ اب بس کریں اورخوف کے مارے اُٹھ کر چل دیا۔اس نے قریش کو جاکر کہا تمہیں پتہ ہے کہ محمدؐ جب کوئی بات کہتا ہے تو کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تم پر وہ عذاب نہ آجائے جس سے وہ ڈراتا ہے۔ تمام سردار یہ سن کرخاموش ہوگئے۔(حلبیہ13) اُن سب سردارانِ قریش کی یہ خاموشی اپنی ذات میں اس بات کی گواہی تھی کہ بلاشبہ آپ ؐ صادق وراستبازہیں ۔
    یہودی عالم کی گواہی
    عبداللہؓ بن سلام مدینہ کے ایک بڑے یہودی عالم تھے۔وہ مسلمان ہونے سے پہلے کا اپنا یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب آنحضورؐ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو لوگ دیوانہ وار آپؐ کو دیکھنے گئے میں بھی ان میں شامل ہوگیا۔ آپؐ کا نورانی چہرہ دیکھ کر ہی میںپہچان گیا کہ یہ چہرہ جھوٹے کا چہرہ نہیں ہوسکتا۔(ابن ماجہ)14
    ایچ جی ویلز نے رسول اللہؐ کے صدق وصفا کی گواہی دیتے ہوئے لکھا:۔
    ’’یہ محمد(ﷺ) کے صدق کی دلیل قاطع ہے کہ ان سے قربت رکھنے والے لوگ، اُن پر ایمان لائے ، حالانکہ وہ اُن کے اسرار ورموز سے پوری طرح واقف تھے اور اگر انہیں ان کی صداقت میں ذرہ برابر بھی شبہ ہوتا تو اُن پر وہ ہرگز ایمان نہ لاتے۔‘‘(ویلز)15
    پس ایک انسان کی سچائی پر اپنوں، پرایوں، دوستوںاور دشمنوں سب کا اتفاق کرلینا ایسی عظیم الشان شہادت ہے جو ہمارے نبی ؐ کی راستبازی اور سچائی کی زبردست اور روشن دلیل ہے۔

    حوالہ جات
    1
    بخاری کتاب التعبیرباب اول مابدیٔ بہ رسول اللہؐ
    2
    الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد1ص378
    3
    بخاری کتاب التفسیر سورۃ اللہب
    4
    دلائل النبوۃ بیھقی جلد2ص187دارالکتبہ العلمیہ بیروت
    5
    الوفاء باحوال المصطفیٰ لابن جوزی ص198بیروت
    6
    الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن الحجرجز 2ص112دارالکتاب العلمیہ بیروت
    7
    دلائل النبوۃ للبیہقی جلد2ص164دارالکتب العلمیہ بیروت
    8
    ترمذی ابواب التفسیر سورۃ الانعام زیرآیت قَدْنَعْلَمُ اِنَّہ‘ لَیَحْزُنکَ الَّذِی یَقُوْلُوْنَ
    9
    بخاری بدء الوحی
    10
    السیرۃ النبویۃ لابن ھشام جلد1ص320مصر
    11
    بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام
    12
    بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام
    13
    السیرۃ الحلبیۃ از علامہ برھان الدین جلد1ص303مطبوعہ بیروت
    14
    ابن ماجہ کتاب الاطعمہ باب اطعام الطعام
    15
    ایچ جی ویلز ، زکریا ہاشم زکریاص270بحوالہ نقوش رسول نمبر ص550

    ’ ’ رسولِ امین ؐ ‘‘کی امانت و دیانت
    ’’اللہ تمہیںحکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حقداروںکو اداکرو۔‘‘(النسائ:59) یہ ہے رسول اللہؐ کی شریعت میں قیام امانت کی بنیادی تعلیم۔ دنیامیں سب سے زیادہ امانت دار خداکے نبی اور رسول ہوتے ہیں جو خدا کا پیغام بلا کم وکاست اس کی مخلوق تک پہنچاتے ہیں۔ اس لئے قرآن شریف میں کئی انبیاء کا یہ دعویٰ مذکور ہے کہ ’’میں ایک امانت دار رسول ہوکر آیا ہوں۔‘‘ مگر ہمارے نبی حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ارفع یہ ہے کہ عرش کے خدانے آپؐ کے ’’امین‘‘ ہونے کی گواہی دی۔فرمایا مُطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ۔(التکویر:22) کہ یہ نبی ایسا ہے جس کی پیروی کی جائے اور امانت دار ہے۔آپؐ ہی وہ انسان کامل ہیں جنہوں نے اس امانت کا بوجھ اُٹھایا جو آسمان وزمین اورپہاڑبھی نہ اُٹھاسکے۔(الاحزاب:73)
    آسمان بار امانت نتوانست کشید
    قرعۂ فال بنام من دیوانہ زدند
    پس رسول کریمؐ ہی ہیں جنہوں نے امانت کے حق ادا کردکھائے۔آپؐ کے ماننے والوں کو بھی یہ تعلیم دی گئی کہ ’’وہ مومن فلاح پاگئے جو اپنی امانتوں اور عہدوں کا خیال رکھتے ہیں۔‘‘ (المؤمنون:9) رسول کریمؐ نے فرمایا جس کی امانت نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔(طبرانی)1
    امانت و دیانت کی بنیاد نیک نیتی دلی سچائی اور راستبازی ہے۔رسول کریمؐ میں یہ وصف بھی خوب نمایاں تھا۔ آپؐ اہل مکہ میں اس خوبی میں ایسے ممتاز تھے کہ سب آپؐ کو ’’صدوق وامین‘‘ کے لقب سے یاد کرتے تھے اور اپنی امانتیں آپؐ کے پاس بے خوف و خطر رکھتے تھے۔
    ایمان کا امانت سے گہرا تعلق ہے رسول کریمؐ کی تعلیم کاخاصہ بھی یہی تھا چنانچہ جب ہرقل نے ابوسفیان سے پوچھا کہ وہ مدعی نبوت تمہیں کیا تعلیم دیتا ہے۔ تو ابوسفیان نے بھی گواہی دی کہ وہ نماز،سچائی،پاکدامنی، ایفائے عہد اور امانت ادا کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس پرہرقل بے اختیار کہہ اُٹھا یہ تو نبی کی صفات ہیں۔(مسلم)2
    نجاشی شاہ حبشہ کے دربار میں حضرت جعفرطیارؓ نے رسول اللہؐ اور آپؐ کے دین کا تعارف کرواتے ہوئے کہا تھا کہ
    ’’اے بادشاہ! ہم ایک جاہل قوم تھے۔ بتوں کے پجاری تھے۔ مردار کھاتے اور بدکاری کے مرتکب ہوتے تھے۔ قطع رحمی ہمارا شیوہ تھا اور ہمسایوں سے بدسلوکی کرتے تھے۔ طاقتورکمزور کا حق کھا جاتا تھا تب خدا نے ہم میں ایک رسول بھیجا جس کی سچائی امانت اور پاکدامنی کے ہم گواہ ہیں۔ اس نے ہمیں خدا کی توحید اور عبادت کی طرف بلایا اور بت پرستی سے بچایا اور سچائی، امانت کی ادائیگی صلہ رحمی اور ہمسائے سے حسن سلوک کی تعلیم دی۔‘‘ (احمد)3
    قریش مکہ نبی کریمؐ کے خون کے پیاسے اورآپؐ کے قتل کے درپے تھے۔مگرحضورؐ کوہجرت مدینہ کے وقت ان کی امانتوں کی واپسی کی فکر تھی۔ چنانچہ مکہ چھوڑتے ہوئے اپنے عم زاد حضرت علیؓ کو ان خطرناک حالات کے باوجود پیچھے چھوڑ اکہ وہ امانتیں ادا کر کے مدینہ آئیں۔(ہشام)4
    رسول کریمؐ کے دل میں امانت کا جس قدر گہرااحساس تھااس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتاہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے آپؐ سے پوچھا کہ اگر کوئی گری پڑی چیز مل جائے تو اس کا کیا کیا جائے؟ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کی نشانیاں بتا کر اعلان کرتے رہو پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اسے لوٹا دو۔ وہ کہنے لگا اگر کوئی گمشدہ اونٹ مل جائے تو اس کا کیا کریں ؟ نبی کریمؐ بہت ناراض ہوئے۔ چہرہ کا رنگ سرخ ہوگیا اور فرمانے لگے تمہیں اس سے کیا؟ اس اونٹ کے پائوں ساتھ ہیں وہ درخت چرکر اور پانی پی کر زندہ رہ سکتاہے۔تم اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ خود اس کا مالک اُسے پالے۔(بخاری)5
    حفاظتِ امانت میںنبی کریمؐ کا اپنا یہ حال تھا کہ فرماتے تھے میں بسااوقات اپنے گھر میں بستر پر کوئی کھجور پڑی ہوئی پاتا ہوں۔کھانے کی خواہش بھی ہوتی ہے اور میں وہ کھجور اُٹھا کر کھانا چاہتا ہوں مگر پھر خیال آتا ہے کہ صدقہ کی کھجور نہ ہو تب اسے وہیں رکھ چھوڑ تا ہوں۔(بخاری)6
    ایک دفعہ گھر میں کھجور کے ایک ڈھیر میں سے کم سن حضرت امام حسین ؓیا حسنؓ نے ایک کھجور لے کر مُنہ میں ڈال لی۔ نبی کریمؐ نے فوراً وہ کھجور بچے کے مُنہ سے اگلوادی۔ کیونکہ وہ صدقہ کا مال تھا۔ اور مسلمانوں کی امانت تھی۔ آپؐ نے بچے سے فرمایا کہ ہم آلِ رسول صدقہ نہیں کھاتے اور بچے نے تھوکرکے وہ کھجور پھینک دی۔(بخاری)7
    غزوۂ خیبر کے موقع پر یہود شکست کے بعد پسپا ہوئے۔ مسلمانوں کو طویل محاصرہ کے بعد فتح عطاہوئی۔ بعض مسلمانوں نے جو کئی دن سے فاقہ سے تھے یہود کے مال مویشی پر غنیمت کے طور پر قبضہ کر کے کچھ جانور ذبح کئے اور ان کا گوشت پکنے کے لئے آگ پر چڑھادیا۔ نبی کریمؐ کو خبرہوئی تو رسول کریمؐ نے اسے سخت ناپسند فرمایا کہ مال غنیمت میں باضابطہ تقسیم سے پہلے یوں تصّرف کیوں کیا گیااور اسے آپ ؐنے خیانت پر محمول فرمایا ۔ آپؐنے صحابہ کو امانت کا سبق دینے کے لئے گوشت سے بھرے وہ سب دیگچے اور ہنڈیاں الٹوادیں پھر صحابہ کے مابین خود جانور تقسیم فرمائے اور ہر دس آدمیوں کو ایک بکری دی گئی۔دوسری روایت میں ہے کہ آپؐنے فرمایا کہ اموال پر زبردستی قبضہ جائزنہیں۔(احمد)8
    ایک دفعہ رسول کریمؐ نماز پڑھانے کے بعد خلاف معمول تیزی سے گھر گئے اور ایک سونے کی ڈلی لے کر واپس آئے اورفرمایا کہ کچھ سونا آیاتھا سب تقسیم ہوگیا یہ سونے کی ڈلی بچ گئی تھی۔ میں جلدی سے اسے لے آیا ہوں کہ قومی مال میں سے کوئی چیز ہمارے گھر میں نہ رہ جائے۔(بخاری)9
    حضرت سائب بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن حضرت عثمان ؓ اور زبیرؓمجھے اپنے ساتھ لے کر آنحضرت ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میری تعریفیں کرنے لگے۔ رسول کریمؐ نے انہیں فرمایا !آپؐ لوگ بے شک مجھے اس کے بارے میں زیادہ نہ بتائو۔ یہ جاہلیت کے زمانے میں میرا ساتھی رہا ہے۔ سائبؓ کہنے لگے ہاں یا رسول اللہؐ! آپؐ کتنے اچھے ساتھی تھے۔آپؐ نے فرمایاہاں اے سائبؓ دیکھنا جاہلیت میں تمہارے اخلاق بہت نیک تھے۔ اسلام میں بھی وہ قائم رکھنا۔مثلاً مہمان نوازی،یتیم کی عزت اور ہمسائے سے نیک سلوک وغیرہ پر خاص توجہ دینا۔
    دوسری روایت میں ہے کہ سائبؓ آنحضرت ؐ کے ساتھ تجارت میں شریک رہے۔فتح مکہ کے دن سائب نے یہ گواہی دی کہ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان آپؐ نے کبھی جھگڑا نہیں کیا۔(احمد)10
    غزوۂ خیبر کے محاصرہ کے وقت بھوک اور فاقے کے ایام میں مسلمانوں کی امانت کاایک کڑا امتحان ہوا۔ہوایوں کہ یہود کے ایک حبشی چراوہے نے اسلام قبول کرلیا اور سوال پیدا ہو اکہ اس کے سپرد یہود کی بکریوں کا کیا کیا جائے۔ نبی کریمؐ نے ہر حال میںامانت کی حفاظت کرنے کا فیصلہ فرمایا۔آپؐ نے اپنے صحابہ کی بھوک اور فاقہ کی قربانی دے دی مگرکیامجال کہ آپؐ کی امانت میں کوئی فرق آیا ہو حالانکہ یہ بکریاں دشمن کے طویل محاصرہ میں تو مہینوں کی خوراک بن سکتی تھیں۔مگرآپؐ نے کس شان استغناء سے فرمایا کہ بکریوں کا منہ قلعے کی طرف کر کے ان کوہانک دو۔خداتعالیٰ ان کو ان کے مالک کے پاس پہنچادے گا۔نومسلم غلام نے ایسا ہی کیا اور بکریاں قلعے کے پاس پہنچ گئیںجہاں سے قلعے والوں نے ان کو اندر داخل کرلیا۔سبحان اللہ! رسول اللہﷺ جنگ میں بھی جہاں سب کچھ جائز سمجھاجاتا ہے کس شدت سے امانت کے اصول پر عمل کرتے اور کرواتے تھے۔(ابن ھشام)11
    لڑنے والوں کے مال آج بھی میدان جنگ میں حلال سمجھے جاتے ہیں۔ کیا آج کل کے مہذب زمانہ میں کبھی ایسا واقعہ ہو اہے کہ دوران جنگ دشمن کے جانوراور مال و اسباب ہاتھ آگئے ہوں اور ان کو دشمن فوج کی طرف سے واپس کردیا گیا ہو۔نہیں نہیں! آج کی دنیا میں عام حالات میں بھی دشمن کے مال کی حفاظت تو درکنار،اسے لوٹنا جائز سمجھا جاتا ہے۔مگر قربان جائیں دیانتداروں کے اس سردار پر کہ دشمن کا وہ مال جوایک طرف فاقہ کش اور بھوک کے شکار مسلمانوں کی مہینوں کی غذابن سکتاتھا ،دوسری طرف دشمن اس سے اپنا محاصرہ لمبا کھینچ کر مسلمانوں کو پسپائی پر مجبور کرسکتا تھا۔ان سب باتوںکی کوئی پرواہ نہ کی اور امانت مالکوں کے سپرد کرنے کا فیصلہ فرمایا۔
    نبی کریمؐ نے بھی صرف انسانوں کی امانت کے حق ہی ادا نہیں کئے بلکہ اپنے مولیٰ کی امانتوں کے تمام حق اد اکردکھائے۔ ایک دفعہ یمن سے سونا آیا اور رسول اللہؐ نے تالیف قلبی کی خاطرعرب کے چار سرداروں میں تقسیم فرمادیا ایک شخص نے کہا ہم اس کے زیادہ حق دار تھے۔ رسول کریمؐ کو خبر ہوئی تو آپؐ نے فرمایا کیااللہ تعالیٰ تومجھے اہل زمین پرامین مقررکرے اور تم لوگ مجھے امین نہ سمجھو۔دوسری روایت میں ہے تم مجھے امین نہیں سمجھتے ہو حالانکہ میں اس ذات کا امین ہوں جو آسمان میں ہے۔ میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں (وحی الہٰی) آتی ہیں۔(گویا وحی آسمانی کا امین ہوں)۔ (بخاری واحمد)12
    خداکی امانتوں کی ادائیگی میں اللہ تعالیٰ کی عبادات اور قرآنی وحی کی تبلیغ شامل ہے۔ جس کا حق اداکرنے کی تفصیل عبادت اور داعی الی اللہ کے عناوین میں مذکور ہے۔
    پس رسول کریمؐ نے بندوں اور خدا کی تمام امانتوں کے حق ادا کر کے دکھائے۔

    حوالہ جات
    1
    المعجم الکبیرلطبرانی جلد8ص296
    2
    مسلم کتاب الجہاد والسیرکتاب النبی الی ہرقل یدعوہ الی الاسلام:3322
    3
    مسند احمدجلد1 ص203
    4
    السیرۃ النبویہ لابن ہشام جلد 2ص98
    5
    بخاری کتاب العلم باب الغضب فی الموعظۃ
    6
    بخاری کتاب اللقطہ باب اذا وجد تمرۃ فی الطریق:2252
    7
    بخاری کتاب الزکوٰۃ باب اخذ الصدقۃ التمر:1390
    8
    مسند احمد جلد4ص89،مستدرک علی الصحیحین للحاکم جلد2ص134
    9
    بخاری کتاب الزکوٰۃ باب من احب تعجیل الصدقۃ:1340
    10
    مسند احمد جلد 3ص425بیروت
    11
    السیرۃ النبویۃ لابن ھشام جلد4ص42
    12
    بخاری کتاب الانبیاء باب واِلٰی عادٍاخاھم ھودًاومسنداحمدجلد3ص4

    رسول اللہ ؐ کا ایفائے عہد
    قرآن شریف میں عہد پورا کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے فرمایا’’عہد پورا کرو کہ عہد کے بارہ میں پرسش ہوگی۔‘‘ (سورۃ الاسرائ:35)رسول کریمؐ نے فرمایا جو شخص بغیر کسی جائز وجہ کے کسی معاہدہ کرنے والے کو قتل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کردے گا۔(ابودائود1) نیزفرمایا جس کا عہد نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔(احمد)2
    نبی کریمؐ آغازسے ہی امانت و دیانت اورایفائے عہدکا بہت خیال رکھتے تھے۔آپؐ نے پابندیٔ عہد میں بھی بہترین نمونہ پیش فرمایا ہے۔
    بعثت سے قبل
    حضرت عبداللہ بن ابی الحمساء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے زمانۂ بعثت سے قبل نبی کریمؐ سے ایک سودا کیا۔ ان کا کچھ حصہ میرے ذمہ واجب الادا رہ گیا۔میں نے آپؐ سے طے کیا کہ فلاں وقت اس جگہ آکرمیں آپؐ کو ادائیگی کروں گامگر میں واپس جاکر وعدہ بھول گیا۔ تین روز بعد مجھے یاد آیا تو میں مقررہ جگہ حاضر ہوا۔کیا دیکھتا ہوں کہ نبی کریمؐ اسجگہ موجود تھے۔ آپؐ فرمانے لگے نوجوان! تم نے ہمیں سخت مشکل میں ڈالا۔ میں تین روز سے یہاں (اس وقت) تمہارا انتظار کرتا رہاہوں۔(ابودائود)3
    مکی دور میں بعثت سے قبل حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معاہدہ حلف الفضول میں شریک ہوئے تھے جس کا بنیادی مقصد مظلوموں کی امداد تھا۔آپؐ فرماتے تھے کہ اس معاہدہ میں شرکت کی خوشی مجھے اونٹوں کی دولت سے بڑھ کر ہے اور اسلام کے بعد بھی مجھے اس معاہدہ کا واسطہ دے کر مدد کے لئے بلایا جائے تو میں ضرورمدد کروں گا۔(ابن ہشام)4
    بعثت نبویؐ کے بعد
    دعویٔ نبوت کے بعد کا واقعہ ہے کہ ایک اجنبی ’’الاراشی‘‘ کا حق سردار مکّہ ابوجہل نے دبا لیا۔ اُس شخص نے آنحضرتؐ سے آکر مدد مانگی۔ حضور ؐ اُس کے ساتھ ہولئے اور معاہدہ حلف الفضول کی پابندی کرتے ہوئے اپنے سخت معاند ابوجہل کے دروازے پر جاکر اُس مظلوم اجنبی کے حق کا تقاضاکیا۔ پھروہاں سے ہلے نہیں جب تک کہ اُس کا حق اُسے دلوانہیں دیا۔ (ابن ہشام)5
    حضرت حُذیفہ بن الیمّانؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے بدر میں شامل ہونے میں یہ روک ہوئی کہ میں اور ابوسہلؓ بدر کے موقع پرگھرسے نکلے۔راستہ میں ہمیں کفارِ قریش نے پکڑ لیا۔ انہوں نے کہا تم محمدؐ کے پاس جانا چاہتے ہو؟ہم نے کہا نہیں ہم تو مدینہ جارہے ہیں۔انہوں نے ہم سے عہد لیا کہ ہم جاکر رسول اللہؐ کے ساتھ لڑائی میں شامل نہیں ہونگے بلکہ سیدھے مدینہ چلے جائیں گے۔ ہم رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضرہوئے اور سارا واقعہ عرض کردیا۔آپؐ نے فرمایا جائو اور اپنا عہد پورا کرو ہم دشمن کے مقابل پر دعا سے مدد چاہیں گے۔(مسلم)6
    شہنشاہ ِروم قل نے رسول اللہؐ کا تبلیغی خط ملنے پر اپنے دربار میں سردار قریش ابوسفیان کو بلاکر جب بغرض تحقیق کچھ سوالات کئے تو یہ بھی پوچھا تھا کہ کیا اس مدّعیٔ رسالت نے کبھی کوئی بدعہدی بھی کی ہے؟ابوسفیان رسول اللہؐ کا جانی دشمن تھا مگر پھر بھی اسے ہرقل کے سامنے تسلیم کرنا پڑا کہ ’’آج تک اُنہوں نے ہم سے کوئی بدعہدی نہیں کی۔البتہ آجکل ہمارا اس سے ایک معاہدہ (حدیبیہ) چل رہا ہے دیکھیں وہ کیا کرتا ہے۔‘‘ابوسفیان کہتا تھاکہ میں ہرقل کے سامنے اس سے زیادہ اپنی طرف سے کوئی بات اپنی گفتگو میں حضورؐ کے خلاف داخل نہ کرسکاتھا۔(بخاری)7
    مشرکین سے ایفائے عہد
    خدا کی تقدیر دیکھئے کہ رسول کریمؐ نے معاہدۂ حدیبیہ کی ایک ایک شق پر عمل کر کے دکھایا۔معاہدہ توڑنے کے مرتکب بھی پہلے قریش ہی ہوئے اور پھر عہدشکنی کا انجام بھی ان کو بھگتنا پڑا۔ جب کہ رسول کریمؐ نے ایفائے عہد کی برکات سے حصہ پایا اورسب سے بڑی برکت فتح مکہ کی صورت میں آپؐ کو عطاہوئی ۔
    معاہدہ حدیبیہ کی ایک شق یہ تھی کہ مسلمان آئندہ سال عمرہ کرنے مکہ آئیں گے اور تین دن کے اندر مکہ کو خالی کردیں گے۔ چنانچہ اگلے سال جب نبی کریمؐ عمرہ قضا کے لئے مکہ آئے تو قریش نے مکہ خالی کردیا۔حویطب بن عزیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں اور سہیل بن عمرو مکہ میں رہے تاکہ تین دن کے بعد مسلمانوں سے حسب معاہدہ مکہ خالی کرواسکیں جب تین دن گزر گئے تو میں نے اور سہیل نے رسول اللہؐ کو یاد کروایاکہ آج شرط کے مطابق مسلمانوں کو مکہ خالی کرنا ہوگا۔ آنحضورؐنے اسی وقت بلال ؓکو حکم فرمایا کہ اعلان کردیں کہ آج غروب آفتاب کے بعد کوئی مسلمان جو ہمارے ساتھ عمرہ کرنے مکہ آیا ہے مکہ میں نہ رہے اور بڑی سختی سے اس کی پابندی کی گئی۔(حاکم)8
    معاہدہ کی ایک شق یہ تھی کہ اگر کوئی مسلمان بھاگ کر مدینے جائے گا تو اسے واپس اہل مکہ کی طرف لوٹایا جائے گا۔ اس شق پر مسلمانوں نے تکمیل معاہدہ سے بھی پہلے عمل کر دکھایااور نمائندہ قریش کے مکہ سے بھاگ کر آنے والے مسلمان بیٹے ابو جندلؓ کو دوبارہ اس کے باپ سہیل بن عمروکے سپرد کردیا گیا جس نے اسے پھر اذیت ناک قید میں ڈال دیا۔
    معاہدہ کے بعد بھی بعض مسلمان مکہ سے بھاگ کر مدینہ آئے تورسول کریمؐ نے معاہدہ کے مطابق انہیں مکّہ واپس بھجوادیا۔ مگر یہ شرط خود مکّہ والوں کے لئے وبالِ جان بن گئی کیونکہ معاہدہ کے بعد مکّہ سے مدینہ آنے والے ایک بہادر مسلمان ابو بصیر کو جو مشرک گرفتارکرکے مدینہ سے دوبارہ مکّہ لے جارہے تھے،راستہ میںوہ ان کو قتل کر کے، رہائی پانے میں کامیاب ہوگیا۔ پھر ابو بصیرؓ نے واپس مدینہ آنے کی بجائے ساحل سمندر کے قریب اپنا اڈا بنالیا جہاں دیگر مسلمان بھی مکّہ سے آکر اکٹھے ہونے لگے اور ایک جمعیت بن کر اہل مکہ کے لئے خطرہ بن گئے۔جس پر مکہ والے خود یہ شرط چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔
    صلح حدیبیہ میں قریش کے نمائندے سہیل بن عمرو نے مسلمانوں کے ساتھ آئندہ دس سال کے لئے معاہدہ امن طے کیا تھا، جس کے مطابق بنوبکرقریش کے حلیف بنے تھے اور بنوخزاعہ مسلمانوں کے۔نیزیہ کہ کسی کے حلیف پر حملہ خود اس پر حملہ تصور کیاجائے گا۔
    حلیف سے ایفاء اور امداد
    صلح کے زمانے میں مسلمانوں کی غیر معمولی کامیابیاں دیکھ کر قریش نے معاہدۂ امن توڑنا چاہا اور قریش مکہ کے ایک گروہ نے اپنے حلیف بنو بکر سے ساز باز کر کے ایک تاریک رات میں مسلمانوں کے حلیف بنو خزاعہ پر حملہ کردیا۔خزاعہ نے حرم کعبہ میں پناہ لی لیکن پھر بھی ان کے تیئس آدمی نہایت بے دردی سے قتل کردیئے گئے۔خود سردار قریش ابوسفیان کوپتہ چلا تو اس نے اس واقعہ کواپنے آدمیوں کی شرانگیزی قراردیا اور کہااب محمد ؐ ہم پر ضرور حملہ کریں گے۔
    ادھر اللہ تعالیٰ نے آنحضرتؐ کو اس واقعہ کی اطلاع بذریعہ وحی اسی صبح کردی ۔ آپؐ نے حضرت عائشہؓ کو یہ واقعہ بتا کرفرمایا کہ منشاالہٰی یہی معلوم ہوتا ہے کہ قریش کی اس بدعہدی کا ہمارے حق میں کوئی بہتر نتیجہ ظاہر ہوگا۔ پھر تین روز بعد قبیلہ بنوخزاعہ کا چالیس شترسواروں کا ایک وفدرسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ بنو بکر اور قریش نے مل کر بدعہدی کرتے ہوئے شب خون مار کرہمارا قتل عام کیا ہے۔ اب معاہدۂ حدیبیہ کی رو سے آپؐ کا فرض ہے کہ ہماری مدد کریں۔بنوخزاعہ کے نمائندہ عمرو بن سالم نے اپنا حال زار بیان کر کے خدا کی ذات کا واسطہ دیکر ایفائے عہد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے عرض کیا
    یَا رَبِ ّ اِنِّیْ نَاشِدٌ مُحَمَّدًا
    حَلْفَ اَبِیْنَا وَ اَ بِیْہِ الْاَ تْلَدَا
    یعنی اے میرے رب!مَیں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا واسطہ دے کر مدد کے لئے پکارتا ہوں اور اپنے آباء اور اس کے آباء کے پرانے حلف کا واسطہ دے کر عہد پورا کرنے کا خواستگارہوں۔
    خزاعہ کی مظلومیت کا حال سن کر رحمتہ للعالمین ﷺ کا دل بھر آیا۔آپؐ کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔ آپؐ نے ایفائے عہد کے جذبہ سے سرشار ہوکر فرمایا۔ اے بنو خزاعہ!یقینا یقینا تمہاری مدد کی جائے گی۔اگر میں تمہاری مدد نہ کروں تو خدا میری مدد نہ کرے۔ تم محمد ﷺ کوعہد پورا کرنے والا اور با وفا پائو گے۔ تم دیکھو گے کہ جس طرح میں اپنی جان اور بیوی بچوں کی حفاظت کرتا ہوںاسی طرح تمہاری حفاظت کروں گا۔(ابن ہشام)9
    ادھر ابوسفیان اس معاہدہ شکنی کے نتیجے سے بچنے کیلئے بہت جلد اس یقین کے ساتھ مدینے پہنچا کہ محمدﷺ کو اس بدعہدی کی خبر نہ ہوگی۔اس نے بڑی ہوشیاری سے آنحضرت ﷺ سے بات کی کہ میں در اصل صلح حدیبیہ کے موقع پر موجود ہی نہیں تھا۔آپؐ میرے ساتھ اس معاہدہ کی ازسرنو تجدید کرلیں۔ آنحضرتؐ نے کمال حکمت عملی سے پوچھا کہ کیا کوئی فریق معاہدہ توڑ بیٹھا ہے؟ ابوسفیان گھبراکر کہنے لگا ایسی تو کوئی بات نہیں ہوئی۔ رسول کریمؐ نے جواب دیا تو پھر ہم سابقہ معاہدے پر قائم ہیں۔چنانچہ نبی کریمؐ نے بنو خزاعہ کے ساتھ کیا گیا عہد پورا فرمایا اور دس ہزار قدوسیوں کو ساتھ لے کر ان پر ہونے والے ظلم کا بدلہ لینے نکلے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ؐکو مکہ کی شاندار فتح عطا فرمائی۔(الحلبیہ)10
    سراقہ سے ایفاء عہد
    ہجرت مدینہ کے سفر میں سو اونٹوں کے انعام کے لالچ میں رسول اللہؐ کا پیچھا کرنے والے سراقہ بن مالک کی روایت ہے کہ جب میں تعاقب کرتے کرتے رسول کریمؐ کے قریب پہنچا تو میرا گھوڑا بار بار ٹھوکر کھاکر گرجاتا رہا تب میں نے آواز دے کر حضورؐ کو بلایا اور حضورؐ کے ارشاد پر ابوبکرؓ نے مجھ سے پوچھا آپؐ ہم سے کیا چاہتے ہو؟میں نے کہاآپؐ مجھے امن کی تحریر لکھ دیں، انہوں نے مجھے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر وہ تحریرلکھ دی اور میں واپس لوٹ آیا۔فتح مکہ کے بعد جب حضورؐ جنگ حنین سے فارغ ہوکر جعّرانہ میں تھے۔ میں حضورؐ سے ملاقات کے لئے حاضر ہوا،حضورؐ انصار کے ایک گھوڑ سوار دستے کے حفاظتی حصار میں تھے،وہ مجھے پیچھے ہٹاتے اور کہتے تھے کہ تمہیں کیا کام ہے؟ حضور ؐ اپنی اونٹنی پر سوار تھے ،میں نے اپنا ہاتھ بلند کرکے وہی تحریر رسول اللہؐ کو دکھائی اور کہا میں سراقہ ہوں اور یہ آپؐ کی تحریر امن ہے۔رسول کریمؐ نے فرمایا آج کا دن عہد پورا کرنے اور احسان کا دن ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا سراقہ کو میرے پاس لایا جائے۔ میں آپؐ کے قریب ہوا اور بالآخر آپ ؐ سے ملاقات کرکے اسلام قبول کرلیا۔(ابن ھشام)11
    رسول کریمؐ نے مسلمان عورت کے عہدکا بھی پاس کیا ہے۔امّ ہانی ؓ بنت ابی طالب نے فتح مکہ کے موقع پر رسول کریمؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ انہوں نے اپنے سسرال کے بعض مشرک لوگوں کو پناہ دی ہے۔حالانکہ حضرت علیؓ اس کے خلاف تھے۔رسول کریمؐ نے فرمایا اے ام ہانی ؓ! جسے تم نے امان دیدی اسے ہم نے امان دی۔(ابودائود)12
    ابو رافع قبطیؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے قریش نے رسول اللہؐ کی خدمت میں سفیر بناکر بھجوایا۔رسول کریمؐکو دیکھ کر میرے دل میں اسلام کی سچائی گھر کر گئی۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! میں قریش کی طرف لوٹ کر واپس نہیں جانا چاہتا۔ رسول کریمؐ نے فرمایا میں عہد شکنی نہیں کرتا اور نہ ہی سفیر کو روکتا ہوں۔آپؐ اس وقت بہر حال واپس جائوپھر اگربعد میں یہی ارادہ ہو کہ اسلام قبول کرنا ہے تو وہاں جاکر واپس آجانا۔چنانچہ یہ قریش کے پا س لوٹ کر گئے اور بعد میں آکر اسلام قبول کیا۔(ابودائود)13
    یہودمدینہ سے ایفائے عہد
    نبی کریمؐ نے مکہ سے یثرب ہجرت فرمائی تواہل مدینہ کے جن گروہوں سے معاہدہ ہوا اس میں یہود کے تین قبائل بنو قینقاع،بنوقریظہ اور بنو نضیرشامل تھے۔ اس معاہدہ کے مطابق یہود اور مسلمان امت واحدہ کے طور پر ریاست مدینہ کے باسی تھے۔ نبی کریمؐ نے ہمیشہ اس معاہدہ کا نہ صرف ایفاء اور احترام فرمایا۔ یہود کے حق میں عادلانہ فیصلے فرمائے۔یہود کو مکمل مذہبی آزادی دی اور بعض مسلمانوں نے جب ان کے بانی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر رسول کریمؐ کی فضیلت و برتری ظاہرکی جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو عطا کی تھی تو بھی آپؐ نے معاہدقوم کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ازراہِ انکساروایثار یہی فرمایا کہ مجھے موسیٰ ؐ پر فضیلت مت دو تاکہ اس کے نتیجہ میں مدینہ کی امن کی فضاخراب نہ ہو۔ (بخاری)14
    نبی کریمؐ نے یہودی جنازوں کا بھی احترام کیااور ان کا جنازہ آتے دیکھ کر کھڑے ہوگئے۔ کسی نے کہا کہ یہودی کا جنازہ ہے فرمایا کیا وہ انسان نہیں تھا۔(بخاری)15
    اس کے برعکس یہاں تک مسلسل عہد شکنی کے نتیجہ میں بالآخران کومدینہ بدرکرناپڑا۔ لیکن رسول اللہؐ پر کبھی کسی یہودی کو عہدشکنی کا الزام تک لگانے کی جرأت نہ ہوئی۔(بخاری)16
    عیسائیوں سے ایفائے عہد
    فتح مکہ کے بعدجن مختلف قبائل عرب نے مدینہ آکرصلح وامن کے معاہدے کئے ان میں نجران اور یمن کے عیسائی بھی تھے۔ نجران کے عیسائیوں نے معاہدۂ صلح کے بعد رسول کریمؐ سے درخواست کی کہ اس معاہدہ کے ایفاء کے لئے آپؐ اپنا کوئی ایسانمائندہ مقررکریں جو دیانتداری سے معاہدہ کی شقوں پر عمل کروائے۔ چنانچہ نبی کریمؐ نے حضرت ابوعبیدہؓ بن الجراح کو امین الامت کا خطاب دیتے ہوئے اور تکمیل معاہدہ کے لئے نگران مقررفرمایا اور انہوں نے ایفائے عہد کاحق ادا کردکھایا۔(بخاری)17
    الغرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پابندیٔ عہد میں بھی ایک مثالی نمونہ پیش فرمایاہے۔





    حوالہ جات
    1
    ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی الوفاء بالعھد
    2
    مسنداحمدجلد3ص135
    3
    ابوداؤد کتاب الادب باب فی العدۃ:4344
    4
    السیرۃ النبویہ لابن ھشام جز1ص141-142مصطفی البابی الحلبی مصر
    5
    السیرۃ النبویہ لابن ھشام جلد2ص123-124 دارالفکربیروت
    6
    مسلم کتاب الجہاد باب الوفاء بالعہد
    7
    بخاری بدء الوحی
    8
    مستدرک حاکم جلد 3ص492
    9
    السیرۃ النبویۃ لابن ھشام جلد4ص86مطبوعہ بیروت
    10
    السیرۃ الحلبیۃ جز 3ص83تا 85 مکتبہ داراحیاء التراث العربی بیروت
    11
    السیرۃ النبویۃ لابن ھشام جز2ص34,35 مکتبہ المصطفی البابی الحلبی
    12
    ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی امان المرء ۃ
    13
    ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی الامام یستجن بہ فی العھود
    14
    بخاری کتاب التفسیر سورۃ الاعراف باب ولمّا جاء موسیٰ لمیقاتناوکلّمہ‘ ربّہُ۔۔۔الخ
    15
    بخاری کتاب الجنائز باب من قام لجنازۃ یھودی
    16
    بخاری کتاب الجہاد وکتاب المغازی
    17
    بخاری کتاب المغازی باب وفد نجران

    صلہ رحمی میںرسول کریمؐ کا شاندار نمونہ
    صلہ رحمی یعنی خونی رشتہ داروں سے حسن سلوک بھی ایک اعلیٰ درجہ کا خلق ہے۔ کہتے ہیں اوّل خویش بعد درویش۔اگر قریبی عزیزوں سے ہی انسان کا احسان کا تعلق نہیں تو ایسے شخص سے عام بنی نوع انسان سے حسن سلوک کی توقع نہیں کی جاسکتی جس کی تعلیم قرآن شریف نے دی ہے کہ اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُبِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآیِٔ ذِی الْقُرْبٰی (النحل :91) یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ دوسری جگہ صلہ رحمی کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے انتہائی تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’اس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس کے نام کے ساتھ تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہواور رحمی رشتوں کے حق بھی ادا کرو۔‘‘ (سورۃالنسائ:2)
    رسول کریمؐ کی بعثت کا ایک بڑا مقصد رشتوں کے تقدّس اور انسانیت کے حقوق کا قیام بھی تھا۔ حضرت عمروؓ بن عنبسہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ کی خدمت میں ابتدائی زمانہ اسلام میں حاضر ہوا۔ جب آپؐ مخفی طور اسلام کا پیغام پہنچارہے تھے۔میں نے پوچھا آپؐ کا کیادعویٰ ہے۔ آپؐ نے فرمایا میں نبی ہوں۔ میں نے کہا نبی کیا ہوتا ہے۔آپؐ نے فرمایااللہ کا رسول ہوتا ہے میں نے عرض کیا کس تعلیم کے ساتھ آپؐ کو بھیجا گیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا اس تعلیم کے ساتھ کہ اللہ کی عبادت ہو اور رحمی رشتوں کو نیکی اور احسان کے ساتھ استوار کیا جائے۔(حاکم)1
    رحمی رشتہ داروں میں سے قرآن شریف میں سب سے مقدم والدین کے ساتھ احسان کا سلوک کرنے کی تعلیم ہے۔ پھر دیگر عزیز و اقارب کے ساتھ درجہ بدرجہ حسن سلوک کا حکم ہے۔ جن میں اولاد ، بیوی،بھائی، بہن ، چچا ، پھوپھی ،ماموں، خالہ وغیرہ شامل ہیں۔ظاہر ہے وہ رحمی رشتہ دار جو احکام ورثہ میں اللہ تعالیٰ نے مقدم رکھے ہیں۔ حسن معاملہ میں بھی وہ دوسروں کی نسبت اولیٰ اورمقدّم ہیں۔
    نبی کریمؐ نے بھی صلہ رحمی کی بہت تاکیدکی۔ آپؐ نے فرمایا کہ ’رِحم‘ کا لفظ جس سے رحمی رشتے وجود میں آتے ہیں دراصل اللہ کی صفت ’’رحمان‘‘ سے نکلا ہے۔ اگر کوئی شخص ان رشتوں کا خیال نہیں رکھتا اور قطع رحمی کا مرتکب ہوتا ہے تو رحمان خدا اس سے اپنا تعلق کاٹ لیتا ہے، جو ان رشتوں کے حق ادا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے اپنا تعلق جوڑتا ہے۔(بخاری)2
    اس ارشاد نبویؐ میں یہ خوبصورت پیغام مضمرہے کہ رحمی رشتوں کا لحاظ رکھنے والوں کے حق میں خدا کی صفت رحمانیت (بن مانگے عطا کرنا) پوری شان سے جلوہ گرہوتی ہے۔ اس لئے فرمایا کہ صلہ رحمی کرنے والوں کے مال اور عمر میں برکت عطاکی جاتی ہے۔نیز فرمایا کہ رحمی رشتوں کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔(بخاری)3
    نبی کریمؐ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا تیری ماں، اس نے پھر یہی سوال دوہرایا آپ ؐنے فرمایا تیری ماں تیسری مرتبہ بھی آپؐ نے اسے یہی جواب دیا چوتھی مرتبہ اس کے سوال پر فرمایا تیرا باپ ۔(بخاری)4
    والدین کا تو اتنا حق ہے کہ ان کی وفات کے بعد بھی ان سے حسن سلوک کا حکم ہے۔ رسول کریم ؐ سے کسی نے پوچھا کہ والدین کی موت کے بعد بھی ان کی صلہ رحمی کا کوئی حق باقی رہ جاتاہے۔آپؐ نے فرمایا ہاںوالدین کے لئے دعائیں کرنا۔ ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگتے رہنا، ان کے عہدپورے کرنا،ان کے دوستوں کی عزت کرنا، اور ان کے رحمی رشتہ داروں سے حسن سلوک جن کے ساتھ صرف والدین کی طرف سے کوئی رشتہ ہو۔(ابودائود)5
    حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریمؐ جب کوئی جانور ذبح کرواتے تو فرماتے تھے خدیجہؓ کی سہیلیوں کو بھی بھجوائو۔ ایک دفعہ میںنے ناراض ہوکر پوچھاتو فرمایا کہ مجھے خدیجہؓ کی محبت عطا کی گئی ہے۔(مسلم)6
    رسول کریمؐ فرماتے تھے کہ مسکین کو صدقہ دینا ایک نیکی ہے اور مستحق رحمی رشتہ دار کو صدقہ دینا دوہری نیکی ہے۔ (ترمذی)7
    ایک دفعہ اُم المؤمنین حضرت میمونہ ؓ نے ایک لونڈی آزاد کی۔ رسول کریمؐ کو جب اس بارہ میں بتایا تو آپؐ نے فرمایا اگر تم اپنے ننہال کو (جو مستحق تھے) یہ لونڈی دے دیتیں تو تیرے لئے بہت زیادہ اجر کا موجب ہوتا۔(ابودائود)8
    ایک شخص نے نبی کریم ؐ سے عرض کیاکہ مجھ سے ایک بڑا گناہ سرزد ہوا ہے۔ کیا میری توبہ کی بھی کوئی صورت ہوسکتی ہے؟ آپؐنے فرمایا کیا تمہاری ماں زندہ ہے اس نے کہا نہیں فرمایا تمہاری خالہ ہے؟ عرض کیا جی ہاں۔ فرمایاپھر اس سے حسن سلوک کرو۔ یہی عمل تمہارے لئے گناہوں سے معافی کا ذریعہ بن جائے گا۔(ترمذی)9
    رسول کریمؐ نے صلہ رحمی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا’’ صلہ رحمی یہ نہیں کہ رشتہ داروں کے حسن سلوک کا بدلہ دیاجائے۔ اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ رشتہ توڑنے والے سے جوڑنے کی کوشش کرے۔‘‘(بخاری )10
    ایک دفعہ ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے کچھ رشتہ دار ہیں۔ میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں وہ توڑتے ہیں۔ میں احسان کرتا ہوں وہ بدسلوکی کرتے ہیں۔ میرے نرمی اور حلم کے سلوک کا جواب وہ زیادتی ا ور جہالت سے دیتے ہیں۔نبی کریمؐ نے فرمایا اگر وہ ایسا ہی کرتے ہیں جیسا تم نے بیان کیا تو تم گویا ان کے منہ پر خاک ڈال رہے ہویعنی یہ ان پر احسان کر کے انہیں ایسا شرمسار کر کے رکھ دینے کے مترادف ہے اور اللہ کی طرف سے تمہارے لئے ایک مددگار فرشتہ اس وقت تک مقرر رہے گا جب تک تم اپنے حسن سلوک کے اس نمونہ پر قائم رہوگے۔(احمد)11
    حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ بیان کرتی ہیں کہ میری مشرک والدہ میرے لئے اداس ہوکر محبت سے ملنے مدینہ آئیں ۔میں نے نبی کریمؐسے پوچھا کہ کیا میں ان کے مشرک ہونے کے باوجودان سے حسن سلوک کروں۔نبی کریمؐ نے فرمایا کیوں نہیں آخروہ تمہاری ماں ہے۔ضرور ان سے حسن سلوک سے پیش آئو۔(بخاری)12
    صلہ رحمی میںرسول کریمؐ کااپنا نمونہ یہی تھا۔ چنانچہ حضرت خدیجہؓ نے پہلی وحی کے موقع پر یہ گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ آپؐ کوہرگز ضائع نہیںکرے گا۔ آپؐ تو صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔(بخاری)13
    ایک شخص رسول کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں جہاد کی خواہش رکھتا ہوں لیکن اس کی توفیق نہیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے عرض کیا والدہ ہے۔رسول اللہؐ نے فرمایا والدہ سے حسن سلوک کرو اگر تم یہ کرلو تو حج،عمرہ اور جہاد کرنے والے ٹھہرو گے(اور اس کا ثواب پائوگے) اور اگر والدہ تم سے راضی ہے تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس سے حسن سلوک کرو۔(ھیثمی)14
    رسول کریمؐ کے حقیقی والدین تو بچپن میں ہی اللہ کو پیارے ہوگئے تھے۔ بعد میں ان کے لئے محبت اور دعا کا جوش دل میں موجود رہا۔ آپؐ بطور خاص اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کے لئے تشریف لے گئے اور وہاں جاکر ان کی یاد میںآپؐ روئے اور اتنا روئے کہ اپنے ساتھیوں کو بھی رُلادیا۔(مسلم)15
    رضاعی رشتوں کا بھی نبی کریمؐ نے ہمیشہ احترام کیا۔ ابو الطفیلؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہؐ کو جنگ حنین سے واپسی پر جعرانہ مقام پر گوشت تقسیم کرتے دیکھا میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا۔ ایک عورت آئی رسول اللہؐ نے اسے دیکھا تو اس کے لئے اپنی چادر بچھادی۔ وہ عورت اس پر بیٹھ گئی میں نے پوچھا یہ کون ہے تو لوگوں نے بتایا کہ رسول اللہؐ کی رضاعی والدہ ہیں۔(ابودائود)16
    ابولہب کی لونڈی ثُویْبہ نے رسول کریمؐ کو دودھ پلایا تھا۔آنحضورؐاپنی اس رضاعی والدہ سے صلہ رحمی کی خاطر اسے پوشاک بھجوایا کرتے اور اس کی وفات کے بعدبھی اس کے اقارب سے اس کا حال پچھواتے۔
    مسطح بن اثاثہ حضرت ابوبکرؓ کا بھانجا تھا۔وہ بھی غلط فہمی میں حضرت عائشہؓ پر الزام لگانے والوں میں شامل ہوگیا۔حضر ت ابوبکر ؓ نے اس کا امدادی وظیفہ روک دیا،جس پر قرآن کی یہ آیت اُتری کہ تم میں سے اہل فضل اور وسعت رکھنے والوں کو ہرگز قسم نہ کھانی چاہئے کہ وہ رشتہ داروں کو کچھ نہیں دیں گے بلکہ انہیں عفو اور درگذرسے کام لینا چاہئے۔(ترمذی)17
    رسول کریمؐ کے اکثر رحمی رشتہ داروں نے دعویٔ نبوت پر آپؐ کی مخالفت کی، مگر آپؐ فرماتے تھے کہ بے شک قریش کی فلاں شاخ میرے دوست نہیں رہے، دشمن ہوگئے ہیں مگر آخر میرا اُن سے ایک خونی رشتہ ہے، میں اس رحمی تعلق کے حقوق بہر حال ادا کرتا رہوں گا۔ (بخاری)18
    چنانچہ جب بھی اہل مکہ کو رسول اللہؐ کی مدد کی ضرورت ہوئی۔ آپؐ نے ان سے احسان کا سلوک فرمایا۔مکّہ میں قحط پڑا اور وہ رحمی رشتہ کا واسطہ لے کر آئے تو آپؐنے نہ صرف بارش کے لئے دعا کی جس سے قحط دور ہوگیا۔(بخاری19)بلکہ مدینہ سے فوری امداد بھی بھجوائی۔
    فتح مکہ کے سفر میں جحفہ مقام پر رسول کریمؐ کا چچا(ابو سفیان) ابن حارث عفو کا طالب ہوکر آیا۔یہ حضورؐ کے بچپن کا ہم عمر ساتھی تھامگر دعویٰ نبوت کے بعد آپؐ کا سخت دشمن ہوگیا۔آپؐ کو بہت اذیتیں دیں اور کہا کہ میں تو اس وقت ایمان لائوں گاجب میرے سامنے سیڑھی لگا کر آسمان پر جائو اور فرشتوں کے جلو میں کوئی صحیفہ اتار لائوجو اس پر گواہ ہوں۔اسی پر بس نہیںیہ شخص آنحضورؐ کے خلاف بیس برس تک گندے اشعار بھی کہتا رہا۔ سفرفتح مکّہ میںحضرت ام سلمہؓ نے رسول اکرمؐ کی خدمت میں ان کی معافی کی سفارش کی۔ پہلے تو حضورؐنے اعراض کیا مگر جب ابن الحارث کا یہ پیغام پہنچا کہ معافی نہ ملنے کی صورت میں وہ بھوکا پیاسا رہ کر اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے گا تو رسول کریمؐ کا دل بھر آیا۔آپؐنے اُسے ملاقات کی اجازت دی اور معاف فرمادیا۔ اس موقع پر ابو سفیان بن حارث نے کچھ اشعار کہے جن میں ایک شعر یہ بھی تھا کہ
    ھَدَانِیْ ھَادٍ غَیْرُ نَفْسِیْ وَنَالَنِیْ
    مَعَ اللّٰہِ مَنْ طَرَدْتُّ کُلَّ مُطَرَّدٍ
    یعنی اللہ نے مجھے اس پاک وجود کے ذریعہ ہدایت نصیب فرمائی جسے میں نے دھتکار کر رد کردیا تھا اور دشمنی میں اس کا پیچھا کیا تھا۔
    رسول کریمؐ نے اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور بڑے درد سے فرمایا’’تم نے ہی مجھے دھتکارا تھا نا! اور بچپن کی دوستی کا بھی خیال نہیں کیا تھا۔‘‘(ابن ہشام)20
    سردار مکہ ابوسفیان(جس کانسب چوتھی پشت میں جاکررسول اللہؐ سے ملتا ہے، ساری عمررسول اللہؐ سے جنگیں کرتارہا۔ابوسفیان کو حضرت عباسؓ فتح مکہ کے موقع پر پکڑ لائے تو حضرت عمرؓ نے ان کے قتل کی اجازت چاہی۔حضرت عباسؓ نے عرض کیا میں نے اسے پناہ دی ہے۔حضورؐ نے فرمایا عباسؓ اسے ساتھ لے جائو صبح لے آنا ۔صبح حضورؐ نے ابوسفیان سے پوچھاکیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ کہو۔ ابوسفیان نے کہا میرے ماںباپ آپؐ پر قربان۔آپ ؐ کتنے کریم اور صلہ رحمی کرتے ہیں۔اگر کوئی اور معبودہوتا تو آج ہمارے کام نہ آتا۔پھر کہا البتہ رسالت کے بارے میں کچھ شبہ ہے مگر رسول اللہؐ نے نہ صرف ابوسفیانؓ کی معافی کا اعلان کیا بلکہ اس کے گھر میں داخل ہوجانے والے کیلئے بھی معافی کا اعلان عام کروادیا۔
    مکّہ کے دوسرے سردار عکرمہ بن ابی جہل کی بیوی ام حکیمؓ مسلمان ہوگئی۔ خودعکرمہ توبھاگ گیالیکن اس کی بیوی رسول اللہؐ سے پروانہ امان لے کر عکرمہ کو واپس لائی۔عکرمہ نے حضورؐ کے دربار میں حاضر ہوکر تصدیق چاہی اور جب رسول اللہؐ نے فرمایا کہ ہاں میں نے تمہیں اپنے دین پر رہتے ہوئے امان دی ہے تو عکرمہ بے اختیار کہہ اُٹھا کہ یار سول اللہؐ! آپؐ کتنے کریم اور کتنے صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔( الحلبیہ)21
    اہل عرب بھی رسول اللہؐ کی وفا اور حسن معاشرت کے قائل تھے۔ جنگ حنین میں ہوازن قبیلہ کے لوگ قید ہوئے تو ان کا وفد حضورؐ کی خدمت میں قیدی چھڑوانے کے لئے حاضر ہوا۔ ان کے نمائندے نے عرض کیا یا رسول اللہؐ !آپؐ نے بنو ہوازن میں بچپن میں رضاعت کا زمانہ گزارا ہے۔ ان قیدیوں میں کئی آپؐ کی رضاعی پھوپھیاں خالائیں او روہ بیبیاں ہیں جنہوں نے آپؐ کو کھلایا اور آپ ؐکی کفالت کی ہے۔ آپؐ تو سب سے بہترین کفالت کرنے والے ہیں۔ رسول کریمؐ نے ان سے کمال وفا اور احسان کا سلوک کرتے ہوئے فرمایا میں تمہارے تمام وہ قیدی آزاد کرتا ہوں جو میرے یا بنی عبدالمطلب کے حصے میں آئے ہیں۔(ابن ہشام)22
    یہ تھا رسول کریمؐ کا صلہ رحمی میں شاندار نمونہ جس کے حق میںاپنوں اورپرایوں نے بھی گواہی دی۔
    حوالہ جات
    1
    مستدرک حاکم جلد4ص149
    2
    بخاری کتاب الادب باب من وصل وصلہ اللہ
    3
    بخاری کتاب الادب باب اثم القاطع
    4
    بخاری کتاب الادب باب من احق الناس بحسن الصحبۃ
    5
    ابوداؤد کتاب الادب باب فی برالوالدین
    6
    مسلم کتاب الفضائل باب فضل خدیجۃ ؓ
    7
    ترمذی کتاب الزکاۃ باب ماجاء فی الصدقۃ الی ذی القرابۃ
    8
    ابوداؤد کتاب الزکاۃ باب فی صلۃ الرحم
    9
    ترمذی کتاب البروالصلۃ باب ماجاء فی برالخلالۃ :1827
    10
    بخاری کتاب الادب باب لیس الواصل بالمکافیٔ
    11
    مسند احمد جلد2ص300مطبوعہ بیروت
    12
    بخاری کتاب الادب باب صلۃ الوالد المشرک
    13
    بخاری بدء الوحی
    14
    مجمع الزوائد لھیثمی جلد8ص138
    15
    مسلم کتاب الجنائز باب استئذان النبی ربہ عزوجل فی زیارۃ قبرامہ
    16
    ابوداؤد کتاب الادب باب فی برالوالدین:4478
    17
    ترمذی کتاب التفسیر باب من سورۃ النور
    18
    بخاری کتاب الادب باب تبل الرحم ببلالھا
    19
    بخاری کتاب التفسیر سورۃ الروم والدخان
    20
    السیرۃ النبویۃ لابن ھشام جلد4ص88,89
    21
    السیرۃ الحلبیۃ جلد4ص92بیروت
    22
    السیرۃ النبویۃ لابن ہشام جلد4ص128

    رسول کریمؐ کی ہمدردیٔ خلق
    قرآن شریف میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام نبیوں کا سردار اور آپؐ کی امت کو بہترین امت قرار دیا گیا ہے۔اس بلند مقام اور منصب کا سب سے بڑا تقاضا خدمت ہے۔ چنانچہ فرمایا کُنْتُمْ خَیْرَاُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ(سورۃآل عمران:111) کہ اے مسلمانو!تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدہ کیلئے پیدا کی گئی ہے۔گویا خدمت خلق کے نتیجہ میں مسلمان واقعی طور پراپنا بہترین ہونا ثابت کرسکتے ہیں۔تبھی تو رسول کریمؐ نے فرمایا کہ سَیِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُھُمْکہ قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے۔اور عمر بھر اس اصول کی ایسی لاج رکھی کہ بنی نو ع کی خدمت کرکے کل عالم کا سردار ہونا ثابت کردکھایا۔
    آنحضورؐ فرماتے تھے کہ دین تو خیر خواہی کا نام ہے۔آپؐ سے پوچھا گیا کِس چیز کی خیر خواہی؟ آپؐ نے فرمایا اللہ، اس کی کتاب ،اس کے رسول ،مسلمان ائمہ اور ان کے عوام الناس کی خیر خواہی۔(مسلم1)آپؐ نے اپنی جامع خوبصورت تعلیم کے ذریعہ بنی نوع انسان کی سب سے بڑی خدمت یہ کی کہ ہرانسان کی جان،مال اور عزت کی حرمت قائم فرمادی۔(بخاری)2
    آپؐ فرماتے تھے مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(بخاری3)اور مومن وہ ہے جن سے دوسرے تمام انسان امن میں رہیں۔(احمد)4
    حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں ایک دفعہ ایک شخص نے نبی کریمؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ کون لوگ اللہ کو سب سے پیارے ہیں؟ اور کون سے اعمال اللہ کو زیادہ محبوب ہیں؟ رسول کریمؐ نے فرمایا اللہ کو سب سے پیارے وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں اور اللہ کو سب سے پسندیدہ عمل یہ ہے کہ انسان اپنے مسلمان بھائی کو خوش کرے یا اس کی تکلیف دورکرے یا اس کا قرض ادا کردے یا اس کی بھُوک دورکرے۔ اور پھر رسول اللہؐ نے فرمایا کہ اگر میں خود ایک مسلمان بھائی کے ساتھ مل کر اس کی ضرورت پوری کروں تو یہ بات مجھے زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس بات کے کہ میں مدینہ کی اس مسجد میں ایک ماہ تک اعتکاف کروں اور جو شخص اپنے غصہ کوروکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے عیبوں کی پردہ پوشی کرتا ہے اور جو شخص اپنے غصہ کو دبالیتا ہے حالانکہ اگر وہ چاہتا تو وہ اپنی من مانی کرسکتا تھا۔ اللہ اس شخص کا دل قیامت کے دن اُمید سے بھردے گا اور جو شخص اپنے بھائی کے ساتھ ضرورت پوری کرنے کے لئے نکل کھڑا ہوتا ہے اور اس کا کام کرکے دم لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُسے ثابت قدم رکھے گا۔ جس دن کہ تمام قدم ڈگمگارہے ہوںگے۔(طبرانی)5
    عبداللہ بن عباسؓ کی روایت میں ہے کہ فرائض کے بعد سب سے پسندیدہ عمل ایک مسلمان بھائی کو خوش کرنا ہے۔اسی طرح حضرت انس ؓبیان کرتے ہیں کہ جو شخص مسلمان بھائی سے اس لئے ملتا ہے کہ وہ اسے خوش کرے تو اللہ قیامت کے دن اسے خوش کرے گا۔(الترغیب)6
    آپؐ ہمیشہ کمزوروں اور حاجت مندوں کے کام آتے اور فرماتے تھے کہ جب بندہ اپنے کسی بھائی کی مدد کرتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے اورجو کسی مسلمان بھائی کی کوئی تکلیف دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس سے قیامت کے روزکی تکلیف دور کرے گا۔اور جو شخص کسی مسلمان کی ستر پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کی ستر پوشی فرمائے گا۔(بخاری)7
    رسول کریمؐ آغاز سے ہی مخلوق خدا سے محبت رکھتے اور لوگوں کی ضرورتیں پوری کر کے خوشی محسوس کرتے تھے۔مکی دور میں بعثت سے قبل آپؐ معاہدہ حلف الفضول میں شریک ہوئے تھے جس کا بنیادی مقصد مظلوموں کی امداد تھا۔آپؐ فرماتے تھے کہ اس معاہدہ میں شرکت کی خوشی مجھے اونٹوں کی دولت سے بڑھ کر ہے اور اسلام کے بعد بھی مجھے اس معاہدہ کا واسطہ دیکر مدد کے لئے بلایا جائے تو میں ضرور مدد کروں گا۔(ابن ھشام)8
    حضرت خدیجہؓ نے پہلی وحی پر رسول کریمؐ کے اخلاق پر جو گواہی دی وہ آپؐ کی ہمدردی خلق سے عبارت ہے۔وَاللّٰہِ لَایُخْزِیْکَ اللّٰہُ اَبَدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَ تَحْمِلُ الْکَلَّ وَ تَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَ تَقْرِی الضَّیْفَ وَ تُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ (بخاری)9
    خدا کی قسم اللہ تعالیٰ آپؐ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا آپؐ تو رشتہ داروں کے حق ادا کرتے ہیں،غریبوں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں،دنیا سے ناپید اخلاق اور نیکیاں قائم کرتے ہیں،مہمان نوازی کرتے اور حقیقی مصائب میں مدد کرتے ہیں۔
    ابوجہل کے خلاف مظلوم کی امداد
    رسول کریمؐ جابر دشمن کے مقابل پر بھی مظلوم کی مدد کے لئے کھڑے ہوجاتے تھے۔ ایک اجنبی ’’الاراشی‘‘سے ابوجہل نے اونٹ خریدا اور قیمت کی ادائیگی میں پس و پیش کرنے لگا۔اراشی قریش کے مجمع میں آکر مدد کا طالب ہوا اور کہا کہ میں اجنبی مسافر ہوں ۔کوئی ہے جو ابوجہل سے مجھے میرا حق دلائے؟وہ میرے مال پر قابض ہے۔سردارانِ قریش نے ازراہ تمسخر رسول کریمؐ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ شخص تمہیں ابوجہل سے حق دلا سکتا ہے۔اراشی رسول اللہؐ کے پاس جاکر دعائیں دیتے ہوئے کہنے لگا کہ آپؐ ابوجہل کے خلاف میری مدد کریں۔رسول کریمؐ اس کے ساتھ چل پڑے۔سردارانِ قریش نے اپنا ایک آدمی پیچھے بھجوایا تا کہ دیکھے ابوجہل کیا جواب دیتا ہے۔رسول کریمؐ نے اس کا دروازہ کھٹکھٹایا۔اس نے پوچھا کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا میں محمدؐ ہوں۔ باہر آئو۔ آپؐ کو دیکھ کر ابوجہل کا رنگ فق ہوگیا آپؐ نے فرمایا! اس شخص کا حق اسے دیدو۔ ابوجہل نے کہا اچھا۔آپؐ نے فرمایا! میں یہاںسے واپس نہیں جائوں گاجب تک اس کا حق ادا نہ ہوجائے۔ابوجہل اندر گیا اور اس شخص کی رقم لاکر اسے دے دی۔تب آپؐ واپس تشریف لائے۔ ادھر اراشی نے واپس آکر سردارانِ قریش کی مجلس میں کہا کہ اللہ محمدؐ کو جزائے خیر دے اس نے مجھے میرا مال دلوادیا ہے۔اتنے میں قریش کا بھجوایا ہوا آدمی بھی آگیا اور کہنے لگاآج میں نے ایک عجیب نظارہ دیکھا ہے کہ ادھر محمدؐ نے ابوجہل کو اراشی کا حق دینے کو کہا اور ادھر اُس نے فوراً رقم لا کر اداکردی۔تھوڑی دیر میں ابوجہل بھی آگیا۔ سب اس سے پوچھنے لگے کہ تمہیں کیا ہوگیا تھا؟ابوجہل نے کہا کہ جونہی میں نے محمدؐ کی آواز سنی، مجھ پر سخت رعب طاری ہو گیا۔جب باہر آیاتھا تو دیکھا کہ محمدؐ کے سر کے پاس خونخوار اُونٹ ہے۔اگر میں انکار کرتا تو وہ اُونٹ مجھے چیرپھاڑکررکھ دیتا۔(ابن ہشام)10
    امت کے لئے درد
    رسول کریمؐ کے دل میںاپنی اُمت کے لئے بہت درد تھا۔عباس بن مرداس السلمیؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں عرفات کی شام اپنی اُمت کے لئے بخشش کی دعا کی ۔آپؐ کو جواب ملا کہ میں نے تیری امت کو بخش دیا سوائے ظالم کے۔ظالم سے مظلوم کا بدلہ لیا جائیگا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا اے میرے رب! اگر تو چاہے تو (یہ بھی تو کر سکتا ہے کہ) مظلوم کو (مظلومیت کے بدلہ میں) جنت دیدے۔ ظالم کو (اس کا ظلم) بخش دے۔اس شام تو آپؐ کو اس دعا کا کوئی جواب نہ ملا مگر مزدلفہ میں صبح کے وقت آپؐ نے پھر یہ دعا کی تو آپؐ کی دعا شرف قبول پاگئی۔اس پر رسول اللہؐ (خوش ہوکر) مسکرانے لگے ۔ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمر ؓ نے عرض کیا ہمارے ماں باپ آپ ؐ پر قربان ہوںآپؐ کس بات پر مسکرائے ہیں؟اللہ تعالیٰ آپؐ کو ہمیشہ (خوش و خرم) ہنستا مسکراتا ہی رکھے۔ آپ ؐنے فرمایا کہ اللہ کے دشمن ابلیس کو جب یہ پتہ چلا کہ اللہ نے میری دعاسن لی ہے اور میری امت کو بخش دیا ہے تووہ مٹی لے کر اپنے سر میں ڈالنے لگا اور اپنی ہلاکت و تباہی کی دعائیں کرنے لگا۔ اس کی گھبراہٹ کا یہ عالم دیکھ کر مجھ سے ہنسی ضبط نہ ہوسکی۔(ابن ماجہ)11
    رسول کریمؐ کوہمیشہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی اپنی اُمت کی تکلیف کا احساس رہتا تھا۔حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم ؐ میرے پاس سے گئے تومزاج خوشگوارتھا، واپس آئے تو غمگین تھے۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ، آپؐ میرے پاس سے گئے تو ہشاش بشاش تھے واپس آئے تو غمگین ہیں۔ آپؐ نے فرمایا میں کعبہ کے اندر گیا تھا ۔مگر اب افسوس ہورہا ہے کہ کاش ایسا نہ کیا ہوتا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ میں نے اپنے بعد اپنی امت کو (اس فعل کے ذریعہ سے) مشقت میں نہ ڈال دیا ہو۔یعنی اگر سب امتی بھی کعبہ کے اندر جانے کی خواہش کریں گے تو اُن کی کثرت کے باعث یہ خواہش پوری ہونی مشکل ہوجائے گی۔(ابن ماجہ)12
    اسی طرح رسول کریمؐ فرماتے تھے کہ اگر امت پر گراں خیال نہ کرتا تو انہیں نماز عشاء تاخیر سے پڑھنے کا حکم دیتا۔(بخاری13) ایک اور موقع پر فرمایا کہ اگر امت پر گراں خیال نہ کرتا تو انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کا حکم دیتا۔(مسلم14)آپؐ فرماتے تھے کہ میں نماز میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوںتو نماز مختصر کردیتا ہوں کہ اس کی ماں کے لئے باعث تکلیف و پریشانی نہ ہو۔(بخاری)15
    آپؐ کواُمت کے غربا کا اتنا خیال تھا کہ قربانی کی عید پر دو موٹے تازے مینڈھے خریدتے۔ ایک اپنی اُمت کے ہر اُس فرد کی طرف سے ذبح کرتے جو توحید اوررسالت کی گواہی دیتا ہے، دوسرا مینڈھا اپنے اہل خاندان کی طرف سے ذبح فرماتے۔(بخاری)16
    عام انسانوں سے ہمدردی
    آنحضرت ﷺکسی مدد یا خدمت خلق کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ بے کس خواہ کسی ملک اور قوم کا ہو اس کی مظلومیت کا حال سن کر آپؐ بے چین ہوجاتے تھے۔
    مہاجرین حبشہ جب مدینہ واپس لوٹے تو نبی کریمؐ نے ان سے دریافت فرمایا کہ ملک حبشہ میں تم نے کیا کچھ دیکھا۔وہاں کی کوئی دلچسپ بات توسنائو۔ ایک نوجوان نے یہ قصہ سنایا کہ ایک دفعہ ہم حبشہ میں بیٹھے تھے۔ ایک بڑھیا کا ہمارے پاس سے گزرہوا۔اس کے سر پر پانی کا ایک مٹکا تھا۔وہ ایک بچے کے پاس سے گزری تو اس نے اسے دھکا دیا اور وہ گھٹنوں کے بل آگری۔ مٹکا ٹوٹ گیا۔ بڑھیا اُٹھی اور اُس بچے کو کہنے لگی اے دھوکے باز بدبخت! تجھے جلد اپنے کئے کا انجام معلوم ہوجائے گاجب اللہ تعالیٰ اپنی کرسی پر جلوہ افروز ہوگا اورفیصلہ کے دن پہلوں اور پچھلوں سب کو جمع کرے گا۔ ہاتھ اور پائوں جو کچھ کرتے تھے خودگواہی دیں گے۔ تب تمہیں میرے اور اپنے معاملے کا صحیح علم ہوگا۔ رسول اللہؐ نے جوشِ ہمدردی سے فرمایا اس بڑھیا نے سچ کہا اللہ تعالیٰ اس قوم کو کیسے برکت بخشے اور پاک کرے گا جس کے کمزوروں کو طاقتوروں سے اُن کے حق دلائے نہیں جاتے۔(ابن ماجہ)17
    جب کوئی سائل یا حاجت مند آتا تو رسول کریمؐ فرمایا کرتے کہ میرے تک مستحقین کی سفارش پہنچادیا کرو تمہیں اس کا اجر ملے گا۔باقی اللہ جو چاہے گا اپنے رسول کی زبان پر اس ضرورت مند کے بارہ میں فیصلہ فرمائے گا۔(بخاری)18
    خدمت خلق کی تحریک
    رسول کریمؐغربا ء کی مدد کے لئے تحریک بھی کرتے تھے اور فرماتے مستحق لوگوں کی ضروریات مجھ تک پہنچاتے رہا کرو۔ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک غریب مسجدمیں آیا۔ رسول اللہؐ نے صدقہ کی تحریک فرمائی کہ لوگ کچھ کپڑے صدقہ کریں۔ لوگوں نے کپڑے پیش کردیئے۔ حضورؐ نے دوچادریں اس غریب کو دے دیں۔اس کے بعد آپؐ نے پھرصدقہ کی تحریک فرمائی تو وہی غریب اٹھا اوردو میں سے ایک چادر صدقہ میں پیش کردی۔رسول اللہؐ نے اسے بآواز بلند فرمایا کہ اپنا کپڑا واپس لے لو۔(ابودائود)19
    رسول اللہؐ کے زمانے میں ایک شخص نے پھلوں کے کاروبار میں بہت نقصان اُٹھایا۔ قرض بہت زیادہ ہوگیا۔نبی کریمؐ نے اُس کے لئے صدقہ کی تحریک فرمائی۔لوگوں نے صدقہ دیا مگر جتنا قرض تھا اتنی رقم اکٹھی نہ ہو سکی۔رسول اللہؐ نے قرض خواہوں کو فرمایاکہ جو ملتا ہے لے لو،باقی چھوڑ دواور معاف کردو۔(احمد)20
    حضرت معاویہؓ بن حکم کی ایک لونڈی تھی جو اُن کی بکریاں چراتی تھی۔ ایک دن بھیڑیا اُس کے ریوڑ پر حملہ کرکے ایک بکری اُٹھا کر لے گیا۔معاویہؓ نے غصے میں آکر اس لونڈی کو ایک تھپڑ رسید کردیا۔اور پھر رسول اللہؐ کی خدمت میں اس واقعہ کا ذکر کیا۔حضورؐ پر یہ بات بہت گراں گزری۔معاویہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ میں اُسے آزاد نہ کردوں؟آپؐ نے فرمایا اُسے میرے پاس لے آئو۔جب وہ آئی توآپؐ نے پوچھا اللہ کہاں ہے؟اُس نے کہا آسمان میں۔ آپؐ نے فرمایامیں کون ہوں؟اُس نے کہا آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔رسول اللہؐ نے فرمایا یہ مومن عورت ہے اسے آزاد کردو۔(مسلم)21
    حضرت عبداللہؓ بن عمرؓرسول اللہؐ کی خدمت خلق کے سلسلہ کا ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہؐ کے پاس کہیں سے دس درہم آئے۔اتنے میں ایک سودا گر آگیا، رسول کریم ؐ نے اس سے چاردرہم میں ایک قمیص خریدلیا ۔اسے پہن کر باہر تشریف لائے تو ایک انصاری نے عرض کیا حضورؐ آپؐ یہ مجھے عطاکردیں اللہ آپؐ کو جنت کے لباس عطافرمائے۔ آپؐ نے وہ قمیص اسے دیدیا۔ پھر آپؐ دوکاندار کے پاس گئے اور اس سے چار درہم میں ایک اور قمیص خریدا۔ اب آپؐ کے پاس دو درہم بچ رہے تھے۔راستہ میں آپؐ کو ایک لونڈی ملی جو رورہی تھی۔آپؐ نے سبب پوچھا تو وہ بولی کہ گھر والوں نے مجھے دو درہم کا آٹا خریدنے بھیجا تھا وہ درہم گم ہوگئے ہیں۔رسول کریم ؐ نے فوراً اپنے دو درہم اسکو دے دیئے۔جانے لگے تو وہ پھر رو پڑی۔آپؐ نے پوچھا کہ اب کیوں روتی ہو؟ وہ کہنے لگی مجھے ڈر ہے کہ گھر والے مجھے تاخیرہوجانے کے سبب ماریں گے۔رسول کریم ؐ اس کے ساتھ ہولئے اور اسکے مالکوں کو جاکر کہا کہ اس لونڈی کو ڈر تھا کہ تم لوگ اسے مارو گے۔ اس کا مالک کہنے لگا یا رسول اللہؐ! آپؐ کے قدم رنجہ فرمانے کی وجہ سے میں آج اسے آزاد کرتا ہوں۔ رسول کریم ؐ نے اُسے نیک انجام کی بشارت دی اور فرمایا’’اللہ نے ہمارے دس درہموں میں کتنی برکت ڈالی کہ ایک قمیص انصاری کو ملا۔ایک قمیص خدا کے نبیؐ کو عطا ہوا اور ایک غلام بھی اس میں آزاد ہوگیا۔ میں اُس خدا کی تعریف کرتا ہوں جس نے اپنی قدرت سے ہمیں یہ سب کچھ عطا فرمایا۔‘‘(ہیثمی)22
    ایک غریب شخص نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یارسول اللہؐ میں تو مارا گیا۔رمضان کے روزے میں بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کربیٹھا ہوں۔آپؐ نے فرمایا ایک گردن آزادکردو۔کہنے لگا،مجھے اس کی کہاں توفیق؟فرمایا پھر مسلسل دو مہینے کے روزے رکھو۔ کہنے لگا مجھے اس کی بھی طاقت نہیں۔ آپؐ نے فرمایا اچھا تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادو۔اس نے کہا یہ سب میری استطاعت سے باہر ہے۔دریں اثناء کھجوروں کی ایک ٹوکری رسول اللہؐؐ کی خدمت میں پیش کی گئی۔آپؐ نے اس مفلوک الحال سائل کو بلوایا اور وہ ٹوکری اس کے حوالے کر کے فرمایا یہ صدقہ کردو۔وہ بولا مدینہ کی بستی میں ہم سے غریب اور کون ہے جس پر یہ صدقہ کروں۔ رسول کریمؐ اس کے اس جواب پر خوب مسکرائے اور فرمایا اچھا پھر یہ کھجوریں خود ہی لے لو۔(بخاری)23
    منذر بن جریرؓ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہؐ کے پاس تھے،دن کا پہلا پہر تھا۔حضورؐ کی خدمت میں ایک غریب قوم کے کچھ لوگ آئے جو ننگے پائوں اور ننگے بدن تھے۔انہوں نے تلواریں سونتی ہوئی تھیںاور ان کا تعلق مضر قبیلہ سے تھا۔ان کی بھوک اور افلاس کی حالت دیکھ کر رسول اللہؐ کاچہرہ متغیر ہوگیا۔حضورؐ گھر تشریف لے گئے پھر باہر آکر بلالؓ سے کہا کہ ظہرکی اذان دو۔ آپؐ نے نماز کے بعد خطبہ ارشاد فرمایااور ان کیلئے صدقہ کی تحریک فرمائی۔ لوگوں نے دینار، درھم ،کپڑے ، جواورکھجور وغیرہ صدقہ کیایہاں تک کہ غلے کے دو ڈھیر جمع ہوگئے۔ میں نے دیکھا رسولؐ اللہ کا چہرہ خوشی سے ایسے دمک اُٹھا جیسے سونے کی ڈلیا ہو۔ (احمد)24
    نبی کریمؐ غرباء کی عزت نفس کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ہر کمزور اور ضعیف آدمی جنتی ہے۔(بخاری25)آپؐ غربا ء کو کھانے وغیرہ کی دعوتوں میں بلانے کی تحریک کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ وہ دعوت بہت بری ہے جس میں صرف امراء کو بلایا جائے اور غربا ء کو شامل نہ کیا جائے۔ (بخاری)26
    خدمت خلق کے مواقع کی تلاش
    رسول کریمؐ مخلوق خدا کی خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ ابوسعیدخدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلام کے پاس سے گزرے جو ایک بکری کی کھال اتاررہا تھا۔حضورؐ نے اسے فرمایا تم ایک طرف ہوجائو میں تمہیں کھال اُتارنے کا طریقہ بتاتا ہوں ۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بازو جلد اور گوشت کے درمیان داخل کیا اور اسکو دبایا یہاں تک کہ بازو کندھے تک کھال کے اندر چلا گیا۔پھر آپؐ نے اس غلام سے فرمایا کہ اے بچے!کھال اس طرح اتارتے ہیں۔تم بھی ایسے ہی کرو۔ پھر آپؐ تشریف لے گئے اور لوگوں کو جاکر نماز پڑھائی اور دوبارہ وضو ء نہیں کیا۔(ماجہ)27
    غرباء کے رشتہ ناطہ میں تعاون
    آنحضورؐہر طبقہ کے لوگوں کی ضرورت پر نظر رکھتے اور حاجت روائی کی کوشش فرماتے۔غرباء کی شادی وغیرہ کا بندوبست ذاتی دلچسپی سے کروادیتے تھے۔
    حضرت ربیعۃ الاسلمیؓ کہتے ہیں میں رسولؐ اللہ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ایک روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ ربیعہؓ! تم شادی کیوں نہیں کرتے؟ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولؐ! خدا کی قسم میرا شادی کا کوئی ارادہ نہیں۔ایک تو مجھے بیوی کے نان و نفقہ کی توفیق نہیں اور دوسرے میں یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی اورمصروفیت مجھے آپؐ کی خدمت سے محروم کردے۔ اس وقت آپؐ خاموش ہوگئے ۔میں آپؐ کی خدمت کی توفیق پاتا رہا۔ کچھ عرصہ بعد پھر فرمانے لگے ربیعہؓ! شادی کیوں نہیں کرلیتے۔میں نے وہی پہلے والا جواب دیا مگر اس وقت میں نے اپنے دل میں سوچا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو دنیا اور آخرت کے مصالح مجھ سے بہتر جانتے ہیں اس لئے اب اگرآئندہ مجھ سے شادی کے بارہ میں پوچھا تو میں کہہ دوں گا کہ حضور کا حکم سر آنکھو ں پر۔ اگلی مرتبہ جب حضورؐ نے شادی کے بارہ میں تحریک فرمائی تو میں نے کہہ دیا کہ جیسے حضورؐ کا حکم ہو۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم انصار کے فلاں قبیلہ کے پاس جائو اور انہیں کہو کہ رسول اللہ ؐنے مجھے آپؐ کے پاس بھیجا ہے کہ اپنی فلاں لڑکی کی مجھ سے شادی کردیں۔ میں نے ایسے ہی کیا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ؐ اور آپؐ کے نمائندے کو خوش آمدید! خدا کی قسم رسول خداؐ کا نمائندہ اپنی حاجت پوری کئے بغیر واپس نہیں لوٹے گا۔ انہوں نے میری شادی کردی اور بڑی محبت سے پیش آئے۔ کوئی تصدیق وغیرہ طلب نہ کی کہ واقعی تمہیں رسول اللہؐنے ہی بھیجا ہے۔ میں رسول کریمؐ کی خدمت میں واپس لوٹا تو غمزدہ سا تھا۔آپؐ نے فرمایا ربیعہؓ تمہیں کیا ہوا؟ عرض کیا یا رسول اللہؐ میں ایک معزز قوم کے پا س گیا ۔انہوں نے میری شادی کی۔ عزت افزائی اور محبت کا سلوک کیا اور مجھ سے کوئی ثبوت تک نہ مانگا۔اِدھر حال یہ ہے کہ میرے پاس تو مہر ادا کرنے کو بھی پیسے نہیں۔آنحضورؐ نے بُریدہؓ اسلمی کو حکم دیا کہ حق مہر کے لئے گٹھلی برابرسونا جمع کرو۔ انہوں نے تعمیل ارشاد کی۔ آنحضورؐ نے فرمایا اب ان لوگوں کے پاس جاکر یہ مہر ادا کردو۔میں نے ایسا ہی کیا ۔ انہوں نے بہت خوشی سے اسے قبول کیا اور کہا کہ یہ رقم بہت خوب ہے۔ میں پھر رسولؐ اللہ کی خدمت میں پریشان ہوکر لوٹا۔ آپؐ نے فرمایا ربیعہؓ اب کیوں پریشان ہو؟ میں نے عرض کیا کہ اس خاندان جیسے معزز لوگ میں نے نہیں دیکھے۔میں نے انہیں جو مہر دیا انہوں نے خوشی سے قبول کیا اور مجھ سے احسان کا سلوک کیا مگر میرے پاس اب ولیمے کی توفیق نہیں۔ آپؐ نے پھر بریدہؓ سے فرمایا اس کے لئے بکری کا انتظام کرو۔انہوں نے میرے لئے ایک بڑے صحت مند مینڈھے کا انتظام کردیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت عائشہ ؓ کے پاس جائو اورانہیں کہو کہ غلے کا ٹوکرا دے دیں۔میں نے حسبِ ارشاد جاکر عرض کردیا۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا یہ ٹوکرا ہے جس میں (نو صاع تقریباً 30کلو)جو ہیں۔خدا کی قسم! ہمارے گھر میں فی الوقت اس کے علاوہ اور کوئی غلہ نہیں،بس لے جائو۔میں یہ لے کر رسو ل اللہ ؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عائشہؓ نے جو کہا تھا وہ بھی عرض کردیا۔آپؐ نے فرمایا اب یہ غلہ اپنے سسرال لے جائو اور انہیں کہو کہ کل اس سے روٹی وغیرہ بنائیں۔میں غلہ اور مینڈھا لیکر گیا اور میرے ساتھ اسلم قبیلے کے کچھ لوگ بھی تھے۔ ہم نے انہیں کھانا تیار کرنے کے لئے کہا۔ وہ کہنے لگے کہ روٹی ہم تیار کروا دیں گے، جانور آپ لوگ ذبح کرلیں۔چنانچہ ہم نے گوشت تیار کر کے پکایا اور اگلی صبح میں نے گوشت روٹی سے ولیمہ کیا اور رسول اللہؐ کو بھی دعوت دی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد آنحضورؐ نے مجھے کچھ زمین عطا فرمادی۔ کچھ زمین حضرت ابوبکر صدیق ؓنے دے دی اور فراخی ہوگئی۔ (احمد)28
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غریب صحابی جلبیبؓ کے رشتہ کا پیغام ایک انصاری لڑکی کے والد کوبھجوایا۔ وہ کہنے لگے میں اس کی ماں سے مشورہ کروںگا۔ اس آدمی نے جب بیوی سے مشورہ کیا تو وہ کہنے لگی کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم جلبیبؓ جیسے غریب آدمی کو رشتہ دے دیںحالانکہ اس سے پہلے ہم اس سے بہتر رشتے ردّکر چکے ہیں۔ لڑکی پردے میں سن رہی تھی۔ کہنے لگی کیا تم رسول اللہؐ کے حکم کو موڑو گے، اگر حضور راضی ہیں تو نکاح کردو۔چنانچہ اس کے والد نے جاکر رسول اللہؐ سے عرض کیا کہ بچی راضی ہے اس لئے ہم بھی راضی ہیں۔ یوں آپؐ نے جلبیبؓ کی شادی کروادی۔یہ جلبیبؓ بعد میں ایک مہم میں شہید ہوگئے۔(احمد)29
    شادی پر تحفہ
    نبی کریمؐ کبھی کسی سائل کو ردّ نہ فرماتے اور حسبِ توفیق وموقع جو میّسرہوتاعطافرماتے۔
    حضرت ابوھریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یارسول اللہؐ! کہ میں اپنی بیٹی کی شادی کررہا ہوں اور میری خواہش ہے کہ آپؐ مجھے کچھ عطا فرمائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سردست تو میرے پاس کچھ نہیں البتہ کل ایک کشادہ منہ والی شیشی اور ایک درخت کی شاخ بھی لے آنا اور تمہارے میرے درمیان ملاقات کے وقت کی نشانی یہ ہے کہ جب میرے دروازے کا ایک کواڑ کھلا ہو اس وقت آجانا۔
    اگلے روز وہ شخص یہ دونوں چیزیں لے کرآیا۔ نبی کریمؐ اپنے بازئوں سے پسینہ جمع کر کے اس شیشی میں اکٹھا کرنے لگے یہاں تک کہ وہ شیشی بھر گئی۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ یہ لے جائو اور اپنی بیٹی سے کہنا کہ جب خوشبو لگانا چاہے تو یہ شاخ شیشی میں ڈال کر اس سے خوشبو استعمال کرلے۔ چنانچہ وہ گھرانہ جب یہ خوشبو استعمال کرتا تو اہل مدینہ اسے بہترین خوشبو قراردیتے۔ یہاں تک کہ اس گھرانے کا نام ہی بہترین خوشبووالوں کا گھر پڑگیا۔(ھیثمی)30
    عیادت مریض
    رسول کریمؐ نے ایک دفعہ ایک حدیث قدسی بیان فرمائی جس سے خلقِ خدا سے ہمدردی کی اہمیت کا اندازہ ہوتاہے۔ فرمایا’’اللہ قیامت کے دن فرمائے گا اے ابن آدم! میں بیمار تھا تو نے میری عیادت نہ کی۔ وہ کہے گا اے میرے رب میںکیسے تیری عیادت کرتا توتو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔ اللہ فرمائے گا کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمارتھا اور تو نے اس کی عیادت نہ کی۔ کیا تجھے خبر نہیں کہ اگر تم اس کی عیادت کرتے تو مجھے اس کے پاس موجود پاتے۔ اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا مگر تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔ وہ کہے گا اے میرے ربّ میں کیسے آپ کو کھانا کھلاتا اور تو تو ربّ العالمین ہے اللہ فرمائے گا کیا تجھے پتہ نہیں کہ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو اللہ کو وہاں موجود پاتا۔ اے ابن آدم میں نے تجھ سے پانی مانگا تو نے مجھے پانی نہ دیا۔ بندہ کہے گا میں تجھے کیسے پانی پلاتا حالانکہ تو ربّ العالمین ہے۔ اللہ فرمائے گا تجھ سے میرے ایک بندے نے پانی مانگا تھا تو نے اسے پانی نہ پلایا۔ اگر تو اسے پانی پلاتا تو اللہ کو وہاں موجود پاتا۔(مسلم)31
    رسول کریمؐ اپنے بیمار صحابہ کی خود عیادت فرماتے تھے اور ان کے لئے دعا کے علاوہ بسااوقات مناسب دوا بھی تجویز فرماتے تھے۔(ابن ماجہ)32
    آپ ؐ فرماتے تھے کہ ہر بیماری کی دوا ہوتی ہے۔بعض بیماریوں کا علاج ِروحانی دعا وغیرہ سے فرماتے تھے۔ابوھریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضورؐ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور میری طرف توجہ فرمائی تو فرمایا کہ کیا تمہارے پیٹ میں درد ہے؟عرض کیا ہاں۔فرمایا نماز پڑھو۔اس میں شفاء ہے۔ (ابن ماجہ)33
    اسی طرح آپؐ دم اور دعا سے بھی علاج فرماتے تھے۔اپنی بیماری کے دنوںمیں قرآن کی آخری دو سورتیں(معوّذتین) پڑھتے تھے۔اس طرح فاتحہ کی دعا سے بھی بسااوقات علاج فرمایا۔(بخاری)34
    رسول کریمؐ خدمت خلق کے کاموں میں اپنے اصحاب کا جائزہ لیتے رہتے تھے تاکہ اُن میں یہ جذبہ بڑھے۔ایک روز آپؐ نے صحابہ سے پوچھا آج تم میں سے کسی نے روزہ رکھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اثبات میں جواب دیا۔آپؐ نے فرمایا آج تم میں سے مریض کی عیادت کس نے کی؟ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا میں نے۔ آپؐ نے فرمایا اپنے مسلمان بھائی کے جنازہ میں کسی نے شرکت کی؟ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا میں نے۔ رسول کریمؐ نے پوچھا آج مسکین کو کھانا کس نے کھلایا۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا انہیں یہ سعادت بھی ملی۔ رسول کریمؐ نے فرمایا یہ سب باتیں جس نے ایک دن میں جمع کرلیں وہ جنت میں داخل ہوا۔(مسلم)35
    حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریمؐ کسی مریض کی عیادت کیلئے تشریف لے جاتے یا کوئی مریض آپ ؐکے پاس لایا جاتا تو آپؐ یہ دعا پڑھتے’’اَذْھِبِ البَأْسَ رَبَّ النَّاسِ اِشْفِ وَاَنْتَ الشَّافِیْ لَا شِفَائَ اِلَّا شِفَائُ کَ ، شِفَائً کَامِلًا لاَ یُغَادِرُ سَقَمًا۔
    ترجمہ:اے لوگوں کے رب! بیماری دورفرمادے۔ تو ہی شفا عطاکرنے والاہے۔ شفاء دے دے تیری شفاء کے سوا کوئی شفا نہیں۔ ایسی شفاء عطاکر جو کوئی بیماری باقی نہ چھوڑے۔(بخاری)36
    حضرت عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے فرمایا کوئی بھی مسلمان کسی ایسے مریض کی عیادت کرے(جس کی موت کا وقت نہ آیا ہو) وہ سات مرتبہ یہ دعا پڑھے تو اللہ تعالیٰ اسے شفادے دے گا۔اَسْأَلُ اللّٰہَ العَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ العَظِیِمِ اَنْ یَشْفِیَکَ۔(ابودائود37)سب سے بڑا اللہ ہے دعاکرتا ہوں جو عظیم عرش کا رب ہے کہ وہ آپ کو شفاء عطاکرے۔
    رسول کریمؐ اپنے صحابہ کوبھی تلقین فرماتے تھے کہ بیمار کی عیادت کو جایا کرو یہ ایک مسلمان بھائی کا حق ہے۔ آپؐ نے صرف انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ یاحضرت سعد بن ابی وقاصؓ جیسے بزرگ صحابہ کی ہی عیادت نہیں فرمائی بلکہ نوجوانوں، بچوں، بدّوؤں کی عیادت کیلئے بھی بنفس نفیس تشریف لے جاتے رہے۔ اپنے چچا ابو طالب اور یہودی غلام کی بھی عیادت فرمائی۔جابر بن عبداللہؓ ایک نوجوان صحابی تھے جن کے والد اُحدمیں شہید ہوگئے تھے۔انہیں یہ بات ہمیشہ یاد رہی کہ’’ ایک دفعہ میں بیمار ہوا۔ غشی کی حالت تھی۔ رسول اللہؐ حضرت ابوبکرؓ اور عمرؓ کے ساتھ پیدل میری عیادت کے لئے تشریف لائے تھے۔‘‘(بخاری)38
    رسول کریم ؐبیمار کی تکلیف کا خاص خیال رکھتے اور علاج تجویز فرماتے تھے۔حضرت کعب بن عُجرہ ؓسفر حج میں آپؐ کے ساتھ شریک تھے۔ ان کے بال لمبے تھے اور سر میں جوئیں بہت پڑگئی تھیں۔حالت احرام میں سربھی نہیں منڈواسکتے تھے۔نبی کریمؐ ان کے پاس سے گزرے تو ان کی تکلیف دیکھ کر فرمایا کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دیتی ہیں؟میں نے عرض کیا جی ہاں۔آپؐ نے اسی وقت حجام کو بلایا جس نے عُجرہؓ کے سرکے بال مونڈ دیئے۔ پھر فرمایا’’اب احرام میں بال مونڈوانے کا کفارہ ادا کردو۔‘‘(بخاری)39
    رسول کریمؐ شہد پسند کرتے اوربطور دوابھی تجویز فرماتے تھے۔ایک دفعہ ایک شخص نے اپنے بھائی کے پیٹ کی کسی بیماری کاذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا شہدپلائو۔ اس نے پلایا اور آکر بتایا کہ پیٹ تو مزید خراب ہوگیا ہے۔آپؐ نے فرمایا اور شہد پلائو۔اس نے پھر پلایا اور بتایا کہ تکلیف بڑھ گئی ہے۔آپؐ نے فرمایا کہ اور پلائو تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے (اور خدا کا کلام سچا ہے کہ شہد میں شفا ہے)۔چنانچہ اس کے بعد اسی شہد سے اس کو افاقہ ہوگیا۔(بخاری)40
    رسول کریمؐ نے اونٹ کے دو دھ سے بھی بعض بیماریوں کا علاج فرمایا۔ کلونجی کے بارہ میں فرمایا کہ ہر بیماری کا علاج اس میں ہے سوائے موت کے۔(بخاری)41
    اس طرح فرمایاہر روز صبح سات کھجوریں ناشتہ میں استعمال کرنے سے انسان کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔(بخاری)42
    آپؐ تیز بخاروغیرہ کا فوری علاج پانی سے بدن ٹھنڈا کرکے فرماتے اورفرماتے تھے کہ بخار بھی جہنم کی آگ کی طرح ہے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔(بخاری)43
    ایک دفعہ رسول کریم ؐایک مریض کی عیادت کو تشریف لے گئے۔ اس سے پوچھا تمہیں کچھ کھانے کی خواہش ہے؟ اس نے کہا کہ گندم کی روٹی کو دل کرتا ہے۔آپؐ نے اسی وقت ارشاد فرمایا کہ جس کسی کے گھر گندم کی روٹی ہو وہ اپنے اس بیمار بھائی کے لئے بھیج دے۔پھر حضورؐ نے فرمایا جب تمہارا مریض کسی چیز کا تقاضا کرے تووہ اسے کھلایا کرو۔
    ایک اور مریض نے حضورؐ کے استفسار پرعرض کیا کہ مجھے دودھ شکر اور آٹے سے پکی ہوئی روٹی چاہئے۔حضورؐ نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے ۔چنانچہ اسے ایسی روٹی مہیاکی گئی۔(ابن ماجہ)44
    آنحضورؐ مریض کی مناسب تیمارداری اوراُسے اچھی خوراک مہیا کرنے کی ہدایت فرماتے تھے۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریمؐ بیماری کے دنوں میں ایک قسم کا دلیہ جس میں گوشت ملا ہوتا تھا کھانے کی ہدایت کرتے اور فرماتے تھے کہ اس سے طاقت بحال ہوتی ہے۔ (بخاری45)اسی طرح آپؓ بیان کرتی ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ کے گھر کا کوئی فرد بیمار ہوتا تو آپؐ کے حکم سے مریض کے دلیہ گوشت کے لئے مستقل ایک ہنڈیا چولہے پرچڑھی رہتی یہاں تک کہ وہ آدمی اچھا ہوجائے۔(ابن ماجہ)46
    الغرض نبی کریمؐ نے ہمدردیٔ خلق میں بہترین عملی نمونہ قائم کرکے دکھایا۔اَللّّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ ھَمِّہٖ وَ حُزْنِہٖ لِھٰذِہِ الاُمَّۃِ ط
    حوالہ جات
    1
    مسلم کتاب الایمان باب بیان ان الدین النصیحۃ
    2
    بخاری کتاب العلم باب لیبلغ العلم الشاھد الغائب
    3
    بخاری کتاب الایمان باب المسلم من سلم المسلمون
    4
    مسند احمد جلد2ص215مطبوعہ بیروت
    5
    المعجم الکبیرلطبرانی جلد12ص453مطبع الوطن العربی
    6
    الترغیب والترھیب للمنذری جلد3ص394احیاء التراث بیروت
    7
    بخاری کتاب المظالم باب لایظلم المسلم المسلم :2262
    8
    السیرۃ النبویۃ لابن ھشام جز1ص141-142مصطفی البابی الحلبی
    9
    بخاری بدء الوحی
    10
    السیرۃ النبویۃ لابن ھشام جلد2ص123-124 دارالفکربیروت
    11
    ابن ماجہ کتاب المناسک باب الدعاء بعرفۃ:3004
    12
    ابن ماجہ کتا ب المناسک باب دخول الکعبہ
    13
    بخاری کتاب الصلوۃ باب النوم قبل العشاء
    14
    مسلم کتاب الطہارۃ باب السواک:370
    15
    بخاری کتاب الاذان باب من اخف الصلوٰۃ عند بکاء الصبی
    16
    بخاری کتاب الاضاحی باب ضحیۃ النبی ﷺ بکبشین
    17
    سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب الامر بالمعروف والنھی عن المنکر
    18
    بخاری کتاب الادب باب تعاون المؤمنین
    19
    ابوداؤد کتاب الزکوٰۃ باب الرجل یخرج من مالہ
    20
    مسند احمد بن حنبل جلد3ص58مطبوعہ بیروت
    21
    مسلم کتاب المساجد باب تحریم الکلام فی الصلاۃ:836
    22
    مجمع الزوائدلھیثمی جلد ۹ص14مطبوعہ بیروت
    23
    بخاری کتاب الادب باب التبسمّ والضحک
    24
    مسند احمد جلد4ص359مطبوعہ بیروت
    25
    بخاری کتاب الادب باب الکبر
    26
    بخاری کتاب النکاح باب من ترک الدعوۃ فقد عصی:4779
    27
    ابن ماجہ کتاب الذبائح باب السلخ
    28
    مسند احمد جلد 4ص58مطبوعہ مصر
    29
    مسند احمد جلد 3ص136مطبوعہ بیروت
    30
    مجمع الزوائد للھیثمی جلد8ص283 بیروت
    31
    مسلم کتاب البروالصلۃ والآداب باب فضل عیادۃ المریض:4661
    32
    ابن ماجہ کتاب الطب باب الصلوۃ شفاء
    33
    ابن ماجہ کتاب الطب باب الصلوۃ شفاء
    34
    بخاری کتاب المرضیٰ باب الرقیٰ بالقرآن و المعوّذتین
    35
    مسلم کتاب الفضائل الصحابۃ باب من فضائل ابی بکرؓ
    36
    بخاری کتاب المرضی باب دعائِ العائدللمریض
    37
    ابوداؤد کتاب الجنائزباب دعاء للمریض عندالعیادۃ
    38
    بخاری کتاب المرضیٰ باب عیادۃ المغمیٰ علیہ
    39
    بخاری کتاب المرضیٰ باب قول المریض انی وجع
    40
    بخاری کتاب الطب باب دوا ء المبطون
    41
    بخاری کتاب المرضیٰ باب الحبۃ السوداء
    42
    بخاری کتاب المرضیٰ و الطب باب الدواء بالعجوۃ
    43
    بخاری کتاب المرضیٰ باب الحمیّٰ من فیح جھنم
    44
    ابن ماجہ کتاب الطب باب المریض یشتھی الشیٔ
    45
    بخاری کتاب المرضیٰ باب التلبینۃ
    46
    ابن ماجہ کتاب الطب باب التلبینۃ

    رسول کریم ؐکی رأفت و شفقت
    قرآن شریف میں نبی کریم ؐ کے پاکیزہ اخلاق کا نقشہ یہ پیش کیا گیا ہے۔ لَقَدْجَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ(سورۃ التوبہ 128)
    یعنی اے لوگو! تمہارے پاس تم میں سے ایک رسول آیا ہے تمہارا تکلیف میں پڑنا اس پر گراں گزرتا ہے وہ تمہاری بھلائی کا بے حد خواہش مند ہے اور مومنوں کے ساتھ انتہائی نرمی و رأفت سے پیش آنے والا اور محبت و پیار کا سلوک کرنے والا ہے۔
    اس آیت میں رسول کریمؐ کو بطور خاص اللہ تعالیٰ کی دو صفات رؤف اوررحیم کا مظہر قراردیا گیا ہے ۔ جس کا مطلب ہے کہ انتہائی رافت اور نرمی کا سلوک کرنے والے اور مخلوق خدا سے بے حد محبت اور پیار کرنے والے۔ چنانچہ آپؐ ہمیشہ نرمی ،آسانی اور پیار کی تعلیم دیتے تھے۔
    نبی کریمؐ کی رأفت و رحمت اپنی مثال آپ تھی۔دراصل آپؐ کی محبت یا نفرت خدا کی خاطرہوا کرتی تھی اور خدا کا حکم آپؐ کو یہ تھاوہ لوگ جو صبح و شام اللہ کو یاد کرتے ہیں ان کو مت دھتکارنا۔وہ خدا کی رضا چاہتے ہیں۔(سورۃالانعام:53)
    غریب صحابہ سے شفقت
    رسول کریم ؐ ہمیشہ دین میں سختی کو ناپسندفرماتے تھے۔سفر اور بیماری وغیرہ میں جو رخصتیں نماز اور روزے کی عبادات میں ہیں، ان سے بعض لوگ دین پر شدّت سے قائم ہونے کے خیال سے فائدہ نہیں اُٹھانا چاہتے، مگر نبی کریمؐ فرماتے تھے اللہ تعالیٰ کو یہ بات اسی طرح بہت پسند ہے کہ اس کی رخصتوں سے بھی فائدہ اُٹھایا جائے جس طرح اسے ناپسند ہے کہ اس کی نافرمانی کی جائے۔(احمد)1
    ایک دفعہ حمزہ بن عمرو اسلمی ؓنے عرض کیاکہ یا رسول اللہ ؐمجھے سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت ہے میرے لئے کیا حکم ہے؟ آپؐ نے فرمایا یہ اللہ کی رخصت ہے جو شخص اسے اختیار کرے تو یہ بہت عمدہ ہے۔لیکن اگر کوئی روزہ رکھنا پسندکرے تو اس پر گناہ نہیں ہے۔(مسلم)2
    حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ میںغریب مہاجرین کی ایک جماعت میں بیٹھاتھاجن پرتَن کے پورے کپڑے بھی نہیںتھے۔ ایک قاری ہمیں قرآن سنا رہا تھا۔اتنے میں رسول اللہ ؐ تشریف لائے۔آپؐ ہمارے پاس کھڑے ہوئے تو قاری خاموش ہوگیا۔آپؐ نے ہمیں سلا م کیا اور فرمایا تم کیا کر رہے ہو؟ہم نے کہا اے اللہ کے رسولؐ! یہ قاری ہمیں قرآن شریف سنا رہے تھے۔حضورؐ نے فرمایا تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگ پید اکئے کہ جن کے ساتھ مجھے مل بیٹھنے اور حسن معاشرت کا حکم دیا گیا ہے۔پھر آپؐ ہمارے درمیان تشریف فرما ہوئے اور فرمانے لگے حلقہ بنا لوتاکہ سب کے چہرے سامنے ہوں۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں میرا خیال ہے حضورؐ نے میرے سوا کسی کو نہیں پہچانا ۔آپؐ فرمانے لگے اے مہاجرین میں سے مفلسوں کی جماعت! تمہیں قیامت کے دن کامل نور کی بشارت ہو۔تم جنت میں امراء سے آدھا دن پہلے داخل ہوگے اور یہ آدھا دن بھی پانچ سوسال کے برابر ہے۔(ابوداؤد)3
    حضرت انس بن مالک ؓ خادم رسولؐ نے ایک مجنون عورت کے ساتھ رسول کریمؐ کی شفقت و محبت کا ایک عجیب واقعہ بیان کیا ہے کہ مدینہ میں ایک پگلی سی عورت رہتی تھی۔ جس کا نام اُم زُفر تھا، حضرت خدیجہؓ کی خادمہ خاص رہ چکی تھی( بعد میں عقل میں کچھ فتور پڑگیاتھا)۔ وہ ایک روز حضورؐ کے پاس آگئی اور کہنے لگی کہ مجھے آپؐ سے ایک ضروری کام ہے ۔علیحدگی میں بات کرنا چاہتی ہوں۔ آپ ؐنے کس وسعت حوصلہ سے اس کمزور اور دیوانی عورت کو یہ جواب دیا کہ اے فلاں کی ماں ! مدینہ کے جس راستہ یا گلی میں کہو بیٹھ جائو اور میں تمہارے ساتھ بیٹھ کر بات سنوں گا اور تمہارا کام کردونگا۔چنانچہ وہ عورت ایک جگہ جاکر بیٹھ گئی ۔حضورؐ بھی اس کے ساتھ بیٹھ رہے۔ اس عورت نے اپنی حاجت بیان کی اور آپؐ اس وقت تک اٹھے نہیں جب تک اس عورت کی تسلی نہیں ہوگئی۔(ابن ماجہ)4
    غلاموں، لونڈیوں کا جو حال اُس زمانہ میں تھا تاریخ سے واقفیت رکھنے والے اسے خوب جانتے ہیں۔ اُن سے جانوروں کا سا سلوک ہوتا تھا۔ ایک حبشی لونڈی مدینہ میں رہتی تھی اسے مرگی کا دورہ پڑتا تھا۔ایک روز بے چاری اپنی بیماری کی شکایت لے کر حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ حضورؐ مجھے جب مرگی کادورہ پڑتاہے تو میں بے پرد ہوجاتی ہوں۔آپؐ میرے لئے اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اس تکلیف اور بے پردگی سے بچائے۔آپؐ نے اس حبشی خاتون کی بہت دلداری فرمائی۔ کچھ دیر تسلی کی باتیں اس سے کرتے رہے پھرفرمانے لگے اگر تم چاہو اور صبر کرسکو توتمہیں اس کے بدلہ جنت ملے گی اور اگر چاہو تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ معجزانہ طور پر تمہیں اس بیماری سے شفا دیدے۔وہ کہنے لگی حضورؐ! میں صبر کرتی ہوںلیکن آپؐ یہ دعا ضرور کریں کہ میں مرگی کی حالت میں بے پرد گی سے بچ جائوں۔حضرت ابن عباسؓ لوگوں کو یہ لونڈی دکھا کر کہتے تھے کیا میں تمہیںاہل جنت میں سے ایک عورت نہ دکھائوں۔ (عیاض) 5
    غریبوں سے دوستی
    حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی جس کا نام زاہرؓ تھا وہ نبی کریمؐ کو دیہات کی چیزیں تحفہ میں لاکر دیا کرتا تھااور نبی کریمؐ اسے انعام و اکرام سے نوازتے اور فرمایا کرتے تھے کہ زاہرؓ ہمارا دیہاتی اور ہم اس کے شہری ہیں ۔ حضورؐ اس سے بہت محبت کا سلوک فرماتے تھے۔وہ شخص بہت سادہ بھدّی شکل کا تھا۔ایک دفعہ حضور ؐ نے اس کو دیکھا کہ وہ بازار میں اپنا سودا بیچ رہا ہے۔ آپؐ نے پیچھے سے جاکر باہیں اس کی گردن میں ڈال دیں۔وہ آپؐ کو دیکھ نہ سکا۔کہنے لگا اے شخص ! مجھے چھوڑ دو۔پھر جواس نے مڑ کر دیکھا تو اسے پتہ چلا کہ حضورؐ ہیں تو وہ خوشی سے اپنی پُشت حضورؐ کے جسم مبارک سے رگڑنے لگا۔حضورؐ فرمانے لگے میرا یہ غلام کون خرید یگا وہ بولا اے اللہ کے رسولؐ !پھر تو آپؐ مجھے بہت ہی بے کار سودا پائیںگے۔نبی کریم ؐ نے فرمایا لیکن اللہ کے نزدیک تو تم گھاٹے کا سودا نہیںہو۔ تمہاری بڑی قدرو قیمت ہے۔(احمد)6
    بدوؤں سے سلوک
    یہ تو غرباء اور فقراء صحابہ کے ساتھ آنحضورؐکا شفقت و رأفت کا تعلق تھا۔ مدینہ کے اردگرد رہنے والے اجڈبدوئوں اور درشت رُو اعراب سے بھی آپؐ ہمیشہ رأفت کا سلوک فرماتے جن کے اخلاق و عادات کے بارہ میں قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔’’با دیہ نشین کفر اور منافقت میں سب سے زیادہ سخت ہیں اور زیادہ رجحان رکھتے ہیں کہ جو کچھ اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا اس کی حدود کو نہ پہچانیں اور اللہ دائمی علم رکھنے والا اور بہت حکمت والا ہے۔‘‘(سورۃ التوبہ:97)
    اکثر و بیشترجنگلی بدو آکر عجیب وغریب سوال آپؐ کی مجلس میں کرتے ہیں اور آپؐ ہیں کہ نرمی سے جواب دیتے چلے جارہے ہیں۔آپؐ صحابہ سے محوگفتگو ہیں۔ ایک بدو آکر مخل ہوتاہے اور درمیان میں ٹوک کر سوال کرتا ہے کہ قیامت کب آئے گی؟ اب جسے علم دین کی سوجھ بوجھ ہی نہیں اسے انسان اسکا کیا جواب دے اور کیسے سمجھائے۔حضورؐ اپنی بات جاری رکھتے ہیںاور اصحاب رسول چہ میگوئیاں کررہے ہیں کہ شاید حضورؐ نے اس کا سوال سناہی نہیں اس لئے جواباً خاموش ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ حضورؐ نے اس کا سوال ہی پسند نہیں فرمایا اس لئے جواب نہیں دے رہے۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد حضورؐ کو اس بدّو سائل کا خیال آتا ہے پوچھتے ہیں قیامت کی بابت پوچھنے والا کہاں ہے؟وہ عرض کرتا ہے اے خدا کے رسولؐ! میں یہ بیٹھا ہوں۔آپؐ نے فرمایا! جب امانت ضائع ہوجائے گی تو اس وقت قیامت کا انتظار کرنا۔ وہ بدّو یہ جواب پاکر اور سوال کردیتا ہے کہ جناب! امانت کے ضائع ہونے کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔آپ ؐازراہ شفقت پھر اسے سمجھانے لگ جاتے ہیں کہ امانت کے ضائع ہونے کا یہ مطلب ہے کہ حکومت نااہل لوگوں کے سپرد ہوجائے تو سمجھنا کہ یہ قیامت کی علامت ہے۔(بخاری)7
    ایک دفعہ نبی کریم ﷺ نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے۔ ایک بدو آیااور آپؐ کا دامن پکڑ کر کہنے لگا میرا چھوٹا سا کام ہے ایسا نہ ہوکہ میں بھول جائوں آپؐ میرے ساتھ مسجد سے باہر تشریف لاکر پہلے میرا کام کردیں۔آپؐ مسجد سے باہر تشریف لے گئے اور اس کا کام انجام دے کرتشریف لائے اور نماز پڑھائی۔(ابودائود)8
    نبی کریم ﷺ دینی مصروفیات کے باوجود باہر سے مدینہ میں آئے ہوئے بدّوؤں کی تالیف قلبی کی ہر ممکن کوشش فرماتے تھے۔ایک دفعہ ایک اعرابی بیمارہوگیا۔ آپؐ اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔ اُسے تسلّی دلاتے ہوئے دعائیہ انداز میں فرمایا کہ اللہ نے چاہا تو جلد بیماری دور ہوجائے گی اور ظاہری و باطنی صفائی ہوجائے گی۔اس نے مایوسی سے کہا آپؐ یہ کہتے ہیں مجھے تو ایسا بخار لگتا ہے جو ایک بڈھے میں جوش مار رہا ہے اور اسے قبر کی طرف لے جارہا ہے۔رسول کریم ؐ نے فرمایا اگر تمہارا یہی خیال ہے تو پھر یہی سہی۔(بخاری)9
    حضورؐ کی شفقت تو یہ تھی کہ اعرابی کی عیادت کے لئے بنفس نفیس تشریف لے گئے پھر اُسے تسلّی دلائی اور اُس کے حق میںدعا کی، مگر اس نے ان تمام باتوں کے باوجود ادب رسولؐ کا لحاظ نہ کیا۔ پھر بھی آپؐ نے ایک بیمار اور بوڑھے سے تکرار مناسب نہیں سمجھی اور اس کی کہی بات کا لحاظ کرتے ہوئے اس پر خاموشی فرمائی ۔
    ایک دفعہ نبی کریمؐ توہم پرستی کوردّ کرتے ہوئے فرمارہے تھے کہ دراصل کوئی بیماری اپنی ذات میں متعدی نہیں ہوتی۔اس پر ایک اعرابی بول پڑا کہ میرے اونٹ جو ہرن کی طرح صحت مندہوتے ہیں کسی خارش زدہ اونٹ کے قریب آ نے سے انہیں کیوںخارش ہوجاتی ہے؟ نبی کریم ؐ نے کیسے پیار اور حکمت سے اسے سمجھایا کہ اگر تمہاری بات ہی درست ہے تو پھر یہ بتائو کہ سب سے پہلے اونٹ کو بیماری کس نے لگائی تھی؟(بخاری10)اور یوں ایک بدّو کو بھی دوران گفتگو سوال کرنے پر آپؐ نے جھڑکا نہیں حقیر نہیں سمجھابلکہ معقولیّت سے قائل کرکے خاموش کیا۔
    حضرت ابوہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو نے رسول اللہؐ کو ایک اونٹنی تحفہ دی۔ حضور ؐ نے اس کے عوض اس کوچھ اونٹنیاں دیںمگر وہ پھر بھی ناراض تھا کہ مجھے کم دیا ہے۔ اس پر آنحضرتؐ نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ فلاں شخص نے مجھے ایک اونٹنی تحفہ دی ہے اور جیسے میں اپنے گھر کے لوگوں کوپہچانتا ہوں اُسی طرح خوب پہچانتا ہوں کہ یہ میری ہی اونٹنی ہے ۔یہ اونٹنی فلاں دن مجھ سے گم ہوئی تھی جو اَب اس نے مجھے تحفہ دی ہے۔میں نے اس کے بدلے اس کو چھ اونٹنیاں دی ہیں اور یہ ابھی بھی ناراض ہے۔آئندہ سے میں اعلان کرتاہوں کہ میں کسی کا ایسا تحفہ قبول نہیں کرونگا۔ہاں قریش،انصار،بنو ثقیف یادوس قبیلہ کے مخلصین کا تحفہ ردّ نہیں کرونگا۔ (احمد)11
    حبشی کی دلداری
    حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک حبشی رسولؐ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوکر سوال کرنے لگا۔حضورؐ نے اسے فرمایا کہ سوال کرکے مسائل سمجھ لو۔وہ کہنے لگاکہ اے اللہ کے رسولؐ آپؐ نے سفید لوگوں کو ہم کالے لوگوں پر شکل و صورت اور رنگ کے لحاظ سے بھی فضیلت دی ہے اور نبوت کے لحاظ سے بھی۔اگر میں آپؐ کی طرح ان چیزوں پر ایمان لائوں جن پر آپؐ ایمان لائے ہیں اور جس طرح آپؐ عمل کرتے ہیں میں بھی عمل کروں تو کیا مجھے بھی جنت میں آپؐ کا ساتھ نصیب ہوسکتا ہے؟آپؐ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں۔پھر نبی کریمؐ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جنت میں ایک سیاہ حبشی کے نور کی سفیدی ایک ہزار سال کی مسافت سے بھی نظر آئے گی۔پھر فرمایا جس شخص نے کلمہ لَااِلٰہَ الِاَّ اللّٰہُ پڑھ لیا اللہ کے ہاں اسکے لئے اس کلمے کی وجہ سے ایک عہدلکھا جاتا ہے۔جو سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ پڑھتا ہے اس کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔وہ شخص کہنے لگا یا رسول اللہؐ ان باتوں کے باوجود پھر ہم کیسے ہلاک ہوجائیں گے؟رسول کریمؐ نے فرمایاایک شخص قیامت کے دن ایک عمل پیش کرے گا کہ اگر اسے ایک پہاڑ پر بھی رکھا جائے تو پہاڑ کو اسے اٹھانا بوجھل معلوم ہو ۔لیکن اللہ تعالیٰ کی نعمتوںمیں سے ایک نعمت اس عمل پر بھاری ہوگی سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا دامن پھیلاکر اسے زیادہ اجر عطافرمادے۔ پھر حضورؐ نے سورۃالدھرکی ابتدائی اکیس آیات کی تلاوت فرمائی۔ جن میں جنت اور اس کی نعمتوں کا ذکر ہے۔اس پر وہ حبشی کہنے لگا یارسولؐ اللہ! کیا میری آنکھیں بھی جنت کی نعمتوں کو اسی طرح دیکھیں گی جس طرح آپؐ کی آنکھیں دیکھتی ہیں۔نبی کریم ؐ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں۔ اس پر وہ حبشی بے اختیار رونے لگااوراتنا رویا کہ اس کی روح پروا ز کرگئی۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہؐ کو دیکھا کہ اس حبشی کی تدفین کے وقت نبی کریم ؐ اسے خود اپنے ہاتھوں سے قبرمیں رکھ رہے تھے۔(ہیثمی)12
    رسول کریم ﷺ احکام شریعت کے نفاذ کی سخت پابندی فرماتے تھے۔ لیکن نفاذ شریعت میں حسب حالات حتی الوسع نرمی اور سہولت کو مدنظررکھتے تھے کیونکہ شریعت کا یہی منشا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الیُسْرَ وَلاَ یُرِیْدُ بِکُمُ العُسْرَ(البقرہ:186)کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ تنگی نہیں چاہتا۔ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ دین آسانی کا نام ہے۔ اس لئے آسانی پید اکیا کرو مشکل پیدا نہ کرو۔اسی طرح امت کو ہدایت فرمائی کہ جس حد تک ممکن ہومسلمانوں کو جرائم کی سزا سے بچائو اگر کسی کے لئے اس سزا سے بچنے کی کوئی صورت ہو تو اسے چھوڑ دو کیونکہ امام کا معافی دینے میں غلطی کرنا بہتر ہے بجائے اس کے کہ وہ سزا دینے میں غلطی کرے۔(ترمذی)13
    چنانچہ آپؐ معمولی شبہ کی صورت میں بھی حد کے نفاذ سے منع فرماتے تے۔ ایک دفعہ ایک شخص نے رسول کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر زناکا اعتراف کیا۔ پہلے تو آپ نے اس سے اعراض فرمایا جب اس نے چار مرتبہ اقرارکرتے ہوئے کہا کہ میں نے بدکاری کی ہے توآپؐ نے فرمایا کہ تمہیں جنون تو نہیں؟ اس نے کہا نہیں چنانچہ وہ شخص رجم کیا گیا ۔جب اسے پتھر پڑے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ اسے پکڑ رجم کیاگیا ۔ نبی کریمؐ نے اس کے بارہ میں رحمدلانہ جذبات کا اظہار فرمایا۔(بخاری14) زنا بالجبر کے ایک مجرم میں جسے رجم کیا گیا نبی کریمؐ نے اس مجرم کے بارے میں فرمایا کہ اس نے ایسی توبہ کی کہ اگر اہل مدینہ ایسی توبہ کریں تو ان سب کی توبہ قبول کی جائے۔(ترمذی)15
    دوسری روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا جب وہ بھاگ نکلا توتم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا۔(ترمذی)16
    ایسے انفرادی گناہ جن کی باضابطہ سزا مقررنہیں۔ اگران کا ارتکاب کے بعد کوئی شخص توبہ کرنے کے لئے حاضرخدمت ہوتا تو نبی کریمؐ اس سے عفو کا سلوک فرماتے۔
    ابوھریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شخص رمضان میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے تعلق قائم کربیٹھا اور رسولؐ اللہ سے فتویٰ کا طالب ہوا آپ نے فرمایا تم غلام آزاد کرسکتے ہو اس نے کہا نہیں۔ فرمایا کیا دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھاناکھلادو۔ اس نے کہا میری تویہ بھی توفیق نہیں ابھی وہ بیٹھا ہی تھا کہ ایک شخص گدھے پر کچھ کھانے کا سامان لایاآپ نے پوچھا کہ وہ شخص کہاں گیا پھر اسے فرمایا کہ یہ لے جائو اور صدقہ کردو۔ اس نے کہا کیا اپنے سے زیادہ محتاج لوگوں پر صدقہ کروں۔ میرے اپنے گھر میںکھانے کو کچھ نہیں فرمایا جائو خود کھالو۔(بخاری)17
    رسولؐ اللہ کے زمانہ میں ایک انصاری بہت بیمار رہ کر لاغر ہوگیا۔ کسی کی لونڈی اس کے گھر گئی وہ اس کے ساتھ زناکا مرتکب ہوا۔ لوگ عیادت کو آئے تو بتایا کہ مجھ سے یہ غلطی سرزد ہوگئی ہے۔ میرے لیے رسول اللہ ؐ سے فتویٰ پوچھو۔ صحابہ نے رسول ؐ اللہ کوبتایا کہ فلاں شخص سخت بیمار اور کمزور ہے بس ہڈیوں کا ڈھانچہ ہے۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ سو تنکے اکٹھے کر کے ایک دفعہ مار دو اور(اسی طرح) حدپوری کردو۔(ابودائود)۔18
    رسول کریمؐ کی رأفت و رحمت کی بے شمار مثالوں میں سے یہ چند نمونے ہیں۔ اس قسم کے دیگر کئی دلچسپ واقعات کے لئے ملاحظہ ہوں کتاب ہذا کے عناوین صلہ رحمی،ہمدردی خلق،حلم،صحابہ سے محبت،عفووکرم اور مربی اعظم۔
    حوالہ جات
    1
    مسند احمد جلد2ص108
    2
    مسلم کتاب الصیام باب التخییرفی الصوم والفطر فی السفر:1889
    3
    ابوداؤد کتاب العلم باب القصص
    4
    ابن ماجہ کتاب الزہد باب البراء ۃ من الکبر:4167
    5
    الشفا للقاضی عیاض جز 2 ص111
    6
    مسند احمد جلد3ص161مطبوعہ بیروت
    7
    بخاری کتاب العلم باب من سئل علماً
    8
    ابو داؤد کتاب الادب
    9
    بخاری کتاب المرضی باب عیادۃ الاعراب
    10
    بخاری کتاب الطب باب لاعدوی
    11
    مسند احمد جلد۲ص292مطبوعہ بیروت
    12
    مجمع الزوائدلھیثمی جلد10ص420مطبوعہ بیروت
    13
    ترمذی کتاب الحدود باب ماجاء فی درء الحدود
    14
    بخاری کتاب الحدود
    15
    ترمذی کتاب الحدود باب فی المرأۃ اذا استکرھت
    16
    ترمذی کتاب الحدود باب المعترف اذا رجع
    17
    بخاری کتاب الحدود باب من اصاب ذنبادون الحدّ
    18
    ابوداؤد کتاب الحدود باب اقامۃ الحد علی المریض

    آنحضرت ؐ کی صحابہ سے محبت اور صحابہ کا عشق رسولؐ
    محبت دووجہ سے پیدا ہوتی ہے، حسن سے یا احسان سے۔ حسن طبعاً اپنے اندر ایک کشش رکھتا ہے، ایک حسین وجودہر صاحب ذوق کادل اپنی طرف کھینچ کر کہتا ہے کہ نظارہ حسن تو یہاں ہے۔پھر ہمارے نبی کریم ﷺ تو حسن ظاہری و باطنی کا بہترین نمونہ تھے، ایک شاعر نے آپؐ کے بارے میں کیا خوب کہا ہے
    خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِّنْ کُلِّ عَیْبٍ
    کَأَ نَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَائ‘
    اے پاک نبیؐ آپؐ ہر عیب سے اس طرح پاک و صاف پیدا کئے گئے گویا جس طرح آپؐ چاہتے تھے اس طرح ہی بنائے گئے۔
    ماہتاب و آفتاب سے بھی بڑھ کر حسین اس پیکر حسنِ روحانی نے مطلع عالم پر طلوع ہوکرکیا قیامت ڈھائی اُس کا ایک نظارہ عاشقِ صادق براء بن عازبؓ کی نظر سے کیجئے۔ ان کا بیان ہے چودہویں کی رات تھی،چاند اپنے پورے جوبن پرتھا۔ ہمارے محبوب رسولؐ نے سرخ جوڑا پہنا ہوا تھا۔ میں ایک نظر چودہویں کے چاند پر اورایک اپنے پیارے محبوب کے روشن چہرے پر ڈالتا تھا اور خدا کی قسم اس رات مجھے نبی کریم ؐ کا چہرہ چودہویں کے چاند سے کہیں زیادہ حسین معلوم ہوتا تھا۔(ترمذی)1
    بے شک اس چاند چہرے کی کشش بھی نرالی تھی۔مگر حسن ظاہری سے کہیں بڑھ کر آپؐ کے حسن باطنی کو کمال حاصل تھا۔آپؐ خود فرمایا کرتے تھے کہ یہ دلوں کی فطرت ہے کہ وہ احسان کرنے والوں کی طرف مائل اور ان کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ (ابن عدی)2
    رسول کریمؐ نے تو بلا شبہ محبت اور احسان کر کے اپنے صحابہ کے دل جیتے۔ آنحضرت ؐ کی محبتوں کا ہی کرشمہ تھاجس نے نئی محبتوں کو جنم دیااور اس محسن انسانیت کے ہزاروں عاشق پیداہوئے۔ یہ آپؐ کی بے لوث محبت کی برکت تھی۔ صحابہ آپؐ کو دل و جان سے چاہتے تھے اور آپؐ کے پسینہ کی جگہ خون بہانے کو تیار ہوتے تھے۔پس رسول اللہؐ کی شفقتوں کے جواب میں صحابہ کے رسول اللہؐ سے عشق و فدائیت کے نظارے بھی دراصل سیرت رسولؐ کا ایک اہم باب ہے۔ محبتوں کے یہ قصے دل کو بہت ہی لبھانے والے ہیں۔
    ع دامانِ نگہ تنگ وگلِ حسن توبسیار
    حضرت ابوبکرؓ سے محبت اور اُن کا عشق
    یوں تو نبی کریم ﷺ کو اپنے تمام اصحاب ہی بہت پیارے تھے مگر سب سے قریبی اور قدیمی با وفا دوست حضرت ابو بکر ؓ کا اورہی مقام تھا جنہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر وفا کر دکھائی۔
    ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے رسول ؐخدا سے گھریلو بے تکلف گفتگو کے دوران پوچھا کہ آپؐ کو اپنے اصحاب میں سے سب سے پیارے کون ہیں؟ آپؐ نے فرمایا ابو بکر ؓ، انہوںنے پوچھا پھر کون؟ فرمایا عمرؓ، حضرت عائشہؓ نے پوچھاپھر کون؟ فرمایاابو عبیدہ بن الجراح ؓ ۔(ابن حجر)3
    حضرت ابوبکر ؓ کو بھی عشق کی حد تک اپنے آقا سے پیار تھا۔اُن کے ابتدائے اسلام کا واقعہ ہے، ابھی مسلمان چالیس افراد سے بھی کم تھے کہ انہوںنے آنحضرت ؐسے بڑے اصرار کے ساتھ خانہ کعبہ میں اعلانیہ عبادت کرنے کی درخواست کی اور مجبور کر کے خانہ کعبہ لے گئے۔کفار نے خانہ کعبہ میں عبادت کرتے دیکھ کر حضرت ابو بکر ؓ کو خوب پیٹا یہاں تک کہ آپ ؐکو اٹھاکر گھر پہنچایا گیا۔جب ذرا آرام آیا تو پہلا سوال یہ پوچھا میرے آقاؐ کا کیا حال ہے؟ کیا رسول اللہ ﷺ کو کوئی تکلیف تو نہیں پہنچی؟(الحلبیہ)4
    اس کے بعد بھی ہمیشہ ہی حضرت ابوبکرؓ آنحضرت ﷺ کی حفاظت کے لئے آپ ؐ کے آگے پیچھے کمر بستہ رہے اورہمیشہ آنحضرت ﷺ سے اپنی جان سے بھی بڑھ کر پیار کیا۔اہل مکہ کے مظالم دیکھ کرحضرت ابوبکرؓ نے آنحضرت ﷺ سے مدینہ ہجرت کی اجازت طلب کی تو حضورؐ نے فرمایا’’ابو بکر انتظار کرو شاید اللہ تمہارا کوئی اور ساتھی پیدا کردے۔‘‘ یہ بھی دلی پیار کا ایک عجیب اظہار تھا۔ چنانچہ چند دنوں کے بعدجب کفار مکہ نے دارالنّدْوہ میںآنحضرت ؐ کے قتل کا مشورہ کیا تو آپؐ کو ہجرت کی اجازت ہوئی۔ آپؐ سب سے پہلے ابوبکرؓ کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ حضرت ابو بکرؓ پہلے ہی تیار تھے فوراً بولے۔ الصُّحْبَۃُ یَارَسُوْلَ اللّٰہ کہ اے اللہ کے رسولؐ مجھے بھی ہمراہ لے چلیں۔آپ کی بیٹی اسماء ؓکہتی ہیں کہ ابو بکر ؓ نے ہجرت کے لئے کچھ رقم بچا کر رکھی ہوئی تھی، و ہ ساتھ لے گئے۔باقی پہلے ہی راہ خدا میں خرچ کر چکے تھے۔
    ہجرت مدینہ کے مبارک سفر میں حضرت ابو بکر صدیق ؓنے جس وفاداری اور جاں نثاری کا نمونہ دکھایااس کی مثال نہیں ملتی۔اپنی دو اونٹنیاں جو پہلے سے سفر ہجرت کیلئے تیار کررکھی تھیںان میں سے ایک اونٹنی آنحضرتؐ کی خدمت میں بلامعاوضہ پیش کردی مگرنبی کریمؐ نے وہ قیمتاً قبول فرمائی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے پانچ ہزار درہم بھی بطور زادِ راہ ساتھ لئے۔پھر غار ثور میں رسول خدا ؐکی مصاحبت کی توفیق پائی جس کا ذکر قرآن شریف میں ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوگیا۔ فرمایا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْھُمَافِی الْغَارِاِذْیَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا (سورۃ التوبہ:40) یعنی دومیں سے دوسرا جب وہ دونوں غار میں تھے۔جب وہ اپنے ساتھی سے کہتا تھا کہ غم نہ کرو۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
    سفر ہجرت میں تاجدار عرب کا یہ بے کس سپاہی آپؐ کی حفاظت کی خاطر کبھی آگے آتا تو کبھی پیچھے کبھی دائیں تو کبھی بائیںاور اس طرح اپنے آقا کو بحفاظت یثرب پہنچایا۔(حلبیہ)5
    اسی سفر ہجرت کا واقعہ ہے جب حضرت ابوبکرؓ نے ایک مشرک سراقہ کو تعاقب میں آتے دیکھا تو رو پڑے۔ رسول اللہ ؐ نے وجہ پوچھی تو عرض کیا۔ ’’اپنی جان کے خوف سے نہیں آپؐ کی وجہ سے روتا ہوں کہ میرے آقا ؐ کو کوئی گزند نہ پہنچے۔‘‘(احمد)6
    حضرت ابو بکر ؓ کی مزاج شناسی ٔ رسول اور گہری محبت کا عجب عالم تھا۔ جب سورۂ نصر نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ کی نصرت اور فتح کے آنے اور فوج در فوج لوگوں کے دین اسلام میں داخل ہونے کا ذکر تھاتورسول کریمؐ نے صحابہ کی مجلس میں یہ آیات سنائیں۔حضرت ابوبکر ؓ رو پڑے۔ صحابہ ؓ حیران تھے کہ فتح کی خوشخبری پر رونا کیسا؟ مگر حضرت ابو بکرؓ کی بصیرت نے ان آیات سے جو مضمون اخذ کیا وہ دوسرے نہ سمجھ سکے۔ حضرت ابوبکرؓ کی فراست بھانپ گئی کہ یہ آیات جن میں رسول اللہ ؐ کے مشن کی تکمیل کا ذکر ہے آپؐ کی وفات کی خبر دے رہی ہیں۔ اس لئے اپنے محبوب کی جدائی کے غم سے بے اختیار ہوکر رو پڑے اور اس عاشق صادق کاخوف بجا تھا۔آنحضورؐ اس کے بعد صرف دو سال زندہ رہے۔(بخاری)7
    رسو ل اللہ ؐنے حضرت ابو بکر ؓ کے بعد حضرت عمر ؓ سے اپنی محبت کا ذکر فرمایاہے۔ حضرت عمرؓ کا قبولِ اسلام ہی آنحضورؐ کی دعا کا صدقہ تھا۔رسول کریمؐ حضرت عمر ؓ کی خدا داد استعدادوں کے باعث بھی اُن سے محبت فرماتے اور حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ایک دفعہ فرمایاکہ بنی اسرائیل میں ایسے لوگ ہوتے تھے جن سے خدا کلام کرتاتھا مگر وہ نبی نہیں تھے۔میری اُمت میں بھی ایک ایسا فرد عمرؓہے۔(بخاری)8
    حضرت عمرؓ بھی رسول اللہؐ کے سچے عاشق تھے۔زُہرہ بن معبدؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہؐ کے ساتھ تھے۔ حضورؐ نے حضرت عمر ؓ کا ہاتھ پکڑ ا ہوا تھا۔وہ فرطِ محبت میں کہنے لگے۔ ’’اے اللہ کے رسول ؐ! آپؐ مجھے ہر چیز سے زیادہ پیارے ہیںسوائے میری جان کے۔نبی کریم ؐ نے فرمایا۔’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی جان سے بھی زیادہ پیارا نہ ہوں۔‘‘ حضرت عمرؓ نے عرض کیا۔’’ اچھا تو خدا کی قسم آج سے آپؐ مجھے میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔‘‘ رسول کریمؐ نے فرمایا’’ اے عمرؓ کیا آج سے؟‘‘ گویا حضور سمجھتے تھے کہ عمرؓ فی الواقعہ دلی طور پر اس اظہار سے پہلے ہی آپؐ کو جان سے عزیز ترجانتے تھے۔ (احمد)9
    حضرت عمرؓ اس محسن رسول کے ایسے دیوانے تھے کہ رسول اللہؐ کی وفات پر فرطِ غم سے یہ ماننے کے لئے تیار نہ تھے کہ رسول اللہؐ واقعی داغ مفارقت دے گئے ہیں۔دیوانہ وار یہ اعلان کر رہے تھے کہ جس نے کہا رسول اللہؐ فوت ہوگئے ہیں میں اس کا سر تن سے جدا کردونگا ۔یہ کیفیت دراصل حضرت عمر ؓ کے رسول اللہؐ سے سچے عشق اور جذباتی تعلق کی آئینہ دار ہے۔(بخاری)10
    حضرت عثمانؓ اور علیؓ سے رسول اللہ ﷺکی محبت بھی اپنی مثال آپؐ تھی۔ حضرت عثمانؓ کو یکے بعد دیگرے دو بیٹیاں بیاہ دیں اور فرمایا کہ اگر تیسری بیٹی بھی ہوتی تووہ بھی عثمانؓ کو بیاہ دیتا۔(ابن اثیر )11
    حضرت علی ؓ کے بارہ میں فرمایا۔علیؓ کا میرے ساتھ تعلق ایسے ہے جیسے ہارون ؑ کا موسیٰ ؑ سے۔(بخاری12) نیزفرمایاجسے میرے ساتھ محبت کا تعلق ہے اُسے علیؓ سے بھی محبت کا تعلق رکھنا ہوگا۔(ترمذی)13
    حضرت عثمانؓ اور علیؓ نے بھی ہمیشہ رسول اللہؐکی خاطر فدائیت کے نمونے دکھائے۔ حضرت عثمانؓ نے ایک طرف اپنے اموال خدا کی راہ میں بے دریغ خرچ کرکے ’’غنی‘‘ کا خطاب پایا۔ تودوسری طرف حدیبیہ میں رسول کریم ؐ نے اپنے نمائندہ صلح حضرت عثمان ؓ کی خاطر صحابہ سے موت پر بیعت لی اور اپناایک ہاتھ دوسرے پر رکھ کرفرمایا یہ عثمان ؓ کا ہاتھ ہے۔
    حضرت علیؓ نے تو روز اوّل سے ہی رسول اللہؐ کی تائید و نصرت کی حامی بھری تھی، جب رسول اللہؐ نے اللہ کے حکم کے مطابق اپنے خاندان کے لوگوں سے دعوت و تبلیغ کا آغاز کیا تھا،اُس وقت سب اہل خاندان نے انکار کیاسوائے اُس کمسن بچے علیؓکے جس نے کمزوری کے باوجود مددکا وعدہ کیا اور پھر زندگی بھر اُسے خوب نبھایا۔ ہجرتِ مدینہ کے وقت حضرت علیؓ نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر رسول اللہؐ کی جگہ آپؐ کے گھر میںٹھہرنا صدق دل سے قبول کیا۔(احمد)14
    امین الامت حضرت ابو عبیدہؓ بھی انہی وفا شعار عشاق میںسے تھے۔جن کے بارے میں رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ ابو بکرؓ و عمرؓ کے بعد ابو عبیدہؓ مجھے سب سے پیارے ہیں۔
    حضرت ابوعبیدہ ؓکے عشق رسول کا کڑا امتحان یوں ہوا کہ جنگ اُحد میں مدمقابل لشکر کفار میں آپؓ کا بوڑھا والد عامر بھی برسر پیکار تھا،ابو عبیدہؓ ایک بہادر سپاہی کی طرح داد شجاعت دیتے ہوئے میدان کارزار میں آگے بڑھتے چلے جارہے تھے کہ والد سے سامنا ہوگیا جو کئی بارتاک کر آپؓ کو نشانہ بنانے کی کوشش کر چکا تھا، ذرا سوچئے تو وہ کتنا کٹھن اور جذباتی مرحلہ ہوگا کہ ایک طرف باپ ہے اور دوسری طرف خدا اور اس کا رسولؐ ہیںجن کے خلاف باپ تلوار سونت کر نکلا ہے، مگر دنیا نے دیکھا کہ ابو عبیدہؓ جیسے قوی اور امین کو یہ فیصلہ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی کہ خدا کی خاطراُن کی سونتی ہوئی شمشیر برہنہ نہیں رکے گی جب تک دشمنان رسول کا قلع قمع نہ کر لے خواہ مدّمقابل باپ ہی کیوں نہ ہو ۔ اگلے لمحے میدان بدر میں ابوعبیدہ ؓ کا مشرک والد عامر اپنے موحد بیٹے کے ہاتھوں ڈھیر ہوچکا تھا۔آفرین تجھ پر اے امین الامت آفریں ! تو نے کیسی شان سے حقِ امانت ادا کیا کہ باپ کا مقدس رشتہ بھی اس میں حائل نہ ہوسکا۔ اسی تاریخی موقع پر سورۂ مجادلہ کی آیت۲۳ اتری جس میں اللہ تعالیٰ ایسے کامل الایمان مومنوں کی تعریف کرتا ہے جو خدا کی خاطر اپنی رشتہ داریاں بھی قربان کردیتے ہیں۔(ابن حجر)15
    غزوۂ احد میں حضرت ابو عبیدہؓ کی محبت رسولؐ کا ایک واقعہ حضرت ابو بکرؓ یوں بیان کرتے ہیںکہ اُحد میں سنگباری کے نتیجہ میں آنحضورؐ کے خود کی دونوں کڑیاں ٹوٹ کر جب آپؐ کے رخساروں میں دھنس گئیں تو میں رسول کریمؐ کی مدد کے لئے آپؐ کی طرف لپکا۔میں نے دیکھا کہ سامنے کی طرف سے بھی ایک شخص دوڑا چلا آرہا ہے۔میں نے دل میں دعا کی کہ خدا کرے اس نازک وقت میں یہ شخص میری مدد اور نصرت کا موجب ہو۔دیکھا تو وہ ابوعبیدہؓ تھے جو مجھ سے پہلے حضورؐ تک پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے صورتحال کا جائزہ لے کر کمال فدائیت کے جذبہ سے مجھے خدا کا واسطہ دیکر کہا کہ حضورؐ کے رخساروں سے یہ لوہے کی شکستہ کڑیاں مجھے نکالنے دیں۔پھر انہوں نے پہلے ایک کڑی کو دانتوں سے پکڑا اور پوری قوت سے کھینچا تو باہر نکل آئی، مگر ابو عبیدہ ؓ خود پیٹھ کے بل پیچھے جا گرے ساتھ ہی اُن کا اگلا دانت بھی باہر آرہا۔پھر انہوں نے دوسرے رخسار سے لوہے کی کڑی اسی طرح پوری ہمت سے کھینچی تو اس کے نکلنے کے ساتھ آپؐ کا دوسرا دانت بھی ٹوٹ گیا اور آپؐ دوبارہ گرے۔ مگر آنحضرتؐ کوایک سخت اذیت سے نجات دینے میں کامیاب ہوئے او رآپؐ کی خدمت میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں ہونے دیا۔(ابن سعد)16
    رسول اللہؐ کے ایک اور عاشق صادق حضرت جعفرؓ تھے۔ایک موقع پر حضرت محمد ﷺ کے بہت ہی پیاروں حضرت زیدؓ، حضرت علیؓ اور حضرت جعفرؓ کے مابین یہ سوال اُٹھ کھڑا ہوا کہ حضورؐ کو زیادہ پیار کس سے ہے؟ حضورؐ سے پوچھا گیا تو آپؐ نے انتہائی کمال شفقت سے سب پیاروں سے کمال دلداری فرمائی کہ سب ہی آپؐ کو محبوب تھے۔ حضرت جعفرؓ سے فرمایا ’’اے جعفر توُ تو خَلق و خُلق اور صورت و سیرت میں میرے سب سے زیادہ مشابہ اور قریب ہے۔‘‘ (احمد) 17
    رسول اللہؐ کا یہ اظہار محبت سن کر بے محابا حضرت جعفرؓ پر پیار آتا ہے۔ حضرت جعفرؓنے غزوۂ مَوتہ میں جام شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی بیوی اسمائؓ کا بیان ہے کہ حضور ؐ اس موقع پر ہمارے گھر تشریف لے گئے اورفرمایا جعفرؓ کے بچوں کو میرے پاس لائو ان کو گلے لگایا، پیار کیا، آپؐ کی آنکھوں سے آنسو امڈ آئے۔میں نے عرض کیا ’’میرے ماں باپ آپؐ پر قربان آپؐ کیوں روتے ہیں؟ کیا جعفرؓ کے بارہ میں کوئی خبر ہے؟ فرمایا’’ ہاں وہ راہ مولیٰ میں شہید ہوگئے ہیں۔‘‘ اب شہید راہ حق حضرت جعفرؓ رسول اللہؐکو اورزیادہ محبوب ہوگئے تھے۔ آپؐ نے اپنے اہل خانہ کو ہدایت فرمائی کہ جعفرؓ کے گھر والوں کا خیال رکھیں۔ انہیں کھانا وغیرہ بھجوائیں۔‘‘(احمد)18
    بعض صحابہ سے عشق رسول کے ایسے مناظر بھی دیکھے گئے کہ دوسرے صحابہ کو ان پر رشک آتا تھا۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے تھے کہ میں نے بدر کے موقع پر مقداد بن الا سودؓ سے ایک ایسا نظارہ دیکھا کہ(میرا دل کرتا ہے کہ)کاش ان کی جگہ میں ہوتااور یہ سعادت مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب لگتی ہے۔ وہ یہ کہ رسول کریم ﷺ بدر کے موقع پرمشرکوں کے خلاف مسلمانوں کو تحریک جنگ فرمارہے تھے تو مقداد ؓنے کہا یارسولؐ اللہ!ہم قوم موسیٰ کی طرح یہ نہ کہیں گے کہ تم اور تمہارا رب جاکر لڑو بلکہ ہم آپؐ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی، آپؐ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی ۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں آپؐ کی جان ہے اگرآپؐ سواریوں کو برک الغماد مقام تک بھی لے جائیں تو ہم آپؐ کی پیروی کریں گے۔(بخاری)19
    عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ مقدادؓ کی تقریر سن کر رسول اللہؐ کا چہرہ کھِل کر چمک اٹھا اور اس بات نے حضورؐ کو بہت خوش کیا۔
    حضرت ابو طلحہؓ بھی ان خوش نصیب صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے رسول اللہؐ کی محبت سے حصہ پایا۔رسول اللہ ؐ بے تکلفی سے ان کے گھر اور کبھی باغ میں بھی تشریف لے جاتے۔ان کے بچوں سے محبت کا سلوک فرماتے۔ حضرت ابو طلحہؓ نے رسول اللہؐ کے تبرکات کچھ بال اور ایک پیالہ بڑی محبت سے سنبھال کر رکھے ہوئے تھے۔ آپ کو رسول اللہ ؐ سے والہانہ عشق تھا۔(ابن سعد)20
    غزوۂ اُحد میں جب کفار نے دوبارہ حملہ کیا توجن صحابہ نے رسول اللہ ؐکو اپنے حصار میں لے کر جان کی بازی لگا کر آپؐ کی حفاظت کی ہے، ان میں ابو طلحہؓ کا نمایاں مقام ہے۔ وہ رسول اللہ ؐ کے سامنے سینہ سپر ہوگئے۔رسول اللہ ؐ آپ کو تیر پکڑاتے اور سر اٹھاکردیکھناچاہتے کہ کہاں پڑا ہے۔ابو طلحہؓ عرض کرتے۔ ’’یا رسول اللہؐ آپؐ سر اٹھا کرنہ جھانکیئے کہیں آپؐ کو کوئی تیر نہ لگ جائے میرا سینہ آپؐ کے سینہ کے آگے سپر ہے۔‘‘(بخاری) 21
    رسول اللہؐ کے ایک اور عاشق صادق حضرت مصعب بن عمیر ؓ تھے۔ جو ایک امیر کبیر گھرانے کے فرد تھے مگر انہوں نے قبول اسلام کے بعد شہزادگی چھوڑکر درویشی اختیار کرلی تھی۔ ایک دن رسول اللہ ؐ نے دیکھا مصعب بن عمیر ؓ اس حال زار میں آپ ؐکی مجلس میں آئے ہیں کہ پیوند شدہ کپڑوں میں ٹاکیاں بھی چمڑے کی لگی ہیں۔صحابہ ؓ نے دیکھا تو سرجھکالئے کیونکہ وہ بھی مصعب ؓ کی کوئی مدد کرنے سے معذور تھے۔مصعبؓ نے آکر سلام کیا ۔آنحضرت ؐ نے دلی محبت سے وعلیکم السلام کہا اور اس صاحب ثروت نوجوان کی آسائش کا زمانہ یاد کر کے آپؐ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ پھر مصعب ؓ کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔الحمدللہ دنیا داروں کو ان کی دنیا نصیب ہو۔میں نے مصعب ؓ کو اس زمانے میں بھی دیکھا ہے جب شہر مکہ میں ان سے بڑھ کر صاحبِ ثروت و نعمت کوئی نہ تھا۔مگر خدا اور اس کے رسولؐ کی محبت نے اسے آج اس حال تک پہنچایا ہے۔(ابن سعد)22
    اسلام کے پہلے مبلغ مصعبؓ ہجرت مدینہ کے بعد رسول اللہؐ سے ملنے مکہ آئے تو ان کی محبت رسول ؐ کا ایک عجب نمونہ دیکھنے میں آیا۔ آپؐ مکہ پہنچتے ہی اپنی والدہ(جو اَب اسلام کی مخالفت چھوڑ چکی تھیں) کے گھرجانے کی بجائے سیدھے نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچے۔حضور ؐ کی خدمت میں وہاں کے حالات عرض کئے۔ مدینہ میں سرعت کے ساتھ اسلام پھیلنے کی تفصیلی رپورٹ دی۔ حضور ؐ ان کی خوشکن مساعی کی تفاصیل سن کر بہت خوش ہوئے۔
    ادھر مصعب ؓ کی والدہ کو پتہ چلا کہ مصعب ؓ مکہ آئے ہیں اور پہلے ان کے پاس آکر ملنے کے بجائے رسول اللہ ؐ کے ہاں چلے گئے ہیں۔ انہوں نے بیٹے کو پیغام بھیجا کہ او بے وفا! تو میرے شہر میں آکر پہلے مجھے نہیں ملا۔عاشق رسول ؐ مصعب ؓ کا جواب بھی کیسا خوبصورت تھا کہ اے میری ماں! میں مکہ میں نبی کریمؐ سے پہلے کسی کو ملنا گوارا نہیں کرسکتا۔(ابن سعد)23
    اُحد کے میدان میں مصعب ؓنے جان کی قربانی دیکر اپنے عشق رسولؐ پر مہر ثبت کردی۔ مصعبؓ اسلامی جھنڈے کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ جب ان کی نعش کے پاس پہنچے تو وہ چہرے کے بل گرے پڑے تھے ۔گویا دم واپسیں بھی اپنے مولیٰ کی رضا پرراضی اور سجدہ ریز۔حضورؐ نے ان کی نعش کے پاس کھڑے ہوکر یہ آیت تلاوت فرمائی۔فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہ‘ وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَمَابَدَّلُوْا تَبْدِیْلاً(سورۃالاحزاب:24)
    یعنی ان مومنوں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی نیت کو پورا کردیا۔ (لڑتے لڑتے مارے گئے) اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو ابھی انتظار کررہے ہیں اور اپنے ارادہ میں کوئی تزلزل انہوں نے نہیں آنے دیا۔
    اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے اپنے اس عاشق صادق کو مخاطب کر کے فرمایا’’ اے مصعبؓ ! خدا کا رسول تم پر گواہ ہے کہ واقعی تم اس آیت کے مصداق اور اُن مردانِ وفا میں سے ہوجنہوں نے اپنے وعدے پورے کر دکھائے۔ روزِقیامت تم دوسروں پر گواہ بنائے جائو گے۔‘‘ پھر آپؐ نے اسلامی جھنڈے کے محافظ حضرت مصعب ؓ کو اس آخری ملاقات میں ایک اور اعزاز بھی بخشا۔آپؐ نے صحابہ ؓکو مخاطب کر کے فرمایا کہ’’اے میرے صحابہؓ !مصعب ؓ کی نعش کے پاس آکراس کی زیارت کرلو اور اس پر سلام بھیجو ۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روز قیامت تک جو بھی ان پر سلام کرے گا یہ اس کے سلام کا جواب دیں گے۔‘‘(ابن اثیر)24
    حضرت انسؓ بن مالک کہتے ہیں کہ ان کے چچا انس بن نضرؓ بدر میں شامل نہیں تھے۔ اسلام کی پہلی جنگ سے غیر حاضری کی وجہ سے اُن کوبے حد افسوس تھا۔انہوں نے رسول اللہؐ کے سامنے عہد کیاکہ اگر آئندہ اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کے ساتھ کسی غزوہ میں شامل ہونے کا موقع دیا تو اللہ دیکھے گا میں کیا کر دکھاتا ہوں۔ چنانچہ اُحد کے دن وہ خوب لڑے مگر جب درّہ چھوڑنے کی وجہ سے مسلمانوں کو فتح کے بعد پسپائی ہوئی تو انہوں نے جوش غیرت میں کہااے اللہ! ان مسلمانوں میں سے جو درّہ چھوڑ گئے اس کے لئے میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور مشرکوں کے فعل سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔پھروہ تلوار لے کر آگے بڑھے۔راستے میں سعد بن معاذ ؓملے تو اُن سے کہنے لگے اے سعدؓ! کہاں جاتے ہو؟ مجھے تو اُحد کے ورے جنت کی خوشبوآرہی ہے۔چنانچہ میدان اُحد میں لڑتے ہوئے شہید ہوگئے مگر ایسی بے جگری اور بہادری سے لڑے کہ جسم پر اسّی سے اوپر تلواروں ، نیزوں اور تیروں کے زخم تھے جن کی وجہ سے نعش پہچانی نہ جاتی تھی۔ان کی بہن نے آکرانگلی کے پورے پر ایک نشان سے ان کی لاش پہچانی۔(بخاری)25
    ایک اور عاشق صادق انصاری سردار سعد بن ربیع ؓتھے۔میدان اُحد میں ستر مسلمان شہداء کی لاشوں کے پُشتے لگے پڑے تھے۔رسول اللہؐ کو باری باری اپنے وفاشعار غلام یاد آرہے تھے۔ اچانک آپؐ فرمانے لگے ’’ کوئی ہے جو جاکر دیکھے کہ انصاری سردار سعدبن ربیع ؓ پر کیاگزری۔ میں نے اُسے لڑائی کے دوران بے شمار نیزوں کے زد میں گھرے ہوئے دیکھا تھا۔‘‘ ابی بن کعبؓ، محمد بن مسلمہ ؓ اور زید بن حارثہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ ہم حاضر ہیں۔ رسول اللہؐ نے محمد بن مسلمہؓ کو بھجوایا اور فرمایا کہ سعد بن ربیع ؓسے ملاقات ہوتو انہیں میرا سلام پہنچانا اور کہنا کہ رسول اللہؐ تمہارا حال پوچھتے تھے۔انہوں نے جاکر میدان اُحد میں بکھری لاشوں کے درمیان انہیں تلاش کیا۔ انہیں آوازیں دیں مگر کوئی جواب نہ آیا۔ تب انہوں نے بآواز بلند کہا کہ اے سعد بن ربیع ؓ ! رسول اللہؐ نے مجھے تمہاری خبر لینے بھیجا ہے۔اچانک لاشوں میں جنبش ہوئی اور ایک نحیف سی آواز آئی۔وہاں پہنچے تو سعدؓ کو سخت زخمی حالت میں پایا۔ان سے کہا کہ رسول اللہؐ نے مجھے بھیجا ہے کہ میں پتہ کروں کہ کس حال میں ہو؟اور حضورؐ کا سلام آپ کو پہنچائوں۔ انہوں نے کہا میں تو موت کے کنارے پر ہوں، مجھے بارہ تلواروں کے زخم آئے ہیں اور ایسے کاری زخم ہیں کہ ان سے جان بر ہونا مشکل ہے۔ اس لئے میری طرف سے بھی رسول اللہؐ کو سلام پہنچا دینا اور کہنا کہ سعد بن ربیع ؓ آپؐ کی خدمت میں عرض کرتے تھے کہ پہلے نبیوں کو اپنی امت کی طرف سے جو جزا ملی ہے،اللہ تعالیٰ آپؐ کواُن سب سے بہترین جزا عطا کرے اور میری قوم کو بھی میری طرف سے سلام پہنچانا اور یہ پیغام دینا کہ سعد بن ربیع ؓکہتے تھے کہ تم نے عقبہ کی گھاٹی میں جو عہد رسول اللہؐ سے کیا تھا اُسے ہمیشہ یادرکھنا۔ہم نے آخری سانس تک یہ عہد نبھایا۔ اب یہ امانت تمہارے سپرد ہے۔جب تک تمہارے اندر ایک بھی جھپکنے والی آنکھ ہے اگر نبی کریمؐ پر کوئی آنچ آگئی تو تمہارا کوئی عذر خدا کے حضور قبول نہ ہوگا۔محمد بن مسلمہ ؓنے رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ سارا واقعہ عرض کردیا۔ جس سے یقینا آپؐ کا دل ٹھنڈا ہوا۔(الحلبیہ)26
    ایک اور عاشق رسول زید بن دثنہؓ تھے، جوایک اسلامی مہم کے دوران قید ہوئے۔ مشرک سردار صفوان بن امیہ نے اُن کو خریدا تاکہ اپنے مقتولین بدرکے انتقام میں انہیں قتل کرے۔جب صفوانؓ اپنے غلام کے ساتھ انہیں قتل کرنے کے لئے حرم سے باہر لے کر گیا تو کہنے لگا اے زید میں تجھے خدا کی قسم دیکر پوچھتا ہوں کیا تو پسند کرتا ہے کہ محمدؐ اس وقت تمہاری جگہ مقتل میں ہو اور تم آرام سے اپنے گھر میں بیٹھے ہو۔
    زیدؓ نے کہا خدا کی قسم مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ میرے قتل سے بچ جانے کے عوض رسول اللہؐ کوکوئی کانٹا بھی چبھ جائے۔ ابوسفیان نے یہ سنا تو کہنے لگا خدا کی قسم! میں نے دنیامیں کسی کوکسی سے اتنی محبت کرتے نہیں دیکھا جتنی محبت محمدؐ کے ساتھی اس سے کرتے ہیں۔(الحلبیہ)27
    ایک دفعہ نبی کریمؐ نے بعض قبائل کی درخواست پرستّرحفاظ کرام کو دعوت الی اللہ کے لئے بھجوایا ۔جنہیں بنی سُلیم وغیرہ قبائل نے بدعہدی سے بئر معونہ مقام پر شہید کردیا۔ دشمن نے جب مسلمانوں کے قافلہ کے امیرحرام بن ملحان ؓ کو قتل کر کے انہیں گھیر لیا۔اُس وقت سب نے یہ دعا کی کہ اے اللہ! اس وقت ہمارے پاس کوئی اور ذریعہ رسول اللہؐ کو اطلاع کرنے کا نہیں، کسی طرح اپنے رسولؐ کو ہمارا آخری سلام پہنچا دے اور ہماری شہادتوں کی خبر دے کر یہ اطلاع کردے کہ ہم اپنے رب سے راضی ہیں اور ہمارا رب ہم سے راضی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریمؐ کو جبریل ؑ کے ذریعے اطلاع فرمائی۔حضورؐ اس وقت مدینے میں اپنے صحابہ کے درمیان تشریف فرماتھے۔آپؐ نے اچانک فرمایا وَعَلَیْھِمُ السَّلامُ اور ان پر بھی سلامتی ہو۔ پھر آپؐ نے خطبہ ارشادفرمایا اور صحابہ کو اطلاع دی کہ تمہارے بھائیوں کا مشرکوں سے مقابلہ ہوا اور وہ سب شہید ہوگئے۔ بوقت شہادت انہوں نے یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کا سلام اور راضی برضائے الہٰی ہونے کا پیغام ہم تک پہنچادے۔
    رسول اللہؐ کو اپنے ان ستر اصحاب کی شہادت کا بہت غم تھا۔حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضورؐ کو کبھی کسی کی موت کا اتنا صدمہ نہیں ہوا جتنا صدمہ بئرمعونہ میں شہید ہونے والے ستّر اصحاب کا ہوا۔آپؐ تیس دن تک نماز کی آخری رکعت میں ہاتھ اُٹھا کرمددونصرت کی دعائیں پڑھتے رہے۔(الحلبیہ)28
    صحابۂ رسول کو اپنے آقاؐ کی حفاظت کی جو فکر ہوتی تھی اور رسول اللہؐ صحابہ کا جس طرح خیال رکھتے تھے اس کا کچھ اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓبیان کرتے ہیں کہ ایک غزوہ میں ہم رسول اللہؐ کے ساتھ شریک سفر تھے رات کو ہم نے ایک جگہ پڑائو کیا۔ رات کے کسی حصے میں مجھے رسول اللہؐ کاخیال آیا اور مَیں آپؐ کا پتہ کرنے اس جگہ گیا جہاں آپؐ نے ڈیرہ لگایا تھا۔ وہاں موجود نہ پاکرمیں ادھر اُدھر آپؐ کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ اچانک کیا دیکھتاہوں کہ رسول اللہؐ کا ایک اور صحابی بھی میری طرح دیوانہ وار آپؐ کو ڈھونڈتا پھرتا ہے۔ ہم اسی حال میں تھے کہ نبی کریمؐ کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ ہم نے کہااے اللہ کے رسولؐ! آپؐ دشمن کی سرزمین اور جنگ کے علاقہ میں ہیں۔ ہم آپؐ کی ذات کے بارہ میں خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ خدا را آپؐ کو جب کوئی حاجت ہو تو آپؐ اپنے بعض صحابہ کو حکم فرمائیں تاکہ وہ آپؐ کے ساتھ جائیں۔ رسول کریمؐ نے فرمایا کہ دراصل میرے رب کی طرف سے ایک فرشتہ آیا۔ اس نے مجھے اختیار دیا کہ میری امت کا آدھا حصہ جنت میں داخل کرے یا مجھے شفاعت کا حق چاہئے۔میں نے شفاعت کا حق مانگا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ میری امت کے لئے زیادہ وسیع مغفرت کا موجب ہے۔پھر مجھے دوتہائی امت کو جنت میں داخل کرنے اور شفاعت کے درمیان اختیار دیا گیا، پھر بھی میں نے شفاعت کو اختیار کیا کیونکہ میں جانتا تھا کہ شفاعت میں امت کے لئے زیادہ بخشش کی گنجائش ہے۔ان دونوں صحابہ نے آپؐ سے دعا کی درخواست کی کہ ان کے حق میں بھی آپؐ کی شفاعت قبول ہو۔رسول اللہؐ نے دعا کی۔پھران دونوں نے دیگر صحابہ کو جاکربتایا تووہ بھی اہل شفاعت میں سے ہونے کی دعا کروانے آنے لگے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا میری شفاعت ہر کلمہ گو کیلئے ہوگی۔(احمد)29
    غزوۂ حدیبیہ کے موقع پر عروہ بن مسعود ؓ(سردار طائف) سفیر قریش بن کر رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضرہوا۔ایک صحابی حضرت مغیرہ بن شعبہؓ بغرض حفاظت تلوار لئے رسول اللہؐ کے پاس کھڑے تھے۔ عروہ عرب دستور کے مطابق بات کرتے ہوئے ازراہِ منت اپنا ہاتھ نبی کریمؐ کی داڑھی کی طرف بڑھاتاتھا۔عاشقِ رسول ؐ مغیرہؓ کو یہ بھی گوارا نہ تھاکہ ایک مشرک کا ہاتھ رسول اللہؐ کی ریش مبارک کو چھوئے۔وہ اپنی تلوار کی نوک سے سفیرِ قریش کا ہاتھ پرے ہٹا دیتے اور کہتے ’’رسول اللہؐ کی داڑھی سے اپنا ہاتھ پرے ہٹالو‘‘(بخاری30)عروہ نے تعجب سے پوچھا کہ یہ کون نوجوان ہے۔جب اُسے پتہ چلا کہ یہ مغیرہؓ ہیں تو وہ اُن سے مخاطب ہوکر کہنے لگا کہ تم جانتے ہو جاہلیت میں میں تمہارا معاون و مددگار رہا ہوں،اس کا یہ بدلہ تم مجھے دے رہے ہو۔
    واقعہ یہ ہے کہ صحابہ رسول ؐ کو اپنے آقا و مولیٰ سب دوستوں اور عزیزوں سے بڑھ کر پیارے تھے۔میدان حدیبیہ میں ہی کفار کے سفیر عروہ نے صحابہ کے عشق کاایک اور نظارہ بھی دیکھا کہ وہ حضورؐ کے وضوکا مستعمل پانی حتّٰی کہ آپؐ کا تھوک بھی نیچے گرنے نہ دیتے بلکہ بطور تبّرک اپنے ہاتھوں میں لیتے تھے۔وہ آپؐ کے حکم کی والہانہ تعمیل کرتے تھے۔ اس نے جاکر قریش کے سامنے اس کا یوں اظہار کیا کہ میں نے بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار بھی دیکھے ہیں اور قیصروکسریٰ اور نجاشی کے محلّات بھی۔خدا کی قسم! میں نے کسی بادشاہ کے ساتھیوں کو اس کی وہ تعظیم کرتے نہیں دیکھا جو محمدؐ کے ساتھی اس کی کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! رسولؐ اللہ کوئی تھوک بھی نہیں پھینکتے مگر ان کا کوئی ساتھی اُسے اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے جسم پر مل لیتا ہے اور جب وہ انہیں کوئی بات کہتے ہیں تو وہ لبیک کہتے اور فوراً اس پر عمل کرتے ہیں۔ جب محمدؐ وضو کرتے ہیں تو اس کے پانی کاایک قطرہ بھی وہ نیچے گرنے نہیں دیتے ا ور لگتا ہے کہ اسے ہاتھوں ہاتھ لینے کیلئے جیسے وہ لڑ پڑیں گے۔ پھر جب وہ بات کرتا ہے تو وہ خاموشی سے سنتے ہیں۔اس کی تعظیم کی خاطر اس کی طرف نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتے اور اس کے سامنے نیچی آواز میں بات کرتے ہیں۔ الغرض صحابہ کے عشق و محبت کا یہ وہ نظارہ تھا جس نے مشرک سردارعروہ کو بھی حیران و ششدر کردیا۔(بخاری)31
    رسول کریم ؐ کے ایک اور عاشق صادق حضرت ابو ایوبؓ انصاری تھے۔ ہجرت مدینہ کے معاًبعدرسول اللہؐ آپؐ کے مکان میں آکررہائش پذیر ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ سے ابو ایوب ؓ کی محبت کاعجب عالم تھا۔چھ یا سات ماہ کا عرصہ جو آنحضرت ﷺ ان کے ہاں فروکش رہے، انہوں نے مہمانی کا حق خوب ادا کیا۔ سارا عرصہ رسول اللہ ﷺ کا کھانا باقاعدگی سے تیار کر کے بھجواتے رہے۔ جب کھانا بچ کر آتا تو اس پر رسولؐ خدا کی انگلیوں کے نشانات دیکھتے اور وہاں سے کھانا تناول کرتے۔ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے کھانا تناول نہ فرمایا۔ ابو ایوب ؓ جو رسو لؐ خدا کا بچا ہوا تبّرک کھانے کے عادی تھے دوبارہ حاضر ہوئے۔ عرض کی حضورؐ نے آج کھانا تناول نہیں فرمایا۔ حضور ؐ نے فرمایا آج کھانے میں پیاز لہسن تھا اور میں اسے پسند نہیں کرتا۔ابو ایوب ؓ نے عرض کی ’’حضورؐ جسے آپؐ ناپسند فرماتے ہیں آئندہ سے میں بھی اسے ناپسند کرتا ہوں۔‘‘ (ابن حجر32) (معلوم ہوتا ہے کچاّ پیاز لہسن ہوگا جسے پسند نہیں فرمایا)۔
    انہیں عشاقِ رسول ؐمیں سے زید بن حارثہؓ بھی تھے جنہیں انکے قبیلہ پر حملہ کے دوران پکڑ کر بیچ دیا گیاتھا۔یہ حضرت خدیجہ ؓ کے غلام تھے۔انہوں نے رسول اللہ ؐ کی خدمت میں پیش کر دیا تو آپؐ نے آزاد کر کے زیدؓ کو منہ بولا بیٹا بنالیا۔زیدؓ رسول اللہ ؐ کی شفقتوں کے مورد بنے اور’’حِبّ رسول‘‘ یعنی رسول اللہؐ کے پیارے کہلائے۔زیدؓ بھی رسول اللہؐ کی محبت کے اسیر ہوکر رہ گئے۔
    زیدؓکا والد اُن کی تلاش میں رسول اللہ ؐ کے پاس پہنچا اور اُنہیں آزاد کرنے کی درخواست کی۔رسول اللہؐ نے زید کو بلاکے فرمایا کہ اے زیدؓ تجھے اختیار ہے چاہو تو میرے پاس رہو، چاہو تو اپنے والدین کے ساتھ وطن واپس چلے جائو۔ زید کا یہ جواب عشق و محبت کی دنیا میں ہمیشہ یاد رہے گا کہ ’’میرے آقا!میں آپؐ کی بجائے کسی دوسرے کے ساتھ جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔اب آپؐ ہی میرے مائی باپ ہیں۔‘‘(ابن سعد) 33
    رسول کریمؐ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو ایک خادم کی ضرورت محسوس ہوئی۔ حضرت ام سُلیمؓ اور ابو طلحہؓ نے اپنے بیٹے کولا کر پیش کردیاکہ حضورؐ ! یہ بچہ انسؓ آپؐ کی خدمت کرے گا۔ (بخاری34)والدین کی طرح لاڈ اور پیار کی خاطر حضورؐ انس ؓ کو ’’بیٹا ‘‘ اور ’’اُنَیس‘‘ کہہ کر پکارتے۔ کبھی ازراہ مذاق ’’یاذَالاُذنین‘‘ یعنی دوکانوں والا کہہ کر یاد فرماتے۔(ترمذی)35
    رسول اللہ ﷺ نے ان کے حق میں دعا کی تھی کہ ’’اے خدا انس ؓ کے مال و اولاد میں برکت دے اور اسے جنت میں داخل کرنا!‘‘(بخاری)36
    حضرت انسؓ خادم رسولؐ کے مبارک لقب سے یاد کئے جانے لگے۔وہ اس پر فخر کیا کرتے تھے، کیوں نہ کرتے درنبویؐ کی گدائی سے بڑھ کر فخر کا کیا مقام ہوگا۔حضرت انسؓ نے اس تعلق کی بدولت دینی و دنیاوی برکات حاصل کیں۔
    حضرت انسؓ کو آنحضرت ﷺ سے غایت درجہ عشق اور محبت تھی۔آپؐ کے پاس رسول اللہؐ کے تبرکات میں سے ایک موئے مبارک تھا۔بوقت وفات وصیت کی کہ میرے آقا کا یہ بال میری زبان کے نیچے رکھ دینا ۔رسول اللہؐ کی یادگار ایک چھڑی بھی آپؐ کے پاس تھی۔ آپؐ کی وصیت کے مطابق یہ بھی آپؐ کے پہلو میں دفن کی گئی۔سبحان اللہ! محبوب کی جو شَے بھی میسّر تھی اس سے بوقت وفات بھی جدائی گوارانہ تھی تو رسول اللہ ؐ کی جدائی ان پر کیسی شاق گزری ہوگی۔ وفات رسول ؐ کے بعد آپ اکثر دیوانہ و بے خود ہوجاتے اور کیوں نہ ہوتے اگر حسّان ؓکی آنکھوں کی پتلی نہ رہی تھی تو انسؓ کا نور نظر بھی تو جاتا رہا تھا۔اسی حد درجہ محبت کا نتیجہ تھا کہ اکثر خواب میں ’’خادم رسولؐ ‘‘ اپنے آقا سے ملاقات کیا کرتا ۔آقاؐ کی باتیں سناتے تو الفاظ میں نقشہ کھینچ کر رکھ دیتے۔ حضرت انسؓ کے اس خادمانہ تعلق کو صرف وفات رسولؐ ہی جدا کرسکی۔
    حضرت اسامہ ؓبھی رسول اللہؐ کے آزاد کردہ غلام زیدؓ کے بیٹے تھے اور ’’حِبّ رسول‘‘ یعنی رسول اللہؐ کے محبوب کہلاتے تھے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا’’اسامہؓ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہے سوائے (میری بیٹی) فاطمہؓ کے۔ خود اسامہؓ کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ انہیں اور حضرت حسینؓ کو دونوں رانوں پر بٹھالیتے اور فرماتے۔ ’’اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما۔‘‘(بخاری37)رسول اللہؐ نے آخری بیماری میں رومیوں کے خلاف جو لشکر تیار کیا اس کی کمان کم سن اسامہؓ کے سپر دفرمائی۔(بخاری)38
    اسامہؓ حضورؐ کی آخری بیماری میں آپؐ سے الوداعی ملاقات کرنے آئے وہ بیان کرتے ہیں۔ ’’جب میں حاضر ہوا تو حضورؐ نے دونوں ہاتھ مجھ پرر کھے اور پھر دونوں ہاتھ اٹھائے۔ میں جانتا ہوں کہ حضور ؐ میرے لئے دعاکررہے تھے۔‘‘
    سبحان اللہ آقا کی غلام پر شفقت کا عجیب عالم ہے کہ مرض الموت میں بھی اس یتیم بچہ کے لئے دعا گو ہیں گویا اسے خدا کے حوالے کررہے ہیں دراصل یہ آپ ؐ کی طبعی محبت کا اظہار تھا۔
    غزوۂ موتہ میں اسامہؓ کے والد حضرت زیدؓ کی شہادت پررسول اللہؐ نے اسامہؓ کی بہن کو روتے دیکھا تو آپؐ بھی رو پڑے۔سعد بن عبادہ ؓ نے عرض کی حضورؐ یہ کیا! فرمایا یہ جذبہ محبت ہے۔
    رسول اللہؐ کے باوفا غلاموں میں ثوبانؓ بن مالک بھی تھے۔ایک دفعہ روتے ہوئے حاضر ہوئے۔رسول اللہ ؐ نے حال پوچھا تو کہنے لگے یا رسول اللہؐ ! اس دنیا میں تو جب جی کرتا ہے آکر آپؐ کی زیارت کر لیتے ہیں۔ اگلے جہاں میں تو آپؐ بلند مقامات پر ہوں گے تب آپؐ تک رسائی کیسے ہوگی؟ یہ خیال بے چین کردیتا ہے۔رسول کریم ؐ نے ثوبان ؓکو خوشخبری دی کہ آدمی اس کے ساتھ ہوتا ہے جس کے ساتھ اسے محبت ہو۔(بخاری)39
    ربیعہؓ اسلمی رسول اللہؐ کے ایک اور خادم تھے۔ایک دن نبی کریم ؐ نے ان کی خدمتوں سے خوش ہوکر انعام سے نوازنا چاہا ۔فرمایا ربیعہؓ مانگو کیا مانگتے ہو؟ کچھ سوچ کر ربیعہؓ نے کہا یا رسولؐ اللہ جنت میں آپؐ کی رفاقت چاہیے۔فرمایا کچھ اور مانگ لو۔ عرض کیابس یہی کافی ہے۔ رسول کریمؐ نے فرمایا پھر ڈھیر سارے سجدوں، دعائوں اور نمازوںسے میری مدد کرنا۔(مسلم)40
    حضرت جابرؓ اپنے والد عبداللہؓ بن حرام کے بارہ میں یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ انہوں نے حلوا تیار کروایا پھر مجھے کہنے لگے کہ رسول اللہ ؐ کی خدمت میں تحفہ پہنچا کر آؤ۔ میں لے کر گیا،حضورؐ فرمانے لگے ’’جابرؓ ! گوشت لائے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا’’ نہیں اے اللہ کے رسولؐ ! میرے والد نے یہ حلوا آپؐ کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے بھجوایا ہے ‘‘آپؐ نے فرمایا ’’ٹھیک ہے۔ ‘‘اوراُسے قبول فرمایا ۔میں جب واپس گیا تو والدنے پوچھا کہ رسول اللہ ؐ نے تمہیں کیا فرمایا تھا ۔میں نے عر ض کر دیا کہ حضورؐ نے پوچھا تھا کہ گوشت لائے ہو؟میرے والد کہنے لگے کہ معلوم ہوتا ہے کہ میرے آقا رسول اللہ ؐکو گوشت کی خواہش ہوگی ۔چنانچہ والد صاحب نے اسی وقت اپنی ایک دودھ دینے والی بکری ذبح کردی۔ پھر گوشت بھو ننے کا حکم دیا اور مجھے حضورؐ کی خدمت میں بھنا ہوا گوشت دے کر بھجوایا ۔حضورؐ نے بہت محبت سے دلی شکریہ ادا کرتے ہوئے قبول کیااورفرمایا ’’انصار کو اللہ تعالیٰ بہت جزا عطا فرمائے خاص طور پر عمر و ؓبن حرام کے قبیلے کو۔‘‘(ھیثمی)41
    جابرؓ کے والد حضرت عبداللہ ؓاُحد میں شہید ہوگئے اور اپنے پیچھے جابر ؓ کے علاوہ سات بیٹیاں چھوڑیں۔رسول اللہؐ حضرت جابرؓ کا بہت خیال رکھتے تھے۔ حضرت عبداللہؓ کی وفات کے بعد یہودی ساہوکاروں کا ایک بھاری قرض حضرت جابرؓ پر تھا۔ رسول اللہؐ کی دعا کی برکت سے وہ ادا ہوا۔(بخاری)42
    ایک سفر میں جابرؓ کااونٹ تھک کر اڑ گیا تو رسول اللہؐ نے اس کے لئے دعا کی اور وہ بھاگنے لگا۔(بخاری)43
    جابرؓ کو بھی رسول اللہؐ کی شفقتیں دیکھ کر آپؐ سے ایک والہانہ عشق ہوگیا تھا اور رسول اللہؐ کی کوئی تکلیف ان سے دیکھی نہ جاتی تھی۔حضرت جابر بن عبداللہ ؓبیان کرتے ہیں کہ غزوہ احزاب کے موقع پرخندق کی کھدائی کے دوران صحابہ کو فاقہ تھا ۔رسول اللہؐ نے بھی اس وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے اور مسلسل تین روزسے ہم نے کچھ کھایا پیا نہیں تھا۔
    حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہؐ سے اجازت لے کر گھر گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے رسول کریم ؐکو ایسے حال میں دیکھا ہے جس پر صبر کرنا نا ممکن ہے ۔تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے ؟پھر میں نے ایک بکر وٹہ ذبح کیا، میری بیوی نے جو پیس لئے، گوشت جب ہنڈیا میں رکھ دیا تو میں رسول کریم ؐ کے پاس حاضر ہوا۔ میں نے عرض کیا ’’یا رسول اللہؐ میرے گھر تھوڑا سا کھانا ہے آپؐ تشریف لائیں اور اپنے ساتھ ایک دو افراد کو بھی لے لیں‘‘ آپؐ نے پوچھا کہ کھانا ہے کتنا ؟ میں نے تفصیل عرض کر دی، آپؐ نے فرمایا کہ بہت کافی ہے ۔پھر مجھے فرمایا کہ جائو اور بیوی سے کہو کہ ہنڈیا چولہے سے نہ اُتارے اور روٹیاں تنور میں لگانی شروع نہ کرے یہاں تک کہ میں آجائوں۔ پھر صحابہ سے فرمایا کہ چلوجابرؓ نے ہماری دعوت کی ہے۔ چنانچہ مہاجرین اور انصار حضورؐ کے ساتھ چل پڑے۔ جابرؓ کہتے ہیں کہ میں بیوی کے پاس گیا تو وہ بولی تیرا بھلا ہو رسول اللہ ؐ تو سب مہاجرین وانصار کو ہمراہ لے آئے ہیں ۔کیاحضورؐ نے تم سے کھانے کی مقدار کا پوچھ لیا تھا۔ میں نے کہا’’ہاں‘‘۔ حضورؐ نے صحابہ کو خاموشی سے جابرؓ کے گھر داخل ہونے کی تلقین فرمائی اور روٹی توڑتوڑ کر اس پر گوشت رکھتے گئے ۔ہنڈیا اور تنور کو آپؐ نے ڈھانپ کر رکھا ہوا تھا۔ کھانا لے کر پھر ڈھانپ دیتے تھے اور اپنے صحابہ کو دیتے جا تے تھے۔ اس طرح حضورؐ صحابہ کو کھانا کھلاتے رہے یہاں تک کہ سب نے سیر ہو کر کھانا کھا لیا اور پھر بھی کھانا بچ رہا ۔تب آپؐ نے جابرؓ کی بیوی سے فرمایا کہ خود بھی کھائو اور لوگوں کو تحفہ کے طور پر بھجوائو کیونکہ آجکل لوگ سخت بھوک اور فاقہ کہ حالت میں ہیں۔(بخاری)44
    حضرت کعبؓ بن عُجرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیر دیکھا میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں؟ حضورؐ کے مزاج تو بخیر ہیں۔آپؐ نے کمال بے تکلفی سے فرمایا کہ میں نے تین روز سے کھانا نہیں کھایا۔ کعبؓ کہتے ہیں میں اسی وقت کھانے کی تلاش میں باہرنکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک یہودی اپنے اونٹوں کو پانی پلارہا تھا۔ میں نے اس کے اونٹوں کو پانی پلانے کے لئے ایک ڈول پانی کے عوض ایک کھجور لینے کی حامی بھرلی۔ پھر وہ کھجوریں اکٹھی کر کے نبی کریمؐ کی خدمت میں جاکر پیش کردیں۔ آپ ؐ نے فرمایا کعبؓ ! یہ کہاں سے لائے؟ میں نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ نبی کریمؐ نے فرمایا اے کعبؓ کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے؟ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپؐ پر قربان مجھے آپؐ سے عشق ہے۔نبی کریمؐ نے فرمایا جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے۔فقروفاقہ اس کی طرف بہت تیزی سے آتا ہے اور تجھے بھی آزمایا جائے گا۔ اس لئے اس کے مقابلہ کے لئے تیاری کرلو۔ اس کے بعد ایک دفعہ کعبؓ بیمار ہوگئے۔ رسول کریمؐ نے اپنے اس عاشق کا حال پوچھا کہ وہ کہاں ہیں نظر نہیں آئے۔ ان کی بیماری کا پتہ چلا تو بنفس نفیس احوال پُرسی کے لئے تشریف لے آئے اور کعب کو تسلّی اوربشارت دی۔(ھیثمی)45
    حضرت سعد بن خیثمہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں تبوک میں رسول اللہؐ سے پیچھے رہ گیا تھا۔ اپنے کھجور کے باغ میں گیا تو دیکھا کہ چھپر میں چھڑکا ئو کر کے بیٹھنے کی ٹھنڈی جگہ بنائی گئی ہے۔ میری بیوی موجودتھی۔میں نے کہا یہ انصاف نہیں۔ خدا کا رسول سخت گرمی کے موسم میں ہواور میں سائے اور پھلوں میں ہوں۔ میں نے اسی وقت سواری لی اور کچھ کھجوریں بطور زادِ راہ لے کر چل پڑا۔ میری بیوی کہنے لگی کہاں جاتے ہو؟ میں نے کہا رسول اللہؐ کے ساتھ شریک جہاد ہونے کے لئے۔جب میں لشکر کے قریب پہنچا تو رسول اللہؐ نے دور سے غبار اُٹھتی دیکھ کر فرمایا خدا کرے یہ ابو خیثمہؓ ہو۔میں نے حاضر خدمت ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ ؐ میں توپیچھے رہ جانے کی وجہ سے ہلاک ہونے کو تھا اور پھراپنا قصہ کہہ سنایا۔ رسول اللہؐ نے میرے لئے دعائے خیرکی۔(ہیثمی)46
    عشق رسول تو ایمان کی علامت ہے۔اس لئے صحابیات رسولؐ بھی اس میدان میں مردوں سے پیچھے نہ تھیں۔وہ رسول اللہؐ کے حالات اور ضروریات پر نظر رکھتیں اور ان کو پورا کر کے ثواب اور تسکین دل حاصل کرنا چاہتیں۔
    رسول اللہؐ کی ازواج میں حضرت عائشہ ؓ سے بڑھ کر کون رسول اللہؐ کا عاشق ہوگا۔ مسروق بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت عائشہ ؓ مجھ سے باتیں کرتے کرتے روپڑیں میں نے رونے کا سبب پوچھا تو کہنے لگیں میں کبھی بھی سیر ہوکر کھانا نہیں کھاتی مگر چاہتی ہوں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ؐکی تنگی اورسختی کا زمانہ یادکر کے رولوں۔(ابن سعد)47
    حضرت زیدؓ مدنی بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا اے امّ المؤمنین سلام ہو۔ انہوں نے وعلیکم السلام کہہ کر رونا شروع کردیا ہم نے کہا ام ّ المؤمنین! رونے کا سبب کیا ہے؟ حضرت عائشہؓ فرمانے لگیں مجھے پتہ چلا ہے کہ تم لوگ قِسما قسم کے کھانے کھاتے ہو۔ یہاں تک کہ پھر اسے ہضم کرنے کے لئے دوا تلاش کرتے پھرتے ہو۔ مجھے تمہارے نبی کے فاقہ کا زمانہ یادآگیا اس لئے روتی ہوں۔ آپؐ دنیا سے رخصت ہوئے تو حال یہ تھا کہ کسی ایک دن میں آپؐ نے دو کھانوں سے پیٹ نہیں بھرا۔ جب پیٹ بھر کر کھجور کھالی تو روٹی سیر ہوکر نہیں کھائی اورر وٹی پیٹ بھر کر کھائی تو کھجورسے سیر نہیں ہوئے۔ اس تکلیف دہ یاد نے مجھے بے اختیار رُلادیا۔(ابن سعد)48
    ایک صحابیہ نے ایک دفعہ رسول اللہؐ کے لئے لباس کی ضرورت محسوس کی تو ایک خوبصورت چادر ہاتھ سے کڑھائی کر کے لے آئیں اور حضورؐ کی خدمت میں نذرکرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہؐ! میری خواہش ہے کہ آپؐ یہ چادر خودزیب تن فرمائیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی ضرورت کایہ انتظام ہونے پر شکریہ کے ساتھ اسے قبول کیا اور وہ چادر پہن کر مسجد میں تشریف لائے۔ ایک شخص نے دیکھ کر کہا اے اللہ کے رسولؐ! یہ کتنی خوبصورت چادر ہے؟آپؐ مجھے ہی عطا فرمادیں۔آپؐ نے فرمایا’’اچھا یہ آپ کی ہوئی‘‘ نبی کریمؐ جب مجلس سے اُٹھ کر تشریف لے گئے تو صحابہ نے اس شخص سے کہا کہ آپ نے حضورؐ سے چادر مانگ کر اچھا نہیں کیا، خصوصاً جب کہ حضورؐ کو اس کی ضرورت بھی تھی اور آپ کو پتہ ہے کہ رسول اللہؐ سے کچھ مانگا جائے تو آپؐ کبھی انکار نہیں فرماتے۔وہ صحابی کہنے لگے سچ پوچھو تو میں نے بھی برکت کی خاطر یہ پہنی ہوئی چادر مانگی ہے۔میری خواہش ہے کہ مرنے کے بعد میرا کفن اسی چادر سے ہو جو رسول اللہؐ کے بدن سے مَس ہوئی۔(بخاری)49
    حضرت امّ سلیمؓ بسا اوقات کھانابنواکے رسول اللہؐ کے گھر بھجوادیتی تھیں۔ حضرت زینب ؓکی شادی کے موقع پر بھی حضرت ام سلیمؓ نے کافی سارا کھانا بنواکے بھجوادیاجس سے رسول اللہؐ نے دعوت ولیمہ کا انتظام فرمایا۔(بخاری)50
    ایک انصاری خاتون مینا ئؓ نامی تھیں۔ان کا غلام بڑھئی کا کام کرتا تھا۔ ان کے دل میں خیال آیا کہ رسول اللہؐ کے مجلس میں بیٹھنے کے لئے کوئی لکڑی کی اچھی چیز بنواکر دیں۔ چنانچہ رسول اللہؐ سے انہوں نے عرض کیا میں آپؐ کے بیٹھنے کے لئے کوئی چیز بنوانا چاہتی ہوں۔ حضور نے خوشی سے اجازت دیدی تو انہوں نے وہ منبر بنوایا جس پر رسول اللہؐ خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔(بخاری)51
    اُحد کے دن مدینہ میں یہ خبر پھیل گئی کہ رسول اللہؐ شہید ہوگئے ہیں۔ مدینہ میں عورتیں رونے اور چلانے لگیں۔ ایک عورت کہنے لگی تم رونے میں جلدی نہ کرو میں پہلے پتہ کرکے آتی ہوں، وہ گئی تو پتہ چلا کہ اس کے سارے عزیز شہید ہوچکے تھے۔ اس نے ایک جنازہ دیکھا ،پوچھا یہ کس کا جنازہ ہے۔ بتایا گیا کہ یہ تمہارے باپ کا جنازہ ہے۔ اس کے پیچھے تمہارے بھائی ،خاوند اور بیٹے کا جنازہ بھی آرہا ہے۔ وہ کہنے لگی مجھے یہ بتائو رسول اللہؐ کا کیا حال ہے؟ لوگوں نے کہا نبی کریمؐ وہ سامنے تشریف لارہے ہیں۔ وہ رسول اللہؐ کی طرف لپکی اور آپؐ کے کرتے کا دامن پکڑ کر کہنے لگی میرے ماں باپ آپؐ پرقربان اے اللہ کے رسولؐ! جب آپؐ زندہ ہیں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔(ہیثمی)52
    الغرض کیا مرد اور کیا عورتیںاور کیا بچے سب ہی اس پاک رسولؐ کے دیوانے اور اس کے منہ کے بھوکے تھے اور یہ کمال آنحضورؐ کے اخلاق فاضلہ کا تھا جن سے دنیا آپؐ کی گرویدہ تھی اور آج تک ہے اوررہے گی۔


    حوالہ جات
    1
    ترمذی کتاب الادب باب ماجاء فی الرخصۃ فی لبس الحمرۃ للرجال:2735
    2
    کامل لابن عدی جلد2ص701
    3
    الاصابہ فی تمییز الصحابہ ابن حجرجز 4ص102بیروت
    4
    السیرۃ الحلبیۃ جلد1ص295بیروت
    5
    السیرۃ الحلبیۃ جلد 2ص43بیروت
    6
    مسند احمد جلد1ص3مطبوعہ بیروت
    7
    بخاری کتاب التفسیر سورۃ النصر
    8
    بخاری کتاب المناقب باب مناقب عمرؓ
    9
    مسند احمد جلد4ص336مطبوعہ بیروت
    10
    بخاری کتاب المغازی باب مرض النبیؐ و وفاتہ:4097
    11
    اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابہ لابن اثیرجزء 3ص376 دارالاحیاء التراث العربی
    12
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ تبوک وھی غزوۃ العسرۃ:4063
    13
    ترمذی کتاب المناقب باب مناقب علی بن ابی طالب ؓ :3664
    14
    مسند احمدجلد3ص348مطبوعہ بیروت
    15
    الاصابہ فی تمییز الصحابہ ابن حجرجز 4ص11مطبوعہ بیروت
    16
    الطبقات الکبریٰ ابن سعد جلد3ص410بیروت
    17
    مسند احمد بن حنبل جلد5ص204مطبوعہ مصر
    18
    مسند احمد جلد6ص372مطبوعہ بیروت
    19
    بخاری کتاب المغازی باب قول اللہ اذتستغیثون:3658
    20
    الطبقات الکبریٰ ابن سعد جلد3ص505مطبوعہ بیروت
    21
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ احد
    22
    الطبقات الکبریٰ ابن سعدجلد3ص117مطبوعہ بیروت
    23
    الطبقات الکبریٰ ابن سعدجلد3ص118مطبوعہ بیروت
    24
    اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابہ لابن اثیرجلد4ص370بیروت
    25
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۂ احد
    26
    السیرۃ الحلبیۃ جلد2ص245 دارا حیاء التراث العربی بیروت
    27
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص170مطبوعہ بیروت
    28
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص171,172بیروت
    29
    مسند احمد جلد4ص415مطبوعہ مصر
    30
    بخاری کتاب الشروط باب الشروط فی الجہاد
    31
    بخاری کتاب الشروط باب الشروط فی الجہاد
    32
    الاصابہ فی تمییز الصحابہ ابن حجرجلد 1ص90دارالکتب العلمیہ بیروت
    33
    الطبقات الکبریٰ لابن سعدجلد3ص45مطبوعہ بیروت
    34
    بخاری کتاب الدعوات باب قول اللہ تعالیٰ وصل علیھم :5859
    35
    ترمذی کتاب البروالصلۃ باب ماجاء فی المزاح:1915
    36
    بخاری کتاب الدعوات باب قول اللہ تعالیٰ وصل علیھم:5859
    37
    بخاری کتاب المناقب باب ذکر اسامۃ بن زید:3455
    38
    بخاری کتاب المناقب باب مناقب زید:3451
    39
    بخاری کتاب الادب باب علامۃ حب اللہ:5702
    40
    مسلم کتاب الصلاۃ باب فضل السجود والحث علیہ:754
    41
    مجمع الزوائد لھیثمی جلد9ص317 بحوالہ البزار
    42
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ احد و کتاب الاستقراض
    43
    بخاری کتاب الجہاد باب استیذان الرجل الامام
    44
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الاحزاب
    45
    مجمع الزوائد لھیثمی جلد10ص312
    46
    مجمع الزوائدلھیثمی جلد6ص193مطبوعہ بیروت
    47
    الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد1ص400
    48
    الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد1ص406
    49
    بخاری کتاب الادب باب حسن الخلق و السخاء
    50
    بخاری کتاب النکاح باب الھدیۃ للعروس
    51
    بخاری کتاب الصلوۃ باب الاستعانۃ بالنجار:429
    52
    مجمع الزوائدلھیثمی جلد4ص115 بیروت بحوالہ طبرانی

    رسول اللہ ؐ بحیثیت داعی الی اللہ
    حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اہم منصب بطور نبی اور رسول کے یہ تھا کہ آپؐ اللہ کے حکم کے مطابق بنی نوع انسان کو خدا کی طرف بلائیں۔ قرآن شریف میں آپؐ کا یہ مقام ’’دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ‘‘ (الاحزاب :47) بیان کیا گیا ہے۔
    آپؐ ہی کائنات کے وہ بہترین وجود تھے جنہوں نے محض دنیا کو خدا کی طرف بلایا ہی نہیں بلکہ خدا کے حکموں پر خود عمل کر کے بھی دکھادیااور ثابت کیا کہ آپؐ ہی سب سے بڑھ کر خدا کے فرمانبردار ہیں۔
    آپؐ ہی تھے جنہوں نے’’ بَلِّغْ ‘‘(یعنی پیغام پہنچادو)کے حکم کی تعمیل میں حق تبلیغ ادا کر کے دکھایا۔ آپؐ نے مخفی طور پر بھی دعوت الی اللہ کی اور اعلانیہ بھی۔دن کے وقت بھی دنیا کو خدا کی طرف بلایا اور رات کو بھی۔بنی نوع انسان کا گہرا درد آپؐ کے سینہ میں موجزن تھا جس کی بناء پر آپؐ ہر کس و ناکس کو اسلام کی تبلیغ کرتے تھے۔آپؐ نے غرباء اور فقراء کو بھی پیغام پہنچایا، بادشاہوں اور امراء کو بھی دعوت حق دی۔ان کی طاقت و سطوت شاہانہ سے کبھی مرعوب نہیں ہوئے۔ ہمیشہ قرآنی تعلیم کی تبلیغ حکمت اور استقلال کے ساتھ فرماتے رہے۔
    یہی آپؐ کا وہ عظیم الشان منصب تھا۔ جس کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا ’’میں تو صرف ایک مبلغ بناکر بھیجا گیا ہوں ۔ ہدایت اللہ ہی دیتا ہے۔ پس تم میں سے جس شخص کو مجھ سے کوئی چیز حسنِ رغبت اور حسین ہدایت کے ساتھ پہنچے تو اس میں یقینا اس کے لئے برکت رکھی جائے گی۔‘‘ (احمد)1
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں دعوت الی اللہ کا جو دردتھااور دنیا کی ہدایت کی جو فکر تھی اس کا اندازہ آپؐ کے اس ارشاد سے ہوتا ہے کہ ’’لوگو! میری اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے (روشنی کی خاطر) آگ جلائی۔ پروانے اورکیڑے مکوڑے اس پرآآکر گرنے لگے۔ وہ انہیں پرے ہٹاتا ہے مگر وہ باز نہیں آتے اور اس میں گرتے چلے جاتے ہیں۔میںبھی تمہاری کمرسے پکڑ پکڑ کر تمہیں آگ میں گرنے سے بچانا چاہتا ہوں او ر تم ہو کہ دیوانہ وار اس آگ کی طرف بھاگے چلے جاتے ہو۔(بخاری)2
    خدا کا پیغام پہنچانے کی خاطررسول اللہؐ نے حکمت کی تمام راہیں اختیار کیں۔ہمیشہ نرم زبان استعمال کی۔عمدہ نصیحت کے ذریعہ دنیا کو اسلام کے حسین پیغام کی طرف بلایا۔بشارتیں اور خوشخبریاں دے کر بھی دعوت دی اور عذاب الہٰی سے ہوشیار کر کے اور ڈرا کر بھی دنیا کو متنبہّ کیامگر ہمیشہ تواضع اور عاجزی کی راہ اختیار کرتے ہوئے اتمام حجت کیا۔
    آپؐ کی ایک حکمت عملی یہ تھی کہ مشترک قدروں سے بات کا آغاز فرماتے۔ ہمیشہ توحید کا پیغام مقدم رکھتے تھے۔جہاں ضروری ہوتاتالیف قلب کے ذریعہ بھی تبلیغ کا حق ادا کرتے۔ اس راہ میں آپ ؐنے دکھ بھی سہے ،تکالیف بھی برداشت کیں۔ مارے پیٹے بھی گئے اور گالیاں بھی سنیں مگر ہمیشہ صبر کیااور کمال استقامت کے ساتھ اپنی بعثت کے دن سے لے کر اس دن تک کہ دنیا سے کوچ فرمایاخدا کا پیغام پہنچانے میں کبھی سست ہوئے نہ ماندہ۔
    آپؐ حسب حکم الٰہی سخت معاند مشرکوں اور جاہلوں سے اعراض فرماتے تھے۔ حتی الوسع بحث و جدال کی مجالس سے بچتے تھے۔اگر مباحثہ کی نوبت آہی جائے تو نہایت عمدگی اور حکمت سے احسن طریق پربحث کی تعلیم دیتے تھے۔ سوائے اس کے کہ مدمقابل زیادتی پر اترآئے،سخت جواب سے پرہیز کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق پیغام پہنچا کر اتمام حجت کرنا ضروری سمجھتے تھے۔ کبھی پیچھے پڑ کربات منوانے کی کوشش نہیں فرمائی۔ فرماتے تھے اللہ تعالیٰ نے مجھے مبلّغ (یعنی پیغام پہنچانے والا) بناکر بھیجا ہے۔سختی کرنے والا نہیں بنایا۔(مسلم)3
    اپنے زیر دعوت لوگوں کے لئے بھی دعا کرتے تھے اور اپنی مدد و نصرت کیلئے معاون ونصیر تیارہونے کی دعا ئیںبھی۔ ایسے داعیان جو آپؐ کی صحبت وتربیت سے فیض یاب ہونے کے بعد آگے جاکر دعوت اسلام بھی کریں اور مزید داعی الی اللہ بھی بنائیں۔
    مخفی اور انفرادی تبلیغ
    دعوت الی اللہ کا ایک بنیادی اصول حکمت ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکیمانہ رنگ میں دعوت الی اللہ کا بہترین نمونہ ہمیں دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قدم قدم پر آپؐ کی رہنمائی فرمائی اور دعوت الی اللہ کیلئے اعلیٰ حکمتیں تعلیم فرمائیں اور آپؐ نے ان پر عمل کر کے دکھادیا ۔آپؐ کے اخلاق و کردار عین قرآن کے مطابق تھے۔چنانچہ ابتدائی زمانہ میں پیغام حق پہنچانے میں جو حکمتیں بطور خاص ملحوظ رکھی گئیںان میں اولین حکمت مخفی انفرادی تبلیغ ہے۔یعنی دعویٔ نبوت کے ابتدائی تین سال تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عملی نمونہ سے نیز مخفی اور انفرادی طور پر تبلیغ فرماتے رہے جس کے نتیجہ میں آپؐ کے افراد خانہ حضرت خدیجہؓ ،حضرت علیؓ اور قریبی تعلق والوں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت زیدؓ نے اسلام قبول کرلیا۔
    اس زمانہ کا کچھ حال اسماعیلؓ بن ایاس اپنے دادا عفیفؓ سے یوں بیان کرتے ہیں کہ میں تاجر آدمی تھا حج کے زمانہ میں منٰی آیا۔ عباس بن مطلب بھی تاجر تھے۔ ان کے پاس کچھ خرید وفروخت کے لئے آیا۔میرے وہاں بیٹھے ہوئے ایک شخص نے خیمہ سے نکل کر خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنی شروع کردی۔پھر ایک عورت اور ایک بچہ بھی اس کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔ میں نے عباسؓ سے پوچھا کہ یہ کون سا دین ہے۔ہمیں تو اس کی کچھ خبر نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ محمدؐ بن عبداللہ ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ اللہ نے ان کو بھیجا ہے اور یہ کہ قیصر و کسریٰ کے خزانے ان کے ہاتھ پر فتح ہو ں گے۔ ساتھ ان کی بیوی خدیجہؓ بنت خویلد ہیںجو آپؐ پر ایمان لے آئی ہیں۔یہ لڑکا ان کا چچا زاد علیؓ بن ابی طالب ہے جو آپؐ پر ایمان لایا ہے۔عفیفؓ کہا کرتے تھے کاش اس وقت میں ایمان لے آتا تو میرا تیسرا نمبر ہوتا۔(بیہقی4)مگریہ سعادت حضرت ابوبکر ؓ کو عطا ہونی تھی۔
    اللہ تعالیٰ اپنے فرستادوں کے حق میں خود تائید ونصرت کی ہوائیں چلاتا اور ان کی تنہائی کے زمانہ کی دعائیں قبول فرماتے ہوئے انہیں مضبوط معاون و مددگار عطا فرماتا ہے۔ اسی زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکرؓ جیسی سعید روح کے دل میں اسلام کی جستجو پیدا کردی اور انہوں نے خود آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعویٰ کی نسبت پوچھا تو آپؐ نے قریبی دوستی کے تعلق کے حوالہ سے ان پر معاملہ کھول دیا۔
    دعوت الی اللہ کا پہلا شیریں پھل
    ابن اسحاق ؓ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکرؓ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو پوچھا کہ اے محمدؐ! قریش کہتے ہیں کہ آپؐ نے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیا اوران کو بے وقوف ٹھہرا کر ان کے باپ دادا کو کافر قرارد یا۔کیا یہ درست ہے؟ رسول اللہ ؐ نے فرمایا ہاں میں اللہ کا رسول اور اس کا نبی ہوں۔ اس نے مجھے بھیجا ہے کہ میں اس کا پیغام پہنچائوں اور اللہ کی طرف حق کے ساتھ دعوت دوں اور خدا کی قسم یہی حق ہے۔اے ابوبکرؓ! میں آپ کو خدائے واحد کی طرف بلاتا ہوں جس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ اس خدا کی اطاعت کی خاطر ہماری دوستی ہونی چاہئے۔پھر حضور ؐ نے کچھ قرآن بھی ابوبکرؓ کو سنایا۔ابوبکرؓ نے اسلام قبول کرلیا اور بتوں سے بیزاری ظاہر کر کے اُنکاانکارکیا ۔ یوں ابوبکرؓ اسلام قبول کر کے لوٹے۔
    حضرت ابوبکرؓ نے رسول اللہ ؐ سے آپؐ کے دعویٰ کے لئے کوئی دلیل نہیں لی۔اسی لئے نبی کریم ؐ فرماتے تھے کہ جسے بھی میں نے اسلام کی طرف دعوت دی، اسے ایک دھچکا سا لگا ۔ اسلام قبول کرنے میں تردّد ہوا اور وہ سوچ میں پڑگیا سوائے ابو بکرؓ کے کہ انہوں نے فوراً میری دعوت قبول کرلی اور ذرہ برابر بھی تردّد نہیں کیا۔(بیہقی5)مولانا روم نے کیا خوب کہا ہے
    لیک آں صدیق حق معجز نخواست
    گفت ایں رو خود نہ گوید غیرراست
    یعنی صدیق اکبرؓ نے رسول اللہؐ سے کوئی معجزہ طلب نہیں کیا یہی کہا کہ یہ چہرہ جھوٹے کا نہیں۔
    اس دوران رسول اللہؐ کے آزاد کردہ غلام حضرت زیدؓ بھی اپنے آقاومولیٰ کا دین قبول کرچکے تھے۔ اب قافلۂ اسلام میں چارافراد ہوچکے تھے۔ اعلانیہ تبلیغ کا سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔
    تبلیغ میں تدریج
    عمرو بن عنبسہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہؐ کی بعثت کے ابتدائی زمانہ میں مکّہ آیا۔ اس وقت رسول اللہ ؐ نے ابھی رسالت کا اعلان عام نہیں فرمایاتھا ۔میں نے آپؐ سے پوچھا کہ آپؐ کیا ہیں؟ آپؐ نے فرمایا میں نبی ہوں۔میں نے پوچھا کہ نبی کیا ہوتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا (بھیجا ہوا) رسول ہوتا ہے۔ میں نے پوچھا کیا اللہ نے آپؐ کو بھیجا ہے۔ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ میں نے کہا کیا تعلیم دے کر بھیجا؟آپؐ نے فرمایا یہ کہ اللہ کی عبادت کی جائے۔ بتوں کو چھوڑا جائے اور رحمی رشتوں کے حق ادا کئے جائیں۔میں نے کہا یہ تو بہت اچھی تعلیم ہے۔اسے کتنے لوگوں نے قبول کیا ہے۔آپؐ نے فرمایا ایک آزاد اور ایک غلام (یعنی ابوبکرؓ اور زیدؓ۔اس جگہ حضورؐ نے صرف گھر سے باہر کے مردوں کا ذکر کیا ہے) گھر کی عورت خدیجہؓ اور بچے علیؓ کا ذکر نہیں فرمایا۔عمروؓ نے اسلام قبول کرلیا ۔وہ کہتے تھے کہ میں گویامَردوں میں چوتھے نمبر پر اسلام قبول کرنے والا تھا۔پھر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہؐ کیا میں یہاں رہ کر آپؐ کی پیروی کروں؟ آپؐ نے فرمایا ’’نہیں تم اپنی قوم میں جاکر اس تعلیم پر عمل کرو۔ البتہ جب تمہیں میرے خروج یعنی ہجرت کا پتہ چلے پھر آکر میری پیروی کرنا۔‘‘(بیہقی)6
    حضرت عمرو بن عنبسہؓ نے نبی کریمؐ کی اس نصیحت پر خوب عمل کیا ۔اپنے علاقہ میں رہ کر اسلام پر قائم رہے۔ہجرت مدینہ کے بعد کے زمانہ میں وہ مدینہ آگئے اور رسول اللہؐ کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔
    ابتدائی زمانے کی تبلیغ میں تدریج کاپہلو نمایاں نظرآتا ہے۔حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی تھیں کہ اول رسول اللہؐ پر وہ سورتیں اتریں جو مفصّل (نسبتاً لمبی سورتیں)کہلاتی ہیں اور جن میں جنت اور دوزخ کا ذکر ہے۔ پھر جب کثرت سے لوگ اسلام میں داخل ہوگئے تو حلال و حرام کے احکام اترے۔ اگر رسول اللہؐ آغازمیں یہ حکم دیتے کہ زنانہ کرو،شراب نہ پیو ،چوری نہ کرو تو لوگ کہتے ہم شراب بھی نہیں چھوڑیں گے، ہم زنابھی نہیں چھوڑیں گے۔(بخاری)7
    آغاز میں صرف اقرار توحید و رسالت کروایا گیا۔ پھر جوں جوں احکام الہٰی اترتے گئے تدریجاً ان کی طرف دعوت دی گئی۔پس نئے لوگوں کو اسلام کی طرف لانے میں تدریج کا اصول کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
    مخفی تبلیغ
    آغاز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مخفی طور پر انفرادی تبلیغ فرماتے رہے، حضرت ابوبکرؓ نے بھی قبول اسلام کے بعد اپنی قوم کے قابل اعتماد افراد تک پیغامِ حق پہنچانے کا سلسلہ شروع کیا اور اس میں کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ پھر چراغ سے چراغ روشن ہونے لگا۔ حضرت ابوبکرؓ کے ذریعہ قریش کے چند نوعمر نوجوان ایمان لے آئے۔ان اسلام قبول کرنے والوں پر آپؓ کی سیرت کی گہری چھاپ نظر آتی ہے جن میں حضرت عثمانؓ بن عفان، حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف، حضرت سعدؓبن ابی وقاصؓ، حضرت زبیرؓ بن العوام اور حضرت طلحہؓ بن عبداللہ شامل ہیں۔جن کو رسول اللہؐ نے ان کی زندگی میں ہی جنت کی بشارت دی تھی۔ان کے علاوہ حضرت بلالؓ اور کچھ اور غلام بھی اس عرصہ میں ایمان لائے۔
    رشتہ داروں سے تبلیغ عام کاآغاز
    تین سال بعد ارشاد ہوا۔ فَاصْدَعْ بِمَاتُؤْ مَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ (سورۃ الحجر :95) کہ جو حکم آپؐ کو دیا جاتا ہے اسے کھول کر سنادیںاور مشرکوں سے اعراض کریں۔ساتھ ہی یہ حکیمانہ ارشادہوا کہ اس کا آغاز اپنے قریبی رشتہ داروں سے کیا جائے۔فرمایاوَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ۔وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ المُؤْمِنِیْنَ (سورۃالشعرائ:215,216)
    ترجمہ:اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کراور ان مومنوں کے لئے اپنا پہلو جھکا دے جنہوں نے تیری پیروی کی ہے۔
    رشتہ داروں کو تبلیغ اور پیغام حق قبول کرنے والوں سے حسن سلوک کا حکم گہری حکمت رکھتا ہے جو ایک پاکیزہ جماعت کے قیام کے لئے نہایت ضروری ہے۔اس حکم کی لفظاً تعمیل کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی دفعہ اپنے رشتہ داروں کا مجمع عام کوہ صفا پر جمع کرنے کی انوکھی ترکیب یہ سوچی کہ علی الصبح صفا پہاڑی پر چڑھ کر اعلان کریں۔عرب دستور کے مطابق کسی اچانک مصیبت پر مدد کے لئے اکٹھا کرنے کا یہی طریق تھا۔چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائل قریش کے نام لیکر انہیں آواز دی کہ اے عبدالمطلب کی اولاد! اے عبدمناف کی اولاد! اے قصی کی اولاد! پھر چھوٹے قبیلوں کے نام لے کر بلایا۔پہلے تو لوگوں نے دیکھا کہ بظاہر کوئی خطرہ نہیں مگر جب دیکھا کہ محمدؐ بلارہے ہیں تو آپؐ کی آواز پر کوہ صفا پر اکٹھے ہوگئے۔جولوگ خود نہیں آسکتے تھے انہوں نے قاصد بھجوایا کہ دیکھیں کیا بات ہے۔نبی کریمؐ نے کوہ صفا سے انہیں یوں مخاطب فرمایا:۔’’میں ایک ہوشیار کرنے والا ہوں۔میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک حملہ آور دشمن کو دیکھا ہو اور اپنے خاندان کو ہوشیار کرنے جائے مگر اسے ڈر بھی ہوکہ وہ اس کی بات نہیں مانیں گے اور وہ چلّا چلّا کر سب کو مدد کے لئے پکارنا شروع کردے۔‘‘
    اس موقع پرنبی کریمؐ نے اپنے بارے میں عزیزواقارب کی رائے بھی حاصل کی اور فرمایا اگر میں تمہیں کہوں کہ اس پہاڑی کے دامن سے ایک لشکر تم پر حملہ آور ہونے کو ہے تو کیا میری تصدیق کروگے؟انہوں نے کہا’’ کیوں نہیں !آپؐ کی بات ضرور مانیں گے کیوں کہ ہمیں آج تک آپؐ سے کبھی جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوا۔ہم نے ہمیشہ آپؐ کو سچا پایا ہے۔‘‘ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ میں تمہیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور اس کے عذاب سے ڈراتا ہوں۔‘‘
    آپؐنے یہ بھی فرمایاکہ مجھے اللہ نے حکم دیا ہے کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو یہ پیغام پہنچائوں۔ پس یاد رکھو کہ میں نہ تو تمہارے لئے دنیا کے کسی فائدہ پر اختیار رکھتا ہوں نہ آخرت میںسے کوئی حصہ دلاسکتا ہوں،سوائے اس کے کہ تم کلمہ توحید لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا اقرار کرلو۔اس موقع پر ابولہب ناراض ہوکر گالیاں دیتا اُٹھ کھڑا ہوا اور مجمع بکھر گیا۔(بخاری)8
    دعوت طعام کے ذریعہ تبلیغ
    حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ جب رشتہ داروں کو انذار کے بارہ میں ارشاد ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میرے دل میں ڈر پیدا ہوا۔ مجھے پتہ تھا کہ میں جب بھی اہل خاندان کو تبلیغ شروع کروں گا تو ان کی طرف سے اچھا رد عمل ظاہر نہیں ہوگا۔ کچھ عرصہ تومیں خاموش رہا اس پر جبریل ؑ نے مجھے آکر کہا کہ اگر آپؐ نے حکم الہٰی کی تعمیل نہ کی تو آپؐ کا رب آپؐ پر بھی گرفت کرے گا۔تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ ایک دعوت طعام کا انتظام کریں جس میں بکری کے پائے کا شوربہ روٹی کے ساتھ پیش کیا جائے اور خاندان بنی مطّلب کے تمام افراد بلائے جائیں تا کہ انہیں پیغام حق پہنچایا جائے۔
    حضرت علی ؓ نے حسب ارشاد یہ انتظام کیا اور خاندان کے کم و بیش چالیس افراد کو دعوت دی جن میں آپؐ کے سارے چچا ابوطالب، حمزہؓ،عباسؓ اور ابولہب بھی شامل تھے۔ حضورؐ نے خود سالن ایک کشادہ برتن میں ڈال کر فرمایا اللہ کا نام لے کر کھائیں ۔اللہ تعالیٰ نے کھانے میں خوب برکت ڈالی اور سب نے سیر ہوکر کھایا۔پھر دودھ پیش کیا گیا اور اس میں بھی اتنی برکت پڑی کہ سب نے سیر ہوکر پیا۔جب رسول کریم ؐبات شروع کرنے لگے تو آپؐ کا چچا ابو لہب پہلے بول پڑا اور کہنے لگا تمہارے ساتھی نے تم پر جادو کردیا ہے۔ اس پر لوگ منتشر ہوگئے۔رسول کریم ؐ اس روز اپنا پیغام پہنچا نہ سکے۔ آپؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ اس دفعہ تو یہ شخص (ابولہب) بات کرنے میں مجھ سے پہل کر گیا ہے۔اب دوبارہ ایک دعوت طعام کا انتظام کرو جس میں چیدہ چیدہ چالیس افراد خاندان ہوں۔
    حضرت علیؓ کہتے ہیں میں نے دوبارہ دعوت کا انتظام کیا۔ جب سب نے کھانا کھالیاتو رسول کریمؐ نے خطاب میں فرمایا’’ اے عبدالمطلب کی اولاد! خدا کی قسم ! کوئی عرب نوجوان اپنی قوم کے لئے اس سے اعلیٰ اور شاندار پیغام نہیں لایا جو میں تمہارے پاس لایا ہوں۔میں تمہارے پاس دنیا وآخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں۔ مجھے میرے رب نے حکم دیا ہے کہ تمہیں اس کی طرف بلائوں۔پس تم میں سے کون اس معاملہ میں میرا مددگار ہوگااور دینی اخوت کا رشتہ میرے ساتھ جوڑے گا؟‘‘سب خاموش تھے۔ایک کم سن حضرت علیؓ اٹھے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے نبیؐ میں حاضر ہوں۔مگر باقی لوگ ہنستے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور چلے گئے۔(طبری)9
    دعوت عام کے حکم کے باوجود مشرکوں سے اعراض کے حکم میں بھی ایک گہری حکمت تھی۔ مقصد یہ تھا کہ جو لوگ شرک پر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں ابتداء ً انہیں نظر انداز کرنا قرین مصلحت ہے۔دوسری حکمت یہ بھی ہوگی کہ مخالفت کا لاوا یکلخت نہ پھوٹے۔ تیسرے اس ارشادمیں یہ پیغام بھی مخفی تھا کہ جن نیک طبائع کوپہلے ہی توحید کی طرف میلان اور شرک سے نفرت ہے پہلے ان سے رابطے کئے جائیں۔
    اسلام کا پہلا دارالتبلیغ دارارقم
    حضرت ارقم ؓبن ارقم نے گیارہویں نمبرپر اسلام قبول کیا۔ ان کا مکان مکہ میں صفا کی پہاڑی پر تھا۔مکہ میں آغاز اسلام میں مسلمانوں کیلئے کسی مرکزی ٹھکانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ حضرت ارقم ؓ نے اپنا یہ گھر پیش کردیاجسے مسلمانوں کا پہلا مرکز بننے کی سعادت ملی۔یہاں نبی کریمؐ ایک عرصہ تک قریش سے مخفی طور پر لوگوں کو اسلام کی طرف بلاتے رہے یہاں تک کہ مسلمانوں کی تعداد چالیس ہوگئی۔ حضرت عمرؓ نے بھی اسلام قبول کرلیا تو اعلانیہ تبلیغ اور عبادت کا سلسلہ شروع ہوا۔(ابن ہشام)10
    جب عام لوگوں کو دعوت حق دینی شروع کی گئی تو کچھ نو عمر اور کمزور لوگ اس پیغام کو قبول کرنے لگے اور یہ تعدادرفتہ رفتہ بڑھنے لگی۔ابتدائی تبلیغ میں مثبت پیغام حق کی حکمت عملی کے پیش نظر اقرارِ توحید اور اللہ کی عبادت کے ساتھ رشتہ داروں سے حسن سلوک کی تعلیم کی طرف بلایا جاتا تھا۔اس لئے اس پر عام قریش کی طرف سے کوئی خاص مزاحمت نہ ہوتی تھی اور متحدہ مخالفت کا ابھی آغاز نہیں ہوا تھا۔البتہ جب نبی کریمؐ قریش کی مجالس کے پاس سے گزرتے تو وہ آپؐ کی طرف اشارہ کر کے کہتے کہ عبدالمطلب کے اس بیٹے پر آسمان سے کلام آتا ہے۔
    اس کے بعد وہ دَور شروع ہوا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی تبلیغ کے ساتھ بت پرستی سے منع فرمایا اور جن معبودوں کی وہ پرستش کرتے تھے، ان کے نقائص اور عیوب کھول کر بیان کرنے شروع کئے تو مشرکین نے رسول اللہؐ کی مخالفت شروع کردی۔اس مخالفت کی دوسری بڑی وجہ سرداروں کو اپنی ریاست کا خطرہ اور قبائل قریش کی باہمی رقابت بھی تھی۔ چنانچہ مکہ کے دانشور ابوجہل نے رسول اللہؐ کے دعویٰ کو حق جاننے کے باوجود صرف اس لئے قبول نہ کیا کہ اس طرح بنو ہاشم بنواُمیّہ سے سبقت لے جائیں گے۔
    سردار مکّہ ابوجہل کو دعوت
    قریبی رشتہ داروں کو دعوت اسلام کے ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْ مَرُ کے حکم کے تابع تبلیغ عام بھی شروع فرمائی۔الہٰی احکامات کے نتیجہ میں آپؐ کا دل بہت مضبوط تھا اور بڑی دلیری اور بہادری سے آپؐ نے یہ فریضہ انجام دیااور بڑے بڑے سرداروں پر بھی اتمام حجت کر کے چھوڑا۔ ابوجہل کو انفرادی طور پر بھی تبلیغ کی کوشش کی۔
    مغیرہ بن شعبہؓ بیان کرتے ہیں کہ میری پہلی ملاقات رسول اللہ ؐ سے اس دن ہوئی جب میں ابوجہل کے ساتھ مکہ کی ایک گلی میں آرہا تھا کہ ہمارا سامنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوگیا۔ رسول اللہؐ نے ابوجہل سے کہا’’اے ابوالحکم! اللہ اور اس کے رسول کی طرف آجائو ۔میں تمہیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ ابوجہل کہنے لگا ’’اے محمدؐ! کیا توہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے باز آئے گا یا نہیں؟اگر توتم یہ چاہتے ہو کہ ہم گواہی دے دیں کہ تو نے پیغام ہم تک پہنچادیا ہے تو ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ تونے پیغام پہنچادیا۔ ورنہ خدا کی قسم! اگر مجھے پتہ چل جائے کہ جودعوی تم کرتے ہو وہ برحق ہے تو پھر بھی میں تمہاری پیروی ہرگز نہ کروں گا۔‘‘ یہ سن کر رسول اللہ ؐ تو تشریف لے گئے۔پھرابوجہل مغیرہ کو مخاطب ہوکر کہنے لگا۔خدا کی قسم! میں جانتا ہوں کہ یہ اپنی بات میں سچا ہے لیکن اس کے جدامجدقُصیّ کی اولاد نے کہا کہ خانہ کعبہ کے غلاف کا انتظام ہمارے پاس ہے تو ہم نے تسلیم کیا۔پھر انہوں نے کہا کہ ندوہ (جرگہ) یعنی مجلس شوریٰ کے انتظام پر بھی ہمارا اختیار ہے توہم کچھ بول نہ سکے۔پھر انہوں نے ہمارے مدمقابل یہ دعویٰ کیاکہ عرب کے جھنڈے کے بھی ہم علمبردار ہیں تو ہمیں تسلیم کرنا پڑا،انہوں نے کہا کہ حاجیوں کوپانی پلانے کی خدمات ہمارے سپرد ہیں تو ہم چپ ہوگئے۔ پھر مقابلہ آگے بڑھا تو کھلانے پلانے اور سخاوت کے میدان میں ہم نے خوب ان کا مقابلہ کیا یہاں تک کہ ہم دونوں قبیلوں کے قافلے باہم مشابہ ہوگئے یعنی ہم ان کی برابر کی ٹکر ہوگئے تو انہوں نے دعویٰ کردیا کہ ہم میں سے نبی ہے۔خدا کی قسم! میں یہ ہرگز نہ ہونے دونگا۔(بیہقی)11
    قریش کی متحدہ مخالفت کا آغاز
    رسول کریمؐ نے جب کھل کر تبلیغ شروع کی اور بت پرستی سے منع کیا اور آپؐ کے ساتھ ایک جماعت اکٹھی ہونی شروع ہوگئی تو قریش کو اپنی سرداری خطرے میں نظر آنے لگی۔ وہ مشورے کرنے لگے کہ کس طرح اس نئے سلسلہ کو روکا جائے۔
    ایک دن ابو جہل نے سردارانِ قریش کی مجلس میں کہا محمدؐ کا معاملہ کچھ بڑھتاہی جارہا ہے۔ تم لوگ کسی ایسے شخص کو تلاش کرو جو جادو، کہانت اور شعر کا علم رکھتا ہو اور وہ ہماری طرف سے جاکر اس سے بات کرکے ہمیں اس کا ردّ عمل بتائے۔اس پر ایک سردار عُتبہ کہنے لگا کہ میں جادو، کہانت اور شعر سب کے بارہ میں کچھ علم رکھتا ہوں اگراس سے متعلق کوئی بات ہے تو میں کافی ہوں۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے محمدؐ! تم بہتر ہو یا ہاشم ، عبدالمطلب اور عبداللہ ؟(جوتمہارے آباء واجداد اور بزرگ تھے)۔ رسول اللہؐ خاموش رہے۔ اس نے پھر کہا آپؐ ہمارے معبودوں کو کیوں برا کہتے اور ہمارے آبائو اجداد کو کیوں گمراہ قرار دیتے ہیں؟اگر آپؐ سرداری کے خواہاں ہیں تو ہم آپؐ کو سردار مان لیتے ہیں۔ اگر کہیں شادی کا ارادہ ہے توقریش کے جس گھر انہ سے کہو دس عورتیں بیاہ کردینے کو تیار ہیں۔ اگر مال چاہئے تو اتنا مال جمع کر کے دیتے ہیںکہ آپؐ اور آپؐ کی اولاد بھی ہمیشہ کے لئے محتاجی سے محفوظ ہوجائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوکر اس کی باتیں سنتے رہے۔ جب وہ سب کہہ چکا تو آپؐ نے سورئہحٰم فُصِّلَتْکی تلاوت فرمائی جس کے آغاز میں ذکر ہے کہ یہ رحمن و رحیم خدا کی طرف سے اترنے والا کلام ہے۔جب آپؐ اس آیت پر پہنچے اَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ (حمٰ السجدہ:14)کہ میں تمہیں اس عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عذاب عاد وثمود کی قوم پر آیا تھا۔ عتبہ نے آپؐ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہنے لگا رحمان خدا کا واسطہ ہے آپؐ مجھے اور نہ ڈرائیں۔ عتبہ اس کلام کی فصاحت و بلاغت سے ایسا مرعوب اور خوفزدہ ہوا کہ وہ واپس سرداروں کے پاس نہیں گیا۔ دیر ہونے پر ابوجہل کہنے لگا کہ لگتا ہے کہ عتبہ (ﷺ) کی طرف مائل ہوگیا ہے۔ بعد میں جب ابوجہل نے اس سے اسبارہ میں پوچھا تو عتبہ نے اسے سارا واقعہ سناکر کہا تمہیں پتہ ہے محمدؐ جب کوئی بات کہہ دے تو وہ کبھی جھوٹی نہیں ہوتی۔میںڈرتا ہوں کہ وہ عذاب جس سے وہ ڈراتا ہے تم پر آہی نہ جائے۔ (ابن ہشام) 12
    مخالفت کے ذریعہ تبلیغ
    الہٰی سلسلوں کی مخالفت کی حیثیت بھی ایسی ہے جیسی کھیتی کے لئے کھاد۔ مشرکین مکہ کی مخالفت کے ذریعہ بھی مکہ کے گرد و نواح میں اسلام کی تبلیغ پہنچنا شروع ہوئی۔اس سلسلہ میں دو واقعات بہت اہم اور دلچسپ ہیں۔
    پہلا واقعہ قبیلہ ازد شنو ٔہ کے سردارضمّاد کا ہے جو بیماروں کا علاج جھاڑ پھونک اور دم سے کیا کرتا تھا۔ جب وہ مکہ آیا تو اس نے بعض مخالفین اسلام کو کہتے سنا کہ محمدؐ تو دیوانہ اور مجنون ہے۔ضمّاد نیک طبع انسان تھا۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ میں اس شخص سے ملتا ہوں۔ شاید اللہ تعالیٰ میرے ہاتھ پر ہی اسے جنون کی بیماری سے شفا عطا فرمادے۔ضمادؓخود بیان کرتے ہیں کہ میں حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ اے محمدؐ! میں دم سے بیماروں کا علاج کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ میرے ہاتھ پر جسے چاہے شفا عطا فرماتا ہے۔ کیا آپؐ مجھ سے علاج کرانا پسند کریں گے؟
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ارشاد فرمانے سے قبل حسب عادت مسنون خطبہ کے تمہید ی کلمات ہی پڑھے تھے(یہ عربی خطبہ، جمعہ وغیرہ میں پڑھا جاتا ہے) کہ انہی کلمات نے ضمادؓ کے دل پر گہرا اثر کیا۔ اس نے کہا آپؐ دوبارہ یہ کلمات مجھے سنائیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پڑھا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہ‘ وَ نَسْتَعِیْنُہ‘ مَنْ یَّھْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَاھَادِیَ لَہ‘ وَاَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہ‘ لَاشَرِیْکَ لَہ‘ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ‘ وَرَسُوْلُہ‘ یعنی تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔ ہم اس کی حمد کرتے اور اس سے مدد کے طالب ہیں ۔جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمدؐ اس کے بندے اور رسول ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضمادؓ کی خواہش پر تین باریہ کلمات اُسے سنائے۔
    ضمّادؓ بظاہر ایک بدوی تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اسے فراست عطا کی تھی۔ جس پیغام کو مکہ کے دانشور ’’ابو الحکم‘‘ نے تکبر کی راہ سے ردّ کر دیا خدا ترس ضمّادؓ نے وہ پاکیزہ کلمات سنتے ہی بے ساختہ عرض کیا’’ میں نے بڑے بڑے کاہنوں جادوگروں اور شاعروں کی مجالس دیکھی اور سنی ہیںمگر آج تک ایسے خوبصورت کلمات کہیں نہیں سنے جن کا اثر سمندرکی گہرائی تک ہے۔آپؐ ہاتھ بڑھائیں میں اسلام پر آپؐ کی بیعت کرتا ہوں۔‘‘ وہ ضمّادؓ جو حکیم اور معالج بن کر آیا تھا اسے رسول اللہؐ کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے روحانی شفا عطافرمائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہ شخص اپنے قبیلہ کا بااثر اور سمجھدار سردار ہے۔ آپؐ نے اس کی بیعت لیتے ہوئے فرمایا کہ کیاتم اپنی قوم کی طرف سے بھی ان کی نمائندگی میں بیعت کرتے ہو کہ انہیں بھی اسلام کی تعلیم پر کاربند کرو گے؟ ضمّادؓنے کمال اعتماد سے اپنی قوم کی نیابت میں عہد بیعت باندھا۔اس غائبانہ عہدبیعت کا بھی مسلمانوں نے اتنا لحاظ کیا کہ بعد کے زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسی مہم پر بھجوائے ہوئے اسلامی دستہ کا گزر ضمّادؓ کی قوم کے پاس سے ہوااورامیر دستہ کا جب اس قوم سے تعارف ہوا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھاکہ ان لوگوں سے کوئی چیز زبردستی تو نہیں لی گئی؟پھر یہ معلوم ہونے پرکہ دوپہر کے کھانے کے لئے کچھ سامان لیا گیا ہے امیر لشکر نے فرمایا’’یہ فوراً واپس کردیا جائے کیونکہ یہ ضمّادؓ کی قوم ہے جس کی طرف سے ان کے سردار نے اسلام قبول کرنے کا اظہار کیا ہوا ہے۔‘‘ (مسلم)13
    مکہ کے نواحی قبائل میں اسلام
    رسول اللہؐ کے دعویٰ کی خبرمخالفت کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ مکہ کے اردگرد کے قبائل میں پہنچنے لگی۔ شریف اور سعادت مند لوگ آپؐ کی دعوت پر توجہ دینے لگے۔ انہیں میں سے ایک سردار اکثم بن صیفی تھے جنہوں نے دعوے کی اطلاع سن کرخود حضورؐ کی خدمت میںحاضر ہونا چاہا مگر ان کی قوم نے اسے روک دیا۔تب انہوں نے اپنے نمائندے حضورؐ کی خدمت میں بھجوائے جنہوں نے آکر آپؐ کے دعویٰ کی بابت پوچھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔پھر انہیں آیت اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ (سورۃالنحل:91) پڑھ کر سنائی۔جو اسلام کی پاکیزہ تعلیم عدل واحسان پر مشتمل ہے۔ انہوںنے بار بارسن کر یہ آیات یاد کرلیں۔ واپس جاکراکثم کو آپؐ کی خاندانی شرافت اور پاکیزہ تعلیم کے بارہ میں بتایا جسے سن کر اکثم کہنے لگا ’’اے میری قوم ! یہ شخص تو نہایت اعلیٰ درجے کے اخلاق کی تعلیم دیتا ہے اور برُی باتوں سے روکتا ہے۔پس تم اسے ماننے میں پہل کرلو۔کہیں پیچھے نہ رہ جائو۔ ‘‘چنانچہ اپنے قبیلہ کے ایک سو افراد ساتھ لے کر وہ حضورؐ سے ملاقات کیلئے روانہ ہوا۔ راستہ میں اس کی وفات ہوگئی۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو رسول اللہؐ پرایمان لانے کی وصیت کی اور انہیں گواہ ٹھہرایا کہ وہ مسلمان ہوچکا ہے۔(ابن الجوزی14) یوں اسلام کا پیغام مکہ کے نواحی قبائل میں نفوذ کرنے لگا۔
    اردگرد کے قبائل میں مخالفت کے ذریعہ پیغام حق
    قبیلہ بنو غفارکے ابو ذرؓ کو بھی اسی طرح اسلام کی اُڑتی ہوئی مخالفانہ خبریں پہنچیں۔ انہوں نے اپنے بھائی کو تحقیق کے لئے بھجوایااور کہا کہ جاکر اس دعویدار نبوت کا کلام سنو جس کے پاس آسمانی خبریں آتی ہیں۔بھائی نے واپس آکر بتایا کہ وہ نبیؐ نہایت عمدہ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے اور اس کا کلام شاعر ی سے مختلف ہے۔ابوذرؓ کی پھر بھی تسلی نہیں ہوئی اور وہ خود کچھ زادراہ لے کر تحقیق کے لئے مکہ آئے۔ پہلے تو بیت اللہ میں آکر رسول اللہؐ کو ڈھونڈتے پھرے، کسی سے پوچھنا پسند نہ کیا۔ رات کو بیت اللہ میں ہی لیٹ گئے۔حضرت علیؓ نے انہیں دیکھ کر بھانپ لیا کہ یہ کوئی اجنبی مسافرہے اور انہیں اپنے ساتھ گھر لے جاکر رات بسر کرنے کا انتظام کردیا۔پھراُن کا یہی معمول ٹھہرگیا کہ دن کو خانہ کعبہ آجاتے اور رات حضرت علیؓ کے گھر بسر کرتے۔ تیسرے دن حضرت علیؓنے پوچھ ہی لیا کہ یہاں کیسے آنا ہوا؟ ابوذرؓ نے صحیح راہنمائی کرنے کا پختہ عہد لے کر اپنا مقصد ظاہر کیا۔ حضرت علی ؓنے انہیں بتایا کہ محمدؐ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ صبح حضرت علی ؓ نے انہیںنہایت خاموشی اور اخفاء کے ساتھ رسول اللہؐ کے پاس پہنچا دیا۔ ابو ذرؓ نے رسول اللہؐ کی گفتگو سن کر اسلام قبول کرلیا۔ نبی کریمؐ نے ان سے فرمایا کہ اپنی قوم کی طرف واپس جائو اور انہیں تبلیغ کرویہاں تک کہ میرا اگلا حکم آپ کو پہنچے۔ ابو ذرؓ کہنے لگے پہلے تو میں مشرکین مکہ کے سامنے قبول اسلام کا اعلان کرونگا۔ چنانچہ بیت اللہ جاکر انہوں نے بآواز بلندپڑھا۔
    اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ واَشْھَدَُاَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰہِ
    یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر کفار مشتعل ہوکر انہیں مارنے کو دوڑے اور مار مار کر ادھ مؤا کردیا۔ اتنے میں حضرت عباس ؓ آگئے۔ انہوں نے قریش سے کہا۔ تمہیں پتہ ہے کہ یہ غفار قبیلہ کا آدمی ہے جو تمہارے شام کے تجارتی رستہ پر آباد ہے۔ اس طرح انہوں نے ابو ذرؓ کو کفار کے چُنگل سے چھڑایا۔مگر اگلے دن پھر ابوذرؓ نے اسی طرح کلمہ توحید و رسالت کی منادی کی اور پھر مار کھائی اور حضرت عباسؓ نے چھڑایا۔(بخاری)15
    سردار قبیلہ دوس کا قبول اسلام
    دوسراقابل ذکر واقعہ قبیلہ دوس کے سردار طفیلؓ بن عمرو کا ہے جنہوں نے رسول اللہؐ کی بالواسطہ تبلیغ کی بجائے قریش کی مخالفت کے نتیجے میں اسلام قبول کرنے کی سعادت پائی۔طفیلؓ بن عمرو ایک معزز انسان اور عقل مند شاعر تھے جب وہ مکہ میں آئے تو قریش کے بعض لوگوں نے ان سے کہا ’’آپ ہمارے شہر میں آئے ہیں اس شخص(محمدؐ) نے عجیب فتنہ برپا کر رکھا ہے۔اس نے ہماری جمعیت کو منتشر کردیا ہے۔وہ بڑا جادو بیان ہے۔باپ بیٹے ، بھائی بھائی اور میاں بیوی کے درمیان اس نے جدائی ڈال دی ہے۔ ہمارے ساتھ جوبِیت رہی ہے، وہی خطرہ ہمیں تمہاری قوم کے بارہ میں بھی ہے۔پس ہمارا مشورہ یہ ہے کہ اس شخص سے ہوشیار رہنا اور اس کا کلام تک نہ سننا۔‘‘طفیلؓ کہتے ہیں کہ کفار مکہّ نے مجھے اتنی تاکید کی کہ میں نے عزم کرلیا کہ اس شخص کی کوئی بات سنو ںگا نہ اس سے کلام کروں گا ۔یہاں تک کہ بیت اللہ جاتے ہوئے میں نے کانوں میں روئی ٹھونس لی تاکہ غیر ارادی طور پر بھی اس شخص کی کوئی بات میرے کان میں نہ پڑ جائے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں ان کے قریب جاکر کھڑ اہوگیا۔آپؐ کی تلاوت کے چند الفاظ کے سوا میں کچھ بھی نہ سن سکا۔مگر جو سنا وہ مجھے اچھا کلام محسوس ہوا۔ میں نے اپنے دل میں کہا’’ میرا برُ ا ہو۔میں ایک دانا شاعر ہوں۔ بُرے بھلے کو خوب جانتا ہوں،آخر اس شخص کی کوئی بات سننے میں حرج کیا ہے؟ اگر تو اچھی بات ہوگی تو میں اسے قبول کرلوں گا اور بری ہوئی تو چھوڑ دوں گا۔‘‘
    کچھ دیر انتظارکے بعد جب رسول اللہؐ گھر تشریف لے گئے تو میں آپؐ کے پیچھے ہو لیا۔میں نے کہا ’’اے محمدؐ! آپؐ کی قوم نے مجھے آپؐ کے بارے میں یہ یہ کہا ہے۔ خدا کی قسم! انہوں نے مجھے آپؐ کے بارے میں اتنا ڈرایا کہ میں نے روئی اپنے کانوں میں ٹھونس لی تاکہ آپؐ کی بات نہ سن سکوں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے آپؐ کا کچھ کلام سنا دیا اور جومیں نے سنا وہ عمدہ کلام ہے۔آپؐ خود مجھے اپنے دعویٰ کے بارہ میں کچھ بتائیں۔‘‘
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسلام کے بارہ میں بتایا اور قرآن شریف بھی پڑھ کر سنایا۔خدا کی قسم! میں نے اس سے خوبصورت کلام اور اس سے زیادہ صاف اور سیدھی بات کوئی نہیں دیکھی۔ چنانچہ میں نے اسلام قبول کرلیا اور حق کی گواہی دی اور عرض کیا کہ اے اللہ کے نبیؐ ! میں اپنی قوم کا سردار ہوں اور لوگ میری بات مانتے ہیں۔ میرا ارادہ واپس جاکر اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلانے کا ہے۔ آپؐ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان کے مقابل کوئی تائیدی نشان عطا کرے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت دعا کی کہ اے اللہ ! اسے کوئی نشان عطاکر۔پھر میں اپنی قوم کی طرف لوٹا۔ جب میں اس گھاٹی پر پہنچا جہاں سے آبادی کا آغاز ہوتا ہے تو میری آنکھوں کے درمیان پیشانی پر ایک چراغ جیسی روشنی محسوس ہونے لگی۔میں نے دعا کی کہ اے اللہ یہ نشان میرے چہرے کے علاوہ کہیں اور ظاہر فرما دے۔ کہیں الٹایہ لوگ اعتراض نہ کریں کہ اپنے دین کو چھوڑنے کی وجہ سے اس کا چہرہ مسخ ہوگیا ہے۔چنانچہ روشنی کا نشان میری چابُک کے سرے پر ظاہر ہوگیا۔ جب میں گھاٹی سے اتر رہا تھا لوگ میری اس روشنی کو میری چابُک پر ایک لٹکتے چراغ کی طرح دیکھ رہے تھے۔
    اگلے دن میرے بوڑھے والد مجھے ملنے آئے تو میں نے کہا اباّجان! آج سے میراآپ کاتعلق ختم۔ والد نے سبب پوچھا ۔میں نے بتایا کہ میں تو اسلام قبول کر کے محمدؐ کی بیعت کرچکا ہوں۔ والد کہنے لگے پھر میرا بھی وہی دین ہے جو تمہارا ہے۔ میں نے کہا ۔ آپ جاکر غسل کر کے صاف کپڑے پہن کر تشریف لائیں تاکہ میں آپ کو اسلامی تعلیم کے بارہ میں کچھ بتائوں۔ انہوں نے ایساہی کیا۔میں نے انہیں اسلام کی تعلیم سے آگاہ کیا اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔
    پھر میری بیوی میرے پاس آئی اسے بھی میں نے کہا کہ آپ مجھ سے جدا رہو۔ میرا تم سے کوئی تعلق نہیں رہا۔وہ کہنے لگی میرے ماں باپ تم پر قربان یہ کیوں؟ میں نے کہا تمہارے اور میرے درمیان اسلام نے فرق ڈال دیا ہے۔ چنانچہ اس نے بھی اسلام قبول کرلیا۔اس کے بعد میں نے اپنے قبیلہ دوس کو اسلام کی طرف دعوت دی مگر انہوں نے میری دعوت پر توجہ نہ کی۔ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مکہ حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی ؐدوس قبیلہ کے لوگ اسلام قبول نہیں کرتے آپؐ ان کے خلاف بددعا کریں۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی کہ اے اللہ! دوس قبیلہ کو ہدایت عطافرما اوراے اللہ ان کو ہدایت دے او ران کو لے کر آ۔میں نے عرض کیایارسولؐ اللہ میرا مقصد یہ تو نہیں تھا کہ ان کے حق میں دعا کریں۔ رسول کریمؐ نے کیا پُرحکمت جواب دیا فرمایا اس قوم میں تمہارے جیسے کئی لوگ موجود ہیں۔ اس طرح طفیل ؓکو سمجھایا کہ جس طرح خود آپ کو آغاز میں سخت تعصب کے باوجود بالآخر طبعی سعادت اور حق سے رغبت اسلام کی طرف کھینچ لائی۔ اس طرح کئی ایسے لوگ ہیں جن تک پہنچ کر حکمت اور نرمی سے پیغام حق پہنچانا اور اتمام حجت کرنا ضروری ہے۔
    امرواقعہ بھی یہی ہے کہ حضرت طفیلؓ نے جس طرح اپنے والد اور بیوی کو جدائی اور علیحدگی کی دھمکی دے کر بالآخراسلام کی طر ف مائل کرلیا تھا آپؐ کی قوم محض اپنے سردا رکے لحاظ میں بت پرستی کا ظلم وفساد بدکرداری اور سود خوری وغیرہ ترک کرنے کے لئے فوراً تیار نہ ہوئی۔ تبھی نبی کریمؐ نے حضرت طفیلؓ کو توجہ دلائی کہ آپ واپس جاکر نرمی اور محبت سے پیغام حق پہنچائیں۔
    چنانچہ جب طفیلؓ بن عمروؓنے جاکر اس نصیحت کے مطابق مسلسل دعوت الی اللہ کی توکئی لوگوںکو قبول حق کی توفیق ملی۔ ان میں جندبؓ بن عمر بھی تھے جو جاہلیت میں ہی کہا کرتے تھے کہ میں سمجھتا ہوں کہ مخلوق کا کوئی خالق تو ضرور ہے۔ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کون ہے اور کہاں ہے۔ جندبؓ نے جب اسلام کا پیغام سنا تو پچھتر75افراد کو لے کر رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سب نے اسلام قبول کیا۔(ابن حجر)16
    خود حضرت طفیل ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ کی نصیحت کے مطابق میں نے اپنے قبیلہ میں جاکر مسلسل دعوت الی اللہ کا فریضہ ادا کیا اور سات سال کے قلیل عرصہ میں میرے ذریعہ دوس کے ستر اسی گھرانے مسلمان ہوکر مدینہ آبسے۔(ابن سعد)17
    رئویا کے ذریعہ قبول حق
    مخالفت شروع ہونے پر رسول اللہؐ کی اللہ تعالیٰ کے دربار میں آہ و زاری اور نصرت طلب کرنا طبعی امر تھا۔ آپؐ دن رات خدا کے حضور اپنی قوم کی ہدایت کی دعائیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سعید روحوں کے دلوں میں الہام کرکے آپؐ کے حق میں تحریک پیدا کی اور انہیں اسلام کی حقانیت کی طرف مائل کیا۔ چنانچہ خالدؓ بن سعیدکا قبول اسلام اس کی مثال ہے۔جو ایک رؤیاکے ذریعہ اپنے بھائیوں میں سے سب سے پہلے مسلمان ہوئے۔
    خالدؓ نے خواب میں دیکھا کہ انہیںآگ کے ایک گڑھے کے کنارے کھڑا کیا گیا ہے جو بہت وسیع ہے اور اس کا والد ان کو اس میں دھکا دے کر گرانے کی کوشش کرتا ہے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کمر کے پٹکے سے پکڑ کر پیچھے ہٹا لیتے ہیں۔ وہ اپنے اس خواب سے بہت ڈر گئے اور کہنے لگے کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ سچی خواب ہے۔ وہ ابوبکر ؓ سے ملے تو ان سے اس خواب کا ذکر کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ یہ تو بہت نیک اور مبارک خواب ہے۔ تعبیر یہ ہے کہ تم رسول اللہؐ کی پیروی کرتے ہوئے اسلام قبول کرلوگے، تمہاری خواب سے لگتا ہے کہ تم ضرور ایسا کروگے۔ اسلام تمہیںآگ کے گڑھے سے بچالے گا مگر تمہارا باپ اسی گڑھے میں جا پڑے گا۔پھر خالدؓ اجیا د مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپؐ سے پوچھا کہ آپؐ کس بات کی طرف بلاتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا میں اللہ کی توحید کی طرف بلاتا ہوں کہ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں اور محمدؐ اللہ کا بندہ اور رسول ہے۔ نیزیہ کہ تم پتھر کے بتوں کی پرستش سے باز آئو جو سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں، نہ کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع ، نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ کون ان کی پرستش کرتا ہے اور کون نہیں کرتا؟خالدؓ یہ سن کر کہنے لگے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر رسول اللہؐ کو بہت خوشی ہوئی ۔ خالدؓ اس کے بعد اپنے عزیز واقارب سے رُو پوش ہوگئے۔ ان کے والد کو ان کے قبول اسلام کا پتہ چلا تو بعض لوگوں کو ان کی تلاش میں بھیجاجو انہیں پکڑ کرباپ کے پاس لے آئے۔ باپ نے پہلے تو ڈانٹا ڈپٹا، پھر ایک سونٹے سے اتنا ماراکہ سونٹا ٹوٹ گیا مگر خالد ؓ کی استقامت میں فرق نہ آیا۔تب والد نے خدا کی قسم کھاکر کہا میں تمہارانان ونفقہ بند کردوں گا۔ خالدؓ نے کہابے شک آپ میرا خرچ بند کردیں اللہ مجھے رزق دے گا۔ پھرخالدؓ رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپؐ کے سچے غلاموںمیں شامل ہوگئے۔(احمد) 18
    قریش کا پہلا وفد
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلانیہ تبلیغ کے مثبت اثرات دیکھ کر قریش کے بعض شرفأ اور سردار ابوطالب سے ملے اور کہا کہ آپ کا بھتیجا ہمارے دین کو قابلِ اعتراض ،ہمیں بے عقل اور ہمارے آباء واجداد کو گمراہ قرارد یتا ہے۔ یا تو اسے ان باتوں سے روکیں یا اس کا ساتھ چھوڑ دیں تاکہ ہم خود اس سے نبٹ لیں۔ابو طالب نے ان سے نرمی سے بات کی اور انہیں سمجھابجھا کر واپس کردیا۔
    دوسرا وفد
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کام جاری رکھایہاں تک کہ قریش میں آپؐ کا زیادہ چرچا ہونے لگا تو قریش کا دوسرا وفدابوطالب کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا آپ ہمارے بزرگ ہیں اور قدرو منزلت رکھتے ہیں۔ ہم نے آپ سے اپنے بھتیجے کو روکنے کے لئے کہا مگر آپ نے ہماری بات نہیں مانی اب ہم اس حالت پر صبر نہیں کرسکتے۔آپ یا تواسے اپنے دین کی تبلیغ اور ہمارے معبودوںکی مخالفت سے روکیں یاپھر ہم آپؐ کے ساتھ اُس وقت تک مقابلہ کریں گے جب تک کہ ایک فریق ہلاک ہوجائے۔
    ابوطالب کے لئے اب نہایت نازک موقع تھا۔ وہ سخت ڈرگئے۔ اُسی وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا ۔جب آپؐ آئے تو اُن سے کہا کہ’’اے میرے بھتیجے! اب تیری باتوں کی وجہ سے قوم سخت مشتعل ہو گئی ہے اور قریب ہے کہ تجھے ہلاک کردیںاور ساتھ ہی مجھے بھی۔ تو نے ان کے عقلمندوں کوسفیہ(کم عقل) قرار دیا۔اُن کے بزرگوں کو شَرُّ الْبَرِیَّۃ کہا۔ان کے قابل تعظیم معبودوں کا نام ہیزم جہنم اور ’’وقودالنّار‘‘ رکھا اور خود انہیں رجس اور پلید ٹھہرایا۔ میں تجھے خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ اس دشنام دہی سے اپنی زبان کو تھام لو اور اس کام سے بازآجائو، ورنہ میں تمام قوم کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔‘‘
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا کہ اب ابو طالب کا پائے ثبات بھی لغزش میں ہے اور دنیاوی اسباب میں سے سب سے بڑا سہارا مخالفت کے بوجھ کے نیچے دب کر ٹوٹا چاہتا ہے مگر آپؐ کے ماتھے پر بل تک نہ تھا۔نہایت اطمینان سے فرمایا۔
    ’’چچا یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو وہ کام ہے جس کے واسطے میں بھیجا گیا ہوں کہ لوگوں کی خرابیاں اُن پر ظاہر کر کے اُنہیں سیدھے رستے کی طرف بلائوں اور اگر اس راہ میں مجھے مرنا درپیش ہے تو میں بخوشی اپنے لئے اس موت کو قبول کرتا ہوں۔میری زندگی اس راہ میں وقف ہے اور میں موت کے ڈر سے اظہار حق سے رُک نہیں سکتا اور اے چچا! اگرآپ کو اپنی کمزوری اور تکلیف کا خیال ہے تو آپ بیشک مجھے اپنی پناہ میں رکھنے سے دستبردار ہوجائیںمگر میں احکام الہٰی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رُکوں گااور خدا کی قسم! اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند بھی لاکر دے دیں تب بھی میں اپنے فرض سے باز نہیں رہوں گا اور میں اپنے کام میں لگا رہوں گاحتّٰی کہ خدا اسے پورا کرے یا میں اس کوشش میں ہلاک ہوجائوں۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر فرمارہے تھے اور آپؐ کے چہرہ پر سچائی اور نورانیت سے بھری ہوئی رقت نمایاں تھی اور جب آپؐ تقریر ختم کرچکے تو آپؐ یکلخت چل پڑے اور وہاں سے رخصت ہونا چاہا مگر ابو طالب نے پیچھے سے آواز دی۔جب آپؐ لوٹے تو آپؐ نے دیکھا کہ ابو طالب کے آنسو جاری تھے۔ اُس وقت ابوطالب نے بڑی رقت کی آواز میں آپؐ سے مخاطب ہوکر کہا۔ ’’اے بھتیجے جا اور اپنے کام میں لگا رہ جب تک میں زندہ ہوں اور جہاں تک میری طاقت ہے میں تیرا ساتھ دُوں گا۔‘‘(ابن ہشام)19
    تکالیف کی انتہاء
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت الی اللہ کی راہ میں بہت دکھ اور اذیتیں اٹھائیں۔ ایک دفعہ آپؐ گھر سے نکلے ۔راستہ میں جو بھی آپؐ کو ملا خواہ وہ کوئی آزاد تھا یا غلام اس نے آپؐ کی تکذیب کی اور جھٹلایا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس لوٹ آئے اور جو تکلیف آپؐ کو پہنچی تھی اس کی وجہ سے کمبل اوڑھ کر بیٹھ رہے (قوم سے ناامید ہوکر سوچتے ہوں گے کیا کریں) کہ وحی الہٰی ہوئی اے کمبل اوڑھے ہوئے! کھڑے ہوجائو اور انذار کرتے چلے جائو۔ (ابن ہشام)20
    ممالک بیرون میں دعوت الی اللہ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ عام کے بعد سے آپؐ اور آپؐ کے صحابہؓ کے خلاف مکہ میں ایک طوفان بدتمیزی برپا ہوچکاتھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذاتی طور پر ابو طالب کی وجہ سے بھی کسی قدر امن حاصل تھامگر دیگر عام مسلمانوں کی قبول اسلام کے باعث سخت تکالیف دیکھ کر اور ان کی مدد کی طاقت نہ پاکر نبی کریم ؐسخت مغموم ہوتے تھے۔ سوچ بچار کے بعد آپؐ نے صحابہؓ کو مشورہ دیا کہ وہ پڑوسی ملک حبشہ جاکر پناہ لیںجہاںعیسائی بادشاہ بہت عادل ہے اور کسی پر ظلم نہیں ہونے دیتا۔ چنانچہ مسلمانوں کے مردوزن پرمشتمل دو وفودپہلے بارہ اور پھر اسّی اصحاب حبشہ ہجرت کر گئے۔قریش نے وہاں بھی مسلمانوں کا تعاقب جاری رکھا اورنجاشی اور اس کے سرداروں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا۔عادل نجاشی نے اپنے دربار میں مسلمانوں کو بلا کر ان کا موقف سنا۔ حضرت جعفر طیارؓ نے مسلمانوں کے نمائندے کے طور پر سورۃ مریم کی تلاوت کر کے اسلام کی تعلیم پیش کی۔بادشاہ پر اس کابہت گہرا اثر ہوا اور وہ بھی بالآخر مسلمان ہوگیا۔(احمد)21
    مظلومیت کا پھل…حمزہؓ
    خدا کی راہ میں ان تکالیف اور اذیتوں کے نتیجہ میں شرفاء میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ہمدردی اور نرم گوشہ پیدا ہونا ایک طبعی بات تھی۔ حضرت حمزہؓ کا قبول اسلام بھی تومظلومیت پر صبر کا میٹھا پھل تھا۔واقعہ یوں ہوا کہ ابوجہل کو ہ صفا کے قریب رسول اللہؐ کے پاس سے گزرا تو آپؐ کو اذیت پہنچائی گالیاں بکیں، آپؐ کے دین پر نامناسب اور مکروہ حملے کئے اور کمزوری کے طعنے دیئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہایت صبر اورخاموشی سے سنتے رہے۔
    عبداللہ بن جدعان کی ایک لونڈی اپنے گھر میں یہ سب کچھ سن رہی تھی۔ابو جہل وہاں سے خانہ کعبہ جاکر سردارانِ قریش کی مجلس میں بیٹھ گیا۔ادھر حمزہ کمان حمائل کئے شکار سے واپس لوٹے۔ ان کا دستور تھا کہ شکار سے واپس آکر گھر جانے سے قبل پہلے طواف کرتے تھے۔ اس دوران سردارانِ قریش سے دعا سلام کرنا بھی ان کا معمول تھا۔وہ خود معزز سرداروں میں سے تھے۔ جب آپ اس لونڈی کے پاس سے گزرے اس وقت تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس گھر تشریف لے جاچکے تھے۔لونڈی کے دل پرآنحضرتؐ کی مظلومیت کا گہرا اثر تھا جس کا اظہار اس نے سردار حمزہ سے یہ کہہ کرکیا کہ اے ابو عمارہ! آپ کے بھتیجے کو ابھی تھوڑی دیر پہلے ابوالحکم نے جو اذیت پہنچائی ہے کاش آپ وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھتے۔اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں بیٹھے دیکھا تو آپؐ کو سخت دکھ دیاا ور گالیاں دیتے ہوئے بری اور ناپسندیدہ باتیں کہیں مگر محمدؐ خاموشی سے چلے گئے اور آگے سے کوئی جواب تک نہیں دیا۔
    سردار حمزہؓ کی طبعی غیرت نے جوش مارا۔وہ طیش میں آکر خانہ کعبہ کی مجلس میں گئے جہاں ابوجہل بیٹھا تھا اور اس کے سر پر زور سے کمان دے ماری۔ اس کا سربری طرح زخمی کردیا اور جوش میںآکر کہا کہ کیا تم میرے بھتیجے کو گالیاں دیتے ہو؟ تمہیں پتہ ہے کہ میں بھی اس کے دین پر ہوں۔ اگر طاقت ہے تو آئو اور میرے ساتھ مقابلہ کرو۔تب ابوجہل کے قبیلہ مخزوم کے کچھ لوگ اس کی مدد کے لئے کھڑے ہوئے مگر ابوجہل نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ واقعی میں نے اس کے بھتیجے کو سخت بری گالیاں دی تھیںتم لوگ اسے کچھ نہ کہو۔
    ادھر حضرت حمزہ ؓ نے رسول اللہ ؐکی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیا۔حضرت حمزہؓ کے قبول اسلام کے بعد قریش نے محسوس کیا کہ اب رسول اللہؐ کا معاملہ مضبوط ہوگیا ہے اور حمزہؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدافعت کریں گے۔ چنانچہ قریش کی ایذار سانیوں میں کچھ کمی واقع ہوگئی۔(ابن ہشام)22
    معاندین اسلام کے لئے دعا
    دعوت الی اللہ کا پہلا اور آخری حربہ تو دعا ہی ہے۔آغاز اسلام میں سرداران قریش کی سخت مخالفت دیکھ کررسول کریمؐ کو کمال حکمت اور دانشمندی سے مکہ کے دو طاقتور اور بہادر سرداروں کے قبول اسلام کے لئے بطور خاص دعا کی طرف توجہ ہوئی تاکہ ان کے قبول اسلام سے کفر کی طاقت ٹوٹے اور اسلام مضبوط ہو۔ آپؐ نے دعا کی کہ اے اللہ ! ان دواشخاص عمرو بن ہشام اور عمر ؓبن الخطاب میں سے کسی ایک کے ساتھ جو تجھے زیادہ پسند ہو اسلام کو عزت اور قوت نصیب فرما۔(ترمذی23)اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بہت جلد قبول کی اور حضرت عمرؓ کو قبول اسلام کی سعادت عطا ہوئی۔ حضرت عمرؓ کا قبول اسلام بھی مسلمانوں کی مظلومیت کی برکت تھی۔ہجرت حبشہ مسلمانوں کے لئے شرفاء اہل مکہ کے دل میں نرم گوشہ پیدا کرنے کا باعث ہوئی تھی۔ عمرؓبن خطاب اگرچہ آغاز میں اسلام کے ان شدید معاندین میں سے تھے جو مسلمانوں پر مظالم ڈھاتے تھے لیکن ایک قریشی گھرانے کو ہجرت حبشہ کے لئے رخت سفرباندھے دیکھ کر ان کا دل بھی بھر آیا تھا۔ حضرت عمرؓ کی اپنی ایک روایت کے مطابق قبول اسلام سے پہلے ایک اور موقع پر انہوں نے رات کے وقت رسول اللہؐ کو خانہ کعبہ میں نماز میں قرآن پڑھتے سنا تو دل پسیج گیا۔ یہ سب عوامل دراصل عمرؓ کے حق میںرسول اللہؐ کی دعا کا نتیجہ تھے۔
    عمرؓ سے پہلے ان کی بہن فاطمہؓ اور بہنوئی سعیدؓ بن زید اسلام قبول کرچکے تھے مگر عمرؓ کی جابرانہ طبع کے باعث ابھی اس کا اعلان نہیں کیا تھا۔ایک دن عمرؓبن خطاب گھر سے تلوار سونتے نکلے ،راستہ میں اپنی قوم کے ایک شخص نُعیم سے ملے جو مخفی طور پر اسلام قبول کرچکا تھا۔ عمرؓ نے اسے بتایا کہ وہ محمدؐ کے قتل کے ارادہ سے نکلے ہیں تاکہ اس نئے دین کے فتنہ کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہوجائے۔نعیم نے کہا کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر تم محمدؐ کو قتل کردوگے تو اس کا قبیلہ تمہیں چھوڑ دے گا؟ دوسرے پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو تمہارا بہنوئی اور بہن مسلمان ہوچکے ہیں۔ عمرؓ سیدھے بہن کے گھر پہنچے توقرآن پڑھنے کی آواز سنائی دی۔ حضرت خبابؓ وہاں قرآن پڑھ رہے تھے جو عمرؓ کو دیکھ کر چھپ گئے۔ عمرؓنے پوچھا کہ یہ آواز کیسی تھی؟ پھر کہا مجھے پتہ چلا ہے تم لوگ مسلمان ہوچکے ہو۔ یہ کہہ کر انہوں نے سعیدؓ بن زیدکو پکڑلیا۔بہن اپنے شوہر کو چھڑانے کے لئے اٹھیں تو عمرؓ نے ان کو بھی مارا اور ان کا سر پھٹ گیا۔تب دونوں نے حضرت عمرؓ سے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ مسلمان ہوچکے ہیںآپ جو چاہیںکرلیں۔عمرؓ پہلے ہی بہن کو خون آلود دیکھ کر نادم ہورہے تھے۔کہنے لگے اچھا جو تم پڑھ رہے تھے مجھے دکھائو تو سہی۔ بہن نے کہا یہ پاک کلام ہے آپ پہلے نہاکرپاک صاف ہوجائیں۔اس میں حکمت یہ تھی کہ ان کا جوش ٹھنڈا ہوجائے۔ عمرؓ نے غسل کے بعد سورۃ طٰہٰ کی ابتدائی آیات پڑھیں تو بے اختیار کہہ اٹھے۔کتنا خوبصورت اور قابل عزت یہ کلام ہے۔ حضرت خباب ؓیہ سن کر باہر نکل آئے اور کہنے لگے کہ اے عمرؓ! مجھے لگتا ہے کہ خدا نے آپ کو اپنے نبی کی دعا کے لئے خاص کرلیا ہے ۔کل ہی میں نے حضورؐ کو دعا کرتے سنا ہے کہ اے اللہ! اسلام کی تائید عمروؓبن ہشام یا عمرؓ بن الخطاب کے ذریعہ فرما۔پس اے عمرؓ اللہ سے ڈرو۔عمرؓ نے کہا کہ مجھے محمدؐ کا پتہ دو تاکہ میں اسلام قبول کروں۔ خبابؓ نے بتایا کہ حضورؐ صفا میں ہیں۔عمرؓ وہی تلوار لئے سیدھے دارِارقم پہنچے اور جادروازہ کھٹکھٹایا۔ایک صحابی نے دروازے کے سوراخ سے حضرت عمرؓ کو تلوار سے مسلّح دیکھا اور گھبرا کر رسول اللہؐ کو اطلاع کی۔ حضرت حمزہؓ نے کہا ’’آنے دو۔اگر اس کا ارادہ نیک ہے تو ٹھیک ورنہ اسی کی تلوار سے اسے ٹھکانے لگادیں گے۔‘‘
    رسول اللہؐ نے عمرؓکو دامن سے پکڑ کر جھٹکا دیااور فرمایا۔ عمرؓکیسے آئے ہو؟ حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کی غرض سے حاضر ہوا ہوں۔ اس پر رسول اللہؐ نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔(ابن ہشام وبخاری)24
    کُشتی کے اکھاڑے میںدعوت الی اللہ
    رسول کریمؐ نے ہر کس و ناکس کو پیغام حق پہنچایا،ان میں مکہ کا پہلوان رکانہ بھی تھا۔آپ ؐنے اُسے اسلام کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا ’’کیا تم اللہ سے نہیں ڈرو گے اور جس پیغام کی طرف بلاتا ہوں اُسے قبول نہیں کرو گے۔‘‘ اُس نے کہا’’اگر مجھے یقین ہوجائے کہ آپ ؐ کا دعویٰ سچا ہے تو میں آپؐ پر ایمان لے آئوں گا۔آپ ؐنے فرمایا’’اگر میں کشتی میں تمہیں پچھاڑ دوں تو میرے دعوی کی سچائی کا یقین کرلو گے۔‘‘اُس نے اثبات میں جواب دیا تو آپؐ نے اُسے کشتی میں مقابلہ کی دعوت دے دی ۔اس نے یہ دعوت قبول کرلی۔نبی کریمؐ نے اس بہادر پہلوان کو پچھاڑ دیا۔اس نے دوبارہ اور سہ بارہ مقابلہ کی خواہش کی ہر دفعہ نبی کریمؐ نے اسے پچھاڑ دیا۔وہ کہنے لگا کہ میں حیران ہوں کہ آپؐنے مجھے کیسے گرالیا ہے؟ یہی واقعہ رکانہؓ کے قبول اسلام کا موجب بن گیا۔(مصطفی البابی،بخاری)25
    تبلیغ کی راہ میں مصائب
    مکہ میں تبلیغ عام کے زمانہ میں نبی کریمؐ اور آپؐ کے صحابہؓ کوجو تکالیف اور اذیتیں برداشت کرنی پڑیں وہ ایک درد ناک اور المناک باب ہے۔اس دور کے صحابہؓ بلکہ خود نبی کریمؐ نے بھی وہ کربناک یادیں بہت کم بیان کی ہیں۔(ان مصائب کا تفصیلی ذکر صبرو استقامت کے زیر عنوان الگ آچکا ہے)
    نبی کریمؐ خود فرماتے تھے خدا کی راہ میں مجھے اتنی ایذاء پہنچائی گئی کہ کبھی کسی کواتنی ایذاء نہیں دی گئی اور مجھے اللہ کی راہ میں اتنا ڈرایا گیاکہ کبھی کسی شخص کو اتنا خوفزدہ نہیں کیا گیا۔میرے پر تین تین دن اور راتیں ایسی آئیں کہ میرے اور میرے اہل و عیال کے لئے کھانے کی کوئی ایسی چیز موجود نہ ہوتی تھی جسے کوئی ذی روح کھاسکے سوائے اس معمولی کھانے یا کھجوروں کے جو بلال اپنی بغل میں دبائے پھرتا تھا۔(احمد)26
    شعبِ ابی طالب کے زمانۂ قیدوبند میں تبلیغی ِحکمت عملی
    ہجرت حبشہ کے بعد جب قریش نے دیکھا کہ مسلمانوں کے پائوں حبشہ میں جم گئے ہیں اور شاہ حبشہ نے انہیں پناہ دی ہے اور اِدھر مکہ میں عمرؓ اور حمزہؓ جیسے جرأت مند سردار اسلام کے آغوش میں آچکے ہیں۔ اسلام پھیل رہا ہے اور ابوطالب اور ان کا قبیلہ بھی محمدؐ کا حامی ہے۔تب انہوں نے متحدہ مخالفت کاآغاز کیااور محرم ۷ سالِ نبوت میں مسلمانوں کے خلاف مکمل بائیکاٹ کرنے کا معاہدہ کرکے انہیں ایک گھاٹی میں محصور کردیا۔مسلمانوں کے حامی بنو ہاشم اور بنومطلب کے اکثر افراد خواہ مسلمان تھے یا کافروہ بھی ساتھ محصور ہوگئے۔
    قریش نے فیصلہ کیا کہ جب تک محمدؐ کو ہمارے حوالہ نہ کیا جائے مسلمانوں اور ان کے حامیوں کے ساتھ شادی بیاہ ہوگا نہ خرید و فروخت۔ حتّٰی کہ ان کے ساتھ لین دین اور میل ملاپ بھی بند کر کے مکمل بائیکاٹ کردیا گیا۔بغرض توثیق مزیدیہ معاہدہ خانہ کعبہ میں آویزاں کردیاگیا۔(ابن ہشام)27
    شعب ابی طالب کے زمانہ میں مسلمانوں کے روابط محدود ہوکر رہ گئے تھے۔ان کا ایک رابطہ توبنو ہاشم اور بنو مطلب کے ان افراد سے تھا جو قبائلی حمیت و غیرت کی خاطر مسلمانوں کے ساتھ گھاٹی میں محصور ہوئے۔جبکہ ابو لہب وغیرہ بعض معاندین ِ اسلام نے محصور ہونے کی بجائے کفار کا ساتھ دینا پسند کیا تھا۔ بنوہاشم کے غیر مسلم مگر مسلمانوں کے ہمدرد اوربہی خواہ محصور افراد پرمسلمانوں کے حسن سلوک کانیک اثر ہونا ایک طبعی بات تھی۔ مزید برآں مظلومیت کے اس زمانہ میں مسلمانوں کی صحبت و معیت میں رہ کر ان غیر مسلموں کا مسلمانوں کی عبادات اور اخلاق و کردار سے متاثر ہونا بھی لازمی امر تھا۔جس کے نتیجہ میں ان کی قبائلی وحدت کے دینی حمیّت میں تبدیل ہونے کے سامان ہوئے۔ اگرچہ اس دور کے تفصیلی تبلیغی حالات بہت کم ملتے ہیںتاہم اس دور میں مذکورہ تبلیغی عوامل کی اہمیت نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔
    شعب ابی طالب کے زمانہ میں مسلمانوں کے رابطے کا دوسراموقع مکہ کے اُن شرفاء سے تھا جو مخفی طور پر مسلمانوں کی مدد کرتے اور اُنہیں کچھ اجناس پہنچاتے رہتے تھے۔ یہ لوگ مسلمانوں کی مظلومیت کے باعث ہمدردی کے علاوہ ان کی نیکی و شرافت اور حسن کردار کی وجہ سے ان کے لئے نرم گوشہ رکھتے تھے۔
    اسیری کے ان ایام میں رابطے کا تیسراذریعہ بیرونی تجارتی قافلے تھے جو اہل مکہ کی پابندی سے آزاد تھے۔ مسلمان ان سے کچھ ضرورت کی چیزیں خرید لیا کرتے تھے۔ یوں ان سے بھی رابطہ تبلیغ کا ذریعہ بنتاتھا۔ بعض مشرک سردار ان قافلوں کو تجارت سے تو منع نہ کرسکتے تھے البتہ ان کے دام بڑھانے کی کوشش ضرور کرتے تھے تاکہ مہنگائی کے نتیجہ میں مسلمان مزید مشکل میں پڑیں۔ چنانچہ ابولہب تاجروں کوکہتا تھا کہ محمدؐ کے ساتھیوں کے لئے چیزیں اتنی مہنگی کردوکہ وہ تمہاری کوئی چیز بھی خریدنہ سکیں اس پر وہ قیمتیں کئی گنا بڑھادیتے تھے اور ابولہب انہیں زیادہ منافع دے کر ان کا سارامال خودخریدلیتاتھا۔(ابونعیم)28
    محصوری کے زمانہ میں مسلمانوں کے لئے رابطہ کاچوتھا موقع حج کا تھا۔ عربوں کے رواج کے مطابق حج سے کسی کو روکا نہیں جاتا تھااس لئے حج کے موسم میں مسلمان آزادانہ گھاٹی سے باہر نکلتے ۔رسومات حج ادا کرتے۔باہر سے آنے والوں سے رابطے بھی کرتے جنہیں مسلمانوں کی مظلومیت کا حال سن کر لازماً ہمدردری پیدا ہوتی۔اس لحاظ سے شعب ابی طالب کا زمانہ اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے نتیجہ میں دشمنانِ اسلام کے نت نئے مظالم سے مسلمانوں کی حفاظت اور بچائو کے ساتھ ان کی تبلیغی کاوشوں کومخصوص کرنے نیزتربیت پر اُن کی توجہات مرکوز کرنے کا زمانہ بن گیا۔پختہ مسلمانوں کے صبر واستقامت کابھی امتحان ہوااور وہ اس میں کامیاب ٹھہرے۔
    حج کے موقع پر پیغام حق
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولین مخاطب تو ساری عرب قوم تھی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو مکہ کی بستی میں مبعوث فرمایاجو امّ القریٰ یعنی تمام بستیوں کا مرکز تھی۔جہاں سارے عرب سے دینِ ابراہیمی سے نسبت رکھنے والے لوگ حج و عمرہ کے لئے آتے تھے۔ رسول اللہؐ ان قبائل کے لوگوں کے پاس تشریف لے جاتے اور انہیں پیغام حق پہنچا کر سوال کرتے کہ کوئی ہے جو میرا مددگار ہو؟کوئی ہے جو میرا ساتھ دے اور مجھے اپنے ہاں پناہ دے تاکہ میں اُن کے قبیلے میں جاکراپنے رب کا پیغام پہنچانے کا حق ادا کرسکوں۔جوایساکرے میں اسے جنت کا وعدہ دیتا ہوں۔(ترمذی)29
    ایک دفعہ ہمدان قبیلہ کے ایک شخص نے حامی بھری کہ وہ آپؐ کو ساتھ لے جائے گا۔ آپؐ نے اس سے پوچھا کہ اس کا قوم میں کیا مقام ہے؟ بعد میں وہ ڈرگیا کہ کہیں اس کی قوم خلاف ہی نہ ہوجائے۔ وہ اگلے سال آنے کا وعدہ کر کے چلاگیا۔(بیہقی)30
    مگر ان قبائل کا عمومی ردّ عمل یہی ہوتا تھا کہ ایک شخص کی قوم اس کے بارہ میں زیادہ بہتر جانتی ہے۔ وہ شخص ہماری اصلاح کیسے کرسکتا ہے جس نے اپنی قوم میں فساد برپاکررکھاہے اور خود اس کی قوم نے اسے دھتکاردیاہے؟(بیہقی)31
    میلوں پر تبلیغ
    ایام حج کے بعد مکہ کے نواح میں عکاظ، ذوالمجاز اور مجنہّ مقام پر میلے لگا کرتے تھے جہاں تجارت اور خرید وفروخت کے ساتھ رنگ و طرب کی محفلیں بھی سجائی جاتیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی دھن سوار تھی کہ شاید کوئی سعید روح یہاں مل جائے اور پیغام خدا وندی پہنچانے کے لئے کوئی راہ نکلے۔چنانچہ آپؐ ان میلوں پر پیغام پہنچاتے۔ ہر چند کہ اس راہ میں روکیں پیدا کی جاتیں اور آپؐ کو اذیتیں دی جاتیں مگر آپؐ یہ فریضہ ادا کرنے سے کبھی تھکے نہ ماندہ ہوئے۔
    ربیعہؓ بن عباد بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ؐ کوذوالمجاز کے میلے میں دیکھا۔ آپؐ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے تھے۔ فرماتے تھے کہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو نجات پاجائو گے۔اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو اور میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ آپؐ بازار کی گلی گلی میں جاکر منادی کرتے۔ لوگ آپؐ پر ٹوٹ پڑتے تھے مگر کوئی مثبت جواب نہ دیتا تھالیکن آپؐ کمال استقامت کے ساتھ مسلسل اپنی بات دہراتے جاتے تھے۔ آپؐ کے پیچھے لمبے بالوں والا سفید رنگ کا ایک شخص تھا جس کی آنکھ بھینگی تھی۔وہ کہتا تھا’’ اے لوگویہ شخص تم سے لات و عزّیٰ کو چھڑوانا چاہتا ہے۔ یہ صابی (بے دین) اور جھوٹا ہے۔‘‘ربیعہؓ نے اپنے باپ سے پوچھا کہ یہ کون ہے تو انہوں نے بتایا کہ آگے محمدؐ بن عبداللہ ہیں جو نبوت کے دعویدار ہیں اور ان کے پیچھے ان کا چچا ابو لہب ہے۔(احمد)32
    ذوالمجاز کے میلے کا ایک اور نظارہ ابوطارق ؓ یوں بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہؐ کو ذوالمجاز میں دیکھا۔آپؐ سرخ قبا پہنے توحید کی منادی کررہے تھے۔ ایک شخص آپؐ کے پیچھے پیچھے پتھر برساتا جاتاتھا جس سے آپؐ کی پنڈلیاں اور ٹخنے زخمی ہورہے تھے۔ وہ کہتا تھا اے لوگو! اس کی بات کبھی نہ ماننا۔(الحلبیہ)33
    تیسرا دردناک نظارہ اشعث بن سلیمؓ نے کنانہ کے ایک شخص سے روایت کیا ہے کہ ذوالمجاز کے میلے میں اس نے رسول اللہؐ کی تبلیغ حق کے دوران ابو جہل کو آپؐ کا پیچھا کرتے دیکھا۔ وہ آپؐ پر خاک اڑاتاجاتااور کہتا تھا اے لوگو! کہیں یہ شخص تمہیں تمہارے دین سے بہکانہ دے ۔ یہ تو چاہتا ہے کہ تم لات و عزیٰ کادین ترک کردو۔(احمد)34
    تبلیغ حق کے دوران رسول کریمؐ کو دی گئی تکالیف میں سے طائف کے اس اذیت ناک دن کے ذکر کے بغیرتبلیغی مہمات کا تذکرہ مکمل نہیں ہوتا۔وہی دن جسے خود رسول خداؐ نے اپنی زندگی کا سخت ترین دن قراردیا۔
    سفر طائف
    10سالِ نبوت میںشعب ابی طالب کی قید کا زمانہ ختم ہوا۔ اُس کی سختیوں کی تاب نہ لاکر یکے بعد دیگرے ابو طالب اور حضرت خدیجہؓ کی وفات ہوگئی جس کے بعد اہل مکہ کی مخالفت نے زور پکڑ لیا۔ان کے انکار بالاصرار سے تنگ آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سال شوال کے مہینہ میں تبلیغ کی خاطر طائف کا سفر اختیار فرمایا۔زیدؓ بن حارثہ اس سفر میں آپؐکے ساتھ شریک تھے۔نبی کریم ؐ نے قریباً دس روز وہاں قیام فرمایا اور طائف کے امراء و شرفاء تک پہنچ کر حق پہنچانے کی سعی فرمائی۔(ابن سعد)35
    طائف مکہ سے جنوب مشرق میں چالیس میل کے فاصلے پر ایک پرُ فضا پہاڑی مقام ہے جو امراء ورؤساء کی آما جگاہ تھا۔طائف میں دیگر امراء کے علاوہ قبیلہ ثقیف کے تین سردارخاص طور پر قابل ذکر ہیں۔یہ تینوں بھائی کنانہ عبدیالیل ،مسعود اور حبیب تھے جن سے رسول اللہؐ کا ننھالی رشتہ بھی تھا۔ نبی کریمؐ نے ان کے پاس جاکر انہیں بھی دعوت اسلام دی اور قریش مکہ کی مخالفت کا ذکر کرکے ان سے مدد چاہی۔یہ سن کران میں سے ایک سردارکہنے لگا ’’اگر تجھے خدا نے رسول بناکر بھیجا ہے تو وہ کعبہ کا پردہ چاک کررہا ہے۔ ‘‘دوسرا بولا’’ کیا تمہارے سوا اللہ کوکوئی رسول نہیں ملاتھا جسے وہ مبعوث کرتا۔‘‘
    تیسرے نے کہا ’’خدا کی قسم! میں تو تم سے بات کرنے کا بھی روادار نہیں ہوں۔ اگر تو اپنے دعویٰ میں سچا ہے تو تیری بات ردّ کرنا خطرے سے خالی نہیں اور اگر تو اللہ پر جھوٹ باندھ رہا ہے تو میرے لئے تم سے گفتگو جائز نہیں۔‘‘بعد کے زمانہ میںاِس تیسرے نے اسلام قبول کرلیاتھا مگر صحابیت کا شرف حاصل ہونے کے بارہ میں صراحت نہیں۔(ابن ہشام)36
    نبی کریم ؐنے دیگراہل طائف کو پیغام حق پہنچا نا چاہا تو اس پر بھی سردارانِ ثقیف کو اعتراض ہوا اور انہیں اندیشہ تھا کہ کہیں ہمارے نوجوان بہک نہ جائیں۔ چنانچہ انہوں نے نبی کریم ؐ کو طائف سے نکل جانے کا حکم سنایا۔آپؐ نے فرمایا کہ اگر تم میری دعوت قبول نہیں کرتے تو میں خاموشی سے چلا جاتا ہوںتم اس کا اعلان نہ کرو۔مگر ان بدبختوں نے اپنے حکم کی تعمیل کے لئے بعض غلاموں،لونڈوں اور بے وقوف بازاری لڑکوں کو آپؐ کے پیچھے لگا دیا جوگالیاںبکنے اورآپؐ پر آوازے کسنے لگے۔ ایک بڑا مجمع آپؐ کے خلاف اکٹھا ہوگیا ۔یہ لوگ راستہ میں دو قطاروں میں کھڑے ہوکر آپ ؐپر پتھر برسانے لگے۔ پتھروں کی اس بارش کی تاب نہ لاکرکبھی آپؐ بیٹھنے لگتے تو وہ ظالم بازوئوں سے پکڑ کر آپؐ کو کھڑا کردیتے اور پھر پتھر مارتے اور ہنسی اڑاتے۔
    حضرت زیدؓ بن حارثہ رسول اللہؐ کے آگے ڈھال بن کرآپؐ کو پتھروںسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے مگر ایک بپھرے ہوئے ہجوم کے سامنے بے چارے تنہا زیدؓ کر بھی کیا سکتے تھے۔مسلسل کئی میل تک اس ہجوم نے آپؐ کا تعاقب کر کے پتھرائو کیاجس سے رسول اللہؐ کی پنڈلیاں لہولہان ہوگئیں اور جوتے خون سے لالہ رنگ ہوگئے اور زیدؓ کے سر میں شدید زخم آئے۔(الحلبیہ)37
    ہجوم تب واپس لوٹا جب آپؐ نے عتبہ اور شیبہ سرداران مکہ کے انگوروں کے باغ میں پناہ لی۔بدبخت قوم ثقیف سے زخمی اورخون آلود ہوکر بھی ہمارے آقا و مولیٰ کے صبرورضا کی شان دیکھنے والی تھی۔ آپؐ نے انگوروں کی بیلوں کے سایہ میں آکر دو رکعت نماز ادا کی اور اپنے ربّ سے کچھ مناجات اور آہ و زاری کی، اس دعاسے جہاںآپؐ کے کرب کی انتہا کا پتہ چلتا ہے وہاں راہ مولیٰ میں آپؐ کے صبراور برداشت کی معراج کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔آپؐ نے خدا کے حضورکس مُپرسی کی حالت زار میں یوںعرض کیا:۔
    ’’ اے میرے مولیٰ! میں اپنی ضعف و ناتوانی اور قلّت تدبیر کا حال تیرے سوا کس سے کہوں؟اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والے! مجھے لوگوں میں رسوا کرنے کی ہر کوشش کی گئی ہے۔تو جو کمزوروں کا رب ہے میرا بھی تو رب ہے۔ تو مجھے کس کے سپرد کرنے لگا ہے؟ کیا مجھے دور درازکے لوگوں کے حوالے کردے گا؟ جو مجھے تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں یا ایسے دشمن کے سپرد کرے گا جن کو تومیرے سب معاملہ پر مکمل قدرت عطاکردے؟
    (میرے مولیٰ!) اگر تو ناراض ہوکر میرے ساتھ ایسا سلوک نہیں کررہا تو پھر مجھے تیری راہ میں ان مصیبتوں کی کوئی بھی پرواہ نہیںلیکن میں تیری عافیت کا کہیں زیادہ محتاج ہوں کہ وہ اپنی تمام وسعتوں سے مجھے ڈھانپ لے۔میں تیرے پاک چہرے کے نور کا واسطہ دے کر پناہ کا طلبگار ہوں جس نے تاریکیوں کو روشن کیا ہے ، جس نے دنیا اور آخرت کے معاملات کودرست کررکھا ہے کہ مجھ پر تیرا غضب نازل ہو او رتو مجھ سے ناراض ہوجائے۔میرے مولیٰ! میں تیری رضا تلاش کرتا رہوں گایہاں تک کہ تو مجھ سے راضی ہوجائے اور سوائے تیرے کوئی طاقت اور قدرت کسی کو حاصل نہیں۔‘‘(احمد38)اس دعا کی فوری قبولیت تو اسی وقت ظاہر ہوئی کہ رسول اللہؐ کے لئے ظاہری اور روحانی دونوں قسم کے پھلوں کاانتظام کردیاگیا۔
    سردارانِ قریش عتبہ اور شیبہ کو نبی کریم ؐ کی دردناک حالت دیکھ کر آپؐ پرترس آیا۔انہوںنے اپنا عیسائی غلام آپؐ کی خدمت میں بھجوایا جس نے انگوروں کے تازہ خوشے پیش کئے۔رسول کریمؐ بسم اللہ پڑھ کر انگور کھانے لگے۔ نصرانی عداس نے تعجب سے آپؐ کا منہ دیکھا اور کہا خدا کی قسم ! اس شہر کے لوگ تو اس طرح کی کوئی دعا نہیں پڑھتے۔ رسول کریمؐ نے فرمایا تم کس شہر کے ہو اور تمہارا دین کیا ہے؟ اس نے کہا میں نینوا کا باشندہ ہوں اور عیسائی ہوں۔ آپؐ نے فرمایا’’اچھا!تم خدا کے نیک بندے اور نبی حضرت یونس ؑ بن متّٰی کی بستی سے ہو۔‘‘اور یوں رسول کریمؐ نے مصیبت کے وقت بھی ایک غلام کو جو غیر قوم اور غیر مذہب کا تھاپیغام حق پہنچانے کی راہ نکال لی اور اسے حقیر نہیں جانا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اس کا دل نرم کردیا۔ وہ یونس بن متّٰی کا ذکر سن کر کہنے لگا کہ آپؐ کو اس کاکیسے علم ہے؟آپؐ نے فرمایا’’ وہ میرا بھائی اور نبی تھا اور میں بھی نبی ہوں۔‘‘ عدّاس اسی وقت رسول اللہؐ کے سامنے جھک گیا اور آپؐ کی پیشانی،ہاتھ اور پائوں چومنے لگا۔ عتبہ اور شیبہ جویہ نظارہ دیکھ رہے تھے ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ لو تمہارا غلام تو اس نے خراب کردیا ہے۔ عداس سے اس کے مالکوں نے سرزنش کی اور پوچھا کہ تم نے جھک کر محمدؐ کا ادب کیوں کیا تو اس نے کہا آج روئے زمین پر اس شخص سے بہتر کوئی نہیں ہے۔ اس نے مجھے ایسی بات بتائی ہے جو سوائے نبی کے کوئی نہیں بتا سکتا۔(ابن ہشام)39
    الغرض طائف کا دن ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر انتہائی سخت دن تھا۔ حضرت عائشہ ؓ نے ایک دفعہ نبی کریمؐ سے پوچھا کہ اُحدکے دن (جس میں آپؐ کے دانت شہید ہوئے اور چہرے پر بھی زخم آئے)سے زیادہ کوئی سخت دن بھی آپؐ پر آیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا’’ عائشہؓ!میں نے تمہاری قوم سے بہت تکالیف اٹھائیں مگر سب سے شدید تکلیف وہ تھی جو عقبہ کے دن(سفر طائف میں)اٹھائی۔اس روز میں نے بنی عبد کلال (سرداران طائف) کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا کہ وہ مجھے اپنی پناہ میں لے کر پیغام حق پہنچانے دیںمگر انہوں نے میری بات نہیں مانی۔تب میں وہاں سے چل پڑا۔ اس وقت میں سخت مغموم ہونے کی حالت میں سرجھکائے چلا جاتا تھا۔قرن الثعالب پہنچ کر کچھ افاقہ میں نے محسوس کیا اورخدائی مدد کیلئے آسمان کی طرف نظر اُٹھائی۔کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بادل نے مجھے سایہ میں لے رکھا ہے۔ پھر جبریل ؑاس میں نظر آئے۔ انہوں نے مجھے بلاکر کہا اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کاسلوک دیکھا ہے جو انہوں نے آپؐ سے روا رکھا ہے۔ اس نے آپؐ کی طرف پہاڑوں کے فرشتہ کو بھجوایا ہے تاکہ آپؐ جو چاہیں اسے حکم دیں۔تب پہاڑوں کے فرشتہ نے مجھے ندا دی۔مجھے سلام کر کے کہا اللہ نے آپؐ کی قوم کا جواب سن لیا ہے۔ میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں۔ مجھے آپؐ کے رب نے آپؐ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپؐ جو حکم دیں میں بجالائوں اے محمدؐ! آپؐ کیا چاہتے ہیں؟ اگر آپؐ چاہیں تو میں(اس وادی کے) یہ دونوں پہاڑ ان پر گرادوں۔ نبی کریمؐ نے فرمایا’’ نہیں ایسا نہ کرو ۔مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو خدا ئے واحد کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔‘‘(بخاری)40
    ولیم میور کی شہادت
    مستشرق سرولیم میور جیسا معاند اسلام بھی رسول اللہ ؐکے اس تبلیغی سفر سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔وہ لکھتا ہے:۔
    "There is something lofty and heroic in this journey of Mohomet to Tayif; a solitary man, despised and rejected by his own people, going boldly forth in the name of God, Like Jonah to Nineveh, and summoning an idolatrous city to repent and to support his mission. It sheds a strong light on the intensity of his belief in the divine origin of his calling."
    ’’محمدؐ کے طائف کے سفر میں عظمت اور شجاعت کا رنگ نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ایک تنہا شخص جس کی قوم نے حقارت کی نظر سے دیکھا اور ردّ کردیا، وہ خدا کی راہ میں دلیری کے ساتھ اپنے شہر سے نکلتا ہے اور جس طرح یونس بن متّٰی نینو ا کو گیا اسی طرح وہ ایک بت پرست شہر میں جاکر ان کو توحید کی طرف بلاتا اور توبہ کا وعظ کرتا ہے۔اس واقعہ سے یقینا اس بات پر روشنی پڑتی ہے کہ محمدؐ کو اپنے صدق دعویٰ پر کس درجہ ایمان تھا۔(میور)41
    دعوت الی اللہ کے مواقع کی تلاش
    تبلیغ عام کے حکم کے بعد نبی کریمؐ پر عرب کے مختلف قبائل میں دعوت الی اللہ کی دُھن سوار رہتی تھی جس کی خا طرآپ ؐ کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرتے تھے۔ایک دفعہ اوس قبیلہ کے لوگ خزرج کے خلاف مدد مانگنے قریش مکہ کے پاس آئے۔ رسول اللہؐ نے اس وفد کے پاس جاکر انہیں بھی پیغام حق پہنچایا۔یہ نوجوان قبیلہ اوس کی شاخ عبدالا شہل سے تعلق رکھتے تھے جو اپنے سردار ابو الجلیس کی سرکردگی میں مکہ آئے۔ان کا مقصد قریش سے خزرج کے خلاف مدد کے لئے معاہدہ کرنا تھا۔ رسول اللہؐنے اُن کی مجلس میں تشریف لے جاکر فرمایاکہ جس مقصد کے لئے تم آئے ہوکیا میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتائوں؟۔انہوں نے کہا ’’وہ کیاہے؟‘‘ آپؐنے فرمایا’’ میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے بندوں کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے تا وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اس نے مجھ پر کتاب بھی نازل فرمائی ہے۔‘‘ پھر آپؐ نے اسلامی تعلیم کا ذکر کیا اور انہیں قرآن شریف سنایا۔ یہ سن کر ایک نو عمر نوجوان ایاس بن معاذ کہنے لگا’’ اے میری قوم! تم جس مقصد کے لئے آئے ہویہ پیغام اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔‘‘ اس پر ان کے سردار ابو جلیس نے کنکروں کی ایک مٹھی بھر کر ایاس کے منہ پر دے ماری اور وہ مدینہ واپس لوٹ گئے جس کے بعد اوس و خزرج میں بعاث کی جنگ ہوئی۔ (بیہقی)42
    تبلیغ یثرب
    حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ مسلسل دس سال تک مکہ میں حج کے موقع پر حاجیوں کے خیموں میں جاکرتبلیغ کرتے رہے۔ اسی طرح آپؐ مجنہ اور عکاظ کے میلوں پر اور منیٰ میں حاجیوں کے خیموں میں تشریف لے جاکر فرماتے تھے کہ کون ہے جو میری مدد کرنے اور پناہ دینے کی حامی بھرتا ہے کہ جہاں جاکر میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں؟ ایسے شخص کو میں جنت کی بشارت دیتا ہوں۔کوئی بھی آپؐ کی مدود نصرت کے لئے تیار نہ ہوتا تھا۔لوگ یمن اور دوسرے علاقوں سے جب سفر حج پر آتے تو اپنی قوم کو یہ نصیحت کرتے کہ قریش کے اس نوجوان سے ہوشیار رہنا وہ تمہیں گمراہ نہ کردے۔
    نبی کریمؐ حاجیوں کے خیموں میں جاکر اللہ کی طرف بلاتے تھے۔لوگ انگلیوں سے آپؐ کی طرف اشارے کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انصار مدینہ کو یثرب سے بھیجا۔ آپؐ کے پاس ایک ایک آدمی آکر ایمان لاتا اور قرآن سیکھتا تھااور اپنے اہل خانہ کی طرف واپس یثرب جاتا تو وہ بھی اسلام قبول کرلیتے یہاں تک کہ مدینے کا کوئی محلہ باقی نہ رہا جہاں مسلمانوں کا ایک گروہ پیدا نہ ہوگیا جس سے اسلام کو طاقت اور قوت ملی۔ پھر ستر افراد کا ایک وفد مکہ گیا اور حج کے موقع پر شعب ابی طالب میں انہوں نے بیعت کی۔(احمد)43
    اس طرح یثرب میں مسلمانوں کے لئے پناہ گاہ کا اللہ تعالیٰ نے انتظام فرمادیا۔ رسول اللہؐ نے ان میں وحدت اور مرکز یت پیدا کرنے کے لئے مصعبؓ بن عمیر کو اسلام کا پہلا مبلغ بناکر وہاں بھجوایا۔کچھ عرصہ میں مدینہ میں بھی جمعہ کی ادائیگی شروع ہوگئی۔
    سفر ہجرت میں تبلیغ
    مدینہ کے بریدہ انصاری اپنے خاندان بنی سہم کے ستر سوار لے کر سفر میںتھے کہ نبی کریمؐسے سفرہجرت میں ملاقات ہوگئی۔ ہرچند کہ ہجرت کا سفر خطرات سے خالی نہ تھا پھر بھی رسول کریمؐ نے اسی گروہ سے تعارف حاصل کیا اورانہیں پیغام حق پہنچایا۔ بُریدہ کے ساتھ حضورؐ نے ایسی پر حکمت اور شیریں گفتگو فرمائی کہ انہوں نے خاندان سمیت اسلام قبول کرلیا۔رسول اللہؐ نے پوچھا۔آپ کون ہو؟ ’بُریدہ‘ نے اپنا نام بتایا۔(جس کے معنے ٹھنڈک کے ہیں)۔رسول اللہؐ نے اس نام کے معنے’ ٹھنڈک‘ سے نیک تفائو ل لیااور ابوبکر ؓ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا’’ابوبکرؓ! سمجھو کہ ہمارے تعاقب کا معاملہ اب ٹھنڈا پڑگیا۔‘‘ پھر رسول اللہؐنے پوچھا۔’’آپ کس قبیلہ سے ہو؟‘‘بُریدہ نے کہا ’’اسلم قبیلہ سے‘‘۔( اسلم کے معنی سلامتی کے ہیں)۔ رسول اللہؐ نے ابوبکرؓ سے نیک تفائول کے طور پر فرمایا’’ ہمیں سلامتی عطاہوئی۔‘‘
    پھررسول اللہؐ نے پوچھا ’’کس قبیلہ سے ہو؟‘‘ بُریدہؓنے کہا۔’’بنی سہم سے‘‘ (سہم کے معنے ہیں غنیمت کا حصہ)۔ رسول اللہ ؐ تیسری مرتبہ نیک تفائول کے طور پر ابوبکرؓ سے فرمانے لگے کہ’’ تمہارے مال غنیمت کا حصہ تمہیں مل گیا۔‘‘بریدہؓ نے پوچھا ’’آپؐ کون ہیں؟‘‘فرمایا ’’میں محمدؐ بن عبداللہ ہوں اور اللہ کا رسول۔‘‘بریدہؓنے کہا ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘بریدہؓ اور ان کے تمام ساتھیوں نے وہیں اسلام قبول کرلیا۔اگلی صبح بریدہؓ نے رسول اللہؐ کی خدمت میں مشورہ عرض کیا کہ مدینہ میں اپنے لوائ(جھنڈا) کے ساتھ داخل ہوں۔چنانچہ انہوں نے اپنا عمامہ کھول کرنیزے پر باندھا اور آگے آگے چلنے لگے اور عرض کیا کہ یارسول اللہؐ میرے گھر قیام فرمائیں۔ آپؐ نے فرمایا میری اونٹنی اللہ کی طرف سے حکم کے مطابق بیٹھے گی۔(ابن الجوزی)44
    دعوت الی اللہ کا مدنی دوراور تبلیغِ عام
    کفار مکہ کے ظلم سے تنگ آکر مدینہ ہجرت ہوئی۔ وہاں امن کے ماحول میں دعوت اسلام کا سلسلہ تیز تر ہوگیا۔مدینہ آنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے پہلے مبلغ اسلام مصعبؓ بن عمیر کے علاوہ داعیان الی اللہ کی ایک کثیر تعداد دعوت الی اللہ کے میدان میں اتر چکی تھی۔ پھر بھی آپؐ نے اپنی ذمہ داری کا حق ہمیشہ ادا کیا اور مدینہ کی کھلی مجالس میں جاکر بھی تبلیغ کی ۔
    اسامہؓ بن زیدؓ غزوہ بدر سے پہلے کا یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انصاری سردار سعدؓ بن عبادہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔ آپؐ ایک گدھے پر سوارتھے۔ انصار کی ایک مجلس کے پاس سے آپؐ کا گزر ہوا جس میں عبداللہ بن ابی بھی تھا جوابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ مجلس میں مسلمانوں کے علاوہ مشرکین، بتوں کے پجاری اور یہود بھی موجود تھے۔ جب رسول کریمؐ کی سواری کے آنے پر کچھ غبار اُڑی تو عبداللہ بن ابی نے (جو خزرج کے سرداروں میں سے تھا) ناک بھوں چڑھائی اور اپنا منہ چادر سے ڈھانپ کر کہنے لگا۔ ہمارے اوپر مٹی مت اُڑائو۔نبی کریم ؐ نے آکر سلام کیا اور وہاں رک کر ان لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دی اور قرآن شریف بھی سنایا۔عبداللہ بن ابی چیں بجبیں ہوکر کہنے لگا’’ اے شخص! اگریہ درست بھی ہوکہ تیری تعلیم سے بڑھ کر کوئی چیز نہیںپھر بھی تم ہماری مجالس میں آکر ہمیں ایذاء نہ دیا کرو اور اپنے ڈیرے پر رہوجو تمہارے پاس آئے اسے یہ باتیں بتائو۔‘‘
    اس پرمجلس میں موجود ایک مخلص صحابی عبداللہؓ بن رواحہ انصاری کو غیرت آئی۔ انہوں نے عرض کیا ’’یارسول اللہؐ! آپؐ بے شک ہماری مجالس میں تشریف لایاکریں ہمیں یہ بات بہت پسند ہے۔‘‘ اس پر مسلمانوں، مشرکوں اور یہود کے مابین کچھ تکرار ہوگئی۔نبی کریم ؐ وہاں ٹھہرے رہے یہاںتک کہ لوگ خاموش ہوگئے تو آپؐ آگے تشریف لے گئے۔(بخاری)45
    رسول اللہؐ نے کبھی تبلیغ کیلئے کسی کو حقیر نہیں جانا خواہ وہ کوئی بدحال غریب ہو یا مفلوک الحال یہودی غلام۔ خواہ وہ بچہ ہو یا بڑا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی لڑکا تھا جو آپؐ کی خدمت کرتا تھا۔وہ بیمار ہوگیا تو نبی کریم ؐ اس کا حال پوچھنے تشریف لے گئے۔ آپؐ اس کے سرہانے تشریف فرما ہوئے اور فرمایا کہ اسلام قبول کرلو۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو پاس ہی تھا۔باپ حضور کی شفقت اور احسان دیکھ کر کہنے لگا ’’بچے ابوالقاسم جو کہتے ہیں ان کی بات مان لو۔‘‘چنانچہ وہ بچہ (کلمہ پڑھ کر) مسلمان ہوگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نکلے تو یہ فرمارہے تھے ’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے اسے آگ سے بچالیاہے۔‘‘ (بخاری46)دوسری روایت میں ذکر ہے کہ رسول کریم ؐ جب باہر تشریف لائے تو اس بچے نے جان دیدی آپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا اٹھو اور اپنے بھائی کی نماز جنازہ ادا کرو۔(احمد)47
    مدنی دور میںتبلیغ کی راہ میں قربانیاں
    نبی کریمؐکے لئے تنہاسارے عر ب میں پیغام پہنچانا ممکن نہیں تھا۔لازماً اس کے لئے انصار و اعوان اورداعیان کی ضرورت تھی۔مختلف قبائل سے تبلیغ اسلام کے لئے معلمین و مبلغین کے مطالبے بھی ہونے لگے تھے۔چنانچہ عضل و قارہ قبائل کے مطالبہ پر رسول کریمؐنے دس صحابہ کو عاصمؓ بن ثابت انصاری کی سرکردگی میں بھجوایا۔ یہ لوگ رات کو سفر کرتے اور دن کوچھپ کر رہتے تھے۔ قریش مکہ سے باخبر رہنے کی کوشش کرتے تھے۔جب یہ رجیع مقام پر پہنچے تو ان کے دشمن قبیلہ ہذیل کو ان کی خبر ہوگئی۔انہوں نے سوتیر اندازوں کا ایک دستہ ان کے تعاقب میں بھیجا۔جب مسلمانوں کو پتہ لگا تو وہ قریب ہی ایک پہاڑی پر چڑھ گئے۔دشمنوں نے انہیں گھیر لیا اور کہا اگر تم لوگ گرفتاری دے دو ہم تمہیں قتل نہیں کریں گے۔اسلامی دستے کے امیر عاصمؓ نے کہا کہ مجھے تو کافروں کے عہد پر اعتبار نہیں۔چنانچہ وہ دشمن کے مقابلے میں تیر برساتے رہے اور ساتھ یہ شعر پڑھتے جاتے تھے۔
    اَلْمَوْتُ حَقٌ والْحَیَاۃُ بَاطِل‘
    وَکُلُّ مَاقَضٰی الْالٰہُ نَازِل‘
    یعنی موت برحق ہے اور زندگی بے کار ہے جو خدا کا فیصلہ ہو وہی برحق ہے۔
    جب عاصمؓ کے تیر ختم ہوگئے تو وہ نیزے سے لڑنے لگے۔ نیزہ بھی ٹوٹ گیا تو تلوار نکال لی اور لڑتے لڑتے جان دے دی۔ آخری لمحات میں اُن کی زبان پر یہ دعا جاری تھی۔’’ اے اللہ میں نے آخر دم تک تیرے دین کی حفاظت کی ہے۔ اب میری نعش کی حفاظت تو خود کرنا۔‘‘ان کی دعاا للہ تعالیٰ نے اس معجزانہ رنگ میںقبول فرمائی کہ جب دشمن بے حرمتی کرنے کے لئے ان کی نعش اٹھانے لگتے تا اس کا مثلہ کریں تو بھڑوں کا ایک غول ان پر حملہ آور ہوجاتا اور اُن کی نعش کی حفاظت کرتا۔یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ بارشوں سے سیلاب آیا اور عاصمؓ کی نعش کو بہاکر لے گیا۔( الحلبیہ)48
    یہ واقعہ رجیع کے نام سے معروف ہے جس میں امیر دستہ عاصمؓ بن ثابت اور ان کے چھ اور ساتھی شہید ہوچکے تو ان کے باقی تین ساتھیوں خبیبؓ، زیدؓ اور عبداللہؓ بن طارق نے دشمن کا عہد قبول کرتے ہوئے گرفتاری دے دی۔ جب دشمن ان کو رسیوں سے باندھ رہے تھے تو عبداللہؓ کہنے لگے یہ پہلی بدعہدی ہے۔ مجھے یہ قید قبول نہیں اور انہوں نے وہیں لڑتے ہوئے جان دے دی۔ خبیبؓ اور زیدؓ کو اہل مکہ نے خرید لیا کہ وہ اپنے مقتولین بدر کے عوض انہیں قتل کر کے اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈی کریں گے۔جس روز انہیں قتل گاہ لے گئے تو خبیبؓ نے کہا کہ مجھے دورکعت نماز پڑھ لینے دو۔وہ جلد نماز سے فارغ ہوئے اور کہنے لگے خدا کی قسم اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تم سمجھو گے کہ میں موت سے ڈرتا ہوں تو آج میںلمبی نماز پڑھتا۔ اس قتل ناحق کاتماشہ دیکھنے کے لئے شہر کی عورتیں ، بچے اور غلام باہر نکل کر جمع ہوگئے تھے۔ان سب کو قتل کاعبرتناک منظر دکھانے کے لئے ایک لمبی لکڑی پر خبیبؓ کو لٹکایا گیا۔ پھر کہا کہ ابھی بھی اسلام سے توبہ کرلو تو تجھے آزاد کردیتے ہیں ورنہ قتل کردیں گے۔خبیبؓنے کہا خدا کی راہ میں میری جان کی یہ قربانی ایک حقیر نذرانہ ہی تو ہے۔پھرخبیبؓ نے دعا کی کہ اے اللہ یہاں کوئی ایسا شخص نہیں جو تیرے رسول کو میرا سلام پہنچائے۔پس تو ہی میری طرف سے اپنے رسول کو میرا سلام پہنچا دے اور جو سلوک یہ میرے ساتھ کررہے ہیں اس کی اطلاع بھی فرمادے۔
    دوسری طرف تین سو میل کے فاصلے پر مدینہ میںخدا کے رسولؐ اپنے صحابہؓ کے ساتھ مجلس میں تشریف فرماتھے ،عین اس وقت اچانک آپؐ پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی۔اسامہؓ بن زیدؓ کا بیان ہے ہم نے آپؐ کو ’’وعلیہ السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ُ ‘‘کہتے سُنا۔جب وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپؐ نے فرمایا کہ ابھی جبریل ؑ آئے تھے وہ مجھے خبیبؓ کی طرف سے سلام پہنچارہے تھے جنہیں قریش نے شہید کردیا ہے۔
    قریش نے اپنے چوبیس سرداروں کی اولاد کو(جوبدر میں ہلاک ہوئے تھے) خبیبؓ کے قتل پر اکٹھا کیا تھااور نیزے ان کے ہاتھ میں تھماکر کہا تھا کہ وہ سب اس شخص کو نیزے مار کر قتل کریں اور آتش انتقام سرد کریں ۔چنانچہ ان سب نے خبیبؓ کو شہید کیا۔(الحلبیہ)49
    مبلغین کی شہادت کا دوسراواقعہ بئرمعونہ کا ہے۔جس میں ستر صحابہؓ شہید ہوئے۔ واقعہ یوں ہوا کہ قبیلہ بنی عامر کا سردار عامر بن طفیل حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔خود تواسلام قبول نہیں کیا مگر کہا کہ مجھے یہ پیغام اچھا لگا ہے اگر آپؐ اپنے کچھ لوگ ہمارے علاقہ میں بھجوادیں تو شاید وہ لوگ اسلام قبول کرلیں۔حضورؐ نے فرمایا مجھے اہل نجد سے خطرہ ہے۔ابو عامر نے کہا کہ یہ میرا ذمّہ۔ چنانچہ اس نے جاکر اہل نجد کو بتادیا کہ محمدؐ کے ساتھیوں کو میں نے پناہ دی ہے۔یہ ستر حفاظِ قرآن تھے جو دن کو قرآن اور نمازیں پڑھتے اور رات کو عبادت کرتے تھے۔ان کے امیر حرامؓ بن ملحان نے جب بنی سلیم کو پیغام حق پہنچایا اور رسول اللہؐ کا خط دیتے ہوئے کہا کہ اے اہل بئر معونہ!میں تمہاری طرف رسول اللہؐ کا نمائندہ ہو کر آیا ہوں۔ اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لائو۔اس دوران ایک شخص نے پیچھے سے آکر ان کو نیزہ مارا۔اُن کی گردن سے خون کا فوارہ نکلا۔اس بہادر داعی الی اللہ نے اَللّٰہُ اَکْبَرُفُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ کا نعرہ لگایا کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔پھر اپنے خون کو ہاتھوں میں لیا اور چہرے اور سرپرچھینٹامارا۔بعدازاں اُن کے ساتھیوںپربھی حملہ کردیاگیااور اس میدان میں ستر داعیان الی اللہ نے جام شہادت نوش کیا۔(بخاری)50
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ساتھیوں کی وفا اور راضی برضا رہنے کا یہ عالم تھاکہ بوقت شہادت انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ! ہمارے حال کی خبر اپنے رسولؐ کو کردے اور ان کو ہمارا سلام اور یہ پیغام پہنچا کہ ہم اپنے رب کی رضا پر راضی ہیں۔ رسول اللہ ؐ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع ہوگئی اور آپؐ نے صحابہؓ کو اس سے مطلع فرمایا۔ان شہادتوں کا حضورؐ کو اتنا صدمہ اور غم تھا کہ کبھی کسی اورکی وفات پراتنا غم نہیں ہوا۔ ایک ماہ تک حضورؐ روروکر نمازوں میں خداتعالیٰ سے مددونصرت کی دعائیں کرتے رہے۔(بخاری)51
    سردارطائف عروہؓ کی شہادت
    فتح مکہ کے بعد آنحضرت ؐ نے چند روز تک طائف کا محاصرہ کیاتھامگر جلد ہی محاصرہ اُٹھا کرمدینہ واپس لوٹے تھے۔ مدینہ واپسی پر راستہ میں ہی ثقیف قبیلہ کے ایک سردار عروہؓ بن مسعود نے آکر اسلام قبول کرلیااور پوچھا کہ واپس اپنی قوم میں جاکر اسلام کا اعلان کرنا چاہتاہوں۔ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ ثقیف تمہیں قتل کردیں گے۔عروہؓ نے کہا کہ وہ مجھ سے اپنی اولاد سے بھی زیادہ محبت کرتے ہیں۔ عروہؓ واپس طائف پہنچے۔ قوم کے لوگ ملنے آئے تو عروہ ؓنے اسلام کی طرف دعوت دی، انہوں نے انکار کردیااور بُرا بھلا کہنے لگے۔اگلی صبح عروہؓ اپنے گھر میں کمرہ سے باہر نکلے اور کلمہ شہادت پڑھا تو ثقیف قبیلہ کے ایک تیر انداز نے تیر مار کر شہید کردیا۔آخری لمحات میں ان سے پوچھا گیا اپنے خون کے بدلہ کے بار ہ میں کیا کہتے ہو،کہنے لگے ’’یہ تو ایک عزت ہے جو خدا نے مجھے بخشی اور شہادت کا رتبہ عطافرمایا۔‘‘
    رسول کریمؐ نے ان کی شہادت پر فرمایا کہ عروہؓ کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس کا ذکرسورہ یٰسٓں میں ہے کہ اُس نے اپنی قوم کو رسول کی پیروی کی طرف بلایا تھا۔( الحلبیہ)52
    میدان جہاد میں دعوت الی اللہ
    ہجرت مدینہ کے بعد امن میسر آتے ہی دعوت اسلام کا کام تیز تر ہوگیا لیکن کفار مکہ نے وہاں بھی امن کا سانس نہ لینے دیا اور مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔ تب امن کے بادشاہ حضرت محمد مصطفی ؐکو اپنے دفاع کے لئے مجبوراً تلوار اٹھانی پڑی۔ اس زمانہ میں بھی آپؐنے دعوت الی اللہ کا فریضہ ہمیشہ مقدم رکھا۔ یہود خیبر کی مدینہ پر حملہ کی دھمکیوں اور خطرہ کے پیش نظر اسلامی لشکر محاصرہ خیبر پر مجبور ہوا تو اس دوران ایک حبشی غلام یہود خیبر کی بکریاں چراتا ہوا ادھر آنکلا۔جنگ کی حالت تھی،محاصرہ جاری تھا۔وہ غلام جنگل سے بکریاں لے کر شہر کی طرف آیا تو کیا دیکھتا ہے کہ باہر مسلمانوں کی فوج نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس موقع پر ہمارے سیدو مولیٰ کا شوق تبلیغ دیکھنے کے لائق تھا۔آپؐ تبلیغ کے لئے کسی کو حقیر نہ جانتے تھے۔چنانچہ اس حبشی چرواہے کو اسلام کی دعوت دینے لگے۔ اس نے کہا کہ اگر میں مسلمان ہوجائوں تو مجھے کیا ملے گا؟ حضورؐ نے فرمایا جنت۔ بشرطیکہ اسلام پر ثابت قدم رہو۔ اس پر وہ مسلمان ہوگیا۔( الحلبیہ)53
    حضرت علیؓ کونصیحت
    آنحضرتؐ جنگ میں دعوت الی اللہ کا یہ پاکیزہ نمونہ دکھانے کے بعد حضرت علیؓ کو سالار لشکر بناکر اس نوید کے ساتھ قلعہ خیبر فتح کرنے بھیجا کہ تمہارے ہاتھ پر فتح ہوگی۔ انہیں یہ تلقین فرمائی کہ یہود( جن کی طرف سے اعلان جنگ ہواتھا)پر حملہ سے قبل ایک دفعہ پھر انہیں دعوت اسلام دینا۔چنانچہ فرمایا اے علیؓ ! جب تم ان کے میدان میں اترو تو پہلے ان کو اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتائو کہ قبول اسلام کی صورت میں ان کی کیا ذمہ داریاں ہونگی اور یادرکھو کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت دیدے تو تیرے لئے کئی سرخ اُونٹوں کی دولت سے زیادہ بہتر ہے۔(بخاری)54
    غزوات میں دشمن پر احسان اور تبلیغ
    رسول اللہؐ نجد کی طرف ایک مہم پر تشریف لے گئے جسے غزوۂ ذات الرقاع بھی کہتے ہیں۔ واپسی پر دوپہر کے وقت آرام کے لئے ایک سایہ دار درختوں کی وادی میں حضورؐ نے قیام فرمایا۔ لوگ درختوں کے نیچے آرام کرنے لگے۔ رسول کریمؐ بھی ایک کیکر کے درخت کے نیچے لیٹ گئے اور تلوار اس کے اوپر لٹکا دی۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں ابھی ہم کچھ دیرہی سوئے تھے کہ اچانک رسول اللہؐ کو ہم نے بلاتے سنا۔ حاضر خدمت ہوئے تو ایک بدّو وہاں بیٹھا تھا۔ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ اس شخص نے میرے سوتے ہوئے میری تلوار سونت لی اور مجھے جگا کر پوچھا کہ اب آپؐ کو مجھ سے کون بچاسکتا ہے؟میں نے کہا’’اللہ‘‘۔ جس پر تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی تب میںنے تلوار ہاتھ میں لے کر اس سے پوچھا اب تم بتائو تمہیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ اس نے کہا سوائے آپؐ کے کوئی نہیں۔آپؐ سے اچھے سلوک کی توقع ہے۔ دشمن قبیلہ کایہ شخص غورث بن حارث دراصل آپؐ کے تعاقب میں تھا۔ آنحضورؐ نے صحابہ ؓ کو بلایاتو وہ اسے ڈرانے دھمکانے لگے ۔ آپؐ نے اس سے پوچھا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس نے کہا نہیں لیکن میں آپؐ کے خلاف کبھی لڑائی میں شریک نہ ہوں گا۔(بخاری)55
    نبی کریمؐ نے اس جانی دشمن کو بھی معاف کردیا۔وہ آپؐ کے شفقت بھرے سلوک سے اتنامتاثر ہوا کہ نہ صرف اس نے بلکہ اس کی قوم کے بہت سے لوگوں نے رسول اللہؐ کی حفاظت کا یہ معجزانہ نشان دیکھ کر اس کے ذریعہ اسلام قبول کرنے کی توفیق پائی۔(زرقانی)56
    داعیان کی تیاری
    مدینہ کے نواحی قبائل اور قوموں سے لوگ آکر آنحضورؐ کی صحبت میں رہتے،تربیت پاکر واپس جاتے اور اپنے علاقے میں دعوت اسلام کی خدمات بجالاتے تھے۔مالکؓ بن حویرث ایک دفعہ بیس ساتھیوں کے ساتھ آکرمدینہ میں کئی روز ٹھہرے اور دین اسلام سیکھ کر واپس گئے۔(بخاری)57
    اصحاب صفہ کی تعلیم قرآن و سنت کا مسجد نبوی میں مستقل انتظام تھا۔ رسول کریمؐکی دعوت اور تربیت کا بہترین طریق حسنِ عمل اور کردار تھا جو ہمیشہ ہی کامیاب ثابت ہوا۔آغاز اسلام میں حضرت خدیجہؓؓ ، حضرت علیؓ اور حضرت ابوبکرؓ آپؐ پر ایمان لائے تو اس کا بنیادی سبب بھی رسول اللہؐ کا حسنِ کردار ہی تھا۔پھر ان کی تبلیغ اور نمونہ سے اور لوگ مسلمان ہوئے۔
    تالیف قلب اوراحسان
    نبی کریمؐ نے ایک گھڑ سواردستہ نجد کی طرف بھجوایا۔ وہ بنی حنیفہ کے ایک سردارثُمامہ بن اُثال کو گرفتا رکر لائے جسے مسجدنبوی کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا۔نبی کریمؐ مسجدمیں تشریف لائے اور ثمامہ سے پوچھا کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ یعنی تمہیں کس سلوک کی توقع ہے؟ اس نے کہا میری رائے اچھی ہے کیونکہ آپؐ ہمیشہ احسان کرنے والے ہیں۔اگر مجھے قتل کریں گے تو میرا قبیلہ اس کا بدلہ لے گا اور اگر آپؐ احسان کا سلوک کریں گے تو ایک شکر گزار انسان پر احسان کریں گے اور اگر آپؐ میری آزادی کے عوض کوئی مال وغیرہ چاہتے ہیں تو جو مانگنا چاہتے ہیں مانگیں۔ حضور ؐ نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ (مقصود یہ ہوگا کہ وہ مسجدنبوی میں مسلمانوں کی عبادت وغیرہ کے احوال دیکھ لے) اگلے روز پھر نبی کریمؐ نے اس سے وہی سوال دوہرایا۔ وہ بولا کہ میرا وہی جواب ہے جو پہلے عرض کرچکا ہوں کہ اگر آپؐ مجھ پر احسان کریں گے تو یہ ایک شکر گزار بندے پر احسان ہوگا۔ دوسرے روز بھی حضورؐ نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ پھر تیسرے روز اس سے وہی سوال پوچھا وہ کہنے لگا کہ میں پہلے ہی جواب عرض کرچکا ہوں۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ ثمامہ کو آزاد کردو۔ ثمامہ رسول اللہؐ کے حسن سلوک، مسلمانوں کی پنجوقتہ عبادت، اطاعت اور وحدت کے نظارے سے اس قدر متاثر ہوچکا تھا کہ آزاد ہوتے ہی قریب کے نخلستان میں جاکر غسل کیا۔ مسجدنبوی میں آکر کلمہ شہادت پڑھااور اسلام قبول کرلیا۔ پھر کہا ’’اے محمدؐ! آپؐ کا چہرہ روئے زمین پر میرے لئے سب سے زیادہ قابل نفرت تھا مگر آج آپؐ مجھے دنیا میں سب سے پیارے ہیں۔خدا کی قسم کوئی مذہب مجھے آپؐ کے مذہب سے زیادہ ناپسندیدہ نہ تھا مگر آج آپؐ کا دین اسلام مجھے تمام دینوں سے زیادہ پیارا ہوچکا ہے۔ خدا کی قسم کوئی شہرآپؐکے شہر سے زیادہ میرے لئے قابل نفرت نہ تھا۔آج آپؐ کا شہر مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوچکا ہے۔ آپؐ کے دستہ نے جب مجھے گرفتار کیاتو میں عمرہ کے ارادہ سے جارہا تھا۔ اب میرے لئے کیا حکم ہے؟ ‘‘نبی کریمؐ نے اس کے یہ تاثرات سن کر بہت خوشنودی کا اظہار فرمایا۔ثمامہؓ کو دنیا و آخرت کی بھلائی کی بشارت دی اور عمرہ کرنے کی اجازت عطافرمائی۔ وہ مکہ میںعمرہ کرنے گئے تو کسی نے کہہ دیا تم بھی صابی ہوگئے ہو یعنی نیا دین اختیار کرلیا ہے۔ اس نے کہا نہیں میں مسلمان ہوکر محمد رسول اللہؐ پر ایمان لایا ہوں اورکان کھول کر سن لو! خدا کی قسم تمہارے پاس یمامہ سے غلہ کا ایک دانہ نہیں آئے گا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت عطانہ فرمائیں۔(بخاری)58
    فتح مکہ کے موقع پر بھی رسول اللہؐ کی تالیف قلبی اور احسان کو دیکھ کر مکہ کے بڑے بڑے سرداروں نے اسلام قبول کرلیا تھاجس کی تفصیل غزوات میں خلق عظیم اور انفاق فی سبیل اللہ کے زیر عنوان موجود ہے۔
    یہودمدینہ کو تبلیغ
    رسول اللہؐ کی مدینہ میں تشریف آوری کے وقت یہود کے تین بڑے قبائل موجود تھے جو مسلمانوں کے ساتھ میثاق مدینہ کے معاہدہ امن میں شریک تھے مگر اپنی بدعہدی کی وجہ سے باری باری مدینہ سے انکا اخراج ہوتا رہا۔
    ہرچند کہ یہود مدینہ پر اتمام حجت ہوچکی تھی۔ ان کے کئی سرداروں پر آپؐ کی سچائی کھل چکی تھی،ایک خدا ترس یہودی عالم عبداللہؓ بن سلام کوتو قبول اسلام کی توفیق مل گئی لیکن باقی یہود کا رویہّ اپنے سرداروں کی وجہ سے معاندانہ رہا کیونکہ باقی سردار اپنی انااورہٹ دھرمی کے باعث اپنی سرداری چھوڑنے پر آمادہ نہ تھے۔اسی لئے رسول اللہؐ نے فرمایا کہ اگر مجھ پر دس یہودی سردار بھی ایمان لے آتے تو سارے یہودی ایمان لے آتے۔(بخاری)59
    یہود رسول اللہؐ کی مجالس میں حاضر ہوکرمختلف اعتراض بھی کرتے اور سوالات بھی اور تسلی بخش جواب بھی پاتے مگر ہدایت کی توفیق نہ ملی۔ رسول اللہؐ آخر دم تک ان پر اتمام حجت فرماتے رہے اور یہود اپنے وطیرہ کے مطابق انکار پر مصررہے۔
    نبی کریم ؐ مدینہ میں یہود کی علمی درسگاہ بیت مدراس بھی تشریف لے جاتے تھے۔ حضرت ابوھریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک روز مسجد نبوی میں موجود تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا’’ چلو آج یہود کی طرف چلتے ہیں۔‘‘ چنانچہ ہم یہود کی تعلیمی درسگاہ بیت مدراس گئے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں یہود ی علماء سے گفتگو کے دوران انہیں دعوت اسلام دی اور فرمایا کہ اے یہود کی جماعت! تم اسلام قبول کرلوامن میں آجائو گے۔(بخاری)60
    نصاریٰ کو تبلیغ
    سرزمینِ عرب میں موجود کوئی مذہب ایسا نہ تھا جس پر آنحضرت ؐ نے اتمام حجت نہ فرمائی ہو۔نجران کے عیسائیوں کو بھی آپؐ نے تبلیغ کی۔آغاز اسلام میں نجران میں چھوٹی سی خود مختار عیسائی ریاست قائم تھی جسے قیصر روم کی سرپرستی حاصل تھی۔ اہل نجران کو رسول اللہؐ کے دعویٰ کی اطلاع مکّی دور میں مہاجرین حبشہ کے ذریعہ ہوچکی تھی۔چنانچہ ان کا چوبیس افرد پر مشتمل پہلا وفد 10نبوی میں مکے آیا۔انہوں نے رسول اللہؐ کی تبلیغ سن کر اسلام قبول کرلیا۔(کرامت)61
    مدینہ آکر اہل نجران سے رابطہ رسول اللہؐ کے اس خط کے ذریعہ بحال ہوا جو آپؐ نے اُن کے مذہبی راہنما لارڈ بشپ کے نام لکھاجس میںآپؐ نے اسلام کی دعوت دیتے ہوئے بعض مشترک قدروں کی طرف توجہ دلائی۔ حضرت ابراہیم ؑ ،حضرت اسحاق ؑاورحضرت یعقوب ؑکے ادب واحترام کرنے کا ذکر کیا۔ پھر خدائے واحد کی عبادت کی طرف بلاتے ہوئے دعوت دی کہ مسلمان ہوجائیںیا جزیہ دینا قبول کرلیں۔اس خط کے نتیجہ میں2ھ میں نجران کا ایک سہ رکنی وفد مدینے آیا جسے معاہدہ صلح کیلئے ایک عبارت تجویز کر کے دی گئی۔بعد میں9ھ کے زمانہ میں ساٹھ رکنی وفد نجران آیاجس میں ان کے مذہبی اور سیاسی رہنمابھی موجود تھے۔اسی موقع پر بحث و تمحیص کے بعد اہل نجران کو مباہلہ کا چیلنج دیاگیاجو انہوں نے قبول نہیں کیابلکہ معاہدہ صلح کی توثیق کردی۔(بیہقی)62
    مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں نجران کے عیسائی رہنمائوںسے جو مدلل تبلیغی گفتگو رسول اللہ ؐنے فرمائی اس کامختصر ذکر کردیا جائے۔رسول کریمؐ نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو وہ کہنے لگے ’’ہم تو پہلے سے مسلمان ہیں۔ یعنی دین حق پر قائم ہیں اور اللہ کے حکم ماننے والے ہیں۔‘‘ رسول کریمؐ نے فرمایا’’ تم غلط کہتے ہو خدا کا بیٹا تسلیم کرنے ،صلیب کی پرستش اور خنزیر کھانے جیسی خرابیوں میں پڑجانے کے بعد تم اپنے آپ کو مسلمان اور دین حق پر قائم کیسے کہہ سکتے ہو؟ کیونکہ یہ باتیں حضرت مسیح کی تعلیم نہیں۔‘‘انہوں نے بحث کا پہلو اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر عیسیٰ ؑ خدا کا بیٹا نہیں تو آپؐ بتائیں اس کا باپ کون ہے؟اس سوال پر انہوں نے خوب بحث کی۔ رسول کریمؐ نے فرمایا کہ یہ تو تم جانتے ہو کہ کوئی بیٹا ایسا نہیں ہوتا جوباپ کے مشابہ نہ ہو۔انہوں نے کہا’’ ٹھیک ہے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا’’ کیا تمہیں پتہ ہے ہمارا رب زندہ ہے۔اس پر کبھی موت نہیں آئے گی اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تمہارے عقیدہ کے مطابق بھی ایک دفعہ موت آچکی ہے کیونکہ انہوں نے تمہارے نزدیک تمہارے گناہوں کے کفارہ کے لئے موت کا پیالہ پیا؟‘‘ انہوں نے کہا ’’ہاں یہ بھی درست ہے۔‘‘ رسول اللہؐ نے فرمایا’’ تمہیں پتہ ہے ہمارا رب ہر شے کا نگران ہے۔وہ ہر ایک کی حفاظت کرتا ہے اور اسے رزق بہم پہنچاتا ہے۔‘‘انہوں نے کہا ’’ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔‘‘آپؐ نے فرمایا ’’اچھا اب یہ بتائو کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو ان باتوں میں سے کس پر قدرت حاصل ہے؟‘‘(کہ اسے خدا کے مشابہ ہونے کی وجہ سے اس کا بیٹا قراردیا جائے)۔انہوں نے کہا ’’اُن میں سے کوئی بات حضرت مسیحؑ میں ہم نہیں جانتے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا کہ ’’ہمارے رب نے حضرت عیسیٰ ؑکو رحم مادر میں جیسے چاہا شکل عطافرمائی۔پھر ہمارا رب نہ توکھاتا ہے نہ پیشاب پاخانہ کرتا ہے۔‘‘انہوں نے کہا ’’یہ درست ہے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا’’ کیا تمہیں پتہ ہے کہ عیسیٰ ؑ کی والدہ اسی طرح حاملہ ہوئیںجیسے ایک عام عورت حاملہ ہوتی ہے؟پھر اسی طرح عیسیٰ کی ولادت ہوئی جس طرح ایک عام عورت بچہ جنتی ہے۔پھر حضرت عیسیٰ ؑبچے کی طرح غذا بھی لیتا تھااور کھاتا پیتا اور پیشاب بھی کرتا تھا۔ــ‘‘انہوں نے کہا’’ ہاں‘‘ آپؐ نے فرمایا’’ پھر تمہارا یہ دعویٰ کہ وہ خدا کا بیٹا ہے کیسے درست ہوسکتا ہے؟‘‘ اس پر وہ لاجواب اور خاموش ہوکر رہ گئے۔(واحدی)63
    شاہان مملکت کو خطوط
    شاہان مملکت کو خطوط بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عظیم الشّان تبلیغی شاہکار اور بہادرانہ کارنامہ ہے۔ہجرت مدینہ کے بعدمسلمانان مدینہ کو سب سے بڑا خطرہ جنوب میں قریش مکہ سے تھاجن کے ساتھ 6ھ میں حدیبیہ مقام پر ایک صلح نامہ ہوگیا۔ ہرچند کہ ابھی شمال کی طرف سے یہود خیبر کا خطرہ موجودتھامگر بڑے خطرہ کے ٹل جانے سے مدینہ کے حالات معمول پر آنے لگے اور مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانہ امن کو تبلیغ کی وسعت کے لئے غنیمت جانا اور عرب کے چاروں اطراف میں شاہان مملکت کو تبلیغی خط لکھے۔اس زمانہ میں ایران اور روم کی حکومتیں دنیا کی عظیم ترین سلطنتیں تھیں۔عرب ریاستیں ان کی باجگزار اور تابع مہمل سمجھی جاتی تھیں۔اندریں حالات ایک عرب کا ان حکومتوں کو خطاب اور اپنی اطاعت کی طرف بلانا اعلان جنگ کے مترادف تھا۔کوئی عام انسان ایسی جرأت کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔یہ تبلیغی خطوط رسول اللہؐ کا اپنے مشن پر یقین خدا کی ذات پر کامل ایمان و توکل اور غیر معمولی شجاعت کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
    کسریٰ شاہ ایران کو خط
    نبی کریم ﷺنے عبداللہؓ بن حذافہ بن قیسکو اپنا خط دے کر کسریٰ بن ہرمز شہنشاہ ایران کے پاس بھجوایا۔ اس خط کی عبارت تبلیغی مکاتیب کیلئے راہنما ہے۔آپؐ نے لکھا:۔
    ’’اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمان اور رحیم ہے۔ اللہ کے رسول محمدؐ کی طرف سے یہ خط فارس کے شہنشاہ کسریٰ کے نام ہے۔ جو بھی ہدایت کی پیروی کرے، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اس پر سلامتی ہو۔ میں آپ کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔میں تمام لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں تاکہ ہر زندہ شخص کو ہوشیار کروں اور انکار کرنے والوں پر فرد جرم لگ جائے۔آپ اسلام قبول کرلیجئے سلامتی آپ کا خیر مقدم کرے گی اور اگر آپ انکار کریں گے تو قوم مجوس کا گناہ بھی آپ پر ہوگا۔‘‘(بخاری)64
    کسریٰ شاہ ایران نے یہ خط پڑھ کر پھاڑ ڈالاتھا۔رسول اللہؐ نے فرمایا تھا کہ اس کی حکومت اسی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی۔اُس نے گو رنریمن باذان کو رسول اللہؐ کی گرفتاری کا حکم دیا۔ اس کے قاصد جب رسول اللہؐ کے پاس گرفتار کرنے کیلئے آئے تو آپ ؐنے فرمایا کہ آج رات میرے خد انے تمہارے خدا کو قتل کردیا ہے۔ رسول اللہؐ کی یہ پیشگوئی بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی۔ اسی رات کسریٰ کے بیٹے شیرویہ نے اپنے باپ کو قتل کردیا۔چھ ماہ بعد وہ خودبھی زہرپینے سے ہلاک ہوگیا اور اس کی بہن حکمران ہوئی اور یوں حکومت ایران پارہ پارہ ہوکر رہ گئی۔
    قیصر شہنشاہِ روم کو خط
    رسول اللہ ؐ کے صحابی حضرت دحیہ الکلبیؓ کے ذریعہ حسب دستور حاکم بصریٰ کے توسط سے یہ خط قیصر روم کو روانہ کیا گیا۔اس خط کو اللہ کے نام سے شروع کرتے ہوئے حضور ؐنے شاہی آداب کے موافق قیصر کو ’’عظیم الّروم‘‘ کے لقب سے خطاب فرمایا اور اسلام اور عیسائیت کی مشترک قدر توحید کی طرف دعوت دیتے ہوئے نیز ہدایت قبول کرنے والے کیلئے دعائوں کے ساتھ خط کا آغاز فرمایا اور اسلام قبول کرنے کی صورت میں دوہرے اجر کی بشارت دی۔ پہلا اجر حضرت عیسیٰ پر ایمان لانے کا اور دوسرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی صورت میں۔پھر اس تبشیر کے ساتھ انذار بھی فرمایا کہ انکار کی صورت میں رعایا کاگناہ بھی تم پر ہوگا۔
    شاہ ِروم ہرقل کی سعادت مندی تھی کہ اس نے رسول اللہؐ کا یہ خط بہت سنجیدہ نظر سے دیکھا۔ عزت کے ساتھ سونے کی ایک ڈبیہ میں اُسے محفوظ کر کے رکھا۔ مزید تحقیق کے لئے عربوںکے ایک وفد سے معلومات حاصل کیں جو ابوسفیان کی سرکردگی میں تجارت کے لئے شام گیا ہوا تھا۔پھر ابو سفیان سے کہا کہ تم نے میرے سوالوں کے جواب میں جوکچھ کہا ہے اگر وہ واقعی درست ہے تو وہ شخص ضرور میرے ملک پر غالب آئے گا۔ اگر میرے لئے ممکن ہوتا تو میں ضرور اس کی خدمت میں حاضر ہوتا اور اس کے پائوں دھوتا۔مگر بعد میں جب ہرقل نے اپنی قوم کے سرداروں کے سامنے بڑی حکمت سے منصوبہ بندی کر کے آنحضرت ؐ کا دعویٰ پیش کیا تو انہوں نے سختی سے انکار کردیا۔اس پر ہرقل ڈرگیا اور اسلام قبول کرنے کی جرأت نہ کی۔(بخاری)65
    رومی حاکم فروہؓ بن عمرو جزامی کا قبول اسلام
    ایمان کی توفیق بھی انسان کی طبعی سعادت اور خدا کے فضل پر موقوف ہوتی ہے۔جہاں ہرقل نے ایک عظیم الشان حکومت کا شہنشاہ ہوتے ہوئے دنیا کو مقدم کیا اور ڈرگیا وہاں اس کے ایک عامل فروہؓ کو جب اسلام کا پیغام پہنچا تو اس نے اسلام قبول کرلیا۔فروہؓ عرب علاقوں کے لئے رومی حکومت کی طرف سے گورنر مقرر تھا۔ رسول کریم ؐ نے اُس کی طرف بھی تبلیغی خط لکھا۔اس نے اپنا نمائندہ رسول اللہؐ کی خدمت میں بھجواکر اپنے قبول اسلام کی اطلاع کی اور آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ سواریاںخچر، گھوڑا وغیرہ اور کچھ قیمتی پوشاکیں(جن پر سونے کا کام تھا) تحفہ بھجوائیں ۔
    جب شاہ روم کو پتہ چلا کہ فروہ ؓنے اسلام قبول کرلیا ہے تو اسے پکڑکر قید کردیااور مسلسل دھمکیاں دیتا رہا کہ اس دین سے لوٹ آئو تو حکومت واپس مل جائے گی۔استقامت کے شہزادے فروہؓ نے کمال بہادری سے جواب دیا کہ میں محمد مصطفی ؐکے دین کو نہیں چھوڑ سکتا اور تم بھی جانتے ہو کہ حضرت عیسیٰ ؑنے اس نبی کی خبر دی تھی مگر تم اپنی حکومت کے چھن جانے کے ڈر سے اسلام قبول نہیں کرتے ہو۔شاہِ روم نے اُسے صلیب دے کر شہید کردیا۔( الحلبیہ)66
    نجاشی شاہ حبشہ کے نام خط
    رسول اللہؐ نے عمرو ؓبن امیہ ضمری کو نجاشی شاہ حبشہ کی طرف خط دیکر بھجوایا۔جس میں بسم اللہ کے بعدتحریر فرمایا:۔
    ’’یہ خط اللہ کے رسول محمدؐ کی طرف سے شاہ حبشہ نجاشی کے نام ہے۔ میں تمہارے پاس اس خدا کی حمد بیان کرتا ہوںجس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بادشاہ ہے، پاک ہے، سلامتی والا اورامن دینے والا ہے، حفاظت کرنے والاہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ عیسیٰ ؑبن مریم اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں، جو اس نے پاکباز مریم بتول کو عطا کیا اور وہ عیسیٰ ؑکے ساتھ حاملہ ہوئیں۔ میں آپ کو اس خدا کی طرف دعوت دیتا ہوں جس کا کوئی شریک نہیں اور یہ دعوت دیتا ہوں کہ آپ میری پیروی کریں اور اس کلام پر ایمان لائیں جو میرے پاس آیا ہے ۔میں اللہ کا رسول ہوں۔ میں نے آپ کے پاس اپنے چچا کے بیٹے جعفرؓاور ان کے ساتھ مسلمانوں کی ایک جماعت کو بھجوایا ہے۔ سلام ہو اس پر جوہدایت کی پیروی کرے۔‘‘
    نجاشیؓ نے یہ خط پاکر آنکھوں سے لگایا اور تخت شاہی سے نیچے اترآیا اور انکساری سے زمین پر بیٹھ رہا۔پھر اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا اور کہا ’’اگر مجھے طاقت ہوتو ضرور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں۔‘‘
    شاہ مصر کو خط
    مقوقس شاہ مصر کو تبلیغی خط حاطبؓ بن ابی بلتعہ کے ذریعہ حدیبیہ سے واپسی پر بھجوایا گیا۔مقوقس مذھباً عیسائی تھا۔اس خط کا مضمون بھی قیصر روم کے خط سے ملتا ہے۔
    مقوقس نے قاصد نبوی سے کچھ سوال و جواب کے بعد سعادت مندی کا مظاہرہ کیا۔مکتوب نبوی ہاتھی دانت کی ڈبیہ میں رکھا اور رسول اللہؐ کی خدمت میں جواباً تحریر کیا کہ میں نے آپؐ کے خط کا مضمون سمجھ لیا ہے۔ مجھے ایک نبی کے ظہور کا اندازہ تھا مگر خیال تھا کہ وہ شام سے ظاہر ہوگا۔اُس نے آپؐ کے قاصد کا اکرام کیا چنانچہ اسے سودیناراورپانچ پوشاکیں دیں اور رسول اللہؐ کی خدمت میں بیس پوشاکیں اورمعزز خاندان کی دولڑکیاں بھجوائیں۔ان میں سے ایک خاتون ماریہ رسول اللہؐ کے عقد میں آئیں۔مقوقس نے قاصد رسولؐ سے کہا تھا کہ میرے درباریوں کو تمہارے ساتھ ہونے والی گفتگو کا پتہ نہ چلے۔ میں حکومت چھن جانے کے ڈر سے اپنی قوم سے اسلام کے بارہ میں بات نہیں کرتا،ورنہ میں جانتا ہوں کہ یہ نبیؐ ایک دن ہما ری سرزمین پر غالب آئے گا اور اس کے ساتھی یہاں اتریں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور17ھ میں مصر فتح ہوگیا۔(الحلبیہ)67
    غسانی سردارکے نام خط
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شجاع ؓبن وھب الاسدی کو حارث بن ابی شمر کی طرف دعوت اسلام کے لئے اپنا خط دے کر بھجوایااور لکھا کہ اسلام قبول کرلو تو تمہاری حکومت بھی قائم و دائم رہے گی۔ اس نے خط پڑھ کر پھینک دیا اور کہا ’’کون ہے جو میرا ملک مجھ سے چھین سکے؟ میں اس کے خلاف لشکر کشی کرونگا۔‘‘ اور قاصد سے کہا کہ اپنے آقا کو جاکر یہ بتادو۔
    پھر اس نے قیصر شاہ روم کو مکتوب نبوی کی اطلاع دی۔ قیصرنے جواباً لکھا کہ تمہیں اس نبی کے خلاف لشکر کشی کی ضرورت نہیں اور مجھے ایلیاء مقام پر آکر ملو۔ یہ جواب آنے پر اس نے رسول اللہؐ کے قاصد کو بلوابھیجا اور سو دینار اور پوشاک انعام دی اور کہا کہ رسول اللہؐ کو میرا سلام کہنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قاصد سے اس کے احوال سنے تو فرمایا کہ اس کی حکومت تباہ و برباد ہوگی۔ فتح مکہ کے سال حارث بن ابی شمر کی وفات ہوگئی۔(الحلبیہ)68
    حاکم یمامہ کے نام خط
    رسول اللہ ؐ نے سُلیطؓ بن عمرو عامری کواپنا خط دے کر ھوذہ بن علی حنفی حاکم یمامہ کے پاس دعوت اسلام کے لئے بھجوایا اور لکھا کہ میرا دین عنقریب غالب آئے گا۔تم اسلام قبول کرلو امن میں آجائو گے اور تمہاری حکومت تمہارے ہی سپرد رہے گی۔ اس نے وہ خط پڑھ کر جواباً لکھا۔ آپؐ کا پیغام نہایت عمدہ اورخوبصورت ہے۔میں اپنی قوم کا شاعر اور خطیب ہوں۔ عرب لوگ میرے مرتبہ سے ڈرتے ہیں۔ آپؐ اپنی حکومت میں سے میرا بھی کچھ حصہ مقررکریںتو میں آپؐ کی پیروی کرلونگا۔ نبی کریمؐ نے اس کا خط پڑھ کر فرمایا اگر وہ زمین کاٹکڑابھی مانگتا تو میں اسے نہ دیتا ۔فتح مکہ سے واپسی پر جبریل ؑنے رسول اللہؐ کو ھوذہ کی وفات کی خبردی۔(الحلبیہ)69
    شاہِ غسان کے نام خط
    جبلہ بن ایہم شاہ غسان کو بھی رسول اللہؐ نے خط لکھا جس میں اسلام کی دعوت دی۔ اس نے اسلام قبول کرلیا اور حضرت عمرؓ کے زمانہ تک مسلمان رہا۔(الحلبیہ)70
    سردار طائف کے نام خط
    ذی القلاع حمیری شاہان طائف میں سے تھا۔ اس نے خدائی کا دعویٰ کر رکھا تھا۔ رسول اللہؐ نے اس کے نام تبلیغی خط لکھا اور جریرؓ بن عبداللہ کے ہاتھ بھجوایا۔جریر کی واپسی سے قبل رسولؐ اللہ کی وفات ہوگئی۔
    سردارانِ عمان کو خطوط
    نبی کریمؐ نے عمان کے دو سرداروں جیفر اور عبد کوعمروؓ بن عاص کے ہاتھ خطوط بھجوائے۔ بڑے بھائی جیفر نے کہا میں کل سوچ کر جواب دونگا۔ اگلے روزاس نے کچھ تردّد کے بعد اسلام قبول کرلیااور عمر وؓ بن العاص کو اجازت دی کہ وہ اسلام قبول کرنے والوں سے زکوٰۃ وصول کرسکتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے امراء سے زکوٰۃ وصول کر کے وہاں کے غرباء میں تقسیم کردی۔ (ابن الجوزی)71
    رئیس بحرین کو خط
    رسول کریمؐ نے علاء بن حضرمی کے ذریعہ منذربن ساویٰ العبدی رئیس بحرین کو خط بھجوایا۔منذر نے جواب میں آپؐ کی تصدیق کرتے ہوئے اسلام قبول کرلیا۔رسول کریمؐ نے اس کی امارت قائم رکھی اورفرمایا کہ مسلمانوں کو مذہبی آزادی کا حق ملنا چاہئے اور یہود و مجوس سے جزیہ وصول کیا جائے۔(الحلبیہ)72
    شاہان حمیر کے حضور کے نام خطوط
    تبوک پر رومی فوجوں کے اجتماع کی اطلاع پاکر رسول اللہؐ نے سفرتبوک اختیار کیا تو کئی قبائل پر ہیبت طاری ہوئی ۔اس سفر سے واپسی پر شاہان حمیر نے آنحضوؐر کی خدمت میں اپنے قبول اسلام کا خط بھجوایا۔آنحضورؐ نے جوابی مراسلہ میں تحریر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہدایت عطافرمائی ہے تم اصلاح کرو اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور نمازاور زکوٰۃ اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرو۔ میرے نمائندوں سے حسن سلوک کروجن کے امیر معاذ بن جبل ہیںاور قوم حمیر سے بھی حسن سلوک کرنا کہ رسول اللہؐ تمہارے امراء و فقراء سب کے ولی ہیں۔(الحلبیہ)73
    عام الوفود
    غیرجانبدار قبائل عرب مکّہ و مدینہ کی جنگ کے دوران طبعاً اس انتظار میں تھے کہ غالب آنے والے فریق کا ساتھ دیں گے ۔وہ مسلمانوں کے غلبہ کی اُمید پر اپنے قبول اسلام کے لئے فتح مکہ کا انتظار کررہے تھے۔چنانچہ فتح مکہ کے بعد9ھ میں اس کثرت سے قبائل عرب مدینہ آئے اور اسلام قبول کیا کہ یہ سال عام الوفود کے نام سے مشہورہوگیاجس میں ستر کے قریب وفود آئے۔رسول کریمؐ کی ہدایت پر صحابہ کرام نے ان وفود کی خوب مہمان نوازی اور خاطر تواضع کی۔رسول اللہؐ ان وفود کوتالیف قلبی کی خاطر انعام واکرام سے بھی نوازتے اوروہ اسلام کے قریب ہوجاتے۔ان وفود میں سے چندایک کاذکر حضورؐ کی پرُ حکمت تبلیغی گفتگو کے حوالے سے کیا جارہا ہے۔
    ۱۔وفد سعد بن بکر
    حضرت انسؓ اس وفد کی آمد کاواقعہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک شتر سوار آیا۔ اس نے اپنا اونٹ باندھ کر پوچھا تم میں سے محمدؐ کون ہے؟ نبی کریم ؐ درمیان میں تشریف فرماتھے۔ ہم نے کہایہ جو گورے رنگ کے ٹیک لگا کر بیٹھے ہیں۔ اس شخص نے ندادی۔ اے عبدالمطلب کے بیٹے! نبی کریمؐ نے کمال تحمل سے جواب دیا۔ میں حاضر ہوں۔ اس شخص نے کہا کہ میں آپؐ سے ذرا سختی سے کچھ سوال کروں گا آپؐ برا نہ ماننا۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھو۔اس نے آپؐ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھا کہ کیا اللہ نے آپؐ کو رسول بناکر بھیجا ہے اور پانچ نمازوں کا حکم دیا ہے؟ پھر اس نے قسم دے کر روزوں کی فرضیت، زکوٰۃ کی ادائیگی وغیرہ کے بارے میں سوال کیا۔ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ہاںمیں اللہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بناکر بھیجا ہے اور ان باتوں کا حکم دیا ہے۔ا س پر وہ شخص کہنے لگا میں اس تعلیم میں ایمان لاتاہوں جو آپؐلے کر آئے ہیں۔ میرا نام ضمامؓ بن ثعلبہ ہے اور میں قبیلہ سعد بن بکر کا نمائندہ ہوں۔(بخاری74)ضمامؓ بن ثعلبہ نے جو اپنی قوم کا سرداربھی تھا واپس جاکر یہ پیغام اپنی قوم کو بھی پہنچایا۔
    ۲۔عدی بن حاتم طائی کی آمد
    حاتم طائی کانام اپنی سخاوت کیو جہ سے عربوں میں ضرب المثل ہے۔ حاتم رسول اللہؐ کے زمانے سے پہلے ہی وفات پاچکا تھا۔اس کے بیٹے عدی اپنے قبول اسلام کا دلچسپ واقعہ یوں بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی قوم کا سردار تھا اور عرب رواج کے مطابق مال غنیمت کا چوتھا حصہ وصول کرتاتھا۔جب میں نے رسول اللہؐ کی بعثت کے بارے میں سُنا تو مجھے یہ بات سخت ناگوار گزری اور میں نے اپنے ایک غلام کو جو میری بکریاں چراتا تھا اس کام سے فارغ کر کے یہ ذمہ داری سونپی کہ جب تمہیں اس علاقے میں محمدؐ کے لشکروں کے آنے کا پتہ چلے تو مجھے اس کی اطلاع کرنا ۔ایک دن وہ میرے پاس آکر کہنے لگا کہ محمدؐ کے حملے کے وقت جو حفاظتی تدبیرتم نے کرنی ہے کرلو محمدؐ کے لشکرسر پر ہیں۔عدی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے اونٹ منگوائے۔ اپنے بیوی بچوں کو ان پر سوار کیا اورملک شام میں اپنے ہم مذہب عیسائیوں کے پاس جاکر پناہ لی ۔ اپنی ایک بہن اوردیگر رشتہ داروں کو پیچھے چھوڑ آیا۔ اس بیچاری پر یہ مصیبت گزری کہ وہ جنگ حنین میں قید ہوگئی۔جب قیدی رسول اللہؐ کے پاس آئے اور حضورؐ کو پتہ چلا کہ میں ملک شام کو بھاگ گیا ہوں تو آپؐنے میری بہن کے ساتھ بہت احسان کا سلوک کیا۔اسے پوشاک، سواری اور اخراجات کے لئے رقم عنایت فرمائی ۔وہ مجھے ڈھونڈتی ہوئی ملک شام آنکلی۔مجھے کوسنے لگی کہ تم بہت ظالم اور قطع رحمی کرنے والے ہو۔میں نے نادم ہوکر معذرت کی۔ وہ بہت دانا خاتون تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اس شخص (محمدؐ) کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا کہ میری مانوتو جتنا جلدی ممکن ہے ان سے جاکر ملاقات کرو۔اگر تو وہ نبی ہیں تو تمہارا ان کے پاس جلد جانا باعث فضیلت ہے اور اگر وہ بادشاہ ہیں تو بھی تمہیں ان کا قرب ہی نصیب ہوگا۔ میں نے سوچا کہ یہ مشورہ تو بہت عمدہ ہے۔اس طرح عدی کی بہن نے اپنے مسلمان ہونے کا ذکر کئے بغیرحکمت عملی سے انہیں حضورؐ کی خدمت میں حاضرہونے کے لئے آمادہ کرلیا۔ عدی کہتے ہیں میں مدینے پہنچا اور اپنا تعارف کروایا تو حضورؐ مجھے اپنے گھر لے کر جانے لگے۔ راستے میں ایک بوڑھی عورت آپؐ سے ملی ،اس نے آپؐ کو روک لیا۔آپؐ دیر تک کھڑے اس کی بات سنتے رہے۔ میں نے دل میں کہا یہ شخص بادشاہ تو نہیں لگتا۔پھر جب حضورؐ کے گھرپہنچا تو وہاں ایک گدیلا پڑا تھا جس کے اندر کھجور کی شاخیں بھری تھیں۔ حضورؐ نے اپنے دست مبارک سے اُسے بچھا کر مجھے بیٹھنے کیلئے فرمایا۔میں نے عرض کیا کہ آپؐ اس پر تشریف رکھیں۔حضورؐ نے فرمایا کہ نہیں اس پرتوآپ ہی بیٹھو گے اور رسول اللہؐ خودزمین پر بیٹھ رہے۔ میں نے دل میں کہا کہ خدا کی قسم یہ تو بادشاہوں والی باتیں نہیں۔پھر حضور ؐ مجھے بار بار یہی فرماتے رہے کہ عدی تم اسلام قبول کرلو امن میں آجائو گے۔ میں نے عرض کیا کہ میں پہلے سے ایک دین پر قائم ہوں۔آپ ؐنے فرمایا مجھے تمہارے دین کا تم سے زیادہ پتہ ہے۔میں نے تعجب سے پوچھا مجھ سے زیادہ؟ آپؐ نے فرمایا کہ تم فلاںعیسائی فرقہ سے ہونا! میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا تم عرب سرداروں کے قدیم دستور کے مطابق مالِ غنیمت کا چوتھا حصہ بھی وصول کرتے ہو۔میں نے عرض کیا جی ہاں۔آپؐ نے فرمایا تمہیں پتہ ہے تمہارے دین کے مطابق یہ طریق جائز نہیں ہے۔میں نے عرض کیاجی حضور۔
    یہ سن کر میں نے دل میں کہا کہ خدا کی قسم یہ تو اللہ کی طرف سے بھیجا گیا نبی معلوم ہوتا ہے جو ایسا علم رکھتا ہے۔پھر رسول اللہؐ نے فرمایا اے عدی ! تمہیں اس دین میں داخل ہونے میں یہی روک ہے کہ تم سمجھتے ہو کہ اس کی پیروی کمزور اور غریب لوگوں نے کی ہے جنہیں سارے عرب نے دھتکاردیا ہے۔خدا کی قسم !ان لوگوں میں مال کی بھی بڑی کثرت ہوگی یہاں تک کہ مال لینے والاکوئی نہیں رہے گا۔پھر فرمایاتمہارے اس مذہب کے قبول کرنے میں دوسری روک یہ ہوسکتی ہے کہ ہماری تعداد کم ہے اور دشمن زیادہ تو سنو! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ دین غالب آئے گا اور ایک شتر سوار عورت تنہا عرب کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بے خوف و خطر سفرکرے گی اور بیت اللہ آکر طواف کرے گی۔پھر فرمایاتمہارے اسلام قبول کرنے میں تیسری روک یہ ہوسکتی ہے کہ ہمارے پاس بادشاہت نہیں ۔خدا کی قسم بڑے بڑے محلات مسلمانوںکے لئے فتح کئے جائیں گے۔اسلام کی شوکت اور فتح کا یہ زمانہ بہت قریب ہے۔یہ مؤثر تبلیغ سن کر عدی نے اسلام قبول کرلیا۔(الحلبیہ)75
    ۳۔وفدِ فروہ کی آمد
    فروہ قبیلے کا سردار شاہان کندہ سے بغاوت کرتے ہوئے اپنا وفدلے کر رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اسلام کے ظہور سے پہلے ان کی جنگ قبیلہ ہمدان سے ہوئی تھی جس میں انکا بہت جانی نقصان ہوا اور وہ جنگ ’’یوم الردم‘‘ یعنی ہلاکت کے دن کے طور پر مشہور ہوگئی۔رسول کریمؐ نے اس جنگ کے حوالے سے اس سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ جنگ تم لوگوں کے لئے بڑی تکلیف دہ ہوئی ہوگی۔اس نے کہا کہ یارسول اللہؐ جس قوم کو ایسی ہلاکت اور مصیبت پہنچے تو تکلیف اور رنج تو ہوتا ہے۔حضورؐ نے کیا عمدہ تبصرہ فرمایا کہ اس جنگ کا ایک فائدہ بھی توہو اکہ اس واقعہ کے نتیجے میں تمہاری قوم کو اسلام قبول کرنے کی توفیق مل گئی۔رسول کریمؐ نے اسلام قبول کرنے کے بعد اسے اپنے قبیلہ کاامیر مقرر فرمادیا۔(الحلبیہ)76
    ۴۔وفد کندہ کی آمد
    کندہ قبیلے کا ساٹھ افراد پر مشتمل وفد اپنے سردار اشعث بن قیس کی سرکردگی میں حاضر خدمت ہوا۔ انہوں نے یمن کے ریشمی جبّے پہن رکھے تھے۔ انہوں نے کہاسنا ہے آپؐ *** ملامت سے منع کرتے ہیں۔
    رسول اللہؐ نے فرمایا میں بادشاہ نہیں ہوں، محمدؐ ابن عبداللہ ہوں۔ انہوں نے کہا ہم آپؐ کا نام لیکر نہیں پکاریں گے۔آپؐ نے فرمایا تم ابوالقاسم کہہ لو۔ انہوں نے کہا اے ابوالقاسمؐ !ہم نے اپنے دل میں ایک بات رکھی ہے۔ آپؐ بوجھ کر بتائو کہ وہ کیا ہے ؟ رسول اللہؐ نے فرمایا اللہ پاک ہے یہ کام تو کاہنوں کا ہے اور کہانت کرنے والا جہنمی ہے۔انہوں نے کہا کہ پھر ہمیں کیسے پتہ لگے کہ آپؐ رسول ہیں۔آپؐ نے فرمایا اللہ نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مجھ پر ایسی عظیم الشان کتاب اتاری ہے کہ جھوٹ نہ اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے ۔انہوں نے کہا کہ آپؐ ہمیں اس میں سے کچھ سُنائیے۔رسول اللہؐ نے سورۃ صافات کی تلاوت شروع کی۔جب آپؐ اس کی چھٹی آیت رَبُّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ تک پہنچے تو خاموش ہوگئے اور بے حس و حرکت ہوکر رک گئے آنسوئوں کی لڑی آپؐ کی آنکھوں سے داڑھی پر برس رہی تھی۔
    وہ کہنے لگے کیا آپؐ اپنے بھیجنے والے کے ڈر سے روتے ہیں؟آپؐ نے فرمایا ہاں۔مجھے اسی کا خوف رلاتا ہے جس نے مجھے صراط مستقیم پر بھیجا ہے جو تلوار کی دھار کی طرح سیدھی ہے۔اگر میں اس سے بھٹک گیا تو ہلاک ہوجائوں گا۔پھر حضورؐ نے اُن سے فرمایا کیا تم مسلمان نہیں ہوگے؟ انہوں نے کہا ضرور ہوں گے۔ آپؐ نے فرمایا پھر یہ ریشمی جُبّے کیسے ہیں؟چنانچہ انہوں نے وہ جبے اتار پھینکے۔ (الحلبیہ)77
    ۵۔وفد ہمدان
    فروہ اور ہمدان قبائل کے درمیان جنگ ہوچکی تھی۔فروہ قبیلہ نے قبول اسلام میں پہل کی تو ہمدان کو طبعاً وقتی روک پیدا ہوئی۔رسول اللہؐ نے خالدؓ بن ولید کو فتح مکہ کے بعد دعوت اسلام کے لئے قبیلہ ہمدان کی طرف بھجوایا۔ چھ ماہ کی کوششوں کے باوجود جب یہ اسلام نہیں لائے تو رسول اللہؐ نے بجائے حملہ کی اجازت کے حضرت علی ؓکو بھجوایا کہ انہیں دوبارہ اسلام کی دعوت دیں۔حضرت علی ؓ نے جاکر دعوت اسلام دی،انہیں قرآن سنایااور سارے قبیلہ نے اسلام قبول کرلیا۔ حضرت علیؓ نے رسول اللہؐ کی خدمت میں ان کے قبول اسلام کی اطلاع کی۔ رسول اللہؐ کا شوق تبلیغ ملاحظہ ہو آپؐ خط پڑھتے ہی فوراً سجدے میں گر گئے اور دو دفعہ فرمایا ہمدان قبیلے پر سلامتی ہو۔ پھر آپؐ نے اس قبیلہ کی تعریف اور حوصلہ افزائی فرمائی۔(الحلبیہ)78
    ۶۔وفدتَجیب
    تیرہ افراد پر مشتمل یہ وفد اپنے ساتھ اموال زکوٰۃ بھی لے کر آیا۔ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ یہ مال اپنے غرباء میں تقسیم کردینا۔انہوں نے کہا کہ مقامی طور پر تقسیم کے بعد ہم بچاہوا مال لے کر آئے ہیں۔رسول اللہؐ اس قبیلہ کی آمد پر بہت خوش تھے کہ کسی طمع سے نہیں دلی شوق سے مالی قربانی کرتے ہوئے اسلام قبول کررہے ہیں۔آپؐ نے انہیں بڑی محبت سے اسلام کی تعلیم دی ۔ جب انہوں نے واپس جانے کا ارادہ کیاتو حضورؐ نے فرمایا جانے کی کیا جلدی ہے کچھ دن اور قیام کریں۔انہوں نے عرض کیا کہ واپس جاکر ہم اپنی قوم کو بھی اسلام کا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔حضورؐ نے اس وفد کو بھی انعام و اکرام کے ساتھ رخصت کیا۔( الحلبیہ)79
    ۷۔وفد سعد بن ہُزیم
    بنی سعد ہُزیم کا وفد نعمان کی سرکردگی میں آیا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم آئے تو حضورؐ ایک جنازہ پڑھارہے تھے جس میں ہم شامل نہیں ہوئے۔ آپؐ نے ہمارے تعارف کے بعد پوچھا تم مسلمان ہو؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا تو فرمایا کہ پھر تم اپنے بھائی کی نماز جنازہ میں کیوں شامل نہ ہوئے ؟انہوں نے کہا کہ بیعت سے پہلے ہم نے اسے جائز نہیں سمجھا۔آپؐ نے فرمایاجس وقت تم نے دل سے اسلام قبول کرلیا اس وقت سے مسلمان ہوگئے۔اس کے بعد رسول اللہؐ کے ہاتھ پر بھی بیعت کی سعادت حاصل کی۔
    اس وفد کے لوگ بیان کرتے تھے جب ہم اپنے خیموں میں آئے تو جس لڑکے کو وہاں بغرض حفاظت چھوڑ کر آئے تھے اسے حضورؐ نے بلوا بھیجا۔ہم نے عرض کیا کہ یہ ہم میں سے کم عمر اور ہمار اخادم ہے۔آپؐ نے فرمایا قوم کا سرداربھی ان کا خادم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے برکت دے ۔اس طرح اس خادم میں صلاحیت دیکھ کر اس کی عزت افزائی کی ۔نعمانؓ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہؐ نے اس بچے کو ہم پر امیر مقرر کیا اور وہ ہمیں نمازیں پڑھاتا تھا۔(الحلبیہ)80
    ۸۔وفد بلیّ
    قُضاعہ قبیلہ کایہ وفد حضورؐ کی خدمت میں آیااور اسلام کا اقرار کیا۔ان کے بوڑھے سردار نے پوچھا کہ مجھے مہمان نوازی سے شغف ہے کیا اس کا اجر ہوگا۔آپؐ نے فرمایا ہر نیکی کا اجر ہے خواہ امیر سے کی جائے یاغریب سے۔ مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے۔اس وفد نے تین روزقیام کیا ۔اسلام کی تعلیمات سیکھیں اور واپس اپنے قبائل میں جاکر پیغام پہنچانے لگے۔(الحلبیہ)81
    ۹۔وفد بنی عذرہ کی آمد
    قبیلہ بنی عذرہ کا وفد یمن سے آیا۔انہوں نے کہا کہ ہم آپؐ کے ننھالی رشتہ دارہوتے ہیںکیونکہ ہم قصی بن کلاب کے بھائی کی اولاد ہیں۔ ہمارا آپؐ سے رحمی رشتہ ہے۔رسول اللہؐ نے انہیں بہت مسرت سے خوش آمدید کہا اور فرمایا کہ پریشانی کی بات نہیں تم لوگ اپنے گھر کی طرح یہاں رہو۔آنحضورؐ نے انہیں اسلام کی تعلیم دی۔ کہانت سے روکااور فرمایا کہ کاھنوں سے غیب کی باتیں وغیرہ مت پوچھا کرو۔ اسی طرح انہیں بتوں پر قربانیاں کرنے سے بھی منع فرمایا اور وہ مسلمان ہوکر لوٹے۔(الحلبیہ)82
    ان قبائل کی آمد اور قبول حق سے عرب میں اسلام کا نام بلند ہوااور رسول اللہؐ کی تبلیغی کاوشوں کے نتیجہ میں اس بت پرست جزیرہ میں توحید کی منادی برسرعام ہونے لگی۔
    رسول اللہؐ کی آخری وصیت
    عمر بھر حق تبلیغ ادا کرنے کے بعد نبی کریمؐ نے اپنی زندگی کے آخری حج کے موقع پر اپنی انقلاب انگیز تعلیم امن کا خلاصہ بطور اعادہ اُمت کے ہزاروں نمائندوں تک پہنچایا۔ انہیں آخری وصیت بھی تبلیغ ہی کے بارے میں فرمائی کہ جو حاضر ہیں وہ ان لوگوں تک یہ پیغام ضرور پہنچائیں جو یہاں موجود نہیں،کیونکہ بسااوقات ایک غیر حاضرآدمی موجود شخص سے زیادہ بات کو یاد رکھنے والا اور سمجھ کر اس پر عمل کرنے والا ہوتا ہے۔(بخاری)83
    پھر آپؐ نے موجود ہزاروں مسلمانوں سے یہ گواہی لی کہ کیا میں نے پیغام پہنچادیا، سب نے بیک زبان ہوکر کہا کہ آپؐ نے بلاشبہ پیغام پہنچانے کا حق ادا کردیا۔ تب آپؐ نے آسمان کی طرف انگلی کر کے خدا کو گواہ ٹھہرایا اور کہا اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ۔اے اللہ تو بھی گواہ رہنا۔ (بخاری)84
    اے ہمارے آقا!بے شک تیرا رب اور اس کے فرشتے بھی گواہ ہیں کہ تو نے پیغام پہنچانے کا حق خوب ادا کردیا اور جس طرح تیرے دور کے ہزاروں اصحاب نے اپنی چشم دید گواہی دی تھی کہ آپؐ نے حق تبلیغ میں کوئی کسر اُٹھانہیں رکھی۔ آج چودہ سو سال بعد ہم تیر ے اُمتی اورغلام بھی صدق دل سے گواہی دیتے ہیںکہ آپؐ نے اس شان سے حق تبلیغ ادا کیا کہ اس کی مثال روئے زمین پر اس سے پہلے نہیں ملتی۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍوَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍطوَبَارِکْ وَسَلّم اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ

    حوالہ جات
    1
    مسنداحمدبن حنبل جلد4
    2
    بخاری کتاب الرقاق باب النھی عن المعاصی
    3
    مسلم کتاب الطلاق باب فی الایلاء واعتزال النساء
    4
    دلائل النبوۃ للبیھقی جلد 2ص162مطبوعہ بیروت
    5
    دلائل النبوۃ للبیھقی جلد2ص164مطبوعہ بیروت
    6
    دلائل النبوۃ للبیہقی جلد2 ص168دارالکتب العلمیہ مطبوعہ بیروت
    7
    بخاری کتاب فضائل القرآن باب تالیف القرآن
    8
    بخاری کتاب التفسیر سورۃ الشعراء و لہب و تفسیر ابن جریر الطبری سورۃ الشعراء زیر آیت و انذر عشیرتک الاقربین
    9
    تفسیرطبری سورۃ الشعراء زیر آیت وانذرعشیرتک الاقربین
    10
    حاشیہ السیرۃ النبویہ لابن ہشام جلد1ص270مطبوعہ مصر
    11
    دلائل النبوۃ بیھقی جلد2ص207مطبوعہ بیروت
    12
    السیرۃ النبویۃ لابن ھشام جز1ص314مصر،السیرۃ الحلبیۃ جلد1ص3030بیروت
    13
    مسلم کتاب الجمعہ باب تخفیف الصلوۃ و الخطبہ
    14
    الوفاء باحوال المصطفٰے ابن جوزی ص193بیروت
    15
    بخاری بنیان الکعبہ باب اسلام ابی ذر
    16
    الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجرجلد2ص287
    17
    الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد4ص239
    18
    مسند احمد جلد ۱ص379 مطبوعہ بیروت و دلائل النبوۃ اللبیھقی جلد2 172,173
    19
    السیرۃ النبویۃ ابن ہشام جلد1ص278مطبوعہ مصر
    20
    السیرۃ النبویۃ لابن ہشام جلد1ص310مطبوعہ مصر
    21
    مسند احمد بن حنبل جلد5ص229مطبوعہ بیروت
    22
    السیرۃ النبویۃ لابن ہشام جلد2ص34مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت
    23
    ترمذی ابواب المناقب مناقب عمر
    24
    السیرۃ النبویۃ ابن ہشام جلد1ص367تا372مطبوعہ بیروت
    25
    السیرۃ النبویۃ ابن ہشام جز2ص31مصطفی البابی الحلبی مصر،بخاری کتاب اللباس باب العمائم
    26
    مسند احمد جلد 3ص120مطبوعہ بیروت
    27
    السیرۃ النبویۃ لابن ہشام جلد1ص386
    28
    دلائل النبوۃ لابی نعیم جلد1ص359
    29
    ترمذی کتاب فضائل القرآن باب الارجل یحملنی الی قومہ لابلّغ کلام ربی
    30
    دلائل النبوۃ للبیھقی جلد2ص413بیروت
    31
    دلائل النبوۃ للبیھقی جلد2ص414بیروت
    32
    مسند احمد جلد3ص492بیروت
    33
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص2بیروت
    34
    مسند احمد بن حنبل جلد5ص371بیروت
    35
    الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد1ص212بیروت
    36
    السیرۃ النبویہ ابن ہشام جلد2ص60تا62،السیرۃ الحلبیۃ جلد1ص354
    37
    السیرۃ الحلبیۃ ازعلامہ علی بن برھان جلد1ص354مطبوعہ بیروت
    38
    مسند احمدبن حنبل جلد4ص335مطبوعہ بیروت
    39
    السیرۃ النبویۃ لابن ھشام جلد1ص62مطبوعہ مصر
    40
    بخاری بدء الخلق باب7
    41
    ‏Life of Mahomet from original sources by Sir William Muir Pg:117 new edition 1877
    42
    دلائل النبوۃ للبیھقی جلد2ص421بیروت
    43
    مسند احمد جلد3ص339بیروت
    44
    الوفا ء باحوال المصطفیٰ از علامہ ابن جوزی ص249
    45
    بخاری کتاب التفسیرسورۃ آل عمران باب ولتسمعن من الذین اوتواالکتاب
    46
    بخاری کتاب الجنائز باب اذا اسلم الصبی
    47
    مسند احمد جلد3ص260مطبوعہ بیروت
    48
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص168تا171بیروت
    49
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص170مطبوعہ بیروت
    50
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الرجیع ،السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص171بیروت
    51
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الرجیع،السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص171بیروت
    52
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص215بیروت
    53
    السیرۃ الحلبیۃ جلد2ص39 داراحیاء التراث العربی بیروت
    54
    بخاری کتاب الجہاد و السیر باب فضل من اسلم علی یدیہ
    55
    بخاری کتاب المغازی باب غزوہ نبی المصطلق
    56
    شرح زرقانی علی المواھب اللدنیہ القسطلانی جلد2ص90بیروت
    57
    بخاری کتاب الادب باب رحمۃ الناس والبھائم
    58
    بخاری کتاب المغازی باب وفد بنی حنیفۃ و حدیث ثمامۃ بن اثال
    59
    بخاری بنیان الکعبۃ باب اتیان الیہود النبیؐ
    60
    بخاری کتاب الجہاد باب اخراج الیھود عن جزیرۃ العرب
    61
    السیرۃ المحمدیۃ از مولوی کرامت علی دہلوی باب وفد نجران
    62
    دلائل النبوۃ للبیھقی جلد5ص382تا385بیروت
    63
    اسباب النزول از علامہ واحدی ص61دارالفکر بیروت
    64
    بخاری کتاب المغازی ،تاریخ طبری جلد2
    65
    بخاری بدء الوحی
    66
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص229بیروت
    67
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص252,251مطبوعہ بیروت
    68
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص255بیروت
    69
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص254بیروت
    70
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص255,256بیروت
    71
    الوفاء باحوال المصطفیٰ از علامہ ابن جوزی :756مطبوعہ بیروت
    72
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص252بیروت
    73
    السیرہ الحلبیۃ جلد3ص229 بیروت و
    الوفاباحوال المصطفیٰ از علامہ ابن حوزی :756مطبوعہ بیروت
    74
    بخاری کتاب العلم، باب القراء ۃ ولعرض علی المحدث
    75
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص226,225بیروت
    76
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص226مطبوعہ بیروت
    77
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص228مطبوعہ بیروت
    78
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص230مطبوعہ بیروت
    79
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص230,31بیروت
    80
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص232مطبوعہ بیروت
    81
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص236بیروت
    82
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3ص235بیروت
    83
    بخاری کتاب العلم باب قول النبی رُبّ مبلغ اوعی من سامع
    84
    بخاری کتاب الحج باب الخطبۃ ایام منی

    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم ومربی ّ اعظم
    ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم عرب کی ایسی اَن پڑھ قوم میں مبعوث کئے گئے جو گمراہی میں اپنی مثال نہ رکھتی تھی۔ آپؐ نے اپنے حسنِ اخلاق ،محبت و شفقت اور دعائوں سے ان بدّوئوں کی ایسے اعلیٰ درجے کی تربیت فرمائی اور ان کے سینہ ودل کو ایسامنوّر کیا کہ وہ آسمانِ روحانیت کے روشن ستارے بن گئے۔
    یہ کرامت دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسنِ کردار اورپاکیزہ عملی نمونہ کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا کہ ’’اس شخص سے بہتر کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے اور عمل صالح بجالائے اور کہے کہ میں کامل فرمانبردار ہوں۔‘‘(سورۃ حمٰ السجدہ :34) اس ارشاد ربّانی کے اوّل مصداق ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپؐ ہی کی ذات ہے جسے جماعت مومنین کے لئے بہترین نمونہ قرار دیاگیا۔(سورۃالاحزاب:22)
    تربیت کیلئے قرآن شریف کا بنیادی اُصول یہ ہے قُوْااَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا (سورۃ التحریم:7)یعنی اپنے نفس اور اپنے گھروالوں کو آگ سے بچائو۔نبی کریمؐ نے اس ارشاد کی کی تعمیل میں گھر کی اکائی(Unit) سے تربیّت کا سلسلہ شروع کیا اوراپنا عملی نمونہ پیش کر کے اپنے اہل خانہ کی تربیت فرمائی۔قرآن شریف کے بیان کے مطابق رسول اللہؐ ازواج مطہّرات کو یہ نصیحت فرماتے تھے۔’’ اے نبی کی بیویو! تم ہرگز عام عورتوں جیسی نہیں ہوبشرطِیکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔پس بات لجا کر نہ کیا کرو۔ ورنہ وہ شخص جس کے دل میں مرض ہے طمع کرنے لگے گا اور اچھی بات کہا کرو اور اپنے گھروں میں ہی رہا کرو اور گزری ہوئی جاہلیت کے سنگھار جیسے سنگھار کی نمائش نہ کیا کرو اور نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔اے اہل بیت! یقینا اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی آلائش دور کردے اور تمہیں اچھی طرح پاک کردے اور اللہ کی آیات اور حکمت کو جنکی تمہارے گھروں میں تلاوت کی جاتی ہے یاد رکھو۔ یقینا اللہ بہت باریک بِین اور باخبر ہے۔‘‘(سورۃالاحزاب:33تا35)
    اہل خانہ کی تربیت
    نبی کریمؐ نے گھر میں نماز تہجد میں باقاعدگی اور دوام کا خوبصورت نمونہ قائم فرمایا پھر ازواج مطہّرات کوبھی بیدار کر کے نوافل ادا کرنے کی تلقین فرماتے۔ ایک دفعہ انہیں کیسی درد انگیز تحریک کرتے ہوئے فرمایا’’ سبحان اللہ! آج رات کتنے ہی فتنوں کی خبریں نازل کی گئی ہیں اور کتنے ہی خزانے اُتارے گئے ہیں۔ ان حُجروں میں سونے والی بیبیوں کو جگائو اور بتائو کہ کتنی ہی عورتیں دنیا میں بظاہر خوش پوش ہیں مگر قیامت کے دن وہ حقیقی لباس سے عاری ہونگی (جو تقویٰ کا لباس ہے۔)‘‘(بخاری)1
    حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو ہمارے گھر تشریف لائے اور مجھے اور فاطمہؓ کو تہجد کے لئے بیدار کیا۔ پھر آپؐ اپنے گھر تشریف لے گئے اور کچھ دیر نوافل ادا کئے۔اس دوران ہمارے اٹھنے کی کوئی آہٹ وغیرہ محسوس نہ کی تو دوبارہ تشریف لائے اور ہمیں جگایا اور فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔ حضرت علیؓ کہتے ہیں میں آنکھیں ملتاہوا اُٹھا اور بُڑبڑاتے ہوئے کہہ بیٹھا ’’خدا کی قسم ! جو نماز ہمارے لئے مقدر ہے ہم وہی پڑھ سکتے ہیں۔ ہماری جانیں اللہ کے قبضہ میں ہیں وہ جب چاہے ہمیں اُٹھادے۔‘‘رسول کریمؐ واپس لوٹے۔ آپؐ نے تعجب سے اپنی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے میرا ہی فقرہ دہرایا کہ ہم کوئی نماز نہیں پڑھ سکتے سوائے اس کے جو ہمارے لئے مقدر ہے پھر یہ آیت تلاوت کی ’’وَکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیْ ئٍ جَدَلًا‘‘کہ انسان بہت بحث کرنے والا ہے۔(احمد)2
    ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریمؐ چھ ماہ تک فجر کی نما زکے وقت حضرت فاطمہؓ کے دروازے کے پاس گزرتے ہوئے فرماتے رہے۔’’اے اہل بیت! نماز کا وقت ہوگیا ہے‘‘ اور پھرسورۂ احزاب کی آیت:33 پڑھتے کہ’’ اے اہل بیت ! اللہ تم سے ہر قسم کی گندگی دور کرنا چاہتا ہے اور تم کو اچھی طرح پاک کرنا چاہتا ہے۔‘‘(ترمذی)3
    رسول کریمؐ نے اپنے تمام اعزّہ و اقارب کو اورخاص طور پراپنی بیٹی فاطمہؓ کو آپؐ نے کھول کرسنادیا تھا کہ اللہ کے مقابل پر میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا ۔تمہارے عمل ہی کام آئیں گے۔(بخاری)4
    رسول کریمؐ نے اپنی اولاد کی تربیت کی بنیاد محبت الہٰی پرر کھی تاکہ وہ اللہ کی محبت میں پروان چڑھیں اور یہ محبت ان کے دل میں ایسی گھر کرجائے کہ وہ غیراللہ سے آزاد ہوجائیں۔ چنانچہ نبی کریمؐ حضرت حسن ؓو حسینؓ کو گود میں لے کر دعاکرتے تھے کہ ’’اے اللہ! میں ان سے محبت کرتاہوں تو بھی ان سے محبت کر۔‘‘(احمد)5
    آپؐ نے حضرت فاطمہؓ کی شادی پرکمال سادگی سے انہیں ضرورت کی چند چیزیں عطافرمائیں۔ بعد میں انہوں نے خادم کا مطالبہ کیا تو ذکرالہٰی کی طرف توجہ دلا کر سمجھایا کہ خدا کی محبت میں ترقی کرو ۔اللہ خود تمہاری ضرورتیں پوری فرمائے گا۔تم خداکو نہ بھولو وہ بھی تمہیں یاد رکھے گا۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہؓ کو ان کی شادی پرایک کمبل، چمڑے کا ایک تکیہ( جس میں کھجور کے پتے تھے)۔ایک آٹاپیسنے کی چکی، ایک مشکیزہ اور دو گھڑے دیئے تھے۔ایک دن حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہؓ سے کہا کہ کنوئیں سے پانی کھینچ کھینچ کر میرے توسینے میں درد ہونے لگا ہے۔ آپ کے اباّ کے پاس کچھ قیدی آئے ہیں، جاکر درخواست کرو کہ ہمیں بھی ایک خادم عطاہو۔ فاطمہؓ کہنے لگیں خدا کی قسم! میرے تو خود چکی پیس پیس کر ہاتھوں میں گَٹّے پڑگئے ہیں۔ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ آپؐ نے پوچھا کہ کیسے آنا ہوا؟ عرض کیا کہ سلام عرض کرنے آئی ہوں۔پھر انہیں حضورؐ سے کچھ مانگتے ہوئی شرم آئی اور واپس چلی گئیں۔ حضرت علیؓ نے پوچھا کہ کیاکرکے آئی ہو؟وہ بولیں کہ میں شرم کے مارے کوئی سوال ہی نہیں کرسکی۔تب وہ دونوں حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضورؐ کی خدمت میں اپنا حال زار بیان کر کے خادم کے لئے درخواست کی۔رسول کریمؐ نے فرمایا خدا کی قسم ! میں تمہیں دے دوں اوراہل صُفّہ (غریب صحابہ) کو چھوڑدوں؟جو فاقہ سے بے حال ہیں اور ان کے اخراجات کے لئے کوئی رقم میسر نہیں۔ان قیدیوں کو فروخت کر کے میں ان کی رقم اہل صفّہ پر خرچ کروں گا۔ یہ سن کر وہ دونوں واپس گھر چلے گئے۔ رات کو نبی کریمؐ ان کے گھر تشریف لے گئے۔ وہ اپنے کمبل میں لیٹے ہوئے تھے۔ رسول اللہؐ کو دیکھ کر وہ اُٹھنے لگے تو آپؐ نے فرمایا۔اپنی جگہ لیٹے رہو۔پھر فرمایا جو تم نے مجھ سے مانگاکیا میںاس سے بہتر چیز تمہیںنہ بتائوں؟انہوں نے کہا ضرور بتائیں۔ آپؐ نے فرمایا یہ چند کلمات ہیں جو جبریل ؑنے مجھے سکھائے ہیں کہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ الحمدللہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو۔ جب رات بستر پر جائو توتینتیس مرتبہ سبحان اللہ ،تینتیس مرتبہ الحمدللہ اورچونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھاکرو۔
    حضرت علیؓ فرماتے تھے جب سے رسول اللہ ؐ نے مجھے یہ کلمات سکھائے میں انہیں آج تک پڑھنا نہیں بھولا۔کسی نے تعجب سے پوچھا کہ جنگ صفین کے ہنگاموں میں بھی نہیں بھولے؟ کہنے لگے ہاں جنگ صفین میں بھی یہ ذکر الہٰی کرنامیں نے یادرکھا تھا۔
    نبی کریمؐ نے ایک اور صحابی کو یہی تسبیحات سو کی تعداد میں پڑھنے کی نصیحت کی اور فرمایا کہ اس تسبیح کی برکت تمہارے لئے سو غلاموں سے بڑھ کر ہے۔(احمد)6
    نصیحت اور یاددہانی
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تربیت کے سلسلہ میں قرآنی اسلوب ہمیشہ یادرکھتے تھے اور ’’فَذَکِّرْ‘‘ (یعنی نصیحت کرتے رہنے)کے حکم کے تابع بعض اہم مضامین یا نصائح کا تکرار پسند فرماتے تھے ،بالخصوص تقویٰ کی نصیحت کی یاددہانی کرواتے تھے۔نکاح وغیرہ کے موقع پر خطبۃ الحاجۃ میں تقویٰ کے مضمون پر مشتمل آیات تلاوت فرماتے تھے۔عام وعظ میں بھی اِتَّقُوْااللّٰہَ وَلْتَنْظُرْنَفْسٌ مَّاقَدَّمَتْ لِغَدٍ (سورۃ الحشر:19)کی کثرت سے تلاوت کرنے کا ذکر روایات میںہے۔جس میں تقویٰ کے ساتھ محاسبۂ نفس اور مسابقت فی الخیرات کے مضمون کی طرف بھی اشارہ پایاجاتاہے۔(احمد)7
    محاسبۂ نفس
    تربیت کا ایک نہایت عمدہ طریق محاسبۂ نفس اور مسابقت فی الخیرات ہے۔ نبی کریمؐ اس کا بہت خیال رکھتے تھے۔حضرت عبدالرحمان بن ابی بکرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے ایک روز صحابہ سے پوچھا کہ آج مسکین کو کھانا کس نے کھلایا ؟ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا یارسول اللہؐ! میں مسجد میں آیا تو ایک محتاج کو دیکھا۔ میں نے اپنے بچے عبدالرحمانؓ کے ہاتھ سے روٹی کا ٹکڑا لے کر اس مسکین کو دے دیا۔ (ابوداؤد)8
    اسی طرح آپؐ نے پوچھا آج اپنے کسی بھائی کی عیادت کس نے کی؟ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا کہ مجھے اپنے بھائی عبدالرحمان بن عوفؓ کی بیماری کی اطلاع ملی تھی۔ آج نماز پرآتے ہوئے میں ان کے گھر سے ہوکر ان کا حال پوچھتے ہوئے آیا ہوں۔آپؐ نے پوچھا آج(نفلی) روزہ کس نے رکھا ہے؟ حضرت ابوبکر ؓ نے جواب دیا کہ وہ روزے سے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے یہ سب نیکیاں ایک دن میں جمع کیں اس پر جنت واجب ہوگئی۔ حضرت عمرؓ نے یہ سنا تو روح مسابقت نے جوش مارا اور کہنے لگے کہ خوشانصیب وہ جو جنت کو پاگئے۔تب نبی کریمؐ نے ایک ایسا دعائیہ جملہ عمرؓ کے حق میں بھی فرمایا کہ عمرؓ کا دل اس سے راضی ہوگیا۔ آپؐ نے دعا کی، اللہ عمرؓ پر بھی رحم کرے۔ اللہ عمرؓ پر رحم کرے۔ جب بھی وہ کسی نیکی کاارادہ کرتا ہے ابوبکرؓ اس سے سبقت لے جاتاہے۔(ہیثمی)9
    بیعت توبہ
    نبی کریم ؐ حسب حکم الہٰی صحابہ کی تربیت اور روحانی ترقی کی خاطر بیعت کے وقت ان سے نیک باتوں میں اطاعت اور برُی باتوں سے بچنے کا عہد لیتے اور پھر اس کی پابندی کرواتے تھے۔
    حضرتعُبادہ بن صامتؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ ان باتوں پر بیعت لیتے تھے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو گے، چوری نہ کرو گے، زنانہ کرو گے، اپنی اولادوں کو قتل نہ کروگے اور ایسے بہتان نہ تراشوگے جو اپنے سامنے گھڑلواور معروف باتوں میں نافرمانی نہ کرو گے۔پس جو کوئی تم میں سے اس عہد بیعت کو پورا کرے گا اس کا اجر اللہ کے پاس ہے۔(بخاری)10
    خلوص نیت
    رسول کریم ؐ نے تربیت کے لئے بنیادی سبق خلوص نیت کا دیا اور فرمایا ہے کہ تمام نیک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہی ہے۔(بخاری11)نیزفرمایا اللہ تعالیٰ کی نظر انسان کے جسم و مال اور شکل و صورت پر نہیں بلکہ دلوں پر ہوتی ہے اور انسان کے تقویٰ کے مطابق خداتعالیٰ کا اس سے معاملہ ہوتا ہے۔(مسلم)12
    رسول کریمؐ نے اس کی مثال یہ بیان فرمائی کہ ایک انسان بظاہر لوگوں کی نظر میں نیکی کرتا چلاجاتا ہے مگر وہ فی الحقیقت اہل نار میں سے ہوتا ہے۔ایک انسان بدی کررہا ہوتا ہے مگر وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔(بخاری13)فرمایا وہ کسی موڑ پر اچانک نیکی کی طرف رجوع کرتا اور اہل جنت میں سے قرار پاتا ہے۔اس طرح حسنِ نیت کے مطابق ہی نیکیاں انجام کو پہنچتی ہیں۔ اس لئے انفرادی یا اجتماعی تربیتی کوششوں کے ساتھ دعا بہت ضروری ہے۔نبی کریمؐ اپنے بارہ میں یہ دعا کرتے تھے ’’اے اللہ میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھنا ‘‘اس کا سبب پوچھاگیا تو فرمایا دل رحمان خدا کی انگلیوں میں ہوتا ہے وہ جب چاہے پلٹ دے۔ (ترمذی)14
    رسول کریمؐحوصلہ افزائی کرتے ہوئے تعریف میں مبالغہ ناپسند فرماتے تھے۔ ایک دفعہ کسی کی ایسی تعریف سن کر فرمایا کہ تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی کیونکہ ایسی تعریف سے اندیشہ ہوتاہے کہ انسان کہیں کبر کا شکار نہ ہوجائے۔تاہم حوصلہ افزائی کی خاطر جائز تعریف سے منع بھی نہیں فرمایا۔ چنانچہ ہدایت فرمائی کہ کسی کی تعریف کرنی مقصود ہوتو محتاط الفاظ میں اس شخص کی خوبی کا ذکر کرکے کہنا چاہئے کہ ’’میرے خیال میں فلاں شخص ایساہے باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔‘‘(بخاری)15
    حضرت امّ المؤمنین حفصہؓ نے ایک دفعہ اپنے بھائی عبداللہ بن عمرؓ کی ایک خواب نبی کریمؐ کے سامنے بیان کی۔ آپؐ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا عمدہ نصیحت فرمادی کہ عبداللہؓ نیک نوجوان ہے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر وہ رات کو تہجد کی نماز ادا کرنے کی عادت ڈالے۔(بخاری)16
    رسول اللہؐ کی دلی خواہش اور حوصلہ افزائی کے اس ایک جملے نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی زندگی میں انقلاب پیدا کردیا اور وہ عابد و زاہد انسان بن گئے۔
    سچائی میں عمدہ نمونہ
    تربیت میں سچائی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ایک گناہ گار شخص نے رسول کریمؐ کے ہاتھ پرتوبہ کی بیعت اور اپنی کمزوری کا اقرار کرتے ہوئے عرض کیا کہ سارے گناہ ایک ساتھ چھوڑنے مشکل ہیںکوئی ایک گناہ جو آپؐ فرمائیں چھوڑسکتا ہوں۔آپؐ نے فرمایا جھوٹ چھوڑ دو۔ پھر سچائی کی برکت سے اس سعادت مند کو رفتہ رفتہ سارے گناہوں سے نجات مل جائے گی۔
    نبی کریمؐ اولاد کے لئے اپنے اصحاب کو بھی عمدہ نمونہ پیش کرنے کیلئے ہدایت فرماتے تھے۔ مثلاً یہ کہ خود سچائی پر قائم ہوکر بچوں کو اس کا نمونہ دیا جائے اورتکلّف سے یا مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولا جائے۔
    عبداللہ ؓبن عامر بیان کرتے ہیں کہ رسول ِکریم ؐ ایک دفعہ ہمارے گھر تشریف لائے۔ میں اس وقت کمسن بچہ تھا۔میں کھیلنے کے لئے جانے لگا تو میری امی نے کہا عبداللہؓ اِدھر آئو میں تمہیں چیز دونگی۔رسول اللہؐ نے فرمایا آپ اسے کچھ دینا چاہتی ہو؟ میری ماں نے کہاہاں کھجوردونگی۔ آپؐ نے فرمایا اگر واقعی تمہارا یہ ارادہ نہ ہوتا(اور صرف بچے کو بلانے کی خاطر ایسا کہا ہوتا )تو تمہیں جھوٹ بولنے کا گناہ ہوتا۔(احمد)17
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے دینی حالات پر نظر رکھتے تھے۔ تربیت کایہ بھی ایک انداز تھا کہ آپؐ صحابہ میں نیکیوں کا مقابلہ کرواکے ان کی روحانی ترقی کے سامان فرماتے تھے۔انہیںمناسب رنگ میں توجہ دلاتے رہتے تھے۔ حضرت ثابت بن قیسؓ کو آپؐ نے کچھ روز نماز سے غیر حاضر پاکر ان کے بارے میں پتہ کروایا ۔انہیں کہلا بھیجا کہ وہ سورۃ حجرات کی تیسری آیت کے نزول کے بعدسے نا دم و پریشان ہوکر گھر بیٹھ رہے ہیں۔اس آیت میں نبی کی آواز سے اونچی آواز کرنے والوں کے اعمال ضائع ہونے کا ذکر تھااورثابتؓ کی آواز بلند تھی۔نبی کریم ؐ نے پیغام بھجوایا کہ ثابتؓ کو جاکر بشارت دو کہ تمہارے جیسا آدمی اہل نار میں سے نہیں ہوسکتا تم تو اہل جنت میں سے ہو۔(بخاری)18
    دلی محبت کے ساتھ تربیت
    نبی کریم ؐ کا تربیت کرنے کابڑا گُر یہ تھا کہ آپؐ نے دنیا کے دل محبت اور احسان کے ساتھ جیتے۔حضرت طلحہؓ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ اہل نجد میںسے ایک شخص آیا جس کے سر کے بال پر اگندہ تھے۔اس نے دور سے ہی بولنا شروع کردیا۔ اس کی آواز کی گونج سنائی دے رہی تھی مگر گفتگو سمجھ نہیں آرہی تھی یہاں تک کہ وہ قریب آیا اور اسلام کے بارہ میں آنحضور ؐ سے سوال کرنے لگا۔حضورؐ نے کمال تحمل اور نرمی سے جواب دیئے اور اسے بتایا کہ ایک دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اس نے پوچھا کیا اسکے علاوہ بھی مجھ پر کچھ فرض ہے؟آپؐ نے فرمایا نہیں سوائے اسکے کہ تو از خود بطور نفل کچھ عبادت کرنا چاہے۔ پھر حضورؐ نے اُسکے دوسرے سوال پر بتایا کہ رمضان کے روزے اس پر فرض ہیں تو وہ پوچھنے لگاکیا میرے ذمہ اسکے علاوہ بھی کچھ روزے ہیں۔آپؐ نے فرمایا نہیں سوائے نفلی روزوں کے جو تم خود خوشی سے رکھنا چاہو۔پھراس کے سوال پر حضورؐ نے زکوٰۃ کی فرضیت بیان کی تو اس نے وہی سوال دہرایا کہ کیا فرض زکوٰۃ کے علاوہ بھی میرے ذمہ کچھ ہے۔آپؐ نے فرمایا نہیں۔ سوائے اس کے کہ تم از خود خوشی سے کوئی صدقہ دینا چاہو۔اس پر وہ شخص چلا گیا اور یہ کہتا جارہا تھا خدا کی قسم! میں نہ تو اس سے کچھ زیادہ کروں گا اور نہ کم۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ کامیاب ہوگیا۔(بخاری)19
    معاویہ بن حکمؓ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ مجھے نبی کریم ؐ کے ساتھ نماز ادا کرنے کا موقع ملا۔اس دوران ایک آدمی کو چھینک آگئی۔ میں نے نماز میں ہی کہہ دیا’’ اللہ آپ پر رحم کرے۔‘‘ لوگ کنکھیوں سے مجھے دیکھنے اور تعجب سے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے لگے۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے خاموش کرانے کے لئے ایسا کر رہے ہیں۔ میں خاموش ہوگیا،نماز کے بعد نبی کریم ﷺ نے مجھے بلایا۔ میرے ماں باپ آپؐ پرقربان ہوں میں نے آپؐ سے بہتر تعلیم دینے والا کوئی انسان نہیں دیکھا۔ آپؐ نے مجھے مارا نہ برا بھلا کہاصرف اتنا فرمایا ۔’’نماز کے دوران کوئی اور بات کرنا جائز نہیں ہے۔نماز تو ذکر الہٰی ،اللہ تعالیٰ کی تعریف اور بڑائی کے اظہار پر مشتمل ہوتی ہے۔‘‘(مسلم)20
    ایک دفعہ ایک اعرابی آیا۔ اس نے اپنی سواری کا اونٹ صحن مسجد کے ایک حصّے میںبٹھایا۔پھروہیں پیشاب کرنے بیٹھ گیا۔صحابہ نے اُسے ڈانٹا ’’ٹھہرو ٹھہرو‘‘ ۔نبی کریمؐ نے صحابہ کو منع کرتے ہوئے فرمایا ’’اس بے چارے کا پیشاب تو نہ روکو،اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔‘‘ جب وہ شخص پیشاب کرکے فارغ ہوا تو رسول کریمؐ نے اسے بلا کر سمجھایا کہ’’ مساجد میں پیشاب کرنا اورگندگی ڈالنا مناسب نہیں یہ تو اللہ کے ذکر،نماز اور قرآن کی تلاوت کے لئے ہیں۔‘‘ پھر آپؐ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ اسکے پیشاب پر پانی بہاد ے۔نیز صحابہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم آسانی کیلئے پیدا کئے گئے ہونہ کہ تنگی کے لئے۔(بخاری)21
    حضرت ابوہریرہؓ کابیان ہے کہ بعد میں وہ بدّو رسول اللہؐ کے اخلاق کریمہ کا ہمیشہ تذکرہ کیاکرتا اور کہتا تھا کہ رسول کریمؐ پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپؐ نے کس طرح محبت سے مجھے سمجھایا۔ مجھے کوئی گالی نہیں دی، سرزنش نہیں کی،مارا پیٹا نہیں۔(احمد)22
    ایک دفعہ رسول اللہؐ صحابہ کے ساتھ نماز کیلئے کھڑے ہوئے ۔ ایک اعرابی نما ز میں دعا کرتے ہوئے کہنے لگا۔اے اللہ! مجھ پر اور محمدؐ پر رحم کرنا اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کرنا۔ نماز کے بعدرسول کریمؐ نے اعرابی کو سمجھایا کہ دعا تو ایک بہت وسیع چیز ہے ۔ تم نے اس کے آگے منڈیر کھڑی کردی ہے۔ یعنی اللہ کی رحمت کے آگے بند باندھنا ہر گز مناسب نہیں۔(بخاری)23
    رسول کریمؐبسااوقات نادانستہ غلطی سے چشم پوشی فرماکر حوصلہ افزائی کے ذریعہ صحابہ کے دل جیت لیتے اور انہیں اعلیٰ نیکیوں کے عزم کی توفیق مل جاتی۔
    حضرت عبداللہؓ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے ہمیں ایک مہم پر بھجوایا۔ اچانک لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔مجھے بھی اس کی لپیٹ میں آکرپیچھے ہٹنا پڑا۔جب ہم واپس آئے تو سخت پشیمان تھے کہ میدان جنگ سے بھاگ کر خدا کی ناراضگی کے مورد بن گئے۔ ہم نے کہا کہ مدینہ داخل ہوتے وقت ہم چپکے سے جائیں گے تاکہ ہمیں کوئی دیکھ نہ لے۔ پھر مدینہ پہنچ کر ہم نے سوچا کہ رسول کریمؐ کی خدمت میں اپنے آپ کو پیش کرکے پوچھیں کہ اگر تو ہماری توبہ قبول ہوسکتی ہے تو ہم یہاں ٹھہریں ورنہ ہم واپس میدان جنگ میں لوٹ جائیں۔ ہم فجر کی نماز سے پہلے رسول اللہؐ کے انتظار میں تھے کہ آپؐ تشریف لائے۔ ہم نے کھڑے ہوکر عرض کیا ہم میدان جنگ کے بھگوڑے ہیں۔آپؐ نے فرمایا نہیں بلکہ تم تو پلٹ کر حملہ کرنے والے ہوہم نے وفورمحبت سے آپؐکے ہاتھ چُومے اور عرض کیا کہ ہم تو فرمانبرداروں کی جماعت ہیں۔ (احمد)24
    اجتماعی تربیت کا مرکزی نظام
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنی ارشاد کے تابع یہ نظام تربیت بھی جاری فرما رکھا تھا کہ مختلف علاقوں سے لوگ مرکزمیںآکر اورآپؐ کی صحبت میں رہ کر دین کا گہرا فہم حاصل کریں اور واپس جاکر اپنی قوم کی تربیت کریں۔(سورۃ التوبۃ:122)چنانچہ اصحاب صفّہ کا ایک گروہ ہمیشہ مسجد نبوی کے قرب میں رسول اللہؐ کے زیرتعلیم و تربیت رہتا تھاجن کے قیام و طعام کا مناسب بندوبست بھی آپؐ فرماتے تھے۔
    حضرت مالک بن حُویرثؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ بہت رحیم و کریم اور نرم خو تھے۔ ہم نے آپؐ کی صحبت میں بیس دن قیام کیا۔ اس دوران آپؐ نے محسوس کیا کہ ہم اپنے گھر والوں کے لئے اداس ہوگئے ہیں۔ آپؐ ہم سے ہمارے اہل خاندان کے بارے میںتفصیل پوچھنے لگے۔ ہم نے ان کے بارے میں بتایا۔ مالکؓ کہتے ہیں حضورؐ بہت نرم دل اور پیار کرنے والے تھے۔ آپؐ نے ہمیں اپنے گھروں میں واپس بھجواتے ہوئے فرمایا ان کو جاکربھی یہ باتیں سکھائواور جس طرح مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے اس طرح نماز پڑھنا۔ نماز سے پہلے تم میں سے کوئی اذان کہہ دے اور جو بڑا ہووہ امامت کروادے۔ (بخاری)25
    مخاطب کو نصیحت سے قائل کرنا
    نبی کریمؐ تربیتی نصائح میں دلیل سے قائل کرنے کو ترجیح دیتے تھے اور زیر تربیت لوگوں کے لئے دعا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک نوجوان نے عجیب سوال کر ڈالا کہ یارسول اللہؐ! مجھے زنا کی اجازت دیجئے۔ لوگوں نے اسے *** ملامت کی کہ کیسی نامناسب بات کردی اور اسے سوال کرنے سے روکنے لگے۔ نبی کریمؐ سمجھ گئے کہ اس نوجوان نے گناہ کا ارتکاب کرنے کی بجائے جو اجازت مانگی ہے تو اس میں سعادت کاکوئی شائبہ ضرور باقی ہے۔ آپؐ نے کمال شفقت سے اسے اپنے پاس بلایا اور فرمایا پہلے یہ بتائو کہ کیا تمہیں اپنی ماں کے لئے زنا پسند ہے؟ اس نے کہا نہیں خدا کی قسم! ہرگز نہیں۔آپ ؐنے فرمایا اسی طرح باقی لوگ بھی اپنی مائوں کے لئے زنا پسند نہیں کرتے۔آپؐ نے دوسراسوال یہ فرمایا کہ کیا تم اپنی بیٹی کے لئے بدکاری پسند کروگے؟اس نے کہا خدا کی قسم! ہرگز نہیں۔ آپؐ نے فرمایا لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے لئے یہ پسند نہیں کرتے۔ پھر آپؐ نے فرمایا کیا تم اپنی بہن سے بدکاری پسند کرتے ہو؟اس نے پھر اسی شدت سے نفی میں جواب دیا۔ آپؐ نے فرمایالوگ بھی اپنی بہنوں کے لئے یہ پسند نہیں کرتے۔پھر آپؐ نے بدکاری کی شناعت خوب کھولنے کیلئے فرمایا کہ تم پھوپھی اور خالہ سے زنا پسند کرو گے؟اس نے کہا خدا کی قسم ہرگز نہیں۔ آپؐ نے فرمایا لوگ بھی اپنی پھوپھیوں اور خالائوں کے لئے بدکاری پسند نہیں کرتے۔مقصود یہ تھا کہ جو بات تمہیں اپنے عزیز ترین رشتوں میں گوارا نہیں۔ وہ دوسرے لوگ کیسے گوارا کریں گے اور کوئی اس کی اجازت کیسے دے سکتا ہے ؟پھر نبی کریم ؐ نے اس نوجوان پر دست شفقت رکھ کر دعا کی اَللّٰھُمَّ اغْفِرْذَنْبَہ‘ وَطَھِّرْ قَلْبَہ‘ وَ حَصِّنْ فَرْجَہ‘ اے اللہ اس نوجوان کی غلطی معاف کر۔ اس کے دل کو پاک کردے۔اسے باعصمت بنادے۔ اس نوجوان پرآپؐ کی اس عمدہ نصیحت کے ساتھ دعا کا اتنا گہرا اثر ہواکہ اس نے بدکاری کا خیال ہی دل سے نکال دیا اور پھر کبھی اس طرف اُس کا دھیان نہیں گیا۔(احمد26) سبحان اللہ! کیسا پیار کرنے والا مربی اعظم انسانیت کو عطاہواتھا۔
    ایک بدّو نے آکر اپنی ضرورت سے متعلق سوال کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب حال جو میسرّ تھا عطا کردیا ۔وہ اس پر سخت چیں بجبیں ہوا اور رسول کریمؐ کی شان میں بھی بے ادبی کے کچھ کلمات کہہ گیا۔ صحابہ کرام نے سرزنش کرنا چاہی مگر رسول اللہؐ نے منع فرما دیا۔آپؐ اُس بدّو کو اپنے ساتھ گھر لے گئے۔ اُسے کھانا کھلایا اور مزید انعام واکرام سے نوازا۔ پھر پوچھا کہ اب راضی ہو؟ وہ خوش ہوکر بولا میں کیا میرے قبیلے والے بھی آپؐسے راضی اور خوش ہیں۔ رسول کریم ؐ نے اُسے فرمایا کہ میرے صحابہ کے سامنے بھی جاکر یہ اظہار کردینا کیونکہ تم نے ان کے سامنے سخت کلامی کر کے ان کی دلآزاری کی تھی ۔چنانچہ اُس نے صحابہ کے سامنے بھی اپنی خوشی کا اظہار کردیا۔ تو نبی کریمؐ نے صحابہ کو مخاطب کرکے فرمایا میری اور اس بدّو کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس کی ایک اونٹنی ہو وہ بدک کر بھاگ کھڑی ہو۔ لوگ پیچھے پکڑنے کو دوڑیں مگر وہ کسی کے قابو نہ آئے۔ اتنے میں اونٹنی کا مالک آجائے اور کہے میری اونٹنی کو چھوڑ دو۔ میں تم سب سے زیادہ اس سے نرمی کا سلوک کرنیوالا ہوں۔پھر وہ اپنی اونٹنی کی طرف متوجہ ہوکر کچھ گھاس لے کراسے پچکارے تو وہ اس کی طرف چلی آئے اور اس کے پاس آکر بیٹھ جائے اور وہ اس پر اپنا پالان ڈال کر اسے قابو کرلے۔ پھرآپؐ نے فرمایاجب اس بدّو نے کچھ سخت بات کی تھی اس وقت میں تمہیں اس پر سختی کرنے دیتا تو یہ ہلاک ہوجاتا۔(ہیثمی)27
    پاکیزہ علمی مجالس
    نبی کریم ؐکی پاکیزہ صحبت اور بابرکت مجالس تربیت کا بہترین موقع ہوتی تھیں۔ اس لئے قرآن شریف میں صادقوں اور راستبازوں کی صحبت اختیار کرنے کا حکم ہے۔ (سورۃ التوبۃ:119) قرآن شریف میں دوسری جگہ نبی کی صحبت کو روحانی لحاظ سے زندگی بخش قرار دیا گیا ہے۔ (سورۃالانفال:25)ایسی پاکیزہ مجالس میں شرکت سے دل میں نرمی پیدا ہوتی اور نصیحت کا اثر ہونے لگتاہے۔لیکن ان مجالس سے پہلو تہی کے نتیجہ میں دل سخت ہوجاتاہے۔اسی لئے فرمایا کہ نماز جمعہ اور خطبہ سے ایک ناغہ کرنے سے دل پر ایک نقطہ لگ جاتا ہے پھر مسلسل ایسا کرنے سے دل سیاہ ہوجاتا ہے اور نصیحت قبول کرنے کا مادہ کم ہوجاتا ہے۔(ابن ماجہ)28
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی نیک مجالس میںشرکت کی تحریک فرماتے تھے۔ایک دفعہ فرمایا کہ ایک مجلس میں تین آدمی آئے۔ان میں سے ایک تو مجلس میں آگے خالی جگہ دیکھ کر توجہ سے بات سننے کے لئے آگے بڑھا دوسرے کو جہاں جگہ ملی پیچھے ہی بیٹھ گیا اور تیسرا پیٹھ پھیر کر واپس چلاگیا۔ان لوگوں پر تبصرہ کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایا کہ ان کے رویّے کے مطابق خدا نے اُن سے سلوک کیا۔جو آگے بڑھا اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی پناہ میں لے لیا۔ دوسرا جو حیا کرتے ہوئے پیچھے ہی بیٹھ گیا۔اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے حیاء و مغفرت کا معاملہ کیا۔ جو منہ پھیر کر چلاگیا اللہ نے بھی اس سے منہ پھیرلیا۔(بخاری)29
    عمدہ مثالوں سے نصیحت
    اپنی مجالس میں نبی کریمؐ کاسادہ مثالوں اور کہانیوں کے ذریعہ نصیحت کرنے اور بات ذہن نشین کرانے کا ملکہ بہت اعلیٰ درجہ کا تھا۔مثلاً اصلاح معاشرہ کے حوالے سے نیکی کی تحریک کرنے اور برائی سے نہ روکنے کی مثال یوں دی کہ کچھ لوگ کشتی میں سفر کررہے ہوں۔ ان میں سے ایک آدمی کشتی میں سوراخ کرنے لگے اور دوسرے اسے نہ روکیں تو بالآخر کشتی ڈوب کررہے گی اور سب ہلاک ہوں گے۔(بخاری)30
    یہی حال اس معاشرہ کا ہوتا ہے جہاں بدی سے روکنے اور نیکی کی تحریک کا اہتمام نہیں ہوتا۔اس طرح آپؐنے پنجوقتہ نمازوں کی مثال ایک نہر سے دی جس میں پانچ وقت انسان نہائے تو جسم پر میل باقی نہیں رہتی۔ فرمایایہی حال نماز کا ہے جس سے انسان کی بخشش ومغفرت کے سامان ہوتے رہتے ہیں۔(بخاری)31
    نبی کریمؐ نے انسان کی ہمدردی و خدمت کے حوالہ سے مومن کامل کی مثال کھجور کے درخت سے دی اور ایسے دلچسپ انداز میں پیش فرمائی کہ مجلس کے ہرشخص کے ذہن میں بیٹھ گئی۔ پہلے تو پوچھاکہ درختوں میں سے وہ درخت کون سا ہے جس کی کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی بلکہ ہر چیز کارآمد ہے۔صحابہ نے جنگل کے سارے درختوں کے نام گنوادیئے مگر یہ پہیلی بوجھ نہ سکے۔حضورؐ نے فرمایا یہ کھجور کا درخت ہے۔جس کی مثال مومن کے وجود سے دی جاسکتی ہے۔(بخاری)32
    یعنی جس طرح کھجور کا درخت تن تنہا میدان یا صحراء میں کھڑا آندھیوں طوفانوں کے تھپیڑے برداشت کرتاہے۔ اس کاپودا کچھ تقاضا نہیں کرتامگر دھوپ میں سایہ دیتا ہے،پھل بھی دیتا ہے،اس کے پتے بھی کام آتے ہیں اور تنا بھی۔ اسی طرح مومن کا وجود بھی نافع الناس ہوتا ہے۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بابرکت مجالس اور صحبت بھی تربیت کا بہترین ذریعہ تھے۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میںدو آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ایک کو چھینک آئی حضور ؐ نے اس کو’’ یَرْحَمُکَ اللّٰہ‘‘ کہہ کر دعادی۔دوسرے کو چھینک آئی تو آپؐ نے اُسے دعا نہیں دی۔اس نے کہا کہ فلاں کو چھینک آئی تو آپؐ نے اُسے یہ دعا دی کہ اللہ تجھ پر رحم کرے اور مجھے چھینک آئی تو آپؐ نے مجھے یہ دعا نہیں دی۔آپؐ نے فرمایا اس نے ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ کہا تھا تو میں نے جواباً’’ یَرْحَمْکَ اللّٰہُ ‘‘کہا اور تم نے’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ نہیں کہا اس لئے میں نے بھی جواب نہیں دیا۔(مسلم)33
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مربی تو اللہ تعالیٰ تھا۔قرآنی تعلیم کے ساتھ ساتھ رؤیا وکشوف اور وحی کے ذریعہ آداب تربیت کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہتاتھا۔چنانچہ ایک دفعہ نبی کریمؐ نے ذکرفرمایا کہ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ مسواک کررہاہوں۔میرے پاس دو آدمی آئے ایک بڑا تھا،دوسرا چھوٹا۔ میں ان میں سے چھوٹے کو مسواک دینے لگا تو مجھے کہا گیا کہ بڑے کا خیال کریں۔ چنانچہ میں نے بڑے کو مسواک دی۔(بخاری34)یہی وجہ ہے کہ رسول کریمؐ ہمیشہ بڑوں کے احترام کی تلقین فرماتے تھے۔
    کھانے پینے کے آداب
    رسول کریم ؐ کی خدمت میں ایک دفعہ پانی پیش کیا گیا ۔آپ ؐنے پانی پیا۔ دائیں جانب ایک بچہ تھا اور بائیں طرف بزرگ۔آپؐ نے اس بچے سے کہا کہ کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں پانی پہلے بزرگ کو دے دوں وہ بچہ کہنے لگا نہیں خدا کی قسم! میں آپؐکے تبرّک پر کسی اور کو ترجیح نہیں دونگا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پانی پہلے اس بچے کے ہاتھ میں تھمادیا۔(مسلم)35
    ایک دفعہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بعض صحابہ کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ایک بدّو آیااور دو لقموں میں ہی سارا کھانا چٹ کرگیا۔ رسول اللہ ؐ نے فرمایا اگر وہ ’’ بِسْمِ اللّٰہِ‘‘ کہتا تو تم سب کیلئے یہ کھانا کافی ہوتا۔ پس کھانے سے پہلے اور آخر میں اللہ کا نام ضرور لیا کرو۔ (ابن ماجہ)36
    گھر میں داخل ہونے کا ادب
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تربیت کی خاطر بعض چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ چنانچہ حضور ؐ نے اپنے صحابہ ؓ کو کسی کے گھر جانے کیلئے اجازت لینے کا طریقہ بھی سمجھایا۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہو ا، دروازہ کھٹکھٹایا۔ آپؐ نے فرمایا کون ہے؟ میں نے کہا مَیں۔آپؐ نے فرمایا ’’میں ‘‘ کیا مطلب ہوا یعنی حضورؐ نے اس کو ناپسند کیا اور یہ چاہا کہ نام لیا جائے۔چنانچہ پھر بعدمیں صحابہ نام لے کرآپؐ سے اجازت لیاکرتے تھے۔(بخاری)37
    نماز پڑھنے کا طریق
    آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خوبصورت نماز کا نمونہ دے کر اپنے اصحاب کو نماز کا سلیقہ سکھاتے اور ان کی نمازوں کا جائزہ لے کر بھی انہیں مناسب توجہ دلاتے۔
    ایک دفعہ حضور ؐ نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے آکر نماز پڑھی مگررکوع و سجود مکمل نہیں کئے پھراُس نے رسول کریم ؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر سلام عرض کیا۔ آپ ؐ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ جائو پھرنماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اس نے جاکرپھر نماز پڑھی اوردوبارہ واپس آکرآنحضورؐ کو سلام عرض کیا۔ آپؐ نے تیسری دفعہ اسے فرمایا کہ پھر جائو اور نماز پڑھو۔ تم نے نماز نہیں پڑھی۔اس پر اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ؐمیں تو اس سے بہترنماز نہیں پڑھ سکتا آپؐ ہی مجھے سکھادیں۔رسول اللہؐ نے فرمایا تکبیر کہہ کے نماز کے لئے کھڑے ہو پھرجتنا حصّہ قرآن کا سہولت سے پڑھ سکتے ہو پڑھو، پھر اطمینان سے رکوع کرو پھر سیدھے کھڑے ہوجائو۔ پھر اطمینان سے سجدہ کرو۔اس طرح ساری نماز سکون سے پڑھاکرو۔(بخاری)38
    ایک دفعہ ایک شخص نے آنحضرتؐ کو کھانے پر بلایا اور درخواست کی کہ آپؐ چار مہمان ساتھ لے آئیں۔ ایک اور شخص بھی آپؐ کے ساتھ ہولیا۔ میزبان کے دروازے پر پہنچے تو آ پؐ نے فرمایایہ پانچواں آدمی بھی ہمارے ساتھ آگیا ہے۔ اگر تم چاہوتو اسے اجازت دے دو اور چاہو تو یہ واپس چلا جاتاہے۔اس نے کہا یارسول اللہؐ میں اسے بخوشی اجازت دیتا ہوں۔(مسلم)39
    کھانے کے آداب کی تعلیم
    حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمارا دستور یہ تھا کہ جب تک آنحضرت ؐکھانا شروع نہ کریں، ہم کھانے میں ہاتھ نہیں ڈالتے تھے۔ایک دفعہ جب ہم کھانے کے لئے اکٹھے تھے ایک لونڈی آئی اورجلدی سے کھانے میں ہاتھ ڈالنے لگی۔حضورؐ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔پھر ایک بدّوآیا۔ وہ بھی کھانے میں ہاتھ ڈالنے لگا۔ رسول کریم ؐ نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا۔آپؐنے فرمایا کہ شیطان کھانے کو حلال کرلیتاہے اگر اس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے۔یہ عورت شیطان کے لئے کھانے کو حلال کرنے آئی تو میں نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا ۔اسی طرح یہ بدّو بھی ’’بِسْمِ اللّٰہِ ‘‘پڑھے بغیر شیطان کے لئے کھانا حلال کرناچاہتا تھا۔میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اب ان دونوں کے ہاتھ میرے ہاتھ کے ساتھ کھانے میںاکٹھے جائیںگے۔ یعنی ہم اکٹھے کھانا شروع کریں گے اور اس میں شریک ہونگے۔پھر آپؐ نے اللہ کانام لے کرکھانا شروع فرمایا۔(مسلم)40
    بعض دفعہ نیکی کے رستہ سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پر بھی گہری نظر ہوتی تھی اور موقع محل کے مطابق نیکی کی تحریک و تلقین فرماتے تھے۔ اگر کسی نے بوڑھے والدین کی خدمت چھوڑ کر جہاد پر جانے کا ارادہ کیا تو آپؐ نے روک دیا اور فرمایا ماں باپ کی خدمت ہی تمہارا جہاد ہے۔جہاں نماز میں کمزوری دیکھی وہاں سمجھایا کہ افضل عمل وقت پر نماز کی ادائیگی ہے۔
    رسول کریمؐجہاںبھی نیکی میں ریاء یا تکلف کا شائبہ بھی محسوس کرتے اس سے منع فرمادیتے۔ ایک بدوی مدینے آیا۔ (بدوی عام طور پر شہروںمیں ٹھہرا نہیں کرتے بلکہ سوائے ضرورت کے شہروں میں داخل ہی نہیں ہوتے) اس بدوی نے فتح مکہ کے پہلے زمانہ میں ہی سن رکھا ہوگا کہ رسول اللہ ؐ ہجرت پر بیعت لیتے ہیں۔ اس نے ہجرت پر بیعت کرنے کے بارہ میںآنحضورؐ سے درخواست کی کہ میں مدینہ ٹھہروں گا ۔حضورؐ نے اُس پر شفقت کرتے ہوئے فرمایا۔ تیرا بھلا ہوہجرت بڑا کٹھن کام ہے۔(آپؐ بھانپ گئے کہ یہ شخص اپنی بدویانہ طبع کے باعث ہجرت پر قائم نہ رہ سکے گا۔)پھر آپؐ نے فرمایا یہ بتائو کیا تمہارے اونٹ ہیں جن کی زکوٰۃ تم ادا کرسکو اس نے کہا جی ہاں ! آپؐ نے فرمایا پھر بے شک پہاڑوں کے پیچھے رہ کربھی کام کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے عمل میں کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔(بخاری)41
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور تھا کہ کسی شخص کی شکایت آپؐ کو پہنچتی توآپؐ نصیحت کے لئے کمر بستہ ہوجاتے تھے خواہ وہ کتنا ہی عزیز کیوں نہ ہو، مگر اس کے لئے ہمیشہ مناسب موقع محل اور ماحول کا لحاظ رکھتے تھے۔حرمت شراب سے پہلے کا واقعہ ہے ایک دفعہ شراب کے نشہ میں بعض لوگ حضرت علی ؓ کی ایک اونٹنی کو نقصان پہنچا بیٹھے۔ ان میں آپؐ کے عزیز چچا حضر ت حمزہؓ بھی تھے۔ نبی کریم ؐ کو اس کی خبر ہوئی تو فوراً موقع پر پہنچے ۔مگر جب دیکھا کہ ابھی ان کا نشہ اترا نہیں تو آپؐ نے اس موقع پر نصیحت کرنی مناسب نہیں سمجھی اورفوراً الٹے پائوں واپس تشریف لے آئے۔(بخاری)42
    ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں پڑائو پر ایک جگہ ہجوم دیکھا جس میں ایک شخص پر سایہ کیا جارہا تھا۔آپؐ نے استفسار فرمایا کیا بات ہے؟ بتایا گیا کہ روزے دار ہیں۔ آپؐ نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں۔(بخاری)43
    حجۃ الوداع میں عرفات سے منٰی آتے ہوئے بعض لوگ اپنی سواریاں بھگارہے تھے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا لوگواطمینان سے آئو۔سواریوں کو تیز بھگاکر لانا نیکی نہیںاس لئے درمیانی رفتار پر چلو۔(بخاری)44
    حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریمؐ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے ۔میں حضورؐ کا خیمہ تیار کرتی تھی۔حضرت حفصہؓ نے بھی مجھ سے پوچھ کر اپنا خیمہ لگالیا۔ان کی دیکھا دیکھی ام المؤمنین حضرت زینبؓ بنت جحش نے خیمہ لگوالیا۔ صبح رسول اللہؐ نے کئی خیمے دیکھے تو پوچھا کہ کس کے خیمے ہیں۔ آپؐ کو بتایا گیا کہ ازواج کے خیمے ہیں تو آپؐ ان سے ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم لوگ یہ (رِیس کرنے کو) نیکی سمجھتے ہو۔پھر اس سال آپؐ نے اعتکاف رمضان نہیں فرمایابلکہ شوال کے دس دن اعتکاف میں گزارے۔(بخاری)45
    اس طرح آپؐ نے یہ تربیتی سبق دیا کہ ہمیشہ رضائے الہٰی مدنظر رکھنی چاہئے اور نیکی میں حسد نہیں رشک کا جذبہ پروان چڑھنا چاہئے۔
    رسول کریمؐ دین میں سختی اور تشدّد بھی پسند نہ فرماتے تھے تاکہ لوگ دین سے دور نہ ہوں۔فرماتے تھے کہ ہمیشہ آسانی پید اکرو۔مشکل پیدا نہ کرو۔
    ابومسعود انصاریؓ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ ایک شخص نے شکایت کی کہ میں اپنے محلے کی مسجد میں باجماعت نماز اس لئے ادا نہیں کرتا کہ ہمارا امام بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے۔ابو مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی نصیحت کے وقت رسول اللہؐ کو اس قدر غصے میں نہیں دیکھا جتنا غصہ اس بات پر آپؐ کو آیا۔آپ ؐ فرمانے لگے لوگو! تم دین سے نفرت دلاتے ہو جو شخص بھی نماز میں امام ہو وہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ نماز میں بیمار ،کمزور اور کام والے بھی ہوتے ہیں۔(بخاری)46
    آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ خوشی اور بشارت کی باتیں بتایا کرو۔ نفرت پیدا کرنے والی باتیں نہ کیا کرو۔ اس حکمت کے تحت آپؐ وعظ و نصیحت میں ناغہ کرنا پسند کرتے تھے تاکہ لوگ اکتانہ جائیں۔(بخاری)47
    تربیت کے لئے آغاز میں چھوٹی سی نیکی کی عادت ڈالنا اور انگلی سے پکڑ کر چلانا پڑتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ وہ نیکی پسند فرماتے تھے جو عارضی نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی جائے۔ فرماتے تھے کہ بہترین عمل وہ ہے جس پر دوام اختیار کیا جائے خواہ وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ایک عورت کے بارہ میں پتہ چلا کہ بہت زیادہ نمازیں پڑھتی ہے۔ اسے نصیحت فرمائی کہ اتنی عبادت کرو جتنی طاقت ہے کیونکہ اللہ تو نہیں اکتاتا۔لیکن بندہ تھک ہارکر نیکی چھوڑ بیٹھتا ہے۔ (بخاری)48
    بعض نوجوانوں کے ہمیشہ عبادت کرنے روزے رکھنے اور ترک دنیا کے ارادوں کا علم ہوا توانہیں ایسا کرنے سے سختی سے منع فرمادیا۔انہوں نے عرض کیاہم آپؐ کی طرح نہیں ہیںاللہ نے تو آپؐ کوبخش دیا ہے۔حضورؐ ناراض ہوئے اور فرمایا میں تم میں سے سب سے بڑھ کر اللہ کا تقویٰ رکھتا ہوں۔ میری سنت پر چلو۔میں سوتا بھی ہوں،روزے سے ناغہ بھی کرتا ہوں اور شادی بھی کی ہے۔(بخاری)49
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے مزاج کو سمجھتے تھے اور دراصل محبت کے ذریعہ ان کی تربیت فرماتے تھے۔بسااوقات زبانی نصیحت کی بجائے محض آپؐ کاکوئی اشارہ یا اظہار ناپسندیدگی بہترین اور مؤثر نصیحت ہوتا تھا۔
    رسول اللہ ؐ کی مجلس میںایک دفعہ کسی شخص نے حضرت ابوبکرؓ سے تکرار شروع کردی اور انہیں بُرا بھلا کہنے لگا ۔حضرت ابوبکرؓ پہلے تو خاموشی اورصبر سے سنتے رہے مگر جب اس نے تیسری مرتبہ زیادتی کی توآخر تنگ آکرابوبکرؓنے اسے جواب دیا۔ رسول کریمؐ مجلس سے اُٹھ کھڑے ہوئے ۔حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ!کیاآپؐ مجھ سے ناراض ہوکر جارہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا جب تک تم خاموش تھے، ایک فرشتہ آسمان سے آکرتمہاری طرف سے اس شخص کو جواب دے رہا تھا۔جب آپ خود بدلہ لینے پر اتر آئے تووہ فرشتہ چلاگیا اور شیطان آگیا۔اب میں ایسی مجلس میں کیسے بیٹھ سکتا ہوں۔(ابوداؤد)50
    برمحل اظہار ناراضگی
    کسی بات پر برمحل ناپسندیدگی کا اظہار نبی کریمؐ کے چہرے سے عیاں ہوجاتا تھا۔ایک دفعہ نجران سے ایک شخص آیا اس نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی۔ رسول اللہؐ نے اس کی طرف کوئی تو جہ فرمائی نہ اس سے کوئی بات چیت کی۔ اس نے گھر جاکر اپنی بیوی سے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ بیوی نے کہا یقینا تمہاری اس بڑائی اورتکبّرکے اظہار کے باعث حضورؐ نے توجہ نہیں فرمائی۔ اس لئے اب دوبارہ آنحضورؐ کی خدمت میں ادب سے حاضری دو ۔اس نے اپنی سونے کی انگوٹھی اور قیمتی چوغہ اُتارااور دوبارہ جاکرملاقات کی اجازت طلب کی۔ حضورؐ نے خوشی سے اجازت عطافرمائی اور اس کے سلام کا جواب دیا۔اس نے عرض کیا یارسول اللہؐ میں پہلے حاضر ہوا تھا تو آپ ؐنے التفات نہیں فرمایا۔حضورؐ نے فرمایا پہلے جب تم آئے تو تمہارے ہاتھ میں سونے کا انگارہ تھا۔ وہ شخص جو نجران سے اس قسم کے سونے کے زیورات لیکر آیاتھاکہنے لگا حضورؐ پھر تو میں بہت سارے انگارے ساتھ لایا ہوں۔آنحضورؐ نے کس شانِ بے نیازی سے فرمایا کہ بے شک یہ دنیوی مقام اور فائدے کا سامان ضرور ہے۔ مگر ہمارے نزدیک اس کی حیثیت ایک پتھر سے زیادہ کچھ نہیں۔تب اس صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہؐ آپؐ نے اپنے صحابہؓ کی موجودگی میں میرے ساتھ بے رخی برتی۔ اب آپؐ صحابہ کے سامنے میری معذرت قبول فرماکر معافی کا اعلان بھی فرمادیںتاکہ ان کو یہ خیال نہ رہے کہ آپؐ مجھ سے ناراض ہیں۔ اس پر حضورؐ وہیں کھڑے ہوگئے اور اس شخص کی معذرت قبول کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا بے رخی کا رویّہ اس شخص کی سونے کی انگوٹھی پہننے کی وجہ سے تھا۔(اس کی توبہ اوراصلاح کے بعد مجھے اس سے اب کوئی ناراضگی نہیں رہی)۔(احمد)51
    حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ یہودی ایّام مخصوصہ میں عورتوں سے معاشرت نہیںکرتے تھے۔جب آیت فَاعْتَزِ لُوْا النِّسَآئَ فِیْ الْمَحِیْضِ (سورۃ البقرہ :223)کا حکم اترا یعنی ایام حیض میں عورتوں سے الگ رہو تونبی کریم ؐ نے اس کی وضاحت فرمائی ۔فرمایا کہ سوائے میاں بیوی کے تعلقات کے باقی ہر طرح سے میل جول جائز ہے۔اس پر یہودی کہنے لگے یہ شخص ہر بات میں ہماری مخالفت کرتا ہے۔ عباد بن بشرؓ اوراُسید حضیرؓنے آکر ذکر کیایا رسول اللہؐ! یہودی اس طرح کہتے ہیں کیا ہم ایّام مخصوصہ میں بھی میاں بیوی کے تعلقات استوار کرلیں۔ حضورؐ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا اور ہم نے خیال کیا کہ حضورؐ ان سے ناراض ہوگئے ہیں۔ وہ حضورؐ کے پاس سے چلے گئے۔ راستے میں انہوں نے حضورؐ کی طرف دودھ کا تحفہ جاتے ہوئے دیکھا۔حضورؐ نے یہ دودھ انہی دونوں صحابہ کیلئے بھجوادیا۔ وہ دونوں کہتے تھے تب ہمیں اس بات کی زیادہ خوشی ہوئی کہ حضورؐ ہم سے ناراض نہیں ہیں۔(احمد)52
    مگر بعض بدوئوں پرا س ناراضگی کا اثر نہیں ہوتا تھا۔ تب آپؐ صحابہ کے لئے نصیحت کاموقع نکال لیتے تھے۔
    ایک دفعہ ایک بدّو آیا اس نے ایک نہایت اعلیٰ درجے کا جبّہ پہنا ہوا تھا جس پر ریشم کا کام ہو اتھا۔ وہ کہنے لگا تمہارا یہ صاحب( یعنی نبی کریمؐ ) ہر چرواہے کے بیٹے کو تو عزت دیتا ہے اور ہرخاندانی شہ سوار کے بہادر فرزند کوذلیل کرتا ہے۔نبی کریم ؐ اس پر بہت ناراض ہوئے اور اس کے جبّہ کو (جو اظہار بڑائی کے لئے اس نے پہن رکھا تھا) کھینچ کر فرمایا تم نے تو عقل مندوں والا لباس بھی نہیں پہنا ہوا ۔پھر آپؐ مجلس میں تشریف فرما ہوئے اور نصیحت کرتے ہوئے فرمایاکہ جب نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت آیاتو انہوں نے اپنے بیٹوں کو بلاکر کہا کہ میں تمہیں ایک مختصر نصیحت کرتا ہوں۔ دو باتوں کا حکم دیتا ہوں اور دو باتوں سے روکتا ہوں۔ ایک تو شرک اور تکبر سے روکتا ہوں اور لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ یعنی توحید کا حکم دیتا ہوں کیونکہ آسمان و زمین اور جو کچھ اس میں ہے اگر وہ ترازو کے ایک پلڑے میں اور کلمہ لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو اس کا پلڑا بھاری ہوگا۔دوسرے میں تمہیں سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِ ہٖ کا حکم دیتاہوں یہ ہر چیز کی دعا ہے۔اور اس کی برکت سے ہر چیز عطا ہوتی ہے۔(احمد)53
    تنبیہ و تادیب
    تربیت کی خاطر بعض دفعہ تنبیہ یا تادیب بھی ناگزیر ہوجاتی ہے۔نبی کریمؐ کو بھی بعض مواقع پر تعزیری کاروائی کرنی پڑی مگر اس سزا میں بھی نفرت یا غصہ نہیں بلکہ شفقت و رحمت کا رنگ غالب ہوتا تھا جس کے نتیجہ میں عظیم الشان اصلاحی تبدیلیاں رونما ہوتی تھیں۔حضرت کعب بن مالکؓ اور ان کے دوساتھی بغیر کسی عذر کے غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔رسول اللہؐ کی واپسی پر انہوں نے اپنی اس غلطی کا اقرار کرلیا تو رسول کریمؐ نے ان تینوں سے تمام صحابہ کا بول چال بند کردیا۔کعب ؓکہتے ہیں کہ ہم بازاروں میں پھرتے تھے مگر کوئی ہم سے کلام نہ کرتاتھا۔رسول کریمؐ کی مجلس میں حاضر ہوکر آپؐ کو سلام کہتا تھااوردیکھتا تھا کہ آپؐ کے ہونٹوں میں سلام کے جواب کے لئے جنبش ہوئی کہ نہیں۔پھر آپؐ کے قریب ہوکر نماز ادا کرتا اور چوری آنکھ سے آپ ؐکو دیکھتا رہتا۔جب میں نماز پڑھ رہا ہوتا رسول کریمؐ میری طرف دیکھتے رہتے اور جب میں آپؐ کی طرف توجہ کرتا تو آپؐ رُخ پھیر لیتے۔بعد میں ان تینوں اصحاب کا اُن کی بیویوں سے بھی مقاطعہ کردیاگیا۔ پچاس دن انہوں اس حالت میں کاٹے۔ پھر جب ان کی معافی ہوئی تو انہوں نے رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر سلام عرض کیا۔ رسول کریمؐ کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا اے کعبؓ! تمہیں بشارت ہو آج تمہارے لئے ایسا دن آیا ہے کہ جب سے تم پید ا ہوئے آج تک ایسا دن تم پر طلوع نہیں ہوا۔ کعب ؓنے پوچھا یا رسول اللہؐ! یہ خوشخبری آپؐ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے ۔ فرمایا اللہ کی طرف سے ہے۔
    کعبؓ پر اس پُر شفقت سزا کا یہ اثر تھا کہ انہوں نے رسول اللہؐ کے پاس سے اٹھنے سے قبل یہ عہد کیا کہ جس سچ کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ فضل فرمایا ہے میں آئندہ اس کا دامن کبھی نہ چھوڑ وں گا۔ اور جھوٹ سے ہمیشہ مجتنب رہوں گا۔دوسرے میںاپنا سارا مال خدا کی راہ میں بطور صدقہ پیش کرتا ہوں۔رسول کریمؐ نے کچھ حصہ صدقہ کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔(بخاری)54
    تربیتی حکمت عملی ومؤثر کاروائی
    تربیتی و اخلاقی معاملات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصائح بہت گہری اور پر حکمت ہیں۔جہاں آپؐ نے معاشرہ کی اہم فردعورت کے مقام اور مرتبہ کا ذکر کر کے اسے محبت کی نظر سے دیکھاوہاں بعض ممکنہ خدشات اورفتنوں کا بھی ذکر کیا جو راہ راست سے ہٹ جانے کے نتیجہ میں معاشرہ میں پیدا ہوسکتے ہیں۔چنانچہ فرمایا کہ مجھے اپنی امت پر جس سب سے بڑے فتنہ کا ڈر ہے وہ عورتوں کا فتنہ ہے۔آپؐ نے ان عورتوں کو جہنم کی آگ سے ڈرایا جو لباس پہنے ہوئے بھی لباس سے عاری ہوںگی اور اپنی طرف مردوں کو مائل کرنے والی اور بہت جلد انکی طرف مائل ہونگی۔(مسلم)55
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تربیتی لحاظ سے معاشرہ پر گہری نظر رکھتے تھے اور برائی کے آغاز سے پہلے اسے دبانے یا اس کے تدارک کی فکر فرماتے تھے۔نوجوانوں کی تربیت پر آپؐ کی خاص نظر ہوتی تھی اور انہیں انفرادی طور پر دلنشیں پیرائے میں مؤثر نصیحت فرماتے تھے اور مناسب عمر میں بروقت ان کی شادی ہوجانا پسند فرماتے تھے کہ اس طرح نوجوان کئی قباحتوں سے بچ جاتے ہیں۔
    حضرت ابو ذرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ کی خدمت میں عکاّفؓ بن بشر تمیمی آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھاکہ کیا تمہاری بیوی ہے۔انہوں نے نفی میں جواب دیا، فرمایا کیا کوئی لونڈی ہے عرض کیا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا اور تم صاحب دولت و ثروت بھی ہو۔ اس نے کہا جی حضور میں خدا کے فضل سے صاحب حیثیت ہوں ۔آپؐ نے فرمایا تو پھر تم شیطان کے بھائی ہو اور اگر تم عیسائیوں میں ہوتے تو ان کے راہبوں میں سے ہوتے۔ ہماری سنت تو نکاح ہے۔تم میں سے بدترین لوگ وہ ہیںجو شادی نہیں کرتے اوراگر اسی حال میں ان پرموت آجائے تو بحالت موت بھی وہ بدترین ہیں۔ شیطان کے لئے نیک لوگوں کے خلاف کوئی ہتھیار عورتوں سے زیادہ مؤثر نہیں۔ البتہ شادی شدہ لوگ اس سے محفوظ ہیں۔ یہی ہیں جو پاک اور فحش گوئی سے برَی ہیں۔اے عکافؓ! تیرا بھلا ہو یہ عورتیں ایوب ،دائود ، یوسف علیہم السلام اور کرسف ؑکو مشکل میں ڈالنے والی تھیں۔کسی نے پوچھا کہ یارسول اللہؐ! کُرسف کون تھا آپؐنے فرمایا ایک عابد شخص تھا جو ساحل سمند رکے پاس تین سو سال تک عبادت کرتا رہا وہ دن کو روزے رکھتا اور رات کو قیام کرتا ۔ پھر اس نے خدائے عظیم و برتر کا انکار ایک عورت کے سبب سے کردیا جس کے عشق میں وہ مبتلا ہوگیا اور عبادت کو ترک کردیا۔پھر بھی اللہ تعالیٰ نے اس کی نیکی کی وجہ سے اسے ضائع ہونے سے بچالیااور اسے توبہ کی توفیق مل گئی۔اے عکافؓ تم شادی کرلوورنہ تمہاری حالت بھی شک و شبہ والی ہے۔اس نے کہا یا رسول اللہؐ آپؐ ہی میری شادی کرادیں۔ آپؐ نے فرمایا اچھا میں کریمہ بنت کلثوم حمیریؓ سے تمہاری شادی تجویز کرتا ہوں۔(احمد)56
    امربالمعروف و نہی عن المنکر
    رسول کریمؐ کوئی نامناسب بات دیکھتے تو حتّی الوسع اُسے روکنے کی سعی فرماتے تھے اور جیسا کہ آپؐ کا ارشاد تھا کہ اگر برائی کو ہاتھ سے روک سکتے ہو تو روکو۔اس کی توفیق نہ ہو تو پھر زبان سے نصیحت کرو ورنہ کم سے کم دل سے روکو یعنی خود بھی اسے برا سمجھو اور اس کے لئے دعا کرو۔(ترمذی)57
    حجۃ الوداع کے موقع پررسول اللہؐ کے چچا زاد حضرت فضلؓ بن عباس رسول اللہؐ کی سواری کے پیچھے بیٹھے تھے۔ خثعم قبیلہ کی ایک عورت کوئی مسئلہ دریافت کرنے آئی۔فضلؓ اس کی طرف اور وہ عورت فضلؓ کی طرف دیکھنے لگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فضلؓ کی گردن پکڑ کر ان کے چہرے کا رخ دوسری طرف موڑ دیا۔(بخاری58)لیکن جہاں ہاتھ سے روکنا پسندیدہ نہ ہو وہاں رسول کریمؐ نصیحت فرماکر فرض تبلیغ سے سکبدوش ہوجاتے تھے۔
    وفات وغیرہ کے موقع پر نبی کریمؐ بین یاواویلا کرنے سے منع فرماتے تھے لیکن چونکہ غم کی حالت میں جذبات پر انسان بعض دفعہ بے اختیار اور مغلوب ہوجاتاہے اسلئے اس پہلو سے شفقت کا دامن جھکاکے رکھتے تھے۔ چنانچہ آپؐ کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر طیارؓ کی غزوہ موتہ میں شہادت کے موقع پر خود رسول اللہؐ کو سخت صدمہ تھا۔حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ؐ مسجد میں تشریف فرماتھے اور چہرہ سے غم کے آثار صاف عیاں تھے۔میں دروازے کی درز سے دیکھ رہی تھی۔ایک شخص نے آکر کہا کہ جعفرؓ کی عورتیں رورہی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا انہیں منع کرو۔ وہ گیا اور تھوڑی دیر میں واپس آکر کہنے لگا کہ وہ میری بات تو نہیں مانتیں۔ آپؐ نے فرمایا دوبارہ انہیں جاکر منع کرو۔تیسری دفعہ اس نے آکر پھر کہا کہ وہ تو ہم پر غالب آگئی ہیںیعنی کہنا نہیں مانتیں۔آپؐ نے فرمایا ان کے مونہوں پر مٹی پھینکویعنی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں نے دل میں کہا اللہ تمہیں رسوا کرے رسول اللہؐ نے تمہیں جو حکم دیا ہے وہ تو تم کر نہیں سکے پھر رسول اللہؐ کو تکلیف دینے سے بھی باز نہیں آتے ہو۔(بخاری)59
    ایک د فعہ آپؐ کے علم میں یہ بات آئی کہ بعض لوگ خواتین کو رات کے وقت نماز باجماعت کے لئے مسجد آنے سے روکتے ہیں تو آپؐ نے مردوں کو نصیحت فرمائی کہ اللہ کی لونڈیوں کو خدا کے گھروں میں آنے سے مت روکو۔(ابوداؤد)60
    اسی طرح بعض مردوں کی یہ شکایت ملی کہ کہ وہ’’ فَاضْرِ بُوْھُنَّ ‘‘(یعنی ان کو مارو)کی قرآنی رخصت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے عورتوں کو ناواجب زدو کوب کرتے ہیں تو آپؐ نے مردوں کو سمجھایا اور فرمایا کہ جو لوگ بیویوں پر ہاتھ اُٹھاتے ہیں وہ اچھے لوگ نہیں ہیں۔ (ابوداؤد)61
    خانگی امور کی اصلاح
    میاں بیوی کے خانگی تنازعات بھی رسول کریمؐ کے پاس آتے رہتے تھے۔رسول کریمؐ ذاتی دلچسپی لے کر خانگی تنازعات میں مؤثر رنگ میں نصیحت فرماتے اور اصلاحی کاروائی کرتے تھے۔
    صفوان بن معطل ؓکی بیوی نبی کریمؐ کے پاس آئی اور کہنے گی کہ میں روزہ رکھتی ہوںتو صفوانؓ مجھے اس سے منع کرتا ہے۔نماز پڑھتی ہوں تو مارتا ہے اور خود فجر کی نماز سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھتا ہے۔حضورؐ نے اُسے بلواکر پوچھاتو اُس نے کہا کہ روزے رکھنے سے منع کرنے کی بات تو درست ہے۔میں نوجوان آدمی ہوں اور یہ روزہ رکھ کے بیٹھ جاتی ہے۔(جس میں ازدواجی تعلقات ممنوع ہوتے ہیں) باقی رہی مارنے کی شکایت تو مطلق نماز پڑھنے کی وجہ سے میں اسے نہیں مارتا بلکہ اصل وجہ اور ہے یہ نماز کی ہر رکعت میں دو دو سورتیں پڑھ کر اسے لمبا کردیتی ہے۔رہی سورج نکلنے کے بعد فجر کی نماز پڑھنے کی بات تو میں سردرد کا دائمی مریض ہوں اور یہ ہماری خاندانی بیماری ہے۔نبی کریم ؐ نے فریقین کی بات سن کریہ فیصلہ صادر فرمایا کہ عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیرروزہ نہ رکھے اور جہاں تک ہر دورکعت میں دو سورتیں پڑھنے کا تعلق ہے تو ایک سورت پڑھنے سے بھی نماز ہوجاتی ہے، بوجہ بیماری نماز تاخیر سے پڑھنے کے بارہ میں صفوان ؓسے فرمایا کہ جب تمہاری آنکھ کھلے نماز ضرور پڑھ لیا کرو۔ (احمد)62
    ایک دفعہ حضرت علیؓ حضرت فاطمۃ الزہراء ؓسے ناراض ہوگئے اور مسجد میں جاکرزمین پر لیٹ رہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو ان کے پیچھے مسجدآئے تو دیکھا کہ دیوار کے ساتھ لیٹے ہیں اور پشت پر مٹی لگی ہے۔ رسول کریم ﷺ نے کمال شفقت سے ان کی پشت سے مٹی جھاڑی اور اسی مناسبت سے ابوتراب کہہ کر انہیں پکارا جس کے معنے ہیں’’مٹی کاباپ‘‘ اور فرمایا اٹھو۔گھر چلو یوں محبت سے ان کی ناراضگی دور کروانے کے سامان کئے۔(بخاری)63
    خوشی غمی کے مواقع پر تربیتی ہدایات
    شادی بیاہ یا موت فوت کے مواقع بھی جذباتی اظہار کے مواقع ہوتے ہیں اور خدشہ ہوتا ہے کہ ایسے مواقع پر بدرسوم رواج پاجائیں ۔نبی کریمؐ اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے۔ شادیوں میں اسراف نہ کرنے اور سادگی اختیار کرنے کے لئے آپؐ نے اپنی بیٹی فاطمہؓ کی شادی پر بھی یہی نمونہ دیا اور اپنی متعدد شادیوں کے موقع پر حسب حالات و موقع نہایت سادگی سے ولیمہ کی تقاریب کیں۔ حضرت صفیہؓ کا ولیمہ سفر خیبر سے واپسی پر ہوا جو کھجور اور پنیر پر مشتمل تھا۔حضرت زینب ؓکا مثالی ولیمہ جسے لوگوں نے یاد رکھا اس میں آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے سادہ گوشت روٹی کھلائی تھی۔ (بخاری 64)
    موت فوت اور غم کے مواقع پر بھی حضورؐ نے صبر کا اعلیٰ نمونہ پیش فرمایا۔ بالخصوص اپنے بیٹے صاحبزادہ