1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

آریہ سماج کے معیاروں کے مطابق وید الہامی نہیں

'اسلام اور ویدک دھرم' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 5, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    آریہ سماج کے معیاروں کے مطابق وید الہامی نہیں
    (از جناب مہاشہ محمد عمر صاحب مولوی فاضل)

    (۱) معیار۔ ایشور کا گیان ابتداء میں ہونا چاہیے کیونکہ جن چیزوں پر انسانی زندگی کا دارومدار ہے پرماتما نے ان کو انسان کی پیدائش سے پہلے پیدا کیا اور مکمل پیدا کیا جیسے سورج۔

    تردیدالف:۔ سورج کے ساتھ وید کی مثال نہیں دی جاسکتی کیونکہ سورج سے ہر ایک بشر بالغ و نابالغ،بوڑھا، جوان یکساں فائدہ حاصل کرتا ہے۔بخلاف وید کے جس کے پڑھنے کے لئے بڑے بڑے دھرماتما اور ودّوان کو شش کرتے ہیں ،لیکن کامیاب نہیں ہوتے۔

    ب:۔ ویدوں میں ایسے سینکڑوں منتر ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وید ابتدائے دنیا میں نہیں بنے بلکہ ویدوں کے نزول سے پہلے دُنیا میں مخلوق موجود تھی۔

    ج:۔ ابتداء میں کامل گیان کا نازل ہونا پرماتما کے بتانے کے خلاف ہے کیونکہ ابتداء میں جب کہ پرماتما نے دنیا کو پیدا کیا لوگوں کی حالت بچوں کی طرح تھی اور اس کو سوامی جی نے اپنی کتاب اپدیش منجری میں تسلیم کیا ہے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔’’ان سب کو صرف کھانا اور پینا اور بھوگ کرنا(جماع کرنا)صرف اتنا ہی یاد تھا۔آدی سرشٹی میں سب انسانوں کی حالت بچوں کی تھی۔ان کو پاؤں سے چلنا اور آنکھوں سے دیکھنا اس کے بغیر ان کو کچھ گیان نہ تھا۔‘‘(اپدیش منجری ہندی صفحہ ۸۹)پس پرماتما جو کہ علیم ہے کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ بچوں کو کامل گیان دے ۔ایسے بچوں کو جن کو سوائے کھانے اور بھوگ کے کچھ سمجھ ہی نہیں ۔اس لئے یہ ضروری ماننا پڑے گا کہ پرماتما نے ان رشیوں کو گیان دیا لیکن کامل نہیں بلکہ ان کی عقل اور سمجھ کے مطابق۔

    د:۔ سوامی جی نے اس کے آگے لکھا ہے کہ ’’یہ حالت ان رشیوں کی پانچ سال رہی۔پھر پرماتما نے ان کو ویدوں کا گیان دیا۔‘‘(اپدیش منجری ہندی صفحہ ۹۰)یعنی پیدائش کے ساتھ ہی ان کو ویدوں کا گیان نہیں دیا گیا بلکہ پانچ سال دنیا بننے کے بعد اُن کو گیان ملا۔

    اعتراض:۔ اس پر ہمارے آریہ بھائی کہا کرتے ہیں کہ واقعی انسانوں کو اس وقت اتنا گیان نہ تھا کہ وہ کامل گیان کو جانتے لیکن پرماتما کا گیان تو کامل ہے۔اُس نے اپنے علم کے مطابق کامل گیان دیا۔

    جواب:۔ یہ ٹھیک ہے کہ پرماتما کا گیان کامل ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو وہ گیان دیتا تھا وہ کامل نہیں تھے کہ اس کو سمجھ سکتے یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کہ ایک کالج کا پروفیسر جو کہ ایم۔اے ہے۔ ایک بچے کے آگے جبکہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے اس کے پاس جائے تو وہ اس کے آگے ایم۔اے کا کورس رکھ دے اور کہے کہ یہ لڑکا واقعی اتنی لیاقت نہیں رکھتا کہ یہ ایم۔اے کا کورس سمجھ سکے لیکن میں تو ایم۔اے ہوں اور علم کے لحاظ سے کامل ہوں۔تو سب لوگ اس کو بیوقوف کہیں گے اور جواب دیں گے کہ تیرا علم واقعی کامل ہے لیکن جس بچے کو تُو نے پڑھانا ہے وہ اس قابل نہیں کہ ایم۔اے کے کورس کو سمجھ سکے اس کے لئے تو وہی پہلا قاعدہ چاہیے جو یہ سمجھتا جائے۔

    دوسرامعیار:۔ الہامی کتاب کے لئے ضروری ہے کہ اس میں ایک لفظ کی بھی کمی و بیشی نہ ہو اور وہ محفوظ چلی آتی ہو۔

    جواب:۔ وید اس اصول کے مطابق بھی الہامی ثابت نہیں ہوتا کیونکہ جب ہم ویدوں کو غور سے دیکھتے ہیں تو ان میں اس قدر اختلاف ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے ۔چنانچہ ہم پہلے اتھر وید کو لیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس میں بھی لوگوں نے اپنے پاس سے منتر مِلا دئیے ہیں۔

    اتھر وید (۱) سوامی دیانند نے رگ وید آدی بھاشیہ بھومکا ہندی کے صفحہ ۸۶پر لکھا ہے کہ اتھر وید کا پہلا منتر ’’اوم شنو دیوی‘‘ ہے۔

    (۲) لیکھرام نے کلیات آریہ مسافر میں لکھا ہے کہ پہلا منتر’’اوم شنو دیوی ‘‘ہے۔

    (۳) مہابھاشیہ کے مصنف کا یہ مذہب ہے کہ پہلا منتر’’اوم شنو دیوی ‘‘ہے۔

    لیکن موجودہ وید کو اُٹھا ؤ تو یہ منتر چھبیسواں(۲۶) ہے۔تو کیا پہلے پچیس (۲۵) منتر کسی آریہ سماجی نے اتھر وید میں ملا دئیے ہیں۔

    اتھر وید کے منتروں کی تعداد میں اختلاف

    سائیں بھاشیہ ۵۹۷۷۔سیوک لال۵۹۴۷۔ ساتولیک۷۰۰۔ ویدک سدھانت۶۰۰۔


    یجر وید میں ملاوٹ:۔ یجر وید بمبئی والے میں ۲۵ ادھیائے کے ۴۷ منتر ہیں لیکن دیانند نے جو اجمیر میں چھپوایا ہے اس میں ۴۸ ہیں۔

    یجر وید کے ۴۰ادھیائے میں ’’اوم کھم برہم‘‘بمبئی والے میں منتر کا جزو نہیں ہے لیکن دیانند نے اس کو منتر میں شامل کر دیا ہے۔

    یجروید تعداد منتروں میں اختلاف

    یجر وید کلپ تر ۱۹۷۵ دیانندجی ۱۹۷۵

    سالولیک ۱۴۰۰ شوشنکر کاویہ تیرتھ ۹۸۷

    ویدک مت ۱۰۰۰ (منقول از وید سروسو صفحہ ۱۵۲)

    سام وید تحریف:۔سام وید اجمیر والے میں ۶۵منتر زیادہ ہیں۔دیکھو نمبر۴۳اور کاشی میں چھپے سام وید میں یہ منتر نہیں۔صفحہ ۵۰

    سام وید منتروں کی تعداد میں اختلاف

    دیانند کا وید ۱۸۲۴ جیوانند ۱۸۰۸

    شو شنکر ۱۵۴۹ دیاشنکر ۲۱۹

    ساتولیک ۷۰

    رگ وید میں تحریف:۔ سائیں اچاریہ ۱۰۰۰سے کچھ زیادہ ۔

    پنڈت شوشنکر ۱۰۴۰۲ سوامی دیانند جی ۱۰۵۸۹

    انوواک انوکر منی ۱۰۵۸۰ چھند سنگرہ شلوک کے مطابق ۱۰۴۰۲

    گاتیری وغیرہ کے مطابق ۱۰۱۴۲ پنڈت جگن ناتھ ۱۰۴۵۲

    چرن ویوہ کا ٹیکا کار ۱۰۴۷۲ مہتہ برت ۱۰۴۴۲

    ورتمان سنگھتا کے مطابق ۱۰۴۴۰

    (ویدسروسو مصنّفہ پنڈت ویدک منی جی صفحہ ۶۸ مطبوعہ اندر پریس دہلی)

    تیسرا معیار:۔ اس میں عقل اور اخلاق کے خلاف تعلیم نہ ہو ۔

    جواب۔ اس اصول کے مطابق بھی وید الہامی نہیں ہیں کیونکہ کئی وید منتر ہیں جن کی تعلیم انسانی اخلاق کو گرانے والی ہے۔مثلاً

    ا۔ رگ وید کے ایک منتر کا ترجمہ سوامی جی اس طرح کرتے ہیں:۔

    ’’بادل بمنزلہ باپ قرار دیا ہے اور زمین کو بمنزلہ لڑکی۔بادل زمین میں اس طرح پانی ڈالتا ہے جیسے باپ لڑکی میں نطفہ۔‘‘ (رِگ ویدآدی بھاشہ بھومکاہندی صفحہ ۲۹۹)

    ب۔ لِنگ کا صاف کرنا۔’’اس لنگ کو صاف کرتا ہوں جس سے رکھشا کی جاتی ہے۔اس گدا (پاخانہ کی جگہ ) اِندری کو پَوِتّر کرتا ہوں۔‘‘

    آگے لکھا ہے کہ’’گرو پتنی(یعنی استاد کی عورت)کرتی ہے۔‘‘

    اس پر یہ اعتراض ہے کہ گرو کی عورت کس طرح لڑکے کے لنگ اور گدا کو صاف کرے۔

    ایک شُبہ کا ازالہ:۔ یہاں پر آریہ مناظر کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ چھوٹی عمر کے لئے ہے۔حالانکہ یہ غلط ہے۔کیونکہ جتنی دیر بچہ گورو کل میں رہتا ہے اس وید منتر پر ان کو عمل کرنا ضروری ہے اور گورو کل میں ۲۵ سال کا جوان بچہ بھی ہوتا ہے۔اس کے لِنگ کو استاد کی عورت کس طرح صاف کرے گی۔

    ج:۔’’ان دونوں منتروں کو پڑھ کر پُرش اپنی گربھنی(حمل والی)اِستری کے گربھاشیہ پر ہاتھ رکھے۔‘‘

    (سنکار ودھی مع تفسیر ودیاکھیا باب پُنسون سنسکار از دیانند جی سرسوتی مترجم مطبع شہید دھرم مہاشہ راجپال اینڈ سنز مالک آریہ پستکالیہ ہسپتال روڈ انار کلی لاہور صفحہ۱۲۱)

    آریہ سماجی دوست بتائیں کہ وہاں پر ہاتھ رکھنے سے کیا فائدہ؟

    د:۔بیل سے بھوگ کرنا۔’’پانی کے لئے مینڈھا سے پرم ایشوریہ کے لئے بیل سے بھوگ کریں۔‘‘ (یجر وید ادھیائے ۴۱ منتر ۶۰)

    ر:۔’’ہے انسانو!تم مضبوط گدا اِندری (پاخانہ کی جگہ)کے ساتھ موجودہ اندھے سانپوں اور کٹل (یعنی سخت موذی)سانپوں کو کام میں لاؤ۔

    س:۔ ٹانگوں کے اوپر چڑھ۔ہاتھ کا سہارا دے۔اتم من کے ساتھ عورت کو ویریہ ڈالے۔‘‘ (اتھر وید ۱،۲،۳۹)

    غرض آریہ سماج کے اپنے اصولوں کے مطابق بھی وید الہامی ثابت نہیں ہوتے۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں