1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

احمدی مسلم جماعت اور ابو یحیٰی صاحب۔ انصر رضا صاحب کا جواب

'غیر احمدی اعتراضات کے تحریری جواب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏نومبر 23, 2019۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    احمدیہ مسلم جماعت اور ابویحیٰی صاحب

    احمدیہ مسلم جماعت کے قیام سے لے کر آج تک مختلف لوگ مختلف حیثیتوں اور مختلف بلکہ کبھی کبھی متضاد پہلوؤں سے اس کے خلاف علمی اور عملی کاوشیں کرتے آرہے ہیں جو کہ اُن کا حق ہے اور یہ حق تمام مخالفین و منکرین کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں چار مرتبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ تو مخالفین کا منہ بند کرتا ہے بلکہ انہیں چیلنج کرتا ہے کہ سچے ہو تو اپنی برہان لاؤ اور نہ ہی انہیں اپنے بھیجے ہوئے رسول نبی کے خلاف عملی کام کرنے سے منع کرتا ہے چنانچہ فرماتا ہے

    قُلْ يَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّارِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ﴿6:136



    تُو کہہ دے اے میری قوم! تم اپنی جگہ جو کرنا ہے کرتے پھرو، میں بھی کرتا رہوں گا۔ پس تم ضرور جان لو گے کہ گھر کا (بہترین) انجام کس کے لئے ہوتا ہے۔ یقیناً ظلم کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔

    صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے قبیلہ خزاعہ کے رئیس بُدَیل بن ورقا کو اہل مکّہ کے لئے یہی تجویز دے کر اُن کے پاس بھیجا اور فرمایا:

    ’’ ہم تو جنگ کی غرض سے نہیں آئے بلکہ صرف عمرہ کی نیّت سے آئے ہیں اور افسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ قریش مکّہ کو جنگ کی آگ نے جلا جلا کر خاک کررکھا ہے مگر پھر بھی یہ لوگ باز نہیں آتے اور میں ان لوگوں کے ساتھ اس سمجھوتہ کے لئے بھی تیار ہوں کہ وہ میرے خلاف جنگ بند کرکے مجھے دوسرے لوگوں کے لئے آزاد چھوڑ دیں۔ لیکن اگر انہوں نے میری اس تجویز کو بھی ردّ کردیا اور بہرصورت جنگ کی آگ کو بھڑکائے رکھا تو مجھے بھی اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ پھر میں بھی اس مقابلہ سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹوں گا کہ یا تو میری جان اس رستہ میں قربان ہوجائے اور یا خدا مجھے فتح عطا کرے۔ اگر میں ان کے مقابلہ میں آکر مٹ گیا تو قصہ ختم ہوا لیکن اگر خدا نے مجھے فتح عطا کی اور میرے لائے ہوئے دین کو غلبہ حاصل ہوگیا تو پھر مکّہ والوں کو بھی ایمان لانے میں کوئی تامّل نہیں ہونا چاہئے۔ بُدَیل بِن ورقا نے یہ تجویز اہل مکّہ کے سامنے رکھی تو عروہ بن مسعود ثقفی نے بھی اس کی تائید کی اور اہل مکّہ پر زور دیا کہ انہیں رسول اللہ ﷺ کی یہ بات مان لینی چاہئے۔‘‘ (بخاری کتاب الشروط)

    مذہبی امن قائم کرنے والی یہ تجویز انجیل میں بھی بیان ہوئی ہے۔ واقعہ صلیب کے بعد جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے یروشلم میں تبلیغ کی تو وہاں کے مذہبی رہنماؤں کو بہت غصّہ آیا اور انہوں نے ان حواریوں اور ان کے مشن کو بذریعہ جبر ختم کرنے کا ارادہ کیا۔ تب گملی ایل نامی ایک عالم نے اُٹھ کر ان سے کہا:

    (اعمال باب۔5 ۔ آیات35-38 ) ’’اے اسرائیلیو! ان آدمیوں کے ساتھ جو کچھ کیا چاہتے ہو ہوشیاری سے کرنا۔ کیونکہ ان دنوں سے پہلے تھیوداس نے اُٹھ کر دعویٰ کیا تھا کہ میں بھی کچھ ہوں اور تخمینًا چار سو آدمی اس کے ساتھ ہوگئے تھے مگر وہ مارا گیا اور جتنے اس کے ماننے والے تھے سب پراگندہ ہوئے اور مٹ گئے۔ اس شخص کے بعد یہوداہ گلیلی اسم نویسی کے دنوں میں اٹھا اور اس نے کچھ لوگ اپنی طرف کرلئے۔ وہ بھی ہلاک ہوا اور جتنے اس کے ماننے والے تھے سب پراگندہ ہوگئے۔ پس اب میں تم سے کہتا ہوں کہ ان آدمیوں سے کنارہ کرو اور ان سے کچھ کام نہ رکھو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ خدا سے بھی لڑنے والے ٹھہرو کیونکہ یہ تدبیر یا کام اگر آدمیوں کی طرف سے ہے تو آپ برباد ہوجائیگا۔ لیکن اگر خدا کی طرف سے ہے تو تم ان لوگوں کو مغلوب نہ کرسکوگے۔‘‘

    قرآن و حدیث اور انجیل کے ان اصولوں کے مطابق مدعی نبوت کو نہ ماننے والے اگر اپنی اپنی جگہ پر اس نبی کی تعلیم کا رد کرتے رہیں اور اس کی نصیحتوں کو غلط پروپیگنڈہ قرار دیتے رہیں لیکن اس نبی کو اپنی جگہ کام کرنے دیں تو ایک وقت ایسا آجاتا ہے جب سچی بات کو فتح حاصل ہوجاتی ہے اور جھوٹ کا صفایا کردیا جاتا ہے ۔ لیکن مخالفین کے پاس چونکہ سچے نبی کے دلائل کا توڑ نہیں ہوتا اس لئے وہ جبراً اس کی آواز کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور فرعون کی طرح تمام تر طاقت و حکومت کے باوجود ایک چھوٹی سی جماعت سے خوفزدہ رہتے ہیں:

    ﴿ۙ26:55﴾ إِنَّ هَؤُلَاءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ﴿ۙ26:56﴾وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَائِظُونَ ﴿ؕ26:57﴾وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَائِظُونَ

    (یہ اعلان کرتے ہوئے کہ) یقیناً یہ لوگ ایک کم تعداد حقیر جماعت ہیں۔ اور اس کے باوجود یہ ضرور ہمیں طیش دلاکر رہتے ہیں۔جبکہ ہم سب یقیناً چوکس رہنے والے ہیں۔

    سچے انبیاء اور ان کی جماعتوں کے ساتھ کیا جانے والا یہ سلوک جماعت احمدیہ کے ساتھ بھی کیا گیا اور نتیجہ صاف ظاہر ہے۔ افراد، گروہوں اور منظّم جماعتوں سے لے کر حکومتوں تک نے ریاستی مشینری استعمال کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن نتیجۃً خود ملیامیٹ ہوگئے۔ ہر میدان میں جماعت احمدیہ کامیابی کے جھنڈے گاڑتی رہی اور اس کے دشمن خاک چاٹتے رہے۔ اب ایک اور مردِ مجاہد ابویحیٰی کے نام سے میدان میں آیا ہے جس نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا اور یہ نہیں دیکھا کہ اس سے پہلے اس سے بڑے بڑے علماء احمدیہ مسلم جماعت کے مقابلہ میں آئے اور شکست پر شکست کھا کر ناکام و نامراد اپنی قبروں میں جا سوئے اور پھر ان کے بعد آنے والوں کے پاس سوائے ریاستی جبر اور طاقت کے اور کوئی حربہ نہ بچا جس سے وہ احمدیہ مسلم جماعت کو دباسکیں لیکن جیسا کہ غالب نے کہا ہے

    ’’ پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے رُکتی ہے میری طبع تو ہوتی ہے رواں اور‘‘

    وطن عزیز میں جب سنگ مقیّد اور سگ آزاد کردئیے گئے تو پھر احمدیہ مسلم جماعت کی ترقی کا رُخ بین الاقوامی ہوگیا اور وہ ایک محدود ملک سے نکل کر چہار دانگ عالم کی طرف بڑھنے لگی اور سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وہ الہام بفضلہٖ تعالیٰ و بعونہٖ پوری شان و شوکت کے ساتھ پورا ہوگیا کہ ’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘ یہ نووارد مردِ مجاہد ابویحیٰی صاحب ’’احمدی حضرات اور مسلمان‘‘ کے زیرعنوان کچھ نئے کچھ پُرانے ہتھیار لے کر احمدیہ مسلم جماعت کے مقابلہ میں نکلے ہیں اور ابتداء کچھ اس طرح سے کرتے ہیں:

    ’’میری یہ درخواست ہے کہ تمام احمدی حضرات روزِ قیامت میرے خلاف یہ گواہی دیں کہ میں نے مرزا صاحب کو نبی نہیں مانا، تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو قرآن مجید سے اُن کے اپنے الفاظ پڑھ کر سناؤں اور عرض کروں کہ آپ نے اپنی کتاب میں کسی نئے نبی کو مانے بغیر محمد رسول اللہ اور اُن سے پچھلے نبیوں پر ایمان ہی پر جنت کی گارنٹی دے رکھی تھی۔‘‘

    اس تحریر کو پڑھ کر کانوں میں کچھ گھنٹیاں بجیں اور یاد آیا کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہی توہین آمیز اور گستاخانہ عبارت سیّد ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے بھی لکھی تھی اور اپنے کفر کا الزام اللہ تعالیٰ کو دے دیا تھا۔مودودی صاحب لکھتے ہیں:

    ’’اب اگر بفرض محال نبوت کا دروازہ واقعی کھلا بھی ہو اور کوئی نبی آ بھی جائے تو ہم بے خوف و خطر اس کا انکار کردیں گے۔ خطرہ ہوسکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی بازپُرس ہی کا تو ہوسکتا ہے۔ وہ قیامت کے روز ہم سے پوچھے گا تو ہم یہ سارا ریکارڈ برسرِ عدالت لا کر رکھ دیں گے جس سے ثابت ہوجائے گا کہ معاذ اللہ! اس کفر کے خطرے میں تو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سُنّت ہی نے ہمیں ڈالا تھا۔ ہمیں قطعًا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ اس ریکارڈ کو دیکھ کر بھی اللہ تعالیٰ ہمیں کسی نئے نبی پر ایمان نہ لانے کی سزا دے ڈالے گا۔‘‘ (ختم نبوت صفحہ31,32)۔

    ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہےیہ لوگ اللہ تعالیٰ کو دین سکھانے کی جسارت کرتے ہیں

    ﴿49:17﴾ قُلْ أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

    پوچھ کہ کیا تم اللہ کو اپنا دین سکھاتے ہو؟ جبکہ اللہ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھتا ہے۔

    گویا نعوذباللہ اللہ کو تو علم نہیں تھا اور نہ ہی اس نے اپنی کتاب میں ایسی کوئی بات نازل کی لیکن اب یہ لوگ ’’سارا ریکارڈ‘‘ اللہ کے سامنے رکھ کر اسے بتائیں گے کہ آپ کے بھیجے ہوئے نبی کا انکار کرنے میں ہم حق بجانب ہیں کیونکہ اس غلطی میں آپ نے ہی ہمیں ڈالا تھا۔ ذرا تاریخ پر نظر دوڑائیں تو جان جائیں گے کہ یہی حُجّت یہود کی ہے جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انہی وجوہ کی بناء پر انکار کیا اور آج تک کرتے آئے ہیں ۔مودودی صاحب اور ابویحیٰی صاحب کی طرح یہود بھی حق بجانب ہوں گے کہ اپنی کتاب کا سارا ریکارڈ لا کر اللہ تعالیٰ کے سامنے رکھ کر اُسے ملزم ٹھہرادیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے انکار کا باعث اللہ کی کتاب ہے نہ کہ یہود۔اس کے بعد ابویحیٰی صاحب نے سورۃ التوبۃ کی آیت 11 کے تحت ریاست کو یہ اختیار دینے کی بات کی کہ وہ جسے چاہے غیرمسلم قرار دے دے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ آیت کیا کہتی ہے

    ﴿9:11﴾ لَا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ

    پس اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں۔ اور ہم ایسے لوگوں کی خاطر نشانات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔

    اس آیت کا سیاق و سباق بتارہا ہے کہ یہاں صرف مشرکین بلکہ حربی مشرکین کی بات ہورہی ہے تمام کفار عرب اور ہر غیرمسلم کی نہیں۔ دوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ اگر وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب احمدیہ مسلم جماعت انفرادی اور اجتماعی طور پر نماز قائم کرتی اور زکوٰۃ ادا کرتی ہے تو پھر کیوں ابویحیٰی صاحب دین میں اسے اپنا بھائی نہیں سمجھتے؟ پھر وہ لکھتے ہیں:

    ’’ پھر ہم نے یہ واضح کیا تھا کہ احمدی حضرات ایمانیات کے معاملے میں نبوت پر ایمان کے اُس معیار پر پورے نہیں اترتے جو قرآن نے بیان کیا ہے۔‘‘

    لیکن یہ نہیں بتایا کہ ایمانیات کے معاملے میں قرآن کا بیان کردہ نبوت کا وہ کون سا معیار ہے جس پر احمدیہ مسلم جماعت پوری نہیں اترتی۔ پھر لکھتے ہیں:

    ’’ جب تک وہ اِس خلاف ورزی سے باز نہیں آتے، ریاست پر ایسی کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اُنھیں مسلمان تسلیم کرے، چنانچہ وہ اُنھیں غیرمسلم قرار غیر دے سکتی ہے۔ کوئی مسلمان ریاست ایسا کرتی ہے تو یہ ایک ریاستی اور قانونی حکم ہے، تاکہ معاشرے میں مسلمانوں اور غیرمسلموں کی شناخت اور تعارف واضح رہے۔‘‘

    لیکن قرآن سے یہ نہیں بتایا کہ ریاست کی اس ذمہ داری کا کہاں ذکر ہے اور احمدیہ مسلم جماعت نے قرآنی ایمانیات کی کہاں خلاف ورزی کی ہے۔ ریاستِ مدینہ کے سربراہ رسول اللہ ﷺ نے منافقین کا علم ہونے کے باوجود انہیں غیرمسلم قرار نہیں دیا بلکہ کسی کی نشاندہی تک نہیں کی کہ کون منافق ہے۔تمام منافقین کو ان کے ظاہری اقرارِ اسلام کے باعث مسلمان ہی سمجھا جاتا تھا کسی کو غیرمسلم قرار نہیں دیا گیا۔ اصل بات یہ ہے کہ ابویحیٰی صاحب ریاست کے کسی فرد یا گروہ کے بارے میں قانونی حیثیت متعین کرنے کے حق اور مسلمان معاشرے کے احمدیہ مسلم جماعت کے بارے میں سخت مؤقف کا جواز کا ذکر اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے پاس علمی دلائل یکسر مفقود ہیں اس لئے ان کے پاس ریاستی طاقت اور معاشرے کے سخت مؤقف کے علاوہ کوئی ایسی طاقت نہیں جس سے وہ احمدیہ مسلم جماعت کو غیرمسلم کہہ سکیں۔ تاریخِ انبیاء سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمانے میں حکومتیں اور معاشرے انبیاء کے خلاف یہی کچھ کرتے آئے ہیں جن کا جواز ابویحیٰی صاحب پیش کررہے ہیں۔ پھر لکھتے ہیں کہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب

    ’’اس دعوائے نبوت کے لیے وہ قرآن سے کوئی دلیل نہیں لاتے بلکہ اس کا ماخذ سرتاسر ان پر اپنے تئیں اترنے والی وحی ہے‘‘

    سوال یہ ہے کہ کیا محمد رسول اللہ ﷺ سمیت تمام نبیوں کے دعوائے نبوت کا ماخذ ان پر اترنے والی وحی نہیں ہوتی تھی؟ کتب سابقہ میں رسول اللہ ﷺ کی آمد کی پیشین گوئیوں کو بطور دلیل تو بہت بعد میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ نزولِ وحی سے پہلے رسول اللہ ﷺ نہ تو کتاب کے بارے میں جانتے تھے نہ ایمان کا کوئی علم تھا

    ﴿ۙ42:53﴾ وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَكِنْ جَعَلْنَاهُ نُورًا نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ

    اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک زندگی بخش کلام وحی کیا۔ تو جانتا نہ تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے لیکن ہم ہی نے اسے نوربنایا جس کے ذریعہ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں اوریقیناً تُو سیدھے راستہ کی طرف چلاتا ہے۔

    ’’دعوائے نبوت کا اصل ماخذ‘‘ کے ذیلی عنوان کے تحت ابویحیٰی صاحب سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتاب حقیقۃ الوحی سے ایک اقتباس پیش کرکے یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ ان کی نبوت کا اصل ماخذ قرآن و حدیث کی کوئی توجیہ و تاویل نہیں بلکہ ان کے زعم میں ان پر بارش کی طرح نازل ہونے والی وحی ہے۔ لیکن اس سے پہلے انہوں نے خود بھی ایک مغالطہ کھایا اور دوسروں کو بھی اس میں مبتلا کرنا چاہا اور وہ یہ کہ سیّدناحضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نزدیک ان کا انکار کرنے والا مرتد ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احمدیہ مسلم جماعت کے پورے لٹریچر میں غیراحمدیوں کے لئے مرتد کا لفظ کہیں بھی استعمال نہیں کیا گیا۔ ابویحیٰی صاحب کے اس محولہ اقتباس میں عبدالحکیم خان اسٹنٹ سرجن پٹیالہ کا ذکر ہے جو کہ پہلے حضور ؑ کی بیعت کرچکا تھا اس کے بعد اس نے اس بیعت سے خود برضا و رغبت ارتداد اختیار کیا تو اسے مرتد کہا گیا۔پھر لکھتے ہیں:

    ’’ نبی کا انکار کفر ہے، اِس لیے اُن کے اس دعوے کے ساتھ ہی معاشرے میں کفر و ایمان کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔‘‘

    یہ بھی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ کی بازگشت ہے۔لیکن مودودی صاحب نے جس بات کو تسلیم کیا اُسے ابویحیٰی صاحب فراموش کرگئے کہ ہر نبی کی آمد پر ایسا ہی ہوتا ہے کہ جس قوم میں وہ مبعوث ہوتا ہے اس میں سے ایک گروہ مان لیتا ہے اور ایک گروہ انکار کردیتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں فرمایا:

    ﴿61:15﴾… فَآمَنَتْ طَائِفَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَفَرَتْ طَائِفَةٌ...

    … پس بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا اور ایک گروہ نے انکار کردیا…

    اگر نبی کی بعثت کے بعد کفر و ایمان کا مسئلہ کھڑا ہوجانا بُری بات ہے تو ابویحیٰی صاحب کو اس کا مورد الزام اللہ تعالیٰ کو ٹھہرانا چاہئے کیونکہ ایسا تو ہر نبی کی بعثت پر ہوتا ہے۔ ’’گر ایں گناہیست در شہر شما نیز کند‘‘

    مزے کی بات یہ ہے کہ اپنے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ میں مودودی صاحب نبی کے آنے سے مومنین اور منکرین کے جن دو گروہوں کے قیام سے امت مسلمہ کو ڈرارہے تھے اور نبوت کا دروازہ بند کرکے کفر و اسلام کی جس کشمکش سے مسلمانوں کو بچانا چاہتے تھے، جماعت اسلامی کے قیام سے مسلمانوں کو ، جنہیں وہ مسلمان کی بجائے ’’مسلمان کہلانے والی قوم ‘‘ کہہ رہے ہیں،انہی دو ناگزیر راہوں کے پیدا ہونے کی خبردے رہے ہیں اور انہیں اسی آزمائش میں ڈال رہے ہیں جو ان کے بقول ایک نبی کی آمد سے پیدا ہوتی ہے اور انکار کی صورت میں یہودی بننے کا ڈراوا دیں۔

    ’’اس موقع پر میں ایک بات نہایت صفائی کے ساتھ کہہ دینا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ اس قسم کی ایک دعوت کا، جیسی کہ ہماری یہ دعوت ہے، کسی مسلمان قوم کے اندر اٹھنا اس کو ایک بڑی سخت آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ جب تک حق کے بعض منتشر اجزاء باطل کی آمیزش کے ساتھ سامنے آتے رہیں، ایک مسلمان قوم کے لئے ان کو قبول نہ کرنے اور ان کا ساتھ نہ دینے کا ایک معقول سبب موجود رہتا ہے اور اس کا عذر مقبول ہوتا رہتا ہے۔ مگر جب پورا حق بالکل بے نقاب ہوکر اپنی خالص صورت میں سامنے رکھ دیا جائے اور اس کی طرف اسلام کا دعویٰ رکھنے والی قوم کو دعوت دی جائے تو اس کے لئے ناگزیر ہوجاتا ہے کہ یا تو اس کا ساتھ دے اور اس خدمت کو انجام دینے کے لئے اٹھ کھڑی ہو جو امت مسلمہ کی پیدائش کی ایک ہی غرض ہے یا نہیں تو اسے رد کرکے وہی پوزیشن اختیار کرلے جو اس سے پہلے یہودی قوم اختیار کرچکی ہے۔ ایسی صورت میں ان دو راہوں کے سوا کسی تیسری راہ کی گنجائش اس قوم کے لئے باقی نہیں رہتی۔ یہ عین ممکن ہے کہ اس دوٹوک فیصلہ میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کو ڈھیل دے اور اس نوعیت کی یکے بعد دیگرے کئی دعوتوں کے اٹھنے تک دیکھتا رہے کہ وہ ان کے ساتھ کیا روش اختیار کرتے ہیں۔ لیکن بہرحال اس دعوت کی طرف سے منہ موڑنے کا انجام آخر کار وہی ہے جو میں نے آپ سے عرض کردیا۔ غیر مسلم اقوام کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ لیکن مسلمان اگر حق سے منہ موڑیں اور اپنے مقصد وجود کی طرف صریح دعوت سن کر الٹے پاؤں پھر جائیں تو یہ وہ جرم ہے جس پر خدا نے کسی نبی کی امت کو معاف نہیں کیا ہے۔ اب چونکہ یہ دعوت ہندوستان میں اٹھ چکی ہے۔ اس لئے کم از کم ہندی مسلمانوں کے لئے آزمائش کا وہ خوفناک لمحہ آ ہی گیا ہے۔ رہے دوسرے ممالک کے مسلمان تو ہم ان تک اپنی دعوت پہنچانے کی تیاری کررہے ہیں۔ اگر ہمیں اس کوشش میں کامیابی ہوگئی تو جہاں جہاں یہ پہنچے گی وہاں کے مسلمان بھی اسی آزمائش میں پڑ جائیں گے۔ میں یہ دعویٰ کرنے کے لئے تو کوئی بنیاد نہیں رکھتا کہ یہ آخری موقع ہے جو مسلمانوں کو مل رہا ہے اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ ممکن ہے ابھی کچھ اور مواقع مسلمانوں کے لئے مقدر ہوں۔ لیکن قرآن کی بنیاد پر میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ مسلمانوں کے لئے یہ وقت ہے ایک نازک وقت۔ ‘‘ (روداد جماعت اسلامی: روداد اجتماع دارالاسلام: حصہ دوم ص۔ 17 تا 20)

    اس کے بعد ابویحیٰی صاحب لکھتے ہیں:

    ’’اس پیرا گراف سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا صاحب پہلے دن ہی سے وحی پر کھڑے تھے، مگر چونکہ مسلم روایت کے پس منظر میں اُن کا اعتقاد یہ تھا کہ احادیث میں جس مسیح کا ذکر ہے وہ عیسیٰ ابن مریم ہیں جو آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اور وہیں سے نازل ہوں گے، اِس لیے اُنھیں اِس میں تامل تھا کہ خود کو اِن روایات کا مصداق سمجھیں۔ چنانچہ اُنھوں نے اِس وحی کے باوجود جو اُنھیں اپنے مسیح ہونے کا یقین دلا رہی تھی، مسیح سے متعلق احادیث کی تاویل و توجیہ نہیں کی، بلکہ وہ اپنے اوپر ہونے والی وحی کی تاویل کرتے رہے۔ جی ہاں، تاویل وہ اُس وحی کی کر رہے ہیں جو اُن کی دانست میں اُن پر ہو رہی تھی نہ کہ قرآن و حدیث کی۔‘‘

    وحی پر کھڑے ہونے کو وہ یوں بیان کررہے ہیں کہ گویا وہ ایک بہت ہی مذموم حرکت ہو۔ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ ہر نبی اپنی وحی پر ہی کھڑا ہوتا ہے۔ پھر زور دے کر کہتے ہیں کہ دیکھ لیں وہ اپنی وحی کی تاویل کررہے ہیں قرآن و حدیث کی نہیں۔ ایک تو لفظ ’’تاویل‘‘ مسلمانوں میں نامعلوم وجوہ کی بناء پر بدنام ہوچکا ہے حالانکہ یہی لفظ قرآن و حدیث میں بڑے احسن رنگ میں انبیاء کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ بات تو تعریف کے رنگ میں بیان کرنی چاہئے تھی کہ سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مروجہ عقائد کو درست اور قرآن و حدیث کی بنیاد پر قائم سمجھتے ہوئے اپنی وحی کی تاویل فرماتے رہے۔انگریزی کا ایک محاورہ ہے Where wise dare to tread fools rush inحضرت موسیٰ علیہ السلام اور نبی اکرم ﷺ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ جب انہیں منصب نبوت پیش کیا گیا تو انہوں نے فوری طور پر آگے بڑھ کر اسے خوشی خوشی قبول نہیں کرلیا بلکہ ہچکچاتے رہے۔ بعینہہ اسی سُنّتِ انبیاء کے مطابق سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مروجہ عقائد کی روشنی میں اپنی وحی کی تاویل کی جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے کھُلے کھُلے الفاظ میں آپ کو آپ کے منصب و مقام کی واضح خبر نہ دے دی جس کے بعد آپؑ کے پاس اُس پر ایمان لانے، اسے قبول کرنے اور اس کا اعلان کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

    ﴿2:286﴾ آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ....

    رسول اس پر ایمان لے آیا جو اس کے ربّ کی طرف سے اس کی طرف اتارا گیا اور مومن بھی…

    پھر اس کے بعد ابویحیٰی صاحب سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک اقتباس نقل کرتے ہیں جس میں حضورؑ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے اوپر بارش کی طرح نازل ہونے والی وحی پر کفایت نہیں کیا بلکہ اُس وحی کو قرآن شریف پر پیش کیا تو ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام واقعی فوت ہوچکے ہیں۔ اب اس دشمنی اور تعصب کا کیا کیا جائے کہ اس کے باوجود ابویحیٰی صاحب سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں اور ان کے اس اقرار، کہ انہوں نے وفاتِ مسیح کا عقیدہ قرآن مجید سے ثابت شدہ پایا تب اسے اختیار کیا، کے باوجود لکھتے ہیں:

    ’’چنانچہ مرزا صاحب کا یہ تھاٹ پروسس واضح رہنا چاہئے کہ وہ قرآن و حدیث پر غور کرتے کرتے کوئی دعویٰ نہیں کر بیٹھے بلکہ قرآن و حدیث اصلًا ان کے شخصی دعووں کی راہ میں حائل تھے۔ یہ اُن پر اترنے والی وحی، انہیں ملنے والی صدہا نشانیاں اور آسمانی شہادتیں ہی ہیں جو انہیں اس مقام تک لائی ہیں۔ ‘‘

    پھر لکھتے ہیں:

    ’’ ابھی تک اُن کے اِس سفر میں وہ مسیح ہی بنے تھے۔ بات مسیح تک رہتی تو بہت غنیمت تھی۔ مگر اب وہ حریم نبوت میں نقب لگانے کی تیاری کرتے ہیں۔ تاہم اِس کی ذمہ داری بھی خود لینے پر تیار نہیں ہیں۔ وہ اِس کا الزام بھی اللہ تعالیٰ ہی پر ڈالتے ہیں‘‘

    گویا اللہ تعالیٰ کی سلطنت کسی انسانی بادشاہ کی طرح ہے جس میں کوئی بھی نقب لگا سکتا ہے۔ یہاں ابویحیٰی صاحب پہلے اللہ تعالیٰ کی توہین اور گستاخی کے مرتکب ہوئے اور پھر تاریخ و سیر الانبیاء نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ مرزا صاحب نبوت کی ذمہ داری بھی اللہ تعالیٰ پر ڈالتے ہیں۔ حالانکہ ہر نبی اپنی رسالت و نبوت کو اللہ تعالیٰ ہی سے منسوب کرتا ہے ۔کیا آدم سے لے کر محمد رسول اللہ ﷺ نے کبھی یہ کہا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے نبی نہیں بنایا ہم خود سے نبی بن گئے ہیں؟ مجھے حیرت ہے کہ یہ کیسےمحقق ہیں ! لیکن ذرا غور کرنے پر یہ حیرت جاتی رہتی ہے کیونکہ سچے انبیاء کے مخالفین و منکرین ایسی ہی باتیں کرتے چلے آئے ہیں۔ حضورؑ کے صریح طور پر نبی کا خطاب ملنے کے دعوی کو نقل کرکے ابویحیٰی صاحب لکھتے ہیں:

    ’’یہاں خیال رہے کہ وہ مسیح ابن مریم اور ان کی نبوت کا حوالہ دے رہے ہیں، مگر اوپر بیان ہوچکا ہے کہ قرآن سے وہ یہ اخذ کرچکے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم تو فوت ہوچکے ہیں۔ چنانچہ یہ مسیح، ایک نیا مسیح ہے اور یہ نبی ایک نیا نبی ہے۔ اپنی ذات کے حق میں اِس دعواے مسیحیت اور دعواے نبوت کا ماخذ سرتاسر اُن پر بارش کی طرح اترنے والی وحی ہے۔ وہ قرآن و حدیث سے ایسی کسی غلط فہمی میں نہیں پڑے۔‘‘

    یہ بھی سراسر جھوٹا الزام ہے اور حضورؑ متعدد مقامات پر قرآن و حدیث کو اپنے دعوائے نبوت کے استدلال میں پیش فرما چکے ہیں۔

    سورہ توبہ کی آیت اور احمدی حضرات

    ابویحیٰی صاحب لکھتے ہیں کہ یہ آیت کفار عرب کو موت کی سزا کا فیصلہ کرتی ہے حالانکہ یہ صرف حربی بدعہد مشرکین کے متعلق ہے۔ اگر کفار عرب کے بارے میں ہوتی تو مسلمان سب سے پہلے کفار مدینہ پر چڑھ دوڑتے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ اگر کوئی مشرک پناہ مانگے تو اسے کلام الٰہی سنانے کے بعد محفوظ جگہ پر پہنچادو ۔ تمام کفار عرب کو موت کی سزا دینے کی بات نہ صرف قرآنی سیاق و سباق کے بھی خلاف ہے بلکہ مودودی صاحب کی طرح دشمنانِ اسلام کے ہاتھ میں ہتھیار پکڑانے کے مترادف بھی۔ پھر لکھتے ہیں کہ یہ آیت قانونی سطح پر اظہارِ اسلام کی شرائط کو واضح کرتی ہے حالانکہ اس میں قانونی یا ریاستی سطح کا کہیں ذکر تک نہیں ہے اور نہ ہی ریاست مدینہ کوئی ایسی قانون سازی کرتی اور اسلام کے سرٹیفیکیٹ جاری کرتی تھی۔ اس کے برعکس نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ لوگوں میں سے جو اسلام کا اظہار کرتا ہے اس کا نام لکھ لاؤ۔ مطلب یہ کہ نبی اکرم ﷺ اور ریاست ِ مدینہ لوگوں کو مسلمانی کا سرٹیفیکیٹ نہیں دیتی تھی بلکہ محض ان کے زبانی اقرار پر ان کو مسلمان مان لیتی تھی۔سورۃ التوبۃ کی اس آیت میں بھی یہی کہا گیا کہ اگر وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں۔ احمدیہ مسلم جماعت بھی بحمداللہ اسلام کا اقرار کرتی، نماز قائم کرتی اور زکوٰۃ دیتی ہے تو پھر احمدی مسلمانوں کو دین میں بھائی کیوں نہیں تسلیم کیا جاتا؟ پھر لکھتے ہیں:

    ’’اِس آیت میں عملی طور پر نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی اور عقیدے کی سطح پر اپنے کفر سے باز آکر اسلام کے ایمانیات کو بعینہٖ اختیار کرلینے کو بطور شرائط کے بیان کر دیا گیا ہے۔ اِن شرائط کو پورا کرنا بعد کے زمانوں میں بھی کسی فرد یا گروہ کے قانونی سطح پر اسلام پر ہونے کے لیے معیار ہیں۔ احمدی حضرات اِن میں سے پہلی شرط پر بالبداہت پورے نہیں اترتے، یعنی اُنھوں نے نبیوں پر ایمان کے قرآنی ضابطے کو قبول کرنے کے بجائے اِس بات کو قبول کرلیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرزا صاحب پر بھی اللہ کی طرف وحی اتری ہے اور وہ ایک نبی ہیں۔‘‘

    ابویحیٰی صاحب کو ارکان ایمان اور ارکان اسلام میں فرق بھی معلوم نہیں۔ ایمانیات میں اللہ، ملائکہ، کتب، رُسُل اور یوم آخر شامل ہیں جبکہ ارکان اسلام میں کلمۂ شہادت کا اقرار باللسان، نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ شامل ہیں۔ اس آیت میں ایمانیات کا بطور شرائط ذکر تک نہیں ہے بلکہ محض نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا ذکر ہے۔ جس پر بحمداللہ احمدیہ مسلم جماعت عمل پیرا ہے۔ پھر انہوں نے الزام لگایا کہ احمدی حضرات ان میں سے پہلی شرط پر بالبداہت پورے نہیں اترتے۔ گویا

    ’’ وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے‘‘

    نبوت پر ایمان کا تو اس آیت میں ذکر ہی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نبیوں پر ایمان کے قرآنی ضابطے کے منکر احمدی مسلمان نہیں بلکہ غیراحمدی حضرات ہیں کیونکہ ایمانیات میں رسولوں پر ایمان شامل ہے جبکہ غیراحمدی حضرات یہود کی طرح رسولوں کو ماننے یا نہ ماننے میں اپنی پسند ناپسند کو اختیار کرتے ہیں

    ﴿2:88﴾ ۔۔۔ أَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَى أَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ

    ۔۔۔پس کیا جب بھی تمہارے پاس کوئی رسول ایسی باتیں لے کر آئے گا جو تمہیں پسند نہیں تو تم استکبار کروگے ؟۔ اور ان میں سے بعض کو تم جھٹلا دو گے اور بعض کو تم قتل کروگے؟

    یہ عجیب منطق ہے کہ قرآنی ایمانیات کے مطابق اس کی فرمانبرداری میں احمدیہ مسلم جماعت اپنے دور میں آنے والے نبی کو مان لیں تو کافر اور جو نہ مانے وہ مسلمان۔ گویا: خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے

    رسولوں پر ایمان لانا تو ایمانیات کے عین مطابق ہے نہ کہ اس کے برخلاف! ایمانیات میں یہ کہاں لکھا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس میں تو حکم ہے کہ تمام رسولوں پر ایمان لاؤ اور رسولوں میں سے کسی ایک میں بھی فرق نہ کرو۔ اس کے بعد اپنا عقیدہ زبردستی بلا دلیل ٹھونستے ہوئے اور مخالف کی کسی بھی توجیہہ و تاویل اور فہم کو یکسر مسترد کرتے ہوئےلکھتے ہیں:

    قرآن مجید نےاِس کے بالکل برعکس اور ایک سے زیادہ طریقوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر طرح کی وحی اور نبوت کی تردید کی ہے۔ اِس باب میں سب سے واضح بیان قرآن مجید کے آغاز ہی میں سورۂ بقرہ کی آیت 4 میں دیکھ لیا جاسکتا ہے، جو اِس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ آپ کے بعد وحی و نبوت کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ وحی اور نبوت پر ایمان کے معاملے میں دو ہی رویے مطلوب ہیں۔ ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی پر ایمان لاکر اُنھیں نبی مانا جائے اور دوسرے آپ سے پہلے انبیاے کرام پر جو وحی نازل ہوئی ہے، اُس پر ایمان لایا جائے۔ نبوت کے باب میں یہی ایمان مطلوب ہے۔ چنانچہ اِس آیت نے حضور کے بعد کسی نئی نبوت کے راستے میں دہری رکاوٹ پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف یہ حضور اور پچھلے نبیوں پر ایمان کو نجات کے لیے کافی قرار دے رہی اور بعد میں آنے والے کسی نبی پر ایمان کے بغیر جنت کی فلاح کی یقین دہانی کرا رہی ہے اور دوسری طرف یہ بھی بتا رہی ہے کہ نبیوں پر ایمان کے باب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی پر ایمان کا کوئی تصور قرآن میں نہیں ہے۔ جس کے بعد اِس باب میں خارج کی کوئی وحی، کسی فرد کا کوئی دعویٰ، قرآن و حدیث کی کوئی توجیہ، کوئی تاویل، کوئی فہم؛ قرآن مجید کے اِس صریح بیان کے مقابلے میں ناقابل قبول ہے۔‘‘

    گویا ’’مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘‘ قرآن تو بڑے پُراعتماد طریقے سے بلا خوف تردید مخالفین سے برہان طلب کرتا ہے ’’قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ‘‘ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اللہ تعالیٰ جس عقیدے کو خطرناک ترین قرار دیتا ہے یعنی خدا کا بیٹا ہونا

    ﴿ۙ19:91﴾تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا﴿ۚ19:92﴾ أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا

    قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ لرزتے ہوئے گر پڑیں۔ کہ انہوں نے رحمان کے لئے بیٹے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اُسی خطرناک ترین عقیدے کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کہو کہ اگر اللہ کا کوئی بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرتا:

    ﴿43:82﴾ قُلْ إِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ

    تو کہہ دے کہ اگر رحمان کا کوئی بیٹا ہوتا تو میں عبادت کرنے والوں میں سب سے پہلا ہوتا۔

    لیکن ابویحیٰی صاحب علمی مباحث کی بجائے اور مخالفین سے دلائل مانگنے کی بجائے ریاستی طاقت اور معاشرے کا خوف دلا کر چُپ کرانا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی بھی وحی کے انکار کی دلیل میں سورۃ البقرۃ کی آیت ۴ کی غلط تاویل کرکے ابویحیٰی صاحب نے یہود کی پیروی کی ہےجن کا قول اللہ تعالیٰ نے نقل کیا ہے کہ ہم صرف اس پر ایمان لاتے ہیں جو ہم پر نازل کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے اس کا انکار کردیتے ہیں۔

    ﴿2:92 ﴾ وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَکْفَرُوْنَ بِمَآ وَرَآءَ ہٗ

    اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس پر ایمان لے آؤ جو اللہ نے نازل کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے جو ہم پر اتارا گیا جبکہ وہ اس کاانکار کرتے ہیں جو اس کے علاوہ (اتارا گیا) ہے

    یہود کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مخالفینِ احمدیت بھی قرآنِ کریم کے بعد نازل ہونے والی وحی پر ایمان لانے کا انکار کرتے ہیں۔اُنکا کہنا ہے کہ سورۃ البقرۃ کی مندرجہ بالا آیت میں آنحضرت ﷺ سے پہلے اور آپؐ پر نازل ہونے والی وحی پر ایمان لانے کا تو حکم ہے لیکن آپ ؐ کے بعد نازل ہونے والی کسی وحی پر ایمان لانے کا کوئی ذکر نہیں۔لیکن اس آیت میں ’’وَبِالآخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ‘‘ میں آخرۃ سے مراد قیامت نہیں ہے کیونکہ یوم مذکر ہے اس کے ساتھ آخر آنا چاہئے آخرۃ نہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ہر جگہ آیا ہے۔ اور پھر قیامت یعنی یوم آخر ارکان ایمان میں شامل ہے اس کے ساتھ یوقنون نہیں یومنون آنا چاہئے تھا جیسا کہ پہلے کہا گیا ’’اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ‘‘ یہاں پر قرآن اور اس کے ماقبل وحی پر ایمان کا ذکر ہے اور پھر اسی تسلسل میں الآخرۃ یعنی بعد میں آنے والی وحی کا ذکر ہے جو نزول قرآن کے وقت تک نہیں آئی تھی اس لئے اس کے ساتھ یؤمنون کی بجائے یوقنون کا لفظ استعمال کیا گیا کہ قرآن اور اس سے ماقبل وحیوں پر ایمان رکھنے والے یقین رکھتے ہیں کہ بعد میں بھی وحی ہوگی۔ جب وہ نازل ہوگی تو اس وقت کے لوگ اس پر ایمان لے آئیں گے اور اپنے بعد آنے والی وحی کا یقین رکھیں گے۔ مندرجہ ذیل آیتِ کریمہ میں بھی حضرت نوح ؑ اور اُن کے بعد آنے والے انبیاء علیہم السلام پر نزولِ وحی کا ذکر ہے اور ان سے پہلے کسی نبی پر نزولِ وحی کا ذکر نہیں ہے۔ جبکہ مصدقہ طور پر حضرت آدم علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام سے پہلے مبعوث ہونے والے نبی تھے ۔ چنانچہ ثابت ہوا کہ اگر کسی آیت میں کسی نبی کے بعد یا پہلے کسی اور نبی پر نزولِ وحی کا ذکر نہ ہو تو اس کاانکار نہیں کیا جاسکتا۔

    ﴿4:164-﴾ اِنَّآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ کَمَآ اَوْحَیْنآ اِلیٰ نُوْحٍ وَّالنَّبِیِّنَ مِنْ م بَعْدِہٖ ج۔۔۔

    ہم نے یقینًا تیری طرف ویسے ہی وحی کی جیسا نوح کی طرف وحی کی تھی اور اس کے بعد آنے والے نبیوں کی طرف۔

    مخالفین کی اسی دلیل کے ساتھ اگر سورۃ بقرہ ہی کی مندرجہ ذیل آیت کریمہ کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو دیکھئے کیسا خطرناک نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔

    ﴿2:22﴾ یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ٭

    اے لوگو! تم عبادت کرو اپنے رب کی جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان کو بھی جو تم سے پہلے تھے۔ تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

    اس آیت کریمہ میں مخاطبین اور ان سے پہلے کے لوگوں کا ذکر ہے ان کے بعد آنے والوں کا ذکر نہیں ہے تو کیا ہمارے مخالفین صرف اسی بناء پر کہ اس آیت میں ’’وَالَّذِیْنَ مِنْ بَعْدِکُمْ ‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں اپنے بعد کسی کے پیدا ہونے کا انکار کردیں گے یا یہ عقیدہ رکھیں گے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نہیں بلکہ کوئی اور تخلیق کرے گا؟

    ’’ایمانیات میں اضافہ کفر ہے‘‘ کے زیرعنوان انہوں نے احمدیہ مسلم جماعت پر ایمانیات میں اضافہ کا الزام لگایا ہے۔ احمدیہ مسلم جماعت تو سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رسالت و نبوت پر ایمانیات کی شِق ’’رسولوں پر ایمان‘‘ کے تحت ایمان رکھتی ہے۔لیکن ، جیسا کہ اوپر وضاحت کی جاچکی ہے، غیراحمدی حضرات ایمان بالرسل کو محمد رسول اللہ ﷺ اور ان سے ماقبل رسولوں پر ایمان کے الفاظ کا من گھڑت اضافہ اور تبدیلی کر کے اسے اسلامی ایمانیات میں شامل کرتے ہیں جو خود ابویحیٰی صاحب کے بقول کفر ہے۔ گویا ’’ہم الزام اُن کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا‘‘۔

    ایک دلچسپ بلکہ مضحکہ خیز بات ابویحیٰی صاحب نے یہ کی ہے کہ ریاست پاکستان نے بجا طور پر احمدیوں کو غیرمسلم تو کہا ہے لیکن کافر نہیں کہا۔ اس پر مجھے وہ لطیفہ یاد آگیا کہ ایک بادشاہ کا نہایت محبوب گھوڑا سخت بیمار ہوگا۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ جس نے مجھے یہ خبر دی کہ وہ مرگیا ہے تو میں اس شخص کی گردن اڑا دوں گا۔ جب گھوڑا مرگیا تو کسی کی ہمت نہیں تھی کہ بادشاہ کو اس کی موت کی خبر دے۔ بالآخر ایک عقلمند شخص بادشاہ کے پاس گیا۔ بادشاہ نے پوچھا کہ گھوڑے کا کیا حال ہے۔ اس نے کہا کہ حضور وہ بڑے آرام سے لیٹا ہے بالکل بھی کوئی حرکت نہیں کرتا۔ بادشاہ نے چِلاّ کر کہا کہ کمبخت یہ کیوں نہیں کہتے کہ وہ مرگیا ہے۔ اس نے کہا حضور آپ نے کہا ہے میں نے نہیں کہا۔ بالکل ویسی ہی بات ہمارے عقلمند ابویحیٰی صاحب نے کی ہے کہ احمدی غیرمسلم ہیں کافر نہیں ہیں۔ جب احمدی مسلمان قبلہ رو ہوکر نماز پڑھتے، ذبیحہ کھاتے ، تمام ارکانِ اسلام اور ارکانِ ایمان کو تسلیم کرتے پھر غیرمسلم کیسے ہوگئے اور کسی ایک رکن کا بھی انکار نہیں کرتے، تو کافر کیسے ہوگئے؟

    ابویحیٰی صاحب نے یہ بھی دھوکا دیا کہ صحابہ کرام ؓ نے مدعیان نبوت سے ان کے دعوی نبوت کی بناء پر جنگ کی تھی۔ اور پھر یہ جانتے ہوئے کہ یہ مدعیان نبوت نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں ظاہر ہوگئے تھے لیکن آپؐ نے ان سے جنگ نہیں کی تھی، یہ غلط اور بے بنیاد تاویل کی کہ یہ ریاست کا اختیار ہے کہ اُن سے جنگ کرے یا نہ کرے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضور ؐ کا اسوہ تو مہلت اور رعایت دینے کا تھا لیکن خلفائے راشدین نے ان مدعیان کو کسی قسم کی رعایت دینے سے انکار کردیا۔ گویا پہلے اللہ تعالیٰ کی گستاخی و توہین کی کہ ہم تو سارا ریکارڈ اللہ کے سامنے رکھ دیں گے کہ جناب اس غلطی پر ہمیں آپ نے ہی مجبور کیا تھا؛ پھر تاویل کو اور اپنی نبوت و رسالت کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کو ایک قابل مذمّت عمل کہہ کرانبیاء کی گستاخی و توہین کی اور اب صحابہ کرام ؓ کو اسوۂ رسول ﷺ کے مخالف عمل کرنے والا کہہ کر صحابہ کرام ؓ کی توہین کردی۔ پھر مزید کذب بیانی یہ کی کہ ’’مسلمان ریاستوں نے اسی معاملہ میں ایک سخت مؤقف اختیار کرکے احمدی حضرات کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا‘‘ حالانکہ سوائے پاکستان کے کسی دوسری ریاست نے یہ قبیح فعل نہیں کیا اور اس کی ’’مسلمانی‘‘ بھی جیسی ہے سب پر ظاہر و باہر ہے۔

    خلاصہ کلام:

    · سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعویٰ رسالت و نبوت بحمداللہ قرآن مجید کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے

    · یہ نئی نبوت نہیں ہے۔ اس کے برعکس غیراحمدی حضرات جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا عقیدہ رکھتے ہیں تو وہ ایک نئی نبوت کو مانتے ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کے رسول تھے جبکہ آمد ثانی میں وہ تمام دنیا کی طرف مبعوث ہوں گے جو کہ لامحالہ ایک نئی نبوت ہے۔

    · احمدیہ مسلم جماعت نہیں بلکہ غیراحمدی حضرات ایمانیات میں اضافہ کرتے ہیں جب ایمان بالرسل کو محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے ماقبل رسولوں تک محدود کرتے ہیں۔

    · ایمانیات کی شرائط کے مطابق احمدیہ مسلم جماعت نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کے باعث بحمداللہ مسلمان ہے۔

    · قرآن و سُنّت کے مطابق کسی فرد یا ریاست کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی شہری کے ایمان کا فیصلہ کرے یا اُسے غیرمسلم قرار دےخصوصًا جب وہ تمام ارکانِ اسلام اور ارکانِ ایمان کا اقرار کرتا ہو۔

    اور آخر میں ایک سوال! کیا ابویحیٰی صاحب قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ کے تحت احمدیہ مسلم جماعت کو پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں تبلیغ اور نشرواشاعت کا حق دئیے جانے کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں؟

    وَ آخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
     
    Last edited: ‏نومبر 23, 2019

اس صفحے کو مشتہر کریں